بسم الله الرحمن الرحیم
پیش لفظ
الحمدلله ! اعلیحضرت امام المسلمین مولانا شاہ احمد رضاخاں فاضل بریلوی رحمۃ الله علیہ کے خزائن علمیہ اور ذخائر فقہیہ کو جدید انداز میں عصر حاضر کے تقاضوں کے عین مطابق منظر عام پر لانے کے لئے دارالعلوم جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور میں رضا فاؤنڈیشن کے نام سے جو ادارہ مارچ ۱۹۸۸ء میں قائم ہوا تھا وہ انتہائی کامیابی اوربرق رفتاری سے مجوزہ منصوبہ کے ارتقائی مراحل کو طے کرتے ہوئے اپنے ہدف کی طرف بڑھ رہا ہے اب تك یہ ادارہ امام احمد رضا کی منصوبہ کی متعدد تصانیف شائع کر چکا ہے مگر ا س ادارے کا عظیم ترین کارنامہ العطایا النبویہ فی الفتاوی الرضویہ المعروف بہ فتاوی رضویہ کی ترجمہ و تخریج کے ساتھ عمدہ و خوبصورت انداز میں اشاعت ہے۔ فتاوی مذکورہ کی اشاعت کا آغاز شعبان المعظم ۱۴۱۰ھ / مارچ ۱۹۹۰ء میں ہوا تھا اور بفضلہ تعالی جل مجدہ وبعنایہ رسولہ الکریم صلی الله تعالی علیہ وسلم تقریبا نو سال کے مختصر عرصہ میں یہ چودھویں جلد آپ کے ہاتھوں میں ہے اس سے قبل کتاب الطہارۃ کتاب الصلوۃ کتاب الجنائز کتاب الزکوۃ کتاب الصوم کتاب الحج کتا ب النکاح کتاب الطلاق کتاب الایمان اور کتاب الحدود و التعزیر پر مشتمل تیرہ۱۳ جلدیں شائع ہوچکی ہے جن کی تفصیل سنین مشمولات اور مجموعہ صفحات کے اعتبار سے حسب ذیل ہے:
پیش لفظ
الحمدلله ! اعلیحضرت امام المسلمین مولانا شاہ احمد رضاخاں فاضل بریلوی رحمۃ الله علیہ کے خزائن علمیہ اور ذخائر فقہیہ کو جدید انداز میں عصر حاضر کے تقاضوں کے عین مطابق منظر عام پر لانے کے لئے دارالعلوم جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور میں رضا فاؤنڈیشن کے نام سے جو ادارہ مارچ ۱۹۸۸ء میں قائم ہوا تھا وہ انتہائی کامیابی اوربرق رفتاری سے مجوزہ منصوبہ کے ارتقائی مراحل کو طے کرتے ہوئے اپنے ہدف کی طرف بڑھ رہا ہے اب تك یہ ادارہ امام احمد رضا کی منصوبہ کی متعدد تصانیف شائع کر چکا ہے مگر ا س ادارے کا عظیم ترین کارنامہ العطایا النبویہ فی الفتاوی الرضویہ المعروف بہ فتاوی رضویہ کی ترجمہ و تخریج کے ساتھ عمدہ و خوبصورت انداز میں اشاعت ہے۔ فتاوی مذکورہ کی اشاعت کا آغاز شعبان المعظم ۱۴۱۰ھ / مارچ ۱۹۹۰ء میں ہوا تھا اور بفضلہ تعالی جل مجدہ وبعنایہ رسولہ الکریم صلی الله تعالی علیہ وسلم تقریبا نو سال کے مختصر عرصہ میں یہ چودھویں جلد آپ کے ہاتھوں میں ہے اس سے قبل کتاب الطہارۃ کتاب الصلوۃ کتاب الجنائز کتاب الزکوۃ کتاب الصوم کتاب الحج کتا ب النکاح کتاب الطلاق کتاب الایمان اور کتاب الحدود و التعزیر پر مشتمل تیرہ۱۳ جلدیں شائع ہوچکی ہے جن کی تفصیل سنین مشمولات اور مجموعہ صفحات کے اعتبار سے حسب ذیل ہے:
جلد عنوان جوابات اسئلہ تعداد رسائل سنین اشاعت صفحات
پہلی جلد کتاب الطہارۃ ۲۲ ۱۱ شعبان المعظم ھ ______مارچ ء ۸۳۸
دوسری جلد کتاب الطہارۃ ۳۳ ۷ ربیع الثانی ___________نومبر ء ۷۱۰
تیسری جلد کتاب الطہارۃ ۵۹ ۶ شعبان المعظم _________فروری ۷۵۶
چوتھی جلد کتاب الطہارۃ ۱۳۲ ۵ رجب المرجب ۱۱۳ ________جنوری ۷۶۰
پانچویں جلد کتاب الصلوۃ ۱۴۰ ۶ ربیع الاول ___________ستمبر ۶۹۲
چھٹی جلد کتاب الصلوۃ ۴۵۷ ۴ ربیع الاول ___________اگست ۷۳۶
ساتویں جلد کتاب الصلوۃ ۲۶۹ ۷ رجب المرجب _________دسمبر ۷۲۰
آٹھویں جلد کتاب الصلوۃ ۳۳۷ ۶ محرم الحرام___________جون ۶۶۴
نویں جلد کتاب الجنائز ۲۷۳ ۱۳ ذیقعدہ______________اپریل ۹۴۶
دسویں جلد کتاب زکوۃ صوم حج ۳۱۶ ۱۶ ربیع الاول___________اگست ۸۳۲
گیارھویں جلد کتاب النکاح ۴۵۹ ۶ محرم الحرام___________مئی ۷۳۶
بارھویں جلد کتاب نکاح طلاق ۳۲۸ ۳ رجب المرجب_________نومبر ۶۸۸
تیرھویں جلد کتاب طلاق ایمان اور حدود و تعزیر ۲۹۳ ۲ ذیقعدہ مارچ ۶۸۸
چودھویں جلد
یہ جلد فتاوی رضویہ قدیم جلد ششم مطبوعہ سنی دارالاشاعت مبارکپور اعظم گڑھ بھارت کے آغاز سے صفحہ ۱۶۹ تك ۳۳۹ سوالوں کے جوابات پر مشتمل ہے اس جلد کی عربی وفارسی کی عبارات کا ترجمہ فاضل شہیر مصنف کتب کثیرہ حضرت مولانا مفتی محمد خاں قادری مہتمم جامعہ اسلامیہ لاہور نے کیاہے اس سے قبل چھٹی ساتویں آٹھویں اور دسویں جلد بھی علامہ موصوف کے ترجمے کے ساتھ شائع ہوچکی ہیں پیش نظر جلد بنیادی طور پر کتاب السیر کے مباحث جلیلہ پر مشتمل ہے تاہم متعدد ابواب فقہیہ وکلامیہ وغیرہ کے مسائل ضمنا زیر بحث آئے ہیں مسائل ورسائل کی مفصل فہرست کے علاوہ مسائل ضمنیہ کی الگ فہرست بھی قارئین کرام کی سہولت کے لئے تیار کی گئی ہے انتہائی دقیق اورگرانقدر تحقیقات وتدقیقات پر مشتمل مندرجہ ذیل سات رسائل بھی اس جلد کی زینت ہیں:
پہلی جلد کتاب الطہارۃ ۲۲ ۱۱ شعبان المعظم ھ ______مارچ ء ۸۳۸
دوسری جلد کتاب الطہارۃ ۳۳ ۷ ربیع الثانی ___________نومبر ء ۷۱۰
تیسری جلد کتاب الطہارۃ ۵۹ ۶ شعبان المعظم _________فروری ۷۵۶
چوتھی جلد کتاب الطہارۃ ۱۳۲ ۵ رجب المرجب ۱۱۳ ________جنوری ۷۶۰
پانچویں جلد کتاب الصلوۃ ۱۴۰ ۶ ربیع الاول ___________ستمبر ۶۹۲
چھٹی جلد کتاب الصلوۃ ۴۵۷ ۴ ربیع الاول ___________اگست ۷۳۶
ساتویں جلد کتاب الصلوۃ ۲۶۹ ۷ رجب المرجب _________دسمبر ۷۲۰
آٹھویں جلد کتاب الصلوۃ ۳۳۷ ۶ محرم الحرام___________جون ۶۶۴
نویں جلد کتاب الجنائز ۲۷۳ ۱۳ ذیقعدہ______________اپریل ۹۴۶
دسویں جلد کتاب زکوۃ صوم حج ۳۱۶ ۱۶ ربیع الاول___________اگست ۸۳۲
گیارھویں جلد کتاب النکاح ۴۵۹ ۶ محرم الحرام___________مئی ۷۳۶
بارھویں جلد کتاب نکاح طلاق ۳۲۸ ۳ رجب المرجب_________نومبر ۶۸۸
تیرھویں جلد کتاب طلاق ایمان اور حدود و تعزیر ۲۹۳ ۲ ذیقعدہ مارچ ۶۸۸
چودھویں جلد
یہ جلد فتاوی رضویہ قدیم جلد ششم مطبوعہ سنی دارالاشاعت مبارکپور اعظم گڑھ بھارت کے آغاز سے صفحہ ۱۶۹ تك ۳۳۹ سوالوں کے جوابات پر مشتمل ہے اس جلد کی عربی وفارسی کی عبارات کا ترجمہ فاضل شہیر مصنف کتب کثیرہ حضرت مولانا مفتی محمد خاں قادری مہتمم جامعہ اسلامیہ لاہور نے کیاہے اس سے قبل چھٹی ساتویں آٹھویں اور دسویں جلد بھی علامہ موصوف کے ترجمے کے ساتھ شائع ہوچکی ہیں پیش نظر جلد بنیادی طور پر کتاب السیر کے مباحث جلیلہ پر مشتمل ہے تاہم متعدد ابواب فقہیہ وکلامیہ وغیرہ کے مسائل ضمنا زیر بحث آئے ہیں مسائل ورسائل کی مفصل فہرست کے علاوہ مسائل ضمنیہ کی الگ فہرست بھی قارئین کرام کی سہولت کے لئے تیار کی گئی ہے انتہائی دقیق اورگرانقدر تحقیقات وتدقیقات پر مشتمل مندرجہ ذیل سات رسائل بھی اس جلد کی زینت ہیں:
(۱) اعلام الاعلام بان ھندوستان دارالاسلام (۱۳۶۵ھ)
اس بات کا ثبوت کہ ہندوستان دارالاسلام ہے۔
(۲) نابغ النور علی سوالات جبلفور (۱۳۳۹ھ)
ترك موالات سے متعلق چند اہم سوالات کا جواب۔
(۳) دوام العیش فی الائمۃ من قریش (۱۳۳۹ھ)
خلافت شرعیہ کے لئے شرط قرشیت کا مدلل ثبوت
(۴) ردالرفضۃ (۱۳۲۰ھ)
تبرائی رافضیوں کا رد بلیغ
(۵) المبین ختم النبیین (۱۳۲۶ھ)
حضور اکرم صلی الله تعالی علیہ وسلم کے خاتم جمیع انبیاء ومرسلین ہونے کا روشن بیان
(۶) المحجۃ المؤتمنۃ فی ایۃ الممتحنۃ (۱۳۳۹ھ)
تحریك خلافت اور غیر مسلموں سے ترك موالات پر بحث۔
(۷) انفس الفکر فی قربان البقر (۱۲۹۸ھ)
گاؤ کشی کے معاملہ میں مفصل تحقیقات اور ہندؤوں کے شبہات کاازالہ۔
مذکورہ بالاسات رسائل میں سے دورسالے نابغ النور اور المبین پہلے سے فتاوی رضویہ قدیم جلد ششم میں موجود تھے جبکہ آخر الذکر رسالہ انفس الفکر فتاوی رضویہ قدیم جلد ہشتم کتاب الاضحیہ میں شامل تھا۔ مگر اس کے مباحث جلیلہ کتاب السیر سے زیادہ مطابقت رکھتے ہیں لہذا اس کو جلد ہذا میں شامل کردیا گیا۔ باقی چاروں رسائل اس سے قبل فتاوی رضویہ میں شامل نہ تھے موضوع کی مناسبت کے پیش نظر ان کو اس جلد کی زینت بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔ رسالہ انفس الفکر کے متصل بعد جلد ہشتم قدیم میں مذکور ہندوستان میں گاؤ کشی کے بارے میں نو مسائل بھی اس جلد میں شامل کردئے گئے ہیں اس طرح رسالہ انفس الفکر سمیت صفحہ ۴۴۳ تا ۴۵۹ تقریبا سولہ صفحات کو جلد ہشتم قدیم سے نکال کر جلد ہذا میں شامل کیا گیا۔ رسالہ انفس الفکر کے حوالے سے مصنف علیہ الرحمۃ کی خداداد فہمی بصیرت پر صدرالشریعہ مصنف بہار شریت مولانا امجد علی اعظمی کا تبصرہ اہم وضاحت کے عنوان سے رسالہ مذکورہ کے حاشیہ میں دے دیا گیاہے۔
ہندوستان میں گاؤکشی کے بارے میں مسلم لیگ ضلع بریلی کی طرف سے بھیجے گئے استفتاء کا جناب نواب مرزا صاحب کی طرف سے تحریر کردہ جواب بھی پیش نظر جلد کے صفحہ ۵۵۸ پر ذکر کردیا گیا ہے جس کی
اس بات کا ثبوت کہ ہندوستان دارالاسلام ہے۔
(۲) نابغ النور علی سوالات جبلفور (۱۳۳۹ھ)
ترك موالات سے متعلق چند اہم سوالات کا جواب۔
(۳) دوام العیش فی الائمۃ من قریش (۱۳۳۹ھ)
خلافت شرعیہ کے لئے شرط قرشیت کا مدلل ثبوت
(۴) ردالرفضۃ (۱۳۲۰ھ)
تبرائی رافضیوں کا رد بلیغ
(۵) المبین ختم النبیین (۱۳۲۶ھ)
حضور اکرم صلی الله تعالی علیہ وسلم کے خاتم جمیع انبیاء ومرسلین ہونے کا روشن بیان
(۶) المحجۃ المؤتمنۃ فی ایۃ الممتحنۃ (۱۳۳۹ھ)
تحریك خلافت اور غیر مسلموں سے ترك موالات پر بحث۔
(۷) انفس الفکر فی قربان البقر (۱۲۹۸ھ)
گاؤ کشی کے معاملہ میں مفصل تحقیقات اور ہندؤوں کے شبہات کاازالہ۔
مذکورہ بالاسات رسائل میں سے دورسالے نابغ النور اور المبین پہلے سے فتاوی رضویہ قدیم جلد ششم میں موجود تھے جبکہ آخر الذکر رسالہ انفس الفکر فتاوی رضویہ قدیم جلد ہشتم کتاب الاضحیہ میں شامل تھا۔ مگر اس کے مباحث جلیلہ کتاب السیر سے زیادہ مطابقت رکھتے ہیں لہذا اس کو جلد ہذا میں شامل کردیا گیا۔ باقی چاروں رسائل اس سے قبل فتاوی رضویہ میں شامل نہ تھے موضوع کی مناسبت کے پیش نظر ان کو اس جلد کی زینت بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔ رسالہ انفس الفکر کے متصل بعد جلد ہشتم قدیم میں مذکور ہندوستان میں گاؤ کشی کے بارے میں نو مسائل بھی اس جلد میں شامل کردئے گئے ہیں اس طرح رسالہ انفس الفکر سمیت صفحہ ۴۴۳ تا ۴۵۹ تقریبا سولہ صفحات کو جلد ہشتم قدیم سے نکال کر جلد ہذا میں شامل کیا گیا۔ رسالہ انفس الفکر کے حوالے سے مصنف علیہ الرحمۃ کی خداداد فہمی بصیرت پر صدرالشریعہ مصنف بہار شریت مولانا امجد علی اعظمی کا تبصرہ اہم وضاحت کے عنوان سے رسالہ مذکورہ کے حاشیہ میں دے دیا گیاہے۔
ہندوستان میں گاؤکشی کے بارے میں مسلم لیگ ضلع بریلی کی طرف سے بھیجے گئے استفتاء کا جناب نواب مرزا صاحب کی طرف سے تحریر کردہ جواب بھی پیش نظر جلد کے صفحہ ۵۵۸ پر ذکر کردیا گیا ہے جس کی
مصنف علیہ الرحمۃ نے تصدیق فرمائی تھی۔
مندرجہ ذیل تین رسائل دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے اس جلدمیں شامل نہیں کئے جاسکے باوجودیکہ ان کا تعلق کتاب السیر سے ہے:
o المجل المسددان سباب المصطفی مرتد
o البارقۃ اللمعا علی ساعدمن نطق بالکفر طوعا
o المقال الباھر منکر الفقہ کافر
نوٹ: پیر طریقت رہبر شریعت حضرت مولانا الحاج پیرسید محمد معروف حسین عارف نوشاہی قادری بانی ورلڈ اسلامك مشن وسرپرست اعلی مرکزی جمیعت تبلیغ اسلام (یو۔ کے) اس عظیم الشان منصوبے کے آغاز سے لے کر اب تك ہر اعتبار سے مسلسل اور بھر پور تعاون فرمارہے ہیں جس سے دین اسلام اور مسلك حق اہل سنت وجماعت سے ان کی محبت نیز اعلیحضرت عظیم المرتبت امام احمد رضاخاں فاضل بریلوی رحمۃ الله علیہ سے عقیدت کا پتا چلتاہے موصوف کی مساعی جمیلہ للیہت اور اراکین ادارہ کی حوصلہ افزائی کے پیش نظر بجا طور پر یہ کہا جاسکتاہے کہ اس ادارہ کوقبلہ پیر صاحب کی مکمل سرپرستی حاصل ہے جس پر تمام اراکین ادارہ صمیم قلب سے آپ کے شکرگزارہیں۔
o
جمادی الاولی ۱۴۱۹ھ حافظ محمد عبد الستار سعیدی
ستمبر ۱۹۹۸ء ناظم تعلیمات جامعہ نظایہ رضویہ لاہور
مندرجہ ذیل تین رسائل دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے اس جلدمیں شامل نہیں کئے جاسکے باوجودیکہ ان کا تعلق کتاب السیر سے ہے:
o المجل المسددان سباب المصطفی مرتد
o البارقۃ اللمعا علی ساعدمن نطق بالکفر طوعا
o المقال الباھر منکر الفقہ کافر
نوٹ: پیر طریقت رہبر شریعت حضرت مولانا الحاج پیرسید محمد معروف حسین عارف نوشاہی قادری بانی ورلڈ اسلامك مشن وسرپرست اعلی مرکزی جمیعت تبلیغ اسلام (یو۔ کے) اس عظیم الشان منصوبے کے آغاز سے لے کر اب تك ہر اعتبار سے مسلسل اور بھر پور تعاون فرمارہے ہیں جس سے دین اسلام اور مسلك حق اہل سنت وجماعت سے ان کی محبت نیز اعلیحضرت عظیم المرتبت امام احمد رضاخاں فاضل بریلوی رحمۃ الله علیہ سے عقیدت کا پتا چلتاہے موصوف کی مساعی جمیلہ للیہت اور اراکین ادارہ کی حوصلہ افزائی کے پیش نظر بجا طور پر یہ کہا جاسکتاہے کہ اس ادارہ کوقبلہ پیر صاحب کی مکمل سرپرستی حاصل ہے جس پر تمام اراکین ادارہ صمیم قلب سے آپ کے شکرگزارہیں۔
o
جمادی الاولی ۱۴۱۹ھ حافظ محمد عبد الستار سعیدی
ستمبر ۱۹۹۸ء ناظم تعلیمات جامعہ نظایہ رضویہ لاہور
مقدمہ
بسم الله الرحمن الرحیم
نحمدہ ونصلی ونسلم علی رسولہ الکریم وعلی الہ واصحابہ اجمعین
امام احمدرضا بریلوی رحمہ الله تعالی کا علم وفضل تبحر وسعت نظری فکر ونظر کی گہرائی پچاس ۵۰ سے زیادہ علوم میں مہارت یہ وہ امور ہیں جو کسی بھی باخبر شخصیت سے مخفی نہیں ہیں رضافاؤنڈیشن لاہور کی طرف سے ترتیب جدیدکے ساتھ فتاوی رضویہ کی تیرہ جلدیں منظر عام پر آچکی ہیں ان میں پرانی پانچ جلدیں پیش کی جاسکی ہیں امید ہے کہ پچیس تیس جلدوں میں پورا فتاوی مکمل ہوسکے گا اس کا مطالعہ کرنے کے بعد کوئی صاحب علم امام احمد رضا کے تبحر علمی کا انکار نہیں کرسکتا۔
امام احمد رضابریلوی کے علم وقلم نے نہ صرف مسلمانوں کے ایمان اور عقائد کی حفاظت کی انھیں زندگی میں پیش آنے والے عبادات ومعاملات کے احکام سے آگاہ کیا بلکہ انھیں باوقار زندہ رہنے کا اسلامی طریقہ بھی سکھایا وہ سیاسی لیڈر نہ تھے لیکن وقت آنے پر انھوں نے قرآن وحدیث اور فقہ حنفی کی روشنی میں مسلمانوں کی صحیح رہنمائی کی جس کے نتیجے میں ملت اسلامیہ کا سفینہ ساحل مرادپر جالگا اور دینا کے نقشے پر پاکستان معرض وجود میں آگیا۔
پاکستان کے قابل صد فخر سپوت اور نامور مسلمان سائنس دان جناب ڈاکٹر عبدالقدیر خاں نے ایٹمی دھماکوں سے چند دن قبل ۲۴ مئی ۱۹۹۸ھ کو درج ذیل بیان جاری کیا:
"آج سے سوسال قبل جب انگریز ہندوؤں کے ساتھ ساز باز کرکے ہند کی معیشت پر قابض
بسم الله الرحمن الرحیم
نحمدہ ونصلی ونسلم علی رسولہ الکریم وعلی الہ واصحابہ اجمعین
امام احمدرضا بریلوی رحمہ الله تعالی کا علم وفضل تبحر وسعت نظری فکر ونظر کی گہرائی پچاس ۵۰ سے زیادہ علوم میں مہارت یہ وہ امور ہیں جو کسی بھی باخبر شخصیت سے مخفی نہیں ہیں رضافاؤنڈیشن لاہور کی طرف سے ترتیب جدیدکے ساتھ فتاوی رضویہ کی تیرہ جلدیں منظر عام پر آچکی ہیں ان میں پرانی پانچ جلدیں پیش کی جاسکی ہیں امید ہے کہ پچیس تیس جلدوں میں پورا فتاوی مکمل ہوسکے گا اس کا مطالعہ کرنے کے بعد کوئی صاحب علم امام احمد رضا کے تبحر علمی کا انکار نہیں کرسکتا۔
امام احمد رضابریلوی کے علم وقلم نے نہ صرف مسلمانوں کے ایمان اور عقائد کی حفاظت کی انھیں زندگی میں پیش آنے والے عبادات ومعاملات کے احکام سے آگاہ کیا بلکہ انھیں باوقار زندہ رہنے کا اسلامی طریقہ بھی سکھایا وہ سیاسی لیڈر نہ تھے لیکن وقت آنے پر انھوں نے قرآن وحدیث اور فقہ حنفی کی روشنی میں مسلمانوں کی صحیح رہنمائی کی جس کے نتیجے میں ملت اسلامیہ کا سفینہ ساحل مرادپر جالگا اور دینا کے نقشے پر پاکستان معرض وجود میں آگیا۔
پاکستان کے قابل صد فخر سپوت اور نامور مسلمان سائنس دان جناب ڈاکٹر عبدالقدیر خاں نے ایٹمی دھماکوں سے چند دن قبل ۲۴ مئی ۱۹۹۸ھ کو درج ذیل بیان جاری کیا:
"آج سے سوسال قبل جب انگریز ہندوؤں کے ساتھ ساز باز کرکے ہند کی معیشت پر قابض
ہوئے تو مسلمانوں کے تشخص اورتعلیمی نظا م کو زبردست دھچکا لگا استعماری طاقتوں کے مذموم عزائم کی بدولت مذہبی قدریں زوال پذیر ہونے لگی تھیں۔
اس پر آشوب دور میں الله رب العزت نے برصغیر کے مسلمانوں کو امام احمد رضا جیسی باصلاحیت اور مدبرانہ قیادت سے نوازا جس کی تصانیف تالیفات اور تبلیغی کاوشوں نے شکست خوردہ قوم میں ایك فکری انقلاب بپاکردیا۔
امام صاحب کی شخصیت جذبہ عشق رسول ( صلی الله تعالی علیہ وسلم) سے لبریز تھی آپ کی ساری زندگی کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ بات وثوق سے کہی جاسکتی ہے کہ آپ کی ذات نبی کریم سے وفا شعاری کانشان مجسم تھی۔"
بیسویں صدی عیسوی کے دوسرے اور تیسرے عشرے میں کئی ایسی تحریکیں چلیں جن میں واضح طورپر محسوس ہوتا تھا کہ مسلمان اپنا تشخص کھو کر ہندومت میں مدغم ہوجائیں گے انگریز تاجر بن کر ہندوستان آیا اور اپنی سازشوں سے یہاں کا حکمران بن بیٹھا ۱۹۱۴ء میں پہلی جنگ عظیم شروع ہوئی حکومت برطانیہ نے بے شمار ہندوستانیوں کو اس وعدے پر فوج میں بھرتی کرکے جنگ کی بھٹی میں جھونك دیا کہ فتح کے بعد ہندوستان آزاد کردیاجائے مسٹر گاندھی اور مولانا محمد علی جوہر نے فوجی بھرتی کی بھرپور حمایت کی دولاکھ کے قریب مسلمان اور ہندو فوج میں بھرتی ہوئے عظیم اسلامی ملك ترکی کو شکست ہوئی فتح مکہ کے بعد انگریز اپنے وعدے سے منحرف ہوگیا مسٹر گاندھی نے انھیں سزا دینے کے لئے"مسئلہ خلافت"کھڑا کردیا جس کا مطلب یہ تھا کہ ترکی کا سلطان اسلامی خلیفہ ہے اس کی خلافت کو ختم کرنا اسلام پر حملہ کرنے کے مترادف ہے۔ کتنی عجیب بات تھی کہ وہ گاندھی جو ہندوستان میں مسلمانوں کو ایك انچ زمین دینے پر تیار نہ تھا وہ عالمی سطح پر مسلمانوں کی خلافت بحال کرنے کا نعرہ لگارہا تھا۔
پھر اس تحریك کو تحریك"ترك موالات"بنا دیا گیاجس کا مطلب یہ تھا کہ مسلمان ہندؤوں کے ساتھ مل کر انگریز کا ہر قسم کابائیکاٹ کریں ان کی ملازمت چھوڑیں ان کی دی ہوئی جاگیریں واپس کردیںمسلمانوں کے کالجوں کو ملنے والی گرانٹ واپس کردیں غرض یہ کہ ان سے کسی قسم کا تعلق نہ رکھیں افسوسناك صورت یہ تھی کہ گاندھی لیڈر تھا مسلمانوں کے بڑے بڑے لیڈر دست بستہ اس کے پیچھے چل رہے تھے ہندؤوں کی خوشنودی کے لئے گائے کی قربانی کی ممانعت کے فتوے دئے جارہے تھے مسجدوں کے
اس پر آشوب دور میں الله رب العزت نے برصغیر کے مسلمانوں کو امام احمد رضا جیسی باصلاحیت اور مدبرانہ قیادت سے نوازا جس کی تصانیف تالیفات اور تبلیغی کاوشوں نے شکست خوردہ قوم میں ایك فکری انقلاب بپاکردیا۔
امام صاحب کی شخصیت جذبہ عشق رسول ( صلی الله تعالی علیہ وسلم) سے لبریز تھی آپ کی ساری زندگی کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ بات وثوق سے کہی جاسکتی ہے کہ آپ کی ذات نبی کریم سے وفا شعاری کانشان مجسم تھی۔"
بیسویں صدی عیسوی کے دوسرے اور تیسرے عشرے میں کئی ایسی تحریکیں چلیں جن میں واضح طورپر محسوس ہوتا تھا کہ مسلمان اپنا تشخص کھو کر ہندومت میں مدغم ہوجائیں گے انگریز تاجر بن کر ہندوستان آیا اور اپنی سازشوں سے یہاں کا حکمران بن بیٹھا ۱۹۱۴ء میں پہلی جنگ عظیم شروع ہوئی حکومت برطانیہ نے بے شمار ہندوستانیوں کو اس وعدے پر فوج میں بھرتی کرکے جنگ کی بھٹی میں جھونك دیا کہ فتح کے بعد ہندوستان آزاد کردیاجائے مسٹر گاندھی اور مولانا محمد علی جوہر نے فوجی بھرتی کی بھرپور حمایت کی دولاکھ کے قریب مسلمان اور ہندو فوج میں بھرتی ہوئے عظیم اسلامی ملك ترکی کو شکست ہوئی فتح مکہ کے بعد انگریز اپنے وعدے سے منحرف ہوگیا مسٹر گاندھی نے انھیں سزا دینے کے لئے"مسئلہ خلافت"کھڑا کردیا جس کا مطلب یہ تھا کہ ترکی کا سلطان اسلامی خلیفہ ہے اس کی خلافت کو ختم کرنا اسلام پر حملہ کرنے کے مترادف ہے۔ کتنی عجیب بات تھی کہ وہ گاندھی جو ہندوستان میں مسلمانوں کو ایك انچ زمین دینے پر تیار نہ تھا وہ عالمی سطح پر مسلمانوں کی خلافت بحال کرنے کا نعرہ لگارہا تھا۔
پھر اس تحریك کو تحریك"ترك موالات"بنا دیا گیاجس کا مطلب یہ تھا کہ مسلمان ہندؤوں کے ساتھ مل کر انگریز کا ہر قسم کابائیکاٹ کریں ان کی ملازمت چھوڑیں ان کی دی ہوئی جاگیریں واپس کردیںمسلمانوں کے کالجوں کو ملنے والی گرانٹ واپس کردیں غرض یہ کہ ان سے کسی قسم کا تعلق نہ رکھیں افسوسناك صورت یہ تھی کہ گاندھی لیڈر تھا مسلمانوں کے بڑے بڑے لیڈر دست بستہ اس کے پیچھے چل رہے تھے ہندؤوں کی خوشنودی کے لئے گائے کی قربانی کی ممانعت کے فتوے دئے جارہے تھے مسجدوں کے
حوالہ / References
ہینڈبل شائع کردہ ادارہ تحقیقات امام احمد رضا کراچی ص۳۔ ۲
منبروں پر گاندھی ایسے مشرك کو بٹھاکر اس کی تقریریں کرائی جارہی تھیں مختصر یہ کہ ہندو مسلم اتحاد کے لئے پوری طرح راہ ہموار کی جاچکی تھی۔
دوسری طرف لیڈروں کی نگاہ سے یہ حقیقت یکسر پوشیدہ تھی کہ انگریزکے اس ملك سے چلے جانے کے بعد اقتدار لازمی طورپر ہندؤوں کو ملے گا جو ہندوستان میں غالب اکثریت میں تھے مسلمانوں کو کیا فائدہ پہنچتا انھیں یہی فرق پڑتاکہ پہلے انگریز حکمران تھے جو اہل کتاب ہونے کا دعوی کرتے تھے بعدمیں ہندوؤں کی حکومت ہوتی جو مشرك تھے اور کسی آسمانی کتاب کو نہ مانتے تھے ہندؤوں نے حکومت نہ ہونے کے باوجود شدھی اور سنگھٹن تحریکوں کے ذریعے مسلمانوں کو ہندو بنانے کے لئے ہر حربہ استعمال کرڈالا تھا جب انھیں حکومت مل جاتی تو وہ کیا کچھ نہ کرتے اس دورمیں اس حقیقت کا ادراك سب سے پہلے امام احمد رضا بریلوی نے کیا اور بستر علالت سے"المحجۃ المؤتمنۃ"کتاب لکھ کر ہندومسلم اتحاد کی کوششوں پر کاری ضرب لگائی اور قوم مسلم میں نئی روح پھونك دی یہ کتاب تحریك پاکستان کی خشت اول کی حیثیت رکھتی ہے یہ کتاب فتاوی رضویہ کی چودھویں جلد میں شائع کردی گئی ہے ارباب حکومت ماہرین تعلیم اورتاریخ پاکستان کے محققین کو اس کا مطالعہ کرنا چاہئے۔
مولانا کوثر نیازی لکھتے ہیں:
"امام رضاگاندھی کے بچھائے ہوئے اس دام ہمرنگ زمین کو خوب دیکھ رہے تھے انھوں نے متحدہ قومیت کے خلاف اس وقت آواز اٹھائی جب اقبال اور قائداعظم بھی اس کی زلف گرہ گیر کے اسیر تھے دیکھا جائے تو دو قومی نظریہ کے عقیدے میں امام احمد رضا مقتداء ہیں اور یہ دونوں حضرات مقتدی پاکستان کی تحریك کو کبھی فروغ نہ ہوتا اگر امام احمد رضا سالوں پہلے مسلمانوں کو ہندؤوں کی چالوں سے باخبرنہ کرتے۔"
امام احمد رضا بریلوی علیہ الرحمۃ کا موقف یہ تھا کہ موالات دوستی کو کہتے ہیں مسلمان کے دل میں کسی بھی کافر کی دوستی نہیں ہونی چاہئے خواہ انگریز ہو یا ہندو تحریك ترك موالات کے حامی انگریز کی دوستی ہی نہیں اس کے ساتھ معاملات کرنے سے بھی منع کرتے تھے دوسری طرف ہندو کی دوستی میں اس قدر آگے بڑھ گئے تھے کہ اتحاد کی کوشش کررہے تھے۔
امام احمد رضا بریلوی نے تحریك خلافت اور تحریك ترك موالات کی مخالفت کی اور اختلاف کی
دوسری طرف لیڈروں کی نگاہ سے یہ حقیقت یکسر پوشیدہ تھی کہ انگریزکے اس ملك سے چلے جانے کے بعد اقتدار لازمی طورپر ہندؤوں کو ملے گا جو ہندوستان میں غالب اکثریت میں تھے مسلمانوں کو کیا فائدہ پہنچتا انھیں یہی فرق پڑتاکہ پہلے انگریز حکمران تھے جو اہل کتاب ہونے کا دعوی کرتے تھے بعدمیں ہندوؤں کی حکومت ہوتی جو مشرك تھے اور کسی آسمانی کتاب کو نہ مانتے تھے ہندؤوں نے حکومت نہ ہونے کے باوجود شدھی اور سنگھٹن تحریکوں کے ذریعے مسلمانوں کو ہندو بنانے کے لئے ہر حربہ استعمال کرڈالا تھا جب انھیں حکومت مل جاتی تو وہ کیا کچھ نہ کرتے اس دورمیں اس حقیقت کا ادراك سب سے پہلے امام احمد رضا بریلوی نے کیا اور بستر علالت سے"المحجۃ المؤتمنۃ"کتاب لکھ کر ہندومسلم اتحاد کی کوششوں پر کاری ضرب لگائی اور قوم مسلم میں نئی روح پھونك دی یہ کتاب تحریك پاکستان کی خشت اول کی حیثیت رکھتی ہے یہ کتاب فتاوی رضویہ کی چودھویں جلد میں شائع کردی گئی ہے ارباب حکومت ماہرین تعلیم اورتاریخ پاکستان کے محققین کو اس کا مطالعہ کرنا چاہئے۔
مولانا کوثر نیازی لکھتے ہیں:
"امام رضاگاندھی کے بچھائے ہوئے اس دام ہمرنگ زمین کو خوب دیکھ رہے تھے انھوں نے متحدہ قومیت کے خلاف اس وقت آواز اٹھائی جب اقبال اور قائداعظم بھی اس کی زلف گرہ گیر کے اسیر تھے دیکھا جائے تو دو قومی نظریہ کے عقیدے میں امام احمد رضا مقتداء ہیں اور یہ دونوں حضرات مقتدی پاکستان کی تحریك کو کبھی فروغ نہ ہوتا اگر امام احمد رضا سالوں پہلے مسلمانوں کو ہندؤوں کی چالوں سے باخبرنہ کرتے۔"
امام احمد رضا بریلوی علیہ الرحمۃ کا موقف یہ تھا کہ موالات دوستی کو کہتے ہیں مسلمان کے دل میں کسی بھی کافر کی دوستی نہیں ہونی چاہئے خواہ انگریز ہو یا ہندو تحریك ترك موالات کے حامی انگریز کی دوستی ہی نہیں اس کے ساتھ معاملات کرنے سے بھی منع کرتے تھے دوسری طرف ہندو کی دوستی میں اس قدر آگے بڑھ گئے تھے کہ اتحاد کی کوشش کررہے تھے۔
امام احمد رضا بریلوی نے تحریك خلافت اور تحریك ترك موالات کی مخالفت کی اور اختلاف کی
حوالہ / References
کوثر نیازی: امام احمد رضا خاں بریلوی ایك ہمہ جہت شخصیت معارف نعمانیہ لاہور ص۱۵۔ ۱۴
ایك وجہ یہ تھی کہ ان تحریکوں میں گاندھی ایسا مشرك لیڈر تھا اورمسلمان لیڈر اس کے مقتدی تھے اس میل جول اور اتحاد کا اثر ہندوؤں پر تو کچھ نہ ہوتا البتہ مسلمان اپنے دین سے ہاتھ دھو بیٹھتے اس موقع پر امام احمد رضا بریلوی نے ڈنکے کی چوٹ پر اس اتحاد کی مخالفت کی اوراتحاد کرنے والے علماء اور لیڈر کو فرقہ گاندھویہ کا لقب دے کر ان کی شدید مخالفت کی چونکہ امام احمد رضا بریلوی اور ان کے ہم مسلك علماء اہلسنت کا حلقہ اثر بہت وسیع تھا اس لئے ان کے مخالفین ابوالکلام آزاد وغیرہ کی بڑی کوشش تھی کہ وہ بھی ہمارے ساتھ تحریکوں میں شریك ہوجائیں۔
ایك شوشہ یہ چھوڑا گیا کہ ترکی کی حکومت چونکہ خلافت شرعیہ ہے اس لئے جو اس کی حمایت نہیں کرتا وہ کافر ہے امام احمدرضا بریلوی سے اس سلسلے میں استفتاء کیا گیا توآپ نے فرمایا کہ جہاں تك خیرخواہی کا تعلق ہے وہ تو دل سے ہر مسلمان کے لئے فرض ہے اس میں قریشی ہونا شرط نہیں البتہ خلافت شرعیہ کےلئے دیگر شرائط کے علاوہ ایك شرط قریشی ہونا ہے اس مسئلے پرآپ نے ایك رسالہ تحریر فرمایا جس کانام ہے:
"دوم العیش فی الائمۃ من قریش۔"
یہ رسالہ آپ کی وفات کے بعد چھپا اس کی اشاعت سے انگریز کو فائدہ پہنچانا مقصود ہوتا توآپ کی ظاہری زندگی میں شائع کیا جاتا۔
انگریز نوازی کا الزام
یہ وہ حالات تھے جن کی بناء پر مخالفین نے امام احمد رضا پر انگریز نوازی کا الزام لگایا جس کا حقیقت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔
نوائے وقت کے مشہور کالم نویس میاں عبدالرشید رحمۃ الله تعالی علیہ لکھتے ہیں:
"ان دنوں چونکہ سارے پریس پر ہندوؤں کاقبضہ تھا اس لئے حضرت احمد رضا خاں بریلوی اور آپ کے ہم خیال لوگوں کے خلاف سخت پروپیگنڈا کیا گیا اوربدنام کرنے کی مہم چلائی گئی۔ لیکن تاریخ نے ان ہی حضرات کے حق میں فیصلہ دے دیا۔ اب باطل پراپیگنڈے کا طلسم ٹوٹ رہا ہے اور حق کھل کر سامنے آرہاہے۔"
ایك شوشہ یہ چھوڑا گیا کہ ترکی کی حکومت چونکہ خلافت شرعیہ ہے اس لئے جو اس کی حمایت نہیں کرتا وہ کافر ہے امام احمدرضا بریلوی سے اس سلسلے میں استفتاء کیا گیا توآپ نے فرمایا کہ جہاں تك خیرخواہی کا تعلق ہے وہ تو دل سے ہر مسلمان کے لئے فرض ہے اس میں قریشی ہونا شرط نہیں البتہ خلافت شرعیہ کےلئے دیگر شرائط کے علاوہ ایك شرط قریشی ہونا ہے اس مسئلے پرآپ نے ایك رسالہ تحریر فرمایا جس کانام ہے:
"دوم العیش فی الائمۃ من قریش۔"
یہ رسالہ آپ کی وفات کے بعد چھپا اس کی اشاعت سے انگریز کو فائدہ پہنچانا مقصود ہوتا توآپ کی ظاہری زندگی میں شائع کیا جاتا۔
انگریز نوازی کا الزام
یہ وہ حالات تھے جن کی بناء پر مخالفین نے امام احمد رضا پر انگریز نوازی کا الزام لگایا جس کا حقیقت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔
نوائے وقت کے مشہور کالم نویس میاں عبدالرشید رحمۃ الله تعالی علیہ لکھتے ہیں:
"ان دنوں چونکہ سارے پریس پر ہندوؤں کاقبضہ تھا اس لئے حضرت احمد رضا خاں بریلوی اور آپ کے ہم خیال لوگوں کے خلاف سخت پروپیگنڈا کیا گیا اوربدنام کرنے کی مہم چلائی گئی۔ لیکن تاریخ نے ان ہی حضرات کے حق میں فیصلہ دے دیا۔ اب باطل پراپیگنڈے کا طلسم ٹوٹ رہا ہے اور حق کھل کر سامنے آرہاہے۔"
حوالہ / References
میاں عبدالرشید: پاکستان کا پس منظر اور پیش نظر (ادارہ تحقیقات پاکستان لاہور) ص۱۲۰
مشہور کالم نگار کو ثر نیازی لکھتے ہیں:
"ایك ایسا مرد مومن جسے انگریزی سامراج سے اتنی نفرت ہوکہ وہ اس کی کچہری میں جانے کو حرام سمجھتاہو جو مقدمہ قائم ہوجانے کے باوجود اس کی عدالت میں نہ گیا ہو جو خط لکھتاہو تو کارڈ اور لفافے کی الٹی طرف پتہ لکھتاہو تاکہ انگریز بادشاہ اور ملك کا سرنیچا نظر آئے جس نے اپنی وفات سے دوگھنٹے پہلے یہ وصیت کی ہو کہ اس دالان سے ڈاك میں آئے ہوئے وہ تمام خطوط جن پر ملکہ اور بادشاہ کی تصویر ہے اور روپے پیسے جن پر یہ تصویریں ہیں سب باہر پھینك دئے جائیں تاکہ فرشتہ ہائے رحمت کو آنے میں دشواری نہ ہو
جس نے نعت گوئی میں بھی کسی کو نمونہ مانا اور اسے سلطان نعت گویاں قرار دیا تو حضرت مولانا کفایت علی کافی تھے جنھوں نے ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی میں انگریزوں کے خلاف جہاد کا فتوی دیا۔ اس سلسلے میں باقاعدہ جدوجہد کی اور ۱۸۵۸ء میں مراد آباد کے چوك میں انھیں برسر عام پھانسی دے دی (مقصد یہ کہ امام احمد رضا (علیہ الرحمۃ) انگریز نواز ہوتے تو انگریز کے اتنے بڑے دشمن کو اپنا آئیڈیل نہ بناتے ۱۲ قادری)
اس کے بارے میں یہ کہناکہ وہ انگریزکا حامی تھا ایسا ہی ہے جیسے کوئی کہے سورج ظلمت پھول بدبو چاند گرمی سمندرخشکی بہار جھڑ صبا صرصر پانی حدت ہوا حبس اور حکمت جہالت کا دوسرانام ہے ع
پاپوش میں لگائی کرن آفتاب کی
جو بات کی خدا کی قسم لاجواب کی "
امام احمد رضا بریلوی قدس سرہ کی حیات مبارکہ وہ شفاف آئینہ ہے جس پر انگریز نوازی کا کوئی داغ نہیں ۔ا نھوں نے ان کے صاحبزادوں اور تلامذہ وخلفاء نے کبھی انگریز سے تعلق نہ رکھا ان میں سے کسی کو انگریز نے شمس العلماء وغیرہ کا خطاب نہ دیا۔ نہ ان میں سے کسی نے انگریز سے جائیداد حاصل کی آج انڈیا آفس لائبریری کا ریکارڈ اوپن ہوچکا ہے جس کا تعلق پاك وہند کی تحریك آزادی سے ہے کہیں سے تو انگریز دوستی کا ثبوت ملے۔
اس کے برعکس یہ حقیقت کوئی راز سر بستہ نہیں رہی کہ تحریك ریشمی رومال کا راز کس نے طشت ازبام
"ایك ایسا مرد مومن جسے انگریزی سامراج سے اتنی نفرت ہوکہ وہ اس کی کچہری میں جانے کو حرام سمجھتاہو جو مقدمہ قائم ہوجانے کے باوجود اس کی عدالت میں نہ گیا ہو جو خط لکھتاہو تو کارڈ اور لفافے کی الٹی طرف پتہ لکھتاہو تاکہ انگریز بادشاہ اور ملك کا سرنیچا نظر آئے جس نے اپنی وفات سے دوگھنٹے پہلے یہ وصیت کی ہو کہ اس دالان سے ڈاك میں آئے ہوئے وہ تمام خطوط جن پر ملکہ اور بادشاہ کی تصویر ہے اور روپے پیسے جن پر یہ تصویریں ہیں سب باہر پھینك دئے جائیں تاکہ فرشتہ ہائے رحمت کو آنے میں دشواری نہ ہو
جس نے نعت گوئی میں بھی کسی کو نمونہ مانا اور اسے سلطان نعت گویاں قرار دیا تو حضرت مولانا کفایت علی کافی تھے جنھوں نے ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی میں انگریزوں کے خلاف جہاد کا فتوی دیا۔ اس سلسلے میں باقاعدہ جدوجہد کی اور ۱۸۵۸ء میں مراد آباد کے چوك میں انھیں برسر عام پھانسی دے دی (مقصد یہ کہ امام احمد رضا (علیہ الرحمۃ) انگریز نواز ہوتے تو انگریز کے اتنے بڑے دشمن کو اپنا آئیڈیل نہ بناتے ۱۲ قادری)
اس کے بارے میں یہ کہناکہ وہ انگریزکا حامی تھا ایسا ہی ہے جیسے کوئی کہے سورج ظلمت پھول بدبو چاند گرمی سمندرخشکی بہار جھڑ صبا صرصر پانی حدت ہوا حبس اور حکمت جہالت کا دوسرانام ہے ع
پاپوش میں لگائی کرن آفتاب کی
جو بات کی خدا کی قسم لاجواب کی "
امام احمد رضا بریلوی قدس سرہ کی حیات مبارکہ وہ شفاف آئینہ ہے جس پر انگریز نوازی کا کوئی داغ نہیں ۔ا نھوں نے ان کے صاحبزادوں اور تلامذہ وخلفاء نے کبھی انگریز سے تعلق نہ رکھا ان میں سے کسی کو انگریز نے شمس العلماء وغیرہ کا خطاب نہ دیا۔ نہ ان میں سے کسی نے انگریز سے جائیداد حاصل کی آج انڈیا آفس لائبریری کا ریکارڈ اوپن ہوچکا ہے جس کا تعلق پاك وہند کی تحریك آزادی سے ہے کہیں سے تو انگریز دوستی کا ثبوت ملے۔
اس کے برعکس یہ حقیقت کوئی راز سر بستہ نہیں رہی کہ تحریك ریشمی رومال کا راز کس نے طشت ازبام
حوالہ / References
کوثرنیازی: امام احمد رضا ہمہ جہت شخصیت ص۱۶
کیا اور کس کی اطلاع پر جنودربانیہ کے زعماء مولوی محمود حسن وغیرہ کو گرفتار کرکے جزیرہ مالٹا میں قید کیا گیا مولوی تاج محمود امروٹی کے صاحبزادے اور سندھ کے سیاسی لیڈر مولوی محمد شاہ امروٹی نے بستر مرگ پر پڑے ہوئے بیان دیا کہ مولوی اشرف علی تھانوی نے ان تمام منصوبوں کی اطلاع اپنے بھائی مظہر علی کو پہنچائی جو سی آئی ڈی کے افسر اعلی تھے انھوں نے انگریز حکومت کو اطلاع پہنچا دی اور مولوی شبیر احمد عثمانی نے صاف اعتراف کیا کہ بعض لوگوں کو یہ کہتے ہوئے سنا گیا کہ تھانوی صاحب کو انگریز حکومت کی طرف سے چھ سو روپے ماہانہ ملاکرتے تھے۔
کیا یہ ثابت کیا جاسکتاہے کہ امام احمد رضا کے بھی انگریز حکومت کے ساتھ اس قسم کے تعلقات تھے یا انھوں نے حکومت وقت سے مفاد حاصل کیا وہ تو انگریز دورحکومت میں مسلم امہ کو جگاتے ہوئے فرمارہے ہیں
ع سونے والو! جاگتے رہیو چوروں کی رکھوالی ہے
تشدد کا الزام
امام احمد رضا بریلوی اخلاص اور للہیت کا پیکر تھے انھوں نے قرآن وحدیث اسلام کے ارشادات کی روشنی میں بغیر کسی رورعایت کے فتوے صادرکئے روافض اور قادیانیوں کے خلاف آپ کے فتووں کو دیوبندی مکتب فکر کے لوگ بھی اپنی تائید اور حمایت کے ساتھ شائع کرتے ہیں اورانھیں تحسین کی نگاہ سے دیکھتے ہیں پھر کیا وجہ ہے کہ علمائے دیوبند کے خلاف ان کے فتووں کو قابل التفات نہ گردانا جائے
دراصل بات یہ ہے کہ نبی اکرم صلی الله تعالی علیہ وسلم کی تعظیم وتکریم ضروریات دین میں سے ہے اور آپ کی گستاخی اور توہین کفر ہے اس پر بریلوی دیو بندی دونو ں متفق ہیں ۔
مولوی حسین احمد مدنی لکھتے ہیں:
"حضرت مولانا گنگوہی ۔۔۔۔۔ فرماتے ہیں کہ جو الفاظ موہم تحقیر حضور سرورکائنات علیہ السلام ہوں اگر چہ کہنے والے نے نیت حقارت نہ کی ہو مگر ان سے بھی کہنے والا کافر ہوجاتاہے۔"
اختلاف اس وقت پیدا ہوا جب امام احمد رضا بریلوی نے علماء دیوبند کی بعض عبارات پر گرفت کی
کیا یہ ثابت کیا جاسکتاہے کہ امام احمد رضا کے بھی انگریز حکومت کے ساتھ اس قسم کے تعلقات تھے یا انھوں نے حکومت وقت سے مفاد حاصل کیا وہ تو انگریز دورحکومت میں مسلم امہ کو جگاتے ہوئے فرمارہے ہیں
ع سونے والو! جاگتے رہیو چوروں کی رکھوالی ہے
تشدد کا الزام
امام احمد رضا بریلوی اخلاص اور للہیت کا پیکر تھے انھوں نے قرآن وحدیث اسلام کے ارشادات کی روشنی میں بغیر کسی رورعایت کے فتوے صادرکئے روافض اور قادیانیوں کے خلاف آپ کے فتووں کو دیوبندی مکتب فکر کے لوگ بھی اپنی تائید اور حمایت کے ساتھ شائع کرتے ہیں اورانھیں تحسین کی نگاہ سے دیکھتے ہیں پھر کیا وجہ ہے کہ علمائے دیوبند کے خلاف ان کے فتووں کو قابل التفات نہ گردانا جائے
دراصل بات یہ ہے کہ نبی اکرم صلی الله تعالی علیہ وسلم کی تعظیم وتکریم ضروریات دین میں سے ہے اور آپ کی گستاخی اور توہین کفر ہے اس پر بریلوی دیو بندی دونو ں متفق ہیں ۔
مولوی حسین احمد مدنی لکھتے ہیں:
"حضرت مولانا گنگوہی ۔۔۔۔۔ فرماتے ہیں کہ جو الفاظ موہم تحقیر حضور سرورکائنات علیہ السلام ہوں اگر چہ کہنے والے نے نیت حقارت نہ کی ہو مگر ان سے بھی کہنے والا کافر ہوجاتاہے۔"
اختلاف اس وقت پیدا ہوا جب امام احمد رضا بریلوی نے علماء دیوبند کی بعض عبارات پر گرفت کی
حوالہ / References
& انجم لاشاری €ماہنامہ شوٹائم، کراچی (شمارہ اپریل ۱۹۸۸ء) ص۱۳۱
مکالمۃالصدرین (مطبوعہ دیوبند) ص۱۰۔ ۹
حسین احمد مدنی، مولوی: الشہاب الثاقب ص۵۷
مکالمۃالصدرین (مطبوعہ دیوبند) ص۱۰۔ ۹
حسین احمد مدنی، مولوی: الشہاب الثاقب ص۵۷
اورانھیں حرمین شریفین کے علماء کے سامنے پیش کرکے ان سے دریافت کیا کہ یہ عبارات رسول گرامی صلی الله تعالی علیہ وسلم کی شان میں گستاخی ہیں اور ان کا قائل کافرہے یا نہیں پینتیس ۳۵ علمائے حرمین شریفین نے فتوی دیاکہ یہ عبارات کفریہ ہیں اور ان کے قائل کافرہیں اب چاہئے تویہ تھا کہ ان چند سطری عبارات کو حذف کردیا جاتا اور الله تعالی کی بارگاہ میں توبہ کی جاتی۔ لیکن افسوس کہ ایسا نہ ہوا اور وہ کتابیں ان عبارات سمیت آج تك چھپ رہی ہیں متحدہ پاك وہند کے اڑھائی سو سے زائد علماء اور مشائخ نے اس فتوے کی تصدیق کی دیکھئے الصوارم الہندیہ از مولانا حشمت علی خاں رضوی رحمہ الله تعالی
یہ فتوی علمائے دیوبند سے ذاتی مخاصمت کی بنا پر نہیں بلکہ ناموس مصطفی (صلی الله تعالی علیہ وسلم) کی حفاظت کی خاطر دیاتھا مولوی مرتضی حسن دربھنگی ناظم تعلیمات شعبہ تبلیغ دارالعلوم دیوبند اس فتوی کے بارے میں لکھتے ہیں:
"اگر (مولانا احمد) خاں صاحب کے نزدیك بعض علمائے دیوبندواقعی ایسے ہی تھے جیساکہ انھوں نے انھیں سمجھا تو خاں صاحب پر ان علماء دیوبند کی تکفیر فرض تھی اگروہ ان کو کافرنہ کہتے تو خود کافرہوجاتے۔"
مولانا کوثر نیازی اس اختلاف اور اس کے پس منظر کاذکرکرتے ہوئے لکھتے ہیں:
"اصل جھگڑا یہاں سے چلا کہ ان (علماء دیوبند) کے بعض اکابر کی خلاف احتیاط تحریروں کو امام رضا نے قابل اعتراض گردانا اور چونکہ معاملہ عظمت رسول صلی الله تعالی علیہ وسلم کا تھا توہین رسول صلی الله تعالی علیہ وسلم کی بنیاد پر انھیں فتووں کا نشانہ بنایا دیکھا جائے تو یہی فتوے امام بریلوی اور ان کے مکتب فکر کے جداگانہ تشخص کا مدار ہیں جس تشدد کی دہائی دی جاتی ہے وہی ان کی ذات کی پہچان اور پوری حیات کاعرفان ہے"۔
حقیقت یہ ہے کہ امام احمدرضا بریلوی کے یہ فتوے کسی ذاتی یا گروہی مخاصمت کی بناء پر نہیں بلکہ سرکار دوعالم صلی الله تعالی علیہ وسلم کی عظمت اور تقدس کے تحفظ کے لئے دئے جو ہر مسلمان کا فرض ہے ان کے ایك مکتوب کا کچھ حصہ پیش کیا جاتاہے جس کا ایك ایك لفظ ان کے درددل کا آئینہ ہے ڈیرہ غازی خاں کے مولانا غلام یسین رحمہ الله تعالی علیہ کے نام ایك مکتوب میں فرماتے ہیں:
یہ فتوی علمائے دیوبند سے ذاتی مخاصمت کی بنا پر نہیں بلکہ ناموس مصطفی (صلی الله تعالی علیہ وسلم) کی حفاظت کی خاطر دیاتھا مولوی مرتضی حسن دربھنگی ناظم تعلیمات شعبہ تبلیغ دارالعلوم دیوبند اس فتوی کے بارے میں لکھتے ہیں:
"اگر (مولانا احمد) خاں صاحب کے نزدیك بعض علمائے دیوبندواقعی ایسے ہی تھے جیساکہ انھوں نے انھیں سمجھا تو خاں صاحب پر ان علماء دیوبند کی تکفیر فرض تھی اگروہ ان کو کافرنہ کہتے تو خود کافرہوجاتے۔"
مولانا کوثر نیازی اس اختلاف اور اس کے پس منظر کاذکرکرتے ہوئے لکھتے ہیں:
"اصل جھگڑا یہاں سے چلا کہ ان (علماء دیوبند) کے بعض اکابر کی خلاف احتیاط تحریروں کو امام رضا نے قابل اعتراض گردانا اور چونکہ معاملہ عظمت رسول صلی الله تعالی علیہ وسلم کا تھا توہین رسول صلی الله تعالی علیہ وسلم کی بنیاد پر انھیں فتووں کا نشانہ بنایا دیکھا جائے تو یہی فتوے امام بریلوی اور ان کے مکتب فکر کے جداگانہ تشخص کا مدار ہیں جس تشدد کی دہائی دی جاتی ہے وہی ان کی ذات کی پہچان اور پوری حیات کاعرفان ہے"۔
حقیقت یہ ہے کہ امام احمدرضا بریلوی کے یہ فتوے کسی ذاتی یا گروہی مخاصمت کی بناء پر نہیں بلکہ سرکار دوعالم صلی الله تعالی علیہ وسلم کی عظمت اور تقدس کے تحفظ کے لئے دئے جو ہر مسلمان کا فرض ہے ان کے ایك مکتوب کا کچھ حصہ پیش کیا جاتاہے جس کا ایك ایك لفظ ان کے درددل کا آئینہ ہے ڈیرہ غازی خاں کے مولانا غلام یسین رحمہ الله تعالی علیہ کے نام ایك مکتوب میں فرماتے ہیں:
حوالہ / References
مرتضی حسن دربھنگی، مولوی اشد العذاب ص۱۴
کوثر نیازی : امام احمد رضا ہمہ جہت شخصیت ص۷
کوثر نیازی : امام احمد رضا ہمہ جہت شخصیت ص۷
"مولانا! زمانہ غربت اسلام ہے"بدأ الاسلام غریبا وسیعود کما بدأ فطوبی للغرباء"غربت کے لئے کسمپرسی لازم ہے سنیوں میں عوام کی توجہ لہوولعب وہزل کی طرف اور بدمذہب رافضی ہوں یا وہابی یا قادیانی یا آریہ یا نصاری سب اپنے اپنے مذہب کی نصرت وحمایت و اشاعت میں کمربستہ ہیں۔ مال سے اعمال سے اقوال سے سنیوں کو کون پوچھتاہے وقت ہی شیوع ضلالت کا ہے ان کو اگر کوئی آدھی بات کہے جامہ سے باہرہوں ماں باپ کوگالی دے اس کے خون کے پیاسے ہوں اس وقت تہذیب بالائے طاق رہتی ہے ساری تہذیب الله عزوجل اور حضور سیدعالم صلی الله تعالی علیہ وسلم کے مقابل برتی جاتی ہے کہ ان کو منہ بھر گالیاں دینے والے لکھ لکھ کر چھاپنے والے جو چاہیں بکیں ان بکنے والوں کانام ذرا بے تعظیمی سے لیا اورنامہذب درشت گو کا خلعت عطاہوا یہ حالت ایمان ہے انا ﷲ وانا الیہ راجعون۔
ایسوں کے نزدیك تو معاذ الله قرآن عظیم بھی نامہذب ہے"فلاتطع کل حلاف مہین ھماز مشاء بنمیم مناع للخیر معتد اثیم عتل بعد ذلك زنیم یایھا النبی جاھد الکفار والمنفقین واغلظ علیھم وقاتلوا الذین یلونکم من الکفار ولیجدوا فیکم غلظۃ ودوا لوتدھن فیدھنون ولاتاخذکم بھمارأفۃ فی دین اﷲ تقربوا الی الله ببغض اھل المعاصی والقوھم بوجوہ مقفھرۃ۔
بات یہ ہے کہ الله ورسول کی عزت قلوب میں بہت کم ہوگئی ہے ماں باپ کو براکہنے سے دل کو درد پہنچتاہے تہذیب بالائے طاق رہتی ہے نہ اس وقت اخوت واتحاد کا سبق یاد ہے الله ورسول پر جوگالیاں برستی ہیں ان سے دل پر میل بھی نہیں آتا وہاں نیچری تہذیب آڑے آتی ہے الله اسلام دے اور مسلمانوں کو توفیق خیر عطافرمائے"۔
تفصیل کے لئے سعادت لوح وقلم پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمدمدظلہ العالی کی تصنیف لطیف"گناہ بیگناہی"اور مولانا علامہ محمد منشا تابش قصوری کی پاك وہند میں مقبول کتاب"دعوت فکر"کا مطالعہ فرمائیں۔
o
۱۸ جمادی الاولی ۱۴۱۹ھ
۱۰ ستمبر ۱۹۹۸ء محمد عبدالحکیم شرف قادری
ایسوں کے نزدیك تو معاذ الله قرآن عظیم بھی نامہذب ہے"فلاتطع کل حلاف مہین ھماز مشاء بنمیم مناع للخیر معتد اثیم عتل بعد ذلك زنیم یایھا النبی جاھد الکفار والمنفقین واغلظ علیھم وقاتلوا الذین یلونکم من الکفار ولیجدوا فیکم غلظۃ ودوا لوتدھن فیدھنون ولاتاخذکم بھمارأفۃ فی دین اﷲ تقربوا الی الله ببغض اھل المعاصی والقوھم بوجوہ مقفھرۃ۔
بات یہ ہے کہ الله ورسول کی عزت قلوب میں بہت کم ہوگئی ہے ماں باپ کو براکہنے سے دل کو درد پہنچتاہے تہذیب بالائے طاق رہتی ہے نہ اس وقت اخوت واتحاد کا سبق یاد ہے الله ورسول پر جوگالیاں برستی ہیں ان سے دل پر میل بھی نہیں آتا وہاں نیچری تہذیب آڑے آتی ہے الله اسلام دے اور مسلمانوں کو توفیق خیر عطافرمائے"۔
تفصیل کے لئے سعادت لوح وقلم پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمدمدظلہ العالی کی تصنیف لطیف"گناہ بیگناہی"اور مولانا علامہ محمد منشا تابش قصوری کی پاك وہند میں مقبول کتاب"دعوت فکر"کا مطالعہ فرمائیں۔
o
۱۸ جمادی الاولی ۱۴۱۹ھ
۱۰ ستمبر ۱۹۹۸ء محمد عبدالحکیم شرف قادری
بسم اﷲ الرحمن الرحیم ط
کتاب السیر
مسئلہ۱: از بریلی پرانا شہر محلہ سیلانی مسئولہ مستقیم نداف یکم ذی الحجہ ۱۳۳۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کے تین بیٹے ہیںایك مرض مرگی میں مبتلا ہےدوسرا بیٹا جوان گھر سنبھالواگر وہ نہ ہوں تو زید اور اس کی اہلیہ دوسروں کے محتاج ہوجائیں کیونکہ ضعیفی کا عالم ہےبڑا بیٹا بعزم ہجرت کابل وداع ہوتا ہے کل کی تاریخ میںاور اس کی بیوی سال بھر کی بیاہی پورے دن امید کے ہیںاور اس کو بھی چھوڑے جاتا ہے۔جو حکم قرآن و حدیث شریف کا ہو اس میں ہر گزانکار نہیں۔
الجواب:
اس صورت میں کابل کی ہجرت اسے جائز نہیںحدیث میں ہے:
کفی بالمرء اثما ان یضیع من یقوت۔ واﷲتعالی اعلم۔ کسی آدمی کے گنہگار ہونے کے لئے اتنا کافی ہے کہ وہ اسے ضائع کردے جس کی روزی اس کے ذمہ تھی۔
واﷲتعالی اعلم(ت)
کتاب السیر
مسئلہ۱: از بریلی پرانا شہر محلہ سیلانی مسئولہ مستقیم نداف یکم ذی الحجہ ۱۳۳۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کے تین بیٹے ہیںایك مرض مرگی میں مبتلا ہےدوسرا بیٹا جوان گھر سنبھالواگر وہ نہ ہوں تو زید اور اس کی اہلیہ دوسروں کے محتاج ہوجائیں کیونکہ ضعیفی کا عالم ہےبڑا بیٹا بعزم ہجرت کابل وداع ہوتا ہے کل کی تاریخ میںاور اس کی بیوی سال بھر کی بیاہی پورے دن امید کے ہیںاور اس کو بھی چھوڑے جاتا ہے۔جو حکم قرآن و حدیث شریف کا ہو اس میں ہر گزانکار نہیں۔
الجواب:
اس صورت میں کابل کی ہجرت اسے جائز نہیںحدیث میں ہے:
کفی بالمرء اثما ان یضیع من یقوت۔ واﷲتعالی اعلم۔ کسی آدمی کے گنہگار ہونے کے لئے اتنا کافی ہے کہ وہ اسے ضائع کردے جس کی روزی اس کے ذمہ تھی۔
واﷲتعالی اعلم(ت)
حوالہ / References
سنن ابوداؤد کتاب الزکوٰۃ آفتاب عالم پریس لاہور ۱/ ۲۳۸،مسند احمد بن حنبل دارالفکر بیروت ۲/ ۱۶۰،۱۹۴،۱۹۵،المعجم الکبیر حدیث ۱۳۴۱۵ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۲/ ۳۸۲
مسئلہ۲: از لاہور محلہ سادھواں مرسلہ میاں تاج الدین خیاط ۱۳ذی الحجہ ۱۳۳۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین کہ ہجرت کے احکاموں اور شرائط کا استعمال کس صورت میں ہونا چاہئے
الجواب:
دارالحرب سے دارالاسلام کی طرف ہجرت فرض ہے
قال اﷲ تعالی ان الذین توفىہم الملئکۃ ظالمی انفسہم قالوا فیم کنتم قالوا کنا مستضعفین فی الارض قالوا الم تکن ارض اللہ وسعۃ فتہاجروا فیہا فاولئک ماوىہم جہنم وساءت مصیرا ﴿۹۷﴾ " اﷲ تعالی نے فرمایا:وہ لوگ جن کی جان فرشتے نکالتے ہیں اس حال میں کہ وہ اپنے اوپر ظلم کرتے تھے ان سے فرشتے کہتے ہیں تم کاہے میں تھے کہتے ہیں کہ ہم زمین میں کمزور تھےکہتے ہیں کہ اﷲ تعالی کی زمین کشادہ نہ تھی کہ تم اس میں ہجرت کرتےتو ایسوں کا ٹھکانا جہنم ہے اور بہت بری جگہ پلٹنے کی۔(ت)
ہاں اگر حقیقۃ مجبور ہوتو معذور ہے
قال اﷲ تعالی
" الا المستضعفین من الرجال والنساء والولدن لا یستطیعون حیلۃ ولا یہتدون سبیلا ﴿۹۸﴾ فاولئک عسی اللہ ان یعفو عنہم وکان اللہ عفوا غفورا ﴿۹۹﴾" اﷲ تعالی نے فرمایا:مگر وہ جودبالئے گئے مرد اور عورتیں اور بچے جنہیں نہ کوئی تدبیر بن پڑے اورنہ راستہ جانیںتو قریب ہے اﷲ ایسوں کومعاف فرمائے اور اﷲ معاف فرمانے والا بخشنے والاہے۔(ت)
اور دارالاسلام سے ہجرت کا حکم نہیں
قال رسول اﷲصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لاھجرۃ بعد الفتح ۔ حضور اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:فتح(مکہ)کے بعد ہجرت نہیں۔(ت)
ہاں اگر کسی جگہ کسی عذر خاص کے سبب کوئی شخص اقامت فرائض سے مجبور ہوتو اسے اس جگہ کا بدلنا واجب اس مکان میں معذوری ہوتو مکان بدلےمحلہ میں معذوری ہوتو دوسرے محلہ میں چلا جائےبستی میں معذوری ہو تو دوسرے بستی میں جائے۔ مدارك التنزیل میں ہے:
والایۃ تدل علی ان من لم یتمکن یہ آیت مبارکہ اس پر دال ہے کہ جب کوئی شخص کسی شہر
کیافرماتے ہیں علمائے دین کہ ہجرت کے احکاموں اور شرائط کا استعمال کس صورت میں ہونا چاہئے
الجواب:
دارالحرب سے دارالاسلام کی طرف ہجرت فرض ہے
قال اﷲ تعالی ان الذین توفىہم الملئکۃ ظالمی انفسہم قالوا فیم کنتم قالوا کنا مستضعفین فی الارض قالوا الم تکن ارض اللہ وسعۃ فتہاجروا فیہا فاولئک ماوىہم جہنم وساءت مصیرا ﴿۹۷﴾ " اﷲ تعالی نے فرمایا:وہ لوگ جن کی جان فرشتے نکالتے ہیں اس حال میں کہ وہ اپنے اوپر ظلم کرتے تھے ان سے فرشتے کہتے ہیں تم کاہے میں تھے کہتے ہیں کہ ہم زمین میں کمزور تھےکہتے ہیں کہ اﷲ تعالی کی زمین کشادہ نہ تھی کہ تم اس میں ہجرت کرتےتو ایسوں کا ٹھکانا جہنم ہے اور بہت بری جگہ پلٹنے کی۔(ت)
ہاں اگر حقیقۃ مجبور ہوتو معذور ہے
قال اﷲ تعالی
" الا المستضعفین من الرجال والنساء والولدن لا یستطیعون حیلۃ ولا یہتدون سبیلا ﴿۹۸﴾ فاولئک عسی اللہ ان یعفو عنہم وکان اللہ عفوا غفورا ﴿۹۹﴾" اﷲ تعالی نے فرمایا:مگر وہ جودبالئے گئے مرد اور عورتیں اور بچے جنہیں نہ کوئی تدبیر بن پڑے اورنہ راستہ جانیںتو قریب ہے اﷲ ایسوں کومعاف فرمائے اور اﷲ معاف فرمانے والا بخشنے والاہے۔(ت)
اور دارالاسلام سے ہجرت کا حکم نہیں
قال رسول اﷲصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لاھجرۃ بعد الفتح ۔ حضور اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:فتح(مکہ)کے بعد ہجرت نہیں۔(ت)
ہاں اگر کسی جگہ کسی عذر خاص کے سبب کوئی شخص اقامت فرائض سے مجبور ہوتو اسے اس جگہ کا بدلنا واجب اس مکان میں معذوری ہوتو مکان بدلےمحلہ میں معذوری ہوتو دوسرے محلہ میں چلا جائےبستی میں معذوری ہو تو دوسرے بستی میں جائے۔ مدارك التنزیل میں ہے:
والایۃ تدل علی ان من لم یتمکن یہ آیت مبارکہ اس پر دال ہے کہ جب کوئی شخص کسی شہر
حوالہ / References
القرآن الکریم ۴ /۹۷
القرآن الکریم ۴ /۹۸،۹۹
کنز العمال حدیث ۱۵۰۵۴ مؤسسۃ الرسالۃ بیروت ۶/ ۱۰۹
القرآن الکریم ۴ /۹۸،۹۹
کنز العمال حدیث ۱۵۰۵۴ مؤسسۃ الرسالۃ بیروت ۶/ ۱۰۹
من اقامۃ دینہ فی بلد کما یجب وعلم انہ یتمکن من اقامتہ فی غیرہ حقت علیہ المھاجرۃ وفی الحدیث''من فربدینہ من ارض وان کان شبرا من الارض استوجبت لہ الجنۃ''وکان رفیق ابیہ ابراھیم ونبیہ محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ۔ میں اقامت دین پر اس طرح قادر و متمکن نہیں جیسا کہ لازم ہے اور وہ محسوس کرتا ہے کہ دوسرے شہرمیں اقامت پر قادر ہوجائے گا تو اس پر وہاں ہجرت کرنا لازم ہوجائیگااور حدیث میں ہے کہ جو شخص دین کی خاطر ایك جگہ سے دوسرے جگہ بھاگا خواہ وہ ایك بالشت ہی کیوں نہ ہو اس کے لئے جنت لازم ہوجاتی ہے اور وہ اپنے جد امجد حضرت ابراہیم علیہ السلام اور اپنے نبی حضرت محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی سنگت پائے گا۔(ت)
ہندوستان دارالحرب نہیں دارالاسلام ہےکما حققناہ فی فتونا اعلام الاعلام(جیسا کہ ہم نے اس کی تحقیق اپنے فتوی اعلام الاعلام میں کی ہے۔ت)واﷲ اعلم۔
____________________
ہندوستان دارالحرب نہیں دارالاسلام ہےکما حققناہ فی فتونا اعلام الاعلام(جیسا کہ ہم نے اس کی تحقیق اپنے فتوی اعلام الاعلام میں کی ہے۔ت)واﷲ اعلم۔
____________________
حوالہ / References
مدارك التنزیل(تفسیر النسفی)تحت آیت ۴/۹۷ دارالکتاب العربی بیروت ۱/ ۲۴۶
رسالہ اعلام الاعلام بان ہندوستان دارالاسلام ۱۳۶۵ھ
(علم کے پہاڑوں کا اعلان کہ بیشك ہندوستان دارالاسلام ہے)
مسئلہ۳تا۵: از بدایوں محلہ براہم پورہ مرسلہ مرزا علی بیگ صاحب ۱۲۹۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں:
(۱)ہندوستان دارالحرب ہے یادارالاسلام
(۲)اس زمانہ کے یہود و نصاری کتابی ہیں یانہیں
(۳)روافض وغیرہم مبتدعین کہ کفارہ داخل مرتدین ہیں یانہیںجواب مفصل بدلائل عقلیہ ونقلیہ مدلل درکار ہے بینوا توجروا۔
جواب سوال اول
ہمارے امام اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ بلکہ علمائے ثلثہ رحمۃ اﷲ تعالی علیہم کے مذہب پر ہندوستان دارالاسلام ہے ہرگز دارالحرب نہیں کہ دارالاسلام کے دارالحرب ہوجانے میں جو تین باتیں ہمارے امام اعظم امام الائمہ رضی اﷲ تعالی عنہ کے نزدیك درکار ہیں ان میں سے ایك یہ ہے کہ وہاں احکام شرك علانیہ جاری ہوں اور شریعت اسلام کے احکام و شعائر مطلقا جاری نہ ہونے پائیں اور صاحبین کے نزدیك اسی قدر کافی ہے مگر یہ بات بحمداﷲ یہاں قطعا موجود نہیں اہل اسلام جمعہ و عیدین واذان واقامت و نماز باجماعت وغیرہا شعائر شریعت بغیر مزاحمت علی الاعلان ادا کرتے ہیں۔فرائضنکاحرضاع طلاق عدۃ رجعتمہرخلعنفقاتحضانتنسبہبہ
(علم کے پہاڑوں کا اعلان کہ بیشك ہندوستان دارالاسلام ہے)
مسئلہ۳تا۵: از بدایوں محلہ براہم پورہ مرسلہ مرزا علی بیگ صاحب ۱۲۹۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں:
(۱)ہندوستان دارالحرب ہے یادارالاسلام
(۲)اس زمانہ کے یہود و نصاری کتابی ہیں یانہیں
(۳)روافض وغیرہم مبتدعین کہ کفارہ داخل مرتدین ہیں یانہیںجواب مفصل بدلائل عقلیہ ونقلیہ مدلل درکار ہے بینوا توجروا۔
جواب سوال اول
ہمارے امام اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ بلکہ علمائے ثلثہ رحمۃ اﷲ تعالی علیہم کے مذہب پر ہندوستان دارالاسلام ہے ہرگز دارالحرب نہیں کہ دارالاسلام کے دارالحرب ہوجانے میں جو تین باتیں ہمارے امام اعظم امام الائمہ رضی اﷲ تعالی عنہ کے نزدیك درکار ہیں ان میں سے ایك یہ ہے کہ وہاں احکام شرك علانیہ جاری ہوں اور شریعت اسلام کے احکام و شعائر مطلقا جاری نہ ہونے پائیں اور صاحبین کے نزدیك اسی قدر کافی ہے مگر یہ بات بحمداﷲ یہاں قطعا موجود نہیں اہل اسلام جمعہ و عیدین واذان واقامت و نماز باجماعت وغیرہا شعائر شریعت بغیر مزاحمت علی الاعلان ادا کرتے ہیں۔فرائضنکاحرضاع طلاق عدۃ رجعتمہرخلعنفقاتحضانتنسبہبہ
وقفوصیتشفعہ وغیرہابہت معاملات مسلمین ہماری شریعت غرابیضاء کی بناپر فیصل ہوتے ہیں کہ ان امور میں حضرات علماء سے فتوی لینا اور اسی پر عمل و حکم کرنا حکام انگریزی کو بھی ضرور ہوتا ہے اگرچہ ہنود و مجوس و نصاری ہوں اور بحمد اﷲ یہ بھی شوکت و جبروت شریعت علیہ عالیہ اسلامیہ اعلی اﷲ تعالی حکمہا السامیہ ہے کہ مخالفین کو بھی اپنی تسلیم اتباع پر مجبور فرما تی ہے والحمد ﷲ رب العالمینفتاوی عالمگیریہ میں سراج وہاج سے نقل کیا:
اعلم ان دارالحرب تصیردار الاسلام بشرط واحد وھو اظہار حکم الاسلام فیھا ۔ جان لو کہ بیشك دارالحرب ایك ہی شرط سے دارالاسلام بن جاتا ہے وہ یہ ہے کہ وہاں اسلام کا حکم غالب ہو جائے(ت)
پھر سراج وہاج سے صاحب المذھب سیدنا و مولنا محمد بن الحسن قدس سرہ الاحسن کی زیادات سے کہ کتب ظاہر الروایۃ سے ہے نقل کیا:
انما تصیر دار الاسلام دارالحرب عندابی حنیفۃ رحمہ اﷲ تعالی بشروط ثلاثۃاحدھا اجراء احکام الکفار علی سبیل الاشتھار وان لایحکم فیھا بحکم الاسلامثم قال و صورۃ المسئلۃ ثلاثۃ اوجہ اما ان یغلب اھل الحرب علی دار من دورنا او ارتد اھل مصر غلبوا واجروااحکام الکفر او نقض اھل الذمۃ العھد و تغلبواعلی دارھم ففی کل من ھذہ الصور لاتصیر دار حرب الابثلاثۃ شروطوقال ابویوسف ومحمد رحمہما اﷲ تعالی بشرط واحد وھو اظہار احکام الکفر وھو القیاس الخ امام ابوحنیفہ رحمہ اﷲ تعالی کے نزدیك دارالاسلام تین شرائط سے دارالحرب ہوتا ہے جن میں ایك یہ کہ وہاں کفار کے احکام اعلانیہ جاری کئے جائیں اور وہاں اسلام کا کوئی حکم نافذ نہ کیاجائےپھرفرمایا اور مسئلہ کی صورت تین طرح ہے اہل حرب ہمارے علاقہ پر غلبہ پالیں یا ہمارے کسی علاقہ کے شہری مرتد ہوکر وہاں غلبہ پالیں اور کفر کے احکام جاری کردیں یا وہاں ذمی لوگ عہد کو توڑ کر غلبہ حاصل کرلیںتو ان تمام صورتوں میں وہ علاقہ تین شرطوں سے دارالحرب بن جائے گا وہ یہ کہ احکام کفر اعلانیہ غالب کردئے جائیں۔یہی قیاس ہے الخ(ت)
درر غرر ملاخسرومیں ہے:
اعلم ان دارالحرب تصیردار الاسلام بشرط واحد وھو اظہار حکم الاسلام فیھا ۔ جان لو کہ بیشك دارالحرب ایك ہی شرط سے دارالاسلام بن جاتا ہے وہ یہ ہے کہ وہاں اسلام کا حکم غالب ہو جائے(ت)
پھر سراج وہاج سے صاحب المذھب سیدنا و مولنا محمد بن الحسن قدس سرہ الاحسن کی زیادات سے کہ کتب ظاہر الروایۃ سے ہے نقل کیا:
انما تصیر دار الاسلام دارالحرب عندابی حنیفۃ رحمہ اﷲ تعالی بشروط ثلاثۃاحدھا اجراء احکام الکفار علی سبیل الاشتھار وان لایحکم فیھا بحکم الاسلامثم قال و صورۃ المسئلۃ ثلاثۃ اوجہ اما ان یغلب اھل الحرب علی دار من دورنا او ارتد اھل مصر غلبوا واجروااحکام الکفر او نقض اھل الذمۃ العھد و تغلبواعلی دارھم ففی کل من ھذہ الصور لاتصیر دار حرب الابثلاثۃ شروطوقال ابویوسف ومحمد رحمہما اﷲ تعالی بشرط واحد وھو اظہار احکام الکفر وھو القیاس الخ امام ابوحنیفہ رحمہ اﷲ تعالی کے نزدیك دارالاسلام تین شرائط سے دارالحرب ہوتا ہے جن میں ایك یہ کہ وہاں کفار کے احکام اعلانیہ جاری کئے جائیں اور وہاں اسلام کا کوئی حکم نافذ نہ کیاجائےپھرفرمایا اور مسئلہ کی صورت تین طرح ہے اہل حرب ہمارے علاقہ پر غلبہ پالیں یا ہمارے کسی علاقہ کے شہری مرتد ہوکر وہاں غلبہ پالیں اور کفر کے احکام جاری کردیں یا وہاں ذمی لوگ عہد کو توڑ کر غلبہ حاصل کرلیںتو ان تمام صورتوں میں وہ علاقہ تین شرطوں سے دارالحرب بن جائے گا وہ یہ کہ احکام کفر اعلانیہ غالب کردئے جائیں۔یہی قیاس ہے الخ(ت)
درر غرر ملاخسرومیں ہے:
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ کتاب السیر الباب الخامس فی استیلاء الکفار نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۲۳۲
فتاوٰی ہندیہ کتاب السیر الباب الخامس فی استیلاء الکفار نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۲۳۲
فتاوٰی ہندیہ کتاب السیر الباب الخامس فی استیلاء الکفار نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۲۳۲
دارالحرب تصیردارالاسلام باجراء احکام الاسلام فیھا کا قامۃ الجمعۃ والاعیادوان بقی فیھا کافر اصلی ولم یتصل بدارالاسلام بان کان بینھا وبین دار الاسلام مصر اخر لاھل الحرب الخ ھذا لفط العلامۃ خسر و واثرہ شیخی زادہ فی مجمع الانھر وتبعہ المولی الغزی فی التنویرواقرہ المدقق العلائی فی الدر ثم الطحطاوی والشامی اقتدیا فی الحاشیتین ۔ دارالحرباسلامی احکام جاری کرنے مثلا جمعہ اور عیدین وہاں ادا کرنے پر دارالاسلام بن جاتا ہے اگرچہ وہاں کوئی اصلی کافر بھی موجود ہو اور اس کا دارالاسلام سے اتصال بھی نہ ہویوں کہ اس کے اور دارالاسلام کے درمیان کوئی دوسرا حربی شہر فاصل ہو الخیہ علامہ خسر وکے الفاظ ہیںاور مجمع الانہر میں شیخی زادہ نے اس کی پیروی کی ہےاور مولی غزی نے تنویر میں اس کی اتباع کیاور مدقق علائی نے درمیں اس کو ثابت رکھاپھر طحطاوی اور شامی نے اپنے اپنے حاشیہ میں اسکی اقتدا کی۔(ت)
جامع الفصولین سے نقل کیا گیا:
لہ ان ھذہ البلدۃ صارت دارالاسلام باجراء احکام الاسلام فیھا فما بقی شیئ من احکام دارالاسلام فیھا تبقی دارالاسلام علی ماعرف ان الحکم اذاثبت بعلۃ فما بقی شیئ من العلۃ یبقی الحکم ببقائہ ھکذاذکر شیخ الاسلام ابوبکر فی شرح سیر الاصل انتہی وعن الفصول العمادیۃ ان دارالاسلام لا یصیر دار الحرب اذابقی شیئ من احکام الاسلام وان زال غلبۃ اھل الاسلام وعن منثور الامام ناصر الدین دارالاسلام انما امام صاحب کے ہاں دارالحرب کا علاقہ اسلامی احکام وہاں جاری کرنے سے دارالاسلام بن جاتا ہے تو جب تك وہاں اسلامی احکام باقی رہیں گے وہ علاقہ دارالاسلام رہے گایہ اس لئے کہ حکم جب کسی علت پر مبنی ہوتو جب تك علت میں سے کچھ پایا جائے تو اس کی بقاء سے حکم بھی باقی رہتا ہے جیسا کہ معروف ہے۔ابوبکر شیخ الاسلام نے اصل(مبسوط)کے سیر کے باب کی شرح میں یونہی ذکر فرمایا ہےاھ فصول عمادیہ سے منقول ہے کہ دارالاسلام جب تك وہاں احکام اسلام باقی رہیں گے تو وہ دارالحرب نہ بنے گا اگرچہ وہاں اہل اسلام کا غلبہ ختم ہوجائے امام ناصرالدین کی منثور سے منقول ہے کہ دارالاسلام صرف اسلامی
جامع الفصولین سے نقل کیا گیا:
لہ ان ھذہ البلدۃ صارت دارالاسلام باجراء احکام الاسلام فیھا فما بقی شیئ من احکام دارالاسلام فیھا تبقی دارالاسلام علی ماعرف ان الحکم اذاثبت بعلۃ فما بقی شیئ من العلۃ یبقی الحکم ببقائہ ھکذاذکر شیخ الاسلام ابوبکر فی شرح سیر الاصل انتہی وعن الفصول العمادیۃ ان دارالاسلام لا یصیر دار الحرب اذابقی شیئ من احکام الاسلام وان زال غلبۃ اھل الاسلام وعن منثور الامام ناصر الدین دارالاسلام انما امام صاحب کے ہاں دارالحرب کا علاقہ اسلامی احکام وہاں جاری کرنے سے دارالاسلام بن جاتا ہے تو جب تك وہاں اسلامی احکام باقی رہیں گے وہ علاقہ دارالاسلام رہے گایہ اس لئے کہ حکم جب کسی علت پر مبنی ہوتو جب تك علت میں سے کچھ پایا جائے تو اس کی بقاء سے حکم بھی باقی رہتا ہے جیسا کہ معروف ہے۔ابوبکر شیخ الاسلام نے اصل(مبسوط)کے سیر کے باب کی شرح میں یونہی ذکر فرمایا ہےاھ فصول عمادیہ سے منقول ہے کہ دارالاسلام جب تك وہاں احکام اسلام باقی رہیں گے تو وہ دارالحرب نہ بنے گا اگرچہ وہاں اہل اسلام کا غلبہ ختم ہوجائے امام ناصرالدین کی منثور سے منقول ہے کہ دارالاسلام صرف اسلامی
حوالہ / References
دررغرر کتاب الجہاد باب المستامن مطبع احمد کامل مصر ۱/ ۲۹۵
جامع الفصولین الفصل الاول فی القضاء اسلامی کتب خانہ کراچی ص۱۲
جامع الفصولین الفصل الاول فی القضاء اسلامی کتب خانہ کراچی ص۱۲
صارت دارالاسلام باجراء الاحکام فمابقیت علقۃ من علائق الاسلام یترجح جانب الاسلام وعن البرھان شرح مواھب الرحمن لایصیر دارالحرب مادام فیہ شیئ منھا بخلاف دارالاسلام لانارجحنا اعلام الاسلام واحکام اعلام کلمۃ الاسلام وعن الدر المنتقی لصاحب الدرالمختار دارالحرب تصیر دارالاسلام باجراء بعض احکام الاسلام ۔ احکام جاری کرنے سے بنتا ہے تو جب تك وہاں اسلام کے متعلقات باقی ہیں تو وہاں اسلام کے پہلو کو ترجیح ہوگی۔اور برہان شرح مواہب الرحمن سے منقول ہے کوئی علاقہ اس وقت تك دارالحرب نہ بنے گا جب تك وہاں کچھ اسلامی احکام باقی ہیںکیونکہ اسلامی نشانات کو اور کلمہ اسلام کے نشانات کے احکام کو ہم ترجیح دیں گےدارالاسلام کا حکم اسکے خلاف ہے۔صاحب درمختار کی المنتقی سے منقول ہے کہ دارالحرب میں بعض اسلامی احکام کے نفاذ سے دارالاسلام بن جاتا ہے۔(ت)
شرح نقایہ میں ہے:
لاخلاف ان دارالحرب تصیردارالاسلام باجراء بعض احکام الاسلام فیھا ۔ بلا اختلاف دارالحرب وہاں بعض اسلامی احکام کے نفاذ سے وہ دارالاسلام بن جاتا ہے(ت)
اور اسی میں ہے:
وقال شیخ الاسلام والامام الاسبیجابی ای الدار محکومۃ بدارالاسلام ببقاء حکم واحد فیھا کمافی العمادی وغیرہ ۔ شیخ الاسلام اور امام اسبیجابی نے فرمایا:کسی بھی علاقہ میں کوئی ایك اسلامی حکم بھی باقی ہوتو اس علاقہ کو دارالاسلام کہا جائے گاجیسا کہ عمادی وغیرہ میں ہے۔(ت)
پھر اپنے بلاد اور وہاں کے فتن و فساد کی نسبت فرماتے ہیں:
فالاحتیاط یجعل ھذہ البلاد دارالاسلام والمسلمین وان کانت للملاعین والید فی الظاھر احتیاط یہی ہے کہ یہ علاقہ دارالاسلام والمسلمین قرار دیاجائے اگرچہ وہاں ظاہری طور پر شیطانوں کا
شرح نقایہ میں ہے:
لاخلاف ان دارالحرب تصیردارالاسلام باجراء بعض احکام الاسلام فیھا ۔ بلا اختلاف دارالحرب وہاں بعض اسلامی احکام کے نفاذ سے وہ دارالاسلام بن جاتا ہے(ت)
اور اسی میں ہے:
وقال شیخ الاسلام والامام الاسبیجابی ای الدار محکومۃ بدارالاسلام ببقاء حکم واحد فیھا کمافی العمادی وغیرہ ۔ شیخ الاسلام اور امام اسبیجابی نے فرمایا:کسی بھی علاقہ میں کوئی ایك اسلامی حکم بھی باقی ہوتو اس علاقہ کو دارالاسلام کہا جائے گاجیسا کہ عمادی وغیرہ میں ہے۔(ت)
پھر اپنے بلاد اور وہاں کے فتن و فساد کی نسبت فرماتے ہیں:
فالاحتیاط یجعل ھذہ البلاد دارالاسلام والمسلمین وان کانت للملاعین والید فی الظاھر احتیاط یہی ہے کہ یہ علاقہ دارالاسلام والمسلمین قرار دیاجائے اگرچہ وہاں ظاہری طور پر شیطانوں کا
حوالہ / References
الفصول العمادیۃ
البرھان شرح مواہب الرحمان
الدرالمنتقی علی ہامش مجمع الانہر کتاب السیر داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۲۳۴
جامع الرموز کتاب الجہاد مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران ۴/ ۵۵۶
جامع الرموز کتاب الجہاد مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران ۴/ ۵۵۷
البرھان شرح مواہب الرحمان
الدرالمنتقی علی ہامش مجمع الانہر کتاب السیر داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۲۳۴
جامع الرموز کتاب الجہاد مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران ۴/ ۵۵۶
جامع الرموز کتاب الجہاد مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران ۴/ ۵۵۷
لھؤلاء الشیطین ربنا لاتجعلنا فتنۃ للقوم الظلمین ونجنا برحمتك من القوم الکفرین کمافی المستصفی
وغیرہ ۔ قبضہ ہےاے ہمارے رب! ہمیں ظالموں کے لئے فتنہ نہ بنا اور اپنی رحمت سے ہمیں کافروں سے نجات عطا فرماجیسا کہ مستصفی وغیرہ میں ہے۔(ت)
دررغرر و تنویر الابصار ودرمختار ومجمع الانہر وغیرہا میں کہ شرط اول کوصرف بلفظ اجرائے احکام الشرك سے تعبیر کیا وہاں بھی یہ ہی مقصود کہ اس ملك میں کلیۃ احکام کفر ہی جاری ہوں نہ یہ کہ مجرد جریان بعض کفر کافی ہے اگرچہ ان کے ساتھ بعض احکام اسلام بھی اجراء پائیں۔
فی الحاشیۃ الطحطاویۃ علی الدرالمختار قولہ باجراء احکام اھل الشرك ای علی الاشتھار وان لایحکم فیھا بحکم اھل الاسلامہندیۃ وظاھرہ انہ لو اجریت احکام المسلمین واحکام اھل الشرك لا تکون دارحرب انتہی ۔ درمختار کے حاشیہ طحطاوی میں ہے قولہ باجراء احکام اھل الشرک(اس کا قول کہ اہل شرك کے احکام کے اجراء سے دارالحرب بن جاتا ہے)سے مراد یہ ہے کہ وہاں اعلانیہ احکام شرك نافذ کئے جائیں اور اہل اسلام کا کوئی حکم بھی نافذ نہ ہوہندیہ میں یوں ہےکہ اس سے ظاہر ہے کہ اگر وہاں احکام شرك اور احکام اسلام دونوں نافذ ہوں تو دارالحرب نہ ہوگااھ۔(ت)
اور اسی طرح حاشیہ شامیہ میں نقل کرکے مقرر رکھا
اقول: و باﷲ التوفیق والدلیل علی ذلك امران الاول قول محمد وھوالطراز المذھب انھا تصیردارحرب عند الامام بشرائط ثلث احدھا اجراء احکام الکفار علی سبیل الاشتھار وان لایحکم فیھا بحکم الاسلام فانظر کیف زادالجملۃ الاخیرۃ ولم یقتصر علی الاولی فلو لم یفسر کلامھم بماذکرنا لکان کلام الامام اقول: وباﷲالتوفیق(میں کہتا ہوں او ر توفیق اﷲ تعالی سے ہے)اس پر دلیل دو ۲چیزیں ہیں:۱ اول یہ کہ امام محمد رحمہ اﷲ تعالی جو مذہب کے ترجمان ہیں ان کا یہ قول کہ وہ علاقہ امام صاحب رحمہ اﷲ تعالی کے نزدیك تین شرطوں سے دارالحرب بنتا ہے ان میں سے ایك یہ کہ وہاں کفار کے احکام اعلانیہ جاری کئے جائیں اور کوئی اسلامی حکم نافذ نہ ہوتو غور کرو کہ انہوں نے آخری جملہ کیسے زائد فرمایا اور صرف پہلے جملہ پر اکتفاء نہ فرمایااگر فقہاء کا کلام ہمارے ذکر کردہ بیان سے واضح نہ بھی کیاجائے توصرف
وغیرہ ۔ قبضہ ہےاے ہمارے رب! ہمیں ظالموں کے لئے فتنہ نہ بنا اور اپنی رحمت سے ہمیں کافروں سے نجات عطا فرماجیسا کہ مستصفی وغیرہ میں ہے۔(ت)
دررغرر و تنویر الابصار ودرمختار ومجمع الانہر وغیرہا میں کہ شرط اول کوصرف بلفظ اجرائے احکام الشرك سے تعبیر کیا وہاں بھی یہ ہی مقصود کہ اس ملك میں کلیۃ احکام کفر ہی جاری ہوں نہ یہ کہ مجرد جریان بعض کفر کافی ہے اگرچہ ان کے ساتھ بعض احکام اسلام بھی اجراء پائیں۔
فی الحاشیۃ الطحطاویۃ علی الدرالمختار قولہ باجراء احکام اھل الشرك ای علی الاشتھار وان لایحکم فیھا بحکم اھل الاسلامہندیۃ وظاھرہ انہ لو اجریت احکام المسلمین واحکام اھل الشرك لا تکون دارحرب انتہی ۔ درمختار کے حاشیہ طحطاوی میں ہے قولہ باجراء احکام اھل الشرک(اس کا قول کہ اہل شرك کے احکام کے اجراء سے دارالحرب بن جاتا ہے)سے مراد یہ ہے کہ وہاں اعلانیہ احکام شرك نافذ کئے جائیں اور اہل اسلام کا کوئی حکم بھی نافذ نہ ہوہندیہ میں یوں ہےکہ اس سے ظاہر ہے کہ اگر وہاں احکام شرك اور احکام اسلام دونوں نافذ ہوں تو دارالحرب نہ ہوگااھ۔(ت)
اور اسی طرح حاشیہ شامیہ میں نقل کرکے مقرر رکھا
اقول: و باﷲ التوفیق والدلیل علی ذلك امران الاول قول محمد وھوالطراز المذھب انھا تصیردارحرب عند الامام بشرائط ثلث احدھا اجراء احکام الکفار علی سبیل الاشتھار وان لایحکم فیھا بحکم الاسلام فانظر کیف زادالجملۃ الاخیرۃ ولم یقتصر علی الاولی فلو لم یفسر کلامھم بماذکرنا لکان کلام الامام اقول: وباﷲالتوفیق(میں کہتا ہوں او ر توفیق اﷲ تعالی سے ہے)اس پر دلیل دو ۲چیزیں ہیں:۱ اول یہ کہ امام محمد رحمہ اﷲ تعالی جو مذہب کے ترجمان ہیں ان کا یہ قول کہ وہ علاقہ امام صاحب رحمہ اﷲ تعالی کے نزدیك تین شرطوں سے دارالحرب بنتا ہے ان میں سے ایك یہ کہ وہاں کفار کے احکام اعلانیہ جاری کئے جائیں اور کوئی اسلامی حکم نافذ نہ ہوتو غور کرو کہ انہوں نے آخری جملہ کیسے زائد فرمایا اور صرف پہلے جملہ پر اکتفاء نہ فرمایااگر فقہاء کا کلام ہمارے ذکر کردہ بیان سے واضح نہ بھی کیاجائے توصرف
حوالہ / References
جامع الرموز کتاب الجہاد مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران ۴/ ۵۵۷
حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الجہاد فصل فی استیمان الکافر دارالمعرفۃ بیروت ۲/ ۴۶۰
حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الجہاد فصل فی استیمان الکافر دارالمعرفۃ بیروت ۲/ ۴۶۰
قاضیا علیھم وناھیك بہ قاضیا عدلافالثانی ان ھؤلاء العلماء ھم الذین قالوا فی دارالحرب انھا تصیر دارالاسلام باجراء احکام الاسلام فیھا فاما ان تقولوا ھھنا ایضا انھا تصیردار الاسلام باجراء بعض احکام الاسلام ولومع جریان بعض احکام الکفر فعلی ھذاترفع المباینۃ بین الدارین اذکل دارتجری فیھا الحکمان مع استجماع بقیۃ شرائط الحربیۃ تکون دارحرب واسلام جمیعا لصدق الحدین معا وکذا لواردت الخلوص والتمحض فی کل الموضعین یعنی ان دارالحرب مایجری فیھا احکام الشرك خالصۃ ودارالاسلام مایحکم فیھا باحکام الاسلام محضۃ فعلی ھذاتکون دارالتی وصفناھالك واسطۃ بین الدارین ولم یقل بہ احدواماان ترید التمحض فی المقام الثانی دون الاول فھذا یخالف ماقصدہ الشارع من اعلاء الاسلام وبنی العلماء کثیرا من الاحکام علی ان الاسلام یعلوولایعلیعلی انہ یلزم ان تکون دورالاسلام امام صاحب کا کلام ہی فیصلہ کن ہے تجھے یہی فیصلہ کن کلام کافی ہے۔۲دوسری چیز یہ کہ یہی وہ علماء کرام ہیں جنہوں نے دارالحرب کے متعلق فرمایا کہ وہ دارالاسلام بن جاتا جب اس میں اسلامی احکام جاری کئے جائیںتو اگر یہاں بھی وہ بعض اسلامی احکام مراد لیں(جس طرح کہ دارالحرب کے لئے کفار کے بعض احکام تم نے مراد لئے)تو جب بعض اسلامی احکام کے ساتھ کچھ احکام کفار ہوں گے تو اس سے دارالحرب اور دارالاسلام کے درمیان فرق ختم ہوجائے گاکیونکہ ان دونوں میں سے ہرایك میں دونوں قسم کے حکم پائے جائیں گے اگرچہ کفار کے احکام زائد ہوں تو لازم آئے گا کہ ہر ایك دار الحرب اور دارالاسلام بھی ہو کیونکہ دونوں پر ہرایك کی تعریف صادق آئے گیاگر تم یہاں یہ مراد لو کہ ہر دار میں اس کے تمام احکام وہاں نافذ ہوں اور ایك دوسرے کے احکام سے خالی ہوں یعنی دارالحرب وہ ہے جس میں تمام احکام خالص کفر کے ہوں اور دارالاسلام وہ ہے جس میں خالص اسلامی احکام ہوںتو اس سے لازم آئے گا کہ جس دار کی بحث ہورہی ہے وہ دونوں داروں میں واسطہ کہلائے گا یعنی وہ نہ دارالاسلام ہونہ دارالحرب ہوحالانکہ ایسے دار کا کوئی بھی قائل نہیںاگر تم یہ مراد لو کہ ثانی یعنی دارالاسلام میں توخالص اسلامی ہوں اورد وسرے یعنی دارالحرب میں خالص ہونا ضروری نہیں تو اس سے شارع کا مقصد اعلاء کلمہ اسلام اور اس کی ترجیح فوت ہوجائیگی جو شارع کے مقصد کے خلاف ہے جبکہ علماء نے بہت سے احکام"الاسلام یعلوولایعلی"(اسلام
باسرھا دور حرب علی مذھب الصاحبین اذااجری فیھا شیئ من احکام الکفر او حکم فیھا بعض مالم ینزل اﷲ سبحنہ وتعالی وھو معلوم مشاہد فی ھذہ الامصار بل من قبلھا بکثیر حیث فشاالتھاون فی الشرع الشریف وتقاعد الحکام عن اجراء احکامہ وترقی اھل الذمۃ علی خلاف مراد الشریعۃ عن ذل ذلیل الی عزجلیل اعطوامناصب رفیعۃ ومراتب شامخۃ منیعۃ حتی استعلواعلی المسلمین ورحم اﷲ للقائل کما نقل المولی الشامی
حبابنانوب الزمان کثیرۃ
وامرمنھا رفعۃ السفھاء
فمتی یفیق الدھر من سکراتہ
وأری الیھود بذلۃ الفقھاء
وکذلك ارتضی بعض الظلمۃ من حکام الجور بعض البدعات التی خرقھا ائمۃ الکفر فاجروھا فی بلادھم کتحلیف الشھود و الزام المصادرات والمکوس ووضع الوظائف الباطلۃ علی الاموال والنفوس الی غیر ذلك من الاحکام الباطلۃ ویسلم ھذاالامر الفظیع من اشنع الشنائع الھائلۃ فوجب القول بان المراد غالب ہوتا ہے مغلوب نہیں ہوتا)کے قاعدہ پر مبنی قرار دئے ہیںعلاوہ ازیں یہ بھی لازم آئے گا کہ تمام دارالاسلام صاحبین کے مذہب پر دارالحرب قرار پائیں جبکہ ان میں کچھ احکام کفر پائے جاتے ہوں یااﷲ تعالی کے نازل کردہ حکم کے خلاف وہاں حکم نافذ پائے جاتے ہوں جیسا کہ آج کے دور میں مشاہدہ ہے بلکہ قبل ازیں بھی ایسا رہاہے جب سے شریعت کے بارے میں سستی ظاہرہوئی اور مسلمان حکام نے شرعی احکام کے نفاذ سے رو گردانی کر رکھی ہےاور ذمی حضرات کو ترقی ملی ہے کہ خلاف شرع ذلیل کی ذلت سے نکل کر بڑی عزت پارہے ہیں جن کو مسلمان حکمرانوں نے بلند منصب اور محفوظ مراتب عطا کررکھے ہیں یہاں تك کہ وہ مسلمانوں پر تعلی کرنے لگے ہیںاﷲ تعالی ایك قائل پر رحم فرمائے جس کا کلام مولانا شامی نے نقل کیا ہے۔(شعر کا ترجمہ)
"دوستو! زمانہ کے مصائب کثیر ہیںان میں سے سخت ترین بیوقوف لوگوں کا اقتدا ر ہےتو کب زمانے کا نشہ ختم ہوگا جبکہ ملك یہودی بن کر فقہاء کی ذلت گاہ بن چکا ہے"۔اور جیسا کہ بعض ظالم حکمرانوں نے کافر لیڈروں کی جاری کردہ کئی بدعات کو پسند کرتے ہوئے اپنے ملکوں میں جاری کردیا مثلا گواہوں سے حلف لینااور ٹیکسچونگیاں اور لوگوں کے اموال اور نفوس پر باطل قسم کے محصولات لاگو کردئےیہ پریشان کن برے معاملات مسلمان ملکوں میں ماننے پڑیں گے لہذا ضروری ہے کہ پہلے مقام یعنی دارالحرب میں خالص مکمل احکام کفر ہوں اور دوسرے یعنی دارالاسلام میں ایسا نہ ہو جبکہ یہی مدعی ہےتو اس سے
حبابنانوب الزمان کثیرۃ
وامرمنھا رفعۃ السفھاء
فمتی یفیق الدھر من سکراتہ
وأری الیھود بذلۃ الفقھاء
وکذلك ارتضی بعض الظلمۃ من حکام الجور بعض البدعات التی خرقھا ائمۃ الکفر فاجروھا فی بلادھم کتحلیف الشھود و الزام المصادرات والمکوس ووضع الوظائف الباطلۃ علی الاموال والنفوس الی غیر ذلك من الاحکام الباطلۃ ویسلم ھذاالامر الفظیع من اشنع الشنائع الھائلۃ فوجب القول بان المراد غالب ہوتا ہے مغلوب نہیں ہوتا)کے قاعدہ پر مبنی قرار دئے ہیںعلاوہ ازیں یہ بھی لازم آئے گا کہ تمام دارالاسلام صاحبین کے مذہب پر دارالحرب قرار پائیں جبکہ ان میں کچھ احکام کفر پائے جاتے ہوں یااﷲ تعالی کے نازل کردہ حکم کے خلاف وہاں حکم نافذ پائے جاتے ہوں جیسا کہ آج کے دور میں مشاہدہ ہے بلکہ قبل ازیں بھی ایسا رہاہے جب سے شریعت کے بارے میں سستی ظاہرہوئی اور مسلمان حکام نے شرعی احکام کے نفاذ سے رو گردانی کر رکھی ہےاور ذمی حضرات کو ترقی ملی ہے کہ خلاف شرع ذلیل کی ذلت سے نکل کر بڑی عزت پارہے ہیں جن کو مسلمان حکمرانوں نے بلند منصب اور محفوظ مراتب عطا کررکھے ہیں یہاں تك کہ وہ مسلمانوں پر تعلی کرنے لگے ہیںاﷲ تعالی ایك قائل پر رحم فرمائے جس کا کلام مولانا شامی نے نقل کیا ہے۔(شعر کا ترجمہ)
"دوستو! زمانہ کے مصائب کثیر ہیںان میں سے سخت ترین بیوقوف لوگوں کا اقتدا ر ہےتو کب زمانے کا نشہ ختم ہوگا جبکہ ملك یہودی بن کر فقہاء کی ذلت گاہ بن چکا ہے"۔اور جیسا کہ بعض ظالم حکمرانوں نے کافر لیڈروں کی جاری کردہ کئی بدعات کو پسند کرتے ہوئے اپنے ملکوں میں جاری کردیا مثلا گواہوں سے حلف لینااور ٹیکسچونگیاں اور لوگوں کے اموال اور نفوس پر باطل قسم کے محصولات لاگو کردئےیہ پریشان کن برے معاملات مسلمان ملکوں میں ماننے پڑیں گے لہذا ضروری ہے کہ پہلے مقام یعنی دارالحرب میں خالص مکمل احکام کفر ہوں اور دوسرے یعنی دارالاسلام میں ایسا نہ ہو جبکہ یہی مدعی ہےتو اس سے
حوالہ / References
ردالمحتا ر کتاب الجہاد داراحیاء التراث العربی بیروت ۳/ ۲۷۵
فی المقام الاول ھوالخلوص والتمحض دون الثانی وھو المقصودوبھذا تبین ان الدارالتی تجری فیھا الحکمان شیئ من ھذاوشیئ من ھذاکدارنا ھذہ لا تکون دارحرب علی مذھب الصاحبین ایضا لعدم تمحض احکام الشرك فمن الظن ماعرض لبعض المعاصرین من بناء نفی الحربیۃ علی الھند علی مذھب الامام فقط فتوھم انہ لایستقیم علی مذھب الصاحبین واخطر الی تطویل الکلام بماکان فی غنی عنہ واشد سخافۃ واعظم شناعۃ مااعتری بعض اجلۃ المشاھیر من الذین ادرکناعصرھم اذحاولو انفی الحربیۃ عن بلادنا بناء علی عدم تحقق الشرط الثانی اعنی الاتصال بدارالحرب ایضا فقالوا معنی الاتصال ان تکون محاطۃ بدارالحرب من کل جھۃ ولاتکون فی جانب بلدۃ اسلامیۃ وھو غیر واقع فی بلاد الھند اذجانبھا الغربی متصل بملك الافاغنۃ کفشاور وکابل وغیرھما من بلاد دارالاسلام
اقول: یالیتہ تفکر فی معنی الثغور اونظر الی فضائل المرابطین فتأمل فی معنی الرباط اوعلم ان مکۃ والشام والطائف وارض حنین وبنی المصطلق و غیرھا کانت دارحرب علی عھد النبی صلی اﷲتعال علیہ وسلم مع اتصالھا بدارالاسلام قطعا اوفھم واضح ہوگیا کہ وہ دار جس میں دونوں قسم کے احکام کچھ کفر کے اور کچھ اسلام کے پائے جائیں جیسا کہ ہمارا یہ ملك ہے صاحبین کے مذہب پر بھی دارالحرب نہ ہوگا کیونکہ یہاں خالص محض احکام کفر نہیں ہیں تو ہمارے بعض معاصرین کا یہ گمان کہ ہندوستان سے دارالحرب کی نفی کی بنیاد صرف امام صاحب کامذہب ہےاس کا وہم ہے کہ صاحبین کے مذہب پر درست نہیں ہے اس نے طویل کلام کیا جبکہ اس کی ضرورت نہیں تھیکمزور ترین اور سب سے خطر ناك موقف وہ ہے جو ہمارے زمانہ کے مشہور اجلہ حضرات کو لاحق ہوا ہے کہ انہوں نے ہمارے اس ملك سے دارالحرب کی نفی کی بنیاد شرط ثانی یعنی کسی دارالحرب سے اتصال کے نہ پائے جانے کو قرار دیا ہے اور انھوں نے اتصال کا معنی لیا ہے کہ چاروں طرف سے دارالحرب میں گھرا ہوا ہو اور کسی طرف سے دارالاسلام سے نہ ملا ہوا ہو چونکہ اتصال کا معنی ہندوستان میں نہیں پایا جاتا لہذا یہ دارالحرب نہ ہوگا کیونکہ ہندوستان غربی جانب سے افغانوں کے ملك پشاور اور کابل وغیرہ دارالاسلام سے ملا ہوا ہے
اقول:(میں کہتا ہوں کہ)کاش وہ سرحدوں کے معنی پر غور کرلیتےیااسلامی سرحدوں کی نگرانی کی فضیلت کو دیکھتے ہوئے رباط کے معنی پر غور کرلیتے یا یہ معلوم کرلیتے کہ مکہشام طائفحنیناور بنی مصطق کے علاقے وغیرہا حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے ایك زمانہ میں دارالحرب تھے حالانکہ ان سب کا دارالاسلام سے اتصال تھایا یہی سمجھ لیتے
اقول: یالیتہ تفکر فی معنی الثغور اونظر الی فضائل المرابطین فتأمل فی معنی الرباط اوعلم ان مکۃ والشام والطائف وارض حنین وبنی المصطلق و غیرھا کانت دارحرب علی عھد النبی صلی اﷲتعال علیہ وسلم مع اتصالھا بدارالاسلام قطعا اوفھم واضح ہوگیا کہ وہ دار جس میں دونوں قسم کے احکام کچھ کفر کے اور کچھ اسلام کے پائے جائیں جیسا کہ ہمارا یہ ملك ہے صاحبین کے مذہب پر بھی دارالحرب نہ ہوگا کیونکہ یہاں خالص محض احکام کفر نہیں ہیں تو ہمارے بعض معاصرین کا یہ گمان کہ ہندوستان سے دارالحرب کی نفی کی بنیاد صرف امام صاحب کامذہب ہےاس کا وہم ہے کہ صاحبین کے مذہب پر درست نہیں ہے اس نے طویل کلام کیا جبکہ اس کی ضرورت نہیں تھیکمزور ترین اور سب سے خطر ناك موقف وہ ہے جو ہمارے زمانہ کے مشہور اجلہ حضرات کو لاحق ہوا ہے کہ انہوں نے ہمارے اس ملك سے دارالحرب کی نفی کی بنیاد شرط ثانی یعنی کسی دارالحرب سے اتصال کے نہ پائے جانے کو قرار دیا ہے اور انھوں نے اتصال کا معنی لیا ہے کہ چاروں طرف سے دارالحرب میں گھرا ہوا ہو اور کسی طرف سے دارالاسلام سے نہ ملا ہوا ہو چونکہ اتصال کا معنی ہندوستان میں نہیں پایا جاتا لہذا یہ دارالحرب نہ ہوگا کیونکہ ہندوستان غربی جانب سے افغانوں کے ملك پشاور اور کابل وغیرہ دارالاسلام سے ملا ہوا ہے
اقول:(میں کہتا ہوں کہ)کاش وہ سرحدوں کے معنی پر غور کرلیتےیااسلامی سرحدوں کی نگرانی کی فضیلت کو دیکھتے ہوئے رباط کے معنی پر غور کرلیتے یا یہ معلوم کرلیتے کہ مکہشام طائفحنیناور بنی مصطق کے علاقے وغیرہا حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے ایك زمانہ میں دارالحرب تھے حالانکہ ان سب کا دارالاسلام سے اتصال تھایا یہی سمجھ لیتے
ان الامام کلما فتح بلدۃ من بلاد الکفار واجری فیھا احکام الاسلام صارت دارالاسلام والتی تلیہا من البلاد تحت حکم الکفار دارحرب کما کانت اوتفطن ان لوصح ماقالہ لاستحال ان یکون شیئ من دیارالکفر دارحرب الاان یفصل بینھا وبین الحدود الاسلامیۃ البحاروالمفاوزولم یقل بہ احدوذلك لانہ کلما حکمت علی بلدۃ بانھا دارحرب سألنا عما یحیطھا من البلاد فان کان فیھا من بلاد الاسلام کانت الاولی ایضا دارالاسلام لعدم الاتصال بالمعنی المذکور والانقلنا الکلام الی مایلاصقھا حتی ینتہی الی بلدۃ من بلاد الاسلام فتصیر کلھا دارالاسلام لتلازق بعضھا ببعض اولاتکون فی تلك الجھۃ بلدۃ اسلامیۃ الی منقطع الارضوبالجملۃ ففساد ھذا القول اظھر من ان یخفی وانما منشؤہ القیاس الفاسد وذلك ان الشرط عندالامام فی صیرورۃ بلدۃ من دار الاسلام دارالحرب ان لاتکون محاطۃ بدار الاسلام من الجہات الاربع وذلك لان غلبۃ الکفار اذن علی شرف الزوال فلاتخرج بہ کہ مسلمان امام جب کفار کے کسی علاقہ کو فتح کرکے وہاں اسلامی احکام جاری کردیتا تو وہ علاقہ دارالاسلام بن جاتا ہے جبکہ اس سے متصل باقی علاقے جو کفار کے قبضہ میں بدستور ابھی تك موجود ہیں وہ پہلے کی طرح دارالحرب ہیںیاان کو سمجھ آتی کہ جو کچھ وہ کہہ رہے ہیں اگر صحیح ہوتو پھر دنیا بھر میں کوئی بھی دارکفر اس وقت تك دارالحرب نہ کہلائے جب تك ان میں اور دارالاسلام میں سمندروں اور بیابانوں کا فاصلہ نہ ہو حالانکہ کوئی بھی دارالحرب کے اس معنی کا قائل نہیں ہےیہ اس لئے کہ جب آپ کسی ملك کو دارالحرب کہیں گے تو ہم استفسار کریں گے کہ اس کے ارگرد کن ملکوں کا احاطہ ہے اگر کوئی بھی ان میں سے دارالاسلام ہوتو پہلاملك (دار الحرب) بھی دارالاسلام قرار پائے کیونکہ وہ اتصال جودار الحرب کا معیار ہے وہ نہ پایاگیاورنہ اگر ارد گرد اسلامی ملك نہ ہوتو پھر ہم اس سے ملنے والے دوسرے ملك کی بابت معلوم کریں گے حتی کہ ملتے ملاتے کوئی دارالاسلام پایاگیا تو یہ درمیان والے تمام ملك دارالاسلام ہوجائیں گے کیونکہ ان ملکوں کا آپس میں ایك دوسرے سے اتصال ہوگیا ہےیاپھر یہ تسلیم کیا جائے کہ اس جہت میں کرہ ارض میں کوئی بھی دارالاسلام نہیں۔خلاصہ یہ ہے کہ دارالحرب کے اس میعاد والے قول کا فساد واضح ہے جس میں کچھ بھی خفاء نہیں ہےاس کی بنیاد یہ فاسد قیاس ہے کہ امام صاحب کے نزدیك کسی دارالاسلام کے دارالحرب بننے کے لئے یہ شرط ہے کہ چاروں اطراف سے وہ ملك دارالاسلام میں گھراہوانہ ہو کیونکہ اگر وہ
البلدۃ عن دارالاسلام فزعم ان شرط الحربیۃ ان تکون محاطۃ بدارالحرب من جمیع الجوانب وما افسدہ من قیاس کما لایخفی عماافادالناس۔ گھراہوا ہوتو اس دارالحرب میں کفار کا غلبہ معرض سقوط میں رہے گا تو یوں وہ دارالاسلام سے خارج نہ رہے گالہذا انہوں نے خیال کرلیا کہ کسی ملك کے حربی ہونے کے لئے ضروری ہے کہ وہ چاروں طرف سے حربی ملکوں میں گھراہواہویہ قیاس نہایت ہی فاسد ہے جو عوام الناس کے لئے بھی مخفی نہیں۔(ت)
الحاصل ہندوستان کے دارالاسلام ہونے میں شك نہیں عجب ان سے جو تحلیل ربو کے لئے(جس کی حرمت نصوص قاطعہ قرآنیہ سے ثابت اور کیسی کیسی سخت وعیدیں اس پروارد)اس ملك کو دارالحرب ٹھہرائیں اور باوجود قدرت واستطاعت ہجرت کا خیال بھی دل میں نہ لائیں گویا یہ بلاد اسی دن کے لئے دارالحرب ہوئے تھے کہ مزے سے سود کے لطف اڑائیے اور بآرام تمام وطن مالوف میں بسر فرمائیے استغفراﷲ افتؤمنون ببعض الکتب وتکفرون ببعض (میں اﷲ تعالی سے مغفرت چاہتا ہوںتو کیا بعض کتاب پر ایمان لاتے ہو اور بعض کا انکار کرتے ہو۔ت)اﷲ سبحنہ وتعالی فرماتا ہے سود کھانیوالے قیامت کو آسیب زدہ کی طرح اٹھیں گے یعنی مجنونانہ گرتے پڑتے بدحواس۔اور حضور پر نور سرور عالم صلی اﷲتعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:میں نے کچھ لوگ ملاحظہ فرمائے کہ پیٹ ان کے پھول کر مکانوں کے برابر ہوگئے ہیں اور مثل شیشہ کے ہیں کہ اندر کی چیز نظر آتی ہے سانپ بچھو ان میں بھرے ہیںمیں نے دریافت کیا یہ کون لوگ ہیںجبریل نے عرض کیا:سود کھانے والے ۔جب تحریم ربو کی آیت نازل ہوئی بعض مسلمانوں نے کہا:جو سودہمارانزول آیت سے پہلے کا رہ گیا ہے وہ لے لیں آئندہ باز رہیں گے۔حکم آیا اگر نہیں مانتے تو اعلان کردو اﷲ اور اﷲ کے رسول سے لڑائی کا۔ سیدنا جابر بن عبداﷲ انصاری رضی اﷲ تعالی عنہما فرماتے ہیں رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے سود خور پر لعنت کی۔
مولی علی کرم اﷲ وجہہ فرماتے ہیں:میں نے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو سود خور پر لعنت فرماتے سنا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:سود کے ستر ٹکڑے ہیں سب سے ہلکا یہ ہے کہ آدمی اپنی ماں سے زنا کرے ۔
الحاصل ہندوستان کے دارالاسلام ہونے میں شك نہیں عجب ان سے جو تحلیل ربو کے لئے(جس کی حرمت نصوص قاطعہ قرآنیہ سے ثابت اور کیسی کیسی سخت وعیدیں اس پروارد)اس ملك کو دارالحرب ٹھہرائیں اور باوجود قدرت واستطاعت ہجرت کا خیال بھی دل میں نہ لائیں گویا یہ بلاد اسی دن کے لئے دارالحرب ہوئے تھے کہ مزے سے سود کے لطف اڑائیے اور بآرام تمام وطن مالوف میں بسر فرمائیے استغفراﷲ افتؤمنون ببعض الکتب وتکفرون ببعض (میں اﷲ تعالی سے مغفرت چاہتا ہوںتو کیا بعض کتاب پر ایمان لاتے ہو اور بعض کا انکار کرتے ہو۔ت)اﷲ سبحنہ وتعالی فرماتا ہے سود کھانیوالے قیامت کو آسیب زدہ کی طرح اٹھیں گے یعنی مجنونانہ گرتے پڑتے بدحواس۔اور حضور پر نور سرور عالم صلی اﷲتعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:میں نے کچھ لوگ ملاحظہ فرمائے کہ پیٹ ان کے پھول کر مکانوں کے برابر ہوگئے ہیں اور مثل شیشہ کے ہیں کہ اندر کی چیز نظر آتی ہے سانپ بچھو ان میں بھرے ہیںمیں نے دریافت کیا یہ کون لوگ ہیںجبریل نے عرض کیا:سود کھانے والے ۔جب تحریم ربو کی آیت نازل ہوئی بعض مسلمانوں نے کہا:جو سودہمارانزول آیت سے پہلے کا رہ گیا ہے وہ لے لیں آئندہ باز رہیں گے۔حکم آیا اگر نہیں مانتے تو اعلان کردو اﷲ اور اﷲ کے رسول سے لڑائی کا۔ سیدنا جابر بن عبداﷲ انصاری رضی اﷲ تعالی عنہما فرماتے ہیں رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے سود خور پر لعنت کی۔
مولی علی کرم اﷲ وجہہ فرماتے ہیں:میں نے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو سود خور پر لعنت فرماتے سنا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:سود کے ستر ٹکڑے ہیں سب سے ہلکا یہ ہے کہ آدمی اپنی ماں سے زنا کرے ۔
حوالہ / References
القرآن الکریم ۲ /۸۵
القرآن الکریم ۲ /۲۷۵
سنن ابن ماجہ باب التغلیظ فی الربا ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۶۵
القرآن الکریم ۲ /۲۷۹
صحیح مسلم باب الربا قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۲۷
مسند احمد بن حنبل دارالفکر بیروت ۱/ ۱۵۸
سنن ابن ماجہ باب التغلیظ فی الربا ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۶۵ و مشکوٰۃ المصابیح،باب الربا،مطبع مجتبائی دہلی ص۲۴۶
القرآن الکریم ۲ /۲۷۵
سنن ابن ماجہ باب التغلیظ فی الربا ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۶۵
القرآن الکریم ۲ /۲۷۹
صحیح مسلم باب الربا قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۲۷
مسند احمد بن حنبل دارالفکر بیروت ۱/ ۱۵۸
سنن ابن ماجہ باب التغلیظ فی الربا ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۶۵ و مشکوٰۃ المصابیح،باب الربا،مطبع مجتبائی دہلی ص۲۴۶
دیکھو اول ان کے اقوال خبیثہ یاد فرماکر آخر ان کے شرك سے اپنی نزاہت وتبری بیان فرمائی تو معلوم ہوا کہ قائلین بنوت مشرکین ہیں مگر ظاہرالروایۃ میں ان پر علی الاطلاق حکم کتابیت دیا اور ان کے ذبائح ونساء کو حلال ٹھہرایادرمختار میں ہے:
صح نکاح کتابیۃ وان کرہ تنزیھا مؤمنۃ بنبی مرسل مقرۃ بکتاب منزل وان اعتقدوا المسیح الھا وکذاحل ذبیحتھم علی المذھب بحرانتہی ۔ کتابیہ عورت سے نکاح صحیح ہے اگرچہ مکروہ تنزیہی ہے بشرطیکہ وہ عورت کسی مرسل نبی پر ایمان رکھتی ہو اور کسی منزل من اﷲ کتاب کا اقرار کرتی ہواگرچہ عمومی طور پر وہ نصاری عیسی علیہ السلام کو الہ مانتے ہوں یونہی ان کا ذبیحہ بھی مذہب میں حلال ہےبحراھ۔(ت)
ردالمحتار میں بحرالرائق سے منقول ہے:
وحاصلہ ان المذھب الاطلاق لما ذکرہ شمس الائمۃ فی المبسوط من ان ذبیحۃ النصرانی حلال مطلقا سواء قال بثالث ثلثۃ اولالاطلاق الکتاب ھنا وھو الدلیل ورجحہ فی فتح القدیرالخ ۔ حاصل یہ ہے کہ مذہب میں اطلاق ہے کیونکہ شمس الائمہ سرخسی نے مبسوط میں یہ ذکر کیا ہے کہ نصرانی کا ذبیحہ مطلقا حلال ہے وہ عیسی علیہ السلام کے متعلق ثالث ثلثہ کا قول کریں یا نہ کریں کیونکہ کتاب اﷲ کا یہاں ا طلاق ہے اور یہی دلیل ہےاس کو فتح القدیر میں ترجیح دی ہے الخ(ت)
مستصفی میں عبارت مذکورہ کے بعد مبسوط سے ہے:
لکن بالنظر الی الدلائل ینبغی ان یجوز الاکل و التزوج انتہی ۔ لیکن دلائل کو دیکھتے ہوئے یہی مناسب قول ہے کہ ان کا ذبیحہ کھانا اور ان کی عورتوں سے نکاح جائز ہے انتہی۔(ت)
فتاوی حامدیہ میں ہے:
مقتضی الدلائل الجواز کما ذکرہ التمر تاشی فی فتاواہالخ ۔ دلائل کا مقتضی یہی ہے کہ جائز ہے جیسا کہ اسے تمرتاشی نے اپنے فتاوی میں ذکر کیا ہے الخ(ت)
صح نکاح کتابیۃ وان کرہ تنزیھا مؤمنۃ بنبی مرسل مقرۃ بکتاب منزل وان اعتقدوا المسیح الھا وکذاحل ذبیحتھم علی المذھب بحرانتہی ۔ کتابیہ عورت سے نکاح صحیح ہے اگرچہ مکروہ تنزیہی ہے بشرطیکہ وہ عورت کسی مرسل نبی پر ایمان رکھتی ہو اور کسی منزل من اﷲ کتاب کا اقرار کرتی ہواگرچہ عمومی طور پر وہ نصاری عیسی علیہ السلام کو الہ مانتے ہوں یونہی ان کا ذبیحہ بھی مذہب میں حلال ہےبحراھ۔(ت)
ردالمحتار میں بحرالرائق سے منقول ہے:
وحاصلہ ان المذھب الاطلاق لما ذکرہ شمس الائمۃ فی المبسوط من ان ذبیحۃ النصرانی حلال مطلقا سواء قال بثالث ثلثۃ اولالاطلاق الکتاب ھنا وھو الدلیل ورجحہ فی فتح القدیرالخ ۔ حاصل یہ ہے کہ مذہب میں اطلاق ہے کیونکہ شمس الائمہ سرخسی نے مبسوط میں یہ ذکر کیا ہے کہ نصرانی کا ذبیحہ مطلقا حلال ہے وہ عیسی علیہ السلام کے متعلق ثالث ثلثہ کا قول کریں یا نہ کریں کیونکہ کتاب اﷲ کا یہاں ا طلاق ہے اور یہی دلیل ہےاس کو فتح القدیر میں ترجیح دی ہے الخ(ت)
مستصفی میں عبارت مذکورہ کے بعد مبسوط سے ہے:
لکن بالنظر الی الدلائل ینبغی ان یجوز الاکل و التزوج انتہی ۔ لیکن دلائل کو دیکھتے ہوئے یہی مناسب قول ہے کہ ان کا ذبیحہ کھانا اور ان کی عورتوں سے نکاح جائز ہے انتہی۔(ت)
فتاوی حامدیہ میں ہے:
مقتضی الدلائل الجواز کما ذکرہ التمر تاشی فی فتاواہالخ ۔ دلائل کا مقتضی یہی ہے کہ جائز ہے جیسا کہ اسے تمرتاشی نے اپنے فتاوی میں ذکر کیا ہے الخ(ت)
حوالہ / References
درمختار کتاب النکاح فصل فی المحرمات مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۱۸۹
ردالمحتار کتاب النکاح فصل فی المحرمات داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/ ۲۸۹
فتح القدیر بحوالہ المستصفٰی کتاب النکاح فصل فی بیان المحرمات مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۳/ ۱۳۵
العقود الدریۃ فی تنقیح الفتاوٰی الحامدیۃ کتاب الذبائح ارگ بازار قندھار افغانستان ۲/ ۲۳۲
ردالمحتار کتاب النکاح فصل فی المحرمات داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/ ۲۸۹
فتح القدیر بحوالہ المستصفٰی کتاب النکاح فصل فی بیان المحرمات مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۳/ ۱۳۵
العقود الدریۃ فی تنقیح الفتاوٰی الحامدیۃ کتاب الذبائح ارگ بازار قندھار افغانستان ۲/ ۲۳۲
اور ایك حدیث میں آیا:سود کا ایك درم دانستہ کھانا ایسا ہے جیسا چھتیس بار اپنی ماں سے زنا کرنا ۔اعوذ باﷲ من الشیطن الرجیم ولاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم۔
جواب سوال دوم
نصاری باعتبار حقیقت لغویہ انجاکہ قیام مبدء مستلزم صدق مشتق ہے بلا شبہہ مشرکین ہیں کہ وہ بالقطع قائل بہ تثلیث وبنوت ہیں اسی طرح وہ یہودجو الوہیت وابنیت عزیرعلیہ الصلوۃ والسلام کے قائل تھےمگر کلام اس میں ہے کہ حق تبارك وتعالی نے کتب آسمانی کا اجلال فرماکر یہود و نصاری کے احکام کو احکام مشرکین سے جدا کیا اور ان کا نام اہل کتاب رکھا اور ان کے نساء و ذبائح کو حلال و مباح ٹھہرایا آیا نصاری زمانہ بھی کہ الوہیت عبداﷲ مسیح بن مریم علیہما الصلوۃ والسلام کی علی الاعلان تصریح اور وہ یہود جو مثل بعض طوائف ماضیہ الوہیت بندہ خدا عزیر علیہ الصلوۃوالسلام کے قائل ہوں انہیں میں داخل اور اس تفرقہ کے مستحق ہیں یا ان پر شرعا یہ ہی احکام مشرکین جاری ہوں گے اور ان کی نساء سے تزوج اور ذبائح کا تناول ناروا ہوگا۔کلمات علماء کرام رحمۃ اﷲ تعالی علیہم اجمعین اس بارے میں مختلفبہت مشائخ نے قول اخیر کی طرف میل فرمایابعض علماء نے تصریح کی کہ اسی پر فتوی ہے مستصفی میں ہے:
قالواھذایعنی الحل اذالم یعتقد واالمسیح الھا اما اذا اعتقدوہ فلاوفی مبسوط شیخ الاسلام ویجب ان لایأکلوا ذبائح اھل الکتاب اذا اعتقد وان المسیح الہ وان عزیر الہ ولا یتزوجو انساء ھم وقیل علیہ الفتوی ۔ علماء نے فرمایا کہ ان کا ذبیحہ تب حلال ہوگا کہ وہ عیسی علیہ السلام کو الہ نہ مانتے ہوںلیکن اگر وہ ان کو الہ مانتے ہوں تو پھر حلال نہ ہوگااور شیخ الاسلام کی مبسوط میں ہے کہ مسلمانوں پر لازم ہے کہ اہل کتاب کا ذبیحہ اس صورت میں نہ کھائیں جب وہ مسیح علیہ السلام اور عزیر علیہ السلام کو الہ مانتے ہوں اور اندریں صورت ان کی عورتوں سے نکاح بھی نہ کریںاسی پر فتوی کہا گیا ہے۔(ت)
ان علماء کا استدلال آیہ کریمہ" وقالت الیہود عزیرۨ ابن اللہ وقالت النصری المسیح ابن اللہ "یہود نے کہا عزیر ابن اﷲ اور نصاری نے کہا مسیح ابن اﷲ۔ت)سے ہے کہ اس کے آخرمیں ارشاد پایا " سبحنہ و تعلی عما یشرکون ﴿۱۸﴾" (وہ پاك ذات ہے اور جو انہوں نے اس کا شریك بنایا اﷲ تعالی اس سے بلند وبالا ہے۔ت)
جواب سوال دوم
نصاری باعتبار حقیقت لغویہ انجاکہ قیام مبدء مستلزم صدق مشتق ہے بلا شبہہ مشرکین ہیں کہ وہ بالقطع قائل بہ تثلیث وبنوت ہیں اسی طرح وہ یہودجو الوہیت وابنیت عزیرعلیہ الصلوۃ والسلام کے قائل تھےمگر کلام اس میں ہے کہ حق تبارك وتعالی نے کتب آسمانی کا اجلال فرماکر یہود و نصاری کے احکام کو احکام مشرکین سے جدا کیا اور ان کا نام اہل کتاب رکھا اور ان کے نساء و ذبائح کو حلال و مباح ٹھہرایا آیا نصاری زمانہ بھی کہ الوہیت عبداﷲ مسیح بن مریم علیہما الصلوۃ والسلام کی علی الاعلان تصریح اور وہ یہود جو مثل بعض طوائف ماضیہ الوہیت بندہ خدا عزیر علیہ الصلوۃوالسلام کے قائل ہوں انہیں میں داخل اور اس تفرقہ کے مستحق ہیں یا ان پر شرعا یہ ہی احکام مشرکین جاری ہوں گے اور ان کی نساء سے تزوج اور ذبائح کا تناول ناروا ہوگا۔کلمات علماء کرام رحمۃ اﷲ تعالی علیہم اجمعین اس بارے میں مختلفبہت مشائخ نے قول اخیر کی طرف میل فرمایابعض علماء نے تصریح کی کہ اسی پر فتوی ہے مستصفی میں ہے:
قالواھذایعنی الحل اذالم یعتقد واالمسیح الھا اما اذا اعتقدوہ فلاوفی مبسوط شیخ الاسلام ویجب ان لایأکلوا ذبائح اھل الکتاب اذا اعتقد وان المسیح الہ وان عزیر الہ ولا یتزوجو انساء ھم وقیل علیہ الفتوی ۔ علماء نے فرمایا کہ ان کا ذبیحہ تب حلال ہوگا کہ وہ عیسی علیہ السلام کو الہ نہ مانتے ہوںلیکن اگر وہ ان کو الہ مانتے ہوں تو پھر حلال نہ ہوگااور شیخ الاسلام کی مبسوط میں ہے کہ مسلمانوں پر لازم ہے کہ اہل کتاب کا ذبیحہ اس صورت میں نہ کھائیں جب وہ مسیح علیہ السلام اور عزیر علیہ السلام کو الہ مانتے ہوں اور اندریں صورت ان کی عورتوں سے نکاح بھی نہ کریںاسی پر فتوی کہا گیا ہے۔(ت)
ان علماء کا استدلال آیہ کریمہ" وقالت الیہود عزیرۨ ابن اللہ وقالت النصری المسیح ابن اللہ "یہود نے کہا عزیر ابن اﷲ اور نصاری نے کہا مسیح ابن اﷲ۔ت)سے ہے کہ اس کے آخرمیں ارشاد پایا " سبحنہ و تعلی عما یشرکون ﴿۱۸﴾" (وہ پاك ذات ہے اور جو انہوں نے اس کا شریك بنایا اﷲ تعالی اس سے بلند وبالا ہے۔ت)
حوالہ / References
مشکوٰۃ المصابیح مجتبائی دہلی ص۲۴۶ ومسند احمد بن حنبل دارالفکر بیروت ۵/ ۲۲۵ والترغیب والترہیب،مصر۳/ ۷
فتح القدیر بحوالہ المستصفٰی کتاب النکاح فصل فی بیان المحرمات مکتبۃ نوریہ رضویہ سکھر ۳/ ۱۳۵
القرآن الکریم ۹ /۳۱
فتح القدیر بحوالہ المستصفٰی کتاب النکاح فصل فی بیان المحرمات مکتبۃ نوریہ رضویہ سکھر ۳/ ۱۳۵
القرآن الکریم ۹ /۳۱
ردالمحتار میں ہے:
فی المعراج ان اشتراط ماذکر فی النصاری مخالف لعامۃ الروایات ۔ معراج میں ہے کہ نصاری کے مذکورہ شرائط عام روایات کے مخالف ہیں۔(ت)
امام محقق علی الاطلاق مولنا کمال الملۃ والدین محمد بن الہمام رحمۃ اﷲ علیہ فتح القدیر میں اس مذہب کی ترجیح اور دلیل مذکور مذہب اول کے جواب میں ارشاد فرماتے ہیں:
مطلق لفظ المشرك اذاذکر فی لسان الشارع لا ینصرف الی اھل الکتاب وان صح لغۃ فی طائفۃ بل طوائف واطلق لفظ الفعل اعنی یشرکون علی فعلھم کما ان من رأی بعلمہ من المسلمین فلم یعمل الالاجل زید یصح فی حقہ انہ مشرك لغۃ ولایتبادر عند اطلاق الشارع لفظ المشرك ارادتہ لما عھد من ارادتہ بہ من عبد مع اﷲ غیرہ ممن لایدعی اتباع نبی وکتاب ولذلك عطفھم علیہ فی قولہ تعالی لم یکن الذین کفر وامن اھل الکتب والمشرکین منفکین ونص علی حلھم بقولہ تعالی والمحصنت من الذین اوتوالکتب من قبلکم ای العفائف منھم الی اخرما اطال واطاب کما ھودابہ رحمہ اﷲ تعالی۔ لفظ مشرك جب مطلق ذکر کیا جائے تو شرعی اصطلاح میں اہل کتاب کو شامل نہ ہوگا اگرچہ لغت کے لحاظ سے اہل کتاب کے کسی گروہ یا کئی گروہوں پر اس کا اطلاق صحیح ہےاہل کتاب کے فعل پر صیغہ"یشرکون"کا اطلاق ایسے ہے جیسے کسی مسلمان ریاکار کے اس عمل پر جس کو مثلا زید کی خوشنودی کےلئے کررہا ہوتو کہا جاسکتا ہے کہ یہ لغت کے لحاظ سے مشرك ہےشرعی اصطلاح میں مطلقا لفظ مشرك کا استعمال صرف اس شخص کے لئے متبادر ہوتا ہےجو کسی نبی اور کتاب کی اتباع کے دعوی کے بغیر اﷲ تعالی کی عبادت میں غیر کو شریك کرے اسی لئے اہل کتاب پر مشرکین کا عطف اﷲ تعالی کے اس قول"لم یکن الذین کفروا من اھل الکتب والمشرکین منفکین"میں کیا گیا ہے اور اﷲتعالی کے اس قول"والمحصنت من الذین اوتوالکتب"میں کتابیہ عورتوں کے حلال ہونے پر صراحتا نص فرمائی گئی ہے یعنی اہل کتاب کی عفیف عورتیں حلال ہیںابن ہمام کے طویل اور طیب قول کے آخر تکجیسا کہ ان کی عادت ہےاﷲ تعالی ان پر رحمت فرمائے۔(ت)
بالجملہ محققین کے نزدیك راجح یہی ہے کہ یہود ونصاری مطلقا اہل کتاب ہیں اور ان پر احکام مشرکین جاری نہیں
فی المعراج ان اشتراط ماذکر فی النصاری مخالف لعامۃ الروایات ۔ معراج میں ہے کہ نصاری کے مذکورہ شرائط عام روایات کے مخالف ہیں۔(ت)
امام محقق علی الاطلاق مولنا کمال الملۃ والدین محمد بن الہمام رحمۃ اﷲ علیہ فتح القدیر میں اس مذہب کی ترجیح اور دلیل مذکور مذہب اول کے جواب میں ارشاد فرماتے ہیں:
مطلق لفظ المشرك اذاذکر فی لسان الشارع لا ینصرف الی اھل الکتاب وان صح لغۃ فی طائفۃ بل طوائف واطلق لفظ الفعل اعنی یشرکون علی فعلھم کما ان من رأی بعلمہ من المسلمین فلم یعمل الالاجل زید یصح فی حقہ انہ مشرك لغۃ ولایتبادر عند اطلاق الشارع لفظ المشرك ارادتہ لما عھد من ارادتہ بہ من عبد مع اﷲ غیرہ ممن لایدعی اتباع نبی وکتاب ولذلك عطفھم علیہ فی قولہ تعالی لم یکن الذین کفر وامن اھل الکتب والمشرکین منفکین ونص علی حلھم بقولہ تعالی والمحصنت من الذین اوتوالکتب من قبلکم ای العفائف منھم الی اخرما اطال واطاب کما ھودابہ رحمہ اﷲ تعالی۔ لفظ مشرك جب مطلق ذکر کیا جائے تو شرعی اصطلاح میں اہل کتاب کو شامل نہ ہوگا اگرچہ لغت کے لحاظ سے اہل کتاب کے کسی گروہ یا کئی گروہوں پر اس کا اطلاق صحیح ہےاہل کتاب کے فعل پر صیغہ"یشرکون"کا اطلاق ایسے ہے جیسے کسی مسلمان ریاکار کے اس عمل پر جس کو مثلا زید کی خوشنودی کےلئے کررہا ہوتو کہا جاسکتا ہے کہ یہ لغت کے لحاظ سے مشرك ہےشرعی اصطلاح میں مطلقا لفظ مشرك کا استعمال صرف اس شخص کے لئے متبادر ہوتا ہےجو کسی نبی اور کتاب کی اتباع کے دعوی کے بغیر اﷲ تعالی کی عبادت میں غیر کو شریك کرے اسی لئے اہل کتاب پر مشرکین کا عطف اﷲ تعالی کے اس قول"لم یکن الذین کفروا من اھل الکتب والمشرکین منفکین"میں کیا گیا ہے اور اﷲتعالی کے اس قول"والمحصنت من الذین اوتوالکتب"میں کتابیہ عورتوں کے حلال ہونے پر صراحتا نص فرمائی گئی ہے یعنی اہل کتاب کی عفیف عورتیں حلال ہیںابن ہمام کے طویل اور طیب قول کے آخر تکجیسا کہ ان کی عادت ہےاﷲ تعالی ان پر رحمت فرمائے۔(ت)
بالجملہ محققین کے نزدیك راجح یہی ہے کہ یہود ونصاری مطلقا اہل کتاب ہیں اور ان پر احکام مشرکین جاری نہیں
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الذبائح داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۱۸۸
فتح القدیر کتاب النکاح فصل فی بیان المحرمات مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۳/ ۱۳۵
فتح القدیر کتاب النکاح فصل فی بیان المحرمات مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۳/ ۱۳۵
اقول: وکیف لاوقد علم اﷲ سبحنہ وتعالی انھم یقولون بثالث ثلثۃ حتی نھاھم عن ذلك وقال " انتہوا خیرا لکم "
وان ھم یقولون ان المسیح الہ حتی قال
لقد کفر الذین قالوا ان اللہ ہو المسیح ابن مریم "" بل بالوھیۃ امہ ایضاحتی یسألہ علیہ الصلوۃ والسلام یوم القیمۃ “ یعیسی ابن مریم ءانت قلت للناس اتخذونی و امی الہین من دون اللہ " وانھم مصرحون بالبنوۃ حتی نقل عنھم
" وقالت الیہود عزیرۨ ابن اللہ وقالت النصری المسیح ابن اللہ "
ومع ذلك فرق بینھم وبین المشرکین فقال
" والمحصنت من الذین اوتوا الکتب من قبلکم "
وقال" وطعام الذین اوتوا الکتب حل لکم ۪ "
وقال" لم یکن الذین کفروا من اہل الکتب و المشرکین منفکین حتی تاتیہم البینۃ ﴿۱﴾ " فارشد بالعطف الی
التغایر فالمولی سبحنہ وتعالی اقول:(میں کہتا ہوں)یہ کیسے مرادنہ ہو جبکہ اﷲ تعالی علیم ہے کہ نصاری ثالث ثلثہ کہتے ہیں حتی کہ ان کو اس سے منع بھی فرمایا اور فرمایا اس سے باز آؤ تمہارے لئے بہتر ہے اور وہ علیم ہے کہ نصاری کہتے ہیں مسیح الہ ہےحتی کہ اﷲ تعالی نے فرمایا
لقد کفر الذین قالوا ان اللہ ہو المسیح ابن مریم ""بلکہ وہ ان کی والدہ کو بھی الہ کہتے ہیںحتی کہ قیامت کے روز اﷲ تعالی عیسی علیہ السلام سے سوال فرمائے گا
یعیسی ابن مریم ءانت قلت للناس اتخذونی و امی الہین من دون اللہ "اور وہ علیم ہے کہ یہ لوگ عیسی علیہ السلام کے بیٹا ہونے کی تصریح کرتے ہیں حتی کہ ان سے نقل فرمایا " وقالت الیہود عزیرۨ ابن اللہ وقالت النصری المسیح ابن اللہ "اس کے باوجود اﷲ تعالی نے اہل کتاب اور مشرکین میں فرق بیان فرمایااور ارشاد فرمایا:تمہارے لئے حلال ہیں پار ساعورتیں ان میں سے جن کو تم سے پہلے کتاب ملیاور فرمایا جن کو کتاب دی گئی(اہل کتاب)ان کا طعام تمہارے لئے حلال ہے جس کو یوں فرمایا " وطعام الذین اوتوا الکتب حل لکم ۪ " "اورفرمایا
لم یکن الذین کفروا من اہل الکتب و المشرکین منفکین حتی تاتیہم البینۃ ﴿۱﴾ "واضح دلیل آنے تك کافر لوگوں میں سے اہل کتاب اور مشرک
وان ھم یقولون ان المسیح الہ حتی قال
لقد کفر الذین قالوا ان اللہ ہو المسیح ابن مریم "" بل بالوھیۃ امہ ایضاحتی یسألہ علیہ الصلوۃ والسلام یوم القیمۃ “ یعیسی ابن مریم ءانت قلت للناس اتخذونی و امی الہین من دون اللہ " وانھم مصرحون بالبنوۃ حتی نقل عنھم
" وقالت الیہود عزیرۨ ابن اللہ وقالت النصری المسیح ابن اللہ "
ومع ذلك فرق بینھم وبین المشرکین فقال
" والمحصنت من الذین اوتوا الکتب من قبلکم "
وقال" وطعام الذین اوتوا الکتب حل لکم ۪ "
وقال" لم یکن الذین کفروا من اہل الکتب و المشرکین منفکین حتی تاتیہم البینۃ ﴿۱﴾ " فارشد بالعطف الی
التغایر فالمولی سبحنہ وتعالی اقول:(میں کہتا ہوں)یہ کیسے مرادنہ ہو جبکہ اﷲ تعالی علیم ہے کہ نصاری ثالث ثلثہ کہتے ہیں حتی کہ ان کو اس سے منع بھی فرمایا اور فرمایا اس سے باز آؤ تمہارے لئے بہتر ہے اور وہ علیم ہے کہ نصاری کہتے ہیں مسیح الہ ہےحتی کہ اﷲ تعالی نے فرمایا
لقد کفر الذین قالوا ان اللہ ہو المسیح ابن مریم ""بلکہ وہ ان کی والدہ کو بھی الہ کہتے ہیںحتی کہ قیامت کے روز اﷲ تعالی عیسی علیہ السلام سے سوال فرمائے گا
یعیسی ابن مریم ءانت قلت للناس اتخذونی و امی الہین من دون اللہ "اور وہ علیم ہے کہ یہ لوگ عیسی علیہ السلام کے بیٹا ہونے کی تصریح کرتے ہیں حتی کہ ان سے نقل فرمایا " وقالت الیہود عزیرۨ ابن اللہ وقالت النصری المسیح ابن اللہ "اس کے باوجود اﷲ تعالی نے اہل کتاب اور مشرکین میں فرق بیان فرمایااور ارشاد فرمایا:تمہارے لئے حلال ہیں پار ساعورتیں ان میں سے جن کو تم سے پہلے کتاب ملیاور فرمایا جن کو کتاب دی گئی(اہل کتاب)ان کا طعام تمہارے لئے حلال ہے جس کو یوں فرمایا " وطعام الذین اوتوا الکتب حل لکم ۪ " "اورفرمایا
لم یکن الذین کفروا من اہل الکتب و المشرکین منفکین حتی تاتیہم البینۃ ﴿۱﴾ "واضح دلیل آنے تك کافر لوگوں میں سے اہل کتاب اور مشرک
اعلم بمذاھبھم واعلم بما یشرع من الاحکام فلہ الحکم ولہ الحجۃ السامیۃ لاالہ الاھو
" سبحنہ و تعلی عما یشرکون ﴿۱۸﴾ " حتی ترقتی بعض المشائخ فجوز نکاح الصائبات ایضا ان کن یدن بکتاب منزل ویؤمن بنبی مرسل وان عبدن الکواکب وصرح انھا لاتخرجھم عن الکتابیۃ وھو الذی یعطیہ ظاہرکلام الامام المحقق برھان الملۃ والدین المرغینانی فی الھدایۃ حیث رتب عدم حل النکاح علی امرین عبادۃ الکواکب وعدم الکتاب وتبعہ العلامۃ ابوعبداﷲ محمد بن عبداﷲ الغزی فی التنویر فقال لاعبادۃ کوکب لاکتاب لھا فاشار بمفھوم المخالف الی انھا ان کان لھا کتاب حل نکاحھا مع عبادتھا الکواکب
فان قلت الیس قد تکلم فیہ المولی زین بن نجیم فی البحر فقال الصحیح انھم ان کانوا یعبد ونھا یعنی الکواکب
جدانہ ہوں گےتو اس آیۃ کریمہ میں دونوں میں عطف کے ذریعہ تغایر کی رہنمائی فرمائیتو اﷲ سبحانہ وتعالی ان کے مذاہب کو بہتر جانتا ہے اور احکام کی مشروعیت کو بہتر جانتا ہےتو حکم اسی کا ہے اوربلند وبالا حجت اسی کی ہےاس کے سوا کوئی معبود نہیں اور جس کو انہوں نے شریك بنایا اﷲ تعالی اس سے بلند وبالا ہے اور بعض مشائخ نے اسی پر ترقی کرتے ہوئے صابی عورتوں سے نکاح کو بھی جائز قرار دیا بشرطیکہ وہ کسی دین کی آسمانی کتاب اور کسی نبی پر ایمان رکھتی ہوں اگرچہ وہ ستاروں کی پجاری ہوں اور انہوں نے یہ تصریح کی ہے کہ ستاروں کی پوجا ان کو کتابیہ ہونے سے خارج نہیں کرتییہ وہ نظریہ ہے جو امام محقق برہان الملت والدین مرغینانی کی کتاب ہدایہ کے ظاہر کلا م سے ملتا ہےجہاں انہوں نے نکاح کے عدم جواز کو دوچیزوں پر مرتب کیا ایك ستاروں کی پوجا اور دوسری کتاب کا نہ ہونااور اس کی علامہ ابوعبداﷲ محمد بن عبداﷲ غزی نے تنویر میں اتباع کرتے ہوئے فرمایا کہ ستاروں کی پوجا نہ کرتی ہو اور اس کی کتاب بھی نہ ہو۔تو اس عبارت کے مفہوم مخالف سے یہ اشارہ دیا کہ اگر اس کی کتاب ہو تو نکاح جائز ہے اگرچہ وہ ستاروں کی پوجا کرتی ہو۔ اگر تیرا اعتراض ہو کہ اس مسئلہ میں مولانا زین نجیم نے کیا گفتگو کرتے ہوئے یہ نہیں فرمایا کہ صحیح بات یہ ہے
" سبحنہ و تعلی عما یشرکون ﴿۱۸﴾ " حتی ترقتی بعض المشائخ فجوز نکاح الصائبات ایضا ان کن یدن بکتاب منزل ویؤمن بنبی مرسل وان عبدن الکواکب وصرح انھا لاتخرجھم عن الکتابیۃ وھو الذی یعطیہ ظاہرکلام الامام المحقق برھان الملۃ والدین المرغینانی فی الھدایۃ حیث رتب عدم حل النکاح علی امرین عبادۃ الکواکب وعدم الکتاب وتبعہ العلامۃ ابوعبداﷲ محمد بن عبداﷲ الغزی فی التنویر فقال لاعبادۃ کوکب لاکتاب لھا فاشار بمفھوم المخالف الی انھا ان کان لھا کتاب حل نکاحھا مع عبادتھا الکواکب
فان قلت الیس قد تکلم فیہ المولی زین بن نجیم فی البحر فقال الصحیح انھم ان کانوا یعبد ونھا یعنی الکواکب
جدانہ ہوں گےتو اس آیۃ کریمہ میں دونوں میں عطف کے ذریعہ تغایر کی رہنمائی فرمائیتو اﷲ سبحانہ وتعالی ان کے مذاہب کو بہتر جانتا ہے اور احکام کی مشروعیت کو بہتر جانتا ہےتو حکم اسی کا ہے اوربلند وبالا حجت اسی کی ہےاس کے سوا کوئی معبود نہیں اور جس کو انہوں نے شریك بنایا اﷲ تعالی اس سے بلند وبالا ہے اور بعض مشائخ نے اسی پر ترقی کرتے ہوئے صابی عورتوں سے نکاح کو بھی جائز قرار دیا بشرطیکہ وہ کسی دین کی آسمانی کتاب اور کسی نبی پر ایمان رکھتی ہوں اگرچہ وہ ستاروں کی پجاری ہوں اور انہوں نے یہ تصریح کی ہے کہ ستاروں کی پوجا ان کو کتابیہ ہونے سے خارج نہیں کرتییہ وہ نظریہ ہے جو امام محقق برہان الملت والدین مرغینانی کی کتاب ہدایہ کے ظاہر کلا م سے ملتا ہےجہاں انہوں نے نکاح کے عدم جواز کو دوچیزوں پر مرتب کیا ایك ستاروں کی پوجا اور دوسری کتاب کا نہ ہونااور اس کی علامہ ابوعبداﷲ محمد بن عبداﷲ غزی نے تنویر میں اتباع کرتے ہوئے فرمایا کہ ستاروں کی پوجا نہ کرتی ہو اور اس کی کتاب بھی نہ ہو۔تو اس عبارت کے مفہوم مخالف سے یہ اشارہ دیا کہ اگر اس کی کتاب ہو تو نکاح جائز ہے اگرچہ وہ ستاروں کی پوجا کرتی ہو۔ اگر تیرا اعتراض ہو کہ اس مسئلہ میں مولانا زین نجیم نے کیا گفتگو کرتے ہوئے یہ نہیں فرمایا کہ صحیح بات یہ ہے
حوالہ / References
القرآن الکریم ۹ /۳۱
درمختار شرح تنویر الابصار کتاب النکاح مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۱۸۹
درمختار شرح تنویر الابصار کتاب النکاح مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۱۸۹
حقیقۃ فلیسوا اھل الکتاب وان کانوایعظمونھا کتعظیم المسلمین للکعبۃ فھم اھل الکتاب کذافی المجتبی انتہی فیستفاد منہ ان الصحیح مباینۃ الکتابیۃ لعبادۃ غیراﷲ سبحانہ وتعالی فلایجتمعان ابداوح یتجہ مامال الیہ کثیر من المشائخ فی حق اولئك الیھود والنصاری انھم مشرکون حقاحتی قیل ان علیہ الفتوی قلت وباﷲ التوفیق ھھنا فرق دقیق ھوان قضیۃالعقل ھی المباینۃ القطعیۃ بین الکتابیۃ وعبادۃ غیراﷲ سبحانہ وتعالی فانھا ھی الشرك حقا والکتابی غیر مشرك عند الشرع فکل من رأیناہ یعبد غیرالحق جل وعلا حکمنا علیہ انہ مشرك قطعا وان کان یقر بکتب وانبیاء علیھم الصلوۃ والسلام ولکنا خالفناہ ھذہ القضیۃ فی الیھود والنصاری بحکم النص فانا وجدنا القران العظیم یحکی عنھم مایحکی من العقائد الخبیثۃ ثم یحکم علیھم بان ھم اھل الکتاب ویمیزھم عن المشرکین فوجب التسلیم لورودالنص بخلاف الصابئۃ اذ کہ اگر یہ لوگ حقیقۃ ستاروں کی عبادت کرتے ہوں تو یہ اہل کتاب نہ ہوں گے اور اگر وہ صرف ستاروں کی تعظیم کرتے ہیں جیسا کہ مسلمان کعبہ کی تعظیم کرتے ہیں تو پھر یہ اہل کتاب ہیںمجتبی میں یونہی ہے اھتو اس بیان کا مفادیہ ہے کہ کتابیہ اورغیراﷲ کی عبادت والیایك دوسرے سے الگ ہیں دونوں کا اجتماع نہیں ہوسکتا تو اب اس سے بہت سے مشائخ کا ان یہود و نصاری کے متعلق یہ نظریہ قابل توجہ قرار پایا کہ یہ لوگ حقیقی مشرك ہیں حتی کہ بعض نے اسی پر فتوی کا قول کیا ہے۔ قلت (میں کہتا ہوں)اﷲ تعالی کی توفیق سےکہ یہاں ایك باریك فرق ہے وہ یہ کہ عقل کا تقاضا یہی ہے کہ کتابیہ اورغیراﷲ کی عبادت کرنے والی عورت ایك دوسرے سے قطعا جدا ہیںکیونکہ غیراﷲ کی عبادت قطعا شرك ہے جبکہ شرعا کتابیہ غیرمشرك ہے لہذا جس کو بھی غیراﷲ کی عبادت کرنے والا پائیں گے اس کو قطعا مشرك کہیں گے اگرچہ وہ کتب اور انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کا اقرار کرے لیکن ہم نے اس عقلی کلیہ کا خلاف یہود ونصاری میں نص کے حکم پر مانا ہے کہ ہم نے قرآن کو ان کے عقائد خبیثہ کی حکایت کرنے کے باوجود یہ حکم کرتے ہوئے پایا کہ یہ اہل کتاب ہیںاور یہ کہ قرآن ان میں اور مشرکین میں امتیاز بھی کرتا ہے لہذا نص کے وارد ہونے پر اسکو تسلیم کرنا واجب ہے بخلاف صابیہ عورت کے کہ اس کے
حوالہ / References
ردالمحتار فصل فی المحرمات داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/ ۲۹۰
مگر تاہم جبکہ علماء کا اختلاف ہے اوراس قول پر فتوی بھی منقول ہوچکا تو احتیاط اسی میں ہے کہ نصاری کی نساء وذبائح سے احتراز کرےاور آج کل بعض یہود بھی ایسے پائے جاتے ہوں جو عزیر علیہ الصلوۃ والسلام کی ابنیت مانیں تو ان کے زن وذبیحہ سے بھی بچنا لازم جانیں کہ ایسی جگہ اختلاف ائمہ میں پڑنا محتاط آدمی کا کام نہیںاگر فی الواقع یہ یہود و نصاری عنداﷲ کتابی ہوئے تاہم ان کی عورتوں سے نکاح اور ان کے ذبیحہ کے تناول میں ہمارے لئے کوئی نفع نہیںنہ شرعا ہم پر لازم کیاگیانہ بحمد اﷲ ہمیں اس کی ضرورت بلکہ برتقدیر کتابیت بھی علماء تصریح فرماتے ہیں کہ بے ضرورت احتراز چاہئے
فی الفتح القدیر یجوز تزوج الکتابیات والاولی ان لایفعل ولایأکل ذبیحتھم الاللضرورۃ الخ فتح القدیر میں ہے کتابیات سے نکاح جائز ہےاور اولی یہ ہے کہ نہ کیا جائے اور نہ ہی ان کاذبیحہ بغیر ضرورت کھایا جائے الخ(ت)
اور اگر انہیں علماء کا مذہب حق ہو ااوریہ لوگ بوجہ اعتقادوں کے عنداﷲ مشرك ٹھہرے تو پھر زنائے محض ہوگا اور ذبیحہ حرام مطلق والعیاذ باﷲ تعالیتوعاقل کاکام نہیں کہ ایسا فعل اختیار کرے جس کی ایك جانب نامحمود ہو اور دوسری جانب حرام قطعیفقیر غفراﷲ تعالی لہ ایسا ہی گمان کرتا تھا یہاں تك کہ بتوفیق الہی مجمع الانہر میں اسی مضمون کی تصریح دیکھی
حیث قال فعلی ھذایلزم علی الحکام فی دیارنا ان یمنعوھم من الذبح لان النصاری فی زماننا یصرحون بالابنیۃ قبحھم اﷲ تعالی وعدم الضرورۃ متحقق والاحتیاط واجب لان فی حل ذبیحتھم اختلاف العلماء کما بیناہ فالاخذبجانب الحرمۃ اولی عندعدم الضرورۃ انتہیواﷲ تعالی سبحنہ و تعالی اعلم۔ جہاں انہو ں نے فرمایا کہ اس بناء پر ہمارے ملك کے حکام پر لازم ہے کہ وہ لوگوں کو نصاری کے ذبیحہ سے منع کریں کیونکہ ہمارے زمانہ کے نصاری عیسی علیہ السلام کے ابن اﷲ ہونے کی تصریح کرتے ہیںجبکہ ضرورت بھی متحقق نہیں ہے تو احتیاط واجب ہے کیونکہ ان کے ذبیحہ میں علماء کا اختلاف ہے جیسا کہ ہم نے بیان کیا ہے تو حرمت والی جانب اپنانا بہتر ہے جبکہ ضرورت نہیں ہے اھواﷲ سبحنہ وتعالی اعلم(ت)
فی الفتح القدیر یجوز تزوج الکتابیات والاولی ان لایفعل ولایأکل ذبیحتھم الاللضرورۃ الخ فتح القدیر میں ہے کتابیات سے نکاح جائز ہےاور اولی یہ ہے کہ نہ کیا جائے اور نہ ہی ان کاذبیحہ بغیر ضرورت کھایا جائے الخ(ت)
اور اگر انہیں علماء کا مذہب حق ہو ااوریہ لوگ بوجہ اعتقادوں کے عنداﷲ مشرك ٹھہرے تو پھر زنائے محض ہوگا اور ذبیحہ حرام مطلق والعیاذ باﷲ تعالیتوعاقل کاکام نہیں کہ ایسا فعل اختیار کرے جس کی ایك جانب نامحمود ہو اور دوسری جانب حرام قطعیفقیر غفراﷲ تعالی لہ ایسا ہی گمان کرتا تھا یہاں تك کہ بتوفیق الہی مجمع الانہر میں اسی مضمون کی تصریح دیکھی
حیث قال فعلی ھذایلزم علی الحکام فی دیارنا ان یمنعوھم من الذبح لان النصاری فی زماننا یصرحون بالابنیۃ قبحھم اﷲ تعالی وعدم الضرورۃ متحقق والاحتیاط واجب لان فی حل ذبیحتھم اختلاف العلماء کما بیناہ فالاخذبجانب الحرمۃ اولی عندعدم الضرورۃ انتہیواﷲ تعالی سبحنہ و تعالی اعلم۔ جہاں انہو ں نے فرمایا کہ اس بناء پر ہمارے ملك کے حکام پر لازم ہے کہ وہ لوگوں کو نصاری کے ذبیحہ سے منع کریں کیونکہ ہمارے زمانہ کے نصاری عیسی علیہ السلام کے ابن اﷲ ہونے کی تصریح کرتے ہیںجبکہ ضرورت بھی متحقق نہیں ہے تو احتیاط واجب ہے کیونکہ ان کے ذبیحہ میں علماء کا اختلاف ہے جیسا کہ ہم نے بیان کیا ہے تو حرمت والی جانب اپنانا بہتر ہے جبکہ ضرورت نہیں ہے اھواﷲ سبحنہ وتعالی اعلم(ت)
حوالہ / References
فتح القدیر کتاب النکاح فصل فی بیان المحرمات مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۳/ ۱۳۵
مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر کتاب النکاح فصل فی بیان المحرمات داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۳۲۸
مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر کتاب النکاح فصل فی بیان المحرمات داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۳۲۸
جواب سوال سوم
فی الواقع جو بدعتی ضروریات دین میں سے کسی شیئ کا منکر ہوباجماع مسلمین یقینا قطعا کافر ہے اگرچہ کروڑبار کلمہ پڑھےپیشانی اس کی سجدے میں ایك ورق ہوجائےبدن اس کا روزوں میں ایك خاکہ رہ جائےعمر میں ہزار حج کرےلاکھ پہاڑ سونے کے راہ خدا پر دےواﷲ ہرگزہرگز کچھ مقبول نہیں تك حضور پر نورصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی ان تمام ضروری باتوں میں جو وہ اپنے رب کے پاس سے لائے تصدیق نہ کرےضروریات اسلام اگر مثلا ہزار ہیں تو ان میں سے ایك کا بھی انکار ایسا ہے جیسا نوسو ننانوے ۹۹۹ کاآج کل جس طرح بعض بددینوں نے یہ روش نکالی ہے کہ بات بات پر کفر وشرك کا اطلاق کرتے ہیں اور مسلمان کو دائرہ اسلام سے خارج کہتے ہوئے مطلق نہیں ڈرتے حالانکہ مصطفی علیہ افضل الصلوۃ والثناء ارشاد فرماتے ہیں:فقد باء بہ احدھما (ان دونوں میں سے ایك نے یہ حکم اپنے اوپر لاگو کیا۔ت)یونہی بعض مداہنوں پر یہ بلاٹوٹی ہے کہ ایك دشمن خدا سے صریح کلمات توہین آقائے عالمیان حضور پر نور سیدالمرسلین الکرام صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یا اور ضروریات دین کا انکا ر سنتے جائیں اور اسے سچا پکا مسلمان بلکہ ان میں کسی کوافضل العلماء کسی کو امام الاولیاء مانتے جائیں یہ نہیں جانتے یا جانتے ہیں اور نہیں مانتے کہ اگر انکار ضروریات بھی کفر نہیںتو عزیزو! بت پرستی میں کیا زہر گھل گیا ہےوہ بھی آخر اسی لئے کفر ٹھہری کہ اول ضروریات دین یعنی توحید الہی جل وعلا کے خلاف ہےکہتے ہیں وہ کلمہ گو ہے نماز پڑھتا ہے روزے رکھتا ہے ایسے ایسے مجاہد ے کرتا ہے ہم کیونکر اسے کافر کہیں ان لوگوں کے سامنے اگر کوئی کلمہ پڑھے افعال اسلام ادا کرے بااینہمہ دو۲ خدا مانے شاید جب بھی کافر نہ کہیں گے مگر اس قدر نہیں جانتے کہ اعلمال تو تابع ایمان ہیں پہلے ایمان تو ثابت کرلو تو اعمال سے احتجاج کرو۔ابلیس کے برابر تو یہ مجاہدے کا ہے کو ہوئے پھر اس کے کیا کام آئے جوان کے کام آئیں گےآخر حضور اقدس اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ایك قوم کی کثرت اعمال اس درجہ بیان فرمائی کہ:
تحقرون صلوتکم مع صلوتھم وصیامکم مع صیامھم اوکما قال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔ ان کی نماز وں کے مقابلے میں تم اپنی نمازوں کو اور ان کے روزوں کے مقابلے میں اپنے روزوں کو حقیر سمجھو گےجیسا کہ یہ حضور علیہ والسلام نے فرمایا ہے(ت)
فی الواقع جو بدعتی ضروریات دین میں سے کسی شیئ کا منکر ہوباجماع مسلمین یقینا قطعا کافر ہے اگرچہ کروڑبار کلمہ پڑھےپیشانی اس کی سجدے میں ایك ورق ہوجائےبدن اس کا روزوں میں ایك خاکہ رہ جائےعمر میں ہزار حج کرےلاکھ پہاڑ سونے کے راہ خدا پر دےواﷲ ہرگزہرگز کچھ مقبول نہیں تك حضور پر نورصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی ان تمام ضروری باتوں میں جو وہ اپنے رب کے پاس سے لائے تصدیق نہ کرےضروریات اسلام اگر مثلا ہزار ہیں تو ان میں سے ایك کا بھی انکار ایسا ہے جیسا نوسو ننانوے ۹۹۹ کاآج کل جس طرح بعض بددینوں نے یہ روش نکالی ہے کہ بات بات پر کفر وشرك کا اطلاق کرتے ہیں اور مسلمان کو دائرہ اسلام سے خارج کہتے ہوئے مطلق نہیں ڈرتے حالانکہ مصطفی علیہ افضل الصلوۃ والثناء ارشاد فرماتے ہیں:فقد باء بہ احدھما (ان دونوں میں سے ایك نے یہ حکم اپنے اوپر لاگو کیا۔ت)یونہی بعض مداہنوں پر یہ بلاٹوٹی ہے کہ ایك دشمن خدا سے صریح کلمات توہین آقائے عالمیان حضور پر نور سیدالمرسلین الکرام صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یا اور ضروریات دین کا انکا ر سنتے جائیں اور اسے سچا پکا مسلمان بلکہ ان میں کسی کوافضل العلماء کسی کو امام الاولیاء مانتے جائیں یہ نہیں جانتے یا جانتے ہیں اور نہیں مانتے کہ اگر انکار ضروریات بھی کفر نہیںتو عزیزو! بت پرستی میں کیا زہر گھل گیا ہےوہ بھی آخر اسی لئے کفر ٹھہری کہ اول ضروریات دین یعنی توحید الہی جل وعلا کے خلاف ہےکہتے ہیں وہ کلمہ گو ہے نماز پڑھتا ہے روزے رکھتا ہے ایسے ایسے مجاہد ے کرتا ہے ہم کیونکر اسے کافر کہیں ان لوگوں کے سامنے اگر کوئی کلمہ پڑھے افعال اسلام ادا کرے بااینہمہ دو۲ خدا مانے شاید جب بھی کافر نہ کہیں گے مگر اس قدر نہیں جانتے کہ اعلمال تو تابع ایمان ہیں پہلے ایمان تو ثابت کرلو تو اعمال سے احتجاج کرو۔ابلیس کے برابر تو یہ مجاہدے کا ہے کو ہوئے پھر اس کے کیا کام آئے جوان کے کام آئیں گےآخر حضور اقدس اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ایك قوم کی کثرت اعمال اس درجہ بیان فرمائی کہ:
تحقرون صلوتکم مع صلوتھم وصیامکم مع صیامھم اوکما قال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔ ان کی نماز وں کے مقابلے میں تم اپنی نمازوں کو اور ان کے روزوں کے مقابلے میں اپنے روزوں کو حقیر سمجھو گےجیسا کہ یہ حضور علیہ والسلام نے فرمایا ہے(ت)
حوالہ / References
صحیح بخاری کتاب الادب باب من اکفر اخاہ بغیر تاویل الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۹۰۱،صحیح مسلم کتاب الایمان قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۵۷
صحیح بخاری کتاب فضائل القرآن باب من رایابقرأۃ القرآن الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/۷۵۶
صحیح بخاری کتاب فضائل القرآن باب من رایابقرأۃ القرآن الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/۷۵۶
پھر ان کے دین کا بیان فرمایا کہ:
یمرقون من الدین کما یمرق السھم من الرمیۃ ۔ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے پار نکل جاتا ہے۔(ت)
رہی کلمہ گوئی تو مجرد زبان سے کہنا ایمان کے لئے کافی نہیںمنافقین تو خوب زور و شور سے کلمہ پڑھتے ہیں حالانکہ ان کےلئے" فی الدرک الاسفل من النار " (جہنم کی نچلی تہہ میں۔ت)کافرمان ہے والعیاذباﷲ۔
الحاصل ایمان تصدیق قلبی کا نام ہے اور وہ بعد انکار ضروریات کہاںمثلا:
(۱)جورافضی اس قرآن مجید کو جو بفضل الہی ہمارے ہاتھوں میں موجود ہمارے دلوں میں محفوظ ہےعیاذا باﷲ بیاض عثمانی بتائے اس کے ایك حرف یا ایك نقطہ کی نسبت صحابہ اہلسنت یا کسی شخص کے گھٹانے یا بڑھانے کا دعوی کرے۔
(۲)یااحتمالا کہے شاید ایسا ہواہو۔
(۳)یا کہے مولی علی یا باقی ائمہ یا کوئی غیرنبی انبیاء سابقین علیہم الصلوۃ والسلام سے افضل ہیں۔
(۴)یا مسئلہ خبیثہ ملعونہ بدل کا قائل ہویعنی کہے باری تعالی کبھی ایك حکم سے پشیمان ہوکر اسے بدل دیتا ہے۔
(۵)یا کہے ایك وقت تك مصلحت پر اطلاع نہ تھی جب اسے اطلاع ہوئی حکم بدل دیا"تعالی اﷲ عما یقول الظلمون علواکبیرا"۔
(۶)یادامن عفت مأمن طیب اعطر اطہر کنیز ان بارگاہ طہارت پناہ حضرت ام المومنین صدیقہ بنت الصدیق صلی اﷲ علی زوجہا الکریم وابیہا وعلیہا وبارك وسلم کے بارے میں اس افك مبغوض مغضوب ملعون کے ساتھ اپنی ناپاك زبان آلودہ کرے۔
(۷)یاکہے احکام شریعت حضرات ائمہ طاہرین کوسپرد تھے جو چاہتے راہ نکالتے جو چاہتے بدل ڈالتے۔
(۸)یاکہے مصطفی صلی اﷲ تعالی وسلم کے بعد ائمہ طاہرین پر وحی شریعت آتی رہی۔
(۹)یاکہے ائمہ سے کوئی شخص حضور پر نور مصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا ہم پلہ تھا۔
(۱۰)یا کہے حضرات کریمین امامین شہیدین رضی اﷲ تعالی عنہما حضور پر نور علیہ الصلاۃ والسلام سے افضل ہیں کہ ان کی سی ماں حضور کی والدہ کب تھیں اور ان کے سے باپ حضور کے والد کہاں تھے اور ان کے سے
یمرقون من الدین کما یمرق السھم من الرمیۃ ۔ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے پار نکل جاتا ہے۔(ت)
رہی کلمہ گوئی تو مجرد زبان سے کہنا ایمان کے لئے کافی نہیںمنافقین تو خوب زور و شور سے کلمہ پڑھتے ہیں حالانکہ ان کےلئے" فی الدرک الاسفل من النار " (جہنم کی نچلی تہہ میں۔ت)کافرمان ہے والعیاذباﷲ۔
الحاصل ایمان تصدیق قلبی کا نام ہے اور وہ بعد انکار ضروریات کہاںمثلا:
(۱)جورافضی اس قرآن مجید کو جو بفضل الہی ہمارے ہاتھوں میں موجود ہمارے دلوں میں محفوظ ہےعیاذا باﷲ بیاض عثمانی بتائے اس کے ایك حرف یا ایك نقطہ کی نسبت صحابہ اہلسنت یا کسی شخص کے گھٹانے یا بڑھانے کا دعوی کرے۔
(۲)یااحتمالا کہے شاید ایسا ہواہو۔
(۳)یا کہے مولی علی یا باقی ائمہ یا کوئی غیرنبی انبیاء سابقین علیہم الصلوۃ والسلام سے افضل ہیں۔
(۴)یا مسئلہ خبیثہ ملعونہ بدل کا قائل ہویعنی کہے باری تعالی کبھی ایك حکم سے پشیمان ہوکر اسے بدل دیتا ہے۔
(۵)یا کہے ایك وقت تك مصلحت پر اطلاع نہ تھی جب اسے اطلاع ہوئی حکم بدل دیا"تعالی اﷲ عما یقول الظلمون علواکبیرا"۔
(۶)یادامن عفت مأمن طیب اعطر اطہر کنیز ان بارگاہ طہارت پناہ حضرت ام المومنین صدیقہ بنت الصدیق صلی اﷲ علی زوجہا الکریم وابیہا وعلیہا وبارك وسلم کے بارے میں اس افك مبغوض مغضوب ملعون کے ساتھ اپنی ناپاك زبان آلودہ کرے۔
(۷)یاکہے احکام شریعت حضرات ائمہ طاہرین کوسپرد تھے جو چاہتے راہ نکالتے جو چاہتے بدل ڈالتے۔
(۸)یاکہے مصطفی صلی اﷲ تعالی وسلم کے بعد ائمہ طاہرین پر وحی شریعت آتی رہی۔
(۹)یاکہے ائمہ سے کوئی شخص حضور پر نور مصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا ہم پلہ تھا۔
(۱۰)یا کہے حضرات کریمین امامین شہیدین رضی اﷲ تعالی عنہما حضور پر نور علیہ الصلاۃ والسلام سے افضل ہیں کہ ان کی سی ماں حضور کی والدہ کب تھیں اور ان کے سے باپ حضور کے والد کہاں تھے اور ان کے سے
حوالہ / References
صحیح بخاری کتاب فضائل القرآن باب من رایاالقرآن الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۷۵۶
القرآن الکریم ۴ /۱۴۵
القرآن الکریم ۴ /۱۴۵
نانا حضور کے نانا کب تھے۔
(۱۱)یاکہے حضرت جناب شیر خدا کرم اﷲ وجہہ الکریم نے نوح کی کشتی بچائیابراہیم پر آگ بجھائییوسف کو بادشاہی دیسلیمان کو عالم پناہی دی علیہم الصلوۃ والسلام اجمعین۔
(۱۲)یا کہے مصطفی صلی اﷲتعالی علیہ وسلم نے کبھی کسی وقت کسی جگہ حکم الہی کی تبلیغ میں معاذاﷲ تقیہ فرمایا الی غیر ذلك من الاقوال الخبیثۃ۔
(۱)یا جو نجدی وہابی حضور پر نور سیدالاولین والآخرین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے لئے کوئی مثل آسمان میں یا زمینطبقات بالا میں یا زیریں میں موجود مانے یاکہے کبھی ہوگا یا شاید ہویا ہے تو نہیں مگر ہوجائے تو کچھ حرج بھی نہیں۔
(۲)یا حضور خاتم النبیین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی ختم نبوت کا انکار کرے۔
(۳)یا کہے آج تك جو صحابہ تابعین خاتم النبیین کے معنے آخر النبیین سمجھتے رہے خطا پر تھے نہ پچھلا نبی ہونا حضور کے لئے کوئی کمال بلکہ اس کے معنے یہ ہیں جو میں سمجھا۔
(۴)یا کہے میں ذمہ کرتا ہوں اگر حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے بعد کوئی نبوت پائے تو کچھ مضائقہ نہیں۔
(۵)یا دو ایك برے نام ذکر کرکے کہے نما ز میں جناب رسالتمآب صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی طرف خیال لے جانا فلاں فلاں کے تصور میں ڈوب جانے سے بدتر ہے لعنۃ اﷲ علی مقالتہ الخبیثۃ۔
(۶)یابوجہ تبلیغ رسالت حضور پر نور محبوب رب العلمین ملك الاولین والآخرین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو اس چپراسی سے تشبیہ دے جوفرمان شاہی رعایا کے پاس لایا۔
(۷)یا حضور اقدس مالك و معطی جنت علیہ افضل الصلوۃ والتحیۃ اور حضرت ومولانا علی کرم اﷲ تعالی وجہہ وحضرت سیدنا غوث اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ کے اسمائے کریمہ طیبہ لکھ کرکہے(خاك بدہان گستاخاں)یہ سب جہنم کی راہیں ہیں۔
(۸)یا حضور فریاد رس بیکساں حاجت روائے دو جہاں صلوات اﷲ وسلامہ علیہ سے استعانت کو برا کہہ کریوں ملعون مثال دے کہ جو غلام ایك بادشاہ کا ہو رہا اسے دوسرے بادشاہ سے بھی کام نہیں رہتا پھر کیسے۔۔۔۔۔۔کا کیا ذکر ہے اور یہاں دوناپاك قوموں کے نام لکھے۔
(۹)یا ان کے مزار پر انوار کو فائدہ زیارت میں کسی پادری کافر کی گور سے برابر ٹھہرائےاشد مقت اﷲ علی قومہ۔
(۱۰)یا اس کی خباثت قلبی توہین شان رفیع المکان واجب الاعظام حضور سیدالانام علیہ افضل الصلوۃ والسلام پر
(۱۱)یاکہے حضرت جناب شیر خدا کرم اﷲ وجہہ الکریم نے نوح کی کشتی بچائیابراہیم پر آگ بجھائییوسف کو بادشاہی دیسلیمان کو عالم پناہی دی علیہم الصلوۃ والسلام اجمعین۔
(۱۲)یا کہے مصطفی صلی اﷲتعالی علیہ وسلم نے کبھی کسی وقت کسی جگہ حکم الہی کی تبلیغ میں معاذاﷲ تقیہ فرمایا الی غیر ذلك من الاقوال الخبیثۃ۔
(۱)یا جو نجدی وہابی حضور پر نور سیدالاولین والآخرین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے لئے کوئی مثل آسمان میں یا زمینطبقات بالا میں یا زیریں میں موجود مانے یاکہے کبھی ہوگا یا شاید ہویا ہے تو نہیں مگر ہوجائے تو کچھ حرج بھی نہیں۔
(۲)یا حضور خاتم النبیین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی ختم نبوت کا انکار کرے۔
(۳)یا کہے آج تك جو صحابہ تابعین خاتم النبیین کے معنے آخر النبیین سمجھتے رہے خطا پر تھے نہ پچھلا نبی ہونا حضور کے لئے کوئی کمال بلکہ اس کے معنے یہ ہیں جو میں سمجھا۔
(۴)یا کہے میں ذمہ کرتا ہوں اگر حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے بعد کوئی نبوت پائے تو کچھ مضائقہ نہیں۔
(۵)یا دو ایك برے نام ذکر کرکے کہے نما ز میں جناب رسالتمآب صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی طرف خیال لے جانا فلاں فلاں کے تصور میں ڈوب جانے سے بدتر ہے لعنۃ اﷲ علی مقالتہ الخبیثۃ۔
(۶)یابوجہ تبلیغ رسالت حضور پر نور محبوب رب العلمین ملك الاولین والآخرین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو اس چپراسی سے تشبیہ دے جوفرمان شاہی رعایا کے پاس لایا۔
(۷)یا حضور اقدس مالك و معطی جنت علیہ افضل الصلوۃ والتحیۃ اور حضرت ومولانا علی کرم اﷲ تعالی وجہہ وحضرت سیدنا غوث اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ کے اسمائے کریمہ طیبہ لکھ کرکہے(خاك بدہان گستاخاں)یہ سب جہنم کی راہیں ہیں۔
(۸)یا حضور فریاد رس بیکساں حاجت روائے دو جہاں صلوات اﷲ وسلامہ علیہ سے استعانت کو برا کہہ کریوں ملعون مثال دے کہ جو غلام ایك بادشاہ کا ہو رہا اسے دوسرے بادشاہ سے بھی کام نہیں رہتا پھر کیسے۔۔۔۔۔۔کا کیا ذکر ہے اور یہاں دوناپاك قوموں کے نام لکھے۔
(۹)یا ان کے مزار پر انوار کو فائدہ زیارت میں کسی پادری کافر کی گور سے برابر ٹھہرائےاشد مقت اﷲ علی قومہ۔
(۱۰)یا اس کی خباثت قلبی توہین شان رفیع المکان واجب الاعظام حضور سیدالانام علیہ افضل الصلوۃ والسلام پر
باعث ہو کہ حضور کو اپنا بڑابھائی بتائے
(۱۱)یا کہے(انکے بدگو)مرکر مٹی میں مل گئے۔
(۱۲)یا ان کی تعریف ایسی ہی کرو جیسے آپس میں ایك دوسرے کی کرتے ہو بلکہ اس سے بھی کم الی غیر ذلك من الخرافات الملعونۃ۔
(۱)یا کوئی نیچری نئی روشنی کا مدعی کہے باندی غلام بنانا ظلم صریح اور بہائم کاساکام ہے جس شریعت میں کبھی یہ فعل جائز رہا ہو وہ شریعت منجانب اﷲ نہیں۔
(۲)یا معجزات انبیاء علیہم الصلوۃو السلام سے انکار کرےنیل کے شق ہونے کو جوار بھاٹا بتائےعصا کے اژدہا بن کر حرکت کرنے کو سیماب وغیرہ کا شعبدہ ٹھہرائے۔
(۳)یا مسلمانوں کی جنت کو معاذاﷲ رنڈیوں کا چکلہ کہے۔
(۴)یا نار جہنم کو الم نفسانی سے تاویل کرے
(۵)یا وجود ملائکہ علیہم السلام کا منکر ہو
(۶)یا کہے آسمان ہر بلندی کانام ہے وہ جسم جسے مسلمان آسمان کہتے ہیں محض باطل ہے
(۷)یا کہے شیطان(کہ اس کامعلم شفیق ہے)کوئی چیز نہیں فقط قوت بدی کا نام ہے اورقرآن عظیم میں جوقصے آدم وحواوغیرہما کے موجود ہیں جن سے شیطان کا وجود جسمانی سمجھا جاتا ہے تمثیلی کہانیاں ہیں۔
(۸)یاکہے ہم بانی اسلام کو برا کہے بغیر نہیں رہ سکتے
(۹)یا نصوص قرآنیہ کو عقل کا تابع بتائے کہ جو بات قرآن عظیم کی قانون نیچری کے مطابق ہوگی مانی جائے ورنہ کفر جلی کے روئے زشت پر پردہ ڈھکنے کو ناپاك تاویلیں کی جائیں گی
(۱۰)یا کہے نماز میں استقبال قبلہ ضرور نہیں جدھر منہ کرو اسی طرف خدا ہے۔
(۱۱)یا کہے آجکل کے یہود ونصاری کافر نہیں کہ انہوں نے نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا زمانہ نہ پایا نہ حضور کے معجزات دیکھے۔
(۱۲)یاہاتھ سے کھاناکھانے وغیرہ سنن کے ذکر پر کہے تہذیب نصاری نے ایجاد کینبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے زمانہ میں بعض افعال نامہذب تھے۔اور یہ دونوں کلمے بعض اشقیاء سے فقیر نے خود سنےالی غیر ذلك من الاباطیل الشیطانیۃ۔
(۱)یا کوئی جھوٹا صوفی کہے جب بندہ عارف باﷲ ہوجاتا ہے تکالیف شرعیہ اس سے ساقط ہوجاتی ہیں یہ باتیں تو خدا تك پہنچنے کی راہ ہیں جو مقصود تك واصل ہوگیا اسے راستہ سے کیا کام۔
(۱۱)یا کہے(انکے بدگو)مرکر مٹی میں مل گئے۔
(۱۲)یا ان کی تعریف ایسی ہی کرو جیسے آپس میں ایك دوسرے کی کرتے ہو بلکہ اس سے بھی کم الی غیر ذلك من الخرافات الملعونۃ۔
(۱)یا کوئی نیچری نئی روشنی کا مدعی کہے باندی غلام بنانا ظلم صریح اور بہائم کاساکام ہے جس شریعت میں کبھی یہ فعل جائز رہا ہو وہ شریعت منجانب اﷲ نہیں۔
(۲)یا معجزات انبیاء علیہم الصلوۃو السلام سے انکار کرےنیل کے شق ہونے کو جوار بھاٹا بتائےعصا کے اژدہا بن کر حرکت کرنے کو سیماب وغیرہ کا شعبدہ ٹھہرائے۔
(۳)یا مسلمانوں کی جنت کو معاذاﷲ رنڈیوں کا چکلہ کہے۔
(۴)یا نار جہنم کو الم نفسانی سے تاویل کرے
(۵)یا وجود ملائکہ علیہم السلام کا منکر ہو
(۶)یا کہے آسمان ہر بلندی کانام ہے وہ جسم جسے مسلمان آسمان کہتے ہیں محض باطل ہے
(۷)یا کہے شیطان(کہ اس کامعلم شفیق ہے)کوئی چیز نہیں فقط قوت بدی کا نام ہے اورقرآن عظیم میں جوقصے آدم وحواوغیرہما کے موجود ہیں جن سے شیطان کا وجود جسمانی سمجھا جاتا ہے تمثیلی کہانیاں ہیں۔
(۸)یاکہے ہم بانی اسلام کو برا کہے بغیر نہیں رہ سکتے
(۹)یا نصوص قرآنیہ کو عقل کا تابع بتائے کہ جو بات قرآن عظیم کی قانون نیچری کے مطابق ہوگی مانی جائے ورنہ کفر جلی کے روئے زشت پر پردہ ڈھکنے کو ناپاك تاویلیں کی جائیں گی
(۱۰)یا کہے نماز میں استقبال قبلہ ضرور نہیں جدھر منہ کرو اسی طرف خدا ہے۔
(۱۱)یا کہے آجکل کے یہود ونصاری کافر نہیں کہ انہوں نے نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا زمانہ نہ پایا نہ حضور کے معجزات دیکھے۔
(۱۲)یاہاتھ سے کھاناکھانے وغیرہ سنن کے ذکر پر کہے تہذیب نصاری نے ایجاد کینبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے زمانہ میں بعض افعال نامہذب تھے۔اور یہ دونوں کلمے بعض اشقیاء سے فقیر نے خود سنےالی غیر ذلك من الاباطیل الشیطانیۃ۔
(۱)یا کوئی جھوٹا صوفی کہے جب بندہ عارف باﷲ ہوجاتا ہے تکالیف شرعیہ اس سے ساقط ہوجاتی ہیں یہ باتیں تو خدا تك پہنچنے کی راہ ہیں جو مقصود تك واصل ہوگیا اسے راستہ سے کیا کام۔
(۲)یا کہے یہ رکوع وسجدہ تو محجوبوں کی نما زہے محبوبوں کو اس نماز کی کیا ضرورتہماری نماز ترك وجود ہے۔
(۳)یا یہ نماز روزہ تو عالموں نے انتظام کےلئے بنالیا ہے
(۴)یا جتنے عالم ہیں سب پنڈت ہیں عالم وہی ہے جو انبیاء بنی اسرائیل کی مثل معجزے دکھائےیہ بات حسنین رضی اﷲ تعالی عنہما کو حاصل ہوئی وہ بھی ایك مدت کے بعد مولی علی کے سکھانے سے کما سمعتہ من بعض المتھورین علی اﷲ(جیسا کہ میں نے خود ایسے لوگوں سے سنا ہے جو اﷲ تعالی پر جرأت کرتے ہیں۔ت)
(۵)یا خدا تك پہنچنے کے لئے اسلام شرط نہیںبیعت بك جانے کا نام ہے اگر کافر ہمارے ہاتھ پر بك جائے ہم اسے بھی خدا تك پہنچادیں گو وہ اپنے دین خبیث پر رہے۔
(۶)یا رنڈیوں کا ناچ علانیہ دیکھے جب اس پر اعتراض ہوتو کہے یہ تو نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی سنت ہے۔کما بلغنی عن بعضھم واعترف بہ بعض خلص مریدیہ(جیسا کہ ان کے بعض سے مجھے اطلاع ملی اور اس کے مخلص مرید نے اس کا اعتراف کیا۔ت)
(۷)یا شبانہ روز طبلہ سارنگی میں مشغول رہے جب تحریم مزامیر کی احادیث سنائیں توکہے یہ مذمتیں تو ان کثیف بے مزہ باجوں کے لئے وارد ہوئیں جو اس وقت عرب میں رائج تھے یہ لطیف نفیس لذیذ باجے جواب ایجاد ہوئے اس زمانے میں ہوتے تو نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اور صحابہ کرام سوا ان کے سننے کے ہرگز کوئی کام نہ کرتے۔
(۸)یا کہے:
بمعنے خدا ہے سراہا گیا ہے محمد خدا ہے خدا ہے محمد
یہ دونوں ہیں ایك ان کو دومت سمجھنا خداباطن وظاہرہے محمد
(۹)یا کہے:
مسیحا سے تری آنکھوں کی سب بیماراچھے ہیں اشاروں میں جلادیتے ہیں مردہ یا رسول اﷲ
(۱۰)یاکہے:
علی مشکلکشاشیر خدا تھا اور حیدرتھا دوبالا مرتبہ تھا راکب دوش پیمبر تھا
برب کعبہ کب خیبر شکن فرزند آزر تھا بتوں کے توڑنے میں اس سے ابراہیم ہمسر تھا
اگر ہوتا نہ زیر پا کتف شاہ رسولاں کا
(۱۱)یاکہے مولی علی کرم اﷲ تعالی وجہہ اﷲ تعالی کے محبوب تھے اور انبیاء سابقین علیہم الصلوۃ والسلام میں
(۳)یا یہ نماز روزہ تو عالموں نے انتظام کےلئے بنالیا ہے
(۴)یا جتنے عالم ہیں سب پنڈت ہیں عالم وہی ہے جو انبیاء بنی اسرائیل کی مثل معجزے دکھائےیہ بات حسنین رضی اﷲ تعالی عنہما کو حاصل ہوئی وہ بھی ایك مدت کے بعد مولی علی کے سکھانے سے کما سمعتہ من بعض المتھورین علی اﷲ(جیسا کہ میں نے خود ایسے لوگوں سے سنا ہے جو اﷲ تعالی پر جرأت کرتے ہیں۔ت)
(۵)یا خدا تك پہنچنے کے لئے اسلام شرط نہیںبیعت بك جانے کا نام ہے اگر کافر ہمارے ہاتھ پر بك جائے ہم اسے بھی خدا تك پہنچادیں گو وہ اپنے دین خبیث پر رہے۔
(۶)یا رنڈیوں کا ناچ علانیہ دیکھے جب اس پر اعتراض ہوتو کہے یہ تو نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی سنت ہے۔کما بلغنی عن بعضھم واعترف بہ بعض خلص مریدیہ(جیسا کہ ان کے بعض سے مجھے اطلاع ملی اور اس کے مخلص مرید نے اس کا اعتراف کیا۔ت)
(۷)یا شبانہ روز طبلہ سارنگی میں مشغول رہے جب تحریم مزامیر کی احادیث سنائیں توکہے یہ مذمتیں تو ان کثیف بے مزہ باجوں کے لئے وارد ہوئیں جو اس وقت عرب میں رائج تھے یہ لطیف نفیس لذیذ باجے جواب ایجاد ہوئے اس زمانے میں ہوتے تو نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اور صحابہ کرام سوا ان کے سننے کے ہرگز کوئی کام نہ کرتے۔
(۸)یا کہے:
بمعنے خدا ہے سراہا گیا ہے محمد خدا ہے خدا ہے محمد
یہ دونوں ہیں ایك ان کو دومت سمجھنا خداباطن وظاہرہے محمد
(۹)یا کہے:
مسیحا سے تری آنکھوں کی سب بیماراچھے ہیں اشاروں میں جلادیتے ہیں مردہ یا رسول اﷲ
(۱۰)یاکہے:
علی مشکلکشاشیر خدا تھا اور حیدرتھا دوبالا مرتبہ تھا راکب دوش پیمبر تھا
برب کعبہ کب خیبر شکن فرزند آزر تھا بتوں کے توڑنے میں اس سے ابراہیم ہمسر تھا
اگر ہوتا نہ زیر پا کتف شاہ رسولاں کا
(۱۱)یاکہے مولی علی کرم اﷲ تعالی وجہہ اﷲ تعالی کے محبوب تھے اور انبیاء سابقین علیہم الصلوۃ والسلام میں
کوئی خدا کا محبوب نہ تھا۔
(۱۲)یا اس کے جلسہ میں لاالہ الااﷲ فلاں رسول اﷲ اسی مغرور کا نام لے کر کہا جائے اور وہ اس پر راضی ہوجائے۔
یہ سب فرقے بالقطع والیقین کافر مطلق ہیںھداھم اﷲ تعالی الی الصراط المستقیم والالعنھم لعنۃ تبیدصغارھم وکبارھم وتزیل عن الاسلام والمسلمین عارھم وعوارھم امین(اﷲ تعالی ان کو سیدھی راہ کی ہدایت دے ورنہ ان پر لعنت فرمائے ایسی لعنت جو ان کے بڑوں چھوٹوں کو ملیا میٹ کردے اور اسلام اور مسلمانوں سے ان کی عار اور اندھا پن ختم ہوجائےآمین!۔ت)اور جو شخص ابتداء میں صحیح الاسلام تھا بعدہ ان خرافات کی طرف رجوع کی اس کے مرتد ہونے میں شبہہ نہیںاس قدر پر تو اجماع قطعی قائم ہےاب رہی تحقیق اس بات کی کہ ان میں جو شخص قدیم سے ایسے ہی عقائد پر ہو اور بچپن سے یہی کفریات سیکھے جیسے وہ مبتدعین جن کے باپ دادا سے یہی مذاہب مکفرہ چلے آتے ہیں ان کی نسبت کیا حکم ہونا چاہئے کہ کفار چند قسم ہیں کچھ ایسے کہ باوجود کفر شرع مطہر نے ان کی عورتوں سے نکاح اور ذبائح کا تناول جائز فرمایا وہ کتابی ہیں اور بعض وہ جن کے نساء وذبائح حراممگران سے جزیہ لینامناسب ہوتو صلح کرنا غلبہ پائیں تو رفیق بنانا جائز ہے اور انہیں خواہی نخواہی اسلام پر جبر نہ کریں گےوہ مشرکین ہیںاور بعض ایسے جن کے ساتھ یہ سب باتیں ناجائزوہ مرتدین ہیںآیا ان ہمیشہ کے بعدعتی کفار مدعیان اسلام پرکس قسم کے حکم جاری ہوںمطالعہ کتب فقہ سے اس بارہ میں چار قول مستفاد ہوتے ہیں جن کی تفصیل فقیر نے رسالہ مقالۃ المفسرۃ عن احکام البدعۃ المکفرۃ میں بمالامزید علیہ کیان میں مذہب صحیح ومعتمد علیہ یہی ہے کہ یہ مبتدعین بحکم شرع مطلقا مرتدین ہیں خواہ یہ بدعت ان کے باپ دادا سے چلی آتی ہو یا خود انہوں نے ابتداء سے اختیار کی ہو خواہ بعد ایك زمانہ کے ہوکسی طرح فرق نہیںبس اتنا چاہئے کہ باوجود دعوی اسلام و اقرار شہادتین بعض ضروریات دین سے انکار رکھتا ہو اس پر احکام مرتدین جاری کئے جائیں گے۔عالمگیریہ میں ہے:
یجب اکفار الروافض فی قولھم برجعۃ الاموات الی الدنیا و بتناسخ الارواح وبانتقال روح الالہ الی الائمۃ وبقولھم فی خروج امام باطن وبتعطیلھم الامر والنھی الی ان یخرج الامام الباطن وبقولھم ان جبریل علیہ الصلوۃ والسلام غلط فی الوحی الی محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم دون علی بن ابی طالب رافضیوں کی ان باتوں پر کہ"مردے دوبارہ دنیا میں آئیں گے روح دوسرے جسموں میں آئیں گےاﷲ تعالی کی روح ائمہ اہلبیت میں منتقل ہوئی ہےامام باطن خروج کریں گےامام باطن کے خروج تك امرونہی احکام معطل رہیں گےجبریل علیہ الصلوۃ والسلام سے حضرت علی کے مقابلہ میں محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پر وحی لانے میں غلطی ہوئی ہے"ان کی تکفیر ضروری ہے یہ لوگ ملت اسلامیہ سے خارج
(۱۲)یا اس کے جلسہ میں لاالہ الااﷲ فلاں رسول اﷲ اسی مغرور کا نام لے کر کہا جائے اور وہ اس پر راضی ہوجائے۔
یہ سب فرقے بالقطع والیقین کافر مطلق ہیںھداھم اﷲ تعالی الی الصراط المستقیم والالعنھم لعنۃ تبیدصغارھم وکبارھم وتزیل عن الاسلام والمسلمین عارھم وعوارھم امین(اﷲ تعالی ان کو سیدھی راہ کی ہدایت دے ورنہ ان پر لعنت فرمائے ایسی لعنت جو ان کے بڑوں چھوٹوں کو ملیا میٹ کردے اور اسلام اور مسلمانوں سے ان کی عار اور اندھا پن ختم ہوجائےآمین!۔ت)اور جو شخص ابتداء میں صحیح الاسلام تھا بعدہ ان خرافات کی طرف رجوع کی اس کے مرتد ہونے میں شبہہ نہیںاس قدر پر تو اجماع قطعی قائم ہےاب رہی تحقیق اس بات کی کہ ان میں جو شخص قدیم سے ایسے ہی عقائد پر ہو اور بچپن سے یہی کفریات سیکھے جیسے وہ مبتدعین جن کے باپ دادا سے یہی مذاہب مکفرہ چلے آتے ہیں ان کی نسبت کیا حکم ہونا چاہئے کہ کفار چند قسم ہیں کچھ ایسے کہ باوجود کفر شرع مطہر نے ان کی عورتوں سے نکاح اور ذبائح کا تناول جائز فرمایا وہ کتابی ہیں اور بعض وہ جن کے نساء وذبائح حراممگران سے جزیہ لینامناسب ہوتو صلح کرنا غلبہ پائیں تو رفیق بنانا جائز ہے اور انہیں خواہی نخواہی اسلام پر جبر نہ کریں گےوہ مشرکین ہیںاور بعض ایسے جن کے ساتھ یہ سب باتیں ناجائزوہ مرتدین ہیںآیا ان ہمیشہ کے بعدعتی کفار مدعیان اسلام پرکس قسم کے حکم جاری ہوںمطالعہ کتب فقہ سے اس بارہ میں چار قول مستفاد ہوتے ہیں جن کی تفصیل فقیر نے رسالہ مقالۃ المفسرۃ عن احکام البدعۃ المکفرۃ میں بمالامزید علیہ کیان میں مذہب صحیح ومعتمد علیہ یہی ہے کہ یہ مبتدعین بحکم شرع مطلقا مرتدین ہیں خواہ یہ بدعت ان کے باپ دادا سے چلی آتی ہو یا خود انہوں نے ابتداء سے اختیار کی ہو خواہ بعد ایك زمانہ کے ہوکسی طرح فرق نہیںبس اتنا چاہئے کہ باوجود دعوی اسلام و اقرار شہادتین بعض ضروریات دین سے انکار رکھتا ہو اس پر احکام مرتدین جاری کئے جائیں گے۔عالمگیریہ میں ہے:
یجب اکفار الروافض فی قولھم برجعۃ الاموات الی الدنیا و بتناسخ الارواح وبانتقال روح الالہ الی الائمۃ وبقولھم فی خروج امام باطن وبتعطیلھم الامر والنھی الی ان یخرج الامام الباطن وبقولھم ان جبریل علیہ الصلوۃ والسلام غلط فی الوحی الی محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم دون علی بن ابی طالب رافضیوں کی ان باتوں پر کہ"مردے دوبارہ دنیا میں آئیں گے روح دوسرے جسموں میں آئیں گےاﷲ تعالی کی روح ائمہ اہلبیت میں منتقل ہوئی ہےامام باطن خروج کریں گےامام باطن کے خروج تك امرونہی احکام معطل رہیں گےجبریل علیہ الصلوۃ والسلام سے حضرت علی کے مقابلہ میں محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پر وحی لانے میں غلطی ہوئی ہے"ان کی تکفیر ضروری ہے یہ لوگ ملت اسلامیہ سے خارج
رضی اﷲ تعالی عنہ وھؤلاء القوم خارجون عن ملۃ الاسلام واحکامھم احکام المرتدین کذافی الظھیریۃ ۔ ہیںاور ان کے احکام مرتدین جیسے ہوں گےظہیریہ میں ایسے ہی ہے۔
خود علامہ شامی علیہ الرحمۃ تنقیح الفتاوی الحامدیہ میں مؤلف فتاوی علامہ حامد آفندی عمادی سے نقل کرتے ہیں انہوں نے شیخ الاسلام عبداﷲ آفندی کے مجموعہ میں علامۃ الوری نوح آفندی علیہ الرحمۃ کا فتوی دیکھا جس میں ان سے تکفیر روافض کے بارے میں سوال ہوا تھا علامہ ان کے کلمات کفریہ لکھرکر فرماتے ہیں:
ثبت التواتر قطعا عند الخواص والعوام المسلمین ان ھذہ القبائح مجتمعۃ فی ھؤلاء الضالین المضلین فمن اتصف بواحد من ھذہ الامور فھو کافر(الی ان قال)ولایجوز ترکھم علیہ باعطاء الجزیۃ ولابامان مؤید نص علیہ قاضی خاں فی فتاواہ ویجوز استرقاق نساء ھم لان استرقاق المرتدۃ بعد مالحقت بدار الحرب جائز الخ ملتقطا۔ خواص وعوام مسلمانوں میں یہ بات تواتر سے چلی آرہی ہے کہ مذکور قباحتیں ان گمراہ لوگوں میں جمع ہیں جبکہ ان قباحتوں میں سے کسی ایك سے متصف ہونے والاکافر ہے(آگے یہاں تك فرمایا)کہ جزیہ کے بدلے یا امان دے کر ان لوگوں کو یہ اجازت نہیں دی جاسکتیاس پر قاضیخاں نے اپنے فتاوی میں تصریح کی ہے اور ان کی عورتوں کو لونڈیاں بنانا جائز ہوگا کیونکہ مرتدہ عورت جب دارالحرب چلی جائے تو اس کے بعد اس کو لونڈی بنانا جائز ہے الخ اھ ملتقطا(ت)
فتاوی علامہ قاضی خاں میں شیخ امام ابوبکر محمد بن الفضل علیہ الرحمۃ سے دربارہ مبیض ومبیضہ کے اول زن و شوہر تھے پھر دونوں مسمان ہوئے عورت نے اور مسلمان سے نکاح کرلیا منقول:
ان کانا یظھران الکفرا واحد ھما کانا بمنزلۃ المرتدین لم یصح نکاحھما ویصح نکاح المرأۃ مع الثانی انتہی باختصار۔ مردو عورت دونوں یا ان میں سے ایك جب کفر کا اظہار کرے تو ان کا حکم مرتدوں والا ہوگاان کا نکاح ختم ہوجائیگا اور وہ عورت دوسرے کے لئے حلال ہوگیاھمختصرا۔(ت)
خود علامہ شامی علیہ الرحمۃ تنقیح الفتاوی الحامدیہ میں مؤلف فتاوی علامہ حامد آفندی عمادی سے نقل کرتے ہیں انہوں نے شیخ الاسلام عبداﷲ آفندی کے مجموعہ میں علامۃ الوری نوح آفندی علیہ الرحمۃ کا فتوی دیکھا جس میں ان سے تکفیر روافض کے بارے میں سوال ہوا تھا علامہ ان کے کلمات کفریہ لکھرکر فرماتے ہیں:
ثبت التواتر قطعا عند الخواص والعوام المسلمین ان ھذہ القبائح مجتمعۃ فی ھؤلاء الضالین المضلین فمن اتصف بواحد من ھذہ الامور فھو کافر(الی ان قال)ولایجوز ترکھم علیہ باعطاء الجزیۃ ولابامان مؤید نص علیہ قاضی خاں فی فتاواہ ویجوز استرقاق نساء ھم لان استرقاق المرتدۃ بعد مالحقت بدار الحرب جائز الخ ملتقطا۔ خواص وعوام مسلمانوں میں یہ بات تواتر سے چلی آرہی ہے کہ مذکور قباحتیں ان گمراہ لوگوں میں جمع ہیں جبکہ ان قباحتوں میں سے کسی ایك سے متصف ہونے والاکافر ہے(آگے یہاں تك فرمایا)کہ جزیہ کے بدلے یا امان دے کر ان لوگوں کو یہ اجازت نہیں دی جاسکتیاس پر قاضیخاں نے اپنے فتاوی میں تصریح کی ہے اور ان کی عورتوں کو لونڈیاں بنانا جائز ہوگا کیونکہ مرتدہ عورت جب دارالحرب چلی جائے تو اس کے بعد اس کو لونڈی بنانا جائز ہے الخ اھ ملتقطا(ت)
فتاوی علامہ قاضی خاں میں شیخ امام ابوبکر محمد بن الفضل علیہ الرحمۃ سے دربارہ مبیض ومبیضہ کے اول زن و شوہر تھے پھر دونوں مسمان ہوئے عورت نے اور مسلمان سے نکاح کرلیا منقول:
ان کانا یظھران الکفرا واحد ھما کانا بمنزلۃ المرتدین لم یصح نکاحھما ویصح نکاح المرأۃ مع الثانی انتہی باختصار۔ مردو عورت دونوں یا ان میں سے ایك جب کفر کا اظہار کرے تو ان کا حکم مرتدوں والا ہوگاان کا نکاح ختم ہوجائیگا اور وہ عورت دوسرے کے لئے حلال ہوگیاھمختصرا۔(ت)
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیۃ الباب التاسع فی احکام المرتدین نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۲۶۴
العقودالدریۃ تنقیح الفتاوی الحامدیۃ باب الردۃ والتعزیر قندھار افغانستان ۱/ ۰۵۔۱۰۴
فتاوٰی قاضی خاں کتاب النکاح باب فی المحرمات نولکشور لکھنؤ ۱/ ۱۶۷
العقودالدریۃ تنقیح الفتاوی الحامدیۃ باب الردۃ والتعزیر قندھار افغانستان ۱/ ۰۵۔۱۰۴
فتاوٰی قاضی خاں کتاب النکاح باب فی المحرمات نولکشور لکھنؤ ۱/ ۱۶۷
امام علامہ قاضی عیاض شفا شریف میں امام اہلسنت قاضی ابوبکر باقلانی سے نقل فرماتے ہیں:
انھم علی رای من کفرھم بالتاویل لاتحل مناکحتھم ولااکل ذبائحھم ولاالصلوۃ علی میتھم ویختلف فی موار ثتھم علی الخلاف فی میراث المرتد ۔ جن لوگوں نے ان کی تکفیر کی ہے ان کی رائے میں ان سے نکاح کرناان کاذبیحہ کھاناان کی نماز جنازہ پڑھنا جائز نہیں ہے اور ان کی وراثت میں وہی اختلاف ہوگا جو مرتد کی وراثت میں ہے۔(ت)
ان عبارات سے ظاہرہولیا کہ ان مبتدعین منکرین ضروریات دین پر حکم مرتدین جاری ہونا ہی منقول و مقبول بلکہ مذاہب اربعہ کا مفتی بہ ہے۔بالجملہ ان اعداء اﷲ پر حکم ارتداد ہی جاری کیا جائے گانہ ان سے سلطنت اسلام میں معاہدہ دائمہ جائز نہ ہمیشہ کو امان دینا جائزنہ جزیہ لینا جائز نہ کسی وقت کسی حالت میں ان سے ربط رکھنا جائزنہ پاس بیٹھنا جائز نہ بٹھانا جائزنہ ان کے کسی کام میں شریك ہونا جائز نہ اپنے کام میں شریك کرنا جائزنہ مناکحت کرنا جائز نہ ذبیحہ کھاناجائز۔
قاتلھم اﷲ انی یذھبون قال اﷲ تعالی" ومن یتولہم منکم فانہ منہم " ۔
ھدنااﷲ تعالی الی الصراط المستقیم ودین ھذا النبی الکریم علیہ افضل الصلوۃ والتسلیم وثبتنا بالقول الثابت فی الدنیا والاخرۃ انہ ولی ذلك واھل التقوی واھل المغفرۃ لاالہ الا ھو سبحنہ و تعلی عما یشرکون ﴿۱۸﴾""واﷲ تعالی اعلم۔ ا ﷲ تعالی ان کو ہلاك کرے یہ کدھر جارہے ہیںاﷲ تعالی نے فرمایا جو تم میں سے ان سے دوستی رکھے گا وہ انہی میں سے ہے۔(ت)
اﷲ تعالی ہمیں سیدھی راہ کی ہدایت کرے اور اس آخری نبی علیہ افضل الصلوۃ والتسلیم کے دین پر چلائےاور دنیا وآخرت میں ایمان کامل پر چلائے اور دنیا وآخرت میں ایمان کامل پر ثابت قدم رکھے۔اﷲ تعالی اس کا مالك ہے اے تقوی والو اورمغفرت والو!اس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ پاك وبلند ہے کسی شریك سے۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
انھم علی رای من کفرھم بالتاویل لاتحل مناکحتھم ولااکل ذبائحھم ولاالصلوۃ علی میتھم ویختلف فی موار ثتھم علی الخلاف فی میراث المرتد ۔ جن لوگوں نے ان کی تکفیر کی ہے ان کی رائے میں ان سے نکاح کرناان کاذبیحہ کھاناان کی نماز جنازہ پڑھنا جائز نہیں ہے اور ان کی وراثت میں وہی اختلاف ہوگا جو مرتد کی وراثت میں ہے۔(ت)
ان عبارات سے ظاہرہولیا کہ ان مبتدعین منکرین ضروریات دین پر حکم مرتدین جاری ہونا ہی منقول و مقبول بلکہ مذاہب اربعہ کا مفتی بہ ہے۔بالجملہ ان اعداء اﷲ پر حکم ارتداد ہی جاری کیا جائے گانہ ان سے سلطنت اسلام میں معاہدہ دائمہ جائز نہ ہمیشہ کو امان دینا جائزنہ جزیہ لینا جائز نہ کسی وقت کسی حالت میں ان سے ربط رکھنا جائزنہ پاس بیٹھنا جائز نہ بٹھانا جائزنہ ان کے کسی کام میں شریك ہونا جائز نہ اپنے کام میں شریك کرنا جائزنہ مناکحت کرنا جائز نہ ذبیحہ کھاناجائز۔
قاتلھم اﷲ انی یذھبون قال اﷲ تعالی" ومن یتولہم منکم فانہ منہم " ۔
ھدنااﷲ تعالی الی الصراط المستقیم ودین ھذا النبی الکریم علیہ افضل الصلوۃ والتسلیم وثبتنا بالقول الثابت فی الدنیا والاخرۃ انہ ولی ذلك واھل التقوی واھل المغفرۃ لاالہ الا ھو سبحنہ و تعلی عما یشرکون ﴿۱۸﴾""واﷲ تعالی اعلم۔ ا ﷲ تعالی ان کو ہلاك کرے یہ کدھر جارہے ہیںاﷲ تعالی نے فرمایا جو تم میں سے ان سے دوستی رکھے گا وہ انہی میں سے ہے۔(ت)
اﷲ تعالی ہمیں سیدھی راہ کی ہدایت کرے اور اس آخری نبی علیہ افضل الصلوۃ والتسلیم کے دین پر چلائےاور دنیا وآخرت میں ایمان کامل پر چلائے اور دنیا وآخرت میں ایمان کامل پر ثابت قدم رکھے۔اﷲ تعالی اس کا مالك ہے اے تقوی والو اورمغفرت والو!اس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ پاك وبلند ہے کسی شریك سے۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
حوالہ / References
الشفاء للقاضی عیاض فصل فی تحقیق القول فی کفار المتأولین شرکۃ صحافیہ فی البلاد العثمانیہ ۲/ ۲۶۴
القرآن الکریم ۵ /۵۱
القرآن الکریم ۵ /۵۱
مسئلہ۶: از بستی غفران باغ آہودربہہ نئی آجمری
بخدمت حضرت مولانا صاحب السلام علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ
کیافرماتے ہیں علمائے دین موجودہ اسلامی حالت کا خیال کرتے ہوئے اور عام علماء کی تقریر متعلق ہجرت کرنے نہ کرنے کے سنتے ہوئے طبیعت پر تذبذب پیدا ہورہا ہے کہ مجھ کو کیا کرنا چاہئے ہجرت کروں یا نہیںاس کے متعلق حضور کا ذاتی خیال کیا ہے
الجواب:
وعلیکم السلام ورحمۃ اﷲ وبرکاتہہجرت دو قسم ہے:عامہ و خاصہ۔عامہ یہ کہ تمام اہل وطن ترك وطن کرکے چلے جائیں۔اور خاصہ یہ کہ خاص اشخاصپہلے ہجرت دارالحرب سے ہر مسلمان پر فرض ہےجس کا بیان آیہ کریمہ
" ان الذین توفىہم الملئکۃ ظالمی انفسہم " الآیۃ(وہ لوگ جن کی جان فرشتے نکالتے ہیں اس حال میں کہ وہ اپنے اوپر ظلم کرتے تھے الآیۃ۔ت)میں ہےاس سے صرف عورتیں اور بچے اور عاجز مرد جو نکل نہیں سکتے مستثنی ہیںجس کا ذکر اس کے متصل دوسری آیہ کریمہ" الا المستضعفین " الآیۃ میں ہےباقی سب پر فرض ہے جوباوصف قدرت دارالحرب میں سکونت رکھے اور ہجرت نہ کرے مستحق عذاب ہے رہا دارالاسلام اس سے ہجرت عامہ حرام ہے کہ اس میں مساجد کی ویرانی وبے حرمتیقبور مسلمین کی بربادیعورتوں بچوں اور ضعیفوں کی تباہی ہوگی اور ہجرت خاصہ میں تین صورتیں ہیںاگر کوئی شخص کسی وجہ خاص سے کسی مقام خاص میں اپنے فرائض دینیہ بجانہ لاسکے اور دوسری جگہ ممکن ہوتو اگر یہ خاص اسی مکان میں ہے اس پر فرض ہے کہ یہ مکان چھوڑ کر دوسرے مکان میں چلاجائےاور اگر اس محلہ میں معذور ہوتو دوسرے محلہ میں اٹھ جائے اور اس شہر میں مجبور ہوتو دوسرے شہر میں وعلی ہذا لقیاس۔کما بینہ فی مدارك التنزیل واستشھد بحدیث(جیسا کہ مدارك التنزیل میں اس کی تفصیل ہے اور اس پر حدیث مبارکہ سے استشہاد کیا ہے۔ت)دوسرے وہ کہ یہاں اپنے فرائض مذہبی بجالانے سے عاجز نہیں اور اس کے ضعیف ماں یا باپ یا بیوی یا بچے جن کا نفقہ اس پر فرض ہے وہ نہ جاسکیں گے یا نہ جائیں گے اور اس کے چلے جانے سے بے وسیلہ رہ جائیں گے تو اس کو دارالاسلام سے ہجرت کرنا حرام ہےحدیث میں ہے:
کفی بالمرء اثما ان یضیع من کسی آدمی کے گنہگار ہونے کےلئے اتنا کافی ہے کہ وہ
بخدمت حضرت مولانا صاحب السلام علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ
کیافرماتے ہیں علمائے دین موجودہ اسلامی حالت کا خیال کرتے ہوئے اور عام علماء کی تقریر متعلق ہجرت کرنے نہ کرنے کے سنتے ہوئے طبیعت پر تذبذب پیدا ہورہا ہے کہ مجھ کو کیا کرنا چاہئے ہجرت کروں یا نہیںاس کے متعلق حضور کا ذاتی خیال کیا ہے
الجواب:
وعلیکم السلام ورحمۃ اﷲ وبرکاتہہجرت دو قسم ہے:عامہ و خاصہ۔عامہ یہ کہ تمام اہل وطن ترك وطن کرکے چلے جائیں۔اور خاصہ یہ کہ خاص اشخاصپہلے ہجرت دارالحرب سے ہر مسلمان پر فرض ہےجس کا بیان آیہ کریمہ
" ان الذین توفىہم الملئکۃ ظالمی انفسہم " الآیۃ(وہ لوگ جن کی جان فرشتے نکالتے ہیں اس حال میں کہ وہ اپنے اوپر ظلم کرتے تھے الآیۃ۔ت)میں ہےاس سے صرف عورتیں اور بچے اور عاجز مرد جو نکل نہیں سکتے مستثنی ہیںجس کا ذکر اس کے متصل دوسری آیہ کریمہ" الا المستضعفین " الآیۃ میں ہےباقی سب پر فرض ہے جوباوصف قدرت دارالحرب میں سکونت رکھے اور ہجرت نہ کرے مستحق عذاب ہے رہا دارالاسلام اس سے ہجرت عامہ حرام ہے کہ اس میں مساجد کی ویرانی وبے حرمتیقبور مسلمین کی بربادیعورتوں بچوں اور ضعیفوں کی تباہی ہوگی اور ہجرت خاصہ میں تین صورتیں ہیںاگر کوئی شخص کسی وجہ خاص سے کسی مقام خاص میں اپنے فرائض دینیہ بجانہ لاسکے اور دوسری جگہ ممکن ہوتو اگر یہ خاص اسی مکان میں ہے اس پر فرض ہے کہ یہ مکان چھوڑ کر دوسرے مکان میں چلاجائےاور اگر اس محلہ میں معذور ہوتو دوسرے محلہ میں اٹھ جائے اور اس شہر میں مجبور ہوتو دوسرے شہر میں وعلی ہذا لقیاس۔کما بینہ فی مدارك التنزیل واستشھد بحدیث(جیسا کہ مدارك التنزیل میں اس کی تفصیل ہے اور اس پر حدیث مبارکہ سے استشہاد کیا ہے۔ت)دوسرے وہ کہ یہاں اپنے فرائض مذہبی بجالانے سے عاجز نہیں اور اس کے ضعیف ماں یا باپ یا بیوی یا بچے جن کا نفقہ اس پر فرض ہے وہ نہ جاسکیں گے یا نہ جائیں گے اور اس کے چلے جانے سے بے وسیلہ رہ جائیں گے تو اس کو دارالاسلام سے ہجرت کرنا حرام ہےحدیث میں ہے:
کفی بالمرء اثما ان یضیع من کسی آدمی کے گنہگار ہونے کےلئے اتنا کافی ہے کہ وہ
یقوت ۔ اسے ضائع کردے جس کا نفقہ اس کے ذمے تھا(ت)
یا وہ عالم جس سے بڑھ کر اس شہر میں عالم نہ ہو اسے بھی حرام ہے وقد نص فی البزازیۃ والدرالمختار انہ لایجوزلہ السفر الطویل منھا فضلا عن المھاجرۃ (بزازیہ او درمختار میں تصریح ہے کہ ایسے آدمی کے لئے طویل سفر جائز نہیں چہ جائیکہ وہ وہاں سے ہجرت کرجائے۔ت)تیسرے وہ کہ نہ فرائض سے عاجز ہے نہ اس کی یہاں حاجتاسے اختیار ہے رہے یاچلاجائے جو اس کی مصلحت سے ہویہ تفصیل دارالاسلام میں ہےکما حققناہ فی فتاونا(جیسا کہ اس کی تحقیق ہم نے اپنے فتاوی میں کی ہے۔ت)اب آپ اپنی حالت کا اندازہ کرسکتے ہیں کہ آپ کو ہجرت جائز یا واجب یاحرام ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۷تا۹: ازبمبئی نمبر ۲سنگل روڈ معرفت وائز برادر مسئولہ نذیر احمد خجندی ۱۶محرم ۱۳۳۹ھ
(۱)سلطنت اسلامیہ عثمانیہ تباہ برباد کی جارہی ہےاس کے حصے بخرے کرلئے گئےایسی حالت میں ہم اہل سنت وجماعت کو اس سلطنت اسلامی سے ہمدردی اور اس کے دشمنوں سے نفرت کرنی چاہئے یانہیں
(۲)اماکن مقدسہ بے حرمت کئے گئےخصوصا حرم شریف میں خون بہایا گیاغلاف کعبۃ اﷲ میں آگ لگیان بے حرمتی کرنے والوں اور ان افراد سے جو اس بے حرمتی کے باعث ہوئے ہم کو نفرت اور عداوت رکھنی چاہئے یانہیں
(۳)خصوصا جس قوم نے سلطنت اسلامیہ کو برباد اور اماکن مقدسہ کو بے حرمت کرنے کی کوشش کی ہو وہ دشمن اسلام اور
مخالف اﷲ تعالی ورسول اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سمجھی جائے گی یانہیںاور بفحوائے آیہ کریمہ
" لا تجد قوما یؤمنون باللہ و الیوم الاخر یوادون من حاد اللہ و رسولہ" الخ(تم نہ پاؤگے ان لوگوں کو جو یقین رکھتے ہیں اﷲ اور پچھلے دن پر کہ دوستی کریں ان سے جنہوں نے اﷲ اور اس کے رسول سے مخالفت کی الخ۔ت)ہم اہل سنت وجماعت کو ان دشمنان اسلام سے دوستانہ تعلقات ترك کرنے چاہیں یا نہیںبینواتوجروا۔
یا وہ عالم جس سے بڑھ کر اس شہر میں عالم نہ ہو اسے بھی حرام ہے وقد نص فی البزازیۃ والدرالمختار انہ لایجوزلہ السفر الطویل منھا فضلا عن المھاجرۃ (بزازیہ او درمختار میں تصریح ہے کہ ایسے آدمی کے لئے طویل سفر جائز نہیں چہ جائیکہ وہ وہاں سے ہجرت کرجائے۔ت)تیسرے وہ کہ نہ فرائض سے عاجز ہے نہ اس کی یہاں حاجتاسے اختیار ہے رہے یاچلاجائے جو اس کی مصلحت سے ہویہ تفصیل دارالاسلام میں ہےکما حققناہ فی فتاونا(جیسا کہ اس کی تحقیق ہم نے اپنے فتاوی میں کی ہے۔ت)اب آپ اپنی حالت کا اندازہ کرسکتے ہیں کہ آپ کو ہجرت جائز یا واجب یاحرام ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۷تا۹: ازبمبئی نمبر ۲سنگل روڈ معرفت وائز برادر مسئولہ نذیر احمد خجندی ۱۶محرم ۱۳۳۹ھ
(۱)سلطنت اسلامیہ عثمانیہ تباہ برباد کی جارہی ہےاس کے حصے بخرے کرلئے گئےایسی حالت میں ہم اہل سنت وجماعت کو اس سلطنت اسلامی سے ہمدردی اور اس کے دشمنوں سے نفرت کرنی چاہئے یانہیں
(۲)اماکن مقدسہ بے حرمت کئے گئےخصوصا حرم شریف میں خون بہایا گیاغلاف کعبۃ اﷲ میں آگ لگیان بے حرمتی کرنے والوں اور ان افراد سے جو اس بے حرمتی کے باعث ہوئے ہم کو نفرت اور عداوت رکھنی چاہئے یانہیں
(۳)خصوصا جس قوم نے سلطنت اسلامیہ کو برباد اور اماکن مقدسہ کو بے حرمت کرنے کی کوشش کی ہو وہ دشمن اسلام اور
مخالف اﷲ تعالی ورسول اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سمجھی جائے گی یانہیںاور بفحوائے آیہ کریمہ
" لا تجد قوما یؤمنون باللہ و الیوم الاخر یوادون من حاد اللہ و رسولہ" الخ(تم نہ پاؤگے ان لوگوں کو جو یقین رکھتے ہیں اﷲ اور پچھلے دن پر کہ دوستی کریں ان سے جنہوں نے اﷲ اور اس کے رسول سے مخالفت کی الخ۔ت)ہم اہل سنت وجماعت کو ان دشمنان اسلام سے دوستانہ تعلقات ترك کرنے چاہیں یا نہیںبینواتوجروا۔
حوالہ / References
سنن ابوداؤد کتاب الزکوٰۃ آفتاب عالم پریس لاہور ۱/ ۲۳۸،مسند احمد بن حنبل دارالفکر بیروت ۲/ ۱۶۰،۱۹۴،۱۹۵
المعجم الکبیر حدیث ۱۳۴۱۵ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۲/ ۳۸۲
درمختار کتاب الجہاد مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۳۹
القرآن الکریم ۵۸ /۲۲
المعجم الکبیر حدیث ۱۳۴۱۵ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۲/ ۳۸۲
درمختار کتاب الجہاد مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۳۹
القرآن الکریم ۵۸ /۲۲
الجواب
ہر سلطنت اسلام نہ صرف سلطنت ہر جماعت اسلام نہ صرف جماعت ہر فرد اسلام کی خیر خواہی مسلمان پر فرض ہے
قال رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم الدین النصح لکل مسلم ۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:دین اسلام ہر مسلمان کی خیر خواہی کا نام ہے۔(ت)
مگر ہر تکلیف بقدر استطاعت اور ہر فرض بقدر قدرت ہے نامقدور بات پر مسلمان کو ابھارنا جو نہ ہوسکے اور ضرر دے اور اسے فرض ٹھہرانا شریعت پر افترا اور مسلمانوں کی بدخواہی ہے۔
قال اﷲ تعالی" لا یکلف اللہ نفسا الا وسعہا" ۔وقال تعالی" فاتقوا اللہ ما استطعتم " ۔ اﷲ تعالی نے فرمایا اﷲ کسی جان پر بوجھ نہیں ڈالتا مگر اس کی طاقت بھر۔اور اﷲ تعالی نے فرمایا:تو اﷲ سے ڈروجہاں تك ہوسکے۔(ت)
پھر خیر خواہی اسلام حدود اسلام میں رہ کر ہےمشرکین سے اتحاد وموالات اور ان کو راضی کرنے کو شعار اسلام کی بندش مشرك لیڈر کو اپنے دین کا ہادی ورہبر بنانامشرك لکچرار کو مسلمانوں کا واعظ ٹھہرانااسے مسجد میں لے جاکر جماعت مسلمین سے اونچا کھڑا کرکے لکچر دلوانااپنے ماتھوں پر مشرکوں سے قشقے لگوانامشرکوں کے مجمع میں مشرك لیڈروں کی جے پکارنامشرك لیڈروں کی ٹکٹکی اپنے کندھوں پر اٹھاکر مرگھٹ میں لے جانامساجد کو مشرك کا ماتم گاہ ٹھہرانااس کے ماتم کے لئے مساجد میں سربرہنہ ہونااس کے لئے نماز دعائے مغفرت کا اشتہار دیناقرآن مجید اور رامائن کو ایك ڈولے میں رکھ کر دونوں کی پوجا کراتے ہوئے مندر میں لے جانامشرکوں نے قربانی گاؤ پر مسلمانوں کو بے دریغ ذبح کیا آگ سے پھونکا ان میں جو بعض گرفتار ہوئے اور ان پر ثبوت کامل پہنچ گیاان کے لئے رحم کی درخواست کرناان کی رہائی کی ریزولیوشن پاس کرناصاف لکھ دینا کہ ہم نے قرآن و حدیث کی تمام عمر بت پرستی پر نثار کردیصاف لکھ دینا کہ آج اگر تم نے ہندو بھائیوں کو راضی کرلیا تو اپنے خدا کوراضی کرلیاصاف لکھ دینا کہ ہماری جماعت ایك ایسا مذہب بنانے کی فکر میں ہے جو کفر واسلام کا امتیاز اٹھادے گاصاف لکھ دینا کہ ہم ایسا مذہب بنانا چاہتے ہیں جو سنگم وپریاگ(بتوں کی پرستشگاہوں)کو مقدس مقام ٹھہرائے گا۔یہ امورخیر خواہی اسلام نہیں کندچھری سے اسلام کو ذبح کرنا ہےیہ سب افعال واقوال ضلال بعید و کفر شدید ہیں اور ان کے فاعل وقائل وقابل اعدائے دین حمید و
ہر سلطنت اسلام نہ صرف سلطنت ہر جماعت اسلام نہ صرف جماعت ہر فرد اسلام کی خیر خواہی مسلمان پر فرض ہے
قال رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم الدین النصح لکل مسلم ۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:دین اسلام ہر مسلمان کی خیر خواہی کا نام ہے۔(ت)
مگر ہر تکلیف بقدر استطاعت اور ہر فرض بقدر قدرت ہے نامقدور بات پر مسلمان کو ابھارنا جو نہ ہوسکے اور ضرر دے اور اسے فرض ٹھہرانا شریعت پر افترا اور مسلمانوں کی بدخواہی ہے۔
قال اﷲ تعالی" لا یکلف اللہ نفسا الا وسعہا" ۔وقال تعالی" فاتقوا اللہ ما استطعتم " ۔ اﷲ تعالی نے فرمایا اﷲ کسی جان پر بوجھ نہیں ڈالتا مگر اس کی طاقت بھر۔اور اﷲ تعالی نے فرمایا:تو اﷲ سے ڈروجہاں تك ہوسکے۔(ت)
پھر خیر خواہی اسلام حدود اسلام میں رہ کر ہےمشرکین سے اتحاد وموالات اور ان کو راضی کرنے کو شعار اسلام کی بندش مشرك لیڈر کو اپنے دین کا ہادی ورہبر بنانامشرك لکچرار کو مسلمانوں کا واعظ ٹھہرانااسے مسجد میں لے جاکر جماعت مسلمین سے اونچا کھڑا کرکے لکچر دلوانااپنے ماتھوں پر مشرکوں سے قشقے لگوانامشرکوں کے مجمع میں مشرك لیڈروں کی جے پکارنامشرك لیڈروں کی ٹکٹکی اپنے کندھوں پر اٹھاکر مرگھٹ میں لے جانامساجد کو مشرك کا ماتم گاہ ٹھہرانااس کے ماتم کے لئے مساجد میں سربرہنہ ہونااس کے لئے نماز دعائے مغفرت کا اشتہار دیناقرآن مجید اور رامائن کو ایك ڈولے میں رکھ کر دونوں کی پوجا کراتے ہوئے مندر میں لے جانامشرکوں نے قربانی گاؤ پر مسلمانوں کو بے دریغ ذبح کیا آگ سے پھونکا ان میں جو بعض گرفتار ہوئے اور ان پر ثبوت کامل پہنچ گیاان کے لئے رحم کی درخواست کرناان کی رہائی کی ریزولیوشن پاس کرناصاف لکھ دینا کہ ہم نے قرآن و حدیث کی تمام عمر بت پرستی پر نثار کردیصاف لکھ دینا کہ آج اگر تم نے ہندو بھائیوں کو راضی کرلیا تو اپنے خدا کوراضی کرلیاصاف لکھ دینا کہ ہماری جماعت ایك ایسا مذہب بنانے کی فکر میں ہے جو کفر واسلام کا امتیاز اٹھادے گاصاف لکھ دینا کہ ہم ایسا مذہب بنانا چاہتے ہیں جو سنگم وپریاگ(بتوں کی پرستشگاہوں)کو مقدس مقام ٹھہرائے گا۔یہ امورخیر خواہی اسلام نہیں کندچھری سے اسلام کو ذبح کرنا ہےیہ سب افعال واقوال ضلال بعید و کفر شدید ہیں اور ان کے فاعل وقائل وقابل اعدائے دین حمید و
حوالہ / References
صحیح البخاری باب قول النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم الدین والنصیحۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۳
القرآن الکریم ۲ /۲۸۶
القرآن الکریم ۶۴ /۱۶
صحیح البخاری باب قول النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم الدین والنصیحۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۳
القرآن الکریم ۲ /۲۸۶
القرآن الکریم ۶۴ /۱۶
القرآن الکریم ۲ /۲۸۶
القرآن الکریم ۶۴ /۱۶
صحیح البخاری باب قول النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم الدین والنصیحۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۳
القرآن الکریم ۲ /۲۸۶
القرآن الکریم ۶۴ /۱۶
دشمنان رب مجید ہیں
" اتخذوا دینہم لہوا و لعبا" " بدلوا نعمت اللہ کفرا" " و سیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون ﴿۲۲۷﴾ " ۔ جنہوں نے اپنے دین کو کھیل تماشا بنا لیااﷲ کی نعمت ناشکری سے بدل دی اور اب جانا چاہتے ہیں ظالم کہ کس کروٹ پر پلٹا کھائیں گے۔(ت)
نفرت دینیہمکروہ تنزیہی واساءتمکروہ تحریمیوحرام صغیرہ و کبیرہ ومراتب بدعت وضلال وانواع کفر وارتداد سب سے حسب مرتبہ ہے جس کے درجات مستحب سے فرض اعظم بلکہ ضروریات دین تك ہوں گے لیکن جواخبث مراتب سے نفرت نہ کرے ادون سے ادعائے نفرت میں جھوٹا ہےمکروہ تنزیہی سے اساءت بری ہےاساءت سے مکروہ تحریمی بدتر ہےاس سے کبائر اپنے اپنے مرتبہ پر بدتر ہیں اور ان سے بدعت وضلال بدتر ہیں اور ان کے بھی مدارج مختلف ہیں اور ان سب سے کفر بدتر ہے اور اس میں بھی مراتب ہیں کفر اصلی سے ارتداد بدتر اور اس میں بھی ترتیب ہےکفر اصلی کی ایك سخت قسم نصرانیت ہے اور اس سے بدتر مجوسیتاس سے بدتربت پرستیاس سے بدتر وہابیتان سب سے بدتر اورخبیث تر دیوبندیتافعال کیسے ہی شنیع ہوں کسی کفر کی شناعت کو نہیں پہنچ سکتے مگر ہم دیکھتے ہیں کہ بدتر ازبدتر سے بدترکافروں بت پرستوں سے اتحاد و داد منایا جاتا ہےکیسا ودادکہاں کا اتحادبلکہ غلامی وانقیاداور ان سے بھی بدتر کفار وہابیہ کو اپنی مجلسوں کی صدائیں دی جاتی ہیں اور ان تمام بدتر از بدتر سے بدتر دیوبندیت کے سر مشیخیت ہند کی پگڑی باندھنے کی فکر کی جاتی ہےجب مشرکین و مرتدین سے یہ کچھ اتحاد ہے تو کسی فعل ومعصیت سے نفرت کا ادعاء محض سفید جھوٹ ہے اگر تمہاری نفرت اﷲ کےلئے ہوتی تو افعال سے ایك درجہ ہی بت پرستوں سے لاکھ درجہ ہوتی اگربت پرستوں سے لاکھ درجہ ہوتی دیوبندیوں سے کروڑدرجہ ہوتی تو نفرت کے دعوے محض مکروفریب ہیں
یخدعون اللہ والذین امنوا وما یخدعون الا انفسہم وما یشعرون﴿۹﴾ " فریب دیا چاہتے ہیں ا ﷲ اور ایمان والوں کو اور حقیقت میں فریب نہیں دیتے مگر اپنی جانوں کو اور انہیں شعور نہیں۔ (ت)
" اتخذوا دینہم لہوا و لعبا" " بدلوا نعمت اللہ کفرا" " و سیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون ﴿۲۲۷﴾ " ۔ جنہوں نے اپنے دین کو کھیل تماشا بنا لیااﷲ کی نعمت ناشکری سے بدل دی اور اب جانا چاہتے ہیں ظالم کہ کس کروٹ پر پلٹا کھائیں گے۔(ت)
نفرت دینیہمکروہ تنزیہی واساءتمکروہ تحریمیوحرام صغیرہ و کبیرہ ومراتب بدعت وضلال وانواع کفر وارتداد سب سے حسب مرتبہ ہے جس کے درجات مستحب سے فرض اعظم بلکہ ضروریات دین تك ہوں گے لیکن جواخبث مراتب سے نفرت نہ کرے ادون سے ادعائے نفرت میں جھوٹا ہےمکروہ تنزیہی سے اساءت بری ہےاساءت سے مکروہ تحریمی بدتر ہےاس سے کبائر اپنے اپنے مرتبہ پر بدتر ہیں اور ان سے بدعت وضلال بدتر ہیں اور ان کے بھی مدارج مختلف ہیں اور ان سب سے کفر بدتر ہے اور اس میں بھی مراتب ہیں کفر اصلی سے ارتداد بدتر اور اس میں بھی ترتیب ہےکفر اصلی کی ایك سخت قسم نصرانیت ہے اور اس سے بدتر مجوسیتاس سے بدتربت پرستیاس سے بدتر وہابیتان سب سے بدتر اورخبیث تر دیوبندیتافعال کیسے ہی شنیع ہوں کسی کفر کی شناعت کو نہیں پہنچ سکتے مگر ہم دیکھتے ہیں کہ بدتر ازبدتر سے بدترکافروں بت پرستوں سے اتحاد و داد منایا جاتا ہےکیسا ودادکہاں کا اتحادبلکہ غلامی وانقیاداور ان سے بھی بدتر کفار وہابیہ کو اپنی مجلسوں کی صدائیں دی جاتی ہیں اور ان تمام بدتر از بدتر سے بدتر دیوبندیت کے سر مشیخیت ہند کی پگڑی باندھنے کی فکر کی جاتی ہےجب مشرکین و مرتدین سے یہ کچھ اتحاد ہے تو کسی فعل ومعصیت سے نفرت کا ادعاء محض سفید جھوٹ ہے اگر تمہاری نفرت اﷲ کےلئے ہوتی تو افعال سے ایك درجہ ہی بت پرستوں سے لاکھ درجہ ہوتی اگربت پرستوں سے لاکھ درجہ ہوتی دیوبندیوں سے کروڑدرجہ ہوتی تو نفرت کے دعوے محض مکروفریب ہیں
یخدعون اللہ والذین امنوا وما یخدعون الا انفسہم وما یشعرون﴿۹﴾ " فریب دیا چاہتے ہیں ا ﷲ اور ایمان والوں کو اور حقیقت میں فریب نہیں دیتے مگر اپنی جانوں کو اور انہیں شعور نہیں۔ (ت)
حوالہ / References
القرآن الکریم ۷ /۵۱
القرآن الکریم ۱۴ /۲۸
القرآن الکریم ۲۶ /۲۲۷
القرآن الکریم ۲ /۹
القرآن الکریم ۱۴ /۲۸
القرآن الکریم ۲۶ /۲۲۷
القرآن الکریم ۲ /۹
آیہ کریمہ:
" لا تجد قوما یؤمنون باللہ و الیوم الاخر یوادون من حاد اللہ و رسولہ" ۔ تم نہ پاؤگے ان لوگوں کو جو یقین رکھتے ہیں اﷲ اور پچھلے دن پر کہ دوستی کریں ان سے جنہوں نے اﷲ اوراس کے رسول سے مخالفت کی۔(ت)
کی تلاوت اس جدید پارٹی کےلئے رب تالی القران والقران یلعنہ (بہت سے قرآن پڑھنے والوں پر قرآن لعنت کرتا ہے۔ت)کی پوری مصداق ہےکیا بت پرست ووہابیہ و دیوبندیہ" من حاد اللہ و رسولہ" ۔"میں داخل نہیںضرور ہیںکیا یہ پارٹی ان سے و دادواتحاد کرکے" یوادون من حاد اللہ و رسولہ"میں داخل نہ ہوئے ضرور ہوئےاور یہی آیہ کریمہ فرمارہی ہے کہ جو" یوادون من حاد اللہ و رسولہ""ہیں وہ" یؤمنون باللہ و الیوم الاخر "نہیںلاجرم:
" شہدوا علی انفسہم انہم کانوا کفرین ﴿۱۳۰﴾ "
" یخربون بیوتہم بایدیہم و ایدی المؤمنین ٭ فاعتبروا یاولی الابصر ﴿۲﴾ " ۔
نسأل اﷲ العافیۃ ونعوذباﷲ من حال اھل النار و لاحول ولاقوۃ الا باﷲ الواحد القھار وصلی اﷲ وسلم وبارك علی السید الکریم المختار والہ الاطہار وصحبہ الاخیار وامتہ الی یوم القرارواﷲ تعالی اعلم۔ خود اپنی جانوں پر گواہی دیں گے کہ وہ کافر تھےاپنے گھر ویران کرتے ہیں اپنے ہاتھوں اور مسلمانوں کے ہاتھوںتو عبرت لو اے نگاہ والو۔(ت)
ہم اﷲتعالی سے عافیت کی دعا کرتے ہیں اور اہل نار کے اس حال سے اﷲ تعالی کے دامن سے وابستہ ہوتے ہیںاﷲ واحد قہار کی قدرت کے بغیر نیکی کی طاقت اور برائی سے باز آنے کی قدرت نہیں ہوسکتی۔اﷲ تعالی کی رحمتیںبرکات ہمارے آقا پر ہوں اور آپ کی آل اطہارصحابہ خیار اور امت نبی پر قیامت تك ہوں۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ۱۰تا۱۳: ازکانپور فیل خانہ کہنہ مسئولہ مولوی سید محمد آصف صاحب ۵شعبا ن ۱۳۳۹ھ
بسم اﷲ الرحمن الرحیم نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم۔
یاحبیب محبوب اﷲ روحی فداک قبلہ کونین و کعبہ دارین محی الملۃ والدین دامت فیوضہم۔ بعد تسلیمات
" لا تجد قوما یؤمنون باللہ و الیوم الاخر یوادون من حاد اللہ و رسولہ" ۔ تم نہ پاؤگے ان لوگوں کو جو یقین رکھتے ہیں اﷲ اور پچھلے دن پر کہ دوستی کریں ان سے جنہوں نے اﷲ اوراس کے رسول سے مخالفت کی۔(ت)
کی تلاوت اس جدید پارٹی کےلئے رب تالی القران والقران یلعنہ (بہت سے قرآن پڑھنے والوں پر قرآن لعنت کرتا ہے۔ت)کی پوری مصداق ہےکیا بت پرست ووہابیہ و دیوبندیہ" من حاد اللہ و رسولہ" ۔"میں داخل نہیںضرور ہیںکیا یہ پارٹی ان سے و دادواتحاد کرکے" یوادون من حاد اللہ و رسولہ"میں داخل نہ ہوئے ضرور ہوئےاور یہی آیہ کریمہ فرمارہی ہے کہ جو" یوادون من حاد اللہ و رسولہ""ہیں وہ" یؤمنون باللہ و الیوم الاخر "نہیںلاجرم:
" شہدوا علی انفسہم انہم کانوا کفرین ﴿۱۳۰﴾ "
" یخربون بیوتہم بایدیہم و ایدی المؤمنین ٭ فاعتبروا یاولی الابصر ﴿۲﴾ " ۔
نسأل اﷲ العافیۃ ونعوذباﷲ من حال اھل النار و لاحول ولاقوۃ الا باﷲ الواحد القھار وصلی اﷲ وسلم وبارك علی السید الکریم المختار والہ الاطہار وصحبہ الاخیار وامتہ الی یوم القرارواﷲ تعالی اعلم۔ خود اپنی جانوں پر گواہی دیں گے کہ وہ کافر تھےاپنے گھر ویران کرتے ہیں اپنے ہاتھوں اور مسلمانوں کے ہاتھوںتو عبرت لو اے نگاہ والو۔(ت)
ہم اﷲتعالی سے عافیت کی دعا کرتے ہیں اور اہل نار کے اس حال سے اﷲ تعالی کے دامن سے وابستہ ہوتے ہیںاﷲ واحد قہار کی قدرت کے بغیر نیکی کی طاقت اور برائی سے باز آنے کی قدرت نہیں ہوسکتی۔اﷲ تعالی کی رحمتیںبرکات ہمارے آقا پر ہوں اور آپ کی آل اطہارصحابہ خیار اور امت نبی پر قیامت تك ہوں۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ۱۰تا۱۳: ازکانپور فیل خانہ کہنہ مسئولہ مولوی سید محمد آصف صاحب ۵شعبا ن ۱۳۳۹ھ
بسم اﷲ الرحمن الرحیم نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم۔
یاحبیب محبوب اﷲ روحی فداک قبلہ کونین و کعبہ دارین محی الملۃ والدین دامت فیوضہم۔ بعد تسلیمات
حوالہ / References
القرآن الکریم ۵۸ /۲۲
المدخل لابن الحاج الجزء الاول ص۸۵ الجزء الثانی ص۳۰۴ دارالکتاب العربی بیروت
القرآن الکریم ۵۸ /۲۲
القرآن الکریم ۶ /۱۳۰ و ۷/ ۳۷
القرآن الکریم ۵۹ /۲
المدخل لابن الحاج الجزء الاول ص۸۵ الجزء الثانی ص۳۰۴ دارالکتاب العربی بیروت
القرآن الکریم ۵۸ /۲۲
القرآن الکریم ۶ /۱۳۰ و ۷/ ۳۷
القرآن الکریم ۵۹ /۲
فدویانہ تمنائے حصول سعادت آستاں بوسی التماس ایں کہ بفضلہ تعالی فدوی بخیریت ہے صحتوری مزاج اقدس مدام بدعائے سحری مطلوب۔
(۱) ذمی کفار کو ان کے مندر عبادت گاہ میں عبادت کرنے و نیز مراسم کفر کے کرنے کی سلطان اسلام اجازت دیتا ہے یانہیں درصورت اجازت دینے کے شبہہ ہوتا ہے کہ احکام کفر پر رضاکفر ہے جیسا کہ اتمام حجت تامہ میں ۴۳سوال کے آخر میں ہے(تقسیم ملك کہ اتنا آپ کا اتنا ہندؤوں کا ان دونوں صورتوں میں احکام کفر تمام یا بڑے حصہ میں آپ کی رضا سے جاری ہوں گے کہ آپ ہی اس اشتراك یا تقسیم پر راضی ہوئے احکام کفر پر رضا کفریا کم از کم بددینی ہے یانہیں)
(۲)کیا یہ حدیث صحیح ہے: اخرجواالیھود والنصاری من جزیرۃ العرب۔
یہود ونصاری کو جزیرہ عرب سے نکال دو۔(ت)
اور کس زمانہ تك اس حدیث شریف پر عمل ہوتا رہا اور کس بادشاہ کے وقت سے عدن وغیرہ میں نصاری کا قیام ہوا حدیث شریف سے کیا مقصود ہے
(۳)کیاوہابیہ دیوبندیہ خذلھم اﷲ تعالی (اﷲ تعالی انہیں رسوافرمائے۔ت) بیت المقدس و مساجد کو مقامات مقدسہ نہیں سمجھتے اگرچہ ترکوں کو مسلمان و نیز اور اماکن مقدسہ کو مقامات مقدسہ نہ سمجھیں لیکن شاید مساجد کی وجہ سے ونیز اس حدیث شریف کی وجہ سے چاہتے ہوں کہ عراق عرب غیر مسلم کی ہستیوں سے پاك ہوجائے اور نصاری پریشان ہوکراسے چھوڑدیں۔
(۴)کیا ابن عبدالوہاب نجدی نے سنگ اسود کوبھی نقصان پہنچایا تھا اور جگہ سے ہٹادیا تھاوالسلام مع التکریم۔
الجواب:
حبیبی ومحبی ومحبوبی احبکم اﷲ تعالی السلام علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ
(۱) سلطان اسلام ہر گزکفار کو مراسم کفر کی اجازت نہیں دے سکتا کیا اجازت کفر دے کر خود کافر ہوگا بلکہ نترکھم ومایدینون(انہیں ہم ان کے دین پر چھوڑدیں گے۔ت) یعنی جہاں جس بات کا ازالہ کا حکم نہیں وہاں تعرض نہ کرے گا نہ یہ کہ ان سے کہے گاکہ ہاں ایسا کرو۔ رسالہ علامہ شرنبلالی پھر ردالمحتار میں ہے:
لیس المراد انہ جائز نامرھم بہ جائز سے یہ مراد نہیں کہ ہم اس کا امر
(۱) ذمی کفار کو ان کے مندر عبادت گاہ میں عبادت کرنے و نیز مراسم کفر کے کرنے کی سلطان اسلام اجازت دیتا ہے یانہیں درصورت اجازت دینے کے شبہہ ہوتا ہے کہ احکام کفر پر رضاکفر ہے جیسا کہ اتمام حجت تامہ میں ۴۳سوال کے آخر میں ہے(تقسیم ملك کہ اتنا آپ کا اتنا ہندؤوں کا ان دونوں صورتوں میں احکام کفر تمام یا بڑے حصہ میں آپ کی رضا سے جاری ہوں گے کہ آپ ہی اس اشتراك یا تقسیم پر راضی ہوئے احکام کفر پر رضا کفریا کم از کم بددینی ہے یانہیں)
(۲)کیا یہ حدیث صحیح ہے: اخرجواالیھود والنصاری من جزیرۃ العرب۔
یہود ونصاری کو جزیرہ عرب سے نکال دو۔(ت)
اور کس زمانہ تك اس حدیث شریف پر عمل ہوتا رہا اور کس بادشاہ کے وقت سے عدن وغیرہ میں نصاری کا قیام ہوا حدیث شریف سے کیا مقصود ہے
(۳)کیاوہابیہ دیوبندیہ خذلھم اﷲ تعالی (اﷲ تعالی انہیں رسوافرمائے۔ت) بیت المقدس و مساجد کو مقامات مقدسہ نہیں سمجھتے اگرچہ ترکوں کو مسلمان و نیز اور اماکن مقدسہ کو مقامات مقدسہ نہ سمجھیں لیکن شاید مساجد کی وجہ سے ونیز اس حدیث شریف کی وجہ سے چاہتے ہوں کہ عراق عرب غیر مسلم کی ہستیوں سے پاك ہوجائے اور نصاری پریشان ہوکراسے چھوڑدیں۔
(۴)کیا ابن عبدالوہاب نجدی نے سنگ اسود کوبھی نقصان پہنچایا تھا اور جگہ سے ہٹادیا تھاوالسلام مع التکریم۔
الجواب:
حبیبی ومحبی ومحبوبی احبکم اﷲ تعالی السلام علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ
(۱) سلطان اسلام ہر گزکفار کو مراسم کفر کی اجازت نہیں دے سکتا کیا اجازت کفر دے کر خود کافر ہوگا بلکہ نترکھم ومایدینون(انہیں ہم ان کے دین پر چھوڑدیں گے۔ت) یعنی جہاں جس بات کا ازالہ کا حکم نہیں وہاں تعرض نہ کرے گا نہ یہ کہ ان سے کہے گاکہ ہاں ایسا کرو۔ رسالہ علامہ شرنبلالی پھر ردالمحتار میں ہے:
لیس المراد انہ جائز نامرھم بہ جائز سے یہ مراد نہیں کہ ہم اس کا امر
بل بمعنی نترکھم ومایدینون فھو من جملۃ المعاصی التی یقرون علیھا کشرب الخمرونحوہ ولا نقول ان ذلك جائزلھم فلایحل للسلطان ولا للقاضی ان یقول لھم افعلوا ذلك ولاان یعینھم علیہ ۔ کرتے ہیں بلکہ معنی یہ ہے کہ ہم انہیں ان کے دین پر چھوڑتے ہیں پس یہ ان کے ان معاصی سے ہے جن پر وہ قائم رہتے ہیں مثلا شراب پیناوغیرہاور یہ نہیں کہتے کہ انکو جائز ہیں تو بادشاہ اور قاضی کے لئے یہ جائز نہیں کہ وہ انہیں کہے تم یہ کام کرو اور نہ یہ کہ وہ ان کی مدد کریں۔(ت) بخلاف یہاں کے کہ ضرور جوکچھ ہوگا فریقین کی تراضی و قرار داد سے ہوگا۔
(۲) یہ حدیث ان لفظوں سے صحیح نہیں مگر اس مضمون میں کہ جزیرہ عرب میں کوئی نامسلم نہ رہے متعدد صحیح حدیثیں وارد ہیں مقصود حدیث وحکم شرعی یہ ہے کہ جزیرہ عرب میں کسی غیر مسلم کا توطن وطول اقامت جائز نہیں تجارت وغیرہ امور مرخصہ کے لئے آئیں اور چلے جائیں ظاہرا سال بھر تك قیام کی اجازت کسی کو نہ دی جائیگی۔تیسیرالمقاصد علامہ شرنبلالی پھر درمختار میں ہے:
یمنعون من استیطان مکۃ والمدینۃ لانھما من ارض العرب قال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لایجتمع فی ارض العرب دینان ولودخل لتجارۃ جاز ولا یطیل ۔ مکۃ المکرمہ اور مدینہ طیبہ کو انہیں وطن بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی کیونکہ یہ دونوں شہر ارض عرب ہیں حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا: زمین عرب میں دو دین جمع نہیں ہوسکتے اگر تجارت کے لئے داخل ہو تو جائز ہے لیکن طویل مدت نہ رہے۔(ت)
ردالمحتار میں ہے:
قولہ لانھما من ارض العرب افادان الحکم غیر مقصود علی مکۃ والمدینۃ بل جزیرۃ العرب کلھا کذلك کما عبربہ فی الفتح وغیرہ فیمنع من ان یطیل فیھا المکث حتی یتخذ فیھا مسکنا لان حالھم فی المقام فی ارض العرب مع التزام قولہ"کیونکہ وہ ارض عرب میں سے ہیں"بتارہا ہے کہ یہ حکم محض مکہ اور مدینہ تك ہی محدود نہیں بلکہ تمام جزیرہ عرب کا یہی حکم ہے جیسا کہ فتح وغیرہ میں بیان ہوا ہے لہذا ایسی طویل مدت تك وہاں ٹھہرنے سے منع کیا جائے گا کہ وہاں وہ رہائش وغیرہ بنائے کیونکہ زمین عرب میں ان کا التزام جزیہ کے ساتھ
(۲) یہ حدیث ان لفظوں سے صحیح نہیں مگر اس مضمون میں کہ جزیرہ عرب میں کوئی نامسلم نہ رہے متعدد صحیح حدیثیں وارد ہیں مقصود حدیث وحکم شرعی یہ ہے کہ جزیرہ عرب میں کسی غیر مسلم کا توطن وطول اقامت جائز نہیں تجارت وغیرہ امور مرخصہ کے لئے آئیں اور چلے جائیں ظاہرا سال بھر تك قیام کی اجازت کسی کو نہ دی جائیگی۔تیسیرالمقاصد علامہ شرنبلالی پھر درمختار میں ہے:
یمنعون من استیطان مکۃ والمدینۃ لانھما من ارض العرب قال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لایجتمع فی ارض العرب دینان ولودخل لتجارۃ جاز ولا یطیل ۔ مکۃ المکرمہ اور مدینہ طیبہ کو انہیں وطن بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی کیونکہ یہ دونوں شہر ارض عرب ہیں حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا: زمین عرب میں دو دین جمع نہیں ہوسکتے اگر تجارت کے لئے داخل ہو تو جائز ہے لیکن طویل مدت نہ رہے۔(ت)
ردالمحتار میں ہے:
قولہ لانھما من ارض العرب افادان الحکم غیر مقصود علی مکۃ والمدینۃ بل جزیرۃ العرب کلھا کذلك کما عبربہ فی الفتح وغیرہ فیمنع من ان یطیل فیھا المکث حتی یتخذ فیھا مسکنا لان حالھم فی المقام فی ارض العرب مع التزام قولہ"کیونکہ وہ ارض عرب میں سے ہیں"بتارہا ہے کہ یہ حکم محض مکہ اور مدینہ تك ہی محدود نہیں بلکہ تمام جزیرہ عرب کا یہی حکم ہے جیسا کہ فتح وغیرہ میں بیان ہوا ہے لہذا ایسی طویل مدت تك وہاں ٹھہرنے سے منع کیا جائے گا کہ وہاں وہ رہائش وغیرہ بنائے کیونکہ زمین عرب میں ان کا التزام جزیہ کے ساتھ
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الجہاد فصل فی الجزیہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۳/ ۲۷۲
درمختار کتاب الجہاد مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۵۲
درمختار کتاب الجہاد مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۵۲
الجزیۃ کحالھم فی غیرھا بلاجزیۃ وھنا بلك لا یمنعون من التجارۃ بل من اطالۃ المقام فکذلك فی ارض العرب شرح السیر وظاھرہ ان حد الطول سنۃ تأمل ۔ ٹھہرنا ایساہی ہے جیسے وہ دیگر مقام پر بلا جزیہ ٹھہریں تو وہاں ا نہیں تجارت سے منع نہیں کیا جائے گا ہاں طویل قیام سے روکا جائے گا اسی طرح زمین عرب کا معاملہ ہے شرح السیر۔ ظاہر یہی ہے کہ طوالت مدت کی حد ایك سال تك ہے تأمل۔(ت)
اس حکم احکم کی تکمیل خلافت سیدنا فاروق اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ میں ہوئی بعد کے خلفا میں مستمر رہی قرامطہ ملاعنہ پھر عبیدی خبثاء پھر وہابیہ نجدیہ ان کفار کا چند روزہ جبری تسلط نہ کسی خلیفہ یا سلطان کی اجازت سے تھا نہ کسی بین الاقوامی قانون مخترع کی قرار داد سے عدن میں نصاری کا قیام اور جدہ میں ان کی سفارت کا مسکن سلطنت ترك کے اواخر سے ہے۔
(۳) وہابیہ مساجد کو مقدس سمجھا کریں مگر ساتھ ہی ترکوں کو بھی غیر مسلم ہستی مانتے ہیں جس طرح تمام اہلسنت کو جانتے ہیں تو ان کے جیسے نصاری ویسے ہی ترک بلکہ دل میں ترکوں کو بدتر سمجھتے ہیں کہ مشرك و مرتد جانتے ہیں۔
(۴)قرامطہ خبثا سنگ اسود کو لے گئے تھے بیس برس کے بعد ان کے یہاں سے ملا نجدید کا اسے جگہ سے ہٹانا منقول نہیں ہاں سیف الجبار میں ان کے زدوضرب سے اس میں شق آجانا لکھا ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۱۴: از چکل ضلع بلڈانہ برارمسئولہ محمد شیر نوار خاں صاحب ۲۰رمضان ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین وہادیان مبین ومفتیان شرع متین اس باب میں کہ ان دنوں جب کہ دول یورپ نصاری نے سلطنت حضرت سلطان روم خلد اﷲ ملکہ و سلطنتہ کے بیشتر حصہ مملکت و دار الخلافہ پر تسلط اور جزیرۃ العرب واماکن مقدسہ پر بھی براہ راست وبالواسطہ تسلط واقتدار جمالیا ہے کیا ان حالات میں مسلمانان ہند کے لئے ضروری ہے یانہیں کہ ایسا کوئی طرز عمل متفق طور پر اختیار کریں جو غاصبان سلطنت اسلام واماکن مقدسہ کو عاجز کرنے والااور نقصان پہنچانے والااور جس کا اثر سلطنت اسلام واماکن مقدسہ کی حفاظت کے لئے مدافعانہ پہلولئے ہوئے ہوبینواتوجروا۔
الجواب:
اس سوال کا جواب بھی بارہا چھپ چکا بلاشبہہ سلطنت اسلام کی حمایت اور اماکن مقدسہ کا تحفظ مسلمانوں پر فرض ہے مگر ہر فرض بقدر قدرت ہے اور ہر حکم حسب استطاعت ہندوؤں کی غلامی حرام ہے
اس حکم احکم کی تکمیل خلافت سیدنا فاروق اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ میں ہوئی بعد کے خلفا میں مستمر رہی قرامطہ ملاعنہ پھر عبیدی خبثاء پھر وہابیہ نجدیہ ان کفار کا چند روزہ جبری تسلط نہ کسی خلیفہ یا سلطان کی اجازت سے تھا نہ کسی بین الاقوامی قانون مخترع کی قرار داد سے عدن میں نصاری کا قیام اور جدہ میں ان کی سفارت کا مسکن سلطنت ترك کے اواخر سے ہے۔
(۳) وہابیہ مساجد کو مقدس سمجھا کریں مگر ساتھ ہی ترکوں کو بھی غیر مسلم ہستی مانتے ہیں جس طرح تمام اہلسنت کو جانتے ہیں تو ان کے جیسے نصاری ویسے ہی ترک بلکہ دل میں ترکوں کو بدتر سمجھتے ہیں کہ مشرك و مرتد جانتے ہیں۔
(۴)قرامطہ خبثا سنگ اسود کو لے گئے تھے بیس برس کے بعد ان کے یہاں سے ملا نجدید کا اسے جگہ سے ہٹانا منقول نہیں ہاں سیف الجبار میں ان کے زدوضرب سے اس میں شق آجانا لکھا ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۱۴: از چکل ضلع بلڈانہ برارمسئولہ محمد شیر نوار خاں صاحب ۲۰رمضان ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین وہادیان مبین ومفتیان شرع متین اس باب میں کہ ان دنوں جب کہ دول یورپ نصاری نے سلطنت حضرت سلطان روم خلد اﷲ ملکہ و سلطنتہ کے بیشتر حصہ مملکت و دار الخلافہ پر تسلط اور جزیرۃ العرب واماکن مقدسہ پر بھی براہ راست وبالواسطہ تسلط واقتدار جمالیا ہے کیا ان حالات میں مسلمانان ہند کے لئے ضروری ہے یانہیں کہ ایسا کوئی طرز عمل متفق طور پر اختیار کریں جو غاصبان سلطنت اسلام واماکن مقدسہ کو عاجز کرنے والااور نقصان پہنچانے والااور جس کا اثر سلطنت اسلام واماکن مقدسہ کی حفاظت کے لئے مدافعانہ پہلولئے ہوئے ہوبینواتوجروا۔
الجواب:
اس سوال کا جواب بھی بارہا چھپ چکا بلاشبہہ سلطنت اسلام کی حمایت اور اماکن مقدسہ کا تحفظ مسلمانوں پر فرض ہے مگر ہر فرض بقدر قدرت ہے اور ہر حکم حسب استطاعت ہندوؤں کی غلامی حرام ہے
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الجہاد فصل فی الجزیۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۳/ ۲۷۵
اور ان سے اتحاد و وداد مخالفت قرآن ہے جو شخص جوطریقہ برتنا چاہے اسے تین باتیں سوچ لینا ضرور ہے:
اول وہ طریقہ شرعا جائز ہو نہ محرمات و کفریات جیسے آجکل لوگوں نے اختیار کئے ہیں۔
دوم وہ طریقہ ممکن بھی ہو اپنے آپ کو اس کے کرنے پر قدرت ہو کہ غیر مقدوریات کا اٹھانا شرعا بھی ممانعت ہے عقلا بھی حماقت۔
سوم وہ طریقہ مفید بھی ہو وقت اٹھائے پریشانی اٹھائے بلا کے لئے سینہ سپر ہو اورکرے وہ بات جو محض غیر مفید وبے اثر ہو یہ بھی شرعا عقلا کسی طرح مقبول نہیں واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۱۵: ازبنارس محلہ ابنیا کی منڈی مسئولہ محمد عمر صاحب رضوی ۲۴رمضان ۱۳۳۹ھ
کیاارشاد فرماتے ہیں علمائے دین حنفی اس مسئلہ میں کہ ہندوستان کے کافر ذمی ہیں یاحربی کافر ذمی اور حربی کی صحیح تعریف کیا ہے ہندوستان کے کفار سے لین دین بیع و شراء جائز ہے یانہیںبینواتوجروا۔
الجواب:
ہندوستان کے کافر ذمی نہیں ذمی وہ کافر ہے کہ سلطنت اسلام میں مطیع الاسلام ہوکر رہے اور جزیہ دینا قبول کرے بیع وشراءلین دین کہ جائز ہو ہر کافر اصلی سے جائز ہے اگرچہ ذمی نہ ہو۔ہندیہ میں ہے:
اذا اراد المسلم ان یدخل دارالحرب بامان للتجارۃ لم یمنع ذلك منہ وکذلك اذا اراد حمل الامتعۃ الیھم فی البحر فی السفینۃ ملخصا۔ جب کوئی مسلمان تجارت کے لئے امان کے ذریعے دارالحرب میں داخل ہوناچاہے تو اسے روکا نہیں جائیگا اسی طرح اس صورت میں ہے جب وہ سمندر میں کشتی کے ذریعے ان کی طرف سامان لے جانے کا ارادہ رکھتا ہو ملخصا۔(ت)
بلکہ کافر اصلی غیر ذمی وغیر مستامن سے اپنے نفع کے وہ عقود بھی جائز ہیں جو مسلم وذمی مستامن سے ناجائز ہیں جن میں غدر نہ ہو کہ غدر و بدعہدی مطلقا سب سے حرام ہے مسلم ہو یا کافر ذمی ہو یا حربی مستامن ہو یا غیر مستامن اصلی ہو یامرتد۔ ہدایہ و فتح القدیر وغیرہما میں ہے:
لان مالھم غیر معصوم فبای طریق اخذہ المسلم اخذ مالامباحامالم یکن غدرا ۔ کیونکہ ان کا مال معصوم نہیں اسے مسلمان جس طریق سے بھی حاصل کرلے وہ مال مباح ہوگا مگرشرط یہ ہے کہ دھوکا نہ ہو۔ (ت)
اول وہ طریقہ شرعا جائز ہو نہ محرمات و کفریات جیسے آجکل لوگوں نے اختیار کئے ہیں۔
دوم وہ طریقہ ممکن بھی ہو اپنے آپ کو اس کے کرنے پر قدرت ہو کہ غیر مقدوریات کا اٹھانا شرعا بھی ممانعت ہے عقلا بھی حماقت۔
سوم وہ طریقہ مفید بھی ہو وقت اٹھائے پریشانی اٹھائے بلا کے لئے سینہ سپر ہو اورکرے وہ بات جو محض غیر مفید وبے اثر ہو یہ بھی شرعا عقلا کسی طرح مقبول نہیں واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۱۵: ازبنارس محلہ ابنیا کی منڈی مسئولہ محمد عمر صاحب رضوی ۲۴رمضان ۱۳۳۹ھ
کیاارشاد فرماتے ہیں علمائے دین حنفی اس مسئلہ میں کہ ہندوستان کے کافر ذمی ہیں یاحربی کافر ذمی اور حربی کی صحیح تعریف کیا ہے ہندوستان کے کفار سے لین دین بیع و شراء جائز ہے یانہیںبینواتوجروا۔
الجواب:
ہندوستان کے کافر ذمی نہیں ذمی وہ کافر ہے کہ سلطنت اسلام میں مطیع الاسلام ہوکر رہے اور جزیہ دینا قبول کرے بیع وشراءلین دین کہ جائز ہو ہر کافر اصلی سے جائز ہے اگرچہ ذمی نہ ہو۔ہندیہ میں ہے:
اذا اراد المسلم ان یدخل دارالحرب بامان للتجارۃ لم یمنع ذلك منہ وکذلك اذا اراد حمل الامتعۃ الیھم فی البحر فی السفینۃ ملخصا۔ جب کوئی مسلمان تجارت کے لئے امان کے ذریعے دارالحرب میں داخل ہوناچاہے تو اسے روکا نہیں جائیگا اسی طرح اس صورت میں ہے جب وہ سمندر میں کشتی کے ذریعے ان کی طرف سامان لے جانے کا ارادہ رکھتا ہو ملخصا۔(ت)
بلکہ کافر اصلی غیر ذمی وغیر مستامن سے اپنے نفع کے وہ عقود بھی جائز ہیں جو مسلم وذمی مستامن سے ناجائز ہیں جن میں غدر نہ ہو کہ غدر و بدعہدی مطلقا سب سے حرام ہے مسلم ہو یا کافر ذمی ہو یا حربی مستامن ہو یا غیر مستامن اصلی ہو یامرتد۔ ہدایہ و فتح القدیر وغیرہما میں ہے:
لان مالھم غیر معصوم فبای طریق اخذہ المسلم اخذ مالامباحامالم یکن غدرا ۔ کیونکہ ان کا مال معصوم نہیں اسے مسلمان جس طریق سے بھی حاصل کرلے وہ مال مباح ہوگا مگرشرط یہ ہے کہ دھوکا نہ ہو۔ (ت)
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیۃ کتاب السیر الباب السادس فی المستامن نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۲۳۳
فتح القدیر باب استیلاء الکفار مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۵/ ۲۵۴،درمختار کتاب الجہاد مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۴۱
فتح القدیر باب استیلاء الکفار مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۵/ ۲۵۴،درمختار کتاب الجہاد مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۴۱
رسالہ نابغ النور علی سوالات جبلفور ۱۳۳۹ھ
(جبلپور کے سوالات پر ظاہر ہونے والا نور)
بسم اﷲ الرحمن الرحیم ونحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم
مسئلہ۱۶ تا۲۲: ازجبل پور کمانیہ بازار دکان سیٹھ عبدالغفور صاحب آئل مرچنٹ مرسلہ عبدالجبار صاحب ناظم جماعت خدام اہل سنت۲۰ شوال ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسائل مندرجہ ذیل میں:
(۱)ایك سچا پکا سنی پابند مذہب و ملت تارك دنیا دینی عالم باعمل جو حکومت ترکی کوایك عظیم الشان سلطنت اسلامیہ سمجھے اور اپنی متعدد تقریروں میں اس عظیم سلطنت اسلامیہ بلکہ ہر مصیبت زدہ مسلمان کی مدد و اعانت و حمایت اور اماکن مقدسہ کی صیانت و حفاظت ہر مسلمان پر بقدر وسعت واستطاعت ہر جائز و ممکن ومفید طریقہ کے ساتھ ضروری و لازم و فرض فرمائے اور لوگوں کے بار بار نہایت اصرار کے ساتھ اس امر کے استفسار پر کہ"آپ ترکوں کی خلافت کو خلافت راشدہ کاملہ اور سلطان ترکی کو خلیفۃ المسلمین سمجھتے ہیں کہ نہیں"اس کے جواب میں فرمائے"سلطنت ترکی خلدھا اﷲ تعالی وایدھا وحرسھا و اخذل اعدائھا"(اﷲ تعالی اس سلطنت کو ہمیشگی بخشے اس کی مدد فرمائے اس کی حفاظت فرمائے اور اس کے دشمنوں کو ذلیل فرمائے۔ت) کے متعلق
(جبلپور کے سوالات پر ظاہر ہونے والا نور)
بسم اﷲ الرحمن الرحیم ونحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم
مسئلہ۱۶ تا۲۲: ازجبل پور کمانیہ بازار دکان سیٹھ عبدالغفور صاحب آئل مرچنٹ مرسلہ عبدالجبار صاحب ناظم جماعت خدام اہل سنت۲۰ شوال ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسائل مندرجہ ذیل میں:
(۱)ایك سچا پکا سنی پابند مذہب و ملت تارك دنیا دینی عالم باعمل جو حکومت ترکی کوایك عظیم الشان سلطنت اسلامیہ سمجھے اور اپنی متعدد تقریروں میں اس عظیم سلطنت اسلامیہ بلکہ ہر مصیبت زدہ مسلمان کی مدد و اعانت و حمایت اور اماکن مقدسہ کی صیانت و حفاظت ہر مسلمان پر بقدر وسعت واستطاعت ہر جائز و ممکن ومفید طریقہ کے ساتھ ضروری و لازم و فرض فرمائے اور لوگوں کے بار بار نہایت اصرار کے ساتھ اس امر کے استفسار پر کہ"آپ ترکوں کی خلافت کو خلافت راشدہ کاملہ اور سلطان ترکی کو خلیفۃ المسلمین سمجھتے ہیں کہ نہیں"اس کے جواب میں فرمائے"سلطنت ترکی خلدھا اﷲ تعالی وایدھا وحرسھا و اخذل اعدائھا"(اﷲ تعالی اس سلطنت کو ہمیشگی بخشے اس کی مدد فرمائے اس کی حفاظت فرمائے اور اس کے دشمنوں کو ذلیل فرمائے۔ت) کے متعلق
صرف اتنا عرض کرسکتا ہوں کہ میں بحمدہ تعالی سنی ہوں اور ہمیشہ ہر حال میں تحقیقات سلف اور مسلمات اہلسنت وتصریحات محققین کا متبع اور امت مرحومہ کے اجماع و اطباق متوارث کا پابند رہا ہوں اور یہی میرا مذہب وعروہ وثقی ہے مسئلہ خلافت عظمی کے متعلق جو ایك ثابت ومحقق وقطعی طے شد مذہبی قدیم مسئلہ ہے میں احتیاط کے خلاف اتباع سلف پر ایك جدید اختراع خلف کو ترجیح دینے سے قاصر ہوں اور آج کل کے بے جا اور ناجائز و مزاحم دین و ملت و مخالف کتاب و سنت شورشوں اور ایسی شورشی خلافت کمیٹیوں سے علیحدہ رہے جن خلافت کمیٹیوں کا مقصد خاص ہندو مسلم اتحاد ہے اور کفار ومشرکین کے ساتھ دلی محبت اور موالات قائم کرنا اور مسلمانوں کو ہندؤوں کا مطیع و منقاد وغلام بنانا محرمات شرعیہ کو حلال اور حلال چیزوں کو حرام ٹھہرانا خلافت کا نام کرکے کام تمام منافی مقاصد خلافت و خلاف اسلام وموجب بربادی اسلام و تباہی اہل اسلام کرنا نہایت مبالغہ کے ساتھ قولا وفعلا وتحریرا کفارو مشرکین کی تعظیم وتوقیر خودکرنا اور مسلمانوں سے کرانا بجائے دعائے نصرت اسلام ومسلمین مشرکوں کی طرح کافر ومشرك کی جے پکارنا کسی کافر ومرتدووہابی کے مرنے یا جیل جانے پر اظہار غم اورماتم کے لئے بازار بند کرانا ہڑتالیں کرنا مسلمانوں کو دکانیں بند کرنے پر مجبور کرنا جو ان کاکہا نہ مانے اسے تکلیف دینے اور اس کی عزت و ناموس کو نقصان پہنچانے کی دھمکی دینا' اور بائیکاٹ کردینا ترکی ٹوپیاں سروں سے اتار کرجلادینا شعار مشرك گاندھی ٹوپی پہننے پر زور دینا وغیرہا من الشنائع ایسی خلافت بلکہ ضلالت وہلاکت کمیٹیوں کے ان کے کفروں او رضلالتوں کو اہل اسلام پر اپنے بیانات میں ظاہر کرے اور لوگوں کو راہ راست کی طرف بلائے ایسے عالم دین پر نفس خلافت کے انکار کا بہتان وافتراباندھ کر اسے دائرہ اہل سنت سے خارج کرنااور قطعا قرآن کا منکر ٹھہراکر اس کے کفروارتداد پر فتوی شائع کرنا کیسا ہے اور اس کے مستفتی ومفتی و مصدقین اور ا س فتوی کے ماننے والوں اور اس پر عمل کرکے ایسے عالم باعمل کی شان میں ناشائستہ کلمات استعمال کرنے والوں کی نسبت شریعت مطہرہ کا کیا حکم ہے
(۲)کیاصرف موالات من الیہود والنصاری حرام ہے یاہر کافر ومشرك ومبتدع ووہابی وبے دین سے۔
(۳)کیا صرف ترك موالات من الیہود والنصاری کو فرض بتانے والے اور دوسرے کفار ومشرکین ومرتدین ہنود ووہابیہ سے موالات کرنے والے اسے فرض جاننے والے کیا محرف ومکذب قرآن عظیم نہیں اگرہیں تو ان کی نسبت شریعت مطہرہ کا کیا حکم ہے
(۴) جو عالم باعمل کافر ومشرك نصاری یہودی ہندو مجوسی بلکہ ہر گمراہ بے دین وبدمذہب مرتد وہابی اور ہردشمن دین اور ہر مخالف اسلام سے ترك موالات فرض اور اس کے ساتھ موالات حرام بتائے اور آج کل کے شورش پسندوں کامن گھڑت ترك موالات جو صرف نصاری سے کیا جارہا ہے وہ بھی ادھورا اور کافروں مشرکوں مرتدوں ہندؤوں وہابیوں سے موالات فرض بتایا جاتا ہے ایسے انوکھے اندھے ایجاد مشرک ترك موالات کو
(۲)کیاصرف موالات من الیہود والنصاری حرام ہے یاہر کافر ومشرك ومبتدع ووہابی وبے دین سے۔
(۳)کیا صرف ترك موالات من الیہود والنصاری کو فرض بتانے والے اور دوسرے کفار ومشرکین ومرتدین ہنود ووہابیہ سے موالات کرنے والے اسے فرض جاننے والے کیا محرف ومکذب قرآن عظیم نہیں اگرہیں تو ان کی نسبت شریعت مطہرہ کا کیا حکم ہے
(۴) جو عالم باعمل کافر ومشرك نصاری یہودی ہندو مجوسی بلکہ ہر گمراہ بے دین وبدمذہب مرتد وہابی اور ہردشمن دین اور ہر مخالف اسلام سے ترك موالات فرض اور اس کے ساتھ موالات حرام بتائے اور آج کل کے شورش پسندوں کامن گھڑت ترك موالات جو صرف نصاری سے کیا جارہا ہے وہ بھی ادھورا اور کافروں مشرکوں مرتدوں ہندؤوں وہابیوں سے موالات فرض بتایا جاتا ہے ایسے انوکھے اندھے ایجاد مشرک ترك موالات کو
منافق اسلام ومخالف کتاب وسنت فرمائے ایسے عالم باعمل کو گورنمنٹ کا تنخواہ یافتہ کہنا اور ترك موالات من الیہود والنصاری کی تصدیق کرنا اور ایسے مستفتی و مفتی ومصدقین اور اسے مان کر ایك عالم کی شان میں توہین آمیز الفاظ استعمال کرنے والے سب کے لئے شریعت مطہرہ کا کیا حکم ہے
(۵) جماعت اہلسنت میں تفرقہ ڈالنا کافروں مشرکوں کے اغواء سے مسلمانوں میں پھوٹ پیدا کرنا مسجد الہی عید گاہ سے مسلمانوں کو علیحدہ کرکے کافروں کی مدد سے خیمے قائم کرکے نماز عید ادا کرنا مسلمانوں کو دھوکادینے اورشیطانی چال اور مکر وفریب سے عید گاہ اہلسنت سے پھیر کر کافروں کی زمین گول بازار میں بھیجنے کےلئے کافروں کو راستوں پر مقرر کرنا اور مشرکوں کے کہنے سے عید گاہ چھوڑ کر جماعت اہل سنت سے منہ موڑ کر مسجد الہی کو ویران کرنے کے لئے کافروں کے زیر سایہ حفاظت و حمایت نماز ادا کرنا کیساہے اور ایسا کرنے والوں پر شریعت مطہرہ کاکیا حکم ہے
(۶) مشرکوں بت پرستوں کو خوش اور راضی کرنے کے لئے گائے کی قربانی چھڑانے کی کوشش کرنااور مسلمانوں کو گائے کی قربانی چھوڑنے پر زور دینا انہیں مجبور کرنا کیسا ہے اور ایسا کرنے والوں کا کیا حکم ہے
(۷) جو گائے کی قربانی کرنا چاہتا ہے اس کا ان مشرك پرستوں کے بہکانے سے ان کے دام شیطنت میں پھنس کر گائے کی قربانی چھوڑنا کیسا ہے اور چھوڑنے والے کاکیا حکم ہے بینواتوجروا بہت ہی کرم ہوگا ہر سوال کے جواب کے ساتھ دلیل ہواگرچہ مختصر۔
الجواب:
بسم الرحمن الرحیم ط
الحمد للہ وحدہ والصلوۃ والسلام علی من لانبی بعدہ والہ وصحبہ المکرمین عندہ۔
(۱) صورت مستفسرہ میں عالم موصوف سراسر حق پر ہے اور اس کے مخالفین گمراہ وضال
قال اﷲ تعالی" فماذا بعد الحق الا الضلل " اﷲ تعالی نے فرمایا: پھر حق کے بعد کیا ہے مگر گمراہی ۔ (ت)
۱بلاشبہہ حمایت سلطنت اسلامیہ وحفاظت اماکن مقدسہ میں وسعت واستطاعت کی شرط قرآن عظیم سے ہے ۲اور اس کے طرق میں جائز و ممکن ومفید کی تحدید شرع قویم وعقل سلیم سے ۔قال اﷲ تعالی:
"لا یکلف اللہ نفسا الا وسعہا" ۔ اﷲ کسی جان پر بوجھ نہیں ڈالتا مگر اس کی طاقت بھر(ت)
(۵) جماعت اہلسنت میں تفرقہ ڈالنا کافروں مشرکوں کے اغواء سے مسلمانوں میں پھوٹ پیدا کرنا مسجد الہی عید گاہ سے مسلمانوں کو علیحدہ کرکے کافروں کی مدد سے خیمے قائم کرکے نماز عید ادا کرنا مسلمانوں کو دھوکادینے اورشیطانی چال اور مکر وفریب سے عید گاہ اہلسنت سے پھیر کر کافروں کی زمین گول بازار میں بھیجنے کےلئے کافروں کو راستوں پر مقرر کرنا اور مشرکوں کے کہنے سے عید گاہ چھوڑ کر جماعت اہل سنت سے منہ موڑ کر مسجد الہی کو ویران کرنے کے لئے کافروں کے زیر سایہ حفاظت و حمایت نماز ادا کرنا کیساہے اور ایسا کرنے والوں پر شریعت مطہرہ کاکیا حکم ہے
(۶) مشرکوں بت پرستوں کو خوش اور راضی کرنے کے لئے گائے کی قربانی چھڑانے کی کوشش کرنااور مسلمانوں کو گائے کی قربانی چھوڑنے پر زور دینا انہیں مجبور کرنا کیسا ہے اور ایسا کرنے والوں کا کیا حکم ہے
(۷) جو گائے کی قربانی کرنا چاہتا ہے اس کا ان مشرك پرستوں کے بہکانے سے ان کے دام شیطنت میں پھنس کر گائے کی قربانی چھوڑنا کیسا ہے اور چھوڑنے والے کاکیا حکم ہے بینواتوجروا بہت ہی کرم ہوگا ہر سوال کے جواب کے ساتھ دلیل ہواگرچہ مختصر۔
الجواب:
بسم الرحمن الرحیم ط
الحمد للہ وحدہ والصلوۃ والسلام علی من لانبی بعدہ والہ وصحبہ المکرمین عندہ۔
(۱) صورت مستفسرہ میں عالم موصوف سراسر حق پر ہے اور اس کے مخالفین گمراہ وضال
قال اﷲ تعالی" فماذا بعد الحق الا الضلل " اﷲ تعالی نے فرمایا: پھر حق کے بعد کیا ہے مگر گمراہی ۔ (ت)
۱بلاشبہہ حمایت سلطنت اسلامیہ وحفاظت اماکن مقدسہ میں وسعت واستطاعت کی شرط قرآن عظیم سے ہے ۲اور اس کے طرق میں جائز و ممکن ومفید کی تحدید شرع قویم وعقل سلیم سے ۔قال اﷲ تعالی:
"لا یکلف اللہ نفسا الا وسعہا" ۔ اﷲ کسی جان پر بوجھ نہیں ڈالتا مگر اس کی طاقت بھر(ت)
وقال اﷲ تعالی" فاتقوا اللہ ما استطعتم"۔ اور اﷲ تعالی نے فرمایا: تو اﷲ تعالی سے ڈر وجہاں تك ہوسکے۔(ت)
شرع الہی عزوجل منزہ ہے اس سے کہ ناجائز وحرام یا ناممکن وغیر مقدور یا نامفید عبث کا حکم دے۔
قال اﷲ تعالی" ان اللہ لایامر بالفحشاء " ۔
وقال تعالی:" وینہی عن الفحشاء والمنکر" ۔
وقال تعالی" ولا نکلف نفسا الا وسعہا" ۔
وقال تعالی"
وما خلقنا السموت و الارض وما بینہما لعبین ﴿۳۸﴾" ۔ اﷲ تعالی نے فرمایا: بیشك اﷲ تعالی بے حیائی کا حکم نہیں دیتا(ت)
اللہ تعالی نے فرمایا :اور وہ منع فرماتا ہے بے حیائی اور بری بات سے ۔(ت)
اﷲ تعالی نے فرمایا: اور ہم کسی جان پر بوجھ نہیں رکھتے مگر اس کی طاقت بھر۔(ت)
اﷲ تعالی نے فرمایا: اور ہم نے نہ بنائے آسمان اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے کھیل کے طور پر ۔(ت)
۳دربارہ خلافت جس عقیدہ اہل سنت کا عالم نے اشعار کیا خود خلافت کمیٹی کے مفتی اعظم مولوی ریاست علی خاں صاحب شاہجہان پوری اور اس کے لیڈر معظم وناظم انجمن علماء صدر شعبہ تبلیغ عبدالماجد بدایونی نے ایك مطبوعہ فتوی میں(کہ شخصین مذکورین جس کے مفتی ومستفتی ہیں) اس کا صاف اقرار واظہار کیا جو عبارات ائمہ وعلماء اس فتوی نے سندا پیش کیں وضوح حق کو ان میں سے یہ دوہی بہت ہیں مقاصد وشرح مقاصد سے(کہ عقائد اہلسنت کی معتمد کتابیں ہیں) سند دکھائی کہ"لناقولہ علیہ السلام الائمۃ من قریش واجمعو علیہ فصار دلیلا قاطعا یفید الیقین باشتراط القرشیۃ"یعنی ہم اہلسنت کی دلیل حضور اقدس سیدعالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا یہ ارشاد جلیل ہے کہ تمام خلفاء قریش سے ہیں اور صحابہ کرام رضی اﷲ تعالی عنہم نے اس پر اجماع کیا تودلیل قطعی ہوگئی جس سے یقین حاصل ہوا کہ خلافت کے لئے قرشی ہونا بیشك شرط ہے۔ علامہ سید محمد ابن عابدین شامی رحمۃ اﷲ تعالی علیہ کی ردالمحتار علی الدرالمختار سے سند پیش کی کہ فرماتے ہیں:
شرع الہی عزوجل منزہ ہے اس سے کہ ناجائز وحرام یا ناممکن وغیر مقدور یا نامفید عبث کا حکم دے۔
قال اﷲ تعالی" ان اللہ لایامر بالفحشاء " ۔
وقال تعالی:" وینہی عن الفحشاء والمنکر" ۔
وقال تعالی" ولا نکلف نفسا الا وسعہا" ۔
وقال تعالی"
وما خلقنا السموت و الارض وما بینہما لعبین ﴿۳۸﴾" ۔ اﷲ تعالی نے فرمایا: بیشك اﷲ تعالی بے حیائی کا حکم نہیں دیتا(ت)
اللہ تعالی نے فرمایا :اور وہ منع فرماتا ہے بے حیائی اور بری بات سے ۔(ت)
اﷲ تعالی نے فرمایا: اور ہم کسی جان پر بوجھ نہیں رکھتے مگر اس کی طاقت بھر۔(ت)
اﷲ تعالی نے فرمایا: اور ہم نے نہ بنائے آسمان اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے کھیل کے طور پر ۔(ت)
۳دربارہ خلافت جس عقیدہ اہل سنت کا عالم نے اشعار کیا خود خلافت کمیٹی کے مفتی اعظم مولوی ریاست علی خاں صاحب شاہجہان پوری اور اس کے لیڈر معظم وناظم انجمن علماء صدر شعبہ تبلیغ عبدالماجد بدایونی نے ایك مطبوعہ فتوی میں(کہ شخصین مذکورین جس کے مفتی ومستفتی ہیں) اس کا صاف اقرار واظہار کیا جو عبارات ائمہ وعلماء اس فتوی نے سندا پیش کیں وضوح حق کو ان میں سے یہ دوہی بہت ہیں مقاصد وشرح مقاصد سے(کہ عقائد اہلسنت کی معتمد کتابیں ہیں) سند دکھائی کہ"لناقولہ علیہ السلام الائمۃ من قریش واجمعو علیہ فصار دلیلا قاطعا یفید الیقین باشتراط القرشیۃ"یعنی ہم اہلسنت کی دلیل حضور اقدس سیدعالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا یہ ارشاد جلیل ہے کہ تمام خلفاء قریش سے ہیں اور صحابہ کرام رضی اﷲ تعالی عنہم نے اس پر اجماع کیا تودلیل قطعی ہوگئی جس سے یقین حاصل ہوا کہ خلافت کے لئے قرشی ہونا بیشك شرط ہے۔ علامہ سید محمد ابن عابدین شامی رحمۃ اﷲ تعالی علیہ کی ردالمحتار علی الدرالمختار سے سند پیش کی کہ فرماتے ہیں:
حوالہ / References
القرآن الکریم ۲۴ /۱۶
القرآن الکریم ۷ /۲۸
القرآن الکریم ۱۶ /۹۰
القرآن الکریم ۲۳ /۶۲
القرآن الکریم ۴۴ /۳۸
شرح المقاصد المبحث الثانی التکلیف والحریۃ والذکورۃ دارالمعارف النعمانیۃ لاہور ۲/ ۲۷۷
القرآن الکریم ۷ /۲۸
القرآن الکریم ۱۶ /۹۰
القرآن الکریم ۲۳ /۶۲
القرآن الکریم ۴۴ /۳۸
شرح المقاصد المبحث الثانی التکلیف والحریۃ والذکورۃ دارالمعارف النعمانیۃ لاہور ۲/ ۲۷۷
وقدیکون بالتغلب مع المبایعۃ وھو الواقع فی سلاطین الزمان نصرھم الرحمن ۔ یعنی تغلب کی امامت کبھی بیعت کے ساتھ بھی ہوتی ہے کہ ہے تو متغلب مگر لوگ اس کے ہاتھ پر بیعت کرتے ہیں ہمارے زمانے کے سلاطین کا یہی واقعہ ہے رحمن عزوجل ان کی مددفرمائے(ہم کہتے ہیں آمین)
علامہ سید موصوف جن کی کتاب ممدوح آج تمام عالم میں مذہب حنفی کے اعلی درجہ معتمد سے ہے۔ سلطان عبدالمجید مرحوم کے والد سلطان محمود خاں مرحوم کے زمانے میں انہیں کے قلمرو ملك شام میں انہیں کی طرف سے شہر دمشق وتمام دیارشامیہ کے مفتی اجل تھے (رحمۃ تعالی علیہ) مفتی و مستفتی مذکورین کی ان شہادتوں کے بعد زیادہ تفصیل کی حاجت نہیں
قال اﷲ تعالی" شہدوا علی انفسہم " ۔ اﷲ تعالی نے فرمایا خود اپنی جانوں پر گواہی دیں گے(ت)
خلافت کمیٹی کو اس بارے میں اگر پوچھنا ہوانہیں اپنے مفتی اعظم ولیڈر معظم سے پوچھے کمیٹی کہے :" لم شہدتم علینا "(تم نےہم پر کیوں گواہی دی۔ت) وہ کہیں:" انطقنا اللہ الذی انطق کل شیء " (وہ کہیں گی ہمیں اﷲ نے بلوایا جس نے ہر چیز کو گویائی بخشی۔ت)
۴مشرکوں سے اتحاد ووداد قطعی حرام اور ان سے اخلاص دلی یقینا کفر ہے۔
قال تعالی" تری کثیرا منہم یتولون الذین کفروا لبئس ما قدمت لہم انفسہم ان سخط اللہ علیہم وفی العذاب ہم خلدون ﴿۸۰﴾ ولو کانوا یؤمنون باللہ والنبی وما انزل الیہ ما اتخذوہم اولیاء ولکن کثیرا منہم فسقون ﴿۸۱﴾" تم ان میں بہت کو دیکھو گے کہ کافروں سے دوستی کرتے ہیں بیشك کیا ہی بری ہے وہ چیز جو خود انہوں نے اپنے لئے آگے بھیجی کہ ان پر اﷲ کاغضب ہوااور انہیں ہمیشہ ہمیشہ عذاب ہوگا اوراگر انہیں اﷲاور نبی اور قرآن پر ایمان ہوتا توکافروں سے اتحاد وداد محبت موالات نہ مناتے مگر ہے یہ کہ ان میں بہت سے فرمان الہی سے نکلے ہوئے ہیں(ت)
علامہ سید موصوف جن کی کتاب ممدوح آج تمام عالم میں مذہب حنفی کے اعلی درجہ معتمد سے ہے۔ سلطان عبدالمجید مرحوم کے والد سلطان محمود خاں مرحوم کے زمانے میں انہیں کے قلمرو ملك شام میں انہیں کی طرف سے شہر دمشق وتمام دیارشامیہ کے مفتی اجل تھے (رحمۃ تعالی علیہ) مفتی و مستفتی مذکورین کی ان شہادتوں کے بعد زیادہ تفصیل کی حاجت نہیں
قال اﷲ تعالی" شہدوا علی انفسہم " ۔ اﷲ تعالی نے فرمایا خود اپنی جانوں پر گواہی دیں گے(ت)
خلافت کمیٹی کو اس بارے میں اگر پوچھنا ہوانہیں اپنے مفتی اعظم ولیڈر معظم سے پوچھے کمیٹی کہے :" لم شہدتم علینا "(تم نےہم پر کیوں گواہی دی۔ت) وہ کہیں:" انطقنا اللہ الذی انطق کل شیء " (وہ کہیں گی ہمیں اﷲ نے بلوایا جس نے ہر چیز کو گویائی بخشی۔ت)
۴مشرکوں سے اتحاد ووداد قطعی حرام اور ان سے اخلاص دلی یقینا کفر ہے۔
قال تعالی" تری کثیرا منہم یتولون الذین کفروا لبئس ما قدمت لہم انفسہم ان سخط اللہ علیہم وفی العذاب ہم خلدون ﴿۸۰﴾ ولو کانوا یؤمنون باللہ والنبی وما انزل الیہ ما اتخذوہم اولیاء ولکن کثیرا منہم فسقون ﴿۸۱﴾" تم ان میں بہت کو دیکھو گے کہ کافروں سے دوستی کرتے ہیں بیشك کیا ہی بری ہے وہ چیز جو خود انہوں نے اپنے لئے آگے بھیجی کہ ان پر اﷲ کاغضب ہوااور انہیں ہمیشہ ہمیشہ عذاب ہوگا اوراگر انہیں اﷲاور نبی اور قرآن پر ایمان ہوتا توکافروں سے اتحاد وداد محبت موالات نہ مناتے مگر ہے یہ کہ ان میں بہت سے فرمان الہی سے نکلے ہوئے ہیں(ت)
حوالہ / References
ردالمحتار باب البغاۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۳/ ۳۱۰
القرآن الکریم ۶ /۱۳۰ و ۷/ ۳۷
القرآن الکریم ۴۱ /۲۱
القرآن الکریم ۴۱ /۲۱
القرآن الکریم ۵ /۸۱۔۸۰
القرآن الکریم ۶ /۱۳۰ و ۷/ ۳۷
القرآن الکریم ۴۱ /۲۱
القرآن الکریم ۴۱ /۲۱
القرآن الکریم ۵ /۸۱۔۸۰
یہ اور بیس۲۰ سے زائد اور آیات کریمہ ہیں جن میں مطلقا کفار سے اتحاد و ودادکوحرام وکفر فرمایا ہے مسلمان کی شان نہیں کہ واحدقہار کے ارشادات سنے اور ان میں مشرکین یا خاص ہندؤوں کے استثناء کی پچر گھڑلے
قال اﷲ تعالی" اللہ اذن لکم ام علی اللہ تفترون ﴿۵۹﴾" ۔وقال تعالی" اتقولون علی اللہ ما لاتعلمون ﴿۲۸﴾" وقال تعالی" یحرفون الکلم من بعد مواضعہ "(الی قولہ
عزوجل لہم فی الدنیا خزی ولہم فی الاخرۃ عذاب عظیم﴿۱۱۴﴾ " ۔
اﷲ تعالی نے فرمایا: کیااﷲنے اسکی تمہیں اجازت دی(کہ مثلا میرے کلام میں مگر ہندو کا پیوند لگالو) یا تم اﷲ پر جھوٹ باندھتے ہو۔اﷲ تعالی نے فرمایا: کیا بے جانے بوجھے اﷲ پر کسی بات کا چھٹارکھتے ہو(کہ مثلا اس نے ہندؤوں کو جدا کرلیا ہے) اﷲ تعالی نے فرمایا: اﷲ تعالی کے ارشادات کو ان کے ٹھکانے سے ہٹاتے ہیں__(کہ مثلا اگرچہ اﷲ نے یہاں ہر جگہ عام لفظ فرمائے جو سب کفار کو شامل ہیں مگر ان سے ہندو مراد نہ رکھے ان سے اتحاد ووداد کو حرام وکفر نہ فرمایا) ایسوں کے لئے دنیا میں رسوائی ہے اور آخرت میں بڑاعذاب
۵مشرکوں کا غلام و منقاد بننا ان کا پس روبننا جو کہیں وہی کرنا خصوصا جسے امر دینی سمجھا ہواس میں ان کی اطاعت کرنا یہ سب حرام حرام ہے سخت مخالفت ذوالجلال والاکرام ہے گمراہی و کفر اس کا انجام ہے
قال اﷲ تعالی
و لا تتبعوا خطوت الشیطن انہ لکم عدو مبین﴿۲۰۸﴾"
وقال تعالی"فلا تطع المکذبین ﴿۸﴾" وقال تعالی
"و لا تطع منہم اثما او کفورا ﴿۲۴﴾" وقال تعالی "و ان تطع اکثر من فی الارض یضلوک عن سبیل اللہ " اﷲ تعالی نے فرمایا: شیطان کے پس رونہ بنو بے شك وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔اﷲنے فرمایا: جھٹلانے والوں کی اطاعت نہ کر۔اور اﷲ تعالی نے فرمایا:ان میں سے کسی مجرم یا کافر کی اطاعت نہ کرو۔اور اﷲ تعالی نے فرمایا: یہ جو زمین میں ہیں ان میں اکثر وہ ہیں کہ اگر تونے ان کی اطاعت کی تو وہ تجھے اﷲ کے راہ سے گمراہ کردیں گے۔
وقال تعالی" یایہا الذین امنوا ان تطیعوا الذین کفروا یردوکم علی اعقبکم فتنقلبوا خسرین﴿۱۴۹﴾" ۔ اور اﷲ تعالی نے فرمایا: اے ایمان والو!اگر تم کافروں کے کہے پر چلے تو وہ تمہیں تمہاری ایڑیوں کے بل (اسلام سے) پھیردینگے تو پورے ٹوٹے میں پلٹوگے۔
۶حلال کو حرام۷حرام کو حلال ٹھہرانا ائمہ حنفیہ کے مذہب راجح میں مطلقا کفر ہے جبکہ ان کی حلت وحرمت قطعی ہو جیسے جائز کسب وتجارت واجارت کی حلت مشرکین و ودادوانتقیاد واتحاد کی حرمت ان حلالوں کو وہ لوگ حرام بلکہ کفر اور ان حراموں کو حلال بلکہ فرض کررہے ہیں اور اگر وہ حرام قطعی حرام لعینہ ہے جیسے مذکورات جب تو اسے حلال ٹھہرانا باجماع ائمہ حنفیہ کفر ہے اﷲ عزوجل کفار کا بیان فرماتا ہے:
" و لایحرمون ما حرم اللہ ورسولہ" ۔ جسے اﷲ ورسول نے حرام فرمایاکافر اسے حرام نہیں ٹھہراتے۔
قال اﷲ تعالی" اللہ اذن لکم ام علی اللہ تفترون ﴿۵۹﴾" ۔وقال تعالی" اتقولون علی اللہ ما لاتعلمون ﴿۲۸﴾" وقال تعالی" یحرفون الکلم من بعد مواضعہ "(الی قولہ
عزوجل لہم فی الدنیا خزی ولہم فی الاخرۃ عذاب عظیم﴿۱۱۴﴾ " ۔
اﷲ تعالی نے فرمایا: کیااﷲنے اسکی تمہیں اجازت دی(کہ مثلا میرے کلام میں مگر ہندو کا پیوند لگالو) یا تم اﷲ پر جھوٹ باندھتے ہو۔اﷲ تعالی نے فرمایا: کیا بے جانے بوجھے اﷲ پر کسی بات کا چھٹارکھتے ہو(کہ مثلا اس نے ہندؤوں کو جدا کرلیا ہے) اﷲ تعالی نے فرمایا: اﷲ تعالی کے ارشادات کو ان کے ٹھکانے سے ہٹاتے ہیں__(کہ مثلا اگرچہ اﷲ نے یہاں ہر جگہ عام لفظ فرمائے جو سب کفار کو شامل ہیں مگر ان سے ہندو مراد نہ رکھے ان سے اتحاد ووداد کو حرام وکفر نہ فرمایا) ایسوں کے لئے دنیا میں رسوائی ہے اور آخرت میں بڑاعذاب
۵مشرکوں کا غلام و منقاد بننا ان کا پس روبننا جو کہیں وہی کرنا خصوصا جسے امر دینی سمجھا ہواس میں ان کی اطاعت کرنا یہ سب حرام حرام ہے سخت مخالفت ذوالجلال والاکرام ہے گمراہی و کفر اس کا انجام ہے
قال اﷲ تعالی
و لا تتبعوا خطوت الشیطن انہ لکم عدو مبین﴿۲۰۸﴾"
وقال تعالی"فلا تطع المکذبین ﴿۸﴾" وقال تعالی
"و لا تطع منہم اثما او کفورا ﴿۲۴﴾" وقال تعالی "و ان تطع اکثر من فی الارض یضلوک عن سبیل اللہ " اﷲ تعالی نے فرمایا: شیطان کے پس رونہ بنو بے شك وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔اﷲنے فرمایا: جھٹلانے والوں کی اطاعت نہ کر۔اور اﷲ تعالی نے فرمایا:ان میں سے کسی مجرم یا کافر کی اطاعت نہ کرو۔اور اﷲ تعالی نے فرمایا: یہ جو زمین میں ہیں ان میں اکثر وہ ہیں کہ اگر تونے ان کی اطاعت کی تو وہ تجھے اﷲ کے راہ سے گمراہ کردیں گے۔
وقال تعالی" یایہا الذین امنوا ان تطیعوا الذین کفروا یردوکم علی اعقبکم فتنقلبوا خسرین﴿۱۴۹﴾" ۔ اور اﷲ تعالی نے فرمایا: اے ایمان والو!اگر تم کافروں کے کہے پر چلے تو وہ تمہیں تمہاری ایڑیوں کے بل (اسلام سے) پھیردینگے تو پورے ٹوٹے میں پلٹوگے۔
۶حلال کو حرام۷حرام کو حلال ٹھہرانا ائمہ حنفیہ کے مذہب راجح میں مطلقا کفر ہے جبکہ ان کی حلت وحرمت قطعی ہو جیسے جائز کسب وتجارت واجارت کی حلت مشرکین و ودادوانتقیاد واتحاد کی حرمت ان حلالوں کو وہ لوگ حرام بلکہ کفر اور ان حراموں کو حلال بلکہ فرض کررہے ہیں اور اگر وہ حرام قطعی حرام لعینہ ہے جیسے مذکورات جب تو اسے حلال ٹھہرانا باجماع ائمہ حنفیہ کفر ہے اﷲ عزوجل کفار کا بیان فرماتا ہے:
" و لایحرمون ما حرم اللہ ورسولہ" ۔ جسے اﷲ ورسول نے حرام فرمایاکافر اسے حرام نہیں ٹھہراتے۔
" و لایحرمون ما حرم اللہ ورسولہ" ۔ جسے اﷲ ورسول نے حرام فرمایاکافر اسے حرام نہیں ٹھہراتے۔
متن عقائد میں مسئلہ مصرحہ ہے نیز فتاوی خلاصہ وغیرہا میں ہے:
من اعتقدالحرام حلالااو علی القلب یکفر ھذا اذاك ان حرامابعینہ و الحرمۃ قامت بدلیل مقطوع بہ اما اذاکانت باخبار الاحاد لایکفر (ملخصا)۔ جس نے کسی حرام کو حلال یا حلال کوحرام مان لیا تو وہ کافر ہوجائے گا یہ اس صورت میں ہے کہ وہ حرام لذاتہ ہو اور اس کی حرمت دلیل قطعی سے ثابت ہو اگر ثبوت خبرواحد سے ہوتو کافر نہیں ہوگا۔(ملخصا)(ت)
بزازیہ وشرح وہبانیہ ودرمختارمیں ہے:
یکفر اذاتصدق بالحرام القطعی ۔ حرام قطعی کے تصدق سے کافر ہوجائے گا۔(ت)
ردالمحتار میں ہے:
حاصلہ ان شرط الکفر علی القول الاول شیئان قطعیۃ الدلیل وکونہ حرامالعینہ وعلی الثانی یشترط الشرط الاول فقط وعلمت ترجیحہومافی البزازیۃ مبنی علیہ ۔ حاصل یہ ہے کہ قول اول پر کفر کے لئے دوشرائط ہوں گی اول دلیل کا قطعی ہونا ثانی اس کاحرام لذاتہ ہونا اور دوسرے قول پر پہلی شرط ہے اور آپ اس کی ترجیح سے آگاہ ہیں اور بزازیہ کا مداراسی پر ہے۔(ت)
متن عقائد میں مسئلہ مصرحہ ہے نیز فتاوی خلاصہ وغیرہا میں ہے:
من اعتقدالحرام حلالااو علی القلب یکفر ھذا اذاك ان حرامابعینہ و الحرمۃ قامت بدلیل مقطوع بہ اما اذاکانت باخبار الاحاد لایکفر (ملخصا)۔ جس نے کسی حرام کو حلال یا حلال کوحرام مان لیا تو وہ کافر ہوجائے گا یہ اس صورت میں ہے کہ وہ حرام لذاتہ ہو اور اس کی حرمت دلیل قطعی سے ثابت ہو اگر ثبوت خبرواحد سے ہوتو کافر نہیں ہوگا۔(ملخصا)(ت)
بزازیہ وشرح وہبانیہ ودرمختارمیں ہے:
یکفر اذاتصدق بالحرام القطعی ۔ حرام قطعی کے تصدق سے کافر ہوجائے گا۔(ت)
ردالمحتار میں ہے:
حاصلہ ان شرط الکفر علی القول الاول شیئان قطعیۃ الدلیل وکونہ حرامالعینہ وعلی الثانی یشترط الشرط الاول فقط وعلمت ترجیحہومافی البزازیۃ مبنی علیہ ۔ حاصل یہ ہے کہ قول اول پر کفر کے لئے دوشرائط ہوں گی اول دلیل کا قطعی ہونا ثانی اس کاحرام لذاتہ ہونا اور دوسرے قول پر پہلی شرط ہے اور آپ اس کی ترجیح سے آگاہ ہیں اور بزازیہ کا مداراسی پر ہے۔(ت)
حوالہ / References
القرآن الکریم ۹ /۲۹
خلاصۃ الفتاوٰی الفصل الثانی فی الفاظ الکفر الخ مکتبہ حبیبہ کوئٹہ ۴/ ۳۸۳
درمختار کتاب الزکوٰۃ باب زکوٰۃ الغنم مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۱۳۴
ردالمحتار کتاب الزکوٰۃ باب زکوٰۃ الغنم داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/ ۲۷
خلاصۃ الفتاوٰی الفصل الثانی فی الفاظ الکفر الخ مکتبہ حبیبہ کوئٹہ ۴/ ۳۸۳
درمختار کتاب الزکوٰۃ باب زکوٰۃ الغنم مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۱۳۴
ردالمحتار کتاب الزکوٰۃ باب زکوٰۃ الغنم داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/ ۲۷
حالات دائرہ میں دونوں شرطیں موجود ہیں تو یہ باجماع ائمہ حنفیہ کفر ہیں۔۸ کفار ومشرکین کی ایسی تعظیمیں کفر ہیں ۹ان کی جے پکارنا ۱۰ان کے مرنے یا جیل جانے پر ہڑتال اور اس پر وہ اصرار اور جو مسلمان نہ مانے اس پر وہ ظلم وہ اضطراب کمال تعظیم کفار اور باعث دخول نار وغضب جبار وحسب تصریحات ائمہ موجب کفر واکفار فتاوی ظہیریہ واشباہ والنظائر وتنویرالابصار ودرمختارمیں ہے:
لوسلم علی الذمی تبجیلا یکفرلان تبجیل الکافر کفر۔ اگر کسی نے ذمی کو احتراما سلام کہہ دیا تو یہ کفر ہے کیونکہ کافر کی تعظیم کفر ہوتی ہے۔(ت)
فتاوی امام ظہیرالدین ومختصر علامہ زین مصری وشرح تنویر مدقق علائی میں ہے:
لوقال لمجوسی یااستاذ تبجیلا کفر ۔ اگر کسی نے مجوسی کو تعظیما"یااستاد"کہا تو اس سے وہ کافر ہوجائے گا۔(ت)
رب عزوجل فرماتاہے :
" و للہ العزۃ و لرسولہ و للمؤمنین و لکن المنفقین لا یعلمون ﴿۸﴾ "
۔ عزت تو خاص اﷲ ورسول ومسلمین ہی کے لئے ہے مگر منافقوں کو خبر نہیں۔
رسو ل اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من وقرصاحب بدعۃ فقد اعان علی ھدم الاسلام رواہ الطبرانی فی الکبیر عن عبداللہ بن بسر وابن عساکر وابن عدی عن ام المؤمنین الصدیقۃ وابو نعیم فی الحلیۃ والحسن بن سفیان فی مسندہ عن معاذ بن جبل والسجزی فی الابانۃ عن ابن عمر و کابن عدی عن ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنھم اجمعین والبیہقی جس نے کسی بدمذہب کی توقیر کی بیشك ا س نے دین اسلام کے ڈھادینے پر مدددی (اسے امام طبرانی نے المعجم الکبیر میں حضرت عبداﷲ بن بسر ابن عساکر اور ابن عدی نے ام المومنین سیدہ صدیقہ سے ابونعیم نے حلیہ میں اور حسن بن سفیان نے مسند میں حضرت معاذ بن جبل سے سجزی نے ابانۃ میں حضرت ابن عمر سے اور ابن عدی کی طرح_____ حضرت ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہم
فی شعب الایمان عن ابراہیم بن میسرۃ مرسلا۔ اجمعین سے اور بیہقی نے شعب الایمان میں حضرت ابراہیم بن میسرہ سے اسے مرسلا روایت کیا ہے۔(ت)
بدمذہب کی توقیر پر یہ حکم ہے مشرك کی تعظیم پر کیا ہوگا ابونعیم حلیۃ الاولیاء میں جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالی عنہما سے راوی:
نھی النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ان یصافح المشرکون اویکنو اویرحب بھم ۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے منع فرمایا کہ کسی مشرك سے ہاتھ ملائیں یا اسے کنیت سے ذکر کریں یا اس کے آتے وقت مرحبا کہیں۔
لوسلم علی الذمی تبجیلا یکفرلان تبجیل الکافر کفر۔ اگر کسی نے ذمی کو احتراما سلام کہہ دیا تو یہ کفر ہے کیونکہ کافر کی تعظیم کفر ہوتی ہے۔(ت)
فتاوی امام ظہیرالدین ومختصر علامہ زین مصری وشرح تنویر مدقق علائی میں ہے:
لوقال لمجوسی یااستاذ تبجیلا کفر ۔ اگر کسی نے مجوسی کو تعظیما"یااستاد"کہا تو اس سے وہ کافر ہوجائے گا۔(ت)
رب عزوجل فرماتاہے :
" و للہ العزۃ و لرسولہ و للمؤمنین و لکن المنفقین لا یعلمون ﴿۸﴾ "
۔ عزت تو خاص اﷲ ورسول ومسلمین ہی کے لئے ہے مگر منافقوں کو خبر نہیں۔
رسو ل اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من وقرصاحب بدعۃ فقد اعان علی ھدم الاسلام رواہ الطبرانی فی الکبیر عن عبداللہ بن بسر وابن عساکر وابن عدی عن ام المؤمنین الصدیقۃ وابو نعیم فی الحلیۃ والحسن بن سفیان فی مسندہ عن معاذ بن جبل والسجزی فی الابانۃ عن ابن عمر و کابن عدی عن ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنھم اجمعین والبیہقی جس نے کسی بدمذہب کی توقیر کی بیشك ا س نے دین اسلام کے ڈھادینے پر مدددی (اسے امام طبرانی نے المعجم الکبیر میں حضرت عبداﷲ بن بسر ابن عساکر اور ابن عدی نے ام المومنین سیدہ صدیقہ سے ابونعیم نے حلیہ میں اور حسن بن سفیان نے مسند میں حضرت معاذ بن جبل سے سجزی نے ابانۃ میں حضرت ابن عمر سے اور ابن عدی کی طرح_____ حضرت ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہم
فی شعب الایمان عن ابراہیم بن میسرۃ مرسلا۔ اجمعین سے اور بیہقی نے شعب الایمان میں حضرت ابراہیم بن میسرہ سے اسے مرسلا روایت کیا ہے۔(ت)
بدمذہب کی توقیر پر یہ حکم ہے مشرك کی تعظیم پر کیا ہوگا ابونعیم حلیۃ الاولیاء میں جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالی عنہما سے راوی:
نھی النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ان یصافح المشرکون اویکنو اویرحب بھم ۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے منع فرمایا کہ کسی مشرك سے ہاتھ ملائیں یا اسے کنیت سے ذکر کریں یا اس کے آتے وقت مرحبا کہیں۔
حوالہ / References
درمختار کتاب الحظر والاباحۃ فصل فی البیع مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۵۱
درمختار کتاب الحظر والاباحۃ فصل فی البیع مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۵۱
القرآن الکریم ۶۳ /۸
شعب الایمان حدیث ۹۴۶۴ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۷/ ۶۱
حلیۃ الاولیاء ترجمہ ۴۴۶اسحاق بن ابراہیم دارالکتاب العربی بیروت ۹/ ۲۳۶
درمختار کتاب الحظر والاباحۃ فصل فی البیع مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۵۱
القرآن الکریم ۶۳ /۸
شعب الایمان حدیث ۹۴۶۴ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۷/ ۶۱
حلیۃ الاولیاء ترجمہ ۴۴۶اسحاق بن ابراہیم دارالکتاب العربی بیروت ۹/ ۲۳۶
یہ باتیں کچھ ایسی تعظیم بھی نہیں ادنی درجہ تکریم میں ہیں کہ نام لے کر نہ پکارا فلاں کا باپ کہا یا آتے وقت جگہ دینے کو آئیے کہہ دیا حدیث نے اس سے بھی منع فرمایا نہ کہ معاذ اﷲ اس کی جے پکارنی اور وہ افعال شیطانی اور یہ عذر یا رد کہ یہ اقوال عوام کے ہیں کسی ذمہ دار کے نہیں محض کاذب وپادر ہوا ہے تمہیں نے عوام کا لہوام کو اس اتحاد مشرکین حرام ولعین پر ابھارا اور ان حرکات ملعونہ سے نہ روکا بلکہ اپنے مقاصد مفاسد کامؤید سمجھا تمہارے دلوں میں ایمان یا ایمان کی قدر ہوتی تو اس اتحاد حرام و کفر کے لئے جیسی زمین سروں پر اٹھالی ہے رات دن مشرق مغرب ٹاپتے پھرتے ہو ہزاروں دھواں دھار ریز ولیشن پاس کرتے ہو اس کے مخالف بلکہ اس میں ساتھ نہ دینے والوں پر فتوی کفر لگاتے ہو صدہا اخبارات کے کالم ان کی بدگوئی سے گندے کرتے ہو اس سے سو حصے زائد ان کفروں ضلالوں کی آگ بجھانے میں دکھاتے کہ یہ تمہاری ہی لگائی تھی اوراپنی داڑھی بچانے کے لئے اس کا بجھانا تم پر فرض عین تھا مگر سب دیکھ رہے ہیں کہ ہر گزہرگز ان شیطنتوں کی روك تھام میں اس بولاہٹ والی جان توڑ کوشش کا دسواں بیسواںسوواں حصہ بھی نہ دکھایا پھر جھوٹے بہانے بنانے سے کیا حاصل معہذا خود ذمہ داروں نے جو کچھ کیا وہ جاہلوں کی حرکات مذکورہ سے کہیں بدتر و خبیث تر ہے اور کیوں نہ ہوکہ شملہ بمقدار علم ابوالکلام آزاد صاحب نے کمپ ناگپور میں جمعہ پڑھایا اور خطبہ میں مدح خلفائے راشدین وحضرات حسنین رضی اﷲ تعالی عنہم کی جگہ گاندھی کی حمد کی اسے مقدس ذات ستودہ صفات کہا میاں عبدالماجد بدایونی نے ہزاروں کے مجمع میں گاندھی کو مذکر مبعوث من اﷲ کہا کہ اﷲ نے ان کو تمہارے پاس مذکر بنا کر بھیجا ہے کہاں یہ کلمات ملعونہ اور کہاں بے تمیز احمق جاہلوں کاجے پکارنا
" فانی تؤفکون ﴿۳۴﴾ " " افلا تعقلون﴿۴۴﴾" " کلا بل تم کہاں اوندھے جاتے ہو تو کیا تمہیں عقل نہیں کوئی
" ران علی قلوبہم ما کانوا یکسبون ﴿۱۴﴾ " نہیںبلکہ ان کے دلوں پر زنگ چڑھادیا ہے ان کی کمائیوں نے۔(ت)
ترکی ٹوپیاں جلاناصرف تضییع مال ہوتاکہ حرام ہے اور گاندھی ٹوپی پہننا مشرك کی طرف اپنے آپ کو منسوب کرنا ہوتا کہ اس سے سخت تراشد حرام ہے مگر وہ لوگ ترکی ٹوپیوں کو شعار اسلام جان کر پہنتے تھے اب انہیں جلادیا اور ان کے بدلے گاندھی ٹوپی لینا مشعر ہوا کہ انہوں نے نشان اسلام سے عدول اور کافر کا چیلا بننا قبول کیا:" بئس للظلمین بدلا ﴿۵۰﴾ " (ظالموں کوکیا ہی برا بدلہ ملا۔ت)بالجملہ ایسے اقوال وافعال کفر وضلال پر عالم موصوف کا انکار عین حق وصواب وسبب ثواب ورضائے رب الارباب تھا اور جوان کے شرعی احکام اہل اسلام پر ظاہر فرمانا اور ان کو"ذیاب فی ثیاب"کے شر سے بچاکر راہ حق کی طرف بلانا سنی عالم کا جلیل فرض مذہبی وکارمنصبی و بجاآوری حکم خداونبی تھا اور ہے جل وعلی وصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔ اس کی طرف نفس خلافت کا انکار نسبت کرنا بہتان ہی نہیں چیزے دیگراست۔اس کی تہہ میں اور اشد خباثت ہے مسلمان تو مسلمان نفس خلافت کا منکر جملہ مدعیان کلمہ گو میں کون ہے جس سے سائل سوال کرتا اور مجیب جواب دیتا اہل سنت حضرات خلفائے اربعہ رضی اﷲ تعالی عنہم کو خلیفہ جانتے ہیں غیر مقلد ودیوبندی بھی اس میں نزاع نہیں کرتے روافض حضرت مولی علی کرم اﷲتعالی وجہہ کو خلیفہ جانتے ہیں مرزائی اپنے مرزا تك اترتے ہیں بلکہ خلافت سے مرادمسئلہ دائرہ ہے اسی سے سوال اسی کاتذکرہ ہے تو اسے یوں مطلق لفظ نفس خلافت سے تعبیر تلبیس ابلیس ہے اور دل میں جو مراد ہے اس کاحال خود خلافت کمیٹی کے مفتی اعظم اور مستفتی اس کے لیڈر
" فانی تؤفکون ﴿۳۴﴾ " " افلا تعقلون﴿۴۴﴾" " کلا بل تم کہاں اوندھے جاتے ہو تو کیا تمہیں عقل نہیں کوئی
" ران علی قلوبہم ما کانوا یکسبون ﴿۱۴﴾ " نہیںبلکہ ان کے دلوں پر زنگ چڑھادیا ہے ان کی کمائیوں نے۔(ت)
ترکی ٹوپیاں جلاناصرف تضییع مال ہوتاکہ حرام ہے اور گاندھی ٹوپی پہننا مشرك کی طرف اپنے آپ کو منسوب کرنا ہوتا کہ اس سے سخت تراشد حرام ہے مگر وہ لوگ ترکی ٹوپیوں کو شعار اسلام جان کر پہنتے تھے اب انہیں جلادیا اور ان کے بدلے گاندھی ٹوپی لینا مشعر ہوا کہ انہوں نے نشان اسلام سے عدول اور کافر کا چیلا بننا قبول کیا:" بئس للظلمین بدلا ﴿۵۰﴾ " (ظالموں کوکیا ہی برا بدلہ ملا۔ت)بالجملہ ایسے اقوال وافعال کفر وضلال پر عالم موصوف کا انکار عین حق وصواب وسبب ثواب ورضائے رب الارباب تھا اور جوان کے شرعی احکام اہل اسلام پر ظاہر فرمانا اور ان کو"ذیاب فی ثیاب"کے شر سے بچاکر راہ حق کی طرف بلانا سنی عالم کا جلیل فرض مذہبی وکارمنصبی و بجاآوری حکم خداونبی تھا اور ہے جل وعلی وصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔ اس کی طرف نفس خلافت کا انکار نسبت کرنا بہتان ہی نہیں چیزے دیگراست۔اس کی تہہ میں اور اشد خباثت ہے مسلمان تو مسلمان نفس خلافت کا منکر جملہ مدعیان کلمہ گو میں کون ہے جس سے سائل سوال کرتا اور مجیب جواب دیتا اہل سنت حضرات خلفائے اربعہ رضی اﷲ تعالی عنہم کو خلیفہ جانتے ہیں غیر مقلد ودیوبندی بھی اس میں نزاع نہیں کرتے روافض حضرت مولی علی کرم اﷲتعالی وجہہ کو خلیفہ جانتے ہیں مرزائی اپنے مرزا تك اترتے ہیں بلکہ خلافت سے مرادمسئلہ دائرہ ہے اسی سے سوال اسی کاتذکرہ ہے تو اسے یوں مطلق لفظ نفس خلافت سے تعبیر تلبیس ابلیس ہے اور دل میں جو مراد ہے اس کاحال خود خلافت کمیٹی کے مفتی اعظم اور مستفتی اس کے لیڈر
حوالہ / References
القرآن الکریم ۱۰ /۳۴
القرآن الکریم ۲ /۴۴
القرآن الکریم ۸۳ /۱۴
القرآن الکریم ۱۸ /۵۰
القرآن الکریم ۲ /۴۴
القرآن الکریم ۸۳ /۱۴
القرآن الکریم ۱۸ /۵۰
معظم کے فتوے سے ظاہر ہوگیا کہ عالم موصوف نے وہی فرمایا جو متواتر حدیثوں میں مصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا ارشاد ہے جس پر اجماع صحابہ امجاد ہے جو جمیع اہلسنت وجماعت کا اعتقاد ہے اہلسنت سےخروج قرآن کا انکار کفرارتداد ان کے یہ چار احکام ملعونہ کاش اسی عالم دین پر محدود رہتے تو اس فتوی کے مفتی اور اس کے مصدقین بحکم ظواہر احادیث صحیحہ ونصوص کتب معتمدہ فقہیہ ایك ہی بلائے کفر سہتے۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ایماامرئ قال لاخیہ کافر فقدباء بھا احدھما فان کان کما قال والا رجعت علیہ جو شخص کسی کلمہ گو کو کافر کہے ان دونوں میں سے ایك پر یہ بلاضرور پڑے جسے کہا اگر وہ کافر تھا خیر ورنہ یہ
ایماامرئ قال لاخیہ کافر فقدباء بھا احدھما فان کان کما قال والا رجعت علیہ جو شخص کسی کلمہ گو کو کافر کہے ان دونوں میں سے ایك پر یہ بلاضرور پڑے جسے کہا اگر وہ کافر تھا خیر ورنہ یہ
حوالہ / References
صحیح مسلم کتاب الایمان باب بیان حال ایمان من قال لاخیہ المسلم اوکافر قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۵۷،صحیح بخاری کتاب الادب باب من اکفر اخاہ بغیر تاویل قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۹۰۱
رواہ مسلم والترمذی ونحوہ البخاری عن ابن عمر رضی اﷲتعالی عنھما۔ تکفیر اسی قائل پر پلٹ آئے گی یہ کافر ہوجائے گا۔(اسے مسلم ترمذی اور اسی کی مثل بخاری نے حضرت ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما سے روایت کیا۔ت)
درمختار میں ہے:
عزر الشاتم بیاکافر وھل یکفران اعتقد المسلم کافر انعم والالابہ یفتی ۔ کسی مسلمان کو"اے کافر"کہنے والے شخص پر تعزیر نافذ کی جائے گی کیا اگرکوئی شخص مسلمان کو کافر سمجھتا ہے تو کافر ہوگاہاں وہ کافر ہے اور اگر کافر نہیں سمجھتا تو پھر کافر نہیں۔ اسی پر فتوی ہے۔(ت)
شرح وہانیہ ذخیرہنہر الفائق وردالمحتارمیں ہے:
لانہ لما اعتقدالمسلم کافرافقد اعتقد دین الاسلام کفرا۔ کیونکہ جب مسلمان کو کافرمانا تو ا س نے دین اسلام کو کفر جانا۔ (ت)
اس کی تفصیل جلیل وتحقیق جمیل ہماری کتابوں الکوکبۃ الشہابیۃ اور النہی الاکید وغیرہما میں ہے مگر یہاں تو خود خلافت کمیٹی کے لیڈروں مفتیوں کے فتوے نے روشن کردیا کہ یہ تکفیر صرف اس سنی عالم کی نہیں بلکہ تمام ائمہ اہل سنت اور جملہ صحابہ کرام اور خودارشاد اقدس حضور سید الانام علیہ وعلیہم الصلوۃ والسلام کی ہے اب کون مسلمان ہے کہ اس تکفیری فتوے اور اس کی ناپاك تصدیق کو کلمات کفر نہ کہے گا۔ فقہاء کرام ائمہ وصحابہ درکنار خود حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے کلام پاك پر کفر کاحکم لگانے والوں کوکافر نہ کہیں گے تو اور کسے کافر کہیں گے اب ان سے پوچھئے کہ یہ کتنے کروڑ کفر اخبث واشد ہوئے خصوصا وہ کفر اخیر سب سے خبیث تر سب سے لعین" وذلک جزؤا الظلمین ﴿۲۹﴾" ( اور ظالموں کی یہی جزا ہے۔ت) سنی عالم کواس کی پروا نہ کرنی چاہئے ہر قوم کی ایك اصطلاح ہوتی ہے ان لوگوں کی اصطلاح جدید میں ملت ملت گاندھی ہے اور سنت سنت گاندھی اس کی روش سے جداچلنے والوں کو اہل سنت وجماعت سے خارج اور اس کی ملت مخترعہ کے مخالفوں کو کافر مرتد کہتے ہیں جس طرح فرعون ملعون نے معاذ اﷲ حضرت کلیم اﷲ علیہ الصلوۃ والسلام کی تکفیر کی تھی کہ" و فعلت فعلتک التی فعلت و انت من الکفرین ﴿۱۹﴾" (تم نے کیا اپنا وہ کام جو تم نے کیا اور تم ناشکر
درمختار میں ہے:
عزر الشاتم بیاکافر وھل یکفران اعتقد المسلم کافر انعم والالابہ یفتی ۔ کسی مسلمان کو"اے کافر"کہنے والے شخص پر تعزیر نافذ کی جائے گی کیا اگرکوئی شخص مسلمان کو کافر سمجھتا ہے تو کافر ہوگاہاں وہ کافر ہے اور اگر کافر نہیں سمجھتا تو پھر کافر نہیں۔ اسی پر فتوی ہے۔(ت)
شرح وہانیہ ذخیرہنہر الفائق وردالمحتارمیں ہے:
لانہ لما اعتقدالمسلم کافرافقد اعتقد دین الاسلام کفرا۔ کیونکہ جب مسلمان کو کافرمانا تو ا س نے دین اسلام کو کفر جانا۔ (ت)
اس کی تفصیل جلیل وتحقیق جمیل ہماری کتابوں الکوکبۃ الشہابیۃ اور النہی الاکید وغیرہما میں ہے مگر یہاں تو خود خلافت کمیٹی کے لیڈروں مفتیوں کے فتوے نے روشن کردیا کہ یہ تکفیر صرف اس سنی عالم کی نہیں بلکہ تمام ائمہ اہل سنت اور جملہ صحابہ کرام اور خودارشاد اقدس حضور سید الانام علیہ وعلیہم الصلوۃ والسلام کی ہے اب کون مسلمان ہے کہ اس تکفیری فتوے اور اس کی ناپاك تصدیق کو کلمات کفر نہ کہے گا۔ فقہاء کرام ائمہ وصحابہ درکنار خود حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے کلام پاك پر کفر کاحکم لگانے والوں کوکافر نہ کہیں گے تو اور کسے کافر کہیں گے اب ان سے پوچھئے کہ یہ کتنے کروڑ کفر اخبث واشد ہوئے خصوصا وہ کفر اخیر سب سے خبیث تر سب سے لعین" وذلک جزؤا الظلمین ﴿۲۹﴾" ( اور ظالموں کی یہی جزا ہے۔ت) سنی عالم کواس کی پروا نہ کرنی چاہئے ہر قوم کی ایك اصطلاح ہوتی ہے ان لوگوں کی اصطلاح جدید میں ملت ملت گاندھی ہے اور سنت سنت گاندھی اس کی روش سے جداچلنے والوں کو اہل سنت وجماعت سے خارج اور اس کی ملت مخترعہ کے مخالفوں کو کافر مرتد کہتے ہیں جس طرح فرعون ملعون نے معاذ اﷲ حضرت کلیم اﷲ علیہ الصلوۃ والسلام کی تکفیر کی تھی کہ" و فعلت فعلتک التی فعلت و انت من الکفرین ﴿۱۹﴾" (تم نے کیا اپنا وہ کام جو تم نے کیا اور تم ناشکر
حوالہ / References
درمختار باب التعزیر مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۲۷
ردالمحتار باب التعزیر داراحیاء التراث العربی بیروت ۳/ ۱۸۳
القرآن الکریم ۵۹ /۱۷
القرآن الکریم ۲۶ /۱۹
ردالمحتار باب التعزیر داراحیاء التراث العربی بیروت ۳/ ۱۸۳
القرآن الکریم ۵۹ /۱۷
القرآن الکریم ۲۶ /۱۹
ما سمعنا بہذا فی الملۃ الاخرۃ ان ہذا الا اختلق ﴿۷﴾ " (یہ تو ہم نے سب سے پچھلے دین نصرانیت میں بھی نہ سنی یہ تو نری نئی گھڑت ہے۔ت) بلکہ یہ حضرات تو فرعون و مشرکین سے بھی بڑھ کر کوئی نرالی انوکھی اصطلاح رکھتے ہیں انہوں نے اپنے دشمنوں خدا کے محبوبوں کو کہا یہ خود اپنوں کو بلکہ اپنی ہی زبانوں سے اپنی ہی جانوں کو کہتے ہیں آخر نہ دیکھا کہ مولوی ریاست علی خاں صاحب شاہجہان پوری وعبدالماجد صاحب بدایونی نے فتوی شاہجہان پور میں کس شدومد سے نفس خلافت کی جڑکاٹ دی اور فتوی جبلپور نے ان دونوں لیڈروں مفتیوں عالموں پر کافر مرتد کی چھانٹ دی بلکہ خودمولوی ریاست علی خاں وعبدالماجد نے اسی فتوی شاہجہانپور کے آخر میں اپنے ہی اوپر فاسق ومفسد کی بانٹ دی پھر فتوی جبلفور میں علمائے دین کو کہنے کی کیا شکایت آخر نہ دیکھا کہ حق بہ حق دار ر سید رجعت علیہ ان کا کفرانہیں پر پلٹا" و ویل للکفرین من عذاب شدید ﴿۲﴾" (اور کافروں کی خرابی ہے ایك سخت عذاب سے۔ت) مستفتی اگر واقع میں اس گروہ سے نہ ہوتا ایك بات صاف دل سے معلوم کرنا چاہتا اور جب یہ ناپاك کفر دیکھتا اسے ردی میں پھینك دیتا تو اس پر الزام نہ آتا مگر وہ تو اول سے اسی خباثت پر اعتقاد لاتے اور اغوائے عوام کو اس کی تائید ہی کے لئے فتوے گھڑواتے ولہذا اسی گروہ ناحق پژدہ کے پاس لے جاتے اور پھر اسے مانتے اس سے احتجاج کرکے اس کی نجاست پھیلاتے ہیں تو وہ اور اس کے ماننے والے سب کفر کے ماننے والے ہیں ان کا وبال ان پر سے کم نہ ہوگا لاینقص من اوزارھم شیئ (ان کے بوجھ میں کمی نہ ہوگی۔ت)اگرچہ ان کے مفتی ومصدقین پر اپنے وبال کے علاوہ ان سب کا بھی پڑے گا
علیہ وزرھا ووزرمن عمل بھا الی یوم القیامۃ ۔
" و لیحملن اثقالہم واثقالا مع اثقالہم ۫" ۔ اس کا بوجھ اس پر ہوگا اور جو قیامت تك اس پر عمل پیرا ہوگا اس کا بوجھ بھی اس پر آئے گا۔(ت)اور بیشك ضرور وہ اپنے بوجھ اٹھائیں گے اور اپنے بوجھوں کے ساتھ اور بوجھ(ت)
بربنائے مذکور عالم دین کی شان میں ناشائستہ الفاظ استعمال کرنے والوں کو یہی بس ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ایسوں کو کھلا منافق بتایا ارشاد فرماتے ہیں:
ثلاثۃ لایستخف بحقھم الامنافق بین تین شخصوں کے حق کو ہلکانہ جانے گا مگر کھلا منافق
النفاق ذوالشیبۃ فی الاسلام وذوالعلم وامام مقسط ۔ رواہ الطبرانی فی الکبیرعن ابی امامۃ الباھلی رضی اﷲ تعالی عنہ بسند حسنہ الترمذی لمتن غیرہ ورواہ ابوالشیخ فی کتاب التوبیخ عن جابر رضی اﷲ تعالی عنہ وعندہ زیادۃ لفظ بین النفاق۔ ایك وہ جسے اسلام میں بڑھاپا آیا اور عالم دین اور بادشاہ اسلام عادل(اسے طبرانی نے المعجم الکبیر میں حضرت ابوامامہ الباہلی رضی اﷲ تعالی عنہ سے اپنی سند کے ساتھ روایت کیا ہے جسے ترمذی نے دوسرے متن کے ساتھ حسن کہا ابولشیخ نے کتاب التوبیخ میں اسے حضرت جابر رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا ہے اس میں"بین النفاق"کااضافہ ہے۔ت)
مجمع الانہر میں ہے:
علیہ وزرھا ووزرمن عمل بھا الی یوم القیامۃ ۔
" و لیحملن اثقالہم واثقالا مع اثقالہم ۫" ۔ اس کا بوجھ اس پر ہوگا اور جو قیامت تك اس پر عمل پیرا ہوگا اس کا بوجھ بھی اس پر آئے گا۔(ت)اور بیشك ضرور وہ اپنے بوجھ اٹھائیں گے اور اپنے بوجھوں کے ساتھ اور بوجھ(ت)
بربنائے مذکور عالم دین کی شان میں ناشائستہ الفاظ استعمال کرنے والوں کو یہی بس ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ایسوں کو کھلا منافق بتایا ارشاد فرماتے ہیں:
ثلاثۃ لایستخف بحقھم الامنافق بین تین شخصوں کے حق کو ہلکانہ جانے گا مگر کھلا منافق
النفاق ذوالشیبۃ فی الاسلام وذوالعلم وامام مقسط ۔ رواہ الطبرانی فی الکبیرعن ابی امامۃ الباھلی رضی اﷲ تعالی عنہ بسند حسنہ الترمذی لمتن غیرہ ورواہ ابوالشیخ فی کتاب التوبیخ عن جابر رضی اﷲ تعالی عنہ وعندہ زیادۃ لفظ بین النفاق۔ ایك وہ جسے اسلام میں بڑھاپا آیا اور عالم دین اور بادشاہ اسلام عادل(اسے طبرانی نے المعجم الکبیر میں حضرت ابوامامہ الباہلی رضی اﷲ تعالی عنہ سے اپنی سند کے ساتھ روایت کیا ہے جسے ترمذی نے دوسرے متن کے ساتھ حسن کہا ابولشیخ نے کتاب التوبیخ میں اسے حضرت جابر رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا ہے اس میں"بین النفاق"کااضافہ ہے۔ت)
مجمع الانہر میں ہے:
حوالہ / References
القرآن الکریم ۳۸ /۷
القرآن الکریم ۱۴ /۲
صحیح مسلم کتاب العلم باب من سن سنۃ حسنۃ الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۳۴۱
صحیح مسلم کتاب الزکوٰۃ باب الحنث علی الصدقۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۳۲۷
القرآن الکریم ۲۹ /۱۳
المعجم الکبیر حدیث۷۸۱۸ المکتبۃ الفیصلیۃ ۸/ ۲۳۸،کنزالعمال بحوالہ ابی الشیخ حدیث ۴۳۸۱۱ موسسۃ الرسالۃ بیروت ۱۶/ ۳۲
القرآن الکریم ۱۴ /۲
صحیح مسلم کتاب العلم باب من سن سنۃ حسنۃ الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۳۴۱
صحیح مسلم کتاب الزکوٰۃ باب الحنث علی الصدقۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۳۲۷
القرآن الکریم ۲۹ /۱۳
المعجم الکبیر حدیث۷۸۱۸ المکتبۃ الفیصلیۃ ۸/ ۲۳۸،کنزالعمال بحوالہ ابی الشیخ حدیث ۴۳۸۱۱ موسسۃ الرسالۃ بیروت ۱۶/ ۳۲
من قال لعالم عویلم علی وجہ الاستخفاف کفر جو کسی عالم دین کو تحقیر کے طور پر"مولویا"کہے کافر ہوجائے۔
والعیاذباﷲ تعالی یہ سوال اول کا جواب مجمل ہے اور یہیں سے تین سوال آئندہ کے جواب واضح ہوگئے وباﷲالتوفیق۔
(۲) موالات ہر کافر سے مطلقا حرام ہے اوپر واضح ہوچکا کہ رب عزوجل نے عام کفار کی نسبت یہ احکام فرمائے تو بزور زبان ان میں سے کسی کافر کااستثناماننااﷲ عزوجل پر افترائے بعید اور قرآن کریم کی تحریف شدید ہے بلکہ عالم الغیب عزجلالہ نے یہ حکم یہود ونصاری سے خاص ماننے والوں کے منہ میں اپنے قہر عظیم کا پتھر دے دیا ایك آیت میں صراحۃ کتابیوں کے ساتھ باقی کفار کو جدا ذکر فرمایا کہ کتابی سب کو تعمیم حکم مفسر منور ہوجائے جاہلان ضلیل کی تاویل ذلیل راہ نہ پائے ۔ اﷲ تعالی فرماتا ہے:
" یایہا الذین امنوا لا تتخذوا الذین اتخذوا دینکم ہزوا و لعبا من الذین اوتوا الکتب من قبلکم والکفار اولیاء واتقوا اللہ ان کنتم مؤمنین ﴿۵۷﴾" ۔ اے ایمان والو! وہ جو تمہارے دین کو ہنسی کھیل ٹھہراتے ہیں جن کو تم سے پہلے کتاب دی گئی(یہودونصاری)اور باقی سب کافران میں کسی سے اتحاد ووداد نہ کرو اور اﷲ سے ڈرو اگر تم ایمان رکھتے ہو۔
والعیاذباﷲ تعالی یہ سوال اول کا جواب مجمل ہے اور یہیں سے تین سوال آئندہ کے جواب واضح ہوگئے وباﷲالتوفیق۔
(۲) موالات ہر کافر سے مطلقا حرام ہے اوپر واضح ہوچکا کہ رب عزوجل نے عام کفار کی نسبت یہ احکام فرمائے تو بزور زبان ان میں سے کسی کافر کااستثناماننااﷲ عزوجل پر افترائے بعید اور قرآن کریم کی تحریف شدید ہے بلکہ عالم الغیب عزجلالہ نے یہ حکم یہود ونصاری سے خاص ماننے والوں کے منہ میں اپنے قہر عظیم کا پتھر دے دیا ایك آیت میں صراحۃ کتابیوں کے ساتھ باقی کفار کو جدا ذکر فرمایا کہ کتابی سب کو تعمیم حکم مفسر منور ہوجائے جاہلان ضلیل کی تاویل ذلیل راہ نہ پائے ۔ اﷲ تعالی فرماتا ہے:
" یایہا الذین امنوا لا تتخذوا الذین اتخذوا دینکم ہزوا و لعبا من الذین اوتوا الکتب من قبلکم والکفار اولیاء واتقوا اللہ ان کنتم مؤمنین ﴿۵۷﴾" ۔ اے ایمان والو! وہ جو تمہارے دین کو ہنسی کھیل ٹھہراتے ہیں جن کو تم سے پہلے کتاب دی گئی(یہودونصاری)اور باقی سب کافران میں کسی سے اتحاد ووداد نہ کرو اور اﷲ سے ڈرو اگر تم ایمان رکھتے ہو۔
حوالہ / References
مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر فصل ان الفاظ الکفر انواع الخ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۶۹۵
القرآن الکریم ۵ /۵۷
القرآن الکریم ۵ /۵۷
اب تو کسی مفتری کے اس بکنے کی گنجائش نہ رہی کہ یہ حکم صرف یہود ونصاری کے لئے ہےنیز آیہ کریمہ میں کھلا اشارہ فرماتا ہے کہ کسی قسم کے کافروں سے اتحاد منانے والا ایمان نہیں رکھتا اور اوپر آیت میں صریح تصریح گزر چکی کہ انہیں اﷲ ورسول قرآن پر ایمان ہوتا تو کافروں سے اتحاد نہ کرتے نیز صاف فرمایا:
" لا تجد قوما یؤمنون باللہ و الیوم الاخر یوادون من حاد اللہ و رسولہ و لو کانوا اباءہم او ابناءہم او اخونہم او عشیرتہم " ۔ نہ پاؤ گے انہیں جو اﷲ وقیامت پر ایمان رکھتے ہیں کہ ان سے دوستی کریں جنہوں نے اﷲ ورسول سے مخالفت کی اگرچہ وہ ان کے باپ یا بیٹے یا بھائی یا عزیز ہوں۔
سبحان اﷲ مگر مشرکین یا وہابیہ نے اﷲ ورسول کی مخالفت نہ کی صرف یہود ونصاری نے کی ہے قرآن کریم جا بجا شاہد ہے کہ مطلقا موالات حرام ہونے کی علت کفر ومخالفت وعداوت اﷲ ورسول ہے جل وعلا وصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یہ معنی انہیں آیات سے کہ یہاں تلاوت ہوئیں روشن اور نہایت صریح تر الفاظ سے اس کا علت ہونا اس آیہ کریمہ میں بیان فرمادیا کہ:
یایہا الذین امنوا لاتتخذوا اباءکم و اخونکم اولیاء ان استحبوا الکفر علی الایمن ومن یتولہم منکم فاولئک ہم الظلمون ﴿۲۳﴾
" اے ایمان والو!اپنے باپ بھائیوں سے بھی محبت نہ کرو اگر وہ ایمان پر کفر کو اختیار کریں اور تم میں جوان سے محبت کرے گا وہی پکا ظالم ہے۔
اﷲ اکبر یہ ہے وہ اسلام جس پر ان کے بڑے لیڈر ابوالکلام آزاد کا مسئلہ خلافت وجزیرہ عرب میں یہ اہتمام کہ وہ بعض اقسام کفار سے محبت کرنے کاحکم دیتا ہے اور یہ کہ عالمگیر محبت اس کی دعوت حق کا اصل الاصول ہے انا ﷲ وانا الیہ راجعونکیا اﷲعزوجل نے نہ فرمایا:
ان الذین یفترون علی اللہ الکذب لا یفلحون ﴿۱۱۶﴾ متع قلیل ۪ ولہم عذاب الیم ﴿۱۱۷﴾" بیشك جو اﷲ پر جھوٹ باندھتے ہیں فلاح نہ پائیں گے دنیا میں تھوڑا سابرت لیں پھر ان کے لئے درد ناك عذاب ہے۔
کیا نہ فرمایا:
" قل ان الذین یفترون علی اللہ الکذب اے محبوب تم فرمادو کہ بیشك وہ جو اﷲ پر افترا
" لا تجد قوما یؤمنون باللہ و الیوم الاخر یوادون من حاد اللہ و رسولہ و لو کانوا اباءہم او ابناءہم او اخونہم او عشیرتہم " ۔ نہ پاؤ گے انہیں جو اﷲ وقیامت پر ایمان رکھتے ہیں کہ ان سے دوستی کریں جنہوں نے اﷲ ورسول سے مخالفت کی اگرچہ وہ ان کے باپ یا بیٹے یا بھائی یا عزیز ہوں۔
سبحان اﷲ مگر مشرکین یا وہابیہ نے اﷲ ورسول کی مخالفت نہ کی صرف یہود ونصاری نے کی ہے قرآن کریم جا بجا شاہد ہے کہ مطلقا موالات حرام ہونے کی علت کفر ومخالفت وعداوت اﷲ ورسول ہے جل وعلا وصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یہ معنی انہیں آیات سے کہ یہاں تلاوت ہوئیں روشن اور نہایت صریح تر الفاظ سے اس کا علت ہونا اس آیہ کریمہ میں بیان فرمادیا کہ:
یایہا الذین امنوا لاتتخذوا اباءکم و اخونکم اولیاء ان استحبوا الکفر علی الایمن ومن یتولہم منکم فاولئک ہم الظلمون ﴿۲۳﴾
" اے ایمان والو!اپنے باپ بھائیوں سے بھی محبت نہ کرو اگر وہ ایمان پر کفر کو اختیار کریں اور تم میں جوان سے محبت کرے گا وہی پکا ظالم ہے۔
اﷲ اکبر یہ ہے وہ اسلام جس پر ان کے بڑے لیڈر ابوالکلام آزاد کا مسئلہ خلافت وجزیرہ عرب میں یہ اہتمام کہ وہ بعض اقسام کفار سے محبت کرنے کاحکم دیتا ہے اور یہ کہ عالمگیر محبت اس کی دعوت حق کا اصل الاصول ہے انا ﷲ وانا الیہ راجعونکیا اﷲعزوجل نے نہ فرمایا:
ان الذین یفترون علی اللہ الکذب لا یفلحون ﴿۱۱۶﴾ متع قلیل ۪ ولہم عذاب الیم ﴿۱۱۷﴾" بیشك جو اﷲ پر جھوٹ باندھتے ہیں فلاح نہ پائیں گے دنیا میں تھوڑا سابرت لیں پھر ان کے لئے درد ناك عذاب ہے۔
کیا نہ فرمایا:
" قل ان الذین یفترون علی اللہ الکذب اے محبوب تم فرمادو کہ بیشك وہ جو اﷲ پر افترا
لایفلحون ﴿۶۹﴾ متع فی الدنیا ثم الینا مرجعہم ثم نذیقہم العذاب الشدید بماکانوا یکفرون ﴿۷۰﴾
" کرتے ہیں فلاح نہ پائیں گے دنیاکچھ برت لیں پھر انہیں ہماری طرف پلٹنا ہے پھر ہم ان کو وہ سخت عذاب چکھائیں گے بدلہ ان کے کفر کا۔
کیانہ فرمایا:
" و یلکم لا تفتروا علی اللہ کذبا فیسحتکم بعذاب وقدخاب من افتری ﴿۶۱﴾ " ۔ تمہاری خرابی ہو اﷲ پر جھوٹ نہ باندھو کہ وہ تمہیں عذاب میں بھون ڈالے گا اور بیشك نامراد رہا مفتری۔
کیانہ فرمایا:
"" انما یفتری الکذب الذین لا یؤمنون
۔ بیشك ایسے افترا وہی باندھتے ہیں جو کافر ہیں۔
یہ ہے کہ قرآن عظیم کا فتوی جس نے کفر کا حکم جمادیا
" و خسر ہنالک المبطلون ﴿۷۸﴾ " " وقیل بعدا للقوم الظلمین ﴿۴۴﴾ " اور باطل والوں کا وہاں خسارہ ہے او رفرمایاگیا کہ دور ہوں بے انصاف لوگ۔(ت)
حاش ﷲ کسی قسم کفار سے محبت کرنے کا اسلام نے حکم نہ دیا باپ بیٹے کافر ہوں تو ان سے بھی محبت کو صریح حرام فرمادیا اور دلی محبت واخلاص و اتحاد کرنے کو تو جابجا صاف صاف ارشاد واعلام فرمادیا کہ وہ انہیں کافروں میں سے ہیں انہیں اﷲ وقیامت پر ایمان نہیں انہیں اﷲ ورسول وقرآن پر ایمان نہیں بالجملہ وہ کسی طرح مسلمان نہیں ہاں کافروں میں فرق ہوگا تو یہ کہ جس کا کفر اشد اس سے معاملات کا حرام وکفر ہونا اشد وزائد کہ علت حرمت کفر ہے علت جتنی زیادہ حکم سخت تر۔ یہ ان کذابوں مفتریوں پر اور الٹا پڑے گا کہ کفر میں یہود ونصاری سے مجوس بدتر ہیں ہنود سے وہابیہ وسائر مرتدین عنود بدتر ہیں ولہذا ان کے احکام اسی ترتیب پر سخت تر ہیں
کمالایخفی علی من لہ اعلام باحکام الفقہین
" ولکن الظلمین بایت اللہ یجحدون ﴿۳۳﴾"
" و سیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون ﴿۲۲۷﴾ " جیسا کہ یہ ہر اس شخص پر واضح ہے جو احکام فقہاء سے آگاہ ہے لیکن ظالم آیات الہیہ کا انکار کرتے ہیں۔ اور اب جانا چاہتے ہیں ظالم کہ کس کروٹ پلٹا کھائینگے۔(ت)
" کرتے ہیں فلاح نہ پائیں گے دنیاکچھ برت لیں پھر انہیں ہماری طرف پلٹنا ہے پھر ہم ان کو وہ سخت عذاب چکھائیں گے بدلہ ان کے کفر کا۔
کیانہ فرمایا:
" و یلکم لا تفتروا علی اللہ کذبا فیسحتکم بعذاب وقدخاب من افتری ﴿۶۱﴾ " ۔ تمہاری خرابی ہو اﷲ پر جھوٹ نہ باندھو کہ وہ تمہیں عذاب میں بھون ڈالے گا اور بیشك نامراد رہا مفتری۔
کیانہ فرمایا:
"" انما یفتری الکذب الذین لا یؤمنون
۔ بیشك ایسے افترا وہی باندھتے ہیں جو کافر ہیں۔
یہ ہے کہ قرآن عظیم کا فتوی جس نے کفر کا حکم جمادیا
" و خسر ہنالک المبطلون ﴿۷۸﴾ " " وقیل بعدا للقوم الظلمین ﴿۴۴﴾ " اور باطل والوں کا وہاں خسارہ ہے او رفرمایاگیا کہ دور ہوں بے انصاف لوگ۔(ت)
حاش ﷲ کسی قسم کفار سے محبت کرنے کا اسلام نے حکم نہ دیا باپ بیٹے کافر ہوں تو ان سے بھی محبت کو صریح حرام فرمادیا اور دلی محبت واخلاص و اتحاد کرنے کو تو جابجا صاف صاف ارشاد واعلام فرمادیا کہ وہ انہیں کافروں میں سے ہیں انہیں اﷲ وقیامت پر ایمان نہیں انہیں اﷲ ورسول وقرآن پر ایمان نہیں بالجملہ وہ کسی طرح مسلمان نہیں ہاں کافروں میں فرق ہوگا تو یہ کہ جس کا کفر اشد اس سے معاملات کا حرام وکفر ہونا اشد وزائد کہ علت حرمت کفر ہے علت جتنی زیادہ حکم سخت تر۔ یہ ان کذابوں مفتریوں پر اور الٹا پڑے گا کہ کفر میں یہود ونصاری سے مجوس بدتر ہیں ہنود سے وہابیہ وسائر مرتدین عنود بدتر ہیں ولہذا ان کے احکام اسی ترتیب پر سخت تر ہیں
کمالایخفی علی من لہ اعلام باحکام الفقہین
" ولکن الظلمین بایت اللہ یجحدون ﴿۳۳﴾"
" و سیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون ﴿۲۲۷﴾ " جیسا کہ یہ ہر اس شخص پر واضح ہے جو احکام فقہاء سے آگاہ ہے لیکن ظالم آیات الہیہ کا انکار کرتے ہیں۔ اور اب جانا چاہتے ہیں ظالم کہ کس کروٹ پلٹا کھائینگے۔(ت)
(۳) ضرور وہ لوگ مکذب ومحرف قرآن ہیں اور خود بحکم قرآن کافر ونامسلمان جس کا بیان بقدروافی ہوچکا تکذیب قرآن عظیم ان کی نئی نہیں ان کے اعظم لیڈر ان ابوالکلام آزاد نے"الہلال"میں سیدنا عیسی علی نبینا وعلیہ الصلوۃ والسلام کے نبی صاحب شریعت کا صاف انکار کیا اور منہ بھر کر قرآن عظیم کوجھٹلا دیا"الہلال"۲۴ستمبر۱۹۱۳ء میں کہا:
"مسیح ناصری کاتذکرہ بیکار ہے وہ شریعت موسوی کا ایك مصلح تھا جو خود کوئی صاحب شریعت نہ تھا اس کی مثال مجدد کی سی تھی وہ کوئی شریعت نہ لایا اس کے پاس کوئی قانون نہ تھا اس نے خود تصریح کردی کہ میں تو توریت کو مٹانے نہیں بلکہ پورا کرنے آیا ہوں"۔ (یوحنا۱۳:۵)
مسلمانو! اول تو روح اﷲ کلمۃ اﷲ رسول اﷲ علیہ الصلوۃ والسلام کو کہنا کہ اس کا تذکرہ بیکار ہے۔
دوم بار بار مؤکد فقروں سے جمانا کہ وہ نبی صاحب شریعت نہ تھے۔
سوم نصاری کی انجیل محرف سے سند لانا اور وہ بھی محض بربنائے جہالت وضلالت۔کیا صاحب شریعت انبیاء اﷲ کے اگلے کلاموں کو مٹانے آتے ہیں حاشا بلکہ پورا ہی فرمانے کو نسخ کے یہی معنی ہیں کہ اگلے حکم کی مدت پوری ہوگئی خیر یہاں کہنا یہ ہے کہ ان فقروں میں آزاد صاحب نے پیٹ بھر کر قرآن عظیم کی تکذیب کی قرآن کریم قطعا ارشاد فرماتا ہے کہ مسیح علیہ الصلوۃ والسلام صاحب شریعت تھے اولا اس نے پہلے تو راہ مقدس کا ذکر فرمایا:
" وعندہم التورىۃ فیہا حکم اللہ " ان کے پاس توراۃ ہے اس میں اﷲ کے حکم ہیں۔
اور فرمایا:
" ومن لم یحکم بما انزل اللہ فاولئک ہم الکفرون ﴿۴۴﴾" جو اﷲ کے اتارے پر حکم نہ کریں وہی کافر ہیں۔
پھر مسیح علیہ الصلوۃ والسلام کو انجیل دینا بیان کرکے فرمایا:
" ولیحکم اہل الانجیل بما انزل اللہ فیہ ومن لم یحکم بما انزل اللہ فاولئک ہم الفسقون ﴿۴۷﴾ " انجیل والے اﷲکے اتارے پر حکم کریں اور جواﷲ کے اتارے پر حکم نہ کریں وہی فاسق ہیں۔
"مسیح ناصری کاتذکرہ بیکار ہے وہ شریعت موسوی کا ایك مصلح تھا جو خود کوئی صاحب شریعت نہ تھا اس کی مثال مجدد کی سی تھی وہ کوئی شریعت نہ لایا اس کے پاس کوئی قانون نہ تھا اس نے خود تصریح کردی کہ میں تو توریت کو مٹانے نہیں بلکہ پورا کرنے آیا ہوں"۔ (یوحنا۱۳:۵)
مسلمانو! اول تو روح اﷲ کلمۃ اﷲ رسول اﷲ علیہ الصلوۃ والسلام کو کہنا کہ اس کا تذکرہ بیکار ہے۔
دوم بار بار مؤکد فقروں سے جمانا کہ وہ نبی صاحب شریعت نہ تھے۔
سوم نصاری کی انجیل محرف سے سند لانا اور وہ بھی محض بربنائے جہالت وضلالت۔کیا صاحب شریعت انبیاء اﷲ کے اگلے کلاموں کو مٹانے آتے ہیں حاشا بلکہ پورا ہی فرمانے کو نسخ کے یہی معنی ہیں کہ اگلے حکم کی مدت پوری ہوگئی خیر یہاں کہنا یہ ہے کہ ان فقروں میں آزاد صاحب نے پیٹ بھر کر قرآن عظیم کی تکذیب کی قرآن کریم قطعا ارشاد فرماتا ہے کہ مسیح علیہ الصلوۃ والسلام صاحب شریعت تھے اولا اس نے پہلے تو راہ مقدس کا ذکر فرمایا:
" وعندہم التورىۃ فیہا حکم اللہ " ان کے پاس توراۃ ہے اس میں اﷲ کے حکم ہیں۔
اور فرمایا:
" ومن لم یحکم بما انزل اللہ فاولئک ہم الکفرون ﴿۴۴﴾" جو اﷲ کے اتارے پر حکم نہ کریں وہی کافر ہیں۔
پھر مسیح علیہ الصلوۃ والسلام کو انجیل دینا بیان کرکے فرمایا:
" ولیحکم اہل الانجیل بما انزل اللہ فیہ ومن لم یحکم بما انزل اللہ فاولئک ہم الفسقون ﴿۴۷﴾ " انجیل والے اﷲکے اتارے پر حکم کریں اور جواﷲ کے اتارے پر حکم نہ کریں وہی فاسق ہیں۔
حوالہ / References
الہلال ابوالکلام آزاد ۲۴ستمبر ۱۹۱۳ء
القرآن الکریم ۵ /۴۳
القرآن الکریم ۵ /۴۴
القرآن الکریم ۵ /۴۷
القرآن الکریم ۵ /۴۳
القرآن الکریم ۵ /۴۴
القرآن الکریم ۵ /۴۷
ثانیا اور صاف فرمادیا کہ دونوں کے بعد حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پر قرآن مجیداترنے کا ذکر کرکے فرمایا:
" لکل جعلنا منکم شرعۃ ومنہاجا ولو شاء اللہ لجعلکم امۃ وحدۃ" اے توراۃ وانجیل و قرآن والو! ہم نے تم میں ہر ایك کے لئے ایك شریعت وراہ رکھی اوراﷲ چاہتا تو تم سب کو گروہ واحد کردیتا۔
ثالثا کج فہم بلیدوں یا ہٹ دھرم عنیدوں کی اس سے بھی تسکین نہ ہوتو قرآن عظیم جھوٹوں کو راہ نہیں دیتا اس نے نہایت روشن لفظوں میں بعض احکام توراہ مقدس کا احکام انجیل مبارك سے منسوخ ہونا بتادیا اپنے نبی مسیح علیہ الصلوۃ والسلام کا قول ذکر فرماتا ہے:
" ومصدقا لما بین یدی من التورىۃ ولاحل لکم بعض الذی حرم" میں تمہارے پاس آیا ہوں سچا بتاتا اپنے آگے اتری کتاب تورات کو اور اس سے کہ میں تمہارے واسطے بعض وہ چیزیں حلال کردوں جو تم پر توراۃ نے حرام فرمائی تھیں۔
اب بھی کسی مسلمان کو مسیح علیہ الصلوۃ والسلام کے صاحب شریعت ہونے میں شك ہوسکتا ہے یا منکر بجہنم اس میں شك کرنے والا مسلمان رہ سکتا ہے انجیل میں کئی جگہ ان احکام کی تفصیل بھی ہے کہ پہلے تم سے یہ فرمایا گیا تھا اور اب میں یہ کہتا ہوں آزاد صاحب خاص اپنا اطمینان چاہیں تو اپنی معتمدہ بائبل ہی کو دیکھ لیں آزاد صاحب تو ابوالکلام ہیں مواقع سخن سے خوب آگاہ ہیں یہ تین آیات کریمہ تھیں" ولیحکم اہل الانجیل لکل جعلنا منکم ولاحل لکم "بلیغ الدہر نے جب ان کی تکذیب کی اور منہ پھاڑ کر کہہ دیاکہ مسیح صاحب شریعت نہ تھا تو اسے بھی تین فقروں سے مؤکد کیا:"اس کی مثال مجدد کی سی تھی وہ کوئی شریعت نہ لایا اس کے پاس کوئی قانون نہ تھا"تاکہ ہر آیت کے مقابلے کو ایك فقرہ تیار رہے آیات قرآن پروار کرنے کویہ ان کی ذوالفقار رہے۔ بالجملہ ایك تکذیب وہ تھی کہ اسلام نے کچھ کافروں سے محبت کا حکم دیا دوسری تکذیب وہ کہ مسلمین و کافرین سب سے محبت اسلام کی اصل الاصول ہے اور چار تکذیبیں ان چار فقروں سے یہاں تك چھ تکذیبیں ہوئیں ان چار پر کوئی گمان کرسکتا ہے کہ آزاد صاحب اب ترك موالات میں ہیں نصاری سے بائیکاٹ اس زور سے کیا کہ ان کے نبی کو بھی بائیکاٹ کردیا اگر مسلمان پر معترضا نہ کہیں کہ یہ تو سب انبیاء اور خود حضور سیدنا الانبیاء علیہم وعلیہ افضل الصلوۃ
" لکل جعلنا منکم شرعۃ ومنہاجا ولو شاء اللہ لجعلکم امۃ وحدۃ" اے توراۃ وانجیل و قرآن والو! ہم نے تم میں ہر ایك کے لئے ایك شریعت وراہ رکھی اوراﷲ چاہتا تو تم سب کو گروہ واحد کردیتا۔
ثالثا کج فہم بلیدوں یا ہٹ دھرم عنیدوں کی اس سے بھی تسکین نہ ہوتو قرآن عظیم جھوٹوں کو راہ نہیں دیتا اس نے نہایت روشن لفظوں میں بعض احکام توراہ مقدس کا احکام انجیل مبارك سے منسوخ ہونا بتادیا اپنے نبی مسیح علیہ الصلوۃ والسلام کا قول ذکر فرماتا ہے:
" ومصدقا لما بین یدی من التورىۃ ولاحل لکم بعض الذی حرم" میں تمہارے پاس آیا ہوں سچا بتاتا اپنے آگے اتری کتاب تورات کو اور اس سے کہ میں تمہارے واسطے بعض وہ چیزیں حلال کردوں جو تم پر توراۃ نے حرام فرمائی تھیں۔
اب بھی کسی مسلمان کو مسیح علیہ الصلوۃ والسلام کے صاحب شریعت ہونے میں شك ہوسکتا ہے یا منکر بجہنم اس میں شك کرنے والا مسلمان رہ سکتا ہے انجیل میں کئی جگہ ان احکام کی تفصیل بھی ہے کہ پہلے تم سے یہ فرمایا گیا تھا اور اب میں یہ کہتا ہوں آزاد صاحب خاص اپنا اطمینان چاہیں تو اپنی معتمدہ بائبل ہی کو دیکھ لیں آزاد صاحب تو ابوالکلام ہیں مواقع سخن سے خوب آگاہ ہیں یہ تین آیات کریمہ تھیں" ولیحکم اہل الانجیل لکل جعلنا منکم ولاحل لکم "بلیغ الدہر نے جب ان کی تکذیب کی اور منہ پھاڑ کر کہہ دیاکہ مسیح صاحب شریعت نہ تھا تو اسے بھی تین فقروں سے مؤکد کیا:"اس کی مثال مجدد کی سی تھی وہ کوئی شریعت نہ لایا اس کے پاس کوئی قانون نہ تھا"تاکہ ہر آیت کے مقابلے کو ایك فقرہ تیار رہے آیات قرآن پروار کرنے کویہ ان کی ذوالفقار رہے۔ بالجملہ ایك تکذیب وہ تھی کہ اسلام نے کچھ کافروں سے محبت کا حکم دیا دوسری تکذیب وہ کہ مسلمین و کافرین سب سے محبت اسلام کی اصل الاصول ہے اور چار تکذیبیں ان چار فقروں سے یہاں تك چھ تکذیبیں ہوئیں ان چار پر کوئی گمان کرسکتا ہے کہ آزاد صاحب اب ترك موالات میں ہیں نصاری سے بائیکاٹ اس زور سے کیا کہ ان کے نبی کو بھی بائیکاٹ کردیا اگر مسلمان پر معترضا نہ کہیں کہ یہ تو سب انبیاء اور خود حضور سیدنا الانبیاء علیہم وعلیہ افضل الصلوۃ
والثناء کا بائیکاٹ ہوگیا کہ ایك نبی سے مقاطعہ تمام انبیاء سے مقاطعہ اور خود رب عزوجل سے مقاطعہ ہے اب آپ کے ماننے کو اﷲ کا کوئی نبی نہیں مل سکتا پھر بھی وہ اس کی کیا پروا کرتے جب تك کمیٹی کے نبی بالقوۃ خواہ بالفعل گاندھی صاحب مذکر مبعوث من اﷲ سلامت ہیں یك درگیر محکم گیر لیکن اسی الہلال کی جلد تین کی چار اور تکذیبیں اس بائیکاٹ کے بالکل خلاف ہیں صفحہ۳۳۸ پر مسیح علیہ الصلوۃ والسلام کی نسبت کہا:"یہودیوں نے ان کے سر پر کانٹوں کا تاج رکھاتاکہ وہ صلیب عــــہ پرلٹائے جائیں اور جو لکھا ہے پورا ہو "یہ قرآن عظیم کی ساتویں تکذیب کی وہ فرماتا ہے :" وما صلبوہ " انہوں نے مسیح کو سولی نہ دی۔ نیز اسی صفحہ پر کہا:"مسیح نے اپنی عظیم قربانی کی۔"
اور صفحہ۳۳۹پر دو لفظ اور لکھے:"مظلومانہ قربانی"اور"خون شہادت"۔
یہ تینوں لفظ بھی قرآن عظیم کی تکذیب بتاتے ہیں وہ فرماتا ہے:" وما قتلوہ " انہوں نے مسیح کو قتل نہ کیا۔ یہاں تك پوری دس۱۰ تکذیبیں ہوئی" تلک عشرۃ کاملۃ " ۔یہ پچھلی چار عین مذہب نصاری ہیں کیا قرآن عظیم کو جھٹلانے کے لئے نصاری سے بائیکاٹ کے بدلے میل ہوجانا ہے یعنی ملۃ واحدۃہر شخص کے سر میں دماغ اور دماغ میں عقل کا ادنی جلوہ پہلو میں دل اور دل میں اسلام کا کچھ بھی حصہ ہوعلانیہ دیکھ رہا ہے کہ آزاد صاحب کے ان اقوال میں تین کفر ہیں:
(۱) کلام اﷲ کی تکذیب
(۲) رسول اﷲ کی توہین
(۳) شریعۃ اﷲ کا انکار۔
اور پھر وہ قوم کے لیڈر ہیں دین کے رفارمر ہیں سب لیڈروں کے سر ہیں
فسبحان مقلب القلوب والابصار۔ کذلک " اے اﷲ تعالی تو پاك ہے تو دلوں اور آنکھوں کو پھیرنے
عــــہ: صلیب پر لٹانا بھی عجیب شاید صلیب زمین پر بچھی ہوئی مسہری سمجھی ۱۲
اور صفحہ۳۳۹پر دو لفظ اور لکھے:"مظلومانہ قربانی"اور"خون شہادت"۔
یہ تینوں لفظ بھی قرآن عظیم کی تکذیب بتاتے ہیں وہ فرماتا ہے:" وما قتلوہ " انہوں نے مسیح کو قتل نہ کیا۔ یہاں تك پوری دس۱۰ تکذیبیں ہوئی" تلک عشرۃ کاملۃ " ۔یہ پچھلی چار عین مذہب نصاری ہیں کیا قرآن عظیم کو جھٹلانے کے لئے نصاری سے بائیکاٹ کے بدلے میل ہوجانا ہے یعنی ملۃ واحدۃہر شخص کے سر میں دماغ اور دماغ میں عقل کا ادنی جلوہ پہلو میں دل اور دل میں اسلام کا کچھ بھی حصہ ہوعلانیہ دیکھ رہا ہے کہ آزاد صاحب کے ان اقوال میں تین کفر ہیں:
(۱) کلام اﷲ کی تکذیب
(۲) رسول اﷲ کی توہین
(۳) شریعۃ اﷲ کا انکار۔
اور پھر وہ قوم کے لیڈر ہیں دین کے رفارمر ہیں سب لیڈروں کے سر ہیں
فسبحان مقلب القلوب والابصار۔ کذلک " اے اﷲ تعالی تو پاك ہے تو دلوں اور آنکھوں کو پھیرنے
عــــہ: صلیب پر لٹانا بھی عجیب شاید صلیب زمین پر بچھی ہوئی مسہری سمجھی ۱۲
حوالہ / References
الہلال ابوالکلام آزاد ۳/ ۳۳۸
القرآن الکریم ۴ /۱۵۷
الہلال آزاد ۳/ ۳۳۸
الہلال ۳/ ۳۳۹
القرآن الکریم ۲ /۱۹۶
القرآن الکریم ۲ /۱۹۶
القرآن الکریم ۴ /۱۵۷
الہلال آزاد ۳/ ۳۳۸
الہلال ۳/ ۳۳۹
القرآن الکریم ۲ /۱۹۶
القرآن الکریم ۲ /۱۹۶
یطبع اللہ علی قلوب الذین لا یعلمون ﴿۵۹﴾" والا ہے۔ اﷲ یوں ہی مہر کردیتا ہے متکبر سرکش کے سارے دل پر۔(ت)
اذا کان الغراب دلیل قوم
سیھدیھم طریق الھالکینا
(جب قوم کا رہنما کوا ہوگا تو ان کو ہلاکت ہی دکھائے گا۔ت)
کیا نہیں ڈرتے کہ
ہرکہ آزاد از اسلام بود
در سقر بندی آلام بود
(جو اسلام سے آزاد ہوگا وہ مصیبتوں کی جہنم میں جکڑا جائیگا۔ت)
آج کل کفر وارتداد و زندقہ والحاد کا گرم بازار ہے ہر چہار طرف سے اﷲ و رسول و قرآن پر گالیوں تکذیبوں کی بوچھاڑ ہے کفر بکنے والوں سے گلہ نہیں عجب عام مدعیان اسلام سے کہ ان کے نزدیك اﷲ ورسول وقرآن سے زیادہ ہلکی عزت کسی کی نہیں ان کے ماں باپ کو گالی دینا تو بڑی بات کوئی انہیں تو تو کہہ دیکھے اوراﷲ ورسول وقرآن پر گالیاں سنتے ہیں چھپے شائع ہوتے دیکھتے ہیں اور تیوری پر بل نہیں آتا بلکہ گالیاں دینے والوں سے میل جول یارانے دوستانے بدستور رہتے ہیں ان کے اعزاز واکرام القاب آداب ویسے ہی منظور رہتے ہیں صاف دلکشادہ حبین گویا کسی نے کچھ کہا ہی نہیں نہیں نہیں بلکہ الٹی ان کی حمایت انہیں براکہنے والے سے بغض وعداوت ان کا حکم الہی ظاہر کرنے والا بے تہذیب بدلگام ہے تنگ کن دائرہ اسلام ہے عبدالماجد سے بدتر کافر آج کل شائد ہی کوئی ہو جس نے عیسی علیہ الصلوۃ والسلام کو مجہول النسب بچہ کہا اور قرآن کو اپنے دعوی توحید میں کاذب وناتمام ٹھہرایا اور یہ کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے اپنی تعظیم کی آیتیں تصنیف کرلیں اور رنگ وروغن بڑھانے کو اپنے اہل بیت وازواج کی تعظیمیں بھی اضافہ کردیں وغیرہ وغیرہ ملعونات کثیرہ جب ان باتوں پر اس کی تکفیر ہوئیچار طرف سے کواگہار دوڑ پڑی ناپاك اخباروں میں دفتر کے دفتر اس کی برأت میں سیاہ ہونے لگے ایك کافر ہوا تھا اس کے پیچھے ہزاروں کے اسلام تباہ ہونے لگے مگر جواب ایك حرف کا نہیں بلکہ ڈھٹائی بے شرمی بے حیائی سے مکرنا صاف دن میں ٹھیك دوپہر کو آفتاب کا انکار کرنا وہ بیچارہ تو کوئی چیز نہ تھا لافی العیر ولافی النفیر(نہ اونٹوں میں نہ چڑیوں میں یعنی کسی گنتی میں نہ تھا۔ت) جب اس کی حمایت میں وہ کچھ جوش تو مسٹر ابوالکلام تو لیڈر کبیر ان کا کفر ضرور ٹھیٹ اسلام بنے گا ان کے مقابل اﷲ ورسول و
اذا کان الغراب دلیل قوم
سیھدیھم طریق الھالکینا
(جب قوم کا رہنما کوا ہوگا تو ان کو ہلاکت ہی دکھائے گا۔ت)
کیا نہیں ڈرتے کہ
ہرکہ آزاد از اسلام بود
در سقر بندی آلام بود
(جو اسلام سے آزاد ہوگا وہ مصیبتوں کی جہنم میں جکڑا جائیگا۔ت)
آج کل کفر وارتداد و زندقہ والحاد کا گرم بازار ہے ہر چہار طرف سے اﷲ و رسول و قرآن پر گالیوں تکذیبوں کی بوچھاڑ ہے کفر بکنے والوں سے گلہ نہیں عجب عام مدعیان اسلام سے کہ ان کے نزدیك اﷲ ورسول وقرآن سے زیادہ ہلکی عزت کسی کی نہیں ان کے ماں باپ کو گالی دینا تو بڑی بات کوئی انہیں تو تو کہہ دیکھے اوراﷲ ورسول وقرآن پر گالیاں سنتے ہیں چھپے شائع ہوتے دیکھتے ہیں اور تیوری پر بل نہیں آتا بلکہ گالیاں دینے والوں سے میل جول یارانے دوستانے بدستور رہتے ہیں ان کے اعزاز واکرام القاب آداب ویسے ہی منظور رہتے ہیں صاف دلکشادہ حبین گویا کسی نے کچھ کہا ہی نہیں نہیں نہیں بلکہ الٹی ان کی حمایت انہیں براکہنے والے سے بغض وعداوت ان کا حکم الہی ظاہر کرنے والا بے تہذیب بدلگام ہے تنگ کن دائرہ اسلام ہے عبدالماجد سے بدتر کافر آج کل شائد ہی کوئی ہو جس نے عیسی علیہ الصلوۃ والسلام کو مجہول النسب بچہ کہا اور قرآن کو اپنے دعوی توحید میں کاذب وناتمام ٹھہرایا اور یہ کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے اپنی تعظیم کی آیتیں تصنیف کرلیں اور رنگ وروغن بڑھانے کو اپنے اہل بیت وازواج کی تعظیمیں بھی اضافہ کردیں وغیرہ وغیرہ ملعونات کثیرہ جب ان باتوں پر اس کی تکفیر ہوئیچار طرف سے کواگہار دوڑ پڑی ناپاك اخباروں میں دفتر کے دفتر اس کی برأت میں سیاہ ہونے لگے ایك کافر ہوا تھا اس کے پیچھے ہزاروں کے اسلام تباہ ہونے لگے مگر جواب ایك حرف کا نہیں بلکہ ڈھٹائی بے شرمی بے حیائی سے مکرنا صاف دن میں ٹھیك دوپہر کو آفتاب کا انکار کرنا وہ بیچارہ تو کوئی چیز نہ تھا لافی العیر ولافی النفیر(نہ اونٹوں میں نہ چڑیوں میں یعنی کسی گنتی میں نہ تھا۔ت) جب اس کی حمایت میں وہ کچھ جوش تو مسٹر ابوالکلام تو لیڈر کبیر ان کا کفر ضرور ٹھیٹ اسلام بنے گا ان کے مقابل اﷲ ورسول و
حوالہ / References
القرآن الکریم ۴۰ /۳۵
قرآن کی کون سنے گا کھلے گمراہان لیام کوجانے دو بدایوں شاہجہان پور لکھنؤ وغیرہ میں بڑے بڑے سنیت کا دھرم بھرنے والے بستے ہیں دیکھئے تکذیب کلام اﷲ وتوہین رسول اﷲ وانکار شریعۃ اﷲ دیکھ کر ان میں کتنے اور کستے ہیں مسٹر آزاد سے توبہ وقبول اسلام شائع کراتے ہیں اور نہ مانیں تو ان سے بائیکاٹ مقاطعہ مناتے ہیں حاشانہ وہ توبہ واسلام شائع کریں نہ یہ ہرگزان کی موالات تعظیم سے پھریں تکذیب کی تو قرآن کی کی ان کی تو نہ کی گالی دی تو رسول اﷲ کو انہیں تو نہ دی۔ اے تصور جویان خود گم ابھی حب ﷲ وبغض ﷲ کے مزے سے واقف ہی نہیں تم۔
" قولوا اسلمنا ولما یدخل الایمن فی قلوبکم " ۔ کہو کہ ہم مطیع ہوئے اور ابھی ایمان تمہارے دلوں میں کہاں داخل ہوا۔(ت)
اور جن بندگان خدا کو ان کا حصہ ملا ہے ان پر چرچتے ہوان کے سایہ سے کہ ان کا سایہ نہیں سایہ مصطفی ہے مستنفرہ ہوکر بچتے ہو یہاں سے ان کے بائیکاٹ اور ترك موالات کی حقیقت کھلتی ہے مسلمان کا ایمان شاہد ہے کہ ترك بھائیوں کا سارا ملك چھین لیں یا کعبہ معظمہ کو معاذ اﷲ ایك ایك اینٹ کردیں ہرگز اﷲ ورسول وقرآن کی تکذیب وتوہین کے برابر نہیں ہوسکتا۔ اگر ان کا وہ جوش وہ نان کو آپریشن (non co-operation)کا خروش اﷲ کے لئے ہوتا تو وہاں ایك حصہ تھا ان سے ہزار حصے ہوتا مگر یہاں ہزاروں حصہ بھی درکنار وہی محبت وہی پیار وہی تعظیم وہی تکریم وہی وداد وہی اتحاد وہی لیڈری وہی سروری تو ﷲانصاف کیا آفتاب سے زیادہ روشن نہ ہوا کہ ہر گز انہیں دین سے غرض نہیں نہ دین کےلئے ان کی کوششیں ہوئیں بلکہ سب جوش وخروش بہرنا ؤنوش سوراج بس باقی ہوس انا ﷲ وانا الیہ رجعون۔مسلمان کہلانے والو!ﷲ اپنا ایمان سنبھالو واحد قہار کے قہر سے ڈرو حب ﷲ وبغض ﷲ کے سامان درست کرو نیچری دیکھ کیسا ہی معظم یا پیارا ہو دور کرو دور بھاگو خدا کے دشمن کو دشمن مانو اس سے تعلق کو آگ جانو ورنہ عنقریب دیکھ لو گے کہ تمہارے قلوب مسخ ہوگئے تمہارے ایمان نسخ ہوگئے
فستذکرون ما اقول لکم و افوض امری الی اللہ ان اللہ بصیر بالعباد ﴿۴۴﴾ " " من توجلد وہ وقت آتا ہے کہ جو میں تم سے کہہ رہا ہوں اسے یاد کرو اور میں اپنے کام اﷲکو سونپتا ہوں بیشك
" قولوا اسلمنا ولما یدخل الایمن فی قلوبکم " ۔ کہو کہ ہم مطیع ہوئے اور ابھی ایمان تمہارے دلوں میں کہاں داخل ہوا۔(ت)
اور جن بندگان خدا کو ان کا حصہ ملا ہے ان پر چرچتے ہوان کے سایہ سے کہ ان کا سایہ نہیں سایہ مصطفی ہے مستنفرہ ہوکر بچتے ہو یہاں سے ان کے بائیکاٹ اور ترك موالات کی حقیقت کھلتی ہے مسلمان کا ایمان شاہد ہے کہ ترك بھائیوں کا سارا ملك چھین لیں یا کعبہ معظمہ کو معاذ اﷲ ایك ایك اینٹ کردیں ہرگز اﷲ ورسول وقرآن کی تکذیب وتوہین کے برابر نہیں ہوسکتا۔ اگر ان کا وہ جوش وہ نان کو آپریشن (non co-operation)کا خروش اﷲ کے لئے ہوتا تو وہاں ایك حصہ تھا ان سے ہزار حصے ہوتا مگر یہاں ہزاروں حصہ بھی درکنار وہی محبت وہی پیار وہی تعظیم وہی تکریم وہی وداد وہی اتحاد وہی لیڈری وہی سروری تو ﷲانصاف کیا آفتاب سے زیادہ روشن نہ ہوا کہ ہر گز انہیں دین سے غرض نہیں نہ دین کےلئے ان کی کوششیں ہوئیں بلکہ سب جوش وخروش بہرنا ؤنوش سوراج بس باقی ہوس انا ﷲ وانا الیہ رجعون۔مسلمان کہلانے والو!ﷲ اپنا ایمان سنبھالو واحد قہار کے قہر سے ڈرو حب ﷲ وبغض ﷲ کے سامان درست کرو نیچری دیکھ کیسا ہی معظم یا پیارا ہو دور کرو دور بھاگو خدا کے دشمن کو دشمن مانو اس سے تعلق کو آگ جانو ورنہ عنقریب دیکھ لو گے کہ تمہارے قلوب مسخ ہوگئے تمہارے ایمان نسخ ہوگئے
فستذکرون ما اقول لکم و افوض امری الی اللہ ان اللہ بصیر بالعباد ﴿۴۴﴾ " " من توجلد وہ وقت آتا ہے کہ جو میں تم سے کہہ رہا ہوں اسے یاد کرو اور میں اپنے کام اﷲکو سونپتا ہوں بیشك
یضلل اللہ فما لہ من ہاد ﴿۳۶﴾ و من یہد اللہ فما لہ من مضل " اﷲ بندوں کو دیکھتا ہے۔ اور جسے اﷲ گمراہ کرے اس کی کوئی ہدایت کرنے والانہیں اور جسے اﷲ ہدایت دے اسے کوئی بہکانے والا نہیں۔(ت)
میں جانتا ہوں کہ حق کڑوالگے گا مگر کوئی مسلمان تو ایسا نکلے گا کہ رب کے حضور گردن جھکا کر سچے دل سے دیکھے حق وباطل کومیزان ایمان میں پرکھے اور اگر سب پر وہی عناد ومکابرہ کا داغ تو وماعلینا الاالبلاغ اللھم الیك المشتکی وانت المستعان وعلیك البلاغ والیك المصیر ولاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم(ہماری ذمہ داری بات پہنچانا تھا اے اﷲ! تیری بارگاہ میں درخواست ہے اور تو ہی مددفرمانے والا ہے تیراکام ہی بات کا موثر فرمانا ہے اور لوٹنا تیری طرف ہے برائی سے پھرنے اور نیکی کو بجالانے کی قوت اﷲ بلند وعظیم کے بغیرنہیں ہوسکتی۔ت)
(۴) عالم موصوف بیشك حق پر ہے اور ان لوگوں کی من گھڑت ترك موالات کہ نصاری سے مجرد معاملات جائزہ بھی حرام بلکہ کفراور ہنود سے وداد واتحاد دلی محبت واخلاص جائز بلکہ فرض قطعی اﷲ ورسول پر افترا ہے اس کا کچھ بیان ہوچکا اور زیادہ تفصیل کے لئے فقیر کا رسالہ المحجۃ المؤتمنۃ ہے" واللہ یہدی من یشاء الی صرط مستقیم﴿۲۱۳﴾" (اور اﷲ جسے چاہے سیدھی راہ دکھائے۔ ت)عالم موصوف پر تنخواہ داری گورنمنٹ کا افتراء کیا جائے شکایت ہے جب ان کے بڑے بڑے لیڈر وہ کچھ جتنے بہتان اللہ ورسول وقرآن عظیم پر باندھ رہے ہیں ابھی قرآن کریم کی آیات سے روشن ہوچکا کہ یہ لوگ آپ ہی ترك موالات کے منکر اور تکذیب قرآن عظیم پر مصر ہیں پھر وہ اپنا عیب عالم پر نہ لگائیں تو کیا کھا کر جئیں باقی رہا کفر وارتداد کا فتوی اور اس کے مفتی ومصدقین ومستفتی اور اس کے ماننے والوں اور اس کے سبب عالم دین کی توہین کرنے والوں پر شرعی احکام سب بعینھا وہی ہیں کہ جواب سوال اول میں گزرے اور یہ کہ عالم موصوف پر ان لوگوں کے حکم کفر وارتداد وہی اپنا عیب دوسرے کو لگانا اور فرعون ملعون کی سنت مذکورہ ہے کذلک قال الذین من قبلہم مثل قولہم تشبہت قلوبہم" (ان سے اگلوں نے بھی ایسی ہی کہی ان کی سی بات ان کے ان کے دل ایك سے ہیں۔ت)
(۵) جماعت اہل سنت میں(کہ محاورہ قرآن وحدیث میں وہی مومنین ہیں کما بینہ الامام
میں جانتا ہوں کہ حق کڑوالگے گا مگر کوئی مسلمان تو ایسا نکلے گا کہ رب کے حضور گردن جھکا کر سچے دل سے دیکھے حق وباطل کومیزان ایمان میں پرکھے اور اگر سب پر وہی عناد ومکابرہ کا داغ تو وماعلینا الاالبلاغ اللھم الیك المشتکی وانت المستعان وعلیك البلاغ والیك المصیر ولاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم(ہماری ذمہ داری بات پہنچانا تھا اے اﷲ! تیری بارگاہ میں درخواست ہے اور تو ہی مددفرمانے والا ہے تیراکام ہی بات کا موثر فرمانا ہے اور لوٹنا تیری طرف ہے برائی سے پھرنے اور نیکی کو بجالانے کی قوت اﷲ بلند وعظیم کے بغیرنہیں ہوسکتی۔ت)
(۴) عالم موصوف بیشك حق پر ہے اور ان لوگوں کی من گھڑت ترك موالات کہ نصاری سے مجرد معاملات جائزہ بھی حرام بلکہ کفراور ہنود سے وداد واتحاد دلی محبت واخلاص جائز بلکہ فرض قطعی اﷲ ورسول پر افترا ہے اس کا کچھ بیان ہوچکا اور زیادہ تفصیل کے لئے فقیر کا رسالہ المحجۃ المؤتمنۃ ہے" واللہ یہدی من یشاء الی صرط مستقیم﴿۲۱۳﴾" (اور اﷲ جسے چاہے سیدھی راہ دکھائے۔ ت)عالم موصوف پر تنخواہ داری گورنمنٹ کا افتراء کیا جائے شکایت ہے جب ان کے بڑے بڑے لیڈر وہ کچھ جتنے بہتان اللہ ورسول وقرآن عظیم پر باندھ رہے ہیں ابھی قرآن کریم کی آیات سے روشن ہوچکا کہ یہ لوگ آپ ہی ترك موالات کے منکر اور تکذیب قرآن عظیم پر مصر ہیں پھر وہ اپنا عیب عالم پر نہ لگائیں تو کیا کھا کر جئیں باقی رہا کفر وارتداد کا فتوی اور اس کے مفتی ومصدقین ومستفتی اور اس کے ماننے والوں اور اس کے سبب عالم دین کی توہین کرنے والوں پر شرعی احکام سب بعینھا وہی ہیں کہ جواب سوال اول میں گزرے اور یہ کہ عالم موصوف پر ان لوگوں کے حکم کفر وارتداد وہی اپنا عیب دوسرے کو لگانا اور فرعون ملعون کی سنت مذکورہ ہے کذلک قال الذین من قبلہم مثل قولہم تشبہت قلوبہم" (ان سے اگلوں نے بھی ایسی ہی کہی ان کی سی بات ان کے ان کے دل ایك سے ہیں۔ت)
(۵) جماعت اہل سنت میں(کہ محاورہ قرآن وحدیث میں وہی مومنین ہیں کما بینہ الامام
صدر الشریعۃ فی التوضیح والملاعلی القاری فی المرقاۃ شرح المشکوۃ(جیسا کہ اسے امام صدر الشریعہ نے توضیح میں اور ملا علی قاری نے مرقاۃ شرح مشکوہ میں بیان کیا ہے۔ت) تفرقہ ڈالنا حرام ہے رب عزوجل نے منافقین کی بنائی مسجد پر جو سخت غضب فرمایا اور اپنے محبوب صلی اﷲتعالی علیہ وسلم کو حکم دیا کہ" لاتقم فیہ ابدا " کبھی اس میں کھڑے نہ ہونااو راس کے بنانے والوں کوفرمایا:
" اسس بنینہ علی شفا جرف ہار فانہار بہ فی نارجہنم " اس نے اس کی بنیاد رکھی گراؤ گڑھے کے کنارے پر تو وہ اسے لے کر جہنم کی آگ میں ڈھے پڑا۔
اور حضور انور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے صحابہ کرام کوبھیج کر اس کو ڈھوادیا جلوادیا۔ پھر حکم دیا کہ اس جگہ کو گھورا بنایا جائے جس میں نجاستیں اور کوڑا ڈالاجائے۔ رب عزوجل نے اس کی چار علتیں ارشاد فرمائیںتیسری علت یہی
تفریقا بین المؤمنین" (مسلمانوں میں تفرقہ ڈالنے کو۔ت) ہے کہ انہوں نے اس کے سبب جماعت میں تفرقہ ڈالنا چاہاتھا۔معالم شریف میں ہے:
لانھم کانواجمیعا یصلون فی مسجد قبافبنوا مسجد الضرار لیصلی فیہ بعضھم فیؤدی ذلك الی الاختلاف و افتراق الکلمۃ۔ یعنی ساری جماعت مسجدقبا شریف میں ہوتی تھی خبثاء نے وہ نقصان رسانی کی مسجد اس لئے بنائی کہ کچھ مسلمان اس میں پڑھیںجس کا نتیجہ یہ ہو کہ پھوٹ پڑے اور تفرقہ ہوجائے۔
بلکہ ان خبیثوں نے جو عذر تفریق ظاہر کیا تھا یہ تفریق جبلپور اس سے ہزاروں درجے بدتر ہے۔ انہوں نے کہا تھا:
انا قد بنینا مسجدا لذی العلۃ والحاجۃ واللیلۃ المطیرۃ واللیلۃ الشاتیۃ ۔ ہم نے مسجد بنائی ہے بیمار اور کامی اور بارش کی رات اور جاڑے کی شب کے لئے۔
اور ان کا عذر تفریق یہ ہو اکہ عالم دین معاذاﷲ کافر وبدمذہب وناقابل امامت ہے جھوٹے وہ بھی تھے اور جھوٹے یہ بھیمگر ع
" اسس بنینہ علی شفا جرف ہار فانہار بہ فی نارجہنم " اس نے اس کی بنیاد رکھی گراؤ گڑھے کے کنارے پر تو وہ اسے لے کر جہنم کی آگ میں ڈھے پڑا۔
اور حضور انور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے صحابہ کرام کوبھیج کر اس کو ڈھوادیا جلوادیا۔ پھر حکم دیا کہ اس جگہ کو گھورا بنایا جائے جس میں نجاستیں اور کوڑا ڈالاجائے۔ رب عزوجل نے اس کی چار علتیں ارشاد فرمائیںتیسری علت یہی
تفریقا بین المؤمنین" (مسلمانوں میں تفرقہ ڈالنے کو۔ت) ہے کہ انہوں نے اس کے سبب جماعت میں تفرقہ ڈالنا چاہاتھا۔معالم شریف میں ہے:
لانھم کانواجمیعا یصلون فی مسجد قبافبنوا مسجد الضرار لیصلی فیہ بعضھم فیؤدی ذلك الی الاختلاف و افتراق الکلمۃ۔ یعنی ساری جماعت مسجدقبا شریف میں ہوتی تھی خبثاء نے وہ نقصان رسانی کی مسجد اس لئے بنائی کہ کچھ مسلمان اس میں پڑھیںجس کا نتیجہ یہ ہو کہ پھوٹ پڑے اور تفرقہ ہوجائے۔
بلکہ ان خبیثوں نے جو عذر تفریق ظاہر کیا تھا یہ تفریق جبلپور اس سے ہزاروں درجے بدتر ہے۔ انہوں نے کہا تھا:
انا قد بنینا مسجدا لذی العلۃ والحاجۃ واللیلۃ المطیرۃ واللیلۃ الشاتیۃ ۔ ہم نے مسجد بنائی ہے بیمار اور کامی اور بارش کی رات اور جاڑے کی شب کے لئے۔
اور ان کا عذر تفریق یہ ہو اکہ عالم دین معاذاﷲ کافر وبدمذہب وناقابل امامت ہے جھوٹے وہ بھی تھے اور جھوٹے یہ بھیمگر ع
حوالہ / References
القرآن الکریم ۹ /۱۰۸
القرآن الکریم ۹ /۱۰۹
القرآن الکریم ۹ /۱۰۶
معالم التنزیل علی ہامش تفسیر الخازن آیۃ والذی اتخذوامسجدًاضرارًا کے تحت مصطفی البابی مصر ۳/ ۱۴۷
معالم التنزیل علی ہامش تفسیر الخازن آیۃ والذی اتخذوامسجدًاضرارًا کے تحت مصطفی البابی مصر ۳/ ۱۴۷
القرآن الکریم ۹ /۱۰۹
القرآن الکریم ۹ /۱۰۶
معالم التنزیل علی ہامش تفسیر الخازن آیۃ والذی اتخذوامسجدًاضرارًا کے تحت مصطفی البابی مصر ۳/ ۱۴۷
معالم التنزیل علی ہامش تفسیر الخازن آیۃ والذی اتخذوامسجدًاضرارًا کے تحت مصطفی البابی مصر ۳/ ۱۴۷
ببیں تفاوت رہ از کجاست تابکجا
(راستے کا تفاوت دیکھ کہاں تك ہے۔ت)
مسلمانوں کو مسجدالہی میں جانے سے منع کرنے اور اس کی ویرانی میں کوشاں ہونے کا حکم تو یہ ہے جو قرآن عظیم میں فرمایا:
" ومن اظلم ممن منع مسجد اللہ ان یذکر فیہا اسمہ وسعی فی خرابہا۔ اولئک ما کان لہم ان یدخلوہا الا خآئفین۬ لہم فی الدنیا خزی ولہم فی الاخرۃ عذاب عظیم﴿۱۱۴﴾" ۔ اس سے بڑھ کر ظالم کون جو اﷲ کی مسجدوں کو ان میں نام الہی لینے سے روکے اور ان کی ویرانی میں کوشش کرے ایسوں کو نہیں پہنچتا تھا کہ ان میں جائیں مگر ڈرتے ہوئے ان کے لئے دنیا میں رسوائی ہے اور ان کے لئے آخرت میں بڑاعذاب۔
مگر یہاں ان کا عذریہ ہوگا کہ ہمیں مسجدویران کرنا اور اس میں نماز سے روکنا مقصود نہ تھا بلکہ ہم نے تو بھلائی ہی چاہی تھی امام کے پیچھے مسلمانوں کی نماز خراب نہ ہو یہ بھلائی چاہنے کا عذر بھی ان منافقوں مسجد ضرار بنانے والوں نے پیش کیا تھا اور خالی زبانی نہیں بلکہ قسم کے ساتھ مؤکد کرکے
قال اﷲ تعالی" ولیحلفن ان اردنا الا الحسنی " ۔ اﷲ تعالی نے فرمایا ضرور ضرور اﷲ کی قسم کھاکر کہیں گے کہ ہم نے توتفریق جماعت سے بھلائی ہی چاہی۔
اس پر جواب فرمایا:" واللہ یشہد انہم لکذبون ﴿۱۰۷﴾" (اﷲ گواہی دیتا ہے کہ بیشك یہ جھوٹے ہیں) جبکہ وہ وجہ جو یہ ظاہر کرتے ہیں قطعا کذب و باطل ہے محض معاندانہ اس کا جھوٹا حیلہ گھڑکر مسلمانوں کو مسجد سے روکنا اور جماعت میں پھوٹ ڈالنا چاہا تو وہ نہ ہوا مگر مسجد الہی کو یادالہی سے روکنا مسلمانوں میں تفرقہ ڈالنے اورا نہیں مسجد سے روکنے میں کافروں سے مدد لینا اور انہیں اغوائے مسلمین کے لئے راستوں پر مقرر کرنا نظر بحقیقت توٹھیك مناسبت پر واقع ہوا کافروں سے زیادہ اس کا اہل کون تھا ایسے کام لینے والوں کے ایسے کام کو ایسے ہی کام کرنے والے مناسب تھے" الخبیثت للخبیثین و الخبیثون للخبیثت" ( گندیاں گندوں کےلئے اور گندے گندیوں کے لئے۔ت) مگر ان کے زعم پر یہ کافروں سے استمداد اسی قسم میں واقع ہوا جوان کے ادعا میں دینی کام تھا اور دینی کام میں کافروں سے استعانت حرام
قال اﷲ عزوجل" لا یتخذ المؤمنون الکفرین اﷲ تعالی نے فرمایا: مسلمان مسلمانوں کے سواکافروں
(راستے کا تفاوت دیکھ کہاں تك ہے۔ت)
مسلمانوں کو مسجدالہی میں جانے سے منع کرنے اور اس کی ویرانی میں کوشاں ہونے کا حکم تو یہ ہے جو قرآن عظیم میں فرمایا:
" ومن اظلم ممن منع مسجد اللہ ان یذکر فیہا اسمہ وسعی فی خرابہا۔ اولئک ما کان لہم ان یدخلوہا الا خآئفین۬ لہم فی الدنیا خزی ولہم فی الاخرۃ عذاب عظیم﴿۱۱۴﴾" ۔ اس سے بڑھ کر ظالم کون جو اﷲ کی مسجدوں کو ان میں نام الہی لینے سے روکے اور ان کی ویرانی میں کوشش کرے ایسوں کو نہیں پہنچتا تھا کہ ان میں جائیں مگر ڈرتے ہوئے ان کے لئے دنیا میں رسوائی ہے اور ان کے لئے آخرت میں بڑاعذاب۔
مگر یہاں ان کا عذریہ ہوگا کہ ہمیں مسجدویران کرنا اور اس میں نماز سے روکنا مقصود نہ تھا بلکہ ہم نے تو بھلائی ہی چاہی تھی امام کے پیچھے مسلمانوں کی نماز خراب نہ ہو یہ بھلائی چاہنے کا عذر بھی ان منافقوں مسجد ضرار بنانے والوں نے پیش کیا تھا اور خالی زبانی نہیں بلکہ قسم کے ساتھ مؤکد کرکے
قال اﷲ تعالی" ولیحلفن ان اردنا الا الحسنی " ۔ اﷲ تعالی نے فرمایا ضرور ضرور اﷲ کی قسم کھاکر کہیں گے کہ ہم نے توتفریق جماعت سے بھلائی ہی چاہی۔
اس پر جواب فرمایا:" واللہ یشہد انہم لکذبون ﴿۱۰۷﴾" (اﷲ گواہی دیتا ہے کہ بیشك یہ جھوٹے ہیں) جبکہ وہ وجہ جو یہ ظاہر کرتے ہیں قطعا کذب و باطل ہے محض معاندانہ اس کا جھوٹا حیلہ گھڑکر مسلمانوں کو مسجد سے روکنا اور جماعت میں پھوٹ ڈالنا چاہا تو وہ نہ ہوا مگر مسجد الہی کو یادالہی سے روکنا مسلمانوں میں تفرقہ ڈالنے اورا نہیں مسجد سے روکنے میں کافروں سے مدد لینا اور انہیں اغوائے مسلمین کے لئے راستوں پر مقرر کرنا نظر بحقیقت توٹھیك مناسبت پر واقع ہوا کافروں سے زیادہ اس کا اہل کون تھا ایسے کام لینے والوں کے ایسے کام کو ایسے ہی کام کرنے والے مناسب تھے" الخبیثت للخبیثین و الخبیثون للخبیثت" ( گندیاں گندوں کےلئے اور گندے گندیوں کے لئے۔ت) مگر ان کے زعم پر یہ کافروں سے استمداد اسی قسم میں واقع ہوا جوان کے ادعا میں دینی کام تھا اور دینی کام میں کافروں سے استعانت حرام
قال اﷲ عزوجل" لا یتخذ المؤمنون الکفرین اﷲ تعالی نے فرمایا: مسلمان مسلمانوں کے سواکافروں
حوالہ / References
القرآن الکریم ۲ /۱۱۴
القرآن الکریم ۹ /۱۰۷
القرآن الکریم ۹ /۱۰۷
القرآن الکریم ۲۴ /۲۶
القرآن الکریم ۹ /۱۰۷
القرآن الکریم ۹ /۱۰۷
القرآن الکریم ۲۴ /۲۶
اولیاء من دون المؤمنین ومن یفعل ذلک فلیس من اللہ فی شیء" کو مددگار نہ بنائیں اور جو ایساکرے اسے اﷲ سے کچھ علاقہ نہیں۔
تفسیر ارشاد العقل وتفسیر فتوحات الہیہ میں اسی آیۃ کریمہ کی تفسیر میں ہے:نھواعن الاستعانۃ بھم فی الامور الدینیۃ اس آیہ کریمہ میں مسلمانوں کو ا س سے منع فرمایا کہ کافروں سے کسی دینی کام میں مدد لیں یونہی ایسی نماز قائم کرنے کےلئے جس کی بنا پر مسلمانوں میں تفرقہ ڈالنے اور سنی عالم کی اقتداء سے روك کر غالبا کسی"منہم"کے پیچھے پڑھوانے پر ہو زمین کفار ہی مناسب تھی کہ قضیہ زمین پر سرزمین ورنہ فقہائے کرام نے تو کافر کی زمین میں نما ز پڑھنے سے اتنا روکا ہے کہ مسلمان کی زمین میں بے اس کے اذن کے پڑھے اور کافر کی زمین سے بچے اور اگر مسلمان کی زمین میں کھیتی ہے کہ اس میں نہیں پڑھ سکتا توراستے میں پڑھے اور کافر کی زمین میں نہ پڑھے اگرچہ راستے میں نماز پڑھنا مکروہ ہے مگر یہ کراہت کافر کی زمین میں پڑھنے کی کراہت سے ہلکی ہے۔حاوی قدسی میں ہے:
ان اضطربین ارض مسلم و کافر یصلی فی ارض المسلم اذلم تکن مزروعۃ اولکافر یصلی فی الطریق ۔ اگر مسلمان اور کافر کی زمین کے درمیان اضطراب آگیا تو مسلمان کی زمین میں نماز ادا کی جائے گی بشرطیکہ وہ کاشت نہ ہو اگر وہ کاشت ہے یا کافر ہی کی زمین ہے تو راستے میں نماز ادا کرلی جائے۔(ت)
ہاں ظاہرا یہاں اس کافر مالك زمین کا اذن ہوگا اب ایمانی نگاہ سے یہ فرق دیکھنا چاہئے کہ کہاں تو کافر کی بے خبری میں اس کی زمین میں وہ نمازپڑھنی جس سے رضائے الہی مقصود ہو اور کہاں مسلمانوں کی جماعت میں تفرقہ ڈالنے اور بندگان الہی کو مسجد الہی سے روکنے کےلئے کافر کی دلی خوشی کہ مسلمانوں میں پھوٹ پڑے پوری کرنے کو اس کی زمین میں نماز قائم کرنی کافر کی وہ کراہت بدتر تھی جو اس کی زمین میں نماز پڑھنے سے ہوتی یا کافر کی یہ خوشی بدرجہا بدتر ہے جو اس کی کراہت قلب پر غالب آگئی اور جس کے سبب خود اس نے اپنی زمین خوش خوش نماز کیلئے دی اول کا مقصود رضائے الہی ہے اور کافر کو اس سے غیظ و نفرت اور دوم کا مقصود مسلمانوں میں تفرقہ ہے کہ نامرضی خداہے اور کافر کو اس سے سرور فرحت" اعتبروا یاولی الابصر ﴿۲﴾" (اے اہل ابصار! عبرت حاصل کرو۔ت)
تفسیر ارشاد العقل وتفسیر فتوحات الہیہ میں اسی آیۃ کریمہ کی تفسیر میں ہے:نھواعن الاستعانۃ بھم فی الامور الدینیۃ اس آیہ کریمہ میں مسلمانوں کو ا س سے منع فرمایا کہ کافروں سے کسی دینی کام میں مدد لیں یونہی ایسی نماز قائم کرنے کےلئے جس کی بنا پر مسلمانوں میں تفرقہ ڈالنے اور سنی عالم کی اقتداء سے روك کر غالبا کسی"منہم"کے پیچھے پڑھوانے پر ہو زمین کفار ہی مناسب تھی کہ قضیہ زمین پر سرزمین ورنہ فقہائے کرام نے تو کافر کی زمین میں نما ز پڑھنے سے اتنا روکا ہے کہ مسلمان کی زمین میں بے اس کے اذن کے پڑھے اور کافر کی زمین سے بچے اور اگر مسلمان کی زمین میں کھیتی ہے کہ اس میں نہیں پڑھ سکتا توراستے میں پڑھے اور کافر کی زمین میں نہ پڑھے اگرچہ راستے میں نماز پڑھنا مکروہ ہے مگر یہ کراہت کافر کی زمین میں پڑھنے کی کراہت سے ہلکی ہے۔حاوی قدسی میں ہے:
ان اضطربین ارض مسلم و کافر یصلی فی ارض المسلم اذلم تکن مزروعۃ اولکافر یصلی فی الطریق ۔ اگر مسلمان اور کافر کی زمین کے درمیان اضطراب آگیا تو مسلمان کی زمین میں نماز ادا کی جائے گی بشرطیکہ وہ کاشت نہ ہو اگر وہ کاشت ہے یا کافر ہی کی زمین ہے تو راستے میں نماز ادا کرلی جائے۔(ت)
ہاں ظاہرا یہاں اس کافر مالك زمین کا اذن ہوگا اب ایمانی نگاہ سے یہ فرق دیکھنا چاہئے کہ کہاں تو کافر کی بے خبری میں اس کی زمین میں وہ نمازپڑھنی جس سے رضائے الہی مقصود ہو اور کہاں مسلمانوں کی جماعت میں تفرقہ ڈالنے اور بندگان الہی کو مسجد الہی سے روکنے کےلئے کافر کی دلی خوشی کہ مسلمانوں میں پھوٹ پڑے پوری کرنے کو اس کی زمین میں نماز قائم کرنی کافر کی وہ کراہت بدتر تھی جو اس کی زمین میں نماز پڑھنے سے ہوتی یا کافر کی یہ خوشی بدرجہا بدتر ہے جو اس کی کراہت قلب پر غالب آگئی اور جس کے سبب خود اس نے اپنی زمین خوش خوش نماز کیلئے دی اول کا مقصود رضائے الہی ہے اور کافر کو اس سے غیظ و نفرت اور دوم کا مقصود مسلمانوں میں تفرقہ ہے کہ نامرضی خداہے اور کافر کو اس سے سرور فرحت" اعتبروا یاولی الابصر ﴿۲﴾" (اے اہل ابصار! عبرت حاصل کرو۔ت)
حوالہ / References
القرآن الکریم ۳ /۳۲۸
ارشاد العقل السلیم(تفسیر ابی السعود) آیت لایتخذالمومنون الکٰفرین کے تحت داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/ ۲۳،الفتوحات الالٰہیہ آیت لایتخذالمومنون الکٰفرین کے تحت مصطفی البابی مصر ۱/ ۲۵۷
الحاوی القدسی
القرآن الکریم ۵۹ /۲
ارشاد العقل السلیم(تفسیر ابی السعود) آیت لایتخذالمومنون الکٰفرین کے تحت داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/ ۲۳،الفتوحات الالٰہیہ آیت لایتخذالمومنون الکٰفرین کے تحت مصطفی البابی مصر ۱/ ۲۵۷
الحاوی القدسی
القرآن الکریم ۵۹ /۲
بلاشبہہ ایسا کرنے والے مسجد ضرار والے منافقوں کے وارث اور مسلمانوں کے بدخواہ اور ایذائے مسلمین کیلئے مشرکین کے آلے اور ان کے مسخرے یعنی انکے ہاتھوں میں ضرراسلام کے لئے مسخر ہیں والعیاذ باﷲتعالی۔
(۶ و ۷)گائے کی قربانی بیشك شعار اسلام ہے
قال اﷲ تعالی" والبدن جعلنہا لکم من شعئراللہ" ۔ اﷲ تعالی نے فرمایا: ہم نے اونٹ اور گائے کی قربانی کو تمہارے لئے دین الہی کی نشانیوں سے کیا۔
خود مولوی عبدالباری صاحب فرنگی محلی کو اس کا اقرار ہے۔ رسالہ قربانی صفحہ ۲۱پرلکھتے ہیں:" والبدن جعلنہا لکم من شعئراللہc"سے گائے کی قربانی ثابت ہوتی ہے "خصوصا اس معدن مشرکین ہندوستان میں کہ یہاں اسکے ابقا واجر ابلا شبہہ اعظم مہمات اسلام سے ہے مکتوبات جناب شیخ مجدد صاحب میں ہے:
ذبح بقرہ درہندوستان از اعظم شعائر اسلام است ۔ ہندوستان میں گائے کا ذبح کرنا اسلام کے سب سے بڑے شعائر میں سے ہے ۔(ت)
یہاں اس کا باقی رکھنا یقینا واجب شرعی ہے جس کی تحقیق ہمارے رسالہ"انفس الفکر فی قربان البقر"میں ہے
علمائے لکھنؤ نے بھی اسے تسلیم کیا ہے۔ مولوی عبدالحی صاحب کے فتاوی میں ہے:
محمد عبدالحی ابوالحسنات
"گائے ذبح کرنا طریقہ قدیمہ ہے زمان آنحضرت صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وجملہ سلف صالحین سے تمام بلاد وامصار میں اور اس پر اجماع واتفاق ہے تمام اہل اسلام کا ایسے امرشرعی ماثور قدیم سے اگر ہنود بنظر تعصب مذہبی منع کریں تو مسلمانوں کو اس سے باز رہنا نہیں درست ہے بلکہ ہر گاہ ہنود ایك امر شرعی قدیم کے ابطال میں کوشش کریں اہل اسلام پر واجب ہے کہ اس کے ابقاء واجرا میں سعی کریں اور اگر ہنود کے کہنے سے اس فعل کو چھوڑیں گے تو گنہ گار ہوں گے ہنود منع کریں تو اسکے ابقا میں سعی واجب و لازم ہے (ملخصا)
انہیں کے دوسرے فتوے میں ہے:"گائے ذبح کرنے کا جواز قرآن و حدیث سے ثابت ہے ہندو بہ نظر اپنے مذہب کے روکے
(۶ و ۷)گائے کی قربانی بیشك شعار اسلام ہے
قال اﷲ تعالی" والبدن جعلنہا لکم من شعئراللہ" ۔ اﷲ تعالی نے فرمایا: ہم نے اونٹ اور گائے کی قربانی کو تمہارے لئے دین الہی کی نشانیوں سے کیا۔
خود مولوی عبدالباری صاحب فرنگی محلی کو اس کا اقرار ہے۔ رسالہ قربانی صفحہ ۲۱پرلکھتے ہیں:" والبدن جعلنہا لکم من شعئراللہc"سے گائے کی قربانی ثابت ہوتی ہے "خصوصا اس معدن مشرکین ہندوستان میں کہ یہاں اسکے ابقا واجر ابلا شبہہ اعظم مہمات اسلام سے ہے مکتوبات جناب شیخ مجدد صاحب میں ہے:
ذبح بقرہ درہندوستان از اعظم شعائر اسلام است ۔ ہندوستان میں گائے کا ذبح کرنا اسلام کے سب سے بڑے شعائر میں سے ہے ۔(ت)
یہاں اس کا باقی رکھنا یقینا واجب شرعی ہے جس کی تحقیق ہمارے رسالہ"انفس الفکر فی قربان البقر"میں ہے
علمائے لکھنؤ نے بھی اسے تسلیم کیا ہے۔ مولوی عبدالحی صاحب کے فتاوی میں ہے:
محمد عبدالحی ابوالحسنات
"گائے ذبح کرنا طریقہ قدیمہ ہے زمان آنحضرت صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وجملہ سلف صالحین سے تمام بلاد وامصار میں اور اس پر اجماع واتفاق ہے تمام اہل اسلام کا ایسے امرشرعی ماثور قدیم سے اگر ہنود بنظر تعصب مذہبی منع کریں تو مسلمانوں کو اس سے باز رہنا نہیں درست ہے بلکہ ہر گاہ ہنود ایك امر شرعی قدیم کے ابطال میں کوشش کریں اہل اسلام پر واجب ہے کہ اس کے ابقاء واجرا میں سعی کریں اور اگر ہنود کے کہنے سے اس فعل کو چھوڑیں گے تو گنہ گار ہوں گے ہنود منع کریں تو اسکے ابقا میں سعی واجب و لازم ہے (ملخصا)
انہیں کے دوسرے فتوے میں ہے:"گائے ذبح کرنے کا جواز قرآن و حدیث سے ثابت ہے ہندو بہ نظر اپنے مذہب کے روکے
حوالہ / References
القرآن الکریم ۲۲ /۳۶
رسالہ قربانی عبدالباری فرنگی محلی ص۲۱
مکتوبات امام ربانی مکتوب ہشادویکم نولکشور لکھنؤ ۱/ ۱۰۶
مجموعہ فتاوٰی عبدالحی کتاب الاضحیۃ مطبع یوسفی لکھنؤ ۲/ ۲۸۳
رسالہ قربانی عبدالباری فرنگی محلی ص۲۱
مکتوبات امام ربانی مکتوب ہشادویکم نولکشور لکھنؤ ۱/ ۱۰۶
مجموعہ فتاوٰی عبدالحی کتاب الاضحیۃ مطبع یوسفی لکھنؤ ۲/ ۲۸۳
تومسلمانوں کو باز آنا نہیں درست ہے اور ہندو کی ممانعت کو جو مبنی ہے ان کے اعتقاد باطل پر تسلیم کرلینا نہیں جائز ہے جو اس کی عظمت کا خیال کرے اس کے اسلام میں فتور ہے پس ہنود کی ممانعت تسلیم کرنا موجب ان کے اعتقاد باطل کی تقویت وترویج کا ہوگا اور یہ کسی طرح شرعا جائز نہیں مسلمانوں کو ضرور رہے کہ گاؤ کشی ترك نہ کریں "(ملخصا)
محمد عبدالحی ابوالحسنات
مولوی عبدالباری صاحب کے والد ماجد مولانا عبدالوہاب صاحب کے فتوی میں ہے:
"ان بلاد میں مسلمانوں کو گاؤ کشی باقی رکھنے میں کوشش لازم ہے "
محمد عبدالوہاب
انھیں کے دوسرے فتوی میں ہے :"قربانی گائے کی شعار اسلام ہے اس کا موقوف کرنا بسبب ممانعت ہنود موجب معصیت ہے بلکہ قائم رکھنے قربانی گائے میں مسلمانوں کو سعی لازم ہے "
محمد عبدالوہاب
خود مولوی عبدالباری صاحب کے رسالہ قربانی میں ص۲۰میں ہے:
"رکاوٹ ڈالنے کی صورت میں گائے کی قربانی واجب ہوجاتی ہے"
اسی کے صفحہ ۲۱میں ہے:"جب سے ہندؤوں کو اس کا خیال ہوا کہ گائے کی قربانی روکی جائے اس وقت سے مسلمانوں کو بھی اپنا حق قائم رکھنے اور اپنے مذہبی حکم جاری رکھنے کا خیال پیداہوگیا حکم شریعت بھی ایسا ہی ہے کہ جب قربانی رو کی جائے تو لازم ہے کہ ہم اس کو کریں "
صفحہ۶ میں ہے:"میں جانتا ہوں روکنے سے اس کا انجام دینا ضروری ہوجاتا ہے "
صفحہ۳:"مذہبی شعار کو کسی دباؤ یا مروت سے نہیں چھوڑسکتے۔"
محمد عبدالحی ابوالحسنات
مولوی عبدالباری صاحب کے والد ماجد مولانا عبدالوہاب صاحب کے فتوی میں ہے:
"ان بلاد میں مسلمانوں کو گاؤ کشی باقی رکھنے میں کوشش لازم ہے "
محمد عبدالوہاب
انھیں کے دوسرے فتوی میں ہے :"قربانی گائے کی شعار اسلام ہے اس کا موقوف کرنا بسبب ممانعت ہنود موجب معصیت ہے بلکہ قائم رکھنے قربانی گائے میں مسلمانوں کو سعی لازم ہے "
محمد عبدالوہاب
خود مولوی عبدالباری صاحب کے رسالہ قربانی میں ص۲۰میں ہے:
"رکاوٹ ڈالنے کی صورت میں گائے کی قربانی واجب ہوجاتی ہے"
اسی کے صفحہ ۲۱میں ہے:"جب سے ہندؤوں کو اس کا خیال ہوا کہ گائے کی قربانی روکی جائے اس وقت سے مسلمانوں کو بھی اپنا حق قائم رکھنے اور اپنے مذہبی حکم جاری رکھنے کا خیال پیداہوگیا حکم شریعت بھی ایسا ہی ہے کہ جب قربانی رو کی جائے تو لازم ہے کہ ہم اس کو کریں "
صفحہ۶ میں ہے:"میں جانتا ہوں روکنے سے اس کا انجام دینا ضروری ہوجاتا ہے "
صفحہ۳:"مذہبی شعار کو کسی دباؤ یا مروت سے نہیں چھوڑسکتے۔"
حوالہ / References
مجموعہ فتاوٰی عبدالحی کتاب الاضیحۃ مطبع یوسفی لکھنؤ ۲/ ۸۶۔۲۸۵
فتاوی محمد عبدالوہاب بحوالہ مجموعہ فتاوٰی مطبع یوسفی لکھنؤ ۲/ ۲۸۳
فتاوی محمد عبدالوہاب بحوالہ مجموعہ فتاوٰی مطبع یوسفی لکھنؤ ۳/ ۲۸۶
رسالہ قربانی عبدالباری فرنگی محلی ص۲۰
رسالہ قربانی عبدالباری فرنگی محلی ص۲۱
قربانی عبدالباری فرنگی محلی ص۶
رسالہ قربانی عبدالباری فرنگی محلی ص۳
فتاوی محمد عبدالوہاب بحوالہ مجموعہ فتاوٰی مطبع یوسفی لکھنؤ ۲/ ۲۸۳
فتاوی محمد عبدالوہاب بحوالہ مجموعہ فتاوٰی مطبع یوسفی لکھنؤ ۳/ ۲۸۶
رسالہ قربانی عبدالباری فرنگی محلی ص۲۰
رسالہ قربانی عبدالباری فرنگی محلی ص۲۱
قربانی عبدالباری فرنگی محلی ص۶
رسالہ قربانی عبدالباری فرنگی محلی ص۳
صفحہ۱۶:"ہندؤوں کے روکنے یا ان کی محض خوشامد سے ترك قربانی گاؤ کو ممنوع سمجھتا ہوں "
صفحہ ۱۹: شعار دین میں سے جس کو روکا جائے اس کے برقرار رکھنے کی پابندی مسلمانوں پر عائد ہوجاتی ہے"۔
بقیہ اقوال کی تشریح رسالہ الطارئ الدارئ میں ہے تو جو لوگ خوشنودی مشرکین کے لئے اس شعار اسلام کو مٹانے چاہتے اور مسلمانوں کو اس کے چھوڑنے پر زور دیتے ہیں سخت فاسق مفسد آمر بالحرام بدخواہ اسلام مسلمانوں کے رہزن ہیں مشرکین کے گرگے شیطان کے بھائی ابلیس کے کارندے حق کے دشمن ہیں منافقوں کے وارث ہیں جن کو حق سبحانہ فرماتا ہے:
المنفقون والمنفقت بعضہم من بعض یامرون بالمنکر وینہون عن المعروف ویقبضون ایدیہم نسوا اللہ فنسیہم ان المنفقین ہم الفسقون ﴿۶۷﴾ وعد اللہ المنفقین والمنفقت والکفار نارجہنم خلدین فیہا ہی حسبہم ولعنہم اللہ ولہم عذاب مقیم ﴿۶۸﴾
منافق مرد عورت آپس میں ایك ہیں برائی(مثلا شعار اسلام بندکرنے) کاحکم دیتے ہیں اور بھلائی (شعار اسلام جاری رکھنے)سے روکتے ہیں اور (نیك کام خصوصا شعائر اسلام سے)ہاتھ کھینچتے ہیں وہ اﷲ کو بھول گئے تو اس نے انہیں چھوڑ دیا بیشك منافق ہی پکے فاسق ہیں اﷲ نے منافق مردوں عورتوں اور ان کافروں سے(جن کی طرف یہ منافق جھکتے اور ان کی خوشنودی چاہتے ہیں) جہنم کی آگ کا وعدہ فرمایا ہے جس میں وہ سب ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے وہ ان کے عذاب کو بہت ہے اور اﷲ نے ان سب پر لعنت کی اور ان کے لئے دائم عذاب ہے۔ والعیاذ باﷲ تعالی۔
ان کے دام میں پھنس کر گائے کی قربانی چھوڑنے والا اﷲ عزوجل کا مخالف اور ابلیس لعین کافر مانبردار ہے تارك واجب ومرتکب حرام مستحق نارو غضب جبار ہے۔
والعیاذ باﷲ العزیز الغفار وصلی اﷲ تعالی اﷲ عزیز وغفار کی پناہاوراس کے حبیب مختار
صفحہ ۱۹: شعار دین میں سے جس کو روکا جائے اس کے برقرار رکھنے کی پابندی مسلمانوں پر عائد ہوجاتی ہے"۔
بقیہ اقوال کی تشریح رسالہ الطارئ الدارئ میں ہے تو جو لوگ خوشنودی مشرکین کے لئے اس شعار اسلام کو مٹانے چاہتے اور مسلمانوں کو اس کے چھوڑنے پر زور دیتے ہیں سخت فاسق مفسد آمر بالحرام بدخواہ اسلام مسلمانوں کے رہزن ہیں مشرکین کے گرگے شیطان کے بھائی ابلیس کے کارندے حق کے دشمن ہیں منافقوں کے وارث ہیں جن کو حق سبحانہ فرماتا ہے:
المنفقون والمنفقت بعضہم من بعض یامرون بالمنکر وینہون عن المعروف ویقبضون ایدیہم نسوا اللہ فنسیہم ان المنفقین ہم الفسقون ﴿۶۷﴾ وعد اللہ المنفقین والمنفقت والکفار نارجہنم خلدین فیہا ہی حسبہم ولعنہم اللہ ولہم عذاب مقیم ﴿۶۸﴾
منافق مرد عورت آپس میں ایك ہیں برائی(مثلا شعار اسلام بندکرنے) کاحکم دیتے ہیں اور بھلائی (شعار اسلام جاری رکھنے)سے روکتے ہیں اور (نیك کام خصوصا شعائر اسلام سے)ہاتھ کھینچتے ہیں وہ اﷲ کو بھول گئے تو اس نے انہیں چھوڑ دیا بیشك منافق ہی پکے فاسق ہیں اﷲ نے منافق مردوں عورتوں اور ان کافروں سے(جن کی طرف یہ منافق جھکتے اور ان کی خوشنودی چاہتے ہیں) جہنم کی آگ کا وعدہ فرمایا ہے جس میں وہ سب ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے وہ ان کے عذاب کو بہت ہے اور اﷲ نے ان سب پر لعنت کی اور ان کے لئے دائم عذاب ہے۔ والعیاذ باﷲ تعالی۔
ان کے دام میں پھنس کر گائے کی قربانی چھوڑنے والا اﷲ عزوجل کا مخالف اور ابلیس لعین کافر مانبردار ہے تارك واجب ومرتکب حرام مستحق نارو غضب جبار ہے۔
والعیاذ باﷲ العزیز الغفار وصلی اﷲ تعالی اﷲ عزیز وغفار کی پناہاوراس کے حبیب مختار
حوالہ / References
رسالہ قربانی عبدالباری فرنگی محلی ص۱۶
رسالہ قربانی عبدالباری فرنگی محلی ص۱۹
رسالہ قربانی عبدالباری فرنگی محلی ص۱۹
علی الحبیب المختار والہ الاطہار وصحبہ الابرار و اولیائہ الاخیار وامتہ اجمعین الی یوم القرار و بارك وسلم واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔ پر صلوۃ وسلام آپ کی آل اطہار اصحاب ابرار اولیا اخیار اور امت پر بھی قیامت تک اور برکت وسلامتی ہو۔ واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم(ت)
مسئلہ۲۳:ازوانا پور محلہ شگونہ مسجد حنفیہ مسئولہ محمد حنیف خاں ۳۰ذی الحجہ ۱۳۳۹ھ
بگرامی خدمت فیض درجت امام اہل سنت اعلی حضرت عظیم البرکۃ مولانا مولوی مفتی شاہ احمد رضاخاں صاحب مدظلہم الاقدسالسلام علیکم!گزارش خدمت ہے کہ یہاں شہر پٹنہ ایك جگہ پر مجمع ہواجسمیں علمائے بہار بھی شریك تھے۔اور عام لوگ بھی مولوی ابوالکلام حامی ترك موالات نے تحریك کی کہ بہار واڑیسہ کے لیے ایك امیر اسلام ہو نا چاہئے اس پر لوگوں نے حضرت اقدس شاہ بدرالدین صاحب پھلواروی کو تجویز کرکے امیر اسلام بنایااب اعلان ہے کہ لوگ شہر کے امیر اسلام کے ہاتھ پر بیعت کریںلہذا حضور والا سے یہ سوال کیا جاتا ہے کہ امیر اسلام کے ہاتھ پر بیعت کرنا درست ہے یانہیں اور امیر اسلام کےلئے کیا کیا شرائط ازروئے قرآن شریف وفقہ شریف ہونا چاہئے اور جولوگ بیعت نہ کریں کیا وہ لوگ گنہگار ہیں جواب تفصیل سے مع دلائل کے عنایت ہو بینواتوجروا۔
الجواب:امیرشریعت دو قسم ہے:اختیاری وقہری۔اختیاری وہ جو کسی پر اپنے احکام کی تنفیذ میں جبر کا اختیار نہیں رکھتااحکام شریعت بتادینا اس کا کام ہےماننا نہ ماننا لوگوں کے اختیاریہ امیر شریعت متدین فقہائے اہل سنت ہیں
قال اﷲ تعالی
" اطیعوا اللہ واطیعوا الرسول و اولی الامر منکم " اولوالامر ھم العلماء علی اصح الاقوال کما قال تعالی ولو ردوہ الی الرسول و الی اولی الامر منہم لعلمہ الذین یستنبطونہ منہم " ۔ اﷲ تعالی کا فرمان ہے:اے اہل ایمان! اﷲ کی اطاعت کرو اور اس کے رسول کی اطاعت کرواور تم میں سے جو صاحب امر ہیں ان کی۔اصح قول کے مطابق اولوالامر سے مراد علماء ہیں جیسا کہ اﷲ تعالی کا فرمان ہے:اور کاش وہ اسے لوٹائیں رسول کی طرف اور اپنے ذی اختیار لوگوں کی طرفتو ضرور ان سے اس کی حقیقت جان لیں گے وہ جس کو استنباط کرتے ہیں ان میں سے(ت)
عدم سلطان کی حالت میں مسلمانوں پر اپنے امور دینیہ میں متدین معتمد علمائے اہلسنت کی طرف رجوع کرنا اور بھی
مسئلہ۲۳:ازوانا پور محلہ شگونہ مسجد حنفیہ مسئولہ محمد حنیف خاں ۳۰ذی الحجہ ۱۳۳۹ھ
بگرامی خدمت فیض درجت امام اہل سنت اعلی حضرت عظیم البرکۃ مولانا مولوی مفتی شاہ احمد رضاخاں صاحب مدظلہم الاقدسالسلام علیکم!گزارش خدمت ہے کہ یہاں شہر پٹنہ ایك جگہ پر مجمع ہواجسمیں علمائے بہار بھی شریك تھے۔اور عام لوگ بھی مولوی ابوالکلام حامی ترك موالات نے تحریك کی کہ بہار واڑیسہ کے لیے ایك امیر اسلام ہو نا چاہئے اس پر لوگوں نے حضرت اقدس شاہ بدرالدین صاحب پھلواروی کو تجویز کرکے امیر اسلام بنایااب اعلان ہے کہ لوگ شہر کے امیر اسلام کے ہاتھ پر بیعت کریںلہذا حضور والا سے یہ سوال کیا جاتا ہے کہ امیر اسلام کے ہاتھ پر بیعت کرنا درست ہے یانہیں اور امیر اسلام کےلئے کیا کیا شرائط ازروئے قرآن شریف وفقہ شریف ہونا چاہئے اور جولوگ بیعت نہ کریں کیا وہ لوگ گنہگار ہیں جواب تفصیل سے مع دلائل کے عنایت ہو بینواتوجروا۔
الجواب:امیرشریعت دو قسم ہے:اختیاری وقہری۔اختیاری وہ جو کسی پر اپنے احکام کی تنفیذ میں جبر کا اختیار نہیں رکھتااحکام شریعت بتادینا اس کا کام ہےماننا نہ ماننا لوگوں کے اختیاریہ امیر شریعت متدین فقہائے اہل سنت ہیں
قال اﷲ تعالی
" اطیعوا اللہ واطیعوا الرسول و اولی الامر منکم " اولوالامر ھم العلماء علی اصح الاقوال کما قال تعالی ولو ردوہ الی الرسول و الی اولی الامر منہم لعلمہ الذین یستنبطونہ منہم " ۔ اﷲ تعالی کا فرمان ہے:اے اہل ایمان! اﷲ کی اطاعت کرو اور اس کے رسول کی اطاعت کرواور تم میں سے جو صاحب امر ہیں ان کی۔اصح قول کے مطابق اولوالامر سے مراد علماء ہیں جیسا کہ اﷲ تعالی کا فرمان ہے:اور کاش وہ اسے لوٹائیں رسول کی طرف اور اپنے ذی اختیار لوگوں کی طرفتو ضرور ان سے اس کی حقیقت جان لیں گے وہ جس کو استنباط کرتے ہیں ان میں سے(ت)
عدم سلطان کی حالت میں مسلمانوں پر اپنے امور دینیہ میں متدین معتمد علمائے اہلسنت کی طرف رجوع کرنا اور بھی
لازم تر ہوجاتا ہے کہ بعض بعض خاص دینی کام جنہیں ولاۃ وقضاۃ اٹھائے ہوتے ہیںان میں تاحد ممکن انہیں کے حکم سے تکمیل کرنی ہوتی ہےجیسے معاملہ عنین وتنفیذ انکحہ وخیارات بلوغ وغیرہا سوائے حدودوتعزیر وقصاص جس کا اختیار غیر سلطان کونہیں
فاذاعسر جمعھم علی واحد استقل کل قطر باتباع علمائہ فان کثر وافالمتبع اعلمھم فان استوااقرع بینھم ۔کما فی الحدیقۃ الندیۃ عن الفتاوی العتابیۃ۔ جب ایك پر اتفاق دشوار ہوتو ہر علاقہ کے لوگ اپنے عالم کی اتباع کرلیںاگر علماء کثیر ہوں تو سب سے بڑے عالم کا اتباع کیا جائےاگر علم میں برابر ہوں تو ان کے درمیان قرعہ اندازی کرلی جائےجیسا کہ حدیقہ ندیہ میں فتاوی عتابیہ سے ہے۔(ت)
یہ امیر شرعی کسی کے انتخاب پر نہیں بلکہ خود بانتخاب الہی منتخب ہےدیانت وفقاہت میں اس کا تفرد وتفوق خود ہی اسے متعین کرتا ہےیہاں تك کہ لوگ اگر اس کے غیر کو منتخب کریں گے خطا کریں گے اور اسی کا اتباع لازم ہوگا کہ وہی اہل ہے اور طبائع خود ہی دینی امور میں اسکی طرف رجوع پر مجبور ہوتی ہیں کہ دوسری جگہ ویساحل شافی نہیں پاتیں یہاں تك کہ اس کے اکابر اعداکہ بوجہ دینی یا حسد شیاطینی اس کے سخت دشمن ہوتے ہیںاور زبردستی اس پر اپنی تعلی چاہتے ہیںمسائل مشکلہ کے حل کرنے میں اسکے محتاج رہتے ہیںاپنے گمنام جاہلوں کے ذریعہ سے اس کے آگے ہاتھ پھیلاتے ہیں یوں اپنے لاحل مسئلوں کی گرہ کھلواتے ہیں
" ذلک فضل اللہ یؤتیہ من یشاء واللہ ذوالفضل العظیم ﴿۲۱﴾" یہ اﷲ تعالی کا فضل ہے عطا کرتا ہے جسے وہ چاہے اور اﷲ فضل عظیم کا مالك ہے۔(ت)
اس امیر شریعت کے ہاتھ پر بیعت نہ کچھ ضرور نہ اس کے دستورنہ اس کا ترك گناہ ومحذوربلکہ اس کا معیار وہی ہے جواوپر مذکوراس کے فیصلے کو بہار واڑیسہ کے جملہ علماء پر نظر تفصیلی صحیح شرعی نے جو فیصلہ کیا ہو آپ ہی منظور
" واللہ علیم بذات الصدور﴿۱۵۴﴾ "
" الا الی اللہ تصیر الامور ﴿۵۳﴾" اور اﷲ سینوں کے رازوں کو جانتا ہے اور سنو تمام امور اﷲ کی بارگاہ میں لوٹتے ہیں۔(ت)
فاذاعسر جمعھم علی واحد استقل کل قطر باتباع علمائہ فان کثر وافالمتبع اعلمھم فان استوااقرع بینھم ۔کما فی الحدیقۃ الندیۃ عن الفتاوی العتابیۃ۔ جب ایك پر اتفاق دشوار ہوتو ہر علاقہ کے لوگ اپنے عالم کی اتباع کرلیںاگر علماء کثیر ہوں تو سب سے بڑے عالم کا اتباع کیا جائےاگر علم میں برابر ہوں تو ان کے درمیان قرعہ اندازی کرلی جائےجیسا کہ حدیقہ ندیہ میں فتاوی عتابیہ سے ہے۔(ت)
یہ امیر شرعی کسی کے انتخاب پر نہیں بلکہ خود بانتخاب الہی منتخب ہےدیانت وفقاہت میں اس کا تفرد وتفوق خود ہی اسے متعین کرتا ہےیہاں تك کہ لوگ اگر اس کے غیر کو منتخب کریں گے خطا کریں گے اور اسی کا اتباع لازم ہوگا کہ وہی اہل ہے اور طبائع خود ہی دینی امور میں اسکی طرف رجوع پر مجبور ہوتی ہیں کہ دوسری جگہ ویساحل شافی نہیں پاتیں یہاں تك کہ اس کے اکابر اعداکہ بوجہ دینی یا حسد شیاطینی اس کے سخت دشمن ہوتے ہیںاور زبردستی اس پر اپنی تعلی چاہتے ہیںمسائل مشکلہ کے حل کرنے میں اسکے محتاج رہتے ہیںاپنے گمنام جاہلوں کے ذریعہ سے اس کے آگے ہاتھ پھیلاتے ہیں یوں اپنے لاحل مسئلوں کی گرہ کھلواتے ہیں
" ذلک فضل اللہ یؤتیہ من یشاء واللہ ذوالفضل العظیم ﴿۲۱﴾" یہ اﷲ تعالی کا فضل ہے عطا کرتا ہے جسے وہ چاہے اور اﷲ فضل عظیم کا مالك ہے۔(ت)
اس امیر شریعت کے ہاتھ پر بیعت نہ کچھ ضرور نہ اس کے دستورنہ اس کا ترك گناہ ومحذوربلکہ اس کا معیار وہی ہے جواوپر مذکوراس کے فیصلے کو بہار واڑیسہ کے جملہ علماء پر نظر تفصیلی صحیح شرعی نے جو فیصلہ کیا ہو آپ ہی منظور
" واللہ علیم بذات الصدور﴿۱۵۴﴾ "
" الا الی اللہ تصیر الامور ﴿۵۳﴾" اور اﷲ سینوں کے رازوں کو جانتا ہے اور سنو تمام امور اﷲ کی بارگاہ میں لوٹتے ہیں۔(ت)
حوالہ / References
الحدیقۃ الندیۃ النوع الثالث من انواع العلوم الثلاثۃ مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۱/ ۳۵۱
القرآن الکریم ۵۷ /۲۱
القرآن الکریم ۳ /۱۵۴
القرآن الکریم ۴۲ /۵۳
القرآن الکریم ۵۷ /۲۱
القرآن الکریم ۳ /۱۵۴
القرآن الکریم ۴۲ /۵۳
دوسرا امیر قہریاس کے ذمہ وہ کام ہیں جو بغیر تسلط و غلبہ و قہر کے انجام نہیں پاتے مثلا قصاص وحدود وتعزیرات واخذ عشور واخذ خراج یہ ضرور نصب و انتخاب مسلمین پر ہے اور اسی کے ہاتھ پر بیعت کا دستور اور بلاوجہ شرعی اس سے انکار محظوریہ اگر عام ممالك اسلامیہ پر مقرر کیا جائے تو خلیفہ و امیر المومنین ہے اوراس کے لئے سات شرطیں لازم کہ ایك بھی کم ہو تو خلیفہ نہیں متغلب ہے۱اسلام۲حریت۳ذکورت۴عقل۵بلوغ۶قدرت۷قرشیت۔
علامہ قاسم بن قطلوبغا حنفی تلمیذ امام ابن الہمام تعلیقات مسایرہ میں فرماتے ہیں:
اماعندنا فالشروط انواعبعضہا لازم لاتنعقد بدونہوھی الاسلاموالذکورۃ والحریۃ والعقل و اصل الشجاعۃوان یکون قرشیا ۔ لیکن ہمارے نزدیك شروط مختلف طرح کی ہیں بعض ان میں سے لازم ہیں جن کے بغیر امارت کی انعقاد نہیں ہوسکتا اور وہ مسلمان ہونامذکر ہوناآزاد ہونا عقل والا ہونادلیر ہونا اور قرشی ہونا ہے(ت)
اور اگر کسی قطر یا شہر یا موضع خاص پر تو وہاں کا صوبہ یا والی ہےاس کےلئے بھی عقل وبلوغ و قدرت یقینا شرط اور قرشیت کی کچھ حاجت نہیں اور تعمیم احکام کےلئے اسلام وحریت وذکورت بھی ضرور ائمہ نے تصریح فرمائی ہے کہ عدم سلطان کے وقت مسلمانوں پر ایسا والی مسلم تلاش کرنا واجب ہے کما فی المبسوط وجامع الفصولین ومعراج الدرایۃ وغیرہا(جیسا کہ مبسوطجامع الفصولین اور معراج الدرایہ وغیرہ میں ہے۔ت)مگر ہر واجب بقدر قدرت ہوتا ہے اور ہر فرض بشرط استطاعت۔
قال اﷲ تعالی" لا یکلف اللہ نفسا الا وسعہا" ۔ اﷲ تعالی کا فرمان ہے:اﷲ کسی نفس کو اس کی طاقت سے بڑھ کر تکلیف نہیں دیتا۔(ت)
یہاں مسلمان ایسا والی مقرر کرنے پر ہر گزقادر نہیں اور اس پر واضح دلیل یہ ہیے کہ سوبرس سے آج تك ہندوستان میں ہزارہا مشائخ وعلماوصلحاوکبراء گزرے کبھی اس طرف متوجہ نہ ہوئے کیا وہ مسئلہ نہ جانتے تھے یاقصدافاسق و تارك واجب رہےحاشا ہرگز نہیںبلکہ انہیں معلوم تھا کہ یہ وجوب ہم پر نہیں۔شرح مقاصد میں ہے:
فان قیل لو وجب نصب الامام لزم اطباق الامۃ فی اکثر الاعصار علی اگر یہ اعتراض اٹھایا جائے کہ اگر امام کا مقرر کرنا واجب ہے تو لازم آئے گا کہ امت نے اکثر زمانوں
علامہ قاسم بن قطلوبغا حنفی تلمیذ امام ابن الہمام تعلیقات مسایرہ میں فرماتے ہیں:
اماعندنا فالشروط انواعبعضہا لازم لاتنعقد بدونہوھی الاسلاموالذکورۃ والحریۃ والعقل و اصل الشجاعۃوان یکون قرشیا ۔ لیکن ہمارے نزدیك شروط مختلف طرح کی ہیں بعض ان میں سے لازم ہیں جن کے بغیر امارت کی انعقاد نہیں ہوسکتا اور وہ مسلمان ہونامذکر ہوناآزاد ہونا عقل والا ہونادلیر ہونا اور قرشی ہونا ہے(ت)
اور اگر کسی قطر یا شہر یا موضع خاص پر تو وہاں کا صوبہ یا والی ہےاس کےلئے بھی عقل وبلوغ و قدرت یقینا شرط اور قرشیت کی کچھ حاجت نہیں اور تعمیم احکام کےلئے اسلام وحریت وذکورت بھی ضرور ائمہ نے تصریح فرمائی ہے کہ عدم سلطان کے وقت مسلمانوں پر ایسا والی مسلم تلاش کرنا واجب ہے کما فی المبسوط وجامع الفصولین ومعراج الدرایۃ وغیرہا(جیسا کہ مبسوطجامع الفصولین اور معراج الدرایہ وغیرہ میں ہے۔ت)مگر ہر واجب بقدر قدرت ہوتا ہے اور ہر فرض بشرط استطاعت۔
قال اﷲ تعالی" لا یکلف اللہ نفسا الا وسعہا" ۔ اﷲ تعالی کا فرمان ہے:اﷲ کسی نفس کو اس کی طاقت سے بڑھ کر تکلیف نہیں دیتا۔(ت)
یہاں مسلمان ایسا والی مقرر کرنے پر ہر گزقادر نہیں اور اس پر واضح دلیل یہ ہیے کہ سوبرس سے آج تك ہندوستان میں ہزارہا مشائخ وعلماوصلحاوکبراء گزرے کبھی اس طرف متوجہ نہ ہوئے کیا وہ مسئلہ نہ جانتے تھے یاقصدافاسق و تارك واجب رہےحاشا ہرگز نہیںبلکہ انہیں معلوم تھا کہ یہ وجوب ہم پر نہیں۔شرح مقاصد میں ہے:
فان قیل لو وجب نصب الامام لزم اطباق الامۃ فی اکثر الاعصار علی اگر یہ اعتراض اٹھایا جائے کہ اگر امام کا مقرر کرنا واجب ہے تو لازم آئے گا کہ امت نے اکثر زمانوں
حوالہ / References
تعلیقات مسایرۃ علامہ قاسم بن قطلو بغامع المسامرۃ شروط الامام المکتبۃ التجاریۃ مصر ص۳۱۹ و ۳۲۰
القرآن الکریم ۲ /۲۸۶
القرآن الکریم ۲ /۲۸۶
ترك الواجب لانتفاء الامام المتصف بما یجب من الصفات سیما بعد انقضاء الدولۃ العباسیۃقلنا انما یلزم الضلالۃ لوترکوہ عن قدرۃ واختیار لاعجز و اضطرار ۔ میں واجب کا ترك کیا کیونکہ ایسا کوئی امام ہی نہیں ملا جو مذکورہ صفات کاحامل ہو خصوصا حکومت عباسیہ کے گزرنے کے بعدہم جوابا کہتے ہیں امت کا گنہگار ہونا تب لازم آئے گا اگر انہوں نے قدرت واختیار ہونے کے باوجود اسے ترك کیا ہو اور اگر عجز واضطرار کی وجہ سے ہوتو پھر گناہ نہ ہوگا۔(ت)
(یہ جواب ناقص ہی دستیاب ہوا)
____________________
(یہ جواب ناقص ہی دستیاب ہوا)
____________________
حوالہ / References
شرح المقاصد الفصل الرابع المبحث الاول فی نصب الامام دارالمعارف النعمانیہ لاہور ۲/ ۲۷۵
رسالہ
دوام العیش من الائمۃ من قریش ۱۳۳۹ھ
(زندگی کا دوام اس امر میں کہ خلفاء قریش میں سے ہوں گے)
بسم اﷲ الرحمن الرحیم ط
مسئلہ۲۴:کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ سلطنت عثمانیہ کی اعانت مسلمانوں پر لازم ہے یانہیں فرضیت اعانت کے لئے بھی سلطان کا قرشی ہونا شرط ہے یانہیں یا صرف خلافت شرعیہ کےلئے یا کسی کے لئے نہیںمولوی فرنگی محلی کے خطبہ صدارت میں اس کے متعلق چند سطور ہیں اور مسٹر ابوالکلام آزاد نے رسالہ مسئلہ خلافت وجزیرہ عرب میں صفحہ۳۲ سے صفحہ۷۰ تك حسب عادت اسے بہت پھیلا کر بیان کیا ہےان دونوں کا محصل یہ ہے کہ خلافت شرعیہ میں بھی قرشیت شرط نہیںیہ صحیح ہے یانہیں اور اس بارے میں مذہب اہلسنت کیا ہےبینواتوجروا
الجواب:
الحمدﷲ الذی فرض اعانۃ سلاطین الاسلام علی المسلمین وفضل قریشا بخاتم النبیین وسید المرسلین صلی اﷲ تعالی علیہ وعلیھم وبارك وسلم الی یوم الدین وعلی الہ وصحبہ وابنہ وحزبہ کل ان وحین۔
دوام العیش من الائمۃ من قریش ۱۳۳۹ھ
(زندگی کا دوام اس امر میں کہ خلفاء قریش میں سے ہوں گے)
بسم اﷲ الرحمن الرحیم ط
مسئلہ۲۴:کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ سلطنت عثمانیہ کی اعانت مسلمانوں پر لازم ہے یانہیں فرضیت اعانت کے لئے بھی سلطان کا قرشی ہونا شرط ہے یانہیں یا صرف خلافت شرعیہ کےلئے یا کسی کے لئے نہیںمولوی فرنگی محلی کے خطبہ صدارت میں اس کے متعلق چند سطور ہیں اور مسٹر ابوالکلام آزاد نے رسالہ مسئلہ خلافت وجزیرہ عرب میں صفحہ۳۲ سے صفحہ۷۰ تك حسب عادت اسے بہت پھیلا کر بیان کیا ہےان دونوں کا محصل یہ ہے کہ خلافت شرعیہ میں بھی قرشیت شرط نہیںیہ صحیح ہے یانہیں اور اس بارے میں مذہب اہلسنت کیا ہےبینواتوجروا
الجواب:
الحمدﷲ الذی فرض اعانۃ سلاطین الاسلام علی المسلمین وفضل قریشا بخاتم النبیین وسید المرسلین صلی اﷲ تعالی علیہ وعلیھم وبارك وسلم الی یوم الدین وعلی الہ وصحبہ وابنہ وحزبہ کل ان وحین۔
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ان الدین النصیحۃ ﷲ ولکتابہ ولرسولہ ولائمۃ المسلمین وعامتھم رواہ احمد ومسلم وابوداؤد والنسائی عن تمیم الداری والترمذی والنسائی عن ابی ھریرۃ واحمد عن ابن عباس والطبرانی فی الاوسط عن ثوبان رضی اﷲ تعالی عنہم۔ بیشك دین یہ ہے کہ اﷲ اور اس کی کتاب اور اس کے رسول سے سچا دل رکھے اور سلاطین اسلام اور جملہ مسلمانوں کی خیر خواہی کرے(اسے احمدمسلمابوداؤد اور نسائی نے تمیم داری سے اور ترمذی اور نسائی نے ابوہریرہ سے اور احمد نے ابن عباس سے اور طبرانی نے اوسط میں ثوبان رضی ا ﷲ تعالی عنہم سے روایت کیا ہے۔(ت)
سلطنت علیہ عثمانیہ ایدہا اﷲ تعالی نہ صرف عثمانیہ ہر سلطنت اسلام نہ صرف سلطنت ہر جماعت اسلام نہ صرف جماعت ہر فرد اسلام کی خیر خواہی ہر مسلمان پر فرض ہے اس میں قرشیت شرط ہونا کیا معنیدل سے خیر خواہی مطلقا فرض عین ہےاور وقت حاجت دعا سے امداد واعانت بھی ہر مسلمان کو چاہئے کہ اس سے کوئی عاجز نہیں اور مال یا اعمال سے اعانت فرض کفایہ ہے اور ہر فرض بقدر قدرت ہر حکم بشرط استطاعت۔
قال تعالی"" لا یکلف اللہ نفسا الا وسعہا وقال تعالی" فاتقوا اللہ ما استطعتم" ۔ اﷲ تعالی نے فرمایا:اﷲ کسی نفس کواس کی طاقت سے بڑھ کر تکلیف نہیں دیتا۔اور اﷲ نے فرمایا:تو اﷲ سے ڈرو جہاں تك ہوسکے۔(ت)
مفلس پر اعانت مال نہیںبے دست وپا پراعانت اعمال نہیںولہذا مسلمانان ہند پر حکم جہاد وقتال نہیں۔بادشاہ اسلام اگرچہ غیر قرشی ہواگرچہ کوئی غلام حبشی ہوامور جائزہ میں اس کی اطاعت تمام رعیت اور وقت حاجت اس کی اعانت بقدر استطاعت سب اہل کفایت پر لازم ہےالبتہ اہلسنت کے مذہب میں خلافت شرعیہ کے لئے ضرور قرشیت شرط ہے اس بارے میں رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے متواتر حدیثیں ہیںاسی پر صحابہ کا اجماعتابعین کا اجماعاہلسنت کا اجماع ہےاس میں مخالف نہیں مگر خارجی یا کچھ معتزلی کتب عقائد وکتب
ان الدین النصیحۃ ﷲ ولکتابہ ولرسولہ ولائمۃ المسلمین وعامتھم رواہ احمد ومسلم وابوداؤد والنسائی عن تمیم الداری والترمذی والنسائی عن ابی ھریرۃ واحمد عن ابن عباس والطبرانی فی الاوسط عن ثوبان رضی اﷲ تعالی عنہم۔ بیشك دین یہ ہے کہ اﷲ اور اس کی کتاب اور اس کے رسول سے سچا دل رکھے اور سلاطین اسلام اور جملہ مسلمانوں کی خیر خواہی کرے(اسے احمدمسلمابوداؤد اور نسائی نے تمیم داری سے اور ترمذی اور نسائی نے ابوہریرہ سے اور احمد نے ابن عباس سے اور طبرانی نے اوسط میں ثوبان رضی ا ﷲ تعالی عنہم سے روایت کیا ہے۔(ت)
سلطنت علیہ عثمانیہ ایدہا اﷲ تعالی نہ صرف عثمانیہ ہر سلطنت اسلام نہ صرف سلطنت ہر جماعت اسلام نہ صرف جماعت ہر فرد اسلام کی خیر خواہی ہر مسلمان پر فرض ہے اس میں قرشیت شرط ہونا کیا معنیدل سے خیر خواہی مطلقا فرض عین ہےاور وقت حاجت دعا سے امداد واعانت بھی ہر مسلمان کو چاہئے کہ اس سے کوئی عاجز نہیں اور مال یا اعمال سے اعانت فرض کفایہ ہے اور ہر فرض بقدر قدرت ہر حکم بشرط استطاعت۔
قال تعالی"" لا یکلف اللہ نفسا الا وسعہا وقال تعالی" فاتقوا اللہ ما استطعتم" ۔ اﷲ تعالی نے فرمایا:اﷲ کسی نفس کواس کی طاقت سے بڑھ کر تکلیف نہیں دیتا۔اور اﷲ نے فرمایا:تو اﷲ سے ڈرو جہاں تك ہوسکے۔(ت)
مفلس پر اعانت مال نہیںبے دست وپا پراعانت اعمال نہیںولہذا مسلمانان ہند پر حکم جہاد وقتال نہیں۔بادشاہ اسلام اگرچہ غیر قرشی ہواگرچہ کوئی غلام حبشی ہوامور جائزہ میں اس کی اطاعت تمام رعیت اور وقت حاجت اس کی اعانت بقدر استطاعت سب اہل کفایت پر لازم ہےالبتہ اہلسنت کے مذہب میں خلافت شرعیہ کے لئے ضرور قرشیت شرط ہے اس بارے میں رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے متواتر حدیثیں ہیںاسی پر صحابہ کا اجماعتابعین کا اجماعاہلسنت کا اجماع ہےاس میں مخالف نہیں مگر خارجی یا کچھ معتزلی کتب عقائد وکتب
حوالہ / References
صحیح مسلم کتاب الایمان قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۵۴،سنن ابوداؤد کتاب الادب آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۳۲۰،مسند احمد بن حنبل حدیث تمیم الداری دارالفکر بیروت ۴/ ۱۰۲
القرآن الکریم ۳ /۲۸۶
القرآن الکریم ۶۴ /۱۶
القرآن الکریم ۳ /۲۸۶
القرآن الکریم ۶۴ /۱۶
حدیث و کتب فقہ اس سے مالامال ہیںبادشاہ غیر قرشی کو سلطانامامامیروالیملك کہیں گےمگر شرعا خلیفہ یا امیر المومنین کہ یہ بھی عرفا اسی کا مترادف ہےہر بادشاہ قرشی کو بھی نہیں کہہ سکتے سوااس کے جو ساتوں شروط خلافت اسلام عقلبلوغحریتذکورتقدرتقرشیت سب کا جامع ہوکر تمام مسلمانوں کا فرمان فرمائے اعظم ہو۔
اجمالی کلام و واقعات عام و ازالہ اوہام جہال خام
اقول: وباﷲ التوفیق اسم خلافت میں یہ شرعی اصطلاح ہے جملہ صدیوں میں اسی پر اتفاق مسلمین رہا۔
(۱)زمانہ صحابہ سے برابر علمائے کرام خلفاء ملوك کو علیحدہ کرتے آئے حتی کہ خود سلاطین اسی کے پابند رہے اور آج تك ہیںبڑے بڑے جبار بادشاہ گزرے کبھی غیر قریش نے ترك ہوں یا مغل یا پٹھان یا کوئی اور اپنے آپ کو خلیفہ نہ کہلوایانہ خلافت مصطفویہ شرعیہ کا دعوی کیاجب تك خلافت عباسیہ قائم رہی خلیفہ ہی کی سرکار سے سلاطین کی تاجپوشی ہوتیسلطان دست خلیفہ پر بیعت کرتا اوراس منصب شرعی کا مستحق اسی کو اگرچہ زور و طاقت وسطوت میں اس سے کہیں زائد ہوتاجب کفار تاتار کے دست ظلم سے محرم ۶۵۶ھ میں جامہ خلافت تار تار ہوگیا علماء نے فرمایا ساڑھے تین برس تك خلافت منقطع رہی حالانکہ اس وقت بھی قاہر سلطنتیں موجود تھیںمصر میں ملك ظاہر سلطان بیبرس کا دور دورہ تھا امام جلال الدین سیوطی تاریخ الخلفاء میں خاتم الخلفا مستعصم باﷲ کی شہادت کے بعد ذکر فرماتے ہیں:
ثم دخلت سنۃ سبع وخمسین والدنیا بلاخلیفۃ ۔ پھر ۶۵۷ھ آیا اور دنیا بے خلیفہ تھی۔
پھر فرمایا:
ثم دخلت سنۃ ثمان وخمسین والوقت ایضا بلاخلیفۃ ۔ پھر ۶۵۸ھ آیا اور زمانہ اسی طرح بے خلیفہ تھا۔
پھر فرمایا:
وتسلطن بیبرس وازال المظالم وتلقب بالملك الظاھر ثم دخلت سنۃ بیبرس سلطان ہوا اوراس نے ظلم دفع کئے اور اپنا لقب ملك ظاہر رکھاپھر ۶۵۹آیا اوروقت
اجمالی کلام و واقعات عام و ازالہ اوہام جہال خام
اقول: وباﷲ التوفیق اسم خلافت میں یہ شرعی اصطلاح ہے جملہ صدیوں میں اسی پر اتفاق مسلمین رہا۔
(۱)زمانہ صحابہ سے برابر علمائے کرام خلفاء ملوك کو علیحدہ کرتے آئے حتی کہ خود سلاطین اسی کے پابند رہے اور آج تك ہیںبڑے بڑے جبار بادشاہ گزرے کبھی غیر قریش نے ترك ہوں یا مغل یا پٹھان یا کوئی اور اپنے آپ کو خلیفہ نہ کہلوایانہ خلافت مصطفویہ شرعیہ کا دعوی کیاجب تك خلافت عباسیہ قائم رہی خلیفہ ہی کی سرکار سے سلاطین کی تاجپوشی ہوتیسلطان دست خلیفہ پر بیعت کرتا اوراس منصب شرعی کا مستحق اسی کو اگرچہ زور و طاقت وسطوت میں اس سے کہیں زائد ہوتاجب کفار تاتار کے دست ظلم سے محرم ۶۵۶ھ میں جامہ خلافت تار تار ہوگیا علماء نے فرمایا ساڑھے تین برس تك خلافت منقطع رہی حالانکہ اس وقت بھی قاہر سلطنتیں موجود تھیںمصر میں ملك ظاہر سلطان بیبرس کا دور دورہ تھا امام جلال الدین سیوطی تاریخ الخلفاء میں خاتم الخلفا مستعصم باﷲ کی شہادت کے بعد ذکر فرماتے ہیں:
ثم دخلت سنۃ سبع وخمسین والدنیا بلاخلیفۃ ۔ پھر ۶۵۷ھ آیا اور دنیا بے خلیفہ تھی۔
پھر فرمایا:
ثم دخلت سنۃ ثمان وخمسین والوقت ایضا بلاخلیفۃ ۔ پھر ۶۵۸ھ آیا اور زمانہ اسی طرح بے خلیفہ تھا۔
پھر فرمایا:
وتسلطن بیبرس وازال المظالم وتلقب بالملك الظاھر ثم دخلت سنۃ بیبرس سلطان ہوا اوراس نے ظلم دفع کئے اور اپنا لقب ملك ظاہر رکھاپھر ۶۵۹آیا اوروقت
حوالہ / References
تاریخ الخلفاء احوال المستعصم باﷲ مطبع مجتبائی دہلی ص۳۳۰
تاریخ الخلفاء احوال المستعصم باﷲ مطبع مجتبائی دہلی ۳۳۱
تاریخ الخلفاء احوال المستعصم باﷲ مطبع مجتبائی دہلی ۳۳۱
تسع وخمسین والوقت ایضا بلاخلیفۃ الی رجب فاقیمت بمصر الخلافۃ وبویع المستنصر وکان مدۃ انقطاع الخلافۃ ثلاث سنین ونصفا ۔(ملخصا) ماہ رجب تك یونہی بے خلیفہ تھا یہاں تك کہ مصر میں پھر خلافت قائم کی گئی مستنصر باﷲ عباسی کے ہاتھ پر بیعت ہوئی خلافت ساڑھے تین برس تك معدوم رہی۔(ملخصا)۔
یونہی حسن المحاضرہ فی اخبار مصر والقاہرہ میں فرمایا:
لما اخذالتاتاربغداد وقتل الخلیفۃ اقامت الدنیا بلاخلیفۃ ثلث سنین ونصف سنۃ وذلك من یوم الاربعا و رابع عشر صفر سنۃ ست وخمسین وھو یوم قتل الخلیفۃ المستعصم رحمہ اﷲ تعالی الی اثناء سنۃ تسع وخمسمائۃ۔ یعنی جبکہ تاتاریوں نے بغداد مقدس لے لیا اور خلیفہ شہید ہوئے دنیا ساڑھے تین برس بے خلیفہ رہی اور یہ ۱۴صفر روز چار شنبہ ۶۵۶ھ سے کہ رو زشہادت خلیفہ مستعصم رحمہ اﷲ تعالی تھا سے ۱۳ رجب ۶۵۹ھ تك کا زمانہ ہے۔
(۲)یہ خلافت کہ مصر میں قائم ہوئی اور ڈھائی سو برس سے زائد رہی خود سلطان کی قائم کی ہوئی تھیسلطان بظاہر اس کا دست نگر ہوتا اور خلاف پر قادر تھا نظر بقوت بے تفویض خلیفہ بھی نظم ونسق ورتقفتق وامر وحکم میں سلطان مستقل تھاخلیفہ امیر المومنین کہلانے اور بیعت لینے اور خطبہ و سکہ کو زینت اور سلاطین کو تاج و خلعت دینے کے لئے ہوتا بلکہ اس کی بنا خود خلافت بغداد میں پڑچکی تھیمقتدر باﷲکو ۲۹۶ھ میں تیرہ برس کی عمر میں خلافت ملیطفلی واشتغال بازی واختیارات زنان واستخدام یہود ونصاری نے ضعف پہنچایا ملك مغرب نکل گیامصر نکل گیاقرامطہ ملعونوں کا زور ہواپھر ۳۲۴ھ میں واسطہ کا صوبہ محمد بن رائق خلیفہ راضی باﷲ پر فائق ہوا خلیفہ نام کے لئے تھا پھر یہ بدعت شنیعہ مدتوں مستمر رہی مگر تمام علماء ومسلمین اور خودوہ جبار سے جبار سلاطین بھی خلافت انہیں قرشی خلفاء کی مانتے اور انہیں سے پروانہ وخلعت سلطنت لیتے۔اگر غیر قرشی بھی خلیفہ ہوسکتا تو سلاطین خود خلفاء بنتےکیا ضرورت تھی ان قرشیوں کو اپنا تغلب مٹانے کے لئے حیلہ شرعیہ کے واسطے خلیفہ بناتے اور اپنے زیردستوں کے حضور سربندگی جھکاتے اور ان کے ہاتھ سے تاج وخطاب پاتےمگر نہیں وہ مسلمان تھے سنی تھے جانتے تھے کہ ہم قرشی نہیں ہماری خلافت نہیں ہوسکتی اور بے تولیت خلافت بطور خود سلطنت کرینگے تو داغ تغلب ہماری پیشانی سے نہ مٹے گا اسی لئے ان عباسی قرشیوں کی خلافت رکھی تھی۔
یونہی حسن المحاضرہ فی اخبار مصر والقاہرہ میں فرمایا:
لما اخذالتاتاربغداد وقتل الخلیفۃ اقامت الدنیا بلاخلیفۃ ثلث سنین ونصف سنۃ وذلك من یوم الاربعا و رابع عشر صفر سنۃ ست وخمسین وھو یوم قتل الخلیفۃ المستعصم رحمہ اﷲ تعالی الی اثناء سنۃ تسع وخمسمائۃ۔ یعنی جبکہ تاتاریوں نے بغداد مقدس لے لیا اور خلیفہ شہید ہوئے دنیا ساڑھے تین برس بے خلیفہ رہی اور یہ ۱۴صفر روز چار شنبہ ۶۵۶ھ سے کہ رو زشہادت خلیفہ مستعصم رحمہ اﷲ تعالی تھا سے ۱۳ رجب ۶۵۹ھ تك کا زمانہ ہے۔
(۲)یہ خلافت کہ مصر میں قائم ہوئی اور ڈھائی سو برس سے زائد رہی خود سلطان کی قائم کی ہوئی تھیسلطان بظاہر اس کا دست نگر ہوتا اور خلاف پر قادر تھا نظر بقوت بے تفویض خلیفہ بھی نظم ونسق ورتقفتق وامر وحکم میں سلطان مستقل تھاخلیفہ امیر المومنین کہلانے اور بیعت لینے اور خطبہ و سکہ کو زینت اور سلاطین کو تاج و خلعت دینے کے لئے ہوتا بلکہ اس کی بنا خود خلافت بغداد میں پڑچکی تھیمقتدر باﷲکو ۲۹۶ھ میں تیرہ برس کی عمر میں خلافت ملیطفلی واشتغال بازی واختیارات زنان واستخدام یہود ونصاری نے ضعف پہنچایا ملك مغرب نکل گیامصر نکل گیاقرامطہ ملعونوں کا زور ہواپھر ۳۲۴ھ میں واسطہ کا صوبہ محمد بن رائق خلیفہ راضی باﷲ پر فائق ہوا خلیفہ نام کے لئے تھا پھر یہ بدعت شنیعہ مدتوں مستمر رہی مگر تمام علماء ومسلمین اور خودوہ جبار سے جبار سلاطین بھی خلافت انہیں قرشی خلفاء کی مانتے اور انہیں سے پروانہ وخلعت سلطنت لیتے۔اگر غیر قرشی بھی خلیفہ ہوسکتا تو سلاطین خود خلفاء بنتےکیا ضرورت تھی ان قرشیوں کو اپنا تغلب مٹانے کے لئے حیلہ شرعیہ کے واسطے خلیفہ بناتے اور اپنے زیردستوں کے حضور سربندگی جھکاتے اور ان کے ہاتھ سے تاج وخطاب پاتےمگر نہیں وہ مسلمان تھے سنی تھے جانتے تھے کہ ہم قرشی نہیں ہماری خلافت نہیں ہوسکتی اور بے تولیت خلافت بطور خود سلطنت کرینگے تو داغ تغلب ہماری پیشانی سے نہ مٹے گا اسی لئے ان عباسی قرشیوں کی خلافت رکھی تھی۔
حوالہ / References
تاریخ الخلفاء احوال المستعصم باﷲ مطبع مجتبائی دہلی ص۳۳۱
حسن المحاضرۃ فی اخبار مصر والقاہرۃ
حسن المحاضرۃ فی اخبار مصر والقاہرۃ
(۳)پھر ادھرہی کے سلاطین نہیں اس دور دراز ممکت ہند کے متشرع سلاطین نے بھی انہیں خلفاء سے اپنے نام پروانہ سلطنت کیا حالانکہ یہ کسی طرح تسلط کی راہ سے ان کے ماتحت نہ تھے تاریخ الخلفاء میں ہے:
وفی سنۃ اربع عشرۃ ارسل غیاث الدین اعظم شاہ بن اسکندر شاہ ملك الھند یطلب التقلید من الخلیفۃ وارسل الیہ مالاوللسلطان ھدیۃ ۔ سنہ آٹھ سوچودہ میں بادشاہ ہند اعظم شاہ غیاث الدین بن سکندر شاہ نے خلیفہ مستعین باﷲ ابوالفضل سے اپنے لئے پروانہ تقرر سلطنت مانگا اور خلیفہ کے لئے نذر اور سلطان مصر کو ہدیہ بھیجا۔
خود مسٹر کے اسی رسالہ خلافت ص۷۹ میں ہے:"جب تك بغداد کی خلافت رہی ہندوستان کے تمام حکمران اس کے فرماں بردار رہے جب ۶۶۰ھ عــــہ میں مصر کی عباسی خلافت کا سلسلہ شروع ہوا تو اگرچہ عباسیہ کے کارواں رفتہ کا محض ایك نمود غبار تھا تاہم سلاطین ہند اس کی حلقہ بگوشی وغلامی کو اپنے لئے فخر سمجھتے رہے اور مرکزی خلافت کی عظمت دینی نے مجبور کیا کہ اپنی حکومت کو شرعی طور پر منوادینے کے لئے مقام خلافت سے پروانہ نیابت حاصل کرتے رہیں"۔
پھر سلطان محمد بن تغلق شاہ وسلطان فیروز شاہ کی بندگی وغلامی جو اس خلافت سے رہی اور فیروز شاہ کے لئے دربارخلافت سے دوبار پروانہ تقرر سلطنت ونشان خلعت کاآنا لکھا اور یہ کہ سلطان نے اس کی کمال تعظیم کی اور یہ سمجھا کہ گویا یہ عزت آسمان سے اتری اور یہ سند بارگاہ رسالت سے ملیپھر کہا(ص۸۰)
"غور کرو مقام خلافت کی عظمت کا ہمیشہ کیا حال رہا خلافت بغداد مٹنے کے بعد بھی خلافت کی صرف ایك اسمی نسبت بھی اس درجہ جبروت رکھتی تھی کہ ہندوستان جیسے بعید گوشہ میں ایك عظیم الشان فرمانراوئے اقلیم مصر کے دربار خلافت سے اذن واجازت حاصل ہونے پر فخر کرتاہے مٹنے پر بھی اس مقام کی عظمت تمام عالم اسلامی پر اس طرح چھائی رہتی ہے کہ وہاں کافرمان آسمانی فرمان اور وہاں کا حکم بارگاہ نبوت کا حکم سمجھا جاتا ہے"۔
خداجانے مسٹر آزاد یہ کس جنگ یا کس نشے کی ترنگ میں لکھ گئےان کا اعتقاد تو یہ ہے ص۴۵ کہ:
عــــہ:یہ غلط ہے بلکہ ۹/رجب ۶۵۹ھ۔۱۲منہ غفرلہ
وفی سنۃ اربع عشرۃ ارسل غیاث الدین اعظم شاہ بن اسکندر شاہ ملك الھند یطلب التقلید من الخلیفۃ وارسل الیہ مالاوللسلطان ھدیۃ ۔ سنہ آٹھ سوچودہ میں بادشاہ ہند اعظم شاہ غیاث الدین بن سکندر شاہ نے خلیفہ مستعین باﷲ ابوالفضل سے اپنے لئے پروانہ تقرر سلطنت مانگا اور خلیفہ کے لئے نذر اور سلطان مصر کو ہدیہ بھیجا۔
خود مسٹر کے اسی رسالہ خلافت ص۷۹ میں ہے:"جب تك بغداد کی خلافت رہی ہندوستان کے تمام حکمران اس کے فرماں بردار رہے جب ۶۶۰ھ عــــہ میں مصر کی عباسی خلافت کا سلسلہ شروع ہوا تو اگرچہ عباسیہ کے کارواں رفتہ کا محض ایك نمود غبار تھا تاہم سلاطین ہند اس کی حلقہ بگوشی وغلامی کو اپنے لئے فخر سمجھتے رہے اور مرکزی خلافت کی عظمت دینی نے مجبور کیا کہ اپنی حکومت کو شرعی طور پر منوادینے کے لئے مقام خلافت سے پروانہ نیابت حاصل کرتے رہیں"۔
پھر سلطان محمد بن تغلق شاہ وسلطان فیروز شاہ کی بندگی وغلامی جو اس خلافت سے رہی اور فیروز شاہ کے لئے دربارخلافت سے دوبار پروانہ تقرر سلطنت ونشان خلعت کاآنا لکھا اور یہ کہ سلطان نے اس کی کمال تعظیم کی اور یہ سمجھا کہ گویا یہ عزت آسمان سے اتری اور یہ سند بارگاہ رسالت سے ملیپھر کہا(ص۸۰)
"غور کرو مقام خلافت کی عظمت کا ہمیشہ کیا حال رہا خلافت بغداد مٹنے کے بعد بھی خلافت کی صرف ایك اسمی نسبت بھی اس درجہ جبروت رکھتی تھی کہ ہندوستان جیسے بعید گوشہ میں ایك عظیم الشان فرمانراوئے اقلیم مصر کے دربار خلافت سے اذن واجازت حاصل ہونے پر فخر کرتاہے مٹنے پر بھی اس مقام کی عظمت تمام عالم اسلامی پر اس طرح چھائی رہتی ہے کہ وہاں کافرمان آسمانی فرمان اور وہاں کا حکم بارگاہ نبوت کا حکم سمجھا جاتا ہے"۔
خداجانے مسٹر آزاد یہ کس جنگ یا کس نشے کی ترنگ میں لکھ گئےان کا اعتقاد تو یہ ہے ص۴۵ کہ:
عــــہ:یہ غلط ہے بلکہ ۹/رجب ۶۵۹ھ۔۱۲منہ غفرلہ
حوالہ / References
تاریخ الخلفاء احوال المستعین باﷲ ابوالفضل مطبع مجتبائی دہلی ص۳۵۷
"انتخاب خلیفہ کا موقع نہ رہا ہوتو خلیفہ تسلیم کرلینے کےلئے بجز اسلام اور حکومت کے جماؤ اور جگہ پکڑلینے کے اور کوئی شرط نہیں۔"
سبحان اﷲ ! یہ سلاطین ہند وسلاطین مصر اور خود سلطان بیبرس جس نے اس خلافت کی بنیاد رکھی مسلمان ہی تھے اور ان کی حکومتیں جمی ہوئی تھیں تو آپ کی کافی ساختہ دونوں شرط خلافت موجود تھیں پھر انہوں نے خود اپنے آپ کو خلیفہ کیوں نہ جانا اور ان کی حکومت شرعی طور پر ماننے کے قابل کیوں نہ ہوئی حالانکہ آپ کے نزدیك شریعت کا حکم ہے کہ:
"اسی کو خلیفہ ماننا چاہئے خواہ تمام شرطیں اس میں پائی جائیں یا نہ پائی جائیں۔"(ص۵۱)
"ہر مسلمان پر ازروئے شرع واجب ہے کہ اسی کو خلیفہ اسلام تسلیم کرے"(ص۳۵)
خیر آپ کا تناقض آپ کو مبارک۔سلاطین اسلام نے کیوں اپنی خلافت نہ مانی اور وہ کیا بات ان میں کم تھی جس کے لیے انھیں دوسرے کی خلافت جمانے اور اس کی اجازت کے صدقے اپنی حکومت کو شرعی منوانے کی ضرورت پڑی۔ظاہر ہے کہ وہ نہ تھی مگر شرط قرشیت۔
(۴)مسٹر کو چھوڑئیے جنہوں نے دو ہی شرطیں رکھیںائمہ دین تو سات بتاتے ہیں دیکھئے شاید ان میں کوئی اور شرط مفقود ہونے کے سبب سلاطین نے اپنے آپ کو خلیفہ نہ سمجھااوپر گزرا کہ وہ ۱اسلام و۲حریت و۳ذکورت و۴عقل و۵بلوغ و۶ قدرت و۷قرشیت ہیں ہم دیکھتے ہیں کہ ان سلاطین میں چھ موجود تھیں پہلی پانچ بداہۃ اور قدرت یوں کہ حکومت کا جماؤ بے اس کے نہیں تو صرف ایك ہی قرشیت نہ تھی لاجرم اسی کے نہ ہونے تمام سلاطین نے اپنے آپ کو خلیفہ نہ مانا اورقرشی خلافت کا محتاج دست نگر جانا۔
(۵)بلکہ بطور مسٹر امر واضح تر ہے ان نام کے خلفا میں اگر قرشیت موجود تھی قدرت مفقود تھی کہ وہ سلاطین کے ہاتھوں میں شطرنج کے بادشاہ تھےجبار خونخوار متکبر متجبر سلاطین کے سر میں یوں بھی سودائے مساوات و بے نیازی نہ سمایا اور انہیں کو خلیفہ اور اپنے آپ کو ان کو محتاج ٹھہرایا حتی کہ جب سلطان بیبرس نے مستنصر کو خلیفہ کیا اور اس سے پروانہ سلطنت لیا خلیفہ نے اظہار انقیاد کے لئے اس کے پاؤں میں سونے کی بیڑیاں ڈالیں اور سلطان نے خدم حشم کے ساتھ یونہی قاہرہ اپنے دار السلطنت کا گشت کیا کہ گلے میں طوق اور پاؤں میں بیڑیاں اور آگے آگے وزیر کے سر پر خلیفہ کا عطا کیا ہو اپروانہ سلطنت(حسن المحاضرہ)روشن ہوا کہ وہ شرط قرشیت کس درجہ اہم وضروری ترجانتے تھے انہوں نے خیال کیا کہ قدرت مکتسبہ بھی ہوتی ہے بلکہ اسے اکتساب سے مفر نہیں کہ ملکوں پر تنہا کا تسلط عادۃ نہیں ہوتا مگر افواج واطاعت جماعت سے جب اقتدار والوں نے انہیں سرپررکھ لیا تو مقصود اقتدار حاصل ہوگیا جیسے خلیفہ میں خود عالم اصول وفروع ہونے کی شرط اتفاقی نہ رہی کہ دوسرے کے علم سے کام چل سکتا ہے لیکن قرشیت ایسی چیز نہیں کہ دوسرے سے مکتسب وہ لہذا اپنے اقتدار کا خیال نہ کیا اور
سبحان اﷲ ! یہ سلاطین ہند وسلاطین مصر اور خود سلطان بیبرس جس نے اس خلافت کی بنیاد رکھی مسلمان ہی تھے اور ان کی حکومتیں جمی ہوئی تھیں تو آپ کی کافی ساختہ دونوں شرط خلافت موجود تھیں پھر انہوں نے خود اپنے آپ کو خلیفہ کیوں نہ جانا اور ان کی حکومت شرعی طور پر ماننے کے قابل کیوں نہ ہوئی حالانکہ آپ کے نزدیك شریعت کا حکم ہے کہ:
"اسی کو خلیفہ ماننا چاہئے خواہ تمام شرطیں اس میں پائی جائیں یا نہ پائی جائیں۔"(ص۵۱)
"ہر مسلمان پر ازروئے شرع واجب ہے کہ اسی کو خلیفہ اسلام تسلیم کرے"(ص۳۵)
خیر آپ کا تناقض آپ کو مبارک۔سلاطین اسلام نے کیوں اپنی خلافت نہ مانی اور وہ کیا بات ان میں کم تھی جس کے لیے انھیں دوسرے کی خلافت جمانے اور اس کی اجازت کے صدقے اپنی حکومت کو شرعی منوانے کی ضرورت پڑی۔ظاہر ہے کہ وہ نہ تھی مگر شرط قرشیت۔
(۴)مسٹر کو چھوڑئیے جنہوں نے دو ہی شرطیں رکھیںائمہ دین تو سات بتاتے ہیں دیکھئے شاید ان میں کوئی اور شرط مفقود ہونے کے سبب سلاطین نے اپنے آپ کو خلیفہ نہ سمجھااوپر گزرا کہ وہ ۱اسلام و۲حریت و۳ذکورت و۴عقل و۵بلوغ و۶ قدرت و۷قرشیت ہیں ہم دیکھتے ہیں کہ ان سلاطین میں چھ موجود تھیں پہلی پانچ بداہۃ اور قدرت یوں کہ حکومت کا جماؤ بے اس کے نہیں تو صرف ایك ہی قرشیت نہ تھی لاجرم اسی کے نہ ہونے تمام سلاطین نے اپنے آپ کو خلیفہ نہ مانا اورقرشی خلافت کا محتاج دست نگر جانا۔
(۵)بلکہ بطور مسٹر امر واضح تر ہے ان نام کے خلفا میں اگر قرشیت موجود تھی قدرت مفقود تھی کہ وہ سلاطین کے ہاتھوں میں شطرنج کے بادشاہ تھےجبار خونخوار متکبر متجبر سلاطین کے سر میں یوں بھی سودائے مساوات و بے نیازی نہ سمایا اور انہیں کو خلیفہ اور اپنے آپ کو ان کو محتاج ٹھہرایا حتی کہ جب سلطان بیبرس نے مستنصر کو خلیفہ کیا اور اس سے پروانہ سلطنت لیا خلیفہ نے اظہار انقیاد کے لئے اس کے پاؤں میں سونے کی بیڑیاں ڈالیں اور سلطان نے خدم حشم کے ساتھ یونہی قاہرہ اپنے دار السلطنت کا گشت کیا کہ گلے میں طوق اور پاؤں میں بیڑیاں اور آگے آگے وزیر کے سر پر خلیفہ کا عطا کیا ہو اپروانہ سلطنت(حسن المحاضرہ)روشن ہوا کہ وہ شرط قرشیت کس درجہ اہم وضروری ترجانتے تھے انہوں نے خیال کیا کہ قدرت مکتسبہ بھی ہوتی ہے بلکہ اسے اکتساب سے مفر نہیں کہ ملکوں پر تنہا کا تسلط عادۃ نہیں ہوتا مگر افواج واطاعت جماعت سے جب اقتدار والوں نے انہیں سرپررکھ لیا تو مقصود اقتدار حاصل ہوگیا جیسے خلیفہ میں خود عالم اصول وفروع ہونے کی شرط اتفاقی نہ رہی کہ دوسرے کے علم سے کام چل سکتا ہے لیکن قرشیت ایسی چیز نہیں کہ دوسرے سے مکتسب وہ لہذا اپنے اقتدار کا خیال نہ کیا اور
ان کی قرشیت کے آگے سر جھکادیا۔
(۶)نہ صرف سلاطین بلکہ بکثرت ائمہ وعلماء نے اسی کو خلافت جانا خلافت بغداد پر پچھلی تین صدیاں جیسی گزریں انہیں جانے دو تو یہی خلافت مصر لو جسے تم کاروان رفتہ کی محض ایك نمود غبار کہتے ہو۔
( ا)جب بیبرس نے مستنصر کی خلافت قائم کرنی چاہی سب میں پہلے امام اجل امام عزالدین بن عبدالسلام نے بیعت فرمائی پھر سلطان بیبرس پھر قاضی پھر امراء وغیرہم نے۔
(ب)پھر ابوالعباس حاکم بامراﷲ کے بیٹے تیسرے خلیفہ مصری مستکفی باﷲ کی خلافت کا امضا اور اس کی صحت کاثبوت امام اجل تقی الدین بن دقیق العید کے فتوے سے ہوا ان کےعہدنامہ خلافت میں تھا
الحمدﷲ الذی ادام الائمۃ من قریش وجعل الناس تبعالھم فی ھذاالامرفغیرھم بالخلافۃ العظمۃ لا یدعی ولایسمی ۔ سب خوبیاں اﷲکو جس نے خلیفہ ہمیشہ قریش میں سے کئے اور تمام لوگوں کو خلافت میں ان کو تابع کیا تو غیر قرشی کو نہ خلیفہ کہا جائے گا نہ وہ اس نام سے پکارا جائے۔
اس پر قاضی القضاۃ شمس الدین حنفی کے دستخط ہوئے۔
(ج)پھر مستکفی کے بیٹے ابوالعباس احمد حاکم بامر اﷲ کی صحت خلافت پر امام قاضی القضاۃ عزالدین بن جماعہ نے شہادت دی اور ان کی مثال بیعت علامہ احمد شہاب ابن فضل اﷲ نے لکھی اس میں ان کو خلیفہ جامع شرائط خلافت لکھا اور لکھا کہ:وصل الحق الی مستحقہ حق بحقدار رسیدکل ذلك فی حسن المحاضرۃ(یہ سب کا سب حسن المحاضرۃ میں موجود ہے۔ت)
(د)امام اجل ابوزکریا نووی اسی خلافت مصریہ کے دور سے متعلق شرح صحیح مسلم میں فرمارہے ہیں:
قد ظھرما قالہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فمن زمنہ الی الان الخلافۃ فی قریش ۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا ارشاد ظاہر ہوگیا کہ جب سے آج تك خلافت قریش ہی میں ہے۔
دیکھو اکابر ائمہ برابر انہیں خلفاء مانتے آئے۔
(ہ)امام خاتم الحفاظ جلال الدین سیوطی نے تاریخ الخلفاء میں یہ تمام خلافتیں بغدادی پھر مصری
(۶)نہ صرف سلاطین بلکہ بکثرت ائمہ وعلماء نے اسی کو خلافت جانا خلافت بغداد پر پچھلی تین صدیاں جیسی گزریں انہیں جانے دو تو یہی خلافت مصر لو جسے تم کاروان رفتہ کی محض ایك نمود غبار کہتے ہو۔
( ا)جب بیبرس نے مستنصر کی خلافت قائم کرنی چاہی سب میں پہلے امام اجل امام عزالدین بن عبدالسلام نے بیعت فرمائی پھر سلطان بیبرس پھر قاضی پھر امراء وغیرہم نے۔
(ب)پھر ابوالعباس حاکم بامراﷲ کے بیٹے تیسرے خلیفہ مصری مستکفی باﷲ کی خلافت کا امضا اور اس کی صحت کاثبوت امام اجل تقی الدین بن دقیق العید کے فتوے سے ہوا ان کےعہدنامہ خلافت میں تھا
الحمدﷲ الذی ادام الائمۃ من قریش وجعل الناس تبعالھم فی ھذاالامرفغیرھم بالخلافۃ العظمۃ لا یدعی ولایسمی ۔ سب خوبیاں اﷲکو جس نے خلیفہ ہمیشہ قریش میں سے کئے اور تمام لوگوں کو خلافت میں ان کو تابع کیا تو غیر قرشی کو نہ خلیفہ کہا جائے گا نہ وہ اس نام سے پکارا جائے۔
اس پر قاضی القضاۃ شمس الدین حنفی کے دستخط ہوئے۔
(ج)پھر مستکفی کے بیٹے ابوالعباس احمد حاکم بامر اﷲ کی صحت خلافت پر امام قاضی القضاۃ عزالدین بن جماعہ نے شہادت دی اور ان کی مثال بیعت علامہ احمد شہاب ابن فضل اﷲ نے لکھی اس میں ان کو خلیفہ جامع شرائط خلافت لکھا اور لکھا کہ:وصل الحق الی مستحقہ حق بحقدار رسیدکل ذلك فی حسن المحاضرۃ(یہ سب کا سب حسن المحاضرۃ میں موجود ہے۔ت)
(د)امام اجل ابوزکریا نووی اسی خلافت مصریہ کے دور سے متعلق شرح صحیح مسلم میں فرمارہے ہیں:
قد ظھرما قالہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فمن زمنہ الی الان الخلافۃ فی قریش ۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا ارشاد ظاہر ہوگیا کہ جب سے آج تك خلافت قریش ہی میں ہے۔
دیکھو اکابر ائمہ برابر انہیں خلفاء مانتے آئے۔
(ہ)امام خاتم الحفاظ جلال الدین سیوطی نے تاریخ الخلفاء میں یہ تمام خلافتیں بغدادی پھر مصری
حوالہ / References
حسن المحاضرۃ فی اخبار مصر والقاہرۃ
حسن المحاضرۃ فی اخبار مصر والقاہرۃ
شرح صحیح مسلم مع صحیح مسلم کتاب الامارۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۱۱۹
حسن المحاضرۃ فی اخبار مصر والقاہرۃ
شرح صحیح مسلم مع صحیح مسلم کتاب الامارۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۱۱۹
ذکر کیں اور خطبہ میں فرمایا:
ترجمت فیہ الخلفاء امراء المؤمنین القائمین بامرالامۃ من عھد ابی بکر الصدیق رضی اﷲ تعالی عنہ والی عھدنا ھذا ۔ میں نے اس کتاب میں ان کے احوال بیان کئے جو خلیفہ امیر المومنین کارامت پر قیام کرنے والے صدیق اکبر رضی اﷲ تعالی عنہ کے وقت سے ہمارے زمانے تك ہوئے۔
(و)پھر فرمایا میں نے اس میں کسی عبیدی کا ذکر نہ کیا کہ کئی وجہ سے ان کی خلافت صحیح نہیںایك تو وہ قرشی نہ تھےدوسرے وہ بدمذہب بے دین کم از کم رافضی تھے ومثل ھؤلاء لاتنعقد لھم بیعۃ ولاتصح لھم امامۃ ایسوں کے لئے نہ بیعت ہوسکے نہ ان کی خلافت صحیح۔تیسرے یہ کہ ان کی بیعت اس وقت ہوئی کہ خلافت عباسی قائم تھی اور ایك وقت میں وہ خلیفہ نہیں ہوسکتےچوتھے یہ کہ حدیث فرماچکی کہ خلافت جب بنی عباس کو ملے گی پھر ظہور امام مہدی تك دوسرے کونہ پہنچے گیان وجوہ سے میں نے عبیدیوں کو ذکر نہ کیا وانماذکرت الخلیفۃ المتفق علی صحۃ امامتہ میں نے وہی خلفاء ذکر کئے جن کی صحت خلافت پر اتفاق ہے دیکھو کیسے صریح نص ہیں کہ یہ کمزور خلافتیں بھی صحیح خلافت ہیںآخر کس لئےاس لیے کہ قرشی ہیں اور زبردست طاقتور سلاطین غیر قرشی۔
(ز)جب خلیفہ مستکفی باﷲ نے شعبان ۷۴۰ھ یا ۷۴۱ھ میں وفات پائی اور اپنے بیٹے احمد حاکم بامراﷲ کو ولی عہد کیا سلطان ناصر الدین محمد بن قلادون ترکی نے کہ۷۳۶ھ میں مستکفی باﷲ سے رنجیدہ ہوگیا اور ۱۸ذی الحجہ کو اسے مصر سے باہر شہر قوص میں مقیم کیا(اگرچہ ادارات پہلے سے بھی زائد کردئے اور خطبہ وسکہ خلیفہ ہی کا جاری رہا اس عہد کو نہ مانا اور جبرا خلیفہ مستکفی کے بھتیجے ابراہیم بن محمد حاکم بامراﷲ کے لیے بیعت لی(اگرچہ مرتے وقت خود اس پر نادم ہوا اور سرداروں کو وصیت کی کہ خلافت ولی عہد مستکفی احمد ہی کے لئے ہو جس پر ابن فضل اﷲ نے وہ لکھا کہ حق بحقدار رسید)ابن قلادون کی اس حرکت پر امام جلال الدین سیوطی نے حسن المحاضرہ میں فرمایا کہ اﷲ عزوجل نے ناصربن قلادون پر اس کے سب سے زیادہ عزیز بیٹے امیر نوك کی موت کی مصیبت ڈالییہ اسے پہلی سزادیپھر مستکفی کے بعد سلطنت سے متمتع نہ ہوا ایك سال اور کچھ روزوں کے بعد اﷲ عزوجل نے اسے ہلاك کیا بلکہ بعض نے مستکفی کی وفات۷۴۱ھ میں لکھی ہے تو یوں تین ہی مہینے بعد مرا
ترجمت فیہ الخلفاء امراء المؤمنین القائمین بامرالامۃ من عھد ابی بکر الصدیق رضی اﷲ تعالی عنہ والی عھدنا ھذا ۔ میں نے اس کتاب میں ان کے احوال بیان کئے جو خلیفہ امیر المومنین کارامت پر قیام کرنے والے صدیق اکبر رضی اﷲ تعالی عنہ کے وقت سے ہمارے زمانے تك ہوئے۔
(و)پھر فرمایا میں نے اس میں کسی عبیدی کا ذکر نہ کیا کہ کئی وجہ سے ان کی خلافت صحیح نہیںایك تو وہ قرشی نہ تھےدوسرے وہ بدمذہب بے دین کم از کم رافضی تھے ومثل ھؤلاء لاتنعقد لھم بیعۃ ولاتصح لھم امامۃ ایسوں کے لئے نہ بیعت ہوسکے نہ ان کی خلافت صحیح۔تیسرے یہ کہ ان کی بیعت اس وقت ہوئی کہ خلافت عباسی قائم تھی اور ایك وقت میں وہ خلیفہ نہیں ہوسکتےچوتھے یہ کہ حدیث فرماچکی کہ خلافت جب بنی عباس کو ملے گی پھر ظہور امام مہدی تك دوسرے کونہ پہنچے گیان وجوہ سے میں نے عبیدیوں کو ذکر نہ کیا وانماذکرت الخلیفۃ المتفق علی صحۃ امامتہ میں نے وہی خلفاء ذکر کئے جن کی صحت خلافت پر اتفاق ہے دیکھو کیسے صریح نص ہیں کہ یہ کمزور خلافتیں بھی صحیح خلافت ہیںآخر کس لئےاس لیے کہ قرشی ہیں اور زبردست طاقتور سلاطین غیر قرشی۔
(ز)جب خلیفہ مستکفی باﷲ نے شعبان ۷۴۰ھ یا ۷۴۱ھ میں وفات پائی اور اپنے بیٹے احمد حاکم بامراﷲ کو ولی عہد کیا سلطان ناصر الدین محمد بن قلادون ترکی نے کہ۷۳۶ھ میں مستکفی باﷲ سے رنجیدہ ہوگیا اور ۱۸ذی الحجہ کو اسے مصر سے باہر شہر قوص میں مقیم کیا(اگرچہ ادارات پہلے سے بھی زائد کردئے اور خطبہ وسکہ خلیفہ ہی کا جاری رہا اس عہد کو نہ مانا اور جبرا خلیفہ مستکفی کے بھتیجے ابراہیم بن محمد حاکم بامراﷲ کے لیے بیعت لی(اگرچہ مرتے وقت خود اس پر نادم ہوا اور سرداروں کو وصیت کی کہ خلافت ولی عہد مستکفی احمد ہی کے لئے ہو جس پر ابن فضل اﷲ نے وہ لکھا کہ حق بحقدار رسید)ابن قلادون کی اس حرکت پر امام جلال الدین سیوطی نے حسن المحاضرہ میں فرمایا کہ اﷲ عزوجل نے ناصربن قلادون پر اس کے سب سے زیادہ عزیز بیٹے امیر نوك کی موت کی مصیبت ڈالییہ اسے پہلی سزادیپھر مستکفی کے بعد سلطنت سے متمتع نہ ہوا ایك سال اور کچھ روزوں کے بعد اﷲ عزوجل نے اسے ہلاك کیا بلکہ بعض نے مستکفی کی وفات۷۴۱ھ میں لکھی ہے تو یوں تین ہی مہینے بعد مرا
حوالہ / References
تاریخ الخلفاء خطبہ کتاب مطبع مجتبائی دہلی ص۶
تاریخ الخلفاء خطبہ کتاب مطبع مجتبائی دہلی ص۷
تاریخ الخلفاء خطبہ کتاب مطبع مجتبائی دہلی ص۸
تاریخ الخلفاء خطبہ کتاب مطبع مجتبائی دہلی ص۷
تاریخ الخلفاء خطبہ کتاب مطبع مجتبائی دہلی ص۸
سنۃ اﷲ فیمن مس احدامن الخلفاء بسوء فان اﷲ تعالی یقصمہ عاجلا وما ید خرلہ فی الاخرۃ من العذاب اشد۔ سنت الہیہ ہے کہ جو کوئی کسی خلیفہ سے برائی کرے اﷲ تعالی اسے ہلاك فرمادیتا ہے اور وہ جو آخرت میں اسے کے لئے رکھتا ہے سخت تر عذاب ہے۔
پھر اولاد ابن قلادون میں اس کی شامت کی سرایت بیان فرمائی کہ ان میں جو بادشاہ ہواتخت سے اتارا گیا اور قید یا جلاوطن یا قتل کیا گیخود اس کا صلبی بیٹا کہ اس کے بعد تخت پر بیٹھا دو۲ مہینے سے کم میں اتاردیا گیا اور مصر سے قوص ہی کو بھیجا گیا جہاں سلطان نے خلیفہ کو بھیجا تھا اور وہیں قتل کیا گیاناصر نے چالیس۴۰ برس سے زیادہ سلطنت کی اور اس کی نسل سے بارہ ۱۲بادشاہ ہوئے جن کی مجموعی مدت اتنی نہ ہوئی۔
(ح)نیز امام ممدوح کتاب موصوف میں فرماتے ہیں:
اعلم ان مصر من حین صارت دارالخلافۃ عظم امرھا وکثرت شعائرالاسلام فیھا وعلت فیھا السنۃ وعفت عنھا البدعۃ وصارت محل سکن العلماء ومحط الرجال الفضلاء وھذاسرمن اسرار اﷲ تعالی اودعہ فی الخلافۃ النبویۃ کمادل ان الایمان والعلم یکونان مع الخلافۃ اینما کانت ولایظن ان ذلك بسبب الملوك فقد کانت ملوك بنی ایوب اجل قدراو اعظم قدر امن ملوك جاء ت بعدھم بکثیر ولم تکن مصر فی زمنھم کبغداد وفی اقطار الارض الان من الملوك من ھواشد بأساواکثر جندامن ملوك مصر کالعجم والعراق والروم والھندو المغرب ولیس الدین قائما بلادھم کقیامہ بمصر ولا شعائر الاسلام یعنی مصر جب سے دارالخلافہ ہوا اس کی شان بڑھ گئیشعائر اسلام کی اس میں کثرت ہوئیسنت غالب ہوئی بدعت مٹیعلماء کا جنگل فضلاء کا دنگل ہوگیااور یہ راز الہی ہے کہ اس نے خلافت نبوت میں رکھا ہے جس طرح حدیث میں آیا کہ خلافت جہاں ہوگی علم وایمان اس کے ساتھ ہوں گےاوریہ کوئی نہ سمجھے کہ مصر میں یہ دین کی ترقی سلاطین کے سبب ہوئی کہ سلاطین بنی ایوب سلاطین مابعد سے بہت زیادہ جلیل القدر تھے اور ان کے زمانے میں مصر بغداد کو نہ پہنچتا تھا اور اب اطراف زمین میں وہ سلاطین ہیں کہ سلاطین مصر سے ان کی آنچ سخت اور لشکر زائد جیسے ایرانعراقروممغرب ہندوستان۔مگر دین وہاں ایسا قائم نہیں جیسا مصر میں ہےنہ شعائر اسلام ایسے ظاہر نہ سنت وحدیث وعلم کا ایسا شیوعیہ سب خلافت ہی کی برکت ہےدیکھو کیسا جبار وبالاقتدار
پھر اولاد ابن قلادون میں اس کی شامت کی سرایت بیان فرمائی کہ ان میں جو بادشاہ ہواتخت سے اتارا گیا اور قید یا جلاوطن یا قتل کیا گیخود اس کا صلبی بیٹا کہ اس کے بعد تخت پر بیٹھا دو۲ مہینے سے کم میں اتاردیا گیا اور مصر سے قوص ہی کو بھیجا گیا جہاں سلطان نے خلیفہ کو بھیجا تھا اور وہیں قتل کیا گیاناصر نے چالیس۴۰ برس سے زیادہ سلطنت کی اور اس کی نسل سے بارہ ۱۲بادشاہ ہوئے جن کی مجموعی مدت اتنی نہ ہوئی۔
(ح)نیز امام ممدوح کتاب موصوف میں فرماتے ہیں:
اعلم ان مصر من حین صارت دارالخلافۃ عظم امرھا وکثرت شعائرالاسلام فیھا وعلت فیھا السنۃ وعفت عنھا البدعۃ وصارت محل سکن العلماء ومحط الرجال الفضلاء وھذاسرمن اسرار اﷲ تعالی اودعہ فی الخلافۃ النبویۃ کمادل ان الایمان والعلم یکونان مع الخلافۃ اینما کانت ولایظن ان ذلك بسبب الملوك فقد کانت ملوك بنی ایوب اجل قدراو اعظم قدر امن ملوك جاء ت بعدھم بکثیر ولم تکن مصر فی زمنھم کبغداد وفی اقطار الارض الان من الملوك من ھواشد بأساواکثر جندامن ملوك مصر کالعجم والعراق والروم والھندو المغرب ولیس الدین قائما بلادھم کقیامہ بمصر ولا شعائر الاسلام یعنی مصر جب سے دارالخلافہ ہوا اس کی شان بڑھ گئیشعائر اسلام کی اس میں کثرت ہوئیسنت غالب ہوئی بدعت مٹیعلماء کا جنگل فضلاء کا دنگل ہوگیااور یہ راز الہی ہے کہ اس نے خلافت نبوت میں رکھا ہے جس طرح حدیث میں آیا کہ خلافت جہاں ہوگی علم وایمان اس کے ساتھ ہوں گےاوریہ کوئی نہ سمجھے کہ مصر میں یہ دین کی ترقی سلاطین کے سبب ہوئی کہ سلاطین بنی ایوب سلاطین مابعد سے بہت زیادہ جلیل القدر تھے اور ان کے زمانے میں مصر بغداد کو نہ پہنچتا تھا اور اب اطراف زمین میں وہ سلاطین ہیں کہ سلاطین مصر سے ان کی آنچ سخت اور لشکر زائد جیسے ایرانعراقروممغرب ہندوستان۔مگر دین وہاں ایسا قائم نہیں جیسا مصر میں ہےنہ شعائر اسلام ایسے ظاہر نہ سنت وحدیث وعلم کا ایسا شیوعیہ سب خلافت ہی کی برکت ہےدیکھو کیسا جبار وبالاقتدار
حوالہ / References
حسن المحاضر ۃ فی اخبار مصر والقاہرۃ
ظاھرۃ فی اقطارھم کظہورھا فی مصرو لانشرت السنۃ والحدیث والعلم فیھا کما فی مصر ۔ سلاطین کو جن میں ترك بھی ہیں الگ کردیا اور خلافت نبوت ایسی کمزور خلافت مصر میں مانی۔
آخر یہ فرق قرشیت نہیں تو کیا ہے۔
(۷)اگر کہے وہ خلافت سے نامزد ہوچکے تھے لہذا بعد کے سلاطین نے اگرچہ جامع شروط تھے اپنے آپ کو خلیفہ نہ جانا کہ خلافت جب ایك کے لئے ہولے دوسرا نہیں ہوسکتا
اقول:(میں کہتا ہوں۔ت)اولا ہو تو سلاطین یا بعد میں ہوبیبرس کی سلنطت تو پہلے منعقد ہولی تھیپھر دوسرے کو خلیفہ بنانے اور اس کے آگے ہاتھ پھیلانے اور یہ سلسلہ ماضیہ جلانے جمانے کے کیا معنی تھےکاش سلطان اپنے آپ کو معزول کرلیتا اور مستنصر ہی کے ہاتھ میں باگ دیتا مگر نہیں وہ سلطنت پر قائم رہااور تمہارے زعم میں خود بیبرس کی خلافت صحیحہ اور ہر مسلمان پر شرعا واجب التسلیم تھیاب اس نے انتخاب کی طر ف آکر اپنی صحیح شرعی خلافت تو باطل کردی اور ایك اسمی رسمی قائم کییہ کیسا جنون ہوا جسے تمام علمائے عصر نے بھی پسندکیا طرفہ تریہ کہ یہ اپنی حکومت شرعی طور پر منوانے کےلئے کیا جس کا مسٹر کو بھی اعتراف ہے حالانکہ اس سے پہلے اس کی خلافت کا ماننا آپ کے نزدیك شرعا واجب تھااور اب نہ رہا کہ انتخاب نے شرائط عائد کیں وہ نہ اس میں ہیں نہ اس خلیفہ میںتو اپنی خلافت کھوئی خلیفہ اسمی سے تولیت لی وہ گئی اور یہ نہ ہوئی دونوں دین سے گئے اسی لئے گلے میں طوق اور پاؤں میں بیڑیاں پہنی تھیں۔ ع
بیکسیہائے تمنا کہ نہ دنیا ونہ دین
(بیکسی کی آرزو پر افسوس ہے کہ نہ دنیا ہاتھ آئی نہ دین حاصل ہوا۔ت)
غرض یہ ایجاد آزاد وہ مہمل وبیمعنی ہذیان ہے جو سلاطین وعلماء کی خواب میں بھی نہ تھا وہ یقینا جانتے تھے کہ خلافت میں ہمارا کچھ حصہ نہیں اور داغ تغلب ہم سے نہ مٹے گا جب تك کسی خلیفہ قرشی سے اذن نہ لیں لہذا یہ صورت خلافت قائم کی کہ مالایدرك کلہ لایترك کلہ(جسے نہ کلی طور پر حاصل کیا جاسکتا ہے نہ ہی اسے چھوڑاجاسکتا ہے۔ت)
(۸)ثانیا دنیا میں اسلامی سلطنتیں مختلف ممالك میں پھیلی ہوئی تھیں اور ہر ایك اپنے ملك کا حاکم مستقل اور آپ کی دونوں شرط خلافت کا جامع تھا اور تبدل ایام و موتتقرر سلاطین سے کبھی یہاں کی سلطنت پہلے ہوتی کبھی وہاں کیان میں کسی متأخر نے یہ نہ جانا کہ خلافت اس دوسرے سلطان کا حق ہے مجھے اس سے
آخر یہ فرق قرشیت نہیں تو کیا ہے۔
(۷)اگر کہے وہ خلافت سے نامزد ہوچکے تھے لہذا بعد کے سلاطین نے اگرچہ جامع شروط تھے اپنے آپ کو خلیفہ نہ جانا کہ خلافت جب ایك کے لئے ہولے دوسرا نہیں ہوسکتا
اقول:(میں کہتا ہوں۔ت)اولا ہو تو سلاطین یا بعد میں ہوبیبرس کی سلنطت تو پہلے منعقد ہولی تھیپھر دوسرے کو خلیفہ بنانے اور اس کے آگے ہاتھ پھیلانے اور یہ سلسلہ ماضیہ جلانے جمانے کے کیا معنی تھےکاش سلطان اپنے آپ کو معزول کرلیتا اور مستنصر ہی کے ہاتھ میں باگ دیتا مگر نہیں وہ سلطنت پر قائم رہااور تمہارے زعم میں خود بیبرس کی خلافت صحیحہ اور ہر مسلمان پر شرعا واجب التسلیم تھیاب اس نے انتخاب کی طر ف آکر اپنی صحیح شرعی خلافت تو باطل کردی اور ایك اسمی رسمی قائم کییہ کیسا جنون ہوا جسے تمام علمائے عصر نے بھی پسندکیا طرفہ تریہ کہ یہ اپنی حکومت شرعی طور پر منوانے کےلئے کیا جس کا مسٹر کو بھی اعتراف ہے حالانکہ اس سے پہلے اس کی خلافت کا ماننا آپ کے نزدیك شرعا واجب تھااور اب نہ رہا کہ انتخاب نے شرائط عائد کیں وہ نہ اس میں ہیں نہ اس خلیفہ میںتو اپنی خلافت کھوئی خلیفہ اسمی سے تولیت لی وہ گئی اور یہ نہ ہوئی دونوں دین سے گئے اسی لئے گلے میں طوق اور پاؤں میں بیڑیاں پہنی تھیں۔ ع
بیکسیہائے تمنا کہ نہ دنیا ونہ دین
(بیکسی کی آرزو پر افسوس ہے کہ نہ دنیا ہاتھ آئی نہ دین حاصل ہوا۔ت)
غرض یہ ایجاد آزاد وہ مہمل وبیمعنی ہذیان ہے جو سلاطین وعلماء کی خواب میں بھی نہ تھا وہ یقینا جانتے تھے کہ خلافت میں ہمارا کچھ حصہ نہیں اور داغ تغلب ہم سے نہ مٹے گا جب تك کسی خلیفہ قرشی سے اذن نہ لیں لہذا یہ صورت خلافت قائم کی کہ مالایدرك کلہ لایترك کلہ(جسے نہ کلی طور پر حاصل کیا جاسکتا ہے نہ ہی اسے چھوڑاجاسکتا ہے۔ت)
(۸)ثانیا دنیا میں اسلامی سلطنتیں مختلف ممالك میں پھیلی ہوئی تھیں اور ہر ایك اپنے ملك کا حاکم مستقل اور آپ کی دونوں شرط خلافت کا جامع تھا اور تبدل ایام و موتتقرر سلاطین سے کبھی یہاں کی سلطنت پہلے ہوتی کبھی وہاں کیان میں کسی متأخر نے یہ نہ جانا کہ خلافت اس دوسرے سلطان کا حق ہے مجھے اس سے
حوالہ / References
حسن المحاضرۃ فی اخبارمصر والقاہرۃ
اذن وپروانہ لینا چاہئے لیکن سمجھا تو اس قریشی خلافت کا محتاج سمجھا تو ہرگز اس کی بناء پر تقدم و تأخر نہ تھی کہ بلکہ وہی ایك اکیلی شرط قرشیت کہ نامقتدری خلیفہ کی حالت میں بھی اپنا رنگ جماتی اور بڑے بڑے اقتدار وجبروت والوں کا سراپنے سامنے جھکاتی تھی۔الحمدﷲ کیسے روشن بیانوں سے ثابت ہوا کہ یہ سارے جلوے شرط قرشیت کے تھے تمام سلاطین کا خودیہی عقیدہ تھا کہ ہم بوجہ عدم قرشیت لائق خلافت نہیںقرشی کے سوا دوسرا شخص خلیفہ نہیں ہوسکتا کہ ہر وقت وقرن کے علماء انہیں یہی بتاتے رہے۔اور قطعا یہی مذہب اہلسنت ہے اور اسی پر احادیث مصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی متواتر شہادت ہے " فماذا بعد الحق الا الضلل "(تو حق کے بعد کیا ہے صرف گمراہی ہے۔ت)
رہا مسئلہ اعانتکیاآپ لوگوں کے زعم میں سلطان اسلام کی اعانت کچھ ضرور نہیںصرف خلیفہ کی اعانت جائز ہے کہ مسلمانوں کو اعانت پر ابھارنے کے لئے ادعائے خلافت ضرور ہوا یا سلطان مسلمین کی اعانت صرف قادروں پر ہے اور خلیفہ کی اطاعت بلاقدرت بھی فرض ہےیہ نصوص قطعیہ قرآن کے خلاف ہےاور جب کوئی وجہ نہیں پھر کیا ضرور ت تھی کہ سیدھی بات میں جھگڑا ڈالنے کے لئے جملہ علمائے کرام کی واضح تصریحات متظافرہ اور اجماع صحابہ واجماع امت واحادیث متواترہ کے خلاف یہ تحریك لفظ خلافت سے شروع کرکے عقیدہ اجماعیہ اہلسنت کا خلاف کیا جائےخارجیوں معتزلیوں کا ساتھ دیاجائے دوراز کار تاویلوںتبدیلیوںتحریفوںخیانتوںعنادوںمکابروں سے حق چھپانے اور باطل پھیلانے کا ٹھیکا لیا جائے والعیاذ باﷲ تعالی۔
اب ہم بتوفیقہ تعالی اس اجمال مفصل کی تفصیل مجمل کے لئے کلام کو ایك مقدمہ اور تین فصل پر منقسم کرتے ہیں:
مقدمہ:خلیفہ وسلطان کے فرق اور یہ کہ کسی عرف حادث سے مسئلہ خلافت مصطلحہ شرعیہ پر کوئی اثر نہیں پڑسکتا۔
فصل اول:احادیث متواترہ واجماع صحابہ وتابعین ومذہب اہلسنت نصرھم اﷲ تعالی سے شرط قرشیت کے روشن ثبوت۔
فصل دوم:خطبہ صدارت میں مولوی فرنگی صاحب کی پندرہ سطری کار گزاری کی ناز برداری۔
فصل سوم:رسالہ خلافت میں مسٹر ابوالکلام آزاد کے ہذیانات وتلبیسات کی خدمتگزاری۔
وباﷲ التوفیق لارب سواہوالصلوۃ والسلام علی مصطفاہ والہ وصحبہ والاہ۔
رہا مسئلہ اعانتکیاآپ لوگوں کے زعم میں سلطان اسلام کی اعانت کچھ ضرور نہیںصرف خلیفہ کی اعانت جائز ہے کہ مسلمانوں کو اعانت پر ابھارنے کے لئے ادعائے خلافت ضرور ہوا یا سلطان مسلمین کی اعانت صرف قادروں پر ہے اور خلیفہ کی اطاعت بلاقدرت بھی فرض ہےیہ نصوص قطعیہ قرآن کے خلاف ہےاور جب کوئی وجہ نہیں پھر کیا ضرور ت تھی کہ سیدھی بات میں جھگڑا ڈالنے کے لئے جملہ علمائے کرام کی واضح تصریحات متظافرہ اور اجماع صحابہ واجماع امت واحادیث متواترہ کے خلاف یہ تحریك لفظ خلافت سے شروع کرکے عقیدہ اجماعیہ اہلسنت کا خلاف کیا جائےخارجیوں معتزلیوں کا ساتھ دیاجائے دوراز کار تاویلوںتبدیلیوںتحریفوںخیانتوںعنادوںمکابروں سے حق چھپانے اور باطل پھیلانے کا ٹھیکا لیا جائے والعیاذ باﷲ تعالی۔
اب ہم بتوفیقہ تعالی اس اجمال مفصل کی تفصیل مجمل کے لئے کلام کو ایك مقدمہ اور تین فصل پر منقسم کرتے ہیں:
مقدمہ:خلیفہ وسلطان کے فرق اور یہ کہ کسی عرف حادث سے مسئلہ خلافت مصطلحہ شرعیہ پر کوئی اثر نہیں پڑسکتا۔
فصل اول:احادیث متواترہ واجماع صحابہ وتابعین ومذہب اہلسنت نصرھم اﷲ تعالی سے شرط قرشیت کے روشن ثبوت۔
فصل دوم:خطبہ صدارت میں مولوی فرنگی صاحب کی پندرہ سطری کار گزاری کی ناز برداری۔
فصل سوم:رسالہ خلافت میں مسٹر ابوالکلام آزاد کے ہذیانات وتلبیسات کی خدمتگزاری۔
وباﷲ التوفیق لارب سواہوالصلوۃ والسلام علی مصطفاہ والہ وصحبہ والاہ۔
مقدمہ
خلیفہ و سلطان کے فرق اور یہ کہ سلطان کہہ دیا جانا ہی خلیفہ نہ ہونے کی کافی دلیل ہے اور یہ کہ لفظ خلیفہ میں اگر کوئی عرف حادث ہوتو اس سے خلافت مصطلحہ شرعیہ پر کیا اثر۔
(۱)خلیفہ حکمرانی وجہانبانی میں رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا نائب مطلق تمام امت پر ولایت عامہ والا ہے شرح عقائد نسفی میں ہے:
(خلافتھم)ای نیابتھم عن الرسول فی اقامۃ الدین بحیث یجب علی کافۃ الامم الاتباع ۔ ان کی خلافتیعنی دین کی اقامت میں رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی نیابت کا مقام یہ ہے کہ تمام امت پر اس کی اتباع واجب ہے(ت)
خودسر کفار کا اسے نہ ماننا شرعا اس کے استحقاق ولایت عامہ میں مخل نہیں جس طرح ان کا خود نبی کو نہ ماننا یونہی روئے زمین کے مسلمانوں میں جو اسے نہ مانے گا اس کی خلافت میں خلاف نہ آئے گا یہ خود ہی باغی قرار پائے گا اور اصطلاح میں سلطان وہ بادشاہ ہے جس کا تسلط قہری ملکوں پر ہوچھوٹے چھوٹے والیان ملك اس کے زیر حکم ہوں
کما ذکرہ الامام جلال الدین السیوطی رحمہ اﷲ تعالی فی حسن المحاضرۃ عن ابن فضل اﷲ فی المسالك عن علی بن سعید۔ جیسا کہ امام جلال الدین سیوطی رحمہ اﷲ تعالی نے حسن المحاضرۃ میں ابن فضل اﷲ سے انہوں نے مسالك میں علی بن سعید سے اسے ذکر کیا۔(ت)
یہ دو قسم ہے:
(۱)مولی جسے خلیفہ نے والی کیا ہو اس کی ولایت حسب عطائے خلیفہ ہوگی جس قدر پر والی کرے۔
(۲)دوسرا متغلب کہ بزور شمشیر ملك دبا بیٹھا اس کی ولایت اپنی قلمر و پر ہوگی وبس۔
(۲)کہ اول پر متفرع ہے خلیفہ کی اطاعت غیر معصیت الہی میں تمام امت پر فرض ہے جس کا منشا خود اس کا منصب ہے کہنا نائب رسول رب ہے صلی اﷲ تعالی علیہ وسلماور سلطان کی اطاعت صرف اپنی قلمرو پرپھر اگر مولی ہے تو بواسطہ عطائے خلیفہ اس منصب ہی کی وجہ سے کہ اس کا امر امر خلیفہ ہے اور امر خلیفہ امر نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلماور اگر متغلب ہے تو نہ اس کے منصب سے کہ وہ شرعی نہیں بلکہ
خلیفہ و سلطان کے فرق اور یہ کہ سلطان کہہ دیا جانا ہی خلیفہ نہ ہونے کی کافی دلیل ہے اور یہ کہ لفظ خلیفہ میں اگر کوئی عرف حادث ہوتو اس سے خلافت مصطلحہ شرعیہ پر کیا اثر۔
(۱)خلیفہ حکمرانی وجہانبانی میں رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا نائب مطلق تمام امت پر ولایت عامہ والا ہے شرح عقائد نسفی میں ہے:
(خلافتھم)ای نیابتھم عن الرسول فی اقامۃ الدین بحیث یجب علی کافۃ الامم الاتباع ۔ ان کی خلافتیعنی دین کی اقامت میں رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی نیابت کا مقام یہ ہے کہ تمام امت پر اس کی اتباع واجب ہے(ت)
خودسر کفار کا اسے نہ ماننا شرعا اس کے استحقاق ولایت عامہ میں مخل نہیں جس طرح ان کا خود نبی کو نہ ماننا یونہی روئے زمین کے مسلمانوں میں جو اسے نہ مانے گا اس کی خلافت میں خلاف نہ آئے گا یہ خود ہی باغی قرار پائے گا اور اصطلاح میں سلطان وہ بادشاہ ہے جس کا تسلط قہری ملکوں پر ہوچھوٹے چھوٹے والیان ملك اس کے زیر حکم ہوں
کما ذکرہ الامام جلال الدین السیوطی رحمہ اﷲ تعالی فی حسن المحاضرۃ عن ابن فضل اﷲ فی المسالك عن علی بن سعید۔ جیسا کہ امام جلال الدین سیوطی رحمہ اﷲ تعالی نے حسن المحاضرۃ میں ابن فضل اﷲ سے انہوں نے مسالك میں علی بن سعید سے اسے ذکر کیا۔(ت)
یہ دو قسم ہے:
(۱)مولی جسے خلیفہ نے والی کیا ہو اس کی ولایت حسب عطائے خلیفہ ہوگی جس قدر پر والی کرے۔
(۲)دوسرا متغلب کہ بزور شمشیر ملك دبا بیٹھا اس کی ولایت اپنی قلمر و پر ہوگی وبس۔
(۲)کہ اول پر متفرع ہے خلیفہ کی اطاعت غیر معصیت الہی میں تمام امت پر فرض ہے جس کا منشا خود اس کا منصب ہے کہنا نائب رسول رب ہے صلی اﷲ تعالی علیہ وسلماور سلطان کی اطاعت صرف اپنی قلمرو پرپھر اگر مولی ہے تو بواسطہ عطائے خلیفہ اس منصب ہی کی وجہ سے کہ اس کا امر امر خلیفہ ہے اور امر خلیفہ امر نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلماور اگر متغلب ہے تو نہ اس کے منصب سے کہ وہ شرعی نہیں بلکہ
حوالہ / References
شرح العقائد النسفیۃ دارالاشاعۃ العربیۃ قندھار،افغانستان ص۱۰۸
دفع فتنہ اور اپنے تحفظ کے لئے خود مسٹر نے فتح الباری سے دربارہ سلطان متغلب نقل کیا(ص۵۱)۔
طاعتہ خیرمن الخروج علیہ لما فی ذلك من حقن الدماء وتسکین الدھماء ۔ اس کے خلاف کے مقابلہ میں اس کی طاعت بہتر ہے کیونکہ اس میں جانوں کا تحفظ اور شورش سے سکون ہے(ت)
(۳)کہ دوم پر متفرع ہے خلیفہ نے جس مباح کا حکم دیا حقیقۃ فرض ہوگیا جس مباح سے منع کیا حقیقۃ حرام ہوگیا یہاں تك تنہائی وخلوت میں بھی اس کا خلاف جائز نہیں کہ خلیفہ نہ دیکھے اﷲ دیکھتا ہےایك زمانے میں خلیفہ منصور نے امام الائمہ سراج الامہ سید نا امام اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ کو فتوی دینے سے منع کردیا تھاامام ہمام کی صاحبزادی نے گھرمیں ایك مسئلہ پوچھاامام نے فرمایا:میں جواب نہیں دے سکتا خلیفہ نے منع کیا ہے۔یہاں سے ظاہر ہوا کہ خلیفہ کا حکم مباح درکنار فرض کفایہ پر غالب ہے جبکہ دوسرے اس کے ادا کرنے والے موجود ہوں کہ اب اس کا ترك معصیت نہیں تو حکم خلیفہ نافذ ہوگا اگرچہ خلیفہ ظالم بلکہ خود اس کا وہ حکم ظلم ہو کہ امام کو فتوی سے روکنا نہ ہوگا مگر ظلمااور سلطان متغلب جس کی ولایت خلیفہ سے مستفاد نہ ہو اس کے امر و نہی سے مباحات فی نفسہا واجب و حرام نہ ہوجائیں گے تنہائی میں اس طور پر کہ اسے اطلاع پہنچنے کا اندیشہ نہ ہو مباح اپنی اباحت پر رہے گا۔علامہ شہاب الدین خفاجی رحمہ اﷲ تعالی صاحب نسیم الریاض وعنایۃ القاضی وغیرہما کتب نافعہ کے زمانے میں سلطان نے حقہ پینے سے لوگوں کو منع کیا تھا یہ پردہ ڈال کر پیتے۔امام علامہ عارف باﷲ سیدی عبدالغنی نابلسی قدس سرہ القدسی رسالہ الصلح بین الاخوان میں فرماتے ہیں:"نہ خود حقہ پیتا ہوں نہ میرے گھر بھر میں کوئی پیتا ہے مگر مباح کو حرام نہیں کہہ سکتا"۔ اور منع سلطانی کے جواب میں شرح ہدیہ ابن العماد میں فرماتے ہیں:
لیت شعری ای امر من امریہ یتمسك بہ امرہ الناس بترکہ اوامرہ باعطاء المکس علیہ علی ان المراد من اولی الامر فی الایۃ العلماء علی اصح الاقوال کما ذکرہ العینی فی اخر مسائل شتی من شرح الکنز وایضا یعنی کاش میں جانوں کہ سلطان کا کون سا حکم لیاجائے یہ کہ لوگ حقہ نہ پئیں یا یہ کہ تمباکو پرٹیکس دیں معہذا آیہ کریمہ میں اصح قول یہ ہے کہ اولی الامر سے مراد علماء ہیں جس طرح شرح کنز امام عینی میں ہے نیز کیا ظالم سلاطین کا حکم حکم شرعی ہوجائے گا حالانکہ
طاعتہ خیرمن الخروج علیہ لما فی ذلك من حقن الدماء وتسکین الدھماء ۔ اس کے خلاف کے مقابلہ میں اس کی طاعت بہتر ہے کیونکہ اس میں جانوں کا تحفظ اور شورش سے سکون ہے(ت)
(۳)کہ دوم پر متفرع ہے خلیفہ نے جس مباح کا حکم دیا حقیقۃ فرض ہوگیا جس مباح سے منع کیا حقیقۃ حرام ہوگیا یہاں تك تنہائی وخلوت میں بھی اس کا خلاف جائز نہیں کہ خلیفہ نہ دیکھے اﷲ دیکھتا ہےایك زمانے میں خلیفہ منصور نے امام الائمہ سراج الامہ سید نا امام اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ کو فتوی دینے سے منع کردیا تھاامام ہمام کی صاحبزادی نے گھرمیں ایك مسئلہ پوچھاامام نے فرمایا:میں جواب نہیں دے سکتا خلیفہ نے منع کیا ہے۔یہاں سے ظاہر ہوا کہ خلیفہ کا حکم مباح درکنار فرض کفایہ پر غالب ہے جبکہ دوسرے اس کے ادا کرنے والے موجود ہوں کہ اب اس کا ترك معصیت نہیں تو حکم خلیفہ نافذ ہوگا اگرچہ خلیفہ ظالم بلکہ خود اس کا وہ حکم ظلم ہو کہ امام کو فتوی سے روکنا نہ ہوگا مگر ظلمااور سلطان متغلب جس کی ولایت خلیفہ سے مستفاد نہ ہو اس کے امر و نہی سے مباحات فی نفسہا واجب و حرام نہ ہوجائیں گے تنہائی میں اس طور پر کہ اسے اطلاع پہنچنے کا اندیشہ نہ ہو مباح اپنی اباحت پر رہے گا۔علامہ شہاب الدین خفاجی رحمہ اﷲ تعالی صاحب نسیم الریاض وعنایۃ القاضی وغیرہما کتب نافعہ کے زمانے میں سلطان نے حقہ پینے سے لوگوں کو منع کیا تھا یہ پردہ ڈال کر پیتے۔امام علامہ عارف باﷲ سیدی عبدالغنی نابلسی قدس سرہ القدسی رسالہ الصلح بین الاخوان میں فرماتے ہیں:"نہ خود حقہ پیتا ہوں نہ میرے گھر بھر میں کوئی پیتا ہے مگر مباح کو حرام نہیں کہہ سکتا"۔ اور منع سلطانی کے جواب میں شرح ہدیہ ابن العماد میں فرماتے ہیں:
لیت شعری ای امر من امریہ یتمسك بہ امرہ الناس بترکہ اوامرہ باعطاء المکس علیہ علی ان المراد من اولی الامر فی الایۃ العلماء علی اصح الاقوال کما ذکرہ العینی فی اخر مسائل شتی من شرح الکنز وایضا یعنی کاش میں جانوں کہ سلطان کا کون سا حکم لیاجائے یہ کہ لوگ حقہ نہ پئیں یا یہ کہ تمباکو پرٹیکس دیں معہذا آیہ کریمہ میں اصح قول یہ ہے کہ اولی الامر سے مراد علماء ہیں جس طرح شرح کنز امام عینی میں ہے نیز کیا ظالم سلاطین کا حکم حکم شرعی ہوجائے گا حالانکہ
حوالہ / References
مسئلہ خلافت بحث بعض کتب مشہورہ عقائد و فقہ داتا پبلشر لاہور ص ۱۰۶
رسالہ الصلح بین الاخوان لعبد الغنی نابلسی
رسالہ الصلح بین الاخوان لعبد الغنی نابلسی
ھل منع السلاطین الظلمۃ یثبت حکما شرعیا وقد قالوا من قال لسلطان زماننا عادل کفر۔ ائمہ دین نے تصریح فرمائی ہے کہ جو ہمارے زمانے کے سلطان کو عادل کہے کافر ہوجائیگا انتہی۔
یہ ارشاد امام علم الہدی ابو منصور ماتریدی رضی اﷲ تعالی عنہ کا اپنے زمانے کے سلاطین میں ہے جنہیں ہزار برس سے زائد ہوئے نہ کہ اب۔نسأل اﷲ العفووالعافیۃ۔
(۴)کہ نیز دوم پر متفرع ہے ایك وقت میں تمام جہان میں ایك ہی ہوسکتا ہے اور سلاطین دس ملکوں میں دس۔خود مسٹر آزاد لکھتے ہیں(ص۸۴):"اسلام نے مسلمانوں کی حکومت ایك ہی قرار دی تھی یعنی روئے زمین پر مسلمانوں کا صرف ایك ہی فرمانرواوخلیفہ ہو۔"
(۵)کوئی سلطان اپنے انعقاد سلطنت میں دوسرے سلطان کے اذن کا محتاج نہیں مگر ہر سلطان اذن خلیفی کا محتاج ہے کہ بے اس کے اس کی حکومت شرعی و مرضی شرع نہیں ہوسکتیخود آزاد کے ص۷۹ سے گزرا کہ:
"خلافت کی عظمت دینی نے مجبور کیا کہ اپنی حکومت کو شرعی طور پر منوادینے کے لئے خلافت سے پروانہ نیابت حاصل کرتے رہیں۔"
(۶)خلیفہ بلاوجہ شرعی کسی بڑے سے بڑے سلطان کے معزول کئے معزول نہیں ہوسکتاخود جبار وسرکش قواد ترك کہ متوکل بن معتصم بن ہارون رشید کو قتل کرکے خلفاء پر حاوی ہوگئے تھے جب ان میں کسی کو زندہ رکھ کر معزول کرنا چاہتے خود اسے مجبورکرتے کہ خلافت سے استعفی دے تاکہ عزل صحیح ہوجائے بخلاف سلطان کہ خلیفہ کا صرف زبان سے کہہ دینا"میں نے تجھے معزول کیا"اس کے عزل کو بس ہے۔
(۷)سلطنت کے لئے قرشیت درکنار حریت بھی شرط نہیںبہتیرے غلام بادشاہ ہوئے
خود رسالہ آزاد صفحہ۵۵میں ہے:"غلاموں نے بادشاہت کی ہے اور تمام سادات وقریش نے ان کے آگے اطاعت کاسر جھکایا ہے"۔
اور خلافت کےلئے حریت باجماع اہل قبلہ شرط ہے کمافی المواقف وشرحہ وعامۃ الکتب(جیسا کہ مواقف اور اس کی شرح اور عامہ کتب میں ہے۔ت)یہاں سے خلیفہ وسلطان کے فرق ظاہرہوگئےنیز
یہ ارشاد امام علم الہدی ابو منصور ماتریدی رضی اﷲ تعالی عنہ کا اپنے زمانے کے سلاطین میں ہے جنہیں ہزار برس سے زائد ہوئے نہ کہ اب۔نسأل اﷲ العفووالعافیۃ۔
(۴)کہ نیز دوم پر متفرع ہے ایك وقت میں تمام جہان میں ایك ہی ہوسکتا ہے اور سلاطین دس ملکوں میں دس۔خود مسٹر آزاد لکھتے ہیں(ص۸۴):"اسلام نے مسلمانوں کی حکومت ایك ہی قرار دی تھی یعنی روئے زمین پر مسلمانوں کا صرف ایك ہی فرمانرواوخلیفہ ہو۔"
(۵)کوئی سلطان اپنے انعقاد سلطنت میں دوسرے سلطان کے اذن کا محتاج نہیں مگر ہر سلطان اذن خلیفی کا محتاج ہے کہ بے اس کے اس کی حکومت شرعی و مرضی شرع نہیں ہوسکتیخود آزاد کے ص۷۹ سے گزرا کہ:
"خلافت کی عظمت دینی نے مجبور کیا کہ اپنی حکومت کو شرعی طور پر منوادینے کے لئے خلافت سے پروانہ نیابت حاصل کرتے رہیں۔"
(۶)خلیفہ بلاوجہ شرعی کسی بڑے سے بڑے سلطان کے معزول کئے معزول نہیں ہوسکتاخود جبار وسرکش قواد ترك کہ متوکل بن معتصم بن ہارون رشید کو قتل کرکے خلفاء پر حاوی ہوگئے تھے جب ان میں کسی کو زندہ رکھ کر معزول کرنا چاہتے خود اسے مجبورکرتے کہ خلافت سے استعفی دے تاکہ عزل صحیح ہوجائے بخلاف سلطان کہ خلیفہ کا صرف زبان سے کہہ دینا"میں نے تجھے معزول کیا"اس کے عزل کو بس ہے۔
(۷)سلطنت کے لئے قرشیت درکنار حریت بھی شرط نہیںبہتیرے غلام بادشاہ ہوئے
خود رسالہ آزاد صفحہ۵۵میں ہے:"غلاموں نے بادشاہت کی ہے اور تمام سادات وقریش نے ان کے آگے اطاعت کاسر جھکایا ہے"۔
اور خلافت کےلئے حریت باجماع اہل قبلہ شرط ہے کمافی المواقف وشرحہ وعامۃ الکتب(جیسا کہ مواقف اور اس کی شرح اور عامہ کتب میں ہے۔ت)یہاں سے خلیفہ وسلطان کے فرق ظاہرہوگئےنیز
حوالہ / References
شرح ہدیۃ ابن العماد
کھل گیا کہ سلطان خلیفہ سے بہت نیچا درجہ ہےولہذا کبھی خلیفہ کے نام کے ساتھ لفظ سلطان نہیں کہا جاتا کہ اس کی کسر شان ہے آج تك کسی نے سلطان ابوبکر صدیقسلطان عمر فاروقسلطان عثمان غنیسلطان علی المرتضی بلکہ سلطان عمر بن عبدالعزیز بلکہ سلطان ہارون رشید نہ سنا ہوگاکسی خلیفہ اموی یا عباسی کے نام کے ساتھ اسے نہ پائیے گاتو کھل گیا کہ جس کے نام کے ساتھ سلطان لگاتے ہیں اسے خلیفہ نہیں مانتے کہ خلیفہ اس سے بلندوبالا ہےیہی وہ خلافت مصطلحہ شرعیہ ہے جس کی بحث ہےاسی کے لئے قرشیت وغیرہا سات شرطیں لازمی ہیں عرف حادث میں اگر کسی سلطان کو بھی خلیفہ کہیں یا مدح میں ذکر کرجائیں وہ نہ حکم شرع کا نافی ہے نہ اصطلاح شرع کا منافی۔جس طرح اجماع اہلسنت ہے کہ بشر میں انبیا ء علیہم الصلاۃ والسلام کے سواکوئی معصوم نہیںجو دوسرےکو معصوم مانے اہلسنت سے خارج ہےپھر عرف حادث میں بچوں کو بھی معصوم کہتے ہیں یہ خارج ازبحث ہے جیسے لڑکوں کے معلم تك کو خلیفہ کہتے ہیںیہ مبحث واجب الحفظ ہے کہ دھوکا نہ ہو وباﷲ التوفیق۔
فصل اول
احادیث متواترہ سرکار رسالت واجماع صحابہ وتابعین وائمہ امت ومذہب مہذب اہلسنت وجماعت سے شرط قرشیت کے روشن ثبوت احادیث شریفہ کو میں جدا لاؤں ان کی تخریج و شان تو اتر بتاؤں ان سے اتمام تقریب ووجہ احتجاج دکھاؤں اس سے یہی بہتر کہ کتب عقائد وکتب حدیث وکتب فقہ سے اقوال جلیلہ ائمہ کرام علمائے اعلام بتادیں گے کہ حدیثیں متواتر ہیں ان کی حجتیں قاہرہ ہیں ہر طبقہ وقرن کے اجماع متظافر ہیں مخالف سنی نہیں خارجی معتزلی گمراہ خاسر ہیں وباﷲ التوفیق۔
کتب عقائد
۱ امام ہمام مفتی الجن والانس عارف باﷲ نجم الملۃ والدین عمر نسفی استاد امام برہان الملۃ والدین صاحب ہدایہ رحمہمااﷲ تعالی کا متن عقائد مشہور بہ عقائد نسفی جو سلسلہ نظامیہ ودیگر سلاسل تعلیمیہ میں عقائد اہلسنت کی درسی کتاب ہے جسے درس میں اسی لئے رکھا ہے کہ طلبہ عقائد اہلسنت سے آگاہ ہوجائیںاس کتاب جلیل میں ہے:ویکون من قریش ولایجوز من غیرھم یعنی خلیفہ قریش سے ہو غیر قریشی جائز نہیں۔
فصل اول
احادیث متواترہ سرکار رسالت واجماع صحابہ وتابعین وائمہ امت ومذہب مہذب اہلسنت وجماعت سے شرط قرشیت کے روشن ثبوت احادیث شریفہ کو میں جدا لاؤں ان کی تخریج و شان تو اتر بتاؤں ان سے اتمام تقریب ووجہ احتجاج دکھاؤں اس سے یہی بہتر کہ کتب عقائد وکتب حدیث وکتب فقہ سے اقوال جلیلہ ائمہ کرام علمائے اعلام بتادیں گے کہ حدیثیں متواتر ہیں ان کی حجتیں قاہرہ ہیں ہر طبقہ وقرن کے اجماع متظافر ہیں مخالف سنی نہیں خارجی معتزلی گمراہ خاسر ہیں وباﷲ التوفیق۔
کتب عقائد
۱ امام ہمام مفتی الجن والانس عارف باﷲ نجم الملۃ والدین عمر نسفی استاد امام برہان الملۃ والدین صاحب ہدایہ رحمہمااﷲ تعالی کا متن عقائد مشہور بہ عقائد نسفی جو سلسلہ نظامیہ ودیگر سلاسل تعلیمیہ میں عقائد اہلسنت کی درسی کتاب ہے جسے درس میں اسی لئے رکھا ہے کہ طلبہ عقائد اہلسنت سے آگاہ ہوجائیںاس کتاب جلیل میں ہے:ویکون من قریش ولایجوز من غیرھم یعنی خلیفہ قریش سے ہو غیر قریشی جائز نہیں۔
حوالہ / References
شرح العقائد النسفیۃ دارالاشاعۃ العربیۃ قندھار،افغانستان ص۱۱۱
۲شرح علامہ تفتازانی میں ہے:
لم یخالف فیہ الاالخوارج وبعض المعتزلۃ ۔ قرشیت کی شرط میں کسی نے خلاف نہ کیا مگر خارجیوں اور بعض معتزلیوں نے۔
۳اسی میں ہے:
یشترط ان یکون الامام قریشیا لقولہ علیہ الصلوۃ والسلام الائمۃ من قریش وھذا وان کان خبراواحدا لکن لمارواہ ابوبکر محتجابہ علی الانصار ولم ینکرہ احد فصار مجمعاعلیہ ۔ یعنی شرط یہ ہے کہ خلیفہ قریشی ہو بدلیل قول نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم الائمۃ من قریش اور یہ حدیث اگرچہ خبر واحد ہے لیکن جب حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالی عنہ نے انصار پر حجت میں اسے پیش کیا اورصحابہ کرام میں کسی نے اس پر انکار نہ کیا تو اس پر اجماع ہوگیا۔
۴کتاب قواعد العقائد امام حجۃ الاسلام غزالی میں ہے:
شرط الامامۃ نسبۃ قریش لقولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم الائمۃ من قریش ۔ خلافت کی شرط نسب قریشی ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا خلفاء قریش سے ہیں۔
اس کی ۵شرح اتحاف میں ہے:
ان کثیرامن المعتزلہ نفی ھذاالاشتراطودلیل اھل السنۃ قولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم الائمۃ من قریش قال العراقی اخرجہ النسائی من حدیث انس والحاکم من حدیث علی وصححہ اھ قلت وکذا اخرجہ البخاری فی التاریخ وابویعلی والطیالسی و البزار عن انس واخرجہ احمد من حدیث ابی ھریرۃ وابی بکر الصدیق یعنی بہت معتزلیوں نے شرط قرشیت کا انکار کیا اور اہلسنت کی دلیلرسول اﷲصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ خلفا قریش سے ہوںامام زین الدین عراقی نے فرمایا یہ حدیث نسائی نے حضرت انس رضی اﷲ تعالی عنہ اور حاکم نے امیر المومنین مولی علی کرم اﷲ تعالی وجہہ سے روایت کی اور کہا یہ حدیث صحیح ہے اھ میں کہتا ہوں یونہی اسے امام بخاری نے کتاب التاریخ
لم یخالف فیہ الاالخوارج وبعض المعتزلۃ ۔ قرشیت کی شرط میں کسی نے خلاف نہ کیا مگر خارجیوں اور بعض معتزلیوں نے۔
۳اسی میں ہے:
یشترط ان یکون الامام قریشیا لقولہ علیہ الصلوۃ والسلام الائمۃ من قریش وھذا وان کان خبراواحدا لکن لمارواہ ابوبکر محتجابہ علی الانصار ولم ینکرہ احد فصار مجمعاعلیہ ۔ یعنی شرط یہ ہے کہ خلیفہ قریشی ہو بدلیل قول نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم الائمۃ من قریش اور یہ حدیث اگرچہ خبر واحد ہے لیکن جب حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالی عنہ نے انصار پر حجت میں اسے پیش کیا اورصحابہ کرام میں کسی نے اس پر انکار نہ کیا تو اس پر اجماع ہوگیا۔
۴کتاب قواعد العقائد امام حجۃ الاسلام غزالی میں ہے:
شرط الامامۃ نسبۃ قریش لقولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم الائمۃ من قریش ۔ خلافت کی شرط نسب قریشی ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا خلفاء قریش سے ہیں۔
اس کی ۵شرح اتحاف میں ہے:
ان کثیرامن المعتزلہ نفی ھذاالاشتراطودلیل اھل السنۃ قولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم الائمۃ من قریش قال العراقی اخرجہ النسائی من حدیث انس والحاکم من حدیث علی وصححہ اھ قلت وکذا اخرجہ البخاری فی التاریخ وابویعلی والطیالسی و البزار عن انس واخرجہ احمد من حدیث ابی ھریرۃ وابی بکر الصدیق یعنی بہت معتزلیوں نے شرط قرشیت کا انکار کیا اور اہلسنت کی دلیلرسول اﷲصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ خلفا قریش سے ہوںامام زین الدین عراقی نے فرمایا یہ حدیث نسائی نے حضرت انس رضی اﷲ تعالی عنہ اور حاکم نے امیر المومنین مولی علی کرم اﷲ تعالی وجہہ سے روایت کی اور کہا یہ حدیث صحیح ہے اھ میں کہتا ہوں یونہی اسے امام بخاری نے کتاب التاریخ
حوالہ / References
شرح العقائد النسفیۃ دارالاشاعۃ العربیۃ قندھار،افغانستان ص۱۱۲
شرح العقائد النسفیۃ دارالاشاعۃ العربیۃ قندھار،افغانستان ص۱۱۱ و ۱۱۲
احیاء العلوم کتاب قواعد العقائد الفصل الثالث الرکن الرابع مکتبۃ المشہد الحسینی قاہرہ مصر ۱/ ۱۱۵
شرح العقائد النسفیۃ دارالاشاعۃ العربیۃ قندھار،افغانستان ص۱۱۱ و ۱۱۲
احیاء العلوم کتاب قواعد العقائد الفصل الثالث الرکن الرابع مکتبۃ المشہد الحسینی قاہرہ مصر ۱/ ۱۱۵
والطبرانی من حدیث علی وعندہ عن انس بلفظ ان الملك فی قریش واخرج یعقوب بن سفیان وابو یعلی والطبرانی من طریق سکین من عبدالعزیز حدثنا سیاربن سلامۃ ابوالمنہال قال دخلت مع ابی علی ابی برزۃ الاسلمی فسمعتہ یقول سمعت رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یقول الامراء من قریش الخ (ملخصا)
ثم ذکرتخاریج حدیث لایزال ھذا الامر فی قریش وشواھدہ وکلہ ماخوذ من الفتح۔ اور ابویعلی وابوداؤد طیالسی و بزار نے انس اور امام احمد نے ابوہریرہ وحضرت صدیق اکبر اور طبرانی نے مولی علی سے روایت کیا رضی اﷲ تعالی عنہم اجمعیننیز طبرانی کے یہاں بروایت انس رضی اﷲ تعالی عنہ ان لفظوں سے ہے کہ سلطنت قریش میں ہے اور یعقوب بن سفیان و ابویعلی وطبرانی نے سکین بن عبدالعزیز سے روایت کی کہ ہم سے سیار بن سلامہ ابو المنہال نے حدیث بیان کی کہ میں اپنے والد کے ساتھ ابوبرزہ اسلمی رضی اﷲ تعالی عنہ کے پاس گیا انہیں یہ حدیث روایت کرتے سنا کہ میں نے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی کو فرماتے سنا کہ خلفاء قریش سے ہیں الخ(ملخصا)
پھر انہوں نے حدیثکہ یہ خلافت ہمیشہ قریش میں ہوگی کی تخریجات اور شواہدات کو ذکر کیا اور یہ سب فتح الباری سے ماخوذ ہے۔(ت)
۶مسایرہ امام محقق علی الاطلاق کمال الدین بن الہام میں ہے:
شرط الامام نسب قریش خلافا لکثیر من المعتزلۃ ۔ خلیفہ کی شرط نسب قرشی ہے بہت معتزلیوں کا اس میں خلاف ہے۔(ت)
۷مسامرہ علامہ ابن ابی شریف شافعی تلمیذ امام ابن الہمام میں ہے:
لنا قولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم الائمۃ من قریش قدمناتخریجہ وقولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم الناس تبع لقریش اخرجہ الشیخان وفی البخاری من حدیث معویۃ رضی اﷲ تعالی ہم اہلسنت کی دلیل رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کاارشاد ہے کہ خلفا قریش سے ہیںہم نے اس حدیث کی تخریج اوپر بیان کی نیز حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا ارشاد کہ سب آدمی قریش کے تابع ہیںاسے بخاری ومسلم نے روایت کیانیز بخاری میں
ثم ذکرتخاریج حدیث لایزال ھذا الامر فی قریش وشواھدہ وکلہ ماخوذ من الفتح۔ اور ابویعلی وابوداؤد طیالسی و بزار نے انس اور امام احمد نے ابوہریرہ وحضرت صدیق اکبر اور طبرانی نے مولی علی سے روایت کیا رضی اﷲ تعالی عنہم اجمعیننیز طبرانی کے یہاں بروایت انس رضی اﷲ تعالی عنہ ان لفظوں سے ہے کہ سلطنت قریش میں ہے اور یعقوب بن سفیان و ابویعلی وطبرانی نے سکین بن عبدالعزیز سے روایت کی کہ ہم سے سیار بن سلامہ ابو المنہال نے حدیث بیان کی کہ میں اپنے والد کے ساتھ ابوبرزہ اسلمی رضی اﷲ تعالی عنہ کے پاس گیا انہیں یہ حدیث روایت کرتے سنا کہ میں نے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی کو فرماتے سنا کہ خلفاء قریش سے ہیں الخ(ملخصا)
پھر انہوں نے حدیثکہ یہ خلافت ہمیشہ قریش میں ہوگی کی تخریجات اور شواہدات کو ذکر کیا اور یہ سب فتح الباری سے ماخوذ ہے۔(ت)
۶مسایرہ امام محقق علی الاطلاق کمال الدین بن الہام میں ہے:
شرط الامام نسب قریش خلافا لکثیر من المعتزلۃ ۔ خلیفہ کی شرط نسب قرشی ہے بہت معتزلیوں کا اس میں خلاف ہے۔(ت)
۷مسامرہ علامہ ابن ابی شریف شافعی تلمیذ امام ابن الہمام میں ہے:
لنا قولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم الائمۃ من قریش قدمناتخریجہ وقولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم الناس تبع لقریش اخرجہ الشیخان وفی البخاری من حدیث معویۃ رضی اﷲ تعالی ہم اہلسنت کی دلیل رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کاارشاد ہے کہ خلفا قریش سے ہیںہم نے اس حدیث کی تخریج اوپر بیان کی نیز حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا ارشاد کہ سب آدمی قریش کے تابع ہیںاسے بخاری ومسلم نے روایت کیانیز بخاری میں
حوالہ / References
اتحاف السادۃ المتقین کتاب قواعد العقائد دارالفکربیروت ۲/ ۲۳۱
اتحاف السادۃ المتقین کتاب قواعد العقائد دارالفکربیروت ۲/ ۲۳۱
مسایرۃ مع المسامرۃ شروط الامام متکبہ تجاریۃ کبرٰی مصر ص۲۳۹
اتحاف السادۃ المتقین کتاب قواعد العقائد دارالفکربیروت ۲/ ۲۳۱
مسایرۃ مع المسامرۃ شروط الامام متکبہ تجاریۃ کبرٰی مصر ص۲۳۹
عنہ ان ھذاالامر فی قریش ۔ امیر معاویہ رضی اﷲ تعالی عنہ کی حدیث سے ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا بیشك خلافت قریش میں ہے۔
اور تخریج حدیث چھ ورق اوپر بیان کی
رواہ النسائی من حدیث انس ورواہ بمعناہ الطبرانی فی الدعاء والبزار والبیھقی وافردہ شیخنا الامام الحافظ ابوالفضل بن حجر بجزء جمع فیہ طرقہ نحومن اربعن صحابیا ۔ یہ حدیث نسائی نے انس رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کی اور یہی مضمون طبرانی نے کتاب الدعاء اور بزار و بیہقی نے روایت کیا اور ہمارے شیخ امام حافظ ابو الفضل ابن حجر عسقلانی نے خاص اس حدیث میں ایك مستقل رسالہ لکھا جس میں اس کی روایات قریب چالیس صحابہ کرام رضی اﷲ تعالی عنہم سے جمع کیں۔
۸علامہ امام قاسم بن قطلوبغا حنفی تلمیذ ابن الہمام تعلیقات مسایرہ میں فرماتے ہیں:
اماعندنا فالشروط انواع بعضھا لازم لاتنعقد بدونہوھی الاسلام والذکورۃ والحریۃ والعقل و البلوغ واصل الشجاعۃ وان یکون قرشیا ۔ ہمارے نزدیك خلافت کی شرطیں کئی قسم ہیں بعض تو شروط لازم ہیں کہ ان کے بغیر خلافت صحیح ہی نہیں ہوسکتی وہ یہ ہیں اسلام اور مرد ہونا اور آزادی وعقل وبلوغ واصل شجاعت اور قرشی ہونا۔
۹پھر فرمایا:
امانسب قریش فلقولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم الائمۃ من قریش رواہ البزار وھذا وان کان خبرواحد فقد اتفقت الصحابۃ علی قبولہ الامام ابوالعباس الصابونی وغیرہ ۔ قریشی ہونا اس لئے شر ط ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:خلفاء قریش سے ہوں۔اسے بزار نے روایت کیااور یہ اگرچہ خبر احاد ہو مگر صحابہ کرام نے اس کے قبول پر اجماع فرمایایہ ۱۰امام ابوالعباس صابونی وغیرہ نے افادہ فرمایا۔
۱۱طوالع الانوار علامہ بیضاوی میں ہے:
اور تخریج حدیث چھ ورق اوپر بیان کی
رواہ النسائی من حدیث انس ورواہ بمعناہ الطبرانی فی الدعاء والبزار والبیھقی وافردہ شیخنا الامام الحافظ ابوالفضل بن حجر بجزء جمع فیہ طرقہ نحومن اربعن صحابیا ۔ یہ حدیث نسائی نے انس رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کی اور یہی مضمون طبرانی نے کتاب الدعاء اور بزار و بیہقی نے روایت کیا اور ہمارے شیخ امام حافظ ابو الفضل ابن حجر عسقلانی نے خاص اس حدیث میں ایك مستقل رسالہ لکھا جس میں اس کی روایات قریب چالیس صحابہ کرام رضی اﷲ تعالی عنہم سے جمع کیں۔
۸علامہ امام قاسم بن قطلوبغا حنفی تلمیذ ابن الہمام تعلیقات مسایرہ میں فرماتے ہیں:
اماعندنا فالشروط انواع بعضھا لازم لاتنعقد بدونہوھی الاسلام والذکورۃ والحریۃ والعقل و البلوغ واصل الشجاعۃ وان یکون قرشیا ۔ ہمارے نزدیك خلافت کی شرطیں کئی قسم ہیں بعض تو شروط لازم ہیں کہ ان کے بغیر خلافت صحیح ہی نہیں ہوسکتی وہ یہ ہیں اسلام اور مرد ہونا اور آزادی وعقل وبلوغ واصل شجاعت اور قرشی ہونا۔
۹پھر فرمایا:
امانسب قریش فلقولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم الائمۃ من قریش رواہ البزار وھذا وان کان خبرواحد فقد اتفقت الصحابۃ علی قبولہ الامام ابوالعباس الصابونی وغیرہ ۔ قریشی ہونا اس لئے شر ط ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:خلفاء قریش سے ہوں۔اسے بزار نے روایت کیااور یہ اگرچہ خبر احاد ہو مگر صحابہ کرام نے اس کے قبول پر اجماع فرمایایہ ۱۰امام ابوالعباس صابونی وغیرہ نے افادہ فرمایا۔
۱۱طوالع الانوار علامہ بیضاوی میں ہے:
حوالہ / References
مسامرۃ شرح مسایرہ شروط الامام مکتبہ تجاریہ کبرٰی مصر ص۳۲۰
مسامرۃ شرح مسایرہ شروط الامام مکتبہ تجاریہ کبرٰی مصر ص۳۰۶
تعلیقات مسایرۃ مع المسامرۃ شروط الامام مکتبہ تجاریہ کبرٰی مصر ص۳۱۹ و ۳۲۰
تعلیقات مسایرۃ مع المسامرۃ شروط الامام مکتبہ تجاریہ کبرٰی مصر ص۳۲۰
مسامرۃ شرح مسایرہ شروط الامام مکتبہ تجاریہ کبرٰی مصر ص۳۰۶
تعلیقات مسایرۃ مع المسامرۃ شروط الامام مکتبہ تجاریہ کبرٰی مصر ص۳۱۹ و ۳۲۰
تعلیقات مسایرۃ مع المسامرۃ شروط الامام مکتبہ تجاریہ کبرٰی مصر ص۳۲۰
التاسعۃ کونہ قرشیا خلافا للخوارج وجمع من المعتزلۃ قولہ صلی اﷲتعالی علیہ وسلم الائمۃ من قریش واللام فی الجمع حیث لاعھد للعموم ۔ یعنی خلافت کی نویں شرط قریشی ہونا ہے اس میں خارجیوں اور ایك گروہ معتزلہ کو خلاف ہے کہ وہ خلیفہ کا قریشی ہونا ضروری نہیں جانتےہماری دلیل رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ خلفاء قریش سے ہوں جہاں عہد نہ ہو جمع پر لام استغراق کے لئے ہوتا ہے یعنی تمام خلفاء قریش ہی سے ہوں۔
۱۲مواقف میں ہے:
یکون قرشیا ومنعہ الخوارج وبعض المعتزلۃ لنا قولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم الائمۃ من قریش ثم ان الصحابۃ عملوابمضمون ھذاالحدیث واجمعوا علیہ فصار قاطعا ۔ یعنی خلیفہ قریشی ہوخارجی اور بعض معتزلی اس شرط کے منکر ہیں ہماری دلیل نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ خلیفہ قریشی ہوپھر صحابہ کرام اس حدیث کے مضمون پر عامل ہوئے اور ان کا اس پر اجماع ہوا تو وہ دلیل قطعی ہوگئی۔
۱۳شرح علامہ سید شریف میں ہے:
صاردلیلا قطعا یفید الیقین باشتراط القرشیۃ ۔ یعنی دلیل قطعی ہوگئی جس سے قرشیت کا شرط ہونا یقینی ہوگیا۔
۱۴اسی میں ہے:اشترطہ الاشاعرۃ یعنی اہلسنت کے نزدیك خلیفہ کا قرشی ہونا شرط ہے۔۱۵مقاصد میں ہے:
یشترط فی الامام کونہ قرشیا لقولہ صلی اﷲتعالی علیہ وسلم الائمۃ من قریش ۔ امام میں شرط ہے کہ قرشی ہورسول اﷲ صلی اﷲتعالی علیہ وسلم نے فرمایا:خلفاء قریش سے ہوں۔
۱۶شرح مقاصد میں ہے:
۱۲مواقف میں ہے:
یکون قرشیا ومنعہ الخوارج وبعض المعتزلۃ لنا قولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم الائمۃ من قریش ثم ان الصحابۃ عملوابمضمون ھذاالحدیث واجمعوا علیہ فصار قاطعا ۔ یعنی خلیفہ قریشی ہوخارجی اور بعض معتزلی اس شرط کے منکر ہیں ہماری دلیل نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ خلیفہ قریشی ہوپھر صحابہ کرام اس حدیث کے مضمون پر عامل ہوئے اور ان کا اس پر اجماع ہوا تو وہ دلیل قطعی ہوگئی۔
۱۳شرح علامہ سید شریف میں ہے:
صاردلیلا قطعا یفید الیقین باشتراط القرشیۃ ۔ یعنی دلیل قطعی ہوگئی جس سے قرشیت کا شرط ہونا یقینی ہوگیا۔
۱۴اسی میں ہے:اشترطہ الاشاعرۃ یعنی اہلسنت کے نزدیك خلیفہ کا قرشی ہونا شرط ہے۔۱۵مقاصد میں ہے:
یشترط فی الامام کونہ قرشیا لقولہ صلی اﷲتعالی علیہ وسلم الائمۃ من قریش ۔ امام میں شرط ہے کہ قرشی ہورسول اﷲ صلی اﷲتعالی علیہ وسلم نے فرمایا:خلفاء قریش سے ہوں۔
۱۶شرح مقاصد میں ہے:
حوالہ / References
طوالع الانوار علامہ بیضاوی
مواقف مع شرح المواقف المرصد الرابع فی الامامۃ منشورات الشریف رضی قم ایران ۸/ ۳۵۰
مواقف مع شرح المواقف المرصد الرابع فی الامامۃ منشورات الشریف رضی قم ایران ۸/ ۳۵۰
مواقف مع شرح المواقف المرصد الرابع فی الامامۃ منشورات الشریف رضی قم ایران ۸/ ۳۵۰
مقاصد علی ہامش شرح المقاصد الفصل الرابع فی الامامۃ المبحث الثانی دارالمعارف النعمانیۃ لاہور ۲/ ۲۷۷
مواقف مع شرح المواقف المرصد الرابع فی الامامۃ منشورات الشریف رضی قم ایران ۸/ ۳۵۰
مواقف مع شرح المواقف المرصد الرابع فی الامامۃ منشورات الشریف رضی قم ایران ۸/ ۳۵۰
مواقف مع شرح المواقف المرصد الرابع فی الامامۃ منشورات الشریف رضی قم ایران ۸/ ۳۵۰
مقاصد علی ہامش شرح المقاصد الفصل الرابع فی الامامۃ المبحث الثانی دارالمعارف النعمانیۃ لاہور ۲/ ۲۷۷
اتفقت الامۃ علی اشتراط کونہ قرشیا خلافنا للخوارج لنا السنۃ والاجماع اماالسنۃ فقولہ صلی اﷲتعالی علیہ وسلم الائمۃ من قریش واماالاجماع فھو انہ لما قال الانصار یوم السقیفۃ منا امیر و منکم امیرمنعھم ابوبکر رضی اﷲ تعالی عنہ بعدم کونھم من قریش ولم ینکرہ علیہ احد من الصحابۃ فکان اجماعا ۔ یعنی تمام امت کا اجماع ہے کہ خلیفہ کا قریشی ہونا شرط ہے اس میں مخالف خارجی ہیں اور اکثر معتزلیہماری دلیل حدیث اور اجماع امت ہےحدیث تو حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ سلم کا ارشاد ہے کہ خلفاء قریش سے ہیںاور اجماع یوں کہ جب انصار رضی اﷲ تعالی عنہم نے روز سقیفہ بنی ساعدہ مہاجرین رضی اﷲ تعالی عنہم سے کہا ایك امیر ہم میں سے اور ایك تم میں سےانہیں صدیق اکبر رضی اﷲ تعالی نے دعاوی خلافت سے یوں باز رکھا کہ تم قریشی نہیں(اور خلیفہ کا قریشی ہونا لازم ہے)اس پر کسی صحابی نے انکار نہ کیا تو اجماع ہوگیا۔
۱۷شرح فقہ اکبر میں ہے:
یشترط ان یکون الامام قرشیا لقولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم الائمۃ من قریش وھو حدیث مشہور ولیس المراد ادبہ الامامۃ فی الصلوۃ اتفاقا فتعینت الامامۃ الکبری خلافا للخوارج وبعض المعتزلۃ ۔ یعنی شرط یہ ہے کہ خلیفہ قریشی ہو کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:ائمہ قریش سے ہیں۔اور یہ حدیث مشہور ہے اور اس میں امامت نماز باجماع مراد نہیں تو ضرور خلافت مراد ہے اس میں مخالف خارجی ہیں یا بعض معتزلی۔
۱۸طریقہ محمد یہ میں ہے:
المسلمون لابدلھم من امام قرشی ولایشترط ان یکون ھاشمیا ۔ یعنی مسلمانوں کے لئے ضرور ہے کہ کوئی قریشی خلیفہ ہو اور ہاشمی ہوناشرط نہیں۔
۱۹حدیقہ ندیہ میں ہے:
یکون من قریش ولایجوز من غیرھم ۔ خلیفہ قریشی ہو غیر قریشی کی خلافت درست نہیں۔
۱۷شرح فقہ اکبر میں ہے:
یشترط ان یکون الامام قرشیا لقولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم الائمۃ من قریش وھو حدیث مشہور ولیس المراد ادبہ الامامۃ فی الصلوۃ اتفاقا فتعینت الامامۃ الکبری خلافا للخوارج وبعض المعتزلۃ ۔ یعنی شرط یہ ہے کہ خلیفہ قریشی ہو کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:ائمہ قریش سے ہیں۔اور یہ حدیث مشہور ہے اور اس میں امامت نماز باجماع مراد نہیں تو ضرور خلافت مراد ہے اس میں مخالف خارجی ہیں یا بعض معتزلی۔
۱۸طریقہ محمد یہ میں ہے:
المسلمون لابدلھم من امام قرشی ولایشترط ان یکون ھاشمیا ۔ یعنی مسلمانوں کے لئے ضرور ہے کہ کوئی قریشی خلیفہ ہو اور ہاشمی ہوناشرط نہیں۔
۱۹حدیقہ ندیہ میں ہے:
یکون من قریش ولایجوز من غیرھم ۔ خلیفہ قریشی ہو غیر قریشی کی خلافت درست نہیں۔
حوالہ / References
شرح المقاصد الفصل الرابع فی الامامۃ دارالمعارف النعمانیہ لاہور ۲/ ۲۷۷
منح الروض الازہر شرح الفقہ الاکبر نصب الامام واجب مصطفی البابی مصر ص۱۴۷
طریقہ محمدیۃ المسلمون لابدلہم من امام مکتبہ حنفیہ کوئٹہ ا/۷۱
حدیقہ ندیہ شرح طریقہ محمد یہ المسلمون لابدلہم من امام مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۱/ ۲۹۵
منح الروض الازہر شرح الفقہ الاکبر نصب الامام واجب مصطفی البابی مصر ص۱۴۷
طریقہ محمدیۃ المسلمون لابدلہم من امام مکتبہ حنفیہ کوئٹہ ا/۷۱
حدیقہ ندیہ شرح طریقہ محمد یہ المسلمون لابدلہم من امام مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۱/ ۲۹۵
۲۰تمہید امام ابوالشکور سالمی جسے سلطان الاولیاء محبوب الہی نظام الحق والدین نے درس میں پڑھا اس میں ہے:
اجمعنا علی ان الامام من قریش ولایکون من غیرہ ۔ ہم اہلسنت کا اجماع ہے کہ خلیفہ قریش سے ہو ان کے غیر سے نہیں۔
کتب حدیث
صحیح مسلم وصحیح بخاری میں ہے رسول ا ﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لایزال ھذاالامر فی قریش مابقی من الناس اثنان ۔ خلافت ہمیشہ قریش کےلئے ہے جب تك دنیامیں دو آدمی بھی رہیں۔
۲۱شرح صحیح مسلم للامام النووی و۲۲شرح صحیح بخاری للامام القسطلانی و۲۳مرقاۃ علی قاری میں ہے:
بین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ان ھذا الحکم مستمر الی اخر الدنیا مابقی من الناس اثنان ۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ظاہر فرمادیا کہ یہ حکم ختم دنیا تك ہے جب تك دو آدمی بھی رہیں۔
۲۴ارشاد الساری شرح صحیح بخاری میں ۲۵ابن المنیر سے اور ۲۶عمدۃ القاری امام بدر محمود عینی حنفی میں ہے:
قریش ھم اصحاب الخلافۃ وھی مستمرۃ لھم الی اخر الدنیا مابقی من الناس اثنان ۔ قریش ہی خلافت والے ہیں وہ ختم دنیا تك انہیں کے لئے ہے جب تك دو آدمی بھی باقی رہیں۔
امام قرطبی کی مفہم ۲۷شرح صحیح مسلم میں پھر ۲۸عمدۃ القاری و۲۹فتح الباری شروح صحیح بخاری میں ہے:
ھذا الحدیث خبر عن المشروعیۃ ای لاتنعقد الامامۃ الکبری الالقرشی مھما وجد اس حدیث میں حکم شرعی کا بیان ہے یہ فرمایاہے کہ جب تك دنیا میں ایك قرشی بھی باقی رہے اور وں کی
اجمعنا علی ان الامام من قریش ولایکون من غیرہ ۔ ہم اہلسنت کا اجماع ہے کہ خلیفہ قریش سے ہو ان کے غیر سے نہیں۔
کتب حدیث
صحیح مسلم وصحیح بخاری میں ہے رسول ا ﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لایزال ھذاالامر فی قریش مابقی من الناس اثنان ۔ خلافت ہمیشہ قریش کےلئے ہے جب تك دنیامیں دو آدمی بھی رہیں۔
۲۱شرح صحیح مسلم للامام النووی و۲۲شرح صحیح بخاری للامام القسطلانی و۲۳مرقاۃ علی قاری میں ہے:
بین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ان ھذا الحکم مستمر الی اخر الدنیا مابقی من الناس اثنان ۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ظاہر فرمادیا کہ یہ حکم ختم دنیا تك ہے جب تك دو آدمی بھی رہیں۔
۲۴ارشاد الساری شرح صحیح بخاری میں ۲۵ابن المنیر سے اور ۲۶عمدۃ القاری امام بدر محمود عینی حنفی میں ہے:
قریش ھم اصحاب الخلافۃ وھی مستمرۃ لھم الی اخر الدنیا مابقی من الناس اثنان ۔ قریش ہی خلافت والے ہیں وہ ختم دنیا تك انہیں کے لئے ہے جب تك دو آدمی بھی باقی رہیں۔
امام قرطبی کی مفہم ۲۷شرح صحیح مسلم میں پھر ۲۸عمدۃ القاری و۲۹فتح الباری شروح صحیح بخاری میں ہے:
ھذا الحدیث خبر عن المشروعیۃ ای لاتنعقد الامامۃ الکبری الالقرشی مھما وجد اس حدیث میں حکم شرعی کا بیان ہے یہ فرمایاہے کہ جب تك دنیا میں ایك قرشی بھی باقی رہے اور وں کی
حوالہ / References
التمہید فی بیان التوحید الباب الحادی عشر فی الخلافۃ دارالعلوم حزب الاحناف لاہور ص۱۵۹
صحیح بخاری کتاب الاحکام باب الامراء من قریش قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۱۰۵۷،صحیح مسلم کتاب الامارۃ باب الناس تبع لقریش قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۱۱۹
شرح مسلم مع صحیح مسلم کتاب الامارۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۱۱۹،ارشاد الساری باب الامراء من قریش دارالکتاب العربی بیروت ۱۰/ ۲۱۸
عمدۃ القاری شرح البخاری باب الامراء من قریش ادارۃ الطباعۃ المنیریۃ ۱۶/ ۷۵
صحیح بخاری کتاب الاحکام باب الامراء من قریش قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۱۰۵۷،صحیح مسلم کتاب الامارۃ باب الناس تبع لقریش قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۱۱۹
شرح مسلم مع صحیح مسلم کتاب الامارۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۱۱۹،ارشاد الساری باب الامراء من قریش دارالکتاب العربی بیروت ۱۰/ ۲۱۸
عمدۃ القاری شرح البخاری باب الامراء من قریش ادارۃ الطباعۃ المنیریۃ ۱۶/ ۷۵
منھم احد ۔ خلافت صحیح نہیں۔
۳۰امام نووی شرح صحیح مسلم پھر ۳۱امام قسطلانی شرح بخاری اور ۳۲علامہ طیبی و ۳۳علامہ سید شریف و۳۴علی قاری شروح مشکوۃ میں فرماتے ہیں:
ھذہ الاحادیث واشباھھا دلیل ظاھر ان الخلافۃ مختصۃ لقریش لایجوز عقدھا لاحد من غیرھم وعلی ھذا انعقد الاجماع فی زمن الصحابۃ وکذلك بعدھم ومن خالف فیہ من اھل البدع اواعرض بخلاف من غیرھم فھو محجوج باجماع الصحابۃ و التابعین فمن بعدھم بالاحادیث الصحیحۃ ۔ یہ حدیث اور ان کے مثل اور احادیث روشن دلیلیں ہیں کہ خلافت قریش کے ساتھ خاص ہے ان کے سواکسی کو خلیفہ بنانا جائز نہیںاسی پر زمانہ صحابہ میں یوں ہی ان کے بعد اجماع منعقد ہواتو جن بدمذہبوں نے اس میں خلاف کیا یا جس نے اور کسی کے خلاف کا اشارہ کیا اس کاقول صحابہ تابعین وعلمائے مابعد کے اجماع اورصحیح حدیثوں سے مردود ہے۔
۳۵علامہ ابن المنیر پھر حافظ ۳۶عسقلانی شرح صحیح بخاری میں لکھتے ہیں:
الصحابۃ اتفقواعلی افادۃ المفھوم للحصر خلافا لمن انکرذلك والی ھذاذھب جمھور اھل العلم ان شرط الامام ان یکون قرشیا وقالت الخوارج وطائفۃ من المعتزلۃ یجوز ان یکون الامام غیرقرشی وبالغ ضرار بن عمرو فقال تولیۃ غیر القرشی اولی وقال ابو بکر الطیب لم یعرج المسلمون علی ھذاالقول بعد ثبوت حدیث الائمۃ من قریش وعمل المسلمون بہ قرنابعد قرن وانعقد الاجماع علی اعتبار ذالك قبل ان یقع یعنی صحابہ نے اتفاق فرمایا کہ حدیث الائمۃ من قریش خلافت کا قریشی میں حصر فرماتی ہے بر خلاف اس کے جواس کا منکر ہواور یہی مذہب جمہور اہل علم کا ہے کہ خلیفہ کے لئے قریشی ہونا شرط اور خارجیوں اور ایك گروہ معتزلہ نے کہا کہ غیر قریشی بھی خلیفہ ہوسکتا ہے اور ضرار بن عمرو تو یہاں تك بڑھ گیا کہ کہا غیر قریشی کا خلیفہ کرنا بہتر ہے۔امام ابوبکر ابن الطیب نے فرمایا مسلمانوں نے اس قول کی طرف التفات نہ کیا بعداس کے کہ حدیث"الائمۃ من قریش"ثابت ہوچکی اور ہر قرن میں مسلمان اس پر عامل رہے اور اس اختلاف
۳۰امام نووی شرح صحیح مسلم پھر ۳۱امام قسطلانی شرح بخاری اور ۳۲علامہ طیبی و ۳۳علامہ سید شریف و۳۴علی قاری شروح مشکوۃ میں فرماتے ہیں:
ھذہ الاحادیث واشباھھا دلیل ظاھر ان الخلافۃ مختصۃ لقریش لایجوز عقدھا لاحد من غیرھم وعلی ھذا انعقد الاجماع فی زمن الصحابۃ وکذلك بعدھم ومن خالف فیہ من اھل البدع اواعرض بخلاف من غیرھم فھو محجوج باجماع الصحابۃ و التابعین فمن بعدھم بالاحادیث الصحیحۃ ۔ یہ حدیث اور ان کے مثل اور احادیث روشن دلیلیں ہیں کہ خلافت قریش کے ساتھ خاص ہے ان کے سواکسی کو خلیفہ بنانا جائز نہیںاسی پر زمانہ صحابہ میں یوں ہی ان کے بعد اجماع منعقد ہواتو جن بدمذہبوں نے اس میں خلاف کیا یا جس نے اور کسی کے خلاف کا اشارہ کیا اس کاقول صحابہ تابعین وعلمائے مابعد کے اجماع اورصحیح حدیثوں سے مردود ہے۔
۳۵علامہ ابن المنیر پھر حافظ ۳۶عسقلانی شرح صحیح بخاری میں لکھتے ہیں:
الصحابۃ اتفقواعلی افادۃ المفھوم للحصر خلافا لمن انکرذلك والی ھذاذھب جمھور اھل العلم ان شرط الامام ان یکون قرشیا وقالت الخوارج وطائفۃ من المعتزلۃ یجوز ان یکون الامام غیرقرشی وبالغ ضرار بن عمرو فقال تولیۃ غیر القرشی اولی وقال ابو بکر الطیب لم یعرج المسلمون علی ھذاالقول بعد ثبوت حدیث الائمۃ من قریش وعمل المسلمون بہ قرنابعد قرن وانعقد الاجماع علی اعتبار ذالك قبل ان یقع یعنی صحابہ نے اتفاق فرمایا کہ حدیث الائمۃ من قریش خلافت کا قریشی میں حصر فرماتی ہے بر خلاف اس کے جواس کا منکر ہواور یہی مذہب جمہور اہل علم کا ہے کہ خلیفہ کے لئے قریشی ہونا شرط اور خارجیوں اور ایك گروہ معتزلہ نے کہا کہ غیر قریشی بھی خلیفہ ہوسکتا ہے اور ضرار بن عمرو تو یہاں تك بڑھ گیا کہ کہا غیر قریشی کا خلیفہ کرنا بہتر ہے۔امام ابوبکر ابن الطیب نے فرمایا مسلمانوں نے اس قول کی طرف التفات نہ کیا بعداس کے کہ حدیث"الائمۃ من قریش"ثابت ہوچکی اور ہر قرن میں مسلمان اس پر عامل رہے اور اس اختلاف
حوالہ / References
فتح الباری شرح البخاری باب الامراء من قریش مصطفی البابی مصر ۱۶/ ۲۳۵
شرح صحیح مسلم مع صحیح مسلم کتاب الامارۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۱۱۹
شرح صحیح مسلم مع صحیح مسلم کتاب الامارۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۱۱۹
الاختلاف ۔ اٹھنے سے پہلے اس کے ماننے پر اجماع عــــہ منعقد ہولیا۔
۳۸امام احمد ناصرالدین اسکندرانی پھر امام شہاب الدین کنانی وجہ دلالت حدیث"لایزال ھذالامر فی قریش"میں فرماتے ہیں:
المبتدأبالحقیقۃ ھھنا ھوالامرالواقع صفۃ لھذا وھذ الا یوصف الا بالجنس فمقتضاہ حصر جنس الامر فی قریش کانہ قال لاامر الافی قریش والحدیث و انکان بلفظ الخبر فھو بمعنی الامربقیۃ طرق الحدیث تؤید ذلک ۔ یعنی حاصل حدیث یہ ہے کہ"ھذاالامر فی قریش"دائما یہ امر خلافت ہمیشہ قریش کے لیے ہے"ھذا"مبتدا ہے اور"امر"اس کی صفتاور"ھذا"کی صفت میں ہمیشہ جنس ہی آتی ہےتو مطلب یہ کہ جنس خلافت قریش ہی کےلئے ہے(ان کے غیرکے لئے اس کا کوئی فرد نہیں)گویا الفاظ یوں ارشاد ہوئے کہ خلافت نہیں مگر قریش میںحدیث اگرچہ صورۃ خبر ہے معنی امر ہےحدیث کی باقی روایتیں اس معنی کی مؤید ہیں۔
۴۰امام ابن حجر اور ان سے پہلے امام ابن بطال شرح بخاری للمہلب سے ناقل:
یجوز ان یکون ملك یغلب علی الناس بغیر ان یکون خلیفۃوانما انکرمعویۃ رضی اﷲ تعالی عنہ خشیۃ ان یظن احدان الخلافۃ تجوز فی غیرقریشفلما خطب بذلك دل علی ان ذلك الحکم عندھم کذلك اذلم ینقل عن احد منھم انکر علیہ ۔ یعنی جب حضرت عبدا ﷲ بن عمر و رضی اﷲ تعالی عنہما نے کہا کہ عنقریب ایك بادشاہ قبیلہ قحطان سے ہو گاحضرت امیر معاویہ رضی اﷲ تعالی عنہ نے اس پر سخت انکار کیا اور خطبہ پڑھا اس میں فرمایا میں نے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ خلافت قریش میں ہےیہ انکار اس بنا پر نہ تھا کہ کوئی غیر قرشی بادشاہ بھی نہیں ہوسکتایہ توجائز ہے کہ کوئی بادشاہ لوگوں پر تغلب کرے اور خلیفہ نہ ہو بلکہ انکار کی وجہ یہ تھی کہ کوئی یہ
عــــہ: تنبیہ ضروری:یہ کلام جلیل یادرکھنے کا ہے کہ بعونہ تعالی اس سے اہل باطل کا منہ کالا ہوگا۱۲ حشمت علی عفی عنہ۔
۳۸امام احمد ناصرالدین اسکندرانی پھر امام شہاب الدین کنانی وجہ دلالت حدیث"لایزال ھذالامر فی قریش"میں فرماتے ہیں:
المبتدأبالحقیقۃ ھھنا ھوالامرالواقع صفۃ لھذا وھذ الا یوصف الا بالجنس فمقتضاہ حصر جنس الامر فی قریش کانہ قال لاامر الافی قریش والحدیث و انکان بلفظ الخبر فھو بمعنی الامربقیۃ طرق الحدیث تؤید ذلک ۔ یعنی حاصل حدیث یہ ہے کہ"ھذاالامر فی قریش"دائما یہ امر خلافت ہمیشہ قریش کے لیے ہے"ھذا"مبتدا ہے اور"امر"اس کی صفتاور"ھذا"کی صفت میں ہمیشہ جنس ہی آتی ہےتو مطلب یہ کہ جنس خلافت قریش ہی کےلئے ہے(ان کے غیرکے لئے اس کا کوئی فرد نہیں)گویا الفاظ یوں ارشاد ہوئے کہ خلافت نہیں مگر قریش میںحدیث اگرچہ صورۃ خبر ہے معنی امر ہےحدیث کی باقی روایتیں اس معنی کی مؤید ہیں۔
۴۰امام ابن حجر اور ان سے پہلے امام ابن بطال شرح بخاری للمہلب سے ناقل:
یجوز ان یکون ملك یغلب علی الناس بغیر ان یکون خلیفۃوانما انکرمعویۃ رضی اﷲ تعالی عنہ خشیۃ ان یظن احدان الخلافۃ تجوز فی غیرقریشفلما خطب بذلك دل علی ان ذلك الحکم عندھم کذلك اذلم ینقل عن احد منھم انکر علیہ ۔ یعنی جب حضرت عبدا ﷲ بن عمر و رضی اﷲ تعالی عنہما نے کہا کہ عنقریب ایك بادشاہ قبیلہ قحطان سے ہو گاحضرت امیر معاویہ رضی اﷲ تعالی عنہ نے اس پر سخت انکار کیا اور خطبہ پڑھا اس میں فرمایا میں نے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ خلافت قریش میں ہےیہ انکار اس بنا پر نہ تھا کہ کوئی غیر قرشی بادشاہ بھی نہیں ہوسکتایہ توجائز ہے کہ کوئی بادشاہ لوگوں پر تغلب کرے اور خلیفہ نہ ہو بلکہ انکار کی وجہ یہ تھی کہ کوئی یہ
عــــہ: تنبیہ ضروری:یہ کلام جلیل یادرکھنے کا ہے کہ بعونہ تعالی اس سے اہل باطل کا منہ کالا ہوگا۱۲ حشمت علی عفی عنہ۔
حوالہ / References
فتح الباری شرح البخاری باب الامراء من قریش مصطفی البابی مصر ۱۶/ ۲۳۶
فتح الباری شرح البخاری باب الامراء من قریش مصطفی البابی مصر ۱۶/ ۲۳۶
فتح الباری شرح البخاری باب الامراء من قریش مصطفی البابی مصر ۱۶/ ۲۳۲
فتح الباری شرح البخاری باب الامراء من قریش مصطفی البابی مصر ۱۶/ ۲۳۶
فتح الباری شرح البخاری باب الامراء من قریش مصطفی البابی مصر ۱۶/ ۲۳۲
نہ سمجھ بیٹھے کہ غیر قرشی خلیفہ ہوسکتاہے لہذا حضرت امیر معاویہ نے خطبہ پڑھا کہ کوئی غیر قرشی خلیفہ نہیں ہوسکتا اوراس پر کسی صحابی وتابعی نے انکار نہ کیا تو معلوم ہوا کہ ان سب کا یہی مذہب ہے۔
۴۳مہلب پھر ابن ۴۴بطال پھر ۴۵عینی و۴۶عسقلانی و۴۷قسطلانی سب شروح بخاری میں فرماتے ہیں:
ان القحطانی اذاقام ولیس من بیت النبوۃ ولا من قریش الذین جعل اﷲ فیھم الخلافۃ فھو من اکبر تغیر الزمان وتبدیل الاحکام ۔ جب قحطانی قائم ہوگا اور وہ نہ خاندان نبوت سے ہے نہ قریش سے جن میں اﷲ عزوجل نے خلافت رکھی ہے تو یہ ایك بڑا تغیر زمانہ اور احکام شریعت کی تبدیل ہوگا۔
۴۸امام اجل قاضی عیاضی پھر ۴۹امام ابو زکریا نووی شرح صحیح مسلم میں فرماتے ہیں:
اشتراط کونہ قرشیا ھو مذھب العلماء کافۃ وقد احتج بہ ابوبکر وعمر علی الانصار یوم السقیفۃ فلم ینکرہ احدوقد عدھا العلماء فی مسائل الاجماع ولم ینقل عن احد من السلف فیھا قول ولافعل یخالف ماذکرنا وکذلك من بعدھم فی جمیع الاعصار ولااعتداد بقول النظام ومن وافقہ من الخوارج واھل البدع انہ یجوز کونہ من غیر قریش لما ھو علیہ من مخالفۃ اجماع المسلمین۔ خلیفہ میں قرشی ہونےکی شرط جمیع علماء کا مذہب ہے اور بیشك اسی سے صدیق اکبر فاروق اعظم نے روز سقیفہ انصار پر حجت قائم فرمائی اور صحابہ میں کسی نے اس کا انکار نہ کیااور بیشك علماء نے اسے مسائل اجماع میں گنا اور سلف صالح میں کوئی قول یا فعل اس کے خلاف منقول نہ ہوایونہی تمام زمانوں میں علماء سے مابعد سے اور وہ جو نظام معتزلی اور خارجیوں اور بدمذہبوں نے کہا کہ غیر قریشی بھی خلیفہ ہوسکتا ہے کچھ گنتی شمار میں نہیں کہ اجماع مسلمین کے خلاف ہے۔
۵۰شیخ عبدالحق محدث دہلوی اشعۃ اللمعات میں فرماتے ہیں:
گفت آں حضرت صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ہمیشہ می باشد امر خلافت در قریش یعنی مے باید کہ در ایشاں باشد وجائز نیست شرعا عقد خلافت مر غیر ایشاں را وبریں منعقد شد اجماع در زمن صحابہ وبایں حجت حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا:خلافت ہمیشہ قریش میں ہوگی یعنی انہی میں ہونا چاہئے اور شرعا ان کے غیر میں خلافت کا انعقاد جائز نہیں صحابہ کے زمانہ میں اس پر اجماع ہوچکا ہے اور اسی حدیث کو
۴۳مہلب پھر ابن ۴۴بطال پھر ۴۵عینی و۴۶عسقلانی و۴۷قسطلانی سب شروح بخاری میں فرماتے ہیں:
ان القحطانی اذاقام ولیس من بیت النبوۃ ولا من قریش الذین جعل اﷲ فیھم الخلافۃ فھو من اکبر تغیر الزمان وتبدیل الاحکام ۔ جب قحطانی قائم ہوگا اور وہ نہ خاندان نبوت سے ہے نہ قریش سے جن میں اﷲ عزوجل نے خلافت رکھی ہے تو یہ ایك بڑا تغیر زمانہ اور احکام شریعت کی تبدیل ہوگا۔
۴۸امام اجل قاضی عیاضی پھر ۴۹امام ابو زکریا نووی شرح صحیح مسلم میں فرماتے ہیں:
اشتراط کونہ قرشیا ھو مذھب العلماء کافۃ وقد احتج بہ ابوبکر وعمر علی الانصار یوم السقیفۃ فلم ینکرہ احدوقد عدھا العلماء فی مسائل الاجماع ولم ینقل عن احد من السلف فیھا قول ولافعل یخالف ماذکرنا وکذلك من بعدھم فی جمیع الاعصار ولااعتداد بقول النظام ومن وافقہ من الخوارج واھل البدع انہ یجوز کونہ من غیر قریش لما ھو علیہ من مخالفۃ اجماع المسلمین۔ خلیفہ میں قرشی ہونےکی شرط جمیع علماء کا مذہب ہے اور بیشك اسی سے صدیق اکبر فاروق اعظم نے روز سقیفہ انصار پر حجت قائم فرمائی اور صحابہ میں کسی نے اس کا انکار نہ کیااور بیشك علماء نے اسے مسائل اجماع میں گنا اور سلف صالح میں کوئی قول یا فعل اس کے خلاف منقول نہ ہوایونہی تمام زمانوں میں علماء سے مابعد سے اور وہ جو نظام معتزلی اور خارجیوں اور بدمذہبوں نے کہا کہ غیر قریشی بھی خلیفہ ہوسکتا ہے کچھ گنتی شمار میں نہیں کہ اجماع مسلمین کے خلاف ہے۔
۵۰شیخ عبدالحق محدث دہلوی اشعۃ اللمعات میں فرماتے ہیں:
گفت آں حضرت صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ہمیشہ می باشد امر خلافت در قریش یعنی مے باید کہ در ایشاں باشد وجائز نیست شرعا عقد خلافت مر غیر ایشاں را وبریں منعقد شد اجماع در زمن صحابہ وبایں حجت حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا:خلافت ہمیشہ قریش میں ہوگی یعنی انہی میں ہونا چاہئے اور شرعا ان کے غیر میں خلافت کا انعقاد جائز نہیں صحابہ کے زمانہ میں اس پر اجماع ہوچکا ہے اور اسی حدیث کو
حوالہ / References
فتح الباری کتاب الفتن باب تغیر الزمان حتی یعبد الاوثان مصطفی البابی مصر ۱۶/ ۱۹۱
شرح صحیح مسلم مع صحیح مسلم کتاب الامارۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۱۱۹
شرح صحیح مسلم مع صحیح مسلم کتاب الامارۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۱۱۹
کردند مہاجران بر انصار ۔ مہاجرین نے انصار پر بطور حجت پیش کیا۔(ت)
۵۱امام جلال الدین کی تاریخ الخلفاء عــــہ سے گزرا:
لم اورد احدا من الخلفاء العبیدیین لان امامتھم غیر صحیح لانھم غیر قریش ۔ میں نے اس کتاب میں خلفائے عبیدیہ سے کسی کا ذکر نہ کیا اس لئے کہ ان کی خلافت باطل ہے کہ وہ قرشی نہیں۔
کتب فقہ حنفی
۵۲فتاوی سراجیہ کتاب الاستحسان باب مسائل اعتقادیہ میں ہے:
یشترط ان یکون الخلیفۃ قرشیا ولایشترط ان یکون ھاشمیا ۔ خلیفہ میں شرط ہے کہ قرشی ہو اور ہاشمی ہونا شرط نہیں۔
۵۳اشباہ والنظائر فن ثالث بیان فرق پھر ۵۴ابوالسعود ازہری علی الکنز میں ہے:
یشترط فی الامام ان یکون قرشیا ۔ خلیفہ میں شرط ہے کہ قریشی ہو۔
۵۵غمزالعیون میں ہے:
یشترط نسب قریش لقولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم الائمۃ من قریش ۔ قرشی ہونا شرط ہے کہ رسول اﷲصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:خلفاء قریشی ہوں۔
۵۶درمختار میں ہے:
یشترط کونہ مسلما حراذکرا عاقلا بالغا خلیفہ ہونے کے لئے شرط ہے کہ مسلمان آزاد
عــــہ:اوردہ آخر کتب الحدیث تبعا ۱۲ منہ غفرلہ ا س کتب حدیث کے آخر میں تابع ہونے کی حیثیت سے ذکر کیا ہے(ت)
۵۱امام جلال الدین کی تاریخ الخلفاء عــــہ سے گزرا:
لم اورد احدا من الخلفاء العبیدیین لان امامتھم غیر صحیح لانھم غیر قریش ۔ میں نے اس کتاب میں خلفائے عبیدیہ سے کسی کا ذکر نہ کیا اس لئے کہ ان کی خلافت باطل ہے کہ وہ قرشی نہیں۔
کتب فقہ حنفی
۵۲فتاوی سراجیہ کتاب الاستحسان باب مسائل اعتقادیہ میں ہے:
یشترط ان یکون الخلیفۃ قرشیا ولایشترط ان یکون ھاشمیا ۔ خلیفہ میں شرط ہے کہ قرشی ہو اور ہاشمی ہونا شرط نہیں۔
۵۳اشباہ والنظائر فن ثالث بیان فرق پھر ۵۴ابوالسعود ازہری علی الکنز میں ہے:
یشترط فی الامام ان یکون قرشیا ۔ خلیفہ میں شرط ہے کہ قریشی ہو۔
۵۵غمزالعیون میں ہے:
یشترط نسب قریش لقولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم الائمۃ من قریش ۔ قرشی ہونا شرط ہے کہ رسول اﷲصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:خلفاء قریشی ہوں۔
۵۶درمختار میں ہے:
یشترط کونہ مسلما حراذکرا عاقلا بالغا خلیفہ ہونے کے لئے شرط ہے کہ مسلمان آزاد
عــــہ:اوردہ آخر کتب الحدیث تبعا ۱۲ منہ غفرلہ ا س کتب حدیث کے آخر میں تابع ہونے کی حیثیت سے ذکر کیا ہے(ت)
حوالہ / References
اشعۃ اللمعات شرح المشکوٰۃ باب مناقب قریش فصل اول مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۴/ ۶۱۹
تاریخ الخلفاء خطبہ کتاب مطبع مجتبائی دہلی ص۷
فتاوٰی سراجیہ کتاب الاستحسان باب مسائل اعتقاد نولکشور لکھنؤ ص۷۰
الاشباہ والنظائر الفن الثالث ادارۃ القرآن کراچی ۲/ ۲۵۳ و ۶۵۴
غمز عیون البصائر شرح الاشباہ والنظائر الفن الثالث ادارۃ القرآن کراچی ۲/ ۲۵۳ و ۶۵۴
تاریخ الخلفاء خطبہ کتاب مطبع مجتبائی دہلی ص۷
فتاوٰی سراجیہ کتاب الاستحسان باب مسائل اعتقاد نولکشور لکھنؤ ص۷۰
الاشباہ والنظائر الفن الثالث ادارۃ القرآن کراچی ۲/ ۲۵۳ و ۶۵۴
غمز عیون البصائر شرح الاشباہ والنظائر الفن الثالث ادارۃ القرآن کراچی ۲/ ۲۵۳ و ۶۵۴
قادر اقرشیا ۔ مردعاقلبالغقادرقرشی ہو۔
۵۷طحطاوی علے الدرمیں ہے:
اشترط کونہ قرشیا لقولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم الائمۃ من قریش وقد سلمت الانصار الخلافۃ لقریش بھذا الحدیث۔ خلیفہ کا قرشی ہونا شرط ہے کہ رسول ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:خلفاء قرشی ہوں۔اسی حدیث سے انصار نے قریش کی خلافت تسلیم کردی۔
۵۸ردالمحتار میں اسی کے مثل لکھ کر فرمایا:
وبہ یبطل قول الضراریۃ ان الامامۃ تصلح فی غیر قریش والکعبیۃ ان القرشی اولی بھا ۔
یعنی اسی حدیث واتفاق صحابہ کرام سے ضرار یہ کا قول باطل ہوا جو کہتے ہیں کہ خلافت غیر قریش میں لائق ہے اور کعبیہ کا جو کہتے ہیں خلافت کےلئے قرشی ہونا صرف اولی ہے یعنی ان دونوں گمراہ فرقوں نے اہلسنت کا خلاف کیااول نے غیر قرشی کی خلافت کو اولی جانا دوم نے قرشی کی خلافت کو صرف اولی سمجھا لازم نہ جانااہلسنت کے نزدیك خلیفہ کا قرشی ہونا لازم ہے دوسرا خلیفہ شرعی نہیں ہوسکتا۔
تمہید امام ابوشکور سالمی میں امام الائمہ سراج الامہ ۵۹اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ کے نص سے اس کی تصریح ہے کہ:
قال ابوحنیفۃ رحمۃ اﷲ تعالی علیہ یصح امامتہ اذاکان قرشیا براکان اوفاجرا ۔ امام ابوحنیفہ رحمۃ اﷲ تعالی علیہ نے فرمایا:خلافت صحیح ہے بشرطیکہ قرشی ہو نیك خواہ بد۔
ازالہ وہم میں عبارات کتب عقائد و حدیث
بالجملہ مسئلہ قطعا یقینا اہلسنت کا اجماعی ہے ولہذا حدیث بخاری:
اسمعوا واطیعواوان استعمل علیکم عبد حبشی ۔ سنو اور مانو اگرچہ تم پر کوئی حبشی غلام عامل کیا جائے۔
۵۷طحطاوی علے الدرمیں ہے:
اشترط کونہ قرشیا لقولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم الائمۃ من قریش وقد سلمت الانصار الخلافۃ لقریش بھذا الحدیث۔ خلیفہ کا قرشی ہونا شرط ہے کہ رسول ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:خلفاء قرشی ہوں۔اسی حدیث سے انصار نے قریش کی خلافت تسلیم کردی۔
۵۸ردالمحتار میں اسی کے مثل لکھ کر فرمایا:
وبہ یبطل قول الضراریۃ ان الامامۃ تصلح فی غیر قریش والکعبیۃ ان القرشی اولی بھا ۔
یعنی اسی حدیث واتفاق صحابہ کرام سے ضرار یہ کا قول باطل ہوا جو کہتے ہیں کہ خلافت غیر قریش میں لائق ہے اور کعبیہ کا جو کہتے ہیں خلافت کےلئے قرشی ہونا صرف اولی ہے یعنی ان دونوں گمراہ فرقوں نے اہلسنت کا خلاف کیااول نے غیر قرشی کی خلافت کو اولی جانا دوم نے قرشی کی خلافت کو صرف اولی سمجھا لازم نہ جانااہلسنت کے نزدیك خلیفہ کا قرشی ہونا لازم ہے دوسرا خلیفہ شرعی نہیں ہوسکتا۔
تمہید امام ابوشکور سالمی میں امام الائمہ سراج الامہ ۵۹اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ کے نص سے اس کی تصریح ہے کہ:
قال ابوحنیفۃ رحمۃ اﷲ تعالی علیہ یصح امامتہ اذاکان قرشیا براکان اوفاجرا ۔ امام ابوحنیفہ رحمۃ اﷲ تعالی علیہ نے فرمایا:خلافت صحیح ہے بشرطیکہ قرشی ہو نیك خواہ بد۔
ازالہ وہم میں عبارات کتب عقائد و حدیث
بالجملہ مسئلہ قطعا یقینا اہلسنت کا اجماعی ہے ولہذا حدیث بخاری:
اسمعوا واطیعواوان استعمل علیکم عبد حبشی ۔ سنو اور مانو اگرچہ تم پر کوئی حبشی غلام عامل کیا جائے۔
حوالہ / References
درمختار باب الامامۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۸۲
حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار باب الامامۃ دارالمعرفۃ بیروت ۱/ ۲۳۹
ردالمحتار باب الامامۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۳۶۸
تمہید ابو شکور سالمی الباب الحادی عشر فی الخلافۃ والامامۃ دارالعلوم حزب الاحناف لاہور ص۱۵۹
صحیح بخاری کتاب الاحکام باب السمع والطاعۃ للامام قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۱۰۵۷
حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار باب الامامۃ دارالمعرفۃ بیروت ۱/ ۲۳۹
ردالمحتار باب الامامۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۳۶۸
تمہید ابو شکور سالمی الباب الحادی عشر فی الخلافۃ والامامۃ دارالعلوم حزب الاحناف لاہور ص۱۵۹
صحیح بخاری کتاب الاحکام باب السمع والطاعۃ للامام قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۱۰۵۷
اس کی شرح میں علما قاطبۃ ازالہ وہم کی طرف متوجہ ہوئے۶۰شرح مقاصدمیں ہے:
ذلك فی غیر الامام من الحکام ۔ یہ حدیث خلیفہ کے سوا اور حکام ماتحت کے بارے میں ہے۔
۶۱مواقف میں ہے:
ذلك الحدیث فی من امرہ الامام علی سریۃ وغیرہا ۔ یہ حدیث اس کے بارے میں ہے جسے کسی لشکر وغیرہ پر سردار کرے۔
۶۲شرح مواقف میں ہے:
یجب حملہ علی ھذادفعا للتعارض بینہ وبین الاجماعاو نقول ھو مبالغۃ علی سبیل الفرض ویدل علیہ انہ لایجوز کون الامام عبدااجماعا ۔ حدیث کو اس معنی پر حمل کرنا واجب ہے کہ اجماع کے مخالف نہ پڑےیایوں کہیں کہ وہ بروجہ مبالغہ بطور فرض ارشاد ہوا ہے اور اس پر دلیل یہ ہے کہ امام کا غلام ہونا بالاجماع باطل ہے۔
۶۳ابن الجوزی نے تحقیق پھر ۶۴امام بدر محمود عینی نے عمدۃ القاریپھر ۶۵حافظ عسقلانی نے شرح بخاری کتاب الصلوۃ میں فرمایا:
ھذا فی الامراء والعمال لاالائمۃ والخلفاء فان الخلافۃ فی قریش لامدخل فیھا لغیرھم۔ یہ حدیث سرداروں اور عاملوں کے بارے میں ہے نہ کہ خلفا میں کہ خلافت تو قریش میں ہے دوسروں کو اس میں دخل ہی نہیں۔
یہیں۶۶ فتح الباری میں ہے:
امر بطاعۃ العبد الحبشی والامامۃ العظمی انما تکون بالاستحقاق فی قریش فیکون غیرھم متغلبا ۔ حبشی غلام کی اطاعت کا حکم فرمایا اور خلافت تو صرف قریش کا حق ہے تو غیر قریشی متغلب ہوگا یعنی زبردستی امیر بن بیٹھنے والا۔
ذلك فی غیر الامام من الحکام ۔ یہ حدیث خلیفہ کے سوا اور حکام ماتحت کے بارے میں ہے۔
۶۱مواقف میں ہے:
ذلك الحدیث فی من امرہ الامام علی سریۃ وغیرہا ۔ یہ حدیث اس کے بارے میں ہے جسے کسی لشکر وغیرہ پر سردار کرے۔
۶۲شرح مواقف میں ہے:
یجب حملہ علی ھذادفعا للتعارض بینہ وبین الاجماعاو نقول ھو مبالغۃ علی سبیل الفرض ویدل علیہ انہ لایجوز کون الامام عبدااجماعا ۔ حدیث کو اس معنی پر حمل کرنا واجب ہے کہ اجماع کے مخالف نہ پڑےیایوں کہیں کہ وہ بروجہ مبالغہ بطور فرض ارشاد ہوا ہے اور اس پر دلیل یہ ہے کہ امام کا غلام ہونا بالاجماع باطل ہے۔
۶۳ابن الجوزی نے تحقیق پھر ۶۴امام بدر محمود عینی نے عمدۃ القاریپھر ۶۵حافظ عسقلانی نے شرح بخاری کتاب الصلوۃ میں فرمایا:
ھذا فی الامراء والعمال لاالائمۃ والخلفاء فان الخلافۃ فی قریش لامدخل فیھا لغیرھم۔ یہ حدیث سرداروں اور عاملوں کے بارے میں ہے نہ کہ خلفا میں کہ خلافت تو قریش میں ہے دوسروں کو اس میں دخل ہی نہیں۔
یہیں۶۶ فتح الباری میں ہے:
امر بطاعۃ العبد الحبشی والامامۃ العظمی انما تکون بالاستحقاق فی قریش فیکون غیرھم متغلبا ۔ حبشی غلام کی اطاعت کا حکم فرمایا اور خلافت تو صرف قریش کا حق ہے تو غیر قریشی متغلب ہوگا یعنی زبردستی امیر بن بیٹھنے والا۔
حوالہ / References
شرح المقاصد الفصل الرابع فی الامامۃ المبحث الثانی دارالمعارف النعمانیہ لاہور ۲/ ۲۷۷
مواقف شرح المواقف المرصدا لرابع فی الامامۃ منشورات الشریف الرضی،قم،ایران ۸/ ۳۵۰
شرح المواقف المرصدا لرابع فی الامامۃ منشورات الشریف الرضی،قم،ایران ۸/ ۳۵۰
عمدۃ القاری شرح البخاری باب امامۃ العبد والمولٰی قدیمی کتب خانہ کراچی ۵/ ۲۲۸
فتح الباری شرح البخاری باب امامۃ العبد والمولٰی مصطفی البابی مصر ۱۶/ ۲۳۹
مواقف شرح المواقف المرصدا لرابع فی الامامۃ منشورات الشریف الرضی،قم،ایران ۸/ ۳۵۰
شرح المواقف المرصدا لرابع فی الامامۃ منشورات الشریف الرضی،قم،ایران ۸/ ۳۵۰
عمدۃ القاری شرح البخاری باب امامۃ العبد والمولٰی قدیمی کتب خانہ کراچی ۵/ ۲۲۸
فتح الباری شرح البخاری باب امامۃ العبد والمولٰی مصطفی البابی مصر ۱۶/ ۲۳۹
۶۷عمدۃ القاری و۶۸فتح الباری کتاب الاحکام میں اسی حدیث کے نیچے ہے:
ای جعل عاملا بان امرامارۃ عامۃ علی البلد مثلا او ولی فیھا ولایۃ خاصۃ کالامامۃ فی الصلوۃ اوجبایۃ الخراج او مباشرۃ الحرب فقد کان فی زمن الخلفاء الراشدین من تجمع لہ الامور الثلثۃ ومن یختص ببعضھا۔ مراد یہ ہے کہ وہ عامل کیا جائےیوں کہ خلیفہ غلام حبشی کو کسی شہر کا عام والی کردے یا کسی خاص منصب کی ولایت دے جیسے نماز کی امامت یا خراج کی تحصیل یا کسی لشکر کی سرداریخلفائے راشدین کے زمانے میں یہ تینوں باتیں بعض میں جمع ہوجاتی تھیں اورکسی میں بعض۔
۶۹امام ابوسلیمن خطابی پھر ۷۰امام عینی و۷۱امام عسقلانی ۷۲علی قاری نے فرمایا:
قدیضرب المثل بمالایقع فی الوجود وھذا من ذاك واطلق العبد الحبشی مبالغۃ فی الامر بالطاعۃ وان کان لایتصور شرعا ان یلی ذلک اھ بلفظ المرقاۃ قال الخطابی قدیضرب المثل بمالایکاد یصح فی الوجود ۔ یعنی کبھی ضرب مثل میں وہ بات کہی جاتی ہے جو واقع نہ ہوگییہ حدیث اسی قبیل سے ہےحبشی کاذکر حکم اطاعت میں مبالغہ کے لئے فرمایااگرچہ حبشی غلام کا ولی بننا شرعا متصور نہیںمرقاۃ کے الفاظ یہ ہیں خطابی نے کہا کبھی مثل میں وہ بات کہی جاتی ہے جوواقع نہ ہوگی۔(ت)
۷۳اشعۃ اللمعات میں ہے:
ذکر عبد برائے مبالغہ است بروتیرہ قول آنحضرت صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ہر کہ بناکند مسجدے اگرچہ مثل آشیانہ کنجشك و مرمسجد ہر گز مثل آشیانہ کنجشك نباشد لیکن مقصود مبالغہ است یا مراد نائب خلیفہ است ۔ غلام کا ذکر بطور مبالغہ ہے حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے اس ارشاد کے طور پرجو مسجد بنائے اگرچہ چڑیا کے گھونسلے کی مثل ہوحلانکہ مسجد ہرگز چڑیا کے گھونسلے کی مثل نہیں ہوتیلیکن مقصود مبالغہ ہے یا خلیفہ کا کوئی نائب مراد ہے(ت)
ای جعل عاملا بان امرامارۃ عامۃ علی البلد مثلا او ولی فیھا ولایۃ خاصۃ کالامامۃ فی الصلوۃ اوجبایۃ الخراج او مباشرۃ الحرب فقد کان فی زمن الخلفاء الراشدین من تجمع لہ الامور الثلثۃ ومن یختص ببعضھا۔ مراد یہ ہے کہ وہ عامل کیا جائےیوں کہ خلیفہ غلام حبشی کو کسی شہر کا عام والی کردے یا کسی خاص منصب کی ولایت دے جیسے نماز کی امامت یا خراج کی تحصیل یا کسی لشکر کی سرداریخلفائے راشدین کے زمانے میں یہ تینوں باتیں بعض میں جمع ہوجاتی تھیں اورکسی میں بعض۔
۶۹امام ابوسلیمن خطابی پھر ۷۰امام عینی و۷۱امام عسقلانی ۷۲علی قاری نے فرمایا:
قدیضرب المثل بمالایقع فی الوجود وھذا من ذاك واطلق العبد الحبشی مبالغۃ فی الامر بالطاعۃ وان کان لایتصور شرعا ان یلی ذلک اھ بلفظ المرقاۃ قال الخطابی قدیضرب المثل بمالایکاد یصح فی الوجود ۔ یعنی کبھی ضرب مثل میں وہ بات کہی جاتی ہے جو واقع نہ ہوگییہ حدیث اسی قبیل سے ہےحبشی کاذکر حکم اطاعت میں مبالغہ کے لئے فرمایااگرچہ حبشی غلام کا ولی بننا شرعا متصور نہیںمرقاۃ کے الفاظ یہ ہیں خطابی نے کہا کبھی مثل میں وہ بات کہی جاتی ہے جوواقع نہ ہوگی۔(ت)
۷۳اشعۃ اللمعات میں ہے:
ذکر عبد برائے مبالغہ است بروتیرہ قول آنحضرت صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ہر کہ بناکند مسجدے اگرچہ مثل آشیانہ کنجشك و مرمسجد ہر گز مثل آشیانہ کنجشك نباشد لیکن مقصود مبالغہ است یا مراد نائب خلیفہ است ۔ غلام کا ذکر بطور مبالغہ ہے حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے اس ارشاد کے طور پرجو مسجد بنائے اگرچہ چڑیا کے گھونسلے کی مثل ہوحلانکہ مسجد ہرگز چڑیا کے گھونسلے کی مثل نہیں ہوتیلیکن مقصود مبالغہ ہے یا خلیفہ کا کوئی نائب مراد ہے(ت)
حوالہ / References
فتح الباری باب السمع والطاعۃ مصطفی البابی مصر ۱۶/ ۲۳۹
فتح الباری باب السمع والطاعۃ مصطفی البابی مصر ۱۶/ ۲۴۰
مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوٰۃ المصابیح کتاب الامارۃ الفصل الاول مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۷/ ۲۴۶
اشعۃ اللمعات کتاب الامارۃ الفصل الاول مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۳/ ۳۰۱
فتح الباری باب السمع والطاعۃ مصطفی البابی مصر ۱۶/ ۲۴۰
مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوٰۃ المصابیح کتاب الامارۃ الفصل الاول مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۷/ ۲۴۶
اشعۃ اللمعات کتاب الامارۃ الفصل الاول مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۳/ ۳۰۱
۷۴عمدۃ القاری و۷۵ کواکب الدراری و۷۶مجمع البحار میں ہے:
ھذافی الامراء والعمال دون الخلفاء لان الحبشی لایتولی الخلافۃ لان الائمۃ من قریش ۔ یہ حدیث سرداروں اور عاملوں میں ہے حبشی خلیفہ نہ ہوگا کہ خلفاء تو قریش سے ہیں
۷۷مہلب پھر ۷۸ابن بطال پھر ۷۹ابن حجر نے فتح میں کہا:
قولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اسمعوا واطیعوا لایوجب ان یکون المستعمل للعبد الاامام قرشی لما تقدم ان الامامۃ لاتکون الافی قریش ۔ نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا ارشاد کہ غلام کی اطاعت کرو اسی کو واجب کرتا ہے کہ غلام کو قریشی خلیفہ نے عامل بنایا ہو کہ خلافت تو نہیں مگر قریش میں۔
۸۰فتح الباری و۸۱ارشاد الساری و۸۲ مرقاۃ قاری میں ہے:
واللفظ لھا(وان استعمل علیکم عبد حبشی)ای وان استعملہ الامام الاعظم علی القوم لاان العبد الحبشی ھوالامام الاعظم فان الائمۃ من قریش ۔ اگرچہ تم پر غلام حبشی عامل کیا جائے یعنی اگرچہ خلیفہ کسی غلام کو عامل بنائے نہ یہ کہ خود غلام حبشی خلیفہ ہوکہ خلفاء تو قریش سے ہیں۔
۸۳مجمع البحار الانوار میں ہے:
شرط الامام الحریۃ والقرشیۃ ولیس فی الحدیث انہ یکون امامابل یفوض الیہ الامام امرامن الامور ۔ خلیفہ کےلئے شرط ہے کہ آزاد وقریشی ہو او رحدیث میں یہ نہیں کہ غلام خلیفہ ہو بلکہ یہ مراد کہ خلیفہ اسے کوئی کام سپرد کردے۔
اقول:(میں کہتا ہوں۔ت)بلکہ خود حدیث صحیح میں اس معنی کی تصریح صریح موجود جس کابیان فصل سوم میں آئے گا ان شاء اﷲ الغفور الودود۔
ھذافی الامراء والعمال دون الخلفاء لان الحبشی لایتولی الخلافۃ لان الائمۃ من قریش ۔ یہ حدیث سرداروں اور عاملوں میں ہے حبشی خلیفہ نہ ہوگا کہ خلفاء تو قریش سے ہیں
۷۷مہلب پھر ۷۸ابن بطال پھر ۷۹ابن حجر نے فتح میں کہا:
قولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اسمعوا واطیعوا لایوجب ان یکون المستعمل للعبد الاامام قرشی لما تقدم ان الامامۃ لاتکون الافی قریش ۔ نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا ارشاد کہ غلام کی اطاعت کرو اسی کو واجب کرتا ہے کہ غلام کو قریشی خلیفہ نے عامل بنایا ہو کہ خلافت تو نہیں مگر قریش میں۔
۸۰فتح الباری و۸۱ارشاد الساری و۸۲ مرقاۃ قاری میں ہے:
واللفظ لھا(وان استعمل علیکم عبد حبشی)ای وان استعملہ الامام الاعظم علی القوم لاان العبد الحبشی ھوالامام الاعظم فان الائمۃ من قریش ۔ اگرچہ تم پر غلام حبشی عامل کیا جائے یعنی اگرچہ خلیفہ کسی غلام کو عامل بنائے نہ یہ کہ خود غلام حبشی خلیفہ ہوکہ خلفاء تو قریش سے ہیں۔
۸۳مجمع البحار الانوار میں ہے:
شرط الامام الحریۃ والقرشیۃ ولیس فی الحدیث انہ یکون امامابل یفوض الیہ الامام امرامن الامور ۔ خلیفہ کےلئے شرط ہے کہ آزاد وقریشی ہو او رحدیث میں یہ نہیں کہ غلام خلیفہ ہو بلکہ یہ مراد کہ خلیفہ اسے کوئی کام سپرد کردے۔
اقول:(میں کہتا ہوں۔ت)بلکہ خود حدیث صحیح میں اس معنی کی تصریح صریح موجود جس کابیان فصل سوم میں آئے گا ان شاء اﷲ الغفور الودود۔
حوالہ / References
عمدۃ القاری کتاب الاحکام باب السمع والطاعۃ ادارۃ المنیریۃ دمشق ۲۳/ ۲۲۴
فتح الباری شرح البخاری باب السمع والطاعۃ مصطفی البابی مصر ۱۶/ ۳۴۰
مرقات المفاتیح شرح مشکوٰۃ المصابیح کتاب الامارۃ الفصل الاول مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۷/ ۲۴۶
مجمع بحار الانوار تحت لفظ جدع مکتبہ دارالایمان مدینہ منورہ ۱/ ۳۳۰
فتح الباری شرح البخاری باب السمع والطاعۃ مصطفی البابی مصر ۱۶/ ۳۴۰
مرقات المفاتیح شرح مشکوٰۃ المصابیح کتاب الامارۃ الفصل الاول مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۷/ ۲۴۶
مجمع بحار الانوار تحت لفظ جدع مکتبہ دارالایمان مدینہ منورہ ۱/ ۳۳۰
بالجملہ دربارہ خلافت ہر طبقے اور ہر مذہب کے علمائے اہلسنت ایسا ہی فرماتے آئے یہاں تك کہ اب دور آخر میں مولوی عبدالباری صاحب کے جد اعلی حضرت ملك العلماء ۸۴بحر العلوم عبدالعلی لکھنوی فرنگی محلی رحمہ اﷲ تعالی نے شرح فقہ اکبر سید ناامام اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ میں خلافت صدیقی پر اجماع قطعی کے منعقد ہونے میں فرمایا:
باقی ماند کہ سعد بن عبادہ از بیعت متخلف ماند میگویم کہ سعد بن عبادہ امارات خود می خواست وایں مخالف نص ست چہ حضرت صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرمودہ اند الائمۃ من قریش ائمہ از قریش اند پس مخالفت اودراجماع قدح ندارد چہ مخالفت مررائہاے صحابہ نبود بلکہ مخالفت اجماع واواعتبار ندارد ۔ باقی رہایہ کہ سعد بن عبادہ نے بیعت نہ کیتو ہم کہتے ہیں کہ سعد بن عبادہ اپنے لئے خلافت کے خواہشمند تھے ان کی یہ خواہش نص کے خلاف تھی کیونکہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ ائمہ قریش میں سے ہوں گے لہذا ان کی مخالفت اجماع پر اثر انداز نہیں ہے کیونکہ یہ محض صحابہ کرام کی رائے کی مخالفت نہ تھی بلکہ اجماع کی مخالفت تھی جس کا اعتبار نہیں ہے۔(ت)
پھر ۸۵خلافت فاروقی پر انعقاد اجماع میں فرمایا:
ہمہ صحابہ بر آں عمل کردند و بیعت حضرت امیرا لمومنین عمر کردند و دریں ہم کسے مخالفت نکرد سوائے سعد بن عبادہ لیکن مخالفت او مخالفت نص بود چہ امارت خود میخو است چنانچہ دانستی ۔ تمام صحابہ نے اس حدیث پر عمل کیا اور امیر المومنین عمر فاروق رضی اﷲ تعالی عنہ کی بیعت کی ا س میں بھی سوائے سعد بن عبادہ کے کسی نے مخالفت نہ کی لیکن ان کی مخالفت نص کے خلاف تھی کیونکہ وہ اپنے لئے امارت کے خواہشمند تھے جیسا کہ آپ نے جان لیا۔(ت)
اب سب سے اخیر دور میں حضرت مولانا فضل عــــہ رسول صاحب مرحوم اپنی کتاب عقائد المعتقد المنتقد میں فرماتے ہیں:
یشترط نسب قریش خلافا لکثیر من المعتزلۃ ولایشترط کونہ ھا شمیا خلافا للرافض ۔ خلیفہ کا قریشی النسب ہونا شرط ہے برخلاف بہت معتزلیوں کےاور ہاشمی ہونا شرط نہیں برخلاف رافضیوں کے۔
عــــہ:بدایونی لیڈر عبدالماجد صاحب کے دادا کے دادا ۱۲ حشمت علی لکھنو عفی عنہ
باقی ماند کہ سعد بن عبادہ از بیعت متخلف ماند میگویم کہ سعد بن عبادہ امارات خود می خواست وایں مخالف نص ست چہ حضرت صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرمودہ اند الائمۃ من قریش ائمہ از قریش اند پس مخالفت اودراجماع قدح ندارد چہ مخالفت مررائہاے صحابہ نبود بلکہ مخالفت اجماع واواعتبار ندارد ۔ باقی رہایہ کہ سعد بن عبادہ نے بیعت نہ کیتو ہم کہتے ہیں کہ سعد بن عبادہ اپنے لئے خلافت کے خواہشمند تھے ان کی یہ خواہش نص کے خلاف تھی کیونکہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ ائمہ قریش میں سے ہوں گے لہذا ان کی مخالفت اجماع پر اثر انداز نہیں ہے کیونکہ یہ محض صحابہ کرام کی رائے کی مخالفت نہ تھی بلکہ اجماع کی مخالفت تھی جس کا اعتبار نہیں ہے۔(ت)
پھر ۸۵خلافت فاروقی پر انعقاد اجماع میں فرمایا:
ہمہ صحابہ بر آں عمل کردند و بیعت حضرت امیرا لمومنین عمر کردند و دریں ہم کسے مخالفت نکرد سوائے سعد بن عبادہ لیکن مخالفت او مخالفت نص بود چہ امارت خود میخو است چنانچہ دانستی ۔ تمام صحابہ نے اس حدیث پر عمل کیا اور امیر المومنین عمر فاروق رضی اﷲ تعالی عنہ کی بیعت کی ا س میں بھی سوائے سعد بن عبادہ کے کسی نے مخالفت نہ کی لیکن ان کی مخالفت نص کے خلاف تھی کیونکہ وہ اپنے لئے امارت کے خواہشمند تھے جیسا کہ آپ نے جان لیا۔(ت)
اب سب سے اخیر دور میں حضرت مولانا فضل عــــہ رسول صاحب مرحوم اپنی کتاب عقائد المعتقد المنتقد میں فرماتے ہیں:
یشترط نسب قریش خلافا لکثیر من المعتزلۃ ولایشترط کونہ ھا شمیا خلافا للرافض ۔ خلیفہ کا قریشی النسب ہونا شرط ہے برخلاف بہت معتزلیوں کےاور ہاشمی ہونا شرط نہیں برخلاف رافضیوں کے۔
عــــہ:بدایونی لیڈر عبدالماجد صاحب کے دادا کے دادا ۱۲ حشمت علی لکھنو عفی عنہ
حوالہ / References
شرح الفقہ الاکبر لعبد العلی فرنگی محلی
شرح الفقہ الاکبر لعبد العلی فرنگی محلی
المعتقد المنتقد الباب الرابع فی الامامۃ مکتبہ حامدیہ لاہور ص۱۹۷
شرح الفقہ الاکبر لعبد العلی فرنگی محلی
المعتقد المنتقد الباب الرابع فی الامامۃ مکتبہ حامدیہ لاہور ص۱۹۷
حضرت مولنا عــــہ عبدالقادر صاحب بدایونی مرحوم اپنے رسالہ عقائد احسن الکلام میں فرماتے ہیں:
نعتقد انہ یجب علی المسلمین نصب امام من قریش۔ ہم پر اہلسنت کا عقیدہ ہے کہ مسلمانوں پر قریشی خلیفہ قائم کرنا فرض ہے۔
نوع دگراز کتب عقائد
علامہ ۸۸سعد الدین تفتازانی شرح عقائد میں فرماتے ہیں:
فان قیل فعلی ماذکرمن ان مدۃ الخلافۃ ثلثون سنۃ یکون الزمان بعد الخلفاء الراشدین خالیا عن الامام فتعصی الامۃ کلھمقلنا المراد بالخلافۃ الکاملۃ ولوسلم فلعل الخلافۃ تنقضی دون الامامۃ بناء علی ان الامامۃ اعم لکن ھذا الاصطلاح لم نجدہ من القوم واما بعد الخلفاء العباسیۃ فالامر مشکل (ملخصا) یعنی اگر کہا جائے کہ جب خلافت حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے بعد تیس ہی برس رہی تو خلفائے راشدین رضی اﷲ تعالی عنہم کے بعد زمانہ امام سے خالی رہا اورمعاذاﷲ تمام امت گنہگار ٹھہری کہ نصب امام امت پر واجب تھا تو ہم جواب دیں گے کہ وہ جو تیس برس پر ختم ہوگئی خلافت راشدہ کا ملہ تھی نہ کہ مطلق خلافتاور اگر تسلیم بھی کرلیں تو شاید خلافت ختم ہوگئی امامت بعد کو رہی اور واجب نصب امام ہی تھا تو امت گنہگار نہ ہوئی یہ اس پر مبنی ہوگا کہ امامت خلافت سے عام ہے مگر ہم نے قوم سے یہ اصطلاح نہ پائیبہرحال جب سے خلفائے عباسیہ نہ رہے امر مشکل ہے کہ اس وقت سے نہ کوئی امام ہے نہ کوئی خلیفہتو اعتراض نہ اٹھاانتہی (ملخصا)۔
اقول اولا: صحیح جواب اول ہے اور اشکال کا جواب خود علامہ کے کلام سے آتا ہے اس وقت نظر اس پر نہ کہی تھی۔
ثانیا امامت بیشك عام ہے جس کا بیان ہم کرینگے ان شاء اﷲ۔نیز ۸۹علامہ موصوف شرح مقاصد میں اسی اعتراض کو ذکر کرکے بہت صحیح وواضح جواب سے دفع فرماتے ہیں:
فان قیل لووجب نصب الامام لزم اگر کہا جائے کہ نصب امام واجب ہوتا تو اکثر
عــــہ:مذکور متلڈر بدایونی(ہداۃ اﷲ تعالی)کے پردادا۱۲ حشمت علی قادر رضوی لکھنوی غفرلہ
نعتقد انہ یجب علی المسلمین نصب امام من قریش۔ ہم پر اہلسنت کا عقیدہ ہے کہ مسلمانوں پر قریشی خلیفہ قائم کرنا فرض ہے۔
نوع دگراز کتب عقائد
علامہ ۸۸سعد الدین تفتازانی شرح عقائد میں فرماتے ہیں:
فان قیل فعلی ماذکرمن ان مدۃ الخلافۃ ثلثون سنۃ یکون الزمان بعد الخلفاء الراشدین خالیا عن الامام فتعصی الامۃ کلھمقلنا المراد بالخلافۃ الکاملۃ ولوسلم فلعل الخلافۃ تنقضی دون الامامۃ بناء علی ان الامامۃ اعم لکن ھذا الاصطلاح لم نجدہ من القوم واما بعد الخلفاء العباسیۃ فالامر مشکل (ملخصا) یعنی اگر کہا جائے کہ جب خلافت حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے بعد تیس ہی برس رہی تو خلفائے راشدین رضی اﷲ تعالی عنہم کے بعد زمانہ امام سے خالی رہا اورمعاذاﷲ تمام امت گنہگار ٹھہری کہ نصب امام امت پر واجب تھا تو ہم جواب دیں گے کہ وہ جو تیس برس پر ختم ہوگئی خلافت راشدہ کا ملہ تھی نہ کہ مطلق خلافتاور اگر تسلیم بھی کرلیں تو شاید خلافت ختم ہوگئی امامت بعد کو رہی اور واجب نصب امام ہی تھا تو امت گنہگار نہ ہوئی یہ اس پر مبنی ہوگا کہ امامت خلافت سے عام ہے مگر ہم نے قوم سے یہ اصطلاح نہ پائیبہرحال جب سے خلفائے عباسیہ نہ رہے امر مشکل ہے کہ اس وقت سے نہ کوئی امام ہے نہ کوئی خلیفہتو اعتراض نہ اٹھاانتہی (ملخصا)۔
اقول اولا: صحیح جواب اول ہے اور اشکال کا جواب خود علامہ کے کلام سے آتا ہے اس وقت نظر اس پر نہ کہی تھی۔
ثانیا امامت بیشك عام ہے جس کا بیان ہم کرینگے ان شاء اﷲ۔نیز ۸۹علامہ موصوف شرح مقاصد میں اسی اعتراض کو ذکر کرکے بہت صحیح وواضح جواب سے دفع فرماتے ہیں:
فان قیل لووجب نصب الامام لزم اگر کہا جائے کہ نصب امام واجب ہوتا تو اکثر
عــــہ:مذکور متلڈر بدایونی(ہداۃ اﷲ تعالی)کے پردادا۱۲ حشمت علی قادر رضوی لکھنوی غفرلہ
حوالہ / References
احسن الکلام
شرح العقائد النسفیہ دارالاشاعۃ قندھار،افغانستان ص۱۱۰ و ۱۱۱
شرح العقائد النسفیہ دارالاشاعۃ قندھار،افغانستان ص۱۱۰ و ۱۱۱
اطباق الامۃ فی اکثر الاعصار علی ترك الواجب لانتفاء الامام المتصف بمایجب من الصفات سیما بعد انقضاء الدولۃ العباسیۃ قلنا انما یلزم الضلالۃ لوترکوہ عن قدرۃ واختیار لاعجز واضطرار ۔ زمانوں میں ترك واجب پر امت کا اتفاق لازم آتا ہے کہ امام کے لئے جو صفات لازم ہیں ایسا مدت سے نہیں خصوصا جب سے دولت عباسیہ نہ رہی خلافت کانام نشان تك نہ رہا اور ایسا ترك واجب گمراہی ہے اور گمراہی پر امت کا اتفاق محالتو ہم جواب دیں گے کہ گمراہی توجب ہوتی کہ ان کے بعد امت نصب امام پر قادر ہوتی اور قصدا ترك کرتیعجز و مجبوری کی حالت میں کیا الزام ہو۔
یہی مضمون مولوی ۹۰علی الخیالی میں ہے حدیث عجز واضطرار بیان کرکے کہا:
وبھذا الحدیث یندفع الاشکال بعد الخلفاء الراشدین والعباسیۃ ایضا ۔ یعنی خلفائے عباسیہ کے بعد تمام عالم سے خلافت ضرور مفقود ہے مگر امت پر الزام نہیں آتا کہ عذر مجبوری موجود ہے۔
۹۱شرح عقائد امام نسفی پھر ۹۲تعلیقات المسایرۃ للعلامۃ قاسم الحنفی تلمیذ الامام ابن الہمام رحمہم اﷲ تعالی میں ضرورت خلیفہ بتائی کہ دین و دنیا کے ان ان کاموں کے انتظام کو اس کا ہونا ضرور ہے پھر فرمایا:
فان قیل فلیکتف بذی شوکۃ لہ الریاسۃ العامۃ اماما کان او غیر امام فان انتظام الامر یحصل بذلك کما فی عھد الاتراك قلنا نعم یحصل بعض النظام فی امرالدنیا ولکن یختل امرالدین وھو المقصود الاھم ۔ یعنی اگر کوئی کہے کہ انتظام ہی کی ضرورت ہے تو ایك عام ریاست والے پر کیوں نہ قناعت ہوجائے وہ خلیفہ ہو یا نہ ہو کہ انتظام اس سے بھی حاصل ہوجائیگا جیسے سلطنت ترکی سے کہ خلافت نہیں اور انتظام کررہی ہے پھر خلیفہ کی کیا ضرورتتو ہم جواب دینگے ہاں ایسی سلطنتوں سے دنیاوی کاموں کا کچھ انتظام چل جائے گا مگر دینی کاموں میں خلل آئے گا وہ بے خلیفہ نہ بنیں گے اور دین ہی مقصود اعظم ہے۔
لہذاترکی سلطنت یا اور بادشاہیاں کافی نہیں خلیفہ کی ضرورت ہےکیاان سے بھی صاف نص کی
یہی مضمون مولوی ۹۰علی الخیالی میں ہے حدیث عجز واضطرار بیان کرکے کہا:
وبھذا الحدیث یندفع الاشکال بعد الخلفاء الراشدین والعباسیۃ ایضا ۔ یعنی خلفائے عباسیہ کے بعد تمام عالم سے خلافت ضرور مفقود ہے مگر امت پر الزام نہیں آتا کہ عذر مجبوری موجود ہے۔
۹۱شرح عقائد امام نسفی پھر ۹۲تعلیقات المسایرۃ للعلامۃ قاسم الحنفی تلمیذ الامام ابن الہمام رحمہم اﷲ تعالی میں ضرورت خلیفہ بتائی کہ دین و دنیا کے ان ان کاموں کے انتظام کو اس کا ہونا ضرور ہے پھر فرمایا:
فان قیل فلیکتف بذی شوکۃ لہ الریاسۃ العامۃ اماما کان او غیر امام فان انتظام الامر یحصل بذلك کما فی عھد الاتراك قلنا نعم یحصل بعض النظام فی امرالدنیا ولکن یختل امرالدین وھو المقصود الاھم ۔ یعنی اگر کوئی کہے کہ انتظام ہی کی ضرورت ہے تو ایك عام ریاست والے پر کیوں نہ قناعت ہوجائے وہ خلیفہ ہو یا نہ ہو کہ انتظام اس سے بھی حاصل ہوجائیگا جیسے سلطنت ترکی سے کہ خلافت نہیں اور انتظام کررہی ہے پھر خلیفہ کی کیا ضرورتتو ہم جواب دینگے ہاں ایسی سلطنتوں سے دنیاوی کاموں کا کچھ انتظام چل جائے گا مگر دینی کاموں میں خلل آئے گا وہ بے خلیفہ نہ بنیں گے اور دین ہی مقصود اعظم ہے۔
لہذاترکی سلطنت یا اور بادشاہیاں کافی نہیں خلیفہ کی ضرورت ہےکیاان سے بھی صاف نص کی
حوالہ / References
شرح المقاصد الفصل الرابع فی الامامۃ المبحث الاول فی نصب الامام دارالمعارف النعمانیہ لاہور ۲/ ۲۷۵
مولوی علی الخیالی مطبع ہندوپریس دہلی ص۲۵۷
شرح العقائد النسفیہ دارالاشاعت قندھار افغانستان ص۱۱۰
مولوی علی الخیالی مطبع ہندوپریس دہلی ص۲۵۷
شرح العقائد النسفیہ دارالاشاعت قندھار افغانستان ص۱۱۰
حاجت ہے وﷲ الحجۃ البالغۃ۔
تنبیہ:اسی نوع سے ہے وہ حدیث کہ صدر کلام میں امام خاتم الحفاظ سے گزری کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا کہ خلافت جب بنی عباس کو پہنچے گی ظہور مہدی تك اور کو نہ ملے گی۔ظاہر ہو اکہ۱۳۳۱ھ سے آج تك اور آج سے ظہور حضرت امام مہدی تك کوئی غیر عباسی خلیفہ نہ ہوا ہے نہ ہوگا جو دوسرے کو خلیفہ مانے حدیث کی تکذیب کرتا ہے یہ حدیث اپنے طرق عدیدہ سے حسن ہے اسے طبرانی نے معجم کبیر میں ام المومنین ام سلمہ رضی اﷲ تعالی عنہا سے روایت کیااور دیلمی نے مسند الفردوس میں انہیں سے بسند دیگر اور دارقطنی نے افراد میں حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے مرفوعا اور خطیب نے بسند خلفاء حضرت حبرالامۃ سے موقوفا اور حاکم نے حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ عنہ سےحدیث طبرانی کے لفظ یہ ہیں:
لکنھا فی ولد عمی صنوابی حتی یسلموھا الی الدجال۔ ہاں خلافت میرے چچا میرے باپ کی جگہ عباس کی اولاد میں ہے یہاں تك کہ اسے سپرد دجال کرینگے۔
اور حدیث ابن مسعود میں ہے:
لاتذھب الایام واللیالی حتی یملك رجل من اھل بیتی یواطی اسمہ اسمی واسم ابیہ اسم ابی فیملؤھا قسطا وعد لاکماملئت جوراوظلما ۔ شب وروز گزرنے کے بعد وہ خلافت کو میرے اہلبیت سے ایك مرد کے سپرد کریں گے جس کا نام میرا نام ہوگااور اس کے باپ کانام میرے باپ کا ناموہ زمین کو عدل وانصاف سے بھر دے گا جس طرح ظلم و ستم سے بھر گئی تھی یعنی حضرت امام مہدی رضی اﷲ تعالی عنہ۔
امام خاتم الحفاظ نے اس حدیث سے استناد اور اس پر اعتماد کیا کما تقدم(جیسا کہ پیچھے گزرا۔ت)یہ ہیں تقریبا پچاس حدیثیں اور کتب عقائد و تفسیر وحدیث و فقہ کی بانوے عبارتیں۔سنی بانصاف کو اسی قدر کافی ووافی ہیں۔
وﷲ الحمد والحمد ﷲ رب العلمین وصلی اﷲ تعالی علی سیدنا ومولنا محمد والہ وصحبہ وابنہ وحزبہ اجمعین۔
تنبیہ:اسی نوع سے ہے وہ حدیث کہ صدر کلام میں امام خاتم الحفاظ سے گزری کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا کہ خلافت جب بنی عباس کو پہنچے گی ظہور مہدی تك اور کو نہ ملے گی۔ظاہر ہو اکہ۱۳۳۱ھ سے آج تك اور آج سے ظہور حضرت امام مہدی تك کوئی غیر عباسی خلیفہ نہ ہوا ہے نہ ہوگا جو دوسرے کو خلیفہ مانے حدیث کی تکذیب کرتا ہے یہ حدیث اپنے طرق عدیدہ سے حسن ہے اسے طبرانی نے معجم کبیر میں ام المومنین ام سلمہ رضی اﷲ تعالی عنہا سے روایت کیااور دیلمی نے مسند الفردوس میں انہیں سے بسند دیگر اور دارقطنی نے افراد میں حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے مرفوعا اور خطیب نے بسند خلفاء حضرت حبرالامۃ سے موقوفا اور حاکم نے حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ عنہ سےحدیث طبرانی کے لفظ یہ ہیں:
لکنھا فی ولد عمی صنوابی حتی یسلموھا الی الدجال۔ ہاں خلافت میرے چچا میرے باپ کی جگہ عباس کی اولاد میں ہے یہاں تك کہ اسے سپرد دجال کرینگے۔
اور حدیث ابن مسعود میں ہے:
لاتذھب الایام واللیالی حتی یملك رجل من اھل بیتی یواطی اسمہ اسمی واسم ابیہ اسم ابی فیملؤھا قسطا وعد لاکماملئت جوراوظلما ۔ شب وروز گزرنے کے بعد وہ خلافت کو میرے اہلبیت سے ایك مرد کے سپرد کریں گے جس کا نام میرا نام ہوگااور اس کے باپ کانام میرے باپ کا ناموہ زمین کو عدل وانصاف سے بھر دے گا جس طرح ظلم و ستم سے بھر گئی تھی یعنی حضرت امام مہدی رضی اﷲ تعالی عنہ۔
امام خاتم الحفاظ نے اس حدیث سے استناد اور اس پر اعتماد کیا کما تقدم(جیسا کہ پیچھے گزرا۔ت)یہ ہیں تقریبا پچاس حدیثیں اور کتب عقائد و تفسیر وحدیث و فقہ کی بانوے عبارتیں۔سنی بانصاف کو اسی قدر کافی ووافی ہیں۔
وﷲ الحمد والحمد ﷲ رب العلمین وصلی اﷲ تعالی علی سیدنا ومولنا محمد والہ وصحبہ وابنہ وحزبہ اجمعین۔
حوالہ / References
المعجم الکبیر حدیث۱۰۱۶ مروی از ام سلمہ رضی اﷲ عنہا مکتبہ فیصلیہ بیروت ۲۳/ ۴۲۰
المستدرك للحاکم کتاب الفتن والملاحم دارالفکر بیروت ۴/ ۴۴۲
المستدرك للحاکم کتاب الفتن والملاحم دارالفکر بیروت ۴/ ۴۴۲
فصل دوم
خطبہ صدارت مولوی فرنگی محلی میں۱۵ سطری کارگزاری کی نازبرداری
(۱)مسلمانو!تم نے دیکھا خلافت کےلئے شرط قرشیت پر رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی متواتر حدیثیںصحابہ کا اجماعتابعین کا اجماعامت کا اجماعجملہ اہلسنت کا عقیدہائمہ واکابر حنفیہ کی کتب عقائد میں تصریحیںکتب حدیث میں تصریحیںکتب فقہ میں تصریحیں ایسے عظیم الشان جلیل البرہان اجماعی قطعی یقینی مسئلے کو فرنگی محلی کا خطبہ صدارت میں صرف شافعیہ کی طرف نسبت کرنااور حنفیہ میں فقط بعض کے کلام سے وہ بھی تصریح نہیںفحوی سے سمجھے جانے کا ادعا کرنا کس درجہ خلاف دیانت واغوائے عوام ہے۔
(۲)تمہید میں تو اس پر خود حضرت سیدنا امام اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ کا نص صریح مذکورشاید امام اعظم کا نص بھی کسی مقلد حنفی کا فحوائے کلام ہوگا۔
(۳)اس پر نقول قاہرہ اجماع کو یوں گرانا کہ بعض بے اجماع نقل کیاکیسی تلبیس ہے۔
(۴)یہ کہنا کہ ابتدااس کی قاضی عیاض سے معلوم ہوتی ہے مگر ثبوت اجماع مشکل ہے۔ثقات ائمہ کی تکذیب کا اشعار ہےامام اجل ثقہ عدل قاضی عیاض رحمہ اﷲ تعالی سے پہلے ائمہ نے اس پر اجماع نقل کیابعد کے علماء نے نقل کیا سب نے مقبول ومقرررکھا کسی نے اس میں خلاف اہلسنت کا پتا نہ دیامعاذا ﷲ یہ سب جھوٹے ہیں اورفرنگی محلی سچے۔
(۵)جب نقول ائمہ مردود ونامعتبر ٹھہریں تو اپ ہی ہزاروں اجماعوں کا ثبوت مشکل بلکہ ناممکن ہوجائیگا کہ آخرقرآن وحدیث نے فرمایا نہیں کہ بعد عصر نبوت فلاں فلاں مسئلہ پر اجماع ہوگا ہم نے اہل اجماع کو دیکھا تك نہیںنہ وہ سب مل کر اپنے اجماع کی دستاویز یں رجسٹری کراگئے اب نہ رہیں مگر نقول ائمہ وہ ان تازہ لیڈروں کو مقبول نہیںپھر ثبوت اجماع کی صورت ہی کیا رہی۔
(۶)جب وہ نقل اجماع میں متہم تو نقل اقوال خاصہ میں کیوں معتمد ہوں گےفقہ بھی گئییہ وہابیہ وغیر مقلدین کی تعظیم وتکریم و جلسوں میں ان کی صدارت و تقدیم کی شامت ہے کہ وہی غیر مقلد کا مسئلہ آگیا ع
قیاس فاسد و اجماع بے اثر آمد
(قیاس فاسد ہے اور اجماع بے اثرہے۔ت)
خطبہ صدارت مولوی فرنگی محلی میں۱۵ سطری کارگزاری کی نازبرداری
(۱)مسلمانو!تم نے دیکھا خلافت کےلئے شرط قرشیت پر رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی متواتر حدیثیںصحابہ کا اجماعتابعین کا اجماعامت کا اجماعجملہ اہلسنت کا عقیدہائمہ واکابر حنفیہ کی کتب عقائد میں تصریحیںکتب حدیث میں تصریحیںکتب فقہ میں تصریحیں ایسے عظیم الشان جلیل البرہان اجماعی قطعی یقینی مسئلے کو فرنگی محلی کا خطبہ صدارت میں صرف شافعیہ کی طرف نسبت کرنااور حنفیہ میں فقط بعض کے کلام سے وہ بھی تصریح نہیںفحوی سے سمجھے جانے کا ادعا کرنا کس درجہ خلاف دیانت واغوائے عوام ہے۔
(۲)تمہید میں تو اس پر خود حضرت سیدنا امام اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ کا نص صریح مذکورشاید امام اعظم کا نص بھی کسی مقلد حنفی کا فحوائے کلام ہوگا۔
(۳)اس پر نقول قاہرہ اجماع کو یوں گرانا کہ بعض بے اجماع نقل کیاکیسی تلبیس ہے۔
(۴)یہ کہنا کہ ابتدااس کی قاضی عیاض سے معلوم ہوتی ہے مگر ثبوت اجماع مشکل ہے۔ثقات ائمہ کی تکذیب کا اشعار ہےامام اجل ثقہ عدل قاضی عیاض رحمہ اﷲ تعالی سے پہلے ائمہ نے اس پر اجماع نقل کیابعد کے علماء نے نقل کیا سب نے مقبول ومقرررکھا کسی نے اس میں خلاف اہلسنت کا پتا نہ دیامعاذا ﷲ یہ سب جھوٹے ہیں اورفرنگی محلی سچے۔
(۵)جب نقول ائمہ مردود ونامعتبر ٹھہریں تو اپ ہی ہزاروں اجماعوں کا ثبوت مشکل بلکہ ناممکن ہوجائیگا کہ آخرقرآن وحدیث نے فرمایا نہیں کہ بعد عصر نبوت فلاں فلاں مسئلہ پر اجماع ہوگا ہم نے اہل اجماع کو دیکھا تك نہیںنہ وہ سب مل کر اپنے اجماع کی دستاویز یں رجسٹری کراگئے اب نہ رہیں مگر نقول ائمہ وہ ان تازہ لیڈروں کو مقبول نہیںپھر ثبوت اجماع کی صورت ہی کیا رہی۔
(۶)جب وہ نقل اجماع میں متہم تو نقل اقوال خاصہ میں کیوں معتمد ہوں گےفقہ بھی گئییہ وہابیہ وغیر مقلدین کی تعظیم وتکریم و جلسوں میں ان کی صدارت و تقدیم کی شامت ہے کہ وہی غیر مقلد کا مسئلہ آگیا ع
قیاس فاسد و اجماع بے اثر آمد
(قیاس فاسد ہے اور اجماع بے اثرہے۔ت)
(۷)امام اجل قاضی عیاض نے ابتداء دعوی اجماع نہ کیا بلکہ یہ فرمایا کہ علمائے کرام نے اسے مسائل اجماع میں گنا تو ان سے ابتداء بتانا تکذیب و گستاخی کی انتہا دکھاناہے۔
(۸)صدر اسلام میں ڈیڑھ سو برس تك تصانیف نہ ہوئیںپھر اگلی صدیوں کی ہزاروں کتابیں مفقود ہوگئیںاب صدہا مسائل اجماعیہ میں سب سے پہلے جس امام کے کلام میں نقل اجماع نظرآئے اسی کے سر رکھ دیا جائے کہ ابتداء ان سے معلوم ہوتی ہے کتنا آسان طریقہ رداجماع کا ہے۔
(۹)ائمہ کرام اس پر صحابہ و تابعین و سلف صالحین رضی اﷲ تعالی عنہم اجمعین سے اب تك تمام اہلسنت کا اجماع بتاتےاور اسی پر کتب عقائد میں اسے قطعیہ یقینیہ فرماتے ہیں اس کے مقابل اگر کسی صحابی سے کوئی اثر ملے تو اگر وہ انعقاد اجماع سے پہلے کی گفتگو ہے اس سے نقض اجماع جنون خالص ہے یوں ہی اگر تاریخ معلوم نہ ہواور اگر بعد کی ہے اور سند صحیح نہیں تو آپ ہی مردو د اور صحیح وقابل تاویل ہے تو واجب التاویل ورنہ شاذروایت اجماع کے مقابل قطعا مضمحل نہ کہ الٹا اس سے اجماع باطل۔
(۱۰)قریش میں حصر خلافت کی احادیث بیشك متواتر ہیں بہت متکلمین کی نظر احادیث پر زیادہ وسیع نہ تھی کہ فن دوسرا ہے انہوں نے خبرآحاد سمجھا تو ساتھ ہی قبول صحابہ سے قطعی یقینی بتادیا مگر مسامرہ سے گزرا کہ حافظ الحدیث امام عسقلانی نے ایك حدیث"الائمۃ من قریش"کو چالیس کے قریب صحابہ کرام سے مروی دکھایا اور اس میں مستقل رسالہ تصنیف فرمایا جس کا نام امام سخاوی نے مقاصد حسنہ میں "لذۃ العیش فی طرق حدیث الائمۃمن قریش"بتایایہ عدد صحابہ کرام میں یقینا تو اتر کاہے یہ ایك حدیث کا حال تھا اسی مدعا پر اور احادیث علاوہ۔
(۱۱)اس سے قطع نظر کیجئے تو اس قدر تو آج کل کی قاصر نگاہوں سے بھی نظر آرہاہے کہ وہ بلاشبہہ مشہور اور بالفاظ عدیدہ وطرق کثیرہ بہت صحابہ کرام سے ماثوراور برابر صدر اول سے امت مرحومہ میں احتجاج وعمل کیلئے مقبول ومنظورپھر اس کے خاص الفاظ کے احاد سے ہونے کا ذکر جس کا جواب علمائے عقائد مواقف و شرح مقاصد و شرح مواقف وغیرہامیں دے چکے کیا انصاف ہے۔
(۱۲)ائمہ نے"الائمۃ من قریش"سے استدلال فرمایا اور جمع محلی باللام کے افادہ استغراق سے اتمام تقریب فرمادیا اسے"الخلافۃ فی قریش"سے بدلنا اور"القضاء فی الانصار"سے نقض کرنا کیا مقتضائے دیانت ہے۔
(۱۳)حدیث صحیح"لایزال ھذاالامر فی قریش مابقی من الناس
(۸)صدر اسلام میں ڈیڑھ سو برس تك تصانیف نہ ہوئیںپھر اگلی صدیوں کی ہزاروں کتابیں مفقود ہوگئیںاب صدہا مسائل اجماعیہ میں سب سے پہلے جس امام کے کلام میں نقل اجماع نظرآئے اسی کے سر رکھ دیا جائے کہ ابتداء ان سے معلوم ہوتی ہے کتنا آسان طریقہ رداجماع کا ہے۔
(۹)ائمہ کرام اس پر صحابہ و تابعین و سلف صالحین رضی اﷲ تعالی عنہم اجمعین سے اب تك تمام اہلسنت کا اجماع بتاتےاور اسی پر کتب عقائد میں اسے قطعیہ یقینیہ فرماتے ہیں اس کے مقابل اگر کسی صحابی سے کوئی اثر ملے تو اگر وہ انعقاد اجماع سے پہلے کی گفتگو ہے اس سے نقض اجماع جنون خالص ہے یوں ہی اگر تاریخ معلوم نہ ہواور اگر بعد کی ہے اور سند صحیح نہیں تو آپ ہی مردو د اور صحیح وقابل تاویل ہے تو واجب التاویل ورنہ شاذروایت اجماع کے مقابل قطعا مضمحل نہ کہ الٹا اس سے اجماع باطل۔
(۱۰)قریش میں حصر خلافت کی احادیث بیشك متواتر ہیں بہت متکلمین کی نظر احادیث پر زیادہ وسیع نہ تھی کہ فن دوسرا ہے انہوں نے خبرآحاد سمجھا تو ساتھ ہی قبول صحابہ سے قطعی یقینی بتادیا مگر مسامرہ سے گزرا کہ حافظ الحدیث امام عسقلانی نے ایك حدیث"الائمۃ من قریش"کو چالیس کے قریب صحابہ کرام سے مروی دکھایا اور اس میں مستقل رسالہ تصنیف فرمایا جس کا نام امام سخاوی نے مقاصد حسنہ میں "لذۃ العیش فی طرق حدیث الائمۃمن قریش"بتایایہ عدد صحابہ کرام میں یقینا تو اتر کاہے یہ ایك حدیث کا حال تھا اسی مدعا پر اور احادیث علاوہ۔
(۱۱)اس سے قطع نظر کیجئے تو اس قدر تو آج کل کی قاصر نگاہوں سے بھی نظر آرہاہے کہ وہ بلاشبہہ مشہور اور بالفاظ عدیدہ وطرق کثیرہ بہت صحابہ کرام سے ماثوراور برابر صدر اول سے امت مرحومہ میں احتجاج وعمل کیلئے مقبول ومنظورپھر اس کے خاص الفاظ کے احاد سے ہونے کا ذکر جس کا جواب علمائے عقائد مواقف و شرح مقاصد و شرح مواقف وغیرہامیں دے چکے کیا انصاف ہے۔
(۱۲)ائمہ نے"الائمۃ من قریش"سے استدلال فرمایا اور جمع محلی باللام کے افادہ استغراق سے اتمام تقریب فرمادیا اسے"الخلافۃ فی قریش"سے بدلنا اور"القضاء فی الانصار"سے نقض کرنا کیا مقتضائے دیانت ہے۔
(۱۳)حدیث صحیح"لایزال ھذاالامر فی قریش مابقی من الناس
حوالہ / References
مقاصد الحسنہ تحت حدیث عالم قریش الخ دارالکتب العلمیہ بیروت ص۲۸۲
اثنان (خلافت قریش کےلئے جب تك دنیا میں دو آدمی بھی ہیں۔ت)سے استدلال ائمہ کا کیا رد ہواکیا کسی حدیث میں یہ بھی آیاکہ:
لایزال القضاء فی الانصار وھذاالاذان فی الحبشۃ مابقی من الناس اثنان۔ ہمیشہ عہدہ قضا انصار میں اور عہدہ اذان حبشیوں میں رہے جب تك دنیا میں دو آدمی بھی رہیں۔
جب ائمہ فرماچکے کہ صحابہ کرام نے حدیث سے حصر سمجھا اور اسی پر عمل فرمایاتو صحابہ کے مقابل اپنی چہ میگوئیاں نکالنا کیا شان دین ہے۔
(۱۵ و ۱۶)محققین اہلسنت عموما اور امام ابوبکر باقلانی کی طرف خصوصا اس نسبت کی جرأت کہ قرشیت کی شرط سے بالکل عدول کرتے ہیں کس قدر دروغ بیمزہ ہے اکابر ائمہ اعاظم علماء اجماع صحابہ اجماع تابعین اجماع امت نقل فرمارہے ہیں ناقلان خلافصرف خارجیوں معتزلیوں کا خلاف بتاتے ہیںمخالفت میں ضرار و کعبی دو گمراہوں کے قول نقل کرتے ہیں معاذا ﷲ اگر تمام محققین اہل سنت درکنار صرف امام سنت باقلانی کا خلاف ہوتا تو خارجیوں معتزلیوں کو مخالف بتایا جاتادوگمراہوں کا نام ان کے نام نامی سے زیادہ پیارا اور قابل ذکر عظمت والا تھا کہ انہیں چھوڑ کر ان دو کا نام گنایا جاتا۔شرح عقائد نسفی کے الفاظ تو آب زر سے لکھنے کے ہیں کہ"لم یخالف الاالخوارج وبعض المعزلۃ" اس میں کسی نے خلاف نہ کیا سوا خارجیوں اور بعض معتزلیوں کے تمام نقول اجماع کا یہی مطلب ہے مگر اس میں محققین اہلسنت وامام باقلانی کی طرف اس نسبت باطلہ کی روشن تر تفضیح ہے وﷲ الحمد اجلہ اکابر ائمہ اہلسنت ائمہ کلام واکابرحدیث واعاظم فقہ سب کے ارشادات پس پشت ڈالنا اور ایك متاخر مورخ ابن خلدون کے قول بے سند پر(جس کے مذہب کی بھی کوئی ٹھیك نہیں نہ تاریخ نویسی کے سواکسی علم دینی میں اس کا نام زبانوں پر آتا ہے)سرمنڈابیٹھنا کیا شرط دین پر ستی ہے اجلہ ائمہ جہابذہ ناقدین کو نہ معلوم ہوا کہ خود امام سنت باقلانی و محققین اہلسنت اس مسئلہ میں مخالف ہیںبرابر اجماع نقل فرماتے رہے مسئلہ پر جزم ویقین فرمایا کئے اہل خلاف کو خارجی معتزلی بدعتی کہتے رہےمگر آٹھویں صدی کے اخیرمیں اس مورخ کو حقیقت حال معلوم ہوئی کہ اس میں تو محققین اہلسنت و امام سنت مخالف ہیں۔
(۱۷)طرفہ یہ کہ ابن خلدون نے اتنا کہا تھا:
لایزال القضاء فی الانصار وھذاالاذان فی الحبشۃ مابقی من الناس اثنان۔ ہمیشہ عہدہ قضا انصار میں اور عہدہ اذان حبشیوں میں رہے جب تك دنیا میں دو آدمی بھی رہیں۔
جب ائمہ فرماچکے کہ صحابہ کرام نے حدیث سے حصر سمجھا اور اسی پر عمل فرمایاتو صحابہ کے مقابل اپنی چہ میگوئیاں نکالنا کیا شان دین ہے۔
(۱۵ و ۱۶)محققین اہلسنت عموما اور امام ابوبکر باقلانی کی طرف خصوصا اس نسبت کی جرأت کہ قرشیت کی شرط سے بالکل عدول کرتے ہیں کس قدر دروغ بیمزہ ہے اکابر ائمہ اعاظم علماء اجماع صحابہ اجماع تابعین اجماع امت نقل فرمارہے ہیں ناقلان خلافصرف خارجیوں معتزلیوں کا خلاف بتاتے ہیںمخالفت میں ضرار و کعبی دو گمراہوں کے قول نقل کرتے ہیں معاذا ﷲ اگر تمام محققین اہل سنت درکنار صرف امام سنت باقلانی کا خلاف ہوتا تو خارجیوں معتزلیوں کو مخالف بتایا جاتادوگمراہوں کا نام ان کے نام نامی سے زیادہ پیارا اور قابل ذکر عظمت والا تھا کہ انہیں چھوڑ کر ان دو کا نام گنایا جاتا۔شرح عقائد نسفی کے الفاظ تو آب زر سے لکھنے کے ہیں کہ"لم یخالف الاالخوارج وبعض المعزلۃ" اس میں کسی نے خلاف نہ کیا سوا خارجیوں اور بعض معتزلیوں کے تمام نقول اجماع کا یہی مطلب ہے مگر اس میں محققین اہلسنت وامام باقلانی کی طرف اس نسبت باطلہ کی روشن تر تفضیح ہے وﷲ الحمد اجلہ اکابر ائمہ اہلسنت ائمہ کلام واکابرحدیث واعاظم فقہ سب کے ارشادات پس پشت ڈالنا اور ایك متاخر مورخ ابن خلدون کے قول بے سند پر(جس کے مذہب کی بھی کوئی ٹھیك نہیں نہ تاریخ نویسی کے سواکسی علم دینی میں اس کا نام زبانوں پر آتا ہے)سرمنڈابیٹھنا کیا شرط دین پر ستی ہے اجلہ ائمہ جہابذہ ناقدین کو نہ معلوم ہوا کہ خود امام سنت باقلانی و محققین اہلسنت اس مسئلہ میں مخالف ہیںبرابر اجماع نقل فرماتے رہے مسئلہ پر جزم ویقین فرمایا کئے اہل خلاف کو خارجی معتزلی بدعتی کہتے رہےمگر آٹھویں صدی کے اخیرمیں اس مورخ کو حقیقت حال معلوم ہوئی کہ اس میں تو محققین اہلسنت و امام سنت مخالف ہیں۔
(۱۷)طرفہ یہ کہ ابن خلدون نے اتنا کہا تھا:
حوالہ / References
صحیح بخاری کتاب الاحکام قدیمی کتب خانہ کراچی ص۱۰۵۷،صحیح مسلم کتاب الامارۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۱۱۹
شرح العقائد النسفیہ دارالاشاعت العربیہ قندھار افغانستان ص۱۱۲
شرح العقائد النسفیہ دارالاشاعت العربیہ قندھار افغانستان ص۱۱۲
اشتبہ ذلك علی کثیر من المحققین ۔ بہت سے محققوں کو اس میں شبہہ لگا۔
فرنگی محلی تحریر"شبہہ لگنا اڑادیا"اور"کثیر"کا لفظ گھٹادیااسے یوں بنایا کہ محققین عدول کرتے ہیں یعنی ان کا عدول ازراہ اشتباہ نہیں بلکہ ازراہ تحقیق ہے اور وہ جو اس شرط پر قائم رہے یعنی تمام اہلسنت وہ تحقیق سے عاری ہیں۔
(۱۸)ان دونوں سے بڑھ کر چالاکی یہ کہ فرنگی محلی تحریر نے محققین کے ساتھ لفظ"اہلسنت"بڑھالیا یہ لفظ ابن خلدون کی عبارت میں نہیںوہ خداجانے کن کو محققین کہہ رہا ہےائمہ فرماچکے کہ اس میں مخالف خارجی ہیں یا معتزلیتو انہیں میں سے کسی فریق کو محققین کہا اور ظاہرا معتزلہ کو کہا کہ دربارہ خلافت جو مضمون اس نے نقل کیا وہ ضرار بن عمرو معتزلی ہی کی مخالفت کا مؤیدنہیں نہیں بلکہ اس سے بھی کہیں زائد ہے فاشتکی الی اﷲ تعالی۔
(۱۹)ابن خلدون کی حالت عجیب ہے۱ اس کے کلام سے کہیں اعتزال عــــہ کی بوآتی ہے۲کہیں نیچر یانہ اسباب پرستی کی جھلك پائی جاتی ہے۳اولیائے کرام کا صاف دشمن ہے۴ان کو رافضیوں کا مقلد بتاتا ہے۵کہتا ہے ان کے دلوں میں رافضیوں کے اقوال رچ گئے اور ان کے مذاہب کو اپنا دین بنانے میں تو غل کیا ۶یہاں تك کہ طریقت کا سلسلہ علی تك پہنچایا اور کہا انہوں نے حسن بصری کو خرقہ پہنایا اور ان سے ان کے پیر جنید تك پہنچا اس تخصیص علی اور ان کی اور باتوں سے سمجھا جاتا ہے کہ یہ رافضیوں میں داخل ہیںو۷لہذا رافضیوں کی طرح ایك امام مہدی کے انتظار میں ہیں جن کے آنے کی کچھ صحت نہیں ۸اسی طرح اقطاب و ابدال کا یك لخت منکر ہے ۹اس میں بھی اولیاء کے مقلد روافض ہونے کا مشعر ہے کہ جس طرح رافضیوں نے ہر زمانے میں ایك امام باطن اور اس کے نیچے نقبا مانے ہیںیونہی ان سے سیکھ کر صوفیہ نے ہردور میں ایك قطب اور اس کے ماتحت ابدال گھڑے ہیںحلانکہ احادیث مرفوعہ حضور سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے علاوہ جن کے بیان میں امام جلال الدین سیوطی کا ایك رسالہ ہے حضور سیدنا غوث اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ و دیگر اجلہ اقطاب کرام
عــــہ:دور کیوں جائیے اپنے اخ معظم مولوی عبدالحی صاحب کا فتاوی جلد اول طبع اول ص۷۲اور خود اپنا جمع کردہ فتاوی قیام ص۳۰۶ملاحظہ کیجئے۔علامہ عبدالرحمان حضرمی معتزلی معروف بہ ابن خلدون ۱۲ عبید الرضاحشمت علی رضوی غفرلہ۔
فرنگی محلی تحریر"شبہہ لگنا اڑادیا"اور"کثیر"کا لفظ گھٹادیااسے یوں بنایا کہ محققین عدول کرتے ہیں یعنی ان کا عدول ازراہ اشتباہ نہیں بلکہ ازراہ تحقیق ہے اور وہ جو اس شرط پر قائم رہے یعنی تمام اہلسنت وہ تحقیق سے عاری ہیں۔
(۱۸)ان دونوں سے بڑھ کر چالاکی یہ کہ فرنگی محلی تحریر نے محققین کے ساتھ لفظ"اہلسنت"بڑھالیا یہ لفظ ابن خلدون کی عبارت میں نہیںوہ خداجانے کن کو محققین کہہ رہا ہےائمہ فرماچکے کہ اس میں مخالف خارجی ہیں یا معتزلیتو انہیں میں سے کسی فریق کو محققین کہا اور ظاہرا معتزلہ کو کہا کہ دربارہ خلافت جو مضمون اس نے نقل کیا وہ ضرار بن عمرو معتزلی ہی کی مخالفت کا مؤیدنہیں نہیں بلکہ اس سے بھی کہیں زائد ہے فاشتکی الی اﷲ تعالی۔
(۱۹)ابن خلدون کی حالت عجیب ہے۱ اس کے کلام سے کہیں اعتزال عــــہ کی بوآتی ہے۲کہیں نیچر یانہ اسباب پرستی کی جھلك پائی جاتی ہے۳اولیائے کرام کا صاف دشمن ہے۴ان کو رافضیوں کا مقلد بتاتا ہے۵کہتا ہے ان کے دلوں میں رافضیوں کے اقوال رچ گئے اور ان کے مذاہب کو اپنا دین بنانے میں تو غل کیا ۶یہاں تك کہ طریقت کا سلسلہ علی تك پہنچایا اور کہا انہوں نے حسن بصری کو خرقہ پہنایا اور ان سے ان کے پیر جنید تك پہنچا اس تخصیص علی اور ان کی اور باتوں سے سمجھا جاتا ہے کہ یہ رافضیوں میں داخل ہیںو۷لہذا رافضیوں کی طرح ایك امام مہدی کے انتظار میں ہیں جن کے آنے کی کچھ صحت نہیں ۸اسی طرح اقطاب و ابدال کا یك لخت منکر ہے ۹اس میں بھی اولیاء کے مقلد روافض ہونے کا مشعر ہے کہ جس طرح رافضیوں نے ہر زمانے میں ایك امام باطن اور اس کے نیچے نقبا مانے ہیںیونہی ان سے سیکھ کر صوفیہ نے ہردور میں ایك قطب اور اس کے ماتحت ابدال گھڑے ہیںحلانکہ احادیث مرفوعہ حضور سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے علاوہ جن کے بیان میں امام جلال الدین سیوطی کا ایك رسالہ ہے حضور سیدنا غوث اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ و دیگر اجلہ اقطاب کرام
عــــہ:دور کیوں جائیے اپنے اخ معظم مولوی عبدالحی صاحب کا فتاوی جلد اول طبع اول ص۷۲اور خود اپنا جمع کردہ فتاوی قیام ص۳۰۶ملاحظہ کیجئے۔علامہ عبدالرحمان حضرمی معتزلی معروف بہ ابن خلدون ۱۲ عبید الرضاحشمت علی رضوی غفرلہ۔
حوالہ / References
تاریخ ابن خلدون فصل فی اختلاف الامۃ فی حکم ہذا المنصب وشروط۔موسسۃ الاعلمی للمطبوعات بیروت ۱/ ۱۹۴
قدست اسرارہم سب سے اقطاب وابدال کی حقیقت متواتر ہے یونہی کون ساصاحب سلسلہ ہے جس کا سلسلہ امیر المومنین علی تك نہیں پہنچتا تو وہ ان تمام حضرات اکابرکرام کومعاذاﷲ دین میں مخترع اور رافضیوں کا متبع بلکہ سلك روافض میں منسلك ٹھہراتاہے۱۰فتوحات اسلام کا رازعربی صحابہ کرام رضی اﷲ تعالی عنہم کا وحشی ہونا بتایا ہےاور۱۱ یہ کہ امیر المومنین فاروق رضی اﷲ تعالی عنہ نے جہاد پر بھیجتے وقت انہیں وحشیت پر اور ابھاردیا کیونکہ وحشی ہی قوم کا ملك وسیع ہوتا ہے۱۲نیز کہتا ہے صحابہ وحشی ہونے کے سبب لکھنا ٹھیك نہ جانتے تھے۱۳اس لئے قرآن عظیم جا بجا غلط لکھا ہےاور۱۴اولیاء کو جادوگروں کے حکم میں رکھنے کےلئے کہا جو کسی کو اپنی کرامت سے قتل کردے وہ صاحب کرامت قتل کیا جائے گا جیسے ساحر کو اپنے سحر سے قتل کرے۔اجلہ اکابر محبوبان خدا کو نام بنام حتی کہ شیخ الاسلام ہروی کو لکھتا ہے کہ یہ حلولی تھے اور یہ کفر انہوں نے روافض اسمعیلیہ سے سیکھا الی غیر ذلك من ھفواتہ الشنیعۃ(اس کے علاوہ اس کے بہت سے برے ہفوات ہیں۔ت)اور پھر تستر کےلئے یا خود اپنے حال سے ناواقفی کے باعث جابجا سنیت واعتقاد اولیاء کا اظہار بھی کرتا ہے جس نے محققین یا شیخ الاسلام امام ہروی کی طرف کفر میں تقلید روافض نسبت کردی وہ اگر محققین وامام باقلانی کی طرف بدعت میں تقلید خوارج نسبت کردے کیا بعید ہےہاں عجب ان مدعیان سنت سے کہ تمام اکابر ائمہ وعلمائے اہلسنت کے ارشادات عالیہ پر پانی پھیرنے کےلئے ایك ایسے مورخ کا دامن تھا میںکیا آیہ کریمہ"بئس للظلمین بدلا ﴿۵۰﴾ " (ظالموں کو کیا ہی برابدلہ ملا۔ت)یہاں وراد نہ ہوگی ولاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم۔
غالبا اس نسبت مخترعہ سے بھی اسے صوفیہ کرام پر چوٹ کرنی منظور ہے وہ بھی شرط قرشیت کو اجماعی مانتے ہیں خود اسی شخص نے اسی مقدمہ تاریخ فصل فاطمی میں ان اکابر کرام سے نقل کیا:
قالوا لما کان امرالخلافۃ لقریش حکما شرعیا بالاجماع الذی لایوھنہ انکار من لم یراول علمہ الخ۔ یعنی صوفیہ کرام نے فرمایا خلافت خاص قریش کیلئے ہونا حکم شرعی ہے ایسے اجماع سے ثابت جو ناواقف ناشناس کے انکار سے سست نہیں ہوسکتا الخ
لہذامحققین وامام سنت کا خلاف بتایا کہ ان کی تکذیب ہو۔
(۲۰)نہیں نہیں بلکہ اس کا راز اور ہے خود اسی مبحث سے روشن کہ وہ آپ مبتدع اور خوارج کا
غالبا اس نسبت مخترعہ سے بھی اسے صوفیہ کرام پر چوٹ کرنی منظور ہے وہ بھی شرط قرشیت کو اجماعی مانتے ہیں خود اسی شخص نے اسی مقدمہ تاریخ فصل فاطمی میں ان اکابر کرام سے نقل کیا:
قالوا لما کان امرالخلافۃ لقریش حکما شرعیا بالاجماع الذی لایوھنہ انکار من لم یراول علمہ الخ۔ یعنی صوفیہ کرام نے فرمایا خلافت خاص قریش کیلئے ہونا حکم شرعی ہے ایسے اجماع سے ثابت جو ناواقف ناشناس کے انکار سے سست نہیں ہوسکتا الخ
لہذامحققین وامام سنت کا خلاف بتایا کہ ان کی تکذیب ہو۔
(۲۰)نہیں نہیں بلکہ اس کا راز اور ہے خود اسی مبحث سے روشن کہ وہ آپ مبتدع اور خوارج کا
حوالہ / References
القرآن الکریم ۱۸ /۵۰
مقدمہ ابن خلدون فصل فی امر الفاطمی موسسۃ الاعلمی للمطبوعات بیروت ۱/۳۲۴
مقدمہ ابن خلدون فصل فی امر الفاطمی موسسۃ الاعلمی للمطبوعات بیروت ۱/۳۲۴
متبع اور اجماع صحابہ کرام کا خارقاور ضرار یہ ومعتزلہ کا موافق ہے اس نے اولا شرائط خلافت میں کہا:
اماالنسب القرشی فلاجماع الصحابۃ علی ذلک ۔ قرشیت کی شرط اس لئے ہے کہ صحابہ کرام نے اس پر اجماع فرمایا۔
پھر اس اجماع کی منشا ومستند حدیثیں ذکر کیں کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:الائمۃ من قریش خلفاء قریشی ہوں۔اور فرمایا:
لایزال ھذاالامر فی ھذاالحی من قریش ۔ خلافت ہمیشہ قریش میں رہے گی۔
اور کہا اس پر دلائل بکثرت ہیں پھر آہستہ آہستہ رداحادیث واجماع کی طرف سرکاکہ:
لما ضعف امر قریش وتلاشت عصبیتھم فاشتبہ ذلك علی کثیر من المحققین حتی ذھبوا الی نفی اشتراط القرشیۃ ۔ جب قریش میں ضعف آیا اور ان کی حمیت جاتی رہی تو بہت محققوں کو یہاں شبہہ لگایہاں تك کہ نفی شرط قرشیت کی طرف گئے۔
یہاں دونوں پہلو دیکھئےاشتباہ کہا جس سے مفہوم ہو کہ ان کو غلطی پر جانتا ہے اور انہیں محققین کہا جس سے مترشح ہو کہ ان کے زعم کو تحقیق مانتا ہے پھر ان کے دو شبہے ذکر کئے ایك اسی حدیث دربارہ غلام حبشی سے جس کے جواب کلام ائمہ سے گزرے اور اس پر زیادہ کلام ان شاء اﷲ تعالی آگے آتا ہے اس نے جواب خطائی اختیار کیا کہ یہ مبالغۃ بطور فرض ہےدوسرا شبہہ اس روایت سے کہ امیر المومنین فاروق سے مروی ہوا:
لوکان سالم مولی ابی حذیفۃ حیالولیتہ ۔ اگر ابوحذیفہ کے غلام آزاد شدہ سالم زندہ ہوتے تو میں ضرور ان کو والی بناتا۔
یا فرمایا:لمادخلتنی فیہ الظنۃ ان پر مجھے کوئی بدگمانی نہ ہوتی۔اس کا کھلا ہوا روشن جواب تھا کہ امیرالمومنین نے فرمایا ہے"لولیتہ"میں انہیں والی کرتانہ کہ"استخلفتہ"میں انہیں خلیفہ کرتاوالی ایك صوبہ کا بھی ہوتا ہے ایك شہر کا بھی ہوتا ہےجسے خلیفہ مقرر فرمائے تو اسے یہاں سے کیا علاقہاس روشن جواب کو چھوڑ کر اول تو یہ جواب دیا کہ مذھب الصحابی لیس بحجۃ یعنی یہ اگر ہے تو عمر کا قول ہے اور عمر کا قول کچھ حجت نہیں۔شان فاروقی میں یہ کلمہ جیسا ہے اہل ادب پر ظاہر ہے جن کی نسبت خاص حکم احکم حضور پر نور سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ہے:
اماالنسب القرشی فلاجماع الصحابۃ علی ذلک ۔ قرشیت کی شرط اس لئے ہے کہ صحابہ کرام نے اس پر اجماع فرمایا۔
پھر اس اجماع کی منشا ومستند حدیثیں ذکر کیں کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:الائمۃ من قریش خلفاء قریشی ہوں۔اور فرمایا:
لایزال ھذاالامر فی ھذاالحی من قریش ۔ خلافت ہمیشہ قریش میں رہے گی۔
اور کہا اس پر دلائل بکثرت ہیں پھر آہستہ آہستہ رداحادیث واجماع کی طرف سرکاکہ:
لما ضعف امر قریش وتلاشت عصبیتھم فاشتبہ ذلك علی کثیر من المحققین حتی ذھبوا الی نفی اشتراط القرشیۃ ۔ جب قریش میں ضعف آیا اور ان کی حمیت جاتی رہی تو بہت محققوں کو یہاں شبہہ لگایہاں تك کہ نفی شرط قرشیت کی طرف گئے۔
یہاں دونوں پہلو دیکھئےاشتباہ کہا جس سے مفہوم ہو کہ ان کو غلطی پر جانتا ہے اور انہیں محققین کہا جس سے مترشح ہو کہ ان کے زعم کو تحقیق مانتا ہے پھر ان کے دو شبہے ذکر کئے ایك اسی حدیث دربارہ غلام حبشی سے جس کے جواب کلام ائمہ سے گزرے اور اس پر زیادہ کلام ان شاء اﷲ تعالی آگے آتا ہے اس نے جواب خطائی اختیار کیا کہ یہ مبالغۃ بطور فرض ہےدوسرا شبہہ اس روایت سے کہ امیر المومنین فاروق سے مروی ہوا:
لوکان سالم مولی ابی حذیفۃ حیالولیتہ ۔ اگر ابوحذیفہ کے غلام آزاد شدہ سالم زندہ ہوتے تو میں ضرور ان کو والی بناتا۔
یا فرمایا:لمادخلتنی فیہ الظنۃ ان پر مجھے کوئی بدگمانی نہ ہوتی۔اس کا کھلا ہوا روشن جواب تھا کہ امیرالمومنین نے فرمایا ہے"لولیتہ"میں انہیں والی کرتانہ کہ"استخلفتہ"میں انہیں خلیفہ کرتاوالی ایك صوبہ کا بھی ہوتا ہے ایك شہر کا بھی ہوتا ہےجسے خلیفہ مقرر فرمائے تو اسے یہاں سے کیا علاقہاس روشن جواب کو چھوڑ کر اول تو یہ جواب دیا کہ مذھب الصحابی لیس بحجۃ یعنی یہ اگر ہے تو عمر کا قول ہے اور عمر کا قول کچھ حجت نہیں۔شان فاروقی میں یہ کلمہ جیسا ہے اہل ادب پر ظاہر ہے جن کی نسبت خاص حکم احکم حضور پر نور سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ہے:
حوالہ / References
مقدمہ ابن خلدون فصل فی اختلاف الامۃ فی حکم ھذا المنصب وشروط موسسۃ الاعلمی للمطبوعات بیروت ۱/۱۹۴
مقدمہ ابن خلدون فصل فی اختلاف الامۃ فی حکم ھذا المنصب وشروط موسسۃ الاعلمی للمطبوعات بیروت ۱/۱۹۴
مقدمہ ابن خلدون فصل فی اختلاف الامۃ فی حکم ھذا المنصب وشروط موسسۃ الاعلمی للمطبوعات بیروت ۱/۱۹۴
مقدمہ ابن خلدون فصل فی اختلاف الامۃ فی حکم ھذا المنصب وشروط موسسۃ الاعلمی للمطبوعات بیروت ۱/۱۹۴
مقدمہ ابن خلدون فصل فی اختلاف الامۃ فی حکم ھذا المنصب وشروط موسسۃ الاعلمی للمطبوعات بیروت ۱/۱۹۴
مقدمہ ابن خلدون فصل فی اختلاف الامۃ فی حکم ھذا المنصب وشروط موسسۃ الاعلمی للمطبوعات بیروت ۱/۱۹۴
مقدمہ ابن خلدون فصل فی اختلاف الامۃ فی حکم ھذا المنصب وشروط موسسۃ الاعلمی للمطبوعات بیروت ۱/۱۹۴
مقدمہ ابن خلدون فصل فی اختلاف الامۃ فی حکم ھذا المنصب وشروط موسسۃ الاعلمی للمطبوعات بیروت ۱/۱۹۴
مقدمہ ابن خلدون فصل فی اختلاف الامۃ فی حکم ھذا المنصب وشروط موسسۃ الاعلمی للمطبوعات بیروت ۱/۱۹۴
مقدمہ ابن خلدون فصل فی اختلاف الامۃ فی حکم ھذا المنصب وشروط موسسۃ الاعلمی للمطبوعات بیروت ۱/۱۹۴
مقدمہ ابن خلدون فصل فی اختلاف الامۃ فی حکم ھذا المنصب وشروط موسسۃ الاعلمی للمطبوعات بیروت ۱/۱۹۴
مقدمہ ابن خلدون فصل فی اختلاف الامۃ فی حکم ھذا المنصب وشروط موسسۃ الاعلمی للمطبوعات بیروت ۱/۱۹۴
مقدمہ ابن خلدون فصل فی اختلاف الامۃ فی حکم ھذا المنصب وشروط موسسۃ الاعلمی للمطبوعات بیروت ۱/۱۹۴
اقتدوابالذین من بعدی ابی بکر وعمر ۔ ان دو کی پیروی کرو جو میرے بعد ہوں گے ابوبکر وعمر رضی اﷲ تعالی عنہما۔
یہاں تك تو یہی تھا آگے دوسرے جواب کے تیور دیکھئےکہتا ہے:
وایضا مولی القوم منھم وعصبیۃ الولاء حاصلۃ لسالم فی قریش وھی الفائدۃ فی اشتراط النسب و صراحۃ النسب غیر محتاج الیہ اذ الفائدۃ فی النسب انما ھی العصبیۃ وھی حاصلۃ من الولاء ۔ یعنی دوسرا جواب یہ کہ کسی قوم کا آزاد شدہ غلام انہیں میں سے ہے اور اس رشتہ ولاء کے باعث قریش سالم کی حمیت کرتے اور یہی قومی حمیت شرط نسب کا فائدہ ہے صاف نسب کی حاجت نہیں کہ وہ تو اسی حمیت کی غرض سے ہے اور حمیت اپنے آزاد کئے ہوئے غلام کی بھی کرتے ہیں۔
ﷲانصاف ! دکھاناتو یہ ہے کہ شرط قرشیت نہیں مانتے ان کے شبہہ کاجواب دے رہا ہے اور جواب وہ دیا جس نے شرط قرشیت کو اکھاڑ پھینکا نسب کی کوئی حاجت نہیں قومی حمیت سے کام ہے جس طرح بھی ہو پھر بھی قرشیت کاکچھ ڈورا لگا رکھا کہ قریشی نہ ہوتو اس کا آزاد کردہ غلام تو ہو اگرچہ اس میں بھی کلا م ہے سالم رضی اﷲ تعالی عنہ کو ابوحذیفہ رضی اﷲ تعالی عنہ نے آزاد نہ فرمایا نہ وہ ان کے غلام تھے بلکہ ان کی بی بی شیبہ رضی اﷲ تعالی عنہا کے غلام تھے انہیں آزاد کیا اور وہ انصار یہ ہیں نہ کہ قریشیہ۔ہاں براہ موالات و دوستی مولی ابی حذیفہ کہلاتے ہیںابوحذیفہ نے ان کو متبنی کیا تھااور اپنی بھتیجی فاطمہ سے ان کی شادی کردی رضی اﷲ تعالی عنہم اجمعین۔فتح الباری میں ہے:
کان مولی لامرأۃ من الانصار فتبناہ ابوحذیفۃ لما تزوجھا فنسب الیہ ۔ یعنی سالم ایك انصار یہ بی بی کے غلام آزاد شدہ تھے جب ابوحذیفہ نے اس بی بی سے نکاح کیا ان کومتبنی بنایاجب سے ابوحذیفہ کی طرف منسوب ہونے لگے رضی اﷲ تعالی عنہم اجمعین
لہذاارشاد الساری میں مولی ابی حذیفہ کی یوں شرح کی:(مولی)امرأۃ ابی حذیفۃ (ابوحذیفہ کے مولی یعنی ان کی زوجہ کے مولی۔
یہاں تك تو یہی تھا آگے دوسرے جواب کے تیور دیکھئےکہتا ہے:
وایضا مولی القوم منھم وعصبیۃ الولاء حاصلۃ لسالم فی قریش وھی الفائدۃ فی اشتراط النسب و صراحۃ النسب غیر محتاج الیہ اذ الفائدۃ فی النسب انما ھی العصبیۃ وھی حاصلۃ من الولاء ۔ یعنی دوسرا جواب یہ کہ کسی قوم کا آزاد شدہ غلام انہیں میں سے ہے اور اس رشتہ ولاء کے باعث قریش سالم کی حمیت کرتے اور یہی قومی حمیت شرط نسب کا فائدہ ہے صاف نسب کی حاجت نہیں کہ وہ تو اسی حمیت کی غرض سے ہے اور حمیت اپنے آزاد کئے ہوئے غلام کی بھی کرتے ہیں۔
ﷲانصاف ! دکھاناتو یہ ہے کہ شرط قرشیت نہیں مانتے ان کے شبہہ کاجواب دے رہا ہے اور جواب وہ دیا جس نے شرط قرشیت کو اکھاڑ پھینکا نسب کی کوئی حاجت نہیں قومی حمیت سے کام ہے جس طرح بھی ہو پھر بھی قرشیت کاکچھ ڈورا لگا رکھا کہ قریشی نہ ہوتو اس کا آزاد کردہ غلام تو ہو اگرچہ اس میں بھی کلا م ہے سالم رضی اﷲ تعالی عنہ کو ابوحذیفہ رضی اﷲ تعالی عنہ نے آزاد نہ فرمایا نہ وہ ان کے غلام تھے بلکہ ان کی بی بی شیبہ رضی اﷲ تعالی عنہا کے غلام تھے انہیں آزاد کیا اور وہ انصار یہ ہیں نہ کہ قریشیہ۔ہاں براہ موالات و دوستی مولی ابی حذیفہ کہلاتے ہیںابوحذیفہ نے ان کو متبنی کیا تھااور اپنی بھتیجی فاطمہ سے ان کی شادی کردی رضی اﷲ تعالی عنہم اجمعین۔فتح الباری میں ہے:
کان مولی لامرأۃ من الانصار فتبناہ ابوحذیفۃ لما تزوجھا فنسب الیہ ۔ یعنی سالم ایك انصار یہ بی بی کے غلام آزاد شدہ تھے جب ابوحذیفہ نے اس بی بی سے نکاح کیا ان کومتبنی بنایاجب سے ابوحذیفہ کی طرف منسوب ہونے لگے رضی اﷲ تعالی عنہم اجمعین
لہذاارشاد الساری میں مولی ابی حذیفہ کی یوں شرح کی:(مولی)امرأۃ ابی حذیفۃ (ابوحذیفہ کے مولی یعنی ان کی زوجہ کے مولی۔
حوالہ / References
جامع ترمذی ابواب المناقب امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی ۲/۲۰۷
مقدمہ ابن خلدون فصل فی اختلاف فی حکم ہذا المنصب وشروط موسسۃ الاعلمی للمطبوعات بیروت ۱/۱۹۴
فتح الباری شرح البخاری مناقب سالم مصطفی البابی مصر ۸/۱۰۲ و ۱۰۳
ارشاد الساری شرح البخاری مناقب سالم مولٰی ابی حذیفہ دارالکتاب العربی بیروت ۶/۱۳۸
مقدمہ ابن خلدون فصل فی اختلاف فی حکم ہذا المنصب وشروط موسسۃ الاعلمی للمطبوعات بیروت ۱/۱۹۴
فتح الباری شرح البخاری مناقب سالم مصطفی البابی مصر ۸/۱۰۲ و ۱۰۳
ارشاد الساری شرح البخاری مناقب سالم مولٰی ابی حذیفہ دارالکتاب العربی بیروت ۶/۱۳۸
غرض یہاں تك بھی دونوں پلے بچائے مگر نفی کا پلہ غالب کردیا کہ یہ حقیقت ہے اور یہاں قرشیت کا لگاؤ رہنا مجازاب اندیشہ کیا کہ لوگ خارجی معتزلی سمجھیں گے کہ صحابہ کا اجماع چھوڑ کر ان گمراہوں کی تقلیدکیاس کے علاج کو یہ مخالفت امام سنت کے سر رکھ دی اور کہا:
ومن القائلین بنفی اشتراط القرشیۃ القاضی ابوبکر الباقلانی لما ادرك عصبیۃ قریش من التلاشی فاسقط شرط القرشیۃ وان کان موافقالرأی الخوارج وبقی الجمہور علی القول باشتراطہا ولو کان عاجزا عن القیام بامور المسلمین ورد علیھم سقوط شرط الکفایۃ لانہ اذاذھبت الشوکۃ بذھاب العصبیۃ فقد ذھبت الکفایۃ واذا وقع الاخلال بشرط الکفایۃ واذاوقع الاخلال بشرط الکفایۃ تطرق ذلك ایضا الی العلم و الدین وسقط اعتبار شروط ھذاالمنصب وھو خلاف الاجماع (ملخصا) یعنی امام قاضی ابوبکر باقلانی نے قرشیت شرط نہ مانی کہ قریش کی حمیت فنا ہوگئی ولہذا اس کی شرط انہوں نے ساقط کردی اگرچہ یہ خارجیوں کے مذہب کے موافق ہے اور جمہور اب بھی شرط قرشیت مانتے رہے اگرچہ خلیفہ مسلمانوں کا کام بنانے سے عاجز ہو اور ان پر یہ اعتراض ہے کہ لیاقت کار کی شرط جاتی رہی کہ جب حمیت جانے سے شوکت گئی کام کیا بناسکے گا اور جب شرط کفایت چھوٹی یہی راہ شر ط علم وشرط دین کی طرف چلے گی اور خلافت کی شرطیں ساقط الاعتبار ہوجائیں گی اور یہ خلاف اجماع ہے(ملخصا)
اس کلام کے پیچ دیکھئے کیا کیا کروٹیں بدلی ہیںاول امام سنت پر وہ تہمت رکھی کہ قریش کی بے حمیتی دیکھ کر شرط قرشیت ساقط کر بیٹھےیہ اپنابچاؤ اور جانب نفی کی تائید تھی کہ ایك مجھی کو شرط قرشیت میں کلام نہیںاہلسنت کے اتنے بڑے امام اسے استعفا دے چکے ہیںپھر ساتھ ہی کہہ دیا کہ اس میں وہ خارجیوں کے مذہب پر چلےیہ جانب اثبات کی رعایت سے کہیپھر اسی پہلو کا لحاظ بڑھایا کہ جمہور اسی پر رہےپھر پہلوئے نفی کو کروٹ لی کہ ان پر بے اعتباری شرائط کا الزام قائم ہوتا ہےیہ جھوٹا الزام صراحۃ خود اس پر حق تھا کہ قرشیت شرط تھی اور اس نے ساقط کی تو یوں ہی علم ودین وکفایت بھی ساقط ہوسکیں گی اور راہ ہر شرط کی طرف چلے گی اور جاہل بے دین عاجز چمار کو خلیفہ کردینا جائز ہوجائے گااور یہ خلاف اجماع ہےاس کی پیش بندی کی کہ جمہور اہلسنت کے سر پر افترا جڑدیا کہ وہ صرف قرشیت چاہتے ہیں اگرچہ کام سے بالکل عاجز ہو حالانکہ کتب عقائد وفقہ وحدیث شاہد ہیں کہ قرشیت و قدرت دونوں شرط ہیں اور ان کے ساتھ اسلام وحریت وذکورت وبلوغ بھی نہ یہ کہ صرف قریشی ہونا
ومن القائلین بنفی اشتراط القرشیۃ القاضی ابوبکر الباقلانی لما ادرك عصبیۃ قریش من التلاشی فاسقط شرط القرشیۃ وان کان موافقالرأی الخوارج وبقی الجمہور علی القول باشتراطہا ولو کان عاجزا عن القیام بامور المسلمین ورد علیھم سقوط شرط الکفایۃ لانہ اذاذھبت الشوکۃ بذھاب العصبیۃ فقد ذھبت الکفایۃ واذا وقع الاخلال بشرط الکفایۃ واذاوقع الاخلال بشرط الکفایۃ تطرق ذلك ایضا الی العلم و الدین وسقط اعتبار شروط ھذاالمنصب وھو خلاف الاجماع (ملخصا) یعنی امام قاضی ابوبکر باقلانی نے قرشیت شرط نہ مانی کہ قریش کی حمیت فنا ہوگئی ولہذا اس کی شرط انہوں نے ساقط کردی اگرچہ یہ خارجیوں کے مذہب کے موافق ہے اور جمہور اب بھی شرط قرشیت مانتے رہے اگرچہ خلیفہ مسلمانوں کا کام بنانے سے عاجز ہو اور ان پر یہ اعتراض ہے کہ لیاقت کار کی شرط جاتی رہی کہ جب حمیت جانے سے شوکت گئی کام کیا بناسکے گا اور جب شرط کفایت چھوٹی یہی راہ شر ط علم وشرط دین کی طرف چلے گی اور خلافت کی شرطیں ساقط الاعتبار ہوجائیں گی اور یہ خلاف اجماع ہے(ملخصا)
اس کلام کے پیچ دیکھئے کیا کیا کروٹیں بدلی ہیںاول امام سنت پر وہ تہمت رکھی کہ قریش کی بے حمیتی دیکھ کر شرط قرشیت ساقط کر بیٹھےیہ اپنابچاؤ اور جانب نفی کی تائید تھی کہ ایك مجھی کو شرط قرشیت میں کلام نہیںاہلسنت کے اتنے بڑے امام اسے استعفا دے چکے ہیںپھر ساتھ ہی کہہ دیا کہ اس میں وہ خارجیوں کے مذہب پر چلےیہ جانب اثبات کی رعایت سے کہیپھر اسی پہلو کا لحاظ بڑھایا کہ جمہور اسی پر رہےپھر پہلوئے نفی کو کروٹ لی کہ ان پر بے اعتباری شرائط کا الزام قائم ہوتا ہےیہ جھوٹا الزام صراحۃ خود اس پر حق تھا کہ قرشیت شرط تھی اور اس نے ساقط کی تو یوں ہی علم ودین وکفایت بھی ساقط ہوسکیں گی اور راہ ہر شرط کی طرف چلے گی اور جاہل بے دین عاجز چمار کو خلیفہ کردینا جائز ہوجائے گااور یہ خلاف اجماع ہےاس کی پیش بندی کی کہ جمہور اہلسنت کے سر پر افترا جڑدیا کہ وہ صرف قرشیت چاہتے ہیں اگرچہ کام سے بالکل عاجز ہو حالانکہ کتب عقائد وفقہ وحدیث شاہد ہیں کہ قرشیت و قدرت دونوں شرط ہیں اور ان کے ساتھ اسلام وحریت وذکورت وبلوغ بھی نہ یہ کہ صرف قریشی ہونا
حوالہ / References
مقدمہ ابن خلدون فصل فی اختلاف فی حکم ہذاالمنصب وشروط موسسۃ الاعلمی للمطبوعات بیروت ۱/۱۹۴ و ۱۹۵
بس ہےیہ چھچلیاں کھیل کراخیر میں دل کی صاف کھول دی:
اذابحثناعن حکمۃ اشتراط القرشی ومقصد الشارع منہ لم یقتصر علی التبرك بوصلۃ النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کما ھو مشہور والمصلحۃ لم نجدھا الااعتبار العصبیۃ و ذلك ان قریشا کان لھم العزۃ بالکثرۃ والعصبیۃ والشرف فاشترط نسبھم لیکون ابلغ فی انتظام الملۃ کما وقع فی ایام الفتوحات واستمر بعدھا فی الدولتین الی ان تلاشت عصبیۃ العربفاذاثبت ان اشتراط القرشیۃ انما ھو للعصبیۃ والغلب والشارع لایخص الاحکام بجیل فطردنا العلۃ وھی العصبیۃ فاشترطنا فی القائم بامور المسلمین ان یکون من قوم اولی عصبیۃ قویۃ غالبۃ ثم ان الوجود شاہد بذلك فانہ لایقوم بامرامۃ او جیل الامن غلب علیھم وقل ان یکون الامر الشرعی مخالفا للامر الوجودی (ملخصا) یعنی ہم جو نظر کریں کہ شرط قرشیت کی حکمت اور اس سے شارع کا مقصود کیا ہے تو وہ علاقہ نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے تبرك پر موقوف نہیں جیسا کہ لوگوں میں مشہور ہورہا ہے کہ قرب نبوی کے سبب قریش کو یہ فضل ملا ہے اس میں آن اور قومی حمیت کے اعتبار کے سواکوئی مصلحت نہیںیہ اس لئے کہ قریش اپنی کثرت اور آن اور شرافت کے سبب غالب تھے لہذا ان کا نسب شرط کیا گیا کہ دین کا انتظام خوب ہو جیسا کہ زمانہ فتوحات میں ہوا اور اس کے بعد بنی امیہ و بنی عباس کی دولتوں میں رہا یہاں تك کہ عرب نرے بے حمیت ہوگئے اور جبکہ ثابت ہولیا کہ قرشیت کی شرط فقط ان کی حمیت و غلبہ کے سبب تھی اور شریعت احکام کو کسی قبیلہ کے ساتھ خاص نہیں کر تی تو ہم نے علت حمیت کو عام کر دیا کہ خلیفہ میں ضرور ہے کہ کسی قوی و غالب حمیت والی قوم میں کاہو پھر واقعات بھی اسی پر گواہ ہیں کہ قبیلے یا گروہ کا سردار وہی ہوتا ہے جوان پر غالب ہو اور کم ہوگا کہ شریعت نیچر کے خلاف حکم دے(ملخصا)
ظاہر کردیا کہ قرشیت شرط نہیں عصبیت شرط ہے قرشیت اس لئے شرط تھی کہ ان میں قومی حمیت جاہلیت تھی جب قریش بلکہ تمام اہل عرب بے حمیت ہوگئے تو اب ان کی خلافت کیسی بلکہ جس کی لاٹھی اس کی بھینسبالجملہ نہ فقط شرط قرشیت کی نفی کی بلکہ نفی قرشیت بلکہ نفی عربیت شرط کر دی کہ اصل شرط خلافت قومی حمیت ٹھہرائی اور صاف کہہ دیا کہ نہ صرف قریش بلکہ تمام عرب بے حمیت ہوگئے تو خلافت کے لئے شرط ہوا کہ خلیفہ نہ قریشی ہو نہ عربی بلکہ یہ شرط ہے کہ کسی خوانخوار قوم کا ہوتو یہ توضرار معتزلی سے بھی بہت اونچا اڑا اس نے تو یہی کہا تھا
اذابحثناعن حکمۃ اشتراط القرشی ومقصد الشارع منہ لم یقتصر علی التبرك بوصلۃ النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کما ھو مشہور والمصلحۃ لم نجدھا الااعتبار العصبیۃ و ذلك ان قریشا کان لھم العزۃ بالکثرۃ والعصبیۃ والشرف فاشترط نسبھم لیکون ابلغ فی انتظام الملۃ کما وقع فی ایام الفتوحات واستمر بعدھا فی الدولتین الی ان تلاشت عصبیۃ العربفاذاثبت ان اشتراط القرشیۃ انما ھو للعصبیۃ والغلب والشارع لایخص الاحکام بجیل فطردنا العلۃ وھی العصبیۃ فاشترطنا فی القائم بامور المسلمین ان یکون من قوم اولی عصبیۃ قویۃ غالبۃ ثم ان الوجود شاہد بذلك فانہ لایقوم بامرامۃ او جیل الامن غلب علیھم وقل ان یکون الامر الشرعی مخالفا للامر الوجودی (ملخصا) یعنی ہم جو نظر کریں کہ شرط قرشیت کی حکمت اور اس سے شارع کا مقصود کیا ہے تو وہ علاقہ نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے تبرك پر موقوف نہیں جیسا کہ لوگوں میں مشہور ہورہا ہے کہ قرب نبوی کے سبب قریش کو یہ فضل ملا ہے اس میں آن اور قومی حمیت کے اعتبار کے سواکوئی مصلحت نہیںیہ اس لئے کہ قریش اپنی کثرت اور آن اور شرافت کے سبب غالب تھے لہذا ان کا نسب شرط کیا گیا کہ دین کا انتظام خوب ہو جیسا کہ زمانہ فتوحات میں ہوا اور اس کے بعد بنی امیہ و بنی عباس کی دولتوں میں رہا یہاں تك کہ عرب نرے بے حمیت ہوگئے اور جبکہ ثابت ہولیا کہ قرشیت کی شرط فقط ان کی حمیت و غلبہ کے سبب تھی اور شریعت احکام کو کسی قبیلہ کے ساتھ خاص نہیں کر تی تو ہم نے علت حمیت کو عام کر دیا کہ خلیفہ میں ضرور ہے کہ کسی قوی و غالب حمیت والی قوم میں کاہو پھر واقعات بھی اسی پر گواہ ہیں کہ قبیلے یا گروہ کا سردار وہی ہوتا ہے جوان پر غالب ہو اور کم ہوگا کہ شریعت نیچر کے خلاف حکم دے(ملخصا)
ظاہر کردیا کہ قرشیت شرط نہیں عصبیت شرط ہے قرشیت اس لئے شرط تھی کہ ان میں قومی حمیت جاہلیت تھی جب قریش بلکہ تمام اہل عرب بے حمیت ہوگئے تو اب ان کی خلافت کیسی بلکہ جس کی لاٹھی اس کی بھینسبالجملہ نہ فقط شرط قرشیت کی نفی کی بلکہ نفی قرشیت بلکہ نفی عربیت شرط کر دی کہ اصل شرط خلافت قومی حمیت ٹھہرائی اور صاف کہہ دیا کہ نہ صرف قریش بلکہ تمام عرب بے حمیت ہوگئے تو خلافت کے لئے شرط ہوا کہ خلیفہ نہ قریشی ہو نہ عربی بلکہ یہ شرط ہے کہ کسی خوانخوار قوم کا ہوتو یہ توضرار معتزلی سے بھی بہت اونچا اڑا اس نے تو یہی کہا تھا
حوالہ / References
مقدمہ ابن خلدون فصل فی اختلاف فی حکم ہذا المنصب و شروط موسسۃ الاعلمی للمطبوعات بیروت ۱/۱۹۵ و ۱۹۶
کہ غیر قریشی اولی ہے اس نے یہ جمائی کہ قرشی بلکہ کسی عربی کی خلافت جائز ہی نہیں اور خود کہہ چکا ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے صحیح حدیث میں فرمایا کہ ہمیشہ خلافت قریش ہی کےلئے ہوگی جب تك دنیا میں دو آدمی بھی رہیں یہ ہے اس کا حدیث پر ایماناور یہ ہے اس کا اجماع صحابہ کرام پر ایقان۔اور سرے سے یہ اشد سا اشد ظلم قابل تماشا کہ وہ عصبیت جس سے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے بشدت منع فرمایا جسے نہ قریش بلکہ تمام عرب کے دل سے دھویا اسی کو اصل مقصود شارح اور خاص شرط خلافت ٹھہراتا ہے حالانکہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من قاتل تحت رأیۃ عمیۃ یغضب لعصبۃ او یدعو الی عصبۃ او ینصر عصبیۃ فقتل فقتلۃ جاہلیۃ ۔وفی اخری فلیس من امتی ۔رواہ مسلم عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ۔ جو کسی اندھے جھنڈے کے نیچے لڑے کہ عصبیت(یعنی قومی حمیت شیوہ جاہلیت)کے لئے غضب کرے یا عصبیت کی طر ف بلائے یا عصبیت کی مدد کرے اور ماراجائے تو ایسا ہی ہے جیسے کوئی جاہلیت وزمانہ کفروغفلت میں قتل کیاجائے اور دوسری روایت میں ہے وہ میری امت سے نہیں(اسے مسلم نے ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا۔ت)
نیز فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
لیس منا من دعا الی عصبیۃ ولیس منا من قاتل عصبیۃ ولیس منامن مات علی عصبیۃ ۔رواہ ابو داؤد عن جبیر بن مطعم رضی اﷲ تعالی عنہ۔ ہمارے گروہ سے نہیں جو عصبیت(قومی حمیت)کی طرف بلائے ہم میں سے نہیں جوعصبیت پر لڑےہم سے نہیں جو عصبیت پر مرے(اسے ابوداؤد نے جبیر بن مطعم رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا ہے۔ت)
تو شارع صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے مبغوض کو شارع کا مقصود بنانا کہ کیسا شارع علیہ الصلوۃ والسلام پر افترائے بیباك واجترائے ناپاك ہے والعیاذ باﷲ تعالی عجب ایك مدعی سنیت ہے کہ صحابہ وائمہ و خود ارشاد حضور سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سب کو پیٹھ کر ایك گمراہ مخالف حدیث وخارق اجماع ومحدث فی الدین کا دامن تھامے ولاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم۔
(۲۱)تحریر فرنگی محلی نے اتنا بھی نہ دیکھا کہ وہ صراحۃ اجماع صحابہ لکھ کر پھر امام باقلانی کو اس کا مخالف اورخارجی مذہب کا موافق لکھتا ہے اس نے کہا تو کہاایك مدعی سنیت کو تو امام سنت پر ایسے شنیع الزام رکھتے شرم چاہئے تھی۔
من قاتل تحت رأیۃ عمیۃ یغضب لعصبۃ او یدعو الی عصبۃ او ینصر عصبیۃ فقتل فقتلۃ جاہلیۃ ۔وفی اخری فلیس من امتی ۔رواہ مسلم عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ۔ جو کسی اندھے جھنڈے کے نیچے لڑے کہ عصبیت(یعنی قومی حمیت شیوہ جاہلیت)کے لئے غضب کرے یا عصبیت کی طر ف بلائے یا عصبیت کی مدد کرے اور ماراجائے تو ایسا ہی ہے جیسے کوئی جاہلیت وزمانہ کفروغفلت میں قتل کیاجائے اور دوسری روایت میں ہے وہ میری امت سے نہیں(اسے مسلم نے ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا۔ت)
نیز فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
لیس منا من دعا الی عصبیۃ ولیس منا من قاتل عصبیۃ ولیس منامن مات علی عصبیۃ ۔رواہ ابو داؤد عن جبیر بن مطعم رضی اﷲ تعالی عنہ۔ ہمارے گروہ سے نہیں جو عصبیت(قومی حمیت)کی طرف بلائے ہم میں سے نہیں جوعصبیت پر لڑےہم سے نہیں جو عصبیت پر مرے(اسے ابوداؤد نے جبیر بن مطعم رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا ہے۔ت)
تو شارع صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے مبغوض کو شارع کا مقصود بنانا کہ کیسا شارع علیہ الصلوۃ والسلام پر افترائے بیباك واجترائے ناپاك ہے والعیاذ باﷲ تعالی عجب ایك مدعی سنیت ہے کہ صحابہ وائمہ و خود ارشاد حضور سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سب کو پیٹھ کر ایك گمراہ مخالف حدیث وخارق اجماع ومحدث فی الدین کا دامن تھامے ولاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم۔
(۲۱)تحریر فرنگی محلی نے اتنا بھی نہ دیکھا کہ وہ صراحۃ اجماع صحابہ لکھ کر پھر امام باقلانی کو اس کا مخالف اورخارجی مذہب کا موافق لکھتا ہے اس نے کہا تو کہاایك مدعی سنیت کو تو امام سنت پر ایسے شنیع الزام رکھتے شرم چاہئے تھی۔
حوالہ / References
صحیح مسلم کتاب الامارۃ باب وجوب ملازمۃ المسلمین قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/۱۲۷
صحیح مسلم کتاب الامارۃ باب وجوب ملازمۃ المسلمین قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/۱۲۸
سن ابوداؤد کتاب الادب باب فی العصبیۃ آفتاب عالم پریس لاہور ۲/۳۴۲
صحیح مسلم کتاب الامارۃ باب وجوب ملازمۃ المسلمین قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/۱۲۸
سن ابوداؤد کتاب الادب باب فی العصبیۃ آفتاب عالم پریس لاہور ۲/۳۴۲
(۲۲)عــــہ عبارت نمبر ۳۶ آپ نے سنی معلوم ہے یہ امام ابوبکر ابن الطیب کون ہیں وہی امام اجل امام سنت قاضی ابو ابکر باقلانی ہیں شرح الشفاء لعلی قاری میں ہے:
(وھو مذھب القاض ابی بکر)ای ابن الطیب الباقلانی ۔ اور یہی قاضی ابوبکر یعنی ابن الطیب الباقلانی کا مذہب ہے۔ (ت)
نسیم الریاض میں ہے:
(وھو مذھب القاضی ابی بکر)الباقلانی ۔ اور قاضی ابوبکر الباقلانی کا یہی مذہب ہے(ت)
وفیات الاعیان میں ہے:
(القاضی ابوبکر محمد بن الطیب المعروف بالباقلانی المتکلم المشہور توفی سنۃ ثلث واربعمائۃ ببغداد ۔ القاضی ابوبکر محمد بن الطیب المعروف بہ باقلانی متکلم مشہور ہیں۴۰۳ھ میں بغداد میں فوت ہوئے(ت)
دیکھا کہ ان امام نے کیا ارشاد فرمایا:پھر سن لواور کان کھول کر سنوامام ابن المنیر مالکی پھر فتح الباری میں امام ابن حجر عسقلانی شافعی کا یہی کلام علامہ سید مرتضی زبیدی حنفی نے اتحاف السادۃ جلد دوم ص۲۳۲ میں یوں نقل فرمایا:
قال الحافظ ابن حجر فی فتح الباری قال ابن المنیر قال القاضی ابوبکر الباقلانی لم یعرج المسلمون علی ھذا القول بعد ثبوت الحدیث الائمۃ من قریش وعمل المسلمون بہ قرنا یعنی امام ابن حجر نے شرح صحیح بخاری میں فرمایا کہ امام ابن المنیر نے فرمایا کہ امام قاضی ابوبکر باقلانی نے فرمایاکہ معتزلی کے اس قول کی طرف مسلمانوں نے التفات نہ کیا بعد اس کے کہ حدیث کا ارشاد ثابت ہولیا کہ خلفاء قریش ہی سے ہوں۔
عــــہ:یہاں تك کلام قاطع رگ اوہام تھا اب آگے وہ آتا ہے جسے دیکھ کر کذابوں مفتریوں کی آنکھیں پھٹ کررہ جائیں ۱۲عبیدالرضا حشمت علی قادری غفرلہ۔
(وھو مذھب القاض ابی بکر)ای ابن الطیب الباقلانی ۔ اور یہی قاضی ابوبکر یعنی ابن الطیب الباقلانی کا مذہب ہے۔ (ت)
نسیم الریاض میں ہے:
(وھو مذھب القاضی ابی بکر)الباقلانی ۔ اور قاضی ابوبکر الباقلانی کا یہی مذہب ہے(ت)
وفیات الاعیان میں ہے:
(القاضی ابوبکر محمد بن الطیب المعروف بالباقلانی المتکلم المشہور توفی سنۃ ثلث واربعمائۃ ببغداد ۔ القاضی ابوبکر محمد بن الطیب المعروف بہ باقلانی متکلم مشہور ہیں۴۰۳ھ میں بغداد میں فوت ہوئے(ت)
دیکھا کہ ان امام نے کیا ارشاد فرمایا:پھر سن لواور کان کھول کر سنوامام ابن المنیر مالکی پھر فتح الباری میں امام ابن حجر عسقلانی شافعی کا یہی کلام علامہ سید مرتضی زبیدی حنفی نے اتحاف السادۃ جلد دوم ص۲۳۲ میں یوں نقل فرمایا:
قال الحافظ ابن حجر فی فتح الباری قال ابن المنیر قال القاضی ابوبکر الباقلانی لم یعرج المسلمون علی ھذا القول بعد ثبوت الحدیث الائمۃ من قریش وعمل المسلمون بہ قرنا یعنی امام ابن حجر نے شرح صحیح بخاری میں فرمایا کہ امام ابن المنیر نے فرمایا کہ امام قاضی ابوبکر باقلانی نے فرمایاکہ معتزلی کے اس قول کی طرف مسلمانوں نے التفات نہ کیا بعد اس کے کہ حدیث کا ارشاد ثابت ہولیا کہ خلفاء قریش ہی سے ہوں۔
عــــہ:یہاں تك کلام قاطع رگ اوہام تھا اب آگے وہ آتا ہے جسے دیکھ کر کذابوں مفتریوں کی آنکھیں پھٹ کررہ جائیں ۱۲عبیدالرضا حشمت علی قادری غفرلہ۔
حوالہ / References
شرح الشفاء لعلی لقاری علی ھامش نسیم الریاض فصل وامامایتعلق بالجوارح دارالفکر بیروت ۴/۱۳۷
شرح الشفاء لعلی لقاری علی ھامش نسیم الریاض فصل وامامایتعلق بالجوارح دارالفکر بیروت ۴/۱۳۷
وفیات الاعیان ترجمہ۶۰۸ محمد بن الطیب الباقلانی دارالثقافت بیروت ۴/۲۶۹،۲۷۰
شرح الشفاء لعلی لقاری علی ھامش نسیم الریاض فصل وامامایتعلق بالجوارح دارالفکر بیروت ۴/۱۳۷
وفیات الاعیان ترجمہ۶۰۸ محمد بن الطیب الباقلانی دارالثقافت بیروت ۴/۲۶۹،۲۷۰
بعد قرن وانعقد الاجماع علی اعتبار ذلك قبل ان یقع الاختلاف ۔ اور اسی پر مسلمانوں کا ہر طبقہ میں عمل رہا اور ان اختلاف کرنے والوں کے وجود سے پہلے اس پر اجماع ہولیا۔
الحمد ﷲ یہ ارشاد ہے امام ابوبکر باقلانی کا جس نے اس مورخ کا سفید جھوٹ اور سیاہ افتراء ثابت کیااور صحابہ وائمہ اہلسنت کو چھوڑ کر اس کا دامن تھامنے والوں کا منہ کالا کیاوﷲ الحمد۔
(۲۳)الحمدﷲ یہاں سے فرنگی محلی تحریر کی امام قاضی عیاض پر وہ طعنہ زنی بھی باطل ہوگئی کہ ذکر اجماع کی ابتدا ان سے ہوئی امام قاضی عیاض چھٹی صدی میں تھے اور امام اہلسنت قاضی ابوبکر باقلانی چوتھی صدی میںوہ اجماع نقل فرمارہے ہیں وﷲ الحمد۔
(۲۴)اس کے بعد تحریر فرنگی محلی میں ہے:حنفیہ کی کتب میں ایسی فضول بات نہیں جیسی شافعیہ کی کتب میں ہے کہ الائمۃ سے ہر قسم کا امام مراد ہے کہ امام شافعی کے امام فی المذہب ہونے کی تاکید ہو کیونکہ وہ قریشی تھے یہ شافعیہ نے کہیں نہ کہا کہ ہر قسم کا امام مراد ہےنہ کوئی ادنی طالب علم کہہ سکتاہے کہ نماز کی امامت بھی قرشی سے خاص علماء سے دوسرا امام نہیں ہوسکتا وہ اس سے امام شافعی رضی اﷲ تعالی عنہ کے لئے ایك فضیلت ثابت کرتے ہیں کہ دوسرا عالم غیر قریشی جب دین وعلم میں امام شافعی کے برابر ہوتو اس پر بوجہ قرشیت ان کو ترجیح ہے دیکھو فتح الباری کہ:
الاستدلال علی تقدیم الشافعی علی من ساواہ فی العلم والدین من غیر قریش لان الشافعی قرشی ۔ امام شافعی کے برابر علم اور دین والے غیر قرشی پر امام شافعی کے مقدم ہونے پر یہ استدلال ہے کیونکہ امام شافعی قرشی تھے(ت)
(۲۵)بالفرض ایسا ہوتا تو اس فضول بات کا یہاں ذکر اس سے بدتر فضولجس سے مطلب ہوتو صرف اتنا کہ جاہل عوام سمجھیں کہ اصل مسئلہ خلافت قریش ہی بعض شافعیہ کی فضول ہے کتب حنفیہ اس سے پاك ہیں۔
(۲۶)پھر کہا پھر بھی محققین شافعیہ اس کو شرط اختیاری کہنے پر مجبور ہوئےیہ پھر بھی اسی قصہ تلبیس کی تائید ہے کہ نفس خلافت قریش کو شافعیہ کی فضول کہا کہ اسی کو اختیار ی کہا ہے پھر اس میں شافعیہ کی تخصیص ایك تلبیس اور ان میں بھی محققین کی قید دوسراکیداور لفظ اختیاری سے جہال کو دھوکا دیناکیدعظیم ہےاختیاری کے معنے سمجھے جائینگے
الحمد ﷲ یہ ارشاد ہے امام ابوبکر باقلانی کا جس نے اس مورخ کا سفید جھوٹ اور سیاہ افتراء ثابت کیااور صحابہ وائمہ اہلسنت کو چھوڑ کر اس کا دامن تھامنے والوں کا منہ کالا کیاوﷲ الحمد۔
(۲۳)الحمدﷲ یہاں سے فرنگی محلی تحریر کی امام قاضی عیاض پر وہ طعنہ زنی بھی باطل ہوگئی کہ ذکر اجماع کی ابتدا ان سے ہوئی امام قاضی عیاض چھٹی صدی میں تھے اور امام اہلسنت قاضی ابوبکر باقلانی چوتھی صدی میںوہ اجماع نقل فرمارہے ہیں وﷲ الحمد۔
(۲۴)اس کے بعد تحریر فرنگی محلی میں ہے:حنفیہ کی کتب میں ایسی فضول بات نہیں جیسی شافعیہ کی کتب میں ہے کہ الائمۃ سے ہر قسم کا امام مراد ہے کہ امام شافعی کے امام فی المذہب ہونے کی تاکید ہو کیونکہ وہ قریشی تھے یہ شافعیہ نے کہیں نہ کہا کہ ہر قسم کا امام مراد ہےنہ کوئی ادنی طالب علم کہہ سکتاہے کہ نماز کی امامت بھی قرشی سے خاص علماء سے دوسرا امام نہیں ہوسکتا وہ اس سے امام شافعی رضی اﷲ تعالی عنہ کے لئے ایك فضیلت ثابت کرتے ہیں کہ دوسرا عالم غیر قریشی جب دین وعلم میں امام شافعی کے برابر ہوتو اس پر بوجہ قرشیت ان کو ترجیح ہے دیکھو فتح الباری کہ:
الاستدلال علی تقدیم الشافعی علی من ساواہ فی العلم والدین من غیر قریش لان الشافعی قرشی ۔ امام شافعی کے برابر علم اور دین والے غیر قرشی پر امام شافعی کے مقدم ہونے پر یہ استدلال ہے کیونکہ امام شافعی قرشی تھے(ت)
(۲۵)بالفرض ایسا ہوتا تو اس فضول بات کا یہاں ذکر اس سے بدتر فضولجس سے مطلب ہوتو صرف اتنا کہ جاہل عوام سمجھیں کہ اصل مسئلہ خلافت قریش ہی بعض شافعیہ کی فضول ہے کتب حنفیہ اس سے پاك ہیں۔
(۲۶)پھر کہا پھر بھی محققین شافعیہ اس کو شرط اختیاری کہنے پر مجبور ہوئےیہ پھر بھی اسی قصہ تلبیس کی تائید ہے کہ نفس خلافت قریش کو شافعیہ کی فضول کہا کہ اسی کو اختیار ی کہا ہے پھر اس میں شافعیہ کی تخصیص ایك تلبیس اور ان میں بھی محققین کی قید دوسراکیداور لفظ اختیاری سے جہال کو دھوکا دیناکیدعظیم ہےاختیاری کے معنے سمجھے جائینگے
حوالہ / References
اتحاف السادۃ المتقین الاصل التاسع ان شرائط الامامۃ الخ دارالفکر بیروت ۲/۲۳۲
فتح الباری باب الامر اء من قریش مصطفی البابی مصر ۱۶/۲۳۷
فتح الباری باب الامر اء من قریش مصطفی البابی مصر ۱۶/۲۳۷
کہ اپنی خوشی پر ہے چاہے خلیفہ میں قرشیت کا اعتبار کریں یانہیںیہ شافعیہ خواہ ان کے محققین جس پر کہو افترائے کاذب ہے اور خود عقل وفہم سے بیگانہ و مجانبشرط وہ جس کے فوت سے مشروط فوت ہو اور اختیاری وہ جس پر کچھ توقف نہ ہواصل بات جس کی صورت بگاڑ کر یوں دھوکا دینا چاہا یہ ہے کہ ملك پر تسلط دو طرح ہوتا ہے ایك یہ کہ اہل حل وعقد کسی جامع شرائط کو امام پسند کرکے اس کے ہاتھ پر بیعت کریں جیسے صدیق رضی اﷲ تعالی عنہتسلط بلامنازعت ہوجانا اس کی شرط نہیںنہ منازع سے قتال و جدال اس کے منافیجیسے عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ تعالی عنہما۔
دوم یہ کہ جس کی امامت اس طرح ہوچکی ہو وہ دوسرے کے لئے وصیت کرے جیسے فاروق اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ کے لئے۔ خلافت شرعیہ انہیں دو وجہ پر ہوتی ہے اور ہر ایك پسند و اختیار سے ہے پہلی میں اختیار و انتخاب اہل حل وعقد ہے اور دوسری میں اختیار وار تضائے خلیفہ سابق۔ان دونوں میں قرشیت وغیرہا شرائط یقینا ہیںنہ اہل حل وعقد کو جائز کہ کسی غیر قرشی کو خلیفہ کریں نہ خلیفہ کو حلال کہ غیر قرشی کو ولی عہد کرےتوخلافت شرعیہ اختیاری ہے کہ اختیار وپسند سے ناشئی ہوتی ہے اور اس میں قرشیت وغیرہا شرائط ضروریہ لازم وضروری ہیں نہ کہ اختیاری اگرترك کی جائیں گی خلافت شرعیہ نہ ہوگی بلکہ دوم تغلب کے حکم میں رہے گیوہ تسلط کی دوسری صورت ہے کہ کوئی شخص اپنی شوکت و سطوت سے ملك دبابیٹھے بادشاہ بن جائے اگرچہ لوگ اس کے قہر و غلبہ کے سبب اس کے ہاتھ پر بیعت بھی کریںیہ صورت بے اختیاری و مجبوری ہے اس میں مسلمان شرائط کا لحاظ کیا کرسکتے ہیں کہ نہ ان کے اختیار سے ہے نہ اسے معزول کرنا ان کے قابو میںیہاں اقامت جمعہ واعیاد وتزویج صغار وولایت مال وتولیت قضاء وغیرذلك امور مفوضہ خلیفہ میں اس کے ہاتھ کے سب کام نافذ ہوں گےامر جائز شرعی میں اس کی اطاعت کرنی ہوگی اگرچہ قرشی نہ ہو بلکہ آزاد بھی نہ ہو حبشی غلام ہو کہ اثارت فتنہ جائزنہیںیہ نہ صرف شافعیہ بلکہ سب اہل مذاہب مانتے ہیں اور اسے انتفائے شرط قرشیت سے علاقہ نہیںجبرا وجوب اطاعت اوراوراس کا خلیفہ شرعی ہوجانا او راطاعت ہوگی اور خلافت ہرگز نہ ہوگیبلکہ متغلب ہوگاان کے بعض عوام پارٹی کے خود ساختہ امام نے یہی دھوکہ دیا ہے عبارتیں وہ نقل کرتا ہے جن میں متغلب کی اطاعت کا ذکر ہے اوران میں اپنی طرف سے پچر لگالیتا ہے کہ اسی کو خلیفہ ماننا چاہئےیہ محض باطل ہے اور اسی میں بحث ہے نہ کہ اطاعت میںخود انہیں محققین شافعیہ نے تصریح کی ہے کہ وہ متغلب ہوگا نہ کہ خلیفہ۔فتح الباری سے گزرا کہ قریش کے سواجو کوئی ہوگا متغلب ہوگا۔اسی میں ہے:
ھذاکلہ انما ھو فیما یکون بطریق الاختیار واما لو تغلب عبد بطریق الشوکۃ یعنی یہ سب اس حالت میں ہے کہ کسی کو بطور اختیار امامت دی جائے اور کوئی غلام اپنی شوکت سے
دوم یہ کہ جس کی امامت اس طرح ہوچکی ہو وہ دوسرے کے لئے وصیت کرے جیسے فاروق اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ کے لئے۔ خلافت شرعیہ انہیں دو وجہ پر ہوتی ہے اور ہر ایك پسند و اختیار سے ہے پہلی میں اختیار و انتخاب اہل حل وعقد ہے اور دوسری میں اختیار وار تضائے خلیفہ سابق۔ان دونوں میں قرشیت وغیرہا شرائط یقینا ہیںنہ اہل حل وعقد کو جائز کہ کسی غیر قرشی کو خلیفہ کریں نہ خلیفہ کو حلال کہ غیر قرشی کو ولی عہد کرےتوخلافت شرعیہ اختیاری ہے کہ اختیار وپسند سے ناشئی ہوتی ہے اور اس میں قرشیت وغیرہا شرائط ضروریہ لازم وضروری ہیں نہ کہ اختیاری اگرترك کی جائیں گی خلافت شرعیہ نہ ہوگی بلکہ دوم تغلب کے حکم میں رہے گیوہ تسلط کی دوسری صورت ہے کہ کوئی شخص اپنی شوکت و سطوت سے ملك دبابیٹھے بادشاہ بن جائے اگرچہ لوگ اس کے قہر و غلبہ کے سبب اس کے ہاتھ پر بیعت بھی کریںیہ صورت بے اختیاری و مجبوری ہے اس میں مسلمان شرائط کا لحاظ کیا کرسکتے ہیں کہ نہ ان کے اختیار سے ہے نہ اسے معزول کرنا ان کے قابو میںیہاں اقامت جمعہ واعیاد وتزویج صغار وولایت مال وتولیت قضاء وغیرذلك امور مفوضہ خلیفہ میں اس کے ہاتھ کے سب کام نافذ ہوں گےامر جائز شرعی میں اس کی اطاعت کرنی ہوگی اگرچہ قرشی نہ ہو بلکہ آزاد بھی نہ ہو حبشی غلام ہو کہ اثارت فتنہ جائزنہیںیہ نہ صرف شافعیہ بلکہ سب اہل مذاہب مانتے ہیں اور اسے انتفائے شرط قرشیت سے علاقہ نہیںجبرا وجوب اطاعت اوراوراس کا خلیفہ شرعی ہوجانا او راطاعت ہوگی اور خلافت ہرگز نہ ہوگیبلکہ متغلب ہوگاان کے بعض عوام پارٹی کے خود ساختہ امام نے یہی دھوکہ دیا ہے عبارتیں وہ نقل کرتا ہے جن میں متغلب کی اطاعت کا ذکر ہے اوران میں اپنی طرف سے پچر لگالیتا ہے کہ اسی کو خلیفہ ماننا چاہئےیہ محض باطل ہے اور اسی میں بحث ہے نہ کہ اطاعت میںخود انہیں محققین شافعیہ نے تصریح کی ہے کہ وہ متغلب ہوگا نہ کہ خلیفہ۔فتح الباری سے گزرا کہ قریش کے سواجو کوئی ہوگا متغلب ہوگا۔اسی میں ہے:
ھذاکلہ انما ھو فیما یکون بطریق الاختیار واما لو تغلب عبد بطریق الشوکۃ یعنی یہ سب اس حالت میں ہے کہ کسی کو بطور اختیار امامت دی جائے اور کوئی غلام اپنی شوکت سے
فان طاعتہ تجب اخماد اللفتنۃ مالم یأمر بمعصیۃ زبردستی ملك دبابیٹھے تو فتنہ بجھانے کےلئے اطاعت اس کی بھی واجب ہوگی جب تك گناہ کا حکم نہ دے۔
دیکھو امامت کو اختیار ی کہا کہ اختیار و پسند سے ہونہ کہ شرط قرشیت کو اختیار ی کہ چاہے رکھو یا نہ رکھو غیر قرشی کو متغلب ہی کہا۔شرح مقاصد میں ہے:
وبالجملۃ مبنی ماذکر فی باب الامامۃ علی الاختیار والاقتدارواماعند العجز والاضطرار واستیلاء الظلمۃ والاشرار فقد صارت الریاسۃ الدنیویہ تغلبیۃ وبنیت علیھا الاحکام الدینیۃ المنوطۃ بالامام ضرورۃ ولم یعبأ بعدم العلم والعدالۃ وسائر الشرائط و الضرورات تبیح المحظورات والی اﷲ المشتکی فی النائبات ۔ یعنی وہ جوباب امامت میں مذکور ہوا اس کی بناء اختیار وقدرت پر ہے اور جب حالت مجبوری وناچاری ہو ظالم شریر لوگ تسلط پائیں تو اس وقت یہ دنیوی ریاست تغلب پر رہ جائے گی اور وہ دینی احکام کہ خلیفہ سے متعلق ہیں بمجبوری اس مبنی ریاست پر بناکئے جائیں گے اور علم وعدالت وغیرہ شرائط نہ ہونے کا لحاظ نہ ہوگامجبوریاں ناجائز کو رواکرلیتی ہیں اور ان مصیبتوں میں اﷲ ہی سے فریاد ہے۔آنکھ کھول کر دیکھو کہ وہ محققین کیافرمارہے ہیں اور کیونکر اسے تغلب اور دنیوی ریاست بتارہے ہیں مگر دھوکادینے والے فریب سے باز نہیں آتے۔
تنبیہ:یہاں کام جاہلوں سے پڑا ہے جنہیں علم کا ادعا ہے۔کوئی جاہل اس عبارت شامی سے دھوکا نہ دے:
یصیرامامابالمبایعۃ وباستخلاف امام قبلہ وبالتغلب والقھر ۔ بیعت اور پہلے امام کے خلیفہ بنادینے اور غلبہ اور جبر سے امام بن جاتا ہے(ت)
آگے مسایرہ سے ہے:
لوتعذروجود العلم والعدالۃ فیمن تصدی للامامۃ وکان فی صرفہ امامت پر تسلط جمانے والے میں اگر علم اور عدالت کا وجود متعذر ہوجائے اور اس کو امامت سے ہٹانا ناقابل برداشت
دیکھو امامت کو اختیار ی کہا کہ اختیار و پسند سے ہونہ کہ شرط قرشیت کو اختیار ی کہ چاہے رکھو یا نہ رکھو غیر قرشی کو متغلب ہی کہا۔شرح مقاصد میں ہے:
وبالجملۃ مبنی ماذکر فی باب الامامۃ علی الاختیار والاقتدارواماعند العجز والاضطرار واستیلاء الظلمۃ والاشرار فقد صارت الریاسۃ الدنیویہ تغلبیۃ وبنیت علیھا الاحکام الدینیۃ المنوطۃ بالامام ضرورۃ ولم یعبأ بعدم العلم والعدالۃ وسائر الشرائط و الضرورات تبیح المحظورات والی اﷲ المشتکی فی النائبات ۔ یعنی وہ جوباب امامت میں مذکور ہوا اس کی بناء اختیار وقدرت پر ہے اور جب حالت مجبوری وناچاری ہو ظالم شریر لوگ تسلط پائیں تو اس وقت یہ دنیوی ریاست تغلب پر رہ جائے گی اور وہ دینی احکام کہ خلیفہ سے متعلق ہیں بمجبوری اس مبنی ریاست پر بناکئے جائیں گے اور علم وعدالت وغیرہ شرائط نہ ہونے کا لحاظ نہ ہوگامجبوریاں ناجائز کو رواکرلیتی ہیں اور ان مصیبتوں میں اﷲ ہی سے فریاد ہے۔آنکھ کھول کر دیکھو کہ وہ محققین کیافرمارہے ہیں اور کیونکر اسے تغلب اور دنیوی ریاست بتارہے ہیں مگر دھوکادینے والے فریب سے باز نہیں آتے۔
تنبیہ:یہاں کام جاہلوں سے پڑا ہے جنہیں علم کا ادعا ہے۔کوئی جاہل اس عبارت شامی سے دھوکا نہ دے:
یصیرامامابالمبایعۃ وباستخلاف امام قبلہ وبالتغلب والقھر ۔ بیعت اور پہلے امام کے خلیفہ بنادینے اور غلبہ اور جبر سے امام بن جاتا ہے(ت)
آگے مسایرہ سے ہے:
لوتعذروجود العلم والعدالۃ فیمن تصدی للامامۃ وکان فی صرفہ امامت پر تسلط جمانے والے میں اگر علم اور عدالت کا وجود متعذر ہوجائے اور اس کو امامت سے ہٹانا ناقابل برداشت
حوالہ / References
فتح الباری باب السمع والطاعۃ للامام الخ مصطفی البابی مصر ۱۶/۲۴۰
شرح المقاصد الفصل الرابع المبحث الثانی دارالمعارف النعمانیہ لاہور ۲/۷۸۔۲۷۷
ردالمحتار باب البغاۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۳/۳۱۰
شرح المقاصد الفصل الرابع المبحث الثانی دارالمعارف النعمانیہ لاہور ۲/۷۸۔۲۷۷
ردالمحتار باب البغاۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۳/۳۱۰
عنھا اثارۃ فتنۃ لاتطاق حکمنا بانعقاد امامتہ کی لاتکون کمن یبنی قصراویھدم مصرا ۔ فتنہ کھڑاکرنا قرار پائے تو ہم اس کی امامت کے انعقاد کا حکم دیں کے تاکہ وہ صورت نہ بنے جو شخص ایك مکان بنائے اور پورے شہر مسمار کرے(ت)
کہ دیکھو جوزبردستی بادشاہ بن جائے اور اس کے جداکرنے میں ناقابل برداشت فتنہ ہواسے امام مانااس کی امامت کو منعقد جانااور یہی خلافت شرعیہ ہےحاشایہ محض دھوکا ہے صاف تصریح کہ یہ تغلب ہے جوخلافت شرعیہ کی صریح ضد ہے نیز بلافصل اس عبارت کے بعد ہے:
واذا تغلب آخر علی المتغلب وقعد مکانہ العزل الاول وصار الثانی اماما۔ اس متغلب پر دوسرا تغلب کرکے اس کی جگہ بیٹھ جائے تو پہلا معزول اور اب یہ دوسر ا متغلب امام بن جائے گا۔
یہیں اس کے ایك سطر بعد ہے:
لکن الثالث فی الامام المتغلب ۔ لیکن تیسرا غلبہ پانے والے امام میں۔(ت)
نیز باآنکہ خود سلطنت ترك میں تھے صاف لکھ دیا کہ:
قد یکون بالتغلب وھو الواقع فی سلاطین الزمان نصرھم الرحمن ۔ کبھی تغلب سے امام ہوجاتا ہے جیسے موجودہ دور کے سلاطین حضراتاﷲ تعالی ان کی مدد فرمائے(ت)
دیکھوباآنکہ سلاطین ترك کے ہاتھ پر بیعت کی جاتی تھیعدم بعض شرائط مثل قرشیت وغیرہا کے باعث تصریح فرمادی کہ باوصف بیعت ہیں متغلبہرحمن عزوجل انہیں نصرت دے۔میں کہتاہوں آمین اللہم آمین۔بلکہ یہاں لفظ امامت کا اطلاق عرف فقہا میں وسیع تر ہے(دیکھو بدائع امام ملك العلماء ابوبکر مسعود کاشانی قدس سرہ بیان مواد عت وصلح)لاجرم یہاں امامت محض بمعنی سلطنت ہے خواہ صحیحہ جائزہ عادلہ ہو یا ظالمہ غاصبہ باطلہ نہ کہ بمعنے خلافت شرعیہاگرچہ اپنے محل میں وہ بھی مراد ہوتی ہے جیسے حدیث الائمۃ من قریش میںاس کی نظیر لفظ امیر ہے کہ ہرگز خلیفہ کے ساتھ خاص نہیںوالی شہر وسردار حجاج کو
کہ دیکھو جوزبردستی بادشاہ بن جائے اور اس کے جداکرنے میں ناقابل برداشت فتنہ ہواسے امام مانااس کی امامت کو منعقد جانااور یہی خلافت شرعیہ ہےحاشایہ محض دھوکا ہے صاف تصریح کہ یہ تغلب ہے جوخلافت شرعیہ کی صریح ضد ہے نیز بلافصل اس عبارت کے بعد ہے:
واذا تغلب آخر علی المتغلب وقعد مکانہ العزل الاول وصار الثانی اماما۔ اس متغلب پر دوسرا تغلب کرکے اس کی جگہ بیٹھ جائے تو پہلا معزول اور اب یہ دوسر ا متغلب امام بن جائے گا۔
یہیں اس کے ایك سطر بعد ہے:
لکن الثالث فی الامام المتغلب ۔ لیکن تیسرا غلبہ پانے والے امام میں۔(ت)
نیز باآنکہ خود سلطنت ترك میں تھے صاف لکھ دیا کہ:
قد یکون بالتغلب وھو الواقع فی سلاطین الزمان نصرھم الرحمن ۔ کبھی تغلب سے امام ہوجاتا ہے جیسے موجودہ دور کے سلاطین حضراتاﷲ تعالی ان کی مدد فرمائے(ت)
دیکھوباآنکہ سلاطین ترك کے ہاتھ پر بیعت کی جاتی تھیعدم بعض شرائط مثل قرشیت وغیرہا کے باعث تصریح فرمادی کہ باوصف بیعت ہیں متغلبہرحمن عزوجل انہیں نصرت دے۔میں کہتاہوں آمین اللہم آمین۔بلکہ یہاں لفظ امامت کا اطلاق عرف فقہا میں وسیع تر ہے(دیکھو بدائع امام ملك العلماء ابوبکر مسعود کاشانی قدس سرہ بیان مواد عت وصلح)لاجرم یہاں امامت محض بمعنی سلطنت ہے خواہ صحیحہ جائزہ عادلہ ہو یا ظالمہ غاصبہ باطلہ نہ کہ بمعنے خلافت شرعیہاگرچہ اپنے محل میں وہ بھی مراد ہوتی ہے جیسے حدیث الائمۃ من قریش میںاس کی نظیر لفظ امیر ہے کہ ہرگز خلیفہ کے ساتھ خاص نہیںوالی شہر وسردار حجاج کو
حوالہ / References
ردالمحتار باب البغاۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۳/۳۱۰
ردالمحتار باب البغاۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۳/۳۱۰
ردالمحتار باب البغاۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۳/۳۱۰
ردالمحتار باب البغاۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۳/۳۱۰
ردالمحتار باب البغاۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۳/۳۱۰
ردالمحتار باب البغاۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۳/۳۱۰
ردالمحتار باب البغاۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۳/۳۱۰
بھی کہتے ہیں مگر"الائمۃ من قریش"میں قطعا خلفاء ہی مراد۔
تنبیہ: امامت متغلب صحت خلافت بالائے طاق۔حکم اتباع بھی نہیں لاتی جہاں تك اثارت فتنہ یا ضرر تأذی نہ ہو جس کا بیان مقدمہ میں گزراحیف ان پر جو مسلمان کہلاکر امر دینی میں مشرك کے پس رو بنتے اور اسے اپنا رہنما بتاتے ہیں۔
وقد امروا ان یکفروا بہ ویرید الشیطن ان یضلہم ضللابـعیدا ﴿۶۰﴾ " ۔ اور حکم یہ تھا کہ اصلا نہ مانیں اورابلیس یہ چاہتا ہے کہ انہیں دور بہکادے۔(ت)
کیا خوف نہیں کرتے کہ روز قیامت انہیں کے گروہ میں محشور ہوں جن کو قرآن عظیم نے فرمایا:وقاتلو اائمۃ الکفر(کفر کے اماموں سے لڑو)اور فرمایا:"" وجعلنہم ائمۃ یدعون الی النار (ہم نے انہیں ایسے امام کیا کہ دوزخ کی طرف بلاتے ہیں)وقال اﷲ تعالی" یوم ندعوا کل اناسۭ باممہم " (اﷲ تعالی نے فرمایا:جس دن ہم ہرگروہ کو اس کے امام کے ساتھ بلائیں گے)یعنی جس کوانہوں نے امر دین میں رہنما بنایا اور اس کے پس رو ہوئے اگرچہ مشرك ہوکہ آگے تفصیل میں دونوں ہی قسموں کا بیان فرمایا ہے"" فمن اوتی کتبہ بیمینہ (جن کا نامہ اعمال دہنے ہاتھ میں دیا گیا)اور" من کان فی ہذہ اعمی " (یہاں راہ حق سے اندھے تھے)نسأل اﷲ العفو والعافیۃ۔
(۲۷)پھر تحریر فرنگی محلی میں ہے:"اور حنفیہ کی کتب سے تواستحبابی ہونا ارباب عقل پر پوشیدہ نہیں"۔یہ حنفیہ اور ان کی کتب پر سخت افترائے فظیع ہےاس قدر عبارات کہ یہاں گزریں انہیں میں عقائد امام مفتی الجن والانس نجم الملۃ والدین عمر نسفیاتحاف علامہ سید مرتضی زبیدیمسایرہ محقق علی الاطلاق کمال الملۃ والدینتعالیق علامہ قاسم بن قطوبغاشرح مواقف علامہ سید شریفمنح الروض علی قاریطریقہ محمدیہ امام برکویحدیقہ ندیہ سیدی عارف باﷲ عبدالغنی نابلسیمرقاۃ شرح مشکوۃ قاریعمدۃ القاری شرح صحیح بخاری امام عینیشرح مشکوۃ سید جرجانیاشعۃ اللمعات شیخ محقق عبدالحق محدث دہلویفتاوی سراجیہعلامہ سراج الدیناشباہ والنظائر محقق زین بن نجیمفتح اﷲ المعین سید ازہریغمزالعیون علامہ سید حمویدرمختار مدقق علائی حصکفیحاشیہ علامہ سید احمد طحطاویردالمحتار علامہ سید ابن عابدین شامی۔
تنبیہ: امامت متغلب صحت خلافت بالائے طاق۔حکم اتباع بھی نہیں لاتی جہاں تك اثارت فتنہ یا ضرر تأذی نہ ہو جس کا بیان مقدمہ میں گزراحیف ان پر جو مسلمان کہلاکر امر دینی میں مشرك کے پس رو بنتے اور اسے اپنا رہنما بتاتے ہیں۔
وقد امروا ان یکفروا بہ ویرید الشیطن ان یضلہم ضللابـعیدا ﴿۶۰﴾ " ۔ اور حکم یہ تھا کہ اصلا نہ مانیں اورابلیس یہ چاہتا ہے کہ انہیں دور بہکادے۔(ت)
کیا خوف نہیں کرتے کہ روز قیامت انہیں کے گروہ میں محشور ہوں جن کو قرآن عظیم نے فرمایا:وقاتلو اائمۃ الکفر(کفر کے اماموں سے لڑو)اور فرمایا:"" وجعلنہم ائمۃ یدعون الی النار (ہم نے انہیں ایسے امام کیا کہ دوزخ کی طرف بلاتے ہیں)وقال اﷲ تعالی" یوم ندعوا کل اناسۭ باممہم " (اﷲ تعالی نے فرمایا:جس دن ہم ہرگروہ کو اس کے امام کے ساتھ بلائیں گے)یعنی جس کوانہوں نے امر دین میں رہنما بنایا اور اس کے پس رو ہوئے اگرچہ مشرك ہوکہ آگے تفصیل میں دونوں ہی قسموں کا بیان فرمایا ہے"" فمن اوتی کتبہ بیمینہ (جن کا نامہ اعمال دہنے ہاتھ میں دیا گیا)اور" من کان فی ہذہ اعمی " (یہاں راہ حق سے اندھے تھے)نسأل اﷲ العفو والعافیۃ۔
(۲۷)پھر تحریر فرنگی محلی میں ہے:"اور حنفیہ کی کتب سے تواستحبابی ہونا ارباب عقل پر پوشیدہ نہیں"۔یہ حنفیہ اور ان کی کتب پر سخت افترائے فظیع ہےاس قدر عبارات کہ یہاں گزریں انہیں میں عقائد امام مفتی الجن والانس نجم الملۃ والدین عمر نسفیاتحاف علامہ سید مرتضی زبیدیمسایرہ محقق علی الاطلاق کمال الملۃ والدینتعالیق علامہ قاسم بن قطوبغاشرح مواقف علامہ سید شریفمنح الروض علی قاریطریقہ محمدیہ امام برکویحدیقہ ندیہ سیدی عارف باﷲ عبدالغنی نابلسیمرقاۃ شرح مشکوۃ قاریعمدۃ القاری شرح صحیح بخاری امام عینیشرح مشکوۃ سید جرجانیاشعۃ اللمعات شیخ محقق عبدالحق محدث دہلویفتاوی سراجیہعلامہ سراج الدیناشباہ والنظائر محقق زین بن نجیمفتح اﷲ المعین سید ازہریغمزالعیون علامہ سید حمویدرمختار مدقق علائی حصکفیحاشیہ علامہ سید احمد طحطاویردالمحتار علامہ سید ابن عابدین شامی۔
تمہید امام ابولشکورسالمیمجمع البحار علامہ طاہر فتنیشرح فقہ اکبر بحرالعلوم وغیرہم حنفیہ کرام کی تیس عبارتوں سے زائد مذکور ہوئیں اور خود حضرت سیدنا امام اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ کا خاص نص شریف گزرا کیا اب بھی تحریر فرنگی کے کذب واغوائے عوام پر کچھ پر دہ رہا۔
(۲۸)پھر کہا لفظ"ینبغی"عقائد نسفی کی دونوں احتمال رکتھی ہےعقائد شریفہ کی عبارت یہ ہے:
ان یکون الامام ظاہر الامختفیا ولامنتظرا ویکون من قریش ولایجوز من غیرھم ۔ امام کاظاہر غیر مخفی اور غیر منتظر ہونا ضروری ہے اورقریش میں سے ہونا بھی ضروری ہے خلیفہ غیر قریشی سے جائز نہیں(ت)
قطع نظر اس سے کہ اگر لفظ"ینبغی"اصلا محتمل وجوب نہ ہوتا معنے استحباب میں مفسر ہوتا جب بھی یہاں حرج نہ تھا سائر ائمہ کی تصریحات قاہرہ اہلسنت کا عقیدہ اجماعیہ ظاہرہ قرینہ قاطعہ ہوتا کہ"یکون یکون"پرمعطوف نہیں بلکہ"ینبغی"پر یہاں تو نفس عبارت میں امام صاف فرمارہے ہیں"لایجوز من غیرھم"غیر قریش سے خلیفہ ہونا جائز ہی نہیںپھر دونوں احتمال بتانا کس درجہ آفتاب کو جھٹلانا ہےافسوس کہ اتنے فاصلہ سے لفظ"ینبغی"دکھائی دیا اور بلا فصل ملا ہوا"لایجوز من غیرھم"نظر نہ آیا۔
(۲۹)ایسا ہی ظلم ایك اور تحریر فرنگی محلی نے عبارت شرح مواقف پرڈھایا کہ اس میں لکھ دیا ہے:للامۃ ان ینصبوافاقدھا امت کو اختیار ہے کہ جس میں یہ شرطیں نہ ہوں اسے خلیفہ کردےانا ﷲ واناالیہ راجعون۔انہوں نے ابتداء تین مختلف فیہ شرطیں بیان کیںاصول و فروع میں مجتہد ہوناامور جنگ میں ذی رائے ہوناشجاع ہونا ان کی نسبت فرمایا کہ جن میں یہ شرطیں نہ ہوں امت انہیں بھی خلیفہ کرسکتی ہےاس کے بعد شرط قرشیت لکھی اور اسے فرمایا یہ شرط یقینی قطعی ہے اور یہ اہلسنت کا مذہب ہے اس میں مخالف خارجی معتزلی ہیںان اختلافی شرائط پر جو اوپر کہا تھا اسے یہاں لگالینا کس درجہ صریح تحریف کلام واغوائے عوام ہےاس کی نظیر یہی ہے کہ عالم فرمائے نماز کی شرطیں نجاست حقیقیہ سے جسم وثوب ومکان کی طہارت ہےیہ شرطیں بعض اوقات ساقط بھی ہوجاتی ہیں اور اس کی شرط قطعی یقینی نجاست حکمیہ سے طہارت ہے کہ وضو وغسل یا تیمم سے حاصل ہوتی ہے اس پر کوئی فرنگی محلی صاحب فتوی دیں کہ بعض اوقات بے وضو اور بحال جنابت بھی
(۲۸)پھر کہا لفظ"ینبغی"عقائد نسفی کی دونوں احتمال رکتھی ہےعقائد شریفہ کی عبارت یہ ہے:
ان یکون الامام ظاہر الامختفیا ولامنتظرا ویکون من قریش ولایجوز من غیرھم ۔ امام کاظاہر غیر مخفی اور غیر منتظر ہونا ضروری ہے اورقریش میں سے ہونا بھی ضروری ہے خلیفہ غیر قریشی سے جائز نہیں(ت)
قطع نظر اس سے کہ اگر لفظ"ینبغی"اصلا محتمل وجوب نہ ہوتا معنے استحباب میں مفسر ہوتا جب بھی یہاں حرج نہ تھا سائر ائمہ کی تصریحات قاہرہ اہلسنت کا عقیدہ اجماعیہ ظاہرہ قرینہ قاطعہ ہوتا کہ"یکون یکون"پرمعطوف نہیں بلکہ"ینبغی"پر یہاں تو نفس عبارت میں امام صاف فرمارہے ہیں"لایجوز من غیرھم"غیر قریش سے خلیفہ ہونا جائز ہی نہیںپھر دونوں احتمال بتانا کس درجہ آفتاب کو جھٹلانا ہےافسوس کہ اتنے فاصلہ سے لفظ"ینبغی"دکھائی دیا اور بلا فصل ملا ہوا"لایجوز من غیرھم"نظر نہ آیا۔
(۲۹)ایسا ہی ظلم ایك اور تحریر فرنگی محلی نے عبارت شرح مواقف پرڈھایا کہ اس میں لکھ دیا ہے:للامۃ ان ینصبوافاقدھا امت کو اختیار ہے کہ جس میں یہ شرطیں نہ ہوں اسے خلیفہ کردےانا ﷲ واناالیہ راجعون۔انہوں نے ابتداء تین مختلف فیہ شرطیں بیان کیںاصول و فروع میں مجتہد ہوناامور جنگ میں ذی رائے ہوناشجاع ہونا ان کی نسبت فرمایا کہ جن میں یہ شرطیں نہ ہوں امت انہیں بھی خلیفہ کرسکتی ہےاس کے بعد شرط قرشیت لکھی اور اسے فرمایا یہ شرط یقینی قطعی ہے اور یہ اہلسنت کا مذہب ہے اس میں مخالف خارجی معتزلی ہیںان اختلافی شرائط پر جو اوپر کہا تھا اسے یہاں لگالینا کس درجہ صریح تحریف کلام واغوائے عوام ہےاس کی نظیر یہی ہے کہ عالم فرمائے نماز کی شرطیں نجاست حقیقیہ سے جسم وثوب ومکان کی طہارت ہےیہ شرطیں بعض اوقات ساقط بھی ہوجاتی ہیں اور اس کی شرط قطعی یقینی نجاست حکمیہ سے طہارت ہے کہ وضو وغسل یا تیمم سے حاصل ہوتی ہے اس پر کوئی فرنگی محلی صاحب فتوی دیں کہ بعض اوقات بے وضو اور بحال جنابت بھی
حوالہ / References
عقائد نسفی مع شرح عقائد نسفی دارالاشاعت قندھار،افغانستان ص۱۱۱
شرح المواقف المرصد الرابع فی الامامۃ المقصد الثانی فی شروط الامامۃ منشورات الشریف رضی ۸/۳۵۰
شرح المواقف المرصد الرابع فی الامامۃ المقصد الثانی فی شروط الامامۃ منشورات الشریف رضی ۸/۳۵۰
نماز صحیح ہوجاتی ہے کہ عالم نے فرمایا ہے کہ یہ شرطیں بعض وقت ساقط بھی ہوجاتی ہیںعالم نے کن شرطوں کو فرمایا تھا اور انہوں نے کس میں لگایا ولاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم۔
مسلمانو!دیکھا دین و سنت ومذہب وملت پر کیا کیاظلم جوتے جاتے ہیں اور پھر پیروان شریعت کو آنکھیں دکھاتے ہیںمگر ہے یہ کہ مجبور ہیں باطل کی تائید باطل ہی سے ہوتی ہے ورنہ" وما یبدئ البطل وما یعید ﴿۴۹﴾ " اور باطل نہ پہل کرے اور نہ پھر کرآئے۔ت)محققین اہلسنت پر افتراامام سنت علیہ الرحمۃ پر افتراشافعیہ پر افتراحنفیہ پر افتراواضحات سے عنادتحریف سے استمدادائمہ کی تکذیباہلسنت کی تخریباجماع صحا بہ سے برکناراجماع امت سے برسرپیکاراور پھر یہ سب کس لئے محض بلاوجہ محض بیکارجس کا بیان اوپر گزرا اور ابھی خود مخالف کے اقرار سے سنئے گا ولاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم۔
(۳۰)یہ سب کچھ کہہ کر خاتمہ اس پر کیا کہ"باوجود بحث طلب ہونے کے میں نے کبھی اشتراط قرشیت سے انکار نہیں کیا"سبحان اﷲ دروغ گوئی برروئے مناس پر اجماع ثابت نہیںحدیث سے دلیل نہیںمحققین اہلسنت کونامقبولامام سنت کو یکسر اس سے عدولمحققین شافعیہ کے نزدیك اختیاریکتب حنفیہ سے محض استحبابی۔اور کیا انکار شرطیت کے سر پر سینگ ہوتے ہیں۔
(۳۱)الحمدﷲ کہ آپ کو شرط قرشیت سے انکار نہیں تو ضرور آپ کے نزدیك غیر قرشی خلیفہ نہیں ہوسکتاور بداہۃ معلوم کہ ہمارے ترك بھائی قرشی نہیں تو آپ کے نزدیك سلطان ترکی ایدہ اﷲ تعالی خلیفۃ المسلمین نہیں خلافت کمیٹی تو فنا کی گود میں لیٹیمگر سوا ل یہ ہے کہ آپ کے نزدیك تو شرط خلافت پر نہ اجماع نہ نص نہ مذہب حنفیہ نہ مقبول اہلسنتپھر زبردستی اسے مان کر خلافت ترك فنا کرکے آپ ترك کے خیر خواہ ہوئے یا پکے بدخواہ۔ان قومی لیڈروں کے حواس کدھر گئے ہیں کہ اتنے بڑے منکر خلافت کو حامی خلافت سمجھ رہے ہیںاے جناب! آپ کے بڑے مسٹر آزاد تو دہلی میں ۱۶جنوری ۱۹۲۰ کو خلافت ڈپوٹیشن کے جلسہ میں خیر مقدم میں صاف عــــہ۱ کہہ چکے ہیں کہ"اگرچہ نماز کا پابند ہوروزے رکھتا ہولیکن اگر خلافت سے منکر ہو تو دائرہ اسلام سے خارج ہےیہ وہ مسئلہ ہے کہ اس سے الگ ہوکر مسلمان مسلمان نہیں رہ سکتا"۔ دوسرے بدایونی عــــہ۲ خطبہ صدارت خلافت کانفرنس
عــــہ۱:اخبار مدینہ ۳جمادی الاولی ۱۳۳۸ھ ۲۵جنوری ۱۹۲۰ نمبر ۷جلد۹۔عبیدالرضاحشمت علی
عــــہ۲:یعنی متلڈر عبدالماجد کا خطبہ۱۲حشمت علی رضوی۔
مسلمانو!دیکھا دین و سنت ومذہب وملت پر کیا کیاظلم جوتے جاتے ہیں اور پھر پیروان شریعت کو آنکھیں دکھاتے ہیںمگر ہے یہ کہ مجبور ہیں باطل کی تائید باطل ہی سے ہوتی ہے ورنہ" وما یبدئ البطل وما یعید ﴿۴۹﴾ " اور باطل نہ پہل کرے اور نہ پھر کرآئے۔ت)محققین اہلسنت پر افتراامام سنت علیہ الرحمۃ پر افتراشافعیہ پر افتراحنفیہ پر افتراواضحات سے عنادتحریف سے استمدادائمہ کی تکذیباہلسنت کی تخریباجماع صحا بہ سے برکناراجماع امت سے برسرپیکاراور پھر یہ سب کس لئے محض بلاوجہ محض بیکارجس کا بیان اوپر گزرا اور ابھی خود مخالف کے اقرار سے سنئے گا ولاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم۔
(۳۰)یہ سب کچھ کہہ کر خاتمہ اس پر کیا کہ"باوجود بحث طلب ہونے کے میں نے کبھی اشتراط قرشیت سے انکار نہیں کیا"سبحان اﷲ دروغ گوئی برروئے مناس پر اجماع ثابت نہیںحدیث سے دلیل نہیںمحققین اہلسنت کونامقبولامام سنت کو یکسر اس سے عدولمحققین شافعیہ کے نزدیك اختیاریکتب حنفیہ سے محض استحبابی۔اور کیا انکار شرطیت کے سر پر سینگ ہوتے ہیں۔
(۳۱)الحمدﷲ کہ آپ کو شرط قرشیت سے انکار نہیں تو ضرور آپ کے نزدیك غیر قرشی خلیفہ نہیں ہوسکتاور بداہۃ معلوم کہ ہمارے ترك بھائی قرشی نہیں تو آپ کے نزدیك سلطان ترکی ایدہ اﷲ تعالی خلیفۃ المسلمین نہیں خلافت کمیٹی تو فنا کی گود میں لیٹیمگر سوا ل یہ ہے کہ آپ کے نزدیك تو شرط خلافت پر نہ اجماع نہ نص نہ مذہب حنفیہ نہ مقبول اہلسنتپھر زبردستی اسے مان کر خلافت ترك فنا کرکے آپ ترك کے خیر خواہ ہوئے یا پکے بدخواہ۔ان قومی لیڈروں کے حواس کدھر گئے ہیں کہ اتنے بڑے منکر خلافت کو حامی خلافت سمجھ رہے ہیںاے جناب! آپ کے بڑے مسٹر آزاد تو دہلی میں ۱۶جنوری ۱۹۲۰ کو خلافت ڈپوٹیشن کے جلسہ میں خیر مقدم میں صاف عــــہ۱ کہہ چکے ہیں کہ"اگرچہ نماز کا پابند ہوروزے رکھتا ہولیکن اگر خلافت سے منکر ہو تو دائرہ اسلام سے خارج ہےیہ وہ مسئلہ ہے کہ اس سے الگ ہوکر مسلمان مسلمان نہیں رہ سکتا"۔ دوسرے بدایونی عــــہ۲ خطبہ صدارت خلافت کانفرنس
عــــہ۱:اخبار مدینہ ۳جمادی الاولی ۱۳۳۸ھ ۲۵جنوری ۱۹۲۰ نمبر ۷جلد۹۔عبیدالرضاحشمت علی
عــــہ۲:یعنی متلڈر عبدالماجد کا خطبہ۱۲حشمت علی رضوی۔
حوالہ / References
القرآن الکریم ۳۴ /۴۹
منعقدہ ستمبر ۲۰ میں ہے کہ"اگر عــــہ کوئی مسلمان مسئلہ خلافت کی امداد سے گریز اور اس میں دلچسپی لینے سے احتراز کرے تو مجھے اسے کافر کہنے میں کسی قسم کاپس پیش نہ ہوگا"۔اب دیکھئے یہ آزاد والی تکفیریہ بدایونی جنگی تقریر آپ کو بھی اسلام سے آزاد و کفر کا پابند بناتی ہے یا آپ آزاد لاء کے مستثنیات عا مہ میں ہیںوہ قانون صرف کالے لوگوں کے لئے ہے۔
(۳۲)پھر کہا"بلکہ ہم نے تو کسی موقع پر بھی خصوصیت جزئیت رسول کو ہاتھ سے نہیں چھوڑا ہے"وجوبا یا اولویۃ اول مذہب روافض سے بھی بڑھ کرے ہے وہ بھی صرف ہا شمیت شرط کرتے ہیں کہ خلفائے ثلثہ رضی اﷲ تعالی عنہم کی خلافت سے انکار کریںآپ نے جزئیت شرط کرکے مولاعلی کی خلافت رد کردی اور برتقدیر دوم اسے مبحث سےکیا علاقہ ہوا کیا قرشیت بھی صرف مرتبہ اولویت میں ہے تو یہ کعبی معتزلی کا مذہب ہو اور اس کا رد ابھی آپ نے کہا تھا کہ میں کبھی اشتراط قرشیت سے انکار نہ کیایا قرشیت واجب ہے تو اپنی پارٹی سے اپنا حکم پوچھئےوہ دیکھئے مسٹر آزاد بدایونی کفر کا فتوی لگاچکےبہر حال اس بلکہ نے کیا فائدہ دیا۔
(۳۳)پھر کہا"یہاں خلافۃ فی القریش میں بحث نہیں یہاں خلیفہ مسلم پر بغاوت کا مسئلہ ہے"بے قرشیت خلیفہ کہا اور خلافۃ فی القریش کی بحث نہ آئی۔کچھ بھی سمجھ کر فرمائی۔
(۳۴)بغاوت خلافت اگرخانگی اصطلاحیں ہیں توان سے کام نہیںاور اگر معانی شرعیہ مراد ہیں تو کیا آپ اس ارشاد ائمہ کا مطلب بتاسکیں گے جو انہوں نے صدہا سال سے سلاطین کی نسبت لکھاوہ جو فصول عمادی ودرمنتقی شرح ملتقی وتہذیب قلانسی وجامع الفصولین وطحطاوی علی الدرالمختار وغیرہا میں ہے:
ھذا کان فی زمانھم وامافی زماننا فالحکم للغلبۃ فلان الکل یطلبون الدنیا فلایدری العادل من الباغی ۔ یعنی یہ امتیاز کہ فلا ں عادل ہے اور دوسرا باغی زمانہ سابق میں تھا ہمارے وقت میں غلبہ کا حکم ہے اس لئے کہ سب دنیا طلب ہیں تو عادل وباغی کا امتیاز نہیں۔
(۳۵)آغاز میں کہا"اہل سنتمسلم متغلب فاقد الشروط کی اطاعت کوفرض اورامامت کو درست مانتے ہیں"۔امامت سے اگر خلافت مراد ہو جیسا کہ یہی ظاہر ہے تو قطعا مردود جس کا روشن بیان گزرا اور اگر سلطنت مقصود ہوتو حق ہے مگر گزارش یہ ہے کہ جب مسئلہ یوں تھااور بیشك تھا کہ متغلب کی بھی سلطنت صحیح اور اطاعت واجبتو کیا ضرورت تھی کہ خواہی نخواہی مسئلہ خلافت چھیڑا جائے اجماع صحابہ وامت
عــــہ:دیکھو اخبار ہمدم۱۲ستمبر۱۹۲۰ء
(۳۲)پھر کہا"بلکہ ہم نے تو کسی موقع پر بھی خصوصیت جزئیت رسول کو ہاتھ سے نہیں چھوڑا ہے"وجوبا یا اولویۃ اول مذہب روافض سے بھی بڑھ کرے ہے وہ بھی صرف ہا شمیت شرط کرتے ہیں کہ خلفائے ثلثہ رضی اﷲ تعالی عنہم کی خلافت سے انکار کریںآپ نے جزئیت شرط کرکے مولاعلی کی خلافت رد کردی اور برتقدیر دوم اسے مبحث سےکیا علاقہ ہوا کیا قرشیت بھی صرف مرتبہ اولویت میں ہے تو یہ کعبی معتزلی کا مذہب ہو اور اس کا رد ابھی آپ نے کہا تھا کہ میں کبھی اشتراط قرشیت سے انکار نہ کیایا قرشیت واجب ہے تو اپنی پارٹی سے اپنا حکم پوچھئےوہ دیکھئے مسٹر آزاد بدایونی کفر کا فتوی لگاچکےبہر حال اس بلکہ نے کیا فائدہ دیا۔
(۳۳)پھر کہا"یہاں خلافۃ فی القریش میں بحث نہیں یہاں خلیفہ مسلم پر بغاوت کا مسئلہ ہے"بے قرشیت خلیفہ کہا اور خلافۃ فی القریش کی بحث نہ آئی۔کچھ بھی سمجھ کر فرمائی۔
(۳۴)بغاوت خلافت اگرخانگی اصطلاحیں ہیں توان سے کام نہیںاور اگر معانی شرعیہ مراد ہیں تو کیا آپ اس ارشاد ائمہ کا مطلب بتاسکیں گے جو انہوں نے صدہا سال سے سلاطین کی نسبت لکھاوہ جو فصول عمادی ودرمنتقی شرح ملتقی وتہذیب قلانسی وجامع الفصولین وطحطاوی علی الدرالمختار وغیرہا میں ہے:
ھذا کان فی زمانھم وامافی زماننا فالحکم للغلبۃ فلان الکل یطلبون الدنیا فلایدری العادل من الباغی ۔ یعنی یہ امتیاز کہ فلا ں عادل ہے اور دوسرا باغی زمانہ سابق میں تھا ہمارے وقت میں غلبہ کا حکم ہے اس لئے کہ سب دنیا طلب ہیں تو عادل وباغی کا امتیاز نہیں۔
(۳۵)آغاز میں کہا"اہل سنتمسلم متغلب فاقد الشروط کی اطاعت کوفرض اورامامت کو درست مانتے ہیں"۔امامت سے اگر خلافت مراد ہو جیسا کہ یہی ظاہر ہے تو قطعا مردود جس کا روشن بیان گزرا اور اگر سلطنت مقصود ہوتو حق ہے مگر گزارش یہ ہے کہ جب مسئلہ یوں تھااور بیشك تھا کہ متغلب کی بھی سلطنت صحیح اور اطاعت واجبتو کیا ضرورت تھی کہ خواہی نخواہی مسئلہ خلافت چھیڑا جائے اجماع صحابہ وامت
عــــہ:دیکھو اخبار ہمدم۱۲ستمبر۱۹۲۰ء
حوالہ / References
الدرالمنتقی بحوالہ فصول العمادی علٰی ہامش مجمع الانہر باب البغاۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/۶۹۹
اکھیڑا جائےمذہب اہلسنت وجماعت ادھیڑا جائےسلطان اسلام بلکہ اعظم سلاطین موجودہ اسلام کی اعانت بقدر قدرت کیا واجب نہ تھیظاہرا اس شق مسلمین ورداجماع صحابہ وائمہ دین ومخالفت مذہب اہلسنت وجماعت وموافقت خوارج وغیرہم اہل ضلالت میں تین فائدے سوچے:
اولا درپردہ حمایت ترکوں سے مخالفت جس پر باعث وہابیہ و دیوبندیہ سے یارانہ موافقتوہابی ودیوبندی ترکوں کو ابوجہل کے برابر مشرك جانتے ہیں جیسا کہ تمام اہلسنت کو یوں ہی مانتے ہیں لہذا دل میں ان کے پکے دشمن ہیں اور دوست کا دشمن اپنا دشمناس لئے ان کی حمایت اس آواز سے اٹھائی جس میں مخالفت پیداہو۔
ثانیا اپنے محسودین اہلسنت سے بخار نکالنامعلوم تھا کہ کر تو کچھ نہیں سکتے نہ خود نہ وہخالی چیخ پکار کا نام حمایت رکھنا ہےاہل محفل و دین اول تو غوغائے بے ثمر کو خود ہی عبث جان کر صرف توجہ الی اﷲ پر قانع رہیں گے اور اگر شاید شرکت چاہیں تو انہیں مذہب اہلسنت ہر شیئ سے زیادہ عزیز ہے مذہب ہی ان کے نزدیك چیز ہے لہذا ایسے لفظ کی چلاہٹ ڈالو جو خلاف مذہب اہلسنت ہو کہ وہ شریك ہوتے ہوں تو نہ ہوںاورکہنے کو موقع مل جائے کہ دیکھئے انہیں مسلمانوں سے ہمدردی نہیں یہ تو معاذ اﷲ نصاری سے ملے ہوئے ہیں تاکہ عوام ان سے بھڑکیں اور دیوبندیت ووہابیت کے پنجے جمیں۔
ثالثا ترکوں کی حمایت تو محض دھوکے کی ٹٹی ہے اصل مقصود بغلامی ہنود وسوراج کی چکھی ہےبڑے بڑے لیڈروں نے جس کی تصریح کردی ہے بھاری بھر کم خلافت کا نام لو عوام بپھری چندہ خوب ملے اور گنگا و جمنا کی مقدس زمینیں آزاد کرانے کا کام چلے
اے پس رومشرکان بزمزم نرسی
کیں رہ کہ تومیروی بہ گنگ وجمن ست
(اے مشرکوں کے پیروکار!تو زمزم تك نہیں پہنچ سکتا جس راہ پر تو چل رہا ہے یہ گنگا و جمنا کو جاتا ہے۔ت)
نسأل اﷲ العفووالعافیۃ
ترکی سلاطین اسلام پر رحمتیں ہوں وہ خود اہلسنت تھے اور ہیں مخالفت انہیں کیونکر گواراہوتیانہوں نے خود خلافت شرعیہ کا دعوی نہ فرمایا اپنے آپکو سلطان ہی کہا سلطان ہی کہلوایا اس لحاظ مذہب کی برکت نے انہیں وہ پیارا خطاب دلایا کہ امیرالمومنین وخلیفۃ المسلمین سے دلکشی میں کم نہ آیا یعنی خادم الحرمین الشریفینکیا ان القاب سے کام نہ چلتا جب تك مذہب واجماع اہلسنت پاؤں کے نیچے نہ کچلتا
اولا درپردہ حمایت ترکوں سے مخالفت جس پر باعث وہابیہ و دیوبندیہ سے یارانہ موافقتوہابی ودیوبندی ترکوں کو ابوجہل کے برابر مشرك جانتے ہیں جیسا کہ تمام اہلسنت کو یوں ہی مانتے ہیں لہذا دل میں ان کے پکے دشمن ہیں اور دوست کا دشمن اپنا دشمناس لئے ان کی حمایت اس آواز سے اٹھائی جس میں مخالفت پیداہو۔
ثانیا اپنے محسودین اہلسنت سے بخار نکالنامعلوم تھا کہ کر تو کچھ نہیں سکتے نہ خود نہ وہخالی چیخ پکار کا نام حمایت رکھنا ہےاہل محفل و دین اول تو غوغائے بے ثمر کو خود ہی عبث جان کر صرف توجہ الی اﷲ پر قانع رہیں گے اور اگر شاید شرکت چاہیں تو انہیں مذہب اہلسنت ہر شیئ سے زیادہ عزیز ہے مذہب ہی ان کے نزدیك چیز ہے لہذا ایسے لفظ کی چلاہٹ ڈالو جو خلاف مذہب اہلسنت ہو کہ وہ شریك ہوتے ہوں تو نہ ہوںاورکہنے کو موقع مل جائے کہ دیکھئے انہیں مسلمانوں سے ہمدردی نہیں یہ تو معاذ اﷲ نصاری سے ملے ہوئے ہیں تاکہ عوام ان سے بھڑکیں اور دیوبندیت ووہابیت کے پنجے جمیں۔
ثالثا ترکوں کی حمایت تو محض دھوکے کی ٹٹی ہے اصل مقصود بغلامی ہنود وسوراج کی چکھی ہےبڑے بڑے لیڈروں نے جس کی تصریح کردی ہے بھاری بھر کم خلافت کا نام لو عوام بپھری چندہ خوب ملے اور گنگا و جمنا کی مقدس زمینیں آزاد کرانے کا کام چلے
اے پس رومشرکان بزمزم نرسی
کیں رہ کہ تومیروی بہ گنگ وجمن ست
(اے مشرکوں کے پیروکار!تو زمزم تك نہیں پہنچ سکتا جس راہ پر تو چل رہا ہے یہ گنگا و جمنا کو جاتا ہے۔ت)
نسأل اﷲ العفووالعافیۃ
ترکی سلاطین اسلام پر رحمتیں ہوں وہ خود اہلسنت تھے اور ہیں مخالفت انہیں کیونکر گواراہوتیانہوں نے خود خلافت شرعیہ کا دعوی نہ فرمایا اپنے آپکو سلطان ہی کہا سلطان ہی کہلوایا اس لحاظ مذہب کی برکت نے انہیں وہ پیارا خطاب دلایا کہ امیرالمومنین وخلیفۃ المسلمین سے دلکشی میں کم نہ آیا یعنی خادم الحرمین الشریفینکیا ان القاب سے کام نہ چلتا جب تك مذہب واجماع اہلسنت پاؤں کے نیچے نہ کچلتا
نعوذ باﷲ ممالایرضاہ والصلوۃ والسلام علی مصطفاہ والہ وصحبہ الاکارم الھداہ۔
فصل سوم
رسالہ خلافت میں مسٹر ابو لکلام ازاد کی تلبیسات و ہذیانات کی خدمتگاری
یہ ۳۵رد قاہر خطبہ صدارت فرنگی محلی کی ۱۵سطری تحریر پر قلم برداشتہ تھےاب بعونہ تعالی چار حرف ان کے بڑے آزاد لیڈر صاحب کی تحریر پر بھی گزارش ہوں وباﷲ التوفیق۔اور سلسلہ شمار وہی رہے کہ بعضھمم من بعض یہاں کلام چند مبحث پر ہے۔
مبحث اول: مسٹر کا قیاسی ڈھکوسلے سے دین کو رد کرنا
(۳۶)مسٹر آزاد نے بڑازور اس پر دیا ہے کہ"اسلام تو قومی امتیاز کے اٹھانے کو آیا ہے پھر وہ خلافت کو قریش کے لئے کیسے خاص کرسکتا ہے"یہ اعتراض مسٹر آزاد کا طبع زاد نہیں خارجی خبیثوں سے سیکھا ہے
" کذلک قال الذین من قبلہم مثل قولہم تشبہت قلوبہم " ۔ یونہی ان کے اگلوں نے انہیں کی سی کہی تھی ان کے دل ایك سے ہیں۔
خارجیوں نے بھی یہی اعتراض کیا تھا جس کا اہلسنت نے رد کیا مقاصد میں ہے:
یشترط کونہ قرشیا خالفت الخوارج لانہ لاعبرۃ بالنسب فی مصالح الملك والدین وردبان لشرف الانساب اثرافی جمیع الآراء وبذل الطاعۃ ولااشرف من قریش سیما وقد ظھر منھم خیرالانبیاء (ملخصا) امام کا قریشی ہونا شرط ہے اور خارجیوں نے اس میں خلاف کیا اس دلیل سے کہ مصالح سلطنت ودین میں نسب کا کچھ اعتبار نہیںاہلسنت نے اس کا رد کیا کہ ضرور شرف نسب کو اس میں اثر ہے کہ رعایا کی رائیں اس پر اتفاق کریں اور دل خوشی سے اس کے مطیع ہوںاور قریش کے برابر کوئی شرف نہیں خصوصا اس حالت میں کہ افضل الانبیاء صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے انہیں میں سے ظہورفرمایا۔(ملخصا)
فصل سوم
رسالہ خلافت میں مسٹر ابو لکلام ازاد کی تلبیسات و ہذیانات کی خدمتگاری
یہ ۳۵رد قاہر خطبہ صدارت فرنگی محلی کی ۱۵سطری تحریر پر قلم برداشتہ تھےاب بعونہ تعالی چار حرف ان کے بڑے آزاد لیڈر صاحب کی تحریر پر بھی گزارش ہوں وباﷲ التوفیق۔اور سلسلہ شمار وہی رہے کہ بعضھمم من بعض یہاں کلام چند مبحث پر ہے۔
مبحث اول: مسٹر کا قیاسی ڈھکوسلے سے دین کو رد کرنا
(۳۶)مسٹر آزاد نے بڑازور اس پر دیا ہے کہ"اسلام تو قومی امتیاز کے اٹھانے کو آیا ہے پھر وہ خلافت کو قریش کے لئے کیسے خاص کرسکتا ہے"یہ اعتراض مسٹر آزاد کا طبع زاد نہیں خارجی خبیثوں سے سیکھا ہے
" کذلک قال الذین من قبلہم مثل قولہم تشبہت قلوبہم " ۔ یونہی ان کے اگلوں نے انہیں کی سی کہی تھی ان کے دل ایك سے ہیں۔
خارجیوں نے بھی یہی اعتراض کیا تھا جس کا اہلسنت نے رد کیا مقاصد میں ہے:
یشترط کونہ قرشیا خالفت الخوارج لانہ لاعبرۃ بالنسب فی مصالح الملك والدین وردبان لشرف الانساب اثرافی جمیع الآراء وبذل الطاعۃ ولااشرف من قریش سیما وقد ظھر منھم خیرالانبیاء (ملخصا) امام کا قریشی ہونا شرط ہے اور خارجیوں نے اس میں خلاف کیا اس دلیل سے کہ مصالح سلطنت ودین میں نسب کا کچھ اعتبار نہیںاہلسنت نے اس کا رد کیا کہ ضرور شرف نسب کو اس میں اثر ہے کہ رعایا کی رائیں اس پر اتفاق کریں اور دل خوشی سے اس کے مطیع ہوںاور قریش کے برابر کوئی شرف نہیں خصوصا اس حالت میں کہ افضل الانبیاء صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے انہیں میں سے ظہورفرمایا۔(ملخصا)
حوالہ / References
القرآن الکریم ۲ /۱۱۸
مقاصد مع شرح المقاصد الفصل الرابع المبحث الثانی دارالمعارف النعمانیہ لاہور ۲/۲۷۷
مقاصد مع شرح المقاصد الفصل الرابع المبحث الثانی دارالمعارف النعمانیہ لاہور ۲/۲۷۷
شرح مقاصد میں ہے:
ولھذاشاع فی الاعصار ان یکون الملك فی قبیلۃ مخصوصۃ حتی یری الانتقال عنہ من الخطوب العظیمۃ والاتفاقات العجیبۃ ولاالیق بذلك من قریش الذین ھم اشرف الناس سیما وقد اقتصر علیھم ختم الرسالۃ وانتشرت منھم الشریعۃ الباقیۃ الی یوم القیمۃ ۔ اسی اعتبار نسب کے سبب تمام زمانوں میں شائع رہا کہ سلطنت ایك خاص قبیلے میں ہو یہاں تك کہ اس سے دوسرے قبیلے کی طر ف انتقال سلطنت کو سخت کام اور عجیب اتفاق سمجھا جاتا ہے او ر قریش سے زائد اس کا لائق کو ئی نہیں کہ وہ تمام جہان سے زیادہ شریف ہیں خصوصا اب کہ انھیں پر رسالت ختم ہوئی اور انہیں سے وہ شریعت پھیلی کہ قیامت تك رہے گی۔
کتاب مبارك ارا ئۃ الادب لفاضل النسب مطالعہ ہوکس قدراحادیث کثیرہ نے کہاں کہاں فضیلت نسب کا اعتبار فرمایا ہےاور نکاح میں شرعا اعتبار کفاءت سے تو عالم بننے والے جہال بھی ناواقف نہ ہوں گے جس سے تمام کتب فقہ گونج رہی ہیںاور اس میں خود احادیث واردآیات واحادیث اس سے منع فرماتی ہیں کہ کوئی علم وتقوی وفضائل دینیہ کو بھولے اور خالی نسب پر تفاخرا پھولے۔
(۳۷)مسٹر نے احادیث الائمۃ من قریش ولایزال ھذاالامر فی قریش (ائمہ قریش میں سے ہیں یہ خلافت قریش میں رہے گی۔ت)سے تو یوں جان بچائی کہ"یہ کوئی حکم نبوی نہیں کہ احکام میں فضیلت نسب کا اعتبار ٹھہرے بلکہ نری پیشگوئی ہے"جس کارد بعونہ تعالی ابھی آتا ہے مگر اس حدیث جلیل کا کیا علاج کریں گے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرمایا:
قدمواقریشاولاتقدموھا ۔ قریش کومقدم رکھو اور ان پر تقدم نہ کرو۔
یہ حدیث چھ صحابہ کرام کی روایت سے ہے بزار نے امیر المومنین مولی علی اور ابن عدی نے ابوہریرہ اور ابونعیم دیلمی نے انس بن مالك اور بیہقی نے جبیر بن مطعم اور طبرانی نے عبداﷲ بن حنطب نیز عبداﷲ بن سائب رضی اﷲ تعالی عنہم اجمعین سے روایت کی نیز مرسل ابوبکرسلیمن بن ابی حثمہ و مرسل ابن شہاب زہری سے آئی یہ تو صریح امرونہی ہے اسے تو مسٹر خبر نہیں بنا سکتے اس میں رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کیسا صریح حکم
ولھذاشاع فی الاعصار ان یکون الملك فی قبیلۃ مخصوصۃ حتی یری الانتقال عنہ من الخطوب العظیمۃ والاتفاقات العجیبۃ ولاالیق بذلك من قریش الذین ھم اشرف الناس سیما وقد اقتصر علیھم ختم الرسالۃ وانتشرت منھم الشریعۃ الباقیۃ الی یوم القیمۃ ۔ اسی اعتبار نسب کے سبب تمام زمانوں میں شائع رہا کہ سلطنت ایك خاص قبیلے میں ہو یہاں تك کہ اس سے دوسرے قبیلے کی طر ف انتقال سلطنت کو سخت کام اور عجیب اتفاق سمجھا جاتا ہے او ر قریش سے زائد اس کا لائق کو ئی نہیں کہ وہ تمام جہان سے زیادہ شریف ہیں خصوصا اب کہ انھیں پر رسالت ختم ہوئی اور انہیں سے وہ شریعت پھیلی کہ قیامت تك رہے گی۔
کتاب مبارك ارا ئۃ الادب لفاضل النسب مطالعہ ہوکس قدراحادیث کثیرہ نے کہاں کہاں فضیلت نسب کا اعتبار فرمایا ہےاور نکاح میں شرعا اعتبار کفاءت سے تو عالم بننے والے جہال بھی ناواقف نہ ہوں گے جس سے تمام کتب فقہ گونج رہی ہیںاور اس میں خود احادیث واردآیات واحادیث اس سے منع فرماتی ہیں کہ کوئی علم وتقوی وفضائل دینیہ کو بھولے اور خالی نسب پر تفاخرا پھولے۔
(۳۷)مسٹر نے احادیث الائمۃ من قریش ولایزال ھذاالامر فی قریش (ائمہ قریش میں سے ہیں یہ خلافت قریش میں رہے گی۔ت)سے تو یوں جان بچائی کہ"یہ کوئی حکم نبوی نہیں کہ احکام میں فضیلت نسب کا اعتبار ٹھہرے بلکہ نری پیشگوئی ہے"جس کارد بعونہ تعالی ابھی آتا ہے مگر اس حدیث جلیل کا کیا علاج کریں گے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرمایا:
قدمواقریشاولاتقدموھا ۔ قریش کومقدم رکھو اور ان پر تقدم نہ کرو۔
یہ حدیث چھ صحابہ کرام کی روایت سے ہے بزار نے امیر المومنین مولی علی اور ابن عدی نے ابوہریرہ اور ابونعیم دیلمی نے انس بن مالك اور بیہقی نے جبیر بن مطعم اور طبرانی نے عبداﷲ بن حنطب نیز عبداﷲ بن سائب رضی اﷲ تعالی عنہم اجمعین سے روایت کی نیز مرسل ابوبکرسلیمن بن ابی حثمہ و مرسل ابن شہاب زہری سے آئی یہ تو صریح امرونہی ہے اسے تو مسٹر خبر نہیں بنا سکتے اس میں رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کیسا صریح حکم
حوالہ / References
شرح المقاصد الفصل الرابع المبحث الثانی دارالمعارف النعمانیہ لاہور ۲/۲۷۷
صحیح البخاری کتاب الاحکام قدیمی کتب خانہ ۲/۱۰۵۷،صحیح مسلم کتاب الامارۃ قدیمی کتب خانہ ۲/۱۱۹
کنز العمال حدیث ۳۳۷۸۹و۳۳۷۹۰و۳۳۷۹۱ بحوالہ بزار وابن عدی وطبرانی موسسۃ الرسالہ بیروت ۱۲/۲۲
صحیح البخاری کتاب الاحکام قدیمی کتب خانہ ۲/۱۰۵۷،صحیح مسلم کتاب الامارۃ قدیمی کتب خانہ ۲/۱۱۹
کنز العمال حدیث ۳۳۷۸۹و۳۳۷۹۰و۳۳۷۹۱ بحوالہ بزار وابن عدی وطبرانی موسسۃ الرسالہ بیروت ۱۲/۲۲
فرمارہے ہیں کہ قریش کو مقدم کرنا قریش سے آگے قدم نہ دھرنا۔اب تو مسٹر ضرور رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پر طعن کریں گے کہ"اسلام کا داعی دنیا کو تو قومی و نسلی امتیازات کی غلامی سے نجات دلانا چاہتا مساوات عامہ کی طرف بلاتا ہو لیکن(نعوذ باﷲ)خود اتنا خود غرض ہوکہ(تقدیم وترجیح)صرف اپنے ہی ملکملك نہیں اپنے ہی وطنوطن نہیں خاص اپنے قبیلےقبیلہ نہیں صرف اپنے ہی خاندان کےلئے مخصوص کردےساری دنیا سے کہے تمہارے بتائے ہوئے حق جھوٹے ہیں سچا حق صرف عمل واہلیت کا ہے لیکن خود اپنے لئے یہ کر جائے کہ عمل نہ اہلیت صرف قوم صرف نسل صرف خاندان"۔اپنی طعن بھری عبارت سے صرف لفظ خلافت کو لفظ تقدیم و ترجیح سے بدل لیجئے اور محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پر اپنے طعن کی یہ شدید بوچھاڑ ملاحظہ کیجئے بلکہ اس تبدیلی کی بھی حاجت نہیں خلافت خود اعلی تقدیمات سے ہے۔
(۳۸)تخصیص قریش کو تخصیص ملك پھر اس سے بھی تنگ تر تخصیص وطن ٹھہرانا کیسی جہالت ہے نہ قریش کسی ملك ووطن کا نام نہ ان کے لئے لزوما کوئی خاص مقام ع
شاخ گل ہر جاکہ روید ہم گل ست
(پھول کی شاخ جہاں بھی اگے گی وہ پھول بن کر ہی اگے گی۔ت)
(۳۹)قریش کو قبیلہ سے بھی تنگ ترصرف خاندان ٹھہرانا دوسری جہالت ہے کیا رافضیوں کے مذہب کی طر ف گئے کہ خلافت بنی ہاشم سے خاص ہے۔
(۴۰)نہ عمل نہ اہلیت صرف خاندان کا اتہام رسول اﷲصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم و صحابہ واہلسنت پر افترا ہے کس نے کہا ہے کہ خلافت کےلئے صرف قریشی ہونا درکار ہے اگرچہ نااہل محض ہوقرشیت کے ساتھ اہلیت کی شرط بھی بالاجماع ہےیہ گمان بدکہ کسی وقت تمام جہان میں سب سادات عظامسب قریش کرام نالائق نااہل ہوجائیں وسوسہ ابلیس ہے ایسا کبھی نہ ہوگا کہ مصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے سارے جگر پارے ناقابل نالائق رہ جائیں صرف ایراغیرا اہلیت کا پھندالٹکائیں۔رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم تو فرماچکے کہ دنیا میں جب تك دو آدمی بھی رہیں گے خلافت کا استحقاق صرف قریشی کو ہوگا تو قطعا قیامت تك کوئی نہ کوئی قریشی اس کا اہل ضرور رہے گا ولہذا بعض فقہائے شافعیہ وغیرہم نے جب یہ صورت باطلہ فرض کی محققین نے تصریح فرمادی کہ یہ صرف فرض ہے واقع کبھی نہ ہوگی۔شرح بخاری للحافظ میں ہے:
قالوا انما فرض الفقہاء ذلك علی عادتھم فی ذکرما یمکن ان یقع عقلا وان کان لایقع یعنی علماء نے فرمایا ان فقہاء نے یہ صورت اپنی اس عادت پر فرض کی کہ ایسی بات بھی ذکر کرتے ہیں جو صرف امکان عقلی رکھتی عادۃ یا شرعا کبھی
(۳۸)تخصیص قریش کو تخصیص ملك پھر اس سے بھی تنگ تر تخصیص وطن ٹھہرانا کیسی جہالت ہے نہ قریش کسی ملك ووطن کا نام نہ ان کے لئے لزوما کوئی خاص مقام ع
شاخ گل ہر جاکہ روید ہم گل ست
(پھول کی شاخ جہاں بھی اگے گی وہ پھول بن کر ہی اگے گی۔ت)
(۳۹)قریش کو قبیلہ سے بھی تنگ ترصرف خاندان ٹھہرانا دوسری جہالت ہے کیا رافضیوں کے مذہب کی طر ف گئے کہ خلافت بنی ہاشم سے خاص ہے۔
(۴۰)نہ عمل نہ اہلیت صرف خاندان کا اتہام رسول اﷲصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم و صحابہ واہلسنت پر افترا ہے کس نے کہا ہے کہ خلافت کےلئے صرف قریشی ہونا درکار ہے اگرچہ نااہل محض ہوقرشیت کے ساتھ اہلیت کی شرط بھی بالاجماع ہےیہ گمان بدکہ کسی وقت تمام جہان میں سب سادات عظامسب قریش کرام نالائق نااہل ہوجائیں وسوسہ ابلیس ہے ایسا کبھی نہ ہوگا کہ مصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے سارے جگر پارے ناقابل نالائق رہ جائیں صرف ایراغیرا اہلیت کا پھندالٹکائیں۔رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم تو فرماچکے کہ دنیا میں جب تك دو آدمی بھی رہیں گے خلافت کا استحقاق صرف قریشی کو ہوگا تو قطعا قیامت تك کوئی نہ کوئی قریشی اس کا اہل ضرور رہے گا ولہذا بعض فقہائے شافعیہ وغیرہم نے جب یہ صورت باطلہ فرض کی محققین نے تصریح فرمادی کہ یہ صرف فرض ہے واقع کبھی نہ ہوگی۔شرح بخاری للحافظ میں ہے:
قالوا انما فرض الفقہاء ذلك علی عادتھم فی ذکرما یمکن ان یقع عقلا وان کان لایقع یعنی علماء نے فرمایا ان فقہاء نے یہ صورت اپنی اس عادت پر فرض کی کہ ایسی بات بھی ذکر کرتے ہیں جو صرف امکان عقلی رکھتی عادۃ یا شرعا کبھی
عادۃاو شرعا ۔ واقع نہ ہو۔
خصوصا حدیث کو پیشگوئی مان کرتو اس کے خلاف کا ادعا جہل صریح بلکہ ضلال عــــہ قبیح ہے۔
عــــہ:قال الحافظ قلت والذی حمل قائل ھذاالقول علی انہ فہم منہ(ای من قولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لایزال ھذا الامر فی قریش)الخبرالمحض وخبر الصادق لایتخلفواما من حملہ علی الامر فلایحتاج الی ھذاالتاویل اھ وکتبت علیہ اقول بلی یحتاج الیہ فانہ لو صح شرعا وعادۃ ان تکون القریش فی شیئ من الازمنۃ ساقطین عن اہلیۃ الخلافۃ کما زعمہ بعض مبطلی زماننا وقد امر صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ان لاتجعل الخلافۃ ابداالافی قریش فیکون ذلك فی ذلك الزمان امرا باستخلاف غیر الاھل وھو محال ثم لاادری ای تاویل فیہ وای صرف عن الظاھر انما ھواستنباط امریفیدہ منطوق الحدیث فافھم۱۲منہ۔ حافظ ابن حجر نے فرمایا:میں کہتا ہوں اس قول کے قائل کو جس چیز نے اس پر آمادہ کیا وہ یہ کہ اس نے حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے ارشاد"یہ خلافت ہمیشہ قریش میں ہوگی"کو خالص خبر سمجھا اور سچے نبی کی خبر خلاف واقع نہیں ہوتی لیکن جس نے اس حدیث کو امر(حکم)قرار دیا وہ اس تاویل کا محتاج نہیں ہے اھمیں نے اس پر حاشیہ لکھااقول اس کی حاجت کیوں نہیں حاجت ہے کیونکہ اگر شرعا اور عادۃ کسی وقت قریش کا خلافت کےلئے نااہل ہوناصحیح ہوجیسا کہ ہمارے زمانہ کے بعض باطل لوگ خیال کرتے ہیں حالانکہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام کا حکم ہے کہ"کبھی بھی خلافت غیر قریش کو نہ دی جائے"تو خلافت اس نااہلیت کے زمانہ میں نااہل کو خلیفہ بنانے کا حکم ہوگا جو کہ محال ہےپھر معلوم نہیں یہ کیا تاویل اور کیا ظاہر سے پھر ناہواحالانکہ یہ توصرف منطوق حدیث سے ایك مفاد کا استنباط ہےفافھم۱۲منہ(ت)
خصوصا حدیث کو پیشگوئی مان کرتو اس کے خلاف کا ادعا جہل صریح بلکہ ضلال عــــہ قبیح ہے۔
عــــہ:قال الحافظ قلت والذی حمل قائل ھذاالقول علی انہ فہم منہ(ای من قولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لایزال ھذا الامر فی قریش)الخبرالمحض وخبر الصادق لایتخلفواما من حملہ علی الامر فلایحتاج الی ھذاالتاویل اھ وکتبت علیہ اقول بلی یحتاج الیہ فانہ لو صح شرعا وعادۃ ان تکون القریش فی شیئ من الازمنۃ ساقطین عن اہلیۃ الخلافۃ کما زعمہ بعض مبطلی زماننا وقد امر صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ان لاتجعل الخلافۃ ابداالافی قریش فیکون ذلك فی ذلك الزمان امرا باستخلاف غیر الاھل وھو محال ثم لاادری ای تاویل فیہ وای صرف عن الظاھر انما ھواستنباط امریفیدہ منطوق الحدیث فافھم۱۲منہ۔ حافظ ابن حجر نے فرمایا:میں کہتا ہوں اس قول کے قائل کو جس چیز نے اس پر آمادہ کیا وہ یہ کہ اس نے حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے ارشاد"یہ خلافت ہمیشہ قریش میں ہوگی"کو خالص خبر سمجھا اور سچے نبی کی خبر خلاف واقع نہیں ہوتی لیکن جس نے اس حدیث کو امر(حکم)قرار دیا وہ اس تاویل کا محتاج نہیں ہے اھمیں نے اس پر حاشیہ لکھااقول اس کی حاجت کیوں نہیں حاجت ہے کیونکہ اگر شرعا اور عادۃ کسی وقت قریش کا خلافت کےلئے نااہل ہوناصحیح ہوجیسا کہ ہمارے زمانہ کے بعض باطل لوگ خیال کرتے ہیں حالانکہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام کا حکم ہے کہ"کبھی بھی خلافت غیر قریش کو نہ دی جائے"تو خلافت اس نااہلیت کے زمانہ میں نااہل کو خلیفہ بنانے کا حکم ہوگا جو کہ محال ہےپھر معلوم نہیں یہ کیا تاویل اور کیا ظاہر سے پھر ناہواحالانکہ یہ توصرف منطوق حدیث سے ایك مفاد کا استنباط ہےفافھم۱۲منہ(ت)
حوالہ / References
فتح الباری شرح البخاری باب الامراء من قریش مصطفی البابی مصر ۱۶/۲۳۷
فتح الباری شرح البخاری باب الامراء من قریش مصطفی البابی مصر ۱۶/۲۳۷
فتح الباری شرح البخاری باب الامراء من قریش مصطفی البابی مصر ۱۶/۲۳۷
(۴۱)مسٹر نے کہا"خیر یہ بات کتنی ہی عجیب ہوتی لیکن ہم باورکرلیتے اگر قرآن وسنت واقعی ٹھہرائی ہوتی ہمارے نزدیك کسی اسلامی اعتقاد کی صحت کا معیار صرف یہ ہے کہ کتاب وسنت سے بطریق صحیح ثابت ہو نہ کہ عقلوں کاادراک۔استعجاب کی بنیاد ہمارا قیاسی استبعاد نہیں یہی ہے کہ کسی نص سے ایسا ثابت نہیں"۔
الحمد ﷲیہاں تو کچھ اسلامی جامے میں ہیں گویا آزادی سے بالکل جد اہیںہم نصوص متواترہ واجماع صحابہ واجماع امت سے ثابت کرچکے کہ خلافت قریش ہی سے خاص ہے اب تو وہ اپنا استعباد کہ ـ"بھلا اسلام کہیں خصوصیت نسل مان سکتا ہے"جس کو خود کہہ رہے ہو یہ تمہارا نراعقلی قیاسی ڈھکوسلا ہے واپس لیجئے اور اجماع امت و ارشادات حضرت رسالت علیہ افضل الصلوۃ والتحیۃ پر ایمان لائیے۔
مبحث دوم:رد احادیث نبوی میں مسٹر کی بے سود کوشش
(۴۲)بزور زبان بڑ ازور اس پر دیاہے ص۶۰ کہ "خلافت قریش کی نسبت جس قدر روایات ہیں سب پیشگوئی و خبر ہیں کہ قریشی خلیفہ ہوں گے نہ کہ حکم کہ قریشی ہی خلیفہ ہوں"۔شرح عقائد نسفی وقواعد العقائد امام حجۃ الاسلام واتحاف سید زبیدی ومسامرہ شرح مسایرہ وتعلیقات علامہ قاسم طوالع الانوار علامہ بیضاوی ومواقف علامہ قاضی عضد وشرح مواقف علامہ سید شریف ومقاصد وشرح مقاصد و شرح صحیح مسلم للامام النووی و ارشاد الساری ومرقاۃ قاری وشرح صحیح مسلم للقرطبی وابن المنیر وعمدۃ القاری امام عینی وفتح الباری امام عسقلانی و شرح مشکوۃ علامہ طیبی وشرح مشکوۃ علامہ سید شریف و امام اجل ابوبکر باقلانی واشعۃ اللمعات شیخ محقق وغمز العیون سید حموی وحاشیۃ الدر للسید الطحطاوی وللسید ابن عابدین وکواکب کرمانی ومجمع البحاروشرح فقہ اکبر بحر العلوم وغیرہا کی عبارات کثیرہ کہ ابھی گزریں اس مجہلہ کے رد کو بس ہیں مسٹر آزاد اگرچہ اپنے نشے میں تمام ائمہ مجتہدین کرام سے اپنے آپ کو اعلی جانتے ہیں انکے ارشادات کو ظنی اور اپنے توہمات کو وحی سے مکتسب قطعی مانتے ہیں اور سلطان کا نام محض دکھاوا ہے تمام امت سے اپنی امامت مطلقہ منوانے کا دعوی ہے دیکھو رسالہ خلافت کا اخیر مضمون"اتبعون اھد کم سبیل الرشاد"میرے پیرو ہوجاؤمیں تمہیں راہ حق کی ہدایت کروں گاجس کابیان بعونہ تعالی مبحث اخیر آتا ہے مگر الحمدﷲ مسلمانوں میں اب بھی لاکھوں ہوں گے کہ ارشادات ائمہ کے مقابل ایسے نشے کی بالاخوانیوں امنگوں شطحیات کی بہکی ترنگوں کو باد شتر سے زیادہ نہیں جانتے۔
(۴۳تا۵۰)اشد ظلم حدیث صحیحین"لایزال ھذاالامرفی قریش"پر ہے اس میں لفظ وہ لئے جو صحیح بخاری میں واقع ہوئے مابقی منھم اثنان اورکہہ دیا ص۶۳"اس سے ہمارے بیان کی مزید
الحمد ﷲیہاں تو کچھ اسلامی جامے میں ہیں گویا آزادی سے بالکل جد اہیںہم نصوص متواترہ واجماع صحابہ واجماع امت سے ثابت کرچکے کہ خلافت قریش ہی سے خاص ہے اب تو وہ اپنا استعباد کہ ـ"بھلا اسلام کہیں خصوصیت نسل مان سکتا ہے"جس کو خود کہہ رہے ہو یہ تمہارا نراعقلی قیاسی ڈھکوسلا ہے واپس لیجئے اور اجماع امت و ارشادات حضرت رسالت علیہ افضل الصلوۃ والتحیۃ پر ایمان لائیے۔
مبحث دوم:رد احادیث نبوی میں مسٹر کی بے سود کوشش
(۴۲)بزور زبان بڑ ازور اس پر دیاہے ص۶۰ کہ "خلافت قریش کی نسبت جس قدر روایات ہیں سب پیشگوئی و خبر ہیں کہ قریشی خلیفہ ہوں گے نہ کہ حکم کہ قریشی ہی خلیفہ ہوں"۔شرح عقائد نسفی وقواعد العقائد امام حجۃ الاسلام واتحاف سید زبیدی ومسامرہ شرح مسایرہ وتعلیقات علامہ قاسم طوالع الانوار علامہ بیضاوی ومواقف علامہ قاضی عضد وشرح مواقف علامہ سید شریف ومقاصد وشرح مقاصد و شرح صحیح مسلم للامام النووی و ارشاد الساری ومرقاۃ قاری وشرح صحیح مسلم للقرطبی وابن المنیر وعمدۃ القاری امام عینی وفتح الباری امام عسقلانی و شرح مشکوۃ علامہ طیبی وشرح مشکوۃ علامہ سید شریف و امام اجل ابوبکر باقلانی واشعۃ اللمعات شیخ محقق وغمز العیون سید حموی وحاشیۃ الدر للسید الطحطاوی وللسید ابن عابدین وکواکب کرمانی ومجمع البحاروشرح فقہ اکبر بحر العلوم وغیرہا کی عبارات کثیرہ کہ ابھی گزریں اس مجہلہ کے رد کو بس ہیں مسٹر آزاد اگرچہ اپنے نشے میں تمام ائمہ مجتہدین کرام سے اپنے آپ کو اعلی جانتے ہیں انکے ارشادات کو ظنی اور اپنے توہمات کو وحی سے مکتسب قطعی مانتے ہیں اور سلطان کا نام محض دکھاوا ہے تمام امت سے اپنی امامت مطلقہ منوانے کا دعوی ہے دیکھو رسالہ خلافت کا اخیر مضمون"اتبعون اھد کم سبیل الرشاد"میرے پیرو ہوجاؤمیں تمہیں راہ حق کی ہدایت کروں گاجس کابیان بعونہ تعالی مبحث اخیر آتا ہے مگر الحمدﷲ مسلمانوں میں اب بھی لاکھوں ہوں گے کہ ارشادات ائمہ کے مقابل ایسے نشے کی بالاخوانیوں امنگوں شطحیات کی بہکی ترنگوں کو باد شتر سے زیادہ نہیں جانتے۔
(۴۳تا۵۰)اشد ظلم حدیث صحیحین"لایزال ھذاالامرفی قریش"پر ہے اس میں لفظ وہ لئے جو صحیح بخاری میں واقع ہوئے مابقی منھم اثنان اورکہہ دیا ص۶۳"اس سے ہمارے بیان کی مزید
حوالہ / References
صحیح بخاری کتاب الاحکام ۲/۱۰۵۷ ،صحیح مسلم کتاب الامارۃ ۲/۱۱۹
تصدیق ہوگئی حدیث کا منطوق صریح پیشین گوئی کا ہے اگر اس کا یہ مطلب قرار دیاجائے کہ جب تك دوانسان بھی قریش میں ہیں خلافت انہیں کے قبضہ میں رہے گی تو یہ واقعات کے بالکل خلاف ہےہزاروں قرشی موجود رہے اورخلافت قریش سے نکل گئی پس ضرور ہے کہ مابقی منھم اثنان کے منطوق پر مفہوم کو ترجیح دی جائے اور وہ یہی ہے کہ اگر قریش میں دو بھی خلافت کے اہل ہوں گے تو کبھی خلافت سے یہ خاندان محروم نہ ہوگا مگر جب دو بھی اہل نہ رہیں تو مشیت الہی قانون انتخاب اصلح کے مطابق دوسروں کو اس کام پر مامور فرمادے گی اور قریش خلافت سے محروم ہوجائیں گے
چنانچہ تاریخ شاہد ہے کہ ایسا ہی ہوا جب دو قریش بھی دنیا میں حکمرانی کے اہل نہ رہے خلافت نے معا صفحہ الٹ دیا اور ایك قلم غیر عربی وغیر قرشی خلافت کا دور شروع ہوگیا"۔
اور کمال جسارت وبیباکی یہ کہ نام صحیح مسلم کا بھی لیا اور کہا ص۶۰:"عمدہ طریق وہ ہیں جو بخاری نے اختیار کئے ہیں لیکن کسی طریق سے بھی کوئی ایسا لفظ مروی نہیں جس سے ثابت ہو کہ مقصود پیشینگوئی نہ تھا تشریع وامر تھا"۔
الحق شوخ چشمی ہوتواتنی تو ہو۔
اولا مسلم نے یہ حدیث خود انہیں استاذ بخاری احمد بن عبداﷲ یونس سے جس نے بخاری سے سنی یوں روایت کی:
لایزال ھذاالامر فی قریش مابقی من الناس اثنان۔ ہمیشہ خلافت قریش ہی میں رہے گی جب تك دنیا میں دو آدمی بھی باقی رہیں۔
اسی طرح اسمعیلی مستخرج میں روایت کی"مابقی فی الناس اثنان"جب تك آدمیوں میں دو بھی رہیں۔یہ روایتیں روایت بخاری کی مفسر ہیں کہ"منھم"سے مراد"من الناس"ہےلاجرم مرقاۃ علی قاری میں اس کی یہی تفسیر کردی(منھم)ای من الناس(اثنان) جب تك ان میں سے یعنی آدمیوں میں سے دو بھی رہیں ولہذا امام اجل ابوزکریا نووی نے اولا مسلم کی روایتیں ذکر کیں پھر فرمایا:
وفی روایۃ البخاری مابقی منھم اثنان ھذہ الاحادیث واشباھھا دلیل ظاہران الخلافۃ مختصہ بقریش لا یجوز عقدھا لاحد من غیرھم ۔ بخاری کی روایت میں ہے کہ جب تك ان میں سے دو آدمی باقی رہیں یہ اوران کی مثل حدیثیں صریح دلیل ہیں کہ خلافت خاص قریش کے لئے ہے کوئی غیر قرشی خلیفہ نہیں کیا جاسکتا۔
چنانچہ تاریخ شاہد ہے کہ ایسا ہی ہوا جب دو قریش بھی دنیا میں حکمرانی کے اہل نہ رہے خلافت نے معا صفحہ الٹ دیا اور ایك قلم غیر عربی وغیر قرشی خلافت کا دور شروع ہوگیا"۔
اور کمال جسارت وبیباکی یہ کہ نام صحیح مسلم کا بھی لیا اور کہا ص۶۰:"عمدہ طریق وہ ہیں جو بخاری نے اختیار کئے ہیں لیکن کسی طریق سے بھی کوئی ایسا لفظ مروی نہیں جس سے ثابت ہو کہ مقصود پیشینگوئی نہ تھا تشریع وامر تھا"۔
الحق شوخ چشمی ہوتواتنی تو ہو۔
اولا مسلم نے یہ حدیث خود انہیں استاذ بخاری احمد بن عبداﷲ یونس سے جس نے بخاری سے سنی یوں روایت کی:
لایزال ھذاالامر فی قریش مابقی من الناس اثنان۔ ہمیشہ خلافت قریش ہی میں رہے گی جب تك دنیا میں دو آدمی بھی باقی رہیں۔
اسی طرح اسمعیلی مستخرج میں روایت کی"مابقی فی الناس اثنان"جب تك آدمیوں میں دو بھی رہیں۔یہ روایتیں روایت بخاری کی مفسر ہیں کہ"منھم"سے مراد"من الناس"ہےلاجرم مرقاۃ علی قاری میں اس کی یہی تفسیر کردی(منھم)ای من الناس(اثنان) جب تك ان میں سے یعنی آدمیوں میں سے دو بھی رہیں ولہذا امام اجل ابوزکریا نووی نے اولا مسلم کی روایتیں ذکر کیں پھر فرمایا:
وفی روایۃ البخاری مابقی منھم اثنان ھذہ الاحادیث واشباھھا دلیل ظاہران الخلافۃ مختصہ بقریش لا یجوز عقدھا لاحد من غیرھم ۔ بخاری کی روایت میں ہے کہ جب تك ان میں سے دو آدمی باقی رہیں یہ اوران کی مثل حدیثیں صریح دلیل ہیں کہ خلافت خاص قریش کے لئے ہے کوئی غیر قرشی خلیفہ نہیں کیا جاسکتا۔
حوالہ / References
مرقاۃ شرح مشکوٰۃ باب مناقب قریش مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۱۰/۳۳۴
شرح صحیح مسلم مع صحیح مسلم کتاب الامارۃ قدیمی کتب خانہ پشاور ۲/۱۱۹
شرح صحیح مسلم مع صحیح مسلم کتاب الامارۃ قدیمی کتب خانہ پشاور ۲/۱۱۹
حدیث کا یہی مفاد امام قسطلانی نے خود شرح روایت بخاری میں لکھاامام عینی وامام ابن حجر نے شروح بخاری میں اس حدیث کی شرح میں امام قرطبی کا قول نقل کیا اور مقرر رکھا کہ:
ای لا تنعقد الامامۃ الکبری الاالقرشی مھما وجد احدمنھم ۔ یعنی مراد حدیث یہ ہے کہ جب تك ایك قریشی بھی دنیا میں رہے دوسرے کے لئے امامت کبری ہو ہی نہیں سکتی۔
دیکھو اس روایت بخاری سے بھی ائمہ نے وہی مطلب سمجھا جو روایت مسلم میں تھا۔
ثانیا اگر تفسیر نہ مانو تعارض جانو تو متعدد کی روایت کیوں نہ ارجح ہو اور نہ سہی معارض تو ہوگی تو تمہاری سند کہ"منھم"ہے ثابت نہ رہے گی۔
ثالثا کسی پر چہ اخبار کی ایڈیٹری اور چیز ہے اور حدیث وفقہ کا سمجھنا اوروہ"من"کا ترجمہ"سے"اور"الی"کا ترجمہ"تک"سے نہیں آتا اگر ضمیر قریش کی طر ف ہوتی تو"اثنان"کی جگہ"احد"فرمایا جاتا یعنی جب تك ایك قریشی بھی رہے جس طرح ابھی امام قرطبی وامام عینی وامام عسقلانی کے لفظ سن چکے اس کی تاویل آپ حسب عادت کہ قرآن کریم میں اپنی طرف سے اضافے کرلیتے ہیں حدیث میں یہ پچربڑھاتے کہ یعنی جب تك کہ ایك قریش خلافت کا اہل رہے دو کی اہلیت پر موقوف فرمانا کیا معنیکیا خلیفہ ایك وقت میں دو بھی ہوسکتے ہیں ہرگز نہیںہاں آدمیوں کی طرف ضمیر ہوتو ضرور دو کی ضرورت تھی کہ خلافت حکومت ہے اور حکومت کو کم سے کم دو درکارایك حاکم ایك محکوماب تو آپ نے جانا کہ"منھم"کی ضمیر قریش کی طرف پھیرنا کیسی سخت جہالت تھا۔
رابعا جانے دو آخر اس قدر کے تو منکر نہیں ہوسکتے کہ صحیح مسلم میں لفظ حدیث"مابقی من الناس اثنان "ہیں اب کہاں گئی وہ آپ کی بالاخوانی کہ کسی طریق سے بھی کوئی ایسا لفظ مروی نہیںاب دیکھیں اسے کیسے پیشگوئی بناتے ہوحدیث کا ارشاد تو یہ ہے کہ"جب تك دنیا میں دو آدمی بھی ہوں خلافت قریش کے لئے ہے"اسے خبر بمعنی مزعوم مسٹر وہی ٹھہرائے گا جو اﷲ ورسول کو جھٹلائے گااور اگر اپنی پچر لیجے تو معنے یہ ہوں گے کہ جب تك دنیا میں دو آدمی بھی حکمرانی کے اہل رہیں گے خلافت قریش ہی کے قبضے میں رہے گی اب کیوں نہیں اور بھی زیادہ اچھل کر کہتے کہ یہ واقعات کے بالکل خلاف ہے خلافت صدہا سال سے قریش کے قبضے سے نکل گئی اور ہرگز کوئی وقت ایسا نہ ہوا کہ دنیا میں دو بھی حکمرانی کے اہل نہ ہوں۔کیا مسٹر اپنی تاریخ دانی تیز زبانی یہاں دکھا کر ثبوت دیں گے کہ اٹھارہ کم سات سو برس یا بلحاظ خلافت مصری گیارہ کم چار سو برس سے دنیا مں وہ شخص بھی قابل حکمرانی نہ رہے۔
ای لا تنعقد الامامۃ الکبری الاالقرشی مھما وجد احدمنھم ۔ یعنی مراد حدیث یہ ہے کہ جب تك ایك قریشی بھی دنیا میں رہے دوسرے کے لئے امامت کبری ہو ہی نہیں سکتی۔
دیکھو اس روایت بخاری سے بھی ائمہ نے وہی مطلب سمجھا جو روایت مسلم میں تھا۔
ثانیا اگر تفسیر نہ مانو تعارض جانو تو متعدد کی روایت کیوں نہ ارجح ہو اور نہ سہی معارض تو ہوگی تو تمہاری سند کہ"منھم"ہے ثابت نہ رہے گی۔
ثالثا کسی پر چہ اخبار کی ایڈیٹری اور چیز ہے اور حدیث وفقہ کا سمجھنا اوروہ"من"کا ترجمہ"سے"اور"الی"کا ترجمہ"تک"سے نہیں آتا اگر ضمیر قریش کی طر ف ہوتی تو"اثنان"کی جگہ"احد"فرمایا جاتا یعنی جب تك ایك قریشی بھی رہے جس طرح ابھی امام قرطبی وامام عینی وامام عسقلانی کے لفظ سن چکے اس کی تاویل آپ حسب عادت کہ قرآن کریم میں اپنی طرف سے اضافے کرلیتے ہیں حدیث میں یہ پچربڑھاتے کہ یعنی جب تك کہ ایك قریش خلافت کا اہل رہے دو کی اہلیت پر موقوف فرمانا کیا معنیکیا خلیفہ ایك وقت میں دو بھی ہوسکتے ہیں ہرگز نہیںہاں آدمیوں کی طرف ضمیر ہوتو ضرور دو کی ضرورت تھی کہ خلافت حکومت ہے اور حکومت کو کم سے کم دو درکارایك حاکم ایك محکوماب تو آپ نے جانا کہ"منھم"کی ضمیر قریش کی طرف پھیرنا کیسی سخت جہالت تھا۔
رابعا جانے دو آخر اس قدر کے تو منکر نہیں ہوسکتے کہ صحیح مسلم میں لفظ حدیث"مابقی من الناس اثنان "ہیں اب کہاں گئی وہ آپ کی بالاخوانی کہ کسی طریق سے بھی کوئی ایسا لفظ مروی نہیںاب دیکھیں اسے کیسے پیشگوئی بناتے ہوحدیث کا ارشاد تو یہ ہے کہ"جب تك دنیا میں دو آدمی بھی ہوں خلافت قریش کے لئے ہے"اسے خبر بمعنی مزعوم مسٹر وہی ٹھہرائے گا جو اﷲ ورسول کو جھٹلائے گااور اگر اپنی پچر لیجے تو معنے یہ ہوں گے کہ جب تك دنیا میں دو آدمی بھی حکمرانی کے اہل رہیں گے خلافت قریش ہی کے قبضے میں رہے گی اب کیوں نہیں اور بھی زیادہ اچھل کر کہتے کہ یہ واقعات کے بالکل خلاف ہے خلافت صدہا سال سے قریش کے قبضے سے نکل گئی اور ہرگز کوئی وقت ایسا نہ ہوا کہ دنیا میں دو بھی حکمرانی کے اہل نہ ہوں۔کیا مسٹر اپنی تاریخ دانی تیز زبانی یہاں دکھا کر ثبوت دیں گے کہ اٹھارہ کم سات سو برس یا بلحاظ خلافت مصری گیارہ کم چار سو برس سے دنیا مں وہ شخص بھی قابل حکمرانی نہ رہے۔
حوالہ / References
فتح الباری شرح البخاری باب الامراء من قریش مصطفی البابی مصر ۱۶/۲۳۵
صحیح مسلم کتاب الامارۃ باب الناس تبع لقریش قدیم کتب خانہ پشاور ۲/۱۱۹
صحیح مسلم کتاب الامارۃ باب الناس تبع لقریش قدیم کتب خانہ پشاور ۲/۱۱۹
خامسا اپ کے نزدیك چار سوسولہ۴۱۶ برس سے خلافت شرعیہ ترکوں میں ہے تو ضرور ہے کہ وہ سب حکمرانی کے اہل ہوں کہ نااہل خلیفہ نہیں ہوسکتا معہذا قریش سے نکالی تو ان کی نااہلی کے باعثاور پھر دی جاتی نااہلوں کویہ کون ساقانون اصلح ہےاور جب وہ اہل تھے اور ہیں تو واجب کہ چار سوسولہ۴۱۶ برس سے روئے زمین پر کوئی دوسرا انسان قابل حکمرانی نہ ہوورنہ دنیا میں دوشخص اہل حکمرانی نکلتے اور خلافت قریش سے نہ جاتیاب اس بدیہی البطلان بات کا ثبوت آپ کے ذمے سے کہ سولہ اور چار سوبرس سے تمام جہان میں سلطان ترکی کے سوا کوئی متنفس قابل حکمرانی پیدا نہ ہواکابل وبخارا وایران ومغرب وہندوستان وغیرہاتمام ملك خدامیں سب نرے نالائق گزرے پھر خدا جانے صدہا سال ان کی حکومتیں چلیں کیسےسلطان کا فرکشدین پر ور اورنگ زیب محی الملۃ والدین محمد عالمگیر بادشاہ غازی"اناراﷲ تعالی برہانہ"اگر آپ کے نزدیك اس جرم پر کہ متشرع تھے اور کفار پر غلظت رکھتے نااہل تھے تو اکبر تو نالائق نہ تھا جوآپ ہی کا ہم مشرب اور اتحاد مشرکین کا دلدادہ تھا غرض پیشگوئی بتاکر تکذیب حدیث کے سوامسٹر کو کچھ مفر نہیں۔
سادسا عــــہ آپ فرماتے ہیں تاریخ شاہد ہے کہ دو قریش بھی حکمرانی کے اہل نہ رہےکون سی تاریخ شاہد ہے کہ سات سویاچارسو برس سے تمام روئے زمین پر کوئی دو قریشی دو ہاشمی دو سید ابن الرسول صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وسلم حکمرانی کے لائق پیدا ہی نہ ہوئےفضل الہی قوم محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وخاندان صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وآل محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے صدہا سال سے اٹھالیا گیااور این وآں کو بٹتا ہے اور بٹاکیاکیا آپ کے نزدیك مدار لیاقت وقوع پر ہےجس نے حکمرانی نہ پائی نا اہل تھا جس نے پائی اہل تھا تو ضرور آپ پلید مرید خبیث عنید نجس یزید کو لائق بتائیں گے اور حضرت امام عرش مقام علی جدہ علیہ الصلوۃ والسلام کو معاذ اﷲ نالائق ٹھہرائیں گےاور جب یہ معیار نہیں بلکہ صفات ذاتیہ پر مدار ہے تو کیا آپ نے سات سو۷۰۰ یاچار سو۴۰۰ برس سے آج تك کے تمام قریشیوں کی جانچ کرلی ہے کہ نالائق تھےچار سو برس چھوڑ ئیے کسی ایك برس کے سب قریشی جانے دیجئے صرف بنی ھاشمسب بنی ہاشم بھی نہیں صرف سادات کرام کے فقط نام گنا دیجئے کہ جہان میں اس سال یہ یہ سید تھےنام گنانا بھی نہ سہی فقط کسی سال کے تمام سادات کی مردم شماری بتادیجئےجب اس قدر پر قادر نہیں تو سات سو۷۰۰ یا چار سو۴۰۰ برس کے تمام عالم کے تمام قریشیوں کی جانچ آپ نے ضرور کرلی اور معلوم کرلیا کہ سب
عــــہ:یہ بھی جانے دو وہی منھم والی روایت اور قریش کی طرف ضمیراور وہی پچر لو زبان کے آگے بارہ ہل چلتے ہیں ادعا آسان ہے ثبوت دیتے دام کھلتے ہیں"ھاتوابرھانکم ان کنتم صدقین"اپنی برہان لاؤ اگر سچے ہو۱۲ حشمت علی رضوی غفرلہ۔
سادسا عــــہ آپ فرماتے ہیں تاریخ شاہد ہے کہ دو قریش بھی حکمرانی کے اہل نہ رہےکون سی تاریخ شاہد ہے کہ سات سویاچارسو برس سے تمام روئے زمین پر کوئی دو قریشی دو ہاشمی دو سید ابن الرسول صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وسلم حکمرانی کے لائق پیدا ہی نہ ہوئےفضل الہی قوم محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وخاندان صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وآل محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے صدہا سال سے اٹھالیا گیااور این وآں کو بٹتا ہے اور بٹاکیاکیا آپ کے نزدیك مدار لیاقت وقوع پر ہےجس نے حکمرانی نہ پائی نا اہل تھا جس نے پائی اہل تھا تو ضرور آپ پلید مرید خبیث عنید نجس یزید کو لائق بتائیں گے اور حضرت امام عرش مقام علی جدہ علیہ الصلوۃ والسلام کو معاذ اﷲ نالائق ٹھہرائیں گےاور جب یہ معیار نہیں بلکہ صفات ذاتیہ پر مدار ہے تو کیا آپ نے سات سو۷۰۰ یاچار سو۴۰۰ برس سے آج تك کے تمام قریشیوں کی جانچ کرلی ہے کہ نالائق تھےچار سو برس چھوڑ ئیے کسی ایك برس کے سب قریشی جانے دیجئے صرف بنی ھاشمسب بنی ہاشم بھی نہیں صرف سادات کرام کے فقط نام گنا دیجئے کہ جہان میں اس سال یہ یہ سید تھےنام گنانا بھی نہ سہی فقط کسی سال کے تمام سادات کی مردم شماری بتادیجئےجب اس قدر پر قادر نہیں تو سات سو۷۰۰ یا چار سو۴۰۰ برس کے تمام عالم کے تمام قریشیوں کی جانچ آپ نے ضرور کرلی اور معلوم کرلیا کہ سب
عــــہ:یہ بھی جانے دو وہی منھم والی روایت اور قریش کی طرف ضمیراور وہی پچر لو زبان کے آگے بارہ ہل چلتے ہیں ادعا آسان ہے ثبوت دیتے دام کھلتے ہیں"ھاتوابرھانکم ان کنتم صدقین"اپنی برہان لاؤ اگر سچے ہو۱۲ حشمت علی رضوی غفرلہ۔
نالائق تھے اور اب تك سب نالائق ہیںافسوس آپ کا مبلغ علم یہی تاریخی کہانیاں تھا ان پر بھی ایسا جیتا افترا جوڑا تاریخیں ہزار بے تکی ہوں ایسا پورے نشے کا ہذیان بکتے انہیں بھی مار آئے گی۔
سابعا فصل اول میں ائمہ کی تصریحیں گزریں کہ یہ حدیث خبر بمعنے امر ہے اسے آپ نہیں مانتے کہ پیروی ائمہ آپ کی شان انانیت کو زہر ہے نہ سہی خبر کیا پیشگوئی میں منحصر ہے جو محض خلاف واقع ہواور اپنی طرف سے پچر لگانے کی ضرورت پڑےکیوں نہ کہئے جس طرح امام قرطبی اور امام عینی وامام عسقلانی سے گزرا کہ یہ خبر تشریعی ہے جو عین منصب شارع صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ہے اور اصلا محتاج تاویل نہیں یعنی خلافت شرعیہ ہمیشہ قریش میں رہیگی ان کے غیر کی حکومت کبھی خلافت شرعیہ نہ ہوگییہ خلافت کے لئے لزوم قرشیت سے خبر ہوئی نہ کہ بلافصل استمرار خلافت سے جسے خلاف واقعات کہئےمثلا گلاب کا کھلنا ہمیشہ موسم بہار میں ہے اس کے یہ معنی کہ پھول جب کھلے گا بہار ہی میں کھلے گا نہ یہ کہ گلاب سدا گلاب ہے اور بہار بارہ مہینے۔
ثامنا اقول بلا فصل استمرار ہی لیجئے تو کیوں نہ ہو کہ ھذا الامر سے مراد استحقاق خلافت ہو اور وہ بلاشبہہ قریش میں مستمر اور انہیں میں منحصر ہے جس طرح امام عسقلانی سے گزرا کہ استحقاق خلافت قریش ہی کو ہے ان کا غیر نہ ہوگا مگر متغلب۔
(۵۱)مسٹر نے یونہیں دوسری حدیث"الائمہ من قریش"سے تشریع اڑانے اور نری خبر بنانے کے لئے کیا کیا ڈوبتے سوار پکڑے ہیں ص۶۳:"صحیح بخاری کے ترجمہ باب سے صاف واضح ہے کہ امام بخاری کا بھی مذہب یہی ہے انہوں نے باب باندھا(الامراء من قریش)قریش میں امارت وامراء۔اس مضمون کا باب نہ باندھا کہ امارت ہمیشہ قریش ہی میں ہونی چاہئے۔"سبحان اﷲ! زہے مسٹری و لیڈری وایڈیٹری۔امام بخاری کی عادت ہے کہ الفاظ حدیث سے ترجمہ باب کرتے ہیں نیز وہ الفاظ جو ان کی شرط پر نہ ہوں ترجمہ سے ان کا پتا دیتے ہیں حدیث انہیں لفظوں سے تھی انہیں سے باب باندھانیز یہ لفظ ان کی شرط پرتھے ترجمہ سے ان کا اشعار کیااس سے یہ سمجھ لینا کہ امام بخاری کا مذہب یہ ہے اور پھر اس پر یہ تحکم کہ"صاف واضح ہے"کس درجہ جہل فاضل ہےفتح الباری شرح بخاری میں ہے:
لفظ الترجمۃ لفظ حدیث اخرجہ یعقوب بن سفین وابویعلی والطبرانی ۔ ترجمہ باب کی عبارت اس حدیث کے لفظ ہیں جو یعقوب بن سفین وابویعلی وطبرانی نے ابوبرزہ اسلمی رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کی۔
سابعا فصل اول میں ائمہ کی تصریحیں گزریں کہ یہ حدیث خبر بمعنے امر ہے اسے آپ نہیں مانتے کہ پیروی ائمہ آپ کی شان انانیت کو زہر ہے نہ سہی خبر کیا پیشگوئی میں منحصر ہے جو محض خلاف واقع ہواور اپنی طرف سے پچر لگانے کی ضرورت پڑےکیوں نہ کہئے جس طرح امام قرطبی اور امام عینی وامام عسقلانی سے گزرا کہ یہ خبر تشریعی ہے جو عین منصب شارع صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ہے اور اصلا محتاج تاویل نہیں یعنی خلافت شرعیہ ہمیشہ قریش میں رہیگی ان کے غیر کی حکومت کبھی خلافت شرعیہ نہ ہوگییہ خلافت کے لئے لزوم قرشیت سے خبر ہوئی نہ کہ بلافصل استمرار خلافت سے جسے خلاف واقعات کہئےمثلا گلاب کا کھلنا ہمیشہ موسم بہار میں ہے اس کے یہ معنی کہ پھول جب کھلے گا بہار ہی میں کھلے گا نہ یہ کہ گلاب سدا گلاب ہے اور بہار بارہ مہینے۔
ثامنا اقول بلا فصل استمرار ہی لیجئے تو کیوں نہ ہو کہ ھذا الامر سے مراد استحقاق خلافت ہو اور وہ بلاشبہہ قریش میں مستمر اور انہیں میں منحصر ہے جس طرح امام عسقلانی سے گزرا کہ استحقاق خلافت قریش ہی کو ہے ان کا غیر نہ ہوگا مگر متغلب۔
(۵۱)مسٹر نے یونہیں دوسری حدیث"الائمہ من قریش"سے تشریع اڑانے اور نری خبر بنانے کے لئے کیا کیا ڈوبتے سوار پکڑے ہیں ص۶۳:"صحیح بخاری کے ترجمہ باب سے صاف واضح ہے کہ امام بخاری کا بھی مذہب یہی ہے انہوں نے باب باندھا(الامراء من قریش)قریش میں امارت وامراء۔اس مضمون کا باب نہ باندھا کہ امارت ہمیشہ قریش ہی میں ہونی چاہئے۔"سبحان اﷲ! زہے مسٹری و لیڈری وایڈیٹری۔امام بخاری کی عادت ہے کہ الفاظ حدیث سے ترجمہ باب کرتے ہیں نیز وہ الفاظ جو ان کی شرط پر نہ ہوں ترجمہ سے ان کا پتا دیتے ہیں حدیث انہیں لفظوں سے تھی انہیں سے باب باندھانیز یہ لفظ ان کی شرط پرتھے ترجمہ سے ان کا اشعار کیااس سے یہ سمجھ لینا کہ امام بخاری کا مذہب یہ ہے اور پھر اس پر یہ تحکم کہ"صاف واضح ہے"کس درجہ جہل فاضل ہےفتح الباری شرح بخاری میں ہے:
لفظ الترجمۃ لفظ حدیث اخرجہ یعقوب بن سفین وابویعلی والطبرانی ۔ ترجمہ باب کی عبارت اس حدیث کے لفظ ہیں جو یعقوب بن سفین وابویعلی وطبرانی نے ابوبرزہ اسلمی رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کی۔
حوالہ / References
فتح الباری شرح البخاری باب الامراء من قریش مصطفی البابی مصر ۱۶/۲۳۰
پھر فرمایا:
لما لم یکن شیئ منھا علی شرط المصنف اقتصر علی الترجمۃ واوردالذی صح علی شرط۔ یہ روایتیں شروط بخاری پر نہ تھیں لہذا ان الفاظ کو ترجمہ میں لانے پر اقتصار کیا اور ان کے مؤید وہ حدیثیں لائے جو ان کی شرط پر تھیں
(۵۲)ص ۶۱"ایك اور حدیث ہے کہ ضرور ہے کہ بارہ خلیفہ ہوں سب قریش سے ہوں گے اس طرزبیان نے ظاہر کردیا کہ اس بارے میں جو کچھ کہا ہے اس سے صرف آیندہ کی اطلاع مقصود ہے حکم وتشریع نہیں۔"بارہ خلافتوں کی پیشگوئی اگر خبر ہے تو دنیا بھر کی حدیثیں سب خبرہیں اس زبردستی ودیدہ دلیری کی کوئی حد ہے یعنی شارع سے جب کسی امر کے بارے میں کچھ پیشگوئی فرمائے تو اس میں جتنی حدیثیں ہیں سب حکم شرعی سے خالی ہوجاتی ہیں اور سب کو بزور زبان اگرچہ اپنی طرف سے پچریں لگا کر خبر پر ڈھال دینا واجب ہوجاتا ہے ارشاد اقدس:
قدمواقریشا ولاتقدموھا ۔ قریش کو مقدم رکھو اور ان پر تقدم نہ کرو۔
یہ بھی امرونہی نہیں خبر ہوگا کیونکہ ان کی"صرف دانی"میں"قدموا"صیغہ مضارع ہے اور"لاتقدموا"صیغہ ماضیبات وہی کہ یتشبث بکل حشیش۔
(۵۳تا۵۴)ص۶۲"ائمہ حدیث نے حدیث قحطانی وحدیث قریش میں تطبیق دیتے ہوئے صاف صاف لکھ دیا کہ امارت قریش والی روایت تشریع نہیں محض خبر ہے"
اولا یہ عیاری و چالاکی ملاحظہ ہو امارت قریش والی روایت میں کہا جس سے حدیث الامراء من قریش و حدیث الائمۃ من قریش و حدیث لایزال ھذاالامر فی قریش کی طرف ذہن جائے حالانکہ ائمہ حدیث نے ہر گز نہ کہا کہ ان سے تشریع ثابت نہیں نری خبر ہیں زیرنمبر ۴۲کتب کثیرہ کے نام گنا چکا ہوں ان کی عبارتیں فصل اول میں دیکھئے اور اس کذب صریح سے توبہ کیجئےائمہ حدیث کی اگرمانتے ہو تو ان کی ان روشن تصریحوں سے کیوں منکر ہو۔
ثانیا ائمہ نے حدیث قحطانی سے جس حدیث کی تطبیق دی وہ یہ ہے:
ان ھذا الامرفی قریش لایعادیھم احد الااکبہ اﷲ علی وجہہ مااقاموا بیشك یہ امر قریش میں ہے جو ان سے عداوت کرے گا اﷲ اسے اوندھے منہ گرائے گاجب تك قریش
لما لم یکن شیئ منھا علی شرط المصنف اقتصر علی الترجمۃ واوردالذی صح علی شرط۔ یہ روایتیں شروط بخاری پر نہ تھیں لہذا ان الفاظ کو ترجمہ میں لانے پر اقتصار کیا اور ان کے مؤید وہ حدیثیں لائے جو ان کی شرط پر تھیں
(۵۲)ص ۶۱"ایك اور حدیث ہے کہ ضرور ہے کہ بارہ خلیفہ ہوں سب قریش سے ہوں گے اس طرزبیان نے ظاہر کردیا کہ اس بارے میں جو کچھ کہا ہے اس سے صرف آیندہ کی اطلاع مقصود ہے حکم وتشریع نہیں۔"بارہ خلافتوں کی پیشگوئی اگر خبر ہے تو دنیا بھر کی حدیثیں سب خبرہیں اس زبردستی ودیدہ دلیری کی کوئی حد ہے یعنی شارع سے جب کسی امر کے بارے میں کچھ پیشگوئی فرمائے تو اس میں جتنی حدیثیں ہیں سب حکم شرعی سے خالی ہوجاتی ہیں اور سب کو بزور زبان اگرچہ اپنی طرف سے پچریں لگا کر خبر پر ڈھال دینا واجب ہوجاتا ہے ارشاد اقدس:
قدمواقریشا ولاتقدموھا ۔ قریش کو مقدم رکھو اور ان پر تقدم نہ کرو۔
یہ بھی امرونہی نہیں خبر ہوگا کیونکہ ان کی"صرف دانی"میں"قدموا"صیغہ مضارع ہے اور"لاتقدموا"صیغہ ماضیبات وہی کہ یتشبث بکل حشیش۔
(۵۳تا۵۴)ص۶۲"ائمہ حدیث نے حدیث قحطانی وحدیث قریش میں تطبیق دیتے ہوئے صاف صاف لکھ دیا کہ امارت قریش والی روایت تشریع نہیں محض خبر ہے"
اولا یہ عیاری و چالاکی ملاحظہ ہو امارت قریش والی روایت میں کہا جس سے حدیث الامراء من قریش و حدیث الائمۃ من قریش و حدیث لایزال ھذاالامر فی قریش کی طرف ذہن جائے حالانکہ ائمہ حدیث نے ہر گز نہ کہا کہ ان سے تشریع ثابت نہیں نری خبر ہیں زیرنمبر ۴۲کتب کثیرہ کے نام گنا چکا ہوں ان کی عبارتیں فصل اول میں دیکھئے اور اس کذب صریح سے توبہ کیجئےائمہ حدیث کی اگرمانتے ہو تو ان کی ان روشن تصریحوں سے کیوں منکر ہو۔
ثانیا ائمہ نے حدیث قحطانی سے جس حدیث کی تطبیق دی وہ یہ ہے:
ان ھذا الامرفی قریش لایعادیھم احد الااکبہ اﷲ علی وجہہ مااقاموا بیشك یہ امر قریش میں ہے جو ان سے عداوت کرے گا اﷲ اسے اوندھے منہ گرائے گاجب تك قریش
حوالہ / References
فتح الباری شرح البخار ی بابالامراء من قریش مصطفی البابی مصر ۱۶/۲۳۱
کنز العمال حدیث ۳۳۷۸۹،۳۳۷۹۰،۳۳۷۹۱ بحوالہ البزار وابن عدی وطبرانی موسسۃ الرسالہ بیروت ۱۲/۲۲
کنز العمال حدیث ۳۳۷۸۹،۳۳۷۹۰،۳۳۷۹۱ بحوالہ البزار وابن عدی وطبرانی موسسۃ الرسالہ بیروت ۱۲/۲۲
الدین ۔ دین قائم رکھیں۔
اسے اگر خبر بتایا کہ یہ اقامت دین سے مقید ہے تو احادیث مطلقہ کا خبر ہوجانا کیوں لازم آیا وہ تشریع ہیں اور اپنے اطلاق پر یعنی شرعا خلافت صرف قریش کےلئے ہے اور یہ خبر ہے اور مقید ہے یعنی وہ اپنے حق سے بہرہ مند رہیں گے جب تك دین قائم رکھیںجب اسے چھوڑیں گے خلافت جاتی رہے گی۔
ثالثا عجب ہے کہ ایك حدیث خاص میں دو چار شراح نے جو لکھا وہ تو ان کا دامن پکڑ کر سب احادیث کو بزور زبان عام کرلیا جائے اور خود ان باقی احادیث میں جو ان کی عام جماعتوں نے لکھا اورمذہب اہل سنت واجماع صحابہ بتایا وہ انہیں کے کلام سے رد کردیا جائےاور کیا" یحرفون الکلم عن مواضعہ" کے سر پرسینگ ہوتے ہیںقرآن عظیم نے اسے خصلت یہود بتایا کہ بات کو اس کی جگہ سے پھیر دیتے ہیں۔
رابعا جب جماعت ائمہ حدیث کی روشن و قاہر تصریحات حتی کہ اجماع صحابہ وعقیدہ اہل سنت مقبول نہ ہوتو ایك حدیث خاص میں ایك خاص وجہ سے ان کے دوچار کا کہنا کیوں حجت ہوآپ تو مجتہدین سے بھی اونچے اڑتے ہیںان دوچار ٹھیٹ مقلدوں کا دامن نہ تھامئےحدیث سے چلئےحدیث میں"مااقاموا الدین"بعدجملہ"لایعادیھم احد الا اکبہ اﷲ"ہےاسی سے کیوں نہ متعلق ہو اس سے توڑ کر دور کے جملہ"ان ھذا الامر فی قریش"سے کیوں جوڑدیاجائے وہ اپنے اطلاق پر رہے اور یہ قید اسی جملہ میں ہو جس سے یہ متصل ہے تو معنی حدیث یہ ہیں کہ بیشك شرعی خلافت قریش میں منحصر ہے دوسرا شخص خلیفہ نہیں ہوسکتا اور قریش جب تك دین قائم رکھیں گے ان کا مخالف ذلیل و رسوا ہوگا اب اپنے اجتہاد کی خبریں کہئے۔
(۵۷ تا۶۰)حدیث جلیل"الائمۃ من قریش"پر ایك ہاتھ من حیث السند بھی صاف کیاص۶۴"یہ الفاظ اور حضرت ابوبکر والی روایت بطریق اتصال ثابت ہی نہیںفتح الباری میں ہے:
الائمۃ من القریش عــــہ رجالہ رجال الصحیح ولکن فی سندہ انقطاع ۔ حدیث"الائمۃ من قریش"کے تمام راوی صحیح حدیث کے راوی ہیں لیکن اس کی سند میں انقطاع ہے(ت)
عــــہ:نہ فتح الباری میں"من القریش"ہے نہ حدیث میںپہلے بھی آپ نے اپنے کلام میں حدیث ان لفظوں سے لکھ کر رسول اﷲ صلی ا ﷲ تعالی علیہ وسلم کی طرف نسبت کی تھی مگر امام ابن حجر پر تو اس افترا علی المصطفی کی تہمت نہ رکھئے۱۲منہ غفرلہ۔
اسے اگر خبر بتایا کہ یہ اقامت دین سے مقید ہے تو احادیث مطلقہ کا خبر ہوجانا کیوں لازم آیا وہ تشریع ہیں اور اپنے اطلاق پر یعنی شرعا خلافت صرف قریش کےلئے ہے اور یہ خبر ہے اور مقید ہے یعنی وہ اپنے حق سے بہرہ مند رہیں گے جب تك دین قائم رکھیںجب اسے چھوڑیں گے خلافت جاتی رہے گی۔
ثالثا عجب ہے کہ ایك حدیث خاص میں دو چار شراح نے جو لکھا وہ تو ان کا دامن پکڑ کر سب احادیث کو بزور زبان عام کرلیا جائے اور خود ان باقی احادیث میں جو ان کی عام جماعتوں نے لکھا اورمذہب اہل سنت واجماع صحابہ بتایا وہ انہیں کے کلام سے رد کردیا جائےاور کیا" یحرفون الکلم عن مواضعہ" کے سر پرسینگ ہوتے ہیںقرآن عظیم نے اسے خصلت یہود بتایا کہ بات کو اس کی جگہ سے پھیر دیتے ہیں۔
رابعا جب جماعت ائمہ حدیث کی روشن و قاہر تصریحات حتی کہ اجماع صحابہ وعقیدہ اہل سنت مقبول نہ ہوتو ایك حدیث خاص میں ایك خاص وجہ سے ان کے دوچار کا کہنا کیوں حجت ہوآپ تو مجتہدین سے بھی اونچے اڑتے ہیںان دوچار ٹھیٹ مقلدوں کا دامن نہ تھامئےحدیث سے چلئےحدیث میں"مااقاموا الدین"بعدجملہ"لایعادیھم احد الا اکبہ اﷲ"ہےاسی سے کیوں نہ متعلق ہو اس سے توڑ کر دور کے جملہ"ان ھذا الامر فی قریش"سے کیوں جوڑدیاجائے وہ اپنے اطلاق پر رہے اور یہ قید اسی جملہ میں ہو جس سے یہ متصل ہے تو معنی حدیث یہ ہیں کہ بیشك شرعی خلافت قریش میں منحصر ہے دوسرا شخص خلیفہ نہیں ہوسکتا اور قریش جب تك دین قائم رکھیں گے ان کا مخالف ذلیل و رسوا ہوگا اب اپنے اجتہاد کی خبریں کہئے۔
(۵۷ تا۶۰)حدیث جلیل"الائمۃ من قریش"پر ایك ہاتھ من حیث السند بھی صاف کیاص۶۴"یہ الفاظ اور حضرت ابوبکر والی روایت بطریق اتصال ثابت ہی نہیںفتح الباری میں ہے:
الائمۃ من القریش عــــہ رجالہ رجال الصحیح ولکن فی سندہ انقطاع ۔ حدیث"الائمۃ من قریش"کے تمام راوی صحیح حدیث کے راوی ہیں لیکن اس کی سند میں انقطاع ہے(ت)
عــــہ:نہ فتح الباری میں"من القریش"ہے نہ حدیث میںپہلے بھی آپ نے اپنے کلام میں حدیث ان لفظوں سے لکھ کر رسول اﷲ صلی ا ﷲ تعالی علیہ وسلم کی طرف نسبت کی تھی مگر امام ابن حجر پر تو اس افترا علی المصطفی کی تہمت نہ رکھئے۱۲منہ غفرلہ۔
حوالہ / References
صحیح البخاری کتاب المناقب باب مناقب قریش قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/۴۹۷
القرآن الکریم ۵ /۱۳
فتح الباری شرح صحیح البخاری باب الامر من قریش مصطفی البابی مصر ۱۶/۲۳۱
القرآن الکریم ۵ /۱۳
فتح الباری شرح صحیح البخاری باب الامر من قریش مصطفی البابی مصر ۱۶/۲۳۱
اولا فتح الباری میں یہ حدیث متعدد الفاظ وکثیر طرق سے حضرت ابوبرزہ اسلمی و حضرت امیرالمومنین مولی علی وحضرت انس بن مالك وحضرت ابوہریرہ وحضرت صدیق اکبر رضی اﷲ تعالی عنہم سے بروایت یعقوب بن سفین وابویعلی وطبرانی وابوداؤد طیالسی وبزار وتاریخ امام بخاری و نسائی وامام احمد وحاکم ذکر کییہ لفظ کہ اس کی سند کے رجال ثقہ ہیں مگر اس میں انقطاع ہے صرف صدیق اکبر سے روایت احمدکی نسبت لکھے ہیں کہ مسند احمد میں صدیق سے اس کے راوی حضرت عبدالرحمن بن عوف احدالعشرۃ المبشرۃ رضی اﷲ تعالی عنہم کے صاحبزادہ امام ثقہ تابعی جلیل حضرت حمید بن عبدالرحمن ہیں ان کے صدیق اکبر سے سماع نہیں۔فتح الباری کی عبارت ملخصا یہ ہے احادیث ابوبرزہ ومولی علی وبعض طرق حدیث انس ذکر کرکے کہا:
واخرجہ النسائی والبخاری ایضا فی التاریخ وابو یعلی من طریق بکیر الجزری عن انس ولہ طرق متعددۃ عن انسواخرج احمد ھذااللفظ من حدیث ابی ھریرۃ ومن حدیث ابی بکر الصدیق و رجالہ رجال الصحیح لکن فی سندہ انقطاع واخرجہ الطبرانی والحاکم من حدیث علی بھذا اللفط الاخیر ۔ یعنی نیز یہ حدیث امام نسائی اور امام بخاری نے تاریخ میں اور ابویعلی نے بروایت بکیر جزری حضرت انس رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کی اور امام احمد نے یہی لفظ الائمۃ من قریش حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ کے حدیث سے روایت کئے اور حضرت صدیق اکبر رضی اﷲ تعالی عنہ کی حدیث سے اور اس کے رجال رجال صحیح ہیں مگر اس کی سند میں انقطاع ہےاور یہ حدیث طبرانی وحاکم نے مولی علی کرم اﷲ تعالی وجہہ سے روایت کی انہیں لفظوں سے کہ"الائمۃ من قریش"۔
مسٹر نے اول آخر سب اڑا کر مطلقا اس حدیث ہی پر حکم لگا دیا کہ فتح الباری میں اس کی سند منقطع بتائی یہ کیسی خیانت ہے۔
ثانیا فصل اول میں گزرا کہ انہیں صاحب فتح الباری امام ابن حجر نے اسی حدیث"الائمۃ من قریش"کے جمع طرق میں ایك مستقل رسالہ لکھا اور اسے چالیس کے قریب صحابہ کرام رضی اﷲ تعالی عنہم کی روایت سے دکھایا حدیث متواتر کو کہنا کہ بطریق اتصال ثابت ہی نہیں کیسا ظلم شدید و اغوائے جہال ہے اور پھر انہیں ابن حجر پر اس کے متن کے منقطع السندبتانے کی تہمت کیسی جرأت پروبال ہے۔
ثالثا طرفہ یہ کہ خود ہی ص۵۶پر کہہ چکے تھے"احادیث اس بارے میں جس قدر موجود ہیں
واخرجہ النسائی والبخاری ایضا فی التاریخ وابو یعلی من طریق بکیر الجزری عن انس ولہ طرق متعددۃ عن انسواخرج احمد ھذااللفظ من حدیث ابی ھریرۃ ومن حدیث ابی بکر الصدیق و رجالہ رجال الصحیح لکن فی سندہ انقطاع واخرجہ الطبرانی والحاکم من حدیث علی بھذا اللفط الاخیر ۔ یعنی نیز یہ حدیث امام نسائی اور امام بخاری نے تاریخ میں اور ابویعلی نے بروایت بکیر جزری حضرت انس رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کی اور امام احمد نے یہی لفظ الائمۃ من قریش حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ کے حدیث سے روایت کئے اور حضرت صدیق اکبر رضی اﷲ تعالی عنہ کی حدیث سے اور اس کے رجال رجال صحیح ہیں مگر اس کی سند میں انقطاع ہےاور یہ حدیث طبرانی وحاکم نے مولی علی کرم اﷲ تعالی وجہہ سے روایت کی انہیں لفظوں سے کہ"الائمۃ من قریش"۔
مسٹر نے اول آخر سب اڑا کر مطلقا اس حدیث ہی پر حکم لگا دیا کہ فتح الباری میں اس کی سند منقطع بتائی یہ کیسی خیانت ہے۔
ثانیا فصل اول میں گزرا کہ انہیں صاحب فتح الباری امام ابن حجر نے اسی حدیث"الائمۃ من قریش"کے جمع طرق میں ایك مستقل رسالہ لکھا اور اسے چالیس کے قریب صحابہ کرام رضی اﷲ تعالی عنہم کی روایت سے دکھایا حدیث متواتر کو کہنا کہ بطریق اتصال ثابت ہی نہیں کیسا ظلم شدید و اغوائے جہال ہے اور پھر انہیں ابن حجر پر اس کے متن کے منقطع السندبتانے کی تہمت کیسی جرأت پروبال ہے۔
ثالثا طرفہ یہ کہ خود ہی ص۵۶پر کہہ چکے تھے"احادیث اس بارے میں جس قدر موجود ہیں
حوالہ / References
فتح الباری شرح صحیح البخاری باب الامراء من قریش مصطفی البابی مصر ۱۶/۲۳۱
سب صحیح ہیں"۔اب یہاں یہ کہ"بطریق اتصال ثابت ہی نہیں"چار ہی ورق بعد"نسی ما قدمت یدہ"(اپنے ہاتھوں پیش کیا ہوا بھول گیا۔ت)
رابعا وہیں اس کے متصل تھا"یہ بھی حق ہے کہ حضرت ابوبکرنے مجمع صحابہ میں اس کو پیش کیااور کسی نے انکار نہ کیا"اب حق کی سند میں بھی کلام ہونے لگااگر یہ کلام اس کے حق ہونے میں خلل انداز ہے تو حق کرنا ناحق بنانے کی کوشش کرنے والا کون ہوتا ہے اور اگر اس سے اس کے حق ہونے پر کچھ حرف نہیں آتا تو رد واعتراض کےلئے کہنا"اس سے بھی شرعا اختصاص قریش کے دعوی کی کوئی مدد نہیں مل سکتی اولا یہ الفاظ اور حضرت ابوبکر والی روایت بطریق اتصال ثابت ہی نہیں"کیسا اغرائے جہال ہے۔یہ ہے کہ مسٹر حدیث دانی اور ارشاد نبوت پر ظلم رانیولاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم
مسئلہ۲۵تا۲۹: از شہر بنارس محلہ کچی باغ مرسلہ محمد امان اﷲ مدرس مدرسہ مظہر العلوم ۸شعبان ۱۳۳۲ھ
بسم اﷲ الرحمن الرحیم
ماقولکم ایھا العلماء الکرام دام فضلکم(اے علماء کرام اﷲ تمہیں بزرگی عطافرمائے اس بارے میں تمہارا کیا قو ل ہے۔ت)ایك عورت بالغہ کافرہ دختر ہنود کا بیاہ اس کی قوم کے ایك مردسے ہواپر قبل ملاقات ویکجا ہونے و بات چیت ہونے کے اس مرد سےباپ عورت مذکورہ کا بعضی خرابیوں کے خیال سے اس مرد ہنود سے دختر کو اپنی چھڑالایااور اس مرد ہنود نے عورت مذکورہ کو چھوڑ کر دوسرا بیاہ اپنی قوم میں کرلیاعورت مذکورہ بعد اس کے کئی سال ماں باپ کے یہاں رہ کر محنت مزدوری سے بسر اوقات کرتی تھیاسی حالت میں اسے توفیق قبول اسلام کی ملیماں باپ سے پوشیدہ اسلام لاکر ایك مسلمان سے اس نے بہ گواہی دومرد مسلمان بالغ عاقل کے نکاح کرلیانکاح کے ایك سال کے بعد اس ناکح سے اس عورت کو ایك دختر پیدا ہوئیجس کی عمر اس وقت پانچ سال سے متجاوز ہے اور وہ دختر اپنی ماں کے ساتھ اس مکان میں رہا کرتی ہے جس مکان کو ناکح کے باپ نے اس دختر اور اس کی ماں کے رہنے کو دیا ہے بسبب اسلام لانے اور مسلمان سے نکاح کرنے کے اس عورت کے ماں باپ بہنیں کافرہ کو رنج وعناد ہوابہت کچھ فکر اس کے پھیرنے کی اسلام سے اور مردسے چھڑانے کی کرکے سب طرح عاجز ہوکر اب کہ اس دختر کا کان بطریقہ رواج مسلماناں چھدوایا گیا اور اس کی دینی تعلیم دینے کا ارادہ ماں باپ نے اس کے ظاہر کیاعناد ماں باپ بہنیں کافرہ کا اس عورت نومسلمہ سے بڑھ گیاکمال عناد سے اس دختر کے ہندو بنانے کی فکر میں ہو کر یہ افتراء شروع کیا ہے کہ دختر مذکورہ کو محض جھوٹ وغلط مرد ہندو کی طرف منسوب کرتے ہیں جس سے مادر دختر کو گاہے اتفاق ملاقات ویکجا ہونے و بات چیت
رابعا وہیں اس کے متصل تھا"یہ بھی حق ہے کہ حضرت ابوبکرنے مجمع صحابہ میں اس کو پیش کیااور کسی نے انکار نہ کیا"اب حق کی سند میں بھی کلام ہونے لگااگر یہ کلام اس کے حق ہونے میں خلل انداز ہے تو حق کرنا ناحق بنانے کی کوشش کرنے والا کون ہوتا ہے اور اگر اس سے اس کے حق ہونے پر کچھ حرف نہیں آتا تو رد واعتراض کےلئے کہنا"اس سے بھی شرعا اختصاص قریش کے دعوی کی کوئی مدد نہیں مل سکتی اولا یہ الفاظ اور حضرت ابوبکر والی روایت بطریق اتصال ثابت ہی نہیں"کیسا اغرائے جہال ہے۔یہ ہے کہ مسٹر حدیث دانی اور ارشاد نبوت پر ظلم رانیولاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم
مسئلہ۲۵تا۲۹: از شہر بنارس محلہ کچی باغ مرسلہ محمد امان اﷲ مدرس مدرسہ مظہر العلوم ۸شعبان ۱۳۳۲ھ
بسم اﷲ الرحمن الرحیم
ماقولکم ایھا العلماء الکرام دام فضلکم(اے علماء کرام اﷲ تمہیں بزرگی عطافرمائے اس بارے میں تمہارا کیا قو ل ہے۔ت)ایك عورت بالغہ کافرہ دختر ہنود کا بیاہ اس کی قوم کے ایك مردسے ہواپر قبل ملاقات ویکجا ہونے و بات چیت ہونے کے اس مرد سےباپ عورت مذکورہ کا بعضی خرابیوں کے خیال سے اس مرد ہنود سے دختر کو اپنی چھڑالایااور اس مرد ہنود نے عورت مذکورہ کو چھوڑ کر دوسرا بیاہ اپنی قوم میں کرلیاعورت مذکورہ بعد اس کے کئی سال ماں باپ کے یہاں رہ کر محنت مزدوری سے بسر اوقات کرتی تھیاسی حالت میں اسے توفیق قبول اسلام کی ملیماں باپ سے پوشیدہ اسلام لاکر ایك مسلمان سے اس نے بہ گواہی دومرد مسلمان بالغ عاقل کے نکاح کرلیانکاح کے ایك سال کے بعد اس ناکح سے اس عورت کو ایك دختر پیدا ہوئیجس کی عمر اس وقت پانچ سال سے متجاوز ہے اور وہ دختر اپنی ماں کے ساتھ اس مکان میں رہا کرتی ہے جس مکان کو ناکح کے باپ نے اس دختر اور اس کی ماں کے رہنے کو دیا ہے بسبب اسلام لانے اور مسلمان سے نکاح کرنے کے اس عورت کے ماں باپ بہنیں کافرہ کو رنج وعناد ہوابہت کچھ فکر اس کے پھیرنے کی اسلام سے اور مردسے چھڑانے کی کرکے سب طرح عاجز ہوکر اب کہ اس دختر کا کان بطریقہ رواج مسلماناں چھدوایا گیا اور اس کی دینی تعلیم دینے کا ارادہ ماں باپ نے اس کے ظاہر کیاعناد ماں باپ بہنیں کافرہ کا اس عورت نومسلمہ سے بڑھ گیاکمال عناد سے اس دختر کے ہندو بنانے کی فکر میں ہو کر یہ افتراء شروع کیا ہے کہ دختر مذکورہ کو محض جھوٹ وغلط مرد ہندو کی طرف منسوب کرتے ہیں جس سے مادر دختر کو گاہے اتفاق ملاقات ویکجا ہونے و بات چیت
کرنیکا بھی موقع نہیں ہوا اور بناء بر اس افترا کے اس دختر کے اس کے ماں باپ سے چھڑاکر اپنے یہاں لے جاکر ہندو بناکر ہنود سے شادی بیاہ اس کا کرنا چاہتے ہیںبعضے ہنود جو تعصب مذہبی رکھتے ہیں اور بعضے وہ مسلمانان جن کو ماں باپ بہنیں کافرہ مذکورہ سے غرض دنیاوی ونفسانی کا تعلق ہے اور بعضے وہ مسلمانان جو مرد ناکح اورعورت نومسلمہ مذکورہ سے کچھ رنجش دنیاوی وحسد وعناد رکھتے ہیںمعین و مددگاران کفار کے ہورہے ہیںاس وجہ سے شور پشتی ان سبھوں کی اس درجہ کو بڑھ گئی ہے کہ مرد ناکح و عورت نومسلمہ مذکورہ کو برسر کوچہ وبازار برملا گالیاں دے کر کہتے پھرتے ہیں کہ اس دختر کو ہر گز نہیں چھوڑیں گے اور مسلمہ نہیں ہونے دیں گے بلکہ جس طرح ہوگا اپنے یہاں لاکر اسے ہنود بناکر ہندوکے ساتھ شادی بیاہ کردیں گے اور طرح طرح کے افترا پر دازی ومقدمہ بازی جھوٹ کی بندشیں ہورہی ہیں اور بے عزتی وذلت مرد ناکح وعورت نومسلمہ مذکورہ کی دھمکی دی جاتی ہے جس میں وہ دونوں ڈر کر بخیال بچنے کے ذلت دنیا سےاس دختر کو ماں باپ بہنیں کافرہ کے حوالہ کردیںایسے حال میں حکم خدا ورسول کیاہے
(۱)آیا مرد ناکح وعورت مسلمہ مذکورہ اپنے نطفہ و بطن کی دختر کو دھمکی و ڈر سے ان شورپشتوں کے اور دنیاوی ذلت کے خوف سے حوالہ کفاردیں کہ وہ اسے لیجا کر کافرہ بنائیں
(۲)یا اپنی ذلت دنیاوی کا خیال چھوڑ کر جان توڑ کر کوشش اس دختر کی حفاظت کی کریں جس میں وہ دختر قبضہ ہنود میں جاکر ہندو نہ بننے پائے
(۳)اور مسلمانان کو اس شہر کے ہرطرح کی حمایت و مدد ایسی کرنی جس میں مسلمان کی لڑکی ہنود کے قبضہ میں جاکر کافرہ نہ بننے پائےشرعا بحکم خداورسول لازم وضرورہے یانہیں
(۴)اور جو مسلمان اس کے خلاف حمایت کفار کی کرے وہ خدا ورسول کے نزدیك کیسا ہے اور اس کی نسبت شرعا کیا حکم ہے
(۵)اور اگر مسلمانان شہر کی غفلت وناتوجہی ومدد نہ کرنے سے اور اس وجہ سے عورت نومسلمہ اور اس کے ناکح مرد کے مجبور و بے بس ہوجانے سے دختر مذکورہ قبضہ ہنود میں جاکر ہندوبنائی جائے تو اس کاالزام و مواخذہ خدا ورسول کے طرف سے مسلمانان شہر پر ہوگا یا نہیں
ہر شق سوال کا جواب اردو میں عام فہممفصل ومدلل بسند قرآن وحدیث و کتب دینیہ اور ایسے موقع پر سیرت صحابہ کرام وائمہ عظام کیاہے بہ نقل اس کے درکار ہےبینواتوجروا
الجواب:
(۱)حرام حرام حرام جب تك حالت اکراہ شرعی کی نہ ہو
(۱)آیا مرد ناکح وعورت مسلمہ مذکورہ اپنے نطفہ و بطن کی دختر کو دھمکی و ڈر سے ان شورپشتوں کے اور دنیاوی ذلت کے خوف سے حوالہ کفاردیں کہ وہ اسے لیجا کر کافرہ بنائیں
(۲)یا اپنی ذلت دنیاوی کا خیال چھوڑ کر جان توڑ کر کوشش اس دختر کی حفاظت کی کریں جس میں وہ دختر قبضہ ہنود میں جاکر ہندو نہ بننے پائے
(۳)اور مسلمانان کو اس شہر کے ہرطرح کی حمایت و مدد ایسی کرنی جس میں مسلمان کی لڑکی ہنود کے قبضہ میں جاکر کافرہ نہ بننے پائےشرعا بحکم خداورسول لازم وضرورہے یانہیں
(۴)اور جو مسلمان اس کے خلاف حمایت کفار کی کرے وہ خدا ورسول کے نزدیك کیسا ہے اور اس کی نسبت شرعا کیا حکم ہے
(۵)اور اگر مسلمانان شہر کی غفلت وناتوجہی ومدد نہ کرنے سے اور اس وجہ سے عورت نومسلمہ اور اس کے ناکح مرد کے مجبور و بے بس ہوجانے سے دختر مذکورہ قبضہ ہنود میں جاکر ہندوبنائی جائے تو اس کاالزام و مواخذہ خدا ورسول کے طرف سے مسلمانان شہر پر ہوگا یا نہیں
ہر شق سوال کا جواب اردو میں عام فہممفصل ومدلل بسند قرآن وحدیث و کتب دینیہ اور ایسے موقع پر سیرت صحابہ کرام وائمہ عظام کیاہے بہ نقل اس کے درکار ہےبینواتوجروا
الجواب:
(۱)حرام حرام حرام جب تك حالت اکراہ شرعی کی نہ ہو
قال اﷲ تعالی" الا من اکرہ و قلبہ مطمئن بالایمن " ۔ اﷲ تعالی نے فرمایا:سوااس کے جو مجبور کیاجائے اور اس کا دل ایمان پرجما ہوا ہو۔(ت)
(۲)فرض فرض فرض ہے کہ ہر جائز کوشش کو حدامکان تك پہنچادیں اور کسی طرح اس میں سستی یا کم ہمتی کو کام نہ دیں۔
قال اﷲ تعالی" یایہا الذین امنوا قوا انفسکم و اہلیکم نارا " ۔ اﷲ تعالی نے فرمایا:اے ایمان والو!اپنی جانوں اور گھر والوں کو آگ سے بچاؤ۔(ت)
(۳)فرض فرض فرض ہے کہ ہر مسلمان بقدر قدرت اس مسلمان لڑکی کو اس سخت تر آفت سے بچائے اور کوئی کوشش جس حد تك جائز اور ممکن ہے اسے اٹھانہ رکھے۔
قال اﷲتعالی"" وتعاونوا علی البر والتقوی ۪ ۔ اﷲ تعالی نے فرمایا:اور نیکی اور پرہیز گاری پر ایك دوسرے کی مدد کرو۔(ت)
یہ فرض کفایہ ہے جتنے مسلمانوں کی کوشش سے کام چل جائے کافی ہے سب پرفرض اتر جائے گاورنہ سب گنہگار اور سخت وبال میں گرفتار ر ہیں گےوالعیاذ باﷲ۔
(۴)اس کے لئے نار ہے نار ہے ناراس پر غضب ہے غضب ہے غضب جبار
قال اﷲ تعالی" ولا تعاونوا علی الاثم والعدون ۪" ۔ اﷲ تعالی نے فرمایا:گناہ اور زیادتی پر باہم مدد نہ دو۔(ت)
علماء نے دوسرے کے کفر پر راضی ہونے کو کفر لکھا ہے"الرضا بالکفر کفر"نہ کہ دوسرے کو کافر بنانے میں کوشش یہ بلاشبہہ بحکم فقہا کفر ہے بحکم فقہائے کرام ایسے شخص کی عورت اس کے نکاح سے نکل جائے گی اور وہ ان تمام امور کاسزاوار ہوگا جو ایك مرتد کے ساتھ کئے جانے کا حکم کہ اس کے پاس بیٹھنابات چیتمیل جولشادی بیاہتبیمار پرسیجنازہ پر جانااسے غسل دیناکفن دینانماز جنازہ پڑھناجنازہ بہ تکریم اٹھانامسلمانوں کے مقابر میں دفن کرنا سب یك قلم ناجائزوگناہ ہے۔
(۵)اس کا جواب جواب سوم میں آگیااگر ایك مالدار ذی وجاہت مسلمان کی کوشش سے کام چل جائے تو ایك ہی کافی ہے اور سب مسلمانوں کی مجموعی قوت سے جائز کوشش اثر پذیر ہوگی تو سب پر فرض ہے کہ
(۲)فرض فرض فرض ہے کہ ہر جائز کوشش کو حدامکان تك پہنچادیں اور کسی طرح اس میں سستی یا کم ہمتی کو کام نہ دیں۔
قال اﷲ تعالی" یایہا الذین امنوا قوا انفسکم و اہلیکم نارا " ۔ اﷲ تعالی نے فرمایا:اے ایمان والو!اپنی جانوں اور گھر والوں کو آگ سے بچاؤ۔(ت)
(۳)فرض فرض فرض ہے کہ ہر مسلمان بقدر قدرت اس مسلمان لڑکی کو اس سخت تر آفت سے بچائے اور کوئی کوشش جس حد تك جائز اور ممکن ہے اسے اٹھانہ رکھے۔
قال اﷲتعالی"" وتعاونوا علی البر والتقوی ۪ ۔ اﷲ تعالی نے فرمایا:اور نیکی اور پرہیز گاری پر ایك دوسرے کی مدد کرو۔(ت)
یہ فرض کفایہ ہے جتنے مسلمانوں کی کوشش سے کام چل جائے کافی ہے سب پرفرض اتر جائے گاورنہ سب گنہگار اور سخت وبال میں گرفتار ر ہیں گےوالعیاذ باﷲ۔
(۴)اس کے لئے نار ہے نار ہے ناراس پر غضب ہے غضب ہے غضب جبار
قال اﷲ تعالی" ولا تعاونوا علی الاثم والعدون ۪" ۔ اﷲ تعالی نے فرمایا:گناہ اور زیادتی پر باہم مدد نہ دو۔(ت)
علماء نے دوسرے کے کفر پر راضی ہونے کو کفر لکھا ہے"الرضا بالکفر کفر"نہ کہ دوسرے کو کافر بنانے میں کوشش یہ بلاشبہہ بحکم فقہا کفر ہے بحکم فقہائے کرام ایسے شخص کی عورت اس کے نکاح سے نکل جائے گی اور وہ ان تمام امور کاسزاوار ہوگا جو ایك مرتد کے ساتھ کئے جانے کا حکم کہ اس کے پاس بیٹھنابات چیتمیل جولشادی بیاہتبیمار پرسیجنازہ پر جانااسے غسل دیناکفن دینانماز جنازہ پڑھناجنازہ بہ تکریم اٹھانامسلمانوں کے مقابر میں دفن کرنا سب یك قلم ناجائزوگناہ ہے۔
(۵)اس کا جواب جواب سوم میں آگیااگر ایك مالدار ذی وجاہت مسلمان کی کوشش سے کام چل جائے تو ایك ہی کافی ہے اور سب مسلمانوں کی مجموعی قوت سے جائز کوشش اثر پذیر ہوگی تو سب پر فرض ہے کہ
مل کر ہرامکانی پسندیدہ جائز کوشش انتہا تك پہنچادیںاگر پھر بھی کامیاب نہ ہوں تو معذور ہیں جس کے کسل و بے توجہی سے کام میں خلل پڑے گا وہ مستحق نار وغضب جبار ہے والعیاذ باﷲواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۳۰: از پیلی بھیت محلہ منیر خاں مدرسۃ الحدیث مرسلہ مولانا سورتی ۴ذی القعدہ۱۳۳۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ اس شخص کے حق میں جس نے سید صحیح النسب بالخصوص اور تمام سادات گیلانیہ اولاد حضور غوث اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ کو علی العلوم سواچار پیروں کے برسر بازار علی رؤس الاشہاد یہودینصرانی خنزیرکتا وغیرہ وغیرہ بری گالیاں کہے ہوں اور اوصاف ذمیمہ مذکورہ ان حضرات کے حق میں اعتقادا استعمال کئے ہوں اور کرتا رہے ازروئے شرع اس شخص اور اس کے مددگاروں کا خواہ مولوی کہلاتے ہوں یا سیٹھ وغیرہ کیا حکم ہے بینوابحوالۃ الکتاب تؤجروایوم الحساباس سوال کا جواب مجھے کسی کتاب میں نہ ملا اس وجہ سے حضور کو تکلیف دیتا ہوں۔
الجواب:
ایسے شخص کو ازسر نو تجدید اسلام چاہئے اور اگر عورت رکھتا ہوتو اس سے بعد توبہ و تجدید اسلام پھر نکاح کرے کہ علمائے کرام نے ایسے شخص پر حکم کفر فرمایا ہےمجمع الانہر میں ہے:
والاستخفاف بالاشراف والعلماء کفر ومن قال للعالم عویلم اولعلوی علیوی قاصدا بہ الاستخفاف کفر۔ سادات اور علماء کی بے عزتی کرنا کفر ہےجو شخص تحقیر کے ارادے سے عالم کو عویلم اور علوی کو علیوی کہے وہ کافر ہوجاتا ہے۔(ت)
رہے اس کے معاونین خواہ مولوی کہلاتے ہوں یا سیٹھ اگر خود ان کلمات ملعو نہ میں اس کے معاون ہیں یا ان کو جائز رکھتے ہیں یا ہلکا جانتے ہیں تو ان سب کا بھی یہی حکم ہے جو اس کا ہےاور اگر ایسا نہیں جب بھی ایسے شخص کے ساتھ میل جول کے سبب عاصی ومخالف حکم شرع ہیں۔
قال اﷲ عزوجل" اما ینسینک الشیطن فلا تقعد بعد الذکری مع القوم الظلمین ﴿۶۸﴾" ۔قال اﷲ عزوجل
" ولا ترکنوا الی الذین ظلموا فتمسکم النار " ۔ اﷲ تعالی نے فرمایا:اورجو کہیں تجھے شیطان بھلاوے تو یاد آنے پر ظالموں کے پاس مت بیٹھو۔(ت)
اﷲ تعالی نے فرمایا:اور ظالموں کی طرف نہ جھکو کہ تمھیں آگ چھوئے گی۔(ت)
والعیاذ باﷲ تعالی:واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۳۰: از پیلی بھیت محلہ منیر خاں مدرسۃ الحدیث مرسلہ مولانا سورتی ۴ذی القعدہ۱۳۳۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ اس شخص کے حق میں جس نے سید صحیح النسب بالخصوص اور تمام سادات گیلانیہ اولاد حضور غوث اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ کو علی العلوم سواچار پیروں کے برسر بازار علی رؤس الاشہاد یہودینصرانی خنزیرکتا وغیرہ وغیرہ بری گالیاں کہے ہوں اور اوصاف ذمیمہ مذکورہ ان حضرات کے حق میں اعتقادا استعمال کئے ہوں اور کرتا رہے ازروئے شرع اس شخص اور اس کے مددگاروں کا خواہ مولوی کہلاتے ہوں یا سیٹھ وغیرہ کیا حکم ہے بینوابحوالۃ الکتاب تؤجروایوم الحساباس سوال کا جواب مجھے کسی کتاب میں نہ ملا اس وجہ سے حضور کو تکلیف دیتا ہوں۔
الجواب:
ایسے شخص کو ازسر نو تجدید اسلام چاہئے اور اگر عورت رکھتا ہوتو اس سے بعد توبہ و تجدید اسلام پھر نکاح کرے کہ علمائے کرام نے ایسے شخص پر حکم کفر فرمایا ہےمجمع الانہر میں ہے:
والاستخفاف بالاشراف والعلماء کفر ومن قال للعالم عویلم اولعلوی علیوی قاصدا بہ الاستخفاف کفر۔ سادات اور علماء کی بے عزتی کرنا کفر ہےجو شخص تحقیر کے ارادے سے عالم کو عویلم اور علوی کو علیوی کہے وہ کافر ہوجاتا ہے۔(ت)
رہے اس کے معاونین خواہ مولوی کہلاتے ہوں یا سیٹھ اگر خود ان کلمات ملعو نہ میں اس کے معاون ہیں یا ان کو جائز رکھتے ہیں یا ہلکا جانتے ہیں تو ان سب کا بھی یہی حکم ہے جو اس کا ہےاور اگر ایسا نہیں جب بھی ایسے شخص کے ساتھ میل جول کے سبب عاصی ومخالف حکم شرع ہیں۔
قال اﷲ عزوجل" اما ینسینک الشیطن فلا تقعد بعد الذکری مع القوم الظلمین ﴿۶۸﴾" ۔قال اﷲ عزوجل
" ولا ترکنوا الی الذین ظلموا فتمسکم النار " ۔ اﷲ تعالی نے فرمایا:اورجو کہیں تجھے شیطان بھلاوے تو یاد آنے پر ظالموں کے پاس مت بیٹھو۔(ت)
اﷲ تعالی نے فرمایا:اور ظالموں کی طرف نہ جھکو کہ تمھیں آگ چھوئے گی۔(ت)
والعیاذ باﷲ تعالی:واﷲ تعالی اعلم۔
حوالہ / References
مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر فصل ان الفاظ الکفر انواع داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/۶۹۵
القرآن الکریم ۶ /۶۸
القرآن الکریم ۱۱ /۱۱۳
القرآن الکریم ۶ /۶۸
القرآن الکریم ۱۱ /۱۱۳
مسئلہ ۳۱: از کوٹلی لوہاراں ضلع سیالکوٹ سیداکبر شاہ طالب علم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگر کوئی شخص مرزائی کے نابالغ لڑکے کابخیال"مامن مولود الایولد علی الفطرۃ"(ہر بچہ فطرت پر پیدا کیا جاتاہے۔ت)حنفی اگر امام کے پیچھے جنازہ کی نماز اداکرے تو عندالشرع درست ہے یا نہیں پڑھنے والا ثواب کا مستحق ہو گایانہیں حنفیوں پر دیکھنے ایسی میت سے نماز جنازہ واجب ہوگی گی یانہ بینواتوجروا
الجواب:
اگر مرزائی کا بچہ سات برس یا زائد کی عمر کا تھااچھے کی تمیز رکھتاتھا او راس حالت میں اس نے اپنے باپ کے خلاف پر دین اسلام اختیار کیااور قادیانی کو کافر جانا اسی پر انتقال ہوا تو وہ ضرور مسلمان تھامسلمانوں پراسے غسل وکفن دینا اس کے جنازہ کی نماز پڑھنا مقابر مسلمین میں دفن کرنا فرض ہے۔اورممکن ہو تو اس کے باپ وغیرہ کفار کو اسے ہاتھ نہ لگانے دیں جس طرح حضور اقد س علیہ افضل الصلوۃ والسلام نے یہودی کو اس کے بیٹے کے سرہانے سے اٹھادینے کا حکم فرمایا جبکہ وہ نزع میں اسلام لاکر انتقال کرگیااور اگر اسی عمرو تمیز میں اپنے باپ کی طرح کفر بکتاتھاتویقیناکافر تھا۔اب وہ سب کام مسلمان پرحرام ہیںنہ غسل دیں نہ کفن دیں نہ دفن میں شریك ہوںاور ان سب سے بدتر ا س کے جنازہ پر نماز ہے کہ خود کفر کا پہلو رکھتی ہے اور اگر اس سے کفر یا اسلام کچھ ظاہر نہ ہوا یا نا سمجھ بچہ تھا کہ اس تمیز کے قابل ہی نہ تھا تو اب یہ دیکھا جائے گا اور اس کی ماں بھی اس کے باپ کی طرح قادیانی یا اورکسی کفری عقیدہ والی ہے توہ بچہ بھی کافر سمجھا جائے گااوراس کے لئے وہ سب کام مسلمانوں پر حرام ہوں گے اور اگر ماں مسلمان ہے تمام ضروریات دین پر ایمان رکھتی ہے اور قادیانی کو کافر جانتی ہے تو اس صورت میں وہ بچہ جس سے کفر خود ظاہر نہ ہوا اور نابالغی میں مرگیا اپنی ماں کا تابع قر ار پاکر مسلمان سمجھا جائے گا ا ور وہ سب کام اہل اسلام پر واجب ہوں گے حدیث"مامن مولود"اس حالت میں نابالغ ہے کہ بچہ سمجھ وال ہو کر خود کفر نہ کرے نہ نا سمجھی کی حالت میں ماں باپ دونوں کافر ہوں ورنہ اگر خود کفر کیا تو اچھی فطرت سے بدلا اور اگر خود سمجھ وال ہوکر اسلام نہ لایا اگر چہ کفر بھی نہ کیا اور ماں باپ دونوں کافر ہیں تو"ثم ابواہ یھودانہ" (پھر اس کے والدین اسے یہودی بنادیں۔ت)میں داخل ہے اورحکم کفر اسے شامل ہے۔تنویر میں ہے:
اذا ارتد صبی عاقل صح کاسلامہ جب عقلمند بچہ مرتدہوجائے تو اس کا ارتداد اس کے
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگر کوئی شخص مرزائی کے نابالغ لڑکے کابخیال"مامن مولود الایولد علی الفطرۃ"(ہر بچہ فطرت پر پیدا کیا جاتاہے۔ت)حنفی اگر امام کے پیچھے جنازہ کی نماز اداکرے تو عندالشرع درست ہے یا نہیں پڑھنے والا ثواب کا مستحق ہو گایانہیں حنفیوں پر دیکھنے ایسی میت سے نماز جنازہ واجب ہوگی گی یانہ بینواتوجروا
الجواب:
اگر مرزائی کا بچہ سات برس یا زائد کی عمر کا تھااچھے کی تمیز رکھتاتھا او راس حالت میں اس نے اپنے باپ کے خلاف پر دین اسلام اختیار کیااور قادیانی کو کافر جانا اسی پر انتقال ہوا تو وہ ضرور مسلمان تھامسلمانوں پراسے غسل وکفن دینا اس کے جنازہ کی نماز پڑھنا مقابر مسلمین میں دفن کرنا فرض ہے۔اورممکن ہو تو اس کے باپ وغیرہ کفار کو اسے ہاتھ نہ لگانے دیں جس طرح حضور اقد س علیہ افضل الصلوۃ والسلام نے یہودی کو اس کے بیٹے کے سرہانے سے اٹھادینے کا حکم فرمایا جبکہ وہ نزع میں اسلام لاکر انتقال کرگیااور اگر اسی عمرو تمیز میں اپنے باپ کی طرح کفر بکتاتھاتویقیناکافر تھا۔اب وہ سب کام مسلمان پرحرام ہیںنہ غسل دیں نہ کفن دیں نہ دفن میں شریك ہوںاور ان سب سے بدتر ا س کے جنازہ پر نماز ہے کہ خود کفر کا پہلو رکھتی ہے اور اگر اس سے کفر یا اسلام کچھ ظاہر نہ ہوا یا نا سمجھ بچہ تھا کہ اس تمیز کے قابل ہی نہ تھا تو اب یہ دیکھا جائے گا اور اس کی ماں بھی اس کے باپ کی طرح قادیانی یا اورکسی کفری عقیدہ والی ہے توہ بچہ بھی کافر سمجھا جائے گااوراس کے لئے وہ سب کام مسلمانوں پر حرام ہوں گے اور اگر ماں مسلمان ہے تمام ضروریات دین پر ایمان رکھتی ہے اور قادیانی کو کافر جانتی ہے تو اس صورت میں وہ بچہ جس سے کفر خود ظاہر نہ ہوا اور نابالغی میں مرگیا اپنی ماں کا تابع قر ار پاکر مسلمان سمجھا جائے گا ا ور وہ سب کام اہل اسلام پر واجب ہوں گے حدیث"مامن مولود"اس حالت میں نابالغ ہے کہ بچہ سمجھ وال ہو کر خود کفر نہ کرے نہ نا سمجھی کی حالت میں ماں باپ دونوں کافر ہوں ورنہ اگر خود کفر کیا تو اچھی فطرت سے بدلا اور اگر خود سمجھ وال ہوکر اسلام نہ لایا اگر چہ کفر بھی نہ کیا اور ماں باپ دونوں کافر ہیں تو"ثم ابواہ یھودانہ" (پھر اس کے والدین اسے یہودی بنادیں۔ت)میں داخل ہے اورحکم کفر اسے شامل ہے۔تنویر میں ہے:
اذا ارتد صبی عاقل صح کاسلامہ جب عقلمند بچہ مرتدہوجائے تو اس کا ارتداد اس کے
حوالہ / References
صحیح مسلم کتاب القدر باب معنی کل مولود یولد علی الفطرۃ الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/۳۳۶
والعاقل الممیز ۔ اسلام کی طرح صحیح ہوگا اور عاقل سے مراد امتیاز نہ کرنے والا ہے۔(ت)
درمختارمیں ہے:
وھوا بن سبع فاکثر مجتبی وسراجیۃ ۔ وہ سات سال یا اس سے زائد عمر کا ہو۔مجتبی سراجیہ۔(ت)
اسی میں ہے:
زوجان ارتدا فولدت ولد ایجبر علی الاسلام لتبعیتہ لابویہ ۔(ملخصا) خاوند وبیوی دونوں مرتد ہوگئےعورت نے بچہ جنا تو اسے اسلام پر مجبور کیاجائے گا کیونکہ دین میں وہ اپنے والدین کے تابع ہے۔(ملخصا)(ت)
ردالمحتار میں ہے:
ای فی الاسلام والردۃ وھما یجبران فکذا ھو ۔ یعنی اسلام اور مرتد ہونے میں اور ان دونوں کو بھی اسلام کے لئے مجبور کیاجائے گا پس اسی طرح اس بچے کو بھی۔(ت)
تنویر میں ہے:
الولد یتبع خیر الابوین دینا ۔ بچہ اپنے والدین میں سے ا س کے تابع ہوگا جو دین کے اعتبار سے بہتر ہوگا۔(ت)
شامی میں بعدذکر حدیث کل مولود یولد علی الفطرۃ فرمایا:
انھم قالوا انہ جعل اتفاقہما ناقلالہ عن الفطرۃ ۔ واﷲ تعالی اعلم۔ فقہاء نے فرمایا ماں باپ کے کفر پر اتفاق نے بچے کو فطرت سے ہٹادیا۔(ت)
درمختارمیں ہے:
وھوا بن سبع فاکثر مجتبی وسراجیۃ ۔ وہ سات سال یا اس سے زائد عمر کا ہو۔مجتبی سراجیہ۔(ت)
اسی میں ہے:
زوجان ارتدا فولدت ولد ایجبر علی الاسلام لتبعیتہ لابویہ ۔(ملخصا) خاوند وبیوی دونوں مرتد ہوگئےعورت نے بچہ جنا تو اسے اسلام پر مجبور کیاجائے گا کیونکہ دین میں وہ اپنے والدین کے تابع ہے۔(ملخصا)(ت)
ردالمحتار میں ہے:
ای فی الاسلام والردۃ وھما یجبران فکذا ھو ۔ یعنی اسلام اور مرتد ہونے میں اور ان دونوں کو بھی اسلام کے لئے مجبور کیاجائے گا پس اسی طرح اس بچے کو بھی۔(ت)
تنویر میں ہے:
الولد یتبع خیر الابوین دینا ۔ بچہ اپنے والدین میں سے ا س کے تابع ہوگا جو دین کے اعتبار سے بہتر ہوگا۔(ت)
شامی میں بعدذکر حدیث کل مولود یولد علی الفطرۃ فرمایا:
انھم قالوا انہ جعل اتفاقہما ناقلالہ عن الفطرۃ ۔ واﷲ تعالی اعلم۔ فقہاء نے فرمایا ماں باپ کے کفر پر اتفاق نے بچے کو فطرت سے ہٹادیا۔(ت)
حوالہ / References
درمختار شرح تنویر الابصار باب المرتد مطبع مجتبائی دہلی ۱/۳۶۱
درمختار شرح تنویر الابصار باب المرتد مطبع مجتبائی دہلی ۱/۳۶۱
درمختارشرح تنویر الابصار باب المرتد مطبع مجتبائی دہلی ۱/۳۶۱
ردالمحتار باب المرتد داراحیاء التراث العربی بیروت ۳/۳۰۶
درمختار شرح تنویر الابصار باب نکاح الکافر مطبع مجتبائی دہلی ۱/۲۱۰
ردالمحتار باب نکاح الکافر داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/۳۹۴
درمختار شرح تنویر الابصار باب المرتد مطبع مجتبائی دہلی ۱/۳۶۱
درمختارشرح تنویر الابصار باب المرتد مطبع مجتبائی دہلی ۱/۳۶۱
ردالمحتار باب المرتد داراحیاء التراث العربی بیروت ۳/۳۰۶
درمختار شرح تنویر الابصار باب نکاح الکافر مطبع مجتبائی دہلی ۱/۲۱۰
ردالمحتار باب نکاح الکافر داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/۳۹۴
مسئلہ ۳۲:ا ز ملك بنگال موضع رام پور ڈاکخانہ کجرہ ضلع پیرہ حال مقام خواجہ قطب بریلی محمدالہ طالبعلم ۱۲ ربیع الاول ۱۳۳۳ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مسلمانوں کو انگریزی پڑھنا جائز ہے یانہیں اور بعض انگریزی خواں کہتے ہیں کہ مولوی لوگ کیا جانتے ہیں۔کیا اس لفظ سے علم کی حقارت نہیں ہوتی اگر ایسا کہے تو کافر ہوگایا نہیں بینوا توجروا
الجواب:
ایسی انگریزی پڑھنا جس سے عقائد فاسد ہوں اور جس سے علمائے دین کی توہین دل میں آئے انگریزی ہو خواہ کچھ ہو ایسی چیز پڑھنا حرام ہےاور یہ لفظ کہ"مولوی لوگ کیاجانتے ہیں"اس سے ضرور علماء کی تحقیر نکلتی ہے اور علمائے دین کی تحقیر کفرہے۔
قال اﷲ تعالی
ولئن سالتہم لیقولن انماکنا نخوض ونلعب قل اباللہ وایتہ ورسولہ کنتم تستہزءون ﴿۶۵﴾ لاتعتذروا قدکفرتم بعد ایمنکم ۔اخرج ابن جریر وابن ابی حاتم وابو الشیخ وابن مردویۃ عن عبد اﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما وابن جریر عن زید بن اسلم وعن محمد بن کعب وغیرہما قال رجل فی غزوۃ تبوك فی مجلس یوما مارأینا مثل قرأتنا ھؤلاء ولا ارغب بطونا ولااکذب السنۃ ولا اجبن عند اللقاء فقال رجل فی المجلس کذبت ولکنك منافق لاخبرن رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فبلغ ذلك رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ونزل القرآن قال عبداﷲ فانا رأیتہ متعلقا ناقتہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ اﷲ تعالی نے فرمایا:اوراگر آپ ان سے پوچھیں تو کہیں گے ہم تو دلچسپی او رکھیل کرتے ہیں آپ فرمادیجئے کیا اﷲ تعالی اس کی نشانیوں اوراس کے رسول سے ٹھٹھاکرتے ہو بہانے نہ بناؤ تم اپنے ایمان کے بعد کافر ہوگئےابن جریرابن ابی حاتمابوالشیخ اورابن مردویہ نے حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما اور ابن جریر نے حضرت زید بن اسلم اور محمد بن کعب وغیرہما رضی اﷲ تعالی عنہم نے حدیث کی تخریج کی کہ ایك شخص نے ایك دن ایك مجلس میں غزوہ تبوك کے موقعہ پر کہا کہ ہم نے اپنے ان قاریوں کی ماننداور نہ دیکھے نہ کھانے کے لالچی اور نہ زبان کے جھوٹے اور نہ دشمن کے مقابل میں بزدل۔تو اس مجلس میں ایك شخص نے کہا توجھوٹ کہتاہے تو منافق معلوم ہوتاہے میں رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو ضرور اس بات کی خبردوں گا تو اس کی یہ بات حضور اکرم کو معلوم ہوئی اور قرآن نازل ہوا حضرت عبداﷲ نے فرمایا تو میں نے اس شخص کوحضور اکرم کی اونٹنی کے
(باقی اگلے صفحہ پر)
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مسلمانوں کو انگریزی پڑھنا جائز ہے یانہیں اور بعض انگریزی خواں کہتے ہیں کہ مولوی لوگ کیا جانتے ہیں۔کیا اس لفظ سے علم کی حقارت نہیں ہوتی اگر ایسا کہے تو کافر ہوگایا نہیں بینوا توجروا
الجواب:
ایسی انگریزی پڑھنا جس سے عقائد فاسد ہوں اور جس سے علمائے دین کی توہین دل میں آئے انگریزی ہو خواہ کچھ ہو ایسی چیز پڑھنا حرام ہےاور یہ لفظ کہ"مولوی لوگ کیاجانتے ہیں"اس سے ضرور علماء کی تحقیر نکلتی ہے اور علمائے دین کی تحقیر کفرہے۔
قال اﷲ تعالی
ولئن سالتہم لیقولن انماکنا نخوض ونلعب قل اباللہ وایتہ ورسولہ کنتم تستہزءون ﴿۶۵﴾ لاتعتذروا قدکفرتم بعد ایمنکم ۔اخرج ابن جریر وابن ابی حاتم وابو الشیخ وابن مردویۃ عن عبد اﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما وابن جریر عن زید بن اسلم وعن محمد بن کعب وغیرہما قال رجل فی غزوۃ تبوك فی مجلس یوما مارأینا مثل قرأتنا ھؤلاء ولا ارغب بطونا ولااکذب السنۃ ولا اجبن عند اللقاء فقال رجل فی المجلس کذبت ولکنك منافق لاخبرن رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فبلغ ذلك رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ونزل القرآن قال عبداﷲ فانا رأیتہ متعلقا ناقتہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ اﷲ تعالی نے فرمایا:اوراگر آپ ان سے پوچھیں تو کہیں گے ہم تو دلچسپی او رکھیل کرتے ہیں آپ فرمادیجئے کیا اﷲ تعالی اس کی نشانیوں اوراس کے رسول سے ٹھٹھاکرتے ہو بہانے نہ بناؤ تم اپنے ایمان کے بعد کافر ہوگئےابن جریرابن ابی حاتمابوالشیخ اورابن مردویہ نے حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما اور ابن جریر نے حضرت زید بن اسلم اور محمد بن کعب وغیرہما رضی اﷲ تعالی عنہم نے حدیث کی تخریج کی کہ ایك شخص نے ایك دن ایك مجلس میں غزوہ تبوك کے موقعہ پر کہا کہ ہم نے اپنے ان قاریوں کی ماننداور نہ دیکھے نہ کھانے کے لالچی اور نہ زبان کے جھوٹے اور نہ دشمن کے مقابل میں بزدل۔تو اس مجلس میں ایك شخص نے کہا توجھوٹ کہتاہے تو منافق معلوم ہوتاہے میں رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو ضرور اس بات کی خبردوں گا تو اس کی یہ بات حضور اکرم کو معلوم ہوئی اور قرآن نازل ہوا حضرت عبداﷲ نے فرمایا تو میں نے اس شخص کوحضور اکرم کی اونٹنی کے
(باقی اگلے صفحہ پر)
حوالہ / References
القرآن الکریم ۹ /۶۵
وسلم والحجارۃ تنکیہ وھو یقول یارسول اﷲ انما کنا نخوض ونلعب والنبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یقول اباﷲ وایاتہ ورسولہ کنتم تستھزء ون ۔ واﷲتعالی اعلم۔ تنگ کے ساتھ لٹکا ہوادیکھا پتھر اسے زخمی کررہے تھے او روہ کہہ رہا تھا یا رسول اﷲ ! ہم تو دلچسپی اورکھیل کررہے تھےاور حضو رعلیہ الصلوۃ واسلام اس کو فرمارہے تھے کیااﷲ تعالیاس کی آیات اور اس کے رسول سے تم ٹھٹھاکرتے ہو۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۳۳: از بریلی محلہ چك شہر کہنہ مسئولہ صفدر علی خاں ومبارك علی خاں ربیع الثانی ۱۳۳۳ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شر ع متین کہ زید سنی المذہب نے بکر کو سنی باور کرکے اپنی لڑکی نابالغہ کا بکر کے نابالغ لڑکے کے ساتھ اس کو سنی باور کرکے ولایۃ نکاح کردیا مگر بوجہ نابالغ ہونے کے رخصتی نہیں ہوئیاور آمدورفت بھی دونوں کی نہیں ہوئی نہ یکجائی ہوئیسات سال کے بعد دونوں کو بلوغ ہوازید کو یہ اطلاع ملی کہ بکر بھی پکا سنی نہیں اور اس کا بیٹا قطعی رافضی ہے جس کا ثبوت یہاں تك پہنچ گیاہے کہ اس کے معمولی عمل میں ظاہر ہوتاہے نما زشیعہ کی پڑھتا ہے اور حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ تعالی عنہما کا قذف کرتاہے اور دیگر صحابہ رضوان اﷲ علیہم اجمعین کی صحابیت کا منکر ہے اور تبرا کہتاہے اور ایسے مجالس میں شرکت کرتاہے جس میں سنی شریك نہیں ہوتے ہیں۔زید نے اسی خبر کو سن کر رخصتی سے انکار شروع کیا اس پربکر نے رخصت کرانے کی ضرورت سے لڑکے کو اس بات پر آمادہ کیا کہ لڑکا اپنے کو سنی ظاہر کرے چنانچہ ازراہ تقیہ لڑکے نے اپنے کو سنی ظاہر کیا لیکن کوئی ثبوت لڑکے کے سنی ہونے کا زید کو نہیں ملا بلکہ حال میں ۱۱محرم ۱۳۳۳ھ کو مقام مرزا گنج پر ایك شخص جماعت اہل سنت والجماعت کومدح صحابہ پڑھنے سے بااعلان اسی لڑکے نے روکا اوراپنے ایك ملازم شیعہ مذہب سے پٹوایا اوراس کے باپ یعنی بکرنے حکام سے مدح صحابہ بااعلان کئے جانے کی شکایت کی اس وجہ سے حکام جمع ہوئے تو کیا ارشاد فرماتے ہیں علمائے دین متین کہ لڑکی جس کانابالغیت میں نکاح کیا گیا وہ لڑکی کہ حالت موجودہ میں منظور نہیں ہےاور زید کو بھی انکار ہے آیا نکاح باقی رہا یافسخ ہوگیا۔فقط
الجواب:
ام المومنین صدیقہ رضی اﷲ تعالی عنہا کا قذف کفر خالص ہےصدیق اکبررضی اﷲ تعالی عنہ کی
مسئلہ ۳۳: از بریلی محلہ چك شہر کہنہ مسئولہ صفدر علی خاں ومبارك علی خاں ربیع الثانی ۱۳۳۳ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شر ع متین کہ زید سنی المذہب نے بکر کو سنی باور کرکے اپنی لڑکی نابالغہ کا بکر کے نابالغ لڑکے کے ساتھ اس کو سنی باور کرکے ولایۃ نکاح کردیا مگر بوجہ نابالغ ہونے کے رخصتی نہیں ہوئیاور آمدورفت بھی دونوں کی نہیں ہوئی نہ یکجائی ہوئیسات سال کے بعد دونوں کو بلوغ ہوازید کو یہ اطلاع ملی کہ بکر بھی پکا سنی نہیں اور اس کا بیٹا قطعی رافضی ہے جس کا ثبوت یہاں تك پہنچ گیاہے کہ اس کے معمولی عمل میں ظاہر ہوتاہے نما زشیعہ کی پڑھتا ہے اور حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ تعالی عنہما کا قذف کرتاہے اور دیگر صحابہ رضوان اﷲ علیہم اجمعین کی صحابیت کا منکر ہے اور تبرا کہتاہے اور ایسے مجالس میں شرکت کرتاہے جس میں سنی شریك نہیں ہوتے ہیں۔زید نے اسی خبر کو سن کر رخصتی سے انکار شروع کیا اس پربکر نے رخصت کرانے کی ضرورت سے لڑکے کو اس بات پر آمادہ کیا کہ لڑکا اپنے کو سنی ظاہر کرے چنانچہ ازراہ تقیہ لڑکے نے اپنے کو سنی ظاہر کیا لیکن کوئی ثبوت لڑکے کے سنی ہونے کا زید کو نہیں ملا بلکہ حال میں ۱۱محرم ۱۳۳۳ھ کو مقام مرزا گنج پر ایك شخص جماعت اہل سنت والجماعت کومدح صحابہ پڑھنے سے بااعلان اسی لڑکے نے روکا اوراپنے ایك ملازم شیعہ مذہب سے پٹوایا اوراس کے باپ یعنی بکرنے حکام سے مدح صحابہ بااعلان کئے جانے کی شکایت کی اس وجہ سے حکام جمع ہوئے تو کیا ارشاد فرماتے ہیں علمائے دین متین کہ لڑکی جس کانابالغیت میں نکاح کیا گیا وہ لڑکی کہ حالت موجودہ میں منظور نہیں ہےاور زید کو بھی انکار ہے آیا نکاح باقی رہا یافسخ ہوگیا۔فقط
الجواب:
ام المومنین صدیقہ رضی اﷲ تعالی عنہا کا قذف کفر خالص ہےصدیق اکبررضی اﷲ تعالی عنہ کی
حوالہ / References
تفسیر درمنثور بحوالہ ابن جریر وابن ابی حاتم وابی شیخ وابن مردویہ تحت آیہ انما کنا نخوض مکتبہ آیۃ اﷲ العظمی قم ایران ۳/۴۵۴،جامع البیان(تفسیر ابن جریر) تحت آیہ انما کنا نخوض ونلعب المطبعۃ المیمنۃ مصر ۱۰/۱۰۴ و ۱۰۵
صحابیت کا انکار کفر خالص ہےاسی طرح تبرائیاں زمانہ میں اور بھی کفر وارتداد کی قطعی وجوہ ہیں جن کی تفصیل ردالرفضۃ میں ہے اور ان کا کافر مرتد ہونا عامہ کتب معتمدہ خلاصہ وفتح القدیروظہیریہ وعالمگیری وردالمحتار و عقود الدریۃ و بحرالرائق و نہر الفائق وتبیین الحقائق وبدائع وبزازیہ وبرجندی وانقرویہ و واقعات المفتین و اشباہ ومجمع الانہر وطحطاوی علی الدر وغنیہ ونظم الفرائد وبرہان شرح مواہب الرحمن وتیسیر المقاصدوشرح وہبانیہ ومغنی المستفتی وتنویر الابصار ومنح الغفار واصول امام شمس الائمہ وکشف البزدوی وشفاء شریف و روضہ امام نووی واعلام ابن حجر وکتاب الانوار وشرح عقائد ومنح الروض وفواتح الرحموت وارشاد الساری وفتاوی علامہ مفتی ابوسعود وعلامہ نوح آفندی وشیخ الاسلام عبداﷲ آفندی واحمد مصری علی مراقی الفلاح وشلبی علی الزیلعی وغیرہما سے ثابت وروشن ہےخزانۃ الفقہ پھر فتاوی ہندیہ میں ہے:
لوقذف عائشہ رضی اﷲ تعالی عنہا بالزنی کفرباﷲ تعالی ۔ اگر کسی نے سیدہ عائشہ رضی اﷲ تعالی عنہاپر تہمت زنا لگائی تو اس نے اﷲ تعالی کے ساتھ کفرکیا۔(ت)
شرح ملتقی الابحر میں ہے:
یکفربقولہ لاادری ان النبی فی القبر مؤمن اوکافر وبقولہ ماکان علینا نعمۃ النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لان البعثۃ من اعظم النعم وبقذفہ عائشۃ رضی اﷲ تعالی عنہا وانکارہ صحبۃ ابی بکر رضی اﷲ تعالی عنہ ۔ اگر کسی نے کہا کہ میں نہیں جانتا کہ نبی قبر میں حالت ایمان میں ہے یا کفر میںتو کافر ہوجائے گااسی طرح کافرہوجائے گااگر یہ کہتاہے کہ ہم پر نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی کوئی نعمت نہیں کیونکہ آپ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی بعثت مبارکہ سب سے بڑی نعمت ہے۔یا عائشہ صدیقہ رضی اﷲ تعالی عنہا پرتہمت لگاتاہے یا سیدنا ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالی عنہ کی صحابیت کاانکار کرتاہے۔(ت)
توپسر زید اگر مرتد نہ تھا اب مرتدہوگیا خزانۃ المفتین وظہیریہ وعلمگیریہ وحدیقہ ندیہ وغیرھا میں منکران ضروریات دین رافضیوں کے بارہ میں ہے:
لوقذف عائشہ رضی اﷲ تعالی عنہا بالزنی کفرباﷲ تعالی ۔ اگر کسی نے سیدہ عائشہ رضی اﷲ تعالی عنہاپر تہمت زنا لگائی تو اس نے اﷲ تعالی کے ساتھ کفرکیا۔(ت)
شرح ملتقی الابحر میں ہے:
یکفربقولہ لاادری ان النبی فی القبر مؤمن اوکافر وبقولہ ماکان علینا نعمۃ النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لان البعثۃ من اعظم النعم وبقذفہ عائشۃ رضی اﷲ تعالی عنہا وانکارہ صحبۃ ابی بکر رضی اﷲ تعالی عنہ ۔ اگر کسی نے کہا کہ میں نہیں جانتا کہ نبی قبر میں حالت ایمان میں ہے یا کفر میںتو کافر ہوجائے گااسی طرح کافرہوجائے گااگر یہ کہتاہے کہ ہم پر نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی کوئی نعمت نہیں کیونکہ آپ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی بعثت مبارکہ سب سے بڑی نعمت ہے۔یا عائشہ صدیقہ رضی اﷲ تعالی عنہا پرتہمت لگاتاہے یا سیدنا ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالی عنہ کی صحابیت کاانکار کرتاہے۔(ت)
توپسر زید اگر مرتد نہ تھا اب مرتدہوگیا خزانۃ المفتین وظہیریہ وعلمگیریہ وحدیقہ ندیہ وغیرھا میں منکران ضروریات دین رافضیوں کے بارہ میں ہے:
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ الباب التاسع فی احکام المرتدین نورانی کتب خانہ پشاور ۲/۲۶۴
مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر باب المرتد داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/۶۶۲
مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر باب المرتد داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/۶۶۲
ھؤلاء القوم خارجون عن ملۃ الاسلام و احکامہا احکام المرتدین ۔ یہ لوگ ملت اسلامیہ سے خارج ہیں اور ان کے احکام مرتدین والے ہیں۔(ت)
اس کے مرتدہوتے ہی نکاح فورا فورا فسخ وباطل ہوگیا تنویر الابصار و شرح علائی میں ہے:
ارتداد احد الزوجین فسخ عاجل بلاقضاء ۔ (ملخصا) زوحین میں سے کسی ایك کے مرتد ہوجانے سے بلاتاخیر نکاح فسخ ہوجاتاہے(ت)
عورت کو حرام قطعی ہے کہ اسے شوہر سمجھے زید پر حرام قطعی ہے کہ دختر کور خصت کرے اگر قربت واقع ہوگئی زنائے خالص ہوگا اگر اولاد ہوگئی ولدالزنا ہوگیدرمختارمیں ہے:
فی شرح الوھبانیۃ للشرنبلالی مایکون کفرا اتفاقا یبطل العمل والنکاح واولادہ اولاد زنا ۔ شرنبلالی کی شرح وہبانیہ میں ہے کہ جو چیز بالاتفاق کفر ہو اس سے عمل اورنکاح باطل ہوجاتاہے اور اس کی اولاد ولدالزنا قرار پاتی ہے۔(ت)
اگر بالفرض پسر بکر اب اپنے آپ کو سنی ظاہر کرے بلکہ حقیقۃ سچا پکا خالص مخلص وسنی ہوجائے تو نکاح کہ فسخ وباطل ہوگیا عود نہیں کرسکتا نہ عورت پر جبر ہوسکتا ہے کہ اس سے از سرنو نکاح کرے۔جامع الفصولین میں ہے:
لوارتد ھو لاتجبر المرأۃ علی التزوج واﷲ تعالی اعلم اگرخاوند مرتد ہوجائے تو عورت کو(دوبارہ)نکاح پر مجبور نہیں کیا جاسکتا۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
اس کے مرتدہوتے ہی نکاح فورا فورا فسخ وباطل ہوگیا تنویر الابصار و شرح علائی میں ہے:
ارتداد احد الزوجین فسخ عاجل بلاقضاء ۔ (ملخصا) زوحین میں سے کسی ایك کے مرتد ہوجانے سے بلاتاخیر نکاح فسخ ہوجاتاہے(ت)
عورت کو حرام قطعی ہے کہ اسے شوہر سمجھے زید پر حرام قطعی ہے کہ دختر کور خصت کرے اگر قربت واقع ہوگئی زنائے خالص ہوگا اگر اولاد ہوگئی ولدالزنا ہوگیدرمختارمیں ہے:
فی شرح الوھبانیۃ للشرنبلالی مایکون کفرا اتفاقا یبطل العمل والنکاح واولادہ اولاد زنا ۔ شرنبلالی کی شرح وہبانیہ میں ہے کہ جو چیز بالاتفاق کفر ہو اس سے عمل اورنکاح باطل ہوجاتاہے اور اس کی اولاد ولدالزنا قرار پاتی ہے۔(ت)
اگر بالفرض پسر بکر اب اپنے آپ کو سنی ظاہر کرے بلکہ حقیقۃ سچا پکا خالص مخلص وسنی ہوجائے تو نکاح کہ فسخ وباطل ہوگیا عود نہیں کرسکتا نہ عورت پر جبر ہوسکتا ہے کہ اس سے از سرنو نکاح کرے۔جامع الفصولین میں ہے:
لوارتد ھو لاتجبر المرأۃ علی التزوج واﷲ تعالی اعلم اگرخاوند مرتد ہوجائے تو عورت کو(دوبارہ)نکاح پر مجبور نہیں کیا جاسکتا۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ الباب التاسع فی احکام المرتدین نورانی کتب خانہ پشاور ۲/۲۶۴
درمختار شرح تنویر الابصار باب نکاح الکافر مطبع مجتبائی دہلی ۱/۲۱۰
درمختار باب المرتد مطبع مجتبائی دہلی ۱/۳۵۹
جامع الفصولین الفصل الثامن والثلاثون فی مسائل کلمات الکفر اسلامی کتب خانہ کراچی ۲/۳۱۷
درمختار شرح تنویر الابصار باب نکاح الکافر مطبع مجتبائی دہلی ۱/۲۱۰
درمختار باب المرتد مطبع مجتبائی دہلی ۱/۳۵۹
جامع الفصولین الفصل الثامن والثلاثون فی مسائل کلمات الکفر اسلامی کتب خانہ کراچی ۲/۳۱۷
رسالہ
رد الر فضۃ ۱۳۲۰ھ
(تبرائی رافضیوں کا رد)
بسم اﷲ الرحمن الرحیم
مسئلہ۳۴: از سیتا پور مرسلہ جناب حکیم سید محمد مہدی صاحب ۲۴ ذیقعدہ۱۳۱۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك بی بی سیدہ سنی المذہب نے انتقال کیا اس کے بعض بنی عم رافضی تبرائی ہیںوہ عصبہ بن کر ورثہ سے ترکہ چاہتے ہیں حالانکہ روافض کے یہاں عصوبت اصلا نہیںاس صورت میں وہ مستحق ارث ہو سکتے ہیں یا نہیںبینوا تؤجروا۔
الجواب:
الحمد ﷲ الذی ھدانا وکفاناواواناعن الرفض و الخروجوکل بلاء نجاناوالصلوۃ والسلام علی سیدناو مولنا و ملجانا و ماوانا محمد والہ و صحبہ الاولین ایماناوالاحسنین احساناوالامکنین ایقانا آمین! سب حمدیں اس اﷲ تعالی کےلئے جس نے ہمیں ہدایت دی اور رفض اور خروج سے کفایت اور پناہ دی اور ہر بلاء سے نجات دیاور صلوۃ و سلام ہو ہمارے آقامولیہمارے ملجا اور ماوی محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اور ان کی آل و صحابہ پر جو ایمان لانے میں پہلے اور نیکیمیں احسن اور ایمان و یقین میں پختہ ہیںآمین!
رد الر فضۃ ۱۳۲۰ھ
(تبرائی رافضیوں کا رد)
بسم اﷲ الرحمن الرحیم
مسئلہ۳۴: از سیتا پور مرسلہ جناب حکیم سید محمد مہدی صاحب ۲۴ ذیقعدہ۱۳۱۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك بی بی سیدہ سنی المذہب نے انتقال کیا اس کے بعض بنی عم رافضی تبرائی ہیںوہ عصبہ بن کر ورثہ سے ترکہ چاہتے ہیں حالانکہ روافض کے یہاں عصوبت اصلا نہیںاس صورت میں وہ مستحق ارث ہو سکتے ہیں یا نہیںبینوا تؤجروا۔
الجواب:
الحمد ﷲ الذی ھدانا وکفاناواواناعن الرفض و الخروجوکل بلاء نجاناوالصلوۃ والسلام علی سیدناو مولنا و ملجانا و ماوانا محمد والہ و صحبہ الاولین ایماناوالاحسنین احساناوالامکنین ایقانا آمین! سب حمدیں اس اﷲ تعالی کےلئے جس نے ہمیں ہدایت دی اور رفض اور خروج سے کفایت اور پناہ دی اور ہر بلاء سے نجات دیاور صلوۃ و سلام ہو ہمارے آقامولیہمارے ملجا اور ماوی محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اور ان کی آل و صحابہ پر جو ایمان لانے میں پہلے اور نیکیمیں احسن اور ایمان و یقین میں پختہ ہیںآمین!
صورت مستفسرہ میں یہ رافضی اس مرحومہ سیدہ سنیہ کے ترکہ سے کچھ نہیں پاسکتے اصلا کسی قسم کا استحقاق نہیں رکھتے اگرچہ بنی عم نہیں خاص حقیقی بھائی بلکہ اس سے بھی قریب رشتے کے کہلاتے اگرچہ وہ عصو بت کے منکر نہ بھی ہوتے کہ ان کی محرومی دینی اختلاف کے باعث ہے۔سراجیہ میں ہے:
موانع الارث اربعۃ(الی قولہ)واختلاف الدینین۔ وراثت کے موانع چار ہیںدین کا اختلافتك بیان کیا۔ (ت)
تحقیق مقام و تفصیل مرام یہ ہے کہ رافضی تبرائی جو حضرات شیخین صدیق اکبر و فاروق اعظم رضی اﷲ تعالی عنہما خواہ ان میں سے ایك کی شان پاك میں گستاخی کرے اگرچہ صرف اس قدرکہ انھیں امام و خلیفہ بر حق نہ مانے۔کتب معتمدہ فقہ حنفی کی تصریحات اور عامہ ائمہ ترجیح و فتوی کی تصحیحات پر مطلقا کافر ہے۔درمختار مطبوعہ مطبع ہاشمی صفحہ۶۴ میں ہے:
ان انکربعض ما علم من الدین ضرورۃ کفربھا کقولہ ان اﷲ تعالی جسم کالاجسام وانکارہ صحبۃ الصدیق۔ اگر ضروریات دین سے کسی چیز کا منکر ہو تو کافر ہے مثلا یہ کہنا کہ اﷲ تعالی اجسام کے مانند جسم ہے یا صدیق اکبر رضی اﷲ تعالی عنہ کی صحا بیت کا منکر ہونا۔
طحطاوی حاشیہ در مطبوعہ مصر جلد اول ص ۲۴۴ میں ہے:وکذاخلا فتہ (اور ایسے ہی آپ کی خلافت کا انکار کرنابھی کفر ہے۔فتاوی خلاصہ قلمی کتاب الصلوۃ فصل ۱۵ اور خزانۃ المفتین قلمی کتاب الصلوۃ فصل فی من یصح الا قتداء بہ ومن لا یصح میں ہے:
الرافضی ان فضل علیا علی غیرہ فھومبتدع ولوانکر خلافۃ الصدیق رضی اﷲ تعالی عنہ فھوکافر۔ رافضی اگر مولی علی کرم اﷲ تعالی وجہہ کو سب صحابہ کرام رضی اﷲ تعالی عنہم سے افضل جانے تو بدعتی گمراہ ہے اور اگر خلافت صدیق رضی اﷲ تعالی عنہ کا منکر ہو تو کافر ہے۔
فتح القدیر شرح ہدایہ مطبع مصر جلد اول ص ۲۴۸ اور حاشیہ تبیین العلامہ احمد شلبی مطبوعہ مصر جلد اول ص۱۳۵میں ہے:
موانع الارث اربعۃ(الی قولہ)واختلاف الدینین۔ وراثت کے موانع چار ہیںدین کا اختلافتك بیان کیا۔ (ت)
تحقیق مقام و تفصیل مرام یہ ہے کہ رافضی تبرائی جو حضرات شیخین صدیق اکبر و فاروق اعظم رضی اﷲ تعالی عنہما خواہ ان میں سے ایك کی شان پاك میں گستاخی کرے اگرچہ صرف اس قدرکہ انھیں امام و خلیفہ بر حق نہ مانے۔کتب معتمدہ فقہ حنفی کی تصریحات اور عامہ ائمہ ترجیح و فتوی کی تصحیحات پر مطلقا کافر ہے۔درمختار مطبوعہ مطبع ہاشمی صفحہ۶۴ میں ہے:
ان انکربعض ما علم من الدین ضرورۃ کفربھا کقولہ ان اﷲ تعالی جسم کالاجسام وانکارہ صحبۃ الصدیق۔ اگر ضروریات دین سے کسی چیز کا منکر ہو تو کافر ہے مثلا یہ کہنا کہ اﷲ تعالی اجسام کے مانند جسم ہے یا صدیق اکبر رضی اﷲ تعالی عنہ کی صحا بیت کا منکر ہونا۔
طحطاوی حاشیہ در مطبوعہ مصر جلد اول ص ۲۴۴ میں ہے:وکذاخلا فتہ (اور ایسے ہی آپ کی خلافت کا انکار کرنابھی کفر ہے۔فتاوی خلاصہ قلمی کتاب الصلوۃ فصل ۱۵ اور خزانۃ المفتین قلمی کتاب الصلوۃ فصل فی من یصح الا قتداء بہ ومن لا یصح میں ہے:
الرافضی ان فضل علیا علی غیرہ فھومبتدع ولوانکر خلافۃ الصدیق رضی اﷲ تعالی عنہ فھوکافر۔ رافضی اگر مولی علی کرم اﷲ تعالی وجہہ کو سب صحابہ کرام رضی اﷲ تعالی عنہم سے افضل جانے تو بدعتی گمراہ ہے اور اگر خلافت صدیق رضی اﷲ تعالی عنہ کا منکر ہو تو کافر ہے۔
فتح القدیر شرح ہدایہ مطبع مصر جلد اول ص ۲۴۸ اور حاشیہ تبیین العلامہ احمد شلبی مطبوعہ مصر جلد اول ص۱۳۵میں ہے:
حوالہ / References
سراجی فی المیراث فصل فی الموانع ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص ۴
درمختار باب الامامۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۸۳
حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار باب الامامۃ دارالمعرفۃ بیروت ۱/ ۲۴۴
خزانۃ المفتین کتاب الصلوۃ فصل من یصح الاقتداء بہ ومن لا یصح قلمی ۱/ ۲۸
درمختار باب الامامۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۸۳
حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار باب الامامۃ دارالمعرفۃ بیروت ۱/ ۲۴۴
خزانۃ المفتین کتاب الصلوۃ فصل من یصح الاقتداء بہ ومن لا یصح قلمی ۱/ ۲۸
فی الرافض من فضل علیاعلی الثلا ثۃ فمبتدع وان انکرخلافۃ الصدیق اوعمررضی اﷲعنھما فھوکافر۔ رافضیوں میں جو شخص مولی علی کو خلفاء ثلاثہ رضی اﷲ تعالی عنہم سے افضل کہے گمراہ ہے اور اگر صدیق یافاروق رضی اﷲ تعالی عنہما کی خلافت کا انکار کرے تو کافرہے۔
وجیزامام کردری مطبوعہ مصر جلد ۳ ص ۳۱۸ میں ہے:
من انکرخلا فۃ ابی بکر رضی اﷲ تعالی عنہ فھو کافرفی الصحیح ومن انکر خلافۃ عمر رضی اﷲ تعالی عنہ فھو کافر فی الاصح ۔ خلافت ابو بکر رضی اﷲ تعالی عنہ کا منکر کفرہےیہی صحیح ہےاور خلافت عمر فاروق رضی اﷲ رتعالی عنہ کا منکر بھی کافر ہےیہی صحیح تر ہے
تبیین الحقائق شرح کنز الدقائق مطبوعہ مصر جلد اول ص ۱۳۴ میں ہے:
قال المرغینانی تجوز الصلوۃ خلف صاحب ھوی و بد عۃ ولا تجوز خلف الرافضی والجھمی و القدری والمشبہ ومن یقول بخلق القرانحاصلہ ان کان ھوی لا یکفر بہ صاحبہ تجوز مع الکراھۃ والا فلا۔ امام مرغینانی نے فرمایا بد مذہب بد عتی کے پیچھے نماز ادا ہو جائیگی اور رافضیجہمیقدریتشبہی کے پیچھے ہوگی ہی نہیںاور اس کا حاصل یہ ہے کہ اگر ا س بد مذہبی کے باعث وہ کافر نہ ہو تو نماز اس کے پیچھے کراہت کے ساتھ ہو جائے گی ورنہ نہیں۔
فتاوی عالمگیر یہ مطبوعہ مصر جلد اول ص ۸۴ میں اس عبارت کے بعد ہے:
ھکدافی التبیین والخلاصۃ وھو الصحیح ھکذافی البدائع۔ ایساہی تبیین الحقائق و خلاصہ میں ہے اور یہی صحیح ہے ایسا ہی بدائع میں ہے۔
اسی کی جلد۳ صفحہ ۲۶۴ اور بزازیہ جلد ۳ صفحہ۳۱۹ اور الاشباہ قلمی فن ثانی کتاب السیر اور اتحاف الابصار والبصائر مطبوعہ مصر صفحہ ۱۸۷ اور فتاوی انقرویہ مطبوعہ مصر جلد اول ص ۲۵ اور واقعات المفتین مطبوعہ مصر ص۱۳ سب میں فتاوی خلاصہ سے ہے:
االرافضی ان کان یسب الشیخین و یلعنھما والعیاذ باﷲ تعالی فھو کافر وان کان رافضی تبرائی جو حضرات شیخین رضی اﷲ تعالی عنہما کو معاذ اﷲ برا کہے کافر ہےاور اگر مولا علی کرم اﷲ
وجیزامام کردری مطبوعہ مصر جلد ۳ ص ۳۱۸ میں ہے:
من انکرخلا فۃ ابی بکر رضی اﷲ تعالی عنہ فھو کافرفی الصحیح ومن انکر خلافۃ عمر رضی اﷲ تعالی عنہ فھو کافر فی الاصح ۔ خلافت ابو بکر رضی اﷲ تعالی عنہ کا منکر کفرہےیہی صحیح ہےاور خلافت عمر فاروق رضی اﷲ رتعالی عنہ کا منکر بھی کافر ہےیہی صحیح تر ہے
تبیین الحقائق شرح کنز الدقائق مطبوعہ مصر جلد اول ص ۱۳۴ میں ہے:
قال المرغینانی تجوز الصلوۃ خلف صاحب ھوی و بد عۃ ولا تجوز خلف الرافضی والجھمی و القدری والمشبہ ومن یقول بخلق القرانحاصلہ ان کان ھوی لا یکفر بہ صاحبہ تجوز مع الکراھۃ والا فلا۔ امام مرغینانی نے فرمایا بد مذہب بد عتی کے پیچھے نماز ادا ہو جائیگی اور رافضیجہمیقدریتشبہی کے پیچھے ہوگی ہی نہیںاور اس کا حاصل یہ ہے کہ اگر ا س بد مذہبی کے باعث وہ کافر نہ ہو تو نماز اس کے پیچھے کراہت کے ساتھ ہو جائے گی ورنہ نہیں۔
فتاوی عالمگیر یہ مطبوعہ مصر جلد اول ص ۸۴ میں اس عبارت کے بعد ہے:
ھکدافی التبیین والخلاصۃ وھو الصحیح ھکذافی البدائع۔ ایساہی تبیین الحقائق و خلاصہ میں ہے اور یہی صحیح ہے ایسا ہی بدائع میں ہے۔
اسی کی جلد۳ صفحہ ۲۶۴ اور بزازیہ جلد ۳ صفحہ۳۱۹ اور الاشباہ قلمی فن ثانی کتاب السیر اور اتحاف الابصار والبصائر مطبوعہ مصر صفحہ ۱۸۷ اور فتاوی انقرویہ مطبوعہ مصر جلد اول ص ۲۵ اور واقعات المفتین مطبوعہ مصر ص۱۳ سب میں فتاوی خلاصہ سے ہے:
االرافضی ان کان یسب الشیخین و یلعنھما والعیاذ باﷲ تعالی فھو کافر وان کان رافضی تبرائی جو حضرات شیخین رضی اﷲ تعالی عنہما کو معاذ اﷲ برا کہے کافر ہےاور اگر مولا علی کرم اﷲ
حوالہ / References
حاشیۃ الشلبی علی تبیین الحقائق کتاب الصلوۃ باب الامامۃ والحدث فی الصلوۃ المطبعۃ الکبری الا میر یہ مصر ۱/ ۱۳۵
فتاوٰ ی بزازیہ علی ہامش فتاوی ہندیہ نوع فیما یتصل بہا مما یجب اکفارہ من اہل البدع نورانی کتب خانہ پشاور ۶/ ۳۱۸
تبیین الحقائق کتاب الصلوۃ باب الامامۃ والحدث فی الصلوۃ المطبعۃ الکبری الامیر یہ مصر ۱/ ۱۳۴
فتاوٰ ی بزازیہ علی ہامش فتاوی ہندیہ نوع فیما یتصل بہا مما یجب اکفارہ من اہل البدع نورانی کتب خانہ پشاور ۶/ ۳۱۸
تبیین الحقائق کتاب الصلوۃ باب الامامۃ والحدث فی الصلوۃ المطبعۃ الکبری الامیر یہ مصر ۱/ ۱۳۴
یفضل علیا کرم اﷲتعالی وجہہ علیھما فھو مبتدع۔ تعالی وجہہ کو صدیق اکبر اور عمر فاروق رضی اﷲ تعالی سے افضل بتائے تو کافر نہ ہوگا مگر گمراہ ہے۔
اسی کے صفحہ مذکورہ اور بر جندی شرح نقایہ مطبوعہ لکھنؤ جلد ۴ص ۲۱ میں فتاوی ظہیریہ سے ہے:
من انکر امامۃ ابی بکر الصدیق رضی اﷲ تعالی عنہ فھو کافر وعلی قول بعضھم ھو مبتدع ولیس بکافر والصحیح انہ کافر و کذلك من انکر خلافۃ عمر رضی اﷲتعالی عنہ فی اصح الاقوال۔ امامت صدیق اکبر رضی اﷲ تعالی عنہ کا منکر کافر ہےاور بعض نے کہا بد مذہب ہے کافر نہیںاور صحیح یہ ہے کہ وہ کافر ہےاسی طرح خلافت فاروق اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ کا منکر بھی صحیح قول پر کافر ہے۔
وہیں فتاو ی بزازیہ سے ہے:
ویجب اکفارھم باکفار عثمان و علی وطلحۃ و زبیر و عائشۃ رضی اﷲ تعالی عنہم۔ رافضیوںناصبیوں اور خارجیوں کا کافر کہنا واجب ہے اس سبب سے کہ وہ امیرالمومنین عثمان و مولی علی و حضرت طلحہ و حضرت زبیر و حضرت عائشہ رضی اﷲ تعالی عنہم کو کافرکہتے ہیں۔
بحرالرائق مطبوعہ مصر جلد ۵ ص ۱۳۱ میں ہے:
یکفر بانکارہ امامۃ ابی بکر رضی اﷲ تعالی عنہ علی الا صح کا نکارہ خلافۃ عمر رضی اﷲتعالی عنہ علی الاصح۔ اصح یہ ہے کہ ابو بکر یا عمر رضی اﷲ تعالی عنہما کی امامت و خلافت کا منکر کافرہے۔
مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر مطبوعہ قسطنطنیہ جلد اول ص ۱۰۵ میں ہے:
الرافضی ان فضل علیا فھو مبتدع وان انکر خلافۃ الصدیق فھو کافر۔ رافضی اگر صرف تفضیلیہ ہو تو بد مذہب ہے اور اگر خلافت صدیق کا منکر ہو تو کافر ہے۔
اسی کے صفحہ مذکورہ اور بر جندی شرح نقایہ مطبوعہ لکھنؤ جلد ۴ص ۲۱ میں فتاوی ظہیریہ سے ہے:
من انکر امامۃ ابی بکر الصدیق رضی اﷲ تعالی عنہ فھو کافر وعلی قول بعضھم ھو مبتدع ولیس بکافر والصحیح انہ کافر و کذلك من انکر خلافۃ عمر رضی اﷲتعالی عنہ فی اصح الاقوال۔ امامت صدیق اکبر رضی اﷲ تعالی عنہ کا منکر کافر ہےاور بعض نے کہا بد مذہب ہے کافر نہیںاور صحیح یہ ہے کہ وہ کافر ہےاسی طرح خلافت فاروق اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ کا منکر بھی صحیح قول پر کافر ہے۔
وہیں فتاو ی بزازیہ سے ہے:
ویجب اکفارھم باکفار عثمان و علی وطلحۃ و زبیر و عائشۃ رضی اﷲ تعالی عنہم۔ رافضیوںناصبیوں اور خارجیوں کا کافر کہنا واجب ہے اس سبب سے کہ وہ امیرالمومنین عثمان و مولی علی و حضرت طلحہ و حضرت زبیر و حضرت عائشہ رضی اﷲ تعالی عنہم کو کافرکہتے ہیں۔
بحرالرائق مطبوعہ مصر جلد ۵ ص ۱۳۱ میں ہے:
یکفر بانکارہ امامۃ ابی بکر رضی اﷲ تعالی عنہ علی الا صح کا نکارہ خلافۃ عمر رضی اﷲتعالی عنہ علی الاصح۔ اصح یہ ہے کہ ابو بکر یا عمر رضی اﷲ تعالی عنہما کی امامت و خلافت کا منکر کافرہے۔
مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر مطبوعہ قسطنطنیہ جلد اول ص ۱۰۵ میں ہے:
الرافضی ان فضل علیا فھو مبتدع وان انکر خلافۃ الصدیق فھو کافر۔ رافضی اگر صرف تفضیلیہ ہو تو بد مذہب ہے اور اگر خلافت صدیق کا منکر ہو تو کافر ہے۔
حوالہ / References
فتاوٰی بزازیہ علی ھامش فتاوٰی ہندیۃ نوع فیما یتصل بہا نورانی کتب خانہ پشاور ۶/ ۳۱۹
بر جندی شرح نقایہ کتاب الشہادۃ فصل یقبل الشہادۃ من اہل الھواء نو لکشور لکھنؤ ۴/ ۲۰،۲۱
فتاوٰی بزازیہ علی ھامش فتاوٰی ہندیۃ نوع فیمایتصل بہا مما یجب اکفارہ الخ نورانی کتب خانہ پشاور۶/ ۳۱۸
بحرالرائق باب احکام المرتدین ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۵/ ۱۲۱
مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر کتاب الصلٰوۃ فصل الجماعۃ سنۃ موکدۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۱۰۸
بر جندی شرح نقایہ کتاب الشہادۃ فصل یقبل الشہادۃ من اہل الھواء نو لکشور لکھنؤ ۴/ ۲۰،۲۱
فتاوٰی بزازیہ علی ھامش فتاوٰی ہندیۃ نوع فیمایتصل بہا مما یجب اکفارہ الخ نورانی کتب خانہ پشاور۶/ ۳۱۸
بحرالرائق باب احکام المرتدین ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۵/ ۱۲۱
مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر کتاب الصلٰوۃ فصل الجماعۃ سنۃ موکدۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۱۰۸
اسی کے صفحہ ۱۳۶ میں ہے:
یکفر بانکار ہ صاحبۃ ابی بکر رضی اﷲتعالی عنہ وبانکارہ امامتہ علی الاصح وبانکارہ صحبۃ عمر رضی اﷲتعالی عنہ علی الاصح۔ جو شخص ابو بکر صدیق رضی اﷲ تعالی عنہ کی صحابیت کا منکر ہو کافر ہے۔یونہی جو ان کے امام برحق ہونے کاانکار کرنے مذہب اصح میں کافر ہےیونہی عمر فاروق رضی اﷲ تعالی عنہ کی صحابیت کا انکار قول اصح پرکفر ہے۔
غنیہ شرح منیہ مطبوعہ قسطنطنیہ ص ۵۱۴ میں ہے:
المر ادبا لمبتدع من یعتقدشیئا علی خلاف ما یعتقدہ اھل السنۃ والجماعۃ وانما یجوز الاقتداء بہ مع الکراھۃ اذالم یکن ما یعتقدہ یؤدی الی الکفر عند اھل السنۃ اما لوکان مؤدیا الی الکفر فلا یجوز اصلا کا لغلاۃ من الروافض الذین ید عون الالوھیۃ لعلی رضی اﷲتعالی اوان النبوۃ کانت لہ فغلط جبریل و نحو ذلك مما ھو کفر و کذامن یقذف الصدیقۃ او ینکر صحبۃ الصدیق اوخلافتہ اویسب الشیخین۔ بد مذہب سے وہ مراد ہے جو کسی بات کا اہلسنت و جماعت کے خلاف عقیدہ رکھتا ہواور اس کی اقتداء کراہت کے ساتھ اس حال میں جائز ہے جب اس کا عقیدہ اہلسنت کے نزدیك کفر تك نہ پہنچا تاہواگر کفر تك پہنچائے تو اصلا جائز نہیںجیسے غالی رافضی کہ مولی علی کرم اﷲ تعالی وجہہ کو خدا کہتے ہیںیا یہ کہ نبوت ان کے لئے تھی جبریل نے غلطی کی۔اور اسی قسم کی اور باتیں کہ کفر ہیںاور یونہی جو حضرت صدیقہ رضی اﷲ تعالی عنہا کو معاذ اﷲ اس تہمت ملعونہ کی طرف نسبت کرے یا صدیق رضی اﷲ تعالی عنہ کی صحابیت یا خلافت کا انکار کرے یا شیخین رضی اﷲ تعالی عنہما کو براکہے۔
کفایہ شرح ہدایہ مطبع بمبئ جلد اول اور مستخلص الحقائق شرح کنز الدقائق مطبع احمدی ص ۳۲ میں ہے:
ان کان ھوا ہ یکفر اھلہ کالجھمی و القدری الذی قال بخلق القران والرافضی لغالی الذی ینکر خلافۃ ابی بکر رضی اﷲتعالی عنہ لا تجوز الصلوۃ خلفہ۔ بد مذہبی اگر کافر کر دے جیسے جہمی اور قدری کہ قرآن کو مخلوق کہےاور رافضی غالی کہ خلافت صدیق رضی اﷲ تعالی عنہ کا انکار کرے اس کے پیچھے نماز جائز نہیں۔
یکفر بانکار ہ صاحبۃ ابی بکر رضی اﷲتعالی عنہ وبانکارہ امامتہ علی الاصح وبانکارہ صحبۃ عمر رضی اﷲتعالی عنہ علی الاصح۔ جو شخص ابو بکر صدیق رضی اﷲ تعالی عنہ کی صحابیت کا منکر ہو کافر ہے۔یونہی جو ان کے امام برحق ہونے کاانکار کرنے مذہب اصح میں کافر ہےیونہی عمر فاروق رضی اﷲ تعالی عنہ کی صحابیت کا انکار قول اصح پرکفر ہے۔
غنیہ شرح منیہ مطبوعہ قسطنطنیہ ص ۵۱۴ میں ہے:
المر ادبا لمبتدع من یعتقدشیئا علی خلاف ما یعتقدہ اھل السنۃ والجماعۃ وانما یجوز الاقتداء بہ مع الکراھۃ اذالم یکن ما یعتقدہ یؤدی الی الکفر عند اھل السنۃ اما لوکان مؤدیا الی الکفر فلا یجوز اصلا کا لغلاۃ من الروافض الذین ید عون الالوھیۃ لعلی رضی اﷲتعالی اوان النبوۃ کانت لہ فغلط جبریل و نحو ذلك مما ھو کفر و کذامن یقذف الصدیقۃ او ینکر صحبۃ الصدیق اوخلافتہ اویسب الشیخین۔ بد مذہب سے وہ مراد ہے جو کسی بات کا اہلسنت و جماعت کے خلاف عقیدہ رکھتا ہواور اس کی اقتداء کراہت کے ساتھ اس حال میں جائز ہے جب اس کا عقیدہ اہلسنت کے نزدیك کفر تك نہ پہنچا تاہواگر کفر تك پہنچائے تو اصلا جائز نہیںجیسے غالی رافضی کہ مولی علی کرم اﷲ تعالی وجہہ کو خدا کہتے ہیںیا یہ کہ نبوت ان کے لئے تھی جبریل نے غلطی کی۔اور اسی قسم کی اور باتیں کہ کفر ہیںاور یونہی جو حضرت صدیقہ رضی اﷲ تعالی عنہا کو معاذ اﷲ اس تہمت ملعونہ کی طرف نسبت کرے یا صدیق رضی اﷲ تعالی عنہ کی صحابیت یا خلافت کا انکار کرے یا شیخین رضی اﷲ تعالی عنہما کو براکہے۔
کفایہ شرح ہدایہ مطبع بمبئ جلد اول اور مستخلص الحقائق شرح کنز الدقائق مطبع احمدی ص ۳۲ میں ہے:
ان کان ھوا ہ یکفر اھلہ کالجھمی و القدری الذی قال بخلق القران والرافضی لغالی الذی ینکر خلافۃ ابی بکر رضی اﷲتعالی عنہ لا تجوز الصلوۃ خلفہ۔ بد مذہبی اگر کافر کر دے جیسے جہمی اور قدری کہ قرآن کو مخلوق کہےاور رافضی غالی کہ خلافت صدیق رضی اﷲ تعالی عنہ کا انکار کرے اس کے پیچھے نماز جائز نہیں۔
حوالہ / References
مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر باب المرتد فصل ان الفاظ الکفر انواع داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۶۹۲
غنیہ المستملی فصل الاولی بالا مامۃ سہیل اکیڈیمی لاہور ص ۵۱۵
مستخلص الحقائق باب فی بیان احکام الامامۃ مطبع کانشی رام برورکس لاہور ۱/ ۲۰۲،الکفایۃ مع فتح القدیر باب الامامۃ نوریہ رضویہ سکھر ۱/ ۳۰۵
غنیہ المستملی فصل الاولی بالا مامۃ سہیل اکیڈیمی لاہور ص ۵۱۵
مستخلص الحقائق باب فی بیان احکام الامامۃ مطبع کانشی رام برورکس لاہور ۱/ ۲۰۲،الکفایۃ مع فتح القدیر باب الامامۃ نوریہ رضویہ سکھر ۱/ ۳۰۵
شرح کنز للملا مسکین مطبع مصر جلد اول ص۲۰۸ علی ہامش فتح المعین میں ہے:
فی الخلاصۃ یصح الاقتداء باھل الاھواء الاالجہمیۃ والجبریۃ والقدریۃ والرافضی الغالی ومن یقول بخلق القران والمشبہوجملتاہ ان من کان من اھل قبلتنا ولم یغل فی ھواہ حتی لم یحکم بکونہ کافرا تجوزالصلوۃ خلفہ وتکر ہ واراد بالرافضی الغالی الذی ینکر خلافۃ ابی بکر رضی اﷲتعالی عنہ۔ خلاصہ میں ہے بد مذہبوں کے پیچھے نماز ہوجاتی ہے سوائے جہمیہ و جبریہ و قدریہ و رافضی غالی قائل خلق قرآن و مشبہ کے اور حاصل یہ کہ اہل قبلہ سے جو اپنی بدمذہبی میں غالی نہ ہو یہاں تك کہ اسے کافر نہ کہاجائے ا س کے پیچھے نماز بکراہت جائزہے۔اور رافضی غالی سے وہ مراد ہے جو صدیق اکبر رضی اﷲ تعالی عنہ کی خلافت کا منکر ہو۔
طحطاوی علی مرقی الفلاح مطبع مصر ۱۹۸ میں ہے:
ان انکر خلافۃ الصدیق کفر و الحق فی الفتح عمر بالصدیق فی ھذا الحکم والحق فی البرھان عثمان بھما ایضا ولا تجوز الصلوۃ خلف منکر المسح علی الخفین او صحبۃ الصدیق ومن یسب الشیخین اویقذف الصدیقۃ ولا خلف من انکر بعض ماعلم من الدین ضرورۃ لکفرہ ولا یلتف الی تاویلہ و اجتھادہ یعنی خلافت صدیق رضی اﷲ تعالی کا منکر کافرہے اور فتح القدیر میں فرمایا کہ خلافت فاروق رضی اﷲ تعالی کا منکر بھی کفر ہےاور برہان شرح مواہب الرحمن میں فرمایا خلافت عثمان رضی اﷲ تعالی عنہ کا منکر بھی کافر ہے اور نماز اس کے پیچھے جائز نہیں جو مسح موزہ یا صحابیت صدیق رضی اﷲ تعالی عنہ کا منکر ہو یا شیخین رضی اﷲ تعالی عنہما کو برا کہے یاصدیقہ رضی اﷲ تعالی عنہا پر تہمت رکھےاور نہ اس کے پیچھے جو ضروریات دین سے کسی شے کا منکر ہو کہ وہ کافر ہے اور اس کی تاویل کی طرف التفات نہ ہوگا نہ اس جانب کہ اس نے رائے کی غلطی سے ایسا کہا۔
نظم الفرائد منظومہ علامہ ابن وہبان مطبوعہ مصر ہامش مجیبہ ص ۴۰ اور نسخہ قدیمہ قلمیہ مع الشرح فصل من کتاب السیر میں ہے:
ومن لعن الشیخین اوسب کافر ومن قال فی الاید ی الجوارح اکفر
وصحح تکفیرمنکرخلافت ال عتیق فی الفاروق ذلك الاظھر
فی الخلاصۃ یصح الاقتداء باھل الاھواء الاالجہمیۃ والجبریۃ والقدریۃ والرافضی الغالی ومن یقول بخلق القران والمشبہوجملتاہ ان من کان من اھل قبلتنا ولم یغل فی ھواہ حتی لم یحکم بکونہ کافرا تجوزالصلوۃ خلفہ وتکر ہ واراد بالرافضی الغالی الذی ینکر خلافۃ ابی بکر رضی اﷲتعالی عنہ۔ خلاصہ میں ہے بد مذہبوں کے پیچھے نماز ہوجاتی ہے سوائے جہمیہ و جبریہ و قدریہ و رافضی غالی قائل خلق قرآن و مشبہ کے اور حاصل یہ کہ اہل قبلہ سے جو اپنی بدمذہبی میں غالی نہ ہو یہاں تك کہ اسے کافر نہ کہاجائے ا س کے پیچھے نماز بکراہت جائزہے۔اور رافضی غالی سے وہ مراد ہے جو صدیق اکبر رضی اﷲ تعالی عنہ کی خلافت کا منکر ہو۔
طحطاوی علی مرقی الفلاح مطبع مصر ۱۹۸ میں ہے:
ان انکر خلافۃ الصدیق کفر و الحق فی الفتح عمر بالصدیق فی ھذا الحکم والحق فی البرھان عثمان بھما ایضا ولا تجوز الصلوۃ خلف منکر المسح علی الخفین او صحبۃ الصدیق ومن یسب الشیخین اویقذف الصدیقۃ ولا خلف من انکر بعض ماعلم من الدین ضرورۃ لکفرہ ولا یلتف الی تاویلہ و اجتھادہ یعنی خلافت صدیق رضی اﷲ تعالی کا منکر کافرہے اور فتح القدیر میں فرمایا کہ خلافت فاروق رضی اﷲ تعالی کا منکر بھی کفر ہےاور برہان شرح مواہب الرحمن میں فرمایا خلافت عثمان رضی اﷲ تعالی عنہ کا منکر بھی کافر ہے اور نماز اس کے پیچھے جائز نہیں جو مسح موزہ یا صحابیت صدیق رضی اﷲ تعالی عنہ کا منکر ہو یا شیخین رضی اﷲ تعالی عنہما کو برا کہے یاصدیقہ رضی اﷲ تعالی عنہا پر تہمت رکھےاور نہ اس کے پیچھے جو ضروریات دین سے کسی شے کا منکر ہو کہ وہ کافر ہے اور اس کی تاویل کی طرف التفات نہ ہوگا نہ اس جانب کہ اس نے رائے کی غلطی سے ایسا کہا۔
نظم الفرائد منظومہ علامہ ابن وہبان مطبوعہ مصر ہامش مجیبہ ص ۴۰ اور نسخہ قدیمہ قلمیہ مع الشرح فصل من کتاب السیر میں ہے:
ومن لعن الشیخین اوسب کافر ومن قال فی الاید ی الجوارح اکفر
وصحح تکفیرمنکرخلافت ال عتیق فی الفاروق ذلك الاظھر
حوالہ / References
شرح کنز للملا مسکین علی ہامش فتح المعین باب الامامۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱/ ۲۰۸
طحطاوی علی مراقی الفلاح باب الا مامۃ نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص۱۶۵
نظم الفرائد منظومہ علامہ ابن وہبان
طحطاوی علی مراقی الفلاح باب الا مامۃ نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص۱۶۵
نظم الفرائد منظومہ علامہ ابن وہبان
جو شخص حضرات شیخین رضی اﷲ تعالی عنہما پر تبرابکے یا برا کہے کافر ہےاور جو کہے ید اﷲ سے ہاتھ مراد ہے وہ اس سے بڑھ کر کافر ہے اور خلافت صدیق رضی اﷲ تعالی عنہ کے انکار میں قول مصحح تکفیر ہے اور یہی دربارہ انکار خلافت فاروق رضی اﷲ تعالی اظہرہے۔تیسیر المقاصد شرح وہبانیہ للعلا مہ الشر نبلالی قلمی کتاب السیر میں ہے:
الرافضی اذاسب ابا بکر و عمر رضی اﷲتعالی عنھما ولعنھما یکون کافر اوان فضل علیھما علیالا یکفر و ھو مبتدع۔ رافضی اگر شیخین رضی اﷲ تعالی عنہما کو برا کہے یا ان پر تبرابکے کافر ہو جائےاور اگر مولی علی کرم اﷲ تعالی وجہہ کو ان سے افضل کہے کافر نہیں گمراہ بد مذہب ہے۔
اسی میں وہیں ہے۔
من انکر خلافۃ ابی بکرالصدیق فھو کافر فی الصحیح وکذامنکر خلافۃ ابی حفص عمر ابن الخطاب رضی اﷲتعالی عنہ فی الاظھر۔ خلافت صدیق رضی اﷲ تعالی عنہ کا منکر مذہب صحیح پر کافر ہےاور ایسا ہی قول اظہر میں خلافت فاروق رضی اﷲ تعالی عنہ کا منکر بھی۔
فتوی علامہ نوح آفندی پھر مجموعہ شیخ الاسلام عبید اﷲ آفندیپھر مغنی المستفتی عن سوال المفتیپھر عقودالدریۃ مطبع مصر جلد اول ص ۹۲۹۳ میں ہے:
الروافض کفرۃ جمعوا بین اصناف الکفر منھا انھم یسبون الشیخین سوداﷲ وجوھھم فی الدارین فمن اتصف بواحد من ھذہ الامور فھو کافر ملتقطا۔ رافضی کافر ہیں طرح طرح کے کفر وں کے مجمع میں ازانجملہ خلافت شیخین کا انکار کرتے ہیں ازانجملہ شیخین کو برا کہتے ہیں:اﷲ تعالی دونوں جہان میں رافضیوں کا منہ کالا کرےجو ان میں کسی بات سے متصف ہو کافرہے۔ملتقطا۔
انھیں میں ہے:
الرافضی اذاسب ابا بکر و عمر رضی اﷲتعالی عنھما ولعنھما یکون کافر اوان فضل علیھما علیالا یکفر و ھو مبتدع۔ رافضی اگر شیخین رضی اﷲ تعالی عنہما کو برا کہے یا ان پر تبرابکے کافر ہو جائےاور اگر مولی علی کرم اﷲ تعالی وجہہ کو ان سے افضل کہے کافر نہیں گمراہ بد مذہب ہے۔
اسی میں وہیں ہے۔
من انکر خلافۃ ابی بکرالصدیق فھو کافر فی الصحیح وکذامنکر خلافۃ ابی حفص عمر ابن الخطاب رضی اﷲتعالی عنہ فی الاظھر۔ خلافت صدیق رضی اﷲ تعالی عنہ کا منکر مذہب صحیح پر کافر ہےاور ایسا ہی قول اظہر میں خلافت فاروق رضی اﷲ تعالی عنہ کا منکر بھی۔
فتوی علامہ نوح آفندی پھر مجموعہ شیخ الاسلام عبید اﷲ آفندیپھر مغنی المستفتی عن سوال المفتیپھر عقودالدریۃ مطبع مصر جلد اول ص ۹۲۹۳ میں ہے:
الروافض کفرۃ جمعوا بین اصناف الکفر منھا انھم یسبون الشیخین سوداﷲ وجوھھم فی الدارین فمن اتصف بواحد من ھذہ الامور فھو کافر ملتقطا۔ رافضی کافر ہیں طرح طرح کے کفر وں کے مجمع میں ازانجملہ خلافت شیخین کا انکار کرتے ہیں ازانجملہ شیخین کو برا کہتے ہیں:اﷲ تعالی دونوں جہان میں رافضیوں کا منہ کالا کرےجو ان میں کسی بات سے متصف ہو کافرہے۔ملتقطا۔
انھیں میں ہے:
حوالہ / References
تیسیر المقاصد شرح وہبانیہ للشرنبلالی
تیسیر المقاصد شرح وہبانیہ للشرنبلالی
عقودالدریۃ باب الردۃ والتعزیر ارگ بازار قندھار افغانستان ۱/۴،۱۰۳
تیسیر المقاصد شرح وہبانیہ للشرنبلالی
عقودالدریۃ باب الردۃ والتعزیر ارگ بازار قندھار افغانستان ۱/۴،۱۰۳
اماسب الشیخین رضی اﷲ تعالی عنہما فانہ کسب النبی صلی اﷲتعالی علیہ وسلم وقال اصدر الشہید من سب الشیخین اولعنھما یکفر۔ شیخین رضی اﷲ تعالی عنہما کو براکہنا ایسا ہے جیسے نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی شان اقدس میں گستاخی کرنااور امام صدر شہید نے فرمایا:جو شیخین کو برا کہے یا تبرابکے کافر ہے۔
عقووالدریہ میں بعد نقل فتوی مذکورہ ہے:
وقد اکثر مشانخ الاسلام من علماء الدولۃ العثمانیۃ لا زالت مؤید ۃ بالنصرۃ العلیۃ الافتاء فی شان الشیعۃ المذکورین وقد اشبع الکلام فی ذلك کثیر منھم و الفوافیہ الرسائل وممن افتی بنحوذلك فیھم المحقق المفسر ابوا السعود افندی العما دی و نقل عبارتہ العلامۃ الکواکبی الحلبی فی شرحہ علی منظومتہ الفقھیۃ المسماۃ بالفرائد السنیۃ۔ علمائے دولت عثمانیہ کہ ہمیشہ نصرت الہی سے موید رہےان سے جو اکابر شیخ الاسلام ہوئے انھوں نے شیعہ کے باب میں کثرت سے فتوے دئےبہت نے طویل بیان لکھے اور اس بارے میں رسالے تصنیف کئےاور انھیں میں سےجنھوں نے روافض کے کفر و ارتداد کا فتوی دیا۔محقق مفسر ابو سعود آفندی عمادی(سردار مفتیان دولت علیہ عثمانیہ)ہیں اور اس کی عبارت علامہ کو اکبی حلبی نے اپنے منظومہ فقہیہ مسمی بہ فرائد سنیہ کی شرح میں نقل کی۔
اشباہ قلمی فن ثانی باب الرواۃ اور اتحاف ص ۱۸۷ اور انقروی جلد اول ص ۲۵ اور واقعات المفتین ص ۱۳ سب میں مناقب کردری سے ہے:
یکفر اذا انکر خلاتھما او یبغضھمالمحبۃ النبی صلی اﷲتعالی علیہ وسلم لھما۔ جو خلافت شیخین کا انکار کرے یا ان سے بغض رکھے کافر ہے کہ وہ تو رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے محبوب ہیں۔
بلکہ بہت اکابر نے تصریح فرمائی کہ رافضی تبرائی ایسےکافر ہیں جن کی تو بہ بھی قبول نہیںتنویر الابصار متن درمختار مطبع ہاشمی ص ۳۱۹ میں ہے:
عقووالدریہ میں بعد نقل فتوی مذکورہ ہے:
وقد اکثر مشانخ الاسلام من علماء الدولۃ العثمانیۃ لا زالت مؤید ۃ بالنصرۃ العلیۃ الافتاء فی شان الشیعۃ المذکورین وقد اشبع الکلام فی ذلك کثیر منھم و الفوافیہ الرسائل وممن افتی بنحوذلك فیھم المحقق المفسر ابوا السعود افندی العما دی و نقل عبارتہ العلامۃ الکواکبی الحلبی فی شرحہ علی منظومتہ الفقھیۃ المسماۃ بالفرائد السنیۃ۔ علمائے دولت عثمانیہ کہ ہمیشہ نصرت الہی سے موید رہےان سے جو اکابر شیخ الاسلام ہوئے انھوں نے شیعہ کے باب میں کثرت سے فتوے دئےبہت نے طویل بیان لکھے اور اس بارے میں رسالے تصنیف کئےاور انھیں میں سےجنھوں نے روافض کے کفر و ارتداد کا فتوی دیا۔محقق مفسر ابو سعود آفندی عمادی(سردار مفتیان دولت علیہ عثمانیہ)ہیں اور اس کی عبارت علامہ کو اکبی حلبی نے اپنے منظومہ فقہیہ مسمی بہ فرائد سنیہ کی شرح میں نقل کی۔
اشباہ قلمی فن ثانی باب الرواۃ اور اتحاف ص ۱۸۷ اور انقروی جلد اول ص ۲۵ اور واقعات المفتین ص ۱۳ سب میں مناقب کردری سے ہے:
یکفر اذا انکر خلاتھما او یبغضھمالمحبۃ النبی صلی اﷲتعالی علیہ وسلم لھما۔ جو خلافت شیخین کا انکار کرے یا ان سے بغض رکھے کافر ہے کہ وہ تو رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے محبوب ہیں۔
بلکہ بہت اکابر نے تصریح فرمائی کہ رافضی تبرائی ایسےکافر ہیں جن کی تو بہ بھی قبول نہیںتنویر الابصار متن درمختار مطبع ہاشمی ص ۳۱۹ میں ہے:
حوالہ / References
عقو دالدریۃ باب الردۃ والتعزیر ارگ بازار قندھار افغانستان ۱/ ۱۰۴
عقو دالدریۃ باب الردۃ والتعزیر ارگ بازار قندھار افغانستان ۱/ ۱۰۵
واقعات المفتین کتاب السیر دائرہ معارف اسلامیہ،بلوچستان ص ۱۳
عقو دالدریۃ باب الردۃ والتعزیر ارگ بازار قندھار افغانستان ۱/ ۱۰۵
واقعات المفتین کتاب السیر دائرہ معارف اسلامیہ،بلوچستان ص ۱۳
کل مسلم ارتد فتو بتہ مقبولۃ الا الکافر بسب النبی او الشیخین او احدھما۔ ہر مرتد کی توبہ قبول ہے مگر وہ جو کسی نبی یا حضرات الشیخین یا ان میں ایك کی شان میں گستاخی سے کافر ہو۔
اشباہ والنظائر قلمی فن ثانی کتاب السیر اور فتاوی خیریہ مطبوعہ مصر جلد اول ص ۹۴۹۵ اور اتحاف الابصار والبصائر مطبوعہ مصر ص ۱۸۶ میں ہے:
کافر تاب فتو بتہ مقبو لۃ فی الدنیا والاخرۃ الاجماعۃ الکافر بسب النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وسائر الا نبیاء وبسب الشیخین اوا حد ھما جو کافر توبہ کرے اس کی توبہ دنیا و آخرت میں قبول ہے مگر کچھ کافر ایسے ہیں جن کی توبہ مقبول نہیں ایك وہ جو ہمارے نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم خواہ کسی نبی کی شان میں گستاخی کے سبب کافر ہوادوسرا وہ کہ ابو بکر و عمر رضی اﷲ تعالی عنہما دونوں یا ایك کو برا کہنے کے باعث کافر ہوا۔
درمختار میں ہے:
فی البحر عن الجو ھرۃ معزیا للشھید من سب الشیخین اوطعن فیھما کفر ولا تقبل توبتہ وبہ اخذ الدبوسی وا بو اللیث وھوا لمختار للفتوی انتھی وجزم بہ الاشباہ واقر ہ المصنف۔ یعنی بحرالرائق میں بحوالہ جوہر ہ نیرہ شرح مختصر قدوری امام صدر شہید سے منقول ہے جو شخص حضرات شیخین رضی اﷲ تعالی عنہما کو برا کہے یا ان پر طعن کرے وہ کافر ہے اس کی توبہ قبول نہیںاور اسی پر امام دبوسی اور امام فقیہ ابواللیث سمر قندی نے فتوی دیااور یہی قول فتوی کے لئے مختار ہےاسی پر اشباہ میں جزم کیااور علامہ شیخ الاسلام محمد بن عبداﷲ غزی تمر تاشی نے اسے برقرار رکھا۔
اور پر ظاہر کہ کوئی کافر کسی مسلمان کا ترکہ نہیں پاسکتا۔درمختار صفحہ ۲۸۳ میں:
موانعہ الرق والقتل واختلاف الملتین اسلاما وکفرا ملتقطا۔ یعنی میراث کے مانع ہیں غلام ہونا اور مورث کو قتل کرنا اور مورث و وارث میں اسلام و کفر کا اختلاف۔
تبیین الحقائق جلد ۶ ص ۲۴۰ عالمگیر ی جلد ۶ ص ۴۵۴ میں ہے:
اشباہ والنظائر قلمی فن ثانی کتاب السیر اور فتاوی خیریہ مطبوعہ مصر جلد اول ص ۹۴۹۵ اور اتحاف الابصار والبصائر مطبوعہ مصر ص ۱۸۶ میں ہے:
کافر تاب فتو بتہ مقبو لۃ فی الدنیا والاخرۃ الاجماعۃ الکافر بسب النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وسائر الا نبیاء وبسب الشیخین اوا حد ھما جو کافر توبہ کرے اس کی توبہ دنیا و آخرت میں قبول ہے مگر کچھ کافر ایسے ہیں جن کی توبہ مقبول نہیں ایك وہ جو ہمارے نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم خواہ کسی نبی کی شان میں گستاخی کے سبب کافر ہوادوسرا وہ کہ ابو بکر و عمر رضی اﷲ تعالی عنہما دونوں یا ایك کو برا کہنے کے باعث کافر ہوا۔
درمختار میں ہے:
فی البحر عن الجو ھرۃ معزیا للشھید من سب الشیخین اوطعن فیھما کفر ولا تقبل توبتہ وبہ اخذ الدبوسی وا بو اللیث وھوا لمختار للفتوی انتھی وجزم بہ الاشباہ واقر ہ المصنف۔ یعنی بحرالرائق میں بحوالہ جوہر ہ نیرہ شرح مختصر قدوری امام صدر شہید سے منقول ہے جو شخص حضرات شیخین رضی اﷲ تعالی عنہما کو برا کہے یا ان پر طعن کرے وہ کافر ہے اس کی توبہ قبول نہیںاور اسی پر امام دبوسی اور امام فقیہ ابواللیث سمر قندی نے فتوی دیااور یہی قول فتوی کے لئے مختار ہےاسی پر اشباہ میں جزم کیااور علامہ شیخ الاسلام محمد بن عبداﷲ غزی تمر تاشی نے اسے برقرار رکھا۔
اور پر ظاہر کہ کوئی کافر کسی مسلمان کا ترکہ نہیں پاسکتا۔درمختار صفحہ ۲۸۳ میں:
موانعہ الرق والقتل واختلاف الملتین اسلاما وکفرا ملتقطا۔ یعنی میراث کے مانع ہیں غلام ہونا اور مورث کو قتل کرنا اور مورث و وارث میں اسلام و کفر کا اختلاف۔
تبیین الحقائق جلد ۶ ص ۲۴۰ عالمگیر ی جلد ۶ ص ۴۵۴ میں ہے:
حوالہ / References
درمختار کتاب الجہاد باب المرتد مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۵۷۔۳۵۶
فتاوٰی خیریہ کتاب السیر باب المرتدین دارالمعرفہ ّ بیروت ۱/ ۱۰۲
درمختار شرح تنویر الابصار باب المرتد مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۵۷
درمختار شرح تنویر الابصار کتاب الفرائض باب المرتد ۲/ ۳۴۵
فتاوٰی خیریہ کتاب السیر باب المرتدین دارالمعرفہ ّ بیروت ۱/ ۱۰۲
درمختار شرح تنویر الابصار باب المرتد مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۵۷
درمختار شرح تنویر الابصار کتاب الفرائض باب المرتد ۲/ ۳۴۵
اختلاف الدین ایضا یمنع الارث والمرادبہ الاختلاف بین الاسلام و الکفر۔ مورث ووارث میں دینی اختلاف بھی مانع میراث ہےاور اس سے مراد اسلام و کفر کا اختلاف ہے۔
بلکہ رافضی خواہ وہابی خواہ کوئی کلمہ گو جو باوصف ادعائے اسلام عقیدہ کفر رکھے وہ تو بتصریح ائمہ دین سب کافروں سے بد تر کافر یعنی مرتد کے حکم میں ہے۔ہدایہ مطبع مصطفائی جلد اخیر صفحہ ۵۶۳ اور درمختار صفحہ ۶۶۸ اور عالمگیری جلد ۶ صفحہ ۱۴۲ میں ہے:
صاحب الھوی ان کان یکفر فھو بمنز لۃ المرتد۔ بد مذہب اگر عقیدہ کفریہ رکھتا ہو تو مرتد کی جگہ ہے۔
غررمتن درر طبع مصر جلد ۲ ص ۳۴۶ میں ہے:
ذوھوی ان اکفر فکالمر تد۔ بد مذہب اگر تکفیر کیاجائے تو مثل مرتد کے ہے۔
ملتقی الابحر اور اس کی شرح مجمع الانہر جلد ۲ صفحہ ۶۸۹ میں ہے:
ان حکم بکفرہ بما ارتکبہ من الھوی فکالمرتد۔ اگر اسی بد مذہبی کے سب اس کے کفر کا حکم دیا جائے تو وہ مرتد کی مثل ہے۔
نیز فتاوی ہندیہ جلد ۲ صفحہ ۱۲۶۴ اور طریقہ محمدیہ اور اس کی شرح حدیقہ ندیہ مطبع مصر جلد اول صفحہ ۲۰۷۲۰۸ اور بر جندی شرح نقایہ جلد ۴ صفحہ ۲۰ میں ہے:
یجب اکفارالروافض فی قولھم برجعۃ الاموات الی الدنیا(الی قولہ)وھولاء القوم خارجون عن ملۃ الاسلام و احکامھم احکام المرتد ین کذا فی الظھیریۃ۔ یعنی رافضیوں کو ان کے عقائد کفریہ کے باعث کافر کہنا واجب ہےیہ لوگ دین اسلام سے خارج ہیں ان کےاحکام بعینہ مرتدین کےاحکام ہیںایسا ہی فتاوی ظہیریہ میں ہے۔
اور مرتد اصلا صالح وراثت نہیںمسلمان تو مسلمان کسی کافر حتی کہ خود اپنے ہم مذہب مرتد کا
بلکہ رافضی خواہ وہابی خواہ کوئی کلمہ گو جو باوصف ادعائے اسلام عقیدہ کفر رکھے وہ تو بتصریح ائمہ دین سب کافروں سے بد تر کافر یعنی مرتد کے حکم میں ہے۔ہدایہ مطبع مصطفائی جلد اخیر صفحہ ۵۶۳ اور درمختار صفحہ ۶۶۸ اور عالمگیری جلد ۶ صفحہ ۱۴۲ میں ہے:
صاحب الھوی ان کان یکفر فھو بمنز لۃ المرتد۔ بد مذہب اگر عقیدہ کفریہ رکھتا ہو تو مرتد کی جگہ ہے۔
غررمتن درر طبع مصر جلد ۲ ص ۳۴۶ میں ہے:
ذوھوی ان اکفر فکالمر تد۔ بد مذہب اگر تکفیر کیاجائے تو مثل مرتد کے ہے۔
ملتقی الابحر اور اس کی شرح مجمع الانہر جلد ۲ صفحہ ۶۸۹ میں ہے:
ان حکم بکفرہ بما ارتکبہ من الھوی فکالمرتد۔ اگر اسی بد مذہبی کے سب اس کے کفر کا حکم دیا جائے تو وہ مرتد کی مثل ہے۔
نیز فتاوی ہندیہ جلد ۲ صفحہ ۱۲۶۴ اور طریقہ محمدیہ اور اس کی شرح حدیقہ ندیہ مطبع مصر جلد اول صفحہ ۲۰۷۲۰۸ اور بر جندی شرح نقایہ جلد ۴ صفحہ ۲۰ میں ہے:
یجب اکفارالروافض فی قولھم برجعۃ الاموات الی الدنیا(الی قولہ)وھولاء القوم خارجون عن ملۃ الاسلام و احکامھم احکام المرتد ین کذا فی الظھیریۃ۔ یعنی رافضیوں کو ان کے عقائد کفریہ کے باعث کافر کہنا واجب ہےیہ لوگ دین اسلام سے خارج ہیں ان کےاحکام بعینہ مرتدین کےاحکام ہیںایسا ہی فتاوی ظہیریہ میں ہے۔
اور مرتد اصلا صالح وراثت نہیںمسلمان تو مسلمان کسی کافر حتی کہ خود اپنے ہم مذہب مرتد کا
حوالہ / References
تبیین الحقائق کتاب الفرائض المطبعۃ الکبری الامیریہ مصر ۶/ ۲۴۰
فتاوی ہندیہ الباب الثامن فی وصیۃ الذمی والحربی نورانی کتب خانہ پشاور ۶/ ۱۳۰
غرر الاحکام مع الدررالحکام،کتاب الوصایا فصل وصایا الذمی احمد کامل الکا ئنۃ العلیہ مصر ۲/ ۴۴۶
مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر کتاب الوصایا بوصیۃ الذمی داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/ ۷۱۷
فتاوٰی ہندیہ باب المرتدین نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۲۶۴
فتاوی ہندیہ الباب الثامن فی وصیۃ الذمی والحربی نورانی کتب خانہ پشاور ۶/ ۱۳۰
غرر الاحکام مع الدررالحکام،کتاب الوصایا فصل وصایا الذمی احمد کامل الکا ئنۃ العلیہ مصر ۲/ ۴۴۶
مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر کتاب الوصایا بوصیۃ الذمی داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/ ۷۱۷
فتاوٰی ہندیہ باب المرتدین نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۲۶۴
ترکہ بھی ہر گز اسے نہیں پہنچ سکتا۔عالمگیری جلد ۶ ص ۴۵۵ میں ہے:
المرتد لایرث من مسلم ولا من مرتد مثلہ کذ افی المحیط۔ مرتد نہ کسی مسلمان اور نہ ہی اپنے جیسے مرتد کا وارث ہو گاایسے ہی محیط میں ہے۔(ت)
خزانہ المفتین میں ہے:
المرتد لایرث من احد لامن المسلم ولا من الذمی ولا من مرتد مثلہ۔ مرتد کسی کا بھی وارث نہ بنے گا نہ مسلمان نہ ذمی اور نہ ہی اپنے جیسے مرتد کا۔(ت)
یہ حکم فقہی مطلق تبرائی رافضیوں کا ہے اگرچہ تبرا و انکار خلافت شیخین رضی اﷲ تعالی عنہما کے سوا ضروریات دین کا انکار نہ کرتے ہوں
والاحوط فیہ قول المتکلمین انھم ضلال من کلاب النار لاکفار وبہ ناخذ۔ اس میں محتاط متکلمین کا قول ہے کہ وہ گمراہ اور جہنمی کتے ہیں کافر نہیںاور یہی ہمارا مسلك ہے(ت)
اور روافض زمانہ تو ہر گز صرف تبرا ئی نہیں بلکہ یہ تبرائی علی العموم منکر ان ضروریات دین اور باجماع مسلمین یقینا قطعا کفار مرتدین ہیں یہاں تك کہ علمائے کرام نے تصریح فرمائی کہ جو انھیں کافر نہ جانے خود کافر ہےبہت عقائد کفریہ کے علاوہ دو کفر صریح میں ان کے عالم جاہل مرد عورت چھوٹے بڑے سب بالا تفاق گرفتار ہیں:
کفر اول:قرآن عظیم کو ناقص بتاتے ہیںکوئی کہتا ہے اس میں سے کچھ سورتیں امیر المومنین عثمان غنی ذوالنورین یا دیگر صحابہ اہلسنت رضی اﷲ تعالی عنہم نے گھٹا دیںکوئی کہتا ہے اس میں سے کچھ لفظ بدل دئےکوئی کہتا ہے یہ نقص و تبدیل اگرچہ یقینا ثابت نہیں محتمل ضرور ہے اور جو شخص قرآن مجید مین زیادت یا نقص یا تبدیل کسی طرح کے تصرف بشری کا دخل مانے یا اسے محتمل جانے بالا جماع کافر مرتد ہے کہ صراحۃ قرآن عظیم کی تکذیب کر رہا ہے۔اﷲ عز وجل سورہ حجر میں فرماتاہے:
" انا نحن نزلنا الذکر و انا لہ لحفظون ﴿۹﴾ "۔ بیشك ہم نے اتارا یہ قرآن اور بیشك بالیقین ہم خوداس کے نگہبان ہیں۔
بیضاوی شریف مطبع لکھنؤ صفحہ ۴۲۸ میں ہے:
المرتد لایرث من مسلم ولا من مرتد مثلہ کذ افی المحیط۔ مرتد نہ کسی مسلمان اور نہ ہی اپنے جیسے مرتد کا وارث ہو گاایسے ہی محیط میں ہے۔(ت)
خزانہ المفتین میں ہے:
المرتد لایرث من احد لامن المسلم ولا من الذمی ولا من مرتد مثلہ۔ مرتد کسی کا بھی وارث نہ بنے گا نہ مسلمان نہ ذمی اور نہ ہی اپنے جیسے مرتد کا۔(ت)
یہ حکم فقہی مطلق تبرائی رافضیوں کا ہے اگرچہ تبرا و انکار خلافت شیخین رضی اﷲ تعالی عنہما کے سوا ضروریات دین کا انکار نہ کرتے ہوں
والاحوط فیہ قول المتکلمین انھم ضلال من کلاب النار لاکفار وبہ ناخذ۔ اس میں محتاط متکلمین کا قول ہے کہ وہ گمراہ اور جہنمی کتے ہیں کافر نہیںاور یہی ہمارا مسلك ہے(ت)
اور روافض زمانہ تو ہر گز صرف تبرا ئی نہیں بلکہ یہ تبرائی علی العموم منکر ان ضروریات دین اور باجماع مسلمین یقینا قطعا کفار مرتدین ہیں یہاں تك کہ علمائے کرام نے تصریح فرمائی کہ جو انھیں کافر نہ جانے خود کافر ہےبہت عقائد کفریہ کے علاوہ دو کفر صریح میں ان کے عالم جاہل مرد عورت چھوٹے بڑے سب بالا تفاق گرفتار ہیں:
کفر اول:قرآن عظیم کو ناقص بتاتے ہیںکوئی کہتا ہے اس میں سے کچھ سورتیں امیر المومنین عثمان غنی ذوالنورین یا دیگر صحابہ اہلسنت رضی اﷲ تعالی عنہم نے گھٹا دیںکوئی کہتا ہے اس میں سے کچھ لفظ بدل دئےکوئی کہتا ہے یہ نقص و تبدیل اگرچہ یقینا ثابت نہیں محتمل ضرور ہے اور جو شخص قرآن مجید مین زیادت یا نقص یا تبدیل کسی طرح کے تصرف بشری کا دخل مانے یا اسے محتمل جانے بالا جماع کافر مرتد ہے کہ صراحۃ قرآن عظیم کی تکذیب کر رہا ہے۔اﷲ عز وجل سورہ حجر میں فرماتاہے:
" انا نحن نزلنا الذکر و انا لہ لحفظون ﴿۹﴾ "۔ بیشك ہم نے اتارا یہ قرآن اور بیشك بالیقین ہم خوداس کے نگہبان ہیں۔
بیضاوی شریف مطبع لکھنؤ صفحہ ۴۲۸ میں ہے:
حوالہ / References
فتاوی ہندیہ کتاب الفرائض الباب السادس فی میراث اہل الکفر الخ نورانی کتب خانہ پشاور ۶/ ۴۵۵
خزانۃ المفتین کتاب الفرائض قلمی ۲/ ۲۵۰
القرآن الکریم ۱۵ /۹
خزانۃ المفتین کتاب الفرائض قلمی ۲/ ۲۵۰
القرآن الکریم ۱۵ /۹
لحفظون ای من التحریف والزیاۃ والنقص۔ تبدیل و تحریف اور کمی بیشی سے حفاظت کرنے والے ہیں۔(ت)
جلالین شریف میں ہے:
لحفظون من التبدیل والتحریف و الزیادۃ والنقص۔ یعنی حق تعالی فرماتا ہے ہم خود اس کے نگہبان ہیں اس سےکہ کوئی اسے بدل دے یا الٹ پلٹ کر دے یا کچھ بڑھا دے یا گھٹا دے۔
جمل مطبع مصر جلد ۳ ص ۵۶۱ میں ہے:
بخلاف سائرالکتب المنز لۃ فقد دخل فیھا التحریف والتبدیل بخلاف القران فانہ محفوظ عن ذلك لا یقدر احد من جمیع الخلق الانس و الجن ان یزید فیہ او ینقص منہ حرفا واحد ااو کلمۃ واحدۃ۔ یعنی بخلاف اور کتب آسمانی کے کہ ان میں تحریف و تبدیل نے دخل پایا۔اور قرآن اس سے محفوظ ہےتمام مخلوق جن وانس کسی کی جان نہیں کہ اس میں ایك لفظ یا ایك حرف بڑھا دیں یا کم کر دیں۔
اﷲ تعالی سورۃ حم السجدہ میں فرماتاہے:
" و انہ لکتب عزیز ﴿۴۱﴾ لا یاتیہ البطل من بین یدیہ و لا من خلفہ تنزیل من حکیم حمید ﴿۴۲﴾ بیشك یہ قرآن شریف معزز کتاب ہے باطل کو اس کی طرف اصلا راہ نہیںنہ سامنے سے نہ پیچھے سے یہ اتارا ہوا ہے حکمت والے سراہے ہوئے کا۔
تفسیر معالم التنزیل شریف مطبوعہ بمبئی جلد ۴ ص ۳۵ میں ہے:
قال قتادۃ والسدی الباطل ھو الشیطان لا یستطیع ان یغیر او یزید فیہ اوینقص منہ قال الزجاج معنا ہ انہ محفوظ من یعنی قتادہ و سدی مفسرین نے کہا باطل کہ شیطان ہے قرآن میں کچھ گھٹا بڑھا بدل نہیں سکتا۔زجاج نے کہا باطل کہ زیادت و نقصان ہیں قرآن ان سے محفوظ
جلالین شریف میں ہے:
لحفظون من التبدیل والتحریف و الزیادۃ والنقص۔ یعنی حق تعالی فرماتا ہے ہم خود اس کے نگہبان ہیں اس سےکہ کوئی اسے بدل دے یا الٹ پلٹ کر دے یا کچھ بڑھا دے یا گھٹا دے۔
جمل مطبع مصر جلد ۳ ص ۵۶۱ میں ہے:
بخلاف سائرالکتب المنز لۃ فقد دخل فیھا التحریف والتبدیل بخلاف القران فانہ محفوظ عن ذلك لا یقدر احد من جمیع الخلق الانس و الجن ان یزید فیہ او ینقص منہ حرفا واحد ااو کلمۃ واحدۃ۔ یعنی بخلاف اور کتب آسمانی کے کہ ان میں تحریف و تبدیل نے دخل پایا۔اور قرآن اس سے محفوظ ہےتمام مخلوق جن وانس کسی کی جان نہیں کہ اس میں ایك لفظ یا ایك حرف بڑھا دیں یا کم کر دیں۔
اﷲ تعالی سورۃ حم السجدہ میں فرماتاہے:
" و انہ لکتب عزیز ﴿۴۱﴾ لا یاتیہ البطل من بین یدیہ و لا من خلفہ تنزیل من حکیم حمید ﴿۴۲﴾ بیشك یہ قرآن شریف معزز کتاب ہے باطل کو اس کی طرف اصلا راہ نہیںنہ سامنے سے نہ پیچھے سے یہ اتارا ہوا ہے حکمت والے سراہے ہوئے کا۔
تفسیر معالم التنزیل شریف مطبوعہ بمبئی جلد ۴ ص ۳۵ میں ہے:
قال قتادۃ والسدی الباطل ھو الشیطان لا یستطیع ان یغیر او یزید فیہ اوینقص منہ قال الزجاج معنا ہ انہ محفوظ من یعنی قتادہ و سدی مفسرین نے کہا باطل کہ شیطان ہے قرآن میں کچھ گھٹا بڑھا بدل نہیں سکتا۔زجاج نے کہا باطل کہ زیادت و نقصان ہیں قرآن ان سے محفوظ
حوالہ / References
انوارا التنزیل المعروف بالبیضاوی تحت آیۃ انا نحن نزلنا الذ کر الخ مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۳۰۰
تفسیر جلالین تحت آیۃ انا نحن نزلنا الذ کر الخ اصح المطابع دہلی ص ۲۱۱
الفتوحات الالٰہیہ تحت آیۃ انا نحن نزلنا الذ کر الخ مصطفی البابی مصر ۲/ ۵۳۹
القرآن الکریم ۴۱ /۴۱و ۴۲
تفسیر جلالین تحت آیۃ انا نحن نزلنا الذ کر الخ اصح المطابع دہلی ص ۲۱۱
الفتوحات الالٰہیہ تحت آیۃ انا نحن نزلنا الذ کر الخ مصطفی البابی مصر ۲/ ۵۳۹
القرآن الکریم ۴۱ /۴۱و ۴۲
ان ینقص منہ فیأ تیہ الباطل من بین ید یہ او یزاد فیہ فیأتیہ الباطل من خلفہ وعلی ھذا المعنی الباطل الزیادۃ والنقصان۔ ہےکچھ کم ہوجائے تو باطل سامنے سے آئے بڑھ جائے تو پس پشت سے۔اور یہ کتاب ہر طرح باطل سے محفوظ ہے۔
کشف الاسرار امام اجل شیخ عبدالعزیز بخاری شرح اصول امام ہمام فخر الاسلام بزدوی مطبوع قسطنطنیہ جلد ۳ ص ۸۸ و ۸۹ میں ہے:
کان نسخ التلاوۃ والحکم جمیعا جائزافی حیاۃ النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فاما بعد وفاتہ فلا یجوز قال بعض الرافضۃ والملحدۃ ممن یتسترباظھار الاسلام وھو قاصد الی افسادہھذا جائز بعد وفاتہ ایضاو زعموا ان فی القران کانت ایت فی امامۃ علی وفی فضائل اھل البیت فکتمھاالصحابۃ فلم تبق باندر اس زما نھموالدلیل علی بطلان ھذا القول قولہ تعالی" انا نحن نزلنا الذکر و انا لہ لحفظون ﴿۹﴾ "کذافی اصول الفقہ لشمس الائمۃ ملتقطا۔ قرآن عظیم سے کسی چیز کی تلاوت و حکم دونوں کا منسوخ ہونا زمانہ نبوی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم میں جائز تھابعد وفات اقدس ممکن نہیںبعض وہ لوگ کہ رافضی اور نرے زندیق ہیں بظاہر مسمانی کانام لے کر اپناپردہ ڈھانکتے ہیں اور حقیقۃ انھیں اسلام کو تباہ کرنا مقصود ہےوہ کہتے ہیں کہ یہ بعد وفات والا بھی ممکن ہےوہ بکتے ہیں کہ قرآن میں کچھ آیتیں امامت مولا علی اور فضائل اہلبیت میں تھیں کہ صحابہ نے چھپا ڈالیں جب وہ زمانہ مٹ گیا باقی نہ رہیں اور اس قول کے بطلان پر دلیل خود قرآن عظیم کا ارشاد ہے کہ بیشك ہم نے اتارا یہ قرآن اور ہم خود اس کے نگہبان ہیں۔ایسا ہی امام شمس الائمہ کی کتاب اصول الفقہ میں ہے۔
امام قاضی عیاض شفا شریف مطبع صدیقی ص ۳۴۶ میں بہت سے یقینی اجماعی کفر بیان کرکے فرماتے ہیں:
وکذلك ومن انکر القران او حرفا منہ اور غیر شیئا منہ یعنی اسی طرح وہ بھی قطعا اجماعاکافر ہے جو قرآن عظیم یا اس کے کسی حرف کا انکار کرے یا اس میں سے
کشف الاسرار امام اجل شیخ عبدالعزیز بخاری شرح اصول امام ہمام فخر الاسلام بزدوی مطبوع قسطنطنیہ جلد ۳ ص ۸۸ و ۸۹ میں ہے:
کان نسخ التلاوۃ والحکم جمیعا جائزافی حیاۃ النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فاما بعد وفاتہ فلا یجوز قال بعض الرافضۃ والملحدۃ ممن یتسترباظھار الاسلام وھو قاصد الی افسادہھذا جائز بعد وفاتہ ایضاو زعموا ان فی القران کانت ایت فی امامۃ علی وفی فضائل اھل البیت فکتمھاالصحابۃ فلم تبق باندر اس زما نھموالدلیل علی بطلان ھذا القول قولہ تعالی" انا نحن نزلنا الذکر و انا لہ لحفظون ﴿۹﴾ "کذافی اصول الفقہ لشمس الائمۃ ملتقطا۔ قرآن عظیم سے کسی چیز کی تلاوت و حکم دونوں کا منسوخ ہونا زمانہ نبوی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم میں جائز تھابعد وفات اقدس ممکن نہیںبعض وہ لوگ کہ رافضی اور نرے زندیق ہیں بظاہر مسمانی کانام لے کر اپناپردہ ڈھانکتے ہیں اور حقیقۃ انھیں اسلام کو تباہ کرنا مقصود ہےوہ کہتے ہیں کہ یہ بعد وفات والا بھی ممکن ہےوہ بکتے ہیں کہ قرآن میں کچھ آیتیں امامت مولا علی اور فضائل اہلبیت میں تھیں کہ صحابہ نے چھپا ڈالیں جب وہ زمانہ مٹ گیا باقی نہ رہیں اور اس قول کے بطلان پر دلیل خود قرآن عظیم کا ارشاد ہے کہ بیشك ہم نے اتارا یہ قرآن اور ہم خود اس کے نگہبان ہیں۔ایسا ہی امام شمس الائمہ کی کتاب اصول الفقہ میں ہے۔
امام قاضی عیاض شفا شریف مطبع صدیقی ص ۳۴۶ میں بہت سے یقینی اجماعی کفر بیان کرکے فرماتے ہیں:
وکذلك ومن انکر القران او حرفا منہ اور غیر شیئا منہ یعنی اسی طرح وہ بھی قطعا اجماعاکافر ہے جو قرآن عظیم یا اس کے کسی حرف کا انکار کرے یا اس میں سے
حوالہ / References
معالم التنزیل علی ھامش الخازن تحت آیۃ انہ لکتاب عزیز لا یاٰتیہ الخ(مصطفی البابی مصر ۶/ ۱۱۳
کشف الاسرارعن اصول البزدوی باب تفصیل المنسوخ دارا لکتاب العربی بیروت ۳/ ۸۹۔۱۸۸
کشف الاسرارعن اصول البزدوی باب تفصیل المنسوخ دارا لکتاب العربی بیروت ۳/ ۸۹۔۱۸۸
اوزادفیہ۔ کچھ بدلے یا قرآن میں اس موجودہ میں کچھ زیادہ بتائے۔
فواتح الرحموت شرح مسلم الثبوت مطبع لکھنؤ ص ۶۱۷ میں ہے:
اعلم انی رأیت فی مجمع البیان تفسیر الشیعۃ انہ ذھب بعض اصحابھم الی ان القران العیاذ باﷲ کان زائداعلی ھذا المکتوب المقروء قد ذھب بتقصیر من الصحابۃ الجامعین العیاذ باﷲ لم یختر صاحب ذلك التفسیر ھذا القول فمن قال بھذا القول فھو کافر لا نکارہ الضروری۔ یعنی میں نے طبرسی رافضی کی تفسیر مجمع البیان میں دیکھا کہ بعض رافضیوں کے مذہب میں قرآن عظیم معاذ اﷲ اس قدر موجود سے زائد تھا جن صحابہ نے قرآن جمع کیا عیاذا باﷲ ان کے قصور سے جاتا رہا اس مفسر نے یہ قول اختیار نہ کیاجو اس کا قائل ہو کافر ہے کہ ضروریات دین کا منکر ہے۔
کفر دوم:ان کا ہر تنفس سیدنا امیر المومنین مولی علی کرم اﷲ وجہہ الکریم و دیگر ائمہ طاہر ین رضوان اﷲ تعالی علیہم اجمعین کو حضرات عالیات انبیائے سابقین علیہم الصلوۃ والتحیات سے افضل بتاتا ہے اور جو کسی غیر نبی کو نبی سے افضل کہےباجماع مسلمین کافر بے دین ہے۔شفا ء شریف صفحہ ۳۶۵ میں انہی اجماعی کفروں کے بیان میں ہے:
وکذ لك نقطع بتکفیر غلاۃ الرافضۃ فی قولھم ان الائمۃ افضل من الانبیاء۔ اور اسی طرح ہم یقینی کافر جانتے ہیں ان غالی رافضیوں کو جوائمہ کو انبیاء سے افضل بتاتے ہیں۔
امام اجل نووی کتاب الروضہ پھر اما م ابن حجر مکی اعلام بقواطع الاسلام مطبع مصر صفحہ ۴۴ میں کلام شفا نقل فرماتے اور مقرر رکھتے ہیںملا علی قاری شرح شفا مطبوعہ قسطنطنیہ جلد ۲ صفحہ ۵۲۶ میں فرماتے ہیں: ھذا کفر صریح (یہ کھلا کفر ہے۔) منح الروض الا زہر شرح فقہ اکبر مطبع حنفی ص ۱۴۶ میں ہے:
ما نقل عن بعض الکرامیۃ من جواز کون الولی افضل من النبی کفر و ضلالۃ والحاد وہ جو بعض کرامیہ سے منقول ہو ا کہ جائز ہے کہ ولی نبی سے مرتبے میں بڑھ جائے یہ کفر و ضلالت و بے دینی و
فواتح الرحموت شرح مسلم الثبوت مطبع لکھنؤ ص ۶۱۷ میں ہے:
اعلم انی رأیت فی مجمع البیان تفسیر الشیعۃ انہ ذھب بعض اصحابھم الی ان القران العیاذ باﷲ کان زائداعلی ھذا المکتوب المقروء قد ذھب بتقصیر من الصحابۃ الجامعین العیاذ باﷲ لم یختر صاحب ذلك التفسیر ھذا القول فمن قال بھذا القول فھو کافر لا نکارہ الضروری۔ یعنی میں نے طبرسی رافضی کی تفسیر مجمع البیان میں دیکھا کہ بعض رافضیوں کے مذہب میں قرآن عظیم معاذ اﷲ اس قدر موجود سے زائد تھا جن صحابہ نے قرآن جمع کیا عیاذا باﷲ ان کے قصور سے جاتا رہا اس مفسر نے یہ قول اختیار نہ کیاجو اس کا قائل ہو کافر ہے کہ ضروریات دین کا منکر ہے۔
کفر دوم:ان کا ہر تنفس سیدنا امیر المومنین مولی علی کرم اﷲ وجہہ الکریم و دیگر ائمہ طاہر ین رضوان اﷲ تعالی علیہم اجمعین کو حضرات عالیات انبیائے سابقین علیہم الصلوۃ والتحیات سے افضل بتاتا ہے اور جو کسی غیر نبی کو نبی سے افضل کہےباجماع مسلمین کافر بے دین ہے۔شفا ء شریف صفحہ ۳۶۵ میں انہی اجماعی کفروں کے بیان میں ہے:
وکذ لك نقطع بتکفیر غلاۃ الرافضۃ فی قولھم ان الائمۃ افضل من الانبیاء۔ اور اسی طرح ہم یقینی کافر جانتے ہیں ان غالی رافضیوں کو جوائمہ کو انبیاء سے افضل بتاتے ہیں۔
امام اجل نووی کتاب الروضہ پھر اما م ابن حجر مکی اعلام بقواطع الاسلام مطبع مصر صفحہ ۴۴ میں کلام شفا نقل فرماتے اور مقرر رکھتے ہیںملا علی قاری شرح شفا مطبوعہ قسطنطنیہ جلد ۲ صفحہ ۵۲۶ میں فرماتے ہیں: ھذا کفر صریح (یہ کھلا کفر ہے۔) منح الروض الا زہر شرح فقہ اکبر مطبع حنفی ص ۱۴۶ میں ہے:
ما نقل عن بعض الکرامیۃ من جواز کون الولی افضل من النبی کفر و ضلالۃ والحاد وہ جو بعض کرامیہ سے منقول ہو ا کہ جائز ہے کہ ولی نبی سے مرتبے میں بڑھ جائے یہ کفر و ضلالت و بے دینی و
حوالہ / References
الشفاء بتعریف حقوق المصطفیٰ فصل فی بیان ماھو من مقالا ت المطبعۃ الشرکۃ الصحافیہ ۲/ ۲۷۴
فواتح الرحموت بذیل المستصفیٰ مسئلہ کل مجتہد فی المسئلۃ الا جتہاد الخ منشورات الشریف الرضی قم ایران ۲/ ۳۸۸
الشفا ء بتعریف حقوق المصطفیٰ فصل فی بیان ماھو من المقالات ۲/ ۲۷۵
شرح الشفاء ملا علی قاری فصل فی بیان ماھو من المقالات دارالفکر بیروت ۴/ ۵۱۹
فواتح الرحموت بذیل المستصفیٰ مسئلہ کل مجتہد فی المسئلۃ الا جتہاد الخ منشورات الشریف الرضی قم ایران ۲/ ۳۸۸
الشفا ء بتعریف حقوق المصطفیٰ فصل فی بیان ماھو من المقالات ۲/ ۲۷۵
شرح الشفاء ملا علی قاری فصل فی بیان ماھو من المقالات دارالفکر بیروت ۴/ ۵۱۹
وجہالۃ۔ جہالت ہے۔
شرح مقاصد مطبوع قسطنطنیہ جلد ۲ ص ۰۵ ۳ اور طریقہ محمدیہ علامہ بر کوی قلمی آخر فصل اول باب ثانی میں ہے:
واللفظ لھا ان الا جماع منعقد علی ان الانبیاء افضل من الاولیاء۔ بیشك مسلمانوں کا اجماع قائم ہے اس پر کہ انبیائے کرام علیہم الصلوۃ والسلام اولیائے عطام سے افضل ہیں۔
حدیقہ ندیہ شرح طریقہ محمدیہ مطبع مصر جلد اول ص ۲۱۵ میں ہے:
التفضیل علی نبی تفضیل علی کل نبی۔ کسی غیر نبی کو ایك نبی سے افضل کہنا تمام انبیاء سے افضل بتانا ہے۔
شرح عقائد نسفی مطبع قدیم ص ۶۵ پھر طریقہ محمد یہ وحدیقہ ندیہ ص ۲۱۵ میں ہے:
واللفظ لھما(تفضیل الولی علی النبی)مرسلا کان اولا(کفر و ضلال کیف و ھو تحقیر النبی)بالنسبۃ الی الولی(وخرق الاجماع)حیث اجمع المسلمون علی فضیلۃ النبی علی الولی الخ باختصارہ ولی کو کسی نبی سے خواہ وہ نبی مرسل ہو یا غیر مرسل افضل بتانا کفر و ضلال ہے اور کیوں نہ ہو کہ اس میں ولی کے مقابل نبی کی تحقیر اور اجماع کا رد ہے کہ ولی سے نبی کے افضل ہونے پر تمام اہل اسلام کا اجماع ہے الخ اختصارا۔
ارشاد الساری شرح صحیح بخاری جلد ۱ صفحہ ۱۷۸ میں ہے:
النبی افضل من الولی وھو امر مقطوع بہ والقائل بخلا فہ کافر لا نہ معلوم من الشرع بالضرورۃ۔ نبی ولی سے افضل ہے اور یہ امر یقینی ہے اور اس کے خلاف کہنے والا کافر ہے کہ یہ ضروریات دین سے ہے۔
شرح مقاصد مطبوع قسطنطنیہ جلد ۲ ص ۰۵ ۳ اور طریقہ محمدیہ علامہ بر کوی قلمی آخر فصل اول باب ثانی میں ہے:
واللفظ لھا ان الا جماع منعقد علی ان الانبیاء افضل من الاولیاء۔ بیشك مسلمانوں کا اجماع قائم ہے اس پر کہ انبیائے کرام علیہم الصلوۃ والسلام اولیائے عطام سے افضل ہیں۔
حدیقہ ندیہ شرح طریقہ محمدیہ مطبع مصر جلد اول ص ۲۱۵ میں ہے:
التفضیل علی نبی تفضیل علی کل نبی۔ کسی غیر نبی کو ایك نبی سے افضل کہنا تمام انبیاء سے افضل بتانا ہے۔
شرح عقائد نسفی مطبع قدیم ص ۶۵ پھر طریقہ محمد یہ وحدیقہ ندیہ ص ۲۱۵ میں ہے:
واللفظ لھما(تفضیل الولی علی النبی)مرسلا کان اولا(کفر و ضلال کیف و ھو تحقیر النبی)بالنسبۃ الی الولی(وخرق الاجماع)حیث اجمع المسلمون علی فضیلۃ النبی علی الولی الخ باختصارہ ولی کو کسی نبی سے خواہ وہ نبی مرسل ہو یا غیر مرسل افضل بتانا کفر و ضلال ہے اور کیوں نہ ہو کہ اس میں ولی کے مقابل نبی کی تحقیر اور اجماع کا رد ہے کہ ولی سے نبی کے افضل ہونے پر تمام اہل اسلام کا اجماع ہے الخ اختصارا۔
ارشاد الساری شرح صحیح بخاری جلد ۱ صفحہ ۱۷۸ میں ہے:
النبی افضل من الولی وھو امر مقطوع بہ والقائل بخلا فہ کافر لا نہ معلوم من الشرع بالضرورۃ۔ نبی ولی سے افضل ہے اور یہ امر یقینی ہے اور اس کے خلاف کہنے والا کافر ہے کہ یہ ضروریات دین سے ہے۔
حوالہ / References
منح الروض الازھر شرح الفقہ الاکبر باب الولی لایبلغ درجۃ النبی مصطفیٰ البابی مصر ص ۱۲۱
طریقہ محمدیہ ان الولی لا یبلغ درجۃ النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم مکتبہ حنفیہ کوئٹہ ۱/ ۸۴
الحدیقۃ الندیۃ شرح الطریقۃ المحمدیہ والا ستخفاف بالشریعۃ کفر مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۱/ ۳۱۵
الحدیقۃ الندیۃ شرح الطریقۃ المحمدیہ والا ستخفاف بالشریعۃ کفر مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۱/ ۳۱۶
ارشاد الساری کتاب العلم باب مایستحب للعالم اذاسئل ای الناس اعلم دارالکتاب العربی بیروت ۱/ ۲۱۴
طریقہ محمدیہ ان الولی لا یبلغ درجۃ النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم مکتبہ حنفیہ کوئٹہ ۱/ ۸۴
الحدیقۃ الندیۃ شرح الطریقۃ المحمدیہ والا ستخفاف بالشریعۃ کفر مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۱/ ۳۱۵
الحدیقۃ الندیۃ شرح الطریقۃ المحمدیہ والا ستخفاف بالشریعۃ کفر مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۱/ ۳۱۶
ارشاد الساری کتاب العلم باب مایستحب للعالم اذاسئل ای الناس اعلم دارالکتاب العربی بیروت ۱/ ۲۱۴
فتوی(۴):مسئلہ ہفتم درقرآن مجید جمع کردہ عثمان تحریف و نقصان واقع شدہ یا نہ
جواب:تحریف جامع القرآن بلکہ محرق و محرف قرآن درنظم قرآن یعنی ترتیب آیات از کلام مفسرین فریقین و عنوان نطم قرآن مستغنی عن البیان وہمچنیں نقصان بعضی آیات واردہ درفضیلت اہلبیت علیہم السلام مد لول قرائن بسیار و آثارات بیشمار۔(سید علی محمد ۱۲۶۳) فتوی(۴):ساتواں مسئلہعثمان کے جمع کردہ قرآن مجید میں تحریف اور کمی واقع ہوئی ہے یا نہیں
جواب:قرآن کے جامع بلکہ جلانے والے اور تحریف کرنے والے کی تحریف نظم قرآن یعنی ترتیب آیات میں فریقین کے مفسرین کے کلا م اور نظم قرآن کے عنوان سے واضح ہےاور یونہی اہلبیت علیہم السلام کی فضیلت میں وارد بعض آیات میں کمی بہت سے قرائن اور بے شمار آثار سے ثابت ہے۔
(سید علی محمد ۱۲۶۳)
روافض علی العموم اپنے مجتہدوں کے پیرو کار ہوتے ہیںاگر بفرض غلط کوئی جاہل رافضی ان کھلے کفروں سے خالی الذہن بھی ہو تو فتوائے مجتہدان کے قبول سے اسے چارہ نہیں اور بفرض باطل یہ بھی مان لیجئےکہ کوئی رافضی ایسا نکلے جو اپنے مجہتدین کے فتوی بھی نہ مانے تو الاقل اتنا یقینا ہو گا کہ ان کفروں کی وجہ سے اپنے مجتہدوں کو کافر نہ کہے گابلکہ انھیں اپنے دین کا عالم و پیشوا و مجتہد ہی جانے گا اور جو کسی کافر منکر ضروریات دین کو کافر نہ مانے خود کافر مرتد ہے۔فا ء شریف ص ۳۶۲ میں انھیں اجماعی کفر کے بیان میں ہے:
ولھذا نکفر من لم یکفر من دان بغیر ملۃ المسلمین من الملل او وقف فیھم اوشك اوصحح مذھبھم وان اظھر مع ذلك الاسلام واعتقدہ و اعتقد ابطال کل مذھب سوا ہ فھو کافر باظھا رہ بھا ظھر من خلاف ذلک۔ ہم اسی واسطے کافر کہتے ہیں ہر اس شخص کو جو کافروں کو کافر نہ کہے یا ان کی تکفیر میں توقف کرے یا شك رکھے یا ان کے مذہب کی تصحیح کرے اگر چہ اس کے ساتھ اپنے آپ کو مسلمان جتاتا اورا سلام کی حقانیت اور اس کے سواہر مذہب کے باطل ہونے کا اعتقاد رکھتا ہو کہ وہ اس کے خلاف اس اظہار سے کہ کافرکو کافر نہ کہا خود کافر ہے۔
اسی کے صفحہ ۳۲۱اور فتاو ی بزازیہ جلد ۲ صفحہ ۳۲۲ اور درر وغر رمطبع مصر جلد اول صفحہ ۳۰۰ اور فتاوی خیر یہ جلد اول صفحہ ۹۴۹۵ اور درمختار صفحہ ۳۱۹اور مجمع الانہر جلد اول صفحہ ۶۱۸ میں ہے:
جواب:تحریف جامع القرآن بلکہ محرق و محرف قرآن درنظم قرآن یعنی ترتیب آیات از کلام مفسرین فریقین و عنوان نطم قرآن مستغنی عن البیان وہمچنیں نقصان بعضی آیات واردہ درفضیلت اہلبیت علیہم السلام مد لول قرائن بسیار و آثارات بیشمار۔(سید علی محمد ۱۲۶۳) فتوی(۴):ساتواں مسئلہعثمان کے جمع کردہ قرآن مجید میں تحریف اور کمی واقع ہوئی ہے یا نہیں
جواب:قرآن کے جامع بلکہ جلانے والے اور تحریف کرنے والے کی تحریف نظم قرآن یعنی ترتیب آیات میں فریقین کے مفسرین کے کلا م اور نظم قرآن کے عنوان سے واضح ہےاور یونہی اہلبیت علیہم السلام کی فضیلت میں وارد بعض آیات میں کمی بہت سے قرائن اور بے شمار آثار سے ثابت ہے۔
(سید علی محمد ۱۲۶۳)
روافض علی العموم اپنے مجتہدوں کے پیرو کار ہوتے ہیںاگر بفرض غلط کوئی جاہل رافضی ان کھلے کفروں سے خالی الذہن بھی ہو تو فتوائے مجتہدان کے قبول سے اسے چارہ نہیں اور بفرض باطل یہ بھی مان لیجئےکہ کوئی رافضی ایسا نکلے جو اپنے مجہتدین کے فتوی بھی نہ مانے تو الاقل اتنا یقینا ہو گا کہ ان کفروں کی وجہ سے اپنے مجتہدوں کو کافر نہ کہے گابلکہ انھیں اپنے دین کا عالم و پیشوا و مجتہد ہی جانے گا اور جو کسی کافر منکر ضروریات دین کو کافر نہ مانے خود کافر مرتد ہے۔فا ء شریف ص ۳۶۲ میں انھیں اجماعی کفر کے بیان میں ہے:
ولھذا نکفر من لم یکفر من دان بغیر ملۃ المسلمین من الملل او وقف فیھم اوشك اوصحح مذھبھم وان اظھر مع ذلك الاسلام واعتقدہ و اعتقد ابطال کل مذھب سوا ہ فھو کافر باظھا رہ بھا ظھر من خلاف ذلک۔ ہم اسی واسطے کافر کہتے ہیں ہر اس شخص کو جو کافروں کو کافر نہ کہے یا ان کی تکفیر میں توقف کرے یا شك رکھے یا ان کے مذہب کی تصحیح کرے اگر چہ اس کے ساتھ اپنے آپ کو مسلمان جتاتا اورا سلام کی حقانیت اور اس کے سواہر مذہب کے باطل ہونے کا اعتقاد رکھتا ہو کہ وہ اس کے خلاف اس اظہار سے کہ کافرکو کافر نہ کہا خود کافر ہے۔
اسی کے صفحہ ۳۲۱اور فتاو ی بزازیہ جلد ۲ صفحہ ۳۲۲ اور درر وغر رمطبع مصر جلد اول صفحہ ۳۰۰ اور فتاوی خیر یہ جلد اول صفحہ ۹۴۹۵ اور درمختار صفحہ ۳۱۹اور مجمع الانہر جلد اول صفحہ ۶۱۸ میں ہے:
حوالہ / References
الشفاء بتعریف حقوق المصطفٰی فصل فی بیان ماھومن المقالات المطبعۃ الشرکۃ الصحافیۃ ص ۲۷۱
من شك فی کفرہ وعذابہ فقد کفر۔ جو اس کے کفر وعذاب میں شك کرےوہ بالیقین خود کافر ہے۔
علمائے کرام نے خود روافض کے بارے میں بالخصوص اس حکم کی تصریح فرمائیعلامہ نوح آفندی وشیخ الاسلام عبداﷲ آفندی وعلامہ حامد عمادی آفندی مفتی دمشق الشام وعلامہ سید ابن عابدین شامی عقود جلد اول ص۹۲ میں اس سوال کے جواب میں کہ رافضیوں کے باب میں کیا حکم فرماتے ہیں:
ھؤلاء الکفرۃ جمعوا بین اصناف الکفر ومن توقف فی کفرھم فھو کافر مثلھم اھ مختصرا۔ یہ کافر طرح طرح کے کفروں کے مجمع ہیں جو ان کے کفر میں توقف کرے خود انہیں کی طرح کافر ہے اھ مختصرا۔
علامۃ الوجود مفتی ابوالسعود اپنے فتاوی پھر علامہ کو اکبی شرح فرائد سنیہ پھر علامہ محمد امین الدین شامی تنقیح الحامدیۃ ص۹۳میں فرماتے ہیں:
اجمع علماء الاعصار علی ان من شك فی کفرھم کان کافرا ۔ تمام زمانوں کے علماء کااجماع ہے کہ جوان رافضیوں کے کفر میں شك کرے خود کافر ہے۔
تنبیہ جلیل:مسلمانو!اصل مدار ضروریات دین ہیں اور ضروریات اپنے ذاتی روشن بدیہی ثبوت کے سبب مطلقا ہر ثبوت سے غنی ہوتے ہیں یہاں تك کہ اگر بالخصوص ان پر کوئی نص قطعی اصلا نہ ہو جب بھی ان کا وہی حکم رہے گا کہ منکر یقینا کافر مثلا عالم بجمیع اجزائہ حادث ہونے کی تصریح کسی نص قطعی میں نہ ملے گی۔غایت یہ کہ آسمان وزمین کا حدوث ارشاد ہواہے مگر باجماع مسلمین کسی غیر خدا کو قدیم ماننے والا قطعا کافر ہے جس کی اسانید کثیرہ فقیرکے رسالہ"مقامع الحدید علی خدا لمنطق الجدید۱۳۰۴ھ"میں مذکور تووجہ وہی ہے کہ حدوث جمیع ماسوی اﷲ ضروریات دین سے ہے کہ اسے کسی ثبوت خاص کی حاجت نہیں۔اعلام امام ابن حجر ص۱۷میں ہے:
زاد النووی فی الروضۃ ان الصواب علامہ نووی نے روضہ میں یہ زائد کہا کہ درست
علمائے کرام نے خود روافض کے بارے میں بالخصوص اس حکم کی تصریح فرمائیعلامہ نوح آفندی وشیخ الاسلام عبداﷲ آفندی وعلامہ حامد عمادی آفندی مفتی دمشق الشام وعلامہ سید ابن عابدین شامی عقود جلد اول ص۹۲ میں اس سوال کے جواب میں کہ رافضیوں کے باب میں کیا حکم فرماتے ہیں:
ھؤلاء الکفرۃ جمعوا بین اصناف الکفر ومن توقف فی کفرھم فھو کافر مثلھم اھ مختصرا۔ یہ کافر طرح طرح کے کفروں کے مجمع ہیں جو ان کے کفر میں توقف کرے خود انہیں کی طرح کافر ہے اھ مختصرا۔
علامۃ الوجود مفتی ابوالسعود اپنے فتاوی پھر علامہ کو اکبی شرح فرائد سنیہ پھر علامہ محمد امین الدین شامی تنقیح الحامدیۃ ص۹۳میں فرماتے ہیں:
اجمع علماء الاعصار علی ان من شك فی کفرھم کان کافرا ۔ تمام زمانوں کے علماء کااجماع ہے کہ جوان رافضیوں کے کفر میں شك کرے خود کافر ہے۔
تنبیہ جلیل:مسلمانو!اصل مدار ضروریات دین ہیں اور ضروریات اپنے ذاتی روشن بدیہی ثبوت کے سبب مطلقا ہر ثبوت سے غنی ہوتے ہیں یہاں تك کہ اگر بالخصوص ان پر کوئی نص قطعی اصلا نہ ہو جب بھی ان کا وہی حکم رہے گا کہ منکر یقینا کافر مثلا عالم بجمیع اجزائہ حادث ہونے کی تصریح کسی نص قطعی میں نہ ملے گی۔غایت یہ کہ آسمان وزمین کا حدوث ارشاد ہواہے مگر باجماع مسلمین کسی غیر خدا کو قدیم ماننے والا قطعا کافر ہے جس کی اسانید کثیرہ فقیرکے رسالہ"مقامع الحدید علی خدا لمنطق الجدید۱۳۰۴ھ"میں مذکور تووجہ وہی ہے کہ حدوث جمیع ماسوی اﷲ ضروریات دین سے ہے کہ اسے کسی ثبوت خاص کی حاجت نہیں۔اعلام امام ابن حجر ص۱۷میں ہے:
زاد النووی فی الروضۃ ان الصواب علامہ نووی نے روضہ میں یہ زائد کہا کہ درست
حوالہ / References
درمختار کتاب الجہاد باب المرتد مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۵۶
العقود الدریۃ فی تنقیح الفتاوٰی حامدیہ باب الردۃ والتعزیر ارگ بازار قندھار افغانستان ۱/ ۰۴۔۱۰۳
العقود الدریۃ فی تنقیح الفتاوٰی حامدیہ باب الردۃ والتعزیر ارگ بازار قندھار افغانستان ۱/ ۱۰۵
العقود الدریۃ فی تنقیح الفتاوٰی حامدیہ باب الردۃ والتعزیر ارگ بازار قندھار افغانستان ۱/ ۰۴۔۱۰۳
العقود الدریۃ فی تنقیح الفتاوٰی حامدیہ باب الردۃ والتعزیر ارگ بازار قندھار افغانستان ۱/ ۱۰۵
تقیدہ بما اذا جحد مجمعا علیہ یعلم من الاسلام ضرورۃ سواء کان فیہ نص ام لا ۔ یہ ہے اسے اس چیز سے مقید کیا جائے جس کا ضروریات اسلام سے ہونا بالاجماع معلوم ہواس میں کوئی نص ہو یا نہ ہو۔ (ت)
یہی سبب ہے کہ ضروریات دین میں تاویل مسموع نہیں ہوتی اور شك نہیں کہ قرآن جو بحمد اﷲ تعالی شرقا غربا قرنا فقرنا تیرہ سو برس سے آج تك مسلمانوں کے ہاتھوں میں موجود محفوظ ہے باجماع مسلمین بلاکم وکاست وہی"تنزیل رب العالمین"ہے جو محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے مسلمانوں کو پہنچائی اور ان کے ہا تھوں میں ان کے ایمان انکے اعتقاد ان کے اعمال کے لئے چھوڑیاسی کا ہر نقص وزیادت وتغییر وتحریف سے مصؤن ومحفوظاور اس کا وعدہ حقہ صادقہ"انالہ لحافظون"میں مراد وملحوظ ہونا ہی یقینا ضروریات دین سے ہے نہ یہ کہ قرآن جو تمام جہان کے مسلمانوں کے ہاتھ میں تیرہ سو۱۳۰۰ برس سے آج تك ہے یہ تو نقص وتحریف سے محفو ظ نہیںہاں ایك وہم تراشیدہ صورت ناکشیدہ دندان غول کی خواہر پوشیدہ غار سامرہ میں اصلی قرآن بغل کتمان میں دبائے بیٹھی ہے"انالہ لحافظون"کا مطلب یہی ہے یعنی مسلمانوں سے عمل تو اسی محرف مبدل ناقص نامکمل پر کرائیں گے اور اس اصلی جعلی کو ع
برائے نہادن چہ سنگ وچہ زر
(رکھنے کے لئے پتھر اور سونا برابر ہیں۔ت)
کی کھوہ میں چھپائیں گےگویا"حافظون"کے معنی یہ ہیں کہ قرآن کو مسلما نوں سے محفوظ رکھیں گےانھیں اس کی پر چہائے نہ دکھائیں گےبعض ناپاکوں نے اس سے بڑھ کر تاویل نکالی ہے کہ قرآن اگرچہ کتنا ہی بدل جائے مگر علم الہی ولوح محفوظ میں تو بدستور باقی ہےحالانکہ علم الہی میں کوئی شے نہیں بدل سکتیپھر قرآن کی کیا خوبی نکلی۔تو ریت وانجیل درکنارمہمل سے مہمل ردی سے ردی کوئی تحریر جس میں مصنف کا ایك لفظ ٹھکانے سے نہ رہا بلکہ دنیاسے سراسر معدوم ہوگئی ہو علم الہی ولوح محفوظ میں یقینا بدستور باقی ہےایسی ناپاك تاویلات ضروریات دین کے مقابل نہ مسموع ہوںنہ ان سے کفر وارتداد اصلا مدفوع ہوں ان کی حالت وہی ہے جو نیچر یہ نے آسمان کو بلندی جبرئیل وملائکہ کو قوت خیرابلیس وشیاطین کو قوت بدیحشر ونشر وجنت ونار کو محض روحانی نہ جسدی بنالیا۔قادیانی مرتد نے خاتم النبیین کو افضل المرسلینایك دوسرے شقی نے نبی بالذات سے بدل دیاایسی تاویلیں سن لی جائیں تو اسلام وایمان قطعا درہم برہم ہوجائیںبت پرست لاالہ الااﷲ
یہی سبب ہے کہ ضروریات دین میں تاویل مسموع نہیں ہوتی اور شك نہیں کہ قرآن جو بحمد اﷲ تعالی شرقا غربا قرنا فقرنا تیرہ سو برس سے آج تك مسلمانوں کے ہاتھوں میں موجود محفوظ ہے باجماع مسلمین بلاکم وکاست وہی"تنزیل رب العالمین"ہے جو محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے مسلمانوں کو پہنچائی اور ان کے ہا تھوں میں ان کے ایمان انکے اعتقاد ان کے اعمال کے لئے چھوڑیاسی کا ہر نقص وزیادت وتغییر وتحریف سے مصؤن ومحفوظاور اس کا وعدہ حقہ صادقہ"انالہ لحافظون"میں مراد وملحوظ ہونا ہی یقینا ضروریات دین سے ہے نہ یہ کہ قرآن جو تمام جہان کے مسلمانوں کے ہاتھ میں تیرہ سو۱۳۰۰ برس سے آج تك ہے یہ تو نقص وتحریف سے محفو ظ نہیںہاں ایك وہم تراشیدہ صورت ناکشیدہ دندان غول کی خواہر پوشیدہ غار سامرہ میں اصلی قرآن بغل کتمان میں دبائے بیٹھی ہے"انالہ لحافظون"کا مطلب یہی ہے یعنی مسلمانوں سے عمل تو اسی محرف مبدل ناقص نامکمل پر کرائیں گے اور اس اصلی جعلی کو ع
برائے نہادن چہ سنگ وچہ زر
(رکھنے کے لئے پتھر اور سونا برابر ہیں۔ت)
کی کھوہ میں چھپائیں گےگویا"حافظون"کے معنی یہ ہیں کہ قرآن کو مسلما نوں سے محفوظ رکھیں گےانھیں اس کی پر چہائے نہ دکھائیں گےبعض ناپاکوں نے اس سے بڑھ کر تاویل نکالی ہے کہ قرآن اگرچہ کتنا ہی بدل جائے مگر علم الہی ولوح محفوظ میں تو بدستور باقی ہےحالانکہ علم الہی میں کوئی شے نہیں بدل سکتیپھر قرآن کی کیا خوبی نکلی۔تو ریت وانجیل درکنارمہمل سے مہمل ردی سے ردی کوئی تحریر جس میں مصنف کا ایك لفظ ٹھکانے سے نہ رہا بلکہ دنیاسے سراسر معدوم ہوگئی ہو علم الہی ولوح محفوظ میں یقینا بدستور باقی ہےایسی ناپاك تاویلات ضروریات دین کے مقابل نہ مسموع ہوںنہ ان سے کفر وارتداد اصلا مدفوع ہوں ان کی حالت وہی ہے جو نیچر یہ نے آسمان کو بلندی جبرئیل وملائکہ کو قوت خیرابلیس وشیاطین کو قوت بدیحشر ونشر وجنت ونار کو محض روحانی نہ جسدی بنالیا۔قادیانی مرتد نے خاتم النبیین کو افضل المرسلینایك دوسرے شقی نے نبی بالذات سے بدل دیاایسی تاویلیں سن لی جائیں تو اسلام وایمان قطعا درہم برہم ہوجائیںبت پرست لاالہ الااﷲ
حوالہ / References
الاعلام بقواطع الاسلام مع سبل النجاۃ مکتبۃ استنبول ترکی ص۳۵۳
کی تاویل کر لیں گے کہ یہ افضل واعلی میں حصر ہے یعنی خدا کے برابر دوسرا خدا ہے وہ سب دوسروں سے بڑھ کر خدا ہے نہ یہ کہ دوسرا خدا ہی نہیں جیسے لا فتی الا علی لا سیف الا ذوالفقار(علی کرم اﷲ وجہہ کے بغیر کوئی بہادر جوان نہیں اور ذوالفقار کے علاوہ کوئی تلوار نہیں۔ت)وغیرہ محاورات عرب سے روشن ہے یہ نکتہ ہمیشہ یادرکھنے کا ہے کہ ایسے مرتد ان لیام مدعیان اسلام کے مکروہ اوہام سے نجات و شفا ہے و باﷲ التوفق والحمد اﷲ رب العلیمن۔
بالجملہ ان رافضیوں تبرائیوں کے باب میں حکم یقینی قطعی اجماعی یہ ہے
کہ وہ علی العموم کفار مرتدین ہیں انکے ہاتھ کا ذبیحہ مردار ہے ان کے ساتھ مناکت نہ صرف حرام بلکہ خالص زناہےمعاذاﷲ مرد رافضی اور عورت مسلمان ہو تو یہ سخت قہر الہی ہے۔اگر مردسنی اور عورت ان خبیثوں میں کی ہو جب بھی ہر گز نکاح نہ ہو گا محض زنا ہو گااولاد ولد الزنا ہوگی باپ کا ترکہ نہ پائےگی اگرچہ اولاد بھی سنی ہی ہو کہ شرعا ولد ا لزنا کا باپ کوئی نہیںعورت نہ ترکہ کی مستحق ہو گی نہ مہر کی کہ زانیہ کےلئے مہر نہیںرافضی اپنے کسی قریب حتی کہ باپ بیٹے ماں بیٹی کا بھی ترکہ نہیں پاسکتا۔سنی تو سنی کسی مسلمان بلکہ کسی کافر کے بھی یہاں تك کہ خود اپنے ہم مذہب رافضی کے ترکہ میں اس کا اصلا کچھ حصہ نہیںان کے مرد عورت عالم جاہل کسی سے میل جولسلام کلام سب سخت کبیرہ اشد حرامجوان کے ان ملعون عقیدوں پرآگاہ ہوکر پھر بھی انھیں مسلمان جانے یا ان کے کافر ہونے میں شك کرے باجماع تمام ائمہ دین خود کافر بے دین ہےاور اس کےلئے بھی یہی سب احکام ہیں جو ان کےلئے مذکور ہوئےمسلمانوں پر فرض ہے کہ اس فتوی کو بگوش ہوش سنیں۔اور اس پر عمل کرکے سچے پکے مسلمان سنی بنیں۔وبا ﷲ التوفیق واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
yahan image hai
بالجملہ ان رافضیوں تبرائیوں کے باب میں حکم یقینی قطعی اجماعی یہ ہے
کہ وہ علی العموم کفار مرتدین ہیں انکے ہاتھ کا ذبیحہ مردار ہے ان کے ساتھ مناکت نہ صرف حرام بلکہ خالص زناہےمعاذاﷲ مرد رافضی اور عورت مسلمان ہو تو یہ سخت قہر الہی ہے۔اگر مردسنی اور عورت ان خبیثوں میں کی ہو جب بھی ہر گز نکاح نہ ہو گا محض زنا ہو گااولاد ولد الزنا ہوگی باپ کا ترکہ نہ پائےگی اگرچہ اولاد بھی سنی ہی ہو کہ شرعا ولد ا لزنا کا باپ کوئی نہیںعورت نہ ترکہ کی مستحق ہو گی نہ مہر کی کہ زانیہ کےلئے مہر نہیںرافضی اپنے کسی قریب حتی کہ باپ بیٹے ماں بیٹی کا بھی ترکہ نہیں پاسکتا۔سنی تو سنی کسی مسلمان بلکہ کسی کافر کے بھی یہاں تك کہ خود اپنے ہم مذہب رافضی کے ترکہ میں اس کا اصلا کچھ حصہ نہیںان کے مرد عورت عالم جاہل کسی سے میل جولسلام کلام سب سخت کبیرہ اشد حرامجوان کے ان ملعون عقیدوں پرآگاہ ہوکر پھر بھی انھیں مسلمان جانے یا ان کے کافر ہونے میں شك کرے باجماع تمام ائمہ دین خود کافر بے دین ہےاور اس کےلئے بھی یہی سب احکام ہیں جو ان کےلئے مذکور ہوئےمسلمانوں پر فرض ہے کہ اس فتوی کو بگوش ہوش سنیں۔اور اس پر عمل کرکے سچے پکے مسلمان سنی بنیں۔وبا ﷲ التوفیق واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
yahan image hai
مسئلہ ۳۵: ازمانڈے سورتی مسجد ملك برہما مسئولہ مولوی احمد مختار صاحب صدیقی ۶ رجب ۱۳۳۳ھ
ایك شخص ہمیشہ علماء کو برا کہتا رہتا ہے چنانچہ ایك روز اس کے سامنے ذکر ہوا کہ فلاں عالم نئے تشریف لانے والے ہیں تو وہ فورا کہتا ہے کہ ہاں آتے ہوں گے کوئی بھاڑ کھاؤ ایسے بد گو علماء کےلئے شریعت غرہ میں کیا حکم ہے
الجواب:
ایسے شخص کی نسبت حدیث فرماتی ہے منافق ہےفقہاء فرماتے ہیں کافر ہے۔خطیب حضرت ابو ھریرہ اور ابو الشیخ ابن حبان کتاب التو بیخ میں جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالی عنہم سے راوی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ثلاثۃ لا یستخف بحقھم الامنا فق بین النفاق ذو الشیبۃ فی الا سلام والامام المقسط ومعلم الخیر۔ تین افراد کو منافق کے علاوہ کوئی حقیر نہیں سمجھے گاوہ بوڑھا جو حالت اسلام میں بوڑھا ہواعادل امیر اور خیر کی تعلیم دینے والا۔(ت)
مجمع الا نہر شرح ملتقی الابحر میں ہے:
الا ستخفا ف بالا شراف والعلماء کفر و من قال لعالم عویلم اولعلوی علیوی قاصدابہ الا ستخفاف کفر۔ واﷲ تعالی اعلم۔ سادات اور علماء کی تحقیر کفر ہےجو عالم کو عو یلمعلوی کو علیوی حقارت کی نیت سے کہے وہ کافر ہو جاتا ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ۳۶: مسئولہ اکبر یار خاں صاحب ساکن شہر کہنہ محصل چندہ مدرسہ اہلسنت و جماعت ۹ ذو القعدہ ۱۳۳۳ھ دو شنبہ
کیا فرماتےہیں علمائے دین و مفتیان شرح متین اس مسئلہ میں کہ زید کہتا ہے کہ نمازروزہحجزکوۃ وغیر ہ وغیرہ سب عبادتیں محض اﷲ رب العزت تبارك و تعالی ہی کے واسطے کرنا چاہئے اگر چہ اس کی ذات پاك بے نیاز ہے۔کسی کی عبادتریاضت وغیرہ کی اس کو ضرورت نہیں ہے وہ اس سے پاك اور
ایك شخص ہمیشہ علماء کو برا کہتا رہتا ہے چنانچہ ایك روز اس کے سامنے ذکر ہوا کہ فلاں عالم نئے تشریف لانے والے ہیں تو وہ فورا کہتا ہے کہ ہاں آتے ہوں گے کوئی بھاڑ کھاؤ ایسے بد گو علماء کےلئے شریعت غرہ میں کیا حکم ہے
الجواب:
ایسے شخص کی نسبت حدیث فرماتی ہے منافق ہےفقہاء فرماتے ہیں کافر ہے۔خطیب حضرت ابو ھریرہ اور ابو الشیخ ابن حبان کتاب التو بیخ میں جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالی عنہم سے راوی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ثلاثۃ لا یستخف بحقھم الامنا فق بین النفاق ذو الشیبۃ فی الا سلام والامام المقسط ومعلم الخیر۔ تین افراد کو منافق کے علاوہ کوئی حقیر نہیں سمجھے گاوہ بوڑھا جو حالت اسلام میں بوڑھا ہواعادل امیر اور خیر کی تعلیم دینے والا۔(ت)
مجمع الا نہر شرح ملتقی الابحر میں ہے:
الا ستخفا ف بالا شراف والعلماء کفر و من قال لعالم عویلم اولعلوی علیوی قاصدابہ الا ستخفاف کفر۔ واﷲ تعالی اعلم۔ سادات اور علماء کی تحقیر کفر ہےجو عالم کو عو یلمعلوی کو علیوی حقارت کی نیت سے کہے وہ کافر ہو جاتا ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ۳۶: مسئولہ اکبر یار خاں صاحب ساکن شہر کہنہ محصل چندہ مدرسہ اہلسنت و جماعت ۹ ذو القعدہ ۱۳۳۳ھ دو شنبہ
کیا فرماتےہیں علمائے دین و مفتیان شرح متین اس مسئلہ میں کہ زید کہتا ہے کہ نمازروزہحجزکوۃ وغیر ہ وغیرہ سب عبادتیں محض اﷲ رب العزت تبارك و تعالی ہی کے واسطے کرنا چاہئے اگر چہ اس کی ذات پاك بے نیاز ہے۔کسی کی عبادتریاضت وغیرہ کی اس کو ضرورت نہیں ہے وہ اس سے پاك اور
حوالہ / References
تاریخ بغداد ۸/ ۲۷ و ۱۴/ ۶۱ دارالکتاب العربی بیروت،کنزالعمال بحوالہ ابی اشیخ فی التوبیخ عن جابر حدیث ۴۳۸۱۱ موسسۃ الرسالہ بیروت ۱۶/ ۳۲
مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر باب المرتدالخ داراحیاء التراث العربی بیروت۱/ ۶۹۵
مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر باب المرتدالخ داراحیاء التراث العربی بیروت۱/ ۶۹۵
منزہ اور مبرا ہےمگر بندہ ناچیز کو اپنے مولا کی تعمیل حکم کرنا چاہئےبکر کہتاہے کہ زیدکا دماغ خشك ہو گیا اس لئے کہتاہےیہ سب غلط ہے بلکہ جو کچھ ہم کرتے ہیں وہ سب اپنی ذات کےلئے کرتے ہیں اور کرنا چاہئے ایسی صورت میں زید و بکر کے قول کی بابت کیا حکم ہے
الجواب:
زید و بکر اپنی اپنی مراد پر دونوں سچے ہیںبیشك نمازروزہحجزکوۃ سب اﷲ عز وجل ہی کےلئے ہیں یعنی ان سے اسی کی عبادت و نجابت تعظیم مقصود ہے۔
" ان صلاتی ونسکی و محیای و مماتی للہ رب العلمین ﴿۱۶۲﴾"۔ بیشك میر ی نماز اور قربانی اور جینا اور مرنا سب اﷲ کےلئے ہے جو مالك ہے سارے جہان کا اس کا کوئی شریك نہیں۔
اور بیشك تمام عبادات و اعمال حسن اپنے ہی لئے ہیں یعنی اپنے فائدے کو ہیں" من عمل صلحا فلنفسہ " (جو نیك کام کرے وہ اپنے لئے کرتا ہے۔ دونوں قول قرآن عظیم میں موجود ہیںہاں بکر کا یہ کہنا کہ زید کا دماغ خشك ہو گیا ہےمفت ایذائے مسلم ہے اس سے معافی چاہے اور اس کا کہناکہ یہ سب غلط ہے بہت سخت کلمہ ہے اسے تجدید اسلام چاہئے کہ اس نے ایسے واضح دینی قرآنی قول کی تغلیط کی واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ ایضا زید اپنے آپ کو گنہگارخطا وارجانتاہے مگر بروقت گفتگو زید یہ کہتا ہے کہ میں مسلمان مومن سچا ہوںاور بکر بھی اپنے آپ کو گنہگار خیال کرتا ہے مگر بروقت بکر یہ کہتا ہے کہ میں ہر گز مسلمان نہیں ہوںچنانچہ زیدکو اپنی بابت سچا مومن کہنا اور بکر کو مسلمان ہونے سے انکار کرنا کیسا ہےدونوں کی نسبت کیا حکم ہے
الجواب:
زید کے قول میں حرج نہیںہاں اسے حمد الہی بڑھا لینا چاہئے تھاالحمدﷲ میں مسلمان ہوںبکر کا قول بہت قبیح ہےائمہ نے فرمایا ہے جو اپنے مسلمان ہونے سے انکار کر ے وہ مسلمان نہیں اسے توبہ اور تجدید اسلام پھر تجدید نکاح چاہئےواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۷: از شہر کہنہ مسئولہ سید نور صاحب محرر دارالافتاء ۹ ذی الحجہ ۱۳۳۳ھ
(۱)زید بے علم ہے مگر ہر عالم درویش پرازروے اہانت اعتراض کرتاہے اور عیب جوئی میں ساعی رہتا ہےپس اہانت علماء وغیرہ شرعا کیسا فعل ہے
الجواب:
زید و بکر اپنی اپنی مراد پر دونوں سچے ہیںبیشك نمازروزہحجزکوۃ سب اﷲ عز وجل ہی کےلئے ہیں یعنی ان سے اسی کی عبادت و نجابت تعظیم مقصود ہے۔
" ان صلاتی ونسکی و محیای و مماتی للہ رب العلمین ﴿۱۶۲﴾"۔ بیشك میر ی نماز اور قربانی اور جینا اور مرنا سب اﷲ کےلئے ہے جو مالك ہے سارے جہان کا اس کا کوئی شریك نہیں۔
اور بیشك تمام عبادات و اعمال حسن اپنے ہی لئے ہیں یعنی اپنے فائدے کو ہیں" من عمل صلحا فلنفسہ " (جو نیك کام کرے وہ اپنے لئے کرتا ہے۔ دونوں قول قرآن عظیم میں موجود ہیںہاں بکر کا یہ کہنا کہ زید کا دماغ خشك ہو گیا ہےمفت ایذائے مسلم ہے اس سے معافی چاہے اور اس کا کہناکہ یہ سب غلط ہے بہت سخت کلمہ ہے اسے تجدید اسلام چاہئے کہ اس نے ایسے واضح دینی قرآنی قول کی تغلیط کی واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ ایضا زید اپنے آپ کو گنہگارخطا وارجانتاہے مگر بروقت گفتگو زید یہ کہتا ہے کہ میں مسلمان مومن سچا ہوںاور بکر بھی اپنے آپ کو گنہگار خیال کرتا ہے مگر بروقت بکر یہ کہتا ہے کہ میں ہر گز مسلمان نہیں ہوںچنانچہ زیدکو اپنی بابت سچا مومن کہنا اور بکر کو مسلمان ہونے سے انکار کرنا کیسا ہےدونوں کی نسبت کیا حکم ہے
الجواب:
زید کے قول میں حرج نہیںہاں اسے حمد الہی بڑھا لینا چاہئے تھاالحمدﷲ میں مسلمان ہوںبکر کا قول بہت قبیح ہےائمہ نے فرمایا ہے جو اپنے مسلمان ہونے سے انکار کر ے وہ مسلمان نہیں اسے توبہ اور تجدید اسلام پھر تجدید نکاح چاہئےواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۷: از شہر کہنہ مسئولہ سید نور صاحب محرر دارالافتاء ۹ ذی الحجہ ۱۳۳۳ھ
(۱)زید بے علم ہے مگر ہر عالم درویش پرازروے اہانت اعتراض کرتاہے اور عیب جوئی میں ساعی رہتا ہےپس اہانت علماء وغیرہ شرعا کیسا فعل ہے
(۲)کیا فیصلہ اور حکم شرعی سے متجا وزاور منکر ہونا کفر ہے یا گناہ کبیرہ فقط
الجواب:
(۱)عیب جوئی ہر مسلمان کی حرام ہے نہ کہ علماء کی قال تعالی" لا تجسسوا" (اﷲ تعالی نے فرمایا عیب نہ ڈھونڈو(ت)اور علمائے دین کی اہانت کفر ہے کما فی مجمع الانھر و غیرہ(جیسا کہ مجمع الانہر وغیرہ میں ہے۔ت)
(۲)انکار بمعنی تکذیب کفر ہے اور تجاوز فسق و معصیت۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۳۹: از ضلع پترہ ڈاك خانہ پنجہ رامپور موضع سات بیلہ مسئو لہ رجب علی ۱۱ محرم الحرام ۱۳۳۴ھ شنبہ
ماقولکم رحمکم اﷲتعالی مسئلہ(کہ چند مولویان معہود بمکان شخصے کہ ازوکارے خلاف شرع سر زد شدہ بود یعنی بازن مغلظہ خود تامدت دو سہ ماہ باعیش ازواج اوقات بسر برد) بوجود علم بلا تعمیل و تنبیہ ختم خوانی کردہ طعام خوری نمود ند ازیں جہت شخصے معتبر عالم دوست حاجی الحرمین کہ از مرید ان جناب شاہ عبداللطیف شہنودی است وجناب شاہ صاحب نیز برائے تنبیہ امور شرع اورا تاکید بسیار نمودہ و اوبرائے تعمیل ارشاد جناب شاہ صاحب اکثر مقدمات شرع شریف و معاملا ت دنیوی فیصلہ میکندو فی الحال درکار شرع بسیار مستحکم مستقیم ایشاں راگفتہ کہ مولویان ایں زماں درریدہ سر گیں دہان افگنندو میان حرام و حلال تمیز نکندپس دریں صورت شخص موصوف موافق شرع کافر شود یانہ یا بروے فقط حکم تجدید نکاح کردہ شود یانہ اگر شرعا کافر نہ شود کسے اور اکافر گوید برویش چہ حکم اس معاملہ میں آپ کا کیا قول ہے اﷲ تعالی تم پر رحمت نازل فرمائے(کہ چند مقامی علماء نے ایك شخص کے مکان پر جس نے شریعت کی خلاف ورزی کر رکھی ہے یعنی اس نے اپنی مغلظہ عورت دو تین ماہ سے رکھی ہوئی ہے اور اس سے ازدواجی تعلقات قائم کئے ہوئے ہےان لوگوں کو اس بات کا علم بھی تھا انھوں نے تنبیہ کے بغیر وہاں ختم پڑھا اور اس کا کھانا بھی کھایا اور ایك شخص معتبر عالم دوستحرمین کا حاجی اور شاہ عبداللطیف شہنودی کا مرید ہے جناب شاہ صاحب نے بھی اسے امور شرع کے بارے میں خوب تاکید فرمائی اور وہ بحکم شاہ صاحب اکثر مقدمات شرعیہ اور معاملات دنیوی کے فیصلے بھی کر تاہے اس وقت وہ امور شرعیہ میں مستحکم اور مستقیم ہے اس نے انکے حق میں یہ کلمات کہے ہیں کہ اس زمانہ کے مولویوں نے گندگی میں منہ ڈالا ہوا ہے اور حلال و حرام میں وہ کوئی تمیز نہیں کرتے وہ شخص شرعی حکم کے مطابق کافر ہو گا یا نہ یا اس پر فقط تجدید نکاح کا حکم جاری ہو گا یا نہیںاگر وہ
الجواب:
(۱)عیب جوئی ہر مسلمان کی حرام ہے نہ کہ علماء کی قال تعالی" لا تجسسوا" (اﷲ تعالی نے فرمایا عیب نہ ڈھونڈو(ت)اور علمائے دین کی اہانت کفر ہے کما فی مجمع الانھر و غیرہ(جیسا کہ مجمع الانہر وغیرہ میں ہے۔ت)
(۲)انکار بمعنی تکذیب کفر ہے اور تجاوز فسق و معصیت۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۳۹: از ضلع پترہ ڈاك خانہ پنجہ رامپور موضع سات بیلہ مسئو لہ رجب علی ۱۱ محرم الحرام ۱۳۳۴ھ شنبہ
ماقولکم رحمکم اﷲتعالی مسئلہ(کہ چند مولویان معہود بمکان شخصے کہ ازوکارے خلاف شرع سر زد شدہ بود یعنی بازن مغلظہ خود تامدت دو سہ ماہ باعیش ازواج اوقات بسر برد) بوجود علم بلا تعمیل و تنبیہ ختم خوانی کردہ طعام خوری نمود ند ازیں جہت شخصے معتبر عالم دوست حاجی الحرمین کہ از مرید ان جناب شاہ عبداللطیف شہنودی است وجناب شاہ صاحب نیز برائے تنبیہ امور شرع اورا تاکید بسیار نمودہ و اوبرائے تعمیل ارشاد جناب شاہ صاحب اکثر مقدمات شرع شریف و معاملا ت دنیوی فیصلہ میکندو فی الحال درکار شرع بسیار مستحکم مستقیم ایشاں راگفتہ کہ مولویان ایں زماں درریدہ سر گیں دہان افگنندو میان حرام و حلال تمیز نکندپس دریں صورت شخص موصوف موافق شرع کافر شود یانہ یا بروے فقط حکم تجدید نکاح کردہ شود یانہ اگر شرعا کافر نہ شود کسے اور اکافر گوید برویش چہ حکم اس معاملہ میں آپ کا کیا قول ہے اﷲ تعالی تم پر رحمت نازل فرمائے(کہ چند مقامی علماء نے ایك شخص کے مکان پر جس نے شریعت کی خلاف ورزی کر رکھی ہے یعنی اس نے اپنی مغلظہ عورت دو تین ماہ سے رکھی ہوئی ہے اور اس سے ازدواجی تعلقات قائم کئے ہوئے ہےان لوگوں کو اس بات کا علم بھی تھا انھوں نے تنبیہ کے بغیر وہاں ختم پڑھا اور اس کا کھانا بھی کھایا اور ایك شخص معتبر عالم دوستحرمین کا حاجی اور شاہ عبداللطیف شہنودی کا مرید ہے جناب شاہ صاحب نے بھی اسے امور شرع کے بارے میں خوب تاکید فرمائی اور وہ بحکم شاہ صاحب اکثر مقدمات شرعیہ اور معاملات دنیوی کے فیصلے بھی کر تاہے اس وقت وہ امور شرعیہ میں مستحکم اور مستقیم ہے اس نے انکے حق میں یہ کلمات کہے ہیں کہ اس زمانہ کے مولویوں نے گندگی میں منہ ڈالا ہوا ہے اور حلال و حرام میں وہ کوئی تمیز نہیں کرتے وہ شخص شرعی حکم کے مطابق کافر ہو گا یا نہ یا اس پر فقط تجدید نکاح کا حکم جاری ہو گا یا نہیںاگر وہ
حوالہ / References
القرآن الکریم ۴۹ /۱۲
بینوا بسند الکتاب تؤجروا عند اﷲ یوم الحساب فقط۔ شرعاکافر نہیں توجو اسے کافر کہے اس کا کیا حکم ہےکتاب وسنت کے حوالے سے بیان کیجئے اور یوم قیامت اﷲ تعالی سے اجر پائیےفقط(ت)
الجواب:
کسے کہ بازن سہ طلاقہ خود بے تحلیل طرح معاشرت انداخت ونزد شوئی باخت بجائے خود بزہ کار است وباچنیں گناہگاراں معاملہ پیشوایان دین مختلف بودہ است ہم بہ نرمی کار کردہ اند دہم بہ در شتی چنانکہ در احیاء العلوم رنگ تفصیل دادہ اند مولویان کہ بخانہ او ختم خواند وچیزے خوردند گناہے نکردند کسے کہ آناں رابدانسان والفاظ بدیاد کرد چیزے شنیع آورد باز حکم خاص بر آناں نہ نمود بلکہ عام مولویان ایں زمان گفت شناعتش از حد گزشت تکفیر او نشاید اما تجدید اسلام ونکاح سزد کہ باید و آنکہ تکفیر او کردہ است نیز کار ازحد بردہ است اورانیز توبہ باید۔واﷲتعالی اعلم۔ جس شخص نے اپنی عورت کو طلاقیں دے دیں اور اس کے بعد بغیر حلال ہونے کے اس کے ساتھ مباشرت کرنازنا اور بدکرداری ہےایسے گنہگار لوگوں کے ساتھ علمائے دین کا معاملہ مختلف ہوتا ہے کبھی ان پر نرمی کرنا پڑتی ہے اور کبھی سختیاس کی تفصیل احیاء العلوم میں دیکھئےمولویوں نے جو اس کے گھر ختم پڑھا اور کوئی چیز کھائی تو اس سے وہ گناہگار نہیں ہوئے جو شخص انہیں بدالفاظ سے یاد کرتا ہے وہ برا کرتاہے پھر ان پر حکم خاص نہیں رکھا بلکہ عام مولویوں کی بات کرتا ہے تو اگرچہ یہ بات نہایت بری ہے لیکن اس پر تکفیر کا حکم جاری نہیں ہوسکتارہا تجدید اسلام اور نکاح کا معاملہ تو یہ مناسب ہے اور جس نے اس کی تکفیر کی ہے وہ بھی حد سے بڑھ گیا اس کو بھی توبہ کرنی چاہئے۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ۴۰: از شہر سورت محلہ سید واڑہ مسئولہ سیدصدرالدین زری والے صفر المظفر ۱۳۳۴ھ چہارشنبہ
عالی خدمت عالی جناب مولانا مولوی حضرت احمد رضاخاں صاحب دام ظلکم بعد ادائے آداب تسلیمات کے گزارش ہے کہ در شہر سورت خیریت آنجناب کی شب و روز درگاہ رب العزت سے نیك مطلوب ہوںدیگر گزارش یہ کہ قبل از اس کے ایك گزارش نامہ در طلب ردوہابیہ ارسال خدمت کیا تھاہنوز انتظار دست یاب نسخہ مذکور ہوںاس اثناء میں ایك اور سوال بے ثبات فرقہ مذکورسے ایجاد ہوا وہ یہ کہ رسالتمآب کے والد ماجد حالت کفر میں تھے اور اسی حالت میں رحلت بھی فرمایا اس کے رد میں اہل تسنن نے یہ جواب دیا کہ
الجواب:
کسے کہ بازن سہ طلاقہ خود بے تحلیل طرح معاشرت انداخت ونزد شوئی باخت بجائے خود بزہ کار است وباچنیں گناہگاراں معاملہ پیشوایان دین مختلف بودہ است ہم بہ نرمی کار کردہ اند دہم بہ در شتی چنانکہ در احیاء العلوم رنگ تفصیل دادہ اند مولویان کہ بخانہ او ختم خواند وچیزے خوردند گناہے نکردند کسے کہ آناں رابدانسان والفاظ بدیاد کرد چیزے شنیع آورد باز حکم خاص بر آناں نہ نمود بلکہ عام مولویان ایں زمان گفت شناعتش از حد گزشت تکفیر او نشاید اما تجدید اسلام ونکاح سزد کہ باید و آنکہ تکفیر او کردہ است نیز کار ازحد بردہ است اورانیز توبہ باید۔واﷲتعالی اعلم۔ جس شخص نے اپنی عورت کو طلاقیں دے دیں اور اس کے بعد بغیر حلال ہونے کے اس کے ساتھ مباشرت کرنازنا اور بدکرداری ہےایسے گنہگار لوگوں کے ساتھ علمائے دین کا معاملہ مختلف ہوتا ہے کبھی ان پر نرمی کرنا پڑتی ہے اور کبھی سختیاس کی تفصیل احیاء العلوم میں دیکھئےمولویوں نے جو اس کے گھر ختم پڑھا اور کوئی چیز کھائی تو اس سے وہ گناہگار نہیں ہوئے جو شخص انہیں بدالفاظ سے یاد کرتا ہے وہ برا کرتاہے پھر ان پر حکم خاص نہیں رکھا بلکہ عام مولویوں کی بات کرتا ہے تو اگرچہ یہ بات نہایت بری ہے لیکن اس پر تکفیر کا حکم جاری نہیں ہوسکتارہا تجدید اسلام اور نکاح کا معاملہ تو یہ مناسب ہے اور جس نے اس کی تکفیر کی ہے وہ بھی حد سے بڑھ گیا اس کو بھی توبہ کرنی چاہئے۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ۴۰: از شہر سورت محلہ سید واڑہ مسئولہ سیدصدرالدین زری والے صفر المظفر ۱۳۳۴ھ چہارشنبہ
عالی خدمت عالی جناب مولانا مولوی حضرت احمد رضاخاں صاحب دام ظلکم بعد ادائے آداب تسلیمات کے گزارش ہے کہ در شہر سورت خیریت آنجناب کی شب و روز درگاہ رب العزت سے نیك مطلوب ہوںدیگر گزارش یہ کہ قبل از اس کے ایك گزارش نامہ در طلب ردوہابیہ ارسال خدمت کیا تھاہنوز انتظار دست یاب نسخہ مذکور ہوںاس اثناء میں ایك اور سوال بے ثبات فرقہ مذکورسے ایجاد ہوا وہ یہ کہ رسالتمآب کے والد ماجد حالت کفر میں تھے اور اسی حالت میں رحلت بھی فرمایا اس کے رد میں اہل تسنن نے یہ جواب دیا کہ
وہ کسی حالت سے بھی کافر نہیں ہوسکتے تھے تو یہ کفر کا اطلاق نامعقول ہے یہ جواب دیا مگر قیاسی دیامگر قیاسی ویاسندی نہیں ثبوت ہمارے پاس نہیں ہے جوا س بات کا پورا پورا جواب کریں اس لئے آپ کی خدمت میں گزارش ہے کہ اس کا رد وثبوت ہوجائے تو عین سرفرازی ہے تمام کیفیت کما حقہ اس خط سے اور آگے کے خط سے گوش زد کیا ہوںفقط۔
الجواب:
مذہب صحیح یہ ہے کہ حضور اقدس سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے والدین کریمین حضرت سیدناعبداﷲ اورحضرت سید تناآمنہ رضی اﷲ تعالی عنہما اہل توحید واسلام ونجات تھےبلکہ حضور کے آباءو امہات حضرت عبداﷲ وآمنہ سے حضرت آدم وحواتك مذہب ارجح میں سب اہل اسلام وتوحید ہیں۔
قال اﷲ تعالی الذی یرىک حین تقوم ﴿۲۱۸﴾ و تقلبک فی السجدین ﴿۲۱۹﴾ ۔ اﷲ تعالی نے فرمایا:جو تمہیں دیکھتا ہے جب تم کھڑے ہوتے ہو اور نمازیوں میں تمہارے دورے کو(ت)
اس آیہ کریمہ کی تفسیر سیدنا عبداﷲ ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما فرماتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا نور ایك نمازی سے دوسرے نمازی کی طرف منتقل ہوتا آیا ۔اور حدیث میں ہے کہ رب عزوجل نے نور اقدس کی نسبت فرمایا کہ اسے اصلاب طیبہ وارحام طاہرہ میں رکھوں گا اور رب عزوجل کبھی کسی کافر کو طیب وطاہر نہ فرمائے گا" انما المشرکون نجس" (بیشك مشرکین نجس ہیں۔ت)اس بارے میں ہمارا ایك خاص رسالہ ہے شمول الاسلام لاصول الرسول الکرام۔اور امام جلال الدین سیوطی رحمۃ اﷲ علیہ نے خاص اس باب میں چھ رسالے لکھے۔فشکراﷲ سعیہ واجزل ثوابہ(اﷲ تعالی ان کی کاوش قبول فرمائے اور انہیں اجر عظیم سے نوازے۔ت)واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ۴۱تا۴۳: مسئولہ معرفت مصطفی میاں سلمہ بروز چہارشنبہ ۲۸صفر المظفر ۱۳۳۴ھ
(۱)ایك سنی کے سامنے ذکر آیا کہ شیعہ و معتزلہ دار جنت میں رؤیت باری عزوجل کے منکر ہیںان صاحب نے کہا وہ سچ کہتے ہیں انہیں تو نہیں ہوگیشاید مومنین کے لئے بھی ذکر میں تھا اگرچہ یہ ایك شبہہ سا یاد پڑتا ہےیہ کہنا کیسا ہے
(۲)ارتضاحسین پیر میاں صاحب نے اپنا نام ابوالبرکات رکھااور اس پر اب آزاد کااور اضافہ
الجواب:
مذہب صحیح یہ ہے کہ حضور اقدس سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے والدین کریمین حضرت سیدناعبداﷲ اورحضرت سید تناآمنہ رضی اﷲ تعالی عنہما اہل توحید واسلام ونجات تھےبلکہ حضور کے آباءو امہات حضرت عبداﷲ وآمنہ سے حضرت آدم وحواتك مذہب ارجح میں سب اہل اسلام وتوحید ہیں۔
قال اﷲ تعالی الذی یرىک حین تقوم ﴿۲۱۸﴾ و تقلبک فی السجدین ﴿۲۱۹﴾ ۔ اﷲ تعالی نے فرمایا:جو تمہیں دیکھتا ہے جب تم کھڑے ہوتے ہو اور نمازیوں میں تمہارے دورے کو(ت)
اس آیہ کریمہ کی تفسیر سیدنا عبداﷲ ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما فرماتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا نور ایك نمازی سے دوسرے نمازی کی طرف منتقل ہوتا آیا ۔اور حدیث میں ہے کہ رب عزوجل نے نور اقدس کی نسبت فرمایا کہ اسے اصلاب طیبہ وارحام طاہرہ میں رکھوں گا اور رب عزوجل کبھی کسی کافر کو طیب وطاہر نہ فرمائے گا" انما المشرکون نجس" (بیشك مشرکین نجس ہیں۔ت)اس بارے میں ہمارا ایك خاص رسالہ ہے شمول الاسلام لاصول الرسول الکرام۔اور امام جلال الدین سیوطی رحمۃ اﷲ علیہ نے خاص اس باب میں چھ رسالے لکھے۔فشکراﷲ سعیہ واجزل ثوابہ(اﷲ تعالی ان کی کاوش قبول فرمائے اور انہیں اجر عظیم سے نوازے۔ت)واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ۴۱تا۴۳: مسئولہ معرفت مصطفی میاں سلمہ بروز چہارشنبہ ۲۸صفر المظفر ۱۳۳۴ھ
(۱)ایك سنی کے سامنے ذکر آیا کہ شیعہ و معتزلہ دار جنت میں رؤیت باری عزوجل کے منکر ہیںان صاحب نے کہا وہ سچ کہتے ہیں انہیں تو نہیں ہوگیشاید مومنین کے لئے بھی ذکر میں تھا اگرچہ یہ ایك شبہہ سا یاد پڑتا ہےیہ کہنا کیسا ہے
(۲)ارتضاحسین پیر میاں صاحب نے اپنا نام ابوالبرکات رکھااور اس پر اب آزاد کااور اضافہ
حوالہ / References
القرآن الکریم ۲۶ /۲۱۹۔۲۱۸
معالم التنزیل مع الخازن آیہ تقلبك فی الساجدین کے تحت مصطفی البابی مصر ۵/ ۹۹
الشفاء بتعریف حقوق المصطفی المطبعۃ الشرکۃ الصحافیہ مصر ۱/ ۶۳
القرآن الکریم ۹ /۲۸
معالم التنزیل مع الخازن آیہ تقلبك فی الساجدین کے تحت مصطفی البابی مصر ۵/ ۹۹
الشفاء بتعریف حقوق المصطفی المطبعۃ الشرکۃ الصحافیہ مصر ۱/ ۶۳
القرآن الکریم ۹ /۲۸
کیاجس کی ایك واہی تباہی روایت چھپواکر تقسیم کیاس کی بابت اك صاحب نے کہا کہ یہ نام انہوں نے کہاں سے رکھاکچھ اﷲ میاں کے یہاں تو آپ کا یہ نام لکھا ہوا ہے نہیں جس پر کہا گیا کہ لوح محفوظ میں تو سب لکھا ہوا ہے یہ بھی لکھا ہوا ہےاس پر ان صاحب نے کہا کہ میں نے اس بنا پر کہا تھا کہ لوگ کہتے ہیں کہ نام ماں باپ رکھتے ہیں وہ نام اﷲ میاں کے یہاں لکھا جاتا ہےظاہرا اس قائل کا مطلب یہ تھا کہ نام کرکے وہی نام لکھا جاتا ہے جو ماں باپ کا رکھا ہے اور جو خود گھڑلے وہ بطور ایك امر واقع کے لکھا ہوتا ہے کہ فلاں اپنا یہ نام رکھے گا نام کرکے نہیں کہ فلاں کا یہ نام ہےالغرض اس کا وہ مقولہ کیسا ہے اور اس کی کیا اصل ہے کہ نام وہی ہوتا ہے جو ماں باپ کارکھا ہے یاخود رکھا ہوا۔
(۳)ایك سنی صاحب کے سامنے میں نے کہا کہ حضور سرور عالم صلی تعالی علیہ وسلم کے بہت خصائص ہیںوہ احکام شرعیہ جو عام نہیں ان سے حضور نے بعض صحابہ کو مستثنی کیا تھا ان پر ان صاحب نے کہاکہ جبھی تو بعض جہلاکہنے لگے تھے کہ اﷲ عزوجل رضاجوئے محمدی ہےاس پر میں نے کہا کہ بعض جہلا کی کیا تخصیص ہےاﷲ عزوجل تو رضا جوئے محمدی ہے انھوں نے بھی اس کا صاف اقرار کیا اور کہا کہ ایسے خصائص دیکھ کر شاید بعض ازواج مطہرات رضوان اﷲ علیہن بھی یہ کہنے لگی تھیںمگر اصل بات یہ ہے کہ حضور اﷲ عزوجل کے فرمودہ سے باہر قدم ہی نہیں رکھتے تھے وہی فرماتے تھے جو اﷲ عزوجل کا حکم تھا تو اصل میں حضور متبع حکم الہی اور رضاجوئے الہی بھی ہوئےان کی اس وقت کی طرز تقریر وحالت سے ان کا مطلب یہ معلوم ہوتا تھا کہ جہلا تو یہ سمجھ کر اﷲ عزوجل کو رضاجوئے محمدی کہنے لگے تھے کہ حضور ایك حکم دیتے ہیں اور پھر اﷲ عزوجل بھی ویسی ہی وحی نازل فرمادیتا ہے یعنی اﷲ عزوجل حضور کا اتباع فرماتا ہے حالانکہ اصل میں حکم الہی وہی ہوتا ہے اور اسکے اتباع سے حضور حکم دیتے ہیںغرض اس کا یہ مقولہ کہ جبھی تو بعض جہلا بھی الخ کا کیا حکم ہے اس کلی مقولہ کا کیا جو اس کے بعد کہا گیا۔
الجواب:
(۱)مولاعزوجل فرماتا ہے:انا عندظن عبدی بی (میں اپنے بندے کے گمان کے پاس ہوں۔ت)روافض ومعتزلہ کہ رؤیت الہی سے مایوس ہیں مایوس ہی رہیں گےوہابیہ شفاعت سے منکر ہیں محروم ہی رہیں گے تو ان کا انکار ان کے اعتبار سے صحیح ہوا ظاہرا قائل کی یہی مراد ہے کہ ان کی نفی ان کے حق میں سچی ہےاس میں کوئی حرج نہیں ہاں جو اس کے قول کی تصدیق بمعنی نفی مطلق کرے وہ ضرور گمراہ وخارج از اہلسنت ہے۔
(۳)ایك سنی صاحب کے سامنے میں نے کہا کہ حضور سرور عالم صلی تعالی علیہ وسلم کے بہت خصائص ہیںوہ احکام شرعیہ جو عام نہیں ان سے حضور نے بعض صحابہ کو مستثنی کیا تھا ان پر ان صاحب نے کہاکہ جبھی تو بعض جہلاکہنے لگے تھے کہ اﷲ عزوجل رضاجوئے محمدی ہےاس پر میں نے کہا کہ بعض جہلا کی کیا تخصیص ہےاﷲ عزوجل تو رضا جوئے محمدی ہے انھوں نے بھی اس کا صاف اقرار کیا اور کہا کہ ایسے خصائص دیکھ کر شاید بعض ازواج مطہرات رضوان اﷲ علیہن بھی یہ کہنے لگی تھیںمگر اصل بات یہ ہے کہ حضور اﷲ عزوجل کے فرمودہ سے باہر قدم ہی نہیں رکھتے تھے وہی فرماتے تھے جو اﷲ عزوجل کا حکم تھا تو اصل میں حضور متبع حکم الہی اور رضاجوئے الہی بھی ہوئےان کی اس وقت کی طرز تقریر وحالت سے ان کا مطلب یہ معلوم ہوتا تھا کہ جہلا تو یہ سمجھ کر اﷲ عزوجل کو رضاجوئے محمدی کہنے لگے تھے کہ حضور ایك حکم دیتے ہیں اور پھر اﷲ عزوجل بھی ویسی ہی وحی نازل فرمادیتا ہے یعنی اﷲ عزوجل حضور کا اتباع فرماتا ہے حالانکہ اصل میں حکم الہی وہی ہوتا ہے اور اسکے اتباع سے حضور حکم دیتے ہیںغرض اس کا یہ مقولہ کہ جبھی تو بعض جہلا بھی الخ کا کیا حکم ہے اس کلی مقولہ کا کیا جو اس کے بعد کہا گیا۔
الجواب:
(۱)مولاعزوجل فرماتا ہے:انا عندظن عبدی بی (میں اپنے بندے کے گمان کے پاس ہوں۔ت)روافض ومعتزلہ کہ رؤیت الہی سے مایوس ہیں مایوس ہی رہیں گےوہابیہ شفاعت سے منکر ہیں محروم ہی رہیں گے تو ان کا انکار ان کے اعتبار سے صحیح ہوا ظاہرا قائل کی یہی مراد ہے کہ ان کی نفی ان کے حق میں سچی ہےاس میں کوئی حرج نہیں ہاں جو اس کے قول کی تصدیق بمعنی نفی مطلق کرے وہ ضرور گمراہ وخارج از اہلسنت ہے۔
حوالہ / References
مسند احمد بن حنبل حدیث واثلہ بن الاسقع دارالفکر بیروت ۴/ ۱۰۶
(۲)بلاشبہہ لوح محفوظ میں ہرصغیر وکبیر مستطر ہے جو اسم بحیثیت علمدنیا میں کسی کے لئے ہے لوح محفوظ میں وہی بحیثیت علم مکتوب ہے خواہ ماں باپ کا رکھا ہے یا اپنا یا اور کا اور جس میں تغیر واقع ہوا مغیر اور مغیر الیہ دونوں اپنے اپنے زمانہ کی قید سے مکتوب ہیںحضور سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے بہت صحابہ کرام رضی اﷲ تعالی عنہم کے نام تبدیل فرمائے کہ اگلے نام متروك ہوگئے اور وہ انہیں دوسرے ناموں سے مشہور ہیں تو عنداﷲ بھی اب یہی ان کے نام ہیں اور انہیں ناموں سے روز قیامت پکارے جائیں گےاور جو شخص اپنا نام بدل کرکچھ رکھے اور بحیثیت علم معروف نہ ہوتو اﷲ عزوجل کے یہاں بھی وہ نام علم ہو کر لکھا نہ گیاہاں یہ واقعہ ضرور مکتوب ہے ظاہر ا یہی مراد قائل ہےقائل نے یہ نہ کہا کہ اﷲ تعالی کے یہاں یہ نہیں لکھا ہے بلکہ یہ کہا کہ اس کا نام یہ نہیں لکھا ہے تو کتابت نہیں بلکہ سبب کتابت علمیت ہےاور یہ صحیح ہے کہ جب کہ اس وضع کئے ہوئے نام نے حیثیت علمیت پیدا نہ کیہاں ایسی جگہ کلام بہت ہوشیاری سے چاہئے جس میں کوئی پہلوئے ناقص نہ نکلےسوال میں اسم جلالت کے لفظ"میاں"مکتوب ہے یہ ممنوع و معیوب ہےزبان اردو میں"میاں"کے تین معنی ہیں جن میں دو اس پر محال ہیں اور شرع سے ورود نہیں لہذا اس کا اطلاق محمود نہیں۔
(۳)قائل کا کہنا کہ جب ہی توبعض جہلا الخ بہت سخت قبیح وشنیع واقع ہوا اور جو معنی اس نے بعد کو قرار دئیے اس میں بھی وہ حقیقت کو نہ پہنچا بلاشبہہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم تابع مرضی الہی ہیں اور بلاشبہہ کوئی بات اس کے خلاف حکم نہیں فرماتے اور بلاشبہہ اﷲ عزوجل حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی رضاچاہتا ہے۔
" و لسوف یعطیک ربک فترضی ﴿۵﴾" " قد نری تقلب وجہک فی السماء فلنو لینک قبلۃ ترضىہا۪ فول وجہک شطر المسجد الحرام" ۔ اور بیشك قریب ہے کہ تمہارا رب تمہیں اتنا دے گا کہ تم راضی ہوجاؤ گے۔ہم دیکھ رہے ہیںبار بار تمہارا آسمان کی طرف منہ کرنا تو ضرور ہم تمہیں پھیر دیں گے اس قبلہ کی طرف جس میں تمہاری خوشی پس ابھی اپنا منہ پھیر دو مسجد حرام کی طرف۔(ت)
حکم الہی بیت المقدس کی طرف استقبال کا تھا حضور تابع فرمان تھے یہ حضور کی طرف سے رضاجوئی الہی تھی مگر قلب اقدس کعبہ کی طرف استقبال چاہتا تھامولی عزوجل نے مرضی مبارك کے لئے اپنا وہ حکم
(۳)قائل کا کہنا کہ جب ہی توبعض جہلا الخ بہت سخت قبیح وشنیع واقع ہوا اور جو معنی اس نے بعد کو قرار دئیے اس میں بھی وہ حقیقت کو نہ پہنچا بلاشبہہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم تابع مرضی الہی ہیں اور بلاشبہہ کوئی بات اس کے خلاف حکم نہیں فرماتے اور بلاشبہہ اﷲ عزوجل حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی رضاچاہتا ہے۔
" و لسوف یعطیک ربک فترضی ﴿۵﴾" " قد نری تقلب وجہک فی السماء فلنو لینک قبلۃ ترضىہا۪ فول وجہک شطر المسجد الحرام" ۔ اور بیشك قریب ہے کہ تمہارا رب تمہیں اتنا دے گا کہ تم راضی ہوجاؤ گے۔ہم دیکھ رہے ہیںبار بار تمہارا آسمان کی طرف منہ کرنا تو ضرور ہم تمہیں پھیر دیں گے اس قبلہ کی طرف جس میں تمہاری خوشی پس ابھی اپنا منہ پھیر دو مسجد حرام کی طرف۔(ت)
حکم الہی بیت المقدس کی طرف استقبال کا تھا حضور تابع فرمان تھے یہ حضور کی طرف سے رضاجوئی الہی تھی مگر قلب اقدس کعبہ کی طرف استقبال چاہتا تھامولی عزوجل نے مرضی مبارك کے لئے اپنا وہ حکم
منسوخ فرمادیا اور حضور جو چاہتے تھے قیامت تك کے لئے وہ ہی قبلہ مقرر فر مادیایہ اﷲ عزوجل کی طرف سے رضاجوئی محمدی صلی اﷲتعالی علیہ وسلم ہے ان میں سے جس کا انکار ہو قرآن عظیم کا انکار ہے۔ام المومنین صدیقہ رضی اﷲعنھا حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے عرض کرتی ہیں:
مااری ربك الا یسارع فی ھواک ۔رواہ البخاری۔ میں حضور کے رب کو دیکھتی ہوں کہ حضور کی خواہش میں شتابی فرماتا ہےاسے بخاری نے روایت کیا۔
یہ ہے وہ کلمہ کہ بعض ازواج مطہرات نے عرض کیا اور عرض کیا اور حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے انکار نہ فرمایا تو قائل کا کہنا کہ ایسے خصائص دیکھ کر شایدبعض ازواج مطہرات یہ کہنے لگی تھیں دراصل بات یہ ہے الخ یہ بتارہا ہے کہ ان بعض ازواج مطہرات نے خلاف اصل بات کہی اور حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے مقرر رکھیحدیث روز محشر میں ہے رب عزوجل اولین وآخرین کو جمع کرکے حضور اقدس صلی تعالی علیہ وسلم سے فرمائے گا:
کلھم یطلبون رضائی وانااطلبك رضاك یامحمد ۔ یہ سب میری رضاچاہتے ہیں اور اے محبوب!میں تمہاری رضا چاہتا ہوں۔
خداکی رضاچاہتے ہیں دو عالم
خداچاہتا ہے رضائے محمد
بالجملہ کلمہ بہت سخت و شنیع تھااور بعد تاویل بھی شناعت سے بری نہ ہواتو بہ لازم ہےواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۴۴تا۴۵:ازمقام چتوڑگڑھ علاقہ اودریپور راجپوتانہ مسئولہ عبدالکریم صاحب بروز شنبہ ۱۶ربیع الاول شریف ۱۳۳۴ھ
(۱)جو شخص انگریزی ٹوپی وکوٹ پتلون محض ان کی موافقت کی وجہ سے پہنے تو وہ کافر ہے یا نہیںغایۃ الاوطار ترجمہ درمختار باب مرتد میں لکھا ہے کہ جوشخص بلا ضرورت سردی وگرمی کے مجوسی کی ٹوپی پہنے وہ کافر ہےاسی طرح جو شخص زنا رباندھے وہ بھی کافر ہےمگر بضرورت اب اگر انگریزی ٹوپی وکوٹ پتلون بلاضرورت پہننے والاکافر نہیں ہے تو زنارباندھنے والے کو غایۃ الاوطار ترجمہ درمختار باب المرتد میں کافر کیوں کہا
مااری ربك الا یسارع فی ھواک ۔رواہ البخاری۔ میں حضور کے رب کو دیکھتی ہوں کہ حضور کی خواہش میں شتابی فرماتا ہےاسے بخاری نے روایت کیا۔
یہ ہے وہ کلمہ کہ بعض ازواج مطہرات نے عرض کیا اور عرض کیا اور حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے انکار نہ فرمایا تو قائل کا کہنا کہ ایسے خصائص دیکھ کر شایدبعض ازواج مطہرات یہ کہنے لگی تھیں دراصل بات یہ ہے الخ یہ بتارہا ہے کہ ان بعض ازواج مطہرات نے خلاف اصل بات کہی اور حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے مقرر رکھیحدیث روز محشر میں ہے رب عزوجل اولین وآخرین کو جمع کرکے حضور اقدس صلی تعالی علیہ وسلم سے فرمائے گا:
کلھم یطلبون رضائی وانااطلبك رضاك یامحمد ۔ یہ سب میری رضاچاہتے ہیں اور اے محبوب!میں تمہاری رضا چاہتا ہوں۔
خداکی رضاچاہتے ہیں دو عالم
خداچاہتا ہے رضائے محمد
بالجملہ کلمہ بہت سخت و شنیع تھااور بعد تاویل بھی شناعت سے بری نہ ہواتو بہ لازم ہےواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۴۴تا۴۵:ازمقام چتوڑگڑھ علاقہ اودریپور راجپوتانہ مسئولہ عبدالکریم صاحب بروز شنبہ ۱۶ربیع الاول شریف ۱۳۳۴ھ
(۱)جو شخص انگریزی ٹوپی وکوٹ پتلون محض ان کی موافقت کی وجہ سے پہنے تو وہ کافر ہے یا نہیںغایۃ الاوطار ترجمہ درمختار باب مرتد میں لکھا ہے کہ جوشخص بلا ضرورت سردی وگرمی کے مجوسی کی ٹوپی پہنے وہ کافر ہےاسی طرح جو شخص زنا رباندھے وہ بھی کافر ہےمگر بضرورت اب اگر انگریزی ٹوپی وکوٹ پتلون بلاضرورت پہننے والاکافر نہیں ہے تو زنارباندھنے والے کو غایۃ الاوطار ترجمہ درمختار باب المرتد میں کافر کیوں کہا
حوالہ / References
صحیح البخاری کتاب التفسیر الاحزاب باب قولہ ترجی من تشاء الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۷۰۶
التفسیر الکبیر تحت آیۃ"فلنولینك قبلۃ ترضٰہا"المطبعۃ المصریۃ مصر ۴/ ۱۰۶
التفسیر الکبیر تحت آیۃ"فلنولینك قبلۃ ترضٰہا"المطبعۃ المصریۃ مصر ۴/ ۱۰۶
(۲)جو شخص حضرت علی کرم اﷲ وجہہ کو خدا کہے اور تعزیہ داری کو جائز کرے اورسجدہ تعظیمی کرائے اور محدثین صحاح ستہ پر الزام نکال ڈالنے صحیحہ کا لگائے اس شخص کی نسبت علماء کرام کیا فرماتے ہیں
الجواب:
(۱)بلاضرورت زنار باندھنا یا ہیٹ یعنی انگریزی ٹوپی رکھنا بلاشبہہ کفر ہےحدیقہ ندیہ میں فرمایا:لبس زی الافرنج علی الصحیح۔ (ملخصا)فرنگیوں کا ہیٹ پہننا صحیح قول کے مطابق کفر ہے(ت)رہے کوٹ پتلون وہ اگرموافقت نصاری اور ان کی وضع کے استحسان کے لئے ہے تو اسے بھی فقہاء کرام نے مطلقا کفر فرمایا۔غمزالعیون میں ہے:
اتفق مشائخنا من رای امر الکفار حسنا فقد کفر۔ جس نے کافروں کے کسی فعل کو اچھا سمجھا باتفاق مشائخ کافر ہوگیا۔
اور اگر ایسا نہیں تو فسق ضرور ہے جبکہ بلاضرورت شرعیہ ہواور اسے اختیار نہیں کرتا مگر وہ جس کے دل میں کجی ہے جب حب فی اﷲ اور بغض ﷲ کہ مناط ایمان ہیں قلب میں مستحکم ہوجاتے ہیں تو اولیاء اﷲ کی ہر ادا اچھی معلوم ہوتی ہے اور اعداء اﷲ کی ہر بات برینسأل اﷲ الھدایۃ(ہم اﷲ تعالی سے ہدایت مانگتے ہیں۔ت)
(۲)کسی بات کی طرف نظر کرنے کی حاجت نہیں بعد اس کے کہ مولی علی کرم اﷲ وجہہ کو خد اکہے یقینا کافر مرتد ہے
من شك فی عذابہ و کفرہ فقد کفر ۔ جس نے اس کے کفر وعذاب میں شك کیا وہ کافر ہوگیا۔(ت)
جو اس کے قول پر مطلع ہو کر اس کے کفر میں شك کرے خود کافر ہےمسلمانوں کو اس کے پاس بیٹھنااس سے میل جول سلام کلام سب قطعا حرام۔
قال اﷲ تعالی" اما ینسینک الشیطن فلا تقعد بعد الذکری مع القوم الظلمین ﴿۶۸﴾" ۔ اﷲتعالی نے فرمایا اور جو کہیں تجھے شیطان بھلادے تو یاد آئے پرظالموں کے پاس نہ بیٹھ۔(ت)
الجواب:
(۱)بلاضرورت زنار باندھنا یا ہیٹ یعنی انگریزی ٹوپی رکھنا بلاشبہہ کفر ہےحدیقہ ندیہ میں فرمایا:لبس زی الافرنج علی الصحیح۔ (ملخصا)فرنگیوں کا ہیٹ پہننا صحیح قول کے مطابق کفر ہے(ت)رہے کوٹ پتلون وہ اگرموافقت نصاری اور ان کی وضع کے استحسان کے لئے ہے تو اسے بھی فقہاء کرام نے مطلقا کفر فرمایا۔غمزالعیون میں ہے:
اتفق مشائخنا من رای امر الکفار حسنا فقد کفر۔ جس نے کافروں کے کسی فعل کو اچھا سمجھا باتفاق مشائخ کافر ہوگیا۔
اور اگر ایسا نہیں تو فسق ضرور ہے جبکہ بلاضرورت شرعیہ ہواور اسے اختیار نہیں کرتا مگر وہ جس کے دل میں کجی ہے جب حب فی اﷲ اور بغض ﷲ کہ مناط ایمان ہیں قلب میں مستحکم ہوجاتے ہیں تو اولیاء اﷲ کی ہر ادا اچھی معلوم ہوتی ہے اور اعداء اﷲ کی ہر بات برینسأل اﷲ الھدایۃ(ہم اﷲ تعالی سے ہدایت مانگتے ہیں۔ت)
(۲)کسی بات کی طرف نظر کرنے کی حاجت نہیں بعد اس کے کہ مولی علی کرم اﷲ وجہہ کو خد اکہے یقینا کافر مرتد ہے
من شك فی عذابہ و کفرہ فقد کفر ۔ جس نے اس کے کفر وعذاب میں شك کیا وہ کافر ہوگیا۔(ت)
جو اس کے قول پر مطلع ہو کر اس کے کفر میں شك کرے خود کافر ہےمسلمانوں کو اس کے پاس بیٹھنااس سے میل جول سلام کلام سب قطعا حرام۔
قال اﷲ تعالی" اما ینسینک الشیطن فلا تقعد بعد الذکری مع القوم الظلمین ﴿۶۸﴾" ۔ اﷲتعالی نے فرمایا اور جو کہیں تجھے شیطان بھلادے تو یاد آئے پرظالموں کے پاس نہ بیٹھ۔(ت)
حوالہ / References
الحدیقۃ الندیۃ شرح الطریقۃ المحمدیۃ النوع الثامن من الانواع الستین مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲/ ۲۳۰
غمزعیون البصائر مع الاشباہ والنظائر کتاب السیر والردۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱/ ۲۹۵
درمختار باب المرتد مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۵۶
القرآن الکریم ۶ /۶۸
غمزعیون البصائر مع الاشباہ والنظائر کتاب السیر والردۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱/ ۲۹۵
درمختار باب المرتد مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۵۶
القرآن الکریم ۶ /۶۸
وقال تعالی" ولا ترکنوا الی الذین ظلموا فتمسکم النار " ۔وقال تعالی" ومن یتولہم منکم فانہ منہم
" ۔ اور اﷲتعالی نے فرمایا:اور ظالموں کی طرف نہ جھکو کہ تمہیں آگ چھوئے گی۔(ت)اﷲ تعالی نے فرمایا:تم میں جو کوئی ان سے دوستی رکھے گا تو وہ انہیں میں سے ہے(ت)
ان آیات کریمہ کا حاصل یہ ہے کہ اگر تجھے بھلادے تو یاد آنے پر ظالموں کے پاس نہ بیٹھظالموں کی طرف میل نہ کرو کہ تمہیں دوز خ کی آگ چھوئے گیجوتم میں ان سے دوستی رکھے گا وہ انہیں میں سے ہےاگر وہ علانیہ تائب ہو اور از سر نو مسلمان ہو فبہا ورنہ اگر وہ بیمار پڑے اس کی عیادت حراماگرمرجائے اسے غسل دینا حرامکفن دینا حراماس کے جنازہ کی نماز سخت حرامجنازہ کے ساتھ جانا حر اممقابر مسلمین میں اسے دفن کرنا حراماسے ایصال ثواب حرام بلکہ کفرکوئی تنگ گڑھا کھود کر اس میں ڈال دیں اور بغیر کسی فاصلے کے اوپر سے اینٹ پتھر خاك بلا جو کچھ ہو پاٹ دیں
" وذلک جزؤا الظلمین ﴿۲۹﴾" ۔نسأل اﷲ الثبات علی الایمان والختم بالحسنی ولاحول قوۃ الا باﷲ العلی العظیم۔واﷲ تعالی اعلم۔ اور بے انصافوں کی سزا ہے۔ہم اﷲ تعالی سے ایمان پر ثابت قدمی اور خاتمہ بالخیر کی دعا کرتے ہیں ولاحول ولاقوۃ الا باﷲ العلی العظیم۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ۴۶:مسئولہ حافظ محمد علاء الدین صاحب پیش امام جامع مسجد مقام بلرام پور ڈاکخانہ رانگہ ڈیہہ ضلع مان بھوم یکم صفر ۱۳۳۵ھ
ایك شخص اپنا شجرہ مجھ سے پڑھانے لگا اس میں پہلے مولانا وارث حسن کا نام تھااس کے بعد رشید احمد گنگوہی کا نام تھارشید احمد گنگوہی کا نام پڑھتے ہی میں نے اس شجرہ کو نہیں پڑھا کیونکہ"حسام الحرمین"نے ان کے حال سے اچھی طرح خبردار کردیا ہےمہربانی فرماکر ایك فہرست مطبع اہلسنت وجماعت کی مخصوص اپنے تصنیفات کی مرحمت فرمائی جائے اور ذیل کے استفسار پر کرم فرما کر جواب سے مشرف فرمائیےمولانا وارث حسن کا کیا مذہب ہے
الجواب:
جب آپ"حسام الحرمین"میں علمائے حرمین شریفین کے متفق علیہ فتوے دیکھ چکے تو اس کے بعد
" ۔ اور اﷲتعالی نے فرمایا:اور ظالموں کی طرف نہ جھکو کہ تمہیں آگ چھوئے گی۔(ت)اﷲ تعالی نے فرمایا:تم میں جو کوئی ان سے دوستی رکھے گا تو وہ انہیں میں سے ہے(ت)
ان آیات کریمہ کا حاصل یہ ہے کہ اگر تجھے بھلادے تو یاد آنے پر ظالموں کے پاس نہ بیٹھظالموں کی طرف میل نہ کرو کہ تمہیں دوز خ کی آگ چھوئے گیجوتم میں ان سے دوستی رکھے گا وہ انہیں میں سے ہےاگر وہ علانیہ تائب ہو اور از سر نو مسلمان ہو فبہا ورنہ اگر وہ بیمار پڑے اس کی عیادت حراماگرمرجائے اسے غسل دینا حرامکفن دینا حراماس کے جنازہ کی نماز سخت حرامجنازہ کے ساتھ جانا حر اممقابر مسلمین میں اسے دفن کرنا حراماسے ایصال ثواب حرام بلکہ کفرکوئی تنگ گڑھا کھود کر اس میں ڈال دیں اور بغیر کسی فاصلے کے اوپر سے اینٹ پتھر خاك بلا جو کچھ ہو پاٹ دیں
" وذلک جزؤا الظلمین ﴿۲۹﴾" ۔نسأل اﷲ الثبات علی الایمان والختم بالحسنی ولاحول قوۃ الا باﷲ العلی العظیم۔واﷲ تعالی اعلم۔ اور بے انصافوں کی سزا ہے۔ہم اﷲ تعالی سے ایمان پر ثابت قدمی اور خاتمہ بالخیر کی دعا کرتے ہیں ولاحول ولاقوۃ الا باﷲ العلی العظیم۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ۴۶:مسئولہ حافظ محمد علاء الدین صاحب پیش امام جامع مسجد مقام بلرام پور ڈاکخانہ رانگہ ڈیہہ ضلع مان بھوم یکم صفر ۱۳۳۵ھ
ایك شخص اپنا شجرہ مجھ سے پڑھانے لگا اس میں پہلے مولانا وارث حسن کا نام تھااس کے بعد رشید احمد گنگوہی کا نام تھارشید احمد گنگوہی کا نام پڑھتے ہی میں نے اس شجرہ کو نہیں پڑھا کیونکہ"حسام الحرمین"نے ان کے حال سے اچھی طرح خبردار کردیا ہےمہربانی فرماکر ایك فہرست مطبع اہلسنت وجماعت کی مخصوص اپنے تصنیفات کی مرحمت فرمائی جائے اور ذیل کے استفسار پر کرم فرما کر جواب سے مشرف فرمائیےمولانا وارث حسن کا کیا مذہب ہے
الجواب:
جب آپ"حسام الحرمین"میں علمائے حرمین شریفین کے متفق علیہ فتوے دیکھ چکے تو اس کے بعد
اس سوال کی ضرورت نہ رہی وارث حسن کے مذہب پر فقیر کو اطلاع نہیںنہ کبھی ملاقاتمگر اس قدر ضرور ہے کہ وہ جس کا مرید ہے تو اسے ولی جانے گاکم از کم صحیح العقیدہ صالح نہ سہی مسلمان تو جانے گااور حکم شرع وہ ہے جو"حسام الحرمین"میں مذکور۔واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ۴۷تا۴۸:مرسلہ عبدالواحدخاں صاحب مسلم بمبئی اسلام پورہ معرفت عبداللطیف ہیڈ ماسٹر میونسپل اردو اسکول۴ربیع الاول ۱۳۳۵ھ
(۱)قادیانیوں سے کس طرح کس پیرایہ میں بحث کیاجائےیعنی ان کی تردید کے بھاری ذرائع کیا ہیں
(۲)یا حدیثوں کے انکار سے انسان کافر ہوسکتا ہے اگر ہاں توکن حدیثوں کے انکار سے
الجواب:
(۱)سب سے بھاری ذریعہ اس کے رد کا اول اول کلمات کفر پر گرفت ہے جو اس کی تصانیف میں برساتی حشرات کی طرح اہلے گہلے پھر رہے ہیںانبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کی توہینیںعیسی علیہ الصلوۃ والسلام کو گالیاںان کی ماں طیبہ طاہرہ پر لعن طعناور یہ کہنا کہ یہودیوں کے جو اعترا ض عیسی اور ان کی ماں پر ہیں ان کا جواب نہیں اور یہ کہ نبوت عیسی پر کوئی دلیل قائم نہیں بلکہ عدم نبوت پر دلیل قائم ہے یہ ماننا کہ قرآن نے ان کو انبیاء میں گنا ہے اور پھر صاف کہہ دینا کہ وہ نبی نہیں ہوسکتےمعجزات عیسی الصلوۃ والسلام سے صراحۃ انکاراور یہ کہنا کہ وہ مسمر یزم سے یہ کچھ کیا کرتے تھےاور یہ کہ میں ان باتوں کو مکروہ نہ جانتا تو آج عیسی سے کم نہ ہوتاتو وہ روشن معجزے جن کو قرآن مجید آیات بینات فرمارہا ہے یہ ان کو مسمر یزم و مکروہ مانتا ہےاپنے آپ کو اگلے انبیاء سے افضل بتانا اور یہ کہنا کہ ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو اس سے بہتر غلام احمد ہےاور یہ کہنا کہ اگلے چار سو انبیاء کی پیشگوئی غلط ہوئی اور وہ جھوٹےاور یہ کہنا کہ عیسی علیہ الصلوۃ والسلام کی چاردادیاں نانیاں معاذ اﷲ زانیہ تھیں اور یہ کہ اسی خون سے عیسی کی پیدائش ہے۔اپنے آپ کو نبی کہنااپنی طرف وحی الہی کا ادعا کرنااپنی بنائی ہوئی کتاب کو کلام الہی کہنا اور یہ کہ آیہ کریمہ" مبشرا برسول یاتی من بعدی اسمہ احمد " (ان رسول کی بشارت سناتا ہوا جو میرے بعد تشریف لائیں گے ان کا نام احمد ہے۔ت)سے میں مراد ہوںاور یہ کہ مجھ پر اترا ہے انا انزلناہ بالقادیان وبالحق نزل(ہم نے اپنے قادیان میں اور حق کے ساتھ نازل کیا۔ت)اوردوسرا بھاری ذریعہ اس خبیث کی پیشگوئیوں کا جھوٹا پڑنا جن میں بہت چمکتے روشن حرفوں سے لکھنے کے قابل دو واقعے ہیں:
مسئلہ۴۷تا۴۸:مرسلہ عبدالواحدخاں صاحب مسلم بمبئی اسلام پورہ معرفت عبداللطیف ہیڈ ماسٹر میونسپل اردو اسکول۴ربیع الاول ۱۳۳۵ھ
(۱)قادیانیوں سے کس طرح کس پیرایہ میں بحث کیاجائےیعنی ان کی تردید کے بھاری ذرائع کیا ہیں
(۲)یا حدیثوں کے انکار سے انسان کافر ہوسکتا ہے اگر ہاں توکن حدیثوں کے انکار سے
الجواب:
(۱)سب سے بھاری ذریعہ اس کے رد کا اول اول کلمات کفر پر گرفت ہے جو اس کی تصانیف میں برساتی حشرات کی طرح اہلے گہلے پھر رہے ہیںانبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کی توہینیںعیسی علیہ الصلوۃ والسلام کو گالیاںان کی ماں طیبہ طاہرہ پر لعن طعناور یہ کہنا کہ یہودیوں کے جو اعترا ض عیسی اور ان کی ماں پر ہیں ان کا جواب نہیں اور یہ کہ نبوت عیسی پر کوئی دلیل قائم نہیں بلکہ عدم نبوت پر دلیل قائم ہے یہ ماننا کہ قرآن نے ان کو انبیاء میں گنا ہے اور پھر صاف کہہ دینا کہ وہ نبی نہیں ہوسکتےمعجزات عیسی الصلوۃ والسلام سے صراحۃ انکاراور یہ کہنا کہ وہ مسمر یزم سے یہ کچھ کیا کرتے تھےاور یہ کہ میں ان باتوں کو مکروہ نہ جانتا تو آج عیسی سے کم نہ ہوتاتو وہ روشن معجزے جن کو قرآن مجید آیات بینات فرمارہا ہے یہ ان کو مسمر یزم و مکروہ مانتا ہےاپنے آپ کو اگلے انبیاء سے افضل بتانا اور یہ کہنا کہ ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو اس سے بہتر غلام احمد ہےاور یہ کہنا کہ اگلے چار سو انبیاء کی پیشگوئی غلط ہوئی اور وہ جھوٹےاور یہ کہنا کہ عیسی علیہ الصلوۃ والسلام کی چاردادیاں نانیاں معاذ اﷲ زانیہ تھیں اور یہ کہ اسی خون سے عیسی کی پیدائش ہے۔اپنے آپ کو نبی کہنااپنی طرف وحی الہی کا ادعا کرنااپنی بنائی ہوئی کتاب کو کلام الہی کہنا اور یہ کہ آیہ کریمہ" مبشرا برسول یاتی من بعدی اسمہ احمد " (ان رسول کی بشارت سناتا ہوا جو میرے بعد تشریف لائیں گے ان کا نام احمد ہے۔ت)سے میں مراد ہوںاور یہ کہ مجھ پر اترا ہے انا انزلناہ بالقادیان وبالحق نزل(ہم نے اپنے قادیان میں اور حق کے ساتھ نازل کیا۔ت)اوردوسرا بھاری ذریعہ اس خبیث کی پیشگوئیوں کا جھوٹا پڑنا جن میں بہت چمکتے روشن حرفوں سے لکھنے کے قابل دو واقعے ہیں:
حوالہ / References
القرآن الکریم ۶۱ /۶
۱ ایك اس کے بیٹے کا جس کی نسبت کہا تھا کہ انبیاء کا چاند پیدا ہوگا اور بادشاہ اس کے کپڑوں سے برکت لیں گےمگر شان الہی کہ چوں دم برداشتم مادہ برآمد(جب میں نے دم اٹھا کر دیکھا تو مادہ پایا۔ت)بیٹی پیدا ہوئیاس کے اوپر کہا کہ وحی کے سمجھنے میں غلطی ہوئی اب کی جو ہوگا وہ انبیاء کا چاند ہوگا۔بیٹیبیٹے ہمیشہ پیدا ہوتے ہیں اب کے ہوا بیٹا مگر چند روز جی کر مرگیابادشاہ کیا کسی محتاج نے بھی اس کے کپڑوں سے برکت نہ لی۔
۲دوسری بہت بڑی بھاری پیشگوئی آسمانی جورو کی اپنی چچازاد بہن احمدی کو لکھ کر بھیجا کہ اپنی بیٹی محمدی میرے نکاح میں دے دےاس نے صاف انکار کردیااس پر پہلے طمع دلائی پھر دھمکیاں دیں پھر کہا کہ وحی آگئی کہ"زوجناکھا"ہم نے تیرانکاح اس سے کردیااور یہ کہ اس کا نکاح اگر تو دوسری جگہ کرے گی تو ڈھائی یا تین برس کے اندر اس کا شوہر مرجائے گا۔مگر اس خدا کی بندی نے ایك نہیں سنیسلطان محمد خاں سے نکاح کردیاوہ آسمانی نکاح دھراہی رہانہ وہ شوہرمراکتنے بچے اس سے ہوچکے اور یہ چل دئے۔غرض اس کے کفر وکذب حدشمار سے باہر ہیں کہاں تك گنے جائیں اور اس کے ہواخواہ ان باتوں کو ٹالتے ہیںاور بحث کریں گے توکاہے میں کہ عیسی علیہ الصلوۃ والسلام نے انتقال فرمایا مع جسم کے اٹھائے گئے یا صرف روحمہدی و عیسی ایك ہیں یا متعدد۔یہ ان کی عیاری ہوتی ہےان کفروں کے سامنے ان مباحث کا کیا ذکرفرض کیجئے کہ عیسی علیہ الصلوۃ والسلام زندہ نہیںفرض کیجئے کہ وہ مع جسم نہیں اٹھائے گئےفرض کیجئے کہ مہدی وعیسی ایك ہیںپھر اس سے وہ تیرے کفر کیونکر مٹ گئے۔کلام تو اس میں ہے کہ تو کہتا ہے میں نبی ہوں ہم کہتے ہیں تو کافراس کا فیصلہ ہونا چاہئےانبیاء کی توہینیںانبیاء کی تکذیبیںمعجزات سے استہزاءنبوت کا ادعاءاور پھر دوسرے درجہ میں انبیاء کے چاند والا بیٹاآسمانی جورویہ تیری تکفیر تکذیب کو کافی ہیں۔
(۲)حدیث متواتر کے انکار پر تکفیر کی جاتی ہے خواہ متواتر باللفظ ہویا متواتر المعنیاور حدیث ٹھہراکر جوکوئی استخفاف کرے تو یہ مطلقا کفر ہے اگرچہ حدیث احاد بلکہ ضعیف بلکہ فی الواقع اس سے بھی نازل ہو۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۴۹: مرسلہ عبدالجبار خاں صاحب دھام پور ضلع بجنور ۲۹ربیع الاول شریف ۱۳۳۵ھ
کیا شیعوں کے سب فرقے اور غیر مقلدین سب کے سب کافر ہیں
الجواب:
ان میں ضروریات دین سے کسی شے کا جو منکر ہے یقینا کافرہے اور جو قطعیات کے منکرہیں ان پر
۲دوسری بہت بڑی بھاری پیشگوئی آسمانی جورو کی اپنی چچازاد بہن احمدی کو لکھ کر بھیجا کہ اپنی بیٹی محمدی میرے نکاح میں دے دےاس نے صاف انکار کردیااس پر پہلے طمع دلائی پھر دھمکیاں دیں پھر کہا کہ وحی آگئی کہ"زوجناکھا"ہم نے تیرانکاح اس سے کردیااور یہ کہ اس کا نکاح اگر تو دوسری جگہ کرے گی تو ڈھائی یا تین برس کے اندر اس کا شوہر مرجائے گا۔مگر اس خدا کی بندی نے ایك نہیں سنیسلطان محمد خاں سے نکاح کردیاوہ آسمانی نکاح دھراہی رہانہ وہ شوہرمراکتنے بچے اس سے ہوچکے اور یہ چل دئے۔غرض اس کے کفر وکذب حدشمار سے باہر ہیں کہاں تك گنے جائیں اور اس کے ہواخواہ ان باتوں کو ٹالتے ہیںاور بحث کریں گے توکاہے میں کہ عیسی علیہ الصلوۃ والسلام نے انتقال فرمایا مع جسم کے اٹھائے گئے یا صرف روحمہدی و عیسی ایك ہیں یا متعدد۔یہ ان کی عیاری ہوتی ہےان کفروں کے سامنے ان مباحث کا کیا ذکرفرض کیجئے کہ عیسی علیہ الصلوۃ والسلام زندہ نہیںفرض کیجئے کہ وہ مع جسم نہیں اٹھائے گئےفرض کیجئے کہ مہدی وعیسی ایك ہیںپھر اس سے وہ تیرے کفر کیونکر مٹ گئے۔کلام تو اس میں ہے کہ تو کہتا ہے میں نبی ہوں ہم کہتے ہیں تو کافراس کا فیصلہ ہونا چاہئےانبیاء کی توہینیںانبیاء کی تکذیبیںمعجزات سے استہزاءنبوت کا ادعاءاور پھر دوسرے درجہ میں انبیاء کے چاند والا بیٹاآسمانی جورویہ تیری تکفیر تکذیب کو کافی ہیں۔
(۲)حدیث متواتر کے انکار پر تکفیر کی جاتی ہے خواہ متواتر باللفظ ہویا متواتر المعنیاور حدیث ٹھہراکر جوکوئی استخفاف کرے تو یہ مطلقا کفر ہے اگرچہ حدیث احاد بلکہ ضعیف بلکہ فی الواقع اس سے بھی نازل ہو۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۴۹: مرسلہ عبدالجبار خاں صاحب دھام پور ضلع بجنور ۲۹ربیع الاول شریف ۱۳۳۵ھ
کیا شیعوں کے سب فرقے اور غیر مقلدین سب کے سب کافر ہیں
الجواب:
ان میں ضروریات دین سے کسی شے کا جو منکر ہے یقینا کافرہے اور جو قطعیات کے منکرہیں ان پر
بحکم فقہاء لزوم کفر ہے اور اگر کوئی غیر مقلد ایسا پایاجائے کہ صرف انہیں فرعی اعمال میں مخالف ہو اور تمام عقائد قطعیہ اہلسنت کا موافقیا وہ شیعی تفضیلی ہے تو ایسوں پر حکم تکفیر ناممکن ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۵۰تا۵۱: ازبنارس محلہ پتر کنڈہ مرسلہ مولانا مولوی عبدالمجید صاحب پانی پتی ۱۱شعبان ۱۳۳۵ھ
ہمارے سنی حنفی علماء کثرہم اﷲ تعالی وابقاہم الی یوم الجزاء اس میں کیا فرماتے ہیں:
(۱)فرقہ غیر مقلدین ۱ اﷲ تعالی کے لئے مکان کا قائل اور نیز ۲اس کے لئے جہت کا قائل ہے جیسا کہ نواب صدیق حسن خاں کے رسالہ"الاحتواء علی مسئلۃ الاستواء"اور نیز ان کے دیگر رسائل سے ظاہر ہےاور ۳احناف کی فقہ کو باطل اور ناحق جانتا ہےاور ۴بدیں وجہ اس کی سخت توہین کرتا ہے چنانچہ ایك کلانوری غیر مقلد نے اپنے رسالہ"الجرح علی اصول الفقہ"میں فقہ احناف کے حق میں لکھا ہے(بلکہ بدبودار سنڈ اس ہے کہ جب اس کے پاس جاؤ تو بدبوہی آتی ہےوالعیاذ باﷲ تعالیاور مولوی ابوالقاسم بنارسی کے رسالہ"الجرح علی الامام"کی ایك عبارت سے فقہ احناف کا موجب دخول دوزخ ہونا ثابت ہےاور ۵نیز امام صاحب رضی اﷲتعالی کی توہین بیحد کرتا ہےچنانچہ مولوی ابوالقاسم بنارسی نے اپنے رسالہ مذکورہ میں منجملہ حضرت امام صاحب کی شان میں بے انتہا بے اد بیاں کیںآپ کی ولادت شریفہ کے سنہ کامادہ لفظ"سگ"اور آپ کی وفات شریف کے سنہ کا مادہ لفظ"بوکم جہاں پاک"لکھا ہے والعیاذباﷲ تعالیاور ۶اجماع کا منکر ہے کہ نواب صدیق حسن خاں کے رسالہ"عرف الجادی"اورنیز ان کے دیگر رسائل سے ظاہر ہے اور یہ سب باتیں احناف کی فقہ کی مستند کتابوں مثل فتاوی قاضی خاں اور فتاوی عالمگیری اور نورالانوار وغیرہا کے بموجب کفر ہیںپس فرقہ غیر مقلدین بوجوہ مذکورہ بحکم فقہ احناف کافر ہے یا نہیںاور ۷نیز فرقہ غیرمقلدین مفارق الجماعۃ ہے جیسا کہ ظاہر ہے پس بحکم حدیث شریف:
من فارق الجماعۃ شبرافقد خلع رقبۃ الاسلام من عنقہ ۔ جوجماعت سے بالشت بھر دور ہوا اس نے اپنی گردن سے اسلام کا پھندہ اتاردیا(ت)
کے خارج از اسلام ہوا یا نہیںاور ۸نیز فرقہ غیر مقلدین تقلید کو شرك اور مستلزم انتفاء ایمان اور مقلدین کو جن میں بے شمار علماء اوراولیاء بھی داخل ہیںمشرك اور بے ایمان کہتا وجانتا ہے جیسا کہ مولوی سعید بنارسی کے رسالہ"ہدایۃ المرتاب"ص ۱۸ اور ان کے بیٹے ابوالقاسم بنارسی کے رسالہ"العرجون القدیم"ص۲۰اور نیز دیگر غیر مقلدین کے رسائل سے ظاہر ہے پس بموجب حدیث:
مسئلہ۵۰تا۵۱: ازبنارس محلہ پتر کنڈہ مرسلہ مولانا مولوی عبدالمجید صاحب پانی پتی ۱۱شعبان ۱۳۳۵ھ
ہمارے سنی حنفی علماء کثرہم اﷲ تعالی وابقاہم الی یوم الجزاء اس میں کیا فرماتے ہیں:
(۱)فرقہ غیر مقلدین ۱ اﷲ تعالی کے لئے مکان کا قائل اور نیز ۲اس کے لئے جہت کا قائل ہے جیسا کہ نواب صدیق حسن خاں کے رسالہ"الاحتواء علی مسئلۃ الاستواء"اور نیز ان کے دیگر رسائل سے ظاہر ہےاور ۳احناف کی فقہ کو باطل اور ناحق جانتا ہےاور ۴بدیں وجہ اس کی سخت توہین کرتا ہے چنانچہ ایك کلانوری غیر مقلد نے اپنے رسالہ"الجرح علی اصول الفقہ"میں فقہ احناف کے حق میں لکھا ہے(بلکہ بدبودار سنڈ اس ہے کہ جب اس کے پاس جاؤ تو بدبوہی آتی ہےوالعیاذ باﷲ تعالیاور مولوی ابوالقاسم بنارسی کے رسالہ"الجرح علی الامام"کی ایك عبارت سے فقہ احناف کا موجب دخول دوزخ ہونا ثابت ہےاور ۵نیز امام صاحب رضی اﷲتعالی کی توہین بیحد کرتا ہےچنانچہ مولوی ابوالقاسم بنارسی نے اپنے رسالہ مذکورہ میں منجملہ حضرت امام صاحب کی شان میں بے انتہا بے اد بیاں کیںآپ کی ولادت شریفہ کے سنہ کامادہ لفظ"سگ"اور آپ کی وفات شریف کے سنہ کا مادہ لفظ"بوکم جہاں پاک"لکھا ہے والعیاذباﷲ تعالیاور ۶اجماع کا منکر ہے کہ نواب صدیق حسن خاں کے رسالہ"عرف الجادی"اورنیز ان کے دیگر رسائل سے ظاہر ہے اور یہ سب باتیں احناف کی فقہ کی مستند کتابوں مثل فتاوی قاضی خاں اور فتاوی عالمگیری اور نورالانوار وغیرہا کے بموجب کفر ہیںپس فرقہ غیر مقلدین بوجوہ مذکورہ بحکم فقہ احناف کافر ہے یا نہیںاور ۷نیز فرقہ غیرمقلدین مفارق الجماعۃ ہے جیسا کہ ظاہر ہے پس بحکم حدیث شریف:
من فارق الجماعۃ شبرافقد خلع رقبۃ الاسلام من عنقہ ۔ جوجماعت سے بالشت بھر دور ہوا اس نے اپنی گردن سے اسلام کا پھندہ اتاردیا(ت)
کے خارج از اسلام ہوا یا نہیںاور ۸نیز فرقہ غیر مقلدین تقلید کو شرك اور مستلزم انتفاء ایمان اور مقلدین کو جن میں بے شمار علماء اوراولیاء بھی داخل ہیںمشرك اور بے ایمان کہتا وجانتا ہے جیسا کہ مولوی سعید بنارسی کے رسالہ"ہدایۃ المرتاب"ص ۱۸ اور ان کے بیٹے ابوالقاسم بنارسی کے رسالہ"العرجون القدیم"ص۲۰اور نیز دیگر غیر مقلدین کے رسائل سے ظاہر ہے پس بموجب حدیث:
حوالہ / References
مسند امام احمد بن حنبل حدیث ابوذررضی اﷲعنہ دارالفکر بیروت ۵/ ۱۸۵
لایرمی رجل رجلا بالفسوق ولایرمیہ بالکفر الاارتدت علیہ ان لم یکن صاحبہ کذلک ۔ کسی آدمی کا دوسرے کو فاسق وکافر کہنا اسی پر لوٹ آتا ہے اگر دوسرے میں کفر وفسق نہ ہو۔(ت)کے یہ خود مشرك اور بے ایمان ہوئے یا نہیں۔
(۲)اور نیز اس میں کہ رافضی تبرائی کافر مرتد ہے یانہیںبینواتوجروا۔
الجواب:
جواب سوال اول:بلاشبہہ طائفہ نائفہ غیر مقلدین گمراہ بددین اور بحکم فقہ کفار و مرتدینجن پر بوجوہ کثیرہ لزوم کفر بین مبین ہمارے رسالہ"الکوکبۃ الشھابیۃ علی کفریات ابی الوھابیۃ وسل السیوف الھندیۃ علی کفریات بابا النجدیۃ والنھی الاکیدعن الصلوۃ وراء عدی التقلید"وغیرہا میں اس کا بیان شافی و وافی۔یہاں انہیں بعض وجوہ سے کلام کریں جن کی طرف سائل فاضل نے اشارہ کیاوباﷲ التوفیق۔
(۱)اﷲ عزوجل کے لئے مکان ماننا کفر ہےبحرالرائق جلد پنجم ص۱۲۹ میں ہے:
یکفر بقولہ یجوز ان یفعل اﷲ فعلا لاحکمۃ فیہ وباثبات المکان ﷲتعالی ۔ اگر کوئی کہتا ہے کہ اﷲ تعالی سے ایسے فعل کا صدور ممکن ہے جس میں حکمت نہ ہوتو وہ کافر ہے یا وہ اﷲ تعالی کے مکان کا اثبات تسلیم کرتا ہے(ت)
فتاوی قاضی خاں فخر المطابع جلد چہارم ص۴۳۰:
یکون کفر الان اﷲ تعالی منزہ عن المکان ۔ کافر ہوجائے گاکیونکہ اﷲ تعالی مکان سے پاك ہے(ت)
فتاوی خلاصہ قلمی کتاب الفاظ الکفر فصل ۲جنس۲:
یکفر لانہ اثبت المکان ﷲتعالی ۔ وہ کافر ہے کیونکہ اس نے اﷲ تعالی کیلئے مکان ثابت کیا ہے۔ (ت)
(۲)اور نیز اس میں کہ رافضی تبرائی کافر مرتد ہے یانہیںبینواتوجروا۔
الجواب:
جواب سوال اول:بلاشبہہ طائفہ نائفہ غیر مقلدین گمراہ بددین اور بحکم فقہ کفار و مرتدینجن پر بوجوہ کثیرہ لزوم کفر بین مبین ہمارے رسالہ"الکوکبۃ الشھابیۃ علی کفریات ابی الوھابیۃ وسل السیوف الھندیۃ علی کفریات بابا النجدیۃ والنھی الاکیدعن الصلوۃ وراء عدی التقلید"وغیرہا میں اس کا بیان شافی و وافی۔یہاں انہیں بعض وجوہ سے کلام کریں جن کی طرف سائل فاضل نے اشارہ کیاوباﷲ التوفیق۔
(۱)اﷲ عزوجل کے لئے مکان ماننا کفر ہےبحرالرائق جلد پنجم ص۱۲۹ میں ہے:
یکفر بقولہ یجوز ان یفعل اﷲ فعلا لاحکمۃ فیہ وباثبات المکان ﷲتعالی ۔ اگر کوئی کہتا ہے کہ اﷲ تعالی سے ایسے فعل کا صدور ممکن ہے جس میں حکمت نہ ہوتو وہ کافر ہے یا وہ اﷲ تعالی کے مکان کا اثبات تسلیم کرتا ہے(ت)
فتاوی قاضی خاں فخر المطابع جلد چہارم ص۴۳۰:
یکون کفر الان اﷲ تعالی منزہ عن المکان ۔ کافر ہوجائے گاکیونکہ اﷲ تعالی مکان سے پاك ہے(ت)
فتاوی خلاصہ قلمی کتاب الفاظ الکفر فصل ۲جنس۲:
یکفر لانہ اثبت المکان ﷲتعالی ۔ وہ کافر ہے کیونکہ اس نے اﷲ تعالی کیلئے مکان ثابت کیا ہے۔ (ت)
حوالہ / References
مسند امام احمد بن حنبل حدیث ابوذر غفاری رضی اﷲ عنہ دارالفکر بیروت ۵/ ۱۸۱
بحرالرائق باب احکام المرتدین ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۵/ ۱۲۰
فتاوٰی قاضی خان کتاب السیر باب یکون کفرًا وما لایکون کفرا نولکشور لکھنؤ ۴/ ۸۸۴
خلاصۃ الفتاوٰی فصل الثانی فی الفاظ الکفر مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۴/ ۳۸۴
بحرالرائق باب احکام المرتدین ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۵/ ۱۲۰
فتاوٰی قاضی خان کتاب السیر باب یکون کفرًا وما لایکون کفرا نولکشور لکھنؤ ۴/ ۸۸۴
خلاصۃ الفتاوٰی فصل الثانی فی الفاظ الکفر مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۴/ ۳۸۴
فتاوی عالمگیری مطبع مصر جلد دوم ص۱۲۹:
یکفرباثبات المکان ﷲ تعالی ۔ اﷲ تعالی کے لئے مکان ثابت کرنا کفر ہے(ت)
جامع الفصولین جلد دوم ص۲۹۸فتاوی ذخیرہ سے:
قالاﷲ فی السماء عالم لوارادبہ المکان کفر ۔ کسی نے کہا اﷲ تعالی آسمان میں عالم ہے اگر اس سے مراد مکان لیا ہےتو کفر ہے(ت)
(۲)مولی عزوجل کے لئے جہت ماننا بھی صریح ضلالت وبددینی ہے اور بہت ائمہ نے تکفیر فرمائی__شاہ عبدالعزیز صاحب کی تحفہ اثناء عشریہ طبع کلکتہ ۲۵۵بیان عقائد اہلسنت وجماعت میں ہے:
عقیدہ سیزدہم آنکہ حق تعالی را مکان نیست واورا جہتے از فوق متصور وہمیں ست مذہب اہل سنت وجماعت ۔ تیرھواں عقیدہ یہ ہے کہ حق تعالی کیلئے مکان نہیں اور نہ اس کے لئے کوئی جہت نہ فوق اور نہ تحتاور یہی اہل سنت وجماعت کا عقیدہ ہے(ت)
امام ابن حجر مکی کی اعلام بقواطع الاسلام طبع مصرص۱۵ بعد نقل کلام امام حجۃ الاسلام غزالی:
ھکذا کما تری ظاھر تکفیر القائلین بالجھۃ ۔ جیسا کہ آپ دیکھ رہے ہیں جو لوگ جہت کے قائل ہیں ان کا کافر ہونا واضح ہے(ت)
اسی میں ان کلمات میں جو ہمارے ائمہ کے نزدیك بالاتفاق کفرہیں ص۳۲پر ہے:
او قال اﷲ تعالی فی السماء عالم او علی العرش وعنی بہ المکان او لیس لہ نیۃ او قال ینظر الیناویبصرنا من العرشاو قال ھو فی السماء او علی الارضاو قال لا یخلو منہ مکان او قال اﷲ تعالی فوق وانت تحتہ اھ (ونازعہ یا کہتا ہے کہ وہ آسمان میں عالم ہے یا عرش پراور اس سے مراد مکان لیتا ہے یا اسکی کوئی نیت نہیں یا کہتا ہے کہ اﷲ تعالی ہم کوعرش سے دیکھتا ہےیا کہتا ہے وہ آسمان میں ہے یا زمین پریا کہتا ہے اس سے کوئی مکان خالی نہیںیا کہتا ہے اﷲ تعالی اوپر ہے اورتو نیچے اھ ابن حجر نے
یکفرباثبات المکان ﷲ تعالی ۔ اﷲ تعالی کے لئے مکان ثابت کرنا کفر ہے(ت)
جامع الفصولین جلد دوم ص۲۹۸فتاوی ذخیرہ سے:
قالاﷲ فی السماء عالم لوارادبہ المکان کفر ۔ کسی نے کہا اﷲ تعالی آسمان میں عالم ہے اگر اس سے مراد مکان لیا ہےتو کفر ہے(ت)
(۲)مولی عزوجل کے لئے جہت ماننا بھی صریح ضلالت وبددینی ہے اور بہت ائمہ نے تکفیر فرمائی__شاہ عبدالعزیز صاحب کی تحفہ اثناء عشریہ طبع کلکتہ ۲۵۵بیان عقائد اہلسنت وجماعت میں ہے:
عقیدہ سیزدہم آنکہ حق تعالی را مکان نیست واورا جہتے از فوق متصور وہمیں ست مذہب اہل سنت وجماعت ۔ تیرھواں عقیدہ یہ ہے کہ حق تعالی کیلئے مکان نہیں اور نہ اس کے لئے کوئی جہت نہ فوق اور نہ تحتاور یہی اہل سنت وجماعت کا عقیدہ ہے(ت)
امام ابن حجر مکی کی اعلام بقواطع الاسلام طبع مصرص۱۵ بعد نقل کلام امام حجۃ الاسلام غزالی:
ھکذا کما تری ظاھر تکفیر القائلین بالجھۃ ۔ جیسا کہ آپ دیکھ رہے ہیں جو لوگ جہت کے قائل ہیں ان کا کافر ہونا واضح ہے(ت)
اسی میں ان کلمات میں جو ہمارے ائمہ کے نزدیك بالاتفاق کفرہیں ص۳۲پر ہے:
او قال اﷲ تعالی فی السماء عالم او علی العرش وعنی بہ المکان او لیس لہ نیۃ او قال ینظر الیناویبصرنا من العرشاو قال ھو فی السماء او علی الارضاو قال لا یخلو منہ مکان او قال اﷲ تعالی فوق وانت تحتہ اھ (ونازعہ یا کہتا ہے کہ وہ آسمان میں عالم ہے یا عرش پراور اس سے مراد مکان لیتا ہے یا اسکی کوئی نیت نہیں یا کہتا ہے کہ اﷲ تعالی ہم کوعرش سے دیکھتا ہےیا کہتا ہے وہ آسمان میں ہے یا زمین پریا کہتا ہے اس سے کوئی مکان خالی نہیںیا کہتا ہے اﷲ تعالی اوپر ہے اورتو نیچے اھ ابن حجر نے
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ موجبات الکفر انواع نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۲۵۹
جامع الفصولین فصل الثامن والثلاثون فی مسائل کلمات الکفر اسلامی کتب خانہ کراچی ۲/ ۲۹۸
تحفہ اثنا عشریہ باب پنجم درالٰہیات سہیل اکیڈمی لاہور ص۱۴۱
اعلام بقواطع الاسلام مع سبل النجاۃ مقدمہ کتاب مکتبۃ الحقیقیہ استنبول ترکی ص۳۵۱
جامع الفصولین فصل الثامن والثلاثون فی مسائل کلمات الکفر اسلامی کتب خانہ کراچی ۲/ ۲۹۸
تحفہ اثنا عشریہ باب پنجم درالٰہیات سہیل اکیڈمی لاہور ص۱۴۱
اعلام بقواطع الاسلام مع سبل النجاۃ مقدمہ کتاب مکتبۃ الحقیقیہ استنبول ترکی ص۳۵۱
ابن حجرفی قولہ لیس لہ نیۃ فقال فی الکفر نظر فضلا عن کونہ متفقا علیہ لان النیۃ القصدوقد ذکر النووی عفااﷲ تعالی عنہ فی شرح المھذب انہ یقال قصداﷲ کذابمعنی اراد فمن قال لیس لہ نیۃ ای قصد فان ارادانہ لیس قصد کقصد نا فواضحوکذا ان اطلق اوارادانہ لاارادۃ لہ اصلا فان اراد المعنی الذی تقولہ المعتزلۃ فلاکفر ایضا اوارادسلبھا مطلقا لابالمعنی الذی یقولونہ فھو کفر اھ اقول: رحم اﷲ الشیخ لیس لہ نیۃ لیس من الفاظ الکفر بل ھو عطف علی قولہ عنی بہ المکان ای یکفران اراد المکاناواطلق ولم ینوشیئا قال فی البحرالرائق ان قال اﷲ فی السماء فان قصد حکایۃ ماجاء فی ظاھر الاخبار لایکفروان اراد المکان کفر وان لم یکن لہ نیۃ کفر عند الاکثر وھوالاصح وعلیہ الفتوی اھ۔ "لیس لہ نیۃ"کی صورت میں اختلاف کیا اور کہا کہ اس صورت میں کفر میں اختلاف ہے چہ جائیکہ کفر بالاتفاق ہو کیونکہ نیت قصد کا نام ہے۔امام نووی نے شرح المہذب میں کہا کہ جو کہا جاتا ہے قصد اﷲ کذا یعنی اﷲتعالی نے ارادہ فرمایا کے معنی میں ہوتا ہے اور جس نے کہا"اﷲ کے لئے نیت نہیں"یعنی قصد نہیںاگر اس کی مراد یہ ہے کہ اسی طرح اگریہ کلمہ مطلقا ذکر کیا یا یہ مراد لیا کہ اﷲتعالی کے لئے کوئی ارادہ نہیںاب اگر وہ معنی مراد لیا جو معتزلہ کہتے ہیں تو وہ بھی کفر نہیں یا مراد یہ ہے کہ مطلقا ارادہ کی نفی ہے نہ کہ وہ معنی جو معتزلہ کا قولتو پھر کفر ہے اھ اقول اﷲ تعالی شیخ پر رحم فرمائے"اس کی نیت نہیں"یہ الفاظ کفر میں سے نہیں بلکہ اس کا عطف"اس نے مکان مراد لیا"پر ہے یعنی وہ کافر ہوجائے گا جب اس نے مکان مراد لیا یا اس نے کلمہ بولا اور اس سے کوئی ارادہ نہ کیابحرالرائق میں ہے کہ اگرکسی نے کہا"اﷲ آسمان میں ہے"اگر تو اس نے وہ مراد لیا جو ظاہرا اخبار میں ہے تو پھر کافر نہیںاور اگر اس نے مکان مراد لیا تو کفر ہوگا اور اگر اس نے کوئی ارادہ نہ کیا تو اکثر کے نزدیك وہ کافر ہے اور یہی اصح ہے اور اسی پر فتوی ہے۔(ت)
نیز اسی کے فصل کفر متفق علیہ میں ہے ص۳۹:
نیز اسی کے فصل کفر متفق علیہ میں ہے ص۳۹:
حوالہ / References
اعلام بقواطع الاسلام مع سبل النجاۃ فصل اول مکتبۃالحقیقیہ استنبول ترکی ص۳۶۷
بحرالرائق باب احکام المرتدین ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۵/ ۱۲۰
بحرالرائق باب احکام المرتدین ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۵/ ۱۲۰
اوشبھہ تعالی بشیئ اووصفہ بالمکان او الجہات ۔ یا اس نے اﷲ تعالی کو کسی شیئ کے ساتھ مشابہت دی یا مکان یا جہت کے ساتھ اس کا وصف بیان کیا۔(ت)
(۳)فقہ حنفی کو مطلقا باطل و ناحق جاننا تو سخت خبیث وملعون ہے کہ وہ احکام قرآن عظیم واحکام صحاح احادیث پر مشتمل سب سے سہل تراحکام قیاس ہیںاس کی نسبت فتاوی تاتاخانیہ پھر فتاوی عالمگیریہ جلد دوم صفحہ۲۷۱میں ہے:
رجل قال قیاس ابی حنیفۃ حق نیست یکفر ۔ جس نے یہ کہا کہ"قیاس ابوحنیفہ درست نہیں"اس نے کفر کیا(ت)
ہم نے خاص اس قول کی شرح بعونہ تعالی ایك نفیس رسالہ لکھا اور اس میں اسے مشرح و مفصل ومبرہن ومدلل کیا وﷲ الحمد۔
(۴)یہیں سے تو ہین فقہ مبارك کا حکم ظاہر کہ صرف باطل کہنے سے وہ ملعون الفاظ بدرجہا بدترزید وعمرومختلف ہوں کہ بکر اس وقت قائم ہے یا قاعددونوں میں ایك ضرور باطل ہے مگر ان میں کوئی موجب دخول دوزخ نہیں
" و سیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون ﴿۲۲۷﴾ " (اور اب جان جائیں گے ظالم کہ کس کروٹ پلٹا کھائیں گے۔ت)منح الروض ص۲۱۲:کفر باستخفاف الفقہ (فقہ کی کتاب کی تحقیر سے کافر ہوگا۔ت)
(۴)بعد وضوح صواب وکشف حجاب بحمد الوہاب امامت وولایت وجلالت شان ورفعت مکان حضرات عالیہ ائمہ اربعہ علیہم الرضوان پر امت اجابت کا اجماع منعقد ہولیا خبثائے مبتدعین مثل وہابیہ ورافضیہ وغیر مقلدین امت اجابت سے نہیں کافروں کی طرح امت دعوت سے ہیںولہذا اجماع میں ان کا اختلاف معتبر نہیںاصول امام اجل فخر الاسلام بزدوی قدس سرہ مبحث اجماع باب الاہلیۃ میں ہے:
صاحب الہوی المشہور لیس من الامۃ علی الاطلاق ۔ دین میں جو گمراہی والا مشہور ہو وہ علی الاطلاق امت میں سے نہیں ہے۔(ت)
(۳)فقہ حنفی کو مطلقا باطل و ناحق جاننا تو سخت خبیث وملعون ہے کہ وہ احکام قرآن عظیم واحکام صحاح احادیث پر مشتمل سب سے سہل تراحکام قیاس ہیںاس کی نسبت فتاوی تاتاخانیہ پھر فتاوی عالمگیریہ جلد دوم صفحہ۲۷۱میں ہے:
رجل قال قیاس ابی حنیفۃ حق نیست یکفر ۔ جس نے یہ کہا کہ"قیاس ابوحنیفہ درست نہیں"اس نے کفر کیا(ت)
ہم نے خاص اس قول کی شرح بعونہ تعالی ایك نفیس رسالہ لکھا اور اس میں اسے مشرح و مفصل ومبرہن ومدلل کیا وﷲ الحمد۔
(۴)یہیں سے تو ہین فقہ مبارك کا حکم ظاہر کہ صرف باطل کہنے سے وہ ملعون الفاظ بدرجہا بدترزید وعمرومختلف ہوں کہ بکر اس وقت قائم ہے یا قاعددونوں میں ایك ضرور باطل ہے مگر ان میں کوئی موجب دخول دوزخ نہیں
" و سیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون ﴿۲۲۷﴾ " (اور اب جان جائیں گے ظالم کہ کس کروٹ پلٹا کھائیں گے۔ت)منح الروض ص۲۱۲:کفر باستخفاف الفقہ (فقہ کی کتاب کی تحقیر سے کافر ہوگا۔ت)
(۴)بعد وضوح صواب وکشف حجاب بحمد الوہاب امامت وولایت وجلالت شان ورفعت مکان حضرات عالیہ ائمہ اربعہ علیہم الرضوان پر امت اجابت کا اجماع منعقد ہولیا خبثائے مبتدعین مثل وہابیہ ورافضیہ وغیر مقلدین امت اجابت سے نہیں کافروں کی طرح امت دعوت سے ہیںولہذا اجماع میں ان کا اختلاف معتبر نہیںاصول امام اجل فخر الاسلام بزدوی قدس سرہ مبحث اجماع باب الاہلیۃ میں ہے:
صاحب الہوی المشہور لیس من الامۃ علی الاطلاق ۔ دین میں جو گمراہی والا مشہور ہو وہ علی الاطلاق امت میں سے نہیں ہے۔(ت)
حوالہ / References
اعلام بقواطع الاسلام مع سبل النجاۃ فصل اول مکتبۃ الحقیقیہ استنبول ترکی ص۳۷۴
فتاوٰی ہندیہ الباب التاسع احکام المرتدین نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۲۷۱
القرآن الکریم ۲۶ /۲۲۷
منح الروض الازھر شرح فقہ اکبر فصل فی العلم والعلماء مصطفی البابی مصر ص۱۷۴
اصول بزدوی باب الاہلیۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ص۲۴۳
فتاوٰی ہندیہ الباب التاسع احکام المرتدین نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۲۷۱
القرآن الکریم ۲۶ /۲۲۷
منح الروض الازھر شرح فقہ اکبر فصل فی العلم والعلماء مصطفی البابی مصر ص۱۷۴
اصول بزدوی باب الاہلیۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ص۲۴۳
توضیح طبع قسطنطنیہ جلد دوم ص۵۰۶ میں ہے:
صاحب البدعۃ یدعوالناس الیھا لیس ھو من الامۃ علی الاطلاق ۔ اہلسنت کے مخالف عقید ے والا جو لوگوں کو اپنے عقیدے کی دعوت دے وہ علی الاطلاق امتی نہیں ہے(ت)
تلویح علامہ تفتازانی ص۵۰۶ ومرقاۃشرح مشکوۃ جلد پنجم ۶۵۴میں ہے:
لان المبتدع وان کان من اھل القبلۃ فھو من امۃ الدعوۃ دون المتابعۃ کالکفار ۔ کیونکہ اعتقاد میں بدعتی اگرچہ اہل قبلہ سے ہے لیکن امت اجابت میں نہیں بلکہ وہ مثل کفار امت دعوت میں سے ہے۔(ت)
اور اجماع امت بلاشبہ حجت ہے تو حضرات ائمہ اربعہ خصوصا امام الائمہ سراج الامۃ سیدنا امام اعظم رضی اﷲتعالی عنہ کے امام امت واجلہ اولیائے حضرت عزت سے ہونے کا اب انکار نہ کریگا مگر گمراہ بددین یا ملحد بے دین مرتد بالیقین اور بحکم فقہ اس پر لزوم کفرظاہر و مبین۔مجمع الانہر طبع مصر جلد اول ص۶۳۳ومنح الروض۲۱۲ میں ہے:
من قال لعالم عویلم اولعلوی علیوی قاصدا بہ الاستخفاف کفر ۔ جو شخص تحقیر کے ارادے سے عالم کو عویلم اور علوی کو علیوی کہے وہ کافر ہوجاتا ہے۔(ت)
جب ایك عالم کو بنظر تحقیر مولویا کہنے کو کفر فرماتے ہیں تو عالم العلماء امام الائمہ کی نسبت ایسے ہفوات ملعونہ کس درجہ خبیث تر ہیںاکابر اولیائے فرماتے ہیں کہ ائمہ مجتہدین رضی اﷲ تعالی عنہم کا مقام باقی اولیاء کرام کے مقام سے بالیقین بلند وبالا ہے۔امام اجل عارف باﷲ سید ی عبدالوہاب شعرانی قدس شرہ الربانی میزان الشریعۃ الکبری جلد اول ص۱۷۲:
سمعت سیدی علیا المرصفی رحمہ اﷲ تعالی یقول اعتقادنا ان اکابر الصحابۃ والتابعین والائمۃ المجتہدین
کان مقامھم اکبر من مقام باقی الاولیاء بیقین ۔ میں نے سیدی علی المرصفی رحمہ اﷲ تعالی سے سنا وہ فرماتے ہیں کہ بیقین ہمارا اعتقاد ہے کہ اکابر صحابہ وتابعین وائمہ مجتہدین کا مقام باقی اولیاء کرام سے بڑا تھا۔(ت)
صاحب البدعۃ یدعوالناس الیھا لیس ھو من الامۃ علی الاطلاق ۔ اہلسنت کے مخالف عقید ے والا جو لوگوں کو اپنے عقیدے کی دعوت دے وہ علی الاطلاق امتی نہیں ہے(ت)
تلویح علامہ تفتازانی ص۵۰۶ ومرقاۃشرح مشکوۃ جلد پنجم ۶۵۴میں ہے:
لان المبتدع وان کان من اھل القبلۃ فھو من امۃ الدعوۃ دون المتابعۃ کالکفار ۔ کیونکہ اعتقاد میں بدعتی اگرچہ اہل قبلہ سے ہے لیکن امت اجابت میں نہیں بلکہ وہ مثل کفار امت دعوت میں سے ہے۔(ت)
اور اجماع امت بلاشبہ حجت ہے تو حضرات ائمہ اربعہ خصوصا امام الائمہ سراج الامۃ سیدنا امام اعظم رضی اﷲتعالی عنہ کے امام امت واجلہ اولیائے حضرت عزت سے ہونے کا اب انکار نہ کریگا مگر گمراہ بددین یا ملحد بے دین مرتد بالیقین اور بحکم فقہ اس پر لزوم کفرظاہر و مبین۔مجمع الانہر طبع مصر جلد اول ص۶۳۳ومنح الروض۲۱۲ میں ہے:
من قال لعالم عویلم اولعلوی علیوی قاصدا بہ الاستخفاف کفر ۔ جو شخص تحقیر کے ارادے سے عالم کو عویلم اور علوی کو علیوی کہے وہ کافر ہوجاتا ہے۔(ت)
جب ایك عالم کو بنظر تحقیر مولویا کہنے کو کفر فرماتے ہیں تو عالم العلماء امام الائمہ کی نسبت ایسے ہفوات ملعونہ کس درجہ خبیث تر ہیںاکابر اولیائے فرماتے ہیں کہ ائمہ مجتہدین رضی اﷲ تعالی عنہم کا مقام باقی اولیاء کرام کے مقام سے بالیقین بلند وبالا ہے۔امام اجل عارف باﷲ سید ی عبدالوہاب شعرانی قدس شرہ الربانی میزان الشریعۃ الکبری جلد اول ص۱۷۲:
سمعت سیدی علیا المرصفی رحمہ اﷲ تعالی یقول اعتقادنا ان اکابر الصحابۃ والتابعین والائمۃ المجتہدین
کان مقامھم اکبر من مقام باقی الاولیاء بیقین ۔ میں نے سیدی علی المرصفی رحمہ اﷲ تعالی سے سنا وہ فرماتے ہیں کہ بیقین ہمارا اعتقاد ہے کہ اکابر صحابہ وتابعین وائمہ مجتہدین کا مقام باقی اولیاء کرام سے بڑا تھا۔(ت)
حوالہ / References
توضیح علی التنقیح معہ التلویح باب الاہلیۃ المطبعۃ الخیریہ مصر ۲/ ۲۳۷
توضیح علی التنقیح معہ التلویح باب الاہلیۃ المطبعۃ الخیریہ مصر ۲/ ۲۳۷
مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر باب المرتد داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۶۹۵،منح الروض الازہر شرح فقہ اکبر فصل فی العلم والعلماء مصطفی البابی مصر ص۱۷۴
میزان الشریعۃ الکبری باب صفۃ الصلوٰۃ مصطفی البابی مصر ۱/ ۱۵۷
توضیح علی التنقیح معہ التلویح باب الاہلیۃ المطبعۃ الخیریہ مصر ۲/ ۲۳۷
مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر باب المرتد داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۶۹۵،منح الروض الازہر شرح فقہ اکبر فصل فی العلم والعلماء مصطفی البابی مصر ص۱۷۴
میزان الشریعۃ الکبری باب صفۃ الصلوٰۃ مصطفی البابی مصر ۱/ ۱۵۷
تو بالیقین امام الائمہ امام اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ وعنہم اعاظم سرداران اولیاء اﷲ عزوجل سے ہیںاور اﷲ عزوجل فرماتا ہے:
من عادی لی ولیا فقد اذنتہ بالحرب ۔رواہ البخاری فی صحیحہ عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم عن ربہ عزوجل۔ جو میرے کسی ولی سے عداوت رکھے میں نے اعلان فرمادیا اس سے لڑائی کا۔(اسے بخاری نے اپنی صحیح میں ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے انہوں نے نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے آپ نے اﷲعزوجل سے روایت کیا۔ت)
ڈاکوؤں کی بابت فرمایا:
" انما جزؤا الذین یحاربون اللہ ورسولہ"الایۃ یہ جو اﷲ ورسول سے لڑتے ہیں ان کی سزا یہ ہے کہ قتل کیے جائیں یا سولی دئے جائیںالی آخرالایۃ۔
سود کے بارے میں فرمایا:
" فان لم تفعلوا فاذنوا بحرب من اللہ ورسولہ" ۔ اگر سود نہ چھوڑو تو اعلان کرو اﷲ ورسول سے لڑائی کا۔
لیکن یہاں فرمایا جو میرے کسی ولی سے عداوت رکھے خود میں نے اس سے لڑائی کا اعلان فرمادیاخود ابتداء فرمانا دلیل واضح ہے کہ عداوت باعث ایذائے رب عزوجل ہے۔اور رب عزوجل فرماتا ہے:
" ان الذین یؤذون اللہ و رسولہ لعنہم اللہ فی الدنیا و الاخرۃ و اعد لہم عذابا مہینا ﴿۵۷﴾" ۔ بیشك وہ جو اﷲ ورسول کو ایذا دیتے ہیں ان پر اﷲ نے لعنت فرمائی دنیا اور آخرت میں اور ان کے لئے ذلت کا عذاب تیار کررکھا ہے۔
ظاہر ہے کہ مسلمان اگرچہ عاصی اگرچہ معاذاﷲ معذب ہو آخرت میں اپنے رب کا ملعون نہیں ورنہ بالآخررحمت ونعمت وجنت ابدی نہ پاتا اس کی نارنار تطہیر ہےنہ نار لعنت وابعاد تذلیل وتحقیرتو جسے
من عادی لی ولیا فقد اذنتہ بالحرب ۔رواہ البخاری فی صحیحہ عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم عن ربہ عزوجل۔ جو میرے کسی ولی سے عداوت رکھے میں نے اعلان فرمادیا اس سے لڑائی کا۔(اسے بخاری نے اپنی صحیح میں ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے انہوں نے نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے آپ نے اﷲعزوجل سے روایت کیا۔ت)
ڈاکوؤں کی بابت فرمایا:
" انما جزؤا الذین یحاربون اللہ ورسولہ"الایۃ یہ جو اﷲ ورسول سے لڑتے ہیں ان کی سزا یہ ہے کہ قتل کیے جائیں یا سولی دئے جائیںالی آخرالایۃ۔
سود کے بارے میں فرمایا:
" فان لم تفعلوا فاذنوا بحرب من اللہ ورسولہ" ۔ اگر سود نہ چھوڑو تو اعلان کرو اﷲ ورسول سے لڑائی کا۔
لیکن یہاں فرمایا جو میرے کسی ولی سے عداوت رکھے خود میں نے اس سے لڑائی کا اعلان فرمادیاخود ابتداء فرمانا دلیل واضح ہے کہ عداوت باعث ایذائے رب عزوجل ہے۔اور رب عزوجل فرماتا ہے:
" ان الذین یؤذون اللہ و رسولہ لعنہم اللہ فی الدنیا و الاخرۃ و اعد لہم عذابا مہینا ﴿۵۷﴾" ۔ بیشك وہ جو اﷲ ورسول کو ایذا دیتے ہیں ان پر اﷲ نے لعنت فرمائی دنیا اور آخرت میں اور ان کے لئے ذلت کا عذاب تیار کررکھا ہے۔
ظاہر ہے کہ مسلمان اگرچہ عاصی اگرچہ معاذاﷲ معذب ہو آخرت میں اپنے رب کا ملعون نہیں ورنہ بالآخررحمت ونعمت وجنت ابدی نہ پاتا اس کی نارنار تطہیر ہےنہ نار لعنت وابعاد تذلیل وتحقیرتو جسے
حوالہ / References
صحیح البخاری کتاب الرقاق باب التواضع قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۹۶۳
القرآن الکریم ۵ /۳۳
القرآن الکریم ۲ /۲۷۹
القرآن الکریم ۳۳ /۵۷
القرآن الکریم ۵ /۳۳
القرآن الکریم ۲ /۲۷۹
القرآن الکریم ۳۳ /۵۷
اﷲ عزوجل دنیا وآخرت میں ملعون کرے وہ نہ ہوگا مگر کافر۔اور یہ وہاں ہے کہ بعد وضوح حق براہ عناد ہو جس طرح اب وہابیہ ماردین اعدائے دین کا حال ہے" قتلہم اللہ انی یؤفکون ﴿۳۰﴾" (اﷲ انہیں مارے کہاں اوندھے جاتے ہیں۔ت)ان کے وصف کو ایك حدیث بس ہے کہ دار قطنی و ابوحاتم خزاعی نے ابو امامہ باہلی رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کی کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:
اھل البدع کلاب اھل النار ۔ گمراہ لوگ دوزخیوں کے کتے ہیں۔
کتا اور وہ بھی بدترین خلائق دوزخیوں کا جن کے متعلق فرمایا" اولئک ہم شر البریۃ ﴿۶﴾" وہ تمام مخلوق الہی سے بدتر ہیںکتے سے بدترسورسے بد ترسور کے لئے اگر کوئی کتا فرض کیا جائے تو ایسے لوگ سور سے بدتروں کے کتے ہیں" الا لعنۃ اللہ علی الظلمین ﴿۱۸﴾" ۔(۶)بلاشبہہ طائفہ غیر مقلدین اجماع امت کو اصلاحجت نہیں مانتے بلکہ محض مہمل و نامعتبر جانتے ہیںصدیق حسن بھوپالی کا مصرع ہے:
قیاس فاسد واجماع بے اثر آمد
(قیاس فاسد ہے اور اجماع کو ئی اثر نہیں رکھتا۔ت)
اور ائمہ کرام وعلمائے اعلام حجیت اجماع کو ضروریات دین سے بتاتے اور مخالف اجماع قطعی کو کفر ٹھہراتے ہیںمواقف عضدالدین وشرح مواقف علامہ سید شریف مطبوعہ استنبول جلد اول ص۱۵۹:
کون الاجماع حجۃ قطعیۃ معلوم بالضرورۃ من الدین ۔ اجماع کا قطعی حجت ہونا ضروریات دین سے ہے۔(ت)
مسلم الثبوت وفواتح الرحموت جلد دوم ص۴۹۴:
الاجماع حجۃ قطعا ویفید العلم الجازم عند جمیع اھل القبلۃولایعتد بشرذمۃ اجماع قطعی حجت ہے اور یہ تمام اہل قبلہ کے ہاں یقینی علم کا فائدہ دیتا ہے اور خارجی اور رافضی احمقوں
اھل البدع کلاب اھل النار ۔ گمراہ لوگ دوزخیوں کے کتے ہیں۔
کتا اور وہ بھی بدترین خلائق دوزخیوں کا جن کے متعلق فرمایا" اولئک ہم شر البریۃ ﴿۶﴾" وہ تمام مخلوق الہی سے بدتر ہیںکتے سے بدترسورسے بد ترسور کے لئے اگر کوئی کتا فرض کیا جائے تو ایسے لوگ سور سے بدتروں کے کتے ہیں" الا لعنۃ اللہ علی الظلمین ﴿۱۸﴾" ۔(۶)بلاشبہہ طائفہ غیر مقلدین اجماع امت کو اصلاحجت نہیں مانتے بلکہ محض مہمل و نامعتبر جانتے ہیںصدیق حسن بھوپالی کا مصرع ہے:
قیاس فاسد واجماع بے اثر آمد
(قیاس فاسد ہے اور اجماع کو ئی اثر نہیں رکھتا۔ت)
اور ائمہ کرام وعلمائے اعلام حجیت اجماع کو ضروریات دین سے بتاتے اور مخالف اجماع قطعی کو کفر ٹھہراتے ہیںمواقف عضدالدین وشرح مواقف علامہ سید شریف مطبوعہ استنبول جلد اول ص۱۵۹:
کون الاجماع حجۃ قطعیۃ معلوم بالضرورۃ من الدین ۔ اجماع کا قطعی حجت ہونا ضروریات دین سے ہے۔(ت)
مسلم الثبوت وفواتح الرحموت جلد دوم ص۴۹۴:
الاجماع حجۃ قطعا ویفید العلم الجازم عند جمیع اھل القبلۃولایعتد بشرذمۃ اجماع قطعی حجت ہے اور یہ تمام اہل قبلہ کے ہاں یقینی علم کا فائدہ دیتا ہے اور خارجی اور رافضی احمقوں
حوالہ / References
القرآن الکریم ۹ /۳۰
کنز العمال حدیث ۱۱۲۵ موسسۃ الرسالۃ بیروت ۱/ ۲۲۳
القرآن الکریم ۹۸ /۶
القرآن الکریم ۱۱ /۱۸
شرح المواقف باب المقصد السادس منشورات الشریف الرضی قم ایران ۱/ ۲۵۵
کنز العمال حدیث ۱۱۲۵ موسسۃ الرسالۃ بیروت ۱/ ۲۲۳
القرآن الکریم ۹۸ /۶
القرآن الکریم ۱۱ /۱۸
شرح المواقف باب المقصد السادس منشورات الشریف الرضی قم ایران ۱/ ۲۵۵
من الحمقاء الخوارج والروافض لانھم حادثون بعد الاتفاق یتشککون فی ضروریات الدین ۔ کے گروہ کا اعتبار نہیں کیونکہ یہ نئے فرقے ہیں جو ضروریات دین میں تشکیك پیدا کرتے(ت)
اصول امام اجل فخر الاسلام بزدوی باب حکم الاجماع:
فصار الاجماع کآیۃ من الکتاب اوحدیث متواتر فی وجوب العمل والعلم بہ فیکفر جاحدہ فی الاصل ۔ تواجماع کتاب اﷲیا حدیث متواتر کی طرح وجوب علم وعمل ثابت کرتا ہے لہذا قاعدہ کی رو سے اس کا منکر کافر قرار دیا جائے گا۔(ت)
کشف الاسرار امام عبدالعزیز بخاری مطبوعہ قسطنطنیہ جلد چہارم ص۲۶۱:
یحکم بکفر من انکر اصل الاجماع بان قال لیس الاجماع بحجۃ ۔ جو اجماع کے اصول میں ہونے سے انکار کرے اور کہے کہ اجماع حجت نہیں ہے اس کی تکفیر کی جائے گی(ت)
مسایرہ امام محقق ابن الہمام مطبوعہ مصر خاتمہ ص۹:
وبالجملۃ فقد ضم الی التصدیق بالقلب فی تحقق الایمان امور الاخلال بالایمان اتفاقا کترك السجود للصنم وقتل نبی والاستخفاف بہ ومخالف مااجمع علیہ وانکارہ بعد العلم بہ (ملتقطا) حاصل یہ کہ ایمان کے لئے تصدیق بالقلب کے ساتھ کچھ امور ایسے ہیں جو بالاتفاق ایمان میں خلل انداز ہوتے ہیں جن کا ترك ضروری ہےمثلا بت کو سجدہنبی کاقتل اور اس کی توہین اور اجماع کی مخالفت اور اجماع کے علم پر اس کا انکار۔ (ملتقطا)
الفصول البدائع فی اصول الشرائع علامہ شمس فتاوی مطبوعہ استنبول جلد دوم ص۲۷۴:
یکفر جاحد حجیۃ الاجماع مطلقا وھوالمذھب عند مشائخنا ۔ اجماع کی حجیت کا مطلقا انکار کرنے والا کافر قرار پائیگا ہمارے مشائخ کا یہی مذہب ہے(ت)
اصول امام اجل فخر الاسلام بزدوی باب حکم الاجماع:
فصار الاجماع کآیۃ من الکتاب اوحدیث متواتر فی وجوب العمل والعلم بہ فیکفر جاحدہ فی الاصل ۔ تواجماع کتاب اﷲیا حدیث متواتر کی طرح وجوب علم وعمل ثابت کرتا ہے لہذا قاعدہ کی رو سے اس کا منکر کافر قرار دیا جائے گا۔(ت)
کشف الاسرار امام عبدالعزیز بخاری مطبوعہ قسطنطنیہ جلد چہارم ص۲۶۱:
یحکم بکفر من انکر اصل الاجماع بان قال لیس الاجماع بحجۃ ۔ جو اجماع کے اصول میں ہونے سے انکار کرے اور کہے کہ اجماع حجت نہیں ہے اس کی تکفیر کی جائے گی(ت)
مسایرہ امام محقق ابن الہمام مطبوعہ مصر خاتمہ ص۹:
وبالجملۃ فقد ضم الی التصدیق بالقلب فی تحقق الایمان امور الاخلال بالایمان اتفاقا کترك السجود للصنم وقتل نبی والاستخفاف بہ ومخالف مااجمع علیہ وانکارہ بعد العلم بہ (ملتقطا) حاصل یہ کہ ایمان کے لئے تصدیق بالقلب کے ساتھ کچھ امور ایسے ہیں جو بالاتفاق ایمان میں خلل انداز ہوتے ہیں جن کا ترك ضروری ہےمثلا بت کو سجدہنبی کاقتل اور اس کی توہین اور اجماع کی مخالفت اور اجماع کے علم پر اس کا انکار۔ (ملتقطا)
الفصول البدائع فی اصول الشرائع علامہ شمس فتاوی مطبوعہ استنبول جلد دوم ص۲۷۴:
یکفر جاحد حجیۃ الاجماع مطلقا وھوالمذھب عند مشائخنا ۔ اجماع کی حجیت کا مطلقا انکار کرنے والا کافر قرار پائیگا ہمارے مشائخ کا یہی مذہب ہے(ت)
حوالہ / References
فواتح الرحموت بذیل المستصفٰی باب الاجماع حجۃ قطعًا منشورات الشریف الرضی قم ایران ۲/ ۲۱۳
اصول البزدوی باب حکم الاجماع قدیمی کتب خانہ کراچی ص۲۴۵
کشف الاسرار عن اصول البزدوی باب حکم الاجماع الخ دارالفکر بیروت ۳/ ۲۶۱
المسایرہ معہ المسامرہ الخاتمۃ فی بحث الایمان المکتبۃ التجاریۃ الکبری مصر ۳۳۷
فصول البدائع فی اصول الشرائع
اصول البزدوی باب حکم الاجماع قدیمی کتب خانہ کراچی ص۲۴۵
کشف الاسرار عن اصول البزدوی باب حکم الاجماع الخ دارالفکر بیروت ۳/ ۲۶۱
المسایرہ معہ المسامرہ الخاتمۃ فی بحث الایمان المکتبۃ التجاریۃ الکبری مصر ۳۳۷
فصول البدائع فی اصول الشرائع
تلویح جلد دوم ص۵۱۵:
الاجماع علی مراتب فالاولی بمنزلۃ الآیۃ والخبر المتواتر یکفر جاحدہ ۔ اجماع کے مراتب ہیںپہلا مرتبہ بمنزلہ آیت کریمہ اور خبر متواتر ہے جس کا منکر کافر ہوگا(ت)
کشف الاسرار شرح المنار للامام النسفی مطبوعہ مصر جلد دوم ص۱۱۱:
یکفر جاحدہ کما یکفر جاحد ماثبت بالکتاب او المتواتر ۔ اجماع کا منکر کافر ہے جس طرح کتاب اﷲ یا خبر متواتر سے ثابت شدہ کا منکر کافر ہے(ت)
مرآۃ الاصول علامہ مولی خسرومطبوعہ مصر جلد دوم ص۲۷۱:
یکفر منکر حجیۃ الاجماع مطلقا ھو المختار عند مشائخنا۔ مطلقا اجماع کی حجیت کا منکر کافر ہے ہمارے مشائخکے ہاں یہی مختار ہے(ت)
(۷)جماعت اسلام سے ان کی مفارقت اسی معنی پر ہے جو نزد فقہائے کرام ان کو خارج از اسلام کرتی ہے کمایظھر بمامرو یأتی بالتفاصیل المودعۃ فی رسائلنا المذکورۃ(جیسا کہ گزشتہ اور آنیوالے بیان اور ان تفاصیل سے ظاہر ہوجائیگا جو ہمارے رسائل میں شامل ہیں۔ت)تو بلاشبہہ بحکم فقہ یہ طائفہ حدیث مذکور کے حکم ظاہر میں داخل اور اسلام سے خارج۔
(۸)یونہی تقلید کو مطلقا شرك ونافی ایمان کہناقرآن وحدیث واجماع امت سب کا انکار اور کفر ہےکشف اصول بزدوی جلد ۳ص۳۸۸میں ہے:
رجوع العامی الی قول المفتی وجب بالنص والاجماع (ملخصا) عوام کا مفتی کے قول کی طرف رجوع کرنا نص اور اجماع کی بناء پرلازم ہے(ت)
فصول البدائع جلد دوم ص۴۳۳:
للعامی تقلید المجتہد فی فروع الشریعۃ خلافا لمعتزلۃ بغدادلنا ان علماء عوام کے لئے فروع شریعت میں تقلید مجتہد لازم ہےاس میں معتزلہ بغداد کا اختلاف ہےہماری دلیل
الاجماع علی مراتب فالاولی بمنزلۃ الآیۃ والخبر المتواتر یکفر جاحدہ ۔ اجماع کے مراتب ہیںپہلا مرتبہ بمنزلہ آیت کریمہ اور خبر متواتر ہے جس کا منکر کافر ہوگا(ت)
کشف الاسرار شرح المنار للامام النسفی مطبوعہ مصر جلد دوم ص۱۱۱:
یکفر جاحدہ کما یکفر جاحد ماثبت بالکتاب او المتواتر ۔ اجماع کا منکر کافر ہے جس طرح کتاب اﷲ یا خبر متواتر سے ثابت شدہ کا منکر کافر ہے(ت)
مرآۃ الاصول علامہ مولی خسرومطبوعہ مصر جلد دوم ص۲۷۱:
یکفر منکر حجیۃ الاجماع مطلقا ھو المختار عند مشائخنا۔ مطلقا اجماع کی حجیت کا منکر کافر ہے ہمارے مشائخکے ہاں یہی مختار ہے(ت)
(۷)جماعت اسلام سے ان کی مفارقت اسی معنی پر ہے جو نزد فقہائے کرام ان کو خارج از اسلام کرتی ہے کمایظھر بمامرو یأتی بالتفاصیل المودعۃ فی رسائلنا المذکورۃ(جیسا کہ گزشتہ اور آنیوالے بیان اور ان تفاصیل سے ظاہر ہوجائیگا جو ہمارے رسائل میں شامل ہیں۔ت)تو بلاشبہہ بحکم فقہ یہ طائفہ حدیث مذکور کے حکم ظاہر میں داخل اور اسلام سے خارج۔
(۸)یونہی تقلید کو مطلقا شرك ونافی ایمان کہناقرآن وحدیث واجماع امت سب کا انکار اور کفر ہےکشف اصول بزدوی جلد ۳ص۳۸۸میں ہے:
رجوع العامی الی قول المفتی وجب بالنص والاجماع (ملخصا) عوام کا مفتی کے قول کی طرف رجوع کرنا نص اور اجماع کی بناء پرلازم ہے(ت)
فصول البدائع جلد دوم ص۴۳۳:
للعامی تقلید المجتہد فی فروع الشریعۃ خلافا لمعتزلۃ بغدادلنا ان علماء عوام کے لئے فروع شریعت میں تقلید مجتہد لازم ہےاس میں معتزلہ بغداد کا اختلاف ہےہماری دلیل
حوالہ / References
تلویح علی التوضیح الامر الرابع فی حکم الاجماع المطبعۃ الخیریہ مصر ۲/ ۳۴۷
کشف الاسرار شرح منار الانوار فی اصول الفقہ
مرآۃ الاصول شرح مرقاہ الوصول فی علم الاصول مولٰی خسرو
کشف الاسرار عن اصول البزدوی قبیل باب حکم العلۃ دارالکتاب العربی بیروت ۳/ ۳۸۸
کشف الاسرار شرح منار الانوار فی اصول الفقہ
مرآۃ الاصول شرح مرقاہ الوصول فی علم الاصول مولٰی خسرو
کشف الاسرار عن اصول البزدوی قبیل باب حکم العلۃ دارالکتاب العربی بیروت ۳/ ۳۸۸
الامصار لاینکرون علی العوام الاقتصار علی اقاویلھم فحصل الاجماع قبل حدوث المخالف ۔ یہ ہے کہ تمام علاقوں کے علماء نے عوام کو اپنے اقوال پر عمل سے نہیں روکا تو مخالف قول سے پہلے پہلے اس پر اجماع ہوچکا ہے(ت)
فواتح الرحموت جلد اول ص۷:
المقلد یعلم وجوب العمل بقول المجتھد ضرورۃ من الدین اوبالتقلید المحض اھ اقول: الاول فیمن کان مخالطاللمسلمین والثانی فیمن لم یخالطھم بعد۔ مقلد مجتہد کے قول پر عمل کا وجوب ضروریات دین یا تقلید محض کے طور پر جانتاہے اھ اقول: پہلی صورت وہاں ہے جہاں مسلمانوں کے ساتھ اختلاط ہو دوسری صورت وہاں جہاں ابھی مسلمانوں کے ساتھ اختلاط نہ ہواہو۔(ت)
(۹)بلاشبہہ گیارہ سوبرس سے عامہ امت محمدیہ علی صاحبہا وعلیہا افضل الصلوۃ والتحیۃ مقلدین ہیں مقلدوں کو مشرك کہنا عامہ امت مرحومہ کی تکفیر ہے اور بلاریب بحکم ظواہراحادیث وفتوی ائمہ فقہ کفر ہے۔عالمگیری جلد دوم ص ۳۷۸برجندی شرح نقایہ جلد چہارم ص۶۸حدیقہ ندیہ شرح طریقہ محمدیہ جلد اول ص۱۴۰ وص۱۵۶جامع الفصولین جلد دوم ص۳۱۱بزازیہ جلد سوم ص ۳۳۱ردالمحتار جلد سوم ص ۲۸۳درمختار ص۳۹۳جامع الرموز مطبوعہ کلکتہ جلد چہارم ص۶۵۱مجمع الانہر مطبوعہ قسطنطنیہ جلد اول ص۵۶۶خزانۃ المفتین قلمیکتاب السیر آخر فصل الفاظ الکفرنیزا ن کتب میں ذخیرۃ الفتاوی وفصول عمادی واحکام علی الدرروقاضیخاں و نہرالفائق وشر ح وہبانیہ وغیرہا سے:
المختار للفتوی فی جنس ھذہ المسائل ان القائل بمثل ھذہ المسائل ان القائل بمثل ھذہ المقالات ان اراد الشتم ولایعتقدہ کافرا لایکفر وان کان یعتقدہ کافرا فخاطبہ بھذابناء علی اعتقادہ انہ کافر یکفر ۔ ایسے مسائل میں فتوی کے لئے مختار یہ ہے کہ اگر ایسے کلمات سے مراد سب وشتم ہواور کفر کا اعتقاد نہ ہو تو کافر نہیں ہوگا اور اگر مقلد کو کافر سمجھتا ہے اور اسے اپنے اس اعتقاد کے مطابق مخاطب کرتا ہے تو اب کافر ہوجائے گا۔(ت)
فواتح الرحموت جلد اول ص۷:
المقلد یعلم وجوب العمل بقول المجتھد ضرورۃ من الدین اوبالتقلید المحض اھ اقول: الاول فیمن کان مخالطاللمسلمین والثانی فیمن لم یخالطھم بعد۔ مقلد مجتہد کے قول پر عمل کا وجوب ضروریات دین یا تقلید محض کے طور پر جانتاہے اھ اقول: پہلی صورت وہاں ہے جہاں مسلمانوں کے ساتھ اختلاط ہو دوسری صورت وہاں جہاں ابھی مسلمانوں کے ساتھ اختلاط نہ ہواہو۔(ت)
(۹)بلاشبہہ گیارہ سوبرس سے عامہ امت محمدیہ علی صاحبہا وعلیہا افضل الصلوۃ والتحیۃ مقلدین ہیں مقلدوں کو مشرك کہنا عامہ امت مرحومہ کی تکفیر ہے اور بلاریب بحکم ظواہراحادیث وفتوی ائمہ فقہ کفر ہے۔عالمگیری جلد دوم ص ۳۷۸برجندی شرح نقایہ جلد چہارم ص۶۸حدیقہ ندیہ شرح طریقہ محمدیہ جلد اول ص۱۴۰ وص۱۵۶جامع الفصولین جلد دوم ص۳۱۱بزازیہ جلد سوم ص ۳۳۱ردالمحتار جلد سوم ص ۲۸۳درمختار ص۳۹۳جامع الرموز مطبوعہ کلکتہ جلد چہارم ص۶۵۱مجمع الانہر مطبوعہ قسطنطنیہ جلد اول ص۵۶۶خزانۃ المفتین قلمیکتاب السیر آخر فصل الفاظ الکفرنیزا ن کتب میں ذخیرۃ الفتاوی وفصول عمادی واحکام علی الدرروقاضیخاں و نہرالفائق وشر ح وہبانیہ وغیرہا سے:
المختار للفتوی فی جنس ھذہ المسائل ان القائل بمثل ھذہ المسائل ان القائل بمثل ھذہ المقالات ان اراد الشتم ولایعتقدہ کافرا لایکفر وان کان یعتقدہ کافرا فخاطبہ بھذابناء علی اعتقادہ انہ کافر یکفر ۔ ایسے مسائل میں فتوی کے لئے مختار یہ ہے کہ اگر ایسے کلمات سے مراد سب وشتم ہواور کفر کا اعتقاد نہ ہو تو کافر نہیں ہوگا اور اگر مقلد کو کافر سمجھتا ہے اور اسے اپنے اس اعتقاد کے مطابق مخاطب کرتا ہے تو اب کافر ہوجائے گا۔(ت)
حوالہ / References
فصول البدائع فی اصول الشرائع
فواتح الرحموت بذیل المستصفٰی المقدمہ فی اصول الفقہ منشورات الشریف الرضی قم ایران ۱/ ۱۲
فتاوٰی ہندیۃ الباب التاسع فی احکام المرتدین نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۲۷۸
فواتح الرحموت بذیل المستصفٰی المقدمہ فی اصول الفقہ منشورات الشریف الرضی قم ایران ۱/ ۱۲
فتاوٰی ہندیۃ الباب التاسع فی احکام المرتدین نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۲۷۸
(۱۰)نمبر ۶ میں ان کا منکر قیاس ہونا گزرا اور یہ اظھر من الشمس ہےولہذا فقہ کے منکر ہیںعلمائے کرام فرماتے ہیں قیاس و فقہ کی حجیت بھی ضروریات دین سے ہے تو اس کا انکار ضرور کفر ہونا لازمکشف البزدوی جلد ۳ص۲۸۰:
قدثبت بالتواتران الصحابۃ رضی اﷲ تعالی عنہم عملوا بالقیاس وشاع وذاع ذلك فیما بینھم من غیر ردوانکار ۔ یہ بات تواتر کے ساتھ ثابت ہے کہ صحابہ کرام رضی اﷲ تعالی عنہم قیاس پر عمل پیرا تھے اور عمل ان کے درمیان بغیر کسی ردو انکار جاری و مشہور تھا۔(ت)
ایضاص۲۸۱:
انھم کانوا مجمعین علی ذلك فیما لانص فیہ وکفی باجماعھم حجۃ ۔ جس حکم کے بارے میں نص نہ ہوتی صحابہ کا اس پر اجماع ہوجاتا اورا ن کا اجماع ہی کافی ہے(ت)
ایضاص۲۸۱امام حجۃ الاسلام غزالی سے:
قد ثبت بالقواطع من جمیع الصحابۃ الاجتہاد والقول بالرائ والسکوت عن القائلین بہ وثبت ذلك بالتواتر فی وقائع مشہورۃ ولم ینکرھا احد من الامۃ فاورث ذلك علما ضروریا فکیف یترك المعلوم ضرورۃ ۔ دلائل قطعیہ کے ساتھ ثابت ہے کہ تمام صحابہ اجتہاد اور رائے پر عمل کرتے اور دیگر صحابہ خاموش رہتے اور یہ بات بڑے بڑے مشہور مواقع کے بارے میں تواتر کے ساتھ منقول ہے اور امت میں سے کسی نے اس کا انکار نہیں کیا تو اس سے علم ضروری کا ثبوت ہوجائیگا جو ضروری طور پر معلوم ہواسے کیسے ترك کیا جاسکتا۔(ت)
فواتح الرحموت ص۷۲:
الفقۃ عبارۃ عن العلم بوجوب العمل وھو قطعی لاریب فیہ ثابت بالاجماع القاطع بل ضروری فی الدین ۔ فقہ علم بوجوب عمل کا نام ہے اور یہ ایسی قطعی چیز ہے جس میں کوئی شك نہیں یہ اجماع قطعی سے ثابت بلکہ یہ ضروریات دین میں سے ہے۔(ت)
قدثبت بالتواتران الصحابۃ رضی اﷲ تعالی عنہم عملوا بالقیاس وشاع وذاع ذلك فیما بینھم من غیر ردوانکار ۔ یہ بات تواتر کے ساتھ ثابت ہے کہ صحابہ کرام رضی اﷲ تعالی عنہم قیاس پر عمل پیرا تھے اور عمل ان کے درمیان بغیر کسی ردو انکار جاری و مشہور تھا۔(ت)
ایضاص۲۸۱:
انھم کانوا مجمعین علی ذلك فیما لانص فیہ وکفی باجماعھم حجۃ ۔ جس حکم کے بارے میں نص نہ ہوتی صحابہ کا اس پر اجماع ہوجاتا اورا ن کا اجماع ہی کافی ہے(ت)
ایضاص۲۸۱امام حجۃ الاسلام غزالی سے:
قد ثبت بالقواطع من جمیع الصحابۃ الاجتہاد والقول بالرائ والسکوت عن القائلین بہ وثبت ذلك بالتواتر فی وقائع مشہورۃ ولم ینکرھا احد من الامۃ فاورث ذلك علما ضروریا فکیف یترك المعلوم ضرورۃ ۔ دلائل قطعیہ کے ساتھ ثابت ہے کہ تمام صحابہ اجتہاد اور رائے پر عمل کرتے اور دیگر صحابہ خاموش رہتے اور یہ بات بڑے بڑے مشہور مواقع کے بارے میں تواتر کے ساتھ منقول ہے اور امت میں سے کسی نے اس کا انکار نہیں کیا تو اس سے علم ضروری کا ثبوت ہوجائیگا جو ضروری طور پر معلوم ہواسے کیسے ترك کیا جاسکتا۔(ت)
فواتح الرحموت ص۷۲:
الفقۃ عبارۃ عن العلم بوجوب العمل وھو قطعی لاریب فیہ ثابت بالاجماع القاطع بل ضروری فی الدین ۔ فقہ علم بوجوب عمل کا نام ہے اور یہ ایسی قطعی چیز ہے جس میں کوئی شك نہیں یہ اجماع قطعی سے ثابت بلکہ یہ ضروریات دین میں سے ہے۔(ت)
حوالہ / References
کشف الاسرار عن اصول بزدوی باب القیاس دارالکتاب العربی بیروت ۳/ ۲۸۰
کشف الاسرار عن اصول بزدوی باب القیاس دارالکتاب العربی بیروت ۳/ ۲۸۱
کشف الاسرار عن اصول بزدوی باب القیاس دارالکتاب العربی بیروت ۳/ ۲۸۱
فتواتح الرحموت بذیل المستصفٰی باب المقدمہ فی اصول الفقہ منشورات الشریف الرضی قم ایران ۱/ ۱۲
کشف الاسرار عن اصول بزدوی باب القیاس دارالکتاب العربی بیروت ۳/ ۲۸۱
کشف الاسرار عن اصول بزدوی باب القیاس دارالکتاب العربی بیروت ۳/ ۲۸۱
فتواتح الرحموت بذیل المستصفٰی باب المقدمہ فی اصول الفقہ منشورات الشریف الرضی قم ایران ۱/ ۱۲
فواتح الرحموت میں ہے:
عن ابیہ ملك العلماء عن المدقق صاحب المسلم القیاس علی تقدیر کونہ فعلا من الفقہ اما ان کان عبارۃ عن المساواۃ المعتبرۃ شرعا فحجیتہ ضروریۃ دینیۃ کما سیصرح فی السنۃ ان حجیتھا ضروریۃ دینیہ ۔ اپنے والد گرامی ملك العلماء سے انہوں نے مدقق صاحب المسلم سے نقل کیا کہ قیاس اس تقدیر پر کہ وہ فقہی فعل ہے تو یا وہ شرعامساوات معتبرہ سے عبارت ہوگا تو اس کا حجت ہونا ضرورت دینی ہے جیسا کہ سنت کے بارے میں عنقریب تصریح آرہی ہے کہ اس کا حجت ہونا ضروریات دین میں سے ہے(ت)
بالجملہ حکم فقہ بلکہ بحکم حدیث بھی طائفہ غیر مقلدین پر بوجوہ کثیرہ حکم کفر ہےجسے زیادہ تفصیل پر اطلاع منظور ہوہمارے رسائل مذکورہ کی طرف رجوع کرے واﷲ الہادی۔
جواب سوال دوم:بلاشبہہ رافضی تبرائی بحکم فقہائے کرام مطلقا کافر مرتد ہےاس مسئلہ کی تحقیق وتفصیل کو ہمارا رسالہ"ردالرفضۃ"بحمد اﷲ کافی ووافییہاں دو چار سندوں پر اقتصاردرمختار مطبع ہاشمی ص۳۱۹:
کل مسلم ارتد فتوبتہ مقبولۃ الاالکافر بسب نبی اوالشیخین اواحدھما ۔ ہر وہ مسلمان جو مرتد ہوگیا اس کی توبہ قبول ہے مگر وہ کافر جس نے کسی نبی یا ابوبکر وعمر یا ان میں سے کسی ایك کوگالی دی(ت)
درمختار میں ہے:
من سب الشیخین اوطعن فیھما کفر ولاتقبل توبتہ ۔ جس نے حضرت ابوبکر وعمر(رضی اﷲعنہما)کو گالی دی یا ان پر طعن تو وہ کافر ہے اس کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی(ت)
فتح القدیر شرح ہدایہ مطبع مصر جلد اول ص۱۳۵:
فی الروافض من فضل علیا علی الثلثۃ رافضیوں میں سے جس نے حضرت علی کو باقی تین
عن ابیہ ملك العلماء عن المدقق صاحب المسلم القیاس علی تقدیر کونہ فعلا من الفقہ اما ان کان عبارۃ عن المساواۃ المعتبرۃ شرعا فحجیتہ ضروریۃ دینیۃ کما سیصرح فی السنۃ ان حجیتھا ضروریۃ دینیہ ۔ اپنے والد گرامی ملك العلماء سے انہوں نے مدقق صاحب المسلم سے نقل کیا کہ قیاس اس تقدیر پر کہ وہ فقہی فعل ہے تو یا وہ شرعامساوات معتبرہ سے عبارت ہوگا تو اس کا حجت ہونا ضرورت دینی ہے جیسا کہ سنت کے بارے میں عنقریب تصریح آرہی ہے کہ اس کا حجت ہونا ضروریات دین میں سے ہے(ت)
بالجملہ حکم فقہ بلکہ بحکم حدیث بھی طائفہ غیر مقلدین پر بوجوہ کثیرہ حکم کفر ہےجسے زیادہ تفصیل پر اطلاع منظور ہوہمارے رسائل مذکورہ کی طرف رجوع کرے واﷲ الہادی۔
جواب سوال دوم:بلاشبہہ رافضی تبرائی بحکم فقہائے کرام مطلقا کافر مرتد ہےاس مسئلہ کی تحقیق وتفصیل کو ہمارا رسالہ"ردالرفضۃ"بحمد اﷲ کافی ووافییہاں دو چار سندوں پر اقتصاردرمختار مطبع ہاشمی ص۳۱۹:
کل مسلم ارتد فتوبتہ مقبولۃ الاالکافر بسب نبی اوالشیخین اواحدھما ۔ ہر وہ مسلمان جو مرتد ہوگیا اس کی توبہ قبول ہے مگر وہ کافر جس نے کسی نبی یا ابوبکر وعمر یا ان میں سے کسی ایك کوگالی دی(ت)
درمختار میں ہے:
من سب الشیخین اوطعن فیھما کفر ولاتقبل توبتہ ۔ جس نے حضرت ابوبکر وعمر(رضی اﷲعنہما)کو گالی دی یا ان پر طعن تو وہ کافر ہے اس کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی(ت)
فتح القدیر شرح ہدایہ مطبع مصر جلد اول ص۱۳۵:
فی الروافض من فضل علیا علی الثلثۃ رافضیوں میں سے جس نے حضرت علی کو باقی تین
حوالہ / References
فواتح الرحموت بذیل المستصفٰی قانون ثالث منشورات الشریف الرضی قم ایران ۱/ ۱۶
درمختار باب المرتد مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۵۷۔۳۵۶
درمختار باب المرتد مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۵۷
درمختار باب المرتد مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۵۷۔۳۵۶
درمختار باب المرتد مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۵۷
رضی اﷲ تعالی عنہم فمبتدع وان انکر خلافۃ الصدیق او عمر رضی اﷲ تعالی عنہما فھو کافر ۔ صحابہ رضی اﷲ تعالی عنہم پر فضیلت دی وہ بدعتی ہے اور اگر کسی نے خلافت صدیقی اور خلافت فاروقی رضی اﷲ تعالی عنہما کا انکار کیا تو وہ کافر ہے(ت)
فتاوی عالمگیری مطبوعہ مصر جلد اول ص۸۴:
تجوزالصلوۃ خلف صاحب ھوی وبدعۃ ولا تجوز خلف الرافضی وحاصلہ ان کان ھوی لایکفر بہ صاحبہ تجوزالصلوۃ خلفہ مع الکراھۃ والا فلا ھکذا فی التبیین والخلاصۃ وھو الصحیح ھکذا فی البدائع ۔ صاحب ہوی و بدعت کی اقتداء میں نماز جائز مگر رافضی کے پیچھے جائز نہیںحاصل یہ ہے کہ اگروہ ایسی بدعت ہے جس سے صاحب بدعت کافر نہیں ہوتا تو اس کے پیچھے کراہت کے ساتھ نماز جائز ہوگی اور اگر وہ بدعت کفر ہے تو نماز جائز ہی نہ ہوگیتبیین اورخلاصہ میں اسی طرح ہے اور یہی صحیح ہےبدائع میں بھی اسی طرح ہے(ت)
فتاوی خلاصہ مطبوعہ لاہور جلد اول ص۱۰۷:
فی الروافض ان فضل علیا علی غیرہ فھو مبتدع وان انکر خلافۃ الصدیق فھو کافر ۔ رافضیوں میں سے اگر کوئی حضرت علی کو دوسرے پر فضیلت دیتاہے تو وہ بدعتی ہے اور اگر وہ خلافت صدیقی کا انکار کرتا ہے تو وہ کافر ہوگا۔(ت)
عقود الدریہ مطبوعہ جلد اول ص۹۲دربارہ روافض:
اعلم اسعدك تعالی ان ھؤلاء الکفرۃ جمعوابین اصناف الکفر ومن توقف فی کفرھم والحادھم فھو کافر مثلھم ۔ اے مخاطب(اﷲتعالی تجھے نیك بخت بنائے)یہ کافر ہیں کہ انہوں نے اپنے اندر کفر کی مختلف صورتیں جمع کررکھی ہیں جس نے ان کے کفرو الحاد میں توقف کیا وہ بھی انہی کی طرح کافر ہے۔(ت)
ایضاصفحہ نمبر۹۲:
اماالکفر فمن وجوہ منھا انھم یستخفون کئی وجوہ سے کفر ہے ایك یہ کہ یہ لوگ دین کی تحقیر
فتاوی عالمگیری مطبوعہ مصر جلد اول ص۸۴:
تجوزالصلوۃ خلف صاحب ھوی وبدعۃ ولا تجوز خلف الرافضی وحاصلہ ان کان ھوی لایکفر بہ صاحبہ تجوزالصلوۃ خلفہ مع الکراھۃ والا فلا ھکذا فی التبیین والخلاصۃ وھو الصحیح ھکذا فی البدائع ۔ صاحب ہوی و بدعت کی اقتداء میں نماز جائز مگر رافضی کے پیچھے جائز نہیںحاصل یہ ہے کہ اگروہ ایسی بدعت ہے جس سے صاحب بدعت کافر نہیں ہوتا تو اس کے پیچھے کراہت کے ساتھ نماز جائز ہوگی اور اگر وہ بدعت کفر ہے تو نماز جائز ہی نہ ہوگیتبیین اورخلاصہ میں اسی طرح ہے اور یہی صحیح ہےبدائع میں بھی اسی طرح ہے(ت)
فتاوی خلاصہ مطبوعہ لاہور جلد اول ص۱۰۷:
فی الروافض ان فضل علیا علی غیرہ فھو مبتدع وان انکر خلافۃ الصدیق فھو کافر ۔ رافضیوں میں سے اگر کوئی حضرت علی کو دوسرے پر فضیلت دیتاہے تو وہ بدعتی ہے اور اگر وہ خلافت صدیقی کا انکار کرتا ہے تو وہ کافر ہوگا۔(ت)
عقود الدریہ مطبوعہ جلد اول ص۹۲دربارہ روافض:
اعلم اسعدك تعالی ان ھؤلاء الکفرۃ جمعوابین اصناف الکفر ومن توقف فی کفرھم والحادھم فھو کافر مثلھم ۔ اے مخاطب(اﷲتعالی تجھے نیك بخت بنائے)یہ کافر ہیں کہ انہوں نے اپنے اندر کفر کی مختلف صورتیں جمع کررکھی ہیں جس نے ان کے کفرو الحاد میں توقف کیا وہ بھی انہی کی طرح کافر ہے۔(ت)
ایضاصفحہ نمبر۹۲:
اماالکفر فمن وجوہ منھا انھم یستخفون کئی وجوہ سے کفر ہے ایك یہ کہ یہ لوگ دین کی تحقیر
حوالہ / References
فتح القدیر باب الامامۃ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱/ ۳۰۴
فتاوٰی ہندیہ الفصل الثالث فی بیان من یصلح امامًالغیرہ نورانی کتب خانہ پشاور ۱/ ۸۴
خلاصۃ الفتاوٰی فصل فی الامامۃ والاقتدار مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۱/ ۱۴۹
العقود الدریۃ فی تنقیح فتاوٰی حامدیۃ باب حکم الروافض او سب الشیخین حاجی عبدالغفار و پسران قندھار افغانستان ۱/ ۴۔۱۰۳
فتاوٰی ہندیہ الفصل الثالث فی بیان من یصلح امامًالغیرہ نورانی کتب خانہ پشاور ۱/ ۸۴
خلاصۃ الفتاوٰی فصل فی الامامۃ والاقتدار مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۱/ ۱۴۹
العقود الدریۃ فی تنقیح فتاوٰی حامدیۃ باب حکم الروافض او سب الشیخین حاجی عبدالغفار و پسران قندھار افغانستان ۱/ ۴۔۱۰۳
بالدین ومنھا انھم یھینون العلم والعلماء ۔ کرتے ہیں دوسرایہ کہ یہ علم اور علماء کی توہین وتذلیل کاارتکاب کرتے ہیں(ت)
ایضاصفحہ ۹۳:
ومنھا انھم یسبون الشیخین سود اﷲ وجوھھم فی الدارین ۔ ان میں سے ایك یہ ہے کہ یہ حضرت ابوبکر و عمر(رضی اﷲ تعالی عنہما)کو گالیاں دیتے ہیں اﷲ تعالی دنیا و آخرت میں انہیں ذلیل فرمائے(ت)
ایضاصفحہ۹۳:
فمن اتصف بواحدۃ من ھذہ الامور فھو کا فر ۔ ان مذکورہ چیزوں میں سے جس میں ایك پائی جائے وہ کافرہو جاتا ہے۔(ت)
ایضاصفحہ۹۳:
اماسب الشخین رضی اﷲ تعالی عنہما فانہ کسب النبی صلی اﷲ تعال علیہ وسلم وقال الصدر الشھید من سب الشیخین اولعنھما یکفر ولاتقبل توبتہ واسلامہ ۔ شیخین کو گالیاں دینا ایسے ہی ہے جیسے نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو گالیاں دینا ہے۔صدر الشہید نے فرمایا:جس نے حضرات شیخین کو گالی دی یا ان پر لعنت کی وہ کافر ہوجائے گا اور اس کی توبہ اور اسلام قبول نہیں کیا جائے گا(ت)
ایضاصفحہ ۹۳:
اجمع علماء الاعصار علی ان من شك فی کفرھم کان کافرا اھ ۔ تمام ادوار کے علماء کا اتفاق ہے کہ جوان کے کفر میں شك کرے وہ کافر ہوجائے گا اھ(ت)
والعیاذ باﷲ تعالیواﷲتعالی اعلم۔
______________
ایضاصفحہ ۹۳:
ومنھا انھم یسبون الشیخین سود اﷲ وجوھھم فی الدارین ۔ ان میں سے ایك یہ ہے کہ یہ حضرت ابوبکر و عمر(رضی اﷲ تعالی عنہما)کو گالیاں دیتے ہیں اﷲ تعالی دنیا و آخرت میں انہیں ذلیل فرمائے(ت)
ایضاصفحہ۹۳:
فمن اتصف بواحدۃ من ھذہ الامور فھو کا فر ۔ ان مذکورہ چیزوں میں سے جس میں ایك پائی جائے وہ کافرہو جاتا ہے۔(ت)
ایضاصفحہ۹۳:
اماسب الشخین رضی اﷲ تعالی عنہما فانہ کسب النبی صلی اﷲ تعال علیہ وسلم وقال الصدر الشھید من سب الشیخین اولعنھما یکفر ولاتقبل توبتہ واسلامہ ۔ شیخین کو گالیاں دینا ایسے ہی ہے جیسے نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو گالیاں دینا ہے۔صدر الشہید نے فرمایا:جس نے حضرات شیخین کو گالی دی یا ان پر لعنت کی وہ کافر ہوجائے گا اور اس کی توبہ اور اسلام قبول نہیں کیا جائے گا(ت)
ایضاصفحہ ۹۳:
اجمع علماء الاعصار علی ان من شك فی کفرھم کان کافرا اھ ۔ تمام ادوار کے علماء کا اتفاق ہے کہ جوان کے کفر میں شك کرے وہ کافر ہوجائے گا اھ(ت)
والعیاذ باﷲ تعالیواﷲتعالی اعلم۔
______________
حوالہ / References
العقودالدریہ فی تنقیح فتاوٰی حامدیہ باب حکم الروافض وسب الشیخین حاجی عبدالغفار وپسران قندھار افغانستان ۱/ ۴۔۱۰۳
العقودالدریہ فی تنقیح فتاوٰی حامدیہ باب حکم الروافض وسب الشیخین حاجی عبدالغفار وپسران قندھار افغانستان ۱/ ۴۔۱۰۳
العقودالدریہ فی تنقیح فتاوٰی حامدیہ باب حکم الروافض وسب الشیخین حاجی عبدالغفار وپسران قندھار افغانستان ۱/ ۴۔۱۰۳
العقودالدریہ فی تنقیح فتاوٰی حامدیہ باب حکم الروافض وسب الشیخین حاجی عبدالغفار وپسران قندھار افغانستان ۱/ ۴۔۱۰۳
العقودالدریہ فی تنقیح فتاوٰی حامدیہ باب حکم الروافض وسب الشیخین حاجی عبدالغفار وپسران قندھار افغانستان ۱/ ۴۔۱۰۳
العقودالدریہ فی تنقیح فتاوٰی حامدیہ باب حکم الروافض وسب الشیخین حاجی عبدالغفار وپسران قندھار افغانستان ۱/ ۴۔۱۰۳
العقودالدریہ فی تنقیح فتاوٰی حامدیہ باب حکم الروافض وسب الشیخین حاجی عبدالغفار وپسران قندھار افغانستان ۱/ ۴۔۱۰۳
العقودالدریہ فی تنقیح فتاوٰی حامدیہ باب حکم الروافض وسب الشیخین حاجی عبدالغفار وپسران قندھار افغانستان ۱/ ۴۔۱۰۳
العقودالدریہ فی تنقیح فتاوٰی حامدیہ باب حکم الروافض وسب الشیخین حاجی عبدالغفار وپسران قندھار افغانستان ۱/ ۴۔۱۰۳
مسئلہ۵۲: ازجونپور ملاٹولہ مرسلہ مولوی عبداول صاحب ۶رمضان مبار ۱۳۳۵ھ
یہ جواب صحیح ہے یا نہیںاگرصحیح ہوتو اور دلائل سے مبرہن و مزین فرماکر مہر ودستخط سے ممتاز فرمایاجائے۔
سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص مسلمان ممتحن نے زیرنگرانی دو شخص مسلمان کے پرچہ زبان دانی انگریزی سے عربی میں ترجمہ کرنے کےلئے مرتب کیا جس میں سب سے بڑے سوال میں نصف نمبر رکھے تھےحضرت رسالتمآب صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی شان مبارك میں گستاخی اور توہین کے فقرات استعمال کئے تاکہ مسلمان طالب علم لامحالہ مجبور ہوکر اپنے قلم سے جناب رسالت مآب صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی معصوم و مقدس شان میں بدگوئی لکھیں جو برائے فتوی ذیل میں درج کئے جاتے ہیں:
"ابن عبدا ﷲ نے اس قبیلہ میں تربیت پائی تھی جو عرب کی اصلی زبان بولنے کے لحاظ سے شریف ترین تھا اور اس کی فصاحت کی سنجیدگی باموقع سکوت پر عمل کرنے سے تصحیح اور ترقی ہوتی رہی باوجود اس فصاحت کے محمد ایك ناخواندہ وحشی تھا بچپن میں اسے نوشت وخواند کی تعلیم نہیں دی گئی تھی عام جہالت نے اسے شرم اور ملامت سے مبراکردیا تھا مگر اس کی زندگی ایك ہستی کے تنگ دائرہ میں محدود تھی اور وہ اس آئینہ سے(جس کے ذریعہ سے ہمارے دلوں پر عقلمندوں اور نامور بہادروں کے خیالات کا عکس پڑتا ہے)محروم رہاتاہم اس کی نظروں کے سامنے ان کتابوں کے اوراق کھلے ہوئے تھے جس میں قدرت اور انسان کا مشاہدہ کرتا کچھ تمدنی اور فلسفی تو ہمات جو اسے عرب کے مسافر پر محمول کئے جاتے ہیں پیدا ہوگئے تھے"۔
جس شخص نے پرچہ مرتب کیا اور جن لوگوں ن اس کی نظر ثانی کی وہ لوگ بوجہ استعمال الفاظ ناشائستہ جو بلاضرورت شان حضرت جناب رسالتمآب میں کئے گئے وہ بوجہ اس گستاخی کے دائرہ ئاسلام سے خارج ہوگئے یانہیں اور ان کی کیا سزا ہے اور ان کی بابت شرع شریف کا کیاحکم ہے فقط راقم مسلمانان جون پور
خلاصہ جوابات جون پور
الجواب:
شخص مذکور فی السوال شرعا ملعون و کافر ومرتد ہے
فی الاشبار والنظائر کل کافر تاب فتوبتہ مقبولۃ فی الدنیا والایخرۃ الاجماعۃ الکافر یسب النبی صلی اﷲ علیہ وسلم او یسب الشیخین اشباہ ونظائر میں ہے کہ ہر کافر توبہ کرے تو اس کی توبہ دنیا و آخرت میں مقبول ہےمگر کافروں کی وہ جماعت جس نے حضور علیہ الصلوۃوالسلام اور شیخین ابوبکر وعمر رضی اﷲ
یہ جواب صحیح ہے یا نہیںاگرصحیح ہوتو اور دلائل سے مبرہن و مزین فرماکر مہر ودستخط سے ممتاز فرمایاجائے۔
سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص مسلمان ممتحن نے زیرنگرانی دو شخص مسلمان کے پرچہ زبان دانی انگریزی سے عربی میں ترجمہ کرنے کےلئے مرتب کیا جس میں سب سے بڑے سوال میں نصف نمبر رکھے تھےحضرت رسالتمآب صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی شان مبارك میں گستاخی اور توہین کے فقرات استعمال کئے تاکہ مسلمان طالب علم لامحالہ مجبور ہوکر اپنے قلم سے جناب رسالت مآب صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی معصوم و مقدس شان میں بدگوئی لکھیں جو برائے فتوی ذیل میں درج کئے جاتے ہیں:
"ابن عبدا ﷲ نے اس قبیلہ میں تربیت پائی تھی جو عرب کی اصلی زبان بولنے کے لحاظ سے شریف ترین تھا اور اس کی فصاحت کی سنجیدگی باموقع سکوت پر عمل کرنے سے تصحیح اور ترقی ہوتی رہی باوجود اس فصاحت کے محمد ایك ناخواندہ وحشی تھا بچپن میں اسے نوشت وخواند کی تعلیم نہیں دی گئی تھی عام جہالت نے اسے شرم اور ملامت سے مبراکردیا تھا مگر اس کی زندگی ایك ہستی کے تنگ دائرہ میں محدود تھی اور وہ اس آئینہ سے(جس کے ذریعہ سے ہمارے دلوں پر عقلمندوں اور نامور بہادروں کے خیالات کا عکس پڑتا ہے)محروم رہاتاہم اس کی نظروں کے سامنے ان کتابوں کے اوراق کھلے ہوئے تھے جس میں قدرت اور انسان کا مشاہدہ کرتا کچھ تمدنی اور فلسفی تو ہمات جو اسے عرب کے مسافر پر محمول کئے جاتے ہیں پیدا ہوگئے تھے"۔
جس شخص نے پرچہ مرتب کیا اور جن لوگوں ن اس کی نظر ثانی کی وہ لوگ بوجہ استعمال الفاظ ناشائستہ جو بلاضرورت شان حضرت جناب رسالتمآب میں کئے گئے وہ بوجہ اس گستاخی کے دائرہ ئاسلام سے خارج ہوگئے یانہیں اور ان کی کیا سزا ہے اور ان کی بابت شرع شریف کا کیاحکم ہے فقط راقم مسلمانان جون پور
خلاصہ جوابات جون پور
الجواب:
شخص مذکور فی السوال شرعا ملعون و کافر ومرتد ہے
فی الاشبار والنظائر کل کافر تاب فتوبتہ مقبولۃ فی الدنیا والایخرۃ الاجماعۃ الکافر یسب النبی صلی اﷲ علیہ وسلم او یسب الشیخین اشباہ ونظائر میں ہے کہ ہر کافر توبہ کرے تو اس کی توبہ دنیا و آخرت میں مقبول ہےمگر کافروں کی وہ جماعت جس نے حضور علیہ الصلوۃوالسلام اور شیخین ابوبکر وعمر رضی اﷲ
اواحدھما ۔ تعالی عنہما یا ان میں سے ایك کو گالی دی ہو۔(ت)
اس روایت س معلوم ہوا کہ انبیاء کی شان میں گستاخی کرنے والا مرتد ہے اور اگر وہ توبہ کرے تو اس کی توبہ بھی قبول نہیںشفاء ص۳۹۳میں ہے کہ رسول اﷲ صلی تعالی علیہ وسلم کا بر اکہنے والا کافر ہے اور اس پر علماء کا اجماع ہے ۔منجملہ علماء کے امام مالك ارو امام لیث بن سعد مصری اور امام شافعی اور امام ابوحنیفہ اور امام احمد بن حنبل و امام ابویوسف و امام محمد وزفر وسفیان ثوری واہل کوفہ وامام اوزاعی اور علمائے اسلام کہ ومدینہ وبغداد و مصر ہیں اور اس میں سے کسی نے بھی شاتم الرسول کے مباح الدم ہونے میں خلاف نہیں کیاواﷲ اعلم
کتبہ الفقیر الی اﷲ عزوجل عبدالاول الحنفی الجونپوری ۱۳شعبان ۱۳۳۵ھ(عبدالاول بن علی جونپوری۱۳۰۲)
ساب رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا کافر ہےبغیر تجدید ایمان کے اس کی توبہ قبول نہیں ہوگیصحیح یہ ہے کہ تجدید ایمان کے بعد سزائے قتل نہ ہوگی جیسا کہ تنقیح حامدیہ میں ہےہاں اگر وہ مرتد توبہ نصوح کرے اور پھر اس سے ایمان لائے اور اپنا اسلام اور حال ٹھیك رکھے تو اس کی توبہ قبول ہونے پر بھی صاف نہ چھوڑا جائے گا بلکہ تعزیر وحبس کا مستحق ہوگا۔ جیسا کہ تنقیح میں ہے:
ویکتفی بالتعزیر والحبس تأدیبا ۔ ادب کے پیش نظر صرف تعزیر اور قید کی سزا پر اکتفاء کیا جائیگا۔(ت)
رقمہ راجی رحمۃ رب العباد محمد حماد نجل الشیخ دین سے خارج و مرتد ہوجاتا ہے۔حضرت عمر بن عبدالعزیز مجدد خلیفہ راشد کا یہی مذہب ہے کہ ساب رسول کو سزائے قتل دی جائے مگر جب کہ تجدید ایمان و حسن اسلام لائے۔
حررہ عبدالباطن بن مولانا الشیخ عبدالاول الجونفوری
الجواب:
" رب اعوذ بک من ہمزت الشیطین ﴿۹۷﴾ و اعوذ بک رب ان یحضرون ﴿۹۸﴾ " اے مرے رب تیری پناہ شیطان کے وسوسوں سے اور اے میرے رب تیری پناہ کہ وہ میرے پاس آئیں۔
" والذین یؤذون رسول اللہ لہم عذاب الیم ﴿۶۱﴾
"
" ان الذین یؤذون اللہ و رسولہ لعنہم اللہ فی الدنیا و الاخرۃ و اعد لہم عذابا مہینا ﴿۵۷﴾
" " الا لعنۃ اللہ علی الظلمین ﴿۱۸﴾" اور جو رسول اﷲ کو ایذادیتے ہیں ان کے لئے درد ناك عذاب ہے۔بیشك جو ایذادیتے ہیں اﷲ اور اس کے رسول کو ان پر اﷲ کی لعنت ہے دنیا اور آخرت میں اور اﷲ نے ان کے لئے ذلت کا عذاب تیار کررکھا ہے۔ارے ظالموں پر خدا کی لعنت۔ (ت)
اس روایت س معلوم ہوا کہ انبیاء کی شان میں گستاخی کرنے والا مرتد ہے اور اگر وہ توبہ کرے تو اس کی توبہ بھی قبول نہیںشفاء ص۳۹۳میں ہے کہ رسول اﷲ صلی تعالی علیہ وسلم کا بر اکہنے والا کافر ہے اور اس پر علماء کا اجماع ہے ۔منجملہ علماء کے امام مالك ارو امام لیث بن سعد مصری اور امام شافعی اور امام ابوحنیفہ اور امام احمد بن حنبل و امام ابویوسف و امام محمد وزفر وسفیان ثوری واہل کوفہ وامام اوزاعی اور علمائے اسلام کہ ومدینہ وبغداد و مصر ہیں اور اس میں سے کسی نے بھی شاتم الرسول کے مباح الدم ہونے میں خلاف نہیں کیاواﷲ اعلم
کتبہ الفقیر الی اﷲ عزوجل عبدالاول الحنفی الجونپوری ۱۳شعبان ۱۳۳۵ھ(عبدالاول بن علی جونپوری۱۳۰۲)
ساب رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا کافر ہےبغیر تجدید ایمان کے اس کی توبہ قبول نہیں ہوگیصحیح یہ ہے کہ تجدید ایمان کے بعد سزائے قتل نہ ہوگی جیسا کہ تنقیح حامدیہ میں ہےہاں اگر وہ مرتد توبہ نصوح کرے اور پھر اس سے ایمان لائے اور اپنا اسلام اور حال ٹھیك رکھے تو اس کی توبہ قبول ہونے پر بھی صاف نہ چھوڑا جائے گا بلکہ تعزیر وحبس کا مستحق ہوگا۔ جیسا کہ تنقیح میں ہے:
ویکتفی بالتعزیر والحبس تأدیبا ۔ ادب کے پیش نظر صرف تعزیر اور قید کی سزا پر اکتفاء کیا جائیگا۔(ت)
رقمہ راجی رحمۃ رب العباد محمد حماد نجل الشیخ دین سے خارج و مرتد ہوجاتا ہے۔حضرت عمر بن عبدالعزیز مجدد خلیفہ راشد کا یہی مذہب ہے کہ ساب رسول کو سزائے قتل دی جائے مگر جب کہ تجدید ایمان و حسن اسلام لائے۔
حررہ عبدالباطن بن مولانا الشیخ عبدالاول الجونفوری
الجواب:
" رب اعوذ بک من ہمزت الشیطین ﴿۹۷﴾ و اعوذ بک رب ان یحضرون ﴿۹۸﴾ " اے مرے رب تیری پناہ شیطان کے وسوسوں سے اور اے میرے رب تیری پناہ کہ وہ میرے پاس آئیں۔
" والذین یؤذون رسول اللہ لہم عذاب الیم ﴿۶۱﴾
"
" ان الذین یؤذون اللہ و رسولہ لعنہم اللہ فی الدنیا و الاخرۃ و اعد لہم عذابا مہینا ﴿۵۷﴾
" " الا لعنۃ اللہ علی الظلمین ﴿۱۸﴾" اور جو رسول اﷲ کو ایذادیتے ہیں ان کے لئے درد ناك عذاب ہے۔بیشك جو ایذادیتے ہیں اﷲ اور اس کے رسول کو ان پر اﷲ کی لعنت ہے دنیا اور آخرت میں اور اﷲ نے ان کے لئے ذلت کا عذاب تیار کررکھا ہے۔ارے ظالموں پر خدا کی لعنت۔ (ت)
حوالہ / References
الاشباہ والنظائر کتاب السیر باب الردۃ ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ۱/ ۲۸۹
الشفاء بتعریف حقوق المصطفی القسم الرابع الباب الاول شرکۃ صحافیہ فی البلاد العثمانیہ ۲/۲۰۸
العقودالدریۃ فی تنقیح فتاوٰی حامدیہ احکام المرتدین حاجی عبدالغفار و پسران قندھار افغانستان ۱/ ۱۰۷
القرآن الکریم ۲۳ /۹۷
القرآن الکریم ۹ /۶۱
القرآن الکریم ۳۳ /۵۷
القرآن الکریم ۱۱ /۱۸
الشفاء بتعریف حقوق المصطفی القسم الرابع الباب الاول شرکۃ صحافیہ فی البلاد العثمانیہ ۲/۲۰۸
العقودالدریۃ فی تنقیح فتاوٰی حامدیہ احکام المرتدین حاجی عبدالغفار و پسران قندھار افغانستان ۱/ ۱۰۷
القرآن الکریم ۲۳ /۹۷
القرآن الکریم ۹ /۶۱
القرآن الکریم ۳۳ /۵۷
القرآن الکریم ۱۱ /۱۸
ان نام کے مسلمان کہلانے والوں میں جس شخص نے وہ ملعون پرچہ مرتب کیا وہ کافر مرتد ہےجس جس نے اس پر نظر ثانی کرکے بر قرار رکھا وہ کافر مرتدجس جس کی نگرانی میں تیار ہوا وہ کافر مرتدطلبہ میں جو کلمہ گو تھے اور انہوں نے بجوشی اس ملعون عبارت کا ترجمہ کیا اپنے نبی کی توہین پر راضی ہوئے یا اسے ہلکا جانا یا اسے اپنے نمبر گھٹنے یا پاس نہ ہونے سے آسان سمجھا وہ سب بھی کافر مرتدبالغ ہوں خواہ نابالغان چاروں فریق میں ہر شخص سے مسلمانوں کو سلام کلام حراممیل جول حرام نشست وبرخاست حرامبیمارپڑے تو اس کی عیادت کو جانا حراممرجائے تو اس کے جنازے میں شرکت حراماسے غسل دینا حرامکفن دینا حراماس پر نماز پڑھنا حرام اس کی جنازہ اٹھانا حراماسے مسلمانوں کے گورستان میں دفن کرنا حراممسلمانوں کی طرح اس کی قبر بنانا حراماسے مٹی دینا حراماس پر فاتحہ حراماسے کوئی ثواب پہنچانا حرامبلکہ خود کفر قاطع اسلامجب ان میں کوئی مرجائے اس کے اعزہ اقربا مسلمین اگر حکم شرع نہ مانیں تو اس کی لاش دفع عفونت کے لئے مردار کتے کی طرح بھنگی چماروں سے ٹھیلے میں اٹھواکر کسی تنگ گڑھے میں ڈلواکر اوپر سے آگ پتھر جو چاہیں پھینك پھینك کر پاٹ دیں کہ اسکی بدبو سے ایذا نہ ہویہ احکام ان سب کے لئے عام ہیں اور جوجوان میں نکاح کئے ہوئے ہوں ان سب کی جوروئیں ان کے نکاحوں سے نکل گئیں اب اگر قربت ہوگی حرام حرام حرام وزنائے خالص ہوگی اور اس سے جو اولاد پیدا ہوگی ولدالزنا ہوگیعورتوں کو شرعا اختیار ہے کہ عدت گزرجانے پر جس سے چاہیں نکاح کرلیں ان میں سے جسے ہدایت ہو اور توبہ کرے اور اپنے کفر کا اقرار کرتا ہوا پھر مسلمان ہو اس وقت یہ احکام جو اس کی موت سے متعلق تھے منتہی ہوں گےاور وہ ممانعت جو اس سے میل جول کی تھی جب بھی باقی رہے گی یہاں تك کہ اس کے حال سے صدق ندامت وخلوص توبہ وصحت اسلام ظاہر وروشن ہو مگر عورتیں اس سے بھی نکاح میں واپس نہیں
آسکتیں انہیں اب بھی اختیار ہوگا کہ چاہیں دوسرے سے نکاح کرلیں یا کسی سے نہ کریں ان پر کوئی جبر نہیں پہنچتا ہاں ان کی مرضی ہوتو بعداسلام ان سے بھی نکاح کرسکیں گی۔شفاء شریف صفحہ ۳۲۱:
اجمع العلماء ان شاتم النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم المنتقص لہ کافر والوعید جارعلیہ بعذاب اﷲ تعالی لہ وحکمہ عند الامۃ القتل ومن شك فی کفرہ وعذابہ فقد کفر ۔ یعنی اجماع ہے کہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرنے والا کافر ہے اور اس پر عذاب الہی کی وعید جاری ہے اور امت کے نزدیك وہ واجب القتل ہے اور جو اس کے کافر و مستحق عذاب ہونے میں شك کرے وہ بھی کافر ہوگیا۔
نسیم الریاض جلد چہارم ص۳۸۱میں امام ابن حجرمکی سے ہے:
ماصرح بہ من کفر الساب والشاك فی کفرہ ھو ماعلیہ ائمتناوغیرہم ۔ یعنی جو یہ ارشاد فرمایا کہ نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی شان اقدس میں گستاخی کرنے والا کافر اور جو اس کے کافر ہونے میں شك کرے وہ کافریہی مذہب ہمارے ائمہ وغیرہم کا ہے۔
وجیز امام کردری جلد۳ص۳۲۱:
لو ارتد والعیاذ باﷲ تعالی تحرم امرأتہ ویجدد النکاح بعد اسلامہوالمولود بینھما قبل تجدید النکاح بالوطی بعد التکلم بکلمۃ الکفر ولدزنا ثم ان اتی بکلمۃ الشہادۃ علی العادۃ لایجدیہ مالم یرجع عما قالہ لان باتیانھما علی العادۃ لایرتفع الکفر الا اذاسب الرسول صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اوواحدا من الانبیاء علیھم الصلوۃ و یعنی جو شخص معاذا ﷲ مرتد ہوجائے اس کی عورت حرام ہوجاتی ہےپھر اسلام لائے تو اس سے جدید نکاح کیا جائے اس سے پہلے اس کلمہ کفر کے بعد کی صحبت سے جو بچہ ہوگا حرامی ہوگا اور یہ شخص اگر عادت کے طور پر کلمہ شہادت پڑھتا رہے گا کچھ فائدہ نہ دے گا جب تك اپنے اس کفر سے توبہ نہ کرے کہ عادت کے طور پر مرتد کے کلمہ پڑھنے سے اس کاکفر نہیں جاتا جو رسول اﷲ صلی اﷲتعالی علیہ وسلم یا کسی نبی کی شان میں گستاخی کرے دنیا میں بعد توبہ بھی اسے قتل کی سزادی جائےگی یہاں تك کہ اگر نشہ کی
اجمع العلماء ان شاتم النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم المنتقص لہ کافر والوعید جارعلیہ بعذاب اﷲ تعالی لہ وحکمہ عند الامۃ القتل ومن شك فی کفرہ وعذابہ فقد کفر ۔ یعنی اجماع ہے کہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرنے والا کافر ہے اور اس پر عذاب الہی کی وعید جاری ہے اور امت کے نزدیك وہ واجب القتل ہے اور جو اس کے کافر و مستحق عذاب ہونے میں شك کرے وہ بھی کافر ہوگیا۔
نسیم الریاض جلد چہارم ص۳۸۱میں امام ابن حجرمکی سے ہے:
ماصرح بہ من کفر الساب والشاك فی کفرہ ھو ماعلیہ ائمتناوغیرہم ۔ یعنی جو یہ ارشاد فرمایا کہ نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی شان اقدس میں گستاخی کرنے والا کافر اور جو اس کے کافر ہونے میں شك کرے وہ کافریہی مذہب ہمارے ائمہ وغیرہم کا ہے۔
وجیز امام کردری جلد۳ص۳۲۱:
لو ارتد والعیاذ باﷲ تعالی تحرم امرأتہ ویجدد النکاح بعد اسلامہوالمولود بینھما قبل تجدید النکاح بالوطی بعد التکلم بکلمۃ الکفر ولدزنا ثم ان اتی بکلمۃ الشہادۃ علی العادۃ لایجدیہ مالم یرجع عما قالہ لان باتیانھما علی العادۃ لایرتفع الکفر الا اذاسب الرسول صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اوواحدا من الانبیاء علیھم الصلوۃ و یعنی جو شخص معاذا ﷲ مرتد ہوجائے اس کی عورت حرام ہوجاتی ہےپھر اسلام لائے تو اس سے جدید نکاح کیا جائے اس سے پہلے اس کلمہ کفر کے بعد کی صحبت سے جو بچہ ہوگا حرامی ہوگا اور یہ شخص اگر عادت کے طور پر کلمہ شہادت پڑھتا رہے گا کچھ فائدہ نہ دے گا جب تك اپنے اس کفر سے توبہ نہ کرے کہ عادت کے طور پر مرتد کے کلمہ پڑھنے سے اس کاکفر نہیں جاتا جو رسول اﷲ صلی اﷲتعالی علیہ وسلم یا کسی نبی کی شان میں گستاخی کرے دنیا میں بعد توبہ بھی اسے قتل کی سزادی جائےگی یہاں تك کہ اگر نشہ کی
حوالہ / References
کتاب الشفاء القسم الرابع فی وجوہ الاحکام فی من تنقص الباب الاول مکتبہ شرکت صحافیہ ترکی ۲/ ۲۰۸
نسیم الریاض شرح شفاقاضی عیاض القسم الرابع فی وجوہ الاحکام فی من تنقص الباب الاول دارالفکر بیروت ۴/ ۳۳۸
نسیم الریاض شرح شفاقاضی عیاض القسم الرابع فی وجوہ الاحکام فی من تنقص الباب الاول دارالفکر بیروت ۴/ ۳۳۸
والسلام فلاتوبۃ لہ واذاشتمہ علیہ الصلوۃ والسلام سکران لایعفی واجمع العلماء ان شاتمہ کافر ومن شك فی عذابہ وکفرہ کفر اھ ملتقطا کاکثرالاواتی للاختصار۔ بیہوشی میں کلمہ گستاخی بکاجب بھی معافی نہ دیں گے اور تمام علمائے امت کا اجماع ہے کہ نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی شان اقدس میں گستاخی کرنے والا کافر ہے اور کافر بھی ایسا کہ جو ا س کے کافر ومستحق عذاب ہونے میں شك کرے وہ بھی کافر ہے(ت)
فتح القدیر امام محقق علی الاطلاق جلد چہارم ص۴۰۷:
کل من ابغض رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بقلبہ کان مرتد افالساب بطریق اولی(ملخصا)وان سب سکران لایعفی عنہ ۔ یعنی جس کے دل میں رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے کینہ ہو وہ مرتد ہے تو گستاخی کرنے والا بدرجہ اولی کافر ہے اور اگر نشہ بلااکراہ پیا اور اس حالت میں کلمہ گستاخی بکاجب بھی معاف نہ کیا جائے گا۔
بحرالرائق جلد پنجم ص۱۳۵میں بعینہ کلمہ مذکورذکر کرکے ص۱۳۶پر فرمایا:
سب واحد من الانبیاء کذلك فلایفید الانکار مع البینۃ لانا نجعل انکار الردۃ توبۃ ان کانت مقبولۃ ۔ یعنی کسی نبی کی شان میں گستاخی کرے یہی حکم ہے کہ اسے معافی نہ دیں گے اور بعد ثبوت اس کا انکار فائدہ نہ دے گا کہ مرتد کا ارتداد سے مکرنا تو دفع سزاکے لئے وہاں توبہ قرار پاتا ہے جہاں تو بہ سنی جائے اور نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم خواہ کسی نبی کی شان میں گستاخی اور کفروں کی طرح نہیں اس سے یہاں اصلا معافی نہ دینگے۔
دررالحکام علامہ مولی خسر وجلد اول ص۲۹۹:
اذاسبہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم او واحدا من الانبیاء صلوات اﷲ تعالی علیھم اجمعین مسلم فلا توبۃ لہ اصلاواجمع یعنی اگر کوئی شخص مسلمان کہلا کر حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یا کسی نبی کی شان میں گستاخی کرے اسے ہر گز معافی نہ دیں گے اور تمام علمائے امت
فتح القدیر امام محقق علی الاطلاق جلد چہارم ص۴۰۷:
کل من ابغض رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بقلبہ کان مرتد افالساب بطریق اولی(ملخصا)وان سب سکران لایعفی عنہ ۔ یعنی جس کے دل میں رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے کینہ ہو وہ مرتد ہے تو گستاخی کرنے والا بدرجہ اولی کافر ہے اور اگر نشہ بلااکراہ پیا اور اس حالت میں کلمہ گستاخی بکاجب بھی معاف نہ کیا جائے گا۔
بحرالرائق جلد پنجم ص۱۳۵میں بعینہ کلمہ مذکورذکر کرکے ص۱۳۶پر فرمایا:
سب واحد من الانبیاء کذلك فلایفید الانکار مع البینۃ لانا نجعل انکار الردۃ توبۃ ان کانت مقبولۃ ۔ یعنی کسی نبی کی شان میں گستاخی کرے یہی حکم ہے کہ اسے معافی نہ دیں گے اور بعد ثبوت اس کا انکار فائدہ نہ دے گا کہ مرتد کا ارتداد سے مکرنا تو دفع سزاکے لئے وہاں توبہ قرار پاتا ہے جہاں تو بہ سنی جائے اور نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم خواہ کسی نبی کی شان میں گستاخی اور کفروں کی طرح نہیں اس سے یہاں اصلا معافی نہ دینگے۔
دررالحکام علامہ مولی خسر وجلد اول ص۲۹۹:
اذاسبہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم او واحدا من الانبیاء صلوات اﷲ تعالی علیھم اجمعین مسلم فلا توبۃ لہ اصلاواجمع یعنی اگر کوئی شخص مسلمان کہلا کر حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یا کسی نبی کی شان میں گستاخی کرے اسے ہر گز معافی نہ دیں گے اور تمام علمائے امت
حوالہ / References
فتاوٰی بزازیہ علی ھامش فتاوٰی ہندیہ الفصل الثانی النوع الاول نورانی کتب خانہ پشاور۶/ ۲۲۔۲۲۱
فتح القدیر باب احکام المرتدین مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۴/ ۲۳۲
بحرالرائق باب احکام المرتدین ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۵/ ۱۲۶
فتح القدیر باب احکام المرتدین مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۴/ ۲۳۲
بحرالرائق باب احکام المرتدین ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۵/ ۱۲۶
العلماء ان شاتمہ کافر ومن شك فی عذابہ وکفرہ کفر ۔ مرحومہ کا اجماع ہے اس پر کہ وہ کافر ہے اور جو اس کے کفر میں شك کرے وہ بھی کافر ہے۔
غنیۃ ذوالاحکام ص۳۰۱:
محل قبول توبۃ المرتد مالم تکن ردتہ بسب النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فان کان بہ لاتقبل توبتہ سواء جاء تائبا من نفسہ او شھد علیہ بذلك بخلاف غیرہ من المکفرات ۔ یعنی نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی شان اقدس میں گستاخی اور کفروں کی طرح نہیں ہر طرح کے مرتد کو بعد توبہ معافی دینے کا حکم ہے مگر اس کافر مرتد کے لئے اس کی اجازت نہیں۔
اشباہ والنظائر قلمیباب الردۃ:
لاتصح ردۃ السکران الاالردۃ بسب النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فانہ لایعفی عنہ کذافی البزازیۃ وحکم الردۃ بینونۃ امرأتہ مطلقا (ای سواء رجع او لم یرجع اھ غمز العیون )واذا مات علی ردتہ لم یدفن فی مقابرالمسلمین ولااھل ملۃ وانمایلقی فی حفرۃ کالکلبوالمرتد اقبح کفرامن الکافر الاصلی و اذا شھد واعلی مسلم بالردۃ وھو منکر لایتعرض لہ لا لتکذیب یعنی نشہ کی بیہوشی میں اگر کسی سے کفر کی کوئی بات نکل جائے اسے بوجہ بیہوشی کافر نہ کہیں گے نہ سزائے کفر دیں گے مگر نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی شان اقدس میں گستاخی وہ کفر ہے کہ نشہ کی بیہوشی سے بھی صادرہوا تو اسے معافی نہ دینگے کذافی البزازیہ اور معاذاﷲ ارتداد کا حکم یہ ہے کہ اس کی عورت فورااس کے نکاح سے نکل جاتی ہے اگر یہ بعد کو پھر اسلام لائے جب بھی عورت نکاح میں واپس نہ جائے گی اور جب وہ اسی ارتداد پر مرجائے والعیاذ باﷲ تعالی تو اسے مسلمانوں کے مقابر میں دفن کرنے کی اجازت نہیں نہ کسی ملت والے مثلا یہودی یا نصرانی کے گور ستان میں دفن کیاجائے
غنیۃ ذوالاحکام ص۳۰۱:
محل قبول توبۃ المرتد مالم تکن ردتہ بسب النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فان کان بہ لاتقبل توبتہ سواء جاء تائبا من نفسہ او شھد علیہ بذلك بخلاف غیرہ من المکفرات ۔ یعنی نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی شان اقدس میں گستاخی اور کفروں کی طرح نہیں ہر طرح کے مرتد کو بعد توبہ معافی دینے کا حکم ہے مگر اس کافر مرتد کے لئے اس کی اجازت نہیں۔
اشباہ والنظائر قلمیباب الردۃ:
لاتصح ردۃ السکران الاالردۃ بسب النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فانہ لایعفی عنہ کذافی البزازیۃ وحکم الردۃ بینونۃ امرأتہ مطلقا (ای سواء رجع او لم یرجع اھ غمز العیون )واذا مات علی ردتہ لم یدفن فی مقابرالمسلمین ولااھل ملۃ وانمایلقی فی حفرۃ کالکلبوالمرتد اقبح کفرامن الکافر الاصلی و اذا شھد واعلی مسلم بالردۃ وھو منکر لایتعرض لہ لا لتکذیب یعنی نشہ کی بیہوشی میں اگر کسی سے کفر کی کوئی بات نکل جائے اسے بوجہ بیہوشی کافر نہ کہیں گے نہ سزائے کفر دیں گے مگر نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی شان اقدس میں گستاخی وہ کفر ہے کہ نشہ کی بیہوشی سے بھی صادرہوا تو اسے معافی نہ دینگے کذافی البزازیہ اور معاذاﷲ ارتداد کا حکم یہ ہے کہ اس کی عورت فورااس کے نکاح سے نکل جاتی ہے اگر یہ بعد کو پھر اسلام لائے جب بھی عورت نکاح میں واپس نہ جائے گی اور جب وہ اسی ارتداد پر مرجائے والعیاذ باﷲ تعالی تو اسے مسلمانوں کے مقابر میں دفن کرنے کی اجازت نہیں نہ کسی ملت والے مثلا یہودی یا نصرانی کے گور ستان میں دفن کیاجائے
حوالہ / References
الدررالحکام شرح غررالاحکام فصل فی الجزیہ احمد کامل الکائنہ فی دارالسعادت بیروت ۱/ ۳۰۰۔۲۹۹
غنیہ ذوی الاحکام فی دررالاحکام باب المرتد احمد کامل الکائنہ فی دارالسعادت بیروت ۱/ ۳۰۱
الاشباہ والنظائر باب الردۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱/ ۲۸۹تا۲۹۱
غمزعیون البصائر شرح اشباہ والنظائر مع الاشباہ باب المرتد ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱/ ۲۹۰
غنیہ ذوی الاحکام فی دررالاحکام باب المرتد احمد کامل الکائنہ فی دارالسعادت بیروت ۱/ ۳۰۱
الاشباہ والنظائر باب الردۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱/ ۲۸۹تا۲۹۱
غمزعیون البصائر شرح اشباہ والنظائر مع الاشباہ باب المرتد ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱/ ۲۹۰
الشھودالعدول بل لان انکارہ توبۃ ورجوع فتثبت الاحکام التی للمرتد لوتاب من حبط الاعمال وبینونۃ الزوجۃ وقولہ لایتعرض لہ انما ھوفی مرتد تقبل توبتہ فی الدنیالاالردۃ بسب النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اھ الاولی تنکیرالنبی کما عبربہ فیما سبق اھ ملخصا غمزالعیون۔ وہ تو کتے کی طرح کسی گڑھے میں پھینك دیاجائے مرتد کا کفر اصلی کافر کے کفر سے بدتر ہے اور اگر کسی مسلمان پر گواہان عادل شہادت دیں کہ یہ فلاں قول یا فعل کے سبب مرتد ہوگیا اور وہ اس سے انکار کرتا ہو تواس سے تعرض نہ کریں گے نہ اس لئے کہ گواہان عادل کو جھوٹا ٹھہرایا بلکہ اس لئے کہ اس کا مکرنا اس کفر سے توبہ ورجوع سمجھیں گے ولہذا گواہان عادل کی گواہی اور اس کے انکار سے یہ نتیجہ پیدا ہوگا کہ وہ شخص مرتد ہوگیا تھااور اب توبہ کرلی تو مرتد تائب کے احکام اس پر جاری کرینگے کہ اس کے تمام اعمال حبط ہوگئے اور جورونکاح سے باہراور یہ قول کہ اس سے تعرض نہ کیا جائے اس مرتد سے متعلق ہے جس کی توبہ دنیا میں قبول ہےنہ وہ مرتد جو نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی شان اقدس میں گستاخی کرے کہ یہ وہ کفر ہے جس کی سزایہ ہے کہ دنیا میں بعد توبہ بھی معافی نہیںیونہی کسی نبی کی شان میں گستاخی علیہم الصلوۃ والسلاماولی یہ تھا کہ لفظ نبی کو نکرہ ذکر کرتے جیساکہ گزشتہ عبارت میں تعبیر کیا ہے اھ ملخصا غمز العیون۔(ت)
فتاوی خیریہ علامہ خیرالدین رملی استاذ صاحب درمختار جلد اول ص۹۵:
من سب رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فانہ مرتد وحکمہ حکم المرتدین ویفعل بہ مایفعل بالمرتدین ولاتوبۃ لہ اصلا واجمع العلماء انہ کافر ومن شك فی کفرہ کفر اھ ملتقطا۔ جو نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی شان کریم میں گستاخی کرے وہ مرتد ہے اس کا وہی حکم ہے جو مرتدوں کا ہے اس سے وہی برتاؤ کیا جائے گا جو مرتدوں سے کرنے کا حکم ہے اور اسے دنیا میں کسی طرح معافی نہ دیں گے اور باجماع تمام علمائے امت وہ کافر ہے اور جو اس کے کفر میں شك کرے وہ بھی کافر۔
مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر جلد اول ص۶۱۸:
اذاسبہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اوواحدا من الانبیاء مسلم ولو سکران فلاتوبۃ یعنی جو مسلمان کہلا کر حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یا کسی نبی کی شان میں گستاخی کرے اگرچہ نشہ
فتاوی خیریہ علامہ خیرالدین رملی استاذ صاحب درمختار جلد اول ص۹۵:
من سب رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فانہ مرتد وحکمہ حکم المرتدین ویفعل بہ مایفعل بالمرتدین ولاتوبۃ لہ اصلا واجمع العلماء انہ کافر ومن شك فی کفرہ کفر اھ ملتقطا۔ جو نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی شان کریم میں گستاخی کرے وہ مرتد ہے اس کا وہی حکم ہے جو مرتدوں کا ہے اس سے وہی برتاؤ کیا جائے گا جو مرتدوں سے کرنے کا حکم ہے اور اسے دنیا میں کسی طرح معافی نہ دیں گے اور باجماع تمام علمائے امت وہ کافر ہے اور جو اس کے کفر میں شك کرے وہ بھی کافر۔
مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر جلد اول ص۶۱۸:
اذاسبہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اوواحدا من الانبیاء مسلم ولو سکران فلاتوبۃ یعنی جو مسلمان کہلا کر حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یا کسی نبی کی شان میں گستاخی کرے اگرچہ نشہ
حوالہ / References
غمزعیون البصائر شرح اشباہ والنظائر مع الاشباہ باب المرتد ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱/ ۲۹۱و۲۹۳
غمزعیون البصائر شرح اشباہ والنظائر مع الاشباہ باب المرتد ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱/ ۲۹۳
فتاوی خیریہ باب المرتدین دارالمعرفۃ بیروت ۱/ ۱۰۳
غمزعیون البصائر شرح اشباہ والنظائر مع الاشباہ باب المرتد ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱/ ۲۹۳
فتاوی خیریہ باب المرتدین دارالمعرفۃ بیروت ۱/ ۱۰۳
لہ تنجیہ کالزندیق ومن شك فی عذابہ وکفرہ فقد کفر ۔ کی حالت میں تو اس کی توبہ پر بھی دنیا میں اسے معافی نہ دیں گے جیسے دہرئیے بے دین کی توبہ نہ سنی جائیگیاور جو شخص اس گستاخی کرنے والے کے کفر میں شك لائے گا وہ بھی کافر ہوجائے گا۔
ذخیرۃ القبی علامہ اخی یوسف ص۲۴۰:
قد اجمعت الامۃ علی ان الاستخفاف بنبینا صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وبای نبی کان علیھم الصلوۃ و السلام کفر سواء فعلہ علی ذلك مستحلاام فعلہ معتقد الحرمۃ ولیس بین العلماء خلاف فی ذلك ومن شك فی کفرہ وعذابہ کفر ۔ یعنی بیشك تمام امت مرحومہ کا اجماع ہے کہ حضورانورصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم خواہ کسی نبی کی تنقیص شان کرنے والا کافر ہےخواہ اسے حلال جان کر اس کا مرتکب ہوا ہو یا حرام جان کربہر حال جمیع علماء کے نزدیك کافر ہے اور جو اس کے کفر میں شك کرے وہ بھی کافر۔
ایضاصفحہ۲۴۲:
لایغسل ولایصلی علیہ ولایکفن اما اذا تاب وتبرأ عن الارتداد ودخل فی دین الاسلام ثم مات غسل وکفن وصلی علیہ ودفن فی مقابر المسلمین ۔ یعنی وہ گستاخی کرنے والا جب مرجائے تو نہ اسے غسل دیں نہ کفن دیں نہ اس پر نماز پڑھیںہاں اگر توبہ کرے اور اپنے اس کفر سے برأت کرے اور دین اسلام میں داخل ہو اس کے بعد مرجائے تو غسلکفننمازمقابر مسلمین میں دفن سب کچھ ہوگا۔
تنویر الابصار شیخ الاسلام ابوعبداﷲ محمدبن عبداﷲ غزی:
کل مسلم ارتد فتوبتہ مقبولۃ الاالکافر بسب نبی الخ۔ یعنی ہرمرتد کی توبہ قبول ہے مگر کسی نبی کی شان میں گستاخی کرنے والا ایسا کافر ہے کہ دنیا میں سزا سے بچانے کے لئے اس کی توبہ بھی قبول نہیں۔
ذخیرۃ القبی علامہ اخی یوسف ص۲۴۰:
قد اجمعت الامۃ علی ان الاستخفاف بنبینا صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وبای نبی کان علیھم الصلوۃ و السلام کفر سواء فعلہ علی ذلك مستحلاام فعلہ معتقد الحرمۃ ولیس بین العلماء خلاف فی ذلك ومن شك فی کفرہ وعذابہ کفر ۔ یعنی بیشك تمام امت مرحومہ کا اجماع ہے کہ حضورانورصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم خواہ کسی نبی کی تنقیص شان کرنے والا کافر ہےخواہ اسے حلال جان کر اس کا مرتکب ہوا ہو یا حرام جان کربہر حال جمیع علماء کے نزدیك کافر ہے اور جو اس کے کفر میں شك کرے وہ بھی کافر۔
ایضاصفحہ۲۴۲:
لایغسل ولایصلی علیہ ولایکفن اما اذا تاب وتبرأ عن الارتداد ودخل فی دین الاسلام ثم مات غسل وکفن وصلی علیہ ودفن فی مقابر المسلمین ۔ یعنی وہ گستاخی کرنے والا جب مرجائے تو نہ اسے غسل دیں نہ کفن دیں نہ اس پر نماز پڑھیںہاں اگر توبہ کرے اور اپنے اس کفر سے برأت کرے اور دین اسلام میں داخل ہو اس کے بعد مرجائے تو غسلکفننمازمقابر مسلمین میں دفن سب کچھ ہوگا۔
تنویر الابصار شیخ الاسلام ابوعبداﷲ محمدبن عبداﷲ غزی:
کل مسلم ارتد فتوبتہ مقبولۃ الاالکافر بسب نبی الخ۔ یعنی ہرمرتد کی توبہ قبول ہے مگر کسی نبی کی شان میں گستاخی کرنے والا ایسا کافر ہے کہ دنیا میں سزا سے بچانے کے لئے اس کی توبہ بھی قبول نہیں۔
حوالہ / References
مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر باب الجزیہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۶۷۰
ذخیرۃ العقبٰی فی شرح صدر الشریعۃ العظمی کتاب الجہاد باب الجزیہ مطبع نولکشور کانپور ۲/ ۳۱۹
ذخیرۃ العقبٰی فی شرح صدر الشریعۃ العظمی کتاب الجہاد باب الجزیہ مطبع نولکشور کانپور ۳/ ۳۲۱
درمختار شرح تنویر الابصار باب المرتدین مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۵۶
ذخیرۃ العقبٰی فی شرح صدر الشریعۃ العظمی کتاب الجہاد باب الجزیہ مطبع نولکشور کانپور ۲/ ۳۱۹
ذخیرۃ العقبٰی فی شرح صدر الشریعۃ العظمی کتاب الجہاد باب الجزیہ مطبع نولکشور کانپور ۳/ ۳۲۱
درمختار شرح تنویر الابصار باب المرتدین مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۵۶
درمختار:
الکافربسب نبی الانبیاء لاتقبل توبتہ مطلقا ومن شك فی عذابہ وکفرہ کفر ۔ یعنی کسی نبی کی توہین کرنا ایسا کفر ہے جس پر کسی طرح معافی نہ دیں گے اور جو اس کے کافر ومستحق عذاب ہونے میں شك کرے خود کافر ہے۔
کتاب الخراج سیدنا امام ابویوسف رضی اﷲ تعالی عنہ ص۱۹۷:
قال ابویوسف وایمارجل مسلم سب رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم او کذبہ او عابہ تنقصہ فقد کفر باﷲ تعالی وبانت زوجتہ ۔ یعنی جو شخص کلمہ گو ہو کر حضور اقدس صلی اﷲتعالی علیہ وسلم کو برا کہے یا تکذیب کرے یا کوئی عیب لگائے یا شان گھٹائے وہ بلاشبہہ کافر ہوگیا اور اس کی عورت نکاح سے نکل گئی۔
بالجملہ اشخاص مذکورین کے کفر وارتداد میں اصلا شك نہیںدربارہ اسلام ورفع دیگر احکام ان کی توبہ اگرسچے دل سے ہو ضرور مقبول ہےہاں اس میں اختلاف ہے کہ سلطان اسلام انہیں بعد توبہ و اسلام صرف تعزیر دے یا اب بھی سزائے موت دے وہ جو بزازیہ اور اس کے بعد کی بہت کتب معتمدہ میں ہے کہ اس کی توبہ مقبول نہیں اس کے یہی معنی ہیں اور اس کی بحث یہاں بیکار ہےکہاں سلطان اسلام اور کہاں سزائے موت کے احکامصدہا خبیثاخبثملعونانجس ہیں کہ کلمہ گو بلکہ اعلی درجہ کے مسلمان مفتی واعظ مدرس شیخ بن کر اﷲ ورسول کے جناب میں منہ بھر کر ملعونات بکتےلکھتےچھاپتے ہیں اوران سے کوئی تو کہنے والانہیں اور اگر انہیں تو کہئے تونہ صرف ان کے بلکہ بڑے بڑے مہذب بننے والے مسلمانوں کے نزدیك یہ بے تہذیبی وتشدد ہو
فانظر الی آثار مقت اﷲ الغیور کیف انقلبت وانعکست الامور ولاحول ولاقوۃ الاباﷲ العظیم
" و سیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون ﴿۲۲۷﴾ "
واﷲ تعالی اعلم۔ تو دیکھو اﷲ غیور کے عذاب کے آثار کی طرف دل کیسے بدل جاتے ہیں اور امور کیسے الٹ ہوجاتے ہیں ولاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیماور اب جان جائیں گے ظالم کہ کس کروٹ پلٹا کھائیں گے واﷲتعالی اعلم۔
الکافربسب نبی الانبیاء لاتقبل توبتہ مطلقا ومن شك فی عذابہ وکفرہ کفر ۔ یعنی کسی نبی کی توہین کرنا ایسا کفر ہے جس پر کسی طرح معافی نہ دیں گے اور جو اس کے کافر ومستحق عذاب ہونے میں شك کرے خود کافر ہے۔
کتاب الخراج سیدنا امام ابویوسف رضی اﷲ تعالی عنہ ص۱۹۷:
قال ابویوسف وایمارجل مسلم سب رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم او کذبہ او عابہ تنقصہ فقد کفر باﷲ تعالی وبانت زوجتہ ۔ یعنی جو شخص کلمہ گو ہو کر حضور اقدس صلی اﷲتعالی علیہ وسلم کو برا کہے یا تکذیب کرے یا کوئی عیب لگائے یا شان گھٹائے وہ بلاشبہہ کافر ہوگیا اور اس کی عورت نکاح سے نکل گئی۔
بالجملہ اشخاص مذکورین کے کفر وارتداد میں اصلا شك نہیںدربارہ اسلام ورفع دیگر احکام ان کی توبہ اگرسچے دل سے ہو ضرور مقبول ہےہاں اس میں اختلاف ہے کہ سلطان اسلام انہیں بعد توبہ و اسلام صرف تعزیر دے یا اب بھی سزائے موت دے وہ جو بزازیہ اور اس کے بعد کی بہت کتب معتمدہ میں ہے کہ اس کی توبہ مقبول نہیں اس کے یہی معنی ہیں اور اس کی بحث یہاں بیکار ہےکہاں سلطان اسلام اور کہاں سزائے موت کے احکامصدہا خبیثاخبثملعونانجس ہیں کہ کلمہ گو بلکہ اعلی درجہ کے مسلمان مفتی واعظ مدرس شیخ بن کر اﷲ ورسول کے جناب میں منہ بھر کر ملعونات بکتےلکھتےچھاپتے ہیں اوران سے کوئی تو کہنے والانہیں اور اگر انہیں تو کہئے تونہ صرف ان کے بلکہ بڑے بڑے مہذب بننے والے مسلمانوں کے نزدیك یہ بے تہذیبی وتشدد ہو
فانظر الی آثار مقت اﷲ الغیور کیف انقلبت وانعکست الامور ولاحول ولاقوۃ الاباﷲ العظیم
" و سیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون ﴿۲۲۷﴾ "
واﷲ تعالی اعلم۔ تو دیکھو اﷲ غیور کے عذاب کے آثار کی طرف دل کیسے بدل جاتے ہیں اور امور کیسے الٹ ہوجاتے ہیں ولاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیماور اب جان جائیں گے ظالم کہ کس کروٹ پلٹا کھائیں گے واﷲتعالی اعلم۔
حوالہ / References
درمختار شرح تنویر الابصار باب المرتدین مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۵۶
کتاب الخراج فصل فی الحکم فی المرتد عن الاسلام مطبع بولاق مصر۹۸۔۱۹۷
القرآن الکریم ۲۶ /۲۲۷
کتاب الخراج فصل فی الحکم فی المرتد عن الاسلام مطبع بولاق مصر۹۸۔۱۹۷
القرآن الکریم ۲۶ /۲۲۷
ـ مسئلہ۵۳: ازکوہ کسولی مرسلہ منشی نور محمد صاحب عرائض نویس کچہری ۱۹رمضان شریف ۱۳۳۵ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ چند اہل اسلام ایك مکان میں ختم شریف پڑھ رہے تھے ختم مذکور میں یہ بیت بھی پڑھی گئی:
عفو کن خطا یا حیات النبی
مری کر شفع یا حیات النبی
ایك شخص شریك مجمع مذکور منصب امامت رکھتا تھابضرورت ادائیگی نماز مغرب وہاں سے چلاگیا اور بعد نماز مغرب چند اہل اسلام کے سامنے یہ مسئلہ بیان کیاکہ امداد سوائے ذات باری تعالی کے کسی سے نہیں مانگنا چاہئےجیسا کہ لوگ کہا کرتے ہیں:
امداد کن امداد کن از بندغم آزاد کن
دردین ودنیا شاد کن یا شیخ عبدالقادرا
ایسا کہنا شرعا جائز نہیںدوسرے وقت میں شعر مندرجہ بالا پر بحـث چھڑی تو پیش امام موصوف نے یہ بھی بیان کیا کہ رسول اﷲ سے بھی کوئی استعانت نہیں مانگنا چاہئے کیونکہ وفات پاگئے ہیں اور مردہ ہیں۔یہ سن کر ایك شخص نے امام موصوف کے پیچھے نماز پڑھنی ترك کردی اور اپنے علیحدہ مکان میں مسجد قرار دے کر بشمولیت چند مرد مان اہل اسلام جمعہ ودیگر نمازیں پڑھنی شروع کردیںپیش امام مذکور نے اپنی بے ادنی وگستاخی معلوم کرکے معترض و دیگر مرد مان کے سامنے توبہ کرلی اور معافی کا بھی خواستگار ہوا مگر معترض نے اسے معاف نہیں کیا اور بدستور اپنے اصرار پر قائم ہےپیش امام مذکور نے یہ کہاکہ اگر رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بعالم حیات ہمارے سامنے بھی موجود ہوں تو اپنے اختیار سے بھی کوئی کام نہیں کرسکتے حالانکہ بظاہر وفات پاگئے ہیںمیرا اس پر ایما ہے اور لفظ"مردہ"جو میری زبان سے نکلا اس کے لئے توبہ کرتا ہوں اور معافی مانگتا ہوںاب دریافت طلب یہ امور ہیں کہ پیش امام مذکور کی امامت جائز ہے یانہیں اورشخص معترض کی نماز مسجد سے علیحدہ اس کے اپنے گھر میں اداہوجاتی ہے یانہیںبینواتوجروا(بیان کرکے اجر پاؤ۔ت)
الجواب:
یہ سوال پہلے بھی آیا اور دارالافتاء سے جواب دیا گیاجواب اب بھی وہی ہے اگرچہ سوال میں بہت الفاظ شیطانی کم ہیںآخر یہ تو خود پیش امام نے اقرار کیا کہ اس نے شان اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم میں بے ادنی و گستاخی کییہی کفر ہے اور اس کے معافی معترض سے چاہنا عجیب ہےگستاخی کرے محمد رسول اﷲ صلی اﷲ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ چند اہل اسلام ایك مکان میں ختم شریف پڑھ رہے تھے ختم مذکور میں یہ بیت بھی پڑھی گئی:
عفو کن خطا یا حیات النبی
مری کر شفع یا حیات النبی
ایك شخص شریك مجمع مذکور منصب امامت رکھتا تھابضرورت ادائیگی نماز مغرب وہاں سے چلاگیا اور بعد نماز مغرب چند اہل اسلام کے سامنے یہ مسئلہ بیان کیاکہ امداد سوائے ذات باری تعالی کے کسی سے نہیں مانگنا چاہئےجیسا کہ لوگ کہا کرتے ہیں:
امداد کن امداد کن از بندغم آزاد کن
دردین ودنیا شاد کن یا شیخ عبدالقادرا
ایسا کہنا شرعا جائز نہیںدوسرے وقت میں شعر مندرجہ بالا پر بحـث چھڑی تو پیش امام موصوف نے یہ بھی بیان کیا کہ رسول اﷲ سے بھی کوئی استعانت نہیں مانگنا چاہئے کیونکہ وفات پاگئے ہیں اور مردہ ہیں۔یہ سن کر ایك شخص نے امام موصوف کے پیچھے نماز پڑھنی ترك کردی اور اپنے علیحدہ مکان میں مسجد قرار دے کر بشمولیت چند مرد مان اہل اسلام جمعہ ودیگر نمازیں پڑھنی شروع کردیںپیش امام مذکور نے اپنی بے ادنی وگستاخی معلوم کرکے معترض و دیگر مرد مان کے سامنے توبہ کرلی اور معافی کا بھی خواستگار ہوا مگر معترض نے اسے معاف نہیں کیا اور بدستور اپنے اصرار پر قائم ہےپیش امام مذکور نے یہ کہاکہ اگر رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بعالم حیات ہمارے سامنے بھی موجود ہوں تو اپنے اختیار سے بھی کوئی کام نہیں کرسکتے حالانکہ بظاہر وفات پاگئے ہیںمیرا اس پر ایما ہے اور لفظ"مردہ"جو میری زبان سے نکلا اس کے لئے توبہ کرتا ہوں اور معافی مانگتا ہوںاب دریافت طلب یہ امور ہیں کہ پیش امام مذکور کی امامت جائز ہے یانہیں اورشخص معترض کی نماز مسجد سے علیحدہ اس کے اپنے گھر میں اداہوجاتی ہے یانہیںبینواتوجروا(بیان کرکے اجر پاؤ۔ت)
الجواب:
یہ سوال پہلے بھی آیا اور دارالافتاء سے جواب دیا گیاجواب اب بھی وہی ہے اگرچہ سوال میں بہت الفاظ شیطانی کم ہیںآخر یہ تو خود پیش امام نے اقرار کیا کہ اس نے شان اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم میں بے ادنی و گستاخی کییہی کفر ہے اور اس کے معافی معترض سے چاہنا عجیب ہےگستاخی کرے محمد رسول اﷲ صلی اﷲ
تعالی علیہ وسلم کی شان اقدس میں یہ معاف کردےگویا یہ کہے کہ اگرچہ تونے میرے نبی صلی اﷲتعالی علیہ وسلم کو برا کہا مگر میں اس کی پروا نہیں کرتامیں نے کہا بے کہا کردیامعترض ایسا کہتا تو اسے خود اپنے ایمان کے لالے پڑتے۔زید کا حق عمروعمروکا حق زید معاف نہیں کرسکتاوہ بے ادب کہ محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے حق میں گرفتار ہو اسے زید وعمرو کیونکر معاف کردیںدرمختار میں ہے:
الکافر بسب نبی من الانبیاء لاتقبل توبتہ مطلقا ولوسب اﷲ تعالی قبلت لانہ حق اﷲ تعالی والاول حق عبدلایزول بالتوبۃ ومن شك فی عذابہ وکفرہ کفر ۔ جو کسی نبی کو گالی دینے کی وجہ سے کافر ہو ااس کی توبہ کسی حال میں قبول نہیںاور اگر اﷲ تعالی کو گالی دی تو توبہ مقبول ہے کیونکہ یہ اﷲ تعالی کا حق ہےاور پہلا بندے کا حق ہے جو توبہ سے زائل نہیں ہوتا اور جس نے بھی اس کے عذاب و کفر میں شك کیا وہ کافر ہوجائے گا۔
انکار استمداد واستعانت اور وہ بھی خود حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سےاور وہ بھی اس ملعون خیال پر کہ مردہ ہیںان پر تو شخص مذکور اب بھی قائم ہے ایك لفظ"مردہ"کو اس کے معنی سے تبدیل کرتا ہےیہ تمام عقائد وخیالات وہابیہ کے ہیں اور وہابیہ کی امامت ہر گز نہیںاور ان کے پیچھے نماز باطل محض ہےفتح القدیر میں ہے:
روی محمد عن ابی حنیفۃ وابی یوسف رضی اﷲ تعالی عنہم ان الصلوۃ خلف اھل الاھواء لاتجوز اھ وقد حققنا بما لامزید علیہ فی النھی الاکید۔ امام محمد نے امام ابوحنیفہ اور امام ابویوسف رضی اﷲ تعالی عنہم سے نقل کیا کہ اہل بدعت کی اقتداء میں نماز نہیں ہوتی اس کی بے مثل تفصیل ہم نے اپنے رسالہ"النہی الاکید"میں کی ہے۔
جس مسلمان نے وہ کلمات سن کر اس کے پیچھے نماز سے احتراز کے لئے اپنے مکان کو مسجد کرکے اس میں جمعہ و جماعت شروع کردی اس کے لئے اﷲ عزوجل کے یہاں اجر عظیم ہے ان شاء اﷲ الکریمواﷲ تعالی اعلم۔
الکافر بسب نبی من الانبیاء لاتقبل توبتہ مطلقا ولوسب اﷲ تعالی قبلت لانہ حق اﷲ تعالی والاول حق عبدلایزول بالتوبۃ ومن شك فی عذابہ وکفرہ کفر ۔ جو کسی نبی کو گالی دینے کی وجہ سے کافر ہو ااس کی توبہ کسی حال میں قبول نہیںاور اگر اﷲ تعالی کو گالی دی تو توبہ مقبول ہے کیونکہ یہ اﷲ تعالی کا حق ہےاور پہلا بندے کا حق ہے جو توبہ سے زائل نہیں ہوتا اور جس نے بھی اس کے عذاب و کفر میں شك کیا وہ کافر ہوجائے گا۔
انکار استمداد واستعانت اور وہ بھی خود حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سےاور وہ بھی اس ملعون خیال پر کہ مردہ ہیںان پر تو شخص مذکور اب بھی قائم ہے ایك لفظ"مردہ"کو اس کے معنی سے تبدیل کرتا ہےیہ تمام عقائد وخیالات وہابیہ کے ہیں اور وہابیہ کی امامت ہر گز نہیںاور ان کے پیچھے نماز باطل محض ہےفتح القدیر میں ہے:
روی محمد عن ابی حنیفۃ وابی یوسف رضی اﷲ تعالی عنہم ان الصلوۃ خلف اھل الاھواء لاتجوز اھ وقد حققنا بما لامزید علیہ فی النھی الاکید۔ امام محمد نے امام ابوحنیفہ اور امام ابویوسف رضی اﷲ تعالی عنہم سے نقل کیا کہ اہل بدعت کی اقتداء میں نماز نہیں ہوتی اس کی بے مثل تفصیل ہم نے اپنے رسالہ"النہی الاکید"میں کی ہے۔
جس مسلمان نے وہ کلمات سن کر اس کے پیچھے نماز سے احتراز کے لئے اپنے مکان کو مسجد کرکے اس میں جمعہ و جماعت شروع کردی اس کے لئے اﷲ عزوجل کے یہاں اجر عظیم ہے ان شاء اﷲ الکریمواﷲ تعالی اعلم۔
حوالہ / References
درمختار باب المرتد مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۵۶
فتح القدیر باب الامامۃ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱/ ۳۰۴
فتح القدیر باب الامامۃ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱/ ۳۰۴
مسئلہ۵۴: از موضع گلمان پور ڈاکخانہ رام کولاضلع سارن مرسلہ محمد اسحق صاحب ۳۰شوال۱۳۳۵ھ
ایك استفتاء جو حضور میں پیش ہے دیوبند گیا تھا فقط قرآن شریف کا حوالہ ہے وہ ہم لوگ دیہاتی نہیں سمجھ سکتے کہ جب آدمی مرتد ہوجائے تو اس کا کفارہ کیا ہےلہذا التماس حضور میں ہے کہ جواب سے پورے طور سے خلاصہ مطلع فرمائیں کہ کفارہ کیا ہے کس قدر ہونا چاہئے
الجواب:
کفارہ ان گناہوں میں رکھا گیا ہے جن کا معاوضہ اس سے ہوجائے اور جو گناہ حدسے گزرے ہوئے ہیں ان کے لئے کفارہ نہیں ہوتا مثلاصحیح مقیم بلاعذر شرعی ماہ مبارك کا اداروزہ جس کی نیت رات سے کی ہو دوا یا غذا یا جماع سے قصدا بلا اکراہ توڑدے تواس کا کفارہ ہے اور سرے سے رکھے ہی نہیں کہ یہ جرم اعظم ہے اس کا کوئی کفارہ نہیںمگرتوبہ اور اس روزے کی قضایونہی اگر معاذاﷲ کسی مسلمان کے ہاتھ سے کوئی مسلمان براہ خطا ماراجائے مثلا شکار پر فائر کرے اور اس کے لگ جائے تو اس کا کفارہ ہے لیکن اگر عیاذا باﷲ قصدا قتل کرے کہ یہ جرم اعظم ہے اس کا کوئی کفارہ نہیں مگر توبہ وقصاصمعاذ اﷲ مرتد ہونا سب سے بدتر جرم ہے اس کا کیا کفارہ ہوسکتا مگرتوبہ و اسلاماور اگر توبہ نہ کرے اور اسلام نہ لائے تو دنیا میں سلطان اسلام کے یہاں اس کی سزاقتل ہے اور آخرت میں ابدالآباد کے لئے جہنموالعیاذ باﷲ تعالیواﷲ تعالی اعلم۔
آپ نے علمائے کرام حرمین شریفین کا مبارك فتوی حسام الحرمین شاید نہ دیکھا اب دیکھئے اور ضرور دیکھئے مطبع اہل سنت وجماعت بریلی سے ملتا ہے اس میں علمائے کرام حرمین شریفین نے بالاتفاق تحریر فرمایا ہے کہ دیوبندی عقیدے والے خود کافر مرتد ہیں پھر ان کو عالم جاننا اور ان سے فتوی پو چھنا کیونکر حلال ہوسکتا ہے احتیاط فرض ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۵۵: ازپل قاضی مرسلہ مرسلہ منشی محمد عنایت رسول صاحب ۹شوال المکرم ۱۳۳۵ھ
ایسے گروہ کے باب میں جو بظاہر مسلمان ہوکے اپنے خاندان کو خاندان رسالت پر فضیلت دینے حسب ونسب میں ہر طرح اپنے آپ کو نجیب گردانے اور کہے کہ دیکھو رسول اﷲ کس نسل سے ہیںحضرت ہاجرہ کون تھیںحضرت سارہ کی کنیز تھیں کہ نہیںاور تائید میں قول نصرانی مؤرخ کا پیش کرے اور بعض کو اولاد فاطمہ سے لونڈی بچا کہے اور سادات زمانہ کو قابل تعظیم وتکریم نہ جانےبلکہ ان کی توہین و تہجین وتذلیل اور ان پر سب وشتم اور ایذارسانی کو جائز ومباح سمجھے اور عامل ایسے شنائع اعمال کا ہومسلمانوں کے ایسے گروہ کے ساتھ کھانا پینامناکحت و موالاتانکی مجالس ومحافل میں شرکت جائز ہے یانہیں بینوا توجروا۔
ایك استفتاء جو حضور میں پیش ہے دیوبند گیا تھا فقط قرآن شریف کا حوالہ ہے وہ ہم لوگ دیہاتی نہیں سمجھ سکتے کہ جب آدمی مرتد ہوجائے تو اس کا کفارہ کیا ہےلہذا التماس حضور میں ہے کہ جواب سے پورے طور سے خلاصہ مطلع فرمائیں کہ کفارہ کیا ہے کس قدر ہونا چاہئے
الجواب:
کفارہ ان گناہوں میں رکھا گیا ہے جن کا معاوضہ اس سے ہوجائے اور جو گناہ حدسے گزرے ہوئے ہیں ان کے لئے کفارہ نہیں ہوتا مثلاصحیح مقیم بلاعذر شرعی ماہ مبارك کا اداروزہ جس کی نیت رات سے کی ہو دوا یا غذا یا جماع سے قصدا بلا اکراہ توڑدے تواس کا کفارہ ہے اور سرے سے رکھے ہی نہیں کہ یہ جرم اعظم ہے اس کا کوئی کفارہ نہیںمگرتوبہ اور اس روزے کی قضایونہی اگر معاذاﷲ کسی مسلمان کے ہاتھ سے کوئی مسلمان براہ خطا ماراجائے مثلا شکار پر فائر کرے اور اس کے لگ جائے تو اس کا کفارہ ہے لیکن اگر عیاذا باﷲ قصدا قتل کرے کہ یہ جرم اعظم ہے اس کا کوئی کفارہ نہیں مگر توبہ وقصاصمعاذ اﷲ مرتد ہونا سب سے بدتر جرم ہے اس کا کیا کفارہ ہوسکتا مگرتوبہ و اسلاماور اگر توبہ نہ کرے اور اسلام نہ لائے تو دنیا میں سلطان اسلام کے یہاں اس کی سزاقتل ہے اور آخرت میں ابدالآباد کے لئے جہنموالعیاذ باﷲ تعالیواﷲ تعالی اعلم۔
آپ نے علمائے کرام حرمین شریفین کا مبارك فتوی حسام الحرمین شاید نہ دیکھا اب دیکھئے اور ضرور دیکھئے مطبع اہل سنت وجماعت بریلی سے ملتا ہے اس میں علمائے کرام حرمین شریفین نے بالاتفاق تحریر فرمایا ہے کہ دیوبندی عقیدے والے خود کافر مرتد ہیں پھر ان کو عالم جاننا اور ان سے فتوی پو چھنا کیونکر حلال ہوسکتا ہے احتیاط فرض ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۵۵: ازپل قاضی مرسلہ مرسلہ منشی محمد عنایت رسول صاحب ۹شوال المکرم ۱۳۳۵ھ
ایسے گروہ کے باب میں جو بظاہر مسلمان ہوکے اپنے خاندان کو خاندان رسالت پر فضیلت دینے حسب ونسب میں ہر طرح اپنے آپ کو نجیب گردانے اور کہے کہ دیکھو رسول اﷲ کس نسل سے ہیںحضرت ہاجرہ کون تھیںحضرت سارہ کی کنیز تھیں کہ نہیںاور تائید میں قول نصرانی مؤرخ کا پیش کرے اور بعض کو اولاد فاطمہ سے لونڈی بچا کہے اور سادات زمانہ کو قابل تعظیم وتکریم نہ جانےبلکہ ان کی توہین و تہجین وتذلیل اور ان پر سب وشتم اور ایذارسانی کو جائز ومباح سمجھے اور عامل ایسے شنائع اعمال کا ہومسلمانوں کے ایسے گروہ کے ساتھ کھانا پینامناکحت و موالاتانکی مجالس ومحافل میں شرکت جائز ہے یانہیں بینوا توجروا۔
الجواب:
ایسا شخص گمراہبددینمسخرہ شیاطین ہے بلکہ اس پر حکم کفر کا لزوم ہے۔مسلمانوں کو ایسے لوگوں سے میل جولمناکحت درکنار انکےپاس بیٹھنا منع ہے۔
قال اﷲ تعالی اما ینسینک الشیطن فلا تقعد بعد الذکری مع القوم الظلمین ﴿۶۸﴾" ۔ اﷲ تعالی نے فرمایا:اور جو کہیں تجھے شیطان بھلادے تو یاد آئے پر ظالموں کے پاس نہ بیٹھ۔(ت)
مجمع الانہر میں ہے:
الاستخفاف بالاشراف والعلماء کفر ومن قال للعالم عویلم او لعلوی علیوی قاصدا بہ الاستخفاف کفر ۔ یعنی سادات وعلماء کی توہین کفر ہے اور جو بنظر توہین کسی عالم کو مولویا یاسیدکو میر واکہے وہ کافر ہوجائے گاواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۵۶: مرسلہ جناب قاضی ارشاد احمد صاحب از بیسل پور ضلع پیلی بھیت ۵ذیقعدہ ۱۳۳۵ھ
ایك واعظ نے یہ بیان کیا کہ ایك مرتبہ جناب رسول کریم علیہ الصلوۃ والسلام نے حضرت جبرئیل علیہ السلام سے دریافت کیا کہ تم وحی کہاں سے اور کس طرح لاتے ہوآپ نے جواب عرض کیا کہ ایك پردہ سے آواز سے آتی ہے۔آپ نے دریافت فرمایا کہ کبھی تم نے پردہ اٹھا کر دیکھاانہوں نے جواب دیا کہ میری یہ مجال نہیں کہ پردہ کو اٹھاؤں۔آپ نے فرمایا کہ اب کی مرتبہ پردہ اٹھاکردیکھنا۔حضرت جبرئیل نے ایسا ہی کیاکیادیکھتے ہیں کہ پردہ کے اندرخود حضور اقدس صلی اﷲتعالی علیہ وسلم جلوہ افروز ہیں اور عمامہ سر پر باندھے ہیں اور سامنے شیشہ رکھا ہے اور فرمارہے ہیں کہ میرے بندے کو یہ ہدایت کرنایہ روایت کہاں تك صحیح ہےاگر غلط ہے تو اس کا بیان کرنے والا کس حکم کے تحت میں داخل ہے
الجواب:
یہ روایت محض جھوٹ اور کذب وافتراء ہے اور اس کا بیان کرنے والا ابلیس کا مسخرہ اور اگر اس کے ظاہر مضمون کا معتقد ہے تو صریح کافر۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۵۷تا۶۱: ازریاست کوٹہ راجپوتانہ مرسلہ ملامحمد رمضان پیش امام مسند نیاپورہ ۲۰ذیقعدہ ۱۳۳۵ھ
(۱)اول عبدالقادر جس نے یہ کلمات کہے ہیں وہ کافر ہے یانہیںاگر اس کے کفر میں شك کرے اس کے
ایسا شخص گمراہبددینمسخرہ شیاطین ہے بلکہ اس پر حکم کفر کا لزوم ہے۔مسلمانوں کو ایسے لوگوں سے میل جولمناکحت درکنار انکےپاس بیٹھنا منع ہے۔
قال اﷲ تعالی اما ینسینک الشیطن فلا تقعد بعد الذکری مع القوم الظلمین ﴿۶۸﴾" ۔ اﷲ تعالی نے فرمایا:اور جو کہیں تجھے شیطان بھلادے تو یاد آئے پر ظالموں کے پاس نہ بیٹھ۔(ت)
مجمع الانہر میں ہے:
الاستخفاف بالاشراف والعلماء کفر ومن قال للعالم عویلم او لعلوی علیوی قاصدا بہ الاستخفاف کفر ۔ یعنی سادات وعلماء کی توہین کفر ہے اور جو بنظر توہین کسی عالم کو مولویا یاسیدکو میر واکہے وہ کافر ہوجائے گاواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۵۶: مرسلہ جناب قاضی ارشاد احمد صاحب از بیسل پور ضلع پیلی بھیت ۵ذیقعدہ ۱۳۳۵ھ
ایك واعظ نے یہ بیان کیا کہ ایك مرتبہ جناب رسول کریم علیہ الصلوۃ والسلام نے حضرت جبرئیل علیہ السلام سے دریافت کیا کہ تم وحی کہاں سے اور کس طرح لاتے ہوآپ نے جواب عرض کیا کہ ایك پردہ سے آواز سے آتی ہے۔آپ نے دریافت فرمایا کہ کبھی تم نے پردہ اٹھا کر دیکھاانہوں نے جواب دیا کہ میری یہ مجال نہیں کہ پردہ کو اٹھاؤں۔آپ نے فرمایا کہ اب کی مرتبہ پردہ اٹھاکردیکھنا۔حضرت جبرئیل نے ایسا ہی کیاکیادیکھتے ہیں کہ پردہ کے اندرخود حضور اقدس صلی اﷲتعالی علیہ وسلم جلوہ افروز ہیں اور عمامہ سر پر باندھے ہیں اور سامنے شیشہ رکھا ہے اور فرمارہے ہیں کہ میرے بندے کو یہ ہدایت کرنایہ روایت کہاں تك صحیح ہےاگر غلط ہے تو اس کا بیان کرنے والا کس حکم کے تحت میں داخل ہے
الجواب:
یہ روایت محض جھوٹ اور کذب وافتراء ہے اور اس کا بیان کرنے والا ابلیس کا مسخرہ اور اگر اس کے ظاہر مضمون کا معتقد ہے تو صریح کافر۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۵۷تا۶۱: ازریاست کوٹہ راجپوتانہ مرسلہ ملامحمد رمضان پیش امام مسند نیاپورہ ۲۰ذیقعدہ ۱۳۳۵ھ
(۱)اول عبدالقادر جس نے یہ کلمات کہے ہیں وہ کافر ہے یانہیںاگر اس کے کفر میں شك کرے اس کے
حوالہ / References
القرآن الکریم ۶ /۶۸
مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر باب الفاظ الکفر داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۶۹۵
مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر باب الفاظ الکفر داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۶۹۵
واسطے کیا حکم ہے
(۲)قاضی صاحب شہر یاد یگر مسلمان جو عبدالقادر کے معاون اور مددگار ہیں اور اس کو مسلمان سمجھتے ہیں اور اس کے پیچھے نماز پڑھتے ہیں اور دینی اور دنیوی مراسم میں تعلق رکھتے ہیں ان کے واسطے کیا حکم ہے
(۳)عبدالقادر کے گروہ میں سے جن لوگوں کا ہمارے گروہ سے زن وشو کا تعلق ہے یعنی زوجہ اس گروہ کی ہے اور زوج اس گروہ کا ہےاسی طرح زوج اس گروہ کاہے اور زوجہ اس گروہ کی ہے اور وہ لوگ یعنی ہر دو فریق اپنے اپنے عقیدہ پر قائم ہیں تو ایسی صورت میں ان کا نکاح شرعا قائم رہتا ہے یانہیں
(۴)قاضی صاحب شہر سے یہ کہا گیا کہ تم عبدالقادر جس نے توہین کی ہے اس کو کیا سمجھتے ہوقاضی شہر یہ کہتے ہیں کہ آنحضور علیہ الصلوۃ والسلام کی توہین کرنے والے کو کافر سمجھتا ہوں مگر عبدالقادر کے پیچھے نماز ضرور پڑھوں گااس سے یہ مطلب کہ عبدا القادر سے اسلامی مراسم منقطع نہ کروں گاحالانکہ قاضی صاحب کے روبرو عبدالقادر نے یہ الفاظ وعظ میں کہے اور ان کے سامنے چار مسلمانوں نے گواہی دی کہ ہمارے روبرو عبدالقادرنے یہ الفاظ وعظ میں کہے اور پھر حسب خواہش قاضی صاحب علماء کے فتوے بھی پیش کردئےایسی حالت میں قاضی شہر کے پیچھے نماز پڑھنا اور ان سے نکاح پڑھوانا جائز ہے یانہیں
(۵)ایك شخص نے علی الاعلان توبہ کی اس پر کفر کا فتوی منگوانا اور اس مسلمان کو کافر کہنا ایسے شخص کی بابت کیا حکم ہے
الجواب:
(۱ و ۲)صورت مستفسرہ میں بلاشبہ اس نے حضور اقدس صلی اﷲتعالی علیہ وسلم کی توہین کی اور بلاشبہہ جو حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی توہین کرے کافر ہےاور بلاشبہہ جو اس امر پر مطلع ہوکر اسے قابل امامت جانے اس کے پیچھے نماز پڑھے بلکہ وہ بھی جو اسے مسلمان جانے بنلکہ وہ بھی جو اس کے کفر میں شك کرے سب کافر و مرتد ہیں۔شفاء شریف امام قاضی عیاض ووجیز امام شمس الائمہ کردری وذخیرۃ العقبی ومجمع الانہر ودرمختار وغیرہا میں ہے:من شك فی کفرہ وعذابہ فقد کفر ۔(جو اس کے کفروعذاب میں شك کرے گا وہ کافر ہوجائے گا۔ت)
(۲)قاضی صاحب شہر یاد یگر مسلمان جو عبدالقادر کے معاون اور مددگار ہیں اور اس کو مسلمان سمجھتے ہیں اور اس کے پیچھے نماز پڑھتے ہیں اور دینی اور دنیوی مراسم میں تعلق رکھتے ہیں ان کے واسطے کیا حکم ہے
(۳)عبدالقادر کے گروہ میں سے جن لوگوں کا ہمارے گروہ سے زن وشو کا تعلق ہے یعنی زوجہ اس گروہ کی ہے اور زوج اس گروہ کا ہےاسی طرح زوج اس گروہ کاہے اور زوجہ اس گروہ کی ہے اور وہ لوگ یعنی ہر دو فریق اپنے اپنے عقیدہ پر قائم ہیں تو ایسی صورت میں ان کا نکاح شرعا قائم رہتا ہے یانہیں
(۴)قاضی صاحب شہر سے یہ کہا گیا کہ تم عبدالقادر جس نے توہین کی ہے اس کو کیا سمجھتے ہوقاضی شہر یہ کہتے ہیں کہ آنحضور علیہ الصلوۃ والسلام کی توہین کرنے والے کو کافر سمجھتا ہوں مگر عبدالقادر کے پیچھے نماز ضرور پڑھوں گااس سے یہ مطلب کہ عبدا القادر سے اسلامی مراسم منقطع نہ کروں گاحالانکہ قاضی صاحب کے روبرو عبدالقادر نے یہ الفاظ وعظ میں کہے اور ان کے سامنے چار مسلمانوں نے گواہی دی کہ ہمارے روبرو عبدالقادرنے یہ الفاظ وعظ میں کہے اور پھر حسب خواہش قاضی صاحب علماء کے فتوے بھی پیش کردئےایسی حالت میں قاضی شہر کے پیچھے نماز پڑھنا اور ان سے نکاح پڑھوانا جائز ہے یانہیں
(۵)ایك شخص نے علی الاعلان توبہ کی اس پر کفر کا فتوی منگوانا اور اس مسلمان کو کافر کہنا ایسے شخص کی بابت کیا حکم ہے
الجواب:
(۱ و ۲)صورت مستفسرہ میں بلاشبہ اس نے حضور اقدس صلی اﷲتعالی علیہ وسلم کی توہین کی اور بلاشبہہ جو حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی توہین کرے کافر ہےاور بلاشبہہ جو اس امر پر مطلع ہوکر اسے قابل امامت جانے اس کے پیچھے نماز پڑھے بلکہ وہ بھی جو اسے مسلمان جانے بنلکہ وہ بھی جو اس کے کفر میں شك کرے سب کافر و مرتد ہیں۔شفاء شریف امام قاضی عیاض ووجیز امام شمس الائمہ کردری وذخیرۃ العقبی ومجمع الانہر ودرمختار وغیرہا میں ہے:من شك فی کفرہ وعذابہ فقد کفر ۔(جو اس کے کفروعذاب میں شك کرے گا وہ کافر ہوجائے گا۔ت)
حوالہ / References
درمختار باب المرتد مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۵۶
(۳)جو مرد اس عقیدہ پر ہوں یا اس پر مطلع ہوکراس عقیدہ والے کو کافر نہ جانتے ہوں ان سب کے نکاح ٹوٹ گئےعورتیں ان سے اپنے مہر کافی الحال مطالبہ کرسکتی ہیں اور بعد عدت جس سے چاہیں اپنانکاح کرسکتی ہیں اور عورتوں میں جو کوئی اس حقیقت حال سے آگاہ ہو اور جان بوجھ کر اسے کافر نہ جانے وہ بھی کافرہ ہوگئیمگر حسب روایت مفتی بہا اپنے شوہرمسلمان کے نکاح سے نہ نکلے گی نہ اسے اختیار ہوگا کہ دوسرے سے نکاح کرےہاں ان کے شوہروں کو جائز نہ ہوگا کہ انہیں ہاتھ لگائیں جب تك وہ تائب ہوکر پھر اسلام نہ لائیں۔
(۴)قاضی مذکور کے سامنے شہادتیں پیش ہونے کا کیا ذکر جبکہ سوال میں مذکور کہ سورہ والضحی شریف دکھا کر وہ الفاظ قاضی کے سامنے کہے اس صورت میں قاضی خود اس شخص کے ان احکام میں شریك ہےاس کے پیچھے نماز محض باطل اور اس سے میل جول حرام اور اس سے نکاح پڑھوانا جائز نہیں۔
(۵)جو شخص توبہ کرچکا ہو اسپر کفر کا فتوی منگا نا سخت عذاب کااستحقاق ہے اور مسلمان کو بلاوجہ کافرکہنے پر حدیث صحیح میں ارشاد فرمایا کہ وہ کہنا اس کہنے والے ہی پر پلٹ آئے گا یعنی جب کہ بروجہ اعتقاد ہو اور بروجہ سب ودشنام تواشد کبیرہواﷲ تعالی اعلم۔اور زیادہ تفصیل ہمارے فتاوی میں ہے۔
مسئلہ۶۲: ازریاست کوٹہ راجپوتانہ مرسلہ ملامحمد رمضان پیش امام مسجد نیاپورہ مورخہ ۲ذیقعدہ ۱۳۳۵ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین کہ عبدالقادر نے حضور سرور عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی توہین کی ہے اور اس پر علماء کا فتوی کفر کاآچکا ہے اور وہ توبہ سے انکار کرتا ہے اس کا نکاح ٹوٹ گیا یانہیںاور اس کے بھائی بھتیجے اس کو مسلمان سمجھتے ہیں اور اس کے معاون ہیں ان کا نکاح بھی عندالشرع ٹوٹ گیا یانہیںاور اگر ٹوٹ گیا ہے تو ان کی مطلقہ بیویوں کا نکاح دوسرے مسلمانوں سے جائز ہے یانہیں اور وہ مطلقہ بیویاں مہر کی لین دار ہیں یانہیں اس کا جواب بحوالہ کتب معتبرہ عطا فرمایا جائےعنداﷲ ماجور ہوں گے۔
الجواب:
جو شخص حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی توہین کرے یقینا کافر ہے اس کی عورت اس کے نکاح سے نکل گئی اور جو اس کی توہین پر مطلع ہو کر اسے مسلمان جانے وہ بھی کافرہے ایسے جتنے لوگ ہوں خواہ توہین کرنے والوں کے عزیز قریب ہوں یا غیر ان سب کی عورتیں ان کے نکاح سے نکل گئیں اور فی الحال وہ اپنے
(۴)قاضی مذکور کے سامنے شہادتیں پیش ہونے کا کیا ذکر جبکہ سوال میں مذکور کہ سورہ والضحی شریف دکھا کر وہ الفاظ قاضی کے سامنے کہے اس صورت میں قاضی خود اس شخص کے ان احکام میں شریك ہےاس کے پیچھے نماز محض باطل اور اس سے میل جول حرام اور اس سے نکاح پڑھوانا جائز نہیں۔
(۵)جو شخص توبہ کرچکا ہو اسپر کفر کا فتوی منگا نا سخت عذاب کااستحقاق ہے اور مسلمان کو بلاوجہ کافرکہنے پر حدیث صحیح میں ارشاد فرمایا کہ وہ کہنا اس کہنے والے ہی پر پلٹ آئے گا یعنی جب کہ بروجہ اعتقاد ہو اور بروجہ سب ودشنام تواشد کبیرہواﷲ تعالی اعلم۔اور زیادہ تفصیل ہمارے فتاوی میں ہے۔
مسئلہ۶۲: ازریاست کوٹہ راجپوتانہ مرسلہ ملامحمد رمضان پیش امام مسجد نیاپورہ مورخہ ۲ذیقعدہ ۱۳۳۵ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین کہ عبدالقادر نے حضور سرور عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی توہین کی ہے اور اس پر علماء کا فتوی کفر کاآچکا ہے اور وہ توبہ سے انکار کرتا ہے اس کا نکاح ٹوٹ گیا یانہیںاور اس کے بھائی بھتیجے اس کو مسلمان سمجھتے ہیں اور اس کے معاون ہیں ان کا نکاح بھی عندالشرع ٹوٹ گیا یانہیںاور اگر ٹوٹ گیا ہے تو ان کی مطلقہ بیویوں کا نکاح دوسرے مسلمانوں سے جائز ہے یانہیں اور وہ مطلقہ بیویاں مہر کی لین دار ہیں یانہیں اس کا جواب بحوالہ کتب معتبرہ عطا فرمایا جائےعنداﷲ ماجور ہوں گے۔
الجواب:
جو شخص حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی توہین کرے یقینا کافر ہے اس کی عورت اس کے نکاح سے نکل گئی اور جو اس کی توہین پر مطلع ہو کر اسے مسلمان جانے وہ بھی کافرہے ایسے جتنے لوگ ہوں خواہ توہین کرنے والوں کے عزیز قریب ہوں یا غیر ان سب کی عورتیں ان کے نکاح سے نکل گئیں اور فی الحال وہ اپنے
مہر کا مطالبہ کرسکتی ہیںان عورتوں کو اختیار ہے کہ عدت کے بعد جس مسلمان سے چاہیں نکاح کرلیںواﷲ تعالی اعلم
مسئلہ۶۳: ازہوؤل ضلع گورگانوہ مرسلہ عبداﷲ شاہ
معظم ومکرم قدوۃ الفضلاء فضلانا مولانا اولانا________جناب مولانا مولوی احمد رضاخاں صاحب
دام فیوضہ بعد سلام مسنونکیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك مولوی بنام زید اور چند مسلمان امی اس کے ہمراہ ایك پادری مذہب عیسوی کے مکان پر نشست برخاست ایك وقت معین پر پادری صاحب کے مکان پر ہوا کرتی ہےبروقت نشست پادری صاحب کے یہاں کے خوردونوش میں شریك ہوتے ہیں یعنی پان و چائے وغیرہ خاص پادری صاحب کے مکان کا بناہوا کھاتے پیتے ہیں اور گفتگو وغیرہ میں یہاں تك نوبت ہوتی ہے کہ جناب سرورکائنات محمد صلی اﷲتعالی علیہ وسلم کی شان میں لفظ بے ادبانہ وہ پادری کہتا ہےیہاں تك کہ حضرت عائشہ رضی اﷲ تعالی عنہا کی شان میں افك وبہتان تك نوبت پہنچتی ہے اور حضرت زینب و زید کی شان میں لفظ گستاخانہ کرتا ہےاب دوسرے مسلمان اس مولوی سے کہتے ہیں کہ پادری کے یہاں کا اکل وشرب اچھا نہیںتو وہ یہ جواب دیتا ہے کہ کچھ حرج نہیں اور ہمارے ایمان میں کوئی فرق اور خلل نہیں آتا ہےاگر فرق آتا ہو ہم کو قرآن وحدیث سے ثبوت دوجناب مفتی صاحب یہ امر طلب ہے آیا اس مولوی کے ایمان میں خلل وفرق آیا یانہاور اس مولوی کے پیچھے اقتدا جائزہے یانہ اور کوئی گناہ ہے یانہ اور گناہ کیسا ہےصغیرہ یا کبیرہبینواتوجروا
الجواب:
اس نام کے مولوی کے ایمان میں اگر فرق نہ ہوتا تو وہ ایسے جلسوں میں شریك نہ ہوسکتا جن میں اﷲ ورسول کے ساتھ استہزاوطعن کئے جاتے ہیں وہ ثبوت مانگتا ہے اسے اگر ایمان احکام کی خبر ہوتی تو جانتا کہ قر آن عظیم اس صورت میں اس کے مثل نصاری ہونے کافتوی دے رہا ہے۔
قال اﷲ تعالی
"بشر المنفقین بان لہم عذابا الیمۨا ﴿۱۳۸﴾ الذین یتخذون الکفرین اولیاء من دون المؤمنین ایبتغون عندہم العزۃ فان العزۃ للہ جمیعا ﴿۱۳۹﴾ وقد نزل علیکم فی الکتب ان اذا سمعتم ایت اللہ یکفر بہا ویستہزا بہا فلا تقعدوا معہم حتی یخوضوا خوشخبری دو منافقوں کو کہ ان کے لئے درد ناك عذاب ہےوہ جو کافروں کے دوست بناتے ہیں مسلمانوں کے سواکیا ان کے پاس عزت ڈھونڈھتے ہیںعزت تو ساری اﷲ کے لئے اور بیشك وہ تم پرکتاب میں حکم اتارچکا ہے کہ جب تم اﷲ کی آیتوں کو سنوکہ ان کے ساتھ کفر کیا جاتا ہے اور ان کی ہنسی بنائی جاتی ہے تو ان کے پاس نہ بیٹھو جب تك وہ اور
مسئلہ۶۳: ازہوؤل ضلع گورگانوہ مرسلہ عبداﷲ شاہ
معظم ومکرم قدوۃ الفضلاء فضلانا مولانا اولانا________جناب مولانا مولوی احمد رضاخاں صاحب
دام فیوضہ بعد سلام مسنونکیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك مولوی بنام زید اور چند مسلمان امی اس کے ہمراہ ایك پادری مذہب عیسوی کے مکان پر نشست برخاست ایك وقت معین پر پادری صاحب کے مکان پر ہوا کرتی ہےبروقت نشست پادری صاحب کے یہاں کے خوردونوش میں شریك ہوتے ہیں یعنی پان و چائے وغیرہ خاص پادری صاحب کے مکان کا بناہوا کھاتے پیتے ہیں اور گفتگو وغیرہ میں یہاں تك نوبت ہوتی ہے کہ جناب سرورکائنات محمد صلی اﷲتعالی علیہ وسلم کی شان میں لفظ بے ادبانہ وہ پادری کہتا ہےیہاں تك کہ حضرت عائشہ رضی اﷲ تعالی عنہا کی شان میں افك وبہتان تك نوبت پہنچتی ہے اور حضرت زینب و زید کی شان میں لفظ گستاخانہ کرتا ہےاب دوسرے مسلمان اس مولوی سے کہتے ہیں کہ پادری کے یہاں کا اکل وشرب اچھا نہیںتو وہ یہ جواب دیتا ہے کہ کچھ حرج نہیں اور ہمارے ایمان میں کوئی فرق اور خلل نہیں آتا ہےاگر فرق آتا ہو ہم کو قرآن وحدیث سے ثبوت دوجناب مفتی صاحب یہ امر طلب ہے آیا اس مولوی کے ایمان میں خلل وفرق آیا یانہاور اس مولوی کے پیچھے اقتدا جائزہے یانہ اور کوئی گناہ ہے یانہ اور گناہ کیسا ہےصغیرہ یا کبیرہبینواتوجروا
الجواب:
اس نام کے مولوی کے ایمان میں اگر فرق نہ ہوتا تو وہ ایسے جلسوں میں شریك نہ ہوسکتا جن میں اﷲ ورسول کے ساتھ استہزاوطعن کئے جاتے ہیں وہ ثبوت مانگتا ہے اسے اگر ایمان احکام کی خبر ہوتی تو جانتا کہ قر آن عظیم اس صورت میں اس کے مثل نصاری ہونے کافتوی دے رہا ہے۔
قال اﷲ تعالی
"بشر المنفقین بان لہم عذابا الیمۨا ﴿۱۳۸﴾ الذین یتخذون الکفرین اولیاء من دون المؤمنین ایبتغون عندہم العزۃ فان العزۃ للہ جمیعا ﴿۱۳۹﴾ وقد نزل علیکم فی الکتب ان اذا سمعتم ایت اللہ یکفر بہا ویستہزا بہا فلا تقعدوا معہم حتی یخوضوا خوشخبری دو منافقوں کو کہ ان کے لئے درد ناك عذاب ہےوہ جو کافروں کے دوست بناتے ہیں مسلمانوں کے سواکیا ان کے پاس عزت ڈھونڈھتے ہیںعزت تو ساری اﷲ کے لئے اور بیشك وہ تم پرکتاب میں حکم اتارچکا ہے کہ جب تم اﷲ کی آیتوں کو سنوکہ ان کے ساتھ کفر کیا جاتا ہے اور ان کی ہنسی بنائی جاتی ہے تو ان کے پاس نہ بیٹھو جب تك وہ اور
فی حدیث غیرہ ۫ انکم اذا مثلہم ان اللہ جامع المنفقین والکفرین فی جہنم جمیعۨا ﴿۱۴۰﴾" بات میں نہ پڑیں اگر تم ان کے پاس بیٹھے تو تم بھی انہیں کی مثل ہو بیشك اﷲ کافروں اور منافقوں سب کا جہنم میں ایك ساتھ اکٹھا کرے گا۔
اس شخص کے پیچھے نماز ہر گز جائز نہیں اور وہ سخت اشد کبیرہ کا مرتکب ہے بلکہ اس کا ایمان ہی ٹھیك نہیںجیسا کہ قرآن عظیم صاف ارشادفرماچکا۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۶۴: ازککرالہ پرگنہ اوسیت ضلع بدایوں مرسلہ محمد یسین خاں خطیب ۱۱ذیقعدہ ۱۳۳۵ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اور مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك مولوی بنگالی نے کہا کہ جو کوئی نماز سنت پڑھے وہ مشرك ہےاور التحیات اور درود شریف نمازمیں پڑھنے کی کہیں سند نہیںاور اگر سند ہوتو قرآن شریف سے ثابت کرو اور نماز جنازہ کی بھی نہیں پڑھنی چاہئے اس کی بھی قرآن شریف سے سند نہیں اور حدیث کا کچھ اعتبار نہیں ازراہ عنایت جواب سے زودتر سرفراز فرمائیے۔
الجواب:
جو شخص حدیث کا منکر ہے وہ نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا منکر ہے اور جو نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا منکر ہے وہ قرآن مجید کا منکر ہے اور جو قرآن مجید کا منکر ہے اﷲ واحد قہار کا منکر ہے اور جو اﷲ کا منکر ہے صریح مرتد کافر ہے اور جو مرتدکافر ہے اسے اسلامی مسائل میں دخل دینے کا کیاحق۔ اﷲ عزوجل فرماتا ہے:
"وما اتىکم الرسول فخذوہ وما نہىکم عنہ فانتہوا " رسول جو کچھ تمہیں دیں وہ لو اور جس سے منع فرمائیں بازرہو۔
اور فرماتا ہے:
فلا وربک لا یؤمنون حتی یحکموک فیما شجر بینہم ثم لا یجدوا فی انفسہم حرجا مما قضیت ویسلموا تسلیما ﴿۶۵﴾ اے نبی!تیرے رب کی قسم وہ مسلمان نہ ہوں گے جب تك تجھے ہر اخلاقی بات میں حاکم نہ بنائیں پھر اپنے دلوں میں تیرے فیصلہ سے کچھ تنگی نہ پائیں اور اچھی طرح دل سے مان لیں۔
اس شخص کے پیچھے نماز ہر گز جائز نہیں اور وہ سخت اشد کبیرہ کا مرتکب ہے بلکہ اس کا ایمان ہی ٹھیك نہیںجیسا کہ قرآن عظیم صاف ارشادفرماچکا۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۶۴: ازککرالہ پرگنہ اوسیت ضلع بدایوں مرسلہ محمد یسین خاں خطیب ۱۱ذیقعدہ ۱۳۳۵ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اور مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك مولوی بنگالی نے کہا کہ جو کوئی نماز سنت پڑھے وہ مشرك ہےاور التحیات اور درود شریف نمازمیں پڑھنے کی کہیں سند نہیںاور اگر سند ہوتو قرآن شریف سے ثابت کرو اور نماز جنازہ کی بھی نہیں پڑھنی چاہئے اس کی بھی قرآن شریف سے سند نہیں اور حدیث کا کچھ اعتبار نہیں ازراہ عنایت جواب سے زودتر سرفراز فرمائیے۔
الجواب:
جو شخص حدیث کا منکر ہے وہ نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا منکر ہے اور جو نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا منکر ہے وہ قرآن مجید کا منکر ہے اور جو قرآن مجید کا منکر ہے اﷲ واحد قہار کا منکر ہے اور جو اﷲ کا منکر ہے صریح مرتد کافر ہے اور جو مرتدکافر ہے اسے اسلامی مسائل میں دخل دینے کا کیاحق۔ اﷲ عزوجل فرماتا ہے:
"وما اتىکم الرسول فخذوہ وما نہىکم عنہ فانتہوا " رسول جو کچھ تمہیں دیں وہ لو اور جس سے منع فرمائیں بازرہو۔
اور فرماتا ہے:
فلا وربک لا یؤمنون حتی یحکموک فیما شجر بینہم ثم لا یجدوا فی انفسہم حرجا مما قضیت ویسلموا تسلیما ﴿۶۵﴾ اے نبی!تیرے رب کی قسم وہ مسلمان نہ ہوں گے جب تك تجھے ہر اخلاقی بات میں حاکم نہ بنائیں پھر اپنے دلوں میں تیرے فیصلہ سے کچھ تنگی نہ پائیں اور اچھی طرح دل سے مان لیں۔
نماز سنت و جنازہ اور التحیات ودرود سب کا حکم کلام اﷲ شریف میں صراحۃ موجود مگر:
" و من لم یجعل اللہ لہ نورا فما لہ من نور ﴿۴۰﴾ " ۔ جسے اﷲنے نورنہ دیا اس کے لئے کہیں نور نہیں۔
پہلے یہ منکر بتائے کہ پانچ نمازوں کا ثبوت کلام اﷲشریف میں کہاں ہےاور صبح کی دورکعتیںمغرب کی تین رکعتیںباقی کی چار چاران کا ذکر کلام اﷲ شریف میں کہاں ہےاور نمازوں کی ترتیب کہ پہلے قیام اور اس میں قرأت پھر رکوع پھر سجود پھر قعود قرآن مجید میں کہاں ہےوقتوں کی ابتداء وانتہا کہ فجر کا وقت طلوع صبح سے شروع ہوکر طلوع شمس پر ختم ہوتا ہےاور ظہر کا زوال شمس سے سایہ اصلی کے سوا ایك مثل یا دو مثل سایہ ہونے تك اس کا ذکر قرآن مجید میں کہاں ہےوضو کی ناقض یہ یہ چیزیں ہیں اور غسل کی یہ یہاور نماز ان چیزوں سے فاسد ہوتی ہے ان کی تفصیل قرآن مجید میں کہاں ہے۔جب وہ ان سوالوں سے عاجز ہوگا اور اپنے کفر وجہل کا اقرار کرکے تائب ہوگا اس وقت ہم اسے بتادیں گے جن چیزوں کا وہ منکر ہے وہ سب قرآن مجید سے ثابت ہے اور ساتھ یہ بتائے کہ اس نے اس قرآن موجود کوبے کم وبیش قرآن منزل من اﷲ کیونکر ماناکیااﷲخود اسکے ہاتھ میں دے گیااور جب یہ نہیں تو دلیل دے اور سمجھ رکھے کہ اس دلیل سے جو کچھ ثابت ہوگاسب ماننا پڑے گا ورنہ قرآن بھی ہاتھ سے کھوئے گاکھویا تو ہے ہی جھوٹے زبانی اقرار سے بھی ہاتھ دھوئے گا"ان اللہ لا یہدی القوم الفسقین ﴿۶﴾" (بیشك اﷲ فاسقوں کو راہ نہیں دیتا۔ت)یہ مسائل جن کا ثبوت ہم نے قرآن عظیم سے دینا اس کے ذمہ لازم کیا ہے اس طرح لکھے جس طرح ہم مسلمانوں میں ہےاسکے نزدیك اگر اور طور پر ہوں تو جس طرح اس کے اعتقاد میں ہیں نماز میں کیاکیا فرائض ہیںان کی ترتیب اور پڑھنے کی ترکیب کیاہےوضووغسل کی ناقض کیا کیا ہیںہروقت کی نماز میں کے رکعتیں ہیںکس کس چیز سے فاسد ہوتی ہے۔واﷲ تعالی ا علم۔
مسئلہ۶۵: شبہہ پیش کردہ بعض اہل علم ۲۵ربیع الآخر شریف ۱۳۳۵ھ
بلاشبہہ اشرف علی تھانوی اپنی عبارت خفض الایمان میں حق کا معاند ہےمگر تکفیر میں یہ شبہہ ہے کہ وہ علوم غیبیہ حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کاانکار نہیں کرتا بلکہ اطلاق لفظ عالم الغیب کا تیسری شق جو مصحح ثبوت علوم کثیرہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ہے اس نے دھوکا دینے کے لئے قصدا
" و من لم یجعل اللہ لہ نورا فما لہ من نور ﴿۴۰﴾ " ۔ جسے اﷲنے نورنہ دیا اس کے لئے کہیں نور نہیں۔
پہلے یہ منکر بتائے کہ پانچ نمازوں کا ثبوت کلام اﷲشریف میں کہاں ہےاور صبح کی دورکعتیںمغرب کی تین رکعتیںباقی کی چار چاران کا ذکر کلام اﷲ شریف میں کہاں ہےاور نمازوں کی ترتیب کہ پہلے قیام اور اس میں قرأت پھر رکوع پھر سجود پھر قعود قرآن مجید میں کہاں ہےوقتوں کی ابتداء وانتہا کہ فجر کا وقت طلوع صبح سے شروع ہوکر طلوع شمس پر ختم ہوتا ہےاور ظہر کا زوال شمس سے سایہ اصلی کے سوا ایك مثل یا دو مثل سایہ ہونے تك اس کا ذکر قرآن مجید میں کہاں ہےوضو کی ناقض یہ یہ چیزیں ہیں اور غسل کی یہ یہاور نماز ان چیزوں سے فاسد ہوتی ہے ان کی تفصیل قرآن مجید میں کہاں ہے۔جب وہ ان سوالوں سے عاجز ہوگا اور اپنے کفر وجہل کا اقرار کرکے تائب ہوگا اس وقت ہم اسے بتادیں گے جن چیزوں کا وہ منکر ہے وہ سب قرآن مجید سے ثابت ہے اور ساتھ یہ بتائے کہ اس نے اس قرآن موجود کوبے کم وبیش قرآن منزل من اﷲ کیونکر ماناکیااﷲخود اسکے ہاتھ میں دے گیااور جب یہ نہیں تو دلیل دے اور سمجھ رکھے کہ اس دلیل سے جو کچھ ثابت ہوگاسب ماننا پڑے گا ورنہ قرآن بھی ہاتھ سے کھوئے گاکھویا تو ہے ہی جھوٹے زبانی اقرار سے بھی ہاتھ دھوئے گا"ان اللہ لا یہدی القوم الفسقین ﴿۶﴾" (بیشك اﷲ فاسقوں کو راہ نہیں دیتا۔ت)یہ مسائل جن کا ثبوت ہم نے قرآن عظیم سے دینا اس کے ذمہ لازم کیا ہے اس طرح لکھے جس طرح ہم مسلمانوں میں ہےاسکے نزدیك اگر اور طور پر ہوں تو جس طرح اس کے اعتقاد میں ہیں نماز میں کیاکیا فرائض ہیںان کی ترتیب اور پڑھنے کی ترکیب کیاہےوضووغسل کی ناقض کیا کیا ہیںہروقت کی نماز میں کے رکعتیں ہیںکس کس چیز سے فاسد ہوتی ہے۔واﷲ تعالی ا علم۔
مسئلہ۶۵: شبہہ پیش کردہ بعض اہل علم ۲۵ربیع الآخر شریف ۱۳۳۵ھ
بلاشبہہ اشرف علی تھانوی اپنی عبارت خفض الایمان میں حق کا معاند ہےمگر تکفیر میں یہ شبہہ ہے کہ وہ علوم غیبیہ حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کاانکار نہیں کرتا بلکہ اطلاق لفظ عالم الغیب کا تیسری شق جو مصحح ثبوت علوم کثیرہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ہے اس نے دھوکا دینے کے لئے قصدا
چھپالی اور زید پر براہ فریب و مغالطہ ایك الزامی ایراد قائم کیا اس سے وہ حق کا معاند ضرور ہے مگر کافر نہ ہوا ہم اسے دیکھتے ہیں کہ وہ خشوع وخضوع سے نماز پڑھتا ہے وہ نبی صلی اﷲتعالی علیہ وسلم کی توہین کرتا۔
الجواب:
اشرف علی تھانوی سے زیادہ اپنی مراد کون بتاسکتا ہے اس نے جو عرق ریزی وحرکت مذبوجی"بسط البنان"میں کی اس پر شدید قاہر الہی رد"وقعات السنان"وغیرہ میں ملاحظہ ہوںمگر ایك ذی علم کے لئے کشف شبہہ کا اس سے بہتر کوئی طریقہ نہیں کہ یہ سوال حاضر کیا جاتا ہے جس میں سراسر عبارت خفض الایمان کا پورا چربہ ہے اس کا جواب دیتے بلکہ ان شاء اﷲتعالی ملاحظہ کرتے ہی کھل جائے گا اورشبہہ کا وسوسہ دھواں ہوکر اڑجائے گا وباﷲ التوفیق۔
سوال یہ ہے کہ کیا فرماتے ہیں اس مسئلہ میں کہ زید نے حمد الہی میں کہا اے سخی داتا الہ العلمین اس پر حمید وولیددو شخصوں نے اعتراض کیا۔حمیدیہ ناجائز ہے اسمائے الہی تو قیفی ہیں اﷲ عزوجل کو جواد کہا جائے گا سخی کہنا جائز نہیںحواشی حاشیہ خیالی علی شرح العقائد النسفی میں اس کی تصریح ہے۔ولید:اﷲ عزوجل کی ذات مقدسہ پر سخاوت کا حکم کیا جانا اگر بقول زید صحیح ہوتو دریافت طلب امریہ ہے کہ اس سخاوت سے مراد بعض عطا ہےیعنی کبھی نہ کبھی کسی نہ کسی شخص کو کچھ نہ کچھ دے دینا اگرچہ ایك نوالہ یا ایك کوڑی یا کل عطا کہ کسی سائل کا کوئی سوال کبھی نہ پھیرا جائے ہمیشہ جو کچھ مانگے اسے دیا جائے اگر بعض مراد ہے تو اس میں اﷲ تعالی کی کیا تخصیص ہے ایسی سخاوت تو زید عمرو ہر ذلیل ورذیل ہر بھنگی چمار کو بھی حاصل ہے کیونکہ ہر شخص سے کسی نہ کسی چیز کا دینا واقع ہوتا ہے تو چاہئے کہ سب کو سخی داتا کہا جائے پھر اگر زید اس کا التزام کرے کہ ہاں میں سب کو سخی داتا کہوں گا تو پھر سخاوت کو منجملہ کمالات الہیہ شمار کیوں کیا جاتا ہےجس امر میں مومن بلکہ شریف شخص کی بھی خصوصیت نہ ہو وہ کمالات الوہیت سے کب ہوسکتا ہے اوراگرالتزام نہ کیا جائے تو خداوغیرخدامیں وجہ فرق بیان کرنا ضرور ہے اور اگر تمام عطایا مراد ہیں اس طرح کہ اس کا ایك فرد بھی خارج نہ رہے تو اس کا بطلان دلیل نقلی وعقلی سے ثابت ہے انتہی۔ولید کے اس کلام پر حمید اکابر علمائے کرام نے کفر صریح ہونے کا حکم کیاسعید کو اس میں یہ شبہات ہیں ہم دیکھتے ہیںولید خشوع خضوع سے نماز پڑھتا ہے وہ اﷲ تعالی کی توہین کرتااس کا مقصود اطلاق لفظ سخی پر انکار ہے نہ کہ عطائے الہی کا ابطال تیسری شق جو مصحح ثبوت عطائے الہیہ ہے اس نے دھوکا دینے کے لئے قصدا چھپالی اور زید پر براہ فریب مغالطہ ایك الزامی ایراد قائم کیا اس سے وہ حق کا معاند ضرور ہے مگر کافر نہ ہوااب علمائے کرام سے استفسار ہے کہ:
الجواب:
اشرف علی تھانوی سے زیادہ اپنی مراد کون بتاسکتا ہے اس نے جو عرق ریزی وحرکت مذبوجی"بسط البنان"میں کی اس پر شدید قاہر الہی رد"وقعات السنان"وغیرہ میں ملاحظہ ہوںمگر ایك ذی علم کے لئے کشف شبہہ کا اس سے بہتر کوئی طریقہ نہیں کہ یہ سوال حاضر کیا جاتا ہے جس میں سراسر عبارت خفض الایمان کا پورا چربہ ہے اس کا جواب دیتے بلکہ ان شاء اﷲتعالی ملاحظہ کرتے ہی کھل جائے گا اورشبہہ کا وسوسہ دھواں ہوکر اڑجائے گا وباﷲ التوفیق۔
سوال یہ ہے کہ کیا فرماتے ہیں اس مسئلہ میں کہ زید نے حمد الہی میں کہا اے سخی داتا الہ العلمین اس پر حمید وولیددو شخصوں نے اعتراض کیا۔حمیدیہ ناجائز ہے اسمائے الہی تو قیفی ہیں اﷲ عزوجل کو جواد کہا جائے گا سخی کہنا جائز نہیںحواشی حاشیہ خیالی علی شرح العقائد النسفی میں اس کی تصریح ہے۔ولید:اﷲ عزوجل کی ذات مقدسہ پر سخاوت کا حکم کیا جانا اگر بقول زید صحیح ہوتو دریافت طلب امریہ ہے کہ اس سخاوت سے مراد بعض عطا ہےیعنی کبھی نہ کبھی کسی نہ کسی شخص کو کچھ نہ کچھ دے دینا اگرچہ ایك نوالہ یا ایك کوڑی یا کل عطا کہ کسی سائل کا کوئی سوال کبھی نہ پھیرا جائے ہمیشہ جو کچھ مانگے اسے دیا جائے اگر بعض مراد ہے تو اس میں اﷲ تعالی کی کیا تخصیص ہے ایسی سخاوت تو زید عمرو ہر ذلیل ورذیل ہر بھنگی چمار کو بھی حاصل ہے کیونکہ ہر شخص سے کسی نہ کسی چیز کا دینا واقع ہوتا ہے تو چاہئے کہ سب کو سخی داتا کہا جائے پھر اگر زید اس کا التزام کرے کہ ہاں میں سب کو سخی داتا کہوں گا تو پھر سخاوت کو منجملہ کمالات الہیہ شمار کیوں کیا جاتا ہےجس امر میں مومن بلکہ شریف شخص کی بھی خصوصیت نہ ہو وہ کمالات الوہیت سے کب ہوسکتا ہے اوراگرالتزام نہ کیا جائے تو خداوغیرخدامیں وجہ فرق بیان کرنا ضرور ہے اور اگر تمام عطایا مراد ہیں اس طرح کہ اس کا ایك فرد بھی خارج نہ رہے تو اس کا بطلان دلیل نقلی وعقلی سے ثابت ہے انتہی۔ولید کے اس کلام پر حمید اکابر علمائے کرام نے کفر صریح ہونے کا حکم کیاسعید کو اس میں یہ شبہات ہیں ہم دیکھتے ہیںولید خشوع خضوع سے نماز پڑھتا ہے وہ اﷲ تعالی کی توہین کرتااس کا مقصود اطلاق لفظ سخی پر انکار ہے نہ کہ عطائے الہی کا ابطال تیسری شق جو مصحح ثبوت عطائے الہیہ ہے اس نے دھوکا دینے کے لئے قصدا چھپالی اور زید پر براہ فریب مغالطہ ایك الزامی ایراد قائم کیا اس سے وہ حق کا معاند ضرور ہے مگر کافر نہ ہوااب علمائے کرام سے استفسار ہے کہ:
(۱)آیا کلام ولید میں اس تاویل کی گنجائش ہے
(۲)محض لفظ سخی کے اطلاق پر انکار وہ تھا جو حمید نے کیا یا یہ جو ولید نے کہا
(۳)منشائے اطلاق یعنی عطا کو دو شقوں میں منحصر کردینا ایك وہ کہ خدا میں بھی نہیں دوسرے وہ کہ بھنگی چمار میں ہے اور اس بناپراسے کمالات الہیہ سے نہ جاننا اور خد ااوراس کے غیر ہر بھنگی چمار میں فرق پوچھنا محض اطلاق لفظ سخی کا انکار ہوگا یااﷲ عزوجل کی صفت کمالیہ عطا کاصریح ابطال ہوگا
(۴)اس تقریر سے عطا کو کمالات الہیہ سے نہ جاننا اور خدا اور بھنگی چمار میں فرق پوچھنا اور اﷲتعالی کی خصوصیت نہ جاننا ہر بھنگی چمار کے لئے بھی حاصل ماننا یہ توہین شان عزت ہے یانہیں
(۵)اس کلام کے سننے سے کسی طرح کسی کا ذہن اس طرف جاسکتا ہے کہ یہ ابطال عطائے الہی نہیں نہ اس کے کمال پر حملہ نہ اس قسم عطا میں جو اسے حاصل ہےاس کی خصوصیت کا انکار نہ ہر بھنگی چمار کی اس میں شرکت کا اظہار بلکہ باوصف صحت معنی وحصول مبنی صرف بالخصوص لفظ سخی پر انکار ہے۔
(۶)جو معنی کسی طرح کلام سے مفہوم نہ ہو سکیں کیا ان کی طرف پھیرنا کفر کانافی ہوسکتا ہےشفائے امام قاضی عیاض وغیرہ کتب معتمدہ ائمہ میں تصریح ہے کہ التاویل فی لفظ صراح لایقبل (صریح الفاظ میں تاویل مقبول نہیں ہوتی۔ت)ایسی تاویل مسموع ہوتو کوئی کلام کفر نہ ٹھہرسکے"اردت برسول اﷲ العقرب"(میں نے رسول اﷲ سے مراد بچھو لیا ہے۔ت)کی تاویل اس تاویل سے قریب تر ہے یانہیں کہ بلاشبہہ عقرب بھی خداہی کا بھیجا ہوا ہے۔
(۷)صحیح بخاری شریف میں حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا ارشاد کہ ذلك اخبات النفاق (یہ نفاق کا خضوع ہے۔ ت)اس خشوع وخضوع کا جواب کافی ہے یا یہ کہ کوئی کیسا ہی کفر کرے جب بعض اعمال صالحہ کرتا ہو کافر نہیں ہوسکتا۔ بینو اتوجروا۔
مسئلہ۶۶: ازیازیدپور ضلع پٹنہ مرسلہ عبدالصمد صاحب ۲۱محرم الحرام ۱۳۳۶ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین کہ امکان نسخ نہیں بلکہ وقوع نسخ کا ماننا فرض ہے یا واجب یا مستحب جس کو دوسرے لفظوں میں یوں صاف کرسکتے ہیں کہ وقوع نسخ پر دلیل قطعی یعنی آیت قرآنی یاحدیث متواتر ہے یا دلیل ظنی ہے اس کا منکر کافر ہوگایا فاسق بینوا توجروا
(۲)محض لفظ سخی کے اطلاق پر انکار وہ تھا جو حمید نے کیا یا یہ جو ولید نے کہا
(۳)منشائے اطلاق یعنی عطا کو دو شقوں میں منحصر کردینا ایك وہ کہ خدا میں بھی نہیں دوسرے وہ کہ بھنگی چمار میں ہے اور اس بناپراسے کمالات الہیہ سے نہ جاننا اور خد ااوراس کے غیر ہر بھنگی چمار میں فرق پوچھنا محض اطلاق لفظ سخی کا انکار ہوگا یااﷲ عزوجل کی صفت کمالیہ عطا کاصریح ابطال ہوگا
(۴)اس تقریر سے عطا کو کمالات الہیہ سے نہ جاننا اور خدا اور بھنگی چمار میں فرق پوچھنا اور اﷲتعالی کی خصوصیت نہ جاننا ہر بھنگی چمار کے لئے بھی حاصل ماننا یہ توہین شان عزت ہے یانہیں
(۵)اس کلام کے سننے سے کسی طرح کسی کا ذہن اس طرف جاسکتا ہے کہ یہ ابطال عطائے الہی نہیں نہ اس کے کمال پر حملہ نہ اس قسم عطا میں جو اسے حاصل ہےاس کی خصوصیت کا انکار نہ ہر بھنگی چمار کی اس میں شرکت کا اظہار بلکہ باوصف صحت معنی وحصول مبنی صرف بالخصوص لفظ سخی پر انکار ہے۔
(۶)جو معنی کسی طرح کلام سے مفہوم نہ ہو سکیں کیا ان کی طرف پھیرنا کفر کانافی ہوسکتا ہےشفائے امام قاضی عیاض وغیرہ کتب معتمدہ ائمہ میں تصریح ہے کہ التاویل فی لفظ صراح لایقبل (صریح الفاظ میں تاویل مقبول نہیں ہوتی۔ت)ایسی تاویل مسموع ہوتو کوئی کلام کفر نہ ٹھہرسکے"اردت برسول اﷲ العقرب"(میں نے رسول اﷲ سے مراد بچھو لیا ہے۔ت)کی تاویل اس تاویل سے قریب تر ہے یانہیں کہ بلاشبہہ عقرب بھی خداہی کا بھیجا ہوا ہے۔
(۷)صحیح بخاری شریف میں حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا ارشاد کہ ذلك اخبات النفاق (یہ نفاق کا خضوع ہے۔ ت)اس خشوع وخضوع کا جواب کافی ہے یا یہ کہ کوئی کیسا ہی کفر کرے جب بعض اعمال صالحہ کرتا ہو کافر نہیں ہوسکتا۔ بینو اتوجروا۔
مسئلہ۶۶: ازیازیدپور ضلع پٹنہ مرسلہ عبدالصمد صاحب ۲۱محرم الحرام ۱۳۳۶ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین کہ امکان نسخ نہیں بلکہ وقوع نسخ کا ماننا فرض ہے یا واجب یا مستحب جس کو دوسرے لفظوں میں یوں صاف کرسکتے ہیں کہ وقوع نسخ پر دلیل قطعی یعنی آیت قرآنی یاحدیث متواتر ہے یا دلیل ظنی ہے اس کا منکر کافر ہوگایا فاسق بینوا توجروا
حوالہ / References
الشفابتعریف حقوق المصطفٰی القسم الرابع فی تصرف وجوہ الاحکام مطبع شرکت صحافیہ ۲/ ۲۰۹
مجمع الزوائد باب الاعمال بالخواتیم دارالکتاب بیروت ۷/ ۲۱۴
مجمع الزوائد باب الاعمال بالخواتیم دارالکتاب بیروت ۷/ ۲۱۴
الجواب:
وقوع نسخ بلاشبہہ قطعیات سے ثابت بلکہ باعتبار شرائع سابقہ ضروریات دین سے ہے اور اس کا منکر کافر ہےواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۶۷: ازبجوواڑہ مرسلہ حاجی عبداللطیف ۱۱ربیع الاول شریف ۱۳۳۶ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك عورت اور مرد میں سے کسی سے بے علمی کی وجہ سے ایسا کلمہ منہ سے نکل جائے کہ کفر میں شمار ہوتو طلاق ہوجاتی ہے یانہیںاور اگر ایسا ہوجائے تو کیا کرنا چاہئے کیونکہ ظاہر نکاح دوسری بار پڑھانے سے شرم کرتا ہو تو بغیر گواہ کے ایسا نکاح پھر درست ہوسکتا ہے یانہیں کہ صرف مرد عورت دونوں ہی نکاح قائم کرلیں کہ کوئی صورت آسان ہوتو بتلائیں کیونکہ اکثر لوگ بے علمی کی وجہ سے کوئی کلام کہہ دیتے ہیں اور وہ کفر ہوتا ہے اور ان کو کچھ معلوم نہیں ہوتا ہے۔
الجواب:
معاذاﷲ جس سے کلمہ کفر صادر ہواسے بعد توبہ تجدید نکاح کا حکم ضرور ہے نکاح بغیر دوگواہوں کے نہیں ہوسکتادو مرد یا ایك مرد دو عورتیں عاقل بالغ آزاد اور مسلمانعورت کے نکاح میں ان کا مسلمان ہو نا بھی شرط ہے وہ ایجاب وقبول کو ایك سلسلے میں سنیں اور سمجھیں کہ یہ نکاح ہو رہا ہے بغیر اس کے نکاح نہیں ہوسکتاہاں یہ کچھ ضرور نہیں کہ وہ غیر ہی لوگ ہوںزن وشوہر کے جوان بیٹابیٹیبہنبھائینوکر چاکر ان میں سے اگر دو مردوں یا ایك مرد دو عورتوں کے سامنے ایجاب وقبول کرلیں کافی ہےاور تجدید نکاح کوئی شرم کی بات نہیںیہ وسوسہ شیطانی ہےشرم کی بات یہ ہے کہ نکاح میں خلل پڑجائے اور بغیر تجدید کے زن و شوہر کا علاقہ باقی رکھیں۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۶۸: ازانجمن اسلامیہ بھرت پور مرسلہ حافظ عبدالوہاب خاں ٹونکی ۱۶ربیع الاول شریف ۱۳۳۶ھ
یہاں ایك مولوی صاحب نے اثنائے وعظ میں فرمایا کہ حضرت عثمان غنی(رضی اﷲ عنہ)کی لاش مبارك شہادت کے بعد کئی روزتك نہایت ناگفتہ بہ حالت میں رہی اور آپ کی ایك ٹانگ(نعوذباﷲ)کتوں نے چباڈالیمولوی صاحب اور ان کے مقلدین اس واقعہ کو تاریخی واقعہ بتاتے ہیںیہاں کوئی ایسا عالم نہیں جو اس واقعہ کے متعلق صحت کرسکےاسلئے عرض ہے کہ بواپسی اس واقعہ کے اصلی حالت سے اطلاع دیںاگر صحیح ہے تو کسی معتبر کتاب سے پتہ چل سکتا ہےاگرغلط ہے تو کس فرقہ کا عقیدہ ہے
الجواب:
امام حافظ الشان ابن حجر عسقلانی رحمۃ اﷲ تعالی علیہ کتاب الاصابہ فی تمییزالصحابہ میں فرماتے ہیں:
وقوع نسخ بلاشبہہ قطعیات سے ثابت بلکہ باعتبار شرائع سابقہ ضروریات دین سے ہے اور اس کا منکر کافر ہےواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۶۷: ازبجوواڑہ مرسلہ حاجی عبداللطیف ۱۱ربیع الاول شریف ۱۳۳۶ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك عورت اور مرد میں سے کسی سے بے علمی کی وجہ سے ایسا کلمہ منہ سے نکل جائے کہ کفر میں شمار ہوتو طلاق ہوجاتی ہے یانہیںاور اگر ایسا ہوجائے تو کیا کرنا چاہئے کیونکہ ظاہر نکاح دوسری بار پڑھانے سے شرم کرتا ہو تو بغیر گواہ کے ایسا نکاح پھر درست ہوسکتا ہے یانہیں کہ صرف مرد عورت دونوں ہی نکاح قائم کرلیں کہ کوئی صورت آسان ہوتو بتلائیں کیونکہ اکثر لوگ بے علمی کی وجہ سے کوئی کلام کہہ دیتے ہیں اور وہ کفر ہوتا ہے اور ان کو کچھ معلوم نہیں ہوتا ہے۔
الجواب:
معاذاﷲ جس سے کلمہ کفر صادر ہواسے بعد توبہ تجدید نکاح کا حکم ضرور ہے نکاح بغیر دوگواہوں کے نہیں ہوسکتادو مرد یا ایك مرد دو عورتیں عاقل بالغ آزاد اور مسلمانعورت کے نکاح میں ان کا مسلمان ہو نا بھی شرط ہے وہ ایجاب وقبول کو ایك سلسلے میں سنیں اور سمجھیں کہ یہ نکاح ہو رہا ہے بغیر اس کے نکاح نہیں ہوسکتاہاں یہ کچھ ضرور نہیں کہ وہ غیر ہی لوگ ہوںزن وشوہر کے جوان بیٹابیٹیبہنبھائینوکر چاکر ان میں سے اگر دو مردوں یا ایك مرد دو عورتوں کے سامنے ایجاب وقبول کرلیں کافی ہےاور تجدید نکاح کوئی شرم کی بات نہیںیہ وسوسہ شیطانی ہےشرم کی بات یہ ہے کہ نکاح میں خلل پڑجائے اور بغیر تجدید کے زن و شوہر کا علاقہ باقی رکھیں۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۶۸: ازانجمن اسلامیہ بھرت پور مرسلہ حافظ عبدالوہاب خاں ٹونکی ۱۶ربیع الاول شریف ۱۳۳۶ھ
یہاں ایك مولوی صاحب نے اثنائے وعظ میں فرمایا کہ حضرت عثمان غنی(رضی اﷲ عنہ)کی لاش مبارك شہادت کے بعد کئی روزتك نہایت ناگفتہ بہ حالت میں رہی اور آپ کی ایك ٹانگ(نعوذباﷲ)کتوں نے چباڈالیمولوی صاحب اور ان کے مقلدین اس واقعہ کو تاریخی واقعہ بتاتے ہیںیہاں کوئی ایسا عالم نہیں جو اس واقعہ کے متعلق صحت کرسکےاسلئے عرض ہے کہ بواپسی اس واقعہ کے اصلی حالت سے اطلاع دیںاگر صحیح ہے تو کسی معتبر کتاب سے پتہ چل سکتا ہےاگرغلط ہے تو کس فرقہ کا عقیدہ ہے
الجواب:
امام حافظ الشان ابن حجر عسقلانی رحمۃ اﷲ تعالی علیہ کتاب الاصابہ فی تمییزالصحابہ میں فرماتے ہیں:
قال الزبیر بن بکار بویع یوم الاثنین للیلۃ بقیت من ذی الحجۃ سنۃ ثلاث وعشرین وقتل یوم الجمعۃ لثمان عشرۃ خلت من ذی الحجۃ بعد العصر ودفن لیلۃ السبت بین المغرب والعشاء ۔ (حضرت زبیر بن بکار کا بیان ہے۔ت)یعنی امیرالمومنین عثمان غنی رضی اﷲتعالی عنہ کی بیعت یوم الاثنین ذی الحجہ کی آخری شب ۲۳ہجری کو کی گئی ۱۸ذی الحجہ ۳۵ھ روز جمعہ بعد عصر شہید ہوئے اور اسی شام کو مغرب کے بعد عشاء سے پہلے دفن ہوئے۔
شاہ عبدالعزیز صاحب نے تحفہ اثناعشریہ میں امیرالمومنین ذوالنورین رضی اﷲ تعالی عنہم پر رافضیوں کے دسویں طعن میں ان ملاعین سے نقل کیا کہ:
"بعداز قتل اوراسہ روز اوفتادہ گزاشتند وبدفن او نپر داختند "۔ قتل کے بعدانہیں تین دن تك ایسے ہی پھینك دیا گیا اور دفن نہ ہونے دیا گیا۔(ت)
وہ کتوں کا لفظ اس طعن میں بھی نہیںپھر جواب میں بہت روایات ذکر کرکے فرمایا:
ازیں روایات مشہورہ متعدد ہ ثابت شد کہ تاسہ روز اوفتادہ ماندن لاش عثمان(رضی اﷲ تعالی عنہ)محض افتراء ودروغ ست ودرجمیع تواریخ تکذیب آں موجودست زیراکہ باجماع مؤرخین شہادت عثمان(رضی اﷲ تعالی عنہ)بعد از عصر روز جمعہ ہیژ دہم ذی الحجہ واقعہ شدہ است ودفن اودربقیع شب شنبہ وقوع یافت بلاشبہ انتہی ۔
ورأیتنی کتبت فی بعض تعلیقاتی الحدیثیۃ وھذا ایضا تجاوز نعم لاتقبل المناکیر المنکرات فی مقابلۃ المشہورات المقبولات ان تمام مشہور روایات سے ثابت ہورہا ہے کہ حضرت عثمان(رضی اﷲ عنہ)کی لاش کا تین دن تك پڑے رہنے کا واقعہ محض افتراء اور جھوٹ ہے اور تمام کتب تاریخ میں اس کی تکذیب موجود ہے کیونکہ تمام مورخین کا اتفاق ہے کہ حضرت عثمان(رضی اﷲعنہ)کی شہادت ۱۸ ذو الحجہ بروز جمعۃ المبارك بعد نماز عصر ہوئی اور بلاشبہہ ہفتہ کی رات بقیع شریف میں تدفین ہوئی انتہی۔(ت)
مجھے یا دپڑتا ہے کہ میں نے بھی اپنے بعض حواشی میں یہی بات لکھی ہے اور یہ بھی تجاوز ہے ہاں مشہور ومقبول روایات کے مقابلے میں مناکیرو
شاہ عبدالعزیز صاحب نے تحفہ اثناعشریہ میں امیرالمومنین ذوالنورین رضی اﷲ تعالی عنہم پر رافضیوں کے دسویں طعن میں ان ملاعین سے نقل کیا کہ:
"بعداز قتل اوراسہ روز اوفتادہ گزاشتند وبدفن او نپر داختند "۔ قتل کے بعدانہیں تین دن تك ایسے ہی پھینك دیا گیا اور دفن نہ ہونے دیا گیا۔(ت)
وہ کتوں کا لفظ اس طعن میں بھی نہیںپھر جواب میں بہت روایات ذکر کرکے فرمایا:
ازیں روایات مشہورہ متعدد ہ ثابت شد کہ تاسہ روز اوفتادہ ماندن لاش عثمان(رضی اﷲ تعالی عنہ)محض افتراء ودروغ ست ودرجمیع تواریخ تکذیب آں موجودست زیراکہ باجماع مؤرخین شہادت عثمان(رضی اﷲ تعالی عنہ)بعد از عصر روز جمعہ ہیژ دہم ذی الحجہ واقعہ شدہ است ودفن اودربقیع شب شنبہ وقوع یافت بلاشبہ انتہی ۔
ورأیتنی کتبت فی بعض تعلیقاتی الحدیثیۃ وھذا ایضا تجاوز نعم لاتقبل المناکیر المنکرات فی مقابلۃ المشہورات المقبولات ان تمام مشہور روایات سے ثابت ہورہا ہے کہ حضرت عثمان(رضی اﷲ عنہ)کی لاش کا تین دن تك پڑے رہنے کا واقعہ محض افتراء اور جھوٹ ہے اور تمام کتب تاریخ میں اس کی تکذیب موجود ہے کیونکہ تمام مورخین کا اتفاق ہے کہ حضرت عثمان(رضی اﷲعنہ)کی شہادت ۱۸ ذو الحجہ بروز جمعۃ المبارك بعد نماز عصر ہوئی اور بلاشبہہ ہفتہ کی رات بقیع شریف میں تدفین ہوئی انتہی۔(ت)
مجھے یا دپڑتا ہے کہ میں نے بھی اپنے بعض حواشی میں یہی بات لکھی ہے اور یہ بھی تجاوز ہے ہاں مشہور ومقبول روایات کے مقابلے میں مناکیرو
حوالہ / References
الاصابہ فی تمییز الصحابہ باب عثمان رضی اﷲعنہ دارصادر بیروت ۲/ ۴۶۳
تحفہ اثنا عشریہ مطاعن عثمان رضی اﷲعنہ طعن دہم سہیل اکیڈمی لاہور ۱/ ۳۲۶
تحفہ اثنا عشریہ مطاعن عثمان رضی اﷲعنہ طعن دہم سہیل اکیڈمی لاہور ۱/ ۳۲۹
تحفہ اثنا عشریہ مطاعن عثمان رضی اﷲعنہ طعن دہم سہیل اکیڈمی لاہور ۱/ ۳۲۶
تحفہ اثنا عشریہ مطاعن عثمان رضی اﷲعنہ طعن دہم سہیل اکیڈمی لاہور ۱/ ۳۲۹
واﷲتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔ منکرات مقبول نہیں ہوتیں۔واﷲ تعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم(ت)
مسئلہ۶۹: از شہر مالیگاؤں محلہ قلعہ قریب مسجد کلاں مرسلہ محمد صادق صاحب ۳ربیع الآخر ۱۳۳۶ھ
اگر کوئی شخص آیات قرآنی کو نہ مانے تو وہ شخص گناہگارہوگا یا نہیںاگر ہوتا ہے تو کس درجہ کااور نماز اس کے پیچھے کیسی ہوتی ہے
الجواب:
آیت کو نہ ماننا یعنی انکار کرنا کفرہے اس کے پیچھے نماز کیسیمگر عوام نہ ماننا اسے بھی کہتے ہیں کہ گناہ خلاف آیت قرآنی واقع ہوا ور اسے آیت سنائی گئی اور وہ اپنے گناہ سے باز نہ آیا یہ بازنہ آنا اگرمحض شامت نفس سے ہوآیت پر ایمان رکھتا ہےنہ اس سے انکار کرتا ہے نہ اس کا مقابلہ کرتا ہے تو گناہ ہے کفر نہیںپھر اگر وہ گناہ خود کبیرہ ہو یا بوجہ عادت کبیرہ ہوجائے اور یہ شخص اعلان کے ساتھ اس کا مرتکب ہو تو فاسق معلن ہے اس کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی یعنی پڑھنی گناہ اور پڑھی ہوتو پھیرنی واجبواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۷۰: از چندوسی حسینی بازار مرسلہ غلام حسین صاحب ۳ربیع الآخر ۱۳۳۶ھ
بسم اﷲ الرحمن الرحیمالحمدﷲ العلی العظیم والصلوۃ علی النبی الکریم والہ وصحبہ المکرمین امین! (کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ چندوسی میں مسلمانوں نے ہنودمشرکین سے اتفاق کرنے میں یہ آثار ظاہر کئے کہ سوائے نوبت نقارے نوازی اور ناچ رنگ نا مشروع کے ایسا مبالغہ اور عروج ان کی رسوم جلادینے میں کہ بعض فریق تلک قشقہسندے برہمنوں کے ہاتھ سے اپنی پیشانی پر کھنچوا کر خوش اور مسرور ہوا اور بعض فریق برہمنوں کے ساتھ جے رامچند رجی اور جے سیتاجی کی بول اٹھا اور بعض فریق نے ہمراہ ہنود تخت رواں نستہ عورتوں کے گشت کی اور وہ تخت رواں خلاف سالہائے گزشتہ پیوستہ کے بیخوف و خطر گلی کوچہ پھر اکر مسلمانوں کے جائے جلوس پر ہنود لائےمسلمانوں نے سوائے تواضع پانپھول اور ہارالائچی وغیرہ ان کے آنے کا شکریہ بفخریہ ادا کرکے شیرینی کی تھالی پیش کی اس عمل سے کس فریق کی عورت نکاح سے باہر ہوئی اور کون مبتلائے کفر ہوا اور کون مرتکب گناہ کبیرہ ہوا اور ہر فریق کی توبہ کی صورت کیا ہے
الجواب:
وہ جنہوں نے برہمن سے قشقہ کھنچوایا وہ جنہوں نے ہنود کے ساتھ وہ جے بولی کافر ہوگئیان کی عورتیں ان کے نکاح سے نکل گئیں اور وہ کہ گشت میں شریك ہوئے اگر کافر نہ ہوئے تو قریب بکفر ہیں
مسئلہ۶۹: از شہر مالیگاؤں محلہ قلعہ قریب مسجد کلاں مرسلہ محمد صادق صاحب ۳ربیع الآخر ۱۳۳۶ھ
اگر کوئی شخص آیات قرآنی کو نہ مانے تو وہ شخص گناہگارہوگا یا نہیںاگر ہوتا ہے تو کس درجہ کااور نماز اس کے پیچھے کیسی ہوتی ہے
الجواب:
آیت کو نہ ماننا یعنی انکار کرنا کفرہے اس کے پیچھے نماز کیسیمگر عوام نہ ماننا اسے بھی کہتے ہیں کہ گناہ خلاف آیت قرآنی واقع ہوا ور اسے آیت سنائی گئی اور وہ اپنے گناہ سے باز نہ آیا یہ بازنہ آنا اگرمحض شامت نفس سے ہوآیت پر ایمان رکھتا ہےنہ اس سے انکار کرتا ہے نہ اس کا مقابلہ کرتا ہے تو گناہ ہے کفر نہیںپھر اگر وہ گناہ خود کبیرہ ہو یا بوجہ عادت کبیرہ ہوجائے اور یہ شخص اعلان کے ساتھ اس کا مرتکب ہو تو فاسق معلن ہے اس کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی یعنی پڑھنی گناہ اور پڑھی ہوتو پھیرنی واجبواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۷۰: از چندوسی حسینی بازار مرسلہ غلام حسین صاحب ۳ربیع الآخر ۱۳۳۶ھ
بسم اﷲ الرحمن الرحیمالحمدﷲ العلی العظیم والصلوۃ علی النبی الکریم والہ وصحبہ المکرمین امین! (کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ چندوسی میں مسلمانوں نے ہنودمشرکین سے اتفاق کرنے میں یہ آثار ظاہر کئے کہ سوائے نوبت نقارے نوازی اور ناچ رنگ نا مشروع کے ایسا مبالغہ اور عروج ان کی رسوم جلادینے میں کہ بعض فریق تلک قشقہسندے برہمنوں کے ہاتھ سے اپنی پیشانی پر کھنچوا کر خوش اور مسرور ہوا اور بعض فریق برہمنوں کے ساتھ جے رامچند رجی اور جے سیتاجی کی بول اٹھا اور بعض فریق نے ہمراہ ہنود تخت رواں نستہ عورتوں کے گشت کی اور وہ تخت رواں خلاف سالہائے گزشتہ پیوستہ کے بیخوف و خطر گلی کوچہ پھر اکر مسلمانوں کے جائے جلوس پر ہنود لائےمسلمانوں نے سوائے تواضع پانپھول اور ہارالائچی وغیرہ ان کے آنے کا شکریہ بفخریہ ادا کرکے شیرینی کی تھالی پیش کی اس عمل سے کس فریق کی عورت نکاح سے باہر ہوئی اور کون مبتلائے کفر ہوا اور کون مرتکب گناہ کبیرہ ہوا اور ہر فریق کی توبہ کی صورت کیا ہے
الجواب:
وہ جنہوں نے برہمن سے قشقہ کھنچوایا وہ جنہوں نے ہنود کے ساتھ وہ جے بولی کافر ہوگئیان کی عورتیں ان کے نکاح سے نکل گئیں اور وہ کہ گشت میں شریك ہوئے اگر کافر نہ ہوئے تو قریب بکفر ہیں
حدیث میں نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من سود مع قوم فھو منھم وفی لفظ من کثر سواد قوم ۔ جو کسی قوم کا مجمع بڑھائے وہ انہیں میں سے ہے۔
اور وہ جنہوں نے بت کے لانے پر شکریہ ادا کیا اور خوش ہوئے ان پر بھی بحکم فقہاء کفر لازم ہے غمز العیون میں ہے:
اتفق مشائخنا ان من رأی امرالکفار حسنا فقد کفر ۔ جس نے کافر کے عمل کو اچھا جانا وہ باتفاق مشائخ کافر ہوجاتا ہے(ت)
ان پر لازم ہے کہ توبہ کریں اور از سر نو کلمہ اسلام پڑھیں اور اپنی عورتوں سے نکاح جدید کریں واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۷۱: از موضع بیری پور ڈاکخانہ قصبہ علی گڑھ ضلع بریلی مرسلہ خان محمد خاں ۱۳ربیع الآخر شریف ۱۳۳۶ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید آداب واحکام وارکان شریعت کا محض منکر ہے یعنی اہل ہنود کی پرستش گاہوں پر پوجا کرتا ہےسراسر جو کام شرك و کفر کے ہنود کرتے ہیں ان کو زید بھی کرتا ہے اور بجائے محفل میلاد شریف کے مثل ہنود کے کتھا کی یعنی برہمن کو بلاکر پوریاں وغیرہ پکواکر اورہنود کو کھلا کر جن مسلمانوں سے رسم تھا ان کو کھلادیں اور ہنود کے ہوم رول میں چندہ دیا اور مسجد کے دینے سے انکارصوم وصلوۃ کا منحرف بایں امور کہ زید میں موجود ہیںعمر اپنی بیٹی زید کے بیٹے کو دینا چاہتا ہے ہر چند اس سے منع کیا گیا مگر قصدا رسم گیا حتی کہ تاریخ شادی کی ٹھہرگئیعمر کی زوجہ نے جواب دیا اور سخت کلامی کی کہ زید اگر بھنگی ہے توہم بھی بھنگی ہیںعمر سے کہا گیا کہ تم کو اگر زید سے ملنا ہے تو اس کو توبہ استغفار کرادیا جائےمگر عمر نہ مانا اور شرك و کفر کی حالت میں دیدہ دانستہ قرابت کیآیا ہم جمیع مسلمان زید وعمر کے ساتھ کیسا معاملہ رکھیںجو حکم شرع شریف کا ہونافذ ہو ایسا شخص بموجب شرع شریف کے مستوجب سزا ہے یانہیںبینواتوجروا۔
من سود مع قوم فھو منھم وفی لفظ من کثر سواد قوم ۔ جو کسی قوم کا مجمع بڑھائے وہ انہیں میں سے ہے۔
اور وہ جنہوں نے بت کے لانے پر شکریہ ادا کیا اور خوش ہوئے ان پر بھی بحکم فقہاء کفر لازم ہے غمز العیون میں ہے:
اتفق مشائخنا ان من رأی امرالکفار حسنا فقد کفر ۔ جس نے کافر کے عمل کو اچھا جانا وہ باتفاق مشائخ کافر ہوجاتا ہے(ت)
ان پر لازم ہے کہ توبہ کریں اور از سر نو کلمہ اسلام پڑھیں اور اپنی عورتوں سے نکاح جدید کریں واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۷۱: از موضع بیری پور ڈاکخانہ قصبہ علی گڑھ ضلع بریلی مرسلہ خان محمد خاں ۱۳ربیع الآخر شریف ۱۳۳۶ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید آداب واحکام وارکان شریعت کا محض منکر ہے یعنی اہل ہنود کی پرستش گاہوں پر پوجا کرتا ہےسراسر جو کام شرك و کفر کے ہنود کرتے ہیں ان کو زید بھی کرتا ہے اور بجائے محفل میلاد شریف کے مثل ہنود کے کتھا کی یعنی برہمن کو بلاکر پوریاں وغیرہ پکواکر اورہنود کو کھلا کر جن مسلمانوں سے رسم تھا ان کو کھلادیں اور ہنود کے ہوم رول میں چندہ دیا اور مسجد کے دینے سے انکارصوم وصلوۃ کا منحرف بایں امور کہ زید میں موجود ہیںعمر اپنی بیٹی زید کے بیٹے کو دینا چاہتا ہے ہر چند اس سے منع کیا گیا مگر قصدا رسم گیا حتی کہ تاریخ شادی کی ٹھہرگئیعمر کی زوجہ نے جواب دیا اور سخت کلامی کی کہ زید اگر بھنگی ہے توہم بھی بھنگی ہیںعمر سے کہا گیا کہ تم کو اگر زید سے ملنا ہے تو اس کو توبہ استغفار کرادیا جائےمگر عمر نہ مانا اور شرك و کفر کی حالت میں دیدہ دانستہ قرابت کیآیا ہم جمیع مسلمان زید وعمر کے ساتھ کیسا معاملہ رکھیںجو حکم شرع شریف کا ہونافذ ہو ایسا شخص بموجب شرع شریف کے مستوجب سزا ہے یانہیںبینواتوجروا۔
حوالہ / References
تاریخ بغداد ترجمہ ۵۱۶۷ عبداﷲ بن عتاب الخ دارالکتاب العربی بیروت ۱۰/ ۴۱
نصب الرایہ لاحادیث الہدایہ بحوالہ مسند ابی یعلی المکتبۃ الاسلامیہ بیروت ۴/ ۳۴۶،کنز العمال حدیث۲۴۷۳۵ موسسۃ الرسالہ بیروت ۱/ ۲۲
غمزالعیون البصائر مع الاشباہ والنظائر کتاب السیر باب الردۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱/ ۲۹۵
نصب الرایہ لاحادیث الہدایہ بحوالہ مسند ابی یعلی المکتبۃ الاسلامیہ بیروت ۴/ ۳۴۶،کنز العمال حدیث۲۴۷۳۵ موسسۃ الرسالہ بیروت ۱/ ۲۲
غمزالعیون البصائر مع الاشباہ والنظائر کتاب السیر باب الردۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱/ ۲۹۵
الجواب:
صورت مذکورہ میں زید کافر مرتد ہےاس سے سلامکلام مسلمانوں کو حرام اس کی شادی غمی میں شرکت حرام۔
قال اﷲ تعالی" اما ینسینک الشیطن فلا تقعد بعد الذکری مع القوم الظلمین ﴿۶۸﴾
" ۔ اﷲ تعالی نے فرمایا:اور جو کہیں تجھے شیطان بھلادے تو یاد آنے پر ظالموں کے پاس نہ بیٹھ۔(ت)
بیمار پڑے تو اسے پوچھنے جانا حراماس کی قبر پر جانا حرام۔
قال اﷲ تعالی
" ولا تصل علی احد منہم مات ابدا ولاتقم علی قبرہ " ۔ اﷲ تعالی نے فرمایا:او ران میں سے کسی کی میت پر کبھی نماز نہ پڑھنا اور نہ اس کی قبر پر کھڑے ہونا۔(ت)
عمر اس کے سب افعال پر آگاہ ہے اس نے توبہ بھی لینا نہ چاہی اور ایسی قرابت اس کے ساتھ کی مبتلائے گناہ عظیم و مستحق عذاب الیم ہوا۔
قال اﷲ تعالی" انکم اذا مثلہم " وقال اﷲ تعالی
" ومن یتولہم منکم فانہ منہم " وقال اﷲ تعالی
" ولا ترکنوا الی الذین ظلموا فتمسکم النار " ۔ اﷲ تعالی نے فرمایا:ورنہ تم بھی انہیں جیسے ہو۔اور اﷲتعالی نے فرمایا:اور تم میں جو کوئی ان سے دوستی رکھے گا تو وہ انہیں میں سے ہے۔اور اﷲ تعالی نے فرمایا:اور ظالموں کی طرف نہ جھکو کہ تمہیں آگ چھوئے گی۔(ت)
زید و عمر اگر توبہ نہ کریں تو مسلمانوں پر لازم ہے کہ انہیں یك لخت چھوڑدیں۔واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ۷۲تا۷۳: از بدایوں مرسلہ نتھو ونثار احمد سوداگران چرم ۱۸ربیع الآخر شریف ۱۳۳۶ھ
(۱)کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید نے باجود اس علم کے کہ مرزائی دائرہ اسلام سے خارج ہیں اور ان کے کافر ملحد ہونے کا فتوی تمام علمائے اسلام دے چکے ہیںپھر بھی اپنی لڑکی کا نکاح ایك مرزائی کے لڑکے کے ساتھ کردیا اب زید کو گمراہ اور بدعقیدہ سمجھاجائے یا نہیں اور زید کے ساتھ کھانا پینا اور اسکی شادی غمی میں شریك ہونا اپنے یہاں اس کو شریك کرنا
صورت مذکورہ میں زید کافر مرتد ہےاس سے سلامکلام مسلمانوں کو حرام اس کی شادی غمی میں شرکت حرام۔
قال اﷲ تعالی" اما ینسینک الشیطن فلا تقعد بعد الذکری مع القوم الظلمین ﴿۶۸﴾
" ۔ اﷲ تعالی نے فرمایا:اور جو کہیں تجھے شیطان بھلادے تو یاد آنے پر ظالموں کے پاس نہ بیٹھ۔(ت)
بیمار پڑے تو اسے پوچھنے جانا حراماس کی قبر پر جانا حرام۔
قال اﷲ تعالی
" ولا تصل علی احد منہم مات ابدا ولاتقم علی قبرہ " ۔ اﷲ تعالی نے فرمایا:او ران میں سے کسی کی میت پر کبھی نماز نہ پڑھنا اور نہ اس کی قبر پر کھڑے ہونا۔(ت)
عمر اس کے سب افعال پر آگاہ ہے اس نے توبہ بھی لینا نہ چاہی اور ایسی قرابت اس کے ساتھ کی مبتلائے گناہ عظیم و مستحق عذاب الیم ہوا۔
قال اﷲ تعالی" انکم اذا مثلہم " وقال اﷲ تعالی
" ومن یتولہم منکم فانہ منہم " وقال اﷲ تعالی
" ولا ترکنوا الی الذین ظلموا فتمسکم النار " ۔ اﷲ تعالی نے فرمایا:ورنہ تم بھی انہیں جیسے ہو۔اور اﷲتعالی نے فرمایا:اور تم میں جو کوئی ان سے دوستی رکھے گا تو وہ انہیں میں سے ہے۔اور اﷲ تعالی نے فرمایا:اور ظالموں کی طرف نہ جھکو کہ تمہیں آگ چھوئے گی۔(ت)
زید و عمر اگر توبہ نہ کریں تو مسلمانوں پر لازم ہے کہ انہیں یك لخت چھوڑدیں۔واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ۷۲تا۷۳: از بدایوں مرسلہ نتھو ونثار احمد سوداگران چرم ۱۸ربیع الآخر شریف ۱۳۳۶ھ
(۱)کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید نے باجود اس علم کے کہ مرزائی دائرہ اسلام سے خارج ہیں اور ان کے کافر ملحد ہونے کا فتوی تمام علمائے اسلام دے چکے ہیںپھر بھی اپنی لڑکی کا نکاح ایك مرزائی کے لڑکے کے ساتھ کردیا اب زید کو گمراہ اور بدعقیدہ سمجھاجائے یا نہیں اور زید کے ساتھ کھانا پینا اور اسکی شادی غمی میں شریك ہونا اپنے یہاں اس کو شریك کرنا
جائز ہے یانہیں اور جو لوگ ایسا کریں ان کے لئے کیا حکم ہے
(۲)مرزائیوں کے لڑکوں کو جو ابھی سن شعور کو نہیں پہنچے اور اپنے ماں باپوں کے رنگ میں رنگے ہیں اور ہر امر میں انہیں کے ماتحت ہیں کیا سمجھنا چاہئے مرزائی یا غیر مرزائی
الجواب:
(۱)اگر وہ لڑکا اپنے باپ کے مذہب پر تھا اور اسے یہ معلوم تھا کہ اس کا یہ مذہب ہے اور دانستہ لڑکی اس کے نکاح میں دی تویہ لڑکی کو زنا کے لئے پیش کرنا اور پر لے سرے کی دیوثی ہےایسا شخص فاسق ہے اور اس کے پاس بیٹھنا تك منع ہے
قال اﷲ تعالی اما ینسینک الشیطن فلا تقعد بعد الذکری مع القوم الظلمین ﴿۶۸﴾" ۔ اﷲ تعالی نے فرمایا:اور جو کہیں تجھے شیطان بھلادے تو یا دآنے پر ظالموں کے پاس نہ بیٹھ۔(ت)
ورنہ اس کے سخت بے احتیاط اور دین میں بے پروا ہونے میں کوئی شبہہ نہیںاور اگر ثابت ہوکہ وہ واقعی مرزائیوں کو مسلمان جانتا ہے اس بنا پر تقریب کی تو خود کافر مرتد ہےعلمائے کرام حرمین شریفین نے قادیانی کی نسبت بالاتفاق فرمایاکہ:
من شك فی عذابہ وکفرہ فقد کفر ۔ جو اس کے کافر ہونے میں شك کرے وہ بھی کافر۔
اس صورت میں فرض قطعی ہے کہ تمام مسلمان موت حیات کے سب علاقے اس سے قطع کردیںبیمار پڑے پوچھنے کو جانا حراممرجائے تو اس کے جنازے پر جانا حراماسے مسلمان کے گورستان میں دفن کرنا حراماسکی قبر پر جانا حرام
قال اﷲ تعالی
" ولا تصل علی احد منہم مات ابدا ولاتقم علی قبرہ " ۔ اﷲ تعالی نے فرمایا:اور ان میں سے کسی کی میت پر کبھی نماز نہ پڑھنا اور نہ اس کی قبر پر کھڑے ہونا(ت)
(۲)وہ سب مرزائی ہیں مگر وہ کہ عقل و تمیز کی عمر کو پہنچا اور اچھے برے کو سمجھا اور مرزائیوں کو کافر جانااور ٹھیك اسلام لایا وہ مسلمان ہےیہ اس حالت میں ہے کہ ماں مرزائی ہواور اگر ماں مسلمان ہواگرچہ اپنی
(۲)مرزائیوں کے لڑکوں کو جو ابھی سن شعور کو نہیں پہنچے اور اپنے ماں باپوں کے رنگ میں رنگے ہیں اور ہر امر میں انہیں کے ماتحت ہیں کیا سمجھنا چاہئے مرزائی یا غیر مرزائی
الجواب:
(۱)اگر وہ لڑکا اپنے باپ کے مذہب پر تھا اور اسے یہ معلوم تھا کہ اس کا یہ مذہب ہے اور دانستہ لڑکی اس کے نکاح میں دی تویہ لڑکی کو زنا کے لئے پیش کرنا اور پر لے سرے کی دیوثی ہےایسا شخص فاسق ہے اور اس کے پاس بیٹھنا تك منع ہے
قال اﷲ تعالی اما ینسینک الشیطن فلا تقعد بعد الذکری مع القوم الظلمین ﴿۶۸﴾" ۔ اﷲ تعالی نے فرمایا:اور جو کہیں تجھے شیطان بھلادے تو یا دآنے پر ظالموں کے پاس نہ بیٹھ۔(ت)
ورنہ اس کے سخت بے احتیاط اور دین میں بے پروا ہونے میں کوئی شبہہ نہیںاور اگر ثابت ہوکہ وہ واقعی مرزائیوں کو مسلمان جانتا ہے اس بنا پر تقریب کی تو خود کافر مرتد ہےعلمائے کرام حرمین شریفین نے قادیانی کی نسبت بالاتفاق فرمایاکہ:
من شك فی عذابہ وکفرہ فقد کفر ۔ جو اس کے کافر ہونے میں شك کرے وہ بھی کافر۔
اس صورت میں فرض قطعی ہے کہ تمام مسلمان موت حیات کے سب علاقے اس سے قطع کردیںبیمار پڑے پوچھنے کو جانا حراممرجائے تو اس کے جنازے پر جانا حراماسے مسلمان کے گورستان میں دفن کرنا حراماسکی قبر پر جانا حرام
قال اﷲ تعالی
" ولا تصل علی احد منہم مات ابدا ولاتقم علی قبرہ " ۔ اﷲ تعالی نے فرمایا:اور ان میں سے کسی کی میت پر کبھی نماز نہ پڑھنا اور نہ اس کی قبر پر کھڑے ہونا(ت)
(۲)وہ سب مرزائی ہیں مگر وہ کہ عقل و تمیز کی عمر کو پہنچا اور اچھے برے کو سمجھا اور مرزائیوں کو کافر جانااور ٹھیك اسلام لایا وہ مسلمان ہےیہ اس حالت میں ہے کہ ماں مرزائی ہواور اگر ماں مسلمان ہواگرچہ اپنی
حوالہ / References
القرآن الکریم ۶ /۶۸
حسام الحرمین باب المعتمد والمستند مکتبہ نیویہ،لاہور ص۱۳
القرآن الکریم ۹ /۸۴
حسام الحرمین باب المعتمد والمستند مکتبہ نیویہ،لاہور ص۱۳
القرآن الکریم ۹ /۸۴
شامت نفس یا اپنے اولیاء کی حماقت یا ضلالت سے مرزائی کے ساتھ نکاح کرکے زنا میں مبتلا ہےاب جو بچے ہوں گے جب تك ناسمجھ رہیں گے اورسمجھ کی عمر پر آکر خود مرزائیت اختیار نہ کریں گے اس وقت تك وہ اپنی ماں کے اتباع سے مسلمان ہی سمجھے جائیں گے
فان الولد یتبع خیر الابوین دینا فکیف من لیس لہ الاالام فان ولدالزنا لااب لہ۔واﷲ تعالی اعلم۔ بچہ والدین میں سے اس کے تابع ہوتا ہے جس کا دین بہتر ہو تو اس وقت کیا حال ہوگا جب اس کی صرف ماں ہی ہو کیونکہ ولد زنا کا باپ نہیں ہوتا۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ۷۴تا۸۱: از مقام رانچی محلہ اوپر بازار مرسلہ عبدالرب صاحب ۳جمادی الاولی ۱۳۳۶ھ
جو کہے:(۱)معجزات انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام غلط ہیںمعجزہ حضرت سیدنا عیسی(علیہ السلام)مردہ کو زندہ کرنا غلط ہےمطلب اس کا احوال قوم کو زندہ کرنا ہے ایسے شخص کے واسطے کیاحکم ہے شرعا
(۲)کتاب فتاوی عالمگیری وقاضی خاں بے اعتبار ہیںتوہین علماء دین قول بکر سے متصور ہے یانہیںشرعاکیاحکم ہے
(۳)قربانی کرنے کی ضرورت نہیں اﷲ تعالی گوشت و خون کا محتاج نہیںنہ اس تك پہنچتا ہےبلکہ تمہارا تقوی پہنچتا ہےقربانی کے جانور کی قیمت مدرسہ میں دینا افضل ہےغور فرمایاجائے کہ بکر نے ترك وجوب پر حملہ کیا یانہیں شرعا کیا حکم ہے
(۴)حضرت منصور کا دار پر کھنچا جانا امور سلطنت ومتہم ہونے کیوجہ سے نہ تھا نہ اور کسی وجہ سےشرعا کیاحکم ہے
(۵)بکر عبادت گاہ کفار میں نہ بہ نیت تفریح طبع و دیکھنے کے جاتا ہے بلکہ شرکت عبادت گاہ کفار کو فرض و سنت ومستحب ٹھہراتا ہےشرعا کیا حکم ہے
(۶)بکر پردہ حنفیت میں کار بندوہابیت ہےوہابیوں کی حمایت اور اہلسنت وتمامی مفسرین وفقہاء کی توہین کرتا ہےمیلاد وقیام کے متعلق الفاظ ناشائستہ و بدعت سیئہ کہتا ہےبکر کی اقتداء جائز ہے یانہیںاور بکر در حقیقت مقلد ہے یاغیر مقلد
(۷)بکر محض بپاس کلام واثبات مدعا اپنے بزور زبان عبارات فقہیہ کو تحریف کیا ہےبکر دست انداز اقوال ائمہ مجتہدین پر ہے یانہیںشرعا کیا حکم ہے
(۸)بکرجناب کنز الفقراء تاج الاولیاء سیدنا عبدالقادر جیلانی(رحمۃ اﷲ تعالی علیہ)پر طعن وتکذیب کرامات اولیاء کرتا ہے و نیز دیگر اشخاص بھی بمقابلہ بکر کے حضرت کی شان میں طعن کرتے ہیں اور بکر
فان الولد یتبع خیر الابوین دینا فکیف من لیس لہ الاالام فان ولدالزنا لااب لہ۔واﷲ تعالی اعلم۔ بچہ والدین میں سے اس کے تابع ہوتا ہے جس کا دین بہتر ہو تو اس وقت کیا حال ہوگا جب اس کی صرف ماں ہی ہو کیونکہ ولد زنا کا باپ نہیں ہوتا۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ۷۴تا۸۱: از مقام رانچی محلہ اوپر بازار مرسلہ عبدالرب صاحب ۳جمادی الاولی ۱۳۳۶ھ
جو کہے:(۱)معجزات انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام غلط ہیںمعجزہ حضرت سیدنا عیسی(علیہ السلام)مردہ کو زندہ کرنا غلط ہےمطلب اس کا احوال قوم کو زندہ کرنا ہے ایسے شخص کے واسطے کیاحکم ہے شرعا
(۲)کتاب فتاوی عالمگیری وقاضی خاں بے اعتبار ہیںتوہین علماء دین قول بکر سے متصور ہے یانہیںشرعاکیاحکم ہے
(۳)قربانی کرنے کی ضرورت نہیں اﷲ تعالی گوشت و خون کا محتاج نہیںنہ اس تك پہنچتا ہےبلکہ تمہارا تقوی پہنچتا ہےقربانی کے جانور کی قیمت مدرسہ میں دینا افضل ہےغور فرمایاجائے کہ بکر نے ترك وجوب پر حملہ کیا یانہیں شرعا کیا حکم ہے
(۴)حضرت منصور کا دار پر کھنچا جانا امور سلطنت ومتہم ہونے کیوجہ سے نہ تھا نہ اور کسی وجہ سےشرعا کیاحکم ہے
(۵)بکر عبادت گاہ کفار میں نہ بہ نیت تفریح طبع و دیکھنے کے جاتا ہے بلکہ شرکت عبادت گاہ کفار کو فرض و سنت ومستحب ٹھہراتا ہےشرعا کیا حکم ہے
(۶)بکر پردہ حنفیت میں کار بندوہابیت ہےوہابیوں کی حمایت اور اہلسنت وتمامی مفسرین وفقہاء کی توہین کرتا ہےمیلاد وقیام کے متعلق الفاظ ناشائستہ و بدعت سیئہ کہتا ہےبکر کی اقتداء جائز ہے یانہیںاور بکر در حقیقت مقلد ہے یاغیر مقلد
(۷)بکر محض بپاس کلام واثبات مدعا اپنے بزور زبان عبارات فقہیہ کو تحریف کیا ہےبکر دست انداز اقوال ائمہ مجتہدین پر ہے یانہیںشرعا کیا حکم ہے
(۸)بکرجناب کنز الفقراء تاج الاولیاء سیدنا عبدالقادر جیلانی(رحمۃ اﷲ تعالی علیہ)پر طعن وتکذیب کرامات اولیاء کرتا ہے و نیز دیگر اشخاص بھی بمقابلہ بکر کے حضرت کی شان میں طعن کرتے ہیں اور بکر
خاموش رہتا ہے شرعا کیا حکم ہے
الجواب:
(۱)جوشخص معجزات انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کوغلط بتائے کافر مرتد ہےمستحق لعنت ابد ہے۔حضور سیدنا عیسی علیہ الصلوۃ والسلام کے معجزہ احیائے موتی کا غلط کہنے والا بھی یقینا کافر مرتد ہے اور وہ تاویل کہ احوال قوم زندہ کرنا مراد ہےاسے کفر وارتداد سے نہ بچائے گی کہ ضروریات دین میں تاویل مسموع نہیں۔عقائد امام مفتی الثقلین مفتی الجن والانس عمر نسفی رضی اﷲ تعالی عنہ میں ہے:
النصوص تحمل علی ظواھرھا والعد ول عنہا الی معان یدعیہا اھل الباطن الحاد ۔ نصوص کو اپنے ظاہر ہی پر محمول کیا جائے گا اور اس سے ایسے معانی کی طرف عدول جن کا دعوی اہل باطن نے کیا سراسر الحاد ہے(ت)
شرح میں ہے:
الحاد ای میل وعدول عن الاسلام واتصال و التصاق بالکفر لکونہ تکذیبا للنبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فیما علم مجیئہ بہ بالضرورۃ ۔ الحاد یعنی اسلام سے عدول اعراض ہے اور یہ کفر کے ساتھ اتصال ہے کیونکہ یہ نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی ان معاملات میں تکذیب ہے جن کا لانا آپ سے بالضرورۃ ثابت ہے(ت)
شفاء قاضی عیاض میں ہے:
التاویل فی الضروری لایسمع ۔ ضروریات دین میں تاویل مسموع نہیں۔(ت)
(۲)سبحان اﷲ!جب وہ معجزات انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کو غلط کہتا ہے تو اس سے اس کی کیا شکایت کہ فتاوی قاضی خاں وعالمگیری کو نہیں مانتا جو اﷲ اور اس کے رسولوں کی تکذیب کرچکا اس سے توہین علم وعلماء کا گلہ فضول ہےماعلی مثلہ بعد الخطاء(خطا کے بعد اس کی مثل مجھ پر نہیں۔ت)
(۳)قربانی کا انکار ضلالت ہےیہ ہندوتو سارے کے سارے گائے کی قربانی سے کتنا چڑتے ہیںغایت یہ کہ یہ ایك بات میں ہندوؤں سے بڑھ گیا کہ مطلقا قربانی کے وجوب کا منکر ہوا اور ایك بات میں ہندو اس سے
الجواب:
(۱)جوشخص معجزات انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کوغلط بتائے کافر مرتد ہےمستحق لعنت ابد ہے۔حضور سیدنا عیسی علیہ الصلوۃ والسلام کے معجزہ احیائے موتی کا غلط کہنے والا بھی یقینا کافر مرتد ہے اور وہ تاویل کہ احوال قوم زندہ کرنا مراد ہےاسے کفر وارتداد سے نہ بچائے گی کہ ضروریات دین میں تاویل مسموع نہیں۔عقائد امام مفتی الثقلین مفتی الجن والانس عمر نسفی رضی اﷲ تعالی عنہ میں ہے:
النصوص تحمل علی ظواھرھا والعد ول عنہا الی معان یدعیہا اھل الباطن الحاد ۔ نصوص کو اپنے ظاہر ہی پر محمول کیا جائے گا اور اس سے ایسے معانی کی طرف عدول جن کا دعوی اہل باطن نے کیا سراسر الحاد ہے(ت)
شرح میں ہے:
الحاد ای میل وعدول عن الاسلام واتصال و التصاق بالکفر لکونہ تکذیبا للنبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فیما علم مجیئہ بہ بالضرورۃ ۔ الحاد یعنی اسلام سے عدول اعراض ہے اور یہ کفر کے ساتھ اتصال ہے کیونکہ یہ نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی ان معاملات میں تکذیب ہے جن کا لانا آپ سے بالضرورۃ ثابت ہے(ت)
شفاء قاضی عیاض میں ہے:
التاویل فی الضروری لایسمع ۔ ضروریات دین میں تاویل مسموع نہیں۔(ت)
(۲)سبحان اﷲ!جب وہ معجزات انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کو غلط کہتا ہے تو اس سے اس کی کیا شکایت کہ فتاوی قاضی خاں وعالمگیری کو نہیں مانتا جو اﷲ اور اس کے رسولوں کی تکذیب کرچکا اس سے توہین علم وعلماء کا گلہ فضول ہےماعلی مثلہ بعد الخطاء(خطا کے بعد اس کی مثل مجھ پر نہیں۔ت)
(۳)قربانی کا انکار ضلالت ہےیہ ہندوتو سارے کے سارے گائے کی قربانی سے کتنا چڑتے ہیںغایت یہ کہ یہ ایك بات میں ہندوؤں سے بڑھ گیا کہ مطلقا قربانی کے وجوب کا منکر ہوا اور ایك بات میں ہندو اس سے
حوالہ / References
عقائد نسفی مع الشرح مطبوعہ دارالاشاعت العربیہ قندھار افغانستان ص۱۱۹
شرح عقائد نسفی مطبوعہ دارالاشاعت العربیہ قندھار افغانستان ص۱۱۹
کتاب الشفاء للقاضی عیاض القسم الرابع فی تصرف وجوہ الاحکام الخ مکتبہ شرکت صحافیہ ترکی ۲/ ۲۱۰
شرح عقائد نسفی مطبوعہ دارالاشاعت العربیہ قندھار افغانستان ص۱۱۹
کتاب الشفاء للقاضی عیاض القسم الرابع فی تصرف وجوہ الاحکام الخ مکتبہ شرکت صحافیہ ترکی ۲/ ۲۱۰
بڑھ کر ہیں کہ وہ چڑتے ہیں یہ فقط منکر۔
(۴)ایك بے معنی بات ہے صرف اتنے لفظ محتاج توجیہ نہیں۔
(۵)شرکت عبادت گاہ کفار صریح کفر ہے کیونکہ ہدایت یارد کو جانا شرکت نہیں ہوسکتاکتب دینیہ میں تصریح ہے کہ معابدکفار میں جانا مکروہ ہے کہ وہ ماوائے شیاطین ہیں کمافی ردالمحتار وغیرہ(جیسا کہ ردالمحتار وغیرہ میں ہے۔ت)نہ کہ شرکت کہ صریح کفر ہے اور کفر کو ہلکا جاننا بھی کفر ہے نہ کہ معاذاﷲ مستحب بلکہ سنت بلکہ فرض ٹھہرانا
اباﷲوایتہ ورسلہ کنتم تستھزؤنلاتعتذروا قد کفرتم بعدایمانکم ۔ کیااﷲ اور اس کی آیتوں اور اس کے رسول سے ہنستے ہو بہانے نہ بناؤ تم کافر ہوچکے مسلمان ہوکر۔(ت)
(۶)عجب ہے کہ سائل اس سے وہ کلمات نقل کرکے پھر اس کا مقلد ہونا پوچھتا ہے وہ مقلد ضرور ہے مگر ابلیس کا
قال اﷲ تعالی استحوذ علیہم الشیطن فانسىہم ذکر اللہ اولئک حزب الشیطن الا ان حزب الشیطن ہم الخسرون ﴿۱۹﴾" اﷲ تعالی نے فرمایا:ان پر شیطان غالب آگیا تو انہیں اﷲ کی یاد بھلادیوہ شیطان کے گروہ ہیںسنتا ہے بیشك شیطان ہی کا گروہ ہار میں ہے۔(ت)
(۷)معلوم نہیں سائل نے اس کا پہلا عقیدہ معجزہ انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کو غلط بتانا غلط لکھ دیا یا صحیحاگر غلط لکھا تو کیوںاور صحیح لکھا تو اس کے بعد ان باتوں کی کیا گنجائش رہیائمہ مجتہدین پر دست اندازی کرنیوالا گمراہ سہی کافر تو نہیںتکذیب معجزات کرنے والا تو کافر ہے۔گنہگا پر شاد یا مسیح چرن سے اس کی کیا شکایت کہ توہمارے ائمہ پر کیوں اعتراض کرتا ہے۔
(۸)کرامات اولیاء کا انکار گمراہی ہے
قال اﷲ تعالی کلما دخل علیہا زکریا المحراب وجد عندہا رزقا قال یمریم انی لک ہذا قالت ہو من عند اللہ ان اللہ یرزق من یشاء اﷲ تعالی نے فرمایا:جب زکریا اس کے پاس اس کی نماز پڑھنے کی جگہ جاتے اس کے پاس نیا رزق پاتےکہا اے مریم!یہ تیرے پاس کہاں سے آیابولیں وہ اﷲ کے پاس سے ہے بیشك اﷲ
(۴)ایك بے معنی بات ہے صرف اتنے لفظ محتاج توجیہ نہیں۔
(۵)شرکت عبادت گاہ کفار صریح کفر ہے کیونکہ ہدایت یارد کو جانا شرکت نہیں ہوسکتاکتب دینیہ میں تصریح ہے کہ معابدکفار میں جانا مکروہ ہے کہ وہ ماوائے شیاطین ہیں کمافی ردالمحتار وغیرہ(جیسا کہ ردالمحتار وغیرہ میں ہے۔ت)نہ کہ شرکت کہ صریح کفر ہے اور کفر کو ہلکا جاننا بھی کفر ہے نہ کہ معاذاﷲ مستحب بلکہ سنت بلکہ فرض ٹھہرانا
اباﷲوایتہ ورسلہ کنتم تستھزؤنلاتعتذروا قد کفرتم بعدایمانکم ۔ کیااﷲ اور اس کی آیتوں اور اس کے رسول سے ہنستے ہو بہانے نہ بناؤ تم کافر ہوچکے مسلمان ہوکر۔(ت)
(۶)عجب ہے کہ سائل اس سے وہ کلمات نقل کرکے پھر اس کا مقلد ہونا پوچھتا ہے وہ مقلد ضرور ہے مگر ابلیس کا
قال اﷲ تعالی استحوذ علیہم الشیطن فانسىہم ذکر اللہ اولئک حزب الشیطن الا ان حزب الشیطن ہم الخسرون ﴿۱۹﴾" اﷲ تعالی نے فرمایا:ان پر شیطان غالب آگیا تو انہیں اﷲ کی یاد بھلادیوہ شیطان کے گروہ ہیںسنتا ہے بیشك شیطان ہی کا گروہ ہار میں ہے۔(ت)
(۷)معلوم نہیں سائل نے اس کا پہلا عقیدہ معجزہ انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کو غلط بتانا غلط لکھ دیا یا صحیحاگر غلط لکھا تو کیوںاور صحیح لکھا تو اس کے بعد ان باتوں کی کیا گنجائش رہیائمہ مجتہدین پر دست اندازی کرنیوالا گمراہ سہی کافر تو نہیںتکذیب معجزات کرنے والا تو کافر ہے۔گنہگا پر شاد یا مسیح چرن سے اس کی کیا شکایت کہ توہمارے ائمہ پر کیوں اعتراض کرتا ہے۔
(۸)کرامات اولیاء کا انکار گمراہی ہے
قال اﷲ تعالی کلما دخل علیہا زکریا المحراب وجد عندہا رزقا قال یمریم انی لک ہذا قالت ہو من عند اللہ ان اللہ یرزق من یشاء اﷲ تعالی نے فرمایا:جب زکریا اس کے پاس اس کی نماز پڑھنے کی جگہ جاتے اس کے پاس نیا رزق پاتےکہا اے مریم!یہ تیرے پاس کہاں سے آیابولیں وہ اﷲ کے پاس سے ہے بیشك اﷲ
بغیر حساب﴿۳۷﴾" وقال اﷲ تعالی
" قال الذی عندہ علم من الکتب انا اتیک بہ قبل ان یرتد الیک طرفک " ۔ جسے چاہے بے گنتی دے(ت)اﷲتعالی نے فرمایا:اس نے عرض کی جس کے پاس کتاب کا علم تھا کہ میں اسے حضور میں حاضر کردوں گا ایك پل مارنے سے پہلے۔(ت)
اور حضور ولی الاولیاءغوث الاقطاب ملاذ الابدال والا فراد رضی اﷲ تعالی عنہ وعنہم کی شان اقدس میں زبان درازی نہ کرے گا مگر رافضی تبرائی۔
" و سیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون ﴿۲۲۷﴾ " ۔واﷲ تعالی اعلم۔ اب جاننا چاہتے ہیں ظالم کہ کس کروٹ پر پلٹا کھائیں گے۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ۸۲تا۸۴: از مراد آباد محلہ قائم کی بیریاں مرسلہ محمد مختار ۱۰جمادی الاولی ۱۳۳۶ھ.
(۱)ایك شخص کے دل میں زبان میں برے خیال نکلتے ہیں وہ نماز پڑھنے سے عاجز آگیا ہے چنانچہ لاحولسورہ ناسدرود شریفقرآن شریف پڑھتا ہے تو بھی اس کے دل میں برے خیالات آتے ہیں اور ایك بات زبان سے برابر دل سے برابر نکلا کرتی ہے مثلاسراج الحق بیٹا کس کااپنے ماں باپ کااور فحش خیالات بیٹے بیٹیوںماں باپ کے بارے میں ہر وقت برے خیالات بہت۔
(۲)برے خیالات یہ بہت دھوکے انجانی بیوقوفی زبان سےدل جان سے ہیںنعوذ باﷲ خدا کا شریك نکلاپھر یہ نکلا خدا وحدہ لاشریك ہےرسول برحق ہیں یہ خیال بہت جلد دھوکے سے نکلاایك ماہ میں تین بارایك دفعہ ایك یوم میں دوسرا آٹھ یوم میں تیسرا سولہ یوم میں نکلا پھر یہ خیالات نہیں نکلتےپھر دل زبان سے یہ نکلا کہ خداوحدہ لاشریك ہے جبکہ ہزار ہاباتوں کے بعد جب کہ زبان نہیں رکتی تھیوہ روکتا تھا مگر وہ نہیں رکتی تھیدل میں دنیا کے خیالات بہت برے تھے وہ یہ ہیں خدانے کسی کو بیٹا بیٹی مال اسباب دیا ہے سب یہیں رہے گا بس خدا کی بات اچھی ہے دل میں یہی بیٹوں بیٹیوں کے خیالاتوہ بخشاجائے گا یانہیںمسلمان رہایانہیں گنہگار ہوایانہیں۔
(۳)وہ ہمیشہ لوگوں کو نیك تعظیم دیتا ہےخدانے جو بتایا ہے نماز روزہ اور بہت باتوں کیوہ قرآن اور خدا رسول کی محبت کرتا ہے جو خداورسول کو برا اور قرآن کو براکہتا ہے اس کو جان سے مارنے کو تیار ہے
" قال الذی عندہ علم من الکتب انا اتیک بہ قبل ان یرتد الیک طرفک " ۔ جسے چاہے بے گنتی دے(ت)اﷲتعالی نے فرمایا:اس نے عرض کی جس کے پاس کتاب کا علم تھا کہ میں اسے حضور میں حاضر کردوں گا ایك پل مارنے سے پہلے۔(ت)
اور حضور ولی الاولیاءغوث الاقطاب ملاذ الابدال والا فراد رضی اﷲ تعالی عنہ وعنہم کی شان اقدس میں زبان درازی نہ کرے گا مگر رافضی تبرائی۔
" و سیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون ﴿۲۲۷﴾ " ۔واﷲ تعالی اعلم۔ اب جاننا چاہتے ہیں ظالم کہ کس کروٹ پر پلٹا کھائیں گے۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ۸۲تا۸۴: از مراد آباد محلہ قائم کی بیریاں مرسلہ محمد مختار ۱۰جمادی الاولی ۱۳۳۶ھ.
(۱)ایك شخص کے دل میں زبان میں برے خیال نکلتے ہیں وہ نماز پڑھنے سے عاجز آگیا ہے چنانچہ لاحولسورہ ناسدرود شریفقرآن شریف پڑھتا ہے تو بھی اس کے دل میں برے خیالات آتے ہیں اور ایك بات زبان سے برابر دل سے برابر نکلا کرتی ہے مثلاسراج الحق بیٹا کس کااپنے ماں باپ کااور فحش خیالات بیٹے بیٹیوںماں باپ کے بارے میں ہر وقت برے خیالات بہت۔
(۲)برے خیالات یہ بہت دھوکے انجانی بیوقوفی زبان سےدل جان سے ہیںنعوذ باﷲ خدا کا شریك نکلاپھر یہ نکلا خدا وحدہ لاشریك ہےرسول برحق ہیں یہ خیال بہت جلد دھوکے سے نکلاایك ماہ میں تین بارایك دفعہ ایك یوم میں دوسرا آٹھ یوم میں تیسرا سولہ یوم میں نکلا پھر یہ خیالات نہیں نکلتےپھر دل زبان سے یہ نکلا کہ خداوحدہ لاشریك ہے جبکہ ہزار ہاباتوں کے بعد جب کہ زبان نہیں رکتی تھیوہ روکتا تھا مگر وہ نہیں رکتی تھیدل میں دنیا کے خیالات بہت برے تھے وہ یہ ہیں خدانے کسی کو بیٹا بیٹی مال اسباب دیا ہے سب یہیں رہے گا بس خدا کی بات اچھی ہے دل میں یہی بیٹوں بیٹیوں کے خیالاتوہ بخشاجائے گا یانہیںمسلمان رہایانہیں گنہگار ہوایانہیں۔
(۳)وہ ہمیشہ لوگوں کو نیك تعظیم دیتا ہےخدانے جو بتایا ہے نماز روزہ اور بہت باتوں کیوہ قرآن اور خدا رسول کی محبت کرتا ہے جو خداورسول کو برا اور قرآن کو براکہتا ہے اس کو جان سے مارنے کو تیار ہے
وہ خداورسول کو جان سے زیادہ زیادہ سجھتا ہےخدا سے کئی مرتبہ دعامانگی مگر خدا کا حکم نہیں ہوا ان سے پہلے وہ عاجز آگیا ان باتوں سےاورنماز میں بھی برے خیالات آتے ہیںوہ اپنے اسلام کا پکا ہےوہ خدا ورسول سے بہت خوش ہےکئی آدمی نے خداورسول کو برا کہا اس نے ان کو مارا مگر جنہوں نے بر اکہاوہ کافر تھایہ سب بیٹے بیٹیاں کس کی ہیںکیا آدم علیہ السلام کی یا اپنے ماں باپوں کی
الجواب:
برے خیالات اگر آئیں اور انہیں جمایا نہ جائےنہ بالقصد انہیں زبان سے ادا کیا جائےتو اس سے اسلام میں کچھ فرق نہیں آتا اور جہاں تك مجبوری ہے گناہ بھی نہیںاور وہ سراج الحق والا فقرہ بار بار کہنا گناہ سے کوئی تعلق نہیں رکھتاخلل دماغ کا ایك شعبہ ہے والعیاذ باﷲ تعالی برے وسوسے جب دل میں آئیں فورا اﷲ عزوجل کی طرف رجوع کرے اور کہے:
امنا باﷲ ورسولہ" ہو الاول و الاخر و الظہر و الباطن و ہو بکل شیء علیم ﴿۳﴾" میں اﷲ اور اس کے رسول پر ایمان لایا"وہی اول وہی آخر وہی ظاہر وہی باطن اور وہی سب کچھ جانتا ہے"(ت)
اور لاحول شریف پڑھے اور خشکی دماغ کا طبی معالجہ بھی چاہئےواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۸۵تا۸۶:ازدادھن پور گجرات قریب احمد آباد قریب احمد آباد مرسلہ حکیم محمد میاں صاحب۱۷جمادی الاولی ۱۳۳۶ھ
(۱)ایك مولوی صاحب بعد ختم ہونے وعظ کے فرمانے لگے کہ ہم نے جو وعظ آپ صاحبوں کو سنایا ہے وہ کلام اﷲاور حدیث سے سنایا ہےنہیں معلوم کہ یہ جھوٹ ہے یا سچاس بات کا علم خداکو ہےیہ الفاظ مولوی صاحب نے کیوں فرمائےایسا کہنے سے آدمی گنہگار ہوتا ہے یانہیںبینواتوجروا۔
(۲)مذکور مولوی صاحب ہر وعظ میں بہشتی زیور کے لئے خاص حکم دیتے ہیںوہ کتاب مولوی اشرف علی تھانوی صاحب کی تصانیف سے ہےبہت سے ذی علم لوگوں کو شك ہے اور بہشتی زیور پڑھنے کو منع کرتے ہیں اس کی وجہ کیا ہےاس کتاب میں کون سے مسائل غلط ہیں اور ان کون سے صحیحان کا خلاصہ اور آپ اس کتاب کےلئے کیا ارشاد فرماتے ہیں
الجواب:
برے خیالات اگر آئیں اور انہیں جمایا نہ جائےنہ بالقصد انہیں زبان سے ادا کیا جائےتو اس سے اسلام میں کچھ فرق نہیں آتا اور جہاں تك مجبوری ہے گناہ بھی نہیںاور وہ سراج الحق والا فقرہ بار بار کہنا گناہ سے کوئی تعلق نہیں رکھتاخلل دماغ کا ایك شعبہ ہے والعیاذ باﷲ تعالی برے وسوسے جب دل میں آئیں فورا اﷲ عزوجل کی طرف رجوع کرے اور کہے:
امنا باﷲ ورسولہ" ہو الاول و الاخر و الظہر و الباطن و ہو بکل شیء علیم ﴿۳﴾" میں اﷲ اور اس کے رسول پر ایمان لایا"وہی اول وہی آخر وہی ظاہر وہی باطن اور وہی سب کچھ جانتا ہے"(ت)
اور لاحول شریف پڑھے اور خشکی دماغ کا طبی معالجہ بھی چاہئےواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۸۵تا۸۶:ازدادھن پور گجرات قریب احمد آباد قریب احمد آباد مرسلہ حکیم محمد میاں صاحب۱۷جمادی الاولی ۱۳۳۶ھ
(۱)ایك مولوی صاحب بعد ختم ہونے وعظ کے فرمانے لگے کہ ہم نے جو وعظ آپ صاحبوں کو سنایا ہے وہ کلام اﷲاور حدیث سے سنایا ہےنہیں معلوم کہ یہ جھوٹ ہے یا سچاس بات کا علم خداکو ہےیہ الفاظ مولوی صاحب نے کیوں فرمائےایسا کہنے سے آدمی گنہگار ہوتا ہے یانہیںبینواتوجروا۔
(۲)مذکور مولوی صاحب ہر وعظ میں بہشتی زیور کے لئے خاص حکم دیتے ہیںوہ کتاب مولوی اشرف علی تھانوی صاحب کی تصانیف سے ہےبہت سے ذی علم لوگوں کو شك ہے اور بہشتی زیور پڑھنے کو منع کرتے ہیں اس کی وجہ کیا ہےاس کتاب میں کون سے مسائل غلط ہیں اور ان کون سے صحیحان کا خلاصہ اور آپ اس کتاب کےلئے کیا ارشاد فرماتے ہیں
حوالہ / References
القرآن الکریم ۵۷ /۳
الجواب:
(۱)یہ کہہ کر کہ میں نے تمہیں یہ وعظ قرآن وحدیث سے سنایا ہے یہ کہنا کہ معلوم نہیں جھوٹ ہے یاسچ قرآن عظیم کے صدق میں شك کرنا ہے اور تاویل بعید کی یہاں کچھ حاجت نہیںاول تو الفاظ اس کے مساعد نہیں پھر سوال دوم میں بیان مسائل سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ واعظ ہر وعظ میں مسلمانوں کو بہشتی زیور منگانے کی ترغیب دیتا ہے ایسا ہے تو عقیدہ کا دیوبندی معلوم ہوتا ہے اور دیوبندیوں کے نزدیك قرآن مجید کے صدق میں ضرورشك ہے وہ اﷲ عزوجل کو وجوباسچا نہیں جانتے بلکہ صاف تصریح کرتے ہیں کہ معاذاﷲ وہ امکاناجھوٹاہے پھر وعظ کو قرآن وحدیث سے بتا کر اس کے صدق وکذب میں شك کرنا ضرور کلمہ کفر ہےمسلمانوں کو ایسے شخص کاوعظ سننا اور اسے وعظ کی مسند پر بٹھانا حرام ہے۔
(۲)بہشتی زیور ایك ایسے شخص کی تصنیف ہے جس نے حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو صریح گالی دی اور جس کی نسبت تمام علمائے حرمین شریفین نے بالاتفاق حسام الحرمین میں فرمایا ہے کہ:
من شك فی کفرہ وعذابہ فقد کفر ۔ جو اس کو باتوں پر مطلع ہوکر اسے مسلمان جاننا درکنار اس کے کافر ہونے میں شك بھی کرے وہ بھی کافر۔
بہشتی زیور کا دیکھنا عوام مسلمان بھائیوں کو حرام ہے اس میں بہت سے مسائل گمراہی کے اور بہت سے مسائل غلط وباطل ہیں اور یہی کیا تھوڑ ا ہے کہ وہ ایسے کی تصنیف ہے جس کو مکہ معظمہ ومدینہ منورہ کے علمائے کرام باتفاق فرمارہے ہیں کہ اس کے کفر میں شك کرنا بھی کفر ہے۔زیادہ اطمینان درکار ہوتو کتاب حسام الحرمین علی منحر الکفر والمین مطبع اہل سنت وجماعت بریلی سے طلب کیجئے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۸۷: ازشہر بریلی مرسلہ شوکت علی صاحب فاروقی ۲۷شوال ۱۳۳۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ کفار کے قسم کے ہوتے ہیں اور ہر ایك کی تعریف کیا ہے اور صحبت کون سے کفار کی سب سے زیادہ مضر ہےبینواتوجروا۔
الجواب:
اﷲ عزوجل ہر قسم کفر و کفار سے بچائےکافر دو قسم ہے:اصلی ومرتد۔اصلی وہ کہ شروع سے کافر اور کلمہ اسلام کا منکر ہےیہ دو قسم ہے:مجاہر ومنافقمجاہروہ کہ علی الاعلان کلمہ کا منکر ہو اور منافق وہ کہ بظاہر کلمہ پڑھتا اور دل میں منکر ہویہ قسم حکم آخرت میں سب اقسام سے بدتر ہے۔
(۱)یہ کہہ کر کہ میں نے تمہیں یہ وعظ قرآن وحدیث سے سنایا ہے یہ کہنا کہ معلوم نہیں جھوٹ ہے یاسچ قرآن عظیم کے صدق میں شك کرنا ہے اور تاویل بعید کی یہاں کچھ حاجت نہیںاول تو الفاظ اس کے مساعد نہیں پھر سوال دوم میں بیان مسائل سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ واعظ ہر وعظ میں مسلمانوں کو بہشتی زیور منگانے کی ترغیب دیتا ہے ایسا ہے تو عقیدہ کا دیوبندی معلوم ہوتا ہے اور دیوبندیوں کے نزدیك قرآن مجید کے صدق میں ضرورشك ہے وہ اﷲ عزوجل کو وجوباسچا نہیں جانتے بلکہ صاف تصریح کرتے ہیں کہ معاذاﷲ وہ امکاناجھوٹاہے پھر وعظ کو قرآن وحدیث سے بتا کر اس کے صدق وکذب میں شك کرنا ضرور کلمہ کفر ہےمسلمانوں کو ایسے شخص کاوعظ سننا اور اسے وعظ کی مسند پر بٹھانا حرام ہے۔
(۲)بہشتی زیور ایك ایسے شخص کی تصنیف ہے جس نے حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو صریح گالی دی اور جس کی نسبت تمام علمائے حرمین شریفین نے بالاتفاق حسام الحرمین میں فرمایا ہے کہ:
من شك فی کفرہ وعذابہ فقد کفر ۔ جو اس کو باتوں پر مطلع ہوکر اسے مسلمان جاننا درکنار اس کے کافر ہونے میں شك بھی کرے وہ بھی کافر۔
بہشتی زیور کا دیکھنا عوام مسلمان بھائیوں کو حرام ہے اس میں بہت سے مسائل گمراہی کے اور بہت سے مسائل غلط وباطل ہیں اور یہی کیا تھوڑ ا ہے کہ وہ ایسے کی تصنیف ہے جس کو مکہ معظمہ ومدینہ منورہ کے علمائے کرام باتفاق فرمارہے ہیں کہ اس کے کفر میں شك کرنا بھی کفر ہے۔زیادہ اطمینان درکار ہوتو کتاب حسام الحرمین علی منحر الکفر والمین مطبع اہل سنت وجماعت بریلی سے طلب کیجئے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۸۷: ازشہر بریلی مرسلہ شوکت علی صاحب فاروقی ۲۷شوال ۱۳۳۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ کفار کے قسم کے ہوتے ہیں اور ہر ایك کی تعریف کیا ہے اور صحبت کون سے کفار کی سب سے زیادہ مضر ہےبینواتوجروا۔
الجواب:
اﷲ عزوجل ہر قسم کفر و کفار سے بچائےکافر دو قسم ہے:اصلی ومرتد۔اصلی وہ کہ شروع سے کافر اور کلمہ اسلام کا منکر ہےیہ دو قسم ہے:مجاہر ومنافقمجاہروہ کہ علی الاعلان کلمہ کا منکر ہو اور منافق وہ کہ بظاہر کلمہ پڑھتا اور دل میں منکر ہویہ قسم حکم آخرت میں سب اقسام سے بدتر ہے۔
حوالہ / References
حسام الحرمین باب المعتمد والمستند مکتبہ نبویہ،لاہور ص۱۳
" ان المنفقین فی الدرک الاسفل من النار " ۔ بیشك منافقین سب سے نیچے طبقہ دوزخ میں ہیں۔
کافر مجاہر چار قسم ہے:
اول دہریہ کہ خدا ہی کا منکر ہے۔
دوم مشرك کہ اﷲ عزوجل کے سوا اور کو بھی معبود یا واجب الوجود جانتا ہےجیسے ہندو بت پرست کہ بتوں کو واجب الوجود تو نہیں مگر معبود مانتے ہیں اور آریہ کہ روح و مادہ کو معبود تو نہیںمگر قدیم وغیر مخلوق جانتے ہیں دونوں مشرك ہیں اور آریوں کو موحد سمجھنا سخت باطل ہے۔
سوم مجوسی آتش پرست۔
چہارم کتابی یہود ونصاری کہ دہریہ نہ ہوں
ان میں اول تین قسم کا ذبیحہ مردار اور ان کی عورتوں سے نکاح باطل ہے اور قسم چہارم کی عورت سے نکاح ہوجائے گا اگرچہ ممنوع و گناہ ہے۔
کافر مرتدوہ کہ کلمہ گو ہو کر کفر کرے اس کی بھی دو قسم ہیں:مجاہر ومنافق۔
مرتد مجاہر وہ کہ پہلے مسلمان تھا پھر علانیہ اسلام سے پھر گیا کلمہ اسلام کا منکر ہوگیا چاہے دہریہ ہوجائے یا مشرك یا مجوسی یا کتابی کچھ بھی ہو۔
مرتد منافق وہ کہ کلمہ اسلام اب بھی پڑھتا ہے اپنے آپ کو مسلمان ہی کہتا ہے پھر اﷲ عزوجل یا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یا کسی نبی کی توہین کرتا یا ضروریات دین میں سے کسی شئے کا منکر ہےجیسے آجکل کے وہابیرافضیقادیانی نیچری چکڑالویجھوٹے صوفی کہ شریعت پر ہنستے ہیںحکم دنیا میں سب سے بدتر مرتد ہیں اس سے جزیہ نہیں لیا جاسکتااس کا نکاح کسی مسلم کافر مرتد اس کے ہم مذہب یا مخالف مذہبغرض انسان حیوان کسی سے نہیں ہوسکتاجس سے ہوگا محض زنا ہوگامرتد مرد ہو خواہ عورتمرتدوں میں سے سب سے بدترمرتد منافق ہےیہی وہ ہے کہ اس کی صحبت ہزار کافر کی صحبت سے زیادہ مضر ہے کہ یہ مسلمان بن کر کفر سکھاتا ہےخصوصا وہابیہ خصوصا دیوبندیہ کہ اپنے آپ کو خاص اہلسنت کہتےحنفی بنتےچشتی نقشبندی بنتےنماز روزہ ہمارا سا کرتےہماری کتابیں پڑھتے پڑھاتے اور اﷲ ورسول کو گالیاں دیتے ہیںیہ سب سے بدتر زہر قاتل ہیںہوشیار خبردار !مسلمانوں!اپنا دین بچائے ہوئے رہو " فاللہ خیر حفظا ۪ وہو ارحم الرحمین ﴿۶۴﴾" (تو اﷲ سب سے بہتر نگہبان اور وہ ہر مہربان سے بڑھ کر مہربان۔ت)واﷲ تعالی اعلم۔
__________________
کافر مجاہر چار قسم ہے:
اول دہریہ کہ خدا ہی کا منکر ہے۔
دوم مشرك کہ اﷲ عزوجل کے سوا اور کو بھی معبود یا واجب الوجود جانتا ہےجیسے ہندو بت پرست کہ بتوں کو واجب الوجود تو نہیں مگر معبود مانتے ہیں اور آریہ کہ روح و مادہ کو معبود تو نہیںمگر قدیم وغیر مخلوق جانتے ہیں دونوں مشرك ہیں اور آریوں کو موحد سمجھنا سخت باطل ہے۔
سوم مجوسی آتش پرست۔
چہارم کتابی یہود ونصاری کہ دہریہ نہ ہوں
ان میں اول تین قسم کا ذبیحہ مردار اور ان کی عورتوں سے نکاح باطل ہے اور قسم چہارم کی عورت سے نکاح ہوجائے گا اگرچہ ممنوع و گناہ ہے۔
کافر مرتدوہ کہ کلمہ گو ہو کر کفر کرے اس کی بھی دو قسم ہیں:مجاہر ومنافق۔
مرتد مجاہر وہ کہ پہلے مسلمان تھا پھر علانیہ اسلام سے پھر گیا کلمہ اسلام کا منکر ہوگیا چاہے دہریہ ہوجائے یا مشرك یا مجوسی یا کتابی کچھ بھی ہو۔
مرتد منافق وہ کہ کلمہ اسلام اب بھی پڑھتا ہے اپنے آپ کو مسلمان ہی کہتا ہے پھر اﷲ عزوجل یا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یا کسی نبی کی توہین کرتا یا ضروریات دین میں سے کسی شئے کا منکر ہےجیسے آجکل کے وہابیرافضیقادیانی نیچری چکڑالویجھوٹے صوفی کہ شریعت پر ہنستے ہیںحکم دنیا میں سب سے بدتر مرتد ہیں اس سے جزیہ نہیں لیا جاسکتااس کا نکاح کسی مسلم کافر مرتد اس کے ہم مذہب یا مخالف مذہبغرض انسان حیوان کسی سے نہیں ہوسکتاجس سے ہوگا محض زنا ہوگامرتد مرد ہو خواہ عورتمرتدوں میں سے سب سے بدترمرتد منافق ہےیہی وہ ہے کہ اس کی صحبت ہزار کافر کی صحبت سے زیادہ مضر ہے کہ یہ مسلمان بن کر کفر سکھاتا ہےخصوصا وہابیہ خصوصا دیوبندیہ کہ اپنے آپ کو خاص اہلسنت کہتےحنفی بنتےچشتی نقشبندی بنتےنماز روزہ ہمارا سا کرتےہماری کتابیں پڑھتے پڑھاتے اور اﷲ ورسول کو گالیاں دیتے ہیںیہ سب سے بدتر زہر قاتل ہیںہوشیار خبردار !مسلمانوں!اپنا دین بچائے ہوئے رہو " فاللہ خیر حفظا ۪ وہو ارحم الرحمین ﴿۶۴﴾" (تو اﷲ سب سے بہتر نگہبان اور وہ ہر مہربان سے بڑھ کر مہربان۔ت)واﷲ تعالی اعلم۔
__________________
حوالہ / References
القرآن الکریم ۱۲ /۶۴
رسالہ
المبین ختم النبیین ۱۳۲۶ھ
(حضور کے خاتم النبیین ہونے کے واضح دلائل)
مسئلہ۸۸تا۹۴:ازبہار شریف محلہ قلعہ مدرسہ فیض رسول مرسلہ مولوی ابوطاہر نبی بخش صاحب ۱۸ربیع الاول شریف۱۳۲۶ھ
بسم اﷲ الرحمن الرحیم ________حامد او مصلیا ومسلما
اما بعد بست وپنجم ماہ ربیع الاول ۱۳۲۶ھ شب سہ شنبہ کو مولوی سجاد حسین ومولوی مبارك حسین صاحب مدرسین مدرسہ اسلامیہ بہار کے وطلبا تعلیم دادہ وعظ میں فرماتے تھے کہ خاتم النبیین میں"النبیین"پر الف لام عہد خارجی کا ہےجب دوسرے روز مسجد چوك میں مولوی ابراہیم صاحب نے(جوبالفعل مدرسہ فیض رسول میں پڑھتے ہیں)اثنائے وعظ میں آیہ کریمہ:
" ما کان محمد ابا احد من رجالکم ولکن رسول اللہ و خاتم النبین محمد تمہارے مردوں میں کسی کے باپ نہیں اﷲ کے رسول ہیں اور سب نبیوں میں پچھلے۔(ت)
تلاوت کرکے بیان کیا کہ النبیین میں جو لفظ النبیین مضاف الیہ واقع ہواہے اس لفظ پر الف لام
المبین ختم النبیین ۱۳۲۶ھ
(حضور کے خاتم النبیین ہونے کے واضح دلائل)
مسئلہ۸۸تا۹۴:ازبہار شریف محلہ قلعہ مدرسہ فیض رسول مرسلہ مولوی ابوطاہر نبی بخش صاحب ۱۸ربیع الاول شریف۱۳۲۶ھ
بسم اﷲ الرحمن الرحیم ________حامد او مصلیا ومسلما
اما بعد بست وپنجم ماہ ربیع الاول ۱۳۲۶ھ شب سہ شنبہ کو مولوی سجاد حسین ومولوی مبارك حسین صاحب مدرسین مدرسہ اسلامیہ بہار کے وطلبا تعلیم دادہ وعظ میں فرماتے تھے کہ خاتم النبیین میں"النبیین"پر الف لام عہد خارجی کا ہےجب دوسرے روز مسجد چوك میں مولوی ابراہیم صاحب نے(جوبالفعل مدرسہ فیض رسول میں پڑھتے ہیں)اثنائے وعظ میں آیہ کریمہ:
" ما کان محمد ابا احد من رجالکم ولکن رسول اللہ و خاتم النبین محمد تمہارے مردوں میں کسی کے باپ نہیں اﷲ کے رسول ہیں اور سب نبیوں میں پچھلے۔(ت)
تلاوت کرکے بیان کیا کہ النبیین میں جو لفظ النبیین مضاف الیہ واقع ہواہے اس لفظ پر الف لام
استغراق کا ہے بایں معنی کہ سوائے حضور پر نور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے کوئی نبی نہ آپ کے زمانہ میں ہواور نہ بعد آپ کے قیامت تك کوئی نبی ہو نبوت آپ پر ختم ہوگئی آپ کل نبیوں کے خاتم ہیںبعد وعظ مولوی ابراہیم صاحب کے راحت حسین طالب علم مدرسہ اسلامیہ بہار کے مجاور در گاہ نے باعانت بعض معاون روپوش بڑے دعوے کے ساتھ مولوی ابراہیم صاحب کی تقریر مذکور کی تردید کی اورصاف لفظوں میں کہا کہ لفظ"النبیین"پر الف لام استغراق کا نہیں ہے بلکہ عہد خارجی کا ہےچونکہ یہ مسئلہ عقائد ہے لہذا اس کے متعلق چند مسائل نمبروار لکھ کر اہل حق سے گزارش ہے کہ بنظر احقاق ہر مسئلہ کا جواب باصواب بحوالہ کتب تحریر فرمادیں تاکہ اہل اسلام گمراہی و بدعقیدگی سے بچیں:
(۱)راحت حسین مذکور کا کہنا کہ"النبیین"پر الف لام عہد خارجی کا ہے استغراق کا نہیں۔یہ قول صحیح اور موافق مذہب منصور اہل سنت وجماعت کے ہے یا موافق فرقہ ضالہ زید یہ کے
(۲)نفی استغراق سے آیہ کریمہ کا کیا مفہوم ہوگا
(۳)برتقدیر صحت نفی استغراق اس آیہ سے اہل سنت کا عقیدہ کہ حضور پر نور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کل انبیاء کے خاتم ہیںثابت ہوتا ہے کہ نہیں اور اہل سنت اس آیہ کو مثبت خاتمیت کاملہ سمجھتے ہیں یانہیں
(۴)اگر آیت مثبت کلیت نہیں ہوگی تو پھر کس آیت سے کلیت ثابت ہوگی اور جب دوسری آیت مثبت کلیت نہیں تو اہل سنت کے اس عقیدے کا ثبوت دلیل قطعی سے ہرگز نہ ہوگا۔
(۵)جس کا عقیدہ ہو کہ حضور پر نور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کل انبیاء کے خاتم نہیں ہیںاس کے پیچھے اہلسنت کو نماز پڑھنا جائز ہے یانہیں
(۶)اس باطل عقیدے کے لوگوں کی تعظیم و توقیر کرنی اور ان کو سلام کرنا جائز ہوگا یا ممنوع
(۷)کیا سنی حنفی کو جائز ہے کہ جو شخص حضور پر نور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو کل انبیاء کا خاتم نہ سمجھے اس سے دینی علوم پڑھیں یا اپنی اولاد کو علم دین پڑھنے کے واسطے ان کے پاس بھیجیںفقط المستفتی محمد عبداﷲ۔
دلائل خارجیہ عــــــہ
دلیل اول:توضیح ص۱۰۰میں ہے:
الاصل ای الراجح ھوالعھد الخارجی اصل یعنی راجح عہد خارجی ہی کا ہے اس لئے عہد خارجی
عــــــہ:چونکہ خاتم النبیین میں الف لام عہد خارجی کے قائل ہیں لہذا خارجیہ لکھے گئے ہیں۱۲
(۱)راحت حسین مذکور کا کہنا کہ"النبیین"پر الف لام عہد خارجی کا ہے استغراق کا نہیں۔یہ قول صحیح اور موافق مذہب منصور اہل سنت وجماعت کے ہے یا موافق فرقہ ضالہ زید یہ کے
(۲)نفی استغراق سے آیہ کریمہ کا کیا مفہوم ہوگا
(۳)برتقدیر صحت نفی استغراق اس آیہ سے اہل سنت کا عقیدہ کہ حضور پر نور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کل انبیاء کے خاتم ہیںثابت ہوتا ہے کہ نہیں اور اہل سنت اس آیہ کو مثبت خاتمیت کاملہ سمجھتے ہیں یانہیں
(۴)اگر آیت مثبت کلیت نہیں ہوگی تو پھر کس آیت سے کلیت ثابت ہوگی اور جب دوسری آیت مثبت کلیت نہیں تو اہل سنت کے اس عقیدے کا ثبوت دلیل قطعی سے ہرگز نہ ہوگا۔
(۵)جس کا عقیدہ ہو کہ حضور پر نور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کل انبیاء کے خاتم نہیں ہیںاس کے پیچھے اہلسنت کو نماز پڑھنا جائز ہے یانہیں
(۶)اس باطل عقیدے کے لوگوں کی تعظیم و توقیر کرنی اور ان کو سلام کرنا جائز ہوگا یا ممنوع
(۷)کیا سنی حنفی کو جائز ہے کہ جو شخص حضور پر نور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو کل انبیاء کا خاتم نہ سمجھے اس سے دینی علوم پڑھیں یا اپنی اولاد کو علم دین پڑھنے کے واسطے ان کے پاس بھیجیںفقط المستفتی محمد عبداﷲ۔
دلائل خارجیہ عــــــہ
دلیل اول:توضیح ص۱۰۰میں ہے:
الاصل ای الراجح ھوالعھد الخارجی اصل یعنی راجح عہد خارجی ہی کا ہے اس لئے عہد خارجی
عــــــہ:چونکہ خاتم النبیین میں الف لام عہد خارجی کے قائل ہیں لہذا خارجیہ لکھے گئے ہیں۱۲
لانہ حقیقۃ التعیین وکمال التمییز ۔ حقیقت تعیین اور کمال تمیز ہے۔
پس جب عہد خارجی سے معنی درست ہوتو استغراق وغیرہ معتبر نہ ہوگا۔
دلیل دوم:نورالانوارصفحہ۸۱میں ہے:
یسقط اعتبار الجمعیۃ اذادخلت علی الجمع ۔ جب لام تعریف جمع پر داخل ہوتو اعتبار جمعیت ساقط ہوجاتا ہے۔
پس نبیین کہ صیغہ جمع ہےجب اس پر الف لام تعریف داخل ہوا تو نبیین سے معنی جمعیت ساقط ہوگیا اور جب معنی جمعیت ساقط ہوگیا تو الف لام استغراق کا ماننا صحیح نہیں ہوسکتا۔
دلیل سوم:یہ امر مسلم ہے کہ مضاف مضاف الیہ کا غیر ہوتا ہے جب فردواحد اس کل کے طرف مضاف ہو جس میں وہ داخل ہے تو وہ کل من حیث ہو کل ہونے کے کلباقی نہ رہے گا بلکہ کلیت اس کی ٹوٹ جائے گیاور جب کلیت اس کی باقی نہ رہی تو بعضیت ثابت ہوگئی اور یہی معنی ہے عہد کااور اگر اس فرد مضاف کہ ہم اس کل کے شمول میں رکھیں تو تقدم الشئے علی نفسہ لازم آتا ہے اور یہ باطل ہے کیونکہ وجود مضاف الیہ مقدم ہوتا ہے وجود مضاف پرپس ان دلائل سے ثابت ہواکہ النبیین میں الف لام عہد خارجی کا مانناچاہئے۔
الجواب:
حضور پر نور خاتم النبیین سید المرسلین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم علیہ وعلیہم اجمعین کا خاتم یعنی بعثت میں آخر جمیع انبیاء و مرسلین بلا تاویل و بلا تخصیص ہونا ضروریات دین سے ہے جو اس کا منکر ہو یا اس میں ادنی شك و شبہہ کو بھی راہ دے کافر مرتد ملعون ہےآیہ کریمہ ولکن رسول اللہ و خاتم النبین (لیکن آپ اﷲ کے رسول اور انبیاء کے خاتم ہیں۔ت)وحدیث متواتر لا نبی بعدی (میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ت)سے تمام امت مرحومہ نے سلفا وخلفایہی معنی سمجھے کہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بلا تخصیص تمام انبیاء میں آخر نبی ہوئے حضور کے ساتھ یا حضور کے بعد قیام قیامت تك کسی کو نبوت ملنی محال ہے۔فتاوی یتیمیۃ الدہرواشباہ والنظائر وفتاوی عالمگیریہ وغیرہا میں ہے: ولکن رسول اللہ و خاتم النبین
پس جب عہد خارجی سے معنی درست ہوتو استغراق وغیرہ معتبر نہ ہوگا۔
دلیل دوم:نورالانوارصفحہ۸۱میں ہے:
یسقط اعتبار الجمعیۃ اذادخلت علی الجمع ۔ جب لام تعریف جمع پر داخل ہوتو اعتبار جمعیت ساقط ہوجاتا ہے۔
پس نبیین کہ صیغہ جمع ہےجب اس پر الف لام تعریف داخل ہوا تو نبیین سے معنی جمعیت ساقط ہوگیا اور جب معنی جمعیت ساقط ہوگیا تو الف لام استغراق کا ماننا صحیح نہیں ہوسکتا۔
دلیل سوم:یہ امر مسلم ہے کہ مضاف مضاف الیہ کا غیر ہوتا ہے جب فردواحد اس کل کے طرف مضاف ہو جس میں وہ داخل ہے تو وہ کل من حیث ہو کل ہونے کے کلباقی نہ رہے گا بلکہ کلیت اس کی ٹوٹ جائے گیاور جب کلیت اس کی باقی نہ رہی تو بعضیت ثابت ہوگئی اور یہی معنی ہے عہد کااور اگر اس فرد مضاف کہ ہم اس کل کے شمول میں رکھیں تو تقدم الشئے علی نفسہ لازم آتا ہے اور یہ باطل ہے کیونکہ وجود مضاف الیہ مقدم ہوتا ہے وجود مضاف پرپس ان دلائل سے ثابت ہواکہ النبیین میں الف لام عہد خارجی کا مانناچاہئے۔
الجواب:
حضور پر نور خاتم النبیین سید المرسلین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم علیہ وعلیہم اجمعین کا خاتم یعنی بعثت میں آخر جمیع انبیاء و مرسلین بلا تاویل و بلا تخصیص ہونا ضروریات دین سے ہے جو اس کا منکر ہو یا اس میں ادنی شك و شبہہ کو بھی راہ دے کافر مرتد ملعون ہےآیہ کریمہ ولکن رسول اللہ و خاتم النبین (لیکن آپ اﷲ کے رسول اور انبیاء کے خاتم ہیں۔ت)وحدیث متواتر لا نبی بعدی (میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ت)سے تمام امت مرحومہ نے سلفا وخلفایہی معنی سمجھے کہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بلا تخصیص تمام انبیاء میں آخر نبی ہوئے حضور کے ساتھ یا حضور کے بعد قیام قیامت تك کسی کو نبوت ملنی محال ہے۔فتاوی یتیمیۃ الدہرواشباہ والنظائر وفتاوی عالمگیریہ وغیرہا میں ہے: ولکن رسول اللہ و خاتم النبین
حوالہ / References
التوضیح والتلویح قولہ ومنہا الجمع المعرف باللام نورانی کتب خانہ پشاور ۱/ ۱۳۶
نورالانوار بحث التعریف باللام والاضافۃ مکتبہ علمی دہلی ص۸۱
القرآن الکریم ۳۳ /۴۰
صحیح البخاری کتاب الانبیاء باب ماذکر عن بنی اسرائیل قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۴۹۱
نورالانوار بحث التعریف باللام والاضافۃ مکتبہ علمی دہلی ص۸۱
القرآن الکریم ۳۳ /۴۰
صحیح البخاری کتاب الانبیاء باب ماذکر عن بنی اسرائیل قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۴۹۱
اذالم یعرف الرجل ان محمدا صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اخر الانبیاء فلیس بمسلم لانہ من الضروریات ۔ جو شخص یہ نہ جانے کہ محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم انبیاء میں سب سے پچھلے نبی ہیں وہ مسلمان نہیں کہ حضور کا آخر الانبیاء ہونا ضروریات دین سے ہے(ت)
شفاء شریف امام قاضی عیاض رحمۃ اﷲ تعالی علیہ میں ہے:
کذلک(یکفر)من ادعی نبوۃ احد مع نبینا صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اوبعدہ(الی قولہ)فھؤلا کلھم کفار مکذبون للنبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اخبرانہ خاتم النبیین ولانبی بعدہ واخبر عن اﷲ تعالی انہ خاتم النبیین وانہ ارسل کافۃ للناس واجمعت الامۃ علی حمل ان ھذا الکلام علی ظاھرہ وان مفھومہ المراد بہ دون تاویل ولاتخصیص فلا شك فی کفر ھؤلاء الطوائف کلھا قطعا اجماعاوسمعا ۔ یعنی جو ہمارے نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے زمانہ میں خواہ حضور کے بعد کسی کی نبوت کا ادعا کرے کافر ہے(اس قو ل تک)یہ سب نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی تکذیب کرنے والے ہیں کہ نبی صلی اﷲتعالی علیہ وسلم نے خبردی کہ خاتم النبیین ہیں اور ان کے بعد کوئی نبی نہیں اور اﷲ تعالی کی جانب سے یہ خبر دی کہ حضور خاتم النبیین ہیں اور ان کی رسالت تمام لوگوں کو عام ہے اور امت نے اجماع کیا ہے کہ یہ آیات واحادیث اپنے ظاہر پر ہیں جو کچھ ان سے مفہوم ہوتا ہے وہی خدا ورسول کی مراد ہے نہ ان میں کوئی تاویل ہے نہ کچھ تخصیص تو جو لوگ اس کا خلاف کریں وہ بحکم اجماع امت وبحکم قرآن وحدیث سب یقینا کافر ہیں۔
امام حجۃ الاسلام غزالی قدس سرہ العالی کتاب الاقتصاد میں فرماتے ہیں:
ان الامۃ فھمت ھذااللفظ انہ افھم عدم نبی بعدہ ابداوعدم رسول بعدہ ابدا وانہ لیس فیہ تاویل ولاتخصیص وامن اولہ بتخصیص فکلامہ من انواع الھذیان لایمنع الحکم بتکفیرہ لانہ مکذب لھذا النص الذی اجمعت الامۃ علی انہ غیر مؤول یعنی تمام امت مرحومہ نے لفظ خاتم النبیین سے یہی سمجھا ہے وہ بتاتا ہے کہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے بعد کبھی کوئی نبی نہ ہوگا حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے بعد کوئی رسول نہ ہوگا اور تمام امت نے یہی مانا ہے کہ اس میں اصلا کوئی تاویل یا تخصیص نہیں تو جو شخص لفظ خاتم النبیین میں النبیین کو اپنے عموم واستغراق پر نہ مانے بلکہ
شفاء شریف امام قاضی عیاض رحمۃ اﷲ تعالی علیہ میں ہے:
کذلک(یکفر)من ادعی نبوۃ احد مع نبینا صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اوبعدہ(الی قولہ)فھؤلا کلھم کفار مکذبون للنبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اخبرانہ خاتم النبیین ولانبی بعدہ واخبر عن اﷲ تعالی انہ خاتم النبیین وانہ ارسل کافۃ للناس واجمعت الامۃ علی حمل ان ھذا الکلام علی ظاھرہ وان مفھومہ المراد بہ دون تاویل ولاتخصیص فلا شك فی کفر ھؤلاء الطوائف کلھا قطعا اجماعاوسمعا ۔ یعنی جو ہمارے نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے زمانہ میں خواہ حضور کے بعد کسی کی نبوت کا ادعا کرے کافر ہے(اس قو ل تک)یہ سب نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی تکذیب کرنے والے ہیں کہ نبی صلی اﷲتعالی علیہ وسلم نے خبردی کہ خاتم النبیین ہیں اور ان کے بعد کوئی نبی نہیں اور اﷲ تعالی کی جانب سے یہ خبر دی کہ حضور خاتم النبیین ہیں اور ان کی رسالت تمام لوگوں کو عام ہے اور امت نے اجماع کیا ہے کہ یہ آیات واحادیث اپنے ظاہر پر ہیں جو کچھ ان سے مفہوم ہوتا ہے وہی خدا ورسول کی مراد ہے نہ ان میں کوئی تاویل ہے نہ کچھ تخصیص تو جو لوگ اس کا خلاف کریں وہ بحکم اجماع امت وبحکم قرآن وحدیث سب یقینا کافر ہیں۔
امام حجۃ الاسلام غزالی قدس سرہ العالی کتاب الاقتصاد میں فرماتے ہیں:
ان الامۃ فھمت ھذااللفظ انہ افھم عدم نبی بعدہ ابداوعدم رسول بعدہ ابدا وانہ لیس فیہ تاویل ولاتخصیص وامن اولہ بتخصیص فکلامہ من انواع الھذیان لایمنع الحکم بتکفیرہ لانہ مکذب لھذا النص الذی اجمعت الامۃ علی انہ غیر مؤول یعنی تمام امت مرحومہ نے لفظ خاتم النبیین سے یہی سمجھا ہے وہ بتاتا ہے کہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے بعد کبھی کوئی نبی نہ ہوگا حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے بعد کوئی رسول نہ ہوگا اور تمام امت نے یہی مانا ہے کہ اس میں اصلا کوئی تاویل یا تخصیص نہیں تو جو شخص لفظ خاتم النبیین میں النبیین کو اپنے عموم واستغراق پر نہ مانے بلکہ
حوالہ / References
الاشباہ والنظائر باب الردۃ ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ۱/ ۲۹۶،فتاوٰی ہندیہ باب احکام المرتدین نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۲۶۳
الشفاء بتعریف حقوق المصطفی فصل فی تحقیق القول فی اکفار المتاؤلین شرکت صحافیہ فی البلد العثمانیہ ترکی۲/۱۷۰،۷۱
الشفاء بتعریف حقوق المصطفی فصل فی تحقیق القول فی اکفار المتاؤلین شرکت صحافیہ فی البلد العثمانیہ ترکی۲/۱۷۰،۷۱
ولامخصوص ۔ اسے کسی تخصیص کی طرف پھیرے اس کی بات مجنون کی بك یا سرسامی کی بہك ہے اسے کافر کہنے سے کچھ ممانعت نہیں کہ اس نے نص قرآنی کو جھٹلایا جس کے بار ے میں امت کا اجماع ہے کہ اس میں نہ کوئی تاویل ہے نہ تخصیص۔
عارف باﷲ سیدی عبدالغنی نابلسی قدس سرہ القدسی شرح الفرائد میں فرماتے ہیں:
تجویز نبی مع نبینا صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم او بعدہ یستلزم تکذیب القران اذ قد نص علی انہ خاتم النبیین واخر المرسلین وفی السنۃ انا العاقب لانبی بعدی واجمعت الامۃ علی ابقاء ھذاالکلام علی ظاہرہ وھذہ احدی المسائل المشہورۃ التی کفرنا بھا الفلاسفۃ لعنھم اﷲتعالی ۔ ہمارے نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے ساتھ یا بعد کسی کو نبوت ملنی جائز ماننا تکذیب قرآن کو مستلزم ہے کہ قرآن عظیم تصریح فرماچکا ہے کہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم خاتم النبیین وآخر المرسلین ہیں اور حدیث میں فرمایا:میں پچھلا نبی ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں۔اور تمام امت کا اجماع ہے کہ یہ کلام اپنے ظاہر پرہے یعنی عموم واستغراق بلاتا ویل وتخصیص اور یہ ان مشہور مسئلوں سے ہے جن کے سبب ہم اہل اسلام نے کافرکہا فلاسفہ کواﷲ تعالی ان پر لعنت کرے۔
امام علامہ شہاب الدین فضل اﷲ بن حسین تورپشتی حنفی کتاب المعتمد فی المعتقد میں فرماتے ہیں:
بحمدہ اﷲ تعالی ایں مسئلہ درمیان اسلامیان روشن ترازاں ست کہ آں را بکشف وبیان حاجت افتدخدائے تعالی خبردار کہ بعد ازوے صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نبی دیگر نباشد ومنکرایں مسئلہ کسے تواند بود کہ اصلا درنبوت اوصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم معتقد نباشد کہ اگر برسالت او معترف بودے وے را در ہرچہ ازاں خبردار صادق دانستے وبہماں جہتہاکہ از طریق تواتر رسالت او بیش مادرست شدہ ایں نیز درست شد کہ وے صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم باز پسیں پیغمبران ست در بحمداﷲ تعالی یہ مسئلہ اہل اسلام کے ہاں اتنا واضح اور آشکار ہے کہ اسے بیان کرنے کی ضرورت ہی نہیںاﷲ تعالی نے خود اطلاع فرمادی ہے کہ آپ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں ہوگااگر کوئی شخص اس کا منکر ہے تو وہ تو اصلا آپ کی نبوت کا معتقد نہیں کیونکہ اگر آپ کی رسالت کو تسلیم کرتا تو جو کچھ آپ نے بتایا ہے اس کو حق جانتا جس طرح آپ کی رسالت و نبوت تواتر سے ثابت ہے اسی طرح یہ بھی تواتر سے ثابت ہے کہ حضور تمام انبیاء کے آخرمیں تشریف لائے ہیں اور اب
عارف باﷲ سیدی عبدالغنی نابلسی قدس سرہ القدسی شرح الفرائد میں فرماتے ہیں:
تجویز نبی مع نبینا صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم او بعدہ یستلزم تکذیب القران اذ قد نص علی انہ خاتم النبیین واخر المرسلین وفی السنۃ انا العاقب لانبی بعدی واجمعت الامۃ علی ابقاء ھذاالکلام علی ظاہرہ وھذہ احدی المسائل المشہورۃ التی کفرنا بھا الفلاسفۃ لعنھم اﷲتعالی ۔ ہمارے نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے ساتھ یا بعد کسی کو نبوت ملنی جائز ماننا تکذیب قرآن کو مستلزم ہے کہ قرآن عظیم تصریح فرماچکا ہے کہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم خاتم النبیین وآخر المرسلین ہیں اور حدیث میں فرمایا:میں پچھلا نبی ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں۔اور تمام امت کا اجماع ہے کہ یہ کلام اپنے ظاہر پرہے یعنی عموم واستغراق بلاتا ویل وتخصیص اور یہ ان مشہور مسئلوں سے ہے جن کے سبب ہم اہل اسلام نے کافرکہا فلاسفہ کواﷲ تعالی ان پر لعنت کرے۔
امام علامہ شہاب الدین فضل اﷲ بن حسین تورپشتی حنفی کتاب المعتمد فی المعتقد میں فرماتے ہیں:
بحمدہ اﷲ تعالی ایں مسئلہ درمیان اسلامیان روشن ترازاں ست کہ آں را بکشف وبیان حاجت افتدخدائے تعالی خبردار کہ بعد ازوے صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نبی دیگر نباشد ومنکرایں مسئلہ کسے تواند بود کہ اصلا درنبوت اوصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم معتقد نباشد کہ اگر برسالت او معترف بودے وے را در ہرچہ ازاں خبردار صادق دانستے وبہماں جہتہاکہ از طریق تواتر رسالت او بیش مادرست شدہ ایں نیز درست شد کہ وے صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم باز پسیں پیغمبران ست در بحمداﷲ تعالی یہ مسئلہ اہل اسلام کے ہاں اتنا واضح اور آشکار ہے کہ اسے بیان کرنے کی ضرورت ہی نہیںاﷲ تعالی نے خود اطلاع فرمادی ہے کہ آپ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں ہوگااگر کوئی شخص اس کا منکر ہے تو وہ تو اصلا آپ کی نبوت کا معتقد نہیں کیونکہ اگر آپ کی رسالت کو تسلیم کرتا تو جو کچھ آپ نے بتایا ہے اس کو حق جانتا جس طرح آپ کی رسالت و نبوت تواتر سے ثابت ہے اسی طرح یہ بھی تواتر سے ثابت ہے کہ حضور تمام انبیاء کے آخرمیں تشریف لائے ہیں اور اب
حوالہ / References
الاقتصاد فی الاعتقاد امام غزالی المکتبۃ الادبیہ مصر ص۱۱۴
المعتقد المنتقد بحوالہ المطالب الوفیہ شرح الفرائد السنیہ تجویز نبی بعدہ کفر مکتبۃ الحقیقیۃ استنبول ترکی ص۱۱۵
المعتقد المنتقد بحوالہ المطالب الوفیہ شرح الفرائد السنیہ تجویز نبی بعدہ کفر مکتبۃ الحقیقیۃ استنبول ترکی ص۱۱۵
زمان اووتاقیامت بعد ازوے ہیچ نبی نباشد وہرکہ دریں بہ شك ست دراں نیز بہ شك ست ونہ آں کس کہ گوید کہ بعد اووے نبی دیگر بودیا ہست یا خواہد بودآں کس نیز کہ گوید کہ امکان دار د کہ باشد کافر ست اینست شرط در ستی ایمان بخاتم انبیاء محمد مصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔ تا قیامت آپ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا جس کو اس بارے میں شك ہے اسے پہلی بات کے بارے میں شك ہوگا صرف وہی شخص کافر نہیں جو یہ کہے کہ آپ کے بعد نبی تھا یا ہے یا ہوگا بلکہ وہ بھی کافر ہے جوآپ کے بعد کسی نبی کی آمد کو ممکن تصور کرےخاتم الانبیاء صلی اﷲتعالی علیہ وسلم پر ایمان درست ہونے کی شرط ہی یہ ہے(ت)
بالجملہ آیہ کریمہ" ولکن رسول اللہ و خاتم النبین " مثل حدیث متواتر لانبی بعدی قطعا عام اور اس میں مراد استغراق تام اور اس میں کسی قسم کی تاویل وتخصیص نہ ہونے پر اجماع امت خیرالانام علیہ وعلیہم الصلوۃ والسلامیہ ضروریات دین سے ہے اور ضروریات دین میں کوئی تاویل یا اس کے عموم میں کچھ قیل وقال اصلا مسموع نہیںجیسے آج کل دجال قادیانی بك رہاہے کہ"خاتم النبیین سے ختم نبوت شریعت جدیدہ مراد ہے اگر حضور کے بعد کوئی نبی اسی شریعت مطہرہ کا مروج وتابع ہوکر آئے کچھ حرج نہیں"اور وہ خبیث اس سے اپنی نبوت جمانا چاہتا ہےیا ایك اور دجال نے کہا تھا کہ"تقدم عــــہ۱ تاخر زمانی میں کچھ فضیلت نہیں خاتم بمعنی آخر لیناخیال جہال ہے بلکہ خاتم النبیین بمعنی نبی بالذات ہے"۔ اور اسی مضمون ملعون کو دجال اول نے یوں عــــہ۲ ادا کیا کہ"خاتم النبیین بمعنی افضل النبیین ہے"ایك اور مرتدنے لکھا"خاتم النبیین عــــہ۳ ہونا حضرت رسالت صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا بہ نسبت اس سلسلہ محدودہ کے ہے نہ بہ نسبت جمیع سلاسل عوالم کےپس اور مخلوقات کا اورزمینوں میں نبی ہونا ہرگز منافی خاتم النبیین کے نہیں جموع محلے باللام امثال اس مقام پر مخصوص ہوتی ہیں"چند اور خبیثوں نے
عــــہ۱:تحذیر الناس نانوتی۱۲
عــــہ۳:مناظرہ احمدیہ۱۲
عــــہ۲:مواہب الرحمن قادیانی۱۲
بالجملہ آیہ کریمہ" ولکن رسول اللہ و خاتم النبین " مثل حدیث متواتر لانبی بعدی قطعا عام اور اس میں مراد استغراق تام اور اس میں کسی قسم کی تاویل وتخصیص نہ ہونے پر اجماع امت خیرالانام علیہ وعلیہم الصلوۃ والسلامیہ ضروریات دین سے ہے اور ضروریات دین میں کوئی تاویل یا اس کے عموم میں کچھ قیل وقال اصلا مسموع نہیںجیسے آج کل دجال قادیانی بك رہاہے کہ"خاتم النبیین سے ختم نبوت شریعت جدیدہ مراد ہے اگر حضور کے بعد کوئی نبی اسی شریعت مطہرہ کا مروج وتابع ہوکر آئے کچھ حرج نہیں"اور وہ خبیث اس سے اپنی نبوت جمانا چاہتا ہےیا ایك اور دجال نے کہا تھا کہ"تقدم عــــہ۱ تاخر زمانی میں کچھ فضیلت نہیں خاتم بمعنی آخر لیناخیال جہال ہے بلکہ خاتم النبیین بمعنی نبی بالذات ہے"۔ اور اسی مضمون ملعون کو دجال اول نے یوں عــــہ۲ ادا کیا کہ"خاتم النبیین بمعنی افضل النبیین ہے"ایك اور مرتدنے لکھا"خاتم النبیین عــــہ۳ ہونا حضرت رسالت صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا بہ نسبت اس سلسلہ محدودہ کے ہے نہ بہ نسبت جمیع سلاسل عوالم کےپس اور مخلوقات کا اورزمینوں میں نبی ہونا ہرگز منافی خاتم النبیین کے نہیں جموع محلے باللام امثال اس مقام پر مخصوص ہوتی ہیں"چند اور خبیثوں نے
عــــہ۱:تحذیر الناس نانوتی۱۲
عــــہ۳:مناظرہ احمدیہ۱۲
عــــہ۲:مواہب الرحمن قادیانی۱۲
حوالہ / References
المعتمدفی المعتقد
القرآن الکریم ۳۳ /۴۰
صحیح البخاری کتاب الانبیاء باب ماذکر عن نبی اسرائیل قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۴۹۱
القرآن الکریم ۳۳ /۴۰
صحیح البخاری کتاب الانبیاء باب ماذکر عن نبی اسرائیل قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۴۹۱
لکھا کہ"الف لام عــــہ۱ خاتم النبیین میں جائز ہے کہ عہد کے لئے ہو اور برتقدیر تسلیم استغراق جائز ہے کہ استغراق عرفی کےلئے ہو اور برتقدیر حقیقی جائز ہے کہ مخصوص البعض ہو اور بھی عام کے قطعی ہونے میں بڑا اختلاف ہے کہ اکثر علماء ظنی ہونے کے قائل ہیں"ان شیاطین سے بڑھ کر'اور بعض ابلیسیوں نے لکھا کہ"اہل اسلام عــــہ۲ کے بعض فرقے ختم نبوت کے ہی قائل نہیں اور بعض قائل ختم نبوت تشریعی کے ہیں نہ مطلق نبوت کے"
الی غیرذلك من الکفریات الملعونۃ والارتدادات المشحونۃ بنجاسات ابلیس وقاذورات التدلیس لعن اﷲ قائلھا وقاتل اﷲ قابلیھا۔ دیگر کفریات ملعونہ اور ارتدادات جو ابلیس کی نجاستوں اور جھوٹ کی پلیدوں کو متضمن ہے اﷲ تعالی کی اس کے قائل پر لعنت ہو اور اسے قبول کرنیوالے کو اﷲ تعالی برباد فرمائے۔ (ت)
یہ سب تاویل رکیك ہیں یا عموم واستغراق"النبیین"میں تشویش وتشکیك سب کفر صریح وارتداد قبیحاﷲ ورسول نے مطلقا نفی نبوت تازہ فرمائیشریعت جدیدہ وغیرہا کی کوئی قید کہیں نہ لگائی اور صراحۃ خاتم بمعنی آخر بتایامتواتر حدیثوں میں اس کا بیان آیا اور صحابہ کرام رضوان اﷲ تعالی علیہم اجمعین سے اب تك تمام امت مرحومہ نے اسی معنی ظاہر ومتبادر وعموم استغراق حقیقی تام پر اجماع کیا اور اسی بنا پر سلفا وخلفا ائمہ مذاہب نے نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے بعد ہر مدعی نبوت کو کافر کہاکتب احادیث و تفسیر عقائد و فقہ ان کے بیانوں سے گونج رہی ہیںفقیر غفرلہ المولی القدیر نے اپنی کتاب"جزاء اﷲ عدوہ بابائہ ختم النبوۃ ۱۳۱۷ھ میں اس مطلب ایمانی پر صحاح وسنن و مسانید ومعاجیم و جوامع سے ایك سو بیس حدیثیں اور تکفیر منکر کہ ارشادات ائمہ وعلمائے قدیم وحدیث و کتب عقائد واصول فقہ وحدیث سے تیس نصوص ذکر کئے وﷲ الحمد۔تو یہاں عموم واستغراق کے انکار خواہ کسی تاویل و تبدیل کا اظہار نہیں کرسکتا مگر کھلا کافرخد اکا دشمن قرآن کا منکرمردودوملعونخائب وخاسروالعیاذ باﷲالعزیز القادرایسی تشکیکیں تو وہ اشقیاءرب العلمین میں بھی کرسکتے ہیں کہ جائز ہے لام عہد کے لئے ہو یا استغراق عرفی کے لئے یا عام مخصوص منہ البعض یا عالمین سے مراد عالمین زمانہ کقولہ تعالی" وانی فضلتکم علی العلمین﴿۴۷﴾ "
(جیسے کہ باری تعالی کا فرمان ہے:اور میں نے تم کو جہاں والوں پر فضیلت دی۔ت)اور سب کچھ سہی پھر عام قطعی تو نہیں خدا کا پروردگار جمیع عالم ہونا یقینی
عــــہ۱:ناصر المومنین سہسوانی۱۲
عــــہ۲:تحریراسمی زندیق پشاور ی۱۲
الی غیرذلك من الکفریات الملعونۃ والارتدادات المشحونۃ بنجاسات ابلیس وقاذورات التدلیس لعن اﷲ قائلھا وقاتل اﷲ قابلیھا۔ دیگر کفریات ملعونہ اور ارتدادات جو ابلیس کی نجاستوں اور جھوٹ کی پلیدوں کو متضمن ہے اﷲ تعالی کی اس کے قائل پر لعنت ہو اور اسے قبول کرنیوالے کو اﷲ تعالی برباد فرمائے۔ (ت)
یہ سب تاویل رکیك ہیں یا عموم واستغراق"النبیین"میں تشویش وتشکیك سب کفر صریح وارتداد قبیحاﷲ ورسول نے مطلقا نفی نبوت تازہ فرمائیشریعت جدیدہ وغیرہا کی کوئی قید کہیں نہ لگائی اور صراحۃ خاتم بمعنی آخر بتایامتواتر حدیثوں میں اس کا بیان آیا اور صحابہ کرام رضوان اﷲ تعالی علیہم اجمعین سے اب تك تمام امت مرحومہ نے اسی معنی ظاہر ومتبادر وعموم استغراق حقیقی تام پر اجماع کیا اور اسی بنا پر سلفا وخلفا ائمہ مذاہب نے نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے بعد ہر مدعی نبوت کو کافر کہاکتب احادیث و تفسیر عقائد و فقہ ان کے بیانوں سے گونج رہی ہیںفقیر غفرلہ المولی القدیر نے اپنی کتاب"جزاء اﷲ عدوہ بابائہ ختم النبوۃ ۱۳۱۷ھ میں اس مطلب ایمانی پر صحاح وسنن و مسانید ومعاجیم و جوامع سے ایك سو بیس حدیثیں اور تکفیر منکر کہ ارشادات ائمہ وعلمائے قدیم وحدیث و کتب عقائد واصول فقہ وحدیث سے تیس نصوص ذکر کئے وﷲ الحمد۔تو یہاں عموم واستغراق کے انکار خواہ کسی تاویل و تبدیل کا اظہار نہیں کرسکتا مگر کھلا کافرخد اکا دشمن قرآن کا منکرمردودوملعونخائب وخاسروالعیاذ باﷲالعزیز القادرایسی تشکیکیں تو وہ اشقیاءرب العلمین میں بھی کرسکتے ہیں کہ جائز ہے لام عہد کے لئے ہو یا استغراق عرفی کے لئے یا عام مخصوص منہ البعض یا عالمین سے مراد عالمین زمانہ کقولہ تعالی" وانی فضلتکم علی العلمین﴿۴۷﴾ "
(جیسے کہ باری تعالی کا فرمان ہے:اور میں نے تم کو جہاں والوں پر فضیلت دی۔ت)اور سب کچھ سہی پھر عام قطعی تو نہیں خدا کا پروردگار جمیع عالم ہونا یقینی
عــــہ۱:ناصر المومنین سہسوانی۱۲
عــــہ۲:تحریراسمی زندیق پشاور ی۱۲
حوالہ / References
القرآن الکریم ۲ /۴۷
کہاں مگر الحمد ﷲ مسلمان نہ ان ملعون ناپاك وساوس کو رب العالمین میں سنیں نہ ان خبیث گندے وساوس کو خاتم النبیین میں
" الا لعنۃ اللہ علی الظلمین ﴿۱۸﴾"
" ان الذین یؤذون اللہ و رسولہ لعنہم اللہ فی الدنیا و الاخرۃ و اعد لہم عذابا مہینا ﴿۵۷﴾" ۔ ارے ظالموں پرخدا کی لعنتبیشك جو ایذا دیتے ہیں اﷲ اور اس کے رسول کو ان پر اﷲ کی لعنت ہے دنیا اور آخرت میں اﷲ نے ان کے لئے ذلت کا عذاب تیار کر رکھا ہے(ت)
یہ طائفہ خائفہ خارجیہ جن سے سوال ہے اگر معلوم ہو کہ حضور پر نور خاتم الانبیاء ومرسلین صلی اﷲتعالی علیہ وعلیہم اجمعین کے خاتم ہونے کوصرف بعض انبیاء سے مخصوص کرتا ہے حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے روز بعثت سے جب یا اب کبھی کسی زمانے میں کوئی نبوت اگرچہ ایك ہیاگرچہ غیر تشریعیاگرچہ کسی اور طبقہ زمینیا کنج آسمان میں اگرچہ کسی اور نوع انسانی میں واقع مانتایاباوصف اعتقاد عدم وقوع محض بطوراحتمال شرعی وامکان وقوعی جائز جانتا یہ بھی سہی مگر جائز ومحتمل ماننے والوں کو مسلمان کہتا یا طوائف ملعونہ مذکورہخواہ ان کے کبراء یا نظراء کی تکفیر سے باز رہتا ہےتو ان سب صورتوں میں یہ طائفہ خائفہ خود بھی قطعا یقینا اجماعا ضرورۃ مثل طوائف مذکورہ قادیانیہ وقاسمیہ وامیریہ ونذیریہ وامثالہم لعنہم اﷲ تعالی کافر ومرتد ملعون ابد ہے قتلہم اللہ انی یؤفکون ﴿۳۰﴾" (اﷲ انہیں مارے کہاں اوندھے جاتے ہیں۔ت)کہ ضروریات دین کا جس طرح انکار کفر ہے یونہی ان میں شك و شبہہ اور احتمال خلافماننا بھی کفر ہے یونہی ان کے منکر یا ان میں شاك کو مسلمان کہنا اسے کافر نہ جاننا بھی کفر ہے۔بحرالکلام امام نسفی وغیرہ میں ہے:
من قال بعد نبینا یکفر لانہ انکر النص وکذلك لو شك فیہ ۔ جو شخص یہ کہے کہ ہمارے نبی کے بعد نبی آسکتا ہے وہ کافر ہے کیونکہ اس نے نص قطعی کا انکار کیااسی طرح وہ شخص جس نے اس کے بارے میں شك کیا۔(ت)
درمختار وبزازیہ ومجمع الانہروغیرہا کتب کثیرہ میں ہے:
" الا لعنۃ اللہ علی الظلمین ﴿۱۸﴾"
" ان الذین یؤذون اللہ و رسولہ لعنہم اللہ فی الدنیا و الاخرۃ و اعد لہم عذابا مہینا ﴿۵۷﴾" ۔ ارے ظالموں پرخدا کی لعنتبیشك جو ایذا دیتے ہیں اﷲ اور اس کے رسول کو ان پر اﷲ کی لعنت ہے دنیا اور آخرت میں اﷲ نے ان کے لئے ذلت کا عذاب تیار کر رکھا ہے(ت)
یہ طائفہ خائفہ خارجیہ جن سے سوال ہے اگر معلوم ہو کہ حضور پر نور خاتم الانبیاء ومرسلین صلی اﷲتعالی علیہ وعلیہم اجمعین کے خاتم ہونے کوصرف بعض انبیاء سے مخصوص کرتا ہے حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے روز بعثت سے جب یا اب کبھی کسی زمانے میں کوئی نبوت اگرچہ ایك ہیاگرچہ غیر تشریعیاگرچہ کسی اور طبقہ زمینیا کنج آسمان میں اگرچہ کسی اور نوع انسانی میں واقع مانتایاباوصف اعتقاد عدم وقوع محض بطوراحتمال شرعی وامکان وقوعی جائز جانتا یہ بھی سہی مگر جائز ومحتمل ماننے والوں کو مسلمان کہتا یا طوائف ملعونہ مذکورہخواہ ان کے کبراء یا نظراء کی تکفیر سے باز رہتا ہےتو ان سب صورتوں میں یہ طائفہ خائفہ خود بھی قطعا یقینا اجماعا ضرورۃ مثل طوائف مذکورہ قادیانیہ وقاسمیہ وامیریہ ونذیریہ وامثالہم لعنہم اﷲ تعالی کافر ومرتد ملعون ابد ہے قتلہم اللہ انی یؤفکون ﴿۳۰﴾" (اﷲ انہیں مارے کہاں اوندھے جاتے ہیں۔ت)کہ ضروریات دین کا جس طرح انکار کفر ہے یونہی ان میں شك و شبہہ اور احتمال خلافماننا بھی کفر ہے یونہی ان کے منکر یا ان میں شاك کو مسلمان کہنا اسے کافر نہ جاننا بھی کفر ہے۔بحرالکلام امام نسفی وغیرہ میں ہے:
من قال بعد نبینا یکفر لانہ انکر النص وکذلك لو شك فیہ ۔ جو شخص یہ کہے کہ ہمارے نبی کے بعد نبی آسکتا ہے وہ کافر ہے کیونکہ اس نے نص قطعی کا انکار کیااسی طرح وہ شخص جس نے اس کے بارے میں شك کیا۔(ت)
درمختار وبزازیہ ومجمع الانہروغیرہا کتب کثیرہ میں ہے:
من شك فی کفرہ وعذابہ فقد کفر ۔ جس نے اس کے کفر وعذاب میں شك کیا وہ بھی کافر ہے(ت)
ان لعنتی اقوالنجس ترازابوالکے ردمیں اواخرصدی گزشتہ میں بکثرت رسائل ومسائل علمائے عرب وعجم طبع ہوچکے اور وہ ناپاك فتنے غار مذلت میں گر کر قعر جہنم کو پہنچے والحمدﷲرب العالمین۔اس طائفہ جدیدہ کو اگر طوائف طریدہ کی حمایت سوجھے گی تو اﷲ واحد قہار کا لشکر جراراسے بھی اس کی سزائے کردار پہنچانے کو موجود ہے
قال تعالی" الم نہلک الاولین ﴿۱۶﴾ ثم نتبعہم الاخرین ﴿۱۷﴾ کذلک نفعل بالمجرمین ﴿۱۸﴾ ویل یومئذ للمکذبین ﴿۱۹﴾
" اﷲ تعالی نے فرمایا:کیا ہم نے اگلوں کو ہلاك نہ فرمایاپھر پچھلوں کو ان کے پیچھے پہنچائیں گےمجرموں کے ساتھ ہم ایسا ہی کرتے ہیںاس دن کو جھٹلانے والوں کی خرابی ہے۔ (ت)
اور اگر اس طائفہ جدیدہ کی نسبت وہ تجویز واحتمال نبوت یا عدم تکفیر منکران ختم نبوتمعلوم نہ بھی ہونہ اس کا خلاف ثابت ہوتو اس کا آیہ کریمہ میں افادہ استغراق سے انکار اور ارادہ بعض پر اصرارکیا اسے حکم کفر سے بچالے گا کہ وہ صراحۃ آیہ کریمہ ا اس تفسیر قطعی یقینی اجماعی ایمانی کا منکر ومبطل ہے جو خود حضور پر نورصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمائی اور جس پر تمام امت مرحومہ نے اجماع کیا اور بنقل متواتر ضروریات دین سے ہوکر ہم تك آئیمثلاکوئی شخص کہے کہ شراب کی حرمت قرآن عظیم سے ثابت نہیں ائمہ دین فرماتے ہیں وہ کافر ہوگیا اگرچہ اس کے کلام میں حرمت خمر کا انکار نہ تھانہ تحریم خمر کا ثبوت صرف قرآن عظیم پر موقوف کہ ا س کی تحریم میں احادیث متواتر بھی موجوداور کچھ نہ ہوتو خود اس کی حرمت ضروریات دین سے ہے اور ضروریات دین خصوص نصوص کے محتاج نہیں رہتے۔امام اجل ابوزکریا نووی کتاب الروضہ پھر امام ابن حجر مکی اعلام بقواطع الاسلام میں فرماتے ہیں:
اذاجحد مجمعا علیہ یعلم من دین الاسلام ضرورۃ سواء کان فیہ نص اولافان جحدہ یکون کفرااھ ملتقطا ۔ جب کسی نے ایسی بات کا انکار کیا جس کا ضروریات دین اسلام میں سے ہونا متفق علیہ معلوم ہے خواہ اس میں نص ہو یا نہ ہو تو اس کا انکار کفر ہے اھ ملتقطا(ت)
ان لعنتی اقوالنجس ترازابوالکے ردمیں اواخرصدی گزشتہ میں بکثرت رسائل ومسائل علمائے عرب وعجم طبع ہوچکے اور وہ ناپاك فتنے غار مذلت میں گر کر قعر جہنم کو پہنچے والحمدﷲرب العالمین۔اس طائفہ جدیدہ کو اگر طوائف طریدہ کی حمایت سوجھے گی تو اﷲ واحد قہار کا لشکر جراراسے بھی اس کی سزائے کردار پہنچانے کو موجود ہے
قال تعالی" الم نہلک الاولین ﴿۱۶﴾ ثم نتبعہم الاخرین ﴿۱۷﴾ کذلک نفعل بالمجرمین ﴿۱۸﴾ ویل یومئذ للمکذبین ﴿۱۹﴾
" اﷲ تعالی نے فرمایا:کیا ہم نے اگلوں کو ہلاك نہ فرمایاپھر پچھلوں کو ان کے پیچھے پہنچائیں گےمجرموں کے ساتھ ہم ایسا ہی کرتے ہیںاس دن کو جھٹلانے والوں کی خرابی ہے۔ (ت)
اور اگر اس طائفہ جدیدہ کی نسبت وہ تجویز واحتمال نبوت یا عدم تکفیر منکران ختم نبوتمعلوم نہ بھی ہونہ اس کا خلاف ثابت ہوتو اس کا آیہ کریمہ میں افادہ استغراق سے انکار اور ارادہ بعض پر اصرارکیا اسے حکم کفر سے بچالے گا کہ وہ صراحۃ آیہ کریمہ ا اس تفسیر قطعی یقینی اجماعی ایمانی کا منکر ومبطل ہے جو خود حضور پر نورصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمائی اور جس پر تمام امت مرحومہ نے اجماع کیا اور بنقل متواتر ضروریات دین سے ہوکر ہم تك آئیمثلاکوئی شخص کہے کہ شراب کی حرمت قرآن عظیم سے ثابت نہیں ائمہ دین فرماتے ہیں وہ کافر ہوگیا اگرچہ اس کے کلام میں حرمت خمر کا انکار نہ تھانہ تحریم خمر کا ثبوت صرف قرآن عظیم پر موقوف کہ ا س کی تحریم میں احادیث متواتر بھی موجوداور کچھ نہ ہوتو خود اس کی حرمت ضروریات دین سے ہے اور ضروریات دین خصوص نصوص کے محتاج نہیں رہتے۔امام اجل ابوزکریا نووی کتاب الروضہ پھر امام ابن حجر مکی اعلام بقواطع الاسلام میں فرماتے ہیں:
اذاجحد مجمعا علیہ یعلم من دین الاسلام ضرورۃ سواء کان فیہ نص اولافان جحدہ یکون کفرااھ ملتقطا ۔ جب کسی نے ایسی بات کا انکار کیا جس کا ضروریات دین اسلام میں سے ہونا متفق علیہ معلوم ہے خواہ اس میں نص ہو یا نہ ہو تو اس کا انکار کفر ہے اھ ملتقطا(ت)
حوالہ / References
مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر فصل فی احکام الجزیہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۶۷۷
القرآن الکریم ۷۷ /۱۶تا۱۹
الاعلام بقواطع الاسلام مع سبل النجاۃ مکتبۃ الحقیقیہ استنبول ترکی ص۳۵۲
القرآن الکریم ۷۷ /۱۶تا۱۹
الاعلام بقواطع الاسلام مع سبل النجاۃ مکتبۃ الحقیقیہ استنبول ترکی ص۳۵۲
بعینہ یہی حالت یہاں بھی ہے کہ اگرچہ بعثت محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے ہمیشہ کے لئے دروازہ نبوت بند ہوجانا اور اس وقت سے ہمیشہ تککبھی کسی وقت کسی جگہ کسی صنف میں کسی طرح کی نبوت نہ ہوسکنا کچھ اس آیہ کریمہ ہی پر موقوف نہیں بلکہ اس کے ثبوت میں قاہروباہرمتوار ومتظافرمتکاثرومتواتر حدیثیں موجود اور کچھ نہ ہوتو بحمد اﷲ تعالی مسئلہ خود ضروریات دین سے ہے مگر آیت کے معنی متواترمجمع علیہقطعی ضروری کا انکاراس پر کفر ثابت کرے گا اگرچہ اس کے کلام میں صراحۃ نفس مسئلہ کا انکار نہیں منح الروض الازہر شرح فقہ اکبر سیدنا امام اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ میں ہے:
لوقال حرمۃ الخمر لاتثبت بالقران کفر ای لانہ عارض نص القران وانکر تفسیر اھل الفرقان ۔ اگر کسی نے کہا شراب کی حرمت قرآن سے ثابت نہیں تو وہ کافر ہے کیونکہ اس نے نص قرآنی کے ساتھ معارضہ کیا اور اہل فرقان کی تفسیر کا انکار کیا(ت)
فتاوی تتمہ میں ہے:
من انکر حرمۃ الخمر فی القران کفر ۔ جس نے قرآن کے حوالے سے حرمت شراب کا انکار کیا وہ کافر ہوگیا(ت)
اعلام امام مکی میں ہمارے علماء سے کلمات کفر بالاتفاق میں نقل کیا:
اوقال لم تثبت حرمۃ الخمر فی القران ۔ یا اس نے کہاقرآن میں حرمت شراب کا ثبوت نہیں ہے۔ (ت)
پھر خود فرمایا:
کفرزاعم انہ لانص فی القران علی تحریم الخمر ظاھرلانہ مستلزم لتکذیب القران الناص فی غیرما ایۃ علی تحریم الخمر فان قلت غایۃ مافیہ انہ کذب وھو لایقتضی الکفر قلت ممنوع لانہ کذب جس نے کہا تحریم شراب پر قرآن میں کوئی نص نہیں ا س کاکافر ہونا نہایت ہی واضح ہے کیونکہ اس کا یہ قول قرآن کی تکذیب کررہاہے قرآن نے متعدد جگہ پر شراب کے حرام ہونے پر تصریح کی ہےاگریہ کہا جائے کہ یہ صرف اتنا تقاضا کرتا ہے کہ یہ جھوٹ ہوکفر کا
لوقال حرمۃ الخمر لاتثبت بالقران کفر ای لانہ عارض نص القران وانکر تفسیر اھل الفرقان ۔ اگر کسی نے کہا شراب کی حرمت قرآن سے ثابت نہیں تو وہ کافر ہے کیونکہ اس نے نص قرآنی کے ساتھ معارضہ کیا اور اہل فرقان کی تفسیر کا انکار کیا(ت)
فتاوی تتمہ میں ہے:
من انکر حرمۃ الخمر فی القران کفر ۔ جس نے قرآن کے حوالے سے حرمت شراب کا انکار کیا وہ کافر ہوگیا(ت)
اعلام امام مکی میں ہمارے علماء سے کلمات کفر بالاتفاق میں نقل کیا:
اوقال لم تثبت حرمۃ الخمر فی القران ۔ یا اس نے کہاقرآن میں حرمت شراب کا ثبوت نہیں ہے۔ (ت)
پھر خود فرمایا:
کفرزاعم انہ لانص فی القران علی تحریم الخمر ظاھرلانہ مستلزم لتکذیب القران الناص فی غیرما ایۃ علی تحریم الخمر فان قلت غایۃ مافیہ انہ کذب وھو لایقتضی الکفر قلت ممنوع لانہ کذب جس نے کہا تحریم شراب پر قرآن میں کوئی نص نہیں ا س کاکافر ہونا نہایت ہی واضح ہے کیونکہ اس کا یہ قول قرآن کی تکذیب کررہاہے قرآن نے متعدد جگہ پر شراب کے حرام ہونے پر تصریح کی ہےاگریہ کہا جائے کہ یہ صرف اتنا تقاضا کرتا ہے کہ یہ جھوٹ ہوکفر کا
حوالہ / References
منح الروض الازہر شرح الفقہ الاکبر ملاعلی قاری فصل فی الکفر صریحًا وکنایۃً مصطفی البابی مصر ص۱۹۰
منح الروض الازہر شرح الفقہ الاکبر بحوالہ فتاوی تتمہ فصل فی الکفر صریحًا وکنایۃً مصطفی البابی مصر ص۱۹۰
الاعلام بقواطع الاسلام مع سبل النجاۃ مکتبۃ الحقیقیۃ استنبول ترکی ص۳۷۱
منح الروض الازہر شرح الفقہ الاکبر بحوالہ فتاوی تتمہ فصل فی الکفر صریحًا وکنایۃً مصطفی البابی مصر ص۱۹۰
الاعلام بقواطع الاسلام مع سبل النجاۃ مکتبۃ الحقیقیۃ استنبول ترکی ص۳۷۱
یستلزم انکار النص المجمع علیہ المعلوم من الدین بالضرورۃ ۔ تقاضا نہیں کرتا میں کہوں گا یہ بات درست نہیں کیونکہ اس کا یہ قول اس نص قرآنی کے انکار کو مستلزم ہے جس سے ایسا حکم ثابت ہورہا ہے جو متفق طور پر ضروریات دین میں سے ہے۔(ت)
تو اگر چہ یہ طائفہ آیہ کریمہ میں استغراق کے انکار سے ختم تام نبوت پر دلائل قطعیہ سے مسلمانوں کا ہاتھ خالی نہیں کرسکتامگر اپنا ہاتھ ایمان سے خالی کرگیاہاں اگرارباب طائفہ صراحۃ ایمان لائیں کہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے زمانہ میں خواہ حضور کے بعدکبھی کسی جگہ کسی طرح کی کوئی نبوت کسی کو نہیں مل سکتیحضور کے خاتم النبیین وآخر الانبیاء والمرسلین ہونے میں اصلا کوئی تخصیص تاویل تقیید تحویل نہیں اور ان تمام مطالب کو نصوص قطعیہ و اجماع یقینی وضروریات دین سے ثابت یقینا مانیں ان تمام طوائف ملعونہ مذکورہ ان کے اکابر کو صاف صاف کافر مرتد کہیںصرف بزعم خود اپنی نحوی ومنطقی جہالتوںبطالتوںکج فہمیوں کے باعث آیہ کریمہ میں لام عہد لیں اور استغراق نا مستقیم سمجھیں تو اگرچہ بوجہ انکار تفسیر متواتر اجماعی قطعی اسلوب فقہی اس پر اب بھی لزوم کفر مانے مگر از انجا کہ اس نے اعتقاد صحیح کی تصریح اور کبرائے منکرین کی تکفیر صریح کردی اس کی تکفیر سے زبان روکنا ہی مسلك تحقیق و احتیاط ہوگا
امام مکی بعد عبارت مذکورہ فرماتے ہیں:
ومن ثم یتجہ انہ لوقال الخمر حرام ولیس فی القران نص علی تحریمہ لم یکفر لانہ الان محض کذب وھو لاکفر بہ اھ ۔ اسی وجہ سے یہ توجیہ کی جاتی ہے کہ اگر کوئی کہتا ہے شراب تو حرام ہے لیکن قرآن میں اس کی تحریم پر نص نہیں تو وہ کافرنہ ہوگااس لیے کہ اب وہ محض جھوٹ بول رہا ہے اور اس سے وہ کافر نہ ہو گا ۔اھ(ت)
اقول: وباﷲ التوفیق(میں کہتا ہوں اور توفیق اﷲ تعالی سے ہے۔ت)اس تقدیر اخیر پر بھی اس قدر میں شك نہیں کہ یہ ۱طائفہ خائفہ یارومعینمرتدین وکافرین و۲بازیچہ کنندہ کلام رب العالمینو۳مکذب تفسیر حضور سید المرسلین و۴مخالف اجماع جمیع مسلمین و۵سخت بدعقل وگمراہ وبددین ہے۔
اول تو ظاہر ہی ہے کہ نفی استغراق وتجویز عہد میں یہ ان کفار کا ہم زبان ہوا بلکہ ان خبیثوں نے تو بطور احتمال ہی کہا تھا"جائز ہے کہ عہد کے لئے ہو"اور اس نے بزعم خود عہد کے لئے ہونا واجب مانا اور استغراق کو باطل ومردود جانا۔
تو اگر چہ یہ طائفہ آیہ کریمہ میں استغراق کے انکار سے ختم تام نبوت پر دلائل قطعیہ سے مسلمانوں کا ہاتھ خالی نہیں کرسکتامگر اپنا ہاتھ ایمان سے خالی کرگیاہاں اگرارباب طائفہ صراحۃ ایمان لائیں کہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے زمانہ میں خواہ حضور کے بعدکبھی کسی جگہ کسی طرح کی کوئی نبوت کسی کو نہیں مل سکتیحضور کے خاتم النبیین وآخر الانبیاء والمرسلین ہونے میں اصلا کوئی تخصیص تاویل تقیید تحویل نہیں اور ان تمام مطالب کو نصوص قطعیہ و اجماع یقینی وضروریات دین سے ثابت یقینا مانیں ان تمام طوائف ملعونہ مذکورہ ان کے اکابر کو صاف صاف کافر مرتد کہیںصرف بزعم خود اپنی نحوی ومنطقی جہالتوںبطالتوںکج فہمیوں کے باعث آیہ کریمہ میں لام عہد لیں اور استغراق نا مستقیم سمجھیں تو اگرچہ بوجہ انکار تفسیر متواتر اجماعی قطعی اسلوب فقہی اس پر اب بھی لزوم کفر مانے مگر از انجا کہ اس نے اعتقاد صحیح کی تصریح اور کبرائے منکرین کی تکفیر صریح کردی اس کی تکفیر سے زبان روکنا ہی مسلك تحقیق و احتیاط ہوگا
امام مکی بعد عبارت مذکورہ فرماتے ہیں:
ومن ثم یتجہ انہ لوقال الخمر حرام ولیس فی القران نص علی تحریمہ لم یکفر لانہ الان محض کذب وھو لاکفر بہ اھ ۔ اسی وجہ سے یہ توجیہ کی جاتی ہے کہ اگر کوئی کہتا ہے شراب تو حرام ہے لیکن قرآن میں اس کی تحریم پر نص نہیں تو وہ کافرنہ ہوگااس لیے کہ اب وہ محض جھوٹ بول رہا ہے اور اس سے وہ کافر نہ ہو گا ۔اھ(ت)
اقول: وباﷲ التوفیق(میں کہتا ہوں اور توفیق اﷲ تعالی سے ہے۔ت)اس تقدیر اخیر پر بھی اس قدر میں شك نہیں کہ یہ ۱طائفہ خائفہ یارومعینمرتدین وکافرین و۲بازیچہ کنندہ کلام رب العالمینو۳مکذب تفسیر حضور سید المرسلین و۴مخالف اجماع جمیع مسلمین و۵سخت بدعقل وگمراہ وبددین ہے۔
اول تو ظاہر ہی ہے کہ نفی استغراق وتجویز عہد میں یہ ان کفار کا ہم زبان ہوا بلکہ ان خبیثوں نے تو بطور احتمال ہی کہا تھا"جائز ہے کہ عہد کے لئے ہو"اور اس نے بزعم خود عہد کے لئے ہونا واجب مانا اور استغراق کو باطل ومردود جانا۔
حوالہ / References
الاعلام بقواطع الاسلام مع سبل النجاۃ مکتبۃ الحقیقیہ استنبول ترکی ص۳۷۲
الاعلام بقواطع الاسلام مع سبل النجاۃ مکتبۃ الحقیقیہ استنبول ترکی ص۳۷۲
الاعلام بقواطع الاسلام مع سبل النجاۃ مکتبۃ الحقیقیہ استنبول ترکی ص۳۷۲
دوم اس لئے کہ قرآن عظیم میں حضرات انبیائے کرام علیہم افضل الصلوۃ والسلام کاذکر پاك بہت وجوہ مختلفہ سے وارد:
(۱)فردافردا خواہ بتصریح اسماء یہ صرف چھبیس۲۶ کے لئے ہے:۱ آدم۲ادریس۳نوح۴ہود۵صالح۶ابراہیم ۷اسحق۸ اسمعیل ۹لوط۱۰یعقوب۱۱یوسف۱۲ایوب۱۳شعیب۱۴موسی۱۵ہارون۱۶الیاس۱۷الیسع۱۸ذوالکفل۱۹داؤد۲۰سلیمان۲۱عزیر۲۲یونس ۲۳زکریا ۲۴یحیی۲۵عیسی۲۶محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وعلیہم وبارك وسلم یابرسبیل ابہام مثل" قال لہم نبیہم" (اشمویل) (ان کو ان کے نبی(شمویل)نے کہا" و اذ قال موسی لفتىہ" (یوشع)فوجد اعبد امن عبادنا خضرعلیہم الصلوۃ والسلام اور جس وقت انہوں نے نوجوان(یوشع)سے کہا"توپایا حضرت موسی اور یوشع نے ہمارے بندوں میں سے ایك بندہ حضرت خضر علیہم الصلوۃ والسلام۔ت)(۲)یابرسبیل عموم واستغراق اور یہی اوفرواکثر ہےمثل قولہ تعالی:
" قولوا امنا باللہ وما انزل الینا"(الی قولہ تعالی)
" وما اوتی النبیون من ربہم لا نفرق بین احد منہم۫"
وقال تعالی" ولکن البر من امن باللہ والیوم الاخر و الملئکۃ و الکتب و النبین " وقال تعالی" تلک الرسل فضلنا بعضہم علی بعض" وقال تعالی
" کل امن باللہ وملئکتہ وکتبہ ورسلہ" وقال تعالی" لا نفرق بین" یوں کہو کہ ہم ایمان لائے اﷲپر اور اس پر جو ہماری طرف اترا(الی قولہ تعالی)اور جو عطا کئے گئے باقی انبیاء اپنے رب کے پاس سے ہم ان میں کسی پر ایمان میں فرق نہیں کرتے۔اور اﷲ تعالی نے فرمایا:ہان اصل نیکی یہ ایمان لائے اﷲ اور قیامت اور فرشتوں اور کتاب اور پیغمبروں پر۔اور اﷲ تعالی نے فرمایا:یہ رسول ہیں کہ ہم نے ان میں ایك کو دوسرے پرافضل کیا۔اور اﷲ تعالی نے فرمایا:سب نے مانا اﷲ اور اس کے فرشتوں اور اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں کو۔اور اﷲ تعالی نے فرمایا:
(۱)فردافردا خواہ بتصریح اسماء یہ صرف چھبیس۲۶ کے لئے ہے:۱ آدم۲ادریس۳نوح۴ہود۵صالح۶ابراہیم ۷اسحق۸ اسمعیل ۹لوط۱۰یعقوب۱۱یوسف۱۲ایوب۱۳شعیب۱۴موسی۱۵ہارون۱۶الیاس۱۷الیسع۱۸ذوالکفل۱۹داؤد۲۰سلیمان۲۱عزیر۲۲یونس ۲۳زکریا ۲۴یحیی۲۵عیسی۲۶محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وعلیہم وبارك وسلم یابرسبیل ابہام مثل" قال لہم نبیہم" (اشمویل) (ان کو ان کے نبی(شمویل)نے کہا" و اذ قال موسی لفتىہ" (یوشع)فوجد اعبد امن عبادنا خضرعلیہم الصلوۃ والسلام اور جس وقت انہوں نے نوجوان(یوشع)سے کہا"توپایا حضرت موسی اور یوشع نے ہمارے بندوں میں سے ایك بندہ حضرت خضر علیہم الصلوۃ والسلام۔ت)(۲)یابرسبیل عموم واستغراق اور یہی اوفرواکثر ہےمثل قولہ تعالی:
" قولوا امنا باللہ وما انزل الینا"(الی قولہ تعالی)
" وما اوتی النبیون من ربہم لا نفرق بین احد منہم۫"
وقال تعالی" ولکن البر من امن باللہ والیوم الاخر و الملئکۃ و الکتب و النبین " وقال تعالی" تلک الرسل فضلنا بعضہم علی بعض" وقال تعالی
" کل امن باللہ وملئکتہ وکتبہ ورسلہ" وقال تعالی" لا نفرق بین" یوں کہو کہ ہم ایمان لائے اﷲپر اور اس پر جو ہماری طرف اترا(الی قولہ تعالی)اور جو عطا کئے گئے باقی انبیاء اپنے رب کے پاس سے ہم ان میں کسی پر ایمان میں فرق نہیں کرتے۔اور اﷲ تعالی نے فرمایا:ہان اصل نیکی یہ ایمان لائے اﷲ اور قیامت اور فرشتوں اور کتاب اور پیغمبروں پر۔اور اﷲ تعالی نے فرمایا:یہ رسول ہیں کہ ہم نے ان میں ایك کو دوسرے پرافضل کیا۔اور اﷲ تعالی نے فرمایا:سب نے مانا اﷲ اور اس کے فرشتوں اور اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں کو۔اور اﷲ تعالی نے فرمایا:
" احد من رسلہ" وقال تعالی
" وما اوتی النبیون من ربہم لا نفرق بین احد منہم۫"
وقال تعالی" فاولئک مع الذین انعم اللہ علیہم من النبین والصدیقین"
وقال تعالی
" والذین امنوا باللہ ورسلہ ولم یفرقوا بین احد منہم اولئک سوف یؤتیہم اجورہم " وقال تعالی
" فامنوا باللہ و رسولہ" وقال تعالی لئن اقمتم الصلوۃ واتیتم الزکوۃ وامنتم برسلی وعزرتموہم" وقال تعالی" یوم یجمع اللہ الرسل فیقول ماذا اجبتم " وقال تعالی" وما نرسل المرسلین الا مبشرین و منذرین " وقال تعالی" فلنسـلن الذین ارسل الیہم ولنسـلن المرسلین ﴿۶﴾" وقال تعالی ہم اس کے کسی رسول پر ایمان لانے میں فرق نہیں کرتے۔ اور اﷲ تعالی نے فرمایا:جو کچھ ملاموسی اور عیسی اور انبیاء کو ان کے رب سے ہم ان میں کسی پر ایمان میں فرق نہیں کرتے۔اور اﷲ تعالی نے فرمایا:اسے ان کا ساتھ ملے گاجن پر اﷲ نے فضل کیا یعنی انبیاء اور صدیقین۔اور اﷲ تعالی نے فرمایا:اور وہ جو اﷲ اور اس کے سب رسولوں پر ایمان لائے اور ان میں سے کسی پر ایمان میں فرق نہ کیا انہیں عنقریب اﷲ ان کے ثواب دے گا۔اور اﷲ تعالی نے فرمایا:تو ایمان لاؤ اﷲ اور اس کےرسول پر ۔اور اﷲتعالی نے فرمایا:تمہارے ساتھ ہوں ضرور اگر تم نماز قائم رکھو اور زکوۃ دو اور میرے رسولوں پر ایمان لاؤ اور ان کی تعظیم کرو۔اور اﷲ تعالی نے فرمایا:جس دن اﷲ جمع فرمائے گا رسولوں کو پھر فرمائے گا تمہیں کیا جواب ملا۔اور اﷲ تعالی نے فرمایا:اور ہم نہیں بھیجتے رسولوں کو مگر خوشی اور ڈرسناتے ۔اور اﷲ تعالی نے فرمایا:تو بیشك ضرور ہمیں پوچھنا ہے ان سے جن کے پاس رسول گئے اور بیشك ضرور ہمیں پوچھنا ہے رسولوں سے۔اور اﷲ تعالی
عن المؤمنین" لقد جاءت رسل ربنا بالحق "
وقال تعالی عن الکافرین
" قد جاءت رسل ربنا بالحق فہل لنا من شفعاء"
وقال تعالی" ثم ننجی رسلنا والذین امنوا" وقال
تعالی" و اتخذوا ایتی و رسلی ہزوا ﴿۱۰۶﴾" وقال تعالی
" اولئک الذین انعم اللہ علیہم من النبین" وقال تعالی
" انی لا یخاف لدی المرسلون ﴿٭۱۰﴾" وقال تعالی
" و اذ اخذنا من النبین میثقہم و منک و من نوح" وقال تعالی" ہذا ما وعد الرحمن و صدق المرسلون ﴿۵۲﴾" وقال تعالی" و لقد سبقت کلمتنا لعبادنا المرسلین ﴿۱۷۱﴾" وقال
تعالی و سلم علی المرسلین ﴿۱۸۱﴾ وقال تعالی
" وجایء بالنبین و الشہداء" نے مومنین سے فرمایا:بیشك ہمارے رب کے رسول حق لائے ۔اور اﷲ نے کفار سے فرمایا:بیشك ہمارے رب کے رسول حق لائے تھے توہیں کوئی ہمارے سفارشی جو ہماری شفاعت کریں۔اور اﷲ تعالی نے فرمایا:پھر ہم اپنے رسولوں اور ایمان والوں کو نجات دیں گے۔اور اﷲ تعالی نے فرمایا: اور میری آیتوں اور میرے رسولوں کی ہنسی بنائی۔اور اﷲ تعالی نے فرمایا:یہ ہیں جن پر اﷲ نے احسان کیا غیب کی خبریں بتانے والوں میں سے۔اور اﷲتعالی نے فرمایا:بیشك میرے حضور رسولوں کو خوف نہیں ہوتا۔اور اﷲ تعالی نے فرمایا:اور اے محبوب یاد کرو جب ہم نے نبیوں سے عہدلیا اور تم سے اور نوح سے۔اور اﷲ تعالی نے فرمایا:یہ ہے وہ جس کا رحمن نے وعدہ دیا تھا۔اور اﷲ تعالی نے فرمایا:اور بیشك ہمارا کلام گزرچکا ہے ہمارے بھیجے ہوئے بندوں کے لئے اور اﷲ تعالی نے فرمایا:اور سلام ہے پیغمبروں پر۔اور اﷲ تعالی نے فرمایا:اور لائے جائیں گے انبیاء اور یہ نبی اور اس کے امت کے ان پر گواہ ہونگے۔
" وما اوتی النبیون من ربہم لا نفرق بین احد منہم۫"
وقال تعالی" فاولئک مع الذین انعم اللہ علیہم من النبین والصدیقین"
وقال تعالی
" والذین امنوا باللہ ورسلہ ولم یفرقوا بین احد منہم اولئک سوف یؤتیہم اجورہم " وقال تعالی
" فامنوا باللہ و رسولہ" وقال تعالی لئن اقمتم الصلوۃ واتیتم الزکوۃ وامنتم برسلی وعزرتموہم" وقال تعالی" یوم یجمع اللہ الرسل فیقول ماذا اجبتم " وقال تعالی" وما نرسل المرسلین الا مبشرین و منذرین " وقال تعالی" فلنسـلن الذین ارسل الیہم ولنسـلن المرسلین ﴿۶﴾" وقال تعالی ہم اس کے کسی رسول پر ایمان لانے میں فرق نہیں کرتے۔ اور اﷲ تعالی نے فرمایا:جو کچھ ملاموسی اور عیسی اور انبیاء کو ان کے رب سے ہم ان میں کسی پر ایمان میں فرق نہیں کرتے۔اور اﷲ تعالی نے فرمایا:اسے ان کا ساتھ ملے گاجن پر اﷲ نے فضل کیا یعنی انبیاء اور صدیقین۔اور اﷲ تعالی نے فرمایا:اور وہ جو اﷲ اور اس کے سب رسولوں پر ایمان لائے اور ان میں سے کسی پر ایمان میں فرق نہ کیا انہیں عنقریب اﷲ ان کے ثواب دے گا۔اور اﷲ تعالی نے فرمایا:تو ایمان لاؤ اﷲ اور اس کےرسول پر ۔اور اﷲتعالی نے فرمایا:تمہارے ساتھ ہوں ضرور اگر تم نماز قائم رکھو اور زکوۃ دو اور میرے رسولوں پر ایمان لاؤ اور ان کی تعظیم کرو۔اور اﷲ تعالی نے فرمایا:جس دن اﷲ جمع فرمائے گا رسولوں کو پھر فرمائے گا تمہیں کیا جواب ملا۔اور اﷲ تعالی نے فرمایا:اور ہم نہیں بھیجتے رسولوں کو مگر خوشی اور ڈرسناتے ۔اور اﷲ تعالی نے فرمایا:تو بیشك ضرور ہمیں پوچھنا ہے ان سے جن کے پاس رسول گئے اور بیشك ضرور ہمیں پوچھنا ہے رسولوں سے۔اور اﷲ تعالی
عن المؤمنین" لقد جاءت رسل ربنا بالحق "
وقال تعالی عن الکافرین
" قد جاءت رسل ربنا بالحق فہل لنا من شفعاء"
وقال تعالی" ثم ننجی رسلنا والذین امنوا" وقال
تعالی" و اتخذوا ایتی و رسلی ہزوا ﴿۱۰۶﴾" وقال تعالی
" اولئک الذین انعم اللہ علیہم من النبین" وقال تعالی
" انی لا یخاف لدی المرسلون ﴿٭۱۰﴾" وقال تعالی
" و اذ اخذنا من النبین میثقہم و منک و من نوح" وقال تعالی" ہذا ما وعد الرحمن و صدق المرسلون ﴿۵۲﴾" وقال تعالی" و لقد سبقت کلمتنا لعبادنا المرسلین ﴿۱۷۱﴾" وقال
تعالی و سلم علی المرسلین ﴿۱۸۱﴾ وقال تعالی
" وجایء بالنبین و الشہداء" نے مومنین سے فرمایا:بیشك ہمارے رب کے رسول حق لائے ۔اور اﷲ نے کفار سے فرمایا:بیشك ہمارے رب کے رسول حق لائے تھے توہیں کوئی ہمارے سفارشی جو ہماری شفاعت کریں۔اور اﷲ تعالی نے فرمایا:پھر ہم اپنے رسولوں اور ایمان والوں کو نجات دیں گے۔اور اﷲ تعالی نے فرمایا: اور میری آیتوں اور میرے رسولوں کی ہنسی بنائی۔اور اﷲ تعالی نے فرمایا:یہ ہیں جن پر اﷲ نے احسان کیا غیب کی خبریں بتانے والوں میں سے۔اور اﷲتعالی نے فرمایا:بیشك میرے حضور رسولوں کو خوف نہیں ہوتا۔اور اﷲ تعالی نے فرمایا:اور اے محبوب یاد کرو جب ہم نے نبیوں سے عہدلیا اور تم سے اور نوح سے۔اور اﷲ تعالی نے فرمایا:یہ ہے وہ جس کا رحمن نے وعدہ دیا تھا۔اور اﷲ تعالی نے فرمایا:اور بیشك ہمارا کلام گزرچکا ہے ہمارے بھیجے ہوئے بندوں کے لئے اور اﷲ تعالی نے فرمایا:اور سلام ہے پیغمبروں پر۔اور اﷲ تعالی نے فرمایا:اور لائے جائیں گے انبیاء اور یہ نبی اور اس کے امت کے ان پر گواہ ہونگے۔
حوالہ / References
القرآن الکریم ۲ /۲۸۵
القرآن الکریم ۳ /۸۴
القرآن الکریم ۴ /۶۹
القرآن الکریم ۴ /۱۵۲
القرآن الکریم ۶۴ /۸
القرآن الکریم ۵ /۱۲
القرآن الکریم ۵ /۱۰۹
القرآن الکریم ۶ /۴۸
القرآن الکریم ۷ /۶
القرآن الکریم ۷ /۴۳
القرآن الکریم ۷ /۵۳
القرآن الکریم ۱۰ /۰۳ا
القرآن الکریم ۱۸ /۱۰۶
القرآن الکریم ۱۹ /۵۸
القرآن الکریم ۲۷ /۱۰
القرآن الکریم ۳۳ /۸
القرآن الکریم ۳۶ /۵۲
القرآن الکریم ۳۷ /۱۷۱
القرآن الکریم ۳۷ /۱۸۱
القرآن الکریم ۳۹ /۶۹
القرآن الکریم ۳ /۸۴
القرآن الکریم ۴ /۶۹
القرآن الکریم ۴ /۱۵۲
القرآن الکریم ۶۴ /۸
القرآن الکریم ۵ /۱۲
القرآن الکریم ۵ /۱۰۹
القرآن الکریم ۶ /۴۸
القرآن الکریم ۷ /۶
القرآن الکریم ۷ /۴۳
القرآن الکریم ۷ /۵۳
القرآن الکریم ۱۰ /۰۳ا
القرآن الکریم ۱۸ /۱۰۶
القرآن الکریم ۱۹ /۵۸
القرآن الکریم ۲۷ /۱۰
القرآن الکریم ۳۳ /۸
القرآن الکریم ۳۶ /۵۲
القرآن الکریم ۳۷ /۱۷۱
القرآن الکریم ۳۷ /۱۸۱
القرآن الکریم ۳۹ /۶۹
وقال تعالی" انا لننصر رسلنا والذین امنوا" وقال تعالی" و الذین امنوا باللہ و رسلہ اولئک ہم الصدیقون ٭"
وقال تعالی" اعدت للذین امنوا باللہ و رسلہ " وقال تعالی" لقد ارسلنا رسلنا بالبینت" وقال تعالی " کتب اللہ لاغلبن انا و رسلی " وقال تعالی
و اذا الرسل اقتت ﴿۱۱﴾ لای یوم اجلت ﴿۱۲﴾ " ۔الی غیر ذلك من آیات کثیرۃ۔ اور اﷲ تعالی نے فرمایا:بیشك ضرور ہم اپنے رسولوں کی مدد کریں گےا ور ایمان والوں کی۔اور اﷲ تعالی نے فرمایا:اور وہ جو اﷲ اور اس کے سب رسولوں پر ایمان لائیں وہی ہیں کامل سچے۔اور اﷲ تعالی نے فرمایا:تیار ہوئی ہے ان کے لئے جو اﷲ اور اس کے سب رسولوں پر ایمان لائے۔اور اﷲ تعالی نے فرمایا:بیشك ہم نے اپنے رسولوں کو دلیلوں کے ساتھ بھیجا۔اور اﷲ تعالی نے فرمایا: اﷲ لکھ چکا کہ ضرور غالب آؤں گا اور میرے رسول۔اور اﷲ تعالی نے فرمایا:اور جب رسولوں کا وقت آئے کس دن کے لئے ٹھہرائے گئے تھے۔اسی طرح دیگر کثیر آیات ہیں۔(ت)
(۳)یاملحوظ بوصف قبلیت یعنی انبیائے سابقین علی نبینا علیہم الصلوۃ والسلام مثل قولہ تعالی:
" وما ارسلنا من قبلک الا رجالا نوحی الیہم من اہل القری " وقال تعالی" و ما ارسلنا قبلک من المرسلین الا انہم لیاکلون الطعام" وقال تعالی" سنۃ اللہ فی الذین خلوا من قبل وکان امر اللہ قدرا مقدورۨا ﴿۳۸﴾۫ الذین یـبلغون رسلت اللہ" وقال تعالی و اور ہم نے تم سے پہلے جتنے رسول بھیجے سب مرد ہی تھے جنہیں ہم وحی کرتے اور سب شہر کے ساکن تھے۔اور اﷲ تعالی نے فرمایا: اور ہم نے تم سے پہلے جتنے رسول بھیجے سب ایسے ہی تھے کھانا کھاتے۔اور اﷲ تعالی نے فرمایا:اﷲ کا دستور چلا آرہا ہے ان میں جو پہلے گزرچکے اور اﷲ کا کام مقرر تقریر ہے وہ جو اﷲ کے پیام پہنچاتے۔اور اﷲ تعالی نے فرمایا:اور
"لقد اوحی الیک و الی الذین من قبلک " وقال تعالی
ما یقال لک الا ما قد قیل للرسل من قبلک " وقال تعالی" کذلک یوحی الیک و الی الذین من قبلک اللہ العزیز الحکیم ﴿۳﴾" وقال تعالی
" وسـل من ارسلنا من قبلک من رسلنا" ۔وغیرذلک۔ بیشك وحی کی گئی تمہاری طرف اور تم سے اگلوں کی طرف۔اور اﷲ تعالی نے فرمایا:تم سے نہ فرمایا جائیگا مگر وہی جو تم سے اگلے رسولوں کو فرمایا گیا۔اور اﷲ تعالی نے فرمایا:یونہی وحی فرماتا ہے تمہاری طرف اور تم سے اگلوں کی طرف اﷲ عزت وحکمت والا۔اور اﷲ تعالی نے فرمایا:اور ان سے پوچھو جو ہم نے تم سے پہلے رسول بھیجے۔وغیر ذلک۔
وقال تعالی" اعدت للذین امنوا باللہ و رسلہ " وقال تعالی" لقد ارسلنا رسلنا بالبینت" وقال تعالی " کتب اللہ لاغلبن انا و رسلی " وقال تعالی
و اذا الرسل اقتت ﴿۱۱﴾ لای یوم اجلت ﴿۱۲﴾ " ۔الی غیر ذلك من آیات کثیرۃ۔ اور اﷲ تعالی نے فرمایا:بیشك ضرور ہم اپنے رسولوں کی مدد کریں گےا ور ایمان والوں کی۔اور اﷲ تعالی نے فرمایا:اور وہ جو اﷲ اور اس کے سب رسولوں پر ایمان لائیں وہی ہیں کامل سچے۔اور اﷲ تعالی نے فرمایا:تیار ہوئی ہے ان کے لئے جو اﷲ اور اس کے سب رسولوں پر ایمان لائے۔اور اﷲ تعالی نے فرمایا:بیشك ہم نے اپنے رسولوں کو دلیلوں کے ساتھ بھیجا۔اور اﷲ تعالی نے فرمایا: اﷲ لکھ چکا کہ ضرور غالب آؤں گا اور میرے رسول۔اور اﷲ تعالی نے فرمایا:اور جب رسولوں کا وقت آئے کس دن کے لئے ٹھہرائے گئے تھے۔اسی طرح دیگر کثیر آیات ہیں۔(ت)
(۳)یاملحوظ بوصف قبلیت یعنی انبیائے سابقین علی نبینا علیہم الصلوۃ والسلام مثل قولہ تعالی:
" وما ارسلنا من قبلک الا رجالا نوحی الیہم من اہل القری " وقال تعالی" و ما ارسلنا قبلک من المرسلین الا انہم لیاکلون الطعام" وقال تعالی" سنۃ اللہ فی الذین خلوا من قبل وکان امر اللہ قدرا مقدورۨا ﴿۳۸﴾۫ الذین یـبلغون رسلت اللہ" وقال تعالی و اور ہم نے تم سے پہلے جتنے رسول بھیجے سب مرد ہی تھے جنہیں ہم وحی کرتے اور سب شہر کے ساکن تھے۔اور اﷲ تعالی نے فرمایا: اور ہم نے تم سے پہلے جتنے رسول بھیجے سب ایسے ہی تھے کھانا کھاتے۔اور اﷲ تعالی نے فرمایا:اﷲ کا دستور چلا آرہا ہے ان میں جو پہلے گزرچکے اور اﷲ کا کام مقرر تقریر ہے وہ جو اﷲ کے پیام پہنچاتے۔اور اﷲ تعالی نے فرمایا:اور
"لقد اوحی الیک و الی الذین من قبلک " وقال تعالی
ما یقال لک الا ما قد قیل للرسل من قبلک " وقال تعالی" کذلک یوحی الیک و الی الذین من قبلک اللہ العزیز الحکیم ﴿۳﴾" وقال تعالی
" وسـل من ارسلنا من قبلک من رسلنا" ۔وغیرذلک۔ بیشك وحی کی گئی تمہاری طرف اور تم سے اگلوں کی طرف۔اور اﷲ تعالی نے فرمایا:تم سے نہ فرمایا جائیگا مگر وہی جو تم سے اگلے رسولوں کو فرمایا گیا۔اور اﷲ تعالی نے فرمایا:یونہی وحی فرماتا ہے تمہاری طرف اور تم سے اگلوں کی طرف اﷲ عزت وحکمت والا۔اور اﷲ تعالی نے فرمایا:اور ان سے پوچھو جو ہم نے تم سے پہلے رسول بھیجے۔وغیر ذلک۔
(۴)یا برسبیل معنی جنسی شامل فردو جمع بے لحاط خاص خصوص وشمول مثل قولہ تعالی:
" من کان عدوا للہ وملئکتہ ورسلہ" وقولہ تعالی
" ان الذین یکفرون بایت اللہ ویقتلون النبین بغیر حق ویقتلون الذین یامرون بالقسط من الناس فبشرہم بعذاب الیم﴿۲۱﴾" وقولہ تعالی ولا یامرکم ان تتخذوا الملئکۃ والنبین اربابا " وقولہ تعالی" ومن یکفر باللہ وملئکتہ وکتبہ ورسلہ والیوم الاخر فقد ضل ضللا بـعیدا ﴿۱۳۶﴾" وقولہ تعالی ان الذین یکفرون باللہ ورسلہ ویریدون ان یفرقوا بین اللہ ورسلہ" (الی قولہ تعالی) اولئک جو کوئی شخص دشمن ہو اﷲ اور اس کے فرشتوں اور اس کے رسولوں کا۔اوراﷲ تعالی نے فرمایا:وہ جو اﷲ کی آیتوں سے منکر ہوتے اور پیغمبروں کو ناحق شہید کرتے اور انصاف کا حکم کرنے والوں کو قتل کرتے ہیں انہیں خوشخبری دو درد ناك عذاب کی۔اوراﷲ تعالی نے فرمایا:اور نہ تمھیں یہ حکم دے گا کہ فرشتوں اور پیغمبروں کو خدا ٹہہرالو ۔اوراﷲ تعالی نے فرمایا:اور جو نہ مانے اﷲ اور اس کے فرشتوں اور کتابوں اور رسولوں اور قیامت کو تو وہ ضرور دور کی گمراہی میں پڑا۔اور اﷲ تعالی نے فرمایا:وہ جو اﷲ اور اس کے رسولوں کو نہیں مانتے اور چاہتے ہیں کہ اﷲ سے اس کے رسولوں کو جدا کردیں(الی قولہ تعالی)یہی ہیں
ہم الکفرون حقا ۔ وغیرہا ٹھیك ٹھیك کافر وغیرہا۔
(۵)یا خاص خاص جماعت خواہ اس کا خصوص کسی وصف یا اضافت یا اور وجوہ بیان سے نفس کلام میں مذکور اور اس سے مستفاد ہو
مثل قولہ تعالی:
" ولقد اتینا موسی الکتب وقفینا من بعدہ بالرسل ۫"
وقال تعالی فی بنی اسرائیل:" ولقد جاءتہم رسلہم بالبینت"
وقال تعالی فی التوراۃ:" یحکم بہا النبیون الذین اسلموا للذین ہادوا"
وقال تعالی ما ذکر نوحا ثم رسولااخر:" ثم ارسلنا رسلنا تترا " ثم قال:ثم ارسلنا موسیوقال تعالی:" انا اوحینا الیک کما اوحینا الی نوح والنبین من بعدہ "
فالمراد من بین ھودوموسی علیہم الصلوۃ والسلام وقال تعا لی فقل انذرتکم صعقۃ مثل صعقۃ عاد و ثمود ﴿۱۳﴾ اذ جاءتہم الرسل من بین ایدیہم و من خلفہم" وقال تعالی بعد ذکر نوح وابراھیم:" ثم قفینا علی اثرہم برسلنا" اور بیشك ہم نے موسی کو کتاب عطا کی اور اس کے بعد پے در پے رسول بھیجے۔اوراﷲ تعالی نے بنی اسرائیل کے بارے میں فرمایا:اور بیشك ان کے پاس ہمارے رسول روشن دلیلوں کے ساتھ آئے۔اور اﷲ تعالی نے توراۃ میں فرمایا:اس کے مطابق یہود کو حکم دیتے تھے ہمارے فرمانبردار نبی۔اور اﷲ تعالی نے نوح علیہ السلام پھر ایك اوررسول کے ذکر کے بعد فرمایا پھر ہم نے اپنے رسول بھیجے ایك پیچھے دوسرا۔پھر فرمایا:ہم نے موسی کو بھیجا ۔اور الله تعالی نے فرمایا:بیشك اے محبوب ہم نے تمہاری طرف وحی بھیجی ا ن سے ہود اور موسی کے درمیان والے نبی علیہم الصلوۃ والسلام مراد ہیں اور اﷲ تعالی نے فرمایا:تو تم فرماؤ کہ میں تمہیں ڈراتا ہوں ایك کڑك سے جیسی کڑك عاد وثمود پر آئی تھی۔جب رسول ان کے آگے پیچھے پھرتے تھے۔اور اﷲ تعالی نے نوح اور ابراہیم کے ذکر کے بعد فرمایا:پھر ہم نے ان کے پیچھے اسی راہ پر اپنے اور رسول بھیجے۔(ت)
" من کان عدوا للہ وملئکتہ ورسلہ" وقولہ تعالی
" ان الذین یکفرون بایت اللہ ویقتلون النبین بغیر حق ویقتلون الذین یامرون بالقسط من الناس فبشرہم بعذاب الیم﴿۲۱﴾" وقولہ تعالی ولا یامرکم ان تتخذوا الملئکۃ والنبین اربابا " وقولہ تعالی" ومن یکفر باللہ وملئکتہ وکتبہ ورسلہ والیوم الاخر فقد ضل ضللا بـعیدا ﴿۱۳۶﴾" وقولہ تعالی ان الذین یکفرون باللہ ورسلہ ویریدون ان یفرقوا بین اللہ ورسلہ" (الی قولہ تعالی) اولئک جو کوئی شخص دشمن ہو اﷲ اور اس کے فرشتوں اور اس کے رسولوں کا۔اوراﷲ تعالی نے فرمایا:وہ جو اﷲ کی آیتوں سے منکر ہوتے اور پیغمبروں کو ناحق شہید کرتے اور انصاف کا حکم کرنے والوں کو قتل کرتے ہیں انہیں خوشخبری دو درد ناك عذاب کی۔اوراﷲ تعالی نے فرمایا:اور نہ تمھیں یہ حکم دے گا کہ فرشتوں اور پیغمبروں کو خدا ٹہہرالو ۔اوراﷲ تعالی نے فرمایا:اور جو نہ مانے اﷲ اور اس کے فرشتوں اور کتابوں اور رسولوں اور قیامت کو تو وہ ضرور دور کی گمراہی میں پڑا۔اور اﷲ تعالی نے فرمایا:وہ جو اﷲ اور اس کے رسولوں کو نہیں مانتے اور چاہتے ہیں کہ اﷲ سے اس کے رسولوں کو جدا کردیں(الی قولہ تعالی)یہی ہیں
ہم الکفرون حقا ۔ وغیرہا ٹھیك ٹھیك کافر وغیرہا۔
(۵)یا خاص خاص جماعت خواہ اس کا خصوص کسی وصف یا اضافت یا اور وجوہ بیان سے نفس کلام میں مذکور اور اس سے مستفاد ہو
مثل قولہ تعالی:
" ولقد اتینا موسی الکتب وقفینا من بعدہ بالرسل ۫"
وقال تعالی فی بنی اسرائیل:" ولقد جاءتہم رسلہم بالبینت"
وقال تعالی فی التوراۃ:" یحکم بہا النبیون الذین اسلموا للذین ہادوا"
وقال تعالی ما ذکر نوحا ثم رسولااخر:" ثم ارسلنا رسلنا تترا " ثم قال:ثم ارسلنا موسیوقال تعالی:" انا اوحینا الیک کما اوحینا الی نوح والنبین من بعدہ "
فالمراد من بین ھودوموسی علیہم الصلوۃ والسلام وقال تعا لی فقل انذرتکم صعقۃ مثل صعقۃ عاد و ثمود ﴿۱۳﴾ اذ جاءتہم الرسل من بین ایدیہم و من خلفہم" وقال تعالی بعد ذکر نوح وابراھیم:" ثم قفینا علی اثرہم برسلنا" اور بیشك ہم نے موسی کو کتاب عطا کی اور اس کے بعد پے در پے رسول بھیجے۔اوراﷲ تعالی نے بنی اسرائیل کے بارے میں فرمایا:اور بیشك ان کے پاس ہمارے رسول روشن دلیلوں کے ساتھ آئے۔اور اﷲ تعالی نے توراۃ میں فرمایا:اس کے مطابق یہود کو حکم دیتے تھے ہمارے فرمانبردار نبی۔اور اﷲ تعالی نے نوح علیہ السلام پھر ایك اوررسول کے ذکر کے بعد فرمایا پھر ہم نے اپنے رسول بھیجے ایك پیچھے دوسرا۔پھر فرمایا:ہم نے موسی کو بھیجا ۔اور الله تعالی نے فرمایا:بیشك اے محبوب ہم نے تمہاری طرف وحی بھیجی ا ن سے ہود اور موسی کے درمیان والے نبی علیہم الصلوۃ والسلام مراد ہیں اور اﷲ تعالی نے فرمایا:تو تم فرماؤ کہ میں تمہیں ڈراتا ہوں ایك کڑك سے جیسی کڑك عاد وثمود پر آئی تھی۔جب رسول ان کے آگے پیچھے پھرتے تھے۔اور اﷲ تعالی نے نوح اور ابراہیم کے ذکر کے بعد فرمایا:پھر ہم نے ان کے پیچھے اسی راہ پر اپنے اور رسول بھیجے۔(ت)
یابوجہ عہد حضوری مثل قولہ تعالی:
" قال یقوم اتبعوا المرسلین ﴿۲۰﴾" ۔ بولااے میری قوم بھیجے ہوؤں کی پیروی کرو(ت)
یا ذکری مثل قولہ تعالی:
فی قوم نوح وھو دو صالح ولوط وشعیب بعد ماذکرھم علیھم الصلوۃ والسلام
" تلک القری نقص علیک من انـبائہا ولقد جاءتہم رسلہم بالبینت" ۔ نوحہودصالحلوط اور شعیب علیہم الصلوۃ والسلام کی قوم کاذکر کرنے کے بعد:یہ بستیاں ہیں جن کے احوال ہم تمہیں سناتے ہیں اور بیشك ان کے پاس ان کے رسول روشن دلیلیں لے کر آئے(ت)
یا علمی مثل قولہ تعالی:
" واضرب لہم مثلا اصحب القریۃ اذ جاءہا المرسلون ﴿۱۳﴾" وقال تعال سنکتب ما قالوا وقتلہم الانبیاء بغیر حق"
وغیرذلک۔ اور ان سے نشانیاں بیان کرو اس شہر والوں کی جب ان کے پاس فرستادے آئے۔اب ہم لکھ رکھیں گے ان کا کہا اور انبیاء کو ان کا ناحق شہید کرناوغیرذلک(ت)
اب اولا اگرآیہ کریمہ" ولکن رسول اللہ و خاتم النبین " (اور ہاں اﷲ کے رسول ہیں اور سب نبیوں میں پیچھے۔ت)میں لام عہد خارجی کے لئے ہو جیسا کہ یہ طائفہ خارجیہ گمان کرتا ہے اور وہ یہاں نہیں مگر ذکر یاور ذکر کو دیکھ کر کہ اتنے وجوہ مختلفہ پر ہے اور ان میں صرف ایك وجہ وہ ہے ہے جو بداہۃکلام کریمہ میں مراد ہونے کی صلاحیت نہیں رکھتییعنی وجہ سوم کہ جب انبیاء موصوف بوصف قبلیت ومفید بقید سبقت لے گئے یعنی وہ انبیاء جو حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے پہلے ہیں تو اب حضور کو ان کا خاتم ان کا آخر ان سے زمانے میں متأخر کہنا محض لغو وفضول کلام مہمل ومعطل ومغسول ہوگا جس حاصل حمل اولی بدیہی مثل زید زید سے زائد نہ ہوگا کہ جب ان کو حضور سے اگلا کہہ دیا حضور کا ان سے پچھلا ہونا آپ ہی معلوم ہوا۔
" قال یقوم اتبعوا المرسلین ﴿۲۰﴾" ۔ بولااے میری قوم بھیجے ہوؤں کی پیروی کرو(ت)
یا ذکری مثل قولہ تعالی:
فی قوم نوح وھو دو صالح ولوط وشعیب بعد ماذکرھم علیھم الصلوۃ والسلام
" تلک القری نقص علیک من انـبائہا ولقد جاءتہم رسلہم بالبینت" ۔ نوحہودصالحلوط اور شعیب علیہم الصلوۃ والسلام کی قوم کاذکر کرنے کے بعد:یہ بستیاں ہیں جن کے احوال ہم تمہیں سناتے ہیں اور بیشك ان کے پاس ان کے رسول روشن دلیلیں لے کر آئے(ت)
یا علمی مثل قولہ تعالی:
" واضرب لہم مثلا اصحب القریۃ اذ جاءہا المرسلون ﴿۱۳﴾" وقال تعال سنکتب ما قالوا وقتلہم الانبیاء بغیر حق"
وغیرذلک۔ اور ان سے نشانیاں بیان کرو اس شہر والوں کی جب ان کے پاس فرستادے آئے۔اب ہم لکھ رکھیں گے ان کا کہا اور انبیاء کو ان کا ناحق شہید کرناوغیرذلک(ت)
اب اولا اگرآیہ کریمہ" ولکن رسول اللہ و خاتم النبین " (اور ہاں اﷲ کے رسول ہیں اور سب نبیوں میں پیچھے۔ت)میں لام عہد خارجی کے لئے ہو جیسا کہ یہ طائفہ خارجیہ گمان کرتا ہے اور وہ یہاں نہیں مگر ذکر یاور ذکر کو دیکھ کر کہ اتنے وجوہ مختلفہ پر ہے اور ان میں صرف ایك وجہ وہ ہے ہے جو بداہۃکلام کریمہ میں مراد ہونے کی صلاحیت نہیں رکھتییعنی وجہ سوم کہ جب انبیاء موصوف بوصف قبلیت ومفید بقید سبقت لے گئے یعنی وہ انبیاء جو حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے پہلے ہیں تو اب حضور کو ان کا خاتم ان کا آخر ان سے زمانے میں متأخر کہنا محض لغو وفضول کلام مہمل ومعطل ومغسول ہوگا جس حاصل حمل اولی بدیہی مثل زید زید سے زائد نہ ہوگا کہ جب ان کو حضور سے اگلا کہہ دیا حضور کا ان سے پچھلا ہونا آپ ہی معلوم ہوا۔
حوالہ / References
القرآن الکریم ۲۳ /۴۴
القرآن الکریم ۴ /۱۶۳
القرآن الکریم ۴۱ /۱۳و۱۴
القرآن الکریم ۵۷ /۲۷
القرآن الکریم ۳۶ /۲۰
القرآن الکریم ۷ /۱۰۱
القرآن الکریم ۳۶ /۱۳
القرآن الکریم ۳ /ا۸ا
القرآن الکریم ۳۳ /۴۰
القرآن الکریم ۴ /۱۶۳
القرآن الکریم ۴۱ /۱۳و۱۴
القرآن الکریم ۵۷ /۲۷
القرآن الکریم ۳۶ /۲۰
القرآن الکریم ۷ /۱۰۱
القرآن الکریم ۳۶ /۱۳
القرآن الکریم ۳ /ا۸ا
القرآن الکریم ۳۳ /۴۰
اسے بالخصوص مقصود بالا فادہ رکھنا قرآن عظیم تو قرآن عظیم اصلا کسی عاقل انسان کے کلام کے لائق نہیںنہ کہ وہ بھی مقام مدح میں کہ
چشمان تو زیرابروانند
دندان تو جملہ در دہانند
(تمہاری آنکھیں زیرابرو ہیں اور دانت منہ کے اندر ہیں)
سے بھی بدترحالت میں ہے کہ شعر نے کسی افادہ کی عبث تکرار نہ کی اور بات جو کہی وہ بھی واقعی تعریف کی تھی" احسن تقویم ۫﴿۴﴾ " (اچھی صورت۔ت)سے بعض اوضاع کا بیان ہے اسے مقام مدح میں یوں مہمل جانا گیا ہے کہ ایك عام مشترك بات کا ذکر کیا ہے بخلاف اس معنی کے کہ اس میں صراحۃعبث موجود اور معنی مدح بھی مفقوداور پھر عموم واشتراك بھی نقد وقت کہ ہر شے اپنے اگلے سے پچھلی ہوتی ہے غرض یہ وجہ تو یوں مندفع ہوجائے گی کہ اصلا محل افادہ وصالح ارادہ نہیں اور اس طائفہ خارجیہ کے طور پر وجہ دوم کو بھی نامحتمل مان لیجئے پھر بھی اول وچہارم و پنجم سب محتمل رہیں گی اور پنجم میں خود وجوہ کثیر ہیںکہیں"من بعد موسی"کہیں"من بعد نوح"کہیں انبیائے اسرائیلکہیں"من بعد ھود وموسی"کہیں صرف انبیائے عاد ثمودکہیں انبیائے قوم نوح وعاد وثمودکہیں"من بعد ابراھیم قوم لوط و مدین"وغیرذلکبہر حال ذکر وجوہ کثیرہ مختلفہ پر آیا ہے اور یہاں کوئی قرینہ وبینہ نہیں کہ ان میں ایك وجہ کی تعیین کرے تو معلوم نہیں ہوسکتا کہ کون سے مذکور کی طرف اشارہ ہواپھر عہد کہاں رہاسرے سے عہد کا مبنی ہی کہ تعین ہے منہدم ہوگیا کہ اختلاف وتنوع مطلقا منافی تعیننہ کہ اتنا کثیرپھر عہدیت کیونکر ممکن۔
ثانیا جب کہ اتنی وجوہ کثیرہ محتمل اور قرآن عظیم نے کوئی وجہ بیان نہ فرمائیحدیث کا بیان صحیح تو وہی عموم واستغراق ہے کہ لانبی بعدی (میرے بعد کوئی نبی نہیں ۔ت)کما سیأتی۔اس تقدیر پر جب اشارہ ذکر استغراق کی طرف ٹھہرا عہدو استغراق کا حاصل ایك ہوگیا اور وہی احاطہ تامہ کہ معتقد اور وہی منقطع ہوکر متشابہات سے ہوگئیاب رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو خاتم النبیین کہنا محض اقرار لفظ بے فہم معنی رہ گیا جس کی مراد کچھ معلوم نہیںکوئی کافر خود زمانہ اقدس حضور پر نور صلی اﷲ تعالی
چشمان تو زیرابروانند
دندان تو جملہ در دہانند
(تمہاری آنکھیں زیرابرو ہیں اور دانت منہ کے اندر ہیں)
سے بھی بدترحالت میں ہے کہ شعر نے کسی افادہ کی عبث تکرار نہ کی اور بات جو کہی وہ بھی واقعی تعریف کی تھی" احسن تقویم ۫﴿۴﴾ " (اچھی صورت۔ت)سے بعض اوضاع کا بیان ہے اسے مقام مدح میں یوں مہمل جانا گیا ہے کہ ایك عام مشترك بات کا ذکر کیا ہے بخلاف اس معنی کے کہ اس میں صراحۃعبث موجود اور معنی مدح بھی مفقوداور پھر عموم واشتراك بھی نقد وقت کہ ہر شے اپنے اگلے سے پچھلی ہوتی ہے غرض یہ وجہ تو یوں مندفع ہوجائے گی کہ اصلا محل افادہ وصالح ارادہ نہیں اور اس طائفہ خارجیہ کے طور پر وجہ دوم کو بھی نامحتمل مان لیجئے پھر بھی اول وچہارم و پنجم سب محتمل رہیں گی اور پنجم میں خود وجوہ کثیر ہیںکہیں"من بعد موسی"کہیں"من بعد نوح"کہیں انبیائے اسرائیلکہیں"من بعد ھود وموسی"کہیں صرف انبیائے عاد ثمودکہیں انبیائے قوم نوح وعاد وثمودکہیں"من بعد ابراھیم قوم لوط و مدین"وغیرذلکبہر حال ذکر وجوہ کثیرہ مختلفہ پر آیا ہے اور یہاں کوئی قرینہ وبینہ نہیں کہ ان میں ایك وجہ کی تعیین کرے تو معلوم نہیں ہوسکتا کہ کون سے مذکور کی طرف اشارہ ہواپھر عہد کہاں رہاسرے سے عہد کا مبنی ہی کہ تعین ہے منہدم ہوگیا کہ اختلاف وتنوع مطلقا منافی تعیننہ کہ اتنا کثیرپھر عہدیت کیونکر ممکن۔
ثانیا جب کہ اتنی وجوہ کثیرہ محتمل اور قرآن عظیم نے کوئی وجہ بیان نہ فرمائیحدیث کا بیان صحیح تو وہی عموم واستغراق ہے کہ لانبی بعدی (میرے بعد کوئی نبی نہیں ۔ت)کما سیأتی۔اس تقدیر پر جب اشارہ ذکر استغراق کی طرف ٹھہرا عہدو استغراق کا حاصل ایك ہوگیا اور وہی احاطہ تامہ کہ معتقد اور وہی منقطع ہوکر متشابہات سے ہوگئیاب رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو خاتم النبیین کہنا محض اقرار لفظ بے فہم معنی رہ گیا جس کی مراد کچھ معلوم نہیںکوئی کافر خود زمانہ اقدس حضور پر نور صلی اﷲ تعالی
حوالہ / References
القرآن الکریم ۹۵ /۴
صحیح البخاری باب ماذکر عن بنی اسرائیل قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۴۹۱
صحیح البخاری باب ماذکر عن بنی اسرائیل قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۴۹۱
علیہ وسلم میں کتنے ہی انبیاء مانےحضور کے بعد ہر قرن وطبقہ و شہر وقریہ میں ہزار ہزار اشخاص کو نبی جانے خود اپنے آپ کو رسول اﷲ کہےاپنے استاذوں کو مرسلین اولوالعزم بتائےآیہ کریمہ اس کا بال بیکا نہیں کرسکتی کہ آیت کے معنی ہی معلوم نہیں جس سے حجت قائم ہوسکےکیا کوئی مسلمان ایسا خیال کرے گاحاشا وکلا۔
ثالثا میں تکثر وتزاحم معانی پر کیوں بنا کروںسوائے استغراق کو ئی معنی لے لیجئے سب پر یہی آش درکاسہ رہے گی کہ پچھلی جھوٹی کاذبہ ملعونہ نبوتوں کا درآیت بند نہ کرسکے گیمعنی اول یعنی افراد مخصوصہ معینہ مراد لئے تو نبی صلی اﷲ اتعالی علیہ وسلم انہیں معدود انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کے خاتم ٹھہرے جن کا نام یا ذکر معین علی وجہ الابہام قرآن مجید میں آگیا ہے جن کا شمار تیس چالیس نبی تك بھی نہ پہنچے گایونہی برتقدیر معنی پنجم یعنی جماعات خاصہ خاص اپنی جماعت کے خاتم ٹھہریں گےباقی جماعات صادقہ سابقہ کے لئے بھی خاتمیت ثابت نہ ہوگیچہ جائے جماعات کاذبہ آئندہ اور معنی سوم میں صاف تخصیص انبیائے سابقین کے بھی ہو جائے گی کہ جو نبی پہلے گزر چکے ان کے خاتم ہیں تو پچھلوں کی کیا بندش ہوئی بلکہ پیچھے اور آئے تو وہ ان کے بھی خاتم ہوں گےرہے معنی چہارم جنسی اس میں جمیع مراد لینا اس طائفہ کو منظور نہیں ورنہ وہی ختم الشیئ لنفسہ لازم آئے لاجرم مطلقا کسی ایك فرد کے اختتام سے بھی خاتمیت صادق مانے گا کہ صدق علی الجنس کے لئے ایك فرد پر صدق کا ہے تو یہ سب معانی سے اخس وارذل ہوا اور حاصل وہی ٹھہرا کہ آیت بہر نہج فقط ایك دو یا چند یا کل گزشتہ پیغمبروں کی نسبت صرف اتنا تاریخی واقعہ بتاتی ہے کہ ان کا زمانہ ان کے زمانے سے پہلے تھااس سے زیادہ آئندہ نبوتوں کا وہ کچھ نہیں بگاڑسکتینہ ان سے اصلا بحث کرتی ہےطوائف ملعونہ مہدویہ وقادیانیہ وامیریہ ونذیریہ ونانوتویہ وامثالہم لعنہم اﷲ تعالی کا یہی تو مقصود تھاوہ اس طائفہ خارجیہ نے جی کھو ل کر امنا بہ کرلیا" و سیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون ﴿۲۲۷﴾ " (اور اب جانا چاہتے ہیں ظالم کہ کس کروٹ پر پلٹا کھائیں گے۔ت)اصل بات یہ ہے کہ معانی قطعیہ جو تمام مسلمین میں ضروریات دین سے ہوں جب ان پر نصوص قطعیہ پیش نہ کئے جائیں تو مسلمانوں کو احمق بنالینا اور معتقدات اسلام کو مخیلات عــــہ عوام ٹھہرادینا ایسے خبثا کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے اور نصوص میں احادیث پر نہ عام لوگوں کی نظر نہ ان کے جمع طرق وادراك تواتر پر دسترسوہاں ایك ہش میں کام نکل جاتا ہے کہ یہ باب عقائد ہےاس
عــــہ:دیکھو تخدیر الناس۔
ثالثا میں تکثر وتزاحم معانی پر کیوں بنا کروںسوائے استغراق کو ئی معنی لے لیجئے سب پر یہی آش درکاسہ رہے گی کہ پچھلی جھوٹی کاذبہ ملعونہ نبوتوں کا درآیت بند نہ کرسکے گیمعنی اول یعنی افراد مخصوصہ معینہ مراد لئے تو نبی صلی اﷲ اتعالی علیہ وسلم انہیں معدود انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کے خاتم ٹھہرے جن کا نام یا ذکر معین علی وجہ الابہام قرآن مجید میں آگیا ہے جن کا شمار تیس چالیس نبی تك بھی نہ پہنچے گایونہی برتقدیر معنی پنجم یعنی جماعات خاصہ خاص اپنی جماعت کے خاتم ٹھہریں گےباقی جماعات صادقہ سابقہ کے لئے بھی خاتمیت ثابت نہ ہوگیچہ جائے جماعات کاذبہ آئندہ اور معنی سوم میں صاف تخصیص انبیائے سابقین کے بھی ہو جائے گی کہ جو نبی پہلے گزر چکے ان کے خاتم ہیں تو پچھلوں کی کیا بندش ہوئی بلکہ پیچھے اور آئے تو وہ ان کے بھی خاتم ہوں گےرہے معنی چہارم جنسی اس میں جمیع مراد لینا اس طائفہ کو منظور نہیں ورنہ وہی ختم الشیئ لنفسہ لازم آئے لاجرم مطلقا کسی ایك فرد کے اختتام سے بھی خاتمیت صادق مانے گا کہ صدق علی الجنس کے لئے ایك فرد پر صدق کا ہے تو یہ سب معانی سے اخس وارذل ہوا اور حاصل وہی ٹھہرا کہ آیت بہر نہج فقط ایك دو یا چند یا کل گزشتہ پیغمبروں کی نسبت صرف اتنا تاریخی واقعہ بتاتی ہے کہ ان کا زمانہ ان کے زمانے سے پہلے تھااس سے زیادہ آئندہ نبوتوں کا وہ کچھ نہیں بگاڑسکتینہ ان سے اصلا بحث کرتی ہےطوائف ملعونہ مہدویہ وقادیانیہ وامیریہ ونذیریہ ونانوتویہ وامثالہم لعنہم اﷲ تعالی کا یہی تو مقصود تھاوہ اس طائفہ خارجیہ نے جی کھو ل کر امنا بہ کرلیا" و سیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون ﴿۲۲۷﴾ " (اور اب جانا چاہتے ہیں ظالم کہ کس کروٹ پر پلٹا کھائیں گے۔ت)اصل بات یہ ہے کہ معانی قطعیہ جو تمام مسلمین میں ضروریات دین سے ہوں جب ان پر نصوص قطعیہ پیش نہ کئے جائیں تو مسلمانوں کو احمق بنالینا اور معتقدات اسلام کو مخیلات عــــہ عوام ٹھہرادینا ایسے خبثا کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے اور نصوص میں احادیث پر نہ عام لوگوں کی نظر نہ ان کے جمع طرق وادراك تواتر پر دسترسوہاں ایك ہش میں کام نکل جاتا ہے کہ یہ باب عقائد ہےاس
عــــہ:دیکھو تخدیر الناس۔
حوالہ / References
القرآن الکریم ۲۶ /۲۲۷
میں بخاری ومسلم عــــہ۱ کی بھی صحیح احادیثیں مردود ہیںہاں ایسی جگہ ان ہیے کے اندھوں کی کچھ کو رد بتی ہے تو قرآن عظیم سے بغرض تلبیس عوامبرائے عــــہ۲ نام اسلام کا ادعاہوکرقرآن پر صراحۃ انکار کا ٹٹوخردرگل ہےلہذا وہاں تحریف معنوی کے چال چلتے اور کلام اﷲ کو الٹتے بدلتے ہیں کہ جب آیت سے مسلمانوں کو ہاتھ خالی کرلیں پھر گونہ وحی شیطانی کا رستہ کھل جائے گا" و اللہ متم نورہ ولو کرہ الکفرون ﴿۸﴾" (اور اﷲ کو اپنا نور پوراکرنا ہے اگرچہ برامانیں کافر۔ت)
سوم یعنی اس طائفہ کا مکذب تفسیر حضور سید المرسلین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ہونا وہ ہرادنی خادم حدیث پر روشن یہاں اجمالی دو حرف ذکر کریںصحیح مسلم شریف ومسند امام احمد وسنن ابوداؤد و جامع ترمذی وسنن ابن ماجہ وغیرہا میں ثوبان رضی اﷲ تعالی عنہ سے ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
انہ سیکون فی امتی کذابون ثلثون کلھم یزعم انہ نبی وانا خاتم النبیین لانبی بعدی ۔ بیشك میری امت دعوت میں یا میری امت کے زمانے میں تیس کذاب ہوں گے کہ ہر ایك اپنے آپ کو نبی کہے گا اور میں خاتم النبیین ہوں کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔
امام احمد مسند اور طبرانی معجم کبیر اور ضیائے مقدسی صحیح مختارہ میں حذیفہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے راوی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
یکون فی امتی کذابون ودجالون سبعۃ وعشرون من ھم اربعۃ نسوۃ وانی خاتم النبیین لانبی بعدی ۔ میری امت دعوت میں ستائیس دجال کذاب ہونگے ان میں چار عورتیں ہوں گی حالانکہ بیشك میں خاتم النبیین ہوں کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ۔
صحیح بخاری وصحیح مسلم و سنن ترمذی وتفسیر ابن ابی حاتم وتفسیر ابن مردود یہ میں جابر رضی اﷲ عنہ
عــــہ۱:دیکھو براہین قاطعہ گنگوہی۔ عــــہ۲:دیکھو تحذیر الناس
سوم یعنی اس طائفہ کا مکذب تفسیر حضور سید المرسلین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ہونا وہ ہرادنی خادم حدیث پر روشن یہاں اجمالی دو حرف ذکر کریںصحیح مسلم شریف ومسند امام احمد وسنن ابوداؤد و جامع ترمذی وسنن ابن ماجہ وغیرہا میں ثوبان رضی اﷲ تعالی عنہ سے ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
انہ سیکون فی امتی کذابون ثلثون کلھم یزعم انہ نبی وانا خاتم النبیین لانبی بعدی ۔ بیشك میری امت دعوت میں یا میری امت کے زمانے میں تیس کذاب ہوں گے کہ ہر ایك اپنے آپ کو نبی کہے گا اور میں خاتم النبیین ہوں کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔
امام احمد مسند اور طبرانی معجم کبیر اور ضیائے مقدسی صحیح مختارہ میں حذیفہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے راوی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
یکون فی امتی کذابون ودجالون سبعۃ وعشرون من ھم اربعۃ نسوۃ وانی خاتم النبیین لانبی بعدی ۔ میری امت دعوت میں ستائیس دجال کذاب ہونگے ان میں چار عورتیں ہوں گی حالانکہ بیشك میں خاتم النبیین ہوں کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ۔
صحیح بخاری وصحیح مسلم و سنن ترمذی وتفسیر ابن ابی حاتم وتفسیر ابن مردود یہ میں جابر رضی اﷲ عنہ
عــــہ۱:دیکھو براہین قاطعہ گنگوہی۔ عــــہ۲:دیکھو تحذیر الناس
حوالہ / References
القرآن لاکریم۶۱/ ۸
جامع ترمذی ابواب الفتن باب ماجاء لاتقوم الساعۃ حتے یخرج کذابون امین کمپنی دہلی ۲/ ۴۵
المعجم الکبیر للطبرانی ترجمہ حذیفہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ حدیث ۳۰۲۶ مکتبہ فیصلیہ بیروت ۳/ ۱۷۰
جامع ترمذی ابواب الفتن باب ماجاء لاتقوم الساعۃ حتے یخرج کذابون امین کمپنی دہلی ۲/ ۴۵
المعجم الکبیر للطبرانی ترجمہ حذیفہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ حدیث ۳۰۲۶ مکتبہ فیصلیہ بیروت ۳/ ۱۷۰
سے ہےرسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
مثلی ومثل الانبیاء کمثل رجل ابتنی دارا فاکملھا واحسنھا الاموضع لبنۃ فکان من دخلہا فنظر الیہا قال مااحسنھا الاموضع اللبنۃ فانا موضع اللبنۃ فختم بی الانبیاء ۔ میری اور نبیوں کی مثال ایسی ہے جیسے کسی شخص نے ایك مکان پور ا کامل اور خوبصورت بنایا مگر ایك اینٹ کی جگہ خالی تھی تو جو اس گھر میں جاکر دیکھتا کہتا یہ مکان کس قدر خوب ہے مگر ایك اینٹ کی جگہ کہ وہ خالی ہے تو اس اینٹ کی جگہ میں ہوا مجھ سے انبیاء ختم کردئے گئے۔
صحیح مسلم ومسنداحمد ابو سعید خدری رضی ا ﷲ تعالی عنہ سے ہےرسول اﷲصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
مثلی ومثل النبیین من قبلی کمثل رجل بنی دارا فاتمھا الالبنۃ واحدۃ فجئت انا فاتممت تلك اللبنۃ ۔ میری اور سابقہ انبیاء کی مثل اس شخص کی مانند ہے جس نے سارا مکان پورا بنایا سوا ایك اینٹ کےتو میں تشریف فرماہوا اور وہ اینٹ میں نے پوری کی۔
مسند احمد وصحیح ترمذی میں بافادہ تصحیح ابی بن کعب رضی اﷲ تعالی عنہ سے ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
مثلی فی النبیین کمثل رجل بنی دارا فاحسنھا و اکملھا واجملھا وترك فیھا موضع لبنۃ لم یضعھا فجعل الناس یطوفون بالبنیان ویعجبون منہ و یقولون لو تم موضع ھذہ اللبنۃ فانافی النبیین موضع تلك اللبنۃ ۔ پیغمبروں میں میری مثال ایسی ہے کہ کسی نے ایك مکان خوبصورت و کامل وخوشنما بنایا اور ایك اینٹ کی جگہ چھوڑدی وہ نہ رکھی لوگ اس عمارت کے گرد پھرتے اور اس کی خوبی و خوشنمائی سے تعجب کرتے اور تمنا کرتے کسی طرح اس اینٹ کی جگہ پوری ہوجاتی تو انبیاء میں اس اینٹ کی جگہ میں ہوں۔
مثلی ومثل الانبیاء کمثل رجل ابتنی دارا فاکملھا واحسنھا الاموضع لبنۃ فکان من دخلہا فنظر الیہا قال مااحسنھا الاموضع اللبنۃ فانا موضع اللبنۃ فختم بی الانبیاء ۔ میری اور نبیوں کی مثال ایسی ہے جیسے کسی شخص نے ایك مکان پور ا کامل اور خوبصورت بنایا مگر ایك اینٹ کی جگہ خالی تھی تو جو اس گھر میں جاکر دیکھتا کہتا یہ مکان کس قدر خوب ہے مگر ایك اینٹ کی جگہ کہ وہ خالی ہے تو اس اینٹ کی جگہ میں ہوا مجھ سے انبیاء ختم کردئے گئے۔
صحیح مسلم ومسنداحمد ابو سعید خدری رضی ا ﷲ تعالی عنہ سے ہےرسول اﷲصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
مثلی ومثل النبیین من قبلی کمثل رجل بنی دارا فاتمھا الالبنۃ واحدۃ فجئت انا فاتممت تلك اللبنۃ ۔ میری اور سابقہ انبیاء کی مثل اس شخص کی مانند ہے جس نے سارا مکان پورا بنایا سوا ایك اینٹ کےتو میں تشریف فرماہوا اور وہ اینٹ میں نے پوری کی۔
مسند احمد وصحیح ترمذی میں بافادہ تصحیح ابی بن کعب رضی اﷲ تعالی عنہ سے ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
مثلی فی النبیین کمثل رجل بنی دارا فاحسنھا و اکملھا واجملھا وترك فیھا موضع لبنۃ لم یضعھا فجعل الناس یطوفون بالبنیان ویعجبون منہ و یقولون لو تم موضع ھذہ اللبنۃ فانافی النبیین موضع تلك اللبنۃ ۔ پیغمبروں میں میری مثال ایسی ہے کہ کسی نے ایك مکان خوبصورت و کامل وخوشنما بنایا اور ایك اینٹ کی جگہ چھوڑدی وہ نہ رکھی لوگ اس عمارت کے گرد پھرتے اور اس کی خوبی و خوشنمائی سے تعجب کرتے اور تمنا کرتے کسی طرح اس اینٹ کی جگہ پوری ہوجاتی تو انبیاء میں اس اینٹ کی جگہ میں ہوں۔
حوالہ / References
صحیح مسلم کتاب الفضائل باب ذکر کون النبی صلی اﷲ علیہ وسلم خاتم النبیین قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۲۴۸،صحیح البخاری کتاب المناقب باب خاتم النبیین قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۵۰۱
مسند امام احمد حدیث ابو سعید خدری رضی اﷲ عنہ دارالفکر بیروت ۳/ ۹
جامع ترمذی ابواب المناقب باب ماجاء فضل النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۳۰۱
مسند امام احمد حدیث ابو سعید خدری رضی اﷲ عنہ دارالفکر بیروت ۳/ ۹
جامع ترمذی ابواب المناقب باب ماجاء فضل النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۳۰۱
صحیح بخاری وصحیح مسلم وسنن النسائی وتفسیر ابن مردویہ میں ابوہریرہ رضی اﷲ عنہ سے ہےرسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے یہی مثل بیان کرکے ارشاد فرمایا:
فانااللبنۃ وانا خاتم النبیین ۔ تومیں وہ اینٹ ہوں اور خاتم النبیین ہوںصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اجمعین وبارك وسلم۔
چہارم کا بیان اوپر گزراپنجم سے طائفہ کی گمراہی بھی واضح ہوچکی کہ تفسیر رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا رد کرنے والا اجماعی قطعی امت مرحومہ کا خلاف کرنے والا سواگمراہ بددین ہونے کے کون ہوگا۔
" نولہ ما تولی ونصلہ جہنم وساءت مصیرا﴿۱۱۵﴾" ۔ ہم اسے اس کے حال پر چھوردیں گے اور اسے دوزخ میں داخل کریں گے اور کیا ہی بری جگہ ہے پلٹنے کی۔(ت)
رہی بدعقلی وہ اس کے ان شبہات واہیاتخرافاتمزخرفات کی ایك ایك ادا سے ٹپك رہی ہے جو اس نے اثبات ادعائے باطل"عہد خارجی"کے لئے پیش کئے اہل علم کے سامنے ایسے مہملات کیا قابل التفاتمگر حفظ عوام وازالہ اوہام کے لئے چند حروف مجمل کا ذکر مناسب واﷲ الھادی وولی الایادی(اور اﷲ تعالی ہی ہدایت دینے والا اور طاقتوں کا مالك ہے۔ت)شبہہ اولی میں اس طائفہ نے عبارت توضیح کی طرف محض غلط نسبت کی حالانکہ توضیح میں اس عبارت کا نشان نہیں بلکہ وہ اسکے حاشیہ تلویح کی ہے
اقول اولا: اگریہ مدعیان عقل اسی اپنی ہی نقل کی ہوئی عبارت کو سمجھتے اور قرآن عظیم میں انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کے وجوہ ذکر کو دیکھتے تو یقین کرتے کہ آیہ کریمہ" ولکن رسول اللہ و خاتم النبین " (اور لیکن آپ اﷲکے رسول اور انبیاء میں سے آخری ہیں۔ت)میں لام عہد خارجی کے لئے ہونا محال ہے کہ بوجہ تنوع وجوہ ذکر وعدم اولیت وترجیح جس کا بیان مشرحا گزرا کمال تمیز جداسرے سے کسی وجہ معین کا امتیاز ہی نہ رہا تو یہی عبارت شاہد ہے کہ یہاں"عہدخارجی"ناممکنکاش مکر کے لئے بھی کچھ عقل ہوتی اصلی تو اس کی جگہ توضیح ہی کی گول عبارت العھد ھوالاصل ثم الاستغراق ثم تعریف الطبیعۃ (عہد اصلی ہے پھر استغراق اور پھر جنس۔ت)کی نقل ہوتی کہ خود نفس عبارت تو ان کی جہالت و
فانااللبنۃ وانا خاتم النبیین ۔ تومیں وہ اینٹ ہوں اور خاتم النبیین ہوںصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اجمعین وبارك وسلم۔
چہارم کا بیان اوپر گزراپنجم سے طائفہ کی گمراہی بھی واضح ہوچکی کہ تفسیر رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا رد کرنے والا اجماعی قطعی امت مرحومہ کا خلاف کرنے والا سواگمراہ بددین ہونے کے کون ہوگا۔
" نولہ ما تولی ونصلہ جہنم وساءت مصیرا﴿۱۱۵﴾" ۔ ہم اسے اس کے حال پر چھوردیں گے اور اسے دوزخ میں داخل کریں گے اور کیا ہی بری جگہ ہے پلٹنے کی۔(ت)
رہی بدعقلی وہ اس کے ان شبہات واہیاتخرافاتمزخرفات کی ایك ایك ادا سے ٹپك رہی ہے جو اس نے اثبات ادعائے باطل"عہد خارجی"کے لئے پیش کئے اہل علم کے سامنے ایسے مہملات کیا قابل التفاتمگر حفظ عوام وازالہ اوہام کے لئے چند حروف مجمل کا ذکر مناسب واﷲ الھادی وولی الایادی(اور اﷲ تعالی ہی ہدایت دینے والا اور طاقتوں کا مالك ہے۔ت)شبہہ اولی میں اس طائفہ نے عبارت توضیح کی طرف محض غلط نسبت کی حالانکہ توضیح میں اس عبارت کا نشان نہیں بلکہ وہ اسکے حاشیہ تلویح کی ہے
اقول اولا: اگریہ مدعیان عقل اسی اپنی ہی نقل کی ہوئی عبارت کو سمجھتے اور قرآن عظیم میں انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کے وجوہ ذکر کو دیکھتے تو یقین کرتے کہ آیہ کریمہ" ولکن رسول اللہ و خاتم النبین " (اور لیکن آپ اﷲکے رسول اور انبیاء میں سے آخری ہیں۔ت)میں لام عہد خارجی کے لئے ہونا محال ہے کہ بوجہ تنوع وجوہ ذکر وعدم اولیت وترجیح جس کا بیان مشرحا گزرا کمال تمیز جداسرے سے کسی وجہ معین کا امتیاز ہی نہ رہا تو یہی عبارت شاہد ہے کہ یہاں"عہدخارجی"ناممکنکاش مکر کے لئے بھی کچھ عقل ہوتی اصلی تو اس کی جگہ توضیح ہی کی گول عبارت العھد ھوالاصل ثم الاستغراق ثم تعریف الطبیعۃ (عہد اصلی ہے پھر استغراق اور پھر جنس۔ت)کی نقل ہوتی کہ خود نفس عبارت تو ان کی جہالت و
حوالہ / References
صحیح مسلم کتاب الفضائل باب ذکر کون النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم خاتم النبیین قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۲۴۸
القرآن الکریم ۴ /۱۱۵
القرآن الکریم ۳۳ /۴۰
توضیع علی التنقیح الفاظ العام الجمع معرف باللام المکتبۃ الرحیمیہ دیوبند سہارنپور بھارت ۱/ ۱۴۵
القرآن الکریم ۴ /۱۱۵
القرآن الکریم ۳۳ /۴۰
توضیع علی التنقیح الفاظ العام الجمع معرف باللام المکتبۃ الرحیمیہ دیوبند سہارنپور بھارت ۱/ ۱۴۵
سفاہت پر شہادت نہ دیتی اگرچہ اس سے دو ہی سطر پہلے اسی توضیح میں متن تنقیح کی عبارت ولابعض الافراد لعدم الاولیۃ (اور نہ بعض افراد کیونکہ اولی نہیں۔ت)اس کی صفراشکنی کو بس ہوتی مگر یہ کیونکر کھلتا کہ طائفہ حائفہ کو دوست و دشمن میں تمیز نہیں صریح مضر کو نافع سمجھتاہے لہذا نام تو لیا توضیح کا اور برائے بد قسمتی عبارت نقل کر دی تلویح کیجس میں صاف صریح ان عقلاء کی تسفیہ اور ان کے وہم کا سد کی تقبیح تھیولاحول ولاقوۃ الا باﷲ العلی العظیم۔
ثانیا توضیح کا مطلب سمجھنا تو بڑی باتخودا پنی ہی لکھا نہ سمجھا کہ جب عہد خارجی سے معنی درست ہو تو استغراق وغیرہ معتبر نہ ہوگا۔ہم اوپر واضح کرآئے کہ عہد خارجی مزعوم طائفہ خارجیہ سے معنی درست نہیں ہوسکتےآیہ کریمہ قطعا آئندہ نبوتوں کا دروازہ بند فرماتی ہےرسول اﷲ صلی ا ﷲ تعالی علیہ وسلم نے یہی معنی اس کے بیان فرمائےتمام امت نے سلفا وخلفا اس کے یہی معنی سمجھے اور اس عہد خارجی پر آیت کو اس سے کچھ مس نہیں رہتا تو واجب ہے کہ استغراق مراد ہو اسی تلویح میں اسی عبارت منقولہ طائفہ کے متصل ہے
ثم الاستغراق الی ان قال فالاستغراق ھو المفھوم من الاطلاق حیث لاعھد فی الخارج خصوصا فی الجمع الی قولہ ھذا ماعلیہ المحققون ۔ پھر استغراق(تا)اطلاق سے استغراق مفہوم ہوتا ہے جہاں عہد خارجی نہ ہو خصوصا جمع میں(تا)محققین کی یہی رائے ہے(ت)
ثالثا بہت اچھا اگرفرض کریں کہ لام عہد خارجی کے لئے ہے تو اس سے بھی قطعا یقینا استغراق ہی ثابت ہوگا کہ وجوہ خمسہ سے اول وسوم وپنجم کا بطلان تو دلائل قاہرہ سے اوپر ثابت ہولیا اور واضح ہوچکا کہ خود جن سے کلام الہی کا اولا واصالۃ خطاب تھا یعنی حضور پر نور سید یوم النشور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلمانہو ں نے ہرگز اس آیت سے صرف بعض افراد معینہ یا کسی جماعت خاصہ کو نہ سمجھا اب نہ رہیںمگر وجہ دوم و چہارم یعنی وہ جو قرآن عظیم میں بروجہ اکثر واوفر ذکر انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام بروجہ عموم واستغراق تام ہے اسی وجہ معہود کی طرف لام النبیین مشیر ہے تو اس عہد کاحاصل بحمد اﷲ تعالی وہی استغراق کامل جو مسلمانوں کا عقیدہ ایمانیہ ہے یاذکر جنسی کی طرف اشارہ ہے اور ختم کا حاصل نفی معیت وبعدیت ہےجیسے اولویت بمعنی نفی معیت وقبلیت تعریفات علامہ سید شریف قدس سرہ الشریف میں ہے:
ثانیا توضیح کا مطلب سمجھنا تو بڑی باتخودا پنی ہی لکھا نہ سمجھا کہ جب عہد خارجی سے معنی درست ہو تو استغراق وغیرہ معتبر نہ ہوگا۔ہم اوپر واضح کرآئے کہ عہد خارجی مزعوم طائفہ خارجیہ سے معنی درست نہیں ہوسکتےآیہ کریمہ قطعا آئندہ نبوتوں کا دروازہ بند فرماتی ہےرسول اﷲ صلی ا ﷲ تعالی علیہ وسلم نے یہی معنی اس کے بیان فرمائےتمام امت نے سلفا وخلفا اس کے یہی معنی سمجھے اور اس عہد خارجی پر آیت کو اس سے کچھ مس نہیں رہتا تو واجب ہے کہ استغراق مراد ہو اسی تلویح میں اسی عبارت منقولہ طائفہ کے متصل ہے
ثم الاستغراق الی ان قال فالاستغراق ھو المفھوم من الاطلاق حیث لاعھد فی الخارج خصوصا فی الجمع الی قولہ ھذا ماعلیہ المحققون ۔ پھر استغراق(تا)اطلاق سے استغراق مفہوم ہوتا ہے جہاں عہد خارجی نہ ہو خصوصا جمع میں(تا)محققین کی یہی رائے ہے(ت)
ثالثا بہت اچھا اگرفرض کریں کہ لام عہد خارجی کے لئے ہے تو اس سے بھی قطعا یقینا استغراق ہی ثابت ہوگا کہ وجوہ خمسہ سے اول وسوم وپنجم کا بطلان تو دلائل قاہرہ سے اوپر ثابت ہولیا اور واضح ہوچکا کہ خود جن سے کلام الہی کا اولا واصالۃ خطاب تھا یعنی حضور پر نور سید یوم النشور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلمانہو ں نے ہرگز اس آیت سے صرف بعض افراد معینہ یا کسی جماعت خاصہ کو نہ سمجھا اب نہ رہیںمگر وجہ دوم و چہارم یعنی وہ جو قرآن عظیم میں بروجہ اکثر واوفر ذکر انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام بروجہ عموم واستغراق تام ہے اسی وجہ معہود کی طرف لام النبیین مشیر ہے تو اس عہد کاحاصل بحمد اﷲ تعالی وہی استغراق کامل جو مسلمانوں کا عقیدہ ایمانیہ ہے یاذکر جنسی کی طرف اشارہ ہے اور ختم کا حاصل نفی معیت وبعدیت ہےجیسے اولویت بمعنی نفی معیت وقبلیت تعریفات علامہ سید شریف قدس سرہ الشریف میں ہے:
حوالہ / References
توضیح علی التنقیح الفاظ العام الجمع معرف باللام المکتبۃ الرحیمیہ دیوبند سہارنپور بھارت ۱/ ۱۴۷
توضیح علی التنقیح الفاظ العام الجمع معرف باللام المکتبۃ الرحیمیہ دیوبند سہارنپور بھارت ۱/ ۱۵۰
توضیح علی التنقیح الفاظ العام الجمع معرف باللام المکتبۃ الرحیمیہ دیوبند سہارنپور بھارت ۱/ ۱۵۰
الاول فرد لایکون غیرہ من جنسہ سابق علیہ ولا مقارنا لہ ۔ اول فرد ہے کیونکہ اس کا کوئی ہم جنس اس سے پہلے نہیں اور نہ اس کے ساتھ متصل ہے(ت)
حدیث شریف میں ہے:
انت الاول فلیس قبلك شیئ وانت الاخر فلیس بعدك شیئ رواہ مسلم فی صحیحہ والترمذی و احمد وابن ابی شیبۃ وغیرہم عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ عن النبی صلی اﷲتعالی علیہ وسلم و للبیھقی فی الاسماء والصفات عن ام سلمۃ رضی اﷲ تعالی عنہا عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم انہ کان یدعو بھؤلاء الکلمات اللھم انت الاول فلاشیئ قبلك وانت الاخر فلاشیئ بعدک ۔ تو اول ہے تجھ سے پہلے کوئی شیئ نہیںاور تو آخر میں ہے تیرے بعد کوئی شیئ نہیںاسے مسلم نے اپنی صحیح میںترمذیامام احمد اور ابن ابی شیبہ وغیرہم نے حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے انہوں نے نبی اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔امام بیہقی نے ا لاسماء و الصفات میں حضرت ام سلمہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے کہ آپ صلی اﷲتعالی علیہ وسلم ان کلمات کے ساتھ دعا فرمایا کرتےاے اﷲ!تو اول ہے تجھ سے پہلے کوئی شیئ نہیں اور تو آخر ہے تیرے بعدکوئی شیئ نہیں(ت)
تو خاتم النبیین کا حاصل ہمارے حضور پر نورصلی اﷲتعالی علیہ وسلم کے ساتھ اور بعد جنس نبی کی نفی ہوئی اور جنس کی نفی عرفاولغۃ وشرعا افراد ہی سے ہوتی ہے ولہذا لائے نفی جنس صیغ عموم سے ہے جیسے لارجل فی الدار ولہذا لاالہ الااﷲ ہر غیر خدا سے نفی الوہیت کرتا ہےیوں بھی استغراق ہی ثابت ہواوﷲ الحمد۔(نامکمل دستیاب ہوا)
______________________
حدیث شریف میں ہے:
انت الاول فلیس قبلك شیئ وانت الاخر فلیس بعدك شیئ رواہ مسلم فی صحیحہ والترمذی و احمد وابن ابی شیبۃ وغیرہم عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ عن النبی صلی اﷲتعالی علیہ وسلم و للبیھقی فی الاسماء والصفات عن ام سلمۃ رضی اﷲ تعالی عنہا عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم انہ کان یدعو بھؤلاء الکلمات اللھم انت الاول فلاشیئ قبلك وانت الاخر فلاشیئ بعدک ۔ تو اول ہے تجھ سے پہلے کوئی شیئ نہیںاور تو آخر میں ہے تیرے بعد کوئی شیئ نہیںاسے مسلم نے اپنی صحیح میںترمذیامام احمد اور ابن ابی شیبہ وغیرہم نے حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے انہوں نے نبی اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔امام بیہقی نے ا لاسماء و الصفات میں حضرت ام سلمہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے کہ آپ صلی اﷲتعالی علیہ وسلم ان کلمات کے ساتھ دعا فرمایا کرتےاے اﷲ!تو اول ہے تجھ سے پہلے کوئی شیئ نہیں اور تو آخر ہے تیرے بعدکوئی شیئ نہیں(ت)
تو خاتم النبیین کا حاصل ہمارے حضور پر نورصلی اﷲتعالی علیہ وسلم کے ساتھ اور بعد جنس نبی کی نفی ہوئی اور جنس کی نفی عرفاولغۃ وشرعا افراد ہی سے ہوتی ہے ولہذا لائے نفی جنس صیغ عموم سے ہے جیسے لارجل فی الدار ولہذا لاالہ الااﷲ ہر غیر خدا سے نفی الوہیت کرتا ہےیوں بھی استغراق ہی ثابت ہواوﷲ الحمد۔(نامکمل دستیاب ہوا)
______________________
حوالہ / References
التعریفات باب الالف انتشارات ناصر خسر وایران ص۱۷
صحیح مسلم کتاب الذکر والدعاء باب الدعاء عندالنوم قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۳۴۸،مصنف ابن ابی شیبہ کتاب الدعاء حدیث ۹۳۶۲ ادارۃ القرآن کراچی ۱۰/ ۲۵۱
الاسماء والصفات للبیہقی مع فرقان القرآن باب ذکر اسماء التی تتبع اثبات الباری الخ داراحیاء التراث العربی بیروت ص۱۰
صحیح مسلم کتاب الذکر والدعاء باب الدعاء عندالنوم قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۳۴۸،مصنف ابن ابی شیبہ کتاب الدعاء حدیث ۹۳۶۲ ادارۃ القرآن کراچی ۱۰/ ۲۵۱
الاسماء والصفات للبیہقی مع فرقان القرآن باب ذکر اسماء التی تتبع اثبات الباری الخ داراحیاء التراث العربی بیروت ص۱۰
مسئلہ۹۵: از ریاست نانپارہ بازار چوك بساط خانہ دکان حاجی الہی بخش بہرائچی مرسلہ حافظ عبدالرزاق امام مسجد ۳ربیع الاول ۱۳۳۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ضلع بارہ بنکی میں چندروز سے ایك گروہ پیدا ہوا ہے جس کا نام کبیر پنتھی ہےیہ لوگ اﷲ تعالی کوصاحب اور دعوت کو ہندوؤں کی طرح بھنڈا رہ کہتے ہیںنماز روزہ سے بالکل منکر ہیں اور روزہ داروں اور نمازیوں کو برا کہتے اور ان پر طعن تشنیع کرتے ہیںگوشت کھانا بالکل حرام جانتے اور قربانی ہر جانور کی بہت سخت ظلم کہتے ہیںموضع صورت گنج تحصیل فتح پور ضلع بارہ بنکی نواب گنج میں فقیرے تیلی کبیر پنتھی نے برادری کی دعوت کی اور اپنی حیثیت کے موافق کھانا پکوایاگوشت کی جگہ کٹہل پکوایا گیابرادری والوں نے کہا ہم گوشت کھائیں گےتو اس نے کہا ہمارے گروجی گوشت نہیں کھاتے تھےچاہے جان جاتی رہے گردن کٹ جائےمگر ہم گوشت نہ دیں گےلوگوں نے کہاکہ چاہے سیر آدھ سیر ہی گوشت ہو مگر ہم بلا گوشت کھانا نہ کھائیں گے۔فقیر ے نے کہا کہ ہم آپ لوگوں سے خدا کے واسطے ایك چیز مانگتے ہیں ہم کو ﷲ معاف کردوبرادری والوں نے کہا کہ اگر تم ہم سے گوشت ﷲ معاف کراتے ہوتو تمام کھانا ہم ﷲ معاف کئے دیتے ہیں اورآدھے آدمی اٹھ کر پانچو تیلی کے مکان پر چلے آئے اور آدھے اسی کے مکان پر رہ گئےلیکن کھانا کسی نے نہیں کھایا پانچوتیلی گوشت کھاتا ہے اور نماز بھی پڑھتا ہےاب دونوں قسم کے تیلیوں نے پانچو کا حقہ پانی بند کردیا ہے کہ اسی کی وجہ سے ہماری برادری میں پھوٹ پڑیاس حالت میں عام مسلمانوں کو کبیر پنتھیوں سے میل جولشادی بیاہ برادری سے رکھنا جائز ہے یانہیںاور شرعا یہ لوگ کیسے ہیں جن لوگوں نے پانچو کا حقہ پانی اسی وجہ سے بندکیا ہےان سے دوسروں کو کیسا برتاؤ کرنا چاہئے
الجواب:
نماز سے منکر کافرہےروزہ سے منکر کافر ہےجو نماز پڑھنے کو براکہےنماز ی پر نماز پڑھنے کی وجہ سے طعن وتشنیع کرے کافر ہےروزہ رکھنے جو برا کہے روزہ دار پر روزہ کی وجہ سے طعن کرے وہ کافر ہے گوشت کھانے کو مطلقا حرام کہنا کفر ہے قربانی کو ظلم کہنے والا کافر ہےان اعتقادوں والے مطلقا کفار ہیں۔پھر اگر اس کے ساتھ اپنے آپ کو مسلمان کہتے یا کلمہ پڑھتے ہوں تو مرتد ہیں کہ دنیا میں سب سے بدتر کافر ہیںان سے میل جول حرامان کے پاس بیٹھنا حرامبیمار پڑیں تو ان کو پوچھنے جانا حراممرجائیں تو ان کے جنازے کی نماز حرامپانچوتیلی پر کوئی الزام نہیںجنہوں نے اس بنا پر اس کا حقہ پانی بندکیاظالم ہیںان پر لازم ہے کہ اپنے ظلم سے توبہ کریںپانچو سے اپنا قصور معاف کرائیںاگر یہ لوگ باز نہ آئیں تو مسلمان ان کو چھوڑدیں کہ ظالموں کا ساتھ دینے والا بھی ظالم ہےیہ سب مضامین قرآن عظیم کی آیتوں اور حدیثوں سے ثابت ہیں جو بار ہاہمارے
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ضلع بارہ بنکی میں چندروز سے ایك گروہ پیدا ہوا ہے جس کا نام کبیر پنتھی ہےیہ لوگ اﷲ تعالی کوصاحب اور دعوت کو ہندوؤں کی طرح بھنڈا رہ کہتے ہیںنماز روزہ سے بالکل منکر ہیں اور روزہ داروں اور نمازیوں کو برا کہتے اور ان پر طعن تشنیع کرتے ہیںگوشت کھانا بالکل حرام جانتے اور قربانی ہر جانور کی بہت سخت ظلم کہتے ہیںموضع صورت گنج تحصیل فتح پور ضلع بارہ بنکی نواب گنج میں فقیرے تیلی کبیر پنتھی نے برادری کی دعوت کی اور اپنی حیثیت کے موافق کھانا پکوایاگوشت کی جگہ کٹہل پکوایا گیابرادری والوں نے کہا ہم گوشت کھائیں گےتو اس نے کہا ہمارے گروجی گوشت نہیں کھاتے تھےچاہے جان جاتی رہے گردن کٹ جائےمگر ہم گوشت نہ دیں گےلوگوں نے کہاکہ چاہے سیر آدھ سیر ہی گوشت ہو مگر ہم بلا گوشت کھانا نہ کھائیں گے۔فقیر ے نے کہا کہ ہم آپ لوگوں سے خدا کے واسطے ایك چیز مانگتے ہیں ہم کو ﷲ معاف کردوبرادری والوں نے کہا کہ اگر تم ہم سے گوشت ﷲ معاف کراتے ہوتو تمام کھانا ہم ﷲ معاف کئے دیتے ہیں اورآدھے آدمی اٹھ کر پانچو تیلی کے مکان پر چلے آئے اور آدھے اسی کے مکان پر رہ گئےلیکن کھانا کسی نے نہیں کھایا پانچوتیلی گوشت کھاتا ہے اور نماز بھی پڑھتا ہےاب دونوں قسم کے تیلیوں نے پانچو کا حقہ پانی بند کردیا ہے کہ اسی کی وجہ سے ہماری برادری میں پھوٹ پڑیاس حالت میں عام مسلمانوں کو کبیر پنتھیوں سے میل جولشادی بیاہ برادری سے رکھنا جائز ہے یانہیںاور شرعا یہ لوگ کیسے ہیں جن لوگوں نے پانچو کا حقہ پانی اسی وجہ سے بندکیا ہےان سے دوسروں کو کیسا برتاؤ کرنا چاہئے
الجواب:
نماز سے منکر کافرہےروزہ سے منکر کافر ہےجو نماز پڑھنے کو براکہےنماز ی پر نماز پڑھنے کی وجہ سے طعن وتشنیع کرے کافر ہےروزہ رکھنے جو برا کہے روزہ دار پر روزہ کی وجہ سے طعن کرے وہ کافر ہے گوشت کھانے کو مطلقا حرام کہنا کفر ہے قربانی کو ظلم کہنے والا کافر ہےان اعتقادوں والے مطلقا کفار ہیں۔پھر اگر اس کے ساتھ اپنے آپ کو مسلمان کہتے یا کلمہ پڑھتے ہوں تو مرتد ہیں کہ دنیا میں سب سے بدتر کافر ہیںان سے میل جول حرامان کے پاس بیٹھنا حرامبیمار پڑیں تو ان کو پوچھنے جانا حراممرجائیں تو ان کے جنازے کی نماز حرامپانچوتیلی پر کوئی الزام نہیںجنہوں نے اس بنا پر اس کا حقہ پانی بندکیاظالم ہیںان پر لازم ہے کہ اپنے ظلم سے توبہ کریںپانچو سے اپنا قصور معاف کرائیںاگر یہ لوگ باز نہ آئیں تو مسلمان ان کو چھوڑدیں کہ ظالموں کا ساتھ دینے والا بھی ظالم ہےیہ سب مضامین قرآن عظیم کی آیتوں اور حدیثوں سے ثابت ہیں جو بار ہاہمارے
فتاوی میں مذکور ہیں ۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ۹۶: ازبیکانیر مارواڑ محلہ مہاوتان مرسلہ قاضی قمر الدین صاحب ۹ربیع الاول شریف ۱۳۳۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك صاحب فرماتے ہیں کہ رسول خداخدا کے بندے نہیں ہیں اور آپ بشر بھی نہیں ہیںاس پر ان سے پوچھا گیا کہ پھر کیا ہیںتو جوابدیا کہ میں اس معاملہ میں میں کچھ نہیں کہہ سکتااور یہ بھی ان سے پوچھا گیا کہ رات دن نماز میں قعدہ میں تم عبدہ ورسولہ پڑھتے ہویہ کیا ہے کیا اس کا ترجمہ ہوا تو کہا اس کا ترجمہ بندہ اور رسول کا ہو الیکن میں کچھ نہیں کہتاحضور پر نور ایسے شخص کی بابت کیا حکم ہے اور کیا یہ شخص اسلام سے خارج ہوگیاان کلمات کے باعث یانہیں کیا کفر عائد اس پر ہوا یا نہیں بینواتوجروا(بیان کرو اجرپائیے۔ت)
الجواب:
جو یہ کہے کہ رسول اﷲ صلی ا ﷲ تعالی الله کے بندے نہیں وہ قطعا کافر ہے
اشھد ان محمد عبدہ ورسولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلمقال اﷲ تعالی" و انہ لما قام عبد اللہ یدعوہ" وقال تعالی
" تبارک الذی نزل الفرقان علی عبدہ لیکون للعلمین نذیرۨا﴿۱﴾"
وقال تعالی"سبحن الذی اسری بعبدہ" وقال تعالی" و ان کنتم فی ریب مما نزلنا علی عبدنا"
وقال تعالی" الحمد للہ الذی انزل علی عبدہ الکتب"
وقال تعالی" فاوحی الی عبدہ ما اوحی ﴿۱۰﴾" میں گواہی دیتا ہوں بلاشبہہ حضرت محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اﷲ تعالی کے بندے اور اس کے رسول ہیںاﷲ تعالی نے فرمایا: اور یہ کہ جب اﷲ کا بندہ ا س کی بندگی کرنے کھڑاہوا۔اور اﷲ تعالی نے فرمایا:بڑی برکت والا ہے وہ جس نے اتاراقرآن اپنے بندہ پر جو سارے جہان کوڈر سنانے والاہو۔اور اﷲ تعالی نے فرمایا:پاك ہے وہ ذات جس نے اپنے بندے کو سیر کرائی اور اﷲ تعالی نے فرمایا:اور اگر تمہیں کچھ شك ہو اس میں جو ہم نے اپنے(ان خاص)بندے پر اتارا۔اور اﷲ تعالی نے فرمایا:سب خوبیاں اﷲ کو جس نے اپنے بندے پر کتاب اتاری۔اور اﷲتعالی نے فرمایا:اب وحی فرمائی اپنے بندے کو جو وحی فرمائی۔(ت)
مسئلہ۹۶: ازبیکانیر مارواڑ محلہ مہاوتان مرسلہ قاضی قمر الدین صاحب ۹ربیع الاول شریف ۱۳۳۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك صاحب فرماتے ہیں کہ رسول خداخدا کے بندے نہیں ہیں اور آپ بشر بھی نہیں ہیںاس پر ان سے پوچھا گیا کہ پھر کیا ہیںتو جوابدیا کہ میں اس معاملہ میں میں کچھ نہیں کہہ سکتااور یہ بھی ان سے پوچھا گیا کہ رات دن نماز میں قعدہ میں تم عبدہ ورسولہ پڑھتے ہویہ کیا ہے کیا اس کا ترجمہ ہوا تو کہا اس کا ترجمہ بندہ اور رسول کا ہو الیکن میں کچھ نہیں کہتاحضور پر نور ایسے شخص کی بابت کیا حکم ہے اور کیا یہ شخص اسلام سے خارج ہوگیاان کلمات کے باعث یانہیں کیا کفر عائد اس پر ہوا یا نہیں بینواتوجروا(بیان کرو اجرپائیے۔ت)
الجواب:
جو یہ کہے کہ رسول اﷲ صلی ا ﷲ تعالی الله کے بندے نہیں وہ قطعا کافر ہے
اشھد ان محمد عبدہ ورسولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلمقال اﷲ تعالی" و انہ لما قام عبد اللہ یدعوہ" وقال تعالی
" تبارک الذی نزل الفرقان علی عبدہ لیکون للعلمین نذیرۨا﴿۱﴾"
وقال تعالی"سبحن الذی اسری بعبدہ" وقال تعالی" و ان کنتم فی ریب مما نزلنا علی عبدنا"
وقال تعالی" الحمد للہ الذی انزل علی عبدہ الکتب"
وقال تعالی" فاوحی الی عبدہ ما اوحی ﴿۱۰﴾" میں گواہی دیتا ہوں بلاشبہہ حضرت محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اﷲ تعالی کے بندے اور اس کے رسول ہیںاﷲ تعالی نے فرمایا: اور یہ کہ جب اﷲ کا بندہ ا س کی بندگی کرنے کھڑاہوا۔اور اﷲ تعالی نے فرمایا:بڑی برکت والا ہے وہ جس نے اتاراقرآن اپنے بندہ پر جو سارے جہان کوڈر سنانے والاہو۔اور اﷲ تعالی نے فرمایا:پاك ہے وہ ذات جس نے اپنے بندے کو سیر کرائی اور اﷲ تعالی نے فرمایا:اور اگر تمہیں کچھ شك ہو اس میں جو ہم نے اپنے(ان خاص)بندے پر اتارا۔اور اﷲ تعالی نے فرمایا:سب خوبیاں اﷲ کو جس نے اپنے بندے پر کتاب اتاری۔اور اﷲتعالی نے فرمایا:اب وحی فرمائی اپنے بندے کو جو وحی فرمائی۔(ت)
اور جو یہ کہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی صورت ظاہری بشری ہے حقیقت باطنی بشریت سے ارفع واعلی ہے یا یہ کہ حضور اوروں کی مثل بشر نہیں وہ سچ کہتا ہے اور جو مطلقا حضور سے بشریت کی نفی کر ے وہ کافرہے
قال تعالی" سبحان ربی ہل کنت الا بشرا رسولا ﴿۹۳﴾" ۔
واﷲتعالی اعلم۔ اﷲ تعالی نے فرمایا:تم فرماؤ پاکی ہے میرے رب کو میں کون ہوں مگر آدمی اﷲ کا بھیجا ہوا۔واﷲ تعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ۹۷: ازخان پور سیدواڑہ احمد آباد مرسلہ منشی ایچ ڈی۔
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ"ذوالنورالحق المبین"چھاپی ہے شیخ البواہر نے وہ سنیوں کے لئے کیسی ہےمہربانی کرکے اس کا جلدی جواب دیجئے۔
الجواب:
وہ کتاب مذہب اہلسنت کے خلاف ہے بلکہ اس میں خود اسلام کی بھی مخالفت ہےاس کا دیکھناپڑھناسننا حرام ہے
الالعالم یرید ان یرد علیہ اویکشف مافیہ من کفر وضلال۔واﷲ تعالی اعلم۔ ہاں جو عالم اس کا مطالعہ کرے اس کی تردید کے لئے یا اس میں جو کفر بیان ہو اس کے انکشاف کے لئے تو اس کے لئے پڑھنا دیکھنا حرام نہیںوا ﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۹۸: ازشہر بریلی محلہ بہاری پور مسئولہ عنایت حسین صاحب ۳جمادی الاولی۱۳۳۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص نے اپنی برادری کے آدمیوں کے سامنے اشرف علی تھانوی کو کافر کہا اور یہ بھی کہا کہ جو شخص اس کو کافر نہ مانے وہ بھی کافر ہےلہذا اس باعث سے اشرف علی کو کافر کہا کہ اس پر کفر کا فتوی دیا گیا ہےاس شخص کو بوجہ کافر کہنے کے برادری سے علیحدہ کردیا جس آدمی نے اشرف علی کو کافر کہا اس کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں
الجواب:
تمام علمائے حرمین شریفین نے اشرف علی تھانوی پر بھی فتوی دیاہے"حسام الحرمین شریف"بارہ برس سے چھپ کر شائع ہےاس شخص نے سچ کہا اور اس پر اسے برادری سے خارج کرنا ظلم شدید ہوا ان
قال تعالی" سبحان ربی ہل کنت الا بشرا رسولا ﴿۹۳﴾" ۔
واﷲتعالی اعلم۔ اﷲ تعالی نے فرمایا:تم فرماؤ پاکی ہے میرے رب کو میں کون ہوں مگر آدمی اﷲ کا بھیجا ہوا۔واﷲ تعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ۹۷: ازخان پور سیدواڑہ احمد آباد مرسلہ منشی ایچ ڈی۔
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ"ذوالنورالحق المبین"چھاپی ہے شیخ البواہر نے وہ سنیوں کے لئے کیسی ہےمہربانی کرکے اس کا جلدی جواب دیجئے۔
الجواب:
وہ کتاب مذہب اہلسنت کے خلاف ہے بلکہ اس میں خود اسلام کی بھی مخالفت ہےاس کا دیکھناپڑھناسننا حرام ہے
الالعالم یرید ان یرد علیہ اویکشف مافیہ من کفر وضلال۔واﷲ تعالی اعلم۔ ہاں جو عالم اس کا مطالعہ کرے اس کی تردید کے لئے یا اس میں جو کفر بیان ہو اس کے انکشاف کے لئے تو اس کے لئے پڑھنا دیکھنا حرام نہیںوا ﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۹۸: ازشہر بریلی محلہ بہاری پور مسئولہ عنایت حسین صاحب ۳جمادی الاولی۱۳۳۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص نے اپنی برادری کے آدمیوں کے سامنے اشرف علی تھانوی کو کافر کہا اور یہ بھی کہا کہ جو شخص اس کو کافر نہ مانے وہ بھی کافر ہےلہذا اس باعث سے اشرف علی کو کافر کہا کہ اس پر کفر کا فتوی دیا گیا ہےاس شخص کو بوجہ کافر کہنے کے برادری سے علیحدہ کردیا جس آدمی نے اشرف علی کو کافر کہا اس کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں
الجواب:
تمام علمائے حرمین شریفین نے اشرف علی تھانوی پر بھی فتوی دیاہے"حسام الحرمین شریف"بارہ برس سے چھپ کر شائع ہےاس شخص نے سچ کہا اور اس پر اسے برادری سے خارج کرنا ظلم شدید ہوا ان
حوالہ / References
القرآن الکریم ۱۷ /۹۳
لوگوں پر توبہ فرض ہے اور جو شخص تھانوی کے اقوال کفر سے آگاہ ہوکر ایسا کرے وہ خود ایمان سے خارج اور اس کی عورت اس کے نکاح باہر ہوگئی۔درمختارمجمع الانہربزازیہ وشفاء شریف میں ہے:
من شك فی کفرہ وعذابہ فقد کفر واﷲ تعالی اعلم۔ جس نے اس کے کفر وعذاب میں شك کیا اس نے کفر کیا۔ واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ۹۹: ازکانپور محل فیل خانہ قدیم مرسلہ مولانا مولوی محمد آصف صاحب ۲۷جمادی الآخر۱۳۳۸ھ
بفضلہ تعالی کمترین بخیریت ہےصحتوری ملازمان سامی کی مدام بارگاہ احدیت سے مطلوبدو عریضے ملفوف فدوی نے روانہ خدمت فیضد رجت کئےہنوز جواب سے محروم ہے۔الہی مانعش بخیرباد۔
حضور کے فتاوی جلد اول ص۱۹۱ میں خواتمی وہابی کے متعلق حاشیہ میں یہ عبارت ہے:"یہ شقی گروہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پر نبوت ختم ہونے کا صاف منکر ہے خاتم النبیین کے یہ معنی لینا تحریف کرنا اور بمعنی آخر النبیین لینے کوخیال جہال بتانا کہا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے چھ یا سات مثل وجود مانتا ہے"۔اور کتاب حسام الحرمین میں بھی فرقہ امثالیہ کو مرتدین میں شمار کیا گیا ہے لیکن فتاوی بے نظیر درمعنی مثل آنحضرت بشیر ونذیر جو کہ عرصہ ہو امطبع اسدی میں حسب ایمائے محمد یعقوب صاحب منصرم مطبع نظامی طبع ہوا تھا اور بہت سے علمائے کرام کے فتوے اس میں درج کئے ہیںحسب ذیل عبارت ہے:"ھوالعزیزقطع نظر اس کے کہ علمائے حدیث نے"ان اﷲ خلق سبع ارضین"میں ہر طرح کلام کیا بعد ثبوت رفع وتسلیم صحت متن واسناد مفید اعتقاد نہیںبلکہ جس حالت میں مضمون اس کا دلالت آیات واحادیث صحیحہ وعقیدہ اہل حق کے خلاف ہے تو قطعا متروك الظاہر واجب التاویل ہےپس جو شخص اس حدیث سے وجود تحقق ومثال سرور عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پر استدلال کرے سخت جاہل اور معتقد فضیلت مثل آنحضرت صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بمعنی مشارکت فی الماہیت والصفات الکمالیہ مبتدع اور مخالف عقیدہ اہل سنت ہےواﷲ تعالی اعلم وعلمہ اتم واحکماس عبارت کے حضور جناب والد ماجد صاحب قبلہ قدس سرہ کی نقل مہر طبع ہوئی ہے اور پھر حضور کی حسب ذیل عبارت بنقل مہر طبع کی گئی
والقائل بتحقق المثل اوالامثال بالمعنی المذکور فی السوال مبتدع ضال واﷲ اعلم بحقیقۃ الحال۔ جو شخص سوال میں مذکور معنی کے مطابق مثل یاامثال کے تحقق کا قائل ہے وہ بدعتی اور گمراہ ہےاور اﷲ ہی حقیقت حال سے آگاہ ہے(ت)
کون فرقہ امثالیہ مرتد ہے اور کون مبتدعآیا ان فرقوں کے عقائد میں اختلاف ہے یا کیابینواتوجروا۔
من شك فی کفرہ وعذابہ فقد کفر واﷲ تعالی اعلم۔ جس نے اس کے کفر وعذاب میں شك کیا اس نے کفر کیا۔ واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ۹۹: ازکانپور محل فیل خانہ قدیم مرسلہ مولانا مولوی محمد آصف صاحب ۲۷جمادی الآخر۱۳۳۸ھ
بفضلہ تعالی کمترین بخیریت ہےصحتوری ملازمان سامی کی مدام بارگاہ احدیت سے مطلوبدو عریضے ملفوف فدوی نے روانہ خدمت فیضد رجت کئےہنوز جواب سے محروم ہے۔الہی مانعش بخیرباد۔
حضور کے فتاوی جلد اول ص۱۹۱ میں خواتمی وہابی کے متعلق حاشیہ میں یہ عبارت ہے:"یہ شقی گروہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پر نبوت ختم ہونے کا صاف منکر ہے خاتم النبیین کے یہ معنی لینا تحریف کرنا اور بمعنی آخر النبیین لینے کوخیال جہال بتانا کہا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے چھ یا سات مثل وجود مانتا ہے"۔اور کتاب حسام الحرمین میں بھی فرقہ امثالیہ کو مرتدین میں شمار کیا گیا ہے لیکن فتاوی بے نظیر درمعنی مثل آنحضرت بشیر ونذیر جو کہ عرصہ ہو امطبع اسدی میں حسب ایمائے محمد یعقوب صاحب منصرم مطبع نظامی طبع ہوا تھا اور بہت سے علمائے کرام کے فتوے اس میں درج کئے ہیںحسب ذیل عبارت ہے:"ھوالعزیزقطع نظر اس کے کہ علمائے حدیث نے"ان اﷲ خلق سبع ارضین"میں ہر طرح کلام کیا بعد ثبوت رفع وتسلیم صحت متن واسناد مفید اعتقاد نہیںبلکہ جس حالت میں مضمون اس کا دلالت آیات واحادیث صحیحہ وعقیدہ اہل حق کے خلاف ہے تو قطعا متروك الظاہر واجب التاویل ہےپس جو شخص اس حدیث سے وجود تحقق ومثال سرور عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پر استدلال کرے سخت جاہل اور معتقد فضیلت مثل آنحضرت صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بمعنی مشارکت فی الماہیت والصفات الکمالیہ مبتدع اور مخالف عقیدہ اہل سنت ہےواﷲ تعالی اعلم وعلمہ اتم واحکماس عبارت کے حضور جناب والد ماجد صاحب قبلہ قدس سرہ کی نقل مہر طبع ہوئی ہے اور پھر حضور کی حسب ذیل عبارت بنقل مہر طبع کی گئی
والقائل بتحقق المثل اوالامثال بالمعنی المذکور فی السوال مبتدع ضال واﷲ اعلم بحقیقۃ الحال۔ جو شخص سوال میں مذکور معنی کے مطابق مثل یاامثال کے تحقق کا قائل ہے وہ بدعتی اور گمراہ ہےاور اﷲ ہی حقیقت حال سے آگاہ ہے(ت)
کون فرقہ امثالیہ مرتد ہے اور کون مبتدعآیا ان فرقوں کے عقائد میں اختلاف ہے یا کیابینواتوجروا۔
حوالہ / References
مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر فصل احکام الجزیہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۶۷۷
الجواب:
وعلیکم السلام ورحمۃ اﷲ وبرکاتہمبتدع ضال ایك لفظ عام ہےکافرکو بھی شاملکہ بدعت دوقسم ہے:
(۱)مکفرہ (۲)غیر مکفرہ
وقال تعالی" و اما ان کان من المکذبین الضالین ﴿۹۲﴾" ۔ اﷲ تعالی نے فرمایا:اور اگر جھٹلانے والے گمراہوں میں سے ہوں۔(ت)
امام ابن حجر مکی نے بظاہر اس سے بھی ہلکے لفظ حرام کو کفر کہنے کے منافی نہ مانا۔
اعلام بقواطع الاسلام میں فرمایا:عبارۃ الرافعی فی العزیز نقلا عن التتمۃ انہ اذا قال لمسلم یا کافر بلا تاویل اھ وتبعہ النووی فی الروضۃ فان قلت قد خالف ذلك النووی نفسہ فی الاذکار فقال یحرم تحریما غلیظا قلت لامخالفۃ فان اطلاق التحریم فی لفظ لایقتضی انہ لایکون کفرافی بعض حالاتہ علی ان الکفر محرم تحریما غلیظا فتکون عبارۃ الاذکار شاملۃ للکفر ایضا ۔ عزیز میں تتمہ سے منقول رافعی کی عبارت یہ ہے اگر کسی نے مسلمان کو بغیر کسی تاویل کے کافرکہا وہ کافر ہوجائے گا اھ اور نووی نے روضہ میں اسی کی اتباع کی ہےاگر کوئی اعتراض کرے خود نووی نے اذکار میں اس کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ یہ سخت حرام ہے میں کہتاہوں یہ مخالفت نہیں کیونکہ لفظ تحریم کا اطلاق اس بات کا تقاضا نہیں کرتا کہ بعض حالات میں وہ کفر نہ ہوعلاوہ ازیں کفر سخت حرام ہے لہذا اذکار کی عبارت بھی کفر کو شامل ہوجائے گی۔(ت)
اسی میں چند ورق کے بعد ہے:
الحرمۃ لاتنافی الکفر کمامر۔ حرام ہونا کفر کے منافی نہیں ہوتا۔جیسا کہ گزر چکا ہے(ت)
وعلیکم السلام ورحمۃ اﷲ وبرکاتہمبتدع ضال ایك لفظ عام ہےکافرکو بھی شاملکہ بدعت دوقسم ہے:
(۱)مکفرہ (۲)غیر مکفرہ
وقال تعالی" و اما ان کان من المکذبین الضالین ﴿۹۲﴾" ۔ اﷲ تعالی نے فرمایا:اور اگر جھٹلانے والے گمراہوں میں سے ہوں۔(ت)
امام ابن حجر مکی نے بظاہر اس سے بھی ہلکے لفظ حرام کو کفر کہنے کے منافی نہ مانا۔
اعلام بقواطع الاسلام میں فرمایا:عبارۃ الرافعی فی العزیز نقلا عن التتمۃ انہ اذا قال لمسلم یا کافر بلا تاویل اھ وتبعہ النووی فی الروضۃ فان قلت قد خالف ذلك النووی نفسہ فی الاذکار فقال یحرم تحریما غلیظا قلت لامخالفۃ فان اطلاق التحریم فی لفظ لایقتضی انہ لایکون کفرافی بعض حالاتہ علی ان الکفر محرم تحریما غلیظا فتکون عبارۃ الاذکار شاملۃ للکفر ایضا ۔ عزیز میں تتمہ سے منقول رافعی کی عبارت یہ ہے اگر کسی نے مسلمان کو بغیر کسی تاویل کے کافرکہا وہ کافر ہوجائے گا اھ اور نووی نے روضہ میں اسی کی اتباع کی ہےاگر کوئی اعتراض کرے خود نووی نے اذکار میں اس کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ یہ سخت حرام ہے میں کہتاہوں یہ مخالفت نہیں کیونکہ لفظ تحریم کا اطلاق اس بات کا تقاضا نہیں کرتا کہ بعض حالات میں وہ کفر نہ ہوعلاوہ ازیں کفر سخت حرام ہے لہذا اذکار کی عبارت بھی کفر کو شامل ہوجائے گی۔(ت)
اسی میں چند ورق کے بعد ہے:
الحرمۃ لاتنافی الکفر کمامر۔ حرام ہونا کفر کے منافی نہیں ہوتا۔جیسا کہ گزر چکا ہے(ت)
حوالہ / References
القرآن الکریم ۵۶ /۹۲
اعلام بقواطع الاسلام مقدمہ مکتبۃ الحقیقیہ ترکی ص۳۴۰
اعلام بقواطع الاسلام مقدمہ مکتبۃ الحقیقیہ ترکی ص۴۱۔۳۴۰
اعلام بقواطع الاسلام مقدمہ مکتبۃ الحقیقیہ ترکی ص۳۵۰
اعلام بقواطع الاسلام مقدمہ مکتبۃ الحقیقیہ ترکی ص۳۴۰
اعلام بقواطع الاسلام مقدمہ مکتبۃ الحقیقیہ ترکی ص۴۱۔۳۴۰
اعلام بقواطع الاسلام مقدمہ مکتبۃ الحقیقیہ ترکی ص۳۵۰
ماہیت وصفات کمالیہ میں مشارکت اس میں نص نہیں کہ جمیع صفات کمال میں شرکت ہونہ یہ ان سب گمراہوں کا مذہب تھا ان میں بعض صرف تشبیہہ یعنی کنبیکم ختم نبوت لیتے اور تصریح کرتے کہ وہ انبیاء اپنے اپنے طبقے کے خاتم اور حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم خاتم الخواتمصرف اتنے پر حکم کفر مشکل تھالہذا ایك ایسا لفظ لکھا گیا کہ دوسری صورت کو بھی شامل ہےاعلام میں بعد عبارت سابقہ فرمایا:
التحریم الغلیظ قصدالشمول للحالۃ التی یکون فیہا کفر اوغیرھا ۔ غلیظ تحریم کے لفظ سے اس حالت کو شامل کرنا مقصود ہے جس میں کفر وغیرہ ہو۔(ت)
حسام الحرمین میں خاص فرقہ مرتدین کا ذکر ہےولہذا خاتم الخواتم ماننے والوں میں صرف اس کا قول لیا جس نے اس میں کفر خالص بڑھادیا کہ:
لوفرض فی زمنہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بل لو حدث بعدہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نبی جدید لم یخل ذلك بخاتمیتہ وانما یتخیل العوام انہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم خاتم النبیین بمعنی اخر النبیین مع انہ لافضل فیہ اصلا عند اھل الفھم ۔ اگر بالفرض آپ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یا آپ کے زمانہ کے بعد کوئی نیا نبی آجائے تو آپ کی خاتمیت میں کوئی فرق نہیں پڑے گایہ محض عوام کا خیال ہے کہ آپ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم خاتم النبیین بمعنی آخر نبی ہیں حالانکہ اہل فہم کے ہاں اس میں ہرگز کوئی فضیلت نہیں۔(ت)
اس طرح کا خاتم الخواتم ماننے والا مطلقا کافر مرتد ہےاس سے ۵۸ورق پہلے جہاں المعتمد المستند میں خاص مرتدین کا ذکر تھاعبارت یہ ہے:
خرج دجالون یدعون وجودستۃ نظراء للنبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم شارکین لہ فی اشھر خصائصہ الکمالیۃ اعنی ختم النبوۃ فی طبقات الارض الست السفلیفمنھم من یقول کل منھم خاتم ارضہ ونبینا ان دجالوں کو خارج کیا ہے جو نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے لئے چھ نظیروں کا دعوی کرتے ہیں اور تشبیہہ میں آپ کے مشہور خصائص کمالیہ میں بھی ان کو شریك کرتے ہیں یعنی نچلی چھ زمینوں میں بھی ختم نبوت کا قول کرتے ____ان میں سے بعض کا یہ قول ہے کہ ہر زمین کاکوئی خاتم ہے اور ہمارے
التحریم الغلیظ قصدالشمول للحالۃ التی یکون فیہا کفر اوغیرھا ۔ غلیظ تحریم کے لفظ سے اس حالت کو شامل کرنا مقصود ہے جس میں کفر وغیرہ ہو۔(ت)
حسام الحرمین میں خاص فرقہ مرتدین کا ذکر ہےولہذا خاتم الخواتم ماننے والوں میں صرف اس کا قول لیا جس نے اس میں کفر خالص بڑھادیا کہ:
لوفرض فی زمنہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بل لو حدث بعدہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نبی جدید لم یخل ذلك بخاتمیتہ وانما یتخیل العوام انہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم خاتم النبیین بمعنی اخر النبیین مع انہ لافضل فیہ اصلا عند اھل الفھم ۔ اگر بالفرض آپ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یا آپ کے زمانہ کے بعد کوئی نیا نبی آجائے تو آپ کی خاتمیت میں کوئی فرق نہیں پڑے گایہ محض عوام کا خیال ہے کہ آپ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم خاتم النبیین بمعنی آخر نبی ہیں حالانکہ اہل فہم کے ہاں اس میں ہرگز کوئی فضیلت نہیں۔(ت)
اس طرح کا خاتم الخواتم ماننے والا مطلقا کافر مرتد ہےاس سے ۵۸ورق پہلے جہاں المعتمد المستند میں خاص مرتدین کا ذکر تھاعبارت یہ ہے:
خرج دجالون یدعون وجودستۃ نظراء للنبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم شارکین لہ فی اشھر خصائصہ الکمالیۃ اعنی ختم النبوۃ فی طبقات الارض الست السفلیفمنھم من یقول کل منھم خاتم ارضہ ونبینا ان دجالوں کو خارج کیا ہے جو نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے لئے چھ نظیروں کا دعوی کرتے ہیں اور تشبیہہ میں آپ کے مشہور خصائص کمالیہ میں بھی ان کو شریك کرتے ہیں یعنی نچلی چھ زمینوں میں بھی ختم نبوت کا قول کرتے ____ان میں سے بعض کا یہ قول ہے کہ ہر زمین کاکوئی خاتم ہے اور ہمارے
حوالہ / References
اعلام بقواطع الاعلام مقدمہ مکتبۃ الحقیقیہ ترکی ص۳۴۱
حسام الحرمین فصل نہم الوہابیہ مکتبہ نبویہ لاہور ص۱۹،المستند المعتمد تعلیقات المنتقدالمعتقد منہم الوہابیۃ الامثالیۃ الخ مکتبہ حامدیہ لاہور ص۲۴۲
حسام الحرمین فصل نہم الوہابیہ مکتبہ نبویہ لاہور ص۱۹،المستند المعتمد تعلیقات المنتقدالمعتقد منہم الوہابیۃ الامثالیۃ الخ مکتبہ حامدیہ لاہور ص۲۴۲
صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم خاتم ھذہ الارضومنھم من یقول انھم خواتم اراضیہم ونبینا صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم خاتم الخواتم والاکفر الاوقح منھم یصرح بانھم مماثلون للنبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وشرکاء لہ فی جمیع صفاتہ الکمالیۃ ویردہ اخرون ابقاء علی انفسھم من المسلمین ۔ نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اس زمین کے خاتم ہیں بعض کا قول یہ ہے کہ وہ اپنی اپنی زمینوں کے خواتم ہیں اور ہمارے نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم خاتم الخواتم ہیں ان میں سے بدتر کفر والے وہ ہیں جنہوں نے یہ تصریح کی ہے کہ وہ تمام خاتم۔ہمارے نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی تمام صفات کمالیہ میں شریك اور ہم مثل ہیں اور جبکہ دوسروں نے اپنے آپ کو مسلمانوں میں شامل رکھنے کے لئے ان کارد کیا ہے۔(ت)
ان سب اقوال کے لحاظ سے وہاں عام مبتدع ضال سے تعبیر کیا کہ بدعت مکفرہ کو بھی شامل ہےوالسلام مع الکرام۔
مسئلہ۱۰۰: ازمنڈی رام نگر ضلع نینی تال مرسلہ جناب بشیر احمد صاحب رجب المرجب ۱۳۳۸ھ
ایك شخص نے ایك مرتبہ اپنی حالت بیماری میں اپنے اچھا ہونے کی غرض سے ایك روز کچھ ہنود کو اپنے مکان پر بلاکر ڈبر وبجوایا اور موافق رسم ہنود کے ہندوؤں کے دیوتا کی پوجا یعنی بکری اور مرغا ہندوؤں سے مروایا یعنی مردار کرایا اور ڈبر وپر ناچااس ناجائز حرام کام کرنے پر یہاں کے مسلمان لوگوں نے اس شخص کو برادری سے نکال باہر کردیا اور حقہ بند کردیاکچھ دنوں بعد اس بت پرست شخص نے مسلمانوں سے کہا میری جان جارہی تھی اس وجہ سے میں نے یہ کام کرائے آئندہ مجھ سے ایسا قصور نہ ہوگا تب یہاں کے مسلمانوں نے اس کی معافی مانگنے اور آئندہ کو توبہ کرنے سے اس کا ایك سوروپیہ جرمانہ لے کر اور توبہ کرواکر حقہ کھول دیا بعد کچھ دنوں کے پھر اس شخص نے پوشیدہ طور رات کو ایك ہندو کے یہاں اپنی بیوی اور لڑکی کو بھیج کر ڈبروبجوایا اور ان کی لڑکی ناچی یعنی لڑکی کے بدن پر ڈبرو بجانے سے دیوتا مسان آیا اور اسی نے یعنی دیوتا نے بکری اور مرغا مانگا تو ڈبرو بجانے والے نے مرغا اور بکرا کو مردار کرکے پوجا کری دوبارہ اس حرکت کی کسی کو خبر نہ ہوئی اب سہ بارہ اس شخص نے ایك ہندو کو اپنے مکان پر بلاکے ایك مرغا اس کو یعنی اس ہندو کو دیا اس نے موافق اپنے رسوم کے مرغے کو اپنے قبرستان میں لے جاکر رات کو مردار کرکے قبر میں دبادیا اور ایك قبرستان میں جاکر پتھروں کو پوجا اس کام کے کرنے پر یہاں مسلمانوں نے پھر اس کا حقہ بند کردیا اور کہا کہ تونے مکرر سہ کرراسی کام کو
ان سب اقوال کے لحاظ سے وہاں عام مبتدع ضال سے تعبیر کیا کہ بدعت مکفرہ کو بھی شامل ہےوالسلام مع الکرام۔
مسئلہ۱۰۰: ازمنڈی رام نگر ضلع نینی تال مرسلہ جناب بشیر احمد صاحب رجب المرجب ۱۳۳۸ھ
ایك شخص نے ایك مرتبہ اپنی حالت بیماری میں اپنے اچھا ہونے کی غرض سے ایك روز کچھ ہنود کو اپنے مکان پر بلاکر ڈبر وبجوایا اور موافق رسم ہنود کے ہندوؤں کے دیوتا کی پوجا یعنی بکری اور مرغا ہندوؤں سے مروایا یعنی مردار کرایا اور ڈبر وپر ناچااس ناجائز حرام کام کرنے پر یہاں کے مسلمان لوگوں نے اس شخص کو برادری سے نکال باہر کردیا اور حقہ بند کردیاکچھ دنوں بعد اس بت پرست شخص نے مسلمانوں سے کہا میری جان جارہی تھی اس وجہ سے میں نے یہ کام کرائے آئندہ مجھ سے ایسا قصور نہ ہوگا تب یہاں کے مسلمانوں نے اس کی معافی مانگنے اور آئندہ کو توبہ کرنے سے اس کا ایك سوروپیہ جرمانہ لے کر اور توبہ کرواکر حقہ کھول دیا بعد کچھ دنوں کے پھر اس شخص نے پوشیدہ طور رات کو ایك ہندو کے یہاں اپنی بیوی اور لڑکی کو بھیج کر ڈبروبجوایا اور ان کی لڑکی ناچی یعنی لڑکی کے بدن پر ڈبرو بجانے سے دیوتا مسان آیا اور اسی نے یعنی دیوتا نے بکری اور مرغا مانگا تو ڈبرو بجانے والے نے مرغا اور بکرا کو مردار کرکے پوجا کری دوبارہ اس حرکت کی کسی کو خبر نہ ہوئی اب سہ بارہ اس شخص نے ایك ہندو کو اپنے مکان پر بلاکے ایك مرغا اس کو یعنی اس ہندو کو دیا اس نے موافق اپنے رسوم کے مرغے کو اپنے قبرستان میں لے جاکر رات کو مردار کرکے قبر میں دبادیا اور ایك قبرستان میں جاکر پتھروں کو پوجا اس کام کے کرنے پر یہاں مسلمانوں نے پھر اس کا حقہ بند کردیا اور کہا کہ تونے مکرر سہ کرراسی کام کو
حوالہ / References
المستند المعتقد تعلیقات المنتقد المعتقد مسئلۃ النبوۃ لیست کسبیۃ مکتبہ حامدیہ لاہور ص۱۱۵
کرااورکرتا ہے تو کافر ہےاس کے جواب میں بت پرست مسلمان کہتا ہے ضرورت شدید میں یہ کام جائز ہے یعنی مولوی لوگوں سے معلوم کرلیا ہے لہذا عرض کہ اس مسئلہ کو خلاصہ تحریر کیجئے کہ ہمارے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے یہاں یہ کام جائز ہے یا انہوں نے یہ کام کرے اگر یہ کام جائز ہےنہیں تو اس کام کے کرنے والے کو مسئلہ سے کیا سزا ہونا چاہئے
الجواب:
صورت مستفسرہ میں وہ کافر ہےاور وہ مولویوں پر افترا کرتا ہےکوئی مولوی ایسا نہیں کہہ سکتا اور اگر کسی نام کے مولوی نے مرض سے شفا کے واسطے غیر خد اکی پوجا جائز کردی ہو تو وہ بھی کافر ہے اور یہ شخص جب کہ تین بار ایسا کرچکا اب مسلمان اسے ہرگز نہ ملائیں اگرچہ توبہ ظاہر کرے کہ وہ جھوٹا ہے اور فریب دیتا ہےاﷲ تعالی عزوجل فرماتاہے:
ان الذین کفروا بعد ایمنہم ثم ازدادوا کفرا" " لن تقبل توبتہم و اولئک ہم الضالون﴿۹۰﴾ "
واﷲ تعالی اعلم۔ بیشك وہ لوگ جو ایمان لائے پھر کافر ہوئے پھرایمان لائےپھر کافر ہوئے پھر اور کفر میں بڑھے۔ان کی توبہ ہرگز قبول نہ ہوگی اور وہی ہیں بہکے ہوئے۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ۱۰۱: ازکٹك محلہ بخشی بازار مرسلہ ولی محمد صاحب ۹ربیع الاول شریف ۱۳۳۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین مبین اس مسئلہ میںمولوی اجابت اﷲ بنگالی چاٹگامی نے ایك رسالہ لکھا ہے جس میں اﷲ کے سوا اپنے پیر کو سجدہ کرنے کو جائز سمجھتا ہے اور دلائل میں کئی اوراق سیاہ فرمائے اور علمائے اہلحدیث کو نسبت دی ہے فرقہ اسمعیلیہ سےاور ان کو گمراہ کہا ہےاور علمائے دیوبند کو اسی فرقہ سے شمارکیا ہے اور اپنے گمان میں اس سجدہ کو قرآن شریف سے مدلل کیاہے اور جس حدیث سے سجدہ کی ممانعت ثابت ہوتی ہےاس کو بے اصل سمجھتا اور کہتا ہے کہ احادیث احاد قرآن کو منسوخ نہیں کرسکتیں اور حدیث ابوداؤد کو جس میں سجدہ کی ممانعت ہے اس کو بھی اسی قسم سے سمجھتا ہےاور سجدہ کی دو قسمیں ٹھہراتا ہے:تحیت اور تعبدی۔تحیت کو جائز سمجھتا ہے اور تعبدی کو منع کرتا ہےمولانا اسحاق صاحب کلکتہ مدرسہ عالیہ میں مدرس ہیں جو شروع میں مدرسہ کانپور میں بھی تعلیم دیتے تھےانہو ں نے سجدہ کی ممانعت کے بارے میں کچھ لکھا تھاان کو یہ شخص گمراہ اور گمراہ کنندہ کہتا ہے اور مولانا شاہ عبدالعزیز صاحب
الجواب:
صورت مستفسرہ میں وہ کافر ہےاور وہ مولویوں پر افترا کرتا ہےکوئی مولوی ایسا نہیں کہہ سکتا اور اگر کسی نام کے مولوی نے مرض سے شفا کے واسطے غیر خد اکی پوجا جائز کردی ہو تو وہ بھی کافر ہے اور یہ شخص جب کہ تین بار ایسا کرچکا اب مسلمان اسے ہرگز نہ ملائیں اگرچہ توبہ ظاہر کرے کہ وہ جھوٹا ہے اور فریب دیتا ہےاﷲ تعالی عزوجل فرماتاہے:
ان الذین کفروا بعد ایمنہم ثم ازدادوا کفرا" " لن تقبل توبتہم و اولئک ہم الضالون﴿۹۰﴾ "
واﷲ تعالی اعلم۔ بیشك وہ لوگ جو ایمان لائے پھر کافر ہوئے پھرایمان لائےپھر کافر ہوئے پھر اور کفر میں بڑھے۔ان کی توبہ ہرگز قبول نہ ہوگی اور وہی ہیں بہکے ہوئے۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ۱۰۱: ازکٹك محلہ بخشی بازار مرسلہ ولی محمد صاحب ۹ربیع الاول شریف ۱۳۳۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین مبین اس مسئلہ میںمولوی اجابت اﷲ بنگالی چاٹگامی نے ایك رسالہ لکھا ہے جس میں اﷲ کے سوا اپنے پیر کو سجدہ کرنے کو جائز سمجھتا ہے اور دلائل میں کئی اوراق سیاہ فرمائے اور علمائے اہلحدیث کو نسبت دی ہے فرقہ اسمعیلیہ سےاور ان کو گمراہ کہا ہےاور علمائے دیوبند کو اسی فرقہ سے شمارکیا ہے اور اپنے گمان میں اس سجدہ کو قرآن شریف سے مدلل کیاہے اور جس حدیث سے سجدہ کی ممانعت ثابت ہوتی ہےاس کو بے اصل سمجھتا اور کہتا ہے کہ احادیث احاد قرآن کو منسوخ نہیں کرسکتیں اور حدیث ابوداؤد کو جس میں سجدہ کی ممانعت ہے اس کو بھی اسی قسم سے سمجھتا ہےاور سجدہ کی دو قسمیں ٹھہراتا ہے:تحیت اور تعبدی۔تحیت کو جائز سمجھتا ہے اور تعبدی کو منع کرتا ہےمولانا اسحاق صاحب کلکتہ مدرسہ عالیہ میں مدرس ہیں جو شروع میں مدرسہ کانپور میں بھی تعلیم دیتے تھےانہو ں نے سجدہ کی ممانعت کے بارے میں کچھ لکھا تھاان کو یہ شخص گمراہ اور گمراہ کنندہ کہتا ہے اور مولانا شاہ عبدالعزیز صاحب
دہلوی کے فتوے سے سجدہ کو جائز ثابت کرتاہے اور درمختار کو بے اصل ثابت کرتا ہے کیونکہ چھٹے طبقہ کی کتاب ہے۔امام فخر الدین رازی کے حوالہ سے اس رسالہ کو لکھا ہے اور کہتا ہے کہ تفسیر کبیر کی پہلی جلد میں ہے سجدہ کرنا اﷲ کے سوا دوسرے کو جائز ہےاب سوال یہ ہے کہ ایسا شخص جو خدا کے سوا دوسرے کو سجدہ کرنا جائز سمجھے تو ایسا شخص کافر ہے یا مسلمان
الجواب:
غیر خدا کو سجدہ تحیت کا جائز کرنے والا ہرگز کافر نہیں اور اب جو اہل حدیث کہلاتے ہیں ضرور اسمعیلی وگمراہ ہیں اور دیوبندیہ ان سے گمراہ تر صریح مرتدین ہیںعلمائے حرمین شریفین نے ان کی نسبت تصریح فرمائی کہ:
من شك فی کفرہ فقد کفر ۔ جس نے اس کے کفر میں شك کیا اس نے کفر کیا۔(ت)
جوان کے اقوال پر مطلع ہو کر انہیں کافر نہ جانے بلکہ ان کے کفر میں شك ہی کرے وہ بھی کافر ہے۔دربارہ سجدہ حق وتحقیق یہ ہے کہ غیر خدا کو سجدہ عبادت کفر اور سجدہ تحیت حرامکتب فقہ میں اس کی تصریح ہے اور آج کوئی مجتہد نہیں کہ متفق علیہ ارشادات ائمہ کے خلاف دلیل سے مسئلہ نکالنا چاہے افراط وتفریط دونوں مذموم ہیں واﷲ الہادیواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۱۰۲: از شہر بریلی مدرسہ منظر الاسلام مسئولہ حشمت علی صاحب ۱۶ربیع الآخر ۱۳۳۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید فرقہ دیوبندیہ کا مرتکب کفر ہونا تسلیم کرتا ہےلیکن کہتا ہے کہ اپنی زبان سے ان کو کافر نہ کہوں گادریافت کرنے پر کہا کہ فی الواقع دیوبندیوں نے کفر بکا ہےلیکن دیکھاجائے تو خود ہم پر کفر عائد ہوتا ہے کیونکہ کفر کی دو قسمیں ہیں:
(۱)کفر قولی (۲)کفر فعلی
کفر قولی یہ کہ کسی نے ایسی بات کہی جس میں ضروریات دین کا انکار ہوجیسے دیوبندیوں نے توہین خدا ورسول(جل وعلا وصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم)کی بکی۔
اور کفر فعلی یہ کہ جو انکار ضروریات دین پر امارت ہو جیسے زنا رباندھنابت کو سجدہ کرنا وغیرہاب دیکھئے اﷲ تعالی فرماتاہے:
الجواب:
غیر خدا کو سجدہ تحیت کا جائز کرنے والا ہرگز کافر نہیں اور اب جو اہل حدیث کہلاتے ہیں ضرور اسمعیلی وگمراہ ہیں اور دیوبندیہ ان سے گمراہ تر صریح مرتدین ہیںعلمائے حرمین شریفین نے ان کی نسبت تصریح فرمائی کہ:
من شك فی کفرہ فقد کفر ۔ جس نے اس کے کفر میں شك کیا اس نے کفر کیا۔(ت)
جوان کے اقوال پر مطلع ہو کر انہیں کافر نہ جانے بلکہ ان کے کفر میں شك ہی کرے وہ بھی کافر ہے۔دربارہ سجدہ حق وتحقیق یہ ہے کہ غیر خدا کو سجدہ عبادت کفر اور سجدہ تحیت حرامکتب فقہ میں اس کی تصریح ہے اور آج کوئی مجتہد نہیں کہ متفق علیہ ارشادات ائمہ کے خلاف دلیل سے مسئلہ نکالنا چاہے افراط وتفریط دونوں مذموم ہیں واﷲ الہادیواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۱۰۲: از شہر بریلی مدرسہ منظر الاسلام مسئولہ حشمت علی صاحب ۱۶ربیع الآخر ۱۳۳۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید فرقہ دیوبندیہ کا مرتکب کفر ہونا تسلیم کرتا ہےلیکن کہتا ہے کہ اپنی زبان سے ان کو کافر نہ کہوں گادریافت کرنے پر کہا کہ فی الواقع دیوبندیوں نے کفر بکا ہےلیکن دیکھاجائے تو خود ہم پر کفر عائد ہوتا ہے کیونکہ کفر کی دو قسمیں ہیں:
(۱)کفر قولی (۲)کفر فعلی
کفر قولی یہ کہ کسی نے ایسی بات کہی جس میں ضروریات دین کا انکار ہوجیسے دیوبندیوں نے توہین خدا ورسول(جل وعلا وصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم)کی بکی۔
اور کفر فعلی یہ کہ جو انکار ضروریات دین پر امارت ہو جیسے زنا رباندھنابت کو سجدہ کرنا وغیرہاب دیکھئے اﷲ تعالی فرماتاہے:
حوالہ / References
حسام الحرمین منہا الوہابیہ مکتبہ نبویہ لاہور ص۲۱
فلا وربک لا یؤمنون حتی یحکموک فیما شجر بینہم ثم لا یجدوا فی انفسہم حرجا مما قضیت ویسلموا تسلیما ﴿۶۵﴾" تواے محبوب تمہارے رب کی قسم وہ مسلمان نہ ہونگے جب تك اپنے آپس کے جھگڑے میں تمہیں حاکم نہ بنائیں پھر جو کچھ تم حکم فرمادو اپنے دلوں میں اس سے رکاوٹ نہ پائیں اور جی سے مان لیں۔(ت)
قسم کھاکر فرمایا جاتا ہے کہ ہر گز مسلمان نہیں ہوسکتے جب تك اپنے اختلافات کو موافق احادیث وآیات نہ طے کریں پھرکوئی رنجش یا کراہت بھی دل میں نہ رہے۔اب بتائیے ہم لوگ اپنے مقدمات کا بجائے آیات واحادیث کے انگریزی قوانین سے طے کراتے ہیں تو ہم تو دیوبندیوں سے بدتر ہیں گویا نص قرآنی ہماری تکفیر فرمارہی ہے جب ہمارا خود یہ حال ہے تو دوسروں کو کیونکر کافر کہیںہم تو خود ہی کفر میں مبتلاہیں انتہی کلامہاب استفتاء یہ ہے کہ زید کا کیا حکم ہےاورآیہ کریمہ کی صحیح تفسیر کیا ہے
الجواب:
جو مدعی حق پر ہیں وہ تحکیم نہیں کرتے بلکہ اپنا حق کہ بے زور حکومت نہیں مل سکتا نکلوانا چاہتے ہیں اور مدعا علیہ کہ حق پر ہے وہ مجبور ہی ہے جو ابدہی نہ کرے تو یك طرفہ ڈگری ہوجائے ان دونوں فریق پر اگر آیہ کریمہ وارد ہوتو ہندوستان ہی نہیں بلکہ تمام دنیا میں آج سے نہیں صدہا سال سے مدعی مدعا علیہ وکیل گواہ سب کافرہوں کہ عام سلطنتوں نے شرع مطہر سے جدا اپنے بہت سے قانون نکال لئے ہیں اور جو مدعی جھوٹا ہے وہ ناحق دوسروں کا مال مثلا چھیننا چاہتا ہے جس پر اپنی چرب زبانی یا مقدمہ سازی یا جھوٹے گواہوں کے ذریعہ حکومت سے مددلیتا ہے یونہی جھوٹا مدعا علیہ مثلا دوسرے کا دیا ہوا مال دینا نہیں چاہتا اور وہی مدد ان ذرائع کاذبہ سے لیتا ہے یہ باتیں گناہ ہیں مگر گناہ کو کفر کہنا خارجیوں کا مذہب ہےآیت اس کے بارے میں ہے جو حکم شریعت کو باطل جانے اور غیر شرعی حکم کو حق یا شرعی حکم جب اس کے خلاف ہوتو نہ نفس امارہ کی ناگواری بلکہ واقعی دل سے اس حکم کو براجانےیہ لوگ کافر ہیںیہ نہ فقط مقدمات بلکہ عبادات میں بھی جاری ہےرمضان خصوصا گرمیوں کے روزے نماز خصوصا جاڑوں میں صبح و عشا کی نفس امارہ پر شاق ہوتی ہے اس سے کافر نہیں ہوتا جبکہ دل سے احکام کو حق ونافع جانتا ہے ہاں اگر دل سے نماز کو بیگار اور روزے کو مفت کافاقہ جانے تو ضرور کافر ہے اگلی آیہ کریمہ اس معنی کو خوب واضح فرماتی ہے:
قسم کھاکر فرمایا جاتا ہے کہ ہر گز مسلمان نہیں ہوسکتے جب تك اپنے اختلافات کو موافق احادیث وآیات نہ طے کریں پھرکوئی رنجش یا کراہت بھی دل میں نہ رہے۔اب بتائیے ہم لوگ اپنے مقدمات کا بجائے آیات واحادیث کے انگریزی قوانین سے طے کراتے ہیں تو ہم تو دیوبندیوں سے بدتر ہیں گویا نص قرآنی ہماری تکفیر فرمارہی ہے جب ہمارا خود یہ حال ہے تو دوسروں کو کیونکر کافر کہیںہم تو خود ہی کفر میں مبتلاہیں انتہی کلامہاب استفتاء یہ ہے کہ زید کا کیا حکم ہےاورآیہ کریمہ کی صحیح تفسیر کیا ہے
الجواب:
جو مدعی حق پر ہیں وہ تحکیم نہیں کرتے بلکہ اپنا حق کہ بے زور حکومت نہیں مل سکتا نکلوانا چاہتے ہیں اور مدعا علیہ کہ حق پر ہے وہ مجبور ہی ہے جو ابدہی نہ کرے تو یك طرفہ ڈگری ہوجائے ان دونوں فریق پر اگر آیہ کریمہ وارد ہوتو ہندوستان ہی نہیں بلکہ تمام دنیا میں آج سے نہیں صدہا سال سے مدعی مدعا علیہ وکیل گواہ سب کافرہوں کہ عام سلطنتوں نے شرع مطہر سے جدا اپنے بہت سے قانون نکال لئے ہیں اور جو مدعی جھوٹا ہے وہ ناحق دوسروں کا مال مثلا چھیننا چاہتا ہے جس پر اپنی چرب زبانی یا مقدمہ سازی یا جھوٹے گواہوں کے ذریعہ حکومت سے مددلیتا ہے یونہی جھوٹا مدعا علیہ مثلا دوسرے کا دیا ہوا مال دینا نہیں چاہتا اور وہی مدد ان ذرائع کاذبہ سے لیتا ہے یہ باتیں گناہ ہیں مگر گناہ کو کفر کہنا خارجیوں کا مذہب ہےآیت اس کے بارے میں ہے جو حکم شریعت کو باطل جانے اور غیر شرعی حکم کو حق یا شرعی حکم جب اس کے خلاف ہوتو نہ نفس امارہ کی ناگواری بلکہ واقعی دل سے اس حکم کو براجانےیہ لوگ کافر ہیںیہ نہ فقط مقدمات بلکہ عبادات میں بھی جاری ہےرمضان خصوصا گرمیوں کے روزے نماز خصوصا جاڑوں میں صبح و عشا کی نفس امارہ پر شاق ہوتی ہے اس سے کافر نہیں ہوتا جبکہ دل سے احکام کو حق ونافع جانتا ہے ہاں اگر دل سے نماز کو بیگار اور روزے کو مفت کافاقہ جانے تو ضرور کافر ہے اگلی آیہ کریمہ اس معنی کو خوب واضح فرماتی ہے:
حوالہ / References
القرآن الکریم ۴ /۶۵
قال اﷲ تعالی
" ولو انا کتبنا علیہم ان اقتلوا انفسکم او اخرجوا من دیرکم ما فعلوہ الا قلیل منہم " ۔ اﷲ تعالی نے فرمایا:اگر ہم انہیں حکم دیتے ہیں کہ اپنے آپ کو قتل کردو یا اپنے گھروں سے نکل جاؤ تو اسے نہ کرتے مگر ان میں تھوڑے۔(ت)
ظاہرہے کہ یہ نہ کرنا ان احکام کے نفس پر شاق ہونے ہی کے سبب ہے توثابت ہوا کہ حکم کا نفس پر شاق ہونا یہاں تك کہ اس کے سبب بجا آوری حکم سے باز رہنا کفر نہیں معاذ اﷲ یہ ٹھہرے گا کہ صحابہ کرام بھی گنتی ہی کے مسلمان تھے کہ فرماتا ہے:" ما فعلوہ الا قلیل منہم " (اسے نہ کرتے مگر ان میں تھوڑے ۔ت)حالانکہ رب عزوجل جا بجا ان کے سچے پکے مومن ہونے کی شہادت دیتا ہے یہاں تك کہ فرماتا ہے:
" و لکن اللہ حبب الیکم الایمن و زینہ فی قلوبکم و کرہ الیکم الکفر و الفسوق و العصیان اولئک ہم الرشدون ﴿۷﴾ فضلا من اللہ و نعمۃ و اللہ علیم حکیم ﴿۸﴾" ۔ اے محبوب کے صحابیو! اﷲ نے تمہیں ایمان پیارا کردیا اور اسے تمہارے دلوں میں زینت دی اور کفر وبے حکمی ونافرمانی تمہیں ناگواراکردییہی لوگ راہ پر ہیں اﷲ کافضل اور اس کی نعمت اور اﷲ جانتا ہے حکمت والا ہے۔
یہ دل کی محبت ہے کہ مدار ایمان وکمال ایما ن ہے اور وہ نفس کی ناگواری جس پر زیادت ثواب کی بناء ہے۔حدیث میں فرمایا:
افضل العبادات احمزھا ۔ سب میں زیادہ ثواب اس عبادت کا ہے جو نفس پر زیادہ شاق ہو۔
بہر حال یہ شخص جو اپنے کفر کا مقر ہے قطعا کافر ہےفتاوی عالمگیری میں ہے:
مسلم قال اناملحد یکفر ولوقال ماعلمت انہ کفر لایعذرمنہ واﷲتعالی اگر کسی مسلمان نے کہا میں ملحد ہوں تو وہ کافر ہوجائے گااور کہا میں نہیں جانتا تھا کہ یہ کہنا
" ولو انا کتبنا علیہم ان اقتلوا انفسکم او اخرجوا من دیرکم ما فعلوہ الا قلیل منہم " ۔ اﷲ تعالی نے فرمایا:اگر ہم انہیں حکم دیتے ہیں کہ اپنے آپ کو قتل کردو یا اپنے گھروں سے نکل جاؤ تو اسے نہ کرتے مگر ان میں تھوڑے۔(ت)
ظاہرہے کہ یہ نہ کرنا ان احکام کے نفس پر شاق ہونے ہی کے سبب ہے توثابت ہوا کہ حکم کا نفس پر شاق ہونا یہاں تك کہ اس کے سبب بجا آوری حکم سے باز رہنا کفر نہیں معاذ اﷲ یہ ٹھہرے گا کہ صحابہ کرام بھی گنتی ہی کے مسلمان تھے کہ فرماتا ہے:" ما فعلوہ الا قلیل منہم " (اسے نہ کرتے مگر ان میں تھوڑے ۔ت)حالانکہ رب عزوجل جا بجا ان کے سچے پکے مومن ہونے کی شہادت دیتا ہے یہاں تك کہ فرماتا ہے:
" و لکن اللہ حبب الیکم الایمن و زینہ فی قلوبکم و کرہ الیکم الکفر و الفسوق و العصیان اولئک ہم الرشدون ﴿۷﴾ فضلا من اللہ و نعمۃ و اللہ علیم حکیم ﴿۸﴾" ۔ اے محبوب کے صحابیو! اﷲ نے تمہیں ایمان پیارا کردیا اور اسے تمہارے دلوں میں زینت دی اور کفر وبے حکمی ونافرمانی تمہیں ناگواراکردییہی لوگ راہ پر ہیں اﷲ کافضل اور اس کی نعمت اور اﷲ جانتا ہے حکمت والا ہے۔
یہ دل کی محبت ہے کہ مدار ایمان وکمال ایما ن ہے اور وہ نفس کی ناگواری جس پر زیادت ثواب کی بناء ہے۔حدیث میں فرمایا:
افضل العبادات احمزھا ۔ سب میں زیادہ ثواب اس عبادت کا ہے جو نفس پر زیادہ شاق ہو۔
بہر حال یہ شخص جو اپنے کفر کا مقر ہے قطعا کافر ہےفتاوی عالمگیری میں ہے:
مسلم قال اناملحد یکفر ولوقال ماعلمت انہ کفر لایعذرمنہ واﷲتعالی اگر کسی مسلمان نے کہا میں ملحد ہوں تو وہ کافر ہوجائے گااور کہا میں نہیں جانتا تھا کہ یہ کہنا
حوالہ / References
القرآن الکریم ۴ /۶۶
القرآن الکریم ۴ /۶۶
القرآن الکریم ۴۹ /۸۔۷
الاسرار المرفوعہ فی الاخبار الموضوعہ حدیث ۲۰۸ دارالکتاب العلمیہ بیروت ص۶۱،کشف الخفاء للعجلونی ۱/ ۱۷۵
فتاوی ہندیہ باب موجبات الکفر انواع نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۲۷۹
القرآن الکریم ۴ /۶۶
القرآن الکریم ۴۹ /۸۔۷
الاسرار المرفوعہ فی الاخبار الموضوعہ حدیث ۲۰۸ دارالکتاب العلمیہ بیروت ص۶۱،کشف الخفاء للعجلونی ۱/ ۱۷۵
فتاوی ہندیہ باب موجبات الکفر انواع نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۲۷۹
اعلم۔ اگر کسی مسلمان نے کہا میں ملحد ہوں تو وہ کافر ہوجائے گااور کہا میں نہیں جانتا تھا کہ یہ کہنا کفر تھا اس کا عذر قابل قبول نہ ہوگا۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ۱۰۳: ازڈاکخانہ انگس جوٹ مل گورہٹی ضلع ہگلی اسکول انگس مسئولہ محمد سلیم خاں ماسٹر اسکول ۱۸ذیقعدہ ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص اپنے پیر کے لڑکے کو نبی زادہ لکھا کرتا ہےاس کا اورجو لوگ اسے اچھا سمجھ کر خوش ہوتے ہیں ان کا شرع شریف میں کیاحکم ہےبینواتوجروا۔
الجواب:
اگر اس کا مرشد سید ہے بایں معنی اسے نبی زادہ لکھتا ہے تو بجا ہےاور اگر وہ سید نہیں بلکہ مرشد کو نبی ٹھہرا کر اس کے لڑکے کو نبی زادہ لکھتا ہے تو وہ بھی کافر اور جتنے اس پر خوش ہوتے ہیں وہ بھیوھوتعالی اعلم۔
مسئلہ۱۰۴: ازپورولیا ضلع مان بھوم مسئولہ خلیفہ محمد جان ۱۸ذی القعدہ ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ۱۶ اپریل۱۳ اپریل ۱۹۲۱ء میں جن مسلمانوں نے ہڑتال کی ہے اور جلسے میں شریك ہوئے ہیں ان کی بیبیاں حرام ہوئیں یانہیں بینواتوجروا۔
الجواب:
جس نے لوگوں کے مجبور کئے سے ہڑتال کی اس پر وہ الزام نہیں اگرچہ بلامجبوری شرعی مجبور بن جانے کا الزام ہواور جس نے ایك طوفان بے تمیزی کی موافقت چاہی اس سے زائد کچھ نیت نہ تھی اس پر گناہ ہوا مگر وہ الزام اس پر نہیں اور جس نے کافروں کا سوگ منانے اور حکم مشرك کی تعظیم بجالانے کے لئے ہڑتال کی اس پر تجدید اسلام پھر تجدید نکاح کا حکم ہے
لان تبجیل الکافر کفر کمافی الظہیریۃ والاشباہ و الدر وغیرہ من الاسفار الغروھو تعالی اعلم۔ کیونکہ کافر کی تعظیم کفر ہےجیسا کہ ظہیریہاشباہدر وغیرہ معروف کتب میں ہے۔وھوتعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ۱۰۵: ازمتوناتھ بھنجن ضلع اعظم گڈھ محلہ اﷲ داد پورہ مسئولہ حکیم صابر حسین صاحب۱۷رمضان المبارک۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین کہ جو شخص ہنود کے خوش کرنے کے واسطے اپنے مذہب اسلام کی
مسئلہ۱۰۳: ازڈاکخانہ انگس جوٹ مل گورہٹی ضلع ہگلی اسکول انگس مسئولہ محمد سلیم خاں ماسٹر اسکول ۱۸ذیقعدہ ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص اپنے پیر کے لڑکے کو نبی زادہ لکھا کرتا ہےاس کا اورجو لوگ اسے اچھا سمجھ کر خوش ہوتے ہیں ان کا شرع شریف میں کیاحکم ہےبینواتوجروا۔
الجواب:
اگر اس کا مرشد سید ہے بایں معنی اسے نبی زادہ لکھتا ہے تو بجا ہےاور اگر وہ سید نہیں بلکہ مرشد کو نبی ٹھہرا کر اس کے لڑکے کو نبی زادہ لکھتا ہے تو وہ بھی کافر اور جتنے اس پر خوش ہوتے ہیں وہ بھیوھوتعالی اعلم۔
مسئلہ۱۰۴: ازپورولیا ضلع مان بھوم مسئولہ خلیفہ محمد جان ۱۸ذی القعدہ ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ۱۶ اپریل۱۳ اپریل ۱۹۲۱ء میں جن مسلمانوں نے ہڑتال کی ہے اور جلسے میں شریك ہوئے ہیں ان کی بیبیاں حرام ہوئیں یانہیں بینواتوجروا۔
الجواب:
جس نے لوگوں کے مجبور کئے سے ہڑتال کی اس پر وہ الزام نہیں اگرچہ بلامجبوری شرعی مجبور بن جانے کا الزام ہواور جس نے ایك طوفان بے تمیزی کی موافقت چاہی اس سے زائد کچھ نیت نہ تھی اس پر گناہ ہوا مگر وہ الزام اس پر نہیں اور جس نے کافروں کا سوگ منانے اور حکم مشرك کی تعظیم بجالانے کے لئے ہڑتال کی اس پر تجدید اسلام پھر تجدید نکاح کا حکم ہے
لان تبجیل الکافر کفر کمافی الظہیریۃ والاشباہ و الدر وغیرہ من الاسفار الغروھو تعالی اعلم۔ کیونکہ کافر کی تعظیم کفر ہےجیسا کہ ظہیریہاشباہدر وغیرہ معروف کتب میں ہے۔وھوتعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ۱۰۵: ازمتوناتھ بھنجن ضلع اعظم گڈھ محلہ اﷲ داد پورہ مسئولہ حکیم صابر حسین صاحب۱۷رمضان المبارک۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین کہ جو شخص ہنود کے خوش کرنے کے واسطے اپنے مذہب اسلام کی
حوالہ / References
درمختار کتاب الحظر والاباحۃ فصل فی البیع مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۵۱
پروانہ کرے اور ان کے مذہب کے تائیدکرے تو یہ شخص کس چیز کا مرتکب ہوگابینواتوجروا
الجواب:
جوشخص خوشنودی ہنود کے لئے دین اسلام کی پروانہ کرے اور مذہب ہنود کی تائیدکرے اگریہ بات واقعی یونہی ہے تو اس پر حکم کفر لازم ہونے میں کوئی شبہہ نہیں۔واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ۱۰۶: ازچک۲۲۴متصل لائل خانقاہ چشت دربار صابری مسئولہ مولوی نظام الدین صاحب ۱۷ربیع الآخر ۱۳۳۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ کے جواب میں کہ ایك نئی مسجد کے محراب کے دائیں طرف کاتب نے لکھا یااﷲ اور دوسری طرف یامحمد نقش کردیا تو ایك غیر مقلد نے آکر کہا کہ یہ بت کیوں لکھا ہے اس کو مٹادومعمار سے وہ مٹوادیااس کی اس حرکت سے مسلمان بہت رنجیدہ ہوئے اور پھر حضور کا نام مبارك لکھوادیااس پر وہ غیر مقلد کہنے لگا اگر گوروگوبند سنگھ کا نام لکھ دو یا کوئی بت کھڑا کردو تو بہتر ہےکیا اس شخص نے حضور کی بے ادبی کی ہے یانہ اور اس دریدہ دہنی سے یہ مسلمان رہ سکتاہے یانہبینواتوجروا۔
الجواب:
لاالہ الا اﷲلا الہ الااﷲلاالہ الااﷲ محمد رسول اﷲ محمد رسول اﷲ محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلمالالعنۃ اﷲ علی الظالمین الالعنۃ اﷲ علی الظالمین الالعنۃ اﷲ علی الظالمین۔ اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیںاﷲ کے سوا کوئی معبود نہیںاﷲ کے سواکوئی معبود نہیںحضرت محمد اﷲ کے رسول ہیں حضرت محمد اﷲ کے رسول ہیںحضرت محمد اﷲ کے رسول ہیںاﷲ تعالی کی طرف سے ان پر صلوۃوسلاماﷲ تعالی کی طرف سے ان پر صلوۃ وسلاماﷲ تعالی کی طرف سے ان پر صلوۃ وسلامسنو ظالموں پر اﷲ کی لعنتسنوظالموں پر اﷲ کی لعنتسنوظالموں پر اﷲ کی لعنت۔(ت)
شخص مذکور کافرکافر کافر مرتدمرتد مرتدہے من شك فی کفرہ فقد کفر جو اس کے کافر ہونے میں شك
الجواب:
جوشخص خوشنودی ہنود کے لئے دین اسلام کی پروانہ کرے اور مذہب ہنود کی تائیدکرے اگریہ بات واقعی یونہی ہے تو اس پر حکم کفر لازم ہونے میں کوئی شبہہ نہیں۔واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ۱۰۶: ازچک۲۲۴متصل لائل خانقاہ چشت دربار صابری مسئولہ مولوی نظام الدین صاحب ۱۷ربیع الآخر ۱۳۳۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ کے جواب میں کہ ایك نئی مسجد کے محراب کے دائیں طرف کاتب نے لکھا یااﷲ اور دوسری طرف یامحمد نقش کردیا تو ایك غیر مقلد نے آکر کہا کہ یہ بت کیوں لکھا ہے اس کو مٹادومعمار سے وہ مٹوادیااس کی اس حرکت سے مسلمان بہت رنجیدہ ہوئے اور پھر حضور کا نام مبارك لکھوادیااس پر وہ غیر مقلد کہنے لگا اگر گوروگوبند سنگھ کا نام لکھ دو یا کوئی بت کھڑا کردو تو بہتر ہےکیا اس شخص نے حضور کی بے ادبی کی ہے یانہ اور اس دریدہ دہنی سے یہ مسلمان رہ سکتاہے یانہبینواتوجروا۔
الجواب:
لاالہ الا اﷲلا الہ الااﷲلاالہ الااﷲ محمد رسول اﷲ محمد رسول اﷲ محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلمالالعنۃ اﷲ علی الظالمین الالعنۃ اﷲ علی الظالمین الالعنۃ اﷲ علی الظالمین۔ اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیںاﷲ کے سوا کوئی معبود نہیںاﷲ کے سواکوئی معبود نہیںحضرت محمد اﷲ کے رسول ہیں حضرت محمد اﷲ کے رسول ہیںحضرت محمد اﷲ کے رسول ہیںاﷲ تعالی کی طرف سے ان پر صلوۃوسلاماﷲ تعالی کی طرف سے ان پر صلوۃ وسلاماﷲ تعالی کی طرف سے ان پر صلوۃ وسلامسنو ظالموں پر اﷲ کی لعنتسنوظالموں پر اﷲ کی لعنتسنوظالموں پر اﷲ کی لعنت۔(ت)
شخص مذکور کافرکافر کافر مرتدمرتد مرتدہے من شك فی کفرہ فقد کفر جو اس کے کافر ہونے میں شك
حوالہ / References
مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر باب احکام الجزیہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۱۷۷
کرے خود کافر ہےمسلمانوں کو اس سے میل جول حرام ہےاس سے سلام وکلام حرام اس کے پاس بیٹھنا حرااسے اپنے پاس بیٹھنے دیان حرامبیمار پڑے تو اسے پوچھنے جانا حراممرجائے تو اسے مسلمانوں کی طرح غسل و کفن دینا حراماس کے جنازہ پر نماز حراماسے مسلمانوں کے مقابر میں دفن کرنا حراماس کی قبر پر جانا حرام۔
قال اﷲ تعالی" اما ینسینک الشیطن فلا تقعد بعد الذکری مع القوم الظلمین ﴿۶۸﴾" وقال تعالی" ولا ترکنوا الی الذین ظلموا فتمسکم النار "
وقال تعالی" ولا تصل علی احد منہم مات ابدا ولاتقم علی قبرہ " ۔ اﷲ تعالی نے فرمایا:اور جو کہیں تجھے شیطان بھلادے تو یادآئے پر ظالموں کے پاس نہ بیٹھ۔اور اﷲ تعالی نے فرمایا: اور ظالموں کی طرف نہ جھکو کہ تمہیں آگ چھوئے گی۔اور اﷲ تعالی نے فرمایا:اور ان میں سے کسی کی میت پر کبھی نماز نہ پڑھنا اور نہ اس کی قبر پر کھڑے ہونا۔(ت)
مسلمان دیکھیں وہابیہ کو یہ دشمنی ہے محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سےاور پھر سادہ لوح ان کو مسلمانوں کا ایك فرقہ سمجھتے ہیں لاحول ولاقوۃ الا باﷲ العلی العظیمایك یہ بات یاد رہے کہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا نام پاك لے کر ندانہ چاہئے بلکہ اس کی جگہ یارسول اﷲ ہو اور دیوار پر کندہ کرنے سے بہتر یہ ہے کہ آئینہ مں لکھ کر نصب کریں۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۱۰۷: ازدیوگڈھ میواڑہ مرسلہ قاضی عبدالعزیز صاحب ۱۹ربیع الآخر ۱۳۳۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك گروہ نہ ہندو نہ مسلم دائم شارب الخمرمشرکسارق علانیہملکوں میں سیاحی کرکے نہ معلوم کس طرح سے فریب کرکے یا سرقہ کرکے ہزاروں روپوں کا سونا چاندی وزیورات وغیرہ لے آتے ہیں اور گیتاوبھاگوت پر عمل کرنے والے اور ہولی و دیوالی وگنگووغیرہ کی پرستش کرنے والےجب نام لینا رام چندربھگوت ہی کو پکارنا اور قسم بھی ان کی کھانا اسماء ولباس بھی اہل ہنود کا سا کلمہ جن کو یاد نہیں اسلام سے بالکل ناآشنا محض نکاح ونمازجنازہ کے پابند ہیں بعض اوقات سیاحی میں مردوں کو بھی آگ میں جلاتے ہیں اگر ان سے
قال اﷲ تعالی" اما ینسینک الشیطن فلا تقعد بعد الذکری مع القوم الظلمین ﴿۶۸﴾" وقال تعالی" ولا ترکنوا الی الذین ظلموا فتمسکم النار "
وقال تعالی" ولا تصل علی احد منہم مات ابدا ولاتقم علی قبرہ " ۔ اﷲ تعالی نے فرمایا:اور جو کہیں تجھے شیطان بھلادے تو یادآئے پر ظالموں کے پاس نہ بیٹھ۔اور اﷲ تعالی نے فرمایا: اور ظالموں کی طرف نہ جھکو کہ تمہیں آگ چھوئے گی۔اور اﷲ تعالی نے فرمایا:اور ان میں سے کسی کی میت پر کبھی نماز نہ پڑھنا اور نہ اس کی قبر پر کھڑے ہونا۔(ت)
مسلمان دیکھیں وہابیہ کو یہ دشمنی ہے محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سےاور پھر سادہ لوح ان کو مسلمانوں کا ایك فرقہ سمجھتے ہیں لاحول ولاقوۃ الا باﷲ العلی العظیمایك یہ بات یاد رہے کہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا نام پاك لے کر ندانہ چاہئے بلکہ اس کی جگہ یارسول اﷲ ہو اور دیوار پر کندہ کرنے سے بہتر یہ ہے کہ آئینہ مں لکھ کر نصب کریں۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۱۰۷: ازدیوگڈھ میواڑہ مرسلہ قاضی عبدالعزیز صاحب ۱۹ربیع الآخر ۱۳۳۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك گروہ نہ ہندو نہ مسلم دائم شارب الخمرمشرکسارق علانیہملکوں میں سیاحی کرکے نہ معلوم کس طرح سے فریب کرکے یا سرقہ کرکے ہزاروں روپوں کا سونا چاندی وزیورات وغیرہ لے آتے ہیں اور گیتاوبھاگوت پر عمل کرنے والے اور ہولی و دیوالی وگنگووغیرہ کی پرستش کرنے والےجب نام لینا رام چندربھگوت ہی کو پکارنا اور قسم بھی ان کی کھانا اسماء ولباس بھی اہل ہنود کا سا کلمہ جن کو یاد نہیں اسلام سے بالکل ناآشنا محض نکاح ونمازجنازہ کے پابند ہیں بعض اوقات سیاحی میں مردوں کو بھی آگ میں جلاتے ہیں اگر ان سے
کہا جاتا ہے کہ طریقہ اسلام پر ہوجاؤ اور شرك وشراب سے اجتناب کروتو کہتے ہیں کہ یہ ہم سے چھوٹ نہیں سکتے ہیںہمارے آباء واجداد سے یہ طریقہ جاری ہے اور کلمہ پڑھنے سے پورا نکار ہے نہ کما حقہ اقرار برسوں سے ان کی راہ ہدایت کی کوشش کی جارہی ہے لیکن یہ قوم اپنی حرکات ناشائستہ سے باز نہیں آتیایسی حالت میں ان مشرکوںشراب خوروںدزدوں کی نماز جنازہ و نکاح وغیرہ جائز ہے یاکیونکر اسی طرح جو تھوڑے عرصہ میں کہیں سے سونا لے آتے ہیں اس کے روپے کو مسجد کی تعمیر ومیلاد ومصرف کا رخیر میں لگانا جائز ہے یانہیںاور مسلمانوں کو یہ مال کیساہےتو نکاح پڑھانے والا اور اس مال کالینے والاگنہگار ہوگا یانہیں بالتفصیل ارقام فرمائیںرب العزت آقائے نامدار کو فی الدارین جزائے خیر عطا فرمائے۔
الجواب:
یہ لوگ اگر باوصف ان حرکات کے اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں تو مرتد ہیں ورنہ کافر مشرکبہر حال سے شادی بیاہ حرام وزنا اور ان کے جنازہ کی نماز حرام قطعیاور ان سے کوئی برتاؤ مسلمانوں کا سارکھنا حرامرہا نکاح پڑھانا اگر پہلی صورت کے ہیں جب تو ان کا نکاح کسی سے ممکن ہی نہیںنہ مسلمان سے نہ کافر سےنہ اس کے ہم مذہب مرتد سےنہ اس کے مرد کا نہ عورت کا۔اور اگر دوسری صورت کے ہیں تو مسلمان عورت کا ان سے یا مسلمان مرد کا ایسی عورت سے نکاح باطل وحرام ہے ان صورتوں میں نکاح پڑھانے والا زنا کا دلال ہے اور اگر وہ مرتد نہیں اصلی کافرہیں تو ان کے عورت و مرد کا نکاح اگرچہ کسی کافر یا کافرہ سے ہوسکے مگر مسلمان کو اس کاپڑھانا نہ چاہئے وہ سونا کو جلد لے آتے ہیں اگر معلوم یا گمان غالب ہوکہ چراکر یا ٹھك کرلاتے ہیں تو اس کالینا بھی حرام اور اسے مسجد یا میلاد مبارك یا کسی کارخیر میں صرف کرنا بھی حراماگر اس کا گمان غالب نہیں شك ہے تو بچنا بہتر اور لیں اور لگائیں تو گناہ نہیں
قال محمد بہ ناخذ مالم نعرف شیئا حراما لعینہ ذخیرہہندیۃ۔واﷲ تعالی اعلم۔ امام محمد فرماتے ہیں ہم اس پر عمل پیرا ہیںجب تك کسی شیئ کو ہم حرام لعینہ نہ جان لیںذخیرہہندیہ۔واﷲتعالی اعلم۔
الجواب:
یہ لوگ اگر باوصف ان حرکات کے اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں تو مرتد ہیں ورنہ کافر مشرکبہر حال سے شادی بیاہ حرام وزنا اور ان کے جنازہ کی نماز حرام قطعیاور ان سے کوئی برتاؤ مسلمانوں کا سارکھنا حرامرہا نکاح پڑھانا اگر پہلی صورت کے ہیں جب تو ان کا نکاح کسی سے ممکن ہی نہیںنہ مسلمان سے نہ کافر سےنہ اس کے ہم مذہب مرتد سےنہ اس کے مرد کا نہ عورت کا۔اور اگر دوسری صورت کے ہیں تو مسلمان عورت کا ان سے یا مسلمان مرد کا ایسی عورت سے نکاح باطل وحرام ہے ان صورتوں میں نکاح پڑھانے والا زنا کا دلال ہے اور اگر وہ مرتد نہیں اصلی کافرہیں تو ان کے عورت و مرد کا نکاح اگرچہ کسی کافر یا کافرہ سے ہوسکے مگر مسلمان کو اس کاپڑھانا نہ چاہئے وہ سونا کو جلد لے آتے ہیں اگر معلوم یا گمان غالب ہوکہ چراکر یا ٹھك کرلاتے ہیں تو اس کالینا بھی حرام اور اسے مسجد یا میلاد مبارك یا کسی کارخیر میں صرف کرنا بھی حراماگر اس کا گمان غالب نہیں شك ہے تو بچنا بہتر اور لیں اور لگائیں تو گناہ نہیں
قال محمد بہ ناخذ مالم نعرف شیئا حراما لعینہ ذخیرہہندیۃ۔واﷲ تعالی اعلم۔ امام محمد فرماتے ہیں ہم اس پر عمل پیرا ہیںجب تك کسی شیئ کو ہم حرام لعینہ نہ جان لیںذخیرہہندیہ۔واﷲتعالی اعلم۔
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ کتاب الکراہیۃ الباب الثانی فی الہدایا والضیافات نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۲۴۲
مسئلہ۱۰۸:ازمیرٹھ دفتر رسالہ خیال دفتر رسالہ خیال بازار بزازہ مرسلہ حافظ سید ناظر حسین چشتی صابری عابدی و سید عزیز احمد چشتی صابری عابدی وشرف الدین احمد صوفی وارثی قادری رزاقی ۴ربیع الاول ۱۳۳۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اشرف علی صاحب تھانوی کے ایك معتقد نے اپنے خواب و بیداری کاحال جو ذیل میں درج ہے لکھ کر تھانوی کے پاس بھیجا جس کا جواب انہوں نے رسالہ الامداد ماہ صفر ۱۳۳۶ھ میں حسب ذیل الفاظ میں دیادریافت طلب امریہ ہے کہ یہ جواب ان کا بموجب شرع شریف کہاں تك درست اور صحیح ہے نیز حضرت امام اعظم ابوحنیفہ رضی اﷲ تعالی عنہ کے مسلك کے مطابق تھانوی صاحب کی نسبت حکم شرع شریف کا کیا صادر ہوا ہے
خلاصہ خواب:بجائے کلمہ طیبہ کے دوسرے جز کے یوں پڑھتا ہوں کہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے نام نامی کی جگہ تھانوی کا نام لیتا ہوں ہر چند قصد کرتا ہوں لیکن یہی زبان سے نکلتا ہے بعد بیداری اس غلطی کی تلافی میں درود شریف پڑھنا چاہا تو اس میں بھی بے اختیار تھانوی کا نام زبان پر آجاتا ہے۔
جواب خواب: اس واقعہ میں تسلی ہے کہ جس کی طرف رجوع کرتے ہو وہ متبع سنت ہے ۔
الجواب:
سیدی امام بوصیری قدس سرہ صاحب بردہ شریف امام القری میں فرماتے ہیں:ما علی مثلہ بعد الخطاء (خطا کے بعد اس کی مثل مجھ پر نہیں۔ت)دیوبندیوں کے کفر کا پانی ان کے سر سے گزر گیا ہے جس کا حال کتاب مستطاب"حسام الحرمین شریف"سے ظاہرہے یہ لوگ اﷲورسول جل وعلا وصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو شدید گالیاں دے چکے اور ان پر اب تك قائم ہیںان علمائے حرمین شریفین نے بالاتفاق نام بنام ان سب کی تکفیر کی اور صاف فرمایا:
من شك فی کفرہ وعذابہ فقد کفر ۔ جس نے ان کے کفر وعذاب میں شك کیا وہ بھی کافر ہے(ت)
جوان کے اقوال پر مطلع ہو کر ان کے کافر ہونے میں شك بھی کرے وہ خود کافرپھر ایسوں کی کسی بات کی شکایت کیاان کے بڑے قاسم نانوتوی نے تحذیر الناس میں صاف لکھ دیا کہ"اگر بالفرض بعد زمانہ نبوی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بھی کوئی نبی پیدا ہو تو پھر بھی خاتمیت محمدی میں کچھ فرق نہ آئے گا" ۔
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اشرف علی صاحب تھانوی کے ایك معتقد نے اپنے خواب و بیداری کاحال جو ذیل میں درج ہے لکھ کر تھانوی کے پاس بھیجا جس کا جواب انہوں نے رسالہ الامداد ماہ صفر ۱۳۳۶ھ میں حسب ذیل الفاظ میں دیادریافت طلب امریہ ہے کہ یہ جواب ان کا بموجب شرع شریف کہاں تك درست اور صحیح ہے نیز حضرت امام اعظم ابوحنیفہ رضی اﷲ تعالی عنہ کے مسلك کے مطابق تھانوی صاحب کی نسبت حکم شرع شریف کا کیا صادر ہوا ہے
خلاصہ خواب:بجائے کلمہ طیبہ کے دوسرے جز کے یوں پڑھتا ہوں کہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے نام نامی کی جگہ تھانوی کا نام لیتا ہوں ہر چند قصد کرتا ہوں لیکن یہی زبان سے نکلتا ہے بعد بیداری اس غلطی کی تلافی میں درود شریف پڑھنا چاہا تو اس میں بھی بے اختیار تھانوی کا نام زبان پر آجاتا ہے۔
جواب خواب: اس واقعہ میں تسلی ہے کہ جس کی طرف رجوع کرتے ہو وہ متبع سنت ہے ۔
الجواب:
سیدی امام بوصیری قدس سرہ صاحب بردہ شریف امام القری میں فرماتے ہیں:ما علی مثلہ بعد الخطاء (خطا کے بعد اس کی مثل مجھ پر نہیں۔ت)دیوبندیوں کے کفر کا پانی ان کے سر سے گزر گیا ہے جس کا حال کتاب مستطاب"حسام الحرمین شریف"سے ظاہرہے یہ لوگ اﷲورسول جل وعلا وصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو شدید گالیاں دے چکے اور ان پر اب تك قائم ہیںان علمائے حرمین شریفین نے بالاتفاق نام بنام ان سب کی تکفیر کی اور صاف فرمایا:
من شك فی کفرہ وعذابہ فقد کفر ۔ جس نے ان کے کفر وعذاب میں شك کیا وہ بھی کافر ہے(ت)
جوان کے اقوال پر مطلع ہو کر ان کے کافر ہونے میں شك بھی کرے وہ خود کافرپھر ایسوں کی کسی بات کی شکایت کیاان کے بڑے قاسم نانوتوی نے تحذیر الناس میں صاف لکھ دیا کہ"اگر بالفرض بعد زمانہ نبوی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بھی کوئی نبی پیدا ہو تو پھر بھی خاتمیت محمدی میں کچھ فرق نہ آئے گا" ۔
حوالہ / References
رسالہ الامداد مطبوعہ تھانہ بھون ص۳۵
رسالہ الامداد مطبوعہ تھانہ بھون ص۳۵
القصیدۃ الہمزیۃ فی المدح النبویۃ مع حاشیۃ الفتوحات الاحمدیۃ المکتبۃ التجاریۃ الکبرٰی مصر ص۳۹
مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر باب احکام الجزیۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۶۷۷،حسام الحرمین مکتبہ نبویہ لاہور ص۳۱
تحذیر الناس کتب خانہ امدادیہ دیوبند ص۲۴
رسالہ الامداد مطبوعہ تھانہ بھون ص۳۵
القصیدۃ الہمزیۃ فی المدح النبویۃ مع حاشیۃ الفتوحات الاحمدیۃ المکتبۃ التجاریۃ الکبرٰی مصر ص۳۹
مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر باب احکام الجزیۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۶۷۷،حسام الحرمین مکتبہ نبویہ لاہور ص۳۱
تحذیر الناس کتب خانہ امدادیہ دیوبند ص۲۴
یہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی خاتمیت سے صاف انکار ہے اور آیہ کریمہ" ولکن رسول اللہ و خاتم النبین " (اور لیکن آپ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اﷲکے رسول اور آخری نبی ہیں۔ت)کی صریح تکذیب ہے پھر یہ لوگ اگر صاف صاف ادعائے نبوت ورسالت کریں تو ان سے کیا بعید ہےمسلمان ہوتا تو ایسی بات سن کر لرزجاتااور اس کفر بکنے والے سے کہتا کہ خبیث منہ بندکر کفر نہ بکنہ کہ اسے اور تسلی دی اور اس کی رجسٹری کردی
" و سیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون ﴿۲۲۷﴾ " ۔واﷲ تعالی اعلم۔ اب جانا چاہتے ہیں کہ ظالم کس کروٹ پلٹا کھائیں گے۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ۱۰۹تا۱۲۰: مسئولہ محمد خلیل الدین صاحب صدیقی بریلوی از کان پور امین گنج نمبر۴۸
کیافرماتے ہیں علمائے دین متین و مفتیان شرع مبین اس مسئلہ میں کہ ایك مقلد شخص ایك آزاد شخص کی کہ جس کی تعریفات ذیل میں لکھی جاتی ہیں نماز میں اقتدا نہیں کرتا کیابوجہ ترك اقتدا ایسے آزاد شخص کی یہ شخص مقلد قابل ملامت ہے۔
(۱)شخص آزاد اپنے آپ کو صدرالعلماء اور شیخ الشیوخ مشہور کرتا ہےفلسفہ قدیم و جدید سائنس وکمسٹریسنسکرت وانگریزی کا ماہر واستاذ وپیر روشن ضمیر اور مناظر وداعی اسلام ہونے کا دعوی کرتا ہے اور شیخ الاسلام ہند ہونے کا متمنی وامیدوار ہےلیکن فقہ حنفیہ کی تحقیر عملا کرتا ہےاور آیات قرآنی واحادیث نبوی کے معانی وتفسیر اپنی رائے سے بیان کرتاہےامام غزالی اور امام رازی کو اپنے مقابلہ میں احمق وسفیہ کہتا ہے اور شبلی نیچری کی طرح صحابہ و محدثین و مفسرین رضی اﷲتعالی عنہم کو جھوٹا سمجھتا ہے۔
(۲)اپنے لب بالا کے بال سکھوں کی طرح بڑھائے رکھتا ہے۔
(۳)موسم سرما میں بعد جماع کے غسل جنابت اور وضو کے بجائے تیمم کرکے بارہا امامت کی۔
(۴)مسجد میں بیٹھ کر مسجد کے ظروف گلی میں اسپرٹ آمیز دواپیاسپرٹ کو حرام وناپاك نہیں سمجھتا ہے۔
(۵)سود پر روپیہ دیتا ہے اور سود لینا جائز سمجھتا ہے۔
(۶)رمضان میں بلاعذر علالت ومسافرت روزوں کے بجائے فدیہ دے دینا کافی سمجھتا ہےیطیقونہ
" و سیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون ﴿۲۲۷﴾ " ۔واﷲ تعالی اعلم۔ اب جانا چاہتے ہیں کہ ظالم کس کروٹ پلٹا کھائیں گے۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ۱۰۹تا۱۲۰: مسئولہ محمد خلیل الدین صاحب صدیقی بریلوی از کان پور امین گنج نمبر۴۸
کیافرماتے ہیں علمائے دین متین و مفتیان شرع مبین اس مسئلہ میں کہ ایك مقلد شخص ایك آزاد شخص کی کہ جس کی تعریفات ذیل میں لکھی جاتی ہیں نماز میں اقتدا نہیں کرتا کیابوجہ ترك اقتدا ایسے آزاد شخص کی یہ شخص مقلد قابل ملامت ہے۔
(۱)شخص آزاد اپنے آپ کو صدرالعلماء اور شیخ الشیوخ مشہور کرتا ہےفلسفہ قدیم و جدید سائنس وکمسٹریسنسکرت وانگریزی کا ماہر واستاذ وپیر روشن ضمیر اور مناظر وداعی اسلام ہونے کا دعوی کرتا ہے اور شیخ الاسلام ہند ہونے کا متمنی وامیدوار ہےلیکن فقہ حنفیہ کی تحقیر عملا کرتا ہےاور آیات قرآنی واحادیث نبوی کے معانی وتفسیر اپنی رائے سے بیان کرتاہےامام غزالی اور امام رازی کو اپنے مقابلہ میں احمق وسفیہ کہتا ہے اور شبلی نیچری کی طرح صحابہ و محدثین و مفسرین رضی اﷲتعالی عنہم کو جھوٹا سمجھتا ہے۔
(۲)اپنے لب بالا کے بال سکھوں کی طرح بڑھائے رکھتا ہے۔
(۳)موسم سرما میں بعد جماع کے غسل جنابت اور وضو کے بجائے تیمم کرکے بارہا امامت کی۔
(۴)مسجد میں بیٹھ کر مسجد کے ظروف گلی میں اسپرٹ آمیز دواپیاسپرٹ کو حرام وناپاك نہیں سمجھتا ہے۔
(۵)سود پر روپیہ دیتا ہے اور سود لینا جائز سمجھتا ہے۔
(۶)رمضان میں بلاعذر علالت ومسافرت روزوں کے بجائے فدیہ دے دینا کافی سمجھتا ہےیطیقونہ
میں سلب ماخذ یا حذف لاکو نہیں مانتا۔
(۷)ایك محصنہ عورت سے ربط وضبط پیداکرکے اس کے شوہر کو دھوکا دے کر طلاق دلواکر اپنے تصرف میں لایا۔
(۸)اس کے دور کے رشتہ دار اس کی جوروؤں کے ساتھ اس کے پیچھے اور اس کے سامنے بے تکلف مخالطت رکھتے ہیں اور وہ منع نہیں کرتااس کی جورو اس کے ماں باپ کو مغلظات فحش گالیاں دیتی ہے اور وہ خاموش سنتا رہتا ہے۔
(۹)ایك مرتبہ نماز مغرب میں دورکعت پڑھ کر سلام پھیر دیاآگاہ کرنے پر کہا کہ بحالت مسافرت قصدا قصر کیا تھا۔
(۱۰)ایك مرتبہ نماز عشاء میں ایك رکعت میں آیہ الکرسی پڑھی لیکن چند الفاظ چھوڑ گیا متنبہ کرنے پر کہا تین آیت کی مقدار پڑھنے کے بعد غلطی ہوجانے سے نماز کااعادہ ضروری نہیں ۔
(۱۱)ہزارہا مسلمانوں کے ایك جلسہ میں ایك آیت کی تفسیرمیں رجال کے معنی میں عورتوں کو بھی شامل کرکے بیان کیا کہ حضرت نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نہ کسی مرد کے باپ تھے اور نہ کسی عورت کے باپ تھے۔
(۱۲)اپنے پیر کو کہتا ہے کہ وہ بمنزلہ حضرت یحیی علیہ السلام کے ہے اور اپنے آپ کوبمنزلہ حضرت عیسی علیہ السلام کے بتاتا ہے اور کہتا ہے کہ میرا پیر جب کسی کو مرید کرتا ہےاس سے مراد ہے کہ میری بیعت لیتا ہے اور جو دوسرے مشائخ مرید کرتے ہیں وہ بھی میری بیعت میں داخل ہوتے ہیں اس طرح کنایۃ دعوی نبوت و رسالت بھی کرتاہے۔
الجواب
(۱)فقہ حنفی کی تحقیر ضلالت ہے۔تفسیر بالرائے حرام امام غزالی اور امام رازی کو اپنے مقابلہ میں ایسے الفاظ سخیفہ سے یاد کرنا سخت تکبر ہے اور متکبروں کا ٹھکانا جہنم ہے
" الیس فی جہنم مثوی للمتکبرین ﴿۶۰﴾ " ۔ کیا مغرور کا ٹھکانا جہنم میں نہیں(ت)
صحابہ کرام کو جھوٹا سمجھنے والا گمراہ بددین ہے۔اور اگر سب صحابہ کو عموما ایسا سمجھے تو کافر بالیقین ہے۔
(۲)لب بالا کے بال حد سے متجاوز رکھنا سنت کی مخالفت اور کافروں سے تشبہ ہے۔
(۷)ایك محصنہ عورت سے ربط وضبط پیداکرکے اس کے شوہر کو دھوکا دے کر طلاق دلواکر اپنے تصرف میں لایا۔
(۸)اس کے دور کے رشتہ دار اس کی جوروؤں کے ساتھ اس کے پیچھے اور اس کے سامنے بے تکلف مخالطت رکھتے ہیں اور وہ منع نہیں کرتااس کی جورو اس کے ماں باپ کو مغلظات فحش گالیاں دیتی ہے اور وہ خاموش سنتا رہتا ہے۔
(۹)ایك مرتبہ نماز مغرب میں دورکعت پڑھ کر سلام پھیر دیاآگاہ کرنے پر کہا کہ بحالت مسافرت قصدا قصر کیا تھا۔
(۱۰)ایك مرتبہ نماز عشاء میں ایك رکعت میں آیہ الکرسی پڑھی لیکن چند الفاظ چھوڑ گیا متنبہ کرنے پر کہا تین آیت کی مقدار پڑھنے کے بعد غلطی ہوجانے سے نماز کااعادہ ضروری نہیں ۔
(۱۱)ہزارہا مسلمانوں کے ایك جلسہ میں ایك آیت کی تفسیرمیں رجال کے معنی میں عورتوں کو بھی شامل کرکے بیان کیا کہ حضرت نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نہ کسی مرد کے باپ تھے اور نہ کسی عورت کے باپ تھے۔
(۱۲)اپنے پیر کو کہتا ہے کہ وہ بمنزلہ حضرت یحیی علیہ السلام کے ہے اور اپنے آپ کوبمنزلہ حضرت عیسی علیہ السلام کے بتاتا ہے اور کہتا ہے کہ میرا پیر جب کسی کو مرید کرتا ہےاس سے مراد ہے کہ میری بیعت لیتا ہے اور جو دوسرے مشائخ مرید کرتے ہیں وہ بھی میری بیعت میں داخل ہوتے ہیں اس طرح کنایۃ دعوی نبوت و رسالت بھی کرتاہے۔
الجواب
(۱)فقہ حنفی کی تحقیر ضلالت ہے۔تفسیر بالرائے حرام امام غزالی اور امام رازی کو اپنے مقابلہ میں ایسے الفاظ سخیفہ سے یاد کرنا سخت تکبر ہے اور متکبروں کا ٹھکانا جہنم ہے
" الیس فی جہنم مثوی للمتکبرین ﴿۶۰﴾ " ۔ کیا مغرور کا ٹھکانا جہنم میں نہیں(ت)
صحابہ کرام کو جھوٹا سمجھنے والا گمراہ بددین ہے۔اور اگر سب صحابہ کو عموما ایسا سمجھے تو کافر بالیقین ہے۔
(۲)لب بالا کے بال حد سے متجاوز رکھنا سنت کی مخالفت اور کافروں سے تشبہ ہے۔
حوالہ / References
القرآن الکریم ۳۹ /۶۰
(۳)پانی اگر ضرر نہ کرتا ہو تو صرف خوف سردی سے تیمم کرنا حرام ہے اور نماز باطل اور اس کے پیچھے سب کی نماز باطل ایسا کرنے والا اشد فاسق۔
(۴)اسپرٹ حرام ہی نہیں بلکہ نجس بھی ہےاپنے ہی منہ میں پیناتوحرام ونجس چیز کھانے پینے کا آج کل ہر شخص کو اختیار ہےمگر مسجد کے برتن نجس کئے کہ مسلمانوں کے جامہ و بدن ناپاك اور وضو و نماز باطل ہوںیہ صاف دلیل ہے کہ یہ شخص شریعت پر سخت جری وبیباك ہے۔
(۵)سود لینے کو حلال جاننا کفر صریح ہے اور حرام جان کر ایك درم سود کھانا اپنی ماں سے ۳۶ بار زنا کے برابر ہے
من اکل درھم ربا وھو یعلم فکانما زنی بامہ ستا و ثلثین مرۃ ۔ جس نے عمدا ایك درہم سود کھایا اس نے اپنی ماں سے چھتیس ۳۶دفعہ زنا کیا۔(ت)
(۶)بے عذر مرض و سفر روزے رمضان کے نہ رکھنا اور فدیہ کافی جاننا قرآن عظیم کی تحریف اور نئی شریعت کا ایجاد اور جہنم کبری کا استحقاق ہے۔
" نولہ ما تولی ونصلہ جہنم وساءت مصیرا﴿۱۱۵﴾ " ۔ ہم اسے اس کے حال پر چھوڑدیں گے اور اسے دوزخ میں داخل کریں گے اور کیا ہی بری جگہ پلٹنے کی۔(ت)
(۷)سائل نے تصرف میں لانا مطلق لکھا اگر بلا نکاح یا عدت کے اندر نکاح کے ساتھ ہے توزنا ہےورنہ دھوکا دینے پر سرکار دو عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:
من غشنا فلیس منا ۔ جس نے ملاوٹ کی وہ ہم میں سے نہیں۔(ت)
(۸)اپنی منکوحہ پرغیرت نہ کرنے والا دیوث ہے اور ماں باپ کو فحش گالیاں جورو سے سن کر خاموش رہنے والا عاق ہےاور دیوث وعاق دونوں کو فرمایا کہ وہ جنت میں نہ جائیں گے۔
(۹)مغرب میں قصر کرنا نئی شریعت کا نکالنا اور اﷲ تعالی پر افتراء ہے
" ان الذین یفترون علی اللہ الکذب بیشك جو اﷲ پر جھوٹ باندھتے ہیں انکا بھلا
(۴)اسپرٹ حرام ہی نہیں بلکہ نجس بھی ہےاپنے ہی منہ میں پیناتوحرام ونجس چیز کھانے پینے کا آج کل ہر شخص کو اختیار ہےمگر مسجد کے برتن نجس کئے کہ مسلمانوں کے جامہ و بدن ناپاك اور وضو و نماز باطل ہوںیہ صاف دلیل ہے کہ یہ شخص شریعت پر سخت جری وبیباك ہے۔
(۵)سود لینے کو حلال جاننا کفر صریح ہے اور حرام جان کر ایك درم سود کھانا اپنی ماں سے ۳۶ بار زنا کے برابر ہے
من اکل درھم ربا وھو یعلم فکانما زنی بامہ ستا و ثلثین مرۃ ۔ جس نے عمدا ایك درہم سود کھایا اس نے اپنی ماں سے چھتیس ۳۶دفعہ زنا کیا۔(ت)
(۶)بے عذر مرض و سفر روزے رمضان کے نہ رکھنا اور فدیہ کافی جاننا قرآن عظیم کی تحریف اور نئی شریعت کا ایجاد اور جہنم کبری کا استحقاق ہے۔
" نولہ ما تولی ونصلہ جہنم وساءت مصیرا﴿۱۱۵﴾ " ۔ ہم اسے اس کے حال پر چھوڑدیں گے اور اسے دوزخ میں داخل کریں گے اور کیا ہی بری جگہ پلٹنے کی۔(ت)
(۷)سائل نے تصرف میں لانا مطلق لکھا اگر بلا نکاح یا عدت کے اندر نکاح کے ساتھ ہے توزنا ہےورنہ دھوکا دینے پر سرکار دو عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:
من غشنا فلیس منا ۔ جس نے ملاوٹ کی وہ ہم میں سے نہیں۔(ت)
(۸)اپنی منکوحہ پرغیرت نہ کرنے والا دیوث ہے اور ماں باپ کو فحش گالیاں جورو سے سن کر خاموش رہنے والا عاق ہےاور دیوث وعاق دونوں کو فرمایا کہ وہ جنت میں نہ جائیں گے۔
(۹)مغرب میں قصر کرنا نئی شریعت کا نکالنا اور اﷲ تعالی پر افتراء ہے
" ان الذین یفترون علی اللہ الکذب بیشك جو اﷲ پر جھوٹ باندھتے ہیں انکا بھلا
حوالہ / References
مسند امام احمد بن حنبل حدیث حضرت عبداﷲ بن حنظلہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ دارالفکر بیروت ۵/ ۲۲۵
القرآن الکریم ۴ /۱۱۵
صحیح مسلم کتاب الایمان باب قول النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم من غشنا فلیس منا قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۷۰
القرآن الکریم ۴ /۱۱۵
صحیح مسلم کتاب الایمان باب قول النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم من غشنا فلیس منا قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۷۰
" لایفلحون ﴿۶۹﴾" نہ ہوگا۔(ت)
(۱۰)آیۃ الکرسی میں چند الفاظ کا بیچ میں سے چھوڑجانا اگرچہ ایك مذہب پر مطلقا مفسد نماز ہے جبکہ صرف آیۃ الکرسی ہی پڑھی ہو اور جب کوئی لفظ چھوٹ گیا آیت پوری نہ ہوئیمذہب راجح میں بے فساد معنی فساد نماز نہیںاور واجب بھی ادا ہوجائے گا جبکہ باقی تین آیت کی قدر ہومگر یہ مسئلہ کہ تین آیت کی قدر پڑھنے کے بعد کوئی غلطی مفسد نماز نہیں ہوتی محض باطل ۔
(۱۱)یہ صراحۃ آیہ کریمہ" یایہا النبی قل لازوجک و بناتک" (اے نبی!اپنی بیبیوں اور صاحبزادیوں سے فرمادو۔ت)کی تکذیب ہے اورآیت کی تکذیب کفر۔
(۱۲)اس قول میں کمال تکبر ہے اور وہ آیہ کریمہ" لقد استکبروا فی انفسہم و عتو عتوا کبیرا ﴿۲۱﴾ " (بیشك اپنے جی میں بہت ہی اونچی کھینچی اور بڑی سرکشی پرآئے۔ت)میں داخل ہوتا ہے اور یہ کہ جو بیعت لیتا ہے میری ہی لئے لیتا ہے درپردہ رسالت ونبوت یا کم از کم غوثیت عظمی کا ادعا ہے بالجملہ افعال واقوال مذکورہ فسق وضلال وکفر میں دائر ہیں ایسے شخص کے پیچھے نماز باطل محض ہےجو مسلمان اس کی اقتداء سے بچتا ہے وہ بہت اچھا کرتا ہے اس پر ملامت حق پر ملامت ہےجو اس کے پیچھے نماز پڑھے وہی مستحق ملامتبلکہ سزا وارعذاب شدید ہےوالعیاذ باﷲواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۱۲۱: از شہر پونہ گھوڑ پوڑی بازار متصل مسجد مکان نمبر۲۷بھولی بخش بالور
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك عورت ہےوہ پیشتر قوم چمار تھیبعد میں مسلمان ہو کر ایك مرد مسلمان سے اس نے نکاح کرلیااس سے پہلے اسی قوم میں شادی ہوچکی تھیکیونکہ اس کے ایك لڑکا ہےاب وہ عورت اپنی قوم میں جانا چاہتی ہے اور اس کے خاندان کے لوگ اور اس کا بیٹا اس کو ورغلارہے ہیں کہ تو اپنی قوم میں آجا تجھ کو اچھی طرح رکھیں گےاور وہ عورت میرے یہاں کھانا پکانے پر ملازم ہے اور وہ عورت بھی جانا چاہتی ہےتو اب ہم کو شرع شریف کیا حکم دیتی ہے کہ ہم کس طریقہ سے اس کو رکھیں اور اس کے اسلام میں تو کوئی ضعف نہیں ہے اور ہم کو اسے
(۱۰)آیۃ الکرسی میں چند الفاظ کا بیچ میں سے چھوڑجانا اگرچہ ایك مذہب پر مطلقا مفسد نماز ہے جبکہ صرف آیۃ الکرسی ہی پڑھی ہو اور جب کوئی لفظ چھوٹ گیا آیت پوری نہ ہوئیمذہب راجح میں بے فساد معنی فساد نماز نہیںاور واجب بھی ادا ہوجائے گا جبکہ باقی تین آیت کی قدر ہومگر یہ مسئلہ کہ تین آیت کی قدر پڑھنے کے بعد کوئی غلطی مفسد نماز نہیں ہوتی محض باطل ۔
(۱۱)یہ صراحۃ آیہ کریمہ" یایہا النبی قل لازوجک و بناتک" (اے نبی!اپنی بیبیوں اور صاحبزادیوں سے فرمادو۔ت)کی تکذیب ہے اورآیت کی تکذیب کفر۔
(۱۲)اس قول میں کمال تکبر ہے اور وہ آیہ کریمہ" لقد استکبروا فی انفسہم و عتو عتوا کبیرا ﴿۲۱﴾ " (بیشك اپنے جی میں بہت ہی اونچی کھینچی اور بڑی سرکشی پرآئے۔ت)میں داخل ہوتا ہے اور یہ کہ جو بیعت لیتا ہے میری ہی لئے لیتا ہے درپردہ رسالت ونبوت یا کم از کم غوثیت عظمی کا ادعا ہے بالجملہ افعال واقوال مذکورہ فسق وضلال وکفر میں دائر ہیں ایسے شخص کے پیچھے نماز باطل محض ہےجو مسلمان اس کی اقتداء سے بچتا ہے وہ بہت اچھا کرتا ہے اس پر ملامت حق پر ملامت ہےجو اس کے پیچھے نماز پڑھے وہی مستحق ملامتبلکہ سزا وارعذاب شدید ہےوالعیاذ باﷲواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۱۲۱: از شہر پونہ گھوڑ پوڑی بازار متصل مسجد مکان نمبر۲۷بھولی بخش بالور
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك عورت ہےوہ پیشتر قوم چمار تھیبعد میں مسلمان ہو کر ایك مرد مسلمان سے اس نے نکاح کرلیااس سے پہلے اسی قوم میں شادی ہوچکی تھیکیونکہ اس کے ایك لڑکا ہےاب وہ عورت اپنی قوم میں جانا چاہتی ہے اور اس کے خاندان کے لوگ اور اس کا بیٹا اس کو ورغلارہے ہیں کہ تو اپنی قوم میں آجا تجھ کو اچھی طرح رکھیں گےاور وہ عورت میرے یہاں کھانا پکانے پر ملازم ہے اور وہ عورت بھی جانا چاہتی ہےتو اب ہم کو شرع شریف کیا حکم دیتی ہے کہ ہم کس طریقہ سے اس کو رکھیں اور اس کے اسلام میں تو کوئی ضعف نہیں ہے اور ہم کو اسے
کیسی امداد دینی چاہئے اور وہ میرے قبضہ میں بھی ہے اور اس کو ہم نے سمجھا سمجھا کر رکھا ہے ورنہ وہ اب تك اپنی قوم میں شریك ہوجاتیفقط۔
الجواب:
جب وہ کافروں میں جاملنا اور کافر ہونا چاہتی ہے تو وہ کافر ہوگئی جبرا روك رکھنے سے مسلمان نہیں ہوسکتیہاں اگریہ سمجھا جائے کہ اس روکنے سے وہ خواہش کفر اس کے دل سے نکل جائے گی اور پھر صدق دل سے مسلمان ہوجائے گی تو روکا جائے ورنہ دور کیا جائے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۱۲۲: از درؤ ڈاك خانہ خاص ضلع نینی تال مرسلہ عبداﷲ ۶شعبان المعظم ۱۳۳۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ کچھ آدمی حضور کے عقائد کو بہت اچھا اور بہتر جانتے ہیں اور دیوبندی مولویوں کے عقاید کو بہت براجانتے ہیں اور بڑے پکے سنت جماعت ہیں لیکن بہ سبب بے علمی اور نادانی کے ان کے پیچھے نماز پڑھ لیتے ہیںحضور کی تحریروں سے اتنا شوق نہیں جو حق اور ناحق معلوم کریںآیا ان کے پیچھے بھی نماز پڑھی جائے یانہیںاور اس مرض میں بہت مخلوق مبتلا ہے۔
الجواب:
جسے یہ معلوم ہوکہ دیوبندیوں نے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی توہین کی ہے پھر ان کے پیچھے نماز پڑھتا ہے اسے مسلمان نہ کہا جائے گا کہ پیچھے نماز پڑھنا اس کی ظاہر دلیل ہے کہ ان کو مسلمان سمجھا اور رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی توہین کرنے والے کو مسلمان سمجھنا کفر ہے اسی لئے علمائے حرمین شریفین نے بالاتفاق دیوبندیوں کو کافرمرتد لکھا اور صاف فرمایاکہ:
من شك فی کفرہ وعذابہ فقد کفر ۔ جس نے ان کے کفر وعذاب میں شك کیا وہ بھی کافر ہے(ت)
جوان کے عقائد پر مطلع ہو کر انہیں مسلمان جاننا درکنار ان کے کفر میں شك ہی کرے وہ بھی کافر اور جن کو اس کی خبر نہیں اجمالا اتنا معلوم ہے کہ یہ برے لوگ بدعقیدہ بد مذہب ہیں وہ ان کے پیچھے نماز پڑھنے سے سخت اشد گنہگار ہوتے ہیں اور ان کی وہ نمازیں سب باطل وبیکارواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۱۲۳: از بخشی بازار کٹك مرسلہ محمدعبدالرزاق ۱۲رمضان ۱۳۳۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص کا عقیدہ ہے اﷲ ورسول اﷲ صلی اﷲ تعالی
الجواب:
جب وہ کافروں میں جاملنا اور کافر ہونا چاہتی ہے تو وہ کافر ہوگئی جبرا روك رکھنے سے مسلمان نہیں ہوسکتیہاں اگریہ سمجھا جائے کہ اس روکنے سے وہ خواہش کفر اس کے دل سے نکل جائے گی اور پھر صدق دل سے مسلمان ہوجائے گی تو روکا جائے ورنہ دور کیا جائے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۱۲۲: از درؤ ڈاك خانہ خاص ضلع نینی تال مرسلہ عبداﷲ ۶شعبان المعظم ۱۳۳۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ کچھ آدمی حضور کے عقائد کو بہت اچھا اور بہتر جانتے ہیں اور دیوبندی مولویوں کے عقاید کو بہت براجانتے ہیں اور بڑے پکے سنت جماعت ہیں لیکن بہ سبب بے علمی اور نادانی کے ان کے پیچھے نماز پڑھ لیتے ہیںحضور کی تحریروں سے اتنا شوق نہیں جو حق اور ناحق معلوم کریںآیا ان کے پیچھے بھی نماز پڑھی جائے یانہیںاور اس مرض میں بہت مخلوق مبتلا ہے۔
الجواب:
جسے یہ معلوم ہوکہ دیوبندیوں نے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی توہین کی ہے پھر ان کے پیچھے نماز پڑھتا ہے اسے مسلمان نہ کہا جائے گا کہ پیچھے نماز پڑھنا اس کی ظاہر دلیل ہے کہ ان کو مسلمان سمجھا اور رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی توہین کرنے والے کو مسلمان سمجھنا کفر ہے اسی لئے علمائے حرمین شریفین نے بالاتفاق دیوبندیوں کو کافرمرتد لکھا اور صاف فرمایاکہ:
من شك فی کفرہ وعذابہ فقد کفر ۔ جس نے ان کے کفر وعذاب میں شك کیا وہ بھی کافر ہے(ت)
جوان کے عقائد پر مطلع ہو کر انہیں مسلمان جاننا درکنار ان کے کفر میں شك ہی کرے وہ بھی کافر اور جن کو اس کی خبر نہیں اجمالا اتنا معلوم ہے کہ یہ برے لوگ بدعقیدہ بد مذہب ہیں وہ ان کے پیچھے نماز پڑھنے سے سخت اشد گنہگار ہوتے ہیں اور ان کی وہ نمازیں سب باطل وبیکارواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۱۲۳: از بخشی بازار کٹك مرسلہ محمدعبدالرزاق ۱۲رمضان ۱۳۳۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص کا عقیدہ ہے اﷲ ورسول اﷲ صلی اﷲ تعالی
حوالہ / References
مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر باب احکام الجزیہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۶۷۷،حسام الحرمین مکتبہ نبویہ لاہور ص۳۱
علیہ وسلم کا علم برابر ہے اور دوسرا شخص یہ کہتا ہے کہ رسول اﷲصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے مغیبات عطیہ تھےخدا کے علم کے مقابلے میں حضرت کا علم کروڑہا سمندر کے مقابلہ میں ایك قطرہ سے بھی کم ہےاور شخص اول شخص دوم کو کافر و مشرك ووہابی جانتا ہےخواہ عالم ہو یا جاہل ہم لوگوں نے یہ سنا ہے کہ مولوی احمد رضاخاں صاحب کے برابر کوئی عالم نہیں ہےاور مجدد مائۃ حاضرہ آپ ہی ہیںاور شخص اول ایصال ثواب کو جو عوام الناس دن مقرر کرتے ہیں واجبات میں سے جانتا ہےاور جوایصال ثواب کو بلا تعین کرتا ہے اس کو خاطی کہتا ہے اور اہلسنت سے خارجاور ایصال ثواب کے واسطے دن مقرر کرنے کو سنت سمجھتا ہے اور کہتا ہے مجدد مائۃ حاضرہ کا بھی یہی عقیدہ ہےاس میں حق کیا ہے اور ان دونوں میں کون کافر ہے کون مسلمان
الجواب:
علم الہی سے مساوات کا دعوی بیشك باطل ومردود ہے مگر تکفیر اس پر بھی نہیں ہوسکتی جب کہ بعطائے الہی مانےاور بلاشبہہ حق یہی ہے کہ تمام انبیاء و مرسلین و ملائکہ مقربین واولین آخرین کے مجموعہ علوم مل کر علم باری سے وہ نسبت نہیں رکھ سکتے جو ایك بوند کے کروڑویں حصہ کو کروڑوں سمندروں سے ہےاور ایصال ثواب کے لئے تعین تاریخ بلاشبہہ جائز ہے اور سنت مسلمینیعنی ان کا طریقہ مسلوکہ ہے مگر اسے واجب جاننا باطل محض ہے یونہی سرکار رسالت کی سنت سمجھناواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۱۲۴: از گڑھنگ لج ڈاکخانہ ضلع کولھاپور جامع مسجد مرسلہ آدم شاہ پیش امام ۴رمضان ۱۳۳۸ھ
ایك خاندانی شخص آئین دین وقوانین شریعت کو قصدا وعمدا نہیں مانتا اور اپنے ہی قول وفعل پرہٹ دھرمی کرتا ہو یعنی قطعی جان بوجھ کر اپنی لڑکی کے حرام کی کمائی کھاتا ہو اور وضع حمل حرام ہونے تك اپنے گھر میں رکھ کر ہر قسم کا برتاؤ کرتا اور کسی کی نصیحت بھی نہ مانتا ہو ایسے موذی شخص کے بارے میں علمائے دین کس قسم کے برتاؤ کا حکم دیتے ہیں
الجواب:
ایسا شخص خبیث ومردود دیوث ہے بحکم حدیث اس پر جنت حرام ہے اور بحکم قرآن عظیم اس کے پاس بیٹھنا جائز نہیں
قال اﷲ تعالی" اما ینسینک الشیطن فلا تقعد بعد الذکری مع القوم الظلمین ﴿۶۸﴾ " ۔ اﷲ تعالی نے فرمایا:اور جو کہیں تجھے شیطان بھلا دے تو یاد آئے پر ظالموں کے پاس نہ بیٹھ۔(ت)
الجواب:
علم الہی سے مساوات کا دعوی بیشك باطل ومردود ہے مگر تکفیر اس پر بھی نہیں ہوسکتی جب کہ بعطائے الہی مانےاور بلاشبہہ حق یہی ہے کہ تمام انبیاء و مرسلین و ملائکہ مقربین واولین آخرین کے مجموعہ علوم مل کر علم باری سے وہ نسبت نہیں رکھ سکتے جو ایك بوند کے کروڑویں حصہ کو کروڑوں سمندروں سے ہےاور ایصال ثواب کے لئے تعین تاریخ بلاشبہہ جائز ہے اور سنت مسلمینیعنی ان کا طریقہ مسلوکہ ہے مگر اسے واجب جاننا باطل محض ہے یونہی سرکار رسالت کی سنت سمجھناواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۱۲۴: از گڑھنگ لج ڈاکخانہ ضلع کولھاپور جامع مسجد مرسلہ آدم شاہ پیش امام ۴رمضان ۱۳۳۸ھ
ایك خاندانی شخص آئین دین وقوانین شریعت کو قصدا وعمدا نہیں مانتا اور اپنے ہی قول وفعل پرہٹ دھرمی کرتا ہو یعنی قطعی جان بوجھ کر اپنی لڑکی کے حرام کی کمائی کھاتا ہو اور وضع حمل حرام ہونے تك اپنے گھر میں رکھ کر ہر قسم کا برتاؤ کرتا اور کسی کی نصیحت بھی نہ مانتا ہو ایسے موذی شخص کے بارے میں علمائے دین کس قسم کے برتاؤ کا حکم دیتے ہیں
الجواب:
ایسا شخص خبیث ومردود دیوث ہے بحکم حدیث اس پر جنت حرام ہے اور بحکم قرآن عظیم اس کے پاس بیٹھنا جائز نہیں
قال اﷲ تعالی" اما ینسینک الشیطن فلا تقعد بعد الذکری مع القوم الظلمین ﴿۶۸﴾ " ۔ اﷲ تعالی نے فرمایا:اور جو کہیں تجھے شیطان بھلا دے تو یاد آئے پر ظالموں کے پاس نہ بیٹھ۔(ت)
حوالہ / References
القرآن الکریم ۶ /۶۸
مسلمان اسے یك لخت چھوڑدیں اور اس سے سلام کلاممیل جولسب ترك کردیں جب تك صدق دل سے توبہ نہ کرلےاس سے زیادہ یہاں کیا سزا ہوسکتی ہے ۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ۱۲۵: از سرائے چھبیلہ ضلع بلند شہر مرسلہ راحت اﷲ صاحب امام مسجد جامع ۱۹رمضان ۱۳۳۸ھ
زید کہتا ہے کہ سود کے معنی اور ہیں اور بیاج کے معنی اور ہم بہت نہیں لیتے ہیں اور کھلم کھلا سود کھاتا ہے اور اوروں کو کہتا ہے کہ تم سود کے معنے نہیں جانتےاور جائز کہتا ہےاس کے اصرار پر شرع کا کیا حکم ہے
الجواب:
سود مطلقا حرام ہے بہت ہو یا تھوڑاقال اﷲ تعالی"وحرم الربوا" (اﷲ تعالی نے فرمایا:اور حرام کیا سود۔ت)زید کا اسے حلال کہنا اس کی حلت پر اصرار کرنا موجب کفر ہےاس پر توبہ فرض ہےازسر نو مسلمان ہو پھر اگر عورت راضی ہوتو اس سے نکاح جدید کرےاور اگر نہ مانے تو مسلمان اسے قطعا چھوڑدیں اس کے پاس بیٹھنا اٹھنا حرام ہے
قال تعال" اما ینسینک الشیطن فلا تقعد بعد الذکری مع القوم الظلمین ﴿۶۸﴾ " ۔واﷲتعالی اعلم۔ اﷲ تعالی نے فرمایا:اور جو کہیں تجھے شیطان بھلادے تو یاد آئے پر ظالموں کے پاس نہ بیٹھو۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۱۲۶: از موضع پرتاب پور پر گنہ وضلع بریلی مرسلہ محبوب عالم صاحب ۱۸/ربیع الآخر شریف ۱۳۳۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید مرید خاندان عالیہ مداریہ میں ہے اور نماز و روزہ کا پابند ہے اور بصدق دل کلمہ لاالہ الا اﷲ محمد رسول اﷲ پڑھتا ہےخد اکو حق اور رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو برحق اور عقیدہ اہل سنت وجماعت کا پابند ہے لہذا خدمت بابرکت میں مستدعی ہے کہ عند الشرع ایسا شخص مسلمان اور صاحب ایمان ہے یانہیں
الجواب:
جب وہ اﷲ ورسول کو برحق جانتا ہے اور تمام عقائد ایمانیہ کا سچے دل سے معتقد ہے اور کوئی قول یا فعل تکذیب یا توہین کا اس سے صادر نہیں ہوتاجاہل مداریوں وغیرہم کی طرح شریعت کو لغو نہیں سمجھتا تو بیشك وہ مسلمان ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۱۲۵: از سرائے چھبیلہ ضلع بلند شہر مرسلہ راحت اﷲ صاحب امام مسجد جامع ۱۹رمضان ۱۳۳۸ھ
زید کہتا ہے کہ سود کے معنی اور ہیں اور بیاج کے معنی اور ہم بہت نہیں لیتے ہیں اور کھلم کھلا سود کھاتا ہے اور اوروں کو کہتا ہے کہ تم سود کے معنے نہیں جانتےاور جائز کہتا ہےاس کے اصرار پر شرع کا کیا حکم ہے
الجواب:
سود مطلقا حرام ہے بہت ہو یا تھوڑاقال اﷲ تعالی"وحرم الربوا" (اﷲ تعالی نے فرمایا:اور حرام کیا سود۔ت)زید کا اسے حلال کہنا اس کی حلت پر اصرار کرنا موجب کفر ہےاس پر توبہ فرض ہےازسر نو مسلمان ہو پھر اگر عورت راضی ہوتو اس سے نکاح جدید کرےاور اگر نہ مانے تو مسلمان اسے قطعا چھوڑدیں اس کے پاس بیٹھنا اٹھنا حرام ہے
قال تعال" اما ینسینک الشیطن فلا تقعد بعد الذکری مع القوم الظلمین ﴿۶۸﴾ " ۔واﷲتعالی اعلم۔ اﷲ تعالی نے فرمایا:اور جو کہیں تجھے شیطان بھلادے تو یاد آئے پر ظالموں کے پاس نہ بیٹھو۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۱۲۶: از موضع پرتاب پور پر گنہ وضلع بریلی مرسلہ محبوب عالم صاحب ۱۸/ربیع الآخر شریف ۱۳۳۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید مرید خاندان عالیہ مداریہ میں ہے اور نماز و روزہ کا پابند ہے اور بصدق دل کلمہ لاالہ الا اﷲ محمد رسول اﷲ پڑھتا ہےخد اکو حق اور رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو برحق اور عقیدہ اہل سنت وجماعت کا پابند ہے لہذا خدمت بابرکت میں مستدعی ہے کہ عند الشرع ایسا شخص مسلمان اور صاحب ایمان ہے یانہیں
الجواب:
جب وہ اﷲ ورسول کو برحق جانتا ہے اور تمام عقائد ایمانیہ کا سچے دل سے معتقد ہے اور کوئی قول یا فعل تکذیب یا توہین کا اس سے صادر نہیں ہوتاجاہل مداریوں وغیرہم کی طرح شریعت کو لغو نہیں سمجھتا تو بیشك وہ مسلمان ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۱۲۷تا۱۲۹: مسئولہ آدم ابراہیم صاحب از کچھ انجار ضلع کچھ بھوج بھوم پیر
(۱)ایك شخص کہتا ہے کہ لاالہ الااﷲ فرض ہے محمد رسول اﷲ واجب ہے کیونکہ قرآنی آیت سے تو پورا کلمہ ایك جگہ ثابت نہیںہاں احادیث سے ضرور ثابت ہےغلط ہے یاصحیح
(۲)ایك شخص کہتا ہے کہ ہم کو قرآن وحدیث سے ضرور نہیںتم آپ ہی اس کے ورق لوٹا کرونماز تم ہی پڑھوسربیشے اور چوتڑ اوپر کون کرےایسے لوگوں کا کیاکہنا چاہئے اوربیعت ان سے کرنا کس طرح ہےزعم یہ ہے کہ قرآن مولویوں نے بنایا ہے مولویوں کے قرآن کو نہ ماننا چاہئے۔
(۳)ایك شخص بروئے حلف یہ کہے کہ میں مسلمان ہوں وہابی نہیںاﷲ کو ایك جانتا ہوں رسول اﷲ کو نبی برحق اور اولیائے عظام کو برابر جانتا ہوںکرامت کا قائل ہوںحنفی مذہب کا پابند ہوںجو لوگ پھر بھی اعتبار نہ کریں تو کیا کیا جائےقرآن اور اﷲ پر یقین نہ کرنے والوں کو کیا کہا جائےبینواتوجروا۔
الجواب:
(۱)وہ شخض جھوٹ کہتا ہےشریعت مطہرہ پر افترا کرتا ہے لاالہ الا اﷲمحمد رسول اﷲ دونوں کا ماننا فرض سے اعظم فرض اور یکساں فرض ہےدونوں قرآن مجید میں ہیںیکجا نہ ہونے سے ایك کی فرضیت کیوں جاتی رہیبلکہ ان کی فرضیت تو قرآن مجید ماننے سے بھی مقدم ہےقرآن مجید کا ماننا ان کے ماننے پر موقوف ہے بلکہ ان میں بھی پہلا جملہ بغیر دوسرے جملہ کے بیکار ہے اور دوسرے جملہ کے ماننے میں پہلے کا ماننا خودآگیا صرف لاالہ الااﷲ سے مسلمان نہیں ہوسکتا اور صرف محمد رسول اﷲ سچے دل سے ماننا اسلام کے لئے کافی ہےجو اسے مانے محال ہے کہ لاالہ الااﷲ نہ مانے۔درمختار میں ہے:
یلقن بذکر الشہادتین لان الاول لاتقبل بدون الثانیۃ ۔ (میت کو)دونوں شہادتوں کی تلقین کی جائے کیونکہ پہلی شہادت(توحید)دوسری شہادت(رسالت)کے بغیر مقبول ہی نہیں۔(ت)
یہ کہنے والا اگر فرق فرض وواجب سے غافل ہے یونہی سنی سنائی اتنا جانتا ہے کہ فرض کا مرتبہ زیادہ ہے جب تو اسی قدر حکم ہے کہ کذاب ہے بیباك ہے شریعت پر مفتری ہےمستحق عذاب نار ہے اس پر توبہ فرض ہےاور اگر فرق جان کر کہتا ہے کہ محمد رسول اﷲ(حضرت محمد صلی اﷲتعالی علیہ وسلم
(۱)ایك شخص کہتا ہے کہ لاالہ الااﷲ فرض ہے محمد رسول اﷲ واجب ہے کیونکہ قرآنی آیت سے تو پورا کلمہ ایك جگہ ثابت نہیںہاں احادیث سے ضرور ثابت ہےغلط ہے یاصحیح
(۲)ایك شخص کہتا ہے کہ ہم کو قرآن وحدیث سے ضرور نہیںتم آپ ہی اس کے ورق لوٹا کرونماز تم ہی پڑھوسربیشے اور چوتڑ اوپر کون کرےایسے لوگوں کا کیاکہنا چاہئے اوربیعت ان سے کرنا کس طرح ہےزعم یہ ہے کہ قرآن مولویوں نے بنایا ہے مولویوں کے قرآن کو نہ ماننا چاہئے۔
(۳)ایك شخص بروئے حلف یہ کہے کہ میں مسلمان ہوں وہابی نہیںاﷲ کو ایك جانتا ہوں رسول اﷲ کو نبی برحق اور اولیائے عظام کو برابر جانتا ہوںکرامت کا قائل ہوںحنفی مذہب کا پابند ہوںجو لوگ پھر بھی اعتبار نہ کریں تو کیا کیا جائےقرآن اور اﷲ پر یقین نہ کرنے والوں کو کیا کہا جائےبینواتوجروا۔
الجواب:
(۱)وہ شخض جھوٹ کہتا ہےشریعت مطہرہ پر افترا کرتا ہے لاالہ الا اﷲمحمد رسول اﷲ دونوں کا ماننا فرض سے اعظم فرض اور یکساں فرض ہےدونوں قرآن مجید میں ہیںیکجا نہ ہونے سے ایك کی فرضیت کیوں جاتی رہیبلکہ ان کی فرضیت تو قرآن مجید ماننے سے بھی مقدم ہےقرآن مجید کا ماننا ان کے ماننے پر موقوف ہے بلکہ ان میں بھی پہلا جملہ بغیر دوسرے جملہ کے بیکار ہے اور دوسرے جملہ کے ماننے میں پہلے کا ماننا خودآگیا صرف لاالہ الااﷲ سے مسلمان نہیں ہوسکتا اور صرف محمد رسول اﷲ سچے دل سے ماننا اسلام کے لئے کافی ہےجو اسے مانے محال ہے کہ لاالہ الااﷲ نہ مانے۔درمختار میں ہے:
یلقن بذکر الشہادتین لان الاول لاتقبل بدون الثانیۃ ۔ (میت کو)دونوں شہادتوں کی تلقین کی جائے کیونکہ پہلی شہادت(توحید)دوسری شہادت(رسالت)کے بغیر مقبول ہی نہیں۔(ت)
یہ کہنے والا اگر فرق فرض وواجب سے غافل ہے یونہی سنی سنائی اتنا جانتا ہے کہ فرض کا مرتبہ زیادہ ہے جب تو اسی قدر حکم ہے کہ کذاب ہے بیباك ہے شریعت پر مفتری ہےمستحق عذاب نار ہے اس پر توبہ فرض ہےاور اگر فرق جان کر کہتا ہے کہ محمد رسول اﷲ(حضرت محمد صلی اﷲتعالی علیہ وسلم
حوالہ / References
درمختار باب صلوٰۃ الجنائز مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۱۱۹
اﷲ کے رسول ہیں۔ت)کاماننا یقینی لازم نہیں صرف ظنی ہےتو قطعا کافر مرتد ہے۔
(۲)اس میں تین الفاظ ملعونہ اور تینوں کفر خالص ہے کافر مرتد کے ہاتھ پر بیعت کیا معنی!جوان اقوال پر مطلع ہو کر اسے مسلمان جانے یا اس کے کفر میں شك کرے وہ بھی کافر ہے۔بزازیہ ومجمع الانہر ودرمختار وغیرہامیں ہے:
من شك فی کفرہ وعذابہ فقد کفر ۔ جس نے ان کے کفر وعذاب میں شك کیا وہ بھی کافر ہے(ت)
(۳)اگر اس میں کوئی بات وہابیت کی نہ دیکھینہ کوئی قوی وجہ شبہہ کی ہے تو بلاشبہہ شبہہ نہ کیا جائے بدگمانی حرام ہےاور اگر اس میں وہابیت پائی تو ثابت شدہ بات اس کی قسموں سے دفع نہ ہوجائے گیوہابی اکثر ایسی قسمیں کھایا کرتے ہیں
قال اﷲ تعالی" یحلفون باللہ ما قالوا ولقد قالواکلمۃ الکفر وکفروا بعد اسلمہم " ۔ اﷲ تعالی نے فرمایا:اﷲ کی قسمیں کھاتے ہیں کہ انہو ں نے نہ کہا۔اور بیشك ضرور انہوں نے کفر کی بات کہی اور اسلام میں آکر بعد میں کافر ہوگئے۔(ت)
نہ ان کی قسموں کا اعتبار ۔
قال اﷲ تعالی تعالی" انہم لا ایمن" ۔ اﷲ تعالی نے فرمایا:بیشك ان کی قسمیں کچھ نہیں۔
اور اگر کسی وجہ سے شبہہ ہے تو صرف ان قسموں پر قناعت نہ کریں بلکہ اس سے دریافت کریں کہ تو اسمعیل دہلوی ونذیر حسین دہلوی ورشید احمد گنگوہی وقاسم نانوتوی واشرف علی تھانوی اور ان کی کتابوں تقویۃ الایمان و معیار الحق وبراہین قاطعہ وتحذیر الناس وحفظ الایمان وبہشتی زیور وغیرہا کو کیسا جانتا ہےاگر صاف کہے کہ یہ لوگ بے دین گمراہ ہیں اور یہ کتابیں کفر وضلالت سے بھری ہوئی ہیںتو ظاہر یہ ہے کہ وہابی نہیں ورنہ ضرور وہابی ہےجھوٹوں کی قسم پر اعتبار نہ کرنا قرآن اور اﷲ پر اعتبار نہ کرنا نہیں
" اذا جاءک المنفقون قالوا نشہد انک لرسول اللہ و اللہ یعلم" جب منافق تمہارے حضور حاضر ہوتے ہیں کہتے ہیں کہ ہم گواہی دیتے ہیں کہ حضور بیشك یقینا اﷲ کے
(۲)اس میں تین الفاظ ملعونہ اور تینوں کفر خالص ہے کافر مرتد کے ہاتھ پر بیعت کیا معنی!جوان اقوال پر مطلع ہو کر اسے مسلمان جانے یا اس کے کفر میں شك کرے وہ بھی کافر ہے۔بزازیہ ومجمع الانہر ودرمختار وغیرہامیں ہے:
من شك فی کفرہ وعذابہ فقد کفر ۔ جس نے ان کے کفر وعذاب میں شك کیا وہ بھی کافر ہے(ت)
(۳)اگر اس میں کوئی بات وہابیت کی نہ دیکھینہ کوئی قوی وجہ شبہہ کی ہے تو بلاشبہہ شبہہ نہ کیا جائے بدگمانی حرام ہےاور اگر اس میں وہابیت پائی تو ثابت شدہ بات اس کی قسموں سے دفع نہ ہوجائے گیوہابی اکثر ایسی قسمیں کھایا کرتے ہیں
قال اﷲ تعالی" یحلفون باللہ ما قالوا ولقد قالواکلمۃ الکفر وکفروا بعد اسلمہم " ۔ اﷲ تعالی نے فرمایا:اﷲ کی قسمیں کھاتے ہیں کہ انہو ں نے نہ کہا۔اور بیشك ضرور انہوں نے کفر کی بات کہی اور اسلام میں آکر بعد میں کافر ہوگئے۔(ت)
نہ ان کی قسموں کا اعتبار ۔
قال اﷲ تعالی تعالی" انہم لا ایمن" ۔ اﷲ تعالی نے فرمایا:بیشك ان کی قسمیں کچھ نہیں۔
اور اگر کسی وجہ سے شبہہ ہے تو صرف ان قسموں پر قناعت نہ کریں بلکہ اس سے دریافت کریں کہ تو اسمعیل دہلوی ونذیر حسین دہلوی ورشید احمد گنگوہی وقاسم نانوتوی واشرف علی تھانوی اور ان کی کتابوں تقویۃ الایمان و معیار الحق وبراہین قاطعہ وتحذیر الناس وحفظ الایمان وبہشتی زیور وغیرہا کو کیسا جانتا ہےاگر صاف کہے کہ یہ لوگ بے دین گمراہ ہیں اور یہ کتابیں کفر وضلالت سے بھری ہوئی ہیںتو ظاہر یہ ہے کہ وہابی نہیں ورنہ ضرور وہابی ہےجھوٹوں کی قسم پر اعتبار نہ کرنا قرآن اور اﷲ پر اعتبار نہ کرنا نہیں
" اذا جاءک المنفقون قالوا نشہد انک لرسول اللہ و اللہ یعلم" جب منافق تمہارے حضور حاضر ہوتے ہیں کہتے ہیں کہ ہم گواہی دیتے ہیں کہ حضور بیشك یقینا اﷲ کے
حوالہ / References
درمختار باب المرتد مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۵۶
القرآن الکریم ۹ /۷۳
القرآن الکریم ۹ /۱۲
القرآن الکریم ۹ /۷۳
القرآن الکریم ۹ /۱۲
انک لرسولہ و اللہ یشہد ان المنفقین لکذبون ﴿۱﴾ اتخذوا ایمنہم جنۃ فصدوا عن سبیل اللہ انہم ساء ما کانوا یعملون ﴿۲﴾ " رسول ہیںاور اﷲ جانتا ہے کہ تم اس کے رسول ہواور اﷲ گواہی دیتا ہے کہ منافق ضرورجھوٹے ہیںاور انہو ں نے اپنی قسموں کو ڈھال ٹھہرالیا تو اﷲ کی راہ سے روکابیشك وہ ہی برے کام کرتے ہیں۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ۱۳۰:کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین ان لوگوں کے بارے میں جو نہ توعلمائے کرام کے فتاوی پر عمل کریں اور نہ مانیں بلکہ علمائے کرام ورثۃ الانبیاء کومحض اس بغض پر کہ ان کے کاموں کو کیوں ناجائز بتلاتے ہیںبرا کہیں۔
الجواب:
یہ جو طلب کیا جاتا ہے وہ بھی تو فتوی ہی ہوگا جو فتوی نہیں مانتے ان پر اس کا کیااثر ہوگاعالم دین سے بلاوجہ ظاہر بغض رکھنے پرخوف کفر ہے نہ کہ جب کہ وہ بغض ان کا فتوی شرعی ہو۔منح الروض وغیرہ میں ہے:
من ابغض عالما بغیر سبب ظاہر خیف علیہ الکفر ۔ جس نے سبب ظاہری کے بغیر کسی عالم سے بغض رکھا اس پر کفر کا خوف ہے(ت)
عالم دین کی توہین کھلے منافق کا کام ہے اورفقہ میں ان پر حکم کفر ۔حضور اقدس سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ثلثۃ لایستخف بحقھم الامنافق بین النفاق ذو العلم و ذوالشیبۃ فی الاسلام وامام مقسط ۔ تین آدمیوں کی بے ادبی وتوہین کرنے والا اعلانیہ منافق ہے: صاحب علممسلمان بوڑھا اور عادل حاکم۔(ت)
مجمع الانہر میں ہے:
مسئلہ۱۳۰:کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین ان لوگوں کے بارے میں جو نہ توعلمائے کرام کے فتاوی پر عمل کریں اور نہ مانیں بلکہ علمائے کرام ورثۃ الانبیاء کومحض اس بغض پر کہ ان کے کاموں کو کیوں ناجائز بتلاتے ہیںبرا کہیں۔
الجواب:
یہ جو طلب کیا جاتا ہے وہ بھی تو فتوی ہی ہوگا جو فتوی نہیں مانتے ان پر اس کا کیااثر ہوگاعالم دین سے بلاوجہ ظاہر بغض رکھنے پرخوف کفر ہے نہ کہ جب کہ وہ بغض ان کا فتوی شرعی ہو۔منح الروض وغیرہ میں ہے:
من ابغض عالما بغیر سبب ظاہر خیف علیہ الکفر ۔ جس نے سبب ظاہری کے بغیر کسی عالم سے بغض رکھا اس پر کفر کا خوف ہے(ت)
عالم دین کی توہین کھلے منافق کا کام ہے اورفقہ میں ان پر حکم کفر ۔حضور اقدس سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ثلثۃ لایستخف بحقھم الامنافق بین النفاق ذو العلم و ذوالشیبۃ فی الاسلام وامام مقسط ۔ تین آدمیوں کی بے ادبی وتوہین کرنے والا اعلانیہ منافق ہے: صاحب علممسلمان بوڑھا اور عادل حاکم۔(ت)
مجمع الانہر میں ہے:
حوالہ / References
القرآن الکریم ۶۳ /۲۔۱
منح الروض الازہر شرح الفقہ الاکبر فصل فی العلم والعلماء مصطفی البابی مصر ص۱۷۳
المعجم الکبیر حدیث۷۸۱۹ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۸/ ۲۳۸،کنزالعمال حدیث ۴۳۸۱۱ مؤسسۃ الرسالۃ بیروت ۱۶/ ۳۲
منح الروض الازہر شرح الفقہ الاکبر فصل فی العلم والعلماء مصطفی البابی مصر ص۱۷۳
المعجم الکبیر حدیث۷۸۱۹ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۸/ ۲۳۸،کنزالعمال حدیث ۴۳۸۱۱ مؤسسۃ الرسالۃ بیروت ۱۶/ ۳۲
الاستخفاف بالاشراف والعلماء کفر ومن قال للعالم عویلم او لعلوی علیوی قاصدابہ الاستخفاف کفر ۔ سادات اور علمائے کی توہین کفر ہےجس نے بے ادبی وگستاخی کی نیت سے کسی عالم کو عویلم(ادنی عالم)یا کسی علوی کوعلیوی کہا اس نے کفر کیا(ت)
مگر وہاں کیاجائے شکایت جہاں قرآن وحدیث کی عمر بت پرستی پر نثار کی جاتی ہو۔
سبحن مقلب القلوب والابصار" ربنا لا تز غ قلوبنا بعد اذ ہدیتنا وہب لنا من لدنک رحمۃ انک انت الوہاب﴿۸﴾ " ۔
واﷲ تعالی اعلم۔
پاك ہے وہ ذات جو دل و نگاہ کو بدل دیتی ہے اے ہمارے پرو ردگار !ہمیں اپنی ہدایت عطا کرنے کے بعدہمارے دلوں کو ٹیڑھا نہ فرما اور ہمیں اپنی طرف سے رحمت عطا فرمابلا شبہہ تو ہی عطا کرنے والا ہے۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ۱۳۱تا۱۳۳: مسئولہ میرفدا علی صاحب ازشہر کہنہ انسپکٹر چونگی ۲۷ذی الحجہ ۱۳۳۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ:
(۱)زید عالم فرقہ وہابیہ کے شاگرد کے پیچھے روزانہ نماز پڑھتا ہے اور عالم مذکور کے کہنے کو مانتا ہے خواہ وہ کہنا اس کا کسی طور پر بظاہر نیك کام کے واسطے ہو اور خود بھی مشورہ کے لئے اس کے پاس جاتا ہے نیز عالم اہل سنت کی خدمت حاضر ہوتا ہے خواہ یہ حاضری کسی نیك کام کےلئے ہو اور اپنے آپ کو سنی بھی کہتا ہےایسی حالت میں بموجب شریعت اسے اہل سنت وجماعت کہا جاسکتا ہے یانہیں
(۲)عمروعالم فرقہ وہابیہ کے شاگرد کے پیچھے نماز پڑھتا ہے اور اپنے آپ کو سنی کہتا ہے اور اعتراض ہونے پر یہ جواب دیتاہے کہ یہ علماء کے جھگڑے ہیں یہ ان کو براکہیں وہ ان کو برا کہیں ہماری نماز سب کے پیچھے ہوجائے گیعلماء کی باتیں علماء جانیںایسی صورت میں عمرو سنی کہا جاسکتا ہے۔
(۳)یانہیںاور ایسا جواب دینا اس کا ٹھیك ہے یانہیں
بکر اپنے آپ کو سنی کہتا ہے اور فرقہ وہابیہ اور غیر مقلدوں کے معاملہ میں کہتا ہے کہ یہ سب قرآن وحدیث کے ماننے والے ہیںجھگڑے کی باتیں نہیں نکالنا چاہئےسب حق پر ہیںایسی
مگر وہاں کیاجائے شکایت جہاں قرآن وحدیث کی عمر بت پرستی پر نثار کی جاتی ہو۔
سبحن مقلب القلوب والابصار" ربنا لا تز غ قلوبنا بعد اذ ہدیتنا وہب لنا من لدنک رحمۃ انک انت الوہاب﴿۸﴾ " ۔
واﷲ تعالی اعلم۔
پاك ہے وہ ذات جو دل و نگاہ کو بدل دیتی ہے اے ہمارے پرو ردگار !ہمیں اپنی ہدایت عطا کرنے کے بعدہمارے دلوں کو ٹیڑھا نہ فرما اور ہمیں اپنی طرف سے رحمت عطا فرمابلا شبہہ تو ہی عطا کرنے والا ہے۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ۱۳۱تا۱۳۳: مسئولہ میرفدا علی صاحب ازشہر کہنہ انسپکٹر چونگی ۲۷ذی الحجہ ۱۳۳۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ:
(۱)زید عالم فرقہ وہابیہ کے شاگرد کے پیچھے روزانہ نماز پڑھتا ہے اور عالم مذکور کے کہنے کو مانتا ہے خواہ وہ کہنا اس کا کسی طور پر بظاہر نیك کام کے واسطے ہو اور خود بھی مشورہ کے لئے اس کے پاس جاتا ہے نیز عالم اہل سنت کی خدمت حاضر ہوتا ہے خواہ یہ حاضری کسی نیك کام کےلئے ہو اور اپنے آپ کو سنی بھی کہتا ہےایسی حالت میں بموجب شریعت اسے اہل سنت وجماعت کہا جاسکتا ہے یانہیں
(۲)عمروعالم فرقہ وہابیہ کے شاگرد کے پیچھے نماز پڑھتا ہے اور اپنے آپ کو سنی کہتا ہے اور اعتراض ہونے پر یہ جواب دیتاہے کہ یہ علماء کے جھگڑے ہیں یہ ان کو براکہیں وہ ان کو برا کہیں ہماری نماز سب کے پیچھے ہوجائے گیعلماء کی باتیں علماء جانیںایسی صورت میں عمرو سنی کہا جاسکتا ہے۔
(۳)یانہیںاور ایسا جواب دینا اس کا ٹھیك ہے یانہیں
بکر اپنے آپ کو سنی کہتا ہے اور فرقہ وہابیہ اور غیر مقلدوں کے معاملہ میں کہتا ہے کہ یہ سب قرآن وحدیث کے ماننے والے ہیںجھگڑے کی باتیں نہیں نکالنا چاہئےسب حق پر ہیںایسی
حوالہ / References
مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر باب الفاظ الکفر انواع داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۶۹۵
القرآن الکریم ۳ /۸
القرآن الکریم ۳ /۸
کیفیت میں بکر کو سنی کہا جاسکتا ہے یانہیںبینواتوجروا۔
الجواب:
(۱)اگر وہابی کاشاگرد وہابی ہے اور یہ اسے وہابی جانتا ہے پھر اسے قابل امامت مانتا ہے خلاصہ یہ کہ کسی وہابی کو وہابی جان کر کافر نہیں جانتا وہ سنی کیا مسلمان بھی نہیں ہوسکتا۔
(۲)ایسی صورت میں عمرو سنی کیا مسلمان بھی نہیں کہ اس کے نزدیك اسلام و کفر یکساں ہیں اور کفر کا ردجھگڑا ہے۔
(۳)ایسی صورت میں بکر کافر و مرتد محض ہے۔واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ۱۳۴: ازشہر عقب کو توالی مسئولہ ولایت حسین وعبدالرحمن ۹محرم الحرام ۱۳۳۹ھ
علمائے دین کیافرماتے ہیں اس مسئلہ میں کہ میں ایمان سے کہتا ہوں اور قسم کھاتا ہوں کہ میں نہ تو پہلے قادیانی تھا اور نہ اب ہوںقادیانی پر لعنت کرتا ہوںمیں اہل سنت و جماعت ہوں اگر کوئی شخص مجھ پر بعد توبہ کرنے کے الزام دے تو وہ مواخذہ دار ہوگا یانہیںیااگر میرا میل کسی وقت ان لوگوں سے کوئی ثابت کرے تو میں سب لوگوں کامواخذہ دار ہوں گاقادیانی کو کافر جانتا ہوں۔العبد ولایت حسین
گواہان:عبدالرحمن بقلم خودمسیح اﷲ بقلم خودقادر حسین بقلم خودامانت حسین بقلم خودمولوی محمد رضاخاں بقلم خود صادق حسین بقلم خودمحمد محسن بقلم خودلیاقت حسین بقلم خودفقیر محمد حشمت علی خان رضویفقیر ایوب علی رضوی بقلم خودقناعت علی قادری رضوی بقلم خود۔
الجواب:
اﷲ تعالی توبہ قبول فرماتا ہے اور بعد توبہ کے گناہ باقی نہیں رہتانبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
التائب من الذنب کمن لاذنب لہ ۔ گناہ سے توبہ کرنے والا ایسا ہوتا ہے کہ گویا گناہ کیا ہی نہیں۔
قادیانیوں کے ساتھ میل جول سے انہو ں نے پہلے بھی ایك مجمع میں توبہ کی تھی اور آج پھر ایك مجمع میں توبہ کی تھی پھر ایك مجمع کے ساتھ آئے جن کے دستخط اوپر ہیں اور دوبارہ توبہ کیتوبہ کے بعد ان پر بلاوجہ جو کوئی الزام رکھے گا وہ سخت گنہگار ہوگا اور توبہ کے بعد اگر پھر یہ میل جول کریں گے تو ان پرگناہ عظیم کا بار ہوگا مگر بلاوجہ توبہ کے
الجواب:
(۱)اگر وہابی کاشاگرد وہابی ہے اور یہ اسے وہابی جانتا ہے پھر اسے قابل امامت مانتا ہے خلاصہ یہ کہ کسی وہابی کو وہابی جان کر کافر نہیں جانتا وہ سنی کیا مسلمان بھی نہیں ہوسکتا۔
(۲)ایسی صورت میں عمرو سنی کیا مسلمان بھی نہیں کہ اس کے نزدیك اسلام و کفر یکساں ہیں اور کفر کا ردجھگڑا ہے۔
(۳)ایسی صورت میں بکر کافر و مرتد محض ہے۔واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ۱۳۴: ازشہر عقب کو توالی مسئولہ ولایت حسین وعبدالرحمن ۹محرم الحرام ۱۳۳۹ھ
علمائے دین کیافرماتے ہیں اس مسئلہ میں کہ میں ایمان سے کہتا ہوں اور قسم کھاتا ہوں کہ میں نہ تو پہلے قادیانی تھا اور نہ اب ہوںقادیانی پر لعنت کرتا ہوںمیں اہل سنت و جماعت ہوں اگر کوئی شخص مجھ پر بعد توبہ کرنے کے الزام دے تو وہ مواخذہ دار ہوگا یانہیںیااگر میرا میل کسی وقت ان لوگوں سے کوئی ثابت کرے تو میں سب لوگوں کامواخذہ دار ہوں گاقادیانی کو کافر جانتا ہوں۔العبد ولایت حسین
گواہان:عبدالرحمن بقلم خودمسیح اﷲ بقلم خودقادر حسین بقلم خودامانت حسین بقلم خودمولوی محمد رضاخاں بقلم خود صادق حسین بقلم خودمحمد محسن بقلم خودلیاقت حسین بقلم خودفقیر محمد حشمت علی خان رضویفقیر ایوب علی رضوی بقلم خودقناعت علی قادری رضوی بقلم خود۔
الجواب:
اﷲ تعالی توبہ قبول فرماتا ہے اور بعد توبہ کے گناہ باقی نہیں رہتانبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
التائب من الذنب کمن لاذنب لہ ۔ گناہ سے توبہ کرنے والا ایسا ہوتا ہے کہ گویا گناہ کیا ہی نہیں۔
قادیانیوں کے ساتھ میل جول سے انہو ں نے پہلے بھی ایك مجمع میں توبہ کی تھی اور آج پھر ایك مجمع میں توبہ کی تھی پھر ایك مجمع کے ساتھ آئے جن کے دستخط اوپر ہیں اور دوبارہ توبہ کیتوبہ کے بعد ان پر بلاوجہ جو کوئی الزام رکھے گا وہ سخت گنہگار ہوگا اور توبہ کے بعد اگر پھر یہ میل جول کریں گے تو ان پرگناہ عظیم کا بار ہوگا مگر بلاوجہ توبہ کے
حوالہ / References
سنن ابن ماجہ کتاب الزہد باب ذکر التوبۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۳۲۳
بعدالزام رکھناسخت جرم ہےواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۱۳۵: از نو شہرہ تحصیل جام پور ضلع ڈیرہ غازی خاں مسئولہ عبدالغفور صاحب ۱۴محرم الحرام۱۳۳۹ھ
ایك مرزائی قادیانی کاسوال ہے کہ ابن ماجہ کی حدیث ہےرسول اﷲ صلی ا ﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:
ہر صدی کے بعد مجدد ضرور آئے گا۔
مرزا صاحب مجدد وقت ہے۔عالی جاہ!اس قوم نے لوگوں کو بہت خراب کیا ہےثبوت کے لئے کوئی رسالہ وغیرہ ارسال فرمائیں تاکہ گمراہی سے بچیں۔
الجواب:
مجدد کا کم از کم مسلمان ہونا تو ضرور ہے اور قادیانی کافر مرتد تھا ایسا کہ تمام علمائے حرمین شریفین نے بالاتفاق تحریر فرمایا کہ:
من شك فی کفرہ و عذابہ فقد کفر ۔ جو اس کے کافراور عذاب ہونے میں شك کرے وہ بھی کافر۔
لیڈر بننے والوں کی ایك ناپاك پارٹی قائم ہوئی ہے جو گاندھی مشرك کو رہبردین کا امام و پیشوامانتے ہیںنہ گاندھی امام ہوسکتا ہے نہ قادیانی مجددالسوء والعقاب وقہر الدیان وحسام الحرمین مطبع اہلسنت بریلی سے منگائیں۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۱۳۶: ازشہر محلہ شاہ آباد مسئولہ شیخ الطاف احمد صاحب رضوی ۱۸محرم الحرام۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ میں نے مولانا صاحب مسجد جانی سے کہا کہ اگر رافضی تکبیر تمہاری جماعت میں آکر کہے تو تکبیر شمار کی جائے گی یانہیںکہا:رافضی کی تکبیر شمار نہیں کی جائے گی کیونکہ وہ مسلمان نہیں ہیں:میں نے کہا:اگر وہابی تکبیر کہے تو وہ تکبیر شمار ہوگی یانہیںکہا:تو کیا یہ مسلمان نہیں سمجھے جاتے ہیں کیا حرج ہےمیں نے کہا:یہ مسلمان نہیں سمجھے جاتے۔جواب ملا:کیا خوب۔علاوہ اس کے امام مسجد مذکورہ کی نشست بھی رہتی ہےلہذاایسی صورت میں اگر اس کے پیچھے نماز نہ پڑھی تو اچھا کیا یا برانماز نہ پڑھنے والا توبہ کرے اور معافی چاہے یاامام بینواتوجروا۔
مسئلہ۱۳۵: از نو شہرہ تحصیل جام پور ضلع ڈیرہ غازی خاں مسئولہ عبدالغفور صاحب ۱۴محرم الحرام۱۳۳۹ھ
ایك مرزائی قادیانی کاسوال ہے کہ ابن ماجہ کی حدیث ہےرسول اﷲ صلی ا ﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:
ہر صدی کے بعد مجدد ضرور آئے گا۔
مرزا صاحب مجدد وقت ہے۔عالی جاہ!اس قوم نے لوگوں کو بہت خراب کیا ہےثبوت کے لئے کوئی رسالہ وغیرہ ارسال فرمائیں تاکہ گمراہی سے بچیں۔
الجواب:
مجدد کا کم از کم مسلمان ہونا تو ضرور ہے اور قادیانی کافر مرتد تھا ایسا کہ تمام علمائے حرمین شریفین نے بالاتفاق تحریر فرمایا کہ:
من شك فی کفرہ و عذابہ فقد کفر ۔ جو اس کے کافراور عذاب ہونے میں شك کرے وہ بھی کافر۔
لیڈر بننے والوں کی ایك ناپاك پارٹی قائم ہوئی ہے جو گاندھی مشرك کو رہبردین کا امام و پیشوامانتے ہیںنہ گاندھی امام ہوسکتا ہے نہ قادیانی مجددالسوء والعقاب وقہر الدیان وحسام الحرمین مطبع اہلسنت بریلی سے منگائیں۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۱۳۶: ازشہر محلہ شاہ آباد مسئولہ شیخ الطاف احمد صاحب رضوی ۱۸محرم الحرام۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ میں نے مولانا صاحب مسجد جانی سے کہا کہ اگر رافضی تکبیر تمہاری جماعت میں آکر کہے تو تکبیر شمار کی جائے گی یانہیںکہا:رافضی کی تکبیر شمار نہیں کی جائے گی کیونکہ وہ مسلمان نہیں ہیں:میں نے کہا:اگر وہابی تکبیر کہے تو وہ تکبیر شمار ہوگی یانہیںکہا:تو کیا یہ مسلمان نہیں سمجھے جاتے ہیں کیا حرج ہےمیں نے کہا:یہ مسلمان نہیں سمجھے جاتے۔جواب ملا:کیا خوب۔علاوہ اس کے امام مسجد مذکورہ کی نشست بھی رہتی ہےلہذاایسی صورت میں اگر اس کے پیچھے نماز نہ پڑھی تو اچھا کیا یا برانماز نہ پڑھنے والا توبہ کرے اور معافی چاہے یاامام بینواتوجروا۔
حوالہ / References
درمختار باب المرتد مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۵۶،حسام الحرمین مکتبہ نبویہ لاہور ص۳۱
الجواب:
صورت مذکورہ میں ایسے شخص کے پیچھے نماز جائز نہیںاس کے پیچھے نماز نہ پڑھنے والے نے بہت اچھا کیااس پر کچھ الزام نہیںاس امام پر لازم ہے کہ توبہ کرے اور سنی ہو۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۱۳۷: ازشہر محلہ کانکرٹولہ مسئولہ سید فرحت علی صاحب ۱۸محرم الحرام ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے اہلسنت اس مسئلہ میں کہ زید مسلمانوں کے ایك گروہ کا سردار بننا چاہتا ہےلیکن علمائے وہابیہ کو اچھا کہتا اور کہتا ہے کہ وہ علمائے دین ہیںان کے وعظ سنتا ہےان سے فتوے لیتا ہےان پر عمل کرتا ہےنماز فجر کی اندھیرے سے پڑھتا ہےاکثر نماز میں سنتیں ترك کرتا ہےمیلاد شریف میں قیام کے بعد آتا ہے یا پہلے سے کھڑا ہوجاتا ہےاور کبھی آتا بھی نہیںاور کہتا ہے کہ میلاد شریف اتنی دیر نہ پڑھنی چاہئے کہ نماز صبح کی قضا ہوجائے کیونکہ میلاد سے نماز مقدم ہے۔زید سے مسلمانوں کو بدگمانی ہوئی تو زید نے کہا کہ میں اﷲ کو جانوںاس کے رسول کو پہچانوں صحابہ کو سمجھوںآل پر فدا ہوں۔تو مسلمانوں نے کہا کہ اچھا تم گیارھویں شریف کرو یا میلاد شریف کرو۔کہا میرے پاس پیسہ نہیں تم کرو میں بھی سر پر رکھ کر کھالوں گا۔ایسی صورت میں مسلمان زید کو اپنا سردارمانیں اور اس کی باتوں پر عمل کریں اور اس سے میل جول رکھیں یانہیںاور جو مسلمان سردار مانیں یا اس سے ملیں اس کی باتوں پر عمل کریں ان پر کیا حکم ہےاورزید ہمارے اہلسنت کے گروہ میں کس حکم سے داخل ہوسکتا ہے پھر ا س حکم پربھی اسکو سردار مانا جائے یانہیںبینواتوجروا۔
الجواب:
جو شخص دیوبندیوں کو مسلمان ہی جانے یا ان کے کفر میں شك کرے بفتوائے علمائے حرمین شریفین ایساشخص خود کافر ہے کہ:
من شك فی کفرہ وعذابہ فقد کفر ۔ جو اس کے کفر وعذاب میں شك کرے وہ بھی کافر ہے(ت)
پھر وہ سردار مسلمانان کیسے ہوسکتا ہےگیارہویں شریف کی نیاز کھالینا دلیل اسلام نہیں بڑے بڑے کٹر وہابی جو اسے حرام وشرك کہتے ہیں کھانے کو آپ سب سے پہلے دوڑ دوڑ کر جاتے ہیںایسا شخص جب تك وہابیہ اور خصوصا ان دیوبندیوں کو جنہیں علمائے حرمین شریفین نے کافر لکھا نام بنام بالاعلان کافر نہ کہے اس کی توبہ صحیح نہیں ہوسکتی۔واﷲ تعالی اعلم۔
صورت مذکورہ میں ایسے شخص کے پیچھے نماز جائز نہیںاس کے پیچھے نماز نہ پڑھنے والے نے بہت اچھا کیااس پر کچھ الزام نہیںاس امام پر لازم ہے کہ توبہ کرے اور سنی ہو۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۱۳۷: ازشہر محلہ کانکرٹولہ مسئولہ سید فرحت علی صاحب ۱۸محرم الحرام ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے اہلسنت اس مسئلہ میں کہ زید مسلمانوں کے ایك گروہ کا سردار بننا چاہتا ہےلیکن علمائے وہابیہ کو اچھا کہتا اور کہتا ہے کہ وہ علمائے دین ہیںان کے وعظ سنتا ہےان سے فتوے لیتا ہےان پر عمل کرتا ہےنماز فجر کی اندھیرے سے پڑھتا ہےاکثر نماز میں سنتیں ترك کرتا ہےمیلاد شریف میں قیام کے بعد آتا ہے یا پہلے سے کھڑا ہوجاتا ہےاور کبھی آتا بھی نہیںاور کہتا ہے کہ میلاد شریف اتنی دیر نہ پڑھنی چاہئے کہ نماز صبح کی قضا ہوجائے کیونکہ میلاد سے نماز مقدم ہے۔زید سے مسلمانوں کو بدگمانی ہوئی تو زید نے کہا کہ میں اﷲ کو جانوںاس کے رسول کو پہچانوں صحابہ کو سمجھوںآل پر فدا ہوں۔تو مسلمانوں نے کہا کہ اچھا تم گیارھویں شریف کرو یا میلاد شریف کرو۔کہا میرے پاس پیسہ نہیں تم کرو میں بھی سر پر رکھ کر کھالوں گا۔ایسی صورت میں مسلمان زید کو اپنا سردارمانیں اور اس کی باتوں پر عمل کریں اور اس سے میل جول رکھیں یانہیںاور جو مسلمان سردار مانیں یا اس سے ملیں اس کی باتوں پر عمل کریں ان پر کیا حکم ہےاورزید ہمارے اہلسنت کے گروہ میں کس حکم سے داخل ہوسکتا ہے پھر ا س حکم پربھی اسکو سردار مانا جائے یانہیںبینواتوجروا۔
الجواب:
جو شخص دیوبندیوں کو مسلمان ہی جانے یا ان کے کفر میں شك کرے بفتوائے علمائے حرمین شریفین ایساشخص خود کافر ہے کہ:
من شك فی کفرہ وعذابہ فقد کفر ۔ جو اس کے کفر وعذاب میں شك کرے وہ بھی کافر ہے(ت)
پھر وہ سردار مسلمانان کیسے ہوسکتا ہےگیارہویں شریف کی نیاز کھالینا دلیل اسلام نہیں بڑے بڑے کٹر وہابی جو اسے حرام وشرك کہتے ہیں کھانے کو آپ سب سے پہلے دوڑ دوڑ کر جاتے ہیںایسا شخص جب تك وہابیہ اور خصوصا ان دیوبندیوں کو جنہیں علمائے حرمین شریفین نے کافر لکھا نام بنام بالاعلان کافر نہ کہے اس کی توبہ صحیح نہیں ہوسکتی۔واﷲ تعالی اعلم۔
حوالہ / References
درمختار باب المرتد مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۵۶،حسام الحرمین مکتبہ نبویہ لاہور ص۳۱
مسئلہ۱۴۸تا۱۵۳: ازشہر کہنہ محلہ روہیلی ٹولہ مسئولہ محمد خلیل الدین احمد صاحب ۱۹محرم ۱۳۳۹ھ
جس طرح کہ ایران میں باب اور بہاؤ کو پیشروبناکر بابی وبہائی جدید فرقے بنائے گئے اور ہندوستان میں گرو نانککبیرسید احمد جونپورسید احمد رائے بریلویسید احمد کولیآغا خاں اور مرزائی قادیانی کو پیشوامہدیلیڈرنبی اور خدابناکرجدید فرقے بنائے گئے۔اسی طرح اس وقت محض برائے نام مسلمان لیڈروں اور مولویوں نے ایك ہندو لیڈر مسٹر گاندھی کو اپنا پیشوا بناکر ایك جدید فرقہ بنایا ہے اور ان کی نسبت اب تك بذریعہ اخباراترسالہ جاتاشتہاراتمشاہدات اور مسموعات امور ذیل معلوم ہوتے ہیں:
(۱)ایك مولوی صاحب لکھتے ہیں کہ حضرت سرور عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ایك سفر میں ایك کافر کو اپنا رہنما بنایا تھا اسی طرح ہم نے مسٹر گاندھی کو اپنا ہادی بنایا ہےاور صاف لکھ دیا کہ ہمارا حال اس شعر کا مصداق ہے
عمرے کے بآیات واحادیث گزشت
رفتے ونثار بت پرستی کردے
(وہ عمر جو آیات واحادیث میں گزری ہے وہ ختم ہوگئی اور وہ بت پرستی کی نذر کردی)
(۲)کہتے ہیں کہ حضرت سرور عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے عرب کے کافر قبائل سے موالات کی تھی ہم کفار ہند سے موالات کرتے ہیں۔
(۳)مسجد میں ہندوؤں سے منبر پر لکچر دلوائے گئے اور کہا گیا کہ مسجد نبوی میں وفود کفار قیام کرتے تھے اور اپنے طریقے پر عبادت بھی کرتے تھےاور کفار کا داخلہ مخصوص بمسجد الحرام ایك خاص وقت کے واسطے منع تھا۔
(۴)بعض لیڈروں نے جن کو مولانا کا بھی خطاب دے دیا گیا ہے مندروں میں جاکر اپنے ماتھوں پر ہندوؤں سے ٹیکے لگوائے۔کہتے ہیں کہ قشقہ شعار کفر اور منافی اسلام نہیں ہے۔
(۵)پارٹی مذکور کے اس مولانا نے ہمدم میں چھاپ دیا ہے کہ ہماری جماعت ایك ایسا مذہب بنانے کی فکر میں ہے جو ہندو مسلم امتیاز اٹھادے گا اور سنگم و پریاگ کو مقدس مقام بنائے گا پارٹی مذکور نے اسے مقبول رکھا اور کسی نے چون وچرا نہ کیا۔
(۶)پارٹی مذکور کے اس مولانا نے شائع کیا ہے کہ اگرآج تم نے ہندو بھائیوں کوراضی کرلیا تو اپنے خدا کو راضی کروگے۔
جس طرح کہ ایران میں باب اور بہاؤ کو پیشروبناکر بابی وبہائی جدید فرقے بنائے گئے اور ہندوستان میں گرو نانککبیرسید احمد جونپورسید احمد رائے بریلویسید احمد کولیآغا خاں اور مرزائی قادیانی کو پیشوامہدیلیڈرنبی اور خدابناکرجدید فرقے بنائے گئے۔اسی طرح اس وقت محض برائے نام مسلمان لیڈروں اور مولویوں نے ایك ہندو لیڈر مسٹر گاندھی کو اپنا پیشوا بناکر ایك جدید فرقہ بنایا ہے اور ان کی نسبت اب تك بذریعہ اخباراترسالہ جاتاشتہاراتمشاہدات اور مسموعات امور ذیل معلوم ہوتے ہیں:
(۱)ایك مولوی صاحب لکھتے ہیں کہ حضرت سرور عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ایك سفر میں ایك کافر کو اپنا رہنما بنایا تھا اسی طرح ہم نے مسٹر گاندھی کو اپنا ہادی بنایا ہےاور صاف لکھ دیا کہ ہمارا حال اس شعر کا مصداق ہے
عمرے کے بآیات واحادیث گزشت
رفتے ونثار بت پرستی کردے
(وہ عمر جو آیات واحادیث میں گزری ہے وہ ختم ہوگئی اور وہ بت پرستی کی نذر کردی)
(۲)کہتے ہیں کہ حضرت سرور عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے عرب کے کافر قبائل سے موالات کی تھی ہم کفار ہند سے موالات کرتے ہیں۔
(۳)مسجد میں ہندوؤں سے منبر پر لکچر دلوائے گئے اور کہا گیا کہ مسجد نبوی میں وفود کفار قیام کرتے تھے اور اپنے طریقے پر عبادت بھی کرتے تھےاور کفار کا داخلہ مخصوص بمسجد الحرام ایك خاص وقت کے واسطے منع تھا۔
(۴)بعض لیڈروں نے جن کو مولانا کا بھی خطاب دے دیا گیا ہے مندروں میں جاکر اپنے ماتھوں پر ہندوؤں سے ٹیکے لگوائے۔کہتے ہیں کہ قشقہ شعار کفر اور منافی اسلام نہیں ہے۔
(۵)پارٹی مذکور کے اس مولانا نے ہمدم میں چھاپ دیا ہے کہ ہماری جماعت ایك ایسا مذہب بنانے کی فکر میں ہے جو ہندو مسلم امتیاز اٹھادے گا اور سنگم و پریاگ کو مقدس مقام بنائے گا پارٹی مذکور نے اسے مقبول رکھا اور کسی نے چون وچرا نہ کیا۔
(۶)پارٹی مذکور کے اس مولانا نے شائع کیا ہے کہ اگرآج تم نے ہندو بھائیوں کوراضی کرلیا تو اپنے خدا کو راضی کروگے۔
(۷)ایك ہندو کی ٹکٹی اپنے کاندھوں پر اٹھا کر اس کی جے پکارتے ہوئے سروپابر ہنہ مرگھٹ تك لے گئے ایك بت اٹھایا گیا اس کے ساتھ سرپابر ہنہ جے پکارتے سڑکوں پر گشت کیاگیا۔
(۸)اس کے ماتم کے لئے سروپابرہنہ مساجد میں جمع ہوئے اور اسکے لئے دعائے مغفرت اور نماز کے اشتہار دئے اور اس پر کاربند ہوئےاسکے ماتم میں مسجدیں بے چراغ رکھی گئیں۔
(۹)ہولی کے سوانگ میں ہندوؤں نے بزرگان اسلام کی تحقیر وتوہین کیمسلمانوں نے ہندو مسلم اتحاد کو مدنظر رکھ کر کچھ تعرض نہ کیا اور چشم پوشی کی۔
(۱۰)مسٹرگاندھی کے فرمان کے بموجب روزے رکھے گئے اس کے حکم پر نفل نمازیں پڑھی گئیں اور کاروبار بند کرکے معطل رہے۔
(۱۱)ایك ہندو لیڈر کے حکم سے ایك ڈولا سجایا گیا اور اس میں قرآن مجیدبائیبل اور رامائن رکھ کر ان کی پوجا کراتے مندر میں لے گئے۔
(۱۲)مسٹر گاندھی اور اس کے قوم کو خوش اور راضی کرنے کی غرض سے ایك جائز مشروع فعل قربانی گاؤ کو ممنوع اور ترك کرکے در پردہ ایك شعار اسلام سے مسلمانوں کو باز رکھا گیا اور ایك امر حلال کو حرام قرار دیا گیاایك بکری کی قربانی ایك خاندان(اگرچہ ساٹھ ستر آدمیوں کا ہو)کی طرف سے جائز سمجھی گئی اور حضرت سرور عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی طرف سے قربانی کرنا غیر ضروری بتایا گیا۔
(۱۳)خلافت کی مصنوعی حمایت کے حیلہ سے ہزارہا مسلمانوں کو ہجرت افغانستان اور جہاد کی ترغیب دے کر خانماں برباد ویران وپریشان بنایا گیا۔
(۱۴)کٹار پور کے ہندوؤں نے قربانی گاؤ کے پیچھے مسلمانوں پر شدید ظلم توڑےانہیں بے دریغ ذبح کیاانہیں آگ سے جلایااس پر ان میں سے بعض گرفتار ہوئے جن پرثبوت کامل ہوگیا اس خیر خواہ اسلام پارٹی نے ان کی معافی کے ریزولیوشن پاس اور گورنمنٹ کو ان کی رہائی کے لئے تار دئے اور مظالم ہولاگڈھ سے چشم پوشی و بے اعتنائی کی گئی۔
(۱۵)خلافت کی مصنوعی حمایت کے حیلہ سے مسلمانوں کا لاکھوں روپیہ اقطاع ہندوستان اور یورپ کی سیروسیاحت اور تفریح وتفنن میں صرف کیا جاتا ہے۔
(۱۶)خلافت کے مصنوعی حمایت کے حیلہ سے عیسائیوں سے ترك موالات اور عدم تعاونعمل کے غیر ممکن العمل منصوبوں اور تجاویز پر عملدرآمد کرایا جاتاہے اور مشرکین ہند کے ساتھ مواخات وموالات قائم کرکے بعض شعار کفر اختیار اور بعض شعار اسلام ترك کرائے جارہے ہیںباوجود ان سب امور کے
(۸)اس کے ماتم کے لئے سروپابرہنہ مساجد میں جمع ہوئے اور اسکے لئے دعائے مغفرت اور نماز کے اشتہار دئے اور اس پر کاربند ہوئےاسکے ماتم میں مسجدیں بے چراغ رکھی گئیں۔
(۹)ہولی کے سوانگ میں ہندوؤں نے بزرگان اسلام کی تحقیر وتوہین کیمسلمانوں نے ہندو مسلم اتحاد کو مدنظر رکھ کر کچھ تعرض نہ کیا اور چشم پوشی کی۔
(۱۰)مسٹرگاندھی کے فرمان کے بموجب روزے رکھے گئے اس کے حکم پر نفل نمازیں پڑھی گئیں اور کاروبار بند کرکے معطل رہے۔
(۱۱)ایك ہندو لیڈر کے حکم سے ایك ڈولا سجایا گیا اور اس میں قرآن مجیدبائیبل اور رامائن رکھ کر ان کی پوجا کراتے مندر میں لے گئے۔
(۱۲)مسٹر گاندھی اور اس کے قوم کو خوش اور راضی کرنے کی غرض سے ایك جائز مشروع فعل قربانی گاؤ کو ممنوع اور ترك کرکے در پردہ ایك شعار اسلام سے مسلمانوں کو باز رکھا گیا اور ایك امر حلال کو حرام قرار دیا گیاایك بکری کی قربانی ایك خاندان(اگرچہ ساٹھ ستر آدمیوں کا ہو)کی طرف سے جائز سمجھی گئی اور حضرت سرور عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی طرف سے قربانی کرنا غیر ضروری بتایا گیا۔
(۱۳)خلافت کی مصنوعی حمایت کے حیلہ سے ہزارہا مسلمانوں کو ہجرت افغانستان اور جہاد کی ترغیب دے کر خانماں برباد ویران وپریشان بنایا گیا۔
(۱۴)کٹار پور کے ہندوؤں نے قربانی گاؤ کے پیچھے مسلمانوں پر شدید ظلم توڑےانہیں بے دریغ ذبح کیاانہیں آگ سے جلایااس پر ان میں سے بعض گرفتار ہوئے جن پرثبوت کامل ہوگیا اس خیر خواہ اسلام پارٹی نے ان کی معافی کے ریزولیوشن پاس اور گورنمنٹ کو ان کی رہائی کے لئے تار دئے اور مظالم ہولاگڈھ سے چشم پوشی و بے اعتنائی کی گئی۔
(۱۵)خلافت کی مصنوعی حمایت کے حیلہ سے مسلمانوں کا لاکھوں روپیہ اقطاع ہندوستان اور یورپ کی سیروسیاحت اور تفریح وتفنن میں صرف کیا جاتا ہے۔
(۱۶)خلافت کے مصنوعی حمایت کے حیلہ سے عیسائیوں سے ترك موالات اور عدم تعاونعمل کے غیر ممکن العمل منصوبوں اور تجاویز پر عملدرآمد کرایا جاتاہے اور مشرکین ہند کے ساتھ مواخات وموالات قائم کرکے بعض شعار کفر اختیار اور بعض شعار اسلام ترك کرائے جارہے ہیںباوجود ان سب امور کے
وہ اپنے کو مسلمان کہتے ہیں اور جو ان کی پیروی نہ کرے اس کو کافرکہتے ہیںلہذا علمائے اہلسنت وجماعت اس فرقہ گاندھویہ اور اس کے پیشروان وپیروان کی نسبت جو عبداﷲ کے بجائے عبدالگاندھی بن گئے ہیں اور دوسروں کو عبدالگاندھی بنارہے ہیں صاف صاف احکام شرعی دربارہ معاشرت و مناکحت مصاہرت و نماز ظاہر واضح فرماکر عنداﷲ ماجور اور عندالناس مشکور ہوں۔
الجواب:
(۱)قرآن وحدیث کی عمر کو معاذاﷲبت پرستی پر نثار کرنا قرآن وحدیث کی شدید توہین اور بت پرستی ملعونہ کی عظیم تعظیم ہےیہ اگر کفر نہ ہوتو دنیا میں کوئی چیز کفر نہیںکہاں زمین غیر معروف کا راستہ بتانے کے لئے کسی مشرك کو ساتھ لینا اور کہاں معاذاﷲ اپنے دین کا اسے ہادی ورہبر بنانااس کی نظیر بھی ہوسکتی ہے کہ کسی کا شیخ وامام وہادی دینیکہ میں سوار ہویکہ بان کافر ہواس امام کے بعض مرید بننے والے مشرك کو نماز میں اپنا امام کریں اور اسی شیخ مقتدا کے فعل سے سند لائیں کہ دیکھو یکہ بان کافر ان کے آگے بیٹھا تھا ہم نے اس کافر کو نما زمیں اپنے آگے کرلیا توکیاحرج ہواپھر یہ بھی اس وقت کا واقعہ ہے کہ ہنوز حکم جہاد نازل نہ ہوا" لکم دینکم ولی دین ﴿۶﴾" (تمہارے لئے تمہارا دین اور میرے لئے میرادین۔ت)پر عمل تھا۔پھر بتدریج کفار پرتغلیظ بڑھتی گئی اور اخیر حکم ابدی ناطق وہ نازل ہوا کہ:
" یایہا النبی جہد الکفار والمنفقین واغلظ علیہم وماوىہم جہنم وبئس المصیر ﴿۷۳﴾" اے غیب کی خبریں دینے والے(نبی)جہاد فرماؤ کافروں اور منافقوں پراور ان پر سختی کرو اور ان کا ٹھکانا دوزخ ہے اور کیاہی بری جگہ پلٹنے کی۔(ت)
پہلے واقعات سے سند لانا اگر جاہل سے ہوتو جہل شدید ہے اور ذی علم سے تو مکر خبیث وضلال بعید۔
(۲)یہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پر افترائے محض ہے۔حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے کبھی کسی کافر سے موالات نہیں فرمائی اور کیونکر فرماسکتے حالانکہ ان کا رب عزوجل فرماتا ہے:
" ومن یتولہم منکم فانہ منہم " ۔ تم میں جو ان سے موالات کرے وہ بیشك انہیں میں سے ہے۔
الجواب:
(۱)قرآن وحدیث کی عمر کو معاذاﷲبت پرستی پر نثار کرنا قرآن وحدیث کی شدید توہین اور بت پرستی ملعونہ کی عظیم تعظیم ہےیہ اگر کفر نہ ہوتو دنیا میں کوئی چیز کفر نہیںکہاں زمین غیر معروف کا راستہ بتانے کے لئے کسی مشرك کو ساتھ لینا اور کہاں معاذاﷲ اپنے دین کا اسے ہادی ورہبر بنانااس کی نظیر بھی ہوسکتی ہے کہ کسی کا شیخ وامام وہادی دینیکہ میں سوار ہویکہ بان کافر ہواس امام کے بعض مرید بننے والے مشرك کو نماز میں اپنا امام کریں اور اسی شیخ مقتدا کے فعل سے سند لائیں کہ دیکھو یکہ بان کافر ان کے آگے بیٹھا تھا ہم نے اس کافر کو نما زمیں اپنے آگے کرلیا توکیاحرج ہواپھر یہ بھی اس وقت کا واقعہ ہے کہ ہنوز حکم جہاد نازل نہ ہوا" لکم دینکم ولی دین ﴿۶﴾" (تمہارے لئے تمہارا دین اور میرے لئے میرادین۔ت)پر عمل تھا۔پھر بتدریج کفار پرتغلیظ بڑھتی گئی اور اخیر حکم ابدی ناطق وہ نازل ہوا کہ:
" یایہا النبی جہد الکفار والمنفقین واغلظ علیہم وماوىہم جہنم وبئس المصیر ﴿۷۳﴾" اے غیب کی خبریں دینے والے(نبی)جہاد فرماؤ کافروں اور منافقوں پراور ان پر سختی کرو اور ان کا ٹھکانا دوزخ ہے اور کیاہی بری جگہ پلٹنے کی۔(ت)
پہلے واقعات سے سند لانا اگر جاہل سے ہوتو جہل شدید ہے اور ذی علم سے تو مکر خبیث وضلال بعید۔
(۲)یہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پر افترائے محض ہے۔حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے کبھی کسی کافر سے موالات نہیں فرمائی اور کیونکر فرماسکتے حالانکہ ان کا رب عزوجل فرماتا ہے:
" ومن یتولہم منکم فانہ منہم " ۔ تم میں جو ان سے موالات کرے وہ بیشك انہیں میں سے ہے۔
حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو ان کے رب کا ابتدائی حکم یہ تھا:
" فاصدع بما تؤمر واعرض عن المشرکین ﴿۹۴﴾" اعلان کے ساتھ فرمادو جو تمہیں حکم دیا جاتا ہے اور مشرکوں سے منہ پھیر لو۔
اور انتہائی حکم یہ ہوا۔
" یایہا النبی جہد الکفار والمنفقین واغلظ علیہم " اے نبی !تمام کافروں اور منافقوں سے جہاد فرما اور ان پر سختی ودرشتی کر۔
معاذ اﷲ موالات کا وقت کون ساتھاسورہ ن شریف مکیہ ہے ا س میں فرماتا ہے:" ودوا لو تدہن فیدہنون ﴿۹﴾" کافر اس تمنا میں ہیں کہ کہیں تم کچھ نرمی کرو تو وہ بھی نرم پڑیں۔اس وقت میں مداہنت تو روارکھی نہ گئی نہ کہ معاذا ﷲ موالات۔ائمہ دین نے حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی طرف نسبت مداہنت کرنے والے کی تکفیر فرمائی ہے چہ جائے مفتری موالاتشفاء شریف امام قاضی عیاض میں ہے:
الوجہ الثانی ان یکون القائل غیر قاصد للسب ولکنہ تکلم بکلمۃ الکفر من اضافۃ مالایجوز علیہ مثل ان ینسب الیہ اتیان کبیرۃ اومداھنۃ فی تبلیغ الرسالۃ او فی حکم بین الناس فحکم ھذا الوجہ حکم الاول ۔ (ملخصا) دوسری وجہ یہ ہے کہ کہنے والے کا مقصد سب نہ ہو لیکن اس نے ایسا کلمہ کفر بولا اور ایسی شیئ کی آپ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی طرف نسبت کی جو آپ کی شان کے مناسب نہ تھی مثلا کبیرہ کے ارتکاب یا احکام رسالت کے پہنچانے میں یا لوگوں کے درمیان فیصلہ فرمانے میں مداہنت کی نسبت کی تو اس کا حکم بھی پہلے کے حکم کی طرح ہی ہے۔(ت)
سخت محرومی و بیباکی ہےیہ کہ آدمی کے کسی عیب پر نکتہ چینی ہو اور وہ اپنے اوپر سے دفع الزام کے لئے کسی نبی سے استشہاد کرے کہ ان سے بھی ایسا واقع ہو ااگرچہ ظاہر ا وہ فعل وقوع میں آیا ہو اور اس نے اپنی نابینائی سے فرق نہ دیکھا اور ملائکہ کو چمار پر قیاس کیا۔شفا ء شریف امام قاضی عیاض میں ہے:
" فاصدع بما تؤمر واعرض عن المشرکین ﴿۹۴﴾" اعلان کے ساتھ فرمادو جو تمہیں حکم دیا جاتا ہے اور مشرکوں سے منہ پھیر لو۔
اور انتہائی حکم یہ ہوا۔
" یایہا النبی جہد الکفار والمنفقین واغلظ علیہم " اے نبی !تمام کافروں اور منافقوں سے جہاد فرما اور ان پر سختی ودرشتی کر۔
معاذ اﷲ موالات کا وقت کون ساتھاسورہ ن شریف مکیہ ہے ا س میں فرماتا ہے:" ودوا لو تدہن فیدہنون ﴿۹﴾" کافر اس تمنا میں ہیں کہ کہیں تم کچھ نرمی کرو تو وہ بھی نرم پڑیں۔اس وقت میں مداہنت تو روارکھی نہ گئی نہ کہ معاذا ﷲ موالات۔ائمہ دین نے حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی طرف نسبت مداہنت کرنے والے کی تکفیر فرمائی ہے چہ جائے مفتری موالاتشفاء شریف امام قاضی عیاض میں ہے:
الوجہ الثانی ان یکون القائل غیر قاصد للسب ولکنہ تکلم بکلمۃ الکفر من اضافۃ مالایجوز علیہ مثل ان ینسب الیہ اتیان کبیرۃ اومداھنۃ فی تبلیغ الرسالۃ او فی حکم بین الناس فحکم ھذا الوجہ حکم الاول ۔ (ملخصا) دوسری وجہ یہ ہے کہ کہنے والے کا مقصد سب نہ ہو لیکن اس نے ایسا کلمہ کفر بولا اور ایسی شیئ کی آپ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی طرف نسبت کی جو آپ کی شان کے مناسب نہ تھی مثلا کبیرہ کے ارتکاب یا احکام رسالت کے پہنچانے میں یا لوگوں کے درمیان فیصلہ فرمانے میں مداہنت کی نسبت کی تو اس کا حکم بھی پہلے کے حکم کی طرح ہی ہے۔(ت)
سخت محرومی و بیباکی ہےیہ کہ آدمی کے کسی عیب پر نکتہ چینی ہو اور وہ اپنے اوپر سے دفع الزام کے لئے کسی نبی سے استشہاد کرے کہ ان سے بھی ایسا واقع ہو ااگرچہ ظاہر ا وہ فعل وقوع میں آیا ہو اور اس نے اپنی نابینائی سے فرق نہ دیکھا اور ملائکہ کو چمار پر قیاس کیا۔شفا ء شریف امام قاضی عیاض میں ہے:
حوالہ / References
القرآن الکریم ۱۵ /۹۴
القرآن الکریم ۶۶ /۹
القرآن الکریم ۶۸ /۹
الشفاء بتعریف حقوق المصطفی فصل قال القاضی تقدم الکلام مطبع شرکت صحافیہ فی بلد العثمانیہ ترکی۲/ ۲۳۔۲۲۲
القرآن الکریم ۶۶ /۹
القرآن الکریم ۶۸ /۹
الشفاء بتعریف حقوق المصطفی فصل قال القاضی تقدم الکلام مطبع شرکت صحافیہ فی بلد العثمانیہ ترکی۲/ ۲۳۔۲۲۲
ھذہ کلہا وان لم تتضمن سباولاقصد قائلھا ازراء فما وقرالنبوۃ ولاعظم الرسالۃ ولاعزرحرمۃ الاصطفاء صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم حتی شبہ من شبہ فی معرۃ قصد الانتفاء منھا بمن عظم اﷲ خطرہ ونھی عن جھر القول لہ ورفع الصوت عندہ فحق ھذا ان دری عنہ القتل السجن وقوۃ تعزیرہ ۔(ملخصا) یہ تمام کلام اگرچہ سب و شتم کو متضمن نہیں اور نہ ہی قائل نے اس سے کسی عیب کا قصد کیا ہے بہر حال اس نے نہ تو منصب نبوت ورسالت کا خیال رکھا ہے نہ ہی حرمت کا اقرار کیا ہے حتی کہ روانی کلام میں شاعر نے اپنے ممدوح کو عیب سے پاك ہونے کا قصد کرتے ہوئے اس ذات سے تشبیہ دی جس کی قدر ومنزلت کو اﷲ تعالی نے عظیم فرمایااور اس کا اندازہ اس سے کیا جاسکتا ہے کہ رب العالمین نے ان کی بارگاہ میں بلند آواز سے بولنے کی ممانعت فرمائیاس سوء ادبی کی سزا اگرچہ قتل نہیں ہے تاہم قید بامشقت کی سزا دینا ضرور ی ہے(ملخصا)(ت)
سیدالمرسلین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پر معاذاﷲ انہونی جوڑنا اور اس نے اپنی ناپاکی کا جواز چاہیںکتنی سخت خباثت اور کس قدر شدید موجب لعنت ہےکیا کسی عالم دین کا وہ ناسعید بیٹا سخت ناخلف نہ قرار پائے گا جس کے بھنگ پینے پر اس کے باپ کے شاگرد اعتراض کریں اور وہ اپنے اوپر سے دفع اعتراض کے لئے محض جھوٹ بہتان اپنے باپ پر رکھ دے کہ کیا تمہارے استاد چرس نہ پیتے تھےپھر کہاں باپ اور کہاں سیدا لمرسلین صلی اﷲتعالی علیہ وسلم !
(۳)یہ کہنا کہ مسجد الحرام شریف سے کفار کا منع ایك خاص وقت کے واسطے تھا اگر یہ مراد کہ اب نہ رہا تو اﷲ عزوجل پر صریح افتراء ہے
قال اﷲ تعالی" انما المشرکون نجس فلایقربوا المسجد الحرام بعد عامہم ہذا " اﷲ تعالی نے فرمایا:مشرك نرے ناپاك ہیں تو اس برس کے بعد وہ مسجد حرام کے پاس نہ آنے پائیں۔(ت)
یونہی یہ کہنا کہ وفود کفار مسجد نبوی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم میں اپنے طریقے پر عبادت کرتے تھے محض جھوٹ ہےاور نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے اسے جائز رکھنے کا اشعار حضور اقدس صلی اﷲ تعالی
سیدالمرسلین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پر معاذاﷲ انہونی جوڑنا اور اس نے اپنی ناپاکی کا جواز چاہیںکتنی سخت خباثت اور کس قدر شدید موجب لعنت ہےکیا کسی عالم دین کا وہ ناسعید بیٹا سخت ناخلف نہ قرار پائے گا جس کے بھنگ پینے پر اس کے باپ کے شاگرد اعتراض کریں اور وہ اپنے اوپر سے دفع اعتراض کے لئے محض جھوٹ بہتان اپنے باپ پر رکھ دے کہ کیا تمہارے استاد چرس نہ پیتے تھےپھر کہاں باپ اور کہاں سیدا لمرسلین صلی اﷲتعالی علیہ وسلم !
(۳)یہ کہنا کہ مسجد الحرام شریف سے کفار کا منع ایك خاص وقت کے واسطے تھا اگر یہ مراد کہ اب نہ رہا تو اﷲ عزوجل پر صریح افتراء ہے
قال اﷲ تعالی" انما المشرکون نجس فلایقربوا المسجد الحرام بعد عامہم ہذا " اﷲ تعالی نے فرمایا:مشرك نرے ناپاك ہیں تو اس برس کے بعد وہ مسجد حرام کے پاس نہ آنے پائیں۔(ت)
یونہی یہ کہنا کہ وفود کفار مسجد نبوی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم میں اپنے طریقے پر عبادت کرتے تھے محض جھوٹ ہےاور نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے اسے جائز رکھنے کا اشعار حضور اقدس صلی اﷲ تعالی
حوالہ / References
الشفا بتعریف حقوق المصطفی فصل قال القاضی تقدم الکلام مطبع شرکت صحافیہ فی بلاد العثمانیہ ترکی ۲ / ۲۳۰
القرآن الکریم ۹ /۲۸
القرآن الکریم ۹ /۲۸
علیہ وسلم پر افترائے فجارحاشا کہ اﷲ کا رسول گوبار بار فرمائے کہ کسی مسجدنہ کہ خاص مسجد مدینہ کریمہ میں نہ کہ خود حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے سامنے بتوں یا مسیح کی عبادت کی جائےجانتے ہوکہ اس سے ان کا مقصود کیا ہےیہ کہ مسلمان تواسی قدر پر ناراض ہوئے ہیں کہ مشرك کو مسجد میں مسلمانوں سے اونچا کھڑا کرکے ان کو واعظ بنایا وہ تو اس تہیہ میں ہیں کہ ہندوؤں کو حق دیں کہ مسجد میں بت نصب کرکے ان کی ڈنڈوت کریںگھنٹے بجائیںسنکھ پھونکیں کیونکہ ان مفتریوں کے نزدیك خود حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی مسجد میں خود حضور کے سامنے کفار اپنے طریقہ کی عبادت کرتے تھے۔
" و یلکم لا تفتروا علی اللہ کذبا فیسحتکم بعذاب " ۔ تمہیں خرابی ہو اﷲ پر جھوٹ نہ باندھو کہ وہ تمہیں عذاب سے ہلاك کردے۔(ت)
حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے لئے مسجد کریمہ کے سوا کوئی نشست گاہ نہ تھی جو حاضر ہوتا یہیں حاضر ہوتا کسی کافر کی حاضری معاذاﷲ بطوراستیلا واستعلاء نہ تھی بلکہ ذلیل وخوار ہوکر یا اسلام لانے کے لئے یا تبلیغ اسلام سننے کے واسطےکہاں یہ اور کہاں وہ جو بدخواہان اسلام نے کیا کہ مشرك کو بروجہ تعظیم مسجد میں لے گئے اسے مسلمانوں سے او نچا کھڑاکیا اسے مسلمانوں کو واعظ وہادی بنایا اس میں مسجد کی توہین ہوئی اور توہین مسجد حراممسلمانوں کی تذلیل ہوئی اور تذلیل مسلمین حراممشرك کی تعظیم ہوئی اور تعظیم مشرك حرامبدخواہی مسلمین ہوئی بلکہ بدخواہی اسلامپھر اسے اس پر قیاس کرنا کیسی سخت ضلالت و گمراہی ہے طرفہ یہ کہ زبانی کہتے جاتے ہیں کہ مشرك کا بطور استعلاء مسجد میں آنا ضرور حرام ہےاور نہیں دیکھتے کہ یہ آنا بطور استعلا ہی تھا
" فانہا لا تعمی الابصر ولکن تعمی القلوب التی فی الصدور ﴿۴۶﴾"
۔ تو یہ آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں بلکہ وہ دل اندھے ہوتے ہیں جو سینوں میں ہیں(ت)
اسی نابینائی کی بناء پر یہ مسلمان کو دھوکا دینے والے یہاںحنفیہ وشافعیہ کا اختلافی مسئلہ کہ مسجد میں دخول کافر حرام ہے یانہیں محض دھوکا دینے کو پیش کرتے ہیںقطع نظر اس سے کہ اس مسئلہ میں تحقیق کیا ہے۔
اولا خود کتب معتمدہ حنفیہ سے ممانعت پیدا ہے
ثانیا خود محرر مذہب سید نا امام محمد رضی اﷲ تعالی عنہ کے ارشاد سے ہویدا ہے۔
ثالثا علماء وصلحاء کا ادب کیا رہا ہے اختلاف احوال زمانہ وعادات قوم ہمیشہ مائل تعظیم وتوہین میں
" و یلکم لا تفتروا علی اللہ کذبا فیسحتکم بعذاب " ۔ تمہیں خرابی ہو اﷲ پر جھوٹ نہ باندھو کہ وہ تمہیں عذاب سے ہلاك کردے۔(ت)
حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے لئے مسجد کریمہ کے سوا کوئی نشست گاہ نہ تھی جو حاضر ہوتا یہیں حاضر ہوتا کسی کافر کی حاضری معاذاﷲ بطوراستیلا واستعلاء نہ تھی بلکہ ذلیل وخوار ہوکر یا اسلام لانے کے لئے یا تبلیغ اسلام سننے کے واسطےکہاں یہ اور کہاں وہ جو بدخواہان اسلام نے کیا کہ مشرك کو بروجہ تعظیم مسجد میں لے گئے اسے مسلمانوں سے او نچا کھڑاکیا اسے مسلمانوں کو واعظ وہادی بنایا اس میں مسجد کی توہین ہوئی اور توہین مسجد حراممسلمانوں کی تذلیل ہوئی اور تذلیل مسلمین حراممشرك کی تعظیم ہوئی اور تعظیم مشرك حرامبدخواہی مسلمین ہوئی بلکہ بدخواہی اسلامپھر اسے اس پر قیاس کرنا کیسی سخت ضلالت و گمراہی ہے طرفہ یہ کہ زبانی کہتے جاتے ہیں کہ مشرك کا بطور استعلاء مسجد میں آنا ضرور حرام ہےاور نہیں دیکھتے کہ یہ آنا بطور استعلا ہی تھا
" فانہا لا تعمی الابصر ولکن تعمی القلوب التی فی الصدور ﴿۴۶﴾"
۔ تو یہ آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں بلکہ وہ دل اندھے ہوتے ہیں جو سینوں میں ہیں(ت)
اسی نابینائی کی بناء پر یہ مسلمان کو دھوکا دینے والے یہاںحنفیہ وشافعیہ کا اختلافی مسئلہ کہ مسجد میں دخول کافر حرام ہے یانہیں محض دھوکا دینے کو پیش کرتے ہیںقطع نظر اس سے کہ اس مسئلہ میں تحقیق کیا ہے۔
اولا خود کتب معتمدہ حنفیہ سے ممانعت پیدا ہے
ثانیا خود محرر مذہب سید نا امام محمد رضی اﷲ تعالی عنہ کے ارشاد سے ہویدا ہے۔
ثالثا علماء وصلحاء کا ادب کیا رہا ہے اختلاف احوال زمانہ وعادات قوم ہمیشہ مائل تعظیم وتوہین میں
دخل رکھتا ہے۔
رابعا غیر اسلامی سلطنت اور نامسلموں کی کثرت میں ا جازت کی اشاعت اور مساجد کو پامالی کفار کے لئے وقف کرنا کس قدر بہی خواہی اسلام ہے۔
خامسا وہ نجس قوم کہ بنص قرآن اس پر حکم نجاست ہے اور وہ مسلمانوں کو ملیچھ کہےبھنگی کے مثل سمجھے سودا بیچے تو دور سے ہاتھ میں رکھ دےاس کے نجس بدنناپاك پانوؤں کے لئے تم اپنی مساجد کو وقف کرو یہ کس قدر مصلحت اسلام کے گہرے رنگ میں ڈوبا ہوا ہےان سب سے قطع نظر ان حرکات شنیعہ کا اس سے کیا علاج ہوسکتا ہے
او گماں بردہ کہ من کردم چو او
فرق را کہ بیند آں استیزہ جو
(اس نے گمان کیا کہ میں نے اس کی مثل کیا حالانکہ وہ لڑائی کی جستجو کرنے والا اس فرق کو کیسے محسوس کرسکتا ہے)
صحیح بخاری شریف میں امیر المومنین فاروق اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ سے مروی ہے:
قال کانت الکلاب تقبل وتدبر فی المسجد فی زمان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ۔ فرمایا:رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے زمانہ میں مسجد شریف میں کتے آتے جاتے تھے(ت)
زمانہ رسالت میں مسجد شریف میں کتے آتے جاتے تھے اب تم خود کتے اپنی مسجدوں اور مسجد الحرام شریف یا مسجد نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم میں لے جاؤ اور جمعہ کے دن امام کے دہنے بائیں منبر پر دو کتے بٹھاؤ تمہارے استدلال کی نظیر تو یہیں تك ہوگئیکہہ دینا کیا زمانہ اقدس میں کتے مسجد میں نہ آتے جاتے تھےہم لے گئے اور منبر پر انہیں بٹھایا تو کیا ہوااور وہ جو آنے جانے اور یوں لے جانے اور منبر پر بٹھانے کا فرق ہے اس سے آنکھ بند کرلینا جیسے یہاں بند کرلیکون سی آنکھدل کی کہ" ولکن تعمی القلوب التی فی الصدور ﴿۴۶﴾" (دل اندھے ہوتے ہیں جو سینوں میں ہیں۔ت)بلکہ خدا تمہیں عقل وانصاف دے تو یہ بھی تمہارے فعل کی نظیر نہیںتم خطیب کے آس پاس منبر پر کتے بٹھاؤ اس سے وہ کتے خطیب نہ ہوجائیں گےاور تم نے مشرکین کو
رابعا غیر اسلامی سلطنت اور نامسلموں کی کثرت میں ا جازت کی اشاعت اور مساجد کو پامالی کفار کے لئے وقف کرنا کس قدر بہی خواہی اسلام ہے۔
خامسا وہ نجس قوم کہ بنص قرآن اس پر حکم نجاست ہے اور وہ مسلمانوں کو ملیچھ کہےبھنگی کے مثل سمجھے سودا بیچے تو دور سے ہاتھ میں رکھ دےاس کے نجس بدنناپاك پانوؤں کے لئے تم اپنی مساجد کو وقف کرو یہ کس قدر مصلحت اسلام کے گہرے رنگ میں ڈوبا ہوا ہےان سب سے قطع نظر ان حرکات شنیعہ کا اس سے کیا علاج ہوسکتا ہے
او گماں بردہ کہ من کردم چو او
فرق را کہ بیند آں استیزہ جو
(اس نے گمان کیا کہ میں نے اس کی مثل کیا حالانکہ وہ لڑائی کی جستجو کرنے والا اس فرق کو کیسے محسوس کرسکتا ہے)
صحیح بخاری شریف میں امیر المومنین فاروق اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ سے مروی ہے:
قال کانت الکلاب تقبل وتدبر فی المسجد فی زمان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ۔ فرمایا:رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے زمانہ میں مسجد شریف میں کتے آتے جاتے تھے(ت)
زمانہ رسالت میں مسجد شریف میں کتے آتے جاتے تھے اب تم خود کتے اپنی مسجدوں اور مسجد الحرام شریف یا مسجد نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم میں لے جاؤ اور جمعہ کے دن امام کے دہنے بائیں منبر پر دو کتے بٹھاؤ تمہارے استدلال کی نظیر تو یہیں تك ہوگئیکہہ دینا کیا زمانہ اقدس میں کتے مسجد میں نہ آتے جاتے تھےہم لے گئے اور منبر پر انہیں بٹھایا تو کیا ہوااور وہ جو آنے جانے اور یوں لے جانے اور منبر پر بٹھانے کا فرق ہے اس سے آنکھ بند کرلینا جیسے یہاں بند کرلیکون سی آنکھدل کی کہ" ولکن تعمی القلوب التی فی الصدور ﴿۴۶﴾" (دل اندھے ہوتے ہیں جو سینوں میں ہیں۔ت)بلکہ خدا تمہیں عقل وانصاف دے تو یہ بھی تمہارے فعل کی نظیر نہیںتم خطیب کے آس پاس منبر پر کتے بٹھاؤ اس سے وہ کتے خطیب نہ ہوجائیں گےاور تم نے مشرکین کو
حوالہ / References
صحیح البخاری کتاب الوضوء باب اذا شرب الکلب فی الاناء قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۲۹
القرآن الکریم ۲۲ /۴۶
القرآن الکریم ۲۲ /۴۶
خطیب مسلمین بنایا لہذا اگر قدرے اپنے فعل سے تقریب چاہو تو ان کتوں کو سدھاؤ کہ جب امام پہلا خطبہ پڑھ کر بیٹھے وہ نہایت بلند آواز سے بھونکنا اور رونا شروع کردیں کہ باہر تك کے سب لوگوں کو خبر ہوجائے کہ جلسہ ودعا کا وقت ہےیونہی نماز کے وقت آٹھ آٹھ دس دس صفوں کے فاصلے سے چار چار کتے صف میں کھڑے کرو کہ تکبیرانتقال کے وقت چیخیں اور مکبروں سے زیادہ تبلیغ کاکام دیں اور یہی حدیث بخاری حجت میں پیش کردینا کہ دیکھو زمانہ اقدس میں کتے مسجد میں آتے جاتے تھے بلکہ ان کے آنے سے کوئی فائدہ نہ تھا اور ہم کتے اس نفع دینی کے لئے لے گئےتوبدرجہ اولی یہ جائز ہواوہاں تك تو قیاس تھا یہ دلالۃ النص ہوئی اور اس میں جو تمہارے استدلال کی خباثت ہے نہ دیکھناکیونکہ ٹھہر گئی ہے کہ
" ولکن تعمی القلوب التی فی الصدور ﴿۴۶﴾" ۔
(۴)قشقہ ضرور شعار کفر منافی اسلام ہے جیسے زنار بلکہ اس سے زائد کہ وہ جسم سے جدا ایك ڈورا ہے جو اکثر کپڑوں کے نیچے چھپا رہتا ہے اور یہ خاص بدن پر اور بدن میں بھی کہاں چہرے پراور چہرے میں کس جگہماتھے پرجو ہر وقت چمکے اور دور سے کھلے حرفوں میں منہ پر لکھا دکھائے کہ ھذا من الکافرین(یہ کفار میں سے ہے۔ت) خلاصہ وظہیریہ ومحیط ومنح الروض الازہر وغیرہ کتب معتمدہ میں ہے:
واللفظ لہذا فی الخلاصۃ من تزنر بزنار الیہود و النصاری وان لم یدخل کنیستھم کفرومن شد علی وسطہ حبلا وقال ھذا زنار کفروفی الظہیریۃ وحرم الزوجوفی المحیط لان ھذاتصریح بما ھو کفروفی الظھیریۃ من وضع قلنسوۃ المجوس علی راسہ فقیل لہ فقال ینبغی ان یکون القلب سویا کفر ۔(ملخصا) خلاصہ کی عبارت یہ ہے جس نے یہود ونصاری کا زنار پہنا اگرچہ وہ ان کے کنیسہ میں نہیں گیا وہ کافر ہےجس نے اپنی کمر میں رسی باندھی او رکہا یہ زنا رہے اس نے کفرکیا۔ظہیریہ میں ہے اس پر بیوی حرام ہوگئی۔محیط میں ہے کیونکہ یہ صراحۃ کفر ہے۔ظہیریہ میں ہے جس نے مجوس کی ٹوپی سر پر رکھی اسے بتایا گیا تو کہنے لگا بس دل صحیح ہونا چاہئےوہ کافر ہے۔(ت)
(۵)مسلم وہند و میں امتیاز اسلام وکفر کا امتیاز ہے اور وہ موقوف نہیں ہوسکتا جب تك مسلم مسلم اور کافر کافر ہیں اور یہ اس کلام کی مراد نہیں ہوسکتی کہ سب ہندوؤں کو مسلمان کرلیں گے کہ اس کے لئے کسی نئے
" ولکن تعمی القلوب التی فی الصدور ﴿۴۶﴾" ۔
(۴)قشقہ ضرور شعار کفر منافی اسلام ہے جیسے زنار بلکہ اس سے زائد کہ وہ جسم سے جدا ایك ڈورا ہے جو اکثر کپڑوں کے نیچے چھپا رہتا ہے اور یہ خاص بدن پر اور بدن میں بھی کہاں چہرے پراور چہرے میں کس جگہماتھے پرجو ہر وقت چمکے اور دور سے کھلے حرفوں میں منہ پر لکھا دکھائے کہ ھذا من الکافرین(یہ کفار میں سے ہے۔ت) خلاصہ وظہیریہ ومحیط ومنح الروض الازہر وغیرہ کتب معتمدہ میں ہے:
واللفظ لہذا فی الخلاصۃ من تزنر بزنار الیہود و النصاری وان لم یدخل کنیستھم کفرومن شد علی وسطہ حبلا وقال ھذا زنار کفروفی الظہیریۃ وحرم الزوجوفی المحیط لان ھذاتصریح بما ھو کفروفی الظھیریۃ من وضع قلنسوۃ المجوس علی راسہ فقیل لہ فقال ینبغی ان یکون القلب سویا کفر ۔(ملخصا) خلاصہ کی عبارت یہ ہے جس نے یہود ونصاری کا زنار پہنا اگرچہ وہ ان کے کنیسہ میں نہیں گیا وہ کافر ہےجس نے اپنی کمر میں رسی باندھی او رکہا یہ زنا رہے اس نے کفرکیا۔ظہیریہ میں ہے اس پر بیوی حرام ہوگئی۔محیط میں ہے کیونکہ یہ صراحۃ کفر ہے۔ظہیریہ میں ہے جس نے مجوس کی ٹوپی سر پر رکھی اسے بتایا گیا تو کہنے لگا بس دل صحیح ہونا چاہئےوہ کافر ہے۔(ت)
(۵)مسلم وہند و میں امتیاز اسلام وکفر کا امتیاز ہے اور وہ موقوف نہیں ہوسکتا جب تك مسلم مسلم اور کافر کافر ہیں اور یہ اس کلام کی مراد نہیں ہوسکتی کہ سب ہندوؤں کو مسلمان کرلیں گے کہ اس کے لئے کسی نئے
حوالہ / References
القرآن الکریم ۲۲ /۴۶
منح الروض الازہر شرح الفقہ الاکبر فصل فی العلم والعلماء مصطفی البابی مصر ص۱۸۵
منح الروض الازہر شرح الفقہ الاکبر فصل فی العلم والعلماء مصطفی البابی مصر ص۱۸۵
مذہب کی کیا حاجتتو ضرور یہ مراد ہے کہ ایك ایسا مذہب ایجاد کریں گے جو نہ ہندو کو ہندو رکھے نہ مسلمان کو مسلماناور وہ نہ ہوگا مگر کفر کہ اسلام کے سو اجوکچھ ہے سب کفر ہےیونہی پریاگ وسنگم کی تقدیس یوں مراد نہیں ہوسکتی جیسے سلاطین اسلام شکر اﷲ تعالی عنہم نے معابد کفار پر قبضہ فرماکر ان کو مساجد بنایا کہ اس کے لئے بھی نیا مذہب بنانا نہ ہوالاجرم یہ مراد ہے کہ وہ رہیں معابد کفار اور پھر مقدس مانے جائیںاور یہ بھی کفر ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
(نوٹ:۶سے۱۶تك کے جواب دستیاب نہ ہوئے)
مسئلہ۱۵۴تا۱۶۲:ازلاہور مسجد بیگم شاہی مسئولہ صوفی احمد دین صاحب ۲۹محرم الحرام ۱۳۳۹ھ
الحمد ﷲ وکفی وسلام علی عبادہ الذین اصطفی۔اما بعد یا علماء الملۃ وامناء الامۃ افیضوا علینا من علومکم دام فیوضکم۔ تمام تعریف اﷲکے لئے اور وہی کافی ہےسلام اس کے منتخب بندوں پر ہواے علماء ملت اور امین امت!ہمیں اپنے علوم کافیض عطا کیجئے اﷲ تعالی تمہارے فیض کو جاری وساری رکھے(ت)
(۱)اس ظالم گروہ کا کیا حکم ہے جن کے امام اول نے سلطان وقت سے باغی ہوکر مکہ معظمہ زاد اﷲ تعالی شرفا پر تغلب کیاوہاں کے علماء کوتہ تیغ بے دریغ کیامزارات اولیاء پر پاخانہ بنائےحضور علیہ الصلوۃ والسلام کے روضہ مبارك کو صنم اکبر سے تعبیرکیاائمہ مجتہدین اور فقہاء ومقلدین کو انھم ضلواواضلوا(وہ گمراہ ہیں اور انہیں نے دوسروں کو گمراہ کیا۔ت)کا مصداق بنایااپنی خواہشات کو حق وباطل کا معیار قرار دیامختلف عبارات وپیرایہ سے حضور پر نور عفوغفور شفیع یوم النشور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی تنقیص شان کرتا تھا اور اسی بدعقیدہ پر اپنی ذریات واذناب کو لگا تھااپنے متبعین کے سوا سب کو مشرك جانتا تھادرود شریف پڑھنے سے بہت ایذاپاتا تھاحتی کہ ایك نابینا کو منارہ پر بعد اذان صلوۃوسلام پر شہید کردیا اور بولا:
ان الربابۃ فی بیت الخاطئۃ یعنی الزانیۃ اقل اثما ممن ینادی بالصلوۃ علی النبی صلی اﷲتعالی علیہ وسلم الخ۔ زانیہ کے گھر رباب بجانا اس سے کم گناہ ہے کہ نبی اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پر بلند آواز سے صلوۃ وسلام پڑھاجائے الخ (ت)
اس کے متبعین طرح طرح سے حضور علیہ السلام کی تحقیر وتوہین کرتے اور وہ سن کر خوش ہوتا یہاں تك
ان بعض اتباعہ کان یقول عصای ھذہ اس کے بعض ماننے والے کہتے ہیں یہ میری لاٹھی
(نوٹ:۶سے۱۶تك کے جواب دستیاب نہ ہوئے)
مسئلہ۱۵۴تا۱۶۲:ازلاہور مسجد بیگم شاہی مسئولہ صوفی احمد دین صاحب ۲۹محرم الحرام ۱۳۳۹ھ
الحمد ﷲ وکفی وسلام علی عبادہ الذین اصطفی۔اما بعد یا علماء الملۃ وامناء الامۃ افیضوا علینا من علومکم دام فیوضکم۔ تمام تعریف اﷲکے لئے اور وہی کافی ہےسلام اس کے منتخب بندوں پر ہواے علماء ملت اور امین امت!ہمیں اپنے علوم کافیض عطا کیجئے اﷲ تعالی تمہارے فیض کو جاری وساری رکھے(ت)
(۱)اس ظالم گروہ کا کیا حکم ہے جن کے امام اول نے سلطان وقت سے باغی ہوکر مکہ معظمہ زاد اﷲ تعالی شرفا پر تغلب کیاوہاں کے علماء کوتہ تیغ بے دریغ کیامزارات اولیاء پر پاخانہ بنائےحضور علیہ الصلوۃ والسلام کے روضہ مبارك کو صنم اکبر سے تعبیرکیاائمہ مجتہدین اور فقہاء ومقلدین کو انھم ضلواواضلوا(وہ گمراہ ہیں اور انہیں نے دوسروں کو گمراہ کیا۔ت)کا مصداق بنایااپنی خواہشات کو حق وباطل کا معیار قرار دیامختلف عبارات وپیرایہ سے حضور پر نور عفوغفور شفیع یوم النشور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی تنقیص شان کرتا تھا اور اسی بدعقیدہ پر اپنی ذریات واذناب کو لگا تھااپنے متبعین کے سوا سب کو مشرك جانتا تھادرود شریف پڑھنے سے بہت ایذاپاتا تھاحتی کہ ایك نابینا کو منارہ پر بعد اذان صلوۃوسلام پر شہید کردیا اور بولا:
ان الربابۃ فی بیت الخاطئۃ یعنی الزانیۃ اقل اثما ممن ینادی بالصلوۃ علی النبی صلی اﷲتعالی علیہ وسلم الخ۔ زانیہ کے گھر رباب بجانا اس سے کم گناہ ہے کہ نبی اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پر بلند آواز سے صلوۃ وسلام پڑھاجائے الخ (ت)
اس کے متبعین طرح طرح سے حضور علیہ السلام کی تحقیر وتوہین کرتے اور وہ سن کر خوش ہوتا یہاں تك
ان بعض اتباعہ کان یقول عصای ھذہ اس کے بعض ماننے والے کہتے ہیں یہ میری لاٹھی
حوالہ / References
الدررالسنیۃ فی ردالوہابیہ مکتبۃ الحقیقیۃ استنبول ترکی ص۴۱
خیرمن محمد(صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم)لانھا ینتفع بھا فی قتل الحیۃ ونحوھا ومحمد(صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم)قد مات ولم یبق فیہ نفع اصلا وانما ھو طارش وقد مضی الخ
کتاب الدررالسنیۃ فی رد الوھابیہ ص۴۱۴۲۔ محمد(صلی اﷲتعالی علیہ وسلم)سے بہتر ہے کیونکہ یہ سانپ وغیرہ مارنے کا کام دیتی ہےاور محمد(صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم)فوت ہوگئے اب ان سے بالکل کوئی نفع نہیں اٹھایا جاسکتا وہ بہرے تھے جو گزرگئے الخ(ت)
بظاہر حنبلی بنتا تھا مگر دراصل حضرت امام احمد حنبل رحمۃ اﷲ علیہ سے بالکل بے تعلق تھادعوی نبوت کا متمنی تھا مگرقبل از صریح اظہار طعمہ اجل ہوکر اپنے کیفر کردار کو پہنچا اورآیۃ:
" ان الذین یؤذون اللہ و رسولہ لعنہم اللہ فی الدنیا و الاخرۃ " الآیۃ بیشك جو ایذادیتے ہیں اﷲ اور اس کے رسول کو ان پر اﷲ کی لعنت ہے دنیا اور آخرت میں۔الآیۃ(ت)
کاپورا پورا مصداق بنا۔
(۲)ان کے امام ثانی نے پہلے امام کی ہندی شرح المسمی بہ تقویۃ الایمان لکھیاپنے فرقہ کا نام موحد رکھااور اپنے امام کے قدم بقدم ہوکر سب امت کو کافر ومشرك بنایاحضورعلیہ الصلوۃ والسلام ودیگر انبیاء علیہم السلام بلکہ خود خدائے تعالی جل وعلا شانہ کی توہین کیدشنام دہی میں کوئی دقیقہ فرو گزاشت نہ کیاانبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کو چوہڑے چمار اور عاجز وناکارہ لوگوں سے تمثیل دی (تفویۃ الایمان ص۱۰۱۹۲۹)اﷲ تعالی کی ذات والا صفات میں عیب وآلائش کا آجانا جائز رکھاوقوع کذب سے صرف بغرض ترفع وبخوف اطلاع بچنا مانا(یکروزی ص۱۴۴و۱۴۵)نماز میں حضور علیہ الصلوۃ والسلام کا خیال آنا اپنے بیل اور گدھے کے خیال میں ہمہ تن ڈوب جانے سے بدرجہا بدتر بتایا (صراط مستقیم ص۹۵)دعوی نبوت کے لئے بنیاد یں کھودیں پڑیاں جمائیں اور یوں تمہیدیں باندھیں بعض لوگوں کو احکام شرعیہ جزئیہ وکلیہ بلاواسطہ انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام اپنے نور قلب سے
کتاب الدررالسنیۃ فی رد الوھابیہ ص۴۱۴۲۔ محمد(صلی اﷲتعالی علیہ وسلم)سے بہتر ہے کیونکہ یہ سانپ وغیرہ مارنے کا کام دیتی ہےاور محمد(صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم)فوت ہوگئے اب ان سے بالکل کوئی نفع نہیں اٹھایا جاسکتا وہ بہرے تھے جو گزرگئے الخ(ت)
بظاہر حنبلی بنتا تھا مگر دراصل حضرت امام احمد حنبل رحمۃ اﷲ علیہ سے بالکل بے تعلق تھادعوی نبوت کا متمنی تھا مگرقبل از صریح اظہار طعمہ اجل ہوکر اپنے کیفر کردار کو پہنچا اورآیۃ:
" ان الذین یؤذون اللہ و رسولہ لعنہم اللہ فی الدنیا و الاخرۃ " الآیۃ بیشك جو ایذادیتے ہیں اﷲ اور اس کے رسول کو ان پر اﷲ کی لعنت ہے دنیا اور آخرت میں۔الآیۃ(ت)
کاپورا پورا مصداق بنا۔
(۲)ان کے امام ثانی نے پہلے امام کی ہندی شرح المسمی بہ تقویۃ الایمان لکھیاپنے فرقہ کا نام موحد رکھااور اپنے امام کے قدم بقدم ہوکر سب امت کو کافر ومشرك بنایاحضورعلیہ الصلوۃ والسلام ودیگر انبیاء علیہم السلام بلکہ خود خدائے تعالی جل وعلا شانہ کی توہین کیدشنام دہی میں کوئی دقیقہ فرو گزاشت نہ کیاانبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کو چوہڑے چمار اور عاجز وناکارہ لوگوں سے تمثیل دی (تفویۃ الایمان ص۱۰۱۹۲۹)اﷲ تعالی کی ذات والا صفات میں عیب وآلائش کا آجانا جائز رکھاوقوع کذب سے صرف بغرض ترفع وبخوف اطلاع بچنا مانا(یکروزی ص۱۴۴و۱۴۵)نماز میں حضور علیہ الصلوۃ والسلام کا خیال آنا اپنے بیل اور گدھے کے خیال میں ہمہ تن ڈوب جانے سے بدرجہا بدتر بتایا (صراط مستقیم ص۹۵)دعوی نبوت کے لئے بنیاد یں کھودیں پڑیاں جمائیں اور یوں تمہیدیں باندھیں بعض لوگوں کو احکام شرعیہ جزئیہ وکلیہ بلاواسطہ انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام اپنے نور قلب سے
حوالہ / References
الدررالسنیۃ فی ردالوہابیہ مکتبۃ الحقیقیۃ استنبول ترکی ص۴۲
القرآن الکریم ۳۳ /۵۷
تقویۃ الایمان مطبع علیمی بیرون لوہاری گیٹ لاہور ص۱۰،۱۹،۲۹
صراطِ مستقیم فارسی ہدایت ثانیہ درذکر محلات عبادات مکتبہ سلفیہ لاہور ص۸۶
القرآن الکریم ۳۳ /۵۷
تقویۃ الایمان مطبع علیمی بیرون لوہاری گیٹ لاہور ص۱۰،۱۹،۲۹
صراطِ مستقیم فارسی ہدایت ثانیہ درذکر محلات عبادات مکتبہ سلفیہ لاہور ص۸۶
بھی پہنچتے ہیں وہ انبیاء اور ہم استاد بھی ملخصا(صراط مستقیم ص۳۹)بالآخر جاہ طلبی وملك گیری کے نشہ میں سکھوں سے مڈھ بھیڑ اور عار فرار من الرجف کے بعد افغانوں کی موذی کش تلوار سے راہ فنادیکھی علیہ ماعلیہ۔
(۳)جب ہندی وہابیہ کے امام و اس کے پیر کی موت ان کی سب یا وہ گوئیوں او پیشینگوئیوں کی مبطل ہوئی تو اس کے اذناب وذریات سے ایك شخص قومی ترقی قومی اصلاح کا بہروپ بدل کرنکلاجملہ کتب تفسیر وفقہ وحدیث سے انکار کیاتمام ضروریات دین سے منہ موڑا اور بکاکہنہ حشر ہے نہ نشرنہ دوزخ نہ بہشتنہ فرشتہ ہے نہ جبریل نہ صراطفرشتہ قوت کا نام ہےدوزخ وبہشت وحشرنشر روحانی ہیںنہ جسمانی کرامات ومعجزات سب ہیچ ہیںہر کوئی کوشش کرنے سے نبی ہوسکتا ہےخدا بھی نیچر کی زنجیروں میں جکڑا ہوا ہے اس کے نزدیك غایت درجہ کی غمی کا نام دوزخ تھا۔سووہ اپنی اسی مسلمہ دوزخ کے راستہ سے اسفل السافلین میں پہنچا اور وہ اس طرح ہوا کہ اس کے خازن وامین نے بہت سا روپیہ اندوختہ اس کا غبن کیامعلوم ہونے پر نہایت غمگین ہواکھانا پینا ترك کیاآخر اسی صدمہ سے ہلاك ہوا۔
(۴)اسی کے دم چھلوں میں سے مسیح قادیانی دجال پیدا ہوادعوی نبوت کیاسورہ صف میں جو حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی بشارت اسم احمد(صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم)سے ہے اس کو اپنے اوپر چسپاں کیااسی طرح درکات جہنم طے کرتا ہوا درك اسفل میں پہنچ کریوں کفری بول بولا:
آنچہ دادست ہر نبی راجام دادآں جام را مراوبتمام
پرشد از نور من زمان وزمیں سرہنوزت بہ آسماں از کیں
باخدا جنگہا کنی ہیہات ایں چہ جوروجفاکنی ہیہات
(ہر نبی کوجو جام عطا کیا گیا وہ تمام مجھے عطا کئے گئےمیرے نور سے زمین وزماں پر ہوگئے اور ابھی میراآسمان پر ہےتوخدا کے ساتھ جنگ کررہا ہے افسوس! یہ تو کیاظلم وزیادتی کررہا ہے۔ت)(نزول مسیح)لڑکا پیدا ہونے پر کہنے لگا کان اﷲ نزل من السماء(گویا اﷲ آسمان سے اتر آیا۔ت)پھر کہا مجھے الہام ہوا ہے خدا کی طرف سے انت منی بمنزلۃ اولادی انت منی وانا منک(تومیری
(۳)جب ہندی وہابیہ کے امام و اس کے پیر کی موت ان کی سب یا وہ گوئیوں او پیشینگوئیوں کی مبطل ہوئی تو اس کے اذناب وذریات سے ایك شخص قومی ترقی قومی اصلاح کا بہروپ بدل کرنکلاجملہ کتب تفسیر وفقہ وحدیث سے انکار کیاتمام ضروریات دین سے منہ موڑا اور بکاکہنہ حشر ہے نہ نشرنہ دوزخ نہ بہشتنہ فرشتہ ہے نہ جبریل نہ صراطفرشتہ قوت کا نام ہےدوزخ وبہشت وحشرنشر روحانی ہیںنہ جسمانی کرامات ومعجزات سب ہیچ ہیںہر کوئی کوشش کرنے سے نبی ہوسکتا ہےخدا بھی نیچر کی زنجیروں میں جکڑا ہوا ہے اس کے نزدیك غایت درجہ کی غمی کا نام دوزخ تھا۔سووہ اپنی اسی مسلمہ دوزخ کے راستہ سے اسفل السافلین میں پہنچا اور وہ اس طرح ہوا کہ اس کے خازن وامین نے بہت سا روپیہ اندوختہ اس کا غبن کیامعلوم ہونے پر نہایت غمگین ہواکھانا پینا ترك کیاآخر اسی صدمہ سے ہلاك ہوا۔
(۴)اسی کے دم چھلوں میں سے مسیح قادیانی دجال پیدا ہوادعوی نبوت کیاسورہ صف میں جو حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی بشارت اسم احمد(صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم)سے ہے اس کو اپنے اوپر چسپاں کیااسی طرح درکات جہنم طے کرتا ہوا درك اسفل میں پہنچ کریوں کفری بول بولا:
آنچہ دادست ہر نبی راجام دادآں جام را مراوبتمام
پرشد از نور من زمان وزمیں سرہنوزت بہ آسماں از کیں
باخدا جنگہا کنی ہیہات ایں چہ جوروجفاکنی ہیہات
(ہر نبی کوجو جام عطا کیا گیا وہ تمام مجھے عطا کئے گئےمیرے نور سے زمین وزماں پر ہوگئے اور ابھی میراآسمان پر ہےتوخدا کے ساتھ جنگ کررہا ہے افسوس! یہ تو کیاظلم وزیادتی کررہا ہے۔ت)(نزول مسیح)لڑکا پیدا ہونے پر کہنے لگا کان اﷲ نزل من السماء(گویا اﷲ آسمان سے اتر آیا۔ت)پھر کہا مجھے الہام ہوا ہے خدا کی طرف سے انت منی بمنزلۃ اولادی انت منی وانا منک(تومیری
حوالہ / References
صراط مستقیم فارسی ہدایت رابعہ دربیان ثمرات حب ایمانی مکتبہ سلفیہ لاہور ص۳۶۔۳۵)
اولاد کی مانند ہےتو مجھ سے اور میں تجھ سے ہوں۔ت)(واقع البلد ص۶و۷)الغرض افتراء وتکذیب کلام الہی وتوہین انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام خصوصا حضرت عیسی علی نبینا وعلیہ الصلوۃ والسلام کو گندی سڑی گالی دینے میں کوئی کسر نہ اٹھارکھی(ضمیمہ انجام آتھم)انجام کار اپنے مسلمہ عذاب اعنی مرض ہیضہ سے وعدہ الہی:
" فلا یستطیعون توصیۃ و لا الی اہلہم یرجعون ﴿۵۰﴾ " ۔ تو نہ وصیت کرسکیں گے ا ور نہ اپنے گھر پلٹ کر جائیں۔(ت)
کاموردبنا اور اپنے منکر ومخالف علماء کے روبرو وہ فرعون بے عون جہنم رسید ہوامسلمان کے سامنے
" واغرقنا ال فرعون وانتم تنظرون﴿۵۰﴾" (اور فرعون والوں کو ہم نے تمہاری آنکھوں کے سامنے ڈبو دیا۔ت)کا سماں بندھ گیاچاروں طرف سے مسلمانوں بلکہ ہندوؤں نے اس کی نعش خبیث پر نفرین کے نعرے بلند کئے ہر طرف سے بول وبرازکی بوچھا ڑ ہوئی اور" اولئک علیہم لعنۃ اللہ والملئکۃ والناس اجمعین﴿۱۶۱﴾ " (ان پر لعنت ہے اﷲ اور فرشتوں اور آدمیوں سب کی)کا نقشہ آنکھوں میں جم گیا" فاعتبروا یاولی الابصر ﴿۲﴾" (تو عبرت لو اے نگاہ والو۔ت)
(۵)امام ثانی کے اذناب سے ایك بھوپالی پیدا ہواترویج وہابیت میں ایڑی چوٹی کا زور لگا یا طرح طرح کے لالچ دے کر مفت کتابیں بانٹ کر خدائے تعالی کے لئے جہت ومکان و جسم وغیرہ مانا(رسالہ الاحتواء)فقہاء ومقلدین کو دشنام دینے میں اپنے بڑوں سے سبقت لے گیا اس کا قول بدتر ازبول"یہ ہے سرچشمہ سارے جھوٹوں خبیثوں اور مکروں کا اورکان تمام فریبیوں اور دغابازیوں کی علم فقہ ورائے ہے اور مہاجال ان سب خرابیوں کا فقہاء اورمقلدین کی بول چال ہے"(ترجمان وہابیہ ص۳۵۳۶)وانجام کار معزول ومسلوب الخطاء ہو کر عدم کی راہ لی اور" خسر الدنیا والاخرۃ " (دنیا اور آخرت دونوں کا گھاٹا۔ت)کا مصداق بناصحابہ کرام کو عموما اور سیدنا حضرت عمر رضی اﷲ تعالی عنہ کو خصوصا مخترع بدعت سیئہ ٹھہرایا(انتفاد الرجیم)
(۶)وہابیہ وغیر مقلدین کی ضلالت وبدعت جب پورے طور ظاہر ہوچکی اور ہر دیار وامصار سے ان کے رد میں کتابیں لکھی گئیں تو ذریات امام ثانی نے ایك اور مکر کھیلااپناحنفی و مقلد ہونا ظاہر کیا عقیدہ تقویۃ الایمان پر
" فلا یستطیعون توصیۃ و لا الی اہلہم یرجعون ﴿۵۰﴾ " ۔ تو نہ وصیت کرسکیں گے ا ور نہ اپنے گھر پلٹ کر جائیں۔(ت)
کاموردبنا اور اپنے منکر ومخالف علماء کے روبرو وہ فرعون بے عون جہنم رسید ہوامسلمان کے سامنے
" واغرقنا ال فرعون وانتم تنظرون﴿۵۰﴾" (اور فرعون والوں کو ہم نے تمہاری آنکھوں کے سامنے ڈبو دیا۔ت)کا سماں بندھ گیاچاروں طرف سے مسلمانوں بلکہ ہندوؤں نے اس کی نعش خبیث پر نفرین کے نعرے بلند کئے ہر طرف سے بول وبرازکی بوچھا ڑ ہوئی اور" اولئک علیہم لعنۃ اللہ والملئکۃ والناس اجمعین﴿۱۶۱﴾ " (ان پر لعنت ہے اﷲ اور فرشتوں اور آدمیوں سب کی)کا نقشہ آنکھوں میں جم گیا" فاعتبروا یاولی الابصر ﴿۲﴾" (تو عبرت لو اے نگاہ والو۔ت)
(۵)امام ثانی کے اذناب سے ایك بھوپالی پیدا ہواترویج وہابیت میں ایڑی چوٹی کا زور لگا یا طرح طرح کے لالچ دے کر مفت کتابیں بانٹ کر خدائے تعالی کے لئے جہت ومکان و جسم وغیرہ مانا(رسالہ الاحتواء)فقہاء ومقلدین کو دشنام دینے میں اپنے بڑوں سے سبقت لے گیا اس کا قول بدتر ازبول"یہ ہے سرچشمہ سارے جھوٹوں خبیثوں اور مکروں کا اورکان تمام فریبیوں اور دغابازیوں کی علم فقہ ورائے ہے اور مہاجال ان سب خرابیوں کا فقہاء اورمقلدین کی بول چال ہے"(ترجمان وہابیہ ص۳۵۳۶)وانجام کار معزول ومسلوب الخطاء ہو کر عدم کی راہ لی اور" خسر الدنیا والاخرۃ " (دنیا اور آخرت دونوں کا گھاٹا۔ت)کا مصداق بناصحابہ کرام کو عموما اور سیدنا حضرت عمر رضی اﷲ تعالی عنہ کو خصوصا مخترع بدعت سیئہ ٹھہرایا(انتفاد الرجیم)
(۶)وہابیہ وغیر مقلدین کی ضلالت وبدعت جب پورے طور ظاہر ہوچکی اور ہر دیار وامصار سے ان کے رد میں کتابیں لکھی گئیں تو ذریات امام ثانی نے ایك اور مکر کھیلااپناحنفی و مقلد ہونا ظاہر کیا عقیدہ تقویۃ الایمان پر
قائم رکھا اور ہر طرح سے ان کفریات کی حمایت کرتے رہےاور عملیات میں حنفی ہونا ظاہر کیاٹھیك اسی طرح جس طرح ان کا امام اول حنبلی المذہب بنتا تھابظاہر غیر مقلدین کے ردمیں کتابیں بھی لکھیںمگر ساتھ ساتھ یہ بھی لکھ دیا کہ ان مسائل میں صحابہ کرام رضوان اﷲ تعالی علیہم اجمعین کے وقت سے اختلاف چلا آتا ہےلہذا غیرمقلدوں ووہابیوں پر طعن وتشنیع ناجائز (سبیل الرشاد وغیرہ)حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے علم سے شیطان کا علم زیادہ مانا(براہین قاطعہ)علم غیب میں حضور علیہ الصلوۃ والسلام کو ہر صبی ومجنون سے تمثیل دی(رسالہ حفظ الایمان وعلم غیب وغیرہ)اور بکے کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام کو دیوار کے پیچھے کا حال معلوم نہیںمعاذاﷲ اپنے خاتمہ کا حال معلوم نہیں۔ان کے ردمیں بھی بکثرت کتابیں شائع ہوئیں خصوصا قامع بدعت حامی سنت صاحب حجت قاہرہ مجدد مائہ حاضرہحضرت مولانا احمد رضاخاں صاحب بریلوی مداﷲ تعالی ظلہم العالی نے ان کی وہ سر کو بی کی کہ باید شاید۔
(۷)بھوپالی کے دم چھلوں میں سے ایك ہندو بچہ پیدا ہواآپ اگرچہ ناخواندہ تھا مگر بعض خواندہ وہابیہ سے چند ایك کتابیں مثل ظفر المبین طعن امام ہمام(رضی اﷲ تعالی عنہ)اور قیاسات امام پر لکھیں چاروں اماموں کے مقلدین اور چاروں طریقوں کے متبعین کو معاذ اﷲ مشرك و کافر بنایا(ظفر المبین ص۱۸۹و۲۳۰و۳۳۲وغیرہ)انجام کا ر مرض ابلاؤس میں ایسا گرفتار ہوا کہ متواتر پانچ سات دن اس کے منہ سے پاخانہ نکلتا رہامرتے وقت وصیت کی کہ مجھے مشرکوں(حنفیوں)کے قبرستان میں نہ دفن کیاجائےبالآخر کتے کی موت مرا اور لاہور یکی دروازہ بدرو کے کنارہ دفن ہوابدروکا گندہ پانی اس کی قبر میں سرایت کرتا رہاحتی کہ اس کی قبربھی نیست ونابود ہوکر بدرو میں مل گئی"" فاعتبروا یاولی الابصر ﴿۲﴾" (تو عبرت لو اے نگاہ والو۔ت)
(۸)اس بھوپالی کے دم چھلوں میں سے ایك اور شخص نکلاچلنے پھرنے سے معذوراور لکھنے پڑھنے سے عاریاس نے اہل قرآن ہونے کا دعوی کیاکل کتب فقہتفسیر وحدیث سے انکار کیا اور کہا یہ سب مخالف قرآن ہیں اور(معاذاﷲ)منافقوں کی بنائی ہوئی ہیں"اطیعوا الرسول" (اور حکم مانو رسول کا۔ت)میں رسول سے مراد قرآن مجید ہےاور"وما اتىکم الرسول" (اور جو کچھ تمہیں رسول عطا فرمائیں۔ت)میں بھی رسول سے مراد قرآن مجید ہےاگر حضور علیہ الصلوۃ والسلام ہی مراد لئے جائیں تو یہ حکم مال غنیمت میں تھا نہ کہ عام حکم نمازمیں بھی نئی اختراع کیالمسمی بہ صلوۃ القرآن بآیات الفرقاناور ایك تفسیر
(۷)بھوپالی کے دم چھلوں میں سے ایك ہندو بچہ پیدا ہواآپ اگرچہ ناخواندہ تھا مگر بعض خواندہ وہابیہ سے چند ایك کتابیں مثل ظفر المبین طعن امام ہمام(رضی اﷲ تعالی عنہ)اور قیاسات امام پر لکھیں چاروں اماموں کے مقلدین اور چاروں طریقوں کے متبعین کو معاذ اﷲ مشرك و کافر بنایا(ظفر المبین ص۱۸۹و۲۳۰و۳۳۲وغیرہ)انجام کا ر مرض ابلاؤس میں ایسا گرفتار ہوا کہ متواتر پانچ سات دن اس کے منہ سے پاخانہ نکلتا رہامرتے وقت وصیت کی کہ مجھے مشرکوں(حنفیوں)کے قبرستان میں نہ دفن کیاجائےبالآخر کتے کی موت مرا اور لاہور یکی دروازہ بدرو کے کنارہ دفن ہوابدروکا گندہ پانی اس کی قبر میں سرایت کرتا رہاحتی کہ اس کی قبربھی نیست ونابود ہوکر بدرو میں مل گئی"" فاعتبروا یاولی الابصر ﴿۲﴾" (تو عبرت لو اے نگاہ والو۔ت)
(۸)اس بھوپالی کے دم چھلوں میں سے ایك اور شخص نکلاچلنے پھرنے سے معذوراور لکھنے پڑھنے سے عاریاس نے اہل قرآن ہونے کا دعوی کیاکل کتب فقہتفسیر وحدیث سے انکار کیا اور کہا یہ سب مخالف قرآن ہیں اور(معاذاﷲ)منافقوں کی بنائی ہوئی ہیں"اطیعوا الرسول" (اور حکم مانو رسول کا۔ت)میں رسول سے مراد قرآن مجید ہےاور"وما اتىکم الرسول" (اور جو کچھ تمہیں رسول عطا فرمائیں۔ت)میں بھی رسول سے مراد قرآن مجید ہےاگر حضور علیہ الصلوۃ والسلام ہی مراد لئے جائیں تو یہ حکم مال غنیمت میں تھا نہ کہ عام حکم نمازمیں بھی نئی اختراع کیالمسمی بہ صلوۃ القرآن بآیات الفرقاناور ایك تفسیر
چند ایك سیپارہ کی کسی سے لکھوائی جس کا نام"تفسیر القرآن بآیات الرحمن"رکھا اور کہتا تھا کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام محض ایلچی تھے ایلچی کو نام و پیام کیا تشریح ومطلب آرائی میں کوئی حق نہیں(معاذاﷲ منہا)آخرذلیل ورسواہوکر لاہور سے نکالا گیاچند ایك ملاحدہ نیا چرہ اور اجہل ترین وہابیہ سے اس کے پیرو گئےملتان میں جاکر اپنی بدمذہبی کی اشاعت میں مصروف ہواانجام کار بدکاری کرتا ہوا پکڑاگیا خوب زد وکوب ہوئی اور اسی صدمہ سے ہلاك ہوا اور سجین میں پہنچا۔
(۹)بھوپالی کے متبعین سے ایك شخص ملا قصوری اور ایك حافظ شاعر پنجابی پید اہوئےاول الذکر نے ابن تیمیہ مجسمیہ کے رسالہ"علی العرش استوی"کی اشاعت کیصوفیائےکرام کے رد میں بڑے اہتمام سے کتاب"حقیقۃ البیعۃ والالہام" لکھی اور یوں کفری بولی بولے:بیعت مروجہ یعنی پیرومریدی سے دین اسلام میں اس قدر فتور اور فسادات پڑے ہیں کہ جن کاشمارا مکان سے باہر ہےشرك فی الالوہیت وشرك فی الربوبیۃ وشرك فی الدعاء جس قدراقسام شرك کے ہیں سب اس سے پیدا ہوئے(ص ۲۸)سب افعال آنحضرت صلی الله تعالی علیہ وسلم کے محمود نہیں اور آپ کے لیے عصمت مطلقہ ثابت نہیں۔(ص۴۴و۴۵)آخر الذکر نے تقویۃ الایمان کو پنجابی میں نظم کیا اور اس کا نام"حصن الایمان وزینت الاسلام"رکھا اور بھوپالی کے رسالہ"طریقہ محمدیہ"کو پنجابی نظم کا جامہ پہنایا اور اس کا نام"انواع محمدی"رکھاپنجاب میں ہرکس وناکس جولاہا موچی دھنا وغیرہ جسے دو حرف پنجابی کے آتے تھے یہ کتابیں پڑھ کر اہل سنت وجماعت کو مخالف قرآن وحدیث بدعتی ومشرك کہنے لگے اور تلبیس کی کہ حضرت امام اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ فرماگئے ہیں:
اذا صح الحدیث فھو مذھبی واترکوا قولی بخبر المصفطی(صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم) حدیث صحیح میرا مذہب ہے اور میرے قول کو مصطفی(صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم)کی حدیث کے مقابل چھوڑدو۔(ت)
پس دراصل ہم اہلحدیث ہی سچے اور پکے حنفی ہیں نہ کہ فقہاء ومقلدیناس خلف ناہنجار بدترا زمارنے اپنے پدر بزرگوار کی کتاب فقہ کا رد کیا اور کہا کہ اس وقت علم کم تھا اب دریا علم کا اچھلا اور ہر طرف سے کتب احادیث کی اشاعت ہوئی الغرض بخوف طوالت وملالت اس قدر پر کفالت نہ ان قبائح کا استیعاب ممکن اور نہ ہی ان کے فرقوں کا حصر معلومآخر وہ بھی تو انہیں میں سے ہونگے جو دجال کے ساتھ جاملیں گےاب آپ کے جناب سے استفتاء یہ ہے کہ آیایہ فرق وہابیہ مثل دیگر فرق ضال روافض وخوارج وغیرہ کے ہیں یا نہیں اور نصوص سے:
"اولئک ہم شر البریۃ ﴿۶﴾" "اولئک وہی تمام مخلوق میں بدتر ہیںوہ
(۹)بھوپالی کے متبعین سے ایك شخص ملا قصوری اور ایك حافظ شاعر پنجابی پید اہوئےاول الذکر نے ابن تیمیہ مجسمیہ کے رسالہ"علی العرش استوی"کی اشاعت کیصوفیائےکرام کے رد میں بڑے اہتمام سے کتاب"حقیقۃ البیعۃ والالہام" لکھی اور یوں کفری بولی بولے:بیعت مروجہ یعنی پیرومریدی سے دین اسلام میں اس قدر فتور اور فسادات پڑے ہیں کہ جن کاشمارا مکان سے باہر ہےشرك فی الالوہیت وشرك فی الربوبیۃ وشرك فی الدعاء جس قدراقسام شرك کے ہیں سب اس سے پیدا ہوئے(ص ۲۸)سب افعال آنحضرت صلی الله تعالی علیہ وسلم کے محمود نہیں اور آپ کے لیے عصمت مطلقہ ثابت نہیں۔(ص۴۴و۴۵)آخر الذکر نے تقویۃ الایمان کو پنجابی میں نظم کیا اور اس کا نام"حصن الایمان وزینت الاسلام"رکھا اور بھوپالی کے رسالہ"طریقہ محمدیہ"کو پنجابی نظم کا جامہ پہنایا اور اس کا نام"انواع محمدی"رکھاپنجاب میں ہرکس وناکس جولاہا موچی دھنا وغیرہ جسے دو حرف پنجابی کے آتے تھے یہ کتابیں پڑھ کر اہل سنت وجماعت کو مخالف قرآن وحدیث بدعتی ومشرك کہنے لگے اور تلبیس کی کہ حضرت امام اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ فرماگئے ہیں:
اذا صح الحدیث فھو مذھبی واترکوا قولی بخبر المصفطی(صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم) حدیث صحیح میرا مذہب ہے اور میرے قول کو مصطفی(صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم)کی حدیث کے مقابل چھوڑدو۔(ت)
پس دراصل ہم اہلحدیث ہی سچے اور پکے حنفی ہیں نہ کہ فقہاء ومقلدیناس خلف ناہنجار بدترا زمارنے اپنے پدر بزرگوار کی کتاب فقہ کا رد کیا اور کہا کہ اس وقت علم کم تھا اب دریا علم کا اچھلا اور ہر طرف سے کتب احادیث کی اشاعت ہوئی الغرض بخوف طوالت وملالت اس قدر پر کفالت نہ ان قبائح کا استیعاب ممکن اور نہ ہی ان کے فرقوں کا حصر معلومآخر وہ بھی تو انہیں میں سے ہونگے جو دجال کے ساتھ جاملیں گےاب آپ کے جناب سے استفتاء یہ ہے کہ آیایہ فرق وہابیہ مثل دیگر فرق ضال روافض وخوارج وغیرہ کے ہیں یا نہیں اور نصوص سے:
"اولئک ہم شر البریۃ ﴿۶﴾" "اولئک وہی تمام مخلوق میں بدتر ہیںوہ
حوالہ / References
القرآن الکریم ۹۸ /۶
کالانعم بل ہم اضل " فمثلہ کمثل الکلب ان تحمل علیہ یلہث او تترکہ یلہث " ۔ چوپایوں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بڑھ کر گمراہ تو اس کا حال کتے کی طرح ہے تو اس پر حملہ کرے تو زبان نکالے اور چھوڑدے تو زبان نکالے(ت)
اور احادیث مثل:
اھل البدع شرالخلق والخلیقۃ واھل البدع کلاب اھل النار ۔ اہل بدعت تمام مخلوق سے بدتر ہوتے ہیں واہل بدعت اہل دوزخ کے کتے ہیں(ت)
کے مصداق ہیں یانہیںان کے پیچھے اقتداء ان کی کتب کا مطالعہ اور ان سے میل جول کا کیا حکم ہے جوا ن سے محبت رکھے اوران کو عالم اور پیروان سنت سے سمجھے اس کے واسطے کیا ارشاد ہے تکذیب نصوصایذائے جمیع امتتکفیر وتفسیق اہل سنت وجماعتدعوی ہمہ دانی وانانیتمادہ خروج وبغاوتتحقیر وتوہین شان نبوت ان سب فرق میں کم وبیش موجود۔بینوا توجروا۔
الجواب:
"رب اعوذ بک من ہمزت الشیطین ﴿۹۷﴾ و اعوذ بک رب ان یحضرون ﴿۹۸﴾" ۔ اے میرے رب تیری پناہ شیاطین کے وسوسوں سےاور اے میرے رب تیری پناہ کہ وہ میرے پاس آئیں(ت)
یہ سوال کیا محتاج جواب ہے خود ہی اپنا جواب باصواب ہےسائل فاضل سلمہ نے جواقوال ملعونہ ان خبثا سے نقل کئے ہیں ان سب کاضلال مبین اور اکثر کا کفر اورارتداد مہین ہونا خود ضروری فی الدین وبدیہی عندالمسلمین
" و سیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون ﴿۲۲۷﴾ " " الا لعنۃ اللہ علی الظلمین ﴿۱۸﴾" " ولئن سالتہم لیقولن انماکنا نخوض ونلعب قل اباللہ وایتہ ورسولہ اب جانا چاہتے ہیں ظالم کہ کس کروٹ پر پلٹا کھائینگے۔ (ت)ارے ظالموں پر خداکی لعنت۔اوراے محبوب اگر تم ان سے پوچھو تو کہیں گے کہ ہم تو یونہی ہنسی کھیل میں تھےتم فرماؤ کیا اﷲ اور اس کی آیتوں اور
" کنتم تستہزءون ﴿۶۵﴾ لاتعتذروا قدکفرتم بعد ایمنکم "
" یحلفون باللہ ما قالوا ولقد قالواکلمۃ الکفر وکفروا بعد اسلمہم" " بل لعنہم اللہ بکفرہم فقلیلا ما یؤمنون﴿۸۸﴾"
" والذین یؤذون رسول اللہ لہم عذاب الیم ﴿۶۱﴾"
" ان الذین یؤذون اللہ و رسولہ لعنہم اللہ فی الدنیا و الاخرۃ و اعد لہم عذابا مہینا ﴿۵۷﴾" اس کے رسول سے ہنستےہوبہانے نہ بناؤ تم کافر ہوچکے اپنے ایمان کے بعداﷲکی قسم کھاتے ہیں کہ انہوں نے نہ کہا اوربیشك ضرور انہوں نے کفر کی بات کہی اور اسلام کے بعد کافر ہوگئے۔اﷲ نے ان پر لعنت کی ان کے کفر کے سبب تو ان میں تھوڑے ایمان لاتے ہیں۔اورجو رسول اﷲ کو ایذا دیتے ہیں ان کے لئے درد ناك عذاب ہے۔بیشك جو ایذادیتے ہیں اﷲ اور اس کے رسول کو ان پر اﷲکی لعنت ہے دنیا اور آخرت میںاور اﷲ نے ان کے لئے ذلت کا عذاب تیار کررکھا ہے۔ (ت)
اور احادیث مثل:
اھل البدع شرالخلق والخلیقۃ واھل البدع کلاب اھل النار ۔ اہل بدعت تمام مخلوق سے بدتر ہوتے ہیں واہل بدعت اہل دوزخ کے کتے ہیں(ت)
کے مصداق ہیں یانہیںان کے پیچھے اقتداء ان کی کتب کا مطالعہ اور ان سے میل جول کا کیا حکم ہے جوا ن سے محبت رکھے اوران کو عالم اور پیروان سنت سے سمجھے اس کے واسطے کیا ارشاد ہے تکذیب نصوصایذائے جمیع امتتکفیر وتفسیق اہل سنت وجماعتدعوی ہمہ دانی وانانیتمادہ خروج وبغاوتتحقیر وتوہین شان نبوت ان سب فرق میں کم وبیش موجود۔بینوا توجروا۔
الجواب:
"رب اعوذ بک من ہمزت الشیطین ﴿۹۷﴾ و اعوذ بک رب ان یحضرون ﴿۹۸﴾" ۔ اے میرے رب تیری پناہ شیاطین کے وسوسوں سےاور اے میرے رب تیری پناہ کہ وہ میرے پاس آئیں(ت)
یہ سوال کیا محتاج جواب ہے خود ہی اپنا جواب باصواب ہےسائل فاضل سلمہ نے جواقوال ملعونہ ان خبثا سے نقل کئے ہیں ان سب کاضلال مبین اور اکثر کا کفر اورارتداد مہین ہونا خود ضروری فی الدین وبدیہی عندالمسلمین
" و سیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون ﴿۲۲۷﴾ " " الا لعنۃ اللہ علی الظلمین ﴿۱۸﴾" " ولئن سالتہم لیقولن انماکنا نخوض ونلعب قل اباللہ وایتہ ورسولہ اب جانا چاہتے ہیں ظالم کہ کس کروٹ پر پلٹا کھائینگے۔ (ت)ارے ظالموں پر خداکی لعنت۔اوراے محبوب اگر تم ان سے پوچھو تو کہیں گے کہ ہم تو یونہی ہنسی کھیل میں تھےتم فرماؤ کیا اﷲ اور اس کی آیتوں اور
" کنتم تستہزءون ﴿۶۵﴾ لاتعتذروا قدکفرتم بعد ایمنکم "
" یحلفون باللہ ما قالوا ولقد قالواکلمۃ الکفر وکفروا بعد اسلمہم" " بل لعنہم اللہ بکفرہم فقلیلا ما یؤمنون﴿۸۸﴾"
" والذین یؤذون رسول اللہ لہم عذاب الیم ﴿۶۱﴾"
" ان الذین یؤذون اللہ و رسولہ لعنہم اللہ فی الدنیا و الاخرۃ و اعد لہم عذابا مہینا ﴿۵۷﴾" اس کے رسول سے ہنستےہوبہانے نہ بناؤ تم کافر ہوچکے اپنے ایمان کے بعداﷲکی قسم کھاتے ہیں کہ انہوں نے نہ کہا اوربیشك ضرور انہوں نے کفر کی بات کہی اور اسلام کے بعد کافر ہوگئے۔اﷲ نے ان پر لعنت کی ان کے کفر کے سبب تو ان میں تھوڑے ایمان لاتے ہیں۔اورجو رسول اﷲ کو ایذا دیتے ہیں ان کے لئے درد ناك عذاب ہے۔بیشك جو ایذادیتے ہیں اﷲ اور اس کے رسول کو ان پر اﷲکی لعنت ہے دنیا اور آخرت میںاور اﷲ نے ان کے لئے ذلت کا عذاب تیار کررکھا ہے۔ (ت)
حوالہ / References
القرآن الکریم ۷ /۱۷۹
القرآن الکریم ۷ /۱۷۶
الکنز العمال حدیث۹۵۔۱۰۹۴ موسسۃ الرسالہ بیروت ۱/ ۲۱۸
القرآن الکریم ۳۳ /۹۷
القرآن الکریم ۲۶ /۲۲۷
القرآن الکریم ۱۱ /۱۸
القرآن الکریم ۹ /۶۶۔۶۵
القرآن الکریم ۷ /۱۷۶
الکنز العمال حدیث۹۵۔۱۰۹۴ موسسۃ الرسالہ بیروت ۱/ ۲۱۸
القرآن الکریم ۳۳ /۹۷
القرآن الکریم ۲۶ /۲۲۷
القرآن الکریم ۱۱ /۱۸
القرآن الکریم ۹ /۶۶۔۶۵
ان آیات کریمہ کا حاصل یہ ہے کہ جو عام مسلمانوں پر ظلم کریں ان کے لئے بری باز گشت ہےان کا ٹھکانا جہنم ہےان پر اﷲ کی لعنت ہےنہ کہ وہ جواولیاء پر ظلم کریں نہ کہ انبیاء پر نہ کہ خود حضور سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے فضائل وعلوشان اقدس پران پر کیسی اشدلعنت الہی ہوگی اور ان کا ٹھکانا دوزخ کا اخبث طبقہاوراگر تم ان سے پوچھو کہ یہ کیسے کفریات ملعونہ تم نے بکے تو حیلے گھڑیں گے بے سروپا جھوٹی تاویلیں کریں گے اور کچھ نہ بنے تو یوں کہیں گے کہ ہماری مراد توہین نہ تھی ہم نے تو یوں ہی ہنسی کھیل میں کہہ دیا تھاواحد قہار جل وعلا فرماتا ہے:اے محبوب !ان سے فرمادو کیا اﷲاور اس کی آیتوں اور اس کے رسو ل سے ٹھٹھا کرتے تھےبہانے نہ بناؤ تم کافر ہوچکے اپنے ایمان کے بعد۔جب کوئی حیلہ نہ چلے گا تو کذاب خبیثوں کا پچھلا داؤ چلیں گے کہ خدا کی قسم ہم نے تویہ باتیں نہ کہیں نہ ہماری کتابوں میں ہیںہم پر افترا ہے ناواقف کے سامنے یہی جل کھیلتے ہیںاﷲ واحد قہار جل وعلا فرماتا ہے:بیشك ضروروہ کفر کا بول بولے اور اسلام کے بعد کافر ہوگئےیعنی ان کی قسموں کا اعتبار نہ کرو" انہم لا ایمن لہم" ان پیشوایان کفر کی قسمیں کچھ نہیں" اتخذوا ایمنہم جنۃ فصدوا عن سبیل اللہ فلہم عذاب مہین ﴿۱۶﴾" وہ اپنی قسموں کو ڈھال بناکر اﷲ کی راہ سے روکتے ہیں لاجرم ان کے لئے ذلیل وخوار کرنے والا
عذاب ہے۔ان کے کفر کے سبب اﷲ تعالی نے ان پر لعنت کی تو بہت کم ایمان لاتے ہیں وہ جو رسول اﷲ کو ایذادیتے ہیں ان کے لئے درد ناك عذاب ہےبیشك جواﷲ ورسول کوایذا دیتے ہیں اﷲ نے دنیا وآخرت میں ان پر لعنت فرمائی اور ان کے لئے تیار کر رکھا ذلت دینے والا عذاب۔طوائف مذکورین وہابیہ ونیچریہ وقادیانیہ وغیرہ مقلدین ودیوبندیہ وچکڑا لویہ خذلہم اﷲ تعالی اجمعین ان آیات کریمہ کے مصداق بالیقین اور قطعا یقینا کفار مرتدین ہیںان میں ایك آدھ اگرچہ کافرفقہی تھااور صدہا کفر اس پرلازم تھے جیسے نمبر ۲والا دہلوی مگر اب اتباع واذناب میں اصلا کوئی ایسا نہیں جو قطعا یقینا اجماعا کافر کلامی نہ ہو ایساکہ من شك فی کفرہ فقد کفر جو ان کے اقوال ملعونہ پر مطلع ہوکر ان کے کفر میں شك کرے وہ بھی کافر ہے۔ اور احادیث کہ سوال میں ذکر کیں بلاشبہہ ان کے اگلے پچھلے تابع متبوع سب ان کے مصداق ہیںیقینا وہ سب بدعتی او راستحقاق نار جہنمی اورجہنم کے کتے ہیں مگر انہیں خوارج وروافض کے مثل کہنا روافض وخوارج پر ظلم اور ان وہابیہ کی کسر شان خباثت ہے۔رافضیوں خارجیوں کی قصدی گستاخیاں صحابہ کرام واہلبیت عظام رضی اﷲ تعالی عنہ پر مقصور ہیں ان کی گستاخیوں کی اصل مطمع نظر حضرات انبیائے کرام اور خود حضور پر نور شافع یوم النشور ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ع
ببیں تفاوت رہ از کجاست تابکجا
(راستے کا تفاوت دیکھ کہاں سے کہاں تك ہے۔ت)
ان تمام مقاصداور ان سے بہت زائد کی تفصیل فقیر کے رسائل"سل السیوف وکوکبۃ شھابیۃ وسبحان السبوح و فتاوی الحرمین وحسام الحرمین وتمہید ایمان وانباء المصطفی وخالص الاعتقاد وقصیدۃ الاستمداد اور اس کی شرح کشف ضلال دیوبندیہ"وغیرہا کثیرہ تبیرہحافلہ کافلہشافعہ وافیہقالعہ قامعہمیں ہے وﷲ الحمدان کے پیچھے اقتداء باطل محض ہے کما حققناہ فی النھی الاکید(جیسا کہ ہم نے"النہی الاکید"میں اس پر تفصیلا گفتگو کی ہے۔ ت)ان سب کی کتب کامطالعہ حرام ہے مگر عالم کو بغرض رد۔ان سے میل جول قطعی حرامان سے سلام وکلام حرامانہیں پاس بٹھانا حرامان کے پاس بیٹھنا حرامبیمار پڑیں تو ان کی عیادت حراممرجائیں تو مسلمانوں کاسا انہیں غسل وکفن دینا حرام ان کا جنازہ اٹھانا حرامان پر نماز پڑھنا حرامانہیں مقابر مسلمین میں دفن کرنا حرامان کی قبر پر جانا حرامانہیں ایصال ثواب کرنا حراممثل نماز جنازہ کفر۔قال اﷲ تعالی :
ببیں تفاوت رہ از کجاست تابکجا
(راستے کا تفاوت دیکھ کہاں سے کہاں تك ہے۔ت)
ان تمام مقاصداور ان سے بہت زائد کی تفصیل فقیر کے رسائل"سل السیوف وکوکبۃ شھابیۃ وسبحان السبوح و فتاوی الحرمین وحسام الحرمین وتمہید ایمان وانباء المصطفی وخالص الاعتقاد وقصیدۃ الاستمداد اور اس کی شرح کشف ضلال دیوبندیہ"وغیرہا کثیرہ تبیرہحافلہ کافلہشافعہ وافیہقالعہ قامعہمیں ہے وﷲ الحمدان کے پیچھے اقتداء باطل محض ہے کما حققناہ فی النھی الاکید(جیسا کہ ہم نے"النہی الاکید"میں اس پر تفصیلا گفتگو کی ہے۔ ت)ان سب کی کتب کامطالعہ حرام ہے مگر عالم کو بغرض رد۔ان سے میل جول قطعی حرامان سے سلام وکلام حرامانہیں پاس بٹھانا حرامان کے پاس بیٹھنا حرامبیمار پڑیں تو ان کی عیادت حراممرجائیں تو مسلمانوں کاسا انہیں غسل وکفن دینا حرام ان کا جنازہ اٹھانا حرامان پر نماز پڑھنا حرامانہیں مقابر مسلمین میں دفن کرنا حرامان کی قبر پر جانا حرامانہیں ایصال ثواب کرنا حراممثل نماز جنازہ کفر۔قال اﷲ تعالی :
حوالہ / References
درمختار باب المرتد مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۵۶
" اما ینسینک الشیطن فلا تقعد بعد الذکری مع القوم الظلمین ﴿۶۸﴾ " اگر تجھے شیطان بھلادے تو یاد آئے پر ان ظالموں کے پاس نہ بیٹھ۔
اور فرماتا ہے:
" ولا ترکنوا الی الذین ظلموا فتمسکم النار " ۔ اور نہ میل کرو ظالموں کی طرف کہ تمہیں دوزخ کی آگ چھوئے گی۔
نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
فایاکم وایاھم لایضلو نکم ولایفتنونکم ۔ ان سے دور بھاگو اور انہیں اپنے سے دور کرو کہیں وہ تمہیں گمراہ نہ کردیں وہ تمہیں فتنے میں نہ ڈال دیں۔
دوسری حدیث میں ہے:
لا تجالسوھم ولا تؤاکلوھم ولا تشاربوھم و اذا مرضوا لاتعودوھم واذا ماتوا فلا تشھدوھم ولا تصلوا علیہم ولا تصلوا معھم نہ ان کے پاس بیٹھونہ ان کے ساتھ کھانا کھاؤنہ ان کے ساتھ پیوبیمار پڑیں تو ان کی عیادت نہ کرومرجائیں تو ان کے جنازہ پر نہ جاؤنہ ان پر نماز پڑھو نہ ان کے ساتھ نمازپڑھو۔
رب عزوجل فرماتا ہے:
" ولا تصل علی احد منہم مات ابدا ولاتقم علی قبرہ " ۔ ان میں کبھی کسی کے جنازہ کی نماز نہ پڑھنا نہ اس کی قبر پر کھڑا ہونا۔
جو ان کے اقوال پر مطلع ہو کر ان سے محبت رکھے وہ انہیں کی طرح کافر ہےقال تعالی:
" ومن یتولہم منکم فانہ منہم " ۔ تم میں سے جوان سے دوستی رکھے وہ بیشك انہیں میں سے ہے۔
اور فرماتا ہے:
" ولا ترکنوا الی الذین ظلموا فتمسکم النار " ۔ اور نہ میل کرو ظالموں کی طرف کہ تمہیں دوزخ کی آگ چھوئے گی۔
نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
فایاکم وایاھم لایضلو نکم ولایفتنونکم ۔ ان سے دور بھاگو اور انہیں اپنے سے دور کرو کہیں وہ تمہیں گمراہ نہ کردیں وہ تمہیں فتنے میں نہ ڈال دیں۔
دوسری حدیث میں ہے:
لا تجالسوھم ولا تؤاکلوھم ولا تشاربوھم و اذا مرضوا لاتعودوھم واذا ماتوا فلا تشھدوھم ولا تصلوا علیہم ولا تصلوا معھم نہ ان کے پاس بیٹھونہ ان کے ساتھ کھانا کھاؤنہ ان کے ساتھ پیوبیمار پڑیں تو ان کی عیادت نہ کرومرجائیں تو ان کے جنازہ پر نہ جاؤنہ ان پر نماز پڑھو نہ ان کے ساتھ نمازپڑھو۔
رب عزوجل فرماتا ہے:
" ولا تصل علی احد منہم مات ابدا ولاتقم علی قبرہ " ۔ ان میں کبھی کسی کے جنازہ کی نماز نہ پڑھنا نہ اس کی قبر پر کھڑا ہونا۔
جو ان کے اقوال پر مطلع ہو کر ان سے محبت رکھے وہ انہیں کی طرح کافر ہےقال تعالی:
" ومن یتولہم منکم فانہ منہم " ۔ تم میں سے جوان سے دوستی رکھے وہ بیشك انہیں میں سے ہے۔
حوالہ / References
القرآن الکریم ۶ /۶۸
القرآن الکریم ۱۱ /۱۱۳
صحیح مسلم باب نہی عن الروایہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۰
کنزالعمال باب فضائل صحابہ حدیث ۳۲۴۶۸،۳۲۵۲۹،۳۲۴۵۴۲موسسۃ الرسالہ بیروت ۱۱/ ۴۲،۴۰،۵۲۹
القرآن الکریم ۹ /۸۴
القرآن الکریم ۶ /۵۱
القرآن الکریم ۱۱ /۱۱۳
صحیح مسلم باب نہی عن الروایہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۰
کنزالعمال باب فضائل صحابہ حدیث ۳۲۴۶۸،۳۲۵۲۹،۳۲۴۵۴۲موسسۃ الرسالہ بیروت ۱۱/ ۴۲،۴۰،۵۲۹
القرآن الکریم ۹ /۸۴
القرآن الکریم ۶ /۵۱
اور اس کا حشر انہیں کافروں کے ساتھ ہوگا۔رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من احب قوما حشرہ اﷲ فی زمرتھم ۔ جو کسی قوم سے محبت رکھے گا اﷲتعالی اسی قوم کے ساتھ اس کاحشر کرے گا۔
اور فرماتے ہیں:من ھوی الکفرۃ فھو مع الکفرۃ جوکافروں سے محبت رکھے گا وہ انہیں کے ساتھ ہوگا اور جوان کو عالم دین یا پیر وسنت سمجھے قطعا کافرومرتد ہے۔شفائے امام قاضی عیاض وذخیرۃ العقبی بحرالرائق ومجمع الانہر وفتاوی بزازیہ ودرمختار وغیرہا معتمدات اسفار میں ہے: من شك فی عذابہ وکفرہ فقد کفر (جوان کے کفر میں شك کرے وہ بھی کافرہے۔جب ان کو مسلمان سمجھنا درکنار ان کے کفر میں شك کر نا موجب کفر ہے تو معاذاﷲ انہیں عالم دین یا پیر وسنت سمجھنا کس قدر اخبث کفر ہوگا" و ذلک جزاء المحسنین ﴿۸۵﴾" (اور ظالموں کی یہی جزا ہے۔ت) اﷲ عزوجل سب خبثا کے شر سے پناہ دے اور مسلمان بھائیوں کی آنکھیں کھولے اور دوست دشمن پہچاننے کی تمیز دےارے کس کے دوست دشمنمحمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے دوست ودشمنافسوس افسوس ہزار افسوس کہ آدمی اپنے دوست دشمن کو پہچانےاپنے دشمن کے سایہ سے بھاگےاس کی صورت دیکھ کر آنکھوں میں خون اترے اور محمدرسول اﷲصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے دشمنوںان کے بدگویوںانہیں گالیاں لکھ کر شائع کرنے والوں اور ان خبیثوں کے ہم مذہبوں ہم پیالوں سے میل جول رکھےکیا قیامت نہ آئے گیکیا حشر نہ ہوگاکیا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو منہ دکھانا نہیںکیا ان کے آگے شفاعت کے لئے ہاتھ پھیلانا نہیں!مسلمانو !اﷲ سے ڈرو رسول اﷲ صلی اﷲتعالی علیہ وسلم سے حیاکرو۔اﷲ عزوجل توفیق دے۔آمین!واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ۱۶۳تا۱۶۹: ازشہرمحلہ روہیلی ٹولہ مسئولہ حاجی محمد خلیل الدین احمد صاحب یکم صفر۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ:
(۱)مشرکین سے اتحاد ووداد حلال ہے یانہیں
(۲)مشرك کو اپنی حاجت دینیہ میں اپنا لیڈر یعنی ہادی وامام ورہبر بنانا کیسا ہے
من احب قوما حشرہ اﷲ فی زمرتھم ۔ جو کسی قوم سے محبت رکھے گا اﷲتعالی اسی قوم کے ساتھ اس کاحشر کرے گا۔
اور فرماتے ہیں:من ھوی الکفرۃ فھو مع الکفرۃ جوکافروں سے محبت رکھے گا وہ انہیں کے ساتھ ہوگا اور جوان کو عالم دین یا پیر وسنت سمجھے قطعا کافرومرتد ہے۔شفائے امام قاضی عیاض وذخیرۃ العقبی بحرالرائق ومجمع الانہر وفتاوی بزازیہ ودرمختار وغیرہا معتمدات اسفار میں ہے: من شك فی عذابہ وکفرہ فقد کفر (جوان کے کفر میں شك کرے وہ بھی کافرہے۔جب ان کو مسلمان سمجھنا درکنار ان کے کفر میں شك کر نا موجب کفر ہے تو معاذاﷲ انہیں عالم دین یا پیر وسنت سمجھنا کس قدر اخبث کفر ہوگا" و ذلک جزاء المحسنین ﴿۸۵﴾" (اور ظالموں کی یہی جزا ہے۔ت) اﷲ عزوجل سب خبثا کے شر سے پناہ دے اور مسلمان بھائیوں کی آنکھیں کھولے اور دوست دشمن پہچاننے کی تمیز دےارے کس کے دوست دشمنمحمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے دوست ودشمنافسوس افسوس ہزار افسوس کہ آدمی اپنے دوست دشمن کو پہچانےاپنے دشمن کے سایہ سے بھاگےاس کی صورت دیکھ کر آنکھوں میں خون اترے اور محمدرسول اﷲصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے دشمنوںان کے بدگویوںانہیں گالیاں لکھ کر شائع کرنے والوں اور ان خبیثوں کے ہم مذہبوں ہم پیالوں سے میل جول رکھےکیا قیامت نہ آئے گیکیا حشر نہ ہوگاکیا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو منہ دکھانا نہیںکیا ان کے آگے شفاعت کے لئے ہاتھ پھیلانا نہیں!مسلمانو !اﷲ سے ڈرو رسول اﷲ صلی اﷲتعالی علیہ وسلم سے حیاکرو۔اﷲ عزوجل توفیق دے۔آمین!واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ۱۶۳تا۱۶۹: ازشہرمحلہ روہیلی ٹولہ مسئولہ حاجی محمد خلیل الدین احمد صاحب یکم صفر۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ:
(۱)مشرکین سے اتحاد ووداد حلال ہے یانہیں
(۲)مشرك کو اپنی حاجت دینیہ میں اپنا لیڈر یعنی ہادی وامام ورہبر بنانا کیسا ہے
حوالہ / References
المعجم الکبیر للطبرانی حدیث۲۵۱۹ المکتبۃ الفیصلیہ بیروت ۳/ ۱۹
مجمع الزوائد باب تحشر کل نفس علی ھواہا دارالکتاب بیروت ۱/ ۱۱۳
درمختار باب المرتد مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۵۶
القرآن الکریم ۵ /۲۹
مجمع الزوائد باب تحشر کل نفس علی ھواہا دارالکتاب بیروت ۱/ ۱۱۳
درمختار باب المرتد مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۵۶
القرآن الکریم ۵ /۲۹
(۳)مشرك کی نسبت یہ کہنا کہ وہ ہمارے شہر کی خاك کو پاك کرنے کے لئے تشریف لائے ہیںکیا حکم رکھتا ہے
(۴)مشرك کے لے بڑا مرتبہ اور عزت ماننا مطابق اسلام ہے یانہیں
(۵)اور اس کے استقبال کو شاندار بنانے کے لئے مسلمانوں کا جانا اور مشرك کی تعظیم
(۶)اور اس کی جے بولنا
(۷)اور اس کو مہاتما کہنا کیسا ہےبینواتوجروا۔
الجواب:
(۱)مشرکین سے اتحاد درکنار وداد حرام قطعی ہے۔قال اﷲ تعالی:
لا تجد قوما یؤمنون باللہ و الیوم الاخر یوادون من حاد اللہ و رسولہ و لو کانوا اباءہم او ابناءہم او اخونہم او عشیرتہم اولئک کتب فی قلوبہم الایمن و ایدہم بروح منہ "
۔ تو نہ پائے گا ان لوگوں کو جنہیں اﷲ اور قیامت پر ایمان ہے کہ اﷲ ورسول کے مخالف سے دوستی کریں اگرچہ وہ ان کے باپ یا بیٹے یا بھائی یا عزیز ہوں یہ ہیں وہ لوگ جن کے دلوں میں ایمان اﷲ نے لکھ دیا ہے اور اپنی طرف کی روح سے ان کی مدد فرمائی۔
اور فرماتا ہے جل وعلا:
" ومن یتولہم منکم فانہ منہم " ۔ تم میں جوان سے دوستی کرے گا وہ بیشك انہیں میں سے ہے۔
یہ ہیں قرآن عظیم کی شہادتیں کہ ان سے وداد واتحاد کفر ہے اور یہ کہ اس کے مرتکب نہ ہوں گے مگر کافر۔مسلمانو!قرآن کریم سے بڑھ کر کس کا فتوی ہے" ومن اصدق من اللہ حدیثا ﴿۸۷﴾ " اﷲ سے بڑھ کر کس کی بات سچی ہے۔
(۲)مشرك کوحاجت دینیہ میں ہادی بنانا امام ٹھہرانا قرآن عظیم کی صریح تکذیب ہےقرآن عظیم میں
(۴)مشرك کے لے بڑا مرتبہ اور عزت ماننا مطابق اسلام ہے یانہیں
(۵)اور اس کے استقبال کو شاندار بنانے کے لئے مسلمانوں کا جانا اور مشرك کی تعظیم
(۶)اور اس کی جے بولنا
(۷)اور اس کو مہاتما کہنا کیسا ہےبینواتوجروا۔
الجواب:
(۱)مشرکین سے اتحاد درکنار وداد حرام قطعی ہے۔قال اﷲ تعالی:
لا تجد قوما یؤمنون باللہ و الیوم الاخر یوادون من حاد اللہ و رسولہ و لو کانوا اباءہم او ابناءہم او اخونہم او عشیرتہم اولئک کتب فی قلوبہم الایمن و ایدہم بروح منہ "
۔ تو نہ پائے گا ان لوگوں کو جنہیں اﷲ اور قیامت پر ایمان ہے کہ اﷲ ورسول کے مخالف سے دوستی کریں اگرچہ وہ ان کے باپ یا بیٹے یا بھائی یا عزیز ہوں یہ ہیں وہ لوگ جن کے دلوں میں ایمان اﷲ نے لکھ دیا ہے اور اپنی طرف کی روح سے ان کی مدد فرمائی۔
اور فرماتا ہے جل وعلا:
" ومن یتولہم منکم فانہ منہم " ۔ تم میں جوان سے دوستی کرے گا وہ بیشك انہیں میں سے ہے۔
یہ ہیں قرآن عظیم کی شہادتیں کہ ان سے وداد واتحاد کفر ہے اور یہ کہ اس کے مرتکب نہ ہوں گے مگر کافر۔مسلمانو!قرآن کریم سے بڑھ کر کس کا فتوی ہے" ومن اصدق من اللہ حدیثا ﴿۸۷﴾ " اﷲ سے بڑھ کر کس کی بات سچی ہے۔
(۲)مشرك کوحاجت دینیہ میں ہادی بنانا امام ٹھہرانا قرآن عظیم کی صریح تکذیب ہےقرآن عظیم میں
ہرزارہا آیتیں گونج رہی ہیں کہ وہ گمراہ ہیںہدایت سے بالکل بیگانہ ہیںیہاں تك کہ فرمایا:
"ان ہم الا کالانعم بل ہم اضل سبیلا ﴿۴۴﴾" ۔ وہ چوپایوں کی طرح نرے بے عقل ہی ہیں بلکہ ان سے بھی سخت ترگمراہ۔
تو جو انہیں ہادی وامام بنائے گا قطعا قرآن عظیم کو جھٹلائے گا اورقطعا راہ ہلاك پائے گا
اذاکان الغراب دلیل قوم
سیھدیہم طریق الھا لکینا
(جب کسی قوم کا رہنما کوا ہوتو وہ ان کو ہلاکت کی راہ چلائے گا۔ت)
اور روز قیامت ایسا گروہ اس مشرك ہی کے نام سے پکارا جائے گا قال اﷲ تعالی:" یوم ندعوا کل اناسۭ باممہم " جس دن ہرگروہ کو ہم اس کے امام کے ساتھ پکاریں گے۔
(۳)لاالہ الا اﷲ عجب ان سے کہ مدعی اسلام ہوں اور اسلام کے پورے مدعی بن بیٹھیںکیا قرآن عظیم کے رد ہی پر کمر باندھی ہےواحد قہار فرماتا ہے:" انما المشرکون نجس" مشرك تو نہیں مگر نرے گندےبلکہ عین نجاست عجب کہ نجاست اور مطہرہاں جب ہندو دھرم ہی اختیار کیا تو عجب نہیں کہ گوبر اور پوترلا واﷲ اس سے بھی ہزار درجہ بدتر گوبر کی نجاست میں ائمہ کو اختلاف ہے اور مشرك کی نجاست پر قرآن کریم کا نص صاف ہے اور آمد سے زمین ناپاك کرنے میں نجاست باطن نجاست ظاہر سے کروڑ درجہ بدتر ہےنجاست ظاہر ایك دھار پانی سے پاك ہوجاتی ہے اور نجاست باطن کروڑ سمندروں سے نہیں دھل سکتی جب تك صدق دل سے ایمان نہ لائے ع
ہر چہ شوئی پلید تر باشد
(جتنا دھوئے گا اتنا ہی زیادہ پلید ہوگا۔ت)
(۴)کیا قسم کھائی کہ قرآن عظیم کا کوئی جملہ سلامت نہ رکھیںمشرك کے لئے ہرگز کوئی عزت نہیں اور بڑاد رکنار ادنی سے ادنی چھوٹے سے چھوٹا کوئی رتبہ نہیںواحد قہار جل وعلا فرماتا ہے:
" و للہ العزۃ و لرسولہ و للمؤمنین و لکن عزت تو صرف اﷲ اور اس کے رسول اور ایمان والوں
" المنفقین لا یعلمون ﴿۸﴾"
کے لئے ہے مگر منافقوں کو خبر نہیں۔
عزیز مقتدر جل وعلا فرماتا ہے:
" ان الذین یحادون اللہ و رسولہ اولئک فی الاذلین ﴿۲۰﴾" بیشك اﷲ ورسول کے جتنے مخالف ہیں سب ہر ذلیل سے بدتر ذلیلوں میں ہیں۔
عزیز منتقمعزجلالہ فرماتاہے:"اولئک ہم شر البریۃ ﴿۶﴾" وہ تمام مخلوق الہی سے بدتر ہیں۔مخلوق میں کتا بھی ہے سور بھی ہے۔ قرآن عظیم شہادت دیتا ہے کہ مشرکین ان سے بھی بدتر ہیںپھر رتبہ و عزت کے کیا معنی!
"ان ہم الا کالانعم بل ہم اضل سبیلا ﴿۴۴﴾" ۔ وہ چوپایوں کی طرح نرے بے عقل ہی ہیں بلکہ ان سے بھی سخت ترگمراہ۔
تو جو انہیں ہادی وامام بنائے گا قطعا قرآن عظیم کو جھٹلائے گا اورقطعا راہ ہلاك پائے گا
اذاکان الغراب دلیل قوم
سیھدیہم طریق الھا لکینا
(جب کسی قوم کا رہنما کوا ہوتو وہ ان کو ہلاکت کی راہ چلائے گا۔ت)
اور روز قیامت ایسا گروہ اس مشرك ہی کے نام سے پکارا جائے گا قال اﷲ تعالی:" یوم ندعوا کل اناسۭ باممہم " جس دن ہرگروہ کو ہم اس کے امام کے ساتھ پکاریں گے۔
(۳)لاالہ الا اﷲ عجب ان سے کہ مدعی اسلام ہوں اور اسلام کے پورے مدعی بن بیٹھیںکیا قرآن عظیم کے رد ہی پر کمر باندھی ہےواحد قہار فرماتا ہے:" انما المشرکون نجس" مشرك تو نہیں مگر نرے گندےبلکہ عین نجاست عجب کہ نجاست اور مطہرہاں جب ہندو دھرم ہی اختیار کیا تو عجب نہیں کہ گوبر اور پوترلا واﷲ اس سے بھی ہزار درجہ بدتر گوبر کی نجاست میں ائمہ کو اختلاف ہے اور مشرك کی نجاست پر قرآن کریم کا نص صاف ہے اور آمد سے زمین ناپاك کرنے میں نجاست باطن نجاست ظاہر سے کروڑ درجہ بدتر ہےنجاست ظاہر ایك دھار پانی سے پاك ہوجاتی ہے اور نجاست باطن کروڑ سمندروں سے نہیں دھل سکتی جب تك صدق دل سے ایمان نہ لائے ع
ہر چہ شوئی پلید تر باشد
(جتنا دھوئے گا اتنا ہی زیادہ پلید ہوگا۔ت)
(۴)کیا قسم کھائی کہ قرآن عظیم کا کوئی جملہ سلامت نہ رکھیںمشرك کے لئے ہرگز کوئی عزت نہیں اور بڑاد رکنار ادنی سے ادنی چھوٹے سے چھوٹا کوئی رتبہ نہیںواحد قہار جل وعلا فرماتا ہے:
" و للہ العزۃ و لرسولہ و للمؤمنین و لکن عزت تو صرف اﷲ اور اس کے رسول اور ایمان والوں
" المنفقین لا یعلمون ﴿۸﴾"
کے لئے ہے مگر منافقوں کو خبر نہیں۔
عزیز مقتدر جل وعلا فرماتا ہے:
" ان الذین یحادون اللہ و رسولہ اولئک فی الاذلین ﴿۲۰﴾" بیشك اﷲ ورسول کے جتنے مخالف ہیں سب ہر ذلیل سے بدتر ذلیلوں میں ہیں۔
عزیز منتقمعزجلالہ فرماتاہے:"اولئک ہم شر البریۃ ﴿۶﴾" وہ تمام مخلوق الہی سے بدتر ہیں۔مخلوق میں کتا بھی ہے سور بھی ہے۔ قرآن عظیم شہادت دیتا ہے کہ مشرکین ان سے بھی بدتر ہیںپھر رتبہ و عزت کے کیا معنی!
(۵)اس کی تعطیم سخت سے سخت کبیرہ اور قرآن عظیم کی مخالفت شدیدہ ہے۔حدیث میں ہے رسول اﷲصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من وقر صاحب بدعۃ فقد اعان علی ھدم الاسلام ۔ جو کسی بدعتی بدمذہب کی تعظیم کرے اس نے اسلام کے ڈھادینے پر مدد دی۔
مبتدع کی تعظیم پر حکم یہ ہے مشرك کی تعظیم کس درجہ بیخ کنی اسلام ہوگی" و لکن المنفقین لا یعلمون ﴿۸﴾" (مگر منافقوں کوخبرنہیں۔ت)استقبال کو شاندار بنانے کے لئے جانا تو عین تعظیم ہے جو صریح مخالفت قرآن عظیم ہےاس جلوس ناما نوس میں ویسے بھی شرکت حرام ہے۔رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:من سود مع قوم فھو منھم جوکسی قوم کے جتھے میں شامل ہوا وہ انہیں میں سے ہے۔ دوسری حدیث میں ہے:من کثرسوادقوم فھو منھم جوکسی قوم کا مجمع بڑھائے وہ انہیں میں سے ہے۔
من وقر صاحب بدعۃ فقد اعان علی ھدم الاسلام ۔ جو کسی بدعتی بدمذہب کی تعظیم کرے اس نے اسلام کے ڈھادینے پر مدد دی۔
مبتدع کی تعظیم پر حکم یہ ہے مشرك کی تعظیم کس درجہ بیخ کنی اسلام ہوگی" و لکن المنفقین لا یعلمون ﴿۸﴾" (مگر منافقوں کوخبرنہیں۔ت)استقبال کو شاندار بنانے کے لئے جانا تو عین تعظیم ہے جو صریح مخالفت قرآن عظیم ہےاس جلوس ناما نوس میں ویسے بھی شرکت حرام ہے۔رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:من سود مع قوم فھو منھم جوکسی قوم کے جتھے میں شامل ہوا وہ انہیں میں سے ہے۔ دوسری حدیث میں ہے:من کثرسوادقوم فھو منھم جوکسی قوم کا مجمع بڑھائے وہ انہیں میں سے ہے۔
حوالہ / References
کنزالعمال حدیث۱۱۰۲ موسسۃ الرسالۃ بیروت ۱/ ۲۱۹،المعجم الاوسط حدیث ۶۷۶۸ مکتبۃ المعارف الریاض ۷/ ۳۹۶
القرآن الکریم ۶۳ /۸
کنز العمال حدیث ۲۴۶۸۱ موسسۃ الرسالۃبیروت ۹/ ۱۰
نصب الرایہ لاحادیث الہدایہ بحوالہ مسند ابویعلی المکتبۃ الاسلامیۃ الریاض ۴/ ۳۴۶،کنزالعمال حدیث ۲۴۷۳۵ مؤسسۃ الرسالۃ بیروت ۹/ ۲۲
القرآن الکریم ۶۳ /۸
کنز العمال حدیث ۲۴۶۸۱ موسسۃ الرسالۃبیروت ۹/ ۱۰
نصب الرایہ لاحادیث الہدایہ بحوالہ مسند ابویعلی المکتبۃ الاسلامیۃ الریاض ۴/ ۳۴۶،کنزالعمال حدیث ۲۴۷۳۵ مؤسسۃ الرسالۃ بیروت ۹/ ۲۲
تیسری حدیث میں ہے:
من جامع المشرك وسکن معہ فانہ مثلہ ۔ جومشرك کے ساتھ آئے اور اس کے ساتھ رہے وہ بیشك اسی کے مثل ہے۔
(۶)مشرك کی جے نہ بولے گا مگر مشرک۔حدیث میں ہے سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اذامدح الفاسق غضب الرب واھتز لذلك العرش ۔ جب فاسق کی مدح کی جاتی ہے رب غضب فرماتا ہے اور عرش الہی کانپ جاتا ہے۔
جب فاسق کی مدح پر یہ حکم ہے تو مشرك کہاںاس کی مدح کس درجہ باعث غضب شدید رب عزوجل ہوگی!
(۷)مہاتما کے معنی ہیں"روح اعظم"جو خاص لقب سیدنا جبریل امین علیہ الصلوۃ والسلام کا ہےمشرك کو اس سے تعبیر کرنا صریح مخالفت خدا ورسول ہے۔حدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لاتقولو اللمنافق یا سید فانہ ان یکن سید کم فقد اسخطتم ربکم عزوجل ۔ منافق کو"اے سردار"نہ کہو بیشك اگر وہ تمہارا سردار ہےتو تم نے اپنے رب عزوجل کا غضب لیا۔
اب ادھر تو منافق و مشرك کا فرق دیکھو اور ادھر سردار و روح اعظم کا مواز نہ کروانہیں نسبتوں سے اس پر اﷲ عزوجل کا غضب اشد ہےوالعیاذ باﷲ رب العالمیناﷲ تعالی مسلمانوں کی آنکھیں کھولے مسلمان کرےمسلمان رکھےمسلمان مارے مسلمان اٹھائے ولاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیمواﷲتعالی اعلم۔
من جامع المشرك وسکن معہ فانہ مثلہ ۔ جومشرك کے ساتھ آئے اور اس کے ساتھ رہے وہ بیشك اسی کے مثل ہے۔
(۶)مشرك کی جے نہ بولے گا مگر مشرک۔حدیث میں ہے سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اذامدح الفاسق غضب الرب واھتز لذلك العرش ۔ جب فاسق کی مدح کی جاتی ہے رب غضب فرماتا ہے اور عرش الہی کانپ جاتا ہے۔
جب فاسق کی مدح پر یہ حکم ہے تو مشرك کہاںاس کی مدح کس درجہ باعث غضب شدید رب عزوجل ہوگی!
(۷)مہاتما کے معنی ہیں"روح اعظم"جو خاص لقب سیدنا جبریل امین علیہ الصلوۃ والسلام کا ہےمشرك کو اس سے تعبیر کرنا صریح مخالفت خدا ورسول ہے۔حدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لاتقولو اللمنافق یا سید فانہ ان یکن سید کم فقد اسخطتم ربکم عزوجل ۔ منافق کو"اے سردار"نہ کہو بیشك اگر وہ تمہارا سردار ہےتو تم نے اپنے رب عزوجل کا غضب لیا۔
اب ادھر تو منافق و مشرك کا فرق دیکھو اور ادھر سردار و روح اعظم کا مواز نہ کروانہیں نسبتوں سے اس پر اﷲ عزوجل کا غضب اشد ہےوالعیاذ باﷲ رب العالمیناﷲ تعالی مسلمانوں کی آنکھیں کھولے مسلمان کرےمسلمان رکھےمسلمان مارے مسلمان اٹھائے ولاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیمواﷲتعالی اعلم۔
حوالہ / References
سنن ابی داؤد آخر کتاب الجہاد آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۲۹
شعب الایمان حدیث ۴۸۸۶ دارالکتب العلمیہ بیروت ۴/ ۲۳۰،اتحاف السادۃ باب الآفۃ الثامنہ عشر المدح دارالفکر بیروت ۷/ ۵۷۱
سنن ابی داؤد کتاب الادب باب یقول المملوك الخ آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۳۲۴،مسند امام احمد بن حنبل حدیث حضرت بریدۃ الاسلمی دارالفکر بیروت ۵/ ۴۷۔۳۴۶
شعب الایمان حدیث ۴۸۸۶ دارالکتب العلمیہ بیروت ۴/ ۲۳۰،اتحاف السادۃ باب الآفۃ الثامنہ عشر المدح دارالفکر بیروت ۷/ ۵۷۱
سنن ابی داؤد کتاب الادب باب یقول المملوك الخ آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۳۲۴،مسند امام احمد بن حنبل حدیث حضرت بریدۃ الاسلمی دارالفکر بیروت ۵/ ۴۷۔۳۴۶
مسئلہ۱۷۰: از موضع خورد مئوڈاکخانہ بدوسرائے ضلع بارہ بنکی مسئولہ سید صفدر علی صاحب ۲صفر۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ افواہا سنا جاتا ہے کہ اکثر لوگ ایسے ہوئے ہیں اور ہوتے جاتے ہیں کہ ریاضت کرتے ایسے واصل بخداہوجاتے ہیں کہ نماز روزہ ترك کردیتے ہیں(جبکہ اظہر من الشمس ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے زیادہ کوئی مقرب تر نہیں ہوا اور نہ ہوسکتا ہے اور رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نماز روزہ بدرجہ اتم ادا فرماتے تھے)او ر لوگ ان کی ولایت کے قائل ہوتے ہیںچنانچہ تاریخ فرشتہ(اردو)جلد دوم میں لکھا ہے کہ"شیخ احمد رحمۃ اﷲتعالی علیہ حالت جذب میں نماز نہیں پڑھتے تھے"۔اب دریافت طلب یہ امر ہے کہ ایسے تارك نماز روزہ کے نسبت قرآن مجید و حدیث شریف میں کیا حکم ہےآیا تارك نماز و روزہ ولی اﷲ کہے جانے کے لائق ہوسکتا ہے اور ہے یا نہیں اور کوئی درجہ شریعتطریقتمعرفت میں ایسا ہے کہ جہاں پہنچ کر روزہ نماز کا تارك گنہگار نہ ہو
الجواب:
کوئی شخص ایسے مقام تك نہیں پہنچ سکتا جس سے نماز و روزہ وغیرہ احکام شرعیہ ساقط ہوجائیں جب تك عقل باقی ہے
اﷲ عزوجل فرماتا ہے:
" واعبد ربک حتی یاتیک الیقین ﴿۹۹﴾" مرتے دم تك اپنے رب کی عبادت کر۔
سید الطائفہ جنید بغدادی رضی اﷲ تعالی عنہ سے عرض کی گئی:کچھ لوگ پیدا ہوئے کہ نماز وغیرہ عبادات چھوڑدی ہے اور کہتے ہیں کہ شریعت تو راستہ ہے ہم پہنچ گئے ہمیں راہ کی حاجت نہیں فرمایا:"صدقو القد وصلواولکن الی این الی النار"وہ سچ کہتے ہیں ضرور پہنچ گئے مگر کہاں تکجہنم تک۔پھر فرمایا:اگر مجھے صدہا برس کی عمر دی جائے توفرض تو فرض جو نفل مقرر کرلئے ہیں ہرگز نہ چھوڑوں۔اس مسئلہ کاکامل بیان ہمارے رسالہ"مقال عرفاء"میں ہےحالت جذب میں مثل جنون عقل سلامت نہیں رہتیاس وقت وہ مکلف نہیںجو باوصف بقائے عقل واستطاعت قصدا نماز یا روزہ ترك کرے ہرگزولی اﷲ نہیں ولی الشیطان ہے قرآن وحدیث میں اسے مشرك و کافر تك فرمایا۔
قال اﷲ تعالی" و اقیموا الصلوۃ ولا تکونوا من المشرکین ﴿۳۱﴾ " اﷲ تعالی نے فرمایا:نماز قائم رکھو اور مشرکوں سے نہ ہوجاؤ۔
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ افواہا سنا جاتا ہے کہ اکثر لوگ ایسے ہوئے ہیں اور ہوتے جاتے ہیں کہ ریاضت کرتے ایسے واصل بخداہوجاتے ہیں کہ نماز روزہ ترك کردیتے ہیں(جبکہ اظہر من الشمس ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے زیادہ کوئی مقرب تر نہیں ہوا اور نہ ہوسکتا ہے اور رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نماز روزہ بدرجہ اتم ادا فرماتے تھے)او ر لوگ ان کی ولایت کے قائل ہوتے ہیںچنانچہ تاریخ فرشتہ(اردو)جلد دوم میں لکھا ہے کہ"شیخ احمد رحمۃ اﷲتعالی علیہ حالت جذب میں نماز نہیں پڑھتے تھے"۔اب دریافت طلب یہ امر ہے کہ ایسے تارك نماز روزہ کے نسبت قرآن مجید و حدیث شریف میں کیا حکم ہےآیا تارك نماز و روزہ ولی اﷲ کہے جانے کے لائق ہوسکتا ہے اور ہے یا نہیں اور کوئی درجہ شریعتطریقتمعرفت میں ایسا ہے کہ جہاں پہنچ کر روزہ نماز کا تارك گنہگار نہ ہو
الجواب:
کوئی شخص ایسے مقام تك نہیں پہنچ سکتا جس سے نماز و روزہ وغیرہ احکام شرعیہ ساقط ہوجائیں جب تك عقل باقی ہے
اﷲ عزوجل فرماتا ہے:
" واعبد ربک حتی یاتیک الیقین ﴿۹۹﴾" مرتے دم تك اپنے رب کی عبادت کر۔
سید الطائفہ جنید بغدادی رضی اﷲ تعالی عنہ سے عرض کی گئی:کچھ لوگ پیدا ہوئے کہ نماز وغیرہ عبادات چھوڑدی ہے اور کہتے ہیں کہ شریعت تو راستہ ہے ہم پہنچ گئے ہمیں راہ کی حاجت نہیں فرمایا:"صدقو القد وصلواولکن الی این الی النار"وہ سچ کہتے ہیں ضرور پہنچ گئے مگر کہاں تکجہنم تک۔پھر فرمایا:اگر مجھے صدہا برس کی عمر دی جائے توفرض تو فرض جو نفل مقرر کرلئے ہیں ہرگز نہ چھوڑوں۔اس مسئلہ کاکامل بیان ہمارے رسالہ"مقال عرفاء"میں ہےحالت جذب میں مثل جنون عقل سلامت نہیں رہتیاس وقت وہ مکلف نہیںجو باوصف بقائے عقل واستطاعت قصدا نماز یا روزہ ترك کرے ہرگزولی اﷲ نہیں ولی الشیطان ہے قرآن وحدیث میں اسے مشرك و کافر تك فرمایا۔
قال اﷲ تعالی" و اقیموا الصلوۃ ولا تکونوا من المشرکین ﴿۳۱﴾ " اﷲ تعالی نے فرمایا:نماز قائم رکھو اور مشرکوں سے نہ ہوجاؤ۔
وقال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم من ترك الصلوۃ متعمدافقد کفر جہارا ۔ نبی اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:جس نے قصدا نماز چھوڑی وہ علانیہ کافر ہوگیا(ت)
مسئلہ۱۷۱: ازشہر محلہ کوہاڑا پیر مسئولہ یوسف علی بیگ ۵صفر۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اہل سنت و جماعت کو رافضیوں سے ملنا جلنا اور کھانا پینا اور رافضیوں سے سود سلف خریدنا جائز ہے یانہیںاور جو شخص سنی ہوکر ایسا کرتا ہے اس کی نسبت شرعا کیا حکم ہے آیا وہ شخص دائرہ اہل سنت و جماعت سے خارج ہے یانہیںاور شخص مذکورہ بالا سے تمام مسلمانوں کو اپنے دینی ودنیوی تعلقات منقطع کرنا چاہئیں یانہیں
الجواب:
روافض زمانہ علی العموم مرتد ہیں کما بیناہ فی ردالرفضۃ(جیسا کہ ہم نے اسے ردالرفضہ میں بیان کیا ہے)ان سے کوئی معاملہ اہل اسلام کا سا کرنا حلال نہیںان سے میل جول نشست و برخاست سلام کلام سب حرام ہےقال اﷲ تعالی:
" اما ینسینک الشیطن فلا تقعد بعد الذکری مع القوم الظلمین ﴿۶۸﴾" ۔ اﷲ تعالی نے فرمایا:اور جو کہیں تجھے شیطان بھلادے تو یاد آنے پر ظالموں کے پاس نہ بیٹھ۔(ت)
حدیث میں ہے نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
سیأتی قوم لھم نبز یقال لھم الرافضۃ یطعنون السلف ولایشھدون جمعۃ ولاجماعۃ فلاتجالسوھم ولا تؤاکلوھم ولا تشاربوھم ولا تناکحوھم و اذا مرضوا فلا تعودوھم واذا ماتوا فلا تشھدوھم ولا تصلو اعلیہم ولاتصلوامعھم ۔ عنقریب کچھ لوگ آنے والے ہیں ان کا ایك بدلقب ہوگا انہیں رافضی کہا جائے گا سلف صالحین پر طعن کرینگے اور جمعہ وجماعات میں حاضر نہ ہوں گےان کے پاس نہ بیٹھنانہ ان کے ساتھ کھانا کھانانہ ان کے ساتھ پانی پینانہ ان کے ساتھ شادی بیاہ کرنابیمار پڑیں تو انہیں پوچھنے نہ جانامرجائیں تو ان کے جنازے پر نہ جاناان پر نماز پڑھنانہ ان کے ساتھ نماز پڑھنا۔
مسئلہ۱۷۱: ازشہر محلہ کوہاڑا پیر مسئولہ یوسف علی بیگ ۵صفر۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اہل سنت و جماعت کو رافضیوں سے ملنا جلنا اور کھانا پینا اور رافضیوں سے سود سلف خریدنا جائز ہے یانہیںاور جو شخص سنی ہوکر ایسا کرتا ہے اس کی نسبت شرعا کیا حکم ہے آیا وہ شخص دائرہ اہل سنت و جماعت سے خارج ہے یانہیںاور شخص مذکورہ بالا سے تمام مسلمانوں کو اپنے دینی ودنیوی تعلقات منقطع کرنا چاہئیں یانہیں
الجواب:
روافض زمانہ علی العموم مرتد ہیں کما بیناہ فی ردالرفضۃ(جیسا کہ ہم نے اسے ردالرفضہ میں بیان کیا ہے)ان سے کوئی معاملہ اہل اسلام کا سا کرنا حلال نہیںان سے میل جول نشست و برخاست سلام کلام سب حرام ہےقال اﷲ تعالی:
" اما ینسینک الشیطن فلا تقعد بعد الذکری مع القوم الظلمین ﴿۶۸﴾" ۔ اﷲ تعالی نے فرمایا:اور جو کہیں تجھے شیطان بھلادے تو یاد آنے پر ظالموں کے پاس نہ بیٹھ۔(ت)
حدیث میں ہے نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
سیأتی قوم لھم نبز یقال لھم الرافضۃ یطعنون السلف ولایشھدون جمعۃ ولاجماعۃ فلاتجالسوھم ولا تؤاکلوھم ولا تشاربوھم ولا تناکحوھم و اذا مرضوا فلا تعودوھم واذا ماتوا فلا تشھدوھم ولا تصلو اعلیہم ولاتصلوامعھم ۔ عنقریب کچھ لوگ آنے والے ہیں ان کا ایك بدلقب ہوگا انہیں رافضی کہا جائے گا سلف صالحین پر طعن کرینگے اور جمعہ وجماعات میں حاضر نہ ہوں گےان کے پاس نہ بیٹھنانہ ان کے ساتھ کھانا کھانانہ ان کے ساتھ پانی پینانہ ان کے ساتھ شادی بیاہ کرنابیمار پڑیں تو انہیں پوچھنے نہ جانامرجائیں تو ان کے جنازے پر نہ جاناان پر نماز پڑھنانہ ان کے ساتھ نماز پڑھنا۔
حوالہ / References
مجمع الزوائد باب فی تارك الصلوٰۃ دارالکتاب بیروت ۱/ ۲۹۵
القرآن الکریم ۶ /۶۸
کنز العمال حدیث۔۳۱۶۳۷،۳۲۵۴۲،۳۲۵۲۹،۳۲۴۶۸موسسۃ الرسالہ بیروت۱/ ۲۵۔۳۲۴،۵۲۹،۵۴۰،۵۴۲
القرآن الکریم ۶ /۶۸
کنز العمال حدیث۔۳۱۶۳۷،۳۲۵۴۲،۳۲۵۲۹،۳۲۴۶۸موسسۃ الرسالہ بیروت۱/ ۲۵۔۳۲۴،۵۲۹،۵۴۰،۵۴۲
جوسنی ہوکر ان کے ساتھ میل جول رکھے اگر خود رافضی نہیں تو کم از اشد فاسق ہےمسلمانوں کو ان سے بھی میل جول ترك کرنے کا حکم ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۱۷۲: ازشہربازار صندل خاں مسئولہ نیاز علی خاں ۶صفر۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ شرع سے فتوی ہوا ہے کہ مشرك کی تعظیم کے جلوس اور اس کے لکچر کے جلسے میں جس میں سے واعظ مسلمین بنایا گیا ہو شرکت حرام ہے اس پر ایك شخص نے کہا کہ یہ باکل ٹھیك نہیں اور فضول گھڑنت اور زبردستی کا لٹھ چلانا ہے ایسے شخص سے بیاہ شادی کرنا مسلمان کو جائز ہے یانہیں اور ایسا شخص مسجد میں اذان کہے تو جائز ہے یانہیںسلام وکلاممیل جول رکھنا اور مسلمان کہنا جائز ہے یانہیںکھانا پینا اس کے یہاں جائز ہے یانہیںاگر جائز ہو تو مہر کردی جائے اور ناجائز ہوتو مہر کردی جائے۔
الجواب:
صورت مستفسرہ میں اس شخص نے حکم شریعت کی توہین کی اور شریعت کی توہین کفر ہےعورت اس کے نکاح سے نکل گئی اس پر فرض ہے کہ از سر نومسلمان ہو کر توبہ کرے کلمہ اسلام پڑھےاس کے بعد اگر عورت راضی ہوتو اس سے دوبارہ نکاح کرسکتا ہےاور اگر توبہ نہ کرے تو اس سے میل جول حرام ہے اور بیاہ شادی محض زنااور اس کی اذان ناجائزنہ اس سے سلام وکلام جائزنہ اسے مسلمان کہنا جائز۔فتاوی عالمگیریہ میں ہے:
رجل قال آنہا کہ علم آموزند داستانہا است کہ می آموزند اوقال باداست آنچہ مے گوید او قال تزویراست او قال من علم حیلہ را منکرم ہذاکلمہ کفر کذافی المحیط ۔واﷲتعالی اعلم۔ ایك آدمی کہتا ہے جو علم انہوں نے سکھایا ہے وہ تمام کہانیاں ہیں یا کہتا ہے جو اسے بیان کیا ہے وہ تمام فریب ہے یا کہتا ہے میں علم حیلہ کا منکر ہوںتو یہ کلمہ کفر ہےجیساکہ محیط میں ہے۔واﷲتعالی اعلم(ت)
مسئلہ۱۷۳: ازدہلی بازار چتلی قبرچھتاموم گران مسئولہ محمد سلیمان خاں سادیکار ۶شوال ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ان مسئلوں میں کہ:
(۱)قادیانی غیر مقلداہل قرآنرافضی وغیرہ وغیرہ علاوہ سنیوں کے جتنے فرقے ہیں ان کے ساتھ
مسئلہ۱۷۲: ازشہربازار صندل خاں مسئولہ نیاز علی خاں ۶صفر۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ شرع سے فتوی ہوا ہے کہ مشرك کی تعظیم کے جلوس اور اس کے لکچر کے جلسے میں جس میں سے واعظ مسلمین بنایا گیا ہو شرکت حرام ہے اس پر ایك شخص نے کہا کہ یہ باکل ٹھیك نہیں اور فضول گھڑنت اور زبردستی کا لٹھ چلانا ہے ایسے شخص سے بیاہ شادی کرنا مسلمان کو جائز ہے یانہیں اور ایسا شخص مسجد میں اذان کہے تو جائز ہے یانہیںسلام وکلاممیل جول رکھنا اور مسلمان کہنا جائز ہے یانہیںکھانا پینا اس کے یہاں جائز ہے یانہیںاگر جائز ہو تو مہر کردی جائے اور ناجائز ہوتو مہر کردی جائے۔
الجواب:
صورت مستفسرہ میں اس شخص نے حکم شریعت کی توہین کی اور شریعت کی توہین کفر ہےعورت اس کے نکاح سے نکل گئی اس پر فرض ہے کہ از سر نومسلمان ہو کر توبہ کرے کلمہ اسلام پڑھےاس کے بعد اگر عورت راضی ہوتو اس سے دوبارہ نکاح کرسکتا ہےاور اگر توبہ نہ کرے تو اس سے میل جول حرام ہے اور بیاہ شادی محض زنااور اس کی اذان ناجائزنہ اس سے سلام وکلام جائزنہ اسے مسلمان کہنا جائز۔فتاوی عالمگیریہ میں ہے:
رجل قال آنہا کہ علم آموزند داستانہا است کہ می آموزند اوقال باداست آنچہ مے گوید او قال تزویراست او قال من علم حیلہ را منکرم ہذاکلمہ کفر کذافی المحیط ۔واﷲتعالی اعلم۔ ایك آدمی کہتا ہے جو علم انہوں نے سکھایا ہے وہ تمام کہانیاں ہیں یا کہتا ہے جو اسے بیان کیا ہے وہ تمام فریب ہے یا کہتا ہے میں علم حیلہ کا منکر ہوںتو یہ کلمہ کفر ہےجیساکہ محیط میں ہے۔واﷲتعالی اعلم(ت)
مسئلہ۱۷۳: ازدہلی بازار چتلی قبرچھتاموم گران مسئولہ محمد سلیمان خاں سادیکار ۶شوال ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ان مسئلوں میں کہ:
(۱)قادیانی غیر مقلداہل قرآنرافضی وغیرہ وغیرہ علاوہ سنیوں کے جتنے فرقے ہیں ان کے ساتھ
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ باب المرتد نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۲۷۰
کھانا پیناسلام علیك کرنانوکری کرنا جائز ہے یانہیںبعض علماء فرماتے ہیں کہ رسول خد اکی حدیث ہے کہ جس میں سو میں ننانوے باتیں کفر کی ہوں اور ایك بات اسلام کی ہوتو اس کو کافر نہیں کہنا چاہئے۔
(۲)ہندو انگریز وغیرہم کی ہم نوکری کرتے ہیں اور ملتے ہیں ان میں اور قادیانی ودیگر فرقوں میں کیا فرق ہے بینواتوجروا۔
الجواب:
(۱)یہ فرقے اور اسی طرح دیوبندی و نیچری غرض جو بھی ضروریات دین سے کسی شے کا منکر ہو سب مرتد کافر ہیںان کے ساتھ کھانا پیناسلام علیك کرناان کی موت وحیات میں کسی طرح کا کوئی اسلامی برتاؤ کرنا سب حرامنہ ان کی نوکری کرنے کی اجازتنہ انہیں نوکررکھنے کی اجازت کہ ان سے دور بھاگنے اور انہیں اپنے سے دور کرنے کا حکم ہے۔رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ایاکم وایاھم لایضلونکم ولایفتنونکم ۔ ان سے بچوانہیں دور رکھو تاکہ وہ تمہیں نہ گمراہ کریں نہ فتنہ میں ڈال سکیں۔(ت)
وہ حدیث جو سوال میں لکھی محض جھوٹ اور نری بناوٹ اور رسول اﷲصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پر صریح افترا ہے بلکہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اور قرآن حکیم کا حکم یہ ہے کہ ہزار باتیں اسلام کی کرتا ہو اور ایك کلمہ کفر کہے وہ کافر ہوجائے گا۔اﷲ عزوجل فرماتا ہے:
" یحلفون باللہ ما قالوا ولقد قالواکلمۃ الکفر وکفروا بعد اسلمہم" ۔ اﷲ کی قسم کھاتے ہیں کہ انہوں نے یہ بات نہ کہی اور بیشك ضرور انہوں نے کفر کا لفظ کہا اور اسکے سبب مسلمان ہونے کے بعدکافر ہوگئے۔
دین وعقل دونوں کا مقتضی تو یہ ہے کہ ننانوے قطرے گلاب میں ایك بوند پیشاب کی ڈال دو سب پیشاب ہوجائے گامگر ان خبیثوں کا مذہب یہ ہے کہ ننانوے تو لے پیشاب میں تولہ بھر ڈال دو سب گلاب ہوجائے گاپاك ہےحلال ہے چڑھاجاؤ۔
(۲)ہندو اور نصاری کافران اصلی ہیں اور یہ فرقے کافران مرتد او رشریعت مطہرہ میں مرتد کا حکم اصلی سے سخت تر ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
(۲)ہندو انگریز وغیرہم کی ہم نوکری کرتے ہیں اور ملتے ہیں ان میں اور قادیانی ودیگر فرقوں میں کیا فرق ہے بینواتوجروا۔
الجواب:
(۱)یہ فرقے اور اسی طرح دیوبندی و نیچری غرض جو بھی ضروریات دین سے کسی شے کا منکر ہو سب مرتد کافر ہیںان کے ساتھ کھانا پیناسلام علیك کرناان کی موت وحیات میں کسی طرح کا کوئی اسلامی برتاؤ کرنا سب حرامنہ ان کی نوکری کرنے کی اجازتنہ انہیں نوکررکھنے کی اجازت کہ ان سے دور بھاگنے اور انہیں اپنے سے دور کرنے کا حکم ہے۔رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ایاکم وایاھم لایضلونکم ولایفتنونکم ۔ ان سے بچوانہیں دور رکھو تاکہ وہ تمہیں نہ گمراہ کریں نہ فتنہ میں ڈال سکیں۔(ت)
وہ حدیث جو سوال میں لکھی محض جھوٹ اور نری بناوٹ اور رسول اﷲصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پر صریح افترا ہے بلکہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اور قرآن حکیم کا حکم یہ ہے کہ ہزار باتیں اسلام کی کرتا ہو اور ایك کلمہ کفر کہے وہ کافر ہوجائے گا۔اﷲ عزوجل فرماتا ہے:
" یحلفون باللہ ما قالوا ولقد قالواکلمۃ الکفر وکفروا بعد اسلمہم" ۔ اﷲ کی قسم کھاتے ہیں کہ انہوں نے یہ بات نہ کہی اور بیشك ضرور انہوں نے کفر کا لفظ کہا اور اسکے سبب مسلمان ہونے کے بعدکافر ہوگئے۔
دین وعقل دونوں کا مقتضی تو یہ ہے کہ ننانوے قطرے گلاب میں ایك بوند پیشاب کی ڈال دو سب پیشاب ہوجائے گامگر ان خبیثوں کا مذہب یہ ہے کہ ننانوے تو لے پیشاب میں تولہ بھر ڈال دو سب گلاب ہوجائے گاپاك ہےحلال ہے چڑھاجاؤ۔
(۲)ہندو اور نصاری کافران اصلی ہیں اور یہ فرقے کافران مرتد او رشریعت مطہرہ میں مرتد کا حکم اصلی سے سخت تر ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
حوالہ / References
صحیح مسلم مقدمۃ الکتاب باب نہی عن الروایۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۰
القرآن الکریم ۹ /۷۴
القرآن الکریم ۹ /۷۴
مسئلہ۱۷۵: ازبنارس محلہ نواب گنج مسئولہ شیخ فریدن سوداگر ۲۲رمضان ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مقابلہ کفار میں جب کفار میں جب لشکر اسلام کو شکست ہوتو زید کفار کو ان کی فتح پر مبارکباد دے اور مسرت وخوشی کا اظہار کرے عندالشرع اس کا کیاحکم ہےبینواتوجروا
الجواب:
اگر یہ بات واقعی ہے کہ وہ معاذ اﷲ کفر کی فتح او راسلام کی شکست چاہتا تھا تو اس کے کفر میں شك نہیں
قال اﷲ تعالی" ان تمسسکم حسنۃ تسؤہم۫ و ان تصبکم سیـۃ یفرحوا بہا" ۔ تمہیں کوئی بھلائی پہنچے تو انہیں برا لگے اور اگر تمہیں کوئی برائی پہنچے تو اس پرخوش ہوں۔(ت)
ورنہ مرتکب اشد کبیرہ ہونے میں شك نہیں اور تجدید اسلام لازماس کے بعد تجدید نکاح کا حکم۔عالمگیریہ میں ہے:
لوفاسق شرب الخمر فجاء اقاربہ ونثروا الدراھم علیہ کفرواولولم ینثروالکن قالوامبارکباد کفروا ایضا ۔واﷲ تعالی اعلم۔ اگر کسی فاسق نے شراب پی اس کے رشتہ دار آئے اور انہوں نے اس پر روپے وارے تو وہ کافر ہوجائیں گےا ور اگر پیسے نہ وارے مگر مبارکباد دی تب بھی کافر ہوجائیں گے۔
واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ۱۷۶: ازجی آئی پی ریلوے اسٹیشن بھساول مسئولہ عبدالباسط ۱۱رمضان ۱۳۳۹ھ
ایك شخص مسلمان کہلاتا ہے مگر پابند روزہ حج زکوۃ نہیںاسکے علاوہ فریمشن بھی ہےاور انگریزوں کے ہمراہ فریمشن کے مکان میں ہفتہ عشرہ جاکر وہاں جو کچھ ہوتا ہے اس میں شامل رہتا ہےایسے شخص کومسلمان اپنے گھر کھانے کی دعوت کریں یانہ کریں اور اس کی دعوت قبول کریں یانہیںمسلمانوں کے قبرستان میں اسے مرنے کے بعد دفن کریں یانہیںبینواتوجروا۔
الجواب:
نہ اسکی دعوت کرنا جائز نہ اس کی دعوت کھانا جائزنہ اسے مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کریںنہ اس کے ساتھ کوئی معاملہ موت وحیات اسلام کریں کہ فریمشن اسلام سے مرتد ہوجاتا ہےواﷲ تعالی اعلم۔
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مقابلہ کفار میں جب کفار میں جب لشکر اسلام کو شکست ہوتو زید کفار کو ان کی فتح پر مبارکباد دے اور مسرت وخوشی کا اظہار کرے عندالشرع اس کا کیاحکم ہےبینواتوجروا
الجواب:
اگر یہ بات واقعی ہے کہ وہ معاذ اﷲ کفر کی فتح او راسلام کی شکست چاہتا تھا تو اس کے کفر میں شك نہیں
قال اﷲ تعالی" ان تمسسکم حسنۃ تسؤہم۫ و ان تصبکم سیـۃ یفرحوا بہا" ۔ تمہیں کوئی بھلائی پہنچے تو انہیں برا لگے اور اگر تمہیں کوئی برائی پہنچے تو اس پرخوش ہوں۔(ت)
ورنہ مرتکب اشد کبیرہ ہونے میں شك نہیں اور تجدید اسلام لازماس کے بعد تجدید نکاح کا حکم۔عالمگیریہ میں ہے:
لوفاسق شرب الخمر فجاء اقاربہ ونثروا الدراھم علیہ کفرواولولم ینثروالکن قالوامبارکباد کفروا ایضا ۔واﷲ تعالی اعلم۔ اگر کسی فاسق نے شراب پی اس کے رشتہ دار آئے اور انہوں نے اس پر روپے وارے تو وہ کافر ہوجائیں گےا ور اگر پیسے نہ وارے مگر مبارکباد دی تب بھی کافر ہوجائیں گے۔
واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ۱۷۶: ازجی آئی پی ریلوے اسٹیشن بھساول مسئولہ عبدالباسط ۱۱رمضان ۱۳۳۹ھ
ایك شخص مسلمان کہلاتا ہے مگر پابند روزہ حج زکوۃ نہیںاسکے علاوہ فریمشن بھی ہےاور انگریزوں کے ہمراہ فریمشن کے مکان میں ہفتہ عشرہ جاکر وہاں جو کچھ ہوتا ہے اس میں شامل رہتا ہےایسے شخص کومسلمان اپنے گھر کھانے کی دعوت کریں یانہ کریں اور اس کی دعوت قبول کریں یانہیںمسلمانوں کے قبرستان میں اسے مرنے کے بعد دفن کریں یانہیںبینواتوجروا۔
الجواب:
نہ اسکی دعوت کرنا جائز نہ اس کی دعوت کھانا جائزنہ اسے مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کریںنہ اس کے ساتھ کوئی معاملہ موت وحیات اسلام کریں کہ فریمشن اسلام سے مرتد ہوجاتا ہےواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۱۷۷تا۱۸۱: ازرائے پور گول بازارممالك متوسط مسئولہ مرزا محمد اسمعیل صاحب بیگ ۲۴شعبان ۱۳۳۹ھ
بسم اﷲ الرحمن الرحیمسرآمد علمائے متکلمین سرخیل کملائے دین جنید عصر شبلی دہرحامی شریعت ماحی بدعتمجدد مائۃ حاضرہ مؤید ملت طاہرہ حضرت مولانا صاحب قبلہ مدظلکم اﷲ تعالی علی الفارقین المعتقدینپس از سلام سنت اسلام آنکہ عرصہ دراز سے کوئی عریضہ ارسال خدمت اقدس نہیں کیا مگر اکثر اوقات حضور کی صحتوری اور مزاج کی کیفیت کاجبل پور ودیگر مقامات کے کاٹھیاواری احباب سے جویاں رہاموجودہ شورش نان کوآپریشن وہندو ومسلم اتحاد پر مقررین کی تقریریں سنیں اور حضور کے سکوت پر ہمیشہ یہی خیال کرتا رہاکہ دیوبندی اوردیگر فرق ضالہ کی شرکت کی وجہ سے حضور اس روش سے کنارہ کش ہیں اور بحمداﷲ کہ میرا یہ خیال صحیح ہوا۔چند رسالے جبل پور سے آئے اور تحقیقات قادریہ آیہ" انما ینہىکم اللہ" جو تحقیق حضور نےفرمائی وہ حاکم علی صاحب بی اے دلائل پوروالے ماسٹر صاحب کو ترك موالات کے متعلق جو مفصل ومدلل فتوی ارسال فرمایا من وعن میری نظر سے گزرا میں ایك جاہل شخص ہوں لیکن اب تك الحمد ﷲ عقیدہ اہل سنت وجماعت پر قائم ہوں اور رہوں گا ان شاء اﷲ تعالی ان تمام رسائل اور اشتہارات کے دیکھنے کے بعدمیں نے یہ فیصلہ کرلیا ہے کہ حضور کی تحقیق اور حضور کی وسعت نظر کامخالفین کو بھی ضرور اعتراف ہوگاگو بظاہر وہ حضور کا خلاف کرتے ہیںلیکن اب تك ایك خلش میرے دل میں اور باقی رہی جس کی وجہ سے یہ عریضہ بصورت استفتا بغرض طلب ہدایت ارسال خدمتر ہے:
(۱)ان تمام رسائل اور اشتہارات سے یہ تو ثابت ہوچکا کہ موالات ہر کافر و مشرك سے قطعا حرام ہے خواہ وہ ہندچینجاپان غرض کہ دنیا کہ کسی حصہ کا کیوں نہ ہو لیکن اعزاز واقتدار خلافت قائم رکھنے کےلئے مسلمانان ہند کو خصوصا اور مسلمانان دنیا کو عموما کون ساطرز عمل اختیار کرنا چاہئے جو حدود شرعیہ کے اندر ہو اور اس سے تجاوزنہ کرتا ہو۔
(۲)خلافت یا سلطنت اسلام کی بقا اور تحفظ کا کیا ذریعہ ہے
(۳)الائمۃ من القریش (امامقریش میں سے ہوں گے۔ت)کی حدیث پر حضور اپنی تحقیق سے مطلع فرمائیں۔
بسم اﷲ الرحمن الرحیمسرآمد علمائے متکلمین سرخیل کملائے دین جنید عصر شبلی دہرحامی شریعت ماحی بدعتمجدد مائۃ حاضرہ مؤید ملت طاہرہ حضرت مولانا صاحب قبلہ مدظلکم اﷲ تعالی علی الفارقین المعتقدینپس از سلام سنت اسلام آنکہ عرصہ دراز سے کوئی عریضہ ارسال خدمت اقدس نہیں کیا مگر اکثر اوقات حضور کی صحتوری اور مزاج کی کیفیت کاجبل پور ودیگر مقامات کے کاٹھیاواری احباب سے جویاں رہاموجودہ شورش نان کوآپریشن وہندو ومسلم اتحاد پر مقررین کی تقریریں سنیں اور حضور کے سکوت پر ہمیشہ یہی خیال کرتا رہاکہ دیوبندی اوردیگر فرق ضالہ کی شرکت کی وجہ سے حضور اس روش سے کنارہ کش ہیں اور بحمداﷲ کہ میرا یہ خیال صحیح ہوا۔چند رسالے جبل پور سے آئے اور تحقیقات قادریہ آیہ" انما ینہىکم اللہ" جو تحقیق حضور نےفرمائی وہ حاکم علی صاحب بی اے دلائل پوروالے ماسٹر صاحب کو ترك موالات کے متعلق جو مفصل ومدلل فتوی ارسال فرمایا من وعن میری نظر سے گزرا میں ایك جاہل شخص ہوں لیکن اب تك الحمد ﷲ عقیدہ اہل سنت وجماعت پر قائم ہوں اور رہوں گا ان شاء اﷲ تعالی ان تمام رسائل اور اشتہارات کے دیکھنے کے بعدمیں نے یہ فیصلہ کرلیا ہے کہ حضور کی تحقیق اور حضور کی وسعت نظر کامخالفین کو بھی ضرور اعتراف ہوگاگو بظاہر وہ حضور کا خلاف کرتے ہیںلیکن اب تك ایك خلش میرے دل میں اور باقی رہی جس کی وجہ سے یہ عریضہ بصورت استفتا بغرض طلب ہدایت ارسال خدمتر ہے:
(۱)ان تمام رسائل اور اشتہارات سے یہ تو ثابت ہوچکا کہ موالات ہر کافر و مشرك سے قطعا حرام ہے خواہ وہ ہندچینجاپان غرض کہ دنیا کہ کسی حصہ کا کیوں نہ ہو لیکن اعزاز واقتدار خلافت قائم رکھنے کےلئے مسلمانان ہند کو خصوصا اور مسلمانان دنیا کو عموما کون ساطرز عمل اختیار کرنا چاہئے جو حدود شرعیہ کے اندر ہو اور اس سے تجاوزنہ کرتا ہو۔
(۲)خلافت یا سلطنت اسلام کی بقا اور تحفظ کا کیا ذریعہ ہے
(۳)الائمۃ من القریش (امامقریش میں سے ہوں گے۔ت)کی حدیث پر حضور اپنی تحقیق سے مطلع فرمائیں۔
حوالہ / References
القرآن الکریم ۶۰ /۹
مسند امام احمد بن حنبل حدیث حضرت انس بن مالك رضی اﷲ عنہ دارالفکر بیروت ۳/ ۱۲۹
مسند امام احمد بن حنبل حدیث حضرت انس بن مالك رضی اﷲ عنہ دارالفکر بیروت ۳/ ۱۲۹
(۴)اخبار واشتہار وچشم دید واقعات سے یہ ظاہر ہے کہ شریف مکہ نے حرمین شریفین زاد ھما اﷲشرفا وتعظیما کی بے حرمتی کی یا کرائیجزیرۃ العرب میں کفار و مشرکین کا داخلہ قبول کرلیا اس صورت میں شریف مکہ کے ساتھ کیاسلوك مسلمانوں کو کرنا چاہئے اور شریعت مطہرہ کا ایسے شخص کی نسبت کیا حکم ہے
(۵)مقامات مقدسہ کفار کے قبضہ میں بالواسطہ یا بلاواسطہ ہیں ان کفار کے اخراج کے لئے کیا طریقہ عمل ہونا چاہئے
ان چند امور پر حضور کی اجمالی یا تفصیلی تحقیق مجھے مطلوب ہے اور دیگر علماء سے مجھے کوئی اتنا زیادہ سروکار نہیں جتنا حضور سےمیں نے جب سے ہوش سنبھالا حضور ہی کو اپنا راہبرراہ حق سمجھتا رہانہ صرف یہی بلکہ میرے والد بزرگوار جناب مرزا فطرت بیگ صاحب مرحوم انسپکٹر پولیس حضور ہی کی ہدایت پر ندوہ کی ممبری سے علیحدہ ہوئے جو اس خط سے واضح ہے جو مکتوبات علماء وکلام اہل صفا میں بنام حافظ یقین الدین صاحب مرحوم شائع کردیا گیا ہےاس لئے مجھے فخر ہے کہ میں اس سے ہدایت یافتہ ہوں جو میرے والد مرحوم کے راہبر ہیںانجمن رضائے مصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے قیام سے بیحد خوشی حاصل ہوئی اس شہر میں اس کی اشاعت کروں گا ان شاء اﷲ تعالیلیکن ایك دیوبندی محمد یسین کی وجہ سے اس میں کچھ رکاوٹ ہوگییہ وہی شخص ہے جس کے مدرسہ کے مقابل یہاں کے اہل سنت نے ایك مدرسہ قائم کرکے حضور کے توسط سے مولوی سید مصباح القیوم صاحب زیدی الواسطی کو بلایا ہےمولوی صاحب نہایت نیك آدمی ہیں اور ان کی تحقیق مندرجہ بالاامور میں محدود ہےاس لئے عرض ہے کہ ان پانچ سوالات کے جوابات حضور کے پاس سے آنے پر ان شاء اﷲ میں حتی الامکان کوشش کروں گا کہ انجمن مذکور کی ترویج یہاں بھی ہوپس عرض ہے کہ جواب باصواب سے جلد تر سرفراز فرمائیں:بینواتوجروافقط حدادب!
الجواب:
مکرمی کرم فرما اکرمکم اﷲ تعالیوعلیکم السلام ورحمۃ اﷲ وبرکاتہالائمۃ من القریش (امامقریش میں سے ہوں گے۔ت)حدیث صحیح متواتر ہے اور اس کے مضمون پر صحابہ کرام و تابعین عظام و ائمہ اعلام تمام اہلسنت کا اجماع ہے کہ کتب عقائد وحدیث و فقہ ا س مسئلہ کی روشن تصریحات سے مالامال ہیں ہر سلطنت اسلام نہ سلطنت ہر جماعت اسلام نہ جماعت ہر فرد اسلام کی خیر خواہی ہر مسلمان پر فرض ہےرسول اﷲ صلی اﷲتعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:الدین النصح لکل مسلم (دین ہر مسلمان کے لئے
(۵)مقامات مقدسہ کفار کے قبضہ میں بالواسطہ یا بلاواسطہ ہیں ان کفار کے اخراج کے لئے کیا طریقہ عمل ہونا چاہئے
ان چند امور پر حضور کی اجمالی یا تفصیلی تحقیق مجھے مطلوب ہے اور دیگر علماء سے مجھے کوئی اتنا زیادہ سروکار نہیں جتنا حضور سےمیں نے جب سے ہوش سنبھالا حضور ہی کو اپنا راہبرراہ حق سمجھتا رہانہ صرف یہی بلکہ میرے والد بزرگوار جناب مرزا فطرت بیگ صاحب مرحوم انسپکٹر پولیس حضور ہی کی ہدایت پر ندوہ کی ممبری سے علیحدہ ہوئے جو اس خط سے واضح ہے جو مکتوبات علماء وکلام اہل صفا میں بنام حافظ یقین الدین صاحب مرحوم شائع کردیا گیا ہےاس لئے مجھے فخر ہے کہ میں اس سے ہدایت یافتہ ہوں جو میرے والد مرحوم کے راہبر ہیںانجمن رضائے مصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے قیام سے بیحد خوشی حاصل ہوئی اس شہر میں اس کی اشاعت کروں گا ان شاء اﷲ تعالیلیکن ایك دیوبندی محمد یسین کی وجہ سے اس میں کچھ رکاوٹ ہوگییہ وہی شخص ہے جس کے مدرسہ کے مقابل یہاں کے اہل سنت نے ایك مدرسہ قائم کرکے حضور کے توسط سے مولوی سید مصباح القیوم صاحب زیدی الواسطی کو بلایا ہےمولوی صاحب نہایت نیك آدمی ہیں اور ان کی تحقیق مندرجہ بالاامور میں محدود ہےاس لئے عرض ہے کہ ان پانچ سوالات کے جوابات حضور کے پاس سے آنے پر ان شاء اﷲ میں حتی الامکان کوشش کروں گا کہ انجمن مذکور کی ترویج یہاں بھی ہوپس عرض ہے کہ جواب باصواب سے جلد تر سرفراز فرمائیں:بینواتوجروافقط حدادب!
الجواب:
مکرمی کرم فرما اکرمکم اﷲ تعالیوعلیکم السلام ورحمۃ اﷲ وبرکاتہالائمۃ من القریش (امامقریش میں سے ہوں گے۔ت)حدیث صحیح متواتر ہے اور اس کے مضمون پر صحابہ کرام و تابعین عظام و ائمہ اعلام تمام اہلسنت کا اجماع ہے کہ کتب عقائد وحدیث و فقہ ا س مسئلہ کی روشن تصریحات سے مالامال ہیں ہر سلطنت اسلام نہ سلطنت ہر جماعت اسلام نہ جماعت ہر فرد اسلام کی خیر خواہی ہر مسلمان پر فرض ہےرسول اﷲ صلی اﷲتعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:الدین النصح لکل مسلم (دین ہر مسلمان کے لئے
حوالہ / References
مسند امام احمد بن حنبل حدیث حضر ت انس بن مالك رضی اﷲ عنہ دارالفکر بیروت ۳/ ۱۲۹
صحیح البخاری باب الدین النصیحۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۳
صحیح البخاری باب الدین النصیحۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۳
سراپاخیر خواہی ہے۔ت)ہر فرض بقدر قدرت ہے اور ہر حکم مشروط بہ استطاعت
قال اﷲ تعالی" لا یکلف اللہ نفسا الا وسعہا " ۔ اﷲ تعالی نے فرمایا:اﷲ تعالی کسی نفس کو اس کی وسعت سے بڑھ کر تکلیف نہیں دیتا(ت)
جو شخص حفاظت اسلام و سلطنت اسلام و اماکن مقدسہ کی استطاعت رکھتا ہے اور کاہلی سے نہ کرے مرتکب کبیرہ ہے یا کفار کی خوشامد وخوشنودی کے لئے تو مستوجب لعنت ہے یادل سے ضرر اسلام پسند کرنے کے سبب تو کافر ہے اور جو استطاعت نہیں رکھتا معذور ہےشریعت اس کام کا حکم فرماتی ہے جو شرعا جائز اور عادۃ ممکن اور عقلا مفید ہوحرام یا ناممکن یا عبثافعال حکم شرع نہیں ہوسکتے لہذا:
(۱)مسلمانان ہندو کو جہاد کا ہرگز حکم نہیںالمحجۃ المؤتمنہ میں اسے واضح کردیا ہے حتی کہ خود مولوی عبدالباری کے رسالہ ہجرت ص۲۷میں ہے:
"میں کشت وخون کو خصوصا مجتمع حملہ کی صورت جیسا کہ لشکر کرتا ہے غیر مفید سمجھتا ہوں کیونکہ اس کے اسباب مجتمع نہیں غیر قادرین پر فرض نہیں بدسگالی کی غرض سے کرسکتے ہیں اس کا ضرر ہوگا۔"
(۲)ہندوستان دارالاسلام ہےا س میں فقیر کا رسالہ اعلام الاعلام مدتوں سے شائع ہے اور خودمولوی عبدالباری کے رسالہ ہجرت ص۱۷میں ہے:
"ہم لوگوں کا مسلك یہ ہے کہ ہندوستان دارالاسلام ہے"۔
اور شك نہیں کہ دارالاسلام سے ہجرت عامہ کا حکم ہرگز شرع مطہر نہیں فرماتینہ عادۃ وہ ممکن نہ کچھ مفید کہ سب مسلمان اپنی جائدادیں یونہی نصاری کے لئے چھوڑ جائیں یا کوڑیوں کے مول ہندوؤں کو دی جائیں اورخود کروڑوں ننگے بھوکے اور ملك کے مسلمانوں پر ڈھٹی دیں ان کی عافیت بھی تنگ کریں یا بھوکے مرجائیں اور اپنی مساجد و مزارات اولیاء پامالی کفار ومشرکین کے لئے چھوڑجائیں اور یہ سب کچھ اوڑ بھی لیاجائے تو اس سے سلطنت اسلام کو کیا فائدہاور اماکن مقدسہ کا کیا نفع اور ہجرت بعض کا بے سود ہونا بھی عقلا تومعلوم تھا ہیاب تجربۃ مشہور بھی ہولیا سوا ان غریب مسلمانوں کی بے سرو سامانی وآوارگی وپریشانی وحسرت وپشیمانی کے اور بھی کوئی فائدہ مترتب ہوا۔
(۳)مالی امداد البتہ ایك چیز ہے اگرچہ مولوی عبدالباری اس کے بھی منکر ہیں۔رسالہ ہجرت ص۵
قال اﷲ تعالی" لا یکلف اللہ نفسا الا وسعہا " ۔ اﷲ تعالی نے فرمایا:اﷲ تعالی کسی نفس کو اس کی وسعت سے بڑھ کر تکلیف نہیں دیتا(ت)
جو شخص حفاظت اسلام و سلطنت اسلام و اماکن مقدسہ کی استطاعت رکھتا ہے اور کاہلی سے نہ کرے مرتکب کبیرہ ہے یا کفار کی خوشامد وخوشنودی کے لئے تو مستوجب لعنت ہے یادل سے ضرر اسلام پسند کرنے کے سبب تو کافر ہے اور جو استطاعت نہیں رکھتا معذور ہےشریعت اس کام کا حکم فرماتی ہے جو شرعا جائز اور عادۃ ممکن اور عقلا مفید ہوحرام یا ناممکن یا عبثافعال حکم شرع نہیں ہوسکتے لہذا:
(۱)مسلمانان ہندو کو جہاد کا ہرگز حکم نہیںالمحجۃ المؤتمنہ میں اسے واضح کردیا ہے حتی کہ خود مولوی عبدالباری کے رسالہ ہجرت ص۲۷میں ہے:
"میں کشت وخون کو خصوصا مجتمع حملہ کی صورت جیسا کہ لشکر کرتا ہے غیر مفید سمجھتا ہوں کیونکہ اس کے اسباب مجتمع نہیں غیر قادرین پر فرض نہیں بدسگالی کی غرض سے کرسکتے ہیں اس کا ضرر ہوگا۔"
(۲)ہندوستان دارالاسلام ہےا س میں فقیر کا رسالہ اعلام الاعلام مدتوں سے شائع ہے اور خودمولوی عبدالباری کے رسالہ ہجرت ص۱۷میں ہے:
"ہم لوگوں کا مسلك یہ ہے کہ ہندوستان دارالاسلام ہے"۔
اور شك نہیں کہ دارالاسلام سے ہجرت عامہ کا حکم ہرگز شرع مطہر نہیں فرماتینہ عادۃ وہ ممکن نہ کچھ مفید کہ سب مسلمان اپنی جائدادیں یونہی نصاری کے لئے چھوڑ جائیں یا کوڑیوں کے مول ہندوؤں کو دی جائیں اورخود کروڑوں ننگے بھوکے اور ملك کے مسلمانوں پر ڈھٹی دیں ان کی عافیت بھی تنگ کریں یا بھوکے مرجائیں اور اپنی مساجد و مزارات اولیاء پامالی کفار ومشرکین کے لئے چھوڑجائیں اور یہ سب کچھ اوڑ بھی لیاجائے تو اس سے سلطنت اسلام کو کیا فائدہاور اماکن مقدسہ کا کیا نفع اور ہجرت بعض کا بے سود ہونا بھی عقلا تومعلوم تھا ہیاب تجربۃ مشہور بھی ہولیا سوا ان غریب مسلمانوں کی بے سرو سامانی وآوارگی وپریشانی وحسرت وپشیمانی کے اور بھی کوئی فائدہ مترتب ہوا۔
(۳)مالی امداد البتہ ایك چیز ہے اگرچہ مولوی عبدالباری اس کے بھی منکر ہیں۔رسالہ ہجرت ص۵
حوالہ / References
القرآن الکریم ۲ /۲۸۶
پر ہے:"ہم اس وقت اعانت بمال کو مسلمانان ہند پر فرض نہیں سمجھتے بوجہ عدم استطاعت"۔یہ عذر کیسا بھی ہو مگر ذرائع وصول مہیا ہونا اور وصول پروثوق کے ساتھ اطمینان ملنا بہت ضرور ہے نہ ایسا کہ لاکھوں کے چندے ہوئے اور باوصف کثرت تقاضا____اب تك حساب بھی نہیں دیتے۔
(۴)معاملت حرام کا ترك ہمیشہ سے واجب تھا اور نہ کیا اب جائز کا ترك بھی فرض کررہے ہیںیہ شرع پر زیادت ہے پھر بھی جائز کا ترك ہر وقت جائز ہے جب کہ کسی مخطور کی طرف منجر نہ ہو اس کاناممکن یا نامفید ہونا المحجۃ المؤتمنہ ص۸۷ سے ۹۲ تك ملاحظہ ہوباتیں وہ بتائی جاتی ہیں جن پر تمام ملك ہر گز کاربند نہ ہوگانہ صرف تمام مسلمان اور بفرض غلط سب مسلمان مان بھی لیں تو بجائے نفع مضرپھر باطل و نامتوقع پر عام عمل اگر متخیل بھی ہو تو مدید وطویل مدتیں درکاراور حاجت اس وقت فوری تاتر یاق از عراق کی مثل ہے۔
(۵)فتنہ وفساد پھیلانے کی نامفیدی ظاہراب تك سواء بعرض ذلتوں کے کیا حاصل ہوااور یہ کھلا پہلو اس کے شرعا بھی ناجائز ہونے کا ہےحدیث میں ہے:
"مسلمان کو روانہیں کہ اپنے آپ کو ذلت پر پیش کرے"۔
خود مولوی عبدالباری کے رسالہ ہجرت ص۷ میں ہے:
"اس میں شك نہیں کہ اہلاك نفس بلاضرورت جائز نہیںقانون جن امور کو روکتا ہے ان کو نہ کرنے میں ہم کو عذر ہے"۔
(۶)رہی خالی چیخ پکارآفتاب سے زیادہ آشکار کہ محض بے سود وبیکارملك چیخنے پکارنے سے واپس نہیں ہوتا وہ بھی اتنا وسیعو ہ بھی ہلال کاوہ بھی صلیب سےورنہ اگلے علماء و مشائخ نے ہندوستان ہی چلاچلا کرپھیر لیاہوتایا مولوی عبدالباری کے بزرگوں نے چیخ پکار کر یہی ذراسی لکھنؤکی پڑیاکیا ان کو درد اسلام نہ تھاتھا مگر عقل بھی تھی کہ مہمل شوروغل سے کیا حاصل ہوگاخود آزاد کے الہلال جلد۱۲ص۱۶میں ہے:"زبان سے نالہ وفریاد کرنے کی صورتیں اسی وقت تك کے لئے ہیں جب تك ان سے کشود کار ممکن ہو"۔
(۷)خیر یہاں تك تو تھا جو کچھ تھاقیامت کا بند تو ہے کہ خلافت کی حمایت واماکن مقدسہ کا نام لے کر
(۴)معاملت حرام کا ترك ہمیشہ سے واجب تھا اور نہ کیا اب جائز کا ترك بھی فرض کررہے ہیںیہ شرع پر زیادت ہے پھر بھی جائز کا ترك ہر وقت جائز ہے جب کہ کسی مخطور کی طرف منجر نہ ہو اس کاناممکن یا نامفید ہونا المحجۃ المؤتمنہ ص۸۷ سے ۹۲ تك ملاحظہ ہوباتیں وہ بتائی جاتی ہیں جن پر تمام ملك ہر گز کاربند نہ ہوگانہ صرف تمام مسلمان اور بفرض غلط سب مسلمان مان بھی لیں تو بجائے نفع مضرپھر باطل و نامتوقع پر عام عمل اگر متخیل بھی ہو تو مدید وطویل مدتیں درکاراور حاجت اس وقت فوری تاتر یاق از عراق کی مثل ہے۔
(۵)فتنہ وفساد پھیلانے کی نامفیدی ظاہراب تك سواء بعرض ذلتوں کے کیا حاصل ہوااور یہ کھلا پہلو اس کے شرعا بھی ناجائز ہونے کا ہےحدیث میں ہے:
"مسلمان کو روانہیں کہ اپنے آپ کو ذلت پر پیش کرے"۔
خود مولوی عبدالباری کے رسالہ ہجرت ص۷ میں ہے:
"اس میں شك نہیں کہ اہلاك نفس بلاضرورت جائز نہیںقانون جن امور کو روکتا ہے ان کو نہ کرنے میں ہم کو عذر ہے"۔
(۶)رہی خالی چیخ پکارآفتاب سے زیادہ آشکار کہ محض بے سود وبیکارملك چیخنے پکارنے سے واپس نہیں ہوتا وہ بھی اتنا وسیعو ہ بھی ہلال کاوہ بھی صلیب سےورنہ اگلے علماء و مشائخ نے ہندوستان ہی چلاچلا کرپھیر لیاہوتایا مولوی عبدالباری کے بزرگوں نے چیخ پکار کر یہی ذراسی لکھنؤکی پڑیاکیا ان کو درد اسلام نہ تھاتھا مگر عقل بھی تھی کہ مہمل شوروغل سے کیا حاصل ہوگاخود آزاد کے الہلال جلد۱۲ص۱۶میں ہے:"زبان سے نالہ وفریاد کرنے کی صورتیں اسی وقت تك کے لئے ہیں جب تك ان سے کشود کار ممکن ہو"۔
(۷)خیر یہاں تك تو تھا جو کچھ تھاقیامت کا بند تو ہے کہ خلافت کی حمایت واماکن مقدسہ کا نام لے کر
مسلمان کہلانے والے مشرکوں میں فنا ہوگئےمشرك کو پیشوا بنالیا آپ پس روبنےجووہ کہے وہی مانیںقرآن وحدیث کی تمام عمر اس پر نثار کردیترك موالات کانام بدنام اور اﷲکے دشمن مشرکوں سے وداد محبت واتحادبلکہ غلامی وانقیادان کی خوشی کے لئے شعار اسلام کا انسدادان شناعات کے حلال کرنے کو آیات میں تحریف شریعت میں الحادنئی نئی شریعت کا دل سے ایجادجس کا بیان آپ کو المحجہ الموتمنہ میں ملے گایہ توصراحۃ اسلام کو کند چھری سے ذبح کرنا ہے اس کا نام حمایت اسلام رکھنا کس درجہ صریح مغالطہ و اغوا ہےندوہ میں بدمذہبوں ہی کی شرکت کا رونا تھا بظاہر کلمہ گوتو تھے انہوں نے سرے سے کلمہ ہی کو اٹھاکر بالائے طاق رکھ دیانہیں نہیںبلکہ پس پشت پھینك دیامشرکوں کو روح اعظم بنایاموسی بنایا نبی بالقوہ بنایامذکر مبعوث من اﷲ بنایااس کی مدح خطبہ جمعہ میں داخل کیاس کی تعریف میں کلام الہی کا مصرعہ:
خاموشی از ثنائے تو حدثنائے تست
(تیری تعریف سے خاموش رہنا تیری تعریف کی انتہا ہے۔ت)
گایا اور کیا کیا کفر وکفریات وضلالات اختیار کئے جن کا نمونہ آپ کو المحجۃ المؤ تمنۃ کے ص۴۴و۴۵پرملے گا جزیرۃ العرب میں کفار کی سکونت پچھلے سلاطین کے زمانے سے ہےعدن میں انگریزی فوج وغیرہ میں نصرانی سفارتوں کے قیام مدتوں سے ہیںحرمین محترمین کی بے ادبی شریف سے ہونے کا مجھے علم نہیںاخباروں اشتہاروں کو میں خود اپنے معاملہ میں روزانہ دیکھ رہا ہوں کہ میری نسبت محض جھوٹ محض بہتان شائع کرتے اور قصدا لعنت الہی اپنے اوپر لے رہے ہیں اور ان کی تائید میں کذابین کی عینی شہادتیں ہوتی ہیں حالانکہ اﷲ ورسول جانتے ہیں اور وہ خود دل میں جان رہے ہیں کہ محض جھوٹ بکتے اور افترا بکتے ہیں" و اللہ یشہد ان المنفقین لکذبون ﴿۱﴾" (اﷲ گواہی دیتا ہے کہ وہ جھوٹے ہیں۔ت)اگر بے ادبی حقیقۃ ثابت ہوتو جس حیثیت کی جس کی نسبت ثبوت پائے وہ اس قدر کے حکم شرعی کا مستحق ہوگا کسے باشد۔فقط ۲۴شعبان ۱۳۳۹ھ
________________
خاموشی از ثنائے تو حدثنائے تست
(تیری تعریف سے خاموش رہنا تیری تعریف کی انتہا ہے۔ت)
گایا اور کیا کیا کفر وکفریات وضلالات اختیار کئے جن کا نمونہ آپ کو المحجۃ المؤ تمنۃ کے ص۴۴و۴۵پرملے گا جزیرۃ العرب میں کفار کی سکونت پچھلے سلاطین کے زمانے سے ہےعدن میں انگریزی فوج وغیرہ میں نصرانی سفارتوں کے قیام مدتوں سے ہیںحرمین محترمین کی بے ادبی شریف سے ہونے کا مجھے علم نہیںاخباروں اشتہاروں کو میں خود اپنے معاملہ میں روزانہ دیکھ رہا ہوں کہ میری نسبت محض جھوٹ محض بہتان شائع کرتے اور قصدا لعنت الہی اپنے اوپر لے رہے ہیں اور ان کی تائید میں کذابین کی عینی شہادتیں ہوتی ہیں حالانکہ اﷲ ورسول جانتے ہیں اور وہ خود دل میں جان رہے ہیں کہ محض جھوٹ بکتے اور افترا بکتے ہیں" و اللہ یشہد ان المنفقین لکذبون ﴿۱﴾" (اﷲ گواہی دیتا ہے کہ وہ جھوٹے ہیں۔ت)اگر بے ادبی حقیقۃ ثابت ہوتو جس حیثیت کی جس کی نسبت ثبوت پائے وہ اس قدر کے حکم شرعی کا مستحق ہوگا کسے باشد۔فقط ۲۴شعبان ۱۳۳۹ھ
________________
حوالہ / References
القرآن الکریم ۵۹ /۱۱
المحجۃ المؤتمنۃ فی ایۃ الممتحنۃ ۱۳۳۹ھ
(سورہ ممتحنہ کی آیت کریمہ کے بارے میں درمیانی راستہ)
مسئلہ ۱۸۲: از مرسلہ مولوی حاکم علی صاحب بی اے حنفی نقشبندی مجددی پروفیسر سائنس اسلامیہ کالج لاہور ۱۴ صفر ۱۳۳۹ھ
اﷲ تعالی نے ہمیں کافروں اوریہودونصاری کے تولی سے منع فرمایا ہے مگر ابوالکلام زبردستی تولی کے معنی"معاملت"اور ترك موالات کو"ترك معاملت"(نان کوآپریشن)قرار دیتے ہیں اوریہ صریح زبردستی ہے جو اﷲ تعالی کے کلام پاك کے ساتھ کی جارہی ہےمذکور نے ۲۰ اکتوبر ۱۹۲۰ء کی جنر ل کونسل کی کمیٹی میں تشریف لاکر اطلاق یہ کردیاکہ جب تك اسلامیہ کالج لاہورکی امداد بندنہ کی جائے اور یونیورسٹی سے اس کا قطع الحاق نہ کیا جائے تب تك انگرویزوں سے ترك موالات نہیں ہوسکتی اور اسلامیہ کالج کے لڑکوں کو فتوی دے دیا کہ اگر ایسا نہ ہو تو کالج چھوڑدولہذا اس طرح سے کالج میں بے چینی پھیلادی کہ پھر پڑھائی کا سخت نقصان ہونا شروع ہوگیا۔علامہ مذکور کا یہ فتوی غلط ہے یونیورسٹی
نقل خط مولوی صاحب: آقائے نامدار مؤید ملت طاہرہ مولینا وبالفضل اولینا جناب شاہ احمد رضاخاں صاحب دام ظلہم السلام علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہپشت ہذا(باقی برصفحہ ائندہ)
(سورہ ممتحنہ کی آیت کریمہ کے بارے میں درمیانی راستہ)
مسئلہ ۱۸۲: از مرسلہ مولوی حاکم علی صاحب بی اے حنفی نقشبندی مجددی پروفیسر سائنس اسلامیہ کالج لاہور ۱۴ صفر ۱۳۳۹ھ
اﷲ تعالی نے ہمیں کافروں اوریہودونصاری کے تولی سے منع فرمایا ہے مگر ابوالکلام زبردستی تولی کے معنی"معاملت"اور ترك موالات کو"ترك معاملت"(نان کوآپریشن)قرار دیتے ہیں اوریہ صریح زبردستی ہے جو اﷲ تعالی کے کلام پاك کے ساتھ کی جارہی ہےمذکور نے ۲۰ اکتوبر ۱۹۲۰ء کی جنر ل کونسل کی کمیٹی میں تشریف لاکر اطلاق یہ کردیاکہ جب تك اسلامیہ کالج لاہورکی امداد بندنہ کی جائے اور یونیورسٹی سے اس کا قطع الحاق نہ کیا جائے تب تك انگرویزوں سے ترك موالات نہیں ہوسکتی اور اسلامیہ کالج کے لڑکوں کو فتوی دے دیا کہ اگر ایسا نہ ہو تو کالج چھوڑدولہذا اس طرح سے کالج میں بے چینی پھیلادی کہ پھر پڑھائی کا سخت نقصان ہونا شروع ہوگیا۔علامہ مذکور کا یہ فتوی غلط ہے یونیورسٹی
نقل خط مولوی صاحب: آقائے نامدار مؤید ملت طاہرہ مولینا وبالفضل اولینا جناب شاہ احمد رضاخاں صاحب دام ظلہم السلام علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہپشت ہذا(باقی برصفحہ ائندہ)
کے ساتھ الحاق قائم رہنے سے اور امداد لینے سے معاملت قائم رہتی ہے نہ کہ موالات جس کے معنی محبت کے ہیں نہ کہ کام کے۔جو کہ معاملت کے معنی ہیںمذکور کی اس زبردستی سے اسلامیہ کالج تباہ ہورہا ہے مولوی محمود حسن صاحب مولوی عبدالحی صاحب تودیوبندی خیالات کے ہیں زبردستی فتوے اپنے مدعا کے مطابق دیتے ہیں لہذا میں فتوے دیتاہوں کہ یونیورسٹی کے ساتھ الحاق اور امداد لینا جائز ہے میرے فتوے کی تصحیحان اصحاب سے کرائیں جو دیوبندی نہیں مثلا ملت طاہرہ حضرت مولانا مولوی شاہ احمد رضاخاں قاری صاحب بریلوی علاقہ روہیل کھنڈ اور مولوی اشرف علی تھانوی ممالك مغربی وشمالی
الجواب:
موالات ومجرد معاملت میں زمین وآسمان کا فرق ہے دنیوی معاملت میں جس سے دین پر ضرر نہ ہو سو امرتدین مثل وہابیہ دیوبندیہ وامثالہم کے کسی سے ممنوع نہیں۔ذمی تو معاملت میں مثل مسلم ہے:
لھم مالنا وعلیہم ماعلینا۔ ان کے لئے ہے جو ہمارے لئے اور جو ان پر ہے ہم پر۔
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشت)پر کا فتوی مطالعہ گرامی کے لئے ارسال کرکے التجا کرتاہوں کہ دوسری نقل کی پشت پر اس کی تصحیح فرماکر احقر نیاز مند کے نام بواپسی ڈاك اگر ممکن ہوسکے یا کم از کم دوسرے روز بھیج دیںانجمن حمایت اسلام کی جنرل کونسل کا اجلاس بروز اتوار بتاریخ ۳۱ اکتوبر ۱۹۲۰ء کو منعقد ہوتاہے اس میں پیش کرنا ہے کہ دیوبندیوں اور نیچریوں نے مسلمانوں کو تباہ کرنے میں کوئی تامل نہیں کیا ہے ہندوؤں اور گاندھی کے ساتھ موالات قائم کرلی ہے اور مسلمانوں کے کاموں میں روڑہ اٹکانے کی ٹھان لی ہے ﷲ عالم حنفیہ کو ان کے ہاتھوں سے بچائیں اور عنداﷲ ماجور ہوں۔نیاز مند ودعاگوے حاکم علی بی اے موتی بازار لاہور ۲۵ اکتوبر ۱۹۲۰ء
جواب خط مولوی صاحب: مکرم کرم فرما
. جناب مولوی حاکم علی صاحب بی اے سلمہم بعد اہدائے ہدیہ مسنونہ ملتمس کل گیارہ بچے آپ کا فتوی آیا اس وقت سے شب کے بارہ بجے تك اہم ضروریات کے سبب ایك حرف لکھنے کی فرصت نہ ہوئیآج صبح بعد وظائف یہ جواب املا فرمایا امید کہ مجموعہ فتاوی کی نقل کے بعد آج ہی کی ڈاك سے مرسل ہواور مولی تعالی قادر ہے کہ کل ہی آپ کو پہنچ جائےمامول کہ وقت پر موصول ہونے سے مطلع فرمائیں والسلام فقیرمصطفی رضاقادری نوری عفی عنہ ۱۵ صفر المظفر ۱۳۲۹ھ۔
الجواب:
موالات ومجرد معاملت میں زمین وآسمان کا فرق ہے دنیوی معاملت میں جس سے دین پر ضرر نہ ہو سو امرتدین مثل وہابیہ دیوبندیہ وامثالہم کے کسی سے ممنوع نہیں۔ذمی تو معاملت میں مثل مسلم ہے:
لھم مالنا وعلیہم ماعلینا۔ ان کے لئے ہے جو ہمارے لئے اور جو ان پر ہے ہم پر۔
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشت)پر کا فتوی مطالعہ گرامی کے لئے ارسال کرکے التجا کرتاہوں کہ دوسری نقل کی پشت پر اس کی تصحیح فرماکر احقر نیاز مند کے نام بواپسی ڈاك اگر ممکن ہوسکے یا کم از کم دوسرے روز بھیج دیںانجمن حمایت اسلام کی جنرل کونسل کا اجلاس بروز اتوار بتاریخ ۳۱ اکتوبر ۱۹۲۰ء کو منعقد ہوتاہے اس میں پیش کرنا ہے کہ دیوبندیوں اور نیچریوں نے مسلمانوں کو تباہ کرنے میں کوئی تامل نہیں کیا ہے ہندوؤں اور گاندھی کے ساتھ موالات قائم کرلی ہے اور مسلمانوں کے کاموں میں روڑہ اٹکانے کی ٹھان لی ہے ﷲ عالم حنفیہ کو ان کے ہاتھوں سے بچائیں اور عنداﷲ ماجور ہوں۔نیاز مند ودعاگوے حاکم علی بی اے موتی بازار لاہور ۲۵ اکتوبر ۱۹۲۰ء
جواب خط مولوی صاحب: مکرم کرم فرما
. جناب مولوی حاکم علی صاحب بی اے سلمہم بعد اہدائے ہدیہ مسنونہ ملتمس کل گیارہ بچے آپ کا فتوی آیا اس وقت سے شب کے بارہ بجے تك اہم ضروریات کے سبب ایك حرف لکھنے کی فرصت نہ ہوئیآج صبح بعد وظائف یہ جواب املا فرمایا امید کہ مجموعہ فتاوی کی نقل کے بعد آج ہی کی ڈاك سے مرسل ہواور مولی تعالی قادر ہے کہ کل ہی آپ کو پہنچ جائےمامول کہ وقت پر موصول ہونے سے مطلع فرمائیں والسلام فقیرمصطفی رضاقادری نوری عفی عنہ ۱۵ صفر المظفر ۱۳۲۹ھ۔
(یعنی دنیاوی منافع میں ہماری طرح ان کو بھی حصہ دیا جائے گا اور دنیوی مواخذہ ان پر بھی وہی ہوگا جو ایك مسلمان پر کیا جائے گا)اور غیر ذمی سے بھی خرید وفروختاجارہ واستیجارہبہ واستیہاب بشروطہاجائز اورخریدنا مطلقا ہر مال کا کہ مسلمان کے حق میں متقوم ہو اور بیچنا ہر جائز چیز کا جس میں اعانت حرب یا اہانت اسلام نہ ہو اسے نوکر رکھنا جس میں کوئی کا م خلاف شرع نہ ہواس کی جائز نوکری کرنا جس میں مسلم پر اس کا استعلاء نہ ہوایسے ہی امور میں اجرت پر اس سے کام لینا یا اس کا کام کرنا بمصلحت شرعی اسے ہدیہ دینا جس میں کسی رسم کفر کا اعزاز نہ ہواس کا ہدیہ قبول کرنا جس سے دین پر اعتراض نہ ہو حتی کہ کتابیہ سے نکاح کرنا بھی فی نفسہ حلال ہےوہ صلح کی طرف جھکیں تو مصالحت کرنا مگروہ صلح کہ حلال کو حرام کرے یا حرام کو حلالیونہی ایك حد تك معاہدہ و مواعدت کرنابھیاو رجو جائز عہد کرلیا اس کی وفا فرض ہےاور غدر حرام الی غیر ذلك من الاحکام۔درمختار میں ہے:
والمرتدۃ تحبس ابد ا ولا تجالس ولاتؤاکل حتی تسلم ولاتقتل اھ قلت وھوالعلۃ فانہا تبقی ولا تفنی وقد شملت المرتد فی اعصارنا وامصارنا لامتناع القتل۔ مرتد عورت دائم الحبس کی جائے گی اور نہ اس کے پاس کوئی بیٹھے نہ اس کے ساتھ کوئی کھائے یہاں تك کہ وہ اسلام لائے اور قتل نہ کی جائے گیمیں کہتاہوں یہی ان احکام کا سبب ہے کہ وہ باقی چھوڑ دی جاتی ہے اور فنا نہیں کی جاتی اور اب اس ملك میں یہ سب مرتد کو بھی شامل ہوگیا کہ قتل نہیں کیا جا سکتا۔
محیط میں ہے:
اذا خرج للتجارۃ الی ارض العدو بامان فان کان امرالایخاف علیہ منہ وکانوا قوما یوفون بالعہد یعرفون بذلك ولہ فی ذلك منفعۃ فلاباس ۔ جب دشمن کے شہر کو امان لے کر تجارت کے لئے جائے اگر معاملہ ایسا ہو کہ اس پر اس سے اندیشہ نہیں اور وہ کافر عہد پورا کرنے میں مشہور ہوں اور اسے وہاں جانے میں نفع ہو توحرج نہیں۔
ہندیہ میں ہے:
اذا اراد المسلم ان یدخل دارالحرب جب مسلمان دارالحرب میں امان لے کر جانا چاہے
والمرتدۃ تحبس ابد ا ولا تجالس ولاتؤاکل حتی تسلم ولاتقتل اھ قلت وھوالعلۃ فانہا تبقی ولا تفنی وقد شملت المرتد فی اعصارنا وامصارنا لامتناع القتل۔ مرتد عورت دائم الحبس کی جائے گی اور نہ اس کے پاس کوئی بیٹھے نہ اس کے ساتھ کوئی کھائے یہاں تك کہ وہ اسلام لائے اور قتل نہ کی جائے گیمیں کہتاہوں یہی ان احکام کا سبب ہے کہ وہ باقی چھوڑ دی جاتی ہے اور فنا نہیں کی جاتی اور اب اس ملك میں یہ سب مرتد کو بھی شامل ہوگیا کہ قتل نہیں کیا جا سکتا۔
محیط میں ہے:
اذا خرج للتجارۃ الی ارض العدو بامان فان کان امرالایخاف علیہ منہ وکانوا قوما یوفون بالعہد یعرفون بذلك ولہ فی ذلك منفعۃ فلاباس ۔ جب دشمن کے شہر کو امان لے کر تجارت کے لئے جائے اگر معاملہ ایسا ہو کہ اس پر اس سے اندیشہ نہیں اور وہ کافر عہد پورا کرنے میں مشہور ہوں اور اسے وہاں جانے میں نفع ہو توحرج نہیں۔
ہندیہ میں ہے:
اذا اراد المسلم ان یدخل دارالحرب جب مسلمان دارالحرب میں امان لے کر جانا چاہے
حوالہ / References
الدرالمختار باب المرتد مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۶۰
فتاوٰی ہندیہ بحوالہ محیط کتاب الکراہیۃ الباب السادس والعشرون نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۳۶۵
فتاوٰی ہندیہ بحوالہ محیط کتاب الکراہیۃ الباب السادس والعشرون نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۳۶۵
بامان للتجارۃ لم یمنع ذلك منہ و کذلك اذا اراد حمل الامتعۃ الیہم فی البحر فی السفینۃ ۔ تو اس سے منع نہ کیا جائے گا اوریونہی جب کچھ اسباب دریائی سفر میں ان کی طرف کشتی میں لے جائے۔
اسی میں ہے:
قال محمد لاباس بان یحمل المسلم الی اھل الحرب ماشاء الاالکراع والسلاح فان کان خمرا من ابریسم اوثیابا رقاقا من القز فلاباس بادخالھا الیہم ولا بأس بادخال الصفر والشبہ الیہم لان ھذ الا یستعمل للسلاح (ملخصا) امام محمد نے فرمایا مسلمان جو مال تجارت چاہے حربیوں کی طرف لے جاسکتاہے مگر گھوڑے اور ہتھیارتو اگر ریشمی دوپٹے یا دیبا کے باریك کپڑے ہوں تو انھیں ان کی طرف لے جانے میں حرج نہیں اور پیتل اور جست ان کی طرف لے جانے میں مضائقہ نہیں کہ ان سے ہتھیار نہیں بنتے۔ (ملخصا)
اسی میں ہے:
لایمنع من ادخال البغال والحمیر و الثور والبعیر ۔ خچر اور گدھے اور بیل اور اونٹ دارالحرب میں لے جانا مضائقہ نہیں رکھتا۔
فتاوی امام طاہر بخاری میں ہے:
مسلم اجر نفسہ من مجوسی لاباس بہ ۔ مسلمان کسی مجوسی کے یہاں مزدوری کرے تو حرج نہیں۔
ہدایہ میں ہے:
من ارسل اجیرالہ مجوسیا او خادما فاشتری لحما فقال اشتریتہ من یھودی اونصرانی اومسلم جس نے اپنا نوکر یا غلام مجوسی بازار کو بھیجا اس نے گوشت خریدا اور کہا میں نے یہودی یا نصرانی یامسلمان سے خریدا ہے اسے اس کے کھانے کی
اسی میں ہے:
قال محمد لاباس بان یحمل المسلم الی اھل الحرب ماشاء الاالکراع والسلاح فان کان خمرا من ابریسم اوثیابا رقاقا من القز فلاباس بادخالھا الیہم ولا بأس بادخال الصفر والشبہ الیہم لان ھذ الا یستعمل للسلاح (ملخصا) امام محمد نے فرمایا مسلمان جو مال تجارت چاہے حربیوں کی طرف لے جاسکتاہے مگر گھوڑے اور ہتھیارتو اگر ریشمی دوپٹے یا دیبا کے باریك کپڑے ہوں تو انھیں ان کی طرف لے جانے میں حرج نہیں اور پیتل اور جست ان کی طرف لے جانے میں مضائقہ نہیں کہ ان سے ہتھیار نہیں بنتے۔ (ملخصا)
اسی میں ہے:
لایمنع من ادخال البغال والحمیر و الثور والبعیر ۔ خچر اور گدھے اور بیل اور اونٹ دارالحرب میں لے جانا مضائقہ نہیں رکھتا۔
فتاوی امام طاہر بخاری میں ہے:
مسلم اجر نفسہ من مجوسی لاباس بہ ۔ مسلمان کسی مجوسی کے یہاں مزدوری کرے تو حرج نہیں۔
ہدایہ میں ہے:
من ارسل اجیرالہ مجوسیا او خادما فاشتری لحما فقال اشتریتہ من یھودی اونصرانی اومسلم جس نے اپنا نوکر یا غلام مجوسی بازار کو بھیجا اس نے گوشت خریدا اور کہا میں نے یہودی یا نصرانی یامسلمان سے خریدا ہے اسے اس کے کھانے کی
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیۃ الباب السادس فی المستامن الفصل الاول نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۲۳۳
فتاوٰی ہندیۃ الباب السادس فی المستامن الفصل الاول نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۲۳۳
فتاوٰی ہندیۃ الباب السادس فی المستامن الفصل الاول نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۲۳۳
خلاصۃ الفتاوی کتاب الاجارات الفصل العاشر مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۳/ ۱۵۹
فتاوٰی ہندیۃ الباب السادس فی المستامن الفصل الاول نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۲۳۳
فتاوٰی ہندیۃ الباب السادس فی المستامن الفصل الاول نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۲۳۳
خلاصۃ الفتاوی کتاب الاجارات الفصل العاشر مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۳/ ۱۵۹
وسعہ اکلہ ۔ گنجائش ہے(کہ معاملات میں کافر کا قول مقبول ہے)
درمختار میں ہے:
الکافر یجوز تقلیدہ القضاء لیحکم بین اھل الذمۃ ذکرہ الزیلعی فی التحکیم ۔ بادشاہ اسلام اگر کسی کافر کو قاضی بنائے کہ ذمی کافروں کے مقدمے فیصل کرے تو جائز ہے اسے زیلعی نے باب تحکیم میں ذکر کیا۔
محیط میں ہے:
قال محمد مایبعثہ ملك العدومن الھدیۃ الی امیر جیش المسلمین اوالی الامام الاکبر وھومع الجیش فانہ لاباس بقبولہا ویصیر فیئا للمسلمین وکذلك اذا اھدی ملکھم الی قائدمن قواد المسلمین لہ منعۃ ولوکان اھدی الی واحد من کبار المسلمین لیس لہ منعۃ یختص ھوبھا ۔ امام محمد نے فرمایا دشمنوں کا بادشاہ جو ہدیہ مسلمانوں کے سپہ سالار یاخلیفہ حاضر لشکر کوبھیجے اس کے قبول میں حرج نہیں تو وہ سب مسلمانوں کے لئے مشترك ہوجائے گا یونہی جب ان کا بادشاہ مسلمان کے کسی فوجی سردراکو ہدیہ بھیجے جس کے پاس فوج ہو اگر کسی اسلامی سردارکو کوبھیجا جس کے پاس اس وقت فوج نہیں تو ہدیہ خاص اسی سردار کی ملك ہوگا۔
اسی میں ہے:
لوان عسکرامن المسلمین دخلوا دار الحرب فاھدی امیرھم الی ملك العدو ھدیۃ فلاباس بہ وکذلك لو ان امیر الثغور اھدی الی ملك العدوھدیۃ و اھدی ملك العدوالیہ ھدیۃ ۔ اگر مسلمانوں کا کوئی لشکر دارالحرب میں داخل ہو اور سردار لشکر کچھ ہدیہ دشمنوں کے بادشاہ کو بھیجے اس میں حرج نہیں اور یونہی اگر سرحدوں کا سردار دشمنوں کے بادشاہ کو کوئی ہدیہ بھیجے اور دشمنوں کا بادشاہ اسے ہدیہ بھیجے۔
درمختار میں ہے:
الکافر یجوز تقلیدہ القضاء لیحکم بین اھل الذمۃ ذکرہ الزیلعی فی التحکیم ۔ بادشاہ اسلام اگر کسی کافر کو قاضی بنائے کہ ذمی کافروں کے مقدمے فیصل کرے تو جائز ہے اسے زیلعی نے باب تحکیم میں ذکر کیا۔
محیط میں ہے:
قال محمد مایبعثہ ملك العدومن الھدیۃ الی امیر جیش المسلمین اوالی الامام الاکبر وھومع الجیش فانہ لاباس بقبولہا ویصیر فیئا للمسلمین وکذلك اذا اھدی ملکھم الی قائدمن قواد المسلمین لہ منعۃ ولوکان اھدی الی واحد من کبار المسلمین لیس لہ منعۃ یختص ھوبھا ۔ امام محمد نے فرمایا دشمنوں کا بادشاہ جو ہدیہ مسلمانوں کے سپہ سالار یاخلیفہ حاضر لشکر کوبھیجے اس کے قبول میں حرج نہیں تو وہ سب مسلمانوں کے لئے مشترك ہوجائے گا یونہی جب ان کا بادشاہ مسلمان کے کسی فوجی سردراکو ہدیہ بھیجے جس کے پاس فوج ہو اگر کسی اسلامی سردارکو کوبھیجا جس کے پاس اس وقت فوج نہیں تو ہدیہ خاص اسی سردار کی ملك ہوگا۔
اسی میں ہے:
لوان عسکرامن المسلمین دخلوا دار الحرب فاھدی امیرھم الی ملك العدو ھدیۃ فلاباس بہ وکذلك لو ان امیر الثغور اھدی الی ملك العدوھدیۃ و اھدی ملك العدوالیہ ھدیۃ ۔ اگر مسلمانوں کا کوئی لشکر دارالحرب میں داخل ہو اور سردار لشکر کچھ ہدیہ دشمنوں کے بادشاہ کو بھیجے اس میں حرج نہیں اور یونہی اگر سرحدوں کا سردار دشمنوں کے بادشاہ کو کوئی ہدیہ بھیجے اور دشمنوں کا بادشاہ اسے ہدیہ بھیجے۔
حوالہ / References
الہدایۃ کتاب الکراہیۃ مطبع یوسفی لکھنؤ ۴ /۴۵۱
الدرالمختار کتاب القضاء مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۷۱
فتاوٰی ہندیۃ بحوالہ المحیط الباب السادس الفصل الثالث نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۲۳۶
فتاوٰی ہندیۃ بحوالہ المحیط الباب السادس الفصل الثالث نورانی کتب خانہ پشاور ۲ /۲۳۶
الدرالمختار کتاب القضاء مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۷۱
فتاوٰی ہندیۃ بحوالہ المحیط الباب السادس الفصل الثالث نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۲۳۶
فتاوٰی ہندیۃ بحوالہ المحیط الباب السادس الفصل الثالث نورانی کتب خانہ پشاور ۲ /۲۳۶
وقال اﷲ تعالی" والمحصنت من المؤمنت والمحصنت من الذین اوتوا الکتب من قبلکم اذا اتیتموہن اجورہن"
(وتمام تحقیقہ فی فتاونا)وقال اﷲ تعالی
" و ان جنحوا للسلم فاجنح لہا" ۔وقال اﷲ تعالی
" الا الذین عہدتم من المشرکین ثم لم ینقصوکم شیـا ولم یظہروا علیکم احدا فاتموا الیہم عہدہم الی مدتہم ان اللہ یحب المتقین ﴿۴﴾" وقال تعالی
" واوفوا بالعہد ان العہدکان مسـولا ﴿۳۴﴾" وعنہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم)الصلح جائز بین المسلم الاصلحا احل حراما او حرم حلالا وقال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لاتغدروا ۔ اﷲ تعالی نے فرمایا: اورحلال ہیں تمھارے لئے پارسا عورتیں ایمان والیوں میں سے اور ان میں سے جن کو تم سے پہلے کتاب دی گئی جب تم ان کے مہر دو(اور اس مسئلہ کی پوری تحقیق ہمارے فتاوی میں ہے)اور اگر وہ صلح کی طرف جھکیں تو تم بھی اس کی طرف میل کرو۔سب کافروں کو قتل کرو مگر وہ مشرك جن سے تمھارا معاہدہ ہولیاپھر انھوں نے تمھارے حق میں کوئی تقصیر نہ کی اور تم پر کسی کو مدد نہ دی تو ان کا عہد ٹھہری ہوئی مدت تك پورا کرو بیشك اﷲ پرہیزگاروں کو دوست رکھتاہے عہد پورا کرو بیشك عہد پوچھا جائے گااور نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے روایت ہے مسلمانوں میں صلح جائز ہے مگر وہ صلح جو کسی حرام کو حلال یا حلال کو حرام نہ کرےاور نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:بدعہدی نہ کرو۔
وہ الحاق واخذ امداد اگر نہ کسی امر خلاف اسلام ومخالف شریعت سے مشروط نہ اس کی طرف منجرتو اس کے جواز میں کلام نہیں ورنہ ضرور ناجائز وحرام ہوگا مگر یہ عدم جواز اس شرط یا لازم کے سبب سے ہوگا نہ بربنائے تحریم مطلق معاملت جس کے لیے شرع میں اصلا اصل نہیں اور خود ان مانعین کا طرز عمل ان کے کذب دعوی پر شاہدریل تار ڈاك سے تمتع کیا معاملت نہیں ہےفرق یہ ہے کہ اخذ امداد میں مال
(وتمام تحقیقہ فی فتاونا)وقال اﷲ تعالی
" و ان جنحوا للسلم فاجنح لہا" ۔وقال اﷲ تعالی
" الا الذین عہدتم من المشرکین ثم لم ینقصوکم شیـا ولم یظہروا علیکم احدا فاتموا الیہم عہدہم الی مدتہم ان اللہ یحب المتقین ﴿۴﴾" وقال تعالی
" واوفوا بالعہد ان العہدکان مسـولا ﴿۳۴﴾" وعنہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم)الصلح جائز بین المسلم الاصلحا احل حراما او حرم حلالا وقال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لاتغدروا ۔ اﷲ تعالی نے فرمایا: اورحلال ہیں تمھارے لئے پارسا عورتیں ایمان والیوں میں سے اور ان میں سے جن کو تم سے پہلے کتاب دی گئی جب تم ان کے مہر دو(اور اس مسئلہ کی پوری تحقیق ہمارے فتاوی میں ہے)اور اگر وہ صلح کی طرف جھکیں تو تم بھی اس کی طرف میل کرو۔سب کافروں کو قتل کرو مگر وہ مشرك جن سے تمھارا معاہدہ ہولیاپھر انھوں نے تمھارے حق میں کوئی تقصیر نہ کی اور تم پر کسی کو مدد نہ دی تو ان کا عہد ٹھہری ہوئی مدت تك پورا کرو بیشك اﷲ پرہیزگاروں کو دوست رکھتاہے عہد پورا کرو بیشك عہد پوچھا جائے گااور نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے روایت ہے مسلمانوں میں صلح جائز ہے مگر وہ صلح جو کسی حرام کو حلال یا حلال کو حرام نہ کرےاور نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:بدعہدی نہ کرو۔
وہ الحاق واخذ امداد اگر نہ کسی امر خلاف اسلام ومخالف شریعت سے مشروط نہ اس کی طرف منجرتو اس کے جواز میں کلام نہیں ورنہ ضرور ناجائز وحرام ہوگا مگر یہ عدم جواز اس شرط یا لازم کے سبب سے ہوگا نہ بربنائے تحریم مطلق معاملت جس کے لیے شرع میں اصلا اصل نہیں اور خود ان مانعین کا طرز عمل ان کے کذب دعوی پر شاہدریل تار ڈاك سے تمتع کیا معاملت نہیں ہےفرق یہ ہے کہ اخذ امداد میں مال
حوالہ / References
القرآن الکریم ۵ /۵
القرآن الکریم ۸ /۶۱
القرآن الکریم ۹ /۴
القرآن الکریم ۱۷ /۳۴
سنن ابی داوؤد کتاب القضاء باب فی الصلح آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۱۵۰
صحیح مسلم کتاب الجہاد والسیر قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۸۲
القرآن الکریم ۸ /۶۱
القرآن الکریم ۹ /۴
القرآن الکریم ۱۷ /۳۴
سنن ابی داوؤد کتاب القضاء باب فی الصلح آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۱۵۰
صحیح مسلم کتاب الجہاد والسیر قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۸۲
لینا ہے اور ان کے استعمال میں دینا عجب کہ مقاطعت میں مال دینا حلال ہو اور لینا حرام اس کا یہ جواب دیا جاتاہے کہ ریل تار ڈاك ہمارے ہی ملك میں ہمارے ہی روپے سے بنے ہیں۔سبحان اﷲ امداد تعلیم کا روپیہ کیا انگلستان سے آتاہے وہ بھی یہیں کاہے۔تو حاصل وہی ٹھہرا کہ مقاطعت میں اپنے مال سے نفع پہنچانا مشروع اور خود نفع لینا ممنوع۔اس الٹی عقل کا کیا علاجمگر اس قوم سے کیا شکایت جس نے نہ صرف شریعت بلکہ نفس اسلام کو پلٹ دیا مشرکین سے وداد بلکہ اتحاد بلکہ غلامی وانقیاد فرض کیاخوشنودی ہنود کے لئے شعار اسلام بند اور شعار کفر کاماتھوں پر علم بلندمشرکین کی جے پکارنا ان کی حمد کے نعرے مارناانھیں اپنی اس حاجت دینی میں میں جسے نہ صرف فرض بلکہ مدار ایمان ٹھہراتے ہیں یہاں تك کہ اس میں شریك نہ ہونے والوں پر حکم کفر لگاتے ہیںاپنا امام وہادی بنانا مساجد میں مشرك کو لے جاکر مسلمانوں سے اونچا کرکے واعظ مسلمین ٹھہرانامشرك کی ٹکٹکی کندھوں پر اٹھاکر مرگھٹ میں لے جانامساجد کو ا س کے ماتم گاہ بنانااس کے لئے دعا مغفرت ونماز جنازہ کے اشتہار لگانا وغیرہ وغیرہ ناگفتہ بہ افعال موجب کفر ومورث ضلالیہاں تك کہ صاف لکھ دیا کہ اگر اپنے ہندو بھائیوں کور اضی کرلو تو اپنے خدا کو راضی کرلو گےصاف لکھ دیا کہ ہم ایسامذہب بنانے کی فکر میں ہیں جو ہندو مسلم کا امتیاز اٹھاد ے گا اور سنگم وپریاگ کو مقدس علامت ٹھہرائے گا صاف لکھ دیا کہ ہم نے قرآن وحدیث کی تمام عمر بت پرستی پر نثار کردییہ ہے موالاتیہ ہے حرامیہ ہیں کفریاتیہ ہیں ضلال تامفسبحن مقلب القلوب والابصار ولاحول ولاقوۃ الا باﷲ الواحد القہار۔واﷲ تعالی اعلم۔
جواب عــــہ امام اہلسنت عین حق ہے کلام الامام امام الکلام دیوبندیوں سے منع استصواب حق وصوابتھانوی صاحب کا استثناء عجب العجائب یہ سروسر غنہ دیوبند ہیںافعی راکشتن وبچہ اش رانگاہ داشتن(سانپ کو مارنا اور اس کے بچے کی حفاظت کرنا۔ت)کاحال معلوم نہ کہ بچگان کشتن وافعی گزاشتن(بچوں کو مارنا اور سانپ کوچھوڑ دینا۔ت)واﷲ تعالی اعلم۔فقیر مصطفی رضاقادری مہتمم دارالافتائے اہلسنت وجماعت بریلی۔۱۴ صفر ۱۳۳۹ھ
عــــہ:بحمداﷲ تعالی مولوی صاحب کی دین پرستی کہ انھوں نے اس نصیحت کو قبول کیا اور فتوائے اصل جمیعت علمائے ہند ص ۴ و ۵ پر یہ مضمون چھاپ دیاالحمدوالمنۃ کہ یکم نومبر ۱۹۲۰ء عالیجناب موید ملت طاہرہ اعلیحضرت مولانا شاہ احمد رضاخاں صاحب قادری بریلوی کا فتوی موصول ہوا اس سے مجھے ٹھیك پتا لگا کہ مولوی اشرفعلی صاحب توسروسرغنہ دیوبند ہیں یا اللہ! میری توبہمجھ سے یہ غلطی میرے ایك دوست نے کرادی استغفراﷲ تعالی ربی من کل ذنب ۱۲۔
جواب عــــہ امام اہلسنت عین حق ہے کلام الامام امام الکلام دیوبندیوں سے منع استصواب حق وصوابتھانوی صاحب کا استثناء عجب العجائب یہ سروسر غنہ دیوبند ہیںافعی راکشتن وبچہ اش رانگاہ داشتن(سانپ کو مارنا اور اس کے بچے کی حفاظت کرنا۔ت)کاحال معلوم نہ کہ بچگان کشتن وافعی گزاشتن(بچوں کو مارنا اور سانپ کوچھوڑ دینا۔ت)واﷲ تعالی اعلم۔فقیر مصطفی رضاقادری مہتمم دارالافتائے اہلسنت وجماعت بریلی۔۱۴ صفر ۱۳۳۹ھ
عــــہ:بحمداﷲ تعالی مولوی صاحب کی دین پرستی کہ انھوں نے اس نصیحت کو قبول کیا اور فتوائے اصل جمیعت علمائے ہند ص ۴ و ۵ پر یہ مضمون چھاپ دیاالحمدوالمنۃ کہ یکم نومبر ۱۹۲۰ء عالیجناب موید ملت طاہرہ اعلیحضرت مولانا شاہ احمد رضاخاں صاحب قادری بریلوی کا فتوی موصول ہوا اس سے مجھے ٹھیك پتا لگا کہ مولوی اشرفعلی صاحب توسروسرغنہ دیوبند ہیں یا اللہ! میری توبہمجھ سے یہ غلطی میرے ایك دوست نے کرادی استغفراﷲ تعالی ربی من کل ذنب ۱۲۔
استثناء عجب العجاب یہ سروسر غنہ دیوبند ہیں۔افعی راکشتن و بچہ اش رانگاہ داشتن (سانپ کع مارنا اور اس کے بچے کی حفاظت کرنا۔ت)کا حال معلوم نہ کہ بچگان کشتن وافعی گزاشتن(بچوں کو مارنا اور سانپ کو چھوڑ دینا۔ت)واﷲ تعالی اعلم۔فقیر مصطفی رضا قادری مہتمم دار الافتائے اہلسنت و جماعت بریلی۔۱۴صفر ۱۳۳۹ھ۔
بسم اﷲ الرحمن الرحیم
نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم
مسئلہ ۱۸۳:از لاہور بری بساط لکڑہارا اکبری منڈی مسئولہ چودھری عزیزالرحمن صاحب بی اے سابق ہیڈ ماسٹر اسلامیہ ہائی اسکول لائلپور ۱۲ ربیع الآخر ۱۳۳۹ھ
جناب حضرت قبلہ وکعبہ مجدد دوراں حضرت احمدرضاخاں صاحب سلمہ اﷲ تعالی ! السلام علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہبعد حمد وصلوۃ واضح رائے عالی ہو کہ حضور کا فتوی جو مسٹر حاکم علی بی اے پروفیسر ریاضی اسلامیہ کالج لاہور کے خط کے جواب میں حضورنے ارسال فرمایا پڑھ کر خاکسار کو بڑی حیرت ہوئی کیونکہ خاکسار آں حضور کو جیسا کہ لاکھوں کروڑوں پنجاب وہندوستان کے سنت وجماعت مجدد وقت مانتے ہیں اس زمانے کا مجدد مانتاہے اور جب سے ہوش سنبھالا اسی عقیدے پر بفضل خدا رہا جس پر آپ اور دیگر بزرگان قوم وعلمائے کرام ہیں یا ہوتے آئے ہیں لیکن اس فتوے کو دیکھ کر میرے دل میں بڑا اضطراب پیدا ہواہے اور میں نے یہ جرأت کی ہے کہ جناب سے مفصل طورپر دیافت کرلوں کہ ایسے زمانے میں جبکہ مسلمانوں پر ہر طرف سے حملے ہورہے ہیں اندرونی وبیرونی دشمن اسلام کو تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں اور مسلمانوں کے مقامات مقدسہ کفار کی مدد سے باغیوں(شریف مکہ)نے چھین لئے ہیں اور کفار جزیرۃ العرب(جدہ وعدن وغیرہ)میں اپنا قدم جمائے بیٹھے ہیں اور خلافت ریزہ ریزہ کی گئی ہے اور ایك بڑی سلطنت کا وزیر اعظم اپنی تقریر میں صاف کھلے لفظوں میں برملا کہتاہے کہ یہ لڑائی جو عراق عرب میں مسلمانوں سے ہوئی مذہبی لڑائی تھی اور اب ہم نے بیت المقدس ان کی گندگی سے پاک
بسم اﷲ الرحمن الرحیم
نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم
مسئلہ ۱۸۳:از لاہور بری بساط لکڑہارا اکبری منڈی مسئولہ چودھری عزیزالرحمن صاحب بی اے سابق ہیڈ ماسٹر اسلامیہ ہائی اسکول لائلپور ۱۲ ربیع الآخر ۱۳۳۹ھ
جناب حضرت قبلہ وکعبہ مجدد دوراں حضرت احمدرضاخاں صاحب سلمہ اﷲ تعالی ! السلام علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہبعد حمد وصلوۃ واضح رائے عالی ہو کہ حضور کا فتوی جو مسٹر حاکم علی بی اے پروفیسر ریاضی اسلامیہ کالج لاہور کے خط کے جواب میں حضورنے ارسال فرمایا پڑھ کر خاکسار کو بڑی حیرت ہوئی کیونکہ خاکسار آں حضور کو جیسا کہ لاکھوں کروڑوں پنجاب وہندوستان کے سنت وجماعت مجدد وقت مانتے ہیں اس زمانے کا مجدد مانتاہے اور جب سے ہوش سنبھالا اسی عقیدے پر بفضل خدا رہا جس پر آپ اور دیگر بزرگان قوم وعلمائے کرام ہیں یا ہوتے آئے ہیں لیکن اس فتوے کو دیکھ کر میرے دل میں بڑا اضطراب پیدا ہواہے اور میں نے یہ جرأت کی ہے کہ جناب سے مفصل طورپر دیافت کرلوں کہ ایسے زمانے میں جبکہ مسلمانوں پر ہر طرف سے حملے ہورہے ہیں اندرونی وبیرونی دشمن اسلام کو تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں اور مسلمانوں کے مقامات مقدسہ کفار کی مدد سے باغیوں(شریف مکہ)نے چھین لئے ہیں اور کفار جزیرۃ العرب(جدہ وعدن وغیرہ)میں اپنا قدم جمائے بیٹھے ہیں اور خلافت ریزہ ریزہ کی گئی ہے اور ایك بڑی سلطنت کا وزیر اعظم اپنی تقریر میں صاف کھلے لفظوں میں برملا کہتاہے کہ یہ لڑائی جو عراق عرب میں مسلمانوں سے ہوئی مذہبی لڑائی تھی اور اب ہم نے بیت المقدس ان کی گندگی سے پاک
کردیاہے وغیرہ وغیرہغرض کہ ایسے وقت جبکہ اعداء اﷲ اسلام کی عزت اور شوکت کی بیخ کنی میں کوشش کاکوئی دقیقہ اٹھا نہیں رکھاعراقفلسطین اور شام جن کو صحابہ اور تابعین رضی اﷲ تعالی عنہم نے خون کی ندیاں بہا کر فتح کیا تھاپھر کفار کی حریفانہ حوصلہ مندیوں کی جولانگاہ بن گئے ہیں خلیفۃ المسلمین دشمنوں کے نرغے میں پھنس کر بے دست وپا ہوچکے ہیں لا الہ الا اﷲ محمد رسول اﷲ کہنے والے اپنے گھروں (تھریس سمرنا وغیرہ)اور زرخیز علاقوں سے زبردستی نکالے جارہے ہیں اورمسجدوں پر زبردستی قبضہ کرلیا جاتاہے اور مسلمانوں کے علماء قرآنی احکام ڈڑتے ڈرتے بتاتے ہیںجہاد کا تو نام ہی منہ پر آنا بس قیامت ہےکیا ایسے وقت میں اسلامی حمیت وغیرت یہ چاہتی ہے کہ کوئی نہ کوئی ایسا مسئلہ نکل آئے جس سے انگریز افسر خوش ہوجائیں اورمسلمان تباہ ہوجائیںمسٹر حاکم علی نے ایك پالیسی سے انگریز پرنسپل اور دوسرے انگریز افسروں اور غدار مسلمانوں کو خوش کرنے کے واسطے حضور سے ایك عجیب طرز میں فتوی پوچھا اور حضور نے اس کے مضمون کے مطابق صحیح صحیح فیصلہ جواب میں بھیج دیایہ بالکل درست ہے کہ موالات ومجرد معاملت میں زمین وآسمان کا فرق ہے لیکن دین کا نقصان کرکے دنیوی معاملت کہاں جائز ہے حضور نے بہت سی شرائط سے مشروط کرکے گول مول جواب عنایت فرمایاہے لیکن اس وقت ضرورت ہے ایسے فتوے کی جو صا ف صاف لفظوں میں حالات حاضر ہ پر نظر کرکے بغیر کسی شرط کے لکھا جائے تاکہ ہر عالم وجاہل جو آپ کا پیرو ہے فورا پڑھ کر جان لے کہ اس کے واسطے اب ایسا کرنا ضروری ہےحالات حاضرہ حضورپر بخوبی روشن ہیں اور کچھ تھوڑے سے میں نے اوپر بیان کئے ہیںکیا مسلمانوں کابھرتی ہوکر فوج میں مسلمانوں کو ان کے گھروں سے نکالنے اور غلام بنانے کے لئے جانااور دوسرے کلرکوں کا ان کی امداد کے لئے عراق وشام وغیرہ میں ملازمت ہوکر جانا جائزہےاگر جاناجائز نہیں تو پھر آپ جیسے بزرگ کیوں چپ چاپ بیٹھے ہیں۔کیوں نہیں ایسے فتوے شائع کرتے اور اظہار حق میں دنیوی طاقت سے کیوں ڈرتے ہیںموجود ہ وقت کھینچ تان کر کفارسے تعلق رکھنے اور ان کی اعانت کرنے کا جواز ثابت کرنے کا نہیں ہے بلکہ سینہ سپر ہوکر بے خوف وخطر لوگوں کو صراط مستقیم بتانے کاہےحضور نے جو لکھا ہے کہ الحاق اور اخذ امداد جائزہےاگر کسی امر خلاف اسلام ومخالف شریعت سے مشروط نہ ہوعالیجا ہ! گورنمنٹ جوا مداد سکولوں اورکالجوں کو دیتی ہے وہ خاص اغراض کو مدنظر رکھ کر دی جاتی ہے اور میرا خیال ہے کہ حضور کو سب حال روشن ہوگا لیکن اگر اس بارے میں ناواقفیت ہو تو میں عرض کرتاہوں کہ اول تو امداد میں اس قسم کی شرط ضرور ہوتی ہے کہ کالج کا پرنسپل اور ایك دو پروفیسر انگریز ہوںدوسرے مقررہ کورس پڑھائے جائیں جن میں اکثر دیکھا گیا ہے کہ خلاف اسلام باتیں ہوتی ہیں بلکہ بعض میں تو رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی شان میں گستاخانہ الفاظ لکھے ہوئے ہوتے ہیں تیسرے دینی تعلیم
لازمی نہیں کوئی پڑھے یا نہ پڑھے لیکن جہاں دینی تعلیم پڑھائی جائے خاص وقت سے زیادہ نہ دیا جائے کیونکہ یونیورسٹی کی تعلیم کے لئے چارگھنٹے وقت ضرورخرچ ہوا گر چار گھنٹے سے کم ہوگاتو امداد نہیں ملے گیپھر جو استاد دینیات پڑھائے گا اس کو امداد نہیں دی جائے گی پھر فلاں فلاں مضمون ضرور طالب علم کولینے چاہئیں ورنہ امتحان میں شامل نہیں ہوسکتاپھر ڈرل وغیرہ اور کھیلوں کی طرف جن میں ہر ایك طالب علم کو حصہ لینا ضروری ہوتاہے آج کل جو ڈرل سکھائی جارہی ہے اس میں عجیب مخرب اخلاق باتیں کی جارہی ہیں امداد لینے اور الحاق یونیورسٹی سے رکھنے کے لئے ضروری ہے وہی ڈرل تمام اسکولوں میں کرائی جائےکھیلوں میں آپ دیکھتے ہیں کہ عجب بے پردہ لباس پہنا جاتاہے۔فٹ بال اور ہاکی میں جو نیکر پہنے جاتے ہیں وہ ٹخنوں سے اوپر تك ننگارکھتے ہیںغرضیکہ کیا عرض کروں اسی الحاق وامداد کی خاطر معلمین ومتعلمین کی یہی کوشش ہوتی ہے کہ قرآن شریف ودینیات کا جو گھنٹہ رکھا ہوا ہے اس میں بھی انگریزی ہی کا سبق یاد کرادوں کیونکہ انسپکٹر نے انگریزی تو سننی ہے قرآن مجید تو نہیں سنناجماعتوں میں جو ترقی دی جاتی ہے اس میں بھی اسی بات کا خیال رکھا جاتاہے کہ انگریزی لڑکا جانتا ہے یانہیں قرآن شریف خواہ ناظرہ بھی نہ پڑھ سکتاہو نماز کا ایك حرف نہ جانتاہو لیکن دسویں اور ایف اے اور بی اے پا س کرتا چلا جائے گا۔یہ میں اسلامیہ اسکولوں اور کالجوں کا ذکر کررہاہوں دوسرے سکولوں اور کالجوں سے ہمیں کوئی تعلق نہیں یہ سب کس واسطے ہورہاہےاسی واسطے کہ ہم یونیورسٹی سے الحاق رکھنا چاہتے ہیں اور سرکاری امداد لینا چاہتے ہیںاگر یہ خیال نہ ہو توبالکل حالت بدل جائے کہ طالب علم پکے مسلمان بن جائیں ان میں حمیت وغیرت مذہبی پیدا ہوجائے ان کے اخلاق درست ہوجائیں نیچریت اور دہریت کا اثر ان کے دلوں سے دور ہوجائےانگریزوں کی غلامی سے آزاد ہوجائیں اور لباس اور فیشن وغیرہ ہربات میں تقلید نصاری کررہے ہیں اس سے چھوٹ جائیں غرض کہ ہزاروں طرح کی برکات حاصل کریںمیرا کچھ لکھنا چھوٹا منہ بڑی بات ہےحضور پر سب حال روشن ہے میں حضور سے یہ فتوی مانگتاہوںبرائے مہربانی جواب باصواب سے خاکسار کو مشکور وممنون فرماکرعنداﷲ ماجور ہوں
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس بارے میں کہ حالات حاضرہ پر نظر کرتے ہوئے گورنمنٹ سے ترك موالات(عدم تعاون) کرنا اسلامی حکم ہے یا نہیں اورگورنمنٹ سے اسلامیہ اسکولوں اورکالجوں کو امداد لینی اور یونیورسٹی سے الحاق کرنا اندریں حالات چاہئے یانہیں جواب باصواب سے عنداﷲ ماجور اورعندالناس مشکور ہوں۔فقط والسلام
الجواب:
بسم اﷲ الرحمن الرحیم نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم
مکرم کرم فرماسلمہ وعلیکم السلام ورحمۃ اﷲ وبرکاتہرب عزوجل فرماتاہے:
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس بارے میں کہ حالات حاضرہ پر نظر کرتے ہوئے گورنمنٹ سے ترك موالات(عدم تعاون) کرنا اسلامی حکم ہے یا نہیں اورگورنمنٹ سے اسلامیہ اسکولوں اورکالجوں کو امداد لینی اور یونیورسٹی سے الحاق کرنا اندریں حالات چاہئے یانہیں جواب باصواب سے عنداﷲ ماجور اورعندالناس مشکور ہوں۔فقط والسلام
الجواب:
بسم اﷲ الرحمن الرحیم نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم
مکرم کرم فرماسلمہ وعلیکم السلام ورحمۃ اﷲ وبرکاتہرب عزوجل فرماتاہے:
" فبشر عباد ﴿۱۷﴾ الذین یستمعون القول فیتبعون احسنہ اولئک الذین ہدىہم اللہ و اولئک ہم اولوا الالبب ﴿۱۸﴾" خوشخبری دو میرے ان بندوں کو جو کان لگا کر بات سنتے پھر سب میں بہتر کی پیروی کرتے ہیں یہی لوگ ہیں جن کواﷲ تعالی نے ہدایت فرمائی اور یہی عقل والے ہیں
من وتو کی کیا حقیقت انبیائے کرام علیم الصلوۃ والسلام کے ساتھ معاندین کے چند طریقے رہے ہیں:
اول سرے سے بات نہ سننا کہ:
" لا تسمعوا لہذا القران و الغوا فیہ لعلکم تغلبون ﴿۲۶﴾" ۔ یہ قرآن سنوہی نہیں اور اس میں بیہودہ غل کرو شاہد تم غالب آؤ۔
دوم سن کر مکابرانہ تکذیب کا منہ کھول دینا کہ:" ان انتم الا تکذبون ﴿۱۵﴾" تم تونہیں مگر جھوٹے۔
سوم ہدایت کو معطل بالغرض بتانا کہ:" ان ہذا لشیء یراد ﴿۶﴾" اس میں تو ضرور کچھ مطلب ہے۔
چہارم حق کا باطل سے معارضہ کرنا:
" و یجدل الذین کفروا بالبطل لیدحضوا بہ الحق و اتخذوا ایتی و ما انذروا ہزوا ﴿۵۶﴾ کافر باطل کے ساتھ جھگڑتے ہیں کہ اس سے حق کو زائل کردیں اور انھوں نے میری آیتوں اور ڈراؤوں کوہنسی بنالیا ہے۔
مسلمان پر فرض ہے کہ ان سب طرق سے پر ہیز کرے اور اس پر عامل ہو جو راستہ پہلی آیت بشارت میں اس کے رب نے بتایا ہر تعصب وطرفداری سے خالی الذہن ہو کر کان لگاکر بات سنے اگر انصافا حق پائے اتباع کرے بارگاہ عزت سے ہدایت ودانشمندی کا خطاب ملے ورنہ پھینك دینا توہر وقت اختیار میں ہے واﷲ الھادی وولی الایادی۔
مدارس کے اقسام اور ان میں امداد لینے کے احکام:
(۱)۱۰ محرم ۱۳۳۹ھ کی بنارس کچی باغ سے یہ سوال آیا:"مدرسہ اسلامیہ عربیہ
من وتو کی کیا حقیقت انبیائے کرام علیم الصلوۃ والسلام کے ساتھ معاندین کے چند طریقے رہے ہیں:
اول سرے سے بات نہ سننا کہ:
" لا تسمعوا لہذا القران و الغوا فیہ لعلکم تغلبون ﴿۲۶﴾" ۔ یہ قرآن سنوہی نہیں اور اس میں بیہودہ غل کرو شاہد تم غالب آؤ۔
دوم سن کر مکابرانہ تکذیب کا منہ کھول دینا کہ:" ان انتم الا تکذبون ﴿۱۵﴾" تم تونہیں مگر جھوٹے۔
سوم ہدایت کو معطل بالغرض بتانا کہ:" ان ہذا لشیء یراد ﴿۶﴾" اس میں تو ضرور کچھ مطلب ہے۔
چہارم حق کا باطل سے معارضہ کرنا:
" و یجدل الذین کفروا بالبطل لیدحضوا بہ الحق و اتخذوا ایتی و ما انذروا ہزوا ﴿۵۶﴾ کافر باطل کے ساتھ جھگڑتے ہیں کہ اس سے حق کو زائل کردیں اور انھوں نے میری آیتوں اور ڈراؤوں کوہنسی بنالیا ہے۔
مسلمان پر فرض ہے کہ ان سب طرق سے پر ہیز کرے اور اس پر عامل ہو جو راستہ پہلی آیت بشارت میں اس کے رب نے بتایا ہر تعصب وطرفداری سے خالی الذہن ہو کر کان لگاکر بات سنے اگر انصافا حق پائے اتباع کرے بارگاہ عزت سے ہدایت ودانشمندی کا خطاب ملے ورنہ پھینك دینا توہر وقت اختیار میں ہے واﷲ الھادی وولی الایادی۔
مدارس کے اقسام اور ان میں امداد لینے کے احکام:
(۱)۱۰ محرم ۱۳۳۹ھ کی بنارس کچی باغ سے یہ سوال آیا:"مدرسہ اسلامیہ عربیہ
جس میں پچیس سال سے گورنمنٹ سے امداد ماہوار ایك سوروپیہ مقرر ہے جس میں کتب فقہ واحادیث وقرآن کی تعلیم ہوتی ہےممبران خلافت کمیٹی نے تجویز کیا کہ امداد نہ لینا چاہئےپس استفسار ہے کہ یہ امداد لینا جائزہے یا نہیں مدرسہ ہذا میں سوا تعلیم دینیات کے ایك حرف کسی غیر ملت وغیر زبان کی تعلیم نہیں ہوتی فقط"
اس کا جواب مطلق جواز ہوتا مگر پھر بھی احتیاطا شکل شرط میں دیا گیا کہ"جبکہ وہ مدرسہ صرف دینیات کاہے اور امداد کی بناء پر انگریزی وغیرہ اس میں داخل نہ کی گئی تو اس کے لینے میں شرعا کوئی حرج نہیں تعلیم دینیات کو جو مدد پہنچتی تھی اس کا بند کرنامحض بے وجہ ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔"
۲۲صفر ۱۳۳۹ ھ کو کراچی سبزبازار سے یہ سوال آیا:"ایك ایسے صوبے میں جس کی قریبا پچاس فیصدی آبادی اسلامی کاشتکاروں پر مشتمل ہے جس کے سالانہ محاصل کا ایك حصہ تعلیمی امداد کے ذیل وحصول کرکے حصہ رسدی مدارس مروجہ امدادیہ کو تقسیم کیا جاتاہے اس سے استفادہ جائزہے یا ناجائز خصوصا ایسے مدارس کےلئے جو کامل اسلامی اہتمام کے ماتحت جاری ہیں جن کی دینی تعلیم پر ارباب حکومت کسی نہج معترض نہیں ہوتے اور جن کی نصاب تعلیم کا سرکاری حصہ مروجہ تعلیم بھی خفیف سے خفیف شائبہ موانع شرعیہ سے جزاوکلا پاك ہے فقط۔"
اس کا جواب دیا گیا:"جو مدارس ہر طرح سے خالص اسلامی ہوں اور ان میں وہابیتنیچریت وغیرہما کا دخل نہ ہو ان کا جاری رکھنا موجب اجر عظیم ہےایسے مدارس کے لئے گورنمنٹ اگر اپنے پاس سے امداد کرتی لینا جائز تھا نہ کہ جب وہ امداد بھی رعایا ہی کے مال سے ہےواﷲ تعالی اعلم"
ندوہ کو بھی گورنمنٹ سے امداد ملتی تھی اور جہاں تك میرا خیال ہے اس پر ایسے قیود نہ تھے جو آپ نے ذکر کئے اور ضرور کچھ مدارس وہ بھی ہیں جن پر امداد امورخلاف شرع سے مقید یاان کی طرف منجر ہو وہ بلاشبہہ ناجائز اگرچہ صرف اسی قدر کھیل میں بے ستری یاخلاف حیاء ومخرب اخلاق باتوں کی شرط ہو خصوصا وہ صورت جو آپ نے بیان کی کہ نصاب میں وہ کتابیں مقرر ہوں جن میں خلاف اسلام باتیں ہیں حتی کہ معاذاﷲ توہین رسالت اس میں حرمت درکنار کفر نقدوقت ہے والعیاذباﷲ تعالی مولوی حاکم علی صاحب کی تحریر میں کوئی تفصیل نہ تھی لہذا یہ جواب دینا ضرور ہوا:"وہ الحاق واخذا مداد اگر نہ کسی امرخلاف اسلام ومخالف شریعت سے مشروط نہ اس کی طرف منجرتو اس کے جواز میں کلام نہیں ورنہ ضرور ناجائز وحرام ہوگا"یہ جواب دونوں صورتوں کو حاوی اور ناقابل تبدیل ہے حالات حاضرہ سے اس کی کسی شق میں تغیر نہ ہوا نہ یہاں کوئی جواب مطلق بلاشرط ہوسکتاہے۔
اس کا جواب مطلق جواز ہوتا مگر پھر بھی احتیاطا شکل شرط میں دیا گیا کہ"جبکہ وہ مدرسہ صرف دینیات کاہے اور امداد کی بناء پر انگریزی وغیرہ اس میں داخل نہ کی گئی تو اس کے لینے میں شرعا کوئی حرج نہیں تعلیم دینیات کو جو مدد پہنچتی تھی اس کا بند کرنامحض بے وجہ ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔"
۲۲صفر ۱۳۳۹ ھ کو کراچی سبزبازار سے یہ سوال آیا:"ایك ایسے صوبے میں جس کی قریبا پچاس فیصدی آبادی اسلامی کاشتکاروں پر مشتمل ہے جس کے سالانہ محاصل کا ایك حصہ تعلیمی امداد کے ذیل وحصول کرکے حصہ رسدی مدارس مروجہ امدادیہ کو تقسیم کیا جاتاہے اس سے استفادہ جائزہے یا ناجائز خصوصا ایسے مدارس کےلئے جو کامل اسلامی اہتمام کے ماتحت جاری ہیں جن کی دینی تعلیم پر ارباب حکومت کسی نہج معترض نہیں ہوتے اور جن کی نصاب تعلیم کا سرکاری حصہ مروجہ تعلیم بھی خفیف سے خفیف شائبہ موانع شرعیہ سے جزاوکلا پاك ہے فقط۔"
اس کا جواب دیا گیا:"جو مدارس ہر طرح سے خالص اسلامی ہوں اور ان میں وہابیتنیچریت وغیرہما کا دخل نہ ہو ان کا جاری رکھنا موجب اجر عظیم ہےایسے مدارس کے لئے گورنمنٹ اگر اپنے پاس سے امداد کرتی لینا جائز تھا نہ کہ جب وہ امداد بھی رعایا ہی کے مال سے ہےواﷲ تعالی اعلم"
ندوہ کو بھی گورنمنٹ سے امداد ملتی تھی اور جہاں تك میرا خیال ہے اس پر ایسے قیود نہ تھے جو آپ نے ذکر کئے اور ضرور کچھ مدارس وہ بھی ہیں جن پر امداد امورخلاف شرع سے مقید یاان کی طرف منجر ہو وہ بلاشبہہ ناجائز اگرچہ صرف اسی قدر کھیل میں بے ستری یاخلاف حیاء ومخرب اخلاق باتوں کی شرط ہو خصوصا وہ صورت جو آپ نے بیان کی کہ نصاب میں وہ کتابیں مقرر ہوں جن میں خلاف اسلام باتیں ہیں حتی کہ معاذاﷲ توہین رسالت اس میں حرمت درکنار کفر نقدوقت ہے والعیاذباﷲ تعالی مولوی حاکم علی صاحب کی تحریر میں کوئی تفصیل نہ تھی لہذا یہ جواب دینا ضرور ہوا:"وہ الحاق واخذا مداد اگر نہ کسی امرخلاف اسلام ومخالف شریعت سے مشروط نہ اس کی طرف منجرتو اس کے جواز میں کلام نہیں ورنہ ضرور ناجائز وحرام ہوگا"یہ جواب دونوں صورتوں کو حاوی اور ناقابل تبدیل ہے حالات حاضرہ سے اس کی کسی شق میں تغیر نہ ہوا نہ یہاں کوئی جواب مطلق بلاشرط ہوسکتاہے۔
لیڈر امداد چھڑاتے ہیں اور مخرب دین تعلیموں پر اب تک قائم ہیں:
(۲)انگریزوں کی تقلید و فیشن وغیرہ سے آزادی اور دہریت ونیچریت سے نجات بہت دل خوش کن کلمات ہیں خدا ایسا ہی کرے مگر یہ صرف ترك امداد والحاق سے حاصل نہیں ہوسکتے اس آگ کے بجھانے سے ملیں گے جو سید احمد خان نے لگائی اور اب تك بہت سے لیڈروں میں اس کی لپٹیں مشتعل ہیں انگریزی اور وہ بے سودو تضییع اوقات تعلیمیں جن سے کچھ کام دین تو دین دنیا میں بھی نہیں پڑتا جو صرف اس لئے رکھی گئی ہیں کہ لڑکے این وآں ومہملات پر مشغول رہ کر دین سے غافل رہیں کہ ان میں حمیت دینی کا مادہ ہی پیدا نہ ہووہ یہ جانیں ہی نہیں کہ ہم کیا ہیں اور ہماراد ین کیا۔جیسا کہ عام طورپر مشہورومعہود ہےجب تك یہ نہ چھوڑی جائیں اور تعلیم وتکمیل عقائد حقہ وعلوم صادقہ کی طرف باگیں نہ موڑی جائیں دہریت ونیچریت کی بیخ کنی ناممکن ہےکیا لیڈر اس میں ساعی ہیں ہر گز نہیں صرف امداد والحاق ترك کراتے ہیں جو ظاہری تعلق ہیں اور تعلیمات کے گہرے تعلقات نہ چھڑاتے ہیں نہ چھوٹیں گے کیا انھیں میں وہ لوگ جن سے پوچھا جاتا کہ صاحبزادوں کو قرآن نہ پڑھایا تو جواب دیتے کیا ان سے سوم کے چنے پڑھوانے ہیںکیا اب ان کے خیالات بدل گئےکیا اب انھوں نے انگریزی کے سوا اور رزاق سمجھ لیاکیا
اب یہ جواب نہ دیں گے کہ پرانے علوم سیکھ کر کیا کھائیں گےکیا اب انھیں شبلی کے شعر بھول گئے
سیارے ہیں اب نئی چمك کے وہ ٹھاٹھ بدل گئے فلك کے
اب صورت ملك ودین نئی ہے افلاك نئے زمیں نئی ہے
سب بھول گئے ہیں ما سبق کو گردوں نے الٹ دیا ورق کو
قائم جو وہ انجمن نہیں ہے اس نقد کا اب چلن نہیں ہے
القصہ یہ بات کی تھی تسلیم یعنی کہ علوم نو کی تعلیم
تدبیر شفا جو ہے تو یہ ہے اس دکھ کی دواجو ہے تویہ ہے
تقویم کہن سے ہاتھ اٹھائیں تہذیب کے دائرے میں آئیں
سیکھیں وہ مطالب نو آئیں یورپ میں جو ہورہے ہیں تلقیں
وہ گنج گراں دانش فن وہ فلسفہ جدید بیکن
کپلر کی وہ نکتہ آفرینی نیوٹن کے مسائل یقینی
اور بفرض غلط ایسا ہو بھی تو اکثر لیڈر کہ انھیں تعلیمات فارغہ کے بل پر لیڈر بنے ہیں کس مصر ف کے رہیں گے جب وہ مردودیہ خود مطرودکیا اس وقت یہ شعر حالی ان کا ترجمان حال نہ ہوگا
(۲)انگریزوں کی تقلید و فیشن وغیرہ سے آزادی اور دہریت ونیچریت سے نجات بہت دل خوش کن کلمات ہیں خدا ایسا ہی کرے مگر یہ صرف ترك امداد والحاق سے حاصل نہیں ہوسکتے اس آگ کے بجھانے سے ملیں گے جو سید احمد خان نے لگائی اور اب تك بہت سے لیڈروں میں اس کی لپٹیں مشتعل ہیں انگریزی اور وہ بے سودو تضییع اوقات تعلیمیں جن سے کچھ کام دین تو دین دنیا میں بھی نہیں پڑتا جو صرف اس لئے رکھی گئی ہیں کہ لڑکے این وآں ومہملات پر مشغول رہ کر دین سے غافل رہیں کہ ان میں حمیت دینی کا مادہ ہی پیدا نہ ہووہ یہ جانیں ہی نہیں کہ ہم کیا ہیں اور ہماراد ین کیا۔جیسا کہ عام طورپر مشہورومعہود ہےجب تك یہ نہ چھوڑی جائیں اور تعلیم وتکمیل عقائد حقہ وعلوم صادقہ کی طرف باگیں نہ موڑی جائیں دہریت ونیچریت کی بیخ کنی ناممکن ہےکیا لیڈر اس میں ساعی ہیں ہر گز نہیں صرف امداد والحاق ترك کراتے ہیں جو ظاہری تعلق ہیں اور تعلیمات کے گہرے تعلقات نہ چھڑاتے ہیں نہ چھوٹیں گے کیا انھیں میں وہ لوگ جن سے پوچھا جاتا کہ صاحبزادوں کو قرآن نہ پڑھایا تو جواب دیتے کیا ان سے سوم کے چنے پڑھوانے ہیںکیا اب ان کے خیالات بدل گئےکیا اب انھوں نے انگریزی کے سوا اور رزاق سمجھ لیاکیا
اب یہ جواب نہ دیں گے کہ پرانے علوم سیکھ کر کیا کھائیں گےکیا اب انھیں شبلی کے شعر بھول گئے
سیارے ہیں اب نئی چمك کے وہ ٹھاٹھ بدل گئے فلك کے
اب صورت ملك ودین نئی ہے افلاك نئے زمیں نئی ہے
سب بھول گئے ہیں ما سبق کو گردوں نے الٹ دیا ورق کو
قائم جو وہ انجمن نہیں ہے اس نقد کا اب چلن نہیں ہے
القصہ یہ بات کی تھی تسلیم یعنی کہ علوم نو کی تعلیم
تدبیر شفا جو ہے تو یہ ہے اس دکھ کی دواجو ہے تویہ ہے
تقویم کہن سے ہاتھ اٹھائیں تہذیب کے دائرے میں آئیں
سیکھیں وہ مطالب نو آئیں یورپ میں جو ہورہے ہیں تلقیں
وہ گنج گراں دانش فن وہ فلسفہ جدید بیکن
کپلر کی وہ نکتہ آفرینی نیوٹن کے مسائل یقینی
اور بفرض غلط ایسا ہو بھی تو اکثر لیڈر کہ انھیں تعلیمات فارغہ کے بل پر لیڈر بنے ہیں کس مصر ف کے رہیں گے جب وہ مردودیہ خود مطرودکیا اس وقت یہ شعر حالی ان کا ترجمان حال نہ ہوگا
قلی یا نفر ہو تو کچھ کام آئے
مگر ان کو کس مد میں کوئی کھپائے
لیڈر نصاری کی ادھوری غلامی چھوڑتے اور مشرکین کی پوری غلامی مناتے ہیں:
(۳)نصاری کی یہ غلامی کہ یہ پیر نیچرنے تھامی لیڈر جس کے اب زبانی شاکی ہیں اور دل سے پرانے حامیاس کے نتائج تشبہ وضع و تحقیر شرع وشیوع دہریت وفروغ نیچریت مطابقی نہ تھے بلکہ التزامی اب اگر بعد خرابی بصر وآنکھیں کھلیں اور اسے چھوڑناچاہتے ہیں مبارك ہو اور خدا سچ کرے اور راست لائے مگر ﷲ انصافوہ غلامی ادھوری تھی سید احمد خاں نے کسی پادری یانصرانی کو امور دین میں صراحۃ اپنا امام وپیشوا نہ لکھا تھا آیات احادیث کی تمام عمر کو چرچ یا صلیب پر نثار کرنا نہ کہا تھا کسی پادری کو مساجدمیں مسلمانوں کا واعظ وہادی نہ بنایا تھا نصرانیت کی رضا کو خدا کی رضا یا کسی پادری کو نبی بالقوہ نہ بنایا تھا او ر اب مشرکین کی پوری غلامی ہورہی ہے ان کے ساتھ یہ سب کچھ اور ان سے بہت زائد کیا جارہاہے یہ کون سا دین ہے نصاری کی ادھوری سے اجتناب اور مشرکین کی پوری میں غرقابفرمن المطر ووقف تحت المیزاب ع
چلتے پرنالے کے نیچے ٹھہرے مینہ سے بھاگ کر
موالات ہر کافر سے حرام ہے:
(۴)موالات مطلقا ہر کافر ہر مشرك سے حرام ہے اگرچہ ذمی مطیع اسلام ہو اگرچہ اپنا باپ یا بیٹایا بھائی یا قریبی ہوقال تعالی:
" لا تجد قوما یؤمنون باللہ و الیوم الاخر یوادون من حاد اللہ و رسولہ و لو کانوا اباءہم او ابناءہم او اخونہم او عشیرتہم " تو نہ پائے گا ان لوگوں کو جو ایمان رکھتے ہیں اﷲ اور قیامت پرکہ دوستی کریں اﷲ ورسول کے مخالفوں سے اگرچہ وہ ان کے باب بیٹے یا بھائی یا کنبے والے ہوں۔
موالات صوریہ کے احکام:
حتی کہ صوریہ کو بھی شرع مطہر نے حقیقیہ کے حکم میں رکھا۔ قال تعالی:
مگر ان کو کس مد میں کوئی کھپائے
لیڈر نصاری کی ادھوری غلامی چھوڑتے اور مشرکین کی پوری غلامی مناتے ہیں:
(۳)نصاری کی یہ غلامی کہ یہ پیر نیچرنے تھامی لیڈر جس کے اب زبانی شاکی ہیں اور دل سے پرانے حامیاس کے نتائج تشبہ وضع و تحقیر شرع وشیوع دہریت وفروغ نیچریت مطابقی نہ تھے بلکہ التزامی اب اگر بعد خرابی بصر وآنکھیں کھلیں اور اسے چھوڑناچاہتے ہیں مبارك ہو اور خدا سچ کرے اور راست لائے مگر ﷲ انصافوہ غلامی ادھوری تھی سید احمد خاں نے کسی پادری یانصرانی کو امور دین میں صراحۃ اپنا امام وپیشوا نہ لکھا تھا آیات احادیث کی تمام عمر کو چرچ یا صلیب پر نثار کرنا نہ کہا تھا کسی پادری کو مساجدمیں مسلمانوں کا واعظ وہادی نہ بنایا تھا نصرانیت کی رضا کو خدا کی رضا یا کسی پادری کو نبی بالقوہ نہ بنایا تھا او ر اب مشرکین کی پوری غلامی ہورہی ہے ان کے ساتھ یہ سب کچھ اور ان سے بہت زائد کیا جارہاہے یہ کون سا دین ہے نصاری کی ادھوری سے اجتناب اور مشرکین کی پوری میں غرقابفرمن المطر ووقف تحت المیزاب ع
چلتے پرنالے کے نیچے ٹھہرے مینہ سے بھاگ کر
موالات ہر کافر سے حرام ہے:
(۴)موالات مطلقا ہر کافر ہر مشرك سے حرام ہے اگرچہ ذمی مطیع اسلام ہو اگرچہ اپنا باپ یا بیٹایا بھائی یا قریبی ہوقال تعالی:
" لا تجد قوما یؤمنون باللہ و الیوم الاخر یوادون من حاد اللہ و رسولہ و لو کانوا اباءہم او ابناءہم او اخونہم او عشیرتہم " تو نہ پائے گا ان لوگوں کو جو ایمان رکھتے ہیں اﷲ اور قیامت پرکہ دوستی کریں اﷲ ورسول کے مخالفوں سے اگرچہ وہ ان کے باب بیٹے یا بھائی یا کنبے والے ہوں۔
موالات صوریہ کے احکام:
حتی کہ صوریہ کو بھی شرع مطہر نے حقیقیہ کے حکم میں رکھا۔ قال تعالی:
حوالہ / References
مسدس حالی مطبوعہ نولکشور لاہور ص۶۴
لقرآن الکریم ۵۸/ ۲۲
لقرآن الکریم ۵۸/ ۲۲
" یایہا الذین امنوا لا تتخذوا عدوی و عدوکم اولیاء تلقون الیہم بالمودۃ و قد کفروا بما جاءکم من الحق" اے ایمان والو! میرے اور اپنے دشمنوں کو دوست نہ بناؤ تم تو ان کی طرف محبت کی نگاہ ڈالتے ہو اور وہ اس حق سے کفر کررہے ہیں جو تمھارے پاس آیا۔
یہ موالات قطعا حقیقیہ نہ تھی کہ نزول کریمہ دربارہ سید نا خاطب بن ابی بلتعہ احد اصحاب البدر رضی اﷲ تعالی عنہ و عنہم ہے کما فی الصحیح البخاری ومسلم(جیسا کہ صحیح بخاری ومسلم میں ہے۔ت)تفسیر علامہ ابوالسعود میں ہے:
فیہ زجر شدید للمؤمنین عن اظہار صورۃ الموالاۃ لھم وان لم تکن موالاۃ فی الحقیقۃ ۔ اس آیہ کریمہ میں مسلمانوں کو سخت جھڑك ہے اس بات سے کہ کافروں سے وہ بات کریں جو بظاہر محبت ہواگرچہ حقیقت میں دوستی نہ ہو۔
مگر صوریہ ضروریہ خصوصا باکراہقال تعالی:
" الا ان تتقوا منہم تقىۃ" ۔ مگر یہ کہ تمھیں ان سے واقعی پورا ڈر ہو۔
وقال تعالی:
" الا من اکرہ و قلبہ مطمئن بالایمن" ۔ مگر وہ جو پورا مجبور کیا جائے اور اس کا دل ایمان پر برقرار ہو۔
مجرد معاملت کاحکم:اور معاملت مجردہ سوائے مرتدین ہر کافر سے جائزہے جبکہ اس میں نہ کوئی اعانت کفریا معصیت ہو نہ اضرار اسلام وشریعت ورنہ ایسی معاملت مسلم سے بھی حرام ہے چہ جائیکہ کافرقال تعالی:
" ولا تعاونوا علی الاثم والعدون ۪" گناہ وظلم پر ایك دوسرے کی مدد نہ کرو۔
یہ موالات قطعا حقیقیہ نہ تھی کہ نزول کریمہ دربارہ سید نا خاطب بن ابی بلتعہ احد اصحاب البدر رضی اﷲ تعالی عنہ و عنہم ہے کما فی الصحیح البخاری ومسلم(جیسا کہ صحیح بخاری ومسلم میں ہے۔ت)تفسیر علامہ ابوالسعود میں ہے:
فیہ زجر شدید للمؤمنین عن اظہار صورۃ الموالاۃ لھم وان لم تکن موالاۃ فی الحقیقۃ ۔ اس آیہ کریمہ میں مسلمانوں کو سخت جھڑك ہے اس بات سے کہ کافروں سے وہ بات کریں جو بظاہر محبت ہواگرچہ حقیقت میں دوستی نہ ہو۔
مگر صوریہ ضروریہ خصوصا باکراہقال تعالی:
" الا ان تتقوا منہم تقىۃ" ۔ مگر یہ کہ تمھیں ان سے واقعی پورا ڈر ہو۔
وقال تعالی:
" الا من اکرہ و قلبہ مطمئن بالایمن" ۔ مگر وہ جو پورا مجبور کیا جائے اور اس کا دل ایمان پر برقرار ہو۔
مجرد معاملت کاحکم:اور معاملت مجردہ سوائے مرتدین ہر کافر سے جائزہے جبکہ اس میں نہ کوئی اعانت کفریا معصیت ہو نہ اضرار اسلام وشریعت ورنہ ایسی معاملت مسلم سے بھی حرام ہے چہ جائیکہ کافرقال تعالی:
" ولا تعاونوا علی الاثم والعدون ۪" گناہ وظلم پر ایك دوسرے کی مدد نہ کرو۔
حوالہ / References
القرآن الکریم ۶۰ /۱
صحیح بخاری کتاب التفسیر باب لاتتخذواعدوی وعدوکم قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۷۲۶
ارشاد العقل السلیم(تفسیر ابی السعود)سورۃ /۱۵ داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/ ۴۸
القرآن الکریم ۳ /۲۸
القرآن الکریم ۱۶ /۱۰۶
القرآن الکریم ۵ /۲
صحیح بخاری کتاب التفسیر باب لاتتخذواعدوی وعدوکم قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۷۲۶
ارشاد العقل السلیم(تفسیر ابی السعود)سورۃ /۱۵ داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/ ۴۸
القرآن الکریم ۳ /۲۸
القرآن الکریم ۱۶ /۱۰۶
القرآن الکریم ۵ /۲
غیر قوموں کے ساتھ جواز معاملت کی مجمل تفصیل اس عــــہ فتوے میں آپ ملاحظہ فرما چکے ہیں ہر معاملت کے ساتھ وہ قید لگا دی ہے جس کے بعد نقصان دین کا احتمال نہیںان احکام شرعیہ کو بھی حالات دائرہ نے کچھ نہ بدلانہ یہ شریعت بدلنے والی ہے۔
" لا یاتیہ البطل من بین یدیہ و لا من خلفہ تنزیل من حکیم حمید ﴿۴۲﴾" باطل نہیں آسکتا نہ اس کےآگے نہ اس کے پیچھے سے اتارا ہوا ہے حکمت والے سراہے گئے کا.
احکام الہیہ میں لیڈروں کی طرح طرح کھینچ تان بلکہ کایا پلٹ:
(۵)ﷲ انصافاس میں کون سی کھینچ تان ہےجتنی بات کہی گئی صاف صریح احکام شرعیہ وجزئیات منصوصہ ہیں کھینچ تان کر احکام شرعیہ میں تغییر کا وقت خادم شرع کے لئے نہ اب ہے نہ کبھی تھا نہ کبھی ہوہاں خادمان گاندھی کےلئے نہ صرف کھینچ تان بلکہ کلام الہی واحکام الہی کو یکسر کایا پلٹ کرکے فرضیت موالات کفار نباہنے کا وقت ہےمسجد میں کسی دبے ہوئے ذمی کے ذلت خواری کے ساتھ آنے کے جواز کا اختلافی مسئلہ نکالیں اور مشرك کو بروجہ استعلاء مسجد میں لے جاناا ور مسلمانوں کا واعظ وہادی بنانامسند سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پر جمانا اس پرڈھالیں دبے ہوئے ملتجی بے قابو مشرك سے کوئی بالائی خدمت یازرہ خود بکتر عاریۃ لینے کے جواز کا مسئلہ دکھائیں اور اس سے خود سر خود غرضزبردستخونخوار مشرکوں کے دامن پکڑناان کے سایہ میں پناہ لیناان صریح بدخواہوں کی رائے پر اپنے آپ کو سپرد کردینا منائیں کفار معاہدین یا بعض کے نزدیك قتال سے بالذات
عــــہ:خود محرر مذہب سیدنا امام محمد رضی اﷲ تعالی عنہ کتاب الاثار میں فرماتے ہیں:اخبرنا ابوحنیفہ عن عماد عن ابراہیم انہ قال فی التاجر یختلف الی ارض الحرب انہ لاباس بذلك مالم یحمل الیہم سلاحااوکراعاوسلباقال محمد وبہ ناخذو ھوقول ابی حنیفۃ یعنی ہمیں امام اعظم نے امام حماد بن ابی سلیمن انھوں نے امام ابراہیم نخعی سے خبر دی کہ تجارت کے لئے دارالحرب میں تاجر کی آمد ورفت جائز ہے جب تك ان کی طرف ہتھیار یاگھوڑے یا قیدی نہ لے جائیںامام محمد نے فرمایا اسی کو ہم لیتے ہیں اور یہی قول امام اعظم کا ہےنیز مؤطا شریعت کی عبارت آتی ہے کہ مشرك مقاتل کوہدیہ بھیجنے میں حرج نہیں جب تك ہتھیار یا زرہ کا بھیجنا نہ ہو۔اوریہی قول امام اعظم اور ہمارے عام فقہاء کاہے انتہی ۱۲ منہ
" لا یاتیہ البطل من بین یدیہ و لا من خلفہ تنزیل من حکیم حمید ﴿۴۲﴾" باطل نہیں آسکتا نہ اس کےآگے نہ اس کے پیچھے سے اتارا ہوا ہے حکمت والے سراہے گئے کا.
احکام الہیہ میں لیڈروں کی طرح طرح کھینچ تان بلکہ کایا پلٹ:
(۵)ﷲ انصافاس میں کون سی کھینچ تان ہےجتنی بات کہی گئی صاف صریح احکام شرعیہ وجزئیات منصوصہ ہیں کھینچ تان کر احکام شرعیہ میں تغییر کا وقت خادم شرع کے لئے نہ اب ہے نہ کبھی تھا نہ کبھی ہوہاں خادمان گاندھی کےلئے نہ صرف کھینچ تان بلکہ کلام الہی واحکام الہی کو یکسر کایا پلٹ کرکے فرضیت موالات کفار نباہنے کا وقت ہےمسجد میں کسی دبے ہوئے ذمی کے ذلت خواری کے ساتھ آنے کے جواز کا اختلافی مسئلہ نکالیں اور مشرك کو بروجہ استعلاء مسجد میں لے جاناا ور مسلمانوں کا واعظ وہادی بنانامسند سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پر جمانا اس پرڈھالیں دبے ہوئے ملتجی بے قابو مشرك سے کوئی بالائی خدمت یازرہ خود بکتر عاریۃ لینے کے جواز کا مسئلہ دکھائیں اور اس سے خود سر خود غرضزبردستخونخوار مشرکوں کے دامن پکڑناان کے سایہ میں پناہ لیناان صریح بدخواہوں کی رائے پر اپنے آپ کو سپرد کردینا منائیں کفار معاہدین یا بعض کے نزدیك قتال سے بالذات
عــــہ:خود محرر مذہب سیدنا امام محمد رضی اﷲ تعالی عنہ کتاب الاثار میں فرماتے ہیں:اخبرنا ابوحنیفہ عن عماد عن ابراہیم انہ قال فی التاجر یختلف الی ارض الحرب انہ لاباس بذلك مالم یحمل الیہم سلاحااوکراعاوسلباقال محمد وبہ ناخذو ھوقول ابی حنیفۃ یعنی ہمیں امام اعظم نے امام حماد بن ابی سلیمن انھوں نے امام ابراہیم نخعی سے خبر دی کہ تجارت کے لئے دارالحرب میں تاجر کی آمد ورفت جائز ہے جب تك ان کی طرف ہتھیار یاگھوڑے یا قیدی نہ لے جائیںامام محمد نے فرمایا اسی کو ہم لیتے ہیں اور یہی قول امام اعظم کا ہےنیز مؤطا شریعت کی عبارت آتی ہے کہ مشرك مقاتل کوہدیہ بھیجنے میں حرج نہیں جب تك ہتھیار یا زرہ کا بھیجنا نہ ہو۔اوریہی قول امام اعظم اور ہمارے عام فقہاء کاہے انتہی ۱۲ منہ
حوالہ / References
القرآن الکریم ۴۱ /۴۲
کتاب الآثار اما م محمد باب حمل التجارۃ الی ارض الحرب حدیث ۱۵۱ ادارۃ القرآن کراچی ص۱۶۷
مؤطاامام محمد باب مایکرہ من لیس الحریر والدیباج آفتاب عالم پریس لاہور ص۲۷۱
کتاب الآثار اما م محمد باب حمل التجارۃ الی ارض الحرب حدیث ۱۵۱ ادارۃ القرآن کراچی ص۱۶۷
مؤطاامام محمد باب مایکرہ من لیس الحریر والدیباج آفتاب عالم پریس لاہور ص۲۷۱
عاجزین کے ساتھ کچھ مالی سلوك کی رخصت والی آیت سنائیں اور اسے خونخوار مشرکین سخت اعدائے اسلام ومسلمین کے ساتھ اتحاد ووداد بلکہ غلامی وانقیاد کی نہ صرف رخصت بلکہ اعظم فرضیت کی دلیل بنائیںان سب کا بیان بعونہ تعالی ابھی آتاہے آپ انصاف کرلیں گے کس نے کھینچ تان کیحاشا نہ صرف کھینچ تان بلکہ کمال جسارت سے احکام الہیہ کایا پلٹ کرکے قرآن وحدیث کی عمر بت پرستی پر قربان کی۔
" و سیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون ﴿۲۲۷﴾ " اور اب جاننا چاہتے ہیں ظالم کس کروٹ پر پلٹا کھائیں گے۔
تعلیم کے لئے امداد لینا اور لیڈروں کی دینی حالت کہ اسلام ان کو نہ جب مد نظر نہ تھا نہ اب ہے:
(۶)اور تعلیم دین کے لئے گورنمنٹ سے امدادقبول کرنا جو مخالف شرع سے مشروط نہ اس کی طرف منجر ہویہ تو نفع بے غائلہ ہے جس کی تحریم پر شرع مطہر سے اصلا کوئی دلیل نہیں۔دین پر قائم رہو مگر دین میں زیادت نہ کرو۔کیا نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وخلفائے راشدین رضی اﷲ تعالی عنہم نے سلاطین کفارکے ہدایا قبول نہ فرمائےجو وجوہ شناعت آپ نے ان مدارس میں لکھیں کہ امور مخالف اسلام حتی کہ توہین حضور سید الانام علیہ ا فضل الصلوۃ والسلام کی تعلیم داخل نصاب ہے بیشك جو اس قسم کے اسکول یا کالج ہوں ان میں نہ فقط اخذا مداد بلکہ تعلیم وتعلم سب حرام قطعی بلکہ مستلزم کفرہےآپ فرماتے ہیں یہ میں اسلامیہ اسکولوں اور کالجوں کا ذکر کررہاہوں پھر غیر اسلامیہ کاکیا پوچھنامگر افسوس اورسخت افسوس یہ کہ آج آپ کو جتنے لیڈر دکھائی دیں گے وہ ان کے بازو اور ان کے ہم زبان عام طورپر انہیں اسکولوں کالجوں کے کاسہ لیس ملیں گےانھیں سے بڑی بڑی ڈگریاں ایم اےبی اے کی پائے ہوئے ہوں گےکیا اس وقت تك ان میں یہ خباثتیں نہ تھیںضرور تھیں مگر ان صاحبون کو مقبول اور منظور تھیںاور اب بھی جو آنکھ کھلی تو صرف ایك گوشہ انگریزوں کی طرف کی اور وہ بھی شریعت پر زیادت کے ساتھ کہ ان سے مجرد معاملت بھی حرام قطعی بلکہ کفر اور مشرکوں کی طرف کی پہلے سے بھی زیادہ پٹ ہوگئی کہ ان سے وداد واتحاد واجب بلکہ ان کی غلامی وانقیاد وفرض انھیں راضی کرلیا تو خدا کور اضی کرلیا تو ثابت ہوا کہ اسلام ان حضرات کو نہ جب مدنظر تھا ورنہ ایسی دین تعلیموں سے بھاگتےنہ اب مدنظر ہے ورنہ مشرکوں کے اتحاد وانقیاد کے فنتے نہ جاگتے ع
نہ آغاز بہتر نہ انجام اچھا
لاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم۔
" و سیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون ﴿۲۲۷﴾ " اور اب جاننا چاہتے ہیں ظالم کس کروٹ پر پلٹا کھائیں گے۔
تعلیم کے لئے امداد لینا اور لیڈروں کی دینی حالت کہ اسلام ان کو نہ جب مد نظر نہ تھا نہ اب ہے:
(۶)اور تعلیم دین کے لئے گورنمنٹ سے امدادقبول کرنا جو مخالف شرع سے مشروط نہ اس کی طرف منجر ہویہ تو نفع بے غائلہ ہے جس کی تحریم پر شرع مطہر سے اصلا کوئی دلیل نہیں۔دین پر قائم رہو مگر دین میں زیادت نہ کرو۔کیا نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وخلفائے راشدین رضی اﷲ تعالی عنہم نے سلاطین کفارکے ہدایا قبول نہ فرمائےجو وجوہ شناعت آپ نے ان مدارس میں لکھیں کہ امور مخالف اسلام حتی کہ توہین حضور سید الانام علیہ ا فضل الصلوۃ والسلام کی تعلیم داخل نصاب ہے بیشك جو اس قسم کے اسکول یا کالج ہوں ان میں نہ فقط اخذا مداد بلکہ تعلیم وتعلم سب حرام قطعی بلکہ مستلزم کفرہےآپ فرماتے ہیں یہ میں اسلامیہ اسکولوں اور کالجوں کا ذکر کررہاہوں پھر غیر اسلامیہ کاکیا پوچھنامگر افسوس اورسخت افسوس یہ کہ آج آپ کو جتنے لیڈر دکھائی دیں گے وہ ان کے بازو اور ان کے ہم زبان عام طورپر انہیں اسکولوں کالجوں کے کاسہ لیس ملیں گےانھیں سے بڑی بڑی ڈگریاں ایم اےبی اے کی پائے ہوئے ہوں گےکیا اس وقت تك ان میں یہ خباثتیں نہ تھیںضرور تھیں مگر ان صاحبون کو مقبول اور منظور تھیںاور اب بھی جو آنکھ کھلی تو صرف ایك گوشہ انگریزوں کی طرف کی اور وہ بھی شریعت پر زیادت کے ساتھ کہ ان سے مجرد معاملت بھی حرام قطعی بلکہ کفر اور مشرکوں کی طرف کی پہلے سے بھی زیادہ پٹ ہوگئی کہ ان سے وداد واتحاد واجب بلکہ ان کی غلامی وانقیاد وفرض انھیں راضی کرلیا تو خدا کور اضی کرلیا تو ثابت ہوا کہ اسلام ان حضرات کو نہ جب مدنظر تھا ورنہ ایسی دین تعلیموں سے بھاگتےنہ اب مدنظر ہے ورنہ مشرکوں کے اتحاد وانقیاد کے فنتے نہ جاگتے ع
نہ آغاز بہتر نہ انجام اچھا
لاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم۔
حوالہ / References
القرآن الکریم ۲۶ /۲۲۷
موالات کی بحث
(۷)ترك معاملت کو ترك موالات بنا کر قرآن عظیم کی آیتیں کہ ترك موالات میں ہیں سوجھیںمگر فتوائے مسٹرگاندھی سے ان سب میں استثنائے مشرکین کی پچر لگالی کہ آیتیں اگرچہ عام ہیں مگر ہندوؤں کے بارے میں نہیںہندو تو ہادیان اسلام ہیںآیتیں صرف نصاری کے بارے میں ہیں اور نہ کل نصاری فقط انگریزاور انگریز بھی کل تك ان کے مورد نہ تھے حالت حاضرہ سے ہوئےایسی ترمیم شریعت وتغییر احکام وتبدیل اسلام کا نام خیرخواہی اسلام رکھا ہےترك موالات قرآن عظیم نے ایك دودس بیس جگہ تاکید شدید پر اکتفاء نہ فرمائی بلکہ بکثرت جابجا کان کھول کھول کر تعلیم حق سنائی اور اس پر تنبیہ فرما دی کہ:
" قد بینا لکم الایت ان کنتم تعقلون﴿۱۱۸﴾" ہم نے تمھارے لیے آیتیں صاف کھول دی ہیں اگر تمھیں عقل ہو۔
مگر توبہکہاں عقل اور کہاں کانیہ سب تو وداد ہنود پر قربانلاجرم ان سب سے ہندوؤں کا استثناء کرنے کے لیے بڑے بڑے آزاد لیڈروں نے قرآن عظیم میں تحریفیں کیںآیات میں پیوند جوڑےپیش خویش واحد قہار کو اصلاحیں دیں ان کی تفصیل گزارش ہو تو دفتر طویل نگارش ہو۔
ایۃ ممتحنہ کا روشن بیان
ایك آیہ کریمہ کے بیان پر اقتصارکروں کہ وہی ان سب چھوٹے بڑے لیڈروں کی نقل مجلس ہے یعنی کریمہ ممتحنہ لا ینہىکم اللہ ""الایۃ"اس میں اکثر اہل تاویل جن میں سلطان المفسرین سیدنا عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالی عنھما بھی ہیں فرماتے ہیں: اس سے مراد بنو خزاعہ ہیں جن سے حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا ایك مدت تك معاہدہ تھا۔رب عزوجل نے فرمایاان کی مدت عہد تك ان سے بعض نیك سلوك کی تمھیں ممانعت نہیں۔امام مجاہد تلمیذ اکبر حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالی عنھم کہ ان کی تفسیر بھی تفسیر حضرت عبداﷲ بن عباس ہی سمجھی جاتی ہےفرماتے ہیں:اس سے مراد وہ مسلمان ہیں جنھوں نے مکہ مکرمہ سے ابھی ہجرت نہ کی تھیرب عزوجل فرماتا ہے ان کے ساتھ نیك سلوك منع نہیں۔بعض مفسرین نے کہا:مراد کافروں کی عورتیں اور بچے ہیں جن میں لڑنے کی قابلیت ہی نہیں۔قول اکثر کی حجت حدیث بخاری ومسلم واحمد وغیرہ ہے کہ سیدتنا اسماء بنت ابی بکر صدیق رضی اﷲ تعالی عنہماکے پاس ان کی والدہ قتیلہ بحالت کفر آئی اور کچھ ہدایا لائیانھوں نے نہ اس کے ہدیے قبول کئے نہ آنے دیا کہ تم
(۷)ترك معاملت کو ترك موالات بنا کر قرآن عظیم کی آیتیں کہ ترك موالات میں ہیں سوجھیںمگر فتوائے مسٹرگاندھی سے ان سب میں استثنائے مشرکین کی پچر لگالی کہ آیتیں اگرچہ عام ہیں مگر ہندوؤں کے بارے میں نہیںہندو تو ہادیان اسلام ہیںآیتیں صرف نصاری کے بارے میں ہیں اور نہ کل نصاری فقط انگریزاور انگریز بھی کل تك ان کے مورد نہ تھے حالت حاضرہ سے ہوئےایسی ترمیم شریعت وتغییر احکام وتبدیل اسلام کا نام خیرخواہی اسلام رکھا ہےترك موالات قرآن عظیم نے ایك دودس بیس جگہ تاکید شدید پر اکتفاء نہ فرمائی بلکہ بکثرت جابجا کان کھول کھول کر تعلیم حق سنائی اور اس پر تنبیہ فرما دی کہ:
" قد بینا لکم الایت ان کنتم تعقلون﴿۱۱۸﴾" ہم نے تمھارے لیے آیتیں صاف کھول دی ہیں اگر تمھیں عقل ہو۔
مگر توبہکہاں عقل اور کہاں کانیہ سب تو وداد ہنود پر قربانلاجرم ان سب سے ہندوؤں کا استثناء کرنے کے لیے بڑے بڑے آزاد لیڈروں نے قرآن عظیم میں تحریفیں کیںآیات میں پیوند جوڑےپیش خویش واحد قہار کو اصلاحیں دیں ان کی تفصیل گزارش ہو تو دفتر طویل نگارش ہو۔
ایۃ ممتحنہ کا روشن بیان
ایك آیہ کریمہ کے بیان پر اقتصارکروں کہ وہی ان سب چھوٹے بڑے لیڈروں کی نقل مجلس ہے یعنی کریمہ ممتحنہ لا ینہىکم اللہ ""الایۃ"اس میں اکثر اہل تاویل جن میں سلطان المفسرین سیدنا عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالی عنھما بھی ہیں فرماتے ہیں: اس سے مراد بنو خزاعہ ہیں جن سے حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا ایك مدت تك معاہدہ تھا۔رب عزوجل نے فرمایاان کی مدت عہد تك ان سے بعض نیك سلوك کی تمھیں ممانعت نہیں۔امام مجاہد تلمیذ اکبر حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالی عنھم کہ ان کی تفسیر بھی تفسیر حضرت عبداﷲ بن عباس ہی سمجھی جاتی ہےفرماتے ہیں:اس سے مراد وہ مسلمان ہیں جنھوں نے مکہ مکرمہ سے ابھی ہجرت نہ کی تھیرب عزوجل فرماتا ہے ان کے ساتھ نیك سلوك منع نہیں۔بعض مفسرین نے کہا:مراد کافروں کی عورتیں اور بچے ہیں جن میں لڑنے کی قابلیت ہی نہیں۔قول اکثر کی حجت حدیث بخاری ومسلم واحمد وغیرہ ہے کہ سیدتنا اسماء بنت ابی بکر صدیق رضی اﷲ تعالی عنہماکے پاس ان کی والدہ قتیلہ بحالت کفر آئی اور کچھ ہدایا لائیانھوں نے نہ اس کے ہدیے قبول کئے نہ آنے دیا کہ تم
حوالہ / References
القرآن الکریم ۳ /۱۱۸
کافرہ ہو جب تك سرکار سے اذن نہ ملے تم میرے پاس نہیں آسکتیں۔حضور میں عرض کیاس پر آیہ کریمہ اتری کہ ان سے ممانعت نہیںیہ واقعہ زمانہ صلح ومعاہدہ کاہے خصوصا یہ توماں کا معاملہ تھا ماں باپ کے لیے مطلقا ارشاد ہے" وصاحبہما فی الدنیا معروفا ۫ " "دنیوی معاملوں میں ان کے ساتھ اچھی طرح رہ۔ظاہرہے کہ قول امام مجاہد پرتو آیہ کریمہ کو کفار سے تعلق ہی نہیں خاص مسلمانوں کے بارے میں ہے اور نہ اب وہ کسی طرح قابل نسخاور قول سوم یعنی ارادہ نساءوصبیان پربھی اگر منسوخ نہ ہو ان دوستان ہنود کو نافع نہیں کہ یہ جن سے وداد واتحاد منا رہے ہیں وہ عورتیں اور بچے نہیںقول اول پر بھی کہ آیت اہل عہد وذمہ کے لیے ہےاور یہی قول اکثر جمہور ہے آیہ کریمہ میں نسخ ماننے کی کوئی حاجت نہیںلاجرم اکثر اہل تاویل اسے محکم مانتے ہیں
ایۃ ممتحنہ میں حنفیہ کا مسلک:
اوراسی پر ہمارے ائمہ حنفیہ نے اعتماد فرمایاکہ آیہ" لا ینہىکم اللہ "دربارہ اہل ذمہ اور آیہ" ینہىکم اللہ "حربیوں کے بارےمیں ہے۔اسی بناپر ہدایہ ودرر وغیرھما کتب معتمدہ میں فرمایا:کافر ذمی کے لیے وصیت جائز ہے اور حربی کے لیے باطل وحرامآیہ " لا ینہىکم اللہ "نے ذمی کے ساتھ احسان جائز فرمایا اور آیہ" انما ینہىکم اللہ
"نے حربی کے ساتھ احسان حرام۔عبارت ہدایہ یہ ہے:
یجوز ان یوصی المسلم للکافر والکافر للمسلم فالاول لقولہ" لا ینہىکم اللہ عن الذین لم یقتلوکم فی الدین "الایۃوالثانی لانھم بعقد الذمۃ ساووا المسلمین فی المعاملات ولھذا جاز التبرع من الجانبین فی حالۃ الحیاۃ فکذا بعد الممات وفی الجامع الصغیر الوصیۃ لاھل الحرب باطلۃ لقولہ تعالی
" انما ینہىکم اللہ عن الذین قتلوکم فی الدین "الایۃ۔ جائز ہے کہ مسلمان(ذمی)کافر کے لیے وصیت کرے اور کافر مسلمان کے لیےاول تواس دلیل سے کہ اﷲ تعالی تمھیں ان سے منع کرتا جو تم سے دین میں لڑیں آخر آیت تکاور دوم اس لیے کہ وہ ذمی ہونے کے سبب معاملات میں مسلمانوں کے برابر ہوگئے اسی لیےزندگی میں ایك دوسرے کے ساتھ مالی نیك سلوك کرسکتا ہے تو یوں ہی بعد موت بھیاور جامع صغیر میں ہے حربیوں کے لیے وصیت باطل ہے اس لیے کہ اﷲ تعالی فرماتاہے اﷲ توتمھیں ان سے منع فرماتا ہے جوتم سے دین میں لڑیں آخر آیت تک
ایۃ ممتحنہ میں حنفیہ کا مسلک:
اوراسی پر ہمارے ائمہ حنفیہ نے اعتماد فرمایاکہ آیہ" لا ینہىکم اللہ "دربارہ اہل ذمہ اور آیہ" ینہىکم اللہ "حربیوں کے بارےمیں ہے۔اسی بناپر ہدایہ ودرر وغیرھما کتب معتمدہ میں فرمایا:کافر ذمی کے لیے وصیت جائز ہے اور حربی کے لیے باطل وحرامآیہ " لا ینہىکم اللہ "نے ذمی کے ساتھ احسان جائز فرمایا اور آیہ" انما ینہىکم اللہ
"نے حربی کے ساتھ احسان حرام۔عبارت ہدایہ یہ ہے:
یجوز ان یوصی المسلم للکافر والکافر للمسلم فالاول لقولہ" لا ینہىکم اللہ عن الذین لم یقتلوکم فی الدین "الایۃوالثانی لانھم بعقد الذمۃ ساووا المسلمین فی المعاملات ولھذا جاز التبرع من الجانبین فی حالۃ الحیاۃ فکذا بعد الممات وفی الجامع الصغیر الوصیۃ لاھل الحرب باطلۃ لقولہ تعالی
" انما ینہىکم اللہ عن الذین قتلوکم فی الدین "الایۃ۔ جائز ہے کہ مسلمان(ذمی)کافر کے لیے وصیت کرے اور کافر مسلمان کے لیےاول تواس دلیل سے کہ اﷲ تعالی تمھیں ان سے منع کرتا جو تم سے دین میں لڑیں آخر آیت تکاور دوم اس لیے کہ وہ ذمی ہونے کے سبب معاملات میں مسلمانوں کے برابر ہوگئے اسی لیےزندگی میں ایك دوسرے کے ساتھ مالی نیك سلوك کرسکتا ہے تو یوں ہی بعد موت بھیاور جامع صغیر میں ہے حربیوں کے لیے وصیت باطل ہے اس لیے کہ اﷲ تعالی فرماتاہے اﷲ توتمھیں ان سے منع فرماتا ہے جوتم سے دین میں لڑیں آخر آیت تک
کافر عــــہ سے خاص ذمی مراد ہے بدلیل قولہ انھم بعقد الذمۃ ولہذا امام اکمل نے عنایہ میں اس کی شرح یوں فرمائی:
وصیۃ المسلم للکافر الذمی وعکسہا جائزۃ ۔ مسلمان کا کافر ذمی کے لئے وصیت کرنا اور اس کا عکس جائز ہے.
امام اتقانی نے غایۃ البیان میں فرمایا:
اراد بالکافر الذمی لان الحربی لاتجوز لہ الوصیۃ علی مانبین۔ عبارات ہدایہ میں کافر سے ذمی مراد ہے اس لئے کہ حربی کے لئے وصیت جائز نہیں جیساکہ ہم عنقریب بیان کریں گے۔
ایساہی جوہرہ نیرہ میں ومستصفی میں ہے کفایہ میں فرمایا:
ارادبہ الذمی بدلیل التعلیل وروایۃ الجامع الصغیر ان الوصیۃ لاھل الحرب باطلۃ ۔ صاحب ہدایہ نے کافر سے ذمی مراد لیا ایك تو ان کی دلیل ا س پر گواہ ہے کہ فرمایا وہ ذمی ہونے کے سبب معاملات میں مسلمانوں کے برابرہوگئے دوسرے جامع صغیر کی روایت کہ حربیوں کےلئے وصیت باطل ہے۔
اسی کو وافی وکنز وتنویر وغیرہا متون میں یوں تعبیر فرمایا:
یجوز ان یوصی المسلم للذمی و بالعکس ۔ جائز ہے کہ مسلمان ذمی کے لئے وصیت کرے اور اس کا عکس بھی ۱۲
تفسیر احمدی میں ہے:
والحاصل ان الایۃ الاولی ان کانت حاصل یہ ہے کہ پہلی آیت جس میں نیك سلوك کی
عــــہ:یہاں سے بعض مفتیان اجہل کی جہالت شدیدہ ظاہر ہوئی جنھوں نے عبارت ہدایہ کو مشرکین ہند پر جمایا طرفہ یہ کہ اپنی ہی نقل کردہ عبارت نہ سوجھی لانہم بعقد الذمۃ سوجھیکیوں نہیں قصد عوام کو دھوکے دینے کی ٹھہرائی ۱۲۔حشمت علی لکھنوی عفی عنہ۔
وصیۃ المسلم للکافر الذمی وعکسہا جائزۃ ۔ مسلمان کا کافر ذمی کے لئے وصیت کرنا اور اس کا عکس جائز ہے.
امام اتقانی نے غایۃ البیان میں فرمایا:
اراد بالکافر الذمی لان الحربی لاتجوز لہ الوصیۃ علی مانبین۔ عبارات ہدایہ میں کافر سے ذمی مراد ہے اس لئے کہ حربی کے لئے وصیت جائز نہیں جیساکہ ہم عنقریب بیان کریں گے۔
ایساہی جوہرہ نیرہ میں ومستصفی میں ہے کفایہ میں فرمایا:
ارادبہ الذمی بدلیل التعلیل وروایۃ الجامع الصغیر ان الوصیۃ لاھل الحرب باطلۃ ۔ صاحب ہدایہ نے کافر سے ذمی مراد لیا ایك تو ان کی دلیل ا س پر گواہ ہے کہ فرمایا وہ ذمی ہونے کے سبب معاملات میں مسلمانوں کے برابرہوگئے دوسرے جامع صغیر کی روایت کہ حربیوں کےلئے وصیت باطل ہے۔
اسی کو وافی وکنز وتنویر وغیرہا متون میں یوں تعبیر فرمایا:
یجوز ان یوصی المسلم للذمی و بالعکس ۔ جائز ہے کہ مسلمان ذمی کے لئے وصیت کرے اور اس کا عکس بھی ۱۲
تفسیر احمدی میں ہے:
والحاصل ان الایۃ الاولی ان کانت حاصل یہ ہے کہ پہلی آیت جس میں نیك سلوك کی
عــــہ:یہاں سے بعض مفتیان اجہل کی جہالت شدیدہ ظاہر ہوئی جنھوں نے عبارت ہدایہ کو مشرکین ہند پر جمایا طرفہ یہ کہ اپنی ہی نقل کردہ عبارت نہ سوجھی لانہم بعقد الذمۃ سوجھیکیوں نہیں قصد عوام کو دھوکے دینے کی ٹھہرائی ۱۲۔حشمت علی لکھنوی عفی عنہ۔
حوالہ / References
العنایۃ شرح الہدایۃ علی ہامش فتح القدیر کتاب الوصایا مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۹/ ۴۵۵
الجوہرۃ النیرۃ(مفہوما) کتاب الوصایا مکتبہ امدادیہ ملتان ۲/ ۴۹۱
الکفایۃ مع فتح القدیر کتاب الوصایا مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۹/ ۶۵۵
کنز الدقائق کتاب الوصایا ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۴۱۴
الجوہرۃ النیرۃ(مفہوما) کتاب الوصایا مکتبہ امدادیہ ملتان ۲/ ۴۹۱
الکفایۃ مع فتح القدیر کتاب الوصایا مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۹/ ۶۵۵
کنز الدقائق کتاب الوصایا ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۴۱۴
فی الذمی والثانیۃ فی الحربی کما ھوا لظاھر وعلیہ الاکثرون کان دالاعلی جواز الاحسان الی الذمی دون الحربیولھذ اتمسك صاحب الھدایۃ فی باب الوصیۃ ان الوصیۃ للذمی جائزۃ دون الحربی لانہ نوع احسان و لھذا المعنی قال فی باب الزکوۃ ان الصدقۃ النافلۃ یجوز اعطاء ھاللذمی دون الحربی ۔ حاصل یہ ہے کہ پہلی آیت جس میں نیك سلوك کی رخصت ہے اگر دربارہ ذمی ہو اور دوسری جس میں مقاتلین سے ممانعت ہے دربارہ حربی جیساکہ یہی ظاہر ہے اور یہی مذہب اکثر ائمہ ہے تو آیتیں دلیل ہوں گی کہ ذمی کے ساتھ نیك سلوك جائز ہے۔اورحربی کے ساتھ حرامولہذا صاحب ہدایہ نے باب الوصیۃ میں انھیں آیتوں کی سند سے فرمایا کہ وہ ایك طرح کا احسان ہے اور اسی کے سبب باب الزکوۃ میں فرمایا کہ نفلی صدقہ ذمی کودینا حلال اورحربی کو دینا حرام ۱۲
نہایہ امام سغناقی وغایۃ البیان امام اتقانی وبحرالرائق وغنیہ علامہ شرنبلالی میں ہے:
واللفظ للبحر صح دفع غیر الزکوۃ الی الذمی لقولہ تعالی" لا ینہىکم اللہ عن الذین لم یقتلوکم فی الدین "الایۃ وقید بالذمی لان جمیع الصدقات فرضا کانت اوواجبۃ اوتطوعا لاتجوز للحربی اتفاقا کما فی غایۃ البیان لقولہ تعالی انما ینہىکم اللہ عن الذین قتلوکم فی الدین واطلقہ فشمل المستامن وقد صرح بہ فی النہایۃ ۔ زکوۃ کے سوا اور صدقات ذمی کو دے سکتے ہیںاﷲ عزوجل فرماتاہے:تمھیں اﷲ ان سے منع نہیں فرماتا جو دین میں تم سے نہ لڑیںذمی کی قید اس لئے لگائی کہ حربی کےلئے جملہ صدقات حرام ہیںفرض ہوں یا واجب یا نفل۔جیسا کہ غایۃ البیان میں ہے۔اس لئے کہ اﷲ عزوجل فرماتاہے:اﷲ تمھیں ان سے منع فرماتاہے جو دین میں تم سے لڑیںحربی کو مطلق رکھا تومستامن کو بھی شامل ہوا جو سلطان اسلام سے پناہ لے کر دارالاسلام میں آیا اسے بھی کسی قسم کا صدقہ دینا جائز نہیں۔اور نہایہ میں اس کی صاف تصریح ہے۔
نہایہ امام سغناقی وغایۃ البیان امام اتقانی وبحرالرائق وغنیہ علامہ شرنبلالی میں ہے:
واللفظ للبحر صح دفع غیر الزکوۃ الی الذمی لقولہ تعالی" لا ینہىکم اللہ عن الذین لم یقتلوکم فی الدین "الایۃ وقید بالذمی لان جمیع الصدقات فرضا کانت اوواجبۃ اوتطوعا لاتجوز للحربی اتفاقا کما فی غایۃ البیان لقولہ تعالی انما ینہىکم اللہ عن الذین قتلوکم فی الدین واطلقہ فشمل المستامن وقد صرح بہ فی النہایۃ ۔ زکوۃ کے سوا اور صدقات ذمی کو دے سکتے ہیںاﷲ عزوجل فرماتاہے:تمھیں اﷲ ان سے منع نہیں فرماتا جو دین میں تم سے نہ لڑیںذمی کی قید اس لئے لگائی کہ حربی کےلئے جملہ صدقات حرام ہیںفرض ہوں یا واجب یا نفل۔جیسا کہ غایۃ البیان میں ہے۔اس لئے کہ اﷲ عزوجل فرماتاہے:اﷲ تمھیں ان سے منع فرماتاہے جو دین میں تم سے لڑیںحربی کو مطلق رکھا تومستامن کو بھی شامل ہوا جو سلطان اسلام سے پناہ لے کر دارالاسلام میں آیا اسے بھی کسی قسم کا صدقہ دینا جائز نہیں۔اور نہایہ میں اس کی صاف تصریح ہے۔
حوالہ / References
التفسیرات الاحمدیۃ سورۃ الممتحنہ المطبع الکریمی بمبئی ص۷۰۰۔۶۹۹
البحرالرائق باب المصرف ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲/ ۲۴۲
البحرالرائق باب المصرف ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲/ ۲۴۲
تبیین الحقائق اما م زیلعی پھرفتح اﷲ المعین سید ازہری میں ہے:
لایجوز دفع الزکوۃ الی ذمی وقال زفر یجوز لقولہ تعالی" لا ینہىکم اللہ عن الذین لم یقتلوکم فی الدین "صرف الصدقات کلھا الیہم بخلاف الحربی المستامن حیث لایجوز دفع الصدقۃ الیہ لقولہ تعالی
" انما ینہىکم اللہ عن الذین قتلوکم فی الدین "واجمعوا علی ان فقراء اھل الحرب خرجوا من عموم الفقراء (ملخصا) ذمی کو زکوۃ دینا تو جائز نہیں۔اور امام زفر نے فرمایا تمام قسم کے صدقات دے سکتے ہیں کہ اﷲ تعالی فرماتاہے اﷲ تمہیں ان سے نہیں روکتا جودین میں تم سے نہ لڑیں بخلاف حربی اگرچہ مستامن ہو کہ اسے کسی قسم کا صدقہ دینا حلال نہیں کہ اﷲ تعالی فرماتاہے اﷲ تمھیں ان سے روکتا ہے جو تم سے دین میں لڑیںاور ائمہ امت کا اجماع ہے کہ قرآن عظیم میں جو صدقات فقراء کے لئے بتائے حربی فقیر ان سے خارج ہیں۔
جوہرہ نیرہ میں ہے:
انما جازت الوصیۃ للذمی ولم تجز للحربی لقولہ تعالی" لا ینہىکم اللہ عن الذین لم یقتلوکم فی الدین و لم یخرجوکم من دیرکم ان تبروہم "ثم قال " انما ینہىکم اللہ عن الذین قتلوکم فی الدین " ۔الایۃ خاص ذمی کےلئے وصیت جائز اور حربی کے لئے حرام اس وجہ سے کہ اﷲ تعالی فرماتاہے اﷲ تعالی تمھیں ان سے نیك سلوك کو منع نہیں فرماتا جو تم سے دین میں نہ لڑیں اور تمھیں گھروں سے نہ نکالا پھر فرمایا اﷲ تمھیں ان سے منع کرتاہے جو تم سے دین میں لڑیں۔
کافی میں ہے:
یجوز ان یدفع غیر الزکوۃ الی ذمی وقال ابویوسف و الشامی لایجوز کالزکوۃ ولنا قولہ تعالی لا ینہىکم اللہ عن زکوۃ کے سوا اور صدقات ذمی کو دے سکتے ہیں اور امام ابو یوسف وامام شافعی نے فرمایا اور صدقات بھی ذمی کونہیں دے سکتا جیسے زکوۃ ہماری دلیل
لایجوز دفع الزکوۃ الی ذمی وقال زفر یجوز لقولہ تعالی" لا ینہىکم اللہ عن الذین لم یقتلوکم فی الدین "صرف الصدقات کلھا الیہم بخلاف الحربی المستامن حیث لایجوز دفع الصدقۃ الیہ لقولہ تعالی
" انما ینہىکم اللہ عن الذین قتلوکم فی الدین "واجمعوا علی ان فقراء اھل الحرب خرجوا من عموم الفقراء (ملخصا) ذمی کو زکوۃ دینا تو جائز نہیں۔اور امام زفر نے فرمایا تمام قسم کے صدقات دے سکتے ہیں کہ اﷲ تعالی فرماتاہے اﷲ تمہیں ان سے نہیں روکتا جودین میں تم سے نہ لڑیں بخلاف حربی اگرچہ مستامن ہو کہ اسے کسی قسم کا صدقہ دینا حلال نہیں کہ اﷲ تعالی فرماتاہے اﷲ تمھیں ان سے روکتا ہے جو تم سے دین میں لڑیںاور ائمہ امت کا اجماع ہے کہ قرآن عظیم میں جو صدقات فقراء کے لئے بتائے حربی فقیر ان سے خارج ہیں۔
جوہرہ نیرہ میں ہے:
انما جازت الوصیۃ للذمی ولم تجز للحربی لقولہ تعالی" لا ینہىکم اللہ عن الذین لم یقتلوکم فی الدین و لم یخرجوکم من دیرکم ان تبروہم "ثم قال " انما ینہىکم اللہ عن الذین قتلوکم فی الدین " ۔الایۃ خاص ذمی کےلئے وصیت جائز اور حربی کے لئے حرام اس وجہ سے کہ اﷲ تعالی فرماتاہے اﷲ تعالی تمھیں ان سے نیك سلوك کو منع نہیں فرماتا جو تم سے دین میں نہ لڑیں اور تمھیں گھروں سے نہ نکالا پھر فرمایا اﷲ تمھیں ان سے منع کرتاہے جو تم سے دین میں لڑیں۔
کافی میں ہے:
یجوز ان یدفع غیر الزکوۃ الی ذمی وقال ابویوسف و الشامی لایجوز کالزکوۃ ولنا قولہ تعالی لا ینہىکم اللہ عن زکوۃ کے سوا اور صدقات ذمی کو دے سکتے ہیں اور امام ابو یوسف وامام شافعی نے فرمایا اور صدقات بھی ذمی کونہیں دے سکتا جیسے زکوۃ ہماری دلیل
حوالہ / References
تبیین الحقائق باب المصرف المبطعۃ الکبرٰی بولاق مصر ۱/ ۳۰۰
الجوہرۃ النیرۃ کتاب الوصایا مکتبہ امدادیہ ملتان ۲/ ۳۹۱
الجوہرۃ النیرۃ کتاب الوصایا مکتبہ امدادیہ ملتان ۲/ ۳۹۱
" الذین لم یقتلوکم فی الدین و لم یخرجوکم من دیرکم ان تبروہم " اﷲ عزوجل کا ارشاد ہے کہ اﷲ تمھیں بھلائی میں ان سے منع نہیں فرماتا جودین میں تم سے نہ لڑیں۔
فتح القدیر میں ہے:
الفقراء فی الکتاب عام خص منہ الحربی بالاجماع مستندین الی قولہ تعالی" انما ینہىکم اللہ عن الذین قتلوکم فی الدین " ۔ قرآن عظیم میں فقراء کا لفظ عام ہے باجماع امت حربی اس سے خارج ہیں اجماع کی سند اﷲ عزوجل کاارشاد ہے کہ اﷲ تمھیں ان سے منع فرماتاہے جو دین میں تم سے لڑیں۔
عنایہ ومعراج الدرایہ ومحیط برہانی وجودی زادہ وشرنبلالی بدائع وسیر کبیر امام محمد کی عبارتیں عنقریب آتی ہیںیہ ہے مسلك ائمہ حنفیہ جسے حنفی بننے والے لیڈریوں مسخ ونسخ کی دیوار سے مارتے ہیں اور اس سے حربی مشرکوں کے ساتھ نرااحسان مالی نہیں بلکہ وداد اتحاد بگھارتے ہیں۔
ایت میں نسخ کے اقوال
" یحرفونہ من بعد ما عقلوہ وہم یعلمون﴿۷۵﴾" دیدہ دانستہ بات سمجھ کر اس کی جگہ سے پھیرتے ہیں۔
آیہ کریمہ میں ایك قول یہ ہے کہ مطلق کفار مراد ہیں جو مسلمانوں سے نہ لڑے ان کے نزدیك وہ ضرور آیات قتال وغلظت سے منسوخ ہے اجلہ ائمہ تابعین مثلا امام عطا بن ابی رباح استاذ امام اعظم ابوحنیفہ جن کی نسبت اما م اعظم فرماتے ہیں:"ما رأیت افضل من عطا"میں نے عطا سے افضل کسی کو نہ دیکھا۔وعبدالرحمن بن زید بن اسلم مولی امیر المومنین عمر فاروق اعظم وقتادہ وتلمیذ خاص حضرت انس خادم خاص حضور سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ورضی اﷲ تعالی عنہم نے اس کے منسوخ ہونے کی تصریح فرمائیتفسیر کبیر میں ہے:
اختلفوا فی المراد من" الذین لم یقتلوکم "فالاکثر علی انہم اھل العہد اس میں اختلاف ہوا کہ"وہ جو تم سے دین میں نہ لڑیں"ان سے کون لوگ مراد ہیںاکثر اہل تاویل اس پر ہیں
فتح القدیر میں ہے:
الفقراء فی الکتاب عام خص منہ الحربی بالاجماع مستندین الی قولہ تعالی" انما ینہىکم اللہ عن الذین قتلوکم فی الدین " ۔ قرآن عظیم میں فقراء کا لفظ عام ہے باجماع امت حربی اس سے خارج ہیں اجماع کی سند اﷲ عزوجل کاارشاد ہے کہ اﷲ تمھیں ان سے منع فرماتاہے جو دین میں تم سے لڑیں۔
عنایہ ومعراج الدرایہ ومحیط برہانی وجودی زادہ وشرنبلالی بدائع وسیر کبیر امام محمد کی عبارتیں عنقریب آتی ہیںیہ ہے مسلك ائمہ حنفیہ جسے حنفی بننے والے لیڈریوں مسخ ونسخ کی دیوار سے مارتے ہیں اور اس سے حربی مشرکوں کے ساتھ نرااحسان مالی نہیں بلکہ وداد اتحاد بگھارتے ہیں۔
ایت میں نسخ کے اقوال
" یحرفونہ من بعد ما عقلوہ وہم یعلمون﴿۷۵﴾" دیدہ دانستہ بات سمجھ کر اس کی جگہ سے پھیرتے ہیں۔
آیہ کریمہ میں ایك قول یہ ہے کہ مطلق کفار مراد ہیں جو مسلمانوں سے نہ لڑے ان کے نزدیك وہ ضرور آیات قتال وغلظت سے منسوخ ہے اجلہ ائمہ تابعین مثلا امام عطا بن ابی رباح استاذ امام اعظم ابوحنیفہ جن کی نسبت اما م اعظم فرماتے ہیں:"ما رأیت افضل من عطا"میں نے عطا سے افضل کسی کو نہ دیکھا۔وعبدالرحمن بن زید بن اسلم مولی امیر المومنین عمر فاروق اعظم وقتادہ وتلمیذ خاص حضرت انس خادم خاص حضور سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ورضی اﷲ تعالی عنہم نے اس کے منسوخ ہونے کی تصریح فرمائیتفسیر کبیر میں ہے:
اختلفوا فی المراد من" الذین لم یقتلوکم "فالاکثر علی انہم اھل العہد اس میں اختلاف ہوا کہ"وہ جو تم سے دین میں نہ لڑیں"ان سے کون لوگ مراد ہیںاکثر اہل تاویل اس پر ہیں
حوالہ / References
کافی شرح وافی
فتح القدیر باب من یجوز دفع الصدقہ الخ مکتبہ رضویہ سکھر ۲/ ۲۰۷
القرآن الکریم ۲ /۷۵
فتح القدیر باب من یجوز دفع الصدقہ الخ مکتبہ رضویہ سکھر ۲/ ۲۰۷
القرآن الکریم ۲ /۷۵
الذین عاھدوا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم علی ترك القتال والمظاھرۃ فی العداوۃوھم خزاعۃ کانواعاھدوا الرسول علی ان لایقاتلوہ ولایخرجوہ فامرالرسول علیہ الصلوۃ والسلام بالبر والوفاء الی مدۃ اجلہموھذ اقول ابن عباس ومقاتل ابن حیان ومقاتل ابن سلیمن ومحمد ابن سائب الکلبیوقال مجاہد الذین امنوا بمکۃ ولم یھاجروا وقیل ھم النساء والصبیانوعن عبداﷲ بن الزبیر انھا نزلت فی اسماء بنت ابی بکر قدمت امھا قتیلۃ علیہا وھی مشرکۃ بھدایا فلم تقبلہا ولم تاذن لھا بالدخول فامرھا النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ان تدخلھا وتقبل منہا وتکرمھا وتحسن الیھاوقیل الایۃ فی المشرکین وقال قتادۃ نسختھا ایۃ القتال ۔
کہ ان سے اہل عہد مراد ہیں جنھوں نے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے عہد کیا تھا کہ نہ حضور سے لڑیں گے نہ دشمن کی مدد کریں گےاور وہ بنی خزاعہ ہیں انھوں نے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے عہد کیا تھا کہ نہ لڑیں گے نہ مسلمانوں کو مکہ معظمہ سے نکالیں گے نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کوحکم ہوا کہ ان کے ساتھ نیك سلوك فرمائیں اور ان کا عہد مدت موعود تك پورا کریںحضرت عبداﷲ بن عباس ومقاتل بن حیان ومقاتل بن سلیمن ومحمد بن سائب کلبی کا یہی قول ہے اور امام مجاہد نے فرمایا:وہ مسلمانان مکہ مراد ہیں جنھوں نے ابھی ہجرت نہ کی تھی۔اور بعض نے کہا عورتیں اوربچے مراد ہیں عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ تعالی عنہما سے روایت ہے کہ یہ آیت کریمہ حضرت اسماء بنت صدیق رضی اﷲ تعالی عنہماکے بارے میں اتری ان کی ماں قتیلہ بحالت کفر ان کے پاس کچھ ہدیے لے کرآئیں انھوں نے نہ ہدیے کوقبول کئے نہ انھیں آنے کی اجازت دی تو نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے انھیں حکم فرمایا کہ اسے آنے دیں اوراس کے ہدیے قبول کریں اور اس کی خاطر اور اس کے ساتھ نیك سلوك کریںاوربعض نے کہا آیت دربارہ مشرکین ہےقتادہ نے کہا وہ آیت جہاد منسوخ ہوگئی۔
صحیح مسلم شریف میں اسماء بنت صدیق رضی اﷲ تعالی عنہما سے ہے:
کہ ان سے اہل عہد مراد ہیں جنھوں نے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے عہد کیا تھا کہ نہ حضور سے لڑیں گے نہ دشمن کی مدد کریں گےاور وہ بنی خزاعہ ہیں انھوں نے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے عہد کیا تھا کہ نہ لڑیں گے نہ مسلمانوں کو مکہ معظمہ سے نکالیں گے نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کوحکم ہوا کہ ان کے ساتھ نیك سلوك فرمائیں اور ان کا عہد مدت موعود تك پورا کریںحضرت عبداﷲ بن عباس ومقاتل بن حیان ومقاتل بن سلیمن ومحمد بن سائب کلبی کا یہی قول ہے اور امام مجاہد نے فرمایا:وہ مسلمانان مکہ مراد ہیں جنھوں نے ابھی ہجرت نہ کی تھی۔اور بعض نے کہا عورتیں اوربچے مراد ہیں عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ تعالی عنہما سے روایت ہے کہ یہ آیت کریمہ حضرت اسماء بنت صدیق رضی اﷲ تعالی عنہماکے بارے میں اتری ان کی ماں قتیلہ بحالت کفر ان کے پاس کچھ ہدیے لے کرآئیں انھوں نے نہ ہدیے کوقبول کئے نہ انھیں آنے کی اجازت دی تو نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے انھیں حکم فرمایا کہ اسے آنے دیں اوراس کے ہدیے قبول کریں اور اس کی خاطر اور اس کے ساتھ نیك سلوك کریںاوربعض نے کہا آیت دربارہ مشرکین ہےقتادہ نے کہا وہ آیت جہاد منسوخ ہوگئی۔
صحیح مسلم شریف میں اسماء بنت صدیق رضی اﷲ تعالی عنہما سے ہے:
حوالہ / References
مفاتیح الغیب(التفسیر البکیر)زیر آیۃ لاینہٰکم اﷲ الخ المطبعۃ البہیۃ المصریۃ مصر ۲۹/ ۴۔۳۰۳
قدمت علی امی وھی مشرکۃ فی عہد قریش اذ عاھدھم فاستفیت رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم قلت قدمت علی امی وھی راغبۃ افاصل امی قال نعم صلی امك ۔ میری ماں کہ مشرکہ تھی اس زمانہ میں کہ کافروں سے معاہدہ تھا میرے پاس آئی میں نے حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے فتوی پوچھا کہ میری ماں طمع لے کر میری پاس آئی ہیں کیا میں اپنی ماں سے کچھ نیك سلوك کروں فرمایا:ہاں اپنی ماں سے نیك سلوك کر۔
جمل میں قرطبی سے ہے:
ھی مخصوصۃ بالذین امنوا ولم یھاجروا وقیل یعنی بہ النساء الصبیان لانہم من لایقاتل فاذن اﷲ فی برھم حکاہ بعض المفسرین وقال اکثر اھل التاویل ھی محکمۃ واحتجوابان اسماء بنت ابی بکر سألت النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ھل تصل امھا حین قدمت علیہا مشرکۃ قال نعماخرجہ البخاری ومسلم ۔ یہ آیت خاص ہے ان کے بارے میں جو ایمان لائے اور ہجرت نہ کیاو ربعض نے کہا اس سے عورتیں اور بچے مراد ہیں اس لئے کہ وہ لڑنے کے قابل نہیںتوا ﷲ تعالی نے ان کے ساتھ مالی نیك سلوك کی اجازت دیاسے بعض مفسرین نے نقل کیا۔او راکثر اہل تاویل نے کہا آیت محکم ہےاوراس سے سند لائے کہ اسماء بنت ابی بکر رضی اﷲ تعالی عنہما نے نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے سوال کیا کیا اپنی ماں سے کچھ نیك سلوك کرے جب وہ ان کے پاس بحالت شرك آئی تھیں فرمایا:ہاںاسے بخاری ومسلم نے روایت کیا۔
تفسیر درمنثور میں ہے:
اخرج حمید وابن المنذر عن مجاہد فی قولہ
" لا ینہىکم اللہ عن الذین لم یقتلوکم "الایۃ
قال ان تستغفروا وتبروھم وتقسطوا الیہم ھم عبدبن حمید اور ابن المنذر نے امام مجاہد سے تفسیر کریمہ" لا ینہىکم "الخ میں روایت کیافرمایا معنی آیت یہ ہیں کہ اﷲ تمھیں منع نہیں فرماتا کہ تم ان کی مغفرت کی دعاکرو اور ان سے نیك سلوك وانصاف کا
جمل میں قرطبی سے ہے:
ھی مخصوصۃ بالذین امنوا ولم یھاجروا وقیل یعنی بہ النساء الصبیان لانہم من لایقاتل فاذن اﷲ فی برھم حکاہ بعض المفسرین وقال اکثر اھل التاویل ھی محکمۃ واحتجوابان اسماء بنت ابی بکر سألت النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ھل تصل امھا حین قدمت علیہا مشرکۃ قال نعماخرجہ البخاری ومسلم ۔ یہ آیت خاص ہے ان کے بارے میں جو ایمان لائے اور ہجرت نہ کیاو ربعض نے کہا اس سے عورتیں اور بچے مراد ہیں اس لئے کہ وہ لڑنے کے قابل نہیںتوا ﷲ تعالی نے ان کے ساتھ مالی نیك سلوك کی اجازت دیاسے بعض مفسرین نے نقل کیا۔او راکثر اہل تاویل نے کہا آیت محکم ہےاوراس سے سند لائے کہ اسماء بنت ابی بکر رضی اﷲ تعالی عنہما نے نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے سوال کیا کیا اپنی ماں سے کچھ نیك سلوك کرے جب وہ ان کے پاس بحالت شرك آئی تھیں فرمایا:ہاںاسے بخاری ومسلم نے روایت کیا۔
تفسیر درمنثور میں ہے:
اخرج حمید وابن المنذر عن مجاہد فی قولہ
" لا ینہىکم اللہ عن الذین لم یقتلوکم "الایۃ
قال ان تستغفروا وتبروھم وتقسطوا الیہم ھم عبدبن حمید اور ابن المنذر نے امام مجاہد سے تفسیر کریمہ" لا ینہىکم "الخ میں روایت کیافرمایا معنی آیت یہ ہیں کہ اﷲ تمھیں منع نہیں فرماتا کہ تم ان کی مغفرت کی دعاکرو اور ان سے نیك سلوك وانصاف کا
حوالہ / References
صحیح مسلم کتاب الزکوٰۃ باب فضل النفقۃ والصدقۃ علی الاقربین قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۳۲۴
الفتوحات الالہیہ(الشہیر بالجمل) زیر آیہ لاینہکم اﷲ الخ مصطفی البابی مصر ۴/ ۳۲۸
الفتوحات الالہیہ(الشہیر بالجمل) زیر آیہ لاینہکم اﷲ الخ مصطفی البابی مصر ۴/ ۳۲۸
الذین امنوا بمکۃ ولم یھاجروا اھ ۔ برتاؤ برتو اس سے مراد کون لوگ ہیں وہ جو مکہ میں ایمان لائے تھے اور ہجرت نہ کی۔
تفسیر جامع البیان میں بہ سند صحیح ہے:
حدثنی یونس قال اخبرنا ابن وھب قال قال ابن زید وسألتہ عن قول اﷲ عزوجل" لا ینہىکم اللہ "الایۃ فقال ھذا قد نسخ نسخہ القتال ۔ مجھ سے یونس نے حدیث بیان کی کہ مجھ کو ابن وھب نے خبردی کہا جب میں نے امام ابن زید سے کریمہ" لا ینہىکم اللہ "کے بارے میں پوچھافرمایا یہ منسوخ ہے حکم جہاد نے اسے نسخ فرما دیا۔
تفسیر درمنثور میں ہے:
اخرج ابوداؤد فی تاریخہ وابن المنذر عن قتادۃ" لا ینہىکم اللہ "الایۃ نسختھا" فاقتلوا المشرکین حیث وجدتموہم " ۔ ابوداؤد نے اپنی تاریخ اور ابن المنذر نے تفسیر میں قتادہ سے روایت کیاکریمہ" لا ینہىکم اللہ "کو ا س آیت نے منسوخ فرمایا کہ مشرکوں کو جہاں پاؤ قتل کرو۔
اسی میں ہے:
ابن ابی حاتم وابوالشیخ عن مقاتل فی قولہ تعالی" وقتلوا المشرکین کافۃ "قال نسخت ھذہ الایۃ کل ایۃ فیہا رخصۃ ۔ ابن ابی حاتم وابوالشیخ نے اپنی تفسیر وں میں مقاتل سے روایت کیا کہ اﷲ عزوجل کے اس ارشاد نے کہ سب مشرکوں سے قتال کرو اس سے پہلے جتنی آیتوں میں کچھ رخصتیں تھیں سب منسوخ فرمادیں۔
تفسیر ارشاد العقل السلیم میں زیرکریمہ" یایہا النبی جہد الکفار والمنفقین واغلظ علیہم "ہے:
قال عطاء نسخت عــــہ ھذہ الایۃ کل امام عطا رضی اﷲ تعالی عنہ نے فرمایا کافروں کے
عــــہ: یہاں سے اس جاہل مفتی کی جہالت ظاہر ہوگئی جس نے آیہ کریمہ" لا ینہىکم "کو کہا کہ" واغلظ علیہم "سے اس کو کسی نے منسوخ نہیں بتایا۔حشمت علی لکھنوی عفی عنہ
تفسیر جامع البیان میں بہ سند صحیح ہے:
حدثنی یونس قال اخبرنا ابن وھب قال قال ابن زید وسألتہ عن قول اﷲ عزوجل" لا ینہىکم اللہ "الایۃ فقال ھذا قد نسخ نسخہ القتال ۔ مجھ سے یونس نے حدیث بیان کی کہ مجھ کو ابن وھب نے خبردی کہا جب میں نے امام ابن زید سے کریمہ" لا ینہىکم اللہ "کے بارے میں پوچھافرمایا یہ منسوخ ہے حکم جہاد نے اسے نسخ فرما دیا۔
تفسیر درمنثور میں ہے:
اخرج ابوداؤد فی تاریخہ وابن المنذر عن قتادۃ" لا ینہىکم اللہ "الایۃ نسختھا" فاقتلوا المشرکین حیث وجدتموہم " ۔ ابوداؤد نے اپنی تاریخ اور ابن المنذر نے تفسیر میں قتادہ سے روایت کیاکریمہ" لا ینہىکم اللہ "کو ا س آیت نے منسوخ فرمایا کہ مشرکوں کو جہاں پاؤ قتل کرو۔
اسی میں ہے:
ابن ابی حاتم وابوالشیخ عن مقاتل فی قولہ تعالی" وقتلوا المشرکین کافۃ "قال نسخت ھذہ الایۃ کل ایۃ فیہا رخصۃ ۔ ابن ابی حاتم وابوالشیخ نے اپنی تفسیر وں میں مقاتل سے روایت کیا کہ اﷲ عزوجل کے اس ارشاد نے کہ سب مشرکوں سے قتال کرو اس سے پہلے جتنی آیتوں میں کچھ رخصتیں تھیں سب منسوخ فرمادیں۔
تفسیر ارشاد العقل السلیم میں زیرکریمہ" یایہا النبی جہد الکفار والمنفقین واغلظ علیہم "ہے:
قال عطاء نسخت عــــہ ھذہ الایۃ کل امام عطا رضی اﷲ تعالی عنہ نے فرمایا کافروں کے
عــــہ: یہاں سے اس جاہل مفتی کی جہالت ظاہر ہوگئی جس نے آیہ کریمہ" لا ینہىکم "کو کہا کہ" واغلظ علیہم "سے اس کو کسی نے منسوخ نہیں بتایا۔حشمت علی لکھنوی عفی عنہ
حوالہ / References
الدرالمنثور(تفسیر) زیر آیہ لاینھٰکم اﷲ عن الذین الخ منشورات مکتبہ آیۃ اﷲ العظمی قم ایران ۶/ ۲۰۵
جامع البیان لابن جریر الطبری زیر آیہ لاینھٰکم اﷲ عن الذین الخ مطبعۃ میمنہ مصر ۲۸/ ۴۱
الدارلمنثور زیر آیہ لاینھٰکم اﷲ عن الذین الخ منشورات مکتبہ آیۃ اﷲ العظمی قم ایران ۶/ ۲۰۵
الدرالمنثور زیر آیہ وقاتلو االمشرکین کافۃ الخ منشورات مکتبہ آیۃ اﷲ العظمی قم ایران ۳/ ۲۳۶
جامع البیان لابن جریر الطبری زیر آیہ لاینھٰکم اﷲ عن الذین الخ مطبعۃ میمنہ مصر ۲۸/ ۴۱
الدارلمنثور زیر آیہ لاینھٰکم اﷲ عن الذین الخ منشورات مکتبہ آیۃ اﷲ العظمی قم ایران ۶/ ۲۰۵
الدرالمنثور زیر آیہ وقاتلو االمشرکین کافۃ الخ منشورات مکتبہ آیۃ اﷲ العظمی قم ایران ۳/ ۲۳۶
شیئ من العفووالصفح ۔ ساتھ معافی ودرگزر کی جتنی اجازتیں تھیں سب اس آیہ کریمہ نے منسوخ فرمادیں۔
تفسیر عنایہ القاضی میں زیر کریمہ" لا ینہىکم اللہ "ہے:
ھذہ الایۃ منسوخۃ بقولہ تعالی" فاقتلوا المشرکین "الآیۃ ۔ یہ آیت اﷲ عزوجل کے اس ارشاد سے منسوخ ہے کہ مشرکوں کو جہاں پاؤ تلوار کے گھاٹ اتارو۔
تفسیر خطیب شربینی میں پھر فتوحات الالہیہ میں ہے:
کان ھذا الحکم وھو جواز موالاۃ الکفار الذین لم یقاتلوا فی اول الاسلام عنہ الموادعۃ وترك الامر بالقتال ثم نسخ بقولہ تعالی
" فاقتلوا المشرکین حیث وجدتموہم" ۔ یہ حکم کہ"جو کفار مسلمانوں سے نہ لڑیں ان کے ساتھ کچھ نیك سلوك کیا جائے"ابتداء میں تھا کہ لڑائی موقوف تھی اور جہاد کاحکم نہ تھاپھر یہ حکم اسی آیہ کریمہ سے منسوخ ہوگیا کہ مشرکوں کو جہاں پاؤ گردن مارو۔
جلالین شریف میں ہے:
ھذا مقابل الامر بالجھاد ۔ یہ اجازت اس وقت تك تھی کہ جہاد کاحکم نہیں ہوا تھا۔
اسی کے خطبہ میں ہے:
ھذا تکملۃ تفسیر القران الکریم الذی الفہ الامام جلال الدین المحلی علی نمطہ من ذکر مایفہم بہ کلام اﷲ تعالی والاعتماد علی ارجح الاقول (ملخصا) یہ امام جلال الدین محلی کی تفسیر کا تکملہ اسی انداز پرہے کہ اتنی بات بیان کی جائے جس سے کلام اﷲ سمجھ میں آجائے اورجو قول سب سے راجح ہے اس پر اعتماد کیا جائے۔(ملخصا)
جمل میں ہے:
تفسیر عنایہ القاضی میں زیر کریمہ" لا ینہىکم اللہ "ہے:
ھذہ الایۃ منسوخۃ بقولہ تعالی" فاقتلوا المشرکین "الآیۃ ۔ یہ آیت اﷲ عزوجل کے اس ارشاد سے منسوخ ہے کہ مشرکوں کو جہاں پاؤ تلوار کے گھاٹ اتارو۔
تفسیر خطیب شربینی میں پھر فتوحات الالہیہ میں ہے:
کان ھذا الحکم وھو جواز موالاۃ الکفار الذین لم یقاتلوا فی اول الاسلام عنہ الموادعۃ وترك الامر بالقتال ثم نسخ بقولہ تعالی
" فاقتلوا المشرکین حیث وجدتموہم" ۔ یہ حکم کہ"جو کفار مسلمانوں سے نہ لڑیں ان کے ساتھ کچھ نیك سلوك کیا جائے"ابتداء میں تھا کہ لڑائی موقوف تھی اور جہاد کاحکم نہ تھاپھر یہ حکم اسی آیہ کریمہ سے منسوخ ہوگیا کہ مشرکوں کو جہاں پاؤ گردن مارو۔
جلالین شریف میں ہے:
ھذا مقابل الامر بالجھاد ۔ یہ اجازت اس وقت تك تھی کہ جہاد کاحکم نہیں ہوا تھا۔
اسی کے خطبہ میں ہے:
ھذا تکملۃ تفسیر القران الکریم الذی الفہ الامام جلال الدین المحلی علی نمطہ من ذکر مایفہم بہ کلام اﷲ تعالی والاعتماد علی ارجح الاقول (ملخصا) یہ امام جلال الدین محلی کی تفسیر کا تکملہ اسی انداز پرہے کہ اتنی بات بیان کی جائے جس سے کلام اﷲ سمجھ میں آجائے اورجو قول سب سے راجح ہے اس پر اعتماد کیا جائے۔(ملخصا)
جمل میں ہے:
حوالہ / References
ارشاد العقل السلیم آیۃیاایھاالنبی جاھدالکفار داراحیاء التراث العربی بیروت ۴/ ۸۴
عنایۃ القاضی علی تفسیر البیضاوی آیۃ لاینھکم اﷲ عن الذین دارصادربیروت ۸/ ۱۸۸
الفتوحات الاالہٰیہ(الشہیر بالجمل)آیۃ لاینھکم اﷲ عن الذین مصطفی البابی مصر ۴/ ۳۲۸
تفسیرجلالین آیۃ لاینھکم اﷲ عن الذین مطبع مجتبائی دہلی نصف ثانی ص ۴۵۵
تفسیر جلالین خطبہ کتاب مطبع مجتبائی دہلی نصف اول ص ۲
عنایۃ القاضی علی تفسیر البیضاوی آیۃ لاینھکم اﷲ عن الذین دارصادربیروت ۸/ ۱۸۸
الفتوحات الاالہٰیہ(الشہیر بالجمل)آیۃ لاینھکم اﷲ عن الذین مصطفی البابی مصر ۴/ ۳۲۸
تفسیرجلالین آیۃ لاینھکم اﷲ عن الذین مطبع مجتبائی دہلی نصف ثانی ص ۴۵۵
تفسیر جلالین خطبہ کتاب مطبع مجتبائی دہلی نصف اول ص ۲
ای الاقتصار علی ارجح الاقوال ۔ یعنی صرف وہ قول بیان کریں گے جو سب سے راجح ہے۔
زرقانی علی المواہب میں ہے:
الجلال قدالتزام الاقتصار علی الاصح ۔ امام جلال نے التزام فرمایا ہے کہ صرف وہ قول لکھیں گے جو سب سے زیادہ صحیح ہے۔
یہاں مسلمانوں کو جہاد کا حکم نہیں جو اس کی طرف بلاتے ہیں مسلمانوں کے بدخواہ ہیں:
تنبیہ ضروری:یہ آیہ کریمہ کہ یہاں علماء وائمہ نے بیان ناسخ کے لئے تلاوت کی کہ مشرکوں کو جہاں پاؤ قتل کرو۔اوراس مضمون کی اور آیات نیز وہ عبارات ہدایہ وغیرہا قریب آنے والیاں کہ جہاد میں پہل واجب ہے ان کا تعلق سلاطین اسلام و عساکر اسلام اصحاب خزائن واسلحہ واستطاعت سے ہے نہ کہ ان کے غیر سے قال اﷲ تعالی:
لا یکلف اللہ نفسا الا وسعہا ۔ اﷲ تعالی کسی جان کو تکلیف نہیں دیتا مگر اس کی طاقت بھر۔
وقال تعالی:
" لا یکلف اللہ نفسا الا وسعہا " ۔ اﷲ کسی جان کو تکلیف نہیں دیتا مگر اتنے کی جس قدر کی استطاعت اسے دی ہے۔
وقال تعالی:
" ولا تلقوا بایدیکم الی التہلکۃ " ۔ اپنے ہاتھوں اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو۔
مجتبی وجامع الرموز وردالمحتار میں ہے:
یجب علی الامام ان یبعث سلطان اعظم اسلام پر فرض ہے کہ ہر سال
زرقانی علی المواہب میں ہے:
الجلال قدالتزام الاقتصار علی الاصح ۔ امام جلال نے التزام فرمایا ہے کہ صرف وہ قول لکھیں گے جو سب سے زیادہ صحیح ہے۔
یہاں مسلمانوں کو جہاد کا حکم نہیں جو اس کی طرف بلاتے ہیں مسلمانوں کے بدخواہ ہیں:
تنبیہ ضروری:یہ آیہ کریمہ کہ یہاں علماء وائمہ نے بیان ناسخ کے لئے تلاوت کی کہ مشرکوں کو جہاں پاؤ قتل کرو۔اوراس مضمون کی اور آیات نیز وہ عبارات ہدایہ وغیرہا قریب آنے والیاں کہ جہاد میں پہل واجب ہے ان کا تعلق سلاطین اسلام و عساکر اسلام اصحاب خزائن واسلحہ واستطاعت سے ہے نہ کہ ان کے غیر سے قال اﷲ تعالی:
لا یکلف اللہ نفسا الا وسعہا ۔ اﷲ تعالی کسی جان کو تکلیف نہیں دیتا مگر اس کی طاقت بھر۔
وقال تعالی:
" لا یکلف اللہ نفسا الا وسعہا " ۔ اﷲ کسی جان کو تکلیف نہیں دیتا مگر اتنے کی جس قدر کی استطاعت اسے دی ہے۔
وقال تعالی:
" ولا تلقوا بایدیکم الی التہلکۃ " ۔ اپنے ہاتھوں اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو۔
مجتبی وجامع الرموز وردالمحتار میں ہے:
یجب علی الامام ان یبعث سلطان اعظم اسلام پر فرض ہے کہ ہر سال
حوالہ / References
الفتوحات الالہیہ (الشہیر بالجمل) خطبہ کتاب مصطفی البابی مصر ۱/ ۷
شرح الزرقانی علی المواہب اللدنیہ المقصد الثانی الفصل الاول دارالمعرفۃ بیروت ۳/ ۱۷۱
القرآن الکریم ۲ /۲۸۶
القرآن الکریم ۶۵ /۷
القرآن الکریم ۲ /۱۹۵
شرح الزرقانی علی المواہب اللدنیہ المقصد الثانی الفصل الاول دارالمعرفۃ بیروت ۳/ ۱۷۱
القرآن الکریم ۲ /۲۸۶
القرآن الکریم ۶۵ /۷
القرآن الکریم ۲ /۱۹۵
سریۃ الی دارالحرب کل سنۃ مرۃ اومرتین وعلی الرعیۃ الا اذا اخذ الخراج فان لم یبعث کان کل الاثم علیہ وھذا اذا غلب علی ظنہ انہ یکافیہم والا فلایباح قتالہم ۔ ایك یادو بار دارالحرب پر لشکر بھیجے اورر عیت پر اس کی مدد فرض ہے اگر ان سے خراج نہ لیا ہو تو سلطان اگر لشکر نہ بھیجے تو ساراگناہ اسی کے سر ہےیہ سب اس صورت میں ہے کہ اسے غالب گمان ہو کہ طاقت میں کافروں سے کم نہ رہے گا ورنہ اسے ان سے لڑائی کی پہل ناجائز ہے۔
خصوصا ہندوستان میں جہاں اگر دس مسلمان ایك مشرك کو قتل کریں تو معاذاﷲ دسوں کو پھانسی ہو ایسی جگہ مسلمانوں پر جہاد فرض بتانے ولا شریعت پر مفتری اور مسلمانوں کا بدخواہ ہےہمارا مقصود اس قدر تھا کہ کریمہ ممتحنہ اگر جملہ مشرکین غیر محاربین کو عام ہے تو ضرور منسوخ ہے وہ بحمدہ تعالی بروجہ احسن ثابت ہوگیا۔
خود قرآن عظیم سے اس آیت کی منسوخی کا ثبوت اگر ہر غیر محارب بالفعل کو عام مانی جائے۔
وانا اقول:وباﷲ التوفیق(اور میں کہتاہوں اور توفیق اﷲ تعالی سے ہے۔ت)اگروہ اکابر تابعین اس کے نسخ کی تصریح اور یہ امام جلیل اس کی ترجیح وتصحیح نہ فرماتے تو قرآن عظیم خود شاہد تھا کہ آیہ" لا ینہىکم "اگر جملہ مشرکین غیر محاربین بالفعل کو عام ہے تو قطعا منسوخ ہےممتحنہ کانزول سورہ براءت سے یقینا پہلے ہے تصریح ائمہ نہ ہوتی تو خود اس کی آیہ کریمہ بتارہی ہیں کہ نزول تك مکہ معظمہ قبض کفار میں تھا اور سورہ توبہ شریف کے ارشادات جگمگارہے ہیں کہ اس کا نزول بعد فتح بلدا لحرام وتسلط تام دین اسلام ہے وﷲ الحمدسورہ براءت میں ارشاد فرمایا:
" یایہا النبی جہد الکفار والمنفقین واغلظ علیہم وماوىہم جہنم وبئس المصیر ﴿۷۳﴾" ۔ اے نبی! کافروں اور منافقوں پر جہاد فرمائیے اور ان کے ساتھ سختی سے پیش آئیے اور ان کا ٹھکانا دوزخ ہے اور وہ کیا ہی بری پھرنے کی جگہ ہے۔
پھر اسی سورۃ میں ارشاد فرمایا:
" یایہا الذین امنوا قتلوا الذین اے ایمان والو! اپنے پا س کے کافروں سے لڑو
خصوصا ہندوستان میں جہاں اگر دس مسلمان ایك مشرك کو قتل کریں تو معاذاﷲ دسوں کو پھانسی ہو ایسی جگہ مسلمانوں پر جہاد فرض بتانے ولا شریعت پر مفتری اور مسلمانوں کا بدخواہ ہےہمارا مقصود اس قدر تھا کہ کریمہ ممتحنہ اگر جملہ مشرکین غیر محاربین کو عام ہے تو ضرور منسوخ ہے وہ بحمدہ تعالی بروجہ احسن ثابت ہوگیا۔
خود قرآن عظیم سے اس آیت کی منسوخی کا ثبوت اگر ہر غیر محارب بالفعل کو عام مانی جائے۔
وانا اقول:وباﷲ التوفیق(اور میں کہتاہوں اور توفیق اﷲ تعالی سے ہے۔ت)اگروہ اکابر تابعین اس کے نسخ کی تصریح اور یہ امام جلیل اس کی ترجیح وتصحیح نہ فرماتے تو قرآن عظیم خود شاہد تھا کہ آیہ" لا ینہىکم "اگر جملہ مشرکین غیر محاربین بالفعل کو عام ہے تو قطعا منسوخ ہےممتحنہ کانزول سورہ براءت سے یقینا پہلے ہے تصریح ائمہ نہ ہوتی تو خود اس کی آیہ کریمہ بتارہی ہیں کہ نزول تك مکہ معظمہ قبض کفار میں تھا اور سورہ توبہ شریف کے ارشادات جگمگارہے ہیں کہ اس کا نزول بعد فتح بلدا لحرام وتسلط تام دین اسلام ہے وﷲ الحمدسورہ براءت میں ارشاد فرمایا:
" یایہا النبی جہد الکفار والمنفقین واغلظ علیہم وماوىہم جہنم وبئس المصیر ﴿۷۳﴾" ۔ اے نبی! کافروں اور منافقوں پر جہاد فرمائیے اور ان کے ساتھ سختی سے پیش آئیے اور ان کا ٹھکانا دوزخ ہے اور وہ کیا ہی بری پھرنے کی جگہ ہے۔
پھر اسی سورۃ میں ارشاد فرمایا:
" یایہا الذین امنوا قتلوا الذین اے ایمان والو! اپنے پا س کے کافروں سے لڑو
حوالہ / References
جامع الرموز کتاب الجہاد مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران ۴/ ۵۵۵
القرآن الکریم ۹ /۷۳
القرآن الکریم ۹ /۷۳
یلونکم من الکفار ولیجدوا فیکم غلظۃ " اور تم پر فرض ہے کہ وہ تم میں درشتی پائیں
یہ حکم بھی جمیع کفار کو عام ہے حکمت یہی ہے کہ پہلے پاس والوں کو زیر کیا جائے جب وہاں اسلام کا تسلط ہوجائے تو اب جو اس سے نزدیك ہیں وہ پاس والے ہوئے وہ زیر ہوجائیں تو اب جو ان سے قریب ہیں یونہی یہ سلسلہ شرقا غربا منتہائے زمین تك پہنچے اور بحمداﷲ ایساہی ہوا اور بعونہ تعالی ایساہی بروجہ اتم وکمال زمانہ امام موعود رضی اﷲ تعالی عنہ میں ہونے والا ہے
سب کافروں سے قتال وغلظت کاحکم ہے اگر چہ محارب بالفعل نہ ہوں محارب بالفعل کی تخصیص منسوخ ہوگئی:
" حتی لا تکون فتنۃ و یکون الدین کلہ للہ " ۔ یہاں تك کہ کوئی فتنہ نہ رہے اور ساراد ین اﷲ ہی کے لئے ہوجائے۔
یہاں نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو ارشاد ہوا کہ کفارپر درشتی کرو۔مومنین کوحکم ہوا کافروں پر سختی کرو۔اس میں نہ کوئی تقسیم ہے نہ تردیدنہ تخصیص نہ تقلیداور ہر عاقل جانتاہے کہ نیك سلوك اور سختی ودرشتی باہم متنافی ہیںپہلے نیك سلوك کی اجازت تھی اب درشتی وسختی کا حکم ہوا تو وہ اجازت ضرور منسوخ ہوگئیاجماع امت ہے کہ جہاد کفار محاربین بالفعل سے مخصوص نہیں مدافعانہ وجارحانہ قطعا دونوں طرح کا حکم ہے اجازت کا مدافعانہ میں حصر پہلے تھا پھر قطعا منسوخ ہوگیامبسوط شمس الائمہ سرخسی وکفایہ وعنایہ وتبیین وبحرالرائق وردالمحتار وغیرہا میں ہے:
واللفظ للبابرتی قولہ تعالی فان قاتلوکم فاقتلوھم منسوخ وبیانہ ان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کان فی الابتداء مأمور ابالصفح والاعراض عن المشرکین بقولہ" فاصفح الصفح الجمیل ﴿۸۵﴾"
" واعرض عن المشرکین ﴿۹۴﴾"الایۃ ثم امر بالدعاء الی الدین بالموعظۃ والمجادلۃ یہ ارشاد کہ اگر وہ تم سے لڑیں تو ان کو قتل کرو منسوخ ہے بیان اس کا ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو ابتداء میں یہ حکم تھا کہ مشرکوں سے درگزر او رروگردانی فرمائیں ارشاد تھا اچھی طرح درگزر کرو اور مشرکوں سے منہ پھیرلو۔ پھر حضور کوحکم ہوا کہ سمجھا نے اور خوبی کے ساتھ دلیل قائم فرمانے سے دین کی طرف بلاؤ کہ ارشاد تھا اپنے رب کی راہ کی طرف حکمت کے ساتھ بلاؤ۔پھر
یہ حکم بھی جمیع کفار کو عام ہے حکمت یہی ہے کہ پہلے پاس والوں کو زیر کیا جائے جب وہاں اسلام کا تسلط ہوجائے تو اب جو اس سے نزدیك ہیں وہ پاس والے ہوئے وہ زیر ہوجائیں تو اب جو ان سے قریب ہیں یونہی یہ سلسلہ شرقا غربا منتہائے زمین تك پہنچے اور بحمداﷲ ایساہی ہوا اور بعونہ تعالی ایساہی بروجہ اتم وکمال زمانہ امام موعود رضی اﷲ تعالی عنہ میں ہونے والا ہے
سب کافروں سے قتال وغلظت کاحکم ہے اگر چہ محارب بالفعل نہ ہوں محارب بالفعل کی تخصیص منسوخ ہوگئی:
" حتی لا تکون فتنۃ و یکون الدین کلہ للہ " ۔ یہاں تك کہ کوئی فتنہ نہ رہے اور ساراد ین اﷲ ہی کے لئے ہوجائے۔
یہاں نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو ارشاد ہوا کہ کفارپر درشتی کرو۔مومنین کوحکم ہوا کافروں پر سختی کرو۔اس میں نہ کوئی تقسیم ہے نہ تردیدنہ تخصیص نہ تقلیداور ہر عاقل جانتاہے کہ نیك سلوك اور سختی ودرشتی باہم متنافی ہیںپہلے نیك سلوك کی اجازت تھی اب درشتی وسختی کا حکم ہوا تو وہ اجازت ضرور منسوخ ہوگئیاجماع امت ہے کہ جہاد کفار محاربین بالفعل سے مخصوص نہیں مدافعانہ وجارحانہ قطعا دونوں طرح کا حکم ہے اجازت کا مدافعانہ میں حصر پہلے تھا پھر قطعا منسوخ ہوگیامبسوط شمس الائمہ سرخسی وکفایہ وعنایہ وتبیین وبحرالرائق وردالمحتار وغیرہا میں ہے:
واللفظ للبابرتی قولہ تعالی فان قاتلوکم فاقتلوھم منسوخ وبیانہ ان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کان فی الابتداء مأمور ابالصفح والاعراض عن المشرکین بقولہ" فاصفح الصفح الجمیل ﴿۸۵﴾"
" واعرض عن المشرکین ﴿۹۴﴾"الایۃ ثم امر بالدعاء الی الدین بالموعظۃ والمجادلۃ یہ ارشاد کہ اگر وہ تم سے لڑیں تو ان کو قتل کرو منسوخ ہے بیان اس کا ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو ابتداء میں یہ حکم تھا کہ مشرکوں سے درگزر او رروگردانی فرمائیں ارشاد تھا اچھی طرح درگزر کرو اور مشرکوں سے منہ پھیرلو۔ پھر حضور کوحکم ہوا کہ سمجھا نے اور خوبی کے ساتھ دلیل قائم فرمانے سے دین کی طرف بلاؤ کہ ارشاد تھا اپنے رب کی راہ کی طرف حکمت کے ساتھ بلاؤ۔پھر
بالاحسن بقولہ تعالی" ادع الی سبیل ربک بالحکمۃ "
الایۃثم اذن بالقتال اذا کانت البدائۃ منہم بقولہ تعالی" اذن للذین یقتلون "الایۃ وبقولہ" فان قتلوکم فاقتلوہم "ثم امر بالقتال ابتداء فی بعض الازمان بقولہ تعالی" فاذا انسلخ الاشہر الحرم فاقتلوا المشرکین "
الایۃ ثم امربالبدائۃ بالقتال مطلقا فی الازمان کلھا وفی الاماکن باسرھا فقال تعالی" وقتلوہم حتی لا تکون فتنۃ "الایۃ
" قتلوا الذین لایؤمنون باللہ ولابالیوم الاخر "الایۃ ۔ اجازت فرمائی گئی کہ ان کی طرف سے قتال کی ابتدا ہو تو لڑوارشاد تھا کہ جن سے قتال کیا جائے انھیں پروانگی ہےاور ارشاد تھا کہ اگر وہ تم سے لڑیں تو انھیں قتل کرو۔پھر بعض اوقات ابتدا قتال کاحکم ہوا ارشاد فرمایا جب حرمت والے مہینے نکل جائیں تو مشرکوں کو قتل کرو پھر مطلقا ابتداء بالقتال کا حکم ہوا سب زمانوں اور سب مکانوں میں ارشاد ہوا ان سے لڑو یہاں تك کہ کوئی فتنہ نہ رہےاور فرمایا ان سے لڑو جو اﷲ اور قیامت پر ایمان نہیں لاتے۔
کنز میں ہے:
الجہاد فرض کفایۃ ابتداء ۔ جہاد کی پہل کرنا فرض کفایہ ہے۔
بحرالرائق میں ہے:
مفید لافترضہ وان لم یبدونا للعمومات واما قولہ تعالی فان قاتلوکم فاقتلوھم فمنسوخ ۔ یہ عبارت فائدہ دیتی ہے کہ جہاد فرض ہے اگرچہ کافر پہل نہ کریں کہ آیتیں عام ہیں اور وہ جو فرمایا تھا کہ اگر وہ تم سے لڑیں تو انھیں قتل کرو وہ منسوخ ہے
ہدایہ میں ہے:
قتال الکفار واجب وان لم یبدوأ للعمومات ۔ کافروں سےلڑنا واجب ہے اگرچہ وہ پہل نہ کریں کہ احکام عام ہیں۔
الایۃثم اذن بالقتال اذا کانت البدائۃ منہم بقولہ تعالی" اذن للذین یقتلون "الایۃ وبقولہ" فان قتلوکم فاقتلوہم "ثم امر بالقتال ابتداء فی بعض الازمان بقولہ تعالی" فاذا انسلخ الاشہر الحرم فاقتلوا المشرکین "
الایۃ ثم امربالبدائۃ بالقتال مطلقا فی الازمان کلھا وفی الاماکن باسرھا فقال تعالی" وقتلوہم حتی لا تکون فتنۃ "الایۃ
" قتلوا الذین لایؤمنون باللہ ولابالیوم الاخر "الایۃ ۔ اجازت فرمائی گئی کہ ان کی طرف سے قتال کی ابتدا ہو تو لڑوارشاد تھا کہ جن سے قتال کیا جائے انھیں پروانگی ہےاور ارشاد تھا کہ اگر وہ تم سے لڑیں تو انھیں قتل کرو۔پھر بعض اوقات ابتدا قتال کاحکم ہوا ارشاد فرمایا جب حرمت والے مہینے نکل جائیں تو مشرکوں کو قتل کرو پھر مطلقا ابتداء بالقتال کا حکم ہوا سب زمانوں اور سب مکانوں میں ارشاد ہوا ان سے لڑو یہاں تك کہ کوئی فتنہ نہ رہےاور فرمایا ان سے لڑو جو اﷲ اور قیامت پر ایمان نہیں لاتے۔
کنز میں ہے:
الجہاد فرض کفایۃ ابتداء ۔ جہاد کی پہل کرنا فرض کفایہ ہے۔
بحرالرائق میں ہے:
مفید لافترضہ وان لم یبدونا للعمومات واما قولہ تعالی فان قاتلوکم فاقتلوھم فمنسوخ ۔ یہ عبارت فائدہ دیتی ہے کہ جہاد فرض ہے اگرچہ کافر پہل نہ کریں کہ آیتیں عام ہیں اور وہ جو فرمایا تھا کہ اگر وہ تم سے لڑیں تو انھیں قتل کرو وہ منسوخ ہے
ہدایہ میں ہے:
قتال الکفار واجب وان لم یبدوأ للعمومات ۔ کافروں سےلڑنا واجب ہے اگرچہ وہ پہل نہ کریں کہ احکام عام ہیں۔
حوالہ / References
کفایۃ وعنایہ مع فتح القدیر کتاب السیر مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۵/ ۱۹۳
کنز الدقائق کتاب السیر والجہاد ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۸۳
بحرالرائق کتاب السیر ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۵/ ۷۱
الہدایہ کتاب السیر المکتبۃ العربیہ کراچی ۲/ ۲۳۹
کنز الدقائق کتاب السیر والجہاد ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۸۳
بحرالرائق کتاب السیر ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۵/ ۷۱
الہدایہ کتاب السیر المکتبۃ العربیہ کراچی ۲/ ۲۳۹
فتح القدیر میں ہے:
صریح قولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فی الصحیحین وغیرھما امرت ان اقاتل الناس حتی یقولوالاالہ الا اﷲ الحدیث یوجب ان نبدأھم بادنی تأمل اھ اقول وکذا قولہ تعالی قاتلوھم حتی لا تکون فتنۃ ویکون الدین کلہ ﷲ الآیۃ ثم فی العنایۃ رأیت کما تقدم عــــہ ۔ صحیحین وغیرہما میں نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا صاف ارشاد مجھے حکم ہوا کہ لوگوں سے قتال فرماؤ ں یہاں تك کہ وہ لا الہ الا اﷲ کہیں پوری حدیث ادنی غور سے واجب فرماتاہے کہ ہم ان سے قتال کی پہل کریںفتح القدیر کی عبارت تمام ہوئی اور میں کہتاہوں یونہی رب العزت کاارشاد کہ ان سے لڑو یہاں تك کہ کوئی فتنہ نہ رہے اور سارا دین اﷲ ہی کے لئے ہوجائےپھر میں نے عنایہ میں اسی دلیل کو دیکھا جیسا کہ گزرچکا۔
نیز اسی میں زیر حدیث رأی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم امرأۃ مقتولہ فقال ھاہ ماکانت ھذہ تقاتل (نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ایك عورت دیکھی تو فرمایا ارے یہ تو لڑنے کے قابل نہ تھی)ہے:
الحدیث صحیح علی شرط الشیخین فقد علل صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بالمقاتلۃ فثبت انہ معلول بالحرابۃ فلزم قتل ماکان مظنۃ لہ بخلاف مالیس ایاہ ۔ یہ حدیث بخاری ومسلم کی شرط پر صحیح ہے تو نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے بیان فرمایا کہ قتل کی علت قتال ہے تو ثابت ہوا کہ قتل وہی کیا جائے جو لڑنے کے قابل شخص ہے تو جسے لڑنے کے قابل سمجھا جائے شریعت میں اس کا قتل لازم ہوا بخلاف ا س کے جو اس کے لائق ہی نہ ہو۔
عــــہ:مبسوط امام شمس الائمہ سرخسی میں ہے:لاتخرج بنیتہم من ان تکون صالحۃ للمحاربۃ وان کانوا لایشتغلون بالمحاربۃ کالمشتغلین بالتجارۃ والحراثۃ منہم بخلاف النساء والصبیان کافر اگرچہ بالفعل نہ لڑیں ان کے بدن کی بناوٹ تو لڑنے کے قابل ہے جیسے ان کے سودا گر اور کسان بخلاف زنان و اطفال ۱۲ منہ غفرلہ
صریح قولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فی الصحیحین وغیرھما امرت ان اقاتل الناس حتی یقولوالاالہ الا اﷲ الحدیث یوجب ان نبدأھم بادنی تأمل اھ اقول وکذا قولہ تعالی قاتلوھم حتی لا تکون فتنۃ ویکون الدین کلہ ﷲ الآیۃ ثم فی العنایۃ رأیت کما تقدم عــــہ ۔ صحیحین وغیرہما میں نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا صاف ارشاد مجھے حکم ہوا کہ لوگوں سے قتال فرماؤ ں یہاں تك کہ وہ لا الہ الا اﷲ کہیں پوری حدیث ادنی غور سے واجب فرماتاہے کہ ہم ان سے قتال کی پہل کریںفتح القدیر کی عبارت تمام ہوئی اور میں کہتاہوں یونہی رب العزت کاارشاد کہ ان سے لڑو یہاں تك کہ کوئی فتنہ نہ رہے اور سارا دین اﷲ ہی کے لئے ہوجائےپھر میں نے عنایہ میں اسی دلیل کو دیکھا جیسا کہ گزرچکا۔
نیز اسی میں زیر حدیث رأی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم امرأۃ مقتولہ فقال ھاہ ماکانت ھذہ تقاتل (نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ایك عورت دیکھی تو فرمایا ارے یہ تو لڑنے کے قابل نہ تھی)ہے:
الحدیث صحیح علی شرط الشیخین فقد علل صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بالمقاتلۃ فثبت انہ معلول بالحرابۃ فلزم قتل ماکان مظنۃ لہ بخلاف مالیس ایاہ ۔ یہ حدیث بخاری ومسلم کی شرط پر صحیح ہے تو نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے بیان فرمایا کہ قتل کی علت قتال ہے تو ثابت ہوا کہ قتل وہی کیا جائے جو لڑنے کے قابل شخص ہے تو جسے لڑنے کے قابل سمجھا جائے شریعت میں اس کا قتل لازم ہوا بخلاف ا س کے جو اس کے لائق ہی نہ ہو۔
عــــہ:مبسوط امام شمس الائمہ سرخسی میں ہے:لاتخرج بنیتہم من ان تکون صالحۃ للمحاربۃ وان کانوا لایشتغلون بالمحاربۃ کالمشتغلین بالتجارۃ والحراثۃ منہم بخلاف النساء والصبیان کافر اگرچہ بالفعل نہ لڑیں ان کے بدن کی بناوٹ تو لڑنے کے قابل ہے جیسے ان کے سودا گر اور کسان بخلاف زنان و اطفال ۱۲ منہ غفرلہ
حوالہ / References
فتح القدیر کتاب السیر مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۵/ ۱۹۳
القرآن الکریم ۸ /۳۹
فتح القدیر باب کیفیۃ القتال مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۵/ ۲۰۳
المبسوط للسرخسی باب آخرفی القیٰمۃ دارالمعرفۃ بیروت الجزء العاشرص۱۳۷
القرآن الکریم ۸ /۳۹
فتح القدیر باب کیفیۃ القتال مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۵/ ۲۰۳
المبسوط للسرخسی باب آخرفی القیٰمۃ دارالمعرفۃ بیروت الجزء العاشرص۱۳۷
ہر ادنی خادم فقہ جانتاہے کہ حربی مقابل ذمی ہے نہ کہ خاص محارب بالفعل۔ہدایہ وغیرہاکی عبارات ابھی گزریں توآیت قطعا تمام حربیوں کو شامل خواہ بالفعل مصدر قتال ہوئے ہوں یا نہیں البتہ معاہدین کا استثناء ضروریات دین سے ہے جس پر نصوص قاطعہ ناطقاور وہ اذہان مسلمین میں ایسا مرتکز کہ اصلا محتاج ذکر نہیںیونہی حکم جہادو قتال کے اعتبار سے اصحاب قول سوم کو بھی یہاں گنجائش اجماع واتفاق ہے کہ معاہدین وذراری محل جہاد ہی نہیں تو کلمہ جاھدوا قاتلواسے ان کی طرف ذہن نہیں جائے گا۔فتح القدیر میں ہے:
وما الظن الا ان حرمۃ قتل النساء والصبیان اجماع ۔ گمان اس کے سوا کسی کی طرف نہیں جاتا کہ عورتوں اور بچوں کا قتل حرام ہونے پر اجماع ہے۔
غرض معاہدو ذمی ونساء وصبیان کو نص قتال ابتداء ہی شامل نہ ہواکہ تخصیص کی حاجت ہوبحرالرائق میں ہے:
نفس النص ابتداء لم یتعلق بہ لانہ مقید بمن بحیث یحارب کقولہ تعالی" وقتلوا المشرکین کافۃ
"الایۃ فلم تدخل المرأۃ ۔ سرے سے خود نص ا سے متعلق نہ ہوا کہ وہ خاص ایسے کے بارے میں ہے جو لڑنے کے قابل ہو جیسے ارشاد الہی:سب مشرکوں سے لڑو تو یہ عورت کو شامل نہیں ہے۔
باقی تحقیق عنقریب آتی ہے ان شاء اﷲ تعالیبالجملہ آیہ کریمہ میں دو قول ہیں:
ایك قول اکثر اہل تاویل کہ سب کفار غیرمحاربین بالفعل مراد نہیں بلکہ خاص اہل عہد وپیمان یا اطفال و زنان یاغیر مہاجر مسلماناس تقدیر پر آیہ کریمہ مشرکین ہند کو جن سے اتحاد وداد منایا جارہا ہے کسی طرح شامل ہی نہیں ہوسکتی کہ وہ نہ اہل ذمہ ہیں نہ عورتیںبچے نہ مسلمان۔
دوسراقول بعض کہ سب مشرکین غیر محاربین بالفعل مراد تھے۔
لیڈروں کو پہلا جواب:
اس طور پر وہ اولا یقینا منسوخ ہے اور منسوخ پر عمل کرنا ضلالت وگمراہیکیا کوئی روا رکھے کہ شراب پئے اور کافروں کو بیٹیاں دے او راپنی سگی بہن سے نکاح کرے ع
کہ بعہد قدیم نابودست
(کہ یہ بے حیائی تو زمانہ(قدیم)جہالت میں روا نہیں رکھی گئی۔ت)
وما الظن الا ان حرمۃ قتل النساء والصبیان اجماع ۔ گمان اس کے سوا کسی کی طرف نہیں جاتا کہ عورتوں اور بچوں کا قتل حرام ہونے پر اجماع ہے۔
غرض معاہدو ذمی ونساء وصبیان کو نص قتال ابتداء ہی شامل نہ ہواکہ تخصیص کی حاجت ہوبحرالرائق میں ہے:
نفس النص ابتداء لم یتعلق بہ لانہ مقید بمن بحیث یحارب کقولہ تعالی" وقتلوا المشرکین کافۃ
"الایۃ فلم تدخل المرأۃ ۔ سرے سے خود نص ا سے متعلق نہ ہوا کہ وہ خاص ایسے کے بارے میں ہے جو لڑنے کے قابل ہو جیسے ارشاد الہی:سب مشرکوں سے لڑو تو یہ عورت کو شامل نہیں ہے۔
باقی تحقیق عنقریب آتی ہے ان شاء اﷲ تعالیبالجملہ آیہ کریمہ میں دو قول ہیں:
ایك قول اکثر اہل تاویل کہ سب کفار غیرمحاربین بالفعل مراد نہیں بلکہ خاص اہل عہد وپیمان یا اطفال و زنان یاغیر مہاجر مسلماناس تقدیر پر آیہ کریمہ مشرکین ہند کو جن سے اتحاد وداد منایا جارہا ہے کسی طرح شامل ہی نہیں ہوسکتی کہ وہ نہ اہل ذمہ ہیں نہ عورتیںبچے نہ مسلمان۔
دوسراقول بعض کہ سب مشرکین غیر محاربین بالفعل مراد تھے۔
لیڈروں کو پہلا جواب:
اس طور پر وہ اولا یقینا منسوخ ہے اور منسوخ پر عمل کرنا ضلالت وگمراہیکیا کوئی روا رکھے کہ شراب پئے اور کافروں کو بیٹیاں دے او راپنی سگی بہن سے نکاح کرے ع
کہ بعہد قدیم نابودست
(کہ یہ بے حیائی تو زمانہ(قدیم)جہالت میں روا نہیں رکھی گئی۔ت)
حوالہ / References
فتح القدیر باب کیفیۃ القتال مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۵/ ۲۰۲
البحرالرائق کتا ب السیر ایچ ایم سعید کمپنی کراچی۵/ ۷۰
البحرالرائق کتا ب السیر ایچ ایم سعید کمپنی کراچی۵/ ۷۰
لیڈر بننے والوں کایہ ظلم عظیم ہے کہ ہندؤوں کو شامل کرنالیا قول ثانی سےاور اس کا غیر منسوخ عــــہ۱ ہونا لیا قول اول سے جمع بین المنافیین کرکے بیچارے جاہلوں کو دھوکا دیتے ہیںـ
لیڈروں کو دوسرا جواب:
ثانیا: اگر بفرض باطل ان کی یہ شترگربگی مان بھی لی جائے تو عام عــــہ۲ مشرکین ہند کو" لم یقتلوکم فی الدین "کا مصداق مانناایمان کی آنکھ پر ٹھیکری رکھ لینا ہےکیا وہ ہم سے دین پر نہ لڑیںکیا قربانی گاؤ پر ان کے سخت ظالمانہ فساد پر انے پڑ گئےکیا کٹارپورو آرہ اور کہاں کہاں کے ناپاك وہولناك مظالم جو ابھی تازے ہیں دلوں سے محو ہوگئےبے گناہ مسلمان نہایت سختی سے ذبح کئے گئےمٹی کا تیل ڈال کر جلائے گئےناپاکوں نے پاك مسجدیں ڈھائیں قرآن کریم کے پاك اوراق پھاڑے جلائےاور ایسی ہی وہ باتیں جن کا نام لئے کلیجہ منہ کو آئے" الا لعنۃ اللہ علی الظلمین ﴿۱۸﴾"" الا لعنۃ اللہ علی الظلمین ﴿۱۸﴾" الا لعنۃ اللہ علی الظلمین ﴿۱۸﴾" سن لو اﷲ کی لعنت ظالموں پراب کوئی درد رسیدہ مسلمان ان لیڈروں سے یہ کہہ سکتاہے یا نہیں کہ اے اسٹیجوں پر مسلمان بننے والوہمدردی اسلام کاتانا تننے والو! کچھ حیا کانام باقی ہے تو ہندوؤں کی گنگا میں ڈوب مرواسلام ومسلمین ومساجد وقرآن پر یہ ظلم توڑنے والے کیا یہی تمھارے بھائیتمھارے چہیتے تمھارے پیارے۔
عــــہ۱:یہاں سے اس فتوائے جاہلانہ کاحال کھل گیا جس میں عبارت مذکورہ جمل"قال اکثر اھل التاویل ھی محکمۃ" الخ اور عبارت روح البیان فی الفتح الرحمن نسختھا فاقتلواالمشرکین والاکثر علی انہا غیر منسوخۃ سے استناد کرکے آیہ کریمہ کا قول اکثر میں غیر منسوخ ہونا بتاکر اسے ہندوؤں پر جمادیا اب یہ کون سمجھے کہ قول اکثر پر کسی طرح ہندو اس میں داخل نہیں اور قول دیگر پر بفرض غلط اگر داخل ہوسکتے ہیں تو یقینا منسوخ ہے حشمت علی عفی عنہ
عــــہ۲:اس تقریر کو خوب محفوظ رکھنا چاہئے کہ اس سے ان مفتیان اجہل کی جہالت وبیباکی بلکہ عیاری وچالاکی خوب روشن ہوتی ہے جنھوں نے کہاکہ"ہندوستان کے عام ہندو اہل اسلام سے مقاتلہ فی الدین نہیں کرتے اور عامہ نصاری مقاتلہ فی الدین کے مرتکب ومعاون ہیںـ طرفہ تر یہ کہ جانب نصاری میں معاون کالفظ بڑھالیا کہ عامہ نصاری پر جما سکیں اور جانب ہنود میں اسے اڑا دیا کہ عام ہنود اس میں نہ آسکیں۔حشمت علی لکھنوی عفی عنہ۔
لیڈروں کو دوسرا جواب:
ثانیا: اگر بفرض باطل ان کی یہ شترگربگی مان بھی لی جائے تو عام عــــہ۲ مشرکین ہند کو" لم یقتلوکم فی الدین "کا مصداق مانناایمان کی آنکھ پر ٹھیکری رکھ لینا ہےکیا وہ ہم سے دین پر نہ لڑیںکیا قربانی گاؤ پر ان کے سخت ظالمانہ فساد پر انے پڑ گئےکیا کٹارپورو آرہ اور کہاں کہاں کے ناپاك وہولناك مظالم جو ابھی تازے ہیں دلوں سے محو ہوگئےبے گناہ مسلمان نہایت سختی سے ذبح کئے گئےمٹی کا تیل ڈال کر جلائے گئےناپاکوں نے پاك مسجدیں ڈھائیں قرآن کریم کے پاك اوراق پھاڑے جلائےاور ایسی ہی وہ باتیں جن کا نام لئے کلیجہ منہ کو آئے" الا لعنۃ اللہ علی الظلمین ﴿۱۸﴾"" الا لعنۃ اللہ علی الظلمین ﴿۱۸﴾" الا لعنۃ اللہ علی الظلمین ﴿۱۸﴾" سن لو اﷲ کی لعنت ظالموں پراب کوئی درد رسیدہ مسلمان ان لیڈروں سے یہ کہہ سکتاہے یا نہیں کہ اے اسٹیجوں پر مسلمان بننے والوہمدردی اسلام کاتانا تننے والو! کچھ حیا کانام باقی ہے تو ہندوؤں کی گنگا میں ڈوب مرواسلام ومسلمین ومساجد وقرآن پر یہ ظلم توڑنے والے کیا یہی تمھارے بھائیتمھارے چہیتے تمھارے پیارے۔
عــــہ۱:یہاں سے اس فتوائے جاہلانہ کاحال کھل گیا جس میں عبارت مذکورہ جمل"قال اکثر اھل التاویل ھی محکمۃ" الخ اور عبارت روح البیان فی الفتح الرحمن نسختھا فاقتلواالمشرکین والاکثر علی انہا غیر منسوخۃ سے استناد کرکے آیہ کریمہ کا قول اکثر میں غیر منسوخ ہونا بتاکر اسے ہندوؤں پر جمادیا اب یہ کون سمجھے کہ قول اکثر پر کسی طرح ہندو اس میں داخل نہیں اور قول دیگر پر بفرض غلط اگر داخل ہوسکتے ہیں تو یقینا منسوخ ہے حشمت علی عفی عنہ
عــــہ۲:اس تقریر کو خوب محفوظ رکھنا چاہئے کہ اس سے ان مفتیان اجہل کی جہالت وبیباکی بلکہ عیاری وچالاکی خوب روشن ہوتی ہے جنھوں نے کہاکہ"ہندوستان کے عام ہندو اہل اسلام سے مقاتلہ فی الدین نہیں کرتے اور عامہ نصاری مقاتلہ فی الدین کے مرتکب ومعاون ہیںـ طرفہ تر یہ کہ جانب نصاری میں معاون کالفظ بڑھالیا کہ عامہ نصاری پر جما سکیں اور جانب ہنود میں اسے اڑا دیا کہ عام ہنود اس میں نہ آسکیں۔حشمت علی لکھنوی عفی عنہ۔
حوالہ / References
القرآن الکریم ۱۱ /۱۸
الفتوحات الالہیۃ الشہیر بالجمل آیۃ لاینھٰکم اﷲ الخ مصطفی البابی مصر ۴/ ۳۲۸
روح البیان آیۃ لاینھٰکم اﷲ الخ المکتبۃ الاسلامیہ لصاحبہا الریاض،الجزء الثامن والعشرون ص۴۸۱
الفتوحات الالہیۃ الشہیر بالجمل آیۃ لاینھٰکم اﷲ الخ مصطفی البابی مصر ۴/ ۳۲۸
روح البیان آیۃ لاینھٰکم اﷲ الخ المکتبۃ الاسلامیہ لصاحبہا الریاض،الجزء الثامن والعشرون ص۴۸۱
تمھارے سردارتمھارے پیشواتمھارے مددگارتمھارے غمگسار مشرکین ہند نہیں جن کے ہاتھ آج تم بکے جاتے ہوجن کی غلامی کے گیت گاتے ہواف اف اف تف تف تف۔
" ان اللہ جامع المنفقین والکفرین فی جہنم جمیعۨا ﴿۱۴۰﴾" ۔ بیشك اﷲ تعالی منافقوں اور کافروں کو جہنم میں اکٹھاکرے گا۔
او ربے ایمان اور پکا بے ایمان ہوگا وہ جو واحد قہار کو یکسر پیٹھ دے کر کہے یہ ملعون مظالم تو بعض بعض شہرکے بعض کفار نے کئےاس سے سب تو" قتلوکم فی الدین "نہیں ہوگئےبد عقلو بدمنشو! کوئی قوم ساری کی ساری نہیں لڑتی۔
تمام مشرکین ہند محارب بالفعل ہیں اور محارب بالفعل کے معنی کی تحقیق:
کفار زمانہ رسالت جن کی نسبت حکم ہوا:" واقتلوہم حیث ثقفتموہم " انھیں جہاں پاؤ قتل کرو۔اور حکم ہوا:
" وقتلوا المشرکین کافۃ کما یقتلونکم کافۃ " سب مشرکوں سے لڑوجیسے وہ سب تم سے لڑتے ہیں۔کیا ان کا ہر ہر فرد میدان جنگ میں آیا تھالڑائی دیکھی جاتی ہے اگر جو لڑے ان کی خاص کوئی ذاتی غرض ہے جس میں ساری قوم شریك نہیں تووہ لڑائی خاص انھیں کی طرف منسوب ہوگی جو ا س کے مرتکب ہوئے مثلا کسی گاؤ کے دھرے مینڈھے پر بعض لوگوں سے جنگ ہو تووہ انھیں کی ہے نہ تمام قوم کیاوراگر لڑائی مذہبی ہے تو ان سب اہل مذہب کی ہے کہ باقی دامے درمے قلمے قدمے معین ہوں گے او رکچھ نہ ہو تو راضی ہوں گے اور اپنے مذہب کی فتح ہو تو خوش ہوں گے اور دوسرے کی ہو تو رنجیدہ ہوں گے۔قال تعالی:
" ان تمسسکم حسنۃ تسؤہم۫ و ان تصبکم سیـۃ یفرحوا بہا"
اگر تمھیں بھلائی پہنچے تو انھیں بری لگے اور تمھیں برائی پہنچے تو اس پر شاد ہوں۔
تو وہ سب محاربین بالفعل ہیں خواہ ہاتھ سے یا زبان سے یادل سےیہ قربانی گاؤ کا مسئلہ ایساہی ہے کون ساہندو ہے جس کے دل میں ا س کانام سن کر آگ نہیں لگتی کون سی ہندو زبان ہے جو گئورکھشا کی مالا
" ان اللہ جامع المنفقین والکفرین فی جہنم جمیعۨا ﴿۱۴۰﴾" ۔ بیشك اﷲ تعالی منافقوں اور کافروں کو جہنم میں اکٹھاکرے گا۔
او ربے ایمان اور پکا بے ایمان ہوگا وہ جو واحد قہار کو یکسر پیٹھ دے کر کہے یہ ملعون مظالم تو بعض بعض شہرکے بعض کفار نے کئےاس سے سب تو" قتلوکم فی الدین "نہیں ہوگئےبد عقلو بدمنشو! کوئی قوم ساری کی ساری نہیں لڑتی۔
تمام مشرکین ہند محارب بالفعل ہیں اور محارب بالفعل کے معنی کی تحقیق:
کفار زمانہ رسالت جن کی نسبت حکم ہوا:" واقتلوہم حیث ثقفتموہم " انھیں جہاں پاؤ قتل کرو۔اور حکم ہوا:
" وقتلوا المشرکین کافۃ کما یقتلونکم کافۃ " سب مشرکوں سے لڑوجیسے وہ سب تم سے لڑتے ہیں۔کیا ان کا ہر ہر فرد میدان جنگ میں آیا تھالڑائی دیکھی جاتی ہے اگر جو لڑے ان کی خاص کوئی ذاتی غرض ہے جس میں ساری قوم شریك نہیں تووہ لڑائی خاص انھیں کی طرف منسوب ہوگی جو ا س کے مرتکب ہوئے مثلا کسی گاؤ کے دھرے مینڈھے پر بعض لوگوں سے جنگ ہو تووہ انھیں کی ہے نہ تمام قوم کیاوراگر لڑائی مذہبی ہے تو ان سب اہل مذہب کی ہے کہ باقی دامے درمے قلمے قدمے معین ہوں گے او رکچھ نہ ہو تو راضی ہوں گے اور اپنے مذہب کی فتح ہو تو خوش ہوں گے اور دوسرے کی ہو تو رنجیدہ ہوں گے۔قال تعالی:
" ان تمسسکم حسنۃ تسؤہم۫ و ان تصبکم سیـۃ یفرحوا بہا"
اگر تمھیں بھلائی پہنچے تو انھیں بری لگے اور تمھیں برائی پہنچے تو اس پر شاد ہوں۔
تو وہ سب محاربین بالفعل ہیں خواہ ہاتھ سے یا زبان سے یادل سےیہ قربانی گاؤ کا مسئلہ ایساہی ہے کون ساہندو ہے جس کے دل میں ا س کانام سن کر آگ نہیں لگتی کون سی ہندو زبان ہے جو گئورکھشا کی مالا
حوالہ / References
القرآن الکریم ۴ /۱۴۰
القرآن الکریم ۲ /۱۹۱ و ۴/ ۹۱
القرآن الکریم ۹ /۳۶
القرآن الکریم ۳ /۱۲۰
القرآن الکریم ۲ /۱۹۱ و ۴/ ۹۱
القرآن الکریم ۹ /۳۶
القرآن الکریم ۳ /۱۲۰
نہیں چلتی۔کون سا شہر ہے جہاں اس کی سبھا یا اس کے ارکان یا اس میں چندہ دینے والے نہیںکیا یہ مقدس بیگناہوں کے خونیہ پاك مساجد کی شہادتیںیہ قرآن عظیم کی اہانتیں انھیں ناپاك رکھشاؤں انھیں مجموعی سفاك سبھاؤں کے نتائج نہیںنہ سہی ع
ہاتھ کنگن کوآرسی کیا ہے
اب جس شہر جس قصبہ جس گاؤں میں چاہو آزمادیکھواپنی مذہبی قربانی کے لئے گائے پچھاڑو۔اس وقت یہی تمھاری بائیں پسلی کے نکلےیہی تمھارے سگے بھائییہی تمھارے منہ بولے بزرگ یہی تمھارے آقا یہی تمھارے پیشوا تمھاری ہڈی پسلی توڑنے کو تیار ہوتے ہیں یانہیں۔ان متفرقات کا جمع کرنا بھی جہنم میں ڈالئے وہ آج تمام ہندوؤں اور نہ صرف ہندوؤں تم سب ہندو پرستوں کا امام ظاہر وبادشاہ باطن ہے یعنی گاندھی صاف نہ کہہ چکا کہ مسلمان اگر قربانی گاؤ نہ چھوڑیں گے تو ہم تلوار کے زور سے چھڑادیں گےاب بھی کوئی شك رہا کہ تما م مشرکین ہند دین میں ہم سے محارب ہیں پھر انھیں" لم یقتلوکم فی الدین "میں داخل کرنا کیا نری بے حیائی ہے یا صریح بے ایمانی بھیمحاربہ مذہبی ہر قوم کا اس بات پر ہوتاہے جسے وہ اپنے دین کی رو سے زشت ومنکر جانےاسی کے ازالہ کے لئے لڑائی ہوتی ہےاور ازالہ منکرتین قسم ہے کہ موقع ہو تو ہاتھ سے ورنہ زبان سے ورنہ دل سے۔نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من رأی منکم منکرا فلیغیرہ بیدہ فان لم یستطع فبلسانہ فان لم یستطع فبقلبہ ۔ تم میں جو کوئی کچھ خلاف شرع بات دیکھے اس پر لازم ہے کہ اسے اپنے ہاتھ سے رد کرےپھر اگر نہ ہوسکے تو زبان سےاور یہ بھی نہ ہوسکے تو دل سے۔
یہ تینوں صورتیں ازالہ وتغییر کی ہیں اور سب اہل محاربہ سے محاربہ ہی ہیں بالفعل ہتھیار اٹھانا شرط نہیں جس کا ثبوت اوپر گزرااور اگریہی ٹھہرے کہ اگرچہ لڑائی سرتاج قوم اور تمام افراد کی رضا سے ہو مگر" قتلوکم فی الدین "میں صرف وہی داخل ہوں گے جنھوں نے میدان میں ہتھیار اٹھائے تو ذرا انگریزوں کے ساتھ اپنے بائیکاٹ کا مزاج پوچھ لیجئےکیا ہر انگریز ترکوں کے ساتھ میدان جنگ میں گیا تھا ہر گز نہیںلاکھوں یا شاید کروڑوں ہوں جنھوں نے اس میدان کی صورت تك نہ دیکھی خصوصا ہندوستان میں سول کے انگریزتو یہ سب" لم یقتلوکم فی الدین "ہوئےاور تمھارایہ ترك تعاون کا عام مسئلہ تمھارے ہی منہ سخت جھوٹا
ہاتھ کنگن کوآرسی کیا ہے
اب جس شہر جس قصبہ جس گاؤں میں چاہو آزمادیکھواپنی مذہبی قربانی کے لئے گائے پچھاڑو۔اس وقت یہی تمھاری بائیں پسلی کے نکلےیہی تمھارے سگے بھائییہی تمھارے منہ بولے بزرگ یہی تمھارے آقا یہی تمھارے پیشوا تمھاری ہڈی پسلی توڑنے کو تیار ہوتے ہیں یانہیں۔ان متفرقات کا جمع کرنا بھی جہنم میں ڈالئے وہ آج تمام ہندوؤں اور نہ صرف ہندوؤں تم سب ہندو پرستوں کا امام ظاہر وبادشاہ باطن ہے یعنی گاندھی صاف نہ کہہ چکا کہ مسلمان اگر قربانی گاؤ نہ چھوڑیں گے تو ہم تلوار کے زور سے چھڑادیں گےاب بھی کوئی شك رہا کہ تما م مشرکین ہند دین میں ہم سے محارب ہیں پھر انھیں" لم یقتلوکم فی الدین "میں داخل کرنا کیا نری بے حیائی ہے یا صریح بے ایمانی بھیمحاربہ مذہبی ہر قوم کا اس بات پر ہوتاہے جسے وہ اپنے دین کی رو سے زشت ومنکر جانےاسی کے ازالہ کے لئے لڑائی ہوتی ہےاور ازالہ منکرتین قسم ہے کہ موقع ہو تو ہاتھ سے ورنہ زبان سے ورنہ دل سے۔نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من رأی منکم منکرا فلیغیرہ بیدہ فان لم یستطع فبلسانہ فان لم یستطع فبقلبہ ۔ تم میں جو کوئی کچھ خلاف شرع بات دیکھے اس پر لازم ہے کہ اسے اپنے ہاتھ سے رد کرےپھر اگر نہ ہوسکے تو زبان سےاور یہ بھی نہ ہوسکے تو دل سے۔
یہ تینوں صورتیں ازالہ وتغییر کی ہیں اور سب اہل محاربہ سے محاربہ ہی ہیں بالفعل ہتھیار اٹھانا شرط نہیں جس کا ثبوت اوپر گزرااور اگریہی ٹھہرے کہ اگرچہ لڑائی سرتاج قوم اور تمام افراد کی رضا سے ہو مگر" قتلوکم فی الدین "میں صرف وہی داخل ہوں گے جنھوں نے میدان میں ہتھیار اٹھائے تو ذرا انگریزوں کے ساتھ اپنے بائیکاٹ کا مزاج پوچھ لیجئےکیا ہر انگریز ترکوں کے ساتھ میدان جنگ میں گیا تھا ہر گز نہیںلاکھوں یا شاید کروڑوں ہوں جنھوں نے اس میدان کی صورت تك نہ دیکھی خصوصا ہندوستان میں سول کے انگریزتو یہ سب" لم یقتلوکم فی الدین "ہوئےاور تمھارایہ ترك تعاون کا عام مسئلہ تمھارے ہی منہ سخت جھوٹا
حوالہ / References
مسند احمد بن حنبل روایت ابوسعید الخدری دارالفکر بیروت ۳/ ۱۰،صحیح مسلم کتاب الایمان قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۵۱
اور شریعت پر افتراء ٹھہراکہ مقاطعہ کرو تو انھیں معدود سے کرو جو میدان میں ترکوں سے لڑےغرض
نے فروعت محکم آمدنے اصول
شرم بادت از خدا واز رسول
(نہ تیرے فروع قائم رہیں نہ اصول تو خدا ورسول سے شرم کھا۔ت)
قران عظیم سے مزعومات لیڈرا ن کا رد
تنبیہ جلیل:اقول: کریمہ" وقتلوا المشرکین کافۃ کما یقتلونکم کافۃ " (اور مشرکوں سے ہر وقت لڑو جیسا وہ تم سے ہر وقت لڑتے ہیں۔ت)کہ ابھی ہم نے تلاوت کی قطعا اپنی ہر وجہ ہر پہلو پر لیڈران عنود پس روان ہنود پر رد شدید ہے
ان کا مزعوم دو۲ فقرے ہیں:
اول یہ کہ ہنود میں مقاتل فی الدین صرف وہی ہے جنھوں نے وہ مظالم کئے تو مقاتل نہیں مگر مقاتل بالفعل جس نے ہتھیار اٹھایا اور قتل کو آیا تاکہ عامہ ہنود کو" قتلوکم فی الدین "سے بچالیں
دوم یہ کہ جو مقاتل بالفعل نہیں اس سے اظہار عداوت فرض نہیں تاکہ بزور زبان ان سے وداد واتحاد کی راہ نکالیں۔
اب آیہ کریمہ میں چار۴ احتمال ہیں:
اول:دونوں"کافۃ"مسلمانوں سے حال ہوں یعنی سب مسلمانوں مشرکوں سے لڑو جس طرح وہ تم سب سے لڑتے ہیں۔
دوم:دونوں"کافۃ"مشرکین سے حال ہوں یعنی سب مشرکین سے لڑو جس طرح وہ سب تم سے لڑتے ہیں۔
سوم:پہلا"کافۃ"مشرکین سے حال ہو اور دوسرا منومنین سے یعنی تم بھی سب مشرکین سے لڑو جس طرح وہ تم سب سے لڑتے ہیں۔یہ قول عبداﷲ ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے منقول ہے۔
چہارم:اس کا عکس یعنی سب مسلمان مشرکوں سے لڑیں جس طرح وہ سب مشرك مسلمانوں سے لڑتے ہیںکبیر میں اسی کو ترجیح دی اورلباب میں اسی پر اقتصار کیااور امام نسفی نے چاروں احتمالوں کا اشعار کیامفاتیح الغیب میں ہے:
فی قولہ تعالی کافۃ قولانالاول ارشاد الہی کافۃ میں دو قول ہیںاول مراد یہ ہے
نے فروعت محکم آمدنے اصول
شرم بادت از خدا واز رسول
(نہ تیرے فروع قائم رہیں نہ اصول تو خدا ورسول سے شرم کھا۔ت)
قران عظیم سے مزعومات لیڈرا ن کا رد
تنبیہ جلیل:اقول: کریمہ" وقتلوا المشرکین کافۃ کما یقتلونکم کافۃ " (اور مشرکوں سے ہر وقت لڑو جیسا وہ تم سے ہر وقت لڑتے ہیں۔ت)کہ ابھی ہم نے تلاوت کی قطعا اپنی ہر وجہ ہر پہلو پر لیڈران عنود پس روان ہنود پر رد شدید ہے
ان کا مزعوم دو۲ فقرے ہیں:
اول یہ کہ ہنود میں مقاتل فی الدین صرف وہی ہے جنھوں نے وہ مظالم کئے تو مقاتل نہیں مگر مقاتل بالفعل جس نے ہتھیار اٹھایا اور قتل کو آیا تاکہ عامہ ہنود کو" قتلوکم فی الدین "سے بچالیں
دوم یہ کہ جو مقاتل بالفعل نہیں اس سے اظہار عداوت فرض نہیں تاکہ بزور زبان ان سے وداد واتحاد کی راہ نکالیں۔
اب آیہ کریمہ میں چار۴ احتمال ہیں:
اول:دونوں"کافۃ"مسلمانوں سے حال ہوں یعنی سب مسلمانوں مشرکوں سے لڑو جس طرح وہ تم سب سے لڑتے ہیں۔
دوم:دونوں"کافۃ"مشرکین سے حال ہوں یعنی سب مشرکین سے لڑو جس طرح وہ سب تم سے لڑتے ہیں۔
سوم:پہلا"کافۃ"مشرکین سے حال ہو اور دوسرا منومنین سے یعنی تم بھی سب مشرکین سے لڑو جس طرح وہ تم سب سے لڑتے ہیں۔یہ قول عبداﷲ ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے منقول ہے۔
چہارم:اس کا عکس یعنی سب مسلمان مشرکوں سے لڑیں جس طرح وہ سب مشرك مسلمانوں سے لڑتے ہیںکبیر میں اسی کو ترجیح دی اورلباب میں اسی پر اقتصار کیااور امام نسفی نے چاروں احتمالوں کا اشعار کیامفاتیح الغیب میں ہے:
فی قولہ تعالی کافۃ قولانالاول ارشاد الہی کافۃ میں دو قول ہیںاول مراد یہ ہے
حوالہ / References
القرآن الکریم ۹ /۳۶
ان یکون المراد قاتلوھم باجمعکم مجتمعین علی قتالہمکما انھم یقاتلونکم علی ھذہ الصفۃیرید تعاونوا وتناصروا علی ذلك ولاتتخاذلوا ولاتتقاطعوا وکونوا عباداﷲ مجتمعین متوافقین فی مقاتلہ الا عداءوالثانی قال ابن عباس قاتلوھم بکلیتہم ولا تحابوا بعضہم بترك القتال کما انھم یستحلون قتال جمیعکموالقول الاول اقرب حتی یصح قیاس احد الجانبین علی الاخر ۔ کہ تم سب ان کے قتال پر اتفاق کرکے ان سے لڑو جس طرح وہ تم سے یونہی لڑتے ہیںفرماتاہے قتال مشرکین میں سب آپس میں ایك دوسرے کی مدد کرو اور ایك دوسرے کو بے یار نہ چھوڑو نہ باہم علاقہ قطع کرو اور سب اﷲ کے بندے ہو جاؤدشمنوں کے قتال پر یك دل ویك رائے ہو کر دوسرا قول ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما کا کہ سب مشرکوں سے لڑو اور ان میں کسی سے ترك قتال میں محابہ نہ کرو جس طرح وہ تم سب سے قتال روا رکھتے ہیں اور پہلاقول زیادہ قریب ہے تاکہ ایك فریق کادوسرے پر قیاس صحیح ہو۔
خازن میں ہے:
یعنی قاتلوا المشرکین باجمعکم مجتمعین علی قتالہم کما انھم یقاتلونکم علی ھذہ الصفۃ ۔ یعنی سب مل کر قتال مشرکین پر متفق الرائے ہو کر ان سے لڑو جس طرح وہ تم سے یونہی لڑتے ہیں۔
مدارك میں ہے:
کافۃ حال من الفاعل اوالمفعول ۔ کافۃ فاعل سے حال ہے یا مفعول سے۔
اس احتمال چہارم پر آیہ کریمہ کے دونوں جملے لیڈروں کے پہلے فقرے کا رد ہیں ظاہر ہے کہ سب مشرك میدان میں نہ آئے سب نے ہتھیار نہ اٹھائے بلکہ کچھ ساعی تھے کچھ معاون کچھ راضیاور آیت میں فرمایا کہ وہ سب تم سے لڑتے ہیں تو معلوم ہوا کہ جمیع اقسام مقاتل فی الدین ہیں یونہی قطعا تمام ہنود کہ منشا مظالم گئورکھشا ہے اور اس میں سب شریکپھر مسلمانوں کو فرمایا تم سب لڑواگر قتال قتال بالید سے خاص ہو تو جہاد مطلقا فرض عین ہوجائے او ریہ بالاجماع باطل ہے نیز اس تقدیر پر یہ حکم صحابہ کرام سے آج تك کبھی بجانہ لایا گیا کون سے دن دنیا کے سب مسلمان ہتھیار لے کر میدان میں آئے تومعاذاﷲ صحابہ کرام وجمیع امت کا اجماع ضلالت ومعصیت پر
خازن میں ہے:
یعنی قاتلوا المشرکین باجمعکم مجتمعین علی قتالہم کما انھم یقاتلونکم علی ھذہ الصفۃ ۔ یعنی سب مل کر قتال مشرکین پر متفق الرائے ہو کر ان سے لڑو جس طرح وہ تم سے یونہی لڑتے ہیں۔
مدارك میں ہے:
کافۃ حال من الفاعل اوالمفعول ۔ کافۃ فاعل سے حال ہے یا مفعول سے۔
اس احتمال چہارم پر آیہ کریمہ کے دونوں جملے لیڈروں کے پہلے فقرے کا رد ہیں ظاہر ہے کہ سب مشرك میدان میں نہ آئے سب نے ہتھیار نہ اٹھائے بلکہ کچھ ساعی تھے کچھ معاون کچھ راضیاور آیت میں فرمایا کہ وہ سب تم سے لڑتے ہیں تو معلوم ہوا کہ جمیع اقسام مقاتل فی الدین ہیں یونہی قطعا تمام ہنود کہ منشا مظالم گئورکھشا ہے اور اس میں سب شریکپھر مسلمانوں کو فرمایا تم سب لڑواگر قتال قتال بالید سے خاص ہو تو جہاد مطلقا فرض عین ہوجائے او ریہ بالاجماع باطل ہے نیز اس تقدیر پر یہ حکم صحابہ کرام سے آج تك کبھی بجانہ لایا گیا کون سے دن دنیا کے سب مسلمان ہتھیار لے کر میدان میں آئے تومعاذاﷲ صحابہ کرام وجمیع امت کا اجماع ضلالت ومعصیت پر
حوالہ / References
مفاتیح الغیب(التفسیر الکبیر) تحت آیہ قاتلوا المشرکین الخ المطبعۃ البہیۃ المصریۃ مصر ۱۶/ ۵۴
لباب التاویل فی معانی التنزیل(تفسیر الخازن)تحت آیۃ قاتلوا المشرکین الخ مصطفی البابی مصر ۳/ ۹۰
مدارك التنزیل(تفسیر النسفی) تحت آیہ قاتلوا المشرکین الخ دارالکتاب العربی بیروت ۲/ ۲۵
لباب التاویل فی معانی التنزیل(تفسیر الخازن)تحت آیۃ قاتلوا المشرکین الخ مصطفی البابی مصر ۳/ ۹۰
مدارك التنزیل(تفسیر النسفی) تحت آیہ قاتلوا المشرکین الخ دارالکتاب العربی بیروت ۲/ ۲۵
ہو اور یہ اول سے بڑھ کر باطل وکفر بائل(سخت)ہے لاجرم قتال معاونت ورضا سب کو عام ہے اب بیشك اس کا حکم شامل جملہ حکم اسلام ہےاسی طرح احتمال اول پر آیہ کریمہ کے دونوں جملے فقرہ اولی کے ردہیںپہلے کا ابھی بیان ہوا اور دوسرا یوں کہ جب مشرکین سب مسلمانوں سے مقاتل ہیں تو سب مسلمان مشرکوں کے مقاتل کہ مفاعلہ جانبین سے ہے اور وہ نہیں مگر اسی طرح پر کہ فاعل ومعاون وراضی سب مقاتل ہوں بعینہ اسی تقریر سے احتمال دوم وسوم بھی جیسا کہ فہیم پر مخفی نہیں۔بالجملہ ہر پہلو پرآیہ کریمہ کا ہر جملہ ان کے فقرہ اولی کا رد ہے اور احتمال دوم وسوم پرکریمہ کا پہلا جملہ لیڈروں کے فقرہ دوم کا بھی رد ہے کہ عام فرمایا گیا سب مشرکوں سے قتال کرواور قتل وقتال سے بڑھ کر اور اظہار عداوت کیا ہے تو ثابت ہوا کہ مشرك مقاتل بالید ہویا نہ ہر ایك سے اظہار عداوت فرض اور وداد واتحاد حرام
" و قل جاء الحق و زہق البطل ان البطل کان زہوقا ﴿۸۱﴾ " " بل نقذف بالحق علی البطل فیدمغہ فاذا ہو زاہق ولکم الویل مما تصفون ﴿۱۸﴾" کہو حق آیا باطل کادم ٹوٹابیشك باطل تو دم توڑنے ہی کو تھا بلکہ ہم حق کو باطل پر پھینکتے ہیں کہ وہ باطل کا بھیجا نکال دیتا ہے جبھی وہ فنا ہوجاتاہے اور تمھارے لئے خرابی ہے ان باتوں سے جو بناتے ہو۔
اصح قول اکثر ہے کہ کریمہ ممتحنہ صرف معاہدین کے بارے میں ہے:
تنبیہ دوم:اقول یہاں سے روشن ہوا کہ آیہ ممتحنہ میں قول اکثر ہی راجح واصح ہے" لم یقتلوکم فی الدین "وہی ہوسکتے ہیں جو اہل عہد وذمہ ہیں کہ ان کے عہد نے صراحۃ انھیں مقاتلین سے جدا کرلیا"والصریح یفوق الدلالۃ"تصریح دلالت پر مرجح ہے۔باقی تمام حربی کفار مقاتل فی الدین ہیں اگرچہ ہتھیار نہ اٹھائے ہوئے ہوں۔قول آخر کے اصح ہونے کی وجہ یہی ہوئی کہ لفظ عام ہے اور جب ثابت ہوا کہ وہ اہل عہد وذمہ ہی پر صادق ہے توحربیوں کی تعمیم ناموجہ ہے یونہی نساء وصبیان سے تخصیص کی وجہ نہیںاعتبار عموم لفظ کا ہے نہ خصوص سبب کاورنہ صرف صلہ مادروپدر یا غایت درجہ صلہ رحم کی اجازت نکلے نہ جملہ نساء وصبیان کو تعمیم مقبول کہ اگرچہ وہ حکم قتال سے مستثنی ہیں مگر حکم غلظت سے مستثنی نہیںاہل عہد وذمی کی عورتیں بچے ان کے حکم میں رہیں گے اور غیر معاہد حربیوں کے زنان واطفال ان کے حکم میںقال تعالی
" من ذکر او انثی بعضکم من بعض " مرد ہو یا عورت تم آپس میں ایك ہو۔
" و قل جاء الحق و زہق البطل ان البطل کان زہوقا ﴿۸۱﴾ " " بل نقذف بالحق علی البطل فیدمغہ فاذا ہو زاہق ولکم الویل مما تصفون ﴿۱۸﴾" کہو حق آیا باطل کادم ٹوٹابیشك باطل تو دم توڑنے ہی کو تھا بلکہ ہم حق کو باطل پر پھینکتے ہیں کہ وہ باطل کا بھیجا نکال دیتا ہے جبھی وہ فنا ہوجاتاہے اور تمھارے لئے خرابی ہے ان باتوں سے جو بناتے ہو۔
اصح قول اکثر ہے کہ کریمہ ممتحنہ صرف معاہدین کے بارے میں ہے:
تنبیہ دوم:اقول یہاں سے روشن ہوا کہ آیہ ممتحنہ میں قول اکثر ہی راجح واصح ہے" لم یقتلوکم فی الدین "وہی ہوسکتے ہیں جو اہل عہد وذمہ ہیں کہ ان کے عہد نے صراحۃ انھیں مقاتلین سے جدا کرلیا"والصریح یفوق الدلالۃ"تصریح دلالت پر مرجح ہے۔باقی تمام حربی کفار مقاتل فی الدین ہیں اگرچہ ہتھیار نہ اٹھائے ہوئے ہوں۔قول آخر کے اصح ہونے کی وجہ یہی ہوئی کہ لفظ عام ہے اور جب ثابت ہوا کہ وہ اہل عہد وذمہ ہی پر صادق ہے توحربیوں کی تعمیم ناموجہ ہے یونہی نساء وصبیان سے تخصیص کی وجہ نہیںاعتبار عموم لفظ کا ہے نہ خصوص سبب کاورنہ صرف صلہ مادروپدر یا غایت درجہ صلہ رحم کی اجازت نکلے نہ جملہ نساء وصبیان کو تعمیم مقبول کہ اگرچہ وہ حکم قتال سے مستثنی ہیں مگر حکم غلظت سے مستثنی نہیںاہل عہد وذمی کی عورتیں بچے ان کے حکم میں رہیں گے اور غیر معاہد حربیوں کے زنان واطفال ان کے حکم میںقال تعالی
" من ذکر او انثی بعضکم من بعض " مرد ہو یا عورت تم آپس میں ایك ہو۔
یہاں کے کسی کافر فقیر کو بھیک دینا بھی جائز نہیں:
صحاح ستہ میں صعب بن جثامہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے ہے نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے زنان وصبیان کفارکے بارے میں فرمایا:ھم منہم وہ انھیں میں سے ہیںولہذا ہمارے ائمہ کرام نے حربی کو صدقہ نافلہ دینے کی ممانعت سے ان کی عورتوں بچوں کسی کو مستثنی نہ فرمایا حکم عام دیاجامع الصغیر امام محمد و بدایہ ودرر وعنایہ وکفایہ و جوہرہ ومستصفی پر نہایہ وغایۃ البیان و فتح القدیر وبحرالرائق وکافی وتبیین وتفسیر احمدی و فتح اﷲ المعین وغنیہ ذوی الاحکام کتب معتمدہ کی عبارتیں اوپر گزریںمعراج الداریہ میں ہے:
صلتہ لایکون براشرعا ولذالم یجز التطوع الیہ ۔ حربی سے نیك سلوك شرعا کوئی نیکی نہیں اس لئے اسے نفل خیرات دینا بھی حرام ہے۔
عنایہ امام اکمل میں ہے:
التصدق علیہم مرحمۃ لہم ومواساۃ وھی منافیۃ لمقتضی الایۃ ۔ انھیں خیرات دینا ان پر ایك طرح کی مہربانی اور ان کی غمخواری ہے اور یہ حکم قرآن مجید کے خلاف ہے۔
امام برہان الدین صاحب ذخیرہ نے محیط پھرعلامہ جوی زادہ پھر علامہ شرنبلالی نے غنیہ میں فرمایا:
لایجوز للمسلم برالحربی ۔ حربی کے ساتھ نیك سلوك مسلمان کو حرام ہے۔
بحمداﷲ تعالی ہماے ائمہ کی نظر ایسی ہی غائر ودقیقہ رس ہے جب کبھی تنقیح تام کی جاتی ہے جو انھوں نے تحقیق فرمایا وہی گل کھلتا ہے ھکذا ینبغی التحقیق واﷲ تعالی ولی التوفیق۔
مستامن کے لئے مسئلہ ہبہ و وصیت کی تحقیق :
تنبیہ سوم:مستامن کے بارے میں عبارات مختلف آئیں کثیر
صحاح ستہ میں صعب بن جثامہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے ہے نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے زنان وصبیان کفارکے بارے میں فرمایا:ھم منہم وہ انھیں میں سے ہیںولہذا ہمارے ائمہ کرام نے حربی کو صدقہ نافلہ دینے کی ممانعت سے ان کی عورتوں بچوں کسی کو مستثنی نہ فرمایا حکم عام دیاجامع الصغیر امام محمد و بدایہ ودرر وعنایہ وکفایہ و جوہرہ ومستصفی پر نہایہ وغایۃ البیان و فتح القدیر وبحرالرائق وکافی وتبیین وتفسیر احمدی و فتح اﷲ المعین وغنیہ ذوی الاحکام کتب معتمدہ کی عبارتیں اوپر گزریںمعراج الداریہ میں ہے:
صلتہ لایکون براشرعا ولذالم یجز التطوع الیہ ۔ حربی سے نیك سلوك شرعا کوئی نیکی نہیں اس لئے اسے نفل خیرات دینا بھی حرام ہے۔
عنایہ امام اکمل میں ہے:
التصدق علیہم مرحمۃ لہم ومواساۃ وھی منافیۃ لمقتضی الایۃ ۔ انھیں خیرات دینا ان پر ایك طرح کی مہربانی اور ان کی غمخواری ہے اور یہ حکم قرآن مجید کے خلاف ہے۔
امام برہان الدین صاحب ذخیرہ نے محیط پھرعلامہ جوی زادہ پھر علامہ شرنبلالی نے غنیہ میں فرمایا:
لایجوز للمسلم برالحربی ۔ حربی کے ساتھ نیك سلوك مسلمان کو حرام ہے۔
بحمداﷲ تعالی ہماے ائمہ کی نظر ایسی ہی غائر ودقیقہ رس ہے جب کبھی تنقیح تام کی جاتی ہے جو انھوں نے تحقیق فرمایا وہی گل کھلتا ہے ھکذا ینبغی التحقیق واﷲ تعالی ولی التوفیق۔
مستامن کے لئے مسئلہ ہبہ و وصیت کی تحقیق :
تنبیہ سوم:مستامن کے بارے میں عبارات مختلف آئیں کثیر
حوالہ / References
صحیح مسلم باب جواز قتل النساء والصبیان الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۸۴
ردالمحتار بحوالہ معراج الدرایۃ باب المصرف داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/ ۶۸
العنایہ شرح الہدایہ مع فتح القدیر باب من یجوز دفع الصدقہ الیہ الخ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۲/ ۲۰۷
غنیہ ذوی الاحکام حاشیۃ الدررالحکام کتاب الوصایا مطبعۃ احمدی کامل الکائنۃ دارالسعادت مصر ۲/ ۴۲۹
ردالمحتار بحوالہ معراج الدرایۃ باب المصرف داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/ ۶۸
العنایہ شرح الہدایہ مع فتح القدیر باب من یجوز دفع الصدقہ الیہ الخ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۲/ ۲۰۷
غنیہ ذوی الاحکام حاشیۃ الدررالحکام کتاب الوصایا مطبعۃ احمدی کامل الکائنۃ دارالسعادت مصر ۲/ ۴۲۹
روایات مذکورہ میں مطلقا حربی سے نیك سلوك کی ممانعت ہے جس میں مستامن بھی داخلاورنہایہ و تبیین وبحرالرائق وابوالسعود کی عبارات میں اس سے ممانعت کی صاف تصریح گزری لیکن بعض روایات سے اس کے لئے رخصت ثابتفتاوی عالمگیری میں ہے:
لاباس بان یصل الرجل المسلم المشرك قریبا کان اوبعیدا محاربا کان اوذمیا و اراد بالحارب المستامن واما اذا کان غیر المستامن فلاینبغی للمسلم ان یصلہ بشیئ کذا فی المحیط ۔ کوئی حرج نہیں کہ مسلمان مشرك سے کوئی مالی سلوك کرے خواہ رشتہ دار ہویا اجنبیحربی ہو یا غیر مستامن ہو تو مسلمان کو سزا وار نہیں کہ اس کے ساتھ کوئی نیك سلوك کرےایسا ہی محیط میں ہے۔
امام ملك العلماء نے بدائع میں مستامن کے لئے وصیت کا جواز مبسوط سے نقل کیا پھر فرمایاامام اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ سے عدم جواز مروی ہوا اوریہی روایت ہمارے ائمہ کے قول سے موافق تر ہے کہ وہ مستامن کے لئے صدقات حرام فراماتے ہیںیونہی وصیت بھیپھر فرمایا بعض نے کہا اس کے لئے جواز وعدم جواز صدقات میں ہمارے اصحاب سے دو۲روایتیں ہیں تو وصیت بھی انھیں دونوں روایتوں پر ہوگیعبارت یہ ہے شرائط وصیت باعتبار موصی لہ میں فرمایا:
ومنہا ان لایکون حربیا غیر مستامن فان کان لا تصح الوصیۃ لہ من مسلم او ذمی وان کان مستامنا ذکر فی الاصل انہ یجوز لانہ فی عہد نافاشبہ الذمی وروی عن ابی حنیفہ رضی اﷲ تعالی عنہ انہ لایجوز و ھذہ الروایۃ بقول اصحابنا رحمہم اﷲ تعالی اشبہ فانہم قالوا لایجوز صرف الکفارۃ والنذر وصدقۃ الفطر و الاضحیۃ الی المستامن ویجوز صرفھا ایك شرط جواز وصیت کی یہ ہے کہ حربی غیر مستامن نہ ہو ایسا ہو تو اس کے لئے وصیت باطل ہے مسلمان کرے خواہ ذمیاور اگر حربی مستامن ہو تو امام محمد نے مبسوط میں ذکر فرمایا کہ جائز ہے اس لئے کہ وہ بھی ہمارے معاہدہ میں ہے تو ذمی ساہو ااور امام اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ حربی مستامن کے لئے بھی وصیت جائزنہیں اور یہی روایت ہمارے ائمہ کے قول سے زیادہ موافق ہے اس لئے کہ وہ فرماتے ہیں کہ حربی مستامن کو بھی نذر وکفارہ و صدقہ فطر و قربانی کاگوشت دینا جائز نہیں۔اور ذمی
لاباس بان یصل الرجل المسلم المشرك قریبا کان اوبعیدا محاربا کان اوذمیا و اراد بالحارب المستامن واما اذا کان غیر المستامن فلاینبغی للمسلم ان یصلہ بشیئ کذا فی المحیط ۔ کوئی حرج نہیں کہ مسلمان مشرك سے کوئی مالی سلوك کرے خواہ رشتہ دار ہویا اجنبیحربی ہو یا غیر مستامن ہو تو مسلمان کو سزا وار نہیں کہ اس کے ساتھ کوئی نیك سلوك کرےایسا ہی محیط میں ہے۔
امام ملك العلماء نے بدائع میں مستامن کے لئے وصیت کا جواز مبسوط سے نقل کیا پھر فرمایاامام اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ سے عدم جواز مروی ہوا اوریہی روایت ہمارے ائمہ کے قول سے موافق تر ہے کہ وہ مستامن کے لئے صدقات حرام فراماتے ہیںیونہی وصیت بھیپھر فرمایا بعض نے کہا اس کے لئے جواز وعدم جواز صدقات میں ہمارے اصحاب سے دو۲روایتیں ہیں تو وصیت بھی انھیں دونوں روایتوں پر ہوگیعبارت یہ ہے شرائط وصیت باعتبار موصی لہ میں فرمایا:
ومنہا ان لایکون حربیا غیر مستامن فان کان لا تصح الوصیۃ لہ من مسلم او ذمی وان کان مستامنا ذکر فی الاصل انہ یجوز لانہ فی عہد نافاشبہ الذمی وروی عن ابی حنیفہ رضی اﷲ تعالی عنہ انہ لایجوز و ھذہ الروایۃ بقول اصحابنا رحمہم اﷲ تعالی اشبہ فانہم قالوا لایجوز صرف الکفارۃ والنذر وصدقۃ الفطر و الاضحیۃ الی المستامن ویجوز صرفھا ایك شرط جواز وصیت کی یہ ہے کہ حربی غیر مستامن نہ ہو ایسا ہو تو اس کے لئے وصیت باطل ہے مسلمان کرے خواہ ذمیاور اگر حربی مستامن ہو تو امام محمد نے مبسوط میں ذکر فرمایا کہ جائز ہے اس لئے کہ وہ بھی ہمارے معاہدہ میں ہے تو ذمی ساہو ااور امام اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ حربی مستامن کے لئے بھی وصیت جائزنہیں اور یہی روایت ہمارے ائمہ کے قول سے زیادہ موافق ہے اس لئے کہ وہ فرماتے ہیں کہ حربی مستامن کو بھی نذر وکفارہ و صدقہ فطر و قربانی کاگوشت دینا جائز نہیں۔اور ذمی
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ الباب الرابع عشر فی اہل الذمہ الخ مکتبہ نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۳۴۷
الی الذمی لانا ما نھینا عن براھل الذمۃ لقولہ تعالی" لا ینہىکم اللہ عن الذین لم یقتلوکم فی الدین "وقیل ان فی التبرع علیہ فی حال الحیاۃ بالصدقۃ و الھبۃ روایتین عن اصحابنا فالوصیۃ لہ علی تلك الروایتین ایضا (ملخصا) کو جائز ہے اس لئے کہ ذمیوں کے ساتھ احسان کی ہمیں ممانعت نہ فرمائی گئیاﷲ تعالی فرماتاہے اﷲ تمھیں ان سے منع نہیں فرماتا جو تم سے دین میں نہ لڑیںاور کہا گیا کہ زندگی میں حربی مستامن کو کچھ ہبہ یا خیرات دینے میں ہمارے ائمہ سے دو روایتیں ہیں تو اس کے لئے وصیت بھی انہیں دو روایتوں پر رہے گی۔(ملخصا)
اس پر تمام کلام ونقض وابرام ردالمحتار پر ہمارے حاشیہ جدالممتار میں مذکور جس سے اطالت کی یہاں حاجت نہیں سیرکبیر سے حربی کے لئے اشعار جوا زنقل کیا گیا مگر اس میں حربی فی دارہ کے لئے تصریح ہے محیط پھر قاضی زادہ نے اس کی عبارت یہ نقل کی:
لواوصی مسلم لحربی والحربی فی دارالحرب لاتجوز فان خرج الحربی الموصی لہ الی دارالاسلام بامان واراداخذ وصیتہ لم یکن لہ من ذلك شیئ وان اجازت الورثۃ لان الوصیۃ وقعت بصفۃ البطلان فلا تعمل اجازۃ الورثۃ فیھا ۔ اگر مسلمان نے کسی حربی کے لئے وصیت کی اور حربی دارالحرب میں تھا جائز نہیں پھر اگر جس حربی کے لئے وصیت تھی امان لے کر دارالاسلام میں آئے اوراپنی وصیت لینا چاہے اسے اس میں سے کچھ نہ ملے گا اگرچہ وارث اجازت بھی دے دیں کہ وصیت سرے سے باطل واقع ہوئی تو وارثوں کی اجازت اس میں کیا کام دے گی
اقول:ہاں فی داراہ کی قید اور سیاق کلام سے مستامن کے لئے جواز نکلتا ہے"کما لا یخفی وبہ اندفع ایراد المحیط ثم نتائج الافکار علیہم"(جیسا کہ مخفی نہیں ا س سے محیط پھر نتائج الافکار کا ان پر اعتراض ختم ہوگیا۔ت)تویہ اسی توفیق کی طرف مشیر جو علامہ مولی خسرو نے درر میں کی اور تنویر نے اسے متن میں لیا کہ مستامن کے لئے صحیح اور غیر مستامن کے لئے ناجائزدرمیں اسے بحث درر ٹھہرایا حالانکہ منصوص ہےوہی ہدایہ جس سے گزرا کہ حربی کے لئے وصیت باطل
اس پر تمام کلام ونقض وابرام ردالمحتار پر ہمارے حاشیہ جدالممتار میں مذکور جس سے اطالت کی یہاں حاجت نہیں سیرکبیر سے حربی کے لئے اشعار جوا زنقل کیا گیا مگر اس میں حربی فی دارہ کے لئے تصریح ہے محیط پھر قاضی زادہ نے اس کی عبارت یہ نقل کی:
لواوصی مسلم لحربی والحربی فی دارالحرب لاتجوز فان خرج الحربی الموصی لہ الی دارالاسلام بامان واراداخذ وصیتہ لم یکن لہ من ذلك شیئ وان اجازت الورثۃ لان الوصیۃ وقعت بصفۃ البطلان فلا تعمل اجازۃ الورثۃ فیھا ۔ اگر مسلمان نے کسی حربی کے لئے وصیت کی اور حربی دارالحرب میں تھا جائز نہیں پھر اگر جس حربی کے لئے وصیت تھی امان لے کر دارالاسلام میں آئے اوراپنی وصیت لینا چاہے اسے اس میں سے کچھ نہ ملے گا اگرچہ وارث اجازت بھی دے دیں کہ وصیت سرے سے باطل واقع ہوئی تو وارثوں کی اجازت اس میں کیا کام دے گی
اقول:ہاں فی داراہ کی قید اور سیاق کلام سے مستامن کے لئے جواز نکلتا ہے"کما لا یخفی وبہ اندفع ایراد المحیط ثم نتائج الافکار علیہم"(جیسا کہ مخفی نہیں ا س سے محیط پھر نتائج الافکار کا ان پر اعتراض ختم ہوگیا۔ت)تویہ اسی توفیق کی طرف مشیر جو علامہ مولی خسرو نے درر میں کی اور تنویر نے اسے متن میں لیا کہ مستامن کے لئے صحیح اور غیر مستامن کے لئے ناجائزدرمیں اسے بحث درر ٹھہرایا حالانکہ منصوص ہےوہی ہدایہ جس سے گزرا کہ حربی کے لئے وصیت باطل
حوالہ / References
بدائع الصنائع کتاب الوصایا فصل واماشرائط الرکن الخ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۷/ ۳۴۱
نتائج الافکار قاضی زادہ(شرح ہدایہ تکملہ فتح القدیر باب فی صفۃ الوصیۃ الخ نوریہ رضویہ سکھر ۹/ ۳۵۵
نتائج الافکار قاضی زادہ(شرح ہدایہ تکملہ فتح القدیر باب فی صفۃ الوصیۃ الخ نوریہ رضویہ سکھر ۹/ ۳۵۵
اسی میں ہے کہ مستامن کے لئے صحیح باب وصیۃ الذمی میں فرمایا:
اذا دخل الحربی دارنا بامان فاوصی لہ مسلم بوصیۃ جاز لانہ مادام فی دار الاسلام فھو فی المعاملات بمنزلہ الذمی (ملخصا) جب حربی امان لے کر دارالاسلام میں آئے اور اس وقت مسلمان اس کے لئے کچھ وصیت کرے تو جائز ہے اس لئے کہ وہ جب تك دارالاسلام میں ہے معاملات میں بمنزلہ ذمی ہے۔
اقول: او ریہی مفاد کریمتین ممتحنہ ہے کہ معاہدکے لئے رخصت اور غیر معاہد سے ممانعت اور مستامن بھی مثل ذمی معاہد ہے اگرچہ اس کا عہد موقت ہے کما تقدم عن البدائع والھدایۃ(جیسا کہ بدائع اور ہدایہ سے گزرا۔ت)اور وصیت عــــہ۱ و صدقہ میں فرق کی کچھ وجہ نہیں کہ دونوں بروصلہ ہیں خصوصا کریمہ" لا ینہىکم اللہ "کا نزول ہی دربارہ مستامن ہو ا تو ایسی تخصیص کہ اصل سبب کی نفی کردے کیونکر روا ہو جس طرح شرح سیر کبیر کااطلاق کہ ہر گونہ حربی کے لئے جوازکا موہم ہے کیونکر مقبول ہوسکتاہے کہ کریمہ" انما ینہىکم اللہ "کا صاف منافی ہے اور عــــہ۲ یہ کہنا کہ اس میں موالات سے ممانعت ہے نہ کہ صلہ سے۔
اقول: یہ محض بے معنی ہے موالات ہر کافر سے حرام ہے اگرچہ ذمی ہو اگرصلہ ہر حربی کے لئے بھی جائز ہو توفریقین میں فرق کیا رہا حالانکہ صریح نزول کریمتین اثبات فرق کے لئے ہےتو قطعا عــــہ۳ کریمہ ثانیہ میں صلہ ہی کو موالات فرمایا اوراسی سے منع کیالاجرم اس کی صحیح تاویل وہی ہے جو ابھی محیط وہندیہ سے گزری کہ حربی سے مستامن یعنی معاہد مراد ہےلاجرم اسی ہندیہ میں تاتار خانیہ سے ہے:
ذکر الامام رکن الاسلام علی السغدی اذا کان حربیا فی دار الحرب وکان الحال حال صلح ومسالمۃ فلا باس بان یصلہ ۔ امام رکن الاسلام علی سغدی نے فرمایا:جب حربی دارالحرب میں ہو اور وہ وقت صلح معاہدہ التوائے جنگ کا وقت ہو تو اس سے مالی سلوك میں حرج نہیں۔
عــــہ۱:تعریض بما فی ردالمحتار ۱۲ منہ غفرلہ
عــــہ۲:تعریض بما فی بعض التفاسیر ۱۲ منہ غفرلہ
عــــہ۳:تفاسیر معالم وخازن وکبیر وتفسیر ابن عباس کے نصوص ابھی آتے ہیں۔
اذا دخل الحربی دارنا بامان فاوصی لہ مسلم بوصیۃ جاز لانہ مادام فی دار الاسلام فھو فی المعاملات بمنزلہ الذمی (ملخصا) جب حربی امان لے کر دارالاسلام میں آئے اور اس وقت مسلمان اس کے لئے کچھ وصیت کرے تو جائز ہے اس لئے کہ وہ جب تك دارالاسلام میں ہے معاملات میں بمنزلہ ذمی ہے۔
اقول: او ریہی مفاد کریمتین ممتحنہ ہے کہ معاہدکے لئے رخصت اور غیر معاہد سے ممانعت اور مستامن بھی مثل ذمی معاہد ہے اگرچہ اس کا عہد موقت ہے کما تقدم عن البدائع والھدایۃ(جیسا کہ بدائع اور ہدایہ سے گزرا۔ت)اور وصیت عــــہ۱ و صدقہ میں فرق کی کچھ وجہ نہیں کہ دونوں بروصلہ ہیں خصوصا کریمہ" لا ینہىکم اللہ "کا نزول ہی دربارہ مستامن ہو ا تو ایسی تخصیص کہ اصل سبب کی نفی کردے کیونکر روا ہو جس طرح شرح سیر کبیر کااطلاق کہ ہر گونہ حربی کے لئے جوازکا موہم ہے کیونکر مقبول ہوسکتاہے کہ کریمہ" انما ینہىکم اللہ "کا صاف منافی ہے اور عــــہ۲ یہ کہنا کہ اس میں موالات سے ممانعت ہے نہ کہ صلہ سے۔
اقول: یہ محض بے معنی ہے موالات ہر کافر سے حرام ہے اگرچہ ذمی ہو اگرصلہ ہر حربی کے لئے بھی جائز ہو توفریقین میں فرق کیا رہا حالانکہ صریح نزول کریمتین اثبات فرق کے لئے ہےتو قطعا عــــہ۳ کریمہ ثانیہ میں صلہ ہی کو موالات فرمایا اوراسی سے منع کیالاجرم اس کی صحیح تاویل وہی ہے جو ابھی محیط وہندیہ سے گزری کہ حربی سے مستامن یعنی معاہد مراد ہےلاجرم اسی ہندیہ میں تاتار خانیہ سے ہے:
ذکر الامام رکن الاسلام علی السغدی اذا کان حربیا فی دار الحرب وکان الحال حال صلح ومسالمۃ فلا باس بان یصلہ ۔ امام رکن الاسلام علی سغدی نے فرمایا:جب حربی دارالحرب میں ہو اور وہ وقت صلح معاہدہ التوائے جنگ کا وقت ہو تو اس سے مالی سلوك میں حرج نہیں۔
عــــہ۱:تعریض بما فی ردالمحتار ۱۲ منہ غفرلہ
عــــہ۲:تعریض بما فی بعض التفاسیر ۱۲ منہ غفرلہ
عــــہ۳:تفاسیر معالم وخازن وکبیر وتفسیر ابن عباس کے نصوص ابھی آتے ہیں۔
حوالہ / References
الہدایۃ باب وصیۃ الذمی مطبع یوسفی لکھنو ۴/ ۶۸۶
فتاوٰی ہندیۃ الباب الرابع عشر فی اہل الذمہ الخ نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۳۴۷
فتاوٰی ہندیۃ الباب الرابع عشر فی اہل الذمہ الخ نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۳۴۷
اس تحقیق سے بہت عبارات میں توفیق ہوگئی جن میں حربی کے لئے مطلقا ممانعت ہے جیسے ارشاد جامع صغیر وکتب کثیر ان میں حربی غیر معاہد مرادہےلاجرم کافی پھر درر پھر نتائج الافکار نے کلام جامع صغیر یوں نقل کیا:
الوصیۃ للحربی وھو فی دارالحرب باطلۃ لانھا بروصلۃ وقدنھینا عن برمن یقاتلنا لقولہ تعالی انما ینھکم اﷲ عن الذین قاتلوکم فی الدین ۔ حربی کہ دارالحرب میں ہو اس کے لئے وصیت باطل ہے اس لئے کہ وہ احسان ونیك سلوك ہے اور حربی کے ساتھ نیك سلوك سے ہمیں منع فرمایاگیا کہ اﷲ عزوجل فرماتاہے اﷲ تمھیں ان سے منع فرماتاہے جو دین میں تم سے لڑے۔
جامع صغیرشریف کے متعدد نسخے حاضراس کی عبارت صرف اس قدر ہے:
الوصیۃ لاھل الحرب باطلۃ ۔ حربیوں کے لئے وصیت باطل ہے۔
اوریہی اس سے بدایہ متن ہدایہ میں منقولنہ اس میں تعلیل ہےنہ لفظ"ھو فی دارھم"ضروریہ بعض شروح جامع کی عبارت ہے جسے کافی نے حسب عادت علماء جامع کی طرف نسبت فرمایا تو شارح نے اطلاق جامع کو غیر مستامن پر حمل کیا اور جن میں مطلق جواز ہے جیسے عبارت شرح سیر کبیر جس کو محیط نے اسی عــــہ عادت کی بناء پر سیر کبیر کی طرف نسبت کیاان میں مستامن ومعاہد مقصود جس طرح خود محیط نے تصریح کی کہ:اراد بالمحارب
عــــہ:فلا علیك مماوقع فی زکوۃ ش من عزوہ لمحمد فی السیر الکبیر فقد ابان الصواب فی الوصایا ناقلا عن العلامۃ جوی زادہ ان مراد ھم مایدل علی الجواز ماذکر فی شرح السیر الکبیر للامام السرخسی منہ غفرلہ۔ شامی کی کتاب الزکوۃ میں سیر کبیر کے حوالہ سے جو امام محمدرحمۃ اﷲ تعالی کی طرف منسوب ہے وہ تجھے اشتباہ نہ دے اس لئے کہ شامی کے وصایا میں علامہ جوی زادہ سے درست وصحیح عبارت منقول ہے کہ جواز پر دلالت کرنے سے ان کی وہ دلیل مراد ہے جو امام سرخسی کی شرح سیر کبیر میں مذکور ہے۔منہ غفرلہ(ت)
الوصیۃ للحربی وھو فی دارالحرب باطلۃ لانھا بروصلۃ وقدنھینا عن برمن یقاتلنا لقولہ تعالی انما ینھکم اﷲ عن الذین قاتلوکم فی الدین ۔ حربی کہ دارالحرب میں ہو اس کے لئے وصیت باطل ہے اس لئے کہ وہ احسان ونیك سلوك ہے اور حربی کے ساتھ نیك سلوك سے ہمیں منع فرمایاگیا کہ اﷲ عزوجل فرماتاہے اﷲ تمھیں ان سے منع فرماتاہے جو دین میں تم سے لڑے۔
جامع صغیرشریف کے متعدد نسخے حاضراس کی عبارت صرف اس قدر ہے:
الوصیۃ لاھل الحرب باطلۃ ۔ حربیوں کے لئے وصیت باطل ہے۔
اوریہی اس سے بدایہ متن ہدایہ میں منقولنہ اس میں تعلیل ہےنہ لفظ"ھو فی دارھم"ضروریہ بعض شروح جامع کی عبارت ہے جسے کافی نے حسب عادت علماء جامع کی طرف نسبت فرمایا تو شارح نے اطلاق جامع کو غیر مستامن پر حمل کیا اور جن میں مطلق جواز ہے جیسے عبارت شرح سیر کبیر جس کو محیط نے اسی عــــہ عادت کی بناء پر سیر کبیر کی طرف نسبت کیاان میں مستامن ومعاہد مقصود جس طرح خود محیط نے تصریح کی کہ:اراد بالمحارب
عــــہ:فلا علیك مماوقع فی زکوۃ ش من عزوہ لمحمد فی السیر الکبیر فقد ابان الصواب فی الوصایا ناقلا عن العلامۃ جوی زادہ ان مراد ھم مایدل علی الجواز ماذکر فی شرح السیر الکبیر للامام السرخسی منہ غفرلہ۔ شامی کی کتاب الزکوۃ میں سیر کبیر کے حوالہ سے جو امام محمدرحمۃ اﷲ تعالی کی طرف منسوب ہے وہ تجھے اشتباہ نہ دے اس لئے کہ شامی کے وصایا میں علامہ جوی زادہ سے درست وصحیح عبارت منقول ہے کہ جواز پر دلالت کرنے سے ان کی وہ دلیل مراد ہے جو امام سرخسی کی شرح سیر کبیر میں مذکور ہے۔منہ غفرلہ(ت)
حوالہ / References
الدررالحکام شرح غرر الاحکام کتاب الوصایا مطبعہ احمد کامل الکائنۃ دار سعادت مصر ۲/ ۴۲۹،نتائج الافکار تکملہ فی القدیر باب صفۃ الوصیۃ مایجوز من ذٰلك مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۹/ ۳۵۵
الجامع الصغیر باب الوصیۃ بثلث المال مطبع یوسفی لکھنو ص۱۷۰
ردالمحتار مطبوعہ کوئٹہ ۲/ ۷۳
ردالمحتار مطبوعہ کوئٹہ ۵/ ۴۶۳
الجامع الصغیر باب الوصیۃ بثلث المال مطبع یوسفی لکھنو ص۱۷۰
ردالمحتار مطبوعہ کوئٹہ ۲/ ۷۳
ردالمحتار مطبوعہ کوئٹہ ۵/ ۴۶۳
المستامن حربی سے مستامن مراد لیااسی طرح عبارت موطائے امام محمد:
لاباس بالھدیۃ الی المشرك المحارب مالم یھدالیہ سلاح اودرع وھو قول ابی حنیفۃ والعامۃ من فقہائنا ۔ حربی مشرك کو ہدیہ دینے میں حرج نہیں جب تك ہتھیار یا زرہ کا بھیجنا نہ ہو اور یہی قول امام ابوحنیفہ اور ہمارے عام فقہاء کاہے۔
وصیت بھی ہدیہ ہی ہے کہ تملیك عین مجانا ہےاورامام محمد جامع صغیر میں صاف فرماچکے کہ ان کے لئے وصیت باطل توہدیہ کیسے جائزہوسکتاہے مگر اسی فرق سے کہ معاہد کے لئے جائز اور غیر معاہد کے لئے ناجائزجس طرح خود امام نے سیر کبیر میں اشعار فرمایااور کتاب الاصل میں ارشاد امام نے تو بالکل کشف حجاب فرمادیا کہ فرمایا حربی کے لئے باطلپھر فرمایا:مستامن کے لئے جائزردالمحتار میں ہے:
نص محمد فی الاصل علی عدم جواز الوصیۃ للحربی صریحا ۔ امام محمد نے اصل میں روشن تصریح فرمائی کہ حربی کے لئے وصیت جائز نہیں۔
بدائع امام ملك العلماء سے گزرا:
وان کان مستامناذکر فی الاصل انہ یجوز ۔ امام محمد نے اصل میں فرمایا کہ کافر اگر مستامن ہو تو اس کے لئے وصیت جائز ہے۔
المستامن حربی سے مستامن مراد لیااسی طرح عبارت موطائے امام محمد:
لاباس بالھدیۃ الی المشرك المحارب مالم یھدالیہ سلاح اودرع وھو قول ابی حنیفۃ والعامۃ من فقہائنا ۔ حربی مشرك کو ہدیہ دینے میں حرج نہیں جب تك ہتھیار یا زرہ کا بھیجنا نہ ہو اور یہی قول امام ابوحنیفہ اور ہمارے عام فقہاء کاہے۔
وصیت بھی ہدیہ ہی ہے کہ تملیك عین مجانا ہےاورامام محمد جامع صغیر میں صاف فرماچکے کہ ان کے لئے وصیت باطل توہدیہ کیسے جائزہوسکتاہے مگر اسی فرق سے کہ معاہد کے لئے جائز اور غیر معاہد کے لئے ناجائزجس طرح خود امام نے سیر کبیر میں اشعار فرمایااور کتاب الاصل میں ارشاد امام نے تو بالکل کشف حجاب فرمادیا کہ فرمایا حربی کے لئے باطلپھر فرمایا:مستامن کے لئے جائزردالمحتار میں ہے:
نص محمد فی الاصل علی عدم جواز الوصیۃ للحربی صریحا ۔ امام محمد نے اصل میں روشن تصریح فرمائی کہ حربی کے لئے وصیت جائز نہیں۔
بدائع امام ملك العلماء سے گزرا:
وان کان مستامناذکر فی الاصل انہ یجوز ۔ امام محمد نے اصل میں فرمایا کہ کافر اگر مستامن ہو تو اس کے لئے وصیت جائز ہے۔
خانیہ امام فقہیہ النفس میں ہے:
اوصی مسلم لحربی مستامن بثلث مالہ ذکر فی الاصل انہ تجوز وقیل ھذا قول محمد وعن ابی حنیفۃ فی روایۃ لاتجوز و ان لم یکن الحربی مستامنا لا تجوز فی قولہم ۔ کسی مسلمان نے حربی مستامن کے لئے اپنے تہائی مال کی وصیت کیمبسوط میں فرمایا:یہ جائز ہےبعض نے کہا:یہ قول امام محمد کا ہےاور اما م اعظم سے ایك روایت میں ہے کہ جائز نہیں اور اگر حربی مستامن نہ ہو تو بالاتفاق ناجائز ہے۔
خانیہ امام فقہیہ النفس میں ہے:
اوصی مسلم لحربی مستامن بثلث مالہ ذکر فی الاصل انہ تجوز وقیل ھذا قول محمد وعن ابی حنیفۃ فی روایۃ لاتجوز و ان لم یکن الحربی مستامنا لا تجوز فی قولہم ۔ کسی مسلمان نے حربی مستامن کے لئے اپنے تہائی مال کی وصیت کیمبسوط میں فرمایا:یہ جائز ہےبعض نے کہا:یہ قول امام محمد کا ہےاور اما م اعظم سے ایك روایت میں ہے کہ جائز نہیں اور اگر حربی مستامن نہ ہو تو بالاتفاق ناجائز ہے۔
لاباس بالھدیۃ الی المشرك المحارب مالم یھدالیہ سلاح اودرع وھو قول ابی حنیفۃ والعامۃ من فقہائنا ۔ حربی مشرك کو ہدیہ دینے میں حرج نہیں جب تك ہتھیار یا زرہ کا بھیجنا نہ ہو اور یہی قول امام ابوحنیفہ اور ہمارے عام فقہاء کاہے۔
وصیت بھی ہدیہ ہی ہے کہ تملیك عین مجانا ہےاورامام محمد جامع صغیر میں صاف فرماچکے کہ ان کے لئے وصیت باطل توہدیہ کیسے جائزہوسکتاہے مگر اسی فرق سے کہ معاہد کے لئے جائز اور غیر معاہد کے لئے ناجائزجس طرح خود امام نے سیر کبیر میں اشعار فرمایااور کتاب الاصل میں ارشاد امام نے تو بالکل کشف حجاب فرمادیا کہ فرمایا حربی کے لئے باطلپھر فرمایا:مستامن کے لئے جائزردالمحتار میں ہے:
نص محمد فی الاصل علی عدم جواز الوصیۃ للحربی صریحا ۔ امام محمد نے اصل میں روشن تصریح فرمائی کہ حربی کے لئے وصیت جائز نہیں۔
بدائع امام ملك العلماء سے گزرا:
وان کان مستامناذکر فی الاصل انہ یجوز ۔ امام محمد نے اصل میں فرمایا کہ کافر اگر مستامن ہو تو اس کے لئے وصیت جائز ہے۔
المستامن حربی سے مستامن مراد لیااسی طرح عبارت موطائے امام محمد:
لاباس بالھدیۃ الی المشرك المحارب مالم یھدالیہ سلاح اودرع وھو قول ابی حنیفۃ والعامۃ من فقہائنا ۔ حربی مشرك کو ہدیہ دینے میں حرج نہیں جب تك ہتھیار یا زرہ کا بھیجنا نہ ہو اور یہی قول امام ابوحنیفہ اور ہمارے عام فقہاء کاہے۔
وصیت بھی ہدیہ ہی ہے کہ تملیك عین مجانا ہےاورامام محمد جامع صغیر میں صاف فرماچکے کہ ان کے لئے وصیت باطل توہدیہ کیسے جائزہوسکتاہے مگر اسی فرق سے کہ معاہد کے لئے جائز اور غیر معاہد کے لئے ناجائزجس طرح خود امام نے سیر کبیر میں اشعار فرمایااور کتاب الاصل میں ارشاد امام نے تو بالکل کشف حجاب فرمادیا کہ فرمایا حربی کے لئے باطلپھر فرمایا:مستامن کے لئے جائزردالمحتار میں ہے:
نص محمد فی الاصل علی عدم جواز الوصیۃ للحربی صریحا ۔ امام محمد نے اصل میں روشن تصریح فرمائی کہ حربی کے لئے وصیت جائز نہیں۔
بدائع امام ملك العلماء سے گزرا:
وان کان مستامناذکر فی الاصل انہ یجوز ۔ امام محمد نے اصل میں فرمایا کہ کافر اگر مستامن ہو تو اس کے لئے وصیت جائز ہے۔
خانیہ امام فقہیہ النفس میں ہے:
اوصی مسلم لحربی مستامن بثلث مالہ ذکر فی الاصل انہ تجوز وقیل ھذا قول محمد وعن ابی حنیفۃ فی روایۃ لاتجوز و ان لم یکن الحربی مستامنا لا تجوز فی قولہم ۔ کسی مسلمان نے حربی مستامن کے لئے اپنے تہائی مال کی وصیت کیمبسوط میں فرمایا:یہ جائز ہےبعض نے کہا:یہ قول امام محمد کا ہےاور اما م اعظم سے ایك روایت میں ہے کہ جائز نہیں اور اگر حربی مستامن نہ ہو تو بالاتفاق ناجائز ہے۔
خانیہ امام فقہیہ النفس میں ہے:
اوصی مسلم لحربی مستامن بثلث مالہ ذکر فی الاصل انہ تجوز وقیل ھذا قول محمد وعن ابی حنیفۃ فی روایۃ لاتجوز و ان لم یکن الحربی مستامنا لا تجوز فی قولہم ۔ کسی مسلمان نے حربی مستامن کے لئے اپنے تہائی مال کی وصیت کیمبسوط میں فرمایا:یہ جائز ہےبعض نے کہا:یہ قول امام محمد کا ہےاور اما م اعظم سے ایك روایت میں ہے کہ جائز نہیں اور اگر حربی مستامن نہ ہو تو بالاتفاق ناجائز ہے۔
حوالہ / References
المحیط البرہانی
مؤطا امام محمد باب مایکرہ من لبس الحریر والدیباج آفتاب عالم پریس لاہور ص۳۷۱
ردالمحتار کتاب الوصایا مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ ۵/ ۴۶۳
بدائع الصنائع کتاب الوصایا ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۷/ ۳۴۱
فتاوٰی قاضی خان فعل فیمن تجوز وصیۃوفیمن لاتجوز وصیۃ الخ نولکشور لکھنؤ ۲/ ۸۳۷
مؤطا امام محمد باب مایکرہ من لبس الحریر والدیباج آفتاب عالم پریس لاہور ص۳۷۱
ردالمحتار کتاب الوصایا مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ ۵/ ۴۶۳
بدائع الصنائع کتاب الوصایا ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۷/ ۳۴۱
فتاوٰی قاضی خان فعل فیمن تجوز وصیۃوفیمن لاتجوز وصیۃ الخ نولکشور لکھنؤ ۲/ ۸۳۷
رہا شرح سرخسی میں یہ استدلال کہ قحط مکہ معظمہ میں حضور رحمت عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے پانسو اشرفیاں ابوسفیان وصفوان بن امیہ کو عطا فرمائیں کہ فقرائے مکہ پر تقسیم کریںاقول: واقعہ عین کے لئے عموم نہیں ہوتا۔ممکن کہ وہ زمانہ صلح ومعاہدہ ہو معہذا ابوسفیان وصفوان رضی اﷲ تعالی عنہما دونوں مؤلفۃ القلوب سے تھےممکن کہ اس مد سے عطا فرمائی ہوں پھر بھی وہ عبارات باقی رہیں جن میں مستامن کے لئے بھی عدم جواز کا صریح ارشاد ہے یونہی وہ کہ حربی غیرمعاہد کے لئے بھی جواز ان کا مفاد ہےہندیہ میں محیط سے ہے:
لو ان عسکرا من المسلمین دخلوا دارالحرب فاھدی امیرھم الی ملك العدوھدیۃ فلاباس بہ ۔ اگر مسلمانوں کا کوئی لشکر دارالحرب میں داخل ہو اور سپہ سالار دشمنوں کے بادشاہ کوکچھ ہدیہ بھیجے کچھ مضائقہ نہیں۔
ائمہ لیڈروں پر سخت اشد عذاب:
ظاہر ہے کہ فے وہی مال ہے کہ کافر سے بے لڑے قہرا لیا جائے اور لڑ کر لیں تو غنیمتاور ایام معاہدہ کے ہدایا قہر نہیں شرح سیر کبیر میں ہے:
لووادع الامام قوما من اھل الحرب سنۃ علی مال دفعوہ الیہ جاز لو خیرا للمسلمین ثم ھذا المال لیس بفیئ ولاغنیمۃ حتی لا یخمسولکنہ کالخراج یوضع فی بیت المال لان الغنیمۃ اسم لمال یصاف بایجاف الخیل والرکاب والفیئ اسم لما یرجع من اموالہم الی ایدینا بطریق القھر وھذا یرجع الینا بطریق المراضاۃ ۔ اگر سلطان اسلام نے حربیوں کے کسی گروہ سے سال بھر کے لئے صلح کرلی اور اس پر کچھ مال ان سے لے لیا تو اگر یہ مسلمانوں کے حق میں بہترہو تو جائزہے پھر یہ مال نہ فے ہے نہ غنیمتیہاں تك کہ اس سے خمس نہ لیا جائے گاہاں وہ خراج کی طرح ہے خزانہ مسلمین میں داخل کیا جائے گااس لئے کہ غنیمت اس مال کا نام ہے جو گھوڑے اونٹ دوڑاکر یعنی لڑکر ملے اور فے اس مال کانام ہے جو ہمیں ان سے بطور غلبہ ہاتھ آئے اور یہ تو ہم کو بطور رضامندی حاصل ہوا۔
خیالات لیڈران کا قلمع قمع اس توفیق انیق ہی سے ہوگیایہ دونوں قسمیں ان پر اشد ہیں ان کے دونوں مزعوم کاسخت تر رد ہیںقسم اول نے حربی معاہد کے ساتھ بھی ذرا سا سلوك مالی حرام فرمایا ان کے فقیر گداگر کو بھیك
لو ان عسکرا من المسلمین دخلوا دارالحرب فاھدی امیرھم الی ملك العدوھدیۃ فلاباس بہ ۔ اگر مسلمانوں کا کوئی لشکر دارالحرب میں داخل ہو اور سپہ سالار دشمنوں کے بادشاہ کوکچھ ہدیہ بھیجے کچھ مضائقہ نہیں۔
ائمہ لیڈروں پر سخت اشد عذاب:
ظاہر ہے کہ فے وہی مال ہے کہ کافر سے بے لڑے قہرا لیا جائے اور لڑ کر لیں تو غنیمتاور ایام معاہدہ کے ہدایا قہر نہیں شرح سیر کبیر میں ہے:
لووادع الامام قوما من اھل الحرب سنۃ علی مال دفعوہ الیہ جاز لو خیرا للمسلمین ثم ھذا المال لیس بفیئ ولاغنیمۃ حتی لا یخمسولکنہ کالخراج یوضع فی بیت المال لان الغنیمۃ اسم لمال یصاف بایجاف الخیل والرکاب والفیئ اسم لما یرجع من اموالہم الی ایدینا بطریق القھر وھذا یرجع الینا بطریق المراضاۃ ۔ اگر سلطان اسلام نے حربیوں کے کسی گروہ سے سال بھر کے لئے صلح کرلی اور اس پر کچھ مال ان سے لے لیا تو اگر یہ مسلمانوں کے حق میں بہترہو تو جائزہے پھر یہ مال نہ فے ہے نہ غنیمتیہاں تك کہ اس سے خمس نہ لیا جائے گاہاں وہ خراج کی طرح ہے خزانہ مسلمین میں داخل کیا جائے گااس لئے کہ غنیمت اس مال کا نام ہے جو گھوڑے اونٹ دوڑاکر یعنی لڑکر ملے اور فے اس مال کانام ہے جو ہمیں ان سے بطور غلبہ ہاتھ آئے اور یہ تو ہم کو بطور رضامندی حاصل ہوا۔
خیالات لیڈران کا قلمع قمع اس توفیق انیق ہی سے ہوگیایہ دونوں قسمیں ان پر اشد ہیں ان کے دونوں مزعوم کاسخت تر رد ہیںقسم اول نے حربی معاہد کے ساتھ بھی ذرا سا سلوك مالی حرام فرمایا ان کے فقیر گداگر کو بھیك
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ کتاب السیر الفصل الثالث مکتبہ نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۲۳۶
شرح السیر الکبیر
شرح السیر الکبیر
دینے تك منع بتایا اور لیڈروں نے غیر معاہد مشرکوں سے وداد و اتحاد منایا بلکہ ان کی غلامی وانقیاد کا کلنك لگایا۔
قسم دوم نے خود محارب ونامعاہد حربیوں کو ہدیہ دینا لینا جائزٹھہرایالیڈروں کے مطلقا ترك تعاون کی فرضیت کادربا جلایا۔خیر انھیں اسی طرح ہر طرف کی ضرب وجرح ورد وطرح میں چھوڑئےجانب توفیق باگ موڑئیے
سلوک مالی کی اقسام
فاقول: سلوك مالی تین طرح ہیں:
مرحمت مکرمت مکیدت
اول یہ کہ محض اسے نفع دینا خیر پہنچانا مقصود ہو یہ مستامن معاہد کے لئے بھی حرام ہےامان و معاہد وکف ضرر کے لئے ہے نہ کہ اعداء اﷲ کو بالقصد ایصال خیر کے واسطے۔
دوم یہ کہ اپنی ذاتی مصلحت مثل مکافات احسان ولحاظ رحم کے لئے کچھ مالی سلوکیہ معاہد سے جائز نامعاہد سے ممنوع۔
سوم یہ کہ مصلحت اسلام ومسلمین کےلئے محاربانہ چال ہویہ حربی محارب کے واسطے بھی جائز کہ حقیقت بروصلہ سے اسے علاقہ نہیں۔
موالات کی تقسیم اور اس کے احکام:
تحقیق مقام یہ ہے کہ موالات دو قسم ہیں:
اول حقیقیہ:جس کا ادنی ۱ رکون یعنی میلان قلب ہےپھر ۲وداد پھر ۳اتحاد پھر اپنی خواہش سے بے خوف و۴طمع انقیاد پھر ۵تبتل یہ بجمیع وجوہ ہر کافر سے مطلقا ہرحال میں حرام ہے۔
میل طبعی کا حکم
قال اﷲ تعالی:
" ولا ترکنوا الی الذین ظلموا فتمسکم النار " ۔ ظالموں کی طرف میل عــــہ نہ کرو کہ تمھیں آگ چھوئے۔
مگر میل طبعی جیسے ماں باپ اولادیازن حسینہ کی طرف کہ جس طرح بے اختیار ہو زیرحکم نہیں پھر بھی
عــــہ:جب مجرد میلان قلب کو حرام وموجب عذاب نار فرمایا تو وداد اواتحاد وانقیاد وتبتل کس قدر سخت کبیرہ موجب عذاب اشد ہوں گے لیڈروداد واتحاد وانقیاد سب خود قبول کررہے ہیںوالعیاذ باﷲ تعالی ۱۲
قسم دوم نے خود محارب ونامعاہد حربیوں کو ہدیہ دینا لینا جائزٹھہرایالیڈروں کے مطلقا ترك تعاون کی فرضیت کادربا جلایا۔خیر انھیں اسی طرح ہر طرف کی ضرب وجرح ورد وطرح میں چھوڑئےجانب توفیق باگ موڑئیے
سلوک مالی کی اقسام
فاقول: سلوك مالی تین طرح ہیں:
مرحمت مکرمت مکیدت
اول یہ کہ محض اسے نفع دینا خیر پہنچانا مقصود ہو یہ مستامن معاہد کے لئے بھی حرام ہےامان و معاہد وکف ضرر کے لئے ہے نہ کہ اعداء اﷲ کو بالقصد ایصال خیر کے واسطے۔
دوم یہ کہ اپنی ذاتی مصلحت مثل مکافات احسان ولحاظ رحم کے لئے کچھ مالی سلوکیہ معاہد سے جائز نامعاہد سے ممنوع۔
سوم یہ کہ مصلحت اسلام ومسلمین کےلئے محاربانہ چال ہویہ حربی محارب کے واسطے بھی جائز کہ حقیقت بروصلہ سے اسے علاقہ نہیں۔
موالات کی تقسیم اور اس کے احکام:
تحقیق مقام یہ ہے کہ موالات دو قسم ہیں:
اول حقیقیہ:جس کا ادنی ۱ رکون یعنی میلان قلب ہےپھر ۲وداد پھر ۳اتحاد پھر اپنی خواہش سے بے خوف و۴طمع انقیاد پھر ۵تبتل یہ بجمیع وجوہ ہر کافر سے مطلقا ہرحال میں حرام ہے۔
میل طبعی کا حکم
قال اﷲ تعالی:
" ولا ترکنوا الی الذین ظلموا فتمسکم النار " ۔ ظالموں کی طرف میل عــــہ نہ کرو کہ تمھیں آگ چھوئے۔
مگر میل طبعی جیسے ماں باپ اولادیازن حسینہ کی طرف کہ جس طرح بے اختیار ہو زیرحکم نہیں پھر بھی
عــــہ:جب مجرد میلان قلب کو حرام وموجب عذاب نار فرمایا تو وداد اواتحاد وانقیاد وتبتل کس قدر سخت کبیرہ موجب عذاب اشد ہوں گے لیڈروداد واتحاد وانقیاد سب خود قبول کررہے ہیںوالعیاذ باﷲ تعالی ۱۲
حوالہ / References
القرآن الکریم ۱۱ /۱۱۳
اس تصورسے کہ یہ اﷲ ورسول کے دشمن ہیں ان سے دوستی حرام ہےبقدرقدرت اس کا دبانا یہاں تك کہ بن پڑے تو فنا کردینا لازم ہے کہ شے مستمر میں بقاء کے لئے حکم ابتداہے کہ اعراض ہرآن متجدد ہیں آنا بے اختیار تھا اور جانا یعنی ازالہ قدرت میں ہے تو رکھنا اختیار موالات ہوا اور یہ حرام قطعی ہے ولہذا جس غیر اختیاری کے مبادی اس نے باختیار پیدا کئے اس میں معذورنہ ہوگا جیسے شراب کہ اس سے زوال عقل اس کا اختیاری نہیں مگر جبکہ اختیار سے پی تو زوال عقل اور اس پر جو کچھ مرتب ہو سب اسی کے اختیار سے ہواقال تعالی:
" یایہا الذین امنوا لاتتخذوا اباءکم و اخونکم اولیاء ان استحبوا الکفر علی الایمن ومن یتولہم منکم فاولئک ہم الظلمون ﴿۲۳﴾" ۔ اے ایمان والو! اپنے باپ بھائیوں کودوست نہ بناؤ اگر وہ ایمان پر کفر پسندکریں اور تم میں جو ان سے دوستی رکھے گا وہی پکا ظالم ہوگا۔
تفسیر کبیرونیشاپوری وخازن وجمل وغیرہما میں ہے:
انہ تعالی امرالمومنین بالتبری عن المشرکین و بالغ فی ایجابہقالوا کیف تمکن ھذہ المقاطعۃ التامۃ بین الرجل وبین ابیہ وامہ واخیہفذکر اﷲ تعالی ان الانقطاع من الاباء والاولاد والاخوان واجب بسبب الکفر ۔ جب اﷲ تعالی نے مسلمانوں کومشرکوں سے بیزاری کاحکم دیا اور بتاکید شدید واجب فرمایا تو بعض مسلمانوں نے کہا آدمی کا اس کے باپ اور ماں اور بھائی سے یہ پورا انقطاع کیونکر ممکن ہےاس پر رب عزوجل نے فرمایا کہ باپ اور اولاد اور بھائیوں سے ان کے کفر کے سبب پورا انقطاع ہی لازم ہے۔
موالات صوریہ کے احکام:
دوم صوریہ:کہ دل اس کی طرف اصلا مائل نہ ہو مگر برتاؤ وہ کرے جو بظاہر محبت ومیلان کا پتا دیتاہویہ بحالت ضرورت وبمجبوری صرف بقدر ضرورت ومجبوری مطلقا جائز ہے۔قال تعالی:
" الا ان تتقوا منہم تقىۃ" ۔ مگر یہ کہ تمھیں ان سے پورا واقعی خوف ہو۔
بقدر ضرورت یہ کہ مثلا صرف عدم اظہار عداوت میں کام نکلتا ہو تواسی قدرپر اکتفا کرے اور اظہا ر محبت کی
" یایہا الذین امنوا لاتتخذوا اباءکم و اخونکم اولیاء ان استحبوا الکفر علی الایمن ومن یتولہم منکم فاولئک ہم الظلمون ﴿۲۳﴾" ۔ اے ایمان والو! اپنے باپ بھائیوں کودوست نہ بناؤ اگر وہ ایمان پر کفر پسندکریں اور تم میں جو ان سے دوستی رکھے گا وہی پکا ظالم ہوگا۔
تفسیر کبیرونیشاپوری وخازن وجمل وغیرہما میں ہے:
انہ تعالی امرالمومنین بالتبری عن المشرکین و بالغ فی ایجابہقالوا کیف تمکن ھذہ المقاطعۃ التامۃ بین الرجل وبین ابیہ وامہ واخیہفذکر اﷲ تعالی ان الانقطاع من الاباء والاولاد والاخوان واجب بسبب الکفر ۔ جب اﷲ تعالی نے مسلمانوں کومشرکوں سے بیزاری کاحکم دیا اور بتاکید شدید واجب فرمایا تو بعض مسلمانوں نے کہا آدمی کا اس کے باپ اور ماں اور بھائی سے یہ پورا انقطاع کیونکر ممکن ہےاس پر رب عزوجل نے فرمایا کہ باپ اور اولاد اور بھائیوں سے ان کے کفر کے سبب پورا انقطاع ہی لازم ہے۔
موالات صوریہ کے احکام:
دوم صوریہ:کہ دل اس کی طرف اصلا مائل نہ ہو مگر برتاؤ وہ کرے جو بظاہر محبت ومیلان کا پتا دیتاہویہ بحالت ضرورت وبمجبوری صرف بقدر ضرورت ومجبوری مطلقا جائز ہے۔قال تعالی:
" الا ان تتقوا منہم تقىۃ" ۔ مگر یہ کہ تمھیں ان سے پورا واقعی خوف ہو۔
بقدر ضرورت یہ کہ مثلا صرف عدم اظہار عداوت میں کام نکلتا ہو تواسی قدرپر اکتفا کرے اور اظہا ر محبت کی
حوالہ / References
القرآن الکریم ۹ /۲۳
مفاتیح الغیب(تفسیر الکبیر)آیہ قل ان کان آباء کم الخ کے تحت المطبعۃ البہیۃ المصریۃ مصر ۱۶/ ۱۸
القرآن الکریم ۳ /۲۸
مفاتیح الغیب(تفسیر الکبیر)آیہ قل ان کان آباء کم الخ کے تحت المطبعۃ البہیۃ المصریۃ مصر ۱۶/ ۱۸
القرآن الکریم ۳ /۲۸
ضرورت ہو تو حتی الامکان پہلودار بات کہے صریح کی اجازت نہیں اور بے اس کے نجات نہ ملے اورقلب ایمان پر مطئمن ہو تو اس کی بھی رخصت اور اب بھی ترك عزیمتابناء جریر و منذر وابی حاتم نے حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے روایت کی:
نھی اﷲ المومنین ان یلاطفوا الکفار و یتخذوھم ولیجۃ من دون المؤمنین الاان یکون الکفار علیہم ظاھرین اولیاء فیظھرون لہم اللطف ویخالفونہم فی الدین وذلك قولہ تعالی الا ان تتقوا منہم تقۃ ۔ اﷲ تعالی نے مسلمانوں کو منع فرمایا کہ کافروں سے نرمی کریں اور مسلمانوں کے سوا ان میں سے کسی کو راز دار بنائیں مگریہ کہ کافران پر غالب ووالیان ملك ہوں تو اس وقت ان سے نرمی کا اظہار کریں اور دین میں مخالفت رکھیں اوریہ ہے مولی تعالی کا ارشاد مگریہ کہ تم کو ان سے واقعی پوراخوف ہو۔
مدارك میں ہے۔
ای الا ان یکون للکافر علیك سلطان فتخافہ علی نفسك ومالك فحینئذ یجوز لك اظہار الموالاۃ و ابطان المعاداۃ ۔ یعنی مگر یہ کہ کا فر کی تجھ پر سلطنت ہو تو تجھے ا س سے اپنے جان ومال کا خوف ہو ا س وقت تجھے جائز ہے کہ اس سے دوستی ظاہر کرے اور دشمنی چھپائے۔
کبیر میں ہے:
وذلك بان لایظھر العداوۃ باللسانبل یجوز ایضا ان یظھر الکلام الموھم للمحبۃ والموالاۃولکن بشرط ان یضمر خلافہ وان یعرض فی کل مایقول ۔ یہ یوں ہے کہ زبان سے دشمنی ظاہر نہ کرے بلکہ یہ بھی جائزہے کہ ایسا کلام کہے جو محبت ودوستی کا وہم دلائے مگر شرط یہ ہے کہ دل میں اس کے خلاف ہو اور جو کچھ کہے پہلو دار بات کہے۔
صوریہ کی اعلی قسم ۶مداہنت ہے اس کی رخصت صرف بحالت مجبوری واکراہ ہی ہے اورادنی قسم ۷مدارات یہ مصلحتابھی جائز قال اﷲ تعالی:
نھی اﷲ المومنین ان یلاطفوا الکفار و یتخذوھم ولیجۃ من دون المؤمنین الاان یکون الکفار علیہم ظاھرین اولیاء فیظھرون لہم اللطف ویخالفونہم فی الدین وذلك قولہ تعالی الا ان تتقوا منہم تقۃ ۔ اﷲ تعالی نے مسلمانوں کو منع فرمایا کہ کافروں سے نرمی کریں اور مسلمانوں کے سوا ان میں سے کسی کو راز دار بنائیں مگریہ کہ کافران پر غالب ووالیان ملك ہوں تو اس وقت ان سے نرمی کا اظہار کریں اور دین میں مخالفت رکھیں اوریہ ہے مولی تعالی کا ارشاد مگریہ کہ تم کو ان سے واقعی پوراخوف ہو۔
مدارك میں ہے۔
ای الا ان یکون للکافر علیك سلطان فتخافہ علی نفسك ومالك فحینئذ یجوز لك اظہار الموالاۃ و ابطان المعاداۃ ۔ یعنی مگر یہ کہ کا فر کی تجھ پر سلطنت ہو تو تجھے ا س سے اپنے جان ومال کا خوف ہو ا س وقت تجھے جائز ہے کہ اس سے دوستی ظاہر کرے اور دشمنی چھپائے۔
کبیر میں ہے:
وذلك بان لایظھر العداوۃ باللسانبل یجوز ایضا ان یظھر الکلام الموھم للمحبۃ والموالاۃولکن بشرط ان یضمر خلافہ وان یعرض فی کل مایقول ۔ یہ یوں ہے کہ زبان سے دشمنی ظاہر نہ کرے بلکہ یہ بھی جائزہے کہ ایسا کلام کہے جو محبت ودوستی کا وہم دلائے مگر شرط یہ ہے کہ دل میں اس کے خلاف ہو اور جو کچھ کہے پہلو دار بات کہے۔
صوریہ کی اعلی قسم ۶مداہنت ہے اس کی رخصت صرف بحالت مجبوری واکراہ ہی ہے اورادنی قسم ۷مدارات یہ مصلحتابھی جائز قال اﷲ تعالی:
حوالہ / References
جامع البیان(تفسیر ابن جریر)القول فی تاویل قولہ لایتخذ المومنون الکفرین الخ المطبعۃ المیمنہ مصر ۳/ ۱۴۰
مدارك التنزیل(تفسیر النسفی)آیہ ۳/ ۲۸ دارالکتاب العربی بیروت ۱/ ۱۵۳
مفاتیح الغیب(تفسیر کبیر)آیہ ۳/ ۲۸ المطبعۃ البہیۃ مصر ۸/ ۱۴
مدارك التنزیل(تفسیر النسفی)آیہ ۳/ ۲۸ دارالکتاب العربی بیروت ۱/ ۱۵۳
مفاتیح الغیب(تفسیر کبیر)آیہ ۳/ ۲۸ المطبعۃ البہیۃ مصر ۸/ ۱۴
" و ان احد من المشرکین استجارک فاجرہ حتی یسمع کلم اللہ ثم ابلغہ مامنہ " ۔ اگر کوئی مشرك تم سے پناہ چاہے تو اسے پناہ دو تاکہ کلام الہی سنے پھر اسے اس کی امن کی جگہ پہنچادو۔
ظاہر ہے کہ اس وقت غلظت وخشونت منافی مقصو د ہوگی۔
مدارات کا بیان
مدارات صرف اس ترك غلظت کانام ہے اظہار الفت ورغبت پھر کسی قسم اعلی میں جائے گا اور اسی کاحکم پائے گامدارات ومداہنت کے بیچ میں موالات صوریہ کی دو قسمیں اور ہیں:برواقساط اور معاشرتیہ نوصورتیں موالات کی ہوئیں اور دس کی مکمل مجرد معاملت ہےنہ کہ میلان پر مبنی نہ اس سے منبییہ سوائے مرتد ہونے کافر سے جائز ہے جب تك کسی محظور شرعی کی طرف منجر نہ ہو معاشرت کے نیچے افعال کثیرہ ہیںسلام وکلاممصافحہمجالستمساکنتمواکلت وتقریبوں میں شرکت عیادتتعزیتاعانتاستعانتمشورت وغیرہا ان سب کے صورو شقوق کی تفصیل اور ہر صورت پر بیان حکم و دلیل ایك مستقل رسالہ چاہے گایہاں بروصلہ سے بحث ہے جس کی ہم نے تین قسمیں بیان کیںقسم اول کہ بے اپنی کسی غرض صحیح کے بالقصد ایصال نفع وخیر منظور ہو یہ بے رغبت ومیلان قلب متصور نہیںتو موالات حقیقیہ ہے اور مطلقا قطعا حرام قطعیباقی دو قسمیں کہ اپنی غرض ذاتی یا مصلحت دینی مقصود ہو توموالات صوریہ کی ایك ہلکی قسمیں ہیں اگرچہ مجرد ترك غلظت پر ان میں شے زائد ہےان دو میں فرق یہ ہے کہ قسم دوم بھی اگرچہ حقیقت موالات سے برکراں ہے ا ورصورۃ بھی کوئی قوی دلیل نہیں مگر معنی کچھ اس کی نفی وضد بھی نہیںاور سوم حقیقۃ معادات وقصد اضرار ہےلہذا حربی محارب سے بھی جائز ہوئی کہ اب وہ ظاہری صورت خدعہ اور چال رہ گئی والحرب خدعۃ (لڑائی فریب ہے۔ت)کفار کوپیٹھ دے کر بھاگنا کیسا اشد حرام وکبیرہ ہے لیکن اگر مثلا اس لئے ہو کہ وہ تعاقب کرتے چلے آئیں گے اور آگے اسلامی کمین ہے جب اس سے گزریں ان کے پیچھے سے کمین کا لشکر نکلے اور آگے سے یہ لوٹ پڑیں اور کافر گھر جائیں تو ایسا فرار بہت پسندیدہ ہے کہ یہ صورۃ فرار معنی کرار ہیںقال تعالی:
" ومن یولہم یومئذ دبرہ الا متحرفا لقتال او متحیزا الی فئۃ فقد باء " جہاد کے دن جوکوئی کافروں کو پیٹھ دکھائے گا سو ا اس کے جو لڑائی کے لئے کنارہ کرنے یا اپنے جتھے میں جگہ
ظاہر ہے کہ اس وقت غلظت وخشونت منافی مقصو د ہوگی۔
مدارات کا بیان
مدارات صرف اس ترك غلظت کانام ہے اظہار الفت ورغبت پھر کسی قسم اعلی میں جائے گا اور اسی کاحکم پائے گامدارات ومداہنت کے بیچ میں موالات صوریہ کی دو قسمیں اور ہیں:برواقساط اور معاشرتیہ نوصورتیں موالات کی ہوئیں اور دس کی مکمل مجرد معاملت ہےنہ کہ میلان پر مبنی نہ اس سے منبییہ سوائے مرتد ہونے کافر سے جائز ہے جب تك کسی محظور شرعی کی طرف منجر نہ ہو معاشرت کے نیچے افعال کثیرہ ہیںسلام وکلاممصافحہمجالستمساکنتمواکلت وتقریبوں میں شرکت عیادتتعزیتاعانتاستعانتمشورت وغیرہا ان سب کے صورو شقوق کی تفصیل اور ہر صورت پر بیان حکم و دلیل ایك مستقل رسالہ چاہے گایہاں بروصلہ سے بحث ہے جس کی ہم نے تین قسمیں بیان کیںقسم اول کہ بے اپنی کسی غرض صحیح کے بالقصد ایصال نفع وخیر منظور ہو یہ بے رغبت ومیلان قلب متصور نہیںتو موالات حقیقیہ ہے اور مطلقا قطعا حرام قطعیباقی دو قسمیں کہ اپنی غرض ذاتی یا مصلحت دینی مقصود ہو توموالات صوریہ کی ایك ہلکی قسمیں ہیں اگرچہ مجرد ترك غلظت پر ان میں شے زائد ہےان دو میں فرق یہ ہے کہ قسم دوم بھی اگرچہ حقیقت موالات سے برکراں ہے ا ورصورۃ بھی کوئی قوی دلیل نہیں مگر معنی کچھ اس کی نفی وضد بھی نہیںاور سوم حقیقۃ معادات وقصد اضرار ہےلہذا حربی محارب سے بھی جائز ہوئی کہ اب وہ ظاہری صورت خدعہ اور چال رہ گئی والحرب خدعۃ (لڑائی فریب ہے۔ت)کفار کوپیٹھ دے کر بھاگنا کیسا اشد حرام وکبیرہ ہے لیکن اگر مثلا اس لئے ہو کہ وہ تعاقب کرتے چلے آئیں گے اور آگے اسلامی کمین ہے جب اس سے گزریں ان کے پیچھے سے کمین کا لشکر نکلے اور آگے سے یہ لوٹ پڑیں اور کافر گھر جائیں تو ایسا فرار بہت پسندیدہ ہے کہ یہ صورۃ فرار معنی کرار ہیںقال تعالی:
" ومن یولہم یومئذ دبرہ الا متحرفا لقتال او متحیزا الی فئۃ فقد باء " جہاد کے دن جوکوئی کافروں کو پیٹھ دکھائے گا سو ا اس کے جو لڑائی کے لئے کنارہ کرنے یا اپنے جتھے میں جگہ
" بغضب من اللہ وماوىہ جہنم وبئس المصیر ﴿۱۶﴾" لینے کو جائے وہ بیشك اﷲ کے غضب میں پڑا اور اس کا ٹھکانا جہنم ہے اور وہ کیاہی بری پھرنے کی جگہ ہے۔
حربی غیر معاہد سے موالات کی حالی صورت بھی حرام ہے:
اور دوم ان سے جائز نہیں کہ حقیقت معادات سے خالی اور صورت موالات حالی یہ صرف معاہدین کے لئے ہے"تنزیلا للناس منازلہم"ہر شخص کو اس کے مرتبے پر رکھنے کے لئے۔اور غیر معاہد کے لئے یہ بھی موالات ممنوعہ ہی ہے اوپر گزرا کہ مولی عزوجل نے ان سے صوریہ کو بھی مثل حقیقیہ منع فرمایا اور اس کا نام بھی مودت ہی رکھا کہ"تلقون الیھم بالمودۃ تسرون الیہم بالمودۃ (تم انھیں خبریں پہنچاتے ہو دوستی سے تم انھیں محبت کا خفیہ پیغام پہنچاتے ہو۔ت)یہ ہے حقیقت انیق متکفل توفیق وتطبیق والحمد ﷲ علی حسن التوفیق۔
ایات ممتحنہ میں بر ومعاملات سے کیا مراد :
اس تحقیق سے روشن ہوا کہ کریمہ" لا ینہىکم "میں بر سے صرف اوسط مراد ہے کہ اعلی معاہد سے بھی حرام اور ادنی غیر معاہد سے بھی جائزاور آیت فرق کے لئے اتری ہے نیز ظاہرہوا کہ کریمہ" انما ینہىکم "میں"تولوھم"سے یہی بروصلہ مراد ہے تاکہ مقابلہ فرق ظاہر ہولاجرم تفسیر معالم وتفسیر کبیر میں ہے:
ثم ذکر الذین ینھاھم عن صلتہم فقال " انما ینہىکم اللہ "الآیۃ ۔ پھر اﷲ تعالی نے ان لوگوں کا بیان فرمایا جن سے نیك سلوك کی ممانعت ہے کہ فرمایا اﷲ تمھیں ان سے منع کرتاہے جو تم سے دین میں لڑیں۔
تنویر المقباس میں حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے ہے:
(انما ینہىکم اللہ عن الذین)عن صلۃ الذین(ان تولوھم) ان تصلوھم (ملخصا) اﷲ تمھیں ان سے منع فرماتاہے یعنی ان کے ساتھ نیك سلوك کرنے سے کہ ان سے موالات یعنی نیك سلوك کرو۔
حربی غیر معاہد سے موالات کی حالی صورت بھی حرام ہے:
اور دوم ان سے جائز نہیں کہ حقیقت معادات سے خالی اور صورت موالات حالی یہ صرف معاہدین کے لئے ہے"تنزیلا للناس منازلہم"ہر شخص کو اس کے مرتبے پر رکھنے کے لئے۔اور غیر معاہد کے لئے یہ بھی موالات ممنوعہ ہی ہے اوپر گزرا کہ مولی عزوجل نے ان سے صوریہ کو بھی مثل حقیقیہ منع فرمایا اور اس کا نام بھی مودت ہی رکھا کہ"تلقون الیھم بالمودۃ تسرون الیہم بالمودۃ (تم انھیں خبریں پہنچاتے ہو دوستی سے تم انھیں محبت کا خفیہ پیغام پہنچاتے ہو۔ت)یہ ہے حقیقت انیق متکفل توفیق وتطبیق والحمد ﷲ علی حسن التوفیق۔
ایات ممتحنہ میں بر ومعاملات سے کیا مراد :
اس تحقیق سے روشن ہوا کہ کریمہ" لا ینہىکم "میں بر سے صرف اوسط مراد ہے کہ اعلی معاہد سے بھی حرام اور ادنی غیر معاہد سے بھی جائزاور آیت فرق کے لئے اتری ہے نیز ظاہرہوا کہ کریمہ" انما ینہىکم "میں"تولوھم"سے یہی بروصلہ مراد ہے تاکہ مقابلہ فرق ظاہر ہولاجرم تفسیر معالم وتفسیر کبیر میں ہے:
ثم ذکر الذین ینھاھم عن صلتہم فقال " انما ینہىکم اللہ "الآیۃ ۔ پھر اﷲ تعالی نے ان لوگوں کا بیان فرمایا جن سے نیك سلوك کی ممانعت ہے کہ فرمایا اﷲ تمھیں ان سے منع کرتاہے جو تم سے دین میں لڑیں۔
تنویر المقباس میں حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے ہے:
(انما ینہىکم اللہ عن الذین)عن صلۃ الذین(ان تولوھم) ان تصلوھم (ملخصا) اﷲ تمھیں ان سے منع فرماتاہے یعنی ان کے ساتھ نیك سلوك کرنے سے کہ ان سے موالات یعنی نیك سلوك کرو۔
حوالہ / References
القرآن الکریم ۸ /۱۶
القرآن الکریم ۶۰ /۱
مفاتیح الغیب(التفسیر الکبیر)زیر آیۃ انما ینہکم اﷲ عن الذین الخ المطبعۃ البہیۃ المصریۃ مصر ۲۹/ ۳۰۴
تنویر المقباس من تفسیر ابن عباس القرآن الکریم انما ینہکم اﷲ عن الذین الخ مصطفی البابی مصر ص۳۵۱
القرآن الکریم ۶۰ /۱
مفاتیح الغیب(التفسیر الکبیر)زیر آیۃ انما ینہکم اﷲ عن الذین الخ المطبعۃ البہیۃ المصریۃ مصر ۲۹/ ۳۰۴
تنویر المقباس من تفسیر ابن عباس القرآن الکریم انما ینہکم اﷲ عن الذین الخ مصطفی البابی مصر ص۳۵۱
معنی اقساط کی تحقیق:
تنبیہ چہارم:معنی اقساط میں مفسرین تین وجہ پر مختلف ہوئے:
اول کشاف ومدارك وبیضاوی وابوالسعود وجلالین میں اسے بمعنی عدل ہی لیا اولین میں اورواضح کردیا کہ ولاتظلموھم ۱ امام ابوبکر ابن العربی نے اس پر ایراد کیا کہ عدل ومنع ظلم کا حکم معاہد سے خاص نہیں حربی محارب کو بھی قطعا عام ہے او روہ صرف رخصت نہیں بلکہ قطعا واجب۔قال تعالی:
" ولا یجرمنکم شنان قوم علی الا تعدلوا اعدلوا ہو اقرب للتقوی ۫ واتقوا اللہ " کسی قوم کی عداوت تمھیں عدل نہ کرنے پر باعث نہ ہو عدل کرو وہ پرہیزگاری سے نزدیك ترہے
یہ تقریر ایرادہے اور اسے قرطبی خطیب شربینی پھر جمل نے مقرر رکھا۔
دوم عدل سے صرف وفائے عہد مراد ہے اسے کبیر میں مقاتل سے نقل کیا اوریہی تنویر میں حضرت ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہ سے مروی:
(ان تقسطوا علیہم)تعدلوا بینہم بوفاء العہد(ان اﷲ یحب المقسطین)العادلین بوفاء العہد ۔ ان کے ساتھ اقساط کی اجازت فرماتاہے یعنی جو معاہدہ ان کے ساتھ ہوا اسے پورا کرو یہ عدل ہے بیشك اﷲ تعالی اقساط والوں کودوست رکھتاہے جو وفائے عہد سے عدل کرتے ہیں۔
اگرکہئے معاہد سے وفائے عہد بھی واجب ہے نہ صرف رخصت اقول وفا واجب ہے اتمام مدت واجب نہیںمصلحت ہو تو نبذ جائزقال تعالی:" فانبذ الیہم علی سواء " (ان کی طرف یکساں حالت پر نبذ کردو عــــہ ۔اب ایراد بھی نہ رہا اور بروقسط دو جدا چیزیں ہوگئیںاور"" ان اللہ یحب المقسطین ﴿۸﴾ ""یہاں بھی بلا تکلف ہے۔
عــــہ:جن کفار سے ایك مدت تك معاہدہ ہو او رمصلحت اسلام اس کا ترك چاہےفرض ہے کہ ان کو اطلاع کردی جائے ہوشیار ہوجاؤ اب ہم تم سے معاہدہ رکھنا نہیں چاہتے اس کا نام نبذ ہئے اس میں فرض ہے کہ اگر اس وقت وہ امن کی جگہ نہ ہوں تو اتنی مہلت دی جائے کہ وہ اپنی امان کی جگہ پہنچ جائیںاور اگر (باقی اگلے صفحہ پر)
تنبیہ چہارم:معنی اقساط میں مفسرین تین وجہ پر مختلف ہوئے:
اول کشاف ومدارك وبیضاوی وابوالسعود وجلالین میں اسے بمعنی عدل ہی لیا اولین میں اورواضح کردیا کہ ولاتظلموھم ۱ امام ابوبکر ابن العربی نے اس پر ایراد کیا کہ عدل ومنع ظلم کا حکم معاہد سے خاص نہیں حربی محارب کو بھی قطعا عام ہے او روہ صرف رخصت نہیں بلکہ قطعا واجب۔قال تعالی:
" ولا یجرمنکم شنان قوم علی الا تعدلوا اعدلوا ہو اقرب للتقوی ۫ واتقوا اللہ " کسی قوم کی عداوت تمھیں عدل نہ کرنے پر باعث نہ ہو عدل کرو وہ پرہیزگاری سے نزدیك ترہے
یہ تقریر ایرادہے اور اسے قرطبی خطیب شربینی پھر جمل نے مقرر رکھا۔
دوم عدل سے صرف وفائے عہد مراد ہے اسے کبیر میں مقاتل سے نقل کیا اوریہی تنویر میں حضرت ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہ سے مروی:
(ان تقسطوا علیہم)تعدلوا بینہم بوفاء العہد(ان اﷲ یحب المقسطین)العادلین بوفاء العہد ۔ ان کے ساتھ اقساط کی اجازت فرماتاہے یعنی جو معاہدہ ان کے ساتھ ہوا اسے پورا کرو یہ عدل ہے بیشك اﷲ تعالی اقساط والوں کودوست رکھتاہے جو وفائے عہد سے عدل کرتے ہیں۔
اگرکہئے معاہد سے وفائے عہد بھی واجب ہے نہ صرف رخصت اقول وفا واجب ہے اتمام مدت واجب نہیںمصلحت ہو تو نبذ جائزقال تعالی:" فانبذ الیہم علی سواء " (ان کی طرف یکساں حالت پر نبذ کردو عــــہ ۔اب ایراد بھی نہ رہا اور بروقسط دو جدا چیزیں ہوگئیںاور"" ان اللہ یحب المقسطین ﴿۸﴾ ""یہاں بھی بلا تکلف ہے۔
عــــہ:جن کفار سے ایك مدت تك معاہدہ ہو او رمصلحت اسلام اس کا ترك چاہےفرض ہے کہ ان کو اطلاع کردی جائے ہوشیار ہوجاؤ اب ہم تم سے معاہدہ رکھنا نہیں چاہتے اس کا نام نبذ ہئے اس میں فرض ہے کہ اگر اس وقت وہ امن کی جگہ نہ ہوں تو اتنی مہلت دی جائے کہ وہ اپنی امان کی جگہ پہنچ جائیںاور اگر (باقی اگلے صفحہ پر)
حوالہ / References
القرآن الکریم ۵ /۸
تنویر المقباس من تفسیر ابن عباس زیر آیہ لاینہٰکم اﷲ عن الذین الخ مصطفی البابی مصر ص۳۵۱
القرآن الکریم ۸ /۵۸
تنویر المقباس من تفسیر ابن عباس زیر آیہ لاینہٰکم اﷲ عن الذین الخ مصطفی البابی مصر ص۳۵۱
القرآن الکریم ۸ /۵۸
اور اسے ماثور ہونے کا بھی شرف حاصل اگرچہ سند ضعیف ہے تو یہی اسلم واقوی ہے۔
سوم عدل سے مراد صرف عدل بالبر ہےابن جریر ومعالم وخازن میں ہے:تعدلوا فیہم بالاحسان والبر (ان سے انصاف کا برتاؤ کرو بھلائی اور نیکی کے ساتھ۔ت)ابن العربی وقرطبی وشربینی ونیشاپوری وجمل نے اس کی یوں توجیہ کی اقساط قسط بمعنی حصہ سے یعنی اپنے مال سے کچھ دینا۔
وانا اقول: وباﷲ التوفیق(میں کہتاہوں او رتوفیق اﷲ تعالی سے ہے۔ت)ممکن ہے کہ عدل سے عدل فی البر مراد ہونہ کہ بالبر اسماء بنت صدیق رضی اﷲ تعالی عنہماکی ماں عہد معاہدہ میں آتی ہے یہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے اس سے صلہ کا مسئلہ پوچھتی ہیں اس پر یہ آیہ کریمہ اترتی ہے وہ اگر کچھ ہدیہ نہ لاتی یہ اپنی طرف سے صلہ کرتیں یا جتنا وہ لاتی اس سے زائد یہ دیتیں تو کل یا قدر زائد۔ان کی طرف سے احسان ہوتا یہ بر ہےاتناہی دیتیں تو دینے میں عدل یعنی مساوات ہوتییہ اقساط ہےآیہ کریمہ نے معاہد سے دونوں صورتوں کی اجازت فرمائی اب یہ آیت زیادت ومساوات دونوں کی اجازت اور ان میں تقدیم ذکر زیادت میں آیت تحیت کی نظیر ہوگی" و اذا حییتم بتحیۃ فحیوا باحسن منہا او ردوہا " جب تمھیں سلام کیا جائے تو ا س سے زیادہ الفاظ جواب میں کہو یا اتنے ہیواﷲ تعالی اعلم بمرادہیہ ہے بتوفیق اﷲ تعالیتفسیر کریمہ ممتحنہ میں تمام کلام کہ ان اوراق کے غیر میں نہ ملے گا والحمد ﷲ حمدا کثیرا طیبا مبارکا فیہ وصلی اﷲ تعالی علی سیدنا ومولنا والہ وذویہ امین والحمدﷲ رب العالمین۔بالجملہ عطر ارشادات ائمہ ونتیجہ تنقیحات مہمہ یہ ہوا کہ کریمہ ممتحنہ میں اگر قتال سے
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)باطمینان معاہدہ وہ اپنے قلعے خراب کرچکے ہوں تو فرض ہے کہ اتنی مدت دی جائے جس میں وہ اپنے قلعے درست کرلیں یہاں سے یکساں حالت کے معنی کھل گئے یعنی یہ نہ ہو کہ اپنا سامان ٹھیك کرکے ان کی غفلت میں نبذ کردو اور انھیں درستی سامان کی مہلت نہ دویہ ہے اسلام کا انصاف والحمدﷲ ۱۲ منہ غفرلہ۔
سوم عدل سے مراد صرف عدل بالبر ہےابن جریر ومعالم وخازن میں ہے:تعدلوا فیہم بالاحسان والبر (ان سے انصاف کا برتاؤ کرو بھلائی اور نیکی کے ساتھ۔ت)ابن العربی وقرطبی وشربینی ونیشاپوری وجمل نے اس کی یوں توجیہ کی اقساط قسط بمعنی حصہ سے یعنی اپنے مال سے کچھ دینا۔
وانا اقول: وباﷲ التوفیق(میں کہتاہوں او رتوفیق اﷲ تعالی سے ہے۔ت)ممکن ہے کہ عدل سے عدل فی البر مراد ہونہ کہ بالبر اسماء بنت صدیق رضی اﷲ تعالی عنہماکی ماں عہد معاہدہ میں آتی ہے یہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے اس سے صلہ کا مسئلہ پوچھتی ہیں اس پر یہ آیہ کریمہ اترتی ہے وہ اگر کچھ ہدیہ نہ لاتی یہ اپنی طرف سے صلہ کرتیں یا جتنا وہ لاتی اس سے زائد یہ دیتیں تو کل یا قدر زائد۔ان کی طرف سے احسان ہوتا یہ بر ہےاتناہی دیتیں تو دینے میں عدل یعنی مساوات ہوتییہ اقساط ہےآیہ کریمہ نے معاہد سے دونوں صورتوں کی اجازت فرمائی اب یہ آیت زیادت ومساوات دونوں کی اجازت اور ان میں تقدیم ذکر زیادت میں آیت تحیت کی نظیر ہوگی" و اذا حییتم بتحیۃ فحیوا باحسن منہا او ردوہا " جب تمھیں سلام کیا جائے تو ا س سے زیادہ الفاظ جواب میں کہو یا اتنے ہیواﷲ تعالی اعلم بمرادہیہ ہے بتوفیق اﷲ تعالیتفسیر کریمہ ممتحنہ میں تمام کلام کہ ان اوراق کے غیر میں نہ ملے گا والحمد ﷲ حمدا کثیرا طیبا مبارکا فیہ وصلی اﷲ تعالی علی سیدنا ومولنا والہ وذویہ امین والحمدﷲ رب العالمین۔بالجملہ عطر ارشادات ائمہ ونتیجہ تنقیحات مہمہ یہ ہوا کہ کریمہ ممتحنہ میں اگر قتال سے
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)باطمینان معاہدہ وہ اپنے قلعے خراب کرچکے ہوں تو فرض ہے کہ اتنی مدت دی جائے جس میں وہ اپنے قلعے درست کرلیں یہاں سے یکساں حالت کے معنی کھل گئے یعنی یہ نہ ہو کہ اپنا سامان ٹھیك کرکے ان کی غفلت میں نبذ کردو اور انھیں درستی سامان کی مہلت نہ دویہ ہے اسلام کا انصاف والحمدﷲ ۱۲ منہ غفرلہ۔
حوالہ / References
جامع البیان(تفسیر ابن جریر)زیر آیہ لاینہٰکم اﷲ عن الذین الخ المطبعۃ المیمنۃ مصر ۲۸/ ۴۰
القرآن الکریم ۴ /۸۶
القرآن الکریم ۴ /۸۶
قتال بالفعل مراد ہو تو یقینا آیات کثیرہ سے منسوخ جس کے نسخ پر تصریحات جلیلہ مذکورہ کے علاوہ مبسوط و عنایہ وکفایہ وتبیین وبحرالرائق وردالمحتار کے نصوص کا اوراضافہ ہوایہ جواب اول تھا اور اگر مطلق قتال مقصود کہ ہر حربی غیر معاہدمیں موجودتو ضرور آیت محکم اور مشرکین ہند کو اس میں داخل نہ کرنا شدید ظلم وستم یہ جواب دوم ہوااور یہی مذہب جمہور ومشرب منصور ومسلك ائمہ حنفیہ صدور ہے مسلم حنفی بننے والی ہندو پرستی نے نہ حنفیت قائم رکھی نہ حنیفیتنہ مذہب ہی برقرار رکھا نہ شریعت" ذلک ہو الخسران المبین ﴿۱۱﴾ "ولاحول ولاقوۃ الا باﷲ العلی العظیمدو جواب توہوئے۔
لیڈروں کو تیسرا جواب
ثالثا: وائے غربت اسلام وانصافکیاکوئی ان سے اتنا کہنے والا نہیں کہ ہندوؤں کے بالفعل محاربین سے بھی تمھیں عداوت کا اقرار رہاتھی کے دانت ہیںکھانے کے اور دکھانے کے اورکیا تمھیں نہیں ہوکہ جب وہ محاربین قاتلین ظالمین کافرین گرفتار ہوئے ان پر ثبوت اشد جرائم کے انبار ہوئے تمھاری چھاتی دھڑکیتمھاری مامتا کی پھڑکیگھبرائےتلملائےسٹپٹائےجیسے اکلوتے کی پھانسی سن کر ماں کو درد آئےفورا گرماگرم دھواں دھار ریزولیوشن عــــہ پاس کیاہے کہ ہے ہے یہ ہمارے پیارے ہیں۔یہ ہماری آنکھ کے تارے ہیںانھوں نے مسلمانوں کو ذبح کیاجلایا پھونکامسجدیں ڈھائیںقرآن پھاڑےیہ ہماری ان کی خانگی شکر رنجی تھیہمیں اس کی مطلق پرواہ نہیںیہ ہمارے سگے ہیں کوئی سوتیا ڈاہ نہیںماں بیٹی کی لڑائی دودھ کی ملائیبرتن ایك دوسرے سے کھڑك ہی جاتاہے ان کے درد سے ہمیں غش پرغش آتاہے۔ان کابال بیکا ہوا اور ہمارا کلیجہ پھٹاﷲ ان کو معافی دی جائےفورا ان سے درگزر کی جائےیہ ہے آیہ ممتحنہ پر تمھارا عملیہ ہے" الذین قتلوکم فی الدین "سے تمھاری جنگ وجدل۔یہ ہے واحدقہار کو تمھارا پیٹھ دینایہ ہے کلام جبار سے تمھارا مچیٹا لینا ان تمھارے سگوں نے قرآن مجید پھاڑےتم نے اس کے احکام پاؤں تلے مل ڈالےانھوں نے مسجدیں ڈھائیںتم نے رب المسجد کے ارشاددولتیوں سے کچل ڈالےقرآن چھوڑ ا مصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے منہ موڑا اور ان کے دشمنوں ان کے اعداء سے رشتہ جوڑایہ تمھیں اسلام کا بدلا ملا۔
عــــہ:بعض مفتیان بے انصاف اسے دیکھیں جنھوں نے لکھا تھا"اگر کوئی ہندو اس کے خلاف ہو تو اس صورت میں بھی یہی حکم ہے کہ محارب سے بروقسط ناجائز۔ ع
یہی اقرار یہی قولیہی وعدہ تھا۔الخ حشمت علی عفی عنہ
لیڈروں کو تیسرا جواب
ثالثا: وائے غربت اسلام وانصافکیاکوئی ان سے اتنا کہنے والا نہیں کہ ہندوؤں کے بالفعل محاربین سے بھی تمھیں عداوت کا اقرار رہاتھی کے دانت ہیںکھانے کے اور دکھانے کے اورکیا تمھیں نہیں ہوکہ جب وہ محاربین قاتلین ظالمین کافرین گرفتار ہوئے ان پر ثبوت اشد جرائم کے انبار ہوئے تمھاری چھاتی دھڑکیتمھاری مامتا کی پھڑکیگھبرائےتلملائےسٹپٹائےجیسے اکلوتے کی پھانسی سن کر ماں کو درد آئےفورا گرماگرم دھواں دھار ریزولیوشن عــــہ پاس کیاہے کہ ہے ہے یہ ہمارے پیارے ہیں۔یہ ہماری آنکھ کے تارے ہیںانھوں نے مسلمانوں کو ذبح کیاجلایا پھونکامسجدیں ڈھائیںقرآن پھاڑےیہ ہماری ان کی خانگی شکر رنجی تھیہمیں اس کی مطلق پرواہ نہیںیہ ہمارے سگے ہیں کوئی سوتیا ڈاہ نہیںماں بیٹی کی لڑائی دودھ کی ملائیبرتن ایك دوسرے سے کھڑك ہی جاتاہے ان کے درد سے ہمیں غش پرغش آتاہے۔ان کابال بیکا ہوا اور ہمارا کلیجہ پھٹاﷲ ان کو معافی دی جائےفورا ان سے درگزر کی جائےیہ ہے آیہ ممتحنہ پر تمھارا عملیہ ہے" الذین قتلوکم فی الدین "سے تمھاری جنگ وجدل۔یہ ہے واحدقہار کو تمھارا پیٹھ دینایہ ہے کلام جبار سے تمھارا مچیٹا لینا ان تمھارے سگوں نے قرآن مجید پھاڑےتم نے اس کے احکام پاؤں تلے مل ڈالےانھوں نے مسجدیں ڈھائیںتم نے رب المسجد کے ارشاددولتیوں سے کچل ڈالےقرآن چھوڑ ا مصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے منہ موڑا اور ان کے دشمنوں ان کے اعداء سے رشتہ جوڑایہ تمھیں اسلام کا بدلا ملا۔
عــــہ:بعض مفتیان بے انصاف اسے دیکھیں جنھوں نے لکھا تھا"اگر کوئی ہندو اس کے خلاف ہو تو اس صورت میں بھی یہی حکم ہے کہ محارب سے بروقسط ناجائز۔ ع
یہی اقرار یہی قولیہی وعدہ تھا۔الخ حشمت علی عفی عنہ
اف" بئس للظلمین بدلا ﴿۵۰﴾ " اف ہے تم پر ظالموں نے کیاہی برا عوض پایا۔
آفتاب کی طرح روشن ہوا کہ تمھیں آیہ ممتحنہ پڑھنے کا کیا منہ ہے تمھارا پڑھنا یقینا مصداق"رب تالی القرآن و القرآن یلعنہ" (بہتیرے وہ ہیں کہ وہ تو قرآن پڑھتے ہیں اور قرآن انھیں لعنت فررہاہے)ہے کیا اسی آیت کاتتمہ نہیں:
" ومن یتولہم منکم فاولئک ہم الظلمون ﴿۲۳﴾" تم میں جو ان سے دوستی رکھے تو وہی پکے ظالم ہیں
جو ان سے موالات کرے وہی ظالم ہے تم نے خاص محاربین بالفعل مقاتلین فی الدین سے موالات کی تو تم بحکم قرآن ظالمین ہوئے یانہیںاوریہی قرآن فرماتاہے:
" الا لعنۃ اللہ علی الظلمین ﴿۱۸﴾
" سن لو ظالموں پر اﷲ کی لعنت۔
توبحکم قرآن ایسے لوگ لعین ہوئے یا نہیں اب دو فتوے اب کرو آیہ ممتحنہ کا دعوی:
" واللہ لایہدی القوم الظلمین ﴿۱۰۹﴾"
" ومن الناس من یقول امنا باللہ و بالیوم الاخر وما ہم بمؤمنین﴿۸﴾ یخدعون اللہ والذین امنوا وما یخدعون الا انفسہم وما یشعرون﴿۹﴾ فی قلوبہم مرض فزادہم اللہ مرضا ولہم عذاب الیم ۬ بما کانوا یکذبون﴿۱۰﴾ " اور اﷲ تعالی ظالموں کو راہ نہیں دکھاتا کچھ لوگ کہتے ہیں ہم اﷲ اور قیامت پر ایمان لائے اورانھیں ایمان نہیںاﷲ تعالی اور مسلمانوں سے فریب کرتے ہیں اور حقیقت میں وہ اپنی ہی جانوں کو فریب میں ڈالتے ہیں اور انھیں خبر نہیںان کے دلوں میں بیماری ہے تو اﷲ نے ان کی بیماری اور بڑھائی اور ان کےلئے دردناك عذاب ہے ان کے جھوٹ کا بدلا۔
لیڈروں کو چوتھا جواب:
رابعا: ان صاحبوں سے یہ بھی پوچھ دیکھئے کہ سب جانے دو کریمہ" لا ینہىکم "ہر مشرك غیر محارب کو عام ہوکر محکم ہی سہی اور مشرکین ہند میں کوئی بھی محارب بالفعل نہ سہیاب دیکھو تمھارے ہاتھ میں قرآن سے کیا ہےخالی ہوا۔
آفتاب کی طرح روشن ہوا کہ تمھیں آیہ ممتحنہ پڑھنے کا کیا منہ ہے تمھارا پڑھنا یقینا مصداق"رب تالی القرآن و القرآن یلعنہ" (بہتیرے وہ ہیں کہ وہ تو قرآن پڑھتے ہیں اور قرآن انھیں لعنت فررہاہے)ہے کیا اسی آیت کاتتمہ نہیں:
" ومن یتولہم منکم فاولئک ہم الظلمون ﴿۲۳﴾" تم میں جو ان سے دوستی رکھے تو وہی پکے ظالم ہیں
جو ان سے موالات کرے وہی ظالم ہے تم نے خاص محاربین بالفعل مقاتلین فی الدین سے موالات کی تو تم بحکم قرآن ظالمین ہوئے یانہیںاوریہی قرآن فرماتاہے:
" الا لعنۃ اللہ علی الظلمین ﴿۱۸﴾
" سن لو ظالموں پر اﷲ کی لعنت۔
توبحکم قرآن ایسے لوگ لعین ہوئے یا نہیں اب دو فتوے اب کرو آیہ ممتحنہ کا دعوی:
" واللہ لایہدی القوم الظلمین ﴿۱۰۹﴾"
" ومن الناس من یقول امنا باللہ و بالیوم الاخر وما ہم بمؤمنین﴿۸﴾ یخدعون اللہ والذین امنوا وما یخدعون الا انفسہم وما یشعرون﴿۹﴾ فی قلوبہم مرض فزادہم اللہ مرضا ولہم عذاب الیم ۬ بما کانوا یکذبون﴿۱۰﴾ " اور اﷲ تعالی ظالموں کو راہ نہیں دکھاتا کچھ لوگ کہتے ہیں ہم اﷲ اور قیامت پر ایمان لائے اورانھیں ایمان نہیںاﷲ تعالی اور مسلمانوں سے فریب کرتے ہیں اور حقیقت میں وہ اپنی ہی جانوں کو فریب میں ڈالتے ہیں اور انھیں خبر نہیںان کے دلوں میں بیماری ہے تو اﷲ نے ان کی بیماری اور بڑھائی اور ان کےلئے دردناك عذاب ہے ان کے جھوٹ کا بدلا۔
لیڈروں کو چوتھا جواب:
رابعا: ان صاحبوں سے یہ بھی پوچھ دیکھئے کہ سب جانے دو کریمہ" لا ینہىکم "ہر مشرك غیر محارب کو عام ہوکر محکم ہی سہی اور مشرکین ہند میں کوئی بھی محارب بالفعل نہ سہیاب دیکھو تمھارے ہاتھ میں قرآن سے کیا ہےخالی ہوا۔
حوالہ / References
القرآن الکریم ۱۸ /۵۰
المدخل لابن الہحاج الکلام علی جمع القرآن دارالکتب العربی بیروت ۱/ ۸۵ و ۲/ ۳۰۴
القرآن الکریم ۹ /۲۳
القرآن الکریم ۱۱ /۱۸
القرآن الکریم ۹ /۱۰۹
القرآن الکریم ۲ /۸ تا ۱۰
المدخل لابن الہحاج الکلام علی جمع القرآن دارالکتب العربی بیروت ۱/ ۸۵ و ۲/ ۳۰۴
القرآن الکریم ۹ /۲۳
القرآن الکریم ۱۱ /۱۸
القرآن الکریم ۹ /۱۰۹
القرآن الکریم ۲ /۸ تا ۱۰
" وافـدتہم ہواء ﴿۴۳﴾ " اور ان کے دل اڑے ہوئے ہیں۔
کریمہ " لا ینہىکم "نے کچھ نیك برتاؤ مالی مواسات ہی کی تو رخصت دی یا یہ ۱ فرمایا کہ انھیں اپنا انصار بناؤ۲ان کے گہرے یارغار ہوجاؤ۳ان کے طاغوت کو اپنے دین کاامام ٹھہراؤ۴ان کی جے پکارو۵ان کی حمد کے نعرے مارو۶انھیں مساجد مسلمین میں بادب وتعظیم پہنچاکر ۷مسند مصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پر لے کاجا کر۸مسلمانوں سے اونچا اٹھاکر واعظ وہادی مسلمان بناؤ ۹ان کا مردار جیفہ اٹھاؤ۱۰کندھے پر ٹکٹکی زبان پر جے یوں مرگھٹ میں پہنچاؤ۱۱مساجد کو ان کا ماتم گاہ بناؤ ۱۲ان کے لئے دعائے مغفرت و۱۳نماز جنازہ کے اعلان کرو۱۴ان کی موت پر بازار بند کرو سوگ مناؤ۱۵ان سے اپنے ماتھے پر قشقے لگواؤ۱۶ان کی خوشی کو شعار اسلام بند کراؤ۱۷ گائے کا گوشت کھانا گناہ ٹھہراؤ۱۸کھانے والوں کو کمینہ بتاؤ۱۹ اسے مثل سور کے گناؤ۲۰خدا کی قسم کی جگہ رام دہائی گاؤ۲۱واحد قہار کے اسماء میں الحاد رچاؤ۲۲اسے معاذاﷲ رام عــــہ یعنی ہر چیز میں رما ہوا ہر شے میں حلول کئے ہوا ٹھہراؤ۔
عــــہ:یہاں سے صریح گمراہی ظاہر ہوئی ان جاہل مفتیوں کی جنھوں نے کہا کہ"اس میں کیا حرج ہے رام خدا ہی کو تو کہتے ہیں"اور جب تنبیہ کی گئی کہ رام لچھن وسیتارام میں کون سے لکھا کہ"بظاہر رام ہنود کے یہاں خدا کوکہتے ہیں اور خدا کی دہائی دینا جائز ہے"اتحاد منانے کا اثر ہے کہ وہ جو شدید گالی رب العزت کو دینے میں مقبول وشیر مادر ہےخدا کو تو رام بنالیاکیا اپنے آپ کو بھی مولوی کی جگہ پنڈت اور عبدمضاف باحداسماء الہیہ کے بدلے رامداس اور اپنی مسجد کو شوالہ اور اپنے مدرسہ کو پاٹ شالا کہنا روا رکھیں گےکیا ان لفظوں کی جگہ مولوی عبد۔۔۔۔صاحب نے اپنے مدرسہ کی مسجد میں وعظ فرمایا یوں کہنے کی اجازت دیں گے کہ پنڈت رام داس جی نے اپنے پاٹ شالا کے شوالے میں کتھا بکھائی یاکم از کم اتنا کہ اپنے لئے مولوی صاحب السلام علیکم کے بدلے پنڈت جی نمتکار کہنا روارکھیں گےاوریہی نہیں اپنے جنازوں کے ساتھ کلمہ طیبہ کی جگہ رام رام ست پکاریں گے کہ آخر ہنود کے نزدیك رام خدا ہی توہے اور خدا ضرور حق ہےنہ اجازت دیں گے تو کیوں اﷲ کو رام کہنا جائزاور تمھارے لئے ویسے ہی ترجمے کرنا حرام معلوم ہوااﷲ عزوجل کی عظمت سے اپنی عظمت دل میں زائد اور بہت زائد ہےیہ ترجمہ کا سلسلہ تو بہت اونچا چلتاہے مگر بے ادبوں کی اسی قدر سزا ہے ۱۲ حشمت علی لکھنوی عفی عنہ۔
کریمہ " لا ینہىکم "نے کچھ نیك برتاؤ مالی مواسات ہی کی تو رخصت دی یا یہ ۱ فرمایا کہ انھیں اپنا انصار بناؤ۲ان کے گہرے یارغار ہوجاؤ۳ان کے طاغوت کو اپنے دین کاامام ٹھہراؤ۴ان کی جے پکارو۵ان کی حمد کے نعرے مارو۶انھیں مساجد مسلمین میں بادب وتعظیم پہنچاکر ۷مسند مصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پر لے کاجا کر۸مسلمانوں سے اونچا اٹھاکر واعظ وہادی مسلمان بناؤ ۹ان کا مردار جیفہ اٹھاؤ۱۰کندھے پر ٹکٹکی زبان پر جے یوں مرگھٹ میں پہنچاؤ۱۱مساجد کو ان کا ماتم گاہ بناؤ ۱۲ان کے لئے دعائے مغفرت و۱۳نماز جنازہ کے اعلان کرو۱۴ان کی موت پر بازار بند کرو سوگ مناؤ۱۵ان سے اپنے ماتھے پر قشقے لگواؤ۱۶ان کی خوشی کو شعار اسلام بند کراؤ۱۷ گائے کا گوشت کھانا گناہ ٹھہراؤ۱۸کھانے والوں کو کمینہ بتاؤ۱۹ اسے مثل سور کے گناؤ۲۰خدا کی قسم کی جگہ رام دہائی گاؤ۲۱واحد قہار کے اسماء میں الحاد رچاؤ۲۲اسے معاذاﷲ رام عــــہ یعنی ہر چیز میں رما ہوا ہر شے میں حلول کئے ہوا ٹھہراؤ۔
عــــہ:یہاں سے صریح گمراہی ظاہر ہوئی ان جاہل مفتیوں کی جنھوں نے کہا کہ"اس میں کیا حرج ہے رام خدا ہی کو تو کہتے ہیں"اور جب تنبیہ کی گئی کہ رام لچھن وسیتارام میں کون سے لکھا کہ"بظاہر رام ہنود کے یہاں خدا کوکہتے ہیں اور خدا کی دہائی دینا جائز ہے"اتحاد منانے کا اثر ہے کہ وہ جو شدید گالی رب العزت کو دینے میں مقبول وشیر مادر ہےخدا کو تو رام بنالیاکیا اپنے آپ کو بھی مولوی کی جگہ پنڈت اور عبدمضاف باحداسماء الہیہ کے بدلے رامداس اور اپنی مسجد کو شوالہ اور اپنے مدرسہ کو پاٹ شالا کہنا روا رکھیں گےکیا ان لفظوں کی جگہ مولوی عبد۔۔۔۔صاحب نے اپنے مدرسہ کی مسجد میں وعظ فرمایا یوں کہنے کی اجازت دیں گے کہ پنڈت رام داس جی نے اپنے پاٹ شالا کے شوالے میں کتھا بکھائی یاکم از کم اتنا کہ اپنے لئے مولوی صاحب السلام علیکم کے بدلے پنڈت جی نمتکار کہنا روارکھیں گےاوریہی نہیں اپنے جنازوں کے ساتھ کلمہ طیبہ کی جگہ رام رام ست پکاریں گے کہ آخر ہنود کے نزدیك رام خدا ہی توہے اور خدا ضرور حق ہےنہ اجازت دیں گے تو کیوں اﷲ کو رام کہنا جائزاور تمھارے لئے ویسے ہی ترجمے کرنا حرام معلوم ہوااﷲ عزوجل کی عظمت سے اپنی عظمت دل میں زائد اور بہت زائد ہےیہ ترجمہ کا سلسلہ تو بہت اونچا چلتاہے مگر بے ادبوں کی اسی قدر سزا ہے ۱۲ حشمت علی لکھنوی عفی عنہ۔
حوالہ / References
القرآن الکریم ۱۴ /۴۳
۲۳قرآن مجید کورامائن کے ساتھ ایك ڈولے میں لے جاؤ ۲۴دونوں کی پوجا کراؤ۲۵ان کے سرغنہ کو کہو خدا نے ان کو تمھارے پاس مذکر بناکر بھیجاہےیوں معنی نبوت جماؤاﷲ عزوجل عــــہ نے سید الانبیاء صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے تویہی فرمایا" انما انت مذکر ﴿۲۱﴾ " تم تونہیں مگر مذکر۔اور خدا نے مذکر بنا کر بھیجاہے اس نے معنی رسالت کا پورا نقشہ کھینچ دیاہاں لفظ بچایا ۲۶اسے یوں دکھایا نبوت ختم نہ ہوتی تو گاندھی جی نبی ہوتے ۲۷اور امام و پیشوا وبجائے مہدی موعود توصاف کہہ دیا بلکہ ۲۸اس کی حمد میں یہاں تك کہ اونچے اڑے کہ"خاموشی از ثنائے تو حد ثنائے تست"۲۹صاف کہہ دیا کہ"آج اگر تم نے ہندو بھائیوں کو خوش کرلیا تو اپنے خدا کوراضی کرلیاصاف کہہ دیا کہ"ہم ایسا مذہب بنانے کی فکر میں ہیں جو ہندو مسلم کا امتیاز اٹھادے گا۳۰صاف کہہ دیا کہ"ایسا مذہب چاہتے ہیں جو سنگم وپریاگ کو مقدس علامت ٹھہرائے گا"۳۱صاف کہہ دیاکہ"ہم نے قرآن مجید وحدیث کی تمام عمر بت پرستی پر نثار کردی"کیا کریمہ" لا ینہىکم "میں ان ملعونات وکفریات کی اجازت دی تھی۔
" و یلکم لا تفتروا علی اللہ کذبا فیسحتکم بعذاب "
" ومن اظلم ممن افتری علی اللہ کذبا اولئک یعرضون علی ربہم ویقول الاشہد ہؤلاء تمھاری خرابی ہو اﷲ پر جھوٹ نہ باندھو کہ وہ تمھیں عذاب میں بھون دے اور اس سے بڑھ کر ظالم کون جو اﷲ پر جھوٹ باندھے یہ ہیں وہ لوگ کہ اپنے رب کے حضور پیش کئے جائیں گے اور گواہ کہیں گے
عــــہ:یہاں سے صاف ظاہر ہوئی ان جاہل مفتیوں کی جنھوں نے لکھا"مذکر یاد دلانے کے معنی میں بولا جاتاہے پس اگر کسی کو مذکر یعنی کوئی بات یاد دلانے کہا جائے تو جائز ہے"مسلمانو! ﷲ انصاف کہاں تو کوئی بات یاد دلانے والا اور کہاں یہ کہ"خدا نے ان کو مذکر بناکرتمھارے پاس بھیجا ہے گاندھی کو پیشوا نہیں بلکہ قدرت نے تم کو سبق پڑھانے والا مدبر بنا کر بھیجایہ گلفشانی جدید لیڈر بننے والے جناب عبدالماجد بدایونی کی ہے جو جلسہ جمیعت علمائے ہند دہلی میں ہوئی اور اخبار فتح دہلی ۲۴ نومبر میں چھپی انھیں کی حمایت میں مفتی مذکور کا وہ فتوی ہے مگر معلوم نہیں ان مفتی صاحب فقیہ کی کتاب علم یا ان کے طورپر پنڈت رام داس جی شاستری کی ودیا پشتك میں مولوی عبدالماجد کو پانڈے شری داس کہنے کا بھی جواز ہے یا ان کے کھیلنے کے لئے صرف بارگاہ قہار بے نیاز ہے ۱۲ حمشت علی لکھنوی عفی عنہ۔
" و یلکم لا تفتروا علی اللہ کذبا فیسحتکم بعذاب "
" ومن اظلم ممن افتری علی اللہ کذبا اولئک یعرضون علی ربہم ویقول الاشہد ہؤلاء تمھاری خرابی ہو اﷲ پر جھوٹ نہ باندھو کہ وہ تمھیں عذاب میں بھون دے اور اس سے بڑھ کر ظالم کون جو اﷲ پر جھوٹ باندھے یہ ہیں وہ لوگ کہ اپنے رب کے حضور پیش کئے جائیں گے اور گواہ کہیں گے
عــــہ:یہاں سے صاف ظاہر ہوئی ان جاہل مفتیوں کی جنھوں نے لکھا"مذکر یاد دلانے کے معنی میں بولا جاتاہے پس اگر کسی کو مذکر یعنی کوئی بات یاد دلانے کہا جائے تو جائز ہے"مسلمانو! ﷲ انصاف کہاں تو کوئی بات یاد دلانے والا اور کہاں یہ کہ"خدا نے ان کو مذکر بناکرتمھارے پاس بھیجا ہے گاندھی کو پیشوا نہیں بلکہ قدرت نے تم کو سبق پڑھانے والا مدبر بنا کر بھیجایہ گلفشانی جدید لیڈر بننے والے جناب عبدالماجد بدایونی کی ہے جو جلسہ جمیعت علمائے ہند دہلی میں ہوئی اور اخبار فتح دہلی ۲۴ نومبر میں چھپی انھیں کی حمایت میں مفتی مذکور کا وہ فتوی ہے مگر معلوم نہیں ان مفتی صاحب فقیہ کی کتاب علم یا ان کے طورپر پنڈت رام داس جی شاستری کی ودیا پشتك میں مولوی عبدالماجد کو پانڈے شری داس کہنے کا بھی جواز ہے یا ان کے کھیلنے کے لئے صرف بارگاہ قہار بے نیاز ہے ۱۲ حمشت علی لکھنوی عفی عنہ۔
" الذین کذبوا علی ربہم الا لعنۃ اللہ علی الظلمین ﴿۱۸﴾ الذین یصدون عن سبیل اللہ و یبغونہا عوجا وہم بالاخرۃ ہم کفرون ﴿۱۹﴾
" یہ ہیں وہ جنھوں نے اپنے رب پر جھوٹ باندھا تھا سن لو ظالموں پر اﷲ کی لعنت وہ جو اﷲ کی راہ سے روکتے ہیں اور اس میں کجی چاہتے ہیں اور وہی آخرت کے منکر ہیں۔
دیکھی تم نے آئینہ ممتحنہ میں اپنی صورت:
" وذلک جزؤا الظلمین ﴿۲۹﴾
" " کذلک العذاب و لعذاب الاخرۃ اکبر لو کانوا یعلمون ﴿۳۳﴾ " یہ سزا ہے ظالموں کیعذاب ایساہوتاہے اور بیشك آخرت کا عذاب بہت بڑا ہے کیا اچھا ہوتا اگر وہ جانتے۔
لیڈروں سے ضروری سوال:
سوال ضروری لیڈران اور پارٹی کو اب تو کھلا کہ انھوں نے یقینا دشمنان خدا اور رسول سے وداد واتحاد منایا اور ان کاکوئی عذر بارد انھیں کام نہ آیا اب قرآن کریم سے اپنا حکم بتائیںاوپر آیہ کریمہ تلاوت ہوئی:
" لا تجد قوما یؤمنون باللہ و الیوم الاخر یوادون من حاد اللہ و رسولہ " تم نہ پاؤ گے جو اﷲ اور قیامت پرایمان رکھتے ہیں کہ مخالفان خدا ورسول سے وداد کریں۔
دوسری آیات میں فرمایا:
" تری کثیرا منہم یتولون الذین کفروا لبئس ما قدمت لہم انفسہم ان سخط اللہ علیہم وفی العذاب ہم خلدون ﴿۸۰﴾ ولو کانوا یؤمنون باللہ والنبی وما انزل الیہ ما اتخذوہم اولیاء ولکن کثیرا منہم فسقون ﴿۸۱﴾ تم ان میں بہت کو دیکھو گے کہ کافروں سے دوستی کرتے ہیں بیشك کیا ہی بری چیز ہے جو خود انھوں نے اپنے لئے تیا رکییہ کہ ان پر اﷲ کا غضب اترا اور وہ ہمیشہ عذاب میں رہیں گے اور اگر انھیں اﷲ ونبی وقرآن پر ایمان ہوتا تو کافروں کودوست نہ بناتے مگر ہے کہ ان میں بہت سے فاسق ہیں۔
" یہ ہیں وہ جنھوں نے اپنے رب پر جھوٹ باندھا تھا سن لو ظالموں پر اﷲ کی لعنت وہ جو اﷲ کی راہ سے روکتے ہیں اور اس میں کجی چاہتے ہیں اور وہی آخرت کے منکر ہیں۔
دیکھی تم نے آئینہ ممتحنہ میں اپنی صورت:
" وذلک جزؤا الظلمین ﴿۲۹﴾
" " کذلک العذاب و لعذاب الاخرۃ اکبر لو کانوا یعلمون ﴿۳۳﴾ " یہ سزا ہے ظالموں کیعذاب ایساہوتاہے اور بیشك آخرت کا عذاب بہت بڑا ہے کیا اچھا ہوتا اگر وہ جانتے۔
لیڈروں سے ضروری سوال:
سوال ضروری لیڈران اور پارٹی کو اب تو کھلا کہ انھوں نے یقینا دشمنان خدا اور رسول سے وداد واتحاد منایا اور ان کاکوئی عذر بارد انھیں کام نہ آیا اب قرآن کریم سے اپنا حکم بتائیںاوپر آیہ کریمہ تلاوت ہوئی:
" لا تجد قوما یؤمنون باللہ و الیوم الاخر یوادون من حاد اللہ و رسولہ " تم نہ پاؤ گے جو اﷲ اور قیامت پرایمان رکھتے ہیں کہ مخالفان خدا ورسول سے وداد کریں۔
دوسری آیات میں فرمایا:
" تری کثیرا منہم یتولون الذین کفروا لبئس ما قدمت لہم انفسہم ان سخط اللہ علیہم وفی العذاب ہم خلدون ﴿۸۰﴾ ولو کانوا یؤمنون باللہ والنبی وما انزل الیہ ما اتخذوہم اولیاء ولکن کثیرا منہم فسقون ﴿۸۱﴾ تم ان میں بہت کو دیکھو گے کہ کافروں سے دوستی کرتے ہیں بیشك کیا ہی بری چیز ہے جو خود انھوں نے اپنے لئے تیا رکییہ کہ ان پر اﷲ کا غضب اترا اور وہ ہمیشہ عذاب میں رہیں گے اور اگر انھیں اﷲ ونبی وقرآن پر ایمان ہوتا تو کافروں کودوست نہ بناتے مگر ہے کہ ان میں بہت سے فاسق ہیں۔
حوالہ / References
القرآن الکریم ۱۱ /۱۸ و ۱۹
القرآن الکریم ۵ /۲۹
القرآن الکریم ۶۸ /۳۳
القرآن الکریم ۵۸ /۲۲
القرآن الکریم ۵ /۸۰،۸۱
القرآن الکریم ۵ /۲۹
القرآن الکریم ۶۸ /۳۳
القرآن الکریم ۵۸ /۲۲
القرآن الکریم ۵ /۸۰،۸۱
ترک موالات میں لیڈروں کی افراط و تفریط:
فرمائیے اﷲ واحد قہار سچا کہ ہندوؤں سے وداد و اتحاد منانے والے ہر گز مسلمان نہیں انھیں اﷲ ونبی وقرآن پر ایمان نہیںیا معاذاﷲ یہ سچے کہ ہم توٹکسالی مسلمان ہیں ہم تو قوم کے لیڈران وریفارمران ہیںمسلمان تو یہی کہے گا کہ اﷲ سچا"ومن اصدق من اﷲ حدیثا"غرض ترك موالات میں افراط کی تو وہ کہ مجرد معاملت حرام قطعی اور تفریط کی تو یہ کہ ہندوؤں سے وداد واتحاد واجب بلکہ ان کی غلامی وانقیاد فرض بلکہ مدار ایمان۔
فسبحن مقلب القلوب والابصار۔ پاکی ہے اسے جو دلوں اور آنکھوں کو پلٹ دیتاہے۔
اول میں تحریم حلال کیدوم میں تحلیل حرام بلکہ افتراض حرام اور ان دونوں کے حکم ظاہر وطشت ازبام۔
انگریزوں کو خوش کرنے کے لئے بہتانی الزام کا رد:
ﷲ انصاف ! کیا یہاں اہل حق نے انگریزوں کے خوش کرنے کو معاذاﷲ مسلمانوں کا تباہ کرنے والا مسئلہ نکالا یا ان کے اہل باطل نے مشرکین کے خوش کرنے کو صراحۃ کلام اﷲ و احکام اﷲ کو پاؤں کے نیچے مل ڈالامسلمان کو خدالگتی کہنی چاہئے ہندؤوں کی غلامی سے چھڑانے کو جو فتوی اہلسنت نے دئیے کلام الہی واحکام الہی بیان کئے یہ تو ان کے دھرم میں انگریزوں کو خوش کرنے کے ہوئے وہ جو پیر نیچر کے دور میں نصرانیت کی غلامی ابچی تھی جسے اب آدھی صدی کے بعد لیڈررونے بیٹھے ہیں۔کیا اس کا رد علمائے اہل سنت نے نہ کیاوہ کس کو خوش کرنے کو تھاکیا بکثرت رسائل ومسائل اس کے رد میں نہ لکھے گئےحتی کہ اس کے بچے ندوے کے رد میں پچاس۵۰ سے زائد رسائل شائع کئے جن میں جابجا اس نیم نصرانیت کابھی رد بلیغ ہےیہ کس کے خوش کرنے کو تھاکیا صمصام حسن میں نہ تھا
نیچریاں راست خدادر کمند نیچر وقانون وراپائے بند
سر نتواند کہ زنیچر کشد خط بخدائیش سنیچر کشد
کیست سنیچر سی وایس آئی ست گول بکول آمدہ نیچر پست
چوں شدہ استارہ ہند آن دغل نحس وبلندآمدہ ہمچوں زحل
عرش وفلك جن وملك حشرتن ناروجنان جملہ غلط کردوظن
کیست نبی پر دل پرجوش گو وحی چہ باشد سخن جوش او
برزدہ برہم ہمہ از اصل وفرع دین نو آورد و نوآورد شرع
ریش حرام ست ودم فرق فرض حج سوئے انگلنڈ بودقطع ارض
گفت بیا قوم شنو قوم من ہیں سوئے اعزاز بدوقوم من
فرمائیے اﷲ واحد قہار سچا کہ ہندوؤں سے وداد و اتحاد منانے والے ہر گز مسلمان نہیں انھیں اﷲ ونبی وقرآن پر ایمان نہیںیا معاذاﷲ یہ سچے کہ ہم توٹکسالی مسلمان ہیں ہم تو قوم کے لیڈران وریفارمران ہیںمسلمان تو یہی کہے گا کہ اﷲ سچا"ومن اصدق من اﷲ حدیثا"غرض ترك موالات میں افراط کی تو وہ کہ مجرد معاملت حرام قطعی اور تفریط کی تو یہ کہ ہندوؤں سے وداد واتحاد واجب بلکہ ان کی غلامی وانقیاد فرض بلکہ مدار ایمان۔
فسبحن مقلب القلوب والابصار۔ پاکی ہے اسے جو دلوں اور آنکھوں کو پلٹ دیتاہے۔
اول میں تحریم حلال کیدوم میں تحلیل حرام بلکہ افتراض حرام اور ان دونوں کے حکم ظاہر وطشت ازبام۔
انگریزوں کو خوش کرنے کے لئے بہتانی الزام کا رد:
ﷲ انصاف ! کیا یہاں اہل حق نے انگریزوں کے خوش کرنے کو معاذاﷲ مسلمانوں کا تباہ کرنے والا مسئلہ نکالا یا ان کے اہل باطل نے مشرکین کے خوش کرنے کو صراحۃ کلام اﷲ و احکام اﷲ کو پاؤں کے نیچے مل ڈالامسلمان کو خدالگتی کہنی چاہئے ہندؤوں کی غلامی سے چھڑانے کو جو فتوی اہلسنت نے دئیے کلام الہی واحکام الہی بیان کئے یہ تو ان کے دھرم میں انگریزوں کو خوش کرنے کے ہوئے وہ جو پیر نیچر کے دور میں نصرانیت کی غلامی ابچی تھی جسے اب آدھی صدی کے بعد لیڈررونے بیٹھے ہیں۔کیا اس کا رد علمائے اہل سنت نے نہ کیاوہ کس کو خوش کرنے کو تھاکیا بکثرت رسائل ومسائل اس کے رد میں نہ لکھے گئےحتی کہ اس کے بچے ندوے کے رد میں پچاس۵۰ سے زائد رسائل شائع کئے جن میں جابجا اس نیم نصرانیت کابھی رد بلیغ ہےیہ کس کے خوش کرنے کو تھاکیا صمصام حسن میں نہ تھا
نیچریاں راست خدادر کمند نیچر وقانون وراپائے بند
سر نتواند کہ زنیچر کشد خط بخدائیش سنیچر کشد
کیست سنیچر سی وایس آئی ست گول بکول آمدہ نیچر پست
چوں شدہ استارہ ہند آن دغل نحس وبلندآمدہ ہمچوں زحل
عرش وفلك جن وملك حشرتن ناروجنان جملہ غلط کردوظن
کیست نبی پر دل پرجوش گو وحی چہ باشد سخن جوش او
برزدہ برہم ہمہ از اصل وفرع دین نو آورد و نوآورد شرع
ریش حرام ست ودم فرق فرض حج سوئے انگلنڈ بودقطع ارض
گفت بیا قوم شنو قوم من ہیں سوئے اعزاز بدوقوم من
ذلت تان دین مسلمانی ست وائے برانکس کہ نہ نصرانی ست
(ترجمہ:خدا نیچریوں کی قید میں ہےنیچر(طبیعت)اورقانون اس کو پابند کرنیوالے ہیںوہ نیچر سے سر نہیں پھر سکتا۔سنیچر اس کو خدائی پر لکیر کھینچ دیتاہےسنیچر کون سیایس آئی ہےایك بیوقوف نیچر پرست(سرسید)کول میں آیا ہےجب سے وہ کھوٹا شخص ستارہ ہند ہوا(اسے تمغہ ملاہے)زحل کی طرح منحوس اور بلند ہوگیا ہےاس نے عرش آسمانفرشتےحشر جسمانی جنت دوزخ سب کو غلط اور ظنی قرار دیا ہے(اس کے نزدیک)نبی کون ہے بہادر اور شعلہ بیان خطیب ہے تمام اصول اور فروع کو اس نے درہم برہم کردیا ہےدین نیا لایا ہے اور شریعت نئی لایا ہےداڑھی حرام ہے اور(ٹیڑھی)مانگ کی دم فرض ہےحج انگلینڈ کی طرف سفر کا نام ہےاس نے کہا اے میری قوم! آ اور سناے میری قوم! عزت کی طرف دوڑدین اسلام تمھاری ذلت ہےافسوس اس شخص پر جو نصرانی(عیسائی)نہیں ہے)یہ کس کی خوشی کو تھاکیا مشرقستان اقدس میں نہ تھا
ندویا کیں جلوہ در اسپیچ ولکچر می کنند چوں بہ سنت می رسندآں کاردیگر می کنند
گہ روافض رابر سربرتاج لطف اﷲ نہند گہ پوادر رابہ تخت عالماں برمی کنند
بخت ورخت تخت دیں بیں جلوہ باصدرش براں پاڈری وسکاٹ بامسٹری براڈرمی کنند
مفت مفتی یافت ایں عزت کہ اور اہمنشیں بااماماں جج وجنٹ وکلکٹر می کنند
ساز وناز عالماں بیں نظم بزم دیں بدیں میز واسٹیج وٹکٹ ہال وکلب گھر می کنند
زیں سگا لشہا چہ نالشہا کہ خود ایں سرکشا داور دادار را برٹش گور نرمے کنند
(ترجمہ:ندوہ والے جو تقریر اور لیکچر میں جلوہ دکھاتے ہیں جب سنت تك پہنچے ہیں تو دوسرا کام کرتے ہیں(یعنی سنت کی مخالفت)۔یہ کبھی رافضیوں کے سرپر اﷲ تعالی کے لطف وکرم کا تاج رکھتے ہیں کبھی پادریوں کو علماء کے سٹیج پر بٹھاتے ہیں۔دین کے اسٹیج کی قسمت اور سازوسامان دیکھئے کہ سوداڑھی منڈوں کے ساتھ پادری وسکاٹ اور مسٹر کو(اپنا)بھائی بناتے ہیںمفتی کو مفت میں یہ عزت مل گئی کہ اسے اماموںججوںجنٹوںاور کلیکٹروں کا ہم نشین بنادیتے ہیںعلماء کے نازوانداز دیکھئےمجلس دینی کا نظام دیکھئےمیز اسٹیجٹکٹ ہال اور کلب گھر بناتے ہیںان خوشامدوں پر کیا رونا کہ یہ سرکش لوگ برٹش گورنر کوحاکم اور منصف مقرر کرتے ہیں)یہ کس کی خوشی کو تھامولوی عبدالباری صاحب خدام کعبہ کی بانگی کے لئے مسجد کا نپور کو عام سڑك اور ہمیشہ کے لئے جنب وحائض وکافر ومشرك کی پامال کرا آئے اور بکمال جرأت اسے مسئلہ شرعیہ ٹھہرایا اس کے رد میں ابانۃ المتواری لکھا جس میں ان سے کہا گیا
دانم نہ رسی بکعبہ اے پشت براہ کیں رہ کہ تو میروی بانگلستانست
(کعبہ کی طرف پشت کرکے چلنے والے! میں جانتاہوں توکعبہ نہیں پہنچ سکے گا کہ جس راہ پر تو چل رہاہے وہ انگلستان کا راستہ ہے۔ت)
(ترجمہ:خدا نیچریوں کی قید میں ہےنیچر(طبیعت)اورقانون اس کو پابند کرنیوالے ہیںوہ نیچر سے سر نہیں پھر سکتا۔سنیچر اس کو خدائی پر لکیر کھینچ دیتاہےسنیچر کون سیایس آئی ہےایك بیوقوف نیچر پرست(سرسید)کول میں آیا ہےجب سے وہ کھوٹا شخص ستارہ ہند ہوا(اسے تمغہ ملاہے)زحل کی طرح منحوس اور بلند ہوگیا ہےاس نے عرش آسمانفرشتےحشر جسمانی جنت دوزخ سب کو غلط اور ظنی قرار دیا ہے(اس کے نزدیک)نبی کون ہے بہادر اور شعلہ بیان خطیب ہے تمام اصول اور فروع کو اس نے درہم برہم کردیا ہےدین نیا لایا ہے اور شریعت نئی لایا ہےداڑھی حرام ہے اور(ٹیڑھی)مانگ کی دم فرض ہےحج انگلینڈ کی طرف سفر کا نام ہےاس نے کہا اے میری قوم! آ اور سناے میری قوم! عزت کی طرف دوڑدین اسلام تمھاری ذلت ہےافسوس اس شخص پر جو نصرانی(عیسائی)نہیں ہے)یہ کس کی خوشی کو تھاکیا مشرقستان اقدس میں نہ تھا
ندویا کیں جلوہ در اسپیچ ولکچر می کنند چوں بہ سنت می رسندآں کاردیگر می کنند
گہ روافض رابر سربرتاج لطف اﷲ نہند گہ پوادر رابہ تخت عالماں برمی کنند
بخت ورخت تخت دیں بیں جلوہ باصدرش براں پاڈری وسکاٹ بامسٹری براڈرمی کنند
مفت مفتی یافت ایں عزت کہ اور اہمنشیں بااماماں جج وجنٹ وکلکٹر می کنند
ساز وناز عالماں بیں نظم بزم دیں بدیں میز واسٹیج وٹکٹ ہال وکلب گھر می کنند
زیں سگا لشہا چہ نالشہا کہ خود ایں سرکشا داور دادار را برٹش گور نرمے کنند
(ترجمہ:ندوہ والے جو تقریر اور لیکچر میں جلوہ دکھاتے ہیں جب سنت تك پہنچے ہیں تو دوسرا کام کرتے ہیں(یعنی سنت کی مخالفت)۔یہ کبھی رافضیوں کے سرپر اﷲ تعالی کے لطف وکرم کا تاج رکھتے ہیں کبھی پادریوں کو علماء کے سٹیج پر بٹھاتے ہیں۔دین کے اسٹیج کی قسمت اور سازوسامان دیکھئے کہ سوداڑھی منڈوں کے ساتھ پادری وسکاٹ اور مسٹر کو(اپنا)بھائی بناتے ہیںمفتی کو مفت میں یہ عزت مل گئی کہ اسے اماموںججوںجنٹوںاور کلیکٹروں کا ہم نشین بنادیتے ہیںعلماء کے نازوانداز دیکھئےمجلس دینی کا نظام دیکھئےمیز اسٹیجٹکٹ ہال اور کلب گھر بناتے ہیںان خوشامدوں پر کیا رونا کہ یہ سرکش لوگ برٹش گورنر کوحاکم اور منصف مقرر کرتے ہیں)یہ کس کی خوشی کو تھامولوی عبدالباری صاحب خدام کعبہ کی بانگی کے لئے مسجد کا نپور کو عام سڑك اور ہمیشہ کے لئے جنب وحائض وکافر ومشرك کی پامال کرا آئے اور بکمال جرأت اسے مسئلہ شرعیہ ٹھہرایا اس کے رد میں ابانۃ المتواری لکھا جس میں ان سے کہا گیا
دانم نہ رسی بکعبہ اے پشت براہ کیں رہ کہ تو میروی بانگلستانست
(کعبہ کی طرف پشت کرکے چلنے والے! میں جانتاہوں توکعبہ نہیں پہنچ سکے گا کہ جس راہ پر تو چل رہاہے وہ انگلستان کا راستہ ہے۔ت)
حوالہ / References
نیز ان کے شبہات واہیہ کے قلع قمع کو قامع الواہیات شائع ہوا،یہ کس کی خوشی کو تھا،بات یہ ہے €&ع€∞
€&المرء یقیس علی نفسہ
ع€∞ آدمی اپنے ہی احوال پہ کرتاہے قیاس
لیڈروں اور ان کی پارٹی نے آج تك نصرانیت کی تقلید وغلامی،خوشنودی نصارٰی کو کی اب کہ ان سے بگڑی اس سے بدرجہا بڑھ کر خوشنودی ہنود کو ان کی غلامی لی،سمجھتے ہیں کہ معاذاﷲ خادمان شرع بھی ایساہی کرتے ہوں گے حالانکہ اﷲ ورسول جانتے ہیں کہ اظہار مسائل سے خادمان شرع کا مقصود کسی مخلوق کی خوشی نہیں ہوتا صرف اﷲ عزوجل کی رضاا ور اس کے بندوں کو اس کے احکام پہنچانا اور وﷲ الحمد سنئے ہم کہیں واحد قہار اور اس کے رسولوں اور آدمیوں سب کی ہزار درہزار لعنتیں جس نے انگریزوں کے خوش کرنے کو تباہی مسلمین کا مسئلہ نکالا ہو،نہیں نہیں،بلکہ اس پر بھی جس نے حق مسئلہ نہ رضائے خدا ورسول نہ تنبیہ وآگاہی مسلمین کے لئے بتایا بلکہ اس سے خوشنودی نصارٰی اس کا مقصد ومدعا ہو اور ساتھ ہی یہ بھی کہہ لیجئے کہ اﷲ واحد قہار اور اس کے رسولوں اورملائکہ اور آدمیوں سب کی ہزار درہزار لعنتیں ان پر جنھوں نے خوشنودی مشرکین کے لئے تباہی اسلام کے مسائل دل سے نکالے اﷲ عزوجل کے کلام اور احکام تحریف وتغٖییر سے کایا پلٹ کر ڈالے شعار اسلام بند کئے شعار کفر پسند کئے،مشرکوں کو امام وہادی بنایا،ان سے وداد واتحاد منایا اور اس پر سب لیڈر مل کر کہیں آمین،ان کی یہ آمین ان شاء اﷲ تعالٰی خالی نہ جائے گی اگرچہ دل میں بہت کی دعا نہ ہو"€&الافی ضلل€∞"۔
مشرکین سے معاہدہ کا بیان اور لیڈروں کا ردّ بَلیغ
(۸)لیڈر کہ احکام اسلام کو یکسر بدلنے اور بیچارے عوام کو جھوٹے من گھڑت احکام سناکر چھلنے پر تلے ہیں محض فریب دہی کے لئے اس طرف چلے ہیں کہ ہندوؤں سے اور ہم سے اب جبکہ عہد موافقت ہوگیا توہم کو اس کا پورا کرنالازمی ہے یہ شریعت پر محض افتراء ہے،اول کون سی شریعت میں ہے کہ مشرکوں سے عہد موافقت،کافروں سے معاہدہ شرعیہ ایك مدت تك بمصلحت شرعی التوائے قتال کا عہد ہے،نہ کہ موافقت کاجو اب نصوص قطعیہ حرام ہے۔
لیڈران پر دوسرا ردّ:
دوم صرف موافقت ہی نہیں بلکہ لیڈران فرماتے ہیں اگر شرعی€& عــــہ€∞ مصلحت ہو تو اتحاد پیدا کرنا بھی ممنوع نہیں۔
€&عــــہ€∞:عبارت گزشتہ اور یہ سب عبارات کہ اس بحث میں آتی ہیں جن پر خط ہے خطبہ صدارت مولوی عبدالباری صاحب جلسہ انجمن علمائے صوبہ متحدہ ۱۲ رجب ۳۸ھ بمقام کانپور کی ہیں ۱۲ حشمت علی عفی عنہ
€&المرء یقیس علی نفسہ
ع€∞ آدمی اپنے ہی احوال پہ کرتاہے قیاس
لیڈروں اور ان کی پارٹی نے آج تك نصرانیت کی تقلید وغلامی،خوشنودی نصارٰی کو کی اب کہ ان سے بگڑی اس سے بدرجہا بڑھ کر خوشنودی ہنود کو ان کی غلامی لی،سمجھتے ہیں کہ معاذاﷲ خادمان شرع بھی ایساہی کرتے ہوں گے حالانکہ اﷲ ورسول جانتے ہیں کہ اظہار مسائل سے خادمان شرع کا مقصود کسی مخلوق کی خوشی نہیں ہوتا صرف اﷲ عزوجل کی رضاا ور اس کے بندوں کو اس کے احکام پہنچانا اور وﷲ الحمد سنئے ہم کہیں واحد قہار اور اس کے رسولوں اور آدمیوں سب کی ہزار درہزار لعنتیں جس نے انگریزوں کے خوش کرنے کو تباہی مسلمین کا مسئلہ نکالا ہو،نہیں نہیں،بلکہ اس پر بھی جس نے حق مسئلہ نہ رضائے خدا ورسول نہ تنبیہ وآگاہی مسلمین کے لئے بتایا بلکہ اس سے خوشنودی نصارٰی اس کا مقصد ومدعا ہو اور ساتھ ہی یہ بھی کہہ لیجئے کہ اﷲ واحد قہار اور اس کے رسولوں اورملائکہ اور آدمیوں سب کی ہزار درہزار لعنتیں ان پر جنھوں نے خوشنودی مشرکین کے لئے تباہی اسلام کے مسائل دل سے نکالے اﷲ عزوجل کے کلام اور احکام تحریف وتغٖییر سے کایا پلٹ کر ڈالے شعار اسلام بند کئے شعار کفر پسند کئے،مشرکوں کو امام وہادی بنایا،ان سے وداد واتحاد منایا اور اس پر سب لیڈر مل کر کہیں آمین،ان کی یہ آمین ان شاء اﷲ تعالٰی خالی نہ جائے گی اگرچہ دل میں بہت کی دعا نہ ہو"€&الافی ضلل€∞"۔
مشرکین سے معاہدہ کا بیان اور لیڈروں کا ردّ بَلیغ
(۸)لیڈر کہ احکام اسلام کو یکسر بدلنے اور بیچارے عوام کو جھوٹے من گھڑت احکام سناکر چھلنے پر تلے ہیں محض فریب دہی کے لئے اس طرف چلے ہیں کہ ہندوؤں سے اور ہم سے اب جبکہ عہد موافقت ہوگیا توہم کو اس کا پورا کرنالازمی ہے یہ شریعت پر محض افتراء ہے،اول کون سی شریعت میں ہے کہ مشرکوں سے عہد موافقت،کافروں سے معاہدہ شرعیہ ایك مدت تك بمصلحت شرعی التوائے قتال کا عہد ہے،نہ کہ موافقت کاجو اب نصوص قطعیہ حرام ہے۔
لیڈران پر دوسرا ردّ:
دوم صرف موافقت ہی نہیں بلکہ لیڈران فرماتے ہیں اگر شرعی€& عــــہ€∞ مصلحت ہو تو اتحاد پیدا کرنا بھی ممنوع نہیں۔
€&عــــہ€∞:عبارت گزشتہ اور یہ سب عبارات کہ اس بحث میں آتی ہیں جن پر خط ہے خطبہ صدارت مولوی عبدالباری صاحب جلسہ انجمن علمائے صوبہ متحدہ ۱۲ رجب ۳۸ھ بمقام کانپور کی ہیں ۱۲ حشمت علی عفی عنہ
مشرکوں سے اتحاد:
اﷲ اکبر مشرك اور اتحاد جب تك یہ مشرك یا وہ مسلم نہ ہوجائیں دو ضدوں کا اتحاد کیونکر ممکنظاہرہے کہ وہ مسلمان نہ ہوئے نہ یہ ان کو مسلمان مان کر ان سے متحد ہوئے تو ضرورصورت عکس ہے کہ انھیں نے شرك قبول کیالیڈر صاحبو! ممنوع ہے یانہیں تمھاری خانگی پنچایتی بات نہیں" ان الحکم الا للہ " حکم نہیں مگر اﷲ کے لئےخود لیڈر ان فرماتے ہیں خدا کے سوا کسی کو حاکم بنانا روا نہیں"لاحکم الا ﷲ"اور اس میں یہاں تك بڑھے کہ اگر رسول کی اطاعت لازم ہے تو اس صورت میں جبکہ مخالفت احکام الہیہ نہ ہو ورنہ"انما الطاعۃ فی المعروف"مشہور ہے۔
لیڈران کے نزدیک رسول اللہ بھی خلاف خدا حکم فرماسکتے ہیں:
اﷲ اکبر واحد قہار تو یہ فرما ئے کہ" من یطع الرسول فقد اطاع اللہ " جس نے رسول کی اطاعت کی بیشك اس نے اﷲ کی اطاعت کیاور لیڈران فرمائیں رسول کی اطاعت اسی وقت تك ہے جب تك وہ احکام الہی کی مخالفت نہ کرے۔جب رسول خلاف خدا حکم دے تو اس کی اطاعت نہیںخیرجب آپ کے یہاں رسول کا یہ مرتبہ ہے تو کیا قو م پر آپ کی اطاعت ہرطرح لازم ہے اگرچہ خلاف خدا وقرآن حکم دیجئےابھی توآپ نے کہا کہ حکم نہیں مگر خدا کے لئے اب اگر خدائی دعوی تمھیں نہیں تودکھاؤ خدا نے کہاں فرمایا ہے کہ مشرکوں سے اتحاد پیدا کرنا بمصلحت ممنوع نہیں۔
"ہاتوا برہنکم ان کنتم صدقین﴿۱۱۱﴾ " لاؤ اپنی برہان اگر تم سچے ہو۔
قرآن عظیم کے صفحات مشرکین سے اتحا د ووداد حرام کرنے سے گونج رہے ہیں لیڈرو!" ءانتم اعلم ام اللہ " مصلحت شرعی تم زیادہ جانو یا اﷲ جو فرماتاہے۔
"لا تتخذوا بطانۃ من دونکم لا یا لونکم خبلا ودوا ماعنتم"
۔ کسی غیر مسلم کو اپنا راز دار نہ بناؤ وہ تمھاری بدخواہی میں کمی نہ کریں گے ان کی دلی تمنا ہے تمھارا مشقت میں پڑنا۔
اﷲ اکبر مشرك اور اتحاد جب تك یہ مشرك یا وہ مسلم نہ ہوجائیں دو ضدوں کا اتحاد کیونکر ممکنظاہرہے کہ وہ مسلمان نہ ہوئے نہ یہ ان کو مسلمان مان کر ان سے متحد ہوئے تو ضرورصورت عکس ہے کہ انھیں نے شرك قبول کیالیڈر صاحبو! ممنوع ہے یانہیں تمھاری خانگی پنچایتی بات نہیں" ان الحکم الا للہ " حکم نہیں مگر اﷲ کے لئےخود لیڈر ان فرماتے ہیں خدا کے سوا کسی کو حاکم بنانا روا نہیں"لاحکم الا ﷲ"اور اس میں یہاں تك بڑھے کہ اگر رسول کی اطاعت لازم ہے تو اس صورت میں جبکہ مخالفت احکام الہیہ نہ ہو ورنہ"انما الطاعۃ فی المعروف"مشہور ہے۔
لیڈران کے نزدیک رسول اللہ بھی خلاف خدا حکم فرماسکتے ہیں:
اﷲ اکبر واحد قہار تو یہ فرما ئے کہ" من یطع الرسول فقد اطاع اللہ " جس نے رسول کی اطاعت کی بیشك اس نے اﷲ کی اطاعت کیاور لیڈران فرمائیں رسول کی اطاعت اسی وقت تك ہے جب تك وہ احکام الہی کی مخالفت نہ کرے۔جب رسول خلاف خدا حکم دے تو اس کی اطاعت نہیںخیرجب آپ کے یہاں رسول کا یہ مرتبہ ہے تو کیا قو م پر آپ کی اطاعت ہرطرح لازم ہے اگرچہ خلاف خدا وقرآن حکم دیجئےابھی توآپ نے کہا کہ حکم نہیں مگر خدا کے لئے اب اگر خدائی دعوی تمھیں نہیں تودکھاؤ خدا نے کہاں فرمایا ہے کہ مشرکوں سے اتحاد پیدا کرنا بمصلحت ممنوع نہیں۔
"ہاتوا برہنکم ان کنتم صدقین﴿۱۱۱﴾ " لاؤ اپنی برہان اگر تم سچے ہو۔
قرآن عظیم کے صفحات مشرکین سے اتحا د ووداد حرام کرنے سے گونج رہے ہیں لیڈرو!" ءانتم اعلم ام اللہ " مصلحت شرعی تم زیادہ جانو یا اﷲ جو فرماتاہے۔
"لا تتخذوا بطانۃ من دونکم لا یا لونکم خبلا ودوا ماعنتم"
۔ کسی غیر مسلم کو اپنا راز دار نہ بناؤ وہ تمھاری بدخواہی میں کمی نہ کریں گے ان کی دلی تمنا ہے تمھارا مشقت میں پڑنا۔
حوالہ / References
القرآن الکریم ۶ /۵۷ و ۱۲/ ۴۰ و ۱۲/ ۶۷
القرآن الکریم ۴ /۸۰
القرآن الکریم ۲ /۱۱۱
القرآن الکریم ۲ /۱۴۰
القرآن الکریم ۳ /۱۱۸
القرآن الکریم ۴ /۸۰
القرآن الکریم ۲ /۱۱۱
القرآن الکریم ۲ /۱۴۰
القرآن الکریم ۳ /۱۱۸
اﷲ اکبر ایسا کھلا افتراء اور واحد قہار پراﷲ عزوجل فرماتاہے:
" و لا تقولوا لما تصف السنتکم الکذب ہذا حلل و ہذا حرام لتفتروا علی اللہ الکذب ان الذین یفترون علی اللہ الکذب لا یفلحون ﴿۱۱۶﴾ متع قلیل ۪ ولہم عذاب الیم ﴿۱۱۷﴾" اپنی زبانوں کی جھوٹی بناوٹ سے نہ کہو کہ یہ حلال اور یہ حرام ہے تاکہ اﷲ پر جھوٹ باندھو بیشك جو اﷲ پر جھوٹ باندھتے ہیں فلاح نہ پائیں گے تھوڑے دنوں دنیا میں برت لیں اور ان کے لئے دردناك عذاب ہے۔
لیڈران پر تیسرا رد:
لیڈران فرماتے ہیں ھم نے خدا کی محبت کو اس اتحاد میں بھی ملحوظ رکھا ہے۔
لیڈران کے نزدیک دشمنان خدا سے اتحاد میں خدا کی محبت ہے:
اﷲ اکبر اﷲ کے دشمنوں سے اتحاد اور اس میں محبت خدا کا ادعا واقعی ان کے نزدیك اﷲ کی محبت اس سے بڑھ کر اورکیا ہوسکتی ہے کہ اﷲ کے دشمنوں سے مل کر ایك ہوجائیںامیر المومنین مولی علی کرم اﷲ وجہہ فرماتے ہیں:
الاعداء ثلثۃ عدوك وعدو صدیقك وصدیق عدوك ۔ دشمن تین ہیں:ایك خودتیرا دشمندوسرا تیرے دوست کا دشمنتیسرا تیرے دشمن کا دوست
اﷲ عزوجل فرماتاہے:" فان اللہ عدو للکفرین﴿۹۸﴾" بیشك اﷲ کافروں کا دشمن ہے تم کہ اس کے دشمنوں سے متحد ہوئے کیونکر اﷲ کے دشمن نہ ہوئے
تو د عدوی ثم تزعم اننی
صدیقك لیس النوك عنك بعارب
(تومیرے دشمن سے محبت رکھتا ہے پھریہ جھك مارتاہے کہ میں تیرا دوست ہوں حماقت تجھ سے دور نہیں)
" و لا تقولوا لما تصف السنتکم الکذب ہذا حلل و ہذا حرام لتفتروا علی اللہ الکذب ان الذین یفترون علی اللہ الکذب لا یفلحون ﴿۱۱۶﴾ متع قلیل ۪ ولہم عذاب الیم ﴿۱۱۷﴾" اپنی زبانوں کی جھوٹی بناوٹ سے نہ کہو کہ یہ حلال اور یہ حرام ہے تاکہ اﷲ پر جھوٹ باندھو بیشك جو اﷲ پر جھوٹ باندھتے ہیں فلاح نہ پائیں گے تھوڑے دنوں دنیا میں برت لیں اور ان کے لئے دردناك عذاب ہے۔
لیڈران پر تیسرا رد:
لیڈران فرماتے ہیں ھم نے خدا کی محبت کو اس اتحاد میں بھی ملحوظ رکھا ہے۔
لیڈران کے نزدیک دشمنان خدا سے اتحاد میں خدا کی محبت ہے:
اﷲ اکبر اﷲ کے دشمنوں سے اتحاد اور اس میں محبت خدا کا ادعا واقعی ان کے نزدیك اﷲ کی محبت اس سے بڑھ کر اورکیا ہوسکتی ہے کہ اﷲ کے دشمنوں سے مل کر ایك ہوجائیںامیر المومنین مولی علی کرم اﷲ وجہہ فرماتے ہیں:
الاعداء ثلثۃ عدوك وعدو صدیقك وصدیق عدوك ۔ دشمن تین ہیں:ایك خودتیرا دشمندوسرا تیرے دوست کا دشمنتیسرا تیرے دشمن کا دوست
اﷲ عزوجل فرماتاہے:" فان اللہ عدو للکفرین﴿۹۸﴾" بیشك اﷲ کافروں کا دشمن ہے تم کہ اس کے دشمنوں سے متحد ہوئے کیونکر اﷲ کے دشمن نہ ہوئے
تو د عدوی ثم تزعم اننی
صدیقك لیس النوك عنك بعارب
(تومیرے دشمن سے محبت رکھتا ہے پھریہ جھك مارتاہے کہ میں تیرا دوست ہوں حماقت تجھ سے دور نہیں)
حوالہ / References
القرآن الکریم ۱۶ /۱۱۶،۱۱۷
نہج البلاغۃ مع شرح ابن ابی الحدید الجزء التاسع عشر داراحیاء التراث العربی بیروت ۴/ ۳۸۴
القرآن الکریم ۲ /۹۸
نہج البلاغۃ مع شرح ابن ابی الحدید الجزء التاسع عشر داراحیاء التراث العربی بیروت ۴/ ۳۸۴
القرآن الکریم ۲ /۹۸
لیڈران پر چوتھا رد:
چہارم کافروں مشرکوں سے معاہدہ شرعیہ صرف اس وقت رواہے جب معاذاﷲ مسلمانوں کو اس کی احتیاج وضرورت ہو
امام ملك العلماء بدائع میں فرماتے ہیں:
الموادعۃ رکنہا فھو لفظ الموادعۃ او المسالمۃ او المصالحۃ والمعاھدۃ او ما یؤدی معنی ھذہ العبارات وشرطھا الضرورۃ فلاتجوز عند عدم الضرورۃ (ملخصا) معاہدہ صلح کا رکن یہ الفاظ ہیں موادعتمسالمت مصالحت معاہدہ اور جو لفظ ان معنی کو ادا کرے اور معاہدہ کی شرط ضرورت ہے بے ضرورت حرام ہے۔
لیکن لیڈران اپنا بھاری جرم خود قبول نہیں کرتے ہیں کہ ہم کو احتیاج نے اتحاد برداران ہند کی جانب مائل نہیں کیا تمھارا معاہدہ اگر بفرض غلط معاہدہ شرعیہ کی شکل میں ہوتا جب بھی بے ضرورت ان کی طرف مائل ہونا حرام تھا ہر حال اس نے تمھیں واحد قہار کا نافرمان اور صریح بدخواہ مسلمانان و دین مسلمانان کردیا۔
لیڈران پر پانچواں رد:
پنجم کفار سے معاہدہ شرعیہ ایك قسم امان ہے اور شرط امان یہ ہے کہ کفار کو امان دہندہ سے خوف قتل و قتال ہو اور یہ ان پر قاہر ہو اگر چہ اپنی جماعت کے لحاظ سے اگرچہ نسبۃ پلہ انھیں کا بھاری ہو جنگ دوسردار وحرب میں چرب کو بھی خوف ہوتاہے جس سے انھیں اپنے قتل کا خوف نہ ہو اس کا امان دینا باطل اورمعاہدہ کرنامردودبدائع ملك العلماء میں ہے:
اماحکم الموادعۃ فما ھوحکم الامان المعروف لانہا عقد امان ایضا ۔ معاہدہ کا حکم وہی ہے جو امان کا مشہور حکم ہے اس لئے کہ معاہدہ بھی ایك عقد امان ہے۔
ہدایہ میں ہے:
انہ من اھل القتال فیخافونہ اذھومن اھل المنعۃ فیتحقق الامان منہ لملاقاتہ محلہ ۔ اس لئے کہ وہ اماں دہندہ اہل قتال سے ہے تو کا فر اس سے ڈریں گے اس لئے کہ وہ حمایتی گروہ رکھتاہے تو اس کا اماں دینا ٹھیك ہوگا اپنے محل پر واقع ہوا۔
چہارم کافروں مشرکوں سے معاہدہ شرعیہ صرف اس وقت رواہے جب معاذاﷲ مسلمانوں کو اس کی احتیاج وضرورت ہو
امام ملك العلماء بدائع میں فرماتے ہیں:
الموادعۃ رکنہا فھو لفظ الموادعۃ او المسالمۃ او المصالحۃ والمعاھدۃ او ما یؤدی معنی ھذہ العبارات وشرطھا الضرورۃ فلاتجوز عند عدم الضرورۃ (ملخصا) معاہدہ صلح کا رکن یہ الفاظ ہیں موادعتمسالمت مصالحت معاہدہ اور جو لفظ ان معنی کو ادا کرے اور معاہدہ کی شرط ضرورت ہے بے ضرورت حرام ہے۔
لیکن لیڈران اپنا بھاری جرم خود قبول نہیں کرتے ہیں کہ ہم کو احتیاج نے اتحاد برداران ہند کی جانب مائل نہیں کیا تمھارا معاہدہ اگر بفرض غلط معاہدہ شرعیہ کی شکل میں ہوتا جب بھی بے ضرورت ان کی طرف مائل ہونا حرام تھا ہر حال اس نے تمھیں واحد قہار کا نافرمان اور صریح بدخواہ مسلمانان و دین مسلمانان کردیا۔
لیڈران پر پانچواں رد:
پنجم کفار سے معاہدہ شرعیہ ایك قسم امان ہے اور شرط امان یہ ہے کہ کفار کو امان دہندہ سے خوف قتل و قتال ہو اور یہ ان پر قاہر ہو اگر چہ اپنی جماعت کے لحاظ سے اگرچہ نسبۃ پلہ انھیں کا بھاری ہو جنگ دوسردار وحرب میں چرب کو بھی خوف ہوتاہے جس سے انھیں اپنے قتل کا خوف نہ ہو اس کا امان دینا باطل اورمعاہدہ کرنامردودبدائع ملك العلماء میں ہے:
اماحکم الموادعۃ فما ھوحکم الامان المعروف لانہا عقد امان ایضا ۔ معاہدہ کا حکم وہی ہے جو امان کا مشہور حکم ہے اس لئے کہ معاہدہ بھی ایك عقد امان ہے۔
ہدایہ میں ہے:
انہ من اھل القتال فیخافونہ اذھومن اھل المنعۃ فیتحقق الامان منہ لملاقاتہ محلہ ۔ اس لئے کہ وہ اماں دہندہ اہل قتال سے ہے تو کا فر اس سے ڈریں گے اس لئے کہ وہ حمایتی گروہ رکھتاہے تو اس کا اماں دینا ٹھیك ہوگا اپنے محل پر واقع ہوا۔
حوالہ / References
بدائع الصنائع کتاب السیر مطلب واماحکم الموادعۃ الخ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۷/ ۸ ۱۰
بدائع الصنائع کتاب السیر مطلب واماحکم الموادعۃ الخ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۷/ ۱۰۹
الہدایہ باب الموادعۃ من یجوز امانہ المکتبۃ العربیہ کراچی ۲/ ۵۴۴
بدائع الصنائع کتاب السیر مطلب واماحکم الموادعۃ الخ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۷/ ۱۰۹
الہدایہ باب الموادعۃ من یجوز امانہ المکتبۃ العربیہ کراچی ۲/ ۵۴۴
اسی میں ہے:
لایجوز امان اسیر ولاتاجرید خل علیہم لانہما لایخافونہا والامان یختص بمحل الخوف (ملخصا) قیدی یا تاجر کہ دارالحرب میں تجارت کو گیا ہو ان کی امان صحیح نہیں ا س لئے کہ کافران سے نہ ڈریں گے اور امان وہیں ہوسکتی ہے جہاں خوف ہو۔(ملخصا)
اسی میں ہے:
ومن اسلم فی دارالحرب ولم یہاجر الینا لایصح امانہ لما بینا ۔ جو دارالحرب میں مسلمان ہوا اور دارالاسلام میں ہجرت کرکے نہ آئے اس کا امان دینا بھی صحیح نہیں اسی دلیل سے کہ ہم بیان کرچکے۔
فتح القدیرمیں ہے:
لما بینا من ان الامان یختص بمحل الخوف ولا خوف منہ حال کونہ مقیما فی دارہم لامنعۃ لہ ولاقوۃ دفاع ۔ ہماری بیان کی ہوئی دلیل یہ ہے کہ امان دینا اس کا صحیح ہے جس سے خوف ہو اوراس سے خوف نہیں کہ یہ انھیں کے ملك میں رہتاہےاس کے پاس نہ اپنی حمایت کرنے والا کوئی گروہ ہے نہ مدافعت کفار کی قوت۔
عنایہ امام اکمل میں ہے:
شرط جواز الامان ھوالایمان وعلتہ ھوالخوف لان الخوف انما یحصل ممن لہ قوۃ وامتناع ۔ امان جائز ہونے کی شرط ایمان ہے اور اس کی علت خوف اس لئے کہ خوف اسی سے ہوتاہے جو زور رکھتاہو اور اپنے آپ کو بچا سکتاہو۔
کلام امام نسفی میں ہے:
صح امانہ لانہ من اھل القتال اس کی امان صحیح ہے اس لئے کہ وہ قتال کے
لایجوز امان اسیر ولاتاجرید خل علیہم لانہما لایخافونہا والامان یختص بمحل الخوف (ملخصا) قیدی یا تاجر کہ دارالحرب میں تجارت کو گیا ہو ان کی امان صحیح نہیں ا س لئے کہ کافران سے نہ ڈریں گے اور امان وہیں ہوسکتی ہے جہاں خوف ہو۔(ملخصا)
اسی میں ہے:
ومن اسلم فی دارالحرب ولم یہاجر الینا لایصح امانہ لما بینا ۔ جو دارالحرب میں مسلمان ہوا اور دارالاسلام میں ہجرت کرکے نہ آئے اس کا امان دینا بھی صحیح نہیں اسی دلیل سے کہ ہم بیان کرچکے۔
فتح القدیرمیں ہے:
لما بینا من ان الامان یختص بمحل الخوف ولا خوف منہ حال کونہ مقیما فی دارہم لامنعۃ لہ ولاقوۃ دفاع ۔ ہماری بیان کی ہوئی دلیل یہ ہے کہ امان دینا اس کا صحیح ہے جس سے خوف ہو اوراس سے خوف نہیں کہ یہ انھیں کے ملك میں رہتاہےاس کے پاس نہ اپنی حمایت کرنے والا کوئی گروہ ہے نہ مدافعت کفار کی قوت۔
عنایہ امام اکمل میں ہے:
شرط جواز الامان ھوالایمان وعلتہ ھوالخوف لان الخوف انما یحصل ممن لہ قوۃ وامتناع ۔ امان جائز ہونے کی شرط ایمان ہے اور اس کی علت خوف اس لئے کہ خوف اسی سے ہوتاہے جو زور رکھتاہو اور اپنے آپ کو بچا سکتاہو۔
کلام امام نسفی میں ہے:
صح امانہ لانہ من اھل القتال اس کی امان صحیح ہے اس لئے کہ وہ قتال کے
حوالہ / References
الہدایۃ باب الموادعۃ من یجوز امانہ المکتبۃ العربیہ کراچی ۲/ ۵۴۵
الہدایۃ باب الموادعۃ من یجوز امانہ المکتبۃ العربیہ کراچی ۲/ ۵۴۵
فتح القدیر باب الموادعۃ من یجوز امانہ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۵/ ۲۱۳
عنایۃ مع فتح القدیر باب الموادعۃ من یجوز امانہ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۵/ ۲۱۳
الہدایۃ باب الموادعۃ من یجوز امانہ المکتبۃ العربیہ کراچی ۲/ ۵۴۵
فتح القدیر باب الموادعۃ من یجوز امانہ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۵/ ۲۱۳
عنایۃ مع فتح القدیر باب الموادعۃ من یجوز امانہ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۵/ ۲۱۳
ومنعۃ الاسلام فیخافونہ فینفذ منہ الامان الذی ھوازالۃ الخوف ۔ لائق ہے اور اپنی حمایت کے لئے اسلامی گروہ رکھتاہے تو کافر اس سے ڈریں گے توامان کہ خوف زائل کرنے کانام ہے اس سے نفاذ پائے گی۔
اسی میں ہے:
لایجوز امان اسیر وتاجرد خل علیہم ومسلم اسلم فی دارالحرب ولم یھاجر لان الا مان یکون علی خوف ولاخوف لھم منہ ۔ قیدی یا تاجر کہ دارالحرب میں داخل ہوا یاحربی کہ وہاں اسلام لایا اور دارالاسلام کی طرف ہجرت نہ کی ان کا امان دینا صحیح نہیں کہ امان ڈر میں ہوتی ہے اور کافران سے نہ ڈریں گے۔
تبیین امام زیلعی میں ہے:
لودخل مسلم فی عسکر اھل الحرب فی دارالاسلام و امنہم لایصح امانہ الا اذا امنہم من یقاومہم بخلاف ما اذا امن عشرین اونحوھم فی دارالاسلام حیث لایجوز امانہ لان الواحد وان کان مقہور اباعتبار نفسہ حیث لایقاومہم لکنہ قاھر ممتنع بقوۃ المسلمین فکان قاھرا لہم حکما ۔(ملخصا) حربیوں کا لشکر دارالاسلام میں آیا ہوا ہے اور کوئی مسلمان ان کے لشکر میں جاکر امان دے آئے یہ امان صحیح نہیں ہاں جب اتنے مسلمان انھیں امان دیں جو اس لشکر کی مقاومت کرسکتے ہوں بخلاف اس کے مثلا بیس پچیس حربی دارالاسلام میں آئے اور ایك مسلمان نے ان میں جاکر انھیں امان دے دییہ امان صحیح ہوگئی کہ ایك اگرچہ بیس سے مغلوب ہے ان کی مقاومت نہیں کرسکتا مگر وہ مسلمانوں کے زور سے ان پرغالب ہے تو حکما غلبہ اسی کا ہوگا۔(ملخصا)
اسی میں ہے:
الامان ازالۃ الخوف ومن لم امان خوف زائل کرنے کانام ہے اور وہ جو قتال
اسی میں ہے:
لایجوز امان اسیر وتاجرد خل علیہم ومسلم اسلم فی دارالحرب ولم یھاجر لان الا مان یکون علی خوف ولاخوف لھم منہ ۔ قیدی یا تاجر کہ دارالحرب میں داخل ہوا یاحربی کہ وہاں اسلام لایا اور دارالاسلام کی طرف ہجرت نہ کی ان کا امان دینا صحیح نہیں کہ امان ڈر میں ہوتی ہے اور کافران سے نہ ڈریں گے۔
تبیین امام زیلعی میں ہے:
لودخل مسلم فی عسکر اھل الحرب فی دارالاسلام و امنہم لایصح امانہ الا اذا امنہم من یقاومہم بخلاف ما اذا امن عشرین اونحوھم فی دارالاسلام حیث لایجوز امانہ لان الواحد وان کان مقہور اباعتبار نفسہ حیث لایقاومہم لکنہ قاھر ممتنع بقوۃ المسلمین فکان قاھرا لہم حکما ۔(ملخصا) حربیوں کا لشکر دارالاسلام میں آیا ہوا ہے اور کوئی مسلمان ان کے لشکر میں جاکر امان دے آئے یہ امان صحیح نہیں ہاں جب اتنے مسلمان انھیں امان دیں جو اس لشکر کی مقاومت کرسکتے ہوں بخلاف اس کے مثلا بیس پچیس حربی دارالاسلام میں آئے اور ایك مسلمان نے ان میں جاکر انھیں امان دے دییہ امان صحیح ہوگئی کہ ایك اگرچہ بیس سے مغلوب ہے ان کی مقاومت نہیں کرسکتا مگر وہ مسلمانوں کے زور سے ان پرغالب ہے تو حکما غلبہ اسی کا ہوگا۔(ملخصا)
اسی میں ہے:
الامان ازالۃ الخوف ومن لم امان خوف زائل کرنے کانام ہے اور وہ جو قتال
حوالہ / References
کافی شرح وافی للنسفی
کافی شرح وافی للنسفی
تبیین الحقائق کتاب السیر المطبعۃ الکبری الامیریہ بولاق مصر ۳/ ۲۴۷
کافی شرح وافی للنسفی
تبیین الحقائق کتاب السیر المطبعۃ الکبری الامیریہ بولاق مصر ۳/ ۲۴۷
یباشر القتال لایخافونہ فکیف یصح امانہ ۔ نہ کرے کافر اس نہ ڈریں گے تو اس کی امان کیسے صحیح ہو۔
ایمان سے کہنا کیا تم ہنود پر قاہر تھے کیا ان کے قتل پر قادر تھے کیا ان کو تم سے خوف قتل تھا جسے تمھاری امان نے زائل کیااور جب یہ کچھ نہ تھا اور بیشك نہ تھا تمھارا معاہدہ اگر بفرض باطلمعاہدہ شرعیہ کی شکل میں ہوتا جب بھی قطعا باطل ومردودتھااور مردود کو پورا کرنا لازمی بتانا اس سے بڑھ کر مردود۔
لیڈران پر چھٹا رد:
ششم کفار سے معاہدہ شرعیہ میں شرط اعظم یہ ہے کہ جتنی مدت تك ہواس میں تہیہ قتال رکھیں اور اس کی آمادگی ودرستی سامان سے غفلت نہ کریں کہ التواء ومعاہدہ سے اصل مقصودیہی ہے ورنہ تارك فرض اہم ہوں گے اور مستحق نارجہنم
والعیاذ باﷲ تعالی بدائع امام ملك العلماء میں ہے:
المعاھدۃ شرطھا الضرورۃ وھی ضرورۃ استعداد القتال لان الموادعۃ ترك القتال المفروض فلایجوز الا فی حال یقع وسیلۃ الی القتال ۔ معاہدہ جائز ہونے کی شرط ضرورت ہے اور وہ ضرورت یہ ہے کہ اس مدت میں سامان قتال درست کریں اس لئے کہ جہاد فرض ہے اور معاہدہ اس فرض کا ترك ہے تو اس حال میں حلال ہوسکتاہے کہ یہ جہاد کے لئے وسیلہ پڑے۔
ایمان سے کہناکیا تم ہندوؤں سے آمادگی قتال میں ہو اور اسی لئے ایك مدت تك ان سے معاہدہ کیا ہے کہ اس فرصت میں ان کے قتل کا سامان مہیا کرلو کیوں مسلمانوں کو دھوکا دیتے ہوبلکہ عالم الغیب و القلب کے ساتھ فریب کی راہ لیتے ہو۔
" وما یخدعون الا انفسہم وما یشعرون﴿۹﴾ " اور فریب نہیں دیتے مگر اپنی جانوں کو اور انھیں شعورنہیں۔
طرح طرح ثابت ہوا کہ تمھارا یہ معاہدہ اگر بفرض غلط معاہدہ شرعیہ کی شکل میں بھی ہوتا جب بھی
ایمان سے کہنا کیا تم ہنود پر قاہر تھے کیا ان کے قتل پر قادر تھے کیا ان کو تم سے خوف قتل تھا جسے تمھاری امان نے زائل کیااور جب یہ کچھ نہ تھا اور بیشك نہ تھا تمھارا معاہدہ اگر بفرض باطلمعاہدہ شرعیہ کی شکل میں ہوتا جب بھی قطعا باطل ومردودتھااور مردود کو پورا کرنا لازمی بتانا اس سے بڑھ کر مردود۔
لیڈران پر چھٹا رد:
ششم کفار سے معاہدہ شرعیہ میں شرط اعظم یہ ہے کہ جتنی مدت تك ہواس میں تہیہ قتال رکھیں اور اس کی آمادگی ودرستی سامان سے غفلت نہ کریں کہ التواء ومعاہدہ سے اصل مقصودیہی ہے ورنہ تارك فرض اہم ہوں گے اور مستحق نارجہنم
والعیاذ باﷲ تعالی بدائع امام ملك العلماء میں ہے:
المعاھدۃ شرطھا الضرورۃ وھی ضرورۃ استعداد القتال لان الموادعۃ ترك القتال المفروض فلایجوز الا فی حال یقع وسیلۃ الی القتال ۔ معاہدہ جائز ہونے کی شرط ضرورت ہے اور وہ ضرورت یہ ہے کہ اس مدت میں سامان قتال درست کریں اس لئے کہ جہاد فرض ہے اور معاہدہ اس فرض کا ترك ہے تو اس حال میں حلال ہوسکتاہے کہ یہ جہاد کے لئے وسیلہ پڑے۔
ایمان سے کہناکیا تم ہندوؤں سے آمادگی قتال میں ہو اور اسی لئے ایك مدت تك ان سے معاہدہ کیا ہے کہ اس فرصت میں ان کے قتل کا سامان مہیا کرلو کیوں مسلمانوں کو دھوکا دیتے ہوبلکہ عالم الغیب و القلب کے ساتھ فریب کی راہ لیتے ہو۔
" وما یخدعون الا انفسہم وما یشعرون﴿۹﴾ " اور فریب نہیں دیتے مگر اپنی جانوں کو اور انھیں شعورنہیں۔
طرح طرح ثابت ہوا کہ تمھارا یہ معاہدہ اگر بفرض غلط معاہدہ شرعیہ کی شکل میں بھی ہوتا جب بھی
حوالہ / References
تبیین الحقائق کتاب السیر قبیل با ب الغنائم المطبعۃ الکبری الامیریۃ بولاق مصر ۳/ ۲۴۸
بدائع الصنائع کتاب السیر مطلب وامانوع الثانی وھوالامان الخ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۷/ ۱۰۸
القرآن الکریم ۲ /۹
بدائع الصنائع کتاب السیر مطلب وامانوع الثانی وھوالامان الخ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۷/ ۱۰۸
القرآن الکریم ۲ /۹
حرام ومردود وخلاف شرع ہوااب کیوں نہ یاد کریں لیڈارن اپنا ہی قول کہ"خدا کے یہاں معاہدہ کاحیلہ بھی کارگر ہوتاہے"یا دیکھئے کیا جواب ملتاہے کوئی اگر معاہدہ کا دعوی بھی کرے تو خلاف شرع معاہدہ کیونکر مسلم ہوگا کیونکہ صلح حدیبیہ منسوخ ہوچکی ہے اور الاما احل بہ حراما اوحرم بہ حلالا (مگر وہ معاہدہ جوحرام کو حلال اور حلال کوحرام بنائے۔ت)کا استثناء حکم مستقل ہے"
لیڈران پر ساتوں رد:
ہفتم لیڈران کی بڑی کوشش اس میں ہے کہ مشرکین ہند کے شدید مظالم چھپائیں اور ان کو جیسے بنے
" لم یقتلوکم فی الدین "میں داخل ٹھہرائیں تاکہ انھیں زیرحکم" لا ینہىکم اللہ "لائیں یہ صاف کہہ رہاہے کہ معاہدہ کا عذر محض جھوٹا ہے معاہدہ تو حسب ضرورت شرعیہ مقاتلین سے خاص وقت قتال بھی جائز ہے پھر اگر معاہدہ ہوتا تو اس کھینچ تان کی کیا ضرورت پڑتی معلوم ہوا کہ جھوٹ کہتے ہیں اور قصدا بکتے ہیں اور دل میں خوب سمجھ رہے ہیں کہ نرا جھوٹ بکتے ہیں" واللہ علیم بالظلمین﴿۹۵﴾ " (اور اﷲ خوب جانتاہے ظالموں کو۔ت)
مشرکوں سے معاہدہ لیڈران کے اصل اغراض
(۹)لیڈران حاشا تمھارا معاہدہ ہنود سے نہ التوائے قتال کے لئے ہوا نہ اس کا کچھ ذکر تھا نہ تم ان پر قاہر تھے نہ انھیں تم سے اپنے قتل کا خوف تھا بلکہ دونوں تیسرے کے ہاتھ میں مقہور ہونہ ہر گز اس مدت معاہدہ میں تم قتل ہنود کا سامان کررہے ہو نہ ہر گز تمھاری نیت نہ ہرگز تم ایسا کرسکتے ہو غرض معاہدہ شرعیہ سے ایساہی دور ہو جیسے مشرکین توحید سے یاتم شرع مجید سے بلکہ ناپاك معاہدہ چارباتوں کے لئے ہوا:
مشرکوں کا برادر بننا حرام ہے:
یکم:مشرکین سے عقد مواخات بھائی چارہ کہ برادارن وطن ہندوبھائیاﷲ عزوجل فرمائے" انما المؤمنون اخوۃ " مسلمان آپس میں بھائی ہیں۔تم کہو"نحن والمشرکون اخوۃ"ہم اور مشرکین آپس میں بھائی ہیںجیسے اﷲ تعالی کا ارشاد ہے:
لیڈران پر ساتوں رد:
ہفتم لیڈران کی بڑی کوشش اس میں ہے کہ مشرکین ہند کے شدید مظالم چھپائیں اور ان کو جیسے بنے
" لم یقتلوکم فی الدین "میں داخل ٹھہرائیں تاکہ انھیں زیرحکم" لا ینہىکم اللہ "لائیں یہ صاف کہہ رہاہے کہ معاہدہ کا عذر محض جھوٹا ہے معاہدہ تو حسب ضرورت شرعیہ مقاتلین سے خاص وقت قتال بھی جائز ہے پھر اگر معاہدہ ہوتا تو اس کھینچ تان کی کیا ضرورت پڑتی معلوم ہوا کہ جھوٹ کہتے ہیں اور قصدا بکتے ہیں اور دل میں خوب سمجھ رہے ہیں کہ نرا جھوٹ بکتے ہیں" واللہ علیم بالظلمین﴿۹۵﴾ " (اور اﷲ خوب جانتاہے ظالموں کو۔ت)
مشرکوں سے معاہدہ لیڈران کے اصل اغراض
(۹)لیڈران حاشا تمھارا معاہدہ ہنود سے نہ التوائے قتال کے لئے ہوا نہ اس کا کچھ ذکر تھا نہ تم ان پر قاہر تھے نہ انھیں تم سے اپنے قتل کا خوف تھا بلکہ دونوں تیسرے کے ہاتھ میں مقہور ہونہ ہر گز اس مدت معاہدہ میں تم قتل ہنود کا سامان کررہے ہو نہ ہر گز تمھاری نیت نہ ہرگز تم ایسا کرسکتے ہو غرض معاہدہ شرعیہ سے ایساہی دور ہو جیسے مشرکین توحید سے یاتم شرع مجید سے بلکہ ناپاك معاہدہ چارباتوں کے لئے ہوا:
مشرکوں کا برادر بننا حرام ہے:
یکم:مشرکین سے عقد مواخات بھائی چارہ کہ برادارن وطن ہندوبھائیاﷲ عزوجل فرمائے" انما المؤمنون اخوۃ " مسلمان آپس میں بھائی ہیں۔تم کہو"نحن والمشرکون اخوۃ"ہم اور مشرکین آپس میں بھائی ہیںجیسے اﷲ تعالی کا ارشاد ہے:
حوالہ / References
سنن ابن ماجہ ابواب الاحکام باب الصلح ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۷۱
القرآن الکریم ۲ /۹۵
القرآن الکریم ۴۹ /۱۰
القرآن الکریم ۲ /۹۵
القرآن الکریم ۴۹ /۱۰
" الم تر الی الذین نافقوا یقولون لاخونہم الذین کفروا " کیا تم نے نہ دیکھا کہ منافقوں کو کہ اپنے بھائی کافروں سے کہتے ہیں۔
وہاں"من اھل الکتاب"تھا یہاں اس سے بڑھ کر"من الشرکین"ہوا۔
کافروں سے اتحاد کرنے والے بحکم قران کافر ہیں:
دوم:ان سے اتحادحالانکہ قرآن عظیم بیس سے زیادہ آیات میں اسے مردود وملعون فرما چکا اور جابجا صاف ارشاد فرمادیا کہ ایسا کرنے والے انھیں میں سے ہیں" ومن یتولہم منکم فانہ منہم " ایسا کرنے والے مسلمان نہیں
" لا تجد قوما یؤمنون باللہ و الیوم الاخر یوادون من حاد اللہ و رسولہ " ایسا کرنے والوں کو اﷲ ورسول وقرآن پر ایمان نہیں" ولو کانوا یؤمنون باللہ والنبی وما انزل الیہ ما اتخذوہم اولیاء" ۔
کافروں کا حلیف بننا حرام ہے:
سوم:مشرکین کے حلیف بننا انھیں اپناحلیف بناناحالانکہ حلیف بنانا منسوخ ہوچکاہے۔رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لا تحدثوا فی الاسلام حلفا رواہ الامام احمد فی المسند ومحمد بن عیسی فی الجامع عن عمروبن العاص رضی اﷲ تعالی عنہ بسند حسن۔ اب اسلام میں کوئی حلف پیدا نہ کرو۔یہ حدیث امام احمد نے مسند اور امام محمدبن عیسی نے جامع میں حضرت عمروبن العاص رضی اﷲ تعالی عنہ سے بسند حسن روایت کی۔
یہ منسوخات ہی کے عمل پر ہیں کل کو شراب بھی حلال کرلیں گے اور خدا جانے کہاں کہاں تك بڑھیں گےرب عزوجل فرماتاہے:
وہاں"من اھل الکتاب"تھا یہاں اس سے بڑھ کر"من الشرکین"ہوا۔
کافروں سے اتحاد کرنے والے بحکم قران کافر ہیں:
دوم:ان سے اتحادحالانکہ قرآن عظیم بیس سے زیادہ آیات میں اسے مردود وملعون فرما چکا اور جابجا صاف ارشاد فرمادیا کہ ایسا کرنے والے انھیں میں سے ہیں" ومن یتولہم منکم فانہ منہم " ایسا کرنے والے مسلمان نہیں
" لا تجد قوما یؤمنون باللہ و الیوم الاخر یوادون من حاد اللہ و رسولہ " ایسا کرنے والوں کو اﷲ ورسول وقرآن پر ایمان نہیں" ولو کانوا یؤمنون باللہ والنبی وما انزل الیہ ما اتخذوہم اولیاء" ۔
کافروں کا حلیف بننا حرام ہے:
سوم:مشرکین کے حلیف بننا انھیں اپناحلیف بناناحالانکہ حلیف بنانا منسوخ ہوچکاہے۔رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لا تحدثوا فی الاسلام حلفا رواہ الامام احمد فی المسند ومحمد بن عیسی فی الجامع عن عمروبن العاص رضی اﷲ تعالی عنہ بسند حسن۔ اب اسلام میں کوئی حلف پیدا نہ کرو۔یہ حدیث امام احمد نے مسند اور امام محمدبن عیسی نے جامع میں حضرت عمروبن العاص رضی اﷲ تعالی عنہ سے بسند حسن روایت کی۔
یہ منسوخات ہی کے عمل پر ہیں کل کو شراب بھی حلال کرلیں گے اور خدا جانے کہاں کہاں تك بڑھیں گےرب عزوجل فرماتاہے:
حوالہ / References
القرآن الکریم ۵۹ /۱۱
القرآن الکریم ۵ /۵۱
القرآن الکریم ۵۸ /۲۲
القرآن الکریم ۵ /۸۱
جامع الترمذی ابواب السیر باب ماجاء فی الحلف امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی ۱/ ۱۹۲،مسند احمد بن حنبل مسند عبداﷲ بن عمرو بن عاص دارالفکر بیروت ۲/ ۲۰۷۔۲۱۳
القرآن الکریم ۵ /۵۱
القرآن الکریم ۵۸ /۲۲
القرآن الکریم ۵ /۸۱
جامع الترمذی ابواب السیر باب ماجاء فی الحلف امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی ۱/ ۱۹۲،مسند احمد بن حنبل مسند عبداﷲ بن عمرو بن عاص دارالفکر بیروت ۲/ ۲۰۷۔۲۱۳
"ایہا الذین امنوا لا تتخذوا الذین اتخذوا دینکم ہزوا و لعبا من الذین اوتوا الکتب من قبلکم والکفار اولیاء واتقوا اللہ ان کنتم مؤمنین ﴿۵۷﴾" اے ایمان والو! وہ جو تمھارے دین کو ہنسی کھیل ٹھہراتے ہیں جنھیں تم سے پہلے کتاب دی گئی اور باقی سب کافر ان میں سے کسی کو دوست نہ بناؤ اور اﷲ تعالی سے ڈرو اگر تم مسلمان ہو۔
تفسیر ابن جریر میں اس آیہ کریمہ کے تحت میں ہے:
یقول لاتتخذوھم ایھا المؤمنون انصارا اواخوانا اوحلفاء فانہم لایألونکم خبالا وان اظھروالکم مودۃ وصداقۃ ۔ رب عزوجل فرماتاہے اے مسلمانو! کافروں کو مدد گاریا بھائی اور حلیف نہ بناؤ وہ تمھاری ضرر رسانی میں کمی نہ کریں گے اگرچہ تم سے دوستی ویارانہ ظاہر کریں۔
فقہ وحدیث کے حاوی امام اجل ابوجعفر طحاوی رحمہ اﷲ تعالی نے مشکل الآثار میں یہ تحقیق فرماکر کہ مشرکوں سے استعانت
حرام کتابی سے ہوسکتی ہے اس پر حدیث سوم کہ فائدہ ثانیہ میں آتی ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ابن ابی منافق کے چھ سوحلیف یہودیوں کو واپس کردیا اور انھیں مشرکین فرمایا اعتراضا واردکی کہ دیکھو حضو نے یہود کو بھی مشرکین سے گنا اور ان سے استعانت کو بھی مشرکین سے استعانت قرار دیا اس کے جواب میں فرمایا اس کی وجہ ان کا اس مشرك منافق سے حلف ہے کہ حلف کرنے والے جس سے حلف کرتے ہیں اس کی موافقت قبول کرتے ہیں تو مشرك کے حلیف ہوکر وہ کتابی نہ رہے مرتدہوگئے اور اسی طرح مشرکعبارت یہ ہے:
جوابنا ان وجہ قول رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لھؤلاء الیہود علی مابینہم وبین ابن ابی المنافق من الحلف والمحالفۃ ھی الموافقۃ من الحالفین للمحالفین فکانوا بذلك خارجین من اھل الکتاب مرتدین عما کانوا علیہ وصاروامشرکین کمشرکی العرب (ملخصا)
امام ابوالولید باجی نے مختصر پھر علامہ یوسف دمشقی نے معتصر میں اسے مقرررکھا
تفسیر ابن جریر میں اس آیہ کریمہ کے تحت میں ہے:
یقول لاتتخذوھم ایھا المؤمنون انصارا اواخوانا اوحلفاء فانہم لایألونکم خبالا وان اظھروالکم مودۃ وصداقۃ ۔ رب عزوجل فرماتاہے اے مسلمانو! کافروں کو مدد گاریا بھائی اور حلیف نہ بناؤ وہ تمھاری ضرر رسانی میں کمی نہ کریں گے اگرچہ تم سے دوستی ویارانہ ظاہر کریں۔
فقہ وحدیث کے حاوی امام اجل ابوجعفر طحاوی رحمہ اﷲ تعالی نے مشکل الآثار میں یہ تحقیق فرماکر کہ مشرکوں سے استعانت
حرام کتابی سے ہوسکتی ہے اس پر حدیث سوم کہ فائدہ ثانیہ میں آتی ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ابن ابی منافق کے چھ سوحلیف یہودیوں کو واپس کردیا اور انھیں مشرکین فرمایا اعتراضا واردکی کہ دیکھو حضو نے یہود کو بھی مشرکین سے گنا اور ان سے استعانت کو بھی مشرکین سے استعانت قرار دیا اس کے جواب میں فرمایا اس کی وجہ ان کا اس مشرك منافق سے حلف ہے کہ حلف کرنے والے جس سے حلف کرتے ہیں اس کی موافقت قبول کرتے ہیں تو مشرك کے حلیف ہوکر وہ کتابی نہ رہے مرتدہوگئے اور اسی طرح مشرکعبارت یہ ہے:
جوابنا ان وجہ قول رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لھؤلاء الیہود علی مابینہم وبین ابن ابی المنافق من الحلف والمحالفۃ ھی الموافقۃ من الحالفین للمحالفین فکانوا بذلك خارجین من اھل الکتاب مرتدین عما کانوا علیہ وصاروامشرکین کمشرکی العرب (ملخصا)
امام ابوالولید باجی نے مختصر پھر علامہ یوسف دمشقی نے معتصر میں اسے مقرررکھا
حوالہ / References
القرآن الکریم ۵ /۵۷
جامع البیان(تفسیر ابن جریر)تحت آیۃ ۵/ ۵۷ المطبعۃ المیمنۃ مصر ۶/ ۱۶۶
مشکل الآثار للحطاوی کتاب الجہاد باب بیان مشکل ماروی عن رسول اﷲ الخ دارصادر بیروت ۳/ ۲۴۱
جامع البیان(تفسیر ابن جریر)تحت آیۃ ۵/ ۵۷ المطبعۃ المیمنۃ مصر ۶/ ۱۶۶
مشکل الآثار للحطاوی کتاب الجہاد باب بیان مشکل ماروی عن رسول اﷲ الخ دارصادر بیروت ۳/ ۲۴۱
ان بنی قینقاع بمحالفتہم عبداﷲ صاروا کالمرتدین فخرجوا بہ عن حکم اھل الکتاب فصاروا کالمشرکین فکان لہم حکمہم فلذلك منعوا وسموا مشرکین (ملخصا) بنی قینقاع کے یہودی ابن ابی کے حلیف بن کر مرتدوں کے مثل ہوگئے تو کتابیوں کے حکم میں نہ رہے اور مشرکوں کی طرح ہوگئے تو ان کا وہی حکم ہوا جو مشرکوں کااسی واسطے حدیث نے انھیں منع فرمایااور ان کا نام مشرك رکھا۔(ملخصا)
سبحان اللہ! یہودی مشرك کے حلیف بن کر کتابی نہ رہے مرتد ومشرك ہوگئے حالانکہ"الکفر ملۃ واحدۃ"مگر کلمہ گو لیڈر مشرکین ہند کے حلیف پس روغلام بن کر نہ مرتد ہوئے نہ مشرکہٹے کٹے مسلمان ہی بنے رہے
مشرك ہے عہد باندھ کے مشرك ہوئے یہود
یہ مشرکوں کے عبد مسلمان ہی رہے
اقول: حلف جب دو۲ مساوی گروہوں میں ہو فریقین یکساں ہیں اور جب مغلوب وضعیف گروہ دوسرے کی پناہ لے کر اس کاحلیف بنے تو پوری موافقت کا بار اسی پرہے اس کی طرف سے صرف قبول پناہ وہی ہےابن ابی خبیث نے بڑی سطوت پیدا کرلی تھی یہاں تك کہ اس کے لئے تاج تیار کیا جاتا تھا قریب تھا کہ اسے بادشاہ بنایا جائے تو یہود بنی قینقاع کاحلف اس کی شوکت سے مستفید ہی ہونے کو تھاولہذا امام نے فرمایا:ھی الموافقۃ من الحالفین للمحالفین (حلف کرنے والے جس سے حلف کرتے ہیں اس کی موافقت قبول کرتے ہیں۔ت)نہ اختصار کی طرح الموافقۃ بین المتحالفین (حلف کرنے والوں کے درمیان موافقت۔ت)پھر دربارہ ادیان حکم یہ ہے کہ نازل سے مجرد ارادہ موافقت نازل کردیتاہے اورضد کے لئے صرف ارادہ کافی نہیںمسلمان اگر معاذاﷲ ارادہ کفر کرے گا تو کافر ہوجائے گا۔لیکن کافر محض ارادہ اسلام سے مسلمان نہ ہوگا جب تك اسلام قبول نہ کرےیوں ہی کتابی صرف ارادہ موافقت مشرکین سے مشرك ہوسکے گا مشرك نرے ارادے سے کتابی نہ ہوجائے گا لہذا وہ یہودی مشرك ہوگئےابن ابی خبیث کتابی نہ ہوایونہی حلیفان مشرکین ہند پر
سبحان اللہ! یہودی مشرك کے حلیف بن کر کتابی نہ رہے مرتد ومشرك ہوگئے حالانکہ"الکفر ملۃ واحدۃ"مگر کلمہ گو لیڈر مشرکین ہند کے حلیف پس روغلام بن کر نہ مرتد ہوئے نہ مشرکہٹے کٹے مسلمان ہی بنے رہے
مشرك ہے عہد باندھ کے مشرك ہوئے یہود
یہ مشرکوں کے عبد مسلمان ہی رہے
اقول: حلف جب دو۲ مساوی گروہوں میں ہو فریقین یکساں ہیں اور جب مغلوب وضعیف گروہ دوسرے کی پناہ لے کر اس کاحلیف بنے تو پوری موافقت کا بار اسی پرہے اس کی طرف سے صرف قبول پناہ وہی ہےابن ابی خبیث نے بڑی سطوت پیدا کرلی تھی یہاں تك کہ اس کے لئے تاج تیار کیا جاتا تھا قریب تھا کہ اسے بادشاہ بنایا جائے تو یہود بنی قینقاع کاحلف اس کی شوکت سے مستفید ہی ہونے کو تھاولہذا امام نے فرمایا:ھی الموافقۃ من الحالفین للمحالفین (حلف کرنے والے جس سے حلف کرتے ہیں اس کی موافقت قبول کرتے ہیں۔ت)نہ اختصار کی طرح الموافقۃ بین المتحالفین (حلف کرنے والوں کے درمیان موافقت۔ت)پھر دربارہ ادیان حکم یہ ہے کہ نازل سے مجرد ارادہ موافقت نازل کردیتاہے اورضد کے لئے صرف ارادہ کافی نہیںمسلمان اگر معاذاﷲ ارادہ کفر کرے گا تو کافر ہوجائے گا۔لیکن کافر محض ارادہ اسلام سے مسلمان نہ ہوگا جب تك اسلام قبول نہ کرےیوں ہی کتابی صرف ارادہ موافقت مشرکین سے مشرك ہوسکے گا مشرك نرے ارادے سے کتابی نہ ہوجائے گا لہذا وہ یہودی مشرك ہوگئےابن ابی خبیث کتابی نہ ہوایونہی حلیفان مشرکین ہند پر
حوالہ / References
المعتصر من المختصر کتاب الجہاد باب فی الاستعانۃ بالمشرك دائرۃ المعارف العثمانیہ حیدرآباد دکن ۱/ ۲۳۰
مشکل الآثار للطحاوی باب بیان مشکل ماروی فی الاستعانۃ من الکفار دارصادر بیروت ۳/ ۲۴۱
المعتصر من المختصر کتاب الجہاد باب فی الاستعانۃ بالمشرك دائرۃ المعارف العثمانیہ حیدرآباد دکن ۱/ ۲۳۰
مشکل الآثار للطحاوی باب بیان مشکل ماروی فی الاستعانۃ من الکفار دارصادر بیروت ۳/ ۲۴۱
المعتصر من المختصر کتاب الجہاد باب فی الاستعانۃ بالمشرك دائرۃ المعارف العثمانیہ حیدرآباد دکن ۱/ ۲۳۰
امام کایہ حکم نافذہوگا۔مشرکین ہند مسلمان ہوجائیں گے۔
اصل مقصود سلف گورنمنٹ ہے اماکن مقدسہ اور ترکوں کا نام ٹٹی ہے:
چہارم:اصل مقصود سلف گورنمنٹ ہے جس کی صاف تصریح بڑے بڑے عــــہ۱ لیڈران نے کردی اس میں اپنی کمزوری بلکہ عجز دیکھ کر مشرکوں کا دامن پکڑااپنا یاروانصار بنایا اوروں کو چھوڑئے مولویوں میں گنے جانے والے لیڈرفرماتے ہیں"ہم عــــہ۲ تو ہندوستان کی آزادی کو ایك فرض اسلامی سمجھتے ہیں اس کے لئے ضرورت ہے کہ عام اتحاد ہو اور پوری کوشش سے مقصد حاصل کیا جائے حالانکہ مشرکوں سے ایسی استعانت نص قرآنی کے خلاف اور قطعا حرام بلکہ صراحۃ قرآن کریم کی تکذیب ہے۔ہم اس بحث کو بعونہ چند فوائد میں روشن کریں:
مشرکوں سے استعانت کی بحث جلیل ہے:
فائدہ اولی آیات کریمہ:قرآن کریم نے منع موالات کفار کو بکثرت آیات میں ارشاد فرمایا وہ سب ان کو مدد گار بنانے سے ممانعت ہیں یہ اعلی درجہ موالات میں ہےولہذا کبار مفسرین نے جابجا ولی کو ناصر اور ولایت کو نصرت ومعونت ومظاہرت سے تفسیر کیامگر ہم یہاں صرف ان بعض آیات پر اقتصار کریں جو اپنے سوق نظم یا شان نزول سے اس مقصود کو بالخصوص افادہ فرمارہی ہیں:
استعانت بمشرکین کےحرام ہونے پر ایات قرانیہ:
آیت نمبر۱:
" یایہا الذین امنوا لا تتخذوا بطانۃ من دونکم لا یا لونکم خبلا ودوا ماعنتم قد بدت البغضاء من افوہہم وما تخفی صدورہم اکبر قد بینا لکم الایت ان کنتم تعقلون﴿۱۱۸﴾" اے ایمان والو! اپنے غیروں کو راز دار نہ بناؤ وہ تمھاری بدخواہی میں کمی نہ کریں گے ان کی دلی تمنا ہے تمھارا مشقت میں پڑنا دشمنی ان کے مونہوں سے ظاہر ہوچکی ہے اور وہ جو ان کے سینوں میں دبی ہوئی ہے اور بڑی ہے بیشك ہم نے تمھارے سامنے نشانیاں صاف بیان فرمادیں اگر تمھیں عقل ہو۔
عــــہ۱:مثل شوکت علی ومحمد علی وابوالکلام آزاد ۱۲ حمشت علی غفرلہ
عــــہ۲:وہی خطبہ صدارت مولوی عبدالباری صاحب ۱۲ حشمت علی غفرلہ
اصل مقصود سلف گورنمنٹ ہے اماکن مقدسہ اور ترکوں کا نام ٹٹی ہے:
چہارم:اصل مقصود سلف گورنمنٹ ہے جس کی صاف تصریح بڑے بڑے عــــہ۱ لیڈران نے کردی اس میں اپنی کمزوری بلکہ عجز دیکھ کر مشرکوں کا دامن پکڑااپنا یاروانصار بنایا اوروں کو چھوڑئے مولویوں میں گنے جانے والے لیڈرفرماتے ہیں"ہم عــــہ۲ تو ہندوستان کی آزادی کو ایك فرض اسلامی سمجھتے ہیں اس کے لئے ضرورت ہے کہ عام اتحاد ہو اور پوری کوشش سے مقصد حاصل کیا جائے حالانکہ مشرکوں سے ایسی استعانت نص قرآنی کے خلاف اور قطعا حرام بلکہ صراحۃ قرآن کریم کی تکذیب ہے۔ہم اس بحث کو بعونہ چند فوائد میں روشن کریں:
مشرکوں سے استعانت کی بحث جلیل ہے:
فائدہ اولی آیات کریمہ:قرآن کریم نے منع موالات کفار کو بکثرت آیات میں ارشاد فرمایا وہ سب ان کو مدد گار بنانے سے ممانعت ہیں یہ اعلی درجہ موالات میں ہےولہذا کبار مفسرین نے جابجا ولی کو ناصر اور ولایت کو نصرت ومعونت ومظاہرت سے تفسیر کیامگر ہم یہاں صرف ان بعض آیات پر اقتصار کریں جو اپنے سوق نظم یا شان نزول سے اس مقصود کو بالخصوص افادہ فرمارہی ہیں:
استعانت بمشرکین کےحرام ہونے پر ایات قرانیہ:
آیت نمبر۱:
" یایہا الذین امنوا لا تتخذوا بطانۃ من دونکم لا یا لونکم خبلا ودوا ماعنتم قد بدت البغضاء من افوہہم وما تخفی صدورہم اکبر قد بینا لکم الایت ان کنتم تعقلون﴿۱۱۸﴾" اے ایمان والو! اپنے غیروں کو راز دار نہ بناؤ وہ تمھاری بدخواہی میں کمی نہ کریں گے ان کی دلی تمنا ہے تمھارا مشقت میں پڑنا دشمنی ان کے مونہوں سے ظاہر ہوچکی ہے اور وہ جو ان کے سینوں میں دبی ہوئی ہے اور بڑی ہے بیشك ہم نے تمھارے سامنے نشانیاں صاف بیان فرمادیں اگر تمھیں عقل ہو۔
عــــہ۱:مثل شوکت علی ومحمد علی وابوالکلام آزاد ۱۲ حمشت علی غفرلہ
عــــہ۲:وہی خطبہ صدارت مولوی عبدالباری صاحب ۱۲ حشمت علی غفرلہ
حوالہ / References
القرآن الکریم ۳ /۱۱۸
لیڈران نے اس ایہ کریمہ کو کیسا کیسا رد کیا کس کس طرح جھٹلایا:
یہ آیہ کریمہ اپنے ایك ایك جملے سے اس طوفان بدتمیزی کو جو آج مشرکین ہند سے لیڈران برت رہے ہیں رد فرماتی ہے:
ا۔حالت کمزوری وعجز میں مدد کے لئے جس کسی کی طرف التجا لائی جائے ضرور ہے کہ اسے اپنا رازد ار بنایا جائے اور رب عزوجل فرماتاہے:کسی کافر کو راز دار نہ بناؤیہ واحد قہار کی نافرمانی ہوئی
ب۔ظاہر ہے کہ اسے اپنا خیرخواہ سمجھا گیاکہ بدخواہ کے دامن میں کوئی نہ چھپے گا اور رب عزوجل فرماتاہے:وہ تمھاری بدخواہی میں کمی نہ کریں گےیہ اﷲ تعالی کی تکذیب ہوئی۔
ج۔مصیبت میں التجا واستمداد اسی سے ہوگی جسے جانا جائے کہ ہمیں مشقت سے بچائے گاا ور رب عزوجل فرماتاہے:ان کی دلی تمناہے تمھارا مشقت میں پڑنایہ دوسری تکذیب ہوئی۔
د۔چھپا دشمن جس سے اثر عداوت کبھی ظاہر نہ ہوا آدمی ا س کے دھوکے میں آسکتاہے اور جس کے منہ سے بغض کھل چکا ا س سے قطعی احتراز کرے گارب عزوجل نے فرمادیا تھا کہ دشمنی ان کے منہ سے ظاہر ہوچکی پھر بھی ان کی محبت نے وہ اندھا بہر ا کردیا کہ نہ اﷲ تعالی کی سنی نہ ان کے منہ سے چھلکی یاد رہی۔
ہ۔اگر ایك خفیف حدکی مخالفت ورنجش ظاہر ہوتی اور اطمینان ہوتاکہ دل میں اس سے زائد نہیں تو کچھ گنجائش ہوسکتی کہ یہ ہمارا
اس حد کا بدخواہ نہیں جوایسی بھاری مصیبت میں ساتھ نہ دے اس خیال ارذل کو رب عزوجل نے ان تینوں جملوں سے رد فرما دیا کہ وہ کوئی ہلکے مخالف نہیں تمھاری بدخواہی میں کمی نہ کریں گےیہ گمان نہ کرنا کہ وہ کسی سخت سے سخت مصیبت میں تم پر کچھ ترس کریں گے ان کی دلی تمناہے کہ تم مشقت میں پڑو کوئی خفیف رنجش ان کے منہ سے ظاہر نہ ہوئی بلکہ بغض اور پور ی دشمنی بیر عداوتاور اس پر چوتھا جملہ یہ ارشاد فرمادیا کہ ا س پر بس نہ جانو کہ ان کے دلوں کی دبی اور سخت ترہے مگر انھوں نے اس واحد قہار کریم مہربان پروردگار کی ایك نہ مانی اور جملے جملے کی تکذیب ہی ٹھانی ولاحول ولاقوۃ الا باﷲ العلی العظیم۔
آیت نمبر ۲:
" بشر المنفقین بان لہم عذابا الیمۨا ﴿۱۳۸﴾ الذین اے محبوب! خوشخبری دو منافقوں کو کہ ان کے لئے
یہ آیہ کریمہ اپنے ایك ایك جملے سے اس طوفان بدتمیزی کو جو آج مشرکین ہند سے لیڈران برت رہے ہیں رد فرماتی ہے:
ا۔حالت کمزوری وعجز میں مدد کے لئے جس کسی کی طرف التجا لائی جائے ضرور ہے کہ اسے اپنا رازد ار بنایا جائے اور رب عزوجل فرماتاہے:کسی کافر کو راز دار نہ بناؤیہ واحد قہار کی نافرمانی ہوئی
ب۔ظاہر ہے کہ اسے اپنا خیرخواہ سمجھا گیاکہ بدخواہ کے دامن میں کوئی نہ چھپے گا اور رب عزوجل فرماتاہے:وہ تمھاری بدخواہی میں کمی نہ کریں گےیہ اﷲ تعالی کی تکذیب ہوئی۔
ج۔مصیبت میں التجا واستمداد اسی سے ہوگی جسے جانا جائے کہ ہمیں مشقت سے بچائے گاا ور رب عزوجل فرماتاہے:ان کی دلی تمناہے تمھارا مشقت میں پڑنایہ دوسری تکذیب ہوئی۔
د۔چھپا دشمن جس سے اثر عداوت کبھی ظاہر نہ ہوا آدمی ا س کے دھوکے میں آسکتاہے اور جس کے منہ سے بغض کھل چکا ا س سے قطعی احتراز کرے گارب عزوجل نے فرمادیا تھا کہ دشمنی ان کے منہ سے ظاہر ہوچکی پھر بھی ان کی محبت نے وہ اندھا بہر ا کردیا کہ نہ اﷲ تعالی کی سنی نہ ان کے منہ سے چھلکی یاد رہی۔
ہ۔اگر ایك خفیف حدکی مخالفت ورنجش ظاہر ہوتی اور اطمینان ہوتاکہ دل میں اس سے زائد نہیں تو کچھ گنجائش ہوسکتی کہ یہ ہمارا
اس حد کا بدخواہ نہیں جوایسی بھاری مصیبت میں ساتھ نہ دے اس خیال ارذل کو رب عزوجل نے ان تینوں جملوں سے رد فرما دیا کہ وہ کوئی ہلکے مخالف نہیں تمھاری بدخواہی میں کمی نہ کریں گےیہ گمان نہ کرنا کہ وہ کسی سخت سے سخت مصیبت میں تم پر کچھ ترس کریں گے ان کی دلی تمناہے کہ تم مشقت میں پڑو کوئی خفیف رنجش ان کے منہ سے ظاہر نہ ہوئی بلکہ بغض اور پور ی دشمنی بیر عداوتاور اس پر چوتھا جملہ یہ ارشاد فرمادیا کہ ا س پر بس نہ جانو کہ ان کے دلوں کی دبی اور سخت ترہے مگر انھوں نے اس واحد قہار کریم مہربان پروردگار کی ایك نہ مانی اور جملے جملے کی تکذیب ہی ٹھانی ولاحول ولاقوۃ الا باﷲ العلی العظیم۔
آیت نمبر ۲:
" بشر المنفقین بان لہم عذابا الیمۨا ﴿۱۳۸﴾ الذین اے محبوب! خوشخبری دو منافقوں کو کہ ان کے لئے
یتخذون الکفرین اولیاء من دون المؤمنین ایبتغون عندہم العزۃ فان العزۃ للہ جمیعا ﴿۱۳۹﴾ دردناك عذاب ہےوہ جو مسلمانوں کے سوا کافروں کو مددگار بناتے ہیںکیا ان کے پاس عزت ڈھونڈتے ہیں عزت تو ساری اﷲ کے قبضے میں ہے۔
ظاہر ہے کہ کمزوری میں کسی کی مدد چاہنے کا یہی مطلب ہوتاہے کہ ا س کے بل بازو سے ہمیں قوت ملے گی ہماری کمزوری وذلتغلبہ وعزت سے بدلے گیاﷲ عزوجل فرماتاہے:یہ ان کی بدعقلی ہے کافروں کی مدد سے غلبہ وعزت کی تمنا ہوس باطل ہے۔اورفرماتاہے کہ ایسا کرنے والے منافق ہیں اور ان کے لئے دردناك عذاب ہے۔تفسیر ارشاد العقل السلیم میں اسی آیہ کریمہ کے تحت ہے:
بیان لخیبۃ رجائہم ایطلبون بموالاۃ الکفر القوۃ و الغلبۃ(فان العزۃ للہ جمیعا ﴿۱۳۹﴾)تعلیل لبطلان رأیھم فان انحصار جمیع افراد العزۃ فی جنابہ عزوعلا بحیث لاینا لھا الا اولیاء ہ قال" و للہ العزۃ و لرسولہ و للمؤمنین"
یقضی ببطلان التعزز بغیرہ واستحالۃ الانتفاع بہ (مختصرا) اس آیت میں ان کی نامرادی کا بیان ہے جو کافروں سے استعانت کرتے ہیںفرماتاہے کیا کافروں کی دوستی سے غلبہ وقوت چاہتے ہیں عزت تو ساری اﷲ کے لئے ہے اس میں ان کی رائے فاسد ہونے پر دلیل فرمائی کہ جب تمام عزتیں حضرت عزت کےلئے خاص ہیں کہ اس کے دوستوں کے سواکسی کو نہیں مل سکتیں کہ اﷲ تعالی فرماتاہے عزت صرف اﷲ تعالی ورسول اور مسلمانوں کے لئے ہے تو اس سے واجب ہو ا کہ غیروں سے عزت چاہنا باطل اور ان سے نفع پہنچنا محال(مختصرا)
آیت نمبر ۳:
" لا یتخذ المؤمنون الکفرین اولیاء من دون المؤمنین ومن یفعل ذلک فلیس من اللہ فی شیء" مسلمانمسلمانوں کے سوا کافروں کو مدد گار نہ بنائیں اور جو ایسا کرے گا اسے اﷲ سے کچھ علاقہ نہیں۔
تفسیر لباب التاویل میں ہے: ان عبادۃ بن الصامت کان لہ حلفاء من الیھود فقال یوم الاحزاب یارسول اﷲ
ظاہر ہے کہ کمزوری میں کسی کی مدد چاہنے کا یہی مطلب ہوتاہے کہ ا س کے بل بازو سے ہمیں قوت ملے گی ہماری کمزوری وذلتغلبہ وعزت سے بدلے گیاﷲ عزوجل فرماتاہے:یہ ان کی بدعقلی ہے کافروں کی مدد سے غلبہ وعزت کی تمنا ہوس باطل ہے۔اورفرماتاہے کہ ایسا کرنے والے منافق ہیں اور ان کے لئے دردناك عذاب ہے۔تفسیر ارشاد العقل السلیم میں اسی آیہ کریمہ کے تحت ہے:
بیان لخیبۃ رجائہم ایطلبون بموالاۃ الکفر القوۃ و الغلبۃ(فان العزۃ للہ جمیعا ﴿۱۳۹﴾)تعلیل لبطلان رأیھم فان انحصار جمیع افراد العزۃ فی جنابہ عزوعلا بحیث لاینا لھا الا اولیاء ہ قال" و للہ العزۃ و لرسولہ و للمؤمنین"
یقضی ببطلان التعزز بغیرہ واستحالۃ الانتفاع بہ (مختصرا) اس آیت میں ان کی نامرادی کا بیان ہے جو کافروں سے استعانت کرتے ہیںفرماتاہے کیا کافروں کی دوستی سے غلبہ وقوت چاہتے ہیں عزت تو ساری اﷲ کے لئے ہے اس میں ان کی رائے فاسد ہونے پر دلیل فرمائی کہ جب تمام عزتیں حضرت عزت کےلئے خاص ہیں کہ اس کے دوستوں کے سواکسی کو نہیں مل سکتیں کہ اﷲ تعالی فرماتاہے عزت صرف اﷲ تعالی ورسول اور مسلمانوں کے لئے ہے تو اس سے واجب ہو ا کہ غیروں سے عزت چاہنا باطل اور ان سے نفع پہنچنا محال(مختصرا)
آیت نمبر ۳:
" لا یتخذ المؤمنون الکفرین اولیاء من دون المؤمنین ومن یفعل ذلک فلیس من اللہ فی شیء" مسلمانمسلمانوں کے سوا کافروں کو مدد گار نہ بنائیں اور جو ایسا کرے گا اسے اﷲ سے کچھ علاقہ نہیں۔
تفسیر لباب التاویل میں ہے: ان عبادۃ بن الصامت کان لہ حلفاء من الیھود فقال یوم الاحزاب یارسول اﷲ
حوالہ / References
القرآن الکریم ۴ /۱۳۹
ارشاد العقل السلیم(تفسیر ابی السعود)تحت آیۃ ۴/ ۱۳۸،۱۳۹ داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/ ۲۴۴
القرآن الکریم ۳ /۲۸
ارشاد العقل السلیم(تفسیر ابی السعود)تحت آیۃ ۴/ ۱۳۸،۱۳۹ داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/ ۲۴۴
القرآن الکریم ۳ /۲۸
معی خمسمائۃ من الیھود وقدرأیت ان استظہربہم علی العدوفنزلت ھذہ الایۃ وقولہ(لا یتخذ المؤمنون) الایۃ یعنی انصار ا واعوانا(من دون المؤمنین)یعنی من غیر المؤمنین والمعنی لایجعل المؤمن ولایتہ لمن ہو غیر مؤمن نھی اﷲ المؤمنین ان یوالوا الکفار اویلا طفوھم لقرابۃ بینہم اومحبۃ اومعاشرۃ والمحبۃ فی اﷲ والبغض فی اﷲ باب عظیم واصل من اصول الایمان ۔
یعنی عبادہ بن صامت رضی اﷲ تعالی عنہ کے کچھ یہودی حلیف تھے غزوہ احزاب میں انھوں نے عرض کی:یارسول اللہ! میرے ساتھ پانسویہود ی ہیں میری رائے ہوتی ہے کہ دشمن پر ان سے مددلوںاس پر یہ آیہ کریمہ اتری کہ مسلمان غیرمسلم کو مدد گار نہ بنائیں کہ یہ مسلمانوں کوحلال نہیں اﷲ تعالی نے مسلمانوں کو منع فرمایا کہ رشتےخواہ یارانےخواہ نرے میل کے باعث کافروں سے دوستانہ برتیں یا ان سے لطف ونرمی کے ساتھ پیش آئیں اور اﷲ تعالی کے لئے محبت اور اﷲ تعالی کے لئے عداوت ایك عظیم باب اور ایمان کی جڑ ہے۔
مدارك شریف پار ہ ۶ میں ہے:
ای لاتتخذوھم اولیاء تنصرونہم تستنصرونھم وتوأخونہم وتعاشرونہم معاشرۃ المؤمنین ۔
یعنی رب عزوجل فرماتاہے کافروں کو دوست نہ بناؤ کہ تم ان کے معاون ہواور ان سے اپنے لئے مدد چاہو انھیں بھائی بناؤ دنیوی برتاؤ ان کے ساتھ مسلمانوں کا سارکھواس سب سے منع فرماتاہے۔
تفسیر کبیرپارہ ۶ میں ہے:
المراد ان اﷲ تعالی امرالمسلم ان لایتخذالحبیب والناصر الامن المسلمین ۔
یعنی مراد آیت یہ ہے کہ اﷲ تعالی مسلمانوں کو حکم فرماتاہے کہ صرف مسلمانوں ہی کو اپنا دوست مدد گار بنائیں۔اسی میں ہے:
یعنی عبادہ بن صامت رضی اﷲ تعالی عنہ کے کچھ یہودی حلیف تھے غزوہ احزاب میں انھوں نے عرض کی:یارسول اللہ! میرے ساتھ پانسویہود ی ہیں میری رائے ہوتی ہے کہ دشمن پر ان سے مددلوںاس پر یہ آیہ کریمہ اتری کہ مسلمان غیرمسلم کو مدد گار نہ بنائیں کہ یہ مسلمانوں کوحلال نہیں اﷲ تعالی نے مسلمانوں کو منع فرمایا کہ رشتےخواہ یارانےخواہ نرے میل کے باعث کافروں سے دوستانہ برتیں یا ان سے لطف ونرمی کے ساتھ پیش آئیں اور اﷲ تعالی کے لئے محبت اور اﷲ تعالی کے لئے عداوت ایك عظیم باب اور ایمان کی جڑ ہے۔
مدارك شریف پار ہ ۶ میں ہے:
ای لاتتخذوھم اولیاء تنصرونہم تستنصرونھم وتوأخونہم وتعاشرونہم معاشرۃ المؤمنین ۔
یعنی رب عزوجل فرماتاہے کافروں کو دوست نہ بناؤ کہ تم ان کے معاون ہواور ان سے اپنے لئے مدد چاہو انھیں بھائی بناؤ دنیوی برتاؤ ان کے ساتھ مسلمانوں کا سارکھواس سب سے منع فرماتاہے۔
تفسیر کبیرپارہ ۶ میں ہے:
المراد ان اﷲ تعالی امرالمسلم ان لایتخذالحبیب والناصر الامن المسلمین ۔
یعنی مراد آیت یہ ہے کہ اﷲ تعالی مسلمانوں کو حکم فرماتاہے کہ صرف مسلمانوں ہی کو اپنا دوست مدد گار بنائیں۔اسی میں ہے:
حوالہ / References
لباب التاویل(تفسیر الخازن)تحت آیہ ۳/ ۲۸ مصطفی البابی مصر ۱/ ۳۳۶
مدارك التنزیل(تفسیر النسفی)تحت آیۃ لاتتخذ واالیہود الخ دارالکتب العربی بیروت ۱/ ۲۸۷
مفاتیح الغیب(التفسیر الکبیر)تحت آیۃ انما ولیکم اﷲ ورسولہ الخ المطبعۃ البہیۃ المصریۃ مصر ۱۲/ ۳۰
مدارك التنزیل(تفسیر النسفی)تحت آیۃ لاتتخذ واالیہود الخ دارالکتب العربی بیروت ۱/ ۲۸۷
مفاتیح الغیب(التفسیر الکبیر)تحت آیۃ انما ولیکم اﷲ ورسولہ الخ المطبعۃ البہیۃ المصریۃ مصر ۱۲/ ۳۰
یعنی لا تتخذوھم اولیا ء ای لا تعتمدوا علی الاستنصار بھم ولا تتوددوا الیھم ۔
یعنی مراد آیت یہ ہے کہ کافروں کی مدد ویاری پر اعتماد نہ کرو۔
تفسیر ابی السعود وتفسیر فتوحا ت الہیہ میں زیر آیہ مذکورہ ہے:نھوا عن موالاتھم لقرابۃ او صداقۃ جاھلیۃ ونحوھما من اسباب المصادقۃ والمعاشرۃ وعن الاستعانۃ بھم فی الغزو وسائر الامور الدینیۃ ۔
یعنی مسلمان منع کئے گئے کافروں کی دوستی سے خواہ وہ رشتہ داری ہی ہو یا اسلام سے پہلے کا یارانہ یا کسی سبب یاری خواہ میل جول کے سبب اور منع کئے گئے اس سے کہ جہاد یا کسی دینی کا م میں کافروں سے استعانت کریں۔
آیت نمبر ۴:
" فان تولوا فخذوہم و اقتلوہم حیث وجدتموہم ۪ ولا تتخذوا منہم ولیا ولا نصیرا ﴿۸۹﴾ " اگرکافر ایمان لا نے سے منہ پھیریں توانھیں پکڑو اورجہاں پاؤ قتل کرو اور ان میں کسی کو دوست نہ بناؤ نہ مددگار۔
اس آیہ کریمہ میں ولی کے ساتھ لفظ نصیر خود ہی صاف ارشاد ہےکہ انھیں دوست ٹہہرانا بھی حرام اور مددگار بنانا بھی حرام ہے۔ تفسیر مدارك التنزیل میں ہے:
(فان تولوا)عن الایمان (فخذوہم و اقتلوہم حیث وجدتموہم ۪ ولا تتخذوا منہم ولیا ولا نصیرا)
وان بذلوا لکم الولایۃ والنصرۃ فلا تقبلوا منھم
(الا الذین یصلون الی قو مۭ)ویتصلون بھم والاستثناء من قولہ فخذوھم واقتلوھم دون الموالاۃ ۔ اگروہ ایمان لا نے سے منہ پھیریں توانھیں پکڑو اورجہاں پاؤ مارو اور ان میں کسی کونہ دوست بناؤ نہ مددگار۔اور اگر وہ بلا معاوضہ بھی تمھاری دوستداری ومددگاری بگھاریں جب بھی قبول نہ کرو مگر جو اہل معاہدہ سے ملے یہ پکڑنے اور قتل کرنے سے استثناء ہے نہ دوستی سے کہ وہ تو ہر کافر سے مطلقا حرام ہے۔
یعنی مراد آیت یہ ہے کہ کافروں کی مدد ویاری پر اعتماد نہ کرو۔
تفسیر ابی السعود وتفسیر فتوحا ت الہیہ میں زیر آیہ مذکورہ ہے:نھوا عن موالاتھم لقرابۃ او صداقۃ جاھلیۃ ونحوھما من اسباب المصادقۃ والمعاشرۃ وعن الاستعانۃ بھم فی الغزو وسائر الامور الدینیۃ ۔
یعنی مسلمان منع کئے گئے کافروں کی دوستی سے خواہ وہ رشتہ داری ہی ہو یا اسلام سے پہلے کا یارانہ یا کسی سبب یاری خواہ میل جول کے سبب اور منع کئے گئے اس سے کہ جہاد یا کسی دینی کا م میں کافروں سے استعانت کریں۔
آیت نمبر ۴:
" فان تولوا فخذوہم و اقتلوہم حیث وجدتموہم ۪ ولا تتخذوا منہم ولیا ولا نصیرا ﴿۸۹﴾ " اگرکافر ایمان لا نے سے منہ پھیریں توانھیں پکڑو اورجہاں پاؤ قتل کرو اور ان میں کسی کو دوست نہ بناؤ نہ مددگار۔
اس آیہ کریمہ میں ولی کے ساتھ لفظ نصیر خود ہی صاف ارشاد ہےکہ انھیں دوست ٹہہرانا بھی حرام اور مددگار بنانا بھی حرام ہے۔ تفسیر مدارك التنزیل میں ہے:
(فان تولوا)عن الایمان (فخذوہم و اقتلوہم حیث وجدتموہم ۪ ولا تتخذوا منہم ولیا ولا نصیرا)
وان بذلوا لکم الولایۃ والنصرۃ فلا تقبلوا منھم
(الا الذین یصلون الی قو مۭ)ویتصلون بھم والاستثناء من قولہ فخذوھم واقتلوھم دون الموالاۃ ۔ اگروہ ایمان لا نے سے منہ پھیریں توانھیں پکڑو اورجہاں پاؤ مارو اور ان میں کسی کونہ دوست بناؤ نہ مددگار۔اور اگر وہ بلا معاوضہ بھی تمھاری دوستداری ومددگاری بگھاریں جب بھی قبول نہ کرو مگر جو اہل معاہدہ سے ملے یہ پکڑنے اور قتل کرنے سے استثناء ہے نہ دوستی سے کہ وہ تو ہر کافر سے مطلقا حرام ہے۔
حوالہ / References
مفاتیح الغیب(التفسیر الکبیر)زیر آیہ لا تتخذواالیہودالخ المطبعۃ البہیۃ المصریۃ مصر ۱۲/ ۱۶
ارشاد العقل السلیم(تفسیر ابی السعود)زیر آیہ لا یتخذالمؤمنون الکافرین اولیاء الخ داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/ ۳۲
القرآن الکریم ۴ /۸۹
مدارك التنزیل(تفسیر النسفی)زیر آیۃ۴/ ۸۹ دارالکتب العربی بیروت ۱/ ۲۴۲
ارشاد العقل السلیم(تفسیر ابی السعود)زیر آیہ لا یتخذالمؤمنون الکافرین اولیاء الخ داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/ ۳۲
القرآن الکریم ۴ /۸۹
مدارك التنزیل(تفسیر النسفی)زیر آیۃ۴/ ۸۹ دارالکتب العربی بیروت ۱/ ۲۴۲
تفسیر بیضاوی میں ہے:
ای جانبوھم راسا ولاتقبلوا منہم ولایۃ ولانصرۃ ۔ یعنی ان سے بالکل دور رہو اور ان کی دوستی و مددکچھ نہ قبول کرو۔
تفسیر ابی السعود میں ہے:
ای جانبوھم مجانبۃ کلیۃ ولاتقبلوا منہم ولایۃ ولانصرۃ ابدا ۔ یعنی کافروں سے بالکل کنارہ کش رہو اور کبھی ان کی دوستی ومدد قبول نہ کرو۔
تفسیر فتوحات الہیہ میں ہے:
ھذا مستثنی من الاخذ والقتل اما الموالاۃ فحرام مطلقا لاتجوز بحال ۔ یہ استثناء گرفتاری وقتل سے ہےرہی کافر سے موالات وہ تو مطلقا حرام ہے کسی حال میں جائز نہیں۔
تفسیر خازن میں ہے:
ھذا الاستثناء یرجع الی القتل لا الی الموالات لان موالاۃ الکفار والمنافقین لاتجوز بحال ۔ یہ استثناء قتل کی طرف پھرتاہے نہ کہ موالات کی جانباس لئے کہ کافروں اور منافقوں سے موالات تو کسی حال میں حلال نہیں۔
تفسیر کرخی میں ہے:
استثناء من مفعول فاقتلوھم لامن قولہ ولاتتخذوا منہم ولیا ولانصیرا وان کان اقرب مذکور لان اتخاذ الولی منہم حرام بلااستثناء بخلاف قتلہم ۔ معاہدوں سے ملنے والوں کا استثناء ان سے ہے جن کی بابت حکم فرمایا تھا کہ انھیں قتل کرواس ارشاد سے استثناء نہیں کہ ان میں نہ کسی کو دوست بناؤ نہ مددگار اگرچہ ذکر میں یہی قریب تر ہے ا س واسطے کہ کافروں سے کسی کو دوست بنانا بلا استثناء حرام ہے بخلاف ان کے قتل کے کہ
ای جانبوھم راسا ولاتقبلوا منہم ولایۃ ولانصرۃ ۔ یعنی ان سے بالکل دور رہو اور ان کی دوستی و مددکچھ نہ قبول کرو۔
تفسیر ابی السعود میں ہے:
ای جانبوھم مجانبۃ کلیۃ ولاتقبلوا منہم ولایۃ ولانصرۃ ابدا ۔ یعنی کافروں سے بالکل کنارہ کش رہو اور کبھی ان کی دوستی ومدد قبول نہ کرو۔
تفسیر فتوحات الہیہ میں ہے:
ھذا مستثنی من الاخذ والقتل اما الموالاۃ فحرام مطلقا لاتجوز بحال ۔ یہ استثناء گرفتاری وقتل سے ہےرہی کافر سے موالات وہ تو مطلقا حرام ہے کسی حال میں جائز نہیں۔
تفسیر خازن میں ہے:
ھذا الاستثناء یرجع الی القتل لا الی الموالات لان موالاۃ الکفار والمنافقین لاتجوز بحال ۔ یہ استثناء قتل کی طرف پھرتاہے نہ کہ موالات کی جانباس لئے کہ کافروں اور منافقوں سے موالات تو کسی حال میں حلال نہیں۔
تفسیر کرخی میں ہے:
استثناء من مفعول فاقتلوھم لامن قولہ ولاتتخذوا منہم ولیا ولانصیرا وان کان اقرب مذکور لان اتخاذ الولی منہم حرام بلااستثناء بخلاف قتلہم ۔ معاہدوں سے ملنے والوں کا استثناء ان سے ہے جن کی بابت حکم فرمایا تھا کہ انھیں قتل کرواس ارشاد سے استثناء نہیں کہ ان میں نہ کسی کو دوست بناؤ نہ مددگار اگرچہ ذکر میں یہی قریب تر ہے ا س واسطے کہ کافروں سے کسی کو دوست بنانا بلا استثناء حرام ہے بخلاف ان کے قتل کے کہ
حوالہ / References
انوار التنزیل مع القرآن الکریم(بیضاوی)زیر آیہ ۴/ ۸۹ مصطفی البابی مصر ۱/ ۹۳
ارشاد العقل السلیم(تفسیر ابی السعود)زیر آیہ ۴/ ۸۹ داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/ ۲۱۳
الفتوحات الہٰیہ(الشہیر بالجمل)زیر آیہ ۴/ ۸۹ مصطفی البابی مصر ۱/ ۴۰۹
لباب التاویل(تفسیر الخازن)زیر آیہ ۴/ ۸۹ مصطفی البابی مصر ۱/ ۵۷۱
تفسیر کرخی
ارشاد العقل السلیم(تفسیر ابی السعود)زیر آیہ ۴/ ۸۹ داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/ ۲۱۳
الفتوحات الہٰیہ(الشہیر بالجمل)زیر آیہ ۴/ ۸۹ مصطفی البابی مصر ۱/ ۴۰۹
لباب التاویل(تفسیر الخازن)زیر آیہ ۴/ ۸۹ مصطفی البابی مصر ۱/ ۵۷۱
تفسیر کرخی
اس سے معاہدین مستثنی ہیں۔تفسیر عنایۃ القاضی میں ہے:
قال الطیبی لامن الضمیر فی ولاتتخذوا وان کان اقرب لان اتخاذ الولی منہم حرام مطلقا ۔ طیبی نے کہا دوست یا مددگار بنانے کی ممانعت سے استثناء نہیں اگرچہ وہ قریب تر ہے اس لئے کہ کافروں میں سے کسی کو دوست بنانا مطلقا حرام ہے اگرچہ معاہد ہو۔
اقول: اس پر خود سیاق کریمہ دال کہ قتل وقتال ہی کے منع ورخصت کا ذکر ہے یونہی عموم حکم نفس استثناء کا مفاد کہ مجاہرین متصلین بالمعاہدین ومعاہدین غیر جانبدارطرفین مستثنی فرمائے واﷲ تعالی اعلم۔
استعانت بمشرکین کی تحریم پر صحیح حدیثیں:
فائدثانیہ:صحاح احادیث ناطق۔
حدیث ۱:صحیح مسلم وسنن اربعہ ومشکل الآثار امام طحاوی میں ام المومنین صدیقہ رضی اﷲ تعالی عنہا سے ہے جب حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بدر کو تشریف لے چلے سنگستان وبرہ میں(کہ مدینہ طیبہ سے چار میل ہے)ایك شخص جس کی جرأت وبہادری مشہور تھی حاضرہوااصحاب کرام اسے دیکھ کر خوش ہوئےاس نے عرض کی:میں اس لئے حاضر ہوا کہ حضو رکے ہمراہ رکاب رہوں اورقریش سے جو مال ہاتھ لگے اس میں سے میں بھی پاؤںحضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:اتؤمن باﷲ ورسولہ کیا تم اﷲ ورسول پر ایمان رکھتاہے کہا:نہ۔فرمایا:"فارجع فلن نستعین بمشرک"تو پلٹ جا ہم ہر گز کسی مشر ك سے مدد نہ چاہیں گے۔پھر حضور تشریف لے چلے جب ذوالحلیفہ پہنچے(کہ مدینہ سے چھ میل ہے) وہ پھر حاضر ہواصحابہ خوش ہوئے کہ واپس آیا وہی پہلی بات عرض کی اورحضو رنے وہی جواب ارشاد فرمایا کہ کیا تو اﷲ ورسول پر ایمان لاتاہے کہا:نہ فرمایا:"فارجع فلن نستعین بمشرک"واپس جا ہم ہر گز کسی مشرك سے مدد نہ لیں گےپھر حضور تشریف لے چلے جب وادی میں پہنچے وہ پھر آیا اور صحابہ خوش ہوئے اس نے وہی عرض کی۔حضور نے فرمایا:کیا تو اﷲ و رسول پر ایمان لاتاہے عرض کی:ہاں۔فرمایا:فنعم
قال الطیبی لامن الضمیر فی ولاتتخذوا وان کان اقرب لان اتخاذ الولی منہم حرام مطلقا ۔ طیبی نے کہا دوست یا مددگار بنانے کی ممانعت سے استثناء نہیں اگرچہ وہ قریب تر ہے اس لئے کہ کافروں میں سے کسی کو دوست بنانا مطلقا حرام ہے اگرچہ معاہد ہو۔
اقول: اس پر خود سیاق کریمہ دال کہ قتل وقتال ہی کے منع ورخصت کا ذکر ہے یونہی عموم حکم نفس استثناء کا مفاد کہ مجاہرین متصلین بالمعاہدین ومعاہدین غیر جانبدارطرفین مستثنی فرمائے واﷲ تعالی اعلم۔
استعانت بمشرکین کی تحریم پر صحیح حدیثیں:
فائدثانیہ:صحاح احادیث ناطق۔
حدیث ۱:صحیح مسلم وسنن اربعہ ومشکل الآثار امام طحاوی میں ام المومنین صدیقہ رضی اﷲ تعالی عنہا سے ہے جب حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بدر کو تشریف لے چلے سنگستان وبرہ میں(کہ مدینہ طیبہ سے چار میل ہے)ایك شخص جس کی جرأت وبہادری مشہور تھی حاضرہوااصحاب کرام اسے دیکھ کر خوش ہوئےاس نے عرض کی:میں اس لئے حاضر ہوا کہ حضو رکے ہمراہ رکاب رہوں اورقریش سے جو مال ہاتھ لگے اس میں سے میں بھی پاؤںحضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:اتؤمن باﷲ ورسولہ کیا تم اﷲ ورسول پر ایمان رکھتاہے کہا:نہ۔فرمایا:"فارجع فلن نستعین بمشرک"تو پلٹ جا ہم ہر گز کسی مشر ك سے مدد نہ چاہیں گے۔پھر حضور تشریف لے چلے جب ذوالحلیفہ پہنچے(کہ مدینہ سے چھ میل ہے) وہ پھر حاضر ہواصحابہ خوش ہوئے کہ واپس آیا وہی پہلی بات عرض کی اورحضو رنے وہی جواب ارشاد فرمایا کہ کیا تو اﷲ ورسول پر ایمان لاتاہے کہا:نہ فرمایا:"فارجع فلن نستعین بمشرک"واپس جا ہم ہر گز کسی مشرك سے مدد نہ لیں گےپھر حضور تشریف لے چلے جب وادی میں پہنچے وہ پھر آیا اور صحابہ خوش ہوئے اس نے وہی عرض کی۔حضور نے فرمایا:کیا تو اﷲ و رسول پر ایمان لاتاہے عرض کی:ہاں۔فرمایا:فنعم
حوالہ / References
عنایۃ القاضی علی تفسیر البیضاوی زیر آیۃ ۴/ ۸۹ دار صادر بیروت ۳/ ۱۶۵
اذن ہاں اب چلو۔
حدیث ۲:امام احمد وامام اسحق بن راہویہ مسانیداور امام بخاری تاریخ اور ابوبکر بن ابی شیبہ مصنف میں اور امام طحاوی مشکل الآثار اور طبرانی معجم کبیر اورحاکم صحیح مستدرك میں خبیب بن اساف رضی اﷲ تعالی عنہ سے راوی حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ایك غزوہ عــــہ۱ کو تشریف لئے جاتے تھے میں اور میری قوم سے ایك شخص حاضر ہوئے میں نے عرض کی:یا رسول اﷲ عــــہ۲! ہمیں شرم آتی ہے کہ ہماری قوم کسی معرکہ میں جائے اورہم نہ جائیں(یہ قوم خزرج سے تھے کہ انصار سے ایك بڑا گروہ ہے)حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:کیا تم دونوں مسلمان ہوئے کہا:نہ۔فرمایا:فانالا نستعین بالمشرکین علی المشرکین تو ہم مشرکوں سے مشرکوں پر مدد نہیں چاہتے۔اس پر ہم دونوں اسلام لائے اور ہمراہ رقاب اقدس شریك جہاد ہوئے ۔
حاکم نے کہا:یہ حدیث صحیح الاسناد ہے۔یونہی تنقیح میں اس کے رجال کی توثیق کی۔
حدیث ۳:امام واقدی مغازی اورامام اسحق بن راہویہ مسند اور امام طحاوی مشکل الآثار اورطبرانی معجم کبیر ومعجم اوسط میں ابوحمید ساعدی رضی اﷲ تعالی عنہ سے راوی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم روز احد تشریف لے چلے جب ثنیۃ الوداع سے آگے بڑھے ایك بھاری لشکر ملاحظہ فرمایا ارشاد ہوا:یہ کون ہیں عرض کی گئی:یہودی بنی قینقاع قوم عبداﷲ بن سلام خلفائے عبداﷲ بن ابی(یہ لفظ طحاوی ہیں اور لفظ ابن راہویہ یوں ہی عرض کی گئی یہ عبداﷲ بن ابی ہے اپنے حلیفوں کے ساتھ کہ قوم عبداﷲ بن سلام کے یہود ہیںاور لفظ واقدی میں ہے یہ ابن ابی کے حلیف یہودی ہیں اورلفظ طبرانی میں ہے یہ عبداﷲ بن ابی ہے چھ سو یہودیوں کے ساتھ کہ اس کے
عــــہ۱:یہ غزوہ غزوہ بدر ہے کما فی اسدالغابہ ۱۲ منہ غفرلہ
عــــہ۲:اقول:یہ لفظ مستدرك میں ہے اور مشکل الآثار ومسند احمد میں نہیں قبل اسلام اس کا کہنا باعتبار عرف مسلمین ہوگا یایوں کہ اس وقت بھی ایقان تھا اگرچہ اذعان بعد کو ہوا ۱۲ منہ غفرلہ
حدیث ۲:امام احمد وامام اسحق بن راہویہ مسانیداور امام بخاری تاریخ اور ابوبکر بن ابی شیبہ مصنف میں اور امام طحاوی مشکل الآثار اور طبرانی معجم کبیر اورحاکم صحیح مستدرك میں خبیب بن اساف رضی اﷲ تعالی عنہ سے راوی حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ایك غزوہ عــــہ۱ کو تشریف لئے جاتے تھے میں اور میری قوم سے ایك شخص حاضر ہوئے میں نے عرض کی:یا رسول اﷲ عــــہ۲! ہمیں شرم آتی ہے کہ ہماری قوم کسی معرکہ میں جائے اورہم نہ جائیں(یہ قوم خزرج سے تھے کہ انصار سے ایك بڑا گروہ ہے)حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:کیا تم دونوں مسلمان ہوئے کہا:نہ۔فرمایا:فانالا نستعین بالمشرکین علی المشرکین تو ہم مشرکوں سے مشرکوں پر مدد نہیں چاہتے۔اس پر ہم دونوں اسلام لائے اور ہمراہ رقاب اقدس شریك جہاد ہوئے ۔
حاکم نے کہا:یہ حدیث صحیح الاسناد ہے۔یونہی تنقیح میں اس کے رجال کی توثیق کی۔
حدیث ۳:امام واقدی مغازی اورامام اسحق بن راہویہ مسند اور امام طحاوی مشکل الآثار اورطبرانی معجم کبیر ومعجم اوسط میں ابوحمید ساعدی رضی اﷲ تعالی عنہ سے راوی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم روز احد تشریف لے چلے جب ثنیۃ الوداع سے آگے بڑھے ایك بھاری لشکر ملاحظہ فرمایا ارشاد ہوا:یہ کون ہیں عرض کی گئی:یہودی بنی قینقاع قوم عبداﷲ بن سلام خلفائے عبداﷲ بن ابی(یہ لفظ طحاوی ہیں اور لفظ ابن راہویہ یوں ہی عرض کی گئی یہ عبداﷲ بن ابی ہے اپنے حلیفوں کے ساتھ کہ قوم عبداﷲ بن سلام کے یہود ہیںاور لفظ واقدی میں ہے یہ ابن ابی کے حلیف یہودی ہیں اورلفظ طبرانی میں ہے یہ عبداﷲ بن ابی ہے چھ سو یہودیوں کے ساتھ کہ اس کے
عــــہ۱:یہ غزوہ غزوہ بدر ہے کما فی اسدالغابہ ۱۲ منہ غفرلہ
عــــہ۲:اقول:یہ لفظ مستدرك میں ہے اور مشکل الآثار ومسند احمد میں نہیں قبل اسلام اس کا کہنا باعتبار عرف مسلمین ہوگا یایوں کہ اس وقت بھی ایقان تھا اگرچہ اذعان بعد کو ہوا ۱۲ منہ غفرلہ
حوالہ / References
صحیح مسلم کتاب الجہاد والسیر باب کراھیۃ الاستعانۃ فی الغزو الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۱۱۸،مشکل الآثار للطحاوی باب بیان مشکل ماروی فی الاستعانۃ من الکفار دارصادر بیروت ۳/ ۲۳۷
مشکل الآثار للطحاوی باب بیان مشکل ماروی فی الاستعانۃ من الکفار دارصادر بیروت ۳/ ۲۳۹
مشکل الآثار للطحاوی باب بیان مشکل ماروی فی الاستعانۃ من الکفار دارصادر بیروت ۳/ ۲۳۹
حلیف ہیں فرمایا:کیا اسلام لئے آئے عرض کی:نہ۔وہ اپنے دین پر ہیں۔فرمایا:
قل لہم فلیرجعوا فانا لانستعین بالمشرکین علی المشرکین ۔ ان سے کہہ دو لوٹ جائیں ہم مشرکوں پر مشرکوں سے مدد نہیں لیتے۔
اقول: یہ حدیث بھی حسن صحیح ہے مسند امام اسحق میں اس کی سند یوں ہے:
اخبرنا الفضل بن موسی عن محمد بن عمرو بن علقمۃ عن سعد بن المنذر عن ابی حمید الساعدی رضی اﷲ تعالی عنہ ۔ ہمیں خبر دی فضل بن موسی نے محمد بن عمرو بن علقمہ سے انھوں نے سعد بن منذر سے انھوں نے ابوحمید ساعدی رضی اﷲ تعالی عنہ سے۔
فضل بن موسی ومحمد بن عمرو بن علقمہ دونوں رجال جمیع صحاح ستہ سے ہیں ثقہ ثبت وصدوق اور یہ سعد بن منذر بن ابی حمید الساعدی ہیں کما فی مشکل الآثارابن حبان نے انھیں ثقات میں ذکر کیاتقریب میں کہا مقبول ہیں۔تہذیب التہذیب میں ہے:
روی عن جدہ وحمزۃ بن ابی اسید وعنہ محمد بن عمرو بن علقمۃ وعبدالرحمن بن سلیمن بن الغسیل ذکرہ ابن حبان فی الثقات ۔ انھوں نے اپنے دادا حضرت ابوحمید ساعدی رضی اﷲ تعالی عنہ اور حمزہ بن اسید سے علم حاصل کیا اور ان سے محمد بن عمرو بن عقلمہ اور عبدالرحمن بن سلیمن ابن حضرت غسیل الملائکہ رضی اﷲ تعالی عنہ نے ابن حبان نے انھیں ثقات میں ذکر کیا۔
لاجرم زرقانی علی المواہب میں ہے:
قدروی الطبرانی فی الکبیر والاوسط برجال ثقات عن ابی حمید الساعدی الحدیث(عہ ۔ یہ حدیث طبرانی نے معجم کبیرومعجم اوسط میں بہ سند صحیح ابوحمید ساعدی رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کی۔
حدیث ۴:عبد بن حمید وابویعلی وابناء جریر ومنذر وابی حاتم اور بیہقی شعب الایمان میں
عــــہ: یہ طبرانی نے معجم کبیر ومعجم اوسط میں بہ سند صحیح ابوحمید ساعدی رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کی۔
قل لہم فلیرجعوا فانا لانستعین بالمشرکین علی المشرکین ۔ ان سے کہہ دو لوٹ جائیں ہم مشرکوں پر مشرکوں سے مدد نہیں لیتے۔
اقول: یہ حدیث بھی حسن صحیح ہے مسند امام اسحق میں اس کی سند یوں ہے:
اخبرنا الفضل بن موسی عن محمد بن عمرو بن علقمۃ عن سعد بن المنذر عن ابی حمید الساعدی رضی اﷲ تعالی عنہ ۔ ہمیں خبر دی فضل بن موسی نے محمد بن عمرو بن علقمہ سے انھوں نے سعد بن منذر سے انھوں نے ابوحمید ساعدی رضی اﷲ تعالی عنہ سے۔
فضل بن موسی ومحمد بن عمرو بن علقمہ دونوں رجال جمیع صحاح ستہ سے ہیں ثقہ ثبت وصدوق اور یہ سعد بن منذر بن ابی حمید الساعدی ہیں کما فی مشکل الآثارابن حبان نے انھیں ثقات میں ذکر کیاتقریب میں کہا مقبول ہیں۔تہذیب التہذیب میں ہے:
روی عن جدہ وحمزۃ بن ابی اسید وعنہ محمد بن عمرو بن علقمۃ وعبدالرحمن بن سلیمن بن الغسیل ذکرہ ابن حبان فی الثقات ۔ انھوں نے اپنے دادا حضرت ابوحمید ساعدی رضی اﷲ تعالی عنہ اور حمزہ بن اسید سے علم حاصل کیا اور ان سے محمد بن عمرو بن عقلمہ اور عبدالرحمن بن سلیمن ابن حضرت غسیل الملائکہ رضی اﷲ تعالی عنہ نے ابن حبان نے انھیں ثقات میں ذکر کیا۔
لاجرم زرقانی علی المواہب میں ہے:
قدروی الطبرانی فی الکبیر والاوسط برجال ثقات عن ابی حمید الساعدی الحدیث(عہ ۔ یہ حدیث طبرانی نے معجم کبیرومعجم اوسط میں بہ سند صحیح ابوحمید ساعدی رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کی۔
حدیث ۴:عبد بن حمید وابویعلی وابناء جریر ومنذر وابی حاتم اور بیہقی شعب الایمان میں
عــــہ: یہ طبرانی نے معجم کبیر ومعجم اوسط میں بہ سند صحیح ابوحمید ساعدی رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کی۔
حوالہ / References
مشکل الآثار للحطاوی باب بیان مشکل ماروی فی الاستعانۃ من الکفار دارصادر بیروت ۳/ ۲۴۱
نصب الرایہ بحوالہ اسحاق بن راہویہ فی مسندہ کتاب السیر کتب خانہ رشیدیہ دہلی ۳/ ۴۲۳
تہذیب التہذیب ترجمہ ۸۹۹ سعدبن منذر دائرۃ المعارف النظامیہ حیدر آباد دکن ۳/ ۴۸۳
شرح الزرقانی علی المواہب المقصدا لاول غزوہ احد دارالمعرفۃ بیروت ۲/ ۲۵
نصب الرایہ بحوالہ اسحاق بن راہویہ فی مسندہ کتاب السیر کتب خانہ رشیدیہ دہلی ۳/ ۴۲۳
تہذیب التہذیب ترجمہ ۸۹۹ سعدبن منذر دائرۃ المعارف النظامیہ حیدر آباد دکن ۳/ ۴۸۳
شرح الزرقانی علی المواہب المقصدا لاول غزوہ احد دارالمعرفۃ بیروت ۲/ ۲۵
انس رضی اﷲ تعالی عنہ سے راوی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:لاتستضیئوا بنار المشرکین مشرکوں کی آگ سے روشنی نہ لو۔امام حسن بصری رضی اﷲ تعالی عنہ سے اس کے معنی پوچھے گئےفرمایا:لاتستشیروا المشرکین فی شیئ من امورکم قال الحسن وتصدیق ذلك فی کتاب اﷲ" یایہا الذین امنوا لا تتخذوا بطانۃ من دونکم لا یا لونکم خبلا" ارشاد حدیث کے یہ معنی ہیں کہ مشرکوں سے اپنے کسی معاملہ میں مشورہ نہ لوپھر فرمایا اس کی تصدیق خود کلام اﷲ میں موجود ہے کہ فرمایا اے ایمان والو! غیروں کو اپنا راز دار نہ بناؤ وہ تمھاری بدخواہی میں کمی نہ کریں گے۔
اقول: یہ حدیث بھی اصول حنفیہ کرام پر حسن ہےطبری کے یہاں اس کی سند یہ ہے:
حدثنا ابوکریب ویعقوب بن ابراہیم قالا حدثنا ھشیم اخبرنا العوام بن حوشب عن الازہر بن راشد عن انس بن مالك رضی اﷲ تعالی عنہ ۔ ابوکریب اور یعقوب بن ابراہیم نے ہمیں حدیث بیان کی اور کہا ہمیں ہشیم نے انھوں نے کہا ہمیں عوام بن حوشب نے ازہر بن راشد سے انھوں نے انس بن مالك رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کی۔(ت)
ابوکریب سے عوام بن حوشب تك سب اجلہ مشاہیر ثقہ عدولرجال جملہ صحاح ستہ سے ہیں اور ازہر بن راشد رجال سنن نسائی وتابعین سے ہیں ان پر کسی عــــہ امام معتمد سے کوئی جرح ثا بت نہیں اور
عــــہ:اماتضعیف ابن معین فلازہر بن راشد الکاھلی لافی ھذا البصری الراوی عن انس وقد فرق بینہما ابن معین فضعف الکاھلی لاھذا کما بینہ الحافظ المزی فی تھذیبہ والحافظ لیکن ابن معین نے ضعیف کہا ہے تو ازہربن راشد کاہلی کو کہا ہے اس بصری راشد کو جو انس رضی اﷲ تعالی عنہ سے راوی ہے کی بابت نہیں کہاابن معین نے دونوں میں فرق کرتے ہوئے کاہلی کو ضعیف کہا ہے اس کو نہیں جیسا کہ حافظ مزی نے اپنی تہذیب (باقی برصفحہ ایندہ)
اقول: یہ حدیث بھی اصول حنفیہ کرام پر حسن ہےطبری کے یہاں اس کی سند یہ ہے:
حدثنا ابوکریب ویعقوب بن ابراہیم قالا حدثنا ھشیم اخبرنا العوام بن حوشب عن الازہر بن راشد عن انس بن مالك رضی اﷲ تعالی عنہ ۔ ابوکریب اور یعقوب بن ابراہیم نے ہمیں حدیث بیان کی اور کہا ہمیں ہشیم نے انھوں نے کہا ہمیں عوام بن حوشب نے ازہر بن راشد سے انھوں نے انس بن مالك رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کی۔(ت)
ابوکریب سے عوام بن حوشب تك سب اجلہ مشاہیر ثقہ عدولرجال جملہ صحاح ستہ سے ہیں اور ازہر بن راشد رجال سنن نسائی وتابعین سے ہیں ان پر کسی عــــہ امام معتمد سے کوئی جرح ثا بت نہیں اور
عــــہ:اماتضعیف ابن معین فلازہر بن راشد الکاھلی لافی ھذا البصری الراوی عن انس وقد فرق بینہما ابن معین فضعف الکاھلی لاھذا کما بینہ الحافظ المزی فی تھذیبہ والحافظ لیکن ابن معین نے ضعیف کہا ہے تو ازہربن راشد کاہلی کو کہا ہے اس بصری راشد کو جو انس رضی اﷲ تعالی عنہ سے راوی ہے کی بابت نہیں کہاابن معین نے دونوں میں فرق کرتے ہوئے کاہلی کو ضعیف کہا ہے اس کو نہیں جیسا کہ حافظ مزی نے اپنی تہذیب (باقی برصفحہ ایندہ)
حوالہ / References
شعب الایمان حدیث ۹۳۷۵ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۷/ ۴۰
شعب الایمان حدیث ۹۳۷۵ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۷/ ۴۰
جامع البیان(تفسیر ابن جریر)زیر آیہ لاتتخذوابطانۃ الخ المطبعۃ المیمنۃ مصر ۴/ ۳۸
شعب الایمان حدیث ۹۳۷۵ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۷/ ۴۰
جامع البیان(تفسیر ابن جریر)زیر آیہ لاتتخذوابطانۃ الخ المطبعۃ المیمنۃ مصر ۴/ ۳۸
یہ کہ ان سے راوی صرف عوام بن حوشب ہیں جس کی بناء پر تقریب میں حسب اصطلاح محدثین نے مجہول کہا ہمارے نزدیك اصلا جرح نہیں خصوصا تابعین میں مسلم الثبوت میں ہے:
لاجرح بان لہ راویا واحدا وھو مجہول العین ۔ (ملتقطا) یہ کوئی جرح کی بات نہیں کہ اس سے ایك ہی شخص نے روایت کی یا اسے مجہول العین کہتے ہیں۔
فواتح الرحموت میں ہے:
وقیل لایقبل عندالمحدثین وھو تحکم ۔ اور بعض نے کہا ایسا روای محدثین کے نزدیك مقبول نہیں اور یہ نری زبردستی ہے۔
فصول البدائع میں ہے:
العدالۃ فیما بین رواۃ الحدیث ھی الاصل ببرکتہ وھو الغالب بینہم فی الواقع کما نشاھدہ فلذا قبلنا مجہول القرون الثلثۃ فی الروایۃ ۔ راویان حدیث میں حدیث کی برکت سے عدالت ہی اصل ہے اور مشاہدہ شاہد کہ واقع میں ثقہ ہوناہی ان میں غالب ہے اس لئے قرون ثلثہ کے مجہول کی روایت ہمارےائمہ قبول کرتے ہیں۔
بعض روایات کہ استعانت میں پیش کی جاتی ہیں ان کا حال:
فائدہ ثالثہ:بعض روایات کہ ان احادیث صحیحہ بلکہ آیات صریحہ کے مقابل پیش کی جاتی ہیں ان میں کوئی صحیح ومفید مدعائے مخالف نہیں۔محقق
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
العسقلانی فی تقریبہ واما قول الازدی منکر الحدیث فالازدی نفسہ مجروح ضعیف بشدید التعنت فی الرجال معروف ثم قولہ منکر الحدیث جرح مبہم غیر مفسر کما نصوا علیہ ۱۲ منہ غفرلہ۔ میں اور حافظ عسقلانی نے اپنی تقریب میں بیان کیا ہے لیکن ازدی کا اس کو منکر الحدیث کہنا معتبر نہیں اس لئے کہ ازدی خود مجروح ضعیف اور رجال حدیث پرطعن کرنیوالا مشہور ہے پھر منکر الحدیث کہنا یہ غیر واضح مبہم جرح ہے جیسا کہ علماء نقد نے تصریح کی ہے ۱۲ منہ غفرلہ(ت)
لاجرح بان لہ راویا واحدا وھو مجہول العین ۔ (ملتقطا) یہ کوئی جرح کی بات نہیں کہ اس سے ایك ہی شخص نے روایت کی یا اسے مجہول العین کہتے ہیں۔
فواتح الرحموت میں ہے:
وقیل لایقبل عندالمحدثین وھو تحکم ۔ اور بعض نے کہا ایسا روای محدثین کے نزدیك مقبول نہیں اور یہ نری زبردستی ہے۔
فصول البدائع میں ہے:
العدالۃ فیما بین رواۃ الحدیث ھی الاصل ببرکتہ وھو الغالب بینہم فی الواقع کما نشاھدہ فلذا قبلنا مجہول القرون الثلثۃ فی الروایۃ ۔ راویان حدیث میں حدیث کی برکت سے عدالت ہی اصل ہے اور مشاہدہ شاہد کہ واقع میں ثقہ ہوناہی ان میں غالب ہے اس لئے قرون ثلثہ کے مجہول کی روایت ہمارےائمہ قبول کرتے ہیں۔
بعض روایات کہ استعانت میں پیش کی جاتی ہیں ان کا حال:
فائدہ ثالثہ:بعض روایات کہ ان احادیث صحیحہ بلکہ آیات صریحہ کے مقابل پیش کی جاتی ہیں ان میں کوئی صحیح ومفید مدعائے مخالف نہیں۔محقق
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
العسقلانی فی تقریبہ واما قول الازدی منکر الحدیث فالازدی نفسہ مجروح ضعیف بشدید التعنت فی الرجال معروف ثم قولہ منکر الحدیث جرح مبہم غیر مفسر کما نصوا علیہ ۱۲ منہ غفرلہ۔ میں اور حافظ عسقلانی نے اپنی تقریب میں بیان کیا ہے لیکن ازدی کا اس کو منکر الحدیث کہنا معتبر نہیں اس لئے کہ ازدی خود مجروح ضعیف اور رجال حدیث پرطعن کرنیوالا مشہور ہے پھر منکر الحدیث کہنا یہ غیر واضح مبہم جرح ہے جیسا کہ علماء نقد نے تصریح کی ہے ۱۲ منہ غفرلہ(ت)
حوالہ / References
مسلم الثبوت مسئلۃ معرف العدالۃ الشہرۃ مطبع انصاری دہلی ص۱۹۲
فواتح الرحموت شرح مسلم الثبوت بذیل المستصفی مسئلہ مجہول الحال منشورات الشریف الرضی قم ایران ۲/ ۱۴۹
فصول البدائع
فواتح الرحموت شرح مسلم الثبوت بذیل المستصفی مسئلہ مجہول الحال منشورات الشریف الرضی قم ایران ۲/ ۱۴۹
فصول البدائع
علی الاطلاق نے فتح القدیر میں انھیں ذکرکرکے فرمایا:
ولاشك ان ھذہ لاتقاوم احادیث المنع فی القوۃ فکیف تعارضھا ۔ کوئی شك نہیں کہ یہ روایتیں قوت میں احادیث منع کو نہیں پہنچتیں توکیونکر انکے معارض ہوسکتی ہیں۔
خودابوبکر حازمی شافعی نے کتاب الاعتبار میں حدیث صحیح مسلم دربارہ ممانعت روایت کرکے کہا:
وما یعارضہ لایوازیہ فی الصحۃ والثبوت فتعذرادعاء النسخ اور اس کاخلا ف جن روایتوں میں آیا ہے وہ صحت وثبوت میں ان کے برابر نہیں تو ممانعت استعانت کومنسوخ ماننے کا ادعانا ممکن ہے۔
یہ اجمالی جواب بس ہےاور مجمل کی تفصیل یہ کہ یہاں دو واقعے پیش کئے جاتے ہیں جن سے احادیث منع کو منسوخ بتاتے ہیں کہ وہ واقعہ بدرواحد ہیں اور نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے غزوہ خیبر میں کہ ان کے کئی برس بعد ہے بعض یہود بنی قینقاع سے یہود خیبر پر استعانت فرمائی پھر سنہ ۸ہجری غزوہ حنین میں صفوان بن امیہ سے اور وہ اس وقت مشرك تھے تو اگر ان پہلے واقعات میں نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا مشرك یا مشرکوں کو رد فرمانا اس بناء پر تھا کہ حضور کو رد قبول کااختیارتھا جب تو حدیثوں میں کوئی مخالفت ہی نہیں اور اگر اس وجہ سے تھاکہ مشرك سے استعانت ناجائز تھی تو ظاہر ہے کہ بعد کی حدیث نے ان کو منسوخ کردیا یہ تمام وکمال کلام امام شافعی رضی اﷲ تعالی عنہ کا ہے کہ ان سے فتح اور فتح سے ردالمحتارمیں نقل کیا اور ناوافقوں نے نہ سمجھایہ بعینہ کتاب الاعتبار حازمی شافعی میں امام شافعی سے مروی ہے:
حیث قال قرأت علی روح بن بدر اخبرك احمد بن محمدبن احمد فی کتابہ عن ابی سعید الصیر فی اخبرنا ابوالعباس انا الربیع انا الشافعی قال میں نے روح بن بدر پر پڑھا کہ آپ کو احمد بن محمد بن احمد نے اپنی کتاب میں ابو سعید صیر فی سے خبر دی کہ انھوں نے کہا ہمیں ابوالعباس نے خبر دی کہ ہمیں ر بیع نے خبر دی کہ ہمیں امام شافعی نے خبر دی
ولاشك ان ھذہ لاتقاوم احادیث المنع فی القوۃ فکیف تعارضھا ۔ کوئی شك نہیں کہ یہ روایتیں قوت میں احادیث منع کو نہیں پہنچتیں توکیونکر انکے معارض ہوسکتی ہیں۔
خودابوبکر حازمی شافعی نے کتاب الاعتبار میں حدیث صحیح مسلم دربارہ ممانعت روایت کرکے کہا:
وما یعارضہ لایوازیہ فی الصحۃ والثبوت فتعذرادعاء النسخ اور اس کاخلا ف جن روایتوں میں آیا ہے وہ صحت وثبوت میں ان کے برابر نہیں تو ممانعت استعانت کومنسوخ ماننے کا ادعانا ممکن ہے۔
یہ اجمالی جواب بس ہےاور مجمل کی تفصیل یہ کہ یہاں دو واقعے پیش کئے جاتے ہیں جن سے احادیث منع کو منسوخ بتاتے ہیں کہ وہ واقعہ بدرواحد ہیں اور نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے غزوہ خیبر میں کہ ان کے کئی برس بعد ہے بعض یہود بنی قینقاع سے یہود خیبر پر استعانت فرمائی پھر سنہ ۸ہجری غزوہ حنین میں صفوان بن امیہ سے اور وہ اس وقت مشرك تھے تو اگر ان پہلے واقعات میں نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا مشرك یا مشرکوں کو رد فرمانا اس بناء پر تھا کہ حضور کو رد قبول کااختیارتھا جب تو حدیثوں میں کوئی مخالفت ہی نہیں اور اگر اس وجہ سے تھاکہ مشرك سے استعانت ناجائز تھی تو ظاہر ہے کہ بعد کی حدیث نے ان کو منسوخ کردیا یہ تمام وکمال کلام امام شافعی رضی اﷲ تعالی عنہ کا ہے کہ ان سے فتح اور فتح سے ردالمحتارمیں نقل کیا اور ناوافقوں نے نہ سمجھایہ بعینہ کتاب الاعتبار حازمی شافعی میں امام شافعی سے مروی ہے:
حیث قال قرأت علی روح بن بدر اخبرك احمد بن محمدبن احمد فی کتابہ عن ابی سعید الصیر فی اخبرنا ابوالعباس انا الربیع انا الشافعی قال میں نے روح بن بدر پر پڑھا کہ آپ کو احمد بن محمد بن احمد نے اپنی کتاب میں ابو سعید صیر فی سے خبر دی کہ انھوں نے کہا ہمیں ابوالعباس نے خبر دی کہ ہمیں ر بیع نے خبر دی کہ ہمیں امام شافعی نے خبر دی
حوالہ / References
فتح القدیر کتاب السیر فصل فی کیفیۃ القسمۃ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۵/ ۲۴۳
نصب الرایۃ بحوالہ الحازمی فی کتاب الناسخ والمنسوخ فصل فی کیفیۃ القسمۃ کتب خانہ رشیدیہ دہلی ۳/ ۴۲۴
نصب الرایۃ بحوالہ الحازمی فی کتاب الناسخ والمنسوخ فصل فی کیفیۃ القسمۃ کتب خانہ رشیدیہ دہلی ۳/ ۴۲۴
الذی روی مالك کماروی رد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم مشرکا ومشرکین فی غزوۃ بدر وابی ان یستعین الابمسلم ثم استعان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بعد بدر فی غزوۃ خبیر بیھود من بنی قینقاع کانوا اشداء واستعان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فی غزوۃ حنین سنۃ ثمان بصفوان بن امیۃ وھو مشرك فالرد الاول ان کان بان لہ الخیار بان یستعین بمشرك و ان یردہ"کما لہ رد المسلم"من معنی مخافۃ اولشدۃ بہ فلیس واحد من الحدیثین مخالفا للاخر وان کان ردہ لانہ لم یر ان یستعین بمشرك فقد نسخہ مابعدہ من استعانتہ بالمشرکین اذا خرجوا طوعا ویرضخ لہم ولا یسہم لہم ولا یثبت عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم انہ اسہم لہم انتہی ۔ کہ وہ جو امام مالك نے روایت فرمایا وہ ویسا ہی ہے جیسا انھوں نے روایت فرمایاغزوہ بدر میں رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ایك مشرك اور دومشرکوں کو واپس فرمادیا اور غیر مسلم سے استعانت کرنا قبول نہ فرمایاپھر نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے غزوہ بدر کے بعد غزوہ خیبر میں بنی قینقاع کے کچھ یہودیوں سے کام لیا کہ زورآور تھے اور سنہ ۸ہجری غزوہ حنین میں نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے صفوان بن امیہ سے جس وقت میں کہ وہ مشرك تھے کچھ امداد لی تو پہلا رد فرمادینا اگر اس بنا پر تھا کہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو اختیار تھاکہ کسی مشرك سے کام لیں یا اسے واپس فرمادیں جیسا کہ انھیں مسلمان کے واپس فرمادینے کا اختیار ہے اس پر کسی خوف یا مشقت کے باعثجب تو حدیثوں میں باہم کچھ اختلافات ہی نہیں اور اگر وہ واپس فرمادینا اس بناء پر تھاکہ حضو ر نے مشرك سے مددلینا ناجائز جانا توبعد کے واقعہ نے کہ مشرکوں سے کام لیا اسے منسوخ کردیا اور اس میں کوئی حرج نہیں کہ مشرکوں سے لڑنے میں مشرکوں سے مدد لے جبکہ وہ اپنی خوشی سے لڑنے کوچلیں اور غنیمت میں سے انھیں کچھ تھوڑا سا دیا جائے پوراحصہ نہ دیا جائے اورنبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے ثابت نہیں کہ حضور نے انھیں پورا حصہ دیا ہوا نتہی(یہ تمام کلام امام شافعی کاہے)۔
اس کے بعد جو فقرہ فتح میں ہے وہ بھی زیر قال الشافعی داخلا ور انھیں کا قول ہے جسے بیہقی شافعی نے ان سے روایت کیا۔ نصب الرایہ میں ہے:
اس کے بعد جو فقرہ فتح میں ہے وہ بھی زیر قال الشافعی داخلا ور انھیں کا قول ہے جسے بیہقی شافعی نے ان سے روایت کیا۔ نصب الرایہ میں ہے:
حوالہ / References
نصب الرایۃ بحوالہ الحازمی فی کتاب الناسخ والمنسوخ فصل فی کیفیۃ القسمۃ کتب خانہ رشیدیہ دہلی۳/ ۴۲۴
قال الشافعی ولعلہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم انما رد المشرك الذی ردہ فی غزوۃ بدر رجاء اسلامہ وقال و ذلك واسع للامام ان یرد المشرك اویاذن لہ انتہی وکلام الشافعی کلہ نقلہ البیھقی عنہ ۔ امام شافعی نے فرمایا کہ وہ مشرك جسے نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے غزوہ بدر میں واپس فرمایا تھا شاید یہ اس امید کی بناپر ہو کہ وہ اسلام لے آئے گا اور امام شافعی نے کہاسلطان اسلام کو گنجائش ہے چاہے مشرك کو واپس کردے یا اجازت دے انتہی اور امام شافعی کا یہ ساراکلام بیہقی نے ان سے روایت کیا۔
یہود سے استعانت کے پانچ جواب:
واقعہ یہود بنی قینقاع کا جواب تو واضح ہے جو محقق علی الاطلاق اور خود حازمی شافعی نے ذکر کیا کہ وہ روایت کیا اس قابل ہے کہ احادیث صحیحہ کے سامنے پیش کی جائے اس کا مخرج الحسن بن عمارۃ عن الحکم عن مقسم عن ابن عباس ہے قطع نظر انقطاع سے کہ حکم نے مقسم سے صرف چار حدیثیں سنیں جن میں یہ نہیںاورامام شافعی کے نزدیك منقطع مردود ہےحسن بن عمارہ متروك ہے کما فی التقریباورمرسل زہری مروی جامع الترمذی ومراسیل ابی داؤد ایك تومرسل کہ امام شافعی کے یہاں مہمل اقول: او رسند مراسیل میں ایك انقطاع حیوۃ بن شریح وزہری کے درمیان ہے تہذیب التہذیب میں امام احمد سے ہے:
لم یسمع حیوۃ من الزہری ۔ حیوۃ نے زہری سے کوئی حدیث نہ سنی۔
دوسرے مرسل بھی زہری کا جسے محدثین پابرہواکہتے ہیں تیسرے ضعیف بھی کمافی الفتح(جیسا کہ فتح میں ہے۔ت)یونہی بیہقی نے کہا:
اسنادہ ضعیف ومنقطع ۔ اس کی سند ضعیف اور بیچ میں کٹی ہوئی ہے۔
نصب الرایہ میں ہے:انہا ضعیفۃ یہ سب روایتیں ضعیف ہیں۔اقول اورکچھ نہ ہواس میں یہ تو ہے کہ:
یہود سے استعانت کے پانچ جواب:
واقعہ یہود بنی قینقاع کا جواب تو واضح ہے جو محقق علی الاطلاق اور خود حازمی شافعی نے ذکر کیا کہ وہ روایت کیا اس قابل ہے کہ احادیث صحیحہ کے سامنے پیش کی جائے اس کا مخرج الحسن بن عمارۃ عن الحکم عن مقسم عن ابن عباس ہے قطع نظر انقطاع سے کہ حکم نے مقسم سے صرف چار حدیثیں سنیں جن میں یہ نہیںاورامام شافعی کے نزدیك منقطع مردود ہےحسن بن عمارہ متروك ہے کما فی التقریباورمرسل زہری مروی جامع الترمذی ومراسیل ابی داؤد ایك تومرسل کہ امام شافعی کے یہاں مہمل اقول: او رسند مراسیل میں ایك انقطاع حیوۃ بن شریح وزہری کے درمیان ہے تہذیب التہذیب میں امام احمد سے ہے:
لم یسمع حیوۃ من الزہری ۔ حیوۃ نے زہری سے کوئی حدیث نہ سنی۔
دوسرے مرسل بھی زہری کا جسے محدثین پابرہواکہتے ہیں تیسرے ضعیف بھی کمافی الفتح(جیسا کہ فتح میں ہے۔ت)یونہی بیہقی نے کہا:
اسنادہ ضعیف ومنقطع ۔ اس کی سند ضعیف اور بیچ میں کٹی ہوئی ہے۔
نصب الرایہ میں ہے:انہا ضعیفۃ یہ سب روایتیں ضعیف ہیں۔اقول اورکچھ نہ ہواس میں یہ تو ہے کہ:
حوالہ / References
نصب الرایۃ کتاب التفسیر فصل فی کیفیۃ القسمۃ کتب خانہ رشیدیہ دہلی ۳/ ۴۲۴
تہذیب التہذیب ترجمہ ۱۳۵ حیوۃ بن شریح دائرۃ العمارف النظامیہ حیدر آباد دکن بھارت ۳/ ۷۰
نصب الرایۃ بحوالہ البیہقی کتاب السیر فصل فی کیفیۃ القسمۃ المکتبۃ الاسلامیہ ریاض ۳/ ۴۲۲
نصب الرایۃ بحوالہ البیہقی کتاب السیر فصل فی کیفیۃ القسمۃ المکتبۃ الاسلامیہ ریاض ۳/ ۴۲۳
تہذیب التہذیب ترجمہ ۱۳۵ حیوۃ بن شریح دائرۃ العمارف النظامیہ حیدر آباد دکن بھارت ۳/ ۷۰
نصب الرایۃ بحوالہ البیہقی کتاب السیر فصل فی کیفیۃ القسمۃ المکتبۃ الاسلامیہ ریاض ۳/ ۴۲۲
نصب الرایۃ بحوالہ البیہقی کتاب السیر فصل فی کیفیۃ القسمۃ المکتبۃ الاسلامیہ ریاض ۳/ ۴۲۳
اسہم النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لقوم من الیہود قاتلوا معہ ۔ نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ان یہودیوں کو جنھوں نے ہمراہ رکاب اقدس قتال کیا تھا حصہ عطا فرمایا۔
اس سے استعانت کہاں ثابتممکن کہ انھوں نے بطور خود قتال کیا ہواورپانچواں جواب امام طحاوی سے آتاہے کہ سرے سے قاطع استناد ہے۔
صفوان بن امیہ سے استعانت کے روشن جواب:
رہا قصہ صفوان رضی اﷲ تعالی عنہ ان کا قبل از اسلام غزوہ حنین شریف میں ہمراہ رکاب اقدس ہونا ضرور ثابت ہے مگر ہر گز نہ ان سے قتال منقول نہ یہی کہ حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ان سے قتال کو فرمایا ہو صرف اس قدر ہے کہ سو زرہ خود بکتر اور ایك روایت میں چار سو ان سے عاریۃ لئے اور وہ بطمع پرورش سرکار عالم مدار کہ مؤلفۃ القلوب سے تھے ہمراہ لشکر ظفر پیکر ہولئے ان کی مراد بھی پوری ہوئی اور اسلام بھی پختہ راسخ ہوگیا سرکار اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے غنائم سے اتنا عطا فرمایا اتنا عطا فرمایا کہ یہ بے اختیا رکہہ اٹھے:
واﷲ ماطابت بھذا الا نفس نبی ۔ خدا کی قسم اتنی عطائیں خوش دلی سے دینا نبی کے سوا کسی کاکام نہیں۔
اشھدان لا الہ الا اﷲ واشہد ان محمد ا عبدہ ورسولہ(صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم)
امام ابن سعد طبقات پھر حافظ الشان عسقلانی اصابہ فی تمییز الصحابہ میں انہی صفوان رضی اﷲ تعالی عنہ کی نسبت فرماتے ہیں:
لم یبلغنا انہ غزا مع النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ۔ ہمیں روایت نہ پہنچی کہ انھوں نے حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسل کی ہمراہی میں جہاد کیا ہو۔
امام طحاوی مشکل الآثارمیں فرماتے ہیں:
صفوان کان معہ لاباستعانتہ ایاہ منہ فی یعنی صفوان خود ہی حضوراقدس صلی اﷲ تعالی
اس سے استعانت کہاں ثابتممکن کہ انھوں نے بطور خود قتال کیا ہواورپانچواں جواب امام طحاوی سے آتاہے کہ سرے سے قاطع استناد ہے۔
صفوان بن امیہ سے استعانت کے روشن جواب:
رہا قصہ صفوان رضی اﷲ تعالی عنہ ان کا قبل از اسلام غزوہ حنین شریف میں ہمراہ رکاب اقدس ہونا ضرور ثابت ہے مگر ہر گز نہ ان سے قتال منقول نہ یہی کہ حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ان سے قتال کو فرمایا ہو صرف اس قدر ہے کہ سو زرہ خود بکتر اور ایك روایت میں چار سو ان سے عاریۃ لئے اور وہ بطمع پرورش سرکار عالم مدار کہ مؤلفۃ القلوب سے تھے ہمراہ لشکر ظفر پیکر ہولئے ان کی مراد بھی پوری ہوئی اور اسلام بھی پختہ راسخ ہوگیا سرکار اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے غنائم سے اتنا عطا فرمایا اتنا عطا فرمایا کہ یہ بے اختیا رکہہ اٹھے:
واﷲ ماطابت بھذا الا نفس نبی ۔ خدا کی قسم اتنی عطائیں خوش دلی سے دینا نبی کے سوا کسی کاکام نہیں۔
اشھدان لا الہ الا اﷲ واشہد ان محمد ا عبدہ ورسولہ(صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم)
امام ابن سعد طبقات پھر حافظ الشان عسقلانی اصابہ فی تمییز الصحابہ میں انہی صفوان رضی اﷲ تعالی عنہ کی نسبت فرماتے ہیں:
لم یبلغنا انہ غزا مع النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ۔ ہمیں روایت نہ پہنچی کہ انھوں نے حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسل کی ہمراہی میں جہاد کیا ہو۔
امام طحاوی مشکل الآثارمیں فرماتے ہیں:
صفوان کان معہ لاباستعانتہ ایاہ منہ فی یعنی صفوان خود ہی حضوراقدس صلی اﷲ تعالی
حوالہ / References
نصب الروایۃ کتاب السیر فصل فی کیفیۃ القسمۃ کتب خانہ رشیدیہ دہلی ۳/ ۴۲۲
الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ باب ص ف ترجمہ ۴۰۷۳ دارصادر بیروت ۲/ ۱۸۷
الاصابۃ فی تمیز الصحابۃ باب ص ف ترجمہ ۴۰۷۳ دارصادر بیروت ۲/ ۱۸۸
الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ باب ص ف ترجمہ ۴۰۷۳ دارصادر بیروت ۲/ ۱۸۷
الاصابۃ فی تمیز الصحابۃ باب ص ف ترجمہ ۴۰۷۳ دارصادر بیروت ۲/ ۱۸۸
ذلك ففی ھذا مایدل علی انہ انما امتنع من الاستعانۃ بہ وبامثالہ ولم یمنعہم من القتال معہ باختیار ھم لذلك ۔ علیہ وسلم کے ساتھ ہولئے تھے حضورنے ان سے استعانت نہ فرمائیاس میں دلیل ہے اس پر کہ حضور مشرکوں سے استعانت سے باز رہتے تھے اور وہ اپنے اختیار سے ہمراہی میں لڑیں تو اس میں منع نہ فرماتے تھے۔
اسی میں ہے:
حدثنا ابوامیۃ قال حدثناء بشربن عمرالزہرانی قال قلت لما لك الیس ابن شہاب کان یحدث ان صفوان بن امیۃ سارمع رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فشہد حنینا والطائف وھو کافر قال بلی ولکن ھو سارمع رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ولم یأمرہ رسول اﷲ صلی ﷲ تعالی علیہ وسلم بذلك ۔ ہم سے ابوامیہ نے حدیث بیان کی کہ ہم سے بشر بن عمر زاہرانی نے حدیث بیان کی کہ میں نے امام مالك رضی اﷲ تعالی عنہ سے گزارش کی کیا زہری یہ حدیث بیان نہ کرتے تھے کہ صفوان بن امیہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے ہمراہ رکاب اقدس چل کر حنین وطائف کے غزووں میں بحالت کفر حاضر ہوئےفرمایا ہاں مگر وہ خود رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے ہمرکاب ہولئے تھے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ان سے نہ فرمایا تھا۔
علامہ جلال الدین ابوالمحاسن یوسف حنفی معتصر میں فرماتے ہیں:
لامخالفۃ بین حدیث صفوان و بین قولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لانستعین بمشرك لان صفوان قتالہ کان باختیارہ دون ان یستعین بہ النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وان الاستعانۃ بالمشرك غیر جائزۃ یعنی حدیث صفوان اور رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے اس ارشاد میں کہ ہم کسی مشرك سے مدد نہیں لیتے کچھ مخالفت نہیں کہ صفوان کا قتال کو جانا اپنے اختیار سے تھانہ یہ کہ رسو ل اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ان سے استعانت فرمائی ہے مشرك سے استعانت حرام ہے لیکن وہ خود لڑیں تو لڑنے دینا
اسی میں ہے:
حدثنا ابوامیۃ قال حدثناء بشربن عمرالزہرانی قال قلت لما لك الیس ابن شہاب کان یحدث ان صفوان بن امیۃ سارمع رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فشہد حنینا والطائف وھو کافر قال بلی ولکن ھو سارمع رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ولم یأمرہ رسول اﷲ صلی ﷲ تعالی علیہ وسلم بذلك ۔ ہم سے ابوامیہ نے حدیث بیان کی کہ ہم سے بشر بن عمر زاہرانی نے حدیث بیان کی کہ میں نے امام مالك رضی اﷲ تعالی عنہ سے گزارش کی کیا زہری یہ حدیث بیان نہ کرتے تھے کہ صفوان بن امیہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے ہمراہ رکاب اقدس چل کر حنین وطائف کے غزووں میں بحالت کفر حاضر ہوئےفرمایا ہاں مگر وہ خود رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے ہمرکاب ہولئے تھے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ان سے نہ فرمایا تھا۔
علامہ جلال الدین ابوالمحاسن یوسف حنفی معتصر میں فرماتے ہیں:
لامخالفۃ بین حدیث صفوان و بین قولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لانستعین بمشرك لان صفوان قتالہ کان باختیارہ دون ان یستعین بہ النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وان الاستعانۃ بالمشرك غیر جائزۃ یعنی حدیث صفوان اور رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے اس ارشاد میں کہ ہم کسی مشرك سے مدد نہیں لیتے کچھ مخالفت نہیں کہ صفوان کا قتال کو جانا اپنے اختیار سے تھانہ یہ کہ رسو ل اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ان سے استعانت فرمائی ہے مشرك سے استعانت حرام ہے لیکن وہ خود لڑیں تو لڑنے دینا
حوالہ / References
مشکل الآثار للطحاوی باب بیان مشکل ماروی فی الاستعانۃ من الکفار دارصادر بیروت ۳/ ۲۳۹
مشکل الآثار للطحاوی باب بیان مشکل ماروی فی الاستعانۃ من الکفار دارصادر بیروت ۳/ ۲۳۷
مشکل الآثار للطحاوی باب بیان مشکل ماروی فی الاستعانۃ من الکفار دارصادر بیروت ۳/ ۲۳۷
لکن تخلیتہم للقتال جائزۃ لقولہ تعالی لاتتخذوا بطانۃ من دونکم والاستعانۃ اتخاذ بطانۃ وقتالہم دون استعانۃ بخلاف ذلك ۔(مختصرا) جائزہے اس لئے کہ رب عزوجل نے فرمایا غیروں کو اپنا راز دار نہ بناؤ مشرك سے استعانت کرنا اسے رازداربنانا ہے اور بلا استعانت خود اس کے لڑنے میں یہ بات نہیں۔(مختصرا)
استعانت جائز ہے تو صرف ذمی سے ہے حربی سے مطلقا حرام
فائدہ رابعہ:اقول یہ مسئلہ کہ ذمی اگر مسلمانوں کے ہمراہ قتال کرے یا راستہ بتائے تو سلطان اسے غنیمت سے کچھ عطا فرمائے جو مسلمانوں کے حصہ سے کم ہو اور راہ بتانے میں بقدر اجرت تمام متون مثل ہدایہ ووقایہ وتحفۃ الفقہاء وکنز ووافی و مختار واصلاح وغرر و ملتقی وتنویر اور ان کے سوا جن جن کتب میں اس کا ذکر ہے جیسے خزانۃ المفتین و اشباہ والنظائر وغیرہا سب میں ذمی کے ساتھ مقید ہے حتی کہ علامہ محمد بن عبدالرحمن دمشقی نے رحمۃ الامہ اور امام عبدالوہاب شعرانی نے میزان الشریعہ میں اسے ائمہ اربعہ رضی اﷲ تعالی عنہم سے اسی قید کے ساتھ ذکر کیارحمۃ الامہ کی عبارت یہ ہے:
اتفقوا علی ان من حضرالغنیمۃ من مملوك اوامرأۃ اوصبی اوذمی فلہم الرضخ ۔ علماء کا اتفاق ہے کہ غلام یا عورت یا لڑکا یا ذمی جو غنیمت میں حاضر ہو تو انھیں کچھ دیا جائے گا پورا حصہ نہیں۔
بعض شراح نے اسی سے مسئلہ استعانت استنباط کیافتوائے شائع کردہ لیڈری نے درمختارکی یہ عبارت تو نقل کی:
مفادہ جواز الاستعانۃ بالکافر عند الحاجۃ ۔ اس سے سمجھا گیا کہ حاجت کے وقت کافر سے مددلینی جائزہے۔
اور متن کی عبارت چھوڑ دی جو ضمیر مفادہ کا مرجع بتاتی کہ یہ کاہے کا مفاد ہے وہ عبارت یہ ہے:
لالعبد وصبی وامرأۃ وذمی ورضخ لہم غلام او رلڑکے اور عورت اور ذمی کے لئے غنیمت
استعانت جائز ہے تو صرف ذمی سے ہے حربی سے مطلقا حرام
فائدہ رابعہ:اقول یہ مسئلہ کہ ذمی اگر مسلمانوں کے ہمراہ قتال کرے یا راستہ بتائے تو سلطان اسے غنیمت سے کچھ عطا فرمائے جو مسلمانوں کے حصہ سے کم ہو اور راہ بتانے میں بقدر اجرت تمام متون مثل ہدایہ ووقایہ وتحفۃ الفقہاء وکنز ووافی و مختار واصلاح وغرر و ملتقی وتنویر اور ان کے سوا جن جن کتب میں اس کا ذکر ہے جیسے خزانۃ المفتین و اشباہ والنظائر وغیرہا سب میں ذمی کے ساتھ مقید ہے حتی کہ علامہ محمد بن عبدالرحمن دمشقی نے رحمۃ الامہ اور امام عبدالوہاب شعرانی نے میزان الشریعہ میں اسے ائمہ اربعہ رضی اﷲ تعالی عنہم سے اسی قید کے ساتھ ذکر کیارحمۃ الامہ کی عبارت یہ ہے:
اتفقوا علی ان من حضرالغنیمۃ من مملوك اوامرأۃ اوصبی اوذمی فلہم الرضخ ۔ علماء کا اتفاق ہے کہ غلام یا عورت یا لڑکا یا ذمی جو غنیمت میں حاضر ہو تو انھیں کچھ دیا جائے گا پورا حصہ نہیں۔
بعض شراح نے اسی سے مسئلہ استعانت استنباط کیافتوائے شائع کردہ لیڈری نے درمختارکی یہ عبارت تو نقل کی:
مفادہ جواز الاستعانۃ بالکافر عند الحاجۃ ۔ اس سے سمجھا گیا کہ حاجت کے وقت کافر سے مددلینی جائزہے۔
اور متن کی عبارت چھوڑ دی جو ضمیر مفادہ کا مرجع بتاتی کہ یہ کاہے کا مفاد ہے وہ عبارت یہ ہے:
لالعبد وصبی وامرأۃ وذمی ورضخ لہم غلام او رلڑکے اور عورت اور ذمی کے لئے غنیمت
حوالہ / References
المعتصر من المختصر"فی الاستعانۃ بالمشرک"دائرۃ المعارف العثمانیۃ حیدر آباد دکن ۱/ ۲۲۹
رحمۃ الامۃ فی اختلاف الائمۃ کتاب السیر فصل اختلف الائمۃ ھل یملك الکفار الخ مطابع قطرا لوطنیۃ قطر ص۳۸۷
الدرالمختار فصل فی کیفیۃ القسمۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۴۳
رحمۃ الامۃ فی اختلاف الائمۃ کتاب السیر فصل اختلف الائمۃ ھل یملك الکفار الخ مطابع قطرا لوطنیۃ قطر ص۳۸۷
الدرالمختار فصل فی کیفیۃ القسمۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۴۳
اذاباشرواالقتال اوکانت المرأۃ تقوم بمصالح المرضی اودل الذمی علی الطریق ۔ کاحصہ نہیں ہاں کچھ دیا جائے گا اگرلڑیں یا عورت مریضوں کی تیمار داری کرے یا ذمی راستہ بتائے۔
اس کے متصل بلافصل درمختار کی وہ عبارت ہے تو کافر سے مطلقا وہی مراد جو متن میں مذکور ہے یعنی ذمی کہ حربی ہر گز اس کے معنی میں نہیں جس کے سبب بدلیل الویت یا مساوات تعمیم کرلی جائے اس کی نظیر ابھی عبارت قدوری وہدایہ سے گزری جن میں لفظ کافر تھا اور تمام اکابر نے تصریح فرمادی کہ کافر سے مراد ذمی ہے۔
ذمی میں بھی خاص کتابی سے استعانت جائز ہے مشرک سے مطلقا حرام ہے:
فائدہ خامسہ:امام اجل زینت حنفیت سیدنا احمد طحاوی رحمہ اﷲ تعالی عنہ نے اس میں اور تخصیص فرمائی اور اسی کو حضرت سیدنا امام اعظم وجملہ ائمہ حنفیہ کامذہب بتایاکہ مسئلہ استعانت کاکتابی سے خاص ہےجہاد میں وقت حاجت دبے ہوئے یہودی یا نصرانی سے مدد لے سکتے ہیں مشرك سے اصلا جائز نہیں مشکل الآثار میں استعانت بمشرك سے ممانعت کی حدیثیں روایت فرمائیں پھر استعانت بہ یہود کی حدیث اعتراضا وارد کی پھر اس سے جواب میں فرمایا:
لیس فی ذلك مایخالف شیئا مما رویناہ فی ھذاالباب لان الیہود لیسوامن المشرکین الذین قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فی الاثار الاول انہ لانستعین بہم اولئك عبدۃ الاوثاب وھؤلاء اھل الکتب والغلبۃ لنا لانا الاعلون علیہم وھم اتباع لنا وھکذا حکمہم الان عند کثیر من اھل العلم منہم ابوحنیفۃ واصحابہ رضی اﷲ تعالی عنہم یقولون لاباس وہ حدیثیں کہ اس باب میں ہم نے ذکر کیں یہ روایت ان سے کچھ مخالفت نہیں رکھتی اس لئے کہ یہود مشرك نہیں ہیں جن کے بارے میں نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے اگلی حدیثوں میں فرمایا کہ ہم ان سے استعانت نہیں کرتے وہ بت پرست ہیں اور یہ کتابی ہیں اور یہ غلبہ ان پر ہمیں کو ہے کہ ہمیں ان پر بالادست ہیں اور وہ ہمارے تابع ہیں اور اب بھی اکثر علماء کے نزدیك ان کا یہی حکم ہے از انجملہ امام ابوحنیفہ اوران کے اصحاب رضی اﷲ تعالی عنہم
اس کے متصل بلافصل درمختار کی وہ عبارت ہے تو کافر سے مطلقا وہی مراد جو متن میں مذکور ہے یعنی ذمی کہ حربی ہر گز اس کے معنی میں نہیں جس کے سبب بدلیل الویت یا مساوات تعمیم کرلی جائے اس کی نظیر ابھی عبارت قدوری وہدایہ سے گزری جن میں لفظ کافر تھا اور تمام اکابر نے تصریح فرمادی کہ کافر سے مراد ذمی ہے۔
ذمی میں بھی خاص کتابی سے استعانت جائز ہے مشرک سے مطلقا حرام ہے:
فائدہ خامسہ:امام اجل زینت حنفیت سیدنا احمد طحاوی رحمہ اﷲ تعالی عنہ نے اس میں اور تخصیص فرمائی اور اسی کو حضرت سیدنا امام اعظم وجملہ ائمہ حنفیہ کامذہب بتایاکہ مسئلہ استعانت کاکتابی سے خاص ہےجہاد میں وقت حاجت دبے ہوئے یہودی یا نصرانی سے مدد لے سکتے ہیں مشرك سے اصلا جائز نہیں مشکل الآثار میں استعانت بمشرك سے ممانعت کی حدیثیں روایت فرمائیں پھر استعانت بہ یہود کی حدیث اعتراضا وارد کی پھر اس سے جواب میں فرمایا:
لیس فی ذلك مایخالف شیئا مما رویناہ فی ھذاالباب لان الیہود لیسوامن المشرکین الذین قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فی الاثار الاول انہ لانستعین بہم اولئك عبدۃ الاوثاب وھؤلاء اھل الکتب والغلبۃ لنا لانا الاعلون علیہم وھم اتباع لنا وھکذا حکمہم الان عند کثیر من اھل العلم منہم ابوحنیفۃ واصحابہ رضی اﷲ تعالی عنہم یقولون لاباس وہ حدیثیں کہ اس باب میں ہم نے ذکر کیں یہ روایت ان سے کچھ مخالفت نہیں رکھتی اس لئے کہ یہود مشرك نہیں ہیں جن کے بارے میں نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے اگلی حدیثوں میں فرمایا کہ ہم ان سے استعانت نہیں کرتے وہ بت پرست ہیں اور یہ کتابی ہیں اور یہ غلبہ ان پر ہمیں کو ہے کہ ہمیں ان پر بالادست ہیں اور وہ ہمارے تابع ہیں اور اب بھی اکثر علماء کے نزدیك ان کا یہی حکم ہے از انجملہ امام ابوحنیفہ اوران کے اصحاب رضی اﷲ تعالی عنہم
حوالہ / References
الدرالمختار فصل فی کیفیۃ القسمۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۴۳
بالاستعانۃ باھل الکتاب فی قتال من سواھم اذا کان حکمنا ھوالغالب ویکرھون ذلك اذاکان احکامنا بخلاف ذلك ونعوذ باﷲ من تلك الحال ۔ وہ فرماتے ہیں کہ غیر کتابی کے مقابلہ میں کتابیوں سے مددلینے میں حرج نہیں جبکہ ہمارا ہی حکم غالب ہواور کتابیوں سے بھی مدد لینے کوناجائز رکھتے ہیں جبکہ حالت اس کے خلاف ہو یعنی وہ ہمارے تابع و پیرونہ ہوں اور اس حالت سے اﷲ کی پناہ۔
معتصر علامہ یوسف حنفی میں ہے:
الممتنع الاستعانۃ بالمشرك والیہود لیسوا من المشرکین ھکذا حکمہم عند ابی حنیفۃ واصحابہ اذا کان حکمنا ھوالغالب بخلاف ما اذا لم یکن غالبا نعوذ باﷲ (ملتقطا) مشرك سے استعانت ناجائز ہے اور یہود مشرك نہیں امام اعظم اور ان کے تلامذہ کے نزدیك یہی حکم ہے جبکہ ہمارا ہی حکم غالب ہو بخلاف اس کے کہ معاذاﷲ ہمارا حکم ان پر غالب نہ ہو۔(ملتقطا)
تحقیق مقام استعانت کے اقسام اور ان کے احکام
فائدہ سادسہ:اقول: تحقیق مقام بتوفیق منعام یہ ہے کہ یہاں استعانت کی تین حالتیں ہیں:
التجا اعتماد استخدام
التجا:یہ کہ قلیل گروہ اپنے کو ضعیف وکمزور یا عاجز پاکر کثیروقوی و طاقتور جتھے کی پناہ لے اپناکام بنانے کے لئے اس کا دامن پکڑے یہ بداہۃ اپنے آپ کو ان کے ہاتھ میں دینا ہوگا اور انھیں خواہی نخواہی ان کے اشارے پر چلنا ان کی پس روی کرنی پڑےگی۔
اعتماد عــــہ:یہ کہ گروہ مساوی سے یا رانہ گانٹھیں انھیں اپنا یاورو یار ومعین ومددگار بنائیں ان کی مدد وموافقت سے اپنے لئے غلبہ وعزت وکامیابی چاہیں یہ اگرچہ اپنے آپ کو ان کے رحم پر چھوڑ دینا نہیں مگر ان کی ہمدردی وخیروخواہی پر اعتماد یقینا ہے کوئی عاقل خون کے پیاسے دشمن بدخواہ کو معین وناصر نہ بنائے گایہاں مساوات کے یہی معنی نہیں کہ ہر طرح قوت میں ہمارا ہم سنگ ہو بلکہ خود سر گروہ کہ ہمارے
عــــہ:اعتماد ہر استعانت میں ہے اوریہاں یہ مراد کہ صرف اعتماد ہے استیلاء نہ ان کا نہ اپنا ۱۲ منہ غفرلہ
معتصر علامہ یوسف حنفی میں ہے:
الممتنع الاستعانۃ بالمشرك والیہود لیسوا من المشرکین ھکذا حکمہم عند ابی حنیفۃ واصحابہ اذا کان حکمنا ھوالغالب بخلاف ما اذا لم یکن غالبا نعوذ باﷲ (ملتقطا) مشرك سے استعانت ناجائز ہے اور یہود مشرك نہیں امام اعظم اور ان کے تلامذہ کے نزدیك یہی حکم ہے جبکہ ہمارا ہی حکم غالب ہو بخلاف اس کے کہ معاذاﷲ ہمارا حکم ان پر غالب نہ ہو۔(ملتقطا)
تحقیق مقام استعانت کے اقسام اور ان کے احکام
فائدہ سادسہ:اقول: تحقیق مقام بتوفیق منعام یہ ہے کہ یہاں استعانت کی تین حالتیں ہیں:
التجا اعتماد استخدام
التجا:یہ کہ قلیل گروہ اپنے کو ضعیف وکمزور یا عاجز پاکر کثیروقوی و طاقتور جتھے کی پناہ لے اپناکام بنانے کے لئے اس کا دامن پکڑے یہ بداہۃ اپنے آپ کو ان کے ہاتھ میں دینا ہوگا اور انھیں خواہی نخواہی ان کے اشارے پر چلنا ان کی پس روی کرنی پڑےگی۔
اعتماد عــــہ:یہ کہ گروہ مساوی سے یا رانہ گانٹھیں انھیں اپنا یاورو یار ومعین ومددگار بنائیں ان کی مدد وموافقت سے اپنے لئے غلبہ وعزت وکامیابی چاہیں یہ اگرچہ اپنے آپ کو ان کے رحم پر چھوڑ دینا نہیں مگر ان کی ہمدردی وخیروخواہی پر اعتماد یقینا ہے کوئی عاقل خون کے پیاسے دشمن بدخواہ کو معین وناصر نہ بنائے گایہاں مساوات کے یہی معنی نہیں کہ ہر طرح قوت میں ہمارا ہم سنگ ہو بلکہ خود سر گروہ کہ ہمارے
عــــہ:اعتماد ہر استعانت میں ہے اوریہاں یہ مراد کہ صرف اعتماد ہے استیلاء نہ ان کا نہ اپنا ۱۲ منہ غفرلہ
حوالہ / References
مشکل الآثار للطحاوی باب بیان مشکل ماوری فی الاستعانۃ من الکفار دارصادر بیروت ۳/ ۲۴۰
المعتصر من المختصر فی الاستعانۃ بالمشرك دائرۃالمعارف العثمانیۃ حیدرآباد دکن ۱/ ۲۲۹
المعتصر من المختصر فی الاستعانۃ بالمشرك دائرۃالمعارف العثمانیۃ حیدرآباد دکن ۱/ ۲۲۹
ہاتھ میں مجبور نہیں اور ہمارے ساتھ اظہار بدخواہی کرسکتاہے اسی شق میں ہے کہ باوصف خود سری اسے ناصر بنانا بے اعتماد نہ ہوگا۔یہ دونوں صورتیں کفارکے ساتھ یقیناقطعا نصوص قطعیہ قرآنیہ سے حرام قطعی ہیں جن کی تحریم کو پہلی اور دوسری دو۲ہی آیتیں کافی ووافی ہیں ہر گز کوئی مسلمان انھیں حلال نہیں کہہ سکتا۔
استخدام:یہ کہ کافر ہم سے دباہو اس کی چٹیا ہمارے ہاتھ میں ہوکسی طرح ہمارے خلاف پر قادر نہ ہووہ اگرچہ اپنے کفر کے باعث یقینا ہمارا بدخواہ ہوگا مگر بے دست وپا ہے ہم سے خوف وطمع رکھتا ہے خوف شدید کے باعث اظہار بدخواہی نہ کرسکے گا بلکہ طمع کے سبب مسلمان کے بارے میں نیك رائے ہوگا۔
الحمداللہ! یہ تقریر غفرلہ القدیر نے تفقہا لکھی تھی پھرامام شمس الائمہ سرخسی کی شرح سیر صغیر امام محمد رضی اﷲ تعالی عنہ دیکھی عظیم وجلیل تائید ملیفائدہ خامسہ میں امام طحاوی وعلامہ یوسف حنفی کی عبارتیں سن چکے کہ جواز اس وقت ہے جب ہمارا ہی حکم غالب ہو اور امام ابوجعفر کاارشاد کہ ہمیں بلند وبالا ہوں اور وہ ہمارے تابعبعینہ یہی شرط سیر صغر میں کہ کتب ظاہرالروایۃ سے ہے امام محمد نے سیدنا امام اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کی کہ فرمایا:
سالتہ عن المسلمین یستعینون باھل الشرك علی اھل الحربقال لاباس بذلك اذا کان حکم الاسلام ھوالظاھر الغالب ۔ میں نے عرض کی کہ مسلمان اگر حربیوں پر مشرکوں سے مدد لیں تو کیسا ہے فرمایا مضائقہ نہیں بشرطیکہ اسلام ہی کاحکم روشن وزبردست ہو۔
مشرکوں سے ذمی مراد ہیں کہ اس سے دو ورق پہلے فرمایا:
لاباس بان یستعین اھل العدل بقوم من اھل البغی واھل الذمۃ علی الخوارج اذاکان حکم اہل العدل ظاھرا ۔ اہل عدل کاباغیوں اورذمیوں سے خوارج کے خلاف مددلینے میں کوئی حرج نہیں ہے بشرطیکہ اہل عدل کاحکم غالب ہو۔ (ت)
یہاں تو استخدام بتایا تھا مگر اس کی تعلیل وہ فرمائی جس نے استخدام کی پوری تصویر بھی کھینچ دی اور اس کی نوعیت بھی بتادی کہ کس طرح کا استخدام ہو۔
استخدام:یہ کہ کافر ہم سے دباہو اس کی چٹیا ہمارے ہاتھ میں ہوکسی طرح ہمارے خلاف پر قادر نہ ہووہ اگرچہ اپنے کفر کے باعث یقینا ہمارا بدخواہ ہوگا مگر بے دست وپا ہے ہم سے خوف وطمع رکھتا ہے خوف شدید کے باعث اظہار بدخواہی نہ کرسکے گا بلکہ طمع کے سبب مسلمان کے بارے میں نیك رائے ہوگا۔
الحمداللہ! یہ تقریر غفرلہ القدیر نے تفقہا لکھی تھی پھرامام شمس الائمہ سرخسی کی شرح سیر صغیر امام محمد رضی اﷲ تعالی عنہ دیکھی عظیم وجلیل تائید ملیفائدہ خامسہ میں امام طحاوی وعلامہ یوسف حنفی کی عبارتیں سن چکے کہ جواز اس وقت ہے جب ہمارا ہی حکم غالب ہو اور امام ابوجعفر کاارشاد کہ ہمیں بلند وبالا ہوں اور وہ ہمارے تابعبعینہ یہی شرط سیر صغر میں کہ کتب ظاہرالروایۃ سے ہے امام محمد نے سیدنا امام اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کی کہ فرمایا:
سالتہ عن المسلمین یستعینون باھل الشرك علی اھل الحربقال لاباس بذلك اذا کان حکم الاسلام ھوالظاھر الغالب ۔ میں نے عرض کی کہ مسلمان اگر حربیوں پر مشرکوں سے مدد لیں تو کیسا ہے فرمایا مضائقہ نہیں بشرطیکہ اسلام ہی کاحکم روشن وزبردست ہو۔
مشرکوں سے ذمی مراد ہیں کہ اس سے دو ورق پہلے فرمایا:
لاباس بان یستعین اھل العدل بقوم من اھل البغی واھل الذمۃ علی الخوارج اذاکان حکم اہل العدل ظاھرا ۔ اہل عدل کاباغیوں اورذمیوں سے خوارج کے خلاف مددلینے میں کوئی حرج نہیں ہے بشرطیکہ اہل عدل کاحکم غالب ہو۔ (ت)
یہاں تو استخدام بتایا تھا مگر اس کی تعلیل وہ فرمائی جس نے استخدام کی پوری تصویر بھی کھینچ دی اور اس کی نوعیت بھی بتادی کہ کس طرح کا استخدام ہو۔
حوالہ / References
المبسوط للسرخسی باب آخر فی الغنیمۃ دارالمعرفۃ بیروت ۱۰/ ۱۳۸
المبسوط للسرخسی باب الخوارج دارالمعرفۃ بیروت ۱۰/ ۱۳۴
المبسوط للسرخسی باب الخوارج دارالمعرفۃ بیروت ۱۰/ ۱۳۴
کافر کو کتا بنا کر استعانت جائز ہے جب وہ ہمارے ہاتھ میں کتے کی طرح مسخر ہو:
ارشاد ہوا:لان قتالہم بھذہ الصفۃ لاعزاز الدین والاستعانۃ علیہم باھل الشرك کالاستعانۃ بالکلاب ۔
دو ورق پہلے فرمایا:والاستعانۃ باھل الذمۃ کالاستعانۃ بالکلاب ۔
(یعنی اس لیے کہ جب وہ اس حالت پر ہوں تو ان کا لڑنا ہمارے ہی دین کے اعزاز کو ہوگا اورحربیوں پر ان ذمی مشرکوں سے استعانت ایسی ہوگی جیسے شکار میں کتوں سے مدد لیتے ہیں دوسرے یہ کہ وہ ہمارے ہاتھ میں کتوں کی طرح مسخر ہوں کہ ان کا فعل ہمارے ہی لئے ہو ہمارے ہی دین کے اعزاز کے واسطے ہو)
کتے سے شکار میں استعانت کب جائز ہوتی ہے جبکہ وہ وقت شکار سارا کام ہمارے ہی لئے کرے اس میں سے اپنے واسطے کچھ نہ کرے اگر شکار مارا اور ماشہ بھراس کا گوشت کھالیا شکار حرام ہےتو استخدام بتایا اور وہ بھی سب سے ذلیل تر یعنی جیسے کتے سے خدمت لیتے ہیں اور شرط فرمادی کہ وہ خود سری سے یکسر نکل کر محض ہمارے لئے آلہ بن گئے ہوں یہ نہ ہوگا مگراسی صورت میں کہ ہم نے منقح کی وﷲ الحمد۔
ذلیل وقلیل کافروں سے استعانت کی اجازت ہوگی نہ کہ انبوہ کثیر سے:
اقول: اور اس کے لئے ضرور ہے کہ وہ معدودے چند ذلیل قلیل ہوں کہ بڑا گروہ ہوا تو ممکن کہ میدان میں پہنچ کر کافروں کا لشکردیکھ کر شرارت پر آئے اور پھن دکھائے ممکن کہ یہی حکمت ہو کہ روز احد چھ سو یہود کو واپس فرمادیا کہ یہ بڑا جتھا ہوا خصوصا اس حالت میں کہ مسلمان صرف سات سو۷۰۰ اور مغلطائی کی روایت میں چھ ہی سو تھے اور غزوہ خیبر میں حسب عــــہ روایت واقدی صرف دس یہود کو ہمرا ہی کا حکم فرمایا کہ مسلمان ایك ہزار چار سو۱۴۰۰ تھے
عــــہ:اخرج الواقدی فی مغازیہ عن واقدی نے اپنے مغازی میں(باقی برصفحہ ایندہ)
ارشاد ہوا:لان قتالہم بھذہ الصفۃ لاعزاز الدین والاستعانۃ علیہم باھل الشرك کالاستعانۃ بالکلاب ۔
دو ورق پہلے فرمایا:والاستعانۃ باھل الذمۃ کالاستعانۃ بالکلاب ۔
(یعنی اس لیے کہ جب وہ اس حالت پر ہوں تو ان کا لڑنا ہمارے ہی دین کے اعزاز کو ہوگا اورحربیوں پر ان ذمی مشرکوں سے استعانت ایسی ہوگی جیسے شکار میں کتوں سے مدد لیتے ہیں دوسرے یہ کہ وہ ہمارے ہاتھ میں کتوں کی طرح مسخر ہوں کہ ان کا فعل ہمارے ہی لئے ہو ہمارے ہی دین کے اعزاز کے واسطے ہو)
کتے سے شکار میں استعانت کب جائز ہوتی ہے جبکہ وہ وقت شکار سارا کام ہمارے ہی لئے کرے اس میں سے اپنے واسطے کچھ نہ کرے اگر شکار مارا اور ماشہ بھراس کا گوشت کھالیا شکار حرام ہےتو استخدام بتایا اور وہ بھی سب سے ذلیل تر یعنی جیسے کتے سے خدمت لیتے ہیں اور شرط فرمادی کہ وہ خود سری سے یکسر نکل کر محض ہمارے لئے آلہ بن گئے ہوں یہ نہ ہوگا مگراسی صورت میں کہ ہم نے منقح کی وﷲ الحمد۔
ذلیل وقلیل کافروں سے استعانت کی اجازت ہوگی نہ کہ انبوہ کثیر سے:
اقول: اور اس کے لئے ضرور ہے کہ وہ معدودے چند ذلیل قلیل ہوں کہ بڑا گروہ ہوا تو ممکن کہ میدان میں پہنچ کر کافروں کا لشکردیکھ کر شرارت پر آئے اور پھن دکھائے ممکن کہ یہی حکمت ہو کہ روز احد چھ سو یہود کو واپس فرمادیا کہ یہ بڑا جتھا ہوا خصوصا اس حالت میں کہ مسلمان صرف سات سو۷۰۰ اور مغلطائی کی روایت میں چھ ہی سو تھے اور غزوہ خیبر میں حسب عــــہ روایت واقدی صرف دس یہود کو ہمرا ہی کا حکم فرمایا کہ مسلمان ایك ہزار چار سو۱۴۰۰ تھے
عــــہ:اخرج الواقدی فی مغازیہ عن واقدی نے اپنے مغازی میں(باقی برصفحہ ایندہ)
حوالہ / References
المبسوط للسرخسی باب آخر فی الغنیمۃ دارالمعرفۃ بیروت ۱۰/ ۱۳۸
المبسوط للسرخسی کتا ب السیر ۱۰/ ۲۳ باب الخوارج دارالمعرفۃ بیروت ۱۰/ ۱۳۴
المبسوط للسرخسی کتا ب السیر ۱۰/ ۲۳ باب الخوارج دارالمعرفۃ بیروت ۱۰/ ۱۳۴
اور غزوہ حنین میں تو صفوان جیسے ستر۷۰ اسی۸۰ بھی مان لیجئے تو کچھ نہ تھے کہ الہی لشکر بارہ ہزار تھا جس کی کثر ت کا ذکر خود قرآن عظیم میں ہے اسی طرف اشارہ ہے کہ ہمارے علماء ان مسائل میں ذمی وکافر بصیغہ مفرد لکھتے ہیں نہ بصیغہ جمع۔
استخدام کی چار صورتیں اور ان کے احکام کافر کو رازدار بنانا مطلقا حرام ہے:
اب چار۴صورتیں ہیں:
اول اس سے ایسی استعانت جس میں وہ ہمارا راز دار ودخیل کار بنے یہ مطلقاحرام ہے جس کے لئے پہلی آیہ کریمہ بس ہےنیز فرماتاہے جل وعلا:
" ام حسبتم ان تترکوا ولما یعلم اللہ الذین جہدوا منکم ولم یتخذوا من دون اللہ ولارسولہ ولا المؤمنین ولیجۃ واللہ خبیر بما تعملون ﴿۱۶﴾" کیا اس گھمنڈ میں ہو کہ یونہی چھوڑ دئے جاؤ گے اور ابھی وہ لوگ علانیہ ظاہر نہ ہوئے جو تم میں سے جہاد کریں اور اﷲ ورسول ومسلمین کے سوا کسی کو اپنا راز دار ودخیل کار بنائیں اور اﷲ تعالی تمھارے کاموں سے خبردار ہے۔
کافروں کو محرری پر نوکر رکھنے کی ممانعت:
ولہذا حدیث چہارم میں ان سے مشورہ لینا ناجائزفرمایاتفسیر کبیرمیں کریمہ اولی کے تحت میں ہے:
ان المسلمین کانوا یشاورونہم فی امورھم ویؤانسونہم لما کان بینہم من الرضاع
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
حرام بن سعد بن محیصہ قال خرج رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بعشرۃ من یھود المدینۃ غزابہم الی خیبر ۱۲ منہ غفرلہ حرام بن سعد بن محیصہ سے راوی کہ انھوں نے کہا کہ حضورعلیہ الصلوۃ والسلام مدینہ کے دس یہودکو غزوہ خیبر میں ہمراہ لے گئے ۱۲ منہ غفرلہ(ت)
استخدام کی چار صورتیں اور ان کے احکام کافر کو رازدار بنانا مطلقا حرام ہے:
اب چار۴صورتیں ہیں:
اول اس سے ایسی استعانت جس میں وہ ہمارا راز دار ودخیل کار بنے یہ مطلقاحرام ہے جس کے لئے پہلی آیہ کریمہ بس ہےنیز فرماتاہے جل وعلا:
" ام حسبتم ان تترکوا ولما یعلم اللہ الذین جہدوا منکم ولم یتخذوا من دون اللہ ولارسولہ ولا المؤمنین ولیجۃ واللہ خبیر بما تعملون ﴿۱۶﴾" کیا اس گھمنڈ میں ہو کہ یونہی چھوڑ دئے جاؤ گے اور ابھی وہ لوگ علانیہ ظاہر نہ ہوئے جو تم میں سے جہاد کریں اور اﷲ ورسول ومسلمین کے سوا کسی کو اپنا راز دار ودخیل کار بنائیں اور اﷲ تعالی تمھارے کاموں سے خبردار ہے۔
کافروں کو محرری پر نوکر رکھنے کی ممانعت:
ولہذا حدیث چہارم میں ان سے مشورہ لینا ناجائزفرمایاتفسیر کبیرمیں کریمہ اولی کے تحت میں ہے:
ان المسلمین کانوا یشاورونہم فی امورھم ویؤانسونہم لما کان بینہم من الرضاع
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
حرام بن سعد بن محیصہ قال خرج رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بعشرۃ من یھود المدینۃ غزابہم الی خیبر ۱۲ منہ غفرلہ حرام بن سعد بن محیصہ سے راوی کہ انھوں نے کہا کہ حضورعلیہ الصلوۃ والسلام مدینہ کے دس یہودکو غزوہ خیبر میں ہمراہ لے گئے ۱۲ منہ غفرلہ(ت)
حوالہ / References
القرآن الکریم ۹ /۱۶
کتاب المغازی للواقدی غزوہ خیبر منشورات موسسۃ الاعلمی للمطبوعات بیروت ۲/ ۶۸۴
کتاب المغازی للواقدی غزوہ خیبر منشورات موسسۃ الاعلمی للمطبوعات بیروت ۲/ ۶۸۴
والحلف ظنا منہم انہم وان خالفوھم فی الدین فہم ینصحون لہم فی اسباب المعاش فنہاھم اﷲ تعالی بھذہ الایۃ عنہ۔فمنع المؤمنین ان یتخذوا بطانۃ من غیر المومنین فیکو ن ذلك نھیا عن جمیع الکفار وقال تعالی"یایھاالذین امنوا لاتتخذوا عدوی وعدوکم اولیاء"ومما یؤکد ذلك ماروی انہ قیل لعمر رضی اﷲ تعالی عنہ ھھنا رجل من اھل الحیرۃ نصرانی لایعرف اقوی حفظا واحسن خطا منہ فان رأیت ان تتخذہ کاتبا فامتنع عمر من ذلك وقال اذن اتخذت بطانۃ من غیر المومنین ۔
یعنی کچھ مسلمان بعض یہود سے اپنے معاملات میں مشورہ کرتے اور باہم دل بہلاتے کہ کسی سے دودھ کی شرکت تھی کوئی کسی کا حلیف تھا یہ گمان کرتے تھے کہ وہ اگرچہ دین میں ہمارے خلاف ہیں دنیوی باتوں میں توہماری خیرخواہی کریں گے اس آیہ کریمہ میں رب العزت جل وعلا نے انھیں منع فرمایا اور حکم دیا کہ کسی غیر مسلم کو اپنا راز دار نہ بناؤتو یہ نہ صرف یہود بلکہ جملہ کفار سے ممانعت ہوئی اور اﷲ تعالی عزوجل نے فرمایا:"اے ایمان والو! میرے اور اپنے دشمن کو یارنہ بناؤ"اوراس کی تائید اس حدیث سے ہوتی ہے جو امیر المؤمنین عمر فاروق اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ سے مروی ہوئی کہ ان سے عرض کی گئی کہ شہر حیرہ میں ایك نصرانی ہے اس کا ساحافظہ اور عمدہ خط کسی کامعلوم نہیں حضور کی رائے ہو تو ہم اسے محرر بنائیں امیر المومنین نے اسے قبول نہ فرمایا اور ارشاد کیا کہ ایسا ہو تو میں غیر مسلم کو راز دار بنانے والا ٹھہروں گا۔تفسیر لباب التاویل وغیرہ پارہ۶ میں ہے:
روی ان اباموسی الاشعری رضی اﷲ تعالی عنہ قال قلت لعمر بن الخطاب رضی اﷲ تعالی عنہ ان لی کاتبا نصرانیا فقال مالك ولہ قاتلك اﷲ الا اتخذت حنیفا یعنی مسلما اماسمعت قول اﷲ عزوجل"
یایہا الذین امنوا لا تتخذوا الیہود والنصری اولیاء "
قلت لہ دینہ ولی کتابتہ فقال لا اکرمہم یعنی ابوموسی اشعری رضی اﷲ تعالی عنہ سے مروی ہوا کہ میں نے امیر المومنین عمر فاروق اعظم سے عرض کی کہ میرا ایك محرر نصرانی ہےفرمایا تمھیں اس سے کیا علاقہ خدا تمھیں سمجھائے کیوں نہ کسی کھرے مسلمان کو محرر بنایا کیا تم نے یہ ارشاد الہی نہ سنا کہ اے ایمان والو! یہود ونصاری کو یار نہ بناؤمیں نے عرض کی اس کا دین اس کے لئے ہے مجھے تو اس کی محرری سے کام ہےفرمایا میں
یعنی کچھ مسلمان بعض یہود سے اپنے معاملات میں مشورہ کرتے اور باہم دل بہلاتے کہ کسی سے دودھ کی شرکت تھی کوئی کسی کا حلیف تھا یہ گمان کرتے تھے کہ وہ اگرچہ دین میں ہمارے خلاف ہیں دنیوی باتوں میں توہماری خیرخواہی کریں گے اس آیہ کریمہ میں رب العزت جل وعلا نے انھیں منع فرمایا اور حکم دیا کہ کسی غیر مسلم کو اپنا راز دار نہ بناؤتو یہ نہ صرف یہود بلکہ جملہ کفار سے ممانعت ہوئی اور اﷲ تعالی عزوجل نے فرمایا:"اے ایمان والو! میرے اور اپنے دشمن کو یارنہ بناؤ"اوراس کی تائید اس حدیث سے ہوتی ہے جو امیر المؤمنین عمر فاروق اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ سے مروی ہوئی کہ ان سے عرض کی گئی کہ شہر حیرہ میں ایك نصرانی ہے اس کا ساحافظہ اور عمدہ خط کسی کامعلوم نہیں حضور کی رائے ہو تو ہم اسے محرر بنائیں امیر المومنین نے اسے قبول نہ فرمایا اور ارشاد کیا کہ ایسا ہو تو میں غیر مسلم کو راز دار بنانے والا ٹھہروں گا۔تفسیر لباب التاویل وغیرہ پارہ۶ میں ہے:
روی ان اباموسی الاشعری رضی اﷲ تعالی عنہ قال قلت لعمر بن الخطاب رضی اﷲ تعالی عنہ ان لی کاتبا نصرانیا فقال مالك ولہ قاتلك اﷲ الا اتخذت حنیفا یعنی مسلما اماسمعت قول اﷲ عزوجل"
یایہا الذین امنوا لا تتخذوا الیہود والنصری اولیاء "
قلت لہ دینہ ولی کتابتہ فقال لا اکرمہم یعنی ابوموسی اشعری رضی اﷲ تعالی عنہ سے مروی ہوا کہ میں نے امیر المومنین عمر فاروق اعظم سے عرض کی کہ میرا ایك محرر نصرانی ہےفرمایا تمھیں اس سے کیا علاقہ خدا تمھیں سمجھائے کیوں نہ کسی کھرے مسلمان کو محرر بنایا کیا تم نے یہ ارشاد الہی نہ سنا کہ اے ایمان والو! یہود ونصاری کو یار نہ بناؤمیں نے عرض کی اس کا دین اس کے لئے ہے مجھے تو اس کی محرری سے کام ہےفرمایا میں
حوالہ / References
مفاتیح الغیب(التفسیر الکبیر)آیہ لاتتخذوابطانۃ الخ کے تحت المطبعۃ البہیۃ المصریۃ مصر ۸/ ۱۰ و ۲۰۹
اذا اھانہم اﷲولااعزھم اذا اذلہم اﷲ ولاادنیہم اذا ابعد ھم اﷲقلت انہ لایتم امر البصرۃ الا بہ فقال مات النصرانی والسلام یعنی ھب انہ مات فما تصنع بعدہ فما تعملہ بعد موتہ فاعلمہ الان واستغن عنہ بغیرہ من المسلمین ۔ کافروں کو گرامی نہ کرو ں گا جبکہ انھیں اﷲ نے خوارکیا نہ انھیں عزت دوں گا جبکہ اﷲ نے انھیں ذلیل کیا نہ ان کو قرب دوں گاجبکہ اﷲ نے انھیں دور کیامیں نے عرض کی بصرہ کا کام بے اس کے پورانہ ہوگا۔فرمایا مرگیا نصرانی والسلام یعنی فرض کرلو کہ وہ مرگیا تو اس کے بعد کیا کرو گے جو جب کروگے اب کرو اور کسی مسلمان کو مقرر کرکے اس سے بے پروا ہوجاؤ۔
کافر کی تعظیم حرام ہے:
دوم اسے بعض مسلمانوں پر کوئی عہدہ ومنصب دینا جس میں مسلم پر اس کا استعلاء ہو مثلا مسلمان فوج کے کسی دستے کا افسر بنانا یہ بھی حرام ہےابھی امیر المومنین فاروق اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ کا ارشاد سن چکے کہ اﷲ نے انھیں خوار کیا میں گرامی نہ کروں گا اﷲ نے انھیں ذلت دی میں عزت نہ دوں گاکتب حدیث میں یوں ہے کہ جب ابوموسی اشعری رضی اﷲ تعالی عنہ نے اسے محرری پر مقرر کیا امیر المومنین رضی اﷲ تعالی عنہ نے انھیں فرمان میں لکھا:
لیس لنا ان نأتمنہم وقد خونہم اﷲ ولا ان نرفعہم وقد وضعہم اﷲ ولاان نعزوھم وقد امرنا بان یعلم الجزیۃ عن یدوھم صاغرون ۔ ہمیں روانہیں کہ کافروں کو امین بنائیں حالانکہ اﷲ تعالی انھیں خائن بتاتاہے یا ہم انھیں رفعت دیں حالانکہ اﷲ سبحنہ نے انھیں پستی دییاانھیں عزت دیں حالانکہ ہمیں حکم ہے کہ کافر ذلت وخواری کے ساتھ اپنے ہاتھ سے جزیہ پیش کریں۔
درمختارمیں ہے:
یمنع من استکتاب ومباشرۃ یکون بھا معظما عند المسلمین وتمامہ فی الفتح وفی الحاوی ینبغی ان یلازم الصغار بینہ وبین المسلمفی کل شیئ وعلیہ فیمنع من القعود حال قیام المسلم عندہ بحرویحرم تعظیمہ ۔
کافر کی تعظیم حرام ہے:
دوم اسے بعض مسلمانوں پر کوئی عہدہ ومنصب دینا جس میں مسلم پر اس کا استعلاء ہو مثلا مسلمان فوج کے کسی دستے کا افسر بنانا یہ بھی حرام ہےابھی امیر المومنین فاروق اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ کا ارشاد سن چکے کہ اﷲ نے انھیں خوار کیا میں گرامی نہ کروں گا اﷲ نے انھیں ذلت دی میں عزت نہ دوں گاکتب حدیث میں یوں ہے کہ جب ابوموسی اشعری رضی اﷲ تعالی عنہ نے اسے محرری پر مقرر کیا امیر المومنین رضی اﷲ تعالی عنہ نے انھیں فرمان میں لکھا:
لیس لنا ان نأتمنہم وقد خونہم اﷲ ولا ان نرفعہم وقد وضعہم اﷲ ولاان نعزوھم وقد امرنا بان یعلم الجزیۃ عن یدوھم صاغرون ۔ ہمیں روانہیں کہ کافروں کو امین بنائیں حالانکہ اﷲ تعالی انھیں خائن بتاتاہے یا ہم انھیں رفعت دیں حالانکہ اﷲ سبحنہ نے انھیں پستی دییاانھیں عزت دیں حالانکہ ہمیں حکم ہے کہ کافر ذلت وخواری کے ساتھ اپنے ہاتھ سے جزیہ پیش کریں۔
درمختارمیں ہے:
یمنع من استکتاب ومباشرۃ یکون بھا معظما عند المسلمین وتمامہ فی الفتح وفی الحاوی ینبغی ان یلازم الصغار بینہ وبین المسلمفی کل شیئ وعلیہ فیمنع من القعود حال قیام المسلم عندہ بحرویحرم تعظیمہ ۔
حوالہ / References
لباب التاویل(تفسیر الکبیر)زیر آیہ لاتتخذوا الیہود والنصارٰی اولیاء مصطفی البابی مصر ۲/ ۶۲
الدرالمختار فصل فی الجزیۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۵۲
الدرالمختار فصل فی الجزیۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۵۲
یعنی ذمی کافر کو محرر بنانا یااور کوئی عمل ایسا سپر د کرنا جس سے مسلمانوں میں اس کی بڑائی ہوجائز نہیںاس کا پوار بیان فتح القدیر میں ہےحاوی میں ہے وہ مسلمان کے ساتھ ہر معاملہ میں دبا ہوا ذلیل رہے تو جب تك ا س کے پاس کوئی مسلمان کھڑا ہواسے بیٹھنے نہ دیں گےیہ بحرالرائق میں ہےاور اس کی تعظیم حرام ہے۔ہدایہ میں ہے:
قالوا الاحق ان لایترکوا ان یرکبوا الا لضرورۃ واذا رکبوا للضرورۃ فلینزلوا فی مجامع المسلمین ۔ علماء نے فرمایا:سز اوارتریہ ہے کہ انھیں سوار ہونے ہی نہ دیں مگر(مرض وغیرہ کی)ناچاری سے پھر جب مجبوری کو سوار ہو تو ضرور ہے کہ مسلمانوں کے مجمع میں اترلیں۔
بے تعظیمی کے ساتھ بھی کافر سے استعانت صرف وقت حاجت جائز ہے:
سوم بے حاجت اس سے استعانت کرنا یہ بھی ناجائز ہےخود فتوائے شائع کردہ لیڈران میں درمختار سے ہے:
مفادہ جوا ز الاستعانۃ بالکافر عند الحاجۃ ۔ اس عبارت سے سمجھاگیا کہ حاجت کے وقت کافر(ذمی)سے استعانت جائز ہے۔
اسی میں ردالمحتار سے ہے:
اما بدونہا فلا لانہ لایؤمن غدرہ ۔ حاجت نہ ہوتو جائز نہیں کہ کچھ اطمینان نہیں کہ وہ بدعہدی نہ کرے گا۔
کافر سے صرف اس صورت کی استعانت جائز ہے:
چہارم اب ایك صورت یہ رہی کہ۱ دبے ہوئے مقہور کافر سے ۲بشرط حاجت ایسی استعانت جس میں نہ ۳اسے راز دار ودخیل کاربنانا ہو نہ ۴کسی مسلمان پر اس کا استعلاء ہو یہ ہے وہ جس کی ہمارے علماء اور امام شافعی رضی اﷲ تعالی عنہم نے رخصت
قالوا الاحق ان لایترکوا ان یرکبوا الا لضرورۃ واذا رکبوا للضرورۃ فلینزلوا فی مجامع المسلمین ۔ علماء نے فرمایا:سز اوارتریہ ہے کہ انھیں سوار ہونے ہی نہ دیں مگر(مرض وغیرہ کی)ناچاری سے پھر جب مجبوری کو سوار ہو تو ضرور ہے کہ مسلمانوں کے مجمع میں اترلیں۔
بے تعظیمی کے ساتھ بھی کافر سے استعانت صرف وقت حاجت جائز ہے:
سوم بے حاجت اس سے استعانت کرنا یہ بھی ناجائز ہےخود فتوائے شائع کردہ لیڈران میں درمختار سے ہے:
مفادہ جوا ز الاستعانۃ بالکافر عند الحاجۃ ۔ اس عبارت سے سمجھاگیا کہ حاجت کے وقت کافر(ذمی)سے استعانت جائز ہے۔
اسی میں ردالمحتار سے ہے:
اما بدونہا فلا لانہ لایؤمن غدرہ ۔ حاجت نہ ہوتو جائز نہیں کہ کچھ اطمینان نہیں کہ وہ بدعہدی نہ کرے گا۔
کافر سے صرف اس صورت کی استعانت جائز ہے:
چہارم اب ایك صورت یہ رہی کہ۱ دبے ہوئے مقہور کافر سے ۲بشرط حاجت ایسی استعانت جس میں نہ ۳اسے راز دار ودخیل کاربنانا ہو نہ ۴کسی مسلمان پر اس کا استعلاء ہو یہ ہے وہ جس کی ہمارے علماء اور امام شافعی رضی اﷲ تعالی عنہم نے رخصت
حوالہ / References
الہدایۃ باب الجزیۃ المکتبۃ العربیہ کراچی ۲/ ۵۷۸
الدرالمختار فصل فی کیفیۃ القسمۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۴۳
ردالمحتار فصل فی کیفیۃ القسمۃ مکتبہ ماجدہ کوئٹہ ۳/ ۲۵۷
الدرالمختار فصل فی کیفیۃ القسمۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۴۳
ردالمحتار فصل فی کیفیۃ القسمۃ مکتبہ ماجدہ کوئٹہ ۳/ ۲۵۷
دی پچھلی دو قیدیں تو منتظر ثبوت بلکہ محتاج بیان بھی نہیں دین متین سے ضرورۃ معلوم ہیں جن کا کچھ بیان ابھی گزرا تو ان کی نظیر نماز کے لئے شرط وضو ہے کسی نماز کامسئلہ بتائے تو یہ کہنا کچھ ضرور نہیں کہ بشرطیکہ باوضو پڑھی جائےرہیں پہلی دو۲وہ ہمارے ائمہ کی طرح امام شافعی نے بھی بتائیں امام اجل ابو زکریا نووی شافعی شرح صحیح مسلم میں فرماتے ہیں:
قولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فارجع فلن استعین بمشرکوقد جاء فی الحدیث الاخران النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم استعان بصفوان بن امیۃ قبل اسلامہ فاخذ طائفۃ من العلماء بالحدیث الاول علی اطلاقہوقال الشافعی واخرون ان کان الکافر حسن الرأی فی المسلمین ودعت الحاجۃ الی الاستعانۃ بہ استعین بہ والا فیکرہ حمل الحدیثین علی ھذین الحالین ۔ نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا ارشاد کہ واپس جا ہم ہر گز کسی مشرك سے استعانت نہ کریں گےاورد وسری حدیث میں آیا ہے کہ نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے صفوان بن امیہ سے اس حال میں امدا د لی کہ وہ ابھی مسلمان نہ ہوئے تھے تو ا یك جماعت علماء نے پہلی حدیث کا مطلق حکم اختیار کیا اور شافعی اور کچھ اوروں نے کہا کافر اگر مسلمانوں کے حق میں نیك رائے رکھتا ہواور اس سے استعانت کی حاجت پڑے تو استعانت کی جائے ورنہ منع ہےامام شافعی نے ان دونوں حدیثوں کو ان دونوں حالوں پر محمول کیا۔
شرط حاجت تو صاف ذکر فرمائی اور شرط اول کا یوں اشعارکیا کہ کسی کافر کی رائے مسلمانوں کے بارے میں اچھی ہو تو اس سے اس استعانت جائزہےاسی شرط کو حاذمی نے یوں ذکر کیا:
والثانی ان یکونوا ممن یوثق بھم فلا تخشی نائرتہم فمتی فقد ھذا ن الشرطان لم یجز للامام ان یستعین بہم ۔ یعنی حاجت کے ساتھ دوسری شرط یہ ہے کہ ان کافروں پر وثوق ہو کہ ان کی شرارت کا اندیشہ نہ رہے ان دونوں شرطوں میں سے کوئی کم ہوگی تو سلطان اسلام کو کافروں سے استعانت جائز نہ ہوگی۔
اقول: اﷲ عزوجل فرماتاہے:اور اﷲ سب سے زیادہ سچاہے" لا یا لونکم
قولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فارجع فلن استعین بمشرکوقد جاء فی الحدیث الاخران النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم استعان بصفوان بن امیۃ قبل اسلامہ فاخذ طائفۃ من العلماء بالحدیث الاول علی اطلاقہوقال الشافعی واخرون ان کان الکافر حسن الرأی فی المسلمین ودعت الحاجۃ الی الاستعانۃ بہ استعین بہ والا فیکرہ حمل الحدیثین علی ھذین الحالین ۔ نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا ارشاد کہ واپس جا ہم ہر گز کسی مشرك سے استعانت نہ کریں گےاورد وسری حدیث میں آیا ہے کہ نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے صفوان بن امیہ سے اس حال میں امدا د لی کہ وہ ابھی مسلمان نہ ہوئے تھے تو ا یك جماعت علماء نے پہلی حدیث کا مطلق حکم اختیار کیا اور شافعی اور کچھ اوروں نے کہا کافر اگر مسلمانوں کے حق میں نیك رائے رکھتا ہواور اس سے استعانت کی حاجت پڑے تو استعانت کی جائے ورنہ منع ہےامام شافعی نے ان دونوں حدیثوں کو ان دونوں حالوں پر محمول کیا۔
شرط حاجت تو صاف ذکر فرمائی اور شرط اول کا یوں اشعارکیا کہ کسی کافر کی رائے مسلمانوں کے بارے میں اچھی ہو تو اس سے اس استعانت جائزہےاسی شرط کو حاذمی نے یوں ذکر کیا:
والثانی ان یکونوا ممن یوثق بھم فلا تخشی نائرتہم فمتی فقد ھذا ن الشرطان لم یجز للامام ان یستعین بہم ۔ یعنی حاجت کے ساتھ دوسری شرط یہ ہے کہ ان کافروں پر وثوق ہو کہ ان کی شرارت کا اندیشہ نہ رہے ان دونوں شرطوں میں سے کوئی کم ہوگی تو سلطان اسلام کو کافروں سے استعانت جائز نہ ہوگی۔
اقول: اﷲ عزوجل فرماتاہے:اور اﷲ سب سے زیادہ سچاہے" لا یا لونکم
حوالہ / References
شرح صحیح مسلم مع مسلم کتاب الجہاد و السیر کراھیۃ الاستعانۃ فی الغز وبکافر الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۱۱۸
الناسخ والمنسوخ للحاذمی
الناسخ والمنسوخ للحاذمی
خبلا ودوا ماعنتم " کافر تمھاری بدخواہی میں کمی نہ کریں گے تمھا رامشقت میں پڑنا ان کی دلی تمناہے۔تو محال ہے کہ خود سر کافر مسلمانوں کے لئے کوئی اچھی رائے رکھیں ان کی خیرخواہی پر وثوق ہو سکے ان کا خود سرکافر ہونا ہی ان پر بے اطمینانی کا پورا موجب ہےمحقق علی الاطلاق فتح القدیرباب الموادعۃ میں فرماتے ہیں:
لعل خوف الخیانۃ لازم لعلم بکفر ھم وکونہم حربا علینا ۔ امید ہے کہ خوف خیانت آپ ہی لازم ہے کہ ان کا کافر اور ہم سے مقاتل ہونا معلوم ہے۔
تو مسلمانوں کے خیرخواہ وقابل وثوق نہیں ہوسکتے مگر معدود چند ذلیل قلیل مجبور مقہور کا فرجن کو سرکشی کی مجال نہیں ولہذا تمام علماء نے مسئلہ رضخ کو ذمی کے ساتھ مقید فرمایا اوراسے مفرد ذکر کیا۔
ثم اقول: ان کا شروط وقیود سے مشروط استعانت سے نہ ان کو راز دارودخیل کار بناناہے کہ آیت اولی کے خلاف ہونہ ان سے عزت چاہنا کہ آیت دوم کے مخالف ہوںذلیل قلیل سے کون عزت چاہے گانہ اسے کوئی ولی و نصیر بنانا کہے گا کہ باقی آیات کے خلاف ہو۔یہ استعانت اگر ایسی نہیں جیسے کتبت بالقلم(میں نے قلم کی مدد سے لکھا۔ت)میں سے تو ایسی ضرور ہے جیسے لوگ چماروں کو پکڑا کربیگار لیتے ہیں بلکہ جب انھیں کچھ مال دیا جاتاہے تو ایسی جیسے چمار کو پیسہ دے کر جو تا گنٹھوالیناکیا اسے کوئی کہے گا کہ چمار کوولی وناصر بنایا۔لاجرم کلمات علماء مخالف آیات نہ ہوئے عــــہ وﷲ الحمدھکذا ینبغی التحقیق واﷲ تعالی ولی التوفیق۔
لیڈروں نے احکام شریعت کو کیسے بدلا:
فائدہ سابعہ:یہ تھا حکم شرعی جس کی تحقیق وتنقیح بحمدہ تعالی اس وجہ جلیل پر ہوئی کہ ان سطور کے غیر میں نہ ملے گیاب لیڈران اپنی تحریفیں دیکھیں احکام دین کو کتنا کتنا بدلاشرعی مسئلہ کیسا کیسا مسلا
اولا ذکر تھا ذمی کالے دوڑے حربی۔
ثانیا بروایت امام طحطاوی حضرت امام اعظم وامام ابویوسف امام محمد جملہ ائمہ حنفیہ رضی اﷲ تعالی عنہم کے نزدیك جواز کتابی سے خاص تھا یہ لے دوڑے مشرک۔
عــــہ:دربارہ استعانت احکام شریعت تویہ تھے۔
لعل خوف الخیانۃ لازم لعلم بکفر ھم وکونہم حربا علینا ۔ امید ہے کہ خوف خیانت آپ ہی لازم ہے کہ ان کا کافر اور ہم سے مقاتل ہونا معلوم ہے۔
تو مسلمانوں کے خیرخواہ وقابل وثوق نہیں ہوسکتے مگر معدود چند ذلیل قلیل مجبور مقہور کا فرجن کو سرکشی کی مجال نہیں ولہذا تمام علماء نے مسئلہ رضخ کو ذمی کے ساتھ مقید فرمایا اوراسے مفرد ذکر کیا۔
ثم اقول: ان کا شروط وقیود سے مشروط استعانت سے نہ ان کو راز دارودخیل کار بناناہے کہ آیت اولی کے خلاف ہونہ ان سے عزت چاہنا کہ آیت دوم کے مخالف ہوںذلیل قلیل سے کون عزت چاہے گانہ اسے کوئی ولی و نصیر بنانا کہے گا کہ باقی آیات کے خلاف ہو۔یہ استعانت اگر ایسی نہیں جیسے کتبت بالقلم(میں نے قلم کی مدد سے لکھا۔ت)میں سے تو ایسی ضرور ہے جیسے لوگ چماروں کو پکڑا کربیگار لیتے ہیں بلکہ جب انھیں کچھ مال دیا جاتاہے تو ایسی جیسے چمار کو پیسہ دے کر جو تا گنٹھوالیناکیا اسے کوئی کہے گا کہ چمار کوولی وناصر بنایا۔لاجرم کلمات علماء مخالف آیات نہ ہوئے عــــہ وﷲ الحمدھکذا ینبغی التحقیق واﷲ تعالی ولی التوفیق۔
لیڈروں نے احکام شریعت کو کیسے بدلا:
فائدہ سابعہ:یہ تھا حکم شرعی جس کی تحقیق وتنقیح بحمدہ تعالی اس وجہ جلیل پر ہوئی کہ ان سطور کے غیر میں نہ ملے گیاب لیڈران اپنی تحریفیں دیکھیں احکام دین کو کتنا کتنا بدلاشرعی مسئلہ کیسا کیسا مسلا
اولا ذکر تھا ذمی کالے دوڑے حربی۔
ثانیا بروایت امام طحطاوی حضرت امام اعظم وامام ابویوسف امام محمد جملہ ائمہ حنفیہ رضی اﷲ تعالی عنہم کے نزدیك جواز کتابی سے خاص تھا یہ لے دوڑے مشرک۔
عــــہ:دربارہ استعانت احکام شریعت تویہ تھے۔
ثالثا: جواز باجماع قائلین حاجت سے مقید تھا اور یہ خود اپنا جرم قبولے کہ ہم عــــہ۱ کو احتیاج نے اتحاد برادران ہند کی جانب مائل نہیں کیا۔
رابعا:انھیں راز دار ودخیل کار بنانا حرام قطعی تھا یہ اس سے بھی بدرجہا بڑھ کر قطعی تھا یہ اس سے بھی بدر جہا بڑھ کر ان کے ہاتھ بك گئے انھیں اپنا امام وپیشوا بنالیا ان عــــہ۲ کو اپنا رہنما بنالیا ہے جو وہ کہتے ہیں"وہی مانتا ہوں میرا حال تو سردست اس شعر کے موافق ہے:"
عمرے کہ بآیات واحادیث گزشت
رفتی ونثار بت پرستی کردی
(وہ عمر کہ آیات واحادیث کے ساتھ گزری ختم ہوگئیاور بت پرستی کی نذر کردی۔ت)
" کذلک یطبع اللہ علی کل قلب متکبر جبار ﴿۳۵﴾" اﷲ یونہی چھاپ لگادیتاہے ہر مغرور ستمگر کے دل پر۔
خامسا: ان کی تعظیم انھیں مسلمانوں پر استعلاء دینا حرام قطعی تھاانھوں نے صرف ظاہری سجدہ کسی مصلحت سے بچا رکھا باقی کوئی دقیقہ مشرکوں کی تعظیم واعلاء میں نہ چھوڑا مسلمان کہلانے والوں نے ان کی جیئیں پکاریںبیل بن کر گئوپتروں کی گاڑیاں کھینچیںان کی مدح میں غلوواغراق کئے حتی کہ گاندھی کو کہہ بھاگے ع
"خاموشی از ثنائے توحدثنائے ست"عــــہ۳
(تیری تعریف سے خاموش رہنا تیری تعریف کی انتہا ہے۔ت)
"نبوت عــــہ۴ ختم نہ ہوتی تو گاندھی جی نبی ہوتے"ایك متلڈر عــــہ۵ ہزاروں کے مجمع میں اسٹیج پر چہکتاہے کہ"اگر اﷲ تعالی نے ان کو(گاندھی کی طرف اشارہ کرکے کہا)تمھارے لئے مزکر بناکر بھیجاہے"
عــــہ۱:خطبہ صدارت مولوی عبدالباری ص ۵۔حشمت علی غفرلہ
عــــہ۲:خط مولوی عبدالباری صاحب جس کافوٹو حسن نظامی نے چھاپا۔۱۲ حمشت علی عفی عنہ
عــــہ۳: انجمن اسلامیہ کی طرف سے گاندھی کا سپاسنامہ شعر ۱۸۔حشمت علی
عــــہ۴: تقریر ظفر الملك دررفاہ عام لکھنؤ"اگر نبوت ختم نہ ہوگئی ہوتی تو مہاتماگاندھی نبی ہوتے"اخبار اتفاق دہلی ۲۷ اکتوبر ودبدبہ
سکندریہ یکم نومبر وپیسہ اخبار ۱۸ نومبر ۱۲حشمت علی
عــــہ۵: تقریر عبدالماجد بدایونی جلسہ جمعیۃ العلماء ہند دہلی فتح اخبار دہلی جلد ۲ نمبر ۲۴۲۔۱۲ حشمت علی عفی عنہ
رابعا:انھیں راز دار ودخیل کار بنانا حرام قطعی تھا یہ اس سے بھی بدرجہا بڑھ کر قطعی تھا یہ اس سے بھی بدر جہا بڑھ کر ان کے ہاتھ بك گئے انھیں اپنا امام وپیشوا بنالیا ان عــــہ۲ کو اپنا رہنما بنالیا ہے جو وہ کہتے ہیں"وہی مانتا ہوں میرا حال تو سردست اس شعر کے موافق ہے:"
عمرے کہ بآیات واحادیث گزشت
رفتی ونثار بت پرستی کردی
(وہ عمر کہ آیات واحادیث کے ساتھ گزری ختم ہوگئیاور بت پرستی کی نذر کردی۔ت)
" کذلک یطبع اللہ علی کل قلب متکبر جبار ﴿۳۵﴾" اﷲ یونہی چھاپ لگادیتاہے ہر مغرور ستمگر کے دل پر۔
خامسا: ان کی تعظیم انھیں مسلمانوں پر استعلاء دینا حرام قطعی تھاانھوں نے صرف ظاہری سجدہ کسی مصلحت سے بچا رکھا باقی کوئی دقیقہ مشرکوں کی تعظیم واعلاء میں نہ چھوڑا مسلمان کہلانے والوں نے ان کی جیئیں پکاریںبیل بن کر گئوپتروں کی گاڑیاں کھینچیںان کی مدح میں غلوواغراق کئے حتی کہ گاندھی کو کہہ بھاگے ع
"خاموشی از ثنائے توحدثنائے ست"عــــہ۳
(تیری تعریف سے خاموش رہنا تیری تعریف کی انتہا ہے۔ت)
"نبوت عــــہ۴ ختم نہ ہوتی تو گاندھی جی نبی ہوتے"ایك متلڈر عــــہ۵ ہزاروں کے مجمع میں اسٹیج پر چہکتاہے کہ"اگر اﷲ تعالی نے ان کو(گاندھی کی طرف اشارہ کرکے کہا)تمھارے لئے مزکر بناکر بھیجاہے"
عــــہ۱:خطبہ صدارت مولوی عبدالباری ص ۵۔حشمت علی غفرلہ
عــــہ۲:خط مولوی عبدالباری صاحب جس کافوٹو حسن نظامی نے چھاپا۔۱۲ حمشت علی عفی عنہ
عــــہ۳: انجمن اسلامیہ کی طرف سے گاندھی کا سپاسنامہ شعر ۱۸۔حشمت علی
عــــہ۴: تقریر ظفر الملك دررفاہ عام لکھنؤ"اگر نبوت ختم نہ ہوگئی ہوتی تو مہاتماگاندھی نبی ہوتے"اخبار اتفاق دہلی ۲۷ اکتوبر ودبدبہ
سکندریہ یکم نومبر وپیسہ اخبار ۱۸ نومبر ۱۲حشمت علی
عــــہ۵: تقریر عبدالماجد بدایونی جلسہ جمعیۃ العلماء ہند دہلی فتح اخبار دہلی جلد ۲ نمبر ۲۴۲۔۱۲ حشمت علی عفی عنہ
حوالہ / References
القرآن الکریم ۴۰ /۳۵
خطبہ جمعہ میں گاندھی کی تعریف داخل کرنے کا رد:
دوسرا عــــہ۱ جمعہ کا خطبہ اردو میں پڑھتا ہےنہیں نہیں خطبہ کی جگہ لکچر دیتاہے اور اس میں خلفائے راشدین وحسن وحسین رضی اﷲ تعالی عنہم کے بدلے گاندھی کی مدح مقدس ذات ستودہ عــــہ۲ صفات وغیرہا لفاظیوں کے ساتھ گاتاہےاﷲ تعالی فرمائے:" انما المشرکون نجس" مشرك تو نہیں مگرناپاک۔یہ کہیں مقدس ذات۔اﷲ فرمائے:" اولئک ہم شر البریۃ ﴿۶﴾" وہ تمام مخلوق سے بدترہیں۔یہ کہیں ستودہ صفات۔غرض خطبہ جمعہ کیا تھا قرآن عظیم کا رد تھا۔آج خطبہ جمعہ میں یہ ہوا کل نماز میں" اہد نا الصرط المستقیم"کی جگہ"اھدنا الصراط الگاندھی"پڑھیں گے اور کیوں نہ پڑھیں جسے جانیں کہ اس مقدس ذات ستودہ صفات کو اﷲ تعالی نے مذکر بناکر مبعوث فرمایاہے اس کی راہ آپ ہی طلب کیا چاہیں اور بالفرض یہ تبدیل نہ کریںتو" صرط الذین انعمت علیہم"میں تو گاندھی کو ضرور داخل مان چکے۔اﷲ جسے مقدس ذات ستودہ صفات کرے اور خلق کےلئے مذکربناکر بھیجے اس پر انعام الہی تام وکامل ہے" الذین انعم اللہ علیہم " (وہ جن پر اﷲ نے احسان کیا)کا بیان قرآن کریم نے" من النبین والصدیقین والشہداء والصلحین " (وہ کون ہیں نبی اور صدیق اور شہید اور نیك لوگ)فرمایاہے۔ یہ سب مقدس ذات ستودہ صفات ہیں لاکھوں شہداء وصالحین کو اﷲ تعالی نے مذکر بناکر مبعوث نہ فرمایا توگاندھی جی اول نمبر کے"انعمت علیہم"ہوئے مگر قرآن تو کفار پر اپنا غضب اور لعنت بتاتا اور انھیں ہر مخلوق سے بدتر ہر ذلیل سے ذلیل تر فرماتاہے اگر اس کا نام انعام ہے تو ضرور کفار سے بڑھ کر کوئی"انعمت علیہم"ہیں۔
" قتلہم اللہ انی یؤفکون ﴿۳۰﴾" (اﷲ انھیں مارے کہاں اوندھے جاتے ہیں۔ت)مشرك کو مسجد جامع میں مسلمانوں کا واعظ بنایا جاتا ہے ہزارہا مسلمانوں سے اونچا کھڑا کرکے مسند رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پر جمایا جاتاہے کیا مسئلہ استعانت
عــــہ۱:اخبار مشرق گوکھپور ۱۳ جنوری ۲۱ ء وعینی شہادت مولوی احمد مختار صاحب صدیقی میرٹھی رکن خلافت کمیٹی ۱۲ حشمت علی۔
عــــہ۲:یہ مولوی صاحب شاہد عینی کا بیان ہے اور اخبار مشرق میں مقدس ذات پاکیزہ خیالات ہے۔۱۲ حشمت علی۔
دوسرا عــــہ۱ جمعہ کا خطبہ اردو میں پڑھتا ہےنہیں نہیں خطبہ کی جگہ لکچر دیتاہے اور اس میں خلفائے راشدین وحسن وحسین رضی اﷲ تعالی عنہم کے بدلے گاندھی کی مدح مقدس ذات ستودہ عــــہ۲ صفات وغیرہا لفاظیوں کے ساتھ گاتاہےاﷲ تعالی فرمائے:" انما المشرکون نجس" مشرك تو نہیں مگرناپاک۔یہ کہیں مقدس ذات۔اﷲ فرمائے:" اولئک ہم شر البریۃ ﴿۶﴾" وہ تمام مخلوق سے بدترہیں۔یہ کہیں ستودہ صفات۔غرض خطبہ جمعہ کیا تھا قرآن عظیم کا رد تھا۔آج خطبہ جمعہ میں یہ ہوا کل نماز میں" اہد نا الصرط المستقیم"کی جگہ"اھدنا الصراط الگاندھی"پڑھیں گے اور کیوں نہ پڑھیں جسے جانیں کہ اس مقدس ذات ستودہ صفات کو اﷲ تعالی نے مذکر بناکر مبعوث فرمایاہے اس کی راہ آپ ہی طلب کیا چاہیں اور بالفرض یہ تبدیل نہ کریںتو" صرط الذین انعمت علیہم"میں تو گاندھی کو ضرور داخل مان چکے۔اﷲ جسے مقدس ذات ستودہ صفات کرے اور خلق کےلئے مذکربناکر بھیجے اس پر انعام الہی تام وکامل ہے" الذین انعم اللہ علیہم " (وہ جن پر اﷲ نے احسان کیا)کا بیان قرآن کریم نے" من النبین والصدیقین والشہداء والصلحین " (وہ کون ہیں نبی اور صدیق اور شہید اور نیك لوگ)فرمایاہے۔ یہ سب مقدس ذات ستودہ صفات ہیں لاکھوں شہداء وصالحین کو اﷲ تعالی نے مذکر بناکر مبعوث نہ فرمایا توگاندھی جی اول نمبر کے"انعمت علیہم"ہوئے مگر قرآن تو کفار پر اپنا غضب اور لعنت بتاتا اور انھیں ہر مخلوق سے بدتر ہر ذلیل سے ذلیل تر فرماتاہے اگر اس کا نام انعام ہے تو ضرور کفار سے بڑھ کر کوئی"انعمت علیہم"ہیں۔
" قتلہم اللہ انی یؤفکون ﴿۳۰﴾" (اﷲ انھیں مارے کہاں اوندھے جاتے ہیں۔ت)مشرك کو مسجد جامع میں مسلمانوں کا واعظ بنایا جاتا ہے ہزارہا مسلمانوں سے اونچا کھڑا کرکے مسند رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پر جمایا جاتاہے کیا مسئلہ استعانت
عــــہ۱:اخبار مشرق گوکھپور ۱۳ جنوری ۲۱ ء وعینی شہادت مولوی احمد مختار صاحب صدیقی میرٹھی رکن خلافت کمیٹی ۱۲ حشمت علی۔
عــــہ۲:یہ مولوی صاحب شاہد عینی کا بیان ہے اور اخبار مشرق میں مقدس ذات پاکیزہ خیالات ہے۔۱۲ حشمت علی۔
حوالہ / References
القرآن الکریم ۹ /۲۸
القرآن الکریم ۹۸ /۶
القرآن الکریم ۴ /۶۹
القرآن الکریم ۴ /۶۹
القرآن الکریم ۹ /۳۰ و ۶۳/ ۴
القرآن الکریم ۹۸ /۶
القرآن الکریم ۴ /۶۹
القرآن الکریم ۴ /۶۹
القرآن الکریم ۹ /۳۰ و ۶۳/ ۴
کا یہ مطلب تھاکیا درمختار میں اس کا جواز لکھا تھااجازت تھی تو استخدام کیوہ بھی ایسا جیسے کتے سے جوپورا مسخرہولیا ہو۔تم نے الٹی خدمت گاری بلکہ غلامی کی" و سیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون ﴿۲۲۷﴾ " (اور اب جانا چاہتے ہیں ظالم کہ کس کروٹ پلٹا کھائیں گے۔ت)
سادسا: مشرکوں پر اعتماد حرام قطعی بلکہ تکذیب کلام الہی تھا جس کا بیان زیر آیت اولی گزرا انھوں نے اعتماد درکنار قطعا التجاکی التجاء واعتماد کے جو معنی گزرے ان کے آئینہ میں ان کی صورتیں منقوش دیکھ لیجئے ۲۳ کروڑ ہندؤوں کو اپنا یارو یاور بنانا کیا دلی خیرخواہی پر پورے اعتماد کے بغیر ممکن ہے بداہت عقل کو مکرائے تو لیڈران کے گیت سن لیجئے جو مشرکین کواپنا دلی خیرخواہ سمجھنے کے گائے ہیں"ان عــــہ۱ کی ہمدردی ہماری مصیبت کے وقت ظاہر ہوئی جس وقت کلمہ گو بھی معاونت حق سے گریزان تھے ان کا دست اتحاد ہماری طرف بڑھا جب یاراغیار ہو گئے ہیں برداران وطن کوان کی ہمدردی کی اجرت دے کر ان کے مرتبہ کو گھٹانا نہیں چاہتا وہ بہادر قوم ہماری مصیبت کے وقت خلوص کے ساتھ ہمدردی کرکے ہم ان کو اپنا دلی دوست بنانا چاہتی ہے نہ ہماری لفظی شکر گزاری کی محتاج ہے ہمارے دل میں ان کے اخلاص عــــہ۲ نے گھر کرلیا ہے۔"دیکھئے کیسی دل کھول کر قرآن کی تکذیبیں کیںاب اتنا مسلمان دیکھ لیں گے کہ یہ سچے یااﷲ واحدقہار سچا کہ" لا یا لونکم خبلا " وہ تمھاری بدخواہی میں گئی نہ کریں گے قل صدق اﷲ" وما للظلمین من انصار﴿۲۷۰﴾" ۔
دربارہ استعانت فتوی میں لیڈران کی موت عــــہ۳
سابعا سب جانے دو اتنا تو مفتی لیڈران کو بھی مسلم کہ اگر ان کی طرف حاجت پڑے اور ان سے غدر کا امن ہو تو استعانت درست یعنی حاجت نہ ہو تو حرام اور ان کے غدر سے
عــــہ۱:خطبہ صدارت مولوی عبدالباری صاحب ۵و ۶۔۱۲ حشمت علی لکھنوی عفی عنہ۔
عــــہ۲:رسالہ قربانی گاؤ مولوی عبدالباری ۱۲ حشمت علی عفی عنہ۔
عــــہ۳:دربارہ استعانت جو فتوی شاہجہانپور لیڈران نے شائع کیا اس میں خود ان کی موت ہے مگر لیڈران کونہیں سوجھتی۔
سادسا: مشرکوں پر اعتماد حرام قطعی بلکہ تکذیب کلام الہی تھا جس کا بیان زیر آیت اولی گزرا انھوں نے اعتماد درکنار قطعا التجاکی التجاء واعتماد کے جو معنی گزرے ان کے آئینہ میں ان کی صورتیں منقوش دیکھ لیجئے ۲۳ کروڑ ہندؤوں کو اپنا یارو یاور بنانا کیا دلی خیرخواہی پر پورے اعتماد کے بغیر ممکن ہے بداہت عقل کو مکرائے تو لیڈران کے گیت سن لیجئے جو مشرکین کواپنا دلی خیرخواہ سمجھنے کے گائے ہیں"ان عــــہ۱ کی ہمدردی ہماری مصیبت کے وقت ظاہر ہوئی جس وقت کلمہ گو بھی معاونت حق سے گریزان تھے ان کا دست اتحاد ہماری طرف بڑھا جب یاراغیار ہو گئے ہیں برداران وطن کوان کی ہمدردی کی اجرت دے کر ان کے مرتبہ کو گھٹانا نہیں چاہتا وہ بہادر قوم ہماری مصیبت کے وقت خلوص کے ساتھ ہمدردی کرکے ہم ان کو اپنا دلی دوست بنانا چاہتی ہے نہ ہماری لفظی شکر گزاری کی محتاج ہے ہمارے دل میں ان کے اخلاص عــــہ۲ نے گھر کرلیا ہے۔"دیکھئے کیسی دل کھول کر قرآن کی تکذیبیں کیںاب اتنا مسلمان دیکھ لیں گے کہ یہ سچے یااﷲ واحدقہار سچا کہ" لا یا لونکم خبلا " وہ تمھاری بدخواہی میں گئی نہ کریں گے قل صدق اﷲ" وما للظلمین من انصار﴿۲۷۰﴾" ۔
دربارہ استعانت فتوی میں لیڈران کی موت عــــہ۳
سابعا سب جانے دو اتنا تو مفتی لیڈران کو بھی مسلم کہ اگر ان کی طرف حاجت پڑے اور ان سے غدر کا امن ہو تو استعانت درست یعنی حاجت نہ ہو تو حرام اور ان کے غدر سے
عــــہ۱:خطبہ صدارت مولوی عبدالباری صاحب ۵و ۶۔۱۲ حشمت علی لکھنوی عفی عنہ۔
عــــہ۲:رسالہ قربانی گاؤ مولوی عبدالباری ۱۲ حشمت علی عفی عنہ۔
عــــہ۳:دربارہ استعانت جو فتوی شاہجہانپور لیڈران نے شائع کیا اس میں خود ان کی موت ہے مگر لیڈران کونہیں سوجھتی۔
امن نہ ہو توحرام حاجت کاانکارخود لیڈران کو ہے اور ان کے غدرسے امن پر کیا دلیل قائم کرلی۔کیا نرا وعدہاور اﷲ تعالی فرماتاہے:
" وما یعدہم الشیطن الا غرورا ﴿۱۲۰﴾" شیطان تو انھیں وعدہ نہیں دیتا مگر فریب سے۔
یا انھوں نے تمھارے خیر خواہ بنے رہنے کی قسمیں کھائی ہیں۔اﷲ تعالی فرماتاہے۔" انہم لا ایمن لہم" ان کی قسمیں کچھ نہیںیاتمھیں وحی آئی کہ یہ جانی دشمن یہ دینی اعداء یہ خونخوار بدخواہ یہ کبھی دغا نہ کریں گے اوراﷲ تعالی فرماتاہے:
" و من اظلم ممن افتری علی اللہ کذبا او قال اوحی الی ولم یوح الیہ شیء" ا س سے بڑھ کر ظالم کون جو اﷲ پر جھوٹ باندھے یا کہے مجھے وحی ہوئی حالانکہ اسے کچھ بھی وحی نہ ہوئی۔
ان کے غدر سے امن کی توایك وہی صورت تھی کہ وہ ایسے ذلیل وقلیل ہمارے ہاتھ میں مجبور و مقہور ہوں کہ سرتابی کی قدرت ہی نہ رکھیںکیا یہ ۲۳ کروڑہندو تمھارے ہاتھ میں ایسے ہی ہیں۔جھوٹ جھوٹ جھوٹ اور پورے ۲۳ کروڑ جھوٹ دیکھو تمھارے ہی شائع کردہ فتوے نے تمھیں گھر تك پہنچادیا اور اس استعانت میں تم پر فرد قرارداد جرم لگاکر مرتکب حرام ٹھہرا دیا احمق اسے شائع کروانے اور اپنی سند ٹھہراتے ہیںاور نہیں جانتے کہ وہ انھیں پر رد ہے۔ہمارے دوست مفتی صاحب نے مروان کے خفیہ خط کی طرح ملتمس کا ساصحیفہ ان کے ہاتھ میں دے دیا جس میں ان کی موت ہے اور یہ خوشی خوشی لئے پھرتے ہیںنہیں نہیں نرے نامشخص نہیں سمجھتے ہیں مگر مقصودہی دین کو بدلنا احکام کو کچلنا عوام کوچھلنا ہےجاہل بیچارے اتنا دیکھ لیں گے کہ دیکھو"ج ائی ز"لکھا ہے اب اتنی سمجھ کسے کہ جسے جائز لکھا ہے لیڈران کی استعانت کو اس سے مس نہیں اور ان کی جو استعانت ہے فتوے میں ہر گز اسے جائز نہ لکھا بلکہ صاف عدم جواز کا اشعار کیا۔
مفتیوں کو ہدایت:
ہاں جب مفتی کوواقعہ معلومتو فتوی اگرچہ بجائے خو د صحت سے موسوم ایسا غلط انگیز لکھنا مذموم جسے اہل باطل اپنے باطل پرڈھالیں اور اس سے
" وما یعدہم الشیطن الا غرورا ﴿۱۲۰﴾" شیطان تو انھیں وعدہ نہیں دیتا مگر فریب سے۔
یا انھوں نے تمھارے خیر خواہ بنے رہنے کی قسمیں کھائی ہیں۔اﷲ تعالی فرماتاہے۔" انہم لا ایمن لہم" ان کی قسمیں کچھ نہیںیاتمھیں وحی آئی کہ یہ جانی دشمن یہ دینی اعداء یہ خونخوار بدخواہ یہ کبھی دغا نہ کریں گے اوراﷲ تعالی فرماتاہے:
" و من اظلم ممن افتری علی اللہ کذبا او قال اوحی الی ولم یوح الیہ شیء" ا س سے بڑھ کر ظالم کون جو اﷲ پر جھوٹ باندھے یا کہے مجھے وحی ہوئی حالانکہ اسے کچھ بھی وحی نہ ہوئی۔
ان کے غدر سے امن کی توایك وہی صورت تھی کہ وہ ایسے ذلیل وقلیل ہمارے ہاتھ میں مجبور و مقہور ہوں کہ سرتابی کی قدرت ہی نہ رکھیںکیا یہ ۲۳ کروڑہندو تمھارے ہاتھ میں ایسے ہی ہیں۔جھوٹ جھوٹ جھوٹ اور پورے ۲۳ کروڑ جھوٹ دیکھو تمھارے ہی شائع کردہ فتوے نے تمھیں گھر تك پہنچادیا اور اس استعانت میں تم پر فرد قرارداد جرم لگاکر مرتکب حرام ٹھہرا دیا احمق اسے شائع کروانے اور اپنی سند ٹھہراتے ہیںاور نہیں جانتے کہ وہ انھیں پر رد ہے۔ہمارے دوست مفتی صاحب نے مروان کے خفیہ خط کی طرح ملتمس کا ساصحیفہ ان کے ہاتھ میں دے دیا جس میں ان کی موت ہے اور یہ خوشی خوشی لئے پھرتے ہیںنہیں نہیں نرے نامشخص نہیں سمجھتے ہیں مگر مقصودہی دین کو بدلنا احکام کو کچلنا عوام کوچھلنا ہےجاہل بیچارے اتنا دیکھ لیں گے کہ دیکھو"ج ائی ز"لکھا ہے اب اتنی سمجھ کسے کہ جسے جائز لکھا ہے لیڈران کی استعانت کو اس سے مس نہیں اور ان کی جو استعانت ہے فتوے میں ہر گز اسے جائز نہ لکھا بلکہ صاف عدم جواز کا اشعار کیا۔
مفتیوں کو ہدایت:
ہاں جب مفتی کوواقعہ معلومتو فتوی اگرچہ بجائے خو د صحت سے موسوم ایسا غلط انگیز لکھنا مذموم جسے اہل باطل اپنے باطل پرڈھالیں اور اس سے
اپنی تقویت کی راہ نکالیں یہ سمجھ لینا کہ فتوے کا مفہوم مخالف یہ ہے کہ ان کے غدر سے امن کی صورت یہاں متصور نہیں عوام جاہلوں کو میسر نہیں عقود الدریہ میں ہے:
اذا علم المفتی حقیقۃ الامر ینبغی لہ ان لایکتب للسائل لئلا یکون معینا لہ علی الباطل ۔ مفتی کو جب اصل واقعہ معلوم ہو تو اسے سزاوار نہیں کہ سائل کو اس کے حوالے کے موافق فتوی لکھ دے تاکہ باطل پر اس کا مدد گار نہ ہو۔
اسی میں اپنے شیخ المشائخ شیخ عبدالقادر صفوری سے ہے:
ان بعض المبطلین اذا صار بیدہ فتوی صال بھا علی خصمہ وقال المفتی افتی لی علیك بکذاوالجاھل اوضعیف الحال لایمکنہ منازعۃ فی کون نصہ مطابقا اولا ۔ بعض اہل باطل کے ہاتھ میں جب فتوی آجاتاہے اپنے فریق پر اس سے حملہ کرتاہے اور کہتاہے مفتی نے میرے لئے تجھ پر فتوی دیااور بے علم یاکمزور اس سے یہ بحث نہیں کرسکتا کہ ا س کی عبارت صورت واقعہ سے مطابق بھی ہے یا نہیں۔
مولی تعالی ہمیں اور ہمارے احباب کو باطل واعانت باطل واختلاط اہل باطل سے بچائے اور حق پر استقامت تامہ عطا فرمائے والحمدﷲ رب العالمین۔
مساجد میں مشرک کے لے جانے کا رد:
(۱۰)لیڈران نے شریعت مطہرہ پر ایسے ہی شدید ظلم مسئلہ دخول کافر بمسجد میں کئے ہیں
اولا: یہ مسئلہ تمام متون مثل تحفۃ الفقہاء وہدایہ ووقایہ وکنز ووافی ومختار واصلاح وغرر وملتقی وتنویر اور ان کے سوا محیط سرخسی واشباہ والنظائر ووجیز کردری وخزانۃ المفتین وفتاوی ہندیہ سب میں ذمی کے ساتھ مقید ہے فتوی شائع کردہ لیڈران نے بھی یہاں عبارت درمختار میں گنجائش نہ پائی یونہی نقل کرنی پڑی کہ جاز دخول الذمی مسجدا ذمی کا مسجد میں جانا جائزہے۔سب سے اجل واعظم خود محرر مذہب امام محمد کا جامع صغیر میں ارشاد ہے:محمد عن یعقوب عن ابی حنیفۃ لاباس بان یدخل اھل الذمۃ المسجد الحرام "یعنی امام محمد امام ابویوسف سے راوی
اذا علم المفتی حقیقۃ الامر ینبغی لہ ان لایکتب للسائل لئلا یکون معینا لہ علی الباطل ۔ مفتی کو جب اصل واقعہ معلوم ہو تو اسے سزاوار نہیں کہ سائل کو اس کے حوالے کے موافق فتوی لکھ دے تاکہ باطل پر اس کا مدد گار نہ ہو۔
اسی میں اپنے شیخ المشائخ شیخ عبدالقادر صفوری سے ہے:
ان بعض المبطلین اذا صار بیدہ فتوی صال بھا علی خصمہ وقال المفتی افتی لی علیك بکذاوالجاھل اوضعیف الحال لایمکنہ منازعۃ فی کون نصہ مطابقا اولا ۔ بعض اہل باطل کے ہاتھ میں جب فتوی آجاتاہے اپنے فریق پر اس سے حملہ کرتاہے اور کہتاہے مفتی نے میرے لئے تجھ پر فتوی دیااور بے علم یاکمزور اس سے یہ بحث نہیں کرسکتا کہ ا س کی عبارت صورت واقعہ سے مطابق بھی ہے یا نہیں۔
مولی تعالی ہمیں اور ہمارے احباب کو باطل واعانت باطل واختلاط اہل باطل سے بچائے اور حق پر استقامت تامہ عطا فرمائے والحمدﷲ رب العالمین۔
مساجد میں مشرک کے لے جانے کا رد:
(۱۰)لیڈران نے شریعت مطہرہ پر ایسے ہی شدید ظلم مسئلہ دخول کافر بمسجد میں کئے ہیں
اولا: یہ مسئلہ تمام متون مثل تحفۃ الفقہاء وہدایہ ووقایہ وکنز ووافی ومختار واصلاح وغرر وملتقی وتنویر اور ان کے سوا محیط سرخسی واشباہ والنظائر ووجیز کردری وخزانۃ المفتین وفتاوی ہندیہ سب میں ذمی کے ساتھ مقید ہے فتوی شائع کردہ لیڈران نے بھی یہاں عبارت درمختار میں گنجائش نہ پائی یونہی نقل کرنی پڑی کہ جاز دخول الذمی مسجدا ذمی کا مسجد میں جانا جائزہے۔سب سے اجل واعظم خود محرر مذہب امام محمد کا جامع صغیر میں ارشاد ہے:محمد عن یعقوب عن ابی حنیفۃ لاباس بان یدخل اھل الذمۃ المسجد الحرام "یعنی امام محمد امام ابویوسف سے راوی
حوالہ / References
العقود الدریۃ فی تنقیح الفتاوٰی الحامدیۃ قبیل کتاب الطہارۃ حاجی عبدالغفار پسران قندھار افغانستان ۱/ ۳
العقود الدریۃ فی تنقیح الفتاوٰی الحامدیۃ قبیل کتاب الطہارۃ حاجی عبدالغفار پسران قندھار افغانستان ۱/ ۳
الدرالمختار کتاب الحظروالاباحۃفصل فی البیع مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۴۶
جامع الصغیر مسائل من کتاب الکراھیۃ مطبع یوسفی لکھنو ص۱۵۳
العقود الدریۃ فی تنقیح الفتاوٰی الحامدیۃ قبیل کتاب الطہارۃ حاجی عبدالغفار پسران قندھار افغانستان ۱/ ۳
الدرالمختار کتاب الحظروالاباحۃفصل فی البیع مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۴۶
جامع الصغیر مسائل من کتاب الکراھیۃ مطبع یوسفی لکھنو ص۱۵۳
کہ امام اعظم نے فرمایا رضی اﷲ تعالی عنہم ذمیوں کا مسجد حرام میں جانا مضائقہ نہیں"ذمی مراد ہو اور کافر سے تعبیر کریں کیا بعید ہے ذمی بھی کافر ہی ہے اطلاق کی سندیں اوپر گزریں کہ"اراد بالکافر الذمی"کافر سے ذمی مراد ہے۔یونہی مستامن مرادہو اور حربی سے تعبیر کریں کیا عجب ہے مستامن بھی حربی ہے اطلاق کی سند محیط وعالمگیریہ سے گزری کہ"اراد بالمحارب المستامن"حربی سے مستامن مرادہے۔مگر ذمی بولیں اور اس سے حربی بھی مراد ہو یہ کس طرح منقول کہ اب تخصیص ذمی محض بے معنی وموجوب غلط فہمی ہوگی کہ حربی ہر گز معنی ذمی میں نہیںلاجرم علامہ سید احمد طحطاوی وعلامہ سید محمد محشیان درمختارکو اس میں تردد ہوا کہ مستامن کے لئے بھی جواز ہے یانہیں پھر اس استدلال علماء بالحدیث سے سند لاکر بھی جزم نہ کیا اور کتب سے تحقیق کرنے کاحکم دیا دونوں کتابوں کی عبارت یہ ہے:
انظر ھل المستامن ورسول اھل الحرب مثلہ و مقتضی استدلالہم علی الجواز بانزال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وفد ثقیف فی المسجد جوازہ ویحرر ۔ غور طلب ہے کہ مستامن اور حربیوں کا ایلچی بھی کہ وہ بھی مستامن ہوتاہے اس حکم میں ذمیوں کے مثل ہے یا نہیں۔ علماء کہ جواز پر اس سے دلیل لائے کہ نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے وفد ثقیف کو مسجد شریف میں اتارا یہ مستامن کے لئے جواز چاہتاہے بات ہنوز تحقیق طلب ہے۔
اقول: مستامن کے لئے خود قرآن عظیم سے اشارہ نکال سکتے ہیں کہ:
و ان احد من المشرکین استجارک فاجرہ حتی یسمع کلم اللہ ثم ابلغہ مامنہ " ۔ اے محبوب! اگر کوئی مشرك تم سے پناہ چاہے تو اسے پناہ دو کہ اﷲ کاکلام سنے پھر اسے اس کی امن کی جگہ پہنچادو۔
حضور انور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے لئے کوئی مجلس نہ تھی سوامسجد کریم کے ولہذا وفود یہیں حاضر ہوتے اور اس میں متون کا خلاف نہیںہدایہ سے گزرا کہ مستامن جب تك دارالاسلام میں ہے بمنزلہ ذمی ہے ذمہ مؤیدہ وموقتہ دونوں طرح ہوتے ہیں کافی امام نسفی فصل امان میں ہے:
المراد بالذمۃ العہد مؤقتا کان اومؤبدا وذلك الامان وعقد الذمۃ ۔ ذمہ سے عہد مراد ہے ایك میعادمعین تك ہو یاہمیشہ کے لئےیہ امان وعقدذمہ ہے۔
انظر ھل المستامن ورسول اھل الحرب مثلہ و مقتضی استدلالہم علی الجواز بانزال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وفد ثقیف فی المسجد جوازہ ویحرر ۔ غور طلب ہے کہ مستامن اور حربیوں کا ایلچی بھی کہ وہ بھی مستامن ہوتاہے اس حکم میں ذمیوں کے مثل ہے یا نہیں۔ علماء کہ جواز پر اس سے دلیل لائے کہ نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے وفد ثقیف کو مسجد شریف میں اتارا یہ مستامن کے لئے جواز چاہتاہے بات ہنوز تحقیق طلب ہے۔
اقول: مستامن کے لئے خود قرآن عظیم سے اشارہ نکال سکتے ہیں کہ:
و ان احد من المشرکین استجارک فاجرہ حتی یسمع کلم اللہ ثم ابلغہ مامنہ " ۔ اے محبوب! اگر کوئی مشرك تم سے پناہ چاہے تو اسے پناہ دو کہ اﷲ کاکلام سنے پھر اسے اس کی امن کی جگہ پہنچادو۔
حضور انور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے لئے کوئی مجلس نہ تھی سوامسجد کریم کے ولہذا وفود یہیں حاضر ہوتے اور اس میں متون کا خلاف نہیںہدایہ سے گزرا کہ مستامن جب تك دارالاسلام میں ہے بمنزلہ ذمی ہے ذمہ مؤیدہ وموقتہ دونوں طرح ہوتے ہیں کافی امام نسفی فصل امان میں ہے:
المراد بالذمۃ العہد مؤقتا کان اومؤبدا وذلك الامان وعقد الذمۃ ۔ ذمہ سے عہد مراد ہے ایك میعادمعین تك ہو یاہمیشہ کے لئےیہ امان وعقدذمہ ہے۔
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع مکتبہ ماجد کوئٹہ ۵/ ۲۷۴
القرآن الکریم ۹ /۶
کافی للنسفی
القرآن الکریم ۹ /۶
کافی للنسفی
یہی کہہ سکتے ہیں کہ ذمی وحربی برابر ہیں یعنی مستامن کہ اس کے لئے بھی ایك وقت تك ذمہ ہے بالجملہ جوازخاص ذمی کے لئے تھا اوریہ حربی لے دوڑے۔
ثانیا یہاں بھی امام بدرالدین محمود عینی وغیرہ اکابر کی روایت یہ ہے کہ ہمارے امام مذہب سیدنا امام اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ کے مذہب میں ذمیوں میں جواز صرف کتابی کے لئے ہے یہ مشرك حربی لے دوڑے۔ عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری میں ہے:
قال ابوحنیفۃ یجوز الکتابی دون غیرہ واحتج بمارواہ احمد فی مسندہ بسند عــــہ امام ابوحنیفہ نے فرمایامسجد میں کتابی(ذمی)کا آنا جائزہے اور کفار کا نہیں اور امام اس پر اس
عــــہ:قول الامام العینی بسند جید اقول: ای علی اصولنا و مالنا ان نترك اصولنا الی اصول المحدثین فضلاعن قول عالم متاخر شافعی فلا علیك مما فی التقریب وذلك ان مخرجہ اشعث بن سوار عن الحسن عن جابر رضی اﷲ تعالی عنہ واشعث من شیوخ شعبۃ و الثوری ویزید بن ھارون وغیرھم من الاجلاء وانتفاء شعبۃ فی من یأخذ منہ معلوم قال الذھبی وحدث من اشعث لجلالتہ من شیوخ ابواسحق السبیعی اھ وقد قال سفین اشعث اثبت من مجالدوقال ابن مہدی ھوارفع من مجالد ومجالد من رجال صحیح مسلم وقال ابن معین اشعث احب الی من امام عینی کا قول جید سندسے اقول:(میں کہتاہوں)کہ یہ سند ہمارے قاعدہ پر جید ہے اور ہم محدثین کے اصول کی خاطر اپنے اصول نہ چھوڑیں گے چہ جائیکہ ایك متاخر شافعی عالم کے قول کی خاطر چھوڑیں تو تقریب میں مذکور بیان تمھارے خلاف نہیں ہے یہ اس لئے کہ حضرت جابر رضی اﷲ تعالی عنہ سے بواسطہ حسن اس حدیث کی تخریج کرنے والے اشعث بن سوارہیں جبکہ اشعث شعبہثورییزید بن ہارون وغیرہم کے اکابرشیوخ میں سے ہیں اور شعبہ کا انتخاب ان میں جن سے اس نے روایت کی ہے وہ معروف ہے ذہبی نے کہا اشعث کی جلالت شان کی وجہ سے اس کے شیوخ میں سے ابو اسحق سبیعی نے اس سے حدیث روایت کی ہے اھ۔ اور سفیان نے کہا کہ اشعث مجالد کی نسبت زیادہ قوی ہےاور ابن مہدی نے کہا وہ مجالد سے بلند ترین ہے جبکہ مجالد صحیح مسلم کے راویوں میں شمار ہیں اور (باقی برصفحہ ائندہ)
ثانیا یہاں بھی امام بدرالدین محمود عینی وغیرہ اکابر کی روایت یہ ہے کہ ہمارے امام مذہب سیدنا امام اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ کے مذہب میں ذمیوں میں جواز صرف کتابی کے لئے ہے یہ مشرك حربی لے دوڑے۔ عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری میں ہے:
قال ابوحنیفۃ یجوز الکتابی دون غیرہ واحتج بمارواہ احمد فی مسندہ بسند عــــہ امام ابوحنیفہ نے فرمایامسجد میں کتابی(ذمی)کا آنا جائزہے اور کفار کا نہیں اور امام اس پر اس
عــــہ:قول الامام العینی بسند جید اقول: ای علی اصولنا و مالنا ان نترك اصولنا الی اصول المحدثین فضلاعن قول عالم متاخر شافعی فلا علیك مما فی التقریب وذلك ان مخرجہ اشعث بن سوار عن الحسن عن جابر رضی اﷲ تعالی عنہ واشعث من شیوخ شعبۃ و الثوری ویزید بن ھارون وغیرھم من الاجلاء وانتفاء شعبۃ فی من یأخذ منہ معلوم قال الذھبی وحدث من اشعث لجلالتہ من شیوخ ابواسحق السبیعی اھ وقد قال سفین اشعث اثبت من مجالدوقال ابن مہدی ھوارفع من مجالد ومجالد من رجال صحیح مسلم وقال ابن معین اشعث احب الی من امام عینی کا قول جید سندسے اقول:(میں کہتاہوں)کہ یہ سند ہمارے قاعدہ پر جید ہے اور ہم محدثین کے اصول کی خاطر اپنے اصول نہ چھوڑیں گے چہ جائیکہ ایك متاخر شافعی عالم کے قول کی خاطر چھوڑیں تو تقریب میں مذکور بیان تمھارے خلاف نہیں ہے یہ اس لئے کہ حضرت جابر رضی اﷲ تعالی عنہ سے بواسطہ حسن اس حدیث کی تخریج کرنے والے اشعث بن سوارہیں جبکہ اشعث شعبہثورییزید بن ہارون وغیرہم کے اکابرشیوخ میں سے ہیں اور شعبہ کا انتخاب ان میں جن سے اس نے روایت کی ہے وہ معروف ہے ذہبی نے کہا اشعث کی جلالت شان کی وجہ سے اس کے شیوخ میں سے ابو اسحق سبیعی نے اس سے حدیث روایت کی ہے اھ۔ اور سفیان نے کہا کہ اشعث مجالد کی نسبت زیادہ قوی ہےاور ابن مہدی نے کہا وہ مجالد سے بلند ترین ہے جبکہ مجالد صحیح مسلم کے راویوں میں شمار ہیں اور (باقی برصفحہ ائندہ)
حوالہ / References
میزان الاعتدال للذھبی ترجمہ۹۹۶ اشعث بن سوار دارالمعرفۃ بیروت ۱/ ۲۶۴
جیدعن جابررضی اﷲ تعالی عنہ قال قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لایدخل مسجدنا ھذا بعد عامنا ھذا حدیث سے سند لائے جو امام احمد نے اپنی مسند میں کھری اسناد کے ساتھ جابررضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کی کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
اسمعیل بن مسلموقال الامام احمد و العجلی ھو امثل فی الحدیث من محمد بن سالم وروی ابن الدورقی عن ابن معین انہ ثقۃ وقال عثمن بن ابی شیبۃصدوق وذکرہ ابن شاھین فی الثقات وقال ابن عدی لم اجد لہ فیما یرویہ متنامنکرا وقال البزار لا نعلم احدا ترك حدیثہ الامن ھو قلیل المعرفۃ واختلاف قول ابن معین فی رجل یکون انہ دون الثقۃ وفوق الضعیف و ھذاھوشرط الحسن قال الذھبی فی محمد بن حفصۃ فیہ شیئ ولہذا وثقہ ابن معین مرۃ وقال مرۃ صالح ومرۃ لیس بالقوی ومرۃ ضعیف اھ ومحمد ھذا من رجال الصحیحین و بالجملۃ وقد وثق اشعث ولم یرم بقادح قط بل لیس فیہ جرح مفسراصلافحدیثہ حسن ولاشك لاجرم ان حکم العینی علی اسنادہ انہ جید حق واﷲ تعالی اعلم ۱۲ منہ غفرلہ ابن معین نے کہا میرے نزدیك اشعث زیادہ محبوب ہیں اسمعیل بن مسلم سےاور امام محمد اور عجلی نے کہا وہ محمد بن سالم سے حدیث میں زیادہ مقبول ہےاور ابن دورقی نے ابن معین سے روایت کی کہ اشعث ثقہ ہے اور عثمان نے کہا وہ نہایت صادق ہے ابن شاہین نے اس کو ثقہ لوگوں میں ذکر کیا اور ابن عدی نے کہا میں نے اس کے روایت کردہ متن کو منکرنہیں پایا اور بزار نے کہا کہ اس کی مروی حدیث کو ترك کرنیوالا صرف وہی ہے جو خود معرفت میں کمزور ہے اور ابن معین کا اس شخص کے بارے میں اختلاف ہے جو ثقہ نہ ہو اور ضعف سے بالاتر ہو اوریہی حدیث حسن کی شرط ہےذہبی نے محمد بن حفصۃ کے متعلق کہا کہ اس میں کچھ ضعف ہے اس لئے ابن معین نے کبھی اس کی توثیق کی اورکبھی صالح کہا اور کبھی"لیس قوی"کہا ور کبھی ضعیف کہا اھ اور یہ محمد نامی صحیحین کے رجال میں رہےخلاصہ یہ ہے کہ اشعث کی توثیق کی گئی او رکسی اعتراض کا نشانہ ہر گز نہیں بنایا گیا بلکہ کوئی مفسر جرح اس پر قطعا نہ ہوئی لہذا اس کی حدیث حسن ہے تو بیشك لازم طورپر عینی کا اس کی سند کو جید کہنا حق ہے واﷲ تعالی اعلم ۱۲ منہ غفرلہ(ت)
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
اسمعیل بن مسلموقال الامام احمد و العجلی ھو امثل فی الحدیث من محمد بن سالم وروی ابن الدورقی عن ابن معین انہ ثقۃ وقال عثمن بن ابی شیبۃصدوق وذکرہ ابن شاھین فی الثقات وقال ابن عدی لم اجد لہ فیما یرویہ متنامنکرا وقال البزار لا نعلم احدا ترك حدیثہ الامن ھو قلیل المعرفۃ واختلاف قول ابن معین فی رجل یکون انہ دون الثقۃ وفوق الضعیف و ھذاھوشرط الحسن قال الذھبی فی محمد بن حفصۃ فیہ شیئ ولہذا وثقہ ابن معین مرۃ وقال مرۃ صالح ومرۃ لیس بالقوی ومرۃ ضعیف اھ ومحمد ھذا من رجال الصحیحین و بالجملۃ وقد وثق اشعث ولم یرم بقادح قط بل لیس فیہ جرح مفسراصلافحدیثہ حسن ولاشك لاجرم ان حکم العینی علی اسنادہ انہ جید حق واﷲ تعالی اعلم ۱۲ منہ غفرلہ ابن معین نے کہا میرے نزدیك اشعث زیادہ محبوب ہیں اسمعیل بن مسلم سےاور امام محمد اور عجلی نے کہا وہ محمد بن سالم سے حدیث میں زیادہ مقبول ہےاور ابن دورقی نے ابن معین سے روایت کی کہ اشعث ثقہ ہے اور عثمان نے کہا وہ نہایت صادق ہے ابن شاہین نے اس کو ثقہ لوگوں میں ذکر کیا اور ابن عدی نے کہا میں نے اس کے روایت کردہ متن کو منکرنہیں پایا اور بزار نے کہا کہ اس کی مروی حدیث کو ترك کرنیوالا صرف وہی ہے جو خود معرفت میں کمزور ہے اور ابن معین کا اس شخص کے بارے میں اختلاف ہے جو ثقہ نہ ہو اور ضعف سے بالاتر ہو اوریہی حدیث حسن کی شرط ہےذہبی نے محمد بن حفصۃ کے متعلق کہا کہ اس میں کچھ ضعف ہے اس لئے ابن معین نے کبھی اس کی توثیق کی اورکبھی صالح کہا اور کبھی"لیس قوی"کہا ور کبھی ضعیف کہا اھ اور یہ محمد نامی صحیحین کے رجال میں رہےخلاصہ یہ ہے کہ اشعث کی توثیق کی گئی او رکسی اعتراض کا نشانہ ہر گز نہیں بنایا گیا بلکہ کوئی مفسر جرح اس پر قطعا نہ ہوئی لہذا اس کی حدیث حسن ہے تو بیشك لازم طورپر عینی کا اس کی سند کو جید کہنا حق ہے واﷲ تعالی اعلم ۱۲ منہ غفرلہ(ت)
حوالہ / References
میزان الاعتدال للذھبی ترجمہ ۷۴۲۹ محمد ابن ابی حفصہ دارالمعرفۃ بیروت ۳/ ۵۲۵
مشرك الااھل العہد وخدمہم ۔ فرمایا اس سال کے بعد ہماری اس مسجد میں کوئی مشرك نہ آنے پائے سوائے ذمیوں اور ان کے غلاموں کے۔
غمزالعیون والبصائر میں ہے:
لایمنع من دخول المسجد الذمی الکتابی بخلاف غیرہ واحتج الامام رحمہ اﷲ تعالی بمارواہ احمد عن جابر رضی اﷲ تعالی عنہ ۔ ذمی کتابی کو مسجد میں آنے سے نہ روکا جائےگا بخلاف اور کافرکے اور اس پر امام اعظم اس حدیث سے سند لائے جو امام احمد نے جابر رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کی۔
غایۃ البیان علامہ اتقائی کتاب القضاء میں ہے:
قال شمس الائمۃ السرخسی فی شرح ادب القاضی و قد ذکر فی السیر الکبیر ان الشرك یمنع من دخول المسجد عملا بقولہ تعالی انما المشرکون نجس ۔ امام شمس الائمہ سرخسی نے شرح ادب القاضی میں فرمایاکہ امام محمدنے سیرکبیر میں فرمایا کہ مشرکوں کو مسجد میں نہ انے دیا جائے گا اس ارشاد الہی پر عمل کے لئے کہ مشرك نرے ناپاك ہیں۔
اگرکہئے حدیث میں تو مطلق ذمی کا اسثناء فرمایا کتابی کی تخصیص کہاں ہے۔اقول:(میں کہتاہوں۔ت)مشرکین عرب کو ذمی بنانا روا نہ تھا ان پر صرف دوحکم تھے اسلام لائیں ورنہ تلوار تو وہاں ذمی نہ تھے مگر کتابیتو استثناء منقطع ہے بلکہ ہم نے مسند میں دیکھا اوراخر مسند جابر رضی اﷲ تعالی عنہ میں حدیث اس طرح ہے کہ مذکور ہوئی اور اس سے ۲۷ ورق پہلے یوں ہے:
لایدخل مسجد نا ھذامشرك بعد عامنا ھذا غیر اھل الکتاب و خدمہم ۔ اس سال کے بعد ہماری اس مسجدمیں کوئی مشرك نہ آنے پائے سوائے کتابی اور ان کے غلام کے۔
تو یہاں خود کتابی کی تصریح ہے۔
غمزالعیون والبصائر میں ہے:
لایمنع من دخول المسجد الذمی الکتابی بخلاف غیرہ واحتج الامام رحمہ اﷲ تعالی بمارواہ احمد عن جابر رضی اﷲ تعالی عنہ ۔ ذمی کتابی کو مسجد میں آنے سے نہ روکا جائےگا بخلاف اور کافرکے اور اس پر امام اعظم اس حدیث سے سند لائے جو امام احمد نے جابر رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کی۔
غایۃ البیان علامہ اتقائی کتاب القضاء میں ہے:
قال شمس الائمۃ السرخسی فی شرح ادب القاضی و قد ذکر فی السیر الکبیر ان الشرك یمنع من دخول المسجد عملا بقولہ تعالی انما المشرکون نجس ۔ امام شمس الائمہ سرخسی نے شرح ادب القاضی میں فرمایاکہ امام محمدنے سیرکبیر میں فرمایا کہ مشرکوں کو مسجد میں نہ انے دیا جائے گا اس ارشاد الہی پر عمل کے لئے کہ مشرك نرے ناپاك ہیں۔
اگرکہئے حدیث میں تو مطلق ذمی کا اسثناء فرمایا کتابی کی تخصیص کہاں ہے۔اقول:(میں کہتاہوں۔ت)مشرکین عرب کو ذمی بنانا روا نہ تھا ان پر صرف دوحکم تھے اسلام لائیں ورنہ تلوار تو وہاں ذمی نہ تھے مگر کتابیتو استثناء منقطع ہے بلکہ ہم نے مسند میں دیکھا اوراخر مسند جابر رضی اﷲ تعالی عنہ میں حدیث اس طرح ہے کہ مذکور ہوئی اور اس سے ۲۷ ورق پہلے یوں ہے:
لایدخل مسجد نا ھذامشرك بعد عامنا ھذا غیر اھل الکتاب و خدمہم ۔ اس سال کے بعد ہماری اس مسجدمیں کوئی مشرك نہ آنے پائے سوائے کتابی اور ان کے غلام کے۔
تو یہاں خود کتابی کی تصریح ہے۔
حوالہ / References
عمدۃ القاری باب الاغتسال اذا أسلم ادارۃ الطباعۃ المنیریۃ بیروت ۴/ ۲۳۷
غمز العیون والبصائر مع الاشباہ والنظائر الفن الثالث احکام الذمی ادارہ القرآن کراچی ۲/ ۱۷۶ و ۱۷۷،۵۷۷ و ۵۷۸
غایۃ البیان کتاب القضاء
مسند امام احمد بن حنبل مروی از جابر رضی اﷲ تعالٰی عنہ دارالفکر بیروت ۳/ ۳۳۹
غمز العیون والبصائر مع الاشباہ والنظائر الفن الثالث احکام الذمی ادارہ القرآن کراچی ۲/ ۱۷۶ و ۱۷۷،۵۷۷ و ۵۷۸
غایۃ البیان کتاب القضاء
مسند امام احمد بن حنبل مروی از جابر رضی اﷲ تعالٰی عنہ دارالفکر بیروت ۳/ ۳۳۹
ثالثا اقول:(میں کہتاہوں۔ت)ﷲ الحمد اس حدیث حسن نے صاف ارشاد فرمایا کہ اس سے پہلے جو کسی مشرك یا کافر غیر ذمی کے لئے اجازت تھی منسوخ ہوگئی کہ فرمایا"بعد عامنا ھذا"(اس سال کے بعد کوئی مشرك مسجد میں نہ آنے پائے سوا ذمیوں کے)مخالفین جتنی روایات پیش کریں ان کے ذمہ لازم ہے کہ اس واقعہ کے اس ارشاد کے بعد ہونے کا ثبوت دیں ورنہ سب جوابوں سے قطع نظر ایك سیدھا سایہی جواب بس ہے کہ وہ منسوخ ہوچکا اور وہ ہر گز اس کا ثبوت نہیں دے سکتے"خصوصا بعد عامنا ھذا کا لفظ ارشاد فرمارہاہے کہ یہ ارشاد بعد نزول سورہ برأت ہے غالبا ا س کا یہ لفظ اس پاك ارشادا لہی" انما المشرکون نجس فلایقربوا المسجد الحرام بعد عامہم ہذا " (مشرك نرے ناپاك ہیں تو اس برس کے بعد وہ مسجد حرام کے پا س نہ آنے پائیں۔ت)سے ماخوذ ہے تو پہلے کے وقائع پیش کرنا محض نادانی لیکن لیڈران تو ڈھونڈھ کر منسوخات ہی پرعمل کررہے ہیں کہ اس میں اپنا بچاؤ دیکھتے ہیں" و خسر ہنالک المبطلون ﴿۷۸﴾" (اور باطل والوں کا وہاں خسارہ۔ت)
لیڈران کی بہی خواہی اسلام:
رابعا: یہ نہ سہی اختلاف احوال زمانہ وعادات قوم کو ہمیشہ مسائل تعظیم وتوہین میں دخل تام ہے پھر غیر اسلامی سلطنت اور کافروں کی کثرت میں اس کی اجازت اوراس کی اشاعت اور مساجد کو پامالی کفار کے لئے وقف کرنا کس قدر بہی خواہی اسلام ہے
ع اے راہ روپشت بمنزل ہشدار
(اے منزل کی طرف پشت کرکے چلنے والے! ہوش کر۔ت)
لیڈران کی اسلامی غیرت:
خامسا: واقعی بندگی بیچارگی جب ہندوؤں کی غلامی ٹھہری پھر کہاں کی غیرت اور کہاں کی خودداریوہ تمھیں ملیچھ جانیںبھنگی مانیںتمھارا پاك ہاتھ جس چیز کو لگ جائے گندی ہوجائے سودا بیچیں تو دو رسے ہاتھ میں ڈال دیںپیسے لیں تو دور سےیاپنکھا وغیرہ پیش کرکے اس پر رکھوا لیں حلانکہ بحکم قرآن خود وہی نجس ہیں اور تم ان نجسوں کو مقدس مطہربیت اﷲ میں لے جاؤ جو تمھارے ماتھا رکھنے کی جگہ ہے وہاں ان کے گندے پاؤں رکھواؤ تم کو اسلامی حس ہی نہ رہامحبت مشرکین نے اندھا بہرا کردیا۔
لیڈران کی بہی خواہی اسلام:
رابعا: یہ نہ سہی اختلاف احوال زمانہ وعادات قوم کو ہمیشہ مسائل تعظیم وتوہین میں دخل تام ہے پھر غیر اسلامی سلطنت اور کافروں کی کثرت میں اس کی اجازت اوراس کی اشاعت اور مساجد کو پامالی کفار کے لئے وقف کرنا کس قدر بہی خواہی اسلام ہے
ع اے راہ روپشت بمنزل ہشدار
(اے منزل کی طرف پشت کرکے چلنے والے! ہوش کر۔ت)
لیڈران کی اسلامی غیرت:
خامسا: واقعی بندگی بیچارگی جب ہندوؤں کی غلامی ٹھہری پھر کہاں کی غیرت اور کہاں کی خودداریوہ تمھیں ملیچھ جانیںبھنگی مانیںتمھارا پاك ہاتھ جس چیز کو لگ جائے گندی ہوجائے سودا بیچیں تو دو رسے ہاتھ میں ڈال دیںپیسے لیں تو دور سےیاپنکھا وغیرہ پیش کرکے اس پر رکھوا لیں حلانکہ بحکم قرآن خود وہی نجس ہیں اور تم ان نجسوں کو مقدس مطہربیت اﷲ میں لے جاؤ جو تمھارے ماتھا رکھنے کی جگہ ہے وہاں ان کے گندے پاؤں رکھواؤ تم کو اسلامی حس ہی نہ رہامحبت مشرکین نے اندھا بہرا کردیا۔
لیڈران محض اغوا کے لئے مسئلہ دخول مساجد کا نام لیتے ہیں انہوں نے جو کیا بالاجماع حرام قطعی ہے:
سادسا: ان باتوں کا ان سے کیا کہنا جس پر حبك الشیئ یعمی ویصم (تیرا کسی چیز سے محبت کرنااندھا اوربہرکردیتا ہے) کارنگ پھر گیا سب جانے دو خدا کو بھی منہ دکھانا ہے یاہمیشہ مشرکین ہی کی چھاؤں میں رہنا ہے جواز تھا تو یوں کوئی کافر دبالچاذلیل وخوار مثلا اسلام لانے یا اسلامی تبلیغ سننے یا اسلامی حکم لینے کے لئے مسجدمیں آئے یا اس کی اجازت تھی کہ خود سرمشرکوں نجس پرستوں کو مسلمانوں کو واعظ بناکر مسجد میں لے جاؤ اسے مسند مصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پر بٹھاؤ مسلمانوں کو نیچا کھڑا کرکے اس کا واعظ بناؤکیا اس کے جواز کی کوئی حدیث یاکوئی فقہی روایت تمھیں مل سکتی ہے حاشا ثم حاشا ﷲ انصاف! کیا یہ اﷲ ورسول سے آگے بڑھنا شرع مطہر پر افتراء گھڑنا احکام الہی دانستہ بدلنا سؤرکو بکری بتاکر نگلنا نہ ہوگا۔ابونعیم حلیۃ الاولیاء میں جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالی عنہماسے روایت کرتے ہیں:
نھی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ان یصافح المشرکون اویکنوا اویرجب بہم ۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے منع فرمایا کہ مشرکوں سے مصافحہ کیا جائے یا انھیں کنیت سے یادکریں یاآتے وقت مرحبا کہیں۔
یہ ادنی درجہ تکریم کا ہے کہ نام لے کر نہ پکارافلاں کا باپ کہا یاآتے وقت جگہ دینے کو آئیے کہا اﷲ اکبر حدیث اس سے بھی منع فرماتی ہے اورائمہ دین ذمی کافر کی نسبت وہ احکام تحقیر وتذلیل فرماچکے جن کا نمونہ ابھی گزرا کہ اسے محرر بنانا حرام کوئی کام ایسا سپرد کرنا جس سے مسلمانوں میں اس کی بڑائی ہو حرام اس کی تعظیم حراممسلمان کھڑا ہو تو اسے بیٹھنے کی اجازت نہیںبیماری وغیرہ ناچاری کے باعث سواری پر ہو تو جہاں مسلمانوں کا مجمع آئے فورا اترپڑے۔
بدایونی لیڈر بننے والے اپنے حق میں احکام ائمہ کرام دیکھیں:
حتی کہ فتاوی ظہیریہ و اشباہ والنظائر وتنویر الابصار ودرمختار وغیرہامعتمدات اسفار میں ہے:
سادسا: ان باتوں کا ان سے کیا کہنا جس پر حبك الشیئ یعمی ویصم (تیرا کسی چیز سے محبت کرنااندھا اوربہرکردیتا ہے) کارنگ پھر گیا سب جانے دو خدا کو بھی منہ دکھانا ہے یاہمیشہ مشرکین ہی کی چھاؤں میں رہنا ہے جواز تھا تو یوں کوئی کافر دبالچاذلیل وخوار مثلا اسلام لانے یا اسلامی تبلیغ سننے یا اسلامی حکم لینے کے لئے مسجدمیں آئے یا اس کی اجازت تھی کہ خود سرمشرکوں نجس پرستوں کو مسلمانوں کو واعظ بناکر مسجد میں لے جاؤ اسے مسند مصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پر بٹھاؤ مسلمانوں کو نیچا کھڑا کرکے اس کا واعظ بناؤکیا اس کے جواز کی کوئی حدیث یاکوئی فقہی روایت تمھیں مل سکتی ہے حاشا ثم حاشا ﷲ انصاف! کیا یہ اﷲ ورسول سے آگے بڑھنا شرع مطہر پر افتراء گھڑنا احکام الہی دانستہ بدلنا سؤرکو بکری بتاکر نگلنا نہ ہوگا۔ابونعیم حلیۃ الاولیاء میں جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالی عنہماسے روایت کرتے ہیں:
نھی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ان یصافح المشرکون اویکنوا اویرجب بہم ۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے منع فرمایا کہ مشرکوں سے مصافحہ کیا جائے یا انھیں کنیت سے یادکریں یاآتے وقت مرحبا کہیں۔
یہ ادنی درجہ تکریم کا ہے کہ نام لے کر نہ پکارافلاں کا باپ کہا یاآتے وقت جگہ دینے کو آئیے کہا اﷲ اکبر حدیث اس سے بھی منع فرماتی ہے اورائمہ دین ذمی کافر کی نسبت وہ احکام تحقیر وتذلیل فرماچکے جن کا نمونہ ابھی گزرا کہ اسے محرر بنانا حرام کوئی کام ایسا سپرد کرنا جس سے مسلمانوں میں اس کی بڑائی ہو حرام اس کی تعظیم حراممسلمان کھڑا ہو تو اسے بیٹھنے کی اجازت نہیںبیماری وغیرہ ناچاری کے باعث سواری پر ہو تو جہاں مسلمانوں کا مجمع آئے فورا اترپڑے۔
بدایونی لیڈر بننے والے اپنے حق میں احکام ائمہ کرام دیکھیں:
حتی کہ فتاوی ظہیریہ و اشباہ والنظائر وتنویر الابصار ودرمختار وغیرہامعتمدات اسفار میں ہے:
حوالہ / References
مسند احمد بن حنبل حدیث ابی الدرداء رضی اﷲ تعالی عنہ دارالفکربیروت ۵/ ۱۹۴
حلیۃ الاولیاء ترجمہ ۴۴۶ اسحٰق بن ابراہیم الحنظلی دارالفکربیروت ۹/ ۲۳۶
حلیۃ الاولیاء ترجمہ ۴۴۶ اسحٰق بن ابراہیم الحنظلی دارالفکربیروت ۹/ ۲۳۶
لو سلم علی الذمی تبجیلا یکفرلان تبجیل الکافر کفر ۔ اگرذمی کو تعظیما سلام کرے کافرہوجائے گا کہ کافر کی تعظیم کفرہے۔
فتاوی امام ظہیر الدین واشباہ درمختار وغیرہا میں ہے:
لوقال لمجوسی یااستاذ تبجیلا کفر ۔ اگرمجوسی کو بطور تعظیم"اے استاد"کہا کافر ہوگیا۔
اوریہاں حربی مشرك کی یہ کچھ تعظیم یہ کچھ مسلمانوں پر اس کی رفعت وتقدیم ہورہی ہے اور پھر کفر بالائے طاق ان کے جواز کو بھی ٹھیس نہیں لگتیاس حرام قطعی کو حلال کی کھال پہنا کر فتوے اور رسالے لکھے جارہے ہیںمجوسی کوتعظیما زبان سے استاد کہہ دینے والا کافرہو لیکن مشرك بت پرست کو اسٹیج پر کھڑے ہو کر کہنے والا"کہ خدانے ان عــــہ کو مذکر بنا کر تمھارے پاس بھیجا ہے"گاندھی کو پیشوا نہیں بلکہ قدرت نے تم کو سبق پڑھانے والا مد بر بناکر بھیجا ہے ٹھیٹ مسلمان بنارہے ہیں سبق پڑھانے والا اور سبق بھی کسی دنیوی حرفت کا نہیں بلکہ صاف کہاکہ تمھارا فرض دینی یاد دلانے کو تو استاذ نے علم دین بتایا اور علم دین بھی کسی مستحب وغیرہ کا نہیں بلکہ خاص فرض دینی کا معلم استاذ بنایا اور کسی کے سر میں دماغ اوردماغ میں عقل۔پہلو میں دل اور دل میں اسلام کی قدرہو تو وہ ان لفظوں کو دیکھے کہ"خدا نے ان کو مذکر بناکرتمھارے پاس بھیجا ہے"خدا لگتی کہنا یہ رسالت سے کے سیڑھی نیچے رہا ان لیڈربننے والوں کااسلام کیا ہے ع
چوں وضوے محکم بی بی تمیز
(یہی جیسے بی بی تمیز کا محکم وضو ہو۔ت)
کہ کس طرح ٹوٹنا کیا اس میں دراڑ تك نہ پڑتی" و سیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون ﴿۲۲۷﴾ " (اب جانا چاہتے ہیں ظالم کہ کس کروٹ پلٹا کھائیں گے۔ت)
عــــہ:دیکھو اخبار فتح دہلی جلد ۲ نمبر ۲۴۲ جلسہ جمعیۃ العلماء ہند میں مولانا عبدالماجد بدایونی کی تقریر ص ۴ کالم اول ۱۲ حشمت علی
فتاوی امام ظہیر الدین واشباہ درمختار وغیرہا میں ہے:
لوقال لمجوسی یااستاذ تبجیلا کفر ۔ اگرمجوسی کو بطور تعظیم"اے استاد"کہا کافر ہوگیا۔
اوریہاں حربی مشرك کی یہ کچھ تعظیم یہ کچھ مسلمانوں پر اس کی رفعت وتقدیم ہورہی ہے اور پھر کفر بالائے طاق ان کے جواز کو بھی ٹھیس نہیں لگتیاس حرام قطعی کو حلال کی کھال پہنا کر فتوے اور رسالے لکھے جارہے ہیںمجوسی کوتعظیما زبان سے استاد کہہ دینے والا کافرہو لیکن مشرك بت پرست کو اسٹیج پر کھڑے ہو کر کہنے والا"کہ خدانے ان عــــہ کو مذکر بنا کر تمھارے پاس بھیجا ہے"گاندھی کو پیشوا نہیں بلکہ قدرت نے تم کو سبق پڑھانے والا مد بر بناکر بھیجا ہے ٹھیٹ مسلمان بنارہے ہیں سبق پڑھانے والا اور سبق بھی کسی دنیوی حرفت کا نہیں بلکہ صاف کہاکہ تمھارا فرض دینی یاد دلانے کو تو استاذ نے علم دین بتایا اور علم دین بھی کسی مستحب وغیرہ کا نہیں بلکہ خاص فرض دینی کا معلم استاذ بنایا اور کسی کے سر میں دماغ اوردماغ میں عقل۔پہلو میں دل اور دل میں اسلام کی قدرہو تو وہ ان لفظوں کو دیکھے کہ"خدا نے ان کو مذکر بناکرتمھارے پاس بھیجا ہے"خدا لگتی کہنا یہ رسالت سے کے سیڑھی نیچے رہا ان لیڈربننے والوں کااسلام کیا ہے ع
چوں وضوے محکم بی بی تمیز
(یہی جیسے بی بی تمیز کا محکم وضو ہو۔ت)
کہ کس طرح ٹوٹنا کیا اس میں دراڑ تك نہ پڑتی" و سیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون ﴿۲۲۷﴾ " (اب جانا چاہتے ہیں ظالم کہ کس کروٹ پلٹا کھائیں گے۔ت)
عــــہ:دیکھو اخبار فتح دہلی جلد ۲ نمبر ۲۴۲ جلسہ جمعیۃ العلماء ہند میں مولانا عبدالماجد بدایونی کی تقریر ص ۴ کالم اول ۱۲ حشمت علی
حوالہ / References
الدرالمختار کتاب الحظروالاباحۃفصل فی البیع مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۵۱
الدرالمختار کتاب الحظروالاباحۃفصل فی البیع مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۵۱
القرآن الکریم ۲۶ /۲۲۷
الدرالمختار کتاب الحظروالاباحۃفصل فی البیع مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۵۱
القرآن الکریم ۲۶ /۲۲۷
دربارہ مساجد لیڈران کا پیش کردہ شاہجہانپوری فتوی خود انہیں پر رد ہے:
سابعا:ائمہ دین نے صاف تصریحیں فرمائیں کہ کافر کا بطور استعلاء مسجد میں جانا مطلقا حرام ہےہدایہ میں ہے:
الایۃ محمولۃ علی الحضور استیلاء واستعلاء ۔ آیت اس پر محمول کی گئی ہے کہ وہ غلبہ وبلندی کے طوپر نہ ائیں۔
کافی امام نسفی میں ہے:
الایۃ محمولۃ علی منعہم ان یدخلوھا مستولین وعلی اھل اسلام مستعلین ۔ آیت کے یہ معنی قرار دئیے گئے ہیں کہ ان کے ایسے آنے سے منع کیا جاتا ہے کہ بطور غلبہ آئیں اور مسلمانوں پر بلند ہوں۔
مگر ہدایہ وکافی کا ان لوگوں کے سامنے ذکر کیا جو قرآن عظیم کے نصوص قاہرہ نہیں سنتےہاں یہ کہئے کہ اگر حق مانیں تولیڈران کی خوبی قسمت ورنہ سخت نصیبوں کی شامت کہ خود لیڈری شائع کردہ فتوے نے بحوالہ ردالمحتار یہی عبارت ہدایہ نقل کردی کہ قرآن عظیم نے مشرك کا بطور استعلاء مسجد میں آناحرام فرمایا ہےہمارے دوست مفتی صاحب نے یہ دوسرا متلمس کا صحیفہ مروانی خط کی طرح ان کے ہاتھ میں دے دیامروانی خط ان کے ہاتھ تھا اور متلمس کا صحیفہ بندان کے ہاتھ میں کھلا ہوافتوی دے دیا اور ان کو اپنی موت نہ سوجھی اسے شائع کراتے عوام کو بہلاتے بھلاتے ہیں۔
مفتی کو ہدایت:
ہاں اتنی شکایت دوستانہ مفتی صاحب سے بھی ہے کہ ذمی کا حکم حربیوں یا کتابی یا مشرکوں پر ڈھالنا درکنار صورت استعلاء اگرمعلوم تھی کہ طشت از بام ہے تو اسے جانتے ہوئے باطل پرستوں کے ہاتھ میں فتوی دینا نہ چاہئے تھا جس سے وہ عوام کوبہکائیں اوراپنے حرام قطعی بلکہ اس سے بھی اشد کوحلال کردکھلائیںپھر عجب یہ کہ بیان حکم میں عدم استعلاء کی قید رہ جانے نے مطلقا جواز کی سنائی اگرچہ عبارت کتاب سے اطلاق پر آئی کتاب کی عربی عبارت عوام کیا سمجھیں انھیں گمراہ کرلینے کی لیڈروں نے راہ پائی نسأل اﷲ العفووالعافیۃ ولاحول ولاقوۃ الا باﷲ۔
سابعا:ائمہ دین نے صاف تصریحیں فرمائیں کہ کافر کا بطور استعلاء مسجد میں جانا مطلقا حرام ہےہدایہ میں ہے:
الایۃ محمولۃ علی الحضور استیلاء واستعلاء ۔ آیت اس پر محمول کی گئی ہے کہ وہ غلبہ وبلندی کے طوپر نہ ائیں۔
کافی امام نسفی میں ہے:
الایۃ محمولۃ علی منعہم ان یدخلوھا مستولین وعلی اھل اسلام مستعلین ۔ آیت کے یہ معنی قرار دئیے گئے ہیں کہ ان کے ایسے آنے سے منع کیا جاتا ہے کہ بطور غلبہ آئیں اور مسلمانوں پر بلند ہوں۔
مگر ہدایہ وکافی کا ان لوگوں کے سامنے ذکر کیا جو قرآن عظیم کے نصوص قاہرہ نہیں سنتےہاں یہ کہئے کہ اگر حق مانیں تولیڈران کی خوبی قسمت ورنہ سخت نصیبوں کی شامت کہ خود لیڈری شائع کردہ فتوے نے بحوالہ ردالمحتار یہی عبارت ہدایہ نقل کردی کہ قرآن عظیم نے مشرك کا بطور استعلاء مسجد میں آناحرام فرمایا ہےہمارے دوست مفتی صاحب نے یہ دوسرا متلمس کا صحیفہ مروانی خط کی طرح ان کے ہاتھ میں دے دیامروانی خط ان کے ہاتھ تھا اور متلمس کا صحیفہ بندان کے ہاتھ میں کھلا ہوافتوی دے دیا اور ان کو اپنی موت نہ سوجھی اسے شائع کراتے عوام کو بہلاتے بھلاتے ہیں۔
مفتی کو ہدایت:
ہاں اتنی شکایت دوستانہ مفتی صاحب سے بھی ہے کہ ذمی کا حکم حربیوں یا کتابی یا مشرکوں پر ڈھالنا درکنار صورت استعلاء اگرمعلوم تھی کہ طشت از بام ہے تو اسے جانتے ہوئے باطل پرستوں کے ہاتھ میں فتوی دینا نہ چاہئے تھا جس سے وہ عوام کوبہکائیں اوراپنے حرام قطعی بلکہ اس سے بھی اشد کوحلال کردکھلائیںپھر عجب یہ کہ بیان حکم میں عدم استعلاء کی قید رہ جانے نے مطلقا جواز کی سنائی اگرچہ عبارت کتاب سے اطلاق پر آئی کتاب کی عربی عبارت عوام کیا سمجھیں انھیں گمراہ کرلینے کی لیڈروں نے راہ پائی نسأل اﷲ العفووالعافیۃ ولاحول ولاقوۃ الا باﷲ۔
حوالہ / References
الہدایہ کتاب الکراھیۃ مسائل متفرقۃ مطبع یوسفی لکھنؤ الجزء الرابع /۴۷۲
کافی امام النسفی
کافی امام النسفی
شریعت کے ساتھ لیڈروں کی حالت:
مسلمانو! تم نے دیکھا یہ حالت ہے ان لیڈر بننے والوں کے دین کیکیسا کیسا شریعت کو بدلتے مسلتےپاؤں کے نیچے کچلتےاورخیر خواہ اسلام بن کر مسلمانوں کو چھلتے ہیںموالات مشرکین ایکمعاہدہ مشرکین دواستعانت بمشرکین تینمسجد میں اعلائے مشرکین چاران سب میں بلا مبالغہ یقینا قطعا لیڈروں نے خنزیر کو دنبے کی کھال پہناکر حلال کیا ہےدین الہی کوپائمال کیا ہےاورپھر لیڈر ہیںریفامر ہیںمسلمانوں کے بڑے راہبر ہیںجو ان کی ہاں میں ہاں نہ ملائے مسلمان ہی نہیںجب تك اسلام کو کندچھری سے ذبح نہ کرے ایمان ہی نہیں۔
" رب اعوذ بک من ہمزت الشیطین ﴿۹۷﴾ و اعوذ بک رب ان یحضرون ﴿۹۸﴾ " اے میرے رب تیری پناہ شیاطین کے وسوسوں سےاور اے میرے رب تیری پناہ کہ وہ میرے پاس آئیں۔
آہ آہ آہ انا ﷲ وانا الیہ راجعون o ع
اند کے پیش تو گفتم دل ترسیدم کہ دل آزردہ شوی ورنہ سخن بسیار ست
(آپ کے سامنے تھوڑا سا غم دل پیش کیا ہےمجھے ڈر ہے کہ آپ کادل آزردہ ہوگا ورنہ باتیں بہت ہیں۔ت)
ضروری عرض واجب اللحاظ
میں جانتاہوں کہ میرا کلام انھیں برالگے گااور حسب معمول تحقیق حق واظہار احکام رب الانام کانام گالیاں رکھاجائیگا ہمیشہ عاجزوں نے اپنا عجز یونہی چھپایا ہے احکام حق کو سختی بتاکر گالیاں ٹھہراکر جواب سے گریز کاحیلہ بنایا ہے لہذا دست بستہ معروض کہ تھوڑی دیر نیچری تہذیب سے تنزل فرماکروہ آیتیں کہ شروع فتوی میں تلاوت ہوئیں ان پر ایمان لاکر ان مباحث علمیہ واحکام الہیہ کو بغور سن لیجئے اگر بفرض باطل ہماری غلط فہمی ہے حق وانصاف سے بتادیجئے ہمیں بحمداﷲ ہر گز وہ نہ پائے گا جو سمجھ لینے کے بعد باطل پر اصرار حق سے انکار نا ر پر عار اختیار کررہے ہیںاوراگر سمجھ جاؤسمجھ کیا جاؤ گے تمھارے سمجھ وال سمجھ رہے ہیں کہ دیدہ ودانستہ حق سے الجھ رہے ہیں یہ حرام کو حلالحلا ل کوحرام کاجامع پہنایااسلام کو کفرکفر کو اسلام بناکر دکھایا ہے تو ماننے نہ ماننے کاتمھیں اختیار ہے اور جزاء وحساب وکشف حجاب روز شمار۔
مسلمانو! تم نے دیکھا یہ حالت ہے ان لیڈر بننے والوں کے دین کیکیسا کیسا شریعت کو بدلتے مسلتےپاؤں کے نیچے کچلتےاورخیر خواہ اسلام بن کر مسلمانوں کو چھلتے ہیںموالات مشرکین ایکمعاہدہ مشرکین دواستعانت بمشرکین تینمسجد میں اعلائے مشرکین چاران سب میں بلا مبالغہ یقینا قطعا لیڈروں نے خنزیر کو دنبے کی کھال پہناکر حلال کیا ہےدین الہی کوپائمال کیا ہےاورپھر لیڈر ہیںریفامر ہیںمسلمانوں کے بڑے راہبر ہیںجو ان کی ہاں میں ہاں نہ ملائے مسلمان ہی نہیںجب تك اسلام کو کندچھری سے ذبح نہ کرے ایمان ہی نہیں۔
" رب اعوذ بک من ہمزت الشیطین ﴿۹۷﴾ و اعوذ بک رب ان یحضرون ﴿۹۸﴾ " اے میرے رب تیری پناہ شیاطین کے وسوسوں سےاور اے میرے رب تیری پناہ کہ وہ میرے پاس آئیں۔
آہ آہ آہ انا ﷲ وانا الیہ راجعون o ع
اند کے پیش تو گفتم دل ترسیدم کہ دل آزردہ شوی ورنہ سخن بسیار ست
(آپ کے سامنے تھوڑا سا غم دل پیش کیا ہےمجھے ڈر ہے کہ آپ کادل آزردہ ہوگا ورنہ باتیں بہت ہیں۔ت)
ضروری عرض واجب اللحاظ
میں جانتاہوں کہ میرا کلام انھیں برالگے گااور حسب معمول تحقیق حق واظہار احکام رب الانام کانام گالیاں رکھاجائیگا ہمیشہ عاجزوں نے اپنا عجز یونہی چھپایا ہے احکام حق کو سختی بتاکر گالیاں ٹھہراکر جواب سے گریز کاحیلہ بنایا ہے لہذا دست بستہ معروض کہ تھوڑی دیر نیچری تہذیب سے تنزل فرماکروہ آیتیں کہ شروع فتوی میں تلاوت ہوئیں ان پر ایمان لاکر ان مباحث علمیہ واحکام الہیہ کو بغور سن لیجئے اگر بفرض باطل ہماری غلط فہمی ہے حق وانصاف سے بتادیجئے ہمیں بحمداﷲ ہر گز وہ نہ پائے گا جو سمجھ لینے کے بعد باطل پر اصرار حق سے انکار نا ر پر عار اختیار کررہے ہیںاوراگر سمجھ جاؤسمجھ کیا جاؤ گے تمھارے سمجھ وال سمجھ رہے ہیں کہ دیدہ ودانستہ حق سے الجھ رہے ہیں یہ حرام کو حلالحلا ل کوحرام کاجامع پہنایااسلام کو کفرکفر کو اسلام بناکر دکھایا ہے تو ماننے نہ ماننے کاتمھیں اختیار ہے اور جزاء وحساب وکشف حجاب روز شمار۔
حوالہ / References
القرآن الکریم ۲۳ /۹۷ و ۹۸
" یوم تبلی السرائر ﴿۹﴾ فما لہ من قوۃ و لا ناصر ﴿۱۰﴾" جس دن سب چھپی باتیں جانچ میں آئیں گی تو آدمی کو نہ کچھ زورہوگا نہ کوئی مددگار۔
ترک معاملت پر ایک نظر:
(۱۱)حضرات لیاڈر نے مسئلہ موالات میں سب سے بڑھ کر اودھم مچائی اوروں میں افراط یا تفریط ایك ہی پہلو پر گئےاس میں دونوں کی رنگت رچائیافراط وہ کہ نصاری سے نری معاملت بھی حرام قطعیاور تفریط یہ کہ ہندوؤں سے اتحاد بلکہ ان کی غلامی فرض شرعیپھر بھی ان کے اس افراط وتفریط میں اتنا فرق ہے کہ دوم نے بذاتہ دین کو برباد کردیااور اول پر عمل میں فی نفسہ ضرر اسلام نہ تھامباح کوکوئی حرام جان کر چھوڑے تو اس چھوڑ نے میں حرج نہیں کہ مباح ہی تھا نہ کہ واجبضلالت ہے اس اعتقاد تحریم میںلیکن حرام قطعی فرض منانا ایمان وعمل دونوں کا تباہ کن ہوا اور اپنے ہر پہلو سے اسلام کا بربادکرنے والالہذا اول سے بحث ضرور نہ تھی حکم بتادیا معاندوں کا عناد ان کے ساتھ ہے لیکن عملی حیثیت سے بھی اس خصوص میں مسلمانو ں کو بہت ضرر پہنچتے دکھائی دیتے ہیں سخت مشکلات کا سامنا ہے جن کاحل ان بزعم خود گہری نگاہ والے انجام شناس لیا ڈر الناس نے کچھ سوچ رکھا ہوگانظر بعادات و حالات کسی طرح عقل باور نہیں کرتی کہ ان کی چیخ پکار سے تمام ہندو سند وبنگال وبرہما وافریقہ و جاوہ حتی کہ عدن تك کے مسلمان سب نوکریاںملازمتیںزمینداریاںتجارتیں یکلخت چھوڑدیںیہ شورشیں تو دو دن سے ہیں صدہا عــــــہ حرام نوکریاں پہلے ہی سے کررہے ہیں وہ تو چھوریں نہیں مباح نوکریاں اور
عــــــہ:مثلا حظر کی نوکری اعلاء کلمۃ اﷲ کے سو ا کسی مسلمان بادشاہ کی بھی جائز نہیںیونہی خلاف ماانزل اﷲ حکم کرنے کییونہی جس میں سودکالینا دینا یاحساب کرناہو یا دستاویز سود کا کاتب یا شاہد بننا پڑےبالجملہ حرام کام یا خود اعانت حرام کی ملازمت کی کہ اسلامی سلطنت وریاست کی بھی حرام ہے اور بلا ملازمت ایسے کاموں کا انجام دینا اور زیادہ شرع پر اجرتیہی حال کالجوں کی ملازمت اور ان کے تعلیم و تعلم کاہےجہاں تعلیم مخالف شرع واسلام ہواگرچہ اسلامی کہلائے تعلم حراماور اس کی کسی طرح امداد حرام مگر جو دین رکھنے والا تعلیم دینیات پر یوں رہے کہ طلبہ کے عقائد کی حفاظت کرے ضلالتوں کا بطلان انھیں بتایا کرے وہ بازار میں ذکر الہی کرنے والے سے بھی زائد ہوگا جسے حدیث نے فرمایا مردوں میں زندوں کی طرح ہے۔
ترک معاملت پر ایک نظر:
(۱۱)حضرات لیاڈر نے مسئلہ موالات میں سب سے بڑھ کر اودھم مچائی اوروں میں افراط یا تفریط ایك ہی پہلو پر گئےاس میں دونوں کی رنگت رچائیافراط وہ کہ نصاری سے نری معاملت بھی حرام قطعیاور تفریط یہ کہ ہندوؤں سے اتحاد بلکہ ان کی غلامی فرض شرعیپھر بھی ان کے اس افراط وتفریط میں اتنا فرق ہے کہ دوم نے بذاتہ دین کو برباد کردیااور اول پر عمل میں فی نفسہ ضرر اسلام نہ تھامباح کوکوئی حرام جان کر چھوڑے تو اس چھوڑ نے میں حرج نہیں کہ مباح ہی تھا نہ کہ واجبضلالت ہے اس اعتقاد تحریم میںلیکن حرام قطعی فرض منانا ایمان وعمل دونوں کا تباہ کن ہوا اور اپنے ہر پہلو سے اسلام کا بربادکرنے والالہذا اول سے بحث ضرور نہ تھی حکم بتادیا معاندوں کا عناد ان کے ساتھ ہے لیکن عملی حیثیت سے بھی اس خصوص میں مسلمانو ں کو بہت ضرر پہنچتے دکھائی دیتے ہیں سخت مشکلات کا سامنا ہے جن کاحل ان بزعم خود گہری نگاہ والے انجام شناس لیا ڈر الناس نے کچھ سوچ رکھا ہوگانظر بعادات و حالات کسی طرح عقل باور نہیں کرتی کہ ان کی چیخ پکار سے تمام ہندو سند وبنگال وبرہما وافریقہ و جاوہ حتی کہ عدن تك کے مسلمان سب نوکریاںملازمتیںزمینداریاںتجارتیں یکلخت چھوڑدیںیہ شورشیں تو دو دن سے ہیں صدہا عــــــہ حرام نوکریاں پہلے ہی سے کررہے ہیں وہ تو چھوریں نہیں مباح نوکریاں اور
عــــــہ:مثلا حظر کی نوکری اعلاء کلمۃ اﷲ کے سو ا کسی مسلمان بادشاہ کی بھی جائز نہیںیونہی خلاف ماانزل اﷲ حکم کرنے کییونہی جس میں سودکالینا دینا یاحساب کرناہو یا دستاویز سود کا کاتب یا شاہد بننا پڑےبالجملہ حرام کام یا خود اعانت حرام کی ملازمت کی کہ اسلامی سلطنت وریاست کی بھی حرام ہے اور بلا ملازمت ایسے کاموں کا انجام دینا اور زیادہ شرع پر اجرتیہی حال کالجوں کی ملازمت اور ان کے تعلیم و تعلم کاہےجہاں تعلیم مخالف شرع واسلام ہواگرچہ اسلامی کہلائے تعلم حراماور اس کی کسی طرح امداد حرام مگر جو دین رکھنے والا تعلیم دینیات پر یوں رہے کہ طلبہ کے عقائد کی حفاظت کرے ضلالتوں کا بطلان انھیں بتایا کرے وہ بازار میں ذکر الہی کرنے والے سے بھی زائد ہوگا جسے حدیث نے فرمایا مردوں میں زندوں کی طرح ہے۔
حوالہ / References
القرآن الکریم ۸۶ /۹ و ۱۰
حلال تجارتیںزمینداریاں کس طرح چھوڑدیں گےان جلسوں ہنگاموںتبلیغوں کہراموں سے اگر سو دو سو نے نوکریاں یا دس بیس نے تجارتیں یا دو ایك نے زمینداریاں چھوڑ بھی دیں تو اس سے ترکوں عــــــہ۱ کا کیا فائدہ یا انگریزوں کا کیانقصانغریب نادار مسلمان کی کمائی کا ہزار ہا روپیہ ان تبلیغوں میں برباد جارہا ہے اور جائے گا اور محض بیکار و نامراد جارہا ہے اور جائے گاہاں لیڈروں مبلغوں کی سیر وسیاحت کے سفرخرچ اور جلسہ واقامت کے پلاؤ قورمے سیدھے ہوگئے اور ہوں گے اگر یہ فائدہ ہے تو ضرور نقد وقت ہے اور سیر یورپ کے حساب کا راز تو روزحساب ہی کھلے گا
" یوم تبلی السرائر ﴿۹﴾ فما لہ من قوۃ و لا ناصر ﴿۱۰﴾" (جس دن سب چھپی باتیں جانچ میں آئیں گی توآدمی کونہ کچھ زورہوگا نہ کوئی مددگار۔ت)کیا لیڈر صاحبان فہرست دکھائیں گے کہ ان برسوں کی مدت اور لاکھوں روپے کی اضاعت میں اتنا فائدہ مرتب ہوااتنوں نے نوکریاں چھوڑیں اتنوں نے تجارتیں اتنوں نے زمینداریاں۔
اخبارات و مطابع کیوں نہیں بند کرتے:
طرفہ یہ کہ ان کے خون گرم حامی ہمدم و محرم عــــــہ۲ اخبارات اس ترك تعاون پر بڑے بڑے
عــــــہ۱:تنبیہتنبیہتنبیہ:مسلمانو! ترکوں کی حمایت اماکن مقدسہ کی حفاظت سلطنت اسلامی کی اعانت یہ سب دکھانے کے دانت تھے کہ کسی طرح مسلمانوں میں اشتعال ہو لاکھوں روپے کاچندہ ہاتھ آئے ورنہ بڑے ساعی لیڈروں علی برادروں سے صاف منقول ہواکہ"مسئلہ خلافت اب طے کررکھوہندوستان کی آزادی کی فکر کروہم ہندو قوم پرست ہیں ہمارا فرض ہے کہ اگر ترکی بھی ہندوستان پرچڑھائی کرے توہم ان کے خلاف تلوار اٹھائیں ہمارانصب العین سلطنت کی خود اختیاری حاصل کرنا ہے ترك موالات اس کا ذریعہ ہے"ابوالکلام آزاد سے منقو ل ہوا:"لڑائی ہندوستان کو خود اختیاری حکومت دلانے کے لئے ہے اگرخلافت کا خاطر خواہ فیصلہ ہو بھی جائے تاہم ہماری جدوجہد جاری رہے گی اس وقت تك کہ ہم گنگا وجمنا کی مقدس زمین کو آزاد نہ کرالیں"مسلمانو! اب بھی تمہاری آنکھیں نہ کھلیں اور خلافت واماکن مقدسہ کے حیلہ پرفریب کھاتے رہو تو خدا حافظحشمت علی عفی عنہ
عــــــہ۲:خصوصا روزنامہ ہمدم لکھنؤ جس کے ہر پرچہ کی پیشانی پر یہ ساقط الوزن رباعی لکھی ہوتی ہے
پابند اگرچہ اپنی خواہش کے رہو حامی نہ کسی خراب سازش کے رہو
قانون سے فائدہ اٹھاناہے اگر لائل سبجکٹ تم برٹش کے رہو
(باقی برصفحہ ایندہ)
" یوم تبلی السرائر ﴿۹﴾ فما لہ من قوۃ و لا ناصر ﴿۱۰﴾" (جس دن سب چھپی باتیں جانچ میں آئیں گی توآدمی کونہ کچھ زورہوگا نہ کوئی مددگار۔ت)کیا لیڈر صاحبان فہرست دکھائیں گے کہ ان برسوں کی مدت اور لاکھوں روپے کی اضاعت میں اتنا فائدہ مرتب ہوااتنوں نے نوکریاں چھوڑیں اتنوں نے تجارتیں اتنوں نے زمینداریاں۔
اخبارات و مطابع کیوں نہیں بند کرتے:
طرفہ یہ کہ ان کے خون گرم حامی ہمدم و محرم عــــــہ۲ اخبارات اس ترك تعاون پر بڑے بڑے
عــــــہ۱:تنبیہتنبیہتنبیہ:مسلمانو! ترکوں کی حمایت اماکن مقدسہ کی حفاظت سلطنت اسلامی کی اعانت یہ سب دکھانے کے دانت تھے کہ کسی طرح مسلمانوں میں اشتعال ہو لاکھوں روپے کاچندہ ہاتھ آئے ورنہ بڑے ساعی لیڈروں علی برادروں سے صاف منقول ہواکہ"مسئلہ خلافت اب طے کررکھوہندوستان کی آزادی کی فکر کروہم ہندو قوم پرست ہیں ہمارا فرض ہے کہ اگر ترکی بھی ہندوستان پرچڑھائی کرے توہم ان کے خلاف تلوار اٹھائیں ہمارانصب العین سلطنت کی خود اختیاری حاصل کرنا ہے ترك موالات اس کا ذریعہ ہے"ابوالکلام آزاد سے منقو ل ہوا:"لڑائی ہندوستان کو خود اختیاری حکومت دلانے کے لئے ہے اگرخلافت کا خاطر خواہ فیصلہ ہو بھی جائے تاہم ہماری جدوجہد جاری رہے گی اس وقت تك کہ ہم گنگا وجمنا کی مقدس زمین کو آزاد نہ کرالیں"مسلمانو! اب بھی تمہاری آنکھیں نہ کھلیں اور خلافت واماکن مقدسہ کے حیلہ پرفریب کھاتے رہو تو خدا حافظحشمت علی عفی عنہ
عــــــہ۲:خصوصا روزنامہ ہمدم لکھنؤ جس کے ہر پرچہ کی پیشانی پر یہ ساقط الوزن رباعی لکھی ہوتی ہے
پابند اگرچہ اپنی خواہش کے رہو حامی نہ کسی خراب سازش کے رہو
قانون سے فائدہ اٹھاناہے اگر لائل سبجکٹ تم برٹش کے رہو
(باقی برصفحہ ایندہ)
حوالہ / References
القرآن الکریم ۸۶ /۱۰۔۹
زورلگارہے ہیں خود اپنے اخبارات ومطابع کیوں نہیں بند کرتےان صیغوں کو توانگریزون سے جو گہرے تعلقات ہیں دوسرے صیغوں کو کم ہوں گے کیا اوروں کے لئے شوروفغاں اور اپنے لئے نوشجاں
لیڈران اوروں کو ترک تعاون کی طرف بلاتے ہیں اور خود ان کا عمل اس کے خلاف ہے:
اور ایك اخباری ومطابعی کیا کریں گے بڑے بڑے لیڈر بننے والے اسی مرض میں گرفتار ہیں دیگراں رانصیحت خود رافضیحت ع
حیرتے دارم زدانشمند مجلس بازپرس توبہ فرمایا چراخود توبہ کمتر مے کنند
(مجھے حیرت ہےمجلس کے دانشمند سے پھر پوچھو تو بہ کا مشورہ دینے والے خود بہت کم تو بہ کرتے ہیں۔ت)
ہجرت کا غل مچایا اور اپنے آپ ایك نہ سرکا جو ابھارنے میں آگئے ان مصیبت زدوں پر جو گزری سو گزری یہ سب اپنے جو روبچوں میں چین سے رہےہرا لگانہ پھٹکریاور ترك تعاون میں بھی کیا کسی لیڈر یا مبلغ کے پاس زمینداری یا کسی قسم کی تجارت نہیں۔نہ ان کا کوئی انگریزی یا ریاست میں ملازم ہے پھر انھیں کیوں نہیں چھوڑتےکیا واحد قہار نے نہ فرمایا:
" لم تقولون ما لا تفعلون ﴿۲﴾ کبر مقتا عند اللہ ان تقولوا ما لا تفعلون ﴿۳﴾" کیوں کہتے ہو وہ جو نہیں کرتےکیسی سخت ناپسند ہے اﷲ کو وہ بات کہ وہ کہوجو نہ کرو۔
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
اتباع ہوا کی اجازت دی جو اﷲ کی راہ سے گمراہ کرنے والی ہےقال تعالی:" ولا تتبع الہوی فیضلک عن سبیل اللہ " اپنی خواہش کا پابند نہ ہو کہ وہ تجھے اﷲ کی راہ سے گمراہ کردے گیخیر گمراہی تو ان صاحبوں کے یہاں بہت آسان بلکہ محبوب تر چیز ہےمگر پچھلے مصرع پراپنے لیڈروں اور کمیٹی کا فتوی لیں جس میں کہا کہ انگریزوں کے وفا داران کے حکم کے نیچے چلنے والے رہوا ور اتنی تاکید ہے کہ ہر پیشانی پر اسی کی تجدید ہے اس سے مقاطعہ کیوں نہ فرض ہوااسے پارٹی بلکہ اسلام سے کیوں نہ خارج کیاہاں شاید ساقط الوزن کرنے میں اس نے اپنے لئے کچھ رات لگارکھی ہو یعنی انگریزوں کے دکھانے کو اس طرح ہو اورلیڈروں کے سنانے کو یہ کہ آپ دیکھتے نہیں اس میں وزن ہی کہاں ہے یوں ہے: ع
لائل سبجکٹ تم نہ برٹش کے رہو حشمت علی عفی عنہ
لیڈران اوروں کو ترک تعاون کی طرف بلاتے ہیں اور خود ان کا عمل اس کے خلاف ہے:
اور ایك اخباری ومطابعی کیا کریں گے بڑے بڑے لیڈر بننے والے اسی مرض میں گرفتار ہیں دیگراں رانصیحت خود رافضیحت ع
حیرتے دارم زدانشمند مجلس بازپرس توبہ فرمایا چراخود توبہ کمتر مے کنند
(مجھے حیرت ہےمجلس کے دانشمند سے پھر پوچھو تو بہ کا مشورہ دینے والے خود بہت کم تو بہ کرتے ہیں۔ت)
ہجرت کا غل مچایا اور اپنے آپ ایك نہ سرکا جو ابھارنے میں آگئے ان مصیبت زدوں پر جو گزری سو گزری یہ سب اپنے جو روبچوں میں چین سے رہےہرا لگانہ پھٹکریاور ترك تعاون میں بھی کیا کسی لیڈر یا مبلغ کے پاس زمینداری یا کسی قسم کی تجارت نہیں۔نہ ان کا کوئی انگریزی یا ریاست میں ملازم ہے پھر انھیں کیوں نہیں چھوڑتےکیا واحد قہار نے نہ فرمایا:
" لم تقولون ما لا تفعلون ﴿۲﴾ کبر مقتا عند اللہ ان تقولوا ما لا تفعلون ﴿۳﴾" کیوں کہتے ہو وہ جو نہیں کرتےکیسی سخت ناپسند ہے اﷲ کو وہ بات کہ وہ کہوجو نہ کرو۔
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
اتباع ہوا کی اجازت دی جو اﷲ کی راہ سے گمراہ کرنے والی ہےقال تعالی:" ولا تتبع الہوی فیضلک عن سبیل اللہ " اپنی خواہش کا پابند نہ ہو کہ وہ تجھے اﷲ کی راہ سے گمراہ کردے گیخیر گمراہی تو ان صاحبوں کے یہاں بہت آسان بلکہ محبوب تر چیز ہےمگر پچھلے مصرع پراپنے لیڈروں اور کمیٹی کا فتوی لیں جس میں کہا کہ انگریزوں کے وفا داران کے حکم کے نیچے چلنے والے رہوا ور اتنی تاکید ہے کہ ہر پیشانی پر اسی کی تجدید ہے اس سے مقاطعہ کیوں نہ فرض ہوااسے پارٹی بلکہ اسلام سے کیوں نہ خارج کیاہاں شاید ساقط الوزن کرنے میں اس نے اپنے لئے کچھ رات لگارکھی ہو یعنی انگریزوں کے دکھانے کو اس طرح ہو اورلیڈروں کے سنانے کو یہ کہ آپ دیکھتے نہیں اس میں وزن ہی کہاں ہے یوں ہے: ع
لائل سبجکٹ تم نہ برٹش کے رہو حشمت علی عفی عنہ
کیا خدا کاسخت دشمن بننا آسان سمجھا ہے کیا تمھارے یہاں سے نہ چھپا عــــــہ کہ"اگرکسی مسلمان رئیس نے دباؤ یا خوشامد سے کوئی ایسی کارروائی کی جس سے ثابت ہو کہ وہ دشمنان اسلام کا ساتھ دیتے ہیں تو فورا ان کا شمار مرتدین میں ہوگا اور مرتد کی سزا اسلام کے آئین میں کیا ہے ہر شخص کومعلوم ہے"کیا کوئی ریاست آپ کے نزدیك اسی سے بری ہے کیا اس میں سب سے پیش قدم سلطنت علیہ دکن نہیںکیا اس کے احکام اور چھپے ہوئے فرمان ملاحظہ نہ ہوئےکیا آپ کے لیڈروں میں اسی کے وظیفہ خوار نہیںکیا مدخیرات سے گیارہ گیارہ روپے یومیہ پانے والوں نے اپنا یومیہ بندکرالیاکیا جسے اوروں کے لئے حرام بتاتے ہو آپ خوشی سے کھاتے ہو۔
لیڈروں پر لیڈروں سے مقاطعہ فرض ہے:
بلاپس ہوان کے منہ لگا حرام ان سے نہ چھوٹااورلیڈروں کا منہ کس نے بند کیا ان پر ان لیڈروں سے مقاطعہ واجب تھا یا قرآن مجید بدل کر جو احکام دل سے گھڑے ہیں وہ کس طرح لیڈروں کے لگ بھگ نہیں اوروں کے سر پڑے ہیں یہ قانون کے مستثنیات عامہ ہیںاور جب لیڈر خودہی اپنے کہے پر عامل نہیں تو ان کی چیخ وپکار اوروں سے کیا عمل کرائے گی ۔ ع
اوخویشتن گم ست کرارہبری کند
(وہ تو خود گم ہے کس کی کیار ہبری کرے۔ت)
مانا کہ تم میں وہ بھی ہوں جوان تینوں علتوں سے بری ہیںنہ زمینداری نہ تجارت نہ اجازت کہ مالگزاری یا ابواب یا ٹیکس یا چنگی دینی پڑے اور انگریزوں سے تعلق تعاون پیداہوکر حرمت قطعیہ کا حکم جڑےفرض کردم کہ خود اس سے پاك ہیں نرے مفلس محتاج بے نواز ہیں پھر یہاں تو عام ذرائع رزق یہی ہیںکیمیا تو نہ بناتے ہوں گےاوروں کے سرکھاتے ہوں گےان کا مال انھیں وجوہ سے ہوگا جو تمھارے نزدیك علی الاطلاق حرام ہےتو حرام ہی کھایا یاحرام ہی کمایا۔ہر طرح گرفتارحرام ہی رہےنجات کی صورت بتائے پھر ترك معاملت کی فرضیت گائےاور یہ روپیہ کہ ان جلسوں میں صرف
عــــــہ:دیکھو تقریر صدارت شیخ مشیر حسن قدوائی بیرسٹرایٹ لاء تعلقدار گدیا مطبوعہ لکھنؤ ص ۴۹ یہ بھی مولوی عبدالباری صاحب فرنگی محلی کے ان مسائل میں امام ومتبوع ہیںدیکھو خطبہ صدارت مولوی عبدالباری مطبوعہ لکھنؤ ص ۱۰"میں ان مسائل میں کبھی مشیر حسن صاحب کے خلاف مشورہ نہیں کرتا"آپ بیرسٹر بھی ہیں اور تعلقدار بھیبھلا انگریزوں سے آپ کو کیا تعلق لہذا صرف اسلامی ریاستوں کو مرتد فرمایا۔حشمت علی لکھنوی عفی عنہ
لیڈروں پر لیڈروں سے مقاطعہ فرض ہے:
بلاپس ہوان کے منہ لگا حرام ان سے نہ چھوٹااورلیڈروں کا منہ کس نے بند کیا ان پر ان لیڈروں سے مقاطعہ واجب تھا یا قرآن مجید بدل کر جو احکام دل سے گھڑے ہیں وہ کس طرح لیڈروں کے لگ بھگ نہیں اوروں کے سر پڑے ہیں یہ قانون کے مستثنیات عامہ ہیںاور جب لیڈر خودہی اپنے کہے پر عامل نہیں تو ان کی چیخ وپکار اوروں سے کیا عمل کرائے گی ۔ ع
اوخویشتن گم ست کرارہبری کند
(وہ تو خود گم ہے کس کی کیار ہبری کرے۔ت)
مانا کہ تم میں وہ بھی ہوں جوان تینوں علتوں سے بری ہیںنہ زمینداری نہ تجارت نہ اجازت کہ مالگزاری یا ابواب یا ٹیکس یا چنگی دینی پڑے اور انگریزوں سے تعلق تعاون پیداہوکر حرمت قطعیہ کا حکم جڑےفرض کردم کہ خود اس سے پاك ہیں نرے مفلس محتاج بے نواز ہیں پھر یہاں تو عام ذرائع رزق یہی ہیںکیمیا تو نہ بناتے ہوں گےاوروں کے سرکھاتے ہوں گےان کا مال انھیں وجوہ سے ہوگا جو تمھارے نزدیك علی الاطلاق حرام ہےتو حرام ہی کھایا یاحرام ہی کمایا۔ہر طرح گرفتارحرام ہی رہےنجات کی صورت بتائے پھر ترك معاملت کی فرضیت گائےاور یہ روپیہ کہ ان جلسوں میں صرف
عــــــہ:دیکھو تقریر صدارت شیخ مشیر حسن قدوائی بیرسٹرایٹ لاء تعلقدار گدیا مطبوعہ لکھنؤ ص ۴۹ یہ بھی مولوی عبدالباری صاحب فرنگی محلی کے ان مسائل میں امام ومتبوع ہیںدیکھو خطبہ صدارت مولوی عبدالباری مطبوعہ لکھنؤ ص ۱۰"میں ان مسائل میں کبھی مشیر حسن صاحب کے خلاف مشورہ نہیں کرتا"آپ بیرسٹر بھی ہیں اور تعلقدار بھیبھلا انگریزوں سے آپ کو کیا تعلق لہذا صرف اسلامی ریاستوں کو مرتد فرمایا۔حشمت علی لکھنوی عفی عنہ
کررہے ہو یہ بھی تو اس حرام کاہےسچ کہنا کیا دل میں سمجھ لئے ہو اگرچہ زبان سے نہ کہو کہ ع
مال حرام بود بجائے حرام رفت
اورریل تارڈاك کیا انگریزوں سے معاملت نہیں اس میں تو سب چھوٹے بڑے مبتلا ہو اگر کہو انھیں سہولت کے لئے رکھ چھوڑا ہے تو اعلان کردو کہ ہمارے یہاں سہولت کے لئے حرام روا ہےاگر کہو کہ زمینداری وتجارت چھوڑیں تو کھائیں کیاتو ملازم اگر ملازمتیں چھوڑیں توکھائیں کیاجو جواب تمھارا ہے وہ سب کا ہےغرض یہ نہ چلی نہ چل سکتی ہےنہ تم نے خود اس پرعمل کیانہ کرسکتے ہواس کی پوری تصویر یہی ہے کہ ع
وہ کرتے ہیں اب جو نہ کیا تھا نہ کریں گے
پھر بے معنی چیخ وپکار سے کیاحاصل سوا اس کے کہ ع
مغز ماخورد وحلق خود بدرید(مغز ہمار ا کھایا اورحلق اپنا پھاڑلیا۔ت)
ہندوؤں کی دیگ موافقت سے بانگی کا چاول:
اور بفرض غلط وبفرض باطل اگر سب مسلمان زمیندایاں تجارتیں نوکریاں تمام تعلقات یکسر چھوڑدیں تو کیا تمھارے جگری خیرخواہ جملہ ہنود بھی ایسا ہی کریں گے اور تمھاری طرح نرے ننگے بھوکے رہ جائیں گےحاشا ہر گز نہیںزنہار نہیںاور جو دعوی کرے اس سے بڑھ کر کاذب نہیں مکار نہیںاتحاد ووداد کے جھوٹے بھروں پر بھولے ہو منافقانہ میل پر پھولے ہو سچے ہو تو موازنہ نہ دکھاؤ کہ اگر ایك مسلمان نے ترك کی ہو تو ادھر پچاس ہندؤوں نے نوکری تجارت زمینداری چھوڑدی ہو کہ یہاں مالی نسبت یہی یا اس سے بھی کم ہےاگر نہیں دکھاسکتے توکھل گیاکہ ع
خواب تھا جو کچھ کہ دیکھا جو سنا افسانہ تھا
لاجرم نتیجہ کیا ہوگا یہ کہ تمام اموال کل دولتیں دنیا وی جمیع اعزاز جملہ وجاہتیں صرف ہندوؤں کے ہاتھ میں رہ جائیں اور مسلمان دانے دانے کو محتاج بھیك مانگیں اور نہ پائیںہندو کہ اب انھیں پکائے ڈالتے ہیں جب بے خوف وخطر کچا ہی چبائیں یہ ہے لیڈر صاحبوں کی خیرخواہی یہ ہے حمایت اسلام میں جانکاہیولاحول ولاقوۃ الا باﷲ العلی العظیم۔
ہندو کیوں ملے ہیں اس کا راز:
میں نے اپنی ایك تقریر میں اس ہندو الفت وگاندھی رغبت کا راز بیان کیا تھا جسے بعض احباب نے تحریر میں لیااس کا اعادہ موجب افادہ۔مسلمانوں کار ب جل وعلا فرماتاہے:
مال حرام بود بجائے حرام رفت
اورریل تارڈاك کیا انگریزوں سے معاملت نہیں اس میں تو سب چھوٹے بڑے مبتلا ہو اگر کہو انھیں سہولت کے لئے رکھ چھوڑا ہے تو اعلان کردو کہ ہمارے یہاں سہولت کے لئے حرام روا ہےاگر کہو کہ زمینداری وتجارت چھوڑیں تو کھائیں کیاتو ملازم اگر ملازمتیں چھوڑیں توکھائیں کیاجو جواب تمھارا ہے وہ سب کا ہےغرض یہ نہ چلی نہ چل سکتی ہےنہ تم نے خود اس پرعمل کیانہ کرسکتے ہواس کی پوری تصویر یہی ہے کہ ع
وہ کرتے ہیں اب جو نہ کیا تھا نہ کریں گے
پھر بے معنی چیخ وپکار سے کیاحاصل سوا اس کے کہ ع
مغز ماخورد وحلق خود بدرید(مغز ہمار ا کھایا اورحلق اپنا پھاڑلیا۔ت)
ہندوؤں کی دیگ موافقت سے بانگی کا چاول:
اور بفرض غلط وبفرض باطل اگر سب مسلمان زمیندایاں تجارتیں نوکریاں تمام تعلقات یکسر چھوڑدیں تو کیا تمھارے جگری خیرخواہ جملہ ہنود بھی ایسا ہی کریں گے اور تمھاری طرح نرے ننگے بھوکے رہ جائیں گےحاشا ہر گز نہیںزنہار نہیںاور جو دعوی کرے اس سے بڑھ کر کاذب نہیں مکار نہیںاتحاد ووداد کے جھوٹے بھروں پر بھولے ہو منافقانہ میل پر پھولے ہو سچے ہو تو موازنہ نہ دکھاؤ کہ اگر ایك مسلمان نے ترك کی ہو تو ادھر پچاس ہندؤوں نے نوکری تجارت زمینداری چھوڑدی ہو کہ یہاں مالی نسبت یہی یا اس سے بھی کم ہےاگر نہیں دکھاسکتے توکھل گیاکہ ع
خواب تھا جو کچھ کہ دیکھا جو سنا افسانہ تھا
لاجرم نتیجہ کیا ہوگا یہ کہ تمام اموال کل دولتیں دنیا وی جمیع اعزاز جملہ وجاہتیں صرف ہندوؤں کے ہاتھ میں رہ جائیں اور مسلمان دانے دانے کو محتاج بھیك مانگیں اور نہ پائیںہندو کہ اب انھیں پکائے ڈالتے ہیں جب بے خوف وخطر کچا ہی چبائیں یہ ہے لیڈر صاحبوں کی خیرخواہی یہ ہے حمایت اسلام میں جانکاہیولاحول ولاقوۃ الا باﷲ العلی العظیم۔
ہندو کیوں ملے ہیں اس کا راز:
میں نے اپنی ایك تقریر میں اس ہندو الفت وگاندھی رغبت کا راز بیان کیا تھا جسے بعض احباب نے تحریر میں لیااس کا اعادہ موجب افادہ۔مسلمانوں کار ب جل وعلا فرماتاہے:
" یایہا الذین امنوا لا تتخذوا بطانۃ من دونکم لا یا لونکم خبلا ودوا ماعنتم قد بدت البغضاء من افوہہم وما تخفی صدورہم اکبر قد بینا لکم الایت ان کنتم تعقلون﴿۱۱۸﴾ اے ایمان والو! کسی کافر کو اپنا ہم راز نہ بناؤ وہ تمھارے نقصان رسانی میں کمی نہ کریں گےان کی دلی تمناہے تمھارا مشقت میں پڑنادشمنی ان کے مونہوں سے کھل چکی ہے اور وہ جو ان کے سینوں میں دبی ہے بہت بڑی ہے بیشك ہم نے تمھیں صاف صاف نشانیاں بتادیں اگر عقل رکھتے ہو۔
قرآن عظیم گواہ ہے اور اس سے بہتر کون گواہ" ومن اصدق من اللہ قیلا ﴿۱۲۲﴾" (اور اﷲ سے زیادہ کس کی بات سچی ہے۔ت) کہ مشرکین ہر گز ہماری خیرخواہی نہ کریں گےخیر خواہی درکنار کبھی بدخواہی میں گئی نہ کریں گےپھر انھیں یاروانصار بنانا ان سے وداد واتحاد منانا ان کے میل سے نفع کی امید رکھنا صراحۃ قرآن عظیم کی تکذیب ہے یانہیں ہےاور ضرور ہے" و لکن لا تبصرون ﴿۸۵﴾" (مگر تمھیں نگاہ نہیں۔ت) آؤ اب ہم تمھیں قرآن عظیم کی تصدیق دکھائیں اور ان کی طرف سے اس میل اورمیل کا راز بتائیںدشمن اپنے دشمن کے لئے تین باتیں چاہتاہے:
اول: اس کی موت کہ جھگڑا ہی ختم ہو۔
دوم: یہ نہ ہو تو اس کی جلاوطنی کہ اپنے پاس نہ رہے۔
سوم: یہ بھی نہ ہو سکے تو اخیر درجہ اس کی بے پری کہ عاجز کررہے۔
مخالف نے یہ تینوں درجے ان پر طے کردئے اور ان کی آنکھیں نہیں کھلتیں خیرخواہی سمجھے جاتے ہیں
اولا: جہاد کے اشارے ہوئے اس کا کھلا نتیجہ ہندوستان کے مسلمانوں کا فنا ہونا تھاثانیا: جب یہ نہ بنی ہجرت کا بھرادیاکہ کسی طرح یہ دفع ہو ملك ہماری کبڈیاں کھیلنے کو رہ جائے یہ اپنی جائدادیں کوڑیوں کے مول ہمیں یایوں ہی چھوڑ جائیںبہرحال ہمارے ہاتھ آئیں ان کی مساجد ومزارات اولیاء ہماری پامالی کو رہ جائیںثالثا: جب یہ بھی نہ نبھی تو ترك موالات کا جھوٹا حیلہ کرکے ترك معاملت پر ابھارا ہے کہ نوکریاں چھوڑدو کسی کو نسل کمیٹی میں داخل نہ ہومالگزاری ٹیکس کچھ نہ دوخطابات واپس کردو امر اخیر تو صرف اس لئے ہے کہ ظاہری نام کام دنیوی اعزاز بھی کسی مسلمان کے لئے نہ رہے اور پہلے تین اس لئے
قرآن عظیم گواہ ہے اور اس سے بہتر کون گواہ" ومن اصدق من اللہ قیلا ﴿۱۲۲﴾" (اور اﷲ سے زیادہ کس کی بات سچی ہے۔ت) کہ مشرکین ہر گز ہماری خیرخواہی نہ کریں گےخیر خواہی درکنار کبھی بدخواہی میں گئی نہ کریں گےپھر انھیں یاروانصار بنانا ان سے وداد واتحاد منانا ان کے میل سے نفع کی امید رکھنا صراحۃ قرآن عظیم کی تکذیب ہے یانہیں ہےاور ضرور ہے" و لکن لا تبصرون ﴿۸۵﴾" (مگر تمھیں نگاہ نہیں۔ت) آؤ اب ہم تمھیں قرآن عظیم کی تصدیق دکھائیں اور ان کی طرف سے اس میل اورمیل کا راز بتائیںدشمن اپنے دشمن کے لئے تین باتیں چاہتاہے:
اول: اس کی موت کہ جھگڑا ہی ختم ہو۔
دوم: یہ نہ ہو تو اس کی جلاوطنی کہ اپنے پاس نہ رہے۔
سوم: یہ بھی نہ ہو سکے تو اخیر درجہ اس کی بے پری کہ عاجز کررہے۔
مخالف نے یہ تینوں درجے ان پر طے کردئے اور ان کی آنکھیں نہیں کھلتیں خیرخواہی سمجھے جاتے ہیں
اولا: جہاد کے اشارے ہوئے اس کا کھلا نتیجہ ہندوستان کے مسلمانوں کا فنا ہونا تھاثانیا: جب یہ نہ بنی ہجرت کا بھرادیاکہ کسی طرح یہ دفع ہو ملك ہماری کبڈیاں کھیلنے کو رہ جائے یہ اپنی جائدادیں کوڑیوں کے مول ہمیں یایوں ہی چھوڑ جائیںبہرحال ہمارے ہاتھ آئیں ان کی مساجد ومزارات اولیاء ہماری پامالی کو رہ جائیںثالثا: جب یہ بھی نہ نبھی تو ترك موالات کا جھوٹا حیلہ کرکے ترك معاملت پر ابھارا ہے کہ نوکریاں چھوڑدو کسی کو نسل کمیٹی میں داخل نہ ہومالگزاری ٹیکس کچھ نہ دوخطابات واپس کردو امر اخیر تو صرف اس لئے ہے کہ ظاہری نام کام دنیوی اعزاز بھی کسی مسلمان کے لئے نہ رہے اور پہلے تین اس لئے
کہ ہر صیغہ وہر محکمہ میں صرف ہنود رہ جائیںجہاں ہنود کا غلبہ ہوتاہے حقوق اسلام پر جو گزرتی ہے ظاہر ہےجب تنہاوہی رہ جائیں گے تو اس وقت کااندازہ کیا ہوسکتاہےمالگزاری وغیرہ نہ دینے پر کیا انگریز چپ بیٹھے رہیں گے ہر گز نہیںقر قیاں ہو ں گی تعلیقےہوں گےجائدادیں نیلام ہوں گی اور ہندوخریدیں گےنتیجہ یہ کہ مسلمان صرف قلی بن کر رہ جائیںیہ تیسرا درجہ ہے دیکھا تم نے قرآن عظیم کا ارشاد کہ"وہ تمھاری بدخواہی میں گئی نہ کریں گے"ان کی دلی تمنا ہے کہ تم مشقت میں پڑو والعیاذباﷲ تعالی۔
منکر پر رد و انکار کس حالت میں فرض ہے اور کہاں اس کا حکم نہیں:
(۱۲)منکر کا ازالہ ضرور فرض ہے اپنے مراتب ثلاثہ پر جن میں تیسرا مرتبہ کہ تغییر بالقلب ہے یعنی دل سے اسے برا جاننا مطلقا ہرحال میں فرض عین ہےاو رپہلے دونوں بشرط قدرت علی الترتیب فرض کفایہ مگر دوسرا یعنی تغییر باللسان اس حالت میں ہر گز فرض نہیں کہ مرتکب اس کی شناعت سے خود آگاہ ہوجان بوجھ کر اس کا مرتکب ہواور امید واثق نہ ہو کہ منع کئے سے باز رہے گا ایسی حالت میں اس زبان یا قلم سے کہ وہ بھی ایك زبان ہے ردوانکار اصلا واجب نہیں رہتا خصوصا جبکہ مظنہ فتنہ وشورش ہو۔فتاوی امام قاضی خاں وفتاوی عالمگیریہ میں ہے:
انما یجب الامر بالمعروف اذا علم انہم یستمعون ۔ امربالمعروف اسی وقت واجب ہے جب یہ جانے کہ وہ کان لگا کر سنیں گے۔
نصاب الاحتساب میں ہے:
المقصودمنہ الائتمار فاذا فات ذلك لایجب ۔ امر بالمعروف سے مقصود تو یہ ہے کہ لوگ مانیں جب اس کی امید نہ ہو تو وہ واجب نہیں۔
بستان امام فقیہ ابواللیث ومحیط وہندیہ وغیرہما میں ہے:
ان کان یعلم باکبررأیہ انہ لو امر بالمعروف یقبلون ذلك منہ و اگر اپنے غالب گمان سے جانتا ہو کہ امر بالمعروف کرے گا تو یہ لوگ مان لیں گے اور بری بات سے
منکر پر رد و انکار کس حالت میں فرض ہے اور کہاں اس کا حکم نہیں:
(۱۲)منکر کا ازالہ ضرور فرض ہے اپنے مراتب ثلاثہ پر جن میں تیسرا مرتبہ کہ تغییر بالقلب ہے یعنی دل سے اسے برا جاننا مطلقا ہرحال میں فرض عین ہےاو رپہلے دونوں بشرط قدرت علی الترتیب فرض کفایہ مگر دوسرا یعنی تغییر باللسان اس حالت میں ہر گز فرض نہیں کہ مرتکب اس کی شناعت سے خود آگاہ ہوجان بوجھ کر اس کا مرتکب ہواور امید واثق نہ ہو کہ منع کئے سے باز رہے گا ایسی حالت میں اس زبان یا قلم سے کہ وہ بھی ایك زبان ہے ردوانکار اصلا واجب نہیں رہتا خصوصا جبکہ مظنہ فتنہ وشورش ہو۔فتاوی امام قاضی خاں وفتاوی عالمگیریہ میں ہے:
انما یجب الامر بالمعروف اذا علم انہم یستمعون ۔ امربالمعروف اسی وقت واجب ہے جب یہ جانے کہ وہ کان لگا کر سنیں گے۔
نصاب الاحتساب میں ہے:
المقصودمنہ الائتمار فاذا فات ذلك لایجب ۔ امر بالمعروف سے مقصود تو یہ ہے کہ لوگ مانیں جب اس کی امید نہ ہو تو وہ واجب نہیں۔
بستان امام فقیہ ابواللیث ومحیط وہندیہ وغیرہما میں ہے:
ان کان یعلم باکبررأیہ انہ لو امر بالمعروف یقبلون ذلك منہ و اگر اپنے غالب گمان سے جانتا ہو کہ امر بالمعروف کرے گا تو یہ لوگ مان لیں گے اور بری بات سے
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ الباب السابع عشر فی الغناء واللہوا لخ نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۳۵۳
نصاب الاحتساب
نصاب الاحتساب
یمتنعون عن المنکر فالامرواجب لایسعہ ترکہ ولو علم باکبررأیہ انہ لو امرھم بذلك قذفوہ وشتموہ فترکہ افضل ولوعلم انہم لایقبلون منہ ولایخاف منہ ضربا ولاشتمافھو بالخیار والامر افضل ۔(ملخصا) بازآئیں گے تو امر بالمعروف واجب ہے اسے چھوڑنے کی گنجائش نہیں اور اگر اپنے غالب گمان سے جانتاہو کہ امر بالمعروف کرے گا تو یہ لوگ پتھر پھینکیں گے گالی دیں گے تو اس وقت امربالمعروف نہ کرنا ہی افضل ہے اور اگر جانیں مانیں گے تو نہیں مگر ان سے گالی کابھی اندیشہ نہیں تواختیار ہے چاہے امر بالمعروف کرے یا نہ کرے اور کرنا بہترہے۔
وجیز امام کردری وعالمگیریہ میں ہے:
اللحن حرام بلاخلاف فاذاقرأ بالالحان و سمعہ انسان ان علم انہ ان لقنہ الصواب لایدخل الوحشۃ یلقنہ وان دخلہ الوحشۃ فھو فی سعۃ ان لا یلقنہ۔فان کل امر بمعروف یتضمن منکر ایسقط وجوبہ ۔ قرآن عظیم کا غلط پڑھنا بالاتفاق حرام ہے تو اگر کوئی شخص غلط پڑھ رہا ہو اور دوسرا سنے اگر یہ سننے والا جانے کہ اسے صحیح بتاؤں گا تو اسے وحشت پیدا نہ ہوگی تو بتائےاوراگر بتانے سے اسے وحشت پیدا ہوتو اسے گنجائش ہے کہ نہ بتائے کہ جو امربالمعروف کسی منکر کومتضمن ہو اس کا وجوب ساقط ہوجاتا ہے۔
مثلا کوئی مسلمان نہیں جانتا کہ ناحق قتل یاغارت مسلم حرام وموجب عذاب نار ہےکون نہیں جانتاکہ اس میں کسی طرح کی اعانت مطلقا حرام ومستوجب غضب جبارہےکون نہیں جانتاکہ زناحرام ہےکون نہیں جانتا کہ شراب پینا سخت خبیث کام ہے اور ہزاروں لاکھوں اس کے مرتکب ہیںپھر کبھی نہ سنا ہوگا کہ علماء یاا ن کی تحریریں ہر چکلے ہر بھٹی کاگشت کریں اصلا ہر گز تمام جہان میں کوئی عالم بلکہ کوئی عاقل اس کا قائل نہیںاورخود ان لیڈروں میں جو جامہ مولویت میں ہیں وہ بھی اس کے عامل نہیںآخریہ اس لئے کہ وہ لوگ دانستہ مرتکب ہیںاور مظنون نہیں کہ منع سے مانیں بلکہ شورش و شرکا احتمال بیشتر کا ایسی جگہ جب تغییر بالید مقدور نہیں تغییر باللسان کچھ ضرور نہیںغیر ضروری اور اس پر طرہ یہ کہ نامفید ایسا شور مچانا اور بلاوجہ شرعی شورشوں کے لئے مفید سپر ہوجانا کون سی شریعت نے واجب ماناایسے ہی مواقع کے لئے ارشاد الہی ہے:
وجیز امام کردری وعالمگیریہ میں ہے:
اللحن حرام بلاخلاف فاذاقرأ بالالحان و سمعہ انسان ان علم انہ ان لقنہ الصواب لایدخل الوحشۃ یلقنہ وان دخلہ الوحشۃ فھو فی سعۃ ان لا یلقنہ۔فان کل امر بمعروف یتضمن منکر ایسقط وجوبہ ۔ قرآن عظیم کا غلط پڑھنا بالاتفاق حرام ہے تو اگر کوئی شخص غلط پڑھ رہا ہو اور دوسرا سنے اگر یہ سننے والا جانے کہ اسے صحیح بتاؤں گا تو اسے وحشت پیدا نہ ہوگی تو بتائےاوراگر بتانے سے اسے وحشت پیدا ہوتو اسے گنجائش ہے کہ نہ بتائے کہ جو امربالمعروف کسی منکر کومتضمن ہو اس کا وجوب ساقط ہوجاتا ہے۔
مثلا کوئی مسلمان نہیں جانتا کہ ناحق قتل یاغارت مسلم حرام وموجب عذاب نار ہےکون نہیں جانتاکہ اس میں کسی طرح کی اعانت مطلقا حرام ومستوجب غضب جبارہےکون نہیں جانتاکہ زناحرام ہےکون نہیں جانتا کہ شراب پینا سخت خبیث کام ہے اور ہزاروں لاکھوں اس کے مرتکب ہیںپھر کبھی نہ سنا ہوگا کہ علماء یاا ن کی تحریریں ہر چکلے ہر بھٹی کاگشت کریں اصلا ہر گز تمام جہان میں کوئی عالم بلکہ کوئی عاقل اس کا قائل نہیںاورخود ان لیڈروں میں جو جامہ مولویت میں ہیں وہ بھی اس کے عامل نہیںآخریہ اس لئے کہ وہ لوگ دانستہ مرتکب ہیںاور مظنون نہیں کہ منع سے مانیں بلکہ شورش و شرکا احتمال بیشتر کا ایسی جگہ جب تغییر بالید مقدور نہیں تغییر باللسان کچھ ضرور نہیںغیر ضروری اور اس پر طرہ یہ کہ نامفید ایسا شور مچانا اور بلاوجہ شرعی شورشوں کے لئے مفید سپر ہوجانا کون سی شریعت نے واجب ماناایسے ہی مواقع کے لئے ارشاد الہی ہے:
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیۃ الباب السابع فی الغناء واللہوالخ نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۵۳۔۳۵۲
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الکراھیۃ الباب الرابع فی الصلوٰۃ الخ نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۳۱۷
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الکراھیۃ الباب الرابع فی الصلوٰۃ الخ نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۳۱۷
" یایہا الذین امنوا علیکم انفسکم لا یضرکم من ضل اذا اہتدیتم " اسے ایمان والو! تم اپنے آپ کو سنھبالے رہو دوسروں کا گمراہ ہونا تمھیں نقصان نہ دے گا جب تم راہ پر ہو۔
ہاں اگر کسی منکر شرعی پر گمراہان گمراہ گرفرقہ بندی کریں اوراسے بزور زبان وزور وبہتان معروف شرعی کاجامہ پہنائیں اور اس کےلئے آیات واحادیث واقوال ائمہ کی تحریف وتصحیف منائیں احکام الہیہ کو کایا پلٹ کرکے حرام کو حلال حلال کو حرام دکھائیںجیسا اب گاندھی مت اور گاندھوی امت مسائل موالات مشرکینومعاہدہ مشرکین واستعانت مشرکینودخول مشرکین فی المساجد وغیرہا میں کررہی ہےتو اس وقت ان منکرات کبری وواہیات عظمی کا ازالہ فرض اعظم ہوگاخطیب بغدادی جامع میں راوی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اذا ظھرت الفتن اوقال البدع فلیظھر العالم علمہ ومن لم یفعل ذلك فعلیہ لعنۃ اﷲ والملئکۃ والناس اجمعین۔لایقبل اﷲ منہ صرفا ولاعدلا ۔ جب فتنے یا فرمایا بدمذہبیاں ظاہر ہوں تو فرض ہے کہ عالم اپنا علم ظاہر کرے اور جو ایسا نہ کرے اس پر اﷲ اور فرشتوں اورآدمیوں سب کی لعنتاﷲ نہ اس کافرض قبول کرے نہ نفل۔
یہ سعی ان معاندوں کےلئے نہیں جو دانستہ تغییر کلام اﷲ وتبدیل احکام اﷲ کررہے ہیں بلکہ ان شبہات کے کشف کوہے جن سے وہ احکام الہیہ کو بدلتے اور عوام مسلمین کو چھلتے ہیں اس امید پر کہ مولی عزوجل چاہے تو جو ان کے دھوکے میں آگئے حق کی طرف واپس آئیں او رجن پر ہنوز ان کا فریب نہ چلا بعونہ تعالی حفظ وپناہ پائیں" ان ذلک علی اللہ یسیر ﴿۱۹﴾ " ۔
" ان اللہ علی کل شیء قدیر﴿۲۰﴾" (بیشك یہ اﷲ کو آسان ہےبیشك اﷲ سب کچھ کرسکتاہے۔ت)حضور پرنور سید یوم النشور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
واﷲ لان یھدی اﷲ بك رجلا خدا کی قسم بیشك یہ بات کہ اﷲ تیرے سبب سے
ہاں اگر کسی منکر شرعی پر گمراہان گمراہ گرفرقہ بندی کریں اوراسے بزور زبان وزور وبہتان معروف شرعی کاجامہ پہنائیں اور اس کےلئے آیات واحادیث واقوال ائمہ کی تحریف وتصحیف منائیں احکام الہیہ کو کایا پلٹ کرکے حرام کو حلال حلال کو حرام دکھائیںجیسا اب گاندھی مت اور گاندھوی امت مسائل موالات مشرکینومعاہدہ مشرکین واستعانت مشرکینودخول مشرکین فی المساجد وغیرہا میں کررہی ہےتو اس وقت ان منکرات کبری وواہیات عظمی کا ازالہ فرض اعظم ہوگاخطیب بغدادی جامع میں راوی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اذا ظھرت الفتن اوقال البدع فلیظھر العالم علمہ ومن لم یفعل ذلك فعلیہ لعنۃ اﷲ والملئکۃ والناس اجمعین۔لایقبل اﷲ منہ صرفا ولاعدلا ۔ جب فتنے یا فرمایا بدمذہبیاں ظاہر ہوں تو فرض ہے کہ عالم اپنا علم ظاہر کرے اور جو ایسا نہ کرے اس پر اﷲ اور فرشتوں اورآدمیوں سب کی لعنتاﷲ نہ اس کافرض قبول کرے نہ نفل۔
یہ سعی ان معاندوں کےلئے نہیں جو دانستہ تغییر کلام اﷲ وتبدیل احکام اﷲ کررہے ہیں بلکہ ان شبہات کے کشف کوہے جن سے وہ احکام الہیہ کو بدلتے اور عوام مسلمین کو چھلتے ہیں اس امید پر کہ مولی عزوجل چاہے تو جو ان کے دھوکے میں آگئے حق کی طرف واپس آئیں او رجن پر ہنوز ان کا فریب نہ چلا بعونہ تعالی حفظ وپناہ پائیں" ان ذلک علی اللہ یسیر ﴿۱۹﴾ " ۔
" ان اللہ علی کل شیء قدیر﴿۲۰﴾" (بیشك یہ اﷲ کو آسان ہےبیشك اﷲ سب کچھ کرسکتاہے۔ت)حضور پرنور سید یوم النشور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
واﷲ لان یھدی اﷲ بك رجلا خدا کی قسم بیشك یہ بات کہ اﷲ تیرے سبب سے
حوالہ / References
القرآن الکریم ۵ /۱۰۵
الجامع لاخلاق الراوی وآداب السامع حدیث ۱۳۶۵ دارالکتب العلمیہ بیروت ص۳۰۸
القرآن الکریم ۲۹ /۱۹
القرآن الکریم ۲۹ /۲۰
الجامع لاخلاق الراوی وآداب السامع حدیث ۱۳۶۵ دارالکتب العلمیہ بیروت ص۳۰۸
القرآن الکریم ۲۹ /۱۹
القرآن الکریم ۲۹ /۲۰
واحد اخیرلك من ان یکون لك حمر النعم ۔رواہ البخاری ومسلم عن سہل بن سعدی رضی اﷲ تعالی عنہ جعل اﷲ لنا السہل والسعدی فی القبل والبعد وصلی اﷲ تعالی علی سیدنا والہ وصحبہ وابنہ وحزبہ وبارك وسلم۔ ایك شخص کو ہدایت فرمادے تیرے لئے سرخ اونٹوں کا مالك ہونے سے بہتر ہےیہ حدیث بخاری ومسلم نے سہل بن سعد رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کی(اﷲ تعالی انھیں ہمارے اگلے پچھلوں کے لئے سہل اور مبارك بنائے وصلی اﷲ تعالی علی سیدنا وآلہ وصحبہ وابنہ وحزبہ وبارك وسلم۔ت)
سنانی جہاد کےاحکام و اقسام کا ذکر
تنبیہ: جہاد کہ اعظم وجوہ ازالہ منکر ہے اسی کی تین قسمیں ہیں :
(۱)جنانی (۲)لسانی (۳)
جہاد جنانی: یعنی کفر وبدعت وفسق کو دل سے براجاننا جو ہر کافر مبتدع وفاسق سے ہے اور ہر مسلمان کہ اسلام پر قائم ہو یہ کرتاہے مگر جنھوں نے اسلام کو سلام اور اپنے آپ کو مشرکین وکفار کا غلام کیا ان کی راہ جدا ہے ان کا دین غیر دین خداہے۔
لسانی: کہ زبان وقلم سے ردوہ ابھی سن چکے کہ ایسوں ہی پر سب سے اہم وآکدیہ بحمداﷲ تعالی خادمان شرع ہمیشہ سے کررہے ہیں اور اﷲ ورسول کی مدد شامل ہو تو دم آخر تك کریں گے۱وہابیہ۲نیاچرہ۳دیوبندیہ۴قادیانیہ ۵روافض ۶غیر مقلدین۷ندویہ۸ اریہ ۸نصاری وغیرہم سے کیا اوراب ان گاندھویہ سے بھی وہی برسرپیکار ہیں حق کی طرف بلاتے اور باطل کوباطل کردکھاتے اور مسلمانوں کو گمراہ گروں کے شر سے بچاتے ہیں وﷲ الحمد آگے ہدایت رب عزوجل کے ہاتھ ہے۔
رہا جہاد سنانی: ہم اوپر بیان کرچکے ہیں کہ یہ نصوص قرآن عظیم ہم مسلمانان ہند کو جہاد برپا کرنے کاحکم نہیں اور اس کا واجب بتانے والا مسلمان کا بدخواہ مبین۔
یہاں کے مسلمانوں کو جہاد کا حکم نہیں اور واقعہ کربلا سے لیڈران کا استناد اغوائے مسلمین:
بہکانے والے یہاں واقعہ کربلا پیش کرتے ہیں یہ ان کا محض اغواہے۔اولا اس لڑائی میں ہر گز حضرت
سنانی جہاد کےاحکام و اقسام کا ذکر
تنبیہ: جہاد کہ اعظم وجوہ ازالہ منکر ہے اسی کی تین قسمیں ہیں :
(۱)جنانی (۲)لسانی (۳)
جہاد جنانی: یعنی کفر وبدعت وفسق کو دل سے براجاننا جو ہر کافر مبتدع وفاسق سے ہے اور ہر مسلمان کہ اسلام پر قائم ہو یہ کرتاہے مگر جنھوں نے اسلام کو سلام اور اپنے آپ کو مشرکین وکفار کا غلام کیا ان کی راہ جدا ہے ان کا دین غیر دین خداہے۔
لسانی: کہ زبان وقلم سے ردوہ ابھی سن چکے کہ ایسوں ہی پر سب سے اہم وآکدیہ بحمداﷲ تعالی خادمان شرع ہمیشہ سے کررہے ہیں اور اﷲ ورسول کی مدد شامل ہو تو دم آخر تك کریں گے۱وہابیہ۲نیاچرہ۳دیوبندیہ۴قادیانیہ ۵روافض ۶غیر مقلدین۷ندویہ۸ اریہ ۸نصاری وغیرہم سے کیا اوراب ان گاندھویہ سے بھی وہی برسرپیکار ہیں حق کی طرف بلاتے اور باطل کوباطل کردکھاتے اور مسلمانوں کو گمراہ گروں کے شر سے بچاتے ہیں وﷲ الحمد آگے ہدایت رب عزوجل کے ہاتھ ہے۔
رہا جہاد سنانی: ہم اوپر بیان کرچکے ہیں کہ یہ نصوص قرآن عظیم ہم مسلمانان ہند کو جہاد برپا کرنے کاحکم نہیں اور اس کا واجب بتانے والا مسلمان کا بدخواہ مبین۔
یہاں کے مسلمانوں کو جہاد کا حکم نہیں اور واقعہ کربلا سے لیڈران کا استناد اغوائے مسلمین:
بہکانے والے یہاں واقعہ کربلا پیش کرتے ہیں یہ ان کا محض اغواہے۔اولا اس لڑائی میں ہر گز حضرت
حوالہ / References
صحیح البخاری کتاب الجہاد قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۴۱۳۔۴۲۲،صحیح مسلم با ب من فضائل علی ابن ابی طالب قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۲۷۹
امام رضی اﷲ تعالی عنہ کی طرف سے پہل نہ تھی امام نے خبیث کوفیوں کے وعدہ پر قصد فرمایا تھا جب ان غداروں نے بد عہدی کی قصد رجوع فرمایا اور جب سے شروع جنگ تك اسے بارباراحباب واعداء سب پر اظہار فرمایا۔
(ا)جب حر بن یزید ریاحی تمیمی رحمہ اﷲ تعالی اول بارہزار سواروں کے ساتھ حضرت امام عالی مقام رضی اﷲ تعالی عنہ کے مزاحم ہوئے امام نے خطبہ فرمایا:"اے لوگو! میں تمھارا بلایا آیاہوںتمھارے ایلچی اور خطوط آئے کہ تشریف لائیے ہم بے امام ہیںمیں آیااب تم اگر عہد پر قائم ہو تومیں تمھارے شہر میں جلوہ فرماہوں"وان لم تفعلوا وکنتم بمقدمی کارھین انصرفت عنکم الی المکان الذی اقبلت منہ الیکم "اوراگر تم عہد پر نہ رہو یا میرا تشریف لانا تمھیں ناپسند ہو تو میں جہاں سے آیا وہیں واپس جاؤں"وہ خاموش رہے۔
(ب)پھر بعدنماز عصر خطبہ فرمایا اوراس کے اخر میں بھی وہی ارشاد کیا کہ"ان انتم کرھتمونا انصرفت عنکم اگر تم ہمیں ناپسند رکھتے ہو میں واپس جاؤںحرنے کہاہمیں تویہ حکم ہے کہ آپ سے جدا نہ ہوں جب تك ابن زیاد کے پاس کوفے نہ پہنچادیں۔
(ج)امام نے اس پر بھی ہمراہیوں کو معاودت کاحکم دیا وہ بقصد واپسی سوار ہوئے حر نے واپس نہ ہونے دیا۔
(د)جب نینوی پہنچے حر کے نام ابن زیاد خبیث کا خط آیا کہ حسین کو پٹیر میدان میں اتاروجہاں پانی نہ ہو اور یہ میرا ایلچی تمھارے ساتھ رہے گا کہ تم میرا حکم بجالاتے ہو یانہیں۔حرنے حضرت امام کوناپاك خط کا مضمون سنایا اور ایسی ہی جگہ اترنے پر مجبور کیافدائیاں امام سے زہیر بن القین رحمہ اﷲ تعالی نے عرض کی: اے ابن رسول اﷲ ! آگے جو لشکر آنے والے ہیں وہ ان سے بہت زائد ہیں ہمیں اذن دیجئے کہ ان سے لڑیںفرمایا:"ماکنت لابدأھم بالقتال "میں ان سے قتال کی پہل کرنے کونہیں۔
(ہ)جب خبیث ابن طیب یعنی ابن سعد اپنا لشکر لے پہنچا حضرت امام سے دریافت کیا کیسے آئے فرمایا: تمھارے شہر والوں نے بلایا تھا"فامااذکرھونی فانی انصرف عنہم "اب کہ میں انھیں ناگوار ہوں واپس جاتاہوںابن سعدنے یہ ارشاد ابن زیاد کو لکھااس خبیث نے نہ ماناقاتلہ اﷲ ۔
(و)شب کو ابن سعد سے خلوت میں گفتگو ہوئی اس میں بھی حضرت امام نے فرمایا:"دعونی
(ا)جب حر بن یزید ریاحی تمیمی رحمہ اﷲ تعالی اول بارہزار سواروں کے ساتھ حضرت امام عالی مقام رضی اﷲ تعالی عنہ کے مزاحم ہوئے امام نے خطبہ فرمایا:"اے لوگو! میں تمھارا بلایا آیاہوںتمھارے ایلچی اور خطوط آئے کہ تشریف لائیے ہم بے امام ہیںمیں آیااب تم اگر عہد پر قائم ہو تومیں تمھارے شہر میں جلوہ فرماہوں"وان لم تفعلوا وکنتم بمقدمی کارھین انصرفت عنکم الی المکان الذی اقبلت منہ الیکم "اوراگر تم عہد پر نہ رہو یا میرا تشریف لانا تمھیں ناپسند ہو تو میں جہاں سے آیا وہیں واپس جاؤں"وہ خاموش رہے۔
(ب)پھر بعدنماز عصر خطبہ فرمایا اوراس کے اخر میں بھی وہی ارشاد کیا کہ"ان انتم کرھتمونا انصرفت عنکم اگر تم ہمیں ناپسند رکھتے ہو میں واپس جاؤںحرنے کہاہمیں تویہ حکم ہے کہ آپ سے جدا نہ ہوں جب تك ابن زیاد کے پاس کوفے نہ پہنچادیں۔
(ج)امام نے اس پر بھی ہمراہیوں کو معاودت کاحکم دیا وہ بقصد واپسی سوار ہوئے حر نے واپس نہ ہونے دیا۔
(د)جب نینوی پہنچے حر کے نام ابن زیاد خبیث کا خط آیا کہ حسین کو پٹیر میدان میں اتاروجہاں پانی نہ ہو اور یہ میرا ایلچی تمھارے ساتھ رہے گا کہ تم میرا حکم بجالاتے ہو یانہیں۔حرنے حضرت امام کوناپاك خط کا مضمون سنایا اور ایسی ہی جگہ اترنے پر مجبور کیافدائیاں امام سے زہیر بن القین رحمہ اﷲ تعالی نے عرض کی: اے ابن رسول اﷲ ! آگے جو لشکر آنے والے ہیں وہ ان سے بہت زائد ہیں ہمیں اذن دیجئے کہ ان سے لڑیںفرمایا:"ماکنت لابدأھم بالقتال "میں ان سے قتال کی پہل کرنے کونہیں۔
(ہ)جب خبیث ابن طیب یعنی ابن سعد اپنا لشکر لے پہنچا حضرت امام سے دریافت کیا کیسے آئے فرمایا: تمھارے شہر والوں نے بلایا تھا"فامااذکرھونی فانی انصرف عنہم "اب کہ میں انھیں ناگوار ہوں واپس جاتاہوںابن سعدنے یہ ارشاد ابن زیاد کو لکھااس خبیث نے نہ ماناقاتلہ اﷲ ۔
(و)شب کو ابن سعد سے خلوت میں گفتگو ہوئی اس میں بھی حضرت امام نے فرمایا:"دعونی
حوالہ / References
تاریخ الطبری ثم دخلت سنۃ احدی وستین دارالقلم بیروت الجزء السادس ۶/ ۲۲۸
تاریخ الطبری ثم دخلت سنۃ احدی وستین دارالقلم بیروت الجزء السادس ۶/ ۲۲۸
تاریخ الطبری ثم دخلت سنۃ احدی وستین دارالقلم بیروت الجزء السادس ۶/ ۲۳۲
تاریخ الطبری ثم دخلت سنۃ احدی وستین دارالقلم بیروت الجزء السادس ۶/ ۲۳۴
تاریخ الطبری ثم دخلت سنۃ احدی وستین دارالقلم بیروت الجزء السادس ۶/ ۲۲۸
تاریخ الطبری ثم دخلت سنۃ احدی وستین دارالقلم بیروت الجزء السادس ۶/ ۲۳۲
تاریخ الطبری ثم دخلت سنۃ احدی وستین دارالقلم بیروت الجزء السادس ۶/ ۲۳۴
ارجع الی المکان الذی اقبلت منہ "مجھے چھوڑو کہ میں مدینہ طیبہ واپس جاؤںابن سعد نے ابن زیاد کولکھا اس باروہ راضی ہواتھا کہ شمر مردود خبیث نے بازرکھا۔
(ز)عین معرکہ میں قتال سے پہلے فرمایا:
ایھاالناس اذکرھتمونی فدعونی انصرف الی مأمنی من الارض ۔ اے لوگو! جبکہ تم مجھے پسند نہیں کرتے توچھوڑو کہ اپنی امن کی جگہ چلا جاؤں۔
اشقیاء نے نہ ماناغرض جب سے برابر قصد عود رہا مگر ممکن نہ ہوا کہ منظور رب یونہی تھاجنت آراستہ ہوچکی تھی اپنے دولھا کا انتظار کررہی تھیوصال محبوب حقیقی کی گھڑی آلگی تھی تو ہر گز لڑائی میں امام کی طرف سے پہل نہ تھی ان خبیثوں ہی نے مجبور کیااب دوصورتیں تھیں یا بخوف جان اس پلید کی وہ ملعون بیعت قبول کی جاتی کہ یزید کا حکم ماننا ہوگا اگرچہ خلاف قرآن وسنت ہو۔یہ رخصت تھی ثواب کچھ نہ تھا قال تعالی:" الا من اکرہ و قلبہ مطمئن بالایمن" ۔مگر جو مجبور کیا جائے اور اس کا دل ایمان پر برقرار ہو۔یا جان دے دی جاتی اور وہ ناپاك بیعت نہ کی جاتییہ عزیمت تھی اور اس پر ثواب عظیماور یہی ان کی شان رفیع کے شایان تھیاسی کو اختیار فرمایااسے یہاں سے کیا علاقہ!
ثانیا بالفرض اس بے سروسامانی میں امام کی طرف سے پہل بھی سہی تو یہاں ایك فرق عظیم ہے جس سے یہ جاہل غافل فاسقوں پر ازالہ منکر میں حملہ جائز اگرچہ یہ تنہا ہو اور وہ ہزاروں اور سلطان اسلام جس پر اقامت جہادفرض ہے اسے بھی کافروں سے پہل حرام جبکہ ان عــــــہ کے مقابلہ کے قابل نہ ہومجتبی و شرح نقایہ وردالمحتار کی عبارت گزشتہ:
ھذا اذا غلب علی ظنہ انہ یکافیہم والا فلا یباح قتالہم۔ یہ اس وقت ہے جب گمان غالب ہو کہ ان کے مقابلہ کے قابل ہے ورنہ ان سے لڑنا حلال نہیں۔(ت)
کے بعد ہے بخلاف الامر بالمعروف (امر بالمعروف کاحکم اس کے خلاف ہے۔ت) شرح سیر میں اس کی وجہ بیان فرمائی :
ان المسلمین یعتقدون مایأمربہ فلابد امر بالمعروف میں مسلمانوں کو جو حکم دے گا وہ دل سے
عــــــہ: اور شرط قدرت تو دفاع بلکہ کسی فرض اسلامی سے کبھی منفك نہیں بنصوص قطعیہ واجماع امت مرحومہ۔
(ز)عین معرکہ میں قتال سے پہلے فرمایا:
ایھاالناس اذکرھتمونی فدعونی انصرف الی مأمنی من الارض ۔ اے لوگو! جبکہ تم مجھے پسند نہیں کرتے توچھوڑو کہ اپنی امن کی جگہ چلا جاؤں۔
اشقیاء نے نہ ماناغرض جب سے برابر قصد عود رہا مگر ممکن نہ ہوا کہ منظور رب یونہی تھاجنت آراستہ ہوچکی تھی اپنے دولھا کا انتظار کررہی تھیوصال محبوب حقیقی کی گھڑی آلگی تھی تو ہر گز لڑائی میں امام کی طرف سے پہل نہ تھی ان خبیثوں ہی نے مجبور کیااب دوصورتیں تھیں یا بخوف جان اس پلید کی وہ ملعون بیعت قبول کی جاتی کہ یزید کا حکم ماننا ہوگا اگرچہ خلاف قرآن وسنت ہو۔یہ رخصت تھی ثواب کچھ نہ تھا قال تعالی:" الا من اکرہ و قلبہ مطمئن بالایمن" ۔مگر جو مجبور کیا جائے اور اس کا دل ایمان پر برقرار ہو۔یا جان دے دی جاتی اور وہ ناپاك بیعت نہ کی جاتییہ عزیمت تھی اور اس پر ثواب عظیماور یہی ان کی شان رفیع کے شایان تھیاسی کو اختیار فرمایااسے یہاں سے کیا علاقہ!
ثانیا بالفرض اس بے سروسامانی میں امام کی طرف سے پہل بھی سہی تو یہاں ایك فرق عظیم ہے جس سے یہ جاہل غافل فاسقوں پر ازالہ منکر میں حملہ جائز اگرچہ یہ تنہا ہو اور وہ ہزاروں اور سلطان اسلام جس پر اقامت جہادفرض ہے اسے بھی کافروں سے پہل حرام جبکہ ان عــــــہ کے مقابلہ کے قابل نہ ہومجتبی و شرح نقایہ وردالمحتار کی عبارت گزشتہ:
ھذا اذا غلب علی ظنہ انہ یکافیہم والا فلا یباح قتالہم۔ یہ اس وقت ہے جب گمان غالب ہو کہ ان کے مقابلہ کے قابل ہے ورنہ ان سے لڑنا حلال نہیں۔(ت)
کے بعد ہے بخلاف الامر بالمعروف (امر بالمعروف کاحکم اس کے خلاف ہے۔ت) شرح سیر میں اس کی وجہ بیان فرمائی :
ان المسلمین یعتقدون مایأمربہ فلابد امر بالمعروف میں مسلمانوں کو جو حکم دے گا وہ دل سے
عــــــہ: اور شرط قدرت تو دفاع بلکہ کسی فرض اسلامی سے کبھی منفك نہیں بنصوص قطعیہ واجماع امت مرحومہ۔
حوالہ / References
الکامل فی التاریخ ذکر مقتل حسین دارصادر بیروت ۴/ ۵۴ و ۵۵
تاریخ الطبری ثم دخلت سنۃ احدی وستین دارالقلم بیروت الجزء السادس ۶/ ۲۴۳
القرآن الکریم ۱۶ /۱۰۶
جامع الرموز کتاب الجہاد گنبد قاموس ایران ۴/ ۵۵۵
تاریخ الطبری ثم دخلت سنۃ احدی وستین دارالقلم بیروت الجزء السادس ۶/ ۲۴۳
القرآن الکریم ۱۶ /۱۰۶
جامع الرموز کتاب الجہاد گنبد قاموس ایران ۴/ ۵۵۵
ان یکون فعلہ مؤثرا فی باطنہم بخلاف الکفار ۔ اسے حق جانتے ہیں توضرور اپنے دل میں اس کے فعل سے متاثر ہوں گے بخلاف کفار
دیکھو امام نے کیا کیا اور تم کیا کر رہے رہوکیوں اسلام و کفر ملاتے ہو:
ثالثا:حضرت امام رضی اﷲ تعالی عنہ کا نام پاك لیتے ہوئے شرم چاہئے تھیکیا امام توامام ان کے غلام ان کے درکے کسی کتے نے معاذ اﷲ مشرکوں سے مدد مانگیکیا کسی مشرك کا دامن تھاماکیاکسی مشرك کے پس روبنےکیا مشرکوں کی جے پکاریکیا مشرکوں سے اتحاد گانٹھاکیا مشرکوں کے حلیف بنےکیا ان کی خوشامدکے شعار اسلام بند کرنے میں کوشاں ہوئےکیا قرآن عظیم وحدیث کی تمام عمر بت پرستی پر نثار کردی وغیرہ وغیرہ شنائع کثیرہ بہتر تن سے بیس ہزار فجار کا مقابلہ فرمایا۔امام کانام لیتے ہو تو کیا تم میں بہتر مسلمان بھی نہیں جب تیئس کروڑمشرکین تمھارے ساتھ ہوں گے اس وقت تم میں بہتر مسلمانوں کا عدد پورا ہوگاقرآن کو پیٹھ دینے والو! کیوں امام کانام لیتے ہواسلام سے الٹے چلنے والو! کیوں مسلمانوں کو دھوکے دیتے ہودہلی میں فتوی چھاپ دیاکہ اس وقت جہاد واجب ہے بے سروسامانی کے جواب کوامام کی نظیر پیش ہوگئی اورحالت یہ کہ ذرا سی دھوپ سے بچنے کو گئوپتروں کی چھاؤں ڈھونڈھ رہے ہیںکیا تم اپنے ہی فتوے سے نہ صرف تارك فرض ومرتکب حرام بلکہ راضی بہ غلبہ کفر وذلت اسلام نہ ہوئےامام کا تو کل اﷲ پرتھا اور تمھارا اعتماد اعداء اﷲ پریقین جانوکہ اﷲ سچااﷲ کا کلام سچا" لا یا لونکم خبلا "مشرکین تمھاری بدخواہی میں گئی نہ کریں گے وہ جھوٹا فتوی اوریہ پوچ بھروسا اور خادمان شرع پر الٹا غصہ کہ کیوں خاموش رہے کیوں سینہ سپر نہ ہوئےیہ ہے تمھاری خیر خواہی اسلام یہ ہیں تمھارے دل ساختہ احکامجن پرنہ شرع شاہد نہ عقل مساعدمسلمان ہونے کا دعوی ہے تو اسلام کے دائرے میں آؤتبدیل احکام الرحمن و اختراع احکام الشیطان سے ہاتھ اٹھاؤمشرکین سے اتحاد توڑودیوبندیہ وغیرہم مرتدین کا ساتھ چھوڑو کہ جسے محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا دامن پاك اپنے سایہ میں لےدنیا نہ ملے نہ ملے دین تو ان کے صدقے میں ملے۔
" یایہا الذین امنوا ادخلوا فی السلم کافۃ۪ و لا تتبعوا خطوت الشیطن انہ لکم عدو اے ایمان والو! اسلام میں پورے داخل ہوجاؤ شیطان کے پس رو نہ ہو بیشك وہ تمھارا کھلا دشمن ہے
دیکھو امام نے کیا کیا اور تم کیا کر رہے رہوکیوں اسلام و کفر ملاتے ہو:
ثالثا:حضرت امام رضی اﷲ تعالی عنہ کا نام پاك لیتے ہوئے شرم چاہئے تھیکیا امام توامام ان کے غلام ان کے درکے کسی کتے نے معاذ اﷲ مشرکوں سے مدد مانگیکیا کسی مشرك کا دامن تھاماکیاکسی مشرك کے پس روبنےکیا مشرکوں کی جے پکاریکیا مشرکوں سے اتحاد گانٹھاکیا مشرکوں کے حلیف بنےکیا ان کی خوشامدکے شعار اسلام بند کرنے میں کوشاں ہوئےکیا قرآن عظیم وحدیث کی تمام عمر بت پرستی پر نثار کردی وغیرہ وغیرہ شنائع کثیرہ بہتر تن سے بیس ہزار فجار کا مقابلہ فرمایا۔امام کانام لیتے ہو تو کیا تم میں بہتر مسلمان بھی نہیں جب تیئس کروڑمشرکین تمھارے ساتھ ہوں گے اس وقت تم میں بہتر مسلمانوں کا عدد پورا ہوگاقرآن کو پیٹھ دینے والو! کیوں امام کانام لیتے ہواسلام سے الٹے چلنے والو! کیوں مسلمانوں کو دھوکے دیتے ہودہلی میں فتوی چھاپ دیاکہ اس وقت جہاد واجب ہے بے سروسامانی کے جواب کوامام کی نظیر پیش ہوگئی اورحالت یہ کہ ذرا سی دھوپ سے بچنے کو گئوپتروں کی چھاؤں ڈھونڈھ رہے ہیںکیا تم اپنے ہی فتوے سے نہ صرف تارك فرض ومرتکب حرام بلکہ راضی بہ غلبہ کفر وذلت اسلام نہ ہوئےامام کا تو کل اﷲ پرتھا اور تمھارا اعتماد اعداء اﷲ پریقین جانوکہ اﷲ سچااﷲ کا کلام سچا" لا یا لونکم خبلا "مشرکین تمھاری بدخواہی میں گئی نہ کریں گے وہ جھوٹا فتوی اوریہ پوچ بھروسا اور خادمان شرع پر الٹا غصہ کہ کیوں خاموش رہے کیوں سینہ سپر نہ ہوئےیہ ہے تمھاری خیر خواہی اسلام یہ ہیں تمھارے دل ساختہ احکامجن پرنہ شرع شاہد نہ عقل مساعدمسلمان ہونے کا دعوی ہے تو اسلام کے دائرے میں آؤتبدیل احکام الرحمن و اختراع احکام الشیطان سے ہاتھ اٹھاؤمشرکین سے اتحاد توڑودیوبندیہ وغیرہم مرتدین کا ساتھ چھوڑو کہ جسے محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا دامن پاك اپنے سایہ میں لےدنیا نہ ملے نہ ملے دین تو ان کے صدقے میں ملے۔
" یایہا الذین امنوا ادخلوا فی السلم کافۃ۪ و لا تتبعوا خطوت الشیطن انہ لکم عدو اے ایمان والو! اسلام میں پورے داخل ہوجاؤ شیطان کے پس رو نہ ہو بیشك وہ تمھارا کھلا دشمن ہے
حوالہ / References
شرح السیر الکبیر
مبین﴿۲۰۸﴾ فان زللتم من بعد ما جاءتکم البینت فاعلموا ان اللہ عزیز حکیم﴿۲۰۹﴾ ہل ینظرون الا ان یاتیہم اللہ فی ظلل من الغمام والملئکۃ وقضی الامر و الی اللہ ترجع الامور﴿۲۱۰﴾" پھر اگر روشن دلیلیں آنے پر تمھارا قدم لغزش کرے تو جا ن لو اﷲ غالب حکمت والا ہے کاہے کے انتظار میں ہیں سوا اس کے کہ گھٹا ٹوپ بادلوں میں اﷲ کا عذاب اور فرشتے آئیں اور کام تمام ہو اور اﷲ ہی کی طرف سب کام پھرتے ہیں۔
ربنا علیك توکلنا والیك انبنا والیك المصیر o ربنا لاتجعلنا فتنۃ للذین کفروا و اغفرلنا ربنا انك انت العزیز الحکیم o ربنا افتح بیننا وبین قومنا بالحق وانت خیرا الفاتحین o امین یاارحم الراحمین o وصلی اﷲ تعالی علی سیدنا ومولنا وملجانا ومأونا محمد والہ وصحبہ اجمعین دائما ابدا الابدینعدد کل ذرۃ الف الف مرۃ فی کل ان وحین والحمد ﷲ رب العلمینواﷲ سبحنہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
فقیر احمد رضا قادری غفرلہ
_____________________
ربنا علیك توکلنا والیك انبنا والیك المصیر o ربنا لاتجعلنا فتنۃ للذین کفروا و اغفرلنا ربنا انك انت العزیز الحکیم o ربنا افتح بیننا وبین قومنا بالحق وانت خیرا الفاتحین o امین یاارحم الراحمین o وصلی اﷲ تعالی علی سیدنا ومولنا وملجانا ومأونا محمد والہ وصحبہ اجمعین دائما ابدا الابدینعدد کل ذرۃ الف الف مرۃ فی کل ان وحین والحمد ﷲ رب العلمینواﷲ سبحنہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
فقیر احمد رضا قادری غفرلہ
_____________________
حوالہ / References
القرآن الکریم ۲ /۲۰۸ تا ۲۱۰
انفس الفکر فی قربان البقر۱۲۹۸ھ
(گائے کی قربانی کے بارے میں بہترین طریقہ)
مسئلہ ۱۸۴: عجیبہ عــــــہ از مرادآباد شوال ۱۲۹۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین مذہب حنفیہ اس مسئلہ میں کہ گاؤ کشی کوئی ایسا امرہے جس کے نہ کرنے سے کوئی شخص دین اسلام سے خارج ہوجاتاہےیا اگر کوئی معتقد اباحت ذبح ہو مگر کوئی گائے اس نے ذبح نہ کی ہو یا گائے کا گوشت نہ کھایا ہوہر چند کہ اکل اس کاجائز جانتاہےتو اس کے اسلام میں کچھ فرق نہ آئے گا اور وہ کامل مسلمان رہے گاگاؤ کشی کوئی واجب فعل ہے کہ جس کا تارك گنہ گار ہوتاہےیا اگر
عــــــہ: اہم وضاحت:(ذلك فضل اﷲ یؤتیہ من یشاء کا نمونہ ومصداق)۱۲۹۸ہجری کا ربع اخیر ہے شوال مکرم کا ماہ منیر ہےاس لیے خاتمۃ المحققین امام المدققین والد ماجد حضرت مصنف علام مدظلہ وقدس سرہ الشریف کے وصال کو دس مہینے ہوئے ہیں بضرورت انتظام معاش جانب جائداد چند روز ابتدا میں توجہ کرنی ہوئی ہے اس لئے حضرت مصنف مدظلہ اپنے دیہات میں تشریف رکھتے ہیں کہ وہیں یہ سوال پہنچا اس وقت کھیتوں کامعاینہ تھا آدمی نے وہیں یہ سوال پیش کیابنگاہ اولین (باقی برصفحہ ائندہ)
(گائے کی قربانی کے بارے میں بہترین طریقہ)
مسئلہ ۱۸۴: عجیبہ عــــــہ از مرادآباد شوال ۱۲۹۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین مذہب حنفیہ اس مسئلہ میں کہ گاؤ کشی کوئی ایسا امرہے جس کے نہ کرنے سے کوئی شخص دین اسلام سے خارج ہوجاتاہےیا اگر کوئی معتقد اباحت ذبح ہو مگر کوئی گائے اس نے ذبح نہ کی ہو یا گائے کا گوشت نہ کھایا ہوہر چند کہ اکل اس کاجائز جانتاہےتو اس کے اسلام میں کچھ فرق نہ آئے گا اور وہ کامل مسلمان رہے گاگاؤ کشی کوئی واجب فعل ہے کہ جس کا تارك گنہ گار ہوتاہےیا اگر
عــــــہ: اہم وضاحت:(ذلك فضل اﷲ یؤتیہ من یشاء کا نمونہ ومصداق)۱۲۹۸ہجری کا ربع اخیر ہے شوال مکرم کا ماہ منیر ہےاس لیے خاتمۃ المحققین امام المدققین والد ماجد حضرت مصنف علام مدظلہ وقدس سرہ الشریف کے وصال کو دس مہینے ہوئے ہیں بضرورت انتظام معاش جانب جائداد چند روز ابتدا میں توجہ کرنی ہوئی ہے اس لئے حضرت مصنف مدظلہ اپنے دیہات میں تشریف رکھتے ہیں کہ وہیں یہ سوال پہنچا اس وقت کھیتوں کامعاینہ تھا آدمی نے وہیں یہ سوال پیش کیابنگاہ اولین (باقی برصفحہ ائندہ)
کوئی شخص گاؤ کشی نہ کرے صرف اباحت ذبح کا دل سے معتقد ہو تووہ گنہ گار نہ ہوگا۔جہاں بلاوجہ اس فعل کے
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
اس کے اندرونی مقصد کو پہچان لیا کہ اگرچہ یہاں بعض مسلمانون نے بھیجا مگر اصل سائل ہنود ہیں اور فورا معلوم کیا کہ وہ اس سے کیا چاہتے ہیںاور اہل اسلام کو کیسے نقصان پہنچانے کا ارادہ کرتے ہیںعصر کا وقت تھافرمایا: صبح جواب دیا جائے گادیہات میں کتابیں نہ تھیںدوسرے دن وہ جواب تحریرفرمادیاجو ناظرین نے ملاحظہ فرمایاجس نے بحمداﷲ تعالی فریب دینے والوں کے مکرکو خاك میں ملایا والاحضرت حامی سنت مولنا مولوی محمد ارشاد حسین رامپوری رحمۃاﷲ تعالی علیہ اور علمائے رامپور نے اس پر تصدیقیں لکھیں اورحضرت مولنا موصوف مرحوم نے مقاصد کو پہچان کر تصدیق میں تحریر فرمایا کہ"الناقد بصیر"یہ پرکھنے والا آنکھیں رکھتاہے یعنی اس کا دیدہ بصیرت نورالہی سے منور ہے کہ مکاروں کے خفی مکر کی تہہ تك پہنچ گیا اور اس کاقلع قمع کیا
" ذلک فضل اللہ یؤتیہ من یشاء و اللہ ذو الفضل العظیم ﴿۴﴾" (یہ اﷲ کا فضل ہے جسے چاہے دے اﷲ بڑے فضل والا ہے۔ت)جب جناب مولوی عبدالحی صاحب لکھنوی کا فتوی ۱۳۰۵ ھ میں چھپا اس کے دیکھنے سے معلوم ہوا کہ یہ سوال اسی ماہ وسال میں ان کے پاس بھی گیا تھایہاں مرادآباد سے آیاوہاں مرزاپور سے گیا تھااور عجب نہیں کہ مختلف مقامات سے اور علماء کے پاس بھی بھیجا ہوااوروں کا جواب توکیا معلوم مگر جناب لکھنوی صاحب کاجواب چھپا جس سے ظاہر ہواکہ عیاروں کا دھوکا ان پر چل گیا انھوں نے غور نہ فرمایا کہ سوال کے تیور کیا ہیں اس کا سائل کون ہونا چاہئےاس سے اس کی غرض کیا ہےسیدھا سادہ پاؤں تلے کاجواب لکھ دیا کہ:
"گاؤ کشی واجب نہیںتارك گنہ گار نہ ہوگابقصد اثارت فتنہ گاؤ کشی نہ چاہئے بلکہ جہاں فتنہ کاظن غالب ہواحتراز اولی ہے قربانی اونٹ کی بہتر ہے ۔محمد عبدالحی"
وہیں کے اور دو۲ صاحبوں نے مہر کیاس پر مسلمانوں کی ضرورت ہوئی کہ اہل افتا کو ہوشیار کریں انھیں دنیا کی حالت ملك کی رنگت دکھائیں خود اپنے جواب کو صحیح معنی کی طرف پھیرنے کی راہ بتائیںلہذا اس پر دو سوال ہوئے:
سوال اول:"حضرت علماء سے جن کی مواہیر اس پر چہ پر ثبت ہیں استفسار ہے کہ جواب میں آپ کی مراد اس جملہ سے آیا یہ ہے کہ ابتدائے فتنہ اہل اسلام کی طرف سے نہ ہو یعنی (باقی اگلے صفحہ پر)
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
اس کے اندرونی مقصد کو پہچان لیا کہ اگرچہ یہاں بعض مسلمانون نے بھیجا مگر اصل سائل ہنود ہیں اور فورا معلوم کیا کہ وہ اس سے کیا چاہتے ہیںاور اہل اسلام کو کیسے نقصان پہنچانے کا ارادہ کرتے ہیںعصر کا وقت تھافرمایا: صبح جواب دیا جائے گادیہات میں کتابیں نہ تھیںدوسرے دن وہ جواب تحریرفرمادیاجو ناظرین نے ملاحظہ فرمایاجس نے بحمداﷲ تعالی فریب دینے والوں کے مکرکو خاك میں ملایا والاحضرت حامی سنت مولنا مولوی محمد ارشاد حسین رامپوری رحمۃاﷲ تعالی علیہ اور علمائے رامپور نے اس پر تصدیقیں لکھیں اورحضرت مولنا موصوف مرحوم نے مقاصد کو پہچان کر تصدیق میں تحریر فرمایا کہ"الناقد بصیر"یہ پرکھنے والا آنکھیں رکھتاہے یعنی اس کا دیدہ بصیرت نورالہی سے منور ہے کہ مکاروں کے خفی مکر کی تہہ تك پہنچ گیا اور اس کاقلع قمع کیا
" ذلک فضل اللہ یؤتیہ من یشاء و اللہ ذو الفضل العظیم ﴿۴﴾" (یہ اﷲ کا فضل ہے جسے چاہے دے اﷲ بڑے فضل والا ہے۔ت)جب جناب مولوی عبدالحی صاحب لکھنوی کا فتوی ۱۳۰۵ ھ میں چھپا اس کے دیکھنے سے معلوم ہوا کہ یہ سوال اسی ماہ وسال میں ان کے پاس بھی گیا تھایہاں مرادآباد سے آیاوہاں مرزاپور سے گیا تھااور عجب نہیں کہ مختلف مقامات سے اور علماء کے پاس بھی بھیجا ہوااوروں کا جواب توکیا معلوم مگر جناب لکھنوی صاحب کاجواب چھپا جس سے ظاہر ہواکہ عیاروں کا دھوکا ان پر چل گیا انھوں نے غور نہ فرمایا کہ سوال کے تیور کیا ہیں اس کا سائل کون ہونا چاہئےاس سے اس کی غرض کیا ہےسیدھا سادہ پاؤں تلے کاجواب لکھ دیا کہ:
"گاؤ کشی واجب نہیںتارك گنہ گار نہ ہوگابقصد اثارت فتنہ گاؤ کشی نہ چاہئے بلکہ جہاں فتنہ کاظن غالب ہواحتراز اولی ہے قربانی اونٹ کی بہتر ہے ۔محمد عبدالحی"
وہیں کے اور دو۲ صاحبوں نے مہر کیاس پر مسلمانوں کی ضرورت ہوئی کہ اہل افتا کو ہوشیار کریں انھیں دنیا کی حالت ملك کی رنگت دکھائیں خود اپنے جواب کو صحیح معنی کی طرف پھیرنے کی راہ بتائیںلہذا اس پر دو سوال ہوئے:
سوال اول:"حضرت علماء سے جن کی مواہیر اس پر چہ پر ثبت ہیں استفسار ہے کہ جواب میں آپ کی مراد اس جملہ سے آیا یہ ہے کہ ابتدائے فتنہ اہل اسلام کی طرف سے نہ ہو یعنی (باقی اگلے صفحہ پر)
ارتکاب سے ثوران فتنہ وفساد ہوا ور مفضی بہ ضرر اہل اسلام ہواور کوئی فائدہ اس فعل پر مرتب نہ ہوا ور عملداری
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
جہاں عملداری ہنود کی ہو وہاں بقصد فتنہ انگیزی گاؤکشی نہ کریں یا یہ کہ بلادہند وغیرہ میں جہاں ہمیشہ سے اہل اسلام گائے ذبح کرتے آئے اور کبھی ان کو مقصود فتنہ انگیزی نہ ہوئی بلکہ اجرائے حکم شریعت اب اگر مسلمان ان بلاد میں گائے ذبح کرے اور ہندو بنظر تعصب منع کریں تو مسلمان اس سے بازرہے"
طبیعت میں حق کی طرف رجوع کا مادہ تھا اس سوال سے تنبہ ہوا اورحضرات علماء نے یہ جواب تحریر فرمایا:"گائے ذبح کرنا اگرچہ مباح ہے واجب نہیںمگر ایسا مباح نہیں کہ کسی زمانہ یابلاد خاص میں اس کارواج ہو بلکہ یہ طریقہ قدیمہ ہے زمان آنحضرت صلعم عــــــہ و صحابہ وتابعین وجملہ سلف صالحین سے تمام بلاد وامصار میں اوراسکی اباحت پر اجماع ہے تمام اہل اسلام کاایسے امر شرعی ماثور قدیم سے اگر ہنود روکیں تومسلمان کو اس سے باز رہنا نہیں درست ہے بلکہ ہر گاہ ہنود کا ایك امر شرعی قدیم کے ابطال میں کوشش کریںاہل اسلام پر واجب ہے کہ اس کے ابقاء واجراء میں سعی کریںاگرہنود کے کہنے سے اس فعل کو چھوڑیں گے تو گنہگار ہوں گےاور مقصود اس جملہ میں جو جواب سابق میں ہے یہ ہے کہ بقصد برانگیختہ کرنے فتنہ وفساد کے گاؤ کشی نہ چاہئے مثلا جہاں عملداری ہنودکی ہو وہاں مسلمان بقصد ابتدائے مردم آزادی خواہ مخواہ ذبح کریں یا عیدالاضحی میں کسی ہندو کے مکان کے قریب جاکے بایں خیال ذبح کریں کہ فتنہ قائم ہو ایسی صورتوں کا ارتکاب نہ چاہئے بلکہ ایسی حالت میں ترکاولی ہے اوربلاد ہندوستان وغیرہ میں ترك اولی نہیں بلکہ اس کے ابقا میں سعی واجب ہے ہے "
سوال تو پہلے بھی ہندوستان ہی سے آیا تھا مگر اس وقت غور نہ فرمایا گیا۔ (باقی برصفحہ ایندہ)
عــــــہ: استغفراﷲ بلکہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ۱۲کاتب۔
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
جہاں عملداری ہنود کی ہو وہاں بقصد فتنہ انگیزی گاؤکشی نہ کریں یا یہ کہ بلادہند وغیرہ میں جہاں ہمیشہ سے اہل اسلام گائے ذبح کرتے آئے اور کبھی ان کو مقصود فتنہ انگیزی نہ ہوئی بلکہ اجرائے حکم شریعت اب اگر مسلمان ان بلاد میں گائے ذبح کرے اور ہندو بنظر تعصب منع کریں تو مسلمان اس سے بازرہے"
طبیعت میں حق کی طرف رجوع کا مادہ تھا اس سوال سے تنبہ ہوا اورحضرات علماء نے یہ جواب تحریر فرمایا:"گائے ذبح کرنا اگرچہ مباح ہے واجب نہیںمگر ایسا مباح نہیں کہ کسی زمانہ یابلاد خاص میں اس کارواج ہو بلکہ یہ طریقہ قدیمہ ہے زمان آنحضرت صلعم عــــــہ و صحابہ وتابعین وجملہ سلف صالحین سے تمام بلاد وامصار میں اوراسکی اباحت پر اجماع ہے تمام اہل اسلام کاایسے امر شرعی ماثور قدیم سے اگر ہنود روکیں تومسلمان کو اس سے باز رہنا نہیں درست ہے بلکہ ہر گاہ ہنود کا ایك امر شرعی قدیم کے ابطال میں کوشش کریںاہل اسلام پر واجب ہے کہ اس کے ابقاء واجراء میں سعی کریںاگرہنود کے کہنے سے اس فعل کو چھوڑیں گے تو گنہگار ہوں گےاور مقصود اس جملہ میں جو جواب سابق میں ہے یہ ہے کہ بقصد برانگیختہ کرنے فتنہ وفساد کے گاؤ کشی نہ چاہئے مثلا جہاں عملداری ہنودکی ہو وہاں مسلمان بقصد ابتدائے مردم آزادی خواہ مخواہ ذبح کریں یا عیدالاضحی میں کسی ہندو کے مکان کے قریب جاکے بایں خیال ذبح کریں کہ فتنہ قائم ہو ایسی صورتوں کا ارتکاب نہ چاہئے بلکہ ایسی حالت میں ترکاولی ہے اوربلاد ہندوستان وغیرہ میں ترك اولی نہیں بلکہ اس کے ابقا میں سعی واجب ہے ہے "
سوال تو پہلے بھی ہندوستان ہی سے آیا تھا مگر اس وقت غور نہ فرمایا گیا۔ (باقی برصفحہ ایندہ)
عــــــہ: استغفراﷲ بلکہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ۱۲کاتب۔
حوالہ / References
مجموعہ فتاوٰی عبدالحی کتاب الاضحیہ مطبع یوسفی لکھنؤ ۲/ ۸۳۔۲۸۲)
مجموعہ فتاوٰی عبدالحی کتاب الاضحیہ مطبع یوسفی لکھنؤ ۲/ ۲۸۳
مجموعہ فتاوٰی عبدالحی کتاب الاضحیہ مطبع یوسفی لکھنؤ ۲/ ۲۸۳
اسلام بھی نہ ہو تووہاں بدیں وجہ اس فعل سے کوئی باز رہے تو جائز ہے یایہ کہ بلاسبب ایسی حالت میں
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)"فی الواقع ان بلاد میں مسلمانوں کوگاؤ کشی باقی رکھنے میں کوشش لازم ہے اور مراد اس فقرہ سے یہ ہے کہ جہاں عملدری خاص ہنود کی ہے اورگاؤ کشی وہاں زینہار نہیں ہوتی اس جگہ باعلان گاؤ کشی کرنا بنظر فتنہ اولی نہیں "
"فی الواقع مقصود جملہ سابق سے یہ ہے کہ بارادہ برانگیختہ کرنے فساد کے عملداری خاص ہنود میں جہاں گائے ذبح نہ ہوتی ہو گاؤ کشی باعلان نہ چاہئے یا ہندو کے ہمسایہ میں علانیہ ذبح کرنا بارادہ فساد نہ چاہئے جن بلاد ومواضعات ہند میں رواج گاؤ کشی چلاآیا ہے اب کوئی ہندو بپاس تعصب مانع ہے تو مسلمانوں کو بپاس حمیت اسلامی ابقائے گاؤ کشی میں کوشش بلیغ لازم ہے زینہار ترك نہ کریں گاؤکشی شعا ر مسلمانی ہے احتمال فساد ہو تو بذریعہ حکام رفع کرنا اس کا بابقائے رواج قدیم واجب ہے بخوف فساد ہنود ذبح گائے سے زینہار باز نہ رہیںذبح گاؤ شعائراسلام سے ہے اہمال اس کا بلاوجہ وجیہ جائز نہیں "
"ہاں ابتداء اثارت فتنہ نہ چاہئے اور یہی معنی ہیں فقرہ جواب سابق کے پس جن بلاد میں ذبح گاؤ مروج ہے منع کرناہنود کا ان کی جانب سے اثارت فتنہ وفسا د ہوگا اس کو رفع کرنامسلمان کو ضرور ہے "
سوال دوم: از بھاگل پور شوال ۱۲۹۸ھ
"اگر مسلمان گائے کی قربانی یا واسطے کھانے گائے ذبح کرنا چاہے او رہنود بوجہ تعصب یا بنظر توہین اسلام روکیں تو مسلمانوں کو گائے کی قربانی یا گائے کے ذبح سے رکنا چاہئے یا کیا کرےاگر ازجانب ہنود فساد کااحتمال ہے مگر اس کا دفع بذریعہ حکام ممکن تو صرف بلحاط فتنہ مذکور باز آنا چاہئے یا کیا کرےیہ امر ظاہر ہے کہ اونٹ ان ملکوں میں کم ہیں (باقی برصفحہ ایندہ)
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)"فی الواقع ان بلاد میں مسلمانوں کوگاؤ کشی باقی رکھنے میں کوشش لازم ہے اور مراد اس فقرہ سے یہ ہے کہ جہاں عملدری خاص ہنود کی ہے اورگاؤ کشی وہاں زینہار نہیں ہوتی اس جگہ باعلان گاؤ کشی کرنا بنظر فتنہ اولی نہیں "
"فی الواقع مقصود جملہ سابق سے یہ ہے کہ بارادہ برانگیختہ کرنے فساد کے عملداری خاص ہنود میں جہاں گائے ذبح نہ ہوتی ہو گاؤ کشی باعلان نہ چاہئے یا ہندو کے ہمسایہ میں علانیہ ذبح کرنا بارادہ فساد نہ چاہئے جن بلاد ومواضعات ہند میں رواج گاؤ کشی چلاآیا ہے اب کوئی ہندو بپاس تعصب مانع ہے تو مسلمانوں کو بپاس حمیت اسلامی ابقائے گاؤ کشی میں کوشش بلیغ لازم ہے زینہار ترك نہ کریں گاؤکشی شعا ر مسلمانی ہے احتمال فساد ہو تو بذریعہ حکام رفع کرنا اس کا بابقائے رواج قدیم واجب ہے بخوف فساد ہنود ذبح گائے سے زینہار باز نہ رہیںذبح گاؤ شعائراسلام سے ہے اہمال اس کا بلاوجہ وجیہ جائز نہیں "
"ہاں ابتداء اثارت فتنہ نہ چاہئے اور یہی معنی ہیں فقرہ جواب سابق کے پس جن بلاد میں ذبح گاؤ مروج ہے منع کرناہنود کا ان کی جانب سے اثارت فتنہ وفسا د ہوگا اس کو رفع کرنامسلمان کو ضرور ہے "
سوال دوم: از بھاگل پور شوال ۱۲۹۸ھ
"اگر مسلمان گائے کی قربانی یا واسطے کھانے گائے ذبح کرنا چاہے او رہنود بوجہ تعصب یا بنظر توہین اسلام روکیں تو مسلمانوں کو گائے کی قربانی یا گائے کے ذبح سے رکنا چاہئے یا کیا کرےاگر ازجانب ہنود فساد کااحتمال ہے مگر اس کا دفع بذریعہ حکام ممکن تو صرف بلحاط فتنہ مذکور باز آنا چاہئے یا کیا کرےیہ امر ظاہر ہے کہ اونٹ ان ملکوں میں کم ہیں (باقی برصفحہ ایندہ)
حوالہ / References
مجموعہ فتاوٰی عبدالحی کتاب الاضحیہ مطبع یوسفی لکھنؤ ۲/ ۲۸۳
مجموعہ فتاوٰی عبدالحی کتاب الاضحیہ مطبع یوسفی لکھنؤ ۲/ ۲۸۴
مجموعہ فتاوٰی عبدالحی کتاب الاضحیہ مطبع یوسفی لکھنؤ ۲/ ۸۵۔۲۸۴
مجموعہ فتاوٰی عبدالحی کتاب الاضحیہ مطبع یوسفی لکھنؤ ۲/ ۲۸۴
مجموعہ فتاوٰی عبدالحی کتاب الاضحیہ مطبع یوسفی لکھنؤ ۲/ ۸۵۔۲۸۴
میں بقصد اثارت فتنہ وفساد ارتکاب اس کا واجب ہےاور قربانی اونٹ کی بہتر ہے یا
اگر دستیاب بھی ہوئے توبہت قیمت سے اوریہ بھی ظاہر ہے کہ سات بھیڑ کی قیمت ایك گائے سے زیادہ ہوتی ہے اور اگر ہنود کہیں تم گائے مت کرو اونٹ بھیڑ قربانی کروتو اس کومان لینا واجب ہے یا نہیں بینوا توجروا
جواب: گائے ذبح کرنے کا جواز قرآن وحدیث سے ثابت ہےآنحضرت صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اورصحابہ نے زمانہ آنحضرتص عــــــہ۱ میں اور بعد آنحضرت صلعم عــــــہ۲ کے اس کو ذبح کیا ہے اس کے گوشت حلال اور ذبح جائز ہونے پر اتفاق ہے تمام مسلمانوں کا خواہ بروز عید ہویا اور روز تومسلمان کو باز آنانہیں درست ہےاو رہندو کی ممانعت تسلیم کرلینا نہیں جائز ہےتسلیم کرنا موجب ان کے اعتقاد باطل کی تقویت وترویج کاہوگا یہ کسی طرح شرع میں جا ئز نہیں۔اونٹ اگرچہ گائے سے اولی ہے مگر کوئی شخص اس پر مجبور نہیں کیا جاسکتا علی الخصوص جب ہنود بغرض تعصب کہیں کہ خواہ مخواہ اونٹ یا بکری کرومسلمانوں کو ضرور ہے کہ قول ہنود تسلیم نہ کریں اور گاؤ کشی کوکہ اسلام کا طریقہ قدیمہ ہے ترك نہ کریں بوجہ احتمال فساد ہنود گائے ذبح کرنے سے رکنا نہ چاہئے "
"قربانی گائے کی شعار اسلام ہے اس کا موقوف کرنا بسبب ممانعت ہنود معصیت ہے"
یہ مجموعہ فتاوی جلد دوم طبع اول ص ۱۴۸ تا ص ۱۵۵ کاا قتباس ہےالحمدﷲ کہ آخرمیں وہی سمجھنا پڑاجو حضرت مصنف مدظلہ نے بنگاہ اولین خیال فرمالیاذلك فضل اﷲ یؤتیہ من یشاء واﷲ ذوالفضل العظیم۔ان فتاوی کی نقل سے یہ بھی مقصود ہے کہ حضرت مصنف مدظلہ کے حکم وجوب کی بعض تائیدات واضح ہوں تا کہ بعض عوام کو زیادت اطمینان ملے وباﷲ التوفیق۔
عــــــہ۱: اقول صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم
عــــــہ۲: اقول صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم
yahan image hai
اگر دستیاب بھی ہوئے توبہت قیمت سے اوریہ بھی ظاہر ہے کہ سات بھیڑ کی قیمت ایك گائے سے زیادہ ہوتی ہے اور اگر ہنود کہیں تم گائے مت کرو اونٹ بھیڑ قربانی کروتو اس کومان لینا واجب ہے یا نہیں بینوا توجروا
جواب: گائے ذبح کرنے کا جواز قرآن وحدیث سے ثابت ہےآنحضرت صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اورصحابہ نے زمانہ آنحضرتص عــــــہ۱ میں اور بعد آنحضرت صلعم عــــــہ۲ کے اس کو ذبح کیا ہے اس کے گوشت حلال اور ذبح جائز ہونے پر اتفاق ہے تمام مسلمانوں کا خواہ بروز عید ہویا اور روز تومسلمان کو باز آنانہیں درست ہےاو رہندو کی ممانعت تسلیم کرلینا نہیں جائز ہےتسلیم کرنا موجب ان کے اعتقاد باطل کی تقویت وترویج کاہوگا یہ کسی طرح شرع میں جا ئز نہیں۔اونٹ اگرچہ گائے سے اولی ہے مگر کوئی شخص اس پر مجبور نہیں کیا جاسکتا علی الخصوص جب ہنود بغرض تعصب کہیں کہ خواہ مخواہ اونٹ یا بکری کرومسلمانوں کو ضرور ہے کہ قول ہنود تسلیم نہ کریں اور گاؤ کشی کوکہ اسلام کا طریقہ قدیمہ ہے ترك نہ کریں بوجہ احتمال فساد ہنود گائے ذبح کرنے سے رکنا نہ چاہئے "
"قربانی گائے کی شعار اسلام ہے اس کا موقوف کرنا بسبب ممانعت ہنود معصیت ہے"
یہ مجموعہ فتاوی جلد دوم طبع اول ص ۱۴۸ تا ص ۱۵۵ کاا قتباس ہےالحمدﷲ کہ آخرمیں وہی سمجھنا پڑاجو حضرت مصنف مدظلہ نے بنگاہ اولین خیال فرمالیاذلك فضل اﷲ یؤتیہ من یشاء واﷲ ذوالفضل العظیم۔ان فتاوی کی نقل سے یہ بھی مقصود ہے کہ حضرت مصنف مدظلہ کے حکم وجوب کی بعض تائیدات واضح ہوں تا کہ بعض عوام کو زیادت اطمینان ملے وباﷲ التوفیق۔
عــــــہ۱: اقول صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم
عــــــہ۲: اقول صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم
yahan image hai
حوالہ / References
مجموعہ فتاوٰی عبدالحی کتاب الاضحیہ مطبع یوسفی لکھنو ۲/ ۲۸۵
مجموعہ فتاوٰی عبدالحی کتاب الاضحیہ مطبع یوسفی لکھنؤ ۲/ ۸۶۔۲۸۵
مجموعہ فتاوٰی عبدالحی کتاب الاضحیہ مطبع یوسفی لکھنؤ ۲/ ۸۶۔۲۸۵
گائے کی بینوا توجروا
الجواب:
واﷲ سبحنہ موفق الصدق والصواببسم اﷲ الرحمن الرحیماللھم صل وسلم وبارك علی سیدنا محمد والہ وصحبہ اجمعیناللھم بك نستعین
اصل مسئلہ کے جواب سے پہلے دو۲ امرذہن نشین کرنا لازم :
اول: یہ کہ ہماری شریعت مطہر اعلی درجہ حکمت ومتانت ومراعات دقائق مصلحت میں ہےاور جوحکم عرف ومصالح پر مبنی ہوتاہے انھیں چیزوں کے ساتھ دائر رہتاہےاو راعصا روامصار میں ان کے تبدل سے متبدل ہوجاتاہےاور وہ سب احکام احکام شرع ہی قرار پاتے ہیںمثلا زمان برکت نشان حضور سرو عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم میں بوجہ کثرت خیر ونایابی فتنہ وشدت تقوی وقوت خوف خدا عورتوں پر ستر واجب تھا نہ حجاباورزنان مسلمین برائے نماز پنجگانہ مساجد میں جماعتوں کے لئے حاضر ہوتیںبعدحضور کے جب زمانے کا رنگ قدرے متغیر ہواام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اﷲ تعالی عنہا نے فرمایا:
لوا ن رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم رأی من النساء مارأینا لمنعھن من المسجد کما منعت بنواسرائیل نسائھا رواہ احمد وبخاری ومسلم۔ یعنی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ہمارے زمانے کی عورتوں کو ملاحظہ فرماتے تو انھیں مساجد جانے سے ممانعت کرتے جیسے بنی اسرائیل نے اپنی عورتوں کو منع کردیا تھا(اسے امام احمد وامام بخاری ومسلم نے روایت کیا۔ت)
جب زمانہ رسالت سے اور بعد ہوا ائمہ دین نے جوان عورتوں کو ممانعت فرمادیجب اور فساد پھیلاعلماء نے جوان وغیر جوان کسی کے لئے اجازت نہ رکھیدرمختار میں ہے:
یکرہ حضور من الجماعۃ ولو لجمعۃ وعید ووعظ مطلقا لوعجوزالیلا علی المذھب المفتی بہ لفساد الزمان ۔ رات کو عورتوں کا خواہ بوڑھی ہو ں جماعت میں حاضر ہونا مکروہ ہے اور اگر جمعہعید اور وعظ کی مجلس ہو تو مفتی بہ مذہب میں مطلقا مکروہ ہے زمانہ کے فساد کی وجہ سے۔(ت)
الجواب:
واﷲ سبحنہ موفق الصدق والصواببسم اﷲ الرحمن الرحیماللھم صل وسلم وبارك علی سیدنا محمد والہ وصحبہ اجمعیناللھم بك نستعین
اصل مسئلہ کے جواب سے پہلے دو۲ امرذہن نشین کرنا لازم :
اول: یہ کہ ہماری شریعت مطہر اعلی درجہ حکمت ومتانت ومراعات دقائق مصلحت میں ہےاور جوحکم عرف ومصالح پر مبنی ہوتاہے انھیں چیزوں کے ساتھ دائر رہتاہےاو راعصا روامصار میں ان کے تبدل سے متبدل ہوجاتاہےاور وہ سب احکام احکام شرع ہی قرار پاتے ہیںمثلا زمان برکت نشان حضور سرو عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم میں بوجہ کثرت خیر ونایابی فتنہ وشدت تقوی وقوت خوف خدا عورتوں پر ستر واجب تھا نہ حجاباورزنان مسلمین برائے نماز پنجگانہ مساجد میں جماعتوں کے لئے حاضر ہوتیںبعدحضور کے جب زمانے کا رنگ قدرے متغیر ہواام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اﷲ تعالی عنہا نے فرمایا:
لوا ن رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم رأی من النساء مارأینا لمنعھن من المسجد کما منعت بنواسرائیل نسائھا رواہ احمد وبخاری ومسلم۔ یعنی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ہمارے زمانے کی عورتوں کو ملاحظہ فرماتے تو انھیں مساجد جانے سے ممانعت کرتے جیسے بنی اسرائیل نے اپنی عورتوں کو منع کردیا تھا(اسے امام احمد وامام بخاری ومسلم نے روایت کیا۔ت)
جب زمانہ رسالت سے اور بعد ہوا ائمہ دین نے جوان عورتوں کو ممانعت فرمادیجب اور فساد پھیلاعلماء نے جوان وغیر جوان کسی کے لئے اجازت نہ رکھیدرمختار میں ہے:
یکرہ حضور من الجماعۃ ولو لجمعۃ وعید ووعظ مطلقا لوعجوزالیلا علی المذھب المفتی بہ لفساد الزمان ۔ رات کو عورتوں کا خواہ بوڑھی ہو ں جماعت میں حاضر ہونا مکروہ ہے اور اگر جمعہعید اور وعظ کی مجلس ہو تو مفتی بہ مذہب میں مطلقا مکروہ ہے زمانہ کے فساد کی وجہ سے۔(ت)
حوالہ / References
مسند احمد بن حنبل مروی عائشہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا دارالفکر بیروت ۶/ ۹۱،صحیح بخاری باب خروج النساء الی المساجد باللیل قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۲۰،صحیح مسلم باب خروج النساء الی المساجد قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۸۳
درمختار باب الامامۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۸۳
درمختار باب الامامۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۸۳
فتح القدیر میں فرمایا:
عمم المتاخرون المنع العجائز والشواب فی الصلوات کلھا لغلبۃ الفساد فی سائر الاوقات ۔ غلبہ فساد کی وجہ سے تمام اوقات کی نمازوں میں عموما بوڑھی او رجوان عورتوں کا نکلنا متاخرین علماء نے منع فرمایا ہے۔ (ت)
حالانکہ صحیح حدیث میں حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:
اذا استأذنت احدکم امرأتہ الی المسجد فلا یمنعہا رواہ احمد والشیخان والنسائی عن ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما جب تم میں کسی کی عورت مسجد جانے کی اجازت مانگے تو اسے منع نہ کرے(اسے احمدبخاریمسلم اور نسائی نے ابن عمررضی اﷲ تعالی عنہما سے روایت کیا۔ت)
دوسری حدیث میں فرمایا:
لاتمنعوا اماء اﷲ مساجد اﷲ رواہ احمد ومسلم عن ابن عمر واحمد وابوداؤد عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ اﷲ کی کنیزوں کو اﷲ کی مسجدوں سے نہ روکو(اسے امام احمداور مسلم نے ابن عمر سے اور احمد و ابوداؤد نے حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہم سے روایت کیا۔ت)
پھر ان ائمہ علماء کے یہ احکام ہر گز حکم اقدس کے خلاف نہ ٹھہرے بلکہ عین مطابق مقصود شرع قرار پائےاس طرح رفتہ رفتہ حاملان شریعت وحکمائے امت نے حکم حجاب دیا اور چہرہ چھپانا کہ صدر اول میں واجب نہ تھا واجب کردیا۔نہایہ میں ہے:
سدل الشیئ علی وجھھا واجب علیھا ۔ چہرے پر پردہ لٹکانا عورت پر واجب ہے۔(ت)
عمم المتاخرون المنع العجائز والشواب فی الصلوات کلھا لغلبۃ الفساد فی سائر الاوقات ۔ غلبہ فساد کی وجہ سے تمام اوقات کی نمازوں میں عموما بوڑھی او رجوان عورتوں کا نکلنا متاخرین علماء نے منع فرمایا ہے۔ (ت)
حالانکہ صحیح حدیث میں حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:
اذا استأذنت احدکم امرأتہ الی المسجد فلا یمنعہا رواہ احمد والشیخان والنسائی عن ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما جب تم میں کسی کی عورت مسجد جانے کی اجازت مانگے تو اسے منع نہ کرے(اسے احمدبخاریمسلم اور نسائی نے ابن عمررضی اﷲ تعالی عنہما سے روایت کیا۔ت)
دوسری حدیث میں فرمایا:
لاتمنعوا اماء اﷲ مساجد اﷲ رواہ احمد ومسلم عن ابن عمر واحمد وابوداؤد عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ اﷲ کی کنیزوں کو اﷲ کی مسجدوں سے نہ روکو(اسے امام احمداور مسلم نے ابن عمر سے اور احمد و ابوداؤد نے حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہم سے روایت کیا۔ت)
پھر ان ائمہ علماء کے یہ احکام ہر گز حکم اقدس کے خلاف نہ ٹھہرے بلکہ عین مطابق مقصود شرع قرار پائےاس طرح رفتہ رفتہ حاملان شریعت وحکمائے امت نے حکم حجاب دیا اور چہرہ چھپانا کہ صدر اول میں واجب نہ تھا واجب کردیا۔نہایہ میں ہے:
سدل الشیئ علی وجھھا واجب علیھا ۔ چہرے پر پردہ لٹکانا عورت پر واجب ہے۔(ت)
حوالہ / References
فتح القدیر باب الامامۃ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱/ ۳۱۷
صحیح بخاری باب استیذان المرأۃ زوجہا بالخروج الی المسجد قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۲۰،صحیح مسلم باب خروج النساء الی المساجد قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۸۳
صحیح مسلم باب خروج النساء الی المساجد قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۸۳،سنن ابی داؤد باب خروج النساء الی المساجد آفتاب عالم پریس لاہور ۱/ ۸۴
المسلك المتقسط علی لباب المناسك بحوالہ النہایہ مع ارشاد الساری مع فصل فی احرام المرأۃ دارالکتاب العربی بیروت ص۶۸
صحیح بخاری باب استیذان المرأۃ زوجہا بالخروج الی المسجد قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۲۰،صحیح مسلم باب خروج النساء الی المساجد قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۸۳
صحیح مسلم باب خروج النساء الی المساجد قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۸۳،سنن ابی داؤد باب خروج النساء الی المساجد آفتاب عالم پریس لاہور ۱/ ۸۴
المسلك المتقسط علی لباب المناسك بحوالہ النہایہ مع ارشاد الساری مع فصل فی احرام المرأۃ دارالکتاب العربی بیروت ص۶۸
شرح لباب میں ہے:
دلت المسئلۃ علی ان المرأۃ منھیۃ عن اظھار وجھھا للاجانب بلاضرورۃ ۔ یہ مسئلہ اس بات پرد لالت کرتاہے کہ عورت کو بلا ضرورت اجنبی لوگوں پر اپنا چہرہ کھولنا منع ہے۔(ت)
تنویر میں ہے:
تمنع من کشف الوجہ بین رجال لخوف الفتنۃ ۔ فتنہ کے خوف سے مردوں میں عورت کو چہرہ کھولنے سے روکا جائے۔(ت)
اسی قسم کے صدہا احکام ہماری شریعت میں ہیں"ومن القواعد المقررۃ فی شریعتنا المطھرۃ ان الحکم یدورمع علتہ"(ہماری شریعت مطہرہ کے مسلمہ قواعد میں سے ایك یہ ہے کہ حکم اپنی علت کے ساتھ دائرہوتاہے۔ت)
دوم واجبات ومحرمات ہماری شریعت میں دو قسم ہیں:
ایك لعینہ یعنی جس کی نفس ذات میں مقتضی ایجاب وتحریم موجود ہےجیسے عبادت خدا کی فرضیت اور بت پرستی کی حرمت۔
دوسرے لغیرہ یعنی وہ کہ امور خارجہ کا لحاظ ان کی ایجاب وتحریم کا اقتضا کرتاہے اگرچہ نفس ذات میں کوئی معنی اس کو مقتضی نہیںجیسے تعلم صرف ونحو کا وجوب کہ ہمارے رب تعالی کی کتاب اور ہمارے نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا کلام زبان عربی میں ہے اور اس کا فہم بے اس علم کے متعذرلہذا واجب کیا گیااور افیون اور بھنگ وغیرہما مسکرات کی حرمت کہ ان کا پینا ایك ایسی نعمت یعنی عقل کو زائل کردیتاہے جو ہرخیر کی جالب او رہر فتنہ وشر سے بچانے والی ہےاسی قبیل سے ہے شعارکہ مثلا انگرکھے کا سیدھا پردہ ہماری اصل شریعت میں واجب نہیں۔بلکہ ہمارے شارع صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے کبھی انگر کھا نہ پہنانہ حضور کے ملك میں اس کا رواج تھامگر اب کہ ملك ہندوستان میں شعار مسلمین قرار پایا اور الٹا پردہ کفار کا شعار ہواتوا ب سیدھا پردہ چھوڑ کر الٹا اختیار کرنا بلاشبہ حراماسی طرح بوجہ عرف وقرارداد امصار وبلاد جس مباح کا فعل عزت وشوکت اسلام پر دلالت کرے اوراسے چھوڑ دینے میں اسلام کی توہین اور کفر کا غلبہ سمجھا جائےقواعد شرعیہ بالیقین اس سے بازر رہنے کی تحریم کرتے ہیںاورمبنی اس کا وہی نظر مصالح واعتبار عرف ومراعات اقتضائے امورخارجہ ہےجسے ہم دونوں مقدمہ سابقہ میں بیان کر آئے۔
دلت المسئلۃ علی ان المرأۃ منھیۃ عن اظھار وجھھا للاجانب بلاضرورۃ ۔ یہ مسئلہ اس بات پرد لالت کرتاہے کہ عورت کو بلا ضرورت اجنبی لوگوں پر اپنا چہرہ کھولنا منع ہے۔(ت)
تنویر میں ہے:
تمنع من کشف الوجہ بین رجال لخوف الفتنۃ ۔ فتنہ کے خوف سے مردوں میں عورت کو چہرہ کھولنے سے روکا جائے۔(ت)
اسی قسم کے صدہا احکام ہماری شریعت میں ہیں"ومن القواعد المقررۃ فی شریعتنا المطھرۃ ان الحکم یدورمع علتہ"(ہماری شریعت مطہرہ کے مسلمہ قواعد میں سے ایك یہ ہے کہ حکم اپنی علت کے ساتھ دائرہوتاہے۔ت)
دوم واجبات ومحرمات ہماری شریعت میں دو قسم ہیں:
ایك لعینہ یعنی جس کی نفس ذات میں مقتضی ایجاب وتحریم موجود ہےجیسے عبادت خدا کی فرضیت اور بت پرستی کی حرمت۔
دوسرے لغیرہ یعنی وہ کہ امور خارجہ کا لحاظ ان کی ایجاب وتحریم کا اقتضا کرتاہے اگرچہ نفس ذات میں کوئی معنی اس کو مقتضی نہیںجیسے تعلم صرف ونحو کا وجوب کہ ہمارے رب تعالی کی کتاب اور ہمارے نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا کلام زبان عربی میں ہے اور اس کا فہم بے اس علم کے متعذرلہذا واجب کیا گیااور افیون اور بھنگ وغیرہما مسکرات کی حرمت کہ ان کا پینا ایك ایسی نعمت یعنی عقل کو زائل کردیتاہے جو ہرخیر کی جالب او رہر فتنہ وشر سے بچانے والی ہےاسی قبیل سے ہے شعارکہ مثلا انگرکھے کا سیدھا پردہ ہماری اصل شریعت میں واجب نہیں۔بلکہ ہمارے شارع صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے کبھی انگر کھا نہ پہنانہ حضور کے ملك میں اس کا رواج تھامگر اب کہ ملك ہندوستان میں شعار مسلمین قرار پایا اور الٹا پردہ کفار کا شعار ہواتوا ب سیدھا پردہ چھوڑ کر الٹا اختیار کرنا بلاشبہ حراماسی طرح بوجہ عرف وقرارداد امصار وبلاد جس مباح کا فعل عزت وشوکت اسلام پر دلالت کرے اوراسے چھوڑ دینے میں اسلام کی توہین اور کفر کا غلبہ سمجھا جائےقواعد شرعیہ بالیقین اس سے بازر رہنے کی تحریم کرتے ہیںاورمبنی اس کا وہی نظر مصالح واعتبار عرف ومراعات اقتضائے امورخارجہ ہےجسے ہم دونوں مقدمہ سابقہ میں بیان کر آئے۔
حوالہ / References
المسلك المتقسط علی لباب المناسك بحوالہ النہایۃ مع ارشاد الساری فصل فی احرام المرأۃ دارالکتب العربی بیروت ص۶۸
درمختار شرح تنویرالابصار باب شروط الصلوٰۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۶۶
درمختار شرح تنویرالابصار باب شروط الصلوٰۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۶۶
جب یہ امور منقح ہولئے تو اب اصل مسئلہ کا جواب لیجئے۔
گاؤ کشی اگرچہ بالتخصیص اپنے نفس ذات کے لحاظ سے واجب نہیں نہ اس کاتارك باوجود اعتقاد اباحت بنظر نفس ذات فعل گنہ گار نہ ہماری شریعت میں کسی خاص شیئ کا کھانا بالتعیین فرضمگر ان وجوہ سے صرف اس قدر ثابت ہوا کہ گاؤ کشی جاری رکھنا واجب لعینہاور اس کا ترك حرام لعینہ نہیںیعنی ان کے نفس ذات میں کوئی امران کے واجب یاحرام کرنے کا مقتضی نہیںلیکن ہمارے احکام مذہبی صرف اسی قسم کے واجبات ومحرمات میں منحصر نہیںبلکہ جیسا ان واجبات کاکرنا اور ان محرمات سے بچنا ضروری وحتمی ہے یوہیں واجبات محرمات لغیرہا میں بھی امتثال اجتناب اشد ضروی ہےجس سے ہم مسلمانوں کو کسی طرح مفر نہیںاوران سے بالجبر بازرکھنے میں بیشك ہماری مذہبی توہین ہے جسے حکام وقت بھی روانہیں رکھ سکتے۔
ہم مذہب وملت کے عقلاء سے دریافت کرتے ہیں اگرچہ کسی شہرمیں گاؤ کشی بند کردی جائے اور بلحاظ ناراضی ہنود اس فعل کو کہ ہماری شرع ہر گز اس سے باز رہنے کا ہمیں حکم نہیں دیتییك قلم موقوف کیاجائےتوکیا اس میں ذلت اسلام متصور نہ ہوگی۔کیا اس میں خواری ومغلوبی مسلمین نہ سمجھی جائے گیکیا اس وجہ سے ہنود کو ہم پر گردنیں دراز کرنے اوراپنی چیرہ دستی پر اعلی درجہ کی خوشی ظاہر کر کے ہمارے مذہب و اہل مذہب کے ساتھ شماتت کا موقع ہاتھ نہ آئے گاکیا بلاوجہ وجیہ اپنے لئے ایسی دنائت وذلت اختیار کرنا اور دوسروں کودینی مغلوبی سے اپنے اوپر ہنسوانا ہماری شرع جائز فرماتی ہے حاشا وکلا ہر گز نہیںہماری شرع ہر گز ہماری ذلت نہیں چاہتینہ یہ متوقع کہ حکام وقت صرف ایك جانب کی پاسداری کریںاوردوسری طرف لفظ کی توہین وتذلیل روارکھیں۔سائل لفظ ترك لکھتاہےیہ صرف مغالطہ اوردھوکاہےاس نے"ترك"اور"کف" میں فرق نہ کیاکسی فعل کا نہ کرنا اور بات ہے اور اس سے بالقصد بازرہنا اور باتہم پوچھتے ہیں کہ اس رسم سے جس میں صدہا منافع ہیںیك قلم امتناع آخر کسی وجہ پر مبنی ہوگااور وجہ سوا اس کے کچھ نہیں کہ ہنود کی ہٹ پوری کرنااور مسلمانوں نہ صرف مسلمانوں بلکہ تمام انسانوں کے اسباب معیشت میں کمی وتنگی کردیناہم اہل اسلام کی ابتدائے عہد سے بڑی غذا جس کی طرف ہماری طبعیتیں اصل خلقت میں راغب اور اس میں ہمارے لئے ہزاروں منافع اوراس سے ہمارے خالق تبارك وتعالی نے قرآن عزیز میں جابجا ہم پر منت رکھیگوشت ہے۔
قال ربنا تبارك وتعالی" و من البقر اثنین قل ءالذکرین حرم ہمارے رب تبارك وتعالی نے فرمایا: اس نے تمھارے لئے بنائے اونٹ سے دو(نر ومادہ)
گاؤ کشی اگرچہ بالتخصیص اپنے نفس ذات کے لحاظ سے واجب نہیں نہ اس کاتارك باوجود اعتقاد اباحت بنظر نفس ذات فعل گنہ گار نہ ہماری شریعت میں کسی خاص شیئ کا کھانا بالتعیین فرضمگر ان وجوہ سے صرف اس قدر ثابت ہوا کہ گاؤ کشی جاری رکھنا واجب لعینہاور اس کا ترك حرام لعینہ نہیںیعنی ان کے نفس ذات میں کوئی امران کے واجب یاحرام کرنے کا مقتضی نہیںلیکن ہمارے احکام مذہبی صرف اسی قسم کے واجبات ومحرمات میں منحصر نہیںبلکہ جیسا ان واجبات کاکرنا اور ان محرمات سے بچنا ضروری وحتمی ہے یوہیں واجبات محرمات لغیرہا میں بھی امتثال اجتناب اشد ضروی ہےجس سے ہم مسلمانوں کو کسی طرح مفر نہیںاوران سے بالجبر بازرکھنے میں بیشك ہماری مذہبی توہین ہے جسے حکام وقت بھی روانہیں رکھ سکتے۔
ہم مذہب وملت کے عقلاء سے دریافت کرتے ہیں اگرچہ کسی شہرمیں گاؤ کشی بند کردی جائے اور بلحاظ ناراضی ہنود اس فعل کو کہ ہماری شرع ہر گز اس سے باز رہنے کا ہمیں حکم نہیں دیتییك قلم موقوف کیاجائےتوکیا اس میں ذلت اسلام متصور نہ ہوگی۔کیا اس میں خواری ومغلوبی مسلمین نہ سمجھی جائے گیکیا اس وجہ سے ہنود کو ہم پر گردنیں دراز کرنے اوراپنی چیرہ دستی پر اعلی درجہ کی خوشی ظاہر کر کے ہمارے مذہب و اہل مذہب کے ساتھ شماتت کا موقع ہاتھ نہ آئے گاکیا بلاوجہ وجیہ اپنے لئے ایسی دنائت وذلت اختیار کرنا اور دوسروں کودینی مغلوبی سے اپنے اوپر ہنسوانا ہماری شرع جائز فرماتی ہے حاشا وکلا ہر گز نہیںہماری شرع ہر گز ہماری ذلت نہیں چاہتینہ یہ متوقع کہ حکام وقت صرف ایك جانب کی پاسداری کریںاوردوسری طرف لفظ کی توہین وتذلیل روارکھیں۔سائل لفظ ترك لکھتاہےیہ صرف مغالطہ اوردھوکاہےاس نے"ترك"اور"کف" میں فرق نہ کیاکسی فعل کا نہ کرنا اور بات ہے اور اس سے بالقصد بازرہنا اور باتہم پوچھتے ہیں کہ اس رسم سے جس میں صدہا منافع ہیںیك قلم امتناع آخر کسی وجہ پر مبنی ہوگااور وجہ سوا اس کے کچھ نہیں کہ ہنود کی ہٹ پوری کرنااور مسلمانوں نہ صرف مسلمانوں بلکہ تمام انسانوں کے اسباب معیشت میں کمی وتنگی کردیناہم اہل اسلام کی ابتدائے عہد سے بڑی غذا جس کی طرف ہماری طبعیتیں اصل خلقت میں راغب اور اس میں ہمارے لئے ہزاروں منافع اوراس سے ہمارے خالق تبارك وتعالی نے قرآن عزیز میں جابجا ہم پر منت رکھیگوشت ہے۔
قال ربنا تبارك وتعالی" و من البقر اثنین قل ءالذکرین حرم ہمارے رب تبارك وتعالی نے فرمایا: اس نے تمھارے لئے بنائے اونٹ سے دو(نر ومادہ)
ام الانثیین اما اشتملت علیہ ارحام الانثیین "
وقال تعالی
" اولم یروا انا خلقنا لہم مما عملت ایدینا انعما فہم لہا ملکون ﴿۷۱﴾ و ذللنہا لہم فمنہا رکوبہم و منہا یاکلون ﴿۷۲﴾ و لہم فیہا منفع و مشارب افلا یشکرون ﴿۷۳﴾ " اور گائے میں سے دو(ان کافروں سے)فرمادو اﷲ تعالی نے دونوں نرحرام کئے ہیں یا دونوں مادہ یا وہ جو دونوں مادہ کے پیٹ میں ہیں۔
اور اﷲ تعالی نے فرمایا: کیا انھیں نہیں سوجھتا کہ ہم نے اپنی قدرتی بنائی ہوئی چیزوں میں سے ان کے لئے چوپائے پیدا فرمائے تو وہ ان کے مالك ہیں اور ہم نے ان چوپاؤں کو ان کا مسخر کردیا تو ان میں کسی پر سوار ہوتے ہیں اور کسی کا گوشت کھاتے ہیںاوران کے لئے ان میں منافع ہیں اور پینے کی چیز تو کیا شکر نہ کریں گے الی غیر ذلك من الایات۔اورہمارے نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی حدیث میں گوشت کو دنیا وآخرت کے سب کھانوں کا سردار اور سب سے افضل وبہتر فرمایا۔
والحدیث مخرج بطریق عدیدۃ من عدۃ من الصحابۃ الکرام رضوان تعالی علیہم اجمعین۔ یہ حدیث متعدد صحابہ کرام رضوان اﷲ تعالی علیہم اجمعین سے متعدد طرق سے تخریج شدہ ہے۔(ت)
اور بیشك بکری کا گوشت دواما ہمارے ہر امیر وفقیر کو دستیاب نہیں ہوسکتاخصوصا مسلمانان ہندوستان کہ ان میں ثروت بہت کم اور افلاس غالب ہےغریبوں کی گزر بے گوشت گاؤ کے نہیںاور کتب حکمت بھی شاہد کہ اصل غذا انسان کی گوشت ہے عناصر غذائے نباتاتنباتات غذائے حیواناتحیوانات غذائے انساناو ربیشك اس کے کھانوں میں جو منفعتیں اور ہمارے جسم کی اصلاحیں اور ہمارے قوی کی افزائش ہیں اس کے غیر سے حاصل نہیںاور مرغوبی کی یہ کیفیت کہ ہر شخص اپنے وجدان سے جان سکتاہے کہ کیسا ہی لذیذ کھاناہوچند روز متواتر کھانے سے طیبعت اس سے سیر ہوجاتی ہے اور
وقال تعالی
" اولم یروا انا خلقنا لہم مما عملت ایدینا انعما فہم لہا ملکون ﴿۷۱﴾ و ذللنہا لہم فمنہا رکوبہم و منہا یاکلون ﴿۷۲﴾ و لہم فیہا منفع و مشارب افلا یشکرون ﴿۷۳﴾ " اور گائے میں سے دو(ان کافروں سے)فرمادو اﷲ تعالی نے دونوں نرحرام کئے ہیں یا دونوں مادہ یا وہ جو دونوں مادہ کے پیٹ میں ہیں۔
اور اﷲ تعالی نے فرمایا: کیا انھیں نہیں سوجھتا کہ ہم نے اپنی قدرتی بنائی ہوئی چیزوں میں سے ان کے لئے چوپائے پیدا فرمائے تو وہ ان کے مالك ہیں اور ہم نے ان چوپاؤں کو ان کا مسخر کردیا تو ان میں کسی پر سوار ہوتے ہیں اور کسی کا گوشت کھاتے ہیںاوران کے لئے ان میں منافع ہیں اور پینے کی چیز تو کیا شکر نہ کریں گے الی غیر ذلك من الایات۔اورہمارے نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی حدیث میں گوشت کو دنیا وآخرت کے سب کھانوں کا سردار اور سب سے افضل وبہتر فرمایا۔
والحدیث مخرج بطریق عدیدۃ من عدۃ من الصحابۃ الکرام رضوان تعالی علیہم اجمعین۔ یہ حدیث متعدد صحابہ کرام رضوان اﷲ تعالی علیہم اجمعین سے متعدد طرق سے تخریج شدہ ہے۔(ت)
اور بیشك بکری کا گوشت دواما ہمارے ہر امیر وفقیر کو دستیاب نہیں ہوسکتاخصوصا مسلمانان ہندوستان کہ ان میں ثروت بہت کم اور افلاس غالب ہےغریبوں کی گزر بے گوشت گاؤ کے نہیںاور کتب حکمت بھی شاہد کہ اصل غذا انسان کی گوشت ہے عناصر غذائے نباتاتنباتات غذائے حیواناتحیوانات غذائے انساناو ربیشك اس کے کھانوں میں جو منفعتیں اور ہمارے جسم کی اصلاحیں اور ہمارے قوی کی افزائش ہیں اس کے غیر سے حاصل نہیںاور مرغوبی کی یہ کیفیت کہ ہر شخص اپنے وجدان سے جان سکتاہے کہ کیسا ہی لذیذ کھاناہوچند روز متواتر کھانے سے طیبعت اس سے سیر ہوجاتی ہے اور
حوالہ / References
القرآن الکریم ۶ /۱۴۴
القرآن الکریم ۳۶ /۷۱ تا ۷۳
سنن ابن ماجہ ابواب الاطعمہ باب اللحم ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۴۵
القرآن الکریم ۳۶ /۷۱ تا ۷۳
سنن ابن ماجہ ابواب الاطعمہ باب اللحم ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۴۵
زیادہ دن گزریں تو نفرت کرنے لگتی ہے بخلاف نان گندم وگوشت کہ عمر بھر کھائے تو اس سے تنفر نہیں ہوتا۔معہذا گائے کی کھال وغیرہ سے جوہزار ہا قسم کے منافع ملتے اوران منفعتوں میں ہنود بھی ہمارے شریك ہوتے ہیںاور چنداقوام کی تجارتیں اور ان کے رزق کے ظاہری سامان گاؤ کشی کانتیجہ ہیں۔
تو سائل کا یہ قول کہ"کوئی فائدہ اس فعل پر مرتب نہ ہو"محض تصویر غلط ہے اور گائے کی قربانی خاص ہمارے شعائر دین سے ہےہمارا مالك ومولی تبارك وتعالی صریح ارشاد فرماتاہے:
" والبدن جعلنہا لکم من شعئراللہ " اور اونٹ اور گائے کو کیاہم نے تمھارے لئے خداکے شعاروں میں سے۔
اور یقینا معلوم کہ ہمارے ملك میں اونٹ ہماری غذا وادائے واجب قربانی کے لئے کفایت نہیں کرسکتے۔اول تو سخت گراںدوسرے بہ نسبت گاؤ نہایت قلیل الوجوداور اگرگاؤ کشی موقوف کرکے اونٹ پر کفایت کی جائے تو چند روزمیں اونٹ کی قیمت دہ چند ہوجائے گیاور یہ نفع عام جو ہمارے غرباء کو پہنچتاہے ہرگز اس سے متوقع نہیںاور عجب نہیں کہ رفتہ رفتہ بوجہ قلت اونٹ حکم عنقا کا پیدا کرےتو رفع حاجت دائمہ اس سے متوقع نہیںاور بکری کا گوشت کھانے کے لئے بھی تھوڑے لوگوں کو ملتاہےاور قربانی کے واسطے بھی ہر شخص ایك بکری جدا گانہ کرے کہ سال بھر سے کم کی نہ ہواور اس کے اعضاء بھی عیب و نقصان سے پاك ہوں بخلاف اس غریب پرور جانور یعنی گائے کے کہ ہمارے مسئلہ شرعیہ سے اس میں سات شخص شریك ہوسکتے ہیںاور بیشك سات بکریاں ایك گائے سے ہمیشہ گراں رہتی ہیں۔معہذا ہمارے مذہب میں اس کا جواز اور ہنود کے یہاں ممانعت ایك پلہ میں نہیںہماری اصل شریعت میں اس کا جواز موجود قرآن مجید میں ہے:
" ان اللہ یامرکم ان تذبحوا بقرۃ " ۔وشرائع من
قبلنا اذا قصھا اﷲ تعالی علینا من دون انکار شرائع لنا (ملتقطا)کما نص علیہ فی کتب الاصول۔ بیشك اﷲ تمھیں حکم دیتاہے کہ گائے ذبح کرو۔(ت)ہم سے پہلی شریعتوں کو جب اﷲ تعالی بیان فرماکر منع نہ فرمائے تو وہ ہماری شریعت ہوجاتی ہے(ملتقطا)جیسا کہ کتب اصول میں منصوص ہے(ت)
تو سائل کا یہ قول کہ"کوئی فائدہ اس فعل پر مرتب نہ ہو"محض تصویر غلط ہے اور گائے کی قربانی خاص ہمارے شعائر دین سے ہےہمارا مالك ومولی تبارك وتعالی صریح ارشاد فرماتاہے:
" والبدن جعلنہا لکم من شعئراللہ " اور اونٹ اور گائے کو کیاہم نے تمھارے لئے خداکے شعاروں میں سے۔
اور یقینا معلوم کہ ہمارے ملك میں اونٹ ہماری غذا وادائے واجب قربانی کے لئے کفایت نہیں کرسکتے۔اول تو سخت گراںدوسرے بہ نسبت گاؤ نہایت قلیل الوجوداور اگرگاؤ کشی موقوف کرکے اونٹ پر کفایت کی جائے تو چند روزمیں اونٹ کی قیمت دہ چند ہوجائے گیاور یہ نفع عام جو ہمارے غرباء کو پہنچتاہے ہرگز اس سے متوقع نہیںاور عجب نہیں کہ رفتہ رفتہ بوجہ قلت اونٹ حکم عنقا کا پیدا کرےتو رفع حاجت دائمہ اس سے متوقع نہیںاور بکری کا گوشت کھانے کے لئے بھی تھوڑے لوگوں کو ملتاہےاور قربانی کے واسطے بھی ہر شخص ایك بکری جدا گانہ کرے کہ سال بھر سے کم کی نہ ہواور اس کے اعضاء بھی عیب و نقصان سے پاك ہوں بخلاف اس غریب پرور جانور یعنی گائے کے کہ ہمارے مسئلہ شرعیہ سے اس میں سات شخص شریك ہوسکتے ہیںاور بیشك سات بکریاں ایك گائے سے ہمیشہ گراں رہتی ہیں۔معہذا ہمارے مذہب میں اس کا جواز اور ہنود کے یہاں ممانعت ایك پلہ میں نہیںہماری اصل شریعت میں اس کا جواز موجود قرآن مجید میں ہے:
" ان اللہ یامرکم ان تذبحوا بقرۃ " ۔وشرائع من
قبلنا اذا قصھا اﷲ تعالی علینا من دون انکار شرائع لنا (ملتقطا)کما نص علیہ فی کتب الاصول۔ بیشك اﷲ تمھیں حکم دیتاہے کہ گائے ذبح کرو۔(ت)ہم سے پہلی شریعتوں کو جب اﷲ تعالی بیان فرماکر منع نہ فرمائے تو وہ ہماری شریعت ہوجاتی ہے(ملتقطا)جیسا کہ کتب اصول میں منصوص ہے(ت)
حوالہ / References
القرآن الکریم ۲۲ /۳۶
القرآن الکریم ۲ /۶۷
اصول البزدوی باب شرائع من قبلنا نور محمد کارخانہ تجار ت کتب کراچی ص۲۳۲
القرآن الکریم ۲ /۶۷
اصول البزدوی باب شرائع من قبلنا نور محمد کارخانہ تجار ت کتب کراچی ص۲۳۲
اور ہنود کے اصل مذہب میں کہیں اس کی ممانعت نہیںمتاخرین نے خواہ مخواہ اس کی تحریم اپنے سر باندھ لیبلکہ کتب ہنود گواہی دیتی ہیں کہ پشوایان ہنود بھی گائے کامزہ چکھنے سے محروم نہ گئے جسے اس کی تفصیل دیکھنی ہو"سوط اﷲ الجبار"وغیرہ کتب میں ردہنود کا مطالعہ کرے۔
علاوہ بریں ہم دریافت کرتے ہیں اس کی تحریم ہنود کے یہاں دوہی وجہ سے معقول:
ایك یہ کہ جانور کی ناحق ایذااور ہتھیا ہےہم کہتے ہیں اکثر اقوام ہنود بکریمرغیمچھلی کھاتے ہیں کیا وہ جانور نہیںکیا ان کی جان جان نہیںکیا ان کی ایذا حرام نہیںکیا ان کا قتل ہتھیا نہیںاور خود کتب ہنود سے جو رام ولچھمن و کرشن کا شکاری ہو نا ثابتاس ہتھیا کا کیا علاجاورایساہی ناراضی ہنود کا خیال کیجئےتو اگر وہ ہتھیا کے حکم کو عام کردیں تو کیا شرع مطہر ہمیں ہر جانور کے ذبح وقتل سے باز رکھے گیاور سانپ کہ انسان کی جان کادشمن او رہندؤوں کا دیوتاہے ہر گز نہ ماراجائے گااور مسلمانوں کے اسباب ومعیشت مفقود اور انسانوں کے ابواب عافیت مسدود کردئے جائیں گےحاشا وکلا ہماری شرع ہر گز ایسا حکم نہیں فرماتی نہ حکام وقت ان خرافات کو روا رکھیں کیا مزے کی بات ہےہندوؤں میں بعض قومیں ایسی ہیں کہ مطلقا ہر جانور کا قتل حرام اور ہتھیا جانتی ہیںبلکہ بعض کو توا س قدر غلو وتشدد ہے کہ ہر وقت منہ پر کپڑا باندھے رہتے ہیں کہ مکھی یا بھنگا حلق میں جاکر مرنہ جائےاور باقی طوائف ہنود ان لوگوں کا خیال اور ان کے مذہب کا لحاظ نہیں کرتےمزے سے بکریمرغیمچھلی وغیرہ وغیرہ نوش جان کرتے اور مسلمانوں کی دیکھا دیکھی دیگچیوں کے بگھار کا لطف اڑاتے ہیںجب ان کے آپس میں یہ کیفیت ہے تو ہم پر کیوں ہنود کا لحاظ اور ان کے مذہب کا ایسا خیال واجب کرکے گاؤ کشی بند کرنے کا فتوی دیا جاسکتاہے ان ھذا الا ظلم صریح اوجہل قبیح(یہ نہیں مگر نراصریح ظلم یاقبیح جہالت۔ت)دوسری وجہ کہ گائے ان کے یہاں معظم ہے اوراپنے معظم کا ہلاك نہیں چاہتے۔ہم کہتے ہیں کہ :
اولا: گئوماتا کی آنکھیں بند ہوتے ہی ان سعادت مندوں کی تعظیم کاحال کھل جاتاہے اپنے ہاتھوں چماروں کے حوالے کرتے ہیں کہ چیریں پھاڑیںاور چرسا اپنے لئے ٹھہرالیتے ہیں کہ کھال کی جوتیاں بناکر پہنیں جو جوتوں سے بچی وہ ڈھول کر کھنچی کہ شادی بیاہ میں کام آئےرات بھر تپانچے کھائے
ثانیا: بغرض غلط اگر تعظیم ہے بھی تو صرف گائے پر مقتصر ہےہم بچشم خود دیکھتے ہیں کہ ہنود آپ بیل کی ہرتعظیم نہیں کرتے
بلکہ اس پر سخت تشدد کرتے ہیں ہل میں جوتیںگاڑی میں چلائیںسواریاں لیںبوجھ لدوائیںوجہ بے وجہ سخت ماریں کہ جابجا ان کے جسم زخمی ہوجاتے ہیںہم نے خود دیکھا ہے کہ بعض ہنود نے باربرداری کی گاڑیوں میں اس قدر بوجھ بھرا کہ بیلوں کا جگر پھٹ گیااور خون ڈال کر مرگئےتو معلوم ہواکہ بیل ان کے
علاوہ بریں ہم دریافت کرتے ہیں اس کی تحریم ہنود کے یہاں دوہی وجہ سے معقول:
ایك یہ کہ جانور کی ناحق ایذااور ہتھیا ہےہم کہتے ہیں اکثر اقوام ہنود بکریمرغیمچھلی کھاتے ہیں کیا وہ جانور نہیںکیا ان کی جان جان نہیںکیا ان کی ایذا حرام نہیںکیا ان کا قتل ہتھیا نہیںاور خود کتب ہنود سے جو رام ولچھمن و کرشن کا شکاری ہو نا ثابتاس ہتھیا کا کیا علاجاورایساہی ناراضی ہنود کا خیال کیجئےتو اگر وہ ہتھیا کے حکم کو عام کردیں تو کیا شرع مطہر ہمیں ہر جانور کے ذبح وقتل سے باز رکھے گیاور سانپ کہ انسان کی جان کادشمن او رہندؤوں کا دیوتاہے ہر گز نہ ماراجائے گااور مسلمانوں کے اسباب ومعیشت مفقود اور انسانوں کے ابواب عافیت مسدود کردئے جائیں گےحاشا وکلا ہماری شرع ہر گز ایسا حکم نہیں فرماتی نہ حکام وقت ان خرافات کو روا رکھیں کیا مزے کی بات ہےہندوؤں میں بعض قومیں ایسی ہیں کہ مطلقا ہر جانور کا قتل حرام اور ہتھیا جانتی ہیںبلکہ بعض کو توا س قدر غلو وتشدد ہے کہ ہر وقت منہ پر کپڑا باندھے رہتے ہیں کہ مکھی یا بھنگا حلق میں جاکر مرنہ جائےاور باقی طوائف ہنود ان لوگوں کا خیال اور ان کے مذہب کا لحاظ نہیں کرتےمزے سے بکریمرغیمچھلی وغیرہ وغیرہ نوش جان کرتے اور مسلمانوں کی دیکھا دیکھی دیگچیوں کے بگھار کا لطف اڑاتے ہیںجب ان کے آپس میں یہ کیفیت ہے تو ہم پر کیوں ہنود کا لحاظ اور ان کے مذہب کا ایسا خیال واجب کرکے گاؤ کشی بند کرنے کا فتوی دیا جاسکتاہے ان ھذا الا ظلم صریح اوجہل قبیح(یہ نہیں مگر نراصریح ظلم یاقبیح جہالت۔ت)دوسری وجہ کہ گائے ان کے یہاں معظم ہے اوراپنے معظم کا ہلاك نہیں چاہتے۔ہم کہتے ہیں کہ :
اولا: گئوماتا کی آنکھیں بند ہوتے ہی ان سعادت مندوں کی تعظیم کاحال کھل جاتاہے اپنے ہاتھوں چماروں کے حوالے کرتے ہیں کہ چیریں پھاڑیںاور چرسا اپنے لئے ٹھہرالیتے ہیں کہ کھال کی جوتیاں بناکر پہنیں جو جوتوں سے بچی وہ ڈھول کر کھنچی کہ شادی بیاہ میں کام آئےرات بھر تپانچے کھائے
ثانیا: بغرض غلط اگر تعظیم ہے بھی تو صرف گائے پر مقتصر ہےہم بچشم خود دیکھتے ہیں کہ ہنود آپ بیل کی ہرتعظیم نہیں کرتے
بلکہ اس پر سخت تشدد کرتے ہیں ہل میں جوتیںگاڑی میں چلائیںسواریاں لیںبوجھ لدوائیںوجہ بے وجہ سخت ماریں کہ جابجا ان کے جسم زخمی ہوجاتے ہیںہم نے خود دیکھا ہے کہ بعض ہنود نے باربرداری کی گاڑیوں میں اس قدر بوجھ بھرا کہ بیلوں کا جگر پھٹ گیااور خون ڈال کر مرگئےتو معلوم ہواکہ بیل ان کے
یہاں معظم نہیںاگر یہ ممانعت بربنائے تعظیم ہے تو چاہئے کہ بخوشی بیلوں کے ذبح کی اجازت دیںورنہ ان کا صریح مکابرہ او رہٹ دھرمی ہے۔
باقی رہا سائل کا یہ کہنا کہ"اس فعل کے ارتکاب سے ثوران فتنہ وفساد ہو"ہم کہتے ہیں جن مواضع میں مثل بازار وشارع عام وغیرہما گاؤ کشی کی قانونا ممانعت عــــــہ ہے وہاں جومسلمان گائے ذبح کرے گا البتہ اثارت فتنہ وفساد اس کی طرف منسوب ہوسکتی ہے اور قانونامجرم قرار پائے گااور اس امر کو ہماری شریعت مطہرہ بھی روانہیں رکھتی کہ ایسی وجہ سے مسلمانوں پر مواخذہے یا انھیں سزا ہونا بیشك توہین اسلام ہے جن کا مرتکب یہ شخص ہوانظیر اس کی سب وشتم آلہہ باطلہ مشرکین ہے کہ شرع نے اس سے ممانعت فرمائیاگرچہ اکثر جگہ فی نفسہ حرج متحقق نہ تھا۔
" ولا تسبوا الذین یدعون من دون اللہ فیسبوا اللہ عدوا بغیر علم " ۔ اورانھیں گالی نہ دو جن کو وہ اﷲ کے سواپوجتے ہیں کہ وہ اﷲ کی شان میں بے ادبی کریں گے زیادتی اور جہالت سے۔(ت)
اورجہان قانونا ممانعت نہیں وہاں اگر ثوران فتنہ وفساد ہوگا تو لاجرم ہنود کی جانب سے ہوگااور جرم انھیں کا ہے کہ جہاں ذبح کرنے کی اجازت ہے وہاں بھی ذبح نہیں کرنے دیتے۔کیا ان کے جرم کے سبب ہم اپنی رسوم مذہبی ترك کرسکتے ہیںیہ حکم بعینہ ایسا ہوا کہ کوئی شخص اعتبار سے کہے تمھارا مال جمع کرنا باعث ثوران فتنہ وفساد وایذا ئے خلق اﷲ ہےکہ نہ تم مال جمع کرو نہ چورچرانے آئیں نہ وہ قیدوبند کی سخت سخت سزائیں پائیںاس احمق کے جواب میں یہی کہا جائے گا کہ چوری چور کاجرم ہےاس کے سبب ہمیں جمع مال سے کیوں ممانعت ہونے لگیاور اگر ایسا ہی خیال ہنودکے فتنہ وفساد کا شرع ہم پرواجب کرے گی تو ہر جگہ ہنود کو قطعا اس رسم کے اٹھادینے کی سہل تدبیر ہاتھ آئے گیجہاں چاہیں گے فتنہ وفساد برپا کریں گے اور بزعم جہال شرع ہم پر ترك واجب کردے گیاوراس کے سوا ہماری جس رسم مذہبی کو چاہیں گے اپنے فتنہ وفساد کی پناہ پر بند کرادیں گےاور یہی واقعہ ان کے لئے نظیر ہوجائے گاایسی صورت میں تم پر اپنی رسم کا ترك شرعا واجب ہوتاہے۔
عــــــہ: فی الحال یہی صورت حال ہے کہ مختلف حکومتوں نے اپنے اپنے صوبے میں ذبیحہ گاؤ کا مطلقا خلاف قانون قرار دیا ہے لہذا باز رہا جائے۔۱۲ عبدالمنان
باقی رہا سائل کا یہ کہنا کہ"اس فعل کے ارتکاب سے ثوران فتنہ وفساد ہو"ہم کہتے ہیں جن مواضع میں مثل بازار وشارع عام وغیرہما گاؤ کشی کی قانونا ممانعت عــــــہ ہے وہاں جومسلمان گائے ذبح کرے گا البتہ اثارت فتنہ وفساد اس کی طرف منسوب ہوسکتی ہے اور قانونامجرم قرار پائے گااور اس امر کو ہماری شریعت مطہرہ بھی روانہیں رکھتی کہ ایسی وجہ سے مسلمانوں پر مواخذہے یا انھیں سزا ہونا بیشك توہین اسلام ہے جن کا مرتکب یہ شخص ہوانظیر اس کی سب وشتم آلہہ باطلہ مشرکین ہے کہ شرع نے اس سے ممانعت فرمائیاگرچہ اکثر جگہ فی نفسہ حرج متحقق نہ تھا۔
" ولا تسبوا الذین یدعون من دون اللہ فیسبوا اللہ عدوا بغیر علم " ۔ اورانھیں گالی نہ دو جن کو وہ اﷲ کے سواپوجتے ہیں کہ وہ اﷲ کی شان میں بے ادبی کریں گے زیادتی اور جہالت سے۔(ت)
اورجہان قانونا ممانعت نہیں وہاں اگر ثوران فتنہ وفساد ہوگا تو لاجرم ہنود کی جانب سے ہوگااور جرم انھیں کا ہے کہ جہاں ذبح کرنے کی اجازت ہے وہاں بھی ذبح نہیں کرنے دیتے۔کیا ان کے جرم کے سبب ہم اپنی رسوم مذہبی ترك کرسکتے ہیںیہ حکم بعینہ ایسا ہوا کہ کوئی شخص اعتبار سے کہے تمھارا مال جمع کرنا باعث ثوران فتنہ وفساد وایذا ئے خلق اﷲ ہےکہ نہ تم مال جمع کرو نہ چورچرانے آئیں نہ وہ قیدوبند کی سخت سخت سزائیں پائیںاس احمق کے جواب میں یہی کہا جائے گا کہ چوری چور کاجرم ہےاس کے سبب ہمیں جمع مال سے کیوں ممانعت ہونے لگیاور اگر ایسا ہی خیال ہنودکے فتنہ وفساد کا شرع ہم پرواجب کرے گی تو ہر جگہ ہنود کو قطعا اس رسم کے اٹھادینے کی سہل تدبیر ہاتھ آئے گیجہاں چاہیں گے فتنہ وفساد برپا کریں گے اور بزعم جہال شرع ہم پر ترك واجب کردے گیاوراس کے سوا ہماری جس رسم مذہبی کو چاہیں گے اپنے فتنہ وفساد کی پناہ پر بند کرادیں گےاور یہی واقعہ ان کے لئے نظیر ہوجائے گاایسی صورت میں تم پر اپنی رسم کا ترك شرعا واجب ہوتاہے۔
عــــــہ: فی الحال یہی صورت حال ہے کہ مختلف حکومتوں نے اپنے اپنے صوبے میں ذبیحہ گاؤ کا مطلقا خلاف قانون قرار دیا ہے لہذا باز رہا جائے۔۱۲ عبدالمنان
حوالہ / References
القرآن الکریم ۶ /۱۰۸
بالجملہ خلاصہ جواب یہ ہے کہ بازار وشارع عام میں جہاں قانوناممانعت ہےبراہ جہالت ذبح گاؤ کا مرتکب ہونا بیشك اسلام کی توہین وذلت کے لئے پیش کرنا ہےکہ شرعا حرام اور اس کے سواجہاں ممانعت نہیں وہاں سے بھی بازر ہنا اور ہنودکی بیجاہٹ بجارکھنے کے لئے یك قلم اس رسم کو اٹھادینا ہر گز جائز نہیں بلکہ انھیں مضرات وہذلات کا باعث ہے جن کا ذکر ہم اول کرآئے جنھیں شرع مطہر پر ہر گز گوارا نہیں فرماتی نہ کوئی ذی انصاف حاکم پسند کرسکے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۸۵: از مسلم لیگ ضلع بریلی مرسلہ سید عبدالودود جائنٹ سیکرٹری لیگ مذکور جمادی الاولی ۱۳۲۹ھ
نحمدہ ونصلی
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس بارے میں کہ آج کل ہنود کی طرف سے نہایت سخت کوشش اس امر کی ہورہی ہے کہ ہندوستان سے گاؤ کشی کی رسم موقوف کرادی جائے اور اس غرض سے انھوں نے ایك بہت بڑی عرضداشت گورنمنٹ میں پیش کرنے کےلئے تیار کی ہے جس پر کروڑوں باشندگان ہندوستان کے دستخط کرائے جارہے ہیںبعض ناعاقبت اندیش مسلمان بھی اس عرض داشت پر ہندؤوں کے کہنے سننے سے دستخط کررہے ہیںایسے مسلمانوں کی بابت شرع شریف کا کیاحکم ہے اور اس مذہبی رسم جوشعائر اسلام میں سے ہے کے بند کرانے میں مدد دینے والے گنہ گار اور عنداﷲ مواخذہ دار ہیں یانہیں بینوا الجواب بالتفصیل واﷲ یھدی من یشاء الی سواء السبیل۔
الجواب:
گائے کی قربانی شعائر اسلام سے ہے۔
" والبدن جعلنہا لکم من شعئراللہ" اوراونٹ گائے بیل ہم نے ان کو کیا تمھارے لیے اﷲ کی نشانیوں سے۔
مسلمانوں کو ہندوؤں کے ساتھ اس معاملہ کے انسداد میں شرکت ناجائز وحرام ہے واﷲ تعالی اعلم۔
yahan image hai
مسئلہ ۱۸۵: از مسلم لیگ ضلع بریلی مرسلہ سید عبدالودود جائنٹ سیکرٹری لیگ مذکور جمادی الاولی ۱۳۲۹ھ
نحمدہ ونصلی
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس بارے میں کہ آج کل ہنود کی طرف سے نہایت سخت کوشش اس امر کی ہورہی ہے کہ ہندوستان سے گاؤ کشی کی رسم موقوف کرادی جائے اور اس غرض سے انھوں نے ایك بہت بڑی عرضداشت گورنمنٹ میں پیش کرنے کےلئے تیار کی ہے جس پر کروڑوں باشندگان ہندوستان کے دستخط کرائے جارہے ہیںبعض ناعاقبت اندیش مسلمان بھی اس عرض داشت پر ہندؤوں کے کہنے سننے سے دستخط کررہے ہیںایسے مسلمانوں کی بابت شرع شریف کا کیاحکم ہے اور اس مذہبی رسم جوشعائر اسلام میں سے ہے کے بند کرانے میں مدد دینے والے گنہ گار اور عنداﷲ مواخذہ دار ہیں یانہیں بینوا الجواب بالتفصیل واﷲ یھدی من یشاء الی سواء السبیل۔
الجواب:
گائے کی قربانی شعائر اسلام سے ہے۔
" والبدن جعلنہا لکم من شعئراللہ" اوراونٹ گائے بیل ہم نے ان کو کیا تمھارے لیے اﷲ کی نشانیوں سے۔
مسلمانوں کو ہندوؤں کے ساتھ اس معاملہ کے انسداد میں شرکت ناجائز وحرام ہے واﷲ تعالی اعلم۔
yahan image hai
حوالہ / References
القرآن الکریم ۲۲ /۳۶
فی الواقع گاؤکشی ہم مسلمانوں کا مذہبی کام ہے جس کاحکم ہماری پاك مبارك کتاب کلام مجید رب الارباب میں متعدد جگہ موجودہےاس میں ہندوؤں کی امداداوراپنی مذہبی مضرت میں کوشش اورقانونی آزادی کی بندش نہ کرے گا مگروہ جو مسلمانوں کا بدخواہ ہےواﷲ تعالی اعلم۔
اﷲ عزوجل فرماتاہے:
" ان اللہ یامرکم ان تذبحوا بقرۃ " شرائع من قبلنا اذا قصہا اﷲ تعالی علینا من دون انکار شرائع لنا (ملتقطا)کما نص فی کتب الاصول۔ بیشك اﷲ تمھیں حکم دیتاہے کہ گائے ذبح کرو۔(ت)ہم سے پہلی شریعتوںکوجب اﷲ تعالی بیان فرماکر منع نہ فرمائے تو وہ ہماری شریعت ہوجاتی ہے۔(ملتقطا)جیسا کہ کتب اصول میں منصوص ہیں۔(ت)
زراعت کے بہانے سے ہنود ہماری مذہبی رسم میں نہ صرف دست اندازی بلکہ اس کا پورا انسداد چاہتے ہیںاور طرفہ یہ کہ اس پر مذہبی آزادی سے استناد کرتے ہیںکیا مذہبی آزادی کے یہ معنی ہیں کہ ایك فریق کے خیالات کوکامیاب کرنے کےلئے دوسرے فریق کی دینی مذہبی رسوم بندکردی جائیںہندوستان میں روزانہ ہزاروں گائے ذبح ہوتی ہیں آج تك زراعت کو کون سانقصان پہنچا جو آئندہ پہنچنے کی امید ہوقدرت کا قاعدہ ہے کہ جس چیزکی مانگ زیادہ ہوتی ہے اسے زیادہ پیدا فرماتی ہےگاؤ کشی بندہونے سے زراعت کو تو کوئی فائدہ نہیں پہنچ سکتا سوااس کے کہ کھیت میں پڑ کر تیار کھیت کوکھا جانے والے اب دس ہیں تو جب سو ہونگےہاں گوشت کو نقصان عظیم پہنچے گامسلمان اور عیسائی بلکہ ہنودکی بعض اقوام بھی طبعی طورپر غذائے گوشت کے عادی ہیںاسے بند کرکے صرف دال ساگ پر انھیں قانع کرنا ضرور ان کی عافیت میں خلل انداز ہوگا اور ہر گز ان کی صحت جسمانی ٹھیك نہیں رہ سکتی اور اس کے سوا عام حاجتوں کو سخت نقصان پہنچے گامثلا"جوتا"ہےکیاہنود اس کے محتاج نہیںکم لوگ ہیں کہ نری استرکاپہنتے ہوںاور جب ادھوڑی استر کا بند ہوجائیگا توغرباء تو پہن ہی نہ سکیں گے اورامراء کے لئے چہار چند قیمت ہوجائے گیاو راس کے علاوہ ہزاروں کام جن پر چمڑے کے کارخانوں کی بنا ہےاورلاکھوں روپے کی تجارت ہے اور ہزاروں
اﷲ عزوجل فرماتاہے:
" ان اللہ یامرکم ان تذبحوا بقرۃ " شرائع من قبلنا اذا قصہا اﷲ تعالی علینا من دون انکار شرائع لنا (ملتقطا)کما نص فی کتب الاصول۔ بیشك اﷲ تمھیں حکم دیتاہے کہ گائے ذبح کرو۔(ت)ہم سے پہلی شریعتوںکوجب اﷲ تعالی بیان فرماکر منع نہ فرمائے تو وہ ہماری شریعت ہوجاتی ہے۔(ملتقطا)جیسا کہ کتب اصول میں منصوص ہیں۔(ت)
زراعت کے بہانے سے ہنود ہماری مذہبی رسم میں نہ صرف دست اندازی بلکہ اس کا پورا انسداد چاہتے ہیںاور طرفہ یہ کہ اس پر مذہبی آزادی سے استناد کرتے ہیںکیا مذہبی آزادی کے یہ معنی ہیں کہ ایك فریق کے خیالات کوکامیاب کرنے کےلئے دوسرے فریق کی دینی مذہبی رسوم بندکردی جائیںہندوستان میں روزانہ ہزاروں گائے ذبح ہوتی ہیں آج تك زراعت کو کون سانقصان پہنچا جو آئندہ پہنچنے کی امید ہوقدرت کا قاعدہ ہے کہ جس چیزکی مانگ زیادہ ہوتی ہے اسے زیادہ پیدا فرماتی ہےگاؤ کشی بندہونے سے زراعت کو تو کوئی فائدہ نہیں پہنچ سکتا سوااس کے کہ کھیت میں پڑ کر تیار کھیت کوکھا جانے والے اب دس ہیں تو جب سو ہونگےہاں گوشت کو نقصان عظیم پہنچے گامسلمان اور عیسائی بلکہ ہنودکی بعض اقوام بھی طبعی طورپر غذائے گوشت کے عادی ہیںاسے بند کرکے صرف دال ساگ پر انھیں قانع کرنا ضرور ان کی عافیت میں خلل انداز ہوگا اور ہر گز ان کی صحت جسمانی ٹھیك نہیں رہ سکتی اور اس کے سوا عام حاجتوں کو سخت نقصان پہنچے گامثلا"جوتا"ہےکیاہنود اس کے محتاج نہیںکم لوگ ہیں کہ نری استرکاپہنتے ہوںاور جب ادھوڑی استر کا بند ہوجائیگا توغرباء تو پہن ہی نہ سکیں گے اورامراء کے لئے چہار چند قیمت ہوجائے گیاو راس کے علاوہ ہزاروں کام جن پر چمڑے کے کارخانوں کی بنا ہےاورلاکھوں روپے کی تجارت ہے اور ہزاروں
حوالہ / References
القرآن الکریم ۲ /۶۷
اصول البزدوی باب شرائع من قبلنا نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص ۲۳۲
اصول البزدوی باب شرائع من قبلنا نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص ۲۳۲
آدمیوں کا رزقاور گورنمنٹی خزانے کے لئے لاکھوں کامحصولیہ سب امو ر یکسر بندہوجائیں گےاورملك کی رفاہ وآسائش میں عام انقلاب واقع ہوگاجس کا ضرر نہ صرف مسلمانوں کو ہوگا بلکہ تمام اقوام کوپہنچے گاواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۸۶: از مجلس دادخواہی مسلمانان بریلی ربیع الاول شریف ۱۳۱۲ھ
دعوی قربانی کے جواب میں ہنود نے اپنا یہ بیان پیش کیا ہے کہ قرآن شریف میں اس فعل کی اجازت نہیںبنیاد مذہب مدعی کی اوپر قرآ ن شریف کے ہےکتاب مذکور میں قربانی گاؤ کی ہدایت نہیں کرتا ہےمدعی خلاف اس کے بحیلہ مذہب بغرض دل دکھانے مذہب ہنود کے جس کی دھرم شاستر میں سخت ممانعت ہے یہ فعل خلاف استحقاق کرنا چاہتاہے فقطچونکہ یہ بیان ان کا متعلق قرآن شریف ومسائل مذہب کے ہےلہذا علماء کی خدمت میں استفتاء ہے کہ آیا یہ بیان ہنود صحیح ہے یا غلط
الجواب:
بیان ہنود سراسر غلط ہے۔مسلمانوں کی آسمانی کتاب قرآن مجید اورہمارے سچے نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے ارشادات سے قربانی گاؤ کی اجازت بخوبی ثابت ہے:
(۱)اﷲ تعالی قرآن مجید کے سترھویں پارہبائیسویں سورہ حج کے پانچویں رکوع میں فرماتاہے:
" والبدن جعلنہا لکم من شعئراللہ لکم فیہا خیر ٭ فاذکروا اسم اللہ علیہا صواف فاذا وجبت جنوبہا فکلوا منہا و اطعموا القانع والمعتر کذلک سخرنہا لکم لعلکم تشکرون ﴿۳۶﴾ " ۔ اور قربانی کے ڈیل دارجانوروں کو کیا ہم نے تمھارے لئے اﷲ کی نشانیاں تمھارے لئےان میں بھلائی ہےتو اﷲ کانام لو ان پر کھڑے ہوئےپھر جب ان کی کروٹیں گرجائیں توخود کھاؤ اورصبر سے بیٹھنے والے اورمانگنے والے کوکھلاؤیو ہیں ہم نے ان جانوروں کو تمھارے بس میں کردیا ہے کہ تم احسان مانو
قربانی کے ڈیل دار جانور اونٹ اور گائے ہیںتفسیر قادری جو ہنود کے ایك معزز رئیس منشی نولکشور سی آئی ای نے اپنی فرمائش سے منجا نب مطبع تصنیف کرائی اور داخل رجسٹری کراکراپنے مطبع میں چھ بار
مسئلہ ۱۸۶: از مجلس دادخواہی مسلمانان بریلی ربیع الاول شریف ۱۳۱۲ھ
دعوی قربانی کے جواب میں ہنود نے اپنا یہ بیان پیش کیا ہے کہ قرآن شریف میں اس فعل کی اجازت نہیںبنیاد مذہب مدعی کی اوپر قرآ ن شریف کے ہےکتاب مذکور میں قربانی گاؤ کی ہدایت نہیں کرتا ہےمدعی خلاف اس کے بحیلہ مذہب بغرض دل دکھانے مذہب ہنود کے جس کی دھرم شاستر میں سخت ممانعت ہے یہ فعل خلاف استحقاق کرنا چاہتاہے فقطچونکہ یہ بیان ان کا متعلق قرآن شریف ومسائل مذہب کے ہےلہذا علماء کی خدمت میں استفتاء ہے کہ آیا یہ بیان ہنود صحیح ہے یا غلط
الجواب:
بیان ہنود سراسر غلط ہے۔مسلمانوں کی آسمانی کتاب قرآن مجید اورہمارے سچے نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے ارشادات سے قربانی گاؤ کی اجازت بخوبی ثابت ہے:
(۱)اﷲ تعالی قرآن مجید کے سترھویں پارہبائیسویں سورہ حج کے پانچویں رکوع میں فرماتاہے:
" والبدن جعلنہا لکم من شعئراللہ لکم فیہا خیر ٭ فاذکروا اسم اللہ علیہا صواف فاذا وجبت جنوبہا فکلوا منہا و اطعموا القانع والمعتر کذلک سخرنہا لکم لعلکم تشکرون ﴿۳۶﴾ " ۔ اور قربانی کے ڈیل دارجانوروں کو کیا ہم نے تمھارے لئے اﷲ کی نشانیاں تمھارے لئےان میں بھلائی ہےتو اﷲ کانام لو ان پر کھڑے ہوئےپھر جب ان کی کروٹیں گرجائیں توخود کھاؤ اورصبر سے بیٹھنے والے اورمانگنے والے کوکھلاؤیو ہیں ہم نے ان جانوروں کو تمھارے بس میں کردیا ہے کہ تم احسان مانو
قربانی کے ڈیل دار جانور اونٹ اور گائے ہیںتفسیر قادری جو ہنود کے ایك معزز رئیس منشی نولکشور سی آئی ای نے اپنی فرمائش سے منجا نب مطبع تصنیف کرائی اور داخل رجسٹری کراکراپنے مطبع میں چھ بار
حوالہ / References
القرآن الکریم ۲۲ /۳۶
چھاپیبیچیاس کی جلد دوم طبع ششم سطر اخیر ص ۷۹ وسطر اول ص ۸۰ میں آیت کے ان لفظوں کا ترجمہ یوں لکھا:" والبدن اور اونٹ اور گائے جو قربانی کے واسطے ہانکے لیے جاتے ہیں" جعلنہا لکم"کردیا ہم نے انھیںیعنی ان کے ذبح کو تمھارے واسطے من شعئراللہ دین الہی کے نشانیوں میں سے" اور بیشك ہم حنفی مذہب والوں کے تینوں امام یعنی امام ابوحنیفہ اور امام ابویوسف اور امام محمد رحمۃ اﷲ تعالی علیہم اور ان کے سب پیروؤں کا یہی مذہب ہے بدنہ یعنی قربانی کے ڈیل دار جانور میں اونٹ اور گائے دونوں داخل ہیں۔انھیں اماموں کا مذہب ہندوستان کے تمام شہروں میں رائج ہےاور یہاں انھیں کے مذہب پر فتوی وعمل ہوتاہےہدایہدرمختارقاضی خاںعالمگیری وغیرہا مشہور کتابیں اسی مذہب کی ہیںدرمختار میں ہے:
بدنۃ ھی الابل والبقر سمیت بہ لضخامتھا ۔ بدنہ اونٹ اور گائے ہےان کے ڈیل دار ہونے کے سبب ان کا یہ نام ہوا۔
ہدایہ میں ہے:
البدنۃ ھی الابل والبقرقال الشافعی من الابل لنا ان البدنۃ تنبئ عن البدانۃ وھی الضخامۃ وقد اشتر کا فی ھذا المعنی ولھذا یجزئ کل واحد منہما عن سبعۃ اھ ملخصا۔ اونٹ اورگائے دونوں بدنہ ہیں۔شافعی نے کہا اونٹہماری دلیل یہ ہے کہ بدنہ ڈیل دار ہونے سے خبر دیتاہےاوراس بات میں اونٹ اور گائے براربرہیںاس لئے وہ دونوں سات آدمیوں کی طرف سے کفایت کرتے ہیں۔
فتاوی عالمگیری میں ہے: البدن من الابل والبقر بدنہ اونٹ اور گائے دونوں سے ہےاوریہ مضمون حدیث سے بھی ثابت ہے کہ عنقریب مذکور ہوگی۔
(۲)اﷲ تعالی اسی رکوع کے شروع میں فرماتاہے:
" و لکل امۃ جعلنا منسکا لیذکروا اسم اللہ اورہر گروہ کےلئے ہم نے مقررکردی قربانی کہ اﷲ کا
بدنۃ ھی الابل والبقر سمیت بہ لضخامتھا ۔ بدنہ اونٹ اور گائے ہےان کے ڈیل دار ہونے کے سبب ان کا یہ نام ہوا۔
ہدایہ میں ہے:
البدنۃ ھی الابل والبقرقال الشافعی من الابل لنا ان البدنۃ تنبئ عن البدانۃ وھی الضخامۃ وقد اشتر کا فی ھذا المعنی ولھذا یجزئ کل واحد منہما عن سبعۃ اھ ملخصا۔ اونٹ اورگائے دونوں بدنہ ہیں۔شافعی نے کہا اونٹہماری دلیل یہ ہے کہ بدنہ ڈیل دار ہونے سے خبر دیتاہےاوراس بات میں اونٹ اور گائے براربرہیںاس لئے وہ دونوں سات آدمیوں کی طرف سے کفایت کرتے ہیں۔
فتاوی عالمگیری میں ہے: البدن من الابل والبقر بدنہ اونٹ اور گائے دونوں سے ہےاوریہ مضمون حدیث سے بھی ثابت ہے کہ عنقریب مذکور ہوگی۔
(۲)اﷲ تعالی اسی رکوع کے شروع میں فرماتاہے:
" و لکل امۃ جعلنا منسکا لیذکروا اسم اللہ اورہر گروہ کےلئے ہم نے مقررکردی قربانی کہ اﷲ کا
حوالہ / References
تفسیر قادری آیۃ والبدن جعلنہا لکم کے تحت نولکشور لکھنؤ ۲/ ۷۹،۸۰
درمختار کتاب الاضحیۃ مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۳۱
الہدایۃ فصل مایتعلق بالوقوف المکتبۃ العربیۃ کراچی ۱/ ۳۷۔۲۳۶
فتاوٰی ہندیۃ الباب السادس عشر فی الہدی نورانی کتب خانہ کراچی ۱/ ۲۶۱
درمختار کتاب الاضحیۃ مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۳۱
الہدایۃ فصل مایتعلق بالوقوف المکتبۃ العربیۃ کراچی ۱/ ۳۷۔۲۳۶
فتاوٰی ہندیۃ الباب السادس عشر فی الہدی نورانی کتب خانہ کراچی ۱/ ۲۶۱
علی ما رزقہم من بہیمۃ الانعم " نام لیں چوپایوں کے ذبح پر جو اﷲ نے انھیں دئے۔
یہاں فرمایا کہ چوپایوں کو اﷲ تعالی نے قربانی کے لئے بنایا ہے اورآٹھویں پارہ چھٹی سورہ انعام کے سترھویں رکوع میں چوپایوں کی تفصیل یہ بیان فرمائی:
ثمنیۃ ازوج من الضان اثنین و من المعزاثنین "(الی قولہ تعالی)" و من الابل اثنین و من البقر اثنین قل ءالذکرین حرم ام الانثیین اما اشتملت علیہ ارحام الانثیین " ۔ چوپائے آٹھ نر ومادہ میں بھیڑ سے دواور بکری سے دواونٹ سے دواور گائے سے دوتو کہہ کیا اﷲ نے دونوں نر حرام کئے ہیں یا دونوں مادہیا وہ جسے اپنے پیٹ میں رکھا دونوں مادہ نے
ان آیتوں سے صاف معلوم ہوا کہ اونٹگائےبھیڑبکری سب کی قربانی اﷲ تعالی نے بتائی ہےاس لئے تفسیر مذکور فرمائشی منشی نولکشور کی جلد دوم ص ۷۸ سطر ۱۱ و ۱۲ میں چوپایوں پر اﷲ کا نام لینے کی تفسیر میں لکھا:"بے زبان چوپایوں سے یعنی اونٹ گائے بکرااس سے قربانی مراد ہے کہ خدا کے نام پر ذبح کریں "
اور پچھلی آیت سے یہ بھی کھل گیا کہ گائے بیلبچھیابچھڑا اس کا کھاناحلال ہے جس کی حلت خود قرآن شریف میں صراحۃ مذکور ہے:
(۳)اﷲ تعالی پہلے پارے دوسری آیت سورت سورہ بقرہ کے آٹھویں رکوع میں فرماتاہے:
" و اذ قال موسی لقومہ ان اللہ یامرکم ان تذبحوا بقرۃ " اورجب کہاموسی نے اپنی قوم سے بیشك اﷲ تمھیں حکم فرماتاہے کہ گائے ذبح کرو۔
اور ساتویں پارے چھٹی سورت سورہ انعام کے دسویں رکوع میں موسی وہارون وغیرہما انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کا ذکر کرکے مسلمانوں کوحکم دیتا ہے:
یہاں فرمایا کہ چوپایوں کو اﷲ تعالی نے قربانی کے لئے بنایا ہے اورآٹھویں پارہ چھٹی سورہ انعام کے سترھویں رکوع میں چوپایوں کی تفصیل یہ بیان فرمائی:
ثمنیۃ ازوج من الضان اثنین و من المعزاثنین "(الی قولہ تعالی)" و من الابل اثنین و من البقر اثنین قل ءالذکرین حرم ام الانثیین اما اشتملت علیہ ارحام الانثیین " ۔ چوپائے آٹھ نر ومادہ میں بھیڑ سے دواور بکری سے دواونٹ سے دواور گائے سے دوتو کہہ کیا اﷲ نے دونوں نر حرام کئے ہیں یا دونوں مادہیا وہ جسے اپنے پیٹ میں رکھا دونوں مادہ نے
ان آیتوں سے صاف معلوم ہوا کہ اونٹگائےبھیڑبکری سب کی قربانی اﷲ تعالی نے بتائی ہےاس لئے تفسیر مذکور فرمائشی منشی نولکشور کی جلد دوم ص ۷۸ سطر ۱۱ و ۱۲ میں چوپایوں پر اﷲ کا نام لینے کی تفسیر میں لکھا:"بے زبان چوپایوں سے یعنی اونٹ گائے بکرااس سے قربانی مراد ہے کہ خدا کے نام پر ذبح کریں "
اور پچھلی آیت سے یہ بھی کھل گیا کہ گائے بیلبچھیابچھڑا اس کا کھاناحلال ہے جس کی حلت خود قرآن شریف میں صراحۃ مذکور ہے:
(۳)اﷲ تعالی پہلے پارے دوسری آیت سورت سورہ بقرہ کے آٹھویں رکوع میں فرماتاہے:
" و اذ قال موسی لقومہ ان اللہ یامرکم ان تذبحوا بقرۃ " اورجب کہاموسی نے اپنی قوم سے بیشك اﷲ تمھیں حکم فرماتاہے کہ گائے ذبح کرو۔
اور ساتویں پارے چھٹی سورت سورہ انعام کے دسویں رکوع میں موسی وہارون وغیرہما انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کا ذکر کرکے مسلمانوں کوحکم دیتا ہے:
حوالہ / References
القرآن الکریم ۲۲ /۳۴
القرآن الکریم ۶ /۴۴۔۱۴۳
تفسیر قادری آیۃ ۲۲ / ۲۸ نولکشور لکھنؤ ۲/ ۷۸
القرآن الکریم ۲ /۶۷
القرآن الکریم ۶ /۴۴۔۱۴۳
تفسیر قادری آیۃ ۲۲ / ۲۸ نولکشور لکھنؤ ۲/ ۷۸
القرآن الکریم ۲ /۶۷
" اولئک الذین ہدی اللہ فبہدىہم اقتدہ " یہ وہ لوگ ہیں جنھیں اﷲ نے ٹھیك راستے چلایا تو توانھیں کی راہ چل۔
اس آیت سے معلوم ہواکہ اگلے انبیاء کی شریعت میں جو کچھ تھاوہی ہمارے لئے بھی ہے جب تك ہماری شریعت منسوخ نہ فرمادےتو گائے کی قربانی کرنے کی ہمیں اجازت یوں بھی ثابت ہوئی اور یہ بھی معلوم ہوا کہ اﷲ تعالی کے حکم سے گائے کاذبح کیا جانا آج کا نہیں بلکہ اگلی شریعتوں سے چلا آتاہے۔تفسیر مذکور فرمائشی نولکشور جلد اول کے ص ۱۷ سطر اخیر وص ۱۸ سطرا ول میں اسی حکم الہی ذبح گاؤ کی حکمت یوں لکھی:"اس کے ذبح کرنے میں نکتہ یہ تھاکہ گئوسالہ پرستوں کی سرزنش ہوانھیں دکھا دیاکہ جسے تم نے پوجا وہ ذبح کرنے کے قابل ہےعبادت اور مدح کے لائق نہیں "
(۴)ان سب کے علاوہ اگر فرض کیجئے کہ قرآن مجید میں گائے اور قربانی کانام تك نہ آیا ہو تا جب بھی گائے کی قربانی قرآن مجید سے بخوبی ثابت تھیقرآن مجید نے مذہب اسلا م کی بنیاد صرف انھیں احکام پر نہیں رکھی جس کاخاص خاص بیان قرآن مجید میں آچکابلکہ خود قرآ ن مجید نے اپنے احکام اورنبی کے ارشادات دونوں پر بنائے اسلام رکھیاﷲ تعالی فرماتاہے:
" وما اتىکم الرسول فخذوہ وما نہىکم عنہ فانتہوا " جو کچھ رسول تمھیں دے وہ لواو رجس سے روکے اس سے بچو۔
اور فرماتاہے:
" من یطع الرسول فقد اطاع اللہ " ۔ جس نے رسول کی ا طاعت کی اس نے اﷲ کی اطاعت کی۔
اور فرماتاہے:
" وما ینطق عن الہوی ﴿۳﴾ ان ہو الا وحی یوحی ﴿۴﴾" یہ نبی اپنی خواہش سے کچھ نہیں کہتا وہ صرف خدا کا حکم ہے جو اسے بھیجا جاتاہے۔
اس آیت سے معلوم ہواکہ اگلے انبیاء کی شریعت میں جو کچھ تھاوہی ہمارے لئے بھی ہے جب تك ہماری شریعت منسوخ نہ فرمادےتو گائے کی قربانی کرنے کی ہمیں اجازت یوں بھی ثابت ہوئی اور یہ بھی معلوم ہوا کہ اﷲ تعالی کے حکم سے گائے کاذبح کیا جانا آج کا نہیں بلکہ اگلی شریعتوں سے چلا آتاہے۔تفسیر مذکور فرمائشی نولکشور جلد اول کے ص ۱۷ سطر اخیر وص ۱۸ سطرا ول میں اسی حکم الہی ذبح گاؤ کی حکمت یوں لکھی:"اس کے ذبح کرنے میں نکتہ یہ تھاکہ گئوسالہ پرستوں کی سرزنش ہوانھیں دکھا دیاکہ جسے تم نے پوجا وہ ذبح کرنے کے قابل ہےعبادت اور مدح کے لائق نہیں "
(۴)ان سب کے علاوہ اگر فرض کیجئے کہ قرآن مجید میں گائے اور قربانی کانام تك نہ آیا ہو تا جب بھی گائے کی قربانی قرآن مجید سے بخوبی ثابت تھیقرآن مجید نے مذہب اسلا م کی بنیاد صرف انھیں احکام پر نہیں رکھی جس کاخاص خاص بیان قرآن مجید میں آچکابلکہ خود قرآ ن مجید نے اپنے احکام اورنبی کے ارشادات دونوں پر بنائے اسلام رکھیاﷲ تعالی فرماتاہے:
" وما اتىکم الرسول فخذوہ وما نہىکم عنہ فانتہوا " جو کچھ رسول تمھیں دے وہ لواو رجس سے روکے اس سے بچو۔
اور فرماتاہے:
" من یطع الرسول فقد اطاع اللہ " ۔ جس نے رسول کی ا طاعت کی اس نے اﷲ کی اطاعت کی۔
اور فرماتاہے:
" وما ینطق عن الہوی ﴿۳﴾ ان ہو الا وحی یوحی ﴿۴﴾" یہ نبی اپنی خواہش سے کچھ نہیں کہتا وہ صرف خدا کا حکم ہے جو اسے بھیجا جاتاہے۔
حوالہ / References
القرآن الکریم ۶ /۹۰
تفسیر قادری آیہ ۲/ ۶۷ نولکشور لکھنؤ ۱/ ۱۷ و ۱۸
القرآن الکریم ۵۹ /۷
القرآن الکریم ۴ /۸۰
القرآن الکریم ۵۳ /۳ و ۴
تفسیر قادری آیہ ۲/ ۶۷ نولکشور لکھنؤ ۱/ ۱۷ و ۱۸
القرآن الکریم ۵۹ /۷
القرآن الکریم ۴ /۸۰
القرآن الکریم ۵۳ /۳ و ۴
اور نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے خود گائے کی قربانی کیاور مسلمانوں کو ایك ایك گائے کی قربانی میں سات سات آدمیوں کے شریك ہونے کا حکم فرمایامذہب اسلام میں نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے احکام کی چھ کتابیں زیادہ مشہور ہیں جنھیں صحاح ستہ کہتے ہیںان سب کتابوں میں یہ مضمون صراحۃ موجود ہےصحیح بخاری شریف میں حضرت ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اﷲ تعالی عنہا سے روایت ہے کہ انھوں نے فرمایا:
ضحی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم عن نسائہ بالبقر ۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے اپنی بیبیوں کی طرف سے گائے کی قربانی کی۔
صحیح بخاری وصحیح مسلم وسنن ابی داؤد میں حضرت جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالی عنہما سے روایت ہے کہ:
امرنا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ان نشترك فی الابل والبقر کل سبعۃ منافی بدنۃ ۔ ہمیں رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے حکم دیاکہ اونٹ اور گائے ہر بدنہ میں سات سات آدمی شریك ہوجائیں۔
صحیح مسلم شریف میں انھیں سے روایت ہے:
اشترکنامع النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فی الحج والعمرۃ کل سبعۃ فی بدنۃ فقال رجل لجابر أیشترك فی البقر مایشترك فی الجزورفقال ماھی الا من البدن ۔ حج وعمرہ میں ہم نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے ساتھ قربانی کے ایك ایك ڈیل دار جانور میں سات سات آدمی شریك ہوئےکسی نے جابررضی اﷲ تعالی عنہ سے پوچھا کیا گائے کی قربانی میں بھی اتنے ہی شریك ہوسکتے ہیں جتنے اونٹ میںفرمایا: گائے بھی تو بدنہ ہی میں داخل ہے
ترمذی ونسائی و ابن ماجہ میں عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے ہے:
قال کنا مع النبی صلی اﷲ تعالی علیہ ہم نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے ساتھ ایك سفر
ضحی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم عن نسائہ بالبقر ۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے اپنی بیبیوں کی طرف سے گائے کی قربانی کی۔
صحیح بخاری وصحیح مسلم وسنن ابی داؤد میں حضرت جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالی عنہما سے روایت ہے کہ:
امرنا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ان نشترك فی الابل والبقر کل سبعۃ منافی بدنۃ ۔ ہمیں رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے حکم دیاکہ اونٹ اور گائے ہر بدنہ میں سات سات آدمی شریك ہوجائیں۔
صحیح مسلم شریف میں انھیں سے روایت ہے:
اشترکنامع النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فی الحج والعمرۃ کل سبعۃ فی بدنۃ فقال رجل لجابر أیشترك فی البقر مایشترك فی الجزورفقال ماھی الا من البدن ۔ حج وعمرہ میں ہم نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے ساتھ قربانی کے ایك ایك ڈیل دار جانور میں سات سات آدمی شریك ہوئےکسی نے جابررضی اﷲ تعالی عنہ سے پوچھا کیا گائے کی قربانی میں بھی اتنے ہی شریك ہوسکتے ہیں جتنے اونٹ میںفرمایا: گائے بھی تو بدنہ ہی میں داخل ہے
ترمذی ونسائی و ابن ماجہ میں عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے ہے:
قال کنا مع النبی صلی اﷲ تعالی علیہ ہم نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے ساتھ ایك سفر
حوالہ / References
صحیح البخاری باب من ذبح ضحیۃ غیرہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۸۳۴
صحیح مسلم باب جواز الاشتراك فی الہدٰی الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۴۲۴
صحیح مسلم باب جواز الاشتراك فی الہدٰی الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۴۲۴
صحیح مسلم باب جواز الاشتراك فی الہدٰی الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۴۲۴
صحیح مسلم باب جواز الاشتراك فی الہدٰی الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۴۲۴
وسلم فی سفر فحضرالاضحی اشترکناہ فی البقرۃ عن سبعۃ ۔ میں تھے کہ بقر عید آئی تو ہم نے سات آدمیوں کی طرف سے ایك گائے ذبح کی۔
سبحان اللہ! جوکام خود ہمارے نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے کیا اور ہمیں اس کاحکم دیااسے مذہب اسلام کے خلاف جاننایا مذہب اسلام میں اس کی اجازت وہدایت نہ ماننا کیسی کھلی ہٹ دھرمی ہے۔
(۵)اس بیان میں ایك بڑی ناانصافی یہ ہے کہ ہماری تو صرف کتاب آسمانی سے ثبوت چاہا۔جو ہم روشن طورپر ادا کرچکے اور اپنے لئے شاستر کا دامن پکڑا وید کانام کیوں نہ لیا جسے اپنے نزدیك کتاب آسمانی بتاتے ہیںاگر سچے ہیں تو اب اپنے ویدسے قربانی گاؤ کی ممانعت ثابت کریںاورشاستر پر بنائے مذہب رکھتے ہیںتو ہماری بھی کتب فقہ کو بنائے مذہب جانیںہدایہدرمختارقاضی خاںعالمگیری وغیرہا ہزار دس ہزار کتابیں جو چاہیں دیکھ لیں جس میں قربانی کا باب مذکورہے۔ان سب میں قربانی گاؤ نہایت صریح طورپر مسطور ہےتو اسے خلاف مذہب بتانا صریح دھوکا دیناہے۔
(۶)یہ بات بھی یادرکھنے کے قابل ہے کہ اس بیان ہنود نے خوب ثابت کردیا کہ مورتی پوجن اور بتوں کے آگے گھنٹا بجاناسنکھ پھونکنامہادیو پر پانی ٹپکاناہولی دیوالی وغیرہ وغیرہ صدہا باتیں کہ ہنود نے اپنی مذہبی ٹھہرا رکھی ہیں جن کا ذکر ان کے وید میں نہیں سب ان کے خلاف مذہب ہیں کہ جس کتاب پربنیاد مذہب ہنودہے ان کا پتا نہیں دیتی پچھلے ہنود نے محض براہ حیلہ انھیں مذہبی بنارکھاہے۔
(۷)سب سے زائد یہ ہے کہ وید جس پر مذہب ہنود کی بنا ہے خود صاف صاف قربانی گاؤ کی اجازت دے رہا ہےاخبار پانیر ص ۷ کالم ۴ مطبوعہ ۱۰ اپریل ۱۸۹۴ء میں ایك مضمون چھپا ہے کہ :"ہندوستان قدیم میں گائے کی قربانی"
اسی میں وید سے نقل کیا:
"اے اگنی! یہ پاك نذر صدق دل سے راگ کی صورت میں تیرے حضور پیش کرتے ہیںاور تمنا ہے کہ یہ سانڈ اور گہنیاں تجھے پسند آویں۔"
رگ وید ۶: ۱۶۔۴۷ میں تہ دل سے سوما کا عرق پینے والی اگنی خالق کیجسے گھوڑے اور سانڈ اور بیل اور گہنیاں اور منت کے مینڈھے چڑھائے جاتے ہیں ستائش کروں گا۔رگ ۱۰ : ۹۱۔۱۴۔
سبحان اللہ! جوکام خود ہمارے نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے کیا اور ہمیں اس کاحکم دیااسے مذہب اسلام کے خلاف جاننایا مذہب اسلام میں اس کی اجازت وہدایت نہ ماننا کیسی کھلی ہٹ دھرمی ہے۔
(۵)اس بیان میں ایك بڑی ناانصافی یہ ہے کہ ہماری تو صرف کتاب آسمانی سے ثبوت چاہا۔جو ہم روشن طورپر ادا کرچکے اور اپنے لئے شاستر کا دامن پکڑا وید کانام کیوں نہ لیا جسے اپنے نزدیك کتاب آسمانی بتاتے ہیںاگر سچے ہیں تو اب اپنے ویدسے قربانی گاؤ کی ممانعت ثابت کریںاورشاستر پر بنائے مذہب رکھتے ہیںتو ہماری بھی کتب فقہ کو بنائے مذہب جانیںہدایہدرمختارقاضی خاںعالمگیری وغیرہا ہزار دس ہزار کتابیں جو چاہیں دیکھ لیں جس میں قربانی کا باب مذکورہے۔ان سب میں قربانی گاؤ نہایت صریح طورپر مسطور ہےتو اسے خلاف مذہب بتانا صریح دھوکا دیناہے۔
(۶)یہ بات بھی یادرکھنے کے قابل ہے کہ اس بیان ہنود نے خوب ثابت کردیا کہ مورتی پوجن اور بتوں کے آگے گھنٹا بجاناسنکھ پھونکنامہادیو پر پانی ٹپکاناہولی دیوالی وغیرہ وغیرہ صدہا باتیں کہ ہنود نے اپنی مذہبی ٹھہرا رکھی ہیں جن کا ذکر ان کے وید میں نہیں سب ان کے خلاف مذہب ہیں کہ جس کتاب پربنیاد مذہب ہنودہے ان کا پتا نہیں دیتی پچھلے ہنود نے محض براہ حیلہ انھیں مذہبی بنارکھاہے۔
(۷)سب سے زائد یہ ہے کہ وید جس پر مذہب ہنود کی بنا ہے خود صاف صاف قربانی گاؤ کی اجازت دے رہا ہےاخبار پانیر ص ۷ کالم ۴ مطبوعہ ۱۰ اپریل ۱۸۹۴ء میں ایك مضمون چھپا ہے کہ :"ہندوستان قدیم میں گائے کی قربانی"
اسی میں وید سے نقل کیا:
"اے اگنی! یہ پاك نذر صدق دل سے راگ کی صورت میں تیرے حضور پیش کرتے ہیںاور تمنا ہے کہ یہ سانڈ اور گہنیاں تجھے پسند آویں۔"
رگ وید ۶: ۱۶۔۴۷ میں تہ دل سے سوما کا عرق پینے والی اگنی خالق کیجسے گھوڑے اور سانڈ اور بیل اور گہنیاں اور منت کے مینڈھے چڑھائے جاتے ہیں ستائش کروں گا۔رگ ۱۰ : ۹۱۔۱۴۔
حوالہ / References
جامع الترمذی ابواب الاضاحی کتب خانہ رشیدیہ امین کمپنی دہلی ۱/ ۱۸۱
اسی اخبار میں ہر ہمنہ پراناور ستیارتھ پرکاش اور ترہنا جلد ۳ باب ۸اور منو کی سامرتھی ۵: ۴۱ وغیرہا کتب میں مذہب ہنود سے ہندوؤں کا گائیں ذبح کرنا بخوبی ثابت کیا ہےاسی طرح یہ امر مہابھارت وغیرہ سے بھی ثابتفیصلہ ہائی کورٹ مقدمہ قربانی نمبری ۶۸۷ میں تاریخ ہنود زمانہ پیشیں سے حکام ہائی کورٹ نے ثابت کیا ہے کہ اگلے ہندو اپنی دینی رسوم میں گئوعید یعنی گائے کی قربانی کیا کرتے تھےاو رمتقد میں حکمائے ہنود نے اس کی تاکید کی تھیتو ثابت ہوا کہ ہنود اپنے وید اور مذہبی کتابوں اور اگلے پیشواؤں سب کے خلاف بحیلہ مذ ہب صرف بغرض دل دکھانے مسلمانوں کے جن کے مذہب میں قربانی گاؤ کی صاف صریح اجازت ہےامر مذہبی میں مزاحمت بیجا خلاف استحقاق کرنا چاہتے ہیں جس کا عقلا عرفا قانونا کسی طرح انھیں اخیتار نہیںواﷲ سبحانہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
مسئلہ ۱۸۷: ازبنارس چوك جدید مسئولہ حاجی محمد امیر وعبدالکریم صاحبان گلٹ فروش ۲۹ صفر المظفر ۱۳۳۱ھ
ہمارے سنی حنفی علماء رحہم اﷲ تعالی اس میں کیا فرماتے ہیں کہ ہم مسلمانان ہند کو باوجود کفا ر کے گاؤ کی قربانی کے مٹانے پر کمر بستہ رہنے کے صرف ہندؤوں سے سلطانی چندہ وصول کرنے کی غرض ومصلحت سے گائے کی قربانی کوہمیشہ کے لئے ترك کردینااور بغرض مذکور اس کے ترك کردینے کو تحریرا وتقریرا عام جلسوں میں یہ بیان کرنا اور شائع کرنا جائز ہے یانہیں
الجواب:
گائے کی قربانی ہندوستان میں اعظم شعائر اسلام سے ہے:
قال اﷲ تعالی" والبدن جعلنہا لکم من شعئراللہ" ۔ اﷲ تعالی نے فرمایا: اور قربانی کے ڈیل دار جانور اونٹ اور گائے ہم نے تمھارے لئے اﷲ کی نشانیوں سے کئے۔(ت)
اور ہم نے اپنے فتاوی میں ثابت کیا ہے کہ یہاں اس کی قربانی واجب ہے اور بلحاظ ہنود اس کا ترك ناجائزکسی دینی کام کے لئے کفار سے چندہ لینا اول تو خود ہی ممنوع اور سخت معیوب ہےرسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں: انا لانستعین بمشرك ہم کسی مشرك سے مددنہیں لیتےولہذا علماء تصریح
مسئلہ ۱۸۷: ازبنارس چوك جدید مسئولہ حاجی محمد امیر وعبدالکریم صاحبان گلٹ فروش ۲۹ صفر المظفر ۱۳۳۱ھ
ہمارے سنی حنفی علماء رحہم اﷲ تعالی اس میں کیا فرماتے ہیں کہ ہم مسلمانان ہند کو باوجود کفا ر کے گاؤ کی قربانی کے مٹانے پر کمر بستہ رہنے کے صرف ہندؤوں سے سلطانی چندہ وصول کرنے کی غرض ومصلحت سے گائے کی قربانی کوہمیشہ کے لئے ترك کردینااور بغرض مذکور اس کے ترك کردینے کو تحریرا وتقریرا عام جلسوں میں یہ بیان کرنا اور شائع کرنا جائز ہے یانہیں
الجواب:
گائے کی قربانی ہندوستان میں اعظم شعائر اسلام سے ہے:
قال اﷲ تعالی" والبدن جعلنہا لکم من شعئراللہ" ۔ اﷲ تعالی نے فرمایا: اور قربانی کے ڈیل دار جانور اونٹ اور گائے ہم نے تمھارے لئے اﷲ کی نشانیوں سے کئے۔(ت)
اور ہم نے اپنے فتاوی میں ثابت کیا ہے کہ یہاں اس کی قربانی واجب ہے اور بلحاظ ہنود اس کا ترك ناجائزکسی دینی کام کے لئے کفار سے چندہ لینا اول تو خود ہی ممنوع اور سخت معیوب ہےرسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں: انا لانستعین بمشرك ہم کسی مشرك سے مددنہیں لیتےولہذا علماء تصریح
حوالہ / References
القرآن الکریم ۲۲ /۳۶
سنن ابوداؤد باب فی المشرك یسہم لہ آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۱۹،سنن ابن ماجہ باب الاستعانۃ بالمشرکین ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۲۰۸
سنن ابوداؤد باب فی المشرك یسہم لہ آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۱۹،سنن ابن ماجہ باب الاستعانۃ بالمشرکین ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۲۰۸
فرماتے ہیں کہ کسی کتابی کافر سے قربانی کا ذبح کرانا مکروہ ہے اگرچہ کتابی کا ذبیحہ جائزہےتنویر الابصار میں ہے:کرہ ذبح الکتابی (کتابی کا ذبیحہ مکروہ ہے۔ت)ردالمحتار میں ہے:
لانھا قربۃ ولاینبغی ان یستعان بالکافر فی امور الدین ۔ کیونکہ یہ عبادت ہے اور دینی امور میں کافر سے مدد لینا مناسب نہیں۔(ت)
امام نسفی کافی میں فرماتے ہیں:
امرالمسلم کتابیا بان یذبح اضحیۃ جازلانہ من اھل الذبائح والقربۃ عــــــہ ابانابتہ ونیتہ ویکرہ لان ھذا من عمل القرب وفعلہ لیس بقربۃ ۔ مسلمانوں نے کسی کتابی کافر کو قربانی کے جانور کو ذبح کرنے کاحکم دیا توجائز ہے کیونکہ کتابی لوگ ذبح کے اہل ہیں۔(ت)
تو مشرك سے مسلمان مجاہدوں کے لئے چندہ لے کر اس کی نگاہ میں اسلام کومعاذاﷲ محتاج وذلیل ٹھہرانے کے لئے اس کے مذہب باطل کو اپنے دین پر فتح دینا اور اسلام کا ایك بڑا شعار بندکردینا اسی کا کام ہوسکتاہے جو سخت احمق اور اسلام کانادان دوست یاصریح منافق اور اسلام کا چالاك دشمن ہووالعیاذ باﷲ تعالی۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۸۸: مسئولہ حافظ خورشید علی صاحب از مدرسہ خیر المعاد رہتك ۱۳ جمادی الاولی ۱۳۳۲ھ
بسم اﷲ الرحمن الرحیمنحمدہ ونصلی علی نبیہ الکریم۔
اللہم" ربنا لا تز غ قلوبنا بعد اذ ہدیتنا وہب لنا من لدنک رحمۃ انک انت الوہاب﴿۸﴾" ۔ اے رب ہمارے دل ٹیڑھے نہ کر بعد اس کے کہ تونے ہمیں ہدایت دی اور ہمیں اپنے پاس سے رحمت عطاکربیشك تو ہے بڑا دینے والا۔(ت)
عــــــہ: کافی سے مقابلہ نہ ہوسکا اس لئے یہاں کا کچھ لفظ رہ گیا ہوواﷲ تعالی اعلم۔
لانھا قربۃ ولاینبغی ان یستعان بالکافر فی امور الدین ۔ کیونکہ یہ عبادت ہے اور دینی امور میں کافر سے مدد لینا مناسب نہیں۔(ت)
امام نسفی کافی میں فرماتے ہیں:
امرالمسلم کتابیا بان یذبح اضحیۃ جازلانہ من اھل الذبائح والقربۃ عــــــہ ابانابتہ ونیتہ ویکرہ لان ھذا من عمل القرب وفعلہ لیس بقربۃ ۔ مسلمانوں نے کسی کتابی کافر کو قربانی کے جانور کو ذبح کرنے کاحکم دیا توجائز ہے کیونکہ کتابی لوگ ذبح کے اہل ہیں۔(ت)
تو مشرك سے مسلمان مجاہدوں کے لئے چندہ لے کر اس کی نگاہ میں اسلام کومعاذاﷲ محتاج وذلیل ٹھہرانے کے لئے اس کے مذہب باطل کو اپنے دین پر فتح دینا اور اسلام کا ایك بڑا شعار بندکردینا اسی کا کام ہوسکتاہے جو سخت احمق اور اسلام کانادان دوست یاصریح منافق اور اسلام کا چالاك دشمن ہووالعیاذ باﷲ تعالی۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۸۸: مسئولہ حافظ خورشید علی صاحب از مدرسہ خیر المعاد رہتك ۱۳ جمادی الاولی ۱۳۳۲ھ
بسم اﷲ الرحمن الرحیمنحمدہ ونصلی علی نبیہ الکریم۔
اللہم" ربنا لا تز غ قلوبنا بعد اذ ہدیتنا وہب لنا من لدنک رحمۃ انک انت الوہاب﴿۸﴾" ۔ اے رب ہمارے دل ٹیڑھے نہ کر بعد اس کے کہ تونے ہمیں ہدایت دی اور ہمیں اپنے پاس سے رحمت عطاکربیشك تو ہے بڑا دینے والا۔(ت)
عــــــہ: کافی سے مقابلہ نہ ہوسکا اس لئے یہاں کا کچھ لفظ رہ گیا ہوواﷲ تعالی اعلم۔
حوالہ / References
درمختار کتاب الاضحیۃ مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۳۴
ردالمحتار کتاب الاضحیۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۲۰۸
کافی امام نسفی
القرآن الکریم ۳ /۸
ردالمحتار کتاب الاضحیۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۲۰۸
کافی امام نسفی
القرآن الکریم ۳ /۸
کیا فرماتے ہیں علمائے دین مبین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ مسلمانوں کے ایك گروہ نے دوسرے مسلمانوں کی ایذا دہی اورتکلیف رسانی کے لئے ہندوؤں ا ور آریوں سے عقد محبت اور بھائی بندی مضبوط کیااور کافروں کے دباؤ سے محض ان کی خوشنودی اوراپنی غرض حاصل کرنے کے لئے علی الاعلان پنچایت میں کہہ دیا کہ ہم گائے کی قربانی ہرگز نہیں کریں گے کیونکہ گائے کی قربانی کہیں نہیں آئی ہے۔اب استفسار یہ ہے کہ گروہ مذکور اس عقد سے موافق آیہ ربانی:
" یایہا الذین امنوا لاتتخذوا اباءکم و اخونکم اولیاء ان استحبوا الکفر علی الایمن ومن یتولہم منکم فاولئک ہم الظلمون ﴿۲۳﴾" اے ایمان والو اپنے باپ اور اپنے بھائیوں کو دوست نہ سمجھو اگر وہ ایمان پر کفرپسند کریں اور تم میں جوکوئی ان سے دوستی کرے گا تو وہی ظالم ہیں۔(ت)
اور حدیث رسول: من تشبہ بقوم فہو منہم (جو کسی قوم کی مشابہت اخیتار کرے گا وہ انھیں میں سے ہوگا۔ت)خواہ تشبہ اعتقادیات میں ہو یا عملیات میںیادونوں میں کافرہو ایا نہیں علاوہ ازیں مسلمانوں کی ضد میں اپنے کئے پر جم جانے اور برتقدیر گناہ کبیرہ ہونے کے اس پر اصرار کرنے سے کافر ہوایانہیں اور مسلمانوں میں تفرقہ ڈالنےاور علماء کی شان میں کلمات بد کہنےاور شریعت محمدیہ کی توہین سے یہ لوگ کافرہوئے ہیں یانہیں
الجواب:
صورت مستفسرہ میں وہ لوگ سخت اشد اخبث اشنع کبیرہ کے مرتکب ہیں گائے کی قربانی بلا شبہ قرآن عظیم سے ثابت ہےجواز کے لئے تو آیات کثیرہ ہیں۔مثلا:
قال اﷲ تعالی" ان اللہ یامرکم ان تذبحوا بقرۃ " ۔ اﷲ تعالی کا ارشاد مبارك ہے: بیشك اﷲ تعالی تمھیں حکم دیتاہے کہ گائے ذبح کرو۔
" یایہا الذین امنوا لاتتخذوا اباءکم و اخونکم اولیاء ان استحبوا الکفر علی الایمن ومن یتولہم منکم فاولئک ہم الظلمون ﴿۲۳﴾" اے ایمان والو اپنے باپ اور اپنے بھائیوں کو دوست نہ سمجھو اگر وہ ایمان پر کفرپسند کریں اور تم میں جوکوئی ان سے دوستی کرے گا تو وہی ظالم ہیں۔(ت)
اور حدیث رسول: من تشبہ بقوم فہو منہم (جو کسی قوم کی مشابہت اخیتار کرے گا وہ انھیں میں سے ہوگا۔ت)خواہ تشبہ اعتقادیات میں ہو یا عملیات میںیادونوں میں کافرہو ایا نہیں علاوہ ازیں مسلمانوں کی ضد میں اپنے کئے پر جم جانے اور برتقدیر گناہ کبیرہ ہونے کے اس پر اصرار کرنے سے کافر ہوایانہیں اور مسلمانوں میں تفرقہ ڈالنےاور علماء کی شان میں کلمات بد کہنےاور شریعت محمدیہ کی توہین سے یہ لوگ کافرہوئے ہیں یانہیں
الجواب:
صورت مستفسرہ میں وہ لوگ سخت اشد اخبث اشنع کبیرہ کے مرتکب ہیں گائے کی قربانی بلا شبہ قرآن عظیم سے ثابت ہےجواز کے لئے تو آیات کثیرہ ہیں۔مثلا:
قال اﷲ تعالی" ان اللہ یامرکم ان تذبحوا بقرۃ " ۔ اﷲ تعالی کا ارشاد مبارك ہے: بیشك اﷲ تعالی تمھیں حکم دیتاہے کہ گائے ذبح کرو۔
حوالہ / References
القرآن الکریم ۹ /۲۳
سنن ابوداؤد با ب فی لبس الشہرۃ آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۲۰۳،مسند احمد بن حنبل مروی از عبداﷲ بن عمر دارالفکر بیروت ۲/ ۵۰
القرآن الکریم ۲ /۶۷
سنن ابوداؤد با ب فی لبس الشہرۃ آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۲۰۳،مسند احمد بن حنبل مروی از عبداﷲ بن عمر دارالفکر بیروت ۲/ ۵۰
القرآن الکریم ۲ /۶۷
اور فرماتاہے:
" و من الابل اثنین و من البقر اثنین قل ءالذکرین حرم ام الانثیین اما اشتملت علیہ ارحام الانثیین " اونٹ میں سے دوا ور گائے میں سے دو تم فرماؤ کیا اﷲ نے اونٹ اور بیل حرام کئے ہیںیا اونٹنی اور گائے یا بوتا اوربچھڑا۔
یعنی ان میں سے کچھ حرام نہ فرمایاسب تمھارے لئے حلال ہیںاور خاص عبادت قربانی کے لئے فرماتاہے:
" والبدن جعلنہا لکم من شعئراللہ
" قربانی کے اونٹ اور گائے ہم نے تمھارے لئے اﷲ کی نشانیوں سے بنائے۔
خصوصا ہندوستان میں کہ یہاں تو بالخصوص گائے کی قربانی واجبات شرعیہ سے ہے جیسے ہم نے اپنے رسالہ"انفس الفکر فی قربان البقر"میں بدلائل واضحہ ثابت کیا ہےخوشی ہنود کے لئے اس سے باز رہنے والا بلاشبہ بدخواہ اسلام ومسلمین ہےدشمنان دین سے دوستی کرنے والا دشمن دین ہوتاہےاور روز قیامت ان کے ساتھ ایك رسی میں باندھا جاتاہے
قال تعالی" ومن یتولہم منکم فانہ منہم " ۔ اﷲ تعالی نے فرمایا: جو تم میں سے ان سے دوستی رکھے وہ انھیں میں سے ہے۔
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں: المرء مع من احب آدمی اس کے ساتھ ہوگا جس سے محبت رکھے۔اور فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم : انت مع من احببت تو اس کے ساتھ ہوگا جس کے ساتھ دوستی رکھے۔اور ایك حدیث میں ہے قسم کھاکر ارشادفرمایا:
مااحب رجل قوما الاحشرہ اﷲ فی زمرتہم اوکما قال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔ جو کسی قوم کے ساتھ دوستی رکھے گا ضرور اﷲ تعالی انھیں کے ساتھ اس کا حشر کریگا۔
" و من الابل اثنین و من البقر اثنین قل ءالذکرین حرم ام الانثیین اما اشتملت علیہ ارحام الانثیین " اونٹ میں سے دوا ور گائے میں سے دو تم فرماؤ کیا اﷲ نے اونٹ اور بیل حرام کئے ہیںیا اونٹنی اور گائے یا بوتا اوربچھڑا۔
یعنی ان میں سے کچھ حرام نہ فرمایاسب تمھارے لئے حلال ہیںاور خاص عبادت قربانی کے لئے فرماتاہے:
" والبدن جعلنہا لکم من شعئراللہ
" قربانی کے اونٹ اور گائے ہم نے تمھارے لئے اﷲ کی نشانیوں سے بنائے۔
خصوصا ہندوستان میں کہ یہاں تو بالخصوص گائے کی قربانی واجبات شرعیہ سے ہے جیسے ہم نے اپنے رسالہ"انفس الفکر فی قربان البقر"میں بدلائل واضحہ ثابت کیا ہےخوشی ہنود کے لئے اس سے باز رہنے والا بلاشبہ بدخواہ اسلام ومسلمین ہےدشمنان دین سے دوستی کرنے والا دشمن دین ہوتاہےاور روز قیامت ان کے ساتھ ایك رسی میں باندھا جاتاہے
قال تعالی" ومن یتولہم منکم فانہ منہم " ۔ اﷲ تعالی نے فرمایا: جو تم میں سے ان سے دوستی رکھے وہ انھیں میں سے ہے۔
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں: المرء مع من احب آدمی اس کے ساتھ ہوگا جس سے محبت رکھے۔اور فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم : انت مع من احببت تو اس کے ساتھ ہوگا جس کے ساتھ دوستی رکھے۔اور ایك حدیث میں ہے قسم کھاکر ارشادفرمایا:
مااحب رجل قوما الاحشرہ اﷲ فی زمرتہم اوکما قال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔ جو کسی قوم کے ساتھ دوستی رکھے گا ضرور اﷲ تعالی انھیں کے ساتھ اس کا حشر کریگا۔
حوالہ / References
القرآن الکریم ۶ /۱۴۴
القرآن الکریم ۲۲ /۳۶
القرآن الکریم ۵ /۵۱
صحیح البخاری باب علامۃ الحب فی اﷲ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۹۱۱
صحیح البخاری باب مناقب عمر بن الخطاب قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۵۲۱
المعجم الکبیر حدیث ۲۵۱۹ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۳/ ۱۹
القرآن الکریم ۲۲ /۳۶
القرآن الکریم ۵ /۵۱
صحیح البخاری باب علامۃ الحب فی اﷲ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۹۱۱
صحیح البخاری باب مناقب عمر بن الخطاب قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۵۲۱
المعجم الکبیر حدیث ۲۵۱۹ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۳/ ۱۹
گناہ کبیرہ پر اصرار اگرچہ کفرنہیںمگر دشمنان دین کی دوستی اگر آج کفر نہ ہو تومعاذاﷲ مرتے وقت کافر اٹھاتی ہے کہ انھیں کے ساتھ حشر ہواورمطلقا علمائے دین یا کسی عالم دین کی ان کے عالم ہونے کے سبب براکہنایا شریعت مطہر کی ادنی توہین کرنایہ تو یقینا قطعاکفر وارتداد ہےواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۸۹ تا ۱۹۴: ازرائے بریلی مقام مدرسہ رحمانیہ عربیہ مسئولہ مسلمانان رائے بریلی ۲۰ جمادی الاولی ۱۳۳۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ لیڈران قوم جو علم شریعت سے ناواقف اوراحکام شریعت سے بے بہرہ ہیںانھوں نے ۷ جنوری ۱۳۱۰ھ کو بمقام ٹاؤن ہال ایك میٹنگ منعقد کرکے اہالیان شہر کو جمع کیا اور قوم ہنود کی ہمدردی کو اسلام اور اہل اسلام کے ساتھ نہایت پر زور تقریر و تائید میں دکھلاتے ہوئے باوجود مقامی عالم دین کے اختلاف ومتفق الرائے نہ ہونے کے اس امر پر بے حد مصر ہوئے کہ قوم ہنود کی ہمدردی کے صلہ میں گائے کی قربانی جو ان کے سخت دل آزاری کا سبباورباہمی اتفاق اور اتحاد کے لئے سدباب اور رخنہ انداز ہے قطعا چھوڑدینا چاہئے کیونکہ اس وقت ان کی محبت اور ہمدردی بالخصوص معاملت ترکی وخلافت عثمانیہ کے بارے میں بیحد ضروری ہے ان کی معیت معاملات مذکورہ میں قطعا مفیداور ان کی علیحدگی قطعا مضر ہوگیاور یہ بھی بیان کیا کہ شریعت نے ہم کو اختیار دیا ہے کہ گائے بکریبھیڑ وغیرہ جس کی چاہیں قربانی کریں بلکہ مینڈھا کی قربانی افضل ہےلہذا افضل کے ہوتے ہوئے گائے کی قربانی جس میں دل آزاری قوم ہنود کی ہے ہر گز نہ کرنا چاہئےچنانچہ افسر علمائے ہند جناب مولانا عبدالباری صاحب نیز دیگر علمائے پنجاب نے ایسا ہی فتوی دے دیا ہے اور یہ بھی ظاہر کیاکہ وہ غرباء جو مثلا دس روپے کی گائے لے کر سات آدمیوں کی طرف سے قربانی کرلیا کرتے تھے اب ان کے لئے یہ انتظام کیاجائے گا کہ ان سے دس روپیہ لے کر سات بکرایا بھیڑ ہم لوگ بہم پہنچادیا کریں گے اور زائد روپیہ ہم لوگ اپنے پاس سے لگادیا کریں گےیا بھیڑ اور بکری بہ نرخ بازار مثلا چارپانچ روپیہ راس ہم لوگ خرید کر فراہم رکھیں گے اور غرباء کو مثلا ایك روپیہ راس دیا کرینگےجس کے لئے کچھ چندہ بھی کیا گیا ہےمگر اس کے لئے نہ کوئی جائداد وقف کرتے ہیں اور نہ ہمیشہ کے لئے کوئی رجسٹری کی صورت ہےچونکہ اس امر پر پورااعتماد ہے کہ یہ لوگ اس بار عظیم کو ہمیشہ نہ نباہ سکیں گےلہذا ضرور اور اغلب ہے کہ اس میں قوم ہنود سے خفیہ یا صراحۃ ضرور امداد لیں گے۔
لیڈران قوم کاخیال ہے کہ جس قدر قربانیاں سالہا ئے گزشتہ میں گائے کی لوگوں نے کی ہیں انھیں کوا مداد دی جائے گیاو رجو لوگ جدید قربانی کرنا چاہیں گے ان کو امداد نہ دی جائے گینیز جو لوگ
مسئلہ ۱۸۹ تا ۱۹۴: ازرائے بریلی مقام مدرسہ رحمانیہ عربیہ مسئولہ مسلمانان رائے بریلی ۲۰ جمادی الاولی ۱۳۳۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ لیڈران قوم جو علم شریعت سے ناواقف اوراحکام شریعت سے بے بہرہ ہیںانھوں نے ۷ جنوری ۱۳۱۰ھ کو بمقام ٹاؤن ہال ایك میٹنگ منعقد کرکے اہالیان شہر کو جمع کیا اور قوم ہنود کی ہمدردی کو اسلام اور اہل اسلام کے ساتھ نہایت پر زور تقریر و تائید میں دکھلاتے ہوئے باوجود مقامی عالم دین کے اختلاف ومتفق الرائے نہ ہونے کے اس امر پر بے حد مصر ہوئے کہ قوم ہنود کی ہمدردی کے صلہ میں گائے کی قربانی جو ان کے سخت دل آزاری کا سبباورباہمی اتفاق اور اتحاد کے لئے سدباب اور رخنہ انداز ہے قطعا چھوڑدینا چاہئے کیونکہ اس وقت ان کی محبت اور ہمدردی بالخصوص معاملت ترکی وخلافت عثمانیہ کے بارے میں بیحد ضروری ہے ان کی معیت معاملات مذکورہ میں قطعا مفیداور ان کی علیحدگی قطعا مضر ہوگیاور یہ بھی بیان کیا کہ شریعت نے ہم کو اختیار دیا ہے کہ گائے بکریبھیڑ وغیرہ جس کی چاہیں قربانی کریں بلکہ مینڈھا کی قربانی افضل ہےلہذا افضل کے ہوتے ہوئے گائے کی قربانی جس میں دل آزاری قوم ہنود کی ہے ہر گز نہ کرنا چاہئےچنانچہ افسر علمائے ہند جناب مولانا عبدالباری صاحب نیز دیگر علمائے پنجاب نے ایسا ہی فتوی دے دیا ہے اور یہ بھی ظاہر کیاکہ وہ غرباء جو مثلا دس روپے کی گائے لے کر سات آدمیوں کی طرف سے قربانی کرلیا کرتے تھے اب ان کے لئے یہ انتظام کیاجائے گا کہ ان سے دس روپیہ لے کر سات بکرایا بھیڑ ہم لوگ بہم پہنچادیا کریں گے اور زائد روپیہ ہم لوگ اپنے پاس سے لگادیا کریں گےیا بھیڑ اور بکری بہ نرخ بازار مثلا چارپانچ روپیہ راس ہم لوگ خرید کر فراہم رکھیں گے اور غرباء کو مثلا ایك روپیہ راس دیا کرینگےجس کے لئے کچھ چندہ بھی کیا گیا ہےمگر اس کے لئے نہ کوئی جائداد وقف کرتے ہیں اور نہ ہمیشہ کے لئے کوئی رجسٹری کی صورت ہےچونکہ اس امر پر پورااعتماد ہے کہ یہ لوگ اس بار عظیم کو ہمیشہ نہ نباہ سکیں گےلہذا ضرور اور اغلب ہے کہ اس میں قوم ہنود سے خفیہ یا صراحۃ ضرور امداد لیں گے۔
لیڈران قوم کاخیال ہے کہ جس قدر قربانیاں سالہا ئے گزشتہ میں گائے کی لوگوں نے کی ہیں انھیں کوا مداد دی جائے گیاو رجو لوگ جدید قربانی کرنا چاہیں گے ان کو امداد نہ دی جائے گینیز جو لوگ
پیغمبر علیہ السلام یا اپنے دیگر بزرگوں کی طرف سے قربانیاں کیا کرتے تھے چونکہ یہ بلاضروت ہے اس لئے ان کو امداد نہ دی جائےاور یہ بھی خیال ہے کہ قربانی ہی پر کیا منحصر ہےبلکہ جملہ شادی وغمی وغیرہ وغیرہ میں گائے ذبح نہ کی جائےبجائے اس کے بکری وغیرہ کا گوشت استعمال کیا جائےاور رائے بریلی میں اس امر کا تجربہ بھی ہوچکا ہے کہ جن مقامات میں گائے کی قربانیاں ہوا کرتی ہیں اس جگہ ایك سال قربانی نہ ہونے سے پھر آئندہ سال اس جگہ قربانی میں سخت رکاوٹ پیدا ہوجاتی ہے اور نہیں ہوسکتیچنانچہ اس کی نظیرموجود ہےاس موقع پر کسی قانون دان لیڈر کو حس تك نہیں ہوتی کہ اس کو بمقتضائے قانون جاری کرادیوےبلکہ فتنہ وفساد کے الفاظ سے مرعوب کرکے غرباء کو خاموش کردیا جاتاہے۔لہذا امور ذیل دریافت طلب ہیں:
(۱)قوم ہنود کی ہمدردی گزشتہ وآئندہ کے صلہ میں اور باہمی اتحاد قائم رکھنے کی غرض سے گائے کی قربانی ترك کردینا شرعا جائزہے یا ناجائز
(۲)اور ان لوگوں کے وعدہ موہومہ مذکورہ پر بھروسہ کرناچاہئے یانہیں اور ان کے فراہم کردہ چندہ سے امداد لے کر اپنی طر ف سے وجوبا خواہ استحبابا قربانی کرنا درست ہوگا یانہیں
(۳)ان لوگوں کے فراہم کردہ چندہ سے جس میں شبہ قوی ہے کہ رقوم ہنود بھی شامل ہوں گی قربانی کرنا جائز ہوگا یاناجائز
(۴)فی الواقع اگر مولوی عبدالباری صاحب وغیرہ کا اس کے متعلق فتوی ہوچکا ہے اس پر عمل کرناچاہئے یا نہیں
(۵)اور ایسے محرکین کی کمیٹی میں شرکت کرنا چاہئے یا نہیں اور اس کے محرك اور مرتکب عنداﷲ ماجور رہوں گے یا گنہ گار
(۶)گائے بھیڑ بکری اونٹ وغیرہ میں منجانب شریعت مختار ہونااس کے کیا معنی ہیں بینوا توجروا
الجواب:
(۱)گائے کی قربانی شعار اسلام ہے
قال اﷲ تعالی" والبدن جعلنہا لکم من شعئراللہ" اﷲ تعالی نے فرمایا:قربانی کے اونٹ اور گائے ہم نے تمھارے لئے اﷲ کی نشانیوں میں سے بنائے۔(ت)
(۱)قوم ہنود کی ہمدردی گزشتہ وآئندہ کے صلہ میں اور باہمی اتحاد قائم رکھنے کی غرض سے گائے کی قربانی ترك کردینا شرعا جائزہے یا ناجائز
(۲)اور ان لوگوں کے وعدہ موہومہ مذکورہ پر بھروسہ کرناچاہئے یانہیں اور ان کے فراہم کردہ چندہ سے امداد لے کر اپنی طر ف سے وجوبا خواہ استحبابا قربانی کرنا درست ہوگا یانہیں
(۳)ان لوگوں کے فراہم کردہ چندہ سے جس میں شبہ قوی ہے کہ رقوم ہنود بھی شامل ہوں گی قربانی کرنا جائز ہوگا یاناجائز
(۴)فی الواقع اگر مولوی عبدالباری صاحب وغیرہ کا اس کے متعلق فتوی ہوچکا ہے اس پر عمل کرناچاہئے یا نہیں
(۵)اور ایسے محرکین کی کمیٹی میں شرکت کرنا چاہئے یا نہیں اور اس کے محرك اور مرتکب عنداﷲ ماجور رہوں گے یا گنہ گار
(۶)گائے بھیڑ بکری اونٹ وغیرہ میں منجانب شریعت مختار ہونااس کے کیا معنی ہیں بینوا توجروا
الجواب:
(۱)گائے کی قربانی شعار اسلام ہے
قال اﷲ تعالی" والبدن جعلنہا لکم من شعئراللہ" اﷲ تعالی نے فرمایا:قربانی کے اونٹ اور گائے ہم نے تمھارے لئے اﷲ کی نشانیوں میں سے بنائے۔(ت)
حوالہ / References
القرآن الکریم ۲۲ /۳۶
دشمنان دین سے اتحاد منانے کو شعار اسلام بندکرنا بدخواہی اسلام ہے۔
(۲)ان صاحبوں کاوعدہ اپنی طرف سے نہیں بلکہ القائے شیطان ہے۔
وقال اﷲ تعالی" وما یعدہم الشیطن الا غرورا ﴿۱۲۰﴾" ۔ اﷲ تعالی نے فرمایا:شیطان تو وعدہ نہیں دیتا مگر فریب سے۔
ان سے چندہ سے مددلے کر گائے کی قربانی چھوڑناشیطان کا داؤں چلالینا ہےدو چار کو شیطان نے دھوکا دے لیا
اورمسلمان تواپنی انکھیں کھلی رکھیں
(۳)اس کا جواب جواب دوم میں آگیا۔اور اس سے اور بھی کھل گیا کہ یہ شیطان کا فریب ہے ہر گز کفار تمھارے دین کی خیر خواہی نہ کریں گےقال اﷲ تعالی" لا یا لونکم خبلا " (وہ تمھاری برائی میں کمی نہیں کرتے۔ت) ضرورہے کہ جس میں وہ ساعی ہیں اس میں تمھارے دین کا ضرر ہے۔
قال اﷲ تعالی" ودوا ماعنتم " ۔ اﷲ تعالی نے فرمایا:ان کی آرزو ہے کہ ایذا تمھیں پہنچے۔ (ت)
ان کے زبانی اتحاد پر پھولنا قرآن عظیم کو بھولنا ہے۔
قال اﷲ تعالی" قد بدت البغضاء من افوہہم وما تخفی صدورہم اکبر " ۔ اﷲ تعالی نے فرمایا:بیرا ن کی باتوں سے جھلك اٹھا اور وہ جو سینے میں چھپائے ہیں بڑا ہے۔(ت)
اس اتحاد کی یك طرفہ تالی تو دیکھوتم اپنا شعار دین بند کرو جسے تم ان سے بالکل مخفی کرتے ہواور وہ اتنا بھی نہ کریں کہ اتنے گھنٹے سنکھ ان مندروں سے بند کردیںجہاں سے تمھیں یا کم از کم کسی مسجد کو وہ مکروہ ودلخراش آوازیں جائیں وہ اعلان نہ چھوڑیں اور تم مخفی سے بھی بازآؤیہ انھیں لیڈروں سے اسلام دوستی ہے۔
(۴)مولوی عبدالباری صاحب کے والد مرحوم مولانا عبدالوہاب صاحباور ان کے استاذ مولوی عبدالحی صاحب اور دیگر علمائے فرنگی محل کا فتوی خود مجموعہ فتاوی مولوی عبدالحی صاحب میں چھپ چکا ہے کہ بخاطر ہنود قربانی گاؤ بند کرنا معصیت ہےناجائز ہےاس کا جاری رکھنا واجب ہے"انفس الفکر"بھیجتاہوں اس پر عمل چاہئے۔
(۲)ان صاحبوں کاوعدہ اپنی طرف سے نہیں بلکہ القائے شیطان ہے۔
وقال اﷲ تعالی" وما یعدہم الشیطن الا غرورا ﴿۱۲۰﴾" ۔ اﷲ تعالی نے فرمایا:شیطان تو وعدہ نہیں دیتا مگر فریب سے۔
ان سے چندہ سے مددلے کر گائے کی قربانی چھوڑناشیطان کا داؤں چلالینا ہےدو چار کو شیطان نے دھوکا دے لیا
اورمسلمان تواپنی انکھیں کھلی رکھیں
(۳)اس کا جواب جواب دوم میں آگیا۔اور اس سے اور بھی کھل گیا کہ یہ شیطان کا فریب ہے ہر گز کفار تمھارے دین کی خیر خواہی نہ کریں گےقال اﷲ تعالی" لا یا لونکم خبلا " (وہ تمھاری برائی میں کمی نہیں کرتے۔ت) ضرورہے کہ جس میں وہ ساعی ہیں اس میں تمھارے دین کا ضرر ہے۔
قال اﷲ تعالی" ودوا ماعنتم " ۔ اﷲ تعالی نے فرمایا:ان کی آرزو ہے کہ ایذا تمھیں پہنچے۔ (ت)
ان کے زبانی اتحاد پر پھولنا قرآن عظیم کو بھولنا ہے۔
قال اﷲ تعالی" قد بدت البغضاء من افوہہم وما تخفی صدورہم اکبر " ۔ اﷲ تعالی نے فرمایا:بیرا ن کی باتوں سے جھلك اٹھا اور وہ جو سینے میں چھپائے ہیں بڑا ہے۔(ت)
اس اتحاد کی یك طرفہ تالی تو دیکھوتم اپنا شعار دین بند کرو جسے تم ان سے بالکل مخفی کرتے ہواور وہ اتنا بھی نہ کریں کہ اتنے گھنٹے سنکھ ان مندروں سے بند کردیںجہاں سے تمھیں یا کم از کم کسی مسجد کو وہ مکروہ ودلخراش آوازیں جائیں وہ اعلان نہ چھوڑیں اور تم مخفی سے بھی بازآؤیہ انھیں لیڈروں سے اسلام دوستی ہے۔
(۴)مولوی عبدالباری صاحب کے والد مرحوم مولانا عبدالوہاب صاحباور ان کے استاذ مولوی عبدالحی صاحب اور دیگر علمائے فرنگی محل کا فتوی خود مجموعہ فتاوی مولوی عبدالحی صاحب میں چھپ چکا ہے کہ بخاطر ہنود قربانی گاؤ بند کرنا معصیت ہےناجائز ہےاس کا جاری رکھنا واجب ہے"انفس الفکر"بھیجتاہوں اس پر عمل چاہئے۔
حوالہ / References
القرآن الکریم ۴ /۱۲۰
القرآن الکریم ۳ /۱۱۸
القرآن الکریم ۳ /۱۱۸
القرآن الکریم ۳ /۱۱۸
القرآن الکریم ۳ /۱۱۸
القرآن الکریم ۳ /۱۱۸
القرآن الکریم ۳ /۱۱۸
(۵)محرکین کاحال قرآن عظیم کی آیتون سے اوپر ظاہر ہوچکا کہ شیطان کے فریب میں ہیںنادانستہ خواہ ان کے بعض دانستہ بدخواہی اسلام کررہے ہیںاس کمیٹی میں شرکت حرام ہے کہ قرآن عظیم کو پیٹھ دینے کا مجمع ہے۔
قال اﷲ تعالی اما ینسینک الشیطن فلا تقعد بعد الذکری مع القوم الظلمین ﴿۶۸﴾ ۔وقال تعالی فلا تقعدوا معہم حتی یخوضوا فی حدیث غیرہ ۫ انکم اذا مثلہم " ۔ اﷲ تعالی نے فرمایا:اورجو کہیں تجھے شیطان بھلادے تو یاد آنے پر ظالموں کے پاس نہ بیٹھ(ت)اﷲ تعالی نے فرمایا:تو ان لوگوں کے ساتھ نہ بیٹھو جب تك وہ اور بات میں مشغول نہ ہوں ورنہ تم بھی انھیں جیسے ہو۔(ت)
(۶)اس کی تفصیل"انفس الفکر"سے معلوم ہوگیقربانی کا تمھیں اختیار ہےمگر مخالفان اسلام کی خاطر سے شعائر اسلام بند کرنے کا کسی وقت تم کو اختیار نہیں۔
" و اللہ یقول الحق وہو یہدی السبیل ﴿۴﴾ " ۔ اور اﷲ جسے حق فرماتاہے اور وہی راہ دکھاتاہے۔(ت)
مسئلہ ۱۹۵ و ۱۹۶: از فتحپور محلہ ایرانیاں مرسلہ حکیم سیدنعمت اﷲ صاحب ۱۱ ذی الحجہ ۱۳۳۵ھ
مولانا المعظمالسلام علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ! آج کل اخباروں میں علماء نے شائع فرمایا ہے کہ مصلحتا ضرورت ہے کہ ہندوؤں سے اتفاق کیا جائے اور بجائے گائے کی قربانی کے بکری بھیڑ کی قربانی کی جائےتو جناب والا اس کی نسبت کیا فرماتے ہیں کہ جو قربانی گائے کی کرتاہے اس کو آجکل اس مصلحت سے گائے کی قربانی نہ کرنا کیساہے
(۲)اصل میں بکری بھیڑ کی قربانی افضل ہے یا گائے کیفقط
الجواب:
یہاں گائے کی قربانی قائم رکھنا واجب ہے اور اس ناپاك مصلحت کے لئے اس کام کا چھوڑنا حرامگائے کی قربانی اسلام کا شعار ہےاو رشعار اسلام بند کرنے کی وہی کوشش کرے گا جو اسلام کا بدخواہ ہےایسا شخص عالم نہیں ہوسکتا بلکہ ظالم ہےاور کس پر ظلم ہوتاہےاسلام پر اور ہنود سے جیسا اتحاد منایا جارہاہے حرام ہے حرام قطعی حرام ہےنصوص قرآن عظیم سے حرام ہے اور اس کے جو نتائج ہورہے ہیں
قال اﷲ تعالی اما ینسینک الشیطن فلا تقعد بعد الذکری مع القوم الظلمین ﴿۶۸﴾ ۔وقال تعالی فلا تقعدوا معہم حتی یخوضوا فی حدیث غیرہ ۫ انکم اذا مثلہم " ۔ اﷲ تعالی نے فرمایا:اورجو کہیں تجھے شیطان بھلادے تو یاد آنے پر ظالموں کے پاس نہ بیٹھ(ت)اﷲ تعالی نے فرمایا:تو ان لوگوں کے ساتھ نہ بیٹھو جب تك وہ اور بات میں مشغول نہ ہوں ورنہ تم بھی انھیں جیسے ہو۔(ت)
(۶)اس کی تفصیل"انفس الفکر"سے معلوم ہوگیقربانی کا تمھیں اختیار ہےمگر مخالفان اسلام کی خاطر سے شعائر اسلام بند کرنے کا کسی وقت تم کو اختیار نہیں۔
" و اللہ یقول الحق وہو یہدی السبیل ﴿۴﴾ " ۔ اور اﷲ جسے حق فرماتاہے اور وہی راہ دکھاتاہے۔(ت)
مسئلہ ۱۹۵ و ۱۹۶: از فتحپور محلہ ایرانیاں مرسلہ حکیم سیدنعمت اﷲ صاحب ۱۱ ذی الحجہ ۱۳۳۵ھ
مولانا المعظمالسلام علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ! آج کل اخباروں میں علماء نے شائع فرمایا ہے کہ مصلحتا ضرورت ہے کہ ہندوؤں سے اتفاق کیا جائے اور بجائے گائے کی قربانی کے بکری بھیڑ کی قربانی کی جائےتو جناب والا اس کی نسبت کیا فرماتے ہیں کہ جو قربانی گائے کی کرتاہے اس کو آجکل اس مصلحت سے گائے کی قربانی نہ کرنا کیساہے
(۲)اصل میں بکری بھیڑ کی قربانی افضل ہے یا گائے کیفقط
الجواب:
یہاں گائے کی قربانی قائم رکھنا واجب ہے اور اس ناپاك مصلحت کے لئے اس کام کا چھوڑنا حرامگائے کی قربانی اسلام کا شعار ہےاو رشعار اسلام بند کرنے کی وہی کوشش کرے گا جو اسلام کا بدخواہ ہےایسا شخص عالم نہیں ہوسکتا بلکہ ظالم ہےاور کس پر ظلم ہوتاہےاسلام پر اور ہنود سے جیسا اتحاد منایا جارہاہے حرام ہے حرام قطعی حرام ہےنصوص قرآن عظیم سے حرام ہے اور اس کے جو نتائج ہورہے ہیں
کہ مسلمانوں نے قشقے لگوائے۔رام لچمھن پر پھول چڑھائےمشرك کی ٹکٹکی اپنے کندھوں پراٹھا کر اس کی جے بولتے ہوئے مرگھٹ میں لے گئے۔قرآن عظیم ایك ڈولے میں رامائن کی پوجاکراتے مندر میں لے گئےان کے بڑے لیڈر نے قرآن وحدیث کی تمام عمر بت پرستی پر نثارکردییہ فضائح کھلے ہوئے کفر نہیں رہے مشرك سے اتحاد ہوکر یہ نتیجہ آپ ہی ضرور تھاقرآن کریم میں صاف ارشاد فرمایا کہ تم میں جو ان سے دوستی رکھے گاوہ سب انھیں میں سے ہےآیہ کریمہ کا رڈ پر نہیں لکھی جاسکتیترجمہ اس کا یہی ہےپھر کیونکر ممکن تھا کہ مشرکوں سے اتحاد کرنے والے مشرك نہ ہوجاتے یہ یہاں ہےاور اگر سچے دل سے تائب ہوکر باز نہ آئے تو صحیح حدیثوں کا ارشاد ہے کہ ان کا حشر بھی بت پرستوں کے ساتھ ہوگامولی عزوجل اپنے غضب سے پناہ دےہدایت فرماکر دل نہ الٹے۔راہ دکھا کر آنکھیں نہ پلٹیںاحفظنا یا مقلب القلوب والابصار(اے دلوں اور آنکھوں کو بدلنے والے! ہماری حفاظت فرما۔ت)وھو تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۹۷: از لکھنؤ کنٹونمنٹ روڈ کوٹھی ۳۳ مسئولہ مولوی عبدالحمید صاحب ۵ ربیع الاول ۱۳۳۹ھ
عالیجناب معلی القاب مولانا صاحب قبلہ ادام اﷲ برکاتہمالسلام علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہآج کل اہل ہنود جگہ جگہ میونسپلٹی کے ذریعہ سے انسداد گاؤ کشی کی کوشش کررہے ہیںچنانچہ فیض آبادہاتھرس اور شہر لکھنؤ میں ہندو ممبران میونسپلٹی نے اپنی زیادتی تعداد کی وجہ سے تمامی مسلمانوں ممبروں کے خلاف انسداد گاؤ کشی کا قانون پاس کردیا ہےاگر خدانخواستہ گاؤ کشی قانونا ممنوع قرار دی گئی تو عام مسلمانوں کو صرف اسی قدر نہیں کہ روز مرہ کی زندگی میں ان کو سخت مصائب کا سامنا کرنا پڑے گا بلکہ تقریبا تمام غیر مستطیع مسلمان جو تعداد میں نوے فیصدی سے بھی زائد ہیں ان سب کو عید الضحی میں قربانی کرنا بھی نصیب نہ ہو گا اس لیے کہ غریب مسلمان کسی طرح اس کی مقدرت نہیں رکھتے کہ وہ فردا فردا پندرہ بیس روپے کا بکراہرسال خرید سکیںلہذا دریافت طلب یہ ہے کہ ایسے وقت میں عام مسلمانوں کو خاموشی اختیار کرنی چاہئے یا انسداد گاؤ کشی کے خلاف ان کو بھی امکانی جدوجہد کرنی چاہئےاور مذہبا ان پر کیا واجب ہے
یہ ایك استفتاء ہے جس کا جواب براہ کرم وبرائے خد ا ورسول اکرم(صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم)جلد تر عطا فرمائیں تاکہ مسلمانوں کے عام جلسہ میں جو کہ صرف پانچ چھ یوم میں ہونے والا ہے آنجناب کا شرعی حکم پھر سب کو پڑھ کر سنادیا جائے۔
مسئلہ ۱۹۷: از لکھنؤ کنٹونمنٹ روڈ کوٹھی ۳۳ مسئولہ مولوی عبدالحمید صاحب ۵ ربیع الاول ۱۳۳۹ھ
عالیجناب معلی القاب مولانا صاحب قبلہ ادام اﷲ برکاتہمالسلام علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہآج کل اہل ہنود جگہ جگہ میونسپلٹی کے ذریعہ سے انسداد گاؤ کشی کی کوشش کررہے ہیںچنانچہ فیض آبادہاتھرس اور شہر لکھنؤ میں ہندو ممبران میونسپلٹی نے اپنی زیادتی تعداد کی وجہ سے تمامی مسلمانوں ممبروں کے خلاف انسداد گاؤ کشی کا قانون پاس کردیا ہےاگر خدانخواستہ گاؤ کشی قانونا ممنوع قرار دی گئی تو عام مسلمانوں کو صرف اسی قدر نہیں کہ روز مرہ کی زندگی میں ان کو سخت مصائب کا سامنا کرنا پڑے گا بلکہ تقریبا تمام غیر مستطیع مسلمان جو تعداد میں نوے فیصدی سے بھی زائد ہیں ان سب کو عید الضحی میں قربانی کرنا بھی نصیب نہ ہو گا اس لیے کہ غریب مسلمان کسی طرح اس کی مقدرت نہیں رکھتے کہ وہ فردا فردا پندرہ بیس روپے کا بکراہرسال خرید سکیںلہذا دریافت طلب یہ ہے کہ ایسے وقت میں عام مسلمانوں کو خاموشی اختیار کرنی چاہئے یا انسداد گاؤ کشی کے خلاف ان کو بھی امکانی جدوجہد کرنی چاہئےاور مذہبا ان پر کیا واجب ہے
یہ ایك استفتاء ہے جس کا جواب براہ کرم وبرائے خد ا ورسول اکرم(صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم)جلد تر عطا فرمائیں تاکہ مسلمانوں کے عام جلسہ میں جو کہ صرف پانچ چھ یوم میں ہونے والا ہے آنجناب کا شرعی حکم پھر سب کو پڑھ کر سنادیا جائے۔
الجواب:
مولنا المکرم وذوالمجد والکرم اکرمکم وعلیکم السلام ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ۔
یہ مسئلہ بھی کچھ قابل سوال ہےحدیث میں ہے نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من کان یجب ان یعلم منزلتہ عنداﷲ فلینظر کیف منزلۃ اﷲ عندہ۔فان اﷲ ینزل العبد منہ حیث انزلہ من نفسہ ۔رواہ الحاکم فی المستدرك و الدارقطنی فی الافراد عن انس وابونعیم فی الحلیۃ عن ابی ھریرۃوعن سمرۃ بن جندب رضی اﷲ تعالی عنہم۔ جو یہ جاننا پسندکرے کہ اﷲ کے نزدیك اس کا مرتبہ کتنا ہے وہ یہ دیکھے کہ اس کے دل میں اﷲ کی قدر کیسی ہے کہ بندے کے دل میں جتنی عظمت اﷲ کی ہوتی ہے اﷲ اسی کے لائق اپنے یہاں اسے مرتبہ دیتاہے(اسے حاکم نے مستدرك میں اور دارقطنی نے افراد میں انس وابونعیم نے حلیہ میں ابوہریرہ اورسمرہ بن جندب رضی اﷲ تعالی عنہم سے روایت کیا۔ت)
آدمی اگر اﷲ ورسول کے معاملہ کوا پنے ذاتی معاملہ کے برابر ہی رکھےتو دین میں اس کی سرگرمی کے لئے بس ہےہم دیکھتے ہیں کہ انسان ذرا سی نالی یاپرنالے کی ملك بلکہ مجرد حق کے لئے کس قدر جان توڑ عرق ریزیاں کرتاہے اس کا مقدمہ منتہاتك پہنچا تاہےکوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کرتاپیسہ کے مال پر ہزاروں اٹھادیتاہےدنیوی فریق کے مقابل کسی طرح اپنی دبتی گوارانہیں کرتاگائے کشی مسلمان کا دینی حق ہےاور حق بھی کیساخاص شعار اسلاماﷲ عزوجل فرماتاہے:
" والبدن جعلنہا لکم من شعئراللہ" ۔ اونٹ اور گائے کی قربانی کوہم نے تمھارے لئے دین الہی کے شعاروں سے کیا۔
امام محمد جامع صغیر میں فرماتے ہیں:والبدن من الابل والبقر (اونٹ اور گائے بدنہ ہیں۔ت)اور اگرشعار اسلام کو اور بھی خاص اعدائے اسلام کے مقابلہ میں اپنی ایك نالی کے برابر بھی نہ سمجھوتو جان لو کہ اﷲ واحد قہار ہے یہاں تمھاری قدر کتنی ہے اگر وہ ضرورت وضرر جو سوال میں مذکور ہوئے نہ بھی ہوتے بقدر قدرت کوشش لازم تھی
حدیث میں ہے: لیس منا من اعطی
مولنا المکرم وذوالمجد والکرم اکرمکم وعلیکم السلام ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ۔
یہ مسئلہ بھی کچھ قابل سوال ہےحدیث میں ہے نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من کان یجب ان یعلم منزلتہ عنداﷲ فلینظر کیف منزلۃ اﷲ عندہ۔فان اﷲ ینزل العبد منہ حیث انزلہ من نفسہ ۔رواہ الحاکم فی المستدرك و الدارقطنی فی الافراد عن انس وابونعیم فی الحلیۃ عن ابی ھریرۃوعن سمرۃ بن جندب رضی اﷲ تعالی عنہم۔ جو یہ جاننا پسندکرے کہ اﷲ کے نزدیك اس کا مرتبہ کتنا ہے وہ یہ دیکھے کہ اس کے دل میں اﷲ کی قدر کیسی ہے کہ بندے کے دل میں جتنی عظمت اﷲ کی ہوتی ہے اﷲ اسی کے لائق اپنے یہاں اسے مرتبہ دیتاہے(اسے حاکم نے مستدرك میں اور دارقطنی نے افراد میں انس وابونعیم نے حلیہ میں ابوہریرہ اورسمرہ بن جندب رضی اﷲ تعالی عنہم سے روایت کیا۔ت)
آدمی اگر اﷲ ورسول کے معاملہ کوا پنے ذاتی معاملہ کے برابر ہی رکھےتو دین میں اس کی سرگرمی کے لئے بس ہےہم دیکھتے ہیں کہ انسان ذرا سی نالی یاپرنالے کی ملك بلکہ مجرد حق کے لئے کس قدر جان توڑ عرق ریزیاں کرتاہے اس کا مقدمہ منتہاتك پہنچا تاہےکوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کرتاپیسہ کے مال پر ہزاروں اٹھادیتاہےدنیوی فریق کے مقابل کسی طرح اپنی دبتی گوارانہیں کرتاگائے کشی مسلمان کا دینی حق ہےاور حق بھی کیساخاص شعار اسلاماﷲ عزوجل فرماتاہے:
" والبدن جعلنہا لکم من شعئراللہ" ۔ اونٹ اور گائے کی قربانی کوہم نے تمھارے لئے دین الہی کے شعاروں سے کیا۔
امام محمد جامع صغیر میں فرماتے ہیں:والبدن من الابل والبقر (اونٹ اور گائے بدنہ ہیں۔ت)اور اگرشعار اسلام کو اور بھی خاص اعدائے اسلام کے مقابلہ میں اپنی ایك نالی کے برابر بھی نہ سمجھوتو جان لو کہ اﷲ واحد قہار ہے یہاں تمھاری قدر کتنی ہے اگر وہ ضرورت وضرر جو سوال میں مذکور ہوئے نہ بھی ہوتے بقدر قدرت کوشش لازم تھی
حدیث میں ہے: لیس منا من اعطی
حوالہ / References
المستدر ك للحاکم کتاب الدعا دارالفکر بیروت ۱/ ۹۵۔۴۹۴
القرآن الکریم ۲۲ /۳۶
الجامع الصغیر باب تقلید البُدن مطبع یوسفی لکھنؤ ص ۳۱
القرآن الکریم ۲۲ /۳۶
الجامع الصغیر باب تقلید البُدن مطبع یوسفی لکھنؤ ص ۳۱
الدنیۃ فی دیننا ہمارے گروہ سے نہیں جو ہمارے دین کے معاملہ میں دبتی رکھنے دے کہ ان ضرورتوں اور ضرروں کے ہوتے ہوئے بیشك جو اس میں بے پروائی وچشم پوشی برتے گا اور حسب طاقت دین کی مدد نہ کرے گا اور شعار اسلام کو نقصان پہنچنے دے گاروز قیامت سخت بازپرس میں پکڑا جائے گا اور اس کی جزایہ ہے کہ اﷲ تعالی قیامت میں اس کی شدید حاجت کے بوقت اسے بے یارومددگار چھوڑےجیسا اس نے دین کی مدد سے منہ موڑاقال اﷲتعالی" وکذلک الیوم تنسی ﴿۱۲۶﴾" اس سے قیامت میں فرمایا جائے گا جیسا تونے دین کو بھلاد یا تھا تو ایسا ہی آج تو بھلادیا جائے گا کہ کوئی تیری خبر نہ لے گاوالعیاذباﷲ تعالیواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۹۸: از پرولیا ضلع مان بھوم مسئولہ خلیفہ محمد جان شب ۱۹ ذی القعدہ ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ ترك گاؤ کشی یا ترك قربانی گاؤ مصلحت وقت سمجھ کر چھوڑ دیا جائے اس پر مذہبی نقصان ہے یانہیں
الجواب:
گاؤ کشی مباح قطعی ہےمشرکین کی خاطر اسے بند کرنا مشرك کا بول بالا کرنا ہےاور قربانی گاؤ شعار اسلام ہےمشرکین کی خاطر اس کا بند کرنا حرام ہےوھو تعالی اعلم
مسئلہ ۱۹۹: از شہر بریلی صد ربازار مکان ۷۸۹ مرسلہ حافظ بنے خاں صاحب مورخہ ۷ ذی الحجہ ۱۳۳۸ھ
قربانی گاؤ کے متعلق ہمارے علمائے دین کیا فرماتے ہیں بینوا توجروا
الجواب:
ہندوستان میں قربانی گاؤ کاجاری رکھنا واجب ہے اور خوشنودی ہنود کے لئے اس کا بند کرنا حرام ہے
" واللہ ورسولہ احق ان یرضوہ ان کانوا مؤمنین ﴿۶۲﴾" ۔ اﷲ ورسول زیادہ اس سے مستحق ہیں کہ انھیں راضی کرو اگر تم مسلمان ہو۔
مسئلہ ۱۹۸: از پرولیا ضلع مان بھوم مسئولہ خلیفہ محمد جان شب ۱۹ ذی القعدہ ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ ترك گاؤ کشی یا ترك قربانی گاؤ مصلحت وقت سمجھ کر چھوڑ دیا جائے اس پر مذہبی نقصان ہے یانہیں
الجواب:
گاؤ کشی مباح قطعی ہےمشرکین کی خاطر اسے بند کرنا مشرك کا بول بالا کرنا ہےاور قربانی گاؤ شعار اسلام ہےمشرکین کی خاطر اس کا بند کرنا حرام ہےوھو تعالی اعلم
مسئلہ ۱۹۹: از شہر بریلی صد ربازار مکان ۷۸۹ مرسلہ حافظ بنے خاں صاحب مورخہ ۷ ذی الحجہ ۱۳۳۸ھ
قربانی گاؤ کے متعلق ہمارے علمائے دین کیا فرماتے ہیں بینوا توجروا
الجواب:
ہندوستان میں قربانی گاؤ کاجاری رکھنا واجب ہے اور خوشنودی ہنود کے لئے اس کا بند کرنا حرام ہے
" واللہ ورسولہ احق ان یرضوہ ان کانوا مؤمنین ﴿۶۲﴾" ۔ اﷲ ورسول زیادہ اس سے مستحق ہیں کہ انھیں راضی کرو اگر تم مسلمان ہو۔
حوالہ / References
صحیح بخاری باب الشروط فی الجہاد ۱/ ۳۸۰،مسند احمد بن حنبل فلم نعطی الدنیہ فی دیننا ۴/ ۳۳۰
القرآن الکریم ۲۰ /۱۲۶
القرآن الکریم ۹ /۶۲
القرآن الکریم ۲۰ /۱۲۶
القرآن الکریم ۹ /۶۲
والتفصیل فی رسالتنا"انفس الفکر فی قربان البقر"(تفصیل ہمارے رسالے"انفس الفکر فی قربان البقر"میں ہے۔ت)واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۲۰۰ و ۲۰۱: از آنولہ ضلع بریلی مرسلہ چودھری رحیم بخش صاحب مورخہ ۷ ذی الحجہ ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید گائے قربانی کے واسطے خرید کیچونکہ قربانی گائے کی اہل ہنود کے واسطے باعث دل آزاری ہوگی اس لئے زید خوشنودی اہل ہنود کے واسطے گائے خریدکردہ سے بیل یا بھینس وغیرہ بدل کر قربانی کرنا چاہتاہے تو عندالشرع یہ بدلنا درست ہے یا نہیں اور گائے کی قربانی بوجہ اتحاد کے موقوف کردینا درست ہے یانہیں
(۲)محض خوشنودی اہل ہنود کے لئے قربانی بجائے تین روز کے ایك ہی دن مقرر کریںدرست ہے یانہیں اور ایك دن مقرر کرلینے والوں کو عندالشرع کیاحکم ہے بینوا توجروا۔
الجواب:
(۱)وہ گائے کہ بہ نیت قربانی خریدیاس کا دوسری گائے سے بدلنا بھی منع ہے کہ اﷲ کے واسطے ا س کی نیت کرکے پھرنا معیوب ہےاور ہندوؤں سے اتحاد حراماور اس کی وجہ سے گائے کی قربانی موقوف کرنا حراماور حرام موجب غضب جبار وعذاب نارایسا کرنے والوں کو حشر ہندوؤں کے ساتھ ہوگاحدیث میں ارشاد ہوا کہ"میں قسم کھاکرفرماسکتاہوں کہ جو جس سے اتحاد رکھے گا اس کاحشر اسی کے ساتھ ہوگا "واﷲ تعالی اعلم۔
(۲)یہ بھی حرام ہےہنود کی خوشنودی کے لئے اﷲ ورسول کے حکم میں تنگی کرنا مسلمانوں کا کام نہیںواﷲ تعالی اعلم۔
___________________
مسئلہ۲۰۰ و ۲۰۱: از آنولہ ضلع بریلی مرسلہ چودھری رحیم بخش صاحب مورخہ ۷ ذی الحجہ ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید گائے قربانی کے واسطے خرید کیچونکہ قربانی گائے کی اہل ہنود کے واسطے باعث دل آزاری ہوگی اس لئے زید خوشنودی اہل ہنود کے واسطے گائے خریدکردہ سے بیل یا بھینس وغیرہ بدل کر قربانی کرنا چاہتاہے تو عندالشرع یہ بدلنا درست ہے یا نہیں اور گائے کی قربانی بوجہ اتحاد کے موقوف کردینا درست ہے یانہیں
(۲)محض خوشنودی اہل ہنود کے لئے قربانی بجائے تین روز کے ایك ہی دن مقرر کریںدرست ہے یانہیں اور ایك دن مقرر کرلینے والوں کو عندالشرع کیاحکم ہے بینوا توجروا۔
الجواب:
(۱)وہ گائے کہ بہ نیت قربانی خریدیاس کا دوسری گائے سے بدلنا بھی منع ہے کہ اﷲ کے واسطے ا س کی نیت کرکے پھرنا معیوب ہےاور ہندوؤں سے اتحاد حراماور اس کی وجہ سے گائے کی قربانی موقوف کرنا حراماور حرام موجب غضب جبار وعذاب نارایسا کرنے والوں کو حشر ہندوؤں کے ساتھ ہوگاحدیث میں ارشاد ہوا کہ"میں قسم کھاکرفرماسکتاہوں کہ جو جس سے اتحاد رکھے گا اس کاحشر اسی کے ساتھ ہوگا "واﷲ تعالی اعلم۔
(۲)یہ بھی حرام ہےہنود کی خوشنودی کے لئے اﷲ ورسول کے حکم میں تنگی کرنا مسلمانوں کا کام نہیںواﷲ تعالی اعلم۔
___________________
حوالہ / References
المعجم الکبیر حدیث ۲۵۱۹ المکتبۃ الفیصلیہ بیروت ۳/ ۱۹
مسئلہ ۲۰۲: مسئولہ حافظ سلیم اﷲ بہاری پوربریلی ۱۸ جمادی الآخرہ ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید بغیر پردہ عورتوں کر مرید کرتاہے اور ان بے پردہ کو اپنے پاس بٹھلاتاہےبات بھی کرتا ہے بجائے داڑھی منڈانے کے خشخشی کرنے کاحکم دیتاہےعالموں کی غیبت کرتاہےاذان اور صلوۃ اورتکبیر اپنے کانوں سے سنے مگر نماز کے لئے مسجد میں نہیں آتاہے اورکہتایہ ہے کہ پیر رسول تك نہیں بلکہ خدا تك براہ راست پہنچادے گاایسے پیرکے واسطے ہماری شریعت کیا حکم دیتی ہےایسے پیر کا مرید ہونا کیسا ہے اور جو اس کے پیروکار ہیں ان کے واسطے اور ایسے پیر کے واسطے ہماری شریعت اہل سنت والجماعت کیا حکم دیتی ہے کوئی بات خلاف نہیں ہے۔
الجواب:
اگر یہ باتیں واقعی ہیں تو ایسے شخص کے ہاتھ پر بیعت جائز نہیںایسا شخص اور اس کے پیرو سب گمراہ ہیںاور یہ کہنا کہ پیر رسول تك نہیں بلکہ براہ راست اﷲ تك پہنچادیتاہے اس کے ظاہر معنی یہ ہیں کہ بے واسطہ رسولاگر یہی مراد ہے تو صریح کفر ہے واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۰۳: از بلنڈا ضلع پیلی بھیت مسئولہ محمد حسین صاحب ۴ ربیع الاخر ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ تین شخصوں کو جوبستی کے تھے مسلمان کیااس پر اس بستی کے ایك مسلمان نے کہا کہ مسلمانوں کے کلمہ میں یہ طاقت ہے کہ سور کھانے والوں کو کلمہ پڑھاکر مسلمان کرلیتے ہیں تو ایسی حالت میں سورپر کلمہ پڑھ کرکیوں نہیں کھالیتےایسی حالت میں شرع اس پر کیاحکم لگاتی ہےوہ شخص نماز نہیں پڑھتا روزہ نہیں رکھتا ہے نام کا مسلمان کہلاتاہے اور کہتاہے کہ ہم کو مسلمانوں سے واسطہ نہیں ہے ہم کو ہندوؤں سے کام ہے اور واسطہ ہے ہمارا روزگار ایساہے اور اس پر منع کیاگیا تو فوجداری پر آمادہ ہوگیا۔
الجواب:
اگریہ بیان واقعی ہے تو وہ شخص کافر ہوگیا۔اس کی عورت اس کے نکاح سے نکل گئیمسلمانوں کو اس سے میل جول سلام کلام حرام ہےواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۰۴: از شہر کہنہ محلہ روہیلی ٹولہ مسئولہ محمد خلیل الدین صاحب ۷ صفر ۱۳۳۹ھ
مسئلہ مسئولہ سید عرفان علی صاحب رکن انجمن خادم الساجدین ربڑی ٹولہ بریلی ۲ صفر ۱۳۳۹ھ میں جو دربارہ مطلب ومعنی آیہ شریفہ"من یشفع شفعۃ حسنۃ " (الی مقیتا)ہے اس بات پر منطقی دلائل
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید بغیر پردہ عورتوں کر مرید کرتاہے اور ان بے پردہ کو اپنے پاس بٹھلاتاہےبات بھی کرتا ہے بجائے داڑھی منڈانے کے خشخشی کرنے کاحکم دیتاہےعالموں کی غیبت کرتاہےاذان اور صلوۃ اورتکبیر اپنے کانوں سے سنے مگر نماز کے لئے مسجد میں نہیں آتاہے اورکہتایہ ہے کہ پیر رسول تك نہیں بلکہ خدا تك براہ راست پہنچادے گاایسے پیرکے واسطے ہماری شریعت کیا حکم دیتی ہےایسے پیر کا مرید ہونا کیسا ہے اور جو اس کے پیروکار ہیں ان کے واسطے اور ایسے پیر کے واسطے ہماری شریعت اہل سنت والجماعت کیا حکم دیتی ہے کوئی بات خلاف نہیں ہے۔
الجواب:
اگر یہ باتیں واقعی ہیں تو ایسے شخص کے ہاتھ پر بیعت جائز نہیںایسا شخص اور اس کے پیرو سب گمراہ ہیںاور یہ کہنا کہ پیر رسول تك نہیں بلکہ براہ راست اﷲ تك پہنچادیتاہے اس کے ظاہر معنی یہ ہیں کہ بے واسطہ رسولاگر یہی مراد ہے تو صریح کفر ہے واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۰۳: از بلنڈا ضلع پیلی بھیت مسئولہ محمد حسین صاحب ۴ ربیع الاخر ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ تین شخصوں کو جوبستی کے تھے مسلمان کیااس پر اس بستی کے ایك مسلمان نے کہا کہ مسلمانوں کے کلمہ میں یہ طاقت ہے کہ سور کھانے والوں کو کلمہ پڑھاکر مسلمان کرلیتے ہیں تو ایسی حالت میں سورپر کلمہ پڑھ کرکیوں نہیں کھالیتےایسی حالت میں شرع اس پر کیاحکم لگاتی ہےوہ شخص نماز نہیں پڑھتا روزہ نہیں رکھتا ہے نام کا مسلمان کہلاتاہے اور کہتاہے کہ ہم کو مسلمانوں سے واسطہ نہیں ہے ہم کو ہندوؤں سے کام ہے اور واسطہ ہے ہمارا روزگار ایساہے اور اس پر منع کیاگیا تو فوجداری پر آمادہ ہوگیا۔
الجواب:
اگریہ بیان واقعی ہے تو وہ شخص کافر ہوگیا۔اس کی عورت اس کے نکاح سے نکل گئیمسلمانوں کو اس سے میل جول سلام کلام حرام ہےواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۰۴: از شہر کہنہ محلہ روہیلی ٹولہ مسئولہ محمد خلیل الدین صاحب ۷ صفر ۱۳۳۹ھ
مسئلہ مسئولہ سید عرفان علی صاحب رکن انجمن خادم الساجدین ربڑی ٹولہ بریلی ۲ صفر ۱۳۳۹ھ میں جو دربارہ مطلب ومعنی آیہ شریفہ"من یشفع شفعۃ حسنۃ " (الی مقیتا)ہے اس بات پر منطقی دلائل
حوالہ / References
القرآن الکریم ۴ /۸۵
قائم کرکے ایك بحث طویل کی جاسکتی ہے کہ فلاں مسلم یا نامسلم فلاں سلطنت مظلومہ اور فلاں ملك کے مظلوم مسلمانوں کی حمایت اور حفاظت کی کوشش بلیغ کررہاہے اس کے جلسہ وجلوس اور وعظ وبیان کی شرکت اور اس کی تعظیم ومدح اور اس کی اقتداء وپیروی سب جائز بلکہ ضروری ہے اور جو اس بات سے احتراز کرے یاا س پر اعتراض کرے تو وہ آیہ شریفہ کے خلاف کام کرتاہے اور گنہ گار ہے جو دوسروں کو امورمتذکرہ بالا سے منع کرتاہے یا روکتاہے وہ آیہ شریفہ کے حصہ آخر یعنی شفاعت سیئہ کا مرتکب ہواامید کہ اس کی نسبت تصریح ووضاحت فرماکر ماجور ومشکور ہوں۔
الجواب:
آیہ کریمہ کی نسبت ایسا وسوسہ محض القائے شیطان رجیم ہےقرآن عظیم میں اعمال حسنہ و سیئہ کی ایك عام میزان ومعیار مقرر فرمائی ہے کہ تمام فروع میں ملحوظ ومرعی ہے اﷲ جل وعلا ارشاد فرماتاہے:
" و من اراد الاخرۃ وسعی لہا سعیہا و ہو مؤمن فاولئک کان سعیہم مشکورا ﴿۱۹﴾" جو آخرت چاہے اور اس کے قابل کوشش کرے اور شرط یہ ہے کہ ہو مسلمان تو ان لوگوں کی کوشش مشکور ہوگی۔ اور کافروں کی نسبت فرماتاہے: " و قدمنا الی ما عملوا من عمل فجعلنہ ہباء منثورا ﴿۲۳﴾" یعنی کافر کچھ بھی عمل کرے ہم نے اس کو تباہ وبرباد کردیاہے کافر سے اصلا کوئی حسنہ قبول نہیں بلکہ اس سے کوئی حسنہ متصو ر ومعقول نہیںامور ثواب کے عمومات میں ہمیشہ صرف اہل اسلام مراد ہیںرب عزوجل فرماتاہے:
" من ذا الذی یقرض اللہ قرضا حسنا فیضعفہ لہ ولہ اجر کریم ﴿۱۱﴾" کون ایسا ہے جو اﷲ کے لئے قرض حسن دے اﷲ اسے دونا دون عطا فرمائے اور اس کے لئے عزت والاثواب ہے۔
کیا کوئی کہہ سکتاہے کہ کافر اگر کسی کودوا یك روپے بے سود قرض دے دے وہ اس آیت میں داخل ہے اور اس کے لئے عزت کا ثواب ہےصورت دائرہ نہ صورت شفاعت ہے نہ شفاعت حسنہ بلکہ بداہۃ سخت شناعت سیئہ ہےمسلمان کہلانے والوں نے مشرکین سے وداد بلکہ اتحاد بلکہ غلامی وانقیاد واختیار کیاشعائر اسلام کی بندش میں کوشاں ہیںاورشعار کفر قبول کرنے پر
الجواب:
آیہ کریمہ کی نسبت ایسا وسوسہ محض القائے شیطان رجیم ہےقرآن عظیم میں اعمال حسنہ و سیئہ کی ایك عام میزان ومعیار مقرر فرمائی ہے کہ تمام فروع میں ملحوظ ومرعی ہے اﷲ جل وعلا ارشاد فرماتاہے:
" و من اراد الاخرۃ وسعی لہا سعیہا و ہو مؤمن فاولئک کان سعیہم مشکورا ﴿۱۹﴾" جو آخرت چاہے اور اس کے قابل کوشش کرے اور شرط یہ ہے کہ ہو مسلمان تو ان لوگوں کی کوشش مشکور ہوگی۔ اور کافروں کی نسبت فرماتاہے: " و قدمنا الی ما عملوا من عمل فجعلنہ ہباء منثورا ﴿۲۳﴾" یعنی کافر کچھ بھی عمل کرے ہم نے اس کو تباہ وبرباد کردیاہے کافر سے اصلا کوئی حسنہ قبول نہیں بلکہ اس سے کوئی حسنہ متصو ر ومعقول نہیںامور ثواب کے عمومات میں ہمیشہ صرف اہل اسلام مراد ہیںرب عزوجل فرماتاہے:
" من ذا الذی یقرض اللہ قرضا حسنا فیضعفہ لہ ولہ اجر کریم ﴿۱۱﴾" کون ایسا ہے جو اﷲ کے لئے قرض حسن دے اﷲ اسے دونا دون عطا فرمائے اور اس کے لئے عزت والاثواب ہے۔
کیا کوئی کہہ سکتاہے کہ کافر اگر کسی کودوا یك روپے بے سود قرض دے دے وہ اس آیت میں داخل ہے اور اس کے لئے عزت کا ثواب ہےصورت دائرہ نہ صورت شفاعت ہے نہ شفاعت حسنہ بلکہ بداہۃ سخت شناعت سیئہ ہےمسلمان کہلانے والوں نے مشرکین سے وداد بلکہ اتحاد بلکہ غلامی وانقیاد واختیار کیاشعائر اسلام کی بندش میں کوشاں ہیںاورشعار کفر قبول کرنے پر
نازاںمشرکوں کی تعظیم کہ سخت مخالفت قرآن عظیم ہے اعلان کے ساتھ ہورہی ہے ان کی جے پکاری جاتی ہےانھیں اپنی مزعوم حاجت دینیہ میں پیشوا ورہنما بنایا جاتاہے آیات واحادیث کی تمام عمر بت پرستی پر نثار کی جاتی ہےمشرکوں کو مساجد میں لے جاکر مسلمانوں کا واعظ بنایا جاتاہے مشرك کی ٹکٹکی کندھوں پراٹھاکر مرگھٹ تك لے گئے اس کے لئے دعائے مغفرت ونماز جنازہ کے اشتہار دئے جو صریح کفرہےصاف کہہ دیا کہ آج تم نے اگر اپنے ہندوبھائیوں کو راضی کرلیا تو اپنے خدا کو راضی کرلیا اوریہ کہ خدا کی رسی مضبوط تھامنے سے اگرچہ دین نہ ملے دنیا تو ضرور ملے گیعلانیہ چھاپ دیا کہ ہم ایسا مذہب بنانے کی فکر میں ہیں جو ہندومسلم کا امتیاز موقوف کردے گا او ر سنگم وپریاگ کو مقدس علامت بنائے گایہاں اس قول کے معنی کھلے جو خدا کی رسی کی نسبت کہاتھاحبل اﷲ قرآن عظیم ہے محال ہے کہ اسے مضبوط تھامنے سے دین نہ ملےمگریہ دین جو معابد کفار کو مقدس بنائے او رمسلم وکافر کا امتیاز اٹھائے البتہ قرآن عظیم سے نہیں مل سکتاقرآن عظیم تو اس کا بیخ کن ہے۔
" ان الدین عند اللہ الاسلم" " ومن یبتغ غیر الاسلم دینا فلن یقبل منہ وہو فی الاخرۃ من الخسرین﴿۸۵﴾" ۔ بیشك اﷲ کے نزدیك سچا دین صرف اسلام ہے۔ا ور جو اسلام کے سوا کوئی بھی دوسرا دین چاہے وہ ہرگز قبول نہ ہوگا اور وہ شخص آخرت میں زیاں کاررہے گا۔
لہذا تصریح کردی کہ قرآن عظیم کو مضبوط تھامنے سے اگرچہ دین نہ ملے اور کہاں تك ان کے افعال و اقوال ذکر کئے جائیں جن کے دل اﷲ نے الٹ دئے اور آنکھیں پلٹ دیں فسبحن مقلب القلوب والابصار(پاك ومنزہ ہے وہ ذات جو دلوں اور آنکھوں کو پلٹ دیتی ہے۔ت)باقی امور تحریم تعظیم مشرکین وغیرہ بار ہا بیان ہوچکے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۰۵:از لاہور بازارکٹرہ کالج شرونوالہ مسئولہ خادم اسلام ملامحمد بخش حنفی چشتی سابق منیجر اخبار ہنر ۹صفر ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ امر مشروع اور مباح شرعی کو کوئی شخص حرام شرعی اور ممنوع مذہبی بنانے کی طاقت رکھتاہے یانہیں غیر مشروع پر کوئی شخص مشروع اور
" ان الدین عند اللہ الاسلم" " ومن یبتغ غیر الاسلم دینا فلن یقبل منہ وہو فی الاخرۃ من الخسرین﴿۸۵﴾" ۔ بیشك اﷲ کے نزدیك سچا دین صرف اسلام ہے۔ا ور جو اسلام کے سوا کوئی بھی دوسرا دین چاہے وہ ہرگز قبول نہ ہوگا اور وہ شخص آخرت میں زیاں کاررہے گا۔
لہذا تصریح کردی کہ قرآن عظیم کو مضبوط تھامنے سے اگرچہ دین نہ ملے اور کہاں تك ان کے افعال و اقوال ذکر کئے جائیں جن کے دل اﷲ نے الٹ دئے اور آنکھیں پلٹ دیں فسبحن مقلب القلوب والابصار(پاك ومنزہ ہے وہ ذات جو دلوں اور آنکھوں کو پلٹ دیتی ہے۔ت)باقی امور تحریم تعظیم مشرکین وغیرہ بار ہا بیان ہوچکے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۰۵:از لاہور بازارکٹرہ کالج شرونوالہ مسئولہ خادم اسلام ملامحمد بخش حنفی چشتی سابق منیجر اخبار ہنر ۹صفر ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ امر مشروع اور مباح شرعی کو کوئی شخص حرام شرعی اور ممنوع مذہبی بنانے کی طاقت رکھتاہے یانہیں غیر مشروع پر کوئی شخص مشروع اور
حلال شرعی بناسکتاہے یانہیں جیسے کہ گائے کی قربانی مشروع اور مباح شرعی ہے کیا اس کوکوئی لیڈر قوم ممنوع شرعی کراسکتاہےہنود کی مجالس اعیاد میں شرکت جو ممنوع اور حرام شرعی ہے کیا لیڈروں کی رائے سے وہ شرکت جائز اور حلال ہو سکتی ہے یانہیں بینوا تو جروا
الجواب:
یہ دین پاك اﷲ واحد قہار نے محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پرتمام جہان کے لئے قیامت تك کے واسطے اتاراہے۔
" تبارک الذی نزل الفرقان علی عبدہ لیکون للعلمین نذیرۨا﴿۱﴾" " قل یایہا الناس انی رسول اللہ الیکم جمیعۨا" بڑی برکت والا ہے وہ کہ جس نے اتارا قرآن اپنے بندہ پر جو سارے جہان کو ڈر سنانے والا ہوتم فرماؤ اے لوگو! میں تم سب کی طرف اﷲ کا رسول ہوں۔(ت)
اور ان سے نبوت کا دروازہ بند فرمادیامحال ہے کہ ابدالآبادتك اب کوئی جدید نبی ہو۔
" ولکن رسول اللہ و خاتم النبین و کان اللہ بکل شیء علیما ﴿۴۰﴾ " ہاں اﷲ کے رسول ہیںاور سب نبیوں میں پچھلےاوراﷲ سب کچھ جانتاہے۔(ت)
محال ہے کہ ان کی کتاب کا ایك حرف یا ان کی شریعت کاکوئی حکم کبھی بدل سکے
" لا یاتیہ البطل من بین یدیہ و لا من خلفہ تنزیل من حکیم حمید ﴿۴۲﴾ باطل کو اس کی طرف راہ نہیںنہ اس کے آگے سے نہ اس کے پیچھے سےاتارا ہوا ہے حکمت والے سب خوبیوں سراہے کا۔
ان کی شریعت کے کسی حلال کو جو حرام بتائے یا کسی حرام کو حلال بتائے وہ حلال حرام یا حرام حلال تونہ ہوجائے گا بلکہ یہی کہنے والا الٹا کافر ہوجائے گا۔
" و لا تقولوا لما تصف السنتکم الکذب ہذا حلل و ہذا حرام لتفتروا علی اللہ الکذب ان الذین یفترون علی اللہ الکذب اورنہ کہو اسے جو تمھاری باتیں جھوٹ بیان کرتی ہیں یہ حلال ہے اوریہ حرام ہے کہ اﷲ پر جھوٹ باندھوبیشك جو اﷲ پر جھوٹ باندھتے ہیں ان کا
لا یفلحون ﴿۱۱۶﴾" " متع قلیل ثم ماوىہم جہنم وبئس المہاد ﴿۱۹۷﴾ " قل اللہ اذن لکم ام علی اللہ تفترون ﴿۵۹﴾
" و یلکم لا تفتروا علی اللہ کذبا فیسحتکم بعذاب وقدخاب من افتری ﴿۶۱﴾ "
بھلا نہ ہوگاتھوڑا برتنا ہےان کا ٹھکانا دوزخ ہے اور کیا ہی برا بچھوناکیا اﷲ نے اس کی تمھیں اجازت دی ہے یا اﷲ پر جھوٹ باندھتے ہوتمھیں خرابی ہو اﷲ پر جھوٹ نہ باندھو وہ تمھیں عذاب سے ہلاك کردے اور بیشك نامراد رہا جس نے جھوٹ باندھا۔(ت)
الجواب:
یہ دین پاك اﷲ واحد قہار نے محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پرتمام جہان کے لئے قیامت تك کے واسطے اتاراہے۔
" تبارک الذی نزل الفرقان علی عبدہ لیکون للعلمین نذیرۨا﴿۱﴾" " قل یایہا الناس انی رسول اللہ الیکم جمیعۨا" بڑی برکت والا ہے وہ کہ جس نے اتارا قرآن اپنے بندہ پر جو سارے جہان کو ڈر سنانے والا ہوتم فرماؤ اے لوگو! میں تم سب کی طرف اﷲ کا رسول ہوں۔(ت)
اور ان سے نبوت کا دروازہ بند فرمادیامحال ہے کہ ابدالآبادتك اب کوئی جدید نبی ہو۔
" ولکن رسول اللہ و خاتم النبین و کان اللہ بکل شیء علیما ﴿۴۰﴾ " ہاں اﷲ کے رسول ہیںاور سب نبیوں میں پچھلےاوراﷲ سب کچھ جانتاہے۔(ت)
محال ہے کہ ان کی کتاب کا ایك حرف یا ان کی شریعت کاکوئی حکم کبھی بدل سکے
" لا یاتیہ البطل من بین یدیہ و لا من خلفہ تنزیل من حکیم حمید ﴿۴۲﴾ باطل کو اس کی طرف راہ نہیںنہ اس کے آگے سے نہ اس کے پیچھے سےاتارا ہوا ہے حکمت والے سب خوبیوں سراہے کا۔
ان کی شریعت کے کسی حلال کو جو حرام بتائے یا کسی حرام کو حلال بتائے وہ حلال حرام یا حرام حلال تونہ ہوجائے گا بلکہ یہی کہنے والا الٹا کافر ہوجائے گا۔
" و لا تقولوا لما تصف السنتکم الکذب ہذا حلل و ہذا حرام لتفتروا علی اللہ الکذب ان الذین یفترون علی اللہ الکذب اورنہ کہو اسے جو تمھاری باتیں جھوٹ بیان کرتی ہیں یہ حلال ہے اوریہ حرام ہے کہ اﷲ پر جھوٹ باندھوبیشك جو اﷲ پر جھوٹ باندھتے ہیں ان کا
لا یفلحون ﴿۱۱۶﴾" " متع قلیل ثم ماوىہم جہنم وبئس المہاد ﴿۱۹۷﴾ " قل اللہ اذن لکم ام علی اللہ تفترون ﴿۵۹﴾
" و یلکم لا تفتروا علی اللہ کذبا فیسحتکم بعذاب وقدخاب من افتری ﴿۶۱﴾ "
بھلا نہ ہوگاتھوڑا برتنا ہےان کا ٹھکانا دوزخ ہے اور کیا ہی برا بچھوناکیا اﷲ نے اس کی تمھیں اجازت دی ہے یا اﷲ پر جھوٹ باندھتے ہوتمھیں خرابی ہو اﷲ پر جھوٹ نہ باندھو وہ تمھیں عذاب سے ہلاك کردے اور بیشك نامراد رہا جس نے جھوٹ باندھا۔(ت)
لا یفلحون ﴿۱۱۶﴾" " متع قلیل ثم ماوىہم جہنم وبئس المہاد ﴿۱۹۷﴾ " قل اللہ اذن لکم ام علی اللہ تفترون ﴿۵۹﴾
" و یلکم لا تفتروا علی اللہ کذبا فیسحتکم بعذاب وقدخاب من افتری ﴿۶۱﴾ "
بھلا نہ ہوگاتھوڑا برتنا ہےان کا ٹھکانا دوزخ ہے اور کیا ہی برا بچھوناکیا اﷲ نے اس کی تمھیں اجازت دی ہے یا اﷲ پر جھوٹ باندھتے ہوتمھیں خرابی ہو اﷲ پر جھوٹ نہ باندھو وہ تمھیں عذاب سے ہلاك کردے اور بیشك نامراد رہا جس نے جھوٹ باندھا۔(ت)
قربانی گاؤ کی حلت اور مجالس اعیادہنود میں شرکت کی حرمت دونوں ضروریات دین میں سے ہیں جو اسے حرام یاحلال کہے وہ اﷲ ورسول پرافتراء کرتاہے اوربحکم قرآن اس کا ٹھکانا جہنم ہے اورحکم کفر اس پر لازم والزم۔
" و سیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون ﴿۲۲۷﴾ " نسأل اﷲ العفو والعافیۃ ولاحول ولاقوۃ الا باﷲ العلی العظیم۔ واﷲ تعالی اعلم۔ اب جاناچاہتے ہیں ظالم کہ کس کروٹ پلٹا کھائیں گے۔(ت)
اب جانا چاہتے ہیں ظالم کہ کس طرح چھٹکارا پائیں گےہم اﷲ تعالی سے معافی اور عافیت مانگتے ہیںاﷲ تعالی بلند و عظیم کی طاقت وتوفیق کے بغیر انسان نہ برائی سے پھر سکتاہے اور نہ نیکی بجالا سکتاہے۔(ت)واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۰۶: از قصبہ حافظ گنج ضلع بریلی مسئولہ عبداﷲ رضوی عرف چھنگے ۱۳صفر ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ قصبہ حافظ گنج میں ہندوؤں کی جل بہار اٹھتی تھی مگر اب کی مرتبہ مسجد کے قریب کے راستہ سے گزرنا چاہا تھا تمام اہلسنت وجماعت نے کہاکہ ہماری مسجد کے سامنے سے نہیں نکلتی ہےعمرو نے جودیوبند کو اپنا پیشوا مانتاہے ہندوؤں کے ہمراہ ہوکر تھا نہ میں کہہ دیاکہ مسجد کے سامنے سے نکلتی ہے اس حالت میں عمرو برادری کے قابل ہے مسلمان
" و یلکم لا تفتروا علی اللہ کذبا فیسحتکم بعذاب وقدخاب من افتری ﴿۶۱﴾ "
بھلا نہ ہوگاتھوڑا برتنا ہےان کا ٹھکانا دوزخ ہے اور کیا ہی برا بچھوناکیا اﷲ نے اس کی تمھیں اجازت دی ہے یا اﷲ پر جھوٹ باندھتے ہوتمھیں خرابی ہو اﷲ پر جھوٹ نہ باندھو وہ تمھیں عذاب سے ہلاك کردے اور بیشك نامراد رہا جس نے جھوٹ باندھا۔(ت)
قربانی گاؤ کی حلت اور مجالس اعیادہنود میں شرکت کی حرمت دونوں ضروریات دین میں سے ہیں جو اسے حرام یاحلال کہے وہ اﷲ ورسول پرافتراء کرتاہے اوربحکم قرآن اس کا ٹھکانا جہنم ہے اورحکم کفر اس پر لازم والزم۔
" و سیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون ﴿۲۲۷﴾ " نسأل اﷲ العفو والعافیۃ ولاحول ولاقوۃ الا باﷲ العلی العظیم۔ واﷲ تعالی اعلم۔ اب جاناچاہتے ہیں ظالم کہ کس کروٹ پلٹا کھائیں گے۔(ت)
اب جانا چاہتے ہیں ظالم کہ کس طرح چھٹکارا پائیں گےہم اﷲ تعالی سے معافی اور عافیت مانگتے ہیںاﷲ تعالی بلند و عظیم کی طاقت وتوفیق کے بغیر انسان نہ برائی سے پھر سکتاہے اور نہ نیکی بجالا سکتاہے۔(ت)واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۰۶: از قصبہ حافظ گنج ضلع بریلی مسئولہ عبداﷲ رضوی عرف چھنگے ۱۳صفر ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ قصبہ حافظ گنج میں ہندوؤں کی جل بہار اٹھتی تھی مگر اب کی مرتبہ مسجد کے قریب کے راستہ سے گزرنا چاہا تھا تمام اہلسنت وجماعت نے کہاکہ ہماری مسجد کے سامنے سے نہیں نکلتی ہےعمرو نے جودیوبند کو اپنا پیشوا مانتاہے ہندوؤں کے ہمراہ ہوکر تھا نہ میں کہہ دیاکہ مسجد کے سامنے سے نکلتی ہے اس حالت میں عمرو برادری کے قابل ہے مسلمان
مانا جائے یانہیںا ور بی بی عمرو کی ہندو کے ہمراہ میلہ رام لیلا کو جائے شریعت سے اس کانکاح جائزرہایانہیں
الجواب:
میلامیں جانا توحرام ہی ہے اگرچہ اس سے نکاح نہ کیا جائے اور کفار کے لئے جھوٹی گواہی دینی اور وہ بھی ایسی ناپاك بات میں اور اس کے سبب مسجد کی توہین کرانی قریب بہ کفرہے اگرچہ اس پر کفر مطلق کا حکم نہ بھی ہومگر جب وہ دیوبندیوں کا معتقد ہے تو اسی قدر اس کے کفر کے لئے کافی ہےفتوی علمائے حرمین شریفین میں دیوبندیوں کی نسبت ہے:
من شك فی کفرہ وعذابہ فقد کفر ۔ جوان کے کافرہونے اوران کے عذاب کے بارے میں شك کرے وہ بھی کافرہے۔
بہرحال عمرو کی عورت اس کے نکاح سے باہر ہےاور اس سے میل جول حرام ہےاور اسے برادری سے خارج کرنا فرضمگر جب اسلام لائے اوراپنے کفر اور ان کبائر سے توبہ کرےاور دیوبندیہ و دیگر وہابیہ وجملہ کفا ر کو کافر مانے اس وقت برادری میں شامل کیاجاسکتاہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۰۷: از شہر محلہ سوداگراں مسئولہ احسان علی صاحب طالب علم ۱۸ صفر ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید معاذاﷲ یہ کہے کہ میں عیسائی یاوہابی یا کافر ہوجاؤں گانام ایك فرقہ کا لیا آیا وہ انھیں میں سے ہوگا یانہیں یایہ کہے کہ جی چاہتاہے کہ غیر مقلد ہوجاؤں یا یہ کہے کہ غیرمقلد ہونے کا جی چاہتاہےیہ قول کیسا ہےاگرچہ کسی کو چھیڑ نے یا مذاق کی غرض سے کہےبینوا توجروا
الجواب:
جس نے جس فرقہ کا نام لیا اس فرقہ کا ہوگیا مذاق سے کہے یا کسی دوسری وجہ سےواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۰۸ تا ۲۱۲: از قصبہ تلہر ضلع شاہجہانپور محلہ ہندوپٹی مسئولہ ضیاء الدین صاحب ۱۸ صفر ۱۳۳۹ھ
بسم اﷲ الرحمن الرحیمنحمدہ ونصلی ونسلم علی رسولہ الکریم۔
کیافرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان عظام ادام فیضہم المولی العلام ان مسائل میںبینوا توجروا
الجواب:
میلامیں جانا توحرام ہی ہے اگرچہ اس سے نکاح نہ کیا جائے اور کفار کے لئے جھوٹی گواہی دینی اور وہ بھی ایسی ناپاك بات میں اور اس کے سبب مسجد کی توہین کرانی قریب بہ کفرہے اگرچہ اس پر کفر مطلق کا حکم نہ بھی ہومگر جب وہ دیوبندیوں کا معتقد ہے تو اسی قدر اس کے کفر کے لئے کافی ہےفتوی علمائے حرمین شریفین میں دیوبندیوں کی نسبت ہے:
من شك فی کفرہ وعذابہ فقد کفر ۔ جوان کے کافرہونے اوران کے عذاب کے بارے میں شك کرے وہ بھی کافرہے۔
بہرحال عمرو کی عورت اس کے نکاح سے باہر ہےاور اس سے میل جول حرام ہےاور اسے برادری سے خارج کرنا فرضمگر جب اسلام لائے اوراپنے کفر اور ان کبائر سے توبہ کرےاور دیوبندیہ و دیگر وہابیہ وجملہ کفا ر کو کافر مانے اس وقت برادری میں شامل کیاجاسکتاہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۰۷: از شہر محلہ سوداگراں مسئولہ احسان علی صاحب طالب علم ۱۸ صفر ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید معاذاﷲ یہ کہے کہ میں عیسائی یاوہابی یا کافر ہوجاؤں گانام ایك فرقہ کا لیا آیا وہ انھیں میں سے ہوگا یانہیں یایہ کہے کہ جی چاہتاہے کہ غیر مقلد ہوجاؤں یا یہ کہے کہ غیرمقلد ہونے کا جی چاہتاہےیہ قول کیسا ہےاگرچہ کسی کو چھیڑ نے یا مذاق کی غرض سے کہےبینوا توجروا
الجواب:
جس نے جس فرقہ کا نام لیا اس فرقہ کا ہوگیا مذاق سے کہے یا کسی دوسری وجہ سےواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۰۸ تا ۲۱۲: از قصبہ تلہر ضلع شاہجہانپور محلہ ہندوپٹی مسئولہ ضیاء الدین صاحب ۱۸ صفر ۱۳۳۹ھ
بسم اﷲ الرحمن الرحیمنحمدہ ونصلی ونسلم علی رسولہ الکریم۔
کیافرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان عظام ادام فیضہم المولی العلام ان مسائل میںبینوا توجروا
حوالہ / References
درمختار باب المرتد مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۵۶
(۱)ایك صاحب مسمی مولوی اشرف علی ساکن قصبہ تلہر ضلع شاہجہانپور دوسرے صاحب حکیم عبداﷲ مقیم تلہر ہیںحکیم صاحب کا یبان ہے کہ"یزید فاسق فاجر نہ تھا اس کو برا نہ کہا جائے اور سیدنا امام حسین رضی اﷲ تعالی عنہ کو اس کے یہاں جانا نہ چاہئے تھاکیوں گئےاور یہ ملکی جنگ تھی"دوسرے یہ کہ نماز فجر کے بعد مسلمانوں نے ان سے مصافحہ کرناچاہا انھوں نے مصافحہ نہ کیا اور بدعت بتادیاکیا حکیم صاحب کایہ بیان سراسر غلط نہیں۔کیا انھوں نے حضرت سیدا لشہدا رضی اﷲ تعالی عنہ کی شان ارفع واعلی میں گستاخی نہ کی داد کذب بیانی نہ دی کیا مصافحہ سے دست کشی وانکار اس امر کو ثابت نہیں کرتا کہ اس کی مراد بدعت سے بدعت سیئہ ہے اور ان کایہ فعل وہابیانہ ہے
(۲)اول الذکر مولوی صاحب ایك زمانہ تك مدرسہ مولوی یسین واقع بریلی محلہ سرائے خام کے مدرس رہ چکے ہیںکیا ان کی وہابیت کو اسی قدرکافی نہیں کہ ایك بدمذہب کے مدرسہ میں ملازم رہ کر اس مدرسہ کے دستور العمل درس تعلیم کی پابندی کرکے درس دیا چہ جائیکہ علم غیب حبیب خدا سید ہردوسرا علیہ افضل التحیۃ والثناء میں وہابیہ کا خیال مغویانہ قیل وقالجو کوئی شخص صحیح العقیدہ علم حضور سراپانور کو روز اول سے قیامت تك کے تمام اشیاء ذرہ ذرہ کو کلیۃ وجزیۃ محیط جانے اور ان کے واسطے ماکان ومایکون کاعلم مانے اور قائل علم غیوب خمسہ ہو وہ شخص ان مولوی صاحب کے نزدیك مضل وضال قابل عقاب ونکالاکابرعلمائے اہلسنت کثرہم اﷲ تعالی کی شان میں جن کی مدح وستائش میں مفتیان علام وعلمائے ذوی الاحترام حرمین طیبین وروم وشام وغیرہم مبالغہ فرمائیں اور ان کو پیشوا وسردار علمائے اہلسنت بتائیںیہ صاحب بیہودہ الفاظ وناشائستہ کلمات زبان پرلائیںان صاحب کے تمام اوصاف میں باستثنائے مدرسی مدرسہ مذکورہ حکیم صاحب مذکور بھی شریك وہمخیال یہ دونوں صاحب مولوی قاسم نانوتوی بانی مدرسہ دیوبند ومولوی شید احمد گنگوہی ومولوی اشرف علی تھانوی کو اپنا پیشوا جانتے اور سرتاج اہلسنت مانتے ہیںکیا دونوں صاحب کم سے کم بدعتی وبدمذہب نہیںکیا ان کے ساتھ ان احادیث واقوال کے مطابق عمل نہ کیا جائے جو فتاوی الحرمین طبع بمبئی میں مذکور ہیں:
فی ۱صحیح مسلم عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ایاکم وایاھم لایضلونکم ولایفتنونکم۔ صحیح مسلم شریف میں حضرت ابوھریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے ہے نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا ان سے الگ رہو انھیں اپنے سے دور رکھو کہیں وہ تمھیں بہکا نہ دیں وہ تمھیں فتنے میں نہ ڈال دیں۔
(۲)اول الذکر مولوی صاحب ایك زمانہ تك مدرسہ مولوی یسین واقع بریلی محلہ سرائے خام کے مدرس رہ چکے ہیںکیا ان کی وہابیت کو اسی قدرکافی نہیں کہ ایك بدمذہب کے مدرسہ میں ملازم رہ کر اس مدرسہ کے دستور العمل درس تعلیم کی پابندی کرکے درس دیا چہ جائیکہ علم غیب حبیب خدا سید ہردوسرا علیہ افضل التحیۃ والثناء میں وہابیہ کا خیال مغویانہ قیل وقالجو کوئی شخص صحیح العقیدہ علم حضور سراپانور کو روز اول سے قیامت تك کے تمام اشیاء ذرہ ذرہ کو کلیۃ وجزیۃ محیط جانے اور ان کے واسطے ماکان ومایکون کاعلم مانے اور قائل علم غیوب خمسہ ہو وہ شخص ان مولوی صاحب کے نزدیك مضل وضال قابل عقاب ونکالاکابرعلمائے اہلسنت کثرہم اﷲ تعالی کی شان میں جن کی مدح وستائش میں مفتیان علام وعلمائے ذوی الاحترام حرمین طیبین وروم وشام وغیرہم مبالغہ فرمائیں اور ان کو پیشوا وسردار علمائے اہلسنت بتائیںیہ صاحب بیہودہ الفاظ وناشائستہ کلمات زبان پرلائیںان صاحب کے تمام اوصاف میں باستثنائے مدرسی مدرسہ مذکورہ حکیم صاحب مذکور بھی شریك وہمخیال یہ دونوں صاحب مولوی قاسم نانوتوی بانی مدرسہ دیوبند ومولوی شید احمد گنگوہی ومولوی اشرف علی تھانوی کو اپنا پیشوا جانتے اور سرتاج اہلسنت مانتے ہیںکیا دونوں صاحب کم سے کم بدعتی وبدمذہب نہیںکیا ان کے ساتھ ان احادیث واقوال کے مطابق عمل نہ کیا جائے جو فتاوی الحرمین طبع بمبئی میں مذکور ہیں:
فی ۱صحیح مسلم عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ایاکم وایاھم لایضلونکم ولایفتنونکم۔ صحیح مسلم شریف میں حضرت ابوھریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے ہے نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا ان سے الگ رہو انھیں اپنے سے دور رکھو کہیں وہ تمھیں بہکا نہ دیں وہ تمھیں فتنے میں نہ ڈال دیں۔
حوالہ / References
صحیح مسلم باب النہی عن الروایۃ عن الضعفاء قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۰
و۲لابی داؤد عن ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وان مرضوا فلا تعودوھم وان ماتوا فلاتشہدوھم ۔
۳زاد ابن ماجۃ عن جابر رضی اﷲ تعالی عنہ عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وان لقیتموھم فلا تسلموا علیہم ۔
و۴عند العقیلی عن انس رضی اﷲ تعالی عنہ عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لاتجالسوھم ولا تشاربوھم ولا تواکلوھم ولاتناکحوھم ۔
۵زاد ابن حبان عنہ لاتصلوا علیہم و لاتصلوا معہم ۔
۶الدیلمی عن معاذ رضی اﷲ تعالی عنہ عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم انی برئ منہم وھم براء منی جھادھم کجھاد الترکیۃ والدیلم ۔ ابوداؤد کی حدیث میں عبداﷲ ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما سے ہے نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا وہ بیمار پڑیں تو پوچھنے نہ جاؤمرجائیں توجنازے پرحاضر نہ ہو۔
ابن ماجہ نے بروایت جابررضی اﷲ تعالی عنہ اس قدر اور بڑھایا:جب انھیں ملو تو سلام نہ کرو۔کھانانہ کھاؤشادی بیاہ نہ کرو۔
عقیلی نے انس رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کی نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا ان کے پاس نہ بیٹھوساتھ پانی نہ پیوساتھ ابن حبان نے انھیں کی روایت سے زائد کیا ان کے جنازے کی نماز نہ پڑھوان کے ساتھ نماز نہ پڑھو۔
دیلمی نے معاذ رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کی نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:میں ان سے بیزارہوں وہ مجھ سے بے علاقہ ہیں ان پر جہاد ایسا ہے جیسا کہ کافران ترك ودیلم پر۔
۳زاد ابن ماجۃ عن جابر رضی اﷲ تعالی عنہ عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وان لقیتموھم فلا تسلموا علیہم ۔
و۴عند العقیلی عن انس رضی اﷲ تعالی عنہ عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لاتجالسوھم ولا تشاربوھم ولا تواکلوھم ولاتناکحوھم ۔
۵زاد ابن حبان عنہ لاتصلوا علیہم و لاتصلوا معہم ۔
۶الدیلمی عن معاذ رضی اﷲ تعالی عنہ عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم انی برئ منہم وھم براء منی جھادھم کجھاد الترکیۃ والدیلم ۔ ابوداؤد کی حدیث میں عبداﷲ ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما سے ہے نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا وہ بیمار پڑیں تو پوچھنے نہ جاؤمرجائیں توجنازے پرحاضر نہ ہو۔
ابن ماجہ نے بروایت جابررضی اﷲ تعالی عنہ اس قدر اور بڑھایا:جب انھیں ملو تو سلام نہ کرو۔کھانانہ کھاؤشادی بیاہ نہ کرو۔
عقیلی نے انس رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کی نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا ان کے پاس نہ بیٹھوساتھ پانی نہ پیوساتھ ابن حبان نے انھیں کی روایت سے زائد کیا ان کے جنازے کی نماز نہ پڑھوان کے ساتھ نماز نہ پڑھو۔
دیلمی نے معاذ رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کی نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:میں ان سے بیزارہوں وہ مجھ سے بے علاقہ ہیں ان پر جہاد ایسا ہے جیسا کہ کافران ترك ودیلم پر۔
حوالہ / References
سنن ابی داؤد کتاب السنہ باب فی القدر آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۲۸۸
سنن ابن ماجہ باب فی القدر ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۰
الضعفاء الکبیر ترجمہ احمد بن عمران دارالکتب العلمیہ بیروت ۱/ ۱۲۶
کنز العمال حدیث ۳۲۵۲۹ موسسۃ الرسالہ بیروت ۱۱/ ۵۴۰،میزان الاعتدال ترجمہ ۱۲۰۳ بشیر بن عبیداﷲ القیصر دارالمعرفۃ بیروت ۱/ ۳۲۰
فردوس الاخبار حدیث ۳۲۵۴ معاذ بن جبل دارالکتب العربی بیروت ۲/ ۴۴۹
سنن ابن ماجہ باب فی القدر ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۰
الضعفاء الکبیر ترجمہ احمد بن عمران دارالکتب العلمیہ بیروت ۱/ ۱۲۶
کنز العمال حدیث ۳۲۵۲۹ موسسۃ الرسالہ بیروت ۱۱/ ۵۴۰،میزان الاعتدال ترجمہ ۱۲۰۳ بشیر بن عبیداﷲ القیصر دارالمعرفۃ بیروت ۱/ ۳۲۰
فردوس الاخبار حدیث ۳۲۵۴ معاذ بن جبل دارالکتب العربی بیروت ۲/ ۴۴۹
و۷لابن عساکر عن انس رضی اﷲ تعالی عنہ عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اذا رأیتم صاحب بدعۃ فاکھروافی وجہہ فان اﷲ یبغض کل مبتدع ولایجوز احد منہم علی الصراط لکن یتھا فتون فی النار مثل الجراد والذباب ۔
و۸للطبرانی وغیرہ عن عبداﷲ بن بشیر رضی اﷲ تعالی عنہ عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم من وقرصاحب بدعۃ فقد اعان علی ھدم الاسلام ۔
و۹لہ فی الکبیر ولابی نعیم فی الحلیۃ عن معاذ رضی اﷲ تعالی عنہ عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم من مشی الی صاحب بدعۃ لیوقرہ فقد اعان علی ھدم الاسلام وغیرہ من الاحادیث
۱۰قال العلماء فی کتب العقائد کشرح المقاصد وغیرہ ان حکم المبتدع البغض و الاھانۃ والرد والطرد ۔
ابن عساکر انس رضی اﷲ تعالی عنہ سے راوی نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں جب کسی بدمذہب کو دیکھو تو اس کے بررو اس سے ترش روئی کرو اس لئے کہ اﷲ تعالی ہر بدمذہب کو دشمن رکھتاہے ان میں کوئی پل صراط پر گزر نہ پائے گا بلکہ ٹکڑے ٹکڑے ہوکر آگ میں گر پڑیں گے جیسے ٹیری اور مکھیاں گرتی ہیں۔
(طبرانی وغیرہ عبداﷲ بن بشیر رضی اﷲ تعالی عنہ سے راوی نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا۔ت)جوکسی بدمذہب کی توقیر کرے اس نے اسلام کے ڈھانے میں مدد دی۔
نیز طبرانی معجم کبیر اور ابونعیم نے حلیہ میں معاذ رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کی کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں جو کسی بدمذہب کی طرف اس کی توقیر کرنے کو چلے اس نے اسلام کے ڈھانے میں اعانت کیاور اس کے سوا اور حدیثیں ہیںعلماء کتب عقائد مثل شرح مقاصد وغیرہ میں فرماتے ہیں کہ بدمذہب کاحکم اس سے بغض رکھنا اسے ذلت دینا اس کا رد کرنا اسے دور ہانکنا ہے۔
و۸للطبرانی وغیرہ عن عبداﷲ بن بشیر رضی اﷲ تعالی عنہ عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم من وقرصاحب بدعۃ فقد اعان علی ھدم الاسلام ۔
و۹لہ فی الکبیر ولابی نعیم فی الحلیۃ عن معاذ رضی اﷲ تعالی عنہ عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم من مشی الی صاحب بدعۃ لیوقرہ فقد اعان علی ھدم الاسلام وغیرہ من الاحادیث
۱۰قال العلماء فی کتب العقائد کشرح المقاصد وغیرہ ان حکم المبتدع البغض و الاھانۃ والرد والطرد ۔
ابن عساکر انس رضی اﷲ تعالی عنہ سے راوی نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں جب کسی بدمذہب کو دیکھو تو اس کے بررو اس سے ترش روئی کرو اس لئے کہ اﷲ تعالی ہر بدمذہب کو دشمن رکھتاہے ان میں کوئی پل صراط پر گزر نہ پائے گا بلکہ ٹکڑے ٹکڑے ہوکر آگ میں گر پڑیں گے جیسے ٹیری اور مکھیاں گرتی ہیں۔
(طبرانی وغیرہ عبداﷲ بن بشیر رضی اﷲ تعالی عنہ سے راوی نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا۔ت)جوکسی بدمذہب کی توقیر کرے اس نے اسلام کے ڈھانے میں مدد دی۔
نیز طبرانی معجم کبیر اور ابونعیم نے حلیہ میں معاذ رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کی کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں جو کسی بدمذہب کی طرف اس کی توقیر کرنے کو چلے اس نے اسلام کے ڈھانے میں اعانت کیاور اس کے سوا اور حدیثیں ہیںعلماء کتب عقائد مثل شرح مقاصد وغیرہ میں فرماتے ہیں کہ بدمذہب کاحکم اس سے بغض رکھنا اسے ذلت دینا اس کا رد کرنا اسے دور ہانکنا ہے۔
حوالہ / References
تذکرۃ الموضوعات للفتنی باب افتراق الامۃ علی ثلاث وسبعین فرقۃ کتب خانہ مجیدیہ ملتان ص۱۵
المعجم الاوسط مروی حضرت عائشہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا حدیث ۶۷۶۸ مکتبۃ المعارض الریاض ۷/ ۳۹۶،حلیۃ الاولیاء ترجمہ ۳۱۷ حضرت خالد بن معدان دارالکتب العربی بیروت ۵/ ۲۱۸
المعجم الکبیر از معاذ بن جبل رضی اﷲ تعالٰی عنہ حدیث ۱۸۸ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۲۰/ ۹۶،حلیۃ الاولیاء ترجمہ ۳۶۔۳۳۵ دارالعربی بیروت ۶/ ۹۷
شرح المقاصد الفصل الرابع فی الامامۃ دارالمعارف النعمانیۃ لاہور ۲/ ۲۷۰
المعجم الاوسط مروی حضرت عائشہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا حدیث ۶۷۶۸ مکتبۃ المعارض الریاض ۷/ ۳۹۶،حلیۃ الاولیاء ترجمہ ۳۱۷ حضرت خالد بن معدان دارالکتب العربی بیروت ۵/ ۲۱۸
المعجم الکبیر از معاذ بن جبل رضی اﷲ تعالٰی عنہ حدیث ۱۸۸ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۲۰/ ۹۶،حلیۃ الاولیاء ترجمہ ۳۶۔۳۳۵ دارالعربی بیروت ۶/ ۹۷
شرح المقاصد الفصل الرابع فی الامامۃ دارالمعارف النعمانیۃ لاہور ۲/ ۲۷۰
وفی ۱۱غنیۃ الطالبین قال فضیل بن عیاض من احب صاحب بدعۃ احبط اﷲ عملہ واخرج نورالایمان من قلبہ واذا علم اﷲ عزوجل من رجل انہ مبغض صاحب بدعہ رجوت اﷲ تعالی ان یغفر ذنوبہ وان قل عملہ واذارأیت مبتدعا فی طریق فخدطریقا اخر اھ ۔ غنیۃ الطالبین میں ہے فضیل بن عیاض نے فرمایا جو کسی بدمذہب سے محبت رکھے اس کے عمل حبط ہوجائیں گے اور ایمان کا نور اسکے دل سے نکل جائے گا اور جب اﷲ تعالی اپنے کسی بندے کو جانے کہ وہ بدمذہب سے بغض رکھتا ہے تو مجھے امید ہے کہ مولی سبحنہ وتعالی اس کے گناہ بخش دے اگرچہ اس کے عمل تھوڑے ہوں اور جب کسی بدمذہب کو راہ میں آتا دیکھو تو تم دوسری راہ لوانتہی بقدر الضرورۃ۔
(۳)جب شرع مطہر نے ایسے لوگوں سے اس درجہ نفرت دلائی اور اس قدر برائی بیان فرمائی تو کیا مسلمانوں کا فرض مذہبی نہیں کہ ان کو مسجد میں آنے سے روکیںان سے ہر قسم کا قطع تعلق کرلیںعلی الخصوص وہ شخص جس کے ہاتھ میں مسلمانوں کاکام ہوا ور مسلمان اس کو مانتے ہوں اور عزت ووقار کی نظر سے دیکھتے ہوں خواہ بباعث علم یا بجہت پیری مریدی یابخیال تونگری وغیرہ اس پر سخت ضروری کہ ان کو خود دخول مسجد سے حتی الوسع روکے اور ان کے ساتھ میل جول سے مسلمانوں کو بازر کھےجو شخص ان مولوی صاحب وحکیم صاحب کے خیالات باطلہ وحالات فاسدہ پر مطلع ہوکر ان دونوں کو امام بنائے اور ان کے پیچھے نماز پڑھے اور کہے یہ مولویوں کے جھگڑے ہیں ہمیں ان سے کیا سروکار آخریہ دونوں عالم توہیںکیا وہ شخص زیاں کار اور انھیں مفسدین فی الدین سے نہیں اور وہ نماز اس کی باطل ومردود نہیں حالانکہ جن تین علمائے مذکورین کو یہ دونوں صاحب پیشواجانتے ہیں ان کے بارے میں مفتیان وعلمائے مکہ مکرمہ ومدینہ منورہ نے یہ حکم دیا جیساکہ فتاوی حسام الحرمین میں مذکور ہے:
ان ھؤلاء الفرق الواقعین فی السؤال غلام احمد القادیانی ورشید احمد و من تبعہ کخلیل الانبھتی واشرف علی وغیرھم لاشبھۃ فی کفرھم بلامجال بل لاشبھۃ فی من شك بل فی بیشك یہ طائفے جن کا تذکرہ سوال میں واقع ہے غلام احمد قادیانی اور رشید احمد اور جو اس کے پیرو ہوں جیسے خلیل احمد انبیٹھی اور اشرف علی وغیرہ ان کے کفر میں کوئی شبہہ نہیں اورنہ شك کی مجالبلکہ جو ان کے کفرمیں شك کرے بلکہ
(۳)جب شرع مطہر نے ایسے لوگوں سے اس درجہ نفرت دلائی اور اس قدر برائی بیان فرمائی تو کیا مسلمانوں کا فرض مذہبی نہیں کہ ان کو مسجد میں آنے سے روکیںان سے ہر قسم کا قطع تعلق کرلیںعلی الخصوص وہ شخص جس کے ہاتھ میں مسلمانوں کاکام ہوا ور مسلمان اس کو مانتے ہوں اور عزت ووقار کی نظر سے دیکھتے ہوں خواہ بباعث علم یا بجہت پیری مریدی یابخیال تونگری وغیرہ اس پر سخت ضروری کہ ان کو خود دخول مسجد سے حتی الوسع روکے اور ان کے ساتھ میل جول سے مسلمانوں کو بازر کھےجو شخص ان مولوی صاحب وحکیم صاحب کے خیالات باطلہ وحالات فاسدہ پر مطلع ہوکر ان دونوں کو امام بنائے اور ان کے پیچھے نماز پڑھے اور کہے یہ مولویوں کے جھگڑے ہیں ہمیں ان سے کیا سروکار آخریہ دونوں عالم توہیںکیا وہ شخص زیاں کار اور انھیں مفسدین فی الدین سے نہیں اور وہ نماز اس کی باطل ومردود نہیں حالانکہ جن تین علمائے مذکورین کو یہ دونوں صاحب پیشواجانتے ہیں ان کے بارے میں مفتیان وعلمائے مکہ مکرمہ ومدینہ منورہ نے یہ حکم دیا جیساکہ فتاوی حسام الحرمین میں مذکور ہے:
ان ھؤلاء الفرق الواقعین فی السؤال غلام احمد القادیانی ورشید احمد و من تبعہ کخلیل الانبھتی واشرف علی وغیرھم لاشبھۃ فی کفرھم بلامجال بل لاشبھۃ فی من شك بل فی بیشك یہ طائفے جن کا تذکرہ سوال میں واقع ہے غلام احمد قادیانی اور رشید احمد اور جو اس کے پیرو ہوں جیسے خلیل احمد انبیٹھی اور اشرف علی وغیرہ ان کے کفر میں کوئی شبہہ نہیں اورنہ شك کی مجالبلکہ جو ان کے کفرمیں شك کرے بلکہ
حوالہ / References
غنیۃ الطالبین فصل فی اعتقاد اہل السنۃ ان امۃ محمد صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم الخ مصطفی البابی مصر ۱/ ۸۰
من توقف فی کفرھم بحال من الاحوال ۔ کسی طرح کسی حال میں انھیں کافر کہنے میں توقف کرے اس کے کفر میں بھی شبہہ نہیں۔
اسی میں ہے:
اظھرفضائحہم القبیحۃ فی المعتمد المستند فلم یبق من نتائجہم الفاسدۃ بکل واضحۃ دامغۃ جلیلۃ لاسیما المتصدی لحل رایۃ ھذہ الفرقۃ المارقۃ التی تدعی بالوہابیۃ ومنہم مدعی النبوۃ غلام احمد قادیانی والمارق الاخر المنقص لشان الالوھیۃ والرسالۃ قاسم النانوتوی ورشید احمد الکنکوھی وخلیل احمد الانبھتی واشرف علی التانوی ومن حذاحذ وھم ۔انتہی بقدر الضرورۃ۔ مصنف نے اپنی کتاب معتمد المستند میں اس گروہ کی بری رسوائیاں ظاہر کیں پس ان کے فاسد عقیدوں سے ایك بھی بغیر پوچ لچر کئے نہ چھوڑا تو اے مخاطب تجھ پر لازم ہے کہ اسی روشن رسالہ کا دامن پکڑے جسے مصنف نے بزدوی لکھ دیا تو ان گروہوں کے رد میں ہر ظاہر وروشن وسرکوب دلیل پائے گا خصوصا جو اس گروہ خارجی ازدین کے باندھے ہوئے نشان کھول دینے کا قصد کرےوہ گروہ خارج از دین کون ہے جسے وہابیہ کہاجاتاہے اور ان میں مدعی نبوت غلام احمد قادیانی ہے اور دین سے دوسرا نکلنے والا شان الوہیت ورسالت گھٹانے والا قاسم نانوتوی اور رشید احمد گنگوہی اور خلیل احمد انبیٹھی اور اشرف علی تھانوی اور جو ان کی چال چلاانہتی بقدر الضرورۃ۔
اسی میں ہے:وبالجملۃ ھؤلاء الطوائف کلہم کفار مرتدون خارجون عن الاسلام باجماع المسلمین وقد قال فی البزازیۃ والدرر والغرر والفتاوی الخیریۃ ومجمع الانہر والدرالمختار وغیرہا من معتمدات الاسفار فی مثل ھؤلاء الکفار من شك فی کفرہ وعذابہ فقد کفر اھ وقال فی الشفاء الشریف ونکفر من لم یکفر من دان بغیر ملۃ الاسلام من الملل اووقف فیہم شك اھ وقال فی بحرالرائق وغیرہ من حسن کلام اھل الاھواء او قال معنوی اوکلام لہ معنی صحیح ان کان ذلك کفرا من القائل کفرا لمحسن اھ وقال الامام ابن حجر
اسی میں ہے:
اظھرفضائحہم القبیحۃ فی المعتمد المستند فلم یبق من نتائجہم الفاسدۃ بکل واضحۃ دامغۃ جلیلۃ لاسیما المتصدی لحل رایۃ ھذہ الفرقۃ المارقۃ التی تدعی بالوہابیۃ ومنہم مدعی النبوۃ غلام احمد قادیانی والمارق الاخر المنقص لشان الالوھیۃ والرسالۃ قاسم النانوتوی ورشید احمد الکنکوھی وخلیل احمد الانبھتی واشرف علی التانوی ومن حذاحذ وھم ۔انتہی بقدر الضرورۃ۔ مصنف نے اپنی کتاب معتمد المستند میں اس گروہ کی بری رسوائیاں ظاہر کیں پس ان کے فاسد عقیدوں سے ایك بھی بغیر پوچ لچر کئے نہ چھوڑا تو اے مخاطب تجھ پر لازم ہے کہ اسی روشن رسالہ کا دامن پکڑے جسے مصنف نے بزدوی لکھ دیا تو ان گروہوں کے رد میں ہر ظاہر وروشن وسرکوب دلیل پائے گا خصوصا جو اس گروہ خارجی ازدین کے باندھے ہوئے نشان کھول دینے کا قصد کرےوہ گروہ خارج از دین کون ہے جسے وہابیہ کہاجاتاہے اور ان میں مدعی نبوت غلام احمد قادیانی ہے اور دین سے دوسرا نکلنے والا شان الوہیت ورسالت گھٹانے والا قاسم نانوتوی اور رشید احمد گنگوہی اور خلیل احمد انبیٹھی اور اشرف علی تھانوی اور جو ان کی چال چلاانہتی بقدر الضرورۃ۔
اسی میں ہے:وبالجملۃ ھؤلاء الطوائف کلہم کفار مرتدون خارجون عن الاسلام باجماع المسلمین وقد قال فی البزازیۃ والدرر والغرر والفتاوی الخیریۃ ومجمع الانہر والدرالمختار وغیرہا من معتمدات الاسفار فی مثل ھؤلاء الکفار من شك فی کفرہ وعذابہ فقد کفر اھ وقال فی الشفاء الشریف ونکفر من لم یکفر من دان بغیر ملۃ الاسلام من الملل اووقف فیہم شك اھ وقال فی بحرالرائق وغیرہ من حسن کلام اھل الاھواء او قال معنوی اوکلام لہ معنی صحیح ان کان ذلك کفرا من القائل کفرا لمحسن اھ وقال الامام ابن حجر
حوالہ / References
حسام الحرمین تقریظ اسمٰعیل بن خلیل مکتبہ نبویہ لاہور ص۴۹
حسام الحرمین تقریظ مفتی تاج الدین الیاس مکتبہ نبویہ لاہور ص ۱۰۷
حسام الحرمین تقریظ مفتی تاج الدین الیاس مکتبہ نبویہ لاہور ص ۱۰۷
فی الاعلام فی فصل الکفر المتفق علیہ بین ائمتنا الاعلام من تلفظ الکفر یکفر وکل من استحسنہ او رضی بہ یکفر اھ ۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہ یہ طائفے سب کے سب(اسماعیلیہنذیریہامیریہقاسمیہمرزائیہرشیدیہاشرفیہ)مرتد ہیںباجماع امت اسلام سے خارج ہیں اور بیشك بزازیہ اور درر غرر اور فتاوی خیریہ اور مجمع الانہر اوردرمختار وغیرہا معتمد کتابوں میں ایسے کافروں کے حق میں فرمایا کہ جو ان کے کفر و عذاب میں شك کرے خود کافرہےاورشفا شریف میں فرمایا ہم اسے کافر کہتے ہیں جو ایسے کو کافرنہ کہے جس نے ملت اسلام کے سوا کسی ملت کا اعتقاد کیا یاان کے بارے میں توقف کرے یا شك لائےاور بحرالرائق وغیرہ میں فرمایا جو بددینوں کی بات کی تحسین کرے یا کہے کچھ معنی رکھتی ہے یا اس کلام کے کوئی صحیح معنی ہیں اگر اس کہنے والے کی وہ بات کفر تھی تو یہ جو اس کی تحسین کرتاہے یہ بھی کافر ہوجائے گااورامام ابن حجر نے کتاب الاعلام کی اس فصل میں جس میں وہ باتیں گنائی ہیں جن کے کفر ہونے پر ہمارے ائمہ اعلام کا اتفاق ہے فرمایا جو کفر کی بات کہے وہ کافر ہے اور جو اس بات کو اچھا بتائے یا اس پر راضی ہو وہ بھی کافر ہے انتہی۔
تو موافق ارشاد علمائے مکہ مکرمہ ومدینہ ومطابق حکم معتمد المستند نذیر حسین دہلوی وامیر احمد سہسوانی و قاسم نانوتوی ومرزا غلام احمد قادیانی ورشید احمد گنگوہی واشرف علی تھانوی اور ان سب کے مقلدین ومتبعین وپیروان ومدح خوان باتفاق علمائے اعلام کافرہوئے او رجو ان کو کافر نہ جانے ان کے کفر میں شك کرے وہ بھی بلا شبہ کافرہے چہ جائیکہ پیشوا اور سردارجانیں والعیاذ باﷲ الکریم۔وھو یہدی من یشاء الی صرط مستقیم﴿۱۴۲﴾ "" (وہ جسے چاہتاہے سیدھی راہ چلاتاہے۔ت)ہم کو چونکہ اختصار منظور تھا لہذا ان گمراہوں گمراہ گروں کافروں کے وہ اقوال ملعونہ ومردودہ جن پرحکم فسق و کفر لگایا گیا بالکل نقل نہیں کئےاور ان اقوال پر علمائے حرمین نے جس قدر احکام لگائے ہیں ان میں صرف دس پانچ تحریر ہوئےجو صاحب ان فرق باطلہ کے اقوال عقوبت مال اور ان احکام علمائے اہل کمال پر اطلاع چاہیں وہ فتاوی الحرمین وحسام الحرمین مطالعہ فرمائیں۔
(۴)ایسے نازك وقت میں کہ ہر چہار طرف سے دین حق پر حملے ہورہے ہیں اور بیخ کنان سخت یکبارگی
خلاصہ کلام یہ ہے کہ یہ طائفے سب کے سب(اسماعیلیہنذیریہامیریہقاسمیہمرزائیہرشیدیہاشرفیہ)مرتد ہیںباجماع امت اسلام سے خارج ہیں اور بیشك بزازیہ اور درر غرر اور فتاوی خیریہ اور مجمع الانہر اوردرمختار وغیرہا معتمد کتابوں میں ایسے کافروں کے حق میں فرمایا کہ جو ان کے کفر و عذاب میں شك کرے خود کافرہےاورشفا شریف میں فرمایا ہم اسے کافر کہتے ہیں جو ایسے کو کافرنہ کہے جس نے ملت اسلام کے سوا کسی ملت کا اعتقاد کیا یاان کے بارے میں توقف کرے یا شك لائےاور بحرالرائق وغیرہ میں فرمایا جو بددینوں کی بات کی تحسین کرے یا کہے کچھ معنی رکھتی ہے یا اس کلام کے کوئی صحیح معنی ہیں اگر اس کہنے والے کی وہ بات کفر تھی تو یہ جو اس کی تحسین کرتاہے یہ بھی کافر ہوجائے گااورامام ابن حجر نے کتاب الاعلام کی اس فصل میں جس میں وہ باتیں گنائی ہیں جن کے کفر ہونے پر ہمارے ائمہ اعلام کا اتفاق ہے فرمایا جو کفر کی بات کہے وہ کافر ہے اور جو اس بات کو اچھا بتائے یا اس پر راضی ہو وہ بھی کافر ہے انتہی۔
تو موافق ارشاد علمائے مکہ مکرمہ ومدینہ ومطابق حکم معتمد المستند نذیر حسین دہلوی وامیر احمد سہسوانی و قاسم نانوتوی ومرزا غلام احمد قادیانی ورشید احمد گنگوہی واشرف علی تھانوی اور ان سب کے مقلدین ومتبعین وپیروان ومدح خوان باتفاق علمائے اعلام کافرہوئے او رجو ان کو کافر نہ جانے ان کے کفر میں شك کرے وہ بھی بلا شبہ کافرہے چہ جائیکہ پیشوا اور سردارجانیں والعیاذ باﷲ الکریم۔وھو یہدی من یشاء الی صرط مستقیم﴿۱۴۲﴾ "" (وہ جسے چاہتاہے سیدھی راہ چلاتاہے۔ت)ہم کو چونکہ اختصار منظور تھا لہذا ان گمراہوں گمراہ گروں کافروں کے وہ اقوال ملعونہ ومردودہ جن پرحکم فسق و کفر لگایا گیا بالکل نقل نہیں کئےاور ان اقوال پر علمائے حرمین نے جس قدر احکام لگائے ہیں ان میں صرف دس پانچ تحریر ہوئےجو صاحب ان فرق باطلہ کے اقوال عقوبت مال اور ان احکام علمائے اہل کمال پر اطلاع چاہیں وہ فتاوی الحرمین وحسام الحرمین مطالعہ فرمائیں۔
(۴)ایسے نازك وقت میں کہ ہر چہار طرف سے دین حق پر حملے ہورہے ہیں اور بیخ کنان سخت یکبارگی
حوالہ / References
حسام الحرمین کتاب المعتمد المستند مکتبہ نبویہ لاہور ص۳۱
القرآن الکریم ۲ /۱۴۲ و ۲۱۳ و ۱۰/ ۲۵
القرآن الکریم ۲ /۱۴۲ و ۲۱۳ و ۱۰/ ۲۵
ٹوٹ پڑے ہیں کیا علمائے اہلسنت پر واجب نہیں کہ اپنے علم کو ظاہر کریں اورمیدان میں آکر تحریرا وتقریرا احیاء سنت اماتت بدعت ونصرت ملت فرمائیں اگر ایسانہ کریں سکوت وخاموشی سے کام لیں تو کیا اس حدیث شریف کے مورد نہ ہوں گے جو فتاوی الحرمین میں مذکور ہے۔
قال الامام ابن حجر المکی فی الصواعق المحرقۃ ان الحامل الداعی لی علی التالیف فی ذلك وان کنت قاصرا عن حقائق ماھنالك مااخرجہ الخطیب البغدادی فی الجامع وغیرہ انہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم قال اذا ظھرت الفتن او قال البدع وسب اصحابی فلیظھر العالم علمہ فمن لم یفعل ذلك فعلیہ لعنۃ اﷲ والملئکۃ والناس اجمعین لایقبل اﷲ منہ صرفا ولاعدلا اھ۔ امام ابن حجر مکی صواعق محرقہ میں فرماتے ہیں واضح ہو کہ اس تالیف پر میرے لئے باعث وسبب اگرچہ میرا ہاتھ یہاں کے حقائق سے کوتاہ ہے وہ حدیث ہوئی جو خطیب بغدادی نے جامع میں اور ان کے سوا اور محدثین نے روایت کی کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا جب فتنے یا فرمایا بدمذہبیاں ظاہر ہو ں اور میرے صحابہ کو براکہا جائے تو واجب ہے کہ عالم اپنا علم ظاہر کرے جو ایسا نہ کرے گا ا س پر اﷲ اور فرشتوں اور آدمیوں سب کی لعنت ہے اﷲ تعالی نہ اس کا فرض قبول فرمائے نہ نفل۔
(۵)جو شخص مسجد میں آکر اپنی زبان سے لوگوں کو ایذا دیتاہو اس شخص کو مسجد سے نکالنے کا حکم ہےاس کے نکالنے کے بارے میں درمختارکایہ قول نص صریح ہے یانہیں
واکل نحوثوم ویمنع منہ وکذاکل موذولو بلسانہ ۔ یعنی مسجد میں داخل ہونے سے بد بودار چیزوں مثل کچا لہسن کھانے والے کو منع کیا جائے اور اسی طرح ہر ایذا دینے والا اگرچہ زبان سے دیتاہو دخول مسجد سے روکا جائے۔
ردالمحتارمیں تحت قول و اکل نحوثوم فرمایا:
ای کبصل ونحوہ ممالہ رائحۃ کریھۃ للحدیث الصحیح فی النھی عن قربان اکل الثوم والبصل المسجدقال یعنی جیسے پیاز وغیرہ ان چیزوں سے جن میں بدبو ہویہ حکم موافق حدیث صحیح ہے جو کچالہسن اور پیاز کھانے والے کی ممانعت دخول مسجد میں ہے
قال الامام ابن حجر المکی فی الصواعق المحرقۃ ان الحامل الداعی لی علی التالیف فی ذلك وان کنت قاصرا عن حقائق ماھنالك مااخرجہ الخطیب البغدادی فی الجامع وغیرہ انہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم قال اذا ظھرت الفتن او قال البدع وسب اصحابی فلیظھر العالم علمہ فمن لم یفعل ذلك فعلیہ لعنۃ اﷲ والملئکۃ والناس اجمعین لایقبل اﷲ منہ صرفا ولاعدلا اھ۔ امام ابن حجر مکی صواعق محرقہ میں فرماتے ہیں واضح ہو کہ اس تالیف پر میرے لئے باعث وسبب اگرچہ میرا ہاتھ یہاں کے حقائق سے کوتاہ ہے وہ حدیث ہوئی جو خطیب بغدادی نے جامع میں اور ان کے سوا اور محدثین نے روایت کی کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا جب فتنے یا فرمایا بدمذہبیاں ظاہر ہو ں اور میرے صحابہ کو براکہا جائے تو واجب ہے کہ عالم اپنا علم ظاہر کرے جو ایسا نہ کرے گا ا س پر اﷲ اور فرشتوں اور آدمیوں سب کی لعنت ہے اﷲ تعالی نہ اس کا فرض قبول فرمائے نہ نفل۔
(۵)جو شخص مسجد میں آکر اپنی زبان سے لوگوں کو ایذا دیتاہو اس شخص کو مسجد سے نکالنے کا حکم ہےاس کے نکالنے کے بارے میں درمختارکایہ قول نص صریح ہے یانہیں
واکل نحوثوم ویمنع منہ وکذاکل موذولو بلسانہ ۔ یعنی مسجد میں داخل ہونے سے بد بودار چیزوں مثل کچا لہسن کھانے والے کو منع کیا جائے اور اسی طرح ہر ایذا دینے والا اگرچہ زبان سے دیتاہو دخول مسجد سے روکا جائے۔
ردالمحتارمیں تحت قول و اکل نحوثوم فرمایا:
ای کبصل ونحوہ ممالہ رائحۃ کریھۃ للحدیث الصحیح فی النھی عن قربان اکل الثوم والبصل المسجدقال یعنی جیسے پیاز وغیرہ ان چیزوں سے جن میں بدبو ہویہ حکم موافق حدیث صحیح ہے جو کچالہسن اور پیاز کھانے والے کی ممانعت دخول مسجد میں ہے
حوالہ / References
فتاوٰی الحرمین جواب سوال تاسع مکتبہ حامدیہ لاہور ص۱۷
درمختار باب مایفسد الصلوٰۃ ویکرہ مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۹۵
درمختار باب مایفسد الصلوٰۃ ویکرہ مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۹۵
الامام العینی فی شرحہ علی صحیح البخاری قلت علۃ النھی اذی الملئکۃ واذی المسلمین ۔ امام عینی نے اپنی شرح میں جو صحیح بخاری پر لکھی ہے فرمایا کہ میں کہتاہوں دخول مسجد سے ممانعت کا سبب ایذائے ملائکہ وایذا ئے مسلمانان ہے۔
والحمدﷲ رب العلمین وافضل الصلوات واکمل التسلیمات علی اشرف الانبیاء والمرسلین وعلی صحبہ والہ ومن تبعہم اجمعین۔
الجواب:
الحمدﷲ وحدہ والصلوۃ والسلام علی من لانبی بعدہ والہ وصحبہ المکرمین عندہ وسائر المسلمین المتبعین سعدہ۔ سب تعریف اﷲ تعالی کے لئے جو اکیلا ہےصلوۃ وسلام اس ذات پر جس کے بعد نبی نہیں اور اس کے آل واصحاب پر جواس کے ہاں عزت والے ہیں اور باقی تمام مسلمانوں پر جو اس کی سعادت کے پیروکار ہیں۔(ت)
فاضل سائل بلکہ مجیب سلمہ القریب المجیب کا یہ سوال خودہی جواب حق وصواب ہے" فماذا بعد الحق الا الضلل (حق کے بعد گمراہی ہوتی ہے۔ت) ہمیں زید وعمرو کی شخصیت سے کام نہیں احکام شرعیہ عام ہوتے ہیں جس سے یہ امرصادر ہوا س کایہ حکم ہے کسے باشد خاك بود یا خسے باشد(خواہ کوئی ہو مٹی ہو یا تنکا۔ت)اسی عموم کے طورپر ہم کلام کریں گے اگر فلاں وفلاں اس کے مصداق تو ضرور وہی ان احکام کے استحقاق ہیں ورنہ جس پر صادق ومستحق ولائق۔
" و اللہ یقول الحق وہو یہدی السبیل ﴿۴﴾ " و" حسبنا اللہ ونعم الوکیل ﴿۱۷۳﴾" ۔ اور اﷲ حق فرماتاہے اور وہی راہ دکھاتاہے اور اﷲ ہم کو بس ہے اور کیا اچھا کارساز ہے۔
(۱)یزید پلید علیہ مایستحقہ من العزیز المجید قطعا یقینا باجماع اہلسنت فاسق وفاجر وجری علی الکبائر تھا اس قدر پر ائمہ اہل سنت کا اطباق واتفاق ہےصرف اس کی تکفیر ولعن میں اختلاف فرمایا۔امام احمد بن حنبل رضی اﷲ تعالی عنہ اور ان کے اتباع وموافقین اسے کافر کہتے اور بہ تخصیص نام اس پر لعن کرتے ہیں اور اس آیہ کریمہ سے اس پر سند لاتے ہیں:
والحمدﷲ رب العلمین وافضل الصلوات واکمل التسلیمات علی اشرف الانبیاء والمرسلین وعلی صحبہ والہ ومن تبعہم اجمعین۔
الجواب:
الحمدﷲ وحدہ والصلوۃ والسلام علی من لانبی بعدہ والہ وصحبہ المکرمین عندہ وسائر المسلمین المتبعین سعدہ۔ سب تعریف اﷲ تعالی کے لئے جو اکیلا ہےصلوۃ وسلام اس ذات پر جس کے بعد نبی نہیں اور اس کے آل واصحاب پر جواس کے ہاں عزت والے ہیں اور باقی تمام مسلمانوں پر جو اس کی سعادت کے پیروکار ہیں۔(ت)
فاضل سائل بلکہ مجیب سلمہ القریب المجیب کا یہ سوال خودہی جواب حق وصواب ہے" فماذا بعد الحق الا الضلل (حق کے بعد گمراہی ہوتی ہے۔ت) ہمیں زید وعمرو کی شخصیت سے کام نہیں احکام شرعیہ عام ہوتے ہیں جس سے یہ امرصادر ہوا س کایہ حکم ہے کسے باشد خاك بود یا خسے باشد(خواہ کوئی ہو مٹی ہو یا تنکا۔ت)اسی عموم کے طورپر ہم کلام کریں گے اگر فلاں وفلاں اس کے مصداق تو ضرور وہی ان احکام کے استحقاق ہیں ورنہ جس پر صادق ومستحق ولائق۔
" و اللہ یقول الحق وہو یہدی السبیل ﴿۴﴾ " و" حسبنا اللہ ونعم الوکیل ﴿۱۷۳﴾" ۔ اور اﷲ حق فرماتاہے اور وہی راہ دکھاتاہے اور اﷲ ہم کو بس ہے اور کیا اچھا کارساز ہے۔
(۱)یزید پلید علیہ مایستحقہ من العزیز المجید قطعا یقینا باجماع اہلسنت فاسق وفاجر وجری علی الکبائر تھا اس قدر پر ائمہ اہل سنت کا اطباق واتفاق ہےصرف اس کی تکفیر ولعن میں اختلاف فرمایا۔امام احمد بن حنبل رضی اﷲ تعالی عنہ اور ان کے اتباع وموافقین اسے کافر کہتے اور بہ تخصیص نام اس پر لعن کرتے ہیں اور اس آیہ کریمہ سے اس پر سند لاتے ہیں:
حوالہ / References
ردالمحتار باب مایفسد الصلوٰۃ ویکرہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۴۴۴
القرآن الکریم ۱۰ /۳۲
القرآن الکریم ۳۳ /۴
القرآن الکریم ۳ /۱۷۳
القرآن الکریم ۱۰ /۳۲
القرآن الکریم ۳۳ /۴
القرآن الکریم ۳ /۱۷۳
" فہل عسیتم ان تولیتم ان تفسدوا فی الارض و تقطعوا ارحامکم ﴿۲۲﴾ اولئک الذین لعنہم اللہ فاصمہم و اعمی ابصرہم ﴿۲۳﴾ " ۔ کیا قریب ہے کہ اگر والی ملك ہو تو زمین میں فساد کرو اور اپنے نسبی رشتہ کاٹ دویہ ہیں وہ لوگ جن پر اﷲ تعالی نے لعنت فرمائی تو انھیں بہرا کردیا اور ان کی آنکھیں پھوڑ دیں۔
شك نہیں کہ یزید نے والی ملك ہو کر زمین میں فساد پھیلایاحرمین طیبین وخود کعبہ معظمہ وروضہ طیبہ کی سخت بے حرمتیاں کیںمسجد کریم میں گھوڑے باندھےان کی لید اورپیشاب منبر اطہر پر پڑےتین دن مسجد نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بے اذان ونماز رہیمکہ ومدینہ وحجاز میں ہزاروں صحابہ تابعین بے گناہ شہید کئےکعبہ معظمہ پر پتھر پھینکےغلاف شریف پھاڑا اور جلایا۔مدینہ طیبہ کی پاکدامن پارسائیں تین شبانہ روز اپنے خبیث لشکر پر حلال کردیںرسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے جگر پارے کو تین دن بے آب ودانہ رکھ کر مع ہمراہیوں کے تیغ ظلم سے پیاسا ذبح کیامصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے گو دکے پالے ہوئے تن نازنین پر بعد شہادت گھوڑے دوڑائے گئے کہ تمام استخوان مبارك چور ہوگئےسرانور کہ محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا بوسہ گاہ تھا کاٹ کر نیزہ پر چڑھایا اور منزلوں پھرایا۔حرم محترم مخدرات مشکوئے رسالت قید کئے گئے اور بے حرمتی کے ساتھ اس خبیث کے دربار میں لائے گئےاس سے بڑھ کر قطع رحم اور زمین میں فساد کیا ہوگاملعون ہے وہ جو ان ملعون حرکات کو فسق وفجور نہ جانےقرآن عظیم میں صراحۃ اس پر" لعنہم اللہ " (ان پر اﷲ کی لعنت ہے۔ت)فرمایا۔ لہذا مام احمد اور ان کے موافقین ان پر لعنت فرماتے ہیں اور ہمارے امام اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ نے لعن وتکفیر سے احتیاطا سکوت فرمایا کہ ا س سے فسق وفجور متواتر ہیں کفر متواتر نہیںاور بحال احتمال نسبت کبیر ہ بھی جائز نہیں نہ کہ تکفیر اور امثال وعیدات مشروط بعدم توبہ ہیں لقولہ تعالی" فسوف یلقون غیا ﴿۵۹﴾ الا من تاب" (توعنقریب دوزخ میں غی کاجنگل پائیں گے مگر جو تائب ہوگئے۔ت) اور توبہ تادم غرغرہ مقبول ہے اور اس کے عدم پر جزم نہیں اور یہی احوط واسلم ہےمگر اس کے فسق وفجور سے انکار کرنا اور امام مظلوم پر الزام رکھنا ضروریات مذہب اہل سنت کے خلاف ہے اور ضلالت و بدمذہبی صاف ہےبلکہ انصافا یہ اس قلب سے متصور نہیں جس میں محبت سیدعالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا شمہ ہو۔
شك نہیں کہ یزید نے والی ملك ہو کر زمین میں فساد پھیلایاحرمین طیبین وخود کعبہ معظمہ وروضہ طیبہ کی سخت بے حرمتیاں کیںمسجد کریم میں گھوڑے باندھےان کی لید اورپیشاب منبر اطہر پر پڑےتین دن مسجد نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بے اذان ونماز رہیمکہ ومدینہ وحجاز میں ہزاروں صحابہ تابعین بے گناہ شہید کئےکعبہ معظمہ پر پتھر پھینکےغلاف شریف پھاڑا اور جلایا۔مدینہ طیبہ کی پاکدامن پارسائیں تین شبانہ روز اپنے خبیث لشکر پر حلال کردیںرسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے جگر پارے کو تین دن بے آب ودانہ رکھ کر مع ہمراہیوں کے تیغ ظلم سے پیاسا ذبح کیامصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے گو دکے پالے ہوئے تن نازنین پر بعد شہادت گھوڑے دوڑائے گئے کہ تمام استخوان مبارك چور ہوگئےسرانور کہ محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا بوسہ گاہ تھا کاٹ کر نیزہ پر چڑھایا اور منزلوں پھرایا۔حرم محترم مخدرات مشکوئے رسالت قید کئے گئے اور بے حرمتی کے ساتھ اس خبیث کے دربار میں لائے گئےاس سے بڑھ کر قطع رحم اور زمین میں فساد کیا ہوگاملعون ہے وہ جو ان ملعون حرکات کو فسق وفجور نہ جانےقرآن عظیم میں صراحۃ اس پر" لعنہم اللہ " (ان پر اﷲ کی لعنت ہے۔ت)فرمایا۔ لہذا مام احمد اور ان کے موافقین ان پر لعنت فرماتے ہیں اور ہمارے امام اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ نے لعن وتکفیر سے احتیاطا سکوت فرمایا کہ ا س سے فسق وفجور متواتر ہیں کفر متواتر نہیںاور بحال احتمال نسبت کبیر ہ بھی جائز نہیں نہ کہ تکفیر اور امثال وعیدات مشروط بعدم توبہ ہیں لقولہ تعالی" فسوف یلقون غیا ﴿۵۹﴾ الا من تاب" (توعنقریب دوزخ میں غی کاجنگل پائیں گے مگر جو تائب ہوگئے۔ت) اور توبہ تادم غرغرہ مقبول ہے اور اس کے عدم پر جزم نہیں اور یہی احوط واسلم ہےمگر اس کے فسق وفجور سے انکار کرنا اور امام مظلوم پر الزام رکھنا ضروریات مذہب اہل سنت کے خلاف ہے اور ضلالت و بدمذہبی صاف ہےبلکہ انصافا یہ اس قلب سے متصور نہیں جس میں محبت سیدعالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا شمہ ہو۔
" و سیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون ﴿۲۲۷﴾ " (اب جانا چاہتے ہیں ظالم کہ کس کروٹ پر پلٹاکھائیں گے۔ت)شك نہیں کہ اس کا قائل ناصبی مردود اور اہل سنت کا عدووعنود ہےایسے گمراہ بددین سے مسئلہ مصافحہ کی شکایت بے سود ہےا س کی غایت اسی قدر کہ اس نے قول صحیح کا خلاف کیا اور بلاوجہ شرعی دست کشی کرکے ایك مسلمان کا دل دکھایا مگر وہ توان کلمات ملعونہ سے حضرت بتول زہرا وعلی مرتضی اور خود حضور سیدالانبیاء علیہ وعلیہم افضل الصلوۃ والسلام کا دل دکھا چکاہےاﷲ واحدقہار کو ایذاد ے چکا ہے
" والذین یؤذون رسول اللہ لہم عذاب الیم ﴿۶۱﴾ "
" ان الذین یؤذون اللہ و رسولہ لعنہم اللہ فی الدنیا و الاخرۃ و اعد لہم عذابا مہینا ﴿۵۷﴾
" اور جو رسول اﷲ کو ایذا دیتے ہیں ان کے لئے دردناك عذاب ہےبیشك جو ایذا دیتے ہیں اﷲ اور اس کے رسول کو ان پر اﷲ کی لعنت ہے دنیا اور آخرت میں اور اﷲ نے ان کے لئے ذلت کا عذاب تیار کر رکھاہے۔
(۲)سوال نے یہاں بھی قطعیات کے ساتھ قرائن کو ضم کیا قطعی کے ہوتے قرینی باطنی کی کیا بحث کسی مدرسہ محلہ سرائے خام کی نوکری یا علم ماکان ومایکون یاغیوب خمسہ میں کلام یا علماء اہل سنت کو سب ودشنام تفاصیل رکھتے ہیں جن کی اصلا حاجت نہیں جب علمائے حرمین طیبین زادھما اﷲ شرفا وتکریما نانوتوی وگنگوہی وتھانوی کی نسبت نام بنام تصریح فرما چکے ہیں کہ یہ سب کفار مرتدین ہیں اور یہ کہ"من شك فی کفرہ وعذابہ فقد کفر "جوان کے کفر میں شك کرے وہ بھی کافرنہ کہ ان کو پیشوا و سرتاج اہلسنت جاننابلاشبہہ جو ایسا جانے ہر گز ہر گز صرف بدعتی وبدمذہب نہیں قطعا کافر ومرتد ہے اور ان تمام احادیث کا کہ سوال میں فتاوی الحرمین سے منقول ہوئیں موردہےبلاشبہہ اس سے دور بھاگنااور اسے اپنے سے دور کرنااس سے بغضاس کی اہانتاس کا رد فرض ہےاورتوقیر حرام وہدم اسلام اسے سلام کرنا اس کے پاس بیٹھنا حراماس کے ساتھ کھانا پینا حراماس کے ساتھ شادی بیاہت حرام اور قربت زنائے خالصاور بیمار پڑے تو اسے پوچھنے جانا حراممرجائے تو اس کے جنازے میں شرکت حراماسے مسلمانوں کا ساغسل وکفن دینا حراماس پر نماز جنازہ پڑھنا حرام بلکہ کفراس کا جنازہ اپنے
" والذین یؤذون رسول اللہ لہم عذاب الیم ﴿۶۱﴾ "
" ان الذین یؤذون اللہ و رسولہ لعنہم اللہ فی الدنیا و الاخرۃ و اعد لہم عذابا مہینا ﴿۵۷﴾
" اور جو رسول اﷲ کو ایذا دیتے ہیں ان کے لئے دردناك عذاب ہےبیشك جو ایذا دیتے ہیں اﷲ اور اس کے رسول کو ان پر اﷲ کی لعنت ہے دنیا اور آخرت میں اور اﷲ نے ان کے لئے ذلت کا عذاب تیار کر رکھاہے۔
(۲)سوال نے یہاں بھی قطعیات کے ساتھ قرائن کو ضم کیا قطعی کے ہوتے قرینی باطنی کی کیا بحث کسی مدرسہ محلہ سرائے خام کی نوکری یا علم ماکان ومایکون یاغیوب خمسہ میں کلام یا علماء اہل سنت کو سب ودشنام تفاصیل رکھتے ہیں جن کی اصلا حاجت نہیں جب علمائے حرمین طیبین زادھما اﷲ شرفا وتکریما نانوتوی وگنگوہی وتھانوی کی نسبت نام بنام تصریح فرما چکے ہیں کہ یہ سب کفار مرتدین ہیں اور یہ کہ"من شك فی کفرہ وعذابہ فقد کفر "جوان کے کفر میں شك کرے وہ بھی کافرنہ کہ ان کو پیشوا و سرتاج اہلسنت جاننابلاشبہہ جو ایسا جانے ہر گز ہر گز صرف بدعتی وبدمذہب نہیں قطعا کافر ومرتد ہے اور ان تمام احادیث کا کہ سوال میں فتاوی الحرمین سے منقول ہوئیں موردہےبلاشبہہ اس سے دور بھاگنااور اسے اپنے سے دور کرنااس سے بغضاس کی اہانتاس کا رد فرض ہےاورتوقیر حرام وہدم اسلام اسے سلام کرنا اس کے پاس بیٹھنا حراماس کے ساتھ کھانا پینا حراماس کے ساتھ شادی بیاہت حرام اور قربت زنائے خالصاور بیمار پڑے تو اسے پوچھنے جانا حراممرجائے تو اس کے جنازے میں شرکت حراماسے مسلمانوں کا ساغسل وکفن دینا حراماس پر نماز جنازہ پڑھنا حرام بلکہ کفراس کا جنازہ اپنے
حوالہ / References
القرآن الکریم ۲۶ /۲۲۷
القرآن الکریم ۹ /۶۱
القرآن الکریم ۳۳ /۵۷
درمختار باب المرتد مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۵۶
القرآن الکریم ۹ /۶۱
القرآن الکریم ۳۳ /۵۷
درمختار باب المرتد مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۵۶
کندھوں پر اٹھانااس کے جنازے کی مشایعت حراماسے مسلمانوں کے مقابر میں دفن کرنا حراماس کی قبر پر کھڑا ہونا حرام اس کے لئے دعائےمغفرت یاایصال ثواب حرام بلکہ کفروالعیاذباﷲ رب العالمین۔
(۳)جواب سابق میں واضح ہوچکا کہ ان سے ہر قسم کا قطع تعلق فرض ہےاور جب وہ تمام علمائے حرمین شریفین کے متفق علیہ فتوے سے کافر ومرتد ہیں تو مسجد میں ان کاکیاحقحدیث ابن حبان مذکور فتاوی الحرمین میں ہے:لاتصلوا معہم ان کے ساتھ نماز نہ پڑھو۔ان کے پیچھے تونماز باطل محض ہی ہے صف میں ان کاکھڑا ہونا بھی جائز نہیں کہ ان کی نماز نماز ہی نہیںتوعین نماز میں بالکل خارج از نماز ہیں تو ان کے کھڑے ہونے سے صف قطع کہ غیر نمازی حائل اور صف قطع کرنا حرام نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:من قطع صفا قطعہ اﷲ جو صف قطع کرے اﷲ اسے کاٹ دےتو جو مسلمانوں میں سربرآوردہ ہو جوا ن کے منع پر بلافتنہ وفساد قدرت رکھتاہو اس پر فرض ہے کہ انھیں مسجد میں آنے سے روکے اور مسلمانوں کی نماز کو خراب ہونے سے بچائےمسلمانوں کو نرمی وتفہیم اور جو نہ مانے اسے ہر جائز سختی وتشدد کے ساتھ ان کے میل جول سے باز رکھے کہ یہ نہی عن المنکر ہے اور نہی عن المنکر تاقدر قدرت فرض قطعی ہے اور جو نہ کرے وہ اسی مجرم کا اس کے عذاب میں ساتھی اصحاب سبت پر جب عذاب الہی نازل ہوا کہ" فقلنا لہم کونوا قردۃ خسـین﴿۶۵﴾ " ہم نے ان سے فرمایا ہوجاؤ بندر دھتکارے ہوئے۔جوانھیں منع نہ کرتے تھے وہ بھی ان کے ساتھ بندر کردئے گئے منع کرنے والوں نے نجات پائی جو ان کے خیالات وحالات پرمطلع ہو کر انھیں عالم جانے یاقابل امامت مانے ان کے پیچھے نماز پڑھے وہ بھی انھیں کی طرح کافر ومرتد ہے کہ من شك فی کفرہ وعذابہ فقد کفر جو ان کے کفر وعذاب میں شك کرے خود کافر ہے۔ت)اس کے لئے حسام الحرمین کی وہ عبارتیں کہ سوال سوم میں مذکور ہوئیں کافی ہیں یونہی جوان احکام ضروریات اسلام کوکہے کہ یہ مولوی کے جھگڑے ہیں وہ بھی کافر ہےمحیط و عالمگیریہ میں ہے:
رجل قال آنہا کہ علم آموزند داستانہا است کہ می آموزند اوقال بادست آنچہ می گویند کوئی آدمی کہتاہے یہ علم سیکھنے والے کہانیاں سیکھ رہے ہیں یا کہتاہے جوکہتے ہیں یہ تمام جھوٹ ہے
(۳)جواب سابق میں واضح ہوچکا کہ ان سے ہر قسم کا قطع تعلق فرض ہےاور جب وہ تمام علمائے حرمین شریفین کے متفق علیہ فتوے سے کافر ومرتد ہیں تو مسجد میں ان کاکیاحقحدیث ابن حبان مذکور فتاوی الحرمین میں ہے:لاتصلوا معہم ان کے ساتھ نماز نہ پڑھو۔ان کے پیچھے تونماز باطل محض ہی ہے صف میں ان کاکھڑا ہونا بھی جائز نہیں کہ ان کی نماز نماز ہی نہیںتوعین نماز میں بالکل خارج از نماز ہیں تو ان کے کھڑے ہونے سے صف قطع کہ غیر نمازی حائل اور صف قطع کرنا حرام نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:من قطع صفا قطعہ اﷲ جو صف قطع کرے اﷲ اسے کاٹ دےتو جو مسلمانوں میں سربرآوردہ ہو جوا ن کے منع پر بلافتنہ وفساد قدرت رکھتاہو اس پر فرض ہے کہ انھیں مسجد میں آنے سے روکے اور مسلمانوں کی نماز کو خراب ہونے سے بچائےمسلمانوں کو نرمی وتفہیم اور جو نہ مانے اسے ہر جائز سختی وتشدد کے ساتھ ان کے میل جول سے باز رکھے کہ یہ نہی عن المنکر ہے اور نہی عن المنکر تاقدر قدرت فرض قطعی ہے اور جو نہ کرے وہ اسی مجرم کا اس کے عذاب میں ساتھی اصحاب سبت پر جب عذاب الہی نازل ہوا کہ" فقلنا لہم کونوا قردۃ خسـین﴿۶۵﴾ " ہم نے ان سے فرمایا ہوجاؤ بندر دھتکارے ہوئے۔جوانھیں منع نہ کرتے تھے وہ بھی ان کے ساتھ بندر کردئے گئے منع کرنے والوں نے نجات پائی جو ان کے خیالات وحالات پرمطلع ہو کر انھیں عالم جانے یاقابل امامت مانے ان کے پیچھے نماز پڑھے وہ بھی انھیں کی طرح کافر ومرتد ہے کہ من شك فی کفرہ وعذابہ فقد کفر جو ان کے کفر وعذاب میں شك کرے خود کافر ہے۔ت)اس کے لئے حسام الحرمین کی وہ عبارتیں کہ سوال سوم میں مذکور ہوئیں کافی ہیں یونہی جوان احکام ضروریات اسلام کوکہے کہ یہ مولوی کے جھگڑے ہیں وہ بھی کافر ہےمحیط و عالمگیریہ میں ہے:
رجل قال آنہا کہ علم آموزند داستانہا است کہ می آموزند اوقال بادست آنچہ می گویند کوئی آدمی کہتاہے یہ علم سیکھنے والے کہانیاں سیکھ رہے ہیں یا کہتاہے جوکہتے ہیں یہ تمام جھوٹ ہے
حوالہ / References
فتاوٰی الحرمین جواب سوال عاشر مکتبہ حامدیہ لاہور ص۱۹
سنن ابوداؤد کتاب الصلوٰۃ باب تسویۃ الصفوف آفتاب عالم پریس لاہور ۱/ ۹۷
القرآن الکریم ۲ /۶۵
درمختار باب المرتد مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۵۶
سنن ابوداؤد کتاب الصلوٰۃ باب تسویۃ الصفوف آفتاب عالم پریس لاہور ۱/ ۹۷
القرآن الکریم ۲ /۶۵
درمختار باب المرتد مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۵۶
اوقال تزویرست اوقال من علم حیلہ رامنکرم ھذا کلہ کفر ۔ یا کہتاہے میں علم حیلہ کا منکر ہوںیہ تمام کفر ہے۔(ت)
(۴و۵)بلا شبہہ علمائے اہلسنت پر اعانت سنت واہانت بدعت تحریرا وتقریرا بقدر قدرت فرض اہم واعظم ہے او رہر موذی کو مسجد سے نکالنا بشرط استطاعت واجب بلکہ اگرچہ صرف زبان سے ایذا دیتاہو خصوصا وہ جس کی ایذا مسلمانوں میں بدمذہبی پھیلانا اور اضلال واغواہو ان کی سند میں وہی احادیث وروایات کہ سائل فاضل نے ذکرکیں کافی ہیں۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۱۳۲۱۷: ازاسٹیشن بھوجی پورہ آر۔کے۔آر مسئولہ محمد صدیق دکاندار سگریٹ وبساط خانہ ۲۸ صفر ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص امامت کرتاہے اور پڑھالکھا بھی ہےلڑکوں کو پڑھاتابھی ہے کچھ مسئلہ مسائل بھی جانتاہے اپنے آپ کو اہل سنت وجماعت کہتاہے بریلی میں جو جلسہ ۱۷ اکتوبر ۱۹۲۰ ء کو خلافت اسلامیہ کے نام سے ہوا جس میں شوکت ومحمد علی و مولانا ابولکلام آزاد ومسٹر گاندھی وغیرہ نے تقریریں کیں اس جلسہ میں وہ شریك ہوااس جلسہ کی وہ بہت تعریف کرتاہے اور کہتاہے کہ:
(۱)اس جلسہ میں بہت اچھا بیان ہوا اس جلسہ میں علماء تھے اس میں مکہ شریف مدینہ شریف اور عر ب شریف سے ترکوں کی خلافت چلے جانے اور چھن جانے کے حالات بیان ہوئے اور یہ بھی بیان ہوا کہ ہندوؤں کی دوستی کرنا قرآن پاك سے ثابت ہے اور ان کے بیانات کا جلسہ کے لوگوں پر بہت اثر ہوا اکثر روتے تھے ساری خلقت ہزاروں آدمیوں کاجماؤ تھاہندو بھی شریك تھے اور مسلمانوں کا ساتھ دے رہے تھےسب ایکہ کے ساتھ کارروائی ہورہی تھیاوریہ بھی کہتا تھاؤ کہ
(۲)انگریزوں سے دوستی اور ان کی نوکری اور ان کے اسکولوں میں پڑھنے کی اور اسلامی مدرسے کھولنے کی منادی ہوگئییہ بھی کہتاہے کہ
(۳)بریلی کے اعلیحضرت نے فتوی دیا ہے کہ ترکوں کی خلافت صحیح نہیں ہے اور یہ بھی کہتاہے کہ اعلیحضرت نے فتوی دیا ہے کہ
(۴)جو کوئی جلوس وجلسہ خلافت میں جائے گا اس کی بیوی نکاح سے باہر ہوجائے گی وہ کافر ہوجائے گاجب دیوبند کی بابت سوال کیا گیا تو کہتاہے کہ
(۵)میں نہ اس کا مریدہوں اورنہ برا کہتاہوں دیوبند کے مدرسہ کی تعریف کرتاہےبہشتی زیور
(۴و۵)بلا شبہہ علمائے اہلسنت پر اعانت سنت واہانت بدعت تحریرا وتقریرا بقدر قدرت فرض اہم واعظم ہے او رہر موذی کو مسجد سے نکالنا بشرط استطاعت واجب بلکہ اگرچہ صرف زبان سے ایذا دیتاہو خصوصا وہ جس کی ایذا مسلمانوں میں بدمذہبی پھیلانا اور اضلال واغواہو ان کی سند میں وہی احادیث وروایات کہ سائل فاضل نے ذکرکیں کافی ہیں۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۱۳۲۱۷: ازاسٹیشن بھوجی پورہ آر۔کے۔آر مسئولہ محمد صدیق دکاندار سگریٹ وبساط خانہ ۲۸ صفر ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص امامت کرتاہے اور پڑھالکھا بھی ہےلڑکوں کو پڑھاتابھی ہے کچھ مسئلہ مسائل بھی جانتاہے اپنے آپ کو اہل سنت وجماعت کہتاہے بریلی میں جو جلسہ ۱۷ اکتوبر ۱۹۲۰ ء کو خلافت اسلامیہ کے نام سے ہوا جس میں شوکت ومحمد علی و مولانا ابولکلام آزاد ومسٹر گاندھی وغیرہ نے تقریریں کیں اس جلسہ میں وہ شریك ہوااس جلسہ کی وہ بہت تعریف کرتاہے اور کہتاہے کہ:
(۱)اس جلسہ میں بہت اچھا بیان ہوا اس جلسہ میں علماء تھے اس میں مکہ شریف مدینہ شریف اور عر ب شریف سے ترکوں کی خلافت چلے جانے اور چھن جانے کے حالات بیان ہوئے اور یہ بھی بیان ہوا کہ ہندوؤں کی دوستی کرنا قرآن پاك سے ثابت ہے اور ان کے بیانات کا جلسہ کے لوگوں پر بہت اثر ہوا اکثر روتے تھے ساری خلقت ہزاروں آدمیوں کاجماؤ تھاہندو بھی شریك تھے اور مسلمانوں کا ساتھ دے رہے تھےسب ایکہ کے ساتھ کارروائی ہورہی تھیاوریہ بھی کہتا تھاؤ کہ
(۲)انگریزوں سے دوستی اور ان کی نوکری اور ان کے اسکولوں میں پڑھنے کی اور اسلامی مدرسے کھولنے کی منادی ہوگئییہ بھی کہتاہے کہ
(۳)بریلی کے اعلیحضرت نے فتوی دیا ہے کہ ترکوں کی خلافت صحیح نہیں ہے اور یہ بھی کہتاہے کہ اعلیحضرت نے فتوی دیا ہے کہ
(۴)جو کوئی جلوس وجلسہ خلافت میں جائے گا اس کی بیوی نکاح سے باہر ہوجائے گی وہ کافر ہوجائے گاجب دیوبند کی بابت سوال کیا گیا تو کہتاہے کہ
(۵)میں نہ اس کا مریدہوں اورنہ برا کہتاہوں دیوبند کے مدرسہ کی تعریف کرتاہےبہشتی زیور
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ باب المرتد نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۲۷۰
وغیرہ کتابیں اس کے پاس موجودہیں تو اب علماء سے سوال یہ ہے کہ شخص جو کہ خلافت ترکی صحیح مانتاہے اور شریف صاحب کو بوجہ ترکوں سے جدا ہونے کے برا سمجھتا ہے او رجس کی باتیں اور خیالات اوپر بیان ہوئے کیسا ہےاس جملہ مذکورہ بالامیں شریك ہونا کیساہے اور اس شخص کے کون کون سے خیالات وعقیدے برے ہیںخداوخدا کے رسول کے نزدیك ایسے خیالات رکھنے والے کا کیا حکم ہے مفصل تحریر فرمائیں تاکہ جو خیالات اس کے برے ہوں ان سے اہل سنت وجماعت بچنے کی کوشش کریںجواب مہری و دستخطی ہونا چاہئے۔
الجواب:
جو شخص پڑھالکھا ہوکر مدرسہ دیوبند کی تعریف کرے اور دیوبند یوں کی نسبت کہے کہ میں ان کو برا نہیں کہتا۔اس قدر اس کے مسلمان نہ ہونے کو بس ہےعلمائے کرام حرمین طیبین نے بالاتفاق تحریر فرمایا ہےکہ یہ لوگ کفار مرتدہیںاور فرمایا:من شك فی عذابہ وکفرہ فقد کفر جو ان کے کافر ہونے میں شك کرے وہ بھی کافر"ہندوؤں کی دوستی کرنا قرآن سے ثابت ہے"حالانکہ قرآن عظیم جابجا اس کے خلاف پر ناطق ہے ایسے شخص کے پیچھے نماز باطل محض ہے اور اسے امامت سے علیحدہ کرنا فرض ہےواﷲ تعالی اعلم۔
جواب مسئلہ:مسئولہ حضرت مولانا سید سلیمان اشرف علی صاحب بہاری پروفیسر دینیات علی گڑھ کالج ۱۳ ربیع الاول ۱۳۳۹ھ
(۱)معاملہ(۲)مدارات(۳)برواقساط(۴)معاشرت(۵)مداہنت(۶)رکون(۷)وداد(۸)اتحاد(۹)انقیاد(۱۰)تبتل
ان مدارج عشرہ میں ہر دوسرا پہلے سے زائدہیں اور ہر پہلے میں دوسرے کی شرط کا انتفاء ملحوظ ہےپہلا بشرط لا شیئ کے مرتبہ اوردوسرا بشرط شیئ کے مرتبہ میں۔
موالات کی دو۲قسمیں ہیں:حقیقی وصوری۔حقیقی کی پانچ قسمیں رکون سے آخر تك یہ مطلقا ہمشہ حرام ہیں ہر کافر سےاور ہمیشہ حرام رہیں گیاور صوری کی چار قسمیں مدارات سے مداہنت تک۔
الجواب:
جو شخص پڑھالکھا ہوکر مدرسہ دیوبند کی تعریف کرے اور دیوبند یوں کی نسبت کہے کہ میں ان کو برا نہیں کہتا۔اس قدر اس کے مسلمان نہ ہونے کو بس ہےعلمائے کرام حرمین طیبین نے بالاتفاق تحریر فرمایا ہےکہ یہ لوگ کفار مرتدہیںاور فرمایا:من شك فی عذابہ وکفرہ فقد کفر جو ان کے کافر ہونے میں شك کرے وہ بھی کافر"ہندوؤں کی دوستی کرنا قرآن سے ثابت ہے"حالانکہ قرآن عظیم جابجا اس کے خلاف پر ناطق ہے ایسے شخص کے پیچھے نماز باطل محض ہے اور اسے امامت سے علیحدہ کرنا فرض ہےواﷲ تعالی اعلم۔
جواب مسئلہ:مسئولہ حضرت مولانا سید سلیمان اشرف علی صاحب بہاری پروفیسر دینیات علی گڑھ کالج ۱۳ ربیع الاول ۱۳۳۹ھ
(۱)معاملہ(۲)مدارات(۳)برواقساط(۴)معاشرت(۵)مداہنت(۶)رکون(۷)وداد(۸)اتحاد(۹)انقیاد(۱۰)تبتل
ان مدارج عشرہ میں ہر دوسرا پہلے سے زائدہیں اور ہر پہلے میں دوسرے کی شرط کا انتفاء ملحوظ ہےپہلا بشرط لا شیئ کے مرتبہ اوردوسرا بشرط شیئ کے مرتبہ میں۔
موالات کی دو۲قسمیں ہیں:حقیقی وصوری۔حقیقی کی پانچ قسمیں رکون سے آخر تك یہ مطلقا ہمشہ حرام ہیں ہر کافر سےاور ہمیشہ حرام رہیں گیاور صوری کی چار قسمیں مدارات سے مداہنت تک۔
حوالہ / References
درمختار باب المرتد مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۵۶
تعظیم مشرك کے جلوس میں شریك ہونا ضرور حرام ہےاس کی یہاں سے ممانعت پیش کی گئی اوریہ افتراء ہے کہ مطلقا شریك ہونے والے کانکاح باطل بتایا گیا مگر اس افتراء کا عجب کیا ہے جبکہ وہ خود اس مفتری جلسہ کو پسند کرتاہے اور اس کے افتراء کا خود ناقل ہے کہ ان میں برو اقساط معاہدین سے جائز حربی غیر معاہد سے حرامیا بعض کے نزدیك ایك وقت میں حربی غیر محاربین سے حلال رکھا گیا تھا پھر حرام فرمادیا اورا ب ابدا حرام ہےاور چوتھی قسم مداہنت کسی وقت بھی حلال نہ تھیغایۃ ضعف اضمحلال کے وقت ارشاد ہوا تھا:" ودوا لو تدہن فیدہنون ﴿۹﴾ " (وہ تو اس آرزو میں ہیں کہ کسی طرح تم نرمی کرو تو وہ بھی نرم پڑجائیں۔ت)مگرحالت اکراہ میں اس کی رخصت ہوگی" الا من اکرہ و قلبہ مطمئن بالایمن " (سوا اس کے جو مجبور کیا جائے اوراس کا دل ایمان پر جما ہوا ہو۔ت)اورمعاشرت بضرورت وبمجبوری جائزورنہ حراماور جواز مدارات کے لئے ضرورت مجبوری درکارنہیں مصلحت ہی کافی ہےیہ اقسام موالات میں ان سب سے خارج معاملہ ہے کہ ہر کافر سے ہر وقت جائزہے مگر مرتدین سےواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۱۸:وہ اب یہ بیان کرتے ہیں کہ میں کوٹہ میں مولانا کا فتوی دیکھ آیا اس کی رو سے مجھ پر ان اقوال کی وجہ سے معاذاﷲ کفر عائد نہیں ہوتا وہ کہتے ہیں میں نے یہ اقوال صرف آریہ کا بھید لینے کوکہے تھے الحرب خدعۃ (جنگ دھوکا ہے۔ت)
اور یہ ایك ایسے مضمون کے ساتھ ملحق تھے جس میں آریوں اورا ن کے مذہب پر حملہ تھا جس کی وجہ سے معلوم ہوسکتاتھا کہ یہ میں نے رضامندی سے نہیں کہے ان وجہوں کی بنا پر آیا ان سے کفر ثابت ہوگایانہیں اوربہر تقدیر نکاح کے بارہ میں کیاحکم ہے اگر تجدید نہ کی جائے تو بھی نکاح سابق کسی صورت میں بحال ہے یانہیں میں امید کرتاہوں کہ ان مسائل کے جواب اور اس فتوی کی نقل سے جوکوٹہ روانہ کیا جناب مجھ کو مطلع کریں گےزیادہ آدابمحمد میاں قادری برکاتی عفی عنہ از لکھنؤ
(نوٹ:سوال کا ابتدائی حصہ دستیاب نہ ہوا)
الجواب:
حضرت گرامی دامت برکاتہم وعلیکم السلام ورحمۃ اﷲ وبرکاتہفقیر ادھر مبتلائے حوادث رہاشب بستم ذی الحجہ لیلۃ الثلثاء بعد مغرب میرے حقیقی بھانجے مولوی حافظ واجد علی خاں مرحوم نے دو مہینے کی علالت میں انتقال کیاان کے تیسرے دن بست ودوم ذی الحجہ یوم الخمیس وقت ظہر میرے حقیقی بھتیجے نوجوان صالح مولوی فاروق رضاخاں مرحوم نے سترہ برس کی عمر میں بعارضہ وبائی صرف دوروزعلیل رہ کر مفارقت
مسئلہ ۲۱۸:وہ اب یہ بیان کرتے ہیں کہ میں کوٹہ میں مولانا کا فتوی دیکھ آیا اس کی رو سے مجھ پر ان اقوال کی وجہ سے معاذاﷲ کفر عائد نہیں ہوتا وہ کہتے ہیں میں نے یہ اقوال صرف آریہ کا بھید لینے کوکہے تھے الحرب خدعۃ (جنگ دھوکا ہے۔ت)
اور یہ ایك ایسے مضمون کے ساتھ ملحق تھے جس میں آریوں اورا ن کے مذہب پر حملہ تھا جس کی وجہ سے معلوم ہوسکتاتھا کہ یہ میں نے رضامندی سے نہیں کہے ان وجہوں کی بنا پر آیا ان سے کفر ثابت ہوگایانہیں اوربہر تقدیر نکاح کے بارہ میں کیاحکم ہے اگر تجدید نہ کی جائے تو بھی نکاح سابق کسی صورت میں بحال ہے یانہیں میں امید کرتاہوں کہ ان مسائل کے جواب اور اس فتوی کی نقل سے جوکوٹہ روانہ کیا جناب مجھ کو مطلع کریں گےزیادہ آدابمحمد میاں قادری برکاتی عفی عنہ از لکھنؤ
(نوٹ:سوال کا ابتدائی حصہ دستیاب نہ ہوا)
الجواب:
حضرت گرامی دامت برکاتہم وعلیکم السلام ورحمۃ اﷲ وبرکاتہفقیر ادھر مبتلائے حوادث رہاشب بستم ذی الحجہ لیلۃ الثلثاء بعد مغرب میرے حقیقی بھانجے مولوی حافظ واجد علی خاں مرحوم نے دو مہینے کی علالت میں انتقال کیاان کے تیسرے دن بست ودوم ذی الحجہ یوم الخمیس وقت ظہر میرے حقیقی بھتیجے نوجوان صالح مولوی فاروق رضاخاں مرحوم نے سترہ برس کی عمر میں بعارضہ وبائی صرف دوروزعلیل رہ کر مفارقت
حوالہ / References
القرآن الکریم ۶۸ /۹
القرآن الکریم ۱۶ /۱۰۶
صحیح بخاری باب الحرب خدعۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۴۲۵
القرآن الکریم ۱۶ /۱۰۶
صحیح بخاری باب الحرب خدعۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۴۲۵
کی اب شب بست وپنجم محرم الحرام لیلۃ الثلثاء بعد مغرب میرے احب احباب واعزاصحاب جوان صالح صاحب ورعمتقیمحب سنت واہل سنت عدوبدعت واہل بدعت سنی مستقل قائم مصداق"لا یخافون لومۃ لائم " (وہ کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈرتے۔ت)دلاور حسین مرحوم مغفور ساکن جواہر پورے بعمر ۳۷ سال بعارضہ وبائی صرف دس پہر علیل رہ کر داغ فراق دیا۔
انا ﷲ وانا الیہ راجعون۔انا ﷲ وانا الیہ راجعونانا ﷲ وانا الیہ راجعون ﷲ مااخذ ومااعطی وکل شیئ عندہ باجل مسمی اللہم اغفرلنا ولہم وارحمنا وارحمہم ولاتحرمنا اجورھم ولاتفتنا بعدھم و ارحم المسلمین والمسلمات جمیعا یاارحم الراحمین امین بجاہ من ارسلتہ رحمۃ وبعثتہ نعمۃ صل وسلم وبارك علیك مع الاھل والصحب والامۃ عدد کل خلق و کلمۃ امینوالحمد ﷲ رب العالمین۔ ہم اﷲ کے ہیں اور اس کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں (تین دفعہ)اﷲ تعالی جوچاہے لے لے اور جو چاہے عطا فرمائے ہر شے کا اس کے ہاں وقت مقرر ہےاے اللہ! ہمیں معاف فرمادے اور ان مرحومین کوہم پر رحم فرماا ور ان پر بھیان کے اجر سے ہمیں محروم نہ فرماان کے بعد ہمیں فتنہ میں نہ ڈال اے ارحم الراحمین! تمام مسلمان عورتوں اور مردوں پر رحم فرما اور اسے قبول فرما بوسیلہ اس ذات کے جسے تونے رحمت بناکر بھیجا ہے اور ان کی بعثت کو عظیم نعمت بنایاآپ کی ذات پر صلوۃ وسلام اور برکات کانزول فرماآپ کے اہلصحابہ اور امت پر تمام مخلوق کی اور کلمہ آمین کی مقدار تمام حمد اﷲ کے لئے جو تمام جہانوں کا پرورد گار ہے۔(ت)
فتوی کہ فقیر نے کوٹہ بھیجا تھا ا س کی نقل حاضر ہے اس کے کون سے حرف میں ان کے لئے حکم کفر سے نجات ہے اس میں دو شقیں کیں:اول یہ کہ کلمات دل سے کہے اس پر یہ لکھا کہ"جب توا س کا کفر صریح ظاہر واضح ہے جس میں کسی جاہل کو بھی تامل نہیں ہوسکتا"اس کا مفہوم مخالف صرف اس قدر کہ اگر دل سے نہ کہے تو کفرایسا واضح نہیں جس میں کسی جاہل کو بھی تامل نہ ہوسکے نہ یہ کہ دل سے نہ کہے تو کفر ہی نہیں کفر ضرور ہے اگرچہ اس درجہ شدت ظہور پر نہیں کہ کو ئی جاہل بھی تامل نہ کر سکے بلکہ اس سے ظاہر یہ ہے کہ دل سے نہ کہے جب بھی اس کے کفر میں کوئی جاہل تامل کرسکے کسی اہل علم کو تامل نہیں ہوسکتا اور جاہلوں میں سب کو نہیں کسی کواور وہ بھی یقینا نہیں امکانا یعنی دل سے نہ کہے کی حالت میں احتمال ہے کہ شاید کوئی جاہل
انا ﷲ وانا الیہ راجعون۔انا ﷲ وانا الیہ راجعونانا ﷲ وانا الیہ راجعون ﷲ مااخذ ومااعطی وکل شیئ عندہ باجل مسمی اللہم اغفرلنا ولہم وارحمنا وارحمہم ولاتحرمنا اجورھم ولاتفتنا بعدھم و ارحم المسلمین والمسلمات جمیعا یاارحم الراحمین امین بجاہ من ارسلتہ رحمۃ وبعثتہ نعمۃ صل وسلم وبارك علیك مع الاھل والصحب والامۃ عدد کل خلق و کلمۃ امینوالحمد ﷲ رب العالمین۔ ہم اﷲ کے ہیں اور اس کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں (تین دفعہ)اﷲ تعالی جوچاہے لے لے اور جو چاہے عطا فرمائے ہر شے کا اس کے ہاں وقت مقرر ہےاے اللہ! ہمیں معاف فرمادے اور ان مرحومین کوہم پر رحم فرماا ور ان پر بھیان کے اجر سے ہمیں محروم نہ فرماان کے بعد ہمیں فتنہ میں نہ ڈال اے ارحم الراحمین! تمام مسلمان عورتوں اور مردوں پر رحم فرما اور اسے قبول فرما بوسیلہ اس ذات کے جسے تونے رحمت بناکر بھیجا ہے اور ان کی بعثت کو عظیم نعمت بنایاآپ کی ذات پر صلوۃ وسلام اور برکات کانزول فرماآپ کے اہلصحابہ اور امت پر تمام مخلوق کی اور کلمہ آمین کی مقدار تمام حمد اﷲ کے لئے جو تمام جہانوں کا پرورد گار ہے۔(ت)
فتوی کہ فقیر نے کوٹہ بھیجا تھا ا س کی نقل حاضر ہے اس کے کون سے حرف میں ان کے لئے حکم کفر سے نجات ہے اس میں دو شقیں کیں:اول یہ کہ کلمات دل سے کہے اس پر یہ لکھا کہ"جب توا س کا کفر صریح ظاہر واضح ہے جس میں کسی جاہل کو بھی تامل نہیں ہوسکتا"اس کا مفہوم مخالف صرف اس قدر کہ اگر دل سے نہ کہے تو کفرایسا واضح نہیں جس میں کسی جاہل کو بھی تامل نہ ہوسکے نہ یہ کہ دل سے نہ کہے تو کفر ہی نہیں کفر ضرور ہے اگرچہ اس درجہ شدت ظہور پر نہیں کہ کو ئی جاہل بھی تامل نہ کر سکے بلکہ اس سے ظاہر یہ ہے کہ دل سے نہ کہے جب بھی اس کے کفر میں کوئی جاہل تامل کرسکے کسی اہل علم کو تامل نہیں ہوسکتا اور جاہلوں میں سب کو نہیں کسی کواور وہ بھی یقینا نہیں امکانا یعنی دل سے نہ کہے کی حالت میں احتمال ہے کہ شاید کوئی جاہل
حوالہ / References
القرآن الکریم ۵ /۵۴
اس کے کفر میں تامل کرے اور دل سے کہے تو اتنا احتمال بھی نہیں۔
دوسری شق یہ کہ آریہ کودھوکادینے کے لئے استعمال کئےدل سے ان کلمات ملعونہ کو پسند نہیں کرتا یہی وہ عذر ہے جو وہ اب بیان کرتے ہیںان کے بیان سے پہلے ہی فتوے میں اس کا رد موجود ہے کہ"دھوکے کاعذر محض جھوٹ اور باطل ہے"جب اس کے ساتھ وہ جملے ملحق تھے جن کے جواب سے آریہ عاجز ہیں تو وہ ایسے پاگل نہیں کہ اپنی موت انھیں نہ سوجھے اور کرے حملے کرنے والے کو سمجھ لیں کہ واقعی یہ دل سے وید کا عاشق اور ویدك دھرم کے لئے بے چین اور آریہ ہونے کو عزت وفخر وسرفرازی جاننے والا ہے آخر نہ دیکھا کہ انھوں نے ایك نہ سنی اور عاشق بے چین کو عزت وفخر وسرفرازی سے محروم رکھا اگر وہ ذرا بھی دھوکا کھاتے تو ایسے شخص کو جو عوام میں عالم مشہور اور دھڑلے کا واعظ اور اتنے اونچے عالی اعلی خاندان سے اور سور روپے ماہوار کی جائداد بھی دکھائےشہدپر مکھیوں کی طرح گرتے لپٹتے پیان پوجتےڈنڈوت کرتےکندھوں پر چڑھا کر سربازار باجا بجاتے گروکل لے جاتے اور اسی مضمون کا لکچر دلواتے مگر انھوں نے منہ بھی نہ لگایا ایمان بھی گیا اور دھوکا بھی نہ ہوا حقیقۃ ابلیس لعین نے اسے دھوکا دے کر ایمان لے لیا کافر تو اس کے دھوکے میں نہ آئے مگر یہ اس کافر ملعون ابد کے دھوکے میں آگیااور بفرض غلط اگر اس میں آریہ کو دھوکا ہوتا بھی تو دھوکا دینا کیا ایسا ضرور ہے جس کے سبب کھلے کفر بکے:
" وقل الحق من ربکم فمن شاء فلیؤمن و من شاء فلیکفر
اور فرمادو کہ حق تمھارے رب کی طرف سے ہےتو جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے کفر کرے۔(ت)
کیا بلاضرورت باختیار خود کفر بکنے سے آدمی کافرنہیں ہوتا جب کہ دل سے نہ ہواس دل سے نہ ہونے کا عذر منافقین پیش کرچکے اور اس پر واحد قہار سے فتوائے کفر پاچکے
ولئن سالتہم لیقولن انماکنا نخوض ونلعب قل اباللہ وایتہ ورسولہ کنتم تستہزءون ﴿۶۵﴾ لاتعتذروا قدکفرتم بعد ایمنکم " اور اے محبوب اگر تم ان سے پوچھو تو کہیں گے کہ ہم تو یونہی ہنسی کھیل میں تھےتم فرماؤ کیا اﷲ تعالی اور اس کی آیتوں اور اس کے رسول سے ہنستے ہو۔بہانے نہ بناؤ تم کافر ہوچکے مسلمان ہوکر۔
یہیں سے رضامندی نہ ہونے کا بھی جواب واضح ہوگیا کہ ہزل استہزاء میں بھی رضابالحکم نہیں
دوسری شق یہ کہ آریہ کودھوکادینے کے لئے استعمال کئےدل سے ان کلمات ملعونہ کو پسند نہیں کرتا یہی وہ عذر ہے جو وہ اب بیان کرتے ہیںان کے بیان سے پہلے ہی فتوے میں اس کا رد موجود ہے کہ"دھوکے کاعذر محض جھوٹ اور باطل ہے"جب اس کے ساتھ وہ جملے ملحق تھے جن کے جواب سے آریہ عاجز ہیں تو وہ ایسے پاگل نہیں کہ اپنی موت انھیں نہ سوجھے اور کرے حملے کرنے والے کو سمجھ لیں کہ واقعی یہ دل سے وید کا عاشق اور ویدك دھرم کے لئے بے چین اور آریہ ہونے کو عزت وفخر وسرفرازی جاننے والا ہے آخر نہ دیکھا کہ انھوں نے ایك نہ سنی اور عاشق بے چین کو عزت وفخر وسرفرازی سے محروم رکھا اگر وہ ذرا بھی دھوکا کھاتے تو ایسے شخص کو جو عوام میں عالم مشہور اور دھڑلے کا واعظ اور اتنے اونچے عالی اعلی خاندان سے اور سور روپے ماہوار کی جائداد بھی دکھائےشہدپر مکھیوں کی طرح گرتے لپٹتے پیان پوجتےڈنڈوت کرتےکندھوں پر چڑھا کر سربازار باجا بجاتے گروکل لے جاتے اور اسی مضمون کا لکچر دلواتے مگر انھوں نے منہ بھی نہ لگایا ایمان بھی گیا اور دھوکا بھی نہ ہوا حقیقۃ ابلیس لعین نے اسے دھوکا دے کر ایمان لے لیا کافر تو اس کے دھوکے میں نہ آئے مگر یہ اس کافر ملعون ابد کے دھوکے میں آگیااور بفرض غلط اگر اس میں آریہ کو دھوکا ہوتا بھی تو دھوکا دینا کیا ایسا ضرور ہے جس کے سبب کھلے کفر بکے:
" وقل الحق من ربکم فمن شاء فلیؤمن و من شاء فلیکفر
اور فرمادو کہ حق تمھارے رب کی طرف سے ہےتو جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے کفر کرے۔(ت)
کیا بلاضرورت باختیار خود کفر بکنے سے آدمی کافرنہیں ہوتا جب کہ دل سے نہ ہواس دل سے نہ ہونے کا عذر منافقین پیش کرچکے اور اس پر واحد قہار سے فتوائے کفر پاچکے
ولئن سالتہم لیقولن انماکنا نخوض ونلعب قل اباللہ وایتہ ورسولہ کنتم تستہزءون ﴿۶۵﴾ لاتعتذروا قدکفرتم بعد ایمنکم " اور اے محبوب اگر تم ان سے پوچھو تو کہیں گے کہ ہم تو یونہی ہنسی کھیل میں تھےتم فرماؤ کیا اﷲ تعالی اور اس کی آیتوں اور اس کے رسول سے ہنستے ہو۔بہانے نہ بناؤ تم کافر ہوچکے مسلمان ہوکر۔
یہیں سے رضامندی نہ ہونے کا بھی جواب واضح ہوگیا کہ ہزل استہزاء میں بھی رضابالحکم نہیں
ہوتی ورنہ جد ہو نہ ہزل۔ردالمحتار میں ہازل کی نسبت ہےـ:
انہ تکلم بالسبب قصد افیلزمہ حکمہ وان لم یرض بہ ۔ اس نے قصدا سبب کا تکلم کیا لہذا اس پرحکم لازم ہوگا اگرچہ وہ اس سے راضی نہ تھا۔(ت)
اور بفرض غلط اگر دھوکا دینا ضرور بھی ہو تو ہر ضرورت کفر سے نہیں بچاتییوں توجوننگے بھوکے پیٹ کی خاطر عیسائی ہوجاتے ہیں انھیں بھی کہئے کافر نہ ہوئے کہ بضرورت کفر اختیار کیایہاں وہ ضرورت معتبر ہے کہ حداکراہ شرعی تك پہنچی اور یہ بداہۃ ظاہر کہ دھوکا دینا ضروری بھی سہی تاہم تو حداکراہ تك کسی طرح نہیں پہنچ سکتاکیا قائل اگر یہ دھوکا نہ دیتا تو کوئی اسے قتل کردیتا یا ہاتھ پاؤں کاٹ دیتا یاآنکھیں پھوڑدیتاکچھ بھی نہ ہوتا اس کے ایك رونگٹے کو بھی ضرر نہ پہنچتا تو یقینا اس نے بلااکراہ وہ کلمات کفر بکے اور واحد قہار عزجلالہ نے کلمہ کفربکنے میں کافر ہونے سے صرف مبتلائے اکراہ کا استثناء فرمایا ہے کہ ارشاد فرماتاہے:
" الا من اکرہ و قلبہ مطمئن بالایمن " سوا اس کے جو مجبور کیا جائے اور اس کا دل ایمان پر جما ہوا ہو۔(ت)
یہاں اکراہ درکنار ایك رونگٹے کو بھی کچھ نقصان نہ پہنچتا تھا ایك دھیلا بھی گرہ سے نہ جاتا تھا اور بکے وہ کلمات کہ مجرد علامت کفر نہیںبلکہ حقیقۃ خود کفر خالص ہیں تو قطعا دل کھول کر کفر بکنا ہوا اور یقینا بنص قطعی قرآن کفر ہے ولہذا جو بلا اکراہ کلمہ کفر بکے بلا فرق نیت مطلقا قطعا یقینا اجماعا کافرہے عورت اس کی نکاح سے فورا نکل جاتی ہے جب تك از سرنو اسلام نہ لائے اور اپنے کلمات ملعونہ سے براءت وتوبہ صادقہ نہ کرے ہر گز اس سے نکاح نہیں ہوسکتا اوراگر اسلام لے آئے تو بہ کرے اور پھر نکاح سابق کی بنا پر عورت کو زوجہ بنائے تو قطعا زنائے خالص ہےفتاوی امام قاضی خاں وفتاوی عالمگیری میں ہے:
رجل کفر بلسانہ طائعا وقلبہ مطمئن بالایمان یکون کافر اولایکون عنداﷲ تعالی مومنا ۔ ایك شخص نے زبان سے حالت خوشی میں کفر کا اظہار کیا حالانکہ اس کا دل ایمان پر تھا تو وہ کافر ہے اور وہ اﷲ تعالی کے ہاں مومن نہیں ہے۔(ت)
حاوی میں ہے:
انہ تکلم بالسبب قصد افیلزمہ حکمہ وان لم یرض بہ ۔ اس نے قصدا سبب کا تکلم کیا لہذا اس پرحکم لازم ہوگا اگرچہ وہ اس سے راضی نہ تھا۔(ت)
اور بفرض غلط اگر دھوکا دینا ضرور بھی ہو تو ہر ضرورت کفر سے نہیں بچاتییوں توجوننگے بھوکے پیٹ کی خاطر عیسائی ہوجاتے ہیں انھیں بھی کہئے کافر نہ ہوئے کہ بضرورت کفر اختیار کیایہاں وہ ضرورت معتبر ہے کہ حداکراہ شرعی تك پہنچی اور یہ بداہۃ ظاہر کہ دھوکا دینا ضروری بھی سہی تاہم تو حداکراہ تك کسی طرح نہیں پہنچ سکتاکیا قائل اگر یہ دھوکا نہ دیتا تو کوئی اسے قتل کردیتا یا ہاتھ پاؤں کاٹ دیتا یاآنکھیں پھوڑدیتاکچھ بھی نہ ہوتا اس کے ایك رونگٹے کو بھی ضرر نہ پہنچتا تو یقینا اس نے بلااکراہ وہ کلمات کفر بکے اور واحد قہار عزجلالہ نے کلمہ کفربکنے میں کافر ہونے سے صرف مبتلائے اکراہ کا استثناء فرمایا ہے کہ ارشاد فرماتاہے:
" الا من اکرہ و قلبہ مطمئن بالایمن " سوا اس کے جو مجبور کیا جائے اور اس کا دل ایمان پر جما ہوا ہو۔(ت)
یہاں اکراہ درکنار ایك رونگٹے کو بھی کچھ نقصان نہ پہنچتا تھا ایك دھیلا بھی گرہ سے نہ جاتا تھا اور بکے وہ کلمات کہ مجرد علامت کفر نہیںبلکہ حقیقۃ خود کفر خالص ہیں تو قطعا دل کھول کر کفر بکنا ہوا اور یقینا بنص قطعی قرآن کفر ہے ولہذا جو بلا اکراہ کلمہ کفر بکے بلا فرق نیت مطلقا قطعا یقینا اجماعا کافرہے عورت اس کی نکاح سے فورا نکل جاتی ہے جب تك از سرنو اسلام نہ لائے اور اپنے کلمات ملعونہ سے براءت وتوبہ صادقہ نہ کرے ہر گز اس سے نکاح نہیں ہوسکتا اوراگر اسلام لے آئے تو بہ کرے اور پھر نکاح سابق کی بنا پر عورت کو زوجہ بنائے تو قطعا زنائے خالص ہےفتاوی امام قاضی خاں وفتاوی عالمگیری میں ہے:
رجل کفر بلسانہ طائعا وقلبہ مطمئن بالایمان یکون کافر اولایکون عنداﷲ تعالی مومنا ۔ ایك شخص نے زبان سے حالت خوشی میں کفر کا اظہار کیا حالانکہ اس کا دل ایمان پر تھا تو وہ کافر ہے اور وہ اﷲ تعالی کے ہاں مومن نہیں ہے۔(ت)
حاوی میں ہے:
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الطلاق دراحیاء التراث العربی بیروت ۲/ ۴۲۵
القرآن الکریم ۱۶ /۱۰۶
فتاوٰی ہندیۃ باب المرتد نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۲۸۳
القرآن الکریم ۱۶ /۱۰۶
فتاوٰی ہندیۃ باب المرتد نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۲۸۳
من کفر باللسان وقلبہ مطمئن بالایمان فھو کافر وبلیس بمومن عنداﷲ تعالی ۔ جس نے زبان سے کفرکیا حالانکہ دل ایمان پر تھا تو وہ کافر ہے اور وہ اﷲ تعالی کے ہاں بھی مومن نہیں۔(ت)
جواہر الاخلاطی اور مجمع الانہر میں ہے:
من کفر بلسانہ طائعا وقلبہ مطمئن بالایمان کان کافرا عندنا وعنداﷲ تعالی ۔ جس نے زبان سے حالت خوشی میں کفر کااظہا ر کیا حالانکہ اس کا دل ایمان پر تھا تو وہ کافر اور اﷲ تعالی کے ہاں بھی مومن نہیں۔(ت)
شرح فقہ اکبر میں ہے:
اللسان ترجمان الجنان فیکون دلیل التصدیق وجودا وعدما فاذا بدلہ بغیرہ فی وقت یکون متمکنا من اظہارہ کان کافر اوامااذا زال تمکنہ من الاظہار بالاکراہ لم یصر کافرا ۔ زبان دل کی ترجمان ہے تو یہ دل کی تصدیق یا عدم تصدیق پر دلیل ہوگی تو جب وہ اظہار ایمان پر قدرت کے باوجود عدم تصدیق کااظہار کرتاہے تو وہ کافر ہوگیا البتہ جب کسی جبر کی وجہ سے قدرت اظہار پر نہ ہو تو اب کافر نہ ہوگا۔(ت)
طریقہ محمدیہ وحدیقہ ندیہ میں ہے:
حکمہ ای التکلم بکلمۃ الکفر ان کان طوعا ای لم یکرھہ احد من غیر سبق لسان الیہاحباط العمل و انفساخ النکاح ۔ اگر کلمہ کفر کا تکلم خوشی سے ہے یعنی کسی چیز کا اکراہ و جبر نہیں جبکہ سبقت لسانی نہ ہوتو اس کا حکم یہ ہے کہ عمل ضائع اور نکاح ختم ہوجائے گا۔(ت)
یہ شرح ہے میرے ان الفاظ کیکہئے اس میں کون سی ان کے لئے مفرہےہاں اﷲ مجھے معاف کرے اتنا قصور ضرور ہواکہ لہجہ نرم تھا جس کے سبب گنجائش کا وہم گزرا وہ بے عقل یہاں سے سبق لیں جو سختی سختی پکارتے ہیں زمانہ کی حالت یہ ہے کہ ذرا نرم لفظوں کا نتیجہ یہ ہوتا ہےایك بات اور بھی قابل گزارش ہے کہ حدیث
جواہر الاخلاطی اور مجمع الانہر میں ہے:
من کفر بلسانہ طائعا وقلبہ مطمئن بالایمان کان کافرا عندنا وعنداﷲ تعالی ۔ جس نے زبان سے حالت خوشی میں کفر کااظہا ر کیا حالانکہ اس کا دل ایمان پر تھا تو وہ کافر اور اﷲ تعالی کے ہاں بھی مومن نہیں۔(ت)
شرح فقہ اکبر میں ہے:
اللسان ترجمان الجنان فیکون دلیل التصدیق وجودا وعدما فاذا بدلہ بغیرہ فی وقت یکون متمکنا من اظہارہ کان کافر اوامااذا زال تمکنہ من الاظہار بالاکراہ لم یصر کافرا ۔ زبان دل کی ترجمان ہے تو یہ دل کی تصدیق یا عدم تصدیق پر دلیل ہوگی تو جب وہ اظہار ایمان پر قدرت کے باوجود عدم تصدیق کااظہار کرتاہے تو وہ کافر ہوگیا البتہ جب کسی جبر کی وجہ سے قدرت اظہار پر نہ ہو تو اب کافر نہ ہوگا۔(ت)
طریقہ محمدیہ وحدیقہ ندیہ میں ہے:
حکمہ ای التکلم بکلمۃ الکفر ان کان طوعا ای لم یکرھہ احد من غیر سبق لسان الیہاحباط العمل و انفساخ النکاح ۔ اگر کلمہ کفر کا تکلم خوشی سے ہے یعنی کسی چیز کا اکراہ و جبر نہیں جبکہ سبقت لسانی نہ ہوتو اس کا حکم یہ ہے کہ عمل ضائع اور نکاح ختم ہوجائے گا۔(ت)
یہ شرح ہے میرے ان الفاظ کیکہئے اس میں کون سی ان کے لئے مفرہےہاں اﷲ مجھے معاف کرے اتنا قصور ضرور ہواکہ لہجہ نرم تھا جس کے سبب گنجائش کا وہم گزرا وہ بے عقل یہاں سے سبق لیں جو سختی سختی پکارتے ہیں زمانہ کی حالت یہ ہے کہ ذرا نرم لفظوں کا نتیجہ یہ ہوتا ہےایك بات اور بھی قابل گزارش ہے کہ حدیث
حوالہ / References
حاوی
مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر باب المرتد داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۶۸۸
منح الروض الازہر شرح الفقہ الاکبر با ب الایمان ھو الاقرار والتصدیق مصطفی البابی مصر ص۸۶
الحدیقۃ الندیۃ باب کلمۃ الکفر مکتبہ نوریہ رضویہ لائلپور ۲/ ۹۸۔۱۹۷
مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر باب المرتد داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۶۸۸
منح الروض الازہر شرح الفقہ الاکبر با ب الایمان ھو الاقرار والتصدیق مصطفی البابی مصر ص۸۶
الحدیقۃ الندیۃ باب کلمۃ الکفر مکتبہ نوریہ رضویہ لائلپور ۲/ ۹۸۔۱۹۷
میں ارشاد فرمایا:
اذ اعملت سیئۃ فاحدث عندھا توبۃ السربالسرو العلانیۃ بالعلانیۃ رواہ الطبرانی فی الکبیر عن معاذ بن جبل رضی اﷲ تعالی عنہ ۔ اگر کوئی برائی کر بیٹھو تو اس سے توبہ کرومخفی گناہ پر مخفی اور اعلانیہ گناہ پر اعلانیہ توبہ کرو(امام طبرانی نے المعجم الکبیر میں اسے حضرت معاذ بن جبل رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا۔ ت)
بسند حسن علانیہ گناہ کی علانیہ توبہ کاحکم ہے اور انھوں نے اس کا یہاں تك اعلان کیا کہ اخبار میں شائع کرایااﷲ تعالی ہدایت دے۔والسلام
مسئلہ ۲۱۹: مرسلہ حضرت مولانا سید محمد میاں صاحب از مارہرہ شریف بروز یك شنبہ ۵ جمادی الاولی ۱۳۳۳ھ
مولانا المعظم والمکرم دام مجدھم پس از آداب سلام نیاز معروض ایك عورت کے منہ سے یہ کلام نکلا"اﷲ میاں کو خبر نہیں فرشتے آئے روح نکالنے کو"وہ کہتی ہے میں نے اس سے مراد یہ لیا تھا کہ اﷲ میاں نے حکم اور کی قبض روح کا دیا تھا یہ اور کی روح قبض کرنے کو غلطی سے آگئے یہ مراد نہیں لیا تھا کہ معاذاﷲ اﷲ میاں جاہل ہیں اس کی نسبت شرعی حکم کیاہے آیا یہ کلمہ اس مراد پر کیساہے بہرحال جو حکم ہو اس سے فورا مطلع فرمایاجاؤں جلد ضرورت ہے اس وجہ سے جوابی کا رڈ روانہ ہے۔
والسلام
الجواب:
حضرت گرامی دامت برکاتہم بعدادائے تسلیم معروض یہ لفظ بہرحال کلمہ کفر ہے بلکہ صریح کفر ہے اس کے صاف معنی نفی علم ہیں اور اس کا کفر خالص ہونا ظاہر اور تاویل کہ اس نے بیان کی وہ ان لفظوں سے علاقہ نہیں رکھتی وہ بھی یونہی بنے گی کہ جس کی روح قبض کرنے آئے اس کاحکم تو تھا یہ اپنی غلطی سے دوسرے کے پاس گئے جس کی اسے خبر نہیں تو اب دوہرا کفر ہوگیا۔ ایك نفی علم مولی عزوجل دوسرا ملائك کی طرف براہ غلط خلاف حکم کرنے کی نسبت اور اگر بالفرض اس سے قطع نظر بھی ہو تو اس دوم کا تو وہ خود اپنی تاویل میں اقرار کرتی ہے یہ کیا کفر نہیں۔
قال اﷲ تعالی" ویفعلون ما یؤمرون﴿۵۰﴾ " ۔ اﷲ تعالی نے فرمایا اور وہ وہی کرتے ہیں جو انہیں
اذ اعملت سیئۃ فاحدث عندھا توبۃ السربالسرو العلانیۃ بالعلانیۃ رواہ الطبرانی فی الکبیر عن معاذ بن جبل رضی اﷲ تعالی عنہ ۔ اگر کوئی برائی کر بیٹھو تو اس سے توبہ کرومخفی گناہ پر مخفی اور اعلانیہ گناہ پر اعلانیہ توبہ کرو(امام طبرانی نے المعجم الکبیر میں اسے حضرت معاذ بن جبل رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا۔ ت)
بسند حسن علانیہ گناہ کی علانیہ توبہ کاحکم ہے اور انھوں نے اس کا یہاں تك اعلان کیا کہ اخبار میں شائع کرایااﷲ تعالی ہدایت دے۔والسلام
مسئلہ ۲۱۹: مرسلہ حضرت مولانا سید محمد میاں صاحب از مارہرہ شریف بروز یك شنبہ ۵ جمادی الاولی ۱۳۳۳ھ
مولانا المعظم والمکرم دام مجدھم پس از آداب سلام نیاز معروض ایك عورت کے منہ سے یہ کلام نکلا"اﷲ میاں کو خبر نہیں فرشتے آئے روح نکالنے کو"وہ کہتی ہے میں نے اس سے مراد یہ لیا تھا کہ اﷲ میاں نے حکم اور کی قبض روح کا دیا تھا یہ اور کی روح قبض کرنے کو غلطی سے آگئے یہ مراد نہیں لیا تھا کہ معاذاﷲ اﷲ میاں جاہل ہیں اس کی نسبت شرعی حکم کیاہے آیا یہ کلمہ اس مراد پر کیساہے بہرحال جو حکم ہو اس سے فورا مطلع فرمایاجاؤں جلد ضرورت ہے اس وجہ سے جوابی کا رڈ روانہ ہے۔
والسلام
الجواب:
حضرت گرامی دامت برکاتہم بعدادائے تسلیم معروض یہ لفظ بہرحال کلمہ کفر ہے بلکہ صریح کفر ہے اس کے صاف معنی نفی علم ہیں اور اس کا کفر خالص ہونا ظاہر اور تاویل کہ اس نے بیان کی وہ ان لفظوں سے علاقہ نہیں رکھتی وہ بھی یونہی بنے گی کہ جس کی روح قبض کرنے آئے اس کاحکم تو تھا یہ اپنی غلطی سے دوسرے کے پاس گئے جس کی اسے خبر نہیں تو اب دوہرا کفر ہوگیا۔ ایك نفی علم مولی عزوجل دوسرا ملائك کی طرف براہ غلط خلاف حکم کرنے کی نسبت اور اگر بالفرض اس سے قطع نظر بھی ہو تو اس دوم کا تو وہ خود اپنی تاویل میں اقرار کرتی ہے یہ کیا کفر نہیں۔
قال اﷲ تعالی" ویفعلون ما یؤمرون﴿۵۰﴾ " ۔ اﷲ تعالی نے فرمایا اور وہ وہی کرتے ہیں جو انہیں
حوالہ / References
المعجم الکبیر حدیث ۳۳۱ مکتبۃ الفیصلیہ بیروت ۲۰/ ۱۵۹،کنز العمال حدیث ۱۵۱۸۰ موسسۃ الرسالہ بیروت ۴/ ۲۰۹
القرآن الکریم ۱۶ /۵۰
القرآن الکریم ۱۶ /۵۰
قال تعالی" لایسبقونہ بالقول وہم بامرہ یعملون ﴿۲۷﴾ " ۔ حکم ہواور اﷲ تعالی نے فرمایا بات میں ا سے سبقت نہیں کرتے اور وہ اس کے حکم پر کاربند ہوتے ہیں۔ (ت)
فرض ہے کہ تائب ہوکر اسلام لائے اگر شوہر رکھتی ہے تجدید نکاح کرے۔و اﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۲۰: ۲۵ ذوالقعدہ ۱۳۳۳ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین شرع متین اس مسئلے کے بارے میں زاہد کی لڑکی نے زاہد کے پاس چند روپیہ امانۃ رکھا چند روز کے بعد وقت ضرورت طلب کیا زاہد نے انکار کیا تم کو روپیہ نہیں دوں گا بےچاری مجبورہوکر مولوی صاحب کے پاس سفارش کو گئی مولوی صاحب سے سفارش کیا مولوی صاحب نے آکر زاہد کو فرمایا لڑکی کا روپیہ ادا کردو زاہد نے کہا آپ کی بات نہیں سنوں گا خداکہے جب بھی نہیں سنوں گا اس شخص پر کیا حکم ہے بینوا توجروا
الجواب:
زاہد نئے سرے سے اسلام لائے توبہ کرے کلمہ طیبہ پڑھے بعد تجدید اسلام تجدید نکاح کرے۔ واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۲۱: از بنارس چھاؤنی محلہ ڈیٹھوری محل تھانہ سکرور مولوی عبدالوہاب بروز چہارشنبہ ۲۱ صفر ۱۳۳۴ھ
یہ کہ یزید کی نسبت لفظ یزید پلید کالکھنا یا کہنا ازروئے شرع شریف جائز ہے یا نہیں یزید کی نسبت رحمۃ اﷲ علیہ کہنا درست ہے یانہیں فقط
الجواب:
یزیدبیشك پلید تھا اسے پلید کہنا اور لکھناجائزہے اور اسے رحمۃ اﷲ تعالی علیہ نہ کہے گامگر ناصبی کہ اہل بیت رسالت کا دشمن ہے والعیا ذ باﷲ تعالی
مسئلہ۲۲۲: از برٹش گائنا ڈمرا راپترس ہال ونچ ایسٹ بنك مسئولہ عبدالغفور ۲۴ صفر المظفر ۱۳۳۴ھ
اور جس نے کہا کہ تم لوگ سب یزید ہو اور وہ لوگ مسلمان ہیں تو اس کلمہ پر کیا
فرض ہے کہ تائب ہوکر اسلام لائے اگر شوہر رکھتی ہے تجدید نکاح کرے۔و اﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۲۰: ۲۵ ذوالقعدہ ۱۳۳۳ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین شرع متین اس مسئلے کے بارے میں زاہد کی لڑکی نے زاہد کے پاس چند روپیہ امانۃ رکھا چند روز کے بعد وقت ضرورت طلب کیا زاہد نے انکار کیا تم کو روپیہ نہیں دوں گا بےچاری مجبورہوکر مولوی صاحب کے پاس سفارش کو گئی مولوی صاحب سے سفارش کیا مولوی صاحب نے آکر زاہد کو فرمایا لڑکی کا روپیہ ادا کردو زاہد نے کہا آپ کی بات نہیں سنوں گا خداکہے جب بھی نہیں سنوں گا اس شخص پر کیا حکم ہے بینوا توجروا
الجواب:
زاہد نئے سرے سے اسلام لائے توبہ کرے کلمہ طیبہ پڑھے بعد تجدید اسلام تجدید نکاح کرے۔ واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۲۱: از بنارس چھاؤنی محلہ ڈیٹھوری محل تھانہ سکرور مولوی عبدالوہاب بروز چہارشنبہ ۲۱ صفر ۱۳۳۴ھ
یہ کہ یزید کی نسبت لفظ یزید پلید کالکھنا یا کہنا ازروئے شرع شریف جائز ہے یا نہیں یزید کی نسبت رحمۃ اﷲ علیہ کہنا درست ہے یانہیں فقط
الجواب:
یزیدبیشك پلید تھا اسے پلید کہنا اور لکھناجائزہے اور اسے رحمۃ اﷲ تعالی علیہ نہ کہے گامگر ناصبی کہ اہل بیت رسالت کا دشمن ہے والعیا ذ باﷲ تعالی
مسئلہ۲۲۲: از برٹش گائنا ڈمرا راپترس ہال ونچ ایسٹ بنك مسئولہ عبدالغفور ۲۴ صفر المظفر ۱۳۳۴ھ
اور جس نے کہا کہ تم لوگ سب یزید ہو اور وہ لوگ مسلمان ہیں تو اس کلمہ پر کیا
حوالہ / References
القرآن الکریم ۲۱ /۲۷
حکم ہے فقط
الجواب:
اگر بلاوجہ شرعی کہا سخت گنہ گار ہوا
قال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم من اذی مسلما فقد اذانی ومن اذانی فقد اذی اﷲ ۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:جس نے کسی مسلمان کو ایذا دی اس نے مجھ کو ایذا دی اور جس نے مجھے ایذا دی اس نے اﷲ کو ایذا دی۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۲۳: مسئولہ نبن خان ملازم اعلیحضرت قبلہ ۲۰ ربیع الاول شریف ۱۳۳۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگر کوئی شخص امور شرعی کی بابت یہ الفاظ کہے کہ شرع کیا چیز ہے۔آج کل شرع پر کون عمل کرتاہےیہ شرع بھی ایك بحث نکال رکھی ہے وہ شخص عندالشرع کیساہے بینوا توجروا
الجواب:
اگر اس نے واقعی طورپریہ الفاظ کہے تو کافر ہوگیا اور اگر لوگوں پر طعن کے طورپر کہا یعنی آج کل لوگوں نے شرع کو ایسا سمجھ رکھا ہے تو سخت گنہ گا ر ہوا کہ عام کہا اور لفظ بھی معنی کفر کو موہم ہیںواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۲۴: از کراچی بندرگاڑی کھاتہ آرام باغ حجرہ اسلامیہ مولوی احمد صدیق نقشبندی ۲۶ ربیع الاول ۱۳۳۴ھ
زید نے ایك کتاب تصنیف کی ہے جس کے شروع میں عربی عبارت میں اس طرح لکھا ہے:بسم اﷲ الرحمن الرحیم الھنا محمد وھو معبود جل شانہ وعزبرہانہ ورسولنا محمد و ھو محمود صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔ان الفاظ کی کوئی تاویل ہوسکتی ہے یانہیں اگر نہیں تو ایسے لکھنے والے پر شرعا کیا حکم ہے اور اس سے میل جول رکھنا اور اس کے پیچھے نماز پڑھنا اور ایسے اعتقاد والے سے نکاح وغیرہ پڑھوانا شرعا کیسا ہے بینوا توجروا۔جواب مع عبارات تحریر فرمائیں۔
الجواب:
ہمارے ائمہ نے حکم دیا ہے کہ اگر کسی کلام میں ننانوے احتمال کفر کے ہوں اور ایك اسلام کا تو
الجواب:
اگر بلاوجہ شرعی کہا سخت گنہ گار ہوا
قال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم من اذی مسلما فقد اذانی ومن اذانی فقد اذی اﷲ ۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:جس نے کسی مسلمان کو ایذا دی اس نے مجھ کو ایذا دی اور جس نے مجھے ایذا دی اس نے اﷲ کو ایذا دی۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۲۳: مسئولہ نبن خان ملازم اعلیحضرت قبلہ ۲۰ ربیع الاول شریف ۱۳۳۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگر کوئی شخص امور شرعی کی بابت یہ الفاظ کہے کہ شرع کیا چیز ہے۔آج کل شرع پر کون عمل کرتاہےیہ شرع بھی ایك بحث نکال رکھی ہے وہ شخص عندالشرع کیساہے بینوا توجروا
الجواب:
اگر اس نے واقعی طورپریہ الفاظ کہے تو کافر ہوگیا اور اگر لوگوں پر طعن کے طورپر کہا یعنی آج کل لوگوں نے شرع کو ایسا سمجھ رکھا ہے تو سخت گنہ گا ر ہوا کہ عام کہا اور لفظ بھی معنی کفر کو موہم ہیںواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۲۴: از کراچی بندرگاڑی کھاتہ آرام باغ حجرہ اسلامیہ مولوی احمد صدیق نقشبندی ۲۶ ربیع الاول ۱۳۳۴ھ
زید نے ایك کتاب تصنیف کی ہے جس کے شروع میں عربی عبارت میں اس طرح لکھا ہے:بسم اﷲ الرحمن الرحیم الھنا محمد وھو معبود جل شانہ وعزبرہانہ ورسولنا محمد و ھو محمود صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔ان الفاظ کی کوئی تاویل ہوسکتی ہے یانہیں اگر نہیں تو ایسے لکھنے والے پر شرعا کیا حکم ہے اور اس سے میل جول رکھنا اور اس کے پیچھے نماز پڑھنا اور ایسے اعتقاد والے سے نکاح وغیرہ پڑھوانا شرعا کیسا ہے بینوا توجروا۔جواب مع عبارات تحریر فرمائیں۔
الجواب:
ہمارے ائمہ نے حکم دیا ہے کہ اگر کسی کلام میں ننانوے احتمال کفر کے ہوں اور ایك اسلام کا تو
حوالہ / References
المعجم الاوسط حدیث ۳۶۳۲ مکتبۃ المعارف الریاض ۴/ ۳۷۳
واجب ہے کہ احتمال اسلام پر کلام محمول کیا جائے جب تك اس کا خلاف ثابت نہ ہوپہلے جملہ میں محمد بفتح میم کیوں پڑھا جائے محمد بکسر میم کہا جائے یعنی حضور سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم محمد ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم باربار بکثرت حمدوثنا کئے گئےاور ان کار ب عزوجل ان کا محمد ہے بار بار بکثرت ان کی مدح وتعریف فرمانے والااب یہ معنی صحیح ہوگئے اور لفظ بالکل کفر سے نکل گیا اور اگر بفتح میم ہی پڑھیں اور معنی لغوی مراد ہیں یعنی ہمارا رب بکثرت حمد کیا گیاہے جب بھی عنداﷲ کفر نہ ہوگا مگر اب صرف نیت کا فرق ہوگا بہرحال ناجائز ہونے میں شبہہ نہیں۔ ردالمحتارمیں ہے:
مجرد ایھام المعنی المحال کاف فی المنع ۔ محض معنی محال کا وہم بھی منع کے لئے کافی ہوتاہے۔(ت)
مصنف کو توبہ چاہئے اور اسے متنبہ کیا جائے اس سے زیادہ کی ضرورت نہیں مگریہ کہ کوئی حالت خاصہ داعی ہوواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۲۵: مسئولہ معین الدین احمد میمن سنگھی بنگال پوسٹ نیکلا ساکن جیگاتلہ ۲۷ ربیع الاول ۱۳۳۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ اگر کسی شخص نے غضبناك ہوکر علماء کی توہین اور حقارت کرے اورکہے کہ عالم لوگوں نے دیس خراب کردیا ہے حالانکہ ا س جلسہ وگفتگو میں بہت سارے عوام الناس اور ایك مولوی صاحب بھی موجود تھے تو مولوی صاحب نے شخص مذکور سے دریافت کیا کہ تم نے خرابی کی نسبت تمام علماء کی طرف کی ہے یہ تم ایمان کے ساتھ کہتے ہو تو شخص مذکور نے جواب دیا کہ عالم لوگوں نے دیس خراب کردیاپھر مولوی صاحب نے دریافت کیا کہ یہ بات تم ایمان کے ساتھ کہتے ہو تو اس شخص مسطور نے جواب دیا کہ میں ایمان کے ساتھ کہتاہوں اور یہی شخص کہتاہے کہ اس عالم نے مسئلہ ہذا کو جاری کیااس لئے کچھ نہیں کہا یہ عالم میری خواہر کا خاوند ہے اگر دوسرا کوئی عالم مسئلہ جاری کرتا تو سلامت جانے نہ دیتا اور کوئی ایسا ہی لفظ تشنیع کا کہے تو ایسی باتوں سے نکاح جاتا رہتاہے یانہیں بحوالہ کتب معتبرہ کے تحریر فرما دیں عنداﷲ ماجور ہوں گے۔
الجواب:
علمائے دین کی توہین کفرہے۔ مجمع الانہر میں ہے:
من قال لعالم عویلم علی وجہ جس نے بے ادبی کرتے ہوئے عالم کو عویلم کہا
مجرد ایھام المعنی المحال کاف فی المنع ۔ محض معنی محال کا وہم بھی منع کے لئے کافی ہوتاہے۔(ت)
مصنف کو توبہ چاہئے اور اسے متنبہ کیا جائے اس سے زیادہ کی ضرورت نہیں مگریہ کہ کوئی حالت خاصہ داعی ہوواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۲۵: مسئولہ معین الدین احمد میمن سنگھی بنگال پوسٹ نیکلا ساکن جیگاتلہ ۲۷ ربیع الاول ۱۳۳۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ اگر کسی شخص نے غضبناك ہوکر علماء کی توہین اور حقارت کرے اورکہے کہ عالم لوگوں نے دیس خراب کردیا ہے حالانکہ ا س جلسہ وگفتگو میں بہت سارے عوام الناس اور ایك مولوی صاحب بھی موجود تھے تو مولوی صاحب نے شخص مذکور سے دریافت کیا کہ تم نے خرابی کی نسبت تمام علماء کی طرف کی ہے یہ تم ایمان کے ساتھ کہتے ہو تو شخص مذکور نے جواب دیا کہ عالم لوگوں نے دیس خراب کردیاپھر مولوی صاحب نے دریافت کیا کہ یہ بات تم ایمان کے ساتھ کہتے ہو تو اس شخص مسطور نے جواب دیا کہ میں ایمان کے ساتھ کہتاہوں اور یہی شخص کہتاہے کہ اس عالم نے مسئلہ ہذا کو جاری کیااس لئے کچھ نہیں کہا یہ عالم میری خواہر کا خاوند ہے اگر دوسرا کوئی عالم مسئلہ جاری کرتا تو سلامت جانے نہ دیتا اور کوئی ایسا ہی لفظ تشنیع کا کہے تو ایسی باتوں سے نکاح جاتا رہتاہے یانہیں بحوالہ کتب معتبرہ کے تحریر فرما دیں عنداﷲ ماجور ہوں گے۔
الجواب:
علمائے دین کی توہین کفرہے۔ مجمع الانہر میں ہے:
من قال لعالم عویلم علی وجہ جس نے بے ادبی کرتے ہوئے عالم کو عویلم کہا
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الحظر فصل فی البیع داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۲۵۳
الاستخفاف فقد کفر ۔ اس نے کفر کیا۔(ت)
اس شخص پر تجدید اسلام لازم ہے اور اس کے بعد اپنی عورت سے نکاح جدید کرے۔واﷲ تعالی ااعلم۔
مسئلہ ۲۲۶ تا ۲۲۹:از لکھنؤ احاطہ فقیر محمد خاں متصل دکان ظہور بخش ہیزم فروش مسئولہ حضرت محمد میاں صاحب ۲۸ ربیع الآخر ۱۳۳۴ھ
(۱)ایك مسلم جو نماز خلاف معمول بہت جلدی سے پڑھ لیتا تھا اس کو زجرا ایك اور مسلم نے کہا کیا تو نے نماز کو کھیل سمجھ رکھا ہےاس پر ایك دوسرے نے کہا اورکیا بظاہر اس نے بھی زجرا کہا اس کے لئے کیاحکم ہے
(۲)بعض لوگ لاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم پورا نہیں پڑھتے بلکہ عندالحاجت جب پڑھتے ہیں صرف لاحول یا لاحول ولاقوۃ الاباﷲ پر بے وجہ اقتصار کرتے ہیں اگرچہ سخت قبیح وشنیع ہے مگر اس میں کفر تو کسی طرح کا بھی نہیں یا کیا اس پورے جملہ کا علم صر ف جز ومدخول نفی مقرر کرنا کہنا کیساہے
(۳)نصاری وغیرہ کی کچہریوں اور ان حکام آج کل کے زمانہ والوں کو عدالت یا عادل کہنا اگر چہ سخت ہے اور فقہاء نے حکم کفر تك فرمایا اس سے احتراز ضرور ہے مگر بات دریافت طلب یہ ہے کہ آیا یہ حکم کفر مسئلہ مفتی بہا ہے کہ ا یسا استعمال کرنے والے کافر ہوجائیں اور اگر ہے تو کیا قطعی کفر ان پر عائد ہے اورقطعی بھی ایسا کہ جو دوسرا کافر نہ سمجھے اس کے بھی ایمان میں خلل آئے۔
(۴)کاتب جو اجرت پر کتابت کرے اور ا س کتابت میں امر مخالف دین ہو اور اجرت پر چھاپنے شائع کرنے والے اسے شائع کریں یا کوئی شخص بے اجرت محض مروت سے ایسا کرے تو اس کا کیاحکم ہے یا کوئی شخص صفائی خط کے لئے کوئی قطعہ وغیرہ لکھے اور اس میں ایسے کلمات بھی نقل کرجائے یا ان سب صورتوں میں زبان سے پڑھے تو کیاحکم ہے
الجواب:
(۱)"اورکیا"کہنے والے پر الزام نہیں جب کہ اسے بھی اس سارق نماز پر زجر مقصود ہو۔
(۲)عندالحاجۃ صرف لاحول ولا قوۃ یا لاحول پر اقتصار قبیح ہے کفر سے کوئی علاقہ نہیں کہ
اس شخص پر تجدید اسلام لازم ہے اور اس کے بعد اپنی عورت سے نکاح جدید کرے۔واﷲ تعالی ااعلم۔
مسئلہ ۲۲۶ تا ۲۲۹:از لکھنؤ احاطہ فقیر محمد خاں متصل دکان ظہور بخش ہیزم فروش مسئولہ حضرت محمد میاں صاحب ۲۸ ربیع الآخر ۱۳۳۴ھ
(۱)ایك مسلم جو نماز خلاف معمول بہت جلدی سے پڑھ لیتا تھا اس کو زجرا ایك اور مسلم نے کہا کیا تو نے نماز کو کھیل سمجھ رکھا ہےاس پر ایك دوسرے نے کہا اورکیا بظاہر اس نے بھی زجرا کہا اس کے لئے کیاحکم ہے
(۲)بعض لوگ لاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم پورا نہیں پڑھتے بلکہ عندالحاجت جب پڑھتے ہیں صرف لاحول یا لاحول ولاقوۃ الاباﷲ پر بے وجہ اقتصار کرتے ہیں اگرچہ سخت قبیح وشنیع ہے مگر اس میں کفر تو کسی طرح کا بھی نہیں یا کیا اس پورے جملہ کا علم صر ف جز ومدخول نفی مقرر کرنا کہنا کیساہے
(۳)نصاری وغیرہ کی کچہریوں اور ان حکام آج کل کے زمانہ والوں کو عدالت یا عادل کہنا اگر چہ سخت ہے اور فقہاء نے حکم کفر تك فرمایا اس سے احتراز ضرور ہے مگر بات دریافت طلب یہ ہے کہ آیا یہ حکم کفر مسئلہ مفتی بہا ہے کہ ا یسا استعمال کرنے والے کافر ہوجائیں اور اگر ہے تو کیا قطعی کفر ان پر عائد ہے اورقطعی بھی ایسا کہ جو دوسرا کافر نہ سمجھے اس کے بھی ایمان میں خلل آئے۔
(۴)کاتب جو اجرت پر کتابت کرے اور ا س کتابت میں امر مخالف دین ہو اور اجرت پر چھاپنے شائع کرنے والے اسے شائع کریں یا کوئی شخص بے اجرت محض مروت سے ایسا کرے تو اس کا کیاحکم ہے یا کوئی شخص صفائی خط کے لئے کوئی قطعہ وغیرہ لکھے اور اس میں ایسے کلمات بھی نقل کرجائے یا ان سب صورتوں میں زبان سے پڑھے تو کیاحکم ہے
الجواب:
(۱)"اورکیا"کہنے والے پر الزام نہیں جب کہ اسے بھی اس سارق نماز پر زجر مقصود ہو۔
(۲)عندالحاجۃ صرف لاحول ولا قوۃ یا لاحول پر اقتصار قبیح ہے کفر سے کوئی علاقہ نہیں کہ
حوالہ / References
مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر الفصل الرابع فی الاستخفاف بالعلم داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۶۹۵
اپنے حول وقوت کی نفی کےلئے ہے علی ہذا صرف لاحول کہنا حرج نہیں رکھتا۔
(۳)عدالت بطور علم رائج ہے معنی وضعی مقصود نہیں ہوتے لہذا تکفیر ناممکنالبتہ عادل کہنا ضرور کلمہ کفرہے مگر یہ محض بروجہ خوشامد ہوتا ہے لہذا تجدید اسلام ونکاح کافیہاں خلاف ماانزل کو اعتقادا عدل جانے تو قطعا وہی کفر ہے کہ من شك فی کفرہ فقد کفر (جس نے اس کے کفر میں شك کیا وہ بھی کافرہے۔ت)
(۴)القلم احد اللسانین(قلم بھی ایك زبان ہے۔ت)جو زبان سے کہے پراحکام ہیںوہی قلم پراور ایسی اجرت حراماس کی اشاعت حراماورایسی مروت فی الناراعتقادا نہ ہو تو کفر نہیں۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۳۰: مسئولہ مرزا محمد عثمان بیگ ازموضع شہباز پور ڈاکخانہ محمود پور ضلع بریلی ۴ جمادی الاول ۱۳۳۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك مسلمان شخص نے اپنی زبان سے قصدا کہا کہ میں خدا ورسول کو نہیں جانتا ہوں کہ کون ہیں اور نہ مسجد کوجانتاہوں کہ کیا چیز ہےاو روہ شخص عمر کا بھی بالغ ہےپس اس شخص کو کیا کہنا چاہئے اوراس کانکاح قائم رہا یا نہیں اور اس کے ہاتھ کا ذبیحہ درست ہے یانہیں
الجواب:
سائل نے پوری بات نہ لکھی کہ کیا گفتگو تھی جس پر اس نے یہ کہااگر یہ کلمات بطور تحقیر کہے ہیں تو یقینا کافر ومرتد ہےعورت اس نکاح سے نکل گئی اوراس کے ہاتھ کا ذبیحہ حراماور اگر اپنی حالت پر افسوس اور اپنے جہل کے بیان کے لئے کہا کہ میں ایسا جاہل کہ نہ خدا کی پہچان نہ رسول کی معرفت نہ مسجد ہی کی کوئی قدرشناسی مجھے ہوتی ہے تو اس پر الزام نہیں سوا اس کے کہ طرز ادا اچھی نہیں۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۲۳۱:رحمت علی خادم درگاہ شاہ دانہ بتوسط مولوی نظام الدین یکے از طلباء مدرسہ اہلسنت بریلی محلہ سوداگران ۸ جمادی الاول ۱۳۳۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ بہت سے اشخاص نعت شریف پڑھتے ہوئے شاہ دانہ علیہ الرحمۃ کے مزار کی طرف آتے تھے اور ان کے ہمراہ چادر تھی کہ چند اشخاص نے کہا کہ
(۳)عدالت بطور علم رائج ہے معنی وضعی مقصود نہیں ہوتے لہذا تکفیر ناممکنالبتہ عادل کہنا ضرور کلمہ کفرہے مگر یہ محض بروجہ خوشامد ہوتا ہے لہذا تجدید اسلام ونکاح کافیہاں خلاف ماانزل کو اعتقادا عدل جانے تو قطعا وہی کفر ہے کہ من شك فی کفرہ فقد کفر (جس نے اس کے کفر میں شك کیا وہ بھی کافرہے۔ت)
(۴)القلم احد اللسانین(قلم بھی ایك زبان ہے۔ت)جو زبان سے کہے پراحکام ہیںوہی قلم پراور ایسی اجرت حراماس کی اشاعت حراماورایسی مروت فی الناراعتقادا نہ ہو تو کفر نہیں۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۳۰: مسئولہ مرزا محمد عثمان بیگ ازموضع شہباز پور ڈاکخانہ محمود پور ضلع بریلی ۴ جمادی الاول ۱۳۳۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك مسلمان شخص نے اپنی زبان سے قصدا کہا کہ میں خدا ورسول کو نہیں جانتا ہوں کہ کون ہیں اور نہ مسجد کوجانتاہوں کہ کیا چیز ہےاو روہ شخص عمر کا بھی بالغ ہےپس اس شخص کو کیا کہنا چاہئے اوراس کانکاح قائم رہا یا نہیں اور اس کے ہاتھ کا ذبیحہ درست ہے یانہیں
الجواب:
سائل نے پوری بات نہ لکھی کہ کیا گفتگو تھی جس پر اس نے یہ کہااگر یہ کلمات بطور تحقیر کہے ہیں تو یقینا کافر ومرتد ہےعورت اس نکاح سے نکل گئی اوراس کے ہاتھ کا ذبیحہ حراماور اگر اپنی حالت پر افسوس اور اپنے جہل کے بیان کے لئے کہا کہ میں ایسا جاہل کہ نہ خدا کی پہچان نہ رسول کی معرفت نہ مسجد ہی کی کوئی قدرشناسی مجھے ہوتی ہے تو اس پر الزام نہیں سوا اس کے کہ طرز ادا اچھی نہیں۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۲۳۱:رحمت علی خادم درگاہ شاہ دانہ بتوسط مولوی نظام الدین یکے از طلباء مدرسہ اہلسنت بریلی محلہ سوداگران ۸ جمادی الاول ۱۳۳۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ بہت سے اشخاص نعت شریف پڑھتے ہوئے شاہ دانہ علیہ الرحمۃ کے مزار کی طرف آتے تھے اور ان کے ہمراہ چادر تھی کہ چند اشخاص نے کہا کہ
حوالہ / References
درمختار باب المرتد مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۵۶
بیٹی چودوں نے چوپٹی سی مقرر کرلی ہے جو لئے پھرتے ہیں پس جن اشخاص نے یہ کلمہ کہا ہے ان پر شرع شریف میں کیاحکم ہے اوران کو توبہ کرنا کس طرح پر چاہئے فقط
الجواب:
جس جس نے یہ ناپاك کلمہ کہا سب سخت گناہ کبیرہ کے مرتکب ہوئے ان سب پرفرض ہے کہ علانیہ توبہ کریں جس طرح علانیہ یہ کہا ہے اور مسلمانوں سے معافی مانگیں ورنہ حق العبد میں گرفتار رہیں گےشریعت مطہرہ میں سلطنت اسلام کے یہاں ایسے کہنے والوں پر اسی اسی کوڑوں کی سزا کاحکم ہےپھر ہمیشہ کوان کی گواہی مردودواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۳۲: از نظام علی خاں ولدامام علی خاں پرگنہ سیوان ضلع بدایون بھوانی پورخیرو۱۰ جمادی الاولی ۱۳۳۴ھ
اس معمہ میں مسلمان ایك دوسرے کو کافر کہے تو شریعت اس کو کیا کہتی ہے
الجواب:
سوال صاف کرنا چاہئے معمہ میں کہنے کا کیا معنیبات پوری لکھی جائے تو جواب دیا جائےکیا کہا اور کسے کہا اور کس بنا پر کہا۔فقط
مسئلہ ۲۳۳:مرسلہ میرسید امجد علی سنی حنفی ساکن علاقہ گورکھالی وارد حال ضلع بہرائچ محلہ بڑی ہاٹ مکان مولوی ابومحمد
صاحب ۹جمادی الاولی ۱۳۳۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین کہ ایك مسلمان سنی حنفی مسمی گلزار خاں نے ایك عورت قوم مہتر سے تعلق ناجائز پیدا کرلیا عرصہ تك اس عورت کے مکان پر رہ کر اکل وشرب اس کے ساتھ کرتا رہاکچھ عرصہ بعد بوجہ تائید غیبی یا شرم دنیاوی عورت سے اس نے قطع تعلق کرکے پانے افعال سابقہ سے ایك مجمع عام میں تائب ہوگیاتائب ہونے کے بعد مسلمانان قرب وجوار نے مسمی گلزار کے ساتھ برابربلااکراہ مواکلت ومشاربت جاری کردیمتعدد لوگ ایسے ہیں جو گلزار اور اس کے ساتھ شریك مسلمانوں کو خارج از اسلام سمجھتے ہیں اور جہلا کو اپنا ہم خیال کرتے اور بیان کرتے کہ گلزار خاں کسی طرح مسلمان نہیں رہ سکتا اور توبہ کوئی چیزنہیں۔
الجواب:
یہ متعدد لوگ محض خطا وظم پرہیںمسلمان بھائی کی توبہ قبول کرنی واجب ہےاﷲ عزوجل خود اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتاہےقرآن عظیم میں ہے:
" و ہو الذی یقبل التوبۃ عن عبادہ و اﷲ ہے کہ اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا اور گناہوں
الجواب:
جس جس نے یہ ناپاك کلمہ کہا سب سخت گناہ کبیرہ کے مرتکب ہوئے ان سب پرفرض ہے کہ علانیہ توبہ کریں جس طرح علانیہ یہ کہا ہے اور مسلمانوں سے معافی مانگیں ورنہ حق العبد میں گرفتار رہیں گےشریعت مطہرہ میں سلطنت اسلام کے یہاں ایسے کہنے والوں پر اسی اسی کوڑوں کی سزا کاحکم ہےپھر ہمیشہ کوان کی گواہی مردودواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۳۲: از نظام علی خاں ولدامام علی خاں پرگنہ سیوان ضلع بدایون بھوانی پورخیرو۱۰ جمادی الاولی ۱۳۳۴ھ
اس معمہ میں مسلمان ایك دوسرے کو کافر کہے تو شریعت اس کو کیا کہتی ہے
الجواب:
سوال صاف کرنا چاہئے معمہ میں کہنے کا کیا معنیبات پوری لکھی جائے تو جواب دیا جائےکیا کہا اور کسے کہا اور کس بنا پر کہا۔فقط
مسئلہ ۲۳۳:مرسلہ میرسید امجد علی سنی حنفی ساکن علاقہ گورکھالی وارد حال ضلع بہرائچ محلہ بڑی ہاٹ مکان مولوی ابومحمد
صاحب ۹جمادی الاولی ۱۳۳۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین کہ ایك مسلمان سنی حنفی مسمی گلزار خاں نے ایك عورت قوم مہتر سے تعلق ناجائز پیدا کرلیا عرصہ تك اس عورت کے مکان پر رہ کر اکل وشرب اس کے ساتھ کرتا رہاکچھ عرصہ بعد بوجہ تائید غیبی یا شرم دنیاوی عورت سے اس نے قطع تعلق کرکے پانے افعال سابقہ سے ایك مجمع عام میں تائب ہوگیاتائب ہونے کے بعد مسلمانان قرب وجوار نے مسمی گلزار کے ساتھ برابربلااکراہ مواکلت ومشاربت جاری کردیمتعدد لوگ ایسے ہیں جو گلزار اور اس کے ساتھ شریك مسلمانوں کو خارج از اسلام سمجھتے ہیں اور جہلا کو اپنا ہم خیال کرتے اور بیان کرتے کہ گلزار خاں کسی طرح مسلمان نہیں رہ سکتا اور توبہ کوئی چیزنہیں۔
الجواب:
یہ متعدد لوگ محض خطا وظم پرہیںمسلمان بھائی کی توبہ قبول کرنی واجب ہےاﷲ عزوجل خود اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتاہےقرآن عظیم میں ہے:
" و ہو الذی یقبل التوبۃ عن عبادہ و اﷲ ہے کہ اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا اور گناہوں
یعفوا عن السیات" سے درگزر فرماتاہے۔
اور فرماتاہے:
" الم یعلموا ان اللہ ہو یقبل التوبۃ عن عبادہ" کیا انھیں خبر نہیں کہ اﷲ اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتاہے۔
حدیث شریف میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من اتاہ اخوۃ متنصلا فلیقبل ذلك منہ محقا کان او مبطلا فان لم یفعل لم یرد علی الحوض ۔رواہ الحاکم عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ۔ جس کے پاس اس کامسلمان بھائی معذرت کرتا ہو اآئے اس پر لازم ہے کہ اس کاعذر قبول کرے چاہے وہ حق پر ہو یا ناحق پر اگر عذر قبول نہ کرے گا تو روز قیامت حوض کوثر پر میرے حضور حاضر ہونا نصیب نہ ہوگا۔(اسے حکم نے حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا۔ت)
ان لوگوں کا کہناکہ توبہ کوئی چیز نہیں اگر اس سے خاص گلزار کی یہ توبہ مقصو د ہے یعنی اس نے دل سے توبہ نہیں کی تو مسلمان پر بدگمانی ہے اور وہ سخت حرام ہےاﷲ عزوجل فرماتاہے:
یایہا الذین امنوا اجتنبوا کثیرا من الظن۫ ان بعض الظن اثم" ۔ اے ایمان والو! بہت سے گمانوں سے بچو بیشك کچھ گمان گناہ ہیں۔
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ایاکم والظن فان الظن اکذب الحدیث ۔رواہ الائمۃ مالك والبخاری ومسلم وابوداؤد والترمذی عن ابی ہریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ۔ گمان سے دور رہو کہ گمان سب سے بڑھ کر جھوٹی بات ہے۔(اسے امام مالکبخاریمسلمابوداؤد اور ترمذی نے حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا۔ت)
اور فرماتاہے:
" الم یعلموا ان اللہ ہو یقبل التوبۃ عن عبادہ" کیا انھیں خبر نہیں کہ اﷲ اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتاہے۔
حدیث شریف میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من اتاہ اخوۃ متنصلا فلیقبل ذلك منہ محقا کان او مبطلا فان لم یفعل لم یرد علی الحوض ۔رواہ الحاکم عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ۔ جس کے پاس اس کامسلمان بھائی معذرت کرتا ہو اآئے اس پر لازم ہے کہ اس کاعذر قبول کرے چاہے وہ حق پر ہو یا ناحق پر اگر عذر قبول نہ کرے گا تو روز قیامت حوض کوثر پر میرے حضور حاضر ہونا نصیب نہ ہوگا۔(اسے حکم نے حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا۔ت)
ان لوگوں کا کہناکہ توبہ کوئی چیز نہیں اگر اس سے خاص گلزار کی یہ توبہ مقصو د ہے یعنی اس نے دل سے توبہ نہیں کی تو مسلمان پر بدگمانی ہے اور وہ سخت حرام ہےاﷲ عزوجل فرماتاہے:
یایہا الذین امنوا اجتنبوا کثیرا من الظن۫ ان بعض الظن اثم" ۔ اے ایمان والو! بہت سے گمانوں سے بچو بیشك کچھ گمان گناہ ہیں۔
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ایاکم والظن فان الظن اکذب الحدیث ۔رواہ الائمۃ مالك والبخاری ومسلم وابوداؤد والترمذی عن ابی ہریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ۔ گمان سے دور رہو کہ گمان سب سے بڑھ کر جھوٹی بات ہے۔(اسے امام مالکبخاریمسلمابوداؤد اور ترمذی نے حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا۔ت)
حوالہ / References
القرآن الکریم ۴۲ /۲۵
القرآن الکریم ۹ /۱۰۴
المستدرك للحاکم کتاب البروالصلۃ دارالفکر بیروت ۴/ ۱۵۴
القرآن الکریم ۴۹ /۱۲
صحیح البخاری کتاب الادب باب قولہ تعالٰی یاایہاالذین آمنوا اجتنبوا قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۸۹۶
القرآن الکریم ۹ /۱۰۴
المستدرك للحاکم کتاب البروالصلۃ دارالفکر بیروت ۴/ ۱۵۴
القرآن الکریم ۴۹ /۱۲
صحیح البخاری کتاب الادب باب قولہ تعالٰی یاایہاالذین آمنوا اجتنبوا قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۸۹۶
اور اگر یہ مراد ہو کہ سرے سے توبہ کوئی چیز نہیں تو معاذاﷲ صریح کفر ہے نیزگلزار اور اس کے شریك مسلمانوں کو اسلام سے خارج سمجھنا کافرانہ خیال ہے اور یہ کہنا کہ گلزار خاں کسی طرح مسلمان نہیں ہوسکتا اﷲ عزوجل وشرع مطہر پرافتراء ہے ان لوگوں پرفرض ہے کہ توبہ کریں اور گلزار اور اس کے ساتھی مسلمانوں سے معافی چاہیں پھر ان کو چاہئے کہ تجدید اسلام کے بعد اپنی عورتوں سے تجدید نکاح کریںواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۳۴تا ۲۳۸: محمد قاسم کھوکھر مدرس مدرسہ دھاموں کیمحمد اقبال مدرس مدرسہ ترہاڑہ ونورمحمد امام مسجد دروبکی
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس طائفہ کے حق میں جن کے اعتقاداتاقوالافعال حسب ذیل ہوں:
(۱)مصلی کو نماز اور صائم کو روزہ رکھنے سے منع کریں بلکہ رمضان المبارك میں علانیہ بھنگ وچرس کا استعمال کریں اور بطور مسخری قبل از وقت افطار نداکریں کہ صائمین افطارکریں۔
(۲)مشرکین کی طرح مردعورتوں کی سی صورت اور وضح بنائیں
(۳)اٹھتے بیٹھتے اپنے مرشدوں کو باسماء امام مہدیرسول مقبول صلی اﷲ تعالی علیہ وسلماﷲ تعالی موسوم کریں۔
(۴)علمائے دین کی توہین بایں کلمات کریں کہ ہم ان کی مقعد مارتے ہیںنیز حضرت علی کرم اﷲ وجہہ کو تمام اصحاب بلکہ خود پیغمبر خاتم نبوت صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پر فضیلت دیں
(۵)جو پیغمبرواولیاء وصال کرچکے ہوں ان کی روحانی زندگی سے انکارکریں اور یہ اعتقاد رکھیں کہ جب تك خدا ورسول کو اپنی آنکھوں سے نہ دیکھیں گے ان کی ہستی کے ہر گز قائل نہ ہوں گےایسوں سے اہل اسلام کو کیا برتاؤ کرنا چاہئے
الجواب:
جتنی باتیں سوال میں ان لوگوں کی ذکر کیں وہ ان کے فسق وفجور وشیطنت واستحقاق جہنم کے لئے تو بہت کافی ہیں مگر ان میں چار باتیں صریح کفر وارتداد ہیںاول اپنے پیروں کو خدا ورسول کہنادوسرے شریعت مطہرہ کی نسبت وہ ملعون کلمہتیسرے وہ یہودیوں کی بات" لن نؤمن لک حتی نری اللہ جہرۃ " اﷲ ورسول کو جب تك آنکھ سے نہ دیکھ لیں ایمان نہ لائیں گے۔
چوتھے امیرالمومنین مولی علی کرم اﷲ وجہہ کو انبیائے کرام خصوصا سید الانبیاء علیہ افضل الصلوۃ والسلام سے افضل ماننا مولا علی کو کسی ایك نبی سے افضل بتانا ہی کفرہے نہ کہ سب انبیاء نہ کہ سیدالانبیاء صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سےشك نہیں کہ یہ لوگ کفار ومرتدین ہیںمسلمانوں کو ان سے
مسئلہ ۲۳۴تا ۲۳۸: محمد قاسم کھوکھر مدرس مدرسہ دھاموں کیمحمد اقبال مدرس مدرسہ ترہاڑہ ونورمحمد امام مسجد دروبکی
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس طائفہ کے حق میں جن کے اعتقاداتاقوالافعال حسب ذیل ہوں:
(۱)مصلی کو نماز اور صائم کو روزہ رکھنے سے منع کریں بلکہ رمضان المبارك میں علانیہ بھنگ وچرس کا استعمال کریں اور بطور مسخری قبل از وقت افطار نداکریں کہ صائمین افطارکریں۔
(۲)مشرکین کی طرح مردعورتوں کی سی صورت اور وضح بنائیں
(۳)اٹھتے بیٹھتے اپنے مرشدوں کو باسماء امام مہدیرسول مقبول صلی اﷲ تعالی علیہ وسلماﷲ تعالی موسوم کریں۔
(۴)علمائے دین کی توہین بایں کلمات کریں کہ ہم ان کی مقعد مارتے ہیںنیز حضرت علی کرم اﷲ وجہہ کو تمام اصحاب بلکہ خود پیغمبر خاتم نبوت صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پر فضیلت دیں
(۵)جو پیغمبرواولیاء وصال کرچکے ہوں ان کی روحانی زندگی سے انکارکریں اور یہ اعتقاد رکھیں کہ جب تك خدا ورسول کو اپنی آنکھوں سے نہ دیکھیں گے ان کی ہستی کے ہر گز قائل نہ ہوں گےایسوں سے اہل اسلام کو کیا برتاؤ کرنا چاہئے
الجواب:
جتنی باتیں سوال میں ان لوگوں کی ذکر کیں وہ ان کے فسق وفجور وشیطنت واستحقاق جہنم کے لئے تو بہت کافی ہیں مگر ان میں چار باتیں صریح کفر وارتداد ہیںاول اپنے پیروں کو خدا ورسول کہنادوسرے شریعت مطہرہ کی نسبت وہ ملعون کلمہتیسرے وہ یہودیوں کی بات" لن نؤمن لک حتی نری اللہ جہرۃ " اﷲ ورسول کو جب تك آنکھ سے نہ دیکھ لیں ایمان نہ لائیں گے۔
چوتھے امیرالمومنین مولی علی کرم اﷲ وجہہ کو انبیائے کرام خصوصا سید الانبیاء علیہ افضل الصلوۃ والسلام سے افضل ماننا مولا علی کو کسی ایك نبی سے افضل بتانا ہی کفرہے نہ کہ سب انبیاء نہ کہ سیدالانبیاء صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سےشك نہیں کہ یہ لوگ کفار ومرتدین ہیںمسلمانوں کو ان سے
حوالہ / References
القرآن الکریم ۲ /۵۵
میل جول حرامسلام وکلام حرامان کی موت میں شرکت حرامبیمار پڑیں ان کی عیادت حراممرجائیں تو انھیں غسل دینا حرامکفن دینا حرامان کے جنازہ کی نماز پڑھنا حراممسلمانوں کے مقابرمیں دفن کرناحرامجب تك توبہ کرکے مسلمان نہ ہوں گے واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۳۹و ۲۴۱:محمد عبدالحمید ساکن رولوشدہ مدی پارہ ضلع پترہ ڈاکخانہ سیف اﷲ کندی ۱۹ رجب ۱۳۳۴ھ
(۱)بعضے ذاکرین اپنے مرشد کو خدا کہتے ہیں بایں نیت کہ مرشد اگر رہنمائی نہ کرے تو معرفت الہی کیسے حاصل ہوگی اور اکثر مرشد کے قدم پرسجدہ کرتے ہیں یہ فعل ان کے رواہیں یانہیں
(۲)بعضے نادان علماء کوحقارت کے ساتھ گالی دیاکرتے ہیں اور شریعت مطہرہ کی بھی اہانت کرتے ہیں تو اس پر شرعا کیا حکم ہے اور اگر کوئی مسلمان دوسرے مسلمان کو کافر کہہ کر گالی دیوے توکیاحکم ہے
(۳)ایك شخص جو کسی قدر علم رکھتاہے مسجد کے بارے میں لوگوں کو کہتاہے کہ تم لوگ مسئلہ کولے کر یہاں کا جھگڑا فساد کرتے ہو مسجد ہی توتمھارے لئے فساد گاہ ہے وہاں جاکر جوکرنا ہے کرواور وہ توبہ کے بارے میں کہتاہے کہ فقط توبہ ہی سے گناہ معاف ہوجاتاہےیہ ہرگز نہیں ہوتااوروہ شخص مسئلہ کا جواب بلاتحقیق دیا کرتاہے اور مکروہ کے بارے میں کہتاہے کہ یہ تو مکروہ ہی ہے حرام تو نہیں مکروہ سے کیا ہوگا اورکوئی چیز مکروہ تحریمی ہو تو کہتاہے کہ لاؤ مکروہ تحریمی کھالوں گاایسے شخص پر شرعا کیا حکم ہے بینوا توجروا(بیان کرو اجر پائیے۔ت)
الجواب:
(۱)مرشد کو خدا کہنے والا کافرہے اور اگر مرشد اسے پسند کرے تو وہ بھی کافرمرشد برحق کی قدمبوسی سنت ہے اور سجدہ ممنوع۔
(۲)شریعت کی توہین کرنے والا کافرہے۔
قال اﷲ تعالی" قل اباللہ وایتہ ورسولہ کنتم تستہزءون ﴿۶۵﴾ لاتعتذروا قدکفرتم بعد ایمنکم " ۔ اﷲ تعالی نے فرمایا:تو کہہ دے کیا تم اﷲ سے اور اس کے کلام اور اس کے رسول سے ٹھٹھاکرتے ہوبہانے مت بناؤتحقیق تم اپنے ایمان کے بعد کافر ہوگئے۔(ت)
یونہی عالم دین سنی صحیح العقیدہ داعی الی اﷲ کی توہین کفر ہے مجمع الانہر میں ہے:
مسئلہ ۲۳۹و ۲۴۱:محمد عبدالحمید ساکن رولوشدہ مدی پارہ ضلع پترہ ڈاکخانہ سیف اﷲ کندی ۱۹ رجب ۱۳۳۴ھ
(۱)بعضے ذاکرین اپنے مرشد کو خدا کہتے ہیں بایں نیت کہ مرشد اگر رہنمائی نہ کرے تو معرفت الہی کیسے حاصل ہوگی اور اکثر مرشد کے قدم پرسجدہ کرتے ہیں یہ فعل ان کے رواہیں یانہیں
(۲)بعضے نادان علماء کوحقارت کے ساتھ گالی دیاکرتے ہیں اور شریعت مطہرہ کی بھی اہانت کرتے ہیں تو اس پر شرعا کیا حکم ہے اور اگر کوئی مسلمان دوسرے مسلمان کو کافر کہہ کر گالی دیوے توکیاحکم ہے
(۳)ایك شخص جو کسی قدر علم رکھتاہے مسجد کے بارے میں لوگوں کو کہتاہے کہ تم لوگ مسئلہ کولے کر یہاں کا جھگڑا فساد کرتے ہو مسجد ہی توتمھارے لئے فساد گاہ ہے وہاں جاکر جوکرنا ہے کرواور وہ توبہ کے بارے میں کہتاہے کہ فقط توبہ ہی سے گناہ معاف ہوجاتاہےیہ ہرگز نہیں ہوتااوروہ شخص مسئلہ کا جواب بلاتحقیق دیا کرتاہے اور مکروہ کے بارے میں کہتاہے کہ یہ تو مکروہ ہی ہے حرام تو نہیں مکروہ سے کیا ہوگا اورکوئی چیز مکروہ تحریمی ہو تو کہتاہے کہ لاؤ مکروہ تحریمی کھالوں گاایسے شخص پر شرعا کیا حکم ہے بینوا توجروا(بیان کرو اجر پائیے۔ت)
الجواب:
(۱)مرشد کو خدا کہنے والا کافرہے اور اگر مرشد اسے پسند کرے تو وہ بھی کافرمرشد برحق کی قدمبوسی سنت ہے اور سجدہ ممنوع۔
(۲)شریعت کی توہین کرنے والا کافرہے۔
قال اﷲ تعالی" قل اباللہ وایتہ ورسولہ کنتم تستہزءون ﴿۶۵﴾ لاتعتذروا قدکفرتم بعد ایمنکم " ۔ اﷲ تعالی نے فرمایا:تو کہہ دے کیا تم اﷲ سے اور اس کے کلام اور اس کے رسول سے ٹھٹھاکرتے ہوبہانے مت بناؤتحقیق تم اپنے ایمان کے بعد کافر ہوگئے۔(ت)
یونہی عالم دین سنی صحیح العقیدہ داعی الی اﷲ کی توہین کفر ہے مجمع الانہر میں ہے:
حوالہ / References
القرآن الکریم ۹ /۶۶۔۶۵
الاستخفاف بالعلماء والاشراف کفر ۔ علماء اور سادات کی توہین کفرہے۔
اسی میں ہے:من قال للعالم عویلم فقد کفر جو کسی عالم کو حقارت سے"مولویا"کہے وہ کافر ہے۔
مگر یہ اوپر بتادیا گیا اور واجب اللحاظ ہے کہ عالم دین وہی ہے جو سنی صحیح العقیدہ ہوبدمذہبوں کے علماء علمائے دین نہیں۔یوں تو ہندوؤں میں پنڈت اور نصاری میں پادری ہوتے ہیں اور ابلیس کتنا بڑا عالم تھا جسے معلم الملکوت کہا جاتاہے قال اﷲ تعالی" اضلہ اللہ علی علم" (اﷲ تعالی نے فرمایا:اﷲ نے اسے باوصف علم کے گمراہ کیا۔ت)ایسوں کی توہین کفرنہیں بلکہ تاحد مقدور فرض ہےحدیث شریف میں ہے نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اترعون عن ذکر الفاجر متی یعرفہ الناس اذکروا الفاجر بمافیہ یحذرہ الناس ۔ کیا تم فاجر کے ذکر سے گبھراتے ہو جب لوگ اسے جانتے ہوں فاجرکے فجور کا ذکر کرو تا کہ لوگ اس سے محفوظ رہیں۔(ت)
(۳)بے تحقیق مسئلہ کا جواب دینا حرام ہےاور مکروہ تحریمی مرتبہ واجب میں ہے اس کاہلکا جاننا گمراہی وضلالت ہےاور مسائل شرعیہ ومسجد کی توہین مذکور کفرہےاور یہ بھی اس کا شریعت پر افتراء ہے کہ توبہ سے گناہ معاف نہیں ہوتےحدیث میں فرمایا:
التائب من الذنب کمن لاذنب لہ ۔ گناہوں سے توبہ کرنے والا ایسا ہوجاتاہے گویا گناہ کیا ہی نہ تھا۔
حق سبحنہ فرماتا ہے:
" و ہو الذی یقبل التوبۃ عن عبادہ و یعفوا عن السیات"
۔واﷲ اعلم۔ اﷲ ہے کہ اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا اور گناہوں سے درگزر کرتاہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
اسی میں ہے:من قال للعالم عویلم فقد کفر جو کسی عالم کو حقارت سے"مولویا"کہے وہ کافر ہے۔
مگر یہ اوپر بتادیا گیا اور واجب اللحاظ ہے کہ عالم دین وہی ہے جو سنی صحیح العقیدہ ہوبدمذہبوں کے علماء علمائے دین نہیں۔یوں تو ہندوؤں میں پنڈت اور نصاری میں پادری ہوتے ہیں اور ابلیس کتنا بڑا عالم تھا جسے معلم الملکوت کہا جاتاہے قال اﷲ تعالی" اضلہ اللہ علی علم" (اﷲ تعالی نے فرمایا:اﷲ نے اسے باوصف علم کے گمراہ کیا۔ت)ایسوں کی توہین کفرنہیں بلکہ تاحد مقدور فرض ہےحدیث شریف میں ہے نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اترعون عن ذکر الفاجر متی یعرفہ الناس اذکروا الفاجر بمافیہ یحذرہ الناس ۔ کیا تم فاجر کے ذکر سے گبھراتے ہو جب لوگ اسے جانتے ہوں فاجرکے فجور کا ذکر کرو تا کہ لوگ اس سے محفوظ رہیں۔(ت)
(۳)بے تحقیق مسئلہ کا جواب دینا حرام ہےاور مکروہ تحریمی مرتبہ واجب میں ہے اس کاہلکا جاننا گمراہی وضلالت ہےاور مسائل شرعیہ ومسجد کی توہین مذکور کفرہےاور یہ بھی اس کا شریعت پر افتراء ہے کہ توبہ سے گناہ معاف نہیں ہوتےحدیث میں فرمایا:
التائب من الذنب کمن لاذنب لہ ۔ گناہوں سے توبہ کرنے والا ایسا ہوجاتاہے گویا گناہ کیا ہی نہ تھا۔
حق سبحنہ فرماتا ہے:
" و ہو الذی یقبل التوبۃ عن عبادہ و یعفوا عن السیات"
۔واﷲ اعلم۔ اﷲ ہے کہ اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا اور گناہوں سے درگزر کرتاہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
حوالہ / References
مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر باب الفاظ الکفر داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۶۹۵
مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر باب الفاظ الکفر داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۶۹۵
القرآن الکریم ۴۵ /۲۳
سنن الکبرٰی کتاب الشہادات دارصادر بیروت ۱۰/ ۲۱۰،تاریخ بغداد ترجمہ ۴۵ ۳۷،۳۷۵۱ دارالکتاب العربی بیروت ۷/ ۲۶۲ و ۲۶۸
سنن ابن ماجہ کتاب الزہد باب ذکر التوبۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۳۲۳
القرآن الکریم ۴۲ /۲۵
مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر باب الفاظ الکفر داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۶۹۵
القرآن الکریم ۴۵ /۲۳
سنن الکبرٰی کتاب الشہادات دارصادر بیروت ۱۰/ ۲۱۰،تاریخ بغداد ترجمہ ۴۵ ۳۷،۳۷۵۱ دارالکتاب العربی بیروت ۷/ ۲۶۲ و ۲۶۸
سنن ابن ماجہ کتاب الزہد باب ذکر التوبۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۳۲۳
القرآن الکریم ۴۲ /۲۵
مسئلہ ۲۴۲: از پوپاری جنتازن مارقوار محمد حبیب اﷲ ۲۰ رجب ۱۳۳۴ھ
دین محمدی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم دن نقلی ہے یااصلی اور اصلی ہے تو نقلی کہنے والے کو کیا سمجھنا چاہئے
الجواب:
" ان الدین عند اللہ الاسلم" (بیشك اﷲ کے یہاں اسلام ہی دین ہے۔ت)اﷲ کے یہاں یہی دین دین ہے اس کے سوا کوئی دین مقبول نہیں۔
" ومن یبتغ غیر الاسلم دینا فلن یقبل منہ وہو فی الاخرۃ من الخسرین﴿۸۵﴾" اور جو اسلام کے سوا کوئی اور دین چاہے گا وہ ہر گز اس سے قبول نہ کیا جائے گا اور وہ آخرت میں زیاں کاروں سے ہے۔(ت)
تو یہی دین اصلی ہے اور یہ نقلی بھی ہے بایں معنی کہ اس کے احکام شارع علیہ الصلوۃ والسلام سے منقول ہیںفلاسفہ وغیرہم کی طرح عقلی ڈھکوسلے نہیںاس معنی پر اگر نقلی کہا تو صحیح کہااور اگر نقلی بمقابلہ اصلی کہا یعنی معاذاﷲ واقعی دین نہیں بلکہ کسی کی نقل اتاری گئی تو ایسا کہنے والا کافریہ بات اس وقت کے باہم محاورات سے واضح ہوگیاور اگرواضح نہ ہو تو معنی صحیح بنتے ہوئے خواہی نخواہی معنی باطل پرحمل نہ کریں گے اور تکفیر جائز نہ ہوگیواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۴۳ تا ۲۴۴: مسئولہ محمد احمد طالب علم مدرسہ اہل سنت یکم شعبان ۱۳۳۴ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسائل ذیل میں:
(۱)رب العزت جل جلالہ وتعالی شانہ کی نسبت میاں اور صاحب کہنا یعنی اﷲ میاں اور اﷲ صاحب جائزہے یانہیں اگر جائز ہو جب تو لعدم المانع دلیل کی ضرورت نہیںاور اگر ناجائز ہو تو دلیل درکارہےاس صورت میں جو اسے پسندکرے بلکہ فخرکرے کہ یہ الفاظ میرے مختصات میں سے ہیںاس شخص کے واسطے شریعت مطہرہ میں کیا حکم ہے
(۲)سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی شان میں صاحب یعنی محمد صاحب کہنا کیساہے
الجواب:
حضرت رب العزت عزجلالہ پر لفظ صاحب کا اطلاق جائزبلکہ حدیث میں وارد ہے:
دین محمدی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم دن نقلی ہے یااصلی اور اصلی ہے تو نقلی کہنے والے کو کیا سمجھنا چاہئے
الجواب:
" ان الدین عند اللہ الاسلم" (بیشك اﷲ کے یہاں اسلام ہی دین ہے۔ت)اﷲ کے یہاں یہی دین دین ہے اس کے سوا کوئی دین مقبول نہیں۔
" ومن یبتغ غیر الاسلم دینا فلن یقبل منہ وہو فی الاخرۃ من الخسرین﴿۸۵﴾" اور جو اسلام کے سوا کوئی اور دین چاہے گا وہ ہر گز اس سے قبول نہ کیا جائے گا اور وہ آخرت میں زیاں کاروں سے ہے۔(ت)
تو یہی دین اصلی ہے اور یہ نقلی بھی ہے بایں معنی کہ اس کے احکام شارع علیہ الصلوۃ والسلام سے منقول ہیںفلاسفہ وغیرہم کی طرح عقلی ڈھکوسلے نہیںاس معنی پر اگر نقلی کہا تو صحیح کہااور اگر نقلی بمقابلہ اصلی کہا یعنی معاذاﷲ واقعی دین نہیں بلکہ کسی کی نقل اتاری گئی تو ایسا کہنے والا کافریہ بات اس وقت کے باہم محاورات سے واضح ہوگیاور اگرواضح نہ ہو تو معنی صحیح بنتے ہوئے خواہی نخواہی معنی باطل پرحمل نہ کریں گے اور تکفیر جائز نہ ہوگیواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۴۳ تا ۲۴۴: مسئولہ محمد احمد طالب علم مدرسہ اہل سنت یکم شعبان ۱۳۳۴ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسائل ذیل میں:
(۱)رب العزت جل جلالہ وتعالی شانہ کی نسبت میاں اور صاحب کہنا یعنی اﷲ میاں اور اﷲ صاحب جائزہے یانہیں اگر جائز ہو جب تو لعدم المانع دلیل کی ضرورت نہیںاور اگر ناجائز ہو تو دلیل درکارہےاس صورت میں جو اسے پسندکرے بلکہ فخرکرے کہ یہ الفاظ میرے مختصات میں سے ہیںاس شخص کے واسطے شریعت مطہرہ میں کیا حکم ہے
(۲)سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی شان میں صاحب یعنی محمد صاحب کہنا کیساہے
الجواب:
حضرت رب العزت عزجلالہ پر لفظ صاحب کا اطلاق جائزبلکہ حدیث میں وارد ہے:
اللھم انت الصاحب فی السفر والخلیفۃ فی المال والاھل ۔ اے اللہ! توہی سفر میں صاحب ہےمال اور اہل کا تو ہی محافظ ہے۔(ت)
اورمیاں کا اطلاق نہ کیا جائے کہ وہ تین معنی رکھتاہے ان میں دو رب العزت کے لئے محال ہیںمیاں آقا اور شوہر اور مرد عورت میںزنا کا دلال لہذا اطلاق ممنوع اور اس پر افتخارجہل۔
(۲)حضور اقد س صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پر اطلاق صاحب خود قرآن عظیم میں وارد:
" والنجم اذا ہوی ﴿۱﴾ ما ضل صاحبکم وما غوی ﴿۲﴾" اس پیارے چمکتے تارے محمد کی قسم جب یہ معراج سے اترےتمھارے صاحب نہ بہکے نہ بے راہ چلے۔(ت)
مگر نام اقدس کے ساتھ اس طورپر لفظ صاحب کا ملانا آریوں اور پادریوں کا شعارہے وہ اسے معروف تعظیم میں لاتے ہیں جو زید وعمر کے لئے رائج ہے کہ شیخ صاحبمرزاصاحبپادری صاحبپنڈت صاحبلہذا اس سے احتراز چاہئےہاں یوں کہا جائے کہ حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ہمارے صاحب ہیں آقاہیں مالك ہیں مولی ہیں۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۴۵: مستفسرہ حافظ بنوعلی ضلع بھنڈارہ محلہ کہم تالاب ملك متوسط ناگپور ۴ شوال ۱۳۳۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ کوئی شخص درود شریف اس طور پر پڑھے صلی اﷲ تعالی علی خیرخلقہ ونورعرشہ محمد والہ واصحابہ اجمعینایك صاحب اس میں یہ اعتراض کرتے ہیں کہ نور عرشہ پڑھنا حرام ہے۔فقط۔
الجواب:
جو اسے ناجائز بتاتا ہے شریعت پر افتراء کرتاہے:
" و لا تقولوا لما تصف السنتکم الکذب ہذا حلل و ہذا حرام لتفتروا علی اللہ الکذب ان الذین یفترون علی اللہ الکذب لا یفلحون ﴿۱۱۶﴾" اﷲ تعالی نے فرمایا:اورنہ کہو اسے جو تمھاری زبانیں جھوٹ بیان کرتی ہیں یہ حلال ہے اور یہ حرام ہے کہ اﷲ پر جھوٹ باندھوبیشك جو اﷲ پر جھوٹ باندھتے ہیں ان کا بھلا نہ ہوگا۔ (ت)
اورمیاں کا اطلاق نہ کیا جائے کہ وہ تین معنی رکھتاہے ان میں دو رب العزت کے لئے محال ہیںمیاں آقا اور شوہر اور مرد عورت میںزنا کا دلال لہذا اطلاق ممنوع اور اس پر افتخارجہل۔
(۲)حضور اقد س صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پر اطلاق صاحب خود قرآن عظیم میں وارد:
" والنجم اذا ہوی ﴿۱﴾ ما ضل صاحبکم وما غوی ﴿۲﴾" اس پیارے چمکتے تارے محمد کی قسم جب یہ معراج سے اترےتمھارے صاحب نہ بہکے نہ بے راہ چلے۔(ت)
مگر نام اقدس کے ساتھ اس طورپر لفظ صاحب کا ملانا آریوں اور پادریوں کا شعارہے وہ اسے معروف تعظیم میں لاتے ہیں جو زید وعمر کے لئے رائج ہے کہ شیخ صاحبمرزاصاحبپادری صاحبپنڈت صاحبلہذا اس سے احتراز چاہئےہاں یوں کہا جائے کہ حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ہمارے صاحب ہیں آقاہیں مالك ہیں مولی ہیں۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۴۵: مستفسرہ حافظ بنوعلی ضلع بھنڈارہ محلہ کہم تالاب ملك متوسط ناگپور ۴ شوال ۱۳۳۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ کوئی شخص درود شریف اس طور پر پڑھے صلی اﷲ تعالی علی خیرخلقہ ونورعرشہ محمد والہ واصحابہ اجمعینایك صاحب اس میں یہ اعتراض کرتے ہیں کہ نور عرشہ پڑھنا حرام ہے۔فقط۔
الجواب:
جو اسے ناجائز بتاتا ہے شریعت پر افتراء کرتاہے:
" و لا تقولوا لما تصف السنتکم الکذب ہذا حلل و ہذا حرام لتفتروا علی اللہ الکذب ان الذین یفترون علی اللہ الکذب لا یفلحون ﴿۱۱۶﴾" اﷲ تعالی نے فرمایا:اورنہ کہو اسے جو تمھاری زبانیں جھوٹ بیان کرتی ہیں یہ حلال ہے اور یہ حرام ہے کہ اﷲ پر جھوٹ باندھوبیشك جو اﷲ پر جھوٹ باندھتے ہیں ان کا بھلا نہ ہوگا۔ (ت)
حوالہ / References
سنن ابی داؤد کتاب الجہاد باب مایقول الرجل اذا سافر آفتاب عالم پریس لاہور ۱/ ۵۰۔۳۴۹،سنن الکبرٰی کتاب الحج باب مایقول الرجل اذا رکب دارصادر بیروت ۵/ ۲۵۲
القرآن الکریم ۵۳ /۲۔۱
القرآن الکریم ۱۶ /۱۱۶
القرآن الکریم ۵۳ /۲۔۱
القرآن الکریم ۱۶ /۱۱۶
بلاشبہہ حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نور عرش اﷲ ہیں عرش انھیں کے نور سے بنااور انھیں کے نور سے منور ہے ۔
کما فی حدیث رواہ عبدالرزاق فی مصنفہ عن جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالی عنہما عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔واﷲ تعالی اعلم۔ جیساکہ حدیث میں ہے اسے امام عبدالرزاق نے اپنی مصنف میں حضرت جابررضی اﷲ تعالی عنہ سے بیان کیاکہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا۔واﷲ تعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۲۴۶: مسئولہ حبیب اﷲ بنگالی ۱۵ شوال ۱۳۳۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ بہاء اﷲ ایك فرقہ نکلا کہ مجموعہ قرآن مجید کو منسوخ کہتاہے اور یہ بھی کہتاہے کہ جیسے توریت اور انجیل اور زبور منسوخ ہوگئی ویساہی قرآن شریف بھی منسوخ ہےاگر منسوخ نہ ہوتا اس کاحکم بموافق قرآن شریف کے جاری کیوں نہیں کیاجاتا ہےجیسا کہ زنا کرتاہے اورچوری کرتاہے اور شراب پیتاہے حد کیوں نہیں لگایا جاتاہےبہاء اﷲ کے فرقہ سے ایك آدمی کا مظہر اﷲ کرکے لقب ہے وہ کہتاہے خداوند کریم نے لوح محفوظ سے میرے اوپر کتاب الاقدس نزول فرمایا ہے اس وقت اس کا حکم جاری ہے اور احادیث کو خبری کاغذ بتاتاہے اورنہیں مانتاہےاورائمہ اربعہ کو جھوٹ کہتاہے یہ فرقہ مومن ہے یانہیںاور:
" یدبر الامر من السماء الی الارض ثم یعرج الیہ فی یوم کان مقدارہ الف سنۃ مما تعدون ﴿۵﴾" کام کی تدبیری فرماتاہے آسمان سے زمین تك پھر اسی کی طرف رجوع کرے گا اس دن کہ جس کی مقدار ہزار برس ہے تمھاری گنتی میں۔(ت)
آیہ بالا کی شان نزول کیاہے اورناسخ ہے یا منسوخ فقط۔
الجواب:
جس فرقہ کے یہ اقوال ہوں وہ کافر مرتد ملعون ہے ایسا کہ جو اسے مسلمان جانے بلکہ جو اس کے کفر میں شك کرے خود کافر ہے مرتدہے بزازیہ ومجمع الانہر ودرمختار میں ہے:
من شك فی عذابہ وکفرہ فقدکفر ۔ جو ان کے عذاب وکفر میں شك کرے وہ بھی کافرہے۔(ت)
کما فی حدیث رواہ عبدالرزاق فی مصنفہ عن جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالی عنہما عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔واﷲ تعالی اعلم۔ جیساکہ حدیث میں ہے اسے امام عبدالرزاق نے اپنی مصنف میں حضرت جابررضی اﷲ تعالی عنہ سے بیان کیاکہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا۔واﷲ تعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۲۴۶: مسئولہ حبیب اﷲ بنگالی ۱۵ شوال ۱۳۳۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ بہاء اﷲ ایك فرقہ نکلا کہ مجموعہ قرآن مجید کو منسوخ کہتاہے اور یہ بھی کہتاہے کہ جیسے توریت اور انجیل اور زبور منسوخ ہوگئی ویساہی قرآن شریف بھی منسوخ ہےاگر منسوخ نہ ہوتا اس کاحکم بموافق قرآن شریف کے جاری کیوں نہیں کیاجاتا ہےجیسا کہ زنا کرتاہے اورچوری کرتاہے اور شراب پیتاہے حد کیوں نہیں لگایا جاتاہےبہاء اﷲ کے فرقہ سے ایك آدمی کا مظہر اﷲ کرکے لقب ہے وہ کہتاہے خداوند کریم نے لوح محفوظ سے میرے اوپر کتاب الاقدس نزول فرمایا ہے اس وقت اس کا حکم جاری ہے اور احادیث کو خبری کاغذ بتاتاہے اورنہیں مانتاہےاورائمہ اربعہ کو جھوٹ کہتاہے یہ فرقہ مومن ہے یانہیںاور:
" یدبر الامر من السماء الی الارض ثم یعرج الیہ فی یوم کان مقدارہ الف سنۃ مما تعدون ﴿۵﴾" کام کی تدبیری فرماتاہے آسمان سے زمین تك پھر اسی کی طرف رجوع کرے گا اس دن کہ جس کی مقدار ہزار برس ہے تمھاری گنتی میں۔(ت)
آیہ بالا کی شان نزول کیاہے اورناسخ ہے یا منسوخ فقط۔
الجواب:
جس فرقہ کے یہ اقوال ہوں وہ کافر مرتد ملعون ہے ایسا کہ جو اسے مسلمان جانے بلکہ جو اس کے کفر میں شك کرے خود کافر ہے مرتدہے بزازیہ ومجمع الانہر ودرمختار میں ہے:
من شك فی عذابہ وکفرہ فقدکفر ۔ جو ان کے عذاب وکفر میں شك کرے وہ بھی کافرہے۔(ت)
حوالہ / References
المواہب اللدنیہ بحوالہ عبدالرزاق المقصد الاول اول المخلوقات المکتبۃ الاسلامیہ بیروت ۱/ ۷۳۔۷۱
القرآن الکریم ۳۲ /۵
درمختار باب المرتد مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۵۶
القرآن الکریم ۳۲ /۵
درمختار باب المرتد مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۵۶
آیہ کریمہ حمد الہی میں ہے:شان نزول وہاں ذکر ہوتاہے جو کسی حادثہ خاصہ میں اترے خبر منسوخ نہیں ہو سکتی واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۴۷ تا ۲۴۸: محمد ظہیرالدین صاحب ثمن برج وزیر آباد پنجاب ۳ذوالقعدہ ۱۳۳۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص عالم غیر مقلد عقائد وعملیاتجوکہ اس دارفانی سے عالم جاودانی کو رحلت کرجائےاور اس کی نماز جنازہ ایك غیر مقلد پڑھائےاور اس غیر مقلد کے پیچھے ایك عالم حنفی المذہب نے غیر مقلد متوفی کے عمل کو اچھا اور غیر مقلد کے اقتداء کو جائز سمجھ کر نماز جنازہ پڑھی _______ حالانکہ وہ عالم حنفی المذہب قبل ازیں لوگوں کو عقائد غیرملقدین سے منع کرتارہا ہو پس اس حالت میں جب کہ عالم حنفی المذہب نے غیر مقلد کی نماز جنازہ غیر مقلد امام کے پیچھے جائز تصور کرکے اداکی ہو تو اس پر ازروئے شرع محمدی کیا تعزیر ہوتی ہے اور کیا بلاتوبہ واستغفار ایسے عالم حنفی کی اقتداء جائزہے عالم غیر مقلدین متوفی وامام غیر مقلد ائمہ ار بعہ مجتہدین کے مسائل استنباط واجتہاد یہ کو خلاف حدیث سمجھتااور اکثران کے برعکس فتوے دیتا اور عمل کرتاہو مثلا:
(۱)نمازتراویح بیس رکعات سے کم ہر گز کسی امام کے نزدیك نہیں وہ آٹھ رکعت کاحکم دیتااور عمل کرتا۔
(۲)مسئلہ طلاق ثلاثہ جوکہ فی کلمۃ واحدۃ اور جلسہ واحدۃ کے کہی گئی ہو اس طلاق ثلاثۃ کوحکم رجعی طلاق کادے کر بدون نکاح شوہر ثانی اس کے ساتھ نکاح کرادیتاہو اور طلاق بالخلع کی عدت ایك حیض آنے کے بعد نکاح کرادیتا ہو اور تقلید شخصی سے بالکل انکار کرتاہوعلاوہ ازیں آمین بالجہر کہنا امام کے پیچھے الحمدکا پڑھنا ہاتھ سینہ پر باندھنا سورہ فاتحہ میں ض کی جگہ ظ پڑھنا وغیرہ وغیرہ جائز سمجھتاہو۔
الجواب:
سائل نے جو فہرست گنائی وہ غیر مقلد کے بعض فرعی مسائل باطلہ واعمال فاسدہ کی ہے ان کے عقائد اورہیں جن میں بکثرت کفریات ہیں ان میں سے بعض کی تفصیل رسالہ الکوکبۃ الشہابیۃ میں ہےجس میں ستروجہ سے ان پر اور ان کے پیشوا پر بحکم فقہاء کرام لزوم کفر ثابت کیا ہے کسی جاہل صحبت نایافتہ کی نسبت احتمال ہوسکتاہے کہ وہ ان کے عقائد ملعونہ سے آگاہ نہیں ظاہر ی صورت مسلمان دیکھ کر اقتداکرلی اور نماز جنازہ پڑھ لی مگر جسے عالم ہونے کا دعوی ہو اور ان کے عقائد پر مطلع ہولوگوں کو ان سے منع کرتاہو اور خود انھیں اچھا جان کر ان کے جنازہ کی نماز پڑھے اور ان کی اقتدا کرے تو ضرور اس کے عقیدے میں فساد اور اس کے ایمان میں خلل آیا اور وہ بھی متہم شمارکیا جائے گا۔
قال اﷲ تعالی" ومن یتولہم منکم اﷲ تعالی نے فرمایا:اورتم میں جو کوئی ان سے دوستی
مسئلہ ۲۴۷ تا ۲۴۸: محمد ظہیرالدین صاحب ثمن برج وزیر آباد پنجاب ۳ذوالقعدہ ۱۳۳۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص عالم غیر مقلد عقائد وعملیاتجوکہ اس دارفانی سے عالم جاودانی کو رحلت کرجائےاور اس کی نماز جنازہ ایك غیر مقلد پڑھائےاور اس غیر مقلد کے پیچھے ایك عالم حنفی المذہب نے غیر مقلد متوفی کے عمل کو اچھا اور غیر مقلد کے اقتداء کو جائز سمجھ کر نماز جنازہ پڑھی _______ حالانکہ وہ عالم حنفی المذہب قبل ازیں لوگوں کو عقائد غیرملقدین سے منع کرتارہا ہو پس اس حالت میں جب کہ عالم حنفی المذہب نے غیر مقلد کی نماز جنازہ غیر مقلد امام کے پیچھے جائز تصور کرکے اداکی ہو تو اس پر ازروئے شرع محمدی کیا تعزیر ہوتی ہے اور کیا بلاتوبہ واستغفار ایسے عالم حنفی کی اقتداء جائزہے عالم غیر مقلدین متوفی وامام غیر مقلد ائمہ ار بعہ مجتہدین کے مسائل استنباط واجتہاد یہ کو خلاف حدیث سمجھتااور اکثران کے برعکس فتوے دیتا اور عمل کرتاہو مثلا:
(۱)نمازتراویح بیس رکعات سے کم ہر گز کسی امام کے نزدیك نہیں وہ آٹھ رکعت کاحکم دیتااور عمل کرتا۔
(۲)مسئلہ طلاق ثلاثہ جوکہ فی کلمۃ واحدۃ اور جلسہ واحدۃ کے کہی گئی ہو اس طلاق ثلاثۃ کوحکم رجعی طلاق کادے کر بدون نکاح شوہر ثانی اس کے ساتھ نکاح کرادیتاہو اور طلاق بالخلع کی عدت ایك حیض آنے کے بعد نکاح کرادیتا ہو اور تقلید شخصی سے بالکل انکار کرتاہوعلاوہ ازیں آمین بالجہر کہنا امام کے پیچھے الحمدکا پڑھنا ہاتھ سینہ پر باندھنا سورہ فاتحہ میں ض کی جگہ ظ پڑھنا وغیرہ وغیرہ جائز سمجھتاہو۔
الجواب:
سائل نے جو فہرست گنائی وہ غیر مقلد کے بعض فرعی مسائل باطلہ واعمال فاسدہ کی ہے ان کے عقائد اورہیں جن میں بکثرت کفریات ہیں ان میں سے بعض کی تفصیل رسالہ الکوکبۃ الشہابیۃ میں ہےجس میں ستروجہ سے ان پر اور ان کے پیشوا پر بحکم فقہاء کرام لزوم کفر ثابت کیا ہے کسی جاہل صحبت نایافتہ کی نسبت احتمال ہوسکتاہے کہ وہ ان کے عقائد ملعونہ سے آگاہ نہیں ظاہر ی صورت مسلمان دیکھ کر اقتداکرلی اور نماز جنازہ پڑھ لی مگر جسے عالم ہونے کا دعوی ہو اور ان کے عقائد پر مطلع ہولوگوں کو ان سے منع کرتاہو اور خود انھیں اچھا جان کر ان کے جنازہ کی نماز پڑھے اور ان کی اقتدا کرے تو ضرور اس کے عقیدے میں فساد اور اس کے ایمان میں خلل آیا اور وہ بھی متہم شمارکیا جائے گا۔
قال اﷲ تعالی" ومن یتولہم منکم اﷲ تعالی نے فرمایا:اورتم میں جو کوئی ان سے دوستی
فانہ منہم " ۔ رکھے گا تو وہ انھیں میں سے ہے۔(ت)
اب اس شخص کے پیچھے نماز ہر گز جائز نہیں اور اس پر توبہ و تجدید اسلام لازم ہے اور اگر عورت رکھتاہے تو بعد توبہ وتجدید اسلام تجدید نکاح کرے۔
" واللہ یہدی من یشاء الی صرط مستقیم﴿۲۱۳﴾ " ۔
" و من یتول فان اللہ ہو الغنی الحمید ﴿۲۴﴾" ۔
" ومن کفر فان اللہ غنی عن العلمین﴿۹۷﴾" ۔نسأل اﷲ
العفووالعافیۃ ولاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم۔ واﷲ تعالی اعلم۔ اوراﷲ تعالی جسے چاہتاہے ہدایت سے نوازتاہے اور جو ناشکری کرے تو بیشك اﷲ بے پرواہ ہے سب خوبیوں سراہااورجومنکر ہو تو اﷲ تعالی تمام جہانوں سے مستغنی ہےہم اﷲ تعالی سے عفو اور عافیت مانگتے ہیں کہ بلندوعظیم اﷲ تعالی کی قوت اور توفیق کے بغیر نہ برائی سے بچاجا سکتاہے اور نہ ہی نیکی کو بجالایا جاسکتا ہےواﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۲۴۹ و۲۵۹: از ملك کاٹھیا وار مقام اڑتیاں آمین احمد ۱۹ذی الحجہ ۱۳۳۴ھ
(۱)ہندو یا نصاری اس کو کافربولناکیساہے
(۲)ایك ہندو کو پھانسی کاحکم ہوا وہ اسی وقت مسلمان ہونا چاہتاہے یہ مسلمان ہوگایانہیں
الجواب:
(۱)گالی کے طورپر کافر کہنا اور بات ہے اور شرع کی اصطلاح یہ ہے کہ جو مسلمان نہیں اسے کافر کہاجاتاہے بایں معنی جوکوئی اسلام میں نہ ہو شرع کے نزدیك کافرہے۔
(۲)پھانسی ہوجانے سے ایك آن پہلے جو اسلام لائے مسلمان ہوجائے گا اور اس کی تجہیز وتکفین اور اس کے جنازہ کی نماز مسلمانوں پر فرض ہوگی۔
مسئلہ ۲۵۱: امام بخش زیدی از جام پور ضلع ڈیرہ غازی خان ۳محرم الحرام ۱۳۳۵ھ
وحدۃ الوجود حق ہے یانہ
الجواب:
توحید ایمان ہے لاالہ الا اﷲ(اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ت)اور وحدت حق " کل شیء ہالک الا وجہہ " (اس کی ذات کے سوا ہر کوئی ہلاك ہونے والاہے۔ت)سواد بن قارب رضی اﷲ تعالی عنہ نے حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے عرض کی:
فاشھد ان اﷲ لارب غیرہ
وانك مامون علی کل غائب
(میں گواہی دیتاہوں کہ بیشك اﷲ تعالی کے سوا کوئی رب نہیں اور بیشک(یارسول اللہ!)آپ ہر غیب پر امین ہیں۔ت)
اب اس شخص کے پیچھے نماز ہر گز جائز نہیں اور اس پر توبہ و تجدید اسلام لازم ہے اور اگر عورت رکھتاہے تو بعد توبہ وتجدید اسلام تجدید نکاح کرے۔
" واللہ یہدی من یشاء الی صرط مستقیم﴿۲۱۳﴾ " ۔
" و من یتول فان اللہ ہو الغنی الحمید ﴿۲۴﴾" ۔
" ومن کفر فان اللہ غنی عن العلمین﴿۹۷﴾" ۔نسأل اﷲ
العفووالعافیۃ ولاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم۔ واﷲ تعالی اعلم۔ اوراﷲ تعالی جسے چاہتاہے ہدایت سے نوازتاہے اور جو ناشکری کرے تو بیشك اﷲ بے پرواہ ہے سب خوبیوں سراہااورجومنکر ہو تو اﷲ تعالی تمام جہانوں سے مستغنی ہےہم اﷲ تعالی سے عفو اور عافیت مانگتے ہیں کہ بلندوعظیم اﷲ تعالی کی قوت اور توفیق کے بغیر نہ برائی سے بچاجا سکتاہے اور نہ ہی نیکی کو بجالایا جاسکتا ہےواﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۲۴۹ و۲۵۹: از ملك کاٹھیا وار مقام اڑتیاں آمین احمد ۱۹ذی الحجہ ۱۳۳۴ھ
(۱)ہندو یا نصاری اس کو کافربولناکیساہے
(۲)ایك ہندو کو پھانسی کاحکم ہوا وہ اسی وقت مسلمان ہونا چاہتاہے یہ مسلمان ہوگایانہیں
الجواب:
(۱)گالی کے طورپر کافر کہنا اور بات ہے اور شرع کی اصطلاح یہ ہے کہ جو مسلمان نہیں اسے کافر کہاجاتاہے بایں معنی جوکوئی اسلام میں نہ ہو شرع کے نزدیك کافرہے۔
(۲)پھانسی ہوجانے سے ایك آن پہلے جو اسلام لائے مسلمان ہوجائے گا اور اس کی تجہیز وتکفین اور اس کے جنازہ کی نماز مسلمانوں پر فرض ہوگی۔
مسئلہ ۲۵۱: امام بخش زیدی از جام پور ضلع ڈیرہ غازی خان ۳محرم الحرام ۱۳۳۵ھ
وحدۃ الوجود حق ہے یانہ
الجواب:
توحید ایمان ہے لاالہ الا اﷲ(اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ت)اور وحدت حق " کل شیء ہالک الا وجہہ " (اس کی ذات کے سوا ہر کوئی ہلاك ہونے والاہے۔ت)سواد بن قارب رضی اﷲ تعالی عنہ نے حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے عرض کی:
فاشھد ان اﷲ لارب غیرہ
وانك مامون علی کل غائب
(میں گواہی دیتاہوں کہ بیشك اﷲ تعالی کے سوا کوئی رب نہیں اور بیشک(یارسول اللہ!)آپ ہر غیب پر امین ہیں۔ت)
حوالہ / References
القرآن الکریم ۵ /۵۱
القرآن الکریم ۲ /۲۱۳
القرآن الکریم ۶۰ /۶
القرآن الکریم ۳ /۹۷
القرآن الکریم ۲۸ /۸۸
المستدرك للحاکم کتاب معرفۃ الصحابۃ قصہ اسلام سواد بن قارب دارالفکربیروت ۳/ ۶۰۹،عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری باب اسلام عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہ ادارۃ الطباعۃ المنیریہ یروت ۱۷/ ۸،مختصر سیرۃ الرسول از عبداﷲ بن محمد بن عبدالوہاب نجدی المکتبۃ السلفیہ لاہور ص ۶۹
القرآن الکریم ۲ /۲۱۳
القرآن الکریم ۶۰ /۶
القرآن الکریم ۳ /۹۷
القرآن الکریم ۲۸ /۸۸
المستدرك للحاکم کتاب معرفۃ الصحابۃ قصہ اسلام سواد بن قارب دارالفکربیروت ۳/ ۶۰۹،عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری باب اسلام عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہ ادارۃ الطباعۃ المنیریہ یروت ۱۷/ ۸،مختصر سیرۃ الرسول از عبداﷲ بن محمد بن عبدالوہاب نجدی المکتبۃ السلفیہ لاہور ص ۶۹
اور اتحاد باطل اور اس کا ماننا الحاد:
" ان کل من فی السموت والارض الا اتی الرحمن عبدا ﴿۹۳﴾" آسمانوں اور زمین میں جتنے ہیں سب اس کے حضور بندے ہوکر حاضر ہوں گے۔
وجود واحد ہے اور موجود احدباقی سب ظل وعکوس
ہو الاول و الاخر و الظہر و الباطن و ہو بکل شیء علیم ﴿۳﴾ ۔واﷲ تعالی اعلم۔ وہی اول وہی آخر وہی ظاہر وہی باطناور وہی سب کچھ جانتاہے۔(ت)واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۲۵۲: مسئولہ سید اولاد علی صاحب مرادآبادی ۷محرم الحرام ۱۳۳۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ" انہ بکل شیء علیم ﴿۱۲﴾" (بیشك وہ سب کچھ جانتاہے۔ت) اور
" فاینما تولوا فثم وجہ اللہ" (تم جدھر منہ کروادھر وجہ اللہ(خدا کی رحمت تمھاری طرف متوجہ)
" ان کل من فی السموت والارض الا اتی الرحمن عبدا ﴿۹۳﴾" آسمانوں اور زمین میں جتنے ہیں سب اس کے حضور بندے ہوکر حاضر ہوں گے۔
وجود واحد ہے اور موجود احدباقی سب ظل وعکوس
ہو الاول و الاخر و الظہر و الباطن و ہو بکل شیء علیم ﴿۳﴾ ۔واﷲ تعالی اعلم۔ وہی اول وہی آخر وہی ظاہر وہی باطناور وہی سب کچھ جانتاہے۔(ت)واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۲۵۲: مسئولہ سید اولاد علی صاحب مرادآبادی ۷محرم الحرام ۱۳۳۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ" انہ بکل شیء علیم ﴿۱۲﴾" (بیشك وہ سب کچھ جانتاہے۔ت) اور
" فاینما تولوا فثم وجہ اللہ" (تم جدھر منہ کروادھر وجہ اللہ(خدا کی رحمت تمھاری طرف متوجہ)
حوالہ / References
القرآن الکریم ۱۹ /۹۳
القرآن الکریم ۵۷ /۳
القرآن الکریم ۴۲ /۱۲
القرآن الکریم ۲ /۱۱۵
القرآن الکریم ۵۷ /۳
القرآن الکریم ۴۲ /۱۲
القرآن الکریم ۲ /۱۱۵
اور" و نحن اقرب الیہ من حبل الورید ﴿۱۶﴾" (اور ہم دل کی رگ سے بھی اس سے زیادہ نزدیك ہیں۔ت)سے احاطہ اور قرب ذاتی مراد ہے یا صفاتی زیدکہتاہے کہ جمہور علماء کے نزدیك ان آیات کامطلب یہ ہے کہ اﷲ تبارك وتعالی کا علم اور قدرت ہر شے کو محیط ہے نہ ذاتعمروکہتاہے کہ اﷲ تبارك وتعالی کی ذات ہر شے کو محیط اور شہ رگ سے زیادہ قریب ہے کوئی مکان کوئی گوشہ ایسانہیں جہاں ذات خدا موجود نہ ہو اور خدا ہر جگہ حاضر وناضر ہے اور اگر ان آیات سے احاطہ اور قرب صفاتی مراد لیا جائے گا تو گویا صفات خدا ذات باری سے بڑھ گئیں اور ذات باری محدود اور صفات سے چھوٹی ہوگیاور جو شخص ان آیات سے احاطہ اور قرب صفاتی مراد لے وہ مشرك ہے اگر دنیا بھر کے عالم ایسا کہیں تو بھی ایك کی نہ مانوں گا اور سب کو مشرك کہوں گا اور اپنی دلیل میں شاہ امداد اﷲ صاحب اور مولانا روم صاحب اور امام غزالی رحمۃ اﷲ تعالی علیہم کے اقوال پیش کرتاہےان دونوں میں کس کا قول صحیح ہے اور اگر زید حق پر ہے توعمروکے واسطے شریعت مطہرہ میں کیاحکم ہے وہ اپنے اس قول سے کسی گناہ کا مرتکب ہے یانہیں بینوا مع الدلائل من الکتاب توجروا من اﷲ الوھاب(کتب سے دلائل کے ساتھ بیان کیجئے اور اﷲ وہاب سے اجرپائیے۔ت)
الجواب:
" رب اعوذ بک من ہمزت الشیطین ﴿۹۷﴾ و اعوذ بک رب ان یحضرون ﴿۹۸﴾ " اے میرے رب تیری پناہ شیاطین کے وسوسوں سے اور اے میرے رب تیری پناہ کہ وہ میرے پاس آئیں۔(ت)
آیات متشابہات میں اہل سنت حفظہم اﷲ تعالی کے دو۲ مسلك ہیں:
اقول:تفویض کہ ہم ان کے معنی کچھ نہیں جانتے اﷲ ورسول جانتے ہیں جل وعلا وصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم جو معنی مراد الہی ہیں ہم اس پر ایمان لائے
" امنا بہ کل من عند ربنا وما یذکر الا اولوا الالبب﴿۷﴾" ۔ ہم اس پر ایمان لائے سب ہمارے رب کے پاس سے ہے اور نصیحت نہیں مانتے مگر عقل والے۔(ت)
الجواب:
" رب اعوذ بک من ہمزت الشیطین ﴿۹۷﴾ و اعوذ بک رب ان یحضرون ﴿۹۸﴾ " اے میرے رب تیری پناہ شیاطین کے وسوسوں سے اور اے میرے رب تیری پناہ کہ وہ میرے پاس آئیں۔(ت)
آیات متشابہات میں اہل سنت حفظہم اﷲ تعالی کے دو۲ مسلك ہیں:
اقول:تفویض کہ ہم ان کے معنی کچھ نہیں جانتے اﷲ ورسول جانتے ہیں جل وعلا وصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم جو معنی مراد الہی ہیں ہم اس پر ایمان لائے
" امنا بہ کل من عند ربنا وما یذکر الا اولوا الالبب﴿۷﴾" ۔ ہم اس پر ایمان لائے سب ہمارے رب کے پاس سے ہے اور نصیحت نہیں مانتے مگر عقل والے۔(ت)
یہی مسلك سلف ہے اوریہی صحیح ومعتمداس تقدیر پر تو نہ احاطہ ذاتی کہا جائے نہ صفاتی کہا جائےمعنی سے کچھ بحث ہی نہ کی جائےحضرت ام المو منین ام سلمہ رضی اﷲ تعالی عنہا سے" الرحمن علی العرش استوی ﴿۵﴾" (رحمان نے عرش پر استواء فرمایا۔ ت)کے معنی دریافت کئے گئے فرمایا:
الاستواء معلوم والکیف مجھول والایمان بہ واجب والسوال عنہ بدعۃ ۔ استواء معلوم ہے اور کیف مجہول ور اس پر ایمان فرض اور اس کی تفتیش بدعت۔
یہی جواب سیدنا امام مالك رضی اﷲ تعالی عنہ نے دیایہی مسلك ہمارے امام اعظم اور سائر ائمہ سلف کاہےہاں ہم ایمان لائے ہیں کہ اﷲ تعالی جسم وجہت ومکان سے پاك ومنزہ ہےکسی مکان میں نہیں ہوسکتاکسی جگہ نہیں ہوسکتاکسی طرف نہیں ہوسکتااور طرف سب اس کے بنائے ہوئے ہیںاور حادث ہیںاور قدیم ازلیازل میں کسی جگہ کسی طرف نہ تھا کہ جگہ اور طرف تھے ہی نہیں تو اب کسی جگہ اور طرف میں نہیںجیسا جب تھا ویساہی اب ہےجگہ اور طرف کو بناکر بدل نہ گیاجگہ اور طرف بدلیں گے اور وہ بدلنے سے پاك ہے۔
دوم: تاویل کہ ایسی آیات کوحسب محاورہ معنی جائز پر حمل کریں جس سے نہ چین لینے والی طبیعتوں کو تسکین ہو اور ایمان سلامت رہے یہ مسلك خلف کا ہے اور اس طورپر احاطہ صفاتی مرادلیں گےعلم وقدرت الہی ہرشے کو محیط ہونے کے بھی یہ معنی نہیں کہ اس کے علم وقدرت ہر جگہ متمکن ہیں کہ جگہ یا طرف میں ہونا جسم وجسمانیت کی شان ہے اور وہ اور اس کے صفات ان سے متعالی بلکہ احاطہ علم کے معنی یہ ہیں کہ ہر شے واجب یا ممکن یا ممتنع معدوم یا موجودحادث یا قدیم اسے معلوم ہےاحاطہ قدرت کے معنی یہ ہیں کہ ہر ممکن پر اسے قدرت ہےاس سے صفات کا ذات سے بڑھ جانا نہ کہے گا مگر مجنونعمرو کاوہ کہنا کہ کوئی مکان کوئی گوشہ ایسانہیں جہاں ذات خدا موجود نہ ہو کلمہ کفر ہے کہ اس کی ذات کے لئے جگہ ثابت کرناہےفتاوی تاتارخانیہ وطریقہ محمدیہ وحدیقہ ندیہ وفتاوی عالمگیری وجامع الفصولین وغیرہ میں اس پرحکم کفر فرمایا اوراحاطہ صفاتی ماننے والے کو اس کا مشرك کہنا ہزاروں ائمہ خلف پر حکم شرك
الاستواء معلوم والکیف مجھول والایمان بہ واجب والسوال عنہ بدعۃ ۔ استواء معلوم ہے اور کیف مجہول ور اس پر ایمان فرض اور اس کی تفتیش بدعت۔
یہی جواب سیدنا امام مالك رضی اﷲ تعالی عنہ نے دیایہی مسلك ہمارے امام اعظم اور سائر ائمہ سلف کاہےہاں ہم ایمان لائے ہیں کہ اﷲ تعالی جسم وجہت ومکان سے پاك ومنزہ ہےکسی مکان میں نہیں ہوسکتاکسی جگہ نہیں ہوسکتاکسی طرف نہیں ہوسکتااور طرف سب اس کے بنائے ہوئے ہیںاور حادث ہیںاور قدیم ازلیازل میں کسی جگہ کسی طرف نہ تھا کہ جگہ اور طرف تھے ہی نہیں تو اب کسی جگہ اور طرف میں نہیںجیسا جب تھا ویساہی اب ہےجگہ اور طرف کو بناکر بدل نہ گیاجگہ اور طرف بدلیں گے اور وہ بدلنے سے پاك ہے۔
دوم: تاویل کہ ایسی آیات کوحسب محاورہ معنی جائز پر حمل کریں جس سے نہ چین لینے والی طبیعتوں کو تسکین ہو اور ایمان سلامت رہے یہ مسلك خلف کا ہے اور اس طورپر احاطہ صفاتی مرادلیں گےعلم وقدرت الہی ہرشے کو محیط ہونے کے بھی یہ معنی نہیں کہ اس کے علم وقدرت ہر جگہ متمکن ہیں کہ جگہ یا طرف میں ہونا جسم وجسمانیت کی شان ہے اور وہ اور اس کے صفات ان سے متعالی بلکہ احاطہ علم کے معنی یہ ہیں کہ ہر شے واجب یا ممکن یا ممتنع معدوم یا موجودحادث یا قدیم اسے معلوم ہےاحاطہ قدرت کے معنی یہ ہیں کہ ہر ممکن پر اسے قدرت ہےاس سے صفات کا ذات سے بڑھ جانا نہ کہے گا مگر مجنونعمرو کاوہ کہنا کہ کوئی مکان کوئی گوشہ ایسانہیں جہاں ذات خدا موجود نہ ہو کلمہ کفر ہے کہ اس کی ذات کے لئے جگہ ثابت کرناہےفتاوی تاتارخانیہ وطریقہ محمدیہ وحدیقہ ندیہ وفتاوی عالمگیری وجامع الفصولین وغیرہ میں اس پرحکم کفر فرمایا اوراحاطہ صفاتی ماننے والے کو اس کا مشرك کہنا ہزاروں ائمہ خلف پر حکم شرك
حوالہ / References
القرآن الکریم ۲۰ /۵
لباب التاویل(تفسیر الخازن)۷/ ۵۴ثم استوٰی علی العرش کے تحت مصطفی البابی مصر ۲/ ۲۳۸،درمنثور بحوالہ مردویہ عن ام سلمہ رضی اﷲ عنہا ۷/ ۵۴ منشورات مکتبہ آیۃ اﷲ المعظمی قم ایران ۳/ ۹۱،مدارك التنزیل(تفسیر نسفی)۲۰/ ۵ سورہ طٰہ،دارالکتب العربی بیروت ۳/ ۴۸
لباب التاویل(تفسیر الخازن)۷/ ۵۴ثم استوٰی علی العرش کے تحت مصطفی البابی مصر ۲/ ۲۳۸،درمنثور بحوالہ مردویہ عن ام سلمہ رضی اﷲ عنہا ۷/ ۵۴ منشورات مکتبہ آیۃ اﷲ المعظمی قم ایران ۳/ ۹۱،مدارك التنزیل(تفسیر نسفی)۲۰/ ۵ سورہ طٰہ،دارالکتب العربی بیروت ۳/ ۴۸
لگانا ہے اور اس کا کہنا کہ"اگر تمام دنیا کے عالم ایسا کہیں تو میں سب کو مشرك کہوں گا"صریح کفر پر آمادگی ہے کہ تمام جہاں کے عالموں کو مشرك نہ کہے گا مگر کافر اورکفرپر آمادگی کفرہےعمرو پر توبہ فرض ہے اپنے عقیدہ باطلہ سے تائب ہو اور کلمہ اسلام پڑھے اور عورت رکھتاہو تو بعد اسلام اس سے پھر نکاح کرے اگر وہ راضی ہو ہم چند سہل سہل باتیں لکھتے ہیں اگر اﷲ تعالی کو اسے ہدایت کرنا ہے تو انھیں سے وہ سمجھ لے گا کہ اس نے کیسی ناپاك بات کہی اوراپنے معبود کو کیسے کیسے گھناؤ نے داغ لگائے اور نظر انصاف سے نہ دیکھے اور تعصب وعنادبرتے تو اﷲ راہ نہیں دیتاہے ظالموں کوذرا آنکھیں بند کرکے گردن جھکا کر رب عزوجل کی عظمت پر ایمان لاکر غور کرے کہ اس نے کیسی ذلیل چیز کا نام خدارکھا ہے الحمد ﷲ معیت وقرب واحاطہ الہیہ پر مسلمان کا ایمان ہے مگر نہ ان معنی پر جو ان الفاظ سے لغوی وعرفی طورپر سمجھ آتے ہیں بلکہ ان پر جو مراد الہی ہیں اور ہمارے عقول سے وراء ہیں معاذاﷲ اگریہی ظاہری معنی لئے جائیں جس پریہ کہاجائے کہ وہ بذاتہ ہرمکان ہر گوشہ میں موجود ہے تو اس سے زائد ذلیل ترکوئی عیب لگانا نہ ہوگا۔
(۱)جب کہ اس کے نزدیك اس کا وہمی معبود بالذات ہر مکان ہرگوشہ میں موجود اورہرشے کو بالذات محیط ہے تو پاخانہ میں بھی ہوگااس کی نجاست کو لپٹاہوا بھی ہوگااس نجاست کے ساتھ اس کے بدترین مقام سے نکلا بھی۔
(۲)جوشے دوسری شے کو بالذات محیط ہو وہ یوہیں ہوگا کہ محیط کے اندر جوف ہو جو اس دوسری چیز کو گھیرے ہوئے ہے جیسے آسمان زمین کو محیط ہے تو ا س کامعبود جوف دار کہگل ہوا اور اﷲ واحد قہار صمدہے جوف سے پاك ہے۔
(۳)سب اشیاء کو محیط ہونا بایں معنی ہے کہ اس کا معبود وہمی تمام عالم کے باہر باہر ہے اور عالم اس کے اندر ہے جیسے فلك الافلاك کے اندر باقی کرے جب تو شہ رگ سے زیادہ قریب کیسے ہوا بلکہ لاکھوں منزل دور ہوا اور اگریوں ہے کہ ہر ذرہ ذرہ کو بذاتہ بلاواسطہ محیط ہے تو بلاشبہ وہ شے کہ مشرق کے کسی ذرہ کومحیط ہو قطعا اس کی غیر ہو گی جو مغرب کے ذرہ کو محیط ہے تو ذروں کی گنتی پر خدا یا خدا کے ٹکڑے ہوئے اور وہ احدصمد اس سے متعالی ہے۔
(۴)جب کہ وہ ہر شے کو بالذات محیط ہے تو زمین کوبھی محیط ہوگااور یہ جوتم چلتے ہو اور جوتیاں پہن کر پاؤں رکھتے ہو وہ تمھارے معبود پر ہوئیں تم جو پاخانہ پیشاب پھرتے ہو وہ تمھارے معبودپر گرا کیسا گھناؤنامعبود اور کیسے ناپاك عابد
" ضعف الطالب والمطلوب ﴿۷۳﴾" (کتنا کمزور چاہنے والا اور
(۱)جب کہ اس کے نزدیك اس کا وہمی معبود بالذات ہر مکان ہرگوشہ میں موجود اورہرشے کو بالذات محیط ہے تو پاخانہ میں بھی ہوگااس کی نجاست کو لپٹاہوا بھی ہوگااس نجاست کے ساتھ اس کے بدترین مقام سے نکلا بھی۔
(۲)جوشے دوسری شے کو بالذات محیط ہو وہ یوہیں ہوگا کہ محیط کے اندر جوف ہو جو اس دوسری چیز کو گھیرے ہوئے ہے جیسے آسمان زمین کو محیط ہے تو ا س کامعبود جوف دار کہگل ہوا اور اﷲ واحد قہار صمدہے جوف سے پاك ہے۔
(۳)سب اشیاء کو محیط ہونا بایں معنی ہے کہ اس کا معبود وہمی تمام عالم کے باہر باہر ہے اور عالم اس کے اندر ہے جیسے فلك الافلاك کے اندر باقی کرے جب تو شہ رگ سے زیادہ قریب کیسے ہوا بلکہ لاکھوں منزل دور ہوا اور اگریوں ہے کہ ہر ذرہ ذرہ کو بذاتہ بلاواسطہ محیط ہے تو بلاشبہ وہ شے کہ مشرق کے کسی ذرہ کومحیط ہو قطعا اس کی غیر ہو گی جو مغرب کے ذرہ کو محیط ہے تو ذروں کی گنتی پر خدا یا خدا کے ٹکڑے ہوئے اور وہ احدصمد اس سے متعالی ہے۔
(۴)جب کہ وہ ہر شے کو بالذات محیط ہے تو زمین کوبھی محیط ہوگااور یہ جوتم چلتے ہو اور جوتیاں پہن کر پاؤں رکھتے ہو وہ تمھارے معبود پر ہوئیں تم جو پاخانہ پیشاب پھرتے ہو وہ تمھارے معبودپر گرا کیسا گھناؤنامعبود اور کیسے ناپاك عابد
" ضعف الطالب والمطلوب ﴿۷۳﴾" (کتنا کمزور چاہنے والا اور
حوالہ / References
القرآن الکریم ۲۲ /۷
جو چاہا گیا۔ت)
(۵)مثلا کسی زید نے کسی عمرو کو جوتا مارا تو عمرو کو بھی اس کا معبود محیط ہےاس جوتے پڑتے وقت وہیں قائم رہے گا یا ہٹ جائے گا اگر ہٹ گیا تو ہرشے کو محیط نہ رہا اگر قائم رہا تو اسی پر پڑا
(۶)جس وقت زید نے جوتا اٹھایا اورا بھی عمرو کے بدن تك نہ پہنچا تو جوتے اور عمرو کے بدن میں جو فاصلہ ہے وہ بھی ایك شے اور وہ ایك جگہ ہےوہ وہمی معبود بذات خود یہاں بھی موجود ہوگا یہاں سے وہاں تك جگہ اس سے بھری ہوئی ہے اب جوتا آگے بڑھا کہ بدن عمرو سے قریب ہو اس بڑھنے میں وہ وہمی معبود کہ یہاں سے وہاں تك بھرا ہوا تھاپانی یا ہوا کی طرح چرے گا کہ جوتا اس میں ہوتا ہوا گزر جائے گا جب توطرفہ معبود جسے جوتے نے پھاڑدیا ا ور اگر نہ چرے گا بلکہ سمٹے گا جیسے پھولی ہوئی روٹی سمٹتی ہے تومعبود کیا ہوا ربڑہوااور اگر نہ چرے گا نہ سمٹے گا تو ضرور ہے کہ جوتا دیکھ کر جگہ چھوڑ دے گا ہر جگہ موجود کہاں رہا
(۷)جب کہ ہر وہ شے کہ بذاتہ محیط ہے تو محیط جیساشے کے اوپر ہوتاہے ویسا ہی اس کے نیچے پاؤں کے تلے وہ جو توں کے نیچے وہ پھر ایسے ذلیل کو رب اعلی کیسے کہا جاسکتاہے!
تعالی اﷲ عما یقول الظالمون علوالکبیراولاحول ولا قوۃ الاباﷲ العلی العطیم وصلی اﷲ العلی الاعلی علی الکریم المولی والہ وصحبہ وبارك وسلم ابدا امین و استغفراﷲ العظیم والحمد ﷲ رب العالمینواﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔ جو کچھ ظالموں نے کہا اﷲ تعالی اس سے کہیں بلند و بزرگ ہے نیکی بجالانا اور برائی سے پھرنا اﷲ بلند وبزرگ کی توفیق کے بغیر نہیں ہوسکتا اور بلند و اعلی اﷲ تعالی کی خصوصی رحمتیں ہوں کریم مولی پر اور اس کی آل اور اصحاب پر بھیہم اﷲ تعالی سے معافی کے طلب گارہیںتمام حمد اﷲ رب العالمین کےلئے ہےاﷲ سبحانہ وتعالی ہی بہتر جانتاہے۔ (ت)
مسئلہ ۲۵۳: مرسلہ مجیب الدین ساکن امسچور پوسٹ ٹوپیری بازی ضلع ڈھاکہ ۶ صفر ۱۳۳۵ھ
جومذہب اور فقہ کانہیں ماننے والاکتابی ہے یا خارجی
الجواب:
جومسلمان کہلاکر فقہ کو اصلا نہ مانے نہ کتابی ہے نہ خارجی بلکہ مرتد ہے اسلام سے خارج اور اگر کوئی تاویل کرتاہے تو کم از کم بددین گمراہ۔
قال اﷲ تعالی" فلولا نفر من کل فرقۃ اﷲ تعالی نے فرمایا:توکیوں نہ ہو کہ ان کے
(۵)مثلا کسی زید نے کسی عمرو کو جوتا مارا تو عمرو کو بھی اس کا معبود محیط ہےاس جوتے پڑتے وقت وہیں قائم رہے گا یا ہٹ جائے گا اگر ہٹ گیا تو ہرشے کو محیط نہ رہا اگر قائم رہا تو اسی پر پڑا
(۶)جس وقت زید نے جوتا اٹھایا اورا بھی عمرو کے بدن تك نہ پہنچا تو جوتے اور عمرو کے بدن میں جو فاصلہ ہے وہ بھی ایك شے اور وہ ایك جگہ ہےوہ وہمی معبود بذات خود یہاں بھی موجود ہوگا یہاں سے وہاں تك جگہ اس سے بھری ہوئی ہے اب جوتا آگے بڑھا کہ بدن عمرو سے قریب ہو اس بڑھنے میں وہ وہمی معبود کہ یہاں سے وہاں تك بھرا ہوا تھاپانی یا ہوا کی طرح چرے گا کہ جوتا اس میں ہوتا ہوا گزر جائے گا جب توطرفہ معبود جسے جوتے نے پھاڑدیا ا ور اگر نہ چرے گا بلکہ سمٹے گا جیسے پھولی ہوئی روٹی سمٹتی ہے تومعبود کیا ہوا ربڑہوااور اگر نہ چرے گا نہ سمٹے گا تو ضرور ہے کہ جوتا دیکھ کر جگہ چھوڑ دے گا ہر جگہ موجود کہاں رہا
(۷)جب کہ ہر وہ شے کہ بذاتہ محیط ہے تو محیط جیساشے کے اوپر ہوتاہے ویسا ہی اس کے نیچے پاؤں کے تلے وہ جو توں کے نیچے وہ پھر ایسے ذلیل کو رب اعلی کیسے کہا جاسکتاہے!
تعالی اﷲ عما یقول الظالمون علوالکبیراولاحول ولا قوۃ الاباﷲ العلی العطیم وصلی اﷲ العلی الاعلی علی الکریم المولی والہ وصحبہ وبارك وسلم ابدا امین و استغفراﷲ العظیم والحمد ﷲ رب العالمینواﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔ جو کچھ ظالموں نے کہا اﷲ تعالی اس سے کہیں بلند و بزرگ ہے نیکی بجالانا اور برائی سے پھرنا اﷲ بلند وبزرگ کی توفیق کے بغیر نہیں ہوسکتا اور بلند و اعلی اﷲ تعالی کی خصوصی رحمتیں ہوں کریم مولی پر اور اس کی آل اور اصحاب پر بھیہم اﷲ تعالی سے معافی کے طلب گارہیںتمام حمد اﷲ رب العالمین کےلئے ہےاﷲ سبحانہ وتعالی ہی بہتر جانتاہے۔ (ت)
مسئلہ ۲۵۳: مرسلہ مجیب الدین ساکن امسچور پوسٹ ٹوپیری بازی ضلع ڈھاکہ ۶ صفر ۱۳۳۵ھ
جومذہب اور فقہ کانہیں ماننے والاکتابی ہے یا خارجی
الجواب:
جومسلمان کہلاکر فقہ کو اصلا نہ مانے نہ کتابی ہے نہ خارجی بلکہ مرتد ہے اسلام سے خارج اور اگر کوئی تاویل کرتاہے تو کم از کم بددین گمراہ۔
قال اﷲ تعالی" فلولا نفر من کل فرقۃ اﷲ تعالی نے فرمایا:توکیوں نہ ہو کہ ان کے
منہم طائفۃ لیتفقہوا فی الدین" وفی الحدیث عنہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم من یرد اﷲ بہ خیرا یفقہہ فی الدین ۔واﷲ تعالی اعلم۔ ہر گروہ میں سے ایك جماعت نکلے کہ دین کی سمجھ حاصل کریں۔(ت)اور رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہےاﷲ تعالی جس سے بھلائی کا ارادہ فرماتاہے اسے دین کی سمجھ عطا فرماتاہے۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۲۵۴: مرسلہ محمد الیاس صاحب واعظ خراسانی شہر جونا گڑھ ملك کاٹھیاوار ۱۶ صفر ۱۳۳۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس شخص کے بارہ میں جس کا عقیدہ یہ ہوکہ اﷲ تبارك وتعالی نے فرشتوں سے مشورہ کیا اگر چہ اس کی ضرورت نہیں مگر تعلیما کہ ہم تم بھی مشورہ سے کام لیںکیا ایسے شخص سے بامید نجات ابدی بیعت ہونا مفید ہے یا جو مرید ہوچکے ہیں کچھ فائدہ نہ اٹھائیں گےبینوا توجروا(بیان کرو اجرپاؤ۔ت)
الجواب:
اتنی بات ایسی نہیں جس کے سبب اس کے ہاتھ پر بیعت ناجائز ہوجائے خصوصا کہ اس نے تصریح کردی کہ اسے حاجت مشورہ کی نہیں بندو ں کے ارشاد کے لئے ایساکیا توجو اس سے وہم جاتا وہ بھی اس نے دفع کردیاخود حدیث میں ہے نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:استشار نی ربی فی امتی ثلثا مجھ سے میرے رب نے میری امت کے بارہ میں تین بار مشورہ چاہا۔ واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۵۵: مرسلہ سخاوت خاں نابینا مسجد ندی قصبہ مہدپور ریاست اندور ملك مالوہ یکم ربیع الاول ۱۳۳۵ھ
کوئی شخص سنت وجماعت میں سے نماز سے انکار کرے اور اس سے کہا جائے کہ نماز سے
مسئلہ ۲۵۴: مرسلہ محمد الیاس صاحب واعظ خراسانی شہر جونا گڑھ ملك کاٹھیاوار ۱۶ صفر ۱۳۳۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس شخص کے بارہ میں جس کا عقیدہ یہ ہوکہ اﷲ تبارك وتعالی نے فرشتوں سے مشورہ کیا اگر چہ اس کی ضرورت نہیں مگر تعلیما کہ ہم تم بھی مشورہ سے کام لیںکیا ایسے شخص سے بامید نجات ابدی بیعت ہونا مفید ہے یا جو مرید ہوچکے ہیں کچھ فائدہ نہ اٹھائیں گےبینوا توجروا(بیان کرو اجرپاؤ۔ت)
الجواب:
اتنی بات ایسی نہیں جس کے سبب اس کے ہاتھ پر بیعت ناجائز ہوجائے خصوصا کہ اس نے تصریح کردی کہ اسے حاجت مشورہ کی نہیں بندو ں کے ارشاد کے لئے ایساکیا توجو اس سے وہم جاتا وہ بھی اس نے دفع کردیاخود حدیث میں ہے نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:استشار نی ربی فی امتی ثلثا مجھ سے میرے رب نے میری امت کے بارہ میں تین بار مشورہ چاہا۔ واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۵۵: مرسلہ سخاوت خاں نابینا مسجد ندی قصبہ مہدپور ریاست اندور ملك مالوہ یکم ربیع الاول ۱۳۳۵ھ
کوئی شخص سنت وجماعت میں سے نماز سے انکار کرے اور اس سے کہا جائے کہ نماز سے
حوالہ / References
القرآن الکریم ۹ /۱۲۲
صحیح البخاری کتاب العلم باب العلم قبل القول والعمل قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۶،صحیح مسلم کتاب الامارۃ باب قولہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۱۴۳،المعجم الکبیر حدیث ۹۱۱ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۱۹/ ۳۸۹
مسند احمد بن حنبل حدیث حذیفہ بن الیمان دارالفکربیروت ۵/ ۳۹۳،الخصائص الکبرٰی باب اختصاصہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم بان امۃ الخ مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲/ ۲۰۶
صحیح البخاری کتاب العلم باب العلم قبل القول والعمل قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۶،صحیح مسلم کتاب الامارۃ باب قولہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۱۴۳،المعجم الکبیر حدیث ۹۱۱ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۱۹/ ۳۸۹
مسند احمد بن حنبل حدیث حذیفہ بن الیمان دارالفکربیروت ۵/ ۳۹۳،الخصائص الکبرٰی باب اختصاصہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم بان امۃ الخ مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲/ ۲۰۶
انکار کرنا کفرہے اس کے جواب میں وہ کہے کہ میں کافرہی سہیایسے شخص کی نسبت کیاحکم ہے فقط
الجواب:
نماز سے انکار یہ بھی ہے کہ وہ کہے میں نہیں پڑھتایانہیں پڑھوں گااس قدر سے کافر نہ ہوگا جب تك نماز کی فرضیت سے انکار یا اس کااستخفاف نہ کرےاگرشخص مذکور کا انکار اس حد کا نہ تھا تو جس نے اس کے انکار پر حکم کفر لگایا خاطی ہوااور اسی کی زیادتی اس شخص کو ایسے کلمہ مردودہ کی طرف لے گئیبہرحال اپنے آپ کو یہ کہنا کہ کافر ہی سہی اس کا ظاہر معاذاﷲ قبول کفر ہےاور قبول کفر یقینا کفرہےمگراس معنی کابھی احتمال ہے کہ نزدیك کافر ہی سہی لہذا حکم تکفیر نہ کیا جائے گا البتہ تجدید اسلام وتجدید نکاح کاحکم دیا جائے گا۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۵۶ و ۲۵۷: مرسلہ حاجی قاسم میاں صاحب ازگونڈل علاقہ کاٹھیاوار ۱۷ جمادی الآخر ۱۳۳۵ھ
کیا فرماتے ہیں ائمہ دین وعلمائے معتمدین اہل سنت ایدھم اﷲ تعالی ونصرھم اللہکاٹھیاوار مسلم ایجوکیشنل کانفرنس (جس کا جلسہ بمقام جونا گڈھ کاٹھیا وار بتاریخ ۲ و ۳ اکتوبر ۱۹۱۶ء کو ہوا)کے ان اراکین کے حق میں ہادی بن کر اپنی تقریروں میں ذیل کے اقوال بیان کئے اور ان اراکین کاحکم بھی بیان فرمائیں جنھوں نے ان کے اقوال گجراتی زبان میں بعینہ نقل کئے اور چھاپ کر مسلمانوں میں تقسیم کئے اور کرتے ہیں
(۱)گجراتی زبان میں دینی کتابوں کا انتظام کیا جائےمسلمان بچوں کے لئے خاص گجراتی مدارس قائم کئے جائیں جن میں"مسلمان دھرم کی دنت کتھاؤں کاذکر ہو"اور جن میں مسلمان بیرتروں کی تعریفیں کی ہوںایسی کتابیں رائج کی جائیں (نیز)"مسلمان لوگ جس دھرم کی دنت کتھا"اور جن حضرات کو عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہوں ان کا حقارت سے جس مروجہ کتب میں ذکر کیا گیا ہو اول درجہ کتب کو دیگر اقوام سے ملے ہوئے مدارس سے باطل کرنا(روداد تقریر صدر صفحہ ۲۹۰)
(۲)ہم ہمارے ملکی برادروں کے جذبات کو ان کے"دیوتا کی باتوں کو"ان کے پیشواؤں کو عزت دیتے ہیں اور وہ بھی ایسی ہی عزت ہماری طرف رکھیں ایسی بھی امید رکھتے ہیں(روداد تقریر صدر ص۳۳)مگر گزارش آنکہ لفظ"دنت کتھا"کے معنی گجراتی زبان میں زبان کی بات وہ بات جس کی کوئی سند نہ ہوتی ہوہوتے ہیں۔
الجواب:
ایسے اقوال کے قائم ہادی نہیں ہوسکتے بلکہ مضل ہیں یعنی گمراہ کرنے والے اور گمراہی پھیلانے والے
الجواب:
نماز سے انکار یہ بھی ہے کہ وہ کہے میں نہیں پڑھتایانہیں پڑھوں گااس قدر سے کافر نہ ہوگا جب تك نماز کی فرضیت سے انکار یا اس کااستخفاف نہ کرےاگرشخص مذکور کا انکار اس حد کا نہ تھا تو جس نے اس کے انکار پر حکم کفر لگایا خاطی ہوااور اسی کی زیادتی اس شخص کو ایسے کلمہ مردودہ کی طرف لے گئیبہرحال اپنے آپ کو یہ کہنا کہ کافر ہی سہی اس کا ظاہر معاذاﷲ قبول کفر ہےاور قبول کفر یقینا کفرہےمگراس معنی کابھی احتمال ہے کہ نزدیك کافر ہی سہی لہذا حکم تکفیر نہ کیا جائے گا البتہ تجدید اسلام وتجدید نکاح کاحکم دیا جائے گا۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۵۶ و ۲۵۷: مرسلہ حاجی قاسم میاں صاحب ازگونڈل علاقہ کاٹھیاوار ۱۷ جمادی الآخر ۱۳۳۵ھ
کیا فرماتے ہیں ائمہ دین وعلمائے معتمدین اہل سنت ایدھم اﷲ تعالی ونصرھم اللہکاٹھیاوار مسلم ایجوکیشنل کانفرنس (جس کا جلسہ بمقام جونا گڈھ کاٹھیا وار بتاریخ ۲ و ۳ اکتوبر ۱۹۱۶ء کو ہوا)کے ان اراکین کے حق میں ہادی بن کر اپنی تقریروں میں ذیل کے اقوال بیان کئے اور ان اراکین کاحکم بھی بیان فرمائیں جنھوں نے ان کے اقوال گجراتی زبان میں بعینہ نقل کئے اور چھاپ کر مسلمانوں میں تقسیم کئے اور کرتے ہیں
(۱)گجراتی زبان میں دینی کتابوں کا انتظام کیا جائےمسلمان بچوں کے لئے خاص گجراتی مدارس قائم کئے جائیں جن میں"مسلمان دھرم کی دنت کتھاؤں کاذکر ہو"اور جن میں مسلمان بیرتروں کی تعریفیں کی ہوںایسی کتابیں رائج کی جائیں (نیز)"مسلمان لوگ جس دھرم کی دنت کتھا"اور جن حضرات کو عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہوں ان کا حقارت سے جس مروجہ کتب میں ذکر کیا گیا ہو اول درجہ کتب کو دیگر اقوام سے ملے ہوئے مدارس سے باطل کرنا(روداد تقریر صدر صفحہ ۲۹۰)
(۲)ہم ہمارے ملکی برادروں کے جذبات کو ان کے"دیوتا کی باتوں کو"ان کے پیشواؤں کو عزت دیتے ہیں اور وہ بھی ایسی ہی عزت ہماری طرف رکھیں ایسی بھی امید رکھتے ہیں(روداد تقریر صدر ص۳۳)مگر گزارش آنکہ لفظ"دنت کتھا"کے معنی گجراتی زبان میں زبان کی بات وہ بات جس کی کوئی سند نہ ہوتی ہوہوتے ہیں۔
الجواب:
ایسے اقوال کے قائم ہادی نہیں ہوسکتے بلکہ مضل ہیں یعنی گمراہ کرنے والے اور گمراہی پھیلانے والے
اور مسلمانوں کو گمراہی کی طرف بلانے والےاو ر جو ایسے اقوال کو شائع کرتے ہیں وہ مسلمانوں میں اشاعت فاحشہ کے محب اور ان قائلوں کی طرح غضب جبار و عذاب قہار کے مستوجب ہیں بزرگان اسلام کے مناقب کو دنت کتھا یعنی بے اصل افسانہ کہنا ہی گمراہی کےلئے کافی تھا مگر کفار کے مذہبی جذبات اور ان کے دیوتاؤں اور پیشواؤں کو عزت دینا صریح کلمہ کفر ہے
قال اﷲ تعالی" و للہ العزۃ و لرسولہ و للمؤمنین و لکن المنفقین لا یعلمون ﴿۸﴾" ۔ اﷲ تعالی نے فرمایا عزت توخاص اﷲ اور اس کے رسول اور مسلمانوں کے لئے ہے مگر منافقوں کو خبر نہیں۔
ان کے دیوتاؤں اور پیشواؤں اور مذہبی جذبات کا اعزاز درکنار جو ان کے کسی فعل کی تحسین ہی کرے باتفاق ائمہ کافر ہے غمزالعیون والبصائر میں ہے:
اتفق مشائخنا ان من رأی امرالکفار حسنا فقد کفر ۔ جس نے کسی کافر کے عمل کو اچھا گمان کیا وہ باتفاق مشائخ کافرہے۔(ت)
ان لوگوں پر فرض ہیے کہ ایسی باتوں سے توبہ کریںتجدید اسلام کریںتجدید نکاح کریںواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۵۸:ازاکبر آباد چھوٹی گلی حکیموں کی معرفت ڈاکٹر محمد نفیس صاحب مرسلہ مولانا مولوی دیدار علی صاحب الوری ۴ شعبان ۱۳۳۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید نے اثنائے وعظ میں حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی نسبت ان کلمات کا اطلاق کیا نعوذ باﷲ آپ یتیمغریببیچارے تھے اور جب چند اشخاص نے جاکر سمجھایا کہ غالبا آپ نے یہ الفاظ نہیں کہے ہوں گےمناسب ہے کہ آپ اظہار انکار فرمادیں تو کہنے لگا کہ میں نے تو یہی کہا ہےاﷲ جل شانہ تو قرآن عظیم میں" و وجدک ضالا" فرمارہا ہےبعدہ جب ایك نووارد مولوی صاحب نے ان سے دریافت کیا توان الفاظ کے کہنے سے انکار کیا اور کہا کہ میں نے تویہ کہا تھا کہ آپ سوچ بچار کر بات فرمایا کرتے تھے اس کولوگوں نے غریب
قال اﷲ تعالی" و للہ العزۃ و لرسولہ و للمؤمنین و لکن المنفقین لا یعلمون ﴿۸﴾" ۔ اﷲ تعالی نے فرمایا عزت توخاص اﷲ اور اس کے رسول اور مسلمانوں کے لئے ہے مگر منافقوں کو خبر نہیں۔
ان کے دیوتاؤں اور پیشواؤں اور مذہبی جذبات کا اعزاز درکنار جو ان کے کسی فعل کی تحسین ہی کرے باتفاق ائمہ کافر ہے غمزالعیون والبصائر میں ہے:
اتفق مشائخنا ان من رأی امرالکفار حسنا فقد کفر ۔ جس نے کسی کافر کے عمل کو اچھا گمان کیا وہ باتفاق مشائخ کافرہے۔(ت)
ان لوگوں پر فرض ہیے کہ ایسی باتوں سے توبہ کریںتجدید اسلام کریںتجدید نکاح کریںواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۵۸:ازاکبر آباد چھوٹی گلی حکیموں کی معرفت ڈاکٹر محمد نفیس صاحب مرسلہ مولانا مولوی دیدار علی صاحب الوری ۴ شعبان ۱۳۳۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید نے اثنائے وعظ میں حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی نسبت ان کلمات کا اطلاق کیا نعوذ باﷲ آپ یتیمغریببیچارے تھے اور جب چند اشخاص نے جاکر سمجھایا کہ غالبا آپ نے یہ الفاظ نہیں کہے ہوں گےمناسب ہے کہ آپ اظہار انکار فرمادیں تو کہنے لگا کہ میں نے تو یہی کہا ہےاﷲ جل شانہ تو قرآن عظیم میں" و وجدک ضالا" فرمارہا ہےبعدہ جب ایك نووارد مولوی صاحب نے ان سے دریافت کیا توان الفاظ کے کہنے سے انکار کیا اور کہا کہ میں نے تویہ کہا تھا کہ آپ سوچ بچار کر بات فرمایا کرتے تھے اس کولوگوں نے غریب
حوالہ / References
القرآن الکریم ۶۳ /۸
غمز العیون والبصائر شرح الاشباہ والنظائر باب السیروالردۃ ادارۃ القرآن کراچی ۱/ ۲۹۵
القرآن الکرایم ۹۳/ ۷
غمز العیون والبصائر شرح الاشباہ والنظائر باب السیروالردۃ ادارۃ القرآن کراچی ۱/ ۲۹۵
القرآن الکرایم ۹۳/ ۷
بیچارہ کر کے کہہ دیامولوی صاحب نے فرمایا غالبا ایساہی ہوگا مگر آپ یہ تو لکھ دیں کہ یہ الفاظ موجب توہین شان رسالت اور موجب کفرہیں اور اسی طرح" و وجدک ضالا" ایسے موقع پر کہتاہے کہ بیشك تو اس لکھنے سے منکر ہوگیا اور لیت ولعل میں ٹال دیا۔ آیا بلا توبہ اس کا وعظ سننا ملنا جلنا سلام علیك کرنااس کے معاونین سے نکاح پڑھوانا اور اس کے معاونین کے پیچھے نماز عید پڑھنا اور ان سے ملنا جلنا جائزہے یانہیں بینوا توجروا جزاکم اللہ(بیان کرو اجرپاؤ اﷲ تعالی تمھیں جزا عطافرمائے۔ت)
الجواب:
حضور اقدس قاسم النعممالك الارض ورقاب الامممعطی منعمقثمقیمولیوالیعلیعالیکاشف الکربرافع الرتبمعین کافیحفیظ وافیشفیع شافیعفو عافیغفور جمیلعزیز جلیلوہاب کریمغنی عظیمخلیفہ مطلق حضرت ربمالك الناس ودیان العربولی الفضل جلی الافضالرفیع المثلممتنع الامثال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وآلہ وصحبہ وشرف اعظم کے شان ارفع واعلی میں الفاظ مذکورہ کا اطلاق ناجائز وحرام ہےخزانۃ الاکمل مقدسی وردالمحتار اواخرشتی میں ہے:
یجب ذکرہ صلی اﷲ تعالی علیہ ولسم باسماء معظمۃ فلایجوز ان یقال انہ فقیر غریب مسکین ۔ حضور اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا تذکرہ باعظمت اسماء کے ساتھ کرنا لازم وفرض ہےآپ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو فقیرغریب اور مسکین کہنا جائز نہیں۔(ت)
زرقانی علی المواہب میں ہے:
قال تعالی ووجدك عائلافاغنی نص علی انہ اغناہ بعد ذلك فزالہ عنہ ذلك الوصف فلایجوز وصفہ بہ بعد ۔ اﷲ تعالی کافرمان مبارك"اﷲ تعالی نے آپ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو محتاج پایا تو غنی کردیا"واضح طورپر شاہد ہے کہ اﷲ تعالی نے آپ کو غنی کردیا ہے جس سے محتاجی والاوصف زائل ہوچکا ہےلہذا اس کے بعد آپ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کایہ وصف بیان کرنا
الجواب:
حضور اقدس قاسم النعممالك الارض ورقاب الامممعطی منعمقثمقیمولیوالیعلیعالیکاشف الکربرافع الرتبمعین کافیحفیظ وافیشفیع شافیعفو عافیغفور جمیلعزیز جلیلوہاب کریمغنی عظیمخلیفہ مطلق حضرت ربمالك الناس ودیان العربولی الفضل جلی الافضالرفیع المثلممتنع الامثال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وآلہ وصحبہ وشرف اعظم کے شان ارفع واعلی میں الفاظ مذکورہ کا اطلاق ناجائز وحرام ہےخزانۃ الاکمل مقدسی وردالمحتار اواخرشتی میں ہے:
یجب ذکرہ صلی اﷲ تعالی علیہ ولسم باسماء معظمۃ فلایجوز ان یقال انہ فقیر غریب مسکین ۔ حضور اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا تذکرہ باعظمت اسماء کے ساتھ کرنا لازم وفرض ہےآپ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو فقیرغریب اور مسکین کہنا جائز نہیں۔(ت)
زرقانی علی المواہب میں ہے:
قال تعالی ووجدك عائلافاغنی نص علی انہ اغناہ بعد ذلك فزالہ عنہ ذلك الوصف فلایجوز وصفہ بہ بعد ۔ اﷲ تعالی کافرمان مبارك"اﷲ تعالی نے آپ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو محتاج پایا تو غنی کردیا"واضح طورپر شاہد ہے کہ اﷲ تعالی نے آپ کو غنی کردیا ہے جس سے محتاجی والاوصف زائل ہوچکا ہےلہذا اس کے بعد آپ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کایہ وصف بیان کرنا
حوالہ / References
القرآن الکرایم ۹۳/ ۷
ردالمحتار مسائل شتی داراحیاءالتراث العربی بیروت ۵/ ۴۸۱
شرح الزرقانی علی المواہب
ردالمحتار مسائل شتی داراحیاءالتراث العربی بیروت ۵/ ۴۸۱
شرح الزرقانی علی المواہب
ہرگز جائز نہیں۔(ت)اسی میں ہے:
الیتیم من الیتم موت الاب قبل بلوغ الولد اومن الانفراد کدرۃ یتیمۃ کما قیل فی قولہ تعالی الم یجدك یتیما ای واحد ا فی قریش عدیم النظیر انتہی ومذہب مالك لایجوز علیہ ھذا الاسم ۔ لفظ یتیمیتم سے ہے یعنی بچہ کے بالغ ہونے سے پہلے باپ کا فوت ہونایا اس کا معنی منفرد اور یکتا ہونا ہے جیسے کہا جاتاہے دریتیم(یکتا موتی)جیساکہ اﷲ تعالی کے اس ارشاد گرامی"کیا اس نے تجھے یتیم نہیں پایا"کے تحت مفسرین نے کہا ہے یعنی قریش میں آپ کی مثال نہیں ملتی یکتا ہیں انتہیامام مالك رضی اﷲ تعالی عنہ کافتوی ومذہب یہ ہے کہ اس نام(یتیم)کا اطلاق آپ پر جائز نہیں۔(ت)
نسیم الریاض جلد رابع ص ۴۵۰ میں ہے:
الانبیاء علیہم الصلوۃ والسلام لایوصفون بالفقرو لایجوز ان یقال لنبینا صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فقیر وقولہم عنہ الفقر فخری لااصل لہ کما تقدم ۔ تمام انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کو فقرکے ساتھ متصف نہیں کیا جاسکتاہمارے نبی وآقا صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو فقیر کہنا جائز نہیںباقی آپ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے بارے میں جو منقول ہے"الفقر فخری"(فقر میرافخر ہے)اس کی کوئی اصل نہیں جیسا کہ گزرا۔(ت)
اسی کے صفحہ ۳۷۸ میں ہے:
قال الزرکشی کالسبکی لایجوز ان یقال لہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فقیر اومسکین وھو اغنی الناس باﷲ تعالی لاسیما بعد قولہ تعالی
" و وجدک عائلا فاغنی ﴿۸﴾"وقولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اللہم احینی مسکینا ارادبہ المسکنۃ امام زرکشی نے امام سبکی کی طرح فرمایا حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو فقیر یا مسکین کہنا ہرگز جائز نہیںآپ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو اﷲ تعالی نے تمام لوگوں سے بڑھ کر غنی بنایا ہے خصوصا اﷲ تعالی کے اس فرمان کے بعد تو اس کی گنجائش ہی نہیں"پایا اس نے آپ کومحتاج تو غنی کردیا"باقی آپ صلی اﷲ
الیتیم من الیتم موت الاب قبل بلوغ الولد اومن الانفراد کدرۃ یتیمۃ کما قیل فی قولہ تعالی الم یجدك یتیما ای واحد ا فی قریش عدیم النظیر انتہی ومذہب مالك لایجوز علیہ ھذا الاسم ۔ لفظ یتیمیتم سے ہے یعنی بچہ کے بالغ ہونے سے پہلے باپ کا فوت ہونایا اس کا معنی منفرد اور یکتا ہونا ہے جیسے کہا جاتاہے دریتیم(یکتا موتی)جیساکہ اﷲ تعالی کے اس ارشاد گرامی"کیا اس نے تجھے یتیم نہیں پایا"کے تحت مفسرین نے کہا ہے یعنی قریش میں آپ کی مثال نہیں ملتی یکتا ہیں انتہیامام مالك رضی اﷲ تعالی عنہ کافتوی ومذہب یہ ہے کہ اس نام(یتیم)کا اطلاق آپ پر جائز نہیں۔(ت)
نسیم الریاض جلد رابع ص ۴۵۰ میں ہے:
الانبیاء علیہم الصلوۃ والسلام لایوصفون بالفقرو لایجوز ان یقال لنبینا صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فقیر وقولہم عنہ الفقر فخری لااصل لہ کما تقدم ۔ تمام انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کو فقرکے ساتھ متصف نہیں کیا جاسکتاہمارے نبی وآقا صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو فقیر کہنا جائز نہیںباقی آپ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے بارے میں جو منقول ہے"الفقر فخری"(فقر میرافخر ہے)اس کی کوئی اصل نہیں جیسا کہ گزرا۔(ت)
اسی کے صفحہ ۳۷۸ میں ہے:
قال الزرکشی کالسبکی لایجوز ان یقال لہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فقیر اومسکین وھو اغنی الناس باﷲ تعالی لاسیما بعد قولہ تعالی
" و وجدک عائلا فاغنی ﴿۸﴾"وقولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اللہم احینی مسکینا ارادبہ المسکنۃ امام زرکشی نے امام سبکی کی طرح فرمایا حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو فقیر یا مسکین کہنا ہرگز جائز نہیںآپ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو اﷲ تعالی نے تمام لوگوں سے بڑھ کر غنی بنایا ہے خصوصا اﷲ تعالی کے اس فرمان کے بعد تو اس کی گنجائش ہی نہیں"پایا اس نے آپ کومحتاج تو غنی کردیا"باقی آپ صلی اﷲ
حوالہ / References
شرح الزرقانی علی المواہب
نسیم الریاض شرح شفا قاضی عیاض الوجہ الخامس ان لایقصد دارالفکر بیروت ۴/ ۴۰۵
نسیم الریاض شرح شفا قاضی عیاض الوجہ الخامس ان لایقصد دارالفکر بیروت ۴/ ۴۰۵
القلبیۃ بالخشوع والفقر فخری باطل لااصل لہ کما قال الحافظ ابن حجر العسقلانی ۔ تعالی علیہ وسلم کی دعا"اے اللہ! مجھے حالت مسکینی میں زندہ رکھ"سے قلبی خشوع ومسکنت مراد ہے۔اور یہ قول"فقر میرافخرہے"باطل ہے اس کی کوئی اصل نہیں جیساکہ حافظ ابن حجر عسقلانی نے فرمایا۔(ت)
شفاء شریف امام اجل قاضی عیاض صدرباب اول قسم رابع میں ہے:
افتی فقہاء الاندلس بقتل ابن حاتم المتفقۃ الطلیطلی وصلبہ بما شہد علیہ من استخفافہ بحق النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم و تسمیتہ ایاہ اثناء مناظرتہ بالیتیم وختن حیدر وزعمہ ان زھدہ علیہ الصلوۃ والسلام لم یکن قصدا ولو قدر علی الطیبات اکلھا الی اشباہ لھذا ۔ فقہاء اندلس نے ابن حاتم المتفقۃ الطلیطلی کے قتل اور پھانسی لٹکانے کا فتوی دیا اس کے خلاف یہ شہادت ملی کہ اس نے دوران مناظرہ آپ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے مقام کی بے ادبی کرتے ہوئے آپ کو یتیم اورحیدر کا سسر کہااور اس کا خیال یہ تھا کہ آپ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا زھداختیاری نہ تھا اگر آپ طیبات پرقادر ہوتے تو ضرور انھیں استعمال میں لاتےاس کی مثل گستاخی کے دیگر اقوال۔(ت)
شرح علی قاری میں ہے:
یکفی امرواحد منہا فی تکفیرہ وقتلہ ۔ اس کی تکفیر اور قتل کے لئے ان مذکورہ اشیاء میں ا یك ہی کافی ہے۔(ت)
نیز شفا شریف میں ہے:
افتی ابوالحسن القابسی فیمن قال فی النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم الجمال یتیم ابی طالببالقتل امام ابوالحسن قابسی نے اس کے قتل کا فتوی دیا جوآپ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو ابوطالب کا یتیم اونٹوں والا کہے کیونکہ یہ آپ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم
شفاء شریف امام اجل قاضی عیاض صدرباب اول قسم رابع میں ہے:
افتی فقہاء الاندلس بقتل ابن حاتم المتفقۃ الطلیطلی وصلبہ بما شہد علیہ من استخفافہ بحق النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم و تسمیتہ ایاہ اثناء مناظرتہ بالیتیم وختن حیدر وزعمہ ان زھدہ علیہ الصلوۃ والسلام لم یکن قصدا ولو قدر علی الطیبات اکلھا الی اشباہ لھذا ۔ فقہاء اندلس نے ابن حاتم المتفقۃ الطلیطلی کے قتل اور پھانسی لٹکانے کا فتوی دیا اس کے خلاف یہ شہادت ملی کہ اس نے دوران مناظرہ آپ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے مقام کی بے ادبی کرتے ہوئے آپ کو یتیم اورحیدر کا سسر کہااور اس کا خیال یہ تھا کہ آپ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا زھداختیاری نہ تھا اگر آپ طیبات پرقادر ہوتے تو ضرور انھیں استعمال میں لاتےاس کی مثل گستاخی کے دیگر اقوال۔(ت)
شرح علی قاری میں ہے:
یکفی امرواحد منہا فی تکفیرہ وقتلہ ۔ اس کی تکفیر اور قتل کے لئے ان مذکورہ اشیاء میں ا یك ہی کافی ہے۔(ت)
نیز شفا شریف میں ہے:
افتی ابوالحسن القابسی فیمن قال فی النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم الجمال یتیم ابی طالببالقتل امام ابوالحسن قابسی نے اس کے قتل کا فتوی دیا جوآپ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو ابوطالب کا یتیم اونٹوں والا کہے کیونکہ یہ آپ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم
حوالہ / References
نسیم الریاض شرح الشفاء باب فی بیان ماھو الخ دارالفکر بیروت ۴/ ۳۳۶
الشفاء بتعریف حقوق المصطفی الباب الاول فی بیان ماھو الخ مطبع شرکت صحافیہ ترکی ۲/ ۲۱۰
شرح الشفاء ملاعلی قاری الباب الاول فی بیان ماھو الخ الحاج محرم آفندی ۲/ ۳۹۸
الشفاء بتعریف حقوق المصطفی الباب الاول فی بیان ماھو الخ مطبع شرکت صحافیہ ترکی ۲/ ۲۱۰
شرح الشفاء ملاعلی قاری الباب الاول فی بیان ماھو الخ الحاج محرم آفندی ۲/ ۳۹۸
لظھور استھانتہ فــــــ بذلك ۔ کے حق میں توہین ہے۔(ت)
شرح علی قاری میں ہے:
لعل الجمع بین الوصفین مطابق للواقع فی السوال والافکل واحد منہما یکفی فی تکفیر صاحب المقال ۔ دو چیزوں(اونٹوں والاابوطالب کا یتیم)کو شاید سوال میں جمع ذکرکرنے کی وجہ سے اکٹھا کردیا گیا ہے ورنہ ان دونوں میں سے ایك کابھی قائل کافر ہے۔(ت)
نیز شفا شریف میں بیعت معری:
کنت موسی وافتہ بنت شعیب غیر ان لیس فیکما من فقیر
(آپ موسی کی طرح ہیں جن کے پاس حضرت شعیب کی صاحبزادی آئی تھیں مگر بات صرف اتنی ہے کہ تم دونوں کوئی فقیر نہیں۔ت)پر ارشاد فرمایا:
اخر البیت شدید وداخل فی باب الازراءوالتحقیر بالنبی علیہ الصلوۃ والسلام وتفضیل حال غیرہ علیہ ۔ دوسرے شعر کا مصرعہ ثانی نہایت نامناسب اور گستاخی کے باب میں داخل ہے کیونکہ اس میں حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی شان اقدس میں تحقیر وتوہین ہے اور آپ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پر دوسرے کو فضیلت دی گئی ہے۔(ت)
شرح علی قاری میں ہے:
ای عجز شدید فی القبح عند تدبرہ لان مضمونہ التعییر لموسی علیہ الصلوۃ والسلام بفقرہ ۔ یعنی اس شعر کے آخری مصرعہ میں اگر تدبر کیا جائے تو اس میں قباحت شدید ہے کیونکہ اس کا مفہوم یہ ہے کہ حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام کو فقیر کہہ کر عار دلائی گئی ہے جو کہ قباحت کا باعث ہے۔(ت)
نیز شفا شریف میں اور اشعار بیباکان بدزبان جو اس سے ہلکے ہیں ذکر کرکے فرمایا:
ھذہ کلھا وان لم تتضمن سباولااضافۃ یہ تمام اشعار اگر چہ گستاخی اور فرشتوں اور
شرح علی قاری میں ہے:
لعل الجمع بین الوصفین مطابق للواقع فی السوال والافکل واحد منہما یکفی فی تکفیر صاحب المقال ۔ دو چیزوں(اونٹوں والاابوطالب کا یتیم)کو شاید سوال میں جمع ذکرکرنے کی وجہ سے اکٹھا کردیا گیا ہے ورنہ ان دونوں میں سے ایك کابھی قائل کافر ہے۔(ت)
نیز شفا شریف میں بیعت معری:
کنت موسی وافتہ بنت شعیب غیر ان لیس فیکما من فقیر
(آپ موسی کی طرح ہیں جن کے پاس حضرت شعیب کی صاحبزادی آئی تھیں مگر بات صرف اتنی ہے کہ تم دونوں کوئی فقیر نہیں۔ت)پر ارشاد فرمایا:
اخر البیت شدید وداخل فی باب الازراءوالتحقیر بالنبی علیہ الصلوۃ والسلام وتفضیل حال غیرہ علیہ ۔ دوسرے شعر کا مصرعہ ثانی نہایت نامناسب اور گستاخی کے باب میں داخل ہے کیونکہ اس میں حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی شان اقدس میں تحقیر وتوہین ہے اور آپ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پر دوسرے کو فضیلت دی گئی ہے۔(ت)
شرح علی قاری میں ہے:
ای عجز شدید فی القبح عند تدبرہ لان مضمونہ التعییر لموسی علیہ الصلوۃ والسلام بفقرہ ۔ یعنی اس شعر کے آخری مصرعہ میں اگر تدبر کیا جائے تو اس میں قباحت شدید ہے کیونکہ اس کا مفہوم یہ ہے کہ حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام کو فقیر کہہ کر عار دلائی گئی ہے جو کہ قباحت کا باعث ہے۔(ت)
نیز شفا شریف میں اور اشعار بیباکان بدزبان جو اس سے ہلکے ہیں ذکر کرکے فرمایا:
ھذہ کلھا وان لم تتضمن سباولااضافۃ یہ تمام اشعار اگر چہ گستاخی اور فرشتوں اور
حوالہ / References
الشفاء بتعریف حقوق المصطفی الباب الاول فی بیان ماہوفی قول صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم مطبع شرکت صحافیہ ترکی ۲/ ۲۰۹
شرح الشفاء ملاعلی قاری الباب الاول فی بیان ماہوفی قول صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم مطبع الحاج محرم آفندی ۲/ ۳۹۶
الشفاء بتعریف حقوق المصطفی فصل الوجہ الخامس الخ مطبع شرکت صحافیۃ ترکی ۲/ ۲۲۹
الشفاء بتعریف حقوق المصطفی فصل الوجہ الخامس الخ مطبع شرکت صحافیۃ ترکی ۲/ ۲۲۹
شرح الشفاء ملا علی قاری الحاج محرم آفندی ۲/ ۴۴۲
فــــــ:خط کشیدہ عبارت کتاب الشفاء مطبوعہ شرکت صحافیہ میں نہیں ہے۔نذیر احمد
شرح الشفاء ملاعلی قاری الباب الاول فی بیان ماہوفی قول صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم مطبع الحاج محرم آفندی ۲/ ۳۹۶
الشفاء بتعریف حقوق المصطفی فصل الوجہ الخامس الخ مطبع شرکت صحافیۃ ترکی ۲/ ۲۲۹
الشفاء بتعریف حقوق المصطفی فصل الوجہ الخامس الخ مطبع شرکت صحافیۃ ترکی ۲/ ۲۲۹
شرح الشفاء ملا علی قاری الحاج محرم آفندی ۲/ ۴۴۲
فــــــ:خط کشیدہ عبارت کتاب الشفاء مطبوعہ شرکت صحافیہ میں نہیں ہے۔نذیر احمد
الی الملئکہ والانبیاء علیہم الصلوۃ والسلام نقصا ولست اعنی عجزی بیتی المعری ولاقصد قائلہا ازراء وغضا فما وقرالنبوۃ ولاعظم الرسالۃ ولاعزر حرمۃ المصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ۔ انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کے نقص پر مشتمل نہیں نہ ہی معری کے پورے کلام کودرست سمجھتاہوں اور نہ ہی ان کے قائل نے بے ادبی اور طعن کا قصد کیاتاہم ان اشعار میں نبوت کا وقار اور رسالت کی عظت اورمصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا اعزاز نہیں ہے۔(ت)
شرح علی قاری میں ہے:
(لست اعنی)بھذہ النفی(عجز ی بیتی المعری)فانہ کفر واضح والحادلائح ۔ میں نہیں ہوں(اس نقص اور گستاخی کی)نفی میں معری کے شعروں کو درست قرار دینے والا کیونکہ یہ واضح کفر اور کھلا الحادہے۔(ت)
امام ابن حجر مکی شرح ہمزیہ مبارکہ میں زیر قول ماتن امام محمد بوصیری قدس سرہ
وسع العالمین علما وحلما فہو بحرلم تعیہ الاعیاء
مستقل دنیاك ان ینسب الامساك منہا الیہ والاعطاء
(آپ علم وحلم میں تمام جہانوں سے برترہیںوہ ایساسمندر ہے جسے کوئی عیب لگانے والا عیب نہیں لگاسکتاآپ دنیا کو حقیر وذلیل جانتے ہیں برابر ہے آپ کو غیرمستحق سے دنیا کو روکنا اور مستحق کو عطاکرنا۔ت)
فرماتے ہیں:
فی السیف المسلول للتقی السبکی عن الشفاء واقرہ ان فقہاء الاندلس امام تقی سبکی نے"السیف المسلول"میں"الشفاء"سے نقل کرکے اسے ثابت رکھاہے کہ فقہاء اندلس
شرح علی قاری میں ہے:
(لست اعنی)بھذہ النفی(عجز ی بیتی المعری)فانہ کفر واضح والحادلائح ۔ میں نہیں ہوں(اس نقص اور گستاخی کی)نفی میں معری کے شعروں کو درست قرار دینے والا کیونکہ یہ واضح کفر اور کھلا الحادہے۔(ت)
امام ابن حجر مکی شرح ہمزیہ مبارکہ میں زیر قول ماتن امام محمد بوصیری قدس سرہ
وسع العالمین علما وحلما فہو بحرلم تعیہ الاعیاء
مستقل دنیاك ان ینسب الامساك منہا الیہ والاعطاء
(آپ علم وحلم میں تمام جہانوں سے برترہیںوہ ایساسمندر ہے جسے کوئی عیب لگانے والا عیب نہیں لگاسکتاآپ دنیا کو حقیر وذلیل جانتے ہیں برابر ہے آپ کو غیرمستحق سے دنیا کو روکنا اور مستحق کو عطاکرنا۔ت)
فرماتے ہیں:
فی السیف المسلول للتقی السبکی عن الشفاء واقرہ ان فقہاء الاندلس امام تقی سبکی نے"السیف المسلول"میں"الشفاء"سے نقل کرکے اسے ثابت رکھاہے کہ فقہاء اندلس
حوالہ / References
الشفاء بتعریف حقوق المصطفی فصل الوجہ الخامس الخ مطبع شرکت صحافیہ ترکی ۲/ ۲۳۰
شرح الشفاء ملا علی قاری فصل الوجہ الخامس الخ الحاج محرم آفندی ۲/ ۴۴۵
متن الہمز یہ شرح الفتوحات الاحمدیۃ المکتبۃ التجاریۃ الکبرٰی مصر ص ۴۶
شرح الشفاء ملا علی قاری فصل الوجہ الخامس الخ الحاج محرم آفندی ۲/ ۴۴۵
متن الہمز یہ شرح الفتوحات الاحمدیۃ المکتبۃ التجاریۃ الکبرٰی مصر ص ۴۶
افتوا باراقۃ دم من وصفہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بالفقر فی اثناء مناظرتہ بالیتیم ثم زعم ان زھدہ لم یکن قصد او لوقدر علی الطیبات اکلھا و ذکر البدر الزر کشی من بعض الفقہاء المتاخرین انہ کان یقول لم یکن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فقیر من المال ولاحالہ حال الفقر بل کان اغنی الناس باﷲ تعالی قد کفی امردنیا فی نفسہ وعیالہ وکان یقول فی قولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اللہم احینی مسکینا ان المراد استکانۃ القلب لاالسکنۃ ھی ان لایجد مایقع لوقعاس کفایتہ وکان یشدد التکبر علی من یعتقد خلاف ذلك اھ واماخبر الفقر فخری وبہ افتخر فموضوع وقد صح انہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم استعاذ من فتنۃ الفقر کما استعاذ من فتنۃ الغنی ۔ نے اس شخص کے قتل کا فتوی جاری فرمایا جس نے دوران مناظرہ آپ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو فقیرو یتیم کہا اور یہ عقیدہ رکھا کہ آپ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا زہداختیاری نہ تھا اگر آپ اشیاء طیبہ پر قادر ہوتے توانھیں استعمال میں لاتےامام بدرزرکشی نے بعض متاخرین فقہاء سے نقل کیا کہ فرمایا کرتے آپ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی ذات گرامی مال کے اعتبار سے فقیر نہیں اور نہ آپ کاحالحال فقرہے بلکہ اﷲ تعالی نے آپ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو تمام لوگوں سے غنی بنایا ہے آپ اپنی ذات اور عیال میں دنیا کے کسی معاملہ میں ہر گز محتاج نہیں اور یہ بھی فرماتے آپ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا جو ارشاد گرامی ہے"اے اللہ! مجھے حالت مسکینی میں زندہ رکھ"سے دل کی عاجزی مرادہے نہ کہ وہ غریبی ومحتاجی جو فقرکا مترادف ہے یعنی وہ محتاج جو قوت لایموت نہ رکھتا ہواور جو اس کے خلاف ذہن وعقیدہ رکھتاہو اس پر سخت ناراض ہوتے۔رہا معاملہ حدیث"فقر میرا فخر ہے اوراس پر میں فخرکرتاہوں"کاتویہ موضوع اور من گھڑت روایت ہے کیونکہ آپ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے صحیح طورپر ثابت ہے کہ فقر کے فتنہ سے پناہ مانگا کرتے جیسے کہ مالداری کے فتنہ سے پناہ مانگتے۔(ت)
ان الفاظ کے ناجائز اورحرام ہونے پر یہ عبارات متظافرہ ہیں اور فتوائے فقہائے اندلس وامام ابوالحسن قابسی وتقریرات امام قاضی عیاض وامام تقی الملۃ والدین سبکی وتوضیحات علی قاری میں ان پر حکم کفر ہے۔
اقول: وباﷲ التوفیقتوفیق جامع وتحقیق لامع یہ ہے کہ ان اوصاف کا اطلاق بروجہ تقریر و اثبات خواہ حکم قصدی میں ہویا وصف عنوانی میں اگر قول قائل کے سیاق یاسباق یا سوق یامساق سے
ان الفاظ کے ناجائز اورحرام ہونے پر یہ عبارات متظافرہ ہیں اور فتوائے فقہائے اندلس وامام ابوالحسن قابسی وتقریرات امام قاضی عیاض وامام تقی الملۃ والدین سبکی وتوضیحات علی قاری میں ان پر حکم کفر ہے۔
اقول: وباﷲ التوفیقتوفیق جامع وتحقیق لامع یہ ہے کہ ان اوصاف کا اطلاق بروجہ تقریر و اثبات خواہ حکم قصدی میں ہویا وصف عنوانی میں اگر قول قائل کے سیاق یاسباق یا سوق یامساق سے
حوالہ / References
شرح الہمزیہ للامام ابن حجر مکی دستیاب نہیں یہ عبارت مختصرا الفتوحات الاحمدیہ ص ۴۷ مطبوعہ المکتبۃ التجاریۃ مصر پرملاحظہ ہو۔
طرز تنقیص ظاہر وثابت ہو یقینا کفرہےاور اگر ایسا نہیں اور قائل جاہل ہے اور اس سے صدور نادر ہو اور وہ اس پر غیر مصر توہدایت وتنبیہ وزجر وتہدیدکریں اورحاکم شرع اس کے مناسب حال تعزیر دے کہ وہ ضرور سزاوار سزا ہے۔اور اگر قائل مدعی علم ہے یا ایسے کلمات کا عادی یابعد تنبیہ بھی ان پر مصر تومریض القلب بددین گمراہ ومستحق عذاب شدید ہےسلطان اسلام اسے قتل کرے گا اور زمین کو اس کی ہستی ناپاك سے پاك اورعام مسلمانوں کو اس کی صحبت ومجالست سے احترازلازم اور اسے واعظ یا امام نماز بنانا اس کا وعظ سننا اس کے پیچھے نماز ممنوع وحرام۔
وھذا ماقال الامام ابن حجر المکی ونقلہ فی النسیم مقراعلیہ عند ذکر فتیا الامام ابی الحسن القابسی المذکورۃ الظاھر ان مذھبنا لایابی ذلك لمافی عبارتہ من الدلالۃ علی الازراء فان ذکریتیم ابی طالب فقد لم یکن صریحا فی ذلك فیما یظھر نعم ان کان السیاق یدل علی الازراء کان کما لوجمع بین اللفظین ۔اھ یہ وہ ہے جو امام ابن حجر مکی نے فرمایا:صاحب نسیم الریاض نے اسے امام ابوالحسن القابسی کے فتوے مذکورہ کے ساتھ نقل کرکے اسے مؤید وثابت رکھاظاہریہی ہے کہ ہمارا مذہب اس کا انکار نہیں کرتا کیونکہ فقط یتیم ابوطالب کہنے میں ظاہرا وصراحۃ توہین نہیں ہے ہاں جب کلام کا پس منظر توہین پردال ہوگا تو یہ توہین بنے گا جیساکہ اس صورت میں بنتاہے جب دونوں(یتیم ابوطالباونٹ والا)کو جمع کردیا گیا ہو اھ(ت)
کلمات بے ادبی کامعاذاﷲ خود کہنا درکنار دوسرے کا کہا ہوا بے غرض رد وانکار لوٹانے پرشفاء شریف میں فرمایا:
اماالاباحۃ لحکایۃ قولہ لغیرھذین المقصدین فلااری لھا مدخلافی ھذا الباب فلیس التفکہ بعرض النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لاحد بمباح و ذکرھا علی وجہ الحکایات و احادیث الناس والخوض فی قیل و مباح ہونے کا ایك پہلو یوں بھی ہوسکتاہے کہ قائل اپنے مقولہ کوان دونوں مقاصد کے علاوہ کسی اور انداز کے ساتھ بیان کرے میرے خیال کے مطابق اس طرح اس کا تعلق ان امور میں باقی نہ رہے گاتو حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی عزت سے کسی کو کھیلنا مباح نہیں ہے ایسے کلمہ کا بطورحکایت یا لوگوں کی بات یا بطور بحث قیل وقال
وھذا ماقال الامام ابن حجر المکی ونقلہ فی النسیم مقراعلیہ عند ذکر فتیا الامام ابی الحسن القابسی المذکورۃ الظاھر ان مذھبنا لایابی ذلك لمافی عبارتہ من الدلالۃ علی الازراء فان ذکریتیم ابی طالب فقد لم یکن صریحا فی ذلك فیما یظھر نعم ان کان السیاق یدل علی الازراء کان کما لوجمع بین اللفظین ۔اھ یہ وہ ہے جو امام ابن حجر مکی نے فرمایا:صاحب نسیم الریاض نے اسے امام ابوالحسن القابسی کے فتوے مذکورہ کے ساتھ نقل کرکے اسے مؤید وثابت رکھاظاہریہی ہے کہ ہمارا مذہب اس کا انکار نہیں کرتا کیونکہ فقط یتیم ابوطالب کہنے میں ظاہرا وصراحۃ توہین نہیں ہے ہاں جب کلام کا پس منظر توہین پردال ہوگا تو یہ توہین بنے گا جیساکہ اس صورت میں بنتاہے جب دونوں(یتیم ابوطالباونٹ والا)کو جمع کردیا گیا ہو اھ(ت)
کلمات بے ادبی کامعاذاﷲ خود کہنا درکنار دوسرے کا کہا ہوا بے غرض رد وانکار لوٹانے پرشفاء شریف میں فرمایا:
اماالاباحۃ لحکایۃ قولہ لغیرھذین المقصدین فلااری لھا مدخلافی ھذا الباب فلیس التفکہ بعرض النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لاحد بمباح و ذکرھا علی وجہ الحکایات و احادیث الناس والخوض فی قیل و مباح ہونے کا ایك پہلو یوں بھی ہوسکتاہے کہ قائل اپنے مقولہ کوان دونوں مقاصد کے علاوہ کسی اور انداز کے ساتھ بیان کرے میرے خیال کے مطابق اس طرح اس کا تعلق ان امور میں باقی نہ رہے گاتو حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی عزت سے کسی کو کھیلنا مباح نہیں ہے ایسے کلمہ کا بطورحکایت یا لوگوں کی بات یا بطور بحث قیل وقال
حوالہ / References
نسیم الریاض شرح شفاء قاضی عیاض الباب الاول دارالفکر بیروت ۴/ ۳۴۲
قال ومالایعنی فکل ھذا ممنوع و بعضہ اشد فی المنع والعقوبۃ فما کان من الحاکی لہ علی غیر قصد اومعرفۃ بمقدار ماحکاہ اولم تکن عادتہ اولم تکن الکلام من البشاعۃ حیث ھو ولم یظھر علی حاکیہ استحسانہ و استصوابہ زجر عن ذلك ونھی عن العودۃ الیہ وان قوم ببعض الادب فھو مستوجب لہ وان کان لفظہ من البشاعۃ حیث ھو کان الادب اشد وان اتہم ھذا الحاکی فیما حکاہانہ اختلفہ ونسبہ الی غیرہ اوکانت تلك عادۃ لہاوظھر استحسانہ لذلك فحکم ھذا حکم الساب نفسہیؤاخذ بقولہ ولاتنفعہ نسبتہ الی غیرہ فیبادر بقتلہ ویجعل الی الھاویۃ امہ (ملخصا) اور بے مقصد ذکر کرنا ممنوع ہے بعض طرز بیان ممانعت اور عقوبت میں زیادہ شدید ہے توحکایت کرنیوالے نے بے قصد اور بے علمی میں حکایت کی یا ا س کی ایسی عادت نہیں یا وہ بات کھلی بے ادبی نہیں بایں طور کہ وہ اس کو پسند اور درست نہیں مانتاتو اس کو زجر کیا جائے گااور آئندہ ایسا کرنے سے منع کیا جائے گا اور اگر بطور ادب اس کو کچھ سزا دی جائے تو وہ اس کا مستحق ہے اور اگر وہ الفاظ کھلی بے ادبی ہو تو سزاسخت ہوگیاور اگرحکایت کرنے والا اس سے متہم ہوکرحکایت بیان کرتے ہوئے بناوٹ سے کام لیتاہے اور غیر کی طرف منسوب کرتے ہوئے حکایت بیان کرے یا اس کی عادت ایسی ہے یا وہ بات اس کے ہاں پسندیدہ ہو تو اس کاحکم وہی ہوگا جو سب کرنے کاحکم ہےیہ اسی کی بات متصور ہوگی اور غیر کی طرف منسوب کرنااس کو مواخذہ سے نہ بچاسکے گا لہذا فورا قتل کیا جائے اور واصل جہنم کیا جائے(ملخصا)(ت)
ظاہر ہے کہ زید بے قید جس کے حال سے سوال ہے اگر قسم اول میں ہے تو ضرور اس پرحکم کفرہےسائل نے اس کا پورا کلام نقل نہ کیا جس کے سیاق وسباق سے حال کھلتاہے اور اگر اس قسم سے بچ بھی جائے تو قسم سوم سے ہونا یقینی کہ وہ مدعی علم بنتا وعظ کہتاہے پھر مسلمانوں کے ہدایت کرنے پر بھی باز نہ آیا مصرر ہایہ سب اس کے تین الفاظ سابقہ پرہےرہا لفظ"بیچارہ"وہ ان سب سے سخت تربیچارہ وہ کہ کس بلا میں گرفتار اور بیکسبے بسبے یار ہوجو اس سے خلاص کا کوئی حیلہ نہ پائے۔
ظاہر ہے کہ زید بے قید جس کے حال سے سوال ہے اگر قسم اول میں ہے تو ضرور اس پرحکم کفرہےسائل نے اس کا پورا کلام نقل نہ کیا جس کے سیاق وسباق سے حال کھلتاہے اور اگر اس قسم سے بچ بھی جائے تو قسم سوم سے ہونا یقینی کہ وہ مدعی علم بنتا وعظ کہتاہے پھر مسلمانوں کے ہدایت کرنے پر بھی باز نہ آیا مصرر ہایہ سب اس کے تین الفاظ سابقہ پرہےرہا لفظ"بیچارہ"وہ ان سب سے سخت تربیچارہ وہ کہ کس بلا میں گرفتار اور بیکسبے بسبے یار ہوجو اس سے خلاص کا کوئی حیلہ نہ پائے۔
حوالہ / References
کتاب الشفاء فصل الوجہ السادس المطبعۃ الشرکۃ الصحافیۃ ترکی ۲/ ۳۶۔۲۳۵
یہ ضرور حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اور ان کے رب عزوجل پر افتراء اور قرآن عظیم کی تکذیب اورکفار ملاعنہ کی تصدیق ہے جنھوں نے بکا تھاان محمداودعہ ربہ محمد(صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم)کو ان کے رب نے چھوڑ دیاجس پر سورہ والضحی شریف نازل ہوئی۔
" و الضحی ﴿۱﴾ و الیل اذا سجی ﴿۲﴾ ما ودعک ربک و ما قلی ﴿۳﴾ و للاخرۃ خیر لک من الاولی ﴿۴﴾" اے پیارے تمھارے روئے درخشاں کی قسم تمھاری زلف مشکیں کی قسمنہ تمھیں تمھارے رب نے چھوڑا نہ بیزار ہواجوآن آگے آتی ہے تمھارے لئے گزشتہ آن سے بہترہے صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم
کیامعاذاﷲ ان کو اس ناپاك لفظ سے تعبیرکیا جائے گا جن کا رب فرماتاہے:
" الا تنصروہ فقد نصرہ اللہ " اگرتم کوئی ان کی مددنہ کرو تو اﷲ واحد قہار ان کا مدد گار۔
کیا معاذاﷲ ان کوکہا جائے گا جن کے لئے ان کا مولی عزوجل فرماتاہے:
" فان اللہ ہو مولىہ و جبریل و صلح المؤمنین و الملئکۃ بعد ذلک ظہیر ﴿۴﴾ ۔ بیشك اﷲ تعالی ان کا مدد گار ہے اور جبریل اور نیك مسلمان اور اس کے بعد فرشتوں کی فوجیں ان کی مدد کوحاضر ہیں۔
کیا معاذاﷲ ان کو کہا جائے گاجو اس ظاہری تنہائی اور ایك جہاں برسر عداوت وپرخاش ہونے کی حالت میں اپنے یار غار سے فرماتے تھے:" لا تحزن ان اللہ معنا " غم نہ کرو بیشك اﷲ ہمارے ساتھ ہے۔ تویہ ملعون کلمہ ان پہلو سے بھی ملعون وخبیث ترہےزید بے قید خود بھی جانتاتھا کہ یہ سب سے بدترہےولہذا ایك بارکہ بناوٹ پرآیا اسی کو سوچ بچار بنایا اور اس سے بھی ہزار درجہ ملعون تر اس کا وہ ناپاك نجس گندا خبیث قول ہے کہ میں نے تویہی کہا ہےاﷲ تعالی یوں فرمارہاہےاس سے کھل گیا کہ وہ ضرور بددین گمراہ فاسد العقیدہ مختل الایمان بلکہ ظاہرا بالقصد مرتکب توہین حضور سیدالانس و الجان ہے صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔اس کاو عظ سنناحرام اس کے پاس بیٹھنا حراماس سے
" و الضحی ﴿۱﴾ و الیل اذا سجی ﴿۲﴾ ما ودعک ربک و ما قلی ﴿۳﴾ و للاخرۃ خیر لک من الاولی ﴿۴﴾" اے پیارے تمھارے روئے درخشاں کی قسم تمھاری زلف مشکیں کی قسمنہ تمھیں تمھارے رب نے چھوڑا نہ بیزار ہواجوآن آگے آتی ہے تمھارے لئے گزشتہ آن سے بہترہے صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم
کیامعاذاﷲ ان کو اس ناپاك لفظ سے تعبیرکیا جائے گا جن کا رب فرماتاہے:
" الا تنصروہ فقد نصرہ اللہ " اگرتم کوئی ان کی مددنہ کرو تو اﷲ واحد قہار ان کا مدد گار۔
کیا معاذاﷲ ان کوکہا جائے گا جن کے لئے ان کا مولی عزوجل فرماتاہے:
" فان اللہ ہو مولىہ و جبریل و صلح المؤمنین و الملئکۃ بعد ذلک ظہیر ﴿۴﴾ ۔ بیشك اﷲ تعالی ان کا مدد گار ہے اور جبریل اور نیك مسلمان اور اس کے بعد فرشتوں کی فوجیں ان کی مدد کوحاضر ہیں۔
کیا معاذاﷲ ان کو کہا جائے گاجو اس ظاہری تنہائی اور ایك جہاں برسر عداوت وپرخاش ہونے کی حالت میں اپنے یار غار سے فرماتے تھے:" لا تحزن ان اللہ معنا " غم نہ کرو بیشك اﷲ ہمارے ساتھ ہے۔ تویہ ملعون کلمہ ان پہلو سے بھی ملعون وخبیث ترہےزید بے قید خود بھی جانتاتھا کہ یہ سب سے بدترہےولہذا ایك بارکہ بناوٹ پرآیا اسی کو سوچ بچار بنایا اور اس سے بھی ہزار درجہ ملعون تر اس کا وہ ناپاك نجس گندا خبیث قول ہے کہ میں نے تویہی کہا ہےاﷲ تعالی یوں فرمارہاہےاس سے کھل گیا کہ وہ ضرور بددین گمراہ فاسد العقیدہ مختل الایمان بلکہ ظاہرا بالقصد مرتکب توہین حضور سیدالانس و الجان ہے صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔اس کاو عظ سنناحرام اس کے پاس بیٹھنا حراماس سے
حوالہ / References
جامع الترمذی ابواب التفسیر سورۃ والضحٰی امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی ۲/ ۱۷۰
القرآن الکریم ۹۳ /۱ تا ۴
القرآن الکریم ۹ /۴۰
القرآن الکریم ۶۶ /۴
القرآن الکریم ۹ /۴۰
القرآن الکریم ۹۳ /۱ تا ۴
القرآن الکریم ۹ /۴۰
القرآن الکریم ۶۶ /۴
القرآن الکریم ۹ /۴۰
ملنا جلنا حراماسے سلام علیك کہنا حراماپنی تقریب میں اسے بلانا حراماپنا کوئی دینی کام اگر چہ صرف نکاح خوانی ہو اسے سپرد کرنا حرام
قال اﷲ تعالی" اما ینسینک الشیطن فلا تقعد بعد الذکری مع القوم الظلمین ﴿۶۸﴾ " ۔ اﷲ تعالی نے فرمایا:اور جوکہیں تجھے شیطان بھلادے تو یاد آنے پر ظالموں کے پاس نہ بیٹھ۔(ت)
اس حالت میں شروضلالت پر جو اس کے معاون ہیں سب اسی کی مثل ہیں اور ان سب کے یہی احکام۔
قال اﷲ تعالی" ومن یتولہم منکم فانہ منہم
" ۔ اﷲ تعالی نے فرمایا:اورتم میں جوکوئی ان سے دوستی رکھے گا تو وہ انھیں میں سے ہے۔(ت)
طھراﷲ الارض من خبثہم وخبث امثالہم(اﷲ تعالی ایسے لوگوں کے خبث سے زمین کو پاك کردے۔ت)ولاحول ولاقوۃ الابا ﷲ العلی العظیموصلی اﷲ تعالی علی سیدنا ومولنا محمد والہ وصحبہ اجمعین امینواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۵۹ تا ۲۶۰: از کاکوروی درگاہ تکیہ شریف کاظمیہ مرسلہ سید سبط احمد صاحب خادم درگاہ ۲۳ رمضان ۱۳۳۵ھ
(۱)اگر کوئی مسلمان قبل شروع رمضان المبارك یہ لفظ استعمال کرے کہ ہندو ہوتے تو بہتر یہ تیس روزے تو نہ رکھنا پڑتے۔
(۲)دوسرا شخص ایسے لفظ بصراحت یہ بیان کرے کہ اﷲ پاك نے تیس روزے بنائے ہیں پوری قید ہے۔بھوك پیاس لے کرآتے ہیںبڑا ظلم ہےرمضان کے روزے بڑے ظالم ہیںلیکن جو ظلم کرتاہے تھوڑے دن رہتاہے۔
الجواب:
یہ دونوں شخص یقینا کافر ومرتد ہیں اگر عورت رکھتے ہوں تو ان کی عورتیں ان کے نکاح سے نکل گئیںعورتوں کو اختیار ہے بعد عدت جس سے چاہیں نکاح کرلیںیہ کافر اگر توبہ نہ کریں از سر نو اسلام نہ لائیںتومسلمانوں کو ان سے میل جول حرامسلام کلام حرامبیمارپڑیں تو انھیں پوچھنے جانا حراممرجائیں تو ان کے جنازے میں شرکت حرامانھیں غسل دینا حرامان پر جنازہ پڑھنا حرامان کا جنازہ کندھے پر رکھنا
قال اﷲ تعالی" اما ینسینک الشیطن فلا تقعد بعد الذکری مع القوم الظلمین ﴿۶۸﴾ " ۔ اﷲ تعالی نے فرمایا:اور جوکہیں تجھے شیطان بھلادے تو یاد آنے پر ظالموں کے پاس نہ بیٹھ۔(ت)
اس حالت میں شروضلالت پر جو اس کے معاون ہیں سب اسی کی مثل ہیں اور ان سب کے یہی احکام۔
قال اﷲ تعالی" ومن یتولہم منکم فانہ منہم
" ۔ اﷲ تعالی نے فرمایا:اورتم میں جوکوئی ان سے دوستی رکھے گا تو وہ انھیں میں سے ہے۔(ت)
طھراﷲ الارض من خبثہم وخبث امثالہم(اﷲ تعالی ایسے لوگوں کے خبث سے زمین کو پاك کردے۔ت)ولاحول ولاقوۃ الابا ﷲ العلی العظیموصلی اﷲ تعالی علی سیدنا ومولنا محمد والہ وصحبہ اجمعین امینواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۵۹ تا ۲۶۰: از کاکوروی درگاہ تکیہ شریف کاظمیہ مرسلہ سید سبط احمد صاحب خادم درگاہ ۲۳ رمضان ۱۳۳۵ھ
(۱)اگر کوئی مسلمان قبل شروع رمضان المبارك یہ لفظ استعمال کرے کہ ہندو ہوتے تو بہتر یہ تیس روزے تو نہ رکھنا پڑتے۔
(۲)دوسرا شخص ایسے لفظ بصراحت یہ بیان کرے کہ اﷲ پاك نے تیس روزے بنائے ہیں پوری قید ہے۔بھوك پیاس لے کرآتے ہیںبڑا ظلم ہےرمضان کے روزے بڑے ظالم ہیںلیکن جو ظلم کرتاہے تھوڑے دن رہتاہے۔
الجواب:
یہ دونوں شخص یقینا کافر ومرتد ہیں اگر عورت رکھتے ہوں تو ان کی عورتیں ان کے نکاح سے نکل گئیںعورتوں کو اختیار ہے بعد عدت جس سے چاہیں نکاح کرلیںیہ کافر اگر توبہ نہ کریں از سر نو اسلام نہ لائیںتومسلمانوں کو ان سے میل جول حرامسلام کلام حرامبیمارپڑیں تو انھیں پوچھنے جانا حراممرجائیں تو ان کے جنازے میں شرکت حرامانھیں غسل دینا حرامان پر جنازہ پڑھنا حرامان کا جنازہ کندھے پر رکھنا
حرامجنازے کے ساتھ جانا حراممقابر مسلمین میں دفن کرنا حرامان کے اقارب اگر حکم شریعت مانیں تو ان کی موت پر ان کی لاشیں دفع عفونت کے لئے بھنگی چماروں سے ٹھیلے پر ڈالواکر مسلمانوں اور کافروں سب کی مقابر سے جدا کسی گڑھے میں کتے کی طرح پھینکواکر اوپر سے پاٹ دیں" وذلک جزؤا الظلمین ﴿۲۹﴾" (اور بے انصافوں کی یہی سزا ہے۔ت)واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۶۱: ازملوك پور مرسلہ مولوی شفاعت اﷲ صاحب طالب علم مدرسہ اہل سنت ۹ شوال ۱۳۳۵ھ
زید ایك مسجد کا امام ہے اور بکر بوجہ باہم شکر رنجی زید کے پیچھے نماز نہیں پڑھتا تھابنائے شکررنجی اول یہ ہے کہ زید داڑھی کترواتاہےدوم کہ زید بکر سے منافقانہ رسم رکھتاتھا کیونکہ ایك مرتبہ چند اہل محلہ وغیرہم نے زید اور بکر کے درمیان اس شکر رنجی کو دفع کرکے صلح کرادی تھیاور قرآن پاك درمیان میں دیا تھامگر قرآن پاك دینے پر بھی زید کا بغض نہ گیااور وہ وقتا فوقتا اپنے منافقانہ برتاؤ سے اپنا بغض ظاہر کرتارہامگر اس مصالحت کے بعد زید نے چند دنوں کے لئے داڑھی چھوڑ دی جس پر بکر زید کے پیچھے نماز پڑھنے لگاچند روز کے بعد زید نے بکر پر ایك الزام لگایا جس کو اہل محلہ نے بعد تحقیق جھوٹا پایااس پر بکرنے زید سے دریافت کیا کہ میرے اور تمھارے درمیان کلام پاك دیاگیا تھا پھر تم نے مجھ سے کیوں بغض رکھا اور کیوں میرے اوپر تہمت لگائیاس پر زید نے صریحا جواب دیا کہ ایك قرآن شریف کیا اگر دو قرآن شریف درمیان ہوجائیں گے تب بھی تیری جانب سے میرا بغض نہ جائے گاایسی صورت میں زید کے پیچھے نماز جائز ہے یانہیں
الجواب:
محبت وبغض قلبی حالت اختیار بشر میں نہیں۔
لقولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ھذا قسمی فیما املك فلاتؤاخذ نی فیما لااملك ۔ آپ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کافرمان مبارك ہےیہ اس میں میرا حصہ ہے جس کا میں مالك ہوں پس اس میں مواخذہ نہ فرما جس کامیں مالك نہیں ہوں۔(ت)
مسئلہ ۲۶۱: ازملوك پور مرسلہ مولوی شفاعت اﷲ صاحب طالب علم مدرسہ اہل سنت ۹ شوال ۱۳۳۵ھ
زید ایك مسجد کا امام ہے اور بکر بوجہ باہم شکر رنجی زید کے پیچھے نماز نہیں پڑھتا تھابنائے شکررنجی اول یہ ہے کہ زید داڑھی کترواتاہےدوم کہ زید بکر سے منافقانہ رسم رکھتاتھا کیونکہ ایك مرتبہ چند اہل محلہ وغیرہم نے زید اور بکر کے درمیان اس شکر رنجی کو دفع کرکے صلح کرادی تھیاور قرآن پاك درمیان میں دیا تھامگر قرآن پاك دینے پر بھی زید کا بغض نہ گیااور وہ وقتا فوقتا اپنے منافقانہ برتاؤ سے اپنا بغض ظاہر کرتارہامگر اس مصالحت کے بعد زید نے چند دنوں کے لئے داڑھی چھوڑ دی جس پر بکر زید کے پیچھے نماز پڑھنے لگاچند روز کے بعد زید نے بکر پر ایك الزام لگایا جس کو اہل محلہ نے بعد تحقیق جھوٹا پایااس پر بکرنے زید سے دریافت کیا کہ میرے اور تمھارے درمیان کلام پاك دیاگیا تھا پھر تم نے مجھ سے کیوں بغض رکھا اور کیوں میرے اوپر تہمت لگائیاس پر زید نے صریحا جواب دیا کہ ایك قرآن شریف کیا اگر دو قرآن شریف درمیان ہوجائیں گے تب بھی تیری جانب سے میرا بغض نہ جائے گاایسی صورت میں زید کے پیچھے نماز جائز ہے یانہیں
الجواب:
محبت وبغض قلبی حالت اختیار بشر میں نہیں۔
لقولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ھذا قسمی فیما املك فلاتؤاخذ نی فیما لااملك ۔ آپ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کافرمان مبارك ہےیہ اس میں میرا حصہ ہے جس کا میں مالك ہوں پس اس میں مواخذہ نہ فرما جس کامیں مالك نہیں ہوں۔(ت)
حوالہ / References
القرآن الکریم ۵ /۲۹
اتحاف السادۃ المتقین واما اصحاب علیہ السلام فابوبکر رضی اﷲ عنہ دارالفکر بیروت ۲/ ۲۲۹
اتحاف السادۃ المتقین واما اصحاب علیہ السلام فابوبکر رضی اﷲ عنہ دارالفکر بیروت ۲/ ۲۲۹
زید کے اس قول کو اس پر محمول کرنا چاہئے کہ جب بھی میرا بغض نہ جائے گا کہا ہے نہ کہ جب بھی تیرا بغض نہ چھوڑوں گاہاں اگر بغض بلاوجہ شرعی ہے اور اس پر کارروائی کرتاہے جیسے جھوٹی تہمتیں لگانا اور اس امر میں مشہور ہے تو فاسق معلن ہے اور اس کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی اور اسے امام بنانا گناہ۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۶۲: عبدالغنی رنگ ساز بریلی محلہ عقب کوتوالی ۲۷ذیقعدہ ۱۳۳۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ پیر کے ساتھ مرید کو کیسا عقیدہ رکھنا چاہئےآیا یہ کہنا چاہئے کہ میرابخشنے والا وہی ہےیا یہ کہ اس کے وسیلہ سے بخشا جاوے گا جیسا کہ ایك شخص(زید)ہے وہ یہ کہتاہے کہ بخشنے والا اور دینے والا پیر ہی ہےاور عمرو یہ کہتاہے کہ پیر بخشنے والانہیں بلکہ ان کے وسیلہ سے ان کے مرید بخشے جائیں گےاور بغیر وسیلہ پیرکے دربارخدا یارسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم تك رسائی نہیںاور اس امر میں زید ہمیشہ عمرو سے اختلاف رکھتاہے اب فیصلہ فرمادیں کہ دونوں میں سے کون حق پر ہے اور کون ناحق پر اور جو حق پر نہیں ہیے اس کو توبہ کرنے کی ضرورت ہے یانہیں بینوا توجروا (بیان فرماؤ اور اجرپاؤ۔ت)
الجواب:
عمرو حق پر ہے اور زید کے وہ الفاظ کہ بخشنے والا اور دینے والا پیر ہی ہے اپنے ظاہر پربہت شنیع ہیں اوراگر اس کا ظاہر ہی اعتقاد قائل ہو تو صریح کفر بہرحال زید کو توبہ چاہئےواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۶۳: لکھیم پور ضلع کھیری محلہ نئی بستی مرسلہ محمد غفران الحق صاحب ۶ ذی الحجہ ۱۳۳۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك عورت نے اپنے خاوند سے کہا بسبیل تذکرہکیا اس کو خبر تھی تمھارے دل کییعنی کیا خدا جانتا تھاتمھارے دل کی بات کو۔تو اس کے کہنے سے اس نے خدا کی صفت علم سے انکار کیا یانہیں اور اس کلمہ کے کہنے پر وہ عورت خارج از ایمان ہوئی یانہیں اور ایمان سے خارج ہونے کی وجہ سے اس مرد کے نکاح میں رہی یامنکر بصفت علم باری تعالی ہونے کی وجہ سے ایمان جاتارہااور ایمان جانے کی وجہ سے اپنے خاوند کے جو کہ مسلمان ہے نکاح سے باہر ہوئی یانہیں اب وہ عورت تو بہ کرکے بغیر عدت کے ایام گزارے اور بغیر دوسرے مرد سے نکاح کئے اپنے خاوند سے نکاح کرسکتی ہے اور پہلا مہر خاوند کودینا ہوگا یا ساقط ہوگیابینوا توجروا
مسئلہ ۲۶۲: عبدالغنی رنگ ساز بریلی محلہ عقب کوتوالی ۲۷ذیقعدہ ۱۳۳۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ پیر کے ساتھ مرید کو کیسا عقیدہ رکھنا چاہئےآیا یہ کہنا چاہئے کہ میرابخشنے والا وہی ہےیا یہ کہ اس کے وسیلہ سے بخشا جاوے گا جیسا کہ ایك شخص(زید)ہے وہ یہ کہتاہے کہ بخشنے والا اور دینے والا پیر ہی ہےاور عمرو یہ کہتاہے کہ پیر بخشنے والانہیں بلکہ ان کے وسیلہ سے ان کے مرید بخشے جائیں گےاور بغیر وسیلہ پیرکے دربارخدا یارسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم تك رسائی نہیںاور اس امر میں زید ہمیشہ عمرو سے اختلاف رکھتاہے اب فیصلہ فرمادیں کہ دونوں میں سے کون حق پر ہے اور کون ناحق پر اور جو حق پر نہیں ہیے اس کو توبہ کرنے کی ضرورت ہے یانہیں بینوا توجروا (بیان فرماؤ اور اجرپاؤ۔ت)
الجواب:
عمرو حق پر ہے اور زید کے وہ الفاظ کہ بخشنے والا اور دینے والا پیر ہی ہے اپنے ظاہر پربہت شنیع ہیں اوراگر اس کا ظاہر ہی اعتقاد قائل ہو تو صریح کفر بہرحال زید کو توبہ چاہئےواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۶۳: لکھیم پور ضلع کھیری محلہ نئی بستی مرسلہ محمد غفران الحق صاحب ۶ ذی الحجہ ۱۳۳۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك عورت نے اپنے خاوند سے کہا بسبیل تذکرہکیا اس کو خبر تھی تمھارے دل کییعنی کیا خدا جانتا تھاتمھارے دل کی بات کو۔تو اس کے کہنے سے اس نے خدا کی صفت علم سے انکار کیا یانہیں اور اس کلمہ کے کہنے پر وہ عورت خارج از ایمان ہوئی یانہیں اور ایمان سے خارج ہونے کی وجہ سے اس مرد کے نکاح میں رہی یامنکر بصفت علم باری تعالی ہونے کی وجہ سے ایمان جاتارہااور ایمان جانے کی وجہ سے اپنے خاوند کے جو کہ مسلمان ہے نکاح سے باہر ہوئی یانہیں اب وہ عورت تو بہ کرکے بغیر عدت کے ایام گزارے اور بغیر دوسرے مرد سے نکاح کئے اپنے خاوند سے نکاح کرسکتی ہے اور پہلا مہر خاوند کودینا ہوگا یا ساقط ہوگیابینوا توجروا
الجواب:
سائل نے ان زن وشو کا اول سے مکالمہ نہ لکھا جس سے اس قول زن کے معنی متعین ہوتے اس میں وہ پہلو بھی نکلتاہے جس سے سلب علم نہ ہو مثلا مر دنے دعوی کیا کہ فلاں وقت میرے دل میں یہ بات تھی عورت نے اس پر مرد سے یہ کہا کہ اﷲ تعالی کو اپنے دل میں اس وقت یہ بات ہونے کا گواہ کرے لہذا یہ الفاظ کہے یعنی کیا تمھارے دل میں یہ ارادہ ہونا علم الہی میں تھااس صورت میں لزوم محظور نہیںاﷲ عزوجل فرماتاہے:
" وجعلوا للہ شرکاء قل سموہم ام تنبـونہ بما لایعلم فی الارض" ۔ اور وہ اﷲ کے شریك ٹھہراتے ہیںتم فرماؤ ان کانام تو لو یا اسے وہ بتاتے ہو جو اس کے علم میں ساری زمین میں نہیں۔
(ت)
نیز ممکن ہے کہ استفہام تقریری ہویعنی اس سے اقرار لینا چاہا کہ اﷲ تعالی علیم بذات الصدور ہےجب وہ اقرار کرتا تو آگے اس پر تفریع کرتی مثلا یہ کہ جب وہ دلوں کی خبر رکھتا ہے کیوں فاسد ارادہ دل میں لاتے ہو تو ایسے مجمل سوال پر کوئی حکم نہیں دے سکتاہاں اگر ثابت ومتحقق ہو کہ عورت نے وہ الفاظ معاذاﷲ نفی علم کے لئے کہے توبے شك کلمہ کفر تھےاس روایت کی بناء پر جس پر اب فتوی ہے نکاح سے نہ نکلیاگر وہ توبہ اور تجدیداسلام کرے تو نظر بظاہر الروایۃ دوگواہوں کے سامنے تجدید نکاح کرلیں اس سے زیادہ کی حاجت نہیں اور پہلا مہر کسی حال میں ساقط نہ ہواواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۲۶۴: مرسلہ سید ایوب علی ساکن بریلی محلہ کسگران ۱۳ذی الحجہ ۱۳۳۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید بلانکاحی عورت اپنے گھر میں رکھتاہے چند مسلمان نے زید سے ہر چند کہا کہ تو اپنا نکاح کرلےزید نے جھوٹ کہا کہ میرانکاح ہوچکا ہے میں اب نہیں کروں گااور کسی کو اس کے نکاح کی خبر نہیں ہےمسلمانوں نے کہا کہ تو مسلمان نہیں ہے جو شرعی حکم نہیں مانتا ہے زید نے جواب دیا کہ ہاں میں مسلمان نہیں ہوں لہذا سب مسلمانوں نے زید کو اپنی محفل سے اٹھادیا بعد چندے زید کہتاہے کہ آپ میرا نکاح کردولہذا سوال ہے کہ ازروئے شرع شریف زید کے واسطے کیاحکم ہے والسلام
الجواب:
وہ سب لوگ گنہ گار ہوئے جنھوں نے اسے کہا کہ تو مسلمان نہیں اور جب وہ ایك عورت کو بی بی کی
سائل نے ان زن وشو کا اول سے مکالمہ نہ لکھا جس سے اس قول زن کے معنی متعین ہوتے اس میں وہ پہلو بھی نکلتاہے جس سے سلب علم نہ ہو مثلا مر دنے دعوی کیا کہ فلاں وقت میرے دل میں یہ بات تھی عورت نے اس پر مرد سے یہ کہا کہ اﷲ تعالی کو اپنے دل میں اس وقت یہ بات ہونے کا گواہ کرے لہذا یہ الفاظ کہے یعنی کیا تمھارے دل میں یہ ارادہ ہونا علم الہی میں تھااس صورت میں لزوم محظور نہیںاﷲ عزوجل فرماتاہے:
" وجعلوا للہ شرکاء قل سموہم ام تنبـونہ بما لایعلم فی الارض" ۔ اور وہ اﷲ کے شریك ٹھہراتے ہیںتم فرماؤ ان کانام تو لو یا اسے وہ بتاتے ہو جو اس کے علم میں ساری زمین میں نہیں۔
(ت)
نیز ممکن ہے کہ استفہام تقریری ہویعنی اس سے اقرار لینا چاہا کہ اﷲ تعالی علیم بذات الصدور ہےجب وہ اقرار کرتا تو آگے اس پر تفریع کرتی مثلا یہ کہ جب وہ دلوں کی خبر رکھتا ہے کیوں فاسد ارادہ دل میں لاتے ہو تو ایسے مجمل سوال پر کوئی حکم نہیں دے سکتاہاں اگر ثابت ومتحقق ہو کہ عورت نے وہ الفاظ معاذاﷲ نفی علم کے لئے کہے توبے شك کلمہ کفر تھےاس روایت کی بناء پر جس پر اب فتوی ہے نکاح سے نہ نکلیاگر وہ توبہ اور تجدیداسلام کرے تو نظر بظاہر الروایۃ دوگواہوں کے سامنے تجدید نکاح کرلیں اس سے زیادہ کی حاجت نہیں اور پہلا مہر کسی حال میں ساقط نہ ہواواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۲۶۴: مرسلہ سید ایوب علی ساکن بریلی محلہ کسگران ۱۳ذی الحجہ ۱۳۳۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید بلانکاحی عورت اپنے گھر میں رکھتاہے چند مسلمان نے زید سے ہر چند کہا کہ تو اپنا نکاح کرلےزید نے جھوٹ کہا کہ میرانکاح ہوچکا ہے میں اب نہیں کروں گااور کسی کو اس کے نکاح کی خبر نہیں ہےمسلمانوں نے کہا کہ تو مسلمان نہیں ہے جو شرعی حکم نہیں مانتا ہے زید نے جواب دیا کہ ہاں میں مسلمان نہیں ہوں لہذا سب مسلمانوں نے زید کو اپنی محفل سے اٹھادیا بعد چندے زید کہتاہے کہ آپ میرا نکاح کردولہذا سوال ہے کہ ازروئے شرع شریف زید کے واسطے کیاحکم ہے والسلام
الجواب:
وہ سب لوگ گنہ گار ہوئے جنھوں نے اسے کہا کہ تو مسلمان نہیں اور جب وہ ایك عورت کو بی بی کی
حوالہ / References
القرآن الکریم ۱۳ /۳۳
طرح گھر میں رکھتااور کہتا تھا کہ میرانکاح ہوچکاہے تو اسے جھٹلانے کی کوئی وجہ نہ تھینہ ان لوگوں کو نکاح نہ معلوم ہونے سے نکاح نہ ہونا لازم تھا ان لوگوں نے اپنی نادانی سے برخلاف شرع اسے اتنا تنگ کیا کہ آخر شیطان نے اس سے کہلوادیا کہ ہاں وہ شخص مسلمان نہیں ہےاس کہنے سے اس کا ایمان جاتارہا اور نکاح اگر کیا بھی تھا باطل ہو گیا اب وہ پھر مسلمان ہوکر اس کے بعد عورت کی رضامندی سے اس سے نکاح کرے اور یہ سب لوگ بھی توبہ کریں جنھوں نے ناحق تنگ کرکے یہاں تك نوبت پہنچائیواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۶۵ و ۲۶۶:از شہر محلہ ذخیرہ مسجد نیاریان مسئولہ مولوی محمد افضل صاحب طالبعلم درجہ اول مدرسہ اہل سنت وجماعت ۱۱محرم ۱۳۳۶ھ
(۱)عرض این ست کہ شخصے وعظ گفتگفت کہ شہید رابرنبی پنج فضیلت زیادہ دارد حدیث بیان کردہ راست ست یانہ برامام حسین رضی اﷲ تعالی عنہ بسیار تجاوز بیان کرد کہ درمصنف ابی الشکور تکذیب وے کردی یعنی سربر چوگان وبرلاش مبارك اسپ راندن ومستورات رابے پردہ بردن وغیرہ راست ست یانہ وگفتہ ابوالشکور درمصنف خو دکہ یزید دوازدہ سردار خود راکشت کہ من شما امرنکر دم بودم بقتل وے۔
(۲)دیگر گفت کہ شہادت ناقصہ امام حسن رادادہ شد وشہادت کا ملہ امام حسین رضی اﷲ تعالی عنہ دادہ شد ورسول اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم شہید نشدہ وگفت دربیان ایں حدیث کہ برحضرت صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم شہید فضیلت دارد معاذاﷲ بواسطہ جناب راست ست یانہ
(۱)عرض یہ ہے کہ ایك آدمی نے وعظ میں کہا شہید کو نبی پر پانچ درجے زیادہ فضیلت ہےیہ بات درست ہے یانہیں امام حسین رضی اﷲ تعالی عنہ کے متعلق زیادتی کرتے ہوئے کہا کہ ابوالشکور کے مصنف میں ان کی تکذیب کی گئی ہے یعنی ان کے سر اور لاشے پر گھوڑے دوڑائے گئےخواتین کو بے پردہ کیا گیا یہ سب درست ہے یاغلط ابوالشکور نے اپنے مصنف میں یہ بھی بیان کیا کہ یزید نے اپنے بارہ سردار یہ کہتے ہوئے قتل کروادئے کہ میں نے تمھیں قتل حسین کا حکم نہیں دیا تھا۔
(۲)دوسرے یہ کہا امام حسن رضی اﷲ تعالی عنہ کو شہادت ناقص اورامام حسین رضی اﷲ تعالی عنہ کو شہادت کاملہ دی گئیاور رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم شہید نہیں اور اس نے اس حدیث کے بیان میں کہا کہ حضورصلی اﷲ علیہ وسلم پر شہید کو فضیلت ہے(معاذاللہ)امام حسین کے واسطہ سے آپ بتائیں یہ درست ہے یانہیں
مسئلہ ۲۶۵ و ۲۶۶:از شہر محلہ ذخیرہ مسجد نیاریان مسئولہ مولوی محمد افضل صاحب طالبعلم درجہ اول مدرسہ اہل سنت وجماعت ۱۱محرم ۱۳۳۶ھ
(۱)عرض این ست کہ شخصے وعظ گفتگفت کہ شہید رابرنبی پنج فضیلت زیادہ دارد حدیث بیان کردہ راست ست یانہ برامام حسین رضی اﷲ تعالی عنہ بسیار تجاوز بیان کرد کہ درمصنف ابی الشکور تکذیب وے کردی یعنی سربر چوگان وبرلاش مبارك اسپ راندن ومستورات رابے پردہ بردن وغیرہ راست ست یانہ وگفتہ ابوالشکور درمصنف خو دکہ یزید دوازدہ سردار خود راکشت کہ من شما امرنکر دم بودم بقتل وے۔
(۲)دیگر گفت کہ شہادت ناقصہ امام حسن رادادہ شد وشہادت کا ملہ امام حسین رضی اﷲ تعالی عنہ دادہ شد ورسول اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم شہید نشدہ وگفت دربیان ایں حدیث کہ برحضرت صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم شہید فضیلت دارد معاذاﷲ بواسطہ جناب راست ست یانہ
(۱)عرض یہ ہے کہ ایك آدمی نے وعظ میں کہا شہید کو نبی پر پانچ درجے زیادہ فضیلت ہےیہ بات درست ہے یانہیں امام حسین رضی اﷲ تعالی عنہ کے متعلق زیادتی کرتے ہوئے کہا کہ ابوالشکور کے مصنف میں ان کی تکذیب کی گئی ہے یعنی ان کے سر اور لاشے پر گھوڑے دوڑائے گئےخواتین کو بے پردہ کیا گیا یہ سب درست ہے یاغلط ابوالشکور نے اپنے مصنف میں یہ بھی بیان کیا کہ یزید نے اپنے بارہ سردار یہ کہتے ہوئے قتل کروادئے کہ میں نے تمھیں قتل حسین کا حکم نہیں دیا تھا۔
(۲)دوسرے یہ کہا امام حسن رضی اﷲ تعالی عنہ کو شہادت ناقص اورامام حسین رضی اﷲ تعالی عنہ کو شہادت کاملہ دی گئیاور رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم شہید نہیں اور اس نے اس حدیث کے بیان میں کہا کہ حضورصلی اﷲ علیہ وسلم پر شہید کو فضیلت ہے(معاذاللہ)امام حسین کے واسطہ سے آپ بتائیں یہ درست ہے یانہیں
الجواب:
(۱)غیرنبی رابرنبی تفضیل کفراست اگر فضل جزئی مراد داردنیزبے ادب وبدزبان وبدخواہ مسلمانان وبرہم زن دین وایمان ست وتجاوز ازحدظلم ست وبغض اوکفر وسائرش حرام قال تعالی" و من یتعد حدود اللہ فقد ظلم نفسہ "
وہمچوں مظالم ملعونہ غیر ثابتہ وثابتہ از پہلوئے اہانت اہل بیت کرام راتہی نیستفضائل ومناقب آنہا نشرباید نہ آنچنا نکہ درشمار زبونان وخستگان وبیچارگاں باشمد
کردم از عقل سوالے کہ بگوایمان چیست
عقل درگوش ولم گفت کہ ایمان اداب است
وما رابایزید وافعال واقوال ظالمانہ ومنافقانہ آں پلید کارے نیستاعاذنا اﷲ تعالی منہ وامثالہ۔
(۲)سخن اول بے ادبی وسخن آخر کفرواﷲ تعالی اعلم۔ (۱)غیر نبی کونبی پر فضیلت دینا کفرہے اگر جزئی فضیلت مراد ہو تو یہ بے ادبیبد زبانی اور مسلمانوں کی بدخواہی اور دین وایمان کو جلانا ہے اور حد سے تجاوز کرنا ظلم ہے ان کا بغض وغیرہ کفر وحرام ہےاﷲ تعالی کافرمان ہے جو اﷲ کی حدوں سے آگے بڑھا بیشك اس نے اپنی جان پر ظلم کیا اسی طرح غیر ثابت مظالم ملعونہ اور ثابتہ مذکورہ اہلبیت کرام کی اہانت سے خالی نہیںاہلبیت کے فضائل ومناقب کا بیان ہونا چاہئے نہ یہ کہ ان کو بیچارگاں اور بے سہارا اور خستہ حال ثابت کیا جائے
میں نے عقل سے پوچھا بتاؤ ایمان کیاہے
تو عقل نے میرے دل کے کان میں کہا ایمان سراپا ادب ہے
اورہمیں یزید پلید اور اس کے ظالمانہ افعال واقوال سے کوئی سروکار نہیں اﷲ تعالی ہمیں اس سے اور اس کی امثال سے پناہ عطافرمائے۔
(۲)پہلی بات بے ادبی اور دوسری کفرہے۔واﷲ تعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۲۶۷:خدا ہرجگہ حاضر کہنا کیساہے
الجواب:
اﷲ عزوجل جگہ سے پاك ہےیہ لفظ بہت برے معنی کا احتمال رکھتاہے اس سے احتراز
(۱)غیرنبی رابرنبی تفضیل کفراست اگر فضل جزئی مراد داردنیزبے ادب وبدزبان وبدخواہ مسلمانان وبرہم زن دین وایمان ست وتجاوز ازحدظلم ست وبغض اوکفر وسائرش حرام قال تعالی" و من یتعد حدود اللہ فقد ظلم نفسہ "
وہمچوں مظالم ملعونہ غیر ثابتہ وثابتہ از پہلوئے اہانت اہل بیت کرام راتہی نیستفضائل ومناقب آنہا نشرباید نہ آنچنا نکہ درشمار زبونان وخستگان وبیچارگاں باشمد
کردم از عقل سوالے کہ بگوایمان چیست
عقل درگوش ولم گفت کہ ایمان اداب است
وما رابایزید وافعال واقوال ظالمانہ ومنافقانہ آں پلید کارے نیستاعاذنا اﷲ تعالی منہ وامثالہ۔
(۲)سخن اول بے ادبی وسخن آخر کفرواﷲ تعالی اعلم۔ (۱)غیر نبی کونبی پر فضیلت دینا کفرہے اگر جزئی فضیلت مراد ہو تو یہ بے ادبیبد زبانی اور مسلمانوں کی بدخواہی اور دین وایمان کو جلانا ہے اور حد سے تجاوز کرنا ظلم ہے ان کا بغض وغیرہ کفر وحرام ہےاﷲ تعالی کافرمان ہے جو اﷲ کی حدوں سے آگے بڑھا بیشك اس نے اپنی جان پر ظلم کیا اسی طرح غیر ثابت مظالم ملعونہ اور ثابتہ مذکورہ اہلبیت کرام کی اہانت سے خالی نہیںاہلبیت کے فضائل ومناقب کا بیان ہونا چاہئے نہ یہ کہ ان کو بیچارگاں اور بے سہارا اور خستہ حال ثابت کیا جائے
میں نے عقل سے پوچھا بتاؤ ایمان کیاہے
تو عقل نے میرے دل کے کان میں کہا ایمان سراپا ادب ہے
اورہمیں یزید پلید اور اس کے ظالمانہ افعال واقوال سے کوئی سروکار نہیں اﷲ تعالی ہمیں اس سے اور اس کی امثال سے پناہ عطافرمائے۔
(۲)پہلی بات بے ادبی اور دوسری کفرہے۔واﷲ تعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۲۶۷:خدا ہرجگہ حاضر کہنا کیساہے
الجواب:
اﷲ عزوجل جگہ سے پاك ہےیہ لفظ بہت برے معنی کا احتمال رکھتاہے اس سے احتراز
حوالہ / References
القرآن الکریم ۶۵ /۱
لازم ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۶۸:از ریاست بہاولپور مقام فریدآباد ڈاك خانہ غوث پور مرسلہ مولوی نوراحمد صاحب فریدی ۱۲ ربیع الاول ۱۳۳۶ھ
ھوالحق بشرط ملاحظہ عالیہ جناب حضرت مولانا مولوی احمدرضاخاں صاحب بریلوی مدظلہم العالی مجدد مائۃ حاضرہیاحضرت اقدس دام فیوضاتکم العالیہ! السلام علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہصد آداب نیاز مندانہ بجالاکر عارض ہوں کہ اس جگہ دربارہ مسئلہ وحدۃ الوجود سماع علماء میں سخت اختلاف ہےزید کہتاہے مسئلہ وحدۃ الوجوہ حق ہے اور صحیح ہے جو انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام واولیائے عظام علیہم الرضوان کا مشرب ہے اور سماع لاھلہ شرعا درست ہےہر دو مسائل کا ثبوت کتب اسلامیہ سے موجود ہے بکر اس کے برخلاف ہے اور فتوی دیتاہے کہ مشرب وحدۃ الوجود والے تمام کافرہیں اور سماع بلاتخصیص مطلق حرام ہے اور اس کامرتکب معاذاﷲ ملعون وکافر ہےاور ہر دو مسائل کا ثبوت کسی کتاب اسلامی میں نہیںفلہذا بکمال ادب معروض کہ بحوالہ کتب معتبرہ فتوائے خود سے امت محمدی علیہ الصلوہ والسلام کو بواپسی جواب سرفرازی بخشیں کہ ان میں سے کون حق پر ہے اور کون کاذب تاکہ تشویش اورخطرہ ایمانی بین المسلمین نہ آئےوالاجرعلی اﷲ(اجر اﷲ کے پاس ہے۔ت)
الجواب:
وعلیکم السلام ورحمۃ اﷲ وبرکاتہیہاں تین چیزیں ہیںتوحیدوحدتاتحاد۔توحید مدار ایمان ہے اور اس میں شك کفرہےاور وحدت وجودحق ہےقرآن عظیم واحادیث وارشادات اکابر دین سے ثابتاور اس کے قائلوں کو کافرکہنا خود شنیع خبیث کلمہ کفرہےرہا اتحاد وہ بیشك زندقہ والحاد اور اس کا قائل ضرور کافراتحاد یہ کہ یہ بھی خدا وہ بھی خدا سب خدا ع
گرفرق مراتب نکنی زندیق ست
(اگر تو فرق مراتب نہ کرے تو زندیق ہے۔ت)
حاش ﷲ الہ الہ ہے اور عبد عبدہر گز نہ عبدالہ ہوسکتاہے نہ الہ عبداور وحدت وجود یہ کہ وہ صرف موجود واحدباقی سب ظلال وعکوس ہیںقرآن کریم میں ہے:
" کل شیء ہالک الا وجہہ " ہر چیز فانی ہے سوائے اس کی ذات کے۔(ت)
مسئلہ ۲۶۸:از ریاست بہاولپور مقام فریدآباد ڈاك خانہ غوث پور مرسلہ مولوی نوراحمد صاحب فریدی ۱۲ ربیع الاول ۱۳۳۶ھ
ھوالحق بشرط ملاحظہ عالیہ جناب حضرت مولانا مولوی احمدرضاخاں صاحب بریلوی مدظلہم العالی مجدد مائۃ حاضرہیاحضرت اقدس دام فیوضاتکم العالیہ! السلام علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہصد آداب نیاز مندانہ بجالاکر عارض ہوں کہ اس جگہ دربارہ مسئلہ وحدۃ الوجود سماع علماء میں سخت اختلاف ہےزید کہتاہے مسئلہ وحدۃ الوجوہ حق ہے اور صحیح ہے جو انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام واولیائے عظام علیہم الرضوان کا مشرب ہے اور سماع لاھلہ شرعا درست ہےہر دو مسائل کا ثبوت کتب اسلامیہ سے موجود ہے بکر اس کے برخلاف ہے اور فتوی دیتاہے کہ مشرب وحدۃ الوجود والے تمام کافرہیں اور سماع بلاتخصیص مطلق حرام ہے اور اس کامرتکب معاذاﷲ ملعون وکافر ہےاور ہر دو مسائل کا ثبوت کسی کتاب اسلامی میں نہیںفلہذا بکمال ادب معروض کہ بحوالہ کتب معتبرہ فتوائے خود سے امت محمدی علیہ الصلوہ والسلام کو بواپسی جواب سرفرازی بخشیں کہ ان میں سے کون حق پر ہے اور کون کاذب تاکہ تشویش اورخطرہ ایمانی بین المسلمین نہ آئےوالاجرعلی اﷲ(اجر اﷲ کے پاس ہے۔ت)
الجواب:
وعلیکم السلام ورحمۃ اﷲ وبرکاتہیہاں تین چیزیں ہیںتوحیدوحدتاتحاد۔توحید مدار ایمان ہے اور اس میں شك کفرہےاور وحدت وجودحق ہےقرآن عظیم واحادیث وارشادات اکابر دین سے ثابتاور اس کے قائلوں کو کافرکہنا خود شنیع خبیث کلمہ کفرہےرہا اتحاد وہ بیشك زندقہ والحاد اور اس کا قائل ضرور کافراتحاد یہ کہ یہ بھی خدا وہ بھی خدا سب خدا ع
گرفرق مراتب نکنی زندیق ست
(اگر تو فرق مراتب نہ کرے تو زندیق ہے۔ت)
حاش ﷲ الہ الہ ہے اور عبد عبدہر گز نہ عبدالہ ہوسکتاہے نہ الہ عبداور وحدت وجود یہ کہ وہ صرف موجود واحدباقی سب ظلال وعکوس ہیںقرآن کریم میں ہے:
" کل شیء ہالک الا وجہہ " ہر چیز فانی ہے سوائے اس کی ذات کے۔(ت)
حوالہ / References
القرآن الکریم ۲۸ /۸۸
صحیح بخاری وصحیح مسلم وسنن ابن ماجہ میں ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے ہےحضور اکرم فرماتے ہیں:
الصدق کلمۃ الشاعر کلمۃ لبید الاکل شیئ ماخلااﷲ باطل ۔ سب میں سچی زیادہ بات جو کسی شاعر نے کہی لبید کی بات ہے کہ سن لو اﷲ عزوجل کے سواہر چیز اپنی ذات میں محض بے حقیقت ہے۔
کتب کثیرہ مفصلہاصابہ نیز مسند میں ہے سواد بن قارب رضی اﷲ تعالی عنہ نے حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے عرض کی:
فاشہد ان اﷲ لارب غیرہ وانك مامون علی کل غائب
(میں گواہی دیتاہوں کہ اﷲ تعالی کے سوا کوئی رب نہیں اور حضور اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم جمیع غیوب پر امین ہیں)
حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے انکار نہ فرمایا۔
اقول: یہاں فرقے تین ہیں:
اول: خشك اہل ظاہر کہ حق وحقیقت سے بے نصیب محض ہیں یہ وجود کو اﷲ ومخلوق میں مشترك سمجھے ہیں۔
دوم: اہل حق وحقیقت کہ بمعنی مذکور قائل وحدت وجود ہیں۔
سوم: اہل زندقہ وضلالت کہ الہ ومخلوق میں فرق کے منکر اور ہر شخص وشے کی الوہیت کے مقر ہیں ان کے خیال واقوال اس تقریبی مثال سے روشن ہوں گےایك بادشاہ اعلی جاہ آئینہ خانہ میں جلوہ فرماہے جس میں تمام مختلف اقسام واوصاف کے آئینے نصب ہیںآئینوں کا تجربہ کرنے والا جانتاہے کہ ان میں ایك ہی شیئ کا عکس کس قدر مختلف طوروں پر متجلی ہوتاہےبعض میں صورت صاف نظر آتی ہے بعض میں دھندلیکسی میں سیدھی کسی میں الٹیایك میں بڑی ایك میں چھوٹیبعض میں پتلی بعض میں چوڑیکسی میں خوشنماکسی میں بھونڈییہ اختلاف ان کی قابلیت کاہوتاہے ورنہ وہ صورت جس کا اس میں عکس ہے خود واحد ہےان میں جو حالتیں پیدا ہوئیں متجلی ان سے منزہ ہےان کے الٹےبھونڈےدھندلے ہونے سے اس میں کوئی قصور نہیں ہوتا۔" و للہ المثل الاعلی " (اور اﷲ کی شان سب سے بلند ہے۔ت)
الصدق کلمۃ الشاعر کلمۃ لبید الاکل شیئ ماخلااﷲ باطل ۔ سب میں سچی زیادہ بات جو کسی شاعر نے کہی لبید کی بات ہے کہ سن لو اﷲ عزوجل کے سواہر چیز اپنی ذات میں محض بے حقیقت ہے۔
کتب کثیرہ مفصلہاصابہ نیز مسند میں ہے سواد بن قارب رضی اﷲ تعالی عنہ نے حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے عرض کی:
فاشہد ان اﷲ لارب غیرہ وانك مامون علی کل غائب
(میں گواہی دیتاہوں کہ اﷲ تعالی کے سوا کوئی رب نہیں اور حضور اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم جمیع غیوب پر امین ہیں)
حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے انکار نہ فرمایا۔
اقول: یہاں فرقے تین ہیں:
اول: خشك اہل ظاہر کہ حق وحقیقت سے بے نصیب محض ہیں یہ وجود کو اﷲ ومخلوق میں مشترك سمجھے ہیں۔
دوم: اہل حق وحقیقت کہ بمعنی مذکور قائل وحدت وجود ہیں۔
سوم: اہل زندقہ وضلالت کہ الہ ومخلوق میں فرق کے منکر اور ہر شخص وشے کی الوہیت کے مقر ہیں ان کے خیال واقوال اس تقریبی مثال سے روشن ہوں گےایك بادشاہ اعلی جاہ آئینہ خانہ میں جلوہ فرماہے جس میں تمام مختلف اقسام واوصاف کے آئینے نصب ہیںآئینوں کا تجربہ کرنے والا جانتاہے کہ ان میں ایك ہی شیئ کا عکس کس قدر مختلف طوروں پر متجلی ہوتاہےبعض میں صورت صاف نظر آتی ہے بعض میں دھندلیکسی میں سیدھی کسی میں الٹیایك میں بڑی ایك میں چھوٹیبعض میں پتلی بعض میں چوڑیکسی میں خوشنماکسی میں بھونڈییہ اختلاف ان کی قابلیت کاہوتاہے ورنہ وہ صورت جس کا اس میں عکس ہے خود واحد ہےان میں جو حالتیں پیدا ہوئیں متجلی ان سے منزہ ہےان کے الٹےبھونڈےدھندلے ہونے سے اس میں کوئی قصور نہیں ہوتا۔" و للہ المثل الاعلی " (اور اﷲ کی شان سب سے بلند ہے۔ت)
حوالہ / References
الجامع الصحیح للبخاری کتاب الادب باب مایجوز من الشعر والرجز قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۹۰۸
المستدرك للحاکم کتاب معرفۃ الصحابۃ قصہ اسلام سواد بن قارب دارالفکر بیروت ۳/ ۶۰۹
القرآن الکریم ۱۶ /۶۰
المستدرك للحاکم کتاب معرفۃ الصحابۃ قصہ اسلام سواد بن قارب دارالفکر بیروت ۳/ ۶۰۹
القرآن الکریم ۱۶ /۶۰
اب اس آئینہ خانے کو دیکھنے والے تین قسم ہوئے:
اول: نا سمجھ بچےانھوں نے گمان کیا کہ جس طرح بادشاہ موجود ہے یہ سب عکس بھی موجودہیں کہ یہ بھی توہمیں ایسے ہی نظر آتاہے جیسے وہہاں یہ ضرورہے کہ یہ اس کے تابع ہیں جب وہ اٹھتاہے یہ سب کھڑے ہوجاتے ہیںوہ چلتاہے یہ سب چلنے لگتے ہیںوہ بیٹھتاہے یہ سب بیٹھ جاتے ہیں تو عین یہ بھی اور وہ بھیمگر وہ حاکم ہے یہ محکوماور اپنی نادانی سے نہ سمجھا کہ وہاں تو بادشاہی بادشاہ ہےیہ سب اسی کے عکس ہیں اگر اس سے حجاب ہوجائے تو یہ سب صفحہ ہستی سے معدوم محض ہوجائیں گے ہوکیا جائیں گے اب بھی تو حقیقی وجود سے کوئی حصہ ان میں نہیں حقیقۃ بادشاہ ہی موجو دہے باقی سب پر تو کی نمود ہے
دوم: اہل نظر وعقل کاملوہ اس حقیقت کو پہنچے اورا عتقاد بنائے کہ بیشك وجود ایك بادشاہ کے لئے ہے موجود ایك ہی ہے یہ سب ظل وعکس ہیں کہ اپنی حد ذات میں اصلا وجودنہیں رکھتے اس تجلی سے قطع نظر کرکے دیکھو کہ پھر ان میں کچھ رہتاہے حاشا عدم محض کے سوا کچھ نہیںا ور جب یہ اپنی ذات میں معدوم وفانی ہیں اور بادشاہ موجودیہ اس نمودمیں اسی کے محتاج ہیں اور وہ سب سے غنی یہ ناقص ہیں وہ تامیہ ایك ذرہ کے بھی مالك نہیںاور وہ سلطنت کا مالك یہ کوئی کمال نہیں رکھتےحیاۃعلم سمعبصرقدرتارادہکلامسب سے خالی ہیں اور وہ سب کا جامعتو یہ اس کا عین کیونکر ہوسکتے ہیںلاجرم یہ نہیں کہ یہ سب وہی ہیں بلکہ وہی وہ ہے اور یہ صرف اس تجلی کی نمودیہی حق وحقیقت ہے اور یہی وحدۃ الوجود۔
سوم: عقل کے اندھے سمجھ کے اوندھے ان ناسمجھ بچوں سے بھی گزرگئےانھوں نے دیکھا کہ جو صورت بادشاہ کی ہے وہی ان کی جو حرکت وہ کرتاہے یہ سب بھیتاج جیسا کہ اس کے سر پر ہے بعینہ ان کے سروں پر بھیانھوں نے عقل ودانش کو پیٹھ دے کر بکنا شروع کیاکہ یہ سب بادشاہ ہیں اور اپنی سفاہت سے وہ تمام عیوب ونقائص نقصان قوابل کے باعث ان میں تھی خود بادشاہ کو ان کا مورد کردیاجب یہ وہی ہیں تو ناقص عاجزمحتاجالٹےبھونڈےبدنمادھندلے کا جو عین ہے قطعا انھیں ذمائم سے متصف ہے تعالی اﷲ عما یقول الظالمون علواکبیرا(ظالم جو کچھ کہتے ہیں اﷲ تعالی اس سے بہت بلند وبالاہے۔ت) انسان عکس ڈالنے میں آئینے کا محتاج ہے اور وجود حقیقی احتیاج سے پاك وہاں جسے آئینہ کہئے وہ خود بھی ایك ظل پھر آئینے میں انسان کی صرف سطح مقابل کا عکس پڑتاہے جس میں انسان
اول: نا سمجھ بچےانھوں نے گمان کیا کہ جس طرح بادشاہ موجود ہے یہ سب عکس بھی موجودہیں کہ یہ بھی توہمیں ایسے ہی نظر آتاہے جیسے وہہاں یہ ضرورہے کہ یہ اس کے تابع ہیں جب وہ اٹھتاہے یہ سب کھڑے ہوجاتے ہیںوہ چلتاہے یہ سب چلنے لگتے ہیںوہ بیٹھتاہے یہ سب بیٹھ جاتے ہیں تو عین یہ بھی اور وہ بھیمگر وہ حاکم ہے یہ محکوماور اپنی نادانی سے نہ سمجھا کہ وہاں تو بادشاہی بادشاہ ہےیہ سب اسی کے عکس ہیں اگر اس سے حجاب ہوجائے تو یہ سب صفحہ ہستی سے معدوم محض ہوجائیں گے ہوکیا جائیں گے اب بھی تو حقیقی وجود سے کوئی حصہ ان میں نہیں حقیقۃ بادشاہ ہی موجو دہے باقی سب پر تو کی نمود ہے
دوم: اہل نظر وعقل کاملوہ اس حقیقت کو پہنچے اورا عتقاد بنائے کہ بیشك وجود ایك بادشاہ کے لئے ہے موجود ایك ہی ہے یہ سب ظل وعکس ہیں کہ اپنی حد ذات میں اصلا وجودنہیں رکھتے اس تجلی سے قطع نظر کرکے دیکھو کہ پھر ان میں کچھ رہتاہے حاشا عدم محض کے سوا کچھ نہیںا ور جب یہ اپنی ذات میں معدوم وفانی ہیں اور بادشاہ موجودیہ اس نمودمیں اسی کے محتاج ہیں اور وہ سب سے غنی یہ ناقص ہیں وہ تامیہ ایك ذرہ کے بھی مالك نہیںاور وہ سلطنت کا مالك یہ کوئی کمال نہیں رکھتےحیاۃعلم سمعبصرقدرتارادہکلامسب سے خالی ہیں اور وہ سب کا جامعتو یہ اس کا عین کیونکر ہوسکتے ہیںلاجرم یہ نہیں کہ یہ سب وہی ہیں بلکہ وہی وہ ہے اور یہ صرف اس تجلی کی نمودیہی حق وحقیقت ہے اور یہی وحدۃ الوجود۔
سوم: عقل کے اندھے سمجھ کے اوندھے ان ناسمجھ بچوں سے بھی گزرگئےانھوں نے دیکھا کہ جو صورت بادشاہ کی ہے وہی ان کی جو حرکت وہ کرتاہے یہ سب بھیتاج جیسا کہ اس کے سر پر ہے بعینہ ان کے سروں پر بھیانھوں نے عقل ودانش کو پیٹھ دے کر بکنا شروع کیاکہ یہ سب بادشاہ ہیں اور اپنی سفاہت سے وہ تمام عیوب ونقائص نقصان قوابل کے باعث ان میں تھی خود بادشاہ کو ان کا مورد کردیاجب یہ وہی ہیں تو ناقص عاجزمحتاجالٹےبھونڈےبدنمادھندلے کا جو عین ہے قطعا انھیں ذمائم سے متصف ہے تعالی اﷲ عما یقول الظالمون علواکبیرا(ظالم جو کچھ کہتے ہیں اﷲ تعالی اس سے بہت بلند وبالاہے۔ت) انسان عکس ڈالنے میں آئینے کا محتاج ہے اور وجود حقیقی احتیاج سے پاك وہاں جسے آئینہ کہئے وہ خود بھی ایك ظل پھر آئینے میں انسان کی صرف سطح مقابل کا عکس پڑتاہے جس میں انسان
کے صفات مثل کلام وسمع وبصر و علم وارادہ وحیات سے اصلا نام کو بھی کچھ نہیں آتا لیکن وجود حقیقی عزجلالہ کے تجلی نے اپنے بہت ظلال پر نفس ہستی کے سوا ان صفات کا بھی پرتوڈالا یہ وجود اور بھی ان بچوں کی نافہمی اور ان اندھوں کی گمراہی کی باعث ہوئیں اور جن کو ہدایت حق ہوئی وہ سمجھ لئے کہ
یك چراغ ست دریں خانہ کہ از پرتوآں
ہرکجامی نگری انجمنے ساختہ اند
(اس گھرمیں ایك چراغ ہے اس کی روشنی سے ہر جابارونق ہے۔ت)
انھوں نے ان صفات اور خود وجود کی دوقسمیں کیں:حقیقیذاتیکہ متجلی کے لئے خاص ہےاور ظلی عطائی کہ ظلال کے لئے ہے اور حاشایہ تقسیم اشتراك معنی بلکہ محض موافقت فی اللفظیہ ہے وہ حق حقیقت وعین معرفت وﷲ الحمد۔
الحمدﷲ الذی ھدانا لہذا وماکنا لنھتدی لولاان ھدانا اﷲ لقد جاءت رسل ربنا بالحقصلی اﷲ تعالی علیہم وعلی سیدھم ومولاھم وبارك وسلم۔ سب حمد اﷲ تعالی کے لئے جس نے ہمیں اس کےلئے ہدایت دی جبکہ ہم خود راستہ پانے والے نہ تھے اگر اﷲ تعالی ہماری رہنمائی نہ فرماتا یقینا ہمارے رب کے تمام رسول حق لائے اﷲ تعالی ان سب پر اور ان سب کے آقا ومولاپر رحمتیں اور برکتیں اور سلامتی نازل فرمائے۔(ت)
سماع مجردکہ جملہ منکرات شرعیہ سے خالی ہو بلاشبہ اہل کو مباح بلکہ مستحب ہے اس پر انکار ستر صدیقوں پر انکار ہے اور معاذاﷲ صدیقین کی تکفیر کرنے والا کفر اخبث کا سزاوارہےاس کی تفصیل فتاوی فقیر خصوصا رسالہ"اجل التحبیر"میں ہےہاں مزامیر شرعاناجائزہیںحضرت سلطان الاولیاء محبوب الہی نظام الحق والدین رضی اﷲ تعالی عنہ فوائد الفواد شریف میں فرماتے ہیں:مزامیر حرام ست (مزامیر حرام ہیں۔ت)اوراہل اﷲ کسی معصیت الہی کے اہل نہیںواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۶۹: از کھنڈل ضلع اکیاب ملك برہما مرسلہ محمد بدیع الرحمن ۲۴ ربیع الاول شریف ۱۳۳۶ھ
اندریں کہ شخصے عالمے رادراثنائے سخن بدیں گونہ دشنام داد کہ چہ ذکر علم تحصیل نمودی وچہ ذکر عالم ہستی پس سب علم وعالم معا وانصاف آں ایك شخص نے دوران گفتگو عالم دین کو اس طرح گالی دی ہے تونے ذکر علم حاصل کیاہےتو ذکر عالم ہےاس نے علم اور عالم کو ذکر اور آلہ تناسل سے
یك چراغ ست دریں خانہ کہ از پرتوآں
ہرکجامی نگری انجمنے ساختہ اند
(اس گھرمیں ایك چراغ ہے اس کی روشنی سے ہر جابارونق ہے۔ت)
انھوں نے ان صفات اور خود وجود کی دوقسمیں کیں:حقیقیذاتیکہ متجلی کے لئے خاص ہےاور ظلی عطائی کہ ظلال کے لئے ہے اور حاشایہ تقسیم اشتراك معنی بلکہ محض موافقت فی اللفظیہ ہے وہ حق حقیقت وعین معرفت وﷲ الحمد۔
الحمدﷲ الذی ھدانا لہذا وماکنا لنھتدی لولاان ھدانا اﷲ لقد جاءت رسل ربنا بالحقصلی اﷲ تعالی علیہم وعلی سیدھم ومولاھم وبارك وسلم۔ سب حمد اﷲ تعالی کے لئے جس نے ہمیں اس کےلئے ہدایت دی جبکہ ہم خود راستہ پانے والے نہ تھے اگر اﷲ تعالی ہماری رہنمائی نہ فرماتا یقینا ہمارے رب کے تمام رسول حق لائے اﷲ تعالی ان سب پر اور ان سب کے آقا ومولاپر رحمتیں اور برکتیں اور سلامتی نازل فرمائے۔(ت)
سماع مجردکہ جملہ منکرات شرعیہ سے خالی ہو بلاشبہ اہل کو مباح بلکہ مستحب ہے اس پر انکار ستر صدیقوں پر انکار ہے اور معاذاﷲ صدیقین کی تکفیر کرنے والا کفر اخبث کا سزاوارہےاس کی تفصیل فتاوی فقیر خصوصا رسالہ"اجل التحبیر"میں ہےہاں مزامیر شرعاناجائزہیںحضرت سلطان الاولیاء محبوب الہی نظام الحق والدین رضی اﷲ تعالی عنہ فوائد الفواد شریف میں فرماتے ہیں:مزامیر حرام ست (مزامیر حرام ہیں۔ت)اوراہل اﷲ کسی معصیت الہی کے اہل نہیںواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۶۹: از کھنڈل ضلع اکیاب ملك برہما مرسلہ محمد بدیع الرحمن ۲۴ ربیع الاول شریف ۱۳۳۶ھ
اندریں کہ شخصے عالمے رادراثنائے سخن بدیں گونہ دشنام داد کہ چہ ذکر علم تحصیل نمودی وچہ ذکر عالم ہستی پس سب علم وعالم معا وانصاف آں ایك شخص نے دوران گفتگو عالم دین کو اس طرح گالی دی ہے تونے ذکر علم حاصل کیاہےتو ذکر عالم ہےاس نے علم اور عالم کو ذکر اور آلہ تناسل سے
حوالہ / References
فوائدالفواد نظام الدین
باذکر وآلہ تناسل توہین علوم دین وہتك عالم متین ست یانہبرشق اول برشاتم موصوف چساں حکم حسب شرع محمدی عائدشود بینوا بالدلیل۔ متصف کیایہ علم دین وعالم متین کی توہین ہے یانہیں اگرہے تو شاتم پر شرح محمدی کا کیاحکم جاری ہتاہےدلیل کے ساتھ بیان فرمائیں(ت)
الجواب:
فقہائے کرام توہین عالم راکفرداشتہ انددر مجمع الانہر ست:من قال للعالم عویلم علی وجہ الاستخفاف کفر ۔آنجا اگر تاویل را راہی بود توہین علم دین خود کفر خالص است واﷲ تعالی اعلم۔ فقہاء کرام نے عالم کی توہین کو کفر قرار دیاہےمجمع الانہر میں ہےاگر کسی نے توہین کی نیت سے عالم کو عویلم(گھٹیا عالم)کہا تویہ کفر ہےاگریہاں تاویل کریں تو علم دین کی توہین خالصتا کفرہےواﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۲۷۰ تا ۲۷۲: از کشمیر خاص محلہ رنگریزاں بخانہ منشی چراغ ابراہیم براستہ جہلم مرسلہ محمد یوسف صاحب ۲۴ ربیع الاول ۱۳۳ھ
(۱)کوئی شخص فقہ کا انکار کرے کہ میرا فقہ پر ایمان نہیں ہے تو کیا وہ مسلمان ہے یا کافر
(۲)اگر وعظ میں کوئی کہے کہ بعد خدا کے درجہ عالم کاہے فقطتو اس کاکیا حکم ہے
(۳)اگرکوئی یوں کہےکہ آدم علیہ السلام نے کپڑا بنا ہے اور داؤد علیہ السلام نے آہن گروں کاکام کیا ہے اور فلاں پیغمبر نے حجام کاکام کیاتو اس میں کیا بے عزتی نبیوں کی ہے یانہیں
الجواب:
(۱)فقہ کا انکار قرآن مجید کاانکار ہے
قال اﷲ تعالی" فلولا نفر من کل فرقۃ منہم طائفۃ لیتفقہوا فی الدین ۔ اﷲ تعالی نے فرمایا:تو کیوں نہ ہو اکہ ان کے گروہ میں سے ایك جماعت نکلے کہ دین کی سمجھ حاصل کریں۔(ت)
اور قرآن مجید کاانکار کفرہے۔
(۲)اگر اس نے عالم سے مراد یہی عرفی علماء لئے جنھیں مولوی کہتے ہیں تویہ کلمہ کفر ہوگا کہ اس میں انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام پر علماء کی تفضیل لازم آتی ہےاور اگر مطلق عالم مراد لیا کہ انبیاء
الجواب:
فقہائے کرام توہین عالم راکفرداشتہ انددر مجمع الانہر ست:من قال للعالم عویلم علی وجہ الاستخفاف کفر ۔آنجا اگر تاویل را راہی بود توہین علم دین خود کفر خالص است واﷲ تعالی اعلم۔ فقہاء کرام نے عالم کی توہین کو کفر قرار دیاہےمجمع الانہر میں ہےاگر کسی نے توہین کی نیت سے عالم کو عویلم(گھٹیا عالم)کہا تویہ کفر ہےاگریہاں تاویل کریں تو علم دین کی توہین خالصتا کفرہےواﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۲۷۰ تا ۲۷۲: از کشمیر خاص محلہ رنگریزاں بخانہ منشی چراغ ابراہیم براستہ جہلم مرسلہ محمد یوسف صاحب ۲۴ ربیع الاول ۱۳۳ھ
(۱)کوئی شخص فقہ کا انکار کرے کہ میرا فقہ پر ایمان نہیں ہے تو کیا وہ مسلمان ہے یا کافر
(۲)اگر وعظ میں کوئی کہے کہ بعد خدا کے درجہ عالم کاہے فقطتو اس کاکیا حکم ہے
(۳)اگرکوئی یوں کہےکہ آدم علیہ السلام نے کپڑا بنا ہے اور داؤد علیہ السلام نے آہن گروں کاکام کیا ہے اور فلاں پیغمبر نے حجام کاکام کیاتو اس میں کیا بے عزتی نبیوں کی ہے یانہیں
الجواب:
(۱)فقہ کا انکار قرآن مجید کاانکار ہے
قال اﷲ تعالی" فلولا نفر من کل فرقۃ منہم طائفۃ لیتفقہوا فی الدین ۔ اﷲ تعالی نے فرمایا:تو کیوں نہ ہو اکہ ان کے گروہ میں سے ایك جماعت نکلے کہ دین کی سمجھ حاصل کریں۔(ت)
اور قرآن مجید کاانکار کفرہے۔
(۲)اگر اس نے عالم سے مراد یہی عرفی علماء لئے جنھیں مولوی کہتے ہیں تویہ کلمہ کفر ہوگا کہ اس میں انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام پر علماء کی تفضیل لازم آتی ہےاور اگر مطلق عالم مراد لیا کہ انبیاء
حوالہ / References
مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر فصل ان الفاظ الکفر انواع داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۶۹۵
القرآن الکریم ۹ /۱۲۲
القرآن الکریم ۹ /۱۲۲
علیہم الصلوۃ والسلام کو بھی شامل ہے تمام عالم سے اعلی واعلم تو وہی ہیںتو ضرور حق ہے اور جب بات محتمل ہے تو قائل پرکوئی حکم نہیں ہوسکتا جب تك کہ اس کے قرائن کلام سے متعین نہ ہوتاہو۔
(۳)حجام کاکام انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کی طرف نسبت کرنا تو اس شخص کا افتراء ہےآدم علیہ الصلوۃ والسلام کوکپڑا بننا سکھایا گیاداؤد علیہ الصلوۃ والسلام کے لئے لوہانرم کیا گیا وہ اس سے زرہیں بناتےیہ بیان اگراس نے محل توہین میں کیا تو کافر مرتد ہے اور اگر کسی محل صحیح میں نیت صحیح سے کیا تو حرج نہیںاوراگرنہ کوئی نیت فاسدہ تھی نہ صحیحہ ویسے ہی بے معنی حکایات کے طور پر بیان کیا تو بے ادب ہے اور قابل تعزیر۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۲۷۳ و ۲۷۴: ازشہر کہنہ محلہ قاضی ٹولہ مرسلہ حاجی سعد الدین صاحب ۳۰ ربیع الاول ۱۳۳۶ھ
تفضل حسین نے ایك جلسہ عام میں منبرپر بیٹھ کر یہ کہا کہ آج میں ایك ایسی بات بیان کرتاہوں جو آج تك حاضرین جلسہ نے نہ سنی ہو کیونکہ کسی عالم اور کسی فقیر نے آج تك بیان نہیں کیا وہ بات یہ ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بی بی عائشہ رضی اﷲ تعالی عنہا کے دولت خانے پر تشریف لائے آپ کی سوئی گرگئی تھی وہاں اندھیراتھا ا س کو وہ تلاش کررہی تھیں تاریکی کی وجہ سے نہ ملتی تھی حضورنے تبسم فرمایا دندان اقدس کی روشنی سے وہ سوئی مل گئیحضو رنے خیال فرمایا کہ میرے دانت ایسے روشن ہیں کہ آج تك کسی کےایسے نہ ہوئے اس تکبر کی وجہ سے حضور کا دندان اقدس جنگ احد میںشہید ہوگیا۔
(۲)حضور نبی اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم رات رات بھر کھڑے ہوکر عبادت کرتے تھے اس وجہ سے پاؤں شریف پر ورم آگیاکسی صاحب نے یہ عرض کیا کہ حضور پتھر آگ میں گرم کرکے سینکیںحضور نے جس وقت پتھر آگ میں ڈالا اس نے اﷲ تعالی سے فریاد کی حکم ہوا کہ ہم اس کا بدلہ تجھ کو دیں گے ان الفاظ سے توہین ہوئی یانہیں۔اور ہوتی ہے توکس حدتکیہ دونوں روایتیں صحیح ہیں یاغلط اس کے بیان کرنے والے کے لئے کیاحکم ہے اور سامعین پر اس کاگناہ ہے یانہیں اگر ہے تو وہ کس طرح اس گناہ سے بری ہوں
الجواب:
پہلی روایت کہ تبسم فرمانے سے سوئی مل گئییہاں تك ٹھیك ہےاس کے بعد جو اس بیان کرنے والے نے بڑھایا ہے وہ صریح کذب وافتراء ہےاوراس کے ساتھ جو اس نے حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی نسبت معاذاﷲ تکبر کا لفظ کہا وہ صریح کفر ہے وہ ایمان سے نکل گیا اور اس کی عورت نکاح سے نکل گئیجیسے مجمع میں اس نے وہ ناپاك ملعون لفظ کہا اسے حکم ہے کہ ویسے ہی
(۳)حجام کاکام انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کی طرف نسبت کرنا تو اس شخص کا افتراء ہےآدم علیہ الصلوۃ والسلام کوکپڑا بننا سکھایا گیاداؤد علیہ الصلوۃ والسلام کے لئے لوہانرم کیا گیا وہ اس سے زرہیں بناتےیہ بیان اگراس نے محل توہین میں کیا تو کافر مرتد ہے اور اگر کسی محل صحیح میں نیت صحیح سے کیا تو حرج نہیںاوراگرنہ کوئی نیت فاسدہ تھی نہ صحیحہ ویسے ہی بے معنی حکایات کے طور پر بیان کیا تو بے ادب ہے اور قابل تعزیر۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۲۷۳ و ۲۷۴: ازشہر کہنہ محلہ قاضی ٹولہ مرسلہ حاجی سعد الدین صاحب ۳۰ ربیع الاول ۱۳۳۶ھ
تفضل حسین نے ایك جلسہ عام میں منبرپر بیٹھ کر یہ کہا کہ آج میں ایك ایسی بات بیان کرتاہوں جو آج تك حاضرین جلسہ نے نہ سنی ہو کیونکہ کسی عالم اور کسی فقیر نے آج تك بیان نہیں کیا وہ بات یہ ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بی بی عائشہ رضی اﷲ تعالی عنہا کے دولت خانے پر تشریف لائے آپ کی سوئی گرگئی تھی وہاں اندھیراتھا ا س کو وہ تلاش کررہی تھیں تاریکی کی وجہ سے نہ ملتی تھی حضورنے تبسم فرمایا دندان اقدس کی روشنی سے وہ سوئی مل گئیحضو رنے خیال فرمایا کہ میرے دانت ایسے روشن ہیں کہ آج تك کسی کےایسے نہ ہوئے اس تکبر کی وجہ سے حضور کا دندان اقدس جنگ احد میںشہید ہوگیا۔
(۲)حضور نبی اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم رات رات بھر کھڑے ہوکر عبادت کرتے تھے اس وجہ سے پاؤں شریف پر ورم آگیاکسی صاحب نے یہ عرض کیا کہ حضور پتھر آگ میں گرم کرکے سینکیںحضور نے جس وقت پتھر آگ میں ڈالا اس نے اﷲ تعالی سے فریاد کی حکم ہوا کہ ہم اس کا بدلہ تجھ کو دیں گے ان الفاظ سے توہین ہوئی یانہیں۔اور ہوتی ہے توکس حدتکیہ دونوں روایتیں صحیح ہیں یاغلط اس کے بیان کرنے والے کے لئے کیاحکم ہے اور سامعین پر اس کاگناہ ہے یانہیں اگر ہے تو وہ کس طرح اس گناہ سے بری ہوں
الجواب:
پہلی روایت کہ تبسم فرمانے سے سوئی مل گئییہاں تك ٹھیك ہےاس کے بعد جو اس بیان کرنے والے نے بڑھایا ہے وہ صریح کذب وافتراء ہےاوراس کے ساتھ جو اس نے حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی نسبت معاذاﷲ تکبر کا لفظ کہا وہ صریح کفر ہے وہ ایمان سے نکل گیا اور اس کی عورت نکاح سے نکل گئیجیسے مجمع میں اس نے وہ ناپاك ملعون لفظ کہا اسے حکم ہے کہ ویسے ہی
مجمع میں توبہ کریں اور اسلام لائے اگر نئے سرے سے مسلمان نہ ہو تو مسلمانوں کو اس سے سلام و کلام حراماس کے پاس بیٹھناحراماس کی شادی غمی میں شریك ہونا حرام بیمار پڑے تو اسے پوچھنے جاناحراممرجائے تو اس کے جنازے پر جانا حرام اسے غسل وکفن دینا حراماس کے جنازہ کی نمازحراماسے مسلمانوں کے مقابر میں دفن کرنا حراممرنے کے بعد اسے کچھ ثواب پہنچانا حرامبلکہ اس کے کفر پر مطلع ہوکر جوکوئی اس کے ساتھ مسلمانوں کا ساکوئی معاملہ کرے گا اور اسے مسلمان جانے گا بلکہ اس کے کفرمیں شك کرے گا وہ خود کافر ہوجائے گا شفائے امام قاضی عیاض وبزازیہ وذخیرۃ العقبی و مجمع الانہر ودرمختار میں ہے:
من شك فی عذابہ وکفرہ فقد کفر ۔ جس نے اس کے عذاب وکفر میں شك کیا وہ بھی کافرہے۔ (ت)
(۲)اور وہ جو دوسری روایت پتھر کی اس نے بیان کی وہ بھی محض جھوٹ اور اس کاافتراء ہے اوراگر توبہ نہ کرے تو وہ روایت اس پرجہنم کے پتھر برسائے گی وہ لوگ جو ایسے کو بیان کرنے کے لئے بٹھاتے ہیں او راس کا بیان سنتے ہیں سب سخت گنہ گار ہیں اور اگر اس پہلی روایت کو سن کر پسند کیا تو وہ پسند کرنے والے سب اس کی مثل کافرہوگئے اور ان کی عورتیں نکاح سے نکل گئیںان پر توبہ فرض ہےاور ہدایت اﷲ کے ہاتھواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۷۵:ا زکٹك بخشی بازار مرسلہ داور علی خان سہاوری ۸جمادی الاولی ۱۳۳۶ھ
ایك اشتہار بجنسہ روانہ خدمت کرتاہوں اس میں نمبر ۶ میں جولکھا ہے اس سے مسلمانان کٹك بہت الجھن میں پڑگئے ہیں کیونکہ جس کتاب کے حوالے سے لکھا ہے وہ غیر مقلدین کی کتاب کاحوالہ ہے اس واسطے مکلف ہوں کہ اس کا جواب دیجئے تاکہ مسلمانان کٹك کی بے چینی دورہو۔
الجواب:
ظاہرا مسلمانوں کی پریشانی کا باعث یہ ہے کہ اس قول کو صاحب اشتہار کی طرف سے سمجھے حالانکہ اس میں وہابیہ کا قول نقل کیاہےیہ قول وہابیہ کے پیشوا اسمعیل دہلوی کا ہے کہ اس نے تقویۃ الایمان میں لکھا اور شیطنت پر سخت شیطنت یہ کی کہ اس کلمہ کفرکو خود حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی طر ف نسبت کیا کہ حضور فرماتے ہیں"میں بھی تمھارے طرح ایك دن مرکر مٹی میں ملنے والاہوں" رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی توہین کا کلمہ اور پھر اسے خود حضور کی طرف منسوب کرنا دوہرا استحقاق عذاب نارہے۔
من شك فی عذابہ وکفرہ فقد کفر ۔ جس نے اس کے عذاب وکفر میں شك کیا وہ بھی کافرہے۔ (ت)
(۲)اور وہ جو دوسری روایت پتھر کی اس نے بیان کی وہ بھی محض جھوٹ اور اس کاافتراء ہے اوراگر توبہ نہ کرے تو وہ روایت اس پرجہنم کے پتھر برسائے گی وہ لوگ جو ایسے کو بیان کرنے کے لئے بٹھاتے ہیں او راس کا بیان سنتے ہیں سب سخت گنہ گار ہیں اور اگر اس پہلی روایت کو سن کر پسند کیا تو وہ پسند کرنے والے سب اس کی مثل کافرہوگئے اور ان کی عورتیں نکاح سے نکل گئیںان پر توبہ فرض ہےاور ہدایت اﷲ کے ہاتھواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۷۵:ا زکٹك بخشی بازار مرسلہ داور علی خان سہاوری ۸جمادی الاولی ۱۳۳۶ھ
ایك اشتہار بجنسہ روانہ خدمت کرتاہوں اس میں نمبر ۶ میں جولکھا ہے اس سے مسلمانان کٹك بہت الجھن میں پڑگئے ہیں کیونکہ جس کتاب کے حوالے سے لکھا ہے وہ غیر مقلدین کی کتاب کاحوالہ ہے اس واسطے مکلف ہوں کہ اس کا جواب دیجئے تاکہ مسلمانان کٹك کی بے چینی دورہو۔
الجواب:
ظاہرا مسلمانوں کی پریشانی کا باعث یہ ہے کہ اس قول کو صاحب اشتہار کی طرف سے سمجھے حالانکہ اس میں وہابیہ کا قول نقل کیاہےیہ قول وہابیہ کے پیشوا اسمعیل دہلوی کا ہے کہ اس نے تقویۃ الایمان میں لکھا اور شیطنت پر سخت شیطنت یہ کی کہ اس کلمہ کفرکو خود حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی طر ف نسبت کیا کہ حضور فرماتے ہیں"میں بھی تمھارے طرح ایك دن مرکر مٹی میں ملنے والاہوں" رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی توہین کا کلمہ اور پھر اسے خود حضور کی طرف منسوب کرنا دوہرا استحقاق عذاب نارہے۔
حوالہ / References
درمختار باب المرتد مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۵۶
تقویۃالایمان الفصل الخامس فی ردالاشراك مطبع علیمی اندرون لوہاری دروازہ لاہور ص۴۲
تقویۃالایمان الفصل الخامس فی ردالاشراك مطبع علیمی اندرون لوہاری دروازہ لاہور ص۴۲
نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ان اﷲ حرم علی الارض ان تأکل اجساد الانبیاء فنبی اﷲ حی یرزق ۔ بیشك اﷲ تعالی نے حرام کردیا ہے انبیاء کابدن کھانا زمین پراﷲ کے نبی زندہ ہیں روزی دئے جاتے ہیں۔
دوسری صحیح حدیث میں نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
الانبیاء احیاء فی قبورھم یصلون ۔ انبیاء اپنے مزارات طیبہ میں زندہ ہیں نمازیں پڑھتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۷۶ و ۲۷۷: از رادھن پور گجرات قریب احمدآباد مرسلہ حکیم محمد میاں صاحب ۱۷جمادی الثانی ۱۳۳۶ھ
(۱)ایك مولوی صاحب وعظ میں اس طرح کہتے تھے:"اﷲ تعالی اپنے بندوں کواپنے کلام پاك میں یوں ارشاد فرماتے ہیں"اور کبھی اس طرح کہتے تھے:"ارشاد فرماتاہے"کہیں تواﷲ فرماتے ہیں اور کہیں اﷲ فرماتا ہےایسے کلام کے کہنے سے انسان پر کفر شرك تو لازم نہیں آتا یا آتاہےگناہ گارہوتاہےیا نہیںاور کتابوں کے مصنف نے"اﷲ فرماتے ہیں"کیوں نہیں لکھا اور"فرماتا ہے"لکھاکیا وجہ
(۲)ابھی چندروز کی بات ہے کہ ایك شہر سے فتوے آئے ہیں اس میں کئی مہریں ہیں اس میں لکھا ہے کہ"بہشتی زیور"سے انکار کرنے والا کافر ہےاس کی عورت بھی نکاح سے خارج ہوگئیاقرار وانکار کرنے والے مسلمان ہی ہیںمسلمانوں کوکافر کہنا جائز ہےـ جنھوں نے مسلمانوں کو کافر کہا اسے کیا چاہئے
الجواب:
(۱)اﷲ عزوجل کو ضمائر مفردسے یاد کرنا مناسب ہے کہ وہ واحد احد فرد و تر ہے اور تعظیما ضمائر جمع میں بھی حرج نہیںاس کی نظیرقرآن عظیم میں ضمائر متکلم ہیں توصدہا جگہ ہے:(مثلا)
" انا نحن نزلنا الذکر و انا لہ بیشك ہم نے اتاراہے یہ قرآن اور بیشك ہم خود
ان اﷲ حرم علی الارض ان تأکل اجساد الانبیاء فنبی اﷲ حی یرزق ۔ بیشك اﷲ تعالی نے حرام کردیا ہے انبیاء کابدن کھانا زمین پراﷲ کے نبی زندہ ہیں روزی دئے جاتے ہیں۔
دوسری صحیح حدیث میں نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
الانبیاء احیاء فی قبورھم یصلون ۔ انبیاء اپنے مزارات طیبہ میں زندہ ہیں نمازیں پڑھتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۷۶ و ۲۷۷: از رادھن پور گجرات قریب احمدآباد مرسلہ حکیم محمد میاں صاحب ۱۷جمادی الثانی ۱۳۳۶ھ
(۱)ایك مولوی صاحب وعظ میں اس طرح کہتے تھے:"اﷲ تعالی اپنے بندوں کواپنے کلام پاك میں یوں ارشاد فرماتے ہیں"اور کبھی اس طرح کہتے تھے:"ارشاد فرماتاہے"کہیں تواﷲ فرماتے ہیں اور کہیں اﷲ فرماتا ہےایسے کلام کے کہنے سے انسان پر کفر شرك تو لازم نہیں آتا یا آتاہےگناہ گارہوتاہےیا نہیںاور کتابوں کے مصنف نے"اﷲ فرماتے ہیں"کیوں نہیں لکھا اور"فرماتا ہے"لکھاکیا وجہ
(۲)ابھی چندروز کی بات ہے کہ ایك شہر سے فتوے آئے ہیں اس میں کئی مہریں ہیں اس میں لکھا ہے کہ"بہشتی زیور"سے انکار کرنے والا کافر ہےاس کی عورت بھی نکاح سے خارج ہوگئیاقرار وانکار کرنے والے مسلمان ہی ہیںمسلمانوں کوکافر کہنا جائز ہےـ جنھوں نے مسلمانوں کو کافر کہا اسے کیا چاہئے
الجواب:
(۱)اﷲ عزوجل کو ضمائر مفردسے یاد کرنا مناسب ہے کہ وہ واحد احد فرد و تر ہے اور تعظیما ضمائر جمع میں بھی حرج نہیںاس کی نظیرقرآن عظیم میں ضمائر متکلم ہیں توصدہا جگہ ہے:(مثلا)
" انا نحن نزلنا الذکر و انا لہ بیشك ہم نے اتاراہے یہ قرآن اور بیشك ہم خود
حوالہ / References
سنن ابن ماجہ باب ذکر وفاتہ ودفنہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۱۹
مجمع الزوائد باب ذکر الانبیاء علیہم السلام دارالکتاب بیروت ۸/ ۲۱۱،المطالب العالیہ حدیث ۳۴۵۲ توزیع عباس احمد البازمکۃ المکرمہ ۳/ ۲۶۹
مجمع الزوائد باب ذکر الانبیاء علیہم السلام دارالکتاب بیروت ۸/ ۲۱۱،المطالب العالیہ حدیث ۳۴۵۲ توزیع عباس احمد البازمکۃ المکرمہ ۳/ ۲۶۹
لحفظون ﴿۹﴾ "۔ اس کے نگہبان ہیں۔(ت)
اورضمائر خطاب میں صرف ایك جگہ ہے وہ بھی کلام کافر سے کہ عرض کرے گا:رب ارجعون لعلی اعمل صلحا (اے میرے رب مجھے واپس پھیردیجئے شاید اب میں کچھ بھلائی کماؤں۔ت)اس میں علماء نے تاویل فرمادی کہ یہ"ارجع"کی جمع باعتبار تکرارہے یعنی"ارجع ارجع ارجع"ہاں ضمائر غیبت میں بے ذکر مرجع صیغ جمع فارسیاور اردو میں بکثرت بلانکیر رائج ہیں۔
آسماں بارامانت نتوانست کشید قرعہ فال بنام من دیوانہ زدند
(آسمان امانت کا بوجھ نہ اٹھاسکاقرعہ فال مجھ دیوانے کے نام نکلا۔ت)
ع سعد یا روز اول جنگ بہ ترکاں دادند
(اے سعدی! روز اول سے جنگ ترکوں کو دے دی گئی ہے۔ت)
زرویت ماہ تابان آفریدند زقدت سربستان آفریدند
(تیرے چہرہ اقدس سے روشن چاند پیدا ہوتے ہیں تیرے قدانور سے باغ کے سرو اگتے ہیں۔ت)
ایسی جگہ لوگ کارکنان قضاء وقدر کو مرجع بتاتے ہیںبہرحال یونہی کہنا مناسب ہے کہ اﷲ تعالی فرماتاہےمگر اس میں کفروشرك کا حکم کسی طرح نہیں ہوسکتانہ گناہ ہی کہاجائے گابلکہ خلاف اولی۔
(۲)مسلمان کو کافر ٹھہرانا کفرہے مگر اس کی کیاشکایت کہ بہشتی زیور کا مصنف اور اس کے ماننے والے وہی ہیں جن کوعلمائے حرمین شریفین فرماچکے کہ جو ان کے کفر میں شك کرے خود کافر ہےواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۷۸:از کھنوڑہ ضلع ہوشیار پور مرسلہ امجد علی خاں صاحب معرفت مولوی شفیع احمد صاحب بیلپوری متعلم مدرسہ اہل سنت وجماعت ۱۲ جمادی الاخری ۱۳۳۶ھ
اگر کوئی شخص آنحضرت علیہ الصلوۃ والسلام کے نورکو بدلیل حدیث انا من نور اﷲ (میں اﷲ کے نور سے ہوں۔ت)نور الہی کا جزو مانے اس کا کیا حکم ہے
الجواب:
یہ لفظ معنی فاسد کا موہماور موہم سے بچنا واجبردالمحتار میں ہے:
اورضمائر خطاب میں صرف ایك جگہ ہے وہ بھی کلام کافر سے کہ عرض کرے گا:رب ارجعون لعلی اعمل صلحا (اے میرے رب مجھے واپس پھیردیجئے شاید اب میں کچھ بھلائی کماؤں۔ت)اس میں علماء نے تاویل فرمادی کہ یہ"ارجع"کی جمع باعتبار تکرارہے یعنی"ارجع ارجع ارجع"ہاں ضمائر غیبت میں بے ذکر مرجع صیغ جمع فارسیاور اردو میں بکثرت بلانکیر رائج ہیں۔
آسماں بارامانت نتوانست کشید قرعہ فال بنام من دیوانہ زدند
(آسمان امانت کا بوجھ نہ اٹھاسکاقرعہ فال مجھ دیوانے کے نام نکلا۔ت)
ع سعد یا روز اول جنگ بہ ترکاں دادند
(اے سعدی! روز اول سے جنگ ترکوں کو دے دی گئی ہے۔ت)
زرویت ماہ تابان آفریدند زقدت سربستان آفریدند
(تیرے چہرہ اقدس سے روشن چاند پیدا ہوتے ہیں تیرے قدانور سے باغ کے سرو اگتے ہیں۔ت)
ایسی جگہ لوگ کارکنان قضاء وقدر کو مرجع بتاتے ہیںبہرحال یونہی کہنا مناسب ہے کہ اﷲ تعالی فرماتاہےمگر اس میں کفروشرك کا حکم کسی طرح نہیں ہوسکتانہ گناہ ہی کہاجائے گابلکہ خلاف اولی۔
(۲)مسلمان کو کافر ٹھہرانا کفرہے مگر اس کی کیاشکایت کہ بہشتی زیور کا مصنف اور اس کے ماننے والے وہی ہیں جن کوعلمائے حرمین شریفین فرماچکے کہ جو ان کے کفر میں شك کرے خود کافر ہےواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۷۸:از کھنوڑہ ضلع ہوشیار پور مرسلہ امجد علی خاں صاحب معرفت مولوی شفیع احمد صاحب بیلپوری متعلم مدرسہ اہل سنت وجماعت ۱۲ جمادی الاخری ۱۳۳۶ھ
اگر کوئی شخص آنحضرت علیہ الصلوۃ والسلام کے نورکو بدلیل حدیث انا من نور اﷲ (میں اﷲ کے نور سے ہوں۔ت)نور الہی کا جزو مانے اس کا کیا حکم ہے
الجواب:
یہ لفظ معنی فاسد کا موہماور موہم سے بچنا واجبردالمحتار میں ہے:
حوالہ / References
تذکرۃ الموضوعات باب فضل الرسول صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کتب خانہ مجیدیہ ملتان ص۸۶
مجرد ایھام المعنی المحال کاف فی المنع ۔ محض محال معنی کاوہم بھی ممانت کےلئے کافی ہوتاہے۔(ت)
نورکا اطلاق نفس ذات پر بھی ہے
" اللہ نور السموت و الارض" ۔ اﷲ آسمانوں اور زمینوں کا نور ہے۔(ت)
بلکہ حقیقۃ نوروہی ہے
فان النور ھو الظاھر بنفسہ والمظھر لغیرہ کما قال الامام حجۃ الاسلام الغزالی۔ کیونکہ نور بنفسہ ظاہر اور غیر کو ظاہر کرنے والا ہے جیسا کہ امام حجۃ الاسلام غزالی نے کہا۔(ت)
اورحقیقت لغویہ وعرفیہ میں روشنی کوکہتے ہیں وہ ایك عرض اور مخلوق ہے قالہ الامام النووی فی شرح صحیح مسلم(یہ بات امام نووی نے شرح صحیح مسلم میں کہی ہے۔ت)معنی اول پر جزئیت محال اور اس کا ماننا کفراورمعنی دوم پر جزئیت واقعاور اس کا ماننا صحیحلہذا ایسے لفظ کے یوں اطلاق سے احتراز چاہئےواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۷۹: از کوہ الموڑہ بانس گلی مرسلہ کریم بخش عرف بہوا ۱۹ جمادی الآخرہ ۱۳۳۶ھ
ہولی کے موقع پر پر سربازار مخصوص مسلمانوں کی دکانوں کے روبرو ٹھہرٹھہر کے ہنود نے ایسے شرمناك الفاظ میں حملہ کیاایك گیت گایا جس میں مذمت کلام پاك اور توہین خد اورسول صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم تھیوہ الفاظ یہ ہیںگیتمسلمانوں کی لڑکیاں پڑھنے بیٹھیں قرآناﷲ مارے۔۔۔۔۔۔ عــــہ۱ رسول مارے۔۔۔۔۔ عــــہ۲ ان الفاظ کو مسلمانان الموڑہ سن کر بذریعہ کچہری چارہ جوئی نہ کریں ہنود کے معافی چاہنے پر معافی دینے کو آمادہ ہوجائیں تو شرع کا کیاحکم ہے آیا مسلمان مواخذہ دار ہوں گے یانہیں
الجواب:
" الا لعنۃ اللہ علی الظلمین ﴿۱۸﴾" (سنوظالموں پر اﷲ کی لعنت۔ت)وہ بے عزت لوگ شاید
عــــہ۱: و عــــہ۲:یہاں فحش الفاظ تھے۔
نورکا اطلاق نفس ذات پر بھی ہے
" اللہ نور السموت و الارض" ۔ اﷲ آسمانوں اور زمینوں کا نور ہے۔(ت)
بلکہ حقیقۃ نوروہی ہے
فان النور ھو الظاھر بنفسہ والمظھر لغیرہ کما قال الامام حجۃ الاسلام الغزالی۔ کیونکہ نور بنفسہ ظاہر اور غیر کو ظاہر کرنے والا ہے جیسا کہ امام حجۃ الاسلام غزالی نے کہا۔(ت)
اورحقیقت لغویہ وعرفیہ میں روشنی کوکہتے ہیں وہ ایك عرض اور مخلوق ہے قالہ الامام النووی فی شرح صحیح مسلم(یہ بات امام نووی نے شرح صحیح مسلم میں کہی ہے۔ت)معنی اول پر جزئیت محال اور اس کا ماننا کفراورمعنی دوم پر جزئیت واقعاور اس کا ماننا صحیحلہذا ایسے لفظ کے یوں اطلاق سے احتراز چاہئےواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۷۹: از کوہ الموڑہ بانس گلی مرسلہ کریم بخش عرف بہوا ۱۹ جمادی الآخرہ ۱۳۳۶ھ
ہولی کے موقع پر پر سربازار مخصوص مسلمانوں کی دکانوں کے روبرو ٹھہرٹھہر کے ہنود نے ایسے شرمناك الفاظ میں حملہ کیاایك گیت گایا جس میں مذمت کلام پاك اور توہین خد اورسول صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم تھیوہ الفاظ یہ ہیںگیتمسلمانوں کی لڑکیاں پڑھنے بیٹھیں قرآناﷲ مارے۔۔۔۔۔۔ عــــہ۱ رسول مارے۔۔۔۔۔ عــــہ۲ ان الفاظ کو مسلمانان الموڑہ سن کر بذریعہ کچہری چارہ جوئی نہ کریں ہنود کے معافی چاہنے پر معافی دینے کو آمادہ ہوجائیں تو شرع کا کیاحکم ہے آیا مسلمان مواخذہ دار ہوں گے یانہیں
الجواب:
" الا لعنۃ اللہ علی الظلمین ﴿۱۸﴾" (سنوظالموں پر اﷲ کی لعنت۔ت)وہ بے عزت لوگ شاید
عــــہ۱: و عــــہ۲:یہاں فحش الفاظ تھے۔
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۲۵۳
القرآن الکریم ۲۴ /۳۵
القرآن الکریم ۱۱ /۱۸
القرآن الکریم ۲۴ /۳۵
القرآن الکریم ۱۱ /۱۸
مسلمان ہی نہ ہوں گےجنھوں نے اﷲ واحد قہار اورمحمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی شان اقدس میں ایسے ناپاك ملعون الفاظ سنے اور کچھ پروانہ کیملعون گانے والے کافروں اور خبیث سننے والوں کی ضرور ملی بھگت ہوگیوہ خوب جانتے ہوں گے کہ یہ باطن میں کافر اور ان کے دینی بھائی اورانھیں کی طرح ہولی کی آگ میں دینی حمیت اور انسانی غیرت دونوں پھونکے بیٹھے ہیںجب تو ان کے سامنے بے دغدغہ اﷲ ورسول کو برسربازار گالیاں دیں اور ان کے ساتھ بے غیرتوں کی بیٹیوں کو کیا کیا بکھانیں" الا لعنۃ اللہ علی الظلمین ﴿۱۸﴾" (سنوظالموں پر اﷲ کی لعنت ہے۔ت) یہ بے عزت اگر واقع میں مسلمان نہیں ہیں تو انھیں جہنم میں جانے دیںوہاں اور جو مسلمان ہیں ان پر لازم ہے کہ جائز چارہ جوئی انتہا کو پہنچائیںورنہ اعداءاﷲ کو اور شہ ہوگی اور اﷲ ورسول کو اورزیادہ گالیاں دی جائیں گی اور اس کا وبال ان سب خاموش رہنے والوں پر پڑے گا " الا لعنۃ اللہ علی الظلمین ﴿۱۸﴾" اﷲ ورسول جل وعلا وصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فقط چند بے غیرتوں کے نہیں ان کے معافی دینے سے معافی ہوجائےاس میں ہرمسلمان مدعی ہےامام قاضی عیاض شفا شریف میں امام اجل
(نوٹ:جواب نامکمل دستیاب ہوا)
مسئلہ ۲۸۰ تا ۲۸۵: از خیرآباد محلہ شیخ سرائے ضلع سیتاپور مرسلہ امتیاز علی صاحب ۲۴رمضان المبارك ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید وہندہ دونوں مسلمان حنفی المذہب زن وشوہرہندہ جاہل بیوقوف اور بدمزاج ہےزید اپنی معمولی ضرورت بھر پڑھا لکھا ہے اور اپنے مذہب کا پابندہے۔ہندہ کی بیوقوفی سے زید کچھ ناخوش ہوا اس پر ہندہ تند مزاج ہوگئیحالت تکرار میں غصہ سے زید نے ہندہ سے یہ کہا کہ میں نے تم کو بارہا نصیحت کی کچھ سود مند نہ ہوا اور پھر فضیحت اپنی اورتمھاری لوگوں میں کیاس کی بھی تم نے پرواہ نہ کیاب درجہ اذیت کا باقی ہے جو میں تم کو دے سکتاہوں اور یہ شریعت کی تعلیم ہے گو اذیت دینے کو طبیعت نہیں چاہتی اور اس کے بعد اگر راہ پر نہ آؤگی پھر مجبورا مجھ کو اخیر درجہ کا جوحکم ہے اس کی تعمیل کرنا ہوگیاگر تم کو میرے ساتھ رہنا منظور نہیں ہے تو تم آزادی حاصل کرسکتی ہو اور میں تم کو آزاد کرسکتاہوں اس کے بعد جومیرا جی چاہے گامیں کروں گااور جو تمھارا جی چاہے تم کرنااوریہ کوئی ایسی بات نہیں کیونکہ شریعت کا یہ صاف حکم ہے کہ جب کسی طرح نباہ کی شکل نہ ہو تو آزادی ہوناچاہئےاس پر ہندہ نے غصہ میں یہ کہا کہ"چولہے میں جائے ایسی شریعت"یا" مری پڑے ایسی شریعت پر"
(۱)اس فقرہ کے جاری کرنے سے عورت کس جرم یا گناہ کی مرتکب ہوئی او راس کا دفعیہ کیاہے
(نوٹ:جواب نامکمل دستیاب ہوا)
مسئلہ ۲۸۰ تا ۲۸۵: از خیرآباد محلہ شیخ سرائے ضلع سیتاپور مرسلہ امتیاز علی صاحب ۲۴رمضان المبارك ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید وہندہ دونوں مسلمان حنفی المذہب زن وشوہرہندہ جاہل بیوقوف اور بدمزاج ہےزید اپنی معمولی ضرورت بھر پڑھا لکھا ہے اور اپنے مذہب کا پابندہے۔ہندہ کی بیوقوفی سے زید کچھ ناخوش ہوا اس پر ہندہ تند مزاج ہوگئیحالت تکرار میں غصہ سے زید نے ہندہ سے یہ کہا کہ میں نے تم کو بارہا نصیحت کی کچھ سود مند نہ ہوا اور پھر فضیحت اپنی اورتمھاری لوگوں میں کیاس کی بھی تم نے پرواہ نہ کیاب درجہ اذیت کا باقی ہے جو میں تم کو دے سکتاہوں اور یہ شریعت کی تعلیم ہے گو اذیت دینے کو طبیعت نہیں چاہتی اور اس کے بعد اگر راہ پر نہ آؤگی پھر مجبورا مجھ کو اخیر درجہ کا جوحکم ہے اس کی تعمیل کرنا ہوگیاگر تم کو میرے ساتھ رہنا منظور نہیں ہے تو تم آزادی حاصل کرسکتی ہو اور میں تم کو آزاد کرسکتاہوں اس کے بعد جومیرا جی چاہے گامیں کروں گااور جو تمھارا جی چاہے تم کرنااوریہ کوئی ایسی بات نہیں کیونکہ شریعت کا یہ صاف حکم ہے کہ جب کسی طرح نباہ کی شکل نہ ہو تو آزادی ہوناچاہئےاس پر ہندہ نے غصہ میں یہ کہا کہ"چولہے میں جائے ایسی شریعت"یا" مری پڑے ایسی شریعت پر"
(۱)اس فقرہ کے جاری کرنے سے عورت کس جرم یا گناہ کی مرتکب ہوئی او راس کا دفعیہ کیاہے
(۲)ایسے الفاظ کہنے سے عورت پر ارتداد کاحکم تونہیں ہوتاہے
(۳)اگر ارتداد کاحکم عائد ہوتاہے تو نکاح ہندہ اور زید میں کوئی نقصان ہے یانہیں
(۴)اگراس فعل سے نکاح میں کچھ نقصان ہوا اور شوہر نے جماع کیا تو یہ فعل کیاہوا
(۵)اگرایسی صورت میں جماع کیا اورحمل قرار پاگیا تو اولاد کیا کہلاوے گی حلالی یاحرامی
(۶)اور اگر کوئی حکم الفاظ بالا کی وجہ سے عورت کے خلاف ہے اور اس کا نکاح میں کچھ نقصان نہیں تو اس کا دفعیہ کیاہے
الجواب:
ہندہ مرتدہ کافرہ ہوگئیشوہر پرحرام ہوگئیجب تك توبہ کرکے اسلام نہ لائے اس سے جماع حرام ہےاس جماع سے جو اولاد ہوگی ولدالحرام ہوگی اگرچہ ولدالزنانہ کہیںہندہ پر فرض ہے کہ اس ملعون ناپاك لفظ سے توبہ کرے اور از سر نو مسلمان ہواس کے بعد زیددوگواہوں کے سامنے اس سے دوباہ نکاح کرے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۸۶: از شہر کہنہ محلہ سہسوانی ٹولہ مسئولہ محمدیامین صاحب ۶شوال ۱۳۳۷ھ
کافر کو کافرکہنا چاہئے یانہیں زید کہتاہے کہ نہیں کہنا چاہئے اس لئے کہ شاید مرتے وقت حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پر ایمان لائےزید اگر باز نہ آئے تو اس سے سلام علیك جائز ہے یاناجائز
الجواب:
کافر کو ضرور کافرکہا جائے گازید کاخیال غلط ہے جہالت پر مبنی ہے اسے سمجھا یا جائے اگر نہ مانے تو قابل ترك ہے پھر اس سے سلام علیك نہ کی جائے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۸۷: از موضع موہن پور ڈاکخانہ دیورنیاں ضلع بریلی مرسلہ نورمحمد نورباف ۱۳ شوال ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك عورت منکوحہ کو اسی روز اس کے خاوند نے طلاق دی اور اسی روز قاضی صاحب نے اس کا نکاح دوسرے شخص کے ساتھ پڑھادیا قاضی مذکور سے کہا گیاکہ یہ نکاح ناجائز ہے کیونکہ اس میں عدت کی ضرورت ہےانھوں نے کہا کچھ ضرورت نہیں ہےان سے دریافت کیا گیا کہ آپ نے کتنے نکاح ایسے پڑھائے ہوں گےانھوں نے کہاکہ سیکڑوں نکاح ہم نے ایسے ہی پڑھائے ہیںحالانکہ وہ عورت بالغ تھی اور اپنے شوہر کے یہاں آتی جاتی اور رہتی تھی اس حالت میں وہ نکاح جائز ہوا یانہیں اور نکاح پڑھانے والے پر شریعت کاحکم کیا ہے اس شخص کانکاح پڑھانا جائزہے یانہیں او ران قاضی صاحب کابھی نکاح رہا یانہیں
(۳)اگر ارتداد کاحکم عائد ہوتاہے تو نکاح ہندہ اور زید میں کوئی نقصان ہے یانہیں
(۴)اگراس فعل سے نکاح میں کچھ نقصان ہوا اور شوہر نے جماع کیا تو یہ فعل کیاہوا
(۵)اگرایسی صورت میں جماع کیا اورحمل قرار پاگیا تو اولاد کیا کہلاوے گی حلالی یاحرامی
(۶)اور اگر کوئی حکم الفاظ بالا کی وجہ سے عورت کے خلاف ہے اور اس کا نکاح میں کچھ نقصان نہیں تو اس کا دفعیہ کیاہے
الجواب:
ہندہ مرتدہ کافرہ ہوگئیشوہر پرحرام ہوگئیجب تك توبہ کرکے اسلام نہ لائے اس سے جماع حرام ہےاس جماع سے جو اولاد ہوگی ولدالحرام ہوگی اگرچہ ولدالزنانہ کہیںہندہ پر فرض ہے کہ اس ملعون ناپاك لفظ سے توبہ کرے اور از سر نو مسلمان ہواس کے بعد زیددوگواہوں کے سامنے اس سے دوباہ نکاح کرے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۸۶: از شہر کہنہ محلہ سہسوانی ٹولہ مسئولہ محمدیامین صاحب ۶شوال ۱۳۳۷ھ
کافر کو کافرکہنا چاہئے یانہیں زید کہتاہے کہ نہیں کہنا چاہئے اس لئے کہ شاید مرتے وقت حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پر ایمان لائےزید اگر باز نہ آئے تو اس سے سلام علیك جائز ہے یاناجائز
الجواب:
کافر کو ضرور کافرکہا جائے گازید کاخیال غلط ہے جہالت پر مبنی ہے اسے سمجھا یا جائے اگر نہ مانے تو قابل ترك ہے پھر اس سے سلام علیك نہ کی جائے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۸۷: از موضع موہن پور ڈاکخانہ دیورنیاں ضلع بریلی مرسلہ نورمحمد نورباف ۱۳ شوال ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك عورت منکوحہ کو اسی روز اس کے خاوند نے طلاق دی اور اسی روز قاضی صاحب نے اس کا نکاح دوسرے شخص کے ساتھ پڑھادیا قاضی مذکور سے کہا گیاکہ یہ نکاح ناجائز ہے کیونکہ اس میں عدت کی ضرورت ہےانھوں نے کہا کچھ ضرورت نہیں ہےان سے دریافت کیا گیا کہ آپ نے کتنے نکاح ایسے پڑھائے ہوں گےانھوں نے کہاکہ سیکڑوں نکاح ہم نے ایسے ہی پڑھائے ہیںحالانکہ وہ عورت بالغ تھی اور اپنے شوہر کے یہاں آتی جاتی اور رہتی تھی اس حالت میں وہ نکاح جائز ہوا یانہیں اور نکاح پڑھانے والے پر شریعت کاحکم کیا ہے اس شخص کانکاح پڑھانا جائزہے یانہیں او ران قاضی صاحب کابھی نکاح رہا یانہیں
الجواب:
وہ نکاح حرام قطعی ہوااور اس میں قربت زنائے خالص ہے ان مردوعورت پر فرض ہے کہ فورا فورا جداہوجائیںاو ر عورت پر فرض ہے کہ عدت پوری کرے اس کے بعدنکاح کرسکتی ہےقاضی جو مدت سے نکاح خوانی کررہاہے نراوحشی جنگلی نہیں ہوسکتاجو مسئلہ عدت سے آگاہ نہ ہو اس حالت میں ا س کا کہناکہ"عدت کی کچھ ضرورت نہیںـ"کفرہے اس کی عورت نکاح سے نکل گئی اور وہ ایمان سے خارج ہوگیااس پر فرض ہے کہ توبہ کرے اور مسلمان ہوا س کے بعد اس کی عورت راضی ہو تو اس سے دوبارہ نکاح کرےایسے شخص سے نکاح ہر گز نہ پڑھوایا جائےواﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۲۸۸: از شہر بریلی کہنہ محلہ گھیر جعفر صاحب مسئولہ امتیاز رسول صاحب ۱۳ ذیقعدہ ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید ایك مرتبہ کسی جگہ بسم اﷲ شریف میں گیا اور وہاں سے جب واپس آیا تو اس کو اپنے دوست عمرو کے گھرجانے کا اتفاق ہواعمرو نے دریافت کیاکہ کہاں گئے تھے زید نے صاف کہہ دیا کہ مجھ کو بسم اﷲ شریف میں جانے کا اتفاق ہوادوسرے دن زیدشہر کو کپڑا وغیرہ خریدنے گیا لوٹتے ہوئے جب عمرو کےمکان پرسے گزرا تو عمرو نے بطور مذاق کے دریافت کیا کہ بسم اﷲ میں گئے تھے چونکہ زید تھکاہوا تھا گرمی زیادہ پڑرہی تھی کچھ ہوش وحواس بجانہ تھے غلطی سے بے ساختہ اس کی زبان سے یہ کلمہ نکل گیا کہ نعوذ باﷲ"ستر پر گئی بسم اﷲ تمھیں ہر وقت مذاق ہی رہتاہے "بعدہ زید اتناکہہ کر بہت شرمندہ ہوا اور اس نے توبہ کرلیمگر پھر بھی وہ لوگ اس کو کافر کہنے لگے انھوں نے تمام لوگوں کو مجبور کرکے کہلوایا کہ یہ کافر ہےحالانکہ اس نے صدق دل سے توبہ کرلیاب اگر اور کوئی طریقہ توبہ کرنے کاہے وہ تحریر کردیجئے اور ان لوگوں کی بابت تحریر کیجئے کہ وہ کس حالت میں ہیں جو کہ ایك مسلمان کو توبہ کرنے کے بعد بھی کافر کہیںزید کی مراد لفظ بسم اﷲ سے نہ تھی بلکہ اس رسم سے جس میں لوگ بطور شادی وغیرہ کے جمع ہوجاتے ہیں۔
الجواب:
اس میں زید نے برا کیا بہت براکیا اس پر توبہ فرض تھیوہ اس نے کرلیاس کے بعد لوگ اسے کافر کہتے ہیں سخت سخت اشد اشد گنہ گار ومستحق عذاب نارہوتے ہیںڈریں ڈریں کہ کہیں خود کفر میں نہ پڑیں کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من عیر اخاہ بذنب لم یمت حتی یعملہ ۔ یعنی جو کسی مسلمان بھائی کو توبہ کے بعد اس گناہ کاطعنہ دے
وہ نکاح حرام قطعی ہوااور اس میں قربت زنائے خالص ہے ان مردوعورت پر فرض ہے کہ فورا فورا جداہوجائیںاو ر عورت پر فرض ہے کہ عدت پوری کرے اس کے بعدنکاح کرسکتی ہےقاضی جو مدت سے نکاح خوانی کررہاہے نراوحشی جنگلی نہیں ہوسکتاجو مسئلہ عدت سے آگاہ نہ ہو اس حالت میں ا س کا کہناکہ"عدت کی کچھ ضرورت نہیںـ"کفرہے اس کی عورت نکاح سے نکل گئی اور وہ ایمان سے خارج ہوگیااس پر فرض ہے کہ توبہ کرے اور مسلمان ہوا س کے بعد اس کی عورت راضی ہو تو اس سے دوبارہ نکاح کرےایسے شخص سے نکاح ہر گز نہ پڑھوایا جائےواﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۲۸۸: از شہر بریلی کہنہ محلہ گھیر جعفر صاحب مسئولہ امتیاز رسول صاحب ۱۳ ذیقعدہ ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید ایك مرتبہ کسی جگہ بسم اﷲ شریف میں گیا اور وہاں سے جب واپس آیا تو اس کو اپنے دوست عمرو کے گھرجانے کا اتفاق ہواعمرو نے دریافت کیاکہ کہاں گئے تھے زید نے صاف کہہ دیا کہ مجھ کو بسم اﷲ شریف میں جانے کا اتفاق ہوادوسرے دن زیدشہر کو کپڑا وغیرہ خریدنے گیا لوٹتے ہوئے جب عمرو کےمکان پرسے گزرا تو عمرو نے بطور مذاق کے دریافت کیا کہ بسم اﷲ میں گئے تھے چونکہ زید تھکاہوا تھا گرمی زیادہ پڑرہی تھی کچھ ہوش وحواس بجانہ تھے غلطی سے بے ساختہ اس کی زبان سے یہ کلمہ نکل گیا کہ نعوذ باﷲ"ستر پر گئی بسم اﷲ تمھیں ہر وقت مذاق ہی رہتاہے "بعدہ زید اتناکہہ کر بہت شرمندہ ہوا اور اس نے توبہ کرلیمگر پھر بھی وہ لوگ اس کو کافر کہنے لگے انھوں نے تمام لوگوں کو مجبور کرکے کہلوایا کہ یہ کافر ہےحالانکہ اس نے صدق دل سے توبہ کرلیاب اگر اور کوئی طریقہ توبہ کرنے کاہے وہ تحریر کردیجئے اور ان لوگوں کی بابت تحریر کیجئے کہ وہ کس حالت میں ہیں جو کہ ایك مسلمان کو توبہ کرنے کے بعد بھی کافر کہیںزید کی مراد لفظ بسم اﷲ سے نہ تھی بلکہ اس رسم سے جس میں لوگ بطور شادی وغیرہ کے جمع ہوجاتے ہیں۔
الجواب:
اس میں زید نے برا کیا بہت براکیا اس پر توبہ فرض تھیوہ اس نے کرلیاس کے بعد لوگ اسے کافر کہتے ہیں سخت سخت اشد اشد گنہ گار ومستحق عذاب نارہوتے ہیںڈریں ڈریں کہ کہیں خود کفر میں نہ پڑیں کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من عیر اخاہ بذنب لم یمت حتی یعملہ ۔ یعنی جو کسی مسلمان بھائی کو توبہ کے بعد اس گناہ کاطعنہ دے
حوالہ / References
جامع الترمذی ابواب صفۃ القیامۃ امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی ۲/ ۷۳
رواہ الترمذی عن معاذ رضی اﷲ تعالی عنہ وحسنہ ای ذنب قد تاب منہ کما فی روایۃ ذکر ھا فی الشرعۃ قال فی الحدیقۃ الندیۃ۔
والعیاذ باﷲ تعالی ھذا فی الذنب فکیف بالاکفار و مالہ من قرارواﷲ تعالی اعلم۔ وہ نہ مرے گا جب تك خود اس گناہ کامرتکب نہ ہو(اسے ترمذی نے حضرت معاذ رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا اور اسے حسن کہا ____ یہاں وہ گناہ مرادہے جس سے توبہ کرلی گئی ہوجیساکہ شرعۃ میں مذکورہ روایت میں ہے اسے حدیقۃ الندیۃ میں بیان فرمایا گیاہے۔ت)
العیاذ باﷲ تعالی یہ محض گناہ کے بارے میں ہے جس نے کسی کو بغیر ثبوت کے تکفیر کردی اس کا کیا بنے گاواﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۲۸۹: مسئولہ مولوی حشمت اﷲ صاحب سنی حنفی قادری رضوی لکھنوی ۲۴ ذی الحجہ ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین کثرھم اﷲ تعالی ونصرھم وابدھم وایدھم اس مسئلہ میں کہ سنیوں کے محلہ میں ایك قادیانی آکر بسازید سنی نے مردوں عورتوں کو اس کے گھر میں جانےاس سے خلا ملامیل جول حصہ بخرہ رکھنے سے منع کیاہندہ جس کے بیٹے وغیرہم سلسلہ عالیہ قادریہ میں بیعت ہیں اس نے کہا کہ بڑے نمازئیے پڑھ کے ملا ہوگئے ہم عذاب ہی بھگت لیں گےاس بیچارے قادیانی کو دق کر رکھا ہے تو اب ہندہ کا کیاحکم ہے بینوا توجروا(بیان فرماکر اجر پائیے۔ت)
الجواب:
ہندہ نماز کی تحقیر کرنےعذاب الہی کو ہلکا ٹھہرانے اور قادیانی کو اس فعل مسلمانان سے مظلوم جاننے اور اس سے میل جول چھوڑنے کو ظلم وناحق سمجھنے کے سبب اسلام سے خارج ہوگئی اپنے شوہر پر حرام ہوگئی جب تك نئے سرے سے مسلمان ہو کر اپنے ان کلمات سے توبہ نہ کرے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۹۰: از رامہ تحصیل گوجر خاں ضلع راولپنڈی مرسلہ تاج الدین امام مسجد ۱۶ صفر ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك بدمذہب کہتاہے کہ نورحضرت کا غیر مخلوق ہے۔
الجواب:
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا نوریقینامخلوق الہی ہےمصنف عبدالرزاق میں جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالی عنہما سے ہے نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
والعیاذ باﷲ تعالی ھذا فی الذنب فکیف بالاکفار و مالہ من قرارواﷲ تعالی اعلم۔ وہ نہ مرے گا جب تك خود اس گناہ کامرتکب نہ ہو(اسے ترمذی نے حضرت معاذ رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا اور اسے حسن کہا ____ یہاں وہ گناہ مرادہے جس سے توبہ کرلی گئی ہوجیساکہ شرعۃ میں مذکورہ روایت میں ہے اسے حدیقۃ الندیۃ میں بیان فرمایا گیاہے۔ت)
العیاذ باﷲ تعالی یہ محض گناہ کے بارے میں ہے جس نے کسی کو بغیر ثبوت کے تکفیر کردی اس کا کیا بنے گاواﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۲۸۹: مسئولہ مولوی حشمت اﷲ صاحب سنی حنفی قادری رضوی لکھنوی ۲۴ ذی الحجہ ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین کثرھم اﷲ تعالی ونصرھم وابدھم وایدھم اس مسئلہ میں کہ سنیوں کے محلہ میں ایك قادیانی آکر بسازید سنی نے مردوں عورتوں کو اس کے گھر میں جانےاس سے خلا ملامیل جول حصہ بخرہ رکھنے سے منع کیاہندہ جس کے بیٹے وغیرہم سلسلہ عالیہ قادریہ میں بیعت ہیں اس نے کہا کہ بڑے نمازئیے پڑھ کے ملا ہوگئے ہم عذاب ہی بھگت لیں گےاس بیچارے قادیانی کو دق کر رکھا ہے تو اب ہندہ کا کیاحکم ہے بینوا توجروا(بیان فرماکر اجر پائیے۔ت)
الجواب:
ہندہ نماز کی تحقیر کرنےعذاب الہی کو ہلکا ٹھہرانے اور قادیانی کو اس فعل مسلمانان سے مظلوم جاننے اور اس سے میل جول چھوڑنے کو ظلم وناحق سمجھنے کے سبب اسلام سے خارج ہوگئی اپنے شوہر پر حرام ہوگئی جب تك نئے سرے سے مسلمان ہو کر اپنے ان کلمات سے توبہ نہ کرے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۹۰: از رامہ تحصیل گوجر خاں ضلع راولپنڈی مرسلہ تاج الدین امام مسجد ۱۶ صفر ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك بدمذہب کہتاہے کہ نورحضرت کا غیر مخلوق ہے۔
الجواب:
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا نوریقینامخلوق الہی ہےمصنف عبدالرزاق میں جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالی عنہما سے ہے نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
حوالہ / References
الحدیقۃ الندیۃ ۶۰ انواع میں سے نوع ۱۲ الطعن والتعییر مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲/ ۲۴۰
یاجابر ان اﷲ خلق قبل الاشیاء نور نبیك من نورہ (الحدیث) اے جابر! بیشك اﷲ تعالی نے تمام جہانوں سے پہلے تیرے نبی کا نور اپنے نور سے پیدا فرمایا۔
جوحضور کے نور کو غیرمخلوق کہے منکر قرآن عظیم ہے
قال اﷲ تعالی"خلق کل شیء فاعبدوہ " ۔واﷲ
تعالی اعلم۔ اﷲ تعالی کافرمان مبارك ہے:وہ ہرشیئ کا خالق ہے تواسی کی عبادت کروواﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۲۹۱: از گونا سنٹرل انڈیا ریاست گوالیار مرسلہ محمد صدیق سیکرٹری انجمن اسلامیہ ۱۷ صفر ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید ٹوٹکے کراتاہے بکرا بطور صدقہ مریض کے سرہانے بندھاتاہے اور مریض کو سوار کراتاہے(اگروہ کمسن ہو)پھر اس بکرے کو دفن کراتاہے اور وہ اس کو ضروری خیال کرتاہے اور اس پر عامل ہواورپتلا بنواوے اورمرغا گڑواوے اور سیندور وغیرہ لگواوے جو طریقہ سحر سے ہےآیا زید مبتلائے شرك ہے یانہیں اوراس پر توبہ اور تجدید نکاح لازم ہے یانہیں اور ایسے شخص کو اہل اسلام کو امام اپنا بنانا چاہئے یانہیں اور اگر مسلمانوں سے کہا جاوے کہ ایسے شخص پر زجر کرنا چاہئے اس کو کم از کم امامت سے معزول کردو اس پر چند ان پڑھ مسلمان یہ کہیں کہ ہم تو زید پرایمان لائے ہیں تویہ کیساہے اگرزید کے مراسم نیلام کنندہ شراب سے ہوں جو پارسی ہے اورآمدنی شراب سے وہ روپیے دیتاہو اور زید اسے بلاکراہت نہایت خوشی سے خرچ میں لاتا ہو اور اس نیلام کارشراب کے یہاں سے کھانا آتاہو جو آمدنی شراب سے ہے اور زید بخوشی اسے کھاتاہو تو زید کو امامت سے معزول کردینامسلمانوں کے لئے امرمستحسن ہے یانہیں اورجو ان پڑھ لوگ اس کے امام رہنے پر اصرارکریں ان کی بابت کیاحکم ہے
الجواب:
بکرا دفن کرنا اور مرغا گاڑنا اور اسے صدقہ سمجھنا اورخصوصا ضروری جاننا اور پتلا بنوانا یہ سب افعال شیاطین وساحران ملعونین ہیں ان کے ساتھ اگرکوئی قول یا فعل یا اعتقاد کفری ہو تو ضرور کفرہے ورنہ
جوحضور کے نور کو غیرمخلوق کہے منکر قرآن عظیم ہے
قال اﷲ تعالی"خلق کل شیء فاعبدوہ " ۔واﷲ
تعالی اعلم۔ اﷲ تعالی کافرمان مبارك ہے:وہ ہرشیئ کا خالق ہے تواسی کی عبادت کروواﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۲۹۱: از گونا سنٹرل انڈیا ریاست گوالیار مرسلہ محمد صدیق سیکرٹری انجمن اسلامیہ ۱۷ صفر ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید ٹوٹکے کراتاہے بکرا بطور صدقہ مریض کے سرہانے بندھاتاہے اور مریض کو سوار کراتاہے(اگروہ کمسن ہو)پھر اس بکرے کو دفن کراتاہے اور وہ اس کو ضروری خیال کرتاہے اور اس پر عامل ہواورپتلا بنواوے اورمرغا گڑواوے اور سیندور وغیرہ لگواوے جو طریقہ سحر سے ہےآیا زید مبتلائے شرك ہے یانہیں اوراس پر توبہ اور تجدید نکاح لازم ہے یانہیں اور ایسے شخص کو اہل اسلام کو امام اپنا بنانا چاہئے یانہیں اور اگر مسلمانوں سے کہا جاوے کہ ایسے شخص پر زجر کرنا چاہئے اس کو کم از کم امامت سے معزول کردو اس پر چند ان پڑھ مسلمان یہ کہیں کہ ہم تو زید پرایمان لائے ہیں تویہ کیساہے اگرزید کے مراسم نیلام کنندہ شراب سے ہوں جو پارسی ہے اورآمدنی شراب سے وہ روپیے دیتاہو اور زید اسے بلاکراہت نہایت خوشی سے خرچ میں لاتا ہو اور اس نیلام کارشراب کے یہاں سے کھانا آتاہو جو آمدنی شراب سے ہے اور زید بخوشی اسے کھاتاہو تو زید کو امامت سے معزول کردینامسلمانوں کے لئے امرمستحسن ہے یانہیں اورجو ان پڑھ لوگ اس کے امام رہنے پر اصرارکریں ان کی بابت کیاحکم ہے
الجواب:
بکرا دفن کرنا اور مرغا گاڑنا اور اسے صدقہ سمجھنا اورخصوصا ضروری جاننا اور پتلا بنوانا یہ سب افعال شیاطین وساحران ملعونین ہیں ان کے ساتھ اگرکوئی قول یا فعل یا اعتقاد کفری ہو تو ضرور کفرہے ورنہ
حوالہ / References
المواہب اللدنیہ بحوالہ عبدالرزاق اول المخلوقات المکتب الاسلامی بیروت ۱/ ۷۱
القرآن الکریم ۶ /۱۰۲
القرآن الکریم ۶ /۱۰۲
کبیرہ اور سخت کبیرہ اور فاعل فاسق اور عذاب نار کامستحق اور امامت کا محض نالائقاسے معزول کرنا واجب اور اس کے پیچھے نماز ممنوع وگناہ اور اس کاپھیرنا لازماورجو اس کی حمایت کرتے ہیں مورد عذاب ومستحق عقاب ہوتے ہیںخصوصا وہ کہنے والے کہ ہم تو زید پر ایمان لائے ہیں انھیں تجدید اسلام ونکاح چاہئے اور زید کو بھی جبکہ قولا یا فعلا کوئی کفر صریح اس سے ثابت نہ ہو ورنہ خودہی اس کانکاح باطل اور اسلام زائلوالعیاذ باللہکافرسے دوستانہ رکھنا مسلمانوں کو شایان نہیں
قال اﷲ تعالی" یایہا الذین امنوا لا تتخذوا عدوی و عدوکم اولیاء تلقون الیہم بالمودۃ و قد کفروا بما جاءکم من الحق" ۔ اﷲ تعالی نے فرمایا:اے ایمان والو میرے اوراپنے دشمنوں کودوست نہ بناؤ تم انھیں خبریں پہنچاتے ہو دوستی سے حالانکہ وہ منکر ہیں اس حق کے جو تمھارے پا س آیاہے۔(ت)
شراب کی آمدنی کہ کافر کے پاس ہے اس کا وہ حکم نہیں جو مسلم کے پاس ہونے کا ہےکافر کہ بخوشی اپنے مال سے مسلمان کو دیتا ہے مسلمان کو اس کے لینے میں حرج نہیں اور آمدنی سے خریدے ہوئے کھانے میں تو اور توسیع ہے کہ مسلمان کے یہاں بھی جب تك عقد ونقد دونوں حرام زر پر جمع نہ ہوں اس کی خباثت شیئ مشتری کی طرف سرایت نہیں کرتی کما ھومذہب الامام الکرخی المفتی بہ(جیساکہ امام کرخی کامذہب اور مفتی بہ قول ہے۔ت)واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۹۲: ازکانپور محلہ فیل خانہ قدیم مرسلہ مولانا مولوی سید محمد آصف صاحب ۲۸ صفر ۱۳۳۸ھ
قبلہ کونین وکعبہ دارین دامت فیوضہم بعد تسلیمات فدویانہ التماس ایں کہ کتاب ارشاد رحمانی تصنیف مولوی محمد علی سابق ناظم ندوہ جن کے بابت ان کے ایك پیر بھائی نے مجھ سے کہاکہ وہ اب سابق افعال وکوشش متعلق ندوہ سے تائب ہوگئے ہیں واﷲ تعالی اعلم۔حالات مولانا فضل الرحمن صاحب رحمۃ اﷲ تعالی علیہ میں لکھا کہ بخاری شریف کے سبق میں حضرت سلیمان علی نبینا وعلیہ الصلوۃ والسلام کے ذکر پر احمد میاں نے کہا کہ کرشن کے سولہ ہزار گوپیاں تھیںاسی پر مولانا مرحوم نے فرمایا کہ یہ لوگ مسلمان تھے اور مصنف نے ان کے بعد لکھاہے کہ مرزا مظہر جان جاناں رحمۃ اﷲ علیہ نے تحریر فرمایا ہے کہ کسی مردے کے کفر پر تاوقتیکہ ثبوت شرعی نہ ہوحکم نہ لگانا چاہئےاور اﷲ تعالی نے فرمایا ہے کہ لکل قوم ہاد (ہر قوم کے لئے ہادی ہے۔ ت)اس تقدیر پر ہوسکتاہے کہ
قال اﷲ تعالی" یایہا الذین امنوا لا تتخذوا عدوی و عدوکم اولیاء تلقون الیہم بالمودۃ و قد کفروا بما جاءکم من الحق" ۔ اﷲ تعالی نے فرمایا:اے ایمان والو میرے اوراپنے دشمنوں کودوست نہ بناؤ تم انھیں خبریں پہنچاتے ہو دوستی سے حالانکہ وہ منکر ہیں اس حق کے جو تمھارے پا س آیاہے۔(ت)
شراب کی آمدنی کہ کافر کے پاس ہے اس کا وہ حکم نہیں جو مسلم کے پاس ہونے کا ہےکافر کہ بخوشی اپنے مال سے مسلمان کو دیتا ہے مسلمان کو اس کے لینے میں حرج نہیں اور آمدنی سے خریدے ہوئے کھانے میں تو اور توسیع ہے کہ مسلمان کے یہاں بھی جب تك عقد ونقد دونوں حرام زر پر جمع نہ ہوں اس کی خباثت شیئ مشتری کی طرف سرایت نہیں کرتی کما ھومذہب الامام الکرخی المفتی بہ(جیساکہ امام کرخی کامذہب اور مفتی بہ قول ہے۔ت)واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۹۲: ازکانپور محلہ فیل خانہ قدیم مرسلہ مولانا مولوی سید محمد آصف صاحب ۲۸ صفر ۱۳۳۸ھ
قبلہ کونین وکعبہ دارین دامت فیوضہم بعد تسلیمات فدویانہ التماس ایں کہ کتاب ارشاد رحمانی تصنیف مولوی محمد علی سابق ناظم ندوہ جن کے بابت ان کے ایك پیر بھائی نے مجھ سے کہاکہ وہ اب سابق افعال وکوشش متعلق ندوہ سے تائب ہوگئے ہیں واﷲ تعالی اعلم۔حالات مولانا فضل الرحمن صاحب رحمۃ اﷲ تعالی علیہ میں لکھا کہ بخاری شریف کے سبق میں حضرت سلیمان علی نبینا وعلیہ الصلوۃ والسلام کے ذکر پر احمد میاں نے کہا کہ کرشن کے سولہ ہزار گوپیاں تھیںاسی پر مولانا مرحوم نے فرمایا کہ یہ لوگ مسلمان تھے اور مصنف نے ان کے بعد لکھاہے کہ مرزا مظہر جان جاناں رحمۃ اﷲ علیہ نے تحریر فرمایا ہے کہ کسی مردے کے کفر پر تاوقتیکہ ثبوت شرعی نہ ہوحکم نہ لگانا چاہئےاور اﷲ تعالی نے فرمایا ہے کہ لکل قوم ہاد (ہر قوم کے لئے ہادی ہے۔ ت)اس تقدیر پر ہوسکتاہے کہ
رام چندر اور کرشن ولی یا نبی ہوں لہذا فدوی مکلف خدمت فیض درجت ہے کہ حضرت مرزا مظہر جانجاناں صاحب رحمۃاﷲ تعالی علیہ نے کسی مکتوب وغیرہ میں یہ لکھا ہے اور حضور نے ملاحظہ فرمایاہےقول مذکور رام چندروکرشن مرزاصاحب نے کسی شخص کے خواب کی تعبیر میں فرمایاہےیہ بھی اس کتاب میں مرقوم ہے فقط
ا لجواب:
مولوی محمدعلی صاحب نہ خیالات سابقہ سے تائب ہوئے نہ اس حکایت کی کچھ اصل جو مولانا فضل الرحمن کی طرف منسوب ہوئینہ یہ بات جناب مرزا صاحب نے کسی خواب کی تعبیر میں کہی بلکہ کسی خط کے جواب میں ایك مکتوب لکھاہےاس میں ہندؤون کے دین کو محض بربنائے ظن وتخمین دین سماوی گمان کرنے کی ضرورکوشش فرمائی ہے بلکہ معارف ومکاشفات وعلوم عقلی ونقلی میں ان کا ید طولی مانا ہےبلکہ ان کی بت پرستی کو شرك سے منزہ اور صوفیہ کرام کے تصوربرزخ کے مثل ماناہے اور بحکم" و لکل امۃ رسول " (ہر امت کے لئے رسول ہے۔ت)ہندوستان میں بھی بعثت انبیاء ہونا اور ان کے بزرگوں کا مرتبہ کمال وتکمیل رکھنا لکھاہےمگررام یا کرشن کانام نہیں بایں ہمہ فرمایاہے:
درشان آنہا سکوت اولی ست نہ مارا جزم بکفرو ہلاك اتباع آنہا لازم ست ونہ یقین بہ نجات آنہا برماواجب ومادہ حسن ظن متحقق ست ۔ ان کے بارے میں سکوت اولی ہے ہم پران کے کفراور ان کے اتباع کاہلاك ہونا ماننا لازم نہیں اور نہ ان کی نجات پریقین لازم ہے البتہ حسن ظن متحقق ہے۔(ت)
یہ اس تمام مکتوب کا خلاصہ ہےان فقرات کا حال قبل اظہار خود آشکاراگریہ مکتوب مرزا صاحب کا ہے اور اگر ان کا بے دلیل فرمانا سندمیں پیش کیا جاسکتاہے توان سے بدرجہااقدم واعلم حضرت زبدۃ العارفین سیدنا میر عبدالواحد بلگرامی قدس سرہ السامی سبع سنابل شریف میں کہ بارگاہ رسالت میں پیش اور سرکار کو مقبول ہوچکیص ۱۷۰ میں فرماتے ہیں:
مخدوم شخ ابوالفتح جون پوری رادرماہ ربیع الاول بجہت عرس رسول علیہ الصلوۃ والسلام مخدوم شیخ ابوالفتح جون پوری کو ماہ ربیع الاول میں حضور اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے
ا لجواب:
مولوی محمدعلی صاحب نہ خیالات سابقہ سے تائب ہوئے نہ اس حکایت کی کچھ اصل جو مولانا فضل الرحمن کی طرف منسوب ہوئینہ یہ بات جناب مرزا صاحب نے کسی خواب کی تعبیر میں کہی بلکہ کسی خط کے جواب میں ایك مکتوب لکھاہےاس میں ہندؤون کے دین کو محض بربنائے ظن وتخمین دین سماوی گمان کرنے کی ضرورکوشش فرمائی ہے بلکہ معارف ومکاشفات وعلوم عقلی ونقلی میں ان کا ید طولی مانا ہےبلکہ ان کی بت پرستی کو شرك سے منزہ اور صوفیہ کرام کے تصوربرزخ کے مثل ماناہے اور بحکم" و لکل امۃ رسول " (ہر امت کے لئے رسول ہے۔ت)ہندوستان میں بھی بعثت انبیاء ہونا اور ان کے بزرگوں کا مرتبہ کمال وتکمیل رکھنا لکھاہےمگررام یا کرشن کانام نہیں بایں ہمہ فرمایاہے:
درشان آنہا سکوت اولی ست نہ مارا جزم بکفرو ہلاك اتباع آنہا لازم ست ونہ یقین بہ نجات آنہا برماواجب ومادہ حسن ظن متحقق ست ۔ ان کے بارے میں سکوت اولی ہے ہم پران کے کفراور ان کے اتباع کاہلاك ہونا ماننا لازم نہیں اور نہ ان کی نجات پریقین لازم ہے البتہ حسن ظن متحقق ہے۔(ت)
یہ اس تمام مکتوب کا خلاصہ ہےان فقرات کا حال قبل اظہار خود آشکاراگریہ مکتوب مرزا صاحب کا ہے اور اگر ان کا بے دلیل فرمانا سندمیں پیش کیا جاسکتاہے توان سے بدرجہااقدم واعلم حضرت زبدۃ العارفین سیدنا میر عبدالواحد بلگرامی قدس سرہ السامی سبع سنابل شریف میں کہ بارگاہ رسالت میں پیش اور سرکار کو مقبول ہوچکیص ۱۷۰ میں فرماتے ہیں:
مخدوم شخ ابوالفتح جون پوری رادرماہ ربیع الاول بجہت عرس رسول علیہ الصلوۃ والسلام مخدوم شیخ ابوالفتح جون پوری کو ماہ ربیع الاول میں حضور اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے
حوالہ / References
القرآن الکریم ۱۰ /۴۷
مکتوبات مرزا مظہر از کلمات طیبات مکتوب ۱۴ مطبع مجتبائی دہلی ص۲۷
مکتوبات مرزا مظہر از کلمات طیبات مکتوب ۱۴ مطبع مجتبائی دہلی ص۲۷
از دہ جااستدعا آمدکہ بعد از نماز پیشیں حاضر شوند ہردہ استدعاقبول کردند حاضر اں پر سیدند اے مخدوم ہر دہ استدعا قبول فرمودید ہر جابعد از نماز پیشیں حاضر باید شد چگونہ میسر خواہد آمدفرمود کشن کہ کافر بود چند صدجا حاضر می شد اگر ابوالفتح دہ جا حاضر شود چہ عجب ۔ میلاد مبارك میں دس مقامات سے دعوت شرکت دی گئی کہ نماز ظہر کے بعد تشریف لائیںآپ نے تمام کی استدعا قبول کرلیحاضرین نے آپ سے پوچھا اے مخدوم ما! آپ نے ہرجگہ نماز ظہر کے بعد دعوت قبول فرمالی ہے تو ہرجگہ بعد از نماز ظہر جانا کیسے ہوگا فرمایا:کشن جو کافر تھا وہ کئی سو جگہ حاضر ہوسکتاہے اگر ابوالفتح دس جگہ حاضرہوگا تو کیاعجب!(ت)
بات یہ ہے کہ نبوت ورسالت میں اوہام وتخمین کو دخل حاصل نہیں" اللہ اعلم حیث یجعل رسالتہ " (اﷲ بہتر جانتاہے کہ اپنی رسالت کو کہاں رکھناہے۔ت)اﷲ ورسول نے جن کو تفصیلا نبی بتایا ہم ان پرتفصیلا ایمان لائےاور باقی تمام انبیاء اﷲ پر اجمالا" و لکل امۃ رسول " (ہر امت کےلئے رسول ہے۔ت)اسے مستلزم نہیں کہ ہر رسول کو ہم جانیں یا نہ جانیں توخواہی نخواہی اندھے کی لاٹھی سے ٹٹولیں کہ شاید یہ ہوشاید یہ ہوکاہے کے لئے ٹٹولنااور کاہے کے لئے شایدامنا باﷲ ورسلہ(ہم اﷲ تعالی اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے۔ت)ہزاروں امتوں کا ہمیں نام ومقام تك معلوم نہیں" وقرونا بین ذلک کثیرا ﴿۳۸﴾"
(اور ان کے بیچ میں بہت سی سنگتیں ہیں۔ت)قرآن عظیم یاحدیث کریم میں رام وکرشن کا ذکر تك نہیں۔ان کے نفس وجود پر سوائے تواتر ہنودہمارے پاس کوئی دلیل نہیں کہ یہ واقع میں کچھ اشخاص تھے بھی یا محض انیاب اغوال ورجال بوستان خیال کی طرح اوہام تراشیدہ ہیںتواتر ہنود اگر حجت نہیں تو ان کا وجود ہی ناثابت اور اگرحجت ہے تو اسی تواتر سے ان کا فسق وفجور ولہو ولعب ثابتپھر کیا معنی کہ وجود کے لئے تواتر ہنود مقبول اور احوال کےلئے مردود مانا جائے اور انھیں کامل ومکمل بلکہ ظنا معاذاﷲ انبیاء و رسل جانا مانا جائے۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۲۹۳ و ۲۹۴: از رائے پور ممالك متوسط گول بازار مرسلہ مرزامحمد اسمعیل بیگ ۲۹ صفر ۱۳۳۸ھ
مندرجہ ذیل مکالمہ اس غرض سے علمائے دین کی خدمت اقدس میں ارسال ہے کہ ازراہ کرم
بات یہ ہے کہ نبوت ورسالت میں اوہام وتخمین کو دخل حاصل نہیں" اللہ اعلم حیث یجعل رسالتہ " (اﷲ بہتر جانتاہے کہ اپنی رسالت کو کہاں رکھناہے۔ت)اﷲ ورسول نے جن کو تفصیلا نبی بتایا ہم ان پرتفصیلا ایمان لائےاور باقی تمام انبیاء اﷲ پر اجمالا" و لکل امۃ رسول " (ہر امت کےلئے رسول ہے۔ت)اسے مستلزم نہیں کہ ہر رسول کو ہم جانیں یا نہ جانیں توخواہی نخواہی اندھے کی لاٹھی سے ٹٹولیں کہ شاید یہ ہوشاید یہ ہوکاہے کے لئے ٹٹولنااور کاہے کے لئے شایدامنا باﷲ ورسلہ(ہم اﷲ تعالی اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے۔ت)ہزاروں امتوں کا ہمیں نام ومقام تك معلوم نہیں" وقرونا بین ذلک کثیرا ﴿۳۸﴾"
(اور ان کے بیچ میں بہت سی سنگتیں ہیں۔ت)قرآن عظیم یاحدیث کریم میں رام وکرشن کا ذکر تك نہیں۔ان کے نفس وجود پر سوائے تواتر ہنودہمارے پاس کوئی دلیل نہیں کہ یہ واقع میں کچھ اشخاص تھے بھی یا محض انیاب اغوال ورجال بوستان خیال کی طرح اوہام تراشیدہ ہیںتواتر ہنود اگر حجت نہیں تو ان کا وجود ہی ناثابت اور اگرحجت ہے تو اسی تواتر سے ان کا فسق وفجور ولہو ولعب ثابتپھر کیا معنی کہ وجود کے لئے تواتر ہنود مقبول اور احوال کےلئے مردود مانا جائے اور انھیں کامل ومکمل بلکہ ظنا معاذاﷲ انبیاء و رسل جانا مانا جائے۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۲۹۳ و ۲۹۴: از رائے پور ممالك متوسط گول بازار مرسلہ مرزامحمد اسمعیل بیگ ۲۹ صفر ۱۳۳۸ھ
مندرجہ ذیل مکالمہ اس غرض سے علمائے دین کی خدمت اقدس میں ارسال ہے کہ ازراہ کرم
حوالہ / References
سبع سنابل حکایت مخدوم شیخ ابوالفتح جونپوری مکتبہ قادریہ لاہور ص۱۷۰
القرآن الکریم ۶ /۱۲۴
القرآن الکریم ۱۰ /۴۷
القرآن الکریم ۲۵ /۳۸
القرآن الکریم ۶ /۱۲۴
القرآن الکریم ۱۰ /۴۷
القرآن الکریم ۲۵ /۳۸
جلد تر اس کا جواب دیں کہ قول اصح کس کاہےا ور اس کے دلائل کیاہیں اﷲ تعالی آپ حضرات کوا ہل سنت وجماعت کا مقتدی بنائے رکھے آمین ثم آمینبینوا توجروا۔
(۱)زید کا قول یہ ہے کہ حضور انور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ہمارے مثل ایك بشر تھے کیونکہ قرآن عظیم میں ارشاد ہے کہ" قل انما انا بشر مثلکم" (تم فرماؤ کہ ظاہر صورت بشری میں تومیں تم جیساہوں۔ت)اور خصائص بشریت بھی حضور انور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم میں بلاشبہ موجود تھےکیا کھانا پینا جماع کرنا بیٹا ہونا باپ ہونا کفوہونا سونا وغیرہ امور خواص بشریت سے نہیں ہیں جو حضور انور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم میں بلاشبہ موجود تھےہاں اگر کوئی بشریت کی بناء پر حضور انور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے مساوات کا دعوی کرنے لگے تو یہ نالائق حرکت ہے لیکن اس کاکون قائل ہوسکتا ہے سوائے صوفیائے مغلوبین کے کہ وہ بعض مقام پر پہنچ کر غلبہ سکر کی وجہ سے اپنی رفعت کا دم بھرنے لگتے ہیں جیسا کہ عارف بسطامی سے منقول ہے کہ:
لوائی ارفع من لواء محمد (صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم) میراجھنڈا حضرت محمد(صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم)کے جھنڈے سے بلندہوگا۔(ت)
(۲)عمروکہتا ہے کہ حضور انور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی بشریت ہمارے مثل نہ تھی بلکہ اقوال بزرگان وپیشوایان امت سے ثابت ہے کہ حضرت رسالت پناہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم راسہ صورت است:یکے بشریقولہ تعالی" انما انا بشر مثلکم " (فرمان خداوندی ہے:میں تم جیسا بشرہوں۔ت)دوم ملکیچنانچہ فرمودہ است:
انی لست کاحد کم انی ابیت عند ربی یطعمنی ویسقینی ۔ میں تمھاری طرح نہیں ہوں میں اپنے رب کے ہاں رات بسرکرتا ہوں وہ مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے۔(ت)
سوم حقیکماقال(جیسا کہ حضور اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا۔ت):
(۱)زید کا قول یہ ہے کہ حضور انور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ہمارے مثل ایك بشر تھے کیونکہ قرآن عظیم میں ارشاد ہے کہ" قل انما انا بشر مثلکم" (تم فرماؤ کہ ظاہر صورت بشری میں تومیں تم جیساہوں۔ت)اور خصائص بشریت بھی حضور انور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم میں بلاشبہ موجود تھےکیا کھانا پینا جماع کرنا بیٹا ہونا باپ ہونا کفوہونا سونا وغیرہ امور خواص بشریت سے نہیں ہیں جو حضور انور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم میں بلاشبہ موجود تھےہاں اگر کوئی بشریت کی بناء پر حضور انور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے مساوات کا دعوی کرنے لگے تو یہ نالائق حرکت ہے لیکن اس کاکون قائل ہوسکتا ہے سوائے صوفیائے مغلوبین کے کہ وہ بعض مقام پر پہنچ کر غلبہ سکر کی وجہ سے اپنی رفعت کا دم بھرنے لگتے ہیں جیسا کہ عارف بسطامی سے منقول ہے کہ:
لوائی ارفع من لواء محمد (صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم) میراجھنڈا حضرت محمد(صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم)کے جھنڈے سے بلندہوگا۔(ت)
(۲)عمروکہتا ہے کہ حضور انور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی بشریت ہمارے مثل نہ تھی بلکہ اقوال بزرگان وپیشوایان امت سے ثابت ہے کہ حضرت رسالت پناہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم راسہ صورت است:یکے بشریقولہ تعالی" انما انا بشر مثلکم " (فرمان خداوندی ہے:میں تم جیسا بشرہوں۔ت)دوم ملکیچنانچہ فرمودہ است:
انی لست کاحد کم انی ابیت عند ربی یطعمنی ویسقینی ۔ میں تمھاری طرح نہیں ہوں میں اپنے رب کے ہاں رات بسرکرتا ہوں وہ مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے۔(ت)
سوم حقیکماقال(جیسا کہ حضور اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا۔ت):
حوالہ / References
القرآن الکریم ۱۸ /۱۱۰
تذکرۃ الاولیاء باب ۱۴ ذکر بایز یدبسطامی مطبع اسلامیہ سٹیم پریس لاہور ص۱۱۲
القرآن الکریم ۱۸ /۱۱۰
مسند امام احمد حنبل ازمسند ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ دارالفکر بیروت ۲/ ۲۵۳۔۲۴۴
تذکرۃ الاولیاء باب ۱۴ ذکر بایز یدبسطامی مطبع اسلامیہ سٹیم پریس لاہور ص۱۱۲
القرآن الکریم ۱۸ /۱۱۰
مسند امام احمد حنبل ازمسند ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ دارالفکر بیروت ۲/ ۲۵۳۔۲۴۴
لی مع اﷲ وقت لایسع فیہ ملك مقرب ولا نبی مرسل ۔ میرے واسطے اﷲ کے ساتھ ایك وقت ہے کہ نہیں گنجائش رکھتاہے اس وقت میرے ساتھ کوئی مقرب فرشتہ نہ کوئی نبی بھیجا ہوا۔(ت)
اور کھانا پینا سونا جاگنا جو خصائص بشریت حضور انور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی طرف منسوب کئے جاتے ہیں اس بنا ء پر اپنے مثل سمجھنا جیساکہ کفار اورمشرکین کہاکرتے تھے۔
" مال ہذا الرسول یاکل الطعام و یمشی فی الاسواق " ۔ اس رسول کو کیا ہوا کھانا کھاتاہے اور بازاروں میں چلتاہے۔ (ت)
سراسر بے ادبی وگستاخی ہےجیسا مولانا روم رحمۃ اﷲ تعالی علیہ فرماتے ہیں:
گفت اینك مابشرایشان بشر ماوایشان بستہ خوابیم وخور
ایں نداشتند ایشاں از عمی ہست فرقے درمیاں بے انتہا
(انھوں نے کہا ہم بھی بشریہ بھی بشر ہم سوتے ہیں کھاتے ہیں یہ بھی سوتے ہیں کھاتے ہیں یہ اندھاہونے کی بناپر نہیں جانتے کہ ان کے اورحضور کے درمیان بے انتہا فرق ہے۔ت)
یہ تو کفار ومشرکین کاقول تھا اور حضور اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اس" انما انا بشر مثلکم " (میں تمھاری مثل بشر ہوں۔ ت)کے کہنے پر مامور تھے جس کی دلالت لفظ قل کرتاہے ورنہ جب ایکم مثلی (تم میں سے کون ہے میری مثل۔ت)ارشاد ہوا ہے اسے زید کس معنی پرتاویل کرے گالہذا اپنے مثل بشر حضور انور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو سمجھنا سوء ادب ہے اور اس سے احتراز لازم کیونکہ:
کار پاکاں راقیاس از خود مگیر گرچہ باشد درنو شتن شیر وشیر
(پاك لوگوں کے افعال کواپنے اوپرقیاس مت کرو اگرچہ لکھنے میں شیر اور شیر(دودھ)ایك جیسے ہوں۔ت)
اور کھانا پینا سونا جاگنا جو خصائص بشریت حضور انور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی طرف منسوب کئے جاتے ہیں اس بنا ء پر اپنے مثل سمجھنا جیساکہ کفار اورمشرکین کہاکرتے تھے۔
" مال ہذا الرسول یاکل الطعام و یمشی فی الاسواق " ۔ اس رسول کو کیا ہوا کھانا کھاتاہے اور بازاروں میں چلتاہے۔ (ت)
سراسر بے ادبی وگستاخی ہےجیسا مولانا روم رحمۃ اﷲ تعالی علیہ فرماتے ہیں:
گفت اینك مابشرایشان بشر ماوایشان بستہ خوابیم وخور
ایں نداشتند ایشاں از عمی ہست فرقے درمیاں بے انتہا
(انھوں نے کہا ہم بھی بشریہ بھی بشر ہم سوتے ہیں کھاتے ہیں یہ بھی سوتے ہیں کھاتے ہیں یہ اندھاہونے کی بناپر نہیں جانتے کہ ان کے اورحضور کے درمیان بے انتہا فرق ہے۔ت)
یہ تو کفار ومشرکین کاقول تھا اور حضور اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اس" انما انا بشر مثلکم " (میں تمھاری مثل بشر ہوں۔ ت)کے کہنے پر مامور تھے جس کی دلالت لفظ قل کرتاہے ورنہ جب ایکم مثلی (تم میں سے کون ہے میری مثل۔ت)ارشاد ہوا ہے اسے زید کس معنی پرتاویل کرے گالہذا اپنے مثل بشر حضور انور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو سمجھنا سوء ادب ہے اور اس سے احتراز لازم کیونکہ:
کار پاکاں راقیاس از خود مگیر گرچہ باشد درنو شتن شیر وشیر
(پاك لوگوں کے افعال کواپنے اوپرقیاس مت کرو اگرچہ لکھنے میں شیر اور شیر(دودھ)ایك جیسے ہوں۔ت)
حوالہ / References
الاسرار المرفوعۃ فی الاخبار الموضوعۃ حدیث ۷۶۴ دارالکتب العلمیہ بیروت ص۱۹۷
القرآن الکریم ۲۵ /۷
مثنوی مولوی معنوی حکایت مردبقال وروغن ریختن طوطی دفتر اول نورانی کتب خانہ پشاور ۱/ ۱۱
القرآن الکریم ۱۸ /۱۱۰
صحیح البخاری باب کم التعزیر والادب قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۱۰۱۲
مثنوی مولوی معنوی حکایت مردبقال وروغن ریختن طوطی دفتر اول نورانی کتب خانہ پشاور ۱/ ۱۱
القرآن الکریم ۲۵ /۷
مثنوی مولوی معنوی حکایت مردبقال وروغن ریختن طوطی دفتر اول نورانی کتب خانہ پشاور ۱/ ۱۱
القرآن الکریم ۱۸ /۱۱۰
صحیح البخاری باب کم التعزیر والادب قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۱۰۱۲
مثنوی مولوی معنوی حکایت مردبقال وروغن ریختن طوطی دفتر اول نورانی کتب خانہ پشاور ۱/ ۱۱
حق تویہ ہےمثلے ہست کہ(مثل ہے کہ۔ت)
الجنس الی الجنس یمیل * بہردل من بردن صورت انساں داری
(ہر جنس اپنی جنس کی طرف میلان کرتی ہےمیرادل لے جانے کے لئے تو نے انسان کی صورت اختیار کی ہے۔ت)
رہا یہ قصہ کہ صوفیائے کرام مثلا حضرت بایزید بسطامی رضی اﷲ تعالی عنہ نے جویہ فرمایاکہ:
لوائی ارفع من لواء محمد (رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی وسلم) میرا جھنڈا حضوراکرم(صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم)کے جھنڈے سے بلند ہوگا۔(ت)
اسے اس کا یعنی زید کا نالائق حرکت کہنا صوفیاء صافی اور عارف بسطامی رضی اﷲ تعالی عنہ کی شان میں سخت گستاخی اور سفلہ پن ہے۔نہ اس سے مساوات کی بوآتی ہےاور نہ فضیلت ہی استغفراﷲ پائی جاتی ہے بلکہ ان ظاہر بینوں کےلئے جوحضور انور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو بشر سمجھے ہوئے ہیں ایك تازیانہ ہےان کایہ کلام ع
گفتہ اوگفتہ اﷲ بود
(ان کا کہنا اﷲ تعالی کاکہنا ہے۔ت)
کے مصداق ہے ورنہ: ع
چہ نسبت خاك رابہ عالم پاک
(خاك کی عالم پاك کے ساتھ کیا نسبت ہوسکتی ہے۔ت)
پس حضور انور اور دیگر بزرگوں علیہم التحیۃ والثناء کے کسی قول وفعل پر انھیں اپنے مثل بشر سمجھنا ضلالت وبددینی ہے کیونکہ:
ہرمرتبہ از وجود حکمے دارد گرحفظ مراتب نہ کنی زندیق ست
(ہر مرتبہ وجود کے اعتبار سے الگ حکم رکھتاہے اگر مراتب کے فرق کو سامنے نہیں رکھوگے تو گمراہ وزندیق ہوجاؤ گے۔ت)
اسی بناء پر شیخ محقق فرماتے ہیں:
بالجملہ تکلم کردن درحال شریف سید الکائنات علیہ افضل الصلوۃ واکمل التحیات بقیاس بلکہ سید کائنات علیہ افضل الصلوۃ واکمل التحیات کے حال مبارك میں عقل کے ساتھ بلکہ اپنی دریافت کی بنیاد
الجنس الی الجنس یمیل * بہردل من بردن صورت انساں داری
(ہر جنس اپنی جنس کی طرف میلان کرتی ہےمیرادل لے جانے کے لئے تو نے انسان کی صورت اختیار کی ہے۔ت)
رہا یہ قصہ کہ صوفیائے کرام مثلا حضرت بایزید بسطامی رضی اﷲ تعالی عنہ نے جویہ فرمایاکہ:
لوائی ارفع من لواء محمد (رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی وسلم) میرا جھنڈا حضوراکرم(صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم)کے جھنڈے سے بلند ہوگا۔(ت)
اسے اس کا یعنی زید کا نالائق حرکت کہنا صوفیاء صافی اور عارف بسطامی رضی اﷲ تعالی عنہ کی شان میں سخت گستاخی اور سفلہ پن ہے۔نہ اس سے مساوات کی بوآتی ہےاور نہ فضیلت ہی استغفراﷲ پائی جاتی ہے بلکہ ان ظاہر بینوں کےلئے جوحضور انور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو بشر سمجھے ہوئے ہیں ایك تازیانہ ہےان کایہ کلام ع
گفتہ اوگفتہ اﷲ بود
(ان کا کہنا اﷲ تعالی کاکہنا ہے۔ت)
کے مصداق ہے ورنہ: ع
چہ نسبت خاك رابہ عالم پاک
(خاك کی عالم پاك کے ساتھ کیا نسبت ہوسکتی ہے۔ت)
پس حضور انور اور دیگر بزرگوں علیہم التحیۃ والثناء کے کسی قول وفعل پر انھیں اپنے مثل بشر سمجھنا ضلالت وبددینی ہے کیونکہ:
ہرمرتبہ از وجود حکمے دارد گرحفظ مراتب نہ کنی زندیق ست
(ہر مرتبہ وجود کے اعتبار سے الگ حکم رکھتاہے اگر مراتب کے فرق کو سامنے نہیں رکھوگے تو گمراہ وزندیق ہوجاؤ گے۔ت)
اسی بناء پر شیخ محقق فرماتے ہیں:
بالجملہ تکلم کردن درحال شریف سید الکائنات علیہ افضل الصلوۃ واکمل التحیات بقیاس بلکہ سید کائنات علیہ افضل الصلوۃ واکمل التحیات کے حال مبارك میں عقل کے ساتھ بلکہ اپنی دریافت کی بنیاد
حوالہ / References
تذکرۃ الاولیاء باب ۱۴ ذکر بایزید بسطامی مطبع اسلامیہ اسٹیم پریس لاہور ص۱۱۲
بدریافت معرفت خود از دائرہ جنس ادب بیرون ست وحکم تکلم درمتشابہات دارد ۔انتہی کلام عمرو۔ پر گفتگو کرنا جنس ادب سے باہر ہے اور متشابہات میں گفتگو کے حکم میں ہے عمرو کاکلام ختم ہوا۔(ت)
مستفتی عرض کرتاہے کہ جلد سے جلد اس کا جواب عنایت فرمایا جائےاگر بواپسی ڈاك ہو تو عین احسان و کرم ہےاﷲ تعالی حضور کو جزائے خیردے۔فقط
الجواب:
مستفتی کوتعجیل اور فقیربتیس روزسے علیلاور مسئلہ ظاہر وبین غیر محتاج دلیللہذا صرف ان اجمالی کلمات پر اقتصار ہوتاہے عمروکا قول مسلمانوں کا قول ہے اور زید نے وہی کہا جو کافر کہاکرتے تھے:
" قالوا ما انتم الا بشر مثلنا " کافر بولے تم تونہیں مگرہم جیسے آدمی۔
بلکہ زید مدعی اسلام کا قول ان کافروں کے قول سے بعید تر ہے وہ جو انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کو اپنا سابشر مانتے تھے اس لئے ان کی رسالت سے منکر تھے کہ:
" قالوا ما انتم الا بشر مثلنا و ما انزل الرحمن من شیء ان انتم الا تکذبون ﴿۱۵﴾ " تم تو نہیں مگرہماری مثل بشراور رحمان نے کچھ نہیں اتارا تم نرا جھوٹ کہتے ہو۔(ت)
واقعی جب ان خبثاء کے نزدیك وحی نبوت باطل تھی تو انھیں اپنی اسی بشریت کے سواکیا نظر آتالیکن ان سے زیادہ دل کے اندھے وہ کہ وحی ونبوت کا اقرار کریں اور پھر انھیں اپناہی سا بشرجانیںزید کو" قل انما انا بشر مثلکم " سوجھا اور"یوحی الی" نہ سوجھا جو غیر متناہی فرق ظاہرکرتاہےزید نے اتناہی ٹکڑا لیا جوکافر لیتے تھےانبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کی بشریت جبریل علیہ الصلوۃ والسلام کی ملکیت سے اعلی ہے وہ ظاہری صورت میں ظاہر بینوں کی آنکھوں میں بشریت رکھتے ہیں جس سے مقصود خلق کا ان سے انس حاصل کرنا اور ان سے فیض پاناولہذا ارشادفرماتاہے:
مستفتی عرض کرتاہے کہ جلد سے جلد اس کا جواب عنایت فرمایا جائےاگر بواپسی ڈاك ہو تو عین احسان و کرم ہےاﷲ تعالی حضور کو جزائے خیردے۔فقط
الجواب:
مستفتی کوتعجیل اور فقیربتیس روزسے علیلاور مسئلہ ظاہر وبین غیر محتاج دلیللہذا صرف ان اجمالی کلمات پر اقتصار ہوتاہے عمروکا قول مسلمانوں کا قول ہے اور زید نے وہی کہا جو کافر کہاکرتے تھے:
" قالوا ما انتم الا بشر مثلنا " کافر بولے تم تونہیں مگرہم جیسے آدمی۔
بلکہ زید مدعی اسلام کا قول ان کافروں کے قول سے بعید تر ہے وہ جو انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کو اپنا سابشر مانتے تھے اس لئے ان کی رسالت سے منکر تھے کہ:
" قالوا ما انتم الا بشر مثلنا و ما انزل الرحمن من شیء ان انتم الا تکذبون ﴿۱۵﴾ " تم تو نہیں مگرہماری مثل بشراور رحمان نے کچھ نہیں اتارا تم نرا جھوٹ کہتے ہو۔(ت)
واقعی جب ان خبثاء کے نزدیك وحی نبوت باطل تھی تو انھیں اپنی اسی بشریت کے سواکیا نظر آتالیکن ان سے زیادہ دل کے اندھے وہ کہ وحی ونبوت کا اقرار کریں اور پھر انھیں اپناہی سا بشرجانیںزید کو" قل انما انا بشر مثلکم " سوجھا اور"یوحی الی" نہ سوجھا جو غیر متناہی فرق ظاہرکرتاہےزید نے اتناہی ٹکڑا لیا جوکافر لیتے تھےانبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کی بشریت جبریل علیہ الصلوۃ والسلام کی ملکیت سے اعلی ہے وہ ظاہری صورت میں ظاہر بینوں کی آنکھوں میں بشریت رکھتے ہیں جس سے مقصود خلق کا ان سے انس حاصل کرنا اور ان سے فیض پاناولہذا ارشادفرماتاہے:
" ولو جعلنہ ملکا لجعلنہ رجلا وللبسنا علیہم ما یلبسون ﴿۹﴾ " اور اگرہم فرشتے کو رسول کرکے بھیجتے تو ضرور اسے مردہی کی شکل میں بھیجتے اور ضرور انھیں اسی شبہہ میں رکھتے جس دھوکے میں اب ہیں۔
ظاہر ہواکہ انبیاء علیہم السلام کی ظاہری صورت دیکھ کر انھیں اوروں کی مثل سمجھنا ان کی بشریت کو اپنا سا جاننا ظاہر بینوں کورباطنوں کا دھوکا ہے یہ شیطان کے دھوکے میں پڑے ہیں
ہمسری بااولیاء برداشتہ انبیاء راہمچوں خود پنداشتند
(اولیاء کی برابری اخیتارکرنا اپنے آپ کو انبیاء جیسا تصور کرنا ہے۔ت)
ان کا کھاناپینا سونا یہ افعال بشری اس لئے نہیں کہ وہ ان کے محتاج ہیں حاشا
لست کاحدکم انی ابیت عندربی یطمعنی ویسقینی ۔ میں تمھاری طرح نہیں ہوں میں اپنے رب کے ہاں رات بسرکرتاہوں وہ مجھے کھلاتابھی ہے اور پلاتا بھی ہے۔(ت)
ان کے یہ افعال بھی اقامت سنت وتعلیم امت کے لئے تھے کہ ہر بات میں طریقہ محمودہ لوگوں کو عملی طورسے دکھائیں جیسے ان کا سہوونسیان حدیث میں ہے:انی لاانسی ولکن انسی لیستن بی میں بھولتا نہیں بھلایاجاتاہوں تاکہ حالت سہو میں امت کو طریقہ سنت معلوم ہو۔امام اجل محمد عبدری ابن الحاج مکی قدس سرہ مدخل میں فرماتے ہیں:
انہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کان لایأتی الاحول البشریۃ لاجل نفسہ المکرمۃ بل ذلك منہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم علی طریق التانیس البشریۃ لاجل الاقتداء بہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم الاتری الی قول عمر رضی اﷲ تعالی عنہ انی لاتزوج النساء و مالی علیہن حاجۃ وقدقال یعنی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم احوال بشری کھانا پینا سونا جماع اپنے نفس کریم کے لئے نہ فرماتے تھے بلکہ بشرکو انس دلانے کےلئے کہ ان افعال میں حضور کی اقتداکریں کیا نہیں دیکھتا کہ عمر رضی اﷲ تعالی عنہ نے فرمایا:میں عورتوں سے نکاح کرتاہوں اور مجھے ان کی کچھ حاجت نہیں۔ اور رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:مجھے
ظاہر ہواکہ انبیاء علیہم السلام کی ظاہری صورت دیکھ کر انھیں اوروں کی مثل سمجھنا ان کی بشریت کو اپنا سا جاننا ظاہر بینوں کورباطنوں کا دھوکا ہے یہ شیطان کے دھوکے میں پڑے ہیں
ہمسری بااولیاء برداشتہ انبیاء راہمچوں خود پنداشتند
(اولیاء کی برابری اخیتارکرنا اپنے آپ کو انبیاء جیسا تصور کرنا ہے۔ت)
ان کا کھاناپینا سونا یہ افعال بشری اس لئے نہیں کہ وہ ان کے محتاج ہیں حاشا
لست کاحدکم انی ابیت عندربی یطمعنی ویسقینی ۔ میں تمھاری طرح نہیں ہوں میں اپنے رب کے ہاں رات بسرکرتاہوں وہ مجھے کھلاتابھی ہے اور پلاتا بھی ہے۔(ت)
ان کے یہ افعال بھی اقامت سنت وتعلیم امت کے لئے تھے کہ ہر بات میں طریقہ محمودہ لوگوں کو عملی طورسے دکھائیں جیسے ان کا سہوونسیان حدیث میں ہے:انی لاانسی ولکن انسی لیستن بی میں بھولتا نہیں بھلایاجاتاہوں تاکہ حالت سہو میں امت کو طریقہ سنت معلوم ہو۔امام اجل محمد عبدری ابن الحاج مکی قدس سرہ مدخل میں فرماتے ہیں:
انہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کان لایأتی الاحول البشریۃ لاجل نفسہ المکرمۃ بل ذلك منہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم علی طریق التانیس البشریۃ لاجل الاقتداء بہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم الاتری الی قول عمر رضی اﷲ تعالی عنہ انی لاتزوج النساء و مالی علیہن حاجۃ وقدقال یعنی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم احوال بشری کھانا پینا سونا جماع اپنے نفس کریم کے لئے نہ فرماتے تھے بلکہ بشرکو انس دلانے کےلئے کہ ان افعال میں حضور کی اقتداکریں کیا نہیں دیکھتا کہ عمر رضی اﷲ تعالی عنہ نے فرمایا:میں عورتوں سے نکاح کرتاہوں اور مجھے ان کی کچھ حاجت نہیں۔ اور رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:مجھے
حوالہ / References
القرآن الکریم ۶ /۹
مسند امام احمد بن حنبل از مسند ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ دارالفکر بیروت ۲/ ۲۴۴
مؤطاامام مالك باب العمل فی سہو میر محمد کتب خانہ کراچی ص۸۴
مسند امام احمد بن حنبل از مسند ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ دارالفکر بیروت ۲/ ۲۴۴
مؤطاامام مالك باب العمل فی سہو میر محمد کتب خانہ کراچی ص۸۴
صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم حبب الی من دنیاکم الطیب والنساء وجعلت قرۃ عینی فی الصلوۃ فانظر الی حکمۃ قولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم حبب ولم یقل احببت وقال من دنیاکم فاضافہا الیہم دونہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فدل علی انہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کان حبہ خاصا بمولاہ عزوجل یدل علیہ قولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وجعلت قرۃ عینی فی الصلوۃ فکان صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بشری الظاہر ملکی الباطن فکان صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لایأتی الی شیئ من احوال البشریۃ الاتانیسا لامتہ تشریعا لھا لاانہ محتاج الی شیئ من ذلك کما تقدم وللجہل بھذہ الاوصاف الجلیلۃ والخصال الحمیدۃ قال الجاہل المسکین " مال ہذا الرسول یاکل الطعام و یمشی فی الاسواق " ۔ تمھاری دنیا میں سے خوشبوعورتوں کی محبت اور میری آنکھوں کی ٹھنڈك نمازمیں رکھی گئی ہےیہ نہ فرمایا کہ میں نے انھیں دوست رکھااور فرمایا:تمھاری دنیا میں سے تو اسے اوروں کی طرف اضافت فرمایا نہ کہ اپنے نفس کریم کی طرفصلی اﷲ تعالی علیہ وسلممعلوم ہوا کہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی محبت اپنے مولی عزوجل کے ساتھ خاص ہے جس پر یہ ارشاد کریم دلالت کرتاہے کہ میری آنکھوں کی ٹھنڈك نماز میں رکھی گئیتوحضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی ظاہر صورت بشری اور باطن ملکی ہےتو حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یہ افعال بشری محض اپنی امت کو انس دلانے اور ان کے لئے شریعت قائم فرمانے کے واسطے کرتے تھے نہ یہ کہ حضور کو ان میں سے کسی شے کی کچھ حاجت ہوجیسا کہ اوپر بیان ہوچکا انھیں اوصاف جلیلہ وفضائل حمیدہ سے جہل کے باعث بیچارے جاہل یعنی کافر نے کہا اس رسول کو کیا ہوا کھانا کھاتاہے اور بازاروں میں چلتاہے۔
عمرونے سچ کہا کہ یہ قول حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے اپنی طرف سے نہ فرمایا بلکہ اس کے فرمانے پر مامور ہوئے جس کی حکمت تعلیم تواضع وتانیس امت و سد غلو نصرانیت ہےاول دوم ظاہراور سوم یہ کی مسیح علیہ الصلوۃ والسلام کو ان کی امت نے ان فضائل پر خدا اور خدا کا بیٹاکہا پھر فضائل محمدیہ علی صاحبہا افضل الصلوۃ والتحیۃ کی عظمت شان کا اندازہ کون کرسکتاہےیہاں اس غلو کے سدباب کے لئے تعلیم فرمائی گئی کہ کہو میں تم جیسا بشرہوں خدایا خداکابیٹا نہیں۔
عمرونے سچ کہا کہ یہ قول حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے اپنی طرف سے نہ فرمایا بلکہ اس کے فرمانے پر مامور ہوئے جس کی حکمت تعلیم تواضع وتانیس امت و سد غلو نصرانیت ہےاول دوم ظاہراور سوم یہ کی مسیح علیہ الصلوۃ والسلام کو ان کی امت نے ان فضائل پر خدا اور خدا کا بیٹاکہا پھر فضائل محمدیہ علی صاحبہا افضل الصلوۃ والتحیۃ کی عظمت شان کا اندازہ کون کرسکتاہےیہاں اس غلو کے سدباب کے لئے تعلیم فرمائی گئی کہ کہو میں تم جیسا بشرہوں خدایا خداکابیٹا نہیں۔
حوالہ / References
المدخل فصل فی آدابہ فی الاجتماع باہلہ دارالکتب العلمیہ بیروت ۲/ ۱۹۳
ہاں"یوحی الی"رسول ہوںدفع افراط نصرانیت کے لئے پہلا کلمہ تھا اور دفع تفریط ابلیسیت کے لئے دوسرا کلمہ اسی کی نظیر ہے جو دوسری جگہ ارشادہوا:
" قل سبحان ربی ہل کنت الا بشرا رسولا ﴿۹۳﴾ " ۔ تم فرمادو پاکی ہے میرے رب کومیں خدا نہیں میں توا نسان رسول ہوں۔
انھیں دونوں کے دفع کوکلمہ شہادت میں دونوں لفظ کریم جمع فرمائے گئے:ـ
اشھد ان محمداعبدہ ورسولہ۔ میں اعلان کرتاہوں کہ حضرت محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اﷲ کے بندے اور رسول ہیں۔(ت)
بندے ہیں خدانہیںرسول ہیں خدا سے جدانہیںشیطنت اس کی کہ دوسراکلمہ امتیاز اعلی چھوڑ کرپہلے کلمہ تواضع پر اقتصار کرےاسی ضلالت کااثر ہے کہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے دعوی مساوات کو صرف نالائق حرکت کہانالائق حرکت تو یہ بھی ہے کہ کوئی بلاوجہ زید کو طپانچہ ماردے یعنی اس زید کوجس نے کفر وضلال نہ بکے ہوںپھر کہاں یہ اور کہاں وہ دعوی مساوات کہ کفر خالص ہےاوراس کا اولیاء رضی اﷲ تعالی عنہم کی طرف معاذاﷲ حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے ارفعیت کاادعا نسبت کرنا محض افتراء اور کج فہمی ہے حاشا کوئی ولی کیسے ہی مرتبہ عظیمہ پر ہو سرکار کے دائرہ غلامی سے باہر قدم نہیں رکھ سکتااکابر انبیاء تودعوی مساوات کرنہیں کرسکتےشیخ الانبیاء خلیل کبریا علیہ الصلوۃ والثناء نے شب معراج حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا خطبہ فضائل سن کر تمام انبیاء ومرسلین علیہم الصلوہ والتسلیم سے فرمایا:بھذا فضلکم محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ان وجوہ سے محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم تم سب سے افضل ہوئے۔ولی کس منہ سے دعوی ارفعیت کرے گااو رجوکرے گا حاشا ولی نہ ہوگا شیطان ہوگاحضرت سیدنا بایزید بسطامی اور ان کے امثال ونظائر رضی اﷲ تعالی عنہم وقت ورودتجلی خاص شجرہ موسی ہوتے ہیں سیدنا موسی کلیم اﷲ علیہ الصلوۃ والتسلیم کو درخت میں سے سنائی دیا: " یموسی انی انا اللہ رب العلمین ﴿۳۰﴾ " اے موسی! بیشك میں اﷲ ہوں رب سارے جہاں کاکیا یہ ہر پیڑ نے کہا تھا حاشا ﷲ بلکہ واحد قہار نے جس نے ـ
" قل سبحان ربی ہل کنت الا بشرا رسولا ﴿۹۳﴾ " ۔ تم فرمادو پاکی ہے میرے رب کومیں خدا نہیں میں توا نسان رسول ہوں۔
انھیں دونوں کے دفع کوکلمہ شہادت میں دونوں لفظ کریم جمع فرمائے گئے:ـ
اشھد ان محمداعبدہ ورسولہ۔ میں اعلان کرتاہوں کہ حضرت محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اﷲ کے بندے اور رسول ہیں۔(ت)
بندے ہیں خدانہیںرسول ہیں خدا سے جدانہیںشیطنت اس کی کہ دوسراکلمہ امتیاز اعلی چھوڑ کرپہلے کلمہ تواضع پر اقتصار کرےاسی ضلالت کااثر ہے کہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے دعوی مساوات کو صرف نالائق حرکت کہانالائق حرکت تو یہ بھی ہے کہ کوئی بلاوجہ زید کو طپانچہ ماردے یعنی اس زید کوجس نے کفر وضلال نہ بکے ہوںپھر کہاں یہ اور کہاں وہ دعوی مساوات کہ کفر خالص ہےاوراس کا اولیاء رضی اﷲ تعالی عنہم کی طرف معاذاﷲ حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے ارفعیت کاادعا نسبت کرنا محض افتراء اور کج فہمی ہے حاشا کوئی ولی کیسے ہی مرتبہ عظیمہ پر ہو سرکار کے دائرہ غلامی سے باہر قدم نہیں رکھ سکتااکابر انبیاء تودعوی مساوات کرنہیں کرسکتےشیخ الانبیاء خلیل کبریا علیہ الصلوۃ والثناء نے شب معراج حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا خطبہ فضائل سن کر تمام انبیاء ومرسلین علیہم الصلوہ والتسلیم سے فرمایا:بھذا فضلکم محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ان وجوہ سے محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم تم سب سے افضل ہوئے۔ولی کس منہ سے دعوی ارفعیت کرے گااو رجوکرے گا حاشا ولی نہ ہوگا شیطان ہوگاحضرت سیدنا بایزید بسطامی اور ان کے امثال ونظائر رضی اﷲ تعالی عنہم وقت ورودتجلی خاص شجرہ موسی ہوتے ہیں سیدنا موسی کلیم اﷲ علیہ الصلوۃ والتسلیم کو درخت میں سے سنائی دیا: " یموسی انی انا اللہ رب العلمین ﴿۳۰﴾ " اے موسی! بیشك میں اﷲ ہوں رب سارے جہاں کاکیا یہ ہر پیڑ نے کہا تھا حاشا ﷲ بلکہ واحد قہار نے جس نے ـ
درخت پر تجلی فرمائی اور وہ بات درخت سے سننے میں آئی کیا رب العزت ایك درخت پرتجلی فرماسکتاہے اوراپنے محبوب بایزید پر نہیں نہیں نہیں وہ ضرور تجلی ربانی تھی کلام بایزید کی زبان سے سناجاتاتھاجیسے درخت سے سناگیا اور متکلم اﷲ عزوجل تھا اسی نے وہاں فرمایا:" یموسی انی انا اللہ رب العلمین ﴿۳۰﴾ " (اے موسی! میں اﷲ ہوں رب سارے جہاں کا۔ت)اسی نے یہاں بھی فرمایا:سبحانی مااعظم شانی (میں پاك ہوں اور میری شان بلند ہے۔ت)اور ثابت ہو تویہ بھی کہ لوائی ارفع من لواء محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم (میرا جھنڈا محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے جھنڈے سے بلند ہے۔ ت)بیشك لواء الہی لواء محمد ی سے ارفع واعلی ہے حضرت مولوی قدس سرہ المعنوی نے مثنوی شریف میں اس مقام کی خوب تفصیل فرمائی ہے اور تسلط جن سے اس کی توضیح کی ہے کہ انسان پر ایك جن مسلط ہوکر اس کی زبان سے کلام کرے اور رب عزوجل اس پر قادر نہیں کہ اپنے بندے پر تجلی فرماکر کلام فرمائے جو اس کی زبان سے سننے میں آئے بلاشبہہ اﷲ قادرہے او رمعترض کا اعتراض باطلاس کا فیصلہ خود حضرت بایزید بسطامی رضی اﷲ تعالی عنہ کے زمانہ میں ہوچکا ظاہر بینوں بے خبروں نے ان سے شکایت کی کہ آپ سبحانی مااعظم شانی کہا کرتے ہیںفرمایا:حاشا میں نہیں کہتا کہا آپ ضرور کہتے ہیں ہم سب سنتے ہیں فرمایا:جو ایسا کہے واجب القتل ہے میں بخوشی تمھیں اجازت دیتاہوں جب مجھے ایساکہتے سنو بے دریغ خنجر ماردووہ سب خنجر لے کر منتظر وقت رہے یہاں تك کہ حضرت پر تجلی وارد ہوئی اوروہی سننے میں آیا سبحانی مااعظم شامی مجھے سب عیبوں سے پاکی ہے میری شان کیا ہی بڑی ہےوہ لوگ چار طرف سے خنجر لے کر دوڑے اور حضرت پر وار کئے جس نے جس جگہ خنجر ماراتھا خود اس کے اسی جگہ لگااور حضرت پر خط بھی نہ آیاجب افاقہ ہوا دیکھا لوگ زخمی پڑے ہیںفرمایا:میں نہ کہتاتھا کہ میں نہیں کہتا وہ فرماتا ہے جسے فرمانا بجاواﷲ اعلم
مسئلہ ۲۹۵ تا ۲۹۷: از شہر بھڑوچ لال بازار چنارواڑ مرسلہ مولوی عباس میاں ولد مولوی علی میاں صاحب یکم ربیع الاول ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں کہ:
(۱)ایك مولوی احمد سعید نام کا دہلی مدرسہ امینیہ کا جو دیوبند کی شاخ سے ہے ابھی دس روز
مسئلہ ۲۹۵ تا ۲۹۷: از شہر بھڑوچ لال بازار چنارواڑ مرسلہ مولوی عباس میاں ولد مولوی علی میاں صاحب یکم ربیع الاول ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں کہ:
(۱)ایك مولوی احمد سعید نام کا دہلی مدرسہ امینیہ کا جو دیوبند کی شاخ سے ہے ابھی دس روز
حوالہ / References
القرآن الکریم ۲۷ /۳۰
تذکرۃ الاولیاء باب ۱۴ ذکر بایزید بسطامی مطبع اسلامیہ اسٹیم پریس لاہور ص۱۱۲
تذکرۃ الاولیاء باب ۱۴ ذکر بایزید بسطامی مطبع اسلامیہ اسٹیم پریس لاہور ص۸۹،۱۱۲
تذکرۃ الاولیاء باب ۱۴ ذکر بایزید بسطامی مطبع اسلامیہ اسٹیم پریس لاہور ص۱۱۲
تذکرۃ الاولیاء باب ۱۴ ذکر بایزید بسطامی مطبع اسلامیہ اسٹیم پریس لاہور ص۸۹،۱۱۲
ہوئے محرم شریف کےبھڑوچ وعظ کو آئے تھےانھوں نے یہ کہا وعظ میںکہ جنت کی خرید وفروخت میں ایك دلال کی ضرورت ہے جیسے یہاں کوئی چیز خریدوفروخت کرنے میں دلال کی معرفت خرید وفروخت کرتے ہیں تو وہاں کے لئے بھی دلال پیغمبر رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ہیںمجھے اس کے سوادوسرا لفظ زیادہ اچھا اس موقع پرنہیں معلوم ہوتادلال یہی لفظ عمدہ ہےاب دلال کسے کہتے ہیںاس سے ہمارے نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی عزت وتعریف ہوئی یا توہیناس کے سوا اور کوئی لفظ زیادہ تعریف کے لائق ہے یانہیں۔ایسے لفظ کہنے سے ایمان کا کچھ نقصان ہے یانہیں
(۲)مولود شریف حضرت کی پڑھنے میں بڑی ہتك ہوتی ہےہمارے نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اور حضرت کی ارواح کا آنا اور تعظیم کو اٹھنا یہ بھی برا ہےتو یہ مولود کا پڑھنا اب براہے یا اچھا ہے
(۳)احمد سعید مدرسہ امینیہ دہلی امام سنہری مسجد کےان کا عقیدہ اہل سنت والجماعت کا ہے یانہیں اوپر کے سوالوں سے کیسا معلوم ہوتاہے بینوا توجروا
الجواب:
(۱)رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اپنے رب کی عطا سے مالك جنت ہیںمعطی جنت ہیںجسے چاہے عطافرمائیںامام حجۃ الاسلام غزالی پھر امام احمد قسطلانی مواہب لدنیہ پھر علامہ محمد زرقانی اس کی شرح میں فرماتے ہیں:
ان اﷲ تعالی مبلکہ الارض کلھا وانہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کان یقطع ارض الجنۃ ماشاء منہا لمن شاء فارض الدنیا اولی ۔ اﷲ تعالی نے دینا اور آخرت کی تمام زمینوں کا حضور کو مالك کردیاہےحضور جنت کی زمین میں سے جتنی چاہیں جسے چاہیں جاگیر بخشیں تو دنیا کی زمین کاکیا ذکر۔
دلالی ایك ذلیل پیشہ ہے ذلت کی نگاہ سے دیکھا جاتاہےفتح القدیر میں دلال کو خاکروب و حجام کے ساتھ شمار کیا ہے عبارت یہ ہے:
اماشہادۃ اہل الصناعات الدنئیۃ کالکساح والزبال والحائك والحجام والاصح انھا تقبل لانہا قد تولاھا قوم گھٹیا کاروبار کرنے والوں کی شہادت مثلا جاروب کش ماشکیجولاہاحجام کیتواصح یہی ہے کہ قبول کی جائے گی کیونکہ یہ کام بہت سے
(۲)مولود شریف حضرت کی پڑھنے میں بڑی ہتك ہوتی ہےہمارے نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اور حضرت کی ارواح کا آنا اور تعظیم کو اٹھنا یہ بھی برا ہےتو یہ مولود کا پڑھنا اب براہے یا اچھا ہے
(۳)احمد سعید مدرسہ امینیہ دہلی امام سنہری مسجد کےان کا عقیدہ اہل سنت والجماعت کا ہے یانہیں اوپر کے سوالوں سے کیسا معلوم ہوتاہے بینوا توجروا
الجواب:
(۱)رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اپنے رب کی عطا سے مالك جنت ہیںمعطی جنت ہیںجسے چاہے عطافرمائیںامام حجۃ الاسلام غزالی پھر امام احمد قسطلانی مواہب لدنیہ پھر علامہ محمد زرقانی اس کی شرح میں فرماتے ہیں:
ان اﷲ تعالی مبلکہ الارض کلھا وانہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کان یقطع ارض الجنۃ ماشاء منہا لمن شاء فارض الدنیا اولی ۔ اﷲ تعالی نے دینا اور آخرت کی تمام زمینوں کا حضور کو مالك کردیاہےحضور جنت کی زمین میں سے جتنی چاہیں جسے چاہیں جاگیر بخشیں تو دنیا کی زمین کاکیا ذکر۔
دلالی ایك ذلیل پیشہ ہے ذلت کی نگاہ سے دیکھا جاتاہےفتح القدیر میں دلال کو خاکروب و حجام کے ساتھ شمار کیا ہے عبارت یہ ہے:
اماشہادۃ اہل الصناعات الدنئیۃ کالکساح والزبال والحائك والحجام والاصح انھا تقبل لانہا قد تولاھا قوم گھٹیا کاروبار کرنے والوں کی شہادت مثلا جاروب کش ماشکیجولاہاحجام کیتواصح یہی ہے کہ قبول کی جائے گی کیونکہ یہ کام بہت سے
حوالہ / References
المواہب اللدنیہ المقصد الرابع الفصل الثانی المکتب الاسلامی بیروت ۲/ ۶۲۶،شرح الزرقانی علی المواہب اللدنیہ المقصد الرابع الفصل الثانی دارالمعرفۃ بیروت ۵/ ۲۴۲
صالحون فمالم یعلم القادح لایبنی علی الصناعۃ ومثلہ النخاسون و الدلالون ۔ صالح اور بزرگ لوگ بھی اپناتے رہے تو جب تك واضح طور پر مانع طعن وجرح نہ ہو محض کسی کاروبار کو عدم صحت شہادت کی بنیاد نہیں بنایا جاسکتا اور اسکی مثل حکم ہے جانور ہانکنے والوں اور دلالوں کا(ت)
بلکہ درمختارمیں ہے:
فی شرح الوھبانیۃ لاتقبل شہادۃ بائع الاکفان والحنوط وکذاالدلال واعتمدہ قدری افندی فی واقعاتہ وذکرہ المصنف فی اجارۃ معینۃ معزیا للبزازیۃ وملخصہ انہا لاتقبل شہادہ الدلالین والصکاکین والوکلاء المفتعلۃ علی ابوابہم ونحوہ فی فتاوی مؤیدزادہ ۔ شرح الوہبانیہ میں ہے کفن وحنوط بیچنے والے کی گواہی قبول نہیں کی جائے گیاسی طرح دلال کی گواہی کا بھی حکم ہےقدری آفندی نے اپنی واقعات میں اس پر اعتماد کیا مصنف نے بزازیہ کی طرف منسوب کرتے ہوئے اجارہ معینہ میں اسے ذکر کیاہےاس کا خلاصہ یہ ہے کہ دلالوں اشٹام فروشوں اور ان وکلاء جولوگوں کے دروازوں پر چکر لگاتے ہیں وغیرہ کی گواہی قبول نہیں کی جائے گیفتاوی مؤید زادہ میں ایسے لوگوں کایہی حکم بیان ہواہے۔(ت)
دلال کاکام یہ ہے کہ مشتری سے بڑھوائے یا بائع سے گھٹوائے جوڑ توڑ لگا کر جھوٹ سچ ملاکر نرم گرم کراکر سودا کرادے اور اپنے ٹکے سیدھے کرےحضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو اس ذلیل لفظ سے تعبیر کرنا صریح توہین ہےاور حضور اقدس کی توہین کفراس سے بہتر لفظ خیال کیونکر آتا جب دل میں عظمت ہی نہیں۔
(۲)مجلس میلاد مبارك ذکر شریف سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ہے اور حضور کا ذکر اﷲ عزوجل کا ذکراور ذکر الہی سے بلاوجہ شرعی منع کرنا شیطان کا کام ہے اور ذکر شریف سے معاذاﷲ حضور کا ہتك حرمت ہونا قائل کا محض کذب وافتراء ہے ہاں بعض روایات موضوعہ واشعار نامشروعہ سے ایساہو تو اس سے مجلس شریف بری نہ ہوجائے گیجیسے بہت لوگ نماز میں تعدیل ارکان نہیں کرتے اور یہ حرام ہے۔
بلکہ درمختارمیں ہے:
فی شرح الوھبانیۃ لاتقبل شہادۃ بائع الاکفان والحنوط وکذاالدلال واعتمدہ قدری افندی فی واقعاتہ وذکرہ المصنف فی اجارۃ معینۃ معزیا للبزازیۃ وملخصہ انہا لاتقبل شہادہ الدلالین والصکاکین والوکلاء المفتعلۃ علی ابوابہم ونحوہ فی فتاوی مؤیدزادہ ۔ شرح الوہبانیہ میں ہے کفن وحنوط بیچنے والے کی گواہی قبول نہیں کی جائے گیاسی طرح دلال کی گواہی کا بھی حکم ہےقدری آفندی نے اپنی واقعات میں اس پر اعتماد کیا مصنف نے بزازیہ کی طرف منسوب کرتے ہوئے اجارہ معینہ میں اسے ذکر کیاہےاس کا خلاصہ یہ ہے کہ دلالوں اشٹام فروشوں اور ان وکلاء جولوگوں کے دروازوں پر چکر لگاتے ہیں وغیرہ کی گواہی قبول نہیں کی جائے گیفتاوی مؤید زادہ میں ایسے لوگوں کایہی حکم بیان ہواہے۔(ت)
دلال کاکام یہ ہے کہ مشتری سے بڑھوائے یا بائع سے گھٹوائے جوڑ توڑ لگا کر جھوٹ سچ ملاکر نرم گرم کراکر سودا کرادے اور اپنے ٹکے سیدھے کرےحضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو اس ذلیل لفظ سے تعبیر کرنا صریح توہین ہےاور حضور اقدس کی توہین کفراس سے بہتر لفظ خیال کیونکر آتا جب دل میں عظمت ہی نہیں۔
(۲)مجلس میلاد مبارك ذکر شریف سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ہے اور حضور کا ذکر اﷲ عزوجل کا ذکراور ذکر الہی سے بلاوجہ شرعی منع کرنا شیطان کا کام ہے اور ذکر شریف سے معاذاﷲ حضور کا ہتك حرمت ہونا قائل کا محض کذب وافتراء ہے ہاں بعض روایات موضوعہ واشعار نامشروعہ سے ایساہو تو اس سے مجلس شریف بری نہ ہوجائے گیجیسے بہت لوگ نماز میں تعدیل ارکان نہیں کرتے اور یہ حرام ہے۔
حوالہ / References
فتح القدیر باب من تقبل شہادۃ الخ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۶/ ۴۸۶
درمختار باب القبول وعدمہٖ مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۹۵
درمختار باب القبول وعدمہٖ مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۹۵
مگر اس سے خود نمازی بری نہ ہوجائے گیتشریف آوری حضور کے اختیارہے اور قیام تعظیمی ذکر قدوم شریف کے لئے ہے اور اﷲ عزوجل فرماتاہے:
" و من یعظم شعئر اللہ فانہا من تقوی القلوب ﴿۳۲﴾ " اور جو اﷲ کے نشانوں کی تعظیم کرے تو یہ دلوں کی پرہیزگاری سے ہے۔(ت)
(۳)اوپر کے جوابوں سے اس کا حکم ظاہر ہوگیا فقطواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۹۸: از مولمیں ملك برہما مرسلہ ابراہیم ۵ ربیع الاول شریف ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك مسلمان شخص جو ایك اسلامیہ مدرسہ میں جس میں قرآن شریف اور اردو اور ضروری دینیات کی تعلیم دی جاتی ہےمدرس اعلی ہے اس نے اپنے ماتحت مدرسین وطلبہ وغیرہ کی اطلاع کی غرض سے اس عبارت کے جواب میں جو دوسرے مدرس نے اپنے درجہ کی بورڈ پرلکھی تھی کہ:"ہر کہ پندونصیحت گوئی نخست برآں کارکن" (جو توکسی کو نصیحت کرے اس پر پہلے خود عمل کرے۔ت)یہ عبارت لکھائی ا س بورڈ پر کہ"کافر افسر کے حکم کی تعمیل کرنے کی ہمارے مذہب میں تاکید ہے"دوسرے روز ایك شخص نے مدرس اعلی سے دریافت کیا کہ یہ(عبارت بالا)کس نے لکھی ہے اور یہ کس کامذہب ہے جواب دیامیں نے لکھائی گومیرے قلم کی نہیں ہے آپ لکھ کر علماء سے دریافت کرلیں اور متولی صاحب وغیرہ سے کہیںاب سوال یہ ہے کہ کیایہ عبارت صحیح ہے قطع نظر اندیشہ وخوفشریعت میں کافر افسر کی حکم برداری کی تاکید آئی ہےاگر شریعت مطہرہ سے ایساحکم نہیں ہے تو جو شخص اس مذکورہ عبارت کو مذہبی حکم تاکیدی کہتاہو اور سوال کرنے پر جواب دے کہ دریافت کرو متولی صاحب وغیرہ سے کہو اس کے لئے کیاحکم ہےاور تاوقتیکہ وہ اپنے اس عقیدہ فاسدہ سے باز نہ آئے اورتوبہ نہ کرے اس پر سبقت سلام اورا س سے اختلاط بہترہے یا اجتناب مکرر التماس یہ ہے کہ استفتاء مدرس اعلی کو دکھایا گیا تو فرمایا کہ اس کے ساتھ یہ اور بڑھا دو کہ اگر کافر افسر کاحکم خلاف شرع محمدی نہ ہولہذا اب اس صورت میں یہ سوال ہے کہ اس عبارت کے زائد کرنے سے بھی کچھ حکم بدل جاوے گا یانہیں ان دونوں صورتوں میں ہر صورت کا کیا جواب ہوگا بینوا توجروا
الجواب:
اللھم ھدایۃ الحق والصواب(اے اللہ! ہمیں حق وصواب کی رہنمائی عطا فرما۔ت)
" و من یعظم شعئر اللہ فانہا من تقوی القلوب ﴿۳۲﴾ " اور جو اﷲ کے نشانوں کی تعظیم کرے تو یہ دلوں کی پرہیزگاری سے ہے۔(ت)
(۳)اوپر کے جوابوں سے اس کا حکم ظاہر ہوگیا فقطواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۹۸: از مولمیں ملك برہما مرسلہ ابراہیم ۵ ربیع الاول شریف ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك مسلمان شخص جو ایك اسلامیہ مدرسہ میں جس میں قرآن شریف اور اردو اور ضروری دینیات کی تعلیم دی جاتی ہےمدرس اعلی ہے اس نے اپنے ماتحت مدرسین وطلبہ وغیرہ کی اطلاع کی غرض سے اس عبارت کے جواب میں جو دوسرے مدرس نے اپنے درجہ کی بورڈ پرلکھی تھی کہ:"ہر کہ پندونصیحت گوئی نخست برآں کارکن" (جو توکسی کو نصیحت کرے اس پر پہلے خود عمل کرے۔ت)یہ عبارت لکھائی ا س بورڈ پر کہ"کافر افسر کے حکم کی تعمیل کرنے کی ہمارے مذہب میں تاکید ہے"دوسرے روز ایك شخص نے مدرس اعلی سے دریافت کیا کہ یہ(عبارت بالا)کس نے لکھی ہے اور یہ کس کامذہب ہے جواب دیامیں نے لکھائی گومیرے قلم کی نہیں ہے آپ لکھ کر علماء سے دریافت کرلیں اور متولی صاحب وغیرہ سے کہیںاب سوال یہ ہے کہ کیایہ عبارت صحیح ہے قطع نظر اندیشہ وخوفشریعت میں کافر افسر کی حکم برداری کی تاکید آئی ہےاگر شریعت مطہرہ سے ایساحکم نہیں ہے تو جو شخص اس مذکورہ عبارت کو مذہبی حکم تاکیدی کہتاہو اور سوال کرنے پر جواب دے کہ دریافت کرو متولی صاحب وغیرہ سے کہو اس کے لئے کیاحکم ہےاور تاوقتیکہ وہ اپنے اس عقیدہ فاسدہ سے باز نہ آئے اورتوبہ نہ کرے اس پر سبقت سلام اورا س سے اختلاط بہترہے یا اجتناب مکرر التماس یہ ہے کہ استفتاء مدرس اعلی کو دکھایا گیا تو فرمایا کہ اس کے ساتھ یہ اور بڑھا دو کہ اگر کافر افسر کاحکم خلاف شرع محمدی نہ ہولہذا اب اس صورت میں یہ سوال ہے کہ اس عبارت کے زائد کرنے سے بھی کچھ حکم بدل جاوے گا یانہیں ان دونوں صورتوں میں ہر صورت کا کیا جواب ہوگا بینوا توجروا
الجواب:
اللھم ھدایۃ الحق والصواب(اے اللہ! ہمیں حق وصواب کی رہنمائی عطا فرما۔ت)
حوالہ / References
القرآن الکریم ۲۲ /۳۲
مسلمانوں کے دینی مذہبی کام میں کسی کا افسر بننا دو۲طرح ہیں:
اول: قہری کہ کوئی شخص مذہبی دست اندازی کرکے بالجبر افسر بن بیٹھےجیسے فساق وظلماء امراء امامت نماز کیاکرتے تھے
دوم: ارادی کہ مسلمانوں کی جماعت خود اسے اپنے مذہبی کام میں پیشوا بنائے۔
اول: نہ زیربحث ہے نہ یہاں اس کلام ومکالمہ کا مفاد نہ محل اضطرار پر احکام اختیار
لاجرم دوم مراد اور وہی مفہوم ومستفاد یعنی باختیار خود کسی ہندو یا رافضی یا وہابی یا قادیانی کو مدرسہ دینیہ اسلامیہ پر افسر مقرر کیا گیا ہو اس کی نسبت مدرس کہتاہے کہ اس کاحکم ماننے کی ہمارے مذہب میں تاکید ہےہمارے مذہب سے اس نے اپنا کوئی خاص اختراعی مذہب دین اسلام سے جدا مراد لیا ہو تو:
" ویتبع غیر سبیل المؤمنین نولہ ما تولی ونصلہ جہنم وساءت مصیرا﴿۱۱۵ " اور جو مسلمانوں کی راہ سے جدا راہ چلے ہم اسے اس کے حال پر چھوڑ دیں گے اور اسے دوزخ میں داخل کریں گے اور کیا ہی بری جگہ ہے پلٹنے کی۔(ت)
کامصداق ہے اوراگر دین اسلام مرادلیا تو شریعت مطہرہ پر محض افتراء کیا اور:
" ان الذین یفترون علی اللہ الکذب لا یفلحون ﴿۱۱۶﴾ متع قلیل ۪ ولہم عذاب الیم ﴿۱۱۷﴾ " بیشك جو اﷲ پر جھوٹ باندھتے ہیں ان کا بھلانہ ہوگا تھوڑا برتنا ہے اور ان کے لئے دردناك عذاب۔(ت)
کا استحقاق ہے شریعت مطہرہ نے اسلامی کام پر بااختیار خود ایسوں کو افسر مقرر کرنا ہی کب جائز رکھا ہے نہ کہ ان کے احکام کی تصویب اور ان کے ماننے کی تاکیدان ھوالاضلال بعید(یہ واضح گمراہی کے علاوہ کچھ نہیں۔ت)اﷲ عزوجل فرماتاہے:
" یایہا الذین امنوا لا تتخذوا بطانۃ من دونکم لا یا لونکم خبلا ودوا ماعنتم قد بدت البغضاء من افوہہم وما تخفی صدورہم اکبر قد بینا لکم الایت ان کنتم تعقلون﴿۱۱۸﴾ ہانتم اولاء اے ایمان والو! غیروں کو اپنا رازدار نہ بناؤ وہ تمھارے نقصان رسانی میں کمی نہ کریں گے وہ جی سے چاہتے ہیں کہ تم مشقت میں پڑوبیرا ن کے مونہوں سے ظاہر ہوچکا ہے اور وہ جو ان کے سینوں میں دبا ہے اور بھی بڑا ہے ہم نے تمھارے سامنے نشانیاں
اول: قہری کہ کوئی شخص مذہبی دست اندازی کرکے بالجبر افسر بن بیٹھےجیسے فساق وظلماء امراء امامت نماز کیاکرتے تھے
دوم: ارادی کہ مسلمانوں کی جماعت خود اسے اپنے مذہبی کام میں پیشوا بنائے۔
اول: نہ زیربحث ہے نہ یہاں اس کلام ومکالمہ کا مفاد نہ محل اضطرار پر احکام اختیار
لاجرم دوم مراد اور وہی مفہوم ومستفاد یعنی باختیار خود کسی ہندو یا رافضی یا وہابی یا قادیانی کو مدرسہ دینیہ اسلامیہ پر افسر مقرر کیا گیا ہو اس کی نسبت مدرس کہتاہے کہ اس کاحکم ماننے کی ہمارے مذہب میں تاکید ہےہمارے مذہب سے اس نے اپنا کوئی خاص اختراعی مذہب دین اسلام سے جدا مراد لیا ہو تو:
" ویتبع غیر سبیل المؤمنین نولہ ما تولی ونصلہ جہنم وساءت مصیرا﴿۱۱۵ " اور جو مسلمانوں کی راہ سے جدا راہ چلے ہم اسے اس کے حال پر چھوڑ دیں گے اور اسے دوزخ میں داخل کریں گے اور کیا ہی بری جگہ ہے پلٹنے کی۔(ت)
کامصداق ہے اوراگر دین اسلام مرادلیا تو شریعت مطہرہ پر محض افتراء کیا اور:
" ان الذین یفترون علی اللہ الکذب لا یفلحون ﴿۱۱۶﴾ متع قلیل ۪ ولہم عذاب الیم ﴿۱۱۷﴾ " بیشك جو اﷲ پر جھوٹ باندھتے ہیں ان کا بھلانہ ہوگا تھوڑا برتنا ہے اور ان کے لئے دردناك عذاب۔(ت)
کا استحقاق ہے شریعت مطہرہ نے اسلامی کام پر بااختیار خود ایسوں کو افسر مقرر کرنا ہی کب جائز رکھا ہے نہ کہ ان کے احکام کی تصویب اور ان کے ماننے کی تاکیدان ھوالاضلال بعید(یہ واضح گمراہی کے علاوہ کچھ نہیں۔ت)اﷲ عزوجل فرماتاہے:
" یایہا الذین امنوا لا تتخذوا بطانۃ من دونکم لا یا لونکم خبلا ودوا ماعنتم قد بدت البغضاء من افوہہم وما تخفی صدورہم اکبر قد بینا لکم الایت ان کنتم تعقلون﴿۱۱۸﴾ ہانتم اولاء اے ایمان والو! غیروں کو اپنا رازدار نہ بناؤ وہ تمھارے نقصان رسانی میں کمی نہ کریں گے وہ جی سے چاہتے ہیں کہ تم مشقت میں پڑوبیرا ن کے مونہوں سے ظاہر ہوچکا ہے اور وہ جو ان کے سینوں میں دبا ہے اور بھی بڑا ہے ہم نے تمھارے سامنے نشانیاں
تحبونہم و لا یحبونکم وتؤمنون بالکتب کلہ و اذا لقوکم قالوا امنا٭ و اذا خلوا عضوا علیکم الانامل من الغیظ قل موتوا بغیظکم ان اللہ علیم بذات الصدور﴿۱۱۹﴾" کھول دیں اگر تم میں عقل ہے ارے یہ جو تم ہو تم تو ان سے محبت کرتے ہو وہ تم سے محبت نہیں کرتے اور تم پوری کتاب پر ایمان لائے ہو تم سے ملیں توکہیں ہم مسلمان ہیں اور اکیلے ہوں تو تم پر جلن سے اپنی انگلیاں چبائیںاے محبوب! تم ان سے فرمادو کہ اپنی جلن میں مرجاؤبیشك اﷲ دلوں کی جانتا ہے۔
حدیث میں ہے نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:
من استعمل رجلا من عصابۃ وفیہم من ھوارضی ﷲ منہ فقد خان اﷲ ورسولہ والمؤمنین ۔رواہ الحاکم صححہ والطبرانی والعقیلی وابن عدی والخطیب عن عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما۔ جس نے کسی جماعت پر ایك شخص کو مقرر کیا اور ان میں وہ موجود ہے جو اﷲ کو اس سے زیادہ پسند ہے تو ضرور اس نے اﷲ ورسول اور سب مسلمانوں سے خیانت کی(اسے حاکم نے حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے روایت کرکے صحیح کہاطبرانیعقیلیابن عدی اور خطیب نے بھی اسے عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے روایت کیا۔(ت)
غایۃ البیانعلامہ اتقانی وجامع الرموز وردالمحتار وغیرہا میں ہے:
لاینبغی ان یستعان بالکافر فی امور الدین ۔ دینی کاموں میں کافر سے مددنہ لینی چاہئے۔
یہ اس پر فرمایا کہ مسلمان اپنی قربانی کاجانور کسی یہودی سے ذبح کرائے نہ کہ دین وتعلیم دین کی افسری بالاختیار اسے دی جائے اﷲ تعالی فرماچکا کہ تمھاری خیرخواہی درکنار کبھی اپنی چلتی نقصان رسانی میں کمی نہ کریں گےحال کے بکثرت واقعات شاہد ہیں ہم وطن ہندو آج کل کتنا اتحاد واتفاق بگھاررہے ہیں اور مسلمانوں کی خاص رسم مذہبی قربانی گاؤ پر کیا ہی فتنے اٹھاتے فساد مچاتے ہیں قابو چلے پر کیا کچھ مسلمان لوٹے گئےذبح کئے گئےجلائے گئےاوروہابیہ وغیرہم مذکورین تو ہنود ویہود سے بھی بدرجہا بدترہیں کہ مسلمان بن کر اسلام کے گلے پر خنجر ہیںکما بیناہ فی غیر مارسالۃ(جیسا کہ متعدد رسائل میں ہم نے اسے
حدیث میں ہے نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:
من استعمل رجلا من عصابۃ وفیہم من ھوارضی ﷲ منہ فقد خان اﷲ ورسولہ والمؤمنین ۔رواہ الحاکم صححہ والطبرانی والعقیلی وابن عدی والخطیب عن عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما۔ جس نے کسی جماعت پر ایك شخص کو مقرر کیا اور ان میں وہ موجود ہے جو اﷲ کو اس سے زیادہ پسند ہے تو ضرور اس نے اﷲ ورسول اور سب مسلمانوں سے خیانت کی(اسے حاکم نے حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے روایت کرکے صحیح کہاطبرانیعقیلیابن عدی اور خطیب نے بھی اسے عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے روایت کیا۔(ت)
غایۃ البیانعلامہ اتقانی وجامع الرموز وردالمحتار وغیرہا میں ہے:
لاینبغی ان یستعان بالکافر فی امور الدین ۔ دینی کاموں میں کافر سے مددنہ لینی چاہئے۔
یہ اس پر فرمایا کہ مسلمان اپنی قربانی کاجانور کسی یہودی سے ذبح کرائے نہ کہ دین وتعلیم دین کی افسری بالاختیار اسے دی جائے اﷲ تعالی فرماچکا کہ تمھاری خیرخواہی درکنار کبھی اپنی چلتی نقصان رسانی میں کمی نہ کریں گےحال کے بکثرت واقعات شاہد ہیں ہم وطن ہندو آج کل کتنا اتحاد واتفاق بگھاررہے ہیں اور مسلمانوں کی خاص رسم مذہبی قربانی گاؤ پر کیا ہی فتنے اٹھاتے فساد مچاتے ہیں قابو چلے پر کیا کچھ مسلمان لوٹے گئےذبح کئے گئےجلائے گئےاوروہابیہ وغیرہم مذکورین تو ہنود ویہود سے بھی بدرجہا بدترہیں کہ مسلمان بن کر اسلام کے گلے پر خنجر ہیںکما بیناہ فی غیر مارسالۃ(جیسا کہ متعدد رسائل میں ہم نے اسے
حوالہ / References
القرآن الکریم ۳ /۱۱۹۔۱۱۸
المستدرك للحاکم کتاب الاحکام دارالفکر بیروت ۴/ ۹۲
ردالمحتار کتاب الاضحیۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۲۰۸
المستدرك للحاکم کتاب الاحکام دارالفکر بیروت ۴/ ۹۲
ردالمحتار کتاب الاضحیۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۲۰۸
بیان کیا۔ت)اگر وہاں دینی مدرسہ کا کسی ہندو یارافضی وہابی وغیرہ کو افسربنارکھاہےاس کی خوشامد میں مدرس نے یہ فقرہ لکھا جب تو اس کاحال یہ تھااور اگر کوئی افسر ایسا نہیں محض بلاوجہ مسلمانوں کے مذہبی مدرسہ پر غیر کی افسری فرض کرکے یہ حکم لکھا اور اعلان کے لئے بورڈ پر لگایا تو اس کے اور بھی مرض قلبی پر دال ہے اور بعد کو یہ تقیید کہ اس کاحکم خلاف شرع نہ ہوکیا مفید یہ شرط کیا مسلمان میں نہیںکیسا ہی جلیل القدر مسلمان افسر ہو اگرچہ خود اپناباپ یا استاد یا پیراس کاحکم وہی مانا جائے گا جو خلاف شرع نہ ہو لاطاعۃ لاحد فی معصیۃ اﷲ تعالی (اﷲ تعالی کی نافرمانی میں کسی کی اطاعت وفرمانبرداری نہیں کی جائے گی۔ت)یہ بیانات کہ ہم نے اوپر لکھے ان سے اور مدرس کے اندرونی بیرونی حالات سے اس کی مذہبی کیفیت کااندازہ کیا جائے اگر واقع میں ہنود یا وہابیہ وغیرہم کی طرف دینی امورمیں اس کا میلان ہے تو اس سے اجتناب لازم اور اختلاط ممنوعاوراگر ایسا نہیں بلکہ ایك بے معنی حماقت تھی کہ نادرا اس سے صادرہوئی تو تفہیم کردی جائے اگر اصرار نہ کرے اس سے ابتدا بسلام میں حرج نہیں جبکہ اور کوئی مانع شرعی نہ ہوواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۹۹: از الہ آباد دائرہ اجملیہ مسئولہ مولوی سید نذیر احمد صاحب ۱۶ جمادی الاولی ۱۳۳۸ھ
کیا ارشاد فرماتے ہیں علمائے اہلسنت وجماعت اس صورت میں کہ عام اہل اسلام کو بغرض استقامت امور دنیاویاتحاد کسی مشرك قوم سے اس طورپر کرنا کہ دسہرہ میں عام اہل اسلام شریك ہوکر ناقوس بجائیںپھول رام لچمھن پر چڑھائیںجے کی آواز بلند کریں یا قربانی میں گائے کی قربانی بند کردیں جائز ہے یاناجائز مرتکب ان امور کا کس وزر کا مستوجب ہے مع حوالہ عبارات جواب درکار ہے۔
الجواب:
مسلمان کو دسہرے کی شرکت حرام ہےبلکہ فقہاء نے اسے کفر کہا اور اس میں بہ نیت موافقت ہنود ناقوس بجانا بیشك کفر ہے اور معبود ان کفار پر پھول چڑھانا کہ ان کا طریقہ عبادت ہے اشد واخبث کفر اشباہ والنظائر وغیرہا معتمدات اسفار میں ہے:
عبادۃ الصنم کفرولااعتبار بما فی قلبہ وکذا لوصور عیسی علیہ الصلوۃ لیسجدلہوکذا اتخاذ الصنم لذلك وکذلوتزنربزنار الیھود بت کی عبادت کفرہےدل میں جو کچھ ہے اس کا اعتبار نہیں اسی طرح اس کاحکم ہے اگر حضرت عیسی علیہ السلام کی تصویر بناکر اسے سجدہ کیاا سی طرح سجدہ کےلئے بت بنانے کاحکم ہےاسی طرح اگر کسی نے
مسئلہ ۲۹۹: از الہ آباد دائرہ اجملیہ مسئولہ مولوی سید نذیر احمد صاحب ۱۶ جمادی الاولی ۱۳۳۸ھ
کیا ارشاد فرماتے ہیں علمائے اہلسنت وجماعت اس صورت میں کہ عام اہل اسلام کو بغرض استقامت امور دنیاویاتحاد کسی مشرك قوم سے اس طورپر کرنا کہ دسہرہ میں عام اہل اسلام شریك ہوکر ناقوس بجائیںپھول رام لچمھن پر چڑھائیںجے کی آواز بلند کریں یا قربانی میں گائے کی قربانی بند کردیں جائز ہے یاناجائز مرتکب ان امور کا کس وزر کا مستوجب ہے مع حوالہ عبارات جواب درکار ہے۔
الجواب:
مسلمان کو دسہرے کی شرکت حرام ہےبلکہ فقہاء نے اسے کفر کہا اور اس میں بہ نیت موافقت ہنود ناقوس بجانا بیشك کفر ہے اور معبود ان کفار پر پھول چڑھانا کہ ان کا طریقہ عبادت ہے اشد واخبث کفر اشباہ والنظائر وغیرہا معتمدات اسفار میں ہے:
عبادۃ الصنم کفرولااعتبار بما فی قلبہ وکذا لوصور عیسی علیہ الصلوۃ لیسجدلہوکذا اتخاذ الصنم لذلك وکذلوتزنربزنار الیھود بت کی عبادت کفرہےدل میں جو کچھ ہے اس کا اعتبار نہیں اسی طرح اس کاحکم ہے اگر حضرت عیسی علیہ السلام کی تصویر بناکر اسے سجدہ کیاا سی طرح سجدہ کےلئے بت بنانے کاحکم ہےاسی طرح اگر کسی نے
حوالہ / References
المستدرك للحاکم کتاب معرفۃ الصحابۃ دارالفکر بیروت ۳/ ۱۲۳
والنصاری دخل کنیستہم اولم یدخل ۔ یہود ونصاری کازنار باندھا خواہ ان کے گرجا میں داخل ہو ایانہ ہوا۔(ت)
تنویر الابصار ودرمختار میں ہے:
الاعطاء باسم النیروز والمھرجان(بان یقال ھدیۃ ھذا الیوم ش)لایجوز ای الھدایا باسم ھذین الیومین حرام وان قصد تعظیمہ کما یعظمہ المشرکون یکفر ۔ نیروز اور مہرجان کے نام پر عطیہ(بایں طور کہ کہا جائے یہ اس دن کا ہدیہ ہے ش)جائز نہیں یعنی ان دونوں ایام کے ناموں پر ہدایا دینا لینا حرام اور اگر مشرکین کی طرح ان کی تعظیم بھی کرے گاتو کفر ہوگا(ت)
بحرالرائق وعالمگیری ومجمع الانہر و جامع الفصولین میں ہے:
یکفربخروجہ الی نیروز المجوس والموافقۃ معہم فیما یفعلون فی ذلك الیوم وبشرائہ یوم النیروز شیئا لم یکن یشتریہ قبل ذلك تعظیما للنیروز لا للاکل والشرب وباھدائہ ذلك الیوم للمشرکین ولو بیضۃ تعظیما لذلك الیوم ۔ مجوسیوں کے ساتھ نیزوز میں اس طرح نکلنا کہ اس دن وہ جو کریں گے یہ ان کی موافقت کرے تو یہ کفرہےاسی طرح نیروز کے دن کی تعظیم کرتے ہوئے یا مشرکین کو ہدیہ دینے کے لئے کوئی چیز خریدی نہ کہ کھانے پینے کے لئے جبکہ وہ چیز اس سے پہلے نہیں خریدی تھی اگرچہ وہ انڈہ ہی کیوں نہ ہو تو کفر ہوگا۔(ت)
جامع الفصولین ومنح الروض الازہر میں ہے:
قال ابوبکر بن طرخان من خرج الی السدۃ(قال القاری ای مجمع اھل الکفر)کفر اذفیہ اعلان الکفر وکانہ اعان علیہ وعلی قیاس السدۃ الخروج الی النیروز والموافقۃ معہم فیما یفعلونہ شیخ ابوبکر بن طرخاں کہتے ہیں جو سدہ کی طرف نکلا(ملا علی قاری نے اس کا معنی اہل کفر کا اجتماع کیاہے)تو وہ کافر ہوجائے گا کیونکہ اس میں کفر کا اعلان ہے گویا اس نے کفرپر مدد کی اس پرقیاس ہےنیروز میں نکلنا اور اس دن ان کے
تنویر الابصار ودرمختار میں ہے:
الاعطاء باسم النیروز والمھرجان(بان یقال ھدیۃ ھذا الیوم ش)لایجوز ای الھدایا باسم ھذین الیومین حرام وان قصد تعظیمہ کما یعظمہ المشرکون یکفر ۔ نیروز اور مہرجان کے نام پر عطیہ(بایں طور کہ کہا جائے یہ اس دن کا ہدیہ ہے ش)جائز نہیں یعنی ان دونوں ایام کے ناموں پر ہدایا دینا لینا حرام اور اگر مشرکین کی طرح ان کی تعظیم بھی کرے گاتو کفر ہوگا(ت)
بحرالرائق وعالمگیری ومجمع الانہر و جامع الفصولین میں ہے:
یکفربخروجہ الی نیروز المجوس والموافقۃ معہم فیما یفعلون فی ذلك الیوم وبشرائہ یوم النیروز شیئا لم یکن یشتریہ قبل ذلك تعظیما للنیروز لا للاکل والشرب وباھدائہ ذلك الیوم للمشرکین ولو بیضۃ تعظیما لذلك الیوم ۔ مجوسیوں کے ساتھ نیزوز میں اس طرح نکلنا کہ اس دن وہ جو کریں گے یہ ان کی موافقت کرے تو یہ کفرہےاسی طرح نیروز کے دن کی تعظیم کرتے ہوئے یا مشرکین کو ہدیہ دینے کے لئے کوئی چیز خریدی نہ کہ کھانے پینے کے لئے جبکہ وہ چیز اس سے پہلے نہیں خریدی تھی اگرچہ وہ انڈہ ہی کیوں نہ ہو تو کفر ہوگا۔(ت)
جامع الفصولین ومنح الروض الازہر میں ہے:
قال ابوبکر بن طرخان من خرج الی السدۃ(قال القاری ای مجمع اھل الکفر)کفر اذفیہ اعلان الکفر وکانہ اعان علیہ وعلی قیاس السدۃ الخروج الی النیروز والموافقۃ معہم فیما یفعلونہ شیخ ابوبکر بن طرخاں کہتے ہیں جو سدہ کی طرف نکلا(ملا علی قاری نے اس کا معنی اہل کفر کا اجتماع کیاہے)تو وہ کافر ہوجائے گا کیونکہ اس میں کفر کا اعلان ہے گویا اس نے کفرپر مدد کی اس پرقیاس ہےنیروز میں نکلنا اور اس دن ان کے
حوالہ / References
اشباہ والنظائر کتاب السیر باب الردۃ ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ۱/ ۲۹۵
درمختار شرح تنویر الابصار باب مسائل شتی مطبع مجتائی دہلی ۲/ ۳۵۰،ردالمحتار باب مسائل شتی داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۴۸۱
مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر باب ان الالفاظ الکفر انواعٌ مطبع داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۶۹۸
درمختار شرح تنویر الابصار باب مسائل شتی مطبع مجتائی دہلی ۲/ ۳۵۰،ردالمحتار باب مسائل شتی داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۴۸۱
مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر باب ان الالفاظ الکفر انواعٌ مطبع داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۶۹۸
فی ذلك الیوم کفر ۔ موافق عمل کرنا کہ یہ بھی کفرہے۔(ت)
جے بولنا طریقہ کفار ہے اور رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من تشبہ بقوم فھو منہم ۔ جس نے کسی قوم کی مشابہت اختیار کرلی وہ انہی میں سے ہے۔(ت)
پھر اگر معبودان کفار کی جے ہے تو کفرہے اور اگر کافروں کی ہے تو فقہائے کرام اسے بھی کفرفرماتے ہیںفتوائے ظہیریہ واشباہ والنظائر وتنویر الابصار میں ہے:
لوسلم علی الذمی تبجیلا یکفر لان تبجیل الکافر کفرولوقال لمجوسی یااستاذ تبجیلاکفر ۔ اگر کسی نے تعظیم کرتے ہوئے ذمی کو سلام دیا تو کافر ہوجائے گا کیونکہ کافر کی تعظیم کفرہےاگر کسی نے مجوسی کو بطور تعظیم"اے استاذ"کہا تو کفرہے۔(ت)
بخاطر ہنود گائے کی قربانی بند کرنا حرام ہےوالتفصیل فی انفس الفکر فی قربان البقر(اس کی تفصیل ہماری کتاب"انفس الفکر فی قربان البقر"میں ملاحظہ کیجئے۔ت)مرتکب کاحکم انھیں احکام سے ظاہر جو مرتکب حرام ہے مستحق عذاب جہنم ہے ار جو مرتکب کفر فقہی ہے جیسے دسہرے کی شرکت یا کافروں کی جے بولنا اس پر تجدید اسلام لازم ہے اور اپنی عورت سے تجدید نکاح کرے اور جو قطعا کافرہوگیاجیسے دسہرے میں بطور مذکور ہنود کے ساتھ ناقوس بجانے یا معبودان کفار پر پھول چڑھانے والا کافر مرتدہوگیا اس کی عورت نکاح سے نکل گئی اگر تائب ہو اور اسلام لائے جب بھی عورت کو اختیار ہے بعد عدت جس سے چاہے نکاح کرلےاور بے توبہ مرجائے تواسے مسلمانوں کی طرح غسل وکفن دینا حرام اس کے جنازے کی شرکت حرام اسے مقابر مسلمین میں دفن کرنا حرام اس پر نماز پڑھنا حرام الی غیر ذلك من الاحکام(اس کے علاوہ دیگر احکام بھی۔ ت)واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۰۰ تا ۳۰۲: از میرٹھ لال کرتی بازار مسئولہ مولوی رحیم بخش صاحب مدرس مدرسہ اسلامیہ ۲۰جمادی الاولی ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین کہ بتقریب اتفاق ہندو مسلمانان میرٹھ میں
جے بولنا طریقہ کفار ہے اور رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من تشبہ بقوم فھو منہم ۔ جس نے کسی قوم کی مشابہت اختیار کرلی وہ انہی میں سے ہے۔(ت)
پھر اگر معبودان کفار کی جے ہے تو کفرہے اور اگر کافروں کی ہے تو فقہائے کرام اسے بھی کفرفرماتے ہیںفتوائے ظہیریہ واشباہ والنظائر وتنویر الابصار میں ہے:
لوسلم علی الذمی تبجیلا یکفر لان تبجیل الکافر کفرولوقال لمجوسی یااستاذ تبجیلاکفر ۔ اگر کسی نے تعظیم کرتے ہوئے ذمی کو سلام دیا تو کافر ہوجائے گا کیونکہ کافر کی تعظیم کفرہےاگر کسی نے مجوسی کو بطور تعظیم"اے استاذ"کہا تو کفرہے۔(ت)
بخاطر ہنود گائے کی قربانی بند کرنا حرام ہےوالتفصیل فی انفس الفکر فی قربان البقر(اس کی تفصیل ہماری کتاب"انفس الفکر فی قربان البقر"میں ملاحظہ کیجئے۔ت)مرتکب کاحکم انھیں احکام سے ظاہر جو مرتکب حرام ہے مستحق عذاب جہنم ہے ار جو مرتکب کفر فقہی ہے جیسے دسہرے کی شرکت یا کافروں کی جے بولنا اس پر تجدید اسلام لازم ہے اور اپنی عورت سے تجدید نکاح کرے اور جو قطعا کافرہوگیاجیسے دسہرے میں بطور مذکور ہنود کے ساتھ ناقوس بجانے یا معبودان کفار پر پھول چڑھانے والا کافر مرتدہوگیا اس کی عورت نکاح سے نکل گئی اگر تائب ہو اور اسلام لائے جب بھی عورت کو اختیار ہے بعد عدت جس سے چاہے نکاح کرلےاور بے توبہ مرجائے تواسے مسلمانوں کی طرح غسل وکفن دینا حرام اس کے جنازے کی شرکت حرام اسے مقابر مسلمین میں دفن کرنا حرام اس پر نماز پڑھنا حرام الی غیر ذلك من الاحکام(اس کے علاوہ دیگر احکام بھی۔ ت)واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۰۰ تا ۳۰۲: از میرٹھ لال کرتی بازار مسئولہ مولوی رحیم بخش صاحب مدرس مدرسہ اسلامیہ ۲۰جمادی الاولی ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین کہ بتقریب اتفاق ہندو مسلمانان میرٹھ میں
حوالہ / References
جامع الفصولین فصل فی مسائل کلمات الکفر اسلامی کتب خانہ کراچی ۲/ ۳۱۳،منح الروض الازہر فصل فی الکفر صریحا وکنایۃ مصطفی البابی مصر ص۱۸۶
مسند امام احمد بن حنبل حدیث ابن عمررضی اﷲ تعالٰی عنہ دارالفکر بیروت ۲/۵۰
الاشباہ والنظائر کتاب السیر باب الردۃ ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ۱/ ۲۸۸،درمختار کتاب الحظر فصل فی البیع مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۵۱
مسند امام احمد بن حنبل حدیث ابن عمررضی اﷲ تعالٰی عنہ دارالفکر بیروت ۲/۵۰
الاشباہ والنظائر کتاب السیر باب الردۃ ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ۱/ ۲۸۸،درمختار کتاب الحظر فصل فی البیع مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۵۱
ایك جلوس مہاتما گاندھی جی کا نکالا گیا جس میں ہندو مسلمانان سب شریك تھےعلاوہ دیگر واقعات کے ایك واقعہ مسلمانان میرٹھ کا یہ ہوا کہ ہندوؤں نے مسلمانوں کے عین جلوس میں قشقہ چندن وغیرہ مسلمانوں کے ماتھے پر لگایا ہے چندن لگوانے اور لگوانے والے مسلمانوں سے معلوم ہواہے کہ اس چندن لگانے میں ہندوؤں کی طرف سے کوئی جبر نہ تھا چنانچہ جن مسلمانوں نے انکار کیا انھوں نے انکار کرنے والے مسلمانوں کے ماتھے پر نہیں لگایا اب اس جلوس میں شریك ہونے والے مسلمانوں کی تین قسمیں تھیں جو بترتیب ذیل درج سوال ہیں امیدکہ ہر ایك کاحکم شرع شریف علمائے کرام" لا یخافون لومۃ لائم " وہ کسی ملامت کرنے والے کاخوف نہیں رکھتے۔ ت) کی شان پیش نظر فرماتے ہوئے تحریر فرماکر عنداﷲ ماجور ہوں:
(۱) جو مسلمان اس جلسہ میں شریك ہوئے اور چندن لگوانے سے انکار کیا ان کی شرکت اس جلوس میں ازروئے شریعت کیسی تھی۔
(۲) جن مسلمانوں نے چندن لگوانے سے ہندوؤں کو روکا نہیں بلکہ لگوایا پھر بعد کو اسی وقت یا تھوڑی دیر بعد اس جلسہ میں اپنے ہاتھوں اور رومالوں سے صاف کرلیا ان کاکیاحکم ہے
(۳) جن مسلمانوں نے چندن لگوایا اور چندن لگائے ہوئے جلسہ میں شریك رہے بلکہ چندن لگائے ہوئے اپنے گھروں پر واپس آئے یا شام تك لگا ئے رہے ان کی بابت حکم شرع شریف کیاہے
الجواب:
حرام حرام سخت حرام تھی بلکہ فقہائے کرام کے طورپر حکم سخت تر رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من جامع المشرك وسکن معہ فانہ مثلہ رواہ ابو داؤد بسند حسن و علقہ الترمذی عن سمرۃ بن جندب رضی اﷲ تعالی عنہ۔ جس نے کسی مشرك کے ساتھ اتفاق کیا اور اسی کے ساتھ ٹھہرا وہ اسی کے مثل ہوگا اسے ابوداؤد نے حضرت جندب رضی اﷲ تعالی عنہ سے سند حسن سے اور ترمذی نے تعلیقا بیان کیا۔ (ت)
دوسری حدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
(۱) جو مسلمان اس جلسہ میں شریك ہوئے اور چندن لگوانے سے انکار کیا ان کی شرکت اس جلوس میں ازروئے شریعت کیسی تھی۔
(۲) جن مسلمانوں نے چندن لگوانے سے ہندوؤں کو روکا نہیں بلکہ لگوایا پھر بعد کو اسی وقت یا تھوڑی دیر بعد اس جلسہ میں اپنے ہاتھوں اور رومالوں سے صاف کرلیا ان کاکیاحکم ہے
(۳) جن مسلمانوں نے چندن لگوایا اور چندن لگائے ہوئے جلسہ میں شریك رہے بلکہ چندن لگائے ہوئے اپنے گھروں پر واپس آئے یا شام تك لگا ئے رہے ان کی بابت حکم شرع شریف کیاہے
الجواب:
حرام حرام سخت حرام تھی بلکہ فقہائے کرام کے طورپر حکم سخت تر رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من جامع المشرك وسکن معہ فانہ مثلہ رواہ ابو داؤد بسند حسن و علقہ الترمذی عن سمرۃ بن جندب رضی اﷲ تعالی عنہ۔ جس نے کسی مشرك کے ساتھ اتفاق کیا اور اسی کے ساتھ ٹھہرا وہ اسی کے مثل ہوگا اسے ابوداؤد نے حضرت جندب رضی اﷲ تعالی عنہ سے سند حسن سے اور ترمذی نے تعلیقا بیان کیا۔ (ت)
دوسری حدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
حوالہ / References
القرآن الکریم ۵ /۵۴
سنن ابوداؤد کتاب الجہاد با ب فی الاقامۃ بارض الشرك آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۲۹
سنن ابوداؤد کتاب الجہاد با ب فی الاقامۃ بارض الشرك آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۲۹
من سود مع قوم فہو منہم ۔ رواہ الخطیب عن انس بن مالك رضی اﷲ تعالی عنہ۔ جس نے کسی قوم کی کثرت بڑھائی وہ انہی میں سے ہوگا اسے خطیب نے حضرت انس بن مالك رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا۔ (ت)
تیسری حدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من کثر سواد قوم فہو منہم ۔ رواہ ابویعلی فی مسندہ وعلی بن معبد فی کتاب الطاعۃ والمعصیۃ عن عبداﷲ بن مسعود وابن المبارك فی الزھد عن ابی ذر من قولہ رضی اﷲ تعالی عنہما۔ جس نے کسی قوم کا جتھا بڑھایا پس وہ انہی میں سے ہوگا اسے ابویعلی نے مسند میں اورعلی بن معبد نے کتاب الطاعۃ و المعصیۃ میں حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ سے مرفوعا اور ابن مبارك نے زہد میں حضرت ابوذر رضی اﷲ تعالی عنہ کے ارشاد کے طورپر نقل کیا۔ (ت)
مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر وفتاوی ظہیریہ واشباہ والنظائر وتنویرالابصار ودرمختار وغیرہا میں ہے:
یکفر بتبجیل الکافر حتی لو سلم علی الذمی تبجیلا کفروبقولہ للمجوسی یااستاذ تبجیلا ۔ کافر کی تعظیم کفر ہے حتی کہ اگر کسی نے ذمی کو تعظیما سلام کہا تو یہ کفر ہے کسی نے مجوسی کو بطور تعظیما"یااستاد"کہا تو یہ بھی کفرہے۔ (ت)
(۲) قشقہ کہ ماتھے پر لگایا جاتاہے صرف شعار کفارنہیں بلکہ خاص شعار کفر بلکہ اس سے بھی اخبث خاص طریقہ عبادت مہادیو وغیرہ اصنام سے ہے اور اس کے لگانے پر راضی ہونا کفر پر رضا ہے اور اپنے لئے ثبوت کفر پر رضا بالاجماع کفرہے منح الروض الازہر میں ہے:
من رضی بکفر نفسہ فقد کفر ای اجماعاوبکفر غیرہ اختلف المشائخ ۔ جو اپنی ذات کے کفرپر خوش ہو اور وہ بالاتفاق کافرہے او رجو کسی کے کفر پر خوش ہوا اس کے بارے میں مشائخ کا اختلاف ہے۔ (ت)
تیسری حدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من کثر سواد قوم فہو منہم ۔ رواہ ابویعلی فی مسندہ وعلی بن معبد فی کتاب الطاعۃ والمعصیۃ عن عبداﷲ بن مسعود وابن المبارك فی الزھد عن ابی ذر من قولہ رضی اﷲ تعالی عنہما۔ جس نے کسی قوم کا جتھا بڑھایا پس وہ انہی میں سے ہوگا اسے ابویعلی نے مسند میں اورعلی بن معبد نے کتاب الطاعۃ و المعصیۃ میں حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ سے مرفوعا اور ابن مبارك نے زہد میں حضرت ابوذر رضی اﷲ تعالی عنہ کے ارشاد کے طورپر نقل کیا۔ (ت)
مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر وفتاوی ظہیریہ واشباہ والنظائر وتنویرالابصار ودرمختار وغیرہا میں ہے:
یکفر بتبجیل الکافر حتی لو سلم علی الذمی تبجیلا کفروبقولہ للمجوسی یااستاذ تبجیلا ۔ کافر کی تعظیم کفر ہے حتی کہ اگر کسی نے ذمی کو تعظیما سلام کہا تو یہ کفر ہے کسی نے مجوسی کو بطور تعظیما"یااستاد"کہا تو یہ بھی کفرہے۔ (ت)
(۲) قشقہ کہ ماتھے پر لگایا جاتاہے صرف شعار کفارنہیں بلکہ خاص شعار کفر بلکہ اس سے بھی اخبث خاص طریقہ عبادت مہادیو وغیرہ اصنام سے ہے اور اس کے لگانے پر راضی ہونا کفر پر رضا ہے اور اپنے لئے ثبوت کفر پر رضا بالاجماع کفرہے منح الروض الازہر میں ہے:
من رضی بکفر نفسہ فقد کفر ای اجماعاوبکفر غیرہ اختلف المشائخ ۔ جو اپنی ذات کے کفرپر خوش ہو اور وہ بالاتفاق کافرہے او رجو کسی کے کفر پر خوش ہوا اس کے بارے میں مشائخ کا اختلاف ہے۔ (ت)
حوالہ / References
تاریخ بغداد حدیث نمبر ۵۱۶۷ عبداﷲ بن عتاب الشاہد العبدی دارالکتاب العربی بیروت ۱۰/ ۴۱
نصب الرایہ لاحادیث الہدایہ بحوالہ مسند ابی یعلی کتاب الطاعۃ والمعصیۃ الخ المکتبۃ الاسلامیہ ریاض ۴/ ۳۴۶
الاشباہ والنظائر کتاب السیر والردۃ ادارۃ القرآن کراچی ۱/ ۲۸۸
منح الروض الازہر شرح الفقہ الاکبر فصل فی الکفر صریحا وکنایۃ مصطفی البابی مصر ص۸۰۔ ۱۷۹
نصب الرایہ لاحادیث الہدایہ بحوالہ مسند ابی یعلی کتاب الطاعۃ والمعصیۃ الخ المکتبۃ الاسلامیہ ریاض ۴/ ۳۴۶
الاشباہ والنظائر کتاب السیر والردۃ ادارۃ القرآن کراچی ۱/ ۲۸۸
منح الروض الازہر شرح الفقہ الاکبر فصل فی الکفر صریحا وکنایۃ مصطفی البابی مصر ص۸۰۔ ۱۷۹
اور کفر پر رضا جیسی سوبرس کے لئے ویسے ہی ایك لمحہ کے لئے پونچھ ڈالنے سے کفر جو واقع ہولیا مٹ نہ جائیگا جب تك از سر نو اسلام نہ لائے جیسے جومہادیو کے آگے دن بھر سجدہ میں پڑ رہے وہ بھی کافر اور جو سجدہ کرکے سراٹھائے وہ بھی کافر والعیاذ باﷲ تعالی۔
(۳) وہ کافر تھے یہ اکفر ہوئے دونوں فریق اسلام سے نکل گئے اور ان کی عورتیں ان کے نکاح سے ان پر ویسے ہی مجمع کثیر میں علی الاعلان توبہ کرنا از سرنو مسلمان ہونا فرض ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اذا عملت سیئۃ فاحدث عندھا توبۃ السر بالسرو العلانیۃ بالعلانیۃ رواہ الامام احمد فی الزھد و الطبرانی فی الکبیر بسندحسن عن معاذ بن جبل رضی اﷲ تعالی عنہ ۔ واﷲ تعالی اعلم۔ جب کوئی برائی کاارتکاب کرے تو توبہ بھی اسی طرح کی جائے مثلا خفیہ گناہ پر خفیہ توبہ اور اعلانیہ گناہ پر اعلانیہ توبہ ضروری ہے اسے امام احمد نے زہد میں اور امام طبرانی نے المعجم الکبیر میں سند حسن کے ساتھ حضرت معاذ بن جبل رضی اﷲ تعالی عنہ سے نقل کیاہے۔ واﷲ تعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۳۰۳ تا ۳۰۵: ا زچھاؤنی میرٹھ صدر بازار مدرسہ امداد الاسلام معرفت مولوی عبدالمومن صاحب مدرس مسئولہ حافظ شیر محمد خاں امام مسجد وطالب علم مدرسہ ۲۰ جماد ی الاولی ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسائل ذیل میں :
(۱) اگر قوم ہنود کا کوئی جلسہ ہو اور اس میں بہت سے مسلمان برضا ورغبت شامل ہوں اور ہندو مثل اپنے مسلمانوں کی
پیشانیوں پر بھی چندن لگائیں اور مسلمان بخوشی لگوائیں اور تااختتام جلسہ اس کواپنی پیشانیوں پرباقی رکھیں تو مسلمانوں کا اپنی پیشانیوں پرقشقہ یعنی چندن لگوانا ان کے اسلام یانکاح کے متعلق کیا حکم رکھتاہے
(۲) اسی جلسہ کے ہندو لیڈر کی مسلمانوں کوجے پکارنا جائز ہے یاناجائز اور اس کا کیاحکم ہے
(۳) اور اگر بعض مسلمانوں کے بلا ان کے رضاورغبت کے چندن لگادیا گیا ہو اور انھوں نے اس کو فورا پونچھ دیا ہو تو ان کے متعلق کیاحکم ہے
الجواب:
(۱) بخوشی لگانے دینا اور خود لگانا ایك ہی حکم ہے شراب یاپیشاب خود پئے یادوسرا پلائے اور یہ منہ
(۳) وہ کافر تھے یہ اکفر ہوئے دونوں فریق اسلام سے نکل گئے اور ان کی عورتیں ان کے نکاح سے ان پر ویسے ہی مجمع کثیر میں علی الاعلان توبہ کرنا از سرنو مسلمان ہونا فرض ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اذا عملت سیئۃ فاحدث عندھا توبۃ السر بالسرو العلانیۃ بالعلانیۃ رواہ الامام احمد فی الزھد و الطبرانی فی الکبیر بسندحسن عن معاذ بن جبل رضی اﷲ تعالی عنہ ۔ واﷲ تعالی اعلم۔ جب کوئی برائی کاارتکاب کرے تو توبہ بھی اسی طرح کی جائے مثلا خفیہ گناہ پر خفیہ توبہ اور اعلانیہ گناہ پر اعلانیہ توبہ ضروری ہے اسے امام احمد نے زہد میں اور امام طبرانی نے المعجم الکبیر میں سند حسن کے ساتھ حضرت معاذ بن جبل رضی اﷲ تعالی عنہ سے نقل کیاہے۔ واﷲ تعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۳۰۳ تا ۳۰۵: ا زچھاؤنی میرٹھ صدر بازار مدرسہ امداد الاسلام معرفت مولوی عبدالمومن صاحب مدرس مسئولہ حافظ شیر محمد خاں امام مسجد وطالب علم مدرسہ ۲۰ جماد ی الاولی ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسائل ذیل میں :
(۱) اگر قوم ہنود کا کوئی جلسہ ہو اور اس میں بہت سے مسلمان برضا ورغبت شامل ہوں اور ہندو مثل اپنے مسلمانوں کی
پیشانیوں پر بھی چندن لگائیں اور مسلمان بخوشی لگوائیں اور تااختتام جلسہ اس کواپنی پیشانیوں پرباقی رکھیں تو مسلمانوں کا اپنی پیشانیوں پرقشقہ یعنی چندن لگوانا ان کے اسلام یانکاح کے متعلق کیا حکم رکھتاہے
(۲) اسی جلسہ کے ہندو لیڈر کی مسلمانوں کوجے پکارنا جائز ہے یاناجائز اور اس کا کیاحکم ہے
(۳) اور اگر بعض مسلمانوں کے بلا ان کے رضاورغبت کے چندن لگادیا گیا ہو اور انھوں نے اس کو فورا پونچھ دیا ہو تو ان کے متعلق کیاحکم ہے
الجواب:
(۱) بخوشی لگانے دینا اور خود لگانا ایك ہی حکم ہے شراب یاپیشاب خود پئے یادوسرا پلائے اور یہ منہ
حوالہ / References
کنزالعمال بحوالہ احمد بن حنبل فی الزھد حدیث ۱۰۱۸۰ موسسۃ الرسالہ بیروت ۴/ ۲۰۹
کھول دے دونوں ایك ہی ہیں قشقہ زنار کی طرح شعار کفربلکہ اس سے بدتر شعار بت پرستی ہے۔ زنار بعض ملکوں کے یہود ونصاری میں بھی ہے اور قشقہ خاص علامت وشعارمذہب مشرکین وعبدۃ الاصنام وہ لوگ اسلام سے خارج ہوگئےاور ان کی عورتیں ان کے نکاح سے اشباہ والنظائر میں ہے:
عبادۃ الصنم والاعتبار بما فی قلبہ وکذا لوتزنربزنار الیہود والنصاری دخل کنیستہم اولم یدخل ۔ بت کی عبادت کفرہے جو دل میں تھا اس کا اعتبار نہیں اسی طرح حکم ہے اگر یہود ونصاری کازنار باندھا خواہ ان کے گرجا میں داخل ہو یانہ ہو (ت)
خلاصہ وظہیریہ ومحیط ومنح الروض الازہر وغیرہ کتب معتمدہ میں ہے:
واللفظ لھذافی الخلاصۃ من تزنربزنار الیہود والنصاری وان لم یدخل کنیستہم کفرومن شد علی وسطہ حبلاوقال ھذا زنار کفر وفی الظہیریۃ وحرم الزوج وفی المحیط لان ھذا تصریح بما ھو کفر وفی الظہیریۃ من وضع قلنسوۃ المجوس علی رأسہ فقیل لہ فقال ینبغی ان یکون القلب سویا کفر ۔ خلاصہ میں الفاظ یہ ہیں اگر کسی نے یہود ونصاری کی طرح زنار باندھا تو کفرہے اگرچہ ان کے گرجا میں داخل نہ ہو اور جس نے کمر میں رسی باندھی اور کہا یہ زنارہے وہ کافر ہوجائے گا ظہیریہ میں ہے اس پر بیوی حرام ہوجائے گی محیط میں ہے کیونکہ یہ صراحۃ کفرہے ظہیریہ میں ہے: جس نے مجوسی کی ٹوپی پہنی اس پر اعتراض کیا گیا تو کہا دل درست ہوناچاہئے تو یہ کفر ہے۔ (ت)
فتاوی امام طاہر بخاری وبحرالرائق وتنویر الابصار ودرمختار وعالمگیری وغیرہامیں ہے:
واللفظ للاول من اھدی بیضۃ الی المجوس یوم النور وزکفر ۔ یہ پہلی کتاب کے الفاظ ہیں جس نے نوروز کے دن کسی مجوسی کو انڈہ بھی تحفہ میں دیاتویہ کفرہے۔ (ت)
شرح فقہ اکبر میں ہے:
ای لانہ اعانہ علی کفرہ واغوائہ اوتشبہ بہم فی اھدائہ ۔ کیونکہ یہ کفر واغوا پر مددہے یا ان کے ساتھ ہدایا میں مشابہت ہے۔ (ت)
عبادۃ الصنم والاعتبار بما فی قلبہ وکذا لوتزنربزنار الیہود والنصاری دخل کنیستہم اولم یدخل ۔ بت کی عبادت کفرہے جو دل میں تھا اس کا اعتبار نہیں اسی طرح حکم ہے اگر یہود ونصاری کازنار باندھا خواہ ان کے گرجا میں داخل ہو یانہ ہو (ت)
خلاصہ وظہیریہ ومحیط ومنح الروض الازہر وغیرہ کتب معتمدہ میں ہے:
واللفظ لھذافی الخلاصۃ من تزنربزنار الیہود والنصاری وان لم یدخل کنیستہم کفرومن شد علی وسطہ حبلاوقال ھذا زنار کفر وفی الظہیریۃ وحرم الزوج وفی المحیط لان ھذا تصریح بما ھو کفر وفی الظہیریۃ من وضع قلنسوۃ المجوس علی رأسہ فقیل لہ فقال ینبغی ان یکون القلب سویا کفر ۔ خلاصہ میں الفاظ یہ ہیں اگر کسی نے یہود ونصاری کی طرح زنار باندھا تو کفرہے اگرچہ ان کے گرجا میں داخل نہ ہو اور جس نے کمر میں رسی باندھی اور کہا یہ زنارہے وہ کافر ہوجائے گا ظہیریہ میں ہے اس پر بیوی حرام ہوجائے گی محیط میں ہے کیونکہ یہ صراحۃ کفرہے ظہیریہ میں ہے: جس نے مجوسی کی ٹوپی پہنی اس پر اعتراض کیا گیا تو کہا دل درست ہوناچاہئے تو یہ کفر ہے۔ (ت)
فتاوی امام طاہر بخاری وبحرالرائق وتنویر الابصار ودرمختار وعالمگیری وغیرہامیں ہے:
واللفظ للاول من اھدی بیضۃ الی المجوس یوم النور وزکفر ۔ یہ پہلی کتاب کے الفاظ ہیں جس نے نوروز کے دن کسی مجوسی کو انڈہ بھی تحفہ میں دیاتویہ کفرہے۔ (ت)
شرح فقہ اکبر میں ہے:
ای لانہ اعانہ علی کفرہ واغوائہ اوتشبہ بہم فی اھدائہ ۔ کیونکہ یہ کفر واغوا پر مددہے یا ان کے ساتھ ہدایا میں مشابہت ہے۔ (ت)
حوالہ / References
الاشباہ والنظائر کتاب السیر والردۃ ادارۃ القرآن کراچی ۱/ ۲۹۵
منح الروض الازہر شرح الفقہ الاکبر فصل فی الکفر صریحا وکنایۃ مصطفی البابی مصر ص۱۸۵
خلاصۃ الفتاوٰی الجنس السادس فی تشبیہ الکفار مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ پاکستان ۴/ ۳۸۷
منح الروض الازہر شرح الفقہ الاکبر فصل فی الکفر صریحا وکنایۃ مصطفی البابی مصر ص۱۸۶
منح الروض الازہر شرح الفقہ الاکبر فصل فی الکفر صریحا وکنایۃ مصطفی البابی مصر ص۱۸۵
خلاصۃ الفتاوٰی الجنس السادس فی تشبیہ الکفار مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ پاکستان ۴/ ۳۸۷
منح الروض الازہر شرح الفقہ الاکبر فصل فی الکفر صریحا وکنایۃ مصطفی البابی مصر ص۱۸۶
شفا شریف واعلام بقواطع الاسلام میں ہے:
کذا (ای یکفر) من فعل فعلا اجمع المسلمون علی انہ لایصدر الامن کافر وان کان صاحبہ مصر حا بالاسلام مع فعلہ کالمشی الی الکنائس مع اھلہا بزیھم من الزنانیر وغیرھا ۔ اسی طرح وہ بھی کافرہے جس نے ایسا عمل کیا جس کے بارے میں تمام مسلمانوں کا اتفاق ہے کہ یہ صرف کافروں سے صادر ہوسکتاہے اگرچہ وہ شخص اس فعل کے ساتھ اپنے مسلمان ہونے کا اعلان کرتاپھرے مثلا اہل زنانیر کے ساتھ زنار پہن کر ان کے گرجوں میں جانا (ت)
(۲) حرام حرام سخت حرام جے بولنا ہنود کا شعارہے اور ہندو لیڈر کی جے پکارنا بحکم فقہائے کرام خود کفرہے حدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اذا مدح الفاسق غضب الرب واھتز لذلك العرش ۔ رواہ ابن ابی الدنیا فی ذم الغیبۃ وابویعلی فی مسندہ والبیہقی فی شعب الایمان عن انس بن مالك وابن عدی عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہما۔ جب فاسق کی مدح کی جاتی ہے رب عزوجل غضب فرماتاہے اور عرش الہی ہل جاتاہے (اسے امام ابن ابی الدنیا نے"ذم الغیبۃ"میں ابویعلی نے اپنی مسند میں بیہقی نے شعب الایمان میں انس بن مالك رضی اﷲ تعالی عنہ سے اور ابن عدی نے حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا۔ ت)
فاسق کا یہ حال ہے نہ کہ مشرک فتاوی امام ظہیرالدین واشباہ علامہ محقق بحرومتن شیخ الاسلام غزی تمرتاشی وشرح مدقق علائی دمشقی ومجمع الانہر علامہ شیخی زادہ رومی وغیرہا میں ہے:
تبجیل الکافر کفر فلو سلم علی الذمی تبجیلا کفر ولوقال للمجوسی یااستاذی تبجیلا کفر ۔ کافر کی تعظیم وتوقیر کفرہے اگر کسی نے ذمی کو بطور توقیر سلام کیا تو یہ کفرہے اگر کسی نے مجوسی کو تعظیما"یا استاد"کہا تویہ بھی کفر ہے۔ (ت)
(۳) قشقہ کاکفران پر عائد نہیں مگر ایسی جگہ کیوں گئے کہ یہ نوبت پہنچی ایسے جلسے کی شرکت ہی حرام تھی۔
کذا (ای یکفر) من فعل فعلا اجمع المسلمون علی انہ لایصدر الامن کافر وان کان صاحبہ مصر حا بالاسلام مع فعلہ کالمشی الی الکنائس مع اھلہا بزیھم من الزنانیر وغیرھا ۔ اسی طرح وہ بھی کافرہے جس نے ایسا عمل کیا جس کے بارے میں تمام مسلمانوں کا اتفاق ہے کہ یہ صرف کافروں سے صادر ہوسکتاہے اگرچہ وہ شخص اس فعل کے ساتھ اپنے مسلمان ہونے کا اعلان کرتاپھرے مثلا اہل زنانیر کے ساتھ زنار پہن کر ان کے گرجوں میں جانا (ت)
(۲) حرام حرام سخت حرام جے بولنا ہنود کا شعارہے اور ہندو لیڈر کی جے پکارنا بحکم فقہائے کرام خود کفرہے حدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اذا مدح الفاسق غضب الرب واھتز لذلك العرش ۔ رواہ ابن ابی الدنیا فی ذم الغیبۃ وابویعلی فی مسندہ والبیہقی فی شعب الایمان عن انس بن مالك وابن عدی عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہما۔ جب فاسق کی مدح کی جاتی ہے رب عزوجل غضب فرماتاہے اور عرش الہی ہل جاتاہے (اسے امام ابن ابی الدنیا نے"ذم الغیبۃ"میں ابویعلی نے اپنی مسند میں بیہقی نے شعب الایمان میں انس بن مالك رضی اﷲ تعالی عنہ سے اور ابن عدی نے حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا۔ ت)
فاسق کا یہ حال ہے نہ کہ مشرک فتاوی امام ظہیرالدین واشباہ علامہ محقق بحرومتن شیخ الاسلام غزی تمرتاشی وشرح مدقق علائی دمشقی ومجمع الانہر علامہ شیخی زادہ رومی وغیرہا میں ہے:
تبجیل الکافر کفر فلو سلم علی الذمی تبجیلا کفر ولوقال للمجوسی یااستاذی تبجیلا کفر ۔ کافر کی تعظیم وتوقیر کفرہے اگر کسی نے ذمی کو بطور توقیر سلام کیا تو یہ کفرہے اگر کسی نے مجوسی کو تعظیما"یا استاد"کہا تویہ بھی کفر ہے۔ (ت)
(۳) قشقہ کاکفران پر عائد نہیں مگر ایسی جگہ کیوں گئے کہ یہ نوبت پہنچی ایسے جلسے کی شرکت ہی حرام تھی۔
حوالہ / References
اعلام بقواطع الاسلام مع سبل النجاۃ فصل فی آخرالخطاء مکتبہ الحقیقیہ استنبول ترکی ص۳۷۸
شعب الایمان حدیث ۴۸۸۶ دارالکتب العلمیہ بیروت ۴/ ۲۳۰
الاشباہ والنظائر باب السیر والردۃ ادارۃ القرآن کراچی ۱/ ۲۸۸
شعب الایمان حدیث ۴۸۸۶ دارالکتب العلمیہ بیروت ۴/ ۲۳۰
الاشباہ والنظائر باب السیر والردۃ ادارۃ القرآن کراچی ۱/ ۲۸۸
ہاں ایك دقیقہ اور ہے اور بلارضا ورغبت ہوناا ور اوراس فعل شنیع کی انتہا درجے تك کراہت وناگواری اور اگر اس کی رغبت نہ تھی اور جس نے لگایااس کے ساتھ اس نے وہی برتاؤکیا جو بلاوجہ منہ پر جوتا مارنے والے کے ساتھ کرتا جب تو جانے کہ واقعی اس نے اس کفر کو مکروہ وناگوار رکھا اور اگر ہنس کر چپ رہا اور پونچھ ڈالا یا بقدر ضرورت اس پر نہ بگڑا توجانئے کہ کراہت بھی نہیں گو رغبت نہ ہو ولاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم۔ واﷲ تعالی اعم۔
مسئلہ ۳۰۶: ا زمیرٹھ صدر بازار مچھلی محلہ پیتم درزی کی مسجد مرسلہ حکیم عبدالرحمن صاحب ۲۴ جمادی الاولی ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ شہر میرٹھ کے اندر مہاتما گاندھی تشریف لائے۔ مجمع کثیر تھا اہل ہنود کے بچوں نے کھیل تماشے کے طوپر اکثر مسلمانوں کے چندن لگایا اس کی بابت قاری محمد صالح پیش امام جامع مسجد صدر نے فتوی دیا کہ جن مسلمانوں کے چندن لگایا ہے وہ اپنی عورتوں کے پاس نہ جائیں جب تك تجدید ایمان اور دوبارہ نکاح نہ کرلیں۔ بینوا توجروا
الجواب:
مسلمانو! اﷲ واحد قہار سے ڈرو اسلام کوکھیل تماشہ نہ بناؤ ہنود کے بچے ان کے بالجبر لگالیتے یہ ضرور ان کی خوشی سے ہوا یا کم از کم اسے قبول کیا بہرحال تجدید ایمان فرض ہے اور بعد تجدید ایمان بے تجدید نکاح عورتوں کوہاتھ نہیں لگاسکتے ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۰۷: از موضع رجہت ضلع گیا مرسلہ سید محمد حبیب صاحب ۲۲ جماد ی الآخرہ ۱۳۳۸ھ
ہولی دیوالی ہندؤوں کا پر ب ہے یانہیں اگرہے تو یہ کس بناپر جاری ہواہے اس کی ابتداء کیسے ہوئی مسلمان اگر اس کوکریں تو کیا ان پر کفر عائد ہوگا
الجواب:
ہولی دیوالی ہندؤوں کے شیطانی تہوار ہیں جب ایران خلافت فاروقی میں فتح ہوا بھاگے ہوئے آتش پرست کچھ ہندوستان میں آئے ان کے یہاں دو۲ عیدیں تھیں ۱ نوروز کہ تحویل حمل ہے اور ۲مہرگان کہ تحویل میزان وہ عیدیں اور ان میں آگ کی پرستش ہندؤوں نے ان سے سیکھیں اور یہ چاند سورج دونوں کو پوجتے ہیں لہذا ان کے وقتوں میں یہ ترمیم کہ میکھ سنکھ رانت کی پور نماشی میں ہولی اور تلاسنکھ رانت کی اماؤس میں دیوالی یہ سب رسوم کفار ہیں مسلمانوں کو ان میں شرکت حرام اور اگر پسند کریں تو صریح کفر غمز العیون میں ہے:
اتفق مشایخنا ان من رأی امرالکفار ہمارے مشائخ کا اتفاق ہے کہ اگر کسی نے کفار
مسئلہ ۳۰۶: ا زمیرٹھ صدر بازار مچھلی محلہ پیتم درزی کی مسجد مرسلہ حکیم عبدالرحمن صاحب ۲۴ جمادی الاولی ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ شہر میرٹھ کے اندر مہاتما گاندھی تشریف لائے۔ مجمع کثیر تھا اہل ہنود کے بچوں نے کھیل تماشے کے طوپر اکثر مسلمانوں کے چندن لگایا اس کی بابت قاری محمد صالح پیش امام جامع مسجد صدر نے فتوی دیا کہ جن مسلمانوں کے چندن لگایا ہے وہ اپنی عورتوں کے پاس نہ جائیں جب تك تجدید ایمان اور دوبارہ نکاح نہ کرلیں۔ بینوا توجروا
الجواب:
مسلمانو! اﷲ واحد قہار سے ڈرو اسلام کوکھیل تماشہ نہ بناؤ ہنود کے بچے ان کے بالجبر لگالیتے یہ ضرور ان کی خوشی سے ہوا یا کم از کم اسے قبول کیا بہرحال تجدید ایمان فرض ہے اور بعد تجدید ایمان بے تجدید نکاح عورتوں کوہاتھ نہیں لگاسکتے ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۰۷: از موضع رجہت ضلع گیا مرسلہ سید محمد حبیب صاحب ۲۲ جماد ی الآخرہ ۱۳۳۸ھ
ہولی دیوالی ہندؤوں کا پر ب ہے یانہیں اگرہے تو یہ کس بناپر جاری ہواہے اس کی ابتداء کیسے ہوئی مسلمان اگر اس کوکریں تو کیا ان پر کفر عائد ہوگا
الجواب:
ہولی دیوالی ہندؤوں کے شیطانی تہوار ہیں جب ایران خلافت فاروقی میں فتح ہوا بھاگے ہوئے آتش پرست کچھ ہندوستان میں آئے ان کے یہاں دو۲ عیدیں تھیں ۱ نوروز کہ تحویل حمل ہے اور ۲مہرگان کہ تحویل میزان وہ عیدیں اور ان میں آگ کی پرستش ہندؤوں نے ان سے سیکھیں اور یہ چاند سورج دونوں کو پوجتے ہیں لہذا ان کے وقتوں میں یہ ترمیم کہ میکھ سنکھ رانت کی پور نماشی میں ہولی اور تلاسنکھ رانت کی اماؤس میں دیوالی یہ سب رسوم کفار ہیں مسلمانوں کو ان میں شرکت حرام اور اگر پسند کریں تو صریح کفر غمز العیون میں ہے:
اتفق مشایخنا ان من رأی امرالکفار ہمارے مشائخ کا اتفاق ہے کہ اگر کسی نے کفار
حسنا فقد کفر حتی قالوا فی رجل قال ترك الکلام عند اکل الطعام حسن من المجموسی او ترك المضاجعۃ عندھم حال الحیض حسن فہو کافر ۔ واﷲ تعالی اعلم۔ کے کسی معاملہ کو اچھا کہا تو وہ کافر ہوجائے گا حتی کہ ا نھوں نے اس شخص کو کافر قرار دیا جو یہ کہے کہ کھانے کے وقت مجوسی کے ہاں گفتگوں نہ کرنا بہت اچھا عمل ہے یا ان کے ہاں حالت حیض ہمسبتری نہ کرنا اچھا عمل ہے۔ واﷲ تعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۳۰۸: از موضع امریاضلع بریلی ۲۳ جمادی الآخرہ ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین حنفی رحمہم اﷲ تعالی اس مسئلہ میں کہ ایك بارات موضع پچومی سے موضع امریا میں آئی بعدنکاح لڑکی کے باپ اور لڑکے کے چچا مسمی حسین بخش سے کسی بات پر نزاع لفظی واقع ہوئی جس کی وجہ سے تمام برادری کے خلاف حسین بخش اوران کے برادروں نے کھانا نہیں کھایا دوسرے روز رخصت کے وقت رحیم بخش لڑکی کے باپ نے سامان جہیز وغیرہ دے کرکہا کہ یہ موجود ہے اس کو لے جاؤ اور لڑکی اس وقت رخصت کروں گا جس وقت حسین بخش وپوے کھانا کھائیں گے جب سب برادری نے حسین بخش وپوے کومجبور کیا تو ہر دوشخص کھانا کھانے پر رضامند ہوگئے پھر برادری والوں نے ان دونوں شخصوں سے کہا جب تم کھانے کھانے پر رضامند ہو تو تم کولاز م ہے کہ باہم مل کر ایك دوسرے کا قصورمعاف کردوا س رائے کو سن کر رحیم بخش لڑکی کے باپ نے سب برادری کی طرف مخاطب ہوکر کہاکہ میں اپنے قصور پر نادم ہوں اور خدا ورسول کے واسطے ان سے معافی چاہتاہوں یہ بات سن کر حیدر بخش نہایت غیظ وغضب میں یہ کہتاہوا چلا گیا کہ ہم خدا ورسول کو نہیں جانتے ہیں اور نہ ہم ملیں ایسے الفاظ کہنے والے کی نسبت شرعا کیا حکم ہے
الجواب:
اگرواقع میں اس نے یہ لفظ کہے ہیں کہ وہ خدا ورسول کونہیں جانتا تو کہنے والا اسلام سے گیا اور ا س کی عورت اس کے نکاح سے نکل گئی مسلمانوں پر فرض ہے کہ جب تك وہ توبہ کرکے از سرنو مسلمان نہ ہو اس کی موت وحیات کسی بات میں شریك نہ ہوں۔ واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۰۹ تا ۳۱۰: از پنڈول بزرگ ڈاکخانہ رائے پور ضلع مظفر پور ۱۴ ربیع الاول شریف ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین متین ان مسائل میں کہ:
مسئلہ ۳۰۸: از موضع امریاضلع بریلی ۲۳ جمادی الآخرہ ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین حنفی رحمہم اﷲ تعالی اس مسئلہ میں کہ ایك بارات موضع پچومی سے موضع امریا میں آئی بعدنکاح لڑکی کے باپ اور لڑکے کے چچا مسمی حسین بخش سے کسی بات پر نزاع لفظی واقع ہوئی جس کی وجہ سے تمام برادری کے خلاف حسین بخش اوران کے برادروں نے کھانا نہیں کھایا دوسرے روز رخصت کے وقت رحیم بخش لڑکی کے باپ نے سامان جہیز وغیرہ دے کرکہا کہ یہ موجود ہے اس کو لے جاؤ اور لڑکی اس وقت رخصت کروں گا جس وقت حسین بخش وپوے کھانا کھائیں گے جب سب برادری نے حسین بخش وپوے کومجبور کیا تو ہر دوشخص کھانا کھانے پر رضامند ہوگئے پھر برادری والوں نے ان دونوں شخصوں سے کہا جب تم کھانے کھانے پر رضامند ہو تو تم کولاز م ہے کہ باہم مل کر ایك دوسرے کا قصورمعاف کردوا س رائے کو سن کر رحیم بخش لڑکی کے باپ نے سب برادری کی طرف مخاطب ہوکر کہاکہ میں اپنے قصور پر نادم ہوں اور خدا ورسول کے واسطے ان سے معافی چاہتاہوں یہ بات سن کر حیدر بخش نہایت غیظ وغضب میں یہ کہتاہوا چلا گیا کہ ہم خدا ورسول کو نہیں جانتے ہیں اور نہ ہم ملیں ایسے الفاظ کہنے والے کی نسبت شرعا کیا حکم ہے
الجواب:
اگرواقع میں اس نے یہ لفظ کہے ہیں کہ وہ خدا ورسول کونہیں جانتا تو کہنے والا اسلام سے گیا اور ا س کی عورت اس کے نکاح سے نکل گئی مسلمانوں پر فرض ہے کہ جب تك وہ توبہ کرکے از سرنو مسلمان نہ ہو اس کی موت وحیات کسی بات میں شریك نہ ہوں۔ واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۰۹ تا ۳۱۰: از پنڈول بزرگ ڈاکخانہ رائے پور ضلع مظفر پور ۱۴ ربیع الاول شریف ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین متین ان مسائل میں کہ:
حوالہ / References
الاشباہ والنظائر بحوالہ غمزالعیون کتاب السیروالردۃ ادارۃ القرآن کراچی ۱/ ۲۹۵
(۱) از روئے فرمان اﷲ ورسول عزوجل وصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یزید بخشا جائے گایانہیں
(۲) حضرت منصور شمس تبریز وسرمد نے ایسا لفظ کہا جس سے خدائی ثابت ہوتی ہے تو دار پر آئے اور کھال کھینچی گئی لیکن وہ ولی اﷲ گنے جاتے ہیں اور فرعون ہامان شداد اور نمرود نے دعوی خدائی کیا تو کافر فی النار ہوئے اس کی کیا وجہ ہے
الجواب:
(۱) یزید پلید کے بارے میں ائمہ اہلسنت کے تین قول ہیں ۱ امام احمد وغیرہ اکابر اسے کافر جانتے ہیں تو ہر گز بخشش نہ ہوگی اور۲امام غزالی وغیرہ مسلمان تو اس پر کتنا ہی عذاب ہو بالآخر بخشش ضرور ہوگی اور ۳ہمارے امام سکوت فرماتے ہیں کہ نہ ہم مسلمان کہیں گے نہ کافر۔ لہذا ہم بھی سکوت کریں گے۔
(۲) ان کافروں نے خودکہا ملعون ہوئے اور انھوں نے خود نہ کہا اس نے کہا جسے کہنا شایان ہے آواز ان میں سے مسموع ہوئی جیسے موسی علیہ الصلوۃ والسلام نے درخت سے سنا:" انی انا اللہ رب العلمین ﴿۳۰﴾ " میں ہی ہوں اﷲ سارے جہاں کا کیا درخت نے کہا تھا حاشا بلکہ اﷲ نے یونہی یہ حضرات اس وقت شجرہ موسی ہوتے ہیں
مسئہ ۳۱۱: از ملك برہما مسجد اکھیم پوسٹ مرسلہ مولوی عبدالعزیز خاں قادری ۱۹ ربیع الاول ۱۳۳۷ھ
ایك عالم کو ایك شخص نے گالی دی اس کی بیوی کو طلاق ثلاثہ ہوں گے یا بعد توبہ رجعت کرسکتاہے
الجواب:
کسی خاص عالم کوکسی دنیوی وجہ سے گالی دینے سے عورت نکاح سے نہیں نکلتی۔ ہاں مطلقا علماء کو یاخاص کسی عالم کو بوجہ علم دین بر اکہنے سے آدمی کافرہوجاتاہے عورت فورا نکاح سے نکل جاتی ہے مگر یہ فسخ نکاح ہوتا اسے طلاق نہیں نہ ایك نہ تین اسلام لانے کے بعد اگر عورت راضی ہو تو اس سے نکاح کرسکتاہے۔ واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۱۲: از بمبئی نشان پاڑہ کواس روڈ طاہر ٹوپن بلڈنگ تیسرا مالاپوسٹ نمبر ۹ مرسلہ سید اسداﷲ حسین ۲۵ ربیع الاول ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص جو خود کو عالم ظاہرکرتاہے اپنے وعظ میں بیان کرتاہے کہ زین المجالس جس میں کرامات قطب الاقطاب غوث الاعظم حضرت شیخ محی الدین عبدالقادر جیلانی رضی اﷲ تعالی عنہ مرقوم ہیں سراسر غلط اوراس کا مؤلف مردودہے کتاب مذکور کا پڑھنا سنناحرام ہے
(۲) حضرت منصور شمس تبریز وسرمد نے ایسا لفظ کہا جس سے خدائی ثابت ہوتی ہے تو دار پر آئے اور کھال کھینچی گئی لیکن وہ ولی اﷲ گنے جاتے ہیں اور فرعون ہامان شداد اور نمرود نے دعوی خدائی کیا تو کافر فی النار ہوئے اس کی کیا وجہ ہے
الجواب:
(۱) یزید پلید کے بارے میں ائمہ اہلسنت کے تین قول ہیں ۱ امام احمد وغیرہ اکابر اسے کافر جانتے ہیں تو ہر گز بخشش نہ ہوگی اور۲امام غزالی وغیرہ مسلمان تو اس پر کتنا ہی عذاب ہو بالآخر بخشش ضرور ہوگی اور ۳ہمارے امام سکوت فرماتے ہیں کہ نہ ہم مسلمان کہیں گے نہ کافر۔ لہذا ہم بھی سکوت کریں گے۔
(۲) ان کافروں نے خودکہا ملعون ہوئے اور انھوں نے خود نہ کہا اس نے کہا جسے کہنا شایان ہے آواز ان میں سے مسموع ہوئی جیسے موسی علیہ الصلوۃ والسلام نے درخت سے سنا:" انی انا اللہ رب العلمین ﴿۳۰﴾ " میں ہی ہوں اﷲ سارے جہاں کا کیا درخت نے کہا تھا حاشا بلکہ اﷲ نے یونہی یہ حضرات اس وقت شجرہ موسی ہوتے ہیں
مسئہ ۳۱۱: از ملك برہما مسجد اکھیم پوسٹ مرسلہ مولوی عبدالعزیز خاں قادری ۱۹ ربیع الاول ۱۳۳۷ھ
ایك عالم کو ایك شخص نے گالی دی اس کی بیوی کو طلاق ثلاثہ ہوں گے یا بعد توبہ رجعت کرسکتاہے
الجواب:
کسی خاص عالم کوکسی دنیوی وجہ سے گالی دینے سے عورت نکاح سے نہیں نکلتی۔ ہاں مطلقا علماء کو یاخاص کسی عالم کو بوجہ علم دین بر اکہنے سے آدمی کافرہوجاتاہے عورت فورا نکاح سے نکل جاتی ہے مگر یہ فسخ نکاح ہوتا اسے طلاق نہیں نہ ایك نہ تین اسلام لانے کے بعد اگر عورت راضی ہو تو اس سے نکاح کرسکتاہے۔ واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۱۲: از بمبئی نشان پاڑہ کواس روڈ طاہر ٹوپن بلڈنگ تیسرا مالاپوسٹ نمبر ۹ مرسلہ سید اسداﷲ حسین ۲۵ ربیع الاول ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص جو خود کو عالم ظاہرکرتاہے اپنے وعظ میں بیان کرتاہے کہ زین المجالس جس میں کرامات قطب الاقطاب غوث الاعظم حضرت شیخ محی الدین عبدالقادر جیلانی رضی اﷲ تعالی عنہ مرقوم ہیں سراسر غلط اوراس کا مؤلف مردودہے کتاب مذکور کا پڑھنا سنناحرام ہے
حوالہ / References
القرآن الکریم ۲۸ /۳۰
جناب غوث پاك رضی اﷲ تعالی عنہ کے اقوال مثل"قدمی ھذہ"الخ وغیرہ کے غلط ہیں یارسول اﷲ اور یا غوث کہناحرام ہے قصائد خوانی میلاد شریف ناجائز ہے اولیاء اﷲ وغیرہم پر فاتحہ خوانی مثل گیارھویں شریف وغیرہ کے ناجائز ہے ان اقوال کی تائید وتصدیق قرآن شریف کی قسم سے کرتاہے بس اس صورت میں شخص مذکور کس فرقہ کاآدمی ہے اس کا عقیدہ مطابق اہل سنت وجماعت ہے یانہیں اگر نہیں تو ہم سنیوں کو اس کی مجلس وعظ میں شریك ہونا کیسا اور اس کے اقوال پر یقین لاکر جو منکر کرامات اولیاء ہوجائے ا س کاکیا حکم ہے
الجواب:
ایسے اقوال کا قائل نہیں ہوتا مگر وہابی مسلمانوں کو اس کے وعظ میں جاناجائزنہیں صحیح حدیث میں ارشاد ہوا:
ایاکم وایاھم لایضلونکم ولایفتنونکم ۔ ان سے بچو اور انھیں دوررکھو وہ تمھیں گمراہ نہ کریں اور نہ فتنہ میں ڈالیں۔ (ت)
کرامات اولیاء کا منکر گمراہ ہے اہل سنت کا عقیدہ ہے کہ کرامات اولیاء حق ہے واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۱۳: ازمنڈوہ ضلع فتح پور ہسوہ ڈاکخانہ خاص مرسلہ حافظ محی الدین صاحب ۲۵ ربیع الآخر ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید بلاعذر شرعی علی الاعلان روزہ رمضان المبارك کے ترك کرے اور اگر کسی نے نماز پڑھنے کے لئے کہاکہ اٹھو نما زپڑھو تو جواب دیا کہ کون اٹھك بیٹھك کرے اجی جتنے نمازی حاجی وحافظ ہیں سب بے ایمان ہیں یا کسی نے روزہ رکھنے کوکہا توجواب دیا کہ کون بھوکا مرے جس کے گھر میں کھانا نہ ہو وہ روزہ رکھے ہم سے توبھوکا نہیں مراجاتا تمھیں روزہ رکھ کے بہشت میں چلے جانا اور ماہ رمضان المبارك میں سرراہ دروازہ پر بیٹھ کر آب نوشی وحقہ نوشی خود کرتا اور کراتا ہے اگر کوئی منع کرتاہے کہ روزہ داروں کے سامنے مت کھاؤ پیو تو جواب دیتاہے کہ خداسے چوری نہیں ہے تو بند ے سے کون سی چوری ہے سویہ سب باتیں زید کی کیسی ہیں زید ان باتوں سے مسلمان ہے یا نہیں اور وہ لوگ کیسے ہیں جو زید کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے ہیں اور ہاں میں ہاں ملاتے ہیں اور زید کی ان باتوں سے خوش ہوتے ہیں۔ اس بیہودہ بکنے اور تمسخر کرنے سے زید کانکاح اس کی عورت سے باطل
الجواب:
ایسے اقوال کا قائل نہیں ہوتا مگر وہابی مسلمانوں کو اس کے وعظ میں جاناجائزنہیں صحیح حدیث میں ارشاد ہوا:
ایاکم وایاھم لایضلونکم ولایفتنونکم ۔ ان سے بچو اور انھیں دوررکھو وہ تمھیں گمراہ نہ کریں اور نہ فتنہ میں ڈالیں۔ (ت)
کرامات اولیاء کا منکر گمراہ ہے اہل سنت کا عقیدہ ہے کہ کرامات اولیاء حق ہے واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۱۳: ازمنڈوہ ضلع فتح پور ہسوہ ڈاکخانہ خاص مرسلہ حافظ محی الدین صاحب ۲۵ ربیع الآخر ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید بلاعذر شرعی علی الاعلان روزہ رمضان المبارك کے ترك کرے اور اگر کسی نے نماز پڑھنے کے لئے کہاکہ اٹھو نما زپڑھو تو جواب دیا کہ کون اٹھك بیٹھك کرے اجی جتنے نمازی حاجی وحافظ ہیں سب بے ایمان ہیں یا کسی نے روزہ رکھنے کوکہا توجواب دیا کہ کون بھوکا مرے جس کے گھر میں کھانا نہ ہو وہ روزہ رکھے ہم سے توبھوکا نہیں مراجاتا تمھیں روزہ رکھ کے بہشت میں چلے جانا اور ماہ رمضان المبارك میں سرراہ دروازہ پر بیٹھ کر آب نوشی وحقہ نوشی خود کرتا اور کراتا ہے اگر کوئی منع کرتاہے کہ روزہ داروں کے سامنے مت کھاؤ پیو تو جواب دیتاہے کہ خداسے چوری نہیں ہے تو بند ے سے کون سی چوری ہے سویہ سب باتیں زید کی کیسی ہیں زید ان باتوں سے مسلمان ہے یا نہیں اور وہ لوگ کیسے ہیں جو زید کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے ہیں اور ہاں میں ہاں ملاتے ہیں اور زید کی ان باتوں سے خوش ہوتے ہیں۔ اس بیہودہ بکنے اور تمسخر کرنے سے زید کانکاح اس کی عورت سے باطل
حوالہ / References
صحیح مسلم النہی عن الروایۃ والضعفاء قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۰
ہوا یا قائم رہا اگر باطل ہوا تو اولاد اس کی کیسی ہے زید اور اس کے ساتھی کبھی کبھی جمعہ کی نماز پڑھتے ہیں ان کی نماز جمعہ وعیدین ہوتی ہے یانہیں
الجواب:
صورت مستفسرہ میں زید پر حکم کفرہے اور وہ لوگ جو اس کی ان باتوں سے خوش ہوتے ہیں ان پر بھی یہی حکم ہے ان کے جمعہ وعیدین باطل ہیں ان کی عورتیں ان کے نکاح سے نکل گئیں مسلمانوں کو ان سے میل جول حرام ہےنہ ان کے پاس بیٹھنا جائز۔
قال اﷲ تعالی" اما ینسینک الشیطن فلا تقعد بعد الذکری مع القوم الظلمین ﴿۶۸﴾ " ۔ اﷲ تعالی نے فرمایا: اورجوکہیں تجھے شیطان بھلادے تو یاد آئے پر ظالموں کے پاس نہ بیٹھ۔ واﷲ تعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۳۱۴ تا ۳۱۷: از کوہ کسولی ضلع انبالہ کوٹھی بارك ماسٹر صاحب مرسلہ جان محمد خانساماں ۳ جماد ی الاولی ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین متین ان مسائل میں:قصبہ کسولی کے اندر ایك مسجد ہے اس میں مسلمانان کی طرف سے ایك پیش امام مقرر ہیں انھوں نے اپنے وعظ کے اندر بیان کیا کہ حضور نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ایك ایلچی تھے اور حضور رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو اس نام سے یاد کرنے میں کچھ حرج نہیں ہے۔
(۱)کیا نعوذ باﷲ ایلچی کے نام سے حضور رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو یاد کرنے سے منقصت پائی جاتی ہے تو ایسے قائل کے واسطے کیاحکم ہے اور انھوں نے یہ بھی بیان کیا کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم باحیات توہیں لیکن نماز نہیں پڑھتے اور نہ روضہ پاك سے باہر تشریف لاسکتے ہیں قیامت تک۔
(۲) کیا حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نماز نہیں پڑھتے اور کیا روضہ پاك سے باہر تشریف نہیں لاسکتے اور ایك مقام پر میلاد سرورکائنات علیہ التسلیم والتحیہ تھا وہاں ولادت کا ذکر میلاد خواں نے نہیں کیا جلدی سےسلام پڑھ دیا اور پیش امام صاحب وعظ فرمانے بیٹھ گئے اثنائے وعظ میں بیان کیا کہ جو شخص نما ز نہیں پڑھتا اور میلاد شریف پڑھواتاہے وہ جہنمی ہے۔
(۳)کیا تارك الصلوۃ کافرہے
الجواب:
صورت مستفسرہ میں زید پر حکم کفرہے اور وہ لوگ جو اس کی ان باتوں سے خوش ہوتے ہیں ان پر بھی یہی حکم ہے ان کے جمعہ وعیدین باطل ہیں ان کی عورتیں ان کے نکاح سے نکل گئیں مسلمانوں کو ان سے میل جول حرام ہےنہ ان کے پاس بیٹھنا جائز۔
قال اﷲ تعالی" اما ینسینک الشیطن فلا تقعد بعد الذکری مع القوم الظلمین ﴿۶۸﴾ " ۔ اﷲ تعالی نے فرمایا: اورجوکہیں تجھے شیطان بھلادے تو یاد آئے پر ظالموں کے پاس نہ بیٹھ۔ واﷲ تعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۳۱۴ تا ۳۱۷: از کوہ کسولی ضلع انبالہ کوٹھی بارك ماسٹر صاحب مرسلہ جان محمد خانساماں ۳ جماد ی الاولی ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین متین ان مسائل میں:قصبہ کسولی کے اندر ایك مسجد ہے اس میں مسلمانان کی طرف سے ایك پیش امام مقرر ہیں انھوں نے اپنے وعظ کے اندر بیان کیا کہ حضور نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ایك ایلچی تھے اور حضور رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو اس نام سے یاد کرنے میں کچھ حرج نہیں ہے۔
(۱)کیا نعوذ باﷲ ایلچی کے نام سے حضور رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو یاد کرنے سے منقصت پائی جاتی ہے تو ایسے قائل کے واسطے کیاحکم ہے اور انھوں نے یہ بھی بیان کیا کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم باحیات توہیں لیکن نماز نہیں پڑھتے اور نہ روضہ پاك سے باہر تشریف لاسکتے ہیں قیامت تک۔
(۲) کیا حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نماز نہیں پڑھتے اور کیا روضہ پاك سے باہر تشریف نہیں لاسکتے اور ایك مقام پر میلاد سرورکائنات علیہ التسلیم والتحیہ تھا وہاں ولادت کا ذکر میلاد خواں نے نہیں کیا جلدی سےسلام پڑھ دیا اور پیش امام صاحب وعظ فرمانے بیٹھ گئے اثنائے وعظ میں بیان کیا کہ جو شخص نما ز نہیں پڑھتا اور میلاد شریف پڑھواتاہے وہ جہنمی ہے۔
(۳)کیا تارك الصلوۃ کافرہے
حوالہ / References
القرآن الکریم ۶ /۶۸
(۴) کیا میلاد شریف پڑھوانے والا جہنمی ہے
الجواب:
(۱) حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اﷲ عزوجل کے رسول اعظم ونائب اکبر خلیفہ اعظم ہیں ایلچی وہ ہوتاہے جس کو پیام یا خط پہنچانے کے سواکوئی سرداری اورحکومت نہیں حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی شان اکرم میں اس لفظ کا استعمال کرنا بیشك تنقیص وتوہین ہے اور اس کاوہی حکم ہے جو نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی توہین کرنے والے کا۔
(۲)رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اور تمام انبیاء کرام حیات حقیقی دنیاوی روحانی جسمانی سے زندہ ہیں اپنے مزارات طیبہ میں نمازیں پڑھتے ہیں روزی دئے جاتے ہیں جہاں چاہیں تشریف لے جاتے ہیں زمین وآسمان کی سلطنت میں تصرف فرماتے ہیں۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
الانبیاء احیاء فی قبورھم یصلون ۔ حضرات انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام اپنے مزارات میں زندہ ہیں اور نماز ادافرماتے ہیں۔ (ت)
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ان اﷲ حرم علی الارض ان تاکل اجساد الانبیاء فنبی اﷲ حی یرزق۔ بیشك اﷲ تعالی نے حضرات انبیاء علیہم السلام کے اجساد مبارکہ کا زمین پرکھانا حرام فرمادیاہے اﷲ کے نبی زندہ ہیں اور رزق دئے جاتے ہیں۔(ت)
امام جلال الدین سیوطی رحمہ اﷲ تعالی فرماتے ہیں:
اذن للانبیاء ان یخرجوا من قبورھم و یتصرفوا فی ملکوت السموت و الارض ۔ حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کےلئے مزاراات سے باہر جانے اور آسمانوں اور زمین میں تصرف کی اجازت ہوتی ہے۔ (ت)
الجواب:
(۱) حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اﷲ عزوجل کے رسول اعظم ونائب اکبر خلیفہ اعظم ہیں ایلچی وہ ہوتاہے جس کو پیام یا خط پہنچانے کے سواکوئی سرداری اورحکومت نہیں حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی شان اکرم میں اس لفظ کا استعمال کرنا بیشك تنقیص وتوہین ہے اور اس کاوہی حکم ہے جو نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی توہین کرنے والے کا۔
(۲)رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اور تمام انبیاء کرام حیات حقیقی دنیاوی روحانی جسمانی سے زندہ ہیں اپنے مزارات طیبہ میں نمازیں پڑھتے ہیں روزی دئے جاتے ہیں جہاں چاہیں تشریف لے جاتے ہیں زمین وآسمان کی سلطنت میں تصرف فرماتے ہیں۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
الانبیاء احیاء فی قبورھم یصلون ۔ حضرات انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام اپنے مزارات میں زندہ ہیں اور نماز ادافرماتے ہیں۔ (ت)
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ان اﷲ حرم علی الارض ان تاکل اجساد الانبیاء فنبی اﷲ حی یرزق۔ بیشك اﷲ تعالی نے حضرات انبیاء علیہم السلام کے اجساد مبارکہ کا زمین پرکھانا حرام فرمادیاہے اﷲ کے نبی زندہ ہیں اور رزق دئے جاتے ہیں۔(ت)
امام جلال الدین سیوطی رحمہ اﷲ تعالی فرماتے ہیں:
اذن للانبیاء ان یخرجوا من قبورھم و یتصرفوا فی ملکوت السموت و الارض ۔ حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کےلئے مزاراات سے باہر جانے اور آسمانوں اور زمین میں تصرف کی اجازت ہوتی ہے۔ (ت)
حوالہ / References
شرح الصدور باب احوال الموتٰی فی قبورھم خلافت اکیڈمی مینگورہ سوات ص۷۸،مجمع الزوائد باب ذکر الانبیاء علیہم السلام دارالکتب العربی بیروت ۸/ ۲۱۱
سنن ابن ماجہ آخر کتاب الجنائز ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۱۹
الحاوی للفتاوٰی رسالہ تنویر الحلك دارالفکر بیروت ۲/ ۲۶۳
سنن ابن ماجہ آخر کتاب الجنائز ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۱۹
الحاوی للفتاوٰی رسالہ تنویر الحلك دارالفکر بیروت ۲/ ۲۶۳
(۳)نماز نہ پڑھنا سخت کبیرہ ہے مگر اس کے جہنمی ہونے پر یقین نہیں ہوسکتا کہ کفر کے سواسب گناہ زیر مشیت الہی ہیں۔
(۴)اور میلاد مبارك پڑھوانے پر اگر جہنمی کہے تو خود مستحق جہنم ہے۔
مسئلہ ۳۱۸ تا ۳۱۹: از سنھبل محلہ چمن سرائے متصل مزار جناب میرن شاہ صاحب مرسلہ احمد خاں ۹ جمادی الاولی ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ:
(۱)جو شخص یہ کہے کہ جناب سرورکائنات فخر موجودات میں نقصان تھا تو اتنا تھا کہ حضور خدا نہ تھے ایسے شخص کے پیچھے نماز پڑھنی درست ہے یانہیں
(۲)جو مسلمان یہ کہے کہ حضرت کاخیال نماز میں آجائے تونماز نہ ہوگی اور گدھے خچر کا خیال آئے تو نماز ہوجائے گیایسا کہنے والا مسلمان ہے یانہیںاوریہ کہنا حقارت نبی ہے یانہیں اور حقارت نبی کفر ہے یانہیں
خدا تعالی کو براکہنے والا مسلمان ہے یانہیں بعض کہتے ہیں کہ حضور اقدس نے(ستر دلیل کفر ہوں اور ایك مسلمان ہونے کی)تو اس کو مسلمان فرمایاہے اور آج کل ہزاروں مسلمانوں کو زبردستی کھینچ کر کافر بنایاجاتاہے اس کی کیا وجہ ہے
الجواب:
(۱)اس نے اچھے لفظوں میں ادانہ کیا مگر جو بات کہی حق ہے بیشك سوا الوہیت ومستلزمات الوہیت کے سب فضائل وکمالات حضور کے لئے ثابت ہیںاما م محمد بوصیری بردہ شریف میں فرماتے ہیں:
دع ماادعتہ النصاری فی نبیہم واحکم بماشئت مدحافیہ واحتکم
جو کچھ نصاری نے اپنے نبی علیہ السلام کے بارے میں کہا تم وہ نہ کہواس کے علاوہ ہر مرتبہ ومقام آپ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے لئے بیان کرسکتے ہو۔ت)
شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمہ اﷲ تعالی فرماتے ہیں:
مخواں اورخدا ازبہر حفظ شرع وپاس دیں دگرہر وصف کش می خواہی اندر مدحش املاکن
(شریعت ودین کا پاس کرتے ہوئے آپ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو خدا نہ کہو اس کے علاوہ ہروصف کے ساتھ آپ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی مدح کر اور لکھ سکتے ہو۔ت)
(۴)اور میلاد مبارك پڑھوانے پر اگر جہنمی کہے تو خود مستحق جہنم ہے۔
مسئلہ ۳۱۸ تا ۳۱۹: از سنھبل محلہ چمن سرائے متصل مزار جناب میرن شاہ صاحب مرسلہ احمد خاں ۹ جمادی الاولی ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ:
(۱)جو شخص یہ کہے کہ جناب سرورکائنات فخر موجودات میں نقصان تھا تو اتنا تھا کہ حضور خدا نہ تھے ایسے شخص کے پیچھے نماز پڑھنی درست ہے یانہیں
(۲)جو مسلمان یہ کہے کہ حضرت کاخیال نماز میں آجائے تونماز نہ ہوگی اور گدھے خچر کا خیال آئے تو نماز ہوجائے گیایسا کہنے والا مسلمان ہے یانہیںاوریہ کہنا حقارت نبی ہے یانہیں اور حقارت نبی کفر ہے یانہیں
خدا تعالی کو براکہنے والا مسلمان ہے یانہیں بعض کہتے ہیں کہ حضور اقدس نے(ستر دلیل کفر ہوں اور ایك مسلمان ہونے کی)تو اس کو مسلمان فرمایاہے اور آج کل ہزاروں مسلمانوں کو زبردستی کھینچ کر کافر بنایاجاتاہے اس کی کیا وجہ ہے
الجواب:
(۱)اس نے اچھے لفظوں میں ادانہ کیا مگر جو بات کہی حق ہے بیشك سوا الوہیت ومستلزمات الوہیت کے سب فضائل وکمالات حضور کے لئے ثابت ہیںاما م محمد بوصیری بردہ شریف میں فرماتے ہیں:
دع ماادعتہ النصاری فی نبیہم واحکم بماشئت مدحافیہ واحتکم
جو کچھ نصاری نے اپنے نبی علیہ السلام کے بارے میں کہا تم وہ نہ کہواس کے علاوہ ہر مرتبہ ومقام آپ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے لئے بیان کرسکتے ہو۔ت)
شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمہ اﷲ تعالی فرماتے ہیں:
مخواں اورخدا ازبہر حفظ شرع وپاس دیں دگرہر وصف کش می خواہی اندر مدحش املاکن
(شریعت ودین کا پاس کرتے ہوئے آپ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو خدا نہ کہو اس کے علاوہ ہروصف کے ساتھ آپ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی مدح کر اور لکھ سکتے ہو۔ت)
حوالہ / References
قصیدہ بردہ شریف الفصل الثالث تاج کمپنی لاہور ص۱۰
دیوان عبدالحق المحدث الدہلوی
دیوان عبدالحق المحدث الدہلوی
(۲)یہ ملعون بات ضرو کلمہ توہین ہے اور اس کے خبیث قائل پر بلاشبہ کفر لازمحضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یاکسی نبی یا فرشتہ کی توہین یا حضرت عزت جل جلالہ کو معاذاﷲ برا کہنا بلاشبہ کفرہےحضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ایسا کہیں نہیں فرمایایہ حضور پر محض افتراء ہےنہ ہرگز علماء محتاطین کسی مسلمان کوکھینچ کر کافر بنائیںیہ ان پر افتراء ہے اوراس کی تفصیل رسالہ تمہید الایمان میں ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۲۰:از بہرائچ محلہ قاضی پورہ مسجد کالے خان مرسلہ نواب علی صاحب موذن مسجد ۲۰ جمادری الاولی ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس امر میں کہ ایك مدعی صوفیت نے ایك بزرگ کے عرس کی تقریب میں ہر طبقہ کے لوگوں کو بلایا یہاں تك کہ ہنود بھی بلائے گئےاور باوجود اطلاع عقائد باطلہ ایك لکچرار کو جلسہ میں تقریر کے واسطے کھڑا کیا اس شخص نے اس بڑے مجمع کے سامنے توحید پر ستی کے پردہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اور آپ کے مقربوں کی شان اقدس میں گستاخیاں کیں اور ان مقدس اور قدسی صفات حضرات کے صبروتحمل کونہایت شرمناك کمزوری اور نامردی سے تعبیر کیامثلا یہ کہ سرورعالم وعالمیاں کو جب جنگ احد میں مجروح کیا گیا تو وہ کچھ بھی نہ کرسکےحضرت علی شیر خدا ابن ملجم سے اپنی جان کی حفاظت نہ کرسکے وغیرہ وغیرہاور ایك حکیم حافظ عربی داں شخص ان بیانات کی تصدیق وتائید کیجن لوگوں نے اس گستاخانہ مقرر کو بد عقیدہ کہا تھا ان کو تہدید کی اوراس مدعی تصوف کی شان میں چند اشعار پڑھے گئےجب ایك شخص نے چاہاکہ ان گستاخیوں اور بدزبانیوں کا جواب دےاور ان معزز اور مقتدر حضرات کے مناقب بیان کرے تو اس مصدق ومؤید وبانی جلسہ میں سرگوشی ہوئی اور منتظموں نے حصہ تقسیم کیا کہ لوگوں کے مجمع کودرہم برہم کردیا اور خود اس بیان زہر آلود پر نہ تقریر کرنے والے کو روکانہ کسی طرح اظہا رناخوشی کیا بلکہ ان لوگوں کو جو تردید پر آمادہ تھے ہر امکانی طریقہ سے باز رکھنا چاہا تو اس بانی محفل ومؤید ومقرر سے عام مسلمانوں کو کس قسم کابرتاؤ کرنا چاہئے اور ان کی دین داری کے متعلق کیاخیال رکھنا چاہئے
الجواب:
سوال میں جو وہ لفظ ہیں یعنی شرمناك کمزوری اور نامردی اگر بعینہ یہ الفاظ اس مقرر نے کہے یا اور الفاظ ملعونہ جوان کے ہم معنی ہوں تو اس کے کا فرمرتد ہونے میں کوئی شبہ نہیں ایسے کہ من شك فی کفرہ فقد کفر جو اس کے کافرہونے میں شك کرے خود کافرہےا ور اس تقدیر پر جتنے اس کے
مسئلہ ۳۲۰:از بہرائچ محلہ قاضی پورہ مسجد کالے خان مرسلہ نواب علی صاحب موذن مسجد ۲۰ جمادری الاولی ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس امر میں کہ ایك مدعی صوفیت نے ایك بزرگ کے عرس کی تقریب میں ہر طبقہ کے لوگوں کو بلایا یہاں تك کہ ہنود بھی بلائے گئےاور باوجود اطلاع عقائد باطلہ ایك لکچرار کو جلسہ میں تقریر کے واسطے کھڑا کیا اس شخص نے اس بڑے مجمع کے سامنے توحید پر ستی کے پردہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اور آپ کے مقربوں کی شان اقدس میں گستاخیاں کیں اور ان مقدس اور قدسی صفات حضرات کے صبروتحمل کونہایت شرمناك کمزوری اور نامردی سے تعبیر کیامثلا یہ کہ سرورعالم وعالمیاں کو جب جنگ احد میں مجروح کیا گیا تو وہ کچھ بھی نہ کرسکےحضرت علی شیر خدا ابن ملجم سے اپنی جان کی حفاظت نہ کرسکے وغیرہ وغیرہاور ایك حکیم حافظ عربی داں شخص ان بیانات کی تصدیق وتائید کیجن لوگوں نے اس گستاخانہ مقرر کو بد عقیدہ کہا تھا ان کو تہدید کی اوراس مدعی تصوف کی شان میں چند اشعار پڑھے گئےجب ایك شخص نے چاہاکہ ان گستاخیوں اور بدزبانیوں کا جواب دےاور ان معزز اور مقتدر حضرات کے مناقب بیان کرے تو اس مصدق ومؤید وبانی جلسہ میں سرگوشی ہوئی اور منتظموں نے حصہ تقسیم کیا کہ لوگوں کے مجمع کودرہم برہم کردیا اور خود اس بیان زہر آلود پر نہ تقریر کرنے والے کو روکانہ کسی طرح اظہا رناخوشی کیا بلکہ ان لوگوں کو جو تردید پر آمادہ تھے ہر امکانی طریقہ سے باز رکھنا چاہا تو اس بانی محفل ومؤید ومقرر سے عام مسلمانوں کو کس قسم کابرتاؤ کرنا چاہئے اور ان کی دین داری کے متعلق کیاخیال رکھنا چاہئے
الجواب:
سوال میں جو وہ لفظ ہیں یعنی شرمناك کمزوری اور نامردی اگر بعینہ یہ الفاظ اس مقرر نے کہے یا اور الفاظ ملعونہ جوان کے ہم معنی ہوں تو اس کے کا فرمرتد ہونے میں کوئی شبہ نہیں ایسے کہ من شك فی کفرہ فقد کفر جو اس کے کافرہونے میں شك کرے خود کافرہےا ور اس تقدیر پر جتنے اس کے
حوالہ / References
درمختار باب المرتد مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۵۶
مؤید تھے سب مرتد ہیں اورجنھوں نے اس کی حمایت وطرفداری کے لئے اس کے رد سے روکا وہ سب بھی اسلام سے نکل گئےاس تقدیرپر مسلمانوں کو ان کے ساتھ وہی برتاؤ لازم ہے جو مرتدین کے ساتھ ان سے میل جول حرامسلام کلام حرام موت وحیات میں کوئی معاملہ اسلامی ان سے برتنا حراماور گر رد سے روکنا اور مجمع متنشر کردینا اس کی طرفداری اور حمایت کے لئے نہ ہونہ اس کے کلام ملعون کو کفر نہ جاننے کے باعث تو دوصورتیں ہیں:ایك یہ کہ یہ انسداد نیچریانہ تہذیب خبیث کے باعث ہے تو مداہنت وشیطنت ہے اور اس کے مرتکب عذاب شدید کے مستوجباور اگریہ بھی نہیں بلکہ رد میں اندیشہ فتنہ تھا رد کرنے والے کو اس سے بچانے کے لئے یہ بندش کی تو بحال صحت اندیشہ اور غلبہ مفسدہ ان روکنے والوں پر الزام نہیں۔
انما الاعمال بالنیات وانما لکل امرء مانوی ۔ اعمال کامدار نیات پر ہے اور ہر آدمی کا حکم اس کی نیت کے مطابق ہے۔(ت)
اور اگر وہ الفاظ ملعونہ کلام مقرر میں نہ بعینہا تھے نہ ایسے الفاظ جوان معنی کو مودی ہوںبلکہ سائل نے اس کا مقصود ایسا سمجھ کر اسے ان الفاظ سے تعبیر کیا تو اگر دلائل وقرائن وسیاق وسباق سے ثابت ہو کہ اس کایہی مقصود تھا تو اس پروہی حکم کفر و ارتداد ہے اور طرفداروں کے لئے بھی وہی احکام عود کرینگے جبکہ انھوں نے بھی یہی مقصود سمجھایایہ مقصود ایسا واضح تھا جس کے سمجھنے میں کوئی اشتباہ نہ تھااور اگر دلائل وقرائن سے بھی مقصود ثابت نہ ہو تاہم اس میں شك نہیں کہ طرز ادب کے خلاف ہے اس طور پر بیان دو ہی قوموں کا شیوہ ہے یا تو ملحدان بے دین یا وہابیان خوگرتوہیناور دونوں مردودوگمراہ ہیں باقی سیاق وسباق کلام وغیرہ متعلقات کی سائل نے تفصیل نہ کی کہ کوئی شق متعین کی جاتی۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۲۱:از کوچین ضلع ملیبار محلہ مٹانچیری مکان سیٹھ سلیمان قاسم میمن مرسلہ حاجی طاہر محمدمولانا ۲۰ جمادی الاولی ۱۳۳۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ خداکو حاضر وناظر سمجھنا کیساہے اور وہ کون ہے
الجواب:
اﷲ عزوجل شہید وبصیر ہے اسے حاضر وناظر نہ کہنا چاہئے یہاں تك کہ بعض علماء نے اس پر تکفیر کا خیال فرمایا اور اکابر کو اس کی نفی کی حاجت ہوئیمجموعہ علامہ ابن وہبان میں ہے:
انما الاعمال بالنیات وانما لکل امرء مانوی ۔ اعمال کامدار نیات پر ہے اور ہر آدمی کا حکم اس کی نیت کے مطابق ہے۔(ت)
اور اگر وہ الفاظ ملعونہ کلام مقرر میں نہ بعینہا تھے نہ ایسے الفاظ جوان معنی کو مودی ہوںبلکہ سائل نے اس کا مقصود ایسا سمجھ کر اسے ان الفاظ سے تعبیر کیا تو اگر دلائل وقرائن وسیاق وسباق سے ثابت ہو کہ اس کایہی مقصود تھا تو اس پروہی حکم کفر و ارتداد ہے اور طرفداروں کے لئے بھی وہی احکام عود کرینگے جبکہ انھوں نے بھی یہی مقصود سمجھایایہ مقصود ایسا واضح تھا جس کے سمجھنے میں کوئی اشتباہ نہ تھااور اگر دلائل وقرائن سے بھی مقصود ثابت نہ ہو تاہم اس میں شك نہیں کہ طرز ادب کے خلاف ہے اس طور پر بیان دو ہی قوموں کا شیوہ ہے یا تو ملحدان بے دین یا وہابیان خوگرتوہیناور دونوں مردودوگمراہ ہیں باقی سیاق وسباق کلام وغیرہ متعلقات کی سائل نے تفصیل نہ کی کہ کوئی شق متعین کی جاتی۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۲۱:از کوچین ضلع ملیبار محلہ مٹانچیری مکان سیٹھ سلیمان قاسم میمن مرسلہ حاجی طاہر محمدمولانا ۲۰ جمادی الاولی ۱۳۳۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ خداکو حاضر وناظر سمجھنا کیساہے اور وہ کون ہے
الجواب:
اﷲ عزوجل شہید وبصیر ہے اسے حاضر وناظر نہ کہنا چاہئے یہاں تك کہ بعض علماء نے اس پر تکفیر کا خیال فرمایا اور اکابر کو اس کی نفی کی حاجت ہوئیمجموعہ علامہ ابن وہبان میں ہے:
حوالہ / References
صحیح البخاری باب کیف کان بدء الوحی قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۲
ویاحاضر ویاناظر لیس بکفر ۔ یاحاضر یاناظر کہنا کفر نہیں۔(ت)
جو ایسا کہتاہے خطا کرتاہے بچنا چاہئےواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۲۲: ۲۴ شعبان ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك نام کے مسلمان نے ایك کتاب ضوء نورالحق المبین عربی زبان میں لکھی اور چھپواکر اپنے ہم خیالوں میں بہ تعداد پانچ ہزار تقسیم کی اور اس کو مجالس عام میں برسرمبنر پڑھنے کاحکم دیا اور اس میں صفحہ ۳۴ پر یہ لکھاہے:
فالمسلمون الذین یشہدون بکلمۃ الاخلاص وھم کافۃ اھل الجماعۃ والسنۃ وکلمۃ الاخلاص ھی التی قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم انہ من قالھا مخلصا دخل الجنۃ وھی لاتقبل منہم وتردعلیہم لانہم لم یقروا الا بالرسول وحدہ وانکروا مرتبۃ الوصی۔ مسلمان وہ ہیں جو کلمہ اخلاص کی گواہی دیں اور وہ تمام اہل جماعت وسنت ہیں اورکلمہ اخلاص کے بارے میں رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کافرمان ہے جس نے اخلاص کے ساتھ پڑھ لیا وہ جنتی ہے اور یہ کلمہ ان سے قبول نہیں کیا جائے گا اور ان پر رد کردیا جائے گا کیونکہ انھوں نے صرف رسول کا اقرار کیامرتبہ وصی کاانکار کردیا۔(ت)
اور صفحہ ۳۵ پر ہے:
وان امام زمانکم محل من الدین محل الرسول۔ تمھارے زمانے کے امام کامقام دین میں وہی ہے جو رسول کا مقام ہے۔(ت)
اور صفحہ ۴۳ پر ہے:
وان وصیہ علی امیر المومنین نظیرہ(ای نظیر الرسول) فی تمامہ وکمالہ۔ حضرت علی(کرم اﷲ وجہہ)امیرالمومنین ہونے میں ان کی نظیر ہیں یعنی تمام وکمال میں رسول اﷲ کی نظیرہیں۔(ت)
اور صفہ ۴۶پرہے:
وکان من کان فی ایامہ(ایام الرسول)لااستطاعۃ لہم فی قبول کل الحکمۃ گویا جوان کے ایام میں تھا(یعنی حضورکے ایام میں)کہ بیك وقت تمام حکمت کا
جو ایسا کہتاہے خطا کرتاہے بچنا چاہئےواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۲۲: ۲۴ شعبان ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك نام کے مسلمان نے ایك کتاب ضوء نورالحق المبین عربی زبان میں لکھی اور چھپواکر اپنے ہم خیالوں میں بہ تعداد پانچ ہزار تقسیم کی اور اس کو مجالس عام میں برسرمبنر پڑھنے کاحکم دیا اور اس میں صفحہ ۳۴ پر یہ لکھاہے:
فالمسلمون الذین یشہدون بکلمۃ الاخلاص وھم کافۃ اھل الجماعۃ والسنۃ وکلمۃ الاخلاص ھی التی قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم انہ من قالھا مخلصا دخل الجنۃ وھی لاتقبل منہم وتردعلیہم لانہم لم یقروا الا بالرسول وحدہ وانکروا مرتبۃ الوصی۔ مسلمان وہ ہیں جو کلمہ اخلاص کی گواہی دیں اور وہ تمام اہل جماعت وسنت ہیں اورکلمہ اخلاص کے بارے میں رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کافرمان ہے جس نے اخلاص کے ساتھ پڑھ لیا وہ جنتی ہے اور یہ کلمہ ان سے قبول نہیں کیا جائے گا اور ان پر رد کردیا جائے گا کیونکہ انھوں نے صرف رسول کا اقرار کیامرتبہ وصی کاانکار کردیا۔(ت)
اور صفحہ ۳۵ پر ہے:
وان امام زمانکم محل من الدین محل الرسول۔ تمھارے زمانے کے امام کامقام دین میں وہی ہے جو رسول کا مقام ہے۔(ت)
اور صفحہ ۴۳ پر ہے:
وان وصیہ علی امیر المومنین نظیرہ(ای نظیر الرسول) فی تمامہ وکمالہ۔ حضرت علی(کرم اﷲ وجہہ)امیرالمومنین ہونے میں ان کی نظیر ہیں یعنی تمام وکمال میں رسول اﷲ کی نظیرہیں۔(ت)
اور صفہ ۴۶پرہے:
وکان من کان فی ایامہ(ایام الرسول)لااستطاعۃ لہم فی قبول کل الحکمۃ گویا جوان کے ایام میں تھا(یعنی حضورکے ایام میں)کہ بیك وقت تمام حکمت کا
حوالہ / References
مجموعہ ابن وہبان
دفعۃ واحدۃ۔ قبول کرنا طاقت میں نہ تھا۔(ت)
اور صفحہ ۱۶۳ پر حضرت جعفر رحمۃ اﷲ تعالی کی نسبت لکھاہے جنھوں نے بارہ لاکھ شیعوں کو سنی بنالیا تھا:
فمن وسواس خناس وسوس فی صدور الناسفضل و اضل کثیرا من الناس یعنی جعفر النہر والی قرین ابلیس الواقع بہ عن رحمۃ اﷲ تعالی الابلاس۔ وہ خناس کے وساوس میں سے ہے اس نے لوگوں کے دلوں میں وسوسے ڈالے خودبھی گمراہ اور بہت سے لوگوں کو بھی گمراہ کیا یعنی جعفر النہروالیوہ ابلیس کا سینگ ہے اس کی وجہ سے رحمت الہی سے مایوسی ہوئی۔(ت)
پھر انھیں حضرت جعفر کی نسبت صفحہ ۱۶۴ پر ذلك الشیطن(وہ شیطان ہے۔ت)کالفظ ہےپس کیاحکم ہے شریعت کا ایسی کتاب کی نسبت جس میں اس قسم کے مذکورہ مضامین ہوں اور کیا فتوی ہے ایسی کتاب لکھنے اور چھپواکر تقسیم کرنے اور منبروں پرحکما پڑھوانے کی نسبت اور کیا ارشاد ہے سنی مسلمانوں کوکہ وہ اس کتاب کی ضبطی اور مصنف کتاب کی تنبیہ کے لئے حاکم ملك سے چارہ جوئی قانونی کریں یا نہ کریں
الجواب:
یہ بات کیا سوال طلب ہےرویش ببیں حالش مپرس(اس کا چہرہ ہی دیکھ حال مت پوچھ۔ت)ظاہر ہے کہ ایسی ناپاك کتاب کسی رافضی غالی نجس القلب خبیث اللسان کی ہےاس کی اشاعت اشاعت فاحشہاس کالکھنا پڑھنا پڑھوانا سب اشد قطعی حراماس میں تمام اہلسنت بلکہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی توہین وکلمات کفریہ ہیں اس بارے میں قانونی چارہ جوئی اگر مفید ہو ممنوع نہیں مگر زمانہ وہ ہے کہ اس سے لاکھ لاکھ درجے بدتر کتابیں شائع ہورہی ہیں جن میں وہ قطعی کفرہیں کہ:
من شك فی کفرہ وعذابہ فقد کفر ۔ جس نے اس کے کفر وعذاب میں شك کیا وہ بھی کافرہے۔ (ت)
جیسے حفظ الایمان وبراہین قاطعہ اور سب سے خبیث تر"فلسفہ اجتماع"جس میں سیدنا عیسی کلمۃ اﷲ
اور صفحہ ۱۶۳ پر حضرت جعفر رحمۃ اﷲ تعالی کی نسبت لکھاہے جنھوں نے بارہ لاکھ شیعوں کو سنی بنالیا تھا:
فمن وسواس خناس وسوس فی صدور الناسفضل و اضل کثیرا من الناس یعنی جعفر النہر والی قرین ابلیس الواقع بہ عن رحمۃ اﷲ تعالی الابلاس۔ وہ خناس کے وساوس میں سے ہے اس نے لوگوں کے دلوں میں وسوسے ڈالے خودبھی گمراہ اور بہت سے لوگوں کو بھی گمراہ کیا یعنی جعفر النہروالیوہ ابلیس کا سینگ ہے اس کی وجہ سے رحمت الہی سے مایوسی ہوئی۔(ت)
پھر انھیں حضرت جعفر کی نسبت صفحہ ۱۶۴ پر ذلك الشیطن(وہ شیطان ہے۔ت)کالفظ ہےپس کیاحکم ہے شریعت کا ایسی کتاب کی نسبت جس میں اس قسم کے مذکورہ مضامین ہوں اور کیا فتوی ہے ایسی کتاب لکھنے اور چھپواکر تقسیم کرنے اور منبروں پرحکما پڑھوانے کی نسبت اور کیا ارشاد ہے سنی مسلمانوں کوکہ وہ اس کتاب کی ضبطی اور مصنف کتاب کی تنبیہ کے لئے حاکم ملك سے چارہ جوئی قانونی کریں یا نہ کریں
الجواب:
یہ بات کیا سوال طلب ہےرویش ببیں حالش مپرس(اس کا چہرہ ہی دیکھ حال مت پوچھ۔ت)ظاہر ہے کہ ایسی ناپاك کتاب کسی رافضی غالی نجس القلب خبیث اللسان کی ہےاس کی اشاعت اشاعت فاحشہاس کالکھنا پڑھنا پڑھوانا سب اشد قطعی حراماس میں تمام اہلسنت بلکہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی توہین وکلمات کفریہ ہیں اس بارے میں قانونی چارہ جوئی اگر مفید ہو ممنوع نہیں مگر زمانہ وہ ہے کہ اس سے لاکھ لاکھ درجے بدتر کتابیں شائع ہورہی ہیں جن میں وہ قطعی کفرہیں کہ:
من شك فی کفرہ وعذابہ فقد کفر ۔ جس نے اس کے کفر وعذاب میں شك کیا وہ بھی کافرہے۔ (ت)
جیسے حفظ الایمان وبراہین قاطعہ اور سب سے خبیث تر"فلسفہ اجتماع"جس میں سیدنا عیسی کلمۃ اﷲ
حوالہ / References
درمختار باب المرتد مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۵۶
علیہ الصلوۃ والسلام کو مجہول النسب بچہ لکھا ہے رسولوں کو ماننا محض لغو بتایا ہےرسول کی تعظیم باطل کہی ہےرسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کولکھا کہ انھوں نے اپنے مقلدوں کی آزادی پامال کردی اپنے اوپر اعتراض سے ان کی دہن دوزی کیاپنی سطوت برقرار رکھنے کے لئے اپنی اور اپنے اہل بیت کی تعظیم کی آیتیں قرآن میں بڑھادیںقرآن اپنے دعوی توحید میں سچا نہیں نبی کی تعظیم بت پرستی ہے وغیرہ وغیرہ اشد ملعون کفرپھر وہ قوم کے لیڈر بنتے ہیں اس کے مصنف کے اسلام پر شہادت دیتے ہیں اور لکھتے ہیں کہ ہم نے ہرطرح تحقیق کرلیا اس میں کوئی بات کفر کی نہیںاور بعض دوسرے دفتر اس کی اشاعت کررہے ہیں فالی اﷲ المشتکی وانا اﷲ وانا الیہ راجعون ظھر الفساد فی البروالبحر بما کسبت ایدی الناس وربنا الرحمن المستعان علی ماتصفون ولاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیمواﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۳۲۲:از خیر پور ٹالی اسٹیشن ٹامی والے ریاست بہاولپور برخانقاہ مبارك مرسلہ عبدالرحیم نائب معلم مدرسہ عربیہ خیرپور شرقیہ ۲۸ شعبان المعظم ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید اور خالد دونوں بھائی حقیقی ہیںمسمی زید بقضائے الہی فوت ہوگیا ہے اور اس کا برادر خالد موجود ہے اور زید مرحوم کی دو بیویاں اور دو بیٹیاں موجود ہیںزید مرحوم کے داماد نے مسمی خالد کو کہا بموجب شریعت مبارکہ حصہ تقسیم ہونا چاہئے کیونکہ ہم تم اہل اسلام پابند شریعت کے ہیں شرع محمدی پر فیصلہ ہونا چاہئے خالد جو متروکہ زید پر قابض وجابر ہے صاف کہہ دیا کہ ہم کو شریعت نامنظور ہے بلکہ رواج منظوراب فرمائیے کہ عندالشریعت خالد کا کیاحکم ہے نکاح رہا یا فسخ ہوگیا
الجواب:
اگر یہ بیان واقعی ہے تو خالد پر حکم کفر ہے اوریہ کہ اس کا نکاح فسخ ہوگیا اس پر توبہ فرض ہےنئے سرے سے اسلام لائےاس کے بعد اگر عورت راضی ہو اس سے دوبارہ نکاح کرےعالمگیری میں ہے:
اذا قال الرجل لغیرہ حکم الشرع ھذہ الحادثۃ کذا فقال ذلك الغیر من برسم کارمی کنم نہ بشرع یکفر عند بعض المشائخ اھ جب کسی نے دوسرے سے کہا اس معاملہ میں شریعت کاحکم یہ ہے وہ دوسرا جوابا کہتاہے میں تو رسم کے مطابق کروں گا نہ کہ شرع کے مطابقتو بعض مشائخ
مسئلہ ۳۲۲:از خیر پور ٹالی اسٹیشن ٹامی والے ریاست بہاولپور برخانقاہ مبارك مرسلہ عبدالرحیم نائب معلم مدرسہ عربیہ خیرپور شرقیہ ۲۸ شعبان المعظم ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید اور خالد دونوں بھائی حقیقی ہیںمسمی زید بقضائے الہی فوت ہوگیا ہے اور اس کا برادر خالد موجود ہے اور زید مرحوم کی دو بیویاں اور دو بیٹیاں موجود ہیںزید مرحوم کے داماد نے مسمی خالد کو کہا بموجب شریعت مبارکہ حصہ تقسیم ہونا چاہئے کیونکہ ہم تم اہل اسلام پابند شریعت کے ہیں شرع محمدی پر فیصلہ ہونا چاہئے خالد جو متروکہ زید پر قابض وجابر ہے صاف کہہ دیا کہ ہم کو شریعت نامنظور ہے بلکہ رواج منظوراب فرمائیے کہ عندالشریعت خالد کا کیاحکم ہے نکاح رہا یا فسخ ہوگیا
الجواب:
اگر یہ بیان واقعی ہے تو خالد پر حکم کفر ہے اوریہ کہ اس کا نکاح فسخ ہوگیا اس پر توبہ فرض ہےنئے سرے سے اسلام لائےاس کے بعد اگر عورت راضی ہو اس سے دوبارہ نکاح کرےعالمگیری میں ہے:
اذا قال الرجل لغیرہ حکم الشرع ھذہ الحادثۃ کذا فقال ذلك الغیر من برسم کارمی کنم نہ بشرع یکفر عند بعض المشائخ اھ جب کسی نے دوسرے سے کہا اس معاملہ میں شریعت کاحکم یہ ہے وہ دوسرا جوابا کہتاہے میں تو رسم کے مطابق کروں گا نہ کہ شرع کے مطابقتو بعض مشائخ
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ الباب التاسع فی احکام المرتدین نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۲۷۲
اقول: وصورۃ النازلۃ اشد من ھذا بکثیر فان ھذا اخبار عن عملہ والرجل ربما یعمل بالمعصیۃ وھو لا یرضاھا فیکون عاصیا لا کافر العدم الاستحسان و الاستحلال بخلاف ماثمہ فانہ صریح فی عدم قبول الشرع وترجیح الرسم علیہ فکان کالمسألۃ قبلہا ترجیح قال لخصمہ اذھب معی الی الشرع قال بیادہ ببار تا بردم بے جبرنروم یکفر لانہ عاند الشرع اھ واﷲ تعالی اعلم۔
کے نزدیك یہ کافر ہوجائے گا اھ۔ میں کہتاہوں صورت نازلہ مذکورہ صورت سے بہت زیادہ شدید ہے کیونکہ اس عمل کی اطلاع ہے اور آدمی بہت دفعہ معصیت کا عمل کرتاہے مگر اسے گناہ تصور کرتاہے اور دلی طورپر اس پرخوش نہیں ہوتا تو اب عاصی ٹھہرانہ کہ کافرکیونکہ اس نے اسے حلال تصور نہیں کیا بخلاف سوالیہ صورت کے یہاں قبول شرع کاانکار ہے اور رسم کو اس پر ترجیح دے رہاہے یہ اس سے قبل والے مسئلہ جیسا ہے کسی نے مخالف سے کہا میرے ساتھ شریعت کی طرف چلتو وہ کہنے لگا پیغام شریعت لادے تاکہ میں چلوںبغیر جبرکے میں نہیں جاؤں گاتو وہ کافر ہوجائے گا کیونکہ اس نے شریعت سے عناد کو روا رکھا اھ واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۳۲۴: از قصبہ کسیر کلاں ڈاك خانہ خاص ضلع بلند شہر مرسلہ عبدالشکور صاحب ۵رمضان ۱۳۳۷ھ
بسم الرحمن الرحمن الرحیم
طریقت شعار حقیقت آثار جناب مولانا مولوی احمد رضاخاں صاحب دام ظلکم وفضلکمبعد ابلاغ سلام مسنون الاسلام کے گزارش ہے کیا فرماتے ہیں علمائے دین سوالات ذیل میں کہ بہشتی زیور کے چھٹے حصے میں لکھا ہے کہ"مردوں کی روحیں اوقات متبرکہ شب جمعہ وغیرہ میں اپنے گھروں کونہیں آتیں اگر کسی ایسی ویسی کتاب میں لکھا دیکھو جبھی ایسا عقیدہ مت رکھنا"باوجود احادیث صحیحہ اور اکثر روایات کتب معتبرہ اہل سنت وجماعت سے ارواح کا آنا ثابتاس باب میں ہر چند مولوی اشرف علی تھانو ی سے ان سب کتابوں کے اسمائے طیبہ وحوالہ جات جن سے ارواح کا آنا ثابتلکھ کر دریافت کیا کہ کیا یہ سب کتابیں ایسی ویسی ہیںاگر ایسی ویسی نہیں تو قرآن کو ایسی ویسی کہنے والے کی نسبت شرع شریف میں کیاحکم ہےاس پرمولوی صاحب نے جو جوابات جملہ خطوں کے بغیر دستخط اپنے تحریر فرمائے ہیں وہ قابل ملاحظہ حضور ہیں لہذا ہر ایك خط کی نقل مع جواب اس کے تحریر کی جاتی ہے۔
کے نزدیك یہ کافر ہوجائے گا اھ۔ میں کہتاہوں صورت نازلہ مذکورہ صورت سے بہت زیادہ شدید ہے کیونکہ اس عمل کی اطلاع ہے اور آدمی بہت دفعہ معصیت کا عمل کرتاہے مگر اسے گناہ تصور کرتاہے اور دلی طورپر اس پرخوش نہیں ہوتا تو اب عاصی ٹھہرانہ کہ کافرکیونکہ اس نے اسے حلال تصور نہیں کیا بخلاف سوالیہ صورت کے یہاں قبول شرع کاانکار ہے اور رسم کو اس پر ترجیح دے رہاہے یہ اس سے قبل والے مسئلہ جیسا ہے کسی نے مخالف سے کہا میرے ساتھ شریعت کی طرف چلتو وہ کہنے لگا پیغام شریعت لادے تاکہ میں چلوںبغیر جبرکے میں نہیں جاؤں گاتو وہ کافر ہوجائے گا کیونکہ اس نے شریعت سے عناد کو روا رکھا اھ واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۳۲۴: از قصبہ کسیر کلاں ڈاك خانہ خاص ضلع بلند شہر مرسلہ عبدالشکور صاحب ۵رمضان ۱۳۳۷ھ
بسم الرحمن الرحمن الرحیم
طریقت شعار حقیقت آثار جناب مولانا مولوی احمد رضاخاں صاحب دام ظلکم وفضلکمبعد ابلاغ سلام مسنون الاسلام کے گزارش ہے کیا فرماتے ہیں علمائے دین سوالات ذیل میں کہ بہشتی زیور کے چھٹے حصے میں لکھا ہے کہ"مردوں کی روحیں اوقات متبرکہ شب جمعہ وغیرہ میں اپنے گھروں کونہیں آتیں اگر کسی ایسی ویسی کتاب میں لکھا دیکھو جبھی ایسا عقیدہ مت رکھنا"باوجود احادیث صحیحہ اور اکثر روایات کتب معتبرہ اہل سنت وجماعت سے ارواح کا آنا ثابتاس باب میں ہر چند مولوی اشرف علی تھانو ی سے ان سب کتابوں کے اسمائے طیبہ وحوالہ جات جن سے ارواح کا آنا ثابتلکھ کر دریافت کیا کہ کیا یہ سب کتابیں ایسی ویسی ہیںاگر ایسی ویسی نہیں تو قرآن کو ایسی ویسی کہنے والے کی نسبت شرع شریف میں کیاحکم ہےاس پرمولوی صاحب نے جو جوابات جملہ خطوں کے بغیر دستخط اپنے تحریر فرمائے ہیں وہ قابل ملاحظہ حضور ہیں لہذا ہر ایك خط کی نقل مع جواب اس کے تحریر کی جاتی ہے۔
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ الباب التاسع فی احکام المرتدین نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۲۷۱
(عزیزی منظور مدعمرہ کا پہلا خط بنام مولوی اشرف علی تھانوی)جناب مولوی صاحب بعد السلام علیکم عرض ہے کہ جناب کی بعض تصنیفات مثل بہشتی زیور وغیرہ میں جملہ رسوم مروجہ اہل اسلام مثلا قیام میلاد شریف و اعراس بزرگان دین وتعین گیارھویں شریف وطریق نیاز ایصال ثواب میت اور دعاکے لئے بروقت فاتحہ ہاتھ اٹھانا اورمیت کا تیجادسواںبیسواںچہلمسہ ماہیششماہیبرسیسات جمعراتیں کرنااوربزرگوں سے استمداد چاہنا اوران کے مزاروں پر چادریں چڑھانا اورعورتوں کو قبور اولیائے کرام پر بفرض زیارت کے جانا وغیرہ وغیرہ ناجائز وبدعت لکھا ہےاور ان ایام میں ہماری طرف ایك رسالہ موسومہ"مفید آخرت"حصہ اول ودوم چھپ کر شائع ہوئے ہیں بغرض ملاحظہ جناب ہمراہ تحریرہذا ارسال ہیں ان دونوں حصوں میں امور متذکرہ بالاکو بدلائل احادیث واقوال مشائخ کرام علمائے عظام وروایات فقہ جائز ومستحسن ثابت کیا گیا ہے اور نیز جناب نے"بہشتی زیور"کے حصہ چھ کے اس بیان میں جس میں ان رسموں کا بیان ہے جو کسی کے مرنے میں برتی جاتی ہیںلکھا ہے:"بعض یہ سمجھتے ہیں کہ ان تاریخوں اور جمعرات کے دن اور شب برأت وغیرہ کے دنوں میں مردوں کی روحیں گھروں میں آتی ہیں اس بات کی شرع شریف میں کچھ اصل نہیں اور ان کے آنے کی ضرورت ہی کیا ہے کیونکہ جو کچھ ثواب مردوں کو پہنچایا جاتاہے اس کو خود اس کے ٹھکانے پر پہنچ جاتاہے پھر اس کو کون ضرور ہے کہ مارا مارا پھرےپھریہ بھی ہے کہ اگر مردہ نیك اور بہشتی ہے تو ایسی بہار کی جگہ چھوڑ کر کیوں آنے لگا اور اگر بد اور دوزخی تو اس کوفرشتے کیوں چھوڑیں گے کہ عتاب سے چھوٹ کر سیر کرتاپھرےغرض یہ بات بالکل بے جوڑ معلوم ہوتی ہےاگر کسی ایسی ویسی کتاب میں لکھا ہوا دیکھو تب بھی ایسا عقیدہ مت رکھنا جس کتاب کو عالم سند نہ رکھیں وہ بھروسہ کی نہیں ہے۔"
برخلاف اس کے جناب مولانا شاہ سلامت اﷲ صاحب رام پوری نے اپنی کتاب"عمدۃ الفاتحہ"میں ارواح موتی کا اوقات متبرکہ میں اپنے گھروں کو آنا احادیث وکتب فقہ اقوال مشائخ کرام وعلمائے عظام سے ثابت کیاہےمشت نمونہ وہ روایات بھی یہاں لکھی جاتی ہیںسنئےاشعۃ اللمعات میں مولانا حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اﷲ تعالی علیہ لکھتے ہیں:
دربعضے روایات آمدہ است کہ ارواح میت می آید خانہ خود راشب جمعہ پس نظرمی کند کہ تصدق می کنند ازوے یانہ ۔ بعض روایات میں منقول ہے کہ جمعہ کی رات میت کی روح اپنے گھر آتی ہے اور دیکھتی ہیں کہ اس کی طرف سے صدقہ کیا گیا ہے یانہیں۔(ت)
برخلاف اس کے جناب مولانا شاہ سلامت اﷲ صاحب رام پوری نے اپنی کتاب"عمدۃ الفاتحہ"میں ارواح موتی کا اوقات متبرکہ میں اپنے گھروں کو آنا احادیث وکتب فقہ اقوال مشائخ کرام وعلمائے عظام سے ثابت کیاہےمشت نمونہ وہ روایات بھی یہاں لکھی جاتی ہیںسنئےاشعۃ اللمعات میں مولانا حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اﷲ تعالی علیہ لکھتے ہیں:
دربعضے روایات آمدہ است کہ ارواح میت می آید خانہ خود راشب جمعہ پس نظرمی کند کہ تصدق می کنند ازوے یانہ ۔ بعض روایات میں منقول ہے کہ جمعہ کی رات میت کی روح اپنے گھر آتی ہے اور دیکھتی ہیں کہ اس کی طرف سے صدقہ کیا گیا ہے یانہیں۔(ت)
حوالہ / References
اشعۃ اللمعات باب زیارت القبور مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱/ ۱۷۔۷۱۶
دقائق الاخبار مصنفہ حضرت امام غزالی رحمۃ اﷲ تعالی علیہ میں ہے:"حضرت ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہ سے منقول ہے کہ جس دن ہوتا ہے دن عید کایاد ن جمعہ کایا روز عاشورہ کایا شب نصف شعبانآتی ہیں روحیں مردوں کیاور کھڑی ہوتی ہیں اوپر اپنے گھروں کےپس کہتی ہیں آیا ہے کوئی کہ یاد کرتاہے مجھ کوآیا ہے کوئی کہ رحم کرے اوپر ہمارےآیا ہے کوئی کہ یاد کرے غربت ہماری کواے وہ لوگو! کہ رہتے ہو تم بیچ گھروں ہمارے کےاے لوگو! اچھے ہوئے تم ساتھ اس کے اور بدبخت ہم ساتھ اس کے ہوئےاور اے لوگو! کھڑے ہو تم بیچ کشادہ محلوں ہمارے کےاور ہم درمیان قبروں تنگ کےاورآیا ہے اے لوگو! ذلیل کیا تم نے یتیموں ہمارے کواے لوگو! نکاح کیا تم نے ساتھ عورتوں ہماری کےآیا ہے کہ یاد کرے کوئی بیچ غربت اور فقر ہمارے کےاعمال نامے تمھارے کشادہ ہیں اور اعمال نامے ہمارے لپٹے گئے"
اور قریب قریب روایت اسی مضمون کی کتاب دررالحسان میں امام سیوطی رحمۃ اﷲ تعالی علیہ نقل فرماتے ہیں:
وعن ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما اذا کان یوم العید ویوم العشر ویوم الجمعۃ الاولی من شھر رجب ولیلۃ النصف من شعبان ولیلۃ الجمعۃ یخرج الاموات من قبورھم ویقفون علی ابواب بیوتہم ویقولون ترحموا علینا فی اللیلۃ بصدقۃ ولوبلقمۃ من خبز فانا محتاجون الیھا فان لم یجدواشیئا یرجعون بالحسرۃ ۔ حضرت ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے ہے جب عید کادندسواں دنماہ رجب کاپہلا جمعہشب براءت(شعبان کی نصف)اور جمعہ کی رات آتی ہے تو اموات اپنی قبور سے نکل کر اپنے گھروں کے دروازوں پر کھڑے ہوجاتے ہیں اور کہتے ہیں ہماری طرف سے اس رات صدقہ کرو اگرچہ روٹی کا ایك لقمہ ہی دو کیونکہ ہم اس کے ضرورت مندہیں اگر وہ کچھ صدقہ نہ کریں تو بڑے افسوس سے لوٹتے ہیں(ت)
دستور القضاۃ مصنفہ صدرالدین رشید تبریزی میں فتاوی نسفیہ سے منقول ہے:
ان ارواح المؤمنین یاتون فی کل لیلۃ الجمعۃ ویوم الجمعۃ فیقومون بفناء بیوتہم اہل ایمان کی ارواح ہر جمعہ کی رات اور دن کو اپنے گھروں کے صحن میں آکر غمناك آواز دیتی ہیں:اے
اور قریب قریب روایت اسی مضمون کی کتاب دررالحسان میں امام سیوطی رحمۃ اﷲ تعالی علیہ نقل فرماتے ہیں:
وعن ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما اذا کان یوم العید ویوم العشر ویوم الجمعۃ الاولی من شھر رجب ولیلۃ النصف من شعبان ولیلۃ الجمعۃ یخرج الاموات من قبورھم ویقفون علی ابواب بیوتہم ویقولون ترحموا علینا فی اللیلۃ بصدقۃ ولوبلقمۃ من خبز فانا محتاجون الیھا فان لم یجدواشیئا یرجعون بالحسرۃ ۔ حضرت ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے ہے جب عید کادندسواں دنماہ رجب کاپہلا جمعہشب براءت(شعبان کی نصف)اور جمعہ کی رات آتی ہے تو اموات اپنی قبور سے نکل کر اپنے گھروں کے دروازوں پر کھڑے ہوجاتے ہیں اور کہتے ہیں ہماری طرف سے اس رات صدقہ کرو اگرچہ روٹی کا ایك لقمہ ہی دو کیونکہ ہم اس کے ضرورت مندہیں اگر وہ کچھ صدقہ نہ کریں تو بڑے افسوس سے لوٹتے ہیں(ت)
دستور القضاۃ مصنفہ صدرالدین رشید تبریزی میں فتاوی نسفیہ سے منقول ہے:
ان ارواح المؤمنین یاتون فی کل لیلۃ الجمعۃ ویوم الجمعۃ فیقومون بفناء بیوتہم اہل ایمان کی ارواح ہر جمعہ کی رات اور دن کو اپنے گھروں کے صحن میں آکر غمناك آواز دیتی ہیں:اے
حوالہ / References
دقائق الاخبار
دررالحسان فی البعث ونعیم الجنان للسیوطی
دررالحسان فی البعث ونعیم الجنان للسیوطی
ثم ینادی کل واحد منہم بصوت حزین یااھلی ویا اولادی یا اقربائی اعطفوا علینا بالصدقۃ واذکرو نا ولاتنسونا وارحمونا فی غربتنا قد کان ھذا المال الذی فی ایدیکم فی ایدینا فیرجعون منہم باکیا حزینا ثم ینادی کل واحد منہم بصوت حزین اللہم قنطہم من الرحمۃ کما قنطونا من الدعاء والصدقۃ ۔ میرے گھروالواے میری اولاداے میرے رشتہ داروہم پر صدقہ کرکے مہربانی کروہمیں یاد رکھوہمیں بھول نہ جاؤہماری غربت پر رحم کرویہ مال جو تمھارے ہاتھوں میں ہے یہ کبھی ہمارے پاس بھی تھا پھر وہ غمگین روتے ہوئے واپس جاتے ہیںپھر ان میں سے ہر کوئی غمگین آواز سے کہتاہے اے اللہ! ان کو رحمت سے اسی طرح دور فرما جس طرح انھوں نے ہمیں دعا وصدقہ سے مایوس کیا ہے۔(ت)
اشباہ والنظائر احکام جمعہ میں مسطور ہے:وفیہ یجتمع الارواح یعنی جمعہ کے دن روحیں اکٹھی ہوتی ہیں روضۃ الریاحین میں ہے:
مذھب اھل السنۃ ان ارواح الموتی فی بعض الاوقات من علیین وسجین یاتون الی اجساد ھم فی قبورھم عند مایرید اﷲ تعالی خصوصا فی لیلۃ الجمعۃ ویومہا ویجلسون ویتحدثون ۔ اہل سنت کا مذہب یہ ہے کہ اموات کی ارواح جب اﷲ تعالی چاہتاہے علیین اور سجین سے اپنےاجسام کی طرف آتی ہیں خصوصا جمعہ کی راتدن میں آپس میں بیٹھ کر گفتگو کرتی ہیں(ت)
بخوف تطویل اس قدر ہی روایات پربسورنہ اور بھی کتب معتبرہ خزانۃ الروایات اور عوارف المعارف اور تذکرۃ الموتی مصنفہ قاضی ثناء اﷲ صاحب رحمہ اﷲ تعالی سے ارواح موتی کا اوقات متبرکہ میں اپنے گھروں کو آنا ثابت ہےچنانچہ مولانا شاہ عبد العزیز صاحب محدث دہلوی رحمۃ اﷲ تعالی علیہ فتاوی عزیزی ترجمہ سرور عزیزی میں فرماتے ہیں:"مردے اوقات متبرکہ میں مثلا شب جمعہ اور شب قدر میں اپنے ان عزیزوں کے پاس گزرتے
اشباہ والنظائر احکام جمعہ میں مسطور ہے:وفیہ یجتمع الارواح یعنی جمعہ کے دن روحیں اکٹھی ہوتی ہیں روضۃ الریاحین میں ہے:
مذھب اھل السنۃ ان ارواح الموتی فی بعض الاوقات من علیین وسجین یاتون الی اجساد ھم فی قبورھم عند مایرید اﷲ تعالی خصوصا فی لیلۃ الجمعۃ ویومہا ویجلسون ویتحدثون ۔ اہل سنت کا مذہب یہ ہے کہ اموات کی ارواح جب اﷲ تعالی چاہتاہے علیین اور سجین سے اپنےاجسام کی طرف آتی ہیں خصوصا جمعہ کی راتدن میں آپس میں بیٹھ کر گفتگو کرتی ہیں(ت)
بخوف تطویل اس قدر ہی روایات پربسورنہ اور بھی کتب معتبرہ خزانۃ الروایات اور عوارف المعارف اور تذکرۃ الموتی مصنفہ قاضی ثناء اﷲ صاحب رحمہ اﷲ تعالی سے ارواح موتی کا اوقات متبرکہ میں اپنے گھروں کو آنا ثابت ہےچنانچہ مولانا شاہ عبد العزیز صاحب محدث دہلوی رحمۃ اﷲ تعالی علیہ فتاوی عزیزی ترجمہ سرور عزیزی میں فرماتے ہیں:"مردے اوقات متبرکہ میں مثلا شب جمعہ اور شب قدر میں اپنے ان عزیزوں کے پاس گزرتے
حوالہ / References
دستور القضاۃ صدر الدین رشیدتبریزی
الاشباہ والنظائر باب احکام الجمعہ ادارۃ القرآن کراچی ۲/ ۲۳۹
روضۃ الریاحین
الاشباہ والنظائر باب احکام الجمعہ ادارۃ القرآن کراچی ۲/ ۲۳۹
روضۃ الریاحین
ہیں کہ وہ عزیزان اموات کو یاد کرتے ہیں قدر ضرورت"
جناب آپ کی عبارت بالا دیکھنے اور ان سب روایات کے غور کرنے سے عوام الناس نہایت مبتلائے اوہام اور مشکوك ہیںاب سوال یہ ہے کہ آپ کے اقوال قابل تسلیم یا یہ جملہ روایات منقولہ اور کتب حوالہ جات روایات منقولہ کوکیا تصور کیا جائےآیا یہ سب کتابیں ایسی ویسی ہیں جن کی عالم سند نہیں رکھتےتحقیق کیا ہے وہ صحیح ہے یانہیںیایہ کہ وہی درست ہے جو جناب کی کتاب زشتی زیور وغیرہ میں لکھا ہے عنداﷲ بواپسی ڈاك جواب باصواب بنظر انصاف مستفید فرمائے تاکہ خاطر جمع ہوں اﷲ آپ کو اس کی جزائے خیر دے گاجواب کے واسطے ٹکٹ مرسل ہے۵ربیع الثانی ۱۳۳۷ھ
(پہلے خط کا جواب از طرف تھانوی):
السلام علیکم اگر تقلید پر اکتفا ہے تو جو شخص آپ کے نزدیك قابل اعتمادہو اس کا اتباع کیجئے اور اگرتحقیق کا شوق ہے تو یہ خط لے کر تشریف لے آئیے بشرطیکہ کچھ علوم دینیہ سے مناسبت بھی ہو
(دوسراخط بنام تھانوی):
جناب تھانوی صاحب ! اسلام علیکمکیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ آنا اپنے گھروں کوارواح موتی کا اوقات متبرکہ مثل شب جمعہ وغیرہ میں اپنے احادیث صحیحہ سے ثابت ہےجیسا کہ اشعۃ اللمعات میں ہے:
دربعضے روایات آوردہ است کہ ارواح میت می آید خانہ خود راشب جمعہ پس نظرمی کند کہ تصدق مے کنند ازوے یانہ ۔ بعض روایات میں منقول ہیں کہ جمعہ کی رات میت کی روح اپنے گھرآتی ہےاور دیکھتی ہے کہ اس کی طرف سے صدقہ کیا گیا ہے یانہ۔(ت)
اور نیز اکثر کتب معتبرہ اہل سنت وجماعت فقہ وحدیث وتفاسیر مثلا دقائق الاخباردررالحساندستور القضاۃفتاوی نسفیہاشباہ والنظائرروضۃ الریاحینخزانۃ الروایاتعوارف المعارفتذکرۃا لموتیفتاوی عزیزی وتفسیر عزیزی میں ارواح کاآنا مسطور لیکن جناب کی زشتی زیور کے حصہ چھ میں"ارواح موتی کا اوقات متبرکہ میں اپنے گھروں میں نہ آنا"اس شدومد کے ساتھ مذکور کہ"اگر
جناب آپ کی عبارت بالا دیکھنے اور ان سب روایات کے غور کرنے سے عوام الناس نہایت مبتلائے اوہام اور مشکوك ہیںاب سوال یہ ہے کہ آپ کے اقوال قابل تسلیم یا یہ جملہ روایات منقولہ اور کتب حوالہ جات روایات منقولہ کوکیا تصور کیا جائےآیا یہ سب کتابیں ایسی ویسی ہیں جن کی عالم سند نہیں رکھتےتحقیق کیا ہے وہ صحیح ہے یانہیںیایہ کہ وہی درست ہے جو جناب کی کتاب زشتی زیور وغیرہ میں لکھا ہے عنداﷲ بواپسی ڈاك جواب باصواب بنظر انصاف مستفید فرمائے تاکہ خاطر جمع ہوں اﷲ آپ کو اس کی جزائے خیر دے گاجواب کے واسطے ٹکٹ مرسل ہے۵ربیع الثانی ۱۳۳۷ھ
(پہلے خط کا جواب از طرف تھانوی):
السلام علیکم اگر تقلید پر اکتفا ہے تو جو شخص آپ کے نزدیك قابل اعتمادہو اس کا اتباع کیجئے اور اگرتحقیق کا شوق ہے تو یہ خط لے کر تشریف لے آئیے بشرطیکہ کچھ علوم دینیہ سے مناسبت بھی ہو
(دوسراخط بنام تھانوی):
جناب تھانوی صاحب ! اسلام علیکمکیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ آنا اپنے گھروں کوارواح موتی کا اوقات متبرکہ مثل شب جمعہ وغیرہ میں اپنے احادیث صحیحہ سے ثابت ہےجیسا کہ اشعۃ اللمعات میں ہے:
دربعضے روایات آوردہ است کہ ارواح میت می آید خانہ خود راشب جمعہ پس نظرمی کند کہ تصدق مے کنند ازوے یانہ ۔ بعض روایات میں منقول ہیں کہ جمعہ کی رات میت کی روح اپنے گھرآتی ہےاور دیکھتی ہے کہ اس کی طرف سے صدقہ کیا گیا ہے یانہ۔(ت)
اور نیز اکثر کتب معتبرہ اہل سنت وجماعت فقہ وحدیث وتفاسیر مثلا دقائق الاخباردررالحساندستور القضاۃفتاوی نسفیہاشباہ والنظائرروضۃ الریاحینخزانۃ الروایاتعوارف المعارفتذکرۃا لموتیفتاوی عزیزی وتفسیر عزیزی میں ارواح کاآنا مسطور لیکن جناب کی زشتی زیور کے حصہ چھ میں"ارواح موتی کا اوقات متبرکہ میں اپنے گھروں میں نہ آنا"اس شدومد کے ساتھ مذکور کہ"اگر
حوالہ / References
سرور عزیزی ترجمہ فتاوٰی عزیزی
اشعۃ اللمعات باب زیارت القبور مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱/ ۷۱۷
اشعۃ اللمعات باب زیارت القبور مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱/ ۷۱۷
ایسی ویسی کتاب میں لکھا ہوا دیکھو تب بھی ایسا اعتقاد مت رکھنا"تو سوال یہ ہے کہ یہ لکھنا جناب کا کس صورت پر محمول کیا جاوےآیا سب کتابیں مذکور الصدر جن سے ارواح کا آنا ثابت ہےایسی ویسی کتب میں اور گرنہیں تو ان کتابوں کو ایسی ویسی سمجھنے والے کے حق میں شرع شریف میں کیاحکم ہے عنداﷲ غور فرماکر جواب حق سے مع مہر اور دستخط کے دریغ نہ کرئیے گا۔۴ جمادی الاولی ۱۳۳۷ھ
(دوسرے خط کا جواب از طرف تھانوی):
وعلیکم السلامچونکہ انداز عبارت سے مقصود اعتراض معلوم ہوتاہے اور جس پر اعتراض کرنا مقصود ہو اس سے استفسار کرنا نامناسب ہے اس لئے جواب نہیں دیا گیا کیونکہ مقصود استفتاء سے دوسرا ہوتاہے یعنی طلب حکم العملاور ان دونوں غرضوں سے منافات معلوم۔
(تیسراخط بنام تھانوی)
جنابالسلام علیکمافسوس مسئلہ حل طلب جناب کو دوبارہ لکھا لیکن جواب جواب باوجود یکہ فقیر کو نہ اعتراض مرغوبنہ کوئی مناظرہ محبوببلکہ اظہار حق مطلوبکتب معتبرہ اہل سنت وجماعت جن کے اسمائے طیبہ پچھلے خطوں میں بالتصریح مذکورجب یہ ایسی ویسی نہیں تو ان کوایسی ویسی سمجھنے والے کی نسبت جو حکم شرع ہو اس کے لکھنے میں آپ کوکیاتامل ہےہاں البتہ آپ کے اس لفظ ایسی ویسی کے لکھنے میں شامل ضرور ہوتی ہیںشاید جس کی وجہ سے اظہار حق میں کچھ دریغ ہےاگر بہ تقاضائے بشریت جناب سے کوئی سہو وخطا اس کلمہ ایسی ویسی کے لکھنے میں مضمر ہے تو آگاہیت پر ان کلمات کی واپسی میں کیاعذرہے اور اگر خاص کوئی تاویل ہے تواس سے عنداﷲ مع دستخط ومہر کے بواپسی ڈاك صاف طور سے عوام کو مطلع فرمادیجئے گا بلحاظ اس کے تاکہ ظن قائم کریں اگر آپ نے صاف صاف جواب جواب بھی نہ دیا تو پھر مجبورا یہی متصورہوگا کہ آپ کو کتب معلومہ سے انحراف ہےاس پر پھر جو حکم شرعی ہوگا علمائے اہل سنت وجماعت سے استفتالے کر بذریعہ اشتہار مشتہر کردیا جائے گا۹ فروری ۱۹۱۹ء
(تیسرے خط کا جواب از طرف تھانوی):
السلام علیکممجھ کو جو کچھ عرض کرنا تھا کرچکافقط۔
جناب من! تینوں خط مع جواب ان کے پیش خدمت بعد ملاحظہ مخفی نہ رہے گا مولوی صاحب نے اصل جواب کے دینے میں کس قدر ایچ پیچ لگائے ہیںاور جو مقصود سوال تھا ان کے جوابات میں وہ قطعی مفقوداب سوال یہ ہے کہ اس عبارت زشتی زیور سے کہ جس میں جو لکھا ہے"ارواح موتی کا اوقات متبرکہ میں اپنے گھروں کو آنا اگر کسی ایسی ویسی کتاب میں لکھا ہوا دیکھو تب بھی ایسا اعتقاد مت رکھنا"
(دوسرے خط کا جواب از طرف تھانوی):
وعلیکم السلامچونکہ انداز عبارت سے مقصود اعتراض معلوم ہوتاہے اور جس پر اعتراض کرنا مقصود ہو اس سے استفسار کرنا نامناسب ہے اس لئے جواب نہیں دیا گیا کیونکہ مقصود استفتاء سے دوسرا ہوتاہے یعنی طلب حکم العملاور ان دونوں غرضوں سے منافات معلوم۔
(تیسراخط بنام تھانوی)
جنابالسلام علیکمافسوس مسئلہ حل طلب جناب کو دوبارہ لکھا لیکن جواب جواب باوجود یکہ فقیر کو نہ اعتراض مرغوبنہ کوئی مناظرہ محبوببلکہ اظہار حق مطلوبکتب معتبرہ اہل سنت وجماعت جن کے اسمائے طیبہ پچھلے خطوں میں بالتصریح مذکورجب یہ ایسی ویسی نہیں تو ان کوایسی ویسی سمجھنے والے کی نسبت جو حکم شرع ہو اس کے لکھنے میں آپ کوکیاتامل ہےہاں البتہ آپ کے اس لفظ ایسی ویسی کے لکھنے میں شامل ضرور ہوتی ہیںشاید جس کی وجہ سے اظہار حق میں کچھ دریغ ہےاگر بہ تقاضائے بشریت جناب سے کوئی سہو وخطا اس کلمہ ایسی ویسی کے لکھنے میں مضمر ہے تو آگاہیت پر ان کلمات کی واپسی میں کیاعذرہے اور اگر خاص کوئی تاویل ہے تواس سے عنداﷲ مع دستخط ومہر کے بواپسی ڈاك صاف طور سے عوام کو مطلع فرمادیجئے گا بلحاظ اس کے تاکہ ظن قائم کریں اگر آپ نے صاف صاف جواب جواب بھی نہ دیا تو پھر مجبورا یہی متصورہوگا کہ آپ کو کتب معلومہ سے انحراف ہےاس پر پھر جو حکم شرعی ہوگا علمائے اہل سنت وجماعت سے استفتالے کر بذریعہ اشتہار مشتہر کردیا جائے گا۹ فروری ۱۹۱۹ء
(تیسرے خط کا جواب از طرف تھانوی):
السلام علیکممجھ کو جو کچھ عرض کرنا تھا کرچکافقط۔
جناب من! تینوں خط مع جواب ان کے پیش خدمت بعد ملاحظہ مخفی نہ رہے گا مولوی صاحب نے اصل جواب کے دینے میں کس قدر ایچ پیچ لگائے ہیںاور جو مقصود سوال تھا ان کے جوابات میں وہ قطعی مفقوداب سوال یہ ہے کہ اس عبارت زشتی زیور سے کہ جس میں جو لکھا ہے"ارواح موتی کا اوقات متبرکہ میں اپنے گھروں کو آنا اگر کسی ایسی ویسی کتاب میں لکھا ہوا دیکھو تب بھی ایسا اعتقاد مت رکھنا"
اس سے اور نیز خطوط مذکورہ کے جوابات سے یہ امر ثابت ہے یانہیں کہ مولوی صاحب کوجملہ احادیث و روایاتکتب معتبرہ اہل سنت وجماعت جن میں ا رواح کاآنا ثابت ایسی ویسی اور جو شخص ان سب احادیث روایات کوایسی ویسی کہے اس کی نسبت شرع شریف میں کیاحکم ہے
الجواب:
تھانوی نے حفظ الایمان میں حضور اقدس سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی صریح توہین کی اور شدید گالیاں دیں جس پر علمائے حرمین شریفین نے بالاتفاق اس پرحکم کفر دیا اور صاف فرمادیا کہ:
من شك فی کفرہ وعذابہ فقد کفر ۔ جو اس کے اقوال پر مطلع ہوکر اس کے کافر ہونے میں شك بھی کرے وہ بھی کافرہے۔
اس کے بعد اس کی ایسی ویسی باتوں پر کیا التفات اور کتب دینیہ کی توہین کی کیا شکایتماعلی مثلہ بعد الخطاء(خطا کے بعد اس کی مثل مجھ پر نہیں۔ت)واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۳۲۵: از اوآرریلوے ٹیلیگراف ٹریننگ اسکول مرسلہ سید اعجاز احمد صاحب اسٹیشن ماسٹر ۲۰ رمضان ۱۳۳۷ھ
میرے تاجدار آقاحضور کے سایہ رحمت میں حق سبحانہ وتعالی اس کمینہ کو امان عطا فرمائےایك صاحب کہتے ہیں کہ ماحصل یہ کہ اعمال صالحہ کرنے سے کبھی نہ کبھی جنت میں جائے گا اگرچہ کسی نبی یا خود حضور سیدعالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پر ایمان نہ لائےاس پر یہ آیت پیش کرتاہے پارہ"لایحب اﷲ "سورہ مائدہ ع۱۰:
" ان الذین امنوا والذین ہادوا والصبـون والنصری من امن باللہ والیوم الاخر وعمل صلحا فلا خوف علیہم ولا ہم یحزنون ﴿۶۹﴾" اس میں کچھ شك نہیں جوکوئی مسلمان ہیں اور جو یہودی ہیں اور صابی اور نصاری ان میں سے جوکوئی اﷲ اور آخرت کے دن پر ایمان لاوے اورنیك عمل بھی کرے تو قیامت کے دن ایسے لوگوں پر نہ کسی قسم کا خوف طاری ہوگا اورنہ وہ آزردہ خاطر رہیں گے۔
گویا کہ نصاری یہودی وغیرہ اگراﷲ وروز آخرت پر ایمان لاویں اورنیك عمل کریں اگرچہ حضور صلی اﷲ
الجواب:
تھانوی نے حفظ الایمان میں حضور اقدس سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی صریح توہین کی اور شدید گالیاں دیں جس پر علمائے حرمین شریفین نے بالاتفاق اس پرحکم کفر دیا اور صاف فرمادیا کہ:
من شك فی کفرہ وعذابہ فقد کفر ۔ جو اس کے اقوال پر مطلع ہوکر اس کے کافر ہونے میں شك بھی کرے وہ بھی کافرہے۔
اس کے بعد اس کی ایسی ویسی باتوں پر کیا التفات اور کتب دینیہ کی توہین کی کیا شکایتماعلی مثلہ بعد الخطاء(خطا کے بعد اس کی مثل مجھ پر نہیں۔ت)واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۳۲۵: از اوآرریلوے ٹیلیگراف ٹریننگ اسکول مرسلہ سید اعجاز احمد صاحب اسٹیشن ماسٹر ۲۰ رمضان ۱۳۳۷ھ
میرے تاجدار آقاحضور کے سایہ رحمت میں حق سبحانہ وتعالی اس کمینہ کو امان عطا فرمائےایك صاحب کہتے ہیں کہ ماحصل یہ کہ اعمال صالحہ کرنے سے کبھی نہ کبھی جنت میں جائے گا اگرچہ کسی نبی یا خود حضور سیدعالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پر ایمان نہ لائےاس پر یہ آیت پیش کرتاہے پارہ"لایحب اﷲ "سورہ مائدہ ع۱۰:
" ان الذین امنوا والذین ہادوا والصبـون والنصری من امن باللہ والیوم الاخر وعمل صلحا فلا خوف علیہم ولا ہم یحزنون ﴿۶۹﴾" اس میں کچھ شك نہیں جوکوئی مسلمان ہیں اور جو یہودی ہیں اور صابی اور نصاری ان میں سے جوکوئی اﷲ اور آخرت کے دن پر ایمان لاوے اورنیك عمل بھی کرے تو قیامت کے دن ایسے لوگوں پر نہ کسی قسم کا خوف طاری ہوگا اورنہ وہ آزردہ خاطر رہیں گے۔
گویا کہ نصاری یہودی وغیرہ اگراﷲ وروز آخرت پر ایمان لاویں اورنیك عمل کریں اگرچہ حضور صلی اﷲ
تعالی علیہ وسلم پر ایمان نہ لاویں تب بھی جنت کے مستحق ہیںمیں نے اس شخص کو امنوا باﷲ ورسولہ(اﷲ تعالی اور اس کے رسولوں پر ایمان لاؤ۔ت)اور نیز بعد کی آیت پڑھ کر سمجھایا کہ اول ایمان عقیدہ ہے بعد کو اعمال صالحہاگر عقائد ٹھیك نہیںاﷲ تعالی کے محبوبوں کی عظمت دل میں نہیں لاکھ اعمال صالحہ کرے جنت کا مستحق نہیںاس کے جواب میں وہ آیت پیش کرتاہے حضور سے گزارش ہے کہ فورا اس کا رد اور اس آیت کے واضح معنی نیز بغیر مسلمان ہوئے لاکھ اعمال صالحہ کرے کسی طرح جنت کا مستحق نہیں اگرچہ کسی نبی پر ایمان نہ لائے ا س کو اعمال صالحہ اس کے کام آویں گے یعنی وہ جنت کا مستحق ہےورنہ کلام سے ثبوت مانگتاہے
الجواب:
اﷲ عزوجل اپنے غضب سے بچائے اور شیطان لعین کے دھوکوں سے پناہ دےقرآن عظیم اول تااخر انبیاء پر عموما اور حضور پر نور سید الانبیاء علیہ وعلیہم افضل الصلوۃ والثناء پر خصوصا ایمان لانے کاحکم دے رہاہےان کی تکذیب کرنے والوں پر لعنت وعذاب اتاررہاہےاور یہ کہ دین صرف دین اسلام ہے اور یہ کہ کافر کاکوئی عمل صالح نہیں سب باطل وناکام ہے جسے دن کو آفتاب نظرنہ آئے وہ اپنی آنکھوں کو روئےہم صدہا آیات کریمہ سے بعض کی تلاوت سے شرف لیں گے نہ اس لئے کہ جو دیدہ ودانستہ اندھا بناہو اس کی آنکھیں کھلیں اس کی تو قیامت کے دن بھی پٹ ہی ہوں گی۔
" ونحشرہم یوم القیمۃ علی وجوہہم عمیا و بکما و صما " اورہم انھیں قیامت کے دین ان کے منہ کے بل اٹھائیں گے اندھے اور گونگے اور بہرے۔(ت)
بلکہ اس لئے کہ کوئی جاہل ساجاہل مسلمان کسی ملعون کے دھوکے میں نہ آجائے۔
آیت ۱:سب سے پہلے جو اس کج فہم نے اپنے ثبوت میں پیش کی یہی اس زعم پر لعنت برسارہی ہےاس میں اﷲ پر ایمان لانا توشرط نجات فرمایاہےاس قدر تو وہ شخص بھی جانتاہے مگر اﷲ پرایمان ہوتا تو اﷲ پر ایمان کے معنی جانتااﷲ پر ایمان یہ نہیں کہ لفظ اﷲ مان لیا بلکہ ایمان تصدیق کانام ہےجو اﷲ عزوجل کے ہر ہر کلام کی تصدیق قطعی سچے دل سے کرتاہو وہ اﷲ عزوجل پر ایمان رکھتاہے اور جو اس کے کسی کلام میں شبہ بھی لائے اسے ہرگز اﷲ پر ایمان نہیں کہ اس کی سب باتوں کی تصدیق نہیں کرتااب کلام اﷲ کو دیکھئے روشن تصریحوں سے انبیائے کرام وحضور سید الانام
الجواب:
اﷲ عزوجل اپنے غضب سے بچائے اور شیطان لعین کے دھوکوں سے پناہ دےقرآن عظیم اول تااخر انبیاء پر عموما اور حضور پر نور سید الانبیاء علیہ وعلیہم افضل الصلوۃ والثناء پر خصوصا ایمان لانے کاحکم دے رہاہےان کی تکذیب کرنے والوں پر لعنت وعذاب اتاررہاہےاور یہ کہ دین صرف دین اسلام ہے اور یہ کہ کافر کاکوئی عمل صالح نہیں سب باطل وناکام ہے جسے دن کو آفتاب نظرنہ آئے وہ اپنی آنکھوں کو روئےہم صدہا آیات کریمہ سے بعض کی تلاوت سے شرف لیں گے نہ اس لئے کہ جو دیدہ ودانستہ اندھا بناہو اس کی آنکھیں کھلیں اس کی تو قیامت کے دن بھی پٹ ہی ہوں گی۔
" ونحشرہم یوم القیمۃ علی وجوہہم عمیا و بکما و صما " اورہم انھیں قیامت کے دین ان کے منہ کے بل اٹھائیں گے اندھے اور گونگے اور بہرے۔(ت)
بلکہ اس لئے کہ کوئی جاہل ساجاہل مسلمان کسی ملعون کے دھوکے میں نہ آجائے۔
آیت ۱:سب سے پہلے جو اس کج فہم نے اپنے ثبوت میں پیش کی یہی اس زعم پر لعنت برسارہی ہےاس میں اﷲ پر ایمان لانا توشرط نجات فرمایاہےاس قدر تو وہ شخص بھی جانتاہے مگر اﷲ پرایمان ہوتا تو اﷲ پر ایمان کے معنی جانتااﷲ پر ایمان یہ نہیں کہ لفظ اﷲ مان لیا بلکہ ایمان تصدیق کانام ہےجو اﷲ عزوجل کے ہر ہر کلام کی تصدیق قطعی سچے دل سے کرتاہو وہ اﷲ عزوجل پر ایمان رکھتاہے اور جو اس کے کسی کلام میں شبہ بھی لائے اسے ہرگز اﷲ پر ایمان نہیں کہ اس کی سب باتوں کی تصدیق نہیں کرتااب کلام اﷲ کو دیکھئے روشن تصریحوں سے انبیائے کرام وحضور سید الانام
حوالہ / References
القرآن الکریم ۱۷ /۹۷
علیہ وعلیہم افضل الصلوۃ والسلام کی نبوت ورسالت کا بیان ہےازاں جملہ" محمد رسول اللہ " محمد اﷲ کے رسول ہیں " یس ﴿۱﴾ و القران الحکیم ﴿۲﴾ انک لمن المرسلین ﴿۳﴾" اے سردار مجھے حکمت والے قرآن کی قسم بیشك تم رسولوں سے ہو " و اللہ یعلم انک لرسولہ " اﷲ خوب جانتاہے کہ تم اس کے رسول ہو۔یوہیں نوح وابراہیم وموسی وعیسی وہارون ویعقوب وادریس والیاس ولوط ویونس و اسمعیل واسحق وداؤد وسلیمان وزکریا ویحیی وہود وشعیب و صالح وغیرہم انبیاء علیہم الصلوۃ والثناء کی نسبتتو جو ان میں کسی کی نبوت میں شك کرے اﷲ تعالی کی تصدیق نہیں کرتا تو ہر گز ہر گز اﷲ ہی پر ایمان نہیں رکھتا کسی طرح اس آیت کے حکم میں نہیں آسکتا اصل یہ ہے کہ ایمان باﷲ میں جملہ ضروریات دین پر ایمان داخل ہے کہ ان میں سے کسی بات کی تکذیب رب کی تکذیب ہے اور رب کی تکذیب رب کے ساتھ کفرہےپھر رب پر ایمان کہایوم آخر بھی انہیں میں داخل ہے جسے مہتم بالشان ہونے کے سبب جدا ذکر فرمایا جس طرح آیہ کریمہ:
" والذین یؤمنون بما انزل الیک وما انزل من قبلک و بالاخرۃ ہم یوقنون﴿۴﴾" اور وہ کہ اہمان لائیں ا س پر جو اے محبوب تمھاری طرف اترا اور جو تم سے پہلے اترا اور آخرت پر یقین رکھیں(ت)
میں اسے تین بار ذکر فرمایا کہ وہ جو قرآن عظیم پر ایمان لاتے ہیں اور اس سے پہلے کتابوں پر بھی اور آخرت کایقین رکھتے ہیںآخرت پر ایمان قرآن عظیم پر ایمان میں آگیاپھر اگلی کتابوں پر ایمان میں آیا کہ سب میں اس کاذکر ہےتیسری بار اسے پھر جدا ذکر فرمایا یوہیں یہاں ولہذا جابجا صرف ایمان باﷲ وعمل صالح پر ایسے وعدے فرمائے یوم آخرت کا ذکر نہ فرمایا مثلا سورہ طلاق میں:
" و من یؤمن باللہ و یعمل صلحا یدخلہ جنت تجری من تحتہا الانہر خلدین فیہا ابدا قد احسن اللہ لہ رزقا ﴿۱۱﴾" جو اﷲ پر ایمان لائے اور نیك کام کرے اﷲ انھیں جنتوں میں لے جائے گا جس کے نیچے نہریں جاری ہیں ہمیشہ ان میں رہیںبیشك اﷲ نے ان کے لئے اچھا رزق لکھاہے۔(ت)
" والذین یؤمنون بما انزل الیک وما انزل من قبلک و بالاخرۃ ہم یوقنون﴿۴﴾" اور وہ کہ اہمان لائیں ا س پر جو اے محبوب تمھاری طرف اترا اور جو تم سے پہلے اترا اور آخرت پر یقین رکھیں(ت)
میں اسے تین بار ذکر فرمایا کہ وہ جو قرآن عظیم پر ایمان لاتے ہیں اور اس سے پہلے کتابوں پر بھی اور آخرت کایقین رکھتے ہیںآخرت پر ایمان قرآن عظیم پر ایمان میں آگیاپھر اگلی کتابوں پر ایمان میں آیا کہ سب میں اس کاذکر ہےتیسری بار اسے پھر جدا ذکر فرمایا یوہیں یہاں ولہذا جابجا صرف ایمان باﷲ وعمل صالح پر ایسے وعدے فرمائے یوم آخرت کا ذکر نہ فرمایا مثلا سورہ طلاق میں:
" و من یؤمن باللہ و یعمل صلحا یدخلہ جنت تجری من تحتہا الانہر خلدین فیہا ابدا قد احسن اللہ لہ رزقا ﴿۱۱﴾" جو اﷲ پر ایمان لائے اور نیك کام کرے اﷲ انھیں جنتوں میں لے جائے گا جس کے نیچے نہریں جاری ہیں ہمیشہ ان میں رہیںبیشك اﷲ نے ان کے لئے اچھا رزق لکھاہے۔(ت)
حوالہ / References
القرآن الکریم ۴۸ /۲۹
القرآن الکریم ۳۶ /۳۔۲۔۱
القرآن الکریم ۶۳ /۱
القرآن الکریم ۲ /۴
القرآن الکریم ۶۵ /۱۱
القرآن الکریم ۳۶ /۳۔۲۔۱
القرآن الکریم ۶۳ /۱
القرآن الکریم ۲ /۴
القرآن الکریم ۶۵ /۱۱
اسی طرح سوہ تغابن میں بالجملہ ایمان باﷲ میں سب ضروریات کتابوںرسولوںفرشتوںقیامت وغیرہا پر ایمان لانا داخل ہےتو آیت کریمہ کاحاصل یہ ہے کہ یہود نصرانیصابی کوئی بھی ہو جو تمام ضروریات دین پر اسلام لائے(قرآن عظیم کو کلام اللہمحمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو سچار سول اﷲ اور خاتم النبیین مانے کہ سب ضروریات دین اس میں آگئےجب تك وہ کوئی قول یا فعل منافی تصدیق نہ کرے)اور نیك کام کرے(یعنی شریعت مطہرہ محمدیہ کے مطابق کیونکہ ان کو خاتم النبیین مان چکا تو جو کام ان کی شریعت کے خلاف ہے منسوخ یامردود ہے)اس پر کچھ خوف وغم نہیںخلاصہ یہ کہ نعمت کچھ انھیں اشخاص مسلمین کےلئے خاص نہیں بلکہ کوئی بھی ہو کسی بھی مذہب وملت کا ہو جو اسلامی عقیدے مانے اور شریعت محمدی پر چلے اس پر کچھ خوف وغم نہیں تو آیہ کریمہ اس آیت کی نظیر ہے کہ:
" فان امنوا بمثل ما امنتم بہ فقد اہتدوا" اے مسلمانو! اگریہود ونصاری بھی ان تمام باتوں پر ایمان لے آئیں جن پر تمھاراایمان ہے تو وہ بھی راہ پاجائیں
یہ مطلب اس آیت کاہےمنکر سوچے کہ اب اس کا باطل شبہ کدھر گیامسلمان دیکھیں کہ جوآیت اس کار دہے اسی کو اپنی سندبنایایہ اگر تعصب نہیں توابلیس لعین کا کیسا سخت دھوکاہےوالعیاذ باﷲ رب العلمین۔
آیت ۲:ایك سخت چالاکی بلکہ کلام اﷲ میں تحریف کے قبیل سے ہے اس آیت کو دکھانا اور اس سے متصل اوپر کی آیت کا چھپانا جو مطلب صاف فرمارہی ہے وہ آیہ کریمہ یہ ہے:
" قل یاہل الکتب لستم علی شیء حتی تقیموا التورىۃ والانجیل وما انزل الیکم من ربکم و لیزیدن کثیرا منہم ما انزل الیک من ربک طغینا وکفرا فلا تاس علی القوم الکفرین ﴿۶۸﴾" اے محبوب! ان یہودونصاری سے فرمادو کہ اے کتاب والو! تم نرے باطل پر ہو جب تك توریت و انجیل اور جوکچھ تمھارے رب سے تمھاری طرف اتر ا تھا اسے قائم نہ کرواور اے محبوب! بیشك ان میں بہتوں کو اس قرآن سے سرکشی اور کفر بڑھے گا تو تم ان کافروں کاغم نہ کھاؤ
قرآن عظیم فرماتاہے کہ یہود ونصاری جب تك توریت وانجیل کو قائم نہ کریں نرے باطل پر ہیں اور
" فان امنوا بمثل ما امنتم بہ فقد اہتدوا" اے مسلمانو! اگریہود ونصاری بھی ان تمام باتوں پر ایمان لے آئیں جن پر تمھاراایمان ہے تو وہ بھی راہ پاجائیں
یہ مطلب اس آیت کاہےمنکر سوچے کہ اب اس کا باطل شبہ کدھر گیامسلمان دیکھیں کہ جوآیت اس کار دہے اسی کو اپنی سندبنایایہ اگر تعصب نہیں توابلیس لعین کا کیسا سخت دھوکاہےوالعیاذ باﷲ رب العلمین۔
آیت ۲:ایك سخت چالاکی بلکہ کلام اﷲ میں تحریف کے قبیل سے ہے اس آیت کو دکھانا اور اس سے متصل اوپر کی آیت کا چھپانا جو مطلب صاف فرمارہی ہے وہ آیہ کریمہ یہ ہے:
" قل یاہل الکتب لستم علی شیء حتی تقیموا التورىۃ والانجیل وما انزل الیکم من ربکم و لیزیدن کثیرا منہم ما انزل الیک من ربک طغینا وکفرا فلا تاس علی القوم الکفرین ﴿۶۸﴾" اے محبوب! ان یہودونصاری سے فرمادو کہ اے کتاب والو! تم نرے باطل پر ہو جب تك توریت و انجیل اور جوکچھ تمھارے رب سے تمھاری طرف اتر ا تھا اسے قائم نہ کرواور اے محبوب! بیشك ان میں بہتوں کو اس قرآن سے سرکشی اور کفر بڑھے گا تو تم ان کافروں کاغم نہ کھاؤ
قرآن عظیم فرماتاہے کہ یہود ونصاری جب تك توریت وانجیل کو قائم نہ کریں نرے باطل پر ہیں اور
قرآن سے سرکشی کرکے کافر جو شخص محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو نہ مانے اس کا قرآن عظیم سے سرکشی کرنا تو ظاہر وواضحاور اس نے توریت وانجیل بھی قائم نہ کی کہ ان میں بھی حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی بشارتیں تھیں اﷲ تعالی فرماتاہے:
" الذین یتبعون الرسول النبی الامی الذی یجدونہ مکتوبا عندہم فی التورىۃ والانجیل ۫" میں اپنی رحمت ان کے لئے لکھوں گاجو پیروی کریں گے رسول نبی امی کی جسے اپنے پاس لکھا ہوا پائیں گے توریت وانجیل کی۔
اور فرماتا ہے:
" محمد رسول اللہ و الذین معہ اشداء علی الکفار رحماء بینہم" محمد اﷲ کے رسول ہیں اور ان کے ساتھ والے کافروں پر سخت ہیں اور آپسمیں نرم دل(الی قولہ تعالی)ان کایہ وصف توریت میں ہے اور ان کی ثناء ہے انجیل میں۔(ت)
اور عیسی علیہ الصلوۃ والسلام کا قول ذکر فرماتاہے:
" مبشرا برسول یاتی من بعدی اسمہ احمد " میں بشارت دیتاآیاہوں ان رسول کی جن کانام پاك احمدہے۔
تو جس نے احمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کونہ مانا اس نے توریت وانجیل قائم نہ کی بلکہ پھینك دیاور قرآن عظیم سے سرکش ہوااور اﷲ تعالی فرماتاہے کہ وہ کافر ہے پھر ایمان میں کیونکر شامل ہوسکتاہےانصاف والے کے لئے خود وہی آیت کہ منکر نے پڑھی اوربرابر کی آیت کہ اس نے چھوڑ دیکفایت کرتی ہیں صدہا میں سے تبر کا دوچار اورسن لیجئے۔
آیت ۳:آیہ کریمہ" الذین یتبعون الرسول النبی الامی " میں حضور کے اوصاف کریمہ ذکرکے فرماتاہے:
" الذین یتبعون الرسول النبی الامی الذی یجدونہ مکتوبا عندہم فی التورىۃ والانجیل ۫" میں اپنی رحمت ان کے لئے لکھوں گاجو پیروی کریں گے رسول نبی امی کی جسے اپنے پاس لکھا ہوا پائیں گے توریت وانجیل کی۔
اور فرماتا ہے:
" محمد رسول اللہ و الذین معہ اشداء علی الکفار رحماء بینہم" محمد اﷲ کے رسول ہیں اور ان کے ساتھ والے کافروں پر سخت ہیں اور آپسمیں نرم دل(الی قولہ تعالی)ان کایہ وصف توریت میں ہے اور ان کی ثناء ہے انجیل میں۔(ت)
اور عیسی علیہ الصلوۃ والسلام کا قول ذکر فرماتاہے:
" مبشرا برسول یاتی من بعدی اسمہ احمد " میں بشارت دیتاآیاہوں ان رسول کی جن کانام پاك احمدہے۔
تو جس نے احمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کونہ مانا اس نے توریت وانجیل قائم نہ کی بلکہ پھینك دیاور قرآن عظیم سے سرکش ہوااور اﷲ تعالی فرماتاہے کہ وہ کافر ہے پھر ایمان میں کیونکر شامل ہوسکتاہےانصاف والے کے لئے خود وہی آیت کہ منکر نے پڑھی اوربرابر کی آیت کہ اس نے چھوڑ دیکفایت کرتی ہیں صدہا میں سے تبر کا دوچار اورسن لیجئے۔
آیت ۳:آیہ کریمہ" الذین یتبعون الرسول النبی الامی " میں حضور کے اوصاف کریمہ ذکرکے فرماتاہے:
حوالہ / References
القرآن الکریم ۷ /۱۵۷
القرآن الکریم ۴۸ /۲۹
القرآن الکریم ۶۱ /۶
القرآن الکریم ۷ /۱۵۷
القرآن الکریم ۴۸ /۲۹
القرآن الکریم ۶۱ /۶
القرآن الکریم ۷ /۱۵۷
" فالذین امنوا بہ وعزروہ ونصروہ واتبعوا النور الذی انزل معہ اولئک ہم المفلحون ﴿۱۵۷﴾ " توجو اس نبی امی پر ایمان لائے اور اس کی تعظیم و مدد کی اور اس نور کے پیروہوئے جو اس کے ساتھ اتارا گیا وہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔
ثابت ہوا کہ جب تك محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پر ایمان نہ لائے اور ان کی تعظیم نہ کرے ہر گز فلاح نہ پائے گا اگرچہ اپنے زعم میں کیسے ہی نیك عمل رکھتاہو۔
آیت ۴:اس کے متصل فرماتاہے:
" قل یایہا الناس انی رسول اللہ الیکم جمیعۨا الذی لہ ملک السموت والارض لا الہ الا ہو یحی ویمیت ۪ فامنوا باللہ ورسولہ النبی الامی الذی یؤمن باللہ وکلمتہ واتبعوہ لعلکم تہتدون ﴿۱۵۸﴾ " اے محبوب! تم فرمادو کہ اے لوگو! میں تمام آدمیوں کی طرف اﷲ کا رسول ہوں وہ کہ زمین وآسمان میں اسی کی بادشاہی ہے اس کے سوا کوئی سچا معبودنہیں وہی جلائے اورمارےتوایمان لاؤاﷲ اور اس کے رسول نبی امی پر کہ اﷲ اور اس کے کلاموں پر ایمان لاتاہے اور اس کی پیروی کرو کہ تمھیں ہدایت ہو
معلوم ہواکہ ہدایت تونبی امی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے ماننے پرموقوف ہے جو ان کونہ مانے اسے ہدایت نہیںاور جب ہدایت نہیں ایمان کہاںتو"من امن باللہ والیوم الاخر" (جو کوئی سچے دل سے اﷲ اور قیامت پر ایمان لائے۔ت)میں کیونکر آسکتاہے۔آیت ۵:
ان الذین یکفرون باللہ ورسلہ ویریدون ان یفرقوا بین اللہ ورسلہ ویقولون نؤمن ببعض ونکفر ببعض ویریدون ان یتخذوا بین ذلک سبیلا ﴿۱۵۰﴾ اولئک ہم الکفرون حقا واعتدنا للکفرین عذابا مہینا ﴿۱۵۱﴾ والذین امنوا باللہ بیشك جو انکار کرتے ہیں اور اﷲ اوراس کے رسولوں کااور چاہتے ہیں کہ اﷲ اور اس کے رسولوں میں جدائی ڈال دیں اور کہتے ہیں کہ ہم کسی پرایمان لائیں گے اور کسی کے منکر ہوں گےاور چاہتے ہیں کہ سب پر ایمان اور سب سے کفر کے بیچ میں کوئی راستہ نکالیں وہی پورے پکے کافر ہیں اورہم نے کافروں
ثابت ہوا کہ جب تك محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پر ایمان نہ لائے اور ان کی تعظیم نہ کرے ہر گز فلاح نہ پائے گا اگرچہ اپنے زعم میں کیسے ہی نیك عمل رکھتاہو۔
آیت ۴:اس کے متصل فرماتاہے:
" قل یایہا الناس انی رسول اللہ الیکم جمیعۨا الذی لہ ملک السموت والارض لا الہ الا ہو یحی ویمیت ۪ فامنوا باللہ ورسولہ النبی الامی الذی یؤمن باللہ وکلمتہ واتبعوہ لعلکم تہتدون ﴿۱۵۸﴾ " اے محبوب! تم فرمادو کہ اے لوگو! میں تمام آدمیوں کی طرف اﷲ کا رسول ہوں وہ کہ زمین وآسمان میں اسی کی بادشاہی ہے اس کے سوا کوئی سچا معبودنہیں وہی جلائے اورمارےتوایمان لاؤاﷲ اور اس کے رسول نبی امی پر کہ اﷲ اور اس کے کلاموں پر ایمان لاتاہے اور اس کی پیروی کرو کہ تمھیں ہدایت ہو
معلوم ہواکہ ہدایت تونبی امی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے ماننے پرموقوف ہے جو ان کونہ مانے اسے ہدایت نہیںاور جب ہدایت نہیں ایمان کہاںتو"من امن باللہ والیوم الاخر" (جو کوئی سچے دل سے اﷲ اور قیامت پر ایمان لائے۔ت)میں کیونکر آسکتاہے۔آیت ۵:
ان الذین یکفرون باللہ ورسلہ ویریدون ان یفرقوا بین اللہ ورسلہ ویقولون نؤمن ببعض ونکفر ببعض ویریدون ان یتخذوا بین ذلک سبیلا ﴿۱۵۰﴾ اولئک ہم الکفرون حقا واعتدنا للکفرین عذابا مہینا ﴿۱۵۱﴾ والذین امنوا باللہ بیشك جو انکار کرتے ہیں اور اﷲ اوراس کے رسولوں کااور چاہتے ہیں کہ اﷲ اور اس کے رسولوں میں جدائی ڈال دیں اور کہتے ہیں کہ ہم کسی پرایمان لائیں گے اور کسی کے منکر ہوں گےاور چاہتے ہیں کہ سب پر ایمان اور سب سے کفر کے بیچ میں کوئی راستہ نکالیں وہی پورے پکے کافر ہیں اورہم نے کافروں
ورسلہ ولم یفرقوا بین احد منہم اولئک سوف یؤتیہم اجورہم وکان اللہ غفورا رحیما ﴿۱۵۲﴾ " کے لئے ذلت کا عذاب تیارکررکھاہے اور وہ جو اﷲ اور اس کے سب رسولوں پر ایمان لائے اوران میں کسی کے انکار اور باقی پر ایمان سے ان میں جدائی نہ ڈالی عنقریب اﷲ ان کو ان کے ثواب دے گا اور اﷲ بخشنے والا مہربان ہے۔
اس آیہ کریمہ نے صاف فرمادیا کہ اﷲ اور اس کے رسولوں پر ایمان میں جدائی ڈالنے والا پکا کافرہےاور یہ کہ جو ان سب کو مانے اور ایك ہی کا منکر ہو وہ اﷲ اور سب رسولوں کامنکر اور ویساہی پکا کھلا کافرہےیہ نہیں کہ جوسب کو مانیں وہ مسلمان اور جو سب سے منکر وہ کافراور یہ جو بعض کومانتے ہیں اور بعض کے منکر ہیں کچھ اور ہوںنہیں نہیں یہ بھی کل کے منکر کی طرح پورے کافرہیں بیچ میں کوئی راہ نکل ہی نہیں سکتی۔
آیت ۶:
" ان الدین عند اللہ الاسلم وما اختلف الذین اوتوا الکتب الا من بعد ما جاءہم العلم بغیا بـینہم ومن یکفر بایت اللہ فان اللہ سریع الحساب﴿۱۹﴾ فان حاجوک فقل اسلمت وجہی للہ ومن اتبعن وقل للذین اوتوا الکتب والامین ءاسلمتم فان اسلموا فقد اہتدوا و ان تولوا فانما علیک البلغ واللہ بصیر بالعباد﴿۲۰﴾ "
آیت ۷:
" ومن یبتغ غیر الاسلم دینا فلن یقبل منہ وہو فی الاخرۃ من الخسرین﴿۸۵﴾ " بیشك اﷲ کے نزدیك دین یہی اسلام ہے یہود و نصاری نے دانستہ براہ سرکشی اس کا خلاف کیا اور جو اﷲ کی آیتوں سے کافر ہوا بے غم نہ ہواﷲ جلد حساب لینے والاہےاگر وہ تم سے جھگڑیں تو فرمادو کہ میں اورمیرے پیرو توسب اﷲ کے لئے اسلام لائے اور یہود ونصاری ومشرکین سب سے کہو کیا تم مسلمان ہوتے ہواگر اسلام لائیں تو راہ پاجائیں اور منہ پھیر دیں تو تم پر صرف پہنچادینا ہے اور اﷲ بندوں کو دیکھ رہاہے۔
جو اسلام کے سوا کوئی اور دین چاہے وہ ہر گز قبول نہ فرمایا جائے گااور اسے آخرت میں خسارہ رہے گا
اس آیہ کریمہ نے صاف فرمادیا کہ اﷲ اور اس کے رسولوں پر ایمان میں جدائی ڈالنے والا پکا کافرہےاور یہ کہ جو ان سب کو مانے اور ایك ہی کا منکر ہو وہ اﷲ اور سب رسولوں کامنکر اور ویساہی پکا کھلا کافرہےیہ نہیں کہ جوسب کو مانیں وہ مسلمان اور جو سب سے منکر وہ کافراور یہ جو بعض کومانتے ہیں اور بعض کے منکر ہیں کچھ اور ہوںنہیں نہیں یہ بھی کل کے منکر کی طرح پورے کافرہیں بیچ میں کوئی راہ نکل ہی نہیں سکتی۔
آیت ۶:
" ان الدین عند اللہ الاسلم وما اختلف الذین اوتوا الکتب الا من بعد ما جاءہم العلم بغیا بـینہم ومن یکفر بایت اللہ فان اللہ سریع الحساب﴿۱۹﴾ فان حاجوک فقل اسلمت وجہی للہ ومن اتبعن وقل للذین اوتوا الکتب والامین ءاسلمتم فان اسلموا فقد اہتدوا و ان تولوا فانما علیک البلغ واللہ بصیر بالعباد﴿۲۰﴾ "
آیت ۷:
" ومن یبتغ غیر الاسلم دینا فلن یقبل منہ وہو فی الاخرۃ من الخسرین﴿۸۵﴾ " بیشك اﷲ کے نزدیك دین یہی اسلام ہے یہود و نصاری نے دانستہ براہ سرکشی اس کا خلاف کیا اور جو اﷲ کی آیتوں سے کافر ہوا بے غم نہ ہواﷲ جلد حساب لینے والاہےاگر وہ تم سے جھگڑیں تو فرمادو کہ میں اورمیرے پیرو توسب اﷲ کے لئے اسلام لائے اور یہود ونصاری ومشرکین سب سے کہو کیا تم مسلمان ہوتے ہواگر اسلام لائیں تو راہ پاجائیں اور منہ پھیر دیں تو تم پر صرف پہنچادینا ہے اور اﷲ بندوں کو دیکھ رہاہے۔
جو اسلام کے سوا کوئی اور دین چاہے وہ ہر گز قبول نہ فرمایا جائے گااور اسے آخرت میں خسارہ رہے گا
آیت ۸:
" الذین اتینہم الکتب یعرفونہ کما یعرفون ابناءہم و ان فریقا منہم لیکتمون الحق وہم یعلمون﴿۱۴۶﴾ " یہود ونصاری محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو ایسا پہچانتے تھے جیسا اپنے بیٹوں کو پہنچانتے ہیں اور ان میں ایك گروہ دانستہ حق کو چھپاتاہے۔
اور ساتویں پارہ میں اس کے بعد یوں فرمایا:
" الذین خسروا انفسہم فہم لا یؤمنون ﴿۱۲﴾ " وہ جنھوں نے اپنی جان خسارہ میں ڈالی وہ ان پہچانے ہوئے نبی پر ایمان نہیں لاتے۔
اورپہلے پارے میں صاف ترارشاد ہوا:
" وکانوا من قبل یستفتحون علی الذین کفروا فلما جاءہم ما عرفوا کفروا بہ ۫ فلعنۃ اللہ علی الکفرین﴿۸۹﴾ " اس سے پہلے اس نبی کے وسیلہ سے کافروں پر فتح مانگتے تھے جب وہ جانا پہچانا تشریف لایا اس سے منکر ہو بیٹھے تو اﷲ کی لعنت کافروں پر۔
آیت ۹:
" و قدمنا الی ما عملوا من عمل فجعلنہ ہباء منثورا ﴿۲۳﴾ " اور جو کچھ انھوں نے کام کئے تھے ہم نے قصد فرماکر انھیں باریك باریك غبار کے بکھرے ہوئے ذرے کردیا۔(ت)
اور فرماتاہے:
" اذہبتم طیبتکم فی حیاتکم الدنیا " ان سے فرمایاجائے گا کہ تم اپنے حصہ کی پاك چیزیں اپنی دنیا ہی کی زندگی میں فنا کرچکے(ت)
اور فرماتاہے:
" ما لہ فی الاخرۃ من خلق " جس نے یہ سودالیا آخرت میں اس کا کچھ حصہ نہیں۔(ت)
" الذین اتینہم الکتب یعرفونہ کما یعرفون ابناءہم و ان فریقا منہم لیکتمون الحق وہم یعلمون﴿۱۴۶﴾ " یہود ونصاری محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو ایسا پہچانتے تھے جیسا اپنے بیٹوں کو پہنچانتے ہیں اور ان میں ایك گروہ دانستہ حق کو چھپاتاہے۔
اور ساتویں پارہ میں اس کے بعد یوں فرمایا:
" الذین خسروا انفسہم فہم لا یؤمنون ﴿۱۲﴾ " وہ جنھوں نے اپنی جان خسارہ میں ڈالی وہ ان پہچانے ہوئے نبی پر ایمان نہیں لاتے۔
اورپہلے پارے میں صاف ترارشاد ہوا:
" وکانوا من قبل یستفتحون علی الذین کفروا فلما جاءہم ما عرفوا کفروا بہ ۫ فلعنۃ اللہ علی الکفرین﴿۸۹﴾ " اس سے پہلے اس نبی کے وسیلہ سے کافروں پر فتح مانگتے تھے جب وہ جانا پہچانا تشریف لایا اس سے منکر ہو بیٹھے تو اﷲ کی لعنت کافروں پر۔
آیت ۹:
" و قدمنا الی ما عملوا من عمل فجعلنہ ہباء منثورا ﴿۲۳﴾ " اور جو کچھ انھوں نے کام کئے تھے ہم نے قصد فرماکر انھیں باریك باریك غبار کے بکھرے ہوئے ذرے کردیا۔(ت)
اور فرماتاہے:
" اذہبتم طیبتکم فی حیاتکم الدنیا " ان سے فرمایاجائے گا کہ تم اپنے حصہ کی پاك چیزیں اپنی دنیا ہی کی زندگی میں فنا کرچکے(ت)
اور فرماتاہے:
" ما لہ فی الاخرۃ من خلق " جس نے یہ سودالیا آخرت میں اس کا کچھ حصہ نہیں۔(ت)
اور فرماتاہے:
" لا یقدرون علی شیء مما کسبوا واللہ لا یہدی القوم الکفرین﴿۲۶۴﴾ " اپنی کمائی سے کسی چیزپر قابو نہ پائیں گے اور اﷲ کافروں کو ہدایت نہیں دیتا۔(ت)
اور فرتاہے:
" ان اللہ حرمہما علی الکفرین ﴿۵۰﴾ " بیشك اﷲ نے ان دونوں کو کافروں پرحرام کیا ہے۔(ت)
اور فرماتاہے:
" قل من حرم زینۃ اللہ التی اخرج لعبادہ والطیبت من الرزق قل ہی للذین امنوا فی الحیوۃ الدنیا خالصۃ یوم القیمۃ " تم فرماؤ کس نے حرام کی اﷲ کی وہ زینت جو اس نے اپنے بندوں کےلئے نکالی اور پاك رزقتم فرماؤ کہ وہ ایمان والوں کے لئے ہے دنیا میں اور قیامت میں توخاص انہیں کی ہے۔ (ت)
اور فرماتاہے:
" مثل الذین کفروا بربہم اعملہم کرماد اشتدت بہ الریح فی یوم عاصف لا یقدرون مما کسبوا علی شیء ذلک ہو الضلل البعید ﴿۱۸﴾ " اپنے رب سے منکروں کا حال ایساہے کہ ان کے کام ہیں جیسے راکھ کہ اس پر ہوا کا سخت جھونکا آیا آندھی کے دن میں ساری کمائی سے کچھ ہاتھ نہ لگایہی ہے دور کی گمراہی۔(ت)
ان ساتوں آیتوں کا حاصل ارشاد یہ ہے کہ کافر اگر کوئی بظاہر نیك کام مثل تصدق وغیرہ کرے بھی تو اس کا بدلہ اسے دنیا ہی میں دے دیا جاتاہےآخرت میں اس کا کچھ حصہ نہیں وہاں انھیں کچھ ہاتھ نہ آئے گاجنت کا کھانا پینا کافروں کے لئے حرام ہےپاکیزہ رزق اور زینت کے سامان آخرت میں خاص مسلمانوں کے لئے ہیںکافروں کے اعمال کو اﷲ تعالی برباد کرکے ایسا کردیتاہے کہ جیسے روزن میں سے دھوپ آئے تو اس کے اندر ریزے سے اڑتے ہیں اور ہاتھ میں لو تو کچھ نہیںکافروں کے اعمال کی یہ مثال ہے کہ شدید آندھی کے دن میں کہیں کچھ راکھ پڑی جسے آندھی کے جھونکے۔
" لا یقدرون علی شیء مما کسبوا واللہ لا یہدی القوم الکفرین﴿۲۶۴﴾ " اپنی کمائی سے کسی چیزپر قابو نہ پائیں گے اور اﷲ کافروں کو ہدایت نہیں دیتا۔(ت)
اور فرتاہے:
" ان اللہ حرمہما علی الکفرین ﴿۵۰﴾ " بیشك اﷲ نے ان دونوں کو کافروں پرحرام کیا ہے۔(ت)
اور فرماتاہے:
" قل من حرم زینۃ اللہ التی اخرج لعبادہ والطیبت من الرزق قل ہی للذین امنوا فی الحیوۃ الدنیا خالصۃ یوم القیمۃ " تم فرماؤ کس نے حرام کی اﷲ کی وہ زینت جو اس نے اپنے بندوں کےلئے نکالی اور پاك رزقتم فرماؤ کہ وہ ایمان والوں کے لئے ہے دنیا میں اور قیامت میں توخاص انہیں کی ہے۔ (ت)
اور فرماتاہے:
" مثل الذین کفروا بربہم اعملہم کرماد اشتدت بہ الریح فی یوم عاصف لا یقدرون مما کسبوا علی شیء ذلک ہو الضلل البعید ﴿۱۸﴾ " اپنے رب سے منکروں کا حال ایساہے کہ ان کے کام ہیں جیسے راکھ کہ اس پر ہوا کا سخت جھونکا آیا آندھی کے دن میں ساری کمائی سے کچھ ہاتھ نہ لگایہی ہے دور کی گمراہی۔(ت)
ان ساتوں آیتوں کا حاصل ارشاد یہ ہے کہ کافر اگر کوئی بظاہر نیك کام مثل تصدق وغیرہ کرے بھی تو اس کا بدلہ اسے دنیا ہی میں دے دیا جاتاہےآخرت میں اس کا کچھ حصہ نہیں وہاں انھیں کچھ ہاتھ نہ آئے گاجنت کا کھانا پینا کافروں کے لئے حرام ہےپاکیزہ رزق اور زینت کے سامان آخرت میں خاص مسلمانوں کے لئے ہیںکافروں کے اعمال کو اﷲ تعالی برباد کرکے ایسا کردیتاہے کہ جیسے روزن میں سے دھوپ آئے تو اس کے اندر ریزے سے اڑتے ہیں اور ہاتھ میں لو تو کچھ نہیںکافروں کے اعمال کی یہ مثال ہے کہ شدید آندھی کے دن میں کہیں کچھ راکھ پڑی جسے آندھی کے جھونکے۔
حوالہ / References
القرآن الکریم ۲ /۲۶۴
القرآن الکریم ۷ /۵۰
القرآن الکریم ۷ /۳۲
القرآن الکریم ۱۴ /۱۸
القرآن الکریم ۷ /۵۰
القرآن الکریم ۷ /۳۲
القرآن الکریم ۱۴ /۱۸
اڑالے گئے کہ اب وہ ذرے بھی نہیں دکھائی دیتے کچھ ہاتھ آنا تو بڑی بات ہے
نسأل اﷲ العفو والعافیۃ" ربنا لا تز غ قلوبنا بعد اذ ہدیتنا وہب لنا من لدنک رحمۃ انک انت الوہاب﴿۸﴾ " ۔
وصلی اﷲ تعالی علی خیر خلقہ وسید رسلہ والہ
صحبہ اجمعین امینواﷲ تعالی اعلم۔ ہم اﷲ تعالی سے معافی اور عافیت کا ہی سوال کرتے ہیںاے ہمارے پروردگار! نہ ٹیڑھا فرماہمارے دلوں کو بعد اس کے کہ تونے ہمیں ہدایت سے نوازا اور ہمیں اپنی طرف سے رحمت عطا فرما بلاشبہ تو ہی عطافرمانے والاہےاﷲ تعالی کی رحمتوں کا نزول ہو تمام مخلوق سے افضل تمام رسولوں کے سربراہ اور ان کے آل واصحاب سبھی پرواﷲ تعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۳۲۶ تا ۳۳۱: ۷ ربیع الاخر شریف ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں:
(۱)اکثر دیہات میں جو قربانیاں ہوتی ہیں تو ان قربانیوں کے سربہشتی کودیتے ہیںاور کسی گاؤں میں یہ رسم ہے کہ حجام کو دیتے ہیںان لوگوں سے کہا جائے گا کہ علمائے دین نے کہیں حکم اس بات کا نہیں دیا اور نہ علماء کی زبان سے سنا گیا کہ قربانی کا سربہشتی کو یا حجام کو دیا جائےتو وہ لوگ قربانی کنندہ کہنے لگے کہ اگر یہ حق بہشتی کانہ ہو تا تو ہمارے باپ دادا کیوں دیتےکیاان کے زمانے میں عالم نہ تھےہم باپ دادا کی رسم نہ چھوڑیں گے چاہے ہمارے قربانی مقبول ہو یا نہ ہواس کو خدا ہی جانتاہے۔
(۲)یہ کہ بہشتی کہتاہے کہ یہ حق ہمارانبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے زمانے سے چلا آتاہے اور عالم خودا ب تك دیتے چلے آرہے ہیںاگر نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نہ دیتے تو علماء کیوں قربانی کے سرپائے دیتےبلکہ کہتاہے کہ جو ہمارے حق کو میٹے وہ عالم نہیں ہےمعاذاﷲ اب علمائے دین فرماویں کہ یہ حق بہشتی وغیرہ کا ہے یانہیں۔یاعلمائے دین اور نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پر بہتان باندھا گیاہے
(۳)یہ کہ جولوگ قربانی کرتے ہیں یاکرچکے ہیں اور وہ لوگ کہتے ہیں کہ چاہے ہماری قربانی مقبول ہو یانہ ہو ہم اپنے باپ دادا کار سم نہیں چھوڑیں گے چاہے عالم کچھ بھی کہیںتو ان کا یہ کہنا کیساہے اور
نسأل اﷲ العفو والعافیۃ" ربنا لا تز غ قلوبنا بعد اذ ہدیتنا وہب لنا من لدنک رحمۃ انک انت الوہاب﴿۸﴾ " ۔
وصلی اﷲ تعالی علی خیر خلقہ وسید رسلہ والہ
صحبہ اجمعین امینواﷲ تعالی اعلم۔ ہم اﷲ تعالی سے معافی اور عافیت کا ہی سوال کرتے ہیںاے ہمارے پروردگار! نہ ٹیڑھا فرماہمارے دلوں کو بعد اس کے کہ تونے ہمیں ہدایت سے نوازا اور ہمیں اپنی طرف سے رحمت عطا فرما بلاشبہ تو ہی عطافرمانے والاہےاﷲ تعالی کی رحمتوں کا نزول ہو تمام مخلوق سے افضل تمام رسولوں کے سربراہ اور ان کے آل واصحاب سبھی پرواﷲ تعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۳۲۶ تا ۳۳۱: ۷ ربیع الاخر شریف ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں:
(۱)اکثر دیہات میں جو قربانیاں ہوتی ہیں تو ان قربانیوں کے سربہشتی کودیتے ہیںاور کسی گاؤں میں یہ رسم ہے کہ حجام کو دیتے ہیںان لوگوں سے کہا جائے گا کہ علمائے دین نے کہیں حکم اس بات کا نہیں دیا اور نہ علماء کی زبان سے سنا گیا کہ قربانی کا سربہشتی کو یا حجام کو دیا جائےتو وہ لوگ قربانی کنندہ کہنے لگے کہ اگر یہ حق بہشتی کانہ ہو تا تو ہمارے باپ دادا کیوں دیتےکیاان کے زمانے میں عالم نہ تھےہم باپ دادا کی رسم نہ چھوڑیں گے چاہے ہمارے قربانی مقبول ہو یا نہ ہواس کو خدا ہی جانتاہے۔
(۲)یہ کہ بہشتی کہتاہے کہ یہ حق ہمارانبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے زمانے سے چلا آتاہے اور عالم خودا ب تك دیتے چلے آرہے ہیںاگر نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نہ دیتے تو علماء کیوں قربانی کے سرپائے دیتےبلکہ کہتاہے کہ جو ہمارے حق کو میٹے وہ عالم نہیں ہےمعاذاﷲ اب علمائے دین فرماویں کہ یہ حق بہشتی وغیرہ کا ہے یانہیں۔یاعلمائے دین اور نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پر بہتان باندھا گیاہے
(۳)یہ کہ جولوگ قربانی کرتے ہیں یاکرچکے ہیں اور وہ لوگ کہتے ہیں کہ چاہے ہماری قربانی مقبول ہو یانہ ہو ہم اپنے باپ دادا کار سم نہیں چھوڑیں گے چاہے عالم کچھ بھی کہیںتو ان کا یہ کہنا کیساہے اور
حوالہ / References
القرآن الکریم ۳ /۸
ان لوگوں کی قربانیاں کیسی ہیں
(۴)یہ کہ قربانی کا گوشت لامذہب یعنی بھنگی وغیرہ کو دینا جائزہے یانہیں
(۵)قربانی کی الانت قربانی کے گوشت میں شامل کی جاوے یاکیا
(۶)قربانی کا دل گردہ کلیجہ اہل قربانی کو پکواکر اس پر فاتحہ دے کر کھا جاتے ہیں یہ درست ہے نہیں یا ان دل گردہ کلیجی کو بھی گوشت قربانی میں شامل کیا جاوے یا کیا بینوا توجروا۔
الجواب:
(۱)قربانی کرنے والے کو اختیار ہے کہ سریاجو چیز بہشتیحجام یا جس کسی مسلمان کو چاہے دے کسی کےلئے کسی چیز کی ممانعت نہیںہاں بالتخصیص کسی کا کسی چیز میں کوئی حق شرع شریف میں وارد نہیں ہوا
(۲)اس بہشتی نے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پر افتراء کیااس پر توبہ فرض ہےورنہ سخت جہنم کا سزاوار ہےعلمائے کرام جائز کام سے منع نہیں فرماتے جب کہ بہشتی کو بھی سردینا جائز تھا علماء نے سکوت فرمایااس سے یہ ثابت نہیں کہ شرع شریف میں ان کا کوئی حق مخصوص ہے
(۳)یہ اقوال ان کے مذموم وسخت ہیںان کی قربانیاں قابل قبول نہیںانھوں نے قبول الہی کو ہلکا جانا اور عالموں کے ارشاد سے بے پروائی کیاز سرنوکلمہ پڑھیں اور اپنی عورتوں سے نکاح جدیدکریں
(۴)بھنگی وغیرہ کسی کافر کو قربانی یا اور کوئی صدقہ دینا جائز نہیں ہر گز نہ دے۔
(۵)اوجھڑی آنتیں جن کاکھانا مکروہ ہے چاہے یہ چیز اپنے لئے نکال لے یا ان کو بھی تقسیم میں داخل کرلےواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۳۲: از قصبہ کودرکوٹ ضلع اٹاوہ مسئولہ محی الدین احمد صاحب ۲۴ شوال ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك مقام پر مسجد کے قریب اہل ہنود نے ایك نئی مورت قائم کیمسلمانوں نے ان کے خلاف مورت اٹھوانے کا دعوی دائر کیاا س پر ایك مسلمان نے اہل ہنود سے ساز باز کرکے جھوٹی شہادت دی کہ یہ مورت قدیم ہےاس بناء پر مسلمانوں نے شخص مذکور الصدر سے تعلقات منقطع کرلئےمعلوم کرنااس امر کاہے کہ ازروئے شریعت اس شخص سے خطا کس حد تك پہنچی ہے اور اس جھوٹی شہادت سے اس کی زوجہ تو نکاح سے باہرنہیں ہوئی اب اگر اس شخص کو اسلام و برادری میں شامل کیاجائے تو اس کے واسطے کیا طریقہ اسلامی عمل میں لایا جاوے اور جب تك حسب
(۴)یہ کہ قربانی کا گوشت لامذہب یعنی بھنگی وغیرہ کو دینا جائزہے یانہیں
(۵)قربانی کی الانت قربانی کے گوشت میں شامل کی جاوے یاکیا
(۶)قربانی کا دل گردہ کلیجہ اہل قربانی کو پکواکر اس پر فاتحہ دے کر کھا جاتے ہیں یہ درست ہے نہیں یا ان دل گردہ کلیجی کو بھی گوشت قربانی میں شامل کیا جاوے یا کیا بینوا توجروا۔
الجواب:
(۱)قربانی کرنے والے کو اختیار ہے کہ سریاجو چیز بہشتیحجام یا جس کسی مسلمان کو چاہے دے کسی کےلئے کسی چیز کی ممانعت نہیںہاں بالتخصیص کسی کا کسی چیز میں کوئی حق شرع شریف میں وارد نہیں ہوا
(۲)اس بہشتی نے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پر افتراء کیااس پر توبہ فرض ہےورنہ سخت جہنم کا سزاوار ہےعلمائے کرام جائز کام سے منع نہیں فرماتے جب کہ بہشتی کو بھی سردینا جائز تھا علماء نے سکوت فرمایااس سے یہ ثابت نہیں کہ شرع شریف میں ان کا کوئی حق مخصوص ہے
(۳)یہ اقوال ان کے مذموم وسخت ہیںان کی قربانیاں قابل قبول نہیںانھوں نے قبول الہی کو ہلکا جانا اور عالموں کے ارشاد سے بے پروائی کیاز سرنوکلمہ پڑھیں اور اپنی عورتوں سے نکاح جدیدکریں
(۴)بھنگی وغیرہ کسی کافر کو قربانی یا اور کوئی صدقہ دینا جائز نہیں ہر گز نہ دے۔
(۵)اوجھڑی آنتیں جن کاکھانا مکروہ ہے چاہے یہ چیز اپنے لئے نکال لے یا ان کو بھی تقسیم میں داخل کرلےواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۳۲: از قصبہ کودرکوٹ ضلع اٹاوہ مسئولہ محی الدین احمد صاحب ۲۴ شوال ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك مقام پر مسجد کے قریب اہل ہنود نے ایك نئی مورت قائم کیمسلمانوں نے ان کے خلاف مورت اٹھوانے کا دعوی دائر کیاا س پر ایك مسلمان نے اہل ہنود سے ساز باز کرکے جھوٹی شہادت دی کہ یہ مورت قدیم ہےاس بناء پر مسلمانوں نے شخص مذکور الصدر سے تعلقات منقطع کرلئےمعلوم کرنااس امر کاہے کہ ازروئے شریعت اس شخص سے خطا کس حد تك پہنچی ہے اور اس جھوٹی شہادت سے اس کی زوجہ تو نکاح سے باہرنہیں ہوئی اب اگر اس شخص کو اسلام و برادری میں شامل کیاجائے تو اس کے واسطے کیا طریقہ اسلامی عمل میں لایا جاوے اور جب تك حسب
احکام شرعی اس کو شامل کیا جائے اس دوران میں اور کوئی دوسرامسلمان اس سے تعلقات پیداکرے تو اس کے واسطے کیا حکم شرعی ہے
الجواب:
جبکہ اس نے ترویج پرستش بت میں سعی کی اس پر لزوم کفرہوااس کی عورت نکاح سے نکل گئیاس پرفرض ہے کہ علانیہ مسلمانوں کے سامنے توبہ کرے اورنئے سرے سے کلمہ پڑھےمسلمان ہو اس کے بعدا پنی عورت سے نکاح جدید کی ضرورت ہےتوبہ و تجدید اسلام سے پہلے جو لوگ اس حال سے واقف ہو کر اس سے میل جول رکھیں مستحق سزاو عذاب ہیںواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۳۳:کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك صاحب شریف ہیں اور ان کے برتاؤ برخلاف حکم خداورسول کے برتاؤ میں آتاہے کہ داڑھی منڈواتے ہیںاور لوگ اگر ان سے کچھ کہتے ہیں کہ آپ کو داڑھی منڈوانا غیر مناسب ہےتو لوگوں کو جواب فرماتے ہیں کہ میری طبیعت کا اختیار ہے اور میری طبیعت کاحکم ہےایساشخص حلال کوحرام جانے اور حرام کو حلال جانے ان صاحب کے لئے شرع کا کیاحکم ہے اس کاجواب باصواب مع حدیث وفقہ کے مرقوم فرمادیں اﷲ آپ کو اجر عظیم عطافرماوے گا۔
الجواب:
داڑھی منڈوانا حرام ہے اور اس پریہ جواب کہ میری طبیعت کا اختیار ہے گناہ پر اصرار اور سخت سزا کا سزاوارہےمگر اسے حرام کوحلال جاننا نہیں سمجھا جاتاہے اس کہنے میں کہ میری طبیعت کا اختیار ہے اورمیری طبیعت کواختیارہے بہت فرق ہےدوم بھی تحلیل حرام میں صریح نہیں نہ کہ اولواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۳۴: از فتح گنج غربی مرسلہ حبیب شاہ دہنے شاہ ۲۳ ذی الحجہ ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ قصبہ گنج غربی میں آج واقع بروز سہ شنبہ کو ایك پنچایت اسلامی قائم کی گئی اور اس میں یہ بات پیش کی گئی کہ جو شخص نماز نہ پڑھے اس سے علیك سلیك اور میل اسلامی طریقہ پر ترك کردیا جائے اور حقہ پانی اسلامی طریقہ پر بندکردیا جائےجب یہ مجمع ہوااور مسلمان سب جمع ہوگئے تو پیش امام کہ جو نماز جمعہ وعیدین وپنجوقتہ کا ہے اس کو بلایا گیا تو اس کا اس نے جواب دیا کہ مجھ کو اس سے کچھ تعلق نہیں آج تو میں مماوس کو جو ہندؤوں کا تہوار ہے
الجواب:
جبکہ اس نے ترویج پرستش بت میں سعی کی اس پر لزوم کفرہوااس کی عورت نکاح سے نکل گئیاس پرفرض ہے کہ علانیہ مسلمانوں کے سامنے توبہ کرے اورنئے سرے سے کلمہ پڑھےمسلمان ہو اس کے بعدا پنی عورت سے نکاح جدید کی ضرورت ہےتوبہ و تجدید اسلام سے پہلے جو لوگ اس حال سے واقف ہو کر اس سے میل جول رکھیں مستحق سزاو عذاب ہیںواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۳۳:کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك صاحب شریف ہیں اور ان کے برتاؤ برخلاف حکم خداورسول کے برتاؤ میں آتاہے کہ داڑھی منڈواتے ہیںاور لوگ اگر ان سے کچھ کہتے ہیں کہ آپ کو داڑھی منڈوانا غیر مناسب ہےتو لوگوں کو جواب فرماتے ہیں کہ میری طبیعت کا اختیار ہے اور میری طبیعت کاحکم ہےایساشخص حلال کوحرام جانے اور حرام کو حلال جانے ان صاحب کے لئے شرع کا کیاحکم ہے اس کاجواب باصواب مع حدیث وفقہ کے مرقوم فرمادیں اﷲ آپ کو اجر عظیم عطافرماوے گا۔
الجواب:
داڑھی منڈوانا حرام ہے اور اس پریہ جواب کہ میری طبیعت کا اختیار ہے گناہ پر اصرار اور سخت سزا کا سزاوارہےمگر اسے حرام کوحلال جاننا نہیں سمجھا جاتاہے اس کہنے میں کہ میری طبیعت کا اختیار ہے اورمیری طبیعت کواختیارہے بہت فرق ہےدوم بھی تحلیل حرام میں صریح نہیں نہ کہ اولواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۳۴: از فتح گنج غربی مرسلہ حبیب شاہ دہنے شاہ ۲۳ ذی الحجہ ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ قصبہ گنج غربی میں آج واقع بروز سہ شنبہ کو ایك پنچایت اسلامی قائم کی گئی اور اس میں یہ بات پیش کی گئی کہ جو شخص نماز نہ پڑھے اس سے علیك سلیك اور میل اسلامی طریقہ پر ترك کردیا جائے اور حقہ پانی اسلامی طریقہ پر بندکردیا جائےجب یہ مجمع ہوااور مسلمان سب جمع ہوگئے تو پیش امام کہ جو نماز جمعہ وعیدین وپنجوقتہ کا ہے اس کو بلایا گیا تو اس کا اس نے جواب دیا کہ مجھ کو اس سے کچھ تعلق نہیں آج تو میں مماوس کو جو ہندؤوں کا تہوار ہے
وہاں پر مندر میں جاتاہوں اور سنکھ دھوکر رکھ لیاہے اسلامی پنچایت سے کیا مطلبتو جو شخص ایسے الفاظ کہے اور اس گروہ اسلام میں کہ جہاں پر سوائے نماز کی پابندی کے اور کوئی انتظام کی ضرورت نہ تھی اس کے پیچھے نما زپڑھنا شرعا جائز ہے یاناجائز اور شرع شریف کاایسے شخص پر کیاحکم ہے جمعہ عنقریب ہے جمعہ سے پیشتر یا جمعہ تك جواب مل جاناچاہئے۔
الجواب:
اس شخص کے پیچھے نماز باطل محض ہے اس پر کفرلازم ہےاس کی عورت نکاح سے نکل گئی جب تك نئے سرے سے مسلمان نہ ہواس سے سلام کلام بھی حرام ہےاس کے پیچھے نماز پڑھنا کیامعنیواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۳۵ تا ۳۳۹: از شہرلکھنؤ محلہ گڈھیا کمال جمال مسئولہ عابدحسین عباسی ۱۴محرم ۱۳۳۹ھ
(۱)کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہنود کی خوشی کرنے کی خاطر اور اتفاق پیداکرنے کی خاطر سے گائے کی قربانی یا روزمرہ کے لئے گائے کا ذبیحہ بندکرنا کیساہےہندوستان کی حالت ملاحظہ فرماتے ہوئے حکم شریعت سے مطلع فرمائے۔
(۲)قوم ہنود کی ہمدردی گزشتہ وآئندہ کے صلہ میں اور باہمی اتحاد رکھنے کی غرض سے گائے کی قربانی ترك کردینا شرعا جائز ہے یا نہ
(۳)فی الواقع اگر مولوی عبدالباری صاحب وغیرہ اس کے متعلق فتوی دے چکے ہیں اس پر عمل کرنا چاہئے یانہیں
(۴)اور ایسے محرکین کی کمیٹی میں شرکت کرناچاہئے یانہ اور اس کے محرك اور مرتکب عنداﷲ ماجور و گنہ گار ہوں گے یانہ
(۵)گائےبھیڑبکری یا اونٹ وغیرہ میں منجانب شریعت مختار ہونا اس کے کیامعنی ہیں بینوا توجروا
الجواب:
ہندوستان میں گائے کی قربانی جاری رکھنا واجب ہے اور خوشنودی ہنودکے لئے اس کا بند کرناحراممولوی عبدالباری کے باپ مولانا عبدالوہاب مرحوم اور استاد مولوی عبدالحی صاحب لکھنوی کے فتوے اس بارے میں ہوچکے ہیں اور ہمارے رسالہ انفس الفکر میں کافی ووافی بیان ہےاورہنودسے اتحاد حرام منجر بکفر ہے جس کے نتائج طشت از بام ہیںاس اتحاد کے منانے والے خود
الجواب:
اس شخص کے پیچھے نماز باطل محض ہے اس پر کفرلازم ہےاس کی عورت نکاح سے نکل گئی جب تك نئے سرے سے مسلمان نہ ہواس سے سلام کلام بھی حرام ہےاس کے پیچھے نماز پڑھنا کیامعنیواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۳۵ تا ۳۳۹: از شہرلکھنؤ محلہ گڈھیا کمال جمال مسئولہ عابدحسین عباسی ۱۴محرم ۱۳۳۹ھ
(۱)کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہنود کی خوشی کرنے کی خاطر اور اتفاق پیداکرنے کی خاطر سے گائے کی قربانی یا روزمرہ کے لئے گائے کا ذبیحہ بندکرنا کیساہےہندوستان کی حالت ملاحظہ فرماتے ہوئے حکم شریعت سے مطلع فرمائے۔
(۲)قوم ہنود کی ہمدردی گزشتہ وآئندہ کے صلہ میں اور باہمی اتحاد رکھنے کی غرض سے گائے کی قربانی ترك کردینا شرعا جائز ہے یا نہ
(۳)فی الواقع اگر مولوی عبدالباری صاحب وغیرہ اس کے متعلق فتوی دے چکے ہیں اس پر عمل کرنا چاہئے یانہیں
(۴)اور ایسے محرکین کی کمیٹی میں شرکت کرناچاہئے یانہ اور اس کے محرك اور مرتکب عنداﷲ ماجور و گنہ گار ہوں گے یانہ
(۵)گائےبھیڑبکری یا اونٹ وغیرہ میں منجانب شریعت مختار ہونا اس کے کیامعنی ہیں بینوا توجروا
الجواب:
ہندوستان میں گائے کی قربانی جاری رکھنا واجب ہے اور خوشنودی ہنودکے لئے اس کا بند کرناحراممولوی عبدالباری کے باپ مولانا عبدالوہاب مرحوم اور استاد مولوی عبدالحی صاحب لکھنوی کے فتوے اس بارے میں ہوچکے ہیں اور ہمارے رسالہ انفس الفکر میں کافی ووافی بیان ہےاورہنودسے اتحاد حرام منجر بکفر ہے جس کے نتائج طشت از بام ہیںاس اتحاد کے منانے والے خود
اپنے اقرار سے قرآن وحدیث کی تمام عمر بت پرستی پر نثار کردیتے ہیں"خسر الدنیا والدین ذلك ھو الخسران المبین والعیاذباﷲ رب العالمین"(وہ دنیاو دین دونوں میں خسارے میں ہے اور یہی واضح گھاٹا ہے اور پناہ اﷲ رب العالمین کی ہے۔ت)واﷲ تعالی اعلم۔
___________________
نوٹ
جلد چہاردہم۱۴ ختم ہوئیعنوان کتاب السیر جاری ہے
پندرھویں جلد بھی ان شاء اﷲ سیر پر مشتمل ہوگی۔
____________________
___________________
نوٹ
جلد چہاردہم۱۴ ختم ہوئیعنوان کتاب السیر جاری ہے
پندرھویں جلد بھی ان شاء اﷲ سیر پر مشتمل ہوگی۔
____________________
لم یرد فیھم مثل ذلك فلم یجز قیاسھم علی ھؤلاء ولاالخروج عن قضیۃ العقل فی بابھموالحاصل ان کتابیۃ القائلین بالبنوۃ والوھیۃ الغیر من الیھود والنصاری واردۃ فیما احسب علی خلاف القیاس فیقصر علی الموردوبھذاتبین ان ماقالہ ذلك البعض من المشایخ ان عبادۃ الکواکب لاتخرج الصابئۃ عن الکتابیۃ قول مھجور وان کلام الھدایۃ والتنویر غیرمحمول علی ظاھرہ وان الحق مع العلامۃ صاحب البحر فی تصحیحہ اشراکھم ان کانوا یعبدون الکواکب وانہ لاتنا فی بین تصیحیحۃ ھذا وقولہ سابقا فی اولئك الیھود والنصاری ان المذھب الاطلاق وان قالوا بثالث ثلثۃ وبہ ظھران انتصار العلامۃ عمر بن نجیم فی النھر والمولی محمد بن عابدین فی ردالمحتار لذلك البعض من المشایخ بان مامرمن حل النصرانیۃ وان اعتقدت المسیح الھا یؤید قول بعض المشایخ انتہی مبنی علی الذھول عن ھذاالفرق فاغتنم تحریر ھذاالمقام فقد زلت فیہ اقدام و الحمد ﷲ ولی الانعام۔ متعلق ایسی کوئی نص نہیں ہے اس لئے صابی لوگوں کو ان یہود ونصاری پر قیاس نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی ان کے بارے میں عقلی کلیہ کو ترك کیا جائے گاخلاصہ یہ کہ یہود ونصاری کتابی لوگ جو بنوت کے قائل ہونے کے باوجود غیراﷲ کی الوہیت کے قائل ہیں کو اہل کتاب ماننا میرے خیال میں خلاف قیاس ہے لہذا یہ حکم اپنے مورد میں ہی محفوظ رہے گا جس پر کسی اور کو قیاس نہیں کیا جاسکتااس سے ان بعض مشائخ کا یہ نظریہ کہ ستاروں کی پوجا صابیہ عورت کو کتابیہ سے جدا نہیں کرتیواضح طور پر متروك قرار پاتا ہے اور یہ بھی واضح ہوگیا کہ ہدایہ اور تنویر کا کلام ظاہری معنی پر محمول نہیں ہےاور صاحب بحر کا کلام حق ہے کہ صابی لوگ اگر ستاروں کی پوجا کرتے ہیں تو وہ مشرك ہیں جس کی انہوں نے تصحیح کی ہےاس سے یہ بھی واضح ہوا کہ بحر کی اس تصحیح اور اسکے پہلے قول کہ یہود ونصاری کا اہل کتاب ہونا علی الاطلاق مذہب ہے اگرچہ وہ ثالث ثلثہ کے قائل ہیں میں منافات نہیں ہے او ر اسی سے یہ بات بھی واضح ہوگئی کہ علامہ عمر ابن نجیم کا نہر میں اور علامہ محمد بن عابدین کا ردالمحتار میں مذکور بیان کہ نصرانی عورت اگرچہ مسیح علیہ السلام کوالہ ہونے کا عقیدہ رکھے تب بھی اس سے نکاح حلال ہے کو ان بعض مشائخ کی تائید ماننا الخ اس فرق سے ذہول پر مبنی ہےاس تحریر کو غنیمت سمجھوکیونکہ اس میں بہت سے قدم پھسلے ہیںنعمتوں کے مالك اﷲ تعالی کے لئے ہی حمد ہے۔(ت)
حوالہ / References
ردالمحتار فصل فی المحرمات داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/ ۲۹۰
روافض کے مجتہدان حال نے اپنے فتووں میں ان صریح کفروں کا صاف اقرار کیا ہے۔
یہ فتوی رسالہ تکملہ ردروافض ورسالہ اظہار الحق مطبوعات مطبع صبح صادق سیتاپور۱۲۹۳ھ و ۱۸۷۶ ء میں مفصل مذکور ہیں جن میں اس مقام کے متعلق یہ الفاظ ہیں:
فتوی(۱):چہ می فرمایند مجتہدین دریں مسئلہ کہ مرتبہ ولی مصطفی علی مرتضی علیہ السلام از سائر انبیائے سابقین علیہم السلام سوائے سرور کائنات محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم افضل ست یا نہ بینوا تو جروا ۔
الجواب:افضل ست واﷲ یعلم۔العالم ۱۲۸۳
الراقم میر آغا عفی عنہ
فتوی(۲):چہ میفر ماینددریں مسئلہ کہ درکلام مجید جمع کردہ عثمان تحریف از تخریج آیات مدائح جناب امیر علیہ اسلام وغیرہ واقع شدہ یا نہ
جواب:ایں امر بر سبیل جزم وقطع ثابت نیست لیکن متحمل ست۔ واﷲ یعلم ۔( ھوالعالم ۱۲۸۳)
الراقم میر آغاعفی عنہ
فتوی(۳):مسئلہ دوم مرتبہ اہلبیت نبوی صلوات اﷲ علیہم اجمعین سیما حضر ت علی مرتضی از سائر انبیاء افضل ست یا نہ
جواب:البتہ مراتب ائمہ ہدی از سائر انبیاء بلکہ رسولان اولوالعزم سوائے حضرت خاتم المرسلین صلوات اﷲ علیہ زیادہ بودورتبہ جناب امیر نیز۔(سید علی محمد ۱۲۶۳) فتوی(۱):کیا فرماتے ہیں مجتہدین دین اس مسئلہ میں کہ ولی مصطفی علی مرتضی علیہ السلام ماسوائے محمد رسو ل اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے باقی تمام انبیائے سابقین سے افضل ہیں یا نہیں بینوا تو جروا ۔
الجواب:افضل ہیںاﷲ جانتا ہے(ت)
ھو العالم ۱۲۸۳
الراقم میرآغا عفی عنہ
فتوی(۲):آپ کیا فرماتے ہیں اس مسئلہ میں کہ عثمان کے جمع کردہ قرآن مجید میں امیر علیہ السلام کی مدح والی آیات میں تحریف کی گئی ہے یا نہیں
جواب:یہ چیز یقینی اور قطعی نہیں تاہم احتمال ہےاﷲ جانتا ہے۔ ھو العالم ۱۲۸۳
الراقم میرآغاعفی عنہ
فتوی(۳):دوسرا مسئلہ کہ نبی کے اہل بیت صلوات اﷲ علیہم اجمعین خصوصا علی مرتضی تمام انبیاء سے افضل ہیں یانہیں
(سید علی محمد۱۲۶۳)
جواب:البتہ ائمہ ہدی کا مرتبہ تمام انبیاء بلکہ رسولوں سے ماسوائے خاتم المرسلین صلوات اﷲ علیہ کے زیادہ تھا اور رتبہ جناب امیر کا بھی۔ (سید علی محمد ۱۲۶۳)
یہ فتوی رسالہ تکملہ ردروافض ورسالہ اظہار الحق مطبوعات مطبع صبح صادق سیتاپور۱۲۹۳ھ و ۱۸۷۶ ء میں مفصل مذکور ہیں جن میں اس مقام کے متعلق یہ الفاظ ہیں:
فتوی(۱):چہ می فرمایند مجتہدین دریں مسئلہ کہ مرتبہ ولی مصطفی علی مرتضی علیہ السلام از سائر انبیائے سابقین علیہم السلام سوائے سرور کائنات محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم افضل ست یا نہ بینوا تو جروا ۔
الجواب:افضل ست واﷲ یعلم۔العالم ۱۲۸۳
الراقم میر آغا عفی عنہ
فتوی(۲):چہ میفر ماینددریں مسئلہ کہ درکلام مجید جمع کردہ عثمان تحریف از تخریج آیات مدائح جناب امیر علیہ اسلام وغیرہ واقع شدہ یا نہ
جواب:ایں امر بر سبیل جزم وقطع ثابت نیست لیکن متحمل ست۔ واﷲ یعلم ۔( ھوالعالم ۱۲۸۳)
الراقم میر آغاعفی عنہ
فتوی(۳):مسئلہ دوم مرتبہ اہلبیت نبوی صلوات اﷲ علیہم اجمعین سیما حضر ت علی مرتضی از سائر انبیاء افضل ست یا نہ
جواب:البتہ مراتب ائمہ ہدی از سائر انبیاء بلکہ رسولان اولوالعزم سوائے حضرت خاتم المرسلین صلوات اﷲ علیہ زیادہ بودورتبہ جناب امیر نیز۔(سید علی محمد ۱۲۶۳) فتوی(۱):کیا فرماتے ہیں مجتہدین دین اس مسئلہ میں کہ ولی مصطفی علی مرتضی علیہ السلام ماسوائے محمد رسو ل اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے باقی تمام انبیائے سابقین سے افضل ہیں یا نہیں بینوا تو جروا ۔
الجواب:افضل ہیںاﷲ جانتا ہے(ت)
ھو العالم ۱۲۸۳
الراقم میرآغا عفی عنہ
فتوی(۲):آپ کیا فرماتے ہیں اس مسئلہ میں کہ عثمان کے جمع کردہ قرآن مجید میں امیر علیہ السلام کی مدح والی آیات میں تحریف کی گئی ہے یا نہیں
جواب:یہ چیز یقینی اور قطعی نہیں تاہم احتمال ہےاﷲ جانتا ہے۔ ھو العالم ۱۲۸۳
الراقم میرآغاعفی عنہ
فتوی(۳):دوسرا مسئلہ کہ نبی کے اہل بیت صلوات اﷲ علیہم اجمعین خصوصا علی مرتضی تمام انبیاء سے افضل ہیں یانہیں
(سید علی محمد۱۲۶۳)
جواب:البتہ ائمہ ہدی کا مرتبہ تمام انبیاء بلکہ رسولوں سے ماسوائے خاتم المرسلین صلوات اﷲ علیہ کے زیادہ تھا اور رتبہ جناب امیر کا بھی۔ (سید علی محمد ۱۲۶۳)







