بسم اللہ الرحمن الر حیم ط
پیش لفظ
الحمد ﷲ ! اعلحضرت امام المسلمین مولانا الشاہ احمد رضا خاں فاضل بریلوی رحمۃ اللہ تعالی علیہکے خزائن علمیہ اور ذخائر فقہیہ کو جدید انداز میں عصر حاضر کے تقاضوں کے عین مطابق منظر عام پر لانے کے لئے دارالعلوم جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور میں رضا فاؤنڈیشن کے نام سے جو ادارہ مارچ ۱۹۸۸ء میں قائم ہوا تھا وہ انتہائی کامیابی اور برق رفتاری سے مجوزہ منصوبہ کے ارتقائی مراحل کو طے کرتے ہوئے اپنے ہدف کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اب تک یہ ادارہ امام احمد رضا کی متعدد تصانیف شائع کرچکا ہے مگر اس ادارے کا عظیم ترین کارنامہ “ العطایا النبویہ فی الفتاوی الرضویہ المعروف بہ فتاوی رضویہ “ کی ترجمہ وتخریج کے ساتھ عمدہ وخوبصورت انداز میں اشاعت ہے۔ فتاوی مذکورہ کی اشاعت کا آغاز شعبان المعظم ۱۴۱۰ھ مارچ ۱۹۹۰ء میں ہوا تھا اور بفضلہ تعالی جل مجدہ بعنایت رسول الکریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمتقریبا نو سال کے مختصر عرصہ میں یہ پندرھویں جلد آپ کے ہاتھوں میں ہے۔ اس سے قبل کتاب الطہارۃ کتاب الصلوۃ کتاب الجنائز کتاب الزکوۃ کتاب الصوم کتاب الحج کتاب النکاح کتاب الطلاق کتاب الایمان کتاب الحدود والتعزیر اور کتاب السیر کے بعض حصے پر مشتمل چودہ جلدیں شائع ہوچکی ہیں جن کی تفصیل سنین مشمولات مجموعی صفحات اور ان میں شامل رسائل کی تعداد کے اعتبار سے حسب ذیل ہے۔
پیش لفظ
الحمد ﷲ ! اعلحضرت امام المسلمین مولانا الشاہ احمد رضا خاں فاضل بریلوی رحمۃ اللہ تعالی علیہکے خزائن علمیہ اور ذخائر فقہیہ کو جدید انداز میں عصر حاضر کے تقاضوں کے عین مطابق منظر عام پر لانے کے لئے دارالعلوم جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور میں رضا فاؤنڈیشن کے نام سے جو ادارہ مارچ ۱۹۸۸ء میں قائم ہوا تھا وہ انتہائی کامیابی اور برق رفتاری سے مجوزہ منصوبہ کے ارتقائی مراحل کو طے کرتے ہوئے اپنے ہدف کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اب تک یہ ادارہ امام احمد رضا کی متعدد تصانیف شائع کرچکا ہے مگر اس ادارے کا عظیم ترین کارنامہ “ العطایا النبویہ فی الفتاوی الرضویہ المعروف بہ فتاوی رضویہ “ کی ترجمہ وتخریج کے ساتھ عمدہ وخوبصورت انداز میں اشاعت ہے۔ فتاوی مذکورہ کی اشاعت کا آغاز شعبان المعظم ۱۴۱۰ھ مارچ ۱۹۹۰ء میں ہوا تھا اور بفضلہ تعالی جل مجدہ بعنایت رسول الکریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمتقریبا نو سال کے مختصر عرصہ میں یہ پندرھویں جلد آپ کے ہاتھوں میں ہے۔ اس سے قبل کتاب الطہارۃ کتاب الصلوۃ کتاب الجنائز کتاب الزکوۃ کتاب الصوم کتاب الحج کتاب النکاح کتاب الطلاق کتاب الایمان کتاب الحدود والتعزیر اور کتاب السیر کے بعض حصے پر مشتمل چودہ جلدیں شائع ہوچکی ہیں جن کی تفصیل سنین مشمولات مجموعی صفحات اور ان میں شامل رسائل کی تعداد کے اعتبار سے حسب ذیل ہے۔
جلد عنوان جوابات اسئلہ تعداد رسائل سنین اشاعت صفحات
۱ کتاب الطہارۃ ۲۲ ۱۱ شعبان المعظم ۱۴۱۰ھ ______مارچ ۱۹۹۰ء ۸۳۸
۲ کتاب الطہارۃ ۳۳ ۷ ربیع الثانی ۱۴۱۲___________نومبر ۱۹۹۱ء ۷۱۰
۳ کتاب الطہارۃ ۵۹ ۶ شعبان المعظم ۱۴۱۲_________فروری ۱۹۹۲ ۷۵۶
۴ کتاب الطہارۃ ۱۳۲ ۵ رجب المرجب ۱۴۱۳ ________جنوری ۱۹۹۳ ۷۶۰
۵ کتاب الصلوۃ ۱۴۰ ۶ ربیع الاول ۱۴۱۴___________ستمبر ۱۹۹۳ ۶۹۲
۶ کتاب الصلوۃ ۴۵۷ ۴ ربیع الاول ۱۴۱۵___________اگست۱۹۹۴ ۷۳۶
۷ کتاب الصلوۃ ۲۶۹ ۷ رجب المرجب ۱۴۱۵_________دسمبر۱۹۹۴ ۷۲۰
۸ کتاب الصلوۃ ۳۳۷ ۶ محرم الحرام۱۴۱۶___________جون۱۹۹۵ ۶۶۴
۹ کتاب الجنائز ۲۷۳ ۱۳ ذیقعدہ۱۴۱۶______________اپریل۱۹۹۶ ۹۴۶
۱۰ کتاب زکوۃ صوم حج ۳۱۶ ۱۶ ربیع الاول۱۴۱۷___________اگست۱۹۹۶ ۸۳۲
۱۱ کتاب النکاح ۴۵۹ ۶ محرم الحرام۱۴۱۸___________مئی۱۹۹۷ ۷۳۶
۱۲ کتاب نکاح طلاق ۳۲۸ ۳ رجب المرجب۱۴۱۸_________نومبر۱۹۹۷ ۶۸۸
۱۳ کتاب طلاق ایمان اور حدود و تعزیر ۲۹۳ ۲ ذیقعدہ ۱۴۱۸_____________مارچ ۱۹۹۸ ۶۸۸
۱۴ کتاب السیر(ا) ۳۳۹ ۷ جمادی الاخری ۱۴۱۹_________ستمبر ۱۹۹۸ ۷۱۲
پندرھویں جلد
یہ جلد فتاوی رضویہ قدیم جلد ششم مطبوعہ سنی دارالاشاعت مبارکپور اعظم گڈھ بھارت کے صفحہ ۱۶۹ سے ۳۱۴ تک ۸۱ سوالوں کے جوابات پر مشتمل ہے۔ نئے شامل کردہ رسائل کے علاوہ اسی جلد کی عربی وفارسی عبارات کا ترجہ فاضل شہیر مصنف کتب کثیرہ حضرت علامہ مفتی محمد خاں قادری مہتمم جامعہ اسلامیہ لاہور نے کیا ہے ۔ اس سے قبل چھٹی ساتویں آٹھویں دسویں اور چودھویں جلد بھی علامہ موصوف کے ترجمہ کے ساتھ شائع ہوچکی ہیں۔ پیش نظر جلد بنیادی طور پر کتاب السیر کے مباحث جلیلہ پر مشتل ہے تاہم متعدد ابواب فقہیہ وکلامیہ وغیرہ کے مسائل ضمنا زیر بحث آئے ہیں مسائل ورسائل کی مفصل فہرست کے علاوہ مسائل ضمنیہ کی الگ فہرست بھی قارئین کرام کی سہولت کے لئے تیار کردی گئی ہے انتہائی وقیع اور گرانقدر تحقیقات وتدقیقات پر مشتمل مندرجہ ذیل پندرہ رسائل بھی اس جلد کی
۱ کتاب الطہارۃ ۲۲ ۱۱ شعبان المعظم ۱۴۱۰ھ ______مارچ ۱۹۹۰ء ۸۳۸
۲ کتاب الطہارۃ ۳۳ ۷ ربیع الثانی ۱۴۱۲___________نومبر ۱۹۹۱ء ۷۱۰
۳ کتاب الطہارۃ ۵۹ ۶ شعبان المعظم ۱۴۱۲_________فروری ۱۹۹۲ ۷۵۶
۴ کتاب الطہارۃ ۱۳۲ ۵ رجب المرجب ۱۴۱۳ ________جنوری ۱۹۹۳ ۷۶۰
۵ کتاب الصلوۃ ۱۴۰ ۶ ربیع الاول ۱۴۱۴___________ستمبر ۱۹۹۳ ۶۹۲
۶ کتاب الصلوۃ ۴۵۷ ۴ ربیع الاول ۱۴۱۵___________اگست۱۹۹۴ ۷۳۶
۷ کتاب الصلوۃ ۲۶۹ ۷ رجب المرجب ۱۴۱۵_________دسمبر۱۹۹۴ ۷۲۰
۸ کتاب الصلوۃ ۳۳۷ ۶ محرم الحرام۱۴۱۶___________جون۱۹۹۵ ۶۶۴
۹ کتاب الجنائز ۲۷۳ ۱۳ ذیقعدہ۱۴۱۶______________اپریل۱۹۹۶ ۹۴۶
۱۰ کتاب زکوۃ صوم حج ۳۱۶ ۱۶ ربیع الاول۱۴۱۷___________اگست۱۹۹۶ ۸۳۲
۱۱ کتاب النکاح ۴۵۹ ۶ محرم الحرام۱۴۱۸___________مئی۱۹۹۷ ۷۳۶
۱۲ کتاب نکاح طلاق ۳۲۸ ۳ رجب المرجب۱۴۱۸_________نومبر۱۹۹۷ ۶۸۸
۱۳ کتاب طلاق ایمان اور حدود و تعزیر ۲۹۳ ۲ ذیقعدہ ۱۴۱۸_____________مارچ ۱۹۹۸ ۶۸۸
۱۴ کتاب السیر(ا) ۳۳۹ ۷ جمادی الاخری ۱۴۱۹_________ستمبر ۱۹۹۸ ۷۱۲
پندرھویں جلد
یہ جلد فتاوی رضویہ قدیم جلد ششم مطبوعہ سنی دارالاشاعت مبارکپور اعظم گڈھ بھارت کے صفحہ ۱۶۹ سے ۳۱۴ تک ۸۱ سوالوں کے جوابات پر مشتمل ہے۔ نئے شامل کردہ رسائل کے علاوہ اسی جلد کی عربی وفارسی عبارات کا ترجہ فاضل شہیر مصنف کتب کثیرہ حضرت علامہ مفتی محمد خاں قادری مہتمم جامعہ اسلامیہ لاہور نے کیا ہے ۔ اس سے قبل چھٹی ساتویں آٹھویں دسویں اور چودھویں جلد بھی علامہ موصوف کے ترجمہ کے ساتھ شائع ہوچکی ہیں۔ پیش نظر جلد بنیادی طور پر کتاب السیر کے مباحث جلیلہ پر مشتل ہے تاہم متعدد ابواب فقہیہ وکلامیہ وغیرہ کے مسائل ضمنا زیر بحث آئے ہیں مسائل ورسائل کی مفصل فہرست کے علاوہ مسائل ضمنیہ کی الگ فہرست بھی قارئین کرام کی سہولت کے لئے تیار کردی گئی ہے انتہائی وقیع اور گرانقدر تحقیقات وتدقیقات پر مشتمل مندرجہ ذیل پندرہ رسائل بھی اس جلد کی
زینت ہیں :
(۱)الجبل الثانوی علی کلیۃ التھانوی(۱۳۳۷ھ)
کلمہ طیبہ اوردورد شریف میں بنی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے اسم گرامی کی جگہ اشرفعلی کہنے والے کا حکم شرعی۔
(۲)سبحن السبوح عن عیب کذب مقبوح(۱۳۰۷ھ)
اس بات کا بیان کہ کذب باری تعالی محال ہے اور اﷲ تعالی کو محال پر قادر ماننا اس کو عیب لگانا ہے بلکہ اس کی الوہیت کا انکار ہے۔
(۳)دامان باغ سبحن السبوح(۱۳۰۷ھ)
نظریہ امکان کذب کا رد بلیغ
(۴)القمع المبین لامال المکذبین(۱۳۲۹ھ)
مسائرہ شرح مواقف اور حاشیہ عبدالحکیم سیالکوٹی کی عبارت سے قائلین امکان کذب کے استدلال کارد۔
(۵)السوء والعقاب علی المسیح الکذاب(۱۳۲۰ھ)
مرزا غلام احمد قادیانی کی عبارات کفریہ کا رد۔
(۶)حجب العوار عن مخدوم بھار(۱۳۳۹ھ)
غیر مقلدوں کی طرف سے مخدوم بہار شرف الدین احمد یحیی منیری رحمۃ اللہ تعالی علیہکی طرف ایک غلط بات منسوب کرنے کا رد اور آپ کی ایک عبارت سے دفع شبہات۔
(۷)ابحاث اخیرہ(۱۳۲۸ھ)
علماء دیوبند اور مولوی اشرفعلی تھانوی پر اتمام حجت
(۸)الدلائل القاھرہ علی الکفر النیاشرہ(۱۳۳۵ھ)
نیچری کافروں کے خلاف زبردست دلائل
(۹)قھر الدیان علی مرتد بقادیان(۱۳۲۳ھ)
قادیانی مرتد پر قہر خداوندی
(۱۰)الجراز الدیانی علی المرتد القادیانی(۱۳۴۰ھ)
قادیانی مرتد پر اﷲ تعالی کی شمشیر برآں
(۱۱)جزاء اﷲ وعدوہ بابائہ ختم النبوۃ(۱۳۱۶ھ)
ختم نبوت کا انکار کرنے کی وجہ سے دشمن خدا پر جزائے خداوندی۔
(۱)الجبل الثانوی علی کلیۃ التھانوی(۱۳۳۷ھ)
کلمہ طیبہ اوردورد شریف میں بنی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے اسم گرامی کی جگہ اشرفعلی کہنے والے کا حکم شرعی۔
(۲)سبحن السبوح عن عیب کذب مقبوح(۱۳۰۷ھ)
اس بات کا بیان کہ کذب باری تعالی محال ہے اور اﷲ تعالی کو محال پر قادر ماننا اس کو عیب لگانا ہے بلکہ اس کی الوہیت کا انکار ہے۔
(۳)دامان باغ سبحن السبوح(۱۳۰۷ھ)
نظریہ امکان کذب کا رد بلیغ
(۴)القمع المبین لامال المکذبین(۱۳۲۹ھ)
مسائرہ شرح مواقف اور حاشیہ عبدالحکیم سیالکوٹی کی عبارت سے قائلین امکان کذب کے استدلال کارد۔
(۵)السوء والعقاب علی المسیح الکذاب(۱۳۲۰ھ)
مرزا غلام احمد قادیانی کی عبارات کفریہ کا رد۔
(۶)حجب العوار عن مخدوم بھار(۱۳۳۹ھ)
غیر مقلدوں کی طرف سے مخدوم بہار شرف الدین احمد یحیی منیری رحمۃ اللہ تعالی علیہکی طرف ایک غلط بات منسوب کرنے کا رد اور آپ کی ایک عبارت سے دفع شبہات۔
(۷)ابحاث اخیرہ(۱۳۲۸ھ)
علماء دیوبند اور مولوی اشرفعلی تھانوی پر اتمام حجت
(۸)الدلائل القاھرہ علی الکفر النیاشرہ(۱۳۳۵ھ)
نیچری کافروں کے خلاف زبردست دلائل
(۹)قھر الدیان علی مرتد بقادیان(۱۳۲۳ھ)
قادیانی مرتد پر قہر خداوندی
(۱۰)الجراز الدیانی علی المرتد القادیانی(۱۳۴۰ھ)
قادیانی مرتد پر اﷲ تعالی کی شمشیر برآں
(۱۱)جزاء اﷲ وعدوہ بابائہ ختم النبوۃ(۱۳۱۶ھ)
ختم نبوت کا انکار کرنے کی وجہ سے دشمن خدا پر جزائے خداوندی۔
(۱۲)الکوکبۃ الشھابیۃ فی کفریات ابی الوھابیۃ(۱۳۱۲ھ)
امام الوہابیہ کے کفریات کے بارے میں چمکدار ستارہ
(۱۳)سل السیوف الھندیۃ علی کفریات باباء النجدیہ(۱۳۱۲ھ)
نجدی پیشواؤں کے کفریات پر لٹکتی ہوئی تلوار
(۱۴)تدبیر فلاح ونجات واصلاح(۱۳۳۱ھ)
ترکی مسلمانوں کی حالت زار کا بیان اورمسلمانوں کی اصلاح کامیابی اور نجات کی عمدۃ تدبیریں۔
(۱۵)باب العقائد والکلام(۱۳۳۵ھ)
اس بات کا بیان کہ کوئی کافر اﷲ تعالی کو نہیں پہچانتا۔
پندرہ رسائل مذکورہ میں سے مقدم الذکر چھ رسائل تو پہلے سے فتاوی رضویہ قدیم جلد ششم کتاب السیر میں موجود تھے اگرچہ ان میں سے رسالہ “ حجب العوار “ کو سابق کی جگہ سے تبدیل کردیا گیا ہے تاکہ رد مرزایت اور رد منکرین ختم نبوت سے متعلق رسائل یکجا ہوجائیں جبکہ آخر الذکر رسالہ یعنی “ تدبر فلاح ونجات واصلاح “ فتاوی رضویہ قدیم جلد دوازدہم میں شامل تھا مگر اس کے مباحث جلیلہ کتاب السیر سے زیادہ مطابقت رکھتے ہیں لہذا اس کو جلد ہذا میں شامل کردیا گیا اور رسالہ باب العقائد والکلام فتاوی رضویہ قدیم جلد اول کتاب الطہارۃ باب التیمم میں تھا وہاں سے خارج کیا گھا تھا اور وعدہ تھا کہ کسی مناسب مقام پر شامل کیا جائے گا چناچہ مضمون کے پیش نظر اسے سبھی جلد ہذا میں شامل کردیا ہے باقی سات رسائل اسی سے قبل فتاوی رضویہ میں شامل نہ تھے موضوع کی مناسبت کے پیش نظر ان کو بھی اس جلد کی زینت بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ جلد ہذا میں مسئلہ نمبر ۷۵ دراصل فتاوی رضویہ قدیم جلد نہم مطبوعہ کراچی کے صفحہ ۸۹ تا ۹۷ مسائل کلامیہ سے منتقل کیا گیا ہے کیونکہ اس کا مضمون کتاب السیر سے مطابقت رکھتاہے یاد رہے کہ کتاب السیر کے بعد فتاوی رضویہ قدیم جلد ششم میں “ کتاب المفقود “ تھی جس کو کتاب الطلاق کے ساتھ منسلک کرکے تیرھویں جلد(جدید)میں شامل کیا جا چکا ہے۔ لہذا اب اگلی جلد یعنی جلد ۱۶ “ کتاب المفقود “ کی بجائے “ کتاب الشرکۃ “ سے شروع ہوگی۔ مندرجہ ذیل رسائل دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے اس جلد میں شامل ہونے سے رہ گئے۔
(۱)المجل المسددان سب المصطفی مرتد۔ (۲)البارقۃ اللمعاعلی ساعد من نطق بالکفر طوعا۔
(۳)المقال الباھر منکر الفقہ کافر۔
ذوالحجہ ۱۴۱۹ھ اپریل ۱۹۹۹ء
o حافظ محمد عبدالستار سعیدی جامعہ نظامیہ رضویہ اندرون لوہاری دروازہ لاہور
امام الوہابیہ کے کفریات کے بارے میں چمکدار ستارہ
(۱۳)سل السیوف الھندیۃ علی کفریات باباء النجدیہ(۱۳۱۲ھ)
نجدی پیشواؤں کے کفریات پر لٹکتی ہوئی تلوار
(۱۴)تدبیر فلاح ونجات واصلاح(۱۳۳۱ھ)
ترکی مسلمانوں کی حالت زار کا بیان اورمسلمانوں کی اصلاح کامیابی اور نجات کی عمدۃ تدبیریں۔
(۱۵)باب العقائد والکلام(۱۳۳۵ھ)
اس بات کا بیان کہ کوئی کافر اﷲ تعالی کو نہیں پہچانتا۔
پندرہ رسائل مذکورہ میں سے مقدم الذکر چھ رسائل تو پہلے سے فتاوی رضویہ قدیم جلد ششم کتاب السیر میں موجود تھے اگرچہ ان میں سے رسالہ “ حجب العوار “ کو سابق کی جگہ سے تبدیل کردیا گیا ہے تاکہ رد مرزایت اور رد منکرین ختم نبوت سے متعلق رسائل یکجا ہوجائیں جبکہ آخر الذکر رسالہ یعنی “ تدبر فلاح ونجات واصلاح “ فتاوی رضویہ قدیم جلد دوازدہم میں شامل تھا مگر اس کے مباحث جلیلہ کتاب السیر سے زیادہ مطابقت رکھتے ہیں لہذا اس کو جلد ہذا میں شامل کردیا گیا اور رسالہ باب العقائد والکلام فتاوی رضویہ قدیم جلد اول کتاب الطہارۃ باب التیمم میں تھا وہاں سے خارج کیا گھا تھا اور وعدہ تھا کہ کسی مناسب مقام پر شامل کیا جائے گا چناچہ مضمون کے پیش نظر اسے سبھی جلد ہذا میں شامل کردیا ہے باقی سات رسائل اسی سے قبل فتاوی رضویہ میں شامل نہ تھے موضوع کی مناسبت کے پیش نظر ان کو بھی اس جلد کی زینت بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ جلد ہذا میں مسئلہ نمبر ۷۵ دراصل فتاوی رضویہ قدیم جلد نہم مطبوعہ کراچی کے صفحہ ۸۹ تا ۹۷ مسائل کلامیہ سے منتقل کیا گیا ہے کیونکہ اس کا مضمون کتاب السیر سے مطابقت رکھتاہے یاد رہے کہ کتاب السیر کے بعد فتاوی رضویہ قدیم جلد ششم میں “ کتاب المفقود “ تھی جس کو کتاب الطلاق کے ساتھ منسلک کرکے تیرھویں جلد(جدید)میں شامل کیا جا چکا ہے۔ لہذا اب اگلی جلد یعنی جلد ۱۶ “ کتاب المفقود “ کی بجائے “ کتاب الشرکۃ “ سے شروع ہوگی۔ مندرجہ ذیل رسائل دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے اس جلد میں شامل ہونے سے رہ گئے۔
(۱)المجل المسددان سب المصطفی مرتد۔ (۲)البارقۃ اللمعاعلی ساعد من نطق بالکفر طوعا۔
(۳)المقال الباھر منکر الفقہ کافر۔
ذوالحجہ ۱۴۱۹ھ اپریل ۱۹۹۹ء
o حافظ محمد عبدالستار سعیدی جامعہ نظامیہ رضویہ اندرون لوہاری دروازہ لاہور
بسم اللہ الرحمن الر حیم ط
کتاب السیر
(حصہ دوم)
مسئلہ ۱ : از شہر مسئولہ محمد خلیل الدین احمد صاحب ۱۶ محرم ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ا س مسئلہ میں کہ زید نے کہا کہ ایک ہندی مہاجر مدنی کی اہلیہ افغانی النسل مدنی بی بی صاحبہ ہندوستان تشریف لائی ہیں وہ تعزیوں وغیرہ کے حالات سن کر فرماتی ہیں کہ ہندیوں نے یہ اسلامی بت بنائے ہیں ا س کو سن کر خالد نے نہایت غضبناک ہوکر کہا تعزیوں کو بت کہنے والا خودکافرہے اگرچہ عالم ہو۔
الجواب :
تعزئےناجائز ضرور ہیں مگر ان کو بت کہنا زیادت وغلو ہے مسلمان ان کی پرستش نہیں کرتے اورجس نے وہ کلمہ کہا کہ “ بت کہنے والا خود کافرہے اگر چہ عالم ہو “ اس نے اس سے بھی ہزار درجے بدتر کہی سخت سزا کا مستحق ہے بلکہ توہین علماء کے سبب اس پر تجدید اسلام ونکاح لازم ہے۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲ : از شہر مسئولہ محمد خلیل الدین احمد صاحب ۱۶ محرم ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے اسلام اس مسئلہ میں کہ عمرو نے کہا تفضیلیہ کے پیچھے ہم نماز نہیں پڑھیں گے بکر یہ سن طیش میں آگیا اور کہا ہم تو تفضیلیہ ہیں ہم کو دوسروں (غیر تفضیلیہ)سے کیا مطلب اگر وہ دوخدا کہیں تو ہم نہیں مانتے اگر وہ گوہ کھائیں تو ہم نہیں کھاسکتے اسطرح عالم اہل سنت وجماعت پر کنایۃ تبرا کہا اوریہ بھی کہا کہ ہم خارجی کونماز نہیں پڑھانے دیں گے (مسجد کا امام ایک سید اہلسنت وجماعت ہے)اس طرح اہلسنت وجماعت کو خارجی کہا
الجواب :
تفضیلیہ گمراہ ہیں اور علماء کی توہین راہ جہنم ہے اور اہلسنت کوخارجی کہنا رافضیوں کا شعارہے والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳تا۷ : ازشہر کہنہ محلہ کوٹ مسئولہ عنایت الله خاں یکم صفر ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ۱جو شخص کہے رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکو علم غیب نہ تھا اور۲معراج جسمانی نہ ہوئی اور۳جملہ شہداء واولیاء الله وبزرگان دین کی نیاز ونذر کرنا حرام
کتاب السیر
(حصہ دوم)
مسئلہ ۱ : از شہر مسئولہ محمد خلیل الدین احمد صاحب ۱۶ محرم ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ا س مسئلہ میں کہ زید نے کہا کہ ایک ہندی مہاجر مدنی کی اہلیہ افغانی النسل مدنی بی بی صاحبہ ہندوستان تشریف لائی ہیں وہ تعزیوں وغیرہ کے حالات سن کر فرماتی ہیں کہ ہندیوں نے یہ اسلامی بت بنائے ہیں ا س کو سن کر خالد نے نہایت غضبناک ہوکر کہا تعزیوں کو بت کہنے والا خودکافرہے اگرچہ عالم ہو۔
الجواب :
تعزئےناجائز ضرور ہیں مگر ان کو بت کہنا زیادت وغلو ہے مسلمان ان کی پرستش نہیں کرتے اورجس نے وہ کلمہ کہا کہ “ بت کہنے والا خود کافرہے اگر چہ عالم ہو “ اس نے اس سے بھی ہزار درجے بدتر کہی سخت سزا کا مستحق ہے بلکہ توہین علماء کے سبب اس پر تجدید اسلام ونکاح لازم ہے۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲ : از شہر مسئولہ محمد خلیل الدین احمد صاحب ۱۶ محرم ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے اسلام اس مسئلہ میں کہ عمرو نے کہا تفضیلیہ کے پیچھے ہم نماز نہیں پڑھیں گے بکر یہ سن طیش میں آگیا اور کہا ہم تو تفضیلیہ ہیں ہم کو دوسروں (غیر تفضیلیہ)سے کیا مطلب اگر وہ دوخدا کہیں تو ہم نہیں مانتے اگر وہ گوہ کھائیں تو ہم نہیں کھاسکتے اسطرح عالم اہل سنت وجماعت پر کنایۃ تبرا کہا اوریہ بھی کہا کہ ہم خارجی کونماز نہیں پڑھانے دیں گے (مسجد کا امام ایک سید اہلسنت وجماعت ہے)اس طرح اہلسنت وجماعت کو خارجی کہا
الجواب :
تفضیلیہ گمراہ ہیں اور علماء کی توہین راہ جہنم ہے اور اہلسنت کوخارجی کہنا رافضیوں کا شعارہے والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳تا۷ : ازشہر کہنہ محلہ کوٹ مسئولہ عنایت الله خاں یکم صفر ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ۱جو شخص کہے رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکو علم غیب نہ تھا اور۲معراج جسمانی نہ ہوئی اور۳جملہ شہداء واولیاء الله وبزرگان دین کی نیاز ونذر کرنا حرام
اور۴ان سے بذریعہ دعاامداد طلب کرنا شرک ہے پس وہ(۵)شخص ونیز اس کے پیرو قابل امام ہیں یا نہیں اور و ہ کس فرقہ سے ہیں اور مسئلہ مندرجہ بالا کون سی بات جائز وناجائزہے اور حضرت کوعلم غیب تھا یا نہ اور معراج جسمانی ہوئی یا نہ
الجواب :
۱ الله عزوجل نے روز اول سے روز اخر تک جوکچھ ہوا اور جو کچھ ہے اور جو کچھ ہونے ولا ہے ایک ایک ذرہ کاتفصیل علم اپنے حبیب اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو عطافرمایا ہزار تاریکیوں میں جو ذرہ یا ریگ کادانہ پڑاہے حضو ر کا علم ا س کو محیط ہے اورفقط علم ہی نہیں بلکہ تمام دنیا بھر اور جو کچھ ا س میں تا قیامت تک ہونے والا ہے سب کو ایسا دیکھ رہے ہیں جیسا اپنی اس ہتھیلی کو۔ آسمانوں اور زمینوں میں کوئی ذرہ ان کی نگاہ سے مخفی نہیں بلکہ یہ جو کچھ مذکورہے ان کے علم کے سمندروں میں سے ایک چھوٹی سی نہرہے اپنی تمام امت کو اس سے زیادہ پہچانتے ہیں جیسا آدمی اپنے پاس بیٹھنے والوں کو اور فقط پہچانتے ہی نہیں بلکہ ان کے ایک ایک عمل ایک ایک حرکت کو دیکھ رہے ہیں۔ دلوں میں جو خطرہ گزرتا ہے اس سے آگاہ ہیں اور پھرا ن کے علم کے وہ تمام سمندر اور جمیع علوم اولین وآخرین مل کر ہم علم الہی سے وہ نسبت نہیں رکھتے جوایک ذرا سے قطرہ کو کر وڑ سمندروں سے “ و ما قدروا الله حق قدره “ ظالموں نے الله ہی کی قدرنہ پہچانی کہ جو کچھ ہو گزرااور قیامت تک ہونے ہونے والاہے اس کا علم اس کی عطاسے اس کے محبوب کے لئے مانا اورکہہ دیا کہ یہ تو خدا سے برابری ہوگئی مشرک ہوگیا۔ بے ادبو! کیا خدا کا علم اتنا ہی ذرا ساہے کہ دو حدوں میں محدود ہے یہ تو نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اپنے صدقہ میں اپنے غلاموں کو عطا فرماتے ہیں یہ سب آیات کریمہ واحادیث صحیحہ واقوال ائمہ وعلماء واولیاء سے ثابت جن کی تفصیل ہماری کتابوں “ الدولہ المکیہ وانباء المصطفی وخالص الاعتقاد “ وغیرہ میں ہے ۲معراج شریف یقینا قطعا اسی جسم مبارک کے ساتھ ہوا نہ کہ فقط روحانی جوا ن کے عطاسے ان کے غلاموں کو بھی ہوتاہے الله عزوجل فرماتا ہے : “سبحن الذی اسرى بعبده “ پاکی ہے اسے جو رات میں لے گیا اپنے بندہ کو یہ نہ فرمایا کہ لے گیا اپنے بندہ کی روح کو۔ ۳نیاز نذر کرنا جائزہے ۴ اور اولیاء سے طلب دعا مستحب ہے۔ اور۵یہاں ان مسائل میں کلام کرنے والے نہیں مگر وہابی اور وہابی مرتد ہیں اور مرتد کے پیچھے نماز باطل
الجواب :
۱ الله عزوجل نے روز اول سے روز اخر تک جوکچھ ہوا اور جو کچھ ہے اور جو کچھ ہونے ولا ہے ایک ایک ذرہ کاتفصیل علم اپنے حبیب اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو عطافرمایا ہزار تاریکیوں میں جو ذرہ یا ریگ کادانہ پڑاہے حضو ر کا علم ا س کو محیط ہے اورفقط علم ہی نہیں بلکہ تمام دنیا بھر اور جو کچھ ا س میں تا قیامت تک ہونے والا ہے سب کو ایسا دیکھ رہے ہیں جیسا اپنی اس ہتھیلی کو۔ آسمانوں اور زمینوں میں کوئی ذرہ ان کی نگاہ سے مخفی نہیں بلکہ یہ جو کچھ مذکورہے ان کے علم کے سمندروں میں سے ایک چھوٹی سی نہرہے اپنی تمام امت کو اس سے زیادہ پہچانتے ہیں جیسا آدمی اپنے پاس بیٹھنے والوں کو اور فقط پہچانتے ہی نہیں بلکہ ان کے ایک ایک عمل ایک ایک حرکت کو دیکھ رہے ہیں۔ دلوں میں جو خطرہ گزرتا ہے اس سے آگاہ ہیں اور پھرا ن کے علم کے وہ تمام سمندر اور جمیع علوم اولین وآخرین مل کر ہم علم الہی سے وہ نسبت نہیں رکھتے جوایک ذرا سے قطرہ کو کر وڑ سمندروں سے “ و ما قدروا الله حق قدره “ ظالموں نے الله ہی کی قدرنہ پہچانی کہ جو کچھ ہو گزرااور قیامت تک ہونے ہونے والاہے اس کا علم اس کی عطاسے اس کے محبوب کے لئے مانا اورکہہ دیا کہ یہ تو خدا سے برابری ہوگئی مشرک ہوگیا۔ بے ادبو! کیا خدا کا علم اتنا ہی ذرا ساہے کہ دو حدوں میں محدود ہے یہ تو نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اپنے صدقہ میں اپنے غلاموں کو عطا فرماتے ہیں یہ سب آیات کریمہ واحادیث صحیحہ واقوال ائمہ وعلماء واولیاء سے ثابت جن کی تفصیل ہماری کتابوں “ الدولہ المکیہ وانباء المصطفی وخالص الاعتقاد “ وغیرہ میں ہے ۲معراج شریف یقینا قطعا اسی جسم مبارک کے ساتھ ہوا نہ کہ فقط روحانی جوا ن کے عطاسے ان کے غلاموں کو بھی ہوتاہے الله عزوجل فرماتا ہے : “سبحن الذی اسرى بعبده “ پاکی ہے اسے جو رات میں لے گیا اپنے بندہ کو یہ نہ فرمایا کہ لے گیا اپنے بندہ کی روح کو۔ ۳نیاز نذر کرنا جائزہے ۴ اور اولیاء سے طلب دعا مستحب ہے۔ اور۵یہاں ان مسائل میں کلام کرنے والے نہیں مگر وہابی اور وہابی مرتد ہیں اور مرتد کے پیچھے نماز باطل
محض جیسے گنگاپر شاد کے پیچھے والله تعالی اعلم
مسئلہ ۸ : از ایم اے او کالج علی گڈھ نمبر ۷ مارلیس کور ٹ مسئولہ مقصود علی صاحب ۲۰ صفر ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ۱۱ اکتوبر کو مولانا شوکت علی ومحمدعلی صاحب علی گڑھ تشریف لائے اور انھوں نے ہم طالب علموں کو یہ سمجھایا کہ گورنمنٹ مسلمانوں کی دشمن ہے اورچاہتی ہے کہ جزیرۃ العرب ومقامات مقدسہ پر اگر اپنی حکومت نہیں تو کم سے کم اثر رکھیں تو اس حالت میں ہم لوگوں کو کیا کرنا چاہئے انھوں نے یہ بتایا کہ خلافت کمیٹی نے یہ طریقہ بتایا ہے کہ اس وقت گورنمنٹ سے ہم مسلمانان قطع تعلق کرلیں اور کالج کے طاطب علموں کو یہ بتایا کہ چونکہ کالج میں گورنمنٹ روپیہ دیتی ہے اور اس سے کالج کا تعلق ہے تو ہم طالب علم کالج چھوڑ دیں توکیا یہ اس قت ہم لوگوں کا مذہبی فرض ہے کیا ا س کی عدول حکمی سے کفر عائد ہوتاہے یا نہیں بینوا توجروا
الجواب :
کالج اور اس کی تعلیم میں جس قدر بات خلاف شریعت ہے اس سے بچنا ہمیشہ فرض تھا اور ہے جہاں تک مخالفت شرع نہ ہو اس سے بچنا کھبی بھی فرض نہیں۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۹ : از خیرو پور ٹامے والی ریاست بہاولپوری مسئولہ مولوی عبدالرحیم خانقاہی ۲ صفر ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید بیانی ہے کہ مجھے فیصلہ شرح محمدی کا منظور وقبول نہیں ہے بلکہ رواج وقانون منظورہے یہ سخن بالادریغ عوام الناس میں کہہ دیا ہے عند الشریعۃ اس کے ساتھ یعنی زید کے ساتھ شریعت مبارک کا کیا ارشاد ہے صاف خوشخط استفتاء پر جواب فرماویں اجرت جواب پر دی جائے گی۔
الجواب :
یہاں فتوی پر کوئی اجرت نہیں لی جاتی نہ پہلے نہ بعد نہ اپنے لئے نہ اسے روا رکھا جاتاہے بیان مذکور ہ سوال اگر واقعی ہے تو زید پر تجدید اسلام واجب ہے توبہ کرے اور از سرنو کلمہ اسلام پڑھے اس کے بعد اپنی عورت سے نکاح جدید کرے۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۸ : از ایم اے او کالج علی گڈھ نمبر ۷ مارلیس کور ٹ مسئولہ مقصود علی صاحب ۲۰ صفر ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ۱۱ اکتوبر کو مولانا شوکت علی ومحمدعلی صاحب علی گڑھ تشریف لائے اور انھوں نے ہم طالب علموں کو یہ سمجھایا کہ گورنمنٹ مسلمانوں کی دشمن ہے اورچاہتی ہے کہ جزیرۃ العرب ومقامات مقدسہ پر اگر اپنی حکومت نہیں تو کم سے کم اثر رکھیں تو اس حالت میں ہم لوگوں کو کیا کرنا چاہئے انھوں نے یہ بتایا کہ خلافت کمیٹی نے یہ طریقہ بتایا ہے کہ اس وقت گورنمنٹ سے ہم مسلمانان قطع تعلق کرلیں اور کالج کے طاطب علموں کو یہ بتایا کہ چونکہ کالج میں گورنمنٹ روپیہ دیتی ہے اور اس سے کالج کا تعلق ہے تو ہم طالب علم کالج چھوڑ دیں توکیا یہ اس قت ہم لوگوں کا مذہبی فرض ہے کیا ا س کی عدول حکمی سے کفر عائد ہوتاہے یا نہیں بینوا توجروا
الجواب :
کالج اور اس کی تعلیم میں جس قدر بات خلاف شریعت ہے اس سے بچنا ہمیشہ فرض تھا اور ہے جہاں تک مخالفت شرع نہ ہو اس سے بچنا کھبی بھی فرض نہیں۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۹ : از خیرو پور ٹامے والی ریاست بہاولپوری مسئولہ مولوی عبدالرحیم خانقاہی ۲ صفر ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید بیانی ہے کہ مجھے فیصلہ شرح محمدی کا منظور وقبول نہیں ہے بلکہ رواج وقانون منظورہے یہ سخن بالادریغ عوام الناس میں کہہ دیا ہے عند الشریعۃ اس کے ساتھ یعنی زید کے ساتھ شریعت مبارک کا کیا ارشاد ہے صاف خوشخط استفتاء پر جواب فرماویں اجرت جواب پر دی جائے گی۔
الجواب :
یہاں فتوی پر کوئی اجرت نہیں لی جاتی نہ پہلے نہ بعد نہ اپنے لئے نہ اسے روا رکھا جاتاہے بیان مذکور ہ سوال اگر واقعی ہے تو زید پر تجدید اسلام واجب ہے توبہ کرے اور از سرنو کلمہ اسلام پڑھے اس کے بعد اپنی عورت سے نکاح جدید کرے۔ والله تعالی اعلم۔
رسالہ
الجبل الثانوی علی کلیۃ التھانوی ۱۳۳۷ھ
(تھانوی کے گردے پر دوسرا پہاڑ)
مسئلہ ۱۰ :
ماقولکم دام طولکم فی رجل یسمی اشرف علی کتب
تمھاری(الله تعالی تمھیں طویل عمر عطا فرمائے)اشرف علی نامی شخص کے بارے میں کیا رائے ہے
الجبل الثانوی علی کلیۃ التھانوی ۱۳۳۷ھ
(تھانوی کے گردے پر دوسرا پہاڑ)
مسئلہ ۱۰ :
ماقولکم دام طولکم فی رجل یسمی اشرف علی کتب
تمھاری(الله تعالی تمھیں طویل عمر عطا فرمائے)اشرف علی نامی شخص کے بارے میں کیا رائے ہے
الیہ بعض مجبیہ انہ رأی فی المنام انہ یقرأ الکلمۃ الطیبۃ لکن یذکر فیھا اسمکم)ای اسم اشرف علی)مکان محمد(صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم)ثم تذکرانہ اخطأ فاعاد فلم یخرج من لسانہ الا “ اشرف علی “ رسول اﷲ مکان محمد رسول اﷲ (صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم)ھو دار ان ھذا غیر صحیح لکن لاینطلق اللسان الابھذا من غیر اختیار قال فلما تکرر ھذا رأیتکم تجاھی فخررت علی الارض وصحت صیاحا شدید اوخلت ان لم یبق فی باطنی قوۃ ثم استیقظت بیدان الغیبۃ عن الحس واثر عدم الطاقت کما ھو لکن لم یکن فی المنام ولافی الیقظۃ الاتصورکم تأملت فی الیقظۃ ماوقع من الغلط فی الکلمۃ الطیبۃ فاردت ان ادفع ھذا الخیال عن القلب فجلست ثم اضطجعت علی الجنب الاخر لتدارك الغلط الواقع فی الکملۃ الشریفۃ اردت الصلوۃ علی النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فلا اقول الا اللھم صلی علی سیدنا ونبینا ومولانا اشرف علی مع انی الان یقظان غیر وسنان ولکن خارج عن الاختیار لیس لی علی اللسان اقتدار حتی بقیت ھکذا طول النہار وبکیت من الغد بالاکثار وسوی ھذہ وجوہ کثیرۃ
جس کی طرف اس کے کسی چاہنے والے نے لکھا کہ ا س نے خواب میں کلمہ طیبہ پڑھا لیکن حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے اسم گرامی محمد کی جگہ تیرانام(اشرف علی)پڑھا تو زبان اس کے بعد خیال آیا یہ تو غلط ہے دوبارہ کلمہ پڑھا تو زبان سے محمد رسول اللہ(صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم)کی جگہ “ اشرف علی رسول اللہ “ نکلتا ہے میں نے غور کیا یہ تو صحیح نہیں لیکن زبان سے بے اختیار یہی نکلتاہے جب بار بار ایسا ہوا تو میں نے تمھیں سامنے دیکھا میں زمین پر گر پڑا اور سخت چیخ وپکار کی اور مجھے خیال آتا ہے کہ میرے اندر باطنی قوت ختم ہوگئی ہے پھر میں جاگا مگر حس کا غائب ہونا اور ناطاقتی پہلے کی طرح ہی تھی مگر نیند اور بیداری میں صرف تمھاراہی تصور تھا بیداری کی حالت میں میں نے غور کیا کہ کلمہ طیبہ غلطی ہوگئی تو میں نے اس خیال کو دل سے نکالنے کی کوشش کی میں بیٹھ گیا پھر میں دوسری کروٹ لیٹ گیا کلمہ طیبہ میں واقعی غلطی کے تدارك کے لئے میں حضور نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی ذات اقدس پر درود شریف پڑھتا ہوں لیکن پھر بھی یہ کہتا ہوں ______ “ اللھم صلی علی سیدنا ونبینا ومولانا اشرف علی “ حالانکہ میں اب بیداری میں تھا نہ کہ حالت غفلت میں ونیند میں لیکن یہ معاملہ بے اختیاری میں تھا زبان پر میرا کنٹرول ختم ہوچکا تھاحتی کہ یہی عمل سارا دن رہا دوسرے روز بہت رویا ہوں۔ ان وجوہ کے علاوہ دیگر کئی وجوہ نے بھی مجھے آپ
جس کی طرف اس کے کسی چاہنے والے نے لکھا کہ ا س نے خواب میں کلمہ طیبہ پڑھا لیکن حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے اسم گرامی محمد کی جگہ تیرانام(اشرف علی)پڑھا تو زبان اس کے بعد خیال آیا یہ تو غلط ہے دوبارہ کلمہ پڑھا تو زبان سے محمد رسول اللہ(صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم)کی جگہ “ اشرف علی رسول اللہ “ نکلتا ہے میں نے غور کیا یہ تو صحیح نہیں لیکن زبان سے بے اختیار یہی نکلتاہے جب بار بار ایسا ہوا تو میں نے تمھیں سامنے دیکھا میں زمین پر گر پڑا اور سخت چیخ وپکار کی اور مجھے خیال آتا ہے کہ میرے اندر باطنی قوت ختم ہوگئی ہے پھر میں جاگا مگر حس کا غائب ہونا اور ناطاقتی پہلے کی طرح ہی تھی مگر نیند اور بیداری میں صرف تمھاراہی تصور تھا بیداری کی حالت میں میں نے غور کیا کہ کلمہ طیبہ غلطی ہوگئی تو میں نے اس خیال کو دل سے نکالنے کی کوشش کی میں بیٹھ گیا پھر میں دوسری کروٹ لیٹ گیا کلمہ طیبہ میں واقعی غلطی کے تدارك کے لئے میں حضور نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی ذات اقدس پر درود شریف پڑھتا ہوں لیکن پھر بھی یہ کہتا ہوں ______ “ اللھم صلی علی سیدنا ونبینا ومولانا اشرف علی “ حالانکہ میں اب بیداری میں تھا نہ کہ حالت غفلت میں ونیند میں لیکن یہ معاملہ بے اختیاری میں تھا زبان پر میرا کنٹرول ختم ہوچکا تھاحتی کہ یہی عمل سارا دن رہا دوسرے روز بہت رویا ہوں۔ ان وجوہ کے علاوہ دیگر کئی وجوہ نے بھی مجھے آپ
اوجیت لی محبتکم(اھ ماکتب الرجل)فکتبت الیہ اشر علی ان فی ھذہ الواقعۃ تسلیۃ لکم ان الذی ترجعون الیہ ھو متبع السنۃ اھ وقد طبع ھذا کلہ واشاعہ اشرف علی نفسہ فی جریدۃ شھریۃ تسمی الامداد مبتھجابہ علی رؤس الاشہاد بل داعیا مریدیہ الی مثلہ من الغالات فی تعظیمہ وایثار فضلہ فان ھذا ھو مقصد الجریدۃ یحسبوھا فی ارشادھم رشدیۃ فما حکم الشریعۃ الغراء فیھما واشرف علی ھذا ھوالذی کتب فی رسیلۃ لہ لاتزید علی ثلاث وریقات فی ابطال نسبۃ علم الغیب الی محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم انہ ان ارید بہ کل العلوم بحیث لایشذ منہا شیئ فبطلانہ ظاھر عقلا ونقلا وان ارید البعض فای خصوصیۃ فیہ لہ فان مثل ھذا حاصل لزید وعمر وبل لکل صبی و مجنون بل لکل بھیمۃ وحیوان وقد حکم علیہ بقولہ ھذا اکابر علماء الحرمین المکرمین انہ کفر وارتد ومن شك فی کفرہ فقد کفر کما ھوا مفصل فی حسام الحرمین افیدونا اجزل اﷲ تعالی ثوابکم امین!
کی محبت عطا کی ہے کہاں تك عرض کرو اس شخص کا مکتوب ختم ہوا اشرفعلی نے اسکے جواب میں لکھا اس واقعہ میں تمھارے لئے اس بات کی تسلی ہے کہ جس کی طرف تم رجوع کررہے ہو وہ سنت کا متبع ہے اھ اور یہ تمام واقعہ اشرف علی نے خود اپنے ماہنامہ رسالہ الامداد میں اعلانیہ شائع کیا خوشیاں مناتے ہوئے بلکہ مریدین کو اپنی تعلیم اور بزرگی کی ترجیح میں غلو کی طرف بلاتے ہوئے اس لئے کہ رسالہ کا مقصود ہی یہ ہے کہ مریدین سے انہی کی ہدایت میں راہ راست پر جانیں تو شریعت مبارکہ کا ان دونوں اشخاص کے بارے میں کیا حکم ہے اور یہ وہی اشرف علی ہے جس نے اپنے ایك رسالہ(جو تین چھوٹے چھوٹے اوراق پر مشتمل ہے)میں نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی طرف علم غیب کی نسبت کو باطل قرار دیتے ہوئے کہا ہے اگر اس علم غیب سے مراد اس طرح کے تمام علوم ہیں کہ اس سے کوئی شیئ خارج نہیں تو اس کا باطل ہونا عقلا ونقلا باطل ہے۔ اور اگر مراد بعض علوم غیبیہ ہیں تو اس میں آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی کیا خصوصیت ہے کیونکہ یہ تو زید عمرو بلکہ ہر بچے پاگل بلکہ ہر چوپائے اور حیوان کو حاصل ہے۔ اس کی اس عبارت پر علماء حرمین شریفین نے یہ حکم جاری کیا کہ یہ شخص کافر مرتد ہے اور جو اس کے کفر میں شك کرے وہ بھی کافر ہے۔ جیسا کہ حسام الحرمین میں تفصیلا موجودہے ہمیں اس کے جواب میں سے مطلع فرمائیں الله تعالی آپ کو اجر جزیل عطافرمائیں آمین!
کی محبت عطا کی ہے کہاں تك عرض کرو اس شخص کا مکتوب ختم ہوا اشرفعلی نے اسکے جواب میں لکھا اس واقعہ میں تمھارے لئے اس بات کی تسلی ہے کہ جس کی طرف تم رجوع کررہے ہو وہ سنت کا متبع ہے اھ اور یہ تمام واقعہ اشرف علی نے خود اپنے ماہنامہ رسالہ الامداد میں اعلانیہ شائع کیا خوشیاں مناتے ہوئے بلکہ مریدین کو اپنی تعلیم اور بزرگی کی ترجیح میں غلو کی طرف بلاتے ہوئے اس لئے کہ رسالہ کا مقصود ہی یہ ہے کہ مریدین سے انہی کی ہدایت میں راہ راست پر جانیں تو شریعت مبارکہ کا ان دونوں اشخاص کے بارے میں کیا حکم ہے اور یہ وہی اشرف علی ہے جس نے اپنے ایك رسالہ(جو تین چھوٹے چھوٹے اوراق پر مشتمل ہے)میں نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی طرف علم غیب کی نسبت کو باطل قرار دیتے ہوئے کہا ہے اگر اس علم غیب سے مراد اس طرح کے تمام علوم ہیں کہ اس سے کوئی شیئ خارج نہیں تو اس کا باطل ہونا عقلا ونقلا باطل ہے۔ اور اگر مراد بعض علوم غیبیہ ہیں تو اس میں آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی کیا خصوصیت ہے کیونکہ یہ تو زید عمرو بلکہ ہر بچے پاگل بلکہ ہر چوپائے اور حیوان کو حاصل ہے۔ اس کی اس عبارت پر علماء حرمین شریفین نے یہ حکم جاری کیا کہ یہ شخص کافر مرتد ہے اور جو اس کے کفر میں شك کرے وہ بھی کافر ہے۔ جیسا کہ حسام الحرمین میں تفصیلا موجودہے ہمیں اس کے جواب میں سے مطلع فرمائیں الله تعالی آپ کو اجر جزیل عطافرمائیں آمین!
حوالہ / References
حسام الحرمین المقدمہ مکتبہ نبویہ گنج بخش روڈ لاہور ص۱۳
الجواب :
اللھم لك الحمد صلی علی نبیك نبی الحمد والہ وصحبہ العمد رب انی اعوذبك من ھمزات الشیطین واعو ذبك رب ان یحضرون ائمۃ الدین لم یقبلوا زلل اللسان فی الکفر والالاجتراء کل خبیث القلب ان یجاھر بسب اﷲ وسب رسولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ویقول زلت لسانی قال الامام القاضی عیاض فی الشقاء الشریف “ لایعذر احد فی الکفر بدعوی زلل اللسان “ اھ وفیہ ایضا “ عن ابی محمد بن ابی زید لایعذر احدبد عوی زلل اللسان فی مثل ھذا اھ “ وفیہ ایضا “ افتی ابوالحسن القابسی فیمن شتم النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فی سکرہ یقتل لانہ یظن بہ انہ یعتقد ھذا ویفعلہ فی صحوہ “ اھ ثم الزلل ان کان انما یکون بحرف اوحرفین
اے اللہ! حمد تیرے لئے ہے۔ ا پنے بنی محمد پر ان کی آل واصحاب جودین کی ستون ہیں پر رحمتوں کا نزول فرما اے میرے رب! میں شیطان کے حملوں سے تیری پناہ میں آتا ہوں اور میں تیری پناہ لیتاہوں اس سے کہ مجھ پر وہ حملہ آور ہو۔ ائمہ دین کسی کفو میں زبان کا پھسل جانا قبول نہیں کرتے ورنہ یہ ہوتا کہ جو خبیث القلب ہو وہ اعلانیہ الله تعالی اور اس کے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو سب وشتم کرکے کہہ دے میری زبان پھسل گئی امام قاضی عیاض شفاء شریف میں فرماتے ہیں کسی آدمی کے کفرکے ارتکاب پر اس کایہ عذر مقبول نہ ہوگاکہ میری زبان پھسل گئی اھ اس میں یہ بھی ہے امام ابو محمد بن ابی زید نے فرمایا ایسی صورت میں کسی کایہ عذر قبول نہیں کہ زبان قابوں میں نہ رہی اھ اس میں یہ بھی ہے امام ابوالحسن القابسی نے اس شخص کے قتل کا فتوی جاری فرمایا جس نے نشہ کی حالت میں رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کوسب وشتم کیا کیونکہ اس سے متعلق خیال یہی ہے کہ وہ یہ اعتقاد رکھتاہے اور وہ حالت ہوش میں بھی ایسا کہاکرتا ہے اھ پھر زبان کا پھسلنا ہو تو ایك یادو حرفوں میں ہو یہ
اللھم لك الحمد صلی علی نبیك نبی الحمد والہ وصحبہ العمد رب انی اعوذبك من ھمزات الشیطین واعو ذبك رب ان یحضرون ائمۃ الدین لم یقبلوا زلل اللسان فی الکفر والالاجتراء کل خبیث القلب ان یجاھر بسب اﷲ وسب رسولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ویقول زلت لسانی قال الامام القاضی عیاض فی الشقاء الشریف “ لایعذر احد فی الکفر بدعوی زلل اللسان “ اھ وفیہ ایضا “ عن ابی محمد بن ابی زید لایعذر احدبد عوی زلل اللسان فی مثل ھذا اھ “ وفیہ ایضا “ افتی ابوالحسن القابسی فیمن شتم النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فی سکرہ یقتل لانہ یظن بہ انہ یعتقد ھذا ویفعلہ فی صحوہ “ اھ ثم الزلل ان کان انما یکون بحرف اوحرفین
اے اللہ! حمد تیرے لئے ہے۔ ا پنے بنی محمد پر ان کی آل واصحاب جودین کی ستون ہیں پر رحمتوں کا نزول فرما اے میرے رب! میں شیطان کے حملوں سے تیری پناہ میں آتا ہوں اور میں تیری پناہ لیتاہوں اس سے کہ مجھ پر وہ حملہ آور ہو۔ ائمہ دین کسی کفو میں زبان کا پھسل جانا قبول نہیں کرتے ورنہ یہ ہوتا کہ جو خبیث القلب ہو وہ اعلانیہ الله تعالی اور اس کے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو سب وشتم کرکے کہہ دے میری زبان پھسل گئی امام قاضی عیاض شفاء شریف میں فرماتے ہیں کسی آدمی کے کفرکے ارتکاب پر اس کایہ عذر مقبول نہ ہوگاکہ میری زبان پھسل گئی اھ اس میں یہ بھی ہے امام ابو محمد بن ابی زید نے فرمایا ایسی صورت میں کسی کایہ عذر قبول نہیں کہ زبان قابوں میں نہ رہی اھ اس میں یہ بھی ہے امام ابوالحسن القابسی نے اس شخص کے قتل کا فتوی جاری فرمایا جس نے نشہ کی حالت میں رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کوسب وشتم کیا کیونکہ اس سے متعلق خیال یہی ہے کہ وہ یہ اعتقاد رکھتاہے اور وہ حالت ہوش میں بھی ایسا کہاکرتا ہے اھ پھر زبان کا پھسلنا ہو تو ایك یادو حرفوں میں ہو یہ
حوالہ / References
شفا بتعریف حقوق المصطفی فصل قال القاضی تقدم لکلام المطبعۃ الشرکۃ الصحافیہ ترکی ۲ / ۲۲۳
شفا بتعریف حقوق المصطفی فصل قال القاضی تقدم لکلام المطبعۃ الشرکۃ الصحافیہ ترکی ۲ / ۲۲۳
شفا بتعریف حقوق المصطفی فصل قال القاضی تقدم لکلام المطبعۃ الشرکۃ الصحافیہ ترکی ۲ / ۲۲۳
شفا بتعریف حقوق المصطفی فصل قال القاضی تقدم لکلام المطبعۃ الشرکۃ الصحافیہ ترکی ۲ / ۲۲۳
شفا بتعریف حقوق المصطفی فصل قال القاضی تقدم لکلام المطبعۃ الشرکۃ الصحافیہ ترکی ۲ / ۲۲۳
لا ان تزل اللسان طول النھار وھذا غیر مقبول ومعقول قال فی جامع الفصولین الفصل لثامن والثلثین “ ابتلی بمصیبات متنوعۃ فقال اخذت مالی وولدی واخذت کذا وکذا فماذا تفعل ایضا وماذا بقی لم تفعلہ وما اشبھہ من الالفاظ کفر کذا حکی عن عبدالکریم فقیل لہ ارأیت لوان المریض قالہ وجری علی لسانہ بلا قصد شدۃ مرضہ قال الحرف الواحد یجری ونحوہ قدیجری علی اللسان بلاقصد اشارہ الی انہ یحکم بکفرہ ولایصدق “ اھ فاذا لم یصدق فی نصف سطر کیف یصدق فیما کر رہ مناما ویقظۃ طول النھار بل ھو قطعا مسرف کذاب الم تران ا ﷲ تعالی جعل الجسد تحت ارادۃ القلب قال نبینا الحق المبین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم “ الا ان فی الجسد مضغۃ اذاصلحت صلح الجسد کلہ واذا فسدت فسد الجسد کلہ الا وھی
تو نہیں ہوگا کہ سارادن زبان کنٹرول میں نہ رہے ایساہونا غیر مقبول وغیر معقول ہے جامع الفصولین کی اڑتیسیویں فصل میں ہے ایك شخص مختلف مصائب میں مبتلا ہوا اور وہ کہتاہے(اے اللہ!)تو نے میرا مال میری اولاد اور یہ یہ چھین لیا اس کے بعد اور کیا کرے گا اور باقی رہ ہی کیا گیا جو تونے نہیں کیا اور اس کی مثال دیگر الفاظ کہے تویہ کفر ہے۔ اسی طرح شیخ عبدالکریم سے منقول ہے کہ ان سے سوال ہواکہ ایك مریض کی زبان سے شدت مرض کی وجہ سے بلاقصد ایسا کوئی کلمہ جاری ہوجائے وتو اس کا کیا حکم ہے فرمایا ایسا اگر کوئی حرف بھی جاری ہوجائے خواہ بلاقصد ہو تو اس پر کفر کا حکم ہی جاری کیا جائے گا اور زبان بہکنے کا عذر سچا نہ سمجھا جائے گا اھ جب نصف سطر میں اس کی بات نہیں مانی جائے گی تو وہاں کیسے تصدیق جائز ہوگی جب جواب میں اور سارادن بیداری میں ایسا بکتا رہابلکہ یہ شخص تو یقینا ظالم زیاتی کرنے والا اور کذاب وجھوٹا ہے کیا تمھارے علم میں نہیں الله تعالی نے جسم کو ارادہ بدل کے تابع بنا رکھاہے حق واضح فرمانے والے ہمارے نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے : سنو جسم میں ایك گوشت کا ٹکڑا ہے جب وہ درست رہے تو تمام جس درست رہتاہے اگروہ بگڑ جائے تو تمام
تو نہیں ہوگا کہ سارادن زبان کنٹرول میں نہ رہے ایساہونا غیر مقبول وغیر معقول ہے جامع الفصولین کی اڑتیسیویں فصل میں ہے ایك شخص مختلف مصائب میں مبتلا ہوا اور وہ کہتاہے(اے اللہ!)تو نے میرا مال میری اولاد اور یہ یہ چھین لیا اس کے بعد اور کیا کرے گا اور باقی رہ ہی کیا گیا جو تونے نہیں کیا اور اس کی مثال دیگر الفاظ کہے تویہ کفر ہے۔ اسی طرح شیخ عبدالکریم سے منقول ہے کہ ان سے سوال ہواکہ ایك مریض کی زبان سے شدت مرض کی وجہ سے بلاقصد ایسا کوئی کلمہ جاری ہوجائے وتو اس کا کیا حکم ہے فرمایا ایسا اگر کوئی حرف بھی جاری ہوجائے خواہ بلاقصد ہو تو اس پر کفر کا حکم ہی جاری کیا جائے گا اور زبان بہکنے کا عذر سچا نہ سمجھا جائے گا اھ جب نصف سطر میں اس کی بات نہیں مانی جائے گی تو وہاں کیسے تصدیق جائز ہوگی جب جواب میں اور سارادن بیداری میں ایسا بکتا رہابلکہ یہ شخص تو یقینا ظالم زیاتی کرنے والا اور کذاب وجھوٹا ہے کیا تمھارے علم میں نہیں الله تعالی نے جسم کو ارادہ بدل کے تابع بنا رکھاہے حق واضح فرمانے والے ہمارے نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے : سنو جسم میں ایك گوشت کا ٹکڑا ہے جب وہ درست رہے تو تمام جس درست رہتاہے اگروہ بگڑ جائے تو تمام
حوالہ / References
جامع الفصولین فصل ۳۸ فی مسائل کلمات الکفر اسلامی کتب خانہ کراچی ۲ / ۳۱۰
القلب “ فمافسد قولہ ولسانہ والا وقد فسد قبلہ قلبہ وجنانہ وھذا یدعی ان لسانہ فی فیہ حیوان مستقل بارادتہ غیرتابع للقلب کفرس جموح شدیدۃ الجموح تحت راکب ضعیف قوی الضعف یرید الیمین والفرس لاتنعطف الاللشمال حتی کلما اراد ردھا للیمین لم تاخذ الا ذات الشمال حتی تنازع القلب واللسان طول النھار فلم یك الغلبۃ الاللسان ھذا غیر معقول ولا مسموع فلا شك انہ محکوم علیہ بالکفر حکماغیر مدفوع وھل سمعتم باحد یدعی الاسلام ویقول طول النھار فلان رسول اﷲ مکان محمد رسول اﷲ اویقول لابیہ یاکلب ابن الکلب یاخنزیرا بن الخنزیر ویکررہ من الصباح الی المساء ثم یقول انما کنت اقول یا ابت یا سیدی فینازعنی اللسان ویذھب من الاب السید الی الکلب والخنزیر حاش ﷲ ماکان ھذا ولایکون ولن یقبلہ احد الا مجنون ھذا حکم ذلك القائل
جسم بگڑجاتاہے سن لو وہ دل ہے۔ زبان کا قول اس وقت ہی فاسد ہوگا جب اس سے پہلے دل فاسد ہوگا مذکور شخص کادعوی یہ ہے کہ اس کے منہ میں زبان ایسا حیوان ہے جو اپنے ارادہ میں مستقل ہے دل کے تابع نہیں جیسے کوئی سخت سرکش گھوڑا نہایت ہی کمزور سوا ر کے تحت ہووہ اس گھوڑے کو دائیں طرف لے جانا چاہے مگر وہ بے پروا ہوکر بائیں طرف چل پڑے جب بھی اسے وہ دائیں جانب لانے کی کوشش کرے وہ بائیں ہی کو جائے۔ حتی کہ سارا دن دل اور زبان میں جھگڑا رہا اور زبان کو غلبہ حاصل ہوگیا یہ بات و دعوی نہایت غیر معقول ہے اورہر گز قابل سماعت و توجہ نہیں اس پر بلاشبہ کفر کا ایسا حکم ہی صادر ہوگا جو ٹل نہیں سکتا کیا تم نے کبھی یہ سناکوئی شخص اسلام کا دعوی کرتاہے اور سارا د ن محمد رسول الله کی بجائے فلاں رسول الله کہتارہے یا اپنے والد کو اے کتے کتے کے بیٹے یا خنزیربن خنزیر کہتارہے اور صبح تا شام اسکی زبان پر یہی جاری رہے پھر کہے میں تویہ کہنا چاہتاتھا اے میرے اباجان اے میرے سرادر مجھ سے میری زبان جھگڑ پڑی اور اس نے اب اور سردار کی جگہ کلب اور خنزیر کہہ دیا الله کی قسم یہ بات ہی غلط ہے ایسی بات کو دیوانے کے علاوہ کوئی قبول نہیں کرے گا۔ یہ تو اس قائل کا
جسم بگڑجاتاہے سن لو وہ دل ہے۔ زبان کا قول اس وقت ہی فاسد ہوگا جب اس سے پہلے دل فاسد ہوگا مذکور شخص کادعوی یہ ہے کہ اس کے منہ میں زبان ایسا حیوان ہے جو اپنے ارادہ میں مستقل ہے دل کے تابع نہیں جیسے کوئی سخت سرکش گھوڑا نہایت ہی کمزور سوا ر کے تحت ہووہ اس گھوڑے کو دائیں طرف لے جانا چاہے مگر وہ بے پروا ہوکر بائیں طرف چل پڑے جب بھی اسے وہ دائیں جانب لانے کی کوشش کرے وہ بائیں ہی کو جائے۔ حتی کہ سارا دن دل اور زبان میں جھگڑا رہا اور زبان کو غلبہ حاصل ہوگیا یہ بات و دعوی نہایت غیر معقول ہے اورہر گز قابل سماعت و توجہ نہیں اس پر بلاشبہ کفر کا ایسا حکم ہی صادر ہوگا جو ٹل نہیں سکتا کیا تم نے کبھی یہ سناکوئی شخص اسلام کا دعوی کرتاہے اور سارا د ن محمد رسول الله کی بجائے فلاں رسول الله کہتارہے یا اپنے والد کو اے کتے کتے کے بیٹے یا خنزیربن خنزیر کہتارہے اور صبح تا شام اسکی زبان پر یہی جاری رہے پھر کہے میں تویہ کہنا چاہتاتھا اے میرے اباجان اے میرے سرادر مجھ سے میری زبان جھگڑ پڑی اور اس نے اب اور سردار کی جگہ کلب اور خنزیر کہہ دیا الله کی قسم یہ بات ہی غلط ہے ایسی بات کو دیوانے کے علاوہ کوئی قبول نہیں کرے گا۔ یہ تو اس قائل کا
حوالہ / References
صحیح البخاری کتاب الایمان باب فضل من استبرائہ الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۳
اما ماکتب الیہ اشرفعلی فی الجواب فاستحسان منہ لذلك الکفر واستحسان الکفر کفر بلا ارتیاب وما ھوا الالمارأی فیہ من تعظیم نفسہ ووصفہ بانہ رسول اﷲ ذی القوۃ والصلوۃ علیہ استقلالا بدل النبی صلی الله تعالی علیہ وآلہ وسلم ومدحہ بالنبوۃ فابتھج واجاز کل ذلك وجعلہ تسلیۃ لذلك الھالك ارأیت لوسبہ وامہ اواباہ احد طول النھا ثم قال انما کنت ارید مدحك فلم یطع اللسان فی الخطاب وبقیت تسبك واباك وامك من الصباح حتی توارت بالحجاب ھل کان اشرف علی او حد من اراذل الناس ولوخصافا او زبالا اوارذل منھم یقبل ھذہ المعاذیر ویقول لہ ان فی ھذہ تسلیۃ لکم ان الذی تحبونہ وتسبونہ انہ لمن ضئضئ الخنازیر کلابل یحرق غیظا ویموت غنظا اویفعل بہ ماقدر علیہ حتی القتل ان وجد سبیلا الیہ فالتسلیۃ ھھنا لیس الا لاستخفافہ بمحمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم و بمرتبۃ النبوۃ والرسالۃ
حکم ہے۔ رہا معاملہ اشرفعلی کا جو اس نے جواب میں لکھا تو اس میں اس کے کفر کی تعریف کی ہے اور بلاشبہہ کفر کواچھا کہنااور سمجھنا بھی کفرہوتاہے کیونکہ مجیب نے اس میں اپنی ذات کی تعظیم ووصف کو سمجھاہے کہ وہ الله کا رسول صاحب قوت ہے اور حضورصلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے بجائے ان پر درود وسلام اورنبوت کے ساتھ مدح کی گئی ہے وہ اس پر خوش ہواہے اور ہر یاك کو اس نے اس کی اجازت دی ہے اور اس تباہ و برباد ہونے والے کے لئے اسے تسلی قرار دیا تم ہی بتاؤ اگر اس تھانوی کو یا اس کی ماں کو یا اس کے والد کو ساراد ن گالی دیتا اور پھر کہتا میں تو تمھاری مدح وتعریف کرنا چاہ رہاتھا لیکن زبان نہ مانی وہ صبح سے تجھے تیرے والد اور تیری ماں کو گالی دیتی رہی تھی حتی کہ شام ہوگئی کیا اشرف علی یاکوئی سب سے کمینہ اگرچہ وہ موچی ماشکی یا کوئی اور گھٹیا آدمی ہو ان عذروں کو قبول کر لے گا اور اسے کہے گا تمھارے لئے اس میں تسلی ہے کہ جس سے محبت کرتے ہو اور تم اسے گالی دیتے ہووہ اصل خنزیر ہے وہ ہر گز نہیں قبول کرے گا بلکہ وہ غیظ میں جل جائے گا غیرت سے مرجائے گا وہ کچھ کرگزرے گا جو اس کے بس میں ہو حتی کہ اگر اسے طاقت ہو تو وہ اسے قتل کردے گا تو یہاں تسلی دینا فقط رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی توہین اور مرتبہ نبوت ورسالت
حکم ہے۔ رہا معاملہ اشرفعلی کا جو اس نے جواب میں لکھا تو اس میں اس کے کفر کی تعریف کی ہے اور بلاشبہہ کفر کواچھا کہنااور سمجھنا بھی کفرہوتاہے کیونکہ مجیب نے اس میں اپنی ذات کی تعظیم ووصف کو سمجھاہے کہ وہ الله کا رسول صاحب قوت ہے اور حضورصلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے بجائے ان پر درود وسلام اورنبوت کے ساتھ مدح کی گئی ہے وہ اس پر خوش ہواہے اور ہر یاك کو اس نے اس کی اجازت دی ہے اور اس تباہ و برباد ہونے والے کے لئے اسے تسلی قرار دیا تم ہی بتاؤ اگر اس تھانوی کو یا اس کی ماں کو یا اس کے والد کو ساراد ن گالی دیتا اور پھر کہتا میں تو تمھاری مدح وتعریف کرنا چاہ رہاتھا لیکن زبان نہ مانی وہ صبح سے تجھے تیرے والد اور تیری ماں کو گالی دیتی رہی تھی حتی کہ شام ہوگئی کیا اشرف علی یاکوئی سب سے کمینہ اگرچہ وہ موچی ماشکی یا کوئی اور گھٹیا آدمی ہو ان عذروں کو قبول کر لے گا اور اسے کہے گا تمھارے لئے اس میں تسلی ہے کہ جس سے محبت کرتے ہو اور تم اسے گالی دیتے ہووہ اصل خنزیر ہے وہ ہر گز نہیں قبول کرے گا بلکہ وہ غیظ میں جل جائے گا غیرت سے مرجائے گا وہ کچھ کرگزرے گا جو اس کے بس میں ہو حتی کہ اگر اسے طاقت ہو تو وہ اسے قتل کردے گا تو یہاں تسلی دینا فقط رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی توہین اور مرتبہ نبوت ورسالت
وختم النبوۃ الاعظم واستحسان نسبتھا الی نفسہ الامارۃ بالسوء کثیرا
“ لقد استكبروا فی انفسهم و عتو عتوا كبیرا(۲۱) “ فلا ریب ان اشرف علی ومریدہ المذکور کلاھما کافر بالرب الغیور غرتھما الامانی وغرھما باﷲ الغرور بل اشرف علی اشد کفرا واعظم وزرا فان المرید زعم ان ما یقول غلط صریح وباطل قبیح وھذا لم یقبح القول ولاوبخ قائلہ بل استحسنہ وجعلہ تسلیۃ لہ ولکن لاغروفان من سب رسول اﷲ محمدا صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بتلك السبۃ الفاحشۃ الماثورۃ فی السوال عنہ المحکوم علیہ لاجلھا بالکفر والارتداد من اسیادنا علماء الحرمین الکریمین فبأی کفر یتعجب منہ واذاکان عندہ مثل علم محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بالغیب حاصل لکل صبی ومجنون وبھیمۃ ولاشك انہ اعلم عنہ من ھؤلاء الاخساء الذمیمۃ فکان بزعمہ اعلم واکرام من محمد
اور خاتم الانبیاء صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی بے ادبی اور تحقیر پرہے اور اپنے نفس امارہ جو بکثرت اسے برائی کا حکم دیتاہے کی طرف نبوت ورسالت کی نسبت کرنے کو پسند کیا ____ بیشك ان لوگوں نے تکبر کیا اور الله کے بہت بڑے باغی قرار پائے بلا شبہہ اشرف علی اور اس کا مذکور مرید دونوں رب غیور کے ساتھ کفرکرنیوالے ہیں انھیں ان کی خواہاشات نے فریب دیا اور شیطان ان کی خواہشات نے فریب دیا اور شیطان دھوکہ باز نے انھیں الله سے دھوکے میں ڈالا بلکہ اشرفعلی کفر اور جھوٹ کے اعتبار سے اشد واعظم ہے کیونکہ مرید نے خیال کیا جو کچھ وہ کہہ رہاہے وہ واضح طورپر غلط اور نہایت ہی قبیح وبدترہے لیکن یہ اشرفعلی نہ تو اس قول کو براکہہ رہاہے اور نہ اس کے قائل کو جھڑك رہاہے بلکہ اسے اچھا جان رہاہے اور اس کو اس کے لئے تسلی قراردے رہاہے مگر اس پر کچھ تعجب نہیں جس نے واضح طورپر نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کہ وہ سب وشتم کیا ہے جس کا تذکرہ سوال میں ہے جس پر علماء حرمین کریمین نے اسے کافر اور مرتد قرار دیا تو اس سے کس کفر کا تعجب کیا جائے جبکہ اس کے نزدیك تو حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی طرح علم غیب ہر بچے مجنون اور چارپائے کو حاصل ہے حالانکہ بلاشبہ اس کا اپنا علم ان برے خسیسوں سے زیادہ ہوا توگویا اس کا گمان یہ ہے کہ وہ حضرت محمدصلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم
“ لقد استكبروا فی انفسهم و عتو عتوا كبیرا(۲۱) “ فلا ریب ان اشرف علی ومریدہ المذکور کلاھما کافر بالرب الغیور غرتھما الامانی وغرھما باﷲ الغرور بل اشرف علی اشد کفرا واعظم وزرا فان المرید زعم ان ما یقول غلط صریح وباطل قبیح وھذا لم یقبح القول ولاوبخ قائلہ بل استحسنہ وجعلہ تسلیۃ لہ ولکن لاغروفان من سب رسول اﷲ محمدا صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بتلك السبۃ الفاحشۃ الماثورۃ فی السوال عنہ المحکوم علیہ لاجلھا بالکفر والارتداد من اسیادنا علماء الحرمین الکریمین فبأی کفر یتعجب منہ واذاکان عندہ مثل علم محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بالغیب حاصل لکل صبی ومجنون وبھیمۃ ولاشك انہ اعلم عنہ من ھؤلاء الاخساء الذمیمۃ فکان بزعمہ اعلم واکرام من محمد
اور خاتم الانبیاء صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی بے ادبی اور تحقیر پرہے اور اپنے نفس امارہ جو بکثرت اسے برائی کا حکم دیتاہے کی طرف نبوت ورسالت کی نسبت کرنے کو پسند کیا ____ بیشك ان لوگوں نے تکبر کیا اور الله کے بہت بڑے باغی قرار پائے بلا شبہہ اشرف علی اور اس کا مذکور مرید دونوں رب غیور کے ساتھ کفرکرنیوالے ہیں انھیں ان کی خواہاشات نے فریب دیا اور شیطان ان کی خواہشات نے فریب دیا اور شیطان دھوکہ باز نے انھیں الله سے دھوکے میں ڈالا بلکہ اشرفعلی کفر اور جھوٹ کے اعتبار سے اشد واعظم ہے کیونکہ مرید نے خیال کیا جو کچھ وہ کہہ رہاہے وہ واضح طورپر غلط اور نہایت ہی قبیح وبدترہے لیکن یہ اشرفعلی نہ تو اس قول کو براکہہ رہاہے اور نہ اس کے قائل کو جھڑك رہاہے بلکہ اسے اچھا جان رہاہے اور اس کو اس کے لئے تسلی قراردے رہاہے مگر اس پر کچھ تعجب نہیں جس نے واضح طورپر نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کہ وہ سب وشتم کیا ہے جس کا تذکرہ سوال میں ہے جس پر علماء حرمین کریمین نے اسے کافر اور مرتد قرار دیا تو اس سے کس کفر کا تعجب کیا جائے جبکہ اس کے نزدیك تو حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی طرح علم غیب ہر بچے مجنون اور چارپائے کو حاصل ہے حالانکہ بلاشبہ اس کا اپنا علم ان برے خسیسوں سے زیادہ ہوا توگویا اس کا گمان یہ ہے کہ وہ حضرت محمدصلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم
حوالہ / References
القرآن الکریم ۲۵ /۲۱
صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فحق لہ ان یدعی النبوۃ والرسالۃ لنفسہ لالمحمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کذلك یطبع اﷲ علی کل قلب متکبر جبار ولکن واﷲ ان رب محمد لبالمر صادر لمن شاقہ عذاب النار واﷲ اعلم بمایوعون o وسیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون۔ واﷲ تعالی اعلم۔
سےاعلم واکرم ہے لہذا اس نےحضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے بجائے اپنے لئے نبوت ورسالت کادعوی حق جانا الله تعالی ایسے متکبر سرکش لوگوں کے دلوں پر مہر لگادیتاہے الله کی قسم رب محمد بھی ان کی گھات میں ہے اور جس نے آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی مخالفت کی اس کے لئے دوزخ کا عذاب ہے الله تعالی جانتاہے جویہ ذہن میں رکھتے ہیں عنقریب جان لیں گے ظالم یہ کہا ں پہنچ جانے والے ہیں۔ والله تعالی اعلم(ت)
سےاعلم واکرم ہے لہذا اس نےحضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے بجائے اپنے لئے نبوت ورسالت کادعوی حق جانا الله تعالی ایسے متکبر سرکش لوگوں کے دلوں پر مہر لگادیتاہے الله کی قسم رب محمد بھی ان کی گھات میں ہے اور جس نے آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی مخالفت کی اس کے لئے دوزخ کا عذاب ہے الله تعالی جانتاہے جویہ ذہن میں رکھتے ہیں عنقریب جان لیں گے ظالم یہ کہا ں پہنچ جانے والے ہیں۔ والله تعالی اعلم(ت)
ابحاث اخیرہ ۱۳۲۸ھ
(یہ مبارك رسالہ وہ ہے کہ جس نے وہابیوں دیوبندیوں کی مناظرہ کی رٹ اور تعلیوں کو خاك ملا دیاہے خورجہ کے دیوبندیوں نے دعوت مناظرہ دی تھی بیچارے اپنی طواغیت کی چالبازیوں سے ناواقف تھے دعوت مناظرہ دے بیٹھے اعلیحضرت قبلہ رضی اللہ تعالی عنہنے یہ مضمون حقائق مشحون وصیغہ رجسٹری ارسال فرمادیا جس کا تاریخی نام “ ابحاث اخیرہ “ ہے اس کے پہنچتے ہی تھانوی واجودھیا باشی و چاند پوری وغیرہ کو سانپ سونگھ گیا اور آج تك ا س کی تابشون سے دیابنہ ملاعنہ کی آنکھیں خیرہ ہیں اور قیامت تك اس کا جواب ان سے ممکن نہیں)
بسم اللہ الرحمن الر حیم ط
نحمدہ ونصلی علی رسول الکریم
جناب مولوی اشرف علی صاحب تھانوی!
الحمدﷲ! اس فقیر بارگاہ غالب قدیر عز جلالہ کے دل میں کسی شخص سے نہ ذاتی مخالفت نہ دنیوی خصومت مجھے میرے سرکار ابد قرار حضور پرنور سید الابرار صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے محض اپنے کرم سے اس خدمت پر مامور فرمایاہے کہ اپنے مسلمان بھائیوں کوایسوں کے حال سے خبردار رکھوں جو مسلمان کہلاکر اﷲ واحد قہار جل جلالہ اور محمد رسول اﷲ ماذون مختار صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی شان اقدس پر حملہ کریں تاکہ میرے عوام بھائی مصطفی صلی اﷲ علیہ وسلم کی بھولی بھالی بھیڑیں ان “ ذیاب فی ثیاب “
(یہ مبارك رسالہ وہ ہے کہ جس نے وہابیوں دیوبندیوں کی مناظرہ کی رٹ اور تعلیوں کو خاك ملا دیاہے خورجہ کے دیوبندیوں نے دعوت مناظرہ دی تھی بیچارے اپنی طواغیت کی چالبازیوں سے ناواقف تھے دعوت مناظرہ دے بیٹھے اعلیحضرت قبلہ رضی اللہ تعالی عنہنے یہ مضمون حقائق مشحون وصیغہ رجسٹری ارسال فرمادیا جس کا تاریخی نام “ ابحاث اخیرہ “ ہے اس کے پہنچتے ہی تھانوی واجودھیا باشی و چاند پوری وغیرہ کو سانپ سونگھ گیا اور آج تك ا س کی تابشون سے دیابنہ ملاعنہ کی آنکھیں خیرہ ہیں اور قیامت تك اس کا جواب ان سے ممکن نہیں)
بسم اللہ الرحمن الر حیم ط
نحمدہ ونصلی علی رسول الکریم
جناب مولوی اشرف علی صاحب تھانوی!
الحمدﷲ! اس فقیر بارگاہ غالب قدیر عز جلالہ کے دل میں کسی شخص سے نہ ذاتی مخالفت نہ دنیوی خصومت مجھے میرے سرکار ابد قرار حضور پرنور سید الابرار صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے محض اپنے کرم سے اس خدمت پر مامور فرمایاہے کہ اپنے مسلمان بھائیوں کوایسوں کے حال سے خبردار رکھوں جو مسلمان کہلاکر اﷲ واحد قہار جل جلالہ اور محمد رسول اﷲ ماذون مختار صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی شان اقدس پر حملہ کریں تاکہ میرے عوام بھائی مصطفی صلی اﷲ علیہ وسلم کی بھولی بھالی بھیڑیں ان “ ذیاب فی ثیاب “
کے جبوں عماموں مولویت مشیخیت کے مقدس ناموں قال اﷲ وقال الرسول کے روغنی کلاموں سے دھوکے میں آکر شکار گرگاں خونخوار ہوکر معاذاﷲ سقر میں نہ گریں یہ مبارك کام بحمدالمنعام اس عاجز کی طاقت سے بدرجہا خوب تر وفزوں تر ہوا اور ہوتاہے اورجب تك وہ چاہے گا ہوگا۔ ذلك من فضل اﷲ علینا وعلی الناس والحمدﷲ رب العالمین(ہم پر اور لوگوں پر یہ اﷲ تعالی کا فضل ہے اور سب تعریفیں اﷲ رب العالمین کے لئے ہیں۔ ت)اس سے زیادہ نہ کچھ مقصود نہ کسی کی سب وشتم وبہتان وافتراء کی پروا میرے سرکار نے مجھے پہلے ہی سنادیا تھا :
“ و لتسمعن من الذین اوتوا الكتب من قبلكم و من الذین اشركوا اذى كثیرا-و ان تصبروا و تتقوا فان ذلك من عزم الامور(۱۸۶) “ ۔
بے شك ضرورتم مخالفوں کی طرف سے بہت کچھ براسنو گے اور اگر صبر وتقوی کرو تووہ بڑی ہمت کاکام ہے۔
الحمد للہ! یہ زبانی ادعا نہیں۔ میری تمام کاروائیاں اس پر شاہد عدل ہیں موافق اور مخالف سب دیکھ رہے ہیں کہ امر دین کے علاوہ جتنے ذاتی حملے مجھ پر ہوئے کسی کی اصلا پروانہ کی اصحاب فقیر نے آپ کی طرف سے ہر قابل جواب اشتہار کے لاجواب جواب دئے جوبحمدہ تعالی لاجواب رہے مگر جناب کے مہذب عالم مقدس متکلم مولوی مرتضی حسن صاحب دیوبندی چاند پوری کے کمال شستہ وشائستہ دشنام نامے(بریلی چپ شاہ گرفتار)کی نسبت قطعی ممانعت کردی جس کا آج تك ادھر والوں کوا فتخار ہے کہ ہمارا گالی نامہ لاجواب رہا گرامی منش مولانا ثناء اﷲ امرتسری ممکن و موجود میں فرق نہ جان سکے مقدورات الہیہ کو موجودات میں منحصر ٹھہرایا علم الہی کے نامحدودد ہونے میں اپنے آپ کو متامل بتایا اور جاتے ہی رمضان جیسے مبارك مہینہ میں برعکس چھاپ دیا میں ہرا آیا ادھر اس پر بھی التفات نہ ہوا عاقلاں نیکوں میدانند پر اکتفاکیا یہاں تك وقائع مکہ معظمہ میں کیسے کیسےمعکوس اور مصنوع اکاذیب فاجرہ اخباروں میں کس آب وتاب سے چھپاکئے ہر چند احباب کا اصرار ہوا فقیر اتناہی شائع کرتاہے کہ “ یہ جھوٹ ہے “ اتنا بھی نہ کیا پھر جب چندہی روز میں حضرات کے جھوٹ کھل گئے اور واحد قہار کے زبردست ہاتھوں نے ان کے منہ میں پتھر دے دئے اسی پر بھی میں نے اتنا نہ کہا کہ “ کیسا آپ صاحبوں کاجھوٹ کھلا “ ایسے وقائع بکثرت ہیں اور اب جو صاحب چاہیں امتحان لیں ان شاء اﷲ العزیز ذاتی حملوں پر کھبی التفات نہ ہوگا۔ سرکار سے مجھے یہ خدت سپرد ہے کہ عزت سراکار کی حمایت کروں نہ کہ اپنی۔
میں تو خوش ہوں کہ جتنی دیر مجھے گالیاں دیتے افتراء کرتے براکہتے ہیں اتنی دیر محمد رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی بدگوئی منقصت جوئی سے غافل رہتے ہیں میں چھاپ چکا اورپھر لکھتاہوں میری انکھ کی ٹھنڈك
“ و لتسمعن من الذین اوتوا الكتب من قبلكم و من الذین اشركوا اذى كثیرا-و ان تصبروا و تتقوا فان ذلك من عزم الامور(۱۸۶) “ ۔
بے شك ضرورتم مخالفوں کی طرف سے بہت کچھ براسنو گے اور اگر صبر وتقوی کرو تووہ بڑی ہمت کاکام ہے۔
الحمد للہ! یہ زبانی ادعا نہیں۔ میری تمام کاروائیاں اس پر شاہد عدل ہیں موافق اور مخالف سب دیکھ رہے ہیں کہ امر دین کے علاوہ جتنے ذاتی حملے مجھ پر ہوئے کسی کی اصلا پروانہ کی اصحاب فقیر نے آپ کی طرف سے ہر قابل جواب اشتہار کے لاجواب جواب دئے جوبحمدہ تعالی لاجواب رہے مگر جناب کے مہذب عالم مقدس متکلم مولوی مرتضی حسن صاحب دیوبندی چاند پوری کے کمال شستہ وشائستہ دشنام نامے(بریلی چپ شاہ گرفتار)کی نسبت قطعی ممانعت کردی جس کا آج تك ادھر والوں کوا فتخار ہے کہ ہمارا گالی نامہ لاجواب رہا گرامی منش مولانا ثناء اﷲ امرتسری ممکن و موجود میں فرق نہ جان سکے مقدورات الہیہ کو موجودات میں منحصر ٹھہرایا علم الہی کے نامحدودد ہونے میں اپنے آپ کو متامل بتایا اور جاتے ہی رمضان جیسے مبارك مہینہ میں برعکس چھاپ دیا میں ہرا آیا ادھر اس پر بھی التفات نہ ہوا عاقلاں نیکوں میدانند پر اکتفاکیا یہاں تك وقائع مکہ معظمہ میں کیسے کیسےمعکوس اور مصنوع اکاذیب فاجرہ اخباروں میں کس آب وتاب سے چھپاکئے ہر چند احباب کا اصرار ہوا فقیر اتناہی شائع کرتاہے کہ “ یہ جھوٹ ہے “ اتنا بھی نہ کیا پھر جب چندہی روز میں حضرات کے جھوٹ کھل گئے اور واحد قہار کے زبردست ہاتھوں نے ان کے منہ میں پتھر دے دئے اسی پر بھی میں نے اتنا نہ کہا کہ “ کیسا آپ صاحبوں کاجھوٹ کھلا “ ایسے وقائع بکثرت ہیں اور اب جو صاحب چاہیں امتحان لیں ان شاء اﷲ العزیز ذاتی حملوں پر کھبی التفات نہ ہوگا۔ سرکار سے مجھے یہ خدت سپرد ہے کہ عزت سراکار کی حمایت کروں نہ کہ اپنی۔
میں تو خوش ہوں کہ جتنی دیر مجھے گالیاں دیتے افتراء کرتے براکہتے ہیں اتنی دیر محمد رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی بدگوئی منقصت جوئی سے غافل رہتے ہیں میں چھاپ چکا اورپھر لکھتاہوں میری انکھ کی ٹھنڈك
حوالہ / References
القرآن الکریم ۳ /۱۸۶
اس میں ہے کہ میری اور میرے آباء کرام کی آبروئیں عزت محمدرسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے لئے سپرر ہیں اللھم امین!
تذکارات
(۱)آپ جانتے ہیں اور زمانہ پر روشن ہے کہ بفضلہ سالہا سال سے کس قدر رسائل کثیرہ عزیزہ آپ اور آپ کے اکابر جناب مولوی گنگوہی صاحب وغیرہ کے رد میں ادھر سے شائع ہوئے اور بحمدہ تعالی ہمیشہ لاجواب رہے۔
(۲)وہ اورآپ صراحۃ مناظرہ سے استعفاء دے چکے
(۳)سوالات گئے جواب نہ ملے رسائل بھیجے داخل دفتر ہوئے رجسٹریاں پہنچیں منکر ہوکر واپس فرمادیں
(۴)اخیر تدبیر کو دیوبندجلسہ میں ان رئیسوں کے ذریعہ سے جن کا جناب پر بارہے تحریك کی اس پر بھی آپ ساکت ہی
رہے۔
(۵)رئیسوں کا دباؤتھا ناچار دفعہ وقتی کو وہی چانپوری صاحب آپ کے وکیل بنے فقیر نے اپنے خط وقلم سے جناب کو رجسٹری شدہ کارڈ بھیجا۔ پھر کیا آپ مناظرہ معلومہ پر آمادہ ہوئے کیا آپ نے چاند پوری صاحب کو اپنا وکیل مطلق کیا سات۷ مہینے سے زائد گزر گئے آپ نے اس کا بھی جواب نہ دیا۔ ظاہر ہے کہ اگر آپ واقعی آمادہ ہوئے ہوتے۔ واقعی آپ نے وکیل کیا ہوتا تو “ ہاں “ لکھ دینا دشوار نہ ہوتا۔ مردانہ وار اقرار سے فرار نہ ہوتا۔ یہ ہے وہ فرضی لایعنی غیر واقع بے بہیقی معاہدہ جس سے عدول کا ادھر الزام لگایا جاتاہے۔ سبحان اللہ! اپنے وکیل بالادعا کی وکالت آپ نہ مانیں اور عدول جانب خصم سے جانیں۔ ہاں جناب تو نہ بولے سولہ۱۶ دن بعد انھیں آپ کے موکل صاحب نے لب کھولے کہ ہم جو رؤسا کے سامنے اپنے منہ آپ ہی دعوی وکالت کرچکے ہیں۔ اب جناب تھانوی صاحب سے دریافت کرنا ذلت اور رسوائی گردن کا طوق ناپاك چالیں بے شرمی کے حیلے ہیں (ملاحظہ ہو ان کا شریفانہ مہذب خط مورخہ ۳۰ ربیع الآخر شریف ۱۳۲۷ ھ)جو ان کی اعلی تہذیبوں سے نمونہ خروارے ہے۔ یہ خطاب محض اس جرم پر ہیں کہ تھانوی صاحب سے ہماری وکالت کا کیوں استفسار کیا ان کے قبول وعدوں پر کیوں موقوف رکھا ہمارا زبانی اعا کیوں نہ مان لیا جناب تھانوی صاحب لاکھ نہ مانیں ہم جو ان کے وکیل بن بیٹھے ہیں اب نہ ماننا بے شرمی کا حیلہ ہے ناپاك چال ہے ذلت ہے رسوائی ہے طوق وبال ہے جناب تھانوی صاحب! آپ اپنے موکل یعنی خود ساختہ وکیل صاحب کی بابت خود ہی فیصلہ فرماسکتے ہیں آج تك ایسی وکالت کسی
تذکارات
(۱)آپ جانتے ہیں اور زمانہ پر روشن ہے کہ بفضلہ سالہا سال سے کس قدر رسائل کثیرہ عزیزہ آپ اور آپ کے اکابر جناب مولوی گنگوہی صاحب وغیرہ کے رد میں ادھر سے شائع ہوئے اور بحمدہ تعالی ہمیشہ لاجواب رہے۔
(۲)وہ اورآپ صراحۃ مناظرہ سے استعفاء دے چکے
(۳)سوالات گئے جواب نہ ملے رسائل بھیجے داخل دفتر ہوئے رجسٹریاں پہنچیں منکر ہوکر واپس فرمادیں
(۴)اخیر تدبیر کو دیوبندجلسہ میں ان رئیسوں کے ذریعہ سے جن کا جناب پر بارہے تحریك کی اس پر بھی آپ ساکت ہی
رہے۔
(۵)رئیسوں کا دباؤتھا ناچار دفعہ وقتی کو وہی چانپوری صاحب آپ کے وکیل بنے فقیر نے اپنے خط وقلم سے جناب کو رجسٹری شدہ کارڈ بھیجا۔ پھر کیا آپ مناظرہ معلومہ پر آمادہ ہوئے کیا آپ نے چاند پوری صاحب کو اپنا وکیل مطلق کیا سات۷ مہینے سے زائد گزر گئے آپ نے اس کا بھی جواب نہ دیا۔ ظاہر ہے کہ اگر آپ واقعی آمادہ ہوئے ہوتے۔ واقعی آپ نے وکیل کیا ہوتا تو “ ہاں “ لکھ دینا دشوار نہ ہوتا۔ مردانہ وار اقرار سے فرار نہ ہوتا۔ یہ ہے وہ فرضی لایعنی غیر واقع بے بہیقی معاہدہ جس سے عدول کا ادھر الزام لگایا جاتاہے۔ سبحان اللہ! اپنے وکیل بالادعا کی وکالت آپ نہ مانیں اور عدول جانب خصم سے جانیں۔ ہاں جناب تو نہ بولے سولہ۱۶ دن بعد انھیں آپ کے موکل صاحب نے لب کھولے کہ ہم جو رؤسا کے سامنے اپنے منہ آپ ہی دعوی وکالت کرچکے ہیں۔ اب جناب تھانوی صاحب سے دریافت کرنا ذلت اور رسوائی گردن کا طوق ناپاك چالیں بے شرمی کے حیلے ہیں (ملاحظہ ہو ان کا شریفانہ مہذب خط مورخہ ۳۰ ربیع الآخر شریف ۱۳۲۷ ھ)جو ان کی اعلی تہذیبوں سے نمونہ خروارے ہے۔ یہ خطاب محض اس جرم پر ہیں کہ تھانوی صاحب سے ہماری وکالت کا کیوں استفسار کیا ان کے قبول وعدوں پر کیوں موقوف رکھا ہمارا زبانی اعا کیوں نہ مان لیا جناب تھانوی صاحب لاکھ نہ مانیں ہم جو ان کے وکیل بن بیٹھے ہیں اب نہ ماننا بے شرمی کا حیلہ ہے ناپاك چال ہے ذلت ہے رسوائی ہے طوق وبال ہے جناب تھانوی صاحب! آپ اپنے موکل یعنی خود ساختہ وکیل صاحب کی بابت خود ہی فیصلہ فرماسکتے ہیں آج تك ایسی وکالت کسی
غیر مجنون کے نزدیك قابل قبول ہوئی یا کوئی عاقل ایسے حضرات سے خطا روا رکھے گا۔
(۶)جلسہ دیوبند کے بعد جناب مولوی گنگوہی صاحب کے ایك شاگر رشید مولوی علی رضا مودی نے آپ حضرات سے مناظرہ کرلینے کی تحریك کی انھیں فورا لکھا گیا یہاں تو برسوں سے یہی درخواست ہے جناب گنگوہی صاحب اپنی راہ گئے جناب تھانوی صاحب بھی انھیں کی راہ پر مہر برلب ہیں۔ آپ ہی ہمت کیجئے اور تھانوی صاحب سے جواب لادیجئے اس کے پہنچنے پر ان صاحب نے بھی ہمت ہاردی۔
(۷)اذناب جناب کے افتراء اعظم پر مسلمانوں نے پانچ سو روپے نقد کا اشتہار دیا اور آپ کو رجسٹری بھیجا آپ نے نہ جواب دے سکے نہ ثبوت
(۸)دوسرے اشدا فتراء نامہ پر تین ہزار روپے کا اشتہار آپ کو دیا اور رجسٹری بھیجا اگر تمام جماعت سے کچھ بن پڑتی تو اپنے مدرسہ دیوبند کے لئے اتنی بڑی رقم نہ چھوڑی جاتی مگر نہ جواب ہی ممکن ہوا نہ ثبوت ناچار چارہ کار وہی سکوت۔
(۹)یہ ماناکہ جب جواب بن ہی نہ پڑے تو کیا کیجئے کہا ں سے لائیے کس گھر سے دیجئے مگر جناب والا! ایسی صورتوں میں انصاف یہ تھا کہ اپنے اتباع کا منہ بند کرتے معاملہ دین میں ایسی ناگفتنی حرکات پر انھیں لجاتے شرماتے اگر جناب کی طرف سے ترغیب نہ تھی تو کم از کم آپ کے سکوت نے انھیں شہہ دی یہاں تك کہ انھوں نے “ سیف النقی “ جیسی تحریر شائع کی جس کی نظیر آج تك کسی آریہ یا پادری سے بن نہ پڑی یعنی میرے رسائل قاہرہ کے قرض اتارنے کایہ ذریعہ شنیعہ ایجا د کیا کہ میرے والد ماجد و جد امجد وپیر ومرشد قدست اسرارھم وخود حضور پر نور سیدنا غوث الاعظم رضی اللہ تعالی عنہکے اسمائے طیبہ سے کتابیں گھڑلیں ان کے نام نہاد مطبع تراش لئے فرضی صفحوں کے نشان سے عبارتیں تصنیف کرلیں جس کی مختصر جدول یہ ہے :
(۶)جلسہ دیوبند کے بعد جناب مولوی گنگوہی صاحب کے ایك شاگر رشید مولوی علی رضا مودی نے آپ حضرات سے مناظرہ کرلینے کی تحریك کی انھیں فورا لکھا گیا یہاں تو برسوں سے یہی درخواست ہے جناب گنگوہی صاحب اپنی راہ گئے جناب تھانوی صاحب بھی انھیں کی راہ پر مہر برلب ہیں۔ آپ ہی ہمت کیجئے اور تھانوی صاحب سے جواب لادیجئے اس کے پہنچنے پر ان صاحب نے بھی ہمت ہاردی۔
(۷)اذناب جناب کے افتراء اعظم پر مسلمانوں نے پانچ سو روپے نقد کا اشتہار دیا اور آپ کو رجسٹری بھیجا آپ نے نہ جواب دے سکے نہ ثبوت
(۸)دوسرے اشدا فتراء نامہ پر تین ہزار روپے کا اشتہار آپ کو دیا اور رجسٹری بھیجا اگر تمام جماعت سے کچھ بن پڑتی تو اپنے مدرسہ دیوبند کے لئے اتنی بڑی رقم نہ چھوڑی جاتی مگر نہ جواب ہی ممکن ہوا نہ ثبوت ناچار چارہ کار وہی سکوت۔
(۹)یہ ماناکہ جب جواب بن ہی نہ پڑے تو کیا کیجئے کہا ں سے لائیے کس گھر سے دیجئے مگر جناب والا! ایسی صورتوں میں انصاف یہ تھا کہ اپنے اتباع کا منہ بند کرتے معاملہ دین میں ایسی ناگفتنی حرکات پر انھیں لجاتے شرماتے اگر جناب کی طرف سے ترغیب نہ تھی تو کم از کم آپ کے سکوت نے انھیں شہہ دی یہاں تك کہ انھوں نے “ سیف النقی “ جیسی تحریر شائع کی جس کی نظیر آج تك کسی آریہ یا پادری سے بن نہ پڑی یعنی میرے رسائل قاہرہ کے قرض اتارنے کایہ ذریعہ شنیعہ ایجا د کیا کہ میرے والد ماجد و جد امجد وپیر ومرشد قدست اسرارھم وخود حضور پر نور سیدنا غوث الاعظم رضی اللہ تعالی عنہکے اسمائے طیبہ سے کتابیں گھڑلیں ان کے نام نہاد مطبع تراش لئے فرضی صفحوں کے نشان سے عبارتیں تصنیف کرلیں جس کی مختصر جدول یہ ہے :
اور بے دھڑك لکھ دیا کہ تم یہ کہتے ہو اور تمھارے اکابر اپنی ان کتابوں میں ان مطابع کی مطبوعات میں ان صفحوں پر یہ فرماتے ہیں حالانکہ ان کتابوں کاجہاں میں وجود نہ ان مطابع کا کسی مطبع میں چھپی نہ ان حضرات نے تصنیف فرمائی نہ حوالہ دہندہ کے فرض وتراش کے باہر آئیں جرأت پر جرأت یہ کہ صفحہ ۲۰ پر جو فرضی مطبع لاہور کی خیالی ہدایۃ البریہ سے ایك فتوی گھڑا اس کے آخر میں حضرت خاتم المحققین قدس سرہ کی مہر بھی دل سے تراش لی جس میں ۱۳۰۱ھ لکھے حالانکہ حضرت والا کا وصال شریف ۱۲۹۷ ھ میں ہوچکا حضرات کی حیا! یہ سخت گندہ افترائی رسالہ جناب کے مدرسہ دیوبندسے شائع ہوا صاحب مطبع کا بیان ہے کہ آپ کے ایك متکلم مصنف مولوی صغیر حسین صاحب دیوبندی نے چھپوایا آپ کے وکیل مولوی مرتضی حسن دیوبندی نے اپنے ایك خط میں اسے افتخارا پیش کیا کہ تحریر میں بھی اب آپ کی حقیقت دیکھنی ہے سیف النقی طبع ہوچکاہے ملاحظہ سے گزرا ہوگا(ملاحظہ ہو خط ۳۰ ربیع الآخر ۱۳۲۸ھ)جب حیاء ودین وغیرت و دیانت وعقل وانسانیت کی نوبت یہاں تك مشاہدہ ہوئی ہر ذی فہم نے جان لیاکہ بحث کا خاتمہ ہوگیا حضرات سے مخاطبہ کسی عاقل کا کام نہ رہا الحمداﷲ کتب ورسائل فقیر تو چھتیس سال سے لاجواب ہیں اصحاب واحباب فقیر کے رسائل بھی بعونہ عزجلالہ لا جواب ہی ہے۔ ادھر کے تازہ رسائل ۱ظفر الدین الطیب و۲کین کش پنجہ پیچ و۳بارش سنگی و۴پیکان جانگداز و۵العذاب البئس اور۶ ضروری نوٹس و۷نیاز مانہ و۸کشف راز و۹اشتہار چہارم وپنجم وہفتم وہشتم ہی ملاحظہ فرمائے کس سے جواب ہوسکا ان کے اعتراضوں مواخذون اور مطالبوں کا کس نے قرض اداکیا بات بدل کر ادھر ادھر کی مہمل لچر اگر ایك آدھ پرچے میں کسی صاحب نے کچھ فرمائی اس کا جواب فورا شائع ہواکہ پھر ادھر مہر سکوت لگ گئی والحمد ﷲ رب العلمین مگرآپ کی یہ تدبیر حضرات کوایسی سوجھی جس کا جواب ایك میں اور میرے اصحاب کیا تمام جہاں میں کسی عاقل سے نہ ہوسکے غریب مسلمان اتنی حیاء وغیرت ایسی بے تکان جرأت اتنی بیباك طبیعت کہاں سے لائیں کہ کتابوں کی کتابیں دل سے گھڑلیں ان کے مطبع تراش لئے ان کی عبارتیں ڈھال لیں اور آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر سربازار چھاپ دیں کہ فلاں چھاپے کی فلاں کتاب فلاں صفحہ پر جناب مولوی گنگوہی صاحب
نے لکھا ہے کہ تھانوی صاحب کافرہیں فلں مطبع کے فلاں رسالے فلاں سطر میں جناب مولوی تھانوی صاحب نے فرمایا ہے کہ گنگوہی صاحب مرتد ہیں جو اتنا ہولے وہ حضرات سے مخاطبہ کا نام لے کر اور واقعی سوا اس طریقے کے اور کرہی کیا سکتے تھے کہ حضرات چھتیس سال کے کتب ورسائل کے بار سے سبکدوش ہوتے
وقت ضرورت گرنماز گریز دست بگیر وسرشمشیر تیز
(مصیبت کے وقت جب انسان کو بھاگنے کی بھی طاقت نہیں رہتی تو وہ لڑائی کے لئے کمر بستہ ہوجاتاہے۔ ت)
(۱۰)الحمد ﷲ! حق تمام جہان پر واضح ہولیا اور ہر عاقل اگرچہ مخالف ہو خوب سمجھ گیا کہ کس نے مناظرہ سے برسوں فرار کیا۔ کس نے ہربار مقابلہ جواب سے انکار کیا کون اتنا عاجز آیا کہ حیاوانسانیت کا یکسر پردہ اٹھایا اور مرتا کیانہ کرتا کہ اس طرف چال برابا آیا جو آج تك کسی منکر اسلام کو بھی اسلام کے مقابل نہ سوجھی مسلیمہ ملعون نے جواب قرآن عظیم کے نام سے وہ کچھ ناپاك خباثتیں ہزل فحش لغو جہالتیں بکیں مگریہ اسے بھی نہ بن پڑی تھی کہ کچھ آیتیں سورتیں گھڑ کر قرآن عظیم ہی کی طرف منسوب کردیتا کہ مسلمانو! تم تویوں کہتے ہو اورتمھارے قرآن میں یہ لکھا ہے یہ خاتمہ کا بند اس اخیر دور میں “ مدرسہ عالیہ دیوبند “ اوراس کے ہوا خواہوں ہی کا حصہ تھا۔ بایں ہمہ آپ کے بعض بیچارے نافہم عوام یہ امید کئے جاتے ہیں کہ آپ مناظرہ فرمائیں گے اسی کے متعلق اب تازہ شگوفہ نے خورجہ سے خروج کیا ہے جو آپ کے کسی خلیفہ کلن صاحب کا کہلایا ہوا ہے۔ اگرچہ یہاں صدہا بار کا تجربہ ہے کہ آپ نہ بولے نہ بولیں محمدرسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکو گالیاں لکھ کر چھاپنی تھیں وہ چھاپ چکے اور بار بار چھاپی جارہی ہے۔ اس پر مسلمانان عرب وعجم مطالبہ کریں آپ کو کیاعرض پڑی ہے کہ جواب دیں کتنی بار خودد آپ سے مطالبے ہوئے جواب غائب جلسہ دیوبند میں خط بھیجا جواب غائب تصدیق وکالت کے لئے رجسٹری گئی جواب غائب آپ کے یہاں کے شاگرد مودی ہمکے ان کو متوسط کیا جواب غائب جناب شیخ بشیر الدین وغیرہ رؤسائے میرٹھ کو متوسط کیا جواب غائب جب آپ کے آقایان نعمت کی وساطت پر بھی آپ نے جواب نہ دیا تو اب خورجہ والے آ پ کو بلوائیں۔ یہ امید موہوم بہت اچھا ہزار بار گنا بھول گئے ایك بار پھر سہی آپ کے معتقدین خورجہ نے آپ حضرات کے اقوال سے ناتجربہ کاری یا اپنی سادگی سے لکھ دیا کہ جو صورت یہ فقیربار گاہ مصطفوی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمپسند کرے منظور ہے۔ بہت خوب ادھر سے کتنی باراصول اور اہم شرائط مناظرہ کی تصریح ہوچکی اور تعین مباحث کی گنتی ہی نہیں فقیر نے جو خط جلسہ دیوبند میں بھیجا اس میں بھی ان کی یاددہانی تھی ظفر الدین الطیب وضروری نوٹس ملاحظہ ہوں اور ان کے سوالوں کا جواب صاف صاف
وقت ضرورت گرنماز گریز دست بگیر وسرشمشیر تیز
(مصیبت کے وقت جب انسان کو بھاگنے کی بھی طاقت نہیں رہتی تو وہ لڑائی کے لئے کمر بستہ ہوجاتاہے۔ ت)
(۱۰)الحمد ﷲ! حق تمام جہان پر واضح ہولیا اور ہر عاقل اگرچہ مخالف ہو خوب سمجھ گیا کہ کس نے مناظرہ سے برسوں فرار کیا۔ کس نے ہربار مقابلہ جواب سے انکار کیا کون اتنا عاجز آیا کہ حیاوانسانیت کا یکسر پردہ اٹھایا اور مرتا کیانہ کرتا کہ اس طرف چال برابا آیا جو آج تك کسی منکر اسلام کو بھی اسلام کے مقابل نہ سوجھی مسلیمہ ملعون نے جواب قرآن عظیم کے نام سے وہ کچھ ناپاك خباثتیں ہزل فحش لغو جہالتیں بکیں مگریہ اسے بھی نہ بن پڑی تھی کہ کچھ آیتیں سورتیں گھڑ کر قرآن عظیم ہی کی طرف منسوب کردیتا کہ مسلمانو! تم تویوں کہتے ہو اورتمھارے قرآن میں یہ لکھا ہے یہ خاتمہ کا بند اس اخیر دور میں “ مدرسہ عالیہ دیوبند “ اوراس کے ہوا خواہوں ہی کا حصہ تھا۔ بایں ہمہ آپ کے بعض بیچارے نافہم عوام یہ امید کئے جاتے ہیں کہ آپ مناظرہ فرمائیں گے اسی کے متعلق اب تازہ شگوفہ نے خورجہ سے خروج کیا ہے جو آپ کے کسی خلیفہ کلن صاحب کا کہلایا ہوا ہے۔ اگرچہ یہاں صدہا بار کا تجربہ ہے کہ آپ نہ بولے نہ بولیں محمدرسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکو گالیاں لکھ کر چھاپنی تھیں وہ چھاپ چکے اور بار بار چھاپی جارہی ہے۔ اس پر مسلمانان عرب وعجم مطالبہ کریں آپ کو کیاعرض پڑی ہے کہ جواب دیں کتنی بار خودد آپ سے مطالبے ہوئے جواب غائب جلسہ دیوبند میں خط بھیجا جواب غائب تصدیق وکالت کے لئے رجسٹری گئی جواب غائب آپ کے یہاں کے شاگرد مودی ہمکے ان کو متوسط کیا جواب غائب جناب شیخ بشیر الدین وغیرہ رؤسائے میرٹھ کو متوسط کیا جواب غائب جب آپ کے آقایان نعمت کی وساطت پر بھی آپ نے جواب نہ دیا تو اب خورجہ والے آ پ کو بلوائیں۔ یہ امید موہوم بہت اچھا ہزار بار گنا بھول گئے ایك بار پھر سہی آپ کے معتقدین خورجہ نے آپ حضرات کے اقوال سے ناتجربہ کاری یا اپنی سادگی سے لکھ دیا کہ جو صورت یہ فقیربار گاہ مصطفوی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمپسند کرے منظور ہے۔ بہت خوب ادھر سے کتنی باراصول اور اہم شرائط مناظرہ کی تصریح ہوچکی اور تعین مباحث کی گنتی ہی نہیں فقیر نے جو خط جلسہ دیوبند میں بھیجا اس میں بھی ان کی یاددہانی تھی ظفر الدین الطیب وضروری نوٹس ملاحظہ ہوں اور ان کے سوالوں کا جواب صاف صاف
خاص اپنے قلم ومہر ودستخط سے عطاہو۔ تمام اشتہاروں تمام مطالبوں میں اگرچہ آپ کو کافی ووافی مہلتیں دیں اور ہمیشہ بیکار گئیں کہ آپ تو اپنے ارادوں جیتے جی تك مہلت لئے ہوئے ہیں۔ پھر بھی ربط ضبط کے لئے تعین مدت لازم ہے۔ یہ سوالات کچھ غور طلب نہیں۔ تھوڑی عقل والا بھی ان فورا ہاں یا نہ کہہ سکتاہے مگر بہ لحاظ استعداد جناب شرعی مہلت کہ ابلاغ اعذار کے لئے معین ہے پیشکش اور وصول خط سے تین دین کے اندر ہر سوال کا معقول جواب صاف صریح مہری عنایت ہو یہ آخری بار ہے اس دفعہ بھی پہلو تہی فرمائی تو جن کو آپ نے رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے علم اقدس میں ملایا انہی میں آپ کو ملادینے کی ہمارے لئے اجازت ہو۔
استفسارات
(۱)توہین اور تکذیب خدا ورسول جل وعلا وصلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے الزامات قطعیہ جو مدتوں سے آپ اور آپ کے اکابر جناب مولوی گنگوہی ونانوتوی صاحبان پر ہیں۔ کیا آپ ان میں اس فقیر سے مناظرہ پر آمادہ ہیں یاہونا چاہتے ہیں
(۲)کیا آپ بحالت صحت نفس وثبات عقل بطوع ورغبت بلاجبر واکراہ اقرارفرماتے ہیں کہ حسام الحرمین و تمہید ایمان وبطش غیب وغیرہ کے سوالات واعتراضات کا جواب بالمواجہ مہری ودستخطی دیتے ہیں گئے یونہی ان جوابات پر جو سوالات ورد پیدا ہوں ان کایہاں تك کہ مناظرہ انجام کو پہنچے اور بفضلہ تعالی حق ظاہر ہوں۔
(۳)کیا آپ اسی پر اکتفا فرمائیں گے یا حسب ترتیب مذکور ظفرالدین الطیب اس کے بعد سبحان السبوع و کوکبہ شہابیہ وسل السیوف وغیرہا میرے رسائل کے مطالبات سے اپنے اکابر گنگوہی صاحب و اسمعیل دہلوی صاحب کو سبکدوش کریں گے۔
(۴)اگرآپ اپنے ہی اقوال کے ذمہ دارہوں اور اپنے اکابرجناب گنگوہی ونانوتوی دہلوی صاحبان پر سے دفع کفر وضلال کی ہمت نہ فرمائیں تو اتنا ارشادہو کہ یہاں دو فریق ہیں : اول مسلمانان اہلسنت عرب وعجم دوم صاحبان مذکور گنگوہی ونانوتہ ودہلی مع الاتباع والاذناب ومن بلی۔ جناب اگرفریق اول سے ہیں تو الحمد اﷲ ذلك ماکنا نبغ(الحمداﷲ ہی ہم چاہتے ہیں۔ ت)تحریر فرمادیجئے کہ جنابان گنگوہی ونانوتوی ودہلوی سے بری ہوں وہ اپنے اقوال وکفر ضلال وتوہین وتکذیب رب ذوالجلال ومحبوب ذی الجمال صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے باعث ویسے ہی ہیں جیسا ان کو علماء حرمین شریفین
استفسارات
(۱)توہین اور تکذیب خدا ورسول جل وعلا وصلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے الزامات قطعیہ جو مدتوں سے آپ اور آپ کے اکابر جناب مولوی گنگوہی ونانوتوی صاحبان پر ہیں۔ کیا آپ ان میں اس فقیر سے مناظرہ پر آمادہ ہیں یاہونا چاہتے ہیں
(۲)کیا آپ بحالت صحت نفس وثبات عقل بطوع ورغبت بلاجبر واکراہ اقرارفرماتے ہیں کہ حسام الحرمین و تمہید ایمان وبطش غیب وغیرہ کے سوالات واعتراضات کا جواب بالمواجہ مہری ودستخطی دیتے ہیں گئے یونہی ان جوابات پر جو سوالات ورد پیدا ہوں ان کایہاں تك کہ مناظرہ انجام کو پہنچے اور بفضلہ تعالی حق ظاہر ہوں۔
(۳)کیا آپ اسی پر اکتفا فرمائیں گے یا حسب ترتیب مذکور ظفرالدین الطیب اس کے بعد سبحان السبوع و کوکبہ شہابیہ وسل السیوف وغیرہا میرے رسائل کے مطالبات سے اپنے اکابر گنگوہی صاحب و اسمعیل دہلوی صاحب کو سبکدوش کریں گے۔
(۴)اگرآپ اپنے ہی اقوال کے ذمہ دارہوں اور اپنے اکابرجناب گنگوہی ونانوتوی دہلوی صاحبان پر سے دفع کفر وضلال کی ہمت نہ فرمائیں تو اتنا ارشادہو کہ یہاں دو فریق ہیں : اول مسلمانان اہلسنت عرب وعجم دوم صاحبان مذکور گنگوہی ونانوتہ ودہلی مع الاتباع والاذناب ومن بلی۔ جناب اگرفریق اول سے ہیں تو الحمد اﷲ ذلك ماکنا نبغ(الحمداﷲ ہی ہم چاہتے ہیں۔ ت)تحریر فرمادیجئے کہ جنابان گنگوہی ونانوتوی ودہلوی سے بری ہوں وہ اپنے اقوال وکفر ضلال وتوہین وتکذیب رب ذوالجلال ومحبوب ذی الجمال صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے باعث ویسے ہی ہیں جیسا ان کو علماء حرمین شریفین
لکھتے آئے اور جیسا ان کی نسبت حسام الحرمین وفتاوی الحرمین وغیرہما میں لکھاہے اس وقت بلاشبہ ان کے اقوال کا مطالبہ آپ ہی سے نہیں ہوسکتا بلکہ آپ خود بھی ان کے اتباع واذناب سے مطالبہ و مواخذہ میں شریك ہوں گے اوراگر جناب فریق دوم سے ہیں تو ان کے اقوال خود آپ کے اقوال ہیں پھر جواب مطالبات سے پہلوں تہی کیا معنی اورظاہر اس کا مظنہ نہیں کہ جناب فریقین سے جداہوکر کسی تیسرے طائفہ مثلا رافضی خارجی قادیانی نیچری وغیرہ میں اپنے آپ کو گنیں اور بالفرض ایسا ہو تو اس کی تصریح فرمادیجئے یوں بھی اس مطالبہ سے آپ کو برأت ہے۔
(۵)واقعی آپ نے اپنے یہاں کے متکلم اکبر چاندپوری صاحب کو جلسہ دیوبند میں مناظرہ مذکورہ کےلئے اپنا وکیل مطلق ومختار عام کیا تھا یا انھوں نے محض جھوٹ مشہور کردیا برتقدیر اول کیا سبب کو اسی کی تصدیق کے لئے جوکارڈ رجسٹر شدہ گیا آج جناب کو آٹھواں مہینہ ہے کہ جواب نہ دیا۔
(۶)وہ آپ نے وکیل کیا یا چاندپوری خود بن بیٹھے بہر حال آپ سے اس کی تصدیق چاہنا ویسا ہی جرم اور انھیں مہذب خطابوں کا مستحق ہے جو چاندپوری صاحب نے تحریر فرمائے یا ان کا وہ زعم محض ہذیان ومکابرہ وبے عقلی وجنون وزبان درازی ودریدہ دہنی ہے برتقدیر اول شرع عقل عرف کس کا قانون ہے کہ زید جو محض اپنی زبان سے وکیل عمرو ہونے کا مدعی ہوا اسی قدر سے اس کی وکالت ثابت ہوجائے اور تصرفات وہ جو عمرو کے مال واہل میں کرے نافذ وتام قرار پائیں اگرچہ عمرو ہرگز اس کی توکیل کا اقرار نہ دے برتقدیر ثانی کیا ایسا شخص کسی عاقل کے نزدیك قابل خطاب علوم خصوصا مسائل اصول دینیہ ہوسکتاہے یا مردود ومطرود نالائق مخاطبہ ہے
(۷)سیف النقی کی نسبت بھی ارشاد ہو آخرمیں آپ بھی اﷲ واحد قہار کا نام تو لیتے ہیں اسی واحد قہار جبار کی شہادت سے بتائے کہ یہ حرکات جو آپ کے یہاں کے علماء مناظرین کررہے ہیں صاف وصریح ان کے عجز کامل اور نہایت گندی حملہ بزدل کی دلیل روشن ہیں یا نہیں
(۸)جو حضرات ایسی حرکات اور اتنی بے تکلف اختیار کریں جوان کو چھپوائیں بیچیں بانٹیں شائع اور آشکارا کریں جو ان کو پیش کریں حوالہ دین ان پر افتخار کریں جو امور مذکورہ کو روا رکھیں ترك انسداد وانکار کریں کسی عاقل کے نزدیك لائق خطاب ٹھہرسکتے ہیں یا صاف ظاہر ہوگیا کہ مناظرہ آخر ہوگیا مناظرہ مناظرہ کا جھوٹا نام لینے والے بے روح پھڑکتے بے جان سسکتے ہیں “ قد افلح من تزكى(۱۴) “ (اس میں نہ وہ مردے نہ زندہ رہے۔ ت)
(۹)اس واحد قہار جلیل وجبار کی شہادت سے یہ بھی بتادیجئے کہ وہ رسالہ ملعونہ جو خاص جناب کے
(۵)واقعی آپ نے اپنے یہاں کے متکلم اکبر چاندپوری صاحب کو جلسہ دیوبند میں مناظرہ مذکورہ کےلئے اپنا وکیل مطلق ومختار عام کیا تھا یا انھوں نے محض جھوٹ مشہور کردیا برتقدیر اول کیا سبب کو اسی کی تصدیق کے لئے جوکارڈ رجسٹر شدہ گیا آج جناب کو آٹھواں مہینہ ہے کہ جواب نہ دیا۔
(۶)وہ آپ نے وکیل کیا یا چاندپوری خود بن بیٹھے بہر حال آپ سے اس کی تصدیق چاہنا ویسا ہی جرم اور انھیں مہذب خطابوں کا مستحق ہے جو چاندپوری صاحب نے تحریر فرمائے یا ان کا وہ زعم محض ہذیان ومکابرہ وبے عقلی وجنون وزبان درازی ودریدہ دہنی ہے برتقدیر اول شرع عقل عرف کس کا قانون ہے کہ زید جو محض اپنی زبان سے وکیل عمرو ہونے کا مدعی ہوا اسی قدر سے اس کی وکالت ثابت ہوجائے اور تصرفات وہ جو عمرو کے مال واہل میں کرے نافذ وتام قرار پائیں اگرچہ عمرو ہرگز اس کی توکیل کا اقرار نہ دے برتقدیر ثانی کیا ایسا شخص کسی عاقل کے نزدیك قابل خطاب علوم خصوصا مسائل اصول دینیہ ہوسکتاہے یا مردود ومطرود نالائق مخاطبہ ہے
(۷)سیف النقی کی نسبت بھی ارشاد ہو آخرمیں آپ بھی اﷲ واحد قہار کا نام تو لیتے ہیں اسی واحد قہار جبار کی شہادت سے بتائے کہ یہ حرکات جو آپ کے یہاں کے علماء مناظرین کررہے ہیں صاف وصریح ان کے عجز کامل اور نہایت گندی حملہ بزدل کی دلیل روشن ہیں یا نہیں
(۸)جو حضرات ایسی حرکات اور اتنی بے تکلف اختیار کریں جوان کو چھپوائیں بیچیں بانٹیں شائع اور آشکارا کریں جو ان کو پیش کریں حوالہ دین ان پر افتخار کریں جو امور مذکورہ کو روا رکھیں ترك انسداد وانکار کریں کسی عاقل کے نزدیك لائق خطاب ٹھہرسکتے ہیں یا صاف ظاہر ہوگیا کہ مناظرہ آخر ہوگیا مناظرہ مناظرہ کا جھوٹا نام لینے والے بے روح پھڑکتے بے جان سسکتے ہیں “ قد افلح من تزكى(۱۴) “ (اس میں نہ وہ مردے نہ زندہ رہے۔ ت)
(۹)اس واحد قہار جلیل وجبار کی شہادت سے یہ بھی بتادیجئے کہ وہ رسالہ ملعونہ جو خاص جناب کے
حوالہ / References
القرآن الکریم ۸۷ /۱۳
مدرسہ دیوبند سے اشاعت ہورہا ہے اور جس کے آخر میں آپ کے دیوبند مولوی کا اعلان لکھا ہے کہ بندہ کی معرفت رسالہ “ سیف النقی علی راس الشقی “ بھی مل سکتاہے قیمت ۰۲ آنہ۔ اورمولنا محمد اشرف علی صاحب وغیرہ بزرگان دین کی جملہ تصانیف بھی مل سکتی ہیں۔ راقم بندہ سید اصغر حسین عفی عنہ مدرس مدرسہ اسلامیہ دیوبند ضلع سہانپور۔
اس اشاعت کی آپ کو اطلاع تو ظاہر مگر اس میں اس میں آپ کا شوری نہیں۔ آپ کی شرکت ہے یا نہیں نہیں تو آپ کی رضا ورغبت ہے یا نہیں نہیں توآپ کو سکوت اور سکوت کا محصل اجازت ہے یا نہیں نہیں تو آپ نے کیا انسداد کیا اور اس میں اپنی پوری قدرت صر ف کی یا بے پروائی برتی برتقدیر اول اثرکیوں نہیں ہوتا برتقدیر ثانی یہ بھی نیم اجازت ہے یا نہیں
(۱۰)اسی عزیز مقتدر منتقم متکبر عزجلالہ کی شہادت سے یہ بھی حسبۃاﷲ فرمادیجئے کہ حالات ومقالات جو ظفرالدین الجید تا اشتہار ہشتم ازنامہ حاضرہ مسمی بہ ابحاث اخیرہ میں مذکور ہوئی سب حق وصواب ہیں یا ان میں سے کون سا خلاف واقع ہے اور جب سب حق ہیں تومناظرہ کا طالب کون رہا اور برابر فرار برفرار گریز برگریز پر کس نے قرار کیا بینوا تؤجروا(بیان کیجئے اجر پائے۔ ت)
“ رب احكم بالحق-و ربنا الرحمن المستعان على ما تصفون(۱۱۲) “ ۔
اے میرے رب! حق فیصلہ فرمادے۔ اور ہمارے رب رحمان ہی کی مدد درکار ہے ان باتوں پر جو تم بناتے ہو(ت)
جناب مولوی تھانوی صاحب! یہ دس سوال ہیں صرف واقعات یاآپ کے ارادہ وہمت سے استفسار یاصاف واضحات جن کا جواب ہر ذی عقل پر اشکار بایں ہمہ جواب میں جناب کوتین دن کی مہلت دی گئی اگر جناب کے نزدیك یہ بھی کم ہے تو بے تکلف فرمادیجئے آپ جس قدر چاہیں فقیر توسیع کرنے کو حاضر ہے مگر جواب خود دیجئے اب وکالت کا زمانہ گیا وکلاء کا حال کھل گیا۔ مدتوں جناب کو اختیار توکیل دیا کہ آپ گھبراتے ہیں تو جسے چاہیں اپنے مہر ودستخط سے اپنا وکیل بنائے بار بار سائل واشتہارات میں اس کی تکرار کی مگر آپ نے خاموشی ہی اختیار کی اور بالآخر چاندپوری صاحب محض بروز زبان خود بخود آپ کے وکیل بنے جس کا انجام وہ ہوا کیاآپ عالم نہیں۔ کیاآپ وضوح حق نہیں چاہتے کیا آپ ان کلمات کے قائل نہیں کیا آپ پر خود اپنا تبریہ لازم نہیں آپ دوسروں کا سہارا چھوڑ ئے اور اﷲ کو مان کر تحقیق حق سے منہ نہ موڑئے حیرانی و پریشانی میں عوام متقدین کادم نہ توڑئے ہاں ہاں آپ سے مطالبہ ہے۔ آپ پر مواخذہ ہے۔ اورآپ جواب
اس اشاعت کی آپ کو اطلاع تو ظاہر مگر اس میں اس میں آپ کا شوری نہیں۔ آپ کی شرکت ہے یا نہیں نہیں تو آپ کی رضا ورغبت ہے یا نہیں نہیں توآپ کو سکوت اور سکوت کا محصل اجازت ہے یا نہیں نہیں تو آپ نے کیا انسداد کیا اور اس میں اپنی پوری قدرت صر ف کی یا بے پروائی برتی برتقدیر اول اثرکیوں نہیں ہوتا برتقدیر ثانی یہ بھی نیم اجازت ہے یا نہیں
(۱۰)اسی عزیز مقتدر منتقم متکبر عزجلالہ کی شہادت سے یہ بھی حسبۃاﷲ فرمادیجئے کہ حالات ومقالات جو ظفرالدین الجید تا اشتہار ہشتم ازنامہ حاضرہ مسمی بہ ابحاث اخیرہ میں مذکور ہوئی سب حق وصواب ہیں یا ان میں سے کون سا خلاف واقع ہے اور جب سب حق ہیں تومناظرہ کا طالب کون رہا اور برابر فرار برفرار گریز برگریز پر کس نے قرار کیا بینوا تؤجروا(بیان کیجئے اجر پائے۔ ت)
“ رب احكم بالحق-و ربنا الرحمن المستعان على ما تصفون(۱۱۲) “ ۔
اے میرے رب! حق فیصلہ فرمادے۔ اور ہمارے رب رحمان ہی کی مدد درکار ہے ان باتوں پر جو تم بناتے ہو(ت)
جناب مولوی تھانوی صاحب! یہ دس سوال ہیں صرف واقعات یاآپ کے ارادہ وہمت سے استفسار یاصاف واضحات جن کا جواب ہر ذی عقل پر اشکار بایں ہمہ جواب میں جناب کوتین دن کی مہلت دی گئی اگر جناب کے نزدیك یہ بھی کم ہے تو بے تکلف فرمادیجئے آپ جس قدر چاہیں فقیر توسیع کرنے کو حاضر ہے مگر جواب خود دیجئے اب وکالت کا زمانہ گیا وکلاء کا حال کھل گیا۔ مدتوں جناب کو اختیار توکیل دیا کہ آپ گھبراتے ہیں تو جسے چاہیں اپنے مہر ودستخط سے اپنا وکیل بنائے بار بار سائل واشتہارات میں اس کی تکرار کی مگر آپ نے خاموشی ہی اختیار کی اور بالآخر چاندپوری صاحب محض بروز زبان خود بخود آپ کے وکیل بنے جس کا انجام وہ ہوا کیاآپ عالم نہیں۔ کیاآپ وضوح حق نہیں چاہتے کیا آپ ان کلمات کے قائل نہیں کیا آپ پر خود اپنا تبریہ لازم نہیں آپ دوسروں کا سہارا چھوڑ ئے اور اﷲ کو مان کر تحقیق حق سے منہ نہ موڑئے حیرانی و پریشانی میں عوام متقدین کادم نہ توڑئے ہاں ہاں آپ سے مطالبہ ہے۔ آپ پر مواخذہ ہے۔ اورآپ جواب
حوالہ / References
القرآن الکریم ۲۱ /۱۱۲
دیجئے اپنے قلم وخط سے دیجئے اپنے مہر ودستخط سے دیجئے ورنہ صاف انکار کردیجئے کہ عوام کی چپقلش تو جائے حق اہل فہم پر ظاہر ہوچکا ہے۔ آپ کے ان معتقدین پر بھی وضوح پائے پھر ان میں سے جسے توفیق ہو ضلالت چھوڑ کر ہدی پر آئے۔ واﷲ یھدی من یشآء الی صراط مستقیم وحسبنا اﷲ ونعم الوکیل ولاحول ولاقوۃ الا باﷲ العلی العظیم وصلی ا ﷲ تعالی علی سیدناومولنا وناصرنا وماونا محمد والہ وصحبہ اجمعین والحمد ﷲ رب العالمینo
o
دستخط
فقیر احمد رضا خاں قادری عفی عنہ
آج بستم ذی القعدہ ۱۳۲۸ھ روز چہار شنبہ کو فقیر نے خود لکھا
اور میری مہر ودستخط سے امضاہوا۔
o
دستخط
فقیر احمد رضا خاں قادری عفی عنہ
آج بستم ذی القعدہ ۱۳۲۸ھ روز چہار شنبہ کو فقیر نے خود لکھا
اور میری مہر ودستخط سے امضاہوا۔
کاش یہ بات اسی وقت طے ہوجاتی!
ایک تاریخی خط
(بافاضہ حضرۃ علامہ مولانا حسنین رضا خاں بریلوی مدظلہ العالی)
علمائے دیو بند کی وہ دین سوز عبارتیں جن پر سارا عرب وعجم چیخ اٹھا تھا دنیا کے بڑے بڑے علماء کرام ومفتیان عظام ومشائخ ذوی الاحترام وعوام لرز گئے تھے۔ ہر درد مند مخلص تڑپ رہاتھا کہ کسی صورت یہ فتنہ ختم ہو اورملت اسلامیہ سکون واطمینان کا سانس لے۔
دین اور ملت اسلامیہ میں فتنہ اور افتراق کی یہ ہولناك آگ ایسی نہ تھی جس پر مجدد اعظم امام احمد رضاخاں
بریلوی قدس سرہ خاموش تماشائی رہتے اسلام کا انتہائی درد مسلمانوں کی دنیا وآخرت کی تباہی کا خوف اور آپ کے منصب کی ذمہ داری نے آپ کو مضطرب اور بے چین کردیا علماء دیوبند کو دعوت پر دعوت دی بہت سے مطبوعہ و غیر مطبوعہ خطوط لکھے رجسٹریاں بھیجیں کہ اے اﷲ کے بندو! تمھاری ان عبارتوں سے اسلام کی بنیادوں پر ضربیں لگی ہیں مسلمان سخت مشکلات میں پھنس گیاہے دنیاکے ساتھ اس کی آخرت بھی برباد ہو رہی ہے۔ آؤ ہم تم بیٹھ کراس معاملہ کو صاف کرلیں اور اس راہ کو اختیار کریں جو اسلام کا عین منشاء اور مسلمانوں کے لئے صراط مستقیم ہو مگر افسوس کہ اکابر دیوبند نے یا تو اس سے اجتناب کیایا اگر وعدے بھی کئے تو ایفا نہ کرسکے خجالت اور شرمندگی دامنگیررہی۔
علماء دیوبند کی اس روش کا نتیجہ یہ نکلاکہ اس وقت کےاندیشوں کے مطابق یہ فتنہ آج اپنے عروج پر پہنچ گیا جس سے نہ صرف مسلمانوں کی دنیا کو شدید نقصان پہنچ رہاہے بلکہ ایك بہت بڑی جماعت اور اس کی مختلف شاخوں کی آخرت بھی بربادی ہورہی ہے۔
ایک تاریخی خط
(بافاضہ حضرۃ علامہ مولانا حسنین رضا خاں بریلوی مدظلہ العالی)
علمائے دیو بند کی وہ دین سوز عبارتیں جن پر سارا عرب وعجم چیخ اٹھا تھا دنیا کے بڑے بڑے علماء کرام ومفتیان عظام ومشائخ ذوی الاحترام وعوام لرز گئے تھے۔ ہر درد مند مخلص تڑپ رہاتھا کہ کسی صورت یہ فتنہ ختم ہو اورملت اسلامیہ سکون واطمینان کا سانس لے۔
دین اور ملت اسلامیہ میں فتنہ اور افتراق کی یہ ہولناك آگ ایسی نہ تھی جس پر مجدد اعظم امام احمد رضاخاں
بریلوی قدس سرہ خاموش تماشائی رہتے اسلام کا انتہائی درد مسلمانوں کی دنیا وآخرت کی تباہی کا خوف اور آپ کے منصب کی ذمہ داری نے آپ کو مضطرب اور بے چین کردیا علماء دیوبند کو دعوت پر دعوت دی بہت سے مطبوعہ و غیر مطبوعہ خطوط لکھے رجسٹریاں بھیجیں کہ اے اﷲ کے بندو! تمھاری ان عبارتوں سے اسلام کی بنیادوں پر ضربیں لگی ہیں مسلمان سخت مشکلات میں پھنس گیاہے دنیاکے ساتھ اس کی آخرت بھی برباد ہو رہی ہے۔ آؤ ہم تم بیٹھ کراس معاملہ کو صاف کرلیں اور اس راہ کو اختیار کریں جو اسلام کا عین منشاء اور مسلمانوں کے لئے صراط مستقیم ہو مگر افسوس کہ اکابر دیوبند نے یا تو اس سے اجتناب کیایا اگر وعدے بھی کئے تو ایفا نہ کرسکے خجالت اور شرمندگی دامنگیررہی۔
علماء دیوبند کی اس روش کا نتیجہ یہ نکلاکہ اس وقت کےاندیشوں کے مطابق یہ فتنہ آج اپنے عروج پر پہنچ گیا جس سے نہ صرف مسلمانوں کی دنیا کو شدید نقصان پہنچ رہاہے بلکہ ایك بہت بڑی جماعت اور اس کی مختلف شاخوں کی آخرت بھی بربادی ہورہی ہے۔
ہم ذیل میں مجدد اعظم امام بریلوی قدس سرہ کے ایك تاریخی خط کی نقل پیش کررہے جو آپ نے اج سے تقریباستاسٹھ۶۷ سال قبل ۱۳۲۹ھ میں مولوی اشرف علی تھانوی کو لکھا تھا اورجو رسالہ “ دافع الفساد عن مراد آباد “
میں چھپ چکا تھا۔
معاوضہ عالیہ امام بریلوی قدس سرہ
نقل
بنام
مولوی اشرف علی صاحب تھانوی
بسم اﷲ الرحمن الرحیمo نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریمo
السلام علی من اتبع الھدی فقیر بارگاہ عزیز قدیر عز جلالہ تو مدتوں سے آپ کو دعوت دے رہا ہے اب حسب معاہدہ قرار دادمراد آباد پھر محرك ہے کہ آپ سوالات ومواخذحسام الحرمین کی جواب دہی کوآمادہ ہوں میں اور آپ جو کچھ کہیں لکھ کر کہیں اور سنادیں اور وہی دستخطی پرچہ اسی وقت فریقین مقابل کودیتے جائیں کے فریقین میں سے کسی کو کہہ کےبدکنے کی گنجائش نہ رہے۔ معاہدہ میں ۲۷ صفر ۱۳۱۹ھ)مناظرہ کے لئے مقرر ہوئی ہے آج پندرہ کو اس کی خبر مجھ کو ملی گیارہ روز کی مہلت کافی ہے۔ وہاں بات ہی کتنی ہے اسی قدر کہ یہ کلمات شان اقدس حضور پر نور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلممیں توہین ہیں یا نہیں یہ بعونہ تعالی دو منٹ میں اہل ایمان پر ظاہر ہوسکتاہے لہذا فقیر اس عظیم ذوالعرش کی قدرت ورحمت پر توکل کرکے یہی ۲۷ صفر روز جان افروز دوشنبہ اس کے لئے مقرر کرتاہے آپ فورا قبول کی تحریر اپنی مہری دستخطی روانہ کریں اور ۲۷ صفر کی صبح مرادآباد میں ہوں۔ اور آپ بالذات اس امراہم واعظم دین کو طے کرلیں اپنے دل کی آپ جیسی بتاسکیں گے وکیل کیا بتائے گا عاقل بالغ مستطیع غیر مخدرہ کی توکیل کیوں منظور ہو مع ہذا یہ معاملہ کفر واسلام کا ہے کفر واسلام میں وکالت کیسی اگر آپ خود کسی طرح سامنے نہیں آسکتے اور وکیل کا سہارا ڈھونڈلے تو یہی لکھ دیجئے اتنا توحسب معاہدہ آپ کو لکھنا ہی ہوگا کہ وہ آپ کا وکیل مطلق ہے اس کا تمام ساختہ وپرداختہ قبول سکوت نکول عدول سب آپ کا ہے اور اس قدر اور بھی ضرورلکھنا ہوگا کہ اگر بعون العزیز المقتدر عزوجلالہ آپ کا وکیل مغلوب یا معترف یا ساقط یافارہوا توکفر سے توبہ علی الاعلان آپ کو کرنی اور چھاپنی ہوگی کہ توبہ میں وکالت ناممکن ہے اور اعلانیہ کفر کی توبہ اعلانیہ لازم میں عرض کرتاہوں کہ آخر بار آپ ہی کے سر رہتاہے کہ توبہ کرنی ہوئی تو آپ ہی پوچھے جائیں گے پھر آپ خود ہی دفع اختلاف کی ہمت کیوں نہ کریں کیا محمد رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی شان اقدس میں
میں چھپ چکا تھا۔
معاوضہ عالیہ امام بریلوی قدس سرہ
نقل
بنام
مولوی اشرف علی صاحب تھانوی
بسم اﷲ الرحمن الرحیمo نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریمo
السلام علی من اتبع الھدی فقیر بارگاہ عزیز قدیر عز جلالہ تو مدتوں سے آپ کو دعوت دے رہا ہے اب حسب معاہدہ قرار دادمراد آباد پھر محرك ہے کہ آپ سوالات ومواخذحسام الحرمین کی جواب دہی کوآمادہ ہوں میں اور آپ جو کچھ کہیں لکھ کر کہیں اور سنادیں اور وہی دستخطی پرچہ اسی وقت فریقین مقابل کودیتے جائیں کے فریقین میں سے کسی کو کہہ کےبدکنے کی گنجائش نہ رہے۔ معاہدہ میں ۲۷ صفر ۱۳۱۹ھ)مناظرہ کے لئے مقرر ہوئی ہے آج پندرہ کو اس کی خبر مجھ کو ملی گیارہ روز کی مہلت کافی ہے۔ وہاں بات ہی کتنی ہے اسی قدر کہ یہ کلمات شان اقدس حضور پر نور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلممیں توہین ہیں یا نہیں یہ بعونہ تعالی دو منٹ میں اہل ایمان پر ظاہر ہوسکتاہے لہذا فقیر اس عظیم ذوالعرش کی قدرت ورحمت پر توکل کرکے یہی ۲۷ صفر روز جان افروز دوشنبہ اس کے لئے مقرر کرتاہے آپ فورا قبول کی تحریر اپنی مہری دستخطی روانہ کریں اور ۲۷ صفر کی صبح مرادآباد میں ہوں۔ اور آپ بالذات اس امراہم واعظم دین کو طے کرلیں اپنے دل کی آپ جیسی بتاسکیں گے وکیل کیا بتائے گا عاقل بالغ مستطیع غیر مخدرہ کی توکیل کیوں منظور ہو مع ہذا یہ معاملہ کفر واسلام کا ہے کفر واسلام میں وکالت کیسی اگر آپ خود کسی طرح سامنے نہیں آسکتے اور وکیل کا سہارا ڈھونڈلے تو یہی لکھ دیجئے اتنا توحسب معاہدہ آپ کو لکھنا ہی ہوگا کہ وہ آپ کا وکیل مطلق ہے اس کا تمام ساختہ وپرداختہ قبول سکوت نکول عدول سب آپ کا ہے اور اس قدر اور بھی ضرورلکھنا ہوگا کہ اگر بعون العزیز المقتدر عزوجلالہ آپ کا وکیل مغلوب یا معترف یا ساقط یافارہوا توکفر سے توبہ علی الاعلان آپ کو کرنی اور چھاپنی ہوگی کہ توبہ میں وکالت ناممکن ہے اور اعلانیہ کفر کی توبہ اعلانیہ لازم میں عرض کرتاہوں کہ آخر بار آپ ہی کے سر رہتاہے کہ توبہ کرنی ہوئی تو آپ ہی پوچھے جائیں گے پھر آپ خود ہی دفع اختلاف کی ہمت کیوں نہ کریں کیا محمد رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی شان اقدس میں
حوالہ / References
موجودہ ۱۴۱۹ھ کے مطابق اب سے تقریبًا نوے ۹۰سال قبل
گستاخی کرنے کو آپ تھے اور بات بنانے دوسرا آئے ولاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم۔ آپ برسوں سے ساکت اور آپ کے حواری رفع خجلت کی سعی بے حاصل کرتے ہیں۔ ہر بار ایك ہی طرح کے جواب ہوتے ہیں آخر تابہ کے یہ اخیر دعوت ہے اس پر بھی آپ سامنے نہ آئے تو الحمد ﷲ میں فرض ہدایت اداکرچکا آئندہ کسی کے غوغہ پر التفات نہ ہوگا۔ منوا دینا میرا کام نہیں اﷲ عزوجل کی قدرت میں ہے واﷲ یھدی من یشاء الی صراط مستقیم۔
وصلی اﷲ تعالی علی سیدنا ومولانا محمد والہ وصحبہ اجمعین والحمد ﷲ رب العلمین۔
فقیر احمد رضاقادری عفی عنہ ۱۵ صفرالمظفر روز چہار شنبہ ۱۳۲۹ھ
(مآل یہی ہوا کہ اکابر دیوبند گھبراتے رہے خجالت وشرمندگی نبھاتے رہے
رجوع واتحا د سے گریز کیا اور ایك بہت بڑا فتنہ باقی رہ گیا۔ )
مسئلہ ۱۱ : از لائن مین بکسر اسٹیشن ڈاکخانہ گجادھر گنج مسئولہ حاجی عبداﷲ خاں صاحب ۲ صفر ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ رسول مقبول صلی اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکا ذکر ہو تو صرف یہ کہنا کہ رسول نے ایسا کیا رسول نے ایسا کہا کیا مناسب ہے
الجواب :
نام اقدس تعظیم کے ساتھ لینا فرض ہے خالی رسول رسول کہنا اگر بقصد ترك تعظیم ہے تو کفر ہے ورنہ بلا ضرورت ہو تو برکات سے محرومی واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۲ : از شہر محلا ملوکپور مسئولہ محمود الرحمن صاحب ۲ صفر ۱۳۳۹ھ
فتوی حضور والا کا دربارہ شرکت جلوس مسٹر شوکت علی وغیرہم فدویان نے مطالعہ کیا اور دوسرے لوگوں کو ہدایت کی مگر بعض آدمی جواب کے الفاظ پریوں شبہ پیش کرتے ہیں ایسے جلوس میں شرکت مولانا شوکت علی ومحمد علی صاحبان دومسلمان ہیں اور مقاصد حال بھی مسلمانوں ہی کے ہیں پس تعظیم ہندو کے جلوس کی کیونکر ہوئی نیز لفظ فھو منھم(پس وہ انہی میں سے ہے۔ ت)بتلاتاہے کہ شریك ہونے والے کافر ہوجائیں گے کیا یہ الفاظ حقیقت پر محمول ہیں مہربانی فرماکر ان دونوں شبہوں کا اور جواب عنایت فرمادیجئے تاکہ حیلہ گروں کو حیلہ کا موقع نہ رہے۔
وصلی اﷲ تعالی علی سیدنا ومولانا محمد والہ وصحبہ اجمعین والحمد ﷲ رب العلمین۔
فقیر احمد رضاقادری عفی عنہ ۱۵ صفرالمظفر روز چہار شنبہ ۱۳۲۹ھ
(مآل یہی ہوا کہ اکابر دیوبند گھبراتے رہے خجالت وشرمندگی نبھاتے رہے
رجوع واتحا د سے گریز کیا اور ایك بہت بڑا فتنہ باقی رہ گیا۔ )
مسئلہ ۱۱ : از لائن مین بکسر اسٹیشن ڈاکخانہ گجادھر گنج مسئولہ حاجی عبداﷲ خاں صاحب ۲ صفر ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ رسول مقبول صلی اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکا ذکر ہو تو صرف یہ کہنا کہ رسول نے ایسا کیا رسول نے ایسا کہا کیا مناسب ہے
الجواب :
نام اقدس تعظیم کے ساتھ لینا فرض ہے خالی رسول رسول کہنا اگر بقصد ترك تعظیم ہے تو کفر ہے ورنہ بلا ضرورت ہو تو برکات سے محرومی واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۲ : از شہر محلا ملوکپور مسئولہ محمود الرحمن صاحب ۲ صفر ۱۳۳۹ھ
فتوی حضور والا کا دربارہ شرکت جلوس مسٹر شوکت علی وغیرہم فدویان نے مطالعہ کیا اور دوسرے لوگوں کو ہدایت کی مگر بعض آدمی جواب کے الفاظ پریوں شبہ پیش کرتے ہیں ایسے جلوس میں شرکت مولانا شوکت علی ومحمد علی صاحبان دومسلمان ہیں اور مقاصد حال بھی مسلمانوں ہی کے ہیں پس تعظیم ہندو کے جلوس کی کیونکر ہوئی نیز لفظ فھو منھم(پس وہ انہی میں سے ہے۔ ت)بتلاتاہے کہ شریك ہونے والے کافر ہوجائیں گے کیا یہ الفاظ حقیقت پر محمول ہیں مہربانی فرماکر ان دونوں شبہوں کا اور جواب عنایت فرمادیجئے تاکہ حیلہ گروں کو حیلہ کا موقع نہ رہے۔
الجواب :
اس میں جو لوگ مسلمان کہلاتے ہیں گاندھی کے تابع ہوکر آرہے ہیں اشتہار کی سرخسی میں صرف اس کی آمد ہے اور اس کی خدمات اور قربانیوں کا ذکر کرکے اس کے استقبال کو شاندار بنانے کا شد ومد ہے باقی مسلم یا نامسلم اس کے ساتھی یا تابع رکھے گئے ہیں اور پیغام بھی اسی کا سنانا لکھا ہے پھر یہ جلوس دوسرے کا کیونکر ہوسکتاہے حدیث کے ارشاد پر نکتہ چینی مسلمان کا کام نہیں فعل کفر میں جو دل سے شریك ہو وہ ظاہرا باطنا کافر ہے اور جو اکراہ واضطرار ومجبوری محض سے بظاہر شریك ہو اسے معافی ہے۔ مگر اکراہ صحیح شرعی درکارہے کسی کی خاطر وغیرہ سے مجبور ہونا شرعی مجبوری نہیں اور بلااکراہ شرعی شرکت کفر پر بھی شریعت مطہرہ لزوم کفر وتجدیداسلام وتجدید نکاح کا حکم دے گی۔ واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۳ : از شہر محلہ لوکپور چھوٹا دروازہ مسئولہ سید رونق علی صاحب ۳ صفر ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ا س مسئلہ میں کہ خلافت اسلامیہ عرب کی کمیٹی کا جلسہ بریلی میں ہوگا مولانا محمد علی وشوکت علی اور مہاتما گاندھی وغیرہ آئیں گے بازار سجایا گیا ہے ان سب کا جلوس دھوم دھام سے نکلے گا اورجلسہ میں مسلمان ہندو نیچری وہابی شیعہ سب شریك ہوں گے۔ ایسی حالت میں مسلمان اہلسنت وجماعت اس جلسہ میں شرکت کریں یا جلوس دیکھیں یانہیں اوراس جلسہ میں شرکت جائز ہے یا گناہ کیسا گناہ خدا کے واسطے حکم شریعت اس جلسہ میں چندہ دینے اور بیان سننے وغیرہ کا صاف صاف قرآن وحدیث سے بیان فرمایا جائے۔
الجواب :
تعظیم مشرك کےجلوس میں شرکت حرام ہے اور حرام فعل کا تماشا دیکھنا بھی حرام ہے۔ طحطاوی علی الدرالمختار میں ہے : التفرج علی المحرم حرام (حرام پر خوشی بھی حرام ہے۔ ت)ایسے جلسوں میں شرکت گناہ کبیرہ ہے
قال اﷲ تعالی “ فلا تقعد بعد الذکری مع القوم الظلمین ﴿۶۸﴾ “ ۔
اﷲ تعالی کا ارشاد گرامی ہے : پس نصیحت ویاد دہانی کے بعد ظالموں کے پاس مت بیٹھو(ت)
نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں : من سود مع قوم فھو منھم (جس نے جس
اس میں جو لوگ مسلمان کہلاتے ہیں گاندھی کے تابع ہوکر آرہے ہیں اشتہار کی سرخسی میں صرف اس کی آمد ہے اور اس کی خدمات اور قربانیوں کا ذکر کرکے اس کے استقبال کو شاندار بنانے کا شد ومد ہے باقی مسلم یا نامسلم اس کے ساتھی یا تابع رکھے گئے ہیں اور پیغام بھی اسی کا سنانا لکھا ہے پھر یہ جلوس دوسرے کا کیونکر ہوسکتاہے حدیث کے ارشاد پر نکتہ چینی مسلمان کا کام نہیں فعل کفر میں جو دل سے شریك ہو وہ ظاہرا باطنا کافر ہے اور جو اکراہ واضطرار ومجبوری محض سے بظاہر شریك ہو اسے معافی ہے۔ مگر اکراہ صحیح شرعی درکارہے کسی کی خاطر وغیرہ سے مجبور ہونا شرعی مجبوری نہیں اور بلااکراہ شرعی شرکت کفر پر بھی شریعت مطہرہ لزوم کفر وتجدیداسلام وتجدید نکاح کا حکم دے گی۔ واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۳ : از شہر محلہ لوکپور چھوٹا دروازہ مسئولہ سید رونق علی صاحب ۳ صفر ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ا س مسئلہ میں کہ خلافت اسلامیہ عرب کی کمیٹی کا جلسہ بریلی میں ہوگا مولانا محمد علی وشوکت علی اور مہاتما گاندھی وغیرہ آئیں گے بازار سجایا گیا ہے ان سب کا جلوس دھوم دھام سے نکلے گا اورجلسہ میں مسلمان ہندو نیچری وہابی شیعہ سب شریك ہوں گے۔ ایسی حالت میں مسلمان اہلسنت وجماعت اس جلسہ میں شرکت کریں یا جلوس دیکھیں یانہیں اوراس جلسہ میں شرکت جائز ہے یا گناہ کیسا گناہ خدا کے واسطے حکم شریعت اس جلسہ میں چندہ دینے اور بیان سننے وغیرہ کا صاف صاف قرآن وحدیث سے بیان فرمایا جائے۔
الجواب :
تعظیم مشرك کےجلوس میں شرکت حرام ہے اور حرام فعل کا تماشا دیکھنا بھی حرام ہے۔ طحطاوی علی الدرالمختار میں ہے : التفرج علی المحرم حرام (حرام پر خوشی بھی حرام ہے۔ ت)ایسے جلسوں میں شرکت گناہ کبیرہ ہے
قال اﷲ تعالی “ فلا تقعد بعد الذکری مع القوم الظلمین ﴿۶۸﴾ “ ۔
اﷲ تعالی کا ارشاد گرامی ہے : پس نصیحت ویاد دہانی کے بعد ظالموں کے پاس مت بیٹھو(ت)
نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں : من سود مع قوم فھو منھم (جس نے جس
حوالہ / References
حاشیہ الطحطاوی علی الدرالمختار مقدمۃ الکتاب دارالمعرفۃ بیروت ۱ / ۳۱
القرآن الکریم ۶ /۶۸
تاریخ بغداد حدیث ۵۱۶۷ عبداﷲ بن عتاب دارالکتاب العربی بیروت ۱۰ / ۴۱
القرآن الکریم ۶ /۶۸
تاریخ بغداد حدیث ۵۱۶۷ عبداﷲ بن عتاب دارالکتاب العربی بیروت ۱۰ / ۴۱
قوم کی کثرت بنائی وہ انہی میں سے ہے۔ ت)حرام کاری میں چندہ دینا بھی حرام ہے۔
قال اﷲ تعالی : ولا تعاونوا علی الاثم والعدون ۪ “ ۔ اﷲ تعالی کا فرمان مبارك ہے : گناہ اور زیادتی پر ایك دوسرے کی مددنہ کرو۔ (ت)
اور نامسلم کو واعظ مسلمین بناکر اس کا بیان سننا اشد سے اشد کبیرہ وبدخواہی اسلام ہے
قال اﷲ تعالی “ یریدون ان یتحاکموا الی الطغوت وقد امروا ان یکفروا بہ ویرید الشیطن ان یضلہم ضللابـعیدا ﴿۶۰﴾ “ ۔ اﷲ تعالی کا مقدس فرمان ہے : پھر چاہتے ہیں کہ شیطان کو اپنا پنچ بنائیں اور ان کو تو حکم یہ تھا کہ اسے اصلا نہ مانیں اور ابلیس یہ چاہتاہے کہ انھیں دور بہکادے۔ (ت)
سائل نے مہاتما لکھا یہ حرام ہے۔ مہاتما بمعنی روح اعظم ہے کہ خالص لقب افضل الملائکہ ہے علیہ وعلیہم الصلوۃ والسلام یوہیں جو لوگ ایسا مذہب نکالنا چاہیں کہ مسلم وکافر کا فرق اٹھادے سنگم و پریاگ کو مقدس علامت ٹھہرادے جو لوگ کہیں کہ آج تم نے اپنے ہندو بھائیوں کو راضی کرلیا تو اپنے خدا کو راضی کرلیا جو لوگ کہیں کہ خدا کی رسی مضبوط تھامنے سے اگرچہ دین ہاتھ سے جاتارہے مگر دنیا تو ضرور ملے گی ایسوں کو مولانا کہنا حرام ہے حدیث میں فرمایا :
لاتقولوا للمنافق یاسیدنا فانہ ان یکن سید کم فقد اسخطتم ربکم ۔ واﷲ تعالی اعلم۔ منافق کو یا سندنا(اے ہمارے سردار)نہ کہو کیونکہ اگر وہ تمھارا سردار ہے تو تم نے اپنے رب کو یقینا اپنے سے ناراض کرلیا
واﷲ تعالی اعلم۔ (ت)
____________________
قال اﷲ تعالی : ولا تعاونوا علی الاثم والعدون ۪ “ ۔ اﷲ تعالی کا فرمان مبارك ہے : گناہ اور زیادتی پر ایك دوسرے کی مددنہ کرو۔ (ت)
اور نامسلم کو واعظ مسلمین بناکر اس کا بیان سننا اشد سے اشد کبیرہ وبدخواہی اسلام ہے
قال اﷲ تعالی “ یریدون ان یتحاکموا الی الطغوت وقد امروا ان یکفروا بہ ویرید الشیطن ان یضلہم ضللابـعیدا ﴿۶۰﴾ “ ۔ اﷲ تعالی کا مقدس فرمان ہے : پھر چاہتے ہیں کہ شیطان کو اپنا پنچ بنائیں اور ان کو تو حکم یہ تھا کہ اسے اصلا نہ مانیں اور ابلیس یہ چاہتاہے کہ انھیں دور بہکادے۔ (ت)
سائل نے مہاتما لکھا یہ حرام ہے۔ مہاتما بمعنی روح اعظم ہے کہ خالص لقب افضل الملائکہ ہے علیہ وعلیہم الصلوۃ والسلام یوہیں جو لوگ ایسا مذہب نکالنا چاہیں کہ مسلم وکافر کا فرق اٹھادے سنگم و پریاگ کو مقدس علامت ٹھہرادے جو لوگ کہیں کہ آج تم نے اپنے ہندو بھائیوں کو راضی کرلیا تو اپنے خدا کو راضی کرلیا جو لوگ کہیں کہ خدا کی رسی مضبوط تھامنے سے اگرچہ دین ہاتھ سے جاتارہے مگر دنیا تو ضرور ملے گی ایسوں کو مولانا کہنا حرام ہے حدیث میں فرمایا :
لاتقولوا للمنافق یاسیدنا فانہ ان یکن سید کم فقد اسخطتم ربکم ۔ واﷲ تعالی اعلم۔ منافق کو یا سندنا(اے ہمارے سردار)نہ کہو کیونکہ اگر وہ تمھارا سردار ہے تو تم نے اپنے رب کو یقینا اپنے سے ناراض کرلیا
واﷲ تعالی اعلم۔ (ت)
____________________
حوالہ / References
القرآن الکریم ۵ /۲
القرآن الکریم ۴ /۶۰
مسند امام احمد بن حنبل حدیث بریدہ الاسلمی دارالفکر بیروت ۵ / ۴۷۔ ۳۴۶
القرآن الکریم ۴ /۶۰
مسند امام احمد بن حنبل حدیث بریدہ الاسلمی دارالفکر بیروت ۵ / ۴۷۔ ۳۴۶
رسالہ
الدلائل القاھرۃ علی الکفرۃ النیاشرۃ ۱۳۳۵ھ
(نیچری کا فروں کے خلاف دلائل قاہرہ)
بسم الله الرحمن الرحیم
مسئلہ ۱۴ : کیا فرماتے ہیں علمائے دین پرور و فقہائے نامور(کثر ھم الله تعالی ونصرہم)اس سوال میں کہ اس ملك کاٹھیاوار میں ایك مجلس بنام “ کاٹھیاوار مسلم ایجوکیشنل کانفرنس “ اعنی کاٹھیاوار کے مسلمانوں کی تعلیمی مجلس قائم ہوئی ہے جن کے محرك ومختار متبعین ومتعلقین علیگڑھ کالج ہیں ۲ اکتوبر ۱۹۱۶ ء کوان کا پہلا جلسہ جوناگڈھ(کاٹھیاوار)مقام پر ہواجن کا صدر ڈاکٹر ضیاء الدین احمد پروفیسر علیگڑھ کالج وسکرٹری منشی غلام محمد بیریسٹر ایٹ لاء کاٹھیاواری ایجنٹ علیگڑھ کالج ومؤید آل انڈیا محمڈن ایجوکیشنل کانفرنس اور واعظ مولوی سلیمان پھلواروی جان جانان ندوہ مخذولہ قرار پائے اس کانفرنس کا مقصد بھی آل انڈیا محمڈن ایجوکیشنل کانفرنس کا ہے جن میں بلارعایت سنی ہر کلمہ گو رافضی وہابی نیچری قادیانی چکڑالوی وغیرہم رکن(ممبر) ہوسکتے ہیں۔ ایسی مجلس(کانفرنس)کوبعض مسلمان اپنی دینی ودینوی ترقی کا سبب جان کر جان ومال سے امداد کرتے ہیں اور دینی مفسدہ ومضرت سے آگاہ نہیں۔ اور بلا تفریق ورعایت اہل سنت تمام بے دینوں مرتدوں مدعیان اسلام کو مسلمان سمجھ کر رکن(ممبر)بنائیں بلکہ ان کے صدر اور سیکرٹری اور واعظ بنائے میں بھی خوف خدا نہ لائیں اور کوئی نصیحت کرے کہ ایسی پچرنگی مسلم کانفرنس خلاف شرع شریف ہے تو یہ بہانا بتائیں
الدلائل القاھرۃ علی الکفرۃ النیاشرۃ ۱۳۳۵ھ
(نیچری کا فروں کے خلاف دلائل قاہرہ)
بسم الله الرحمن الرحیم
مسئلہ ۱۴ : کیا فرماتے ہیں علمائے دین پرور و فقہائے نامور(کثر ھم الله تعالی ونصرہم)اس سوال میں کہ اس ملك کاٹھیاوار میں ایك مجلس بنام “ کاٹھیاوار مسلم ایجوکیشنل کانفرنس “ اعنی کاٹھیاوار کے مسلمانوں کی تعلیمی مجلس قائم ہوئی ہے جن کے محرك ومختار متبعین ومتعلقین علیگڑھ کالج ہیں ۲ اکتوبر ۱۹۱۶ ء کوان کا پہلا جلسہ جوناگڈھ(کاٹھیاوار)مقام پر ہواجن کا صدر ڈاکٹر ضیاء الدین احمد پروفیسر علیگڑھ کالج وسکرٹری منشی غلام محمد بیریسٹر ایٹ لاء کاٹھیاواری ایجنٹ علیگڑھ کالج ومؤید آل انڈیا محمڈن ایجوکیشنل کانفرنس اور واعظ مولوی سلیمان پھلواروی جان جانان ندوہ مخذولہ قرار پائے اس کانفرنس کا مقصد بھی آل انڈیا محمڈن ایجوکیشنل کانفرنس کا ہے جن میں بلارعایت سنی ہر کلمہ گو رافضی وہابی نیچری قادیانی چکڑالوی وغیرہم رکن(ممبر) ہوسکتے ہیں۔ ایسی مجلس(کانفرنس)کوبعض مسلمان اپنی دینی ودینوی ترقی کا سبب جان کر جان ومال سے امداد کرتے ہیں اور دینی مفسدہ ومضرت سے آگاہ نہیں۔ اور بلا تفریق ورعایت اہل سنت تمام بے دینوں مرتدوں مدعیان اسلام کو مسلمان سمجھ کر رکن(ممبر)بنائیں بلکہ ان کے صدر اور سیکرٹری اور واعظ بنائے میں بھی خوف خدا نہ لائیں اور کوئی نصیحت کرے کہ ایسی پچرنگی مسلم کانفرنس خلاف شرع شریف ہے تو یہ بہانا بتائیں
کہ یہ دینی کانفرنس کہاں ہے یہ تو دینوی ترقی کے لئے قائم کی گئی ہے جو ہمارا ملك تعلیم میں سب سے پیچھے ہے آیا سنیوں کو ایسی کانفرنس کا قائم کرنا اور جان ومال سے اس کی مدد کرنا اس کے جلسہ میں شریك ہونا بددین مرتدوں کو مسلمان سمجھنا اور ان سے میل جول پیدا کرنااور ان سے ترقی کی امید رکھنا شرع شریف میں کیا حکم رکھتاہے یہ ہمارے ائمہ دین(رحمہم الله تعالی)وضاحت سے بیان کرکے ان سیدھے سادے مسلمانوں کو گمراہی کے گڑھے اور بیدینوں کے ہتھکنڈوں سے بچاکر نعمائے دارین حاصل کریں جواب آنے پر ان شاء الله تعالی اس استفتاء کو چھپواکر اس ملك کاٹھیاوار و گجرات وبرما وغیرہا جگہ پر بغرض اشاعت مسلمانوں میں عام طور سے تقسیم کیا جائے گا۔ فقط
تاریخ ۲ ۱محرم الحرام ۱۳۳۵ہجریہ مقدسہ پنجشنبہ۔ راقم آثم خادم قاسم میاں عفی عنہ از مقام گونڈل علاقہ کاٹھیاوار
الجواب :
(۱)ایسی مجلس مقرر کرنا گمراہی ہے اور اس میں شرکت حرام اور بد مذہبوں سے میل جول آگ ہے اور اس بڑی آگ کی طرف کھینچ کرلے جانے والا الله عزوجل فرماتاہے :
“ اما ینسینک الشیطن فلا تقعد بعد الذکری مع القوم الظلمین ﴿۶۸﴾ “ اور اگر تجھے شیطان بھلادے تویا د آنے پر پاس نہ بیٹھ ظالموں کے۔
تفسیرات احمدیہ میں ہے :
دخل فیہ الکافر والمبتدع والفاسق والقعود مع کلھم ممتنع ۔ اس آیت کے حکم میں ہر کافر ومبتدع اور فاسق داخل ہیں اور ان میں سے کسی کے پاس بیٹھنے کی اجازت نہیں۔
الله عزوجل فرماتاہے :
“ ولا ترکنوا الی الذین ظلموا فتمسکم النار “ ۔ ظالموں کی طرف میل نہ کرو کہ تمھیں آگ چھوئے گی۔
صحیح مسلم شریف کی حدیث میں ہے حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
ایاکم وایاھم لایضلونکم ان سے دور رہو اور انھیں اپنے سے دور کرو
ولایفتنونکم ۔ کہیں وہ تمھیں گمراہ نہ کردیں کہیں وہ تمھیں فتنہ میں نہ ڈال دیں۔
تاریخ ۲ ۱محرم الحرام ۱۳۳۵ہجریہ مقدسہ پنجشنبہ۔ راقم آثم خادم قاسم میاں عفی عنہ از مقام گونڈل علاقہ کاٹھیاوار
الجواب :
(۱)ایسی مجلس مقرر کرنا گمراہی ہے اور اس میں شرکت حرام اور بد مذہبوں سے میل جول آگ ہے اور اس بڑی آگ کی طرف کھینچ کرلے جانے والا الله عزوجل فرماتاہے :
“ اما ینسینک الشیطن فلا تقعد بعد الذکری مع القوم الظلمین ﴿۶۸﴾ “ اور اگر تجھے شیطان بھلادے تویا د آنے پر پاس نہ بیٹھ ظالموں کے۔
تفسیرات احمدیہ میں ہے :
دخل فیہ الکافر والمبتدع والفاسق والقعود مع کلھم ممتنع ۔ اس آیت کے حکم میں ہر کافر ومبتدع اور فاسق داخل ہیں اور ان میں سے کسی کے پاس بیٹھنے کی اجازت نہیں۔
الله عزوجل فرماتاہے :
“ ولا ترکنوا الی الذین ظلموا فتمسکم النار “ ۔ ظالموں کی طرف میل نہ کرو کہ تمھیں آگ چھوئے گی۔
صحیح مسلم شریف کی حدیث میں ہے حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
ایاکم وایاھم لایضلونکم ان سے دور رہو اور انھیں اپنے سے دور کرو
ولایفتنونکم ۔ کہیں وہ تمھیں گمراہ نہ کردیں کہیں وہ تمھیں فتنہ میں نہ ڈال دیں۔
حوالہ / References
القرآن الکریم ۶ /۶۸
التفسیرات لاحمدیہ تحت آیۃ ۶ / ۶۸ مطبع کریمی بمبئی ، انڈیا ص۳۸۸
القرآن الکریم ۱۱ /۱۱۳
صحیح مسلم باب النہی عن الروایۃ عن الضعفاء قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۰
التفسیرات لاحمدیہ تحت آیۃ ۶ / ۶۸ مطبع کریمی بمبئی ، انڈیا ص۳۸۸
القرآن الکریم ۱۱ /۱۱۳
صحیح مسلم باب النہی عن الروایۃ عن الضعفاء قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۰
مسلمان کا ایمان ہے کہ الله ورسول سے زیادہ کوئی ہماری بھلائی چاہنے والا نہیں جل وعلا وصلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم جس بات کی طرف بلائیں یقینا ہمارے دونوں جہان کا اس میں بھلاہے اور جس بات سے منع فرمائیں بلا شبہ سراسر ضرروبلاہے۔ مسلمان صورت میں ظاہرہوکر جوان کے حکم کے خلاف کی طرف بلائے یقین ضرور چکنی چکنی باتیں کرے گا اور جب یہ دھوکے میں آیا اور ساتھ ہولیا تو گردن مارے گا مال لوٹے گا شامت اس بکری کی کہ اپنے راعی کا ارشاد نہ سنے اور بھیڑیا جو کسی بھیڑ کی اون پہن کر آیا اس کے ساتھ ہولے ارے! مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم تمھیں منع فرماتے ہیں وہ تمھاری جان سے بڑھ کر تمھارے خیر خواہ ہیں “ حریص علیکم “ تمھارا مشقت میں پڑنا ان کے قلب اقدس پر گراں ہے “ عزیز علیہ ماعنتم “ والله وہ تم پر اس سے زیادہ مہربان ہیں جیسے نہایت چہیتی ماں اکلوتے بیٹے پر “ بالمؤمنین رءوف رحیم “ ۔ ارے! ان کی سنو ان کا دامن تھام لو ان کے قدموں سے لپٹ جاؤ وہ فرماتے ہیں :
ایاکم وایاھم لایضلونکم ولایفتنو نکم ۔ ان سے دور رہو اور انھیں اپنے سے دور کرو کہیں وہ تمھیں گمراہ نہ کردیں کہیں وہ تمھیں فتنہ میں نہ ڈال دیں۔
ابن حبان وطبرانی وعقیلی کی حدیث میں ہے کہ فرماتے ہیں صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم :
لا تؤاکلوھم ولا تشاربوھم ولا تجالسوھم ولا تناکحوھم واذا مرضوا فلاتعودوھم واذاما توافلا تشہدوھم ان کے ساتھ کھانا نہ کھاؤ ان کے ساتھ پانی نہ پیو ان کے پاس نہ بیٹھو ان سے رشتہ نہ کرو۔ وہ بیمار پڑیں تو پوچھنے نہ جاؤ مر جائیں تو جنازہ پر نہ جاؤ
ایاکم وایاھم لایضلونکم ولایفتنو نکم ۔ ان سے دور رہو اور انھیں اپنے سے دور کرو کہیں وہ تمھیں گمراہ نہ کردیں کہیں وہ تمھیں فتنہ میں نہ ڈال دیں۔
ابن حبان وطبرانی وعقیلی کی حدیث میں ہے کہ فرماتے ہیں صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم :
لا تؤاکلوھم ولا تشاربوھم ولا تجالسوھم ولا تناکحوھم واذا مرضوا فلاتعودوھم واذاما توافلا تشہدوھم ان کے ساتھ کھانا نہ کھاؤ ان کے ساتھ پانی نہ پیو ان کے پاس نہ بیٹھو ان سے رشتہ نہ کرو۔ وہ بیمار پڑیں تو پوچھنے نہ جاؤ مر جائیں تو جنازہ پر نہ جاؤ
حوالہ / References
القرآن الکریم ۹ /۱۲۸
القرآن الکریم ۹ /۱۲۸
القرآن الکریم ۹ /۱۲۸
صحیح مسلم باب النہی عن الروایۃ عن الضعفاء قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۰
القرآن الکریم ۹ /۱۲۸
القرآن الکریم ۹ /۱۲۸
صحیح مسلم باب النہی عن الروایۃ عن الضعفاء قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۰
ولا تصلوا علیھم ولاتصلوا معھم ۔ نہ ان کی نماز پڑھو نہ ان کے ساتھ نماز پڑھو۔
امیر المومنین عمر فاروق اعظم رضی الله تعالی عنہ نے مسجد اقدس بنی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم میں نماز مغرب کے بعد کسی مسافر کوبھوکاپایا اپنے ساتھ کاشانہ خلافت میں لے آئے اس کے لئے کھانا منگایا جب وہ کھانے بیٹھا کوئی بات بد مذہبی کی اس سے ظاہرہوئی فورا حکم ہوا کہ کھانا اٹھالیا جائے اور اسے نکال دیا جائے سامنے سے کھانا اٹھوالیا اوراسے نکلوا دیا۔ سیدنا عبدالله ابن عمر رضی الله تعالی عنہما سے کسی نے آکر عرض کی : فلاں شخص نے آپ کو سلام کہاہے فرمایا : لاتقرأہ منی السلام فانی سمعت انہ احدث میری طرف سے اسے سلام نہ کہنا کہ میں نے سنا ہے کہ میں نے کچھ بدمذہبی نکالی۔ سیدنا سعید بن جبیر شاگرد عبدالله بن عباس رضی الله تعالی عنہم کو راستہ میں ایك بدمذہب ملا کہاکچھ عرض کرنا چاہتاہوں فرمایا سننا نہیں چاہتا۔ عرض کی ایك کلمہ اپنا انگوٹھا چھنگلیا کے سرے پر رکھ کر فرمایا ولانصف کلمۃ ادھا لفظ بھی نہیں۔ لوگوں نے عرض کی اس کا کیا سبب ہے فرمایا ازیشان منہم ہے امام محمد بن سیرین شاگرد انس رضی الله تعالی عنہ نے کے پاس دو بد مذہب آئے عرض کی کچھ آیات کلام الله آپ کو سنائیں فرمایا میں سننا نہیں چاہتا عرض کی کچھ احادیث نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سنائیں فرمایا میں سننا نہیں چاہتا انھوں نے اصرار کیا فرمایا تم دونوں اٹھ جاؤ یا میں اٹھاجاتاہوں آخر وہ خائب وخاسر چلے گئے لوگوں نے عرض کی اے امام! آپ کا کیا حرج تھا اگر ہو کچھ آئتیں یا حدیثیں سناتے فرمایا میں نے خوف کیا کہ وہ آیات واحادیث کے ساتھ اپنی کچھ تاویل لگائیں اور وہ میرے دل میں رہ جائے تو ہلاك ہوجاؤں ۔ ائمہ کو یہ خوف تھا اوراب عوام کو یہ جرأت ہے ولا حول ولا قوۃ الاباللہ۔ اورایسی جگہ مال دنیاوی پسند کرے گا جو دین نہیں رکھتاس جو عقل سے بہرہ نہیں۔ یکے نقصان مایہ دگر شماتت ہمسایہ(ایك تو مال نقصان اور دوسرے ہمسایہ کی خوشی۔ ت)ہمسایہ کون وہ بئس القرین شیطان لعین کیسا خوش ہوگا کہ ایك ہی کرشمے میں دونوں جہان کا نقصان پہنچایا مال بھی گیا اور اخرت میں عذاب کابھی مستحق ہوا
“ خسر الدنیا والاخرۃ ذلک ہو الخسران المبین ﴿۱۱﴾ “ دینا اور آخرت دونوں کا گھاٹا یہی ہے صریح نقصان(ت)
امیر المومنین عمر فاروق اعظم رضی الله تعالی عنہ نے مسجد اقدس بنی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم میں نماز مغرب کے بعد کسی مسافر کوبھوکاپایا اپنے ساتھ کاشانہ خلافت میں لے آئے اس کے لئے کھانا منگایا جب وہ کھانے بیٹھا کوئی بات بد مذہبی کی اس سے ظاہرہوئی فورا حکم ہوا کہ کھانا اٹھالیا جائے اور اسے نکال دیا جائے سامنے سے کھانا اٹھوالیا اوراسے نکلوا دیا۔ سیدنا عبدالله ابن عمر رضی الله تعالی عنہما سے کسی نے آکر عرض کی : فلاں شخص نے آپ کو سلام کہاہے فرمایا : لاتقرأہ منی السلام فانی سمعت انہ احدث میری طرف سے اسے سلام نہ کہنا کہ میں نے سنا ہے کہ میں نے کچھ بدمذہبی نکالی۔ سیدنا سعید بن جبیر شاگرد عبدالله بن عباس رضی الله تعالی عنہم کو راستہ میں ایك بدمذہب ملا کہاکچھ عرض کرنا چاہتاہوں فرمایا سننا نہیں چاہتا۔ عرض کی ایك کلمہ اپنا انگوٹھا چھنگلیا کے سرے پر رکھ کر فرمایا ولانصف کلمۃ ادھا لفظ بھی نہیں۔ لوگوں نے عرض کی اس کا کیا سبب ہے فرمایا ازیشان منہم ہے امام محمد بن سیرین شاگرد انس رضی الله تعالی عنہ نے کے پاس دو بد مذہب آئے عرض کی کچھ آیات کلام الله آپ کو سنائیں فرمایا میں سننا نہیں چاہتا عرض کی کچھ احادیث نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سنائیں فرمایا میں سننا نہیں چاہتا انھوں نے اصرار کیا فرمایا تم دونوں اٹھ جاؤ یا میں اٹھاجاتاہوں آخر وہ خائب وخاسر چلے گئے لوگوں نے عرض کی اے امام! آپ کا کیا حرج تھا اگر ہو کچھ آئتیں یا حدیثیں سناتے فرمایا میں نے خوف کیا کہ وہ آیات واحادیث کے ساتھ اپنی کچھ تاویل لگائیں اور وہ میرے دل میں رہ جائے تو ہلاك ہوجاؤں ۔ ائمہ کو یہ خوف تھا اوراب عوام کو یہ جرأت ہے ولا حول ولا قوۃ الاباللہ۔ اورایسی جگہ مال دنیاوی پسند کرے گا جو دین نہیں رکھتاس جو عقل سے بہرہ نہیں۔ یکے نقصان مایہ دگر شماتت ہمسایہ(ایك تو مال نقصان اور دوسرے ہمسایہ کی خوشی۔ ت)ہمسایہ کون وہ بئس القرین شیطان لعین کیسا خوش ہوگا کہ ایك ہی کرشمے میں دونوں جہان کا نقصان پہنچایا مال بھی گیا اور اخرت میں عذاب کابھی مستحق ہوا
“ خسر الدنیا والاخرۃ ذلک ہو الخسران المبین ﴿۱۱﴾ “ دینا اور آخرت دونوں کا گھاٹا یہی ہے صریح نقصان(ت)
حوالہ / References
کنز العمال حدیث ۳۲۴۶۸ ، ۳۲۵۲۸ ، ۳۲۵۲۹ ، ۳۲۵۴۲ موسسۃ الرسالہ بیروت ۱۱ / ۵۲۹ و ۵۴۰ و ۵۴۲ ، الضعفاء الکبیر حدیث ۱۵۳ دارالکتب العلمیہ بیروت ۱ / ۱۲۶ ، العلل المتناہیۃ حدیث ۲۶۰ دارنشر الکتب الاسلامیہ لاہور ۱ / ۱۶۲
القرآن الکریم ۲۲ /۱۱
القرآن الکریم ۲۲ /۱۱
دیکھو امان کی راہ وہی ہے جو تمھیں تمھارے پیارے نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے بتائی :
ایاکم وایاھم لایضلونکم ولا یفتنونکم ۔ ان سے دور رہو اور انھیں اپنے سے دور کرو کہیں وہ تمھیں گمراہ نہ کردیں وہ تمھیں فتنہ میں نہ ڈال دیں۔
دیکھو نجات کی راہ وہی ہے جو تمھارے رب عزوجل نے بتائی :
“ فلا تقعد بعد الذکری مع القوم الظلمین ﴿۶۸﴾ “ ۔ یاد آئے پر پاس نہ بیٹھو ظالموں کے۔ (ت)
بھولے سے ان میں سے کسی کے پاس بیٹھ گئے ہو تو یاد آنے پر فورا کھڑے ہوجاؤ ان مضامین کی تفصیل میں تمام اکابر علمائے حرمین شریفین کا فتوی مسمی بہ فتاوی الحرمین برجف ندوۃ المین اور عامہ علمائے ہند کا فتویمسمی بہ فتاویا لسنۃ لالجام اھل الفتنۃ اور فتاوی القدوۃ اور النذیر الاحمد اور النذیر المبین وغیرہا پچاس سے زائد کتابیں چھپ کر شائع ہوچکیں اور ہدایت الله عزوجل کے ہاتھ
“ و اللہ یقول الحق وہو یہدی السبیل ﴿۴﴾ “ ۔
“ حسبنا اللہ ونعم الوکیل ﴿۱۷۳﴾ “ ۔ اور الله حق فرماتا ہے اوروہی راہ دکھاتاہے الله ہم کو بس ہے اور کیا اچھا کار ساز(ت)
yahan image bhi hai
ایاکم وایاھم لایضلونکم ولا یفتنونکم ۔ ان سے دور رہو اور انھیں اپنے سے دور کرو کہیں وہ تمھیں گمراہ نہ کردیں وہ تمھیں فتنہ میں نہ ڈال دیں۔
دیکھو نجات کی راہ وہی ہے جو تمھارے رب عزوجل نے بتائی :
“ فلا تقعد بعد الذکری مع القوم الظلمین ﴿۶۸﴾ “ ۔ یاد آئے پر پاس نہ بیٹھو ظالموں کے۔ (ت)
بھولے سے ان میں سے کسی کے پاس بیٹھ گئے ہو تو یاد آنے پر فورا کھڑے ہوجاؤ ان مضامین کی تفصیل میں تمام اکابر علمائے حرمین شریفین کا فتوی مسمی بہ فتاوی الحرمین برجف ندوۃ المین اور عامہ علمائے ہند کا فتویمسمی بہ فتاویا لسنۃ لالجام اھل الفتنۃ اور فتاوی القدوۃ اور النذیر الاحمد اور النذیر المبین وغیرہا پچاس سے زائد کتابیں چھپ کر شائع ہوچکیں اور ہدایت الله عزوجل کے ہاتھ
“ و اللہ یقول الحق وہو یہدی السبیل ﴿۴﴾ “ ۔
“ حسبنا اللہ ونعم الوکیل ﴿۱۷۳﴾ “ ۔ اور الله حق فرماتا ہے اوروہی راہ دکھاتاہے الله ہم کو بس ہے اور کیا اچھا کار ساز(ت)
yahan image bhi hai
(۷)الجواب صحیح
فقیر حمدالله کمال الدین القادری الپشاوری عفی عنہ (۸)الجواب صحیح
محمد نعیم الدین عفا عنہ المعاصی
(۹)الجواب صحیح
ابونصر محمد یعقوب عفی عنہ حنفی قادری بلاسپوری (۱۰)الجواب صحیح
محمد عبدالرشید مظفر پوری
(۱۱)الجواب صحیح
فقیر عزیز الحسن القادری الرضوی عفاالله عن ذنبہ الخفی والجلی (۱۲)الجواب صحیح
رحم الہی مدرس مدرسہ اہلسنت
(۱۳)الجواب صحیح
احمد حسین رامپوری عفی عنہ (۱۴)الجواب صحیح والمخالف قبیح
محمد اکرام الدین بخاری واعظ الاسلام خطیب وامام مسجد وزیر خاں مرحوم لاہور
(۱۵)الجواب صحیح والله تعالی اعلم
عبدالسلام غفرلہ قادری اعظم گڑھی (۱۶)الجواب صحیح
محمدرحیم بخش مظفرپوری
(۱۷)الجواب صحیح
فقیر محمد حامد علی عفی عنہ فاروقی الاآبادی (۱۸)الجواب صحیح
سردار علی خاں بریلی
yahan aik image hai
فقیر حمدالله کمال الدین القادری الپشاوری عفی عنہ (۸)الجواب صحیح
محمد نعیم الدین عفا عنہ المعاصی
(۹)الجواب صحیح
ابونصر محمد یعقوب عفی عنہ حنفی قادری بلاسپوری (۱۰)الجواب صحیح
محمد عبدالرشید مظفر پوری
(۱۱)الجواب صحیح
فقیر عزیز الحسن القادری الرضوی عفاالله عن ذنبہ الخفی والجلی (۱۲)الجواب صحیح
رحم الہی مدرس مدرسہ اہلسنت
(۱۳)الجواب صحیح
احمد حسین رامپوری عفی عنہ (۱۴)الجواب صحیح والمخالف قبیح
محمد اکرام الدین بخاری واعظ الاسلام خطیب وامام مسجد وزیر خاں مرحوم لاہور
(۱۵)الجواب صحیح والله تعالی اعلم
عبدالسلام غفرلہ قادری اعظم گڑھی (۱۶)الجواب صحیح
محمدرحیم بخش مظفرپوری
(۱۷)الجواب صحیح
فقیر محمد حامد علی عفی عنہ فاروقی الاآبادی (۱۸)الجواب صحیح
سردار علی خاں بریلی
yahan aik image hai
(۱۹)اصاب من اجاب
محمد حسنین رضا البریلوی مدرسہ پنجم مدرسہ اہل سنت وجماعت بریلوی (۲۰)اصاب من اجاب
فقیر ابوالظفر محمد ایوب غفرلہ الله الذنوب دربنگوی
(۲۱)اصاب من اجاب وھو مرشدی الفاضل البریلوی
محمد خلیل الرحمن بہاری صدیقی رضوی مدرس منظر الاسلام
(۲۲)الجواب قد کتب الحق وھکذا مذھب اھلسنتۃ والجماعۃ وانا اسلمہ ایضا ومن خالف ھذا فھو من الوھابیۃ
سید عبدالله الرضوی البہاری ثم البریلوی
(۲۳)الجواب صحیح
عمر النعیمی المراد آبادی
تصدیقات علمائے کلکتہ
(۲۴) الحمد ﷲ موفق اھل السنۃ للاھتداء بھدی الائمۃ المجتھدین مصابیح الظلم وھداۃ الامۃ والصلوۃ والسلام علی خاتم النبیین سیدنا محمد بن عبداﷲ قامع الکفرۃ والمبتدعین وعلی الہ الطیبین الطاھرین واصحابہ البرزۃ الکرام المتقین امابعد فقد اطلعت علی ماتضمنہ ھذا الجواب المستطاب من الادلۃ الواضحۃ والبراھین الساطعۃ التی لاعذر لاحد بجہلھا کیف لا والکتاب و السنتۃ یحرمان صریحا وتلویحا الاشتراك مع اھل البدع فی امرمادینیا کان اودنیویا ونقل ماوردفی ھذا المعنی یطول شرحہ و الموفق یکفیہ سب خوبیاں الله تعالی کو جس نے اہلسنت کو توفیق بخشی کہ ائمہ مجتہدین کی پیروی کریں کہ وہ تاریکیوں کے چراغ اور امت کے راہنما ہیں اور درود وسلام سب نبیوں کے ختم کرنیوالے ہمارے سردار محمد بن عبدالله پر کہ کافروں اور بد مذہبوں کی بیخ کنی کرنے والے ہیں اوران کی آل طیب وطاہر اور ان کے اصحاب نیك و بزرگ وپرہیزگاروں پر بعد حمد و نعت میں مطلع ہوا ان دلائل ظاہرہ اور براہین روشن پر جن پر یہ جواب مشتمل ہے کہ وہ ایسے نہیں کہ کوئی ان کے نہ جاننے میں معذور رہ سکے کیوں نہ ہو قرآن وحدیث صراحۃ واشارۃ بد مذہب کی شراکت کو حرام بتاتے ہیں کسی معاملہ میں ہو دینی ہو خواہ دینوی اور جو اس بارہ میں وارد ہو اس نقل کرنا طویل شرح چاہتاہے اور جسے توفیق ملی اسے وہ کافی ہے
yahan aik image hai
محمد حسنین رضا البریلوی مدرسہ پنجم مدرسہ اہل سنت وجماعت بریلوی (۲۰)اصاب من اجاب
فقیر ابوالظفر محمد ایوب غفرلہ الله الذنوب دربنگوی
(۲۱)اصاب من اجاب وھو مرشدی الفاضل البریلوی
محمد خلیل الرحمن بہاری صدیقی رضوی مدرس منظر الاسلام
(۲۲)الجواب قد کتب الحق وھکذا مذھب اھلسنتۃ والجماعۃ وانا اسلمہ ایضا ومن خالف ھذا فھو من الوھابیۃ
سید عبدالله الرضوی البہاری ثم البریلوی
(۲۳)الجواب صحیح
عمر النعیمی المراد آبادی
تصدیقات علمائے کلکتہ
(۲۴) الحمد ﷲ موفق اھل السنۃ للاھتداء بھدی الائمۃ المجتھدین مصابیح الظلم وھداۃ الامۃ والصلوۃ والسلام علی خاتم النبیین سیدنا محمد بن عبداﷲ قامع الکفرۃ والمبتدعین وعلی الہ الطیبین الطاھرین واصحابہ البرزۃ الکرام المتقین امابعد فقد اطلعت علی ماتضمنہ ھذا الجواب المستطاب من الادلۃ الواضحۃ والبراھین الساطعۃ التی لاعذر لاحد بجہلھا کیف لا والکتاب و السنتۃ یحرمان صریحا وتلویحا الاشتراك مع اھل البدع فی امرمادینیا کان اودنیویا ونقل ماوردفی ھذا المعنی یطول شرحہ و الموفق یکفیہ سب خوبیاں الله تعالی کو جس نے اہلسنت کو توفیق بخشی کہ ائمہ مجتہدین کی پیروی کریں کہ وہ تاریکیوں کے چراغ اور امت کے راہنما ہیں اور درود وسلام سب نبیوں کے ختم کرنیوالے ہمارے سردار محمد بن عبدالله پر کہ کافروں اور بد مذہبوں کی بیخ کنی کرنے والے ہیں اوران کی آل طیب وطاہر اور ان کے اصحاب نیك و بزرگ وپرہیزگاروں پر بعد حمد و نعت میں مطلع ہوا ان دلائل ظاہرہ اور براہین روشن پر جن پر یہ جواب مشتمل ہے کہ وہ ایسے نہیں کہ کوئی ان کے نہ جاننے میں معذور رہ سکے کیوں نہ ہو قرآن وحدیث صراحۃ واشارۃ بد مذہب کی شراکت کو حرام بتاتے ہیں کسی معاملہ میں ہو دینی ہو خواہ دینوی اور جو اس بارہ میں وارد ہو اس نقل کرنا طویل شرح چاہتاہے اور جسے توفیق ملی اسے وہ کافی ہے
yahan aik image hai
مانقلہ مولانہ الامام الھمام فی الجواب ولامخذول لایکفیہ نقل الف کتاب منزلۃ من رب الارباب قال الجلال فی تفسیر الایۃ التی نقلھا مولانا حفظہ اﷲ وھی(لاترکنوا)تمیلوا(الی الذین ظلموا)بموادۃ اومداھنۃ اورضاباعمالھم(فتمسکم) تصیبکم (النار ومالکم من دون اﷲ)ای غیرہ(من) زائدۃ (اولیاء)یحفظونکم منہ(ثم لاتنصرون)تمنعون من عذابہ انتہی قال العلامۃ الصاوی فی حاشیۃ علی الجلالین(قولہ الی الذین ظلموا)ای بالکفر اوالمعاصی (قولہ بموادۃ)مصدر وادد کقاتل ای محبۃ(قولہ او مداھنۃ)ای مصانعۃ فالمداھنۃ بذل الذین لاصلاح الدنیا(قول او رضا باعمالھم)ای تزیینا لھم ولاعذر والاحتجاج بضرورۃ الدنیا فان اﷲ ھو الرزاق ذو القوۃ المین(قولہ فتمسکم النار)ای لان المرء یحشر مع من احب(قول یحفظونکم منہ)ای من عذاب النار انتھت عبارتہ رضی اﷲ عنہ اقول : قدتبین جلیا ان الایۃ الشریفۃ صریحا فی النھی عن محبۃ المبتدعین ومعاونتھم وتکثیر سوادھم و مشارکتھم فی امور الدین والدنیا جسے ہمارے مولی امام عالی ہمت نے نقل کیا اور جسے خدا نے بے مدد چھوڑا اس کے لئے خدا کی اتاری ہوئی ہزار کتاب کا نقل کردینا بھی کافی نہیں جس آیت کو مولانا نے نقل فرمایا ا س کی تفسیر میں امام جلال الدین فرماتے ہیں ظالموں کی طرف نہ جھکو کہ ان سے دوستی یا چکنی چپڑیں بات کرو یا ان کے اعمال پر راضی ہو کہ تمھیں آگ پہنچے گی اور خدا کے سوا تمھارا کوئی مدد گار نہیں کہ اس سے تمھیں بچائے پھر تمھاری مدد نہ ہوگی کہ اس کے عذاب سے روك دئے جاؤ انتہی علامہ صاوی جلالین کے حاشیہ میں لکھتے ہیں کہ ظالم سے مراد عام ہے کافر ہوں یا فاسق مداہنت کے معنی کار ستانی اور دین دے کر دینا سنوارنی ان کے اعمال پر راضی ہونا یعنی ان کے زینت بڑھانا اور ضرورت دیناکے ساتھ حجت لانا یہ عذر مسموع نہیں کہ الله ہی روزی دینے والا مضبوط وقت والاہے تمھیں آگ چھوئے گی اس لئے کہ آدمی اسی کے ساتھ ہے جس سے محبت رکھے
میں کہتاہوں کہ بد مذہبوں کی محبت اور ان کی اعانت اور ان کی جماعت بڑھانے اور ان کی دینی ودنیوی شرکت سے ممانعت میں یہ آیت شریفہ صریح ہے خواہ ان کی بدمذہبی کفر کی حد کو پہنچی ہو یا معصیت کو علاوہ اس کے ان میں وہ ہیں جن کی بد مذہبی کفر تك پہنچی ہوئی ہے جیسے نیچری وغیرہم اور وہ ہیں جن کی
میں کہتاہوں کہ بد مذہبوں کی محبت اور ان کی اعانت اور ان کی جماعت بڑھانے اور ان کی دینی ودنیوی شرکت سے ممانعت میں یہ آیت شریفہ صریح ہے خواہ ان کی بدمذہبی کفر کی حد کو پہنچی ہو یا معصیت کو علاوہ اس کے ان میں وہ ہیں جن کی بد مذہبی کفر تك پہنچی ہوئی ہے جیسے نیچری وغیرہم اور وہ ہیں جن کی
حوالہ / References
تفسیر جلالین تحت آیۃ ۱۱ / ۱۱۳ مطبع مجتبائی دہلی نصف اول ص۱۷۸
حاشیہ الصاوی علی الجلالین تحت آیۃ ۱۱ / ۱۱۳ المشہد الحسینی قم ایران ۲ / ۲۳۰
حاشیہ الصاوی علی الجلالین تحت آیۃ ۱۱ / ۱۱۳ المشہد الحسینی قم ایران ۲ / ۲۳۰
معا سواء کانت بدعھم بدع کفر اوعصیان علی ان فیھم من بدعتہ مکفرۃ کالنیشریۃ ونحوھم ومن بدعتہ مفسقۃ کالوھابیہ فیما یتعلق بغیر اصول الدین فالمسئول عنھم جامعون لبدع الکفر والفسق وعلی کل ھم من الذین ظلموا انفسھم وقد قال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم من مشی مع ظالم فقد اجرم رواہ الدیلمی وقال علیہ الصلوہ والسلام من مشی مع ظالم لیعینہ وھو یعلم انہ ظالم فقد خرج من الاسلام رواہ الطبرانی وبالجملۃ فالایات و الاحادیث و اقوال ائمۃ الدین وفقہاء المذہب الاربعۃ فی ھذا لمعنی یعسرحصرھا وفیما اجاب بہ مولانا المجیب کفایۃ لمن القی السمع وھو شھید واﷲ وحدہ المستعان بہ علی المبتدعۃ اولیاء الشیطان۔
قال بفمہ ونقلہ بقلمہ عبدہ المذنب احمد موسی مصری المنونی امام وخطیب المسجد الجامع بکلکتہ۔ بدمذہبی میں فسق ہے جیسے وہ وہابیہ جن کی وہابیہ عــــــــہ کا تعلق اصول دین کے ساتھ نہ ہو۔ تو جن کے بارے میں سوال ہے وہ جامع بدعت کفر وفسق ہیں اور ہر تقدیرپر وہ ان لوگوں میں ہیں جنھوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا اور بے شك نبی علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ جو ظالم کے ساتھ چلا اس نے جرم کیا اس حدیث کو دیلمی نے روایت کیا اور حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا جو ظالم کے ساتھ چلا کہ اس کی اعانت کرے اور جانتاہو کہ وہ ظالم ہے تو وہ السلام سے نکل گیا اس حدیث کو طبرانی نے روایت کیا حاصل کلام آیات واحادیث اور ائمہ دین اور چاروں مذہبوں کے فقہاء کے اقوال اس بارے میں اتنے ہیں کہ ان کا شمار مشکل ہے اور مولانا مجیب کے جواب میں کفایت ہے اس کے لئے جو کان لگائے اور دل سے حاضر ہو اور ایك الله سے مدد چاہی جاتی ہے بدمذہبوں پر کہ شیطان کے دوست ہیں اسے اپنے منہ سے کہا اور اپنے قلم سے لکھا اس کے بندہ گنہگار احمد موسی مصری منونی نے کہ مسجد جامع کلکتہ کا امام وخطیب ہے۔
عــــــــہ : رہے وہابیہ زمانہ کہ ضروریات دین کے منکر اور الله ورسول جل وعلا وصلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی جناب توہین کرنے والے ہیں و ہ قطعا کافرہیں جن کے بارے میں علماء حرمین شریفین نے بالاتفاق فرمایا :
من شك فی کفرہ وعذابہ فقدکفر ۔ ۱۲ مصحح۔ جس نے اس کے کفر وعذاب میں شك بھی کیا وہ کافر ہے ۱۲ مصحح (ت)
قال بفمہ ونقلہ بقلمہ عبدہ المذنب احمد موسی مصری المنونی امام وخطیب المسجد الجامع بکلکتہ۔ بدمذہبی میں فسق ہے جیسے وہ وہابیہ جن کی وہابیہ عــــــــہ کا تعلق اصول دین کے ساتھ نہ ہو۔ تو جن کے بارے میں سوال ہے وہ جامع بدعت کفر وفسق ہیں اور ہر تقدیرپر وہ ان لوگوں میں ہیں جنھوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا اور بے شك نبی علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ جو ظالم کے ساتھ چلا اس نے جرم کیا اس حدیث کو دیلمی نے روایت کیا اور حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا جو ظالم کے ساتھ چلا کہ اس کی اعانت کرے اور جانتاہو کہ وہ ظالم ہے تو وہ السلام سے نکل گیا اس حدیث کو طبرانی نے روایت کیا حاصل کلام آیات واحادیث اور ائمہ دین اور چاروں مذہبوں کے فقہاء کے اقوال اس بارے میں اتنے ہیں کہ ان کا شمار مشکل ہے اور مولانا مجیب کے جواب میں کفایت ہے اس کے لئے جو کان لگائے اور دل سے حاضر ہو اور ایك الله سے مدد چاہی جاتی ہے بدمذہبوں پر کہ شیطان کے دوست ہیں اسے اپنے منہ سے کہا اور اپنے قلم سے لکھا اس کے بندہ گنہگار احمد موسی مصری منونی نے کہ مسجد جامع کلکتہ کا امام وخطیب ہے۔
عــــــــہ : رہے وہابیہ زمانہ کہ ضروریات دین کے منکر اور الله ورسول جل وعلا وصلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی جناب توہین کرنے والے ہیں و ہ قطعا کافرہیں جن کے بارے میں علماء حرمین شریفین نے بالاتفاق فرمایا :
من شك فی کفرہ وعذابہ فقدکفر ۔ ۱۲ مصحح۔ جس نے اس کے کفر وعذاب میں شك بھی کیا وہ کافر ہے ۱۲ مصحح (ت)
حوالہ / References
کنز العمال بحوالہ الدیلمی عن معاذ حدیث ۱۴۹۵۳ موسستہ الرسالۃ بیروت ۶ / ۸۵
المعجم الکبیر حدیث ۶۱۹ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۱ / ۲۲۷
حسام الحرمین علی منحر الکفر والمین مکتبہ نبویہ لاہور ص۱۳
المعجم الکبیر حدیث ۶۱۹ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۱ / ۲۲۷
حسام الحرمین علی منحر الکفر والمین مکتبہ نبویہ لاہور ص۱۳
(۲۵)الجواب صحیح
محمد لعل خاں عفی عنہ نائب صدر انجمن اصلاح عقائد ومدرسہ عثمانیہ اہلسنت وجماعت نمبر۲۲ زکریا اسٹیٹ کلکتہ
(۲۶)الجواب موافق بالصواب
ابوابراہیم محمد اسمعیل بہاری مدرس اول مدرسہ فیض عام اہلسنت وجماعت سیالدہ کلکتہ
(۲۷)اقول وباﷲ التوفیق ماتقرر ھکذا المجالس بین یدی سیدالانیباء والمرسلین واصحابہ واولیائہ الکاملین والعلماء المحققین والمدققین فی حین من الان والاوان الحسرۃ فیہ ان الرجال فھموا ان فیہ اتساع الاسلام والامرلیس ھکذا وکلہ من فتورعقلھم و نقص ایمانھم واﷲ الموفق بالصواب والیہ المرجع والماب۔
حررہ سید علی حسن بہاری غفرلہ الباری
(۲۸)الفتاوی التی صدرت من العلماء الکرام لاریب فیہ الشرکۃ فی ھذا المجلس بون من طرق رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لان لیس فیہ رائحۃ الاسلام ولوکان فی بادی النظر فارجون من اﷲ تعالی ان یبعدنا من الشین الفطن ویحفظنا من البلاء والمحن ویثبتنا ویمیتنا علی ملۃ رسولہ الکریم والہ واصحابہ العظیم فقط
کتبــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ
الراجی الطریان فیضان الباری
حکیم سید محمد راحت حسین بہاری عفی عنہ مہتمم مدرسہ فیض عام اہلسنت وجماعت سیالدہ کلکتہ میں کہتاہوں اور خداہی سے توفیق ہے کہ ایسی مجلس کا تقرر نہ حضور سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے زمانہ میں ہوانہ صحابہ واولیاء علماء محققین ومدققین کے زمانوں میں افسوس کی بات یہ ہے کہ لوگوں سمجھ رکھا ہے کہ اسلام کی اس میں اشاعت ہے حالانکہ یہ بات نہیں یہ سب ان کی عقلوں کا فتور اور ایمان کا نقصان ہے اور الله صواب کی توفیق دینے والا ہے اوراسی کی طرف مرجع وبازگشت ہے۔
حررہ سید علی حسن بہاری غفرلہ الباری
جو فتوے علمائے کرام کی جانب سے صادر ہوئے ان میں کچھ شبہ نہیں۔ اس مجلس میں شرکت رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے طریقہ سے دوری ہے کہ اس میں السلام کی بوتك نہیں اگر چہ بظاہر ہو میں الله تعالی سے امید کرتاہوں کہ ہم کو برائیوں اور فتنوں سے دور رکھے اور بلا اور محنتوں سے محفوظ رکھے اور اپنے رسول کریم اور ان کی آل واصحاب بزرگ کی ملت پر ہمیں ثابت رکھے اور اسی پر ہمیں موت دے۔
yahan aik image hai
محمد لعل خاں عفی عنہ نائب صدر انجمن اصلاح عقائد ومدرسہ عثمانیہ اہلسنت وجماعت نمبر۲۲ زکریا اسٹیٹ کلکتہ
(۲۶)الجواب موافق بالصواب
ابوابراہیم محمد اسمعیل بہاری مدرس اول مدرسہ فیض عام اہلسنت وجماعت سیالدہ کلکتہ
(۲۷)اقول وباﷲ التوفیق ماتقرر ھکذا المجالس بین یدی سیدالانیباء والمرسلین واصحابہ واولیائہ الکاملین والعلماء المحققین والمدققین فی حین من الان والاوان الحسرۃ فیہ ان الرجال فھموا ان فیہ اتساع الاسلام والامرلیس ھکذا وکلہ من فتورعقلھم و نقص ایمانھم واﷲ الموفق بالصواب والیہ المرجع والماب۔
حررہ سید علی حسن بہاری غفرلہ الباری
(۲۸)الفتاوی التی صدرت من العلماء الکرام لاریب فیہ الشرکۃ فی ھذا المجلس بون من طرق رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لان لیس فیہ رائحۃ الاسلام ولوکان فی بادی النظر فارجون من اﷲ تعالی ان یبعدنا من الشین الفطن ویحفظنا من البلاء والمحن ویثبتنا ویمیتنا علی ملۃ رسولہ الکریم والہ واصحابہ العظیم فقط
کتبــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ
الراجی الطریان فیضان الباری
حکیم سید محمد راحت حسین بہاری عفی عنہ مہتمم مدرسہ فیض عام اہلسنت وجماعت سیالدہ کلکتہ میں کہتاہوں اور خداہی سے توفیق ہے کہ ایسی مجلس کا تقرر نہ حضور سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے زمانہ میں ہوانہ صحابہ واولیاء علماء محققین ومدققین کے زمانوں میں افسوس کی بات یہ ہے کہ لوگوں سمجھ رکھا ہے کہ اسلام کی اس میں اشاعت ہے حالانکہ یہ بات نہیں یہ سب ان کی عقلوں کا فتور اور ایمان کا نقصان ہے اور الله صواب کی توفیق دینے والا ہے اوراسی کی طرف مرجع وبازگشت ہے۔
حررہ سید علی حسن بہاری غفرلہ الباری
جو فتوے علمائے کرام کی جانب سے صادر ہوئے ان میں کچھ شبہ نہیں۔ اس مجلس میں شرکت رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے طریقہ سے دوری ہے کہ اس میں السلام کی بوتك نہیں اگر چہ بظاہر ہو میں الله تعالی سے امید کرتاہوں کہ ہم کو برائیوں اور فتنوں سے دور رکھے اور بلا اور محنتوں سے محفوظ رکھے اور اپنے رسول کریم اور ان کی آل واصحاب بزرگ کی ملت پر ہمیں ثابت رکھے اور اسی پر ہمیں موت دے۔
yahan aik image hai
(۲۹)بسم الله الرحمن الرحیم*حامدا ومصلیا* “ قل ان کنتم تحبون اللہ فاتبعونی یحببکم اللہ “ (اے محبوب! تم فرمادو کہ اگر تم الله کودوست رکھتے ہو تو میرے فرمانبردار ہوجاؤ الله تمھیں دوست رکھے گا۔ ت) خلاصہ کلام اگر محبوب بننا ہو تو اتباع شریعت سےکام لو اور ایسےخلاف مجالس سےپرہیز کرو کہ جس میں شرکت بھی منع ہے تو کجا امدادمالی الله الہادی ان لوگوں کی باتوں اور لسانی سے دام فریب میں مت آؤ جیساکہ فتوے میں تحریر ہے وہی درست ہے مولی تعالی عمل کی توفیق دے اس فتوے پرم کچھ اور حوالہ دینا اپنی کم لیاقتی کا ثبوت ہے۔ ذلك کذللك انی مصدق لذلك
حررہ مورضعیف فخر الحسن قادری غفرلہ مدرس عربی مدرسہ عثمانیہ کلکتہ
(۳۰)التائیدو والشرکتہ فی مثل ھذہ المجالس بل المیلان الیھا مالیا کان اوبدنیا بدلیل الکتاب واسنۃ وفقد امام الاماۃ ممتنع ۱۲۔
الراقم فقیر ابو نعیم محمد ابراہیم عفی عنہ سلہٹی مدرس اول مدرسہ عثمانیہ کلکتہ۔
(۳۱)قداصاب مااجاب
مولنا العلام مجدد مائتہ الحاضرۃ مصباح الدین احمد عفاعنہ۔
مٹیا برج کلکتہ۔ ایس مجلسوں کی تائید وشرکت بلکہ میلان خواہ مالی ہو یا بدنی بدلیل قرآن وحدیث وفقہ امام اعظم حرام ہے ۱۲
الراقم فقیرابونعیم محمد ابراہیم عفی عنہ سلہٹی مدرس اول مدرسہ عثمانیہ کلکتہ
(۳۲)الجواب صحیح والمجیب میب
محمد فضل الرحمن غفرلہ المنان مٹیابرج کلکتہ
(۳۳)البتہ بد عقیدے کے لوگوں سے پرہیز واجب ہے۔
محمد اسمعیل عفنی عنہ مدرس مدرسہ عالیہ کلکتہ
تصدیقات علمائے جبل پور
(۳۴)بسمہ سبحنہ وتعالی عزوجل اعلیحضرت امام اہل سنت مجدد امائتہ حاضرہ بحرالعلوم علامہ محقق بریلوی سلمہ اﷲ القوی کا یہ مبارك فتوی جو گونڈل کاٹھیاوار سے ہمارے پاس بغرض تصدیق بھیجا گیاہے اور اس وقت ہمارے پیش نظر ہے مسئلہ مستفسرہ میں یہ مقدس فتوی اعلی نصوص شریعت وفصوص حقیقت کا جامع سراپا حجت قاہرہ اس کا ہر جملہ ہر فقرہ روشن دلیل وبرہان حق وصداقت کا مہر درخشان ہم ایسوں کی طرف مراجعات اور ہمارے مزید افادات سے مستغنی ہے اور اس کے قبول وتسلیم میں وہی شخص تامل کرسکے گا
حررہ مورضعیف فخر الحسن قادری غفرلہ مدرس عربی مدرسہ عثمانیہ کلکتہ
(۳۰)التائیدو والشرکتہ فی مثل ھذہ المجالس بل المیلان الیھا مالیا کان اوبدنیا بدلیل الکتاب واسنۃ وفقد امام الاماۃ ممتنع ۱۲۔
الراقم فقیر ابو نعیم محمد ابراہیم عفی عنہ سلہٹی مدرس اول مدرسہ عثمانیہ کلکتہ۔
(۳۱)قداصاب مااجاب
مولنا العلام مجدد مائتہ الحاضرۃ مصباح الدین احمد عفاعنہ۔
مٹیا برج کلکتہ۔ ایس مجلسوں کی تائید وشرکت بلکہ میلان خواہ مالی ہو یا بدنی بدلیل قرآن وحدیث وفقہ امام اعظم حرام ہے ۱۲
الراقم فقیرابونعیم محمد ابراہیم عفی عنہ سلہٹی مدرس اول مدرسہ عثمانیہ کلکتہ
(۳۲)الجواب صحیح والمجیب میب
محمد فضل الرحمن غفرلہ المنان مٹیابرج کلکتہ
(۳۳)البتہ بد عقیدے کے لوگوں سے پرہیز واجب ہے۔
محمد اسمعیل عفنی عنہ مدرس مدرسہ عالیہ کلکتہ
تصدیقات علمائے جبل پور
(۳۴)بسمہ سبحنہ وتعالی عزوجل اعلیحضرت امام اہل سنت مجدد امائتہ حاضرہ بحرالعلوم علامہ محقق بریلوی سلمہ اﷲ القوی کا یہ مبارك فتوی جو گونڈل کاٹھیاوار سے ہمارے پاس بغرض تصدیق بھیجا گیاہے اور اس وقت ہمارے پیش نظر ہے مسئلہ مستفسرہ میں یہ مقدس فتوی اعلی نصوص شریعت وفصوص حقیقت کا جامع سراپا حجت قاہرہ اس کا ہر جملہ ہر فقرہ روشن دلیل وبرہان حق وصداقت کا مہر درخشان ہم ایسوں کی طرف مراجعات اور ہمارے مزید افادات سے مستغنی ہے اور اس کے قبول وتسلیم میں وہی شخص تامل کرسکے گا
حوالہ / References
القرآن الکریم ۳ /۳۲
جو دین وایمان سے بے سروکار حق وہدایت وسبیل مومنین سے بیزار ندوہ مخذولہ کا فضلہ خوار وہابیت ونیچریت سے ہمکنار اشرار اہل بدع سے ہو میرے نزدیك اس نورانی فتوے سے ہم ایسوں سے اضافہ چاہنا یا بضمن تصدیق تحریر کلمات توثیق وتائید کا خواستگار ہونا نصف النہار کے چمکتے ہوئے آفتاب کے آگے چراغ رکھواناہے ہم اس وقت اپنے بعض محبان حضرات اہل سنت کی مخلصانہ استدعاپر مجبور ہر کر تعمیلا للحکم ا س محترم فتوے کی تصدیق میں صرف اس قدر عرض کردینا کافی سمجھتے ہیں۔
ان ھذا الجواب ھو الصراط المستقیم وسبیل الشرع القویم والحمد اﷲ الرب الرحیم وعلی حبیبہ ونبیہ الکریم والہ وصحبہ افضل الصلوۃ والتسلیم واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم وعلمہ عزمجدہ اتم واحکم۔
کتبــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ
الفقیر عبد الباقی
محمــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــد
برھان الحق الرضوی الجبلفوری غفرلہ
(۳۵)ان ھذا لھوالحق المبین ومن اعتصم بہ فقد ھدی الی الصراط المستقیم المستبین قلما یوصل الیہ فضلا عن المزید علیہ فنسئل اﷲ تعالی ان یثبتنا علی الکتاب والسنۃ وان یمیتنا علی الایمان ویدخلنا بہ الجنۃ امین والحمد اﷲ رب العالمین وصلی اﷲ تعالی علی حبیہ سید المرسلین محمد والہ واصحابہ اجمعین۔
کتبہ الراجی عفوربہ عبدالسلام
السنی الحنفی القادری الرضوی الجبلفوری غفرلہ
کہ یہ جواب ہی سیدھا راستہ اور شریعت کا مضبوط راستہ ہے۔ (ت)
بیشك یہی حق مبین ہے اور جس نے ا س کے ساتھ تمسك کیا اسے سیدھے راستہ ظاہر کی طرف ہدایت ہوئی اس تك پہنچنا ہی کم ہے اس پر زیادتی تو کجا الله تعالی سے ہم سوال کرتے ہیں کہ کتاب وسنت پر ہمیں ثابت قدم رکھے اورایمان پر موت دے اور جنت میں داخل کرے آمین سب خوبیاں خدا کے لئے جو پروردگار عالم ہے اور الله تعالی درود بھیجے اپنے حبیب رسولوں کے سردار محمد اور ان کی آل واصحاب سب پر۔
yahan aik image hai
ان ھذا الجواب ھو الصراط المستقیم وسبیل الشرع القویم والحمد اﷲ الرب الرحیم وعلی حبیبہ ونبیہ الکریم والہ وصحبہ افضل الصلوۃ والتسلیم واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم وعلمہ عزمجدہ اتم واحکم۔
کتبــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ
الفقیر عبد الباقی
محمــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــد
برھان الحق الرضوی الجبلفوری غفرلہ
(۳۵)ان ھذا لھوالحق المبین ومن اعتصم بہ فقد ھدی الی الصراط المستقیم المستبین قلما یوصل الیہ فضلا عن المزید علیہ فنسئل اﷲ تعالی ان یثبتنا علی الکتاب والسنۃ وان یمیتنا علی الایمان ویدخلنا بہ الجنۃ امین والحمد اﷲ رب العالمین وصلی اﷲ تعالی علی حبیہ سید المرسلین محمد والہ واصحابہ اجمعین۔
کتبہ الراجی عفوربہ عبدالسلام
السنی الحنفی القادری الرضوی الجبلفوری غفرلہ
کہ یہ جواب ہی سیدھا راستہ اور شریعت کا مضبوط راستہ ہے۔ (ت)
بیشك یہی حق مبین ہے اور جس نے ا س کے ساتھ تمسك کیا اسے سیدھے راستہ ظاہر کی طرف ہدایت ہوئی اس تك پہنچنا ہی کم ہے اس پر زیادتی تو کجا الله تعالی سے ہم سوال کرتے ہیں کہ کتاب وسنت پر ہمیں ثابت قدم رکھے اورایمان پر موت دے اور جنت میں داخل کرے آمین سب خوبیاں خدا کے لئے جو پروردگار عالم ہے اور الله تعالی درود بھیجے اپنے حبیب رسولوں کے سردار محمد اور ان کی آل واصحاب سب پر۔
yahan aik image hai
تصدیقات علمائے بہار
(۳۶)بسم الله الرحمن الرحیم الله رب محمد صلی علیہ وسلما فقیر بارگارہ رضوی عبید المصطفی محمد ظفرالدین بہاری میجروی غفرلہ وحقق املہ مدرس اول مدرسہ عالیہ سہسرام ناصر الحکام اس مبارك سراپا ہدایت فتوے کی تائید وتصدیق کرتے ہوئے(نہ معاذالله اس خیال سے کہ اپنی تصدیق سے اس فتوے کو زینت دوں بلکہ حسب ارشاد احبا اس نیت سے کہ اپنی تصدیق کی اس فتوے سے عزت افزائی کروں)عرض گزار ہے کہ بلاشبہ اس قسم کی انجمنیں جس طرح دینی مضرتوں کی جالب گناہ کی موجب ہیں یونہی دینوی حیثیت سے بھی اصلا مفید نہیں سوااس کے کہ غریب مسلمانوں کا بہت سے روپیہ صرف ہو نے پر تین دن کی دل لگی رہے نئی نئی صورتیں دیکھنے میں آئیں کچھ لکچر اور تقریر کا لطف رہے الله الله خیر صلا بہت بڑا کار نمایہ اس قسم کی انجمنوں کا ریزولیوشن(resolution)پاس کرنا ہے جب روداد دیکھئے یہی لکھا ہے یہ پاس ہوا وہ پاس ہوا مگر ان عقلمندوں کو اس کی خبر نہیں کہ ا س زمانہ میں آدمی پاس ہوکر تو کچھ کرنہیں سکتاریزولیوشن پاس ہوکر کیا کرلے گا۔ کہنے سے کام نہیں چلتا کرنے کی ضرورت ہے سیدنا غوث اعظم رضی الله تعالی عنہ فرماتے ہیں :
الطیور تصحیح ولاتفعل والبازی یفعل ولایصیح ۔ چڑیاں چیں چیں کرتی ہیں اور کچھ کرتی نہیں اورباز کرتا ہے چیں چیں نہیں کرتا ہے
اگر واقعی قومی ترقی مقصود ہے تو یہ تقریرات اور ریزولیوشن ہر گز کچھ فائدہ نہیں پہنچاسکتے کام کرنے کی ضرورت ہے اور اس کاا سان طریقہ یہ ہے کہ اس وقت زیادہ نہیں تو مسلمان صرف انھیں چار باتوں پر کاربند ہوجائیں جو رسالہ مبارکہ “ تدبیر صلاح ونجات وفلاح “ میں مذکور ہیں پھر دیکھئے قوم کی کیسی ترقی ہوتی ہے اور ان کا آفتاب کس طرح بالائے افق ترقی بکمال اوج تاباں ہوتاہے اور اگر غور کیاجائے تو ان تمام ریزولیوشنوں میں بیکار امور اور رونا دھونا فلاں کے مرنے پر رنج فلاں کی موت پر سوگ اور فلاں کے انتقال پر ملال اور فلاں کے عطیہ پر واہ واہ اور فلاں کو فلاں خطاب ملنے پر اظہار مسرت سے قطع نظر کرکے سب کا لب لباب شاہراہ پر چلنے والوں کے لئے دن میں چراغ جلانا اور روز روشن میں روشنی کرنے کی ہدایت کرنا ہو تاہے یعنی قوم ترقی میں سب سے پیچھے ہے اس لئے آگے بڑھو یعنی انگریزی پڑھو حالانکہ زمانہ کی گردش سے انگریزی کی طرف لوگوں کا میلان طبعی وعملی اس حد تك پہنچا ہواہے کہ اگر ان کو دھکے دے کر بھی باہرت کیا جائے تو ہر گ ٹلنے والے نہیں پڑھنے والوں کے لئے باوجود یکہ عربی مذہبی تعلیم
(۳۶)بسم الله الرحمن الرحیم الله رب محمد صلی علیہ وسلما فقیر بارگارہ رضوی عبید المصطفی محمد ظفرالدین بہاری میجروی غفرلہ وحقق املہ مدرس اول مدرسہ عالیہ سہسرام ناصر الحکام اس مبارك سراپا ہدایت فتوے کی تائید وتصدیق کرتے ہوئے(نہ معاذالله اس خیال سے کہ اپنی تصدیق سے اس فتوے کو زینت دوں بلکہ حسب ارشاد احبا اس نیت سے کہ اپنی تصدیق کی اس فتوے سے عزت افزائی کروں)عرض گزار ہے کہ بلاشبہ اس قسم کی انجمنیں جس طرح دینی مضرتوں کی جالب گناہ کی موجب ہیں یونہی دینوی حیثیت سے بھی اصلا مفید نہیں سوااس کے کہ غریب مسلمانوں کا بہت سے روپیہ صرف ہو نے پر تین دن کی دل لگی رہے نئی نئی صورتیں دیکھنے میں آئیں کچھ لکچر اور تقریر کا لطف رہے الله الله خیر صلا بہت بڑا کار نمایہ اس قسم کی انجمنوں کا ریزولیوشن(resolution)پاس کرنا ہے جب روداد دیکھئے یہی لکھا ہے یہ پاس ہوا وہ پاس ہوا مگر ان عقلمندوں کو اس کی خبر نہیں کہ ا س زمانہ میں آدمی پاس ہوکر تو کچھ کرنہیں سکتاریزولیوشن پاس ہوکر کیا کرلے گا۔ کہنے سے کام نہیں چلتا کرنے کی ضرورت ہے سیدنا غوث اعظم رضی الله تعالی عنہ فرماتے ہیں :
الطیور تصحیح ولاتفعل والبازی یفعل ولایصیح ۔ چڑیاں چیں چیں کرتی ہیں اور کچھ کرتی نہیں اورباز کرتا ہے چیں چیں نہیں کرتا ہے
اگر واقعی قومی ترقی مقصود ہے تو یہ تقریرات اور ریزولیوشن ہر گز کچھ فائدہ نہیں پہنچاسکتے کام کرنے کی ضرورت ہے اور اس کاا سان طریقہ یہ ہے کہ اس وقت زیادہ نہیں تو مسلمان صرف انھیں چار باتوں پر کاربند ہوجائیں جو رسالہ مبارکہ “ تدبیر صلاح ونجات وفلاح “ میں مذکور ہیں پھر دیکھئے قوم کی کیسی ترقی ہوتی ہے اور ان کا آفتاب کس طرح بالائے افق ترقی بکمال اوج تاباں ہوتاہے اور اگر غور کیاجائے تو ان تمام ریزولیوشنوں میں بیکار امور اور رونا دھونا فلاں کے مرنے پر رنج فلاں کی موت پر سوگ اور فلاں کے انتقال پر ملال اور فلاں کے عطیہ پر واہ واہ اور فلاں کو فلاں خطاب ملنے پر اظہار مسرت سے قطع نظر کرکے سب کا لب لباب شاہراہ پر چلنے والوں کے لئے دن میں چراغ جلانا اور روز روشن میں روشنی کرنے کی ہدایت کرنا ہو تاہے یعنی قوم ترقی میں سب سے پیچھے ہے اس لئے آگے بڑھو یعنی انگریزی پڑھو حالانکہ زمانہ کی گردش سے انگریزی کی طرف لوگوں کا میلان طبعی وعملی اس حد تك پہنچا ہواہے کہ اگر ان کو دھکے دے کر بھی باہرت کیا جائے تو ہر گ ٹلنے والے نہیں پڑھنے والوں کے لئے باوجود یکہ عربی مذہبی تعلیم
میں ہرطرح کی آسانیاں اور کار آمد نتائج ہیں مگر پھر بھی سیکڑے میں پندرہ کو ا س کی طرف توجہ نہیں اور باوجود سیکڑوں موانعات ہزارہا وقت وزحمت کے انگریزی پر لوگ گرے پڑے ہیں پھر ایسی حالت میں خاص اس غرض کے لئے انجمن قائم کرنا دینوی حیثیت سے بھی تحصیل حاصل اور تضییع اموال ومحاصل کے سوا اصلا مفید نہیں۔
اللھم وفقنا لما تحب وترضی وصلی اﷲ تعالی علی المصطفی المرتضی وعلی الہ وصحبہ رضی اﷲ تعالی عنہم باحمد رضا۔ یاالله احمد رضا کے طفیل ہمیں اپنی پسندیدہ رضا والی چیز کی توفیق عطافرما اور درود ہو مصطفی مرتضی اور آپ کی آل و اصحاب رضی الله تعالی عنہم سب پر(ت)
(۳۷)لاریب فیہ فلیتنا فس المتنافسون وانا عبدہ محمد ابوالحسن السھسرامی مدرس دوم مدرسہ عالیہ المرقوم ۷فروری ۱۹۱۷ء
اس میں شك نہیں کہ رغبت کرنیوالوں کو اس کی رغبت کرنا چاہئے عبدہ محمد ابوالحسن سہسرامی
(۳۸)ابوصالح ظہیرالدین احمد فریدی مورخہ ۷ فروری ۱۹۱۷ء روز چہارشنبہ(انچارج مدرس دوم مدرسہ عالیہ)
(۴۰)قداصاب من اجاب
کمترین فہیم الدین عفی عنہ مدرس پنجم عربی
(۴۲)الجواب صحیح
سید عبدالرشید مدرس مدرسہ شمس الہدی بانکی پور
(۴۳)قد اصاب فی مااجاب مولی العلماء امام الفقہاء مجدد المائۃ الحاضرۃ الفاضل البریلوی متع اﷲ المسلمین بطول بقائہ فی ھذہ المسئلۃ بان التائید والشرکۃ و (۳۹)المجیب مصیب
فرخندہ علی عفی عنہ مدرس چہارم مدرسہ سہسرام
(۴۱)لقد اجاب المجیب واﷲ تعالی اعلم بالصواب
محمد یحیی مدرس مدرسہ عالیہ سہسرام المرقوم فروری ۱۹۱۷ء
عالموں کے پیشوا فقہاء کے امام اس صدی کے مجدد فاضل بریلوی نے الله تعالی ان کو بقائے دراز سے مسلمانوں کو بہرہ یاب کرے اس مسئلہ میں جو جواب دیا ٹھیك دیا کہ اس جیسی بری مجلس کی تائید اور شرکت اور اس میں
yahan image hai
اللھم وفقنا لما تحب وترضی وصلی اﷲ تعالی علی المصطفی المرتضی وعلی الہ وصحبہ رضی اﷲ تعالی عنہم باحمد رضا۔ یاالله احمد رضا کے طفیل ہمیں اپنی پسندیدہ رضا والی چیز کی توفیق عطافرما اور درود ہو مصطفی مرتضی اور آپ کی آل و اصحاب رضی الله تعالی عنہم سب پر(ت)
(۳۷)لاریب فیہ فلیتنا فس المتنافسون وانا عبدہ محمد ابوالحسن السھسرامی مدرس دوم مدرسہ عالیہ المرقوم ۷فروری ۱۹۱۷ء
اس میں شك نہیں کہ رغبت کرنیوالوں کو اس کی رغبت کرنا چاہئے عبدہ محمد ابوالحسن سہسرامی
(۳۸)ابوصالح ظہیرالدین احمد فریدی مورخہ ۷ فروری ۱۹۱۷ء روز چہارشنبہ(انچارج مدرس دوم مدرسہ عالیہ)
(۴۰)قداصاب من اجاب
کمترین فہیم الدین عفی عنہ مدرس پنجم عربی
(۴۲)الجواب صحیح
سید عبدالرشید مدرس مدرسہ شمس الہدی بانکی پور
(۴۳)قد اصاب فی مااجاب مولی العلماء امام الفقہاء مجدد المائۃ الحاضرۃ الفاضل البریلوی متع اﷲ المسلمین بطول بقائہ فی ھذہ المسئلۃ بان التائید والشرکۃ و (۳۹)المجیب مصیب
فرخندہ علی عفی عنہ مدرس چہارم مدرسہ سہسرام
(۴۱)لقد اجاب المجیب واﷲ تعالی اعلم بالصواب
محمد یحیی مدرس مدرسہ عالیہ سہسرام المرقوم فروری ۱۹۱۷ء
عالموں کے پیشوا فقہاء کے امام اس صدی کے مجدد فاضل بریلوی نے الله تعالی ان کو بقائے دراز سے مسلمانوں کو بہرہ یاب کرے اس مسئلہ میں جو جواب دیا ٹھیك دیا کہ اس جیسی بری مجلس کی تائید اور شرکت اور اس میں
yahan image hai
الحضور فی مثل ھذا المجلس القبیحۃ حرام و المعاونۃ اثم والمقاربۃ فیھا سم قاتل للایمان فلیتنا فس المتنافسون وفقنا اﷲ تعالی ایانا وجمیع المومنین للمفارقہ والاجتناب عن مثل ھذا المجلس والتائید والشرکۃ فیہ۔
حررۃ فقیر الی سید المرسلین ذی المنن المدعوبہ سید محمد غیاث الدین حسن الحنفی السنی الرجھتی البہاری عفی عنہ الباری حاضری حرام ہے اور اس کی اعانت گناہ اورا س میں قریب ہونا ایمان کے لئے زہر قاتل رغبت کرنے والوں کو چاہئے کہ اس کی رغبت کریں الله تعالی ہمیں اور سب مسلمانوں کو توفیق دے کہ اس سے جدا رہیں اور ایسی مجلس سے اور اس کی تائید وشرکت سے بچیں۔
(۴۴)اصاب من اجاب فقیر محمد رحیم بخش حنفی قادری رضوی مدرس اول مدرسہ فیض الغرباء آگرہ
تصدیقات علمائے کان پور
(۴۵)الجواب صحیح وصواب والمجیب نجیح ومثاب نمقہ الفقیر الی اﷲ تعالی عبیداﷲ عفا عنہ ماجناہ المدرس بالمدرسۃ فیض احمدی فی الکانفور۔
(۴۶)اصاب من اجاب واﷲ سبحنہ اعلم بالصواب حقیق بان یکتب بالذھب علی القرطاس۔
نمقہ محمد عبدالرزاق عفی عنہ المدرس مدرسہ امداد العلوم فی الکانفور
جواب دینے والے نے درست فرمایا والله تعالی اعلم بالصواب یہ جواب اس قابل ہے کہ ا س کو کاغذ پر سونے سے لکھا جائے(ت)
(۴۷)الجواب صحیح والمجیب نجیح حررہ الفقیر الی اﷲ المنان المدعو محمد سلیمان الحنفی السنی النقشبندی المجددی الافاقی فضل رحمانی المدرس بالمدرسۃ درالعلوم فی الکانفور غفرلہ والمشائخہ الغفور بحرمۃ صاحب التاج والمعراج واللواء العقود فی المقام المحمود علیہ والہ واصحابہ الصلوۃ والسلام من ملك المعبود۔
yahna images hain
حررۃ فقیر الی سید المرسلین ذی المنن المدعوبہ سید محمد غیاث الدین حسن الحنفی السنی الرجھتی البہاری عفی عنہ الباری حاضری حرام ہے اور اس کی اعانت گناہ اورا س میں قریب ہونا ایمان کے لئے زہر قاتل رغبت کرنے والوں کو چاہئے کہ اس کی رغبت کریں الله تعالی ہمیں اور سب مسلمانوں کو توفیق دے کہ اس سے جدا رہیں اور ایسی مجلس سے اور اس کی تائید وشرکت سے بچیں۔
(۴۴)اصاب من اجاب فقیر محمد رحیم بخش حنفی قادری رضوی مدرس اول مدرسہ فیض الغرباء آگرہ
تصدیقات علمائے کان پور
(۴۵)الجواب صحیح وصواب والمجیب نجیح ومثاب نمقہ الفقیر الی اﷲ تعالی عبیداﷲ عفا عنہ ماجناہ المدرس بالمدرسۃ فیض احمدی فی الکانفور۔
(۴۶)اصاب من اجاب واﷲ سبحنہ اعلم بالصواب حقیق بان یکتب بالذھب علی القرطاس۔
نمقہ محمد عبدالرزاق عفی عنہ المدرس مدرسہ امداد العلوم فی الکانفور
جواب دینے والے نے درست فرمایا والله تعالی اعلم بالصواب یہ جواب اس قابل ہے کہ ا س کو کاغذ پر سونے سے لکھا جائے(ت)
(۴۷)الجواب صحیح والمجیب نجیح حررہ الفقیر الی اﷲ المنان المدعو محمد سلیمان الحنفی السنی النقشبندی المجددی الافاقی فضل رحمانی المدرس بالمدرسۃ درالعلوم فی الکانفور غفرلہ والمشائخہ الغفور بحرمۃ صاحب التاج والمعراج واللواء العقود فی المقام المحمود علیہ والہ واصحابہ الصلوۃ والسلام من ملك المعبود۔
yahna images hain
تصدیقات علمائے سندھ حیدر اباد
(۴۹)فاضل مجیب نے جوتحریر فرمایاہے وہ صحیح اور حق ہے واقعی اس قسم کی مجالس اور جولوگ اہل بدعت وہوا سے ہیں ان سے دور رہنا ضرورچاہئے اس واسطے کہ ان کی ملاقات اور ان کی مجالس میں جانا علامت ضعف ا یمان اور آئندہ کومنجر طرف الحاد کے ہے۔ نعوذ باﷲ من ذلک اللھم احفظنا منھم بجاہ نبیك المصطفی ورسولك المرتضی امین یا رب العالمین۔
تصدیقات علمائے محمود اباد ضلع سیتاپور
(۵۰)بسم الله الرحمن الرحیم الحمد ﷲ وحدہ والصلوۃ والسلام علی من لانبی بعدہ اما بعد بیشك ایسی مجلس مقرر کرنا جہنم خریدنا اورسخت حرام وناروا ہے۔ مسلمان کی ترقی ہرگز اس میں نہیں ایك صحیح واقعہ پیش کرتاہوں وہ یہ کہ امیرالمومنین عمر فاروق اعظم رضی الله تعالی عنہ نے حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو دیکھا کہ حضور چٹائی پرآرام فرماتے ہیں کہ اس کے نشان بدن اقدس پر ظاہرہو رہے ہیں امیر المومنین کو بے اختیار رونا آگیا عرض کی : یا رسول اللہ! قیصر وکسری کا فران مجوس ونصاری اس ناز ونعمت میں اور حضور الله کے رسول ا س تکلیف ومحنت میں فرمایا : اے عمر! کیا تو راضی نہیں کہ ان کے لئے دینا ہو اور ہمارے لے آخرت خود امیر المومنین فاروق اعظم باوصف فتوحات عظیم کے جب بیت المقدس تشریف لے گئے ہیں کہ وہاں کے پادریوں نے آپ کو دیکھنے کے لئے بلایا تھا حالت یہ ہے کہ پیش دشمنان اونٹ پر اور غلام سوار اور جناب کے دست اقدس میں اونٹ کا مہار بدن مبارك پر چمڑے کا کرتا جس میں متعدد سترہ پیوند اگر ایسی مجلس کے لوگ جو درج سوال ہیں اور جان ومال سے انجمن ظلم میں شرکت کو تیار ہیں حضرات صحابہ محمد رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو دیکھتے کس کس طرح ہنستے اور احمق سمجھتے بلکہ دل میں تو اب بھی کہتے ہوں گے کہ وہ ریگستانی جفاکش ناز ونعمت کے مزے کیا جانیں یہ لطف عجیب اور نظم وترتیب وآراستگی وتہذیب کچھ دانا یان یورپ ہی کو نصیب ان خیالات فاسدہ کے دل میں نہ آنے کے لئے تو ہمارے سلطان ہفت کشور شافع روز محشر صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا ہے لا تجالسوھم الخ ان کے پاس نہ بیٹھو ان سے دور بھاگو انھیں اپنے سے دور رکھو کہیں وہ تمھیں
(۴۹)فاضل مجیب نے جوتحریر فرمایاہے وہ صحیح اور حق ہے واقعی اس قسم کی مجالس اور جولوگ اہل بدعت وہوا سے ہیں ان سے دور رہنا ضرورچاہئے اس واسطے کہ ان کی ملاقات اور ان کی مجالس میں جانا علامت ضعف ا یمان اور آئندہ کومنجر طرف الحاد کے ہے۔ نعوذ باﷲ من ذلک اللھم احفظنا منھم بجاہ نبیك المصطفی ورسولك المرتضی امین یا رب العالمین۔
تصدیقات علمائے محمود اباد ضلع سیتاپور
(۵۰)بسم الله الرحمن الرحیم الحمد ﷲ وحدہ والصلوۃ والسلام علی من لانبی بعدہ اما بعد بیشك ایسی مجلس مقرر کرنا جہنم خریدنا اورسخت حرام وناروا ہے۔ مسلمان کی ترقی ہرگز اس میں نہیں ایك صحیح واقعہ پیش کرتاہوں وہ یہ کہ امیرالمومنین عمر فاروق اعظم رضی الله تعالی عنہ نے حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو دیکھا کہ حضور چٹائی پرآرام فرماتے ہیں کہ اس کے نشان بدن اقدس پر ظاہرہو رہے ہیں امیر المومنین کو بے اختیار رونا آگیا عرض کی : یا رسول اللہ! قیصر وکسری کا فران مجوس ونصاری اس ناز ونعمت میں اور حضور الله کے رسول ا س تکلیف ومحنت میں فرمایا : اے عمر! کیا تو راضی نہیں کہ ان کے لئے دینا ہو اور ہمارے لے آخرت خود امیر المومنین فاروق اعظم باوصف فتوحات عظیم کے جب بیت المقدس تشریف لے گئے ہیں کہ وہاں کے پادریوں نے آپ کو دیکھنے کے لئے بلایا تھا حالت یہ ہے کہ پیش دشمنان اونٹ پر اور غلام سوار اور جناب کے دست اقدس میں اونٹ کا مہار بدن مبارك پر چمڑے کا کرتا جس میں متعدد سترہ پیوند اگر ایسی مجلس کے لوگ جو درج سوال ہیں اور جان ومال سے انجمن ظلم میں شرکت کو تیار ہیں حضرات صحابہ محمد رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو دیکھتے کس کس طرح ہنستے اور احمق سمجھتے بلکہ دل میں تو اب بھی کہتے ہوں گے کہ وہ ریگستانی جفاکش ناز ونعمت کے مزے کیا جانیں یہ لطف عجیب اور نظم وترتیب وآراستگی وتہذیب کچھ دانا یان یورپ ہی کو نصیب ان خیالات فاسدہ کے دل میں نہ آنے کے لئے تو ہمارے سلطان ہفت کشور شافع روز محشر صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا ہے لا تجالسوھم الخ ان کے پاس نہ بیٹھو ان سے دور بھاگو انھیں اپنے سے دور رکھو کہیں وہ تمھیں
حوالہ / References
کنز العمال حدیث ۳۲۴۶۸ و ۳۲۵۲۸ و ۳۲۵۲۹ و ۳۲۵۴۲ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۱ / ۵۲۹ ، ۵۴۰ ، ۵۴۲
فتنہ میں نہ ڈال دیں معاذالله کہیں حضورکے خیال مقدس میں یہ بات نہ آئی تھی کہ ہمارے میل جول سے بد مذہب ہدایت پائیں گے راہ راست پر آئیں گے نہیں۔ یہ منع فرمانا حضور کا ازاراہ شفقت تھا جس طرح شفیق باپ ازراہ مہربانی اپنی پیاری اولاد کو آوارہ مزاجوں اور بد معاشوں کی صحبت ومیل جول سے روکے یہ چند حروف فقیرنے محض زبدہ ارباب سنت وعمدہ اصحاب جماعت اخی فی الدین قاسم میاں صاحب کے فرمانے سے لکھے ورنہ امام اہلسنت مجدد مائتہ حاضرہ مؤید ملت طاہرہ حماہ اﷲ تعالی عن الشروالاعداء(الله تعالی ہرشر اور دشمنوں پر ان کی مدد فرمائے ت)کے نورانی کلمات عوام تو عوام خواص کے لئے کافی ہیں مسلمانوں کو اس پر عمل کرنا چاہئے اور فقیر ضعیف کو بھی دعائے خیر سے یادکرنا چاہئے
ختم اﷲ لنا ولکم بالخیر والحسنی ووفقنا لما یجب ویرضی وحشرنا فی ظلال حمایات الاولیاء امقربین وتحت لواء سید المرسلین وصلی اﷲ تعالی وسلامہ علی خاتم النبیین محمد والہ واصحابہ اجمعین برحمتك یا ارحم الراحمین۔ الله تعالی ہمارا خاتمہ خیر اور بھلائی میں فرمائے اور ہمیں اپنی پسند و رضا کی توفیق دے اور حشر کے روز اولیاء مقربین کی حمایت اور حضورعلیہ الصلوۃ والسلام کے جھنڈے کا سایہ عطافرمائے (ت)
محمد اسمعیل سنی حنفی قادری محمود آبادی الحال پیش امام رسالہ نمبر ۴ دہلی
(۵۱)ذلك کذلك رجب علی مدرس مدرسہ اسلامیہ محمود آباد
(۵۲)ذلك کذلک
خادم طلبہ محمد عبدالطیف مدرس مدرسہ اسلامیہ محمود آباد وپیش امام جامع مسجد محمود آباد۔
تصدیق حامی سنت ماحی بدعت جناب مولانا مولوی عبد الرحیم صاحب احمد ابادی زیدت مکارمھم
(۵۳)الجواب صحیح
کتبہ عبدالرحیم بن پیر بخش السنی الحنفی القادری النقشبندی الاحمد آبادی المدرس الاول فی المدرسۃ القادریۃ
تصدیق ناصر سنت قامع بدعت مولانا مولوی ابوالمساکین محمد ضیا ء الدین صاحب زیدمجدہم
(۵۴)بسم الله الرحمن الرحیم الحمد اﷲ العزیز الکریم والصلوۃ والسلام علی حبیبہ الرؤف الرحیم۔
ختم اﷲ لنا ولکم بالخیر والحسنی ووفقنا لما یجب ویرضی وحشرنا فی ظلال حمایات الاولیاء امقربین وتحت لواء سید المرسلین وصلی اﷲ تعالی وسلامہ علی خاتم النبیین محمد والہ واصحابہ اجمعین برحمتك یا ارحم الراحمین۔ الله تعالی ہمارا خاتمہ خیر اور بھلائی میں فرمائے اور ہمیں اپنی پسند و رضا کی توفیق دے اور حشر کے روز اولیاء مقربین کی حمایت اور حضورعلیہ الصلوۃ والسلام کے جھنڈے کا سایہ عطافرمائے (ت)
محمد اسمعیل سنی حنفی قادری محمود آبادی الحال پیش امام رسالہ نمبر ۴ دہلی
(۵۱)ذلك کذلك رجب علی مدرس مدرسہ اسلامیہ محمود آباد
(۵۲)ذلك کذلک
خادم طلبہ محمد عبدالطیف مدرس مدرسہ اسلامیہ محمود آباد وپیش امام جامع مسجد محمود آباد۔
تصدیق حامی سنت ماحی بدعت جناب مولانا مولوی عبد الرحیم صاحب احمد ابادی زیدت مکارمھم
(۵۳)الجواب صحیح
کتبہ عبدالرحیم بن پیر بخش السنی الحنفی القادری النقشبندی الاحمد آبادی المدرس الاول فی المدرسۃ القادریۃ
تصدیق ناصر سنت قامع بدعت مولانا مولوی ابوالمساکین محمد ضیا ء الدین صاحب زیدمجدہم
(۵۴)بسم الله الرحمن الرحیم الحمد اﷲ العزیز الکریم والصلوۃ والسلام علی حبیبہ الرؤف الرحیم۔
حوالہ / References
صحیح مسلم باب النہی عن الروایۃ عن الضعفاء قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۰
فتوائے مبارکہ فرستادہ ناصر ملت حقہ ناشر سنت سنیہ قاطع اعناق بدعات شنیعہ قامع بیخ محدثات قبیحہ سرشکن فرق باطلہ من الندوۃ والوہابیۃ والنیاچرہ ماحی وطغیان حامی ودین وایمان جناب قاضی قاسم میان امام جامع شہر گونڈل متعلق کاٹھیاوار صانہ المولی الستار عن شرور الاشرار(خدائے ستار انھیں اخترار کے شر سے محفوظ فرمائے۔ ت)فقیر کی نظر سے گزرا خلعت صدق وثواب سے اراستہ زیور شدہ ہدایت سے پیراستہ پایا
جو کچھ لکھا ہے اس میں سراسر صواب ہے اثبات مدعا پہ حدیث وکتاب ہے
ہر لفظ ا س کا گوہر کان رشاد ہے ہر سطر اس کی راہ حصول مرادہے
کیونکر نہ ہو یہ تحریر فرمایا ہوا اس بے نظیر کا ہے جس کی مثیل آج دنیا میں ملنا مشکل جو فاضلوں کا فعل جس کا فتوی تمام روئے زمین پرجاری جس کے فیوض وبرکات ہر گوشہ عالم میں ساری جو استاذوں کااستاذ مسلم ہرعالم سے اعلم مفتیوں کا سرتاج اکرم سنیوں کا امام معظم گلزار سنت کو شاداب فرمانےوالا داغ بد مذہبی و بدعت کا مٹانے والا درخت کفر وشرك کا قاطع شریعت وطریقت کا جامع جس کا تمام ہندوستان مدح خوان جس کی توصیف میں علمائے حرمین شریفین رطب للسان گمراہوں ا راہنما ہمارا آقا ہمارا مولی ہمارا سردار متقی پرہیزگار حکیم امت اعلحضرت مولوی مفتی احمد رضاخان صاحب ادام فیضہ الله الواہب یہ مسئلہ کیا ہے بہت بڑی کسوٹی حق وباطل کے پرکھنے سنی وبدعتی کے جانچنے کی ہے جو صاحب اس کو پڑھ کر یا سن کر بخندہ پیشانی تصدیق فرمائیں حق جانیں حق مانیں ان کا ضرور اہل سنت میں شمار ورنہ اہل بدعت وکلاب اہل النار میں معدود ہوں گے۔ ہمارے سنی بھائیوں پرلازم ہے کہ ایسی مجلس ایسی صحبت سے بچیں ایسے لوگوں سے خلط ملط ہرگز پیدا نہ کریں یہ بڑے شاطر وعیار ہوتے ہیں وہ سبز باغ دکھاتے ہیں کہ خواہ نخواہ آدمی ان کا کلمہ پڑھنے لگتاہے جب اس کا دل اپنی طرف لبھایا اور اپنا مطعی ومسخر بنالیا پھر اس کا ایمان دھن دولت سب کچھ چھین لیا دونوں جہان کے ٹوٹے میں ڈال دیا وباﷲ التوفیق وھویھدی من یشاء الی صرام مستقیم والصلوۃ والسلام علی حبیبہ الکریم وعلی الہ وصحبہ اجمعین آمین!
حررہ محمد ضیا ء الدین المکنی بابی المساکین عفی عنہ
تصدیق عالم جلیل فاضل نبیل جناب مولانا مولوی سید دیدار علی صاحب الوری مفتی اگرہ
(۵۵)بسم الله الرحمن الرحیم بلا شبہہ اس نازك وقت میں بہت سے علماء درویش طلب دنیائے دنی میں اتباع سنت ترك کرکے اتنے دیندار بن گئے کہ کوٹ پتلون والوں میں ان کی سی کہہ کر ان سے دنیا
جو کچھ لکھا ہے اس میں سراسر صواب ہے اثبات مدعا پہ حدیث وکتاب ہے
ہر لفظ ا س کا گوہر کان رشاد ہے ہر سطر اس کی راہ حصول مرادہے
کیونکر نہ ہو یہ تحریر فرمایا ہوا اس بے نظیر کا ہے جس کی مثیل آج دنیا میں ملنا مشکل جو فاضلوں کا فعل جس کا فتوی تمام روئے زمین پرجاری جس کے فیوض وبرکات ہر گوشہ عالم میں ساری جو استاذوں کااستاذ مسلم ہرعالم سے اعلم مفتیوں کا سرتاج اکرم سنیوں کا امام معظم گلزار سنت کو شاداب فرمانےوالا داغ بد مذہبی و بدعت کا مٹانے والا درخت کفر وشرك کا قاطع شریعت وطریقت کا جامع جس کا تمام ہندوستان مدح خوان جس کی توصیف میں علمائے حرمین شریفین رطب للسان گمراہوں ا راہنما ہمارا آقا ہمارا مولی ہمارا سردار متقی پرہیزگار حکیم امت اعلحضرت مولوی مفتی احمد رضاخان صاحب ادام فیضہ الله الواہب یہ مسئلہ کیا ہے بہت بڑی کسوٹی حق وباطل کے پرکھنے سنی وبدعتی کے جانچنے کی ہے جو صاحب اس کو پڑھ کر یا سن کر بخندہ پیشانی تصدیق فرمائیں حق جانیں حق مانیں ان کا ضرور اہل سنت میں شمار ورنہ اہل بدعت وکلاب اہل النار میں معدود ہوں گے۔ ہمارے سنی بھائیوں پرلازم ہے کہ ایسی مجلس ایسی صحبت سے بچیں ایسے لوگوں سے خلط ملط ہرگز پیدا نہ کریں یہ بڑے شاطر وعیار ہوتے ہیں وہ سبز باغ دکھاتے ہیں کہ خواہ نخواہ آدمی ان کا کلمہ پڑھنے لگتاہے جب اس کا دل اپنی طرف لبھایا اور اپنا مطعی ومسخر بنالیا پھر اس کا ایمان دھن دولت سب کچھ چھین لیا دونوں جہان کے ٹوٹے میں ڈال دیا وباﷲ التوفیق وھویھدی من یشاء الی صرام مستقیم والصلوۃ والسلام علی حبیبہ الکریم وعلی الہ وصحبہ اجمعین آمین!
حررہ محمد ضیا ء الدین المکنی بابی المساکین عفی عنہ
تصدیق عالم جلیل فاضل نبیل جناب مولانا مولوی سید دیدار علی صاحب الوری مفتی اگرہ
(۵۵)بسم الله الرحمن الرحیم بلا شبہہ اس نازك وقت میں بہت سے علماء درویش طلب دنیائے دنی میں اتباع سنت ترك کرکے اتنے دیندار بن گئے کہ کوٹ پتلون والوں میں ان کی سی کہہ کر ان سے دنیا
حاصل کرتے ہیں اہل سنت میں لباس سنت پہن کر بزرگان دین مثل حاجی امداد الله صاحب قدس سرہ مولنا فضل الرحمن صاحب قدس سرہ کی طرف اپنے آپ کو منسوب کرتے ہیں ان میں مل کر ان کو گمراہ کرتے ہیں جن کا سبق ہمہ تن دنیا ہی دنیا ہے گواہل دین اور بانی شریعت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے مشابہ مسلمانوں کی صورت بھی نہ رہے سارے طریق سنت چھوٹ جائیں فقط برائے نام مسلمان رہ جائیں مگر تحصیل دنیا میں غیر قوموں سے پیچھے نہ رہیں ایسی اغراض سے جو انجمنیں قائم کی گئی ہیں ایسی انجمنوں کے جو ممبر وسرگروہ ہیں ضرور ان سے مسلمانوں کو بچنا فرض ہے ان کی میٹھی باتوں پر کبھی مسلمانوں کو فریفتہ نہ ہونا چاہئے خواہ وہ قرآن پڑھیں خواہ خوش لہجگی سے مثنوی شریف ان کی مجالس سے بچنا ہر مسلمان کافرض ہے مسلمانوں ! ان کے شہد میں زہر ملاہواہے مسلمانوں ! کبھی تم کو بذریعہ شہد ہلاك نہ کردیں ان احادیث صحیحہ سے ان کی حالتوں کو مطابق کرکے دیکھ لو اگر ان علامتوں مذکورہ احادیث سے ان میں کچھ بھی شائبہ پاؤ ان سے کوسوں جدا رہو منتخب کنزالعمال میں ہے :
عن ۱ ابن عباس رضی الﷲ تعالی عنہما عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم قال یأتی علی الناس زمان وجوھھم وجوہ الادمیین وقلوبھم قلوبھم الشیاطین سفاکین للدماء لایرعون عن قبیح ان تابعتہم اربوك وان ائتمنتھم خانوك صبیھم عارم وشابھیم شاطر وشیخھم لایامرو بالمعروف ولای نہی عن المنکر السنۃ فیھم بدعۃ والبدعۃ فیھم سنۃ وذوالامرء منھم غاو فعندذلك یسلط اﷲ علیھم شرارھم فیدعو خیار ھم فلایستجاب لھم رواہ الخطیب ۔ ابن عباس رضی الله تعالی عنہما سے فرماتے ہیں کہ فرمایا نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے کہ ایسا زمانہ آئے گا کہ منہ تو اس وقت کے آدمیوں کے آدمیوں کے سے منہ ہونگے اور ہوں گے دل ان کے شیطانوں کے سے خونریز لوگ نہ بچیں گے اور نہ بچائیں گے بری بات سے اگر پیروی کرے تو ان کی تباہ کردیں وہ تجھ کو اور اگر امانت رکھے تو ان کے پاس خیانت کریں بچے ان کے شوخ ہوں اور جوان ان کے چلاك اور بیباک بڈھے ان کے نہ بھلی بات کا حکم کریں نہ بری بات سے منع کریں سنت ان میں بدعت ہو اور بدعت ان میں سنت۔ اورجو ان میں سے صاحب حکم ہوں خواہ وہ عالم ہوں یا حاکم گمراہ ہوں پس ایسے وقت میں غلبہ دے گا ان پر الله شریروں کو اور مقرر کرے گا ان پر شریر حاکموں کو پس نیك لوگو جو ان میں ہوں پکاریں گے مگر کوئی ان کی نہ نسے گا۔
عن ۱ ابن عباس رضی الﷲ تعالی عنہما عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم قال یأتی علی الناس زمان وجوھھم وجوہ الادمیین وقلوبھم قلوبھم الشیاطین سفاکین للدماء لایرعون عن قبیح ان تابعتہم اربوك وان ائتمنتھم خانوك صبیھم عارم وشابھیم شاطر وشیخھم لایامرو بالمعروف ولای نہی عن المنکر السنۃ فیھم بدعۃ والبدعۃ فیھم سنۃ وذوالامرء منھم غاو فعندذلك یسلط اﷲ علیھم شرارھم فیدعو خیار ھم فلایستجاب لھم رواہ الخطیب ۔ ابن عباس رضی الله تعالی عنہما سے فرماتے ہیں کہ فرمایا نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے کہ ایسا زمانہ آئے گا کہ منہ تو اس وقت کے آدمیوں کے آدمیوں کے سے منہ ہونگے اور ہوں گے دل ان کے شیطانوں کے سے خونریز لوگ نہ بچیں گے اور نہ بچائیں گے بری بات سے اگر پیروی کرے تو ان کی تباہ کردیں وہ تجھ کو اور اگر امانت رکھے تو ان کے پاس خیانت کریں بچے ان کے شوخ ہوں اور جوان ان کے چلاك اور بیباک بڈھے ان کے نہ بھلی بات کا حکم کریں نہ بری بات سے منع کریں سنت ان میں بدعت ہو اور بدعت ان میں سنت۔ اورجو ان میں سے صاحب حکم ہوں خواہ وہ عالم ہوں یا حاکم گمراہ ہوں پس ایسے وقت میں غلبہ دے گا ان پر الله شریروں کو اور مقرر کرے گا ان پر شریر حاکموں کو پس نیك لوگو جو ان میں ہوں پکاریں گے مگر کوئی ان کی نہ نسے گا۔
حوالہ / References
منتخب کنزالعمال علی ہامش مسند احمد بن حنبل بحوالہ الخطیب عن ابن عباس کتاب الفتن الباب الثانی دارالفکر بیروت ۵ / ۴۰۶
عن ۲عابس الغفاری عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بادر وابالاعمال ستا امارۃ السفھا وکثرۃ الشرط وبیع الحکم واستخفافابالدم وقطیعۃ الرحم ونشواء یتخذون القران مزامیر یقدمون احدھم یغنیھم وان کان اقلھم فقھا رواہ الطبرانی فی الکبیر۔
عن ۳عمر وعن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اتانی جبرئل انفا فقال انا ﷲ و انا الیہ رجعون قلت اجل انا ﷲ و انا الیہ رجعون فمم ذلك جبرئیل فقال ان امتك مفتنۃ بعدك بقلیل من الدھو غیر کثیر قلت فتنۃ کفر اوفتنۃ ضلالۃ قال کل ذلك سیکون قلت ومن این ذاك وانا تارك فیھم کتاب اﷲ قال بکتاب اﷲ یضلون واول ذلك من قبل قرائھم و عابس رضی الله تعالی عنہ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ چھ باتوں کے ظہور سےپہلے عمل کرلو یعنی پھر بیك عمل کرنا دشوار ہوجائے گا حکومت اور امارت بے عقلوں کی ہو زیادتی چپراسیوں کی ہو اور حکم حاکم بکے یعنی جس نے رشوت دے دی اپنے موافق حکم حاکم سے حاصل کرلیا اور بیع الحکم بالکسر اگر پڑھاجائے یہ معنی ہوں گے کہ حکمت کی بات کو اہل حکمت بیچیں اور دین دنیا کے عوض بکے خون کرنے کو ہلکی بات سمجھیں خویش اور اقرباء سے قطع اور جدائی ہو ایسی پیدائش پیداہوکہ قرآن کو بانسری کی آواز سمجھ کر ایسے شخص کو اپنا پیشوا بنائیں کہ وہ گانے کے طور سے ان کو سنائے خواہ سمجھ قرآن کی یعنی اسے نماز و روزہ حج زکوۃ بیع وشراءحلال وحرام میراث وغیرہ مسائل کے بیان کرنے پر ان سب میں سے بہت ہی کم سمجھ رکھتا ہو اس سے سنیں گے اور جاننے والے عالم سے پرہیز کریں گے۔
حضرت عمر رضی الله تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ بنی صلی الله تعالی علیہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ابھی میرے پاس جبریل علیہ السلام نے آکر کہا انا ﷲ وانا الیہ رجعون یعنی تحقیق ہم واسطے الله کے ہیں اور اس کی طرف رجوع کرنے والے ہیں یہ ایك کلمہ ہے جس کو تکلیف اور مصیبت کے وقت کہنا موجب دفع بلا اور ترقی حسنات ہے لہذا میں نے بھی کہا ہاں انا ﷲ وانا الیہ رجعون مگراس وقت اس کے کہنے کی کیا وجہ ہے اے جبریل۔ کہا آپ کی امت آپ کے تھوڑے ہی زمانہ بعد فتنہ میں مبتلا ہوگی میں نے کہا فتنہ کفر کا یا گمراہی کا کہاسبھی کچھ ہوگا یعنی بعض مرتد بھی ہوجائیں گے اور بعض گمراہ بھی آنحضرت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم
امرائھم یمنع الامراء الناس حقوقھم فلا یطعونھا فیقتتلوا ویتبع القراء اھواء الامراء فیمدون فی الغی ثم لایقصرون قلت یا جبرئیل فبم سلم منھم قال بالکف والصبر ان اعطم الذی لھم اخذوہ وان منعوا ترکوہ رواہ الحاکم۔ فرماتے ہیں کہ میں نے کہا کہ یہ دونوں فتنے کیونکر ہونگے میں تو ان میں الله کے کلام کو چھوڑ جاؤں گا کہا کلام الله ہی سے گمراہ ہوں گے یعنی اس کے معنی من گھڑے جوڑ کر جماعت اہل اسلام میں توڑ پھوڑ کرینگے اور اول یہ فتنہ قاریوں سے یعنی قرآن کے جاننے والوں دنیادارمولویوں سے اور امیر وں سے شروع ہوگا امیر لوگوں کے حق نہ دیں گے اور بند کرینگے مولوی بھی انھیں کی سی کہیں گے حلال حرام کے بیان میں کرنے میں ان سے ڈرینگے اور ان کے پیچھے لگیں گے پس گمراہی میں بڑھتے چلے جائیں گے پھر کمی نہیں کریں گے میں نے کہاں اے جبریلی! اس وقت ان سے بچاؤں کی کیاصورت ہے۔ کہا صبر جو کچھ وہ دیں لے لیں اورنہ دیں تو چپ چاپ صبرکر بیٹھیں۔
عن ۳عمر وعن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اتانی جبرئل انفا فقال انا ﷲ و انا الیہ رجعون قلت اجل انا ﷲ و انا الیہ رجعون فمم ذلك جبرئیل فقال ان امتك مفتنۃ بعدك بقلیل من الدھو غیر کثیر قلت فتنۃ کفر اوفتنۃ ضلالۃ قال کل ذلك سیکون قلت ومن این ذاك وانا تارك فیھم کتاب اﷲ قال بکتاب اﷲ یضلون واول ذلك من قبل قرائھم و عابس رضی الله تعالی عنہ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ چھ باتوں کے ظہور سےپہلے عمل کرلو یعنی پھر بیك عمل کرنا دشوار ہوجائے گا حکومت اور امارت بے عقلوں کی ہو زیادتی چپراسیوں کی ہو اور حکم حاکم بکے یعنی جس نے رشوت دے دی اپنے موافق حکم حاکم سے حاصل کرلیا اور بیع الحکم بالکسر اگر پڑھاجائے یہ معنی ہوں گے کہ حکمت کی بات کو اہل حکمت بیچیں اور دین دنیا کے عوض بکے خون کرنے کو ہلکی بات سمجھیں خویش اور اقرباء سے قطع اور جدائی ہو ایسی پیدائش پیداہوکہ قرآن کو بانسری کی آواز سمجھ کر ایسے شخص کو اپنا پیشوا بنائیں کہ وہ گانے کے طور سے ان کو سنائے خواہ سمجھ قرآن کی یعنی اسے نماز و روزہ حج زکوۃ بیع وشراءحلال وحرام میراث وغیرہ مسائل کے بیان کرنے پر ان سب میں سے بہت ہی کم سمجھ رکھتا ہو اس سے سنیں گے اور جاننے والے عالم سے پرہیز کریں گے۔
حضرت عمر رضی الله تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ بنی صلی الله تعالی علیہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ابھی میرے پاس جبریل علیہ السلام نے آکر کہا انا ﷲ وانا الیہ رجعون یعنی تحقیق ہم واسطے الله کے ہیں اور اس کی طرف رجوع کرنے والے ہیں یہ ایك کلمہ ہے جس کو تکلیف اور مصیبت کے وقت کہنا موجب دفع بلا اور ترقی حسنات ہے لہذا میں نے بھی کہا ہاں انا ﷲ وانا الیہ رجعون مگراس وقت اس کے کہنے کی کیا وجہ ہے اے جبریل۔ کہا آپ کی امت آپ کے تھوڑے ہی زمانہ بعد فتنہ میں مبتلا ہوگی میں نے کہا فتنہ کفر کا یا گمراہی کا کہاسبھی کچھ ہوگا یعنی بعض مرتد بھی ہوجائیں گے اور بعض گمراہ بھی آنحضرت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم
امرائھم یمنع الامراء الناس حقوقھم فلا یطعونھا فیقتتلوا ویتبع القراء اھواء الامراء فیمدون فی الغی ثم لایقصرون قلت یا جبرئیل فبم سلم منھم قال بالکف والصبر ان اعطم الذی لھم اخذوہ وان منعوا ترکوہ رواہ الحاکم۔ فرماتے ہیں کہ میں نے کہا کہ یہ دونوں فتنے کیونکر ہونگے میں تو ان میں الله کے کلام کو چھوڑ جاؤں گا کہا کلام الله ہی سے گمراہ ہوں گے یعنی اس کے معنی من گھڑے جوڑ کر جماعت اہل اسلام میں توڑ پھوڑ کرینگے اور اول یہ فتنہ قاریوں سے یعنی قرآن کے جاننے والوں دنیادارمولویوں سے اور امیر وں سے شروع ہوگا امیر لوگوں کے حق نہ دیں گے اور بند کرینگے مولوی بھی انھیں کی سی کہیں گے حلال حرام کے بیان میں کرنے میں ان سے ڈرینگے اور ان کے پیچھے لگیں گے پس گمراہی میں بڑھتے چلے جائیں گے پھر کمی نہیں کریں گے میں نے کہاں اے جبریلی! اس وقت ان سے بچاؤں کی کیاصورت ہے۔ کہا صبر جو کچھ وہ دیں لے لیں اورنہ دیں تو چپ چاپ صبرکر بیٹھیں۔
حوالہ / References
منتخب کنز العمال علی ہامش مسنداحمد بن حنبل بحوالہ طب عن عابس الغفاری کتاب الفتن الباب الثانی دارالفکر بیروت ۵ / ۳۹۴ و ۳۹۵
امرائھم یمنع الامراء الناس حقوقھم فلا یطعونھا فیقتتلوا ویتبع القراء اھواء الامراء فیمدون فی الغی ثم لایقصرون قلت یا جبرئیل فبم سلم منھم قال بالکف والصبر ان اعطم الذی لھم اخذوہ وان منعوا ترکوہ رواہ الحاکم۔ فرماتے ہیں کہ میں نے کہا کہ یہ دونوں فتنے کیونکر ہونگے میں تو ان میں الله کے کلام کو چھوڑ جاؤں گا کہا کلام الله ہی سے گمراہ ہوں گے یعنی اس کے معنی من گھڑے جوڑ کر جماعت اہل اسلام میں توڑ پھوڑ کرینگے اور اول یہ فتنہ قاریوں سے یعنی قرآن کے جاننے والوں دنیادارمولویوں سے اور امیر وں سے شروع ہوگا امیر لوگوں کے حق نہ دیں گے اور بند کرینگے مولوی بھی انھیں کی سی کہیں گے حلال حرام کے بیان میں کرنے میں ان سے ڈرینگے اور ان کے پیچھے لگیں گے پس گمراہی میں بڑھتے چلے جائیں گے پھر کمی نہیں کریں گے میں نے کہاں اے جبریلی! اس وقت ان سے بچاؤں کی کیاصورت ہے۔ کہا صبر جو کچھ وہ دیں لے لیں اورنہ دیں تو چپ چاپ صبرکر بیٹھیں۔
ا ور اس سے زیادہ تصریح اس مضمون کی مشکوۃ شریف کی اس حدیث میں ہے :
عن ۴ابن عباس قال قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ان انا سامن امتی سیفقھون فی الدین ویقرءون القران ویقولون نأتی الامراء فنصیب من دینا ھم ونعتزلھم بدیننا ولایکون ذلك کما لا یجتنی من القتاد الاالشوك کذلك لا یجتنی من قربھم الایعنی الخطایا ۔ رواہ ابن ماجہ۔
عن۵علی کرم اﷲ وجہہ عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یأتی علی الناس زمان ھمتھم بطونہم وشرفھم متاعھم حضرت عبدالله بن عباس رضی الله تعالی عنہما سے ہے کہ فرمایا رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے بیشك بہت لوگ امت میری سے سمجھ حاصل کریں گے دین اور پڑھیں گے قرآن کو اور مولوی بن کر کہیں گے کہ امیروں کے پاس آکر ان کی دنیا سے کچھ لیں اور اپنے دین کو ان سے بچالیں اور یہ ہونہیں سکتا جس طرح کانٹے دار درخت سے نہیں چنے جاتے مگر کانٹے ان کے قرب سے بھی نہیں حاصل ہوسکتا مگریعنی خطائیں۔
حضرت علی رضی الله تعالی عنہ نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ فرمایا آپ نے ایسا زمانہ آئے گا کہ لوگوں کی تمام ہمت اپنے پیٹ بھرنے کی ہوگی جس کے
ا ور اس سے زیادہ تصریح اس مضمون کی مشکوۃ شریف کی اس حدیث میں ہے :
عن ۴ابن عباس قال قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ان انا سامن امتی سیفقھون فی الدین ویقرءون القران ویقولون نأتی الامراء فنصیب من دینا ھم ونعتزلھم بدیننا ولایکون ذلك کما لا یجتنی من القتاد الاالشوك کذلك لا یجتنی من قربھم الایعنی الخطایا ۔ رواہ ابن ماجہ۔
عن۵علی کرم اﷲ وجہہ عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یأتی علی الناس زمان ھمتھم بطونہم وشرفھم متاعھم حضرت عبدالله بن عباس رضی الله تعالی عنہما سے ہے کہ فرمایا رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے بیشك بہت لوگ امت میری سے سمجھ حاصل کریں گے دین اور پڑھیں گے قرآن کو اور مولوی بن کر کہیں گے کہ امیروں کے پاس آکر ان کی دنیا سے کچھ لیں اور اپنے دین کو ان سے بچالیں اور یہ ہونہیں سکتا جس طرح کانٹے دار درخت سے نہیں چنے جاتے مگر کانٹے ان کے قرب سے بھی نہیں حاصل ہوسکتا مگریعنی خطائیں۔
حضرت علی رضی الله تعالی عنہ نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ فرمایا آپ نے ایسا زمانہ آئے گا کہ لوگوں کی تمام ہمت اپنے پیٹ بھرنے کی ہوگی جس کے
حوالہ / References
منتخب کنزالعمال علی ہامش مسند احمد بن حنبل بحوالہ الحکیم عن عمرو کتاب الفتن الباب الثانی دارالفکر بیروت ۵ / ۳۹۹
منتخب کنزالعمال علی ہامش مسند احمد بن حنبل بحوالہ ابن ماجہ عن ابن عباس کتاب العلم الباب الثانی دارالفکر بیروت ۴ / ۴۱
منتخب کنزالعمال علی ہامش مسند احمد بن حنبل بحوالہ ابن ماجہ عن ابن عباس کتاب العلم الباب الثانی دارالفکر بیروت ۴ / ۴۱
قبلتھم نسائھم ودینھم دراھمھم ودینار ھم اولئك شرر الخلق لاخلاق لھم عنداﷲ ۔ راوہ الدیلمی پاس مال ومتاع دنیا زیادہ وہی سب میں بزرگ ہے جورویں ان کا قبلہ اور درہم ودینا ران کا دین یہ لوگ بری مخلوقات کے ہیں ان کے واسطے الله تعالی کے پاس آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہے۔
اور اگر اس سے زیادہ تصریح منظور ہو میرا رسالہ مختصرالمیزان جس میں تقریبا چالیس حدیثیں مضمون کی ہیں کہ حضور نے فرمایابڑی جماعت کی پیروی کرنا اورجو بڑی جماعت سے جد اہو جہنم میں پڑے گا۔ اور چالیس کے قریب اس مضمون کی حدیثیں ہیں کہ میری سنت اورمیرے اصحاب کی سنت پر عمل کرنے والا ناجی فرقہ وہی ہوگا جو سواد اعظم مومنین کا پیروہوگا او جو بڑی جماعت سے جدا ہوا جہنمی ہوگا اور چند حدیثیں اس مضمون کی ہیں کہ ہراخیر زمانہ میں ایسے لو گ ہوں گے کہ نماز تمھاری نماز سے اچھی پڑھیں گے اور قرآن بہت پڑھیں گے مگردین سے بالکل خارج ہوں گے۔ پھر حدیثیں بدمذہب مولویوں کی علامات میں نقل کی گئی ہیں جن کو اگر ملاحظہ فرمائیں اور لوگوں کو دکھلائیں ان شاء الله تعالی مفید ہوگا۔
حررہ العبدالراجی رحمۃ ربہ ابو محمد دیددار علی الرضوی الحنفی المفتی فی جامع الاکبرآباد۔
تصدیقات علمائے کاٹھیاوار
(۵۶)الجواب صحیح والمجیب مصیب ﷲ درہ حیث اجاب مااجاب مااجاب الامن کتاب اﷲ تعالی عزوجل وحدیث المجیب صلی اﷲ علیہ وسلم ولہ بذلك عند اﷲ الجلیل الاجر الکثیر والثواب الجزیل
حررہ محمد اسمعیل عفی عنہ القریشی سنی حنفی ثم الفشاوری حالانزیل الجام جودھفور ملك کاتھیاوار۔ جواب صحیح مجیب حق گو الله تعالی بھلا کرے جس نے یہ جواب دیا یہ جواب قرآن وحدیث سے ماخوذ ہے الله تعالی کے ہاں ا س کے لئے اجر کثیر اور ثواب بھاری ہے
اسے سنی حنفی محمد اسمعیل عفی عنہ نے لکھا
(۵۷)بسم الله الرحمن الرحیم الحمد الله وحدہ والصلوۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ وعلی الہ الکرام واصحابہ العظام اما بعد بے شبہہ ایسی مجلس مقر رکرنا اور اس میں دامے درمے قدمے معاونت کرنا اپنے ہاتھوں دروازہ دوزخ کھولنا ا ورعذاب خدا کو اپنی طرف بلانا ہے پیارے سنی بھائیوں !
اور اگر اس سے زیادہ تصریح منظور ہو میرا رسالہ مختصرالمیزان جس میں تقریبا چالیس حدیثیں مضمون کی ہیں کہ حضور نے فرمایابڑی جماعت کی پیروی کرنا اورجو بڑی جماعت سے جد اہو جہنم میں پڑے گا۔ اور چالیس کے قریب اس مضمون کی حدیثیں ہیں کہ میری سنت اورمیرے اصحاب کی سنت پر عمل کرنے والا ناجی فرقہ وہی ہوگا جو سواد اعظم مومنین کا پیروہوگا او جو بڑی جماعت سے جدا ہوا جہنمی ہوگا اور چند حدیثیں اس مضمون کی ہیں کہ ہراخیر زمانہ میں ایسے لو گ ہوں گے کہ نماز تمھاری نماز سے اچھی پڑھیں گے اور قرآن بہت پڑھیں گے مگردین سے بالکل خارج ہوں گے۔ پھر حدیثیں بدمذہب مولویوں کی علامات میں نقل کی گئی ہیں جن کو اگر ملاحظہ فرمائیں اور لوگوں کو دکھلائیں ان شاء الله تعالی مفید ہوگا۔
حررہ العبدالراجی رحمۃ ربہ ابو محمد دیددار علی الرضوی الحنفی المفتی فی جامع الاکبرآباد۔
تصدیقات علمائے کاٹھیاوار
(۵۶)الجواب صحیح والمجیب مصیب ﷲ درہ حیث اجاب مااجاب مااجاب الامن کتاب اﷲ تعالی عزوجل وحدیث المجیب صلی اﷲ علیہ وسلم ولہ بذلك عند اﷲ الجلیل الاجر الکثیر والثواب الجزیل
حررہ محمد اسمعیل عفی عنہ القریشی سنی حنفی ثم الفشاوری حالانزیل الجام جودھفور ملك کاتھیاوار۔ جواب صحیح مجیب حق گو الله تعالی بھلا کرے جس نے یہ جواب دیا یہ جواب قرآن وحدیث سے ماخوذ ہے الله تعالی کے ہاں ا س کے لئے اجر کثیر اور ثواب بھاری ہے
اسے سنی حنفی محمد اسمعیل عفی عنہ نے لکھا
(۵۷)بسم الله الرحمن الرحیم الحمد الله وحدہ والصلوۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ وعلی الہ الکرام واصحابہ العظام اما بعد بے شبہہ ایسی مجلس مقر رکرنا اور اس میں دامے درمے قدمے معاونت کرنا اپنے ہاتھوں دروازہ دوزخ کھولنا ا ورعذاب خدا کو اپنی طرف بلانا ہے پیارے سنی بھائیوں !
حوالہ / References
منتخب کنز العمال علٰی ہامش مسند احمد بن حنبل بحوالہ الدیلمی کتاب الفتن الباب الثانی دارالکفر بیروت ۵ / ۴۰۷
اگر انکھوں میں نور ایمان ہے تو یہ محترم فتوی دیکھو مقدس ومقبول فتوی علامہ دوران امام اہل ایمان جناب مولانا مفتی حاجی قاری حضرت شاہ احمد رضاخاں صاحب قبلہ بریلوی ادام الله تعالی فیوضاتہ ومتع المسلمین بطول حیاتہ کاتحریرشدہ ہے یہ وہ رکن اعظم ہے اسلام ہے کہ ہمیشہ نصرت واحیائے دین متین میں فرید او امانت وازالہ بدعت وضلالت کفرو شرك میں وحیدہے آپ کے علم وفضل کی نہریں علاوہ ہندوستان کے اور ممالك میں بھی جاری ہیں آپ کے فیوض جلیلہ کا آفتاب تمام عالم میں چمکتا ہے کشتی دین واسلام کے آپ ناخداہیں اہل سنت وجماعت کے پشت وپناہ میں آپ نے اپنی عمر شریف کا اتنا حصہ حمایت مذہبی میں صرف کیا خدمت دینی کے سواء ایك ساعت بھی کسی اور کام کی طرف توجہ نہیں فرماتے اسلام ومسلمین کو فائدہ کثیرہ پہنچاتے ہیں ہرمہینے دور دور سے سیکڑوں استفتاء آتے اور جواب باصواب سے مزین کرکے روانہ فرماتے ہیں نامور علمائے مکمہ معظمہ ومدینہ منورہ آپ کے فتاوے سے موافقت کرتے اور آپ کی جلالت وتبحر علمی کو مانتے ہیں علامہ وحید فاضل فرید آپ کی جناب میں تحریر فرماتے ہیں اور موجودہ صدی کا مجدد مانتے ہیں القاب جلیلہ سے ملقب کرتے طرح طرح دعائیں دیتے اور آپ کے مدائح سے جلیل القدر فضلائے عرب رطب اللسان رہتے ہیں مولانا شیخ عبدالرحمن دہان مدرس حرم مکہ مکرمہ بعدبیان مدائح کثیرہ فرماتے ہیں :
الذی شھد لہ علماء البلد الحرام بانہ السید الفرد الامام سیدی وملاذی الشیخ احمد رضاخاں البریلوی ۔ جس کے لئے علمائے مکہ مکرمہ گواہی دے رہے ہیں کہ وہ سردار ہے بے نظیر ہے امام ہے میرے سردار اورمیرے جائے پناہ حضرت احمد رضاخاں بریلوی(ت)
مولانا سید اسمعیل بن خلیل آفندی حافظ کتب حرم مکہ معظمہ بعد بہت سے مدائح وذکراسم گرامی اعلحضرت عظیم البرکت فرماتے ہیں :
وقد شہد لہ عالم مکۃ بذلك ولولم یکن بالمحل الارجع لما وقع منھم وذلك بل اقول لوقیل فی حقہ انہ مجدد ھذالقرن لکان حقا وصدقا ۔ علمائے مکہ اس کے لئے ان فضائل کی گواہیاں دے رہے ہیں اوراگر وہ سب سے بلند مقام پر نہ ہوتا تو علمائے مکہ ان کی نسبت یہ گواہی نہ دیتے بلکہ میں کہتاہوں کہ اگران کے حق میں یہ کہا جائے کہ وہ اس صدی کا مجدد ہے توالبتہ حق وصحیح ہو۔ (ت)
الذی شھد لہ علماء البلد الحرام بانہ السید الفرد الامام سیدی وملاذی الشیخ احمد رضاخاں البریلوی ۔ جس کے لئے علمائے مکہ مکرمہ گواہی دے رہے ہیں کہ وہ سردار ہے بے نظیر ہے امام ہے میرے سردار اورمیرے جائے پناہ حضرت احمد رضاخاں بریلوی(ت)
مولانا سید اسمعیل بن خلیل آفندی حافظ کتب حرم مکہ معظمہ بعد بہت سے مدائح وذکراسم گرامی اعلحضرت عظیم البرکت فرماتے ہیں :
وقد شہد لہ عالم مکۃ بذلك ولولم یکن بالمحل الارجع لما وقع منھم وذلك بل اقول لوقیل فی حقہ انہ مجدد ھذالقرن لکان حقا وصدقا ۔ علمائے مکہ اس کے لئے ان فضائل کی گواہیاں دے رہے ہیں اوراگر وہ سب سے بلند مقام پر نہ ہوتا تو علمائے مکہ ان کی نسبت یہ گواہی نہ دیتے بلکہ میں کہتاہوں کہ اگران کے حق میں یہ کہا جائے کہ وہ اس صدی کا مجدد ہے توالبتہ حق وصحیح ہو۔ (ت)
حوالہ / References
حسام الحرمین تصدیقات علماء مکہ مکرمہ مکتبہ نبویہ لاہورص ۸۳
حسام الحرمین تصدیقات علماء مکہ مکرمہ مکتبہ نبویہ۔ لاہور ص۵۱
حسام الحرمین تصدیقات علماء مکہ مکرمہ مکتبہ نبویہ۔ لاہور ص۵۱
اسی طرح علمائےمدینہ منورہ بھی آپ کے مداح ہیں اور کئی جلیل القدر فاضلوں نے اہل حرمین سے کتنے ہی علوم میں آپ سےسندیں لیں اور کئی حضرات نے بیعت بھی فرمائی “ ذلك فضل اﷲ یوتیہ من یشاء واﷲ ذوالفضل العظیم “ ۔ یہ مسئلہ کیا ہے بڑا امتحان خدا ہےجو سنی ہوگا وہ اس فتوے پر عامل رہ کر قہر مولی سے بچے گا۔ اور اگرنفس امارہ کی شامت یا انجان پنے سے کانفرنس میں شامل ہوا ہو اور فتوے دیکھنے کے بعد کانفرنس کی شرکت سے تائب ہوا تو ماشاء الله جیساکہ اپنے ہاتھوں سے دروازہ دوزخ کھولا تھا لاجرم امید قوی ہے کہ اس کی توبہ کو مولی تعالی جل جلالہ مفتاح درجنت بنادے کہ یہ حدیث شریف میں وارد ہے :
التائب من الذنب کمن لا ذنب لہ ۔ گناہوں سے توبہ کرنے والا ایسا ہے جیسے اس نے کوئی گناہ کیا ہی نہیں۔ (ت)
بلکہ بمصداق اس آیت شریفہ کے :
“ الا من تاب وامن وعمل عملا صلحا فاولئک یبدل اللہ سیاتہم حسنت وکان اللہ غفورا رحیما ﴿۷۰﴾ “ ۔ مگر جو توبہ کرے اورایمان لائے اوراچھا کام کرے تو ایسوں کی برائیوں کو الله تعالی بھلائیوں سے بدل دے گا اور الله
بخشنے والا مہربان ہے۔ (ت)
خداوندا ! تو توفیق رفیق گردان غربائے امت خصوصا اہل سنت کے تئیں اس طوفان بے پایا سے بچا بجاہ سید الشافعین آمین یا رب العالمین!
آج میری ز ہے قسمت کہ یہ مقدس فتوی شہر گونڈل کاٹھیاوار سے برادر دینی ومحب یقینی اخی فی الله حامی سنت ماحی فتن نیچری فگن ندوی شکن دافع شکن دافع الفتن مولانا محمد قاسم صاحب دام بالعزوالرفعۃ والجاہ ومن کل سوء وشرحماہ ووقاہ نے بغرض تصدیق وتصویب اس ناسزا سگ بارگاہ احمدرضا کے پاس بھیجا اور اپنے نامہ نامی وصحیفہ سامی میں تحریر فرمایا کہ ماقل ودل اوراپنے مہر ود ستخط کرکےسیدھاکلکتہ نزد محب سنت عدوبدعت سرتاج اہل سنت حامی دین متین قاطع جیوش المبتدعین جناب معلی القاب حضرت منشی حاجی حکیم محمد لعل خاں صاحب کے رجسٹر کرکے بھیج دینا کہ وہاں طبع ہوجائے والله فقیر اس پر انوار خورشید سے مقبول وچمکدار فتوے کی تحسین وتصویب کے کب لائق وحقدار مگر مکرمی قاضی صاحب والامناقب اعلی مناصب داسم بالمواہب کی تعمیل کے لئے اتنے پر کفایت کرتاہوں۔
التائب من الذنب کمن لا ذنب لہ ۔ گناہوں سے توبہ کرنے والا ایسا ہے جیسے اس نے کوئی گناہ کیا ہی نہیں۔ (ت)
بلکہ بمصداق اس آیت شریفہ کے :
“ الا من تاب وامن وعمل عملا صلحا فاولئک یبدل اللہ سیاتہم حسنت وکان اللہ غفورا رحیما ﴿۷۰﴾ “ ۔ مگر جو توبہ کرے اورایمان لائے اوراچھا کام کرے تو ایسوں کی برائیوں کو الله تعالی بھلائیوں سے بدل دے گا اور الله
بخشنے والا مہربان ہے۔ (ت)
خداوندا ! تو توفیق رفیق گردان غربائے امت خصوصا اہل سنت کے تئیں اس طوفان بے پایا سے بچا بجاہ سید الشافعین آمین یا رب العالمین!
آج میری ز ہے قسمت کہ یہ مقدس فتوی شہر گونڈل کاٹھیاوار سے برادر دینی ومحب یقینی اخی فی الله حامی سنت ماحی فتن نیچری فگن ندوی شکن دافع شکن دافع الفتن مولانا محمد قاسم صاحب دام بالعزوالرفعۃ والجاہ ومن کل سوء وشرحماہ ووقاہ نے بغرض تصدیق وتصویب اس ناسزا سگ بارگاہ احمدرضا کے پاس بھیجا اور اپنے نامہ نامی وصحیفہ سامی میں تحریر فرمایا کہ ماقل ودل اوراپنے مہر ود ستخط کرکےسیدھاکلکتہ نزد محب سنت عدوبدعت سرتاج اہل سنت حامی دین متین قاطع جیوش المبتدعین جناب معلی القاب حضرت منشی حاجی حکیم محمد لعل خاں صاحب کے رجسٹر کرکے بھیج دینا کہ وہاں طبع ہوجائے والله فقیر اس پر انوار خورشید سے مقبول وچمکدار فتوے کی تحسین وتصویب کے کب لائق وحقدار مگر مکرمی قاضی صاحب والامناقب اعلی مناصب داسم بالمواہب کی تعمیل کے لئے اتنے پر کفایت کرتاہوں۔
حوالہ / References
سنن ابن ماجہ کتاب الزھد باب ذکر التوبہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۳۲۳
القرآن الکریم ۲۵ /۷۰
القرآن الکریم ۲۵ /۷۰
مااجاب المجیب المصیب العالم العلامۃ الدراکۃ الفھامۃ ذوالتحقیق الباھرۃ مجدد المائۃ الحاضرۃ مولانا احمد رضا خان فھو حق وصواب وذلك حکم السنۃ والکتاب جزاہ اﷲ تعالی عنا وعن جمیع المسلمین خیر الجزاء ونفعنا وجمیع اھل السنۃ بعلومہ الی یوم الجزاء واﷲ تعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔ باصواب جواب دینے والے عالم نہایت فہم ودرك والے علامہ وسیع تحقیق والے موجودہ صدی کے مجدد مولانا احمد رضاخاں نے جو جواب دیا رہ حق و صواب ہے کتاب وسنت کایہی حکم ہے الله تعالی ہما ری اور تمام مسلمانوں کی طرف سے جزائے خیر عطافرمائے اور تمام ہم اہلسنت کو ان کے علم سے قیامت تك بہرور فرمائے والله تعالی اعلم اس کا علم اتم واحکم ہے۔ (ت)
عبدہ المذنب محمود جان سنی حنفی قادری البرکاتی الرضوی
الپیشاوری ثم الجام جودھپوری کاٹھیاواری عفی عنہ کتبہ
بمحمدن المصطفی النبی الامی صلی الله تعالی علیہ وسلم۔
(۵۸)ماکتب العلماء المحققون والفضلاء المدققون فی ھذا الاستفتاء قد اجابوا بالحجج القویۃ و بالدلائل الصحیحۃ من عبارات الکتاب والسنۃ فاثابھم اﷲ تعالی ثواب کثیرا واجرا وفیرا فی یوم القیمۃ وقلع اﷲ تعالی اساس المبتدعین ومحافل المنکرین المطر ودین وسود اﷲ وجوھھم فی الدنیا والدین بحرمۃ سیدنا ومولانا سیدالمرسلین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فالحق احق عندا لحق۔ علمائے محققین اورفضلائے مدققین نے اس فتوے میں جو کچھ تحریرفرمایا وہ قوی حجتین اورصحیح دلائل عبارات قرآن و حدیث سے جواب دیا الله تعالی بروز قیامت ثواب کثیر اور اجر وافر عطافرمائے اور بدمذہبوں اورمنکرین مردودوں کی محفل کی بنیاد قطع کرے اور ان کے منہ دنیا ودین میں سیاہ کرے بحرمت ہمارے سردار مولی سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے تو حق خدا کے نزدیك زیادہ سزاوارہے۔
حررہ الاثیم عبدالکریم ابن المولوی حامد صاحب مرحوم المغفور متوطن فی بلد دھوراجی
(۵۹)الحمد اﷲ علی کل حال والشکر ﷲ علی کل نوالہ والصلوۃ والسلام علی رسولہ سیدنا ومولانا وسندنا محمد وعلی الہ واصحابہ اجمعین امین وبہ نستعین امابعد اقول : کیا خوب جواب ان سوالوں کا عالم محقق وفاضل مدقق اعلحضرت مولانا حاجی الحرمین الشریفین احمد رضاخاں صاحب البریلوی نے
yahan image hy
عبدہ المذنب محمود جان سنی حنفی قادری البرکاتی الرضوی
الپیشاوری ثم الجام جودھپوری کاٹھیاواری عفی عنہ کتبہ
بمحمدن المصطفی النبی الامی صلی الله تعالی علیہ وسلم۔
(۵۸)ماکتب العلماء المحققون والفضلاء المدققون فی ھذا الاستفتاء قد اجابوا بالحجج القویۃ و بالدلائل الصحیحۃ من عبارات الکتاب والسنۃ فاثابھم اﷲ تعالی ثواب کثیرا واجرا وفیرا فی یوم القیمۃ وقلع اﷲ تعالی اساس المبتدعین ومحافل المنکرین المطر ودین وسود اﷲ وجوھھم فی الدنیا والدین بحرمۃ سیدنا ومولانا سیدالمرسلین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فالحق احق عندا لحق۔ علمائے محققین اورفضلائے مدققین نے اس فتوے میں جو کچھ تحریرفرمایا وہ قوی حجتین اورصحیح دلائل عبارات قرآن و حدیث سے جواب دیا الله تعالی بروز قیامت ثواب کثیر اور اجر وافر عطافرمائے اور بدمذہبوں اورمنکرین مردودوں کی محفل کی بنیاد قطع کرے اور ان کے منہ دنیا ودین میں سیاہ کرے بحرمت ہمارے سردار مولی سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے تو حق خدا کے نزدیك زیادہ سزاوارہے۔
حررہ الاثیم عبدالکریم ابن المولوی حامد صاحب مرحوم المغفور متوطن فی بلد دھوراجی
(۵۹)الحمد اﷲ علی کل حال والشکر ﷲ علی کل نوالہ والصلوۃ والسلام علی رسولہ سیدنا ومولانا وسندنا محمد وعلی الہ واصحابہ اجمعین امین وبہ نستعین امابعد اقول : کیا خوب جواب ان سوالوں کا عالم محقق وفاضل مدقق اعلحضرت مولانا حاجی الحرمین الشریفین احمد رضاخاں صاحب البریلوی نے
yahan image hy
دئے ہیں جن کی تحریریں دیکھنے سے معلوم ہوا جو کچھ حق جواب کا تھا وہ لکھے۔ الله پاك ایسے علمائے دین کو قائم وترقی درجات میں رکھے آمین ثم آمین! چونکہ بمصداق لولا العلماء لھلك الجھلاء(اگر علماء نہ ہوتے تو جاہل ہلاك ہوجاتے۔ ت)سچ تویہ ہے کہ آج کل بد مذہب والوں کا اظہار ہورہاہے یہ چوہے ہیں دین السلام کی کترنی کررہے ہیں ایسے چوہوں کے سر کوب بلکہ نابود کرنے والے علمائے دین اہل سنت وجماعت جیسے یہ ہمارے اعلحضرت وغیرہم کہ ان کانفرنس کے توڑنے والے ہیں نے بدلائل قرآن شریف وباحادیث صحیح وباقول فقہائے فصیح کے چندیا اڑادی ہاں ذرا غور کرکے دیکھو صاف کلام پاك صاحب لولاك شافع محشر کا ہمیں راہ راست بتلارہاہے حدیث افضل الاعمال الحب فی اﷲ والبغض فی اﷲ (بہترین عمل محبت اوربغض الله تعالی کی رضا کے لئے ہونا ہے۔ ت)الله پاك جمیع مسلمانوں کونیك ہدایت بخشے اور راہ راست جماعت پر مستقیم رکھے آمین ثم آمین!
کتبہ خادم العلماء والفقراء احقر العباد عبدالحکیم خلف مولوی عبدالکریم ساکن دھوراجی بآباء واجداد۔
(۶۰)بسم اﷲ الرحمن الرحیم الحمد ﷲ علی ماھدی والصلوۃ علی رسولہ المصطفی والہ المجتبی وعلمائہ الذین احکموا بنیان الحق والتقی وقلعوا اساس البدع والھوی اما بعد اس عاجز واحقر خادم العلماء نے تحقیق انیق مشفقان مجیبان کی از ابتداء تاانتہاء دیکھی خداوند کریم ان سب کو اجر عظیم نصیب کرے اور جناب قاضی وحاجی قاسم میاں کو جو خیر خواہ اور سچے عاشق اسلام اوراہل السلام ہیں جنھوں نے بڑی جانفشانی کی ہے اور ان کے ہوا خواہوں کو بھی ثواب جمیل عطا کرے۔ المجیب مصیب ولہ فی الاخرۃ نصیب
حررہ احقر العباد محمد طاہر ولد مولوی ایوب عفی عنہا کاٹھیاوار دھوراجی
تصدیق جناب مولانا مولوی غلام محی الدین عرف فقیر صاحب ساکن راندیر ضلع سورت
(۶۱)بسم الله الرحمن الرحیم الحمد اﷲ وکفی والصلوۃ علی سیدنا محمد المصطفی وعلی الہ واھل بیتہ واصحابہ الذین اجتبی وسلام علی عبادہ الذین اصطفی اما بعد حمدوصلوہ کے واضح ولائح کہ فقیر نے یہ تحقیق انیق مجیبان ومصححان شفیق کی ابتداء سے انتہاء تك دیکھی سو حق حقیق ہے الله جل شانہ وعم نوالہ ان سب کو اور خاص کرکے جناب بردار بلکہ از جان بہتر دین کے عاشق اہل اسلام کے خیر خواہ محب صادق جناب قاضی وحاجی قاسم میاں اور ان کے معاونوں سب کو جزائے خیر عطافرمائے حالا ومالا بیشك اس زمانہ
کتبہ خادم العلماء والفقراء احقر العباد عبدالحکیم خلف مولوی عبدالکریم ساکن دھوراجی بآباء واجداد۔
(۶۰)بسم اﷲ الرحمن الرحیم الحمد ﷲ علی ماھدی والصلوۃ علی رسولہ المصطفی والہ المجتبی وعلمائہ الذین احکموا بنیان الحق والتقی وقلعوا اساس البدع والھوی اما بعد اس عاجز واحقر خادم العلماء نے تحقیق انیق مشفقان مجیبان کی از ابتداء تاانتہاء دیکھی خداوند کریم ان سب کو اجر عظیم نصیب کرے اور جناب قاضی وحاجی قاسم میاں کو جو خیر خواہ اور سچے عاشق اسلام اوراہل السلام ہیں جنھوں نے بڑی جانفشانی کی ہے اور ان کے ہوا خواہوں کو بھی ثواب جمیل عطا کرے۔ المجیب مصیب ولہ فی الاخرۃ نصیب
حررہ احقر العباد محمد طاہر ولد مولوی ایوب عفی عنہا کاٹھیاوار دھوراجی
تصدیق جناب مولانا مولوی غلام محی الدین عرف فقیر صاحب ساکن راندیر ضلع سورت
(۶۱)بسم الله الرحمن الرحیم الحمد اﷲ وکفی والصلوۃ علی سیدنا محمد المصطفی وعلی الہ واھل بیتہ واصحابہ الذین اجتبی وسلام علی عبادہ الذین اصطفی اما بعد حمدوصلوہ کے واضح ولائح کہ فقیر نے یہ تحقیق انیق مجیبان ومصححان شفیق کی ابتداء سے انتہاء تك دیکھی سو حق حقیق ہے الله جل شانہ وعم نوالہ ان سب کو اور خاص کرکے جناب بردار بلکہ از جان بہتر دین کے عاشق اہل اسلام کے خیر خواہ محب صادق جناب قاضی وحاجی قاسم میاں اور ان کے معاونوں سب کو جزائے خیر عطافرمائے حالا ومالا بیشك اس زمانہ
حوالہ / References
سنن ابو داؤد کتاب السنۃ باب مجانبۃ اھل لاھواء وبغضہم آفتاب عالم پریس لاہور ۲ / ۲۷۶
پر فتن میں اظہار کرنا اورحق کو حق کر دکھانا اور اپنے دینی برادروں کو بچانا یہ ہر مسلمان باایمان کا فرض ہے اور یہ قرآنی حکم محکم ہے جو اس کو نہ مانے اوراصرار کرے وہ قابل جہنم ہے دیکھو سورہ نساء پارہ پنجم :
“ ومن یشاقق الرسول من بعد ما تبین لہ الہدی ویتبع غیر سبیل المؤمنین نولہ ما تولی ونصلہ جہنم وساءت مصیرا﴿۱۱۵﴾ “ ۔ اورجو رسول کا خلاف کرے بعد اس کے کہ حق راستہ اس پر کھل چکا اور مسلمانوں کی راہ سے جداراہ چلے ہم اسے اس کے حال پر چھوڑ دیں گے اور اسے دوزخ میں داخل کریں گے اور کیا ہی بری جگہ ہے پلٹنے کی۔ (ت)
پس یہ ندوہ اور کانفرنس اورایسی ویسی خلاف شرع مجلسیں سم قاتل ہے اس میں شریك ہونا مدد دینا گناہ کبیرہ ہے خدا سب مسلمانوں کو بچائے اور توفیق نیك رفیق عطا فرمائے آمین!
الراقم الحروف خادم خلق الله فقیر صاحب سید غلام محی الدین بن مولانہ مولوی سید رحمت الله عفی عنہما بد ست خود۔
(۶۲)بسم الله الرحمن الرحیم الحمداﷲ العلیم العلام وعلی نبیہ والہ وصحبہ الصلوۃ والسلام اما بعد میں ناچیز ا س لائق نہیں ہوں کہ ایسے علماء کے فتووں پر تصحیح لکھوں اور میری تحریر سے فتوی کچھ زیادہ معتبر ہو مگر دوباتوں نے مجھے لکھنے پرابھارا اور جرأت دلوائی ایك توبرادر ایمانی کے اصرارنے اوردوسرے اس امید نے کہ علمائے راسخین کی متابعت اور مشابہت سے مجھ گناہ گار کا حشر بھی ان کے ساتھ ہوجائے اور
ان کے پیچھے پیچھے جنت الماوی کروں
لہذا لکھواتاہوں کہ :
ما افتی العلماء والعظام والفقہاء الکرام فھو حق و صحیح وانا اضعف عبد اﷲ الجلیل المحمود ابن الحافظ الاسمعیل المغفور المرحوم تابع لاقوالھم و فتوھم فی ھذا المرام و الصلوۃ علی نبیہ والہ وصحبہ والسلام وکان ذلك فی ۲۵ من شہر ذی القعدۃ الحرام ممن السنۃ الھجریۃ۔ علماء وفقہاء کرام نے جو فتوی دیا وہ صریح حق ہے اورمیں الله تعالی جلیل کا نہایت ضعیف بندہ محمود بن حافظ اسمعیل مرحوم صلوۃ وسلام ہو الله تعالی کے بنی ان کی آل واصحاب پر ۲۵ ذی قعدہ سن ہجری میں تحریر کیا گا۔ (ت)
yahan image hy
“ ومن یشاقق الرسول من بعد ما تبین لہ الہدی ویتبع غیر سبیل المؤمنین نولہ ما تولی ونصلہ جہنم وساءت مصیرا﴿۱۱۵﴾ “ ۔ اورجو رسول کا خلاف کرے بعد اس کے کہ حق راستہ اس پر کھل چکا اور مسلمانوں کی راہ سے جداراہ چلے ہم اسے اس کے حال پر چھوڑ دیں گے اور اسے دوزخ میں داخل کریں گے اور کیا ہی بری جگہ ہے پلٹنے کی۔ (ت)
پس یہ ندوہ اور کانفرنس اورایسی ویسی خلاف شرع مجلسیں سم قاتل ہے اس میں شریك ہونا مدد دینا گناہ کبیرہ ہے خدا سب مسلمانوں کو بچائے اور توفیق نیك رفیق عطا فرمائے آمین!
الراقم الحروف خادم خلق الله فقیر صاحب سید غلام محی الدین بن مولانہ مولوی سید رحمت الله عفی عنہما بد ست خود۔
(۶۲)بسم الله الرحمن الرحیم الحمداﷲ العلیم العلام وعلی نبیہ والہ وصحبہ الصلوۃ والسلام اما بعد میں ناچیز ا س لائق نہیں ہوں کہ ایسے علماء کے فتووں پر تصحیح لکھوں اور میری تحریر سے فتوی کچھ زیادہ معتبر ہو مگر دوباتوں نے مجھے لکھنے پرابھارا اور جرأت دلوائی ایك توبرادر ایمانی کے اصرارنے اوردوسرے اس امید نے کہ علمائے راسخین کی متابعت اور مشابہت سے مجھ گناہ گار کا حشر بھی ان کے ساتھ ہوجائے اور
ان کے پیچھے پیچھے جنت الماوی کروں
لہذا لکھواتاہوں کہ :
ما افتی العلماء والعظام والفقہاء الکرام فھو حق و صحیح وانا اضعف عبد اﷲ الجلیل المحمود ابن الحافظ الاسمعیل المغفور المرحوم تابع لاقوالھم و فتوھم فی ھذا المرام و الصلوۃ علی نبیہ والہ وصحبہ والسلام وکان ذلك فی ۲۵ من شہر ذی القعدۃ الحرام ممن السنۃ الھجریۃ۔ علماء وفقہاء کرام نے جو فتوی دیا وہ صریح حق ہے اورمیں الله تعالی جلیل کا نہایت ضعیف بندہ محمود بن حافظ اسمعیل مرحوم صلوۃ وسلام ہو الله تعالی کے بنی ان کی آل واصحاب پر ۲۵ ذی قعدہ سن ہجری میں تحریر کیا گا۔ (ت)
yahan image hy
حوالہ / References
القرآن الکریم ۴ /۱۱۵
تقریظ جناب مولانا مولوی غلام رسول صاحب ملتانی
(۶۳)قد اصاب ما جا مولانا العلام وحید العصر فرید الدھر امام الفقہاء راس الانقیاء مجدد المائۃ الحاضرۃ الفاضل البریلوی متع اﷲ المسلمین والمومنین بطول بقائہ فی ھذہ المسئلۃ بان التائید والشرکۃ فی مثل ھذا المجالس الشیعۃ ممنوع کما قال اﷲ تعالی “ لا یتخذ المؤمنون الکفرین اولیاء من دون المؤمنین ومن یفعل ذلک فلیس من اللہ فی شیء “
۔ وفقنا اﷲ تعالی ایانا ولسائر المسلمین و المومنین للمفارقۃ والشرکۃ من ھذہ المجالس و الیہ التوفیق وھو احسن رفیق۔ درست ہے جوا س مسئلہ میں جواب دیا مولنا علام یکتائے زمانہ تنہائے روزگار فقہاء کے امام پر ہیزگاروں کے سردرا اس صدی کے مجدد فاضل بریلوی نے الله تعالی مسلمین ومومنین کو ان کی درازی عمر سے متمتع کرے کہ اس جیسی بری مجلس کی تائیدو شرکت ممنوع ہے چنانچہ الله تعالی فرماتا ہے کہ مسلمان مسلمان کے سوا کافروں کو درست نہ بنائی اورجو ایسا کرے وہ رحمت خدا سے کسی شیئ میں نہیں۔ الله تعالی ہمیں اور تمام مسلمین و مومنین کو توفیق دے کہ ان مجلسوں کی شرکت سے جد ارہیں اور اسی کی طرف توفیق ہے اور وہ اچھا ساتھی۔
حررہ العبد الجانی ابوالقبول غلام رسول الملتانی عفی عنہ
تقریظ علمائے مراد اباد
(۶۴)الحمد لله علی الخبیر سقطت والی العلیم ظفرت بیشك بلاارتیاب جواب صحیح و صواب ایسے مجالس کا انعقاد بلانزاع حرام جو دنیا کو دین پر ترجیح دیتے ہیں یہ ایسوں ہی کا کام اس میں بذل جاہ ومال تو کجا نفس شرکت ہی ناروا توہب تنچر تشیع کی معجون مرکب کہیں اپنے زہریلے اثر سے تجھے ہلاك نہ کردے اپنے ایمان کی خبر لے فرق مبتدعہ وہابیہ نیاچرہ مرزائیہ وغیرہ ضالہ کے ساتھ مجالست وموانست ہر گز ہرگز جائز نہیں۔ جسے وہ ترقی سمجھے وہ عین تنزل ہے دارفانی کے عیش وتفاخر کو پیش نظر رکھ کر نعیم آخرت کو بھلادیں بیشك مسلمانوں کے لئے دنیاوآخرت میں وہی اصلح وانفع ہے جو ان کے لئے ان کے رب تبارك وتعالی اور حضور پر نور شافع یوم النشور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا جیساکہ مجیب معظم ومفخم ومصیب مدظلہم الاقدس نے
(۶۳)قد اصاب ما جا مولانا العلام وحید العصر فرید الدھر امام الفقہاء راس الانقیاء مجدد المائۃ الحاضرۃ الفاضل البریلوی متع اﷲ المسلمین والمومنین بطول بقائہ فی ھذہ المسئلۃ بان التائید والشرکۃ فی مثل ھذا المجالس الشیعۃ ممنوع کما قال اﷲ تعالی “ لا یتخذ المؤمنون الکفرین اولیاء من دون المؤمنین ومن یفعل ذلک فلیس من اللہ فی شیء “
۔ وفقنا اﷲ تعالی ایانا ولسائر المسلمین و المومنین للمفارقۃ والشرکۃ من ھذہ المجالس و الیہ التوفیق وھو احسن رفیق۔ درست ہے جوا س مسئلہ میں جواب دیا مولنا علام یکتائے زمانہ تنہائے روزگار فقہاء کے امام پر ہیزگاروں کے سردرا اس صدی کے مجدد فاضل بریلوی نے الله تعالی مسلمین ومومنین کو ان کی درازی عمر سے متمتع کرے کہ اس جیسی بری مجلس کی تائیدو شرکت ممنوع ہے چنانچہ الله تعالی فرماتا ہے کہ مسلمان مسلمان کے سوا کافروں کو درست نہ بنائی اورجو ایسا کرے وہ رحمت خدا سے کسی شیئ میں نہیں۔ الله تعالی ہمیں اور تمام مسلمین و مومنین کو توفیق دے کہ ان مجلسوں کی شرکت سے جد ارہیں اور اسی کی طرف توفیق ہے اور وہ اچھا ساتھی۔
حررہ العبد الجانی ابوالقبول غلام رسول الملتانی عفی عنہ
تقریظ علمائے مراد اباد
(۶۴)الحمد لله علی الخبیر سقطت والی العلیم ظفرت بیشك بلاارتیاب جواب صحیح و صواب ایسے مجالس کا انعقاد بلانزاع حرام جو دنیا کو دین پر ترجیح دیتے ہیں یہ ایسوں ہی کا کام اس میں بذل جاہ ومال تو کجا نفس شرکت ہی ناروا توہب تنچر تشیع کی معجون مرکب کہیں اپنے زہریلے اثر سے تجھے ہلاك نہ کردے اپنے ایمان کی خبر لے فرق مبتدعہ وہابیہ نیاچرہ مرزائیہ وغیرہ ضالہ کے ساتھ مجالست وموانست ہر گز ہرگز جائز نہیں۔ جسے وہ ترقی سمجھے وہ عین تنزل ہے دارفانی کے عیش وتفاخر کو پیش نظر رکھ کر نعیم آخرت کو بھلادیں بیشك مسلمانوں کے لئے دنیاوآخرت میں وہی اصلح وانفع ہے جو ان کے لئے ان کے رب تبارك وتعالی اور حضور پر نور شافع یوم النشور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا جیساکہ مجیب معظم ومفخم ومصیب مدظلہم الاقدس نے
حوالہ / References
القرآن الکریم ۳ /۲۸
مبرہن فرمایا مفتی صاحب موصوف کا علم وفضل ظاہر واشکار جس سے ہدایت کے چشمے اکناف عالم میں نمودار اصل تویہ ہے کہ حضرت والا کی ذات بابرکت ہرگز کسی واصف کے وصف اور مادح کے مدح کی محتاج نہیں جبکہ الله ورسول جل وعلا وصلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے مبارك شہر مدینہ طیبہ اور مکہ مکرمہ کے علمائے عظام وفضلائے کرام نے ایساگہرا احترام فرمایا کہ جس کا بیان حیطہ تحریر سے باہر میں یہ بھی کیوں کہوں یہ اکرام علمائے بلدامین نے فرمایا نہیں نہیں بلکہ یقینا یہ مجد وشرف اسی آقائے نامدار سرکار ابد قرار فداہ روحی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے وقار سے ہے جن کے صدقہ میں ہر ذی عزت ذی عزت بنا جس کو جو ملا ان سے ملا وہ وہی آفتاب رسالت ہیں جنھوں نے بعضے مقربان درگاہ علیہ متع الله المسلمین بقائہم کو عالم رویا میں اپنے نور بارجلو کی جھلك دکھا کر زبان فیض ترجمان سے ارشاد فرمایا کہ “ احمدی رضا کی خدمتیں قبول ہیں “ ۔ والحمد اﷲ علی ذلک ارباب سنت پر لازم کہ حضرت ممدو ح کے فتوے کے موافق عمل فرمائیں اور بدعقیدہ بد مذہبوں کی صحبت سے اجتناب رکھیں الله تبارك وتعالی ہم سب کو ہدایت پر قائم رکھے آمین ثم آمین! واخر دعونا ان الحمد اﷲ رب العالمین والصلوۃ والسلام الاتمان الاکملان علی سید المرسلین شفیع المذنبین راحۃ العاشقین والہ وصحبہ الطیبین الطاھرین کلھم اجمعین الی یوم ا لدین۔
حررہ العبد المذنب ابوالمکارم محمد عماد الدین عفی عنہ
(۶۵)الجواب صحیح والمجیب المعظم المکرم مصیب ومثاب فقیر ابوالبرکات عبید المصطفی سید احمد غفرالله الصمد
(۶۶)الجواب صحیح حقیر سید اولاد علی عفی عنہ
تصدیقات علمائے پیلی بھیت
(۶۷)جو کچھ حضرت شیك الاسلام والمسلمین عون الاحناف والدین امام علمائے اہل سنت عالم کتاب وملت عارف باللہ نائب رسول اللہ مجدد مائتہ حاضرہ صاحب حجۃ قاہرہ مؤید ملت طاہرہ سیدنا ومولانا الحاج اعلحضرت مولوی احمد رضاخاں صاحب دامت برکاتہم ومتع الله المسلمین بطول بقائہ نے دربارہ مسئلہ ہذا تحریر فرمایا ہے وہ سب حق وصواب ہے اور احق بالاتباع ہے مسلمانوں کو اس پر عمل لازمی ضروری ہے۔ اور خلاف اس کا ضلالت وموجب ہلاکت واﷲ تعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم وھو الھادی بحرمۃ النبی الامی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فقیر قادری حکیم عبدالاحدا الشہیر بسلطان الواعظمین خادم ومدرس مدسۃ الحدیث
حررہ العبد المذنب ابوالمکارم محمد عماد الدین عفی عنہ
(۶۵)الجواب صحیح والمجیب المعظم المکرم مصیب ومثاب فقیر ابوالبرکات عبید المصطفی سید احمد غفرالله الصمد
(۶۶)الجواب صحیح حقیر سید اولاد علی عفی عنہ
تصدیقات علمائے پیلی بھیت
(۶۷)جو کچھ حضرت شیك الاسلام والمسلمین عون الاحناف والدین امام علمائے اہل سنت عالم کتاب وملت عارف باللہ نائب رسول اللہ مجدد مائتہ حاضرہ صاحب حجۃ قاہرہ مؤید ملت طاہرہ سیدنا ومولانا الحاج اعلحضرت مولوی احمد رضاخاں صاحب دامت برکاتہم ومتع الله المسلمین بطول بقائہ نے دربارہ مسئلہ ہذا تحریر فرمایا ہے وہ سب حق وصواب ہے اور احق بالاتباع ہے مسلمانوں کو اس پر عمل لازمی ضروری ہے۔ اور خلاف اس کا ضلالت وموجب ہلاکت واﷲ تعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم وھو الھادی بحرمۃ النبی الامی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فقیر قادری حکیم عبدالاحدا الشہیر بسلطان الواعظمین خادم ومدرس مدسۃ الحدیث
پیلی بھیت ابن علامہ اوحدارشد فقیہ امجد حضرت مولانا وصی احمد صاحب قبلہ محدث سورتی قدس سرہ العلی۔
(۶۸)حضرت عظیم البرکت عالم اہل سنت قامع بدعت ومحی سنت مولانا وبالفضل المولوی احمد رضاخاں صاحب متع الله المسلمین ببقائہ کا جواب صحیح ہے۔
حررہ العبد الحقیر ابوسراج عبدالحق رضوی عفی عنہ
(۶۹)الجواب صحیح والمجیب الفاضل نجیح۔
فقیر قادری حبیب الرحمن مدرس مدرسۃ الحدیث پیلی بھیت۔
تصدیقات علمائے شاہجہان پور
(۷۰)بسم الله الرحمن الرحیم الحمد الله الاعلی والصلوۃ والسلام علی رسول المجتبی وعلی الہ واصحابہ الذین ھم اسانید الھدی امابعد یہ فتوے عالم اکمل فاضل اجل حامی دین غراحضرت مولنا مولوی احمد رضاخاں صاحب بریلوی کا دیکھنے میں آیا نہایت صحیح اور درست پایا بلاشبہہ یہ مجلس منحوس مکر اور فریب سے دین اور دینا دونوں برباد کرنے والی اگرمسلمان ان کی صحت اور معاونت اور شرکت سے باز نہ آئیں گے تو بالیقین اپنے دین ودنیا دونوں خراب کریں گے چنانچہ فرمایا حق سبحانہ وتعالی نے :
“ لا تجد قوما یؤمنون باللہ و الیوم الاخر یوادون من حاد اللہ و رسولہ “ قالا فی تفسیر روح البیان تحت ھذہ الایۃ الکریمۃ والمراد بمن حاد اﷲ ورسول المنافقون والیہودوالفساق والظلمۃ والمبتدعۃ والمراد بنفی الوجدان نفی الموادۃعلی معنی انہ لاینبغی ان یتحق ذلک وحقہ ان یمتنع ولایجود بحال انتہی وایضا فیہ تم ایسی قوم نہ پاؤ گے جو الله تعالی اور آخرت پر ایمان لائے ہیں وہ الله اور اس کے رسول صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے مخالفوں سے محبت کریں روح البیان میں اس آیہ کریمہ کے تحت فرمایا : الله ورسول کے مخالف منافق یہود فساق ظالم بدعتی لوگ ہیں اور “ نہ پائیں “ سے مراد محبت وتعلق کی نفی ہے یعنی ایسا نہیں ہونا چاہئے اوراس سے بچنا لازم ہے بہر حال اس سے بازرہے ختم ہوا اوراس میں ہے
(۶۸)حضرت عظیم البرکت عالم اہل سنت قامع بدعت ومحی سنت مولانا وبالفضل المولوی احمد رضاخاں صاحب متع الله المسلمین ببقائہ کا جواب صحیح ہے۔
حررہ العبد الحقیر ابوسراج عبدالحق رضوی عفی عنہ
(۶۹)الجواب صحیح والمجیب الفاضل نجیح۔
فقیر قادری حبیب الرحمن مدرس مدرسۃ الحدیث پیلی بھیت۔
تصدیقات علمائے شاہجہان پور
(۷۰)بسم الله الرحمن الرحیم الحمد الله الاعلی والصلوۃ والسلام علی رسول المجتبی وعلی الہ واصحابہ الذین ھم اسانید الھدی امابعد یہ فتوے عالم اکمل فاضل اجل حامی دین غراحضرت مولنا مولوی احمد رضاخاں صاحب بریلوی کا دیکھنے میں آیا نہایت صحیح اور درست پایا بلاشبہہ یہ مجلس منحوس مکر اور فریب سے دین اور دینا دونوں برباد کرنے والی اگرمسلمان ان کی صحت اور معاونت اور شرکت سے باز نہ آئیں گے تو بالیقین اپنے دین ودنیا دونوں خراب کریں گے چنانچہ فرمایا حق سبحانہ وتعالی نے :
“ لا تجد قوما یؤمنون باللہ و الیوم الاخر یوادون من حاد اللہ و رسولہ “ قالا فی تفسیر روح البیان تحت ھذہ الایۃ الکریمۃ والمراد بمن حاد اﷲ ورسول المنافقون والیہودوالفساق والظلمۃ والمبتدعۃ والمراد بنفی الوجدان نفی الموادۃعلی معنی انہ لاینبغی ان یتحق ذلک وحقہ ان یمتنع ولایجود بحال انتہی وایضا فیہ تم ایسی قوم نہ پاؤ گے جو الله تعالی اور آخرت پر ایمان لائے ہیں وہ الله اور اس کے رسول صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے مخالفوں سے محبت کریں روح البیان میں اس آیہ کریمہ کے تحت فرمایا : الله ورسول کے مخالف منافق یہود فساق ظالم بدعتی لوگ ہیں اور “ نہ پائیں “ سے مراد محبت وتعلق کی نفی ہے یعنی ایسا نہیں ہونا چاہئے اوراس سے بچنا لازم ہے بہر حال اس سے بازرہے ختم ہوا اوراس میں ہے
حوالہ / References
القرآن الکریم ۵۸ /۲۲
روح البیان(التفسیر) تحت آیۃ ۵۸ / ۲۲ المکتبۃ الاسلامیۃ لصاحبہا الحاج الریاض ۹ / ۴۱۲
روح البیان(التفسیر) تحت آیۃ ۵۸ / ۲۲ المکتبۃ الاسلامیۃ لصاحبہا الحاج الریاض ۹ / ۴۱۲
عن سھل بن عبداﷲ التستری قدس سرہ من صحح ایمانہ واخلص توحیدہ فانہ لایانس الی مبتدع والایجالسہ ولایواکلہ ولایشاربہ ولایصاحبہ ویظہر من نفسہ العداوہ والبغضاء انتھی سہل بن عبدالله تستری قدس سرہ سے منقول ہے کہ صحیح الایمان والاخالص تو حید والا شخص نہ بدعتی لوگوں کی رغبت رکھے نہ ان کے پاس بیٹھے نہ ان کے ساتھ کھائے نہ ان کی صحبت میں جائے اور ان سے عداوت وبغض کا مظاہرہ کرے انتہی(ت)
اور یہ ان کا کہنا کہ یہ دینی کانفرنس کہاں ہے یہ تو دنیوی کے لئے قائم کی ہے بالکل فریب اور دھوکا دہی اور رہزنی ہے کیونکہ اگر عزت اور ترقی دنیا کی پیدا کرنے کے واسطے ہے تب بھی ان سے اختلاط عــــــہ اور مداہنت ممنوع ہے چنانچہ تفسیر روح البیان میں ہے :
ومن داھن مبتدعا سلبہ اﷲ حلاوۃ السنن ومن تحبب الی مبتدع لطب عزفی الدنیا اوعرض منھا اذلہ اﷲ بتلك العزۃ وافقراﷲ بذلك الغنی انتہی و ایضا قال سبحنہ تعالی وتقدس
“ ولا ترکنوا الی الذین ظلموا فتمسکم النار “ ۔ قال فی
جواہر التزیل تحت ھذہ الایۃ الکریمۃ وھی نار
جہنم والرکون ھو المیل جو بدعتی کے معاملہ میں کمزوری دکھائے الله تعالی اس سے سنت کی حلاوت کو سلب فرماتاہے اور جو شخص بدعتی کی دعوت کو دنیاوی عزت یاسامان کی خاطر قبول کرتاہے توا لله تعالی اس کو اس غناء کے باوجود ذلیل وفقیر کردیتاہے الله تعالی نے یہ بھی فرمایا ہے ظالموں کی طرف میلان نہ کرو کہ آگ تمھیں چھوئے جواہر التنزیل میں اس آیہ کریم کے تحت فرمایا یہ جہنم کی آگ ہے اور “ رکون “ تھوڑی میل ہے تو جو ان کے ساتھ مکمل میلان رکھے اور ان کے
عــــــہ : یعنی فرقہ باطلہ سے ۱۲۔
اور یہ ان کا کہنا کہ یہ دینی کانفرنس کہاں ہے یہ تو دنیوی کے لئے قائم کی ہے بالکل فریب اور دھوکا دہی اور رہزنی ہے کیونکہ اگر عزت اور ترقی دنیا کی پیدا کرنے کے واسطے ہے تب بھی ان سے اختلاط عــــــہ اور مداہنت ممنوع ہے چنانچہ تفسیر روح البیان میں ہے :
ومن داھن مبتدعا سلبہ اﷲ حلاوۃ السنن ومن تحبب الی مبتدع لطب عزفی الدنیا اوعرض منھا اذلہ اﷲ بتلك العزۃ وافقراﷲ بذلك الغنی انتہی و ایضا قال سبحنہ تعالی وتقدس
“ ولا ترکنوا الی الذین ظلموا فتمسکم النار “ ۔ قال فی
جواہر التزیل تحت ھذہ الایۃ الکریمۃ وھی نار
جہنم والرکون ھو المیل جو بدعتی کے معاملہ میں کمزوری دکھائے الله تعالی اس سے سنت کی حلاوت کو سلب فرماتاہے اور جو شخص بدعتی کی دعوت کو دنیاوی عزت یاسامان کی خاطر قبول کرتاہے توا لله تعالی اس کو اس غناء کے باوجود ذلیل وفقیر کردیتاہے الله تعالی نے یہ بھی فرمایا ہے ظالموں کی طرف میلان نہ کرو کہ آگ تمھیں چھوئے جواہر التنزیل میں اس آیہ کریم کے تحت فرمایا یہ جہنم کی آگ ہے اور “ رکون “ تھوڑی میل ہے تو جو ان کے ساتھ مکمل میلان رکھے اور ان کے
عــــــہ : یعنی فرقہ باطلہ سے ۱۲۔
حوالہ / References
روح البیان للحقی(التفسیر) تحت آیۃ ۵۸ / ۲۲ المکتبۃ الاسلامیہ لصاحبہا الحاج الریاض ۹ / ۴۱۲
روح البیان للحق(التفسیر) تحت آیۃ ۵۸ / ۲۲ المکتبۃ الاسلامیہ لصاحبہا الحاج الریاض ۹ / ۴۱۲
القرآن الکریم ۱۱ /۱۱۳
روح البیان للحق(التفسیر) تحت آیۃ ۵۸ / ۲۲ المکتبۃ الاسلامیہ لصاحبہا الحاج الریاض ۹ / ۴۱۲
القرآن الکریم ۱۱ /۱۱۳
الیسیر فما ظنك بمن یمیل الیہم کل المیل ویتھا لك علی مصاحبتہم ویتعب قلبہ وقالبہ فی ادخال السرور علیہم ویستنھض الرجل والخیل فی جلب المنافع الیھم ویبتھج بالتزی بزیھم والمشارکۃ فی غیھم ویمدعینیہ الی ماتمتعوا بہ من زھرۃ الدنیا الفانیۃ ویغبطھم بما اوتوامن القطوف الدانیۃ غافلا معن حقیقۃ ذلك ذاھلان عن منتہی ماھنالك وینبغی ان یعد مثل ذلك من الذین ظلموا انتہی۔ ساتھی ہونے پر والہانہ انداز اپنائے اور ان میں شامل ہونے پر روحانی وجسمانی خوشی ظاہر کرے اور منافع حاصل کرنے کے لئے اس ٹولے کی طرف دوڑے اور ان کی شکل وصورت پر فخر کرے ان کی گمراہی میں شرکت کرے اور ددنیاوی امیرانہ سہولیات پر امید لگائے اور ان کے موج میلے پر رشك کرتے ہوئے اس کی حقیقت نہ سمجھے اورنتائج سے بے فکر ہوجائے تو ایسے لوگوں کو ظالموں میں شمارکرنا مناسب ہے۔ (ت)
اس شاہجہان پورمیں عرصہ چودہ پندرہ سال کا ہوا ہوگا کہ اس ندویہ نے مجلس قائم کی تھی مکروفریب دے کر ساٹھ ہزار روپیہ نقد اورزیورات اور جائیدا د دیہات وغیرہ حاصل کیا کہ اتنا کسی شہر سے حاصل کرنے کا سنا نہیں گیا۔ اور سب خورد برد کر ڈالایہاں تك کہ طلاب جو مدرسہ ندویہ میں پڑھنے جاتے تھے تو ان سے خوراك کی تنخواہ لے لیتے تب داخل کرتے اسی وجہ سے مولوی مسیح الزمان خاں صاحب اور اعزاز حسین صاحب وغیرہ ان سے علیحدہ ہوگئے اور فقیر سے اور اہل دندویہ سے کئی گھنٹے مباحثہ رہا انھوں نے تسلیم کیا اور وعدہ کیا کہ ہم غیر مقلدوں اور وہابیوں اور رافضیوں اور نیچریوں کو اپنا شریك نہ کرینگے اور پھر بھی انھوں نے شرکت ان فرقہ باطلہ کی قائم رکھی اس سے بڑھ کر کیا فریب ہوگا اب ان شہروں میں ان کا داؤں چلتا نہیں انجان شہروں میں جاکر فریب دہی دنیا اور دین کی اختیار کی ان شاء الله تعالی سچے مسلمان تو بعد علم کے ان کے فریب میں ہر گز نہ آئیں گے۔
حررہ الخاطی محمد ریاست علی شاہجہان پوری عفی عنہ۔
(۷۱)اصاب من اجاب۔ العبد نور احمد عفی عنہ
yahan image hy
اس شاہجہان پورمیں عرصہ چودہ پندرہ سال کا ہوا ہوگا کہ اس ندویہ نے مجلس قائم کی تھی مکروفریب دے کر ساٹھ ہزار روپیہ نقد اورزیورات اور جائیدا د دیہات وغیرہ حاصل کیا کہ اتنا کسی شہر سے حاصل کرنے کا سنا نہیں گیا۔ اور سب خورد برد کر ڈالایہاں تك کہ طلاب جو مدرسہ ندویہ میں پڑھنے جاتے تھے تو ان سے خوراك کی تنخواہ لے لیتے تب داخل کرتے اسی وجہ سے مولوی مسیح الزمان خاں صاحب اور اعزاز حسین صاحب وغیرہ ان سے علیحدہ ہوگئے اور فقیر سے اور اہل دندویہ سے کئی گھنٹے مباحثہ رہا انھوں نے تسلیم کیا اور وعدہ کیا کہ ہم غیر مقلدوں اور وہابیوں اور رافضیوں اور نیچریوں کو اپنا شریك نہ کرینگے اور پھر بھی انھوں نے شرکت ان فرقہ باطلہ کی قائم رکھی اس سے بڑھ کر کیا فریب ہوگا اب ان شہروں میں ان کا داؤں چلتا نہیں انجان شہروں میں جاکر فریب دہی دنیا اور دین کی اختیار کی ان شاء الله تعالی سچے مسلمان تو بعد علم کے ان کے فریب میں ہر گز نہ آئیں گے۔
حررہ الخاطی محمد ریاست علی شاہجہان پوری عفی عنہ۔
(۷۱)اصاب من اجاب۔ العبد نور احمد عفی عنہ
yahan image hy
حوالہ / References
جواھر التنزیل
(۷۲)الجواب صحیح۔ محمد فراست الله عفی عنہ
(۷۳)الجواب صحیح۔ ظہور احمد شاہجہان پوری عفی عنہ
تصدیقات علمائے رامپور
(۷۴)الجواب صحیح۔
محمد نور الحسین الرامفوری المدرس الاول للمدسرۃ العثمانیہ الواقعۃ بلدۃ کلکۃ ۲۸ جمادی الاولی ۳۶ الہجریۃ المقدسۃ
(۷۵)بسم الله الرحمن الرحیم الحمد الله علی الھدایۃ والرشاد ونعوذ باﷲ من البغی والعناد والصلوۃ والسلام علی نبییہ المصطفی والہ وصحبہ الذین اجتباہم واصطفی اما بعد فقیر حضرت مجدد دین وملت قامع شرکت وبدعت مجدد مائتہ حاضرہ مؤید ملت طاہرہ امام اہلسنت حضرت فاضل بریلوی ادام الله وابقاہ کے حرف حرف سے متفق ہے نیچری ایجوکیشنل کانفرنسیں یا ان کے فضلے ندوۃ مخذولہ کی شرکت بدنی ہو یا مالی قطعی حرام اور اس کو حلال اور دینی خدمت سمجھنے والا کافر و بے دین ہے ملعون نیچریوں نے خوشنودی نصاری کے لئے حب جاہ میں گرفتار ہوکر انگریزی تعلیم کا جال پھیلایا رکھاہے جس سے اس گروہ نابکار بندہ کفار کی غرض فاسد یہ ہے کہ جوہر ایمان مسلمان نادان بچوں کے سینے سے مٹ جائے مگر ان اشرارناہنجار کو اس رہزنی کے صلے میں کوئی منصب یا جہنمی خطاب مل جائے ہنوز ایك ماہ نہیں گزرا کہ آل انڈیا مسلم ایجوکیشنل کانفرنس مدارس میں معنقد ہوئی جس کے صدر آنریبل خان بہادرعزیزالدین احمد سی آئی اے کلکٹر آف ویلور نے خطبہ صدارت فرماتے ہوئے کہا کہ مسلمان بچوں کو ابتداء میں قرآن خوانی سے جو نقصانات پیدا ہوجاتے ہیں آگے چل کر وہ انگریزی تعلیم میں حارج ہوتے ہیں اگے چل کر فرماتے ہیں کہ جو مادر وطن کے فرزند ایم۔ اے یا بی۔ اے کی ڈگریاں حاصل کرنے کے لئے کوشش کررہے ہوں تو ان کوایام رمضان میں روزہ بالکل نہ رکھناچاہئے کیونکہ بوجہ صوم طالبعلموں کے قوائے عقلی وحسی کمزور پڑجاتے ہیں انا لله وانا الیہ راجعون۔ (ملاحظہ ہو مزید کیفیت کے لئے اخبار وکیل)
جن خبیث کانفرنس ونیچری جلسوں میں ان کے معین ومدد گار بیٹھ کر خلاف نصوص قرآنی واحادیث محبوب ربانی ریزولیوشن پاس کرتے ہوں ان کانفرنسوں کی شرکت مسلمانوں کو قطعی حرام ہےایسی کفریہ کانفرنسوں میں اس گروہ شقاوت پژدہ کی شرکت کرنا یامالی مدد کرنا اسلامی بنیادکو ڈھانا اور آتش کفرکا بھڑکانا ہے جس کا انجام جہنم ہے
(۱)رب العزت ارشاد فرماتا ہیں :
“ یایہا الذین امنوا لاتتخذوا اباءکم اے ایمان والو! اپنے باپ اور اپنے بھائیوں کو
(۷۳)الجواب صحیح۔ ظہور احمد شاہجہان پوری عفی عنہ
تصدیقات علمائے رامپور
(۷۴)الجواب صحیح۔
محمد نور الحسین الرامفوری المدرس الاول للمدسرۃ العثمانیہ الواقعۃ بلدۃ کلکۃ ۲۸ جمادی الاولی ۳۶ الہجریۃ المقدسۃ
(۷۵)بسم الله الرحمن الرحیم الحمد الله علی الھدایۃ والرشاد ونعوذ باﷲ من البغی والعناد والصلوۃ والسلام علی نبییہ المصطفی والہ وصحبہ الذین اجتباہم واصطفی اما بعد فقیر حضرت مجدد دین وملت قامع شرکت وبدعت مجدد مائتہ حاضرہ مؤید ملت طاہرہ امام اہلسنت حضرت فاضل بریلوی ادام الله وابقاہ کے حرف حرف سے متفق ہے نیچری ایجوکیشنل کانفرنسیں یا ان کے فضلے ندوۃ مخذولہ کی شرکت بدنی ہو یا مالی قطعی حرام اور اس کو حلال اور دینی خدمت سمجھنے والا کافر و بے دین ہے ملعون نیچریوں نے خوشنودی نصاری کے لئے حب جاہ میں گرفتار ہوکر انگریزی تعلیم کا جال پھیلایا رکھاہے جس سے اس گروہ نابکار بندہ کفار کی غرض فاسد یہ ہے کہ جوہر ایمان مسلمان نادان بچوں کے سینے سے مٹ جائے مگر ان اشرارناہنجار کو اس رہزنی کے صلے میں کوئی منصب یا جہنمی خطاب مل جائے ہنوز ایك ماہ نہیں گزرا کہ آل انڈیا مسلم ایجوکیشنل کانفرنس مدارس میں معنقد ہوئی جس کے صدر آنریبل خان بہادرعزیزالدین احمد سی آئی اے کلکٹر آف ویلور نے خطبہ صدارت فرماتے ہوئے کہا کہ مسلمان بچوں کو ابتداء میں قرآن خوانی سے جو نقصانات پیدا ہوجاتے ہیں آگے چل کر وہ انگریزی تعلیم میں حارج ہوتے ہیں اگے چل کر فرماتے ہیں کہ جو مادر وطن کے فرزند ایم۔ اے یا بی۔ اے کی ڈگریاں حاصل کرنے کے لئے کوشش کررہے ہوں تو ان کوایام رمضان میں روزہ بالکل نہ رکھناچاہئے کیونکہ بوجہ صوم طالبعلموں کے قوائے عقلی وحسی کمزور پڑجاتے ہیں انا لله وانا الیہ راجعون۔ (ملاحظہ ہو مزید کیفیت کے لئے اخبار وکیل)
جن خبیث کانفرنس ونیچری جلسوں میں ان کے معین ومدد گار بیٹھ کر خلاف نصوص قرآنی واحادیث محبوب ربانی ریزولیوشن پاس کرتے ہوں ان کانفرنسوں کی شرکت مسلمانوں کو قطعی حرام ہےایسی کفریہ کانفرنسوں میں اس گروہ شقاوت پژدہ کی شرکت کرنا یامالی مدد کرنا اسلامی بنیادکو ڈھانا اور آتش کفرکا بھڑکانا ہے جس کا انجام جہنم ہے
(۱)رب العزت ارشاد فرماتا ہیں :
“ یایہا الذین امنوا لاتتخذوا اباءکم اے ایمان والو! اپنے باپ اور اپنے بھائیوں کو
و اخونکم اولیاء ان استحبوا الکفر علی الایمن ومن یتولہم منکم فاولئک ہم الظلمون ﴿۲۳﴾ “
(۲) “ ما کان اللہ لیذر المؤمنین علی ما انتم علیہ حتی یمیز الخبیث من الطیب ۔ دوست نہ سمجھوں اگر وہ ایمان پر کفر پسند کریں اور تم میں جو کوئی ان سے دوستی کرے گا تو وہی ظالم ہیں۔ (ت)
الله مسلمانوں کو اس حال پر چھوڑنے کا نہیں جس پر تم ہو جب تك جدا نہ کردے گا گندے کو ستھرے سے(ت)
حدیث صحیح میں ارشاد ہوتاہے :
اباھریرۃ یقول : قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یکون فی اخرالزمان دجالون کذابون یاتونکم من الاحادیث بمالم تسمعوا انتم واباؤکم ایاکم وایاھم لایضلونکم و لایفتنونکم ۔
(۲)من اعرض عن صاحب بدعۃ بغضا لہ فی اﷲ ملا اﷲ قبلہ امنا وایمانا ۔
(۳)من مشی الی صاحب بدعۃ لیوقرھم فقد اعان علی ھدم الاسلام ۔ حضرت ابوہریرہ رضی الله تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایاکہ آخری زمانہ میں (ایك گروہ)فریب دینے والوں اور جھوٹ بولنے والوں کا ہوگا وہ تمھارے سامنے ایسی باتیں لائیں گے جن کو نہ تم نے کبھی سناہوگا نہ تمھارے باپ دادا نے تو ایسے لوگوں سے بچو اور انھیں اپنے قریب نہ آنے دو تاکہ وہ تمھیں گمراہ نہ کریں اور فتنہ میں نہ ڈالیں۔ (ت)
جس نے بغض کی بنا پر بد مذہب سے اعراض کیا تو الله تعالی اس کا دل امن وایمان سے بھردے گا۔ (ت)
جو کسی بدعتی کی تعظیم کے لئے گیا اس نے اسلام کے ڈھانے پر مدد کی۔ (ت)
غرض آیات واحادیث اس بارے میں مالا مال ہیں خداوند کریم برادان اہل سنت کو ان خبیث جلسوں کی شرکت سے محفوظ رکھے اور گروہ نیاچرہ سے ہم مسلمانان اہل سنت کو بچائے آمین ثم آمین بجاہ سید المرسلین علیہ افضل الصلوۃ واکمل التسلیم۔ فیقر محمد شفاعت الرسول سنی حنفی قادری رضوی برکاتی کان الله رامپوری
(۲) “ ما کان اللہ لیذر المؤمنین علی ما انتم علیہ حتی یمیز الخبیث من الطیب ۔ دوست نہ سمجھوں اگر وہ ایمان پر کفر پسند کریں اور تم میں جو کوئی ان سے دوستی کرے گا تو وہی ظالم ہیں۔ (ت)
الله مسلمانوں کو اس حال پر چھوڑنے کا نہیں جس پر تم ہو جب تك جدا نہ کردے گا گندے کو ستھرے سے(ت)
حدیث صحیح میں ارشاد ہوتاہے :
اباھریرۃ یقول : قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یکون فی اخرالزمان دجالون کذابون یاتونکم من الاحادیث بمالم تسمعوا انتم واباؤکم ایاکم وایاھم لایضلونکم و لایفتنونکم ۔
(۲)من اعرض عن صاحب بدعۃ بغضا لہ فی اﷲ ملا اﷲ قبلہ امنا وایمانا ۔
(۳)من مشی الی صاحب بدعۃ لیوقرھم فقد اعان علی ھدم الاسلام ۔ حضرت ابوہریرہ رضی الله تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایاکہ آخری زمانہ میں (ایك گروہ)فریب دینے والوں اور جھوٹ بولنے والوں کا ہوگا وہ تمھارے سامنے ایسی باتیں لائیں گے جن کو نہ تم نے کبھی سناہوگا نہ تمھارے باپ دادا نے تو ایسے لوگوں سے بچو اور انھیں اپنے قریب نہ آنے دو تاکہ وہ تمھیں گمراہ نہ کریں اور فتنہ میں نہ ڈالیں۔ (ت)
جس نے بغض کی بنا پر بد مذہب سے اعراض کیا تو الله تعالی اس کا دل امن وایمان سے بھردے گا۔ (ت)
جو کسی بدعتی کی تعظیم کے لئے گیا اس نے اسلام کے ڈھانے پر مدد کی۔ (ت)
غرض آیات واحادیث اس بارے میں مالا مال ہیں خداوند کریم برادان اہل سنت کو ان خبیث جلسوں کی شرکت سے محفوظ رکھے اور گروہ نیاچرہ سے ہم مسلمانان اہل سنت کو بچائے آمین ثم آمین بجاہ سید المرسلین علیہ افضل الصلوۃ واکمل التسلیم۔ فیقر محمد شفاعت الرسول سنی حنفی قادری رضوی برکاتی کان الله رامپوری
حوالہ / References
القرآن الکریم ۹ /۲۳
القرآن الکریم ۳ /۱۷۹
صحیح مسلم باب النہی عن الروایۃ عن الضعفاء قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۰
تاریخ بغداد ترجمہ ۵۳۷۸ عبدالرحمن بن نافع دارالکتاب العربی بیروت ۱۰ / ۲۶۴
کنزالعمال حدیث ۱۱۲۳ موسستہ الرسالۃ بیروت ۱ / ۲۲۲
القرآن الکریم ۳ /۱۷۹
صحیح مسلم باب النہی عن الروایۃ عن الضعفاء قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۰
تاریخ بغداد ترجمہ ۵۳۷۸ عبدالرحمن بن نافع دارالکتاب العربی بیروت ۱۰ / ۲۶۴
کنزالعمال حدیث ۱۱۲۳ موسستہ الرسالۃ بیروت ۱ / ۲۲۲
ابن شیربشیہ سنت عمدۃالمتکلمین سیف المسلول حضرت ابوالوقت مولنا شاہ محمد ہدایت الرسول مرحوم مغفور رامپوری
(۷۶)تصدیق جناب مولانا مولوی محمد علیم صاحب میرٹھی زید مجدہ
مبسملا وحامدا محمدا(جلا وعلا)ومصلیا ومسلما محمدا(سلم الله علیہ وصلی)امابعد کاٹھیا وار مسلم ایجوکیشنل کانفرنس کے نام سے ظاہرہوتاہے کہ مسلمانوں کا ٹھیاورا کی ایك تعلیمی انجمن ہے مسلمانوں میں علوم کی روشنی پھیلانا اور ان کو جہالت کے قعر مذلت سے نکالنا ایك ایسا ضروری واہم امرہے جس کے متعلق قرآن عظیم میں یوں واردہوتا ہے۔
“ ولتکن منکم امۃ یدعون الی الخیر ویامرون بالمعروف وینہون عن المنکر “ ۔ اور تم میں ایك گروہ ایسا ہونا چاہئے کہ بھلائی کی طرف بلائیں اور اچھی بات کا حکم دیں اور بری سے منع کریں۔ (ت)
نیز ارشاد ہوتاہے :
“ یرفع اللہ الذین امنوا منکم و الذین اوتوا العلم درجت “ ۔ الله تمھارے ایمان والوں کے اور ان کے جن کو علم دیا گیا درجے بلند فرمائے گا(ت)
طلب علم کے متعلق فرمان حضور عالم ماکان ومایکون صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ہوتاہے کہ :
طلب العلم فریضۃ علی کل مسلم ومسلمۃ ۔ علم طلب کرنا ہرمسلمان مرد اور عورت پر فرض ہے(ت)
نیز : اطلبوا العلم ولو بالصین (علم حاصل کرو چاہئے چین جانا پڑے۔ ت)لیکن سب سے اہم سوال یہ ہے کہ یہاں علم سے مراد کو ن سا علم ہے کیونکہ مدینۃ العلم حضرت سیدنا مولی علی کرم الله وجہہ کا ارشاد ہے کہ :
العلوم خمسۃ الفقۃ للادیان والطب للابدان و الھندسۃ للبنیان والنحو للسان والنجوم للزمان کذافی مدینۃ علوم پانچ ہیں : فقہ دین کے لئے طب بدن کے لئے۔ ہندسہ عمارت کے لئے نحو زبان کے لئے نجوم زمانہ کے لئے۔ جیسا کہ مدینۃ العلوم
العلوم وقال الامام الشافعی رحمہ اﷲ تعالی علیہ العلم علمان علم الطب للابدان وعلم الفقۃ للادیان ۔ میں مذکور ہے امام شافعی رحمہ الله تعالی نے فرمایا : علم دو ہیں علم طب بدن کے لئے اور علم فقہ دین کے لئے(ت)
(۷۶)تصدیق جناب مولانا مولوی محمد علیم صاحب میرٹھی زید مجدہ
مبسملا وحامدا محمدا(جلا وعلا)ومصلیا ومسلما محمدا(سلم الله علیہ وصلی)امابعد کاٹھیا وار مسلم ایجوکیشنل کانفرنس کے نام سے ظاہرہوتاہے کہ مسلمانوں کا ٹھیاورا کی ایك تعلیمی انجمن ہے مسلمانوں میں علوم کی روشنی پھیلانا اور ان کو جہالت کے قعر مذلت سے نکالنا ایك ایسا ضروری واہم امرہے جس کے متعلق قرآن عظیم میں یوں واردہوتا ہے۔
“ ولتکن منکم امۃ یدعون الی الخیر ویامرون بالمعروف وینہون عن المنکر “ ۔ اور تم میں ایك گروہ ایسا ہونا چاہئے کہ بھلائی کی طرف بلائیں اور اچھی بات کا حکم دیں اور بری سے منع کریں۔ (ت)
نیز ارشاد ہوتاہے :
“ یرفع اللہ الذین امنوا منکم و الذین اوتوا العلم درجت “ ۔ الله تمھارے ایمان والوں کے اور ان کے جن کو علم دیا گیا درجے بلند فرمائے گا(ت)
طلب علم کے متعلق فرمان حضور عالم ماکان ومایکون صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ہوتاہے کہ :
طلب العلم فریضۃ علی کل مسلم ومسلمۃ ۔ علم طلب کرنا ہرمسلمان مرد اور عورت پر فرض ہے(ت)
نیز : اطلبوا العلم ولو بالصین (علم حاصل کرو چاہئے چین جانا پڑے۔ ت)لیکن سب سے اہم سوال یہ ہے کہ یہاں علم سے مراد کو ن سا علم ہے کیونکہ مدینۃ العلم حضرت سیدنا مولی علی کرم الله وجہہ کا ارشاد ہے کہ :
العلوم خمسۃ الفقۃ للادیان والطب للابدان و الھندسۃ للبنیان والنحو للسان والنجوم للزمان کذافی مدینۃ علوم پانچ ہیں : فقہ دین کے لئے طب بدن کے لئے۔ ہندسہ عمارت کے لئے نحو زبان کے لئے نجوم زمانہ کے لئے۔ جیسا کہ مدینۃ العلوم
العلوم وقال الامام الشافعی رحمہ اﷲ تعالی علیہ العلم علمان علم الطب للابدان وعلم الفقۃ للادیان ۔ میں مذکور ہے امام شافعی رحمہ الله تعالی نے فرمایا : علم دو ہیں علم طب بدن کے لئے اور علم فقہ دین کے لئے(ت)
حوالہ / References
القرآن الکریم ۳ /۱۰۴
القرآن الکریم ۵۸ /۱۱
فواتح الرحموت بذیل المستصفٰی مسئلہ الواجب علی الکفایۃ واجب علی الکل منشورات الرضی قم ایران ۱ / ۶۳
کنزالعمال حدیث ۲۸۶۹۸ ، ۲۸۶۹۸ موسسۃ الرسالہ بیروت ۱۰ / ۱۳۸
مدینۃ العلوم
القرآن الکریم ۵۸ /۱۱
فواتح الرحموت بذیل المستصفٰی مسئلہ الواجب علی الکفایۃ واجب علی الکل منشورات الرضی قم ایران ۱ / ۶۳
کنزالعمال حدیث ۲۸۶۹۸ ، ۲۸۶۹۸ موسسۃ الرسالہ بیروت ۱۰ / ۱۳۸
مدینۃ العلوم
سوال مذکورۃ الصدر کا جواب آیات کلام عظیم واحادیث نبی کریم علیہ الصلوۃ والتسلیم کے مضامین کو ترتیب دینے سے بادنی توجہ معلوم ہوجاتاہے کہ یہاں اس علم سے مراد دین ہی ہے چنانچہ اسی پر مفسرین ومحدثین کا اجماع اور اگر جیساکہ بعض مأولین معانی آیات واحادیث کہتے ہیں کہ علوم ابدان بھی اسی میں داخل ہیں تو بھی یہ امر یقینی ہے کہ علوم دینی کو بہر نوع علوم ابدان پر اولیت ان مأولین کے نزدیك بھی مسلم ہوگی اس لئے معاملات تعلیم وتعلم علوم پر غور کرنے والوں کے لئے منکم ہونا ہی نہیں بلکہ بفحوائے :
“ فسـلوا اہل الذکر ان کنتم لا تعلمون ﴿۴۳﴾ “ تو اے لوگو! علم والوں سے پوچھو اگر تمھیں علم نہیں(ت)
اہل ذکر ہونا اور شان رفع کا مورد بننے کے لئے “ الذین امنوا “ (جو ایمان لائے۔ ت)کا ہونا نیز طلب علم کی فرضیت کا حکم پانے والوں کے لئے مسلم ومسلمہ کا ہونا لابد ہے پس جہاں مسائل تعلم وتعلیم پر غور کرنے کے لئے امت مرحومہ کے وہ افراد جمع ہوں جو یدعون الی الخیر ویامرون بالمعروف وینہون عن المنکر “ اور “ اہل الذکر “ کے مصداق کہلائے جاسکیں اور تعلیمی مشورے میں یرفع اللہ الذین امنوا منکم “ “ کی آیت کو ملحوظ رکھ کر تحفظ ایما ن واسلام واشاعت علوم دین کے فرض اہم واولین کو محسوس کرتے ہوئے ضمنا ضرورت زمانہ کے لئے تجارت وزراعت صنعت وحرفت نیز ایسی السنہ وکتب کے تعلم وتعلیم کے متعلق بھی مشورہ کریں جن کے حصول سے دین میں نقصان آنے کا احتمال اضعف بھی نہ ہو تو ان کی انجمن محمود اور اس انجمن کی شرکت مسعود کہی جائے گی البتہ اگر ارکان انجمن معراعن الدین والایمان ہوں اور مبحث مشورہ تعلیم وتعلم علوم محزب دین وایمان تو وہ انجمن یقینا مردود اس کی شرکت سے اہل ایمان کےلئے بہر نوع گریز واجب جیساکہ اکابر علماء کے فتاوے سے بوضاحت ثابت ہوچکا والله تعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اکمل واتم۔ فقیر محمد علیم رضا القادری غفرلہ
“ فسـلوا اہل الذکر ان کنتم لا تعلمون ﴿۴۳﴾ “ تو اے لوگو! علم والوں سے پوچھو اگر تمھیں علم نہیں(ت)
اہل ذکر ہونا اور شان رفع کا مورد بننے کے لئے “ الذین امنوا “ (جو ایمان لائے۔ ت)کا ہونا نیز طلب علم کی فرضیت کا حکم پانے والوں کے لئے مسلم ومسلمہ کا ہونا لابد ہے پس جہاں مسائل تعلم وتعلیم پر غور کرنے کے لئے امت مرحومہ کے وہ افراد جمع ہوں جو یدعون الی الخیر ویامرون بالمعروف وینہون عن المنکر “ اور “ اہل الذکر “ کے مصداق کہلائے جاسکیں اور تعلیمی مشورے میں یرفع اللہ الذین امنوا منکم “ “ کی آیت کو ملحوظ رکھ کر تحفظ ایما ن واسلام واشاعت علوم دین کے فرض اہم واولین کو محسوس کرتے ہوئے ضمنا ضرورت زمانہ کے لئے تجارت وزراعت صنعت وحرفت نیز ایسی السنہ وکتب کے تعلم وتعلیم کے متعلق بھی مشورہ کریں جن کے حصول سے دین میں نقصان آنے کا احتمال اضعف بھی نہ ہو تو ان کی انجمن محمود اور اس انجمن کی شرکت مسعود کہی جائے گی البتہ اگر ارکان انجمن معراعن الدین والایمان ہوں اور مبحث مشورہ تعلیم وتعلم علوم محزب دین وایمان تو وہ انجمن یقینا مردود اس کی شرکت سے اہل ایمان کےلئے بہر نوع گریز واجب جیساکہ اکابر علماء کے فتاوے سے بوضاحت ثابت ہوچکا والله تعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اکمل واتم۔ فقیر محمد علیم رضا القادری غفرلہ
حوالہ / References
القرآن الکریم ۱۶ /۴۳ و ۲۱ / ۷
القرآن الکریم ۵۸ /۱۱
القرآن الکریم ۳ /۱۰۴
القرآن الکریم ۱۶ /۴۳ و ۲۱ / ۷
القرآن الکریم ۵۸ /۱۸
القرآن الکریم ۵۸ /۱۱
القرآن الکریم ۳ /۱۰۴
القرآن الکریم ۱۶ /۴۳ و ۲۱ / ۷
القرآن الکریم ۵۸ /۱۸
(۷۷)تصدیقات علمائے پنجاب
عنایت فرمائے من جناب قاسم میاں صاحب سلمہ الله تعالی ! وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ۔ یہاں پر استفسارات کے اجوبہ علمائےکرام مقیمان زیارت شریف لکھتے ہیں۔ آپ کا دعاگو عرصہ ممتدہ سے بوجہ کم فرصتی علیحدہ ہے۔ آپ کے استفسار کے متعلق جوابا گزارش ہے کہ اہل السنۃ کو اہل ہوا وبدعت کے لئے اشاعت امور ہوائیہ وبدعیہ میں امداد دینی نہ چاہئے میں چونکہ مفتی نہیں ہوں لہذا مہر بھی نہیں رکھتا۔
العبد الللتجی والمشتکی الی الله المدعو بمہر علیشاہ بقلم خود از گولڑہ
(۷۸)الجواب صحیح والمجیب مصیب۔
حررہ الراجی الی لطف ربہ القوی عبدالنبی الامی السید حیدر شاہ القادری الحنفی المتوطن کچھ بھوج المعروف بہ پیر پھڑوالہ النزیل فی الکلکتہ المرقوم ۲۷ جمادی الاول ۱۳۳۶ھ
(۷۹)فرمان ہادی السبیل سید الانبیاء والملائکۃ والرسل رسول الکل عزیز ازجان ودل حبیب لبیب پیارے نبی محمدر سول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم بعدما ھوالمکتوب فی اللوح والقلم فی کل یوم ولیلۃ ولمحۃ وساعۃ ونفس الف الف مائتہ الف مرۃ الی یوم العلم جزاہل السنت والجماعت کلہم فی النارہو پس ایسے مجمع میں شریك ہونا حرام ہے ہاں ہاں جسے جہنمی رقعہ خرید کر ناہو اسے جائز ہے کہ اپنا حال رائیگاں کرکے دنیا میں ناموری پائے اور گروہ ما انا علیہ واصحابی وسواد اعظم سے خارج ہوکر گروہ اہل البدعۃ والنار میں اپنا نام لکھوائے۔
“ وما اتىکم الرسول فخذوہ وما نہىکم عنہ فانتہوا “ الایۃ۔ “ ومن کان فی ہذہ اعمی فہو فی الاخرۃ اعمی “ ۔ جو کچھ تمھیں رسول عطافرمائیں وہ لو اور جس سے منع فرمائیں باز رہو الآیۃ۔ اور جو اس زندگی میں اندھا ہو وہ آخرت میں بھی اندھا ہے۔ (ت)
کتبہ خاکپائے سیدنا رسول الرب الغفور احقر عبدالشکور گیسو دراز ابن المرحوم المغفوری مولوی دادامیاں محمدی سنی حنفی چشتی صابری اویسی دھورا جوی عفا الله عنہ۔
yahan image hy
عنایت فرمائے من جناب قاسم میاں صاحب سلمہ الله تعالی ! وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ۔ یہاں پر استفسارات کے اجوبہ علمائےکرام مقیمان زیارت شریف لکھتے ہیں۔ آپ کا دعاگو عرصہ ممتدہ سے بوجہ کم فرصتی علیحدہ ہے۔ آپ کے استفسار کے متعلق جوابا گزارش ہے کہ اہل السنۃ کو اہل ہوا وبدعت کے لئے اشاعت امور ہوائیہ وبدعیہ میں امداد دینی نہ چاہئے میں چونکہ مفتی نہیں ہوں لہذا مہر بھی نہیں رکھتا۔
العبد الللتجی والمشتکی الی الله المدعو بمہر علیشاہ بقلم خود از گولڑہ
(۷۸)الجواب صحیح والمجیب مصیب۔
حررہ الراجی الی لطف ربہ القوی عبدالنبی الامی السید حیدر شاہ القادری الحنفی المتوطن کچھ بھوج المعروف بہ پیر پھڑوالہ النزیل فی الکلکتہ المرقوم ۲۷ جمادی الاول ۱۳۳۶ھ
(۷۹)فرمان ہادی السبیل سید الانبیاء والملائکۃ والرسل رسول الکل عزیز ازجان ودل حبیب لبیب پیارے نبی محمدر سول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم بعدما ھوالمکتوب فی اللوح والقلم فی کل یوم ولیلۃ ولمحۃ وساعۃ ونفس الف الف مائتہ الف مرۃ الی یوم العلم جزاہل السنت والجماعت کلہم فی النارہو پس ایسے مجمع میں شریك ہونا حرام ہے ہاں ہاں جسے جہنمی رقعہ خرید کر ناہو اسے جائز ہے کہ اپنا حال رائیگاں کرکے دنیا میں ناموری پائے اور گروہ ما انا علیہ واصحابی وسواد اعظم سے خارج ہوکر گروہ اہل البدعۃ والنار میں اپنا نام لکھوائے۔
“ وما اتىکم الرسول فخذوہ وما نہىکم عنہ فانتہوا “ الایۃ۔ “ ومن کان فی ہذہ اعمی فہو فی الاخرۃ اعمی “ ۔ جو کچھ تمھیں رسول عطافرمائیں وہ لو اور جس سے منع فرمائیں باز رہو الآیۃ۔ اور جو اس زندگی میں اندھا ہو وہ آخرت میں بھی اندھا ہے۔ (ت)
کتبہ خاکپائے سیدنا رسول الرب الغفور احقر عبدالشکور گیسو دراز ابن المرحوم المغفوری مولوی دادامیاں محمدی سنی حنفی چشتی صابری اویسی دھورا جوی عفا الله عنہ۔
yahan image hy
رسالہ
تدبیر فلاح ونجات واصلاح ۱۳۳۱ھ
(نجات اصلاح معاشرہ اور کامیابی کی بہترین تدبیریں)
بسم الله الرحمن الرحیم ط
نحمدہ ونصلی علی رسول الکریم ط
مسئلہ ۱۵ : از کلکتہ کو لوٹولہ اسٹریٹ نمبر ۶۵ مسئولہ جناب حاجی منشی لعل خاں صاحب ۱۹ ربیع الاول ۱۳۳۱ھ
قبلہ وکعبہ حضرت مرشدی ومولائی دام ظلکم العالی تمنائے قدمبوسی کے بعد مؤدبانہ گزارش المؤید کے پرچے برائے ملاحظہ مرسل ہیں۔ ارشاد ہو کہ آج کل مسلمانوں کو کیا کرنا چاہئے اور امداد ترك کا کیا طریقہ ہے
الجواب :
بملاحظہ مکرمی حامی سنت ماحی بدعت برادر طریقت حاجی لعل خاں صاحب دام مجدہم وعلیکم السلام ورحمۃ الله وبرکاتہ الموید کے چھ پرچے آئے انھیں بالاستیعاب دیکھا گمان یہ تھاکہ شاید کوئی خبر خوشی کی ہو مگر اس کے برعکس اس میں رنج وملال کی خبریں تھیں بے گناہ مسلمانوں پر جو مظالم گزررہے ہیں اور سلطنت ان کی حمایت نہیں کرسکتی صدمہ کے لئے کیا کم تھے کہ اس سے بھی بڑھ کر ترکوں کی اس تازہ تبدیل روشن کا ذکر تھا جس نے میرے خیال کی تصدیق کردی۔
تدبیر فلاح ونجات واصلاح ۱۳۳۱ھ
(نجات اصلاح معاشرہ اور کامیابی کی بہترین تدبیریں)
بسم الله الرحمن الرحیم ط
نحمدہ ونصلی علی رسول الکریم ط
مسئلہ ۱۵ : از کلکتہ کو لوٹولہ اسٹریٹ نمبر ۶۵ مسئولہ جناب حاجی منشی لعل خاں صاحب ۱۹ ربیع الاول ۱۳۳۱ھ
قبلہ وکعبہ حضرت مرشدی ومولائی دام ظلکم العالی تمنائے قدمبوسی کے بعد مؤدبانہ گزارش المؤید کے پرچے برائے ملاحظہ مرسل ہیں۔ ارشاد ہو کہ آج کل مسلمانوں کو کیا کرنا چاہئے اور امداد ترك کا کیا طریقہ ہے
الجواب :
بملاحظہ مکرمی حامی سنت ماحی بدعت برادر طریقت حاجی لعل خاں صاحب دام مجدہم وعلیکم السلام ورحمۃ الله وبرکاتہ الموید کے چھ پرچے آئے انھیں بالاستیعاب دیکھا گمان یہ تھاکہ شاید کوئی خبر خوشی کی ہو مگر اس کے برعکس اس میں رنج وملال کی خبریں تھیں بے گناہ مسلمانوں پر جو مظالم گزررہے ہیں اور سلطنت ان کی حمایت نہیں کرسکتی صدمہ کے لئے کیا کم تھے کہ اس سے بھی بڑھ کر ترکوں کی اس تازہ تبدیل روشن کا ذکر تھا جس نے میرے خیال کی تصدیق کردی۔
“ ان اللہ لایغیر ما بقوم حتی یغیروا مابانفسہم “ ۔ بیشك الله تعالی کسی قوم کو گردش میں نہیں ڈالتا جب تك وہ اپنی حالت خود نہ بدل ڈالیں۔
الله اکرم الاکرمین اپنے حبیب کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے طفیل سے ہماری اور ہمارے اسلامی بھائیوں کی آنکھیں کھولے اصلاح قلوب واحوال فرمائے خطاؤں سے در گزر کرے غیب سے اپنی مددا تارے اسلام ومسلمین کو غلبہ قاہرہ دے آمین الہ الحق آمین وحسبنا الله ونعم الوکیل ولاحول ولاقوۃ الا بالله العلی العظیم۔ مگر بے دل نہ چاہئے
“ ولا تایـسوا من روح اللہ انہ لا یایـس من روح اللہ الا القوم الکفرون ﴿۸۷﴾ “ الله کی رحمت سے ناامید نہ ہو بیشك الله کی رحمت سے ناامید نہیں ہوتے مگر کافر لوگ۔ (ت)
الله واحد قہار غالب علی کل اس دین کا حافظ وناصر ہے
“ وکان حقا علینا نصر المؤمنین ﴿۴۷﴾ “
“ وانتم الاعلون ان کنتم مؤمنین﴿۱۳۹﴾ “ اور ہمارے ذمہ کریم پر ہے مسلمانوں کی مدد فرمانا تمھیں غالب آؤگے اگر ایمان رکھتے ہو۔ (ت)
حضور سیدنا سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
لاتزال طائفۃ من امتی ظاھرین علی الحق لایضرھم من خذلھم ولا من خالفھم حتی یاتی امراﷲ وھم علی ذلك غالبا ۔ میری امت کا ایك گروہ ہمیشہ حق پر غالب رہے گا ان کی مخالفت اور رسوائی کرنے والا ان کو ضرر نہ پہنچاسکے گا کہ وہ گروہ اس کا حکم آنے تك اس پر غالب رہے گا۔ (ت)
یہاں امر الله وہ وعدہ صادقہ ہے جس میں سلطان شہید ہوں گے اور روئے زمین پر اسلامی
الله اکرم الاکرمین اپنے حبیب کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے طفیل سے ہماری اور ہمارے اسلامی بھائیوں کی آنکھیں کھولے اصلاح قلوب واحوال فرمائے خطاؤں سے در گزر کرے غیب سے اپنی مددا تارے اسلام ومسلمین کو غلبہ قاہرہ دے آمین الہ الحق آمین وحسبنا الله ونعم الوکیل ولاحول ولاقوۃ الا بالله العلی العظیم۔ مگر بے دل نہ چاہئے
“ ولا تایـسوا من روح اللہ انہ لا یایـس من روح اللہ الا القوم الکفرون ﴿۸۷﴾ “ الله کی رحمت سے ناامید نہ ہو بیشك الله کی رحمت سے ناامید نہیں ہوتے مگر کافر لوگ۔ (ت)
الله واحد قہار غالب علی کل اس دین کا حافظ وناصر ہے
“ وکان حقا علینا نصر المؤمنین ﴿۴۷﴾ “
“ وانتم الاعلون ان کنتم مؤمنین﴿۱۳۹﴾ “ اور ہمارے ذمہ کریم پر ہے مسلمانوں کی مدد فرمانا تمھیں غالب آؤگے اگر ایمان رکھتے ہو۔ (ت)
حضور سیدنا سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
لاتزال طائفۃ من امتی ظاھرین علی الحق لایضرھم من خذلھم ولا من خالفھم حتی یاتی امراﷲ وھم علی ذلك غالبا ۔ میری امت کا ایك گروہ ہمیشہ حق پر غالب رہے گا ان کی مخالفت اور رسوائی کرنے والا ان کو ضرر نہ پہنچاسکے گا کہ وہ گروہ اس کا حکم آنے تك اس پر غالب رہے گا۔ (ت)
یہاں امر الله وہ وعدہ صادقہ ہے جس میں سلطان شہید ہوں گے اور روئے زمین پر اسلامی
حوالہ / References
القرآن الکریم ۱۳ /۱۱
القرآن الکریم ۱۲ /۸۷
القرآن الکریم ۳۰ /۴۷
القرآن الکریم ۳ /۱۳۹
صحیح البخاری کتاب المناقب قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۵۱۴ ، صحیح مسلم کتاب الامارۃ باب قولہ صلی الله تعالٰی علیہ وسلم لا تزال امتی الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ / ۱۴۳ ، سنن ابود اوؤد کتاب الفتن آفتاب عالم پریس لاہور ۲ ۲۲۸
القرآن الکریم ۱۲ /۸۷
القرآن الکریم ۳۰ /۴۷
القرآن الکریم ۳ /۱۳۹
صحیح البخاری کتاب المناقب قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۵۱۴ ، صحیح مسلم کتاب الامارۃ باب قولہ صلی الله تعالٰی علیہ وسلم لا تزال امتی الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ / ۱۴۳ ، سنن ابود اوؤد کتاب الفتن آفتاب عالم پریس لاہور ۲ ۲۲۸
سلطنت کا نام نہ رہے گا۔ تمام دنیا میں نصاری کی سلطنت ہوگی اگر معاذالله وہ وقت آگیا ہے جب تو کوئی چارہ کارنہیں۔ شدنی ہوکر رہے گی مگر وہ چند ہی روز کے واسطے ہے اس کے متصل ہی حضرت امام کا ظہور ہوگا۔ پھر سیدنا روح الله عیسی مسیح علیہ الصلوۃ والسلام نزول اجلال فرمائیں گے اور کفر تمام دینا سے کافور ہوگا۔ تمام روئے زمین پر ملت ایك ملت اسلامی ہوگی اور مذہب ایك مذہب اہلسنت غیب کا علم الله عزوجل کوہے پھر اس کی عطا سے اس کے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو مگر فقیر جہاں تك نظر کرتاہے ابھی ان شاء الله وہ وقت نہیں آیا اگر ایسا ہے تو ضرور نصرت الہیہ نزول فرمائے گی اور کفار ملا عنہ اپنے کیفر کردار کو پہنچیں گے بہر حال بندگی بیچارگی دعا کے سوا کیا چارہ ہے وہی جو ہمارا رب ہے ہماری حالت زارپر رحم فرمائے گا اور اپنی نصرت اتارے یعنی جھٹکے جو پہنچ گئے ہیں انھیں پر “ زلزلوا زلزالا شدیدا ﴿۱۱﴾ “ (خوب سختی سے جھنجھوڑے گئے۔ ت)کو ختم فرمادے اور “ الا ان نصر اللہ قریب ﴿۲۱۴﴾ “ (سن لو بیشك الله کی مدد قریب ہے۔ ت)کی بشارت سنادے حسبنا الله ونعم الوکیل۔
آپ پوچھتے ہیں مسلمانوں کو کیاکرنا چاہئے اس کا جواب میں کیا دے سکتاہوں الله عزوجل نے تو مسلمانوں کے جان ومال جنت کے عوض خریدے ہیں
“ ان اللہ اشتری من المؤمنین انفسہم و امولہم بان لہم الجنۃ “ بیشك الله نے مسلمانوں کے جان ومال خرید لئے ہیں اس بدلے پر کہ ان کے لئے جنت ہے۔ (ت)
مگرہم ہیں کہ مبیع دینے سے انکار اور ثمن کے خواستگار ہندی مسلمانوں میں یہ طاقت کہاں کہ وطن ومال واہل و عیال چھوڑ کر ہزاروں کوس دور جائیں اور میدان جنگ میں مسلمانوں کا ساتھ دیں مگر مال تو دے سکتے ہیں اس کی حالت بھی سب آنکھوں دیکھ رہے ہیں وہاں مسلمانوں پر یہ کچھ گرزرہی ہے یہاں وہی جلسے وہی وہی رنگ وہی تھیٹروہی امنگ وہی تماشے وہ بازیاں وہی غفلتیں وہی فضول خرچیاں ایك بات کی بھی کمی نہیں ابھی ایك شخص نے ایك دنیاوی خوشی کے نام سے پچاس ہزار دئے ایك عورت نے ایك چین وچنان جرگہ کو پچاس ہزار دئے ایك رئیس نے ایك کالج کو ڈیڑھ لاکھ دئے اور یونیورسٹی کے لئے تو تیس لاکھ سے زائد جمع ہوگیا ایك رات میں ہمارے اس مفلس شہر سے اس کے لئے چھبیس ہزا ر کا چندہ ہوا بمبئی میں ایك کم درجے
آپ پوچھتے ہیں مسلمانوں کو کیاکرنا چاہئے اس کا جواب میں کیا دے سکتاہوں الله عزوجل نے تو مسلمانوں کے جان ومال جنت کے عوض خریدے ہیں
“ ان اللہ اشتری من المؤمنین انفسہم و امولہم بان لہم الجنۃ “ بیشك الله نے مسلمانوں کے جان ومال خرید لئے ہیں اس بدلے پر کہ ان کے لئے جنت ہے۔ (ت)
مگرہم ہیں کہ مبیع دینے سے انکار اور ثمن کے خواستگار ہندی مسلمانوں میں یہ طاقت کہاں کہ وطن ومال واہل و عیال چھوڑ کر ہزاروں کوس دور جائیں اور میدان جنگ میں مسلمانوں کا ساتھ دیں مگر مال تو دے سکتے ہیں اس کی حالت بھی سب آنکھوں دیکھ رہے ہیں وہاں مسلمانوں پر یہ کچھ گرزرہی ہے یہاں وہی جلسے وہی وہی رنگ وہی تھیٹروہی امنگ وہی تماشے وہ بازیاں وہی غفلتیں وہی فضول خرچیاں ایك بات کی بھی کمی نہیں ابھی ایك شخص نے ایك دنیاوی خوشی کے نام سے پچاس ہزار دئے ایك عورت نے ایك چین وچنان جرگہ کو پچاس ہزار دئے ایك رئیس نے ایك کالج کو ڈیڑھ لاکھ دئے اور یونیورسٹی کے لئے تو تیس لاکھ سے زائد جمع ہوگیا ایك رات میں ہمارے اس مفلس شہر سے اس کے لئے چھبیس ہزا ر کا چندہ ہوا بمبئی میں ایك کم درجے
کے شخص نے صرف ایك کوٹھری چھبیس ہزار روپے کو خریدی فقط اس لئے کہ اس کے وسیع مکان سکونت سے ملحق تھی جسے میں بھی دیکھ آیا ہوں اور مظلوم اسلام کی مدد کے لئے جو کچھ جوش دکھائے جارہے ہیں آسمان سے بھی اونچے ہیں اور جو اصلی کا روائی ہورہی ہے زمین کی تہہ میں ہے پھر کس بات کی امید کی جائے بڑی ہمدردی یہ نکالی ہے کہ یورپ کے مال کا بائیکاٹ ہو میں اسے پسند نہیں کرتا۔ ہرگز مسلمانوں کے حق میں کچھ نافع پاتاہوں اول تویہ بھی کہنے کے الفاظ ہیں نہ اس پر اتفاق کریں گے نہ ہرگز اس کو نباہیں گے اس عہد کے پہلے توڑنے والے جنٹل مین حضرات ہی ہوں گے جن کی گزر بغیر یورپین اشیاء کے نہیں۔ تو سارا یورپ ہے پہلے صرف اٹلی کا بائیکاٹ ہواتھا اس پر کتنوں نے عمل کیا اور کتنے دن نباہا پھر اس سے یورپ کو ضرر بھی کتنا اور ہو بھی تو کیا فائدہ کہ وہ ہو سو ترکیوں سے اس سے دہ گنا ضرر پہنچاسکتے ہیں لہذا ضرر رسانی کا ارادہ صرف وہی مثل ہے کہ کمزور اور پٹنے کی نشانی بہترہے کہ مسلمان اپنی سلامت روی پر قائم رہیں کسی شریرقوم کی چال نہ سیکھیں اپنے اوپر مفت کی بدگمانی کا موقع نہ دیں ہاں اپنی حالت سنبھلالنا چاہتے ہیں تو ان لڑائیوں ہی پر کیا موقوف تھا ویسے ہی چاہئے تھا کہ :
اولا : باستثناء ان معدود باتوں کے جن میں حکومت کی دست اندازی ہو اپنے تمام معاملات اپنے ہاتھ میں لیتے
اپنے سب مقامات اپنے آپ فیصل کرتے یہ کروڑوں روپے جو اسٹامپ ووکالت میں گھسے جاتے ہیں گھر کے گھرتباہ ہوگئے اور ہوئے جاتے ہیں محفوظ رہتے۔
ثانیا : اپنی قوم کےسوا کسی سے کچھ نہ خرید تے کہ گھر کا نفع ہی میں رہتا اپنی حرفت وتجارت کو ترقی دیتے کہ کسی چیز میں کسی دوسری قوم کے محتاج نہ رہتے یہ نہ ہوتا کہ یورپ و امریکہ والے چھٹانك بھر تانبا کچھ صناعی کی گھڑنت کرکے گھڑی وغیرہ نام رکھ کر کہ آپ کو دے جائیں اوراس کے بدلے پاؤ بھر چاندی آپ سے لےجائیں۔
ثالثا : بمبئی کلکتہ رنگون مدراس حیدرآباد وغیرہ کے تو نگر مسلمان اپنے بھائی مسلمانوں کیلئے بنك کھولتے سود شرع نے قطعی حرام فرمایاہے مگرا ور سو طریقے نفع لینے کے حلال فرمائے ہیں جن کا بیان کتب فقہ میں مفصل ہے اور اس کا ایك نہایت آسان طریقہ “ کتاب کفل الفتیہ الفاھم “ میں چھپ چکاہے ان جائز طریقوں پر بھی نفع لینے کہ انھیں بھی فائدہ پہنچتا اور ان کے بھائیوں کی بھی حاجت برآتی اورآئے دن جو مسلمانوں کی جائدادیں بنیوں کی نذر کوہوئی چلی جاتی ہے ان سے بھی محفوظ رہتے اگر بنیوں کی جائداد ہی لی جاتی مسلمان ہی کے پاس رہتی یہ تو نہ ہوتا کہ مسلمان ننگے اور بنئے تنگے۔
رابعا : سب سے زیادہ اہم سب کی جان سب کی اصل اعظم وہ دین متین تھا جس کی رسی مضبوط تھامنے نے اگلوں کو ان مدارج عالیہ پر پہنچایا چار دانگ عالم میں انکی ہیبت کا سکہ بٹھایا نان شبینہ کے محتاجوں کو
اولا : باستثناء ان معدود باتوں کے جن میں حکومت کی دست اندازی ہو اپنے تمام معاملات اپنے ہاتھ میں لیتے
اپنے سب مقامات اپنے آپ فیصل کرتے یہ کروڑوں روپے جو اسٹامپ ووکالت میں گھسے جاتے ہیں گھر کے گھرتباہ ہوگئے اور ہوئے جاتے ہیں محفوظ رہتے۔
ثانیا : اپنی قوم کےسوا کسی سے کچھ نہ خرید تے کہ گھر کا نفع ہی میں رہتا اپنی حرفت وتجارت کو ترقی دیتے کہ کسی چیز میں کسی دوسری قوم کے محتاج نہ رہتے یہ نہ ہوتا کہ یورپ و امریکہ والے چھٹانك بھر تانبا کچھ صناعی کی گھڑنت کرکے گھڑی وغیرہ نام رکھ کر کہ آپ کو دے جائیں اوراس کے بدلے پاؤ بھر چاندی آپ سے لےجائیں۔
ثالثا : بمبئی کلکتہ رنگون مدراس حیدرآباد وغیرہ کے تو نگر مسلمان اپنے بھائی مسلمانوں کیلئے بنك کھولتے سود شرع نے قطعی حرام فرمایاہے مگرا ور سو طریقے نفع لینے کے حلال فرمائے ہیں جن کا بیان کتب فقہ میں مفصل ہے اور اس کا ایك نہایت آسان طریقہ “ کتاب کفل الفتیہ الفاھم “ میں چھپ چکاہے ان جائز طریقوں پر بھی نفع لینے کہ انھیں بھی فائدہ پہنچتا اور ان کے بھائیوں کی بھی حاجت برآتی اورآئے دن جو مسلمانوں کی جائدادیں بنیوں کی نذر کوہوئی چلی جاتی ہے ان سے بھی محفوظ رہتے اگر بنیوں کی جائداد ہی لی جاتی مسلمان ہی کے پاس رہتی یہ تو نہ ہوتا کہ مسلمان ننگے اور بنئے تنگے۔
رابعا : سب سے زیادہ اہم سب کی جان سب کی اصل اعظم وہ دین متین تھا جس کی رسی مضبوط تھامنے نے اگلوں کو ان مدارج عالیہ پر پہنچایا چار دانگ عالم میں انکی ہیبت کا سکہ بٹھایا نان شبینہ کے محتاجوں کو
بلند تاجوں کا مالك بنایا۔ اور اسی کے چھوڑنے نے پچھلوں کویوں چاہ ذلت میں گرایا فانا ﷲ وانا الیہ راجعون ولاحول ولاقوۃ الابا ﷲ العلی العظیم۔
دین متین علم دین کے دامن سے وابستہ ہے علم دین سیکھنا پھراسی پر عمل کرنا اپنی دونوں جہاں کی زندگی چاہتے وہ انھیں بتادیتا اندھو! جسے ترقی سمجھ رہے ہو سخت تنزل ہے جسے عزت جانتے ہو اشد ذلت ہے
مسلمان اگریہ چار باتیں اختیار کریں تو ان شاء الله العزیز آج کی حالت سنبھل جاتی ہے آپ کے سوال کا جواب تویہ ہے مگر یہ توفرمائے کہ سوال وجواب سے حاصل کیا جب کوئی اس پر عمل کرنے والا نہ ہو عمل کی حالت ملاحظہ ہو :
اول : پریہ عمل ہے کہ گھر کے فیصلہ میں اپنے دعوے سے کچھ بھی کمی ہوتو منظور نہیں۔ اور کچہری جاکر اگرچہ گھرکی بھی جائے ٹھنڈے دل سے پسند گرہ گرہ بھر زمین پر طرفین سے دو دو ہزار بگڑ جاتے ہیں کیا آپ ان حالتوں کو بدل سکتے ہیں “ فہل انتم منتہون ﴿۹۱﴾ “ (تو کیا تم بازآئے۔ ت)
دوم : کی یہ کیفیت کہ اول تو خاندانی لوگ حرفت وتجارت کو عیب سمجھتے ہیں اور ذلت کی نوکریاں کرنے ٹھوکریں کھانے حرام کام کرنے حرام مال کھانے کو فخر وعزت اور جو تجارت کریں بھی تو خریدار کو اتنا حس نہیں کہ اپنی ہی قوم سے خریدیں اگرچہ پیسہ زائد سہی کہ نفع ہے تو اپنی بھائی کا ہے اہل یورپ کو دیکھا ہےکہ دیسی مال اگرچہ ولایتی کی مثل اور اس سے ارزاں بھی ہو ہرگز لیں گے اور ولایتی گراں خریدلیں گے۔ ادھر بیچنے والوں کی یہ حالت کہ ہندوآنہ روپیہ نفع لے مسلمان صاحب چونی سے کم پر راضی نہیں اورپھر لطف یہ کہ مال بھی اس سے ہبلکہ بلکہ خراب ہندو تجارت کے اصول جانتاہے کہ جتنا تھوڑا نفع رکھے اتنا ہی زیادہ ملتا ہے اور مسلمان صاحب چاہتے ہیں کہ سارا نفع ایك ہی خریدار سے وصول کرلیں۔ ناچار خرید نے والے مجبور ہوکر ہندو سے خرید تے ہیں۔ کیا تم یہ عادتیں چھوڑ سکتے ہو “ فہل انتم منتہون ﴿۹۱﴾ “ (تو کیا تم با ز آئے۔ ت)
سوم : کی یہ حالت کہ اکثر امراء کو اپنے ناجائز عیش سے کام ہے ناچ رنگ وغیرہ بے حیائی یا بیہودگی کے کاموں میں ہزاروں لاکھوں اڑادیں وہ ناموری ہے ریاست ہے اور مرتے بھائی کی جان بچانے کو ایك خفیف رقم دینا ناگوار جنھوں نے بنیوں سے سیکھ کرلین دین شروع کیا وہ جائز نفع کی طرف توجہ کیوں کریں دین سے کیاکام الله ورسول کے احکام سے کیا غرض ختنہ نے انھیں مسلمان کیا اور گائے کے گوشت نے مسلمانی قائم رکھی اس سے زائد کیا ضرورت ہے نہ انھیں مرناہے نہ الله وحدہ قہار کے حضو ر جانا نہ اعمال کا
دین متین علم دین کے دامن سے وابستہ ہے علم دین سیکھنا پھراسی پر عمل کرنا اپنی دونوں جہاں کی زندگی چاہتے وہ انھیں بتادیتا اندھو! جسے ترقی سمجھ رہے ہو سخت تنزل ہے جسے عزت جانتے ہو اشد ذلت ہے
مسلمان اگریہ چار باتیں اختیار کریں تو ان شاء الله العزیز آج کی حالت سنبھل جاتی ہے آپ کے سوال کا جواب تویہ ہے مگر یہ توفرمائے کہ سوال وجواب سے حاصل کیا جب کوئی اس پر عمل کرنے والا نہ ہو عمل کی حالت ملاحظہ ہو :
اول : پریہ عمل ہے کہ گھر کے فیصلہ میں اپنے دعوے سے کچھ بھی کمی ہوتو منظور نہیں۔ اور کچہری جاکر اگرچہ گھرکی بھی جائے ٹھنڈے دل سے پسند گرہ گرہ بھر زمین پر طرفین سے دو دو ہزار بگڑ جاتے ہیں کیا آپ ان حالتوں کو بدل سکتے ہیں “ فہل انتم منتہون ﴿۹۱﴾ “ (تو کیا تم بازآئے۔ ت)
دوم : کی یہ کیفیت کہ اول تو خاندانی لوگ حرفت وتجارت کو عیب سمجھتے ہیں اور ذلت کی نوکریاں کرنے ٹھوکریں کھانے حرام کام کرنے حرام مال کھانے کو فخر وعزت اور جو تجارت کریں بھی تو خریدار کو اتنا حس نہیں کہ اپنی ہی قوم سے خریدیں اگرچہ پیسہ زائد سہی کہ نفع ہے تو اپنی بھائی کا ہے اہل یورپ کو دیکھا ہےکہ دیسی مال اگرچہ ولایتی کی مثل اور اس سے ارزاں بھی ہو ہرگز لیں گے اور ولایتی گراں خریدلیں گے۔ ادھر بیچنے والوں کی یہ حالت کہ ہندوآنہ روپیہ نفع لے مسلمان صاحب چونی سے کم پر راضی نہیں اورپھر لطف یہ کہ مال بھی اس سے ہبلکہ بلکہ خراب ہندو تجارت کے اصول جانتاہے کہ جتنا تھوڑا نفع رکھے اتنا ہی زیادہ ملتا ہے اور مسلمان صاحب چاہتے ہیں کہ سارا نفع ایك ہی خریدار سے وصول کرلیں۔ ناچار خرید نے والے مجبور ہوکر ہندو سے خرید تے ہیں۔ کیا تم یہ عادتیں چھوڑ سکتے ہو “ فہل انتم منتہون ﴿۹۱﴾ “ (تو کیا تم با ز آئے۔ ت)
سوم : کی یہ حالت کہ اکثر امراء کو اپنے ناجائز عیش سے کام ہے ناچ رنگ وغیرہ بے حیائی یا بیہودگی کے کاموں میں ہزاروں لاکھوں اڑادیں وہ ناموری ہے ریاست ہے اور مرتے بھائی کی جان بچانے کو ایك خفیف رقم دینا ناگوار جنھوں نے بنیوں سے سیکھ کرلین دین شروع کیا وہ جائز نفع کی طرف توجہ کیوں کریں دین سے کیاکام الله ورسول کے احکام سے کیا غرض ختنہ نے انھیں مسلمان کیا اور گائے کے گوشت نے مسلمانی قائم رکھی اس سے زائد کیا ضرورت ہے نہ انھیں مرناہے نہ الله وحدہ قہار کے حضو ر جانا نہ اعمال کا
حساب دینا انا ﷲ وانا الیہ راجعون۔ پھر سود بھی لیں تو نبیا اگر بارہ آنے مانگے یہ ڈیڑھ دو سے کم پر راضی نہ ہوں ناچار حاجتمند بنیوں کے ہتھے چڑھتے ہیں اور جائدادیں ان کی نذر کربیٹھتے ہیں۔
چہارم : کا حال ناگفتہ بہ ہے کہ انٹر پاس کو رزاق مطلق سمجھا ہے وہاں نوکری میں عمر کی شرط پاس کی شرط پھر پڑھائی وہ مفید کہ عمر بھر کام نہ آئے نہ اس کی نوکری میں اس کی حاجت پڑے اپنی ابتدائی عمر کہ وہی تعلیم کا زمانہ ہے یوں گنوائی اب پاس ہونے میں جھگڑا ہے تین تین بار فیل ہوتے ہیں اور پھر لپٹے چلے جاتے ہیں ا ور قسمت کی خوبی کہ مسلمان ہی اکثر فیل کئے جاتے ہیں پھر تقدیر سے پاس بھی مل گیا تو اب نوکری کا پتا نہیں ا ورملی بھی تو صریح ذلت کی اور رفتہ رفتہ دنیوی عزت کی بھی پائی تو وہ کہ عندالشرع ہزار ذلت کہئے پھر علم دین سکھنے اور دین حاصل کرنے اور نیك وبد میں تمیز کرنے کا کون سا وقت آئے گا۔ لاجرم نتیجہ یہ ہوتاہے کہ دین کو مضحکہ سمجھتے ہیں اپنے باپ دادا کو جنگلی وحشی بے تمیز گنوار نالائق بیہودہ احمق بے خردجاننے لگتے ہیں بفرض غلط اگریہ ترقی بھی ہوئی تو نہ ہونے سے کروڑ درجے بد تر ہوئی کیا تم علم دین کی برکتیں ترك کرو گے “ فہل انتم منتہون ﴿۹۱﴾ “ (تو کیا تم باز آئے۔ ت)
یہ وجوہ ہیں یہ اسباب ہیں مرض کا علاج چاہنا اور سبب کا قائم رکھنا حماقت نہیں تو کیاہے اس نے تمھیں ذلیل کردیا اس نے غیر قوموں کو تم پر ہنسوایا اس نے اس نے اس نے جو کچھ کیا وہ اس نے اور آنکھوں کے اندھے اب تك اس اوندھی ترقی کا رونا روئے جاتے ہیں “ ہائے قوم وائے قوم یعنی ہم تواسلام کی رسی گردن سے نکال کر آزاد ہوگئے تم کیوں قلی بنے ہو “ حالانکہ حقیقۃ یہ آزادی ہی سخت ذلت کی قیدہے جس کی زندہ مثال یہ ترکوں کا تازہ واقعہ ولا حول ولاقوۃ الا باﷲ العلی العظیم۔
اہل الرائے ان وجوہ پر نظر فرمائیں اگر میرا خیال صحیح ہو توہر شہر وقصبہ میں جلسے کریں اور مسلمانوں کو ان چار باتوں پر قائم کردیں پھر آپ کی حالت خوبی کی طرف نہ بدلے تو شکایت کیجئے یہ خیال نہ کیجئے کہ ایك ہمارے کئے کیا ہوتاہے ہر ایك نے یونہی سمجھا توکوئی کچھ نہ کرے گا بلکہ ہر شخص یہی تصو رکرے کہ مجھی کو کرنا ہے یوں ان شاء الله تعالی سب کرلیں گے چند جگہ جاری تو کیجئے پھر خربوزہ کودیکھ کر خربوزہ رنگ پکڑتاہے خدانے چاہا تو عام بھی ہوجائے گا ا س وقت آپ کو ا س کی برکات نظر آئیں گی وہی آیہ کریمہ کہ ابتداء سخن میں تلاوت ہوئی “ ان اللہ لایغیر “ الایۃ جس طرح برے رویہ کی طرف اپنی حالت بدلنے پر تازیانے ہے یوں ہی نیك روش کی طرف
چہارم : کا حال ناگفتہ بہ ہے کہ انٹر پاس کو رزاق مطلق سمجھا ہے وہاں نوکری میں عمر کی شرط پاس کی شرط پھر پڑھائی وہ مفید کہ عمر بھر کام نہ آئے نہ اس کی نوکری میں اس کی حاجت پڑے اپنی ابتدائی عمر کہ وہی تعلیم کا زمانہ ہے یوں گنوائی اب پاس ہونے میں جھگڑا ہے تین تین بار فیل ہوتے ہیں اور پھر لپٹے چلے جاتے ہیں ا ور قسمت کی خوبی کہ مسلمان ہی اکثر فیل کئے جاتے ہیں پھر تقدیر سے پاس بھی مل گیا تو اب نوکری کا پتا نہیں ا ورملی بھی تو صریح ذلت کی اور رفتہ رفتہ دنیوی عزت کی بھی پائی تو وہ کہ عندالشرع ہزار ذلت کہئے پھر علم دین سکھنے اور دین حاصل کرنے اور نیك وبد میں تمیز کرنے کا کون سا وقت آئے گا۔ لاجرم نتیجہ یہ ہوتاہے کہ دین کو مضحکہ سمجھتے ہیں اپنے باپ دادا کو جنگلی وحشی بے تمیز گنوار نالائق بیہودہ احمق بے خردجاننے لگتے ہیں بفرض غلط اگریہ ترقی بھی ہوئی تو نہ ہونے سے کروڑ درجے بد تر ہوئی کیا تم علم دین کی برکتیں ترك کرو گے “ فہل انتم منتہون ﴿۹۱﴾ “ (تو کیا تم باز آئے۔ ت)
یہ وجوہ ہیں یہ اسباب ہیں مرض کا علاج چاہنا اور سبب کا قائم رکھنا حماقت نہیں تو کیاہے اس نے تمھیں ذلیل کردیا اس نے غیر قوموں کو تم پر ہنسوایا اس نے اس نے اس نے جو کچھ کیا وہ اس نے اور آنکھوں کے اندھے اب تك اس اوندھی ترقی کا رونا روئے جاتے ہیں “ ہائے قوم وائے قوم یعنی ہم تواسلام کی رسی گردن سے نکال کر آزاد ہوگئے تم کیوں قلی بنے ہو “ حالانکہ حقیقۃ یہ آزادی ہی سخت ذلت کی قیدہے جس کی زندہ مثال یہ ترکوں کا تازہ واقعہ ولا حول ولاقوۃ الا باﷲ العلی العظیم۔
اہل الرائے ان وجوہ پر نظر فرمائیں اگر میرا خیال صحیح ہو توہر شہر وقصبہ میں جلسے کریں اور مسلمانوں کو ان چار باتوں پر قائم کردیں پھر آپ کی حالت خوبی کی طرف نہ بدلے تو شکایت کیجئے یہ خیال نہ کیجئے کہ ایك ہمارے کئے کیا ہوتاہے ہر ایك نے یونہی سمجھا توکوئی کچھ نہ کرے گا بلکہ ہر شخص یہی تصو رکرے کہ مجھی کو کرنا ہے یوں ان شاء الله تعالی سب کرلیں گے چند جگہ جاری تو کیجئے پھر خربوزہ کودیکھ کر خربوزہ رنگ پکڑتاہے خدانے چاہا تو عام بھی ہوجائے گا ا س وقت آپ کو ا س کی برکات نظر آئیں گی وہی آیہ کریمہ کہ ابتداء سخن میں تلاوت ہوئی “ ان اللہ لایغیر “ الایۃ جس طرح برے رویہ کی طرف اپنی حالت بدلنے پر تازیانے ہے یوں ہی نیك روش کی طرف
تبدیلی پر بشارت ہے کہ اپنے کرتب چھوڑوگے تو ہم تمھاری اس ردی حالت کو بدل دیں گے ذلت کے بدلے عزت دینگے اے رب ہمارے! ہماری انکھیں کھول اور اپنے پسندیدہ راستہ پر چلا صدقہ رسولوں کے سورج مدینہ کے چاند کا صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم وعلی آلہ وصحبہ وبارك وکرم آمین!
خیر یہ مرتبہ تو عمر کاہے مسلمانوں چار باتوں میں سے ایك کو بھی اخیتار کرتے نہیں معلوم ہوتے مگر ضروریات امداد ترك کی نسبت کہئے مرثیے ہزاروں پڑھے گئے مگر سوابعض غرباء کے امراء ورؤسا بلکہ دنیا بھر کے والیان ملك نے بھی کوئی قابل قادر حصہ لیا وہ جو فوجی مدد دے سکتے تھے وہ جولاکھ پونڈ بھیج سکتے تھے وہ ہیں اور بے پروائی گویا انھوں نے کچھ سنا ہی نہیں۔ انھیں جانے دیجئے وہ جانیں اور ان کی مصلحت آپ بیتی کہئے کتنا چندہ ہو اہے جس پر ہمدردی اسلام کا دعوی ہے مصارف جنگ کچھ ایسے ہلکے ہیں جتنا چندہ جا چکا ہے ایك دن کی لڑائی میں اس سے زیادہ اڑجاتا ہے اب بھی اگر تمام ہندوستان کے جملہ مسلمان امیر فقیر غریب رئیس اپنے سچے ایمان سے ہر شخص اپنے ایك مہینہ کی آمدنی دے دے تو گیارہ مہینہ کی آمدنی میں بارہ مہینہ گزرکرلینا کچھ دشوار نہ ہو۔ اور الله عزوجل چاہے تو لاکھوں پونڈ جمع ہوجائیں یو نیورسٹی کے لئے جو غریبوں کے پیٹ کاٹ کر تیس لاکھ سے زیادہ جوڑلیا اور اس پر سود مل رہاہے کہ اس کی مقدار بھی چالیس ہزار سے زائد سے زائد ہوچکی ہے اور وہ بنی بھی نہیں یہ روپے تو گھر سے دینا نہیں اس کو الله وحدہ قہار کی راہ بھیج دیجئے اسلام باقی ہے تو یونیورسٹی نہ بننا ضرر نہ دے گا۔ اور اسلام نہ رہا تو یونیورسٹی کیا بخشوالے گا بلکہ ہم کہہ دیتے ہیں کہ وہ اس وقت ہرگز ہرگز بن بھی نہ سکے گی اس وقت جوگت ہوگی اس کا بیان پیش از وقت ہے اور بالفرض تنگ دل اور بخیل ہاتھ پرایا مال بھی یوں دینے کو نہ ہو تویہ تمام وکمال روپے سلطنت اسلام کو بقائے اسلام کے لئے بطور قرض حسن ہی دیجئے اور زیادہ کیا کہوں وحسبنا اﷲ ونعم الوکیل ولاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم واﷲ تعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
کتب عبدہ المذنب احمد رضا البریلوی عفی عنہ بمحمدن النبی الامی صلی الله تعالی علیہ وسلم
مہر دارالافتاء مدرسہ اہلسنت وجماعت بریلی
تصحیح کردہ اعجاز الرضوی از کاظمی مقیم دربار داتاصاحب
صح الجواب واﷲ تعالی اعلم۔ الجواب صحیح
محمد رضاخان قادری عفی عنہ فقیر حسین احمد العاشقی النھواری عفی عنہ المولی القوی
خیر یہ مرتبہ تو عمر کاہے مسلمانوں چار باتوں میں سے ایك کو بھی اخیتار کرتے نہیں معلوم ہوتے مگر ضروریات امداد ترك کی نسبت کہئے مرثیے ہزاروں پڑھے گئے مگر سوابعض غرباء کے امراء ورؤسا بلکہ دنیا بھر کے والیان ملك نے بھی کوئی قابل قادر حصہ لیا وہ جو فوجی مدد دے سکتے تھے وہ جولاکھ پونڈ بھیج سکتے تھے وہ ہیں اور بے پروائی گویا انھوں نے کچھ سنا ہی نہیں۔ انھیں جانے دیجئے وہ جانیں اور ان کی مصلحت آپ بیتی کہئے کتنا چندہ ہو اہے جس پر ہمدردی اسلام کا دعوی ہے مصارف جنگ کچھ ایسے ہلکے ہیں جتنا چندہ جا چکا ہے ایك دن کی لڑائی میں اس سے زیادہ اڑجاتا ہے اب بھی اگر تمام ہندوستان کے جملہ مسلمان امیر فقیر غریب رئیس اپنے سچے ایمان سے ہر شخص اپنے ایك مہینہ کی آمدنی دے دے تو گیارہ مہینہ کی آمدنی میں بارہ مہینہ گزرکرلینا کچھ دشوار نہ ہو۔ اور الله عزوجل چاہے تو لاکھوں پونڈ جمع ہوجائیں یو نیورسٹی کے لئے جو غریبوں کے پیٹ کاٹ کر تیس لاکھ سے زیادہ جوڑلیا اور اس پر سود مل رہاہے کہ اس کی مقدار بھی چالیس ہزار سے زائد سے زائد ہوچکی ہے اور وہ بنی بھی نہیں یہ روپے تو گھر سے دینا نہیں اس کو الله وحدہ قہار کی راہ بھیج دیجئے اسلام باقی ہے تو یونیورسٹی نہ بننا ضرر نہ دے گا۔ اور اسلام نہ رہا تو یونیورسٹی کیا بخشوالے گا بلکہ ہم کہہ دیتے ہیں کہ وہ اس وقت ہرگز ہرگز بن بھی نہ سکے گی اس وقت جوگت ہوگی اس کا بیان پیش از وقت ہے اور بالفرض تنگ دل اور بخیل ہاتھ پرایا مال بھی یوں دینے کو نہ ہو تویہ تمام وکمال روپے سلطنت اسلام کو بقائے اسلام کے لئے بطور قرض حسن ہی دیجئے اور زیادہ کیا کہوں وحسبنا اﷲ ونعم الوکیل ولاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم واﷲ تعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
کتب عبدہ المذنب احمد رضا البریلوی عفی عنہ بمحمدن النبی الامی صلی الله تعالی علیہ وسلم
مہر دارالافتاء مدرسہ اہلسنت وجماعت بریلی
تصحیح کردہ اعجاز الرضوی از کاظمی مقیم دربار داتاصاحب
صح الجواب واﷲ تعالی اعلم۔ الجواب صحیح
محمد رضاخان قادری عفی عنہ فقیر حسین احمد العاشقی النھواری عفی عنہ المولی القوی
اصاب المجیب جزاہ اﷲ جزاء ویثیب(مجیب نے جواب درست دیا ہے الله تعالی مجیب کو جزا وثواب عطا فرمائے۔ ت)
فقیر مصطفی رضا القادری النوری غفرلہ ولوالدیہ
صح الجواب واﷲ تعالی اعلم بالصواب(جواب صحیح ہے اور الله تعالی بہتر جاننے والا ہے۔ ت)
فقیر امجد علی الاعظمی الرضوی عفی عنہ
وانا علی ذلك من الشاھدین(اور میں اس حوالے کے صحیح ہونے پر گواہ ہوں۔ ت)
فقیر نواب مرزا رضوی بریلوی عفی عنہ المولی القوی
مسئلہ ۱۶ : مسئولہ اختر حسین طالب علم مدرسہ منظر الاسلام محلہ سوداگران بریلی ۲۲ صفر ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص سامنے سے گزرا دوسرے سے کہا صلوۃ ہوگئی اور جماعت تیار ہے اس نے کہا نماز پڑھنے والے پر لعنت بھیجتاہوں جب یہ ذکر ایك تیسرے شخص کے سامنے ہوا اور لوگوں نے کہا یہ کلمہ کفرہے تو اس نے کہا ایسی باتوں سے کفر نہیں عائد ہوا کرتاحالانکہ یہ شخص عاقل بالغ ہے اس شخص کا کیا حکم ہے بینوا تو جروا
الجواب :
اس کہنے سے وہ شخص کافر ہوگیا اس کی عورت نکاح سے نکل گئی اوریہ تیسرا بھی نئے سرے سے کلمہ اسلام پڑھے اور اپنی عورت سے اس کے بعد نکاح کرے۔ والله تعالی اعلم۔
فقیر مصطفی رضا القادری النوری غفرلہ ولوالدیہ
صح الجواب واﷲ تعالی اعلم بالصواب(جواب صحیح ہے اور الله تعالی بہتر جاننے والا ہے۔ ت)
فقیر امجد علی الاعظمی الرضوی عفی عنہ
وانا علی ذلك من الشاھدین(اور میں اس حوالے کے صحیح ہونے پر گواہ ہوں۔ ت)
فقیر نواب مرزا رضوی بریلوی عفی عنہ المولی القوی
مسئلہ ۱۶ : مسئولہ اختر حسین طالب علم مدرسہ منظر الاسلام محلہ سوداگران بریلی ۲۲ صفر ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص سامنے سے گزرا دوسرے سے کہا صلوۃ ہوگئی اور جماعت تیار ہے اس نے کہا نماز پڑھنے والے پر لعنت بھیجتاہوں جب یہ ذکر ایك تیسرے شخص کے سامنے ہوا اور لوگوں نے کہا یہ کلمہ کفرہے تو اس نے کہا ایسی باتوں سے کفر نہیں عائد ہوا کرتاحالانکہ یہ شخص عاقل بالغ ہے اس شخص کا کیا حکم ہے بینوا تو جروا
الجواب :
اس کہنے سے وہ شخص کافر ہوگیا اس کی عورت نکاح سے نکل گئی اوریہ تیسرا بھی نئے سرے سے کلمہ اسلام پڑھے اور اپنی عورت سے اس کے بعد نکاح کرے۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۷ : از شہر محلہ سوداگران مسئولہ سید عزیز احمد صاحب ۷ربیع الاول ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین وحامی شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید نے ایك مکان درحقیقت دو سو روپیہ کو بیع کیا مگر بیعنامہ ڈھائی سو روپیہ کالکھا اور رجسٹری کے وقت حاکم کے سامنے دو سو روپیہ وصول پائے باقی پچاس روپیہ اس سے قبل وصول پانے کا جھوٹا اقبال کیا اور اس بارے میں عمرو کی شہادت پیش کی عمرو نے باوجود اس کے کہ اس کو اس امرکا اچھی طرح علم تھاکہ مکان حقیقت میں دوسو روپیہ کو بیع کیا گیا ہے اور کوئی رقم پچاس روپے کی اس سے قبل زید کو وصول نہیں ہوئی ہے اس امر کی شہادت دی کہ مکان واقعی ڈھائی سو روپے کو بیع کیا گیا ہے اور پچاس روپے زید کو اس سے قبل وصول ہوچکے ہیں جب لوگوں نے عمرو سے کہا کہ تم نے جھوٹی شہادت دی عمرونے اس کا جواب دیا کہ کچہری میں کون سا سچ کہا کرتاہے جتنے جاتے ہیں سب جھوٹ ہی کہا کرتے ہیں اگر میں نے جھوٹ کہا تو کیا برا کیا اب سوال یہ ہے کہ عمرو اکثر اوقات نماز میں امامت بھی کرتاہے تو ایسی حالت میں عمرو کی امامت نماز میں جائز ہے یا ناجائز
الجواب :
صورت مستفسرہ میں اس کی امامت ناجائز ہے ایك تو اس نے جھوٹی گواہی دی اور حدیث میں فرمایا :
“ سن لو سن لو جھوٹی گواہی بتوں کے پوجنے کے برابر رکھی گئی سن لو سن لو جھوٹی گواہی بتوں کے پوجنے کے برابر رکھی گئی سن لو سن لو جھوٹی گواہی بتوں کے پوجنے کے برابر رکھی گئی ۔ “ دوسری حدیث میں فرمایا :
لن تزول قد ماشاھدالزور حتی یوجب اﷲ لہ النار ۔ جھوٹی گواہی دینے والا وہا ں سے قدم ہٹانے نہیں پاتا کہ الله تعالی اس کے لئے نار جہنم واجب فرماتاہے۔
کیا فرماتے ہیں علمائے دین وحامی شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید نے ایك مکان درحقیقت دو سو روپیہ کو بیع کیا مگر بیعنامہ ڈھائی سو روپیہ کالکھا اور رجسٹری کے وقت حاکم کے سامنے دو سو روپیہ وصول پائے باقی پچاس روپیہ اس سے قبل وصول پانے کا جھوٹا اقبال کیا اور اس بارے میں عمرو کی شہادت پیش کی عمرو نے باوجود اس کے کہ اس کو اس امرکا اچھی طرح علم تھاکہ مکان حقیقت میں دوسو روپیہ کو بیع کیا گیا ہے اور کوئی رقم پچاس روپے کی اس سے قبل زید کو وصول نہیں ہوئی ہے اس امر کی شہادت دی کہ مکان واقعی ڈھائی سو روپے کو بیع کیا گیا ہے اور پچاس روپے زید کو اس سے قبل وصول ہوچکے ہیں جب لوگوں نے عمرو سے کہا کہ تم نے جھوٹی شہادت دی عمرونے اس کا جواب دیا کہ کچہری میں کون سا سچ کہا کرتاہے جتنے جاتے ہیں سب جھوٹ ہی کہا کرتے ہیں اگر میں نے جھوٹ کہا تو کیا برا کیا اب سوال یہ ہے کہ عمرو اکثر اوقات نماز میں امامت بھی کرتاہے تو ایسی حالت میں عمرو کی امامت نماز میں جائز ہے یا ناجائز
الجواب :
صورت مستفسرہ میں اس کی امامت ناجائز ہے ایك تو اس نے جھوٹی گواہی دی اور حدیث میں فرمایا :
“ سن لو سن لو جھوٹی گواہی بتوں کے پوجنے کے برابر رکھی گئی سن لو سن لو جھوٹی گواہی بتوں کے پوجنے کے برابر رکھی گئی سن لو سن لو جھوٹی گواہی بتوں کے پوجنے کے برابر رکھی گئی ۔ “ دوسری حدیث میں فرمایا :
لن تزول قد ماشاھدالزور حتی یوجب اﷲ لہ النار ۔ جھوٹی گواہی دینے والا وہا ں سے قدم ہٹانے نہیں پاتا کہ الله تعالی اس کے لئے نار جہنم واجب فرماتاہے۔
حوالہ / References
سنن ابوداؤد کتاب القضاء با ب فی شہادت الزور آفتاب عالم پریس لاہور ۲ / ۱۵۰ ، سنن ابن ماجہ ابواب الشہادات باب شہادت الزور ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۷۳
سنن ابن ماجہ ابواب الشہادات باب شہادۃ الزور ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۷۳
سنن ابن ماجہ ابواب الشہادات باب شہادۃ الزور ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۷۳
یہاں تك تو گناہ کبیرہ ہی تھا جو آدمی کی ہلاکت وبربادی کوبس ہے آگے اس کا کہنا کہ “ میں نے جھوٹ بولا تو کیا بر ا کیا “ صریح کلمہ کفرہے اس پر لازم ہے کہ تجدید اسلام کرے اور اگر عورت رکھتاہے تو از سر نو اسلام لانے کےبعد اس سے تجدید نکاح ضرور ہے۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۸ : از موضع شمس آباد ضلع کیمل پور پنجاب مسئولہ مولوی غلام ربانی صاحب ۱۰ جمادی الآخر ۱۳۳۹ھ
ایك عالم سنی حنفی المذہب نے اپنے وعظ میں کہا کہ الله عزوجل نے ایك سو چار۱۰۴ کتاب نازل فرمائی اس کی تفصیل یہ ہے کہ سب میں پرودگار نے فرمایا : “ اطیعوا اللہ واطیعوا الرسول “ الخ(اور اطاعت کرو الله تعالی کی اور اطاعت کرو رسول کی۔ ت)
اے مسلمانو! آپ لوگوں کو سمجھانے کے لئے ایك مثال دیتاہوں اس کے بعد آپ لوگ خیال کریں کہ قوت ایمانی میں کہاں تك ضعف ہوگیاہے دیکھو کسی حاکم کاچپراسی ثمن لے کر آتاہے تو اس کا کس قدر خوف ہوتا ہے حالانکہ حاکم ایك بندہ مثل ماو شما ثمن پیسہ آدھے پیسہ کا کاغذ جس میں معمولی مضمون ہوتاہے چپراسی پانچ چھ روپے کا ملازم ہوتاہے مگریہ حالت ہوتی ہے کہ اس کے خوف کے مارے لوگ روپوش ہوجاتے ہیں لاچاری سے لینا ہی پڑتاہے بعدہ وکیل کی تلاش اور روپے کا صرف کرنا وکذا وکذا اور الله تعالی احکم الحاکمین کہ دم بھر میں تہہ وبالا کرسکتا ہے اس کا حکمنامہ یعنی قرآن پاك ومقدس کہ جس کے ایك ایك حرف پر دس بیس تیس نیکی کاوعدہ ہے وہ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم لائے کہ جن کی خاطر زمین وآسمان پیدا ہوا اب بتاؤ کہ اس احکم الحاکمین اور اس قرآن مجید اور اس کے رسول کا فرمان ہم سب مسلمان لوگ کہاں تك بجا لاتے ہیں ہمیشہ وعظ سنتے ہیں عمل نہیں کرتے الخ اس پر دوسرے ایك عالم نے کہا کہ حضرت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو چپراسی کہنا دین کا یا اس سے مثال دینا یا اس سے تشبیہ تینوں صورتوں میں کفرہے اور کہنے والا سابی ہے اس کی توبہ قبول نہ ہوگی اب عرض ہے کہ یہ تشبیہ ہے یا تمثیل اورمثال کافرق پورے طور سے بیان فرمائیے یہ سوال اگرچہ کوتاہ ہے مگر بڑا اہم اور ضروری ہے جس کے سبب سے ایك بڑا فتنہ وفسادبرپا ہورہاہے بینواتو جروا
الجواب :
حاش لله اس میں نہ تشبیہ ہے نہ تمثیل نہ اصلا معاذ الله توہین کی بو یہ تو لوگوں کی زجر وتوبیخ ہے
مسئلہ ۱۸ : از موضع شمس آباد ضلع کیمل پور پنجاب مسئولہ مولوی غلام ربانی صاحب ۱۰ جمادی الآخر ۱۳۳۹ھ
ایك عالم سنی حنفی المذہب نے اپنے وعظ میں کہا کہ الله عزوجل نے ایك سو چار۱۰۴ کتاب نازل فرمائی اس کی تفصیل یہ ہے کہ سب میں پرودگار نے فرمایا : “ اطیعوا اللہ واطیعوا الرسول “ الخ(اور اطاعت کرو الله تعالی کی اور اطاعت کرو رسول کی۔ ت)
اے مسلمانو! آپ لوگوں کو سمجھانے کے لئے ایك مثال دیتاہوں اس کے بعد آپ لوگ خیال کریں کہ قوت ایمانی میں کہاں تك ضعف ہوگیاہے دیکھو کسی حاکم کاچپراسی ثمن لے کر آتاہے تو اس کا کس قدر خوف ہوتا ہے حالانکہ حاکم ایك بندہ مثل ماو شما ثمن پیسہ آدھے پیسہ کا کاغذ جس میں معمولی مضمون ہوتاہے چپراسی پانچ چھ روپے کا ملازم ہوتاہے مگریہ حالت ہوتی ہے کہ اس کے خوف کے مارے لوگ روپوش ہوجاتے ہیں لاچاری سے لینا ہی پڑتاہے بعدہ وکیل کی تلاش اور روپے کا صرف کرنا وکذا وکذا اور الله تعالی احکم الحاکمین کہ دم بھر میں تہہ وبالا کرسکتا ہے اس کا حکمنامہ یعنی قرآن پاك ومقدس کہ جس کے ایك ایك حرف پر دس بیس تیس نیکی کاوعدہ ہے وہ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم لائے کہ جن کی خاطر زمین وآسمان پیدا ہوا اب بتاؤ کہ اس احکم الحاکمین اور اس قرآن مجید اور اس کے رسول کا فرمان ہم سب مسلمان لوگ کہاں تك بجا لاتے ہیں ہمیشہ وعظ سنتے ہیں عمل نہیں کرتے الخ اس پر دوسرے ایك عالم نے کہا کہ حضرت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو چپراسی کہنا دین کا یا اس سے مثال دینا یا اس سے تشبیہ تینوں صورتوں میں کفرہے اور کہنے والا سابی ہے اس کی توبہ قبول نہ ہوگی اب عرض ہے کہ یہ تشبیہ ہے یا تمثیل اورمثال کافرق پورے طور سے بیان فرمائیے یہ سوال اگرچہ کوتاہ ہے مگر بڑا اہم اور ضروری ہے جس کے سبب سے ایك بڑا فتنہ وفسادبرپا ہورہاہے بینواتو جروا
الجواب :
حاش لله اس میں نہ تشبیہ ہے نہ تمثیل نہ اصلا معاذ الله توہین کی بو یہ تو لوگوں کی زجر وتوبیخ ہے
حوالہ / References
القرآن الکریم ۴ /۵۹
کہ ایك ذلیل حاکم کا ذلیل فرمان ذلیل چپراسی لائے اس پرتو تمھاری یہ حالت ہوتی ہے اور ملك الملوك واحد قہار جل وعلا کاعزیز وعظیم وجلیل وکریم فرمان اعزالمسلمین اکرم المحبوبین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم لے کر تشریف لائے اس کی پر وا نہیں کرتے اس سے اپنی قوت ایمانی کے حال کا اندازہ کرسکتے ہو ا س کی نظیر حضور بشیر و نذیر صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا ارشادہے کہ صحیح بخاری میں ابوہریرہ رضی الله تعالی عنہ سے ہے :
والذی نفسی بیدہ لویعلم احد ھم انہ یجد عرقا سمینا اومرماتین حسنتین لشھد العشاء ۔ قسم ہے اس کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے اگر ان میں کسی کویہ معلوم ہوتاکہ کوئی فربہ ہڈی جس پر گوشت کا خفیف حصہ لپٹا رہ گیا ہو یا بکری کے اچھے دو کھر ملیں گے (جن کے شگاف میں گوشت کا لگاؤ ہوتاہے)تو ضرور نماز عشاء میں حاضر ہوتا۔
اور طبرانی نے معجم اوسط میں بسند صحیح انس رضی الله تعالی عنہ سے روایت کی کہ حضو راقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا :
لوان رجلا دعا الناس الی عرق اومرماتین لاجابوہ وھم یدعون الی ھذہ الصلوۃ فی جماعۃ فلا یاتونھا ۔ اگر کوئی شخص لوگوں کو پتلا گوشت لپٹی ہوئی ہڈی یا دوکھروں کی دعوت دے تو ضرور جائیں گے اور اس نماز کی جماعت کو بلائے جاتے ہیں تو نہیں آتے۔
کیامعاذالله یہ ثواب ورضائے الہی کو دو کوڑی کی ہڈی یا دو کھروں سے تشبیہ ہے حاشابلکہ ان کے حال کی تقبیح اور ان پر زجر وتوبیخ ہے کہ ایسی حقیر چیز کے لئے تو دوڑتے ہیں اور ایسی عظیم شئے کی پروانہیں کرتے امام بدرالدین محمود عینی عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری میں اسی حدیث کے نیچے فرماتے ہیں :
المعنی لو علم انہ لو حضر صلوۃ العشاء لوجد نفعا دنیویا وان کان خسیسا حقیرا لحضرھا لقصور ھمتہ و لا یحضرھا لما لھا من الاجوراو المثوبات (ای العقبی ونعیمھا ) مفہوم یہ ہے کہ اگر انھیں یہ علم ہوکہ نماز پر آنے سے دنیوی نفع ہو اگرچہ وہ حقیر وخسیس ہو وہ تب بھی آئیں کیونکہ ان کی منزل دنیاہے اور اس کے لئے نہ حاضر ہوں گے جس میں ان کے لئے عقبی اور اس کے انعامات ہیں۔ (ت)
والذی نفسی بیدہ لویعلم احد ھم انہ یجد عرقا سمینا اومرماتین حسنتین لشھد العشاء ۔ قسم ہے اس کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے اگر ان میں کسی کویہ معلوم ہوتاکہ کوئی فربہ ہڈی جس پر گوشت کا خفیف حصہ لپٹا رہ گیا ہو یا بکری کے اچھے دو کھر ملیں گے (جن کے شگاف میں گوشت کا لگاؤ ہوتاہے)تو ضرور نماز عشاء میں حاضر ہوتا۔
اور طبرانی نے معجم اوسط میں بسند صحیح انس رضی الله تعالی عنہ سے روایت کی کہ حضو راقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا :
لوان رجلا دعا الناس الی عرق اومرماتین لاجابوہ وھم یدعون الی ھذہ الصلوۃ فی جماعۃ فلا یاتونھا ۔ اگر کوئی شخص لوگوں کو پتلا گوشت لپٹی ہوئی ہڈی یا دوکھروں کی دعوت دے تو ضرور جائیں گے اور اس نماز کی جماعت کو بلائے جاتے ہیں تو نہیں آتے۔
کیامعاذالله یہ ثواب ورضائے الہی کو دو کوڑی کی ہڈی یا دو کھروں سے تشبیہ ہے حاشابلکہ ان کے حال کی تقبیح اور ان پر زجر وتوبیخ ہے کہ ایسی حقیر چیز کے لئے تو دوڑتے ہیں اور ایسی عظیم شئے کی پروانہیں کرتے امام بدرالدین محمود عینی عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری میں اسی حدیث کے نیچے فرماتے ہیں :
المعنی لو علم انہ لو حضر صلوۃ العشاء لوجد نفعا دنیویا وان کان خسیسا حقیرا لحضرھا لقصور ھمتہ و لا یحضرھا لما لھا من الاجوراو المثوبات (ای العقبی ونعیمھا ) مفہوم یہ ہے کہ اگر انھیں یہ علم ہوکہ نماز پر آنے سے دنیوی نفع ہو اگرچہ وہ حقیر وخسیس ہو وہ تب بھی آئیں کیونکہ ان کی منزل دنیاہے اور اس کے لئے نہ حاضر ہوں گے جس میں ان کے لئے عقبی اور اس کے انعامات ہیں۔ (ت)
حوالہ / References
صحیح البخاری کتاب الاحکام باب اخراج الخصوم واہل الریب قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ / ۱۰۷۲
المعجم الاوسط للطبرانی حدیث انس بن مالك ۲۷۸۴ مکتبۃ المعارف الریاض ۳ / ۳۶۶
عمدۃ القاری شرح البخاری کتاب الاحکام باب اخراج الخصوم الخ ادارۃالطباعۃ المنیریہ بیروت ۲۴ / ۲۸۳
المعجم الاوسط للطبرانی حدیث انس بن مالك ۲۷۸۴ مکتبۃ المعارف الریاض ۳ / ۳۶۶
عمدۃ القاری شرح البخاری کتاب الاحکام باب اخراج الخصوم الخ ادارۃالطباعۃ المنیریہ بیروت ۲۴ / ۲۸۳
اور اگر یوں ہوتا کہ خدا ناترسو! الله ورسول سے اتنا ڈرو جتنا دنیوی حاکم اور اس کے سمن اور چپراسی سے ڈرتے ہو جب بھی اسے تمثیل وتشبیہ وتوہین سے علاقہ نہیں تو اب اس کی نظیر یہ حدیث ہوتی کہ ابن عدی نے ابوامامہ باہلی رضی الله تعالی عنہ سے روایت کی کہ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا :
استحیی اﷲ استحیائك من رجلین من صالحی عشیرتك ۔ الله تعالی سے ایسی شرم کر جیسی اپنے کنبے کے دونیك مردوں سے کرتاہے۔
یہاں معاذاللہ الله تعالی کو کنبے کے دو مردوں سے تشبیہ نہیں نہ یہ کہ الله تعالی سے اتنی ہی حیا چاہئے جتنی دو مردوں سے بلکہ اس مقدار حیا کی طرف ہدایت ہے کہ الله سے کرے تو معاصی سے روکنے کو کافی ہو یو ہیں نہ یہاں معاذالله دنیوی حاکم اور سمن اور چپراسی سے تشبیہ ہے نہ یہ کہ الله ورسول وقرآن سے اتناہی ڈرو جتنا ان سے بلکہ اس مقدار خوف کی طر ف ہدایت ہے کہ الله ورسول وقرآن سے ہو تو اتقاواجتناب معاصی کے لئے بس ہو ہمارے ائمہ مذہب رضی الله تعالی عنہم کے نزدیك ساب مرتد ہے اور اس کے سب احکام مثل مرتد مرتداگر توبہ کرے تقبل ولا یقتل(قبول کریں گے اور قتل نہ کریں گے)کما حققناہ بتوفیق اﷲ تعالی فی فتاونا(جیسا کہ ہم نے الله تعالی کی توفیق سے اپنے فتاوی میں اس کی تحقیق کی ہے۔ ت) تشبیہ میں اگر وجہ شبہ امور متعددہ سے منتزع ہو تمثیل ہے جیسے کریمہ “ کمثل الحمار یحمل اسفارا “ (گدھے کی مثال ہے جو پیٹھ پر کتابیں اٹھائے۔ ت)ورنہ نہیں اور کبھی تشبیہ مرکب کو تمثیل کہتے ہیں جس کے معنی میں مفرد کی مفرد سے تشبیہ ملحوظ نہیں بلکہ ہیأت مجموعی سے کریمہ “ و ہی تجری بہم فی موج کالجبال “ (اور وہی انھیں لئے جارہی ہے ایسی موجوں میں جیسے پہاڑ۔ ت)میں تشبیہ ہے۔ اور کریمہ “ مثلہم کمثل الذی استوقد نارا “ ۔ الایۃ(ان کی کہاوت اس کی طرح ہے جس نے آگ روشن کی الایۃ۔ ت) میں تمثیل ہے۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۹ : ۲ ۱جمادی الآخرہ ۱۳۳۹ھ
وقایہ اہل السنہ میں موذن کو مثل چپراسی دربار حاکم کے کہا ہے اور ترمذی میں ہے کہ
استحیی اﷲ استحیائك من رجلین من صالحی عشیرتك ۔ الله تعالی سے ایسی شرم کر جیسی اپنے کنبے کے دونیك مردوں سے کرتاہے۔
یہاں معاذاللہ الله تعالی کو کنبے کے دو مردوں سے تشبیہ نہیں نہ یہ کہ الله تعالی سے اتنی ہی حیا چاہئے جتنی دو مردوں سے بلکہ اس مقدار حیا کی طرف ہدایت ہے کہ الله سے کرے تو معاصی سے روکنے کو کافی ہو یو ہیں نہ یہاں معاذالله دنیوی حاکم اور سمن اور چپراسی سے تشبیہ ہے نہ یہ کہ الله ورسول وقرآن سے اتناہی ڈرو جتنا ان سے بلکہ اس مقدار خوف کی طر ف ہدایت ہے کہ الله ورسول وقرآن سے ہو تو اتقاواجتناب معاصی کے لئے بس ہو ہمارے ائمہ مذہب رضی الله تعالی عنہم کے نزدیك ساب مرتد ہے اور اس کے سب احکام مثل مرتد مرتداگر توبہ کرے تقبل ولا یقتل(قبول کریں گے اور قتل نہ کریں گے)کما حققناہ بتوفیق اﷲ تعالی فی فتاونا(جیسا کہ ہم نے الله تعالی کی توفیق سے اپنے فتاوی میں اس کی تحقیق کی ہے۔ ت) تشبیہ میں اگر وجہ شبہ امور متعددہ سے منتزع ہو تمثیل ہے جیسے کریمہ “ کمثل الحمار یحمل اسفارا “ (گدھے کی مثال ہے جو پیٹھ پر کتابیں اٹھائے۔ ت)ورنہ نہیں اور کبھی تشبیہ مرکب کو تمثیل کہتے ہیں جس کے معنی میں مفرد کی مفرد سے تشبیہ ملحوظ نہیں بلکہ ہیأت مجموعی سے کریمہ “ و ہی تجری بہم فی موج کالجبال “ (اور وہی انھیں لئے جارہی ہے ایسی موجوں میں جیسے پہاڑ۔ ت)میں تشبیہ ہے۔ اور کریمہ “ مثلہم کمثل الذی استوقد نارا “ ۔ الایۃ(ان کی کہاوت اس کی طرح ہے جس نے آگ روشن کی الایۃ۔ ت) میں تمثیل ہے۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۹ : ۲ ۱جمادی الآخرہ ۱۳۳۹ھ
وقایہ اہل السنہ میں موذن کو مثل چپراسی دربار حاکم کے کہا ہے اور ترمذی میں ہے کہ
حوالہ / References
الکامل فی ضعفاء الرجال ترجمہ جعفر بن زبیر الشامی دمشق دارالفکر بیروت ۲ / ۵۶۰
القرآن الکریم ۶۲ /۵
القرآن الکریم ۱۱ /۴۲
القرآن الکریم ۲ /۱۷
القرآن الکریم ۶۲ /۵
القرآن الکریم ۱۱ /۴۲
القرآن الکریم ۲ /۱۷
رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے بھی مباشرت اذان فرمائی ہے غرض کہ حضور بھی علمی تقریر سے ثابت فرمائیں کہ تمثیلا اس لفظ سے کوئی خرابی نہیں ہوتی۔
الجواب :
وقایہ اہل السنہ میں حاضری پکارنے کا ذکر ہے جومسجد میں مؤذن کا کام ہے اورشاہی دربار میں چوبدار اور کچہریوں میں چپراسی کا اس سے مؤذن چپراسی یا چوبدار کے مثل نہیں ہوسکتا جس عالی شان کا دربار ویساہی اس کا خادم نہ دربار عزت سے کسی دربارکو نسبت ہوسکتی ہے نہ مؤذن سے چوبدار و چپراسی کو وقایہ میں مؤذن کو چپراسی نہ کہا اورکہا بھی جائے تو اسے یہاں سے علاقہ نہیں اس خیال کو فورا فورا سر سے نکال دیجئے تعظیم شان اقدس کے تصور میں ڈوب جائیے آیہ مبارکہ
“ تحسبونہ ہینا ٭ و ہو عند اللہ عظیم ﴿۱۵﴾ “ (تم اسے سہل سمجھتے تھے اور وہ الله کے نزدیك بڑی بات ہے۔ ت)چپراسی تو اسی حاضری پکارنے پر نوکر ہوتاہے یونہی موذن اس پر مقرر ہوتا ہے اتفاقا اگر کسی گواہ یا فریق کوایك بار حاکم خود آواز دے لے چپراسی نہ ہوجائے گا اور اسے چپراسی کہنا ضرور اس کی توہین ہوگا____ “ ولا یغرنکم باللہ الغرور ﴿۳۳﴾ “ (اور ہر گز تمھیں الله کے حکم پر فریب نہ دے وہ بڑا فریبی۔ ت) والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۰ : از ڈاك خانہ جہت لور تحصیل مکودر ضلع جالندھر مسئولہ مولوی چراغ علی شاہ صاحب قادری ۱۳ جمادی الآخر ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص بلااعتقاد فاعلیۃ بالذات حضرات صوفیہ کرام ومشائخ عظام سے استمداد طلب کرتاہے مثلا یا شیخ عبدالقادر شیئا ﷲ اور یاعلی مدد یا اغثنی یا رسول الله اور سماع بالمزا میر سنتاہے اور پیر کو تعظیما سجدہ کرتا ہے ایسے شخص نے اپنی عورت کو تین طلاقیں دے دیں ایك مولوی وہابی نجدی نے اس کا نکاح بغیر حلالہ درست کرکے نکاح کردیا کہتاہے کہ وہ شخص کافر اور مرتد ہوگیا ہے تین طلاقیں اس پر نہیں پڑتیں اب آیا اس کا نکاح بغیر حلالہ درست ہے یا نہیں اس کا کیا حکم ہے اس کی امامت وغیرہ جائز ہے یا نہیں بینوا تو جروا
الجواب :
وقایہ اہل السنہ میں حاضری پکارنے کا ذکر ہے جومسجد میں مؤذن کا کام ہے اورشاہی دربار میں چوبدار اور کچہریوں میں چپراسی کا اس سے مؤذن چپراسی یا چوبدار کے مثل نہیں ہوسکتا جس عالی شان کا دربار ویساہی اس کا خادم نہ دربار عزت سے کسی دربارکو نسبت ہوسکتی ہے نہ مؤذن سے چوبدار و چپراسی کو وقایہ میں مؤذن کو چپراسی نہ کہا اورکہا بھی جائے تو اسے یہاں سے علاقہ نہیں اس خیال کو فورا فورا سر سے نکال دیجئے تعظیم شان اقدس کے تصور میں ڈوب جائیے آیہ مبارکہ
“ تحسبونہ ہینا ٭ و ہو عند اللہ عظیم ﴿۱۵﴾ “ (تم اسے سہل سمجھتے تھے اور وہ الله کے نزدیك بڑی بات ہے۔ ت)چپراسی تو اسی حاضری پکارنے پر نوکر ہوتاہے یونہی موذن اس پر مقرر ہوتا ہے اتفاقا اگر کسی گواہ یا فریق کوایك بار حاکم خود آواز دے لے چپراسی نہ ہوجائے گا اور اسے چپراسی کہنا ضرور اس کی توہین ہوگا____ “ ولا یغرنکم باللہ الغرور ﴿۳۳﴾ “ (اور ہر گز تمھیں الله کے حکم پر فریب نہ دے وہ بڑا فریبی۔ ت) والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۰ : از ڈاك خانہ جہت لور تحصیل مکودر ضلع جالندھر مسئولہ مولوی چراغ علی شاہ صاحب قادری ۱۳ جمادی الآخر ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص بلااعتقاد فاعلیۃ بالذات حضرات صوفیہ کرام ومشائخ عظام سے استمداد طلب کرتاہے مثلا یا شیخ عبدالقادر شیئا ﷲ اور یاعلی مدد یا اغثنی یا رسول الله اور سماع بالمزا میر سنتاہے اور پیر کو تعظیما سجدہ کرتا ہے ایسے شخص نے اپنی عورت کو تین طلاقیں دے دیں ایك مولوی وہابی نجدی نے اس کا نکاح بغیر حلالہ درست کرکے نکاح کردیا کہتاہے کہ وہ شخص کافر اور مرتد ہوگیا ہے تین طلاقیں اس پر نہیں پڑتیں اب آیا اس کا نکاح بغیر حلالہ درست ہے یا نہیں اس کا کیا حکم ہے اس کی امامت وغیرہ جائز ہے یا نہیں بینوا تو جروا
الجواب :
انبیاء واولیاء علیہم الصلوۃ والثناء سے استمداد جائزہے اور مزامیر سننا گناہ اور سجدہ تعظیمی حرام مگر کفر نہیں جب تك نیت عبادت نہ ہو عالمگیری میں ہے :
من سجد للسلطان علی وجہ التحیۃ لایکفر ولکن یأثم لارتکابہ الکبیرۃ وان سجدبنیۃ العبادۃ فقد کفر کذا فی جواھر الاخلاطی ۔ ملخصا۔ جس نے کسی حاکم کو بطور تعظیم سجدہ کیا وہ کافر نہ ہوگا ہاں گناہگار ہے کیونکہ ا س نے کبیرہ گناہ کا ارتکاب کیا ہے اگر اس نے سجدہ بطور عبادت کیا تو کافر ہوگا۔ جیساکہ جواہر الاخلاطی میں ہے ملخصا(ت)
تین طلاقیں بیشك ہوگئیں اور بغیر حلالہ نکاح ہرگز نہیں کرسکتا اگر کرے گا زناہوگا وہابی کا فتوی جنون ہے اگر وہ شخص کافر نہیں توتین طلاقوں میں کیا شك اور بے حلالہ نکاح کیونکر حلال۔ اور اگر کافر ہے تو مسلمان عورت کا اس سے نکاح کیونکر جائز نہ بے حلالہ ہوسکے گا نہ بعد حلالہ مگر ہے یہ کہ وہ کافر نہیں۔ وہابیہ خود کفارہیں جیساکہ حسام الحرمین فتاوائے علمائے کرام حرمین شریفین سے ظاہر۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۱ : از شہر محلہ ذخیرہ مسئولہ سید مشتاق علی صاحب ۱۹ جمادی الآخر ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك پرہیزگار متقی اہلسنت سے کہ اس کی وہابی سے مذہبا کچھ حجت ہوئی وہابی نے کچھ اعتراض کیا اہل سنت نے جواب دیا کہ تمھارا جنازہ کے ساتھ کلمہ پڑھتے جانا بہتر نہیں ہے اس سے تو ڈھولکی اگر ہو تو بہتر ہے ا س می اہل سنت مرتکب گناہ تو نہیں
الجواب :
بہت برا کیا بہت بیجا کہا تو بہ لازم ہے وہابی کاکلمہ پڑھنا اگرچہ بیکار ہے جب تك اسلام نہ لائے مگر ڈھولکی کلمہ سے بہتر نہیں ہوسکتی پھر بھی یہ تاویل ہے کہ ڈھولکی بجانے والا فاسق ہے اوروہابی مرتد اور مرتد مورد لعنت جنازہ کے ساتھ فاسق کے ہونے سے مرتد کا ہونا لاکھ بد تر ہے والله تعالی اعلم۔
انبیاء واولیاء علیہم الصلوۃ والثناء سے استمداد جائزہے اور مزامیر سننا گناہ اور سجدہ تعظیمی حرام مگر کفر نہیں جب تك نیت عبادت نہ ہو عالمگیری میں ہے :
من سجد للسلطان علی وجہ التحیۃ لایکفر ولکن یأثم لارتکابہ الکبیرۃ وان سجدبنیۃ العبادۃ فقد کفر کذا فی جواھر الاخلاطی ۔ ملخصا۔ جس نے کسی حاکم کو بطور تعظیم سجدہ کیا وہ کافر نہ ہوگا ہاں گناہگار ہے کیونکہ ا س نے کبیرہ گناہ کا ارتکاب کیا ہے اگر اس نے سجدہ بطور عبادت کیا تو کافر ہوگا۔ جیساکہ جواہر الاخلاطی میں ہے ملخصا(ت)
تین طلاقیں بیشك ہوگئیں اور بغیر حلالہ نکاح ہرگز نہیں کرسکتا اگر کرے گا زناہوگا وہابی کا فتوی جنون ہے اگر وہ شخص کافر نہیں توتین طلاقوں میں کیا شك اور بے حلالہ نکاح کیونکر حلال۔ اور اگر کافر ہے تو مسلمان عورت کا اس سے نکاح کیونکر جائز نہ بے حلالہ ہوسکے گا نہ بعد حلالہ مگر ہے یہ کہ وہ کافر نہیں۔ وہابیہ خود کفارہیں جیساکہ حسام الحرمین فتاوائے علمائے کرام حرمین شریفین سے ظاہر۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۱ : از شہر محلہ ذخیرہ مسئولہ سید مشتاق علی صاحب ۱۹ جمادی الآخر ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك پرہیزگار متقی اہلسنت سے کہ اس کی وہابی سے مذہبا کچھ حجت ہوئی وہابی نے کچھ اعتراض کیا اہل سنت نے جواب دیا کہ تمھارا جنازہ کے ساتھ کلمہ پڑھتے جانا بہتر نہیں ہے اس سے تو ڈھولکی اگر ہو تو بہتر ہے ا س می اہل سنت مرتکب گناہ تو نہیں
الجواب :
بہت برا کیا بہت بیجا کہا تو بہ لازم ہے وہابی کاکلمہ پڑھنا اگرچہ بیکار ہے جب تك اسلام نہ لائے مگر ڈھولکی کلمہ سے بہتر نہیں ہوسکتی پھر بھی یہ تاویل ہے کہ ڈھولکی بجانے والا فاسق ہے اوروہابی مرتد اور مرتد مورد لعنت جنازہ کے ساتھ فاسق کے ہونے سے مرتد کا ہونا لاکھ بد تر ہے والله تعالی اعلم۔
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ کتاب الکراہیۃ الباب الثامن والعشرون نورانی کتب خانہ پشاور ۵ / ۶۹۔ ۳۶۸
مسئلہ ۲۲ : از پور بندر کھاری مسجد مسئولہ محمد اسمعیل خاں ابن محمد اکبر خاں معرفت مولوی غلام محی الدین صاحب راندیری ۲۷ شعبان ۱۳۳۹ھ
بسم الله الرحمن الرحیم نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ کہ زید کہتاہے کہ حضرت سیدنا محمدن المصطفی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو احتلام ہوا ہے اور عمرو کہتاہے کہ یہ کلمہ کہنا بہت ہی بڑی بے ادبی ہے اور نہیں ہوا ہے تو اس بات کو چھوڑ دے لیکن زید ہروعظ میں اور ہر جلسہ میں بیٹھ کر اس بات کو دہراتاہے اور اس میں فتنہ وفساد بڑھتا چلا جاتاہے اس درمیان ایك دین دار سخی بہت ہی بھولا اوربہت عالم دوست لیکن بالکل ہی بے علم وبے عقل بلا خلل ایك نامی واعظ بکر کو اور جگہ سے بلالاتاہے وہ آکر زید سے مل جاتاہے اور رات کو وعظ میں سارے عوام کے آگے حضرت کے احتلام ہوا ہے ہاں ہوا ہے احتلام ہی ہوا ہے حضرت کو احتلام ہواہے اور زید کی تائید کرتاہے اور صحیح مسلم شریف اور شرح نووی کو دکھلاتاہے۔ اور زید حق گو اور عمرو کو ناحق جتلاتاہے لہذا اس مسئلہ کاجواب لله حق عزوجل و علا وحق الرسول صلی الله تعالی علیہ والہ وسلم حق حق لکھ جتاویں اور فریقین کے فساد کو مٹاویں اور عندالله اجر عظیم پاویں۔
الجواب :
فی الواقع حضور پر نور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اورتمام انبیائے کرام علیہم الصلوۃ والسلام احتلام سے پاك ومنزہ ہیں۔
قال اﷲ تعالی : “ ان عبادی لیس لک علیہم سلطن وکفی بربک وکیلا ﴿۶۵﴾ “ ۔ الله تعالی نے فرمایا : بیشك جو میرے بندے ہیں ان پر تیرا کچھ قابو نہیں اور تیرا رب کافی ہے کام بنانے کو۔ (ت)
طبرانی معجم کبیر میں بطریق عکرمہ اور دینوری مجالس میں بطریق مجاہد حضرت عبدالله بن عباس رضی الله تعالی عنہما سے راوی کہ فرمایا :
مااحتلم نبی قط وانما الاحتلام من الشیطان ۔ کبھی کسی نبی کو احتلام نہ ہوا احتلام تو نہیں مگر شیطان کی طرف سے۔
بسم الله الرحمن الرحیم نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ کہ زید کہتاہے کہ حضرت سیدنا محمدن المصطفی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو احتلام ہوا ہے اور عمرو کہتاہے کہ یہ کلمہ کہنا بہت ہی بڑی بے ادبی ہے اور نہیں ہوا ہے تو اس بات کو چھوڑ دے لیکن زید ہروعظ میں اور ہر جلسہ میں بیٹھ کر اس بات کو دہراتاہے اور اس میں فتنہ وفساد بڑھتا چلا جاتاہے اس درمیان ایك دین دار سخی بہت ہی بھولا اوربہت عالم دوست لیکن بالکل ہی بے علم وبے عقل بلا خلل ایك نامی واعظ بکر کو اور جگہ سے بلالاتاہے وہ آکر زید سے مل جاتاہے اور رات کو وعظ میں سارے عوام کے آگے حضرت کے احتلام ہوا ہے ہاں ہوا ہے احتلام ہی ہوا ہے حضرت کو احتلام ہواہے اور زید کی تائید کرتاہے اور صحیح مسلم شریف اور شرح نووی کو دکھلاتاہے۔ اور زید حق گو اور عمرو کو ناحق جتلاتاہے لہذا اس مسئلہ کاجواب لله حق عزوجل و علا وحق الرسول صلی الله تعالی علیہ والہ وسلم حق حق لکھ جتاویں اور فریقین کے فساد کو مٹاویں اور عندالله اجر عظیم پاویں۔
الجواب :
فی الواقع حضور پر نور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اورتمام انبیائے کرام علیہم الصلوۃ والسلام احتلام سے پاك ومنزہ ہیں۔
قال اﷲ تعالی : “ ان عبادی لیس لک علیہم سلطن وکفی بربک وکیلا ﴿۶۵﴾ “ ۔ الله تعالی نے فرمایا : بیشك جو میرے بندے ہیں ان پر تیرا کچھ قابو نہیں اور تیرا رب کافی ہے کام بنانے کو۔ (ت)
طبرانی معجم کبیر میں بطریق عکرمہ اور دینوری مجالس میں بطریق مجاہد حضرت عبدالله بن عباس رضی الله تعالی عنہما سے راوی کہ فرمایا :
مااحتلم نبی قط وانما الاحتلام من الشیطان ۔ کبھی کسی نبی کو احتلام نہ ہوا احتلام تو نہیں مگر شیطان کی طرف سے۔
کعب احبار رحمۃ اللہ تعالی علیہ سے جو مروی ہوا کہ یا جوج وماجوج نطفہ احتلام سیدنا آدم علیہ السلام سے بنے ہیں اول کعب ہی سے اس کا ثبوت صحت کو نہ پہنچا اس کاناقل ثعلبی حاطب لیل ہے کما فی عمدۃ القاری نووی نے حسب عادت ان کا اتباع کیا۔ پھر کعب صاحب اسرائیلیات ہیں ان کی روایت کہ مقررات دین کے خلاف ہو مقبول نہیں۔ ہاں امام نووی وحافظ عسقلانی نے شروح صحیح مسلم وصحیح بخاری میں اس کی یہ تاویل نقل کی کہ انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام پر فیضان زیادت فضلہ بسبب ابتلائے ادعیہ منع نہیں اور اسے مقرر رکھا اقول : مگر لفظ شنیع ومکروہ ہے اور حدیث ابن عباس رضی الله تعالی عنہما کے حصر کے خلاف کہ احتلام نہیں مگر شیطان کی طرف سے ولہذا عامہ علمائے کرام نے اسے مقبول نہ رکھا فتح الباری بدء الخلق میں ہے :
ھو قول منکر جدا لااصل لہ الامن بعض اھل الکتاب ۔ وہ سخت واجب الانکار بات ہے اس کی اصل نہیں مگر بعض اہل کتاب سے۔
امام علامہ بدر الدین محمود عینی عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری میں فرماتے ہیں :
حکاہ الثعلبی عن کعب الاحبار وحکاہ النووی ایضا فی شرح مسلم وغیرہ ولکن العلماء ضعفوہ وقال ابن کثیر وھو جدیر بذلك اذلا دلیل علیہ بل ھو مخالف لما ذکر وامن ان جمیع الناس الیوم من ذریۃ نوح علیہ الصلوۃ والسلام بنص القران(قلت)جاء فی الحدیث ایضا امتناع الاحتلام علی الانبیاء علیھم الصلوۃ والسلام ۔
قال اﷲ تعالی “ و جعلنا ذریتہ یعنی اسے ثعلبی نے کعب احبار سے حکایت کیا نیز نووی نے شرح مسلم وغیرہ میں مگر علماء نے اسے ضعیف بتایا اور امام ابن کثیر نے کہا وہ تضعیف ہی کے لائق ہے کہ بے دلیل محض ہے بلکہ اس ارشاد علماء کے مخالف ہے کہ آج بنص قطعی قرآن مجید تمام آدمی ذریت نوح علیہ الصلوۃ والسلام سے ہیں امام عینی نے فرمایا میں کہتاہوں نیز حدیث وارد ہے کہ انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام پر احتلام محال ہے۔
الله تعالی کا مبارك فرمان ہے : ہم نے نوح ہی
ھو قول منکر جدا لااصل لہ الامن بعض اھل الکتاب ۔ وہ سخت واجب الانکار بات ہے اس کی اصل نہیں مگر بعض اہل کتاب سے۔
امام علامہ بدر الدین محمود عینی عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری میں فرماتے ہیں :
حکاہ الثعلبی عن کعب الاحبار وحکاہ النووی ایضا فی شرح مسلم وغیرہ ولکن العلماء ضعفوہ وقال ابن کثیر وھو جدیر بذلك اذلا دلیل علیہ بل ھو مخالف لما ذکر وامن ان جمیع الناس الیوم من ذریۃ نوح علیہ الصلوۃ والسلام بنص القران(قلت)جاء فی الحدیث ایضا امتناع الاحتلام علی الانبیاء علیھم الصلوۃ والسلام ۔
قال اﷲ تعالی “ و جعلنا ذریتہ یعنی اسے ثعلبی نے کعب احبار سے حکایت کیا نیز نووی نے شرح مسلم وغیرہ میں مگر علماء نے اسے ضعیف بتایا اور امام ابن کثیر نے کہا وہ تضعیف ہی کے لائق ہے کہ بے دلیل محض ہے بلکہ اس ارشاد علماء کے مخالف ہے کہ آج بنص قطعی قرآن مجید تمام آدمی ذریت نوح علیہ الصلوۃ والسلام سے ہیں امام عینی نے فرمایا میں کہتاہوں نیز حدیث وارد ہے کہ انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام پر احتلام محال ہے۔
الله تعالی کا مبارك فرمان ہے : ہم نے نوح ہی
حوالہ / References
فتح الباری شرح صحیح البخاری باب بدء الخلق مصطفی البابی مصر ۷ / ۱۹۵
عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری باب بدء الخلق ادارۃ الطباعۃ المنیریہ بیروت ۱۵ / ۲۳۲
عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری باب بدء الخلق ادارۃ الطباعۃ المنیریہ بیروت ۱۵ / ۲۳۲
ہم الباقین ﴿۫۷۷﴾ “ کی اولاد باقی رکھی۔
فتح الباری کتاب الفتن میں ہے :
الاول المعتمد والا فاین کانوا حین الطوفان ۔ اقول وقد اجبنا عن ھذا بجوابین فی کتابنا الفیوضات الملکیۃ احدھما مایدرینا لعل اﷲ خمرھا مددا متطا ولۃ حتی خلقھم منہا بعد الطوفان ۔ یاجوج وماجوج کا ذریت نوح علیہ الصلوۃ والسلام ہی سے ہونا معتمد ہے ورنہ طوفان کے وقت وہ کہاں رہے۔
ہم نے اپنی کتاب “ الفیوضات الملکیۃ “ میں اس کے دو جواب دئے ایك یہ ہے ہمیں کیا علم شاید الله تعالی نےاس نطفہ کو طویل مدت تك محفوظ رکھا ہو اور پھر ا س سے ان کی تخلیق طوفان کے بعد فرمائی ہو(ت)
ارشاد الساری شرح صحیح بخاری دونوں محل میں ہے :
وھذالفظہ فی بدء الخلق قال ابن کثیر وھذا القول غریب جد اثم لادلیل علیہ لامن عقل ولامن نقل ولایجوز الاعتماد ھھنا علی مایحکیہ بعض اھل الکتاب لماعندھم من الاحادیث المفتعلۃ ۔ اماما عزاہ الامام النووی فی فتاواہ لجماھیر العلماء انھم من ماء آدم لا من حواء فاقول لا یثبت الاحتلام فاولا قد تحصل النطفۃ بنحو التبطین کتاب بدء الخلق میں ہے ان کے الفاظ یہ ہیں امام عماد نے فرمایا یہ قول سخت غریب ہے پھر اس پر نہ عقل سے دلیل نہ نقل سے اور یہاں بعض اہل کتاب کی حکایت پر اعتماد حلال نہیں کہ ان کے پاس بہتیری باتیں گھڑی ہوئی ہیں۔ امام نووی نے فتاوی میں جماہیر علماء کی طرف منسوب کیا کہ یہ نطفہ حضرت آدم کا تھا نہ کہ حضرت حواءکا تو میں کہتاہوں ا س سے احتلام کہاں ثابت ہوتاہے اولا کبھی کبھی نطفہ حالت حیض میں شرمگاہ سے باہر
فتح الباری کتاب الفتن میں ہے :
الاول المعتمد والا فاین کانوا حین الطوفان ۔ اقول وقد اجبنا عن ھذا بجوابین فی کتابنا الفیوضات الملکیۃ احدھما مایدرینا لعل اﷲ خمرھا مددا متطا ولۃ حتی خلقھم منہا بعد الطوفان ۔ یاجوج وماجوج کا ذریت نوح علیہ الصلوۃ والسلام ہی سے ہونا معتمد ہے ورنہ طوفان کے وقت وہ کہاں رہے۔
ہم نے اپنی کتاب “ الفیوضات الملکیۃ “ میں اس کے دو جواب دئے ایك یہ ہے ہمیں کیا علم شاید الله تعالی نےاس نطفہ کو طویل مدت تك محفوظ رکھا ہو اور پھر ا س سے ان کی تخلیق طوفان کے بعد فرمائی ہو(ت)
ارشاد الساری شرح صحیح بخاری دونوں محل میں ہے :
وھذالفظہ فی بدء الخلق قال ابن کثیر وھذا القول غریب جد اثم لادلیل علیہ لامن عقل ولامن نقل ولایجوز الاعتماد ھھنا علی مایحکیہ بعض اھل الکتاب لماعندھم من الاحادیث المفتعلۃ ۔ اماما عزاہ الامام النووی فی فتاواہ لجماھیر العلماء انھم من ماء آدم لا من حواء فاقول لا یثبت الاحتلام فاولا قد تحصل النطفۃ بنحو التبطین کتاب بدء الخلق میں ہے ان کے الفاظ یہ ہیں امام عماد نے فرمایا یہ قول سخت غریب ہے پھر اس پر نہ عقل سے دلیل نہ نقل سے اور یہاں بعض اہل کتاب کی حکایت پر اعتماد حلال نہیں کہ ان کے پاس بہتیری باتیں گھڑی ہوئی ہیں۔ امام نووی نے فتاوی میں جماہیر علماء کی طرف منسوب کیا کہ یہ نطفہ حضرت آدم کا تھا نہ کہ حضرت حواءکا تو میں کہتاہوں ا س سے احتلام کہاں ثابت ہوتاہے اولا کبھی کبھی نطفہ حالت حیض میں شرمگاہ سے باہر
حوالہ / References
القرآن الکریم ۳۷ /۷۷
فتح الباری شرح صحیح بخاری کتاب الفتن باب یاجوج وماجوج مصطفی البابی مصر ۱۶ / ۲۲۱
الفیوضات الملکیۃ حاشیہ الدولۃ المکیۃ مطبع اہل السنۃ والجماعۃ بریلی ص۷۸
ارشاد الساری شرح صحیح بخاری کتاب بدء الخلق باب قصہ یاجوج وماجوج دارالکتاب العربی بیروت ۵ / ۳۳۶
فتح الباری شرح صحیح بخاری کتاب الفتن باب یاجوج وماجوج مصطفی البابی مصر ۱۶ / ۲۲۱
الفیوضات الملکیۃ حاشیہ الدولۃ المکیۃ مطبع اہل السنۃ والجماعۃ بریلی ص۷۸
ارشاد الساری شرح صحیح بخاری کتاب بدء الخلق باب قصہ یاجوج وماجوج دارالکتاب العربی بیروت ۵ / ۳۳۶
فی المحیض وثانیا ماکل نطفۃ تقبلھا الرحم وثالثا ماکل النطفۃ تقبلھا الرحم بل اذا قبلت ربما قبلت جزء منھا ورمت بالباقی وقد ثبت الجواب عن حدیث الطوفان وقد یکون جوابا ایضا عن الذی ذکر ابن کثیر فان الکلام فی الموجودین اذذلك لان البقاء فرع الوجود علی ان الکلام فی ولدادم قطعا وھم لیسوا من ولدہ علی الاطلاق وان کانوا من ولدہ لانھم من مائہ وذلك لان الولدما عن صاحبتہ قال تعالی “ انی یکون لہ ولد و لم تکن لہ صحبۃ “ ۔ پیٹ وغیرہ پر استعمال سے حاصل ہوتاہے ثانیا ہر نطفہ کو رحم قبول نہیں کرتا ثالثا رحم ہر نطفہ کے تمام کو قبول نہیں کرتا بلکہ جزء کو قبول کرکے بقیہ کو پھینك دیتا ہے اور یہ تین جواب حدیث طوفان سے ہیں اور یہ اس کا جواب بھی ہے جو حافظ ابن کثیر نے نقل کیا کیونکہ کلام ان میں ہے جو وہاں موجود تھے کیونکہ بقا وجود کی فرع ہے علاوہ ازیں گفتگو ا ن میں ہے جو یقینی طور پر حضرت آدم علیہ السلام کی اولاد ہوں اور یہ کامل طورپر ان کی اولاد نہیں اگرچہ ایك لحاظ سے اولاد ہیں کیونکہ ان کے نطفہ سے ہیں اور وہ اس لئے کہ ولد کے لئے بیوی کا ہونا ضروری ہے الله تعالی کا فرمان ہے کہاں ہے اس کے لئے اولاد حالانکہ اس کے لئے بیوی ہی نہیں۔ (ت)
بالجملہ انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام پر احتلام منع ہے اور خود حضور اقدس انور اطیب اطہر صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی طرف اس کی نسبت اور اس کی تکرار اور اس پر اصرار کہ ہاں ہوا ہاں ہوا یقینا حضور پرنور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم پر صریح افتراء ہے اور رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم پر افتراء جہنم کا سیدھا راستہ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی متواتر حدیث میں ہے :
من کذب علی متعمد افلیتبوا مقعدہ من النار ۔ جو مجھ پر دانستہ جھوٹ باندھےوہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنالے
اہل سنت کسی کبیرہ کا ارتکاب کو کفر نہیں کہتے جب تك استحلال وغیرہ مکفرات کے ساتھ نہ ہو مگر رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم پر افتراء کو امام ابو محمد جوینی والد امام الحرمین نے کفر بتایا _
بالجملہ انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام پر احتلام منع ہے اور خود حضور اقدس انور اطیب اطہر صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی طرف اس کی نسبت اور اس کی تکرار اور اس پر اصرار کہ ہاں ہوا ہاں ہوا یقینا حضور پرنور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم پر صریح افتراء ہے اور رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم پر افتراء جہنم کا سیدھا راستہ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی متواتر حدیث میں ہے :
من کذب علی متعمد افلیتبوا مقعدہ من النار ۔ جو مجھ پر دانستہ جھوٹ باندھےوہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنالے
اہل سنت کسی کبیرہ کا ارتکاب کو کفر نہیں کہتے جب تك استحلال وغیرہ مکفرات کے ساتھ نہ ہو مگر رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم پر افتراء کو امام ابو محمد جوینی والد امام الحرمین نے کفر بتایا _
حوالہ / References
القرآن الکریم ۶ /۱۰۱
صحیح مسلم باب تغلیظ الکذب علی رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۷
صحیح مسلم باب تغلیظ الکذب علی رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۷
خصائص کبری میں ہے :
قال النووی وغیرہ الکذب علیہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم من الکبائر ولایکفر فاعلہ علی الصحیح وقول الجمہور وقال الجوینی ھو کفر ۔ امام نووی وغیرہ نے فرمایا : حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی نسبت جھوٹ بولنا کبیرہ گناہ ہے البتہ کفر نہیں صحیح اور جمہور کے قول پر اور امام جوینی نے کہا کہ یہ کفر ہے۔ (ت)
اور درمختار وغیرہ میں ہے :
مایکون کفرا اتفاقا یبطل العمل والنکاح واولادہ اولاد زنا ومافیہ خلاف یؤمر بالاستغفار والتوبۃ(ای تجدید الاسلام اھ شامی)وتجدید النکاح ۔ جہاں باتفاق کفر ہو وہاں عمل ونکاح باطل اور اولاد اولاد زنا قرار پائے گی اور جس میں اختلاف ہو وہاں تو بہ استغفار کا حکم کیا جا ئے گا(یعنی تجدید اسلام کرنا ہوگی اھ شامی)اور تجدید نکاح بھی۔ (ت)
زید وبکر پر فرض ہے کہ توبہ کریں مناسب ہے کہ تجدید اسلام کریں پھر اپنی عورتوں سے نکاح تازہ کریں خصوصا اس کلمہ خبیث میں کہ معاذالله پہلوئے توہین وتنقیص شان رکھتاہے والعیاذباﷲ تعالی۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۳ : ا ز کانپور فیل خانہ قدیم مکان مولوی سید محمد اشرف صاحب وکیل مسئولہ مولانا سید محمد آصف صاحب ۴ رمضان ۱۳۳۹ھ
بسم الله الرحمن الرحیم نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم
یاحبیب محبوب الله روحی فداک قبلہ کونین وکعبہ دارین محی الملۃ والدین دامت فیوضہم بعد تسلیمات فدویانہ تمنائے حصول سعادت آستانہ بوسی التماس اینکہ بفضلہ تعالی فدوی بخریت ہے ملازمان سامی کی صحتواری مدام بارگاہ احدیت سے مطلوب حضور نے جو کارڈ تحریر فرمایا تھا وہ بصد ادب ملازمان حضور کی خدمت میں حاضر کیا جاتاہے اس صحیفہ میں تحریر ہے(کیا یہ مسلمان ہیں یا وہ ان میں کون مسلمان ہے)والسلام مع الکرام۔
قال النووی وغیرہ الکذب علیہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم من الکبائر ولایکفر فاعلہ علی الصحیح وقول الجمہور وقال الجوینی ھو کفر ۔ امام نووی وغیرہ نے فرمایا : حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی نسبت جھوٹ بولنا کبیرہ گناہ ہے البتہ کفر نہیں صحیح اور جمہور کے قول پر اور امام جوینی نے کہا کہ یہ کفر ہے۔ (ت)
اور درمختار وغیرہ میں ہے :
مایکون کفرا اتفاقا یبطل العمل والنکاح واولادہ اولاد زنا ومافیہ خلاف یؤمر بالاستغفار والتوبۃ(ای تجدید الاسلام اھ شامی)وتجدید النکاح ۔ جہاں باتفاق کفر ہو وہاں عمل ونکاح باطل اور اولاد اولاد زنا قرار پائے گی اور جس میں اختلاف ہو وہاں تو بہ استغفار کا حکم کیا جا ئے گا(یعنی تجدید اسلام کرنا ہوگی اھ شامی)اور تجدید نکاح بھی۔ (ت)
زید وبکر پر فرض ہے کہ توبہ کریں مناسب ہے کہ تجدید اسلام کریں پھر اپنی عورتوں سے نکاح تازہ کریں خصوصا اس کلمہ خبیث میں کہ معاذالله پہلوئے توہین وتنقیص شان رکھتاہے والعیاذباﷲ تعالی۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۳ : ا ز کانپور فیل خانہ قدیم مکان مولوی سید محمد اشرف صاحب وکیل مسئولہ مولانا سید محمد آصف صاحب ۴ رمضان ۱۳۳۹ھ
بسم الله الرحمن الرحیم نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم
یاحبیب محبوب الله روحی فداک قبلہ کونین وکعبہ دارین محی الملۃ والدین دامت فیوضہم بعد تسلیمات فدویانہ تمنائے حصول سعادت آستانہ بوسی التماس اینکہ بفضلہ تعالی فدوی بخریت ہے ملازمان سامی کی صحتواری مدام بارگاہ احدیت سے مطلوب حضور نے جو کارڈ تحریر فرمایا تھا وہ بصد ادب ملازمان حضور کی خدمت میں حاضر کیا جاتاہے اس صحیفہ میں تحریر ہے(کیا یہ مسلمان ہیں یا وہ ان میں کون مسلمان ہے)والسلام مع الکرام۔
حوالہ / References
خصائص الکبرٰی باب اختصاصہ بان الکذب علیہ لیس کالکذب علی غیرہ دارالکتب الحدیثیہ مصر ۳ / ۳۲۶
درمختار باب المرتد مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۳۵۹ ، ردالمحتار باب المرتد داراحیاء التراث العربی بیروت ۳ / ۲۹۹
درمختار باب المرتد مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۳۵۹ ، ردالمحتار باب المرتد داراحیاء التراث العربی بیروت ۳ / ۲۹۹
الجواب :
بسم الله الرحمن الرحیم نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم
والا حضرت مولانا المکرم ذوالمجد والکرم مولانا مولوی سید محمد آصف صاحب دامت فضائلہم السلام علیکم ورحمۃالله وبرکاتہ کارڈ میں بعض اعمال گاندھویہ کہ فقہا کفرہیں جیسے قشقہ لگانا کافر کی جے پکارنا کافر کی تعظیم گناکر ان کے فاعلوں کو کہاہے کہ یہ مسلمان یا وہ ان میں کون مسلمان ہے بلاشبہ جس طرح کفر فقہی میں مبتلا ہوئے اورا ستحلال کریں تو کفرکلامی میں بعینہ یہی حالت فقہا وکلاما ان افعال واقوال کے مرتکبین کی ہے۔ والسلام۔
مسئلہ ۲۴ : از شہر ۵ رمضان ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید وبکر حدیث کی تکرار کررہے تھے تکرار کرتے ہوئے اس حدیث تك پہنچے جس میں یہ حکم دیا جو شخص لڑکے لڑکی بالغ کی شادی نہیں کرتا ہے اور لڑکے لڑکی سے کوئی فعل قبیح واقع ہوتو دونوں کے والدین ماخوذ گرفتار عذاب الیم ہوں گے لڑکے لڑکی نہیں اتفاقا ا س حدیث کے بین السطور میں “ زجر “ کا لفظ لکھا ہواتھا جس کے معنی جھڑکنے کے ہیں زید نے بکر سے کہا کہ والدین ماخوذ نہیں ہوسکتے خود لڑکی لڑکا ہوں گے دیکھو بین السطور میں زجر کا لفظ لکھا ہواہے جس سے مفہوم ہوتاہے کہ لڑکی لڑکا ماخوذ ہوگا والدین نہیں۔ بکر نے کہا کہ بین السطور حاشیہ ہے اس حدیث میں اور حدیث کا حاشیہ سب صحیح نہیں ہوتا ہے زید نے بکر سے بطور سوال کے پوچھا کہ کیا قرآن کی سب باتیں صحیح ہیں زید کہنا چاہتاتھا کہ کیا تفسیر کی سب باتیں صحیح ہیں مگر سہوا یہ الفاظ اثنائے تقریر میں نکل پڑے حالانکہ یہ نہ مقصود ہے زید کا نہ زید اس بات کا مقر ہے کہ معاذ الله قرآن مجید فرقان حمید کی سب باتیں صحیح نہیں ایك قابل مفتی صاحب نے زید پر فتوی دیاکہ زید کافرہوگیا اور اس کو کافر سمجھ کر توبہ کرائی اور کلمہ شریف پڑھوایا دونوں کے لئے شرع مطہر سے کیا حکم نافذ کیا جائے گا بینوا تو جروا
الجواب :
اول : توذکر حدیث میں غلطیاں ہیں یہ حدیث دو طور پر آئی ایك کلام الہی اور دوسری کلام نبوی سے کلام الہی میں تو والدین کا ذکرنہیں بلکہ صرف باپ کا اور ولدین کاذکر نہیں بلکہ صرف دختر کا اوربلوغ کاذکر نہیں بلکہ بارہ برس کی عمر کا۔ اور لڑکی پر گناہ نہ ہونے کا ذکر نہیں بلکہ باپ پر ہونے کا اور کلام نبوی میں نہ ماں کا ذکرہے نہ اولاد پر گناہ ہونے کا حدیث اول کے الفاظ یہ ہیں جسے بیہقی نے شعب الایمان میں امیر المومنین عمر وانس بن مالك رضی الله تعالی عنہما سے روایت کیا کہ نبی صلی الله تعالی علیہ
بسم الله الرحمن الرحیم نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم
والا حضرت مولانا المکرم ذوالمجد والکرم مولانا مولوی سید محمد آصف صاحب دامت فضائلہم السلام علیکم ورحمۃالله وبرکاتہ کارڈ میں بعض اعمال گاندھویہ کہ فقہا کفرہیں جیسے قشقہ لگانا کافر کی جے پکارنا کافر کی تعظیم گناکر ان کے فاعلوں کو کہاہے کہ یہ مسلمان یا وہ ان میں کون مسلمان ہے بلاشبہ جس طرح کفر فقہی میں مبتلا ہوئے اورا ستحلال کریں تو کفرکلامی میں بعینہ یہی حالت فقہا وکلاما ان افعال واقوال کے مرتکبین کی ہے۔ والسلام۔
مسئلہ ۲۴ : از شہر ۵ رمضان ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید وبکر حدیث کی تکرار کررہے تھے تکرار کرتے ہوئے اس حدیث تك پہنچے جس میں یہ حکم دیا جو شخص لڑکے لڑکی بالغ کی شادی نہیں کرتا ہے اور لڑکے لڑکی سے کوئی فعل قبیح واقع ہوتو دونوں کے والدین ماخوذ گرفتار عذاب الیم ہوں گے لڑکے لڑکی نہیں اتفاقا ا س حدیث کے بین السطور میں “ زجر “ کا لفظ لکھا ہواتھا جس کے معنی جھڑکنے کے ہیں زید نے بکر سے کہا کہ والدین ماخوذ نہیں ہوسکتے خود لڑکی لڑکا ہوں گے دیکھو بین السطور میں زجر کا لفظ لکھا ہواہے جس سے مفہوم ہوتاہے کہ لڑکی لڑکا ماخوذ ہوگا والدین نہیں۔ بکر نے کہا کہ بین السطور حاشیہ ہے اس حدیث میں اور حدیث کا حاشیہ سب صحیح نہیں ہوتا ہے زید نے بکر سے بطور سوال کے پوچھا کہ کیا قرآن کی سب باتیں صحیح ہیں زید کہنا چاہتاتھا کہ کیا تفسیر کی سب باتیں صحیح ہیں مگر سہوا یہ الفاظ اثنائے تقریر میں نکل پڑے حالانکہ یہ نہ مقصود ہے زید کا نہ زید اس بات کا مقر ہے کہ معاذ الله قرآن مجید فرقان حمید کی سب باتیں صحیح نہیں ایك قابل مفتی صاحب نے زید پر فتوی دیاکہ زید کافرہوگیا اور اس کو کافر سمجھ کر توبہ کرائی اور کلمہ شریف پڑھوایا دونوں کے لئے شرع مطہر سے کیا حکم نافذ کیا جائے گا بینوا تو جروا
الجواب :
اول : توذکر حدیث میں غلطیاں ہیں یہ حدیث دو طور پر آئی ایك کلام الہی اور دوسری کلام نبوی سے کلام الہی میں تو والدین کا ذکرنہیں بلکہ صرف باپ کا اور ولدین کاذکر نہیں بلکہ صرف دختر کا اوربلوغ کاذکر نہیں بلکہ بارہ برس کی عمر کا۔ اور لڑکی پر گناہ نہ ہونے کا ذکر نہیں بلکہ باپ پر ہونے کا اور کلام نبوی میں نہ ماں کا ذکرہے نہ اولاد پر گناہ ہونے کا حدیث اول کے الفاظ یہ ہیں جسے بیہقی نے شعب الایمان میں امیر المومنین عمر وانس بن مالك رضی الله تعالی عنہما سے روایت کیا کہ نبی صلی الله تعالی علیہ
وسلم نے فرمایا :
مکتوب فی التورۃ من بلغت لہ ابنۃ اثنتی عشرۃ سنۃ فلم یزوجھا فاصابت اثما فاثم ذلك علیہ ۔ توریت میں مرقوم ہے کہ جس کی لڑکی بارہ برس کی عمر کو پہنچ جائے اور وہ اس کانکاح نہ کرے اور لڑکی سے کچھ گناہ صادرہو تو اس کاگناہ باپ پرہے۔ حدیث کی سند صحیح ہے۔
اور حدیث دوم کے الفاظ یہ ہیں جسے انھیں بیہقی نے شعب الایمان میں ابوسعید وابن عباس رضی الله تعالی عنہم سے روایت کیا کہ نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا :
من ولد لہ ولد فلیحسن اسمہ وادبہ فاذابلغ فلیزوجہ فان بلغ ولم یزوجہ فاصاب اثمافانما اثمہ علی ابیہ ۔ جس کے کوئی بچہ پیدا ہو وہ اس کا نام اچھا رکھے اور اسے اچھا ادب دے پھر جب وہ بالغ ہو اس کا نکاح کردے اور اگر وہ بالغ ہو اور یہ اس کانکاح نہ کرے اور اس سے کوئی گناہ صادر ہو تو بات یونہی ہے کہ اس کا گناہ اس کے باپ پر ہے۔
اور باپ پر گناہ ہونے سے یہ لازم نہیں آتا کہ اولاد پر نہ ہو جب کہ وہ مکلف ہو خود حدیثوں میں موجود ہے فاصابت اثما اور فاصاب اثما اس کی نظیر دوسری حدیث صحیح ہے :
من سن فی الاسلام سنۃ سیئۃ فعلیہ وزرھا ووزر من عمل بھا الی یوم القیمۃ و لاینقص ذلك من اوزارھم شیئا ۔ جو اسلام میں کوئی بری راہ نکالے اس پر اس کاوبال ہے اور قیامت تك جو اس راہ پر چلیں گے سب کا وبال ہے بغیر اس کے کہ ان کے وبالوں میں سے کچھ کم کرے۔
مکتوب فی التورۃ من بلغت لہ ابنۃ اثنتی عشرۃ سنۃ فلم یزوجھا فاصابت اثما فاثم ذلك علیہ ۔ توریت میں مرقوم ہے کہ جس کی لڑکی بارہ برس کی عمر کو پہنچ جائے اور وہ اس کانکاح نہ کرے اور لڑکی سے کچھ گناہ صادرہو تو اس کاگناہ باپ پرہے۔ حدیث کی سند صحیح ہے۔
اور حدیث دوم کے الفاظ یہ ہیں جسے انھیں بیہقی نے شعب الایمان میں ابوسعید وابن عباس رضی الله تعالی عنہم سے روایت کیا کہ نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا :
من ولد لہ ولد فلیحسن اسمہ وادبہ فاذابلغ فلیزوجہ فان بلغ ولم یزوجہ فاصاب اثمافانما اثمہ علی ابیہ ۔ جس کے کوئی بچہ پیدا ہو وہ اس کا نام اچھا رکھے اور اسے اچھا ادب دے پھر جب وہ بالغ ہو اس کا نکاح کردے اور اگر وہ بالغ ہو اور یہ اس کانکاح نہ کرے اور اس سے کوئی گناہ صادر ہو تو بات یونہی ہے کہ اس کا گناہ اس کے باپ پر ہے۔
اور باپ پر گناہ ہونے سے یہ لازم نہیں آتا کہ اولاد پر نہ ہو جب کہ وہ مکلف ہو خود حدیثوں میں موجود ہے فاصابت اثما اور فاصاب اثما اس کی نظیر دوسری حدیث صحیح ہے :
من سن فی الاسلام سنۃ سیئۃ فعلیہ وزرھا ووزر من عمل بھا الی یوم القیمۃ و لاینقص ذلك من اوزارھم شیئا ۔ جو اسلام میں کوئی بری راہ نکالے اس پر اس کاوبال ہے اور قیامت تك جو اس راہ پر چلیں گے سب کا وبال ہے بغیر اس کے کہ ان کے وبالوں میں سے کچھ کم کرے۔
حوالہ / References
شعب الایمان حدیث ۸۶۶۹ دارالکتب العلمیہ بیروت ۶ / ۴۰۲ ، کنز العمال ترجمہ ۴۵۴۱۲ مؤسسۃ الرسالۃ بیروت ۱۶ / ۵۷۔ ۴۵۶
شعب الایمان حدیث ۸۶۶۶ دارالکتاب العلمیہ بیروت ۶ / ۴۰۱
صحیح مسلم کتاب الزکوٰۃ باب الحث علی الصدقۃ الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۳۲۷ ، صحیح مسلم کتاب العلم قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ / ۳۴۱ ، مسند امام احمد حدیث جریر بن عبدالله رضی الله عنہ دارالفکر بیروت ۴ / ۳۵۷ تا ۳۶۱
شعب الایمان حدیث ۸۶۶۶ دارالکتاب العلمیہ بیروت ۶ / ۴۰۱
صحیح مسلم کتاب الزکوٰۃ باب الحث علی الصدقۃ الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۳۲۷ ، صحیح مسلم کتاب العلم قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ / ۳۴۱ ، مسند امام احمد حدیث جریر بن عبدالله رضی الله عنہ دارالفکر بیروت ۴ / ۳۵۷ تا ۳۶۱
زید کی زبان سے جولفظ نکلا بلا شبہ کلمہ کفرہے اوراس پر تجدید اسلام لازم اور مفتی کا حکم صحیح ہے المفتی انما یفتی بالظاھر واﷲ یعلم السرائر(فتوی دینے والا ظاہر کا پابند ہوتاہے دلوں کے رازوں سے تو الله تعالی ہی آگاہ ہے۔ ت)واقع میں اگر ا س کی زبان بہکی تو عند الله کفر نہ ہوا مگر مفتی بلادلیل ا س دعوی کو قبول نہ کرے گا۔ شفا شریف میں ہے :
لا یعذر بدعوی زلل اللسان واﷲ تعالی اعلم۔ زبان کے بہکنے کا دعوی عذرنہیں قرار دیا جاتا۔ والله تعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۲۵ تا ۲۶ : از ریاست فرید کوٹ مسئولہ علیم الدین فراش کوٹھی بلیسر گنج ۷ رمضان ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ :
(۱)حنفی نماز مدلل ص۷ اور حواشی اور فتاوی بدیع الدین میں لکھاہے کہ اگر کوئی شخص کسی عالم باعمل سے بدزبانی اور فحش کلامی کرے تو کافر ہوجاتاہے اور اس کی عورت نزدیك امام محمد کے مطلقہ بطلاق بائن ہوجاتی ہے تو ایسے شخص کو پھر اپنی عورت سے کس طرح نکاح کرنا چاہئے
(۲)حدیث میں ہے کہ “ بڑھاؤ داڑھی کو اور کترواؤ مونچھوں کو “ روایت کیا اس کو بخاری نے حضور نے صیغہ امر سے دونوں حکم فرمائے اور امر حقیقۃ وجوب کے لئے ہوتاہے پس معلوم ہوا کہ یہ دونوں حکم واجب ہیں اور واجب کا ترك کرنا حرام پس داڑھی کٹانا اور مونچھیں بڑھانا دونوں حرام فعل ہیں اس سے زیادہ دوسری حدیث میں ہے کہ ارشاد فرمایا رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے : “ جوشخص لبیں نہ لے وہ ہم سے نہیں “ روایت کیا اس کو احمد وترمذی ونسائی نے۔ جب اس کا گناہ ہونا ثابت ہوگیا تو جو لوگ اس پر اصرا کرتے ہیں اور اس کو پسند کرتے ہیں اور داڑھی بڑھانے کو عیب مانتے ہیں بلکہ داڑھی والوں پر ہنستے ہیں اور اس کی ہجو کرتے ہیں ان سب مجموع امور سے ایمان کا سالم رہنا دشوار ہے ان لوگوں کو واجب ہے کہ اپنی اس حرکت سے توبہ کریں اور ایمان ونکاح کی تجدید کریں اور اپنی صورت موافق حکم الله ورسول بنائیں ایك کتاب میں یہ مضمون دیکھا گیا کہ یہ واقعی درست ہے کہ ایسے شخص کو دوبارہ تجدید نکاح کا حکم دیا جائے۔ بینوا تو جروا
لا یعذر بدعوی زلل اللسان واﷲ تعالی اعلم۔ زبان کے بہکنے کا دعوی عذرنہیں قرار دیا جاتا۔ والله تعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۲۵ تا ۲۶ : از ریاست فرید کوٹ مسئولہ علیم الدین فراش کوٹھی بلیسر گنج ۷ رمضان ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ :
(۱)حنفی نماز مدلل ص۷ اور حواشی اور فتاوی بدیع الدین میں لکھاہے کہ اگر کوئی شخص کسی عالم باعمل سے بدزبانی اور فحش کلامی کرے تو کافر ہوجاتاہے اور اس کی عورت نزدیك امام محمد کے مطلقہ بطلاق بائن ہوجاتی ہے تو ایسے شخص کو پھر اپنی عورت سے کس طرح نکاح کرنا چاہئے
(۲)حدیث میں ہے کہ “ بڑھاؤ داڑھی کو اور کترواؤ مونچھوں کو “ روایت کیا اس کو بخاری نے حضور نے صیغہ امر سے دونوں حکم فرمائے اور امر حقیقۃ وجوب کے لئے ہوتاہے پس معلوم ہوا کہ یہ دونوں حکم واجب ہیں اور واجب کا ترك کرنا حرام پس داڑھی کٹانا اور مونچھیں بڑھانا دونوں حرام فعل ہیں اس سے زیادہ دوسری حدیث میں ہے کہ ارشاد فرمایا رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے : “ جوشخص لبیں نہ لے وہ ہم سے نہیں “ روایت کیا اس کو احمد وترمذی ونسائی نے۔ جب اس کا گناہ ہونا ثابت ہوگیا تو جو لوگ اس پر اصرا کرتے ہیں اور اس کو پسند کرتے ہیں اور داڑھی بڑھانے کو عیب مانتے ہیں بلکہ داڑھی والوں پر ہنستے ہیں اور اس کی ہجو کرتے ہیں ان سب مجموع امور سے ایمان کا سالم رہنا دشوار ہے ان لوگوں کو واجب ہے کہ اپنی اس حرکت سے توبہ کریں اور ایمان ونکاح کی تجدید کریں اور اپنی صورت موافق حکم الله ورسول بنائیں ایك کتاب میں یہ مضمون دیکھا گیا کہ یہ واقعی درست ہے کہ ایسے شخص کو دوبارہ تجدید نکاح کا حکم دیا جائے۔ بینوا تو جروا
حوالہ / References
الشفاء بتعریف حقوق المصطفی فصل قال القاضی تقدم الکلام المطبعۃ الشرکۃ الصحافیۃ ترکی ۲ / ۲۲۳
الجواب :
(۱)عالم کی توہین اگر بوجہ علم دین ہے بلا شبہ کفرہے کما فی مجمع الانھر(جیسا کہ مجمع الانہر میں ہے۔ ت)وگرنہ اگر بے سبب ظاہرکے ہے تو اس پر خوف کفرہے کما فی الخلاصۃ ومنح الروض(جیسا کہ خلاصہ اور منح الروض میں ہے۔ ت)ورنہ اشد کبیرہ ہونے میں شك نہیں۔
حدیث میں ہے نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
ثلاثۃ لایستخف بحقہم الامنافق بین النفاق ذوالشیبۃ فی الاسلام وذوالعلم والامام المقسط ۔ رواہ ابوالشیخ فی کتاب التوبیخ عن جابر بن عبد اﷲ والطبرانی فی الکبیر عن ابی امامۃ رضی اﷲ تعالی عنہم۔ تین آدمیوں کی توہین منافق ہی کرے گا : مسلمان بوڑھا صاحب علم اور عادل حاکم۔ اسے امام ابوالشیخ نے کتاب التوبیخ میں جابر بن عبدالله سے اور امام طبرانی نے المعجم الکبیر میں حضرت ابوامامہ رضی الله تعالی عنہم سے روایت کیاہے۔ (ت)
جس سے صدور کفر ہو وہ توبہ کرے از سر نو اسلام لائے اس کے بعد اگر عورت راضی ہو اس سے نکاح جدید بمہر جدید کرے۔
(۲)بلا شبہ داڑھی ایك قبضہ تك رکھناہے اور منڈوانا حرام اور لبیں اتنی ترشوانا کہ لب بالاسے آگے نہ بڑھیں یہ بھی خصال فطرت وسنن موکدہ سے ہے۔ اور داڑھی پر ہنسنا ضرور کفر ہے کہ توہین سنت متوارثہ جمیع انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام ہے وتفصیل المسئلۃ فی کتابنا لمعۃ الضحی فی اعفاء اللحی(اور اس مسئلہ کی تفصیل ہماری کتاب لمعۃ الضحی فی اعفاء اللحی میں ہے۔ ت)بلا شبہ استہزا کرنیوالے پر تجدید اسلام لازم ہے اور اس کے بعد اگر عورت کو رکھنا چاہے تو تجدید نکاح ضرور۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۷ : از فیروز پور محلہ پیراں والا مسئولہ عنایت الله شاہ دبیر انجمن تعلیم الدین والقرآن ۷ رمضان ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائی نبیوں میں شمار ہیں یا نہیں بصورت اول قسم کی توہین کی یاکلمہ بے ادبانہ ان کے حق میں کہنا ناجائز اور بصورت ثانیہ جب ان کی خطا معاف کی جاچکی ہے تو ان کی نسبت کلمات بے ادبانہ اور ناشائستہ زبان پر لانا درست ہے یا نہیں بینوا توجروا
(۱)عالم کی توہین اگر بوجہ علم دین ہے بلا شبہ کفرہے کما فی مجمع الانھر(جیسا کہ مجمع الانہر میں ہے۔ ت)وگرنہ اگر بے سبب ظاہرکے ہے تو اس پر خوف کفرہے کما فی الخلاصۃ ومنح الروض(جیسا کہ خلاصہ اور منح الروض میں ہے۔ ت)ورنہ اشد کبیرہ ہونے میں شك نہیں۔
حدیث میں ہے نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
ثلاثۃ لایستخف بحقہم الامنافق بین النفاق ذوالشیبۃ فی الاسلام وذوالعلم والامام المقسط ۔ رواہ ابوالشیخ فی کتاب التوبیخ عن جابر بن عبد اﷲ والطبرانی فی الکبیر عن ابی امامۃ رضی اﷲ تعالی عنہم۔ تین آدمیوں کی توہین منافق ہی کرے گا : مسلمان بوڑھا صاحب علم اور عادل حاکم۔ اسے امام ابوالشیخ نے کتاب التوبیخ میں جابر بن عبدالله سے اور امام طبرانی نے المعجم الکبیر میں حضرت ابوامامہ رضی الله تعالی عنہم سے روایت کیاہے۔ (ت)
جس سے صدور کفر ہو وہ توبہ کرے از سر نو اسلام لائے اس کے بعد اگر عورت راضی ہو اس سے نکاح جدید بمہر جدید کرے۔
(۲)بلا شبہ داڑھی ایك قبضہ تك رکھناہے اور منڈوانا حرام اور لبیں اتنی ترشوانا کہ لب بالاسے آگے نہ بڑھیں یہ بھی خصال فطرت وسنن موکدہ سے ہے۔ اور داڑھی پر ہنسنا ضرور کفر ہے کہ توہین سنت متوارثہ جمیع انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام ہے وتفصیل المسئلۃ فی کتابنا لمعۃ الضحی فی اعفاء اللحی(اور اس مسئلہ کی تفصیل ہماری کتاب لمعۃ الضحی فی اعفاء اللحی میں ہے۔ ت)بلا شبہ استہزا کرنیوالے پر تجدید اسلام لازم ہے اور اس کے بعد اگر عورت کو رکھنا چاہے تو تجدید نکاح ضرور۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۷ : از فیروز پور محلہ پیراں والا مسئولہ عنایت الله شاہ دبیر انجمن تعلیم الدین والقرآن ۷ رمضان ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائی نبیوں میں شمار ہیں یا نہیں بصورت اول قسم کی توہین کی یاکلمہ بے ادبانہ ان کے حق میں کہنا ناجائز اور بصورت ثانیہ جب ان کی خطا معاف کی جاچکی ہے تو ان کی نسبت کلمات بے ادبانہ اور ناشائستہ زبان پر لانا درست ہے یا نہیں بینوا توجروا
حوالہ / References
المعجم الکبیر حدیث ۷۸۱۹ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۸ / ۲۳۸
الجواب :
ان کی نسبت کلمات ناشائستہ لانا بہر حال حرام ہے ایك قول ان کی نبوت کا ہے کما فی شرح الھمزیۃ للامام ابن حجر المکی رحمہ اﷲ تعالی(جیساکہ امام ابن حجر مکی کی شرح ہمزیہ میں ہے۔ ت)اور ظاہر قرآن عظیم سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے :
قال تعالی “ امنا باللہ وما انزل الینا وما انزل الی ابرہم و اسمعیل و اسحق ویعقوب والاسباط وما اوتی موسی وعیسی وما اوتی النبیون من ربہم لا نفرق بین احد منہم۫ ونحن لہ مسلمون﴿۱۳۶﴾ “ ۔ الله تعالی کا ارشاد گرامی ہے : یوں کہو کہ ہم ایمان لائے الله پر جو ہماری طرف اترا اور جو اتاراگیا ابراہیم واسمعیل واسحق ویعقوب اور ان کی اولاد پر اور جو عطا کئے گئے موسی وعیسی اورجو عطا کئے گئے باقی انبیاء اپنے رب کے پاس ہم ان میں کسی پر ایمان میں فرق نہیں کرتے اور ہم الله کے حضور گردن رکھے ہیں۔ (ت)
اسباط یہی ابنائے یعقوب علیہ الصلوۃ والسلام ہیں۔ اس تقدیر پر تو ان کی توہین کفر ہوگی ورنہ اس قدر میں شك نہیں کہ وہ اولیائے کرام سے ہیں اور جو کچھ ان سے واقع ہو ا اپنے باپ نبی الله کے ساتھ محبت شدیدہ کی غیرت سے تھا پھر وہ بھی رب العزت نے معاف کردیا۔ اور یوسف علیہ الصلوۃ والسلام نے خود عفو فرمایا :
“ قال لا تثریب علیکم الیوم یغفر اللہ لکم ۫ وہو ارحم الرحمین ﴿۹۲﴾ “ ۔ کہا آج تم پرکچھ ملامت نہیں الله تمھیں معاف کرے اور وہ سب مہربانوں سے بڑھ کر مہربان ہے۔ (ت)
اور یعقوب علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا :
“ سوف استغفر لکم ربی انہ ہو الغفور الرحیم ﴿۹۸﴾ “ جلد میں تمھاری بخشش اپنے رب سے چاہوں گا بیشك وہی بخشنے والا مہربان ہے۔ (ت)
بہر حال ان کی توہین سخت حرام ہے اور باعث غضب ذوالجلال والاکرام ہے رب عزوجل نے کوئی کلمہ ان کی مذمت کا نہ فرمایا دوسرے کو کیا حق ہے مناسب ہے کہ توہین کرنے والا تجدید اسلام وتجدید نکاح
ان کی نسبت کلمات ناشائستہ لانا بہر حال حرام ہے ایك قول ان کی نبوت کا ہے کما فی شرح الھمزیۃ للامام ابن حجر المکی رحمہ اﷲ تعالی(جیساکہ امام ابن حجر مکی کی شرح ہمزیہ میں ہے۔ ت)اور ظاہر قرآن عظیم سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے :
قال تعالی “ امنا باللہ وما انزل الینا وما انزل الی ابرہم و اسمعیل و اسحق ویعقوب والاسباط وما اوتی موسی وعیسی وما اوتی النبیون من ربہم لا نفرق بین احد منہم۫ ونحن لہ مسلمون﴿۱۳۶﴾ “ ۔ الله تعالی کا ارشاد گرامی ہے : یوں کہو کہ ہم ایمان لائے الله پر جو ہماری طرف اترا اور جو اتاراگیا ابراہیم واسمعیل واسحق ویعقوب اور ان کی اولاد پر اور جو عطا کئے گئے موسی وعیسی اورجو عطا کئے گئے باقی انبیاء اپنے رب کے پاس ہم ان میں کسی پر ایمان میں فرق نہیں کرتے اور ہم الله کے حضور گردن رکھے ہیں۔ (ت)
اسباط یہی ابنائے یعقوب علیہ الصلوۃ والسلام ہیں۔ اس تقدیر پر تو ان کی توہین کفر ہوگی ورنہ اس قدر میں شك نہیں کہ وہ اولیائے کرام سے ہیں اور جو کچھ ان سے واقع ہو ا اپنے باپ نبی الله کے ساتھ محبت شدیدہ کی غیرت سے تھا پھر وہ بھی رب العزت نے معاف کردیا۔ اور یوسف علیہ الصلوۃ والسلام نے خود عفو فرمایا :
“ قال لا تثریب علیکم الیوم یغفر اللہ لکم ۫ وہو ارحم الرحمین ﴿۹۲﴾ “ ۔ کہا آج تم پرکچھ ملامت نہیں الله تمھیں معاف کرے اور وہ سب مہربانوں سے بڑھ کر مہربان ہے۔ (ت)
اور یعقوب علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا :
“ سوف استغفر لکم ربی انہ ہو الغفور الرحیم ﴿۹۸﴾ “ جلد میں تمھاری بخشش اپنے رب سے چاہوں گا بیشك وہی بخشنے والا مہربان ہے۔ (ت)
بہر حال ان کی توہین سخت حرام ہے اور باعث غضب ذوالجلال والاکرام ہے رب عزوجل نے کوئی کلمہ ان کی مذمت کا نہ فرمایا دوسرے کو کیا حق ہے مناسب ہے کہ توہین کرنے والا تجدید اسلام وتجدید نکاح
کرے کہ جب ان کی نبوت میں اختلاف ہے اس کے کفر میں اختلاف ہوگا اورکفر اختلافی کا یہی حکم ہے کما فی الدر المختار و رد المحتار وغیرھما(جیساکہ درمختار اور ردالمحتاروغیرہ میں ہے۔ ت)والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۸ : از بغداد شریف ۶ آمرڈ کاٹینك کور نمبر ۱۹۳۰ مسئولہ علی رضاخاں فٹر مستری ۸ رمضان ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ “ تقویۃ الایمان “ کا پڑھنا بعض لوگ برا بتاتے ہیں اور بعض اچھا کہتے ہیں برا بتانے والے حضور کا حوالہ دیتے ہیں ہم مشکوك ہیں جواب سے مطلع فرمائے بینوا تو جروا
الجواب :
یہ ناپاك کتاب سخت ضلالت وبے دینی اور کلمات کفرپر مشتمل ہے اس کاپڑھنا زنا اور شراب خوری سے بدتر حرام ہے کہ ان سے ایمان نہیں جاتا۔ اور یہ ایمان زائل کرنے والی ہے والعیاذ بالله تعالی وہ جو اس کا پڑھنا اچھا بتاتے ہیں گمراہ بددین بلکہ کفار مرتدین ہیں۔ اس کی تفصیل دیکھنی ہو تو فقیر کی کتاب سل السیوف الھندیۃ اور الکوکبۃ الشہابیۃ اور الاستمداد علی اجیال الارتداد اور کشف ضلال دیوبند وغیرہا انصاف وایمان کی نگاہ سے دیکھی جائیں مسلمان کا ایمان خود گواہی دے گاکہ وہ مردود کتاب تقویۃ الایمان نہیں تفویت الایمان ہے یعنی ایمان فوت کرنے والی والعیاذ بالله تعالی۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۸ : از بغداد شریف ۶ آمرڈ کاٹینك کور نمبر ۱۹۳۰ مسئولہ علی رضاخاں فٹر مستری ۸ رمضان ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ “ تقویۃ الایمان “ کا پڑھنا بعض لوگ برا بتاتے ہیں اور بعض اچھا کہتے ہیں برا بتانے والے حضور کا حوالہ دیتے ہیں ہم مشکوك ہیں جواب سے مطلع فرمائے بینوا تو جروا
الجواب :
یہ ناپاك کتاب سخت ضلالت وبے دینی اور کلمات کفرپر مشتمل ہے اس کاپڑھنا زنا اور شراب خوری سے بدتر حرام ہے کہ ان سے ایمان نہیں جاتا۔ اور یہ ایمان زائل کرنے والی ہے والعیاذ بالله تعالی وہ جو اس کا پڑھنا اچھا بتاتے ہیں گمراہ بددین بلکہ کفار مرتدین ہیں۔ اس کی تفصیل دیکھنی ہو تو فقیر کی کتاب سل السیوف الھندیۃ اور الکوکبۃ الشہابیۃ اور الاستمداد علی اجیال الارتداد اور کشف ضلال دیوبند وغیرہا انصاف وایمان کی نگاہ سے دیکھی جائیں مسلمان کا ایمان خود گواہی دے گاکہ وہ مردود کتاب تقویۃ الایمان نہیں تفویت الایمان ہے یعنی ایمان فوت کرنے والی والعیاذ بالله تعالی۔ والله تعالی اعلم۔
رسالہ الکوکبۃ الشھابیۃ فی کفریات ابی الوھابیۃ ۱۳۱۲ھ
(امام الوہابیہ کے کفریات کے بارے میں چمکدار ستارہ)
بسم اﷲ الرحمن الرحیم
مسئلہ ۲۹ : از بدایوں مرسلہ مولنا مولوی محمد فضل المجید صاحب قادری فاروقی سلمہم اﷲ تعالی ۲۲جمادی الاول ۱۳۱۲ھ
بخدمت بابرکت مولنا مرجع الفتاوی والمفتین ملاذ العلماء المحققین جناب مولوی احمد رضاخاں صاحب اللھم ادم افاضاتھم وافاداتھم(یا اللہ! ان کے فیوض وافادات کو دائمی بنا۔ ت)السلام علیکم!
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ وہابیہ غیر مقلدین جو تقلید اربعہ کوشرك کہتے ہیں جس مسلمان کو مقلد دیکھیں اسے مشرك بتاتے ہیں دہلی والے اسمعیل مصنف تقویۃ الایمان وصراط مستقیم وایضاح الحق ویك روزی وتنویر العینین کو اپنا امام وپیشوا بتاتے اس کے اقوال کو حق وہدایت جانتے اور اس کے مطابق اعتقاد رکھتے ہیں ہمارے فقہائے کرام وپیشوایان مذہب کے نزدیك ان پر اور ان کے پیشوا پر حکم کفر ہے یا نہیں بینوا توجروا(بیان کیجئے اجر پائیے۔ ت)
(امام الوہابیہ کے کفریات کے بارے میں چمکدار ستارہ)
بسم اﷲ الرحمن الرحیم
مسئلہ ۲۹ : از بدایوں مرسلہ مولنا مولوی محمد فضل المجید صاحب قادری فاروقی سلمہم اﷲ تعالی ۲۲جمادی الاول ۱۳۱۲ھ
بخدمت بابرکت مولنا مرجع الفتاوی والمفتین ملاذ العلماء المحققین جناب مولوی احمد رضاخاں صاحب اللھم ادم افاضاتھم وافاداتھم(یا اللہ! ان کے فیوض وافادات کو دائمی بنا۔ ت)السلام علیکم!
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ وہابیہ غیر مقلدین جو تقلید اربعہ کوشرك کہتے ہیں جس مسلمان کو مقلد دیکھیں اسے مشرك بتاتے ہیں دہلی والے اسمعیل مصنف تقویۃ الایمان وصراط مستقیم وایضاح الحق ویك روزی وتنویر العینین کو اپنا امام وپیشوا بتاتے اس کے اقوال کو حق وہدایت جانتے اور اس کے مطابق اعتقاد رکھتے ہیں ہمارے فقہائے کرام وپیشوایان مذہب کے نزدیك ان پر اور ان کے پیشوا پر حکم کفر ہے یا نہیں بینوا توجروا(بیان کیجئے اجر پائیے۔ ت)
الجواب :
بسم اﷲ الرحمن الرحیم الحمد ﷲ الذی ارسل عــــــہ۱ رسولہ شاھداومبشراو نذیرا لتومنوا عــــــہ۲ باﷲ
عــــــہ۱ : یہ خطبہ قرآنی آیتوں اور ایمانی ہدایتوں پر مشتمل ہے تعمیم فائدہ کے لئے ان آیات اور زبان اردومیں ان ہدایات کی طرف اشارہ مناسب
آیت ا : “ انا ارسلنک شہدا و مبشرا و نذیرا ﴿۴۵﴾ “ بیشك ہم نے تمھیں بھیجا گواہ اور خوشی اور ڈر سناتا۔
کہ جو تمھاری تعظیم کرے اسے فضل عظیم کی بشارت دو اور جو معاذاﷲ بے تعظیمی سے پیش آئے اسے عذاب الیم کا ڈر سناؤ اور جب وہ شاہد وگواہ ہوئے اور شاہد کو مشاہدہ درکار تو بہت مناسب ہواکہ امت کے تمام افعال واقوال واعمال واحوال ان کے سامنے ہوں طبرانی کی حدیث میں حضرت عبداﷲ بن عمررضی اﷲ تعالی عنہما سے ہے رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں :
ان اﷲ رفع لی الدنیا فانا انظر الیھا والی ماھو کائن فیھا الی یوم القیمۃ کانما انظر الی کفی ھذہ ۔
عـــــہ۲ : آیت۲ : “ لتؤمنوا باللہ و رسولہ و تعزروہ و توقروہ “ عــــــہ ۔ بیشك اﷲ تعالی نے میرے سامنے دنیا اٹھالی تومیں دیکھ رہاہوں اسے اور جو اس میں قیامت تك ہونے والا ہے جیسے اپنی اس ہتھیلی کو دیکھ رہاہوں صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم۱۲ منہ مدظلہ۔
(یہ رسول کا بھیجنا کس لئے ہے خود فرماتاہے ا س لئے کہ)تم اﷲ ورسول پر ایمان لاؤ اور رسول کی تعظیم وتوقیر کرو۔
معلوم ہوا کہ دین وایمان محمد رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی تعظیم کا نام جو ان کی تعظیم میں کلام کرے اصل رسالت کو باطل وبیکار کیا چاہتاہے والعیاذ باﷲ تعالی ۱۲۔
عــــــہ : قرئ تعززوہ بزائین معجمین۱۲ منہ۔ (م) آیہ کی تعززوہ دوزاء کے ساتھ بھی قرأت ہے ۱۲ منہ(ت)
بسم اﷲ الرحمن الرحیم الحمد ﷲ الذی ارسل عــــــہ۱ رسولہ شاھداومبشراو نذیرا لتومنوا عــــــہ۲ باﷲ
عــــــہ۱ : یہ خطبہ قرآنی آیتوں اور ایمانی ہدایتوں پر مشتمل ہے تعمیم فائدہ کے لئے ان آیات اور زبان اردومیں ان ہدایات کی طرف اشارہ مناسب
آیت ا : “ انا ارسلنک شہدا و مبشرا و نذیرا ﴿۴۵﴾ “ بیشك ہم نے تمھیں بھیجا گواہ اور خوشی اور ڈر سناتا۔
کہ جو تمھاری تعظیم کرے اسے فضل عظیم کی بشارت دو اور جو معاذاﷲ بے تعظیمی سے پیش آئے اسے عذاب الیم کا ڈر سناؤ اور جب وہ شاہد وگواہ ہوئے اور شاہد کو مشاہدہ درکار تو بہت مناسب ہواکہ امت کے تمام افعال واقوال واعمال واحوال ان کے سامنے ہوں طبرانی کی حدیث میں حضرت عبداﷲ بن عمررضی اﷲ تعالی عنہما سے ہے رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں :
ان اﷲ رفع لی الدنیا فانا انظر الیھا والی ماھو کائن فیھا الی یوم القیمۃ کانما انظر الی کفی ھذہ ۔
عـــــہ۲ : آیت۲ : “ لتؤمنوا باللہ و رسولہ و تعزروہ و توقروہ “ عــــــہ ۔ بیشك اﷲ تعالی نے میرے سامنے دنیا اٹھالی تومیں دیکھ رہاہوں اسے اور جو اس میں قیامت تك ہونے والا ہے جیسے اپنی اس ہتھیلی کو دیکھ رہاہوں صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم۱۲ منہ مدظلہ۔
(یہ رسول کا بھیجنا کس لئے ہے خود فرماتاہے ا س لئے کہ)تم اﷲ ورسول پر ایمان لاؤ اور رسول کی تعظیم وتوقیر کرو۔
معلوم ہوا کہ دین وایمان محمد رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی تعظیم کا نام جو ان کی تعظیم میں کلام کرے اصل رسالت کو باطل وبیکار کیا چاہتاہے والعیاذ باﷲ تعالی ۱۲۔
عــــــہ : قرئ تعززوہ بزائین معجمین۱۲ منہ۔ (م) آیہ کی تعززوہ دوزاء کے ساتھ بھی قرأت ہے ۱۲ منہ(ت)
حوالہ / References
القرآن الکریم ۳۳ /۴۵ و ۴۸ / ۸
کنز العمال بحوالہ عن ابن عمر حدیث ۳۱۹۸۱ موسسۃ الرسالہ بیروت ۱۱ / ۴۲۰
القرآن الکریم ۴۸ /۹
کنز العمال بحوالہ عن ابن عمر حدیث ۳۱۹۸۱ موسسۃ الرسالہ بیروت ۱۱ / ۴۲۰
القرآن الکریم ۴۸ /۹
ورسولہ و تعزروہ وتوقروہ بجنانکم ولسانکم*فجعل تعظیمہ وتوقیرہ وتعزیرہ ھو الرکن الرکین لدینکم الحق وایمانکم *وحرم عــــــہ۱ علیکم ان ترفعوا اصواتکم فوق صوت النبی اوتجھر والہ بالقول کجھر بعضکم لبعض فتحبط اعمالکم وانتم لاتشعرون بخسرانکم * وجعل عــــــہ۲ طاعتہ طاعتہ وبیعتہ عــــــہ۳ بیعتہ فان بایعتم نبیکم فانما فوق ایدیکم یدرحمانکم *وقرن عــــــہ۴ اسمہ الکریم باسمہ العظیم فی الاغناء عــــــہ۵۔
عــــــہ۱ : آیت : “ یایہا الذین امنوا لا ترفعوا اصوتکم فوق صوت النبی ولا تجہروا لہ بالقول کجہر بعضکم لبعض ان تحبط اعملکم و انتم لا تشعرون ﴿۲﴾ “ اے ایمان والو! نہ بلند کرو اپنی آوازیں نبی کی آواز پر اور اس کے حضور چلا کر نہ بولو جیسے آپس میں ایك دوسرے کے سامنے چلاتے ہو کہیں تمھارے عمل اکارت نہ ہوجائیں اور تمھیں خبر نہ ہو۔
امیر المومنین عمر رضی اللہ تعالی عنہنے روضہ انور کے پاس کسی کو اونچی آواز سے بولتے دیکھا فرمایا کیا اپنی آواز نبی کی آواز پر بلند کرتاہے اور یہی آیت تلاوت کی ۱۲۔
عــــــہ۲ : آیت ۴ : “ من یطع الرسول فقد اطاع اللہ “ ۔
عــــــہ ۳ : آیت ۵ : “ ان الذین یبایعونک انما یبایعون اللہ ید اللہ فوق ایدیہم “ ۔ جس نے رسول کی اطاعت کی اس نے خدا کی اطاعت کی ۱۲۔
بیشك جو لوگ تجھ سے بیعت کرتے ہیں وہ تو اﷲ ہی سے بیعت کررہے ہیں۔ اﷲ کا ہاتھ ہے ان کے ہاتھوں پر۱۲۔
عــــــہ۴ : اﷲ عزوجل نے بے شمار امور میں اپنے محبوب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکا نام پاك اپنے نام اقدس سے ملایا کہیں اصل شان اپنی تھی اس میں حبیب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکا ذکر بھی شامل فرمایا کہیں اصل معاملہ حبیب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکا تھا ان کے ساتھ اپنے ذکر والا سے اعزاز بڑھایا آئیندہ کی آٹھ آیتیں اسی کے بیان میں ہیں ۱۲ منہ مدظلہ۔
عــــــہ۵ : آیت ۶ : “ اغنہم اللہ ورسولہ من فضلہ “ ۔ انھیں دولتمند کردیا اﷲ اور اﷲ کے رسول نے اپنے فضل سے ۱۲
عــــــہ۱ : آیت : “ یایہا الذین امنوا لا ترفعوا اصوتکم فوق صوت النبی ولا تجہروا لہ بالقول کجہر بعضکم لبعض ان تحبط اعملکم و انتم لا تشعرون ﴿۲﴾ “ اے ایمان والو! نہ بلند کرو اپنی آوازیں نبی کی آواز پر اور اس کے حضور چلا کر نہ بولو جیسے آپس میں ایك دوسرے کے سامنے چلاتے ہو کہیں تمھارے عمل اکارت نہ ہوجائیں اور تمھیں خبر نہ ہو۔
امیر المومنین عمر رضی اللہ تعالی عنہنے روضہ انور کے پاس کسی کو اونچی آواز سے بولتے دیکھا فرمایا کیا اپنی آواز نبی کی آواز پر بلند کرتاہے اور یہی آیت تلاوت کی ۱۲۔
عــــــہ۲ : آیت ۴ : “ من یطع الرسول فقد اطاع اللہ “ ۔
عــــــہ ۳ : آیت ۵ : “ ان الذین یبایعونک انما یبایعون اللہ ید اللہ فوق ایدیہم “ ۔ جس نے رسول کی اطاعت کی اس نے خدا کی اطاعت کی ۱۲۔
بیشك جو لوگ تجھ سے بیعت کرتے ہیں وہ تو اﷲ ہی سے بیعت کررہے ہیں۔ اﷲ کا ہاتھ ہے ان کے ہاتھوں پر۱۲۔
عــــــہ۴ : اﷲ عزوجل نے بے شمار امور میں اپنے محبوب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکا نام پاك اپنے نام اقدس سے ملایا کہیں اصل شان اپنی تھی اس میں حبیب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکا ذکر بھی شامل فرمایا کہیں اصل معاملہ حبیب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکا تھا ان کے ساتھ اپنے ذکر والا سے اعزاز بڑھایا آئیندہ کی آٹھ آیتیں اسی کے بیان میں ہیں ۱۲ منہ مدظلہ۔
عــــــہ۵ : آیت ۶ : “ اغنہم اللہ ورسولہ من فضلہ “ ۔ انھیں دولتمند کردیا اﷲ اور اﷲ کے رسول نے اپنے فضل سے ۱۲
والایتاء عــــــہ۱ ورجاء العطاء والتقدیم عــــــہ۲ والقضاء عــــــہ۳ والمحادۃ عــــــہ۴ والارضاء عــــــہ۵
عــــــہ۱ : آیت ۷ :
“ ولو انہم رضوا ما اتىہم اللہ ورسولہ وقالوا حسبنا اللہ سیؤتینا اللہ من فضلہ ورسولہ ۔
عــــــہ۲ : آیت ۸ : “ یایہا الذین امنوا لا تقدموا بین یدی اللہ و رسولہ “ ۔
عــــــہ۳ : آیت ۹ :
وما کان لمؤمن و لا مؤمنۃ اذا قضی اللہ و رسولہ امرا ان یکون لہم الخیرۃ من امرہم ومن یعص اللہ و رسولہ فقد ضل ضللا مبینا ﴿۳۶﴾ “
عــــــہ۴ : آیت ۱۰ : “ لا تجد قوما یؤمنون باللہ و الیوم الاخر یوادون من حاد اللہ و رسولہ و لو کانوا اباءہم او ابناءہم او اخونہم او عشیرتہم “ ۔
عــــــہ ۵ : آیت ۱۱ : “ واللہ ورسولہ احق ان یرضوہ ان کانوا مؤمنین ﴿۶۲﴾ الم یعلموا انہ من یحادد اللہ ورسولہ فان لہ نار جہنم خلدا فیہا ذلک الخزی العظیم ﴿۶۳﴾ اور کیا خوب تھا اگر وہ راضی ہوتے اس پر جو انھیں دیا اﷲ اور اﷲ کے رسول نے اور کہتے ہمیں اﷲ کافی ہے اب دیتاہے ہمیں اﷲ اپنے فضل سے اورا س کا رسول ۱۲۔
اے ایمان والو! اﷲ ورسول سے آگے نہ بڑھو ۱۲۔
نہیں پہنچتا کسی مسلمان مرد نہ عورت کو جب اﷲ ورسول کوئی بات ان کے معاملہ میں ٹھہرادیں توانھیں اپنے کام کا کچھ اختیار باقی رہے اور جو حکم نہ مانے اﷲ ورسول کا وہ صریح گمراہ ہوا بہك کر ۱۲۔
تو نہ پائے گا انھیں جو ایمان لاتے ہیں اﷲ اور پچھلے دن پر کہ دوستی کریں اﷲ ورسول کے مخالف سے چاہے وہ اپنے باپ یا بیٹے یا بھائی یا عزیز ہی ہوں ۱۳۔
اﷲ ورسول زیادہ مستحق ہیں اس کے کہ یہ لوگ انھیں راضی کریں اگر ایمان رکھتے ہیں کیاانھیں خبر نہیں کہ جو مقابلہ کرے اﷲ ورسول سے تو اس کےلئے دوزخ کی آگ ہے جس میں ہمیشہ رہے گا اور وہی بڑی رسوائی ہے ۱۲۔
والنصح عــــــہ۱ والایذآء عــــــہ۲ فی قرانکم *ورفع شانہ مکانہ فمیز امرہ عن امور من عداہ فما کان لیوزن بمیزانکم *اتجعلون الحصی عــــــہ۳ کالدر او الدم کالمسك ام تجعلون العصف کریحانکم *فقد ھداکم ربکم ان لا تجعلوا دعاء الرسول بینکم کدعاء بعضکم بعضا من اب اومولی اوسلطانکم *وقال الذین ارسلوا السنتہم فی شانہ العظیم
عــــــہ۱ : آیت ۷ :
“ ولو انہم رضوا ما اتىہم اللہ ورسولہ وقالوا حسبنا اللہ سیؤتینا اللہ من فضلہ ورسولہ ۔
عــــــہ۲ : آیت ۸ : “ یایہا الذین امنوا لا تقدموا بین یدی اللہ و رسولہ “ ۔
عــــــہ۳ : آیت ۹ :
وما کان لمؤمن و لا مؤمنۃ اذا قضی اللہ و رسولہ امرا ان یکون لہم الخیرۃ من امرہم ومن یعص اللہ و رسولہ فقد ضل ضللا مبینا ﴿۳۶﴾ “
عــــــہ۴ : آیت ۱۰ : “ لا تجد قوما یؤمنون باللہ و الیوم الاخر یوادون من حاد اللہ و رسولہ و لو کانوا اباءہم او ابناءہم او اخونہم او عشیرتہم “ ۔
عــــــہ ۵ : آیت ۱۱ : “ واللہ ورسولہ احق ان یرضوہ ان کانوا مؤمنین ﴿۶۲﴾ الم یعلموا انہ من یحادد اللہ ورسولہ فان لہ نار جہنم خلدا فیہا ذلک الخزی العظیم ﴿۶۳﴾ اور کیا خوب تھا اگر وہ راضی ہوتے اس پر جو انھیں دیا اﷲ اور اﷲ کے رسول نے اور کہتے ہمیں اﷲ کافی ہے اب دیتاہے ہمیں اﷲ اپنے فضل سے اورا س کا رسول ۱۲۔
اے ایمان والو! اﷲ ورسول سے آگے نہ بڑھو ۱۲۔
نہیں پہنچتا کسی مسلمان مرد نہ عورت کو جب اﷲ ورسول کوئی بات ان کے معاملہ میں ٹھہرادیں توانھیں اپنے کام کا کچھ اختیار باقی رہے اور جو حکم نہ مانے اﷲ ورسول کا وہ صریح گمراہ ہوا بہك کر ۱۲۔
تو نہ پائے گا انھیں جو ایمان لاتے ہیں اﷲ اور پچھلے دن پر کہ دوستی کریں اﷲ ورسول کے مخالف سے چاہے وہ اپنے باپ یا بیٹے یا بھائی یا عزیز ہی ہوں ۱۳۔
اﷲ ورسول زیادہ مستحق ہیں اس کے کہ یہ لوگ انھیں راضی کریں اگر ایمان رکھتے ہیں کیاانھیں خبر نہیں کہ جو مقابلہ کرے اﷲ ورسول سے تو اس کےلئے دوزخ کی آگ ہے جس میں ہمیشہ رہے گا اور وہی بڑی رسوائی ہے ۱۲۔
والنصح عــــــہ۱ والایذآء عــــــہ۲ فی قرانکم *ورفع شانہ مکانہ فمیز امرہ عن امور من عداہ فما کان لیوزن بمیزانکم *اتجعلون الحصی عــــــہ۳ کالدر او الدم کالمسك ام تجعلون العصف کریحانکم *فقد ھداکم ربکم ان لا تجعلوا دعاء الرسول بینکم کدعاء بعضکم بعضا من اب اومولی اوسلطانکم *وقال الذین ارسلوا السنتہم فی شانہ العظیم
حوالہ / References
القرآن الکریم ۹ /۵۹
القرآن الکریم ۴۹ /۱
القرآن الکریم ۳۳ /۳۶
القرآن الکریم ۵۸ /۲۲
القرآن الکریم ۹ /۶۲ و ۶۳
القرآن الکریم ۴۹ /۱
القرآن الکریم ۳۳ /۳۶
القرآن الکریم ۵۸ /۲۲
القرآن الکریم ۹ /۶۲ و ۶۳
عــــــہ۱ : آیت ۱۲ : “ اذا نصحوا للہ ورسولہ “
عــــــہ۲ : آیت ۱۳ : “ ان الذین یؤذون اللہ و رسولہ لعنہم اللہ فی الدنیا و الاخرۃ و اعد لہم عذابا مہینا ﴿۵۷﴾ “ جب خلوص رکھیں اﷲ ورسول کے ساتھ۔
بیشك جو لوگ ایذا دیتے ہیں اﷲ ورسول کو اﷲ نے ان پر لعنت کی دنیا وآخرت میں اور ان کے لئے تیار کررکھی ذلت کی مار۔
یہ معاملہ خاص حبیب کا ہے اﷲ کو کون ایذا دے سکتا ہے مگر وہاں تو جو معاملہ رسول کے ساتھ برتا جائے اپنے ہی ساتھ قرار پایا ہے۔ عــــــہ۳ : یعنی جب تم خود کنکر کو موتی خون کو مشک بھس کوپھول کی طرح سمجھتے تو رسول کے معاملہ کا اوروں پر کیا قیاس کرتے ہو یہاں تو کوئی نسبت ہی نہیں ہوسکتی جب ان کے ابن مکرم حضور سیدنا غوث اعظم رضی اللہ تعالی عنہفرماتے ہیں :
لا تقیسونی باحد ولا تقیسوا علی احدا ۔ مجھے کسی پر قیاس نہ کرو نہ کسی کو مجھ سے نسبت دو۔
توخود حضور اقدس سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکا ذکر کیا ہے واﷲ اکبر ۱۲۔
عــــــہ۴ : یہ آیت ۱۴ ہے کہ رسول کا پکارنا اپنے میں ایسا نہ ٹھہرالو جیسے ایك دوسرے کو پکارتے ہو اب ایك دوسرےمیں باپ اور مولا اور بادشاہ سب آگئے اسی لئے علماء فرماتے ہیں نام پاك لے کر ندا کرنا حرام ہے اگرروایت میں مثلا یا محمد آیا ہو تو اس کی جگہ بھی یا رسول اﷲ کہے ا س مسئلہ کا بیان عظیم الشان فقیر کے رسالہ تجلی الیقین بان نبینا سید المرسلین میں دیکھئے ۱۲منہ
عــــــہ۲ : آیت ۱۳ : “ ان الذین یؤذون اللہ و رسولہ لعنہم اللہ فی الدنیا و الاخرۃ و اعد لہم عذابا مہینا ﴿۵۷﴾ “ جب خلوص رکھیں اﷲ ورسول کے ساتھ۔
بیشك جو لوگ ایذا دیتے ہیں اﷲ ورسول کو اﷲ نے ان پر لعنت کی دنیا وآخرت میں اور ان کے لئے تیار کررکھی ذلت کی مار۔
یہ معاملہ خاص حبیب کا ہے اﷲ کو کون ایذا دے سکتا ہے مگر وہاں تو جو معاملہ رسول کے ساتھ برتا جائے اپنے ہی ساتھ قرار پایا ہے۔ عــــــہ۳ : یعنی جب تم خود کنکر کو موتی خون کو مشک بھس کوپھول کی طرح سمجھتے تو رسول کے معاملہ کا اوروں پر کیا قیاس کرتے ہو یہاں تو کوئی نسبت ہی نہیں ہوسکتی جب ان کے ابن مکرم حضور سیدنا غوث اعظم رضی اللہ تعالی عنہفرماتے ہیں :
لا تقیسونی باحد ولا تقیسوا علی احدا ۔ مجھے کسی پر قیاس نہ کرو نہ کسی کو مجھ سے نسبت دو۔
توخود حضور اقدس سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکا ذکر کیا ہے واﷲ اکبر ۱۲۔
عــــــہ۴ : یہ آیت ۱۴ ہے کہ رسول کا پکارنا اپنے میں ایسا نہ ٹھہرالو جیسے ایك دوسرے کو پکارتے ہو اب ایك دوسرےمیں باپ اور مولا اور بادشاہ سب آگئے اسی لئے علماء فرماتے ہیں نام پاك لے کر ندا کرنا حرام ہے اگرروایت میں مثلا یا محمد آیا ہو تو اس کی جگہ بھی یا رسول اﷲ کہے ا س مسئلہ کا بیان عظیم الشان فقیر کے رسالہ تجلی الیقین بان نبینا سید المرسلین میں دیکھئے ۱۲منہ
حوالہ / References
القرآن الکریم ۳۳ /۵۷
القرآن الکریم ۲۴ /۶۳
زبدۃ الآثار تلخیص بہجہ الاسرار(اردو) مکتبہ نبویہ لاہور ص۷۷
القرآن الکریم ۲۴ /۶۳
زبدۃ الآثار تلخیص بہجہ الاسرار(اردو) مکتبہ نبویہ لاہور ص۷۷
اباللہ وایتہ ورسولہ کنتم تستہزءون ﴿۶۵﴾ لاتعتذروا قدکفرتم بعد ایمنکم “ *
عــــــہ : یہ آیت ۱۵ ہے غزوہ تبوك کو جاتے وقت منافقوں نے تخلیہ میں نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے خلاف شان کچھ کہا جب سوال ہوا تو عذر کرنے لگے اور بولے ہم تو یونہی آپس میں ہنستے تھے اﷲ تعالی نے فرمایا : “ قل اباللہ وایتہ ورسولہ “ الآیۃ اے نبی! ان سے فرمادے کیااﷲ تعالی اور اس کی آیتوں اور اس کے رسول کے معاملہ میں ٹھٹھاکرتے تھے بہانے نہ بناؤ تم کافر ہوچکے ایمان لاکر۔
اقول : اس آیت کے تین فائدے حاصل ہوئے :
اول : یہ کہ جو رسول کی شان میں گستاخی کرے وہ کافر ہوجاتاہے اگر چہ کیسا ہی کلمہ پڑھتا اور ایمان کا دعوی رکھتاہو کلمہ گوئی اسے ہرگز کفرسے نہ بچائے گی۔
دوم : یہ جو بعض جاہل کہنے لگتے ہیں کہ کفر کا تودل سے تعلق ہے نہ کہ زبان سے جب وہ کلمہ پڑھتا ہے اور اس کے دل میں کفر ہونا معلوم نہیں توہم کسی بات کے سبب اسے کیونکر کافر کہیں محض خبط اور نری جھوٹی بات ہے جس طرح کفر دل سے متعلق ہے یونہی ایمان بھی زبان سے کلمہ پڑھنے پر مسلمان کیسے کہا یونہی زبان سے گستاخی کرنے پر کافر کہا جائے گا اور جب بغیر اکراہ شرعی کے ہے تو اﷲ کے نزدیك بھی کافر ہوجائے گا اگر چہ دل میں اس گستاخی کا معتقد نہ ہو کہ بے اعتقاد کہنا ہزل وسخریہ ہے اور اسی پر رب العزت فرماچکا کہ تم کافر ہوگئے اپنے ایمان کے بعد اس کی تحقیق ہمارے رسالہ البارقۃ اللمعا علی سامد نطق بالکفر طوعا(۱۳۰۴ھ)میں ہے۔
سوم کھلے ہوئے لفظوں میں عذر تاویل مسموع نہیں آیت فرماچکی کہ حیلہ نہ گھڑوتم کافر ہوگئے۔
تنبیہ : یہاں اﷲ عزوجل نے انھیں کلمات گستاخی کو وجہ کفربتایا اور ان کے مقابل کلمہ گوئی وعذر جوئی کو مردود ٹھہرایا یہاں ان کے کفر سابق مخفی کی بحث نہیں کہ “ قدکفرتم بعد ایمنکم “ فرمایا ہے تم مسلمان ہوکر کافر ہوگئے۔ نہ کہ “ قد کنتم کافرین “ تم پہلے سے کافر تھے یہ فائدے خوب یاد رکھنے کے ہیں وباﷲ التوفیق ۱۲منہ مدظلہ
عــــــہ : یہ آیت ۱۵ ہے غزوہ تبوك کو جاتے وقت منافقوں نے تخلیہ میں نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے خلاف شان کچھ کہا جب سوال ہوا تو عذر کرنے لگے اور بولے ہم تو یونہی آپس میں ہنستے تھے اﷲ تعالی نے فرمایا : “ قل اباللہ وایتہ ورسولہ “ الآیۃ اے نبی! ان سے فرمادے کیااﷲ تعالی اور اس کی آیتوں اور اس کے رسول کے معاملہ میں ٹھٹھاکرتے تھے بہانے نہ بناؤ تم کافر ہوچکے ایمان لاکر۔
اقول : اس آیت کے تین فائدے حاصل ہوئے :
اول : یہ کہ جو رسول کی شان میں گستاخی کرے وہ کافر ہوجاتاہے اگر چہ کیسا ہی کلمہ پڑھتا اور ایمان کا دعوی رکھتاہو کلمہ گوئی اسے ہرگز کفرسے نہ بچائے گی۔
دوم : یہ جو بعض جاہل کہنے لگتے ہیں کہ کفر کا تودل سے تعلق ہے نہ کہ زبان سے جب وہ کلمہ پڑھتا ہے اور اس کے دل میں کفر ہونا معلوم نہیں توہم کسی بات کے سبب اسے کیونکر کافر کہیں محض خبط اور نری جھوٹی بات ہے جس طرح کفر دل سے متعلق ہے یونہی ایمان بھی زبان سے کلمہ پڑھنے پر مسلمان کیسے کہا یونہی زبان سے گستاخی کرنے پر کافر کہا جائے گا اور جب بغیر اکراہ شرعی کے ہے تو اﷲ کے نزدیك بھی کافر ہوجائے گا اگر چہ دل میں اس گستاخی کا معتقد نہ ہو کہ بے اعتقاد کہنا ہزل وسخریہ ہے اور اسی پر رب العزت فرماچکا کہ تم کافر ہوگئے اپنے ایمان کے بعد اس کی تحقیق ہمارے رسالہ البارقۃ اللمعا علی سامد نطق بالکفر طوعا(۱۳۰۴ھ)میں ہے۔
سوم کھلے ہوئے لفظوں میں عذر تاویل مسموع نہیں آیت فرماچکی کہ حیلہ نہ گھڑوتم کافر ہوگئے۔
تنبیہ : یہاں اﷲ عزوجل نے انھیں کلمات گستاخی کو وجہ کفربتایا اور ان کے مقابل کلمہ گوئی وعذر جوئی کو مردود ٹھہرایا یہاں ان کے کفر سابق مخفی کی بحث نہیں کہ “ قدکفرتم بعد ایمنکم “ فرمایا ہے تم مسلمان ہوکر کافر ہوگئے۔ نہ کہ “ قد کنتم کافرین “ تم پہلے سے کافر تھے یہ فائدے خوب یاد رکھنے کے ہیں وباﷲ التوفیق ۱۲منہ مدظلہ
فیاایھا المنافقون عــــــہ۱ المردۃ الفاسقون الزاعم کبیرکم ان مدح عــــــہ۲ الرسول کمدح بعضکم بعضا بل اقل منہ فی حسبانکمقد بدت البغضاء من افوہہم وما تخفی صدورہم اکبرواﷲ مخرج اضغانکم *
عــــــہ۱ : نفاق دو قسم ہے : عقدی وعملی نفاق عملی کے بیان میں فقیر نے ایك رسالہ حافلہ مسمی بہ ابناء الخداق بمسالك النفاق (۱۳۰۹ھ)لکھا اور آیات واحادیث کثیرہ وغزیرہ سے اس کے وجوہ وصور کو ظاہر کیا جو اس رسالہ کے غیر میں مجموعا نہ ملیں گی وہاں سے ان حضرات کے نفاق کا ثبوت لیجئے ۱۲ منہ
عــــــہ۲ : اﷲ تو فرمائے رسول کے حضور چلا کر نہ بولو جیسے ایك دوسرے کے سامنے چلاتے ہو اﷲ فرمائے رسول کا پکارنا ایك دوسرے کا سا پکارنا نہ ٹھہرالو تقویۃ الایمان والا کہے رسول کی ایسی ہی تعریف کرو جیسی باھم ایك دوسرے کی کرتے ہو بلکہ اس میں بھی کمی کرو انا ﷲ وانا الیہ راجعونo
عــــــہ۳ : قال اﷲ تعالی :
“ قد بدت البغضاء من افوہہم وما تخفی صدورہم اکبر قد بینا لکم الایت ان کنتم تعقلون﴿۱۱۸﴾ ہانتم اولاء تحبونہم و لا یحبونکم وتؤمنون بالکتب کلہ و اذا لقوکم قالوا امنا٭ و اذا خلوا عضوا علیکم الانامل من الغیظ قل موتوا بغیظکم ان اللہ علیم بذات الصدور﴿۱۱۹﴾ “ ظاہر ہوچکی ہے دشمنی ان کی باتوں سے اور وہ جو ان کے دلوں میں دبی ہے اس سے بھی زیادہ ہے ہم نے صاف بیان فرمادیں تمھارے لئے نشانیاں اگر تمھیں سمجھ ہو دیکھو یہ جو تم ہوتم تو انھیں چاہتے ہو اور وہ تمھیں نہیں چاہتے اور تم پوری کتاب پر ایمان لاتے ہو اور جب وہ تم سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں ہم مسلمان ہیں اور جب تنہا ہوتے ہیں تو تم پر غضب میں اپنی انگلیاں چباتے ہیں تو فرمادے مرجاؤ گھٹ گھٹ کر خدا خوب جانتاہے دلوں کی بات۔
اقول : ا س آیت سے بھی دو۲ فائدے ملے :
ایک : یہ کہ دل کے بخار کے ساتھ زبانی اقرار کلمہ گوئی کی پکار کوئی چیز نہیں۔
دوسرے : یہ کہ دل کا بخار زبانی باتوں سے ظاہر ہوجاتا ہے ۱۲ منہ ۔
عــــــہ۱ : نفاق دو قسم ہے : عقدی وعملی نفاق عملی کے بیان میں فقیر نے ایك رسالہ حافلہ مسمی بہ ابناء الخداق بمسالك النفاق (۱۳۰۹ھ)لکھا اور آیات واحادیث کثیرہ وغزیرہ سے اس کے وجوہ وصور کو ظاہر کیا جو اس رسالہ کے غیر میں مجموعا نہ ملیں گی وہاں سے ان حضرات کے نفاق کا ثبوت لیجئے ۱۲ منہ
عــــــہ۲ : اﷲ تو فرمائے رسول کے حضور چلا کر نہ بولو جیسے ایك دوسرے کے سامنے چلاتے ہو اﷲ فرمائے رسول کا پکارنا ایك دوسرے کا سا پکارنا نہ ٹھہرالو تقویۃ الایمان والا کہے رسول کی ایسی ہی تعریف کرو جیسی باھم ایك دوسرے کی کرتے ہو بلکہ اس میں بھی کمی کرو انا ﷲ وانا الیہ راجعونo
عــــــہ۳ : قال اﷲ تعالی :
“ قد بدت البغضاء من افوہہم وما تخفی صدورہم اکبر قد بینا لکم الایت ان کنتم تعقلون﴿۱۱۸﴾ ہانتم اولاء تحبونہم و لا یحبونکم وتؤمنون بالکتب کلہ و اذا لقوکم قالوا امنا٭ و اذا خلوا عضوا علیکم الانامل من الغیظ قل موتوا بغیظکم ان اللہ علیم بذات الصدور﴿۱۱۹﴾ “ ظاہر ہوچکی ہے دشمنی ان کی باتوں سے اور وہ جو ان کے دلوں میں دبی ہے اس سے بھی زیادہ ہے ہم نے صاف بیان فرمادیں تمھارے لئے نشانیاں اگر تمھیں سمجھ ہو دیکھو یہ جو تم ہوتم تو انھیں چاہتے ہو اور وہ تمھیں نہیں چاہتے اور تم پوری کتاب پر ایمان لاتے ہو اور جب وہ تم سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں ہم مسلمان ہیں اور جب تنہا ہوتے ہیں تو تم پر غضب میں اپنی انگلیاں چباتے ہیں تو فرمادے مرجاؤ گھٹ گھٹ کر خدا خوب جانتاہے دلوں کی بات۔
اقول : ا س آیت سے بھی دو۲ فائدے ملے :
ایک : یہ کہ دل کے بخار کے ساتھ زبانی اقرار کلمہ گوئی کی پکار کوئی چیز نہیں۔
دوسرے : یہ کہ دل کا بخار زبانی باتوں سے ظاہر ہوجاتا ہے ۱۲ منہ ۔
حوالہ / References
القرآن الکریم ۴ /۱۱۹
استحوذ عــــــہ۱ علیکم الشیطن فانساکم ذکر اﷲ وتعظیم الرسول وقد نطق القران بخذلانکم * زاد فاء کم الشیطن نقطا من شینہ وتاء کم التدویر دائرۃ نونہ فاراکم تقویۃ الایمان فی تفویت ایمانکم * “ ما کان اللہ لیذر المؤمنین علی ما انتم علیہ حتی یمیز الخبیث من الطیب “ وما اﷲ بغافل عن کفرانکم * فلاورب محمد لاتؤمنون عــــــہ۲ حتی یکون احب الیکم من والد کم وولد کم والناس اجمعین والروح بین جسمانکم * صلی اﷲ تعالی وبارك وسلم علیہ والہ الکرام وصحبہ العظام وخادمی سنۃ القیام بردزیغکم و طغیانکم * ورزقناحبہ الصادق فی غایۃ الاعظام وادامۃ ذکرہ الی یوم القیام وان کان فیہ رغم انوفکم واسخان اعیانکم * امین یا ارحم الراحمین * والحمد ﷲ رب العلمین وصلی اﷲ تعالی علی سیدنا ومولنا محمد والہ واصحابہ اجمعین۔
عــــــہ۱ : قال اﷲ تعالی : “ استحوذ علیہم الشیطن فانسىہم ذکر اللہ اولئک حزب الشیطن الا ان حزب الشیطن ہم الخسرون ﴿۱۹﴾ “ غالب آگیا ان پر شیطان سو بھلادی ان کو خدا کی یاد وہ شیطان کے گروہ ہیں سن لو شیطان ہی کے گروہ نقصان میں ہیں۔
علمائے مدینہ طیبہ نے وہابیہ کے حق میں یہی آیت لکھی اور خود حدیث صحیح بخاری سے ان کا قرن شیطان ہونا ثابت ہے ۱۲ منہ
عــــــہ۲ : صحیح بخاری وصحیح مسلم ومسند امام احمد وسنن نسائی وابن ماجہ میں حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہسے ہے رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں :
لایومن احدکم حتی اکون احب الیہ من والدہ وولدہ والناس اجمعین ۔ تم میں کوئی مسلمان نہیں ہوتا جب تك میں اسے اس کے ماں باپ اور سارے جہان سے زیادہ پیار ا نہ ہوں۔
اللھم بحبہ لك وحبك اجعل حب احب الینا من حب الظمآن للماء البارد ومن حبنا انفسنا یا ارحم الراحمین۔ امین ۱۲منہ
عــــــہ۱ : قال اﷲ تعالی : “ استحوذ علیہم الشیطن فانسىہم ذکر اللہ اولئک حزب الشیطن الا ان حزب الشیطن ہم الخسرون ﴿۱۹﴾ “ غالب آگیا ان پر شیطان سو بھلادی ان کو خدا کی یاد وہ شیطان کے گروہ ہیں سن لو شیطان ہی کے گروہ نقصان میں ہیں۔
علمائے مدینہ طیبہ نے وہابیہ کے حق میں یہی آیت لکھی اور خود حدیث صحیح بخاری سے ان کا قرن شیطان ہونا ثابت ہے ۱۲ منہ
عــــــہ۲ : صحیح بخاری وصحیح مسلم ومسند امام احمد وسنن نسائی وابن ماجہ میں حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہسے ہے رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں :
لایومن احدکم حتی اکون احب الیہ من والدہ وولدہ والناس اجمعین ۔ تم میں کوئی مسلمان نہیں ہوتا جب تك میں اسے اس کے ماں باپ اور سارے جہان سے زیادہ پیار ا نہ ہوں۔
اللھم بحبہ لك وحبك اجعل حب احب الینا من حب الظمآن للماء البارد ومن حبنا انفسنا یا ارحم الراحمین۔ امین ۱۲منہ
حوالہ / References
القرآن الکریم ۳ /۱۷۹
القرآن الکریم ۵۸ /۱۹
صحیح البخاری کتاب الایمان باب من الایمان ان یحب لاخیہ الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۶ ، صحیح مسلم کتاب الایمان باب وجوب محبۃ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۴۹
القرآن الکریم ۵۸ /۱۹
صحیح البخاری کتاب الایمان باب من الایمان ان یحب لاخیہ الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۶ ، صحیح مسلم کتاب الایمان باب وجوب محبۃ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۴۹
ترجمہ خطبہ
تمام تعریفیں اﷲ تعالی کے لئے جس نے اپنارسول بھیجا گواہ اور خوشی اور ڈرسناتا ہوا تاکہ تم ایمان لاؤ اﷲ تعالی پر اور اس کے رسول صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمپراور تم اس کی تعظیم اور توقیر اپنے دل اور زبان سے بجالاؤ تو اﷲ تعالی نے ان کی تعظیم وتوقیر اور اعزاز کو تمھارے ایمان اور دین حق کا مضبوط رکن بنایا۔ اورتم پر حرام کیا ہے کہ تم اپنی آوازوں کو نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی آواز پر بلند کرو یا تم ان کے حضور اس طرح چلا کر بولوجس طرح تم آپس میں ایك دوسرے کے سامنے چلاتے ہو کہیں تمھارے اعمال اکارت نہ ہوجائیں اورتمھیں اپنے خسارے کی خبر نہ ہو اور اﷲ تعالی نے ان کی اطاعت کو اپنی اطاعت اوران کی بیعت کو اپنی بیعت بنایا تو اگر تم اپنے نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی بیعت کرو تو تمھارے ہاتھ پررحمان کا ہاتھ ہے اور اﷲ تعالی نے اپنے اسم کریم کے ساتھ ان کا اسم پاك ملایا غنی کرنے عطاکرنے عطاکی امید کرنے آگے ہونے فیصلہ کرنے مخالف ہونے راضی ہونے اور خلوص وایذا میں تمھارے قرآن پاك میں اور اﷲ تعالی نے ان کی شان بلند فرمائی اور ان کی عظمت مکانی فرمائی تو یوں اﷲ تعالی نے ان کے معاملہ کو ان کے ماسوا سے ممتاز فرمایا۔ تو ان کی شان تمھارے ترازو سے ماوراء ہے کیا تم کنکر کو موتی یا خون کو مشك یا بھس کو پھول قرارد و گے تو بیشك تمھارے رب نے تمھیں راہنمائی دی ہے کہ تم رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکو پکارنا ایسا نہ ٹھہراؤ جیسا تم آپس میں ایك دوسرے کو پکارتے ہو خواہ تمھارا باپ ہو یا آقا ہو یا بادشاہ ہو اور اﷲ تعالی نے ان لوگوں کے بارے میں جو زبان درازی ان کی شان میں کرتے ہیں فرمایا کیا تم اﷲ تعالی اور اس کی آیات اوراس کے رسول کے معاملہ میں ٹھٹھا کرتے ہو بہانے نہ بناؤ تم کافر ہوچکے ہو اپنے ایمان کے بعد اے سرکش منافقو فاسقو تمھارے بڑے نے خیال ظاہر کیا کہ رسول اﷲ کی مدح تمھاری آپس میں ایك دوسرے کی مدح کے مساوی بلکہ اس سے بھی کم ہے یہ تو تمھارے خیال میں ہے جبکہ بغض تمھارے منہ سے ظاہر ہوگیا ہے جو تمھارے دلوں میں ہے وہ اس سے بھی خطرناك ہے اور اﷲ تعالی تمھارے حسد کو ظاہر فرمانے والا ہے تم پر شیطان غالب آگیا ہے اس نے تم کو اﷲ تعالی کی یاد اور رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی تعظیم بھلادی ہے اور بلاشك قرآن نے تمھاری رسوائی بیان فرمادی پس شیطان نے تمھاری فاء پر اپنے شین کے نقطوں میں ایك نقطہ بڑھادیا اور تمھاری تاء کا دائرہ اپنے نون کے دائرہ سے بڑھادیا تو شیطان نے تمھیں ایمان کے ضائع کرنے میں ایمان کی تقویت دکھائی مومنوں کو اﷲ تعالی اس حال پر نہ چھوڑے گا جس پر تم اب ہو جب تك خبیث کو طیب سے جدا نہ کردے اور اﷲ تعالی تمھارے کفر سے غافل نہیں محمد صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے رب کی قسم تم مومن نہیں ہوسکتے جب تك وہ تمھارے والد۔ اولاد تمام لوگوں اور تمھارے روحوں سے زیادہ محبوب نہ ہوں۔ صلی اﷲ تعالی وبارك وسلم علیہ
تمام تعریفیں اﷲ تعالی کے لئے جس نے اپنارسول بھیجا گواہ اور خوشی اور ڈرسناتا ہوا تاکہ تم ایمان لاؤ اﷲ تعالی پر اور اس کے رسول صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمپراور تم اس کی تعظیم اور توقیر اپنے دل اور زبان سے بجالاؤ تو اﷲ تعالی نے ان کی تعظیم وتوقیر اور اعزاز کو تمھارے ایمان اور دین حق کا مضبوط رکن بنایا۔ اورتم پر حرام کیا ہے کہ تم اپنی آوازوں کو نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی آواز پر بلند کرو یا تم ان کے حضور اس طرح چلا کر بولوجس طرح تم آپس میں ایك دوسرے کے سامنے چلاتے ہو کہیں تمھارے اعمال اکارت نہ ہوجائیں اورتمھیں اپنے خسارے کی خبر نہ ہو اور اﷲ تعالی نے ان کی اطاعت کو اپنی اطاعت اوران کی بیعت کو اپنی بیعت بنایا تو اگر تم اپنے نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی بیعت کرو تو تمھارے ہاتھ پررحمان کا ہاتھ ہے اور اﷲ تعالی نے اپنے اسم کریم کے ساتھ ان کا اسم پاك ملایا غنی کرنے عطاکرنے عطاکی امید کرنے آگے ہونے فیصلہ کرنے مخالف ہونے راضی ہونے اور خلوص وایذا میں تمھارے قرآن پاك میں اور اﷲ تعالی نے ان کی شان بلند فرمائی اور ان کی عظمت مکانی فرمائی تو یوں اﷲ تعالی نے ان کے معاملہ کو ان کے ماسوا سے ممتاز فرمایا۔ تو ان کی شان تمھارے ترازو سے ماوراء ہے کیا تم کنکر کو موتی یا خون کو مشك یا بھس کو پھول قرارد و گے تو بیشك تمھارے رب نے تمھیں راہنمائی دی ہے کہ تم رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکو پکارنا ایسا نہ ٹھہراؤ جیسا تم آپس میں ایك دوسرے کو پکارتے ہو خواہ تمھارا باپ ہو یا آقا ہو یا بادشاہ ہو اور اﷲ تعالی نے ان لوگوں کے بارے میں جو زبان درازی ان کی شان میں کرتے ہیں فرمایا کیا تم اﷲ تعالی اور اس کی آیات اوراس کے رسول کے معاملہ میں ٹھٹھا کرتے ہو بہانے نہ بناؤ تم کافر ہوچکے ہو اپنے ایمان کے بعد اے سرکش منافقو فاسقو تمھارے بڑے نے خیال ظاہر کیا کہ رسول اﷲ کی مدح تمھاری آپس میں ایك دوسرے کی مدح کے مساوی بلکہ اس سے بھی کم ہے یہ تو تمھارے خیال میں ہے جبکہ بغض تمھارے منہ سے ظاہر ہوگیا ہے جو تمھارے دلوں میں ہے وہ اس سے بھی خطرناك ہے اور اﷲ تعالی تمھارے حسد کو ظاہر فرمانے والا ہے تم پر شیطان غالب آگیا ہے اس نے تم کو اﷲ تعالی کی یاد اور رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی تعظیم بھلادی ہے اور بلاشك قرآن نے تمھاری رسوائی بیان فرمادی پس شیطان نے تمھاری فاء پر اپنے شین کے نقطوں میں ایك نقطہ بڑھادیا اور تمھاری تاء کا دائرہ اپنے نون کے دائرہ سے بڑھادیا تو شیطان نے تمھیں ایمان کے ضائع کرنے میں ایمان کی تقویت دکھائی مومنوں کو اﷲ تعالی اس حال پر نہ چھوڑے گا جس پر تم اب ہو جب تك خبیث کو طیب سے جدا نہ کردے اور اﷲ تعالی تمھارے کفر سے غافل نہیں محمد صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے رب کی قسم تم مومن نہیں ہوسکتے جب تك وہ تمھارے والد۔ اولاد تمام لوگوں اور تمھارے روحوں سے زیادہ محبوب نہ ہوں۔ صلی اﷲ تعالی وبارك وسلم علیہ
وعلی آلہ الکرام وصحابتہ العظام اور ساتھ ہی تمھاری سرکشی اور غلط روی کے رد کرنے کی سنت پر قائم خدام پر سلام و برکات ہوں اور اﷲ تعالی ہمیں انتہائی تعظیم کے ساتھ آپ کی سچی محبت اور قیامت تك آپ کا دائمی ذکر عطا فرمائے اگرچہ اس میں تمھاری ناکیں آلود اور تمھاری آنکھیں بیمار ہوں آمین یا ارحم الراحمین والحمد ﷲ رب العالمین وصلی اﷲ تعالی علی سیدنا ومولانا محمد وآلہ واصحابہ اجمعین۔ (ترجمہ خطبہ ختم ہوا یہاں سے جواب شروع ہے)
بلا شبہہ وہابیہ مذکورین اور ان کے پیشوائے مسطور پربوجوہ کثیر قطعا یقینا کفرلازم اور حسب تصریحات جماہیر فقہائے کرام اصحاب فتاوی اکابر واعلام رحمہم اﷲ الملك المنعام ان پر حکم کفر ثابت وقائم اور بظاہر ان کا کلمہ پڑھنا اس حکم کانافی اور ان کو نافع نہیں ہوسکتا آدمی فقط زبان سے کلمہ پڑھے یا اپنے آپ کو مسلمان کہنے سے مسلمان نہیں ہوتا جبکہ اس کا قول یا فعل اس کے دعوے کا مکذب ہوگیا اگر کوئی شخص اپنے آپ کو مسلمان کہے کلمہ پـڑھے بلکہ نماز وروزہ حج زکوۃ بھی اداکرے باینہمہ خدا اور رسول کی باتیں جھٹلائے یا خدا اور رسول وقرآن کی جناب میں گستاخیاں کرے یا زنار باندھے بت کے لئے سجدے میں گرے تو وہ مسلمان قرار پاسکتایا عادت کے طورپر وہ کلمہ پڑھنا اس کے کام آسکتاہے ہر گز نہیں۔ ہم ابھی حاشیہ خطبہ میں یہ مضمون آیات قرآنیہ سے ثابت کرچکے۔ درمختار مطبع ہاشمی ص ۳۱۸ :
لواتی بھما علی وجہ العادۃ لم ینفعہ مالم یتبرأ ۔ اگر عادت کے طورپر کلمہ پڑھا تونفع نہ دے گا جب تك اپنی اس کفری بات سے توبہ نہ کرے۔
امام الوہابیہ کا خود اپنے اقرار سے کافر ہونا نیز سب وہابیہ کا اپنے امام کی تصریح سے کافر ٹھہرنا
ان کے مذہبی عقیدوں اور ان کے پیشوائے مذہب کی کتابوں میں بکثرت کلمات کفریہ ہیں جن کی تفصیل کو دفتر درکار ا ور ان کے پیشوانے اپنی کتاب تقویۃ الایمان میں(جسے یہ لو گ معاذاﷲ کتاب آسمانی کی مثل جانتے اور اپنے مذہب کی مقدس کتاب مانتے ہیں)اپنے اور اپنے سب پیرووں کے کھلم کھلا کافرہونے کا صاف اقرار کیا ہے میں پہلے ان کا وہ اقرار ی کفر نقل کروں پھر بطور نمونہ صرف ستر کفریات ان کے اور لکھوں رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے ایك حدیث میں ختم دنیا کا حال ارشاد فرمایا ہے کہ زمانہ فنا نہ ہوگا جب تك لات وعزی کی پھر پرستش نہ ہواور وہ یوں ہوگی کہ اﷲ تعالی ایك پاکیزہ ہوابھیجے گا جو ساری دنیا سے مسلمانوں کو اٹھا لے گی جس کے دل میں رائی برابر بھی ایمان ہوگا وہ اٹھا لیاجائے گا جب زمین میں نرے کافر رہ جائیں گے پھر بتوں کی پوجا بدستور ہوجائے گی ۔
تقویۃ الایمان مطبع فاروقی دہلی ۱۲۹۳ھ ص ۴۴ پر یہ حدیث بحوالہ مشکوۃ نقل کی اورخود اس کا
بلا شبہہ وہابیہ مذکورین اور ان کے پیشوائے مسطور پربوجوہ کثیر قطعا یقینا کفرلازم اور حسب تصریحات جماہیر فقہائے کرام اصحاب فتاوی اکابر واعلام رحمہم اﷲ الملك المنعام ان پر حکم کفر ثابت وقائم اور بظاہر ان کا کلمہ پڑھنا اس حکم کانافی اور ان کو نافع نہیں ہوسکتا آدمی فقط زبان سے کلمہ پڑھے یا اپنے آپ کو مسلمان کہنے سے مسلمان نہیں ہوتا جبکہ اس کا قول یا فعل اس کے دعوے کا مکذب ہوگیا اگر کوئی شخص اپنے آپ کو مسلمان کہے کلمہ پـڑھے بلکہ نماز وروزہ حج زکوۃ بھی اداکرے باینہمہ خدا اور رسول کی باتیں جھٹلائے یا خدا اور رسول وقرآن کی جناب میں گستاخیاں کرے یا زنار باندھے بت کے لئے سجدے میں گرے تو وہ مسلمان قرار پاسکتایا عادت کے طورپر وہ کلمہ پڑھنا اس کے کام آسکتاہے ہر گز نہیں۔ ہم ابھی حاشیہ خطبہ میں یہ مضمون آیات قرآنیہ سے ثابت کرچکے۔ درمختار مطبع ہاشمی ص ۳۱۸ :
لواتی بھما علی وجہ العادۃ لم ینفعہ مالم یتبرأ ۔ اگر عادت کے طورپر کلمہ پڑھا تونفع نہ دے گا جب تك اپنی اس کفری بات سے توبہ نہ کرے۔
امام الوہابیہ کا خود اپنے اقرار سے کافر ہونا نیز سب وہابیہ کا اپنے امام کی تصریح سے کافر ٹھہرنا
ان کے مذہبی عقیدوں اور ان کے پیشوائے مذہب کی کتابوں میں بکثرت کلمات کفریہ ہیں جن کی تفصیل کو دفتر درکار ا ور ان کے پیشوانے اپنی کتاب تقویۃ الایمان میں(جسے یہ لو گ معاذاﷲ کتاب آسمانی کی مثل جانتے اور اپنے مذہب کی مقدس کتاب مانتے ہیں)اپنے اور اپنے سب پیرووں کے کھلم کھلا کافرہونے کا صاف اقرار کیا ہے میں پہلے ان کا وہ اقرار ی کفر نقل کروں پھر بطور نمونہ صرف ستر کفریات ان کے اور لکھوں رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے ایك حدیث میں ختم دنیا کا حال ارشاد فرمایا ہے کہ زمانہ فنا نہ ہوگا جب تك لات وعزی کی پھر پرستش نہ ہواور وہ یوں ہوگی کہ اﷲ تعالی ایك پاکیزہ ہوابھیجے گا جو ساری دنیا سے مسلمانوں کو اٹھا لے گی جس کے دل میں رائی برابر بھی ایمان ہوگا وہ اٹھا لیاجائے گا جب زمین میں نرے کافر رہ جائیں گے پھر بتوں کی پوجا بدستور ہوجائے گی ۔
تقویۃ الایمان مطبع فاروقی دہلی ۱۲۹۳ھ ص ۴۴ پر یہ حدیث بحوالہ مشکوۃ نقل کی اورخود اس کا
حوالہ / References
درمختار باب المرتد مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۳۵۶
مشکوٰۃ المصابیح باب لاتقوم الساعۃ الا علی شرار الناس مطبع مجتبائی دہلی نصف ثانی ص۴۸۱
مشکوٰۃ المصابیح باب لاتقوم الساعۃ الا علی شرار الناس مطبع مجتبائی دہلی نصف ثانی ص۴۸۱
ترجمہ کیا کہ :
''پھر بھیجے گا اﷲ ایك باؤ اچھی سوجان نکال لے گی جن کے دل میں ہوگا ایك رائی کے دانہ بھر ایمان سو رہ جائیں گے وہی لوگ جن میں کچھ بھلائی نہیں۔ سوپھر جائیں گے اپنے باپ دادوں کے دین پر۔ ''
حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے یہ بھی صراحۃ ارشاد فرمایا تھا کہ ''وہ ہوا خروج دجال لعین ونزول عیسی مسیح علیہ الصلوۃ والسلام کے بعد آئے گی ۔
تقویۃ الایمان میں حدیث کے یہ الفاظ بھی خود ہی نقل کئے اور اس کا ترجمہ کیا ص ۴۵ : ''نکلے گا دجال سو بھیجے گا اﷲ عیسی بیٹے مریم کو سووہ ڈھونڈے گا اس کو پھر تباہ کردے گا اس کو پھر بھیجے گا اﷲ ایك باؤ ٹھنڈی شام کی طرف سے سونہ باقی رہے گا زمین پر کوئی کہ اس کے دل میں ذرہ بھر ایمان ہو مگر مار ڈالے گی اس کو۔ ''
باینہمہ حدیث مذکور لکھ کر اسی صفحہ پر صاف لکھ دیا : ''سو پیغمبر خدا کے فرمانے کے موافق ہوا۔ ''
اب نہ خروج دجال کی حاجت رہی نہ نزول عیسی کی ضرورت بلکہ ان کے نصیبوں کے لئے وہ ہوا بھی چل گئی تمام مسلمانوں کے کافر مشرك بنانے کے لئے ختم دنیا کی حدیث صاف صاف اپنے زمانہ موجودہ پر جمادی اور کچھ پروا نہ کی کہ جب یہ وہی زمانہ ہے جس کی اس حدیث نے خبر دی اور وہ ہوا چل چکی اور جس کے دل میں رائی برابربھی ایمان تھا مرگیا اب تمام دنیا میں نرے کافر ہی کافر رہ گئے ہیں تو یہ شخص خود اور اس کے سارے پیر وکیا دنیا کے پردے سے کہیں الگ بستے ہیں یہ خود اپنے اقرار سے ٹھیٹ کافر پکے بت پرست ہیں یہ خود ان کا اقراری کفر تھا اب گنئے کہ علمائے کرام فقہائے عظام کی صریح تصریحوں سے ان پر کتنی وجہ سے کفر لازم :
کفریہ ۱ : یہی اقرار کفرکہ جو اپنے کفر کا اقرار کرے وہ سچ کافرہے نوازل فقیہ ابواللیث پھر خلاصہ پھر تکملہ لسان الحکام مطبوعہ مصر ص ۵۷ : رجل قال انا ملحد یکفر جو اپنے الحاد کا اقرار کرے وہ کافرہے۔
''پھر بھیجے گا اﷲ ایك باؤ اچھی سوجان نکال لے گی جن کے دل میں ہوگا ایك رائی کے دانہ بھر ایمان سو رہ جائیں گے وہی لوگ جن میں کچھ بھلائی نہیں۔ سوپھر جائیں گے اپنے باپ دادوں کے دین پر۔ ''
حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے یہ بھی صراحۃ ارشاد فرمایا تھا کہ ''وہ ہوا خروج دجال لعین ونزول عیسی مسیح علیہ الصلوۃ والسلام کے بعد آئے گی ۔
تقویۃ الایمان میں حدیث کے یہ الفاظ بھی خود ہی نقل کئے اور اس کا ترجمہ کیا ص ۴۵ : ''نکلے گا دجال سو بھیجے گا اﷲ عیسی بیٹے مریم کو سووہ ڈھونڈے گا اس کو پھر تباہ کردے گا اس کو پھر بھیجے گا اﷲ ایك باؤ ٹھنڈی شام کی طرف سے سونہ باقی رہے گا زمین پر کوئی کہ اس کے دل میں ذرہ بھر ایمان ہو مگر مار ڈالے گی اس کو۔ ''
باینہمہ حدیث مذکور لکھ کر اسی صفحہ پر صاف لکھ دیا : ''سو پیغمبر خدا کے فرمانے کے موافق ہوا۔ ''
اب نہ خروج دجال کی حاجت رہی نہ نزول عیسی کی ضرورت بلکہ ان کے نصیبوں کے لئے وہ ہوا بھی چل گئی تمام مسلمانوں کے کافر مشرك بنانے کے لئے ختم دنیا کی حدیث صاف صاف اپنے زمانہ موجودہ پر جمادی اور کچھ پروا نہ کی کہ جب یہ وہی زمانہ ہے جس کی اس حدیث نے خبر دی اور وہ ہوا چل چکی اور جس کے دل میں رائی برابربھی ایمان تھا مرگیا اب تمام دنیا میں نرے کافر ہی کافر رہ گئے ہیں تو یہ شخص خود اور اس کے سارے پیر وکیا دنیا کے پردے سے کہیں الگ بستے ہیں یہ خود اپنے اقرار سے ٹھیٹ کافر پکے بت پرست ہیں یہ خود ان کا اقراری کفر تھا اب گنئے کہ علمائے کرام فقہائے عظام کی صریح تصریحوں سے ان پر کتنی وجہ سے کفر لازم :
کفریہ ۱ : یہی اقرار کفرکہ جو اپنے کفر کا اقرار کرے وہ سچ کافرہے نوازل فقیہ ابواللیث پھر خلاصہ پھر تکملہ لسان الحکام مطبوعہ مصر ص ۵۷ : رجل قال انا ملحد یکفر جو اپنے الحاد کا اقرار کرے وہ کافرہے۔
حوالہ / References
تقویۃالایمان الفصل الرابع فی ذکر ردالاشراك فی العبادۃ مطبع علیمی لوہاری گیٹ لاہور ص۳۰
مشکوٰۃ المصابیح باب لاتقوم الساعۃ الاعلی شرار الناس مطبع مجتبائی دہلی نصف ثانی ص۴۸۱
تقویۃ الایمان الفصل الرابع فی ذکر ردالاشراك فی العبادۃ مطبع علیمی لوہاری گیٹ لاہور ص۳۱
تقویۃ الایمان الفصل الرابع فی ذکر ردالاشراك فی العبادۃ مطبع علیمی لوہاری گیٹ لاہور ص۳۰
خلاصۃ الفتاوٰی کتاب الفاظ الکفر فصل ثانی جنس خامس مکتبۃ حبیبیہ کوئٹہ ۴ / ۳۸۷
مشکوٰۃ المصابیح باب لاتقوم الساعۃ الاعلی شرار الناس مطبع مجتبائی دہلی نصف ثانی ص۴۸۱
تقویۃ الایمان الفصل الرابع فی ذکر ردالاشراك فی العبادۃ مطبع علیمی لوہاری گیٹ لاہور ص۳۱
تقویۃ الایمان الفصل الرابع فی ذکر ردالاشراك فی العبادۃ مطبع علیمی لوہاری گیٹ لاہور ص۳۰
خلاصۃ الفتاوٰی کتاب الفاظ الکفر فصل ثانی جنس خامس مکتبۃ حبیبیہ کوئٹہ ۴ / ۳۸۷
اشباہ فن ثانی کتاب السیر باب الردۃ :
قیل لھاانت کافرۃ فقالت انا کافرۃ کفرت ۔ کسی نے کہا توکافر ہ ہے کہامیں کافرہ ہوں وہ کافرہ ہوگئی۔
فتاوی عالمگیری مطبع مصر ۱۳۱۰ھ جلد ۲ ص ۲۷۹ :
مسلم قال انا ملحد یکفر ولوقال ماعلمت انہ کفر لایعذر بھذا ۔ ایك مسلمان اپنے ملحد ہونے کا اقرار کرے کافر ہوجائے گا اور اگر کہے کہ میں نہ جانتاتھا کہ اس میں مجھ پر کفر عائد ہوگا تو یہ عذر نہ سنا جائے۔
کفریہ ۲ : اسی قول میں تمام امت کو کافر مانا یہ خود کفرہے شفاء شریف امام قاضی عیاض ص ۳۶۲ و ص ۳۶۳ :
نقطع بتکفیر کل قائل قال قولا یتوصل بہ الی تضلیل الامۃ ۔ جوکوئی ایسی بات کہے جس سے تمام امت کو گمراہ ٹھہرانے کی طرف راہ نکلے وہ یقینا کافر ہے۔
کفریہ ۳ : تقویۃ الایمان ص ۲۰ : “ غیب کا دریافت کرنا اپنے اختیار میں ہو کہ جب چاہے کرلیجئے یہ اﷲ صاحب کی ہی شان ہے۔ “ ۔ یہاں اﷲ سبحنہ کے علم کو لازم وضروری نہ جانا اور معاذاﷲ اس کا جہل ممکن مانا کہ غیب کا دریافت کرنا اسی کے اختیار میں ہے چاہے دریافت کرلے چاہے جاہل رہے۔ یہ صریح کلمہ کفر ہے عالمگیری ج ۲ ص ۲۵۸ :
یکفر اذا وصف اﷲ تعالی بما لایلیق بہ اونسبہ الی الجھل اوالعجز اوالنقص اھ جو شخص اﷲ تعالی کی ایسی شان بیا ن کرے جو اس کے لائق نہیں یا اسے جہل یا عجز یا کسی ناقص بات کی طرف نسبت کرے وہ کافر ہے۔
بحرالرائق مطبع مصر ج ۵ ص ۱۲۹ بزازیہ مطبع مصر ج ۳ ص ۳۲۳ جامع الفصولین
قیل لھاانت کافرۃ فقالت انا کافرۃ کفرت ۔ کسی نے کہا توکافر ہ ہے کہامیں کافرہ ہوں وہ کافرہ ہوگئی۔
فتاوی عالمگیری مطبع مصر ۱۳۱۰ھ جلد ۲ ص ۲۷۹ :
مسلم قال انا ملحد یکفر ولوقال ماعلمت انہ کفر لایعذر بھذا ۔ ایك مسلمان اپنے ملحد ہونے کا اقرار کرے کافر ہوجائے گا اور اگر کہے کہ میں نہ جانتاتھا کہ اس میں مجھ پر کفر عائد ہوگا تو یہ عذر نہ سنا جائے۔
کفریہ ۲ : اسی قول میں تمام امت کو کافر مانا یہ خود کفرہے شفاء شریف امام قاضی عیاض ص ۳۶۲ و ص ۳۶۳ :
نقطع بتکفیر کل قائل قال قولا یتوصل بہ الی تضلیل الامۃ ۔ جوکوئی ایسی بات کہے جس سے تمام امت کو گمراہ ٹھہرانے کی طرف راہ نکلے وہ یقینا کافر ہے۔
کفریہ ۳ : تقویۃ الایمان ص ۲۰ : “ غیب کا دریافت کرنا اپنے اختیار میں ہو کہ جب چاہے کرلیجئے یہ اﷲ صاحب کی ہی شان ہے۔ “ ۔ یہاں اﷲ سبحنہ کے علم کو لازم وضروری نہ جانا اور معاذاﷲ اس کا جہل ممکن مانا کہ غیب کا دریافت کرنا اسی کے اختیار میں ہے چاہے دریافت کرلے چاہے جاہل رہے۔ یہ صریح کلمہ کفر ہے عالمگیری ج ۲ ص ۲۵۸ :
یکفر اذا وصف اﷲ تعالی بما لایلیق بہ اونسبہ الی الجھل اوالعجز اوالنقص اھ جو شخص اﷲ تعالی کی ایسی شان بیا ن کرے جو اس کے لائق نہیں یا اسے جہل یا عجز یا کسی ناقص بات کی طرف نسبت کرے وہ کافر ہے۔
بحرالرائق مطبع مصر ج ۵ ص ۱۲۹ بزازیہ مطبع مصر ج ۳ ص ۳۲۳ جامع الفصولین
حوالہ / References
الاشباہ والنظائر کتاب السیر باب الردۃ ادارۃ القرآن کراچی ۱ / ۲۴۹
فتاوٰی ہندیہ الباب التاسع فی احکام المرتدین نورانی کتب خانہ پشاور ۲ / ۲۷۹
الشفاء بتعریف حقوق المصطفی فصل فی بیان ماھو من المقالات المطبعۃ الشرکۃ الصحافیۃ فی البلاد العثمانیہ ۲ / ۲۷۱
تقویۃ الایمان الفصل الثانی فی رداالاشراك فی العلم مطبع علیمی اندرون لوہاری گیٹ لاہور ص۱۴
فتاوٰی ہندیہ الباب التاسع فی احکام المرتدین نورانی کتب خانہ پشاور ۲ / ۲۵۸
فتاوٰی ہندیہ الباب التاسع فی احکام المرتدین نورانی کتب خانہ پشاور ۲ / ۲۷۹
الشفاء بتعریف حقوق المصطفی فصل فی بیان ماھو من المقالات المطبعۃ الشرکۃ الصحافیۃ فی البلاد العثمانیہ ۲ / ۲۷۱
تقویۃ الایمان الفصل الثانی فی رداالاشراك فی العلم مطبع علیمی اندرون لوہاری گیٹ لاہور ص۱۴
فتاوٰی ہندیہ الباب التاسع فی احکام المرتدین نورانی کتب خانہ پشاور ۲ / ۲۵۸
مطبع مصر ج ۲ ص ۲۹۸ :
لووصف اﷲ تعالی بما لا یلیق بہ کفر ۔ اگر اﷲ تعالی کی شان میں ایسی بات کہی جو اس کے لائق نہیں کافر ہوگیا۔
کفریہ ۴ : “ جب چاہے دریافت کرنے “ کا صاف یہ مطلب کہ ابھی تك دریافت ہوا نہیں ہاں اختیار عــــــہ ہے کہ جب چاہے دریافت کرلے تو علم الہی قدیم نہ ہوا ور یہ کھلا کفرہے۔ عالمگیری ج ۲ ص ۲۶۲ :
لو قال علم خدائے قدیم نیست یکفر کذا فی التتار خانیۃ اھ ملخصا۔ جو علم خد اکو قدیم نہ مانے وہ کافر ہے ایسا ہی تار تارخانیہ میں ہے اھ ملخصا۔
کفریہ ۵ : ایضاح الحق مطبع فاروقی دہلی ۱۲۹۷ھ ص ۳۵ و ۳۶ :
تنزیہ او تعالی از زمان ومکان وجہۃ واثبات رؤیت بلاجہت ومحاذات(الی قولہ)ہمہ از قبیل بدعات حقیقیہ است اگر صاحب آں اعتقادات مذکورہ را از جنس عقائد دینیہ مے شمارد اھ ملخصا۔ اﷲ تعالی کو زمان ومکان اور جہت سے پاك قرار دینا اور اس کا دیدار بلاجہت وکیف ثابت کرنا(آگے یوں کہا)یہ تمام امور از قبیل بدعت حقیقیہ ہیں اگر کوئی شخص ان مذکورہ اعتقادات کو دینی اعتقاد شمار کرے اھ ملخصا(ت)
اس میں صاف تصریح کی ہے کہ اﷲ تعالی کو زمان ومکان وجہت سے پاك جاننا اور اس کا دیدار بلا کیف ماننا بدعت وضلالت ہے اس میں ا س نے تمام ائمہ کرام وپیشوایا ن مذہب اسلام کوبدعتی وگمراہ بتایا۔ شاہ عبدالعزیز صاحب تحفہ اثناء عشریہ مطبوعہ کلکتہ ۱۳۴۳ھ ص ۲۵۵ میں فرماتے ہیں :
عقیدہ سیزدہم آنکہ حق تعالی رامکان نیست واوراجہتے از فوق وتحت متصور نیست وہمینست مذہب اہل سنت وجماعت ۔ تیرھواں عقیدہ یہ ہے کہ اﷲ تعالی کے لئے مکان اورفوق وتحت کی جہت متصور نہیں ہے اور یہی اہل سنت وجماعت کا مذہب ہے(ت)
عــــــہ : اس کے متعلق شرح عقائد وفقہ اکبر وشرح فقہ اکبر کی عبارات کفریہ ۱۰ کے رد میں دیکھئے ۱۲منہ
لووصف اﷲ تعالی بما لا یلیق بہ کفر ۔ اگر اﷲ تعالی کی شان میں ایسی بات کہی جو اس کے لائق نہیں کافر ہوگیا۔
کفریہ ۴ : “ جب چاہے دریافت کرنے “ کا صاف یہ مطلب کہ ابھی تك دریافت ہوا نہیں ہاں اختیار عــــــہ ہے کہ جب چاہے دریافت کرلے تو علم الہی قدیم نہ ہوا ور یہ کھلا کفرہے۔ عالمگیری ج ۲ ص ۲۶۲ :
لو قال علم خدائے قدیم نیست یکفر کذا فی التتار خانیۃ اھ ملخصا۔ جو علم خد اکو قدیم نہ مانے وہ کافر ہے ایسا ہی تار تارخانیہ میں ہے اھ ملخصا۔
کفریہ ۵ : ایضاح الحق مطبع فاروقی دہلی ۱۲۹۷ھ ص ۳۵ و ۳۶ :
تنزیہ او تعالی از زمان ومکان وجہۃ واثبات رؤیت بلاجہت ومحاذات(الی قولہ)ہمہ از قبیل بدعات حقیقیہ است اگر صاحب آں اعتقادات مذکورہ را از جنس عقائد دینیہ مے شمارد اھ ملخصا۔ اﷲ تعالی کو زمان ومکان اور جہت سے پاك قرار دینا اور اس کا دیدار بلاجہت وکیف ثابت کرنا(آگے یوں کہا)یہ تمام امور از قبیل بدعت حقیقیہ ہیں اگر کوئی شخص ان مذکورہ اعتقادات کو دینی اعتقاد شمار کرے اھ ملخصا(ت)
اس میں صاف تصریح کی ہے کہ اﷲ تعالی کو زمان ومکان وجہت سے پاك جاننا اور اس کا دیدار بلا کیف ماننا بدعت وضلالت ہے اس میں ا س نے تمام ائمہ کرام وپیشوایا ن مذہب اسلام کوبدعتی وگمراہ بتایا۔ شاہ عبدالعزیز صاحب تحفہ اثناء عشریہ مطبوعہ کلکتہ ۱۳۴۳ھ ص ۲۵۵ میں فرماتے ہیں :
عقیدہ سیزدہم آنکہ حق تعالی رامکان نیست واوراجہتے از فوق وتحت متصور نیست وہمینست مذہب اہل سنت وجماعت ۔ تیرھواں عقیدہ یہ ہے کہ اﷲ تعالی کے لئے مکان اورفوق وتحت کی جہت متصور نہیں ہے اور یہی اہل سنت وجماعت کا مذہب ہے(ت)
عــــــہ : اس کے متعلق شرح عقائد وفقہ اکبر وشرح فقہ اکبر کی عبارات کفریہ ۱۰ کے رد میں دیکھئے ۱۲منہ
حوالہ / References
جامع الفصولین الفصل الثامن والثلاثون فی مسائل کلمات الکفر اسلامی کتب خانہ بنوری ٹاؤن کراچی ۲ / ۲۹۸
فتاوی ہندیہ الباب التاسع فی احکام المرتدین نورانی کتب خانہ پشاور ۲ / ۲۶۲
ایضاح الحق(مترجم اردو) فائدہ اول پہلا مسئلہ قدیمی کتب خانہ کراچی ص۷۷ و ۷۸
تحفہ اثنا عشریہ باب پنجم درالہیات سہیل اکیڈمی لاہور ص۱۴۱
فتاوی ہندیہ الباب التاسع فی احکام المرتدین نورانی کتب خانہ پشاور ۲ / ۲۶۲
ایضاح الحق(مترجم اردو) فائدہ اول پہلا مسئلہ قدیمی کتب خانہ کراچی ص۷۷ و ۷۸
تحفہ اثنا عشریہ باب پنجم درالہیات سہیل اکیڈمی لاہور ص۱۴۱
بحرالرائق ج ۵ ص ۱۲۹ عالمگیری ج ۲ ص ۲۵۹ :
یکفر باثبات المکان ﷲ تعالی ۔ اﷲ تعالی کے لئے مکان ثابت کرنے سے آدمی کافر ہوجاتا ہے۔
فتاوی قاضی خاں فخر المطابع ج ۴ ص ۴۳ :
رجل قال خدائے بر آسمان میداند کہ من چیزے ندارم یکون کفرا لان اﷲ تعالی منزہ عن المکان ۔ کسی نے کہا کہ خدا آسمان پر جانتا ہے کہ میرے پاس کچھ نہیں۔ کافر ہوگیا۔ ا س لئے کہ اﷲ تعالی مکان سے پاك ہے۔
خلاصہ کتاب الفاظ الکفر فصل ۲ جنس ۲ :
لو قال نرد بان بنہ وبرآسمان برآئے وباخدائے جنگ کن یکفر لانہ اثبت المکان ﷲ تعالی ۔ اگر کوئی یوں کہے کہ سیڑھی لگاؤ اور آسمان پر جاکر خداسے جنگ کرو توکافر ہوجائے گا اس لئے کہ اس نے اﷲ تعالی
کے لئے مکان مانا۔ (ت)
کفریہ ۶ : رسالہ یکروزی فاروقی ص ۱۵۵ :
بعداخبار ممکن ست کہ ایشان رافراموش گردانیدہ شود پس قول بامکان وجود مثل اصلا منجر بتکذیب نصی از نصوص نگرددوسلب قرآن مجید بعد انزال ممکن ست ۔ خبر دینے کے بعد ممکن ہے کہ اﷲ تعالی اسے بھلادے پس حضو رعلیہ الصلوۃ والسلام کی ہم مثل ثابت کرنا ہر گز نصوص میں سے کسی نص کی تکذیب نہیں اور قرآن پاك کے نازل کرنے کے بعد اس کا سلب ہوجانا ممکن ہے۔ (ت)
اہل حق نے کہا تھا کہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکامثل یعنی تمام صفات کمالیہ میں حضور کا شریك وہمسر محال ہے اور بعض علماء اس پر دلیل لائے تھے کہ اﷲ عزوجل نے حضور اقدس صلی اﷲ
یکفر باثبات المکان ﷲ تعالی ۔ اﷲ تعالی کے لئے مکان ثابت کرنے سے آدمی کافر ہوجاتا ہے۔
فتاوی قاضی خاں فخر المطابع ج ۴ ص ۴۳ :
رجل قال خدائے بر آسمان میداند کہ من چیزے ندارم یکون کفرا لان اﷲ تعالی منزہ عن المکان ۔ کسی نے کہا کہ خدا آسمان پر جانتا ہے کہ میرے پاس کچھ نہیں۔ کافر ہوگیا۔ ا س لئے کہ اﷲ تعالی مکان سے پاك ہے۔
خلاصہ کتاب الفاظ الکفر فصل ۲ جنس ۲ :
لو قال نرد بان بنہ وبرآسمان برآئے وباخدائے جنگ کن یکفر لانہ اثبت المکان ﷲ تعالی ۔ اگر کوئی یوں کہے کہ سیڑھی لگاؤ اور آسمان پر جاکر خداسے جنگ کرو توکافر ہوجائے گا اس لئے کہ اس نے اﷲ تعالی
کے لئے مکان مانا۔ (ت)
کفریہ ۶ : رسالہ یکروزی فاروقی ص ۱۵۵ :
بعداخبار ممکن ست کہ ایشان رافراموش گردانیدہ شود پس قول بامکان وجود مثل اصلا منجر بتکذیب نصی از نصوص نگرددوسلب قرآن مجید بعد انزال ممکن ست ۔ خبر دینے کے بعد ممکن ہے کہ اﷲ تعالی اسے بھلادے پس حضو رعلیہ الصلوۃ والسلام کی ہم مثل ثابت کرنا ہر گز نصوص میں سے کسی نص کی تکذیب نہیں اور قرآن پاك کے نازل کرنے کے بعد اس کا سلب ہوجانا ممکن ہے۔ (ت)
اہل حق نے کہا تھا کہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکامثل یعنی تمام صفات کمالیہ میں حضور کا شریك وہمسر محال ہے اور بعض علماء اس پر دلیل لائے تھے کہ اﷲ عزوجل نے حضور اقدس صلی اﷲ
حوالہ / References
بحرالرائق باب احکام ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۵ / ۱۲۰ ، فتاوٰی ہندیہ الباب التاسع فی احکام المرتدین نورانی کتب خانہ پشاور ۲ / ۲۵۹
فتاوٰی قاضی خاں کتاب السیر باب مایکون کفر امن المسلم الخ نولکشور لکھنؤ ۴ / ۸۸۴
خلاصۃ الفتاوٰی کتاب الفاظ الکفر فصل ۲ جنس ۲ مکتبۃ حبیبیہ کوئٹہ ۴ / ۳۸۴
رسالہ یکروزی(فارسی) فاروقی کتب خانہ ملتان ص۱۷
فتاوٰی قاضی خاں کتاب السیر باب مایکون کفر امن المسلم الخ نولکشور لکھنؤ ۴ / ۸۸۴
خلاصۃ الفتاوٰی کتاب الفاظ الکفر فصل ۲ جنس ۲ مکتبۃ حبیبیہ کوئٹہ ۴ / ۳۸۴
رسالہ یکروزی(فارسی) فاروقی کتب خانہ ملتان ص۱۷
تعالی علیہ وسلم کو خاتم النبیین فرمایا اگر حضور کا مثل بمعنی مذکورر ممکن ہو تومعاذاﷲ کذب الہی لازم آئے اس کے جواب میں شخص مذکور نے وہ کفری بول بولا کہ اگر اﷲ تعالی قرآن مجید دلوں سے بھلا کر ایسا کرے تو کس نص کی تکذیب ہوگی یہاں صاف اقرار کردیا کہ اﷲ عزوجل کی بات واقع میں جھوٹی ہو جانے میں تو حرج نہیں حرج اس میں ہے کہ بندے اس کے جھوٹ پر مطلع ہوں اگر انھیں بھلا کر اپنی بات جھوٹی کردے تو تکذیب کہاں سے آئیگی کہ اب کسی کو وہ نص یاد ہی نہیں جو جھوٹ ہوجانا بتائے غرض سارا ڈر بندوں کا ہے جب ان کی مت ماردی پھر پرواکیا تعالی اﷲ عما یقول الظلمون علوا کبیرا۔ ظالموں کی باتوں سے اﷲ تعالی بہت بلند ہے۔ ت)شفاء شریف ص ۳۶۱ :
من دان بالو حدانیۃ وصحۃ النبوۃ و نبوۃ نبینا صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ولکن جوز علی الانبیاء الکذب فیما اتوابہ ادعی فی ذلك المصلحۃ بزعمہ اولم یدعھا فھوکافر باجماع ۔ جو اﷲ تعالی کی وحدانیت نبوت کی حقانیت ہمارے نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی نبوت کا اعتقاد رکھتاہو بااینہمہ انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام پر ان باتوں میں کہ وہ اپنے رب کے پاس سے لائے کذب جائز مانے خواہ بزعم خود اس میں کسی مصلحت کا ادعا کرے یا نہ کرے ہر طرح بالاتفاق کافرہے۔
حضرات انبیاء علیہم افضل الصلوۃ والثناء کا کذب جائز ماننے والا بالاتفاق کافر ہوا اﷲ عزوجل کا کذب جائز ماننے والا کیونکر بالاجماع کا فر مرتد نہ ہوگا اس مسئلے میں شخص مذکور اوراس کا کاسہ لیسوں کے اقوال سخت ہولناك وبیباك وناپاك ہیں جن کی تفصیل وتشریح اور ان کے رد بلیغ کی تنقیح ہماری کتاب سبحن السبوح عن عیب کذب مقبوح(۱۳۰۷ھ)سے روشن۔
کفریہ ۷ : یکروزی ص ۱۴۵ :
لانسلم کہ کذب مذکور محال بمعنی مسطور باشد چہ مقدمہ قضیہ غیر مطابقہ للواقع والقائے آں برملئك و انبیاء خارج از قدرت الہیہ نیست والالازم آید کہ قدرت انسانی ازید ازقدرت ربانی باشد ۔ اﷲ تعالی کے لئے مذکور کذب کوہم محال نہیں مانتے کیونکہ واقع کے خلاف کوئی قضیہ وخبر بنانا اور اس کو فرشتوں اور انبیاء پر القاء کرنا اﷲ تعالی کی قدرت سے خارج نہیں ورنہ لازم آئیگا کہ انسانی قدرت اﷲ تعالی کی قدرت سے زاید ہو جائے۔ (ت)
من دان بالو حدانیۃ وصحۃ النبوۃ و نبوۃ نبینا صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ولکن جوز علی الانبیاء الکذب فیما اتوابہ ادعی فی ذلك المصلحۃ بزعمہ اولم یدعھا فھوکافر باجماع ۔ جو اﷲ تعالی کی وحدانیت نبوت کی حقانیت ہمارے نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی نبوت کا اعتقاد رکھتاہو بااینہمہ انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام پر ان باتوں میں کہ وہ اپنے رب کے پاس سے لائے کذب جائز مانے خواہ بزعم خود اس میں کسی مصلحت کا ادعا کرے یا نہ کرے ہر طرح بالاتفاق کافرہے۔
حضرات انبیاء علیہم افضل الصلوۃ والثناء کا کذب جائز ماننے والا بالاتفاق کافر ہوا اﷲ عزوجل کا کذب جائز ماننے والا کیونکر بالاجماع کا فر مرتد نہ ہوگا اس مسئلے میں شخص مذکور اوراس کا کاسہ لیسوں کے اقوال سخت ہولناك وبیباك وناپاك ہیں جن کی تفصیل وتشریح اور ان کے رد بلیغ کی تنقیح ہماری کتاب سبحن السبوح عن عیب کذب مقبوح(۱۳۰۷ھ)سے روشن۔
کفریہ ۷ : یکروزی ص ۱۴۵ :
لانسلم کہ کذب مذکور محال بمعنی مسطور باشد چہ مقدمہ قضیہ غیر مطابقہ للواقع والقائے آں برملئك و انبیاء خارج از قدرت الہیہ نیست والالازم آید کہ قدرت انسانی ازید ازقدرت ربانی باشد ۔ اﷲ تعالی کے لئے مذکور کذب کوہم محال نہیں مانتے کیونکہ واقع کے خلاف کوئی قضیہ وخبر بنانا اور اس کو فرشتوں اور انبیاء پر القاء کرنا اﷲ تعالی کی قدرت سے خارج نہیں ورنہ لازم آئیگا کہ انسانی قدرت اﷲ تعالی کی قدرت سے زاید ہو جائے۔ (ت)
حوالہ / References
الشفاء بتعریف حقوق المصطفٰی فصل فی بیان ماھومن المقالات المطبعۃ الشرکۃ الصحافیہ فی البلاد العثمانیہ ۲ / ۲۶۹
رسالہ یکروزی(فارسی) فارقی کتب خانہ ملتان ص۱۷
رسالہ یکروزی(فارسی) فارقی کتب خانہ ملتان ص۱۷
اس میں صاف تصریح ہے کہ جو کچھ آدمی اپنے لئے کرسکتاہے وہ سب خدائے پاك کی ذات پر بھی رواہے جس میں کھانا پینا سونا پاخانا پھرنا پیشاب کرنا چلنا ڈوبنا مرنا سب کچھ داخل۔ لہذا اس قول خبیث کے کفریات حد شمار سے خارج۔
کفریہ ۸ : یکروزی ص۱۴۵ :
عدم کذب را از کمالات حضرت حق سبحنہ میشمارند واوراجل شانہ بآں مدح می کنند بر خلاف اخرس و جماد وصفت کمال ہمیں ست کہ شخصے قدرت برتکلم بکلام کاذب دارد وبنا بر رعایت مصلحت ومقتضائے حکمت بتنزہ از شوب کذب تکلم بکلام کاذب ننماید ہماشخص ممدوح می گردد بخلاف کسے کہ لسان او ماؤف شدہ یا ہر گاہ ارادہ تکلم بکلام کاذب نماید آواز بند گرددیا کسے دہن اورابند نماید ایں اشخاص نزد عقلا قابل مدح نیستند بالجملہ عدم تکلم کلام کاذب ترفعا عن عیب الکذب وتنزہا عن التلوث بہ از صفا ت مدح ست اھ ملخصا۔ عدم کذب کو اﷲ تعالی کے لئے کمالات میں سے شمار کرتے ہیں اور عدم کذب کو گونگے اور جماد کے مقابلہ میں اﷲ تعالی کی مدح بتاتے ہیں اور جبکہ صفت کمال یہ ہے کہ کسی شخص کو جھوٹ بولنے پر قدرت ہو تووہ مصلحت اور حکمت کی بنا پر جھوٹی بات کہنے سے گریز کرے تو ایسا شخص مدح کا مستحق ہوتاہے اس کے برخلاف کوئی ایسا شخص کہ اس کی زبان ناکارہ ہو یا جب وہ جھوٹی بات کہنے کا ارادہ کرے تو اس کی آواز بند ہوجائے یا دوسرا کوئی اس وقت تك اس کا منہ بند کردے تو ایسے لوگ عقلاء کے ہاں مدح کے قابل نہیں ہوتے غرضیکہ جھوٹ کے عیب سے بچنا اور اپنے آپ کو جھوٹ میں ملوث نہ کرنا مدح کی صفات میں سے ہے اھ ملخصا(ت)
اس میں صاف اقرار ہے کہ اﷲ عزوجل کا جھوٹ بولنا ممتنع بالغیر بلکہ محال عادی بھی نہیں کہ گونگے کا بولنا ہر گز نہ محال بالذات نہ ممتنع بالغیر نہ ممتنع عقلی نہ محال شرعی صرف محال عادی ہے اور وہ تصریح کرتاہے کہ اﷲ تعالی کا جھوٹ بولنا ایسا بھی نہیں جیسے گونگے کا بولنا کہ اﷲ تعالی کی تو اس سے مدح کرتے ہیں اور گونگے کی نہیں توضرور ہواکہ کذب الہی محال عادی بھی نہ ہو یہ صریح کفر ہے اور اس میں ایمان ودین وشرائع سب کا ابطال کہ جب خدا پر جھوٹ ہر طرح روا ہے تو اس کی کسی بات پر اطمینان کیا ہے۔
کفریہ ۹ : اسی قول میں صراحۃ مان لیاکہ اﷲ تعالی میں عیب والآئش کا آنا جائز ہے مگر مصلحۃ ترفع کے لئے
کفریہ ۸ : یکروزی ص۱۴۵ :
عدم کذب را از کمالات حضرت حق سبحنہ میشمارند واوراجل شانہ بآں مدح می کنند بر خلاف اخرس و جماد وصفت کمال ہمیں ست کہ شخصے قدرت برتکلم بکلام کاذب دارد وبنا بر رعایت مصلحت ومقتضائے حکمت بتنزہ از شوب کذب تکلم بکلام کاذب ننماید ہماشخص ممدوح می گردد بخلاف کسے کہ لسان او ماؤف شدہ یا ہر گاہ ارادہ تکلم بکلام کاذب نماید آواز بند گرددیا کسے دہن اورابند نماید ایں اشخاص نزد عقلا قابل مدح نیستند بالجملہ عدم تکلم کلام کاذب ترفعا عن عیب الکذب وتنزہا عن التلوث بہ از صفا ت مدح ست اھ ملخصا۔ عدم کذب کو اﷲ تعالی کے لئے کمالات میں سے شمار کرتے ہیں اور عدم کذب کو گونگے اور جماد کے مقابلہ میں اﷲ تعالی کی مدح بتاتے ہیں اور جبکہ صفت کمال یہ ہے کہ کسی شخص کو جھوٹ بولنے پر قدرت ہو تووہ مصلحت اور حکمت کی بنا پر جھوٹی بات کہنے سے گریز کرے تو ایسا شخص مدح کا مستحق ہوتاہے اس کے برخلاف کوئی ایسا شخص کہ اس کی زبان ناکارہ ہو یا جب وہ جھوٹی بات کہنے کا ارادہ کرے تو اس کی آواز بند ہوجائے یا دوسرا کوئی اس وقت تك اس کا منہ بند کردے تو ایسے لوگ عقلاء کے ہاں مدح کے قابل نہیں ہوتے غرضیکہ جھوٹ کے عیب سے بچنا اور اپنے آپ کو جھوٹ میں ملوث نہ کرنا مدح کی صفات میں سے ہے اھ ملخصا(ت)
اس میں صاف اقرار ہے کہ اﷲ عزوجل کا جھوٹ بولنا ممتنع بالغیر بلکہ محال عادی بھی نہیں کہ گونگے کا بولنا ہر گز نہ محال بالذات نہ ممتنع بالغیر نہ ممتنع عقلی نہ محال شرعی صرف محال عادی ہے اور وہ تصریح کرتاہے کہ اﷲ تعالی کا جھوٹ بولنا ایسا بھی نہیں جیسے گونگے کا بولنا کہ اﷲ تعالی کی تو اس سے مدح کرتے ہیں اور گونگے کی نہیں توضرور ہواکہ کذب الہی محال عادی بھی نہ ہو یہ صریح کفر ہے اور اس میں ایمان ودین وشرائع سب کا ابطال کہ جب خدا پر جھوٹ ہر طرح روا ہے تو اس کی کسی بات پر اطمینان کیا ہے۔
کفریہ ۹ : اسی قول میں صراحۃ مان لیاکہ اﷲ تعالی میں عیب والآئش کا آنا جائز ہے مگر مصلحۃ ترفع کے لئے
حوالہ / References
رسالہ یکروزی(فارسی) فارقی کتب خانہ ملتان ص۱۸۔ ۱۷
اس سے بچتا ہے یہ صراحۃ اﷲ عزوجل کو قابل ہر گونہ نقص وعیب وآلودگی ماننا ہے کہ یہ بھی مثل کفریہ ہفتم ہزاروں کفریات کا خمیر ہ ہے۔ عالمگیری قول مذکورہ درکفریہ ۳ اعلام بقو اطع الاسلام مطبع مصر ۱۲۹۲ھ ص ۱۵ :
من نفی اواثبت ماھو صریح فی النقص کفر ۔ جو اﷲ تعالی کی شان میں کوئی ایسی بات نہ یا ہاں کہے جس میں کھلی منقصت ہو کا فر ہوجائے۔
کفریہ ۱۰ : اس قول میں صدق الہی بلکہ اس کی سب صفات کمال کو اختیاری مانا کہ مصلحت عیب و آلائش سے بچنے کو اختیار کیا ہے جس طرح کفریہ ۳ میں صفت علم غیب کو صراحۃ اختیاری کہا تھا اور جو چیز اختیاری ہو ضرور حادث ونو پیداہوگی شرح عقائد النسفی طبع قدیم ص ۲۲ :
الصادر عن الشیئ بالقصد والاختیار یکون حادثا بالضرورۃ ۔ جوکسی سے اس کے قصد و اختیار سے صادر ہو وہ بالبداہت حادث ہوگا۔ اور صفات الہی کو حادث ٹھہرانا کلمہ کفر ہے۔
فقہ اکبر حضرت امام اعظم ابو حنیفہ وشرح فقہ اکبر ملا علی قاری طبع حنفی ۱۲۶۹ھ ص ۲۹ :
صفاتہ فی الازل غیر محدثۃ ولامخلوقہ فمن قال انھا مخلوقۃ او محدثۃ اووقف فیہا اوشك فیھا فھو کافر باﷲ تعالی اﷲ تعالی کی سب صفتیں ازلی ہیں نہ وہ نو پیدا ہیں نہ مخلوق تو جو انھیں مخلوق یا حادث بتائے یا اس میں توقف یا شك کرے وہ کافر ہے۔
کفر ۱۱ تا ۱۹ : اسی قول میں صاف بتایا کہ جن چیزوں کی نفی سے اﷲ تعالی کی مدح کی جاتی ہے وہ سب باتیں اﷲ عزوجل کے لئے ہوسکتی ہیں ورنہ تعریف نہ ہوتی تو اﷲ تعالی کے لئے ۱۱سونا ۱۲اونگھنا ۱۳بہکنا ۱۴بھولنا ۱۵جورو ۱۶بیٹا ۱۷بندوں سے ڈرنا ۱۸کسی کو اپنی بادشاہی کا شریك کرلینا ۱۹ذلت وخواری کے باعث دوسرے کو اپنا بازو بنانا وغیرہ سب کچھ روا ٹھہر اکہ ان سب باتوں کی نفی سے اﷲ تعالی کی مدح کی جاتی ہے آیت “ لا تاخذہ سنۃ ولا نوم “ نہ اسے اونگھ آتی ہے نہ نیند۔ آیت “ لایضل ربی
من نفی اواثبت ماھو صریح فی النقص کفر ۔ جو اﷲ تعالی کی شان میں کوئی ایسی بات نہ یا ہاں کہے جس میں کھلی منقصت ہو کا فر ہوجائے۔
کفریہ ۱۰ : اس قول میں صدق الہی بلکہ اس کی سب صفات کمال کو اختیاری مانا کہ مصلحت عیب و آلائش سے بچنے کو اختیار کیا ہے جس طرح کفریہ ۳ میں صفت علم غیب کو صراحۃ اختیاری کہا تھا اور جو چیز اختیاری ہو ضرور حادث ونو پیداہوگی شرح عقائد النسفی طبع قدیم ص ۲۲ :
الصادر عن الشیئ بالقصد والاختیار یکون حادثا بالضرورۃ ۔ جوکسی سے اس کے قصد و اختیار سے صادر ہو وہ بالبداہت حادث ہوگا۔ اور صفات الہی کو حادث ٹھہرانا کلمہ کفر ہے۔
فقہ اکبر حضرت امام اعظم ابو حنیفہ وشرح فقہ اکبر ملا علی قاری طبع حنفی ۱۲۶۹ھ ص ۲۹ :
صفاتہ فی الازل غیر محدثۃ ولامخلوقہ فمن قال انھا مخلوقۃ او محدثۃ اووقف فیہا اوشك فیھا فھو کافر باﷲ تعالی اﷲ تعالی کی سب صفتیں ازلی ہیں نہ وہ نو پیدا ہیں نہ مخلوق تو جو انھیں مخلوق یا حادث بتائے یا اس میں توقف یا شك کرے وہ کافر ہے۔
کفر ۱۱ تا ۱۹ : اسی قول میں صاف بتایا کہ جن چیزوں کی نفی سے اﷲ تعالی کی مدح کی جاتی ہے وہ سب باتیں اﷲ عزوجل کے لئے ہوسکتی ہیں ورنہ تعریف نہ ہوتی تو اﷲ تعالی کے لئے ۱۱سونا ۱۲اونگھنا ۱۳بہکنا ۱۴بھولنا ۱۵جورو ۱۶بیٹا ۱۷بندوں سے ڈرنا ۱۸کسی کو اپنی بادشاہی کا شریك کرلینا ۱۹ذلت وخواری کے باعث دوسرے کو اپنا بازو بنانا وغیرہ سب کچھ روا ٹھہر اکہ ان سب باتوں کی نفی سے اﷲ تعالی کی مدح کی جاتی ہے آیت “ لا تاخذہ سنۃ ولا نوم “ نہ اسے اونگھ آتی ہے نہ نیند۔ آیت “ لایضل ربی
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ الباب التاسع فی احکام المرتدین نورانی کتب خانہ پشاور ۲ / ۲۵۸ ، اعلام بقواطع الاسلام مع سبل النجاۃ مکتبۃ دارالشفقت استنبول ترکی ص۳۵۱
شرح العقائدالنسفیہ دارالاشاعۃ العربیہ قندھار افغانستان ص۲۳
الروض الازھر شرح الفقہ الاکبر الباری جل شانہ موصوف فی الازل الخ مصطفی البابی مصر ص۲۵
القرآن الکریم ۲ /۲۵۵
شرح العقائدالنسفیہ دارالاشاعۃ العربیہ قندھار افغانستان ص۲۳
الروض الازھر شرح الفقہ الاکبر الباری جل شانہ موصوف فی الازل الخ مصطفی البابی مصر ص۲۵
القرآن الکریم ۲ /۲۵۵
و لاینسی ﴿۫۵۲﴾ “ نہ میرا رب بہکے نہ بھولے۔ آیت “ ما اتخذ صحبۃ و لا ولدا ﴿۳﴾ “ اﷲ نے کسی کو اپنی جورو بنایا نہ بیٹا۔ آیت و لا یخاف عقبىہا ﴿۱۵﴾ “ اﷲ کو ثمود کے پیچھے کا خوف نہیں۔ آیت “ و لم یکن لہ شریک فی الملک و لم یکن لہ ولی من الذل “ نہ کوئی باد شاہی میں اس کا ساجھی نہ کوئی دباؤ کے سبب اس کا حمایتی۔ یہ سب صریح کفرہیں۔
کفریہ ۲۰ و ۲۱ : صراط مستقیم مطبع ضیائی ۱۲۸۵ھ ص ۱۷۵ :
نسبت پیر خودتا اینکہ روزے حضرت جل و علادست راست ایشاں رابدست قدرت خاص خود گرفتہ و چیزے رااز امور قدسیہ کہ بس رفیع بدیع بود پیش روے حضرت ایشاں کردہ فرمود کہ ترا ایں چنیں دادہ ام و چیز ہائے دیگر خواہم داد ۔ اپنے پیر کی نسبت یہاں تك کہ ایك روز ان کا دایاں ہاتھ اﷲ نے اپنے خاص دست قدرت میں پکڑا اور امور قدسیہ کی بلند وبالا چیز کو ان کے سامنے پیش کرکے فرمایا کہ تجھے میں نے یہ چیز دے دی اور مزید چیزیں دوں گا۔ (ت)
ص ۱۳ : مکالمہ ومسامرہ بدست مے آید (مکالمہ اور گفتگو حاصل ہوگی۔ ت)
ص ۱۵۴ : گاہے کلام حقیقی ہم مے شود عــــــہ (اور کبھی کلام حقیقی بھی ہوتی ہے۔ ت)شفاء شریف ص ۳۶۰ :
من اعترف بالھیۃ اﷲ تعالی ووحد انیتہ و لکنہ ادعی لہ ولد اوصاحبتہ فذلك کفر باجماع المسلمین وکذلك من ادعی مجالسۃ جو اﷲ تعالی کی الوہیت و توحید کا تو قائل ہومگر اس کے لئے جو رو یا بچہ ٹھہرائے وہ باجماع مسلمین کافرہے اسی طرح جو اﷲ تعالی کے ساتھ ہمنشینی
عــــــہ : یہ صراحۃ اپنے پیر وغیرہ کو نبی بتاناہے ۱۲ سل السیوف۔
کفریہ ۲۰ و ۲۱ : صراط مستقیم مطبع ضیائی ۱۲۸۵ھ ص ۱۷۵ :
نسبت پیر خودتا اینکہ روزے حضرت جل و علادست راست ایشاں رابدست قدرت خاص خود گرفتہ و چیزے رااز امور قدسیہ کہ بس رفیع بدیع بود پیش روے حضرت ایشاں کردہ فرمود کہ ترا ایں چنیں دادہ ام و چیز ہائے دیگر خواہم داد ۔ اپنے پیر کی نسبت یہاں تك کہ ایك روز ان کا دایاں ہاتھ اﷲ نے اپنے خاص دست قدرت میں پکڑا اور امور قدسیہ کی بلند وبالا چیز کو ان کے سامنے پیش کرکے فرمایا کہ تجھے میں نے یہ چیز دے دی اور مزید چیزیں دوں گا۔ (ت)
ص ۱۳ : مکالمہ ومسامرہ بدست مے آید (مکالمہ اور گفتگو حاصل ہوگی۔ ت)
ص ۱۵۴ : گاہے کلام حقیقی ہم مے شود عــــــہ (اور کبھی کلام حقیقی بھی ہوتی ہے۔ ت)شفاء شریف ص ۳۶۰ :
من اعترف بالھیۃ اﷲ تعالی ووحد انیتہ و لکنہ ادعی لہ ولد اوصاحبتہ فذلك کفر باجماع المسلمین وکذلك من ادعی مجالسۃ جو اﷲ تعالی کی الوہیت و توحید کا تو قائل ہومگر اس کے لئے جو رو یا بچہ ٹھہرائے وہ باجماع مسلمین کافرہے اسی طرح جو اﷲ تعالی کے ساتھ ہمنشینی
عــــــہ : یہ صراحۃ اپنے پیر وغیرہ کو نبی بتاناہے ۱۲ سل السیوف۔
حوالہ / References
القرآن الکریم ۲۰ /۵۲
القرآن الکریم ۷۲ /۳
القرآن الکریم ۹۱ /۱۵
القرآن الکریم ۱۷ /۱۱۱
صراط مستقیم باب چہارم خاتمہ دربیان پارہ از واردات الخ المکتبۃ السلفیہ لاہور ص۱۶۴
صراط مستقیم ہدایت رابعہ دربیان ثمرات حب عشقی المکتبۃ السلفیہ لاہور ص۱۲
صراط مستقیم باب سوم فصل چہارم تکملہ دربیان سلوك المکتبۃ السلفیہ لاہور ص۱۴۳
القرآن الکریم ۷۲ /۳
القرآن الکریم ۹۱ /۱۵
القرآن الکریم ۱۷ /۱۱۱
صراط مستقیم باب چہارم خاتمہ دربیان پارہ از واردات الخ المکتبۃ السلفیہ لاہور ص۱۶۴
صراط مستقیم ہدایت رابعہ دربیان ثمرات حب عشقی المکتبۃ السلفیہ لاہور ص۱۲
صراط مستقیم باب سوم فصل چہارم تکملہ دربیان سلوك المکتبۃ السلفیہ لاہور ص۱۴۳
اﷲ تعالی والعروج الیہ ومکالمتہ ا ھ ملخصا۔ اس تك صعود اس سے باتیں کرنے کا مدعی ہو۔
ص ۳۶۲ :
وکذلك من ادعی منھم انہ یوحی الیہ وان لم یدع النبوۃ اوانہ یصعد الی السماء ویدخل الجنۃ ویاکل من ثمارھا ویعانق الحور العین فھؤلاء کلھم کفار مکذبون للنبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ۔ اسی طرح جھوٹا متصوف دعوی کرے کہ اﷲ تعالی اسے وحی کرتاہے اگرچہ نبوت کا مدعی نہ ہو یا یہ کہ وہ آسمان تك چڑھتاہے جنت میں جاتا اس کے پھل کھاتا حوروں کو گلے لگاتاہے یہ سب کافر ہیں رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی تکذیب کرنے والے۔
حوروں سے اس معانقہ کے دعوے پر تو یہ حکم ہے خود رب العزت سے ہاتھ ملاکر مصافحہ پر کیا حکم ہوگا۔ تحفہ اثناعشریہ ص ۲۹۹ :
درحین بعثت بلکہ درحین مناجات ومکالمہ کہ اعلائے مراتب قرب بشری باجناب خداوندی ست ۔ نبی کی بعثت کے وقت بلکہ مکالمہ اورمناجات کے وقت جو کہ اﷲ تعالی کے ہاں بشری قرب کا اعلی مرتبہ ہے۔ (ت)
اس ترقی سے صاف ظاہر کہ مکالمہ کا مرتبہ نفس نبوت سے خاص تر ہے تو دنیا میں کسی کے لئے اﷲ عزوجل سے کلام حقیقی کا دعوی صراحۃ اس کی نبوت کا دعوی ہے تفسیر عزیزی سورہ بقرہ مطبع کلکتہ ۱۲۴۹ھ ص ۴۲۳ زیر قولہ تعالی
“ وقال الذین لایعلمون لولا یکلمنا اللہ “ :
منشائے ایں گفتگوے ایشاں جہل ست زیر اکہ نمی فہمند کہ رتبہ ہمکلامی باخدائے عزوجل بس بلندست ہنوز بہ پائہ اولین آں کہ ایمان ست نرسیدہ اند وآن رتبہ مختص ست بملائکہ وانبیاء علیہم الصلوۃ والسلام وغیرہ ایشاں راہرگز میسر نمی شود پس فرمائش ہمکلامی باخدا گویا فرمائش آنست کہ تاہمہ راپیغمبراں ان کی اس گفتگو کا منشاء جہالت ہے کیونکہ وہ یہ نہ سمجھے کہ اﷲ تعالی کے ساتھ ہم کلامی کا رتبہ بہت بلند ہے یہ لوگ ابھی ایمان کی ابتداء کو نہیں پہنچے حالانکہ وہ رتبہ ہمکلامی فرشتوں اور انبیاء کو ہی حاصل ہے کسی دوسرے کوہر گز میسر نہیں ہے تو اﷲ تعالی سے ہمکلامی کی فرمائش کرنا گویا یہ فرمائش ہے کہ وہ
ص ۳۶۲ :
وکذلك من ادعی منھم انہ یوحی الیہ وان لم یدع النبوۃ اوانہ یصعد الی السماء ویدخل الجنۃ ویاکل من ثمارھا ویعانق الحور العین فھؤلاء کلھم کفار مکذبون للنبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ۔ اسی طرح جھوٹا متصوف دعوی کرے کہ اﷲ تعالی اسے وحی کرتاہے اگرچہ نبوت کا مدعی نہ ہو یا یہ کہ وہ آسمان تك چڑھتاہے جنت میں جاتا اس کے پھل کھاتا حوروں کو گلے لگاتاہے یہ سب کافر ہیں رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی تکذیب کرنے والے۔
حوروں سے اس معانقہ کے دعوے پر تو یہ حکم ہے خود رب العزت سے ہاتھ ملاکر مصافحہ پر کیا حکم ہوگا۔ تحفہ اثناعشریہ ص ۲۹۹ :
درحین بعثت بلکہ درحین مناجات ومکالمہ کہ اعلائے مراتب قرب بشری باجناب خداوندی ست ۔ نبی کی بعثت کے وقت بلکہ مکالمہ اورمناجات کے وقت جو کہ اﷲ تعالی کے ہاں بشری قرب کا اعلی مرتبہ ہے۔ (ت)
اس ترقی سے صاف ظاہر کہ مکالمہ کا مرتبہ نفس نبوت سے خاص تر ہے تو دنیا میں کسی کے لئے اﷲ عزوجل سے کلام حقیقی کا دعوی صراحۃ اس کی نبوت کا دعوی ہے تفسیر عزیزی سورہ بقرہ مطبع کلکتہ ۱۲۴۹ھ ص ۴۲۳ زیر قولہ تعالی
“ وقال الذین لایعلمون لولا یکلمنا اللہ “ :
منشائے ایں گفتگوے ایشاں جہل ست زیر اکہ نمی فہمند کہ رتبہ ہمکلامی باخدائے عزوجل بس بلندست ہنوز بہ پائہ اولین آں کہ ایمان ست نرسیدہ اند وآن رتبہ مختص ست بملائکہ وانبیاء علیہم الصلوۃ والسلام وغیرہ ایشاں راہرگز میسر نمی شود پس فرمائش ہمکلامی باخدا گویا فرمائش آنست کہ تاہمہ راپیغمبراں ان کی اس گفتگو کا منشاء جہالت ہے کیونکہ وہ یہ نہ سمجھے کہ اﷲ تعالی کے ساتھ ہم کلامی کا رتبہ بہت بلند ہے یہ لوگ ابھی ایمان کی ابتداء کو نہیں پہنچے حالانکہ وہ رتبہ ہمکلامی فرشتوں اور انبیاء کو ہی حاصل ہے کسی دوسرے کوہر گز میسر نہیں ہے تو اﷲ تعالی سے ہمکلامی کی فرمائش کرنا گویا یہ فرمائش ہے کہ وہ
حوالہ / References
الشفاء بتعریف حقوق المصطفی فصل فی بیان ماھومن المقالات المطبعۃ الشرکہ الصحافیۃ فی البلاد العثمانیہ ۲ / ۲۶۸
الشفاء بتعریف حقوق المصطفی فصل فی بیان ماھومن المقالات المطبعۃ الشرکہ الصحافیۃ فی البلاد العثمانیہ ۲ / ۷۱۔ ۲۷۰
تحفہ اثنائے عشریہ باب ششم دربحث نبوت سہیل اکیڈمی لاہور ص۱۶۴
الشفاء بتعریف حقوق المصطفی فصل فی بیان ماھومن المقالات المطبعۃ الشرکہ الصحافیۃ فی البلاد العثمانیہ ۲ / ۷۱۔ ۲۷۰
تحفہ اثنائے عشریہ باب ششم دربحث نبوت سہیل اکیڈمی لاہور ص۱۶۴
یا فرشتہا سازد ۔ سب کو پیغمبر یا فرشتے بنادے(ت)
شرح عقائد جلالی مطبع مصر ص ۱۰۶ اس مسئلہ کی دلیل میں کہ جو شخص دنیا میں اﷲ عزوجل سے کلام حقیقی کا مدعی ہو کافر ہے۔ فرمایا :
المکالمۃ شفاھا منصب النبوۃ بل اعلی مراتبہا وفیہ مخالفۃ لما ھو من ضروریات الدین وھوانہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم خاتم النبیین علیہ افضل صلوۃ المصلین ۔ اﷲ عزوجل سے کلام حقیقی منصب نبوت بلکہ اس کے مراتب میں اعلی مرتبہ ہے توا س کے دعوے کرنےمیں بعض ضروریات دین یعنی نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے خاتم النبیین ہونے کا انکار ہے۔
کفریہ ۲۲ : صراط مستقیم ص ۱۲ :
از جملہ آں شدت تعلق قلب ست بمرشد خود استقلالا یعنی نہ بآں ملاحظہ کہ ایں شخص کہ ناوداں فیض حضرت حق وواسطہ ہدایت اوست بلکہ بحیثیت یہ کہ متعلق عشق ہماں می گردد چنانکہ یکے از اکابرایں طریق فرمود کہ اگرحق جل وعلا درغیرکسوت مرشد من تجلی فرماید ہر آئینہ مرابا اوالتفات درکارنیست ۔ ان میں سے ایك یہ کہ اپنے مرشد سے شدید قلبی مستقل تعلق یعنی یہ لحاظ نہ ہو کہ یہ مرشد اﷲ تعالی کے فیض کا ذریعہ اور اس کی ہدایت کے لئے واسطہ ہے بلکہ اس حیثیت سے کہ عشق کا تعلق کے لئے واسطہ ہو چنانچہ اس طریقت کے ایك بڑے نے فرمایا کہ اگر اﷲ تعالی مجھ پر میرے مرشد کے لباس وشکل کے بغیر تجلی فرمائے تو مجھے اس کی طرف التفات درکا رنہیں ہے۔ (ت)
شخص مذکورہ کے پیروؤں سے استفسار ہے کہ اپنے اصول پر اس کلمہ کا حکم بتائیں یا خود اسی سے پوچھیں کہ وہ ہمیشہ ایك جگہ ایك بات کہنے دوسری جگہ آپ ہی اس کو کفر وضلالت بنا دینے کا عادی ہے تقویۃ الایمان ص ۱۵۶ : “ اشر ف المخلوقات محمد رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی تو اس کے دربار میں یہ حالت ہے کہ ایك گنوار کے منہ سے اتنی بات سنتے ہی مارے دہشت کے بیحواس ہوگئے پھر کیا کہئے
شرح عقائد جلالی مطبع مصر ص ۱۰۶ اس مسئلہ کی دلیل میں کہ جو شخص دنیا میں اﷲ عزوجل سے کلام حقیقی کا مدعی ہو کافر ہے۔ فرمایا :
المکالمۃ شفاھا منصب النبوۃ بل اعلی مراتبہا وفیہ مخالفۃ لما ھو من ضروریات الدین وھوانہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم خاتم النبیین علیہ افضل صلوۃ المصلین ۔ اﷲ عزوجل سے کلام حقیقی منصب نبوت بلکہ اس کے مراتب میں اعلی مرتبہ ہے توا س کے دعوے کرنےمیں بعض ضروریات دین یعنی نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے خاتم النبیین ہونے کا انکار ہے۔
کفریہ ۲۲ : صراط مستقیم ص ۱۲ :
از جملہ آں شدت تعلق قلب ست بمرشد خود استقلالا یعنی نہ بآں ملاحظہ کہ ایں شخص کہ ناوداں فیض حضرت حق وواسطہ ہدایت اوست بلکہ بحیثیت یہ کہ متعلق عشق ہماں می گردد چنانکہ یکے از اکابرایں طریق فرمود کہ اگرحق جل وعلا درغیرکسوت مرشد من تجلی فرماید ہر آئینہ مرابا اوالتفات درکارنیست ۔ ان میں سے ایك یہ کہ اپنے مرشد سے شدید قلبی مستقل تعلق یعنی یہ لحاظ نہ ہو کہ یہ مرشد اﷲ تعالی کے فیض کا ذریعہ اور اس کی ہدایت کے لئے واسطہ ہے بلکہ اس حیثیت سے کہ عشق کا تعلق کے لئے واسطہ ہو چنانچہ اس طریقت کے ایك بڑے نے فرمایا کہ اگر اﷲ تعالی مجھ پر میرے مرشد کے لباس وشکل کے بغیر تجلی فرمائے تو مجھے اس کی طرف التفات درکا رنہیں ہے۔ (ت)
شخص مذکورہ کے پیروؤں سے استفسار ہے کہ اپنے اصول پر اس کلمہ کا حکم بتائیں یا خود اسی سے پوچھیں کہ وہ ہمیشہ ایك جگہ ایك بات کہنے دوسری جگہ آپ ہی اس کو کفر وضلالت بنا دینے کا عادی ہے تقویۃ الایمان ص ۱۵۶ : “ اشر ف المخلوقات محمد رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی تو اس کے دربار میں یہ حالت ہے کہ ایك گنوار کے منہ سے اتنی بات سنتے ہی مارے دہشت کے بیحواس ہوگئے پھر کیا کہئے
حوالہ / References
فتح العزیزی(تفسیر عزیزی) سورہ بقرہ تحت آیۃ ۲ / ۱۱۸ مطبع مجتبائی دہلی ص۴۲۷
الدوانی علی العقائد العضدیۃ بحث توبہ سے قبل مطبع مجتبائی دہلی ص۱۰۶
صراط مستقیم ہدایت ثالثہ افادہ ۲ المکتبۃ السلفیۃ لاہور ص۱۱
الدوانی علی العقائد العضدیۃ بحث توبہ سے قبل مطبع مجتبائی دہلی ص۱۰۶
صراط مستقیم ہدایت ثالثہ افادہ ۲ المکتبۃ السلفیۃ لاہور ص۱۱
ان لوگوں کو کہ اس مالك الملك سے ایك بھائی بندی کارشتہ یا دوستی آشنائی کا سا علاقہ سمجھ کر کیابڑھ بڑھ کر باتیں مارتے ہیں کوئی کہتاہے کہ اگر میرا رب میرے پیر کے سواکسی اور صورت میں ظاہر ہوں تو ہر گز اس کو نہ دیکھوں اﷲ پناہ میں رکھے ایسی ایسی باتوں سے ع
بے ادب محروم گشت از فضل رب “ ملخصا
میں کہتاہوں ہاتھ میں ہاتھ ملاکر باتیں ہونا تو بھائی بندی یا آشنائی کا سا علاقہ نہیں ع
بے ادب محروم ماندازفضل رب
کفریہ ۲۳ : تقویۃ الایمان ص ۱۴ :
“ جتنے پیغمبر آئے سو وہ اﷲ کی طرف سے یہی حکم لائے ہیں کہ اﷲ کو مانے اس کے سوا کسی کو نہ مانے “
ص ۱۶ و ۱۷ : “ اﷲ صاحب نے فرمایا کسی کو میرے سوا نہ مانیو “
ص ۱۸ : “ اﷲ کے سواکسی کو نہ مان۔ “
ص ۷ : “ اور وں کو ماننامحض خبط ہے۔ “
یہاں انبیاء وملائکہ وقیامت وجنت ونار وغیرہا تمام ایمانیات کے ماننے سے صاف انکار کیا اور اس کا افتراء اﷲ تعالی اور اس کے رسولوں پر رکھ دیا یہ کفریہ بھی صدہا کفریات کامجموعہ ہے مسلمانوں کے مذہب میں جس طرح اﷲ عزوجل کاماننا ضرور ہے یونہی ان سب کا ماننا جزء ایمان ہے ان میں جسے نہ مانے گا کافرہے۔ ہر اردو زبان والا جانتاہے کہ ماننا تسلیم وقبول واعتقاد کو کہتے ہیں ولہذا اہل زبان ایمان کا ترجمہ “ ماننا “ اور کفر کا ترجمہ “ نہ ماننا “ کرتے ہیں۔
آیت(بقرۃ) : “ ءانذرتہم ام لم تنذرہم لا یؤمنون ﴿۱۰﴾ “ ۔ موضح قرآن ترجمہ شاہ عبدالقادر : تو ڈراوے یا نہ ڈراوے وے نہ مانیں گے۔
آیت(یس) “ لقد حق القول علی اکثرہم فہم لا یؤمنون ﴿۷﴾ “
آیت(نساء) “ یؤمنون بما انزل الیک “
آیت(اعراف) “ وقطعنا دابرالذین کذبوا بایتنا وماکانوا مؤمنین ﴿۷۲﴾ “
آیت(انعام) “ و اذا جاءک الذین یؤمنون بایتنا فقل سلم علیکم “ ۔
آیت(بقرہ) “ امن الرسول بما انزل الیہ من ربہ والمؤمنون کل امن باللہ وملئکتہ وکتبہ ورسلہ ۔ موضح القرآن : ثابت ہوچکی بات ان بہتوں پر سو وے نہ مانیں گے۔
موضح القرآن : سو مانتے ہیں جو اترا تجھ پر۔
موضح القرآن : اور پچھاڑی کاٹی ان کی جو جھٹلاتے تھے ہماری آیتیں اور نہ تھے ماننے والے۔
موضح القرآن : اور جب آویں تیرے پاس ہماری آیتیں ماننے والے تو کہہ سلام ہے تم پر۔
موضح القرآن : مانارسول نے جو کچھ اترااس کے رب کی طرف سے اور مسلمانوں نے سب مانا اﷲ کو اور اس کے فرشتوں کو اور کتابوں کو اور رسولوں کو۔
بے ادب محروم گشت از فضل رب “ ملخصا
میں کہتاہوں ہاتھ میں ہاتھ ملاکر باتیں ہونا تو بھائی بندی یا آشنائی کا سا علاقہ نہیں ع
بے ادب محروم ماندازفضل رب
کفریہ ۲۳ : تقویۃ الایمان ص ۱۴ :
“ جتنے پیغمبر آئے سو وہ اﷲ کی طرف سے یہی حکم لائے ہیں کہ اﷲ کو مانے اس کے سوا کسی کو نہ مانے “
ص ۱۶ و ۱۷ : “ اﷲ صاحب نے فرمایا کسی کو میرے سوا نہ مانیو “
ص ۱۸ : “ اﷲ کے سواکسی کو نہ مان۔ “
ص ۷ : “ اور وں کو ماننامحض خبط ہے۔ “
یہاں انبیاء وملائکہ وقیامت وجنت ونار وغیرہا تمام ایمانیات کے ماننے سے صاف انکار کیا اور اس کا افتراء اﷲ تعالی اور اس کے رسولوں پر رکھ دیا یہ کفریہ بھی صدہا کفریات کامجموعہ ہے مسلمانوں کے مذہب میں جس طرح اﷲ عزوجل کاماننا ضرور ہے یونہی ان سب کا ماننا جزء ایمان ہے ان میں جسے نہ مانے گا کافرہے۔ ہر اردو زبان والا جانتاہے کہ ماننا تسلیم وقبول واعتقاد کو کہتے ہیں ولہذا اہل زبان ایمان کا ترجمہ “ ماننا “ اور کفر کا ترجمہ “ نہ ماننا “ کرتے ہیں۔
آیت(بقرۃ) : “ ءانذرتہم ام لم تنذرہم لا یؤمنون ﴿۱۰﴾ “ ۔ موضح قرآن ترجمہ شاہ عبدالقادر : تو ڈراوے یا نہ ڈراوے وے نہ مانیں گے۔
آیت(یس) “ لقد حق القول علی اکثرہم فہم لا یؤمنون ﴿۷﴾ “
آیت(نساء) “ یؤمنون بما انزل الیک “
آیت(اعراف) “ وقطعنا دابرالذین کذبوا بایتنا وماکانوا مؤمنین ﴿۷۲﴾ “
آیت(انعام) “ و اذا جاءک الذین یؤمنون بایتنا فقل سلم علیکم “ ۔
آیت(بقرہ) “ امن الرسول بما انزل الیہ من ربہ والمؤمنون کل امن باللہ وملئکتہ وکتبہ ورسلہ ۔ موضح القرآن : ثابت ہوچکی بات ان بہتوں پر سو وے نہ مانیں گے۔
موضح القرآن : سو مانتے ہیں جو اترا تجھ پر۔
موضح القرآن : اور پچھاڑی کاٹی ان کی جو جھٹلاتے تھے ہماری آیتیں اور نہ تھے ماننے والے۔
موضح القرآن : اور جب آویں تیرے پاس ہماری آیتیں ماننے والے تو کہہ سلام ہے تم پر۔
موضح القرآن : مانارسول نے جو کچھ اترااس کے رب کی طرف سے اور مسلمانوں نے سب مانا اﷲ کو اور اس کے فرشتوں کو اور کتابوں کو اور رسولوں کو۔
حوالہ / References
تقویۃ الایمان الفصل الخامس فی ردالاشراك فی العادات مطبع علیمی اندرون لوہاری گیٹ لاہور ص۳۸
تقویۃ الایمان الفصل الاول فی الاجتناب عن الاشراك مطبع علیمی اندرون لوہاری گیٹ لاہور ص۱۰
تقویۃ الایمان الفصل الاول فی الاجتناب عن الاشراك مطبع علیمی اندرون لوہاری گیٹ لاہور ص۱۲
تقویۃ الایمان الفصل الاول فی الاجتناب عن الاشراك مطبع علیمی اندرون لوہاری گیٹ لاہور ص۱۲
تقویۃ الایمان پہلا باب توحید وشرك کے بیان میں مطبع علیمی اندرون لوہاری گیٹ لاہور ص۵
القرآن الکریم ۲ /۶
موضح القرآن ترجمہ شاہ عبدالقادر تاج کمپنی کراچی ص۴
القرآن الکریم ۳۶ /۷
تقویۃ الایمان الفصل الاول فی الاجتناب عن الاشراك مطبع علیمی اندرون لوہاری گیٹ لاہور ص۱۰
تقویۃ الایمان الفصل الاول فی الاجتناب عن الاشراك مطبع علیمی اندرون لوہاری گیٹ لاہور ص۱۲
تقویۃ الایمان الفصل الاول فی الاجتناب عن الاشراك مطبع علیمی اندرون لوہاری گیٹ لاہور ص۱۲
تقویۃ الایمان پہلا باب توحید وشرك کے بیان میں مطبع علیمی اندرون لوہاری گیٹ لاہور ص۵
القرآن الکریم ۲ /۶
موضح القرآن ترجمہ شاہ عبدالقادر تاج کمپنی کراچی ص۴
القرآن الکریم ۳۶ /۷
آیت(یس) “ لقد حق القول علی اکثرہم فہم لا یؤمنون ﴿۷﴾ “
آیت(نساء) “ یؤمنون بما انزل الیک “
آیت(اعراف) “ وقطعنا دابرالذین کذبوا بایتنا وماکانوا مؤمنین ﴿۷۲﴾ “
آیت(انعام) “ و اذا جاءک الذین یؤمنون بایتنا فقل سلم علیکم “ ۔
آیت(بقرہ) “ امن الرسول بما انزل الیہ من ربہ والمؤمنون کل امن باللہ وملئکتہ وکتبہ ورسلہ ۔ موضح القرآن : ثابت ہوچکی بات ان بہتوں پر سو وے نہ مانیں گے۔
موضح القرآن : سو مانتے ہیں جو اترا تجھ پر۔
موضح القرآن : اور پچھاڑی کاٹی ان کی جو جھٹلاتے تھے ہماری آیتیں اور نہ تھے ماننے والے۔
موضح القرآن : اور جب آویں تیرے پاس ہماری آیتیں ماننے والے تو کہہ سلام ہے تم پر۔
موضح القرآن : مانارسول نے جو کچھ اترااس کے رب کی طرف سے اور مسلمانوں نے سب مانا اﷲ کو اور اس کے فرشتوں کو اور کتابوں کو اور رسولوں کو۔
دیکھو اﷲ تعالی تو یہ فرماتاہے کہ ایمان والوں نے اﷲ اور اس کے فرشتوں کتابوں رسولوں سب کو مانا یہ شخص کہتاہے اﷲ نے فرمایا میرے سواکسی کو نہ مانو۔
آیت(اعراف) “ قال الذین استکبروا انا بالذی امنتم بہ کفرون ﴿۷۶﴾ “ موضح القرآن : کہنے لگے بڑائی والے جو تم نے یقین کیاسو ہم نہیں مانتے۔
تو اقوال مذکور کے صاف یہ معنی عــــــہ ہوئے کہ اﷲ تعالی کے سوا انبیاء ملائکہ کسی پر ایمان نہ لائے سب کے ساتھ کفر کرے اس سے بڑھ کر کفر کیاہوگا۔
لطف یہ ہے کہ اسی تقویۃالایمان کے دوسرے حصے تذکیر الاخوان مترجمہ سلطان خاں مطبع فاروقی ص ۷۳ میں ہے : “ اصحاب رضی اﷲ تعالی عنہم سے محبت رکھنا ایمان کی نشانی ہے جو ان کو نہ مانے اس کا ٹھکانا دوزخ ہے۔ “
آیت(نساء) “ یؤمنون بما انزل الیک “
آیت(اعراف) “ وقطعنا دابرالذین کذبوا بایتنا وماکانوا مؤمنین ﴿۷۲﴾ “
آیت(انعام) “ و اذا جاءک الذین یؤمنون بایتنا فقل سلم علیکم “ ۔
آیت(بقرہ) “ امن الرسول بما انزل الیہ من ربہ والمؤمنون کل امن باللہ وملئکتہ وکتبہ ورسلہ ۔ موضح القرآن : ثابت ہوچکی بات ان بہتوں پر سو وے نہ مانیں گے۔
موضح القرآن : سو مانتے ہیں جو اترا تجھ پر۔
موضح القرآن : اور پچھاڑی کاٹی ان کی جو جھٹلاتے تھے ہماری آیتیں اور نہ تھے ماننے والے۔
موضح القرآن : اور جب آویں تیرے پاس ہماری آیتیں ماننے والے تو کہہ سلام ہے تم پر۔
موضح القرآن : مانارسول نے جو کچھ اترااس کے رب کی طرف سے اور مسلمانوں نے سب مانا اﷲ کو اور اس کے فرشتوں کو اور کتابوں کو اور رسولوں کو۔
دیکھو اﷲ تعالی تو یہ فرماتاہے کہ ایمان والوں نے اﷲ اور اس کے فرشتوں کتابوں رسولوں سب کو مانا یہ شخص کہتاہے اﷲ نے فرمایا میرے سواکسی کو نہ مانو۔
آیت(اعراف) “ قال الذین استکبروا انا بالذی امنتم بہ کفرون ﴿۷۶﴾ “ موضح القرآن : کہنے لگے بڑائی والے جو تم نے یقین کیاسو ہم نہیں مانتے۔
تو اقوال مذکور کے صاف یہ معنی عــــــہ ہوئے کہ اﷲ تعالی کے سوا انبیاء ملائکہ کسی پر ایمان نہ لائے سب کے ساتھ کفر کرے اس سے بڑھ کر کفر کیاہوگا۔
لطف یہ ہے کہ اسی تقویۃالایمان کے دوسرے حصے تذکیر الاخوان مترجمہ سلطان خاں مطبع فاروقی ص ۷۳ میں ہے : “ اصحاب رضی اﷲ تعالی عنہم سے محبت رکھنا ایمان کی نشانی ہے جو ان کو نہ مانے اس کا ٹھکانا دوزخ ہے۔ “
حوالہ / References
موضح القرآن ترجمہ وتفیسر شاہ عبدالقادر تاج کمپنی لاہور ص۵۳۰
القرآن الکریم ۴ /۱۶۲
موضح القرآن ترجمہ وتفیسر شاہ عبدالقادر تاج کمپنی لاہور ص۱۲۶
القرآن الکریم ۲ /۷۲
موضح القرآن ترجمہ وتفیسر شاہ عبدالقادر تاج کمپنی لاہور ص۱۹۳
القرآن الکریم ۶ /۵۴
موضح القرآن ترجمہ وتفسیر شاہ عبدالقادر تاج کمپنی لاہور ص۱۶۲
القرآن الکریم ۲ /۲۸۵
موضح القرآن ترجمہ وتفسیر شاہ عبدالقادر تاج کمپنی لاہور ص۶۱
القرآن الکریم ۷ /۷۶
موضح القرآن ترجمہ وتفسیر شاہ عبدالقادر تاج کمپنی لاہور ص۱۹۴
تذکیرالاخوان حصہ دوم تقویۃ الایمان الفصل الرابع فی ذکر الصحابہ علیمی کتب خانہ اندرون لوہاری گیٹ لاہور ص۱۰۵
القرآن الکریم ۴ /۱۶۲
موضح القرآن ترجمہ وتفیسر شاہ عبدالقادر تاج کمپنی لاہور ص۱۲۶
القرآن الکریم ۲ /۷۲
موضح القرآن ترجمہ وتفیسر شاہ عبدالقادر تاج کمپنی لاہور ص۱۹۳
القرآن الکریم ۶ /۵۴
موضح القرآن ترجمہ وتفسیر شاہ عبدالقادر تاج کمپنی لاہور ص۱۶۲
القرآن الکریم ۲ /۲۸۵
موضح القرآن ترجمہ وتفسیر شاہ عبدالقادر تاج کمپنی لاہور ص۶۱
القرآن الکریم ۷ /۷۶
موضح القرآن ترجمہ وتفسیر شاہ عبدالقادر تاج کمپنی لاہور ص۱۹۴
تذکیرالاخوان حصہ دوم تقویۃ الایمان الفصل الرابع فی ذکر الصحابہ علیمی کتب خانہ اندرون لوہاری گیٹ لاہور ص۱۰۵
سبحن اللہ! دوسرے حصے والا کہتاہے جو صحابہ کو نہ مانے وہ بدعتی ہے جہنمی پہلے والاکہتاہے صحابہ تو صحابہ جو انبیاء کو مانے وہ مشرك دوزخی کفی اﷲ المومنین القتال(مومنوں کو اﷲ کافی ہے لڑائی میں۔ ت)
کفریہ ۲۴ : صراط مستقیم ص ۳۸ :
صدیقی من وجہ مقلد انبیاء می باشد ومن وجہ محقق در شرائع پس اگر صدیق زکی القلب ست رضا وکراہیت حضرت حق درافعال و صدیق من وجہ انبیاء کا مقلد ہوتاہے اور من وجہ احکام شریعت میں محقق ہوتاہے۔ اگر صدیق زکی القلب ہو تو اﷲ تعالی کی رضا اور عدم رضا کو افعال و
عــــــہ : اگر اس کے کلام کے کچھ نئے معنی اپنے جی سے گھڑئیے بھی تو اولا تو صریح لفظ میں تاویل کیا معنی
شفا شریف صفحہ ۳۲۲ :
والتاویل فی لفظ صراح لایقبل ۔ صریح لفظ میں تاویل کا دعوی مقبول نہیں۔
ثانیا : وہ آپ سب تاویلوں کا دروازہ بند کرچکا تو اس کے کلام میں بناوٹ نہ رہی گھڑت ہے جو اسے خود قبول نہیں
تقویۃ الایمان ص ۵۸ : “ یہ بات محض بے جا ہے کہ ظاہر میں لفظ بے ادبی کا بولئے اور اس سے کچھ اور معنی مرادی لیجئے معما اور پہیلی بولنے کی اور جگہ ہیں کوئی شخص اپنے باپ یا بادشاہ سے جگت نہیں بولتا اس کے واسطے دوست آشنا ہیں نہ کہ باپ اور بادشاہ۔ “
یہ نفیس فائدہ ہر جگہ ملحوظ خاطر رہے کہ اکثر حرکات مذبوجی کا جواب شافی ہے ۱۲سل السیوف
کفریہ ۲۴ : صراط مستقیم ص ۳۸ :
صدیقی من وجہ مقلد انبیاء می باشد ومن وجہ محقق در شرائع پس اگر صدیق زکی القلب ست رضا وکراہیت حضرت حق درافعال و صدیق من وجہ انبیاء کا مقلد ہوتاہے اور من وجہ احکام شریعت میں محقق ہوتاہے۔ اگر صدیق زکی القلب ہو تو اﷲ تعالی کی رضا اور عدم رضا کو افعال و
عــــــہ : اگر اس کے کلام کے کچھ نئے معنی اپنے جی سے گھڑئیے بھی تو اولا تو صریح لفظ میں تاویل کیا معنی
شفا شریف صفحہ ۳۲۲ :
والتاویل فی لفظ صراح لایقبل ۔ صریح لفظ میں تاویل کا دعوی مقبول نہیں۔
ثانیا : وہ آپ سب تاویلوں کا دروازہ بند کرچکا تو اس کے کلام میں بناوٹ نہ رہی گھڑت ہے جو اسے خود قبول نہیں
تقویۃ الایمان ص ۵۸ : “ یہ بات محض بے جا ہے کہ ظاہر میں لفظ بے ادبی کا بولئے اور اس سے کچھ اور معنی مرادی لیجئے معما اور پہیلی بولنے کی اور جگہ ہیں کوئی شخص اپنے باپ یا بادشاہ سے جگت نہیں بولتا اس کے واسطے دوست آشنا ہیں نہ کہ باپ اور بادشاہ۔ “
یہ نفیس فائدہ ہر جگہ ملحوظ خاطر رہے کہ اکثر حرکات مذبوجی کا جواب شافی ہے ۱۲سل السیوف
حوالہ / References
الشفاء بتعریف حقوق المصطفی القسم الرابع الباب الاول المطبعۃ الشرکۃ الصحافیۃ فی البلاد العثمانی۲ / ۱۰۔ ۲۰۹
تقویۃ الایمان الفصل الخامس علیمی کتب خانہ اندرون لوہاری گیٹ لاہور ص۳۹
تقویۃ الایمان الفصل الخامس علیمی کتب خانہ اندرون لوہاری گیٹ لاہور ص۳۹
اقوال مخصوصہ وصحت وبطلان در عقائد خاصہ و محمودیت ومذمومیت در اخلاق وملکان شخصیہ بنور جبلی خود دریافت می نماید ۔ اقوال مخصوصہ میں اور صحت وبطلا ن کوعقائد خاصہ پسندیدہ وناپسندیدہ کو اخلاق وعادات شخصیہ میں اپنے فطری نور سے جان لیتاہے۔ (ت)
ص ۳۹ :
پس احکام ایں امور مذکورہ اورابدو وجہ معلوم میشود یکے بشہادت قلب خود خصوصا ودیگر بسبب اندراج او در کلیات شرع عموما وعلم کہ بوجہ اول حاصل شدہ تحقیقی ست وثانی تقلیدی واگرزکی العقل ست نو ر جبلی او بسوئے کلیات اورا راہنمونی می فرماید پس علوم کلیہ شرعیہ اورا بدو واسطہ می رسد بوساطت نور جبلی و بوساطت انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام در کلیات شریعت و حکم احکام ملت او راشاگرد انبیاہم میتواں گفت وہم استاذ انبیاہم ونیز طریق اخذآنہم شعبہ ایست ا زشعب وحی کہ انرا در عرف شرح بنفث فی الروع تعبیر میفر مایندوبعضے اہل کمال آں رابوحی باطنی مے نامند ۔ پس مذکور احکام اس کو دو طرح معلوم ہوتے ہیں ایك خصوصی طورپر اپنے قلب کی گواہی سے اور دوسرا عموما شرعی کلیات میں داخل ہونے کی وجہ سے اور پہلے طریقہ سے حاصل شدہ علم تحقیقی ہے اور دوسرا تقلیدی ہے اور اگر ذکی العقل ہو تو اس کا فطری نور کلیات کی طرف اس کی رہنمائی کرتاہے پس امور کلیہ شرعیہ ا س کو دو طرح سے پہنچتے ہیں ایك فطری نورکے ذریعہ سے دوسرا انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کے واسطہ سے پس شرعی کلیات کااور حکم واحکام ملت میں اس کو انبیاء کا شاگرد کہہ سکتے ہیں اور ان کا ہم استاذ بھی کہہ سکتے ہیں نیز ان کے اخذ کا طریقہ وحی کے اقسام میں سے ایك قسم ہے جس کو عرف شرع میں نفث فی الروع سے تعبیر کرتے ہیں اور بعض اہل کمال اس کو باطنی وحی کا نام دیتے ہیں۔ (ت)
ص ۴۰ :
ہمیں معنی رابامامت ووصایت تعبیرمی کنند وعلم ایشاں راکہ بعینہ علم انبیاست لیکن بوحی ظاہری متلقی نشدہ بہ حکمت مے نامند ۔ اس معنی کو امامت اور وصایت سے تعبیر کرتے ہیں اور ان کے علم کو جو کہ بعینہ انبیاء کو علم ہے لیکن ظاہری وحی سے حاصل نہیں ہوتا اسکو حکمت کا نام دیتے ہیں۔ (ت)
ص ۳۹ :
پس احکام ایں امور مذکورہ اورابدو وجہ معلوم میشود یکے بشہادت قلب خود خصوصا ودیگر بسبب اندراج او در کلیات شرع عموما وعلم کہ بوجہ اول حاصل شدہ تحقیقی ست وثانی تقلیدی واگرزکی العقل ست نو ر جبلی او بسوئے کلیات اورا راہنمونی می فرماید پس علوم کلیہ شرعیہ اورا بدو واسطہ می رسد بوساطت نور جبلی و بوساطت انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام در کلیات شریعت و حکم احکام ملت او راشاگرد انبیاہم میتواں گفت وہم استاذ انبیاہم ونیز طریق اخذآنہم شعبہ ایست ا زشعب وحی کہ انرا در عرف شرح بنفث فی الروع تعبیر میفر مایندوبعضے اہل کمال آں رابوحی باطنی مے نامند ۔ پس مذکور احکام اس کو دو طرح معلوم ہوتے ہیں ایك خصوصی طورپر اپنے قلب کی گواہی سے اور دوسرا عموما شرعی کلیات میں داخل ہونے کی وجہ سے اور پہلے طریقہ سے حاصل شدہ علم تحقیقی ہے اور دوسرا تقلیدی ہے اور اگر ذکی العقل ہو تو اس کا فطری نور کلیات کی طرف اس کی رہنمائی کرتاہے پس امور کلیہ شرعیہ ا س کو دو طرح سے پہنچتے ہیں ایك فطری نورکے ذریعہ سے دوسرا انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کے واسطہ سے پس شرعی کلیات کااور حکم واحکام ملت میں اس کو انبیاء کا شاگرد کہہ سکتے ہیں اور ان کا ہم استاذ بھی کہہ سکتے ہیں نیز ان کے اخذ کا طریقہ وحی کے اقسام میں سے ایك قسم ہے جس کو عرف شرع میں نفث فی الروع سے تعبیر کرتے ہیں اور بعض اہل کمال اس کو باطنی وحی کا نام دیتے ہیں۔ (ت)
ص ۴۰ :
ہمیں معنی رابامامت ووصایت تعبیرمی کنند وعلم ایشاں راکہ بعینہ علم انبیاست لیکن بوحی ظاہری متلقی نشدہ بہ حکمت مے نامند ۔ اس معنی کو امامت اور وصایت سے تعبیر کرتے ہیں اور ان کے علم کو جو کہ بعینہ انبیاء کو علم ہے لیکن ظاہری وحی سے حاصل نہیں ہوتا اسکو حکمت کا نام دیتے ہیں۔ (ت)
حوالہ / References
صراط مستقیم ہدایت رابعہ دربیان ثمرات حب ایمانی المکتبۃ السلفیہ لاہور ص۳۳ و ۳۴
صراط مستقیم ہدایت رابعہ دربیان ثمرات حب ایمانی المکتبۃ السلفیہ لاہور ص۳۴
صراط مستقیم ہدایت رابعہ دربیان ثمرات حب ایمانی المکتبۃ السلفیہ لاہور ص۳۵
صراط مستقیم ہدایت رابعہ دربیان ثمرات حب ایمانی المکتبۃ السلفیہ لاہور ص۳۴
صراط مستقیم ہدایت رابعہ دربیان ثمرات حب ایمانی المکتبۃ السلفیہ لاہور ص۳۵
ص ۴۱ :
لابد اورا بمحافظتے مثل محافظت انبیاکہ مسمی بہ عصمت ست فائز مے کنند ضروری ہے کہ اس کو محفوظ قرارد یاجائے جس طرح انبیاء کا محفوظ ہونا جس کو عصمت کہتے ہیں۔ (ت)
ص ۴۲ :
ندانی کہ اثبات وحی باطن وحکمت ووجاہت وعصمت مرغیر انبیاء رامخالف سنت واز جنس اختراع بدعت ست وندانی کہ ارباب ایں کمال از عالم منقطع شدہ اند اھ ملخصا۔ یہ نہ سمجھناکہ باطنی وحی حکمت وجاہت اور عصمت کو غیر انبیاء کے لئے ثابت کرنا خلاف سنت اور از قبیل اختراع بدعت ہے اور یہ بھی نہ سمجھنا کہ اس کمال کے لوگ دنیا سے ختم ہوچکے ہیں اھ ملخصا(ت)
اس قول ناپاك میں ا س قائل بیباك نے بے پردہ وحجاب صاف صاف تصریحیں کیں کہ ۱بعض لوگوں کو احکام شرعیہ جزئیہ وکلیہ بےوساطت انبیاء اپنے نور قلب سے بھی پہنچتے ہیں ۲خاص احکام شرعیہ عــــــہ۱ میں انھیں وحی آتی ہے ایك طرح وہ انبیا کے مقلد ہیں اور ایك طرح ۳تقلید انبیاء سے آزاداحکام شرعیہ میں خود محقق ۴وہ انبیاء کے شاگرد بھی ہیں اور ہم استاد بھی ۵تحقیقی علم وہی ہے جو انھیں بے توسط انبیاء خود اپنی قلبی وحی سے حاصل ہوتاہے انبیاء کے ذریعے سے جو ملتاہے وہ تقلیدی بات ہے ۶وہ علم میں انبیاء کے برابر وہمسر ہوتے ہیں فرق اتنا ہے کہ انبیاء کو ظاہری وحی آتی ہے انھیں باطنی ۷وہ انبیاء کے مانند معصوم ہوتے ہیں اسی مرتبہ کا نام حکمت ہے یہ کھلم کھلاغیر نبی کو نبی عــــــہ۲ بنانا ہے۔ جب ایك معصوم کو اعمال وعقائد وغیرہا امور شرعیہ میں احکام الہیہ
عــــــہ۱ : اقول اورا حکام شریعت میں بھی کلیہ کی تصریح کردی ہے کہ کوئی ناواقف یہ دھوکا نہ کھائے کہ یہ لوگ مجہتدین امت سے ہیں۔ اگر بے وساطت انبیاحکم پہنچنا ہی اخراج مجتہدین کو بس تھا مگر زیادت فرق وکمال صراحت کے لئے احکام کلیہ کا اونچاطرہ چمکتا پھندنا لٹکادیا کہ احکام کلیہ شرعیہ تو نبی ارشاد فرماتاہے کہ مجتہدین کی اتنی شان کہ ان سے احکام جزئیہ استنباط کرتاہے یہاں ایسا نہیں بلکہ انھیں خود احکام کلیہ شریعت بے وساطت نبی بذریعہ وحی پہنچتے ہیں مسلمانو! خدا کے واسطے اور نبی کسے کہتے ہیں ۱۲ سل السیوف۔
عــــــہ۲ : اور نبی بھی کیسا صاحب شریعت ۱۲ سل السیوف۔
لابد اورا بمحافظتے مثل محافظت انبیاکہ مسمی بہ عصمت ست فائز مے کنند ضروری ہے کہ اس کو محفوظ قرارد یاجائے جس طرح انبیاء کا محفوظ ہونا جس کو عصمت کہتے ہیں۔ (ت)
ص ۴۲ :
ندانی کہ اثبات وحی باطن وحکمت ووجاہت وعصمت مرغیر انبیاء رامخالف سنت واز جنس اختراع بدعت ست وندانی کہ ارباب ایں کمال از عالم منقطع شدہ اند اھ ملخصا۔ یہ نہ سمجھناکہ باطنی وحی حکمت وجاہت اور عصمت کو غیر انبیاء کے لئے ثابت کرنا خلاف سنت اور از قبیل اختراع بدعت ہے اور یہ بھی نہ سمجھنا کہ اس کمال کے لوگ دنیا سے ختم ہوچکے ہیں اھ ملخصا(ت)
اس قول ناپاك میں ا س قائل بیباك نے بے پردہ وحجاب صاف صاف تصریحیں کیں کہ ۱بعض لوگوں کو احکام شرعیہ جزئیہ وکلیہ بےوساطت انبیاء اپنے نور قلب سے بھی پہنچتے ہیں ۲خاص احکام شرعیہ عــــــہ۱ میں انھیں وحی آتی ہے ایك طرح وہ انبیا کے مقلد ہیں اور ایك طرح ۳تقلید انبیاء سے آزاداحکام شرعیہ میں خود محقق ۴وہ انبیاء کے شاگرد بھی ہیں اور ہم استاد بھی ۵تحقیقی علم وہی ہے جو انھیں بے توسط انبیاء خود اپنی قلبی وحی سے حاصل ہوتاہے انبیاء کے ذریعے سے جو ملتاہے وہ تقلیدی بات ہے ۶وہ علم میں انبیاء کے برابر وہمسر ہوتے ہیں فرق اتنا ہے کہ انبیاء کو ظاہری وحی آتی ہے انھیں باطنی ۷وہ انبیاء کے مانند معصوم ہوتے ہیں اسی مرتبہ کا نام حکمت ہے یہ کھلم کھلاغیر نبی کو نبی عــــــہ۲ بنانا ہے۔ جب ایك معصوم کو اعمال وعقائد وغیرہا امور شرعیہ میں احکام الہیہ
عــــــہ۱ : اقول اورا حکام شریعت میں بھی کلیہ کی تصریح کردی ہے کہ کوئی ناواقف یہ دھوکا نہ کھائے کہ یہ لوگ مجہتدین امت سے ہیں۔ اگر بے وساطت انبیاحکم پہنچنا ہی اخراج مجتہدین کو بس تھا مگر زیادت فرق وکمال صراحت کے لئے احکام کلیہ کا اونچاطرہ چمکتا پھندنا لٹکادیا کہ احکام کلیہ شرعیہ تو نبی ارشاد فرماتاہے کہ مجتہدین کی اتنی شان کہ ان سے احکام جزئیہ استنباط کرتاہے یہاں ایسا نہیں بلکہ انھیں خود احکام کلیہ شریعت بے وساطت نبی بذریعہ وحی پہنچتے ہیں مسلمانو! خدا کے واسطے اور نبی کسے کہتے ہیں ۱۲ سل السیوف۔
عــــــہ۲ : اور نبی بھی کیسا صاحب شریعت ۱۲ سل السیوف۔
حوالہ / References
صراط مستقیم ہدایت رابعہ در بیان ثمرات حب ایمانی المکتبۃ السلفیہ لاہور ص۳۵
صراط مستقیم ہدایت رابعہ دربیان ثمرات حب ایمانی المکتبۃ السلفیہ لاہور ص۳۶
صراط مستقیم ہدایت رابعہ دربیان ثمرات حب ایمانی المکتبۃ السلفیہ لاہور ص۳۶
بے توسط انبیا خود بذریعہ وحی آئے پھر نبوت اور کس شے کا نام ہے فقط وحی باطنی ہونا کچھ منافی نبوت نہیں بہت انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کو وحی الہی باطنی طور پر آتی کہا جاتاہے کہ سیدنا داؤد علیہ الصلوۃ والسلام کی وحی اس طرح کی تھی کما نقلہ الامام البدر محمود فی عمدۃ القاری(جیساکہ امام بد ر محمود نے عمدۃ القاری میں اسے نقل کیا۔ ت)خود حضور اقدس سیدالانبیاء صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکو بہت احکام اسی وحی باطنی سے آئے جسے نفث فی الروع کہتے ہیں علماء نے جو انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام پر وحی آنے کی سات۷ صورتیں لکھیں ان میں یہ بھی ذکرفرمائی کما فی العمدۃ والارشاد وغیرہما تو حقیقت نبوت مع لازم عصمت پوری پوری صادق آکر صرف وحی باطنی کی بناپر نفی نبوت ممکن نہیں۔ مشکوۃ شریف مطبع انصاری ۱۳۰۲ھ ص ۴۴۴ :
عن ابن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ قال قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم(فذکر الحدیث الی ان قال)وان روح القدس نفث فی روعی ان نفسالن تموت حتی تستکمل رزقھا ۔ الحدیث رواہ البغوی فی شرح السنۃ قلت وبنحوہ رواہ الحاکم عنہ البزار فی مسندہ عن حذیفۃ والطبرانی فی الکبیر عن الحسن بن علی غیرانہ لم یذکر جبرئیل کالبیہقی فی شعب الایمان عن ابن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہم اجمعین۔ ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہسے روایت ہے حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا : بیشك روح القدس نے میرے باطن میں وحی کی کہ کوئی جاندار نہ مرے گا جب تك اپنارزق پورا نہ کرے۔ الحدیث۔ (اس کو بغوی نے شرح السنۃ میں روایت کیا قلت(میں کہتاہوں اور ایسی روایت امام حاکم نے ان سے کی اور بزار نے اپنی مسند میں حضرت حذیفہ سے اور طبرانی نے کبیر میں حسن بن علی سے لیکن انھوں نے جبریل کا ذکر نہ کیا جس طرح بیہقی نے ابن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہم اجمعین سے ذکر کیا ہے۔ (ت)
شفاء شریف سے زیر کفر ۱۲ گزرا کہ صرف وحی کا مدعی کافرہے اگرچہ نبوت دعوی نہ کرے تفسیر عزیزی عــــــہ
عــــــہ : زیادت جلیلہ علامہ عبدالغنی نابلسی قدس سرہ القدسی حدیقہ ندیہ ص ۲۱۱ میں فرماتے ہیں :
ھذا القول کفر لامحالۃ بالاجماع من یہ قول یقینا باجماع امت بہت وجہ سے کفر ہے (باقی اگلے صفحہ پر)
عن ابن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ قال قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم(فذکر الحدیث الی ان قال)وان روح القدس نفث فی روعی ان نفسالن تموت حتی تستکمل رزقھا ۔ الحدیث رواہ البغوی فی شرح السنۃ قلت وبنحوہ رواہ الحاکم عنہ البزار فی مسندہ عن حذیفۃ والطبرانی فی الکبیر عن الحسن بن علی غیرانہ لم یذکر جبرئیل کالبیہقی فی شعب الایمان عن ابن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہم اجمعین۔ ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہسے روایت ہے حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا : بیشك روح القدس نے میرے باطن میں وحی کی کہ کوئی جاندار نہ مرے گا جب تك اپنارزق پورا نہ کرے۔ الحدیث۔ (اس کو بغوی نے شرح السنۃ میں روایت کیا قلت(میں کہتاہوں اور ایسی روایت امام حاکم نے ان سے کی اور بزار نے اپنی مسند میں حضرت حذیفہ سے اور طبرانی نے کبیر میں حسن بن علی سے لیکن انھوں نے جبریل کا ذکر نہ کیا جس طرح بیہقی نے ابن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہم اجمعین سے ذکر کیا ہے۔ (ت)
شفاء شریف سے زیر کفر ۱۲ گزرا کہ صرف وحی کا مدعی کافرہے اگرچہ نبوت دعوی نہ کرے تفسیر عزیزی عــــــہ
عــــــہ : زیادت جلیلہ علامہ عبدالغنی نابلسی قدس سرہ القدسی حدیقہ ندیہ ص ۲۱۱ میں فرماتے ہیں :
ھذا القول کفر لامحالۃ بالاجماع من یہ قول یقینا باجماع امت بہت وجہ سے کفر ہے (باقی اگلے صفحہ پر)
حوالہ / References
مشکوٰۃ المصابیح باب التوکل والصبر الفصل الثانی مطبع مجتبائی دہلی ص۴۵۲
مشکوٰۃ المصابیح باب التوکل والصبر الفصل الثانی مطبع مجتبائی دہلی ص۴۵۲
الشفاء بتعریف حقوق المصطفی فصل فی بیان ماھو من المقالات المطبعۃ الشرکۃ الصحافیۃ فی البلاد العثمانیہ ۲ / ۲۷۰
مشکوٰۃ المصابیح باب التوکل والصبر الفصل الثانی مطبع مجتبائی دہلی ص۴۵۲
الشفاء بتعریف حقوق المصطفی فصل فی بیان ماھو من المقالات المطبعۃ الشرکۃ الصحافیۃ فی البلاد العثمانیہ ۲ / ۲۷۰
ص ۴۴۲ :
معرفت احکام شرعیہ بدون توسیط نبی ممکن نیست ۔ شرعی احکام کی معرفت انبیاء کی وساطت کے بغیر ممکن نہیں۔ (ت)
تحفہ اثنا عشریہ ص ۱۴۰ :
آنچہ گفتہ است کہ فاطمہ بنت اسدرا وحی آمد کہ درخانہ کعبہ برود و وضع حمل نماید دروغیست پربمیزہ زیرا کہ کسے از فرق اسلامیہ وغیر اسلامیہ قائل بہ نبوت فاطمہ بنت اسد نہ شدہ حجاج چہ قسم ایں رامسلم مے داشت ۔ جو کہا جاتاہے کہ فاطمہ بنت اسد کو وحی آئی کہ تو خانہ کعبہ میں جا اور وہاں بچے کی پیدائش کر یہ سب جھوٹ اور بے پر بات ہے کیونکہ کوئی بھی اسلامی اورغیر اسلامی فرقہ فا طمہ بنت اسد کی نبوت کا قائل نہیں ہے حجاج ا س کوکس طر ح تسلیم کرسکتا ہے۔ (ت)
غرض اس ناپاك کلمے کے کلمہ کفرہونے میں اصلا شك نہیں اور اس میں اور جو خباثتیں ہیں مثلا غیر نبی کو تقلید انبیاء سے من وجہ آزاد اور احکام شرعیہ میں خود محقق اور علوم انبیاء کا ہمسر وہم استاد اور بتقلید روافض مثل انبیاء معصوم ماننا ان کی شناعتیں ہر سچے مسلمان پر ظاہرہیں۔ یہاں صرف ایك عبارت شاہ ولی اﷲ پر اختصار کروں الدرالثمین شاہ صاحب مطبوع مطبع احمدی ص ۴ و ۵ :
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
وجوہ منھا دعوی تلقی الاحکام الشرعیۃ من اﷲ تعالی بلاواسطۃ نبی وذلك دعوی نبوۃ اھ مختصرا۔ از انجملہ یہ کہ اس میں اﷲ تعالی سے بیوساطت نبی احکام شرعیہ لینے کا ادعا ہے اور یہ نبوت کا دعوی ہے اھ مختصرا(ت)
امام الوہابیہ کے کفر اجماعی کا یہ خاص جزئیہ ہے والعیاذباﷲ رب العالمین ۱۲ منہ مدظلہ
معرفت احکام شرعیہ بدون توسیط نبی ممکن نیست ۔ شرعی احکام کی معرفت انبیاء کی وساطت کے بغیر ممکن نہیں۔ (ت)
تحفہ اثنا عشریہ ص ۱۴۰ :
آنچہ گفتہ است کہ فاطمہ بنت اسدرا وحی آمد کہ درخانہ کعبہ برود و وضع حمل نماید دروغیست پربمیزہ زیرا کہ کسے از فرق اسلامیہ وغیر اسلامیہ قائل بہ نبوت فاطمہ بنت اسد نہ شدہ حجاج چہ قسم ایں رامسلم مے داشت ۔ جو کہا جاتاہے کہ فاطمہ بنت اسد کو وحی آئی کہ تو خانہ کعبہ میں جا اور وہاں بچے کی پیدائش کر یہ سب جھوٹ اور بے پر بات ہے کیونکہ کوئی بھی اسلامی اورغیر اسلامی فرقہ فا طمہ بنت اسد کی نبوت کا قائل نہیں ہے حجاج ا س کوکس طر ح تسلیم کرسکتا ہے۔ (ت)
غرض اس ناپاك کلمے کے کلمہ کفرہونے میں اصلا شك نہیں اور اس میں اور جو خباثتیں ہیں مثلا غیر نبی کو تقلید انبیاء سے من وجہ آزاد اور احکام شرعیہ میں خود محقق اور علوم انبیاء کا ہمسر وہم استاد اور بتقلید روافض مثل انبیاء معصوم ماننا ان کی شناعتیں ہر سچے مسلمان پر ظاہرہیں۔ یہاں صرف ایك عبارت شاہ ولی اﷲ پر اختصار کروں الدرالثمین شاہ صاحب مطبوع مطبع احمدی ص ۴ و ۵ :
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
وجوہ منھا دعوی تلقی الاحکام الشرعیۃ من اﷲ تعالی بلاواسطۃ نبی وذلك دعوی نبوۃ اھ مختصرا۔ از انجملہ یہ کہ اس میں اﷲ تعالی سے بیوساطت نبی احکام شرعیہ لینے کا ادعا ہے اور یہ نبوت کا دعوی ہے اھ مختصرا(ت)
امام الوہابیہ کے کفر اجماعی کا یہ خاص جزئیہ ہے والعیاذباﷲ رب العالمین ۱۲ منہ مدظلہ
حوالہ / References
فتح العزیز(تفسیر عزیزی) بیان افراط فرقہ امامیہ پ الٓم مطبع مجتبائی دہلی ص۴۴۹
الحدیقۃ الندیہ
تحفہ اثنا عشریہ کید ہشتادو۲ ہفتم سہیل اکیڈمی لاہور ص۷۹
الحدیقۃ الندیہ
تحفہ اثنا عشریہ کید ہشتادو۲ ہفتم سہیل اکیڈمی لاہور ص۷۹
سألت صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سوالا روحانیا عن الشیعۃ فاومی الی ان مذھبہم باطل وبطلان مذھبھم یعرف من لفظ الامام ولما افقت عرفت ان الامام عندھم ھو المعصوم المفترض طاعۃ الموحی الیہ وحیا باطنیا وھذا ھو معنی النبی فمذھبھم یستلزم انکار ختم النبوۃ قبحہم اﷲ تعالی ۔ میں نے نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے رافضیوں کے بارے میں روحانی سوال کیا حضور نے ارشادفرمایا کہ ان کا مذہب باطل ہے اور اس کا بطلان لفظ امام سے ظاہرہے جب مجھے ہوش آیا میں نے پہچاناکہ ان کے نزدیك امام وہ ہے جو معصوم ہو اوراس کی اطاعت فرض اور اس کی طرف وحی باطنی آتی ہو اور یہی معنی نبی کے ہیں تو ان کے مذہب سے ختم نبوت کا انکار لازم آتاہے اﷲ ان کا برا کرے۔ (ت)
دیکھو یہ وہی امامت وہی عصمت اور وہی وحی باطنی ہے جسے شاہ صاحب ختم نبوت کے انکار کو مستلزم بتاتے ہیں کیوں صاحب ان رافضیوں کو تو کہا گیا کہ اﷲ ان کا برا کرے کیا اسے نہ کہا جائے گا کہ انکی طرح اس کا بھی برا کرے اور اسے ان کے ساتھ ایك زنجیر میں باندھے آمین! غالبا اصل مقصود اپنے پیر رائے بریلی سید احمد کو کہ نواب امیر خاں کے یہاں سواروں میں نوکراور بیچارے نرے جاہل ساد ہ لوح تھے نبی بنایا تھا اس کی یہ تمہید یں اٹھائی گئی تھیں کہ بعض اولیاء اس طرح کے بھی ہوتے ہیں ادھر یہ وحی عصمت وغیرہ سب کچھ بگھار نبوت کا پورا خاکہ اتارا اخیر میں یہ بھی جمادی کہ اس مرتبہ کے لوگوں کو دنیا سے معدوم نہ جانیو قیامت تك ہوتے رہیں گے پھر یہاں تو یہ بتادیا کہ اس مرتبہ کو حکمت کہتے ہیں ادھر ختم نبوت کتاب میں اپنے پیر کا خدا سے مکالمہ و مصافحہ اور بے تکلفی کی گفتگوئیں لکھ کر پچھلا نتیجہ دکھا دیا کہ :
امثال ایں وقائع واشباہ ایں معاملات صدہا پیش آمد تااینکہ کمالات طریق نبوت بذروہ علیاے خود رسید والہام وکشف بعلوم حکمت آنجامیدانست ۔ ان واقعات جیسے اور ان معاملات کے مشابہ سینکڑوں پیش آئے تاکہ نبوت کے راستے کے کمالات اپنے اعلی مقام تك پہنچ جائے اور علم حکمت کا الہام و کشف انجام پذیرہو۔ (ت)
بس کھل گیا کہ اس زمانے کے وہ وحی والے معصوم انبیاکے ہم استاد تقلید انبیا سے آزاد بیواسطہ انبیا احکام شریعت خدا سے پانے والے یہ پیرجی ہیں میں تو اس عیاری کا قائل ہوں کہ ابتداء یوں نہ کہہ دیا
دیکھو یہ وہی امامت وہی عصمت اور وہی وحی باطنی ہے جسے شاہ صاحب ختم نبوت کے انکار کو مستلزم بتاتے ہیں کیوں صاحب ان رافضیوں کو تو کہا گیا کہ اﷲ ان کا برا کرے کیا اسے نہ کہا جائے گا کہ انکی طرح اس کا بھی برا کرے اور اسے ان کے ساتھ ایك زنجیر میں باندھے آمین! غالبا اصل مقصود اپنے پیر رائے بریلی سید احمد کو کہ نواب امیر خاں کے یہاں سواروں میں نوکراور بیچارے نرے جاہل ساد ہ لوح تھے نبی بنایا تھا اس کی یہ تمہید یں اٹھائی گئی تھیں کہ بعض اولیاء اس طرح کے بھی ہوتے ہیں ادھر یہ وحی عصمت وغیرہ سب کچھ بگھار نبوت کا پورا خاکہ اتارا اخیر میں یہ بھی جمادی کہ اس مرتبہ کے لوگوں کو دنیا سے معدوم نہ جانیو قیامت تك ہوتے رہیں گے پھر یہاں تو یہ بتادیا کہ اس مرتبہ کو حکمت کہتے ہیں ادھر ختم نبوت کتاب میں اپنے پیر کا خدا سے مکالمہ و مصافحہ اور بے تکلفی کی گفتگوئیں لکھ کر پچھلا نتیجہ دکھا دیا کہ :
امثال ایں وقائع واشباہ ایں معاملات صدہا پیش آمد تااینکہ کمالات طریق نبوت بذروہ علیاے خود رسید والہام وکشف بعلوم حکمت آنجامیدانست ۔ ان واقعات جیسے اور ان معاملات کے مشابہ سینکڑوں پیش آئے تاکہ نبوت کے راستے کے کمالات اپنے اعلی مقام تك پہنچ جائے اور علم حکمت کا الہام و کشف انجام پذیرہو۔ (ت)
بس کھل گیا کہ اس زمانے کے وہ وحی والے معصوم انبیاکے ہم استاد تقلید انبیا سے آزاد بیواسطہ انبیا احکام شریعت خدا سے پانے والے یہ پیرجی ہیں میں تو اس عیاری کا قائل ہوں کہ ابتداء یوں نہ کہہ دیا
حوالہ / References
الدرالثمین شاہ ولی اللہ
صراط مستقیم خاتمہ دربیان پارہ ازواردت ومعاملات المکتبۃ السلفیہ لاہور ص۱۶۵
صراط مستقیم خاتمہ دربیان پارہ ازواردت ومعاملات المکتبۃ السلفیہ لاہور ص۱۶۵
پیر جی معصوم ہیں پیر جی پر وحی اترتی ہے بلکہ یوں پانی پاندھا کہ صدر کتاب میں بے غرضانہ بعض اولیاء کے لئے ان منصوبوں کا ثبوت مانا اور بنام حکمت مسمی کیا پھر جمادیا کہ خبردار یہ نہ جاننا کہ اس زمانے میں ایسے کہیں نہیں بلکہ ہمیشہ رہیں گے پھر آخر کتاب میں پیرجی کےلئے درجہ حکمت ثابت کردیا یعنی بس سمجھ جاؤ یہ وہی منصب ہے جس کا ہم نام وحال سب کچھ اوپر بتا آئے ہیں غرض نیوتوں ساری جم گئی مگر تین کھٹکے رہ گئے تھے ایك سب سے بڑا یہ کہ آیہ کریمہ خاتم النبیین کا کیا جواب ہوگا۔ ا س کی فکر کو وہ مسئلہ گھڑا کہ اﷲ تعالی کا جھوٹ بولنا کچھ دشوار نہیں۔ ظاہرہے کہ جب کلام الہی کا واجب الصدق ہونا قلوب عوام سے نکل جائے اس کی بات جھوٹی ہونی جائز وروا سمجھنے لگیں گے تو پھر آیت سے اعتراض کا محل نہ رہے گا۔ دوسرا خدشہ پیر جی الف کے نام بے نہیں جانتے اس پر کوئی طعن کر بیٹھاکہ نبی اور بے علم یہ کیسا خبط بے ربط۔ تو اس کا یہ سامان کرلیا کہ پیرجی رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے کمال مشابہت پر پیدا ہوئے ہیں اس لئے نرے امی رہے ص ۴ :
از بسکہ نفس عالی حضرت ایشاں برکمال مشابہت جناب رسالت مآب علیہ افضل الصلوۃ والتسلیمات دربدء فطرت مخلوق شدہ بناء علیہ لوح فطرت ایشاں از نقوش علوم رسمیہ وراہ دانشمندان کلام وتحریر وتقریر مصفے ماندہ بود ۔ چنانچہ ان حضرات کی عالی ذات کو جناب رسالتمآب علیہ افضل الصلوۃ والتسلیمات کے ساتھ ابتداء فطرت میں کامل مشابہت دے کر پیدا کیا گیا اسی بناپر ان حضرات کی لوح فطرت رسمی علوم اور علماء کی راہ کلام و تحریروتقریر سے مصفی رہی تھی۔ (ت)
افسوس پیر جی کا عیب چھپانے کو رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے ساتھ ایسی تشبیہ شفاء شریف میں ایسی تشبیہ دینے والے کی نسبت فرمایا ص ۳۳۶ :
ماوقر النبوۃ ولا عظم الرسالۃ ولاعزرحرمۃ المصطفی (الی قولہ)فحق ھذا ان درئ عنہ القتل الادب والسجن الخ۔ اس نے نہ نبوت کی توقیر کی نہ رسالت کی تعظیم نہ حرمت مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی عزت کی اگر اس سے قتل دفع کریں تو اس کی سزا تعزیر وقید ہے الخ(ت)
ص ۳۳۷ :
کون النبی امیا آیۃ لہ وکون ھذا امیا نقیصۃ فیہ وجھالۃ ۔ نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکا امی ہونا حضورکےلئے معجزہ ہے اور اس شخص کا امی ہونا اس میں عیب جہالت(ت)
از بسکہ نفس عالی حضرت ایشاں برکمال مشابہت جناب رسالت مآب علیہ افضل الصلوۃ والتسلیمات دربدء فطرت مخلوق شدہ بناء علیہ لوح فطرت ایشاں از نقوش علوم رسمیہ وراہ دانشمندان کلام وتحریر وتقریر مصفے ماندہ بود ۔ چنانچہ ان حضرات کی عالی ذات کو جناب رسالتمآب علیہ افضل الصلوۃ والتسلیمات کے ساتھ ابتداء فطرت میں کامل مشابہت دے کر پیدا کیا گیا اسی بناپر ان حضرات کی لوح فطرت رسمی علوم اور علماء کی راہ کلام و تحریروتقریر سے مصفی رہی تھی۔ (ت)
افسوس پیر جی کا عیب چھپانے کو رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے ساتھ ایسی تشبیہ شفاء شریف میں ایسی تشبیہ دینے والے کی نسبت فرمایا ص ۳۳۶ :
ماوقر النبوۃ ولا عظم الرسالۃ ولاعزرحرمۃ المصطفی (الی قولہ)فحق ھذا ان درئ عنہ القتل الادب والسجن الخ۔ اس نے نہ نبوت کی توقیر کی نہ رسالت کی تعظیم نہ حرمت مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی عزت کی اگر اس سے قتل دفع کریں تو اس کی سزا تعزیر وقید ہے الخ(ت)
ص ۳۳۷ :
کون النبی امیا آیۃ لہ وکون ھذا امیا نقیصۃ فیہ وجھالۃ ۔ نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکا امی ہونا حضورکےلئے معجزہ ہے اور اس شخص کا امی ہونا اس میں عیب جہالت(ت)
حوالہ / References
صراط مستقیم خطبہ کتاب المکتبۃ السلفیہ لاہور ص۴
الشفاء بتعریف حقوق المصطفی فصل الوجہ الخامس المطبعۃ الشرکۃ الصحافیہ فی البلاد العثمانیہ ۲ / ۲۳۰
الشفاء بتعریف حقوق المصطفی فصل الوجہ الخامس المطبعۃ الشرکۃ الصحافیہ فی البلاد العثمانیہ ۲ / ۲۳۳
الشفاء بتعریف حقوق المصطفی فصل الوجہ الخامس المطبعۃ الشرکۃ الصحافیہ فی البلاد العثمانیہ ۲ / ۲۳۰
الشفاء بتعریف حقوق المصطفی فصل الوجہ الخامس المطبعۃ الشرکۃ الصحافیہ فی البلاد العثمانیہ ۲ / ۲۳۳
تیسرا بڑا اندیشہ یہ تھاکہ جاہل لوگ یہ سب کچھ گوارا کرکے براہ جہالت کوئی معجزہ مانگ بیٹھے یا کسی ذی علم ہی نے بقصد تفضیح وتعجیز فرمائش کردی تو کیسی بنے گی اس کی یوں بھاری پیش بندی کرلی گئی۔ تقویۃ الایمان حصہ دوم ترجمہ سلطان خان ص ۱۶ و ۱۷ : “ جس شخص سے کوئی معجزہ نہ ہو اس کو پیغمبر نہ سمجھنا یہ عادتیں یہود اور نصاری اورمجوس اور منافقوں اور مکہ والے اگلے مشرکوں کی ہیں پیغمبر خدا ایسی ہی باتوں کو مٹانے کے واسطے آئے پھر جو شخص ایسی عادتیں اختیار کرے اور مسلمانوں میں جاری کرے وہ اﷲ تعالی کی طرف سے مغضوب ہے راندا گیا خدا کے غضب میں گرفتار اور خدا کے دشمنوں میں شمار اھ ملخصا۔ “
ظاہر ہے کہ عوام بیچارے اتنے بھاری بھاری ڈراوے موٹے موٹے لغت سن کر کانپ جائیں گے پھر کوئی معجزہ طلبی کانام بھی زبان پر نہ لائے گا پیش خویش ان سب کارستانیوں سے کام پورا کرلیا تھا پیر جی کی مہر کا کندہ اسمہ احمد قرار پایا تھا خطبوں میں پیرجی کے نام صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکہنا شروع ہوگیا تھا مگرقہر الہی سے مجبور ہیں غیبی کوڑے نے سب بنے کھیل بگاڑ دئے پٹھانوں کے خنجر موذی کش نے چنے سور ماپچھاڑ دئے
جی کی جی ہی میں رہی بات نہ ہونے پائی
وحی عصمت کی کرامات نہ ہونے پائی
“ فقطع دابر القوم الذین ظلموا و الحمد للہ رب العلمین ﴿۴۵﴾ “ (تو ظالم لوگوں کی جڑکاٹ دی گئی۔ اور سب خوبیوں سراہا اﷲ رب سارے جہاں کا۔ ت)
کفریہ ۲۵ : تقویۃ الایمان ص ۶۰ حدیث تو یہ لکھی :
أرأیت لومررت بقبری اکنت تسجدلہ(بتاؤ اگر میری قبرپر گزر ہو تو تم اس کو سجدہ کروگے۔ ت)خودہی اس کا ترجمہ یوں کیا کہ : “ بھلا خیال تو کر جو تو گزرے میری قبر پرکیا سجدہ کرے تو اس کو۔ “
آگے جو گستاخی کی رگ اچھلے جھٹ آفت کی (ف)لکھ کر فائدہ یہ جڑدیا :
“ یعنی میں بھی ایك دن مرکر مٹی میں ملنے والا ہوں “
اس کے حامی اور اس کے پیر وایمان سے بتائیں یہ حدیث کے کس لفظ کا مطلب ہے کہاں تو وہ
ظاہر ہے کہ عوام بیچارے اتنے بھاری بھاری ڈراوے موٹے موٹے لغت سن کر کانپ جائیں گے پھر کوئی معجزہ طلبی کانام بھی زبان پر نہ لائے گا پیش خویش ان سب کارستانیوں سے کام پورا کرلیا تھا پیر جی کی مہر کا کندہ اسمہ احمد قرار پایا تھا خطبوں میں پیرجی کے نام صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکہنا شروع ہوگیا تھا مگرقہر الہی سے مجبور ہیں غیبی کوڑے نے سب بنے کھیل بگاڑ دئے پٹھانوں کے خنجر موذی کش نے چنے سور ماپچھاڑ دئے
جی کی جی ہی میں رہی بات نہ ہونے پائی
وحی عصمت کی کرامات نہ ہونے پائی
“ فقطع دابر القوم الذین ظلموا و الحمد للہ رب العلمین ﴿۴۵﴾ “ (تو ظالم لوگوں کی جڑکاٹ دی گئی۔ اور سب خوبیوں سراہا اﷲ رب سارے جہاں کا۔ ت)
کفریہ ۲۵ : تقویۃ الایمان ص ۶۰ حدیث تو یہ لکھی :
أرأیت لومررت بقبری اکنت تسجدلہ(بتاؤ اگر میری قبرپر گزر ہو تو تم اس کو سجدہ کروگے۔ ت)خودہی اس کا ترجمہ یوں کیا کہ : “ بھلا خیال تو کر جو تو گزرے میری قبر پرکیا سجدہ کرے تو اس کو۔ “
آگے جو گستاخی کی رگ اچھلے جھٹ آفت کی (ف)لکھ کر فائدہ یہ جڑدیا :
“ یعنی میں بھی ایك دن مرکر مٹی میں ملنے والا ہوں “
اس کے حامی اور اس کے پیر وایمان سے بتائیں یہ حدیث کے کس لفظ کا مطلب ہے کہاں تو وہ
حوالہ / References
تقویۃ الایمان مع تذکیر الاخوان الفصل الاول مطبع علیمی اندرون لوہاری گیٹ لاہور ص۵۷
القرآن الکریم ۶ /۴۵
تقویۃ الایمان مع تذکیر الاخوان الفصل الخامس مطبع علیمی اندرون لوہاری گیٹ لاہور ص۴۲
القرآن الکریم ۶ /۴۵
تقویۃ الایمان مع تذکیر الاخوان الفصل الخامس مطبع علیمی اندرون لوہاری گیٹ لاہور ص۴۲
لفظ حدیث کہ اگر تومیری قبر سے گزرے کہاں یہ فائدہ خبیث کہ مرکر مٹی میں ملنے والاہوں۔ کیوں یہ کیسا کھلا افترا ہے محمد رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمپر رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں :
من کذب علی متعمدا فلیتبوا مقعدہ من النار ۔ جو دانستہ مجھ پر جھوٹ باندھے وہ اپنا ٹھکانا دوزخ میں بنالے۔
وہابی صاحبو! ہمارے نبی محمدرسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے ارشاد پر اپنے پیشوا کا ٹھکانا بتاؤ ہمارے نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں :
ان اﷲ حرم علی الارض ان تاکل اجساد الانبیاء ۔ بیشك اﷲ تعالی نے زمین پر حرام کیاہے کہ پیغمبروں کے بدن کھائے۔
فائدہ : یہ حدیث ۱ ابوداؤد و۲نسائی و۳ابن ماجہ و۴امام احمد و۵ابن خزیمہ و۶ابن حبان و۷دارقطنی و۸حاکم وابونعیم ۹وغیرہم ائمہ حدیث نے حضرت اوس بن اوس رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کی امام الائمہ ۱ ابن خزیمہ و۲ابن حبان و۳ دارقطنی نے اس کی تصحیح اور امام عبدالغنی وامام عبدالعظیم منذری نے تحسین کی حاکم نے کہا بر شرط بخاری صحیح ہے ابن دحیہ نے کہا صحیح ہے محفوظ ہے ثقات عدول کے سلسلے سے آئی ہے
وہابی صاحبو! تمھارے پیشوا نے یہ ہمارے نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی جناب میں کیسی عــــــہ صریح گستاخی کی۔
عــــــہ : زیادت جلیلہ : سبحان اللہ! رب العالمین جل مجدہ ان کے غلاموں یعنی شہدائے کرام کی نسبت ارشاد فرمائے :
“ ولا تقولوا لمن یقتل فی سبیل اللہ اموت بل احیاء ولکن لا تشعرون﴿۱۵۴﴾ “ ۔ جو خداکی راہ میں مارے جائیں انھیں مردہ نہ کہو بلکہ وہ زندہ ہیں لیکن تمھیں خبر نہیں۔ (باقی اگلے صفحہ پر)
من کذب علی متعمدا فلیتبوا مقعدہ من النار ۔ جو دانستہ مجھ پر جھوٹ باندھے وہ اپنا ٹھکانا دوزخ میں بنالے۔
وہابی صاحبو! ہمارے نبی محمدرسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے ارشاد پر اپنے پیشوا کا ٹھکانا بتاؤ ہمارے نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں :
ان اﷲ حرم علی الارض ان تاکل اجساد الانبیاء ۔ بیشك اﷲ تعالی نے زمین پر حرام کیاہے کہ پیغمبروں کے بدن کھائے۔
فائدہ : یہ حدیث ۱ ابوداؤد و۲نسائی و۳ابن ماجہ و۴امام احمد و۵ابن خزیمہ و۶ابن حبان و۷دارقطنی و۸حاکم وابونعیم ۹وغیرہم ائمہ حدیث نے حضرت اوس بن اوس رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کی امام الائمہ ۱ ابن خزیمہ و۲ابن حبان و۳ دارقطنی نے اس کی تصحیح اور امام عبدالغنی وامام عبدالعظیم منذری نے تحسین کی حاکم نے کہا بر شرط بخاری صحیح ہے ابن دحیہ نے کہا صحیح ہے محفوظ ہے ثقات عدول کے سلسلے سے آئی ہے
وہابی صاحبو! تمھارے پیشوا نے یہ ہمارے نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی جناب میں کیسی عــــــہ صریح گستاخی کی۔
عــــــہ : زیادت جلیلہ : سبحان اللہ! رب العالمین جل مجدہ ان کے غلاموں یعنی شہدائے کرام کی نسبت ارشاد فرمائے :
“ ولا تقولوا لمن یقتل فی سبیل اللہ اموت بل احیاء ولکن لا تشعرون﴿۱۵۴﴾ “ ۔ جو خداکی راہ میں مارے جائیں انھیں مردہ نہ کہو بلکہ وہ زندہ ہیں لیکن تمھیں خبر نہیں۔ (باقی اگلے صفحہ پر)
حوالہ / References
صحیح البخاری کتاب العلم باب اثم من کذب علی النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۲۱ ، صحیح مسلم تغلیظ الکذب علی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم قدیمی کتب خانہ ۱ / ۷
سنن ابو داؤد باب تفریع ابواب الجمعۃ آفتاب عالم پریس لاہور ۱ / ۱۵۰ ، سنن النسائی کتاب الجمعۃ نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ۱ / ۲۰۴ ، سنن ابن ماجہ باب ماجاء فی فضل الجمعۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۷۷
القرآن الکریم ۲ /۱۵۴
سنن ابو داؤد باب تفریع ابواب الجمعۃ آفتاب عالم پریس لاہور ۱ / ۱۵۰ ، سنن النسائی کتاب الجمعۃ نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ۱ / ۲۰۴ ، سنن ابن ماجہ باب ماجاء فی فضل الجمعۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۷۷
القرآن الکریم ۲ /۱۵۴
زرقانی شرح مواہب مطبع مصر جلد ۱ ص۱۰۶ :
فی الکامل للمبرد مما کفربہ الفقہاء الحجاج انہ رأی الناس یطوفون حول حجرتہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فقال انما یطوفون باعواد ورمۃ قال الدمیری کفروہ بھذا لانہ تکذیب لقولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ابوالعباس مبرد نے الکامل میں لکھا کہ ان باتوں میں جن کے سبب علماء کرام نے حجاج ظالم کو کافر کہا ایك یہ ہے کہ اس نے لوگوں کو روضہ اقدس حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکا طواف کرتے دیکھا بولا کچھ لکڑیوں اور گلے ہوئے جسم کا طواف کررہے ہیں۔ علامہ
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ) اور فرماتے :
“ ولا تحسبن الذین قتلوا فی سبیل اللہ اموتا بل احیاء عند ربہم یرزقون ﴿۱۶۹﴾ فرحین “ ۔ خبردار شہیدوں کو مردہ نہ جانیو بلکہ وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں روزی دئے جاتے ہیں شاد شاد۔
اور ایك سفیہ مغرور محبوبان خدا سے نفور خود حضورپرنور اکرم المحبوبین صلوات اﷲ تعالی وسلامہ علیہ وعلیہم اجمعین کی نسبت وہ ناپاك لفظ کہے اور وہ بھی یوں کہ معاذاﷲ حضورہی کی حدیث کا یہ مطلب ٹھہرائے یعنی میں بھی ایك دن مرکر مٹی میں ملنے والاہوں قیامت میں ان شاء اﷲ تعالی مرکر مٹی میں ملنے کا مزہ الگ کھلے گا اور یہ جدا پوچھا جائے گا کہ حدیث کے کون سے لفظ میں اس ناپاك معنی کی بو تھی جو تو نے “ یعنی “ کہہ کر محبوب اعظم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمپر افتراء کردیا حضور پر افتراء خدا پر افتراء ہے اور خدا پر افتراء جہنم کی راہ کا بر اسرا۔
“ ان الذین یفترون علی اللہ الکذب لا یفلحون ﴿۱۱۶﴾ “ “ متع قلیل ۪ ولہم عذاب الیم ﴿۱۱۷﴾ “ بیشك جو لوگ اﷲ پر جھوٹ باندھتے ہیں ان کا بھلا نہ ہوگا تھوڑا برتنا ہے اور ان کے لئے دردناك عذاب ہے۔
(النھی الاکید عن الصلوۃ من وراء عدی التقلید من تصانیف المصنف العلامۃ قدس سرہ)
فی الکامل للمبرد مما کفربہ الفقہاء الحجاج انہ رأی الناس یطوفون حول حجرتہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فقال انما یطوفون باعواد ورمۃ قال الدمیری کفروہ بھذا لانہ تکذیب لقولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ابوالعباس مبرد نے الکامل میں لکھا کہ ان باتوں میں جن کے سبب علماء کرام نے حجاج ظالم کو کافر کہا ایك یہ ہے کہ اس نے لوگوں کو روضہ اقدس حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکا طواف کرتے دیکھا بولا کچھ لکڑیوں اور گلے ہوئے جسم کا طواف کررہے ہیں۔ علامہ
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ) اور فرماتے :
“ ولا تحسبن الذین قتلوا فی سبیل اللہ اموتا بل احیاء عند ربہم یرزقون ﴿۱۶۹﴾ فرحین “ ۔ خبردار شہیدوں کو مردہ نہ جانیو بلکہ وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں روزی دئے جاتے ہیں شاد شاد۔
اور ایك سفیہ مغرور محبوبان خدا سے نفور خود حضورپرنور اکرم المحبوبین صلوات اﷲ تعالی وسلامہ علیہ وعلیہم اجمعین کی نسبت وہ ناپاك لفظ کہے اور وہ بھی یوں کہ معاذاﷲ حضورہی کی حدیث کا یہ مطلب ٹھہرائے یعنی میں بھی ایك دن مرکر مٹی میں ملنے والاہوں قیامت میں ان شاء اﷲ تعالی مرکر مٹی میں ملنے کا مزہ الگ کھلے گا اور یہ جدا پوچھا جائے گا کہ حدیث کے کون سے لفظ میں اس ناپاك معنی کی بو تھی جو تو نے “ یعنی “ کہہ کر محبوب اعظم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمپر افتراء کردیا حضور پر افتراء خدا پر افتراء ہے اور خدا پر افتراء جہنم کی راہ کا بر اسرا۔
“ ان الذین یفترون علی اللہ الکذب لا یفلحون ﴿۱۱۶﴾ “ “ متع قلیل ۪ ولہم عذاب الیم ﴿۱۱۷﴾ “ بیشك جو لوگ اﷲ پر جھوٹ باندھتے ہیں ان کا بھلا نہ ہوگا تھوڑا برتنا ہے اور ان کے لئے دردناك عذاب ہے۔
(النھی الاکید عن الصلوۃ من وراء عدی التقلید من تصانیف المصنف العلامۃ قدس سرہ)
ان اﷲ حرم علی الارض ان تاکل اجساد الانبیاء ۔ رواہ ابوداؤد۔ کمال الدین دمیری نے فرمایا علماء نے اس قول پر اس وجہ سے تکفیرکی کہ اس میں ارشاد حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی تکذیب ہے کہ بیشك اﷲ عزوجل نے زمین پر انبیاء کا جسم کھانا حرام کیا ہے۔ (اسے ابوداؤد نے روایت کیا۔ ت)
فائدہ : یہ روضہ اقدس کا طواف کرنے والے تابعین یا اقل درجہ تبع تابعین تو ضرور تھے۔
کفریہ ۲۶ : تقویۃ الایمان کی ابتداء میں شرك کی کچھ قسمیں اور ان کا اجمالی بیان گھڑا کہ یہ باتیں فلاں قسم سے شرك ہیں اس بیان کے بعد اسی اجمال کی تفصیل کی پانچ فصلیں مقرر کیں ان فصلوں میں جو کچھ ہے وہ اسی اجمالی بیان کی شرح ہے ص ۱۰پر اسی بیان اجمالی میں لکھا :
“ حاجتیں برلانی اﷲ ہی کی شان ہے کسی انبیاء واولیاء کی یہ شان نہیں جو کسی کو مصیبت کے وقت پکارے وہ مشرك ہوجاتاہے ۔ “
اسی میں لکھا ص ۱۲ : “ جوکوئی انبیاء واولیاء کی اس قسم کی تعظیم کرے مشکل کے وقت ان کو پکارے ان باتوں سے شرك ثابت ہوتاہے ان چاروں طرح کے شرك کا صریح قرآن وحدیث میں ذکرہے اس لئے اس باب میں پانچ فصلیں کیں اھ ملخصا۔
غرض یہ اجمالی بیان ایك دعوی ہے اور آگے ساری کتاب اس دعوے کا بیان وثبوت اب یہ دعوی تو یادرکھئے کہ “ جوکوئی انبیاء اولیاء کو پکارے وہ مشرك ہے “ آگے ثبوت کی فصلوں میں اس کابیان سنئے صفحہ ۲۹ :
“ اﷲ سے زبردست کے ہوتے ایسے عاجز لوگوں کو پکارنا کہ کچھ فائدہ اور نقصان نہیں پہنچاسکتے محض بے انصافی ہے کہ ایسے شخص کا مرتبہ ایسے ناکارہ لوگوں کو ثابت کیجئے۔ “
یہ حضرات اولیاء وانبیاء علیہم افضل الصلوۃ والثناء کو “ ناکارے لوگ “ کہا کیا یہ ان کی جناب میں کھلی گستاخی نہیں کیا انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کی شان میں گستاخی کفر خالص نہیں جس کی تفصیل شفاء شریف اور اسی کی
فائدہ : یہ روضہ اقدس کا طواف کرنے والے تابعین یا اقل درجہ تبع تابعین تو ضرور تھے۔
کفریہ ۲۶ : تقویۃ الایمان کی ابتداء میں شرك کی کچھ قسمیں اور ان کا اجمالی بیان گھڑا کہ یہ باتیں فلاں قسم سے شرك ہیں اس بیان کے بعد اسی اجمال کی تفصیل کی پانچ فصلیں مقرر کیں ان فصلوں میں جو کچھ ہے وہ اسی اجمالی بیان کی شرح ہے ص ۱۰پر اسی بیان اجمالی میں لکھا :
“ حاجتیں برلانی اﷲ ہی کی شان ہے کسی انبیاء واولیاء کی یہ شان نہیں جو کسی کو مصیبت کے وقت پکارے وہ مشرك ہوجاتاہے ۔ “
اسی میں لکھا ص ۱۲ : “ جوکوئی انبیاء واولیاء کی اس قسم کی تعظیم کرے مشکل کے وقت ان کو پکارے ان باتوں سے شرك ثابت ہوتاہے ان چاروں طرح کے شرك کا صریح قرآن وحدیث میں ذکرہے اس لئے اس باب میں پانچ فصلیں کیں اھ ملخصا۔
غرض یہ اجمالی بیان ایك دعوی ہے اور آگے ساری کتاب اس دعوے کا بیان وثبوت اب یہ دعوی تو یادرکھئے کہ “ جوکوئی انبیاء اولیاء کو پکارے وہ مشرك ہے “ آگے ثبوت کی فصلوں میں اس کابیان سنئے صفحہ ۲۹ :
“ اﷲ سے زبردست کے ہوتے ایسے عاجز لوگوں کو پکارنا کہ کچھ فائدہ اور نقصان نہیں پہنچاسکتے محض بے انصافی ہے کہ ایسے شخص کا مرتبہ ایسے ناکارہ لوگوں کو ثابت کیجئے۔ “
یہ حضرات اولیاء وانبیاء علیہم افضل الصلوۃ والثناء کو “ ناکارے لوگ “ کہا کیا یہ ان کی جناب میں کھلی گستاخی نہیں کیا انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کی شان میں گستاخی کفر خالص نہیں جس کی تفصیل شفاء شریف اور اسی کی
حوالہ / References
شرح الزرقانی علی المواہب اللدنیہ المقصد الاول قصۃ الفیل دارالمعرفۃ بیروت ۱ / ۹۰
تقویۃ الایمان مقدمہ کتاب مطبع علیمی اندرون لوہاری گیٹ لاہور ص۷
تقویۃ الایمان مقدمہ کتاب مطبع علیمی اندرون لوہاری گیٹ لاہور ص۹
تقویۃ الایمان الفصل الثالث مطبع علیمی اندرون لوہاری گیٹ لاہور ص۲۰
تقویۃ الایمان مقدمہ کتاب مطبع علیمی اندرون لوہاری گیٹ لاہور ص۷
تقویۃ الایمان مقدمہ کتاب مطبع علیمی اندرون لوہاری گیٹ لاہور ص۹
تقویۃ الایمان الفصل الثالث مطبع علیمی اندرون لوہاری گیٹ لاہور ص۲۰
شرح وغیرہا کتب ائمہ میں ہے۔
کفریہ ۲۷ : تقویۃ الایمان پہلی فصل میں اس دعوے کا کہ “ انبیاء واولیا کو پکارنا شرك ہے “ ثبوت سنئے ص ۱۹ :
“ ہمارا جب خالق اﷲ ہے اور اس نے ہم کو پیدا کیا تو ہم کو بھی چاہئے کہ اپنے ہر کاموں پر اسی کو پکاریں اور کسی سے ہم کو کیا کام جیسے جو کوئی ایك بادشاہ کا غلام ہوچکا تو وہ اپنے ہرکام کا علاقہ اسی سے رکھتاہے دوسرے بادشاہ سے بھی نہیں رکھتا اور کسی چوہڑ ے چمار کا تو کیاذکر ہے۔ “
مسلمانو! ایمان سے کہنا حضرات انبیاء واولیا ء علیہم الصلوۃ والسلام کی نسبت ایسے ناپاك ملعون الفاظ کسی ایسے کی زبان سے نکل سکتے ہیں جس کے دل میں رائی برابر ایمان ہو شاید اسی شخص نے اور طائفے کی نسبت سچ ہی کہا تھا کہ پیغمبر خدا کے فرمانے کے موافق ہوا کہ ان میں کوئی ایسا بھی نہ رہا جس کے دل میں دانہ خردل کے برابر ایمان ہو اور حضرات انبیا ء سے اسے کچھ کام نہ ہونا بہت ٹھیك ہے کہ جب اس کے میلے گندے مذہب میں ان کا ماننا ہی روا نہیں بلکہ کفر ہے تو دین تویوں گیا اور دنیا جو ایسوں کی غایت مرام ومبلغ علم ہے اس میں کسی نبی کی سرکار سے ٹکا مہینہ جمعہ کی روٹی ملنے کی بھی امید نہیں تو زال دنیا کے ایسے کمانے والے پوتوں کو انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام سے کام ہونے کا کیا باعث۔
کفریہ ۲۸ و ۲۹ : یہ کفریہ اٹھائیس سب سے بدتر خبیث صراط مستقیم ص ۹۵ :
بمقتضائے ظلمت بعضہا فوق بعض از وسوسہ زنا خیال مجامع زوجہ خود بہتر ست وصرف ہمت بسوئے شیخ وامثال آں از معظمین گو جناب رسالتمآب باشند بچندیں مرتبہ بد تر از استغراق درصورت گاؤ خر خود ست خیال آں باتعظیمواجلال بسوید اے دل انسان مے چسپد بخیال گاؤ و خرکہ نہ آں قدر چسپیدگی میبود ونہ تعظیم بلکہ مہان و محقرمیبود واین تعظیم و اجلال غیر کہ درنماز ظلمات بعضہا فوق بعض کی بناپر زنا کے وسوسہ سے اپنی بیوی سے مجامعت کا خیال بہترہے اور اپنی ہمت کو شیخ اور ان جیسے معظم لوگوں خواہ جناب رسالت مآب ہی ہوں کی طرف مبذو ل کرنا اپنے گائے اور گدھے کی صورت میں مستغرق ہونے سے کئی گنا بدترہے کیونکہ ان کا خیال تعظیم اور اجلال کے ساتھ انسان کے دل کی گہرائی میں چپك جاتاہے بخلاف گدھے اور گائے کے خیال میں نہ تو اس قد ر چسپیدگی ہوتی ہے اور
کفریہ ۲۷ : تقویۃ الایمان پہلی فصل میں اس دعوے کا کہ “ انبیاء واولیا کو پکارنا شرك ہے “ ثبوت سنئے ص ۱۹ :
“ ہمارا جب خالق اﷲ ہے اور اس نے ہم کو پیدا کیا تو ہم کو بھی چاہئے کہ اپنے ہر کاموں پر اسی کو پکاریں اور کسی سے ہم کو کیا کام جیسے جو کوئی ایك بادشاہ کا غلام ہوچکا تو وہ اپنے ہرکام کا علاقہ اسی سے رکھتاہے دوسرے بادشاہ سے بھی نہیں رکھتا اور کسی چوہڑ ے چمار کا تو کیاذکر ہے۔ “
مسلمانو! ایمان سے کہنا حضرات انبیاء واولیا ء علیہم الصلوۃ والسلام کی نسبت ایسے ناپاك ملعون الفاظ کسی ایسے کی زبان سے نکل سکتے ہیں جس کے دل میں رائی برابر ایمان ہو شاید اسی شخص نے اور طائفے کی نسبت سچ ہی کہا تھا کہ پیغمبر خدا کے فرمانے کے موافق ہوا کہ ان میں کوئی ایسا بھی نہ رہا جس کے دل میں دانہ خردل کے برابر ایمان ہو اور حضرات انبیا ء سے اسے کچھ کام نہ ہونا بہت ٹھیك ہے کہ جب اس کے میلے گندے مذہب میں ان کا ماننا ہی روا نہیں بلکہ کفر ہے تو دین تویوں گیا اور دنیا جو ایسوں کی غایت مرام ومبلغ علم ہے اس میں کسی نبی کی سرکار سے ٹکا مہینہ جمعہ کی روٹی ملنے کی بھی امید نہیں تو زال دنیا کے ایسے کمانے والے پوتوں کو انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام سے کام ہونے کا کیا باعث۔
کفریہ ۲۸ و ۲۹ : یہ کفریہ اٹھائیس سب سے بدتر خبیث صراط مستقیم ص ۹۵ :
بمقتضائے ظلمت بعضہا فوق بعض از وسوسہ زنا خیال مجامع زوجہ خود بہتر ست وصرف ہمت بسوئے شیخ وامثال آں از معظمین گو جناب رسالتمآب باشند بچندیں مرتبہ بد تر از استغراق درصورت گاؤ خر خود ست خیال آں باتعظیمواجلال بسوید اے دل انسان مے چسپد بخیال گاؤ و خرکہ نہ آں قدر چسپیدگی میبود ونہ تعظیم بلکہ مہان و محقرمیبود واین تعظیم و اجلال غیر کہ درنماز ظلمات بعضہا فوق بعض کی بناپر زنا کے وسوسہ سے اپنی بیوی سے مجامعت کا خیال بہترہے اور اپنی ہمت کو شیخ اور ان جیسے معظم لوگوں خواہ جناب رسالت مآب ہی ہوں کی طرف مبذو ل کرنا اپنے گائے اور گدھے کی صورت میں مستغرق ہونے سے کئی گنا بدترہے کیونکہ ان کا خیال تعظیم اور اجلال کے ساتھ انسان کے دل کی گہرائی میں چپك جاتاہے بخلاف گدھے اور گائے کے خیال میں نہ تو اس قد ر چسپیدگی ہوتی ہے اور
حوالہ / References
تقویۃ الایمان الفصل الاول مطبع علیمی اندرون لوہاری گیٹ لاہور ص۱۳
ملحوظ ومقصود می شود بشرك میکشد ۔ نہ ہی تعظیم بلکہ ان کا خیال بے تعظیم اور حقیر ہوتاہے اور یہ غیر کی تعظیم واجلال نماز میں ملحوظ ومقصود ہو تو شرك کی طرف کھینچ لیتی ہے۔
مسلمانو مسلمانو! خدارا ان ناپاك ملعون شیطانی کلموں کو غور کرو محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی طرف نماز میں خیال لےجانا ظلمت بالائے ظلمت ہے کسی فاحشہ رنڈی کے تصور اور اس کے ساتھ زنا کا خیال کرنے سے بھی براہے اپنے بیل یا گدھے کے تصورمیں ہمہ تن ڈوب جانے سے بدرجہا بدتر ہے ہاں واقعی رنڈی نے تو دل نہ دکھایا گدھے نے تو کوئی اندرونی صدمہ نہ پہنچایا نیچا تو محمد رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے دکھایا کہ قرآن عظیم میں وخاتم النبیین پڑھ کر تازی نبوتوں کا دربار جلایا ان کا خیال آنا کیوں نہ قہر ہو ان کی طرف سے دل میں کیوں نہ زہر ہو۔
مسلمانو! ﷲ انصاف کیا ایسا کلمہ کسی اسلامی زبان وقلم سے نکلنے کا ہے! حاش للہ! پادریوں پنڈتوں وغیرہم کھلے کافروں مشرکوں کی کتابیں دیکھو جو انھوں نے بزعم خود اسلام جیسے روشن چاند پرخاك ڈالنے کو لکھی ہیں۔ شاید ان میں بھی اس کی نظیر نہ پاؤگے کہ ایسے کھلے ناپاك لفظ تمھارے پیارے نبی سچے رسول صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی نسبت لکھے ہوں کہ انھیں مواخذہ دنیا کا اندیشہ ہے مگر اس مدعی اسلام بلکہ مدعی امامت کا کلیجہ چیر کر دیکھئے کہ اس نے کس جگرے سے محمد رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی نسبت بے دھڑك یہ صریح عــــــہ سب ودشنام کے لفظ لکھ دئے اور روز آخر اﷲ عزیز غالب قہار کے غضب عظیم وعذاب الیم کا اصلا اندیشہ نہ کیا۔
مسلمانو! کیا ان گالیوں کی محمد رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکو اطلاع نہ ہوئی یا مطلع ہوکر ان سے انھیں ایذا نہ پہنچی ہاں ہاں واﷲ واﷲ انھیں اطلاع ہوئی واﷲ واﷲ انھیں ایذا پہنچی واﷲ واﷲ جو انھیں ایذا دے اس پر دنیا وآخرت میں اﷲ جبار وقہار کی لعنت اس کے لئے سختی کا عذاب شدت کی عقوبت۔ آیت :
“ ان الذین یؤذون اللہ و رسولہ لعنہم اللہ فی الدنیا و الاخرۃ و اعد لہم بیشك جو لوگ ایذا دیتے ہیں اﷲ اورا س کے رسول کو ان پر اﷲ نے لعنت فرمائی دنیا وآخرت
عــــــہ : اور ان کی شان میں ادنی گستاخی کفر جس کی مبارك مقدس منور تفصیل شفا شریف اور اس کی شرح میں ہے ۱۲ سل السیوف۔
مسلمانو مسلمانو! خدارا ان ناپاك ملعون شیطانی کلموں کو غور کرو محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی طرف نماز میں خیال لےجانا ظلمت بالائے ظلمت ہے کسی فاحشہ رنڈی کے تصور اور اس کے ساتھ زنا کا خیال کرنے سے بھی براہے اپنے بیل یا گدھے کے تصورمیں ہمہ تن ڈوب جانے سے بدرجہا بدتر ہے ہاں واقعی رنڈی نے تو دل نہ دکھایا گدھے نے تو کوئی اندرونی صدمہ نہ پہنچایا نیچا تو محمد رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے دکھایا کہ قرآن عظیم میں وخاتم النبیین پڑھ کر تازی نبوتوں کا دربار جلایا ان کا خیال آنا کیوں نہ قہر ہو ان کی طرف سے دل میں کیوں نہ زہر ہو۔
مسلمانو! ﷲ انصاف کیا ایسا کلمہ کسی اسلامی زبان وقلم سے نکلنے کا ہے! حاش للہ! پادریوں پنڈتوں وغیرہم کھلے کافروں مشرکوں کی کتابیں دیکھو جو انھوں نے بزعم خود اسلام جیسے روشن چاند پرخاك ڈالنے کو لکھی ہیں۔ شاید ان میں بھی اس کی نظیر نہ پاؤگے کہ ایسے کھلے ناپاك لفظ تمھارے پیارے نبی سچے رسول صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی نسبت لکھے ہوں کہ انھیں مواخذہ دنیا کا اندیشہ ہے مگر اس مدعی اسلام بلکہ مدعی امامت کا کلیجہ چیر کر دیکھئے کہ اس نے کس جگرے سے محمد رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی نسبت بے دھڑك یہ صریح عــــــہ سب ودشنام کے لفظ لکھ دئے اور روز آخر اﷲ عزیز غالب قہار کے غضب عظیم وعذاب الیم کا اصلا اندیشہ نہ کیا۔
مسلمانو! کیا ان گالیوں کی محمد رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکو اطلاع نہ ہوئی یا مطلع ہوکر ان سے انھیں ایذا نہ پہنچی ہاں ہاں واﷲ واﷲ انھیں اطلاع ہوئی واﷲ واﷲ انھیں ایذا پہنچی واﷲ واﷲ جو انھیں ایذا دے اس پر دنیا وآخرت میں اﷲ جبار وقہار کی لعنت اس کے لئے سختی کا عذاب شدت کی عقوبت۔ آیت :
“ ان الذین یؤذون اللہ و رسولہ لعنہم اللہ فی الدنیا و الاخرۃ و اعد لہم بیشك جو لوگ ایذا دیتے ہیں اﷲ اورا س کے رسول کو ان پر اﷲ نے لعنت فرمائی دنیا وآخرت
عــــــہ : اور ان کی شان میں ادنی گستاخی کفر جس کی مبارك مقدس منور تفصیل شفا شریف اور اس کی شرح میں ہے ۱۲ سل السیوف۔
حوالہ / References
صراط مستقیم ہدایت ثانیہ در ذکر مخلات عبادات الخ افادہ نمبر ۱ المکتبۃ السلفیہ لاہور ص۸۶
عذابا مہینا ﴿۵۷﴾ “
آیت : “ والذین یؤذون رسول اللہ لہم عذاب الیم ﴿۶۱﴾ “ ۔ میں اور ان کے لئے بنارکھا ہے ذلت والا عذاب۔
جو ایذادیتے ہیں اﷲ کے رسول کو ان کے لئے دکھ کی مارہے۔
مسلمانو! پھر ان مقتدیوں کا ایمان دیکھئے ایمان کی آنکھ پر ٹھیکری رکھ کر اسلام کے کان میں انگلیاں دے کر یہ کچھ دیکھتے یہ کچھ سنتے ہیں اور پھروہ ویسا ہی امام کا امام یہ اس کے چیلے بیدام کے غلام سبحان اللہ! یہ حرکات اور اسلام کا نام مسلمان وہ ہیں جنھیں قرآن عظیم فرماتاہے
آیت : لا تجد قوما یؤمنون باللہ و الیوم الاخر یوادون من حاد اللہ و رسولہ و لو کانوا اباءہم او ابناءہم او اخونہم او عشیرتہم اولئک کتب فی قلوبہم الایمن و ایدہم بروح منہ ۔ تو نہ پائے گا ان لوگوں کو جو مانتے ہیں اﷲ اور پچھلے دن کو کہ محبت رکھیں اس سے جس نے ضدباندھی اﷲ اور اس کے رسول سے اگرچہ وہ ان کے باب یا بیٹے یا بھائی یا کنبے والے ہوں یہ لوگ ہیں کہ نقش کردیا اﷲ نے ان کے دلوں میں ایمان اور مدد فرمائی ان کی اپنی طرف کی روح سے۔
وہابی صحابو! مسلمان بننا چاہتے ہو تو حضور پر نورمحمد رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی عظمت سویداے دل کے اندر جماؤ جو ان کی جناب عالم مآب میں گستاخی کرے اگر تمھارا باپ بھی ہو الگ ہوجاؤ جگر کا ٹکڑا ہو دشمن بناؤ بہزار زبان وصد ہزاردل اس سے تبری کرو تحاشی کرو اس کے سایہ سے نفرت کرو اس کے نام محبت پر لعنت کرو ورنہ اگر دوسرا تمھیں اﷲ ورسول سے زیادہ عزیز ہے تو اسلام کا نام لیے جاؤ حقیقت اور چیز ہے وائے بے انصافی اگر کوئی تمھارے باپ کو گالی دے تو اس کے خون کے پیاسے رہو صورت دیکھنے کے روادار نہ ہو۔ بس پاؤ توکچا نگل جاؤ۔ وہاں نہ تاویلیں نکالو نہ سیدھی بات ہیر پھیر میں ڈالو اور محمد رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی نسبت وہ کچھ سنواور آنکھ میلی نہ کرو۔ بلکہ ا س کی امامت وپیشوائی کا دم بھرو ولی جانو جو اسے برا کہے الٹی اس سے دشمنی ٹھانو ہدلگام کی بات میں سو سو طرح کے پیچ نکالو رنگ رنگ کی تاویلیں ڈھالو جیسے بنے کی بگڑی سنبھالو اسی کی حمایت میں عظمت مصطفی
آیت : “ والذین یؤذون رسول اللہ لہم عذاب الیم ﴿۶۱﴾ “ ۔ میں اور ان کے لئے بنارکھا ہے ذلت والا عذاب۔
جو ایذادیتے ہیں اﷲ کے رسول کو ان کے لئے دکھ کی مارہے۔
مسلمانو! پھر ان مقتدیوں کا ایمان دیکھئے ایمان کی آنکھ پر ٹھیکری رکھ کر اسلام کے کان میں انگلیاں دے کر یہ کچھ دیکھتے یہ کچھ سنتے ہیں اور پھروہ ویسا ہی امام کا امام یہ اس کے چیلے بیدام کے غلام سبحان اللہ! یہ حرکات اور اسلام کا نام مسلمان وہ ہیں جنھیں قرآن عظیم فرماتاہے
آیت : لا تجد قوما یؤمنون باللہ و الیوم الاخر یوادون من حاد اللہ و رسولہ و لو کانوا اباءہم او ابناءہم او اخونہم او عشیرتہم اولئک کتب فی قلوبہم الایمن و ایدہم بروح منہ ۔ تو نہ پائے گا ان لوگوں کو جو مانتے ہیں اﷲ اور پچھلے دن کو کہ محبت رکھیں اس سے جس نے ضدباندھی اﷲ اور اس کے رسول سے اگرچہ وہ ان کے باب یا بیٹے یا بھائی یا کنبے والے ہوں یہ لوگ ہیں کہ نقش کردیا اﷲ نے ان کے دلوں میں ایمان اور مدد فرمائی ان کی اپنی طرف کی روح سے۔
وہابی صحابو! مسلمان بننا چاہتے ہو تو حضور پر نورمحمد رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی عظمت سویداے دل کے اندر جماؤ جو ان کی جناب عالم مآب میں گستاخی کرے اگر تمھارا باپ بھی ہو الگ ہوجاؤ جگر کا ٹکڑا ہو دشمن بناؤ بہزار زبان وصد ہزاردل اس سے تبری کرو تحاشی کرو اس کے سایہ سے نفرت کرو اس کے نام محبت پر لعنت کرو ورنہ اگر دوسرا تمھیں اﷲ ورسول سے زیادہ عزیز ہے تو اسلام کا نام لیے جاؤ حقیقت اور چیز ہے وائے بے انصافی اگر کوئی تمھارے باپ کو گالی دے تو اس کے خون کے پیاسے رہو صورت دیکھنے کے روادار نہ ہو۔ بس پاؤ توکچا نگل جاؤ۔ وہاں نہ تاویلیں نکالو نہ سیدھی بات ہیر پھیر میں ڈالو اور محمد رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی نسبت وہ کچھ سنواور آنکھ میلی نہ کرو۔ بلکہ ا س کی امامت وپیشوائی کا دم بھرو ولی جانو جو اسے برا کہے الٹی اس سے دشمنی ٹھانو ہدلگام کی بات میں سو سو طرح کے پیچ نکالو رنگ رنگ کی تاویلیں ڈھالو جیسے بنے کی بگڑی سنبھالو اسی کی حمایت میں عظمت مصطفی
صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکو پس پشت ڈالو یہ کیا ایمان ہے کیسا اسلام ہے کیا اسلام اسی کا نام ہے
اے راہ روپشت بمنزل ہشدار
(اے منزل کی طر ف پشت کرکے چلنے والے! ہوش کر۔ ت)
مزہ یہ ہے کہ وہ خود تمھاری ساری بناوٹوں کا دربا جلا گیا۔ تقویۃ الایمان :
“ یہ بات محض بے جا ہے کہ ظاہر میں لفظ بے ادبی کا بولئے اور اس سے کچھ اور معنی لیجئے معما اور پہیلی بولنے کی اور جگہ ہیں۔ کوئی شخص اپنے باپ یا بادشاہ سے جگت نہیں بولتا اس کے واسطے دوست آشنا ہیں نہ باپ اور بادشاہ۔ “
اور انصاف کیجئے تو اس کھلی گستاخی میں کوئی تاویل کی جگہ نہیں میں جانتاہوں تم یوں نہیں سمجھو گے ذرا اپنے کلیجہ پر ہاتھ رکھ کر دیکھو اورآنکھیں بند کرکے بہ نگاہ انصاف غور کرو اگر کوئی وہابی اپنے باپ کی نسبت کہے کہ تیرے کان گدھے کے سے ہیں تیری ناك بجو کی سی ہے تو کیااس نے اپنے باپ کو گالی نہ دی یا کوئی سعادت مند نجدی اٹھ کراپنے بدلگام مصنوعی امام کی نسبت کہے کہ ان کی آواز لطیف کتے کے بھونکنے سے مشابہ تھی ان کا دہن شریف سور کی تھوتھنی سے ملتاتھا تو تم اسے کیسا سمجھو گے۔ کیا اپنے طائفے میں رکھوگے یا بسبب گستاخی پیشواذات سے باہر کردو گے۔ اب تمھیں ظاہر ہوگاکہ اس خبیث بددین نے جوہمارے عزت والے رسول دوجہان بادشاہ عرش عالم پناہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی نسبت یہ لعنتی کلمات عــــــہ لکھے۔ انھوں نے ہمارے اسلامی دلوں پر تیر وخنجر سے زیادہ کام کیا پھر ہم اسے
عــــــہ : یہاں اس کے پیرووں کی غایت معذرت وسخن سازی جو کچھ ہے یہ ہے کہ کلام اس نے بقصد توہین نہ لکھا سوق سخن تاکید اخلاص کے لئے ہے مگر یہ بناوٹ اسی قبیل سے ہے کہ
لن یصلح العطاء مافسدہ الدھر
(زمانے کے فساد کویہ عطیہ ہر گز درست نہیں کرسکتا۔ ت)
قصد قلب کلمات لسان سے ظاہر نہ ہوگا تو کیا وحی اترے گی کہ فلاں کے دل کا یہ ارادہ تھا اور صریح لفظ شنیع وقبیح میں سوق کلام خاص بغرض توہین ہونا کس نے لازم کیا کیا اﷲ ورسول کو براکہنا اس وقت کلمہ کفر ہے جب بالخصوص اسی امر میں گفتگو ہو ورنہ باتوں باتوں میں جتنا چاہے برا کہہ جائے کفروکلمہ کفر نہیں علت وہی ہے کہ ان حضرات کے دلوں میں حضور پر نور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی عزت عظمت نہیں ان کی بدگوئی کو ہلکا جانتے ہیں اس میں طرح طرح کی شاخیں نکالتے ہیں جیسے بنے اپنے امام کے کفریات سنبھالتے ہیں شفاء شریف ص ۳۳۰(باقی اگلت صفحہ پر)
اے راہ روپشت بمنزل ہشدار
(اے منزل کی طر ف پشت کرکے چلنے والے! ہوش کر۔ ت)
مزہ یہ ہے کہ وہ خود تمھاری ساری بناوٹوں کا دربا جلا گیا۔ تقویۃ الایمان :
“ یہ بات محض بے جا ہے کہ ظاہر میں لفظ بے ادبی کا بولئے اور اس سے کچھ اور معنی لیجئے معما اور پہیلی بولنے کی اور جگہ ہیں۔ کوئی شخص اپنے باپ یا بادشاہ سے جگت نہیں بولتا اس کے واسطے دوست آشنا ہیں نہ باپ اور بادشاہ۔ “
اور انصاف کیجئے تو اس کھلی گستاخی میں کوئی تاویل کی جگہ نہیں میں جانتاہوں تم یوں نہیں سمجھو گے ذرا اپنے کلیجہ پر ہاتھ رکھ کر دیکھو اورآنکھیں بند کرکے بہ نگاہ انصاف غور کرو اگر کوئی وہابی اپنے باپ کی نسبت کہے کہ تیرے کان گدھے کے سے ہیں تیری ناك بجو کی سی ہے تو کیااس نے اپنے باپ کو گالی نہ دی یا کوئی سعادت مند نجدی اٹھ کراپنے بدلگام مصنوعی امام کی نسبت کہے کہ ان کی آواز لطیف کتے کے بھونکنے سے مشابہ تھی ان کا دہن شریف سور کی تھوتھنی سے ملتاتھا تو تم اسے کیسا سمجھو گے۔ کیا اپنے طائفے میں رکھوگے یا بسبب گستاخی پیشواذات سے باہر کردو گے۔ اب تمھیں ظاہر ہوگاکہ اس خبیث بددین نے جوہمارے عزت والے رسول دوجہان بادشاہ عرش عالم پناہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی نسبت یہ لعنتی کلمات عــــــہ لکھے۔ انھوں نے ہمارے اسلامی دلوں پر تیر وخنجر سے زیادہ کام کیا پھر ہم اسے
عــــــہ : یہاں اس کے پیرووں کی غایت معذرت وسخن سازی جو کچھ ہے یہ ہے کہ کلام اس نے بقصد توہین نہ لکھا سوق سخن تاکید اخلاص کے لئے ہے مگر یہ بناوٹ اسی قبیل سے ہے کہ
لن یصلح العطاء مافسدہ الدھر
(زمانے کے فساد کویہ عطیہ ہر گز درست نہیں کرسکتا۔ ت)
قصد قلب کلمات لسان سے ظاہر نہ ہوگا تو کیا وحی اترے گی کہ فلاں کے دل کا یہ ارادہ تھا اور صریح لفظ شنیع وقبیح میں سوق کلام خاص بغرض توہین ہونا کس نے لازم کیا کیا اﷲ ورسول کو براکہنا اس وقت کلمہ کفر ہے جب بالخصوص اسی امر میں گفتگو ہو ورنہ باتوں باتوں میں جتنا چاہے برا کہہ جائے کفروکلمہ کفر نہیں علت وہی ہے کہ ان حضرات کے دلوں میں حضور پر نور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی عزت عظمت نہیں ان کی بدگوئی کو ہلکا جانتے ہیں اس میں طرح طرح کی شاخیں نکالتے ہیں جیسے بنے اپنے امام کے کفریات سنبھالتے ہیں شفاء شریف ص ۳۳۰(باقی اگلت صفحہ پر)
اپنے سچے پکے اسلامی گروہ میں کیونکر داخل کرسکتے ہیں ذرایہ فرق بھی دیکھتے جاؤ کہ ہم نے جو نظیریں دیں ان میں صر ف تشبیہ پر قناعت کی تم جانو جب نری تشبیہ ایسی ہو تو بدرجہا بدتربتانے میں مسلمانوں کا کیا حال ہوا ہوگا الا لعنۃ اﷲ علی اعداء رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علی رسولہ والہ وبارك وسلم۔
مسلمانو! اور ذرااس ناپاك وجہ کو تو خیال کرو(خاکش بدہن)یہ “ بدرجہا بدتر ہونا “ اس لئے ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکا خیال آیا تو عظمت کے ساتھ آئیگا اور گدھے کا حقارت سے تو نماز عــــــہ میں
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
تقدم الکلام فی قتل القاصد لسبہ الوجہ الثانی لاحق بہ فی الجلاء ان یکون القائل غیر قاصد للسب والازراء لامعتقد لہ ولکن تکلم فی جہتہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بکلمۃ الکفر مماھو فی حقہ صلی اﷲ علیہ وسلم نقیصۃ مثل ان یاتی بسفہ من القول اوقبیح من الکلام و نوع من السب فی جہتہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وان ظھر بدلیل حال انہ لم یقصد سبہ اما لجہالۃ او ضجر او سکراوقلۃ ضبط لسانہ او تھور فی کلامہ فحکم ھذا حکم الوجہ الاول قتل من دون تلعثم اھ مختصرا۔ یعنی اس کاحال تو اوپر معلوم ہوچکا جو بالقصد تنقیص شان اقدس کرے دوسری صور ت اسی کی طرح روشن وظاہر یہ ہے کہ قائل نہ تنقیص وتحقیر کا قصد کرے نہ اس کا معتقد ہو مگر حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے معاملہ میں کلمہ کفر بول اٹھے جو حضور کے حق میں تنقیص شان ہو مثلا کوئی بے ادبی کا لفظ یا بری بات اور ایك طرح کی تنقیص بولے اگرچہ اس کے اس کے حال سے ظاہر ہو کہ ا س نے مذمت وتوہین کا ارادہ نہ کیا بلکہ جہالت یا جھنجھلاہٹ یا نشہ میں بك دیا یا بات کہنے میں زبان روکنے کی کمی یا بیباکی سے صادر ہوا اس صورت کاحکم بعینہ وہی پہلی صورت کاحکم ہے فورا قتل کیا جائے بلا توقف ۱۲ منہ۔
عــــــہ : مکتوبات شیخ مجدد صاحب مطبوعہ لکھنؤ جلد۲ مکتوب ۳ صفحہ ۴۶ خواجہ محمد اشرف ورزش نسبت رابطہ نوشتہ بودند الخ(پوری عبارت زیر کفر ۵۳ ص ۲۱۸ میں آتی ہے)
سبحان اللہ! کہاں تواس شخص کا وہ کفری بول کہ نماز میں محمد رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکا خیال آیا اور خاکش بدہن شرك نے منہ پھیلایا یا فقط نماز برباد کہ ایمان ہی ابتر تف بروئے (باقی اگلے صفحہ پر)
مسلمانو! اور ذرااس ناپاك وجہ کو تو خیال کرو(خاکش بدہن)یہ “ بدرجہا بدتر ہونا “ اس لئے ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکا خیال آیا تو عظمت کے ساتھ آئیگا اور گدھے کا حقارت سے تو نماز عــــــہ میں
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
تقدم الکلام فی قتل القاصد لسبہ الوجہ الثانی لاحق بہ فی الجلاء ان یکون القائل غیر قاصد للسب والازراء لامعتقد لہ ولکن تکلم فی جہتہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بکلمۃ الکفر مماھو فی حقہ صلی اﷲ علیہ وسلم نقیصۃ مثل ان یاتی بسفہ من القول اوقبیح من الکلام و نوع من السب فی جہتہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وان ظھر بدلیل حال انہ لم یقصد سبہ اما لجہالۃ او ضجر او سکراوقلۃ ضبط لسانہ او تھور فی کلامہ فحکم ھذا حکم الوجہ الاول قتل من دون تلعثم اھ مختصرا۔ یعنی اس کاحال تو اوپر معلوم ہوچکا جو بالقصد تنقیص شان اقدس کرے دوسری صور ت اسی کی طرح روشن وظاہر یہ ہے کہ قائل نہ تنقیص وتحقیر کا قصد کرے نہ اس کا معتقد ہو مگر حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے معاملہ میں کلمہ کفر بول اٹھے جو حضور کے حق میں تنقیص شان ہو مثلا کوئی بے ادبی کا لفظ یا بری بات اور ایك طرح کی تنقیص بولے اگرچہ اس کے اس کے حال سے ظاہر ہو کہ ا س نے مذمت وتوہین کا ارادہ نہ کیا بلکہ جہالت یا جھنجھلاہٹ یا نشہ میں بك دیا یا بات کہنے میں زبان روکنے کی کمی یا بیباکی سے صادر ہوا اس صورت کاحکم بعینہ وہی پہلی صورت کاحکم ہے فورا قتل کیا جائے بلا توقف ۱۲ منہ۔
عــــــہ : مکتوبات شیخ مجدد صاحب مطبوعہ لکھنؤ جلد۲ مکتوب ۳ صفحہ ۴۶ خواجہ محمد اشرف ورزش نسبت رابطہ نوشتہ بودند الخ(پوری عبارت زیر کفر ۵۳ ص ۲۱۸ میں آتی ہے)
سبحان اللہ! کہاں تواس شخص کا وہ کفری بول کہ نماز میں محمد رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکا خیال آیا اور خاکش بدہن شرك نے منہ پھیلایا یا فقط نماز برباد کہ ایمان ہی ابتر تف بروئے (باقی اگلے صفحہ پر)
حوالہ / References
الشفاء بتعریف حقوق المصطفی فصل قال القاضی تقدم الکلام المطبعۃ الشرکۃ الصحافیۃ فی البلاد العثمانیہ ۲ / ۲۲۲
مکتوبات امام ربانی مکتوب ۳۰ بخواجہ محمد اشرف وحاجی محمد نولکشورلکھنؤ ۲ / ۴۶
مکتوبات امام ربانی مکتوب ۳۰ بخواجہ محمد اشرف وحاجی محمد نولکشورلکھنؤ ۲ / ۴۶
نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکا تصور آنا اس شرك پسند کے نزدیك شرك تك پہنچائے گا۔
اقول : الحمد ﷲ محمدر سول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی عظمت تو رفیع الدرجات ذوالعرش جل وعلا کی بنائی ہوئی ہے۔ کسی کافر یا کافرمنش کے مٹائے نہ مٹے گی چودھویں رات کے چاند کا چمکتا نور کہیں کتوں کے بھونکنے سے کم ہوا ہے
مہ فشاند نور وسگ عو عو کند ہر کسے برخلقت خود مے تند
(چاند نور پھیلا رہاہے اور کتا عو عو کرتاہے ہر ایك اپنی اپنی فطرت ظاہر کرتاہے۔ ت)
اس شخص کے نزدیك نماز میں محمد رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکا خیال آنا موجب شرك کہ جب وہ آئے گا عظمت کے ساتھ آئے گا مگر واﷲ العظیم کہ شریعت رب العرش الکریم نے نماز بے ان کے خیال باعظمت وجلال کے ناقص ہے اس سے کہو کہ اپنے شریکوں کو جمع کرے اورقہر والے عرش کے مالك سے لڑائی لے کہ تو نے کیوں
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
کافروشی وکفرمنشی ان کے(بدگویوں)کی طرف خیال لے جانا اپنے بیل اور گدھے کے نہ صرف تصور بلکہ ہمہ تن اس میں ڈوب جانے سے بدر جہا بدتر اور کہاں شیخ طریقت وآقائے نعمت وخداوند دولت خاندان دہلی شیخ مجد د کا یہ واشگاف قول کہ تصور صورت شیخ سے غافل نہ ہو۔ نمازوں عبادتوں سب وقتوں حالتوں میں اسی کی طرف متوجہ رہو اگرچہ عین نماز میں اسی صورت کو سجدہ محسوس ہو وہ قبلہ عبادت ہے نہ مسجودلہ جو اس قبلہ سے پھرا وہ بیدولت تباہ ہوا اس کا کام برباد ہوگیا تصور شیخ کی ایسی دولت سعادت مندوں کو ملتی ہے طالبان خدا کو اس کی بہت تمنا رہتی ہے غرض وہ بول یہ قول باہم لڑے ہیں کفر وشرك کے عقاب پر تولے کھڑے ہیں دیکھئے وہابی صاحب کدھرڈھالتے ہیں ادھر جھکاتے یا ادھر ڈالتے ہیں
یادامن یارفت از دست یا ایں دل زار رفت ازدست
(یار دامن ہاتھ سے جائے گا یا یہ آزردہ دل ہاتھ سے جائیگا۔ ت)
کذلک العذاب و لعذاب الاخرۃ اکبر لو کانوا یعلمون ﴿۳۳﴾ ۔ ۱۲ سل السیوف الھندیۃ علی کفریات باباالنجدیۃ مارایسی ہوتی ہے اور بیشك آخرت کی مار سب سے بڑی ہے کیا اچھا تھا کہ وہ جانتے ۱۲ سل السیوف الہندیۃ علی کفریات باباالنجدیۃ
اقول : الحمد ﷲ محمدر سول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی عظمت تو رفیع الدرجات ذوالعرش جل وعلا کی بنائی ہوئی ہے۔ کسی کافر یا کافرمنش کے مٹائے نہ مٹے گی چودھویں رات کے چاند کا چمکتا نور کہیں کتوں کے بھونکنے سے کم ہوا ہے
مہ فشاند نور وسگ عو عو کند ہر کسے برخلقت خود مے تند
(چاند نور پھیلا رہاہے اور کتا عو عو کرتاہے ہر ایك اپنی اپنی فطرت ظاہر کرتاہے۔ ت)
اس شخص کے نزدیك نماز میں محمد رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکا خیال آنا موجب شرك کہ جب وہ آئے گا عظمت کے ساتھ آئے گا مگر واﷲ العظیم کہ شریعت رب العرش الکریم نے نماز بے ان کے خیال باعظمت وجلال کے ناقص ہے اس سے کہو کہ اپنے شریکوں کو جمع کرے اورقہر والے عرش کے مالك سے لڑائی لے کہ تو نے کیوں
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
کافروشی وکفرمنشی ان کے(بدگویوں)کی طرف خیال لے جانا اپنے بیل اور گدھے کے نہ صرف تصور بلکہ ہمہ تن اس میں ڈوب جانے سے بدر جہا بدتر اور کہاں شیخ طریقت وآقائے نعمت وخداوند دولت خاندان دہلی شیخ مجد د کا یہ واشگاف قول کہ تصور صورت شیخ سے غافل نہ ہو۔ نمازوں عبادتوں سب وقتوں حالتوں میں اسی کی طرف متوجہ رہو اگرچہ عین نماز میں اسی صورت کو سجدہ محسوس ہو وہ قبلہ عبادت ہے نہ مسجودلہ جو اس قبلہ سے پھرا وہ بیدولت تباہ ہوا اس کا کام برباد ہوگیا تصور شیخ کی ایسی دولت سعادت مندوں کو ملتی ہے طالبان خدا کو اس کی بہت تمنا رہتی ہے غرض وہ بول یہ قول باہم لڑے ہیں کفر وشرك کے عقاب پر تولے کھڑے ہیں دیکھئے وہابی صاحب کدھرڈھالتے ہیں ادھر جھکاتے یا ادھر ڈالتے ہیں
یادامن یارفت از دست یا ایں دل زار رفت ازدست
(یار دامن ہاتھ سے جائے گا یا یہ آزردہ دل ہاتھ سے جائیگا۔ ت)
کذلک العذاب و لعذاب الاخرۃ اکبر لو کانوا یعلمون ﴿۳۳﴾ ۔ ۱۲ سل السیوف الھندیۃ علی کفریات باباالنجدیۃ مارایسی ہوتی ہے اور بیشك آخرت کی مار سب سے بڑی ہے کیا اچھا تھا کہ وہ جانتے ۱۲ سل السیوف الہندیۃ علی کفریات باباالنجدیۃ
حوالہ / References
القرآن الکریم ۶۸ /۳۳
ایسی شریعت بھیجی جس نے نمازکی ہر دو رکعت پر التحیات واجب کی اوراس میں السلام علیك ایھاالنبی ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ اشھدان محمدا عبدہ ورسولہ پڑھناعرض کرنا لازم کیا۔
مسلمانو! کیا ان کے پڑھنے کاحکم محمد رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی طرف خیال کرنے کا حکم نہ ہوا بیشك ہوا اور واقعی ان کا خیال مسلمان کے دل میں جب آئے گا عظمت وجلال ہی کے ساتھ آئے گا کہ اس کا تصور ان کے پاك مبارك تصور کو لازم بین بالمعنی الاخص ہے اور عرض سلام تو خاص بغرض ذکر و اکرام ہی ہے تو یہاں نہ صرف ان کے خیال بلکہ خاص نماز میں ان کے ذکر وتکریم کا حکم صریح ولکن المنفقین لایعلمون(لیکن منافقین نہیں جانتے۔ ت)احیاء العلوم مطبع لکھنؤ ج ۱ ص ۹۹ :
احضر فی قلبك النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وشخصہ الکریم وقل سلام علیك ایھا النبی ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ ۔ التحیات میں نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکو اپنے دل میں حاضر کر اورحضور کی صورت پاك کا تصور باندھ اور عرض کر السلام علیك ایھا النبی ورحمہ اﷲ وبرکاتہ ۔
میزان امام شعرانی مطبوعہ مصر جلد ۱ صفحہ ۱۳۹ و ۱۴۰ :
سمعت سیدی علیا الخواص رحمہ اﷲ تعالی یقول انما امر الشارع المصلی بالصلوۃ والسلام علی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فی التشھد لینبہ الغافلین فی جلوسھم بین یدی اﷲ عزوجل علی شھود نبیھم فی تلك الحضرۃ فانہ لایفارق حضرۃ اﷲ تعالی ابدافیخاطبونہ بالسلام مشافیۃ ۔ میں نے اپنے سردار علی خواص رحمۃ اﷲ تعالی کوفرماتے سنا کہ شارع نے نمازی کو تشہد میں نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمپر درود وسلام عرض کرنے کا اس لئے حکم دیا جو لوگ اﷲ عزوجل کے دربار میں غفلت کے ساتھ بیٹھتے ہیں انھیں آگاہ فرما دے کہ اس حاضری میں اپنے نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکو دیکھیں اس لئے کہ حضور کبھی اﷲ تعالی کے دربار سے جدا نہیں ہوتے پس بالمشافہہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمپرسلام عرض کریں۔
مسلمانو! کیا ان کے پڑھنے کاحکم محمد رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی طرف خیال کرنے کا حکم نہ ہوا بیشك ہوا اور واقعی ان کا خیال مسلمان کے دل میں جب آئے گا عظمت وجلال ہی کے ساتھ آئے گا کہ اس کا تصور ان کے پاك مبارك تصور کو لازم بین بالمعنی الاخص ہے اور عرض سلام تو خاص بغرض ذکر و اکرام ہی ہے تو یہاں نہ صرف ان کے خیال بلکہ خاص نماز میں ان کے ذکر وتکریم کا حکم صریح ولکن المنفقین لایعلمون(لیکن منافقین نہیں جانتے۔ ت)احیاء العلوم مطبع لکھنؤ ج ۱ ص ۹۹ :
احضر فی قلبك النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وشخصہ الکریم وقل سلام علیك ایھا النبی ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ ۔ التحیات میں نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکو اپنے دل میں حاضر کر اورحضور کی صورت پاك کا تصور باندھ اور عرض کر السلام علیك ایھا النبی ورحمہ اﷲ وبرکاتہ ۔
میزان امام شعرانی مطبوعہ مصر جلد ۱ صفحہ ۱۳۹ و ۱۴۰ :
سمعت سیدی علیا الخواص رحمہ اﷲ تعالی یقول انما امر الشارع المصلی بالصلوۃ والسلام علی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فی التشھد لینبہ الغافلین فی جلوسھم بین یدی اﷲ عزوجل علی شھود نبیھم فی تلك الحضرۃ فانہ لایفارق حضرۃ اﷲ تعالی ابدافیخاطبونہ بالسلام مشافیۃ ۔ میں نے اپنے سردار علی خواص رحمۃ اﷲ تعالی کوفرماتے سنا کہ شارع نے نمازی کو تشہد میں نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمپر درود وسلام عرض کرنے کا اس لئے حکم دیا جو لوگ اﷲ عزوجل کے دربار میں غفلت کے ساتھ بیٹھتے ہیں انھیں آگاہ فرما دے کہ اس حاضری میں اپنے نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکو دیکھیں اس لئے کہ حضور کبھی اﷲ تعالی کے دربار سے جدا نہیں ہوتے پس بالمشافہہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمپرسلام عرض کریں۔
حوالہ / References
احیاء العلوم کتاب اسرار الصلٰوۃ بیان تفصیل ماینبغی ان یحضر القلب الخ مطبعۃ المشہد الحسینی قاہرہ ۱ / ۱۲۹
المیزان الکبرٰی للشعرانی باب صفۃ الصلٰوۃ مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۶۷
المیزان الکبرٰی للشعرانی باب صفۃ الصلٰوۃ مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۶۷
حجۃ اﷲ البالغہ شاہ ولی اﷲ صاحب صدیقی ص ۲۱۰ :
ثم اختار بعدہ السلام علی النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم تنویھا بذکرہ واثباتا للاقرار برسالتہ واد اء لبعض حقوقہ ۔ پھر اس کے بعد التحیات میں نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمپر سلام اختیار کیا ان کا ذکر پاك بلند کرنے کو اور ان کی رسالت کا اقرار ثابت اور ان کے حقوق سے ایك ذرہ ادا کرنے کے لئے۔
اولیائے عظام وعلمائے کرام نے اس عرض سے سلام کی جو حکمت ارشاد فرمائی ہے میں اسے مواہب لدنیہ وغیرہا ائمہ کتب سے نقل کروں اس سے بہترکہ ان غیر مقلدوں کے امام آخرالزمان نواب صدیق حسن خان بھوپالی کی کتاب سے سناؤں کہ یہ ان پر اشد وسخت ترہے۔ مسك الختام نواب بھوپال مقام ص ۲۴۴ :
نیز آں حضرت ہمیشہ نصب العین مومنان وقرۃ العین عابدان ست درجمیع احوال واوقات خصوصا درحالت عبادات ونورانیت وانکشاف دریں محل بیشتر و قوی ترست وبعضے از عرفاء قدس سرہم گفتہ اند ایں کہ خطاب بجہت سریاں حقیقت محمدیہ است علیہ الصلوۃ والسلام در ذرا ئر موجودات وافراد ممکنات پس آنحضرت در ذوات مصلیان موجود حاضر ست پس مصلی باید کہ ازیں معنی آگاہ باشد وازیں شہود غافل نبود تابانوار قرب واسرار معرفت منور و فائز گرددآرے
درراہ عشق مرحلہ قرب وبعد نیست
می بینمت عیاں دعا می فرسمت تمام احوال واوقات خصوصا عبادات کی حالتوں میں حضور علیہ الصلوۃ والسلام مومنین کا نصب العین اور عابدین کی آنکھوں کی ٹھنڈك ہوتے ہیں عبادات کے مواقع میں نورانیت اور انکشاف زیادہ قوی ہوتاہے بعض عارفین قدس اسرارہم نے فرمایا کہ نماز میں(السلام علیك کا)خطاب حقیقت محمدیہ علیہ الصلوۃ والسلام کو ہوتاہے جو موجودات کے تمام ذرات اورممکنات کے تمام افراد میں سرایت کئے ہوئے ہے لہذا حضور علیہ الصلوۃ والسلام نمازیوں کی ذات میں موجوداور حاضر ہوتے ہیں اس لیے نمازی کو اس حقیقت سے آگاہ رہنا چاہئے اور حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی اس موجودگی سے غافل نہ ہوتاکہ قرب کے انوار اور معرفت کے اسرار سے منور اور فائز ہوجائے ہاں(شعر)عشق کی راہ میں قرب وبعد کا مرحلہ نہیں ہے۔ میں آپ کو واضح طور پر دیکھ رہا ہوں اور دعا پیش کرتاہوں۔ (ت)
ثم اختار بعدہ السلام علی النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم تنویھا بذکرہ واثباتا للاقرار برسالتہ واد اء لبعض حقوقہ ۔ پھر اس کے بعد التحیات میں نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمپر سلام اختیار کیا ان کا ذکر پاك بلند کرنے کو اور ان کی رسالت کا اقرار ثابت اور ان کے حقوق سے ایك ذرہ ادا کرنے کے لئے۔
اولیائے عظام وعلمائے کرام نے اس عرض سے سلام کی جو حکمت ارشاد فرمائی ہے میں اسے مواہب لدنیہ وغیرہا ائمہ کتب سے نقل کروں اس سے بہترکہ ان غیر مقلدوں کے امام آخرالزمان نواب صدیق حسن خان بھوپالی کی کتاب سے سناؤں کہ یہ ان پر اشد وسخت ترہے۔ مسك الختام نواب بھوپال مقام ص ۲۴۴ :
نیز آں حضرت ہمیشہ نصب العین مومنان وقرۃ العین عابدان ست درجمیع احوال واوقات خصوصا درحالت عبادات ونورانیت وانکشاف دریں محل بیشتر و قوی ترست وبعضے از عرفاء قدس سرہم گفتہ اند ایں کہ خطاب بجہت سریاں حقیقت محمدیہ است علیہ الصلوۃ والسلام در ذرا ئر موجودات وافراد ممکنات پس آنحضرت در ذوات مصلیان موجود حاضر ست پس مصلی باید کہ ازیں معنی آگاہ باشد وازیں شہود غافل نبود تابانوار قرب واسرار معرفت منور و فائز گرددآرے
درراہ عشق مرحلہ قرب وبعد نیست
می بینمت عیاں دعا می فرسمت تمام احوال واوقات خصوصا عبادات کی حالتوں میں حضور علیہ الصلوۃ والسلام مومنین کا نصب العین اور عابدین کی آنکھوں کی ٹھنڈك ہوتے ہیں عبادات کے مواقع میں نورانیت اور انکشاف زیادہ قوی ہوتاہے بعض عارفین قدس اسرارہم نے فرمایا کہ نماز میں(السلام علیك کا)خطاب حقیقت محمدیہ علیہ الصلوۃ والسلام کو ہوتاہے جو موجودات کے تمام ذرات اورممکنات کے تمام افراد میں سرایت کئے ہوئے ہے لہذا حضور علیہ الصلوۃ والسلام نمازیوں کی ذات میں موجوداور حاضر ہوتے ہیں اس لیے نمازی کو اس حقیقت سے آگاہ رہنا چاہئے اور حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی اس موجودگی سے غافل نہ ہوتاکہ قرب کے انوار اور معرفت کے اسرار سے منور اور فائز ہوجائے ہاں(شعر)عشق کی راہ میں قرب وبعد کا مرحلہ نہیں ہے۔ میں آپ کو واضح طور پر دیکھ رہا ہوں اور دعا پیش کرتاہوں۔ (ت)
حوالہ / References
حجۃ البالغہ الامور التی لابدمنہا فی الصلٰوۃ المکتبۃ السلفیۃ لاہور ۲ / ۶
مسك الختام شرح بلوغ المرام کتاب الصلٰوۃ باب ۷ صفۃ الصلٰوۃ مطبع نظامی کانپور ۱ / ۲۴۴
مسك الختام شرح بلوغ المرام کتاب الصلٰوۃ باب ۷ صفۃ الصلٰوۃ مطبع نظامی کانپور ۱ / ۲۴۴
اس عبارت میں نواب بہادر فرمائشی شرکوں کے انبار لگاگئے نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمہر عبادت میں مسلمانوں کے پیش نظر ہیں۱ ایك شرک نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمہر نمازی کی ذات بلکہ ہر ہرذرہ ممکنات میں موجودو حاضر ہیں ۲دو شرک نمازی نماز میں نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے مشاہدے سے ہر گز غافل نہ ہوتاہے کہ قرب الہی پائے ۳تین شرک مگر یہ کہے کہ اگلی پچھلی سلطنتوں میں بڑے لوگوں کو تین خون معاف ہوتے تھے گورنمنٹ وہابیت سے نواب بہاد رکو تین شرك معاف ہیں ولا حول ولاقوۃ الا باﷲ العلی العظیم۔ اسی طرح وعلی عباداﷲ الصلحین کیا شرك سے بچے رہے گا کہ امثال آں از معظمین سب کو شامل۔
مسلمانو! کیا ہرنماز کے ختم پردرود شریف پڑھنا سنت نہیں اور حضرت امام شافعی وامام احمد عــــــہ رضی اﷲ تعالی عنہماکے نزدیك تو فرض ہے۔ پھر درود محمد رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی یاد وتکریم نہیں تو کیا ہے۔ درود کو محمد رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے خیال باعظمت وجلال سے انفکاك کیونکر ممکن ! مسلمانو! ہر رکعت میں الحمد شریف پڑھنا ہمارے نزدیك امام ومنفرد پر واجب اور ان غیر مقلدوں وہابیوں کے یہاں سب پر فرض ہے ان سے کہو اس میں “ صرط الذین انعمت علیہم “ نکال ڈالیں یعنی راہ ان کی جن پر تونے انعام کیا۔ جانتے ہو وہ کون ہیں ہاں قرآن سے پوچھو وہ کون ہیں :
“ فاولئک مع الذین انعم اللہ علیہم من النبین والصدیقین والشہداء والصلحین “ جن پر خدا نے انعام کیا وہ انبیاء اور صدیق اور شہداء اور نیك لوگ ہیں
جب “ صرط الذین انعمت علیہم “ “ پڑھ کر ان کی راہ مانی جائے گی ضرور عظمت کے ساتھ ان کا خیال آئے گا اور وہ اس کے نزدیك شرك ہے تو الحمد میں سے اس شرك کے دور کرنے کی کوشش کریں صرف “ غیر المغضوب علیہم ولا الضالین﴿۷﴾ “ رکھیں کہ انبیاء وصدیقین کی جگہ نماز میں یہود نصاری کی یاد گاری رہے بلکہ “ اہد نا الصرط المستقیم﴿۵﴾ “ بھی رکھنے کے قابل نہیں کہ حدیث میں اس سے رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلموصدیق اکبر وفاروق اعظم رضی اﷲ تعالی عنہما مراد لئے گئے ہیں فتح الخبیرشاہ ولی اﷲ دہلوی مصر ۹۵ ھ ص ۳ :
عــــــہ : فی اشھر الروایتین اھ میزان الشعرانی ورحمۃ الامۃ ۱۲ منہ۔ (م) دونوں روایتوں میں سے مشہور روایت میں میزان الشعرانی ورحمۃ الامۃ ۱۲ منہ(ت)
الصراط المستقیم کتاب اﷲ وقیل رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وصاحباہ ۔ صراط مستقیم سے مراد قرآن ہے اور بعض نے کہا رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلماور ابوبکر صدیق وعمرفاروق رضی اﷲ تعالی عنہما مراد ہیں(ت)
مسلمانو! کیا ہرنماز کے ختم پردرود شریف پڑھنا سنت نہیں اور حضرت امام شافعی وامام احمد عــــــہ رضی اﷲ تعالی عنہماکے نزدیك تو فرض ہے۔ پھر درود محمد رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی یاد وتکریم نہیں تو کیا ہے۔ درود کو محمد رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے خیال باعظمت وجلال سے انفکاك کیونکر ممکن ! مسلمانو! ہر رکعت میں الحمد شریف پڑھنا ہمارے نزدیك امام ومنفرد پر واجب اور ان غیر مقلدوں وہابیوں کے یہاں سب پر فرض ہے ان سے کہو اس میں “ صرط الذین انعمت علیہم “ نکال ڈالیں یعنی راہ ان کی جن پر تونے انعام کیا۔ جانتے ہو وہ کون ہیں ہاں قرآن سے پوچھو وہ کون ہیں :
“ فاولئک مع الذین انعم اللہ علیہم من النبین والصدیقین والشہداء والصلحین “ جن پر خدا نے انعام کیا وہ انبیاء اور صدیق اور شہداء اور نیك لوگ ہیں
جب “ صرط الذین انعمت علیہم “ “ پڑھ کر ان کی راہ مانی جائے گی ضرور عظمت کے ساتھ ان کا خیال آئے گا اور وہ اس کے نزدیك شرك ہے تو الحمد میں سے اس شرك کے دور کرنے کی کوشش کریں صرف “ غیر المغضوب علیہم ولا الضالین﴿۷﴾ “ رکھیں کہ انبیاء وصدیقین کی جگہ نماز میں یہود نصاری کی یاد گاری رہے بلکہ “ اہد نا الصرط المستقیم﴿۵﴾ “ بھی رکھنے کے قابل نہیں کہ حدیث میں اس سے رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلموصدیق اکبر وفاروق اعظم رضی اﷲ تعالی عنہما مراد لئے گئے ہیں فتح الخبیرشاہ ولی اﷲ دہلوی مصر ۹۵ ھ ص ۳ :
عــــــہ : فی اشھر الروایتین اھ میزان الشعرانی ورحمۃ الامۃ ۱۲ منہ۔ (م) دونوں روایتوں میں سے مشہور روایت میں میزان الشعرانی ورحمۃ الامۃ ۱۲ منہ(ت)
الصراط المستقیم کتاب اﷲ وقیل رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وصاحباہ ۔ صراط مستقیم سے مراد قرآن ہے اور بعض نے کہا رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلماور ابوبکر صدیق وعمرفاروق رضی اﷲ تعالی عنہما مراد ہیں(ت)
حوالہ / References
القرآن الکریم ۱ /۶
القرآن الکریم ۴ /۶۹
القرآن الکریم ۱ /۶
ا لقرآن الکریم ۱ / ۶
القرآن الکریم ۱ /۷
القرآن الکریم ۱ /۵
فتح الخبیر مع الفوز الکبیر الباب الخامس تکملہ الفوز الکبیر نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص۸۷
القرآن الکریم ۴ /۶۹
القرآن الکریم ۱ /۶
ا لقرآن الکریم ۱ / ۶
القرآن الکریم ۱ /۷
القرآن الکریم ۱ /۵
فتح الخبیر مع الفوز الکبیر الباب الخامس تکملہ الفوز الکبیر نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص۸۷
مسلمانو! میں فقط الحمد کو کہتاہوں۔ نہیں نہیں شاید دو ایك کے سوا قرآن عظیم کی کسی سورت کا نماز میں تلاوت کرنا اس وہابی شرك سے نہ بچے گا۔ جن سورتوں میں حضو ر پر نورمحمد رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمیا دیگر انبیائے کرام یا ملائکہ عظام یا صحابہ کباریا مہاجرین وانصار یا متقین ومحسنین وعباداﷲ الصالحین کی صریح تعریفیں ہیں ان کا تو کہنا ہی کیاہے یونہی وہ بھی جن میں حضرات انبیاء علیہم الصلوۃ والثناء کے قصص مذکورہیں کہ ان کا تصور جب آئے گاعظمت ہی سے آئے گا جس کا اس شخص کو خود اقرار ہے ان کے سوا گنتی ہی کی سورتیں حضور اقدس محمد رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے ذکر صریح سے خالی ہوں گی اور کچھ نہ ہو تو کم سے کم حضور سے خطاب ہوں گے جب چاروں قل “ تبت “ میں کھلا ہوا حضور قدس صلی کا ذکر لگا ہواہے کہ ا س کی تلاوت میں ضرور خیال جائے گاکہ یہ بھاری انتقام اﷲ عزوجل کس کی طرف سے لے رہاہے یہ سخت غضب الہی کس کی جناب میں گستاخی کرنے پر اتر رہا ہے “ لایلف “ شریف میں ا گرحضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکا صراحۃ ذکر نہیں تو کعبہ معظمہ کاذکر ہے اور وہ بھی کمال تعظیم کے ساتھ کہ اپنی ربوبیت کو اس کی طر ف اضافت فرمایا اس کا تصور کب بے عظمت آئے گا بنظر ظاہر صرف سورہ تکاثر اس عالمگیر وبا سے بچے گی باقی تمام وکمال ہر سورۃ کی تلاوت شرك عــــــہ میں ڈالے گی پھر تکاثر بھی
عــــــہ : اور شریعت محمدیہ علی صاحبہا افضل الصلوۃ والتحیۃ عیاذا باﷲ ان شرکیات کی واجب وسنت وجائز کرنیوالی ہوئی صحابہ سے آج تك تمام مسلمان کہ ان امور پر اجماع کیے ہوئے ہیں سب شرك میں گرفتار ٹھہرے ا س سے بڑھ کر اور کیا کلمہ ہوگا شفاء شریف ص ۳۶۲ و ۳۶۳ :
نقطع بتکفیر کل قائل قال قولا یتوصل بہ الی تضلیل الامۃ ۔ ۱۲ سل السیوف الھندیۃ علی کفریات بابا النجدیۃ للمصنف العلامۃ مدظلہ جو شخص ایسی بات کہے جس سے تمام امت کے گمراہ ٹھہرنے کی راہ نکلتی ہو ہم بالیقین اسے کافر کہتے ہیں ۱۲ سل السیوف الہندیۃ علی کفریات بابا النجدیۃ للمصنف العلامۃ مدظلہ۔
عــــــہ : اور شریعت محمدیہ علی صاحبہا افضل الصلوۃ والتحیۃ عیاذا باﷲ ان شرکیات کی واجب وسنت وجائز کرنیوالی ہوئی صحابہ سے آج تك تمام مسلمان کہ ان امور پر اجماع کیے ہوئے ہیں سب شرك میں گرفتار ٹھہرے ا س سے بڑھ کر اور کیا کلمہ ہوگا شفاء شریف ص ۳۶۲ و ۳۶۳ :
نقطع بتکفیر کل قائل قال قولا یتوصل بہ الی تضلیل الامۃ ۔ ۱۲ سل السیوف الھندیۃ علی کفریات بابا النجدیۃ للمصنف العلامۃ مدظلہ جو شخص ایسی بات کہے جس سے تمام امت کے گمراہ ٹھہرنے کی راہ نکلتی ہو ہم بالیقین اسے کافر کہتے ہیں ۱۲ سل السیوف الہندیۃ علی کفریات بابا النجدیۃ للمصنف العلامۃ مدظلہ۔
حوالہ / References
الشفاء بتعریف حقوق المصطفی فصل فی بیان ماھو من المقالات المطبعۃ الشرکۃ الصحافیۃ فی البلاد العثمانیہ ۲ / ۲۷۱
بچی تو صرف شرك سے معصیت یا کراہت سے اسے بھی نجات نہیں کہ مقابر وجحیم واموال ونعیم کا خیال اس میں بھی رکھا ہوا ہے یہ عظمت کے ساتھ نہ آکر خیال انبیاء واولیاء کے شرك میں نہ ملا تو خیال گاؤخر کی قباحت میں تو شریك ہوگا۔ تف ہزار تف ایسے ناپاك اختراع پر۔
مسلمانو! میں صرف نمازہی میں گفتگو کرتاہوں نہیں نہیں۔ اس کے نزدیك بیرونی نماز بھی قرآن عظیم کی تلاوت شرك ہے کیافقط نماز ہی عبادت ہے نفس تلاوت نہیں کیا اس عبادت میں شرك رواہے حاشا کسی عبادت میں روانہیں۔ اور قرآن کی سورتیں محمد رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی نعت ان کی ذکر ان کی یاد ان کی تعظیم ان کی تکریم سے گونج رہی ہیں توعبادت تلاوت بے تصورعظمت سیدنا عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکیونکر متصور تو اس چوپائی شرك سے کدھر مفر غرض اس دشنام صریح سے قطع نظر یہ وجہ قبیح خود اقبح القبائح ومجموعہ صدہا کفریات وفضائح ہے۔
مسلمانو! تم نے دیکھا کیسی خبیث وناپاك وجہ کے حیلے سے اس شخص نے تمھارے پیارے نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکو گالی دی اور ہنوز دعوی اسلام باقی ہے۔ سبحان اﷲ! یہ منہ اور یہ دعوی!
“ رب اعوذ بک من ہمزت الشیطین ﴿۹۷﴾ و اعوذ بک رب ان یحضرون ﴿۹۸﴾ “ اے میرے رب تیری پناہ شیاطین کے وسوسوں سے اور اے میرے رب تیری پناہ کہ وہ میرے پاس آئیں(ت)
تنبیہ : میں نے اس کفریہ ملعونہ کی تفضیح وتقبیح میں ذرا اپنے قلم کو وسعت دی کہ یہ مقام اس شخص کی اشد شقاوت کاتھا اورمیں نے نہ دیکھا کہ ہمارے علماء نے یہاں کلام کوکامل رنگ تفصیل دیاہو اب اس قول خبیث اخبث الاقوال بلکہ ارجس الابوال کے بعد مجھے اس کے کفریات جزئیہ زیادہ گنانے کی حاجت نہیں کہ طول وجہ ملال ہے مگر اجمالا اتنااور سن لیجئے کہ اس کے حصہ میں جزئیات کثیرہ کے علاوہ بعد دابواب جہنم سات کلیات کفریاتکے ہیں :
دہلوی ملاکے یہاں کفریات کے سات کلیے
(۱)جابجا قرآن عظیم ایك بات فرمائے اوریہ صاف اسے غلط وباطل کہہ جائے۔ شفاء شریف میں ص ۳۷۳ معین الحکام امام علاء الدین علی طرابلسی حنفی مطبع مصر ص ۲۲۹ :
من استخف بالقران اوبشیئ منہ او حجدہ اوکذب بشیئ منہ اواثبت مانفاہ اونفی جو شخص قرآن مجید یا اس کے کسی حرف کی گستاخی یا اس کا انکار یااس کی کسی بات کی تکذیب یا جس
مسلمانو! میں صرف نمازہی میں گفتگو کرتاہوں نہیں نہیں۔ اس کے نزدیك بیرونی نماز بھی قرآن عظیم کی تلاوت شرك ہے کیافقط نماز ہی عبادت ہے نفس تلاوت نہیں کیا اس عبادت میں شرك رواہے حاشا کسی عبادت میں روانہیں۔ اور قرآن کی سورتیں محمد رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی نعت ان کی ذکر ان کی یاد ان کی تعظیم ان کی تکریم سے گونج رہی ہیں توعبادت تلاوت بے تصورعظمت سیدنا عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکیونکر متصور تو اس چوپائی شرك سے کدھر مفر غرض اس دشنام صریح سے قطع نظر یہ وجہ قبیح خود اقبح القبائح ومجموعہ صدہا کفریات وفضائح ہے۔
مسلمانو! تم نے دیکھا کیسی خبیث وناپاك وجہ کے حیلے سے اس شخص نے تمھارے پیارے نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکو گالی دی اور ہنوز دعوی اسلام باقی ہے۔ سبحان اﷲ! یہ منہ اور یہ دعوی!
“ رب اعوذ بک من ہمزت الشیطین ﴿۹۷﴾ و اعوذ بک رب ان یحضرون ﴿۹۸﴾ “ اے میرے رب تیری پناہ شیاطین کے وسوسوں سے اور اے میرے رب تیری پناہ کہ وہ میرے پاس آئیں(ت)
تنبیہ : میں نے اس کفریہ ملعونہ کی تفضیح وتقبیح میں ذرا اپنے قلم کو وسعت دی کہ یہ مقام اس شخص کی اشد شقاوت کاتھا اورمیں نے نہ دیکھا کہ ہمارے علماء نے یہاں کلام کوکامل رنگ تفصیل دیاہو اب اس قول خبیث اخبث الاقوال بلکہ ارجس الابوال کے بعد مجھے اس کے کفریات جزئیہ زیادہ گنانے کی حاجت نہیں کہ طول وجہ ملال ہے مگر اجمالا اتنااور سن لیجئے کہ اس کے حصہ میں جزئیات کثیرہ کے علاوہ بعد دابواب جہنم سات کلیات کفریاتکے ہیں :
دہلوی ملاکے یہاں کفریات کے سات کلیے
(۱)جابجا قرآن عظیم ایك بات فرمائے اوریہ صاف اسے غلط وباطل کہہ جائے۔ شفاء شریف میں ص ۳۷۳ معین الحکام امام علاء الدین علی طرابلسی حنفی مطبع مصر ص ۲۲۹ :
من استخف بالقران اوبشیئ منہ او حجدہ اوکذب بشیئ منہ اواثبت مانفاہ اونفی جو شخص قرآن مجید یا اس کے کسی حرف کی گستاخی یا اس کا انکار یااس کی کسی بات کی تکذیب یا جس
حوالہ / References
القرآن الکریم ۲۳ /۹۸
مااثبتہ علی علم منہ بذلك اوشك فی شیئ من ذلك فھو کافر عنداھل العلم بالاجماع ۔ (ملخصا) بات کی قرآن نے نفی فرمائی اس کا اثبات یاجس کا اثبات فرمایااس کی نفی کرے دانستہ یا اس میں کسی طرح کا شك لائے وہ باجماع تمام علماء کے کافرہے۔ (ملخصا)
(۲)اس کے طور پر قرآن عظیم میں جابجا شرك موجود۔
(۳)اس کے نزدیك انبیاء کرام علیہم الصلوۃ سے شرك صادر ہوئے۔
(۴)یونہی حضرات ملائکہ عظام علیہم الصلوۃ والسلام سے۔
(۵)یہی خیال خبیث حضور پرنور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی نسبت۔
(۶)جن باتوں کو یہ صاف صاف شرك بتاتاہے وہ اس کے اکابر مولانا شاہ عبدالعزیز صاحب دہلوی اور ان کے والدماجد شاہ ولی اﷲ اور ان کے والد شاہ عبدالرحیم اور ان سب کے پیر سلسلہ جناب شیخ مجدد صاحب کی تصنیفات تحریرات میں اہلی گہلی پھر رہی ہیں تو اس کے نزدیك معاذاﷲ وہ سب مشرك تھے پھر یہ انھیں امام وپیشوا وولی خدا کہتاہے اور بڑی لمبی چوڑی تعریفوں سے یاد کرتا ہے اور جو مشرکوں کو ایسا جانے خود کافر ہے تو یہ اس کا نیم اقراری کفریہ ہوا۔
(۷)کھلے شرکوں کے بھاری تو دے خود اس کے کلام میں برساتی حشرات الارض کی طرح پھیلے ہیں ایك بات اس کتاب میں کفر دوسری میں ایمان یہاں شرك وہاں عرفان تو یہ پورا اقرار کفریہ ہے میں ان سب کی پوری تفصیل کروں تو بلا مبالغہ ایك مجلد ضخیم لکھوں دوسرے سے پانچویں تك چار کلیے کے لئے بکثرت جزئیات فقیر نے اپنے رسالہ اکمال الطامۃ علی شرك سوی بالامورالعامۃ(۱۳۱۱ھ)میں جمع کئے ثلثہ باقیہ کے جزئیات پر ہمارے بہت رسائل میں کلام ملے گا اور خود اسی رسالہ کی تقریرات سابقہ سے بعض کا پتا چلے گا یہاں بطور نمونہ ساتوں کلیے کی صرف ایك مثال لکھوں۔
کفریہ ۳۰ : اﷲ عزوجل فرماتاہے :
“ و تلک الامثل نضربہا للناس وما یعقلہا الا العلمون ﴿۴۳﴾ “
۔ ہم یہ کہاوتیں بیان کرتے ہیں لوگوں کے لئے اور ان کی سمجھ نہیں مگر عالموں کو۔
(۲)اس کے طور پر قرآن عظیم میں جابجا شرك موجود۔
(۳)اس کے نزدیك انبیاء کرام علیہم الصلوۃ سے شرك صادر ہوئے۔
(۴)یونہی حضرات ملائکہ عظام علیہم الصلوۃ والسلام سے۔
(۵)یہی خیال خبیث حضور پرنور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی نسبت۔
(۶)جن باتوں کو یہ صاف صاف شرك بتاتاہے وہ اس کے اکابر مولانا شاہ عبدالعزیز صاحب دہلوی اور ان کے والدماجد شاہ ولی اﷲ اور ان کے والد شاہ عبدالرحیم اور ان سب کے پیر سلسلہ جناب شیخ مجدد صاحب کی تصنیفات تحریرات میں اہلی گہلی پھر رہی ہیں تو اس کے نزدیك معاذاﷲ وہ سب مشرك تھے پھر یہ انھیں امام وپیشوا وولی خدا کہتاہے اور بڑی لمبی چوڑی تعریفوں سے یاد کرتا ہے اور جو مشرکوں کو ایسا جانے خود کافر ہے تو یہ اس کا نیم اقراری کفریہ ہوا۔
(۷)کھلے شرکوں کے بھاری تو دے خود اس کے کلام میں برساتی حشرات الارض کی طرح پھیلے ہیں ایك بات اس کتاب میں کفر دوسری میں ایمان یہاں شرك وہاں عرفان تو یہ پورا اقرار کفریہ ہے میں ان سب کی پوری تفصیل کروں تو بلا مبالغہ ایك مجلد ضخیم لکھوں دوسرے سے پانچویں تك چار کلیے کے لئے بکثرت جزئیات فقیر نے اپنے رسالہ اکمال الطامۃ علی شرك سوی بالامورالعامۃ(۱۳۱۱ھ)میں جمع کئے ثلثہ باقیہ کے جزئیات پر ہمارے بہت رسائل میں کلام ملے گا اور خود اسی رسالہ کی تقریرات سابقہ سے بعض کا پتا چلے گا یہاں بطور نمونہ ساتوں کلیے کی صرف ایك مثال لکھوں۔
کفریہ ۳۰ : اﷲ عزوجل فرماتاہے :
“ و تلک الامثل نضربہا للناس وما یعقلہا الا العلمون ﴿۴۳﴾ “
۔ ہم یہ کہاوتیں بیان کرتے ہیں لوگوں کے لئے اور ان کی سمجھ نہیں مگر عالموں کو۔
حوالہ / References
الشفاء بتعریف حقوق المصطفی فصل واعلم ان من استخف بالقرآن الخ المطبعۃ الشرکۃ الصحافیۃ فی البلاد العثمانیہ ۲ / ۲۸۷ و ۲۸۸
القرآن الکریم ۲۹ /۴۳
القرآن الکریم ۲۹ /۴۳
یہ شخص غیر مقلدی اور دین الہی میں ہرگونہ آزادی کا پھاٹك کھولنے کےلئے کہتاہے کہ یہ بالکل غلط ہے قرآن سمجھنے کو علم ہر گزدرکار نہیں۔
تقویۃ الایمان ص ۳ : “ عوام الناس میں مشہور ہے کہ اﷲ ورسول کا کلام سمجھنا بہت مشکل ہے اس کو بڑا علم چاہئے سویہ بات بہت غلط ہے اھ ملخصا۔
لطف یہ کہ اپنے اس گھڑے مطلب پر دلیل لایا آیہ کریمہ :
“ ہو الذی بعث فی الامین رسولا منہم یتلوا علیہم ایتہ و یزکیہم و یعلمہم الکتب و الحکمۃ ٭ “ ۔ سے اورخودہی ا س کا ترجمہ کیا کہ : “ وہ اﷲ ایساہے کہ جس نے کھڑا کیا نادانوں میں ایك رسول ان میں سے کہ پڑھتاہے ان پر آیتیں اس کی اور پاك کرتاہے ان کو اور سکھاتاہے ان کو کتاب اور عقل کی باتیں۔ “ کیوں حضرت! جب قرآن کے سمجھنے کو علم درکارنہیں ہر جاہل نادان سمجھ سکتاہے تو نبی کے سکھانے کی کیا حاجت تھی سبحان اللہ! ردوا سدوا تو خود سمجھ لیں اور صحابہ کرام سکھانے کے محتاج۔
کفریہ ۳۱ و ۳۲ : تقویۃ الایمان ص ۱۰ : “ روزی کی کشائش اور تنگی کرنی اور تندرست اور بیمار کردینا اقبال وادبار دینا حاجتیں برلانی بلائیں ٹالنی مشکل میں دستگیری کرنی یہ سب اﷲ ہی کی شان ہے اور کسی انبیاء اولیاء بھوت پر ی کی یہ شان نہیں جو کسی کو ایسا تصرف ثابت کرے اور اس سے مراد یں مانگے اور مصیبت کے وقت اس کو پکارے سو وہ مشرك ہوجاتاہے پھر خواہ یوں سمجھے کہ ان کاموں کی طاقت ان کو خود بخود ہے خواہ یوں سمجھے کہ اﷲ تعالی نے ان کو قدرت بخشی ہے ہر طرح شرك ہے اھ ملخصا۔
کاش یہ ظالم صرف اس قدر کہتاکہ جو کسی کو قادر بالذات ومتصرف بالاستقلال سمجھے مشرك ہے تو بیشك حق تھا مگر یوں مطلب کیا نکلتاکہ یہ معنی تو کسی کی نسبت کسی مسلمان کے خیال میں ہر گز نہیں تو تمام مسلمانوں کو
تقویۃ الایمان ص ۳ : “ عوام الناس میں مشہور ہے کہ اﷲ ورسول کا کلام سمجھنا بہت مشکل ہے اس کو بڑا علم چاہئے سویہ بات بہت غلط ہے اھ ملخصا۔
لطف یہ کہ اپنے اس گھڑے مطلب پر دلیل لایا آیہ کریمہ :
“ ہو الذی بعث فی الامین رسولا منہم یتلوا علیہم ایتہ و یزکیہم و یعلمہم الکتب و الحکمۃ ٭ “ ۔ سے اورخودہی ا س کا ترجمہ کیا کہ : “ وہ اﷲ ایساہے کہ جس نے کھڑا کیا نادانوں میں ایك رسول ان میں سے کہ پڑھتاہے ان پر آیتیں اس کی اور پاك کرتاہے ان کو اور سکھاتاہے ان کو کتاب اور عقل کی باتیں۔ “ کیوں حضرت! جب قرآن کے سمجھنے کو علم درکارنہیں ہر جاہل نادان سمجھ سکتاہے تو نبی کے سکھانے کی کیا حاجت تھی سبحان اللہ! ردوا سدوا تو خود سمجھ لیں اور صحابہ کرام سکھانے کے محتاج۔
کفریہ ۳۱ و ۳۲ : تقویۃ الایمان ص ۱۰ : “ روزی کی کشائش اور تنگی کرنی اور تندرست اور بیمار کردینا اقبال وادبار دینا حاجتیں برلانی بلائیں ٹالنی مشکل میں دستگیری کرنی یہ سب اﷲ ہی کی شان ہے اور کسی انبیاء اولیاء بھوت پر ی کی یہ شان نہیں جو کسی کو ایسا تصرف ثابت کرے اور اس سے مراد یں مانگے اور مصیبت کے وقت اس کو پکارے سو وہ مشرك ہوجاتاہے پھر خواہ یوں سمجھے کہ ان کاموں کی طاقت ان کو خود بخود ہے خواہ یوں سمجھے کہ اﷲ تعالی نے ان کو قدرت بخشی ہے ہر طرح شرك ہے اھ ملخصا۔
کاش یہ ظالم صرف اس قدر کہتاکہ جو کسی کو قادر بالذات ومتصرف بالاستقلال سمجھے مشرك ہے تو بیشك حق تھا مگر یوں مطلب کیا نکلتاکہ یہ معنی تو کسی کی نسبت کسی مسلمان کے خیال میں ہر گز نہیں تو تمام مسلمانوں کو
حوالہ / References
تقویۃ الایمان مقدمہ کتاب مطبع علیمی اندرون لوہاری گیٹ لاہور ص۲
القرآن الکریم ۶۲ /۲
تقویۃ الایمان مقدمہ کتاب مطبع علیمی اندرون لوہاری گیٹ لاہور ص۳
تقویۃالایمان پہلا باب مطبع علیمی اندرون لوہاری گیٹ لاہور ص۷
القرآن الکریم ۶۲ /۲
تقویۃ الایمان مقدمہ کتاب مطبع علیمی اندرون لوہاری گیٹ لاہور ص۳
تقویۃالایمان پہلا باب مطبع علیمی اندرون لوہاری گیٹ لاہور ص۷
کیونکر مشرك بنایاجاتا اور وہ کیونکر صادق آتاکہ ص۵ :
“ شرك لوگوں میں بہت پھیل رہاہے اور اصل توحید نایاب ۔ “
صفحہ ۴۵ : “ سو پیغمبر خداکے فرمانے کے موافق ہوا “ کہ تمام دینا میں کوئی مسلمان نہ رہا لہذایہ عام جبروتی حکم لگایا کہ “ پھر خواہ یوں سمجھے کہ اﷲ نے ان کو ایسی قدرت بخشی ہے ہر طرح شرك ہے ۔ “
اب غور کیجئے کہ اس ناپاك وملعون قول پر انبیاء وملائکہ سے لے کر اﷲ ورسول تك اور اس کے پیشواؤں سے لے کر خود اس ظلوم وجہول تك کوئی بھی حکم شرك سے نہ بچا۔
آیت : “ اغنہم اللہ ورسولہ من فضلہ “ ۔
آیت : “ وتبری الاکمہ والابرص باذنی “ ۔ انھیں دولتمند کردیا اﷲ اور اس کے رسول نے اپنے فضل سے۔ اے عیسی تو تندرست کرتاہے مادر زاد اندھے اور سفید داغ والے کو میرے حکم سے۔
یہ معاذا ﷲ قرآن عظیم کے شرك ہیں اور “ میرے حکم سے “ کالفظ بڑھادینا شرك سے نجات نہ دے گا کہ تندرست کردینے کی قدرت اﷲ ہی کے حکم سے سمجھے جب بھی تو اس شرك پسند کے نزدیك شرك ہے۔ کفریہ ۳۳ :
آیت : “ وابری الاکمہ والابرص واحی الموتی باذن اللہ “
۔ (عیسی علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا)میں مادرزاد اندھے اور کوڑھی کو تندرست کرتاہوں اورمیں مردے جلاتاہوں اﷲ کے حکم سے۔
یہ معاذاﷲ عیسی مسیح کلمۃ اﷲ علیہ الصلوۃ والسلام کا شرك ہوا۔ کفریہ ۳۴تا ۳۸ :
“ و اذ قلنا للملئکۃ اسجدوا لادم فسجدوا الا ابلیس “ ۔ اور جب ہم نے فرشتوں سے فرمایا آدم کو سجدہ کرو سب سجدے میں گرے سوا ابلیس کے۔
“ شرك لوگوں میں بہت پھیل رہاہے اور اصل توحید نایاب ۔ “
صفحہ ۴۵ : “ سو پیغمبر خداکے فرمانے کے موافق ہوا “ کہ تمام دینا میں کوئی مسلمان نہ رہا لہذایہ عام جبروتی حکم لگایا کہ “ پھر خواہ یوں سمجھے کہ اﷲ نے ان کو ایسی قدرت بخشی ہے ہر طرح شرك ہے ۔ “
اب غور کیجئے کہ اس ناپاك وملعون قول پر انبیاء وملائکہ سے لے کر اﷲ ورسول تك اور اس کے پیشواؤں سے لے کر خود اس ظلوم وجہول تك کوئی بھی حکم شرك سے نہ بچا۔
آیت : “ اغنہم اللہ ورسولہ من فضلہ “ ۔
آیت : “ وتبری الاکمہ والابرص باذنی “ ۔ انھیں دولتمند کردیا اﷲ اور اس کے رسول نے اپنے فضل سے۔ اے عیسی تو تندرست کرتاہے مادر زاد اندھے اور سفید داغ والے کو میرے حکم سے۔
یہ معاذا ﷲ قرآن عظیم کے شرك ہیں اور “ میرے حکم سے “ کالفظ بڑھادینا شرك سے نجات نہ دے گا کہ تندرست کردینے کی قدرت اﷲ ہی کے حکم سے سمجھے جب بھی تو اس شرك پسند کے نزدیك شرك ہے۔ کفریہ ۳۳ :
آیت : “ وابری الاکمہ والابرص واحی الموتی باذن اللہ “
۔ (عیسی علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا)میں مادرزاد اندھے اور کوڑھی کو تندرست کرتاہوں اورمیں مردے جلاتاہوں اﷲ کے حکم سے۔
یہ معاذاﷲ عیسی مسیح کلمۃ اﷲ علیہ الصلوۃ والسلام کا شرك ہوا۔ کفریہ ۳۴تا ۳۸ :
“ و اذ قلنا للملئکۃ اسجدوا لادم فسجدوا الا ابلیس “ ۔ اور جب ہم نے فرشتوں سے فرمایا آدم کو سجدہ کرو سب سجدے میں گرے سوا ابلیس کے۔
حوالہ / References
تقویۃ الایمان پہلا باب مطبع علیمی اندرون لوہاری گیٹ لاہور ص۴
تقویۃ الایمان الفصل الرابع مطبع علیمی اندرون لوہاری گیٹ لاہور ص۳۰
تقویۃ الایمان پہلاباب مطبع علیمی اندرون لوہاری گیٹ لاہور ص۷
القرآن الکریم ۹ /۷۴
القرآن الکریم ۵ /۱۱۰
القرآن الکریم ۳ /۵۹
القرآن الکریم ۲ /۳۴
تقویۃ الایمان الفصل الرابع مطبع علیمی اندرون لوہاری گیٹ لاہور ص۳۰
تقویۃ الایمان پہلاباب مطبع علیمی اندرون لوہاری گیٹ لاہور ص۷
القرآن الکریم ۹ /۷۴
القرآن الکریم ۵ /۱۱۰
القرآن الکریم ۳ /۵۹
القرآن الکریم ۲ /۳۴
آیت : “ ورفع ابویہ علی العرش وخروا لہ سجدا “ ۔ یوسف نے اپنے ماں باپ کو تخت پر بلند کیا اور وہ سب یوسف کے لئے سجدے میں گرے۔
یہ(خاك بدہن گستاخان)۳۴اﷲ تعالی اور ۳۵ملائکہ و۳۶ آدم و۳۷یعقوب و۳۸یوسف علیہم الصلوۃ والسلام سب کا شرك ہوا اﷲ نے حکم دیا ملئکہ نے سجدہ کیا آدم راضی ہوئے یعقوب ساجد یوسف رضامند۔
تقویۃ الایمان ص ۱۱ : “ جوکوئی کسی پیغمبرکو سجدہ کرے اس پر شرك ثابت ہے خواہ یوں سمجھے کہ یہ آپ ہی اس تعظیم کے لائق ہیں یایوں سمجھے کہ ان کی اس طرح کی تعظیم کرنے سے اﷲ خوش ہوتاہے ہرطرح کا شرك ہے اھ ملخصا “ ۔
صفحہ ۸ :
“ شرك جیسے سجدہ کرنا گو کہ پھر اس کو اﷲ سے چھوٹا ہی سمجھے اور اسی کامخلوق اوربندہ اور اس بات میں ا نبیاء اور شیطان اور بھوت میں کچھ فرق نہیں اھ ملخصا۔ “
یوں تو اس گمراہ کا استاد شفیق شیطان لعین ہی اچھا رہاکہ خود کو بہتر فرمایا وہ شرك کے پاس نہ گیا اور یہاں فسخ کاجھگڑا پیش کرنا جہالت شرك کسی شریعت میں حلال نہیں ہوسکتا کبھی ممکن نہیں کہ اﷲ تعالی شرك کا حکم دے اگرچہ اسے پھر کبھی منسوخ بھی فرمادے۔
کفریہ ۳۹ و ۴۰ : حدیث : حضور پر نور سید المرسلین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
انہ کان فقیر افاغناہ اﷲ ورسولہ ۔ ابن جمیل فقیر تھا اسے اﷲ اور اس کے رسول نے غنی کردیا۔
یہ حدیث صحیح بخاری مطبع احمدی قدیم ج۱ ص ۱۹۸ میں ابوھریرہ رضی اللہ تعالی عنہسے ہے۔
حدیث : رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلماپنے رب جل وعلا سے عرض کرتے ہیں :
اللھم انی احرم مابین جبلیھا مثل ماحرم بہ ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام الہی! میں دونوں کوہ مدینہ کے درمیان کو حرم بناتاہوں مثل اس کے جیسے ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام
یہ(خاك بدہن گستاخان)۳۴اﷲ تعالی اور ۳۵ملائکہ و۳۶ آدم و۳۷یعقوب و۳۸یوسف علیہم الصلوۃ والسلام سب کا شرك ہوا اﷲ نے حکم دیا ملئکہ نے سجدہ کیا آدم راضی ہوئے یعقوب ساجد یوسف رضامند۔
تقویۃ الایمان ص ۱۱ : “ جوکوئی کسی پیغمبرکو سجدہ کرے اس پر شرك ثابت ہے خواہ یوں سمجھے کہ یہ آپ ہی اس تعظیم کے لائق ہیں یایوں سمجھے کہ ان کی اس طرح کی تعظیم کرنے سے اﷲ خوش ہوتاہے ہرطرح کا شرك ہے اھ ملخصا “ ۔
صفحہ ۸ :
“ شرك جیسے سجدہ کرنا گو کہ پھر اس کو اﷲ سے چھوٹا ہی سمجھے اور اسی کامخلوق اوربندہ اور اس بات میں ا نبیاء اور شیطان اور بھوت میں کچھ فرق نہیں اھ ملخصا۔ “
یوں تو اس گمراہ کا استاد شفیق شیطان لعین ہی اچھا رہاکہ خود کو بہتر فرمایا وہ شرك کے پاس نہ گیا اور یہاں فسخ کاجھگڑا پیش کرنا جہالت شرك کسی شریعت میں حلال نہیں ہوسکتا کبھی ممکن نہیں کہ اﷲ تعالی شرك کا حکم دے اگرچہ اسے پھر کبھی منسوخ بھی فرمادے۔
کفریہ ۳۹ و ۴۰ : حدیث : حضور پر نور سید المرسلین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
انہ کان فقیر افاغناہ اﷲ ورسولہ ۔ ابن جمیل فقیر تھا اسے اﷲ اور اس کے رسول نے غنی کردیا۔
یہ حدیث صحیح بخاری مطبع احمدی قدیم ج۱ ص ۱۹۸ میں ابوھریرہ رضی اللہ تعالی عنہسے ہے۔
حدیث : رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلماپنے رب جل وعلا سے عرض کرتے ہیں :
اللھم انی احرم مابین جبلیھا مثل ماحرم بہ ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام الہی! میں دونوں کوہ مدینہ کے درمیان کو حرم بناتاہوں مثل اس کے جیسے ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام
حوالہ / References
القرآن الکریم ۱۲ /۱۰۰
تقویۃ الایمان پہلا باب مطبع علیمی اندرون لوہاری گیٹ لاہور ص۸
تقویۃ الایمان پہلا باب مطبع علیمی اندرون لوہاری گیٹ لاہور ص۶
صحیح البخاری کتاب الزکوٰۃ باب قول اﷲ تعالٰی وفی الرقاب الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۹۸
تقویۃ الایمان پہلا باب مطبع علیمی اندرون لوہاری گیٹ لاہور ص۸
تقویۃ الایمان پہلا باب مطبع علیمی اندرون لوہاری گیٹ لاہور ص۶
صحیح البخاری کتاب الزکوٰۃ باب قول اﷲ تعالٰی وفی الرقاب الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۹۸
مکۃ ۔ نے مکہ کو حرم بنایا۔
صحیح بخاری ج ۱ ص ۲۵۱ صحیح مسلم ج ۱ص ۴۴۱ : واللفظ لہ عن انس رضی اﷲ تعالی عنہ(حدیث کے یہ لفظ صحیح مسلم کے ہیں۔ ت)
حدیث : حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں :
ان ابراھیم حرم مکۃ وانی حرمت المدینۃ مابین لابتیھا لایقطع عظاھہا ولایصاد صیدھا ۔ بیشك ابراہیم نے مکہ کو حرم بنایا اور میں نے مدینہ کو حرم کیا نہ کاٹی جائیں ا س کی ببولیں اور نہ پکڑا جائے اس کا شکار۔
صحیح مسلم ج ۱ ص ۴۴۰ عن جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالی عنہما۔
اس مطلب کی حدیثیں صحاح وسنن ومسانید وغیرہا میں بکثرت ہیں جن میں حضورسید العالمین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے صاف وصریح حکم فرمایا کہ مدینہ طیبہ اور اس کے گرد وپیش کے جنگل کا وہی ادب کیا جائے جو مکہ معظمہ اوراس کے جنگل کا ہے۔ یہی مذہب ائمہ مالکیہ وشافعیہ وحنبلیہ اور بکثرت ائمہ صحابہ و تابعین رضی اﷲ تعالی عنہم اجمعین کاہے ائمہ حنفیہ اگرچہ اس باب میں اور احادیث پر عمل فرماتے ہیں جو شرح معانی الآثار امام طحاوی وغیرہ میں مع نظر مذکور مگر ترجیح یا تطبیق یا نسخ دوسری چیز ہے کلام اس میں ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے تو صراحۃ مدینہ طیبہ کے جنگل کا ادب ارشاد فرمایا اب اس شخص کی سنئے تقویۃ الایمان ص ۱۱ : “ گردو پیش کے جنگل کا ادب کرنا یعنی وہاں شکار نہ کرنا درخت نہ کاٹنا یہ کام اﷲ نے اپنی عبادت کے لئے بتائے ہیں پھر جو کوئی کسی پیغمبر یا بھوت کے مکانوں کے گرد پیش کے جنگل کا ادب کرے اس پر شرك ثابت ہے پھر خواہ یوں سمجھے کہ یہ آپ ہی اس تعظیم کے لائق ہیں یا یوں کہ ان کی اس تعظیم سے اﷲ خوش ہوتاہے ہر طرح شرك اھ ملخصا۔
جان برادر! تونے دیکھا کہ اس شخص کی ساری کوشش اسی میں تھی کہ اﷲ اوررسول کو بھی مشرك کہنے سے نہ چھوڑے تف ہزار تف بروئے بے دیناں۔
کفریہ ۴۱ تا ۴۶ : تفسیر عزیزی پارہ عم شاہ عبدالعزیز صاحب مطبوعہ بمبئی ص ۱۴۰ :
صحیح بخاری ج ۱ ص ۲۵۱ صحیح مسلم ج ۱ص ۴۴۱ : واللفظ لہ عن انس رضی اﷲ تعالی عنہ(حدیث کے یہ لفظ صحیح مسلم کے ہیں۔ ت)
حدیث : حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں :
ان ابراھیم حرم مکۃ وانی حرمت المدینۃ مابین لابتیھا لایقطع عظاھہا ولایصاد صیدھا ۔ بیشك ابراہیم نے مکہ کو حرم بنایا اور میں نے مدینہ کو حرم کیا نہ کاٹی جائیں ا س کی ببولیں اور نہ پکڑا جائے اس کا شکار۔
صحیح مسلم ج ۱ ص ۴۴۰ عن جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالی عنہما۔
اس مطلب کی حدیثیں صحاح وسنن ومسانید وغیرہا میں بکثرت ہیں جن میں حضورسید العالمین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے صاف وصریح حکم فرمایا کہ مدینہ طیبہ اور اس کے گرد وپیش کے جنگل کا وہی ادب کیا جائے جو مکہ معظمہ اوراس کے جنگل کا ہے۔ یہی مذہب ائمہ مالکیہ وشافعیہ وحنبلیہ اور بکثرت ائمہ صحابہ و تابعین رضی اﷲ تعالی عنہم اجمعین کاہے ائمہ حنفیہ اگرچہ اس باب میں اور احادیث پر عمل فرماتے ہیں جو شرح معانی الآثار امام طحاوی وغیرہ میں مع نظر مذکور مگر ترجیح یا تطبیق یا نسخ دوسری چیز ہے کلام اس میں ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے تو صراحۃ مدینہ طیبہ کے جنگل کا ادب ارشاد فرمایا اب اس شخص کی سنئے تقویۃ الایمان ص ۱۱ : “ گردو پیش کے جنگل کا ادب کرنا یعنی وہاں شکار نہ کرنا درخت نہ کاٹنا یہ کام اﷲ نے اپنی عبادت کے لئے بتائے ہیں پھر جو کوئی کسی پیغمبر یا بھوت کے مکانوں کے گرد پیش کے جنگل کا ادب کرے اس پر شرك ثابت ہے پھر خواہ یوں سمجھے کہ یہ آپ ہی اس تعظیم کے لائق ہیں یا یوں کہ ان کی اس تعظیم سے اﷲ خوش ہوتاہے ہر طرح شرك اھ ملخصا۔
جان برادر! تونے دیکھا کہ اس شخص کی ساری کوشش اسی میں تھی کہ اﷲ اوررسول کو بھی مشرك کہنے سے نہ چھوڑے تف ہزار تف بروئے بے دیناں۔
کفریہ ۴۱ تا ۴۶ : تفسیر عزیزی پارہ عم شاہ عبدالعزیز صاحب مطبوعہ بمبئی ص ۱۴۰ :
حوالہ / References
صحیح مسلم باب فضائل مدینہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۴۴۱
صحیح مسلم باب فضائل مدینہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۴۴۰
تقویۃ الایمان پہلا باب مطبع علیمی اندرون لوہاری گیٹ لاہور ص۸
صحیح مسلم باب فضائل مدینہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۴۴۰
تقویۃ الایمان پہلا باب مطبع علیمی اندرون لوہاری گیٹ لاہور ص۸
'' بعضے از اولیاء اﷲ راکہ آلہ جارحہ تکمیل وارشاد بنی نوع خود کرد انیدہ انددریں حالت ہم تصرف دردنیا دادہ اند واستغراق آنہا بجہت کمال وسعت مدارك آنہا مانع توجہ باین سمت نمیگردد اویسیاں تحصیل کمالات باطنی از انہامی نمایند وارباب حاجات ومطالب حل مشکلات خود از انہامی طلبند ومے یابند زبان حال آنہا درآن قوت ہم مترنم بایں مقال است
من آیم بجان گر تو آئی بہ تن '' بعض اولیاء کرام جنھوں نے اپنے آپ کو بنی نوع انسان کی رہنمائی اور تکمیل کے لئے متصرف کر رکھا ہے وہ(وفات کے بعد کی)حالت میں بھی دنیا میں تصرف کرتے ہیں اور کمال وسعت ادراك کی بناء پر ان کا استغراق اس طرف توجہ سے مانع نہیں بنتا اور اویسی خاندان باطنی کمالات کی تحصیل انہی اولیاء سے کرتے ہیں اور اہل حاجات ومشکلات انہی سے اپنی حاجات کا حل طلب کرتے ہیں اور مراد پاتے ہیں اور یہ اولیاء کرام زبان حال سے اس وقت یہ فرماتے ہیں :
اگر تو جسمانی طور پر آیا ہے تو میں جان سے حاضر ہوں۔ (ت)
یہ عبارت سراپا بشارت اس شخص کے مذہب ہمہ تن شرارت پر معاذاﷲ سرتاپا شرك جلی سے ملوث ہے اولیائے کرام دنیا میں تصرف بعد انتقال بھی ان کا تعلق باقی رہنا ان کے علوم کی وسعت کہ ادھر بھی مستغرق ہیں ادھر بھی خبر رکھیں اولیا ء کا بعد وصال بھی فیض دینا مریدوں کو مناصب عالیہ تك پہنچانا حاجتمندوں کا اپنی حاجتیں ان کی پاك روحوں سے طلب کرنا ان کا حل مشکل فرمانا نواب بہادر کی عبارت میں تو تین ہی شرك تھے حضرت شاہ صاحب کے کلام میں المضاعف ہیں ہاں ہونا ہی چاہیے کہ وہ نواب تھے یہ شاہ ہیں کلام الملك ملك الکلام۔
کفریہ ۴۷ تا ۴۹ : تحفہ اثناء عشریہ حضرت ممدوح ص ۳۹۶ و ۳۹۷ :
حضرت امیر و ذریہ طاہرہ اور ا تمام امت بر مثال مریدان ومرشدان می پرستند وامور تکوینہ رابایشاں وابستہ میدانند وفاتحہ ودرود وصدقات و نذربنام ایشاں رائج ومعمول گردیدہ چنانچہ باجمیع اولیاء اﷲ ہمیں معاملہ است ۔ تمام امت مریدوں کی طرح حضرت امیر(علی مرتضی رضی اللہ تعالی عنہاور ان کی اولاد پاك کو مرشد تسلیم کرتی ہے اور تکوینی امور کو ان سے وابستہ مانتی ہے اور فاتحہ درود اور صدقات ونذر ونیاز ان کے نام رائج اور معمول ہے جس طرح کہ تمام اولیاء اﷲ کے ساتھ یہ معاملہ رائج ہے۔ (ت)
من آیم بجان گر تو آئی بہ تن '' بعض اولیاء کرام جنھوں نے اپنے آپ کو بنی نوع انسان کی رہنمائی اور تکمیل کے لئے متصرف کر رکھا ہے وہ(وفات کے بعد کی)حالت میں بھی دنیا میں تصرف کرتے ہیں اور کمال وسعت ادراك کی بناء پر ان کا استغراق اس طرف توجہ سے مانع نہیں بنتا اور اویسی خاندان باطنی کمالات کی تحصیل انہی اولیاء سے کرتے ہیں اور اہل حاجات ومشکلات انہی سے اپنی حاجات کا حل طلب کرتے ہیں اور مراد پاتے ہیں اور یہ اولیاء کرام زبان حال سے اس وقت یہ فرماتے ہیں :
اگر تو جسمانی طور پر آیا ہے تو میں جان سے حاضر ہوں۔ (ت)
یہ عبارت سراپا بشارت اس شخص کے مذہب ہمہ تن شرارت پر معاذاﷲ سرتاپا شرك جلی سے ملوث ہے اولیائے کرام دنیا میں تصرف بعد انتقال بھی ان کا تعلق باقی رہنا ان کے علوم کی وسعت کہ ادھر بھی مستغرق ہیں ادھر بھی خبر رکھیں اولیا ء کا بعد وصال بھی فیض دینا مریدوں کو مناصب عالیہ تك پہنچانا حاجتمندوں کا اپنی حاجتیں ان کی پاك روحوں سے طلب کرنا ان کا حل مشکل فرمانا نواب بہادر کی عبارت میں تو تین ہی شرك تھے حضرت شاہ صاحب کے کلام میں المضاعف ہیں ہاں ہونا ہی چاہیے کہ وہ نواب تھے یہ شاہ ہیں کلام الملك ملك الکلام۔
کفریہ ۴۷ تا ۴۹ : تحفہ اثناء عشریہ حضرت ممدوح ص ۳۹۶ و ۳۹۷ :
حضرت امیر و ذریہ طاہرہ اور ا تمام امت بر مثال مریدان ومرشدان می پرستند وامور تکوینہ رابایشاں وابستہ میدانند وفاتحہ ودرود وصدقات و نذربنام ایشاں رائج ومعمول گردیدہ چنانچہ باجمیع اولیاء اﷲ ہمیں معاملہ است ۔ تمام امت مریدوں کی طرح حضرت امیر(علی مرتضی رضی اللہ تعالی عنہاور ان کی اولاد پاك کو مرشد تسلیم کرتی ہے اور تکوینی امور کو ان سے وابستہ مانتی ہے اور فاتحہ درود اور صدقات ونذر ونیاز ان کے نام رائج اور معمول ہے جس طرح کہ تمام اولیاء اﷲ کے ساتھ یہ معاملہ رائج ہے۔ (ت)
حوالہ / References
فتح العزیز(تفسیری عزیزی)پ عم س انشقاق مطبع مسلم بك ڈپو لال کنواں دہلی ۳ / ۲۰۶
تحفہ اثناء عشریہ باب ہفتم درامامت سہیل اکیڈمی لاہور ص۲۱۴
تحفہ اثناء عشریہ باب ہفتم درامامت سہیل اکیڈمی لاہور ص۲۱۴
وہابی صاحبو! یہ بھی اکٹھے تین۳ شرك ہیں ہر ایك ڈھائی من پختہ کا شاہ صاحب کو دیکھئے کتنے بڑے شرك پسند مشرك دوست علی پرست پیر پرست اولیاء پرست ہیں کہ کاروبار عالم کو دامن ہمت حضرت مولی مشکل کشا واہلبیت کرام رضی اﷲ تعالی عنہم سے وابستہ مانتے اور پیروں کی طرح ان سب کی پرستش اور ان کے اور تمام اولیاء کے نام کی نذرمنت جائز مانتے اور نہ آپ ہی تنہا بلکہ تمام امت مرحومہ کو استغفراﷲ انھیں بلاؤں میں سانتے ہیں اب تو عجب نہیں کہ روافض کی طرح امت مرحومہ کو معاذاﷲ امت ملعونہ لقب دیجئے
تقویۃ الایمان ص ۸ : “ پیغمبر خدا کے وقت میں کافر بھی اپنے بتوں کو اﷲ کے برابر نہیں جانتے تھے بلکہ اسی کا مخلوق اور اس کا بندہ سمجھتے تھے اور ان کو اس کے مقابل کی طاقت ثابت نہیں کرتے تھے مگر یہی پکارنا اور منتیں ماننی اور نذر ونیاز کرنی اور ان کو اپنا وکیل وسفارشی سمجھنا یہی ان کا کفر وشرك تھا سو جوکوئی کسی سے یہ معاملہ کرے گو کہ اس کو اﷲ کا بندہ ومخلوق سمجھے سوابوجہل اور وہ شرك میں برابر ہے ۔ “
پانچویں فصل شرك فی العادۃ کی برائی کے بیان میں لکھا ص ۶۱ :
“ پیر پرست انے تئیں کہلوانا محض بے جاہے اور نہایت بے ادبی ۔ “
کفریہ ۵۰ تا ۵۲ : شاہ ولی اﷲ صاحب کی کتاب انتباہ فی سلاسل اولیاء اﷲ سے ظاہر کہ وہ خود اور ان کے بارہ اساتذہ حدیث وپیران سلسلہ
ناد علیا مظھر العجائب*تجدہ عونا لك فی النوائب *کل ھم وغم سینجلی *بولایتك یا علی یا علی یا علی * پکار علی کو جن کی ذات پاك سے وہ خوارق وفیوض ظاہر ہوتے ہیں جنھیں دیکھ کر عقلیں اچنبھے میں ہیں جب توانھیں ندا کرے گاتو انھیں مصائب وآفات میں اپنا مدد گار پائیگا ہر پریشانی ورنج اب دور ہوتاہے آپ کی ولایت سے یا علی یا علی یا علی(ت)
تقویۃ الایمان ص ۸ : “ پیغمبر خدا کے وقت میں کافر بھی اپنے بتوں کو اﷲ کے برابر نہیں جانتے تھے بلکہ اسی کا مخلوق اور اس کا بندہ سمجھتے تھے اور ان کو اس کے مقابل کی طاقت ثابت نہیں کرتے تھے مگر یہی پکارنا اور منتیں ماننی اور نذر ونیاز کرنی اور ان کو اپنا وکیل وسفارشی سمجھنا یہی ان کا کفر وشرك تھا سو جوکوئی کسی سے یہ معاملہ کرے گو کہ اس کو اﷲ کا بندہ ومخلوق سمجھے سوابوجہل اور وہ شرك میں برابر ہے ۔ “
پانچویں فصل شرك فی العادۃ کی برائی کے بیان میں لکھا ص ۶۱ :
“ پیر پرست انے تئیں کہلوانا محض بے جاہے اور نہایت بے ادبی ۔ “
کفریہ ۵۰ تا ۵۲ : شاہ ولی اﷲ صاحب کی کتاب انتباہ فی سلاسل اولیاء اﷲ سے ظاہر کہ وہ خود اور ان کے بارہ اساتذہ حدیث وپیران سلسلہ
ناد علیا مظھر العجائب*تجدہ عونا لك فی النوائب *کل ھم وغم سینجلی *بولایتك یا علی یا علی یا علی * پکار علی کو جن کی ذات پاك سے وہ خوارق وفیوض ظاہر ہوتے ہیں جنھیں دیکھ کر عقلیں اچنبھے میں ہیں جب توانھیں ندا کرے گاتو انھیں مصائب وآفات میں اپنا مدد گار پائیگا ہر پریشانی ورنج اب دور ہوتاہے آپ کی ولایت سے یا علی یا علی یا علی(ت)
حوالہ / References
تقویۃ الایمان پہلا باب مطبع علیمی اندرون لوہاری گیٹ لاہور ص۶
تقویۃ الایمان الفصل الخامس فی ردالاشراك فی العادات مطبع علیمی اندرون لوہاری گیٹ لاہور ص۴۳
الانتباہ فی سلاسل اولیاء اللہ
تقویۃ الایمان الفصل الخامس فی ردالاشراك فی العادات مطبع علیمی اندرون لوہاری گیٹ لاہور ص۴۳
الانتباہ فی سلاسل اولیاء اللہ
کی سندیں لیتے اجازتیں دیتے وظیفہ کرتے۔
الحمد للہ۔ ان شاہ صاحب اور ان کی پیروں استاذوں نے تو شرك کا پانی سر سے تیر کردیا یہاں بھی مثل سابق تین۳ پہاڑ شرك کے ہیں :
۱مصیبت میں مولا علی کے پکارنے کا حکم ایك شرک ۲انھیں مصیبتوں میں مددگار ماننا دو شرک ۳یا علی یا علی یا علی کی لے باندھنا تین شرک۔ جسے ان نفیس وجانفزا کلام کی تفصیل دیکھنی ہو فقیر کے رسائل انھار الانوار من یم صلوۃ الاسرار(۱۳۰۵ھ)وحیات الموات فی بیان سماع الاموات(۱۳۰۵ھ)و انوار الاتنباہ فی حل نداء یا رسول اللہ(۱۳۰۴ھ)والا من والعلی لناعتی المصطفی بدافع البلاء(۱۳۱۱ھ)وغیرہا مطالعہ کرے۔
کفریہ ۵۳ تا ۵۵ : تمام خاندان دہلی کے آقائے نعمت وخداوند دولت ومرجع ومنتہی ومفرغ وملجاوسید ومولی جناب شیخ مجدد صاحب کے مکتوبات مطبوعہ لکھنؤ جلد دوم مکتوب سیم۳۰ ص ۴۶ :
خواجہ محمد اشرف ورزش نسبت رابطہ رانوشتہ بودند کہ بحدے استیلا یافتہ است کہ درصلوات آنرا مسجود خودمی داندومی بیند واگر فرضا نفی کند منتفی نمیگردد محبت اطوار این دولت متمنائے طلاب ست از ہزاراں یکے رامگر بدہند صاحب ایں معاملہ مستعد تام المناسبۃ ست یحتمل کہ باندك صحبت شیخ مقتداجمیع کمالات اور اجذب نماید رابطہ را چرانفی کنند کہ اومسجود الیہ است نہ مسجودلہ چرا محاریب ومساجد رانفی نہ کنند ظہور ایں قسم دولت سعادتمنداں رامیسر است تادر جمیع احوال صاحب رابطہ رامتوسط خود دانند ودرجمیع اوقات متوجہ او باشند نہ دررنگ جماعہ بیدولت کہ خود رامستغنی دانند وقبلہ توجہ رااز شیخ خود منحرف ساز ند ومعاملہ خود رابرہم زنند ۔ خواجہ محمد اشرف ورزش نے رابطہ(تصور شیخ)کی نسبت لکھا ہے کہ اس کا اس حدتك غلبہ ہے کہ نمازوں میں اپنا مسجود جانتے اور دیکھتے ہیں اگر اس رابطہ کو ختم کرنے کی کوشش کریں تو بھی ختم نہیں ہوتا(تو اس پر آپ نے فرمایا)اس دولت کے حصول کی خواہش ہزاروں طالبوں کی تمنا ہے مگر کسی ایك کو عطاہوتی ہے اس کیفیت والا شیخ سے مکمل مناسبت کے لئے مستعد ہوتاہے وہ امید کرتاہے کہ اپنے مقتداء شیخ کی صحبت کی کمی اس کے تمام کمالات کو جذب کردے گی لوگ رابطہ(تصور شیخ)کی نفی کیوں کرتے ہیں حالانکہ وہ مسجود الیہ ہے مسجودلہ نہیں ہے یہ لوگ محرابوں اور مسجدوں کی نفی کیوں نہیں کرتے(حالانکہ وہ مسجودالیہ ہیں)اس قسم کی دولت کا ظہور سعادت مندوں کو نصیب ہوتاہے حتی کہ تمام احوال میں وہ صاحب رابطہ(شیخ)کو اپنا وسیلہ جانتے ہیں اور ہمہ وقت اس کی طرف متوجہ رہتے ہیں اس بے دولت جماعت کی طرح نہیں ہوتےجو اپنے آپ کو شیخ سے مستغنی جانتے ہیں اور اپنی توجہ کا قبلہ شیخ سے پھیر کر خود سر ہوجاتے ہیں۔ (ت)
الحمد للہ۔ ان شاہ صاحب اور ان کی پیروں استاذوں نے تو شرك کا پانی سر سے تیر کردیا یہاں بھی مثل سابق تین۳ پہاڑ شرك کے ہیں :
۱مصیبت میں مولا علی کے پکارنے کا حکم ایك شرک ۲انھیں مصیبتوں میں مددگار ماننا دو شرک ۳یا علی یا علی یا علی کی لے باندھنا تین شرک۔ جسے ان نفیس وجانفزا کلام کی تفصیل دیکھنی ہو فقیر کے رسائل انھار الانوار من یم صلوۃ الاسرار(۱۳۰۵ھ)وحیات الموات فی بیان سماع الاموات(۱۳۰۵ھ)و انوار الاتنباہ فی حل نداء یا رسول اللہ(۱۳۰۴ھ)والا من والعلی لناعتی المصطفی بدافع البلاء(۱۳۱۱ھ)وغیرہا مطالعہ کرے۔
کفریہ ۵۳ تا ۵۵ : تمام خاندان دہلی کے آقائے نعمت وخداوند دولت ومرجع ومنتہی ومفرغ وملجاوسید ومولی جناب شیخ مجدد صاحب کے مکتوبات مطبوعہ لکھنؤ جلد دوم مکتوب سیم۳۰ ص ۴۶ :
خواجہ محمد اشرف ورزش نسبت رابطہ رانوشتہ بودند کہ بحدے استیلا یافتہ است کہ درصلوات آنرا مسجود خودمی داندومی بیند واگر فرضا نفی کند منتفی نمیگردد محبت اطوار این دولت متمنائے طلاب ست از ہزاراں یکے رامگر بدہند صاحب ایں معاملہ مستعد تام المناسبۃ ست یحتمل کہ باندك صحبت شیخ مقتداجمیع کمالات اور اجذب نماید رابطہ را چرانفی کنند کہ اومسجود الیہ است نہ مسجودلہ چرا محاریب ومساجد رانفی نہ کنند ظہور ایں قسم دولت سعادتمنداں رامیسر است تادر جمیع احوال صاحب رابطہ رامتوسط خود دانند ودرجمیع اوقات متوجہ او باشند نہ دررنگ جماعہ بیدولت کہ خود رامستغنی دانند وقبلہ توجہ رااز شیخ خود منحرف ساز ند ومعاملہ خود رابرہم زنند ۔ خواجہ محمد اشرف ورزش نے رابطہ(تصور شیخ)کی نسبت لکھا ہے کہ اس کا اس حدتك غلبہ ہے کہ نمازوں میں اپنا مسجود جانتے اور دیکھتے ہیں اگر اس رابطہ کو ختم کرنے کی کوشش کریں تو بھی ختم نہیں ہوتا(تو اس پر آپ نے فرمایا)اس دولت کے حصول کی خواہش ہزاروں طالبوں کی تمنا ہے مگر کسی ایك کو عطاہوتی ہے اس کیفیت والا شیخ سے مکمل مناسبت کے لئے مستعد ہوتاہے وہ امید کرتاہے کہ اپنے مقتداء شیخ کی صحبت کی کمی اس کے تمام کمالات کو جذب کردے گی لوگ رابطہ(تصور شیخ)کی نفی کیوں کرتے ہیں حالانکہ وہ مسجود الیہ ہے مسجودلہ نہیں ہے یہ لوگ محرابوں اور مسجدوں کی نفی کیوں نہیں کرتے(حالانکہ وہ مسجودالیہ ہیں)اس قسم کی دولت کا ظہور سعادت مندوں کو نصیب ہوتاہے حتی کہ تمام احوال میں وہ صاحب رابطہ(شیخ)کو اپنا وسیلہ جانتے ہیں اور ہمہ وقت اس کی طرف متوجہ رہتے ہیں اس بے دولت جماعت کی طرح نہیں ہوتےجو اپنے آپ کو شیخ سے مستغنی جانتے ہیں اور اپنی توجہ کا قبلہ شیخ سے پھیر کر خود سر ہوجاتے ہیں۔ (ت)
حوالہ / References
مکتوبات امام ربانی مکتوب ۳۰ بخواجہ محمد اشرف وحاجی محمد نولکشور لکھنؤ ۲ / ۴۶
یہاں بھی تین ڈبل شرك ہیں ہر ایك اگلے باٹوں سے ہزار من کا مرید نے لکھاکہ تصور شیخ اس قدر غالب ہے کہ نمازوں میں اس کو اپنا مسجود جانتاہے صورت شیخ ہی کو سجدہ نظرآتاہے جناب شیخ مجدد نے فرمایا کہ یہ دولت سعادتمند وں کو ملتی ہے طالبان حق کو اس دولت کی تمنا ہوتی ہے ایك شرک اورکتنا بھاری شرک تمام احوال میں شیخ کو اپنا متوسط جانو عــــــہ دو شرک نماز وغیرہ ہر حال وہر وقت میں پیر کی طرف متوجہ ہو تین شرک اب یاد کراپنا وہ کفری بول کہ نماز میں پیر وغیرہ یہاں تك کہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی طرف خیال لے جانا چنیں وچنان ہے اور منجر بشرک ناظرین! آپ نے جاناکہ وہ بے سعادت کون ہے جسے جناب مجددصاحب بے دولت وتباہ کار بتارہے ہیں ہاں وہ یہی بے دولت ہے صراط مستقیم میں کہتاہے ص ۱۳۰ : از جملہ اشغال مبتدعہ شغل برزخ ست ۔
بدعت والے اشغال میں سے برزخ کا شغل بھی ہے(ت)
اسی میں ہے ص ۱۱ : “ صاحب صورت پرستی ست “ (یہ صاف صورت پرستی ہے۔ ت)
فقیر غفراﷲ تعالی لہ نے خاص اس مسئلہ میں ایك نفیس رسالہ مسمی الیاقوتۃ الواسطۃ فی قلب عقدالرابطۃ (۱۳۰۹ھ) لکھا اس میں جناب شاہ عبدالعزیز صاحب وشاہ ولی اﷲ صاحب و شاہ عبدالرحیم صاحب وغیرہم کے بہت کلمات اور ائمہ کرام وعلمائے عظام کے تیس۳۰ ارشادات سے اس شغل کا جواز ثابت کیا اس بیدولت کے نزدیك وہ سب معاذاﷲ بدعتی تصویر پرست ہیں جب تو جناب شیخ مجدد نے تباہ کار ومنحرف بتایا۔
کفریہ ۵۶ : مکتوبات جنا ب موصوف ج ۱ مکتوب ۳۱۲ ص ۴۴۸ :
مخدوما احادیث نبوی علی مصدرہا الصلوۃ والسلام میرے مخدوم نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی احادیث
عــــــہ : تقویۃ الایمان ص ۷ : جو بات سچی ہے کہ اﷲ بندہ کی طرف سب سے زیادہ نزدیك ہے سو ا س کو چھوڑکر جھوٹی بات بنائی کہ اوروں کو حمایتی ٹھہرایا اور یہ جو اﷲ کی نعمت تھی کہ وہ محض اپنے فضل سے بغیر واسطے کے کسی کے سب مرادیں پور ی کرتاہے سب بلائیں ٹال دیتاہے سو اس کا حق نہ پہچانا اورا س کا شکر ادانہ کیا یہ بات اوروں سے چاہنے لگے پھر اس الٹی راہ میں اﷲ کی نزدیکی ڈھونڈتے ہیں سواﷲ ہرگز ان کو راہ نہیں دے گا ۱۲ منہ
بدعت والے اشغال میں سے برزخ کا شغل بھی ہے(ت)
اسی میں ہے ص ۱۱ : “ صاحب صورت پرستی ست “ (یہ صاف صورت پرستی ہے۔ ت)
فقیر غفراﷲ تعالی لہ نے خاص اس مسئلہ میں ایك نفیس رسالہ مسمی الیاقوتۃ الواسطۃ فی قلب عقدالرابطۃ (۱۳۰۹ھ) لکھا اس میں جناب شاہ عبدالعزیز صاحب وشاہ ولی اﷲ صاحب و شاہ عبدالرحیم صاحب وغیرہم کے بہت کلمات اور ائمہ کرام وعلمائے عظام کے تیس۳۰ ارشادات سے اس شغل کا جواز ثابت کیا اس بیدولت کے نزدیك وہ سب معاذاﷲ بدعتی تصویر پرست ہیں جب تو جناب شیخ مجدد نے تباہ کار ومنحرف بتایا۔
کفریہ ۵۶ : مکتوبات جنا ب موصوف ج ۱ مکتوب ۳۱۲ ص ۴۴۸ :
مخدوما احادیث نبوی علی مصدرہا الصلوۃ والسلام میرے مخدوم نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی احادیث
عــــــہ : تقویۃ الایمان ص ۷ : جو بات سچی ہے کہ اﷲ بندہ کی طرف سب سے زیادہ نزدیك ہے سو ا س کو چھوڑکر جھوٹی بات بنائی کہ اوروں کو حمایتی ٹھہرایا اور یہ جو اﷲ کی نعمت تھی کہ وہ محض اپنے فضل سے بغیر واسطے کے کسی کے سب مرادیں پور ی کرتاہے سب بلائیں ٹال دیتاہے سو اس کا حق نہ پہچانا اورا س کا شکر ادانہ کیا یہ بات اوروں سے چاہنے لگے پھر اس الٹی راہ میں اﷲ کی نزدیکی ڈھونڈتے ہیں سواﷲ ہرگز ان کو راہ نہیں دے گا ۱۲ منہ
حوالہ / References
صراط مستقیم باب سوم فصل سوم المکتبۃ السلفیہ لاہور ص۱۱۸
صراط مستقیم باب سوم فصل سوم المکتبۃ السلفیہ لاہور ص۱۱۹
تقویۃالایمان پہلا باب مطبع علیمی اندرون لوہاری گیٹ لاہور ص۵
صراط مستقیم باب سوم فصل سوم المکتبۃ السلفیہ لاہور ص۱۱۹
تقویۃالایمان پہلا باب مطبع علیمی اندرون لوہاری گیٹ لاہور ص۵
درباب جواز اشارت بسبابہ بسیار وارد شدہ اند وبعضے از روایات فقہیہ حنفیہ دریں باب آمدہ ۔ شہادت کی انگلی سے اشارہ کی بابت بہت وادر ہیں اور فقہ حنفی کی بعض روایات بھی اس سلسلہ میں آئی ہیں۔ (ت)
صفحہ ۴۴۹ :
وغیر ظاہر مذہب ست وآنچہ امام محمد شیبانی گفتہ کان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یشیرو یصنع کما یصنع النبی علیہ وعلی الہ الصلوۃ والسلام ثم قال ھذ ا قولی و قول ابی حنیفۃرضی اﷲ تعالی عنہما از روایات نوادر ست نہ روایات اصول وفی المحیط اختلف المشائخ فیہ منہم من قال لایشیر ومنہم من قال یشیر وقد قیل سنۃ وقیل مستحب و الصحیح حرام ہر گاہ درروایات معتبرحرمت اشارت واقع شدہ باشد برکراہت اشارت فتوی دادہ باشند مامقلدان رانمیر سدکہ بمقتضائے احادیث عمل نمودہ جرأت در اشارت نمائیم مرتکب ایں امراز حنفیہ یا علمائے مجہتدین راعلم احادیث معروفہ جواز اشارت اثبات نمی نماید یا انگارد کہ اینہا بمقتضائے ارائے خود برخلاف احادیث حکم کردہ اند ہر دوشق فاسد ست تجویز نکند آنرا مگر سفیہ یا معاند ظاہر اصول اصحاب ما عدم اشارت ست سنت علمائے ما تقدم شدہ ۔ اور وہ ظاہر مذہب پر نہیں ہیں اورامام محمد شیبائی رحمہ اﷲ تعالی سے جو منقول ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلماشارہ کیا کرتے تھے اور امام محمد رحمہ اﷲ تعالی بھی اسی طرح کرتے جس طرح حضور علیہ الصلوۃ والسلام کیا کرتے تھے اورپھر انھوں نے فرمایا یہی میرا اور امام ابوحنیفہ(رضی اﷲ تعالی عنہ)کا قول ہے یہ نقل نادر روایات میں سے ہے کہ اس میں مشائخ کا اختلاف ہے بعض نے فرمایا اشارہ نہ کرے اور بعض نے فرمایا اشارہ کرے اور اس کو سنت بھی کہا ہے بعض نے مستحب کہا ہے اور صحیح یہ ہے کہ حرام ہے ہر گاہ کہ معتبر روایات میں اشارہ کی حرمت واقع ہوئی ہے اور اشارہ کی کراہت پر فتوی دیا گیا ہے ہم مقلدین حضرات کو یہ حق نہیں کہ ا حادیث کے مقتضی پر عمل کریں اور اشارہ کرنے کی جرأت کریں اس چیز کے مرتکب کو چاہئے کہ احناف یا مجتہدین کو معروف احادیث سے اشارہ کے جواز کا اثبات کرے یا پھر واضح کرے کہ وہ اپنی رائے سے احادیث کے خلاف حکم کررہے ہیں جبکہ دونوں شقیں فاسد ہیں ان کو بیوقوف یا معاند کے بغیر کوئی بھی جائز نہیں کریگا ہمارے
صفحہ ۴۴۹ :
وغیر ظاہر مذہب ست وآنچہ امام محمد شیبانی گفتہ کان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یشیرو یصنع کما یصنع النبی علیہ وعلی الہ الصلوۃ والسلام ثم قال ھذ ا قولی و قول ابی حنیفۃرضی اﷲ تعالی عنہما از روایات نوادر ست نہ روایات اصول وفی المحیط اختلف المشائخ فیہ منہم من قال لایشیر ومنہم من قال یشیر وقد قیل سنۃ وقیل مستحب و الصحیح حرام ہر گاہ درروایات معتبرحرمت اشارت واقع شدہ باشد برکراہت اشارت فتوی دادہ باشند مامقلدان رانمیر سدکہ بمقتضائے احادیث عمل نمودہ جرأت در اشارت نمائیم مرتکب ایں امراز حنفیہ یا علمائے مجہتدین راعلم احادیث معروفہ جواز اشارت اثبات نمی نماید یا انگارد کہ اینہا بمقتضائے ارائے خود برخلاف احادیث حکم کردہ اند ہر دوشق فاسد ست تجویز نکند آنرا مگر سفیہ یا معاند ظاہر اصول اصحاب ما عدم اشارت ست سنت علمائے ما تقدم شدہ ۔ اور وہ ظاہر مذہب پر نہیں ہیں اورامام محمد شیبائی رحمہ اﷲ تعالی سے جو منقول ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلماشارہ کیا کرتے تھے اور امام محمد رحمہ اﷲ تعالی بھی اسی طرح کرتے جس طرح حضور علیہ الصلوۃ والسلام کیا کرتے تھے اورپھر انھوں نے فرمایا یہی میرا اور امام ابوحنیفہ(رضی اﷲ تعالی عنہ)کا قول ہے یہ نقل نادر روایات میں سے ہے کہ اس میں مشائخ کا اختلاف ہے بعض نے فرمایا اشارہ نہ کرے اور بعض نے فرمایا اشارہ کرے اور اس کو سنت بھی کہا ہے بعض نے مستحب کہا ہے اور صحیح یہ ہے کہ حرام ہے ہر گاہ کہ معتبر روایات میں اشارہ کی حرمت واقع ہوئی ہے اور اشارہ کی کراہت پر فتوی دیا گیا ہے ہم مقلدین حضرات کو یہ حق نہیں کہ ا حادیث کے مقتضی پر عمل کریں اور اشارہ کرنے کی جرأت کریں اس چیز کے مرتکب کو چاہئے کہ احناف یا مجتہدین کو معروف احادیث سے اشارہ کے جواز کا اثبات کرے یا پھر واضح کرے کہ وہ اپنی رائے سے احادیث کے خلاف حکم کررہے ہیں جبکہ دونوں شقیں فاسد ہیں ان کو بیوقوف یا معاند کے بغیر کوئی بھی جائز نہیں کریگا ہمارے
حوالہ / References
مکتوبات امام ربانی مکتوب ۳۱۲ بمیر محمد نعمان نولکشور لکھنؤ ۱ / ۴۴۸
مکتوبات امام ربانی مکتوب ۳۱۲ بمیر محمد نعمان نولکشور لکھنؤ ۱ / ۴۴۹
مکتوبات امام ربانی مکتوب ۳۱۲ بمیر محمد نعمان نولکشور لکھنؤ ۱ / ۴۴۹
اصحاب کا ظاہر اصول اشارہ کرنا ہے پس عدم اشارہ ہی ہمارے متقدمین علماء کی سنت ہے۔ (ت)
صفحہ ۴۵۰ :
احادیث راایں اکابر بیشتر از ما می شناختند البتہ وجہ موجہ داشتہ باشند درترك عمل بمتقضائے ایں احادیث علی صاحبہا الصلوۃ والسلام ۔ احادیث کوہماری نسبت یہ اکابر زیادہ بہتر سمجھتے ہیں یقینا وہ ان احادیث کے مقتضا کے ترك پرکوئی موثر وجہ پیش نظر رکھتے ہیں۔ (ت)
ص ۴۵۱ :
اگر گویند کہ علمائے حنفیہ برجواز اشارت نیز فتوی دادہ اند گویم ترجیح عدم جواز راست اھ ملخصا۔ اگر یوں کہیں کہ علمائے احناف اشارہ کے جواز کا فتوی دیتے ہیں تو ہم جواب میں کہیں گے کہ ترجیح عدم جوازکو ہے اھ ملخصا(ت)
اب ذرا حضرات غیر مقلدین کا نوں سے ٹینٹ آنکھوں سے جالے ہٹاکر یہ دھوم دھامی عبارت سنیں اورا سکے تیور دیکھیں جناب شیخ سلسلہ کو صاف اقرار ہے کہ دربارہ اشارہ میں احادیث حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمبکثرت آئی ہیں اور وہ حدیثیں معروف مشہور ہیں مگر ہمارے یہاں اصول مذہب میں اشارہ کا ذکر نہیں اور ہمارے علماء کی سنت عدم اشارہ ہے ہماری فقہ میں مکروہ ٹھہرا ہے لہذا ہمیں احادیث کے مطابق عمل کرنا جائز نہیں۔ معاذاﷲ اس بھاری شرك تقلید کو کچھ کہئے کہ مذہب کے مقابل احادیث صحیحہ مشہورہ کونہیں مانتے اور سنت رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے جواب میں اپنے مولویوں کی سنت پیش کرتے ہیں او رجو حنفی مذہب حنفی کے خلاف کسی حدیث پر عمل کرے اسے بے عقل ہٹ دھرم بتاتے ہیں مزہ یہ کہ یہ مسئلہ خود مذہب حنفی میں متفق علیہا نہیں آپ ہی اقرار فرماتے ہیں کہ مشائخ کو اختلاف ہے جواز واستحباب وسنیت اشارہ کے بھی قائل ہوئے یہاں تك کہ ائمہ کا فتوی بھی حدیثوں کے موافق موجود حتی کہ خود امام مذہب امام محمد نے تصریح فرمائی ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلماشارہ فرمایا کرتے اور ہم وہی کریں گے جو رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکرتے تھے اور فرماتے ہیں یہی مذہب میرا اور امام ابو حنیفہ کا ہے مگر از انجا کہ یہ روایت نوادر کی ہے اس پر بھی نظر نہ ہوگی نہ اختلاف مشائخ وفتوی پر لحاظ ہوگا۔ صرف اس لئے کہ ظاہر روایۃ میں ذکر نہ آیا حرمت مرجح اور اس کے خلاف صحیح ومشہور حدیثوں پر ہمیں عمل نہیں پہنچتا ایمان سے کہنا ایمان ترك تقلید کا
صفحہ ۴۵۰ :
احادیث راایں اکابر بیشتر از ما می شناختند البتہ وجہ موجہ داشتہ باشند درترك عمل بمتقضائے ایں احادیث علی صاحبہا الصلوۃ والسلام ۔ احادیث کوہماری نسبت یہ اکابر زیادہ بہتر سمجھتے ہیں یقینا وہ ان احادیث کے مقتضا کے ترك پرکوئی موثر وجہ پیش نظر رکھتے ہیں۔ (ت)
ص ۴۵۱ :
اگر گویند کہ علمائے حنفیہ برجواز اشارت نیز فتوی دادہ اند گویم ترجیح عدم جواز راست اھ ملخصا۔ اگر یوں کہیں کہ علمائے احناف اشارہ کے جواز کا فتوی دیتے ہیں تو ہم جواب میں کہیں گے کہ ترجیح عدم جوازکو ہے اھ ملخصا(ت)
اب ذرا حضرات غیر مقلدین کا نوں سے ٹینٹ آنکھوں سے جالے ہٹاکر یہ دھوم دھامی عبارت سنیں اورا سکے تیور دیکھیں جناب شیخ سلسلہ کو صاف اقرار ہے کہ دربارہ اشارہ میں احادیث حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمبکثرت آئی ہیں اور وہ حدیثیں معروف مشہور ہیں مگر ہمارے یہاں اصول مذہب میں اشارہ کا ذکر نہیں اور ہمارے علماء کی سنت عدم اشارہ ہے ہماری فقہ میں مکروہ ٹھہرا ہے لہذا ہمیں احادیث کے مطابق عمل کرنا جائز نہیں۔ معاذاﷲ اس بھاری شرك تقلید کو کچھ کہئے کہ مذہب کے مقابل احادیث صحیحہ مشہورہ کونہیں مانتے اور سنت رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے جواب میں اپنے مولویوں کی سنت پیش کرتے ہیں او رجو حنفی مذہب حنفی کے خلاف کسی حدیث پر عمل کرے اسے بے عقل ہٹ دھرم بتاتے ہیں مزہ یہ کہ یہ مسئلہ خود مذہب حنفی میں متفق علیہا نہیں آپ ہی اقرار فرماتے ہیں کہ مشائخ کو اختلاف ہے جواز واستحباب وسنیت اشارہ کے بھی قائل ہوئے یہاں تك کہ ائمہ کا فتوی بھی حدیثوں کے موافق موجود حتی کہ خود امام مذہب امام محمد نے تصریح فرمائی ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلماشارہ فرمایا کرتے اور ہم وہی کریں گے جو رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکرتے تھے اور فرماتے ہیں یہی مذہب میرا اور امام ابو حنیفہ کا ہے مگر از انجا کہ یہ روایت نوادر کی ہے اس پر بھی نظر نہ ہوگی نہ اختلاف مشائخ وفتوی پر لحاظ ہوگا۔ صرف اس لئے کہ ظاہر روایۃ میں ذکر نہ آیا حرمت مرجح اور اس کے خلاف صحیح ومشہور حدیثوں پر ہمیں عمل نہیں پہنچتا ایمان سے کہنا ایمان ترك تقلید کا
حوالہ / References
مکتوبات امام ربانی مکتوب ۳۱۲ بمیر محمد نعمان نولکشور لکھنؤ ۱ / ۴۵۰
مکتوبات امام ربانی مکتوب ۳۱۲ بمیر محمد نعمان نولکشور لکھنؤ ۱ / ۴۵۱
مکتوبات امام ربانی مکتوب ۳۱۲ بمیر محمد نعمان نولکشور لکھنؤ ۱ / ۴۵۱
کہیں تسمہ بھی لگا رہا اب شخص مذکور کے جبروتی احکام سنئے کہ خاص اپنے پیر سلسلہ حضرت شیخ مجدد کو بمقابلہ مذہب احادیث چھوڑنے اور سنت نبوی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے مقابل سنت علماء کی سند پکڑنے پر کیا کیا جلی کٹی بے نقط سناتاہے۔ تقویۃ الایمان ص۴۲ : “ جوکوئی کسی امام یا مجتہد کی بات کو رسول کے فرمانے سے مقدم سمجھے حدیث کے مقابل قول کی سند پکڑے سوایسی باتوں سے شرك ثابت ہوتاہے ۔ “
ص ۲ و ۳ : “ ا س زمانہ میں دین کی بات میں لوگ کتنی راہیں چلتے ہیں کوئی پہلوں کی رسموں کو کوئی مولویوں کی باتوں کو جو انھوں نے اپنے ذہن کی تیزی سے نکالیں سند پکڑتے ہیں ۔ “
صفحہ ۴ : “ رسولوں کو رسول سمجھنا اس طرح ہوتاہے کہ اس کے سوا کسی کی راہ نہ پکڑے ۔ “
صفحہ ۶ : “ اسی طرح کی خرافاتیں بکتے ہیں سبب یہ کہ خدا ورسول کے کلام کو چھوڑ کر غلط سلط رسموں کی سند پکڑی پیغمبر خدا کےسامنے بھی کافر لوگ ایسی ہی باتیں کرتے تھے ۔ “ تنویر العینین :
لیت شعری کیف یجوزالتزام تقلید شخص معین مع تمکن الرجوع الی الروایات المنقولۃ عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم الصریحۃ الدالۃ علی خلاف قول امام المقلد فان لم یترك قول امامہ ففیہ شائبۃ من الشرك ۔ میں کیسے جانوں کہ ایك شخص کی تقلید کو لئے رہنا کیونکر حلال ہوگا جبکہ اپنے امام کے خلاف مذہب پر صریح حدیثیں پاسکے اس پر بھی امام کا قول نہ چھوڑے تو اس میں شرك کا میل ہے۔
ص ۲ و ۳ : “ ا س زمانہ میں دین کی بات میں لوگ کتنی راہیں چلتے ہیں کوئی پہلوں کی رسموں کو کوئی مولویوں کی باتوں کو جو انھوں نے اپنے ذہن کی تیزی سے نکالیں سند پکڑتے ہیں ۔ “
صفحہ ۴ : “ رسولوں کو رسول سمجھنا اس طرح ہوتاہے کہ اس کے سوا کسی کی راہ نہ پکڑے ۔ “
صفحہ ۶ : “ اسی طرح کی خرافاتیں بکتے ہیں سبب یہ کہ خدا ورسول کے کلام کو چھوڑ کر غلط سلط رسموں کی سند پکڑی پیغمبر خدا کےسامنے بھی کافر لوگ ایسی ہی باتیں کرتے تھے ۔ “ تنویر العینین :
لیت شعری کیف یجوزالتزام تقلید شخص معین مع تمکن الرجوع الی الروایات المنقولۃ عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم الصریحۃ الدالۃ علی خلاف قول امام المقلد فان لم یترك قول امامہ ففیہ شائبۃ من الشرك ۔ میں کیسے جانوں کہ ایك شخص کی تقلید کو لئے رہنا کیونکر حلال ہوگا جبکہ اپنے امام کے خلاف مذہب پر صریح حدیثیں پاسکے اس پر بھی امام کا قول نہ چھوڑے تو اس میں شرك کا میل ہے۔
حوالہ / References
تقویۃ الایمان الفصل الرابع فی ذکر ردالاشراك فی العبادۃ مطبع علیمی اندرون لوہاری گیٹ لاہور ص۲۸ و ۲۹
تقویۃ الایمان مقدمہ کتاب مطبع علیمی اندرون لوہاری گیٹ لاہور ص ۲
تقویۃ الایمان مقدمہ کتاب مطبع علیمی اندرون لوہاری گیٹ لاہور ص۳
تقویۃ الایمان پہلا باب توحید وشکر کے بیان میں مطبع علیمی اندرون لوہاری گیٹ لاہور ص۴
تنویر العینین
تقویۃ الایمان مقدمہ کتاب مطبع علیمی اندرون لوہاری گیٹ لاہور ص ۲
تقویۃ الایمان مقدمہ کتاب مطبع علیمی اندرون لوہاری گیٹ لاہور ص۳
تقویۃ الایمان پہلا باب توحید وشکر کے بیان میں مطبع علیمی اندرون لوہاری گیٹ لاہور ص۴
تنویر العینین
تنویر العینین :
اتباع شخص معین بحیث یتمسك بقولہ وان ثبت علی خلافہ دلائل من السنۃ والکتاب و یاول الی قولہ شوب من النصرانیۃ وحظ من الشرك والعجب من القوم لایخافون من مثل ھذا الاتباع یخیفون تارکہ فما احق ھذہ الایۃ فی جوابھم وکیف اخاف مااشرکتم ولایخافون انکم اشرکتم باﷲ ۔ ایك امام کی پیروی کہ اس کی بات کی سند پکڑے اگرچہ اس کے خلاف حدیث وکتاب سے دلیلیں ثابت ہوں اور انھیں اس قول کی طرف پھیرے یہ نصرانی ہونے کا میل ہے اور شرك میں کاحصہ اور تعجب یہ کہ لوگ آپ تو اس تقلید سے ڈرتے نہیں بلکہ اس کے چھوڑنے والے کو ڈارتے ہیں تو کتنی ٹھیك ہے یہ آیت ان کے جواب میں کہ میں کیونکر ڈروں اس سے جسے تم نے اﷲ کا شریك بنایا حالانکہ تم نہیں ڈرتے کہ تم نے اوروں کو اﷲ کا شریك ٹھہرایا۔
افسوس حضرت شیخ مجدد صاحب کو کیا خبر تھی کہ ہمارے سلسلہ میں ایسے فرزند دلبندسعادت مند پیدا ہونے والے ہیں جو ہماری معرفت وولایت بالائے طاق سرے سے اصل ایمان میں خلل بتائیں گے معاذاﷲ کافر مشرك نصرانی بتائیں گے شاہ ولی اﷲ وشاہ عبدالعزیز صاحب کیا جانتے تھے کہ ہماری نسل میں وہ ہونہار سپوت اٹھنے کوہیں جو ہماری پیر پدری استادی درکنار عیاذاباﷲ کفر وشرك سے قبر پاٹیں گے ہمیں سے پیدا ہوکر ہماری ہی مسلمانی کی جڑ کاٹیں گے از ماست کہ برماست(ہم سے ہی ہمارے خلاف ہے۔ ت)اﷲ تعالی گندہ کرنے والی مچھلی سے بچائے ع
بدنام کنندہ نکونامے چند
(بہت سے نیك ناموں کو تونے بدنام کیا۔ ت)
زنان بارور گرمار زانید بہ از طفلے کہ ناہنجار زانید
(حاملہ عورتیں اگر سانپ جنیں تو ناہنجار بچہ جننے سے وہ بہتر ہے۔ ت)
غرض کہاں تك گنئے انبیاء ومرسلین وملائکہ وصحابہ وائمہ وسائر مسلمین وتمام جہان وخو درب العالمین تك جو شرك کے چھینٹے پہنچے تھے خاندان دہلی کا ایك ایك بزرگ عالم صوفی پیشوا بوڑھا سب اسی ہولی کی پچکاریوں میں رنگا ہوا ہے حضرات وہابیہ سے استفسار کہ اپنے امام کاساتھ دے کر شاہ عبدالعزیز صاحب شاہ ولی اﷲ صاحب
اتباع شخص معین بحیث یتمسك بقولہ وان ثبت علی خلافہ دلائل من السنۃ والکتاب و یاول الی قولہ شوب من النصرانیۃ وحظ من الشرك والعجب من القوم لایخافون من مثل ھذا الاتباع یخیفون تارکہ فما احق ھذہ الایۃ فی جوابھم وکیف اخاف مااشرکتم ولایخافون انکم اشرکتم باﷲ ۔ ایك امام کی پیروی کہ اس کی بات کی سند پکڑے اگرچہ اس کے خلاف حدیث وکتاب سے دلیلیں ثابت ہوں اور انھیں اس قول کی طرف پھیرے یہ نصرانی ہونے کا میل ہے اور شرك میں کاحصہ اور تعجب یہ کہ لوگ آپ تو اس تقلید سے ڈرتے نہیں بلکہ اس کے چھوڑنے والے کو ڈارتے ہیں تو کتنی ٹھیك ہے یہ آیت ان کے جواب میں کہ میں کیونکر ڈروں اس سے جسے تم نے اﷲ کا شریك بنایا حالانکہ تم نہیں ڈرتے کہ تم نے اوروں کو اﷲ کا شریك ٹھہرایا۔
افسوس حضرت شیخ مجدد صاحب کو کیا خبر تھی کہ ہمارے سلسلہ میں ایسے فرزند دلبندسعادت مند پیدا ہونے والے ہیں جو ہماری معرفت وولایت بالائے طاق سرے سے اصل ایمان میں خلل بتائیں گے معاذاﷲ کافر مشرك نصرانی بتائیں گے شاہ ولی اﷲ وشاہ عبدالعزیز صاحب کیا جانتے تھے کہ ہماری نسل میں وہ ہونہار سپوت اٹھنے کوہیں جو ہماری پیر پدری استادی درکنار عیاذاباﷲ کفر وشرك سے قبر پاٹیں گے ہمیں سے پیدا ہوکر ہماری ہی مسلمانی کی جڑ کاٹیں گے از ماست کہ برماست(ہم سے ہی ہمارے خلاف ہے۔ ت)اﷲ تعالی گندہ کرنے والی مچھلی سے بچائے ع
بدنام کنندہ نکونامے چند
(بہت سے نیك ناموں کو تونے بدنام کیا۔ ت)
زنان بارور گرمار زانید بہ از طفلے کہ ناہنجار زانید
(حاملہ عورتیں اگر سانپ جنیں تو ناہنجار بچہ جننے سے وہ بہتر ہے۔ ت)
غرض کہاں تك گنئے انبیاء ومرسلین وملائکہ وصحابہ وائمہ وسائر مسلمین وتمام جہان وخو درب العالمین تك جو شرك کے چھینٹے پہنچے تھے خاندان دہلی کا ایك ایك بزرگ عالم صوفی پیشوا بوڑھا سب اسی ہولی کی پچکاریوں میں رنگا ہوا ہے حضرات وہابیہ سے استفسار کہ اپنے امام کاساتھ دے کر شاہ عبدالعزیز صاحب شاہ ولی اﷲ صاحب
حوالہ / References
تنویر العینین
جناب شیخ مجدد صاحب سب کو کھلم کھلا مشرك مان لوگے۔ یا کچھ ایمان دھرم کا خیال کرکے اس مصنوعی امام کو گمراہ بد دین ومکفر مسلمین ومورد لزوم ہزاراں کفر جانو گے میں عبث تشقیق کرتاہوں بلکہ شق ثانی ہر طرح لازم اگر اسی کو اختیار کیجئے اور خدا ایسا ہی کرے جب تو ظاہر ورنہ شق اول پر جب وہ حضرات معاذاﷲ مشرك ٹھہرے اور یہ ان کا مداح ان کا معتقد ان کا مرید ان کا مقلد انھیں امام سمجھے پیشوامانے ولی کہے مقبول خدا جانے تو آپ لزوم کفر سے کب محفوظ رہ سکتاہے کہ جو شخص مشرکین کو ایسا سمجھے خود کافرہے اس شخص پر کفر ہر طرح لازم رہا کہ کردکہ نیافت یہ اس کی جزا ہے کہ مسلمانوں کو محض بے وجہ ناروا بات بات پر مشرك کہا تھا
دیدی کہ خون ناحق پروانہ شمع را چنداں اماں ندارد کہ شب راسحر کند
(شمع کے پروانے کا ناحق خون تونے دیکھا کچھ امن نہ دیا کہ شب کو سحر بنادیتا۔ ت)
کفریہ ۵۷ تا ۶۱ : صراط مستقیم ص ۱۳۶ :
ائمہ ایں طریق واکابرایں فریق در زمرہ ملئکہ مدبرات الامر کہ در تدبیر امور از جانب ملاء اعلی ملہم شدہ دراجرائے آں می کو شند معدود ند پس احوال ایں کرام بر احوال ملائکہ عظام قیاس باید کرد ۔ اس طریقہ کے ائمہ وراس گروہ کے اکابر حضرات کا شمار مدبرات الامر فرشتوں کے گروہ میں ہوتاہے یہ فرشتے ملاء اعلی کی طرف سے تدابیر امور کے لئے الہام پاتے ہیں اور پھر ان کے اجراء میں کوشاں ہوتے ہیں پس ان بزرگوں کے احوال کو معظم فرشتوں کے احول پر قیاس کرنا چاہئے(ت)
ص ۶۶۲ :
قطبیت وغوثیت وابدالیت وغیرہا ہمہ از عہد کرامت مہد حضرت مرتضی تا انقراض دنیا ہمہ بواسطہ ایشاں ست در سلطنت سلاطین وامارت امراہم ہمت ایشاں رادخلے ہست کہ برسیاحین عالم ملکوت مخفی نیست ۔ قطبیت وغوثیت وابدالیت وغیرہا یہ تمام مراتب حضرت علی مرتضی کے زمانہ باکرامت سے دنیا کے اختتام تك بواسطہ علی مرتضی حاصل ہوتے ہیں اور ان حضرات کو بادشاہوں کی سلطنت اور امراء کی امارت میں اہم دخل ہوتاہے جو عالم ملکوت کی سیر کرنے والوں پر مخفی نہیں ہے۔ (ت)
دیدی کہ خون ناحق پروانہ شمع را چنداں اماں ندارد کہ شب راسحر کند
(شمع کے پروانے کا ناحق خون تونے دیکھا کچھ امن نہ دیا کہ شب کو سحر بنادیتا۔ ت)
کفریہ ۵۷ تا ۶۱ : صراط مستقیم ص ۱۳۶ :
ائمہ ایں طریق واکابرایں فریق در زمرہ ملئکہ مدبرات الامر کہ در تدبیر امور از جانب ملاء اعلی ملہم شدہ دراجرائے آں می کو شند معدود ند پس احوال ایں کرام بر احوال ملائکہ عظام قیاس باید کرد ۔ اس طریقہ کے ائمہ وراس گروہ کے اکابر حضرات کا شمار مدبرات الامر فرشتوں کے گروہ میں ہوتاہے یہ فرشتے ملاء اعلی کی طرف سے تدابیر امور کے لئے الہام پاتے ہیں اور پھر ان کے اجراء میں کوشاں ہوتے ہیں پس ان بزرگوں کے احوال کو معظم فرشتوں کے احول پر قیاس کرنا چاہئے(ت)
ص ۶۶۲ :
قطبیت وغوثیت وابدالیت وغیرہا ہمہ از عہد کرامت مہد حضرت مرتضی تا انقراض دنیا ہمہ بواسطہ ایشاں ست در سلطنت سلاطین وامارت امراہم ہمت ایشاں رادخلے ہست کہ برسیاحین عالم ملکوت مخفی نیست ۔ قطبیت وغوثیت وابدالیت وغیرہا یہ تمام مراتب حضرت علی مرتضی کے زمانہ باکرامت سے دنیا کے اختتام تك بواسطہ علی مرتضی حاصل ہوتے ہیں اور ان حضرات کو بادشاہوں کی سلطنت اور امراء کی امارت میں اہم دخل ہوتاہے جو عالم ملکوت کی سیر کرنے والوں پر مخفی نہیں ہے۔ (ت)
حوالہ / References
صراط مستقیم باب اول ہدایت رابعہ افادہ ۱ المکتبۃ السلفیہ لاہور ص۳۲
صراط مستقیم باب دوم ہدایت ثانیہ افادہ ۱ المکتبہ السلفیہ لاہور ص۵۸
صراط مستقیم باب دوم ہدایت ثانیہ افادہ ۱ المکتبہ السلفیہ لاہور ص۵۸
صفحہ۳ ۱۱۲ :
ارباب ایں مناصب رفیعہ ماذون مطلق درتصرف عالم مثال وشہادت مے باشند وایں کبار اولی الایدی والابصار رامے رسد کہ تمامی کلیات رابسوئے خود نیست نمایند مثلا ایشاں رامی رسد کہ بگویند کہ از عرش تافرش سلطنت ماست ۔ ان بلند منصب والے حضرات عالم والے حضرات علم امثال وشہادت میں تصرف کرنے میں مجاز مطلق ہوتے ہیں ان طاقتوں اور بصیرت والے اکابرین کو اختیار ہے کہ تمام امور کلیہ اپنی طرف منسوب کرلیں مثلا ان کوا ختیار ہے کہ وہ عرش تا فرش اپنی سلطنت ہونے کا دعوی کریں۔ (ت)
صفحہ۴ ۵۴ :
دریں مقام بعضے خلیفۃ اﷲ مے باشند خلیفۃ اﷲ اں کسے ست کہ برائے انصرا م جمیع مہام اورامقرر کردہ مانند نائب سازند ۔ اسی مقام پر بعض حضرات خلیفۃ اﷲ ہوتے ہیں خلیفۃ اﷲ وہ شخص ہوتاہے جو تمام مہمات کے انتظام پر مقرر ہوتاہے اور نائب کی طرح ہوتاہے۔ (ت)
صفحہ۵ ۳۴ :
او رادرکیف ولایت خودگرفتہ وزیر سایہ کفالت تربیت خود آوردہ جارحہ تدبیر تکوینی تشریعی خود مے سازد ۔ اس کو اپنی ولایت کے پہلو میں لے کر اس کی تربیت کی کفالت خود کرتے ہیں اور تکوینی وتشریعی امور میں خود تصرف والا بناتے ہیں۔ (ت)
ان پانچ شرکیات میں صاف صاف تصریحیں ہیں کہ ملائکہ واولیاء کاروبار عالم کے مدبر ہیں اولیاء عالم کے کام جاری کرتے ہیں اولیاء کو تمام عالم میں تصرف کا اختیار کلی دیا جاتاہے تمام کام ان کے ہاتھ سے انصرام پاتے ہیں بادشاہوں کے بادشا ہ بننے امیروں کے امیری پانے میں مولا علی کی ہمت کو دخل ہے
اب تقویۃ الایمان کی سنئے اس کی ایك عبارت شروع کفریہ ۲۲ میں سن چکے بعض اور لیجئے ص ۷ :
“ اﷲ صاحب نے کسی کو عالم میں تصرف کرنے کی قدرت نہیں دی ۔ “
ارباب ایں مناصب رفیعہ ماذون مطلق درتصرف عالم مثال وشہادت مے باشند وایں کبار اولی الایدی والابصار رامے رسد کہ تمامی کلیات رابسوئے خود نیست نمایند مثلا ایشاں رامی رسد کہ بگویند کہ از عرش تافرش سلطنت ماست ۔ ان بلند منصب والے حضرات عالم والے حضرات علم امثال وشہادت میں تصرف کرنے میں مجاز مطلق ہوتے ہیں ان طاقتوں اور بصیرت والے اکابرین کو اختیار ہے کہ تمام امور کلیہ اپنی طرف منسوب کرلیں مثلا ان کوا ختیار ہے کہ وہ عرش تا فرش اپنی سلطنت ہونے کا دعوی کریں۔ (ت)
صفحہ۴ ۵۴ :
دریں مقام بعضے خلیفۃ اﷲ مے باشند خلیفۃ اﷲ اں کسے ست کہ برائے انصرا م جمیع مہام اورامقرر کردہ مانند نائب سازند ۔ اسی مقام پر بعض حضرات خلیفۃ اﷲ ہوتے ہیں خلیفۃ اﷲ وہ شخص ہوتاہے جو تمام مہمات کے انتظام پر مقرر ہوتاہے اور نائب کی طرح ہوتاہے۔ (ت)
صفحہ۵ ۳۴ :
او رادرکیف ولایت خودگرفتہ وزیر سایہ کفالت تربیت خود آوردہ جارحہ تدبیر تکوینی تشریعی خود مے سازد ۔ اس کو اپنی ولایت کے پہلو میں لے کر اس کی تربیت کی کفالت خود کرتے ہیں اور تکوینی وتشریعی امور میں خود تصرف والا بناتے ہیں۔ (ت)
ان پانچ شرکیات میں صاف صاف تصریحیں ہیں کہ ملائکہ واولیاء کاروبار عالم کے مدبر ہیں اولیاء عالم کے کام جاری کرتے ہیں اولیاء کو تمام عالم میں تصرف کا اختیار کلی دیا جاتاہے تمام کام ان کے ہاتھ سے انصرام پاتے ہیں بادشاہوں کے بادشا ہ بننے امیروں کے امیری پانے میں مولا علی کی ہمت کو دخل ہے
اب تقویۃ الایمان کی سنئے اس کی ایك عبارت شروع کفریہ ۲۲ میں سن چکے بعض اور لیجئے ص ۷ :
“ اﷲ صاحب نے کسی کو عالم میں تصرف کرنے کی قدرت نہیں دی ۔ “
حوالہ / References
صراط مستقیم باب دوم فصل چہارم افادہ ۲ المکتبۃ السلفیہ لاہور ص۱۰۱
صراط مستقیم باب سوم تکملہ دربیان سلوك المکتبۃ السلفیہ لاہور ص۱۴۳
صراط مستقیم باب اول ہدایت رابعہ افادہ ۱ المکتبۃ السلفیہ لاہور ص۲۹
تقویۃ الایمان پہلا باب مطبع علیمی اندرون لوہاری گیٹ لاہور ص۵
صراط مستقیم باب سوم تکملہ دربیان سلوك المکتبۃ السلفیہ لاہور ص۱۴۳
صراط مستقیم باب اول ہدایت رابعہ افادہ ۱ المکتبۃ السلفیہ لاہور ص۲۹
تقویۃ الایمان پہلا باب مطبع علیمی اندرون لوہاری گیٹ لاہور ص۵
صفحہ ۴۲ : “ جس کا نام محمد یا علی ہے وہ کسی چیز کا مختار نہیں ۔ “
صفحہ ۲۹ : “ کسی کام میں نہ بالفعل ان کو دخل ہے نہ اس کی طاقت رکھتے ہیں ۔ “
صفحہ ۲۸ : “ جو کوئی کسی مخلوق کو عالم میں تصرف ثابت کرے اور اپنا وکیل ہی سمجھ کر اس کو مانے سواس پر شرك ثابت ہوتاہے گو کہ اﷲ کے برابر نہ سمجھے اور اس کے مقابلہ کی طاقت اس کونہ ثابت کرے ۔ “
کفریہ ۶۲ تا ۶۸ : صراط مستقیم ص۶ ۱۲۱ :
دریں حالت اطلاع برامکنہ افلاك وسیر بعضے مقامات زمین کہ دور ودراز از جائے وے بود بطور کشف حاصل مے آید وآں کشفش مطابق واقع می باشد ۔ اس حالت میں وہ آسمانوں کے مقامات اور اپنے سے دور دراز تك زمین کے بعض مقامات کی سیر بطور کشف کرتے ہیں اور ان کا کشف واقع کے مطابق ہوتاہے۔ (ت)
صفحہ۷ ۱۲۴ :
برائے انکشاف حالات سموت وملاقات ارواح و ملائکہ وسیر جنت ونار واطلاع برحقائق آن مقام ودریافت امکنہ آنجا و انکشاف امرے از لوح محفوظ ذکر یاحی یاقیوم ست(الی قولہ) و در سیر مختار ست بالائے عرش نماید یا زیر آں و درمواضح آسماں نماید یابقاع زمین الخ “ آسمانوں کے حالات پر آگاہی اور فرشتوں اور روحوں کی ملاقات جنت ودوزخ کی سیر اور ان مقامات کے حقائق پر اطلاع اوروہاں کے مقامات کی دریافت اور لوح محفوظ کے امور پر آگاہی کے لئے یا حی یاقیوم کا ذکر ہے (آگے یہاں تک)اور اس سیر میں وہ مختار ہے کہ عرش سے بالا یا زیر عرش یا آسمانوں میں کسی مقام پر یا زمین کے کسی خطے کو ملاحظہ کرے ۔ (ت)
صفحہ ۲۹ : “ کسی کام میں نہ بالفعل ان کو دخل ہے نہ اس کی طاقت رکھتے ہیں ۔ “
صفحہ ۲۸ : “ جو کوئی کسی مخلوق کو عالم میں تصرف ثابت کرے اور اپنا وکیل ہی سمجھ کر اس کو مانے سواس پر شرك ثابت ہوتاہے گو کہ اﷲ کے برابر نہ سمجھے اور اس کے مقابلہ کی طاقت اس کونہ ثابت کرے ۔ “
کفریہ ۶۲ تا ۶۸ : صراط مستقیم ص۶ ۱۲۱ :
دریں حالت اطلاع برامکنہ افلاك وسیر بعضے مقامات زمین کہ دور ودراز از جائے وے بود بطور کشف حاصل مے آید وآں کشفش مطابق واقع می باشد ۔ اس حالت میں وہ آسمانوں کے مقامات اور اپنے سے دور دراز تك زمین کے بعض مقامات کی سیر بطور کشف کرتے ہیں اور ان کا کشف واقع کے مطابق ہوتاہے۔ (ت)
صفحہ۷ ۱۲۴ :
برائے انکشاف حالات سموت وملاقات ارواح و ملائکہ وسیر جنت ونار واطلاع برحقائق آن مقام ودریافت امکنہ آنجا و انکشاف امرے از لوح محفوظ ذکر یاحی یاقیوم ست(الی قولہ) و در سیر مختار ست بالائے عرش نماید یا زیر آں و درمواضح آسماں نماید یابقاع زمین الخ “ آسمانوں کے حالات پر آگاہی اور فرشتوں اور روحوں کی ملاقات جنت ودوزخ کی سیر اور ان مقامات کے حقائق پر اطلاع اوروہاں کے مقامات کی دریافت اور لوح محفوظ کے امور پر آگاہی کے لئے یا حی یاقیوم کا ذکر ہے (آگے یہاں تک)اور اس سیر میں وہ مختار ہے کہ عرش سے بالا یا زیر عرش یا آسمانوں میں کسی مقام پر یا زمین کے کسی خطے کو ملاحظہ کرے ۔ (ت)
حوالہ / References
تقویۃ الایمان الفصل الرابع مطبع علیمی اندرون لوہاری گیٹ لاہور ص۲۸
تقویۃ الایمان الفصل الثالث مطبع علیمی اندرون لوہاری گیٹ لاہور ص۲۰
تقویۃ الایمان الفصل الثالث مطبع علیمی اندرون لوہاری گیٹ لاہور ص۱۹
صراط مستقیم باب سوم فصل اول افادہ ۶ المکتبۃ السلفیہ لاہور ص۱۰۔ ۱۰۹
صراط مستقیم فصل دوم افادہ ۱ المکتبۃ السلفیہ لاہور ص۱۱۳
تقویۃ الایمان الفصل الثالث مطبع علیمی اندرون لوہاری گیٹ لاہور ص۲۰
تقویۃ الایمان الفصل الثالث مطبع علیمی اندرون لوہاری گیٹ لاہور ص۱۹
صراط مستقیم باب سوم فصل اول افادہ ۶ المکتبۃ السلفیہ لاہور ص۱۰۔ ۱۰۹
صراط مستقیم فصل دوم افادہ ۱ المکتبۃ السلفیہ لاہور ص۱۱۳
صفحہ۸ ۱۲۵ :
برائے کشف قبور سبوح قدوس ر ب الملئکۃ والروح مقرر ست ۔ کشف قبر کے لئے “ سبوح قدوس رب الملئکۃ والروح “ مقرر ہے۔ (ت)
صفحہ۹ ۱۲۸ :
برائے کشف ارواح وملائکہ ومقامات آنہا وسیر امکنہ زمین وآسمان وجنت ونار واطلاع بر لوح محفوط شغل دورہ کند و باستعانت ہماں شغل بہر مقامیکہ از زمین وآسمان وبہشت ودوزخ خواہد متوجہ شدہ سیرآن مقام واحوال آنجا دریافت کند وبا اہل آں مقام ملاقات سازد ۔ ارواح ملائکہ اور ان کے مقامات اور زمین وآسمان جنت دوزخ اور لوح محفوظ پر دورہ کا شغل کرے اور اس شغل کی مدد سے زمین وآسمان بہشت و دوزخ جس مقام کی طرف چاہے متوجہ ہوتاہے اور اس مقام کی سیر سے وہاں کے احوال دریافت کرتاہے اور وہاں کے رہنے والوں سے ملاقات کرتا ہے۔ (ت)
صفحہ۱۰ ۱۲۹ :
برائے کشف وقائع آئندہ اکابرایں طریقہ طرق متعدد نوشتہ اند ۔ مستقبل کے واقعات کے کشف کے لئے اس طریقہ کے اکابر نے متعدد طرق لکھے ہیں۔ (ت)
صفحہ۱۱ ۱۵۸ :
آں عزیز باوجود وجاہت عنداﷲ کامل النفس قوی التاثیر صاحب کشف صحیح باشد ۔ وہ اﷲ تعالی کے ہاں باوجاہت ہوتے ہوئے کامل النفس قوی التاثیر اور صحیح کشف والا ہوتاہے۔ (ت)
صفحہ۱۲ ۱۷۶ اپنے پیر کو لکھا :
کشف بعلوم حکمت آنجا مید انست ۔ علوم حکمت کے ذریعہ کشف ہوتاہے۔ (ت)
ان سات شرکیات میں صاف صاف کشف کی صحت کا اقرار ہے وہ بھی ایسا کہ اولیاء کو ز مین کے دور ودراز
برائے کشف قبور سبوح قدوس ر ب الملئکۃ والروح مقرر ست ۔ کشف قبر کے لئے “ سبوح قدوس رب الملئکۃ والروح “ مقرر ہے۔ (ت)
صفحہ۹ ۱۲۸ :
برائے کشف ارواح وملائکہ ومقامات آنہا وسیر امکنہ زمین وآسمان وجنت ونار واطلاع بر لوح محفوط شغل دورہ کند و باستعانت ہماں شغل بہر مقامیکہ از زمین وآسمان وبہشت ودوزخ خواہد متوجہ شدہ سیرآن مقام واحوال آنجا دریافت کند وبا اہل آں مقام ملاقات سازد ۔ ارواح ملائکہ اور ان کے مقامات اور زمین وآسمان جنت دوزخ اور لوح محفوظ پر دورہ کا شغل کرے اور اس شغل کی مدد سے زمین وآسمان بہشت و دوزخ جس مقام کی طرف چاہے متوجہ ہوتاہے اور اس مقام کی سیر سے وہاں کے احوال دریافت کرتاہے اور وہاں کے رہنے والوں سے ملاقات کرتا ہے۔ (ت)
صفحہ۱۰ ۱۲۹ :
برائے کشف وقائع آئندہ اکابرایں طریقہ طرق متعدد نوشتہ اند ۔ مستقبل کے واقعات کے کشف کے لئے اس طریقہ کے اکابر نے متعدد طرق لکھے ہیں۔ (ت)
صفحہ۱۱ ۱۵۸ :
آں عزیز باوجود وجاہت عنداﷲ کامل النفس قوی التاثیر صاحب کشف صحیح باشد ۔ وہ اﷲ تعالی کے ہاں باوجاہت ہوتے ہوئے کامل النفس قوی التاثیر اور صحیح کشف والا ہوتاہے۔ (ت)
صفحہ۱۲ ۱۷۶ اپنے پیر کو لکھا :
کشف بعلوم حکمت آنجا مید انست ۔ علوم حکمت کے ذریعہ کشف ہوتاہے۔ (ت)
ان سات شرکیات میں صاف صاف کشف کی صحت کا اقرار ہے وہ بھی ایسا کہ اولیاء کو ز مین کے دور ودراز
حوالہ / References
صراط مستقیم باب سوم فصل دوم ہدایت ثانیہ افادہ ۲ المکتبۃ السلفیہ لاہور ص۱۱۳
صراط مستقیم باب سوم فصل دوم ہدایت ثانیہ افادہ ۱ المکتبۃ السلفیہ لاہور ص۱۱۷
صراط مستقیم باب سوم فصل دوم ہدایت ثانیہ افادہ ۲ المکتبۃ السلفیہ لاہور ص۱۱۷
صراط مستقیم باب چہارم دربیان طریق سلوك راہ نبوت المکتبۃ السلفیہ لاہور ص۱۴۷
صراط مستقیم خاتمہ دربیان پارہ از واردات ومعاملات الخ المکتبۃ السلفیہ لاہور ص۱۶۵
صراط مستقیم باب سوم فصل دوم ہدایت ثانیہ افادہ ۱ المکتبۃ السلفیہ لاہور ص۱۱۷
صراط مستقیم باب سوم فصل دوم ہدایت ثانیہ افادہ ۲ المکتبۃ السلفیہ لاہور ص۱۱۷
صراط مستقیم باب چہارم دربیان طریق سلوك راہ نبوت المکتبۃ السلفیہ لاہور ص۱۴۷
صراط مستقیم خاتمہ دربیان پارہ از واردات ومعاملات الخ المکتبۃ السلفیہ لاہور ص۱۶۵
مقامات ظاہر ہوتے ہیں بلکہ زمین کیاآسمانوں کے مکانات اور ملائکہ وارواح اور ان کے مقامات اور جنت و دوزخ اور قبروں کے اندر کاحال اور آنے والے واقعات کھل جاتے ہیں یہاں تك کہ عرش فرش سب میں ان کی رسائی ہوتی ہے حتی کہ لوح محفوظ پر اطلاع پاتے ہیں وہ اپنے اختیار سے زمین وآسمان میں جہاں کا حال چاہیں دریافت کرلیں اور ان سب باتوں کے حاصل کرنے کے طریقے خود ہی اس شخص نے بتائے کہ یوں کرو تو یہ رتبے مل جائیں گے یہ کشف یہ اختیار ہاتھ آئیں گے اب تقویۃ الایمان کی پوچھئے ص۲۷ :
“ جوکچھ کہ اﷲ اپنے بندوں سے معاملہ کرے گا خواہ دنیا میں خواہ قبرمیں خواہ آخرت میں سو ان کی حقیقت کسی کو معلوم نہیں نہ نبی کو نہ ولی کو نہ اپنا حال نہ دوسرے کا ۔ “
صفحہ ۲۵ : “ ان باتوں میں سب بندے بڑے ہوں یا چھوٹے یکساں بیخبر ہیں اور نادان ۔ “
صفحہ ۵۷ و ۵۸ : “ جو کہ اﷲ کی شان ہے اور اس میں کسی مخلوق کو دخل نہیں سواس میں اﷲ کے ساتھ کسی کو نہ ملادے مثلا کوئی شخص فلانے درخت میں کتنے پتے ہیں یاآسمان میں کتنے تارے ہیں تو اس کے جواب میں یہ نہ کہے کہ اﷲ ورسول جانے کیونکر غیب کی
بات اﷲ ہی جانتا رسول کو کیا خبر “ ۔
سبحان اللہ! وہاں تو پیرجی کے ایك ایك مرید کو زمین وآسمان جنت و دوزخ حتی کہ قبرکے حالات آئندہ کے واقعات لوح محفوظ وعرش اعظم غرض تن تلوك روشن تھے عرش و فرش میں ہر جگہ کے حالات کا جان لینا اپنے اختیار میں تھا خود ان پیر جی کو وہ طریقے معلو م تھے کہ یوں کرو تو یہ سب باتیں روشن ہوجائیں گی مگر معاذاﷲ محمد رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی انجانی یہاں تك ہے کہ آسمان کے تارے تو درکنار کیا دخل کہ ایك پیڑ کے پتے جان لیں اگر انھیں کوئی کہے کہ وہ کسی درخت کے پتوں کی گنتی جانتے ہیں تو اس نے انھیں اﷲ کی شان میں ملادیا وہاں تو بندگی کو وسعت تھی یہاں آکر خدائی اتنی تنگ ہوئی کہ ایك پیڑ کے پتے جاننے پر رہ گئی حق فرمایا اﷲ عزوجل نے : “ ما قدروا اللہ حق قدرہ “ اﷲ ہی کی قدرنہ کی جیسی چاہئے تھی
“ جوکچھ کہ اﷲ اپنے بندوں سے معاملہ کرے گا خواہ دنیا میں خواہ قبرمیں خواہ آخرت میں سو ان کی حقیقت کسی کو معلوم نہیں نہ نبی کو نہ ولی کو نہ اپنا حال نہ دوسرے کا ۔ “
صفحہ ۲۵ : “ ان باتوں میں سب بندے بڑے ہوں یا چھوٹے یکساں بیخبر ہیں اور نادان ۔ “
صفحہ ۵۷ و ۵۸ : “ جو کہ اﷲ کی شان ہے اور اس میں کسی مخلوق کو دخل نہیں سواس میں اﷲ کے ساتھ کسی کو نہ ملادے مثلا کوئی شخص فلانے درخت میں کتنے پتے ہیں یاآسمان میں کتنے تارے ہیں تو اس کے جواب میں یہ نہ کہے کہ اﷲ ورسول جانے کیونکر غیب کی
بات اﷲ ہی جانتا رسول کو کیا خبر “ ۔
سبحان اللہ! وہاں تو پیرجی کے ایك ایك مرید کو زمین وآسمان جنت و دوزخ حتی کہ قبرکے حالات آئندہ کے واقعات لوح محفوظ وعرش اعظم غرض تن تلوك روشن تھے عرش و فرش میں ہر جگہ کے حالات کا جان لینا اپنے اختیار میں تھا خود ان پیر جی کو وہ طریقے معلو م تھے کہ یوں کرو تو یہ سب باتیں روشن ہوجائیں گی مگر معاذاﷲ محمد رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی انجانی یہاں تك ہے کہ آسمان کے تارے تو درکنار کیا دخل کہ ایك پیڑ کے پتے جان لیں اگر انھیں کوئی کہے کہ وہ کسی درخت کے پتوں کی گنتی جانتے ہیں تو اس نے انھیں اﷲ کی شان میں ملادیا وہاں تو بندگی کو وسعت تھی یہاں آکر خدائی اتنی تنگ ہوئی کہ ایك پیڑ کے پتے جاننے پر رہ گئی حق فرمایا اﷲ عزوجل نے : “ ما قدروا اللہ حق قدرہ “ اﷲ ہی کی قدرنہ کی جیسی چاہئے تھی
حوالہ / References
تقویۃ الایمان الفصل الثانی مطبع علیمی اندرون لوہاری گیٹ لاہور ص۱۸
تقویۃ الایمان الفصل الثانی مطبع علیمی اندرون لوہاری گیٹ لاہور ص۱۷
تقویۃ الایمان الفصل الخامس مطبع علیمی اندرون لوہاری گیٹ لاہور ص۴۰
القرآن الکریم ۶ /۹۱ و ۳۹ / ۶۷
تقویۃ الایمان الفصل الثانی مطبع علیمی اندرون لوہاری گیٹ لاہور ص۱۷
تقویۃ الایمان الفصل الخامس مطبع علیمی اندرون لوہاری گیٹ لاہور ص۴۰
القرآن الکریم ۶ /۹۱ و ۳۹ / ۶۷
تقویۃ الایمان صفحہ ۵۲ : “ شرك سب عبادت کا نور کھو دیتاہے کشف کا دعوی کرنے والے اس میں داخل ہیں ۔ “
یعنی جیسے یہ شخص اور اس کے پیر کہ وہ اپنے اور یہ ان کے لئے کشف کا دعوی کرکے شرك میں ڈوبے۔
“ کذلک العذاب و لعذاب الاخرۃ اکبر لو کانوا یعلمون ﴿۳۳﴾ “ ۔ مارایسی ہوتی ہے اور بیشك آخرت کی مار سب سے بڑی کیا اچھا تھااگر وہ جانتے۔ (ت)
کفریہ ۶۹ : یہ نمونہ کفریات امام الطائفہ تھا اتباع واذناب کہ اس کے عقائد کو صحیح وحق جانتے اور اسے امام وپیشوا مانتے ہیں لزوم کفر سے کیونکر محفوظ رہ سکتے ہیں شرح فقہ اکبر صفحہ ۲۰۱ مجمع الفتاوی سے :
من تکلم بکلمۃ الکفر وضحك بہ غیرہ کفراولو وقبل القوم ذلك کفروا الخ۔ جو کلمہ کفر کہے او ر دوسرا اس پر ہنسے(یعنی راضی ہو اور انکار نہ کرے)دونوں کافر ہوجائیں اور اگر کوئی واعظ کلمہ کفر بولے اور لوگ اسے قبول کریں تو سب کافر ہوں۔
اعلام میں ہمارے علمائے اعلام سے کفر متفق علیہ کی فصل میں منقول ص ۳۱ :
من تلفظ بلفظ الکفر یکفر(الی قولہ)وکذاکل من ضحك علیہ اواستحسنہ اورضی بہ یکفر ۔ جو کفرکا لفظ بولے کافر ہو اسی طرح جو اس پر ہنسے یا اسے اچھا سمجھے یااس پر راضی ہو کافر ہو جائے۔
بحرالرائق ج ۵ ص ۱۲۴ :
من حسن کلام اھل الاھوا ء اوقال معنوی اوکلام لہ معنی صحیح ان کان ذلك کفرا من القائل کفر المحسن ۔ جو بد مذہبوں کے کلام کو اچھا جانے یا کہے بامعنی ہے یا یہ کلام کوئی معنی صحیح رکھتا ہے اگروہ اس قائل سے کلمہ کفر تھا تو یہ اچھا بتانے والا کافر ہوگیا۔
یعنی جیسے یہ شخص اور اس کے پیر کہ وہ اپنے اور یہ ان کے لئے کشف کا دعوی کرکے شرك میں ڈوبے۔
“ کذلک العذاب و لعذاب الاخرۃ اکبر لو کانوا یعلمون ﴿۳۳﴾ “ ۔ مارایسی ہوتی ہے اور بیشك آخرت کی مار سب سے بڑی کیا اچھا تھااگر وہ جانتے۔ (ت)
کفریہ ۶۹ : یہ نمونہ کفریات امام الطائفہ تھا اتباع واذناب کہ اس کے عقائد کو صحیح وحق جانتے اور اسے امام وپیشوا مانتے ہیں لزوم کفر سے کیونکر محفوظ رہ سکتے ہیں شرح فقہ اکبر صفحہ ۲۰۱ مجمع الفتاوی سے :
من تکلم بکلمۃ الکفر وضحك بہ غیرہ کفراولو وقبل القوم ذلك کفروا الخ۔ جو کلمہ کفر کہے او ر دوسرا اس پر ہنسے(یعنی راضی ہو اور انکار نہ کرے)دونوں کافر ہوجائیں اور اگر کوئی واعظ کلمہ کفر بولے اور لوگ اسے قبول کریں تو سب کافر ہوں۔
اعلام میں ہمارے علمائے اعلام سے کفر متفق علیہ کی فصل میں منقول ص ۳۱ :
من تلفظ بلفظ الکفر یکفر(الی قولہ)وکذاکل من ضحك علیہ اواستحسنہ اورضی بہ یکفر ۔ جو کفرکا لفظ بولے کافر ہو اسی طرح جو اس پر ہنسے یا اسے اچھا سمجھے یااس پر راضی ہو کافر ہو جائے۔
بحرالرائق ج ۵ ص ۱۲۴ :
من حسن کلام اھل الاھوا ء اوقال معنوی اوکلام لہ معنی صحیح ان کان ذلك کفرا من القائل کفر المحسن ۔ جو بد مذہبوں کے کلام کو اچھا جانے یا کہے بامعنی ہے یا یہ کلام کوئی معنی صحیح رکھتا ہے اگروہ اس قائل سے کلمہ کفر تھا تو یہ اچھا بتانے والا کافر ہوگیا۔
حوالہ / References
تقویہ الایمان الفصل الخامس مطبع علیمی اندرون لوہاری گیٹ لاہور ص۳۶
القرآن الکریم ۶۸ /۳۳
منح الروض الازھر شرح الفقہ الاکبر مطلب فی ایرادالفاظ المکفرۃ الخ مصطفی البابی مصر ص۱۶۵
الاعلام بقوطع الاسلام مع سبل النجاۃ مکتبہ داالشفقۃ استنبول ترکی ص۳۶۶
بحرالرائق باب احکام المرتدین ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۵ / ۱۲۵
القرآن الکریم ۶۸ /۳۳
منح الروض الازھر شرح الفقہ الاکبر مطلب فی ایرادالفاظ المکفرۃ الخ مصطفی البابی مصر ص۱۶۵
الاعلام بقوطع الاسلام مع سبل النجاۃ مکتبہ داالشفقۃ استنبول ترکی ص۳۶۶
بحرالرائق باب احکام المرتدین ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۵ / ۱۲۵
کفریہ ۷۰ : ان صاحبوں کی قدیمی عادت دائمی خصلت کہ جس مسلمان کو کسی امام کا مقلد پائیں بے دھڑك اسے مشرك بتائیں بحکم ظواہر احادیث کثیرہ وصحیحہ وروایات فقیہہ مصححہ رجیحہ ان پر حکم کفر عائد ہونے کوبس ہے طرفہ یہ کہ اس کوفرقہ ظاہر احادیث پر عمل بڑا دعوی ہے صحیح بخاری ج ۲ ص۹۰۱ صحیح مسلم ج ۱ ص ۵۷ عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما کی روایت حضور پر نور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکا ارشاد :
ایما امری قال لااخیہ کافر فقد باء بھا احدھما ان کان کما قال والارجعت الیہ ۔ یعنی کسی کلمہ گو کو کافر کہے ان دونوں میں ایك پریہ بلاضرور پڑے اگر جسے کہا وہ سچ کافر تھا جب تو خیر ورنہ یہ لفظ اسی کہنے والے پر پلٹ آئے گا
صحیح بخاری ص ۸۹۳ صحیح مسلم ص ۵۷ ابوذررضی اللہ تعالی عنہکی تحدیث حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی حدیث :
لیس من دعارجلا بالکفر اوقال عدواﷲ ولیس کذلك الاحار علیہ ۔ جو کسی کو کفر پر پکارے یا خدا کا دشمن کہے اور وہ حقیقت میں ایسا نہ ہو تواس کا یہ کہنا اسی پر پلٹ آئے۔
حدیقہ ندیہ شرح طریقہ محمدیہ مطبوعہ مصر ۱۲۷۶ ھ ج ۲ ص ۱۵۶ : کذالك یا مشرك ونحوہ اسی طرح کسی کو مشرك یا اس کی مثل کوئی لفظ کہنا کہ وہ مشرك نہ تھا تو کہنے والا خود مشرك ہوگیا۔ میں کہتاہوں یہ معنی خود انھیں حدیثوں سے ثابت کہ ہر مشرك دشمن خداہے تقویۃ الایمان ص۴۴ : “ مشرك ہیں اﷲ سے پھرے ہوئے رسول کے دشمن تومشرك کہنا خدا کا دشمن کہنا ہوا اور اس کا پلٹناخود حدیث میں فرمایا بلکہ اسی حدیث میں فرمایا کہ فاسق کہنا بھی پلٹتا ہے تو مشرك توکہیں بدتر ہے۔ شرح الدور الغرر للعلامۃ اسمعیل النابلسی پھر حدیقہ ندیہ ج ۲ ص ۱۴۰ و ۱۵۶ :
لوقال للمسلم کافرکان الفقیہ ابوبکر الاعمش یقول کفر وقال غیرہ من مشائخ بلخ لایکفر جو کسی مسلمان کو کافرکہے امام ابوبکر اعمش فرماتے تھے کافر ہوگیا اور دیگر مشائخ بلخ فرماتے کافر نہ ہوا
ایما امری قال لااخیہ کافر فقد باء بھا احدھما ان کان کما قال والارجعت الیہ ۔ یعنی کسی کلمہ گو کو کافر کہے ان دونوں میں ایك پریہ بلاضرور پڑے اگر جسے کہا وہ سچ کافر تھا جب تو خیر ورنہ یہ لفظ اسی کہنے والے پر پلٹ آئے گا
صحیح بخاری ص ۸۹۳ صحیح مسلم ص ۵۷ ابوذررضی اللہ تعالی عنہکی تحدیث حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی حدیث :
لیس من دعارجلا بالکفر اوقال عدواﷲ ولیس کذلك الاحار علیہ ۔ جو کسی کو کفر پر پکارے یا خدا کا دشمن کہے اور وہ حقیقت میں ایسا نہ ہو تواس کا یہ کہنا اسی پر پلٹ آئے۔
حدیقہ ندیہ شرح طریقہ محمدیہ مطبوعہ مصر ۱۲۷۶ ھ ج ۲ ص ۱۵۶ : کذالك یا مشرك ونحوہ اسی طرح کسی کو مشرك یا اس کی مثل کوئی لفظ کہنا کہ وہ مشرك نہ تھا تو کہنے والا خود مشرك ہوگیا۔ میں کہتاہوں یہ معنی خود انھیں حدیثوں سے ثابت کہ ہر مشرك دشمن خداہے تقویۃ الایمان ص۴۴ : “ مشرك ہیں اﷲ سے پھرے ہوئے رسول کے دشمن تومشرك کہنا خدا کا دشمن کہنا ہوا اور اس کا پلٹناخود حدیث میں فرمایا بلکہ اسی حدیث میں فرمایا کہ فاسق کہنا بھی پلٹتا ہے تو مشرك توکہیں بدتر ہے۔ شرح الدور الغرر للعلامۃ اسمعیل النابلسی پھر حدیقہ ندیہ ج ۲ ص ۱۴۰ و ۱۵۶ :
لوقال للمسلم کافرکان الفقیہ ابوبکر الاعمش یقول کفر وقال غیرہ من مشائخ بلخ لایکفر جو کسی مسلمان کو کافرکہے امام ابوبکر اعمش فرماتے تھے کافر ہوگیا اور دیگر مشائخ بلخ فرماتے کافر نہ ہوا
حوالہ / References
صحیح مسلم کتاب الایمان باب بیان حال من قال لاخیہ المسلم یا کافر قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۵۷
صحیح مسلم کتاب الایمان باب بیان حال من قال لاخیہ المسلم یا کافر قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۵۷
الحدیقۃ الندیۃ شرح الطریقۃ المحمدیہ النوع العاشر مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲ / ۲۳۶
تقویۃ الایمان الفصل الرابع مطبع علیمی اندرون لوہاری گیٹ لاہور ص۲۹
صحیح مسلم کتاب الایمان باب بیان حال من قال لاخیہ المسلم یا کافر قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۵۷
الحدیقۃ الندیۃ شرح الطریقۃ المحمدیہ النوع العاشر مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲ / ۲۳۶
تقویۃ الایمان الفصل الرابع مطبع علیمی اندرون لوہاری گیٹ لاہور ص۲۹
واتفقت ھذا المسئلۃ بخارا فاجاب بعض ائمۃ بخارا انہ یکفر فرجع الجواب الی بلخ انہ یکفر فمن افتی بخلاف قول الفقیہ ابی بکر رجع الی قولہ اھ ملخصا۔ پھر یہ مسئلہ بخارا میں واقع ہوا بعض ائمہ بخارا شریف نے حکم کفر دیا یہ جواب پلٹ کر بلخ میں آیا تو جو پہلے امام ابوبکر کے خلاف فتوے دیتے تھے انھوں نے بھی اسی طرف رجوع فرمائی۔
شرح فقہ اکبر صفحہ ۲۲۰ :
رجع الکل الی فتوی ابی بکر البلخی وقالوا کفر الشاتم ۔ سب ائمہ اسی فتوے ابوبکر کی طرف پلٹ آئے اور فرمایا مسلمان کو ایسی گالی دینے والا خود کافر ہے۔
عالمگیری ج ۲ ص ۲۷۸ ذخیرہ سے برجندی شرح نقایہ مطبع لکھنؤ ج ۴ ص ۶۸ فصولی عماد ی سے حدیقہ ندیہ ص ۱۴۰ و ۱۵۶ احکام حاشیہ درر سے خزانۃ المفتین ج ا کتاب السیر آخر فصل الفاظ الکفر جامع الفصولین ج ۲ ص ۳۱۱ قاضی خاں سے بزازیہ ج ۳ ص ۳۳۱ ردالمحتار مطبع استنبول ج ۳ ص ۲۸۳ نہر الفائق وغیرہ سے :
المختار للفتوی فی جنس ھذہ المسائل ان القائل بمثل ھذہ المقلات ان کان اراد الشتم ولایعتقدہ کافرا لایکفر وان کان یعتقدہ کافر افخاطبہ بھذا بناء علی اعتقادہ ان کافر یکفر ۔ اسی قسم کے مسائل میں فتوے کےلئے مختار یہ ہے کہ مسلمان کو اس طرح کاکوئی لفظ کہنے والا اگر صرف دشنام ہی کا ارادہ کرے اور دل میں کافر نہ جانے تو کافر نہ ہوگا ار اگر اپنے مذہب کی رو سے اسے کافر سمجھتاہے اس بناء پر یوں کہا تو کافر ہوجائے گا۔
شرح فقہ اکبر صفحہ ۲۲۰ :
رجع الکل الی فتوی ابی بکر البلخی وقالوا کفر الشاتم ۔ سب ائمہ اسی فتوے ابوبکر کی طرف پلٹ آئے اور فرمایا مسلمان کو ایسی گالی دینے والا خود کافر ہے۔
عالمگیری ج ۲ ص ۲۷۸ ذخیرہ سے برجندی شرح نقایہ مطبع لکھنؤ ج ۴ ص ۶۸ فصولی عماد ی سے حدیقہ ندیہ ص ۱۴۰ و ۱۵۶ احکام حاشیہ درر سے خزانۃ المفتین ج ا کتاب السیر آخر فصل الفاظ الکفر جامع الفصولین ج ۲ ص ۳۱۱ قاضی خاں سے بزازیہ ج ۳ ص ۳۳۱ ردالمحتار مطبع استنبول ج ۳ ص ۲۸۳ نہر الفائق وغیرہ سے :
المختار للفتوی فی جنس ھذہ المسائل ان القائل بمثل ھذہ المقلات ان کان اراد الشتم ولایعتقدہ کافرا لایکفر وان کان یعتقدہ کافر افخاطبہ بھذا بناء علی اعتقادہ ان کافر یکفر ۔ اسی قسم کے مسائل میں فتوے کےلئے مختار یہ ہے کہ مسلمان کو اس طرح کاکوئی لفظ کہنے والا اگر صرف دشنام ہی کا ارادہ کرے اور دل میں کافر نہ جانے تو کافر نہ ہوگا ار اگر اپنے مذہب کی رو سے اسے کافر سمجھتاہے اس بناء پر یوں کہا تو کافر ہوجائے گا۔
حوالہ / References
الحدیقۃ الندیۃ شرح الطریقۃ المحمدیہ النوع الرابع مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲ / ۲۱۲ ، الحدیقۃ الندیۃ شرح الطریقۃ المحمدیہ النوع العاشر مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲ / ۲۳۷
منح الروض الازہر شرح الفقہ الاکبر فصل فی الکفر صریحا وکنایہ مصطفی البابی مصر ص۱۸۱
حدیقہ ندیہ شرح طریقہ محمدیہ النوع الرابع مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲ / ۲۱۲ ، فتاوٰی ہندیہ الباب التاسع نورانی کتب خانہ پشاور ۲ / ۲۷۸ ، شرح النقایۃ للبرجندی کتاب الحدود نولکشور لکھنؤ ۴ / ۶۸ ، ردالمحتار باب التعزیر مطبع مجتبائی دہلی ۳ / ۱۸۳
منح الروض الازہر شرح الفقہ الاکبر فصل فی الکفر صریحا وکنایہ مصطفی البابی مصر ص۱۸۱
حدیقہ ندیہ شرح طریقہ محمدیہ النوع الرابع مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲ / ۲۱۲ ، فتاوٰی ہندیہ الباب التاسع نورانی کتب خانہ پشاور ۲ / ۲۷۸ ، شرح النقایۃ للبرجندی کتاب الحدود نولکشور لکھنؤ ۴ / ۶۸ ، ردالمحتار باب التعزیر مطبع مجتبائی دہلی ۳ / ۱۸۳
درمختار ص ۲۹۳ شرح وہبانیہ سے :
یکفر ان اعتقد المسلم کافر ابہ یفتی ۔ مسلمان کو کافر سمجھے تو خود کافر ہے اسی پر فتوی ہے۔
جامع الرموز عــــــہ۱ مطبع کلکتہ ۱۲۷۴ھ ج ۴ ص ۶۵۱ :
المختارانہ الواعتقد المخاطب کافرا کفر ۔ مختاریہ ہے کہ اسے اپنے مذہب میں کافر جان کر کافر کہا تو کافر ہوگیا۔
مجمع الانہر مطبع استنبول ج ۱ ص ۵۶۶ :
لو اعتقد المخاطب کافرا کفر ۔ اپنے عقیدے میں ایسا سمجھ کر کہے تو کافر ہے۔
اس مذہب مختار وماخوذ للفتوی ومفتی بہ پر بھی اس طائفہ تالفہ پر صراحۃ کفر لازم کہ وہ قطعا یقینا اپنے اعتقادسے مسلمانوں کو مشرك کہتے ہیں ان کا یہ عقیدہ ان کی کتب عــــــہ۲ مذہب میں صاف مصرح ہے توباتفاق مذاہب مذکورہ فقہائے کرام انھیں لزوم کفر سے مفر نہیں۔ عــــــہ۳
عــــــہ۱ : فصول عمادی سے ۱۲ سل السیوف
عــــــہ۲ : مثل تقویۃ الایمان وتنویر العینین وتصانیف بھوپالی وغیرہا جابجا مصرح ۱۲ سل السیوف
عــــــہ۳ : باقی تفصیل وتحقیق ہمارے رسائل النھی الاکید الکوکبۃ الشھابیۃ حصہ اول مجلد ششم العطایا النبویۃ فی الفتاوی الرضویۃ میں ہے لاجرم علمائے مکہ معظمہ کے سردار بقیہ السلف عمدۃ الابرار خاتم المحققین شیخ الاسلام والمسلمین زبدۃ کبراء البلد الامین شیخنا وبرکتنا وقدوتنا علامہ سید شریف احمد زینی دھلان مکی رضی اللہ تعالی عنہوعنابہ وقدسنا بسرہ الملکی نے کتاب مستطاب الدررالسنیہ فی الرد علی الوہابیہ کہ خاص اسی طائفے کے رد میں تالیف فرمائی اور مطبع بہیہ مصر میں طبع ہوئی ان گمراہوں کی نسبت تصریحا ارشاد فرمایا صفحہ ۲۶ : ھؤلاء الملحدۃ المکفرۃ للمسلمین یہ ملحد کافربے دین لوگ مسلمانوں کو کہنے والے۔
(باقی برصفحہ ایندہ)
یکفر ان اعتقد المسلم کافر ابہ یفتی ۔ مسلمان کو کافر سمجھے تو خود کافر ہے اسی پر فتوی ہے۔
جامع الرموز عــــــہ۱ مطبع کلکتہ ۱۲۷۴ھ ج ۴ ص ۶۵۱ :
المختارانہ الواعتقد المخاطب کافرا کفر ۔ مختاریہ ہے کہ اسے اپنے مذہب میں کافر جان کر کافر کہا تو کافر ہوگیا۔
مجمع الانہر مطبع استنبول ج ۱ ص ۵۶۶ :
لو اعتقد المخاطب کافرا کفر ۔ اپنے عقیدے میں ایسا سمجھ کر کہے تو کافر ہے۔
اس مذہب مختار وماخوذ للفتوی ومفتی بہ پر بھی اس طائفہ تالفہ پر صراحۃ کفر لازم کہ وہ قطعا یقینا اپنے اعتقادسے مسلمانوں کو مشرك کہتے ہیں ان کا یہ عقیدہ ان کی کتب عــــــہ۲ مذہب میں صاف مصرح ہے توباتفاق مذاہب مذکورہ فقہائے کرام انھیں لزوم کفر سے مفر نہیں۔ عــــــہ۳
عــــــہ۱ : فصول عمادی سے ۱۲ سل السیوف
عــــــہ۲ : مثل تقویۃ الایمان وتنویر العینین وتصانیف بھوپالی وغیرہا جابجا مصرح ۱۲ سل السیوف
عــــــہ۳ : باقی تفصیل وتحقیق ہمارے رسائل النھی الاکید الکوکبۃ الشھابیۃ حصہ اول مجلد ششم العطایا النبویۃ فی الفتاوی الرضویۃ میں ہے لاجرم علمائے مکہ معظمہ کے سردار بقیہ السلف عمدۃ الابرار خاتم المحققین شیخ الاسلام والمسلمین زبدۃ کبراء البلد الامین شیخنا وبرکتنا وقدوتنا علامہ سید شریف احمد زینی دھلان مکی رضی اللہ تعالی عنہوعنابہ وقدسنا بسرہ الملکی نے کتاب مستطاب الدررالسنیہ فی الرد علی الوہابیہ کہ خاص اسی طائفے کے رد میں تالیف فرمائی اور مطبع بہیہ مصر میں طبع ہوئی ان گمراہوں کی نسبت تصریحا ارشاد فرمایا صفحہ ۲۶ : ھؤلاء الملحدۃ المکفرۃ للمسلمین یہ ملحد کافربے دین لوگ مسلمانوں کو کہنے والے۔
(باقی برصفحہ ایندہ)
حوالہ / References
درمختار باب التعزیر مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۳۲۷
جامع الرموز کتاب الحدود فصل القذف مکتبۃ الاسلامیہ گنبد قاموس ایران ۴ / ۵۳۵
مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر کتاب الحدود فصل فی التعزیر داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۶۱۰
الدرالسنیۃ فی الرد علی الوہابیۃ مکتبۃ دارالشفقۃ ترکی ص۳۸
جامع الرموز کتاب الحدود فصل القذف مکتبۃ الاسلامیہ گنبد قاموس ایران ۴ / ۵۳۵
مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر کتاب الحدود فصل فی التعزیر داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۶۱۰
الدرالسنیۃ فی الرد علی الوہابیۃ مکتبۃ دارالشفقۃ ترکی ص۳۸
“ کذلک العذاب و لعذاب الاخرۃ اکبر لو کانوا یعلمون ﴿۳۳﴾ “ مارایسی ہوتی ہے اور بیشك آخرت کی مار سب سے بڑی کیا اچھاتھا کہ وہ جانتے۔ (ت)
تذییل جلیل : یہ بطورنمونہ طائفہ حائفہ اور اس کے کفری اقوال اور ان پر کتب ائمہ دین سے احکام کفر و اشد الضلال تھے جن کا شمار بظاہرستر کفریات تك پہنچا اور حقیقۃ تو بے شمار ہیں کہ ساتھ سے گیارہ تك پانچ کفریات کے کلمات میں ہر کلمہ صد ہزار کفریہ کا خمیرہ ہے۔ یونہی کفریہ ۲۳ و ۲۹ بھی مجمع کفریات کثیرہ یہ ستر کیا ان
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
ظاہرہے کہ ملحد ایك فرقہ کفارہے بلکہ جمیع فرق کفر کو شامل ردالمحتار جلد ۳ صفحہ ۴۵۷ رسالہ علامہ ابن کمال پاشا ہے : الملحد اوسع فرق الکفر جدا ملحد تمام فرق کفار سے وسعت معنی میں زیادہ ہے۔ نیزعلامہ سید شریف ممدوح نے فرمایا ص ۳۰ :
امرالشریف مسعود ان یناظر علماء الحرمین العلماء الذین بعثوھم فناظروھم فوجدوھم ضحکۃ وسخرۃ کحمر مستفرۃ فرت من فسورۃ ونظروا الی عقائدھم فاذا ھی مشتملۃ علی کثیر من الکفریات ۔ مکہ معظمہ کے حاکم حضرعت مسعود رحمۃ اﷲ تعالی علیہ نے علمائے حرمین شریفین کو حکم دیا کہ وہابیوں کے مولویوں سے جو ان کے امام شیخ نجدی نے بھیجے ہیں مناظر ہ کریں علماء کرام نے ان ملوں سے مناظرہ فرمایا تو انھیں پایا کہ نرے مسخرے ہنسنے کے قابل ہیں جیسے بھڑکے ہوئے گدھے کہ شیر سے بھاگ ہوں اور ان کے عقائد کو غور فرمایا تو ان میں بہت باتیں وہ پائیں جن کا قائل کافرہے۔
اسی رسالہ مبارکہ میں ص ۳۳ سے ۳۵ تك حدیثیں نقل فرمائی جن میں اس فرقہ وہابیہ کے خروج کی خبر آئی ہے ان میں بھی جابجا ان کے کافر اور دین اسلام سے یکسر خارج ہونے کی تصریح ہے اسی میں ان کے معلم اول شیخ نجدی کی نسبت فرمایا ص ۲۷ : “ فبہت الذی کفر “ مدہوش ہوگیا کافر ۱۲ سل السیوف تصنیف العلامۃ مد ظلہ العالی۔
تذییل جلیل : یہ بطورنمونہ طائفہ حائفہ اور اس کے کفری اقوال اور ان پر کتب ائمہ دین سے احکام کفر و اشد الضلال تھے جن کا شمار بظاہرستر کفریات تك پہنچا اور حقیقۃ تو بے شمار ہیں کہ ساتھ سے گیارہ تك پانچ کفریات کے کلمات میں ہر کلمہ صد ہزار کفریہ کا خمیرہ ہے۔ یونہی کفریہ ۲۳ و ۲۹ بھی مجمع کفریات کثیرہ یہ ستر کیا ان
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
ظاہرہے کہ ملحد ایك فرقہ کفارہے بلکہ جمیع فرق کفر کو شامل ردالمحتار جلد ۳ صفحہ ۴۵۷ رسالہ علامہ ابن کمال پاشا ہے : الملحد اوسع فرق الکفر جدا ملحد تمام فرق کفار سے وسعت معنی میں زیادہ ہے۔ نیزعلامہ سید شریف ممدوح نے فرمایا ص ۳۰ :
امرالشریف مسعود ان یناظر علماء الحرمین العلماء الذین بعثوھم فناظروھم فوجدوھم ضحکۃ وسخرۃ کحمر مستفرۃ فرت من فسورۃ ونظروا الی عقائدھم فاذا ھی مشتملۃ علی کثیر من الکفریات ۔ مکہ معظمہ کے حاکم حضرعت مسعود رحمۃ اﷲ تعالی علیہ نے علمائے حرمین شریفین کو حکم دیا کہ وہابیوں کے مولویوں سے جو ان کے امام شیخ نجدی نے بھیجے ہیں مناظر ہ کریں علماء کرام نے ان ملوں سے مناظرہ فرمایا تو انھیں پایا کہ نرے مسخرے ہنسنے کے قابل ہیں جیسے بھڑکے ہوئے گدھے کہ شیر سے بھاگ ہوں اور ان کے عقائد کو غور فرمایا تو ان میں بہت باتیں وہ پائیں جن کا قائل کافرہے۔
اسی رسالہ مبارکہ میں ص ۳۳ سے ۳۵ تك حدیثیں نقل فرمائی جن میں اس فرقہ وہابیہ کے خروج کی خبر آئی ہے ان میں بھی جابجا ان کے کافر اور دین اسلام سے یکسر خارج ہونے کی تصریح ہے اسی میں ان کے معلم اول شیخ نجدی کی نسبت فرمایا ص ۲۷ : “ فبہت الذی کفر “ مدہوش ہوگیا کافر ۱۲ سل السیوف تصنیف العلامۃ مد ظلہ العالی۔
حوالہ / References
لقرآن الکریم ۶۸ / ۳۳
ردالمختار باب المرتد داراحیاء التراث العربی بیروت ۳ / ۲۹۶
الدرالسنیۃ فی الرد علی الوہابیۃ مکتبۃ دارالشفقۃ ترکی ص ۴۳ و ۴۴
الدرالسنۃ فی الرد علی الوہابیۃ مکتبۃ دارالشفقۃ ترکی ص۴۰
ردالمختار باب المرتد داراحیاء التراث العربی بیروت ۳ / ۲۹۶
الدرالسنیۃ فی الرد علی الوہابیۃ مکتبۃ دارالشفقۃ ترکی ص ۴۳ و ۴۴
الدرالسنۃ فی الرد علی الوہابیۃ مکتبۃ دارالشفقۃ ترکی ص۴۰
میں سے جس ایك کو چاہئے ستر ۷۰ کردکھائے تو اب کفریات کو خواہ ستر کہے خواہ ستر ہزار کفریات ٹھہرائے او کیوں نہ ہوں کہ وہاں عمربھریہی کمایا تھا پڑھا لکھا سب اسی میں گنوایا تھا مشقیں چڑھی تھیں مہارتیں بڑھی تھیں ایك ایك قول میں ہزار ہزار کفر بے بول جانا وہاں کیا بات تھی یہاں قصد استیعاب آب دریا پیمودن ودانہائے ریگ شمرون کے تمیل سے ہے لہذا اس طرف سے عطف عنان کیجئے اور ان کے اقوال خاصہ پر خاك ذلت ڈال کر بہت مشائخ کرام کے نزدیك اس سارے فرقہ متفرقہ اور اس کے تمام طوائف سابقہ ولاحقہ اکا ایك کفریہ عامہ قدیمہ سن لیجئے کہ انھیں کافر کہنا فقہاواجب ہے واضح ہو کہ وہابیہ منسوب بہ عبدالوہاب نجدی ہیں ابن عبدالوہاب ان کا معلم اول تھا اس نے کتاب التوحید لکھی جس میں اپنے فرقہ خبیثہ کے سوا تمام اہل اسلام کو کھلم کھلا مشرك بنایا اور حرمین طیبین زادہما اﷲ شرفا وتکریما پر چڑھائی کرکے کوئی دقیقہ گستاخی وبے ادبی وشرارت وظلم وقتل غارت کا اٹھا نہ رکھا۔ تقویۃ الایمان اسی کتاب التوحید کا ترجمہ ہے۔ اس کا حال کتاب مستطاب سیف الجبار کے مطالعہ سے کھلتاہے یہ فرقہ حادثہ گروہ خوارج کی ایك شاخ ہے جنھوں نے سب میں پہلے حضرت امیر المومنین مولی المسلمین سیدنا مولی علی کرم اﷲ وجہہ الکریم پر خروج کیا اور اسد اﷲ القہار کافر شکار سے دارالبوار کا رستہ لیا جن کی نسبت حدیث میں آیا کہ وہ قیامت تك منقطع نہ ہوں گے۔ جب ان کا ایك گروہ ہلاك ہوگا دوسرا سر اٹھائے گا یہاں تك کہ ان کا پچھلا طائفہ دجال لعین کے ساتھ نکلے گا بموجب اس وعدہ صادقہ کے یہ قوم مغضوب ہمیشہ فتنے اٹھایا کی تیرہ صدی کے شروع میں ا س نے دیار نجد سے خروج کیا اور بنام نجدیہ مشہور ہوئی جن کا پیشوا نجدی تھا اسی کا مذہب میاں اسمعیل دہلوی نے قبول کیا اور اس کی کتاب کا ترجمہ بنام تویۃالایمان کہ حقیقۃ تفویت الایمان ہے ان دیار میں پھیلایا اور بلحاظ معلم اول وہابیہ وبنظر معلم ثانی اسمعیلیہ لقب پایا اس طائفہ کا ہمیشہ سے یہی مذہب رہاہے کہ دنیا میں وہی موحد ومسلم ہیں باقی سب معاذ اﷲ کافر۔ ردالمحتار جلد ۳ ص ۴۷۸ :
ویکفرون اصحاب نبینا صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم علمت ان ھذا غیر شرط فی مسمی الخوارج بل ھو بیان لمن خرجوا علی سیدنا علی رضی اﷲ تعالی عنہ والا فیکفی فیھم اعتقاد ھم کفر من خرجوا علیہ کما وقع فی زماننا فی اتباع عبدالوھاب الذین خرجوا من نجد وتغلبوا علی الحرمین وکانوا اصحاب رسول صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکو معاذا ﷲ کافر کہنا کچھ خارجیوں کے لئے ضروری نہیں بلکہ خاص یہ ان خارجیوں کا بیان حال ہے جنھوں نے ہمارے آقامولی علی کرم اﷲ وجہہ الکریم پر خروج کیا تھا خارجی ہونے کو اتنا کافی ہے کہ جن پر خروج کریں انھیں اپنے عقیدے میں کافر جانیں جیسا ہمارے زمانے میں عبدلوہاب کے پیرووں سے واقع ہوا جنھوں نے نجد سے نکل کرحرمین شریفین پر ظلما قبضہ کیا اپنے آپ کو
ویکفرون اصحاب نبینا صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم علمت ان ھذا غیر شرط فی مسمی الخوارج بل ھو بیان لمن خرجوا علی سیدنا علی رضی اﷲ تعالی عنہ والا فیکفی فیھم اعتقاد ھم کفر من خرجوا علیہ کما وقع فی زماننا فی اتباع عبدالوھاب الذین خرجوا من نجد وتغلبوا علی الحرمین وکانوا اصحاب رسول صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکو معاذا ﷲ کافر کہنا کچھ خارجیوں کے لئے ضروری نہیں بلکہ خاص یہ ان خارجیوں کا بیان حال ہے جنھوں نے ہمارے آقامولی علی کرم اﷲ وجہہ الکریم پر خروج کیا تھا خارجی ہونے کو اتنا کافی ہے کہ جن پر خروج کریں انھیں اپنے عقیدے میں کافر جانیں جیسا ہمارے زمانے میں عبدلوہاب کے پیرووں سے واقع ہوا جنھوں نے نجد سے نکل کرحرمین شریفین پر ظلما قبضہ کیا اپنے آپ کو
یتحلون مذھب الحنابلۃ لکنھم اعتقدوا انھم ھم المسلمون وان من خالف اعتقادھم مشرکون واستباحوا بذلك قتل اھل السنۃ وقتل علمائھم حتی کثراﷲ تعالی شوکتھم وخرب بلادھم و ظفربھم عساکر المسلمین عام ثلث وثلثین ومائتین والف ۔ حنبلی بتاتے تھے مگر ان کا مذہب یہ کہ صرف وہی مسلمان ہیں اور جو ان کے خلاف مذہب میں مشرك ہیں اسی بناء پر انھوں نے اہل سنت وعلماء اہل سنت کا شہید کرنا حلال ٹھہرالیا یہاں تك کہ اﷲ عزوجل نے ان کی شوکت توڑی ان کے شہرو یران کئے مسلمان کے لشکر کو ان پر فتح دی ۱۲۳۳ بارہ سو تینتیس ہجری میں
یہاں سے تو ان کی اصل نسل مذہب مشرب معلوم ہولئے اب علمائے کرام سے ان کا حکم سنئے بزازیہ جلد ۳ ص ۳۱۸ :
یجب اکفار الخوارج فی الکفار ھم جمیع الامۃ سواھم ۔ خارجیوں کو کافر کہنا واجب ہے ا س بناء پر ك وہ اپنے سوا تمام امت کو کافر کہتے ہیں۔
ظاہر ہوا کہ یہ خصلت خبیثہ ان میں آج کی نہیں بلکہ ہمیشہ سے ان کے اگلے پچھلے سب اسی مرضی میں گرفتار تھے جس پر مشائخ مذہب رحمہم اﷲ تعالی نے انھیں کافر جانا اور ان کی تکفیر کو فرض واجب مانا۔ لطف یہ کہ جناب شاہ عبدالعزیز صاحب بھی انھیں مشائخ کرام کی موافق فرماتے بلکہ تکفیر خوارج کو مجمع علیہ بتاتے ہیں۔ تحفہ اثنا عشریہ ص ۷۳۲ :
محارب حضرت مرتضی اگر از راہ عداوت وبغض ست نز د اہل سنت کافر ست بالاجماع وہمیں ست مذہب ایشاں درحق خوارج ۔ حضرت علی مرتضی سے جنگ کرنیوالا اگر ان سے عداوت وبغض کی وجہ سے کرتاہے تو اہل سنت کے نزدیك بالاجماع وہ کافر ہے۔ اور خوارج کے متعلق ان کا یہی مذہب ہے(ت)
بالجملہ عــــــہ ماہ نیم ماہ ومہر نیمروز کی طرح ظاہر وزاہر کی اس فرقہ متفرقہ یعنی وہابیہ اسمعیلیہ اوراس کے امام نافرجام
عــــــہ : اس میں شك نہیں کہ اس گروہ ناحق پژدہ پر ہزاروں وجہ سے کفر لازم اور جماہیر فقہائے کرام کی تصریحیں ان کے صریح کفرپر حاکم نسأل اﷲ تعالی العفو والعافیۃ فی الدنیا والاخرۃ(ہم اﷲ سے دنیا وآخرت میں عفو وعافیت کا سوال کرتے ہیں۔ ت) (باقی اگلے صفحہ پر)
یہاں سے تو ان کی اصل نسل مذہب مشرب معلوم ہولئے اب علمائے کرام سے ان کا حکم سنئے بزازیہ جلد ۳ ص ۳۱۸ :
یجب اکفار الخوارج فی الکفار ھم جمیع الامۃ سواھم ۔ خارجیوں کو کافر کہنا واجب ہے ا س بناء پر ك وہ اپنے سوا تمام امت کو کافر کہتے ہیں۔
ظاہر ہوا کہ یہ خصلت خبیثہ ان میں آج کی نہیں بلکہ ہمیشہ سے ان کے اگلے پچھلے سب اسی مرضی میں گرفتار تھے جس پر مشائخ مذہب رحمہم اﷲ تعالی نے انھیں کافر جانا اور ان کی تکفیر کو فرض واجب مانا۔ لطف یہ کہ جناب شاہ عبدالعزیز صاحب بھی انھیں مشائخ کرام کی موافق فرماتے بلکہ تکفیر خوارج کو مجمع علیہ بتاتے ہیں۔ تحفہ اثنا عشریہ ص ۷۳۲ :
محارب حضرت مرتضی اگر از راہ عداوت وبغض ست نز د اہل سنت کافر ست بالاجماع وہمیں ست مذہب ایشاں درحق خوارج ۔ حضرت علی مرتضی سے جنگ کرنیوالا اگر ان سے عداوت وبغض کی وجہ سے کرتاہے تو اہل سنت کے نزدیك بالاجماع وہ کافر ہے۔ اور خوارج کے متعلق ان کا یہی مذہب ہے(ت)
بالجملہ عــــــہ ماہ نیم ماہ ومہر نیمروز کی طرح ظاہر وزاہر کی اس فرقہ متفرقہ یعنی وہابیہ اسمعیلیہ اوراس کے امام نافرجام
عــــــہ : اس میں شك نہیں کہ اس گروہ ناحق پژدہ پر ہزاروں وجہ سے کفر لازم اور جماہیر فقہائے کرام کی تصریحیں ان کے صریح کفرپر حاکم نسأل اﷲ تعالی العفو والعافیۃ فی الدنیا والاخرۃ(ہم اﷲ سے دنیا وآخرت میں عفو وعافیت کا سوال کرتے ہیں۔ ت) (باقی اگلے صفحہ پر)
حوالہ / References
ردالمحتار باب البغاۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۳ / ۳۰۹
فتاوٰی بزازیہ علی ہامش فتاوٰی ہندیہ الباب الرابع فی المرتد نورانی کتب خانہ پشاور ۶ / ۳۱۸
تحفہ اثنا عشریہ باب دوازدہم در تولا وتبرا سہیل اکیڈمی لاہور ص۳۹۴
فتاوٰی بزازیہ علی ہامش فتاوٰی ہندیہ الباب الرابع فی المرتد نورانی کتب خانہ پشاور ۶ / ۳۱۸
تحفہ اثنا عشریہ باب دوازدہم در تولا وتبرا سہیل اکیڈمی لاہور ص۳۹۴
پرجزما قطعا یقینا اجماعا بوجوہ کفر لازم او ربلاشبہ جماہیر فقہائے کرام واصحاب فتوی اکابر واعلام کی تصریحات واضحہ پر یہ سب کے سب مرتد کافر باجماع ائمہ ان سب پر اپنے کفریات ملعونہ سے بالتصریح تو بہ و رجوع اور ازسر نو کلمہ اسلام پڑھان فرض وواجب اگرچہ ہمارے نزدیك مقام احتیاط میں اکفارسے کف لسان ماخوذ مختار ومرضی ومناسب واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
تنبیہ نبیہ : یہ حکم فقہیہ متعلق بکلمات سفہی تھا مگراﷲ تعالی کی بے شمار رحمتیں بیحد برکتیں ہمارےعلمائے کرام عظمائے اسلام معظمین کلمہ خیر الانام علیہ وعلیہم الصلوۃ والسلام پر کہ یہ کچھ دیکھتے وہ کچھ سخت وشدید ایذا ئیں نہ پاتے ہیں اس طائفہ تالفہ کا کے پیر وپیر سے ناحق ناروا بات بات پر سچے مسلمان خاص سنیوں کی نسبت حکم کو کفر وشرك سنتے ایسی ناپاك وغلیظ گالیاں کھاتے ہیں با ایہنمہ نہ شدت غضب دامن احتیاط ان کے ہاتھ سے چھڑائی نہ ان نالائق ولا یعنی خباثتوں پر قوت انتقام حرکت میں ا تی ہے وہ اب تك یہی تحقیق فرمارہے ہیں کہ لزوم والتزام میں فرق ہے اقوال کاکلمہ کفر ہونا اور بات اور قائل کو کافر لینا اور بات ہم احتیاط برتیں گے سکوت کریں گے جب تك ضعیف ساضعیف احتمال ملے گا حکم کفرجاری کرتے ڈریں گے فقیر غفرلہ تعالی نے اس مبحث کا قدرے بیان آخر رسالہ سبحن السبوح عن عیب کذ ب مقبوح۱۳۰۷ھ میں کیا اور وہاں بھی با آنکہ ا س امام وطائفہ پر صرف ایك مسئلہ امکان کذب میں اٹھتر۷۸ وجہ سے لزوم کفرکا ثبوت دیا کفر سے کف لسان ہی کیا بالجملہ اس طائفہ حائفہ خصوصا ان کے پیشوا کا حال مثل یزید پلید علیہ ماعلیہ ہے کہ محتاطین نے اس کی تکفیر سے سکوت پسند کیا ہاں یزید مرید اور انکے امام عنید میں اتنا فرق ہے کہ اس خبیث سے ظلم وفسق وفجور متواتر مگر کفر متواتر نہیں۔ اور ان حضرت سے یہ سب کلمات کفر اعلی درجے تواتر پر ہیں پھر اگرچہ براہ احتیاط سے زبان روکے ان کے خساروبوار کو یہ کیا کم ہے کہ جماہیر ائمہ کرام فقہائے اسلام کے نزدیك ان پر بوجوہ کثیرہ کفرلازم والعیاذ باﷲ القیوم الدائم امام ابن حجر مکی قواطع میں فرماتے ہیں :
انہ یصیر مرتدا علی جماعتہ وکفی بھذا خسارا وتفریطا ۔ ایك جماعت کے قول پر وہ کافر ہے اسی کے خسارے و ذلت کو یہی کافی ہے۔ (ت)
اﷲ عزوجل پناہ دے اور دین حق پر دینا سے اٹھائے آمین والحمد اﷲ رب العالمین واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم ۱۲ سل السیوف تصنیف العلامۃ المصنف مدظلہ العالی۔
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
تنبیہ نبیہ : یہ حکم فقہیہ متعلق بکلمات سفہی تھا مگراﷲ تعالی کی بے شمار رحمتیں بیحد برکتیں ہمارےعلمائے کرام عظمائے اسلام معظمین کلمہ خیر الانام علیہ وعلیہم الصلوۃ والسلام پر کہ یہ کچھ دیکھتے وہ کچھ سخت وشدید ایذا ئیں نہ پاتے ہیں اس طائفہ تالفہ کا کے پیر وپیر سے ناحق ناروا بات بات پر سچے مسلمان خاص سنیوں کی نسبت حکم کو کفر وشرك سنتے ایسی ناپاك وغلیظ گالیاں کھاتے ہیں با ایہنمہ نہ شدت غضب دامن احتیاط ان کے ہاتھ سے چھڑائی نہ ان نالائق ولا یعنی خباثتوں پر قوت انتقام حرکت میں ا تی ہے وہ اب تك یہی تحقیق فرمارہے ہیں کہ لزوم والتزام میں فرق ہے اقوال کاکلمہ کفر ہونا اور بات اور قائل کو کافر لینا اور بات ہم احتیاط برتیں گے سکوت کریں گے جب تك ضعیف ساضعیف احتمال ملے گا حکم کفرجاری کرتے ڈریں گے فقیر غفرلہ تعالی نے اس مبحث کا قدرے بیان آخر رسالہ سبحن السبوح عن عیب کذ ب مقبوح۱۳۰۷ھ میں کیا اور وہاں بھی با آنکہ ا س امام وطائفہ پر صرف ایك مسئلہ امکان کذب میں اٹھتر۷۸ وجہ سے لزوم کفرکا ثبوت دیا کفر سے کف لسان ہی کیا بالجملہ اس طائفہ حائفہ خصوصا ان کے پیشوا کا حال مثل یزید پلید علیہ ماعلیہ ہے کہ محتاطین نے اس کی تکفیر سے سکوت پسند کیا ہاں یزید مرید اور انکے امام عنید میں اتنا فرق ہے کہ اس خبیث سے ظلم وفسق وفجور متواتر مگر کفر متواتر نہیں۔ اور ان حضرت سے یہ سب کلمات کفر اعلی درجے تواتر پر ہیں پھر اگرچہ براہ احتیاط سے زبان روکے ان کے خساروبوار کو یہ کیا کم ہے کہ جماہیر ائمہ کرام فقہائے اسلام کے نزدیك ان پر بوجوہ کثیرہ کفرلازم والعیاذ باﷲ القیوم الدائم امام ابن حجر مکی قواطع میں فرماتے ہیں :
انہ یصیر مرتدا علی جماعتہ وکفی بھذا خسارا وتفریطا ۔ ایك جماعت کے قول پر وہ کافر ہے اسی کے خسارے و ذلت کو یہی کافی ہے۔ (ت)
اﷲ عزوجل پناہ دے اور دین حق پر دینا سے اٹھائے آمین والحمد اﷲ رب العالمین واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم ۱۲ سل السیوف تصنیف العلامۃ المصنف مدظلہ العالی۔
حوالہ / References
الاعلام بقواطع الاسلام مع سبل النجاۃ مکتبۃ الشفقۃ استنبول ترکی ص۳۶۲
الحمد ﷲ کہ یہ اجمالی اجلالی جواب باصواب غرہ جمادی الآخرہ روزمبارك جمعہ فاخرہ ۱۳۱۲ہجریہ طاہرہ کو بدر سمائے ختام اور بلحاظ تاریخ الکوکبۃ الشھابیہ فی کفریات ابی الوھابیۃ ۱۳۱۲ھ نام ہو۔
نسأل اﷲ تعالی ان یدینا علی الایمان والسنۃ ویختم لنا علی دینہ الحق بعظیم المنۃ ویدخلنا بجاہ حبیبہ الکریم علیہ افضل الصلوۃ والتسلیم فرادیس الجنۃ وصلی اﷲ تعالی علی سیدنا ومولنا محمد سید الانس والجنۃ وعلی الہ وصحبہ واھلہ وحزبہ اجمعین و الحمد ﷲ رب العالمین۔ ہم اﷲ تعالی سے دعاکرتے ہیں کہ وہ ہمیں ایمان وسنت پر دوام بخشے اور اپنے دین حق پر ہمارا خاتمہ فرمائے اپنے بڑے احسان سے اور حضورعلیہ الصلوۃ والسلام اپنے حبیب کریم کے وسیلہ سے ہمیں جنت الفردوس عطا فرمائے وصلی اﷲ تعالی علیہ ومولانہ محمد سید الانس والجنۃ وعلی الہ وصحبہ واہلہ وحزبہ اجمعین والحمد اﷲ رب العالمین۔ (ت)
کتبــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ
عبدہ المذنب احمد رضاالبریلوی عفی عنہ بمحمدن المصطفی النبی الامی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم
yahan image hy
نسأل اﷲ تعالی ان یدینا علی الایمان والسنۃ ویختم لنا علی دینہ الحق بعظیم المنۃ ویدخلنا بجاہ حبیبہ الکریم علیہ افضل الصلوۃ والتسلیم فرادیس الجنۃ وصلی اﷲ تعالی علی سیدنا ومولنا محمد سید الانس والجنۃ وعلی الہ وصحبہ واھلہ وحزبہ اجمعین و الحمد ﷲ رب العالمین۔ ہم اﷲ تعالی سے دعاکرتے ہیں کہ وہ ہمیں ایمان وسنت پر دوام بخشے اور اپنے دین حق پر ہمارا خاتمہ فرمائے اپنے بڑے احسان سے اور حضورعلیہ الصلوۃ والسلام اپنے حبیب کریم کے وسیلہ سے ہمیں جنت الفردوس عطا فرمائے وصلی اﷲ تعالی علیہ ومولانہ محمد سید الانس والجنۃ وعلی الہ وصحبہ واہلہ وحزبہ اجمعین والحمد اﷲ رب العالمین۔ (ت)
کتبــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ
عبدہ المذنب احمد رضاالبریلوی عفی عنہ بمحمدن المصطفی النبی الامی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم
yahan image hy
رسالہ سل السیوف الھندیۃ علی کفریات بابا النجدیۃ ۱۳۱۲ھ
(نجدی پیشواؤں کے کفریات پر لٹکتی ہوئی ہندی تلواریں)
بسم الله الرحمن الرحیم ط
مسئلہ ۳۰ : از بدایوں مرسلہ مولینا مولوی محمد فضل المجید صاحب قادری ۲۲ جمادی الاولی ۱۳۱۲ھ
بخدمت بابرکت مولینا مرجع الفتاوی والمفتین ملاذ العلماء المحققین جناب مولوی احمد رضاخاں صاحب!
اللھم ادم افاضاتھم وافاداتھم السلام علیکم!
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ وہابیہ غیر مقلدین جو تقلید ائمہ اربعہ کو شرك کہتے ہیں اور جس مسلمان کو مقلد دیکھیں مشرك بتاتے ہیں دہلی والے اسمعیل مصنف تقویۃ الایمان وصراط مستقیم وایضاح الحق ویکروزی و تنویر العینین کو اپنا امام وپیشوا بتاتے ہیں اور اس کے اقوال کو حق وہدایت جانتے ہیں اور اس کے مطابق اعتقاد رکھتے ہیں ہمارے فقہاء کرم پیشوایا ن مذہب کے نزدیك ان پر اوران کے پشوا پر حکم کفر لازم ہے یانہیں بینوا تو جروا(بیان کرو اجر حاصل کرو۔ ت)
الجواب :
الحمد اﷲ علی دین الاسلام والسلام علی نبی السلام سلام المسلمین بعون السلام وعلی
(نجدی پیشواؤں کے کفریات پر لٹکتی ہوئی ہندی تلواریں)
بسم الله الرحمن الرحیم ط
مسئلہ ۳۰ : از بدایوں مرسلہ مولینا مولوی محمد فضل المجید صاحب قادری ۲۲ جمادی الاولی ۱۳۱۲ھ
بخدمت بابرکت مولینا مرجع الفتاوی والمفتین ملاذ العلماء المحققین جناب مولوی احمد رضاخاں صاحب!
اللھم ادم افاضاتھم وافاداتھم السلام علیکم!
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ وہابیہ غیر مقلدین جو تقلید ائمہ اربعہ کو شرك کہتے ہیں اور جس مسلمان کو مقلد دیکھیں مشرك بتاتے ہیں دہلی والے اسمعیل مصنف تقویۃ الایمان وصراط مستقیم وایضاح الحق ویکروزی و تنویر العینین کو اپنا امام وپیشوا بتاتے ہیں اور اس کے اقوال کو حق وہدایت جانتے ہیں اور اس کے مطابق اعتقاد رکھتے ہیں ہمارے فقہاء کرم پیشوایا ن مذہب کے نزدیك ان پر اوران کے پشوا پر حکم کفر لازم ہے یانہیں بینوا تو جروا(بیان کرو اجر حاصل کرو۔ ت)
الجواب :
الحمد اﷲ علی دین الاسلام والسلام علی نبی السلام سلام المسلمین بعون السلام وعلی
الہ وصحبہ فی دارالسلام ایہا المسلمون! پیش از جواب اتنا عرض کروں کہ اس تحریر سے مقصود دوامر محمود :
اولا : عامہ مسلمین وبرداران دین پر اظہار مبین کہ مذہب وہابیہ ایسی ضلالتوں پر مشتمل اور ان کا امام وطائفہ ایسی شناعتوں کو موجد وقائل
ثانیا : کبرائے وہابیہ پر عرض ہدی وخوف خدا کہ دیکھوں کیسے کو امام بناتے ہو اندھیری رات میں کس مضل مبین کے پیچھے جاتے ہو تھوڑی دیر کا اندھیرا ہے دم کے دم میں سویرا ہے
بروز حشر شود ہمچو صبح معلومت کہ باکہ باختہ عشق درشب دیجور
(صبح کی حشر میں تجھے معلوم ہوجائے گا کہ اندھیری رات میں کس سے لڑاتے رہے۔ ت)
غصے سے کام نہیں چلتا بگڑنے سے مذہب نہیں سنبھلتا “ انما اعظکم بوحدۃ “ (میں صرف ایك نصیحت کرتا ہوں۔ ت) ایك ذرا تعصب ونفسانیت وحمایت امام وحمیت جاہلیت سے جداہوکر لله فی الله اس تحریر پر نظر کیجئے سب کتابوں کے نشان صفحات بتادئے ہیں جس میں شبہہ ہو تطبیق کرلیجئے پھر اگرنگاہ انصاف میں تمھارے مذہب وامام مذہب پر یہ الزامات قائم ہوں تو خدا سے ڈرو کفریات وضلالت پھر اصرار نہ کرو بد دین کی پیروی کا دم نہ بھرو۔ اوراگر اطاقت جواب ہے تو کیوں پیچ وتاب ہے ہمیں گووہمیں میدان اظہار حق سے کیوں خائف وترساں آدمی بن کر اور کی سنی اپنی کہی ایك مکابرہ عناد کی نہیں سہی یہ ایك نمونہ ہے اس سے فارغ ہو تواور سننا ہے اس سے بھی سلامت نکلے تو اور آگے چلئے یہاں تك کہ حق ایك طرف کھل جائے جید وردی میزان عمل میں تل جائے اے رب میرے! ہدایت فرما انك انت السمیع القریب وما توفیق الا باﷲ الیہ توکلت والیہ انیب(تو قریب وسمیع ہے مجھے صرف الله سے توفیق حاصل ہے اور اسی کی طرف لوٹناہے۔ ت) بلاشبہہ گروہ مذکور اور اس کے پیشوائے مسطور پر بوجوہ کثیرہ قطعا یقینا کفر لازم اور حسب تصریحات جماہیر فقہائے کرام اصحاب فتاوی اکابر واعلام ان پر حکم کفر ثابت وقائم ان کے عقیدوں مکیدوں مذہبی رسالوں میں بکثرت کلمات کفریہ ہیں جن کی تفصیل کو ذخیرہ درکار خود ان کے پیشوا نے اپنی کتاب تقویۃ الایمان میں(جسے یہ لوگ معاذالله کتاب آسمانی کی مثل جانتے اور اپنے مذہب کی مقدس معصوم کتاب مانتے ہیں)اپنے اور اپنے سب پیروؤں کے صریح کافر بت پرست ہونے کا صاف اقرار کیا ہم نے اس سوال کے رود پر خاص اس باب میں ایك مفصل رسالہ مسمی بنام تاریخی الکوکبۃ الشھابیۃ فی کفریات ابی الوہابیۃ لکھا اوراس میں بطور نمونہ ان کے ستر کفریات کا شمار کیا کہ بحوالہ کتاب وصفحہ ان کے پیشوا کی کتابوں سے اقوال نقل کئے پھر ائمہ کرام وعلمائے عظام کی تصانیف سے اسی طرح بہ نشان صفحات ان باتوں پر حکم کفر مع ترجمہ لکھے بحمدالله تعالی اس رسالہ نے اپنے ناظر کو اس امر کی تحقیق میں کوئی دقت باقی نہ رکھی صرف اتنا کام رہا کہ جو اپنی انکھوں دیکھا چاہے اس کی کتابوں سے صفحہ کے
اولا : عامہ مسلمین وبرداران دین پر اظہار مبین کہ مذہب وہابیہ ایسی ضلالتوں پر مشتمل اور ان کا امام وطائفہ ایسی شناعتوں کو موجد وقائل
ثانیا : کبرائے وہابیہ پر عرض ہدی وخوف خدا کہ دیکھوں کیسے کو امام بناتے ہو اندھیری رات میں کس مضل مبین کے پیچھے جاتے ہو تھوڑی دیر کا اندھیرا ہے دم کے دم میں سویرا ہے
بروز حشر شود ہمچو صبح معلومت کہ باکہ باختہ عشق درشب دیجور
(صبح کی حشر میں تجھے معلوم ہوجائے گا کہ اندھیری رات میں کس سے لڑاتے رہے۔ ت)
غصے سے کام نہیں چلتا بگڑنے سے مذہب نہیں سنبھلتا “ انما اعظکم بوحدۃ “ (میں صرف ایك نصیحت کرتا ہوں۔ ت) ایك ذرا تعصب ونفسانیت وحمایت امام وحمیت جاہلیت سے جداہوکر لله فی الله اس تحریر پر نظر کیجئے سب کتابوں کے نشان صفحات بتادئے ہیں جس میں شبہہ ہو تطبیق کرلیجئے پھر اگرنگاہ انصاف میں تمھارے مذہب وامام مذہب پر یہ الزامات قائم ہوں تو خدا سے ڈرو کفریات وضلالت پھر اصرار نہ کرو بد دین کی پیروی کا دم نہ بھرو۔ اوراگر اطاقت جواب ہے تو کیوں پیچ وتاب ہے ہمیں گووہمیں میدان اظہار حق سے کیوں خائف وترساں آدمی بن کر اور کی سنی اپنی کہی ایك مکابرہ عناد کی نہیں سہی یہ ایك نمونہ ہے اس سے فارغ ہو تواور سننا ہے اس سے بھی سلامت نکلے تو اور آگے چلئے یہاں تك کہ حق ایك طرف کھل جائے جید وردی میزان عمل میں تل جائے اے رب میرے! ہدایت فرما انك انت السمیع القریب وما توفیق الا باﷲ الیہ توکلت والیہ انیب(تو قریب وسمیع ہے مجھے صرف الله سے توفیق حاصل ہے اور اسی کی طرف لوٹناہے۔ ت) بلاشبہہ گروہ مذکور اور اس کے پیشوائے مسطور پر بوجوہ کثیرہ قطعا یقینا کفر لازم اور حسب تصریحات جماہیر فقہائے کرام اصحاب فتاوی اکابر واعلام ان پر حکم کفر ثابت وقائم ان کے عقیدوں مکیدوں مذہبی رسالوں میں بکثرت کلمات کفریہ ہیں جن کی تفصیل کو ذخیرہ درکار خود ان کے پیشوا نے اپنی کتاب تقویۃ الایمان میں(جسے یہ لوگ معاذالله کتاب آسمانی کی مثل جانتے اور اپنے مذہب کی مقدس معصوم کتاب مانتے ہیں)اپنے اور اپنے سب پیروؤں کے صریح کافر بت پرست ہونے کا صاف اقرار کیا ہم نے اس سوال کے رود پر خاص اس باب میں ایك مفصل رسالہ مسمی بنام تاریخی الکوکبۃ الشھابیۃ فی کفریات ابی الوہابیۃ لکھا اوراس میں بطور نمونہ ان کے ستر کفریات کا شمار کیا کہ بحوالہ کتاب وصفحہ ان کے پیشوا کی کتابوں سے اقوال نقل کئے پھر ائمہ کرام وعلمائے عظام کی تصانیف سے اسی طرح بہ نشان صفحات ان باتوں پر حکم کفر مع ترجمہ لکھے بحمدالله تعالی اس رسالہ نے اپنے ناظر کو اس امر کی تحقیق میں کوئی دقت باقی نہ رکھی صرف اتنا کام رہا کہ جو اپنی انکھوں دیکھا چاہے اس کی کتابوں سے صفحہ کے
حوالہ / References
القرآن الکریم ۳۴ /۴۶
نشانوں سے وہ عبارتیں نکالے پھر ایسے ہی نشان سے کتب ائمہ وعلماء میں ان کی نسبت حکم کفر دیکھے دکھالے وہ کتابیں جن سے ہم نے ان کے اقوال کا کلمات کفرہونا ثابت کیا یہ ہیں :
(۱)قرآن عظیم (۲)صحیح بخاری شریف (۳)صحیح مسلم شریف (۴)فقہ اکبر تصنیف حضرت امام اعظم ابو حنیفہ رضی الله تعالی عنہ(۵)درمختار(۶)عالمگیری(۷)فتاویقاضیخاں(۸)بحرالرائق(۹)نہرالفائق(۱۰)اشباہ والنظائر(۱۱)جامع الرموز(۱۲) برجندی شرح نقایہ(۱۳)مجمع الانہر(۱۴)شرح وہبانیہ (۱۵)ردالمحتار (۱۶)شرح الدرر والغرر للعلامۃ اسمعیل النابلسی (۱۷) حدیقہ ندیہ شرح طریقہ محمدیہ للعلامہ عبدالغنی النابلسی(۱۸)نوازل امام فقیہ ابواللیث (۱۹)فتاوی ذخیرہ امام برہان محمود (۲۰) فتاوی خلاصہ(۲۱)فتاوی بزازیہ(۲۲)فتاوی تاتار خانیہ(۲۳)مجمع الفتاوی(۲۴)معین الحکام علامہ طرابلسی (۲۵) فصول عمادی(۲۶)خزانۃ المفتین (۲۷)جامع الفصولین(۲۸)جواہر الاخلاطی(۲۹)تکملہ لسان الحکام (۳۰)الاعلام بقواطع الاسلام للامام ابن حجر المکی الشافعی(۳۱)شفاء شریف للامام القاضی عیاض المالکی(۳۲)شرح الشفا للملا علی قاری(۳۳) نسیم الریاض للعلامۃ الشہاب الخفاجی(۳۴)شرح المواہب للعلامہ الزرقانی المالکی (۳۵)شرح فقہ اکبر للعلامۃ القاری(۳۶) شرح العقائد العضدیہ للمحقق الدوانی الشافعی(۳۸)الدرر السنیہ للعالامۃ السید الشریف مولانا احمد زینی دحلال المکی الشافعی (۳۸) الدرالثمین للشاہ ولی الله دہلوی(۳۹)تحفہ اثنا عشریہ شاہ عبدالعزیز صاحب دہلوی(۴۰)تفسیر عزیزی شاہ صاحب موصوف (۴۱)موضح القرآن شاہ عبدالقادر صاحب دہلوی برادر شاہ صاحب ممدوح(۴۲)یہاں تك کہ خود تقویۃ الامان اور (۴۳)اس کا دوسرا حصہ تذکیرالاخوان وغیرہا اور(۴۴)نیز اس میں مدد لی گئی احیاء العلوم امام حجۃ الاسلام غزالی وشرح(۴۵)عقائد النسفی علامہ سعد تفتازانی و(۴۶)میزان الشریعۃ الکبری امام عبدالوہاب شعرانی ومکتوبات(۴۷) جناب شیخ مجدد الف ثانی و(۴۸)حجۃ الله البالغہ و(۴۹)انتباہ فی سلاسل اولیاء ہر دو تصنیف شاہ ولی الله صاحب یہاں تك کہ(۵۰)مسك الختام شرح بلوغ المرام تصنیف نواب صدیق حسن بھوپالی ظاہری آنجہانی وغیرہا سے یہاں صرف سات(کفریہ)قول پر اکتفاکروں :
کفریہ اول : تقویۃ الایمان مطبع فاروقی دہلی ص ۲۰ :
“ غیب کا دریافت کرنا اپنے اختیارمیں ہوکہ جب چاہے کر لیجئے یہ الله صاحب ہی کی شان ہے ۔ “
اس کا صاف یہ مطلب کہ الله تعالی کو اختیار ہے جب چاہے غیب کی بات دریافت کرلے توصراحۃ لازم کہ اسے بالفعل علم غیب حاصل نہیں۔ ہاں حاصل کرلینے کا اختیار رکھتاہے یہاں صراحۃ الله تعالی کی طرف
(۱)قرآن عظیم (۲)صحیح بخاری شریف (۳)صحیح مسلم شریف (۴)فقہ اکبر تصنیف حضرت امام اعظم ابو حنیفہ رضی الله تعالی عنہ(۵)درمختار(۶)عالمگیری(۷)فتاویقاضیخاں(۸)بحرالرائق(۹)نہرالفائق(۱۰)اشباہ والنظائر(۱۱)جامع الرموز(۱۲) برجندی شرح نقایہ(۱۳)مجمع الانہر(۱۴)شرح وہبانیہ (۱۵)ردالمحتار (۱۶)شرح الدرر والغرر للعلامۃ اسمعیل النابلسی (۱۷) حدیقہ ندیہ شرح طریقہ محمدیہ للعلامہ عبدالغنی النابلسی(۱۸)نوازل امام فقیہ ابواللیث (۱۹)فتاوی ذخیرہ امام برہان محمود (۲۰) فتاوی خلاصہ(۲۱)فتاوی بزازیہ(۲۲)فتاوی تاتار خانیہ(۲۳)مجمع الفتاوی(۲۴)معین الحکام علامہ طرابلسی (۲۵) فصول عمادی(۲۶)خزانۃ المفتین (۲۷)جامع الفصولین(۲۸)جواہر الاخلاطی(۲۹)تکملہ لسان الحکام (۳۰)الاعلام بقواطع الاسلام للامام ابن حجر المکی الشافعی(۳۱)شفاء شریف للامام القاضی عیاض المالکی(۳۲)شرح الشفا للملا علی قاری(۳۳) نسیم الریاض للعلامۃ الشہاب الخفاجی(۳۴)شرح المواہب للعلامہ الزرقانی المالکی (۳۵)شرح فقہ اکبر للعلامۃ القاری(۳۶) شرح العقائد العضدیہ للمحقق الدوانی الشافعی(۳۸)الدرر السنیہ للعالامۃ السید الشریف مولانا احمد زینی دحلال المکی الشافعی (۳۸) الدرالثمین للشاہ ولی الله دہلوی(۳۹)تحفہ اثنا عشریہ شاہ عبدالعزیز صاحب دہلوی(۴۰)تفسیر عزیزی شاہ صاحب موصوف (۴۱)موضح القرآن شاہ عبدالقادر صاحب دہلوی برادر شاہ صاحب ممدوح(۴۲)یہاں تك کہ خود تقویۃ الامان اور (۴۳)اس کا دوسرا حصہ تذکیرالاخوان وغیرہا اور(۴۴)نیز اس میں مدد لی گئی احیاء العلوم امام حجۃ الاسلام غزالی وشرح(۴۵)عقائد النسفی علامہ سعد تفتازانی و(۴۶)میزان الشریعۃ الکبری امام عبدالوہاب شعرانی ومکتوبات(۴۷) جناب شیخ مجدد الف ثانی و(۴۸)حجۃ الله البالغہ و(۴۹)انتباہ فی سلاسل اولیاء ہر دو تصنیف شاہ ولی الله صاحب یہاں تك کہ(۵۰)مسك الختام شرح بلوغ المرام تصنیف نواب صدیق حسن بھوپالی ظاہری آنجہانی وغیرہا سے یہاں صرف سات(کفریہ)قول پر اکتفاکروں :
کفریہ اول : تقویۃ الایمان مطبع فاروقی دہلی ص ۲۰ :
“ غیب کا دریافت کرنا اپنے اختیارمیں ہوکہ جب چاہے کر لیجئے یہ الله صاحب ہی کی شان ہے ۔ “
اس کا صاف یہ مطلب کہ الله تعالی کو اختیار ہے جب چاہے غیب کی بات دریافت کرلے توصراحۃ لازم کہ اسے بالفعل علم غیب حاصل نہیں۔ ہاں حاصل کرلینے کا اختیار رکھتاہے یہاں صراحۃ الله تعالی کی طرف
حوالہ / References
تقویۃ الایمان الفصل الثانی فی ردالشراك فی العلم مطبع علیمی اندرون لوہاری دروازہ لاہور ص۱۴
جہل نسبت کیا اور اس کے علم قدیم کو ازلی نہ مانااور اس کی صفت کو اختیاری جانا یہ تینوں باتیں صریح کفر ہیں
عالمگیری مطبع مصر جلد ۲ ص ۲۹۸ بحرالرائق مطبع مصر ج ۵ ص ۱۲۹ بزازیہ طبع مصر ج ۳ ص ۳۲۳ جامع الفصولین مطبوعہ مصر ج ۲ ص ۲۹۸ :
یکفر اذاوصف اﷲ تعالی بمالایلیق بہ او نسبہ الی الجھل اوالعجز اوالنقص ۔ جو الله تعالی کی شان میں ایسی بات کہے جوا س کے لائق نہیں یااسے جہل یا عجز یا کسی ناقص بات کی طر ف نسبت کرے وہ کافر ہے۔
عالمگیری ج ۲ ص ۱۶۲ :
لوقال علم خدائے قدیم نیست یکفر ۔ جو علم خدا کو قدیم نہ مانے وہ کافرہے۔
شرح عقائد نسفی طبع قدیم ص ۲۱ :
الصادر عن الشیئ بالقصد والاختیار یکون حادثا بالضرورۃ ۔ جو کسی سے اس کے قصدواخیتار سے صادر ہو وہ ضرور حادث ونو پیدا ہوگا۔
فقہ اکبر امام اعظم ابوحنیفہ رضی الله تعالی عنہ وشرح فقہ اکبر مطبع حنفی ۱۲۹۶ھ ص ۲۹ :
صفاتہ فی الازل غیر محدثۃ ولامخلوقۃ فمن قال انھا محدثۃ او وقف فیھا اوشك فیھا فھو کافر باﷲ تعالی ۔ الله تعالی کی سب صفتیں ازلی ہے نہ وہ نو پیدا ہیں نہ مخلوق تو جو انھیں مخلوق یا حادث بتائے یااس میں توقف یا شك کرے وہ کافر ہے۔
کفریہ دوم : بعض علماء دلیل لائے تھے کہ سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا مثل تمام صفات کمالیہ میں شریك وہمسر اگر ممکن ہو تو معاذالله آیہ کریمہ وخاتم النبیین کی تکذیب لازم آئے اس کے جواب میں شخص مذکور کا کلام سنئے یکروزی مطبع فاروقی ص ۱۴۴ :
بعد اخبار است کہ ایشان رافاموش گردانیدہ شود پس قول بامکان وجود مثل اصلا منجر خبردینے کے بعد ممکن ہے کہ الله تعالی ان کی خبروں کو بھول جائے پس حضور علیہ السلام کی مثل کا وجود ممکن ہونا ہر کسی نص
عالمگیری مطبع مصر جلد ۲ ص ۲۹۸ بحرالرائق مطبع مصر ج ۵ ص ۱۲۹ بزازیہ طبع مصر ج ۳ ص ۳۲۳ جامع الفصولین مطبوعہ مصر ج ۲ ص ۲۹۸ :
یکفر اذاوصف اﷲ تعالی بمالایلیق بہ او نسبہ الی الجھل اوالعجز اوالنقص ۔ جو الله تعالی کی شان میں ایسی بات کہے جوا س کے لائق نہیں یااسے جہل یا عجز یا کسی ناقص بات کی طر ف نسبت کرے وہ کافر ہے۔
عالمگیری ج ۲ ص ۱۶۲ :
لوقال علم خدائے قدیم نیست یکفر ۔ جو علم خدا کو قدیم نہ مانے وہ کافرہے۔
شرح عقائد نسفی طبع قدیم ص ۲۱ :
الصادر عن الشیئ بالقصد والاختیار یکون حادثا بالضرورۃ ۔ جو کسی سے اس کے قصدواخیتار سے صادر ہو وہ ضرور حادث ونو پیدا ہوگا۔
فقہ اکبر امام اعظم ابوحنیفہ رضی الله تعالی عنہ وشرح فقہ اکبر مطبع حنفی ۱۲۹۶ھ ص ۲۹ :
صفاتہ فی الازل غیر محدثۃ ولامخلوقۃ فمن قال انھا محدثۃ او وقف فیھا اوشك فیھا فھو کافر باﷲ تعالی ۔ الله تعالی کی سب صفتیں ازلی ہے نہ وہ نو پیدا ہیں نہ مخلوق تو جو انھیں مخلوق یا حادث بتائے یااس میں توقف یا شك کرے وہ کافر ہے۔
کفریہ دوم : بعض علماء دلیل لائے تھے کہ سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا مثل تمام صفات کمالیہ میں شریك وہمسر اگر ممکن ہو تو معاذالله آیہ کریمہ وخاتم النبیین کی تکذیب لازم آئے اس کے جواب میں شخص مذکور کا کلام سنئے یکروزی مطبع فاروقی ص ۱۴۴ :
بعد اخبار است کہ ایشان رافاموش گردانیدہ شود پس قول بامکان وجود مثل اصلا منجر خبردینے کے بعد ممکن ہے کہ الله تعالی ان کی خبروں کو بھول جائے پس حضور علیہ السلام کی مثل کا وجود ممکن ہونا ہر کسی نص
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ الباب التاسع فی احکام المرتدین نورانی کتب خانہ پشاور ۲ / ۲۵۸
فتاوٰی ہندیہ الباب التاسع فی احکام المرتدین نورانی کتب خانہ پشاور ۲ / ۲۶۲
شرح العقائد النسفیہ دارالاشاعۃ العربیۃ قندھار افغانستان ص۲۳
منح الروض الازہر شرح الفقہ الاکبر الباری جل شانہ موصوف فی الازل بصفات الخ مصطفی البابی مصر ص۲۵
فتاوٰی ہندیہ الباب التاسع فی احکام المرتدین نورانی کتب خانہ پشاور ۲ / ۲۶۲
شرح العقائد النسفیہ دارالاشاعۃ العربیۃ قندھار افغانستان ص۲۳
منح الروض الازہر شرح الفقہ الاکبر الباری جل شانہ موصوف فی الازل بصفات الخ مصطفی البابی مصر ص۲۵
تکذیب نصی از نصوص نگرد دو سلب قرآن مجید بعد انزال ممکن است ۔ کی تکذیب کاسبب نہیں ہوسکتا جبکہ نزول قرآن کے بعد قرآن کا سلب ہوجانا ممکن ہے۔ (ت)
یہاں صاف بے پردہ اقرار کردیا کہ الله عزوجل کی بات واقع میں جھوٹی ہوجائے تو کچھ حرج نہیں حرج ا س میں ہے کہ بندے اس کے جھوٹ پر مطلع ہوں اگر انھیں بھلاکر اپنی بات جھوٹی کردے تو تکذیب کہاں سے آئے گی اب کسی کو وہ نص یاد ہی نہیں کہ جھوٹ پر اطلاع پائے۔ شفا شریف مطبع صدیقی ص ۳۶۱ :
من دان بالوحدانیۃ وصحۃ النبوۃ ونبوۃ نبینا صلی اﷲ تعالی علیہ وعلی الہ وسلم ولکن جوز علی الانبیاء الکذب فیما اتوا بہ ادعی فی ذلك المصلحۃ بزعمہ اولم یدعھا فھو کافر باجماع ۔ جو الله تعالی کی وحدانیت نبوت کی حقانیت ہمارے نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی نبوت کا اعتقادرکھتا ہو اینہمہ انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام پر ان باتوں میں کہ وہ اپنے رب کے پاس سے لائے کذب جائز مانے خواہ بزعم خود اس میں کیسی مصلحت کا ادعاء کرے یا نہ کرے ہرطرح بالاتفاق کافر ہے۔ (ت)
حضرات ابنیاء علیہم افضل الصلوۃ والثناء کا کذب جائزجاننے والا بالاتفاق کافرہوا الله عزوجل کا کذب جائز ماننے والا کیونکر بالاجماع کافر ومرتد نہ ہوگا!
کفریہ سوم : صرامستقیم مطبع ضیائی ۱۲۸۵ھ ص ۱۷۵ اپنے پیر کی نسبت لکھا :
روزے حضرعت جل وعلا دست راست ایشاں رابدست قدرت خاص خود گرفتہ وچیزے را از امور قدسیہ کہ بس رفیع وبدیع بود پیش روئے حضرت ایشاں کردہ فرمودہ کہ ترا ایں چنیں دادہ ام وچیز ہائے دیگر خواہم داد ۔ ایك روزہ الله تعالی نے اس حضرت کا دایاں ہاتھ اپنے دست قدرت میں پکڑا اور امور قدسیہ کی ایك بلندوبالا عجیب چیز کو پیش کرکے فرمایا تجھے یہ دیااور اس کے علاوہ اور چیز یں بھی دیں گے۔ (ت)
ص ۱۳ : مکالمہ ومسامرہ بدست می آید (ہم کلامی اور باتیں حاصل ہوئیں۔ ت)
یہاں صاف بے پردہ اقرار کردیا کہ الله عزوجل کی بات واقع میں جھوٹی ہوجائے تو کچھ حرج نہیں حرج ا س میں ہے کہ بندے اس کے جھوٹ پر مطلع ہوں اگر انھیں بھلاکر اپنی بات جھوٹی کردے تو تکذیب کہاں سے آئے گی اب کسی کو وہ نص یاد ہی نہیں کہ جھوٹ پر اطلاع پائے۔ شفا شریف مطبع صدیقی ص ۳۶۱ :
من دان بالوحدانیۃ وصحۃ النبوۃ ونبوۃ نبینا صلی اﷲ تعالی علیہ وعلی الہ وسلم ولکن جوز علی الانبیاء الکذب فیما اتوا بہ ادعی فی ذلك المصلحۃ بزعمہ اولم یدعھا فھو کافر باجماع ۔ جو الله تعالی کی وحدانیت نبوت کی حقانیت ہمارے نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی نبوت کا اعتقادرکھتا ہو اینہمہ انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام پر ان باتوں میں کہ وہ اپنے رب کے پاس سے لائے کذب جائز مانے خواہ بزعم خود اس میں کیسی مصلحت کا ادعاء کرے یا نہ کرے ہرطرح بالاتفاق کافر ہے۔ (ت)
حضرات ابنیاء علیہم افضل الصلوۃ والثناء کا کذب جائزجاننے والا بالاتفاق کافرہوا الله عزوجل کا کذب جائز ماننے والا کیونکر بالاجماع کافر ومرتد نہ ہوگا!
کفریہ سوم : صرامستقیم مطبع ضیائی ۱۲۸۵ھ ص ۱۷۵ اپنے پیر کی نسبت لکھا :
روزے حضرعت جل وعلا دست راست ایشاں رابدست قدرت خاص خود گرفتہ وچیزے را از امور قدسیہ کہ بس رفیع وبدیع بود پیش روئے حضرت ایشاں کردہ فرمودہ کہ ترا ایں چنیں دادہ ام وچیز ہائے دیگر خواہم داد ۔ ایك روزہ الله تعالی نے اس حضرت کا دایاں ہاتھ اپنے دست قدرت میں پکڑا اور امور قدسیہ کی ایك بلندوبالا عجیب چیز کو پیش کرکے فرمایا تجھے یہ دیااور اس کے علاوہ اور چیز یں بھی دیں گے۔ (ت)
ص ۱۳ : مکالمہ ومسامرہ بدست می آید (ہم کلامی اور باتیں حاصل ہوئیں۔ ت)
حوالہ / References
رسالہ ایك روزہ(فارسی) فاروقی کتب خانہ ملتان ص۱۷
الشفاء بتعریف حقوق المصطفی فصل فی بیان ماھومن المقالات المطبعۃ الشرکۃ الصحافیۃ ۲ / ۲۶۹
صراط مستقیم خاتمہ دربیان پارہ المکتبۃ السلفیہ لاہور ص۱۶۴
صراط مستقیم ہدایت اربعہ دربیان ثمرات حب المکتبۃ السلفیہ لاہور ص۱۲
الشفاء بتعریف حقوق المصطفی فصل فی بیان ماھومن المقالات المطبعۃ الشرکۃ الصحافیۃ ۲ / ۲۶۹
صراط مستقیم خاتمہ دربیان پارہ المکتبۃ السلفیہ لاہور ص۱۶۴
صراط مستقیم ہدایت اربعہ دربیان ثمرات حب المکتبۃ السلفیہ لاہور ص۱۲
ص ۱۵۴ : گاہے کلام حقیقی ہم می شود (کبھی حقیقی گفتگو بھی حاصل ہوتی ہے۔ ت)یہ صراحۃ اپنے پیر وغیرہ کو نبی بناناہے۔ تفسیر عزیزی سورہ بقرہ شاہ عبدالعزی صاحب مطبع کلکتہ ۱۲۴۹ھ ص ۴۲۳ :
ہمکلامی باخدائے عزوجل مختص است بملائکہ وانبیاء علیہم الصلوۃ والسلام وغیر ایشاں راہر گز میسر نمی شود پس فرمائش ہمکلامی باخداگویا فرمائش آن ست کہ ماہمہ راپیغمبراں یا فرشتہا سازد ۔ الله تعالی سے ہم کلامی صرف انبیاء اور فرشتوں کے لئے خاص ہے علیہم الصلوۃ والسلام ان کے علاوہ کسی دوسرے کوہر گز میسر نہیں ہوتی۔ پس الله تعالی سے ہم کلامی کی فرمائش کرنا گویا کہ اپنے کو پیغمبروں اور فرشتوں میں شمار کرنا ہے۔ (ت)
شرح عقائد جلالی طبع مصر ص ۱۰۶ اس مسئلہ کی دلیل میں کہ دنیامیں الله تعالی سے ہمکلامی کامدعی کافرہے فرمایا :
المکالمۃ شفاھا منصب النبوۃ بل اعلی مراتبھا وفیہ مخالفۃ لماھو من ضروریات الدین وھو انہ صلی اﷲ تعالی علیہ وعلی الہ وسلم خاتم النبیین علیہ افضل صلوۃ المصلین ۔ الله عزوجل سے کلام حقیقی منصب نبوت بلکہ اس کے مراتب میں اعلی مرتبہ ہے تواس کے دعوے میں بعض ضروریات دین یعنی نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے خاتم النبیین ہونے کا انکار ہے۔
اسی طرح شفاء شریف میں مدعی مکالمہ کو بالاجماع کافر بتایا ص ۳۶۰ اسی میں ہے ص ۳۶۲ :
وکذالك من ادعی منھم انہ یوحی الیہ وان لم یدعی النبوۃ وانہ یصعد الی السماء ویدخل الجنۃ ویاکل من ثمارھا ویعانق الحور العین فھؤلاء کلھم کفار مکذبون للنبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ۔ اسی طرح جو جھوٹا متصوف دعوی کرے کہ الله تعالی اسے وحی کرتاہے اگر چہ مدعی نبوت نہ ہو یا کہ وہ آسمان تك چڑھتا جنت میں جاتا اس کے پھل کھاتا حوروں کو گلے لگاتا ہے یہ سب کافر ہیں اور حضرت رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی تکذیب کرنے والے۔
ہمکلامی باخدائے عزوجل مختص است بملائکہ وانبیاء علیہم الصلوۃ والسلام وغیر ایشاں راہر گز میسر نمی شود پس فرمائش ہمکلامی باخداگویا فرمائش آن ست کہ ماہمہ راپیغمبراں یا فرشتہا سازد ۔ الله تعالی سے ہم کلامی صرف انبیاء اور فرشتوں کے لئے خاص ہے علیہم الصلوۃ والسلام ان کے علاوہ کسی دوسرے کوہر گز میسر نہیں ہوتی۔ پس الله تعالی سے ہم کلامی کی فرمائش کرنا گویا کہ اپنے کو پیغمبروں اور فرشتوں میں شمار کرنا ہے۔ (ت)
شرح عقائد جلالی طبع مصر ص ۱۰۶ اس مسئلہ کی دلیل میں کہ دنیامیں الله تعالی سے ہمکلامی کامدعی کافرہے فرمایا :
المکالمۃ شفاھا منصب النبوۃ بل اعلی مراتبھا وفیہ مخالفۃ لماھو من ضروریات الدین وھو انہ صلی اﷲ تعالی علیہ وعلی الہ وسلم خاتم النبیین علیہ افضل صلوۃ المصلین ۔ الله عزوجل سے کلام حقیقی منصب نبوت بلکہ اس کے مراتب میں اعلی مرتبہ ہے تواس کے دعوے میں بعض ضروریات دین یعنی نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے خاتم النبیین ہونے کا انکار ہے۔
اسی طرح شفاء شریف میں مدعی مکالمہ کو بالاجماع کافر بتایا ص ۳۶۰ اسی میں ہے ص ۳۶۲ :
وکذالك من ادعی منھم انہ یوحی الیہ وان لم یدعی النبوۃ وانہ یصعد الی السماء ویدخل الجنۃ ویاکل من ثمارھا ویعانق الحور العین فھؤلاء کلھم کفار مکذبون للنبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ۔ اسی طرح جو جھوٹا متصوف دعوی کرے کہ الله تعالی اسے وحی کرتاہے اگر چہ مدعی نبوت نہ ہو یا کہ وہ آسمان تك چڑھتا جنت میں جاتا اس کے پھل کھاتا حوروں کو گلے لگاتا ہے یہ سب کافر ہیں اور حضرت رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی تکذیب کرنے والے۔
حوالہ / References
صراط مستقیم باب سوم تکملہ دربیان سلوك ثانی المکتبۃ السلفیہ لاہور ص۱۴۳
فتح العزیزی(تفسیر عزیزی) آیہ ۲ / ۱۱۸ کے تحت مطبع مجتبائی دہلی ص۴۲۷
الدوانی علی العقائد العضدیہ بحث توبہ سے قبل مطبع مجتبائی دہلی ص۱۰۶
الشفاء بتعریف حقوق المصطفی فصل فی بیان ماھو من المقالات المطبعۃ الشرکۃ الصحافیہ ۲ / ۷۱۔ ۲۷۰
فتح العزیزی(تفسیر عزیزی) آیہ ۲ / ۱۱۸ کے تحت مطبع مجتبائی دہلی ص۴۲۷
الدوانی علی العقائد العضدیہ بحث توبہ سے قبل مطبع مجتبائی دہلی ص۱۰۶
الشفاء بتعریف حقوق المصطفی فصل فی بیان ماھو من المقالات المطبعۃ الشرکۃ الصحافیہ ۲ / ۷۱۔ ۲۷۰
حوروں سے اس معانقہ کے دعوی پر تو یہ حکم ہے رب العزۃ سے ہاتھ ملاکر مصافحہ پر کیا حکم ہوگا!
کفریہ چہارم : تقویۃ الایمان ص ۱۴ :
“ جتنے پیغمبر آئے وہ الله کی طر ف سے یہی حکم لائے ہیں کہ الله کو مانے اور اس کے سوا کسی کو نہ مانے ۔ “
ص ۱۶ و ۱۷ : “ الله صاحب نے فرمایا میرے سوا کسی کو نہ مانیو ۔ “
ص۱۸ : “ الله کے سوا کسی کو نہ مان ۔ “
ص ۷ : “ اوروں کو ماننا محض خبط ہے ۔ “
مسلمانوں کے مذہب میں جس طرح الله تعالی عزوجل کا ماننا رکن ایمان ہے یونہی اس کے انبیاء وملائکہ کتابوں جنت نار وغیرہا ایمانیات کا ماننا ان میں سے ہے جسے نہ مانے گا کافر ہوگا۔ ماننا ترجمہ ایمان کاہے اور نہ ماننا کفر کا تو یہ صراحۃ انبیاء وغیرہم کے ساتھ کفر کا حکم ہوا کہ خود کفر ہے اور الله تعالی ورسول پر اس کے حکم کا افتراء دوسرا کفر۔ آیت بقرۃ :
“ ءانذرتہم ام لم تنذرہم “ موضح قرآن : تو ڈراوے یا نہ ڈراوے وے نہ مانیں گے۔
آیت اعراف :
“ قال الذین استکبروا انا بالذی امنتم بہ کفرون ﴿۷۶﴾ “ موضح قرآن : کہنے لگے بڑائی والے جو تم نے یقین کیا سو ہم نہیں مانتے۔
آیت آخر بقرۃ :
“ امن الرسول بما انزل الیہ من ربہ والمؤمنون کل امن باللہ وملئکتہ موضح قرآن : مانا رسول نے جو کچھ اترا اس کو اس کے رب کی طرف سے اور مسلمانوں نے سب نے مانا الله کو
کفریہ چہارم : تقویۃ الایمان ص ۱۴ :
“ جتنے پیغمبر آئے وہ الله کی طر ف سے یہی حکم لائے ہیں کہ الله کو مانے اور اس کے سوا کسی کو نہ مانے ۔ “
ص ۱۶ و ۱۷ : “ الله صاحب نے فرمایا میرے سوا کسی کو نہ مانیو ۔ “
ص۱۸ : “ الله کے سوا کسی کو نہ مان ۔ “
ص ۷ : “ اوروں کو ماننا محض خبط ہے ۔ “
مسلمانوں کے مذہب میں جس طرح الله تعالی عزوجل کا ماننا رکن ایمان ہے یونہی اس کے انبیاء وملائکہ کتابوں جنت نار وغیرہا ایمانیات کا ماننا ان میں سے ہے جسے نہ مانے گا کافر ہوگا۔ ماننا ترجمہ ایمان کاہے اور نہ ماننا کفر کا تو یہ صراحۃ انبیاء وغیرہم کے ساتھ کفر کا حکم ہوا کہ خود کفر ہے اور الله تعالی ورسول پر اس کے حکم کا افتراء دوسرا کفر۔ آیت بقرۃ :
“ ءانذرتہم ام لم تنذرہم “ موضح قرآن : تو ڈراوے یا نہ ڈراوے وے نہ مانیں گے۔
آیت اعراف :
“ قال الذین استکبروا انا بالذی امنتم بہ کفرون ﴿۷۶﴾ “ موضح قرآن : کہنے لگے بڑائی والے جو تم نے یقین کیا سو ہم نہیں مانتے۔
آیت آخر بقرۃ :
“ امن الرسول بما انزل الیہ من ربہ والمؤمنون کل امن باللہ وملئکتہ موضح قرآن : مانا رسول نے جو کچھ اترا اس کو اس کے رب کی طرف سے اور مسلمانوں نے سب نے مانا الله کو
حوالہ / References
تقویۃ الایمان الفصل الاولی فی الاجتناب عن الاشراك مطبع علیمی اندرون لوہاری دوازہ لاہور ص۱۰
تقویۃ الایمان الفصل الاولی فی الاجتناب عن الاشراك مطبع علیمی اندرون لوہاری دوازہ لاہور ص۱۲
تقویۃ الایمان الفصل الاولی فی الاجتناب عن الاشراك مطبع علیمی اندرون لوہاری دوازہ لاہور ص۱۲
تقویۃ الایمان مقدمۃ الکتاب مطبع علیمی اندرون لوہاری دوازہ لاہور ص۵
القرآن الکریم ۲ /۶
موضح القرآن ترجمہ وتفسیر شاہ عبدالقادر تاج کمپنی لاہور ص۴
القرآن الکریم ۷ /۷۶
موضح القرآن ترجمہ وتفسیری شاہ عبدالقادر تاج کمپنی لاہور ص۱۹۴
تقویۃ الایمان الفصل الاولی فی الاجتناب عن الاشراك مطبع علیمی اندرون لوہاری دوازہ لاہور ص۱۲
تقویۃ الایمان الفصل الاولی فی الاجتناب عن الاشراك مطبع علیمی اندرون لوہاری دوازہ لاہور ص۱۲
تقویۃ الایمان مقدمۃ الکتاب مطبع علیمی اندرون لوہاری دوازہ لاہور ص۵
القرآن الکریم ۲ /۶
موضح القرآن ترجمہ وتفسیر شاہ عبدالقادر تاج کمپنی لاہور ص۴
القرآن الکریم ۷ /۷۶
موضح القرآن ترجمہ وتفسیری شاہ عبدالقادر تاج کمپنی لاہور ص۱۹۴
وکتبہ ورسلہ “ اوراس کے فرشتوں کواور کتابوں کو اور رسولوں کو۔
دیکھو الله عزوجل تو فرماتاہے کہ ایمان والوں نے الله اور اس کے فرشتوں کتابوں نبیوں سب کومانا یہ کہتاہے “ الله نے فرمایا میر سوا کسی کو نہ مانیو “ اگراس کے کلام کے کچھ نئے معنی اپنی جی سے گھڑےے بھی تو اول : تو صریح لفظ میں تاویل کیامعنی!
شفاء شریف ص ۳۲۳ :
ادعاء التاویل فی لفظ صراح لایقبل ۔ صریح لفظ میں تاویل کا دعوی مقبول نہیں۔
ثانیا : وہ آپ سب تاویلوں کا دروازہ بند کرچکا تو اس کے کلام میں بناوٹ نری گھڑت جو اسے خود قبول نہیں۔ تقویۃالایمان ص۵۵ :
“ یہ محض بے جا ہے کہ ظاہر میں لفظ بے ادبی کا بولئے اور اس سے کچھ اور معنی مراد لیجئے معما اور پہیلی بولنے کی اور جگہ ہیں کوئی شخص اپنے باپ یا بادشاہ سے جگت نہیں بولتا اس کے واسطے دوست آشنا ہیں نہ باپ اوربادشاہ “ یہ نفیس فائدہ ہے ہر جگہ ملحوظ خاطر رہے کہ اکثر حرکات مذبوجہ کا جواب شافی رہے۔
تذکیر الاخوان حصہ دوم تقویۃ الایمان مترجمہ سلطان خاں مطبع فاروقی ص ۷۳ :
“ اصحاب رضی الله تعالی عنہم سے محبت رکھنا ایمان کی نشانی ہے جو ان کو نہ مانے اس کا ٹھکانا دوزخ ہے ۔ “
سبحن اللہ! دوسرے حصے والا کہتاہے جو صحابہ کو نہ مانے وہ بدعتی جہنمی پہلے والا کہتاہے صحابہ تو صحابہ جو ابنیاء کو مانے وہ بھی کافر دوزخی “ وکفی اللہ المؤمنین القتال “ (اور الله نے مسلمانوں کو لڑائی کی کفایت فرمادی۔ ت)
دیکھو الله عزوجل تو فرماتاہے کہ ایمان والوں نے الله اور اس کے فرشتوں کتابوں نبیوں سب کومانا یہ کہتاہے “ الله نے فرمایا میر سوا کسی کو نہ مانیو “ اگراس کے کلام کے کچھ نئے معنی اپنی جی سے گھڑےے بھی تو اول : تو صریح لفظ میں تاویل کیامعنی!
شفاء شریف ص ۳۲۳ :
ادعاء التاویل فی لفظ صراح لایقبل ۔ صریح لفظ میں تاویل کا دعوی مقبول نہیں۔
ثانیا : وہ آپ سب تاویلوں کا دروازہ بند کرچکا تو اس کے کلام میں بناوٹ نری گھڑت جو اسے خود قبول نہیں۔ تقویۃالایمان ص۵۵ :
“ یہ محض بے جا ہے کہ ظاہر میں لفظ بے ادبی کا بولئے اور اس سے کچھ اور معنی مراد لیجئے معما اور پہیلی بولنے کی اور جگہ ہیں کوئی شخص اپنے باپ یا بادشاہ سے جگت نہیں بولتا اس کے واسطے دوست آشنا ہیں نہ باپ اوربادشاہ “ یہ نفیس فائدہ ہے ہر جگہ ملحوظ خاطر رہے کہ اکثر حرکات مذبوجہ کا جواب شافی رہے۔
تذکیر الاخوان حصہ دوم تقویۃ الایمان مترجمہ سلطان خاں مطبع فاروقی ص ۷۳ :
“ اصحاب رضی الله تعالی عنہم سے محبت رکھنا ایمان کی نشانی ہے جو ان کو نہ مانے اس کا ٹھکانا دوزخ ہے ۔ “
سبحن اللہ! دوسرے حصے والا کہتاہے جو صحابہ کو نہ مانے وہ بدعتی جہنمی پہلے والا کہتاہے صحابہ تو صحابہ جو ابنیاء کو مانے وہ بھی کافر دوزخی “ وکفی اللہ المؤمنین القتال “ (اور الله نے مسلمانوں کو لڑائی کی کفایت فرمادی۔ ت)
حوالہ / References
القرآن الکریم ۲ /۲۸۵
موضح القرآن ترجمہ وتفسیر شاہ عبدالقادر تاج کمپنی لاہور ص۶۱
الشفاء بتعریف حقوق المصطفی الباب الاولی فی بیان ماھو حقہ صلی الله تعالٰی علیہ وسلم المطبعۃ الشرکۃ الصحافیہ ۲ / ۲۱۰
تقویۃ الایمان الفصل الخامس مطبع علیمی اندرون لوہاری دروازہ لاہور ص۳۹
تذکیر الاخوان حصہ دوم تقویۃ الایمان الفصل الرابع مطبع علیمی اندرون لوہاری دروازہ لاہور ص۱۰۵
القرآن الکریم ۳۳ /۲۵
موضح القرآن ترجمہ وتفسیر شاہ عبدالقادر تاج کمپنی لاہور ص۶۱
الشفاء بتعریف حقوق المصطفی الباب الاولی فی بیان ماھو حقہ صلی الله تعالٰی علیہ وسلم المطبعۃ الشرکۃ الصحافیہ ۲ / ۲۱۰
تقویۃ الایمان الفصل الخامس مطبع علیمی اندرون لوہاری دروازہ لاہور ص۳۹
تذکیر الاخوان حصہ دوم تقویۃ الایمان الفصل الرابع مطبع علیمی اندرون لوہاری دروازہ لاہور ص۱۰۵
القرآن الکریم ۳۳ /۲۵
کفریہ پنجم : صراط مستقیم بعض اولیاء کی نسبت لکھا ص ۳۷ :
صدیق من وجہ مقلد انبیاء می باشد ومن وجہ محقق درشرائع ۔ صدیق من وجہ انبیاء کا مقلد ہوتاہے اور من وجہ احکام شریعت میں محقق ہوتاہے۔ (ت)
ص ۳۹ :
علوم کلیہ شرعیہ اور ابد و واسطہ می رسد بوساطت نور جبلی وبوساطت انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام پس درکلیات شریعت وحکم واحکام ملت او را شاگرد انبیاء ہم می تواں گفتہم استاذ انبیاء ہم ونیز طریق اخذ آنھم شعبہ ایست ازشعب وحی کہ آں را در عرف شرح بہ نفث فی الروع تعبیر می فرمایند وبعضے اہل کمال آن رابوحی باطنی می نامند ۔ امور کلیہ شرعیہ اس کو دو طرح سے پہنچتے ہیں ایك فطری نور کے ذریعہ سے دوسرا انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کے واسطہ سے پس شرعیہ کلیات اور حکم واحکام ملت میں اس کو انبیاء کا شاگرد کہہ سکتے ہیں اور انبیاء کا استاذ بھی کہہ سکتے نیز ان کے اخذ کاطریقہ وحی کے اقسام میں سے ایك قسم ہے جس کو عرف شرع میں نفث فی الروع سے تعبیر کرتے ہیں اور بعض اہل کمال اس کو باطنی وحی کا نام دیتے ہیں۔ (ت)
ص ۴۰ :
ہمیں معنی رابامامت ووصایت تعبیر میکنند ۔ اس معنی کو امامت اور وصی سے تعبیر کرتے ہیں۔ (ت)
ص ۴۱ :
لابد او رابمحا فظتے مثل محافظت انبیاء کہ مسمی بہ عصمت ست فائز مے کنند ۔ ضروری ہے کہ اس کو محفوظ قرار دیا جائے جس طرح انبیاء کا محفوظ ہونا جس کو عصمت کہتے ہیں۔ (ت)
ص ۴۲ :
ندانی کہ اثبات وحی باطنی وعصمت مرغیر انبیاء را مخالفت سنت واز جنس اختراع بدعت یہ نہ سمجھنا کہ باطنی وحی اور عصمت کو غیر انبیاء کے لئے ثابت کرنا خلاف سنت اور
صدیق من وجہ مقلد انبیاء می باشد ومن وجہ محقق درشرائع ۔ صدیق من وجہ انبیاء کا مقلد ہوتاہے اور من وجہ احکام شریعت میں محقق ہوتاہے۔ (ت)
ص ۳۹ :
علوم کلیہ شرعیہ اور ابد و واسطہ می رسد بوساطت نور جبلی وبوساطت انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام پس درکلیات شریعت وحکم واحکام ملت او را شاگرد انبیاء ہم می تواں گفتہم استاذ انبیاء ہم ونیز طریق اخذ آنھم شعبہ ایست ازشعب وحی کہ آں را در عرف شرح بہ نفث فی الروع تعبیر می فرمایند وبعضے اہل کمال آن رابوحی باطنی می نامند ۔ امور کلیہ شرعیہ اس کو دو طرح سے پہنچتے ہیں ایك فطری نور کے ذریعہ سے دوسرا انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کے واسطہ سے پس شرعیہ کلیات اور حکم واحکام ملت میں اس کو انبیاء کا شاگرد کہہ سکتے ہیں اور انبیاء کا استاذ بھی کہہ سکتے نیز ان کے اخذ کاطریقہ وحی کے اقسام میں سے ایك قسم ہے جس کو عرف شرع میں نفث فی الروع سے تعبیر کرتے ہیں اور بعض اہل کمال اس کو باطنی وحی کا نام دیتے ہیں۔ (ت)
ص ۴۰ :
ہمیں معنی رابامامت ووصایت تعبیر میکنند ۔ اس معنی کو امامت اور وصی سے تعبیر کرتے ہیں۔ (ت)
ص ۴۱ :
لابد او رابمحا فظتے مثل محافظت انبیاء کہ مسمی بہ عصمت ست فائز مے کنند ۔ ضروری ہے کہ اس کو محفوظ قرار دیا جائے جس طرح انبیاء کا محفوظ ہونا جس کو عصمت کہتے ہیں۔ (ت)
ص ۴۲ :
ندانی کہ اثبات وحی باطنی وعصمت مرغیر انبیاء را مخالفت سنت واز جنس اختراع بدعت یہ نہ سمجھنا کہ باطنی وحی اور عصمت کو غیر انبیاء کے لئے ثابت کرنا خلاف سنت اور
حوالہ / References
صراط مستقیم فصل ثانی المکتبۃ السلفیہ لاہور ص۳۳
صراط مستقیم فصل ثانی المکتبۃ السلفیہ لاہور ص۳۴
صراط مستقیم فصل ثانی المکتبۃ السلفیہ لاہور ص۳۵
صراط مستقیم فصل ثانی المکتبۃ السلفیہ لاہور ص۳۵
صراط مستقیم فصل ثانی المکتبۃ السلفیہ لاہور ص۳۴
صراط مستقیم فصل ثانی المکتبۃ السلفیہ لاہور ص۳۵
صراط مستقیم فصل ثانی المکتبۃ السلفیہ لاہور ص۳۵
است وندانی کہ ارباب ایں کمال از عالم منقطع شدہ اند ۔ از قبیل اختراع بدعت ہے اور یہ بھی نہ سمجھنا کہ اس کمال کے لوگ دنیا سے ختم ہوچکے ہیں۔ (ت)
یہاں صاف تصریحیں ہیں کہ ان کے بعض خیال اولیاء کو احکام شریعت بے وساطت انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام وحی باطنی سے پہنچتے ہیں وہ احکام شریعت میں ایك وجہ سے خود محقق اور پیروی انبیاء سے مستغنی ہوتے ہیں وہ مثل انبیاء معصوم ہوتے ہیں۔
اقول : اور احکام شریعت میں بھی کلیہ کی تصریح کردی کہ کوئی ناواقف دھوکا نہ کھائے کہ یہ لوگ مجتہدین امت سے ہیں اگرچہ بے وساطت انبیاء حکم پہنچنا ہی اخراج مجتہد کوبس تھا مگر زیادت فرق وکمال صراحت کے لئے احکام کلیہ کا اونچا طرہ چمکتاپھندنا لٹکا دیا کہ احکام کلیہ شرعیہ تو نبی ارشاد فرما تاہے مجتہد کی اتنی شان کہ ان سے احکام جزئیہ استنباط کرتاہے یہاں ایسا نہیں بلکہ انھیں خود احکام کلیہ شریعت بے وساطت نبی بذریعہ وحی پہنچتے ہیں مسلمانو! خدا کے واسطے اور نبی کسے کہتے ہیں یہ صراحۃ غیر نبی کو نبی بنایا کہ صریح کفرہے اور نبی بھی کیسا صاحب شریعت۔ تفسیر عزیزی شاہ عبدالعزیز صاحب سورہ بقرہ ص ۴۴۳ :
معرفت احکام شرعیہ بدون تو سیط نبی ممکن نیست ۔ شرعی احکام کی معرفت انبیاء کی وساطت کے بغیر ممکن نہیں۔ (ت)
تحفہ اثنا عشریہ شاہ صاحب موصوف مطبع کلکتہ ۱۲۴۳ھ ص ۱۴۰ :
انچہ گفتہ است کہ فاطمہ بنت اسد راوحی آمد کہ درخانہ کعبہ برود ووضع حمل نماید در وغیست پر بیمزہ زیرا کہ کسے از فرق اسلامیہ وغیر اسلامیہ قائل بہ نبوت فاطمہ بنت اسد نشدہ ۔ جوکہا جاتاہے کہ فاطمہ بنت اسد کو وحی آئی کہ تو خانہ کعبہ میں جا اور وہاں بچے کی پیدائش کر یہ سب جھوٹ اور بے پر بات ہے کیونکہ کوئی بھی اسلامی اور غیر اسلامی فرقہ فاطمہ بنت اسد کی نبوت کا قائل نہیں ہے۔ (ت)
الدرالثمین شاہ ولی الله صاحب مطبع احمدی ص ۵ :
الامام عندھم ھو المعصوم المفترض رافضیوں کے نزدیك امام وہ ہے کہ معصوم اور اس کی
یہاں صاف تصریحیں ہیں کہ ان کے بعض خیال اولیاء کو احکام شریعت بے وساطت انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام وحی باطنی سے پہنچتے ہیں وہ احکام شریعت میں ایك وجہ سے خود محقق اور پیروی انبیاء سے مستغنی ہوتے ہیں وہ مثل انبیاء معصوم ہوتے ہیں۔
اقول : اور احکام شریعت میں بھی کلیہ کی تصریح کردی کہ کوئی ناواقف دھوکا نہ کھائے کہ یہ لوگ مجتہدین امت سے ہیں اگرچہ بے وساطت انبیاء حکم پہنچنا ہی اخراج مجتہد کوبس تھا مگر زیادت فرق وکمال صراحت کے لئے احکام کلیہ کا اونچا طرہ چمکتاپھندنا لٹکا دیا کہ احکام کلیہ شرعیہ تو نبی ارشاد فرما تاہے مجتہد کی اتنی شان کہ ان سے احکام جزئیہ استنباط کرتاہے یہاں ایسا نہیں بلکہ انھیں خود احکام کلیہ شریعت بے وساطت نبی بذریعہ وحی پہنچتے ہیں مسلمانو! خدا کے واسطے اور نبی کسے کہتے ہیں یہ صراحۃ غیر نبی کو نبی بنایا کہ صریح کفرہے اور نبی بھی کیسا صاحب شریعت۔ تفسیر عزیزی شاہ عبدالعزیز صاحب سورہ بقرہ ص ۴۴۳ :
معرفت احکام شرعیہ بدون تو سیط نبی ممکن نیست ۔ شرعی احکام کی معرفت انبیاء کی وساطت کے بغیر ممکن نہیں۔ (ت)
تحفہ اثنا عشریہ شاہ صاحب موصوف مطبع کلکتہ ۱۲۴۳ھ ص ۱۴۰ :
انچہ گفتہ است کہ فاطمہ بنت اسد راوحی آمد کہ درخانہ کعبہ برود ووضع حمل نماید در وغیست پر بیمزہ زیرا کہ کسے از فرق اسلامیہ وغیر اسلامیہ قائل بہ نبوت فاطمہ بنت اسد نشدہ ۔ جوکہا جاتاہے کہ فاطمہ بنت اسد کو وحی آئی کہ تو خانہ کعبہ میں جا اور وہاں بچے کی پیدائش کر یہ سب جھوٹ اور بے پر بات ہے کیونکہ کوئی بھی اسلامی اور غیر اسلامی فرقہ فاطمہ بنت اسد کی نبوت کا قائل نہیں ہے۔ (ت)
الدرالثمین شاہ ولی الله صاحب مطبع احمدی ص ۵ :
الامام عندھم ھو المعصوم المفترض رافضیوں کے نزدیك امام وہ ہے کہ معصوم اور اس کی
حوالہ / References
صراط مستقیم ہدایت رابعہ در بیان ثمرات حب ایمانی المکتبۃ السلفیہ لاہور ص۳۶
فتح العزیز(تفسیر عزیزی) بیان افراط فرقہ امامیہ مطبع مجتبائی دہلی ص۴۴۹
تحفہ اثناء عشریہ کیدہشتاد وہفتم سہیل اکیڈمی لاہور ص۷۹
فتح العزیز(تفسیر عزیزی) بیان افراط فرقہ امامیہ مطبع مجتبائی دہلی ص۴۴۹
تحفہ اثناء عشریہ کیدہشتاد وہفتم سہیل اکیڈمی لاہور ص۷۹
طاعتہ الموحی الیہ وحیا باطنیا وھذا ھو معنی النبی فمذھبھم یستلزم انکار ختم نبوۃ قبحھم اﷲ تعالی ۔ اطاعت فرض اور اس کی طرف وحی باطنی آتی ہو اور یہی معنی نبی کے ہیں تو ان کے مذہب سے ختم نبوت کا انکار لازم آتاہے الله ان کا برا کرے
دیکھو یہ وہی امامت وہی عصمت وہی وحی باطنی ہے جسے شاہ ولی الله صاحب ختم نبوت کے انکار کو مستلزم بتاتے ہیں شفاء شریف کا قول گزرا کہ صرف وحی کا دعوی کفرہے اگرچہ نبوت کا مدعی نہ ہو۔
کفریہ ششم : صراط مستقیم ص ۹۵ :
صرف ہمت بسوئے شیخ وامثال آں از معظمین گو جناب رسالت مآب باشند بچندیں مرتبہ بدتر از استغراق دو صورت گاؤ خرخود است کہ خیال آن باتعظیم واجلال بسویدائے دل انسان می چپد وایں تعظیم واجلال غیر کہ در نماز ملحوظ ومقصود می شود بشرك می کشد ۔ اپنی ہمت کو شیخ اور ان جیسے معظم لوگوں خواہ جناب رسالتمآب ہوں کی طرف مبذول کرنا اپنے گائے اور گدھے کی صورت میں مستغرق ہونے سے بھی کئی گنا بدتر ہے کیونکہ ان کا خیال تعظیم اور اجلال کے ساتھ انسان کے دل کی گہرائی میں چپك جاتا ہے اوریہ غیر کی تعظیم و اجلال نمازمیں ملحوظ ومقصود ہو تو شرك کی طرف کھینچ لیتی ہے۔ (ت)
یہ صراحۃ حضور اقدس سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو فحش گالی دیناہے اور ان کی شان میں ادنی گستاخی کفر جس کی مبارك مقدس منور تفصیل شفاشریف اور اس کی شرح میں ہے۔ لله انصاف! بدرجہاں بدتر گناہ درکنار اگر تمھارا بیٹا یا نوکر یا غلام تمھاری کسی شے کو گدھے یا کتے سے صرف تشبیہ ہی دے کہ تمھاری فلاں بات گدھے کی سی ہے فلاں چیز کتے سے ملتی ہے تو کیا اس نے تمھیں گالی نہ دی کیا تمھارے ساتھ شدید گستاخی نہ کی ذرا اپنے کلیجہ پر ہاتھ رکھ کر دیکھو تو جانو کہ اس ملعون قول نے مسلمانوں کے سچے نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو کھلی دشنام دے کر ان کے دلوں پر کیسا زخم عظیم پہنچایا “ و سیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون ﴿۲۲۷﴾ “ (اب جان جائیں گے ظالم کہ کس کروٹ پر پلٹا کھائیں گے۔ ت)
“ ان الذین یؤذون اللہ و رسولہ لعنہم اللہ بیشك جو ایذا دیتے ہیں الله اور اس کے رسول کو ان پر
دیکھو یہ وہی امامت وہی عصمت وہی وحی باطنی ہے جسے شاہ ولی الله صاحب ختم نبوت کے انکار کو مستلزم بتاتے ہیں شفاء شریف کا قول گزرا کہ صرف وحی کا دعوی کفرہے اگرچہ نبوت کا مدعی نہ ہو۔
کفریہ ششم : صراط مستقیم ص ۹۵ :
صرف ہمت بسوئے شیخ وامثال آں از معظمین گو جناب رسالت مآب باشند بچندیں مرتبہ بدتر از استغراق دو صورت گاؤ خرخود است کہ خیال آن باتعظیم واجلال بسویدائے دل انسان می چپد وایں تعظیم واجلال غیر کہ در نماز ملحوظ ومقصود می شود بشرك می کشد ۔ اپنی ہمت کو شیخ اور ان جیسے معظم لوگوں خواہ جناب رسالتمآب ہوں کی طرف مبذول کرنا اپنے گائے اور گدھے کی صورت میں مستغرق ہونے سے بھی کئی گنا بدتر ہے کیونکہ ان کا خیال تعظیم اور اجلال کے ساتھ انسان کے دل کی گہرائی میں چپك جاتا ہے اوریہ غیر کی تعظیم و اجلال نمازمیں ملحوظ ومقصود ہو تو شرك کی طرف کھینچ لیتی ہے۔ (ت)
یہ صراحۃ حضور اقدس سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو فحش گالی دیناہے اور ان کی شان میں ادنی گستاخی کفر جس کی مبارك مقدس منور تفصیل شفاشریف اور اس کی شرح میں ہے۔ لله انصاف! بدرجہاں بدتر گناہ درکنار اگر تمھارا بیٹا یا نوکر یا غلام تمھاری کسی شے کو گدھے یا کتے سے صرف تشبیہ ہی دے کہ تمھاری فلاں بات گدھے کی سی ہے فلاں چیز کتے سے ملتی ہے تو کیا اس نے تمھیں گالی نہ دی کیا تمھارے ساتھ شدید گستاخی نہ کی ذرا اپنے کلیجہ پر ہاتھ رکھ کر دیکھو تو جانو کہ اس ملعون قول نے مسلمانوں کے سچے نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو کھلی دشنام دے کر ان کے دلوں پر کیسا زخم عظیم پہنچایا “ و سیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون ﴿۲۲۷﴾ “ (اب جان جائیں گے ظالم کہ کس کروٹ پر پلٹا کھائیں گے۔ ت)
“ ان الذین یؤذون اللہ و رسولہ لعنہم اللہ بیشك جو ایذا دیتے ہیں الله اور اس کے رسول کو ان پر
حوالہ / References
الدرالثمین شاہ ولی اللہ
صراط مستقیم باب دوم فصل سوم المکتبۃ السلفیہ لاہور ص۸۶
ا لقرآن الکریم ۲۶ / ۲۲۷
صراط مستقیم باب دوم فصل سوم المکتبۃ السلفیہ لاہور ص۸۶
ا لقرآن الکریم ۲۶ / ۲۲۷
“ فی الدنیا و الاخرۃ و اعد لہم عذابا مہینا ﴿۵۷﴾ “ الله کی لعنت ہے دنیا اور آخرت میں اور الله نے ان کے لئے ذلت کاعذاب تیار کر رکھا ہے۔ (ت)
اوریہ وجہ خبیث خود بھی کہ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا خیال آئے گا تو عظمت کے ساتھ اور ان کی نوبت شرك تك پہنچے گی اس قائل کو لزوم کفر تك پہنچانے کے لئے بوجہ کافی کہ اس بناء پر التحیات میں السلام علیك ایھا النبی ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ اور اشھدان محمدا عبدہ ورسولہ پچھلے قعدہ میں اللھم صلی علی محمد وال محمد ہر رکعت میں صراط الذین انعمت علیہم یوں ہی نمازوں میں وہ سورۃ وآیت جس میں حضور پر نور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم یا کسی نبی یا ملك یا کسی نیك بندے یا کعبہ وغیرہ معظمات دینیہ کا ذکر یا خطاب رہے خلاصہ ی کہ الھکم التکاثر کے سوا الحمد وغیرہ کسی سورت کا پڑھنا سب معاذالله شرك کی راہ ہوا اور شریعت محمدیہ علی صاحبہا افضل الصلوۃ والتحیۃ عیاذابالله ان شرکیات کی واجب وسنت وجائز کرنے والی ہوئی صحابہ سے آج تك تمام مسلمان کہ ان امور پر اجماع کئے ہوئے ہیں سب شرك میں گرفتار ٹھہرے اس سے بڑھ کر اورکیا کلمہ کفر ہوگا۔ شفاء شریف ص ۳۶۲ و ۳۶۳ :
نقطع بتکفیر کل قائل قال قولا یتوصل بہ الی تضلیل الامۃ ۔ جو شخص ایسی بات کہے جس سے تمام امت کے گمراہ ٹھہرنے کی راہ نکلتی ہو ہم بالیقین اسے کافر کہتے ہیں۔
حجۃ الله البالغہ شاہ ولی الله دہلوی مطبع صدیقی ص ۲۱۰ :
ثم اختار بعدہ السلام علی النبی صلی اﷲ تعالی علیہ والہ وسلم تنویھا بذکرہ و اثباتا للاقرار برسالتہ واداء لبعض حقوقہ ۔ پھر اس کے بعد التحیات میں نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم پر سلام اختیار کیا ان کا ذکر پاك بلند اور ان کی وساطت کا اقرار ثابت اوران کے حقوق کا ایك پارہ اداکرنے کے لئے۔
مکتوبات جناب شیخ مجدد صاحب مطبو لکھنؤ ج ۲ مکتوب ۳۰ ص ۴۶ :
خواجہ محمد اشرف ورزش نسبت رابطہ نوشتہ بودند کہ سجدے استیلا یافتہ است کہ در صلوۃ آنرا خواجہ محمد اشرف ورزش نے رابطہ(تصویر شیخ)کی نسبت لکھا ہے کہ اس کا اس حد تك غلبہ ہے کہ نمازوں
اوریہ وجہ خبیث خود بھی کہ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا خیال آئے گا تو عظمت کے ساتھ اور ان کی نوبت شرك تك پہنچے گی اس قائل کو لزوم کفر تك پہنچانے کے لئے بوجہ کافی کہ اس بناء پر التحیات میں السلام علیك ایھا النبی ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ اور اشھدان محمدا عبدہ ورسولہ پچھلے قعدہ میں اللھم صلی علی محمد وال محمد ہر رکعت میں صراط الذین انعمت علیہم یوں ہی نمازوں میں وہ سورۃ وآیت جس میں حضور پر نور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم یا کسی نبی یا ملك یا کسی نیك بندے یا کعبہ وغیرہ معظمات دینیہ کا ذکر یا خطاب رہے خلاصہ ی کہ الھکم التکاثر کے سوا الحمد وغیرہ کسی سورت کا پڑھنا سب معاذالله شرك کی راہ ہوا اور شریعت محمدیہ علی صاحبہا افضل الصلوۃ والتحیۃ عیاذابالله ان شرکیات کی واجب وسنت وجائز کرنے والی ہوئی صحابہ سے آج تك تمام مسلمان کہ ان امور پر اجماع کئے ہوئے ہیں سب شرك میں گرفتار ٹھہرے اس سے بڑھ کر اورکیا کلمہ کفر ہوگا۔ شفاء شریف ص ۳۶۲ و ۳۶۳ :
نقطع بتکفیر کل قائل قال قولا یتوصل بہ الی تضلیل الامۃ ۔ جو شخص ایسی بات کہے جس سے تمام امت کے گمراہ ٹھہرنے کی راہ نکلتی ہو ہم بالیقین اسے کافر کہتے ہیں۔
حجۃ الله البالغہ شاہ ولی الله دہلوی مطبع صدیقی ص ۲۱۰ :
ثم اختار بعدہ السلام علی النبی صلی اﷲ تعالی علیہ والہ وسلم تنویھا بذکرہ و اثباتا للاقرار برسالتہ واداء لبعض حقوقہ ۔ پھر اس کے بعد التحیات میں نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم پر سلام اختیار کیا ان کا ذکر پاك بلند اور ان کی وساطت کا اقرار ثابت اوران کے حقوق کا ایك پارہ اداکرنے کے لئے۔
مکتوبات جناب شیخ مجدد صاحب مطبو لکھنؤ ج ۲ مکتوب ۳۰ ص ۴۶ :
خواجہ محمد اشرف ورزش نسبت رابطہ نوشتہ بودند کہ سجدے استیلا یافتہ است کہ در صلوۃ آنرا خواجہ محمد اشرف ورزش نے رابطہ(تصویر شیخ)کی نسبت لکھا ہے کہ اس کا اس حد تك غلبہ ہے کہ نمازوں
حوالہ / References
القرآن الکریم ۳۳ /۵۷
الشفاء بتعریف حقوق المصطفی فصل فی بیان ماھومن المقالات المطبعۃ الشرکہ الصحافیہ ۲ / ۲۷۱
حجۃ الله البالغہ الامور التی لابدمنہافی الصلٰوۃ المکتبہ السلفیہ لاہور ۲ / ۶
الشفاء بتعریف حقوق المصطفی فصل فی بیان ماھومن المقالات المطبعۃ الشرکہ الصحافیہ ۲ / ۲۷۱
حجۃ الله البالغہ الامور التی لابدمنہافی الصلٰوۃ المکتبہ السلفیہ لاہور ۲ / ۶
مسجود خو د میداند وبیند واگر فرضا نفی کند منتفی نمیگردد محبت اطوارایں دولت متمنائے طلاب ست از ہزاران یکے رامگر بد ہند صاحب ایں معاملہ مستعد تام المناسبۃ ست یحتمل کہ باندك صحبت شیخ متقدا جمیع کمالات او راجذب نماید رابطہ راچرا نفی کنند کہ او مسجود الیہ است نہ مسجود لہ چرامحاریب و مساجد رانفی نہ کنند وظہور ایں قسم دولت سعادتمندان رامیسر است تادرجمیع احوال صاحب رابطہ را متوسط خود دانند ودرجمیع اوقات متوجہ او باشند نہ درنگ جماعہ بیدولت کہ خود رامستغنی دانند وقبلہ توجہ را از شیخ خودمنحرف ساز ند و معاملہ خود رابرہم زنند ۔ میں اپنا مسجود جانتے اور دیکھتے ہیں اور اگر ا س رابطہ کو ختم کرنے کی کوشش کریں تو بھی ختم نہیں ہوتا(تواس پر آپ نے فرمایا)اس دولت کے حصول کی خواہش ہزاروں طالبوں کی تمنا ہے مگر کسی ایك کو عطا ہوتی ہے اس کیفیت والاشیخ سے مکمل مناسبت کے لئے مستعد ہوتاہے وہ امید کرتاہے کہ اپنے مقتداشیخ کی صحبت کی کمی ا سکے تمام کمالات کو جذب کر دے گی لوگ رابطہ(تصور شیخ)کی نفی کیوں کرتے حالانکہ وہ مسجود الیہ ہے مسجود لہ نہیں ہے یہ لوگ محرابوں اور مسجودوں کی نفی کیوں نہیں کرتے(حالانکہ وہ مسجود الیہ ہیں)اس قسم کی دولت کا ظہور سعاتمندوں کو نصیب ہوتاہے حتی کہ تمام احوال میں وہ صاحب رابطہ(شیخ)کواپنا وسیلہ جانتے ہیں اور ہمہ وقت ا س کی طرف متوجہ رہتے ہیں اس بے دولت جماعت کی طرح نہیں ہوتے جواپنے آپ کو شیخ سے مستغنی جانتے ہیں اور اپنی توجہ کا قبلہ شیخ سے پھیر کر خود سر ہوجاتے ہیں۔ (ت)
سبحان الله! کہاں تو اس شخص کا وہ کفری بول کہ نماز میں محمد رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا خیال آیا اور خاکش بدہن شرك نے منہ پھیلایا نہ فقط نماز برباد کہ ایمان ہی ابتر تف بر روئے کا فروش و کفر ان کے(بدگویوں کی)طرف خیال لے جانا اپنے بیل اورگدھے کے نہ صرف تصور بلکہ ہمہ تن اس میں ڈوب جانے سے بدر جہانج بدتر اور کہاں شیخ طریقت وآقائے نعمت وخداوند دولت خاندان دہلی حضرت شیخ مجدد کایہ واشگاف قول کہ تصور صورت شیخ سے غافل نہ ہونمازوں عبادتوں سب وقتوں حالتوں میں اسی کی طرف متوجہ رہو اگرچہ عین نماز میں اسی صورت کو سجدہ محسوس ہو کہ وہ قبلہ عبادت ہے نہ مسجودلہ جو اس قبلہ سے پھرا وہ بے دولت تباہ ہوا اس کا کام بربادہوگیا تصویر شیخ کی ایسی دولت سعادت مندوں کو ملتی ہے طالبان خداس کو ا س کی بہت تمنا رہتی ہے غرض وہ بول یہ قول باہم لڑے ہیں کفر وشرك کے عقاب پرتولے کھڑے ہیں دیکھئے وہابی صاحب کدھر ڈھالتے ہیں ادھر جھکاتے ہیں یا ادھر ڈالتے ہیں
سبحان الله! کہاں تو اس شخص کا وہ کفری بول کہ نماز میں محمد رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا خیال آیا اور خاکش بدہن شرك نے منہ پھیلایا نہ فقط نماز برباد کہ ایمان ہی ابتر تف بر روئے کا فروش و کفر ان کے(بدگویوں کی)طرف خیال لے جانا اپنے بیل اورگدھے کے نہ صرف تصور بلکہ ہمہ تن اس میں ڈوب جانے سے بدر جہانج بدتر اور کہاں شیخ طریقت وآقائے نعمت وخداوند دولت خاندان دہلی حضرت شیخ مجدد کایہ واشگاف قول کہ تصور صورت شیخ سے غافل نہ ہونمازوں عبادتوں سب وقتوں حالتوں میں اسی کی طرف متوجہ رہو اگرچہ عین نماز میں اسی صورت کو سجدہ محسوس ہو کہ وہ قبلہ عبادت ہے نہ مسجودلہ جو اس قبلہ سے پھرا وہ بے دولت تباہ ہوا اس کا کام بربادہوگیا تصویر شیخ کی ایسی دولت سعادت مندوں کو ملتی ہے طالبان خداس کو ا س کی بہت تمنا رہتی ہے غرض وہ بول یہ قول باہم لڑے ہیں کفر وشرك کے عقاب پرتولے کھڑے ہیں دیکھئے وہابی صاحب کدھر ڈھالتے ہیں ادھر جھکاتے ہیں یا ادھر ڈالتے ہیں
حوالہ / References
مکتوبات امام ربانی مکتوب ۳۰ خواجہ محمد اشرف وحاجی محمد نولشکور لکھنؤ ۲ / ۴۶
یادامن یار رفت از دست یا ایں دل زار رفت از دست
(یار کا دامن ہاتھ سے گیا یا یہ آزردہ دل سے ہاتھ گیا۔ ت)
“ کذلک العذاب و لعذاب الاخرۃ اکبر لو کانوا یعلمون ﴿۳۳﴾ “ مارایسی ہوتی ہے اور بیشك آخرت کی مار سب سے بڑی کیا اچھا تھا اگروہ جانتے(ت)
کفریہ ہفتم : رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ایك حدیث میں ختم دنیا کا حال ارشاد فرمایا کہ الله تعالی ایك پاکیزہ ہوا بھیجے گا جو ساری دنیا سے مسلمانوں کو اٹھا لے گی جس کے دل میں رائی برابر بھی ایمان ہوگا وفات پائے گا زمین میں نرے کافر رہ جائیں گے پھر بتوں کی پوجا بدستور جاری ہوجائے گی تقویۃ الایمان ص۴۴ پر حدیث بحوالہ مشکوۃ نقل کی اور خود اس کا ترجمہ کیا :
“ پھر بھیجے گا الله ایك باد اچھی سوجان نکالے گی جس کے دل میں ہوگا رائی کے دانے بھرایمان سو رہ جائیں گے
وہی لوگ جن میں کچھ بھلائی نہیں سو پھر جاویں گے اپنے دادوں کے دین پر “ ۔
حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے یہ بھی صراحۃ ارشادفرمادیا تھا کہ وہ ہوا خروج دجال لعین ونزول حضرت مسیح علیہ الصلوۃ والسلام کے بعد آئے گی تقویۃ الایمان میں حدیث کے یہ لفظ بھی نقل کئے اور ان کا ترجمہ لکھا ص ۴۵ : “ نکلے کا دجال سو بھیجے گا الله عیسی بیٹے مریم کو سووہ ڈھونڈھے گا ا س کو پھر بھیجے گاالله ایك باد ٹھنڈی شام کی طرف سے سو نہ باقی رہے گا زمین پر کوئی کہ اس دل میں ذرہ بھر ایمان ہو مگر کہ مارڈالے گی اس کو ۔ “
بااینہمہ حدیث مذکور لکھ کر اسی صفحہ پر صاف لکھ دیا : “ سو پیغمبر خدا کے فرمان کے موافق ہوا ۔ “
اب نہ خروج دجال کا اتنظار نہ نزول مسیح درکار ان کے نصیبوں وہ ہوا ابھی چلی گئی تمام مسلمانوں کے کافر بت پرست بنانے کو ختم دینا کی حدیث صاف صاف اپنے زمانہ موجودہ پر جمادی یہ کھلم کھلا اپنے اور اپنے تمام پیروؤں کے کفر شرك کا اقرار ہوا کہ جب یہ وہی زمانہ ہے جس کی اس حدیث نے خبر دی تو دنیا کے پردے پر کوئی مسلمان نہیں سب
(یار کا دامن ہاتھ سے گیا یا یہ آزردہ دل سے ہاتھ گیا۔ ت)
“ کذلک العذاب و لعذاب الاخرۃ اکبر لو کانوا یعلمون ﴿۳۳﴾ “ مارایسی ہوتی ہے اور بیشك آخرت کی مار سب سے بڑی کیا اچھا تھا اگروہ جانتے(ت)
کفریہ ہفتم : رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ایك حدیث میں ختم دنیا کا حال ارشاد فرمایا کہ الله تعالی ایك پاکیزہ ہوا بھیجے گا جو ساری دنیا سے مسلمانوں کو اٹھا لے گی جس کے دل میں رائی برابر بھی ایمان ہوگا وفات پائے گا زمین میں نرے کافر رہ جائیں گے پھر بتوں کی پوجا بدستور جاری ہوجائے گی تقویۃ الایمان ص۴۴ پر حدیث بحوالہ مشکوۃ نقل کی اور خود اس کا ترجمہ کیا :
“ پھر بھیجے گا الله ایك باد اچھی سوجان نکالے گی جس کے دل میں ہوگا رائی کے دانے بھرایمان سو رہ جائیں گے
وہی لوگ جن میں کچھ بھلائی نہیں سو پھر جاویں گے اپنے دادوں کے دین پر “ ۔
حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے یہ بھی صراحۃ ارشادفرمادیا تھا کہ وہ ہوا خروج دجال لعین ونزول حضرت مسیح علیہ الصلوۃ والسلام کے بعد آئے گی تقویۃ الایمان میں حدیث کے یہ لفظ بھی نقل کئے اور ان کا ترجمہ لکھا ص ۴۵ : “ نکلے کا دجال سو بھیجے گا الله عیسی بیٹے مریم کو سووہ ڈھونڈھے گا ا س کو پھر بھیجے گاالله ایك باد ٹھنڈی شام کی طرف سے سو نہ باقی رہے گا زمین پر کوئی کہ اس دل میں ذرہ بھر ایمان ہو مگر کہ مارڈالے گی اس کو ۔ “
بااینہمہ حدیث مذکور لکھ کر اسی صفحہ پر صاف لکھ دیا : “ سو پیغمبر خدا کے فرمان کے موافق ہوا ۔ “
اب نہ خروج دجال کا اتنظار نہ نزول مسیح درکار ان کے نصیبوں وہ ہوا ابھی چلی گئی تمام مسلمانوں کے کافر بت پرست بنانے کو ختم دینا کی حدیث صاف صاف اپنے زمانہ موجودہ پر جمادی یہ کھلم کھلا اپنے اور اپنے تمام پیروؤں کے کفر شرك کا اقرار ہوا کہ جب یہ وہی زمانہ ہے جس کی اس حدیث نے خبر دی تو دنیا کے پردے پر کوئی مسلمان نہیں سب
حوالہ / References
القرآن الکریم ۶۸ /۳۳
تقویۃ الایمان الفصل الرابع فی ذکر ردالاشراك فی العبادہ مطبع علیمی اندرون لوہاری دروازہ لاہور ص۳۱
تقویۃ الایمان الفصل الرابع فی ذکر ردالاشراك فی العبادہ مطبع علیمی اندرون لوہاری دروازہ لاہور ص۳۱
تقویۃ الایمان الفصل الرابع فی ذکر ردالاشراك فی العبادہ مطبع علیمی اندرون لوہاری دروازہ لاہور ص۳۰
تقویۃ الایمان الفصل الرابع فی ذکر ردالاشراك فی العبادہ مطبع علیمی اندرون لوہاری دروازہ لاہور ص۳۱
تقویۃ الایمان الفصل الرابع فی ذکر ردالاشراك فی العبادہ مطبع علیمی اندرون لوہاری دروازہ لاہور ص۳۱
تقویۃ الایمان الفصل الرابع فی ذکر ردالاشراك فی العبادہ مطبع علیمی اندرون لوہاری دروازہ لاہور ص۳۰
کافر بت پرست ہیں جن میں یہ خود اوراس کے پیر و بھی داخل اور جو کفر کا اقرار کرے آپ کافر ہے۔
خلاصہ وتکملہ لسان الحکام للعلامۃ ابراہیم الحلبی مطبوعہ مصر ۱۲۹۹ھ ص ۵۷ :
فی النوازل رجل قال انا ملحد یکفر ۔ نوازل میں ہے جو اپنے کفر کا اقرار کرے کافرہے۔
عالمگیری ج ۲ س ۲۷۹ :
مسلم قال انا ملحد یکفر ولوقال ما علمت انہ کفر لایعذر بھذا ۔ جو مسلمان اپنے ملحد ہونے کا اقرار کرے کافر ہوجائے گا اوراگر کہے میں نہ جانتا تھا کہ اس میں مجھ پر کفر عائد ہوگا تو یہ عذر نہ سنا جائے گا۔
پھر اس میں تمام امت کو کافر بنایا یہ دوسرا کفر ہے شفاء شریف کی عبارت ابھی سن چکے غرض اس کی کتابوں میں ایسے کفریات بکثرت ہیں جن پر بلا مبالغہ صدہا نہیں ہزارہاں وجہ سے کفر لازم جسے یقین نہ آئے ہمارا رسالہ الکوکبہ الشہابیہ یا دیگر تحریرات رائقہ البارقہ الشارقۃ علی مارقۃ المشارقۃ وغیرہا مطالعہ کرے۔ یہ طائفہ وہابیہ کہ اس کے پیرو ا س کے ہم مذہب ا س کے کلمات کی تصحیح وتحسین کرتے اسے امام وپیشوا مقتدا مانتے ہیں وہ سب کفریات ان پر بھی عائد اعلام بقواطع الاسلام میں ہمارے علمائے کرام سے کفر متفق علیہ کی فصل میں منقول مطبع مصر ص ۳۱ :
من تلفظ بلفظ کفر یکفر وکذا کل من ضحك علیہ اواستحسنہ او رضی بہ یکفر ۔ جو کفر کا لف بولے کافر ہوا اسی طرح جو ا س پر ہنسے یااچھا سمجھے یا راضی ہو کافر ہوجائے۔
بحرالرائق ج ۵ ص ۱۲۴ :
من حسن کلام اھل الاھواء وقال معنوی او کلام لہ معنی صحیح ان کان ذلك کفرا من القائل کفر المحسن ۔ جو بدمذہبوں کے کلام کو اچھا جانے یا کہے بامعنی ہے یا یہ کلام کوئی معنی صحیح رکھتاہے اگروہ اس قائل سے کلمہ کفر تھا تو یہ اچھا بتانے والا کافر ہوگیا۔
پھر ان کی عبادت دائمی کہ جس مسلمان کو مقلد پائے شرك بتائیں بحکم احادیث صحیحہ وروایات مصححہ فقہیہ ان پر لزوم کفر کے لئے بس ہے صحیح بخاری مطبع احمدی قدیم ج ۲ ص ۹۰۱ صحیح مسلم افضل المطابع ج ۱ ص ۵۷ :
ایما رجل اوقال الاخیہ کافر فقد باء بھا احدھما حضو رسید المرسلین صلی الله تعالی علیہ و الہ
خلاصہ وتکملہ لسان الحکام للعلامۃ ابراہیم الحلبی مطبوعہ مصر ۱۲۹۹ھ ص ۵۷ :
فی النوازل رجل قال انا ملحد یکفر ۔ نوازل میں ہے جو اپنے کفر کا اقرار کرے کافرہے۔
عالمگیری ج ۲ س ۲۷۹ :
مسلم قال انا ملحد یکفر ولوقال ما علمت انہ کفر لایعذر بھذا ۔ جو مسلمان اپنے ملحد ہونے کا اقرار کرے کافر ہوجائے گا اوراگر کہے میں نہ جانتا تھا کہ اس میں مجھ پر کفر عائد ہوگا تو یہ عذر نہ سنا جائے گا۔
پھر اس میں تمام امت کو کافر بنایا یہ دوسرا کفر ہے شفاء شریف کی عبارت ابھی سن چکے غرض اس کی کتابوں میں ایسے کفریات بکثرت ہیں جن پر بلا مبالغہ صدہا نہیں ہزارہاں وجہ سے کفر لازم جسے یقین نہ آئے ہمارا رسالہ الکوکبہ الشہابیہ یا دیگر تحریرات رائقہ البارقہ الشارقۃ علی مارقۃ المشارقۃ وغیرہا مطالعہ کرے۔ یہ طائفہ وہابیہ کہ اس کے پیرو ا س کے ہم مذہب ا س کے کلمات کی تصحیح وتحسین کرتے اسے امام وپیشوا مقتدا مانتے ہیں وہ سب کفریات ان پر بھی عائد اعلام بقواطع الاسلام میں ہمارے علمائے کرام سے کفر متفق علیہ کی فصل میں منقول مطبع مصر ص ۳۱ :
من تلفظ بلفظ کفر یکفر وکذا کل من ضحك علیہ اواستحسنہ او رضی بہ یکفر ۔ جو کفر کا لف بولے کافر ہوا اسی طرح جو ا س پر ہنسے یااچھا سمجھے یا راضی ہو کافر ہوجائے۔
بحرالرائق ج ۵ ص ۱۲۴ :
من حسن کلام اھل الاھواء وقال معنوی او کلام لہ معنی صحیح ان کان ذلك کفرا من القائل کفر المحسن ۔ جو بدمذہبوں کے کلام کو اچھا جانے یا کہے بامعنی ہے یا یہ کلام کوئی معنی صحیح رکھتاہے اگروہ اس قائل سے کلمہ کفر تھا تو یہ اچھا بتانے والا کافر ہوگیا۔
پھر ان کی عبادت دائمی کہ جس مسلمان کو مقلد پائے شرك بتائیں بحکم احادیث صحیحہ وروایات مصححہ فقہیہ ان پر لزوم کفر کے لئے بس ہے صحیح بخاری مطبع احمدی قدیم ج ۲ ص ۹۰۱ صحیح مسلم افضل المطابع ج ۱ ص ۵۷ :
ایما رجل اوقال الاخیہ کافر فقد باء بھا احدھما حضو رسید المرسلین صلی الله تعالی علیہ و الہ
حوالہ / References
خلاصۃ الفتاوٰی کتاب الفاظ الکفر فصل ثانی جنس خامس مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۴ / ۳۸۷
فتاوٰی ہندیہ الباب التاسع فی احکام المرتدین نورانی کتب خانہ پشاور ۲ / ۲۷۹
الاعلام بقواطع الاسلام مع سبل الجناۃ مکتبہ دارالشفقت استنبول ترکی ص۳۶۶
بحرالرائق باب احکام المرتدین ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۵ / ۱۲۴
فتاوٰی ہندیہ الباب التاسع فی احکام المرتدین نورانی کتب خانہ پشاور ۲ / ۲۷۹
الاعلام بقواطع الاسلام مع سبل الجناۃ مکتبہ دارالشفقت استنبول ترکی ص۳۶۶
بحرالرائق باب احکام المرتدین ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۵ / ۱۲۴
(زاد مسلم)ان کان کما قال والارجعت علیہ ۔ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی کلمہ گو کو کافر کہے ان میں ایك پر یہ بلاضرور پڑے اگر جسے کہا سچ کافر تھا تو خیر ور نہ یہ لفظ کہنے والا پر پلٹ آئے گا۔
حدیقہ ندیہ شرح طریقہ محمدیہ مطبع مصر ۱۲۷۶ھ ج ۲ ص ۱۵۶ :
کذلك یا مشرك ونحوہ ۔ اسی طرح کسی کو مشرك یااس کے مثل کوئی لفظ کہنا کہ جسے کہا وہ مشرك نہ تھا تو کہنے والا خود مشرك ہوگیا۔
ہم نے الکوکبۃ الشھابیہ اور نیز النھی الاکید عن الصلوۃ وراء عدی التقلید میں ثابت کیا کہ یہ معنی خود احادیث سے ثابت اور تقویۃالایمان اس دعوی کی مؤید ۱عالمگیری ج ۲ ص۲۷۸ : ۲ذخیرہ سے ۳برجندی شرح نقایہ مع لکھنوج ۲ ص ۶۸ ۴جامع الرموز مطبع کلکتہ ۱۲۷۴ ھ ج ۲ ص۴ ۶۵۱ دونوں ۵فصول عمادی سے ۶حدیقہ ندیہ ص ۱۴۰ و ۱۵۶ ۷احکام حاشیہ درر و غرر سے ۸جامع الفصولین ج ۲ ص ۳۱۱ ۹قاضی خاں سے ۱۰ردالمحتار مطبع استنبول ج ۳ ص ۲۸۳ ۱۱نہر الفائق سے ۱۲درمختار ص ۲۹۳ ۱۳شرح وہبانیہ سے ۱۴خزانۃ المفتین قلمی ج ۱ کتاب السیر آخر فصل الفاظ الکفر ۱۵بزازیہ ج ۳ ص ۳۳۱ :
المختار للفتوی فی جنس ھذہ المسائل ان القائل بمثل ھذہ المقالات ان کان ارادالشتم و لایعتقدہ کافر ا لایکفر وان کان یعتقدہ کافرا فخاطبہ بھذا بناء علی اعتقادہ انہ کافر یکفر ۔ اسی قسم کے مسائل میں فتوے کے لئے مختار یہ ہے کہ مسلمان کو اس طرح کا کوئی لفظ کہنے واالا اگر صرف دشنام دہی کا ارادہ کرے اور دل میں کافر نہ جانے تو کافر نہ ہوگا اور اگر اپنے مذہب کی روسے اسے کافر سمجھتاہے اس بناپر یوں کہا تو کافر ہوجائے گا۔
درمختار : بہ یفتی اسی تفصیل پر فتوی ہے۔ پر ظاہر کہ یہ لوگ اپنے مذہب واعتقاد کی روسے مسلمانوں کو
حدیقہ ندیہ شرح طریقہ محمدیہ مطبع مصر ۱۲۷۶ھ ج ۲ ص ۱۵۶ :
کذلك یا مشرك ونحوہ ۔ اسی طرح کسی کو مشرك یااس کے مثل کوئی لفظ کہنا کہ جسے کہا وہ مشرك نہ تھا تو کہنے والا خود مشرك ہوگیا۔
ہم نے الکوکبۃ الشھابیہ اور نیز النھی الاکید عن الصلوۃ وراء عدی التقلید میں ثابت کیا کہ یہ معنی خود احادیث سے ثابت اور تقویۃالایمان اس دعوی کی مؤید ۱عالمگیری ج ۲ ص۲۷۸ : ۲ذخیرہ سے ۳برجندی شرح نقایہ مع لکھنوج ۲ ص ۶۸ ۴جامع الرموز مطبع کلکتہ ۱۲۷۴ ھ ج ۲ ص۴ ۶۵۱ دونوں ۵فصول عمادی سے ۶حدیقہ ندیہ ص ۱۴۰ و ۱۵۶ ۷احکام حاشیہ درر و غرر سے ۸جامع الفصولین ج ۲ ص ۳۱۱ ۹قاضی خاں سے ۱۰ردالمحتار مطبع استنبول ج ۳ ص ۲۸۳ ۱۱نہر الفائق سے ۱۲درمختار ص ۲۹۳ ۱۳شرح وہبانیہ سے ۱۴خزانۃ المفتین قلمی ج ۱ کتاب السیر آخر فصل الفاظ الکفر ۱۵بزازیہ ج ۳ ص ۳۳۱ :
المختار للفتوی فی جنس ھذہ المسائل ان القائل بمثل ھذہ المقالات ان کان ارادالشتم و لایعتقدہ کافر ا لایکفر وان کان یعتقدہ کافرا فخاطبہ بھذا بناء علی اعتقادہ انہ کافر یکفر ۔ اسی قسم کے مسائل میں فتوے کے لئے مختار یہ ہے کہ مسلمان کو اس طرح کا کوئی لفظ کہنے واالا اگر صرف دشنام دہی کا ارادہ کرے اور دل میں کافر نہ جانے تو کافر نہ ہوگا اور اگر اپنے مذہب کی روسے اسے کافر سمجھتاہے اس بناپر یوں کہا تو کافر ہوجائے گا۔
درمختار : بہ یفتی اسی تفصیل پر فتوی ہے۔ پر ظاہر کہ یہ لوگ اپنے مذہب واعتقاد کی روسے مسلمانوں کو
حوالہ / References
صحیح مسلم کتاب الایمان قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۵۷
الحدیقہ الندیہ شرح الطریقۃ المحمدیہ النوع الرابع مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲ / ۲۳۶
فتاوٰی ہندیہ الباب التاسع فی احکام المرتدین نورانی کتب خانہ پشاور ۲ / ۲۷۸ ، الحدیقہ الندیہ النوع الرابع من الانواع الستین السب الخ مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲ / ۲۳۶ ، شرح النقیایہ للبرجندی کتاب الحدود نولکشور لکھنو ۴ / ۶۸ ، ردالمحتار باب التعزیر داراحیاء التراث العربی بیروت ۳ / ۱۸۳
درمختار باب التعزیر مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۳۲۷
الحدیقہ الندیہ شرح الطریقۃ المحمدیہ النوع الرابع مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲ / ۲۳۶
فتاوٰی ہندیہ الباب التاسع فی احکام المرتدین نورانی کتب خانہ پشاور ۲ / ۲۷۸ ، الحدیقہ الندیہ النوع الرابع من الانواع الستین السب الخ مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲ / ۲۳۶ ، شرح النقیایہ للبرجندی کتاب الحدود نولکشور لکھنو ۴ / ۶۸ ، ردالمحتار باب التعزیر داراحیاء التراث العربی بیروت ۳ / ۱۸۳
درمختار باب التعزیر مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۳۲۷
مشرك کہتے ہیں ان کا یہ عقیدہ ان کی کتب مثل تقویۃ الایمان وتنویر العینین وتصانیف بھوپالی وغیرہامیں جابجا مصرح تو حسب تصریحات مذکورہ فقہائے کرام ان پر لزوم کفر میں اصلا کلام نہیں باقی تفصیل ہمارے رسائل النہی الاکید والکوکبۃ الشھابیہ وحصہ اول مجلد ششم العطایا النبویہ فی الفتاوی الرضویہ میں ہے لاجرم علمائے مکہ معظمہ کے سردار بقیۃ السلف عمدۃ الابرار خاتمۃ المحققین شیخ الاسلام والمسلمین زبدۃ الکبراء البلدالامین شیخنا وبرکتنا وسیدنا وقدوتنا علامہ سید شریف احمد زینی دحلان مکی رضی الله تعالی عنہ وعنابہ وقدسنا بسرہ المکی نے کتاب مستطاب الدرالسنیہ فی الرد علی الوہابیہ میں کہ خاص اسی طائفہ کے ردمیں تالیف فرمائی اور مطبع بہیہ مصر میں طبع ہوئی ان گمراہوں کی نسبت تصریحا ارشاد فرمایا ص ۲۶ :
ھولاء الملحدہ المکفرۃ للمسلمین ۔ یہ ملحد کافر بے دین لوگ مسلمانوں کو کافر کہنے والے۔
ظاہر ہے کہ ملحد ایك فرقہ کفارہے بلکہ جمیع فرق کفر کو شامل ردالمحتار ج ۳ ص ۴۵۷ رسالہ علامہ ابن کمال پاشاسے :
الملحد اوسع فرق الکفر جدا ۔ ملحدتمام فرق کفار سے وسعت معنی میں زیادہ ہے۔
نیز علامہ سید شریف ممدوح نے فرمایا ص۳۰ :
امرالشریف مسعود ان یناظر علماء الحرمین العلماء الذین بعثوھم فناظروھم فوجدوھم ضحکۃ ومسخرۃ کحمر مستنفرۃ فرت من قسورۃ ونظر وا الی عقائد ھم فاذا ھی مشتملۃ علی کثیر من المکفرات ۔ مکہ معظمہ کے حاکم حضرت مسعود رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے علماء حرمین شریفین کو حکم دیا کہ وہابیوں کے مولویوں سے جو ان کے امام شیخ نجدی نے بھیجے ہیں مناظرہ کریں علمائے کرام نے ان ملوں سے مناظرہ فرمایا تو انھیں پایا کہ نرے مسخرے ہنسنے کے قابل ہیں جیسے بھڑکے ہوئے گدھے کہ شیر سے بھاگے ہوں اور ان کے عقائد کو غور فرمایا تو ان میں بہت باتیں وہ پائیں جن کا قائل کافر ہے۔
اسی رسالہ مبارکہ میں ص ۳۲ سے ۳۵ تك بہت حدیثیں نقل فرمائیں جن میں اسی فرقہ وہابیہ کے خروج کی خبر آئی ہے ان میں بھی جابجا ان کے کافر اور دین اسلام سے یکسر خارج ہونے کی تصریح ہے اس میں ان کے
ھولاء الملحدہ المکفرۃ للمسلمین ۔ یہ ملحد کافر بے دین لوگ مسلمانوں کو کافر کہنے والے۔
ظاہر ہے کہ ملحد ایك فرقہ کفارہے بلکہ جمیع فرق کفر کو شامل ردالمحتار ج ۳ ص ۴۵۷ رسالہ علامہ ابن کمال پاشاسے :
الملحد اوسع فرق الکفر جدا ۔ ملحدتمام فرق کفار سے وسعت معنی میں زیادہ ہے۔
نیز علامہ سید شریف ممدوح نے فرمایا ص۳۰ :
امرالشریف مسعود ان یناظر علماء الحرمین العلماء الذین بعثوھم فناظروھم فوجدوھم ضحکۃ ومسخرۃ کحمر مستنفرۃ فرت من قسورۃ ونظر وا الی عقائد ھم فاذا ھی مشتملۃ علی کثیر من المکفرات ۔ مکہ معظمہ کے حاکم حضرت مسعود رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے علماء حرمین شریفین کو حکم دیا کہ وہابیوں کے مولویوں سے جو ان کے امام شیخ نجدی نے بھیجے ہیں مناظرہ کریں علمائے کرام نے ان ملوں سے مناظرہ فرمایا تو انھیں پایا کہ نرے مسخرے ہنسنے کے قابل ہیں جیسے بھڑکے ہوئے گدھے کہ شیر سے بھاگے ہوں اور ان کے عقائد کو غور فرمایا تو ان میں بہت باتیں وہ پائیں جن کا قائل کافر ہے۔
اسی رسالہ مبارکہ میں ص ۳۲ سے ۳۵ تك بہت حدیثیں نقل فرمائیں جن میں اسی فرقہ وہابیہ کے خروج کی خبر آئی ہے ان میں بھی جابجا ان کے کافر اور دین اسلام سے یکسر خارج ہونے کی تصریح ہے اس میں ان کے
حوالہ / References
الدرالسنیہ فی الرد علی الوہابیہ مکتبۃ دارالشفقت ترکی ص۳۸
ردالمحتار باب المرتد دارحیاء التراث العربی بیروت ۳ / ۲۹۶
الدرالسنیہ فی الرد علی الوہابیہ مکتبۃ دارلشفقت ترکی ص ۴۳ و ۴۴
ردالمحتار باب المرتد دارحیاء التراث العربی بیروت ۳ / ۲۹۶
الدرالسنیہ فی الرد علی الوہابیہ مکتبۃ دارلشفقت ترکی ص ۴۳ و ۴۴
معلم او ل شیخ نجدی کی نسبت فرمایا ص ۲۷ : “ فبہت الذی کفر “ مدہوش ہوگیا کافر۔
بالجملہ اس میں شك نہیں کہ اس گروہ ناحق پژدہ ہزاروں وجہ سے کفر لازم اور جماہیر فقہائے کرام کی تصریحیں ان کے صریح کفر پر حکم۔
نسأل اﷲ تعالی العفو والعافیہ فی الدین والدنیا والاخرۃ۔ ہم الله تعالی سے دین اور آخر ت میں عفو و عافیت کا سوال کرتے ہیں۔ (ت)
تنبیہ نبیہ : یہ حکم فقہی متعلق بکلمات سفہی تھا مگر الله تعالی کے بے شمار رحمتیں بے حد برکتیں ہمارے علمائے کرام عظمائے اسلام معظمین کلمہ خیرالانام علیہ وعلیہم والسلام پر کہ یہ کچھ دیکھتے وہ کچھ سخت وشدید ایذائیں پاتے اس طائفہ کے پیر وپیرو سے ناحق ناروا بات پر سچے دل سے مسلمانوں خالص سنیوں کی نسبت حکم کفر وشرك سنتے ایسی ناپاك وغلیظ گالیان کھاتے ہیں بااینہمہ نہ شدت غضب دامن احتیاط ان کے ہاتھ سےچھڑاتی نہ ان نالائق ولایعنی خباثتوں پر قوت انتقام حرکت میں آتی ہے وہ اب تك یہی تحقیق فرمارہے ہیں کہ لزوم والتزام میں فرق ہے اقوال کا کلمہ کفر ہونااور بات اور قائل کو کافر مان لینا اور بات ہم احتیاط برتیں گے سکوت کریں گے جب تك ضعیف سا ضعیف احتمال ملے گا حکم کفر جاری کرتے ڈریں گے فقیر غفرالله تعالی لہ نے اس مبحث کا قدرے بیان آخر رسالہ سبحن السبوح عن عیب کذب مقبوح۱۳۰۷ھ میں کیا اور وہاں بھی بآنکہ اس امام وطائفہ پر صرف ایك مسئلہ امکان کذب میں اٹھتر۷۸وجہ سے لزوم کفر کا ثبوت دیا حکم کفر سے کف لسان ہی لیا۔
بالجملہ اس طائفہ حائفہ خصوصا ان کے پیشوا کا حال مثل یزید پلید علیہ ماعلیہ ہے کے محتاطین نے اس کی تکفیر سے سکوت پسند کیا ہاں یزید مرید اور ان کے امام عنید میں اتنا فرق ہے کہ اس خبیث سے ظلم وفسق وفجور متواتر مگر کفر متواتر نہیں اور ان حضرات سے یہ سب کلمات کفر اعلی درجہ تواتر پر ہیں پھر اگرچہ ہم براہ احتیاط تکفیر سے زبان روکیں ان کے رخسارو بواریہ کویہ کیا کم ہے کہ جماہیر ائمہ کرام فقہائے السلام کے نزدیك ان پر بوجوہ کثیرہ کفر لازم والعیاذ بالله القیوم الدائم امام ابن حجر مکی قواطع میں فرماتے ہیں :
انہ یصیر مرتدا قول جماعۃ وکفی بھذا خسارا و تفریطا ۔ وہ ایك جماعت کے قول پر مرتد ہوجائیگا اوریہ اس کے خسارہ اور سرکشی کوکافی ہے۔ (ت)
بالجملہ اس میں شك نہیں کہ اس گروہ ناحق پژدہ ہزاروں وجہ سے کفر لازم اور جماہیر فقہائے کرام کی تصریحیں ان کے صریح کفر پر حکم۔
نسأل اﷲ تعالی العفو والعافیہ فی الدین والدنیا والاخرۃ۔ ہم الله تعالی سے دین اور آخر ت میں عفو و عافیت کا سوال کرتے ہیں۔ (ت)
تنبیہ نبیہ : یہ حکم فقہی متعلق بکلمات سفہی تھا مگر الله تعالی کے بے شمار رحمتیں بے حد برکتیں ہمارے علمائے کرام عظمائے اسلام معظمین کلمہ خیرالانام علیہ وعلیہم والسلام پر کہ یہ کچھ دیکھتے وہ کچھ سخت وشدید ایذائیں پاتے اس طائفہ کے پیر وپیرو سے ناحق ناروا بات پر سچے دل سے مسلمانوں خالص سنیوں کی نسبت حکم کفر وشرك سنتے ایسی ناپاك وغلیظ گالیان کھاتے ہیں بااینہمہ نہ شدت غضب دامن احتیاط ان کے ہاتھ سےچھڑاتی نہ ان نالائق ولایعنی خباثتوں پر قوت انتقام حرکت میں آتی ہے وہ اب تك یہی تحقیق فرمارہے ہیں کہ لزوم والتزام میں فرق ہے اقوال کا کلمہ کفر ہونااور بات اور قائل کو کافر مان لینا اور بات ہم احتیاط برتیں گے سکوت کریں گے جب تك ضعیف سا ضعیف احتمال ملے گا حکم کفر جاری کرتے ڈریں گے فقیر غفرالله تعالی لہ نے اس مبحث کا قدرے بیان آخر رسالہ سبحن السبوح عن عیب کذب مقبوح۱۳۰۷ھ میں کیا اور وہاں بھی بآنکہ اس امام وطائفہ پر صرف ایك مسئلہ امکان کذب میں اٹھتر۷۸وجہ سے لزوم کفر کا ثبوت دیا حکم کفر سے کف لسان ہی لیا۔
بالجملہ اس طائفہ حائفہ خصوصا ان کے پیشوا کا حال مثل یزید پلید علیہ ماعلیہ ہے کے محتاطین نے اس کی تکفیر سے سکوت پسند کیا ہاں یزید مرید اور ان کے امام عنید میں اتنا فرق ہے کہ اس خبیث سے ظلم وفسق وفجور متواتر مگر کفر متواتر نہیں اور ان حضرات سے یہ سب کلمات کفر اعلی درجہ تواتر پر ہیں پھر اگرچہ ہم براہ احتیاط تکفیر سے زبان روکیں ان کے رخسارو بواریہ کویہ کیا کم ہے کہ جماہیر ائمہ کرام فقہائے السلام کے نزدیك ان پر بوجوہ کثیرہ کفر لازم والعیاذ بالله القیوم الدائم امام ابن حجر مکی قواطع میں فرماتے ہیں :
انہ یصیر مرتدا قول جماعۃ وکفی بھذا خسارا و تفریطا ۔ وہ ایك جماعت کے قول پر مرتد ہوجائیگا اوریہ اس کے خسارہ اور سرکشی کوکافی ہے۔ (ت)
حوالہ / References
القرآن الکریم ۲ /۲۵۸
الاعلام بقواطع الاسلام مع سبل النجاۃ مکتبۃ دارالشفقۃ استنبول ترکی ص۳۶۲
الاعلام بقواطع الاسلام مع سبل النجاۃ مکتبۃ دارالشفقۃ استنبول ترکی ص۳۶۲
الله عزوجل پناہ دے اور دین حق پر دنیاسے اٹھائے آمین! والحمد اﷲ رب العالمین والله سبحنہ و تعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
الحمد لله جواب مفصل سے یہ چند سطور کا التقاط مع بعض نفائس زیادات کہ غرہ جمادی الآخرہ روز جمعہ مبارکہ ۱۳۱۲ھ کو آغاز و انجام ہوا بجائے خود بھی اس باب میں کافی ووافی کلام ہوا لہذابلحاظ تاریخ سل السیوف الھندیۃ علی الکفریات باباالنجدیۃ عــــــہ نام ہوا
صلی اﷲ تعالی علی سیدنا ومولینا محمد والہ وصحبہ اجمعین والحمد اﷲ رب العالمین۔
کتبــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ
عبدہ المذنب احمد رضا بریلوی عفی عنہ بمحمدن المصطفی الامی صلی الله تعالی علیہ وسلم عبد المصطفی
مسئلہ ۳۱ : از جی آئی پی ریلوے اسٹیشن بھوساول مسئولہ عبدالباسط ۱۳ رمضان ۱۳۳۹ھ
مسلمانوں نے اتفاق کیا کہ جو مسلمان نماز نہ پڑھے گا وہ برادری سے خارج سمجھا جائے گا اس پر چند افراد جو نماز و روزہ وحج وزکوۃ کے پابند نہ ہوں عالم کے سمجھانے پر بھی نہ مانیں اور کہیں کہ پہلے شرابیوں اور زانیوں کو برادری سے خارج کرنا یہ ضرور اور فرض ہے سوا اس کے نصیحت کرنے والے عالم کو کہیں کہ تم جھوٹے ہو اور تم پر خدا کی لعنت ہے حالانکہ وہ عالم ان کا امام ہے تو ایسے بے نمازیوں کو ابھارنے اور جرأت دینے والے اور باوجود تاکید عالم کو جھوٹا اور لعنتی بنانے والے مسلمان(بے نمازیوں) کوشرع شریف کے موافق کیا تنبیہ ہونی چاہئے ایسا کہنے والے ایمان سے خارج ہوچکے اور انھیں تجدید ایمان اور تجدید نکاح کرانا ضرورہے یا نہیں اگر ایسے اشخاص اپنی بات رکھنے کے لئے نادانی سے یا مغروری سے استفتاء
عــــــہ : قال الصاحب جمال الدین بن مطروح :
ان کان بابا کم بذا ر اضیاء فرب غش قداتی من تصیح
وقال غیرہ :
ورام باباھم مامورا
فاخلفت ظنہ المقادر
نقلہما فی حرف الباء من فوات الوفیات ۱۲ منہ رضی اﷲ تعالی عنہ(م) الصاحب(جمال الدین بن مطروحی نے کہا :
اگر تمھارابابا اس پر راضی ہے تو بسا اوقات کھوٹا بھی کھری آواز دیتاہے۔ اور کسی دوسرے نے کہا :
تمھارے بابا نے کسی مامور کا قصد کیا تو پیمانوں نے اس کا اندازہ غلط کیا۔
دونوں شعرفوات الوفیات کے حرف باء میں اس نے نقل کئے ۱۲ منہ رضی الله تعالی عنہ(ت)
yahan image hy
الحمد لله جواب مفصل سے یہ چند سطور کا التقاط مع بعض نفائس زیادات کہ غرہ جمادی الآخرہ روز جمعہ مبارکہ ۱۳۱۲ھ کو آغاز و انجام ہوا بجائے خود بھی اس باب میں کافی ووافی کلام ہوا لہذابلحاظ تاریخ سل السیوف الھندیۃ علی الکفریات باباالنجدیۃ عــــــہ نام ہوا
صلی اﷲ تعالی علی سیدنا ومولینا محمد والہ وصحبہ اجمعین والحمد اﷲ رب العالمین۔
کتبــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ
عبدہ المذنب احمد رضا بریلوی عفی عنہ بمحمدن المصطفی الامی صلی الله تعالی علیہ وسلم عبد المصطفی
مسئلہ ۳۱ : از جی آئی پی ریلوے اسٹیشن بھوساول مسئولہ عبدالباسط ۱۳ رمضان ۱۳۳۹ھ
مسلمانوں نے اتفاق کیا کہ جو مسلمان نماز نہ پڑھے گا وہ برادری سے خارج سمجھا جائے گا اس پر چند افراد جو نماز و روزہ وحج وزکوۃ کے پابند نہ ہوں عالم کے سمجھانے پر بھی نہ مانیں اور کہیں کہ پہلے شرابیوں اور زانیوں کو برادری سے خارج کرنا یہ ضرور اور فرض ہے سوا اس کے نصیحت کرنے والے عالم کو کہیں کہ تم جھوٹے ہو اور تم پر خدا کی لعنت ہے حالانکہ وہ عالم ان کا امام ہے تو ایسے بے نمازیوں کو ابھارنے اور جرأت دینے والے اور باوجود تاکید عالم کو جھوٹا اور لعنتی بنانے والے مسلمان(بے نمازیوں) کوشرع شریف کے موافق کیا تنبیہ ہونی چاہئے ایسا کہنے والے ایمان سے خارج ہوچکے اور انھیں تجدید ایمان اور تجدید نکاح کرانا ضرورہے یا نہیں اگر ایسے اشخاص اپنی بات رکھنے کے لئے نادانی سے یا مغروری سے استفتاء
عــــــہ : قال الصاحب جمال الدین بن مطروح :
ان کان بابا کم بذا ر اضیاء فرب غش قداتی من تصیح
وقال غیرہ :
ورام باباھم مامورا
فاخلفت ظنہ المقادر
نقلہما فی حرف الباء من فوات الوفیات ۱۲ منہ رضی اﷲ تعالی عنہ(م) الصاحب(جمال الدین بن مطروحی نے کہا :
اگر تمھارابابا اس پر راضی ہے تو بسا اوقات کھوٹا بھی کھری آواز دیتاہے۔ اور کسی دوسرے نے کہا :
تمھارے بابا نے کسی مامور کا قصد کیا تو پیمانوں نے اس کا اندازہ غلط کیا۔
دونوں شعرفوات الوفیات کے حرف باء میں اس نے نقل کئے ۱۲ منہ رضی الله تعالی عنہ(ت)
yahan image hy
نہ پڑھیں نہ تجدید نکاح شرم سے کریں اور مرجائیں تو مسلمان ایسوں کی میت میں جائیں اور قبرستان میں دفن کریں یا نہیں بینوا تو جروا
الجواب :
وہ لوگ سخت اشد کبیرہ کے مرتکب ہوئے موردغضب جبارہیں مستحق نار ہیں مستحق لعنت پر وردگارہیں مگرا تنی بات پر صاف حکم کفر ان پر نہیں ہوسکتا اگر مرجائیں تو ان کے ساتھ اسلامی برتاؤ فرض ہوگا ہاں اگر کوئی خاص مکالمہ ایسا تھا جس پر یہ جواب دینا موجب کفر ہو تو اس کا ذکر سائل نے نہ کیا۔ والله تعالی اعلم
مسئلہ ۳۲ : از درنگر دایا مہسانہ گجرات گاڑیکے دروازہ بنجارہ چاندا ر سول کے پاس والا مکان مسئولہ عبدالرحیم احمد آبادی ۲۲ رمضان المبارك ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ سیدالاولین والآخرین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم پر الزام لگانا اور ان کو اپنے جیسا جاننا کفر ہے یا نہیں تفصیل اس کی یہ ہے کہ جو وقت زید وعمر میں جھگڑا ہوا عمرو نے زید کے پاس ایك رقعہ بھیجا جس کی نقل یہ ہے قولك مجھ کو اس کا مطلق رنج نہیں اقوال یہ بات تو سراسر غلط ہے کیونکہ سب وشتم اور برا کہنے سے مانند مقناطیس کے جس طرح لوہے میں اثر پیداکرتاہے اسی طرح دل پر اثر ہوجاتاہے خواص ہوں یا عوام نبی ہویا ولی سب کے دل پر غم تو ضرور سرایت کرتاہے دیکھئے ہمارے پیشوا فخر عالم محمد مصطفی صلی الله تعالی تعالی علیہ وسلم کو کفا ر قریش کی ایذا دہی وطعن زنی کی وجہ سے دل پر غم وحزن کا صدمہ ازحد پہنچا تھا ہر وقت غم کی تسلی کے لیئے الله جل شانہ نے وقتا فوقتا جبریل علیہ السلام کی معرفت نازل فرمایا جیسے قرآن مجید میں فرماتاہے :
“ و اصبر وما صبرک الا باللہ ولا تحزن علیہم ولا تک فی ضیق مما یمکرون ﴿۱۲۷﴾ “ ۔ اور اے محبوب تم صبر کرو اور تمھارا صبر الله ہی کی توفیق سے ہے اور ان کا غم نہ کھاؤ اور ان کے فریبوں سے دل تنگ نہ ہو۔ (ت)
اب فرمائیے یہ الفاظ کفریہ ہے یا نہیں بینوا تو جروا(بیان فرمائے اجر پائے۔ ت)
الجواب :
سوال کی تفصیل سائل نے تحریر کی اس کے دیکھنے سے یہ الزام ثابت نہیں ہوتے کہ اس نے معاذ الله حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم پر الزام رکھنا چاہا یا عیاذا بالله حضور کو اپنے جیسا جانا والله تعالی اعلم۔
الجواب :
وہ لوگ سخت اشد کبیرہ کے مرتکب ہوئے موردغضب جبارہیں مستحق نار ہیں مستحق لعنت پر وردگارہیں مگرا تنی بات پر صاف حکم کفر ان پر نہیں ہوسکتا اگر مرجائیں تو ان کے ساتھ اسلامی برتاؤ فرض ہوگا ہاں اگر کوئی خاص مکالمہ ایسا تھا جس پر یہ جواب دینا موجب کفر ہو تو اس کا ذکر سائل نے نہ کیا۔ والله تعالی اعلم
مسئلہ ۳۲ : از درنگر دایا مہسانہ گجرات گاڑیکے دروازہ بنجارہ چاندا ر سول کے پاس والا مکان مسئولہ عبدالرحیم احمد آبادی ۲۲ رمضان المبارك ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ سیدالاولین والآخرین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم پر الزام لگانا اور ان کو اپنے جیسا جاننا کفر ہے یا نہیں تفصیل اس کی یہ ہے کہ جو وقت زید وعمر میں جھگڑا ہوا عمرو نے زید کے پاس ایك رقعہ بھیجا جس کی نقل یہ ہے قولك مجھ کو اس کا مطلق رنج نہیں اقوال یہ بات تو سراسر غلط ہے کیونکہ سب وشتم اور برا کہنے سے مانند مقناطیس کے جس طرح لوہے میں اثر پیداکرتاہے اسی طرح دل پر اثر ہوجاتاہے خواص ہوں یا عوام نبی ہویا ولی سب کے دل پر غم تو ضرور سرایت کرتاہے دیکھئے ہمارے پیشوا فخر عالم محمد مصطفی صلی الله تعالی تعالی علیہ وسلم کو کفا ر قریش کی ایذا دہی وطعن زنی کی وجہ سے دل پر غم وحزن کا صدمہ ازحد پہنچا تھا ہر وقت غم کی تسلی کے لیئے الله جل شانہ نے وقتا فوقتا جبریل علیہ السلام کی معرفت نازل فرمایا جیسے قرآن مجید میں فرماتاہے :
“ و اصبر وما صبرک الا باللہ ولا تحزن علیہم ولا تک فی ضیق مما یمکرون ﴿۱۲۷﴾ “ ۔ اور اے محبوب تم صبر کرو اور تمھارا صبر الله ہی کی توفیق سے ہے اور ان کا غم نہ کھاؤ اور ان کے فریبوں سے دل تنگ نہ ہو۔ (ت)
اب فرمائیے یہ الفاظ کفریہ ہے یا نہیں بینوا تو جروا(بیان فرمائے اجر پائے۔ ت)
الجواب :
سوال کی تفصیل سائل نے تحریر کی اس کے دیکھنے سے یہ الزام ثابت نہیں ہوتے کہ اس نے معاذ الله حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم پر الزام رکھنا چاہا یا عیاذا بالله حضور کو اپنے جیسا جانا والله تعالی اعلم۔
حوالہ / References
القرآن الکریم ۱۶ /۱۲۷
مسئلہ ۳۳ : از مدراس بتوسط جناب سید شاہ مخدوم محی الدین صاحب قاری نائب متولی مسجد وا لاجاہی ترملکھیڑی مسئولہ جناب شاہ محمد حسین صاحب قادری نائب قاضی اہلسنت مدراس ۲۲ رمضان ۱۳۳۹ھ
حضرت مولانا المحترم دام فیضکم السلام علیکم ورحمۃ الله وبرکاتہ مزاج گرامی ایك استفتاء بغرض جواب مرسل خدمت گرامی ہے امید کہ جلد جواب باصواب مرحمت فرمائیں گے کیونکہ مدراس میں ایك شخص جو اپنے آپ کو قومی لیڈر کہلواتا ہے اور اپنے اخبار میں ہمیشہ بزرگان دین کی توہین کرتاہے جس کے سبب قوم میں تفرقہ پڑرہاہے اس کی تنبیہ اور خلق الله کی ہدایت کےلئے آپ کو تکلیف دی جاتی ہے امید کہ جواب سے سرفراز فرماکر عندالله ماجور رہوں گے
استفتاء : کیا فرماتے ہیں علمائے دین متین کہ ایك مدراسی پرچہ نویس فاتحہ دلانے والوں پر شر انگیزی کرتاہے جس کے خیالات یہ ہیں : “ فاتحہ بدعت اور زیارت تربتہا ئے مطہرہ قبر پرستیاں اور اس کی تحریر سے حضرت غوث اعظم محی الدین عبدالقادر جیلانی رضی الله تعالی عنہ کے فاتحہ دلانے والوں اور متبرك طعام کھانے والوں کو نام کی پوجا قبر کی پرستش کرنے والوں خلافت کا خون پینے والے اور حضرت غوث الاعظم کی پاك ہڈیوں کو چبانے والے سنایا جارہاہے ۱۱ ربیع الآخر کے اخبار میں لکھا ہے : “ آج اس کے مریدوں اور متعقدوں کو یہ حال ہے کہ نام کی پوجا اور قبر کی پرستش کررہے ہیں مگر خلافت کا خون پی رہے ہیں حضرت غوث اعظم کی پاك ہڈیوں کو چبا رہے ہیں الخ “ ۲ ربیع الاول کے پرچہ میں لکھا کہ : ان بدمعاشوں کو اس پر رونا نہیں آتا کہ حضرت شاہ بغداد کی روح کو کافروں نے ذلیل کیا ہے “ اور ۱۴ ربیع الاول ۱۳۳۹ھ کے پرچے میں لکھا ہے جس کا عنوان یہ ہے : “ جادو وہ جو سر پر چڑھ کے بولے کہ اجل کا فرشتہ بندر بن کر شاہ یونان کو کاٹا۔ “ ۱۵ ماہ محرم ۱۳۳۷ھ کے پرچے میں لکھا ہے : “ اذان میں محمد رسول اللہ(صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم)سن کر انگوٹھے چوم لینا یا موئے مبارك کی زیارت کرلینا یا آثار خانہ کے روبرو سے گزرتے ہوئے گردن جھکا دینا یا جمعہ یا جمعرات کو فاتحہ کرلینا یہ باتیں رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی اطاعت نہیں۔ “ ایسے شخص کے لئے شرع شریف میں کیا حکم کرتی ہے ایسے شخص کو مولانا فخر قوم فخر مسلمانان لیڈر قوم کا لقب دینا دائرہ اسلام میں کوئی خدمت عطاکرنا اس کی تائید واعانت کرنا اس سے راہ ورسم رکھنا ا س کا وعظ کرانا اس کا اخبار خریدنا کیا حکم رکھتا ہے بینوا تو جروا
الجواب :
فاتحہ کو بدعت کہنا زیارات مزارات طاہر ہ کو قبرپرستی بنانا نیاز حضور پرنور سیدنا غوث الاعظم
حضرت مولانا المحترم دام فیضکم السلام علیکم ورحمۃ الله وبرکاتہ مزاج گرامی ایك استفتاء بغرض جواب مرسل خدمت گرامی ہے امید کہ جلد جواب باصواب مرحمت فرمائیں گے کیونکہ مدراس میں ایك شخص جو اپنے آپ کو قومی لیڈر کہلواتا ہے اور اپنے اخبار میں ہمیشہ بزرگان دین کی توہین کرتاہے جس کے سبب قوم میں تفرقہ پڑرہاہے اس کی تنبیہ اور خلق الله کی ہدایت کےلئے آپ کو تکلیف دی جاتی ہے امید کہ جواب سے سرفراز فرماکر عندالله ماجور رہوں گے
استفتاء : کیا فرماتے ہیں علمائے دین متین کہ ایك مدراسی پرچہ نویس فاتحہ دلانے والوں پر شر انگیزی کرتاہے جس کے خیالات یہ ہیں : “ فاتحہ بدعت اور زیارت تربتہا ئے مطہرہ قبر پرستیاں اور اس کی تحریر سے حضرت غوث اعظم محی الدین عبدالقادر جیلانی رضی الله تعالی عنہ کے فاتحہ دلانے والوں اور متبرك طعام کھانے والوں کو نام کی پوجا قبر کی پرستش کرنے والوں خلافت کا خون پینے والے اور حضرت غوث الاعظم کی پاك ہڈیوں کو چبانے والے سنایا جارہاہے ۱۱ ربیع الآخر کے اخبار میں لکھا ہے : “ آج اس کے مریدوں اور متعقدوں کو یہ حال ہے کہ نام کی پوجا اور قبر کی پرستش کررہے ہیں مگر خلافت کا خون پی رہے ہیں حضرت غوث اعظم کی پاك ہڈیوں کو چبا رہے ہیں الخ “ ۲ ربیع الاول کے پرچہ میں لکھا کہ : ان بدمعاشوں کو اس پر رونا نہیں آتا کہ حضرت شاہ بغداد کی روح کو کافروں نے ذلیل کیا ہے “ اور ۱۴ ربیع الاول ۱۳۳۹ھ کے پرچے میں لکھا ہے جس کا عنوان یہ ہے : “ جادو وہ جو سر پر چڑھ کے بولے کہ اجل کا فرشتہ بندر بن کر شاہ یونان کو کاٹا۔ “ ۱۵ ماہ محرم ۱۳۳۷ھ کے پرچے میں لکھا ہے : “ اذان میں محمد رسول اللہ(صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم)سن کر انگوٹھے چوم لینا یا موئے مبارك کی زیارت کرلینا یا آثار خانہ کے روبرو سے گزرتے ہوئے گردن جھکا دینا یا جمعہ یا جمعرات کو فاتحہ کرلینا یہ باتیں رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی اطاعت نہیں۔ “ ایسے شخص کے لئے شرع شریف میں کیا حکم کرتی ہے ایسے شخص کو مولانا فخر قوم فخر مسلمانان لیڈر قوم کا لقب دینا دائرہ اسلام میں کوئی خدمت عطاکرنا اس کی تائید واعانت کرنا اس سے راہ ورسم رکھنا ا س کا وعظ کرانا اس کا اخبار خریدنا کیا حکم رکھتا ہے بینوا تو جروا
الجواب :
فاتحہ کو بدعت کہنا زیارات مزارات طاہر ہ کو قبرپرستی بنانا نیاز حضور پرنور سیدنا غوث الاعظم
رضی الله تعالی عنہ کو نام کی پوجاکہنا تعظیم آثار شریفہ حضور سیدعالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو حضور کی اطاعت نہ ماننا یہ سب شعار وہابیت ہیں اور وہابیہ گمراہ بددین بلکہ کفار ومرتدین ہیں کما حققناہ فی غیر ماکتاب(جیساکہ ہماری متعدد کتب میں اس کی تفصیل ہے۔ ت)روح اقدس حضور سیدنا غوث اعظم رضی الله تعالی عنہ کی نسبت وہ ناپاك کلمہ تذلیل لکھنا کذب وقبیح و توہین صریحہ ہے ان کے غلامان غلام کی روح کو تمام جہاں کے کفار ومشرکین ووہابیہ ومرتدین مل کر ذلیل نہیں کرسکتے۔
“ و للہ العزۃ و لرسولہ و للمؤمنین و لکن المنفقین لا یعلمون ﴿۸﴾ “ ۔ عزت توالله اور اس کے رسول اور مسلمانوں ہی کے لئے ہے مگر منافقوں کو خبر نہیں(ت)
حضرت ملك الموت علیہ الصلوۃ والسلام کی نسبت بندر کاٹنے کالفظ ملك مقرب رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ك توہین ہے کفر مبین ہے ایسے شخص کو مولانا وفخر مسلمانان اور ہادی ورہبر قوم ماننا اگر اس کے اقوا ل پر اطلاع کے بعد ہے خود کافروموجب غضب رب ہے
قال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لاتقولوا للمنافق سیدنا فانہ ان یکن سیدکم فقد اسخطتم ربکم ۔ منافق کو “ اے ہمارے سردار “ نہ کہو کہ اگر وہ تمھارا سردار ہوا تو تم نے اپنے رب کا غضب اپنے سرلیا۔
فتاوی ظہریہ واشباہ والنظائر ودرمختار وغیرہا میں ہے : تبجیل الکافر کفر (کافر کی توقیر کفرہے۔ ت) انھیں میں ہے : لو قال لمجوسی یا استاذ تبجیلا کفر (اگر مجوسی کو “ اے استاد “ توقیرا کہا تو کفر ہے۔ ت)اس کا واعظم کرانا حرام ہے تبیین الحقائق امام زیلعی میں ہے :
لان فی تقدیمہ تعظیمہ وقد وجب علیہم کیونکہ اس کی تقدیم میں اس کی تعظیم ہے حالانکہ
“ و للہ العزۃ و لرسولہ و للمؤمنین و لکن المنفقین لا یعلمون ﴿۸﴾ “ ۔ عزت توالله اور اس کے رسول اور مسلمانوں ہی کے لئے ہے مگر منافقوں کو خبر نہیں(ت)
حضرت ملك الموت علیہ الصلوۃ والسلام کی نسبت بندر کاٹنے کالفظ ملك مقرب رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ك توہین ہے کفر مبین ہے ایسے شخص کو مولانا وفخر مسلمانان اور ہادی ورہبر قوم ماننا اگر اس کے اقوا ل پر اطلاع کے بعد ہے خود کافروموجب غضب رب ہے
قال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لاتقولوا للمنافق سیدنا فانہ ان یکن سیدکم فقد اسخطتم ربکم ۔ منافق کو “ اے ہمارے سردار “ نہ کہو کہ اگر وہ تمھارا سردار ہوا تو تم نے اپنے رب کا غضب اپنے سرلیا۔
فتاوی ظہریہ واشباہ والنظائر ودرمختار وغیرہا میں ہے : تبجیل الکافر کفر (کافر کی توقیر کفرہے۔ ت) انھیں میں ہے : لو قال لمجوسی یا استاذ تبجیلا کفر (اگر مجوسی کو “ اے استاد “ توقیرا کہا تو کفر ہے۔ ت)اس کا واعظم کرانا حرام ہے تبیین الحقائق امام زیلعی میں ہے :
لان فی تقدیمہ تعظیمہ وقد وجب علیہم کیونکہ اس کی تقدیم میں اس کی تعظیم ہے حالانکہ
حوالہ / References
القرآن الکریم ۶۳ /۸
مسند امام احمد بن حنبل حدیث بریدہ الاسلمی رضی الله عنہ دارالکفر بیروت ۵ / ۴۷۔ ۳۴۶ ، سنن ابی داؤد کتاب الادب باب لایقول الملوك آفتاب عالم پریس لاہور ۲ / ۳۲۴
الاشباہ والنظائر کتاب السیر باب الردۃ اداراۃ القرآن کراچی ۱ / ۲۸۸ ، درمختار کتاب الحظرولاباحۃفصل فی البیع مطبع مجتبائی دہلی ۲ / ۲۵۱
الاشباہ والنظائر کتاب السیر باب الردۃ ادارۃ القرآن کراچی ۱ / ۲۸۸ ، درمختار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع مطبع مجتبائی دہلی ۲ / ۲۵۱
مسند امام احمد بن حنبل حدیث بریدہ الاسلمی رضی الله عنہ دارالکفر بیروت ۵ / ۴۷۔ ۳۴۶ ، سنن ابی داؤد کتاب الادب باب لایقول الملوك آفتاب عالم پریس لاہور ۲ / ۳۲۴
الاشباہ والنظائر کتاب السیر باب الردۃ اداراۃ القرآن کراچی ۱ / ۲۸۸ ، درمختار کتاب الحظرولاباحۃفصل فی البیع مطبع مجتبائی دہلی ۲ / ۲۵۱
الاشباہ والنظائر کتاب السیر باب الردۃ ادارۃ القرآن کراچی ۱ / ۲۸۸ ، درمختار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع مطبع مجتبائی دہلی ۲ / ۲۵۱
اھانۃ شرعا ۔ مسلمانوں پر شرعا ا س کی توہین لازم ہے۔ (ت)
اسلام کی کوئی خدمت اسے سپرد کرنا جس میں وہ مسلمانوں کا راز داریا بعض مسلمانون کا سردار بنے سخت حرام ہے
قال اﷲ تعالی
“ یایہا الذین امنوا لا تتخذوا بطانۃ من دونکم “ ۔ الله تعالی نے فرمایا : اے ایمان والو! غیر کو اپنا راز دار نہ بناؤ۔
ابو موسی اشعری رضی الله تعالی عنہ نے جب ایك کافر کو اپنا محرر بنانا چاہا امیر المومنین عمر فاروق رضی الله تعالی عنہ نے انھیں فرمان بھیجا :
لااکرمھم اذا اھانھم اﷲ و لااعزھم اذا اذلھم اﷲ ولا ادینھم اذا ابعد ھم اﷲ وفی اخری لیس لنا ان ناتمنھم وقد خرنھم اﷲ ولا ان نرفعہم وقد وضعھم اﷲ ۔ میں کافر کو گرامی نہ کروں گا جب کہ انھیں الله نے خوار کیا نہ انھیں عزت دوں گا جب کہ انھیں الله نے ذلیل کیا نہ ان کوقرب دوں گا جب کہ انھیں الله نے دور کیا دوسری روایت میں ہے ہمیں روا نہیں کہ کافروں کو امین بنائیں حالانکہ الله تعالی انھیں خائن بتاتاہے یا ہم انھیں رفعت دیں حالانکہ الله سبحانہ وتعالی نے انھیں پستی دی۔
درمختارمیں ہے :
یمنع من استکتاب ومباشرۃ یکون بھا معظما عند المسلمین ۔ اسے کتابت اور ایسے کام سے روك دیا جائے گا جس کی وجہ سے وہ مسلمانوں کے ہاں معظم ٹھہرے۔ (ت)
اس کی تائید واعانت حرام ہے
قال اﷲ تعالی “ ولا تعاونوا علی الاثم والعدون ۪ “ ۔ الله تعالی نے فرمایا : گناہ اور حد سے بڑھنے پر مدد نہ دو۔
اسلام کی کوئی خدمت اسے سپرد کرنا جس میں وہ مسلمانوں کا راز داریا بعض مسلمانون کا سردار بنے سخت حرام ہے
قال اﷲ تعالی
“ یایہا الذین امنوا لا تتخذوا بطانۃ من دونکم “ ۔ الله تعالی نے فرمایا : اے ایمان والو! غیر کو اپنا راز دار نہ بناؤ۔
ابو موسی اشعری رضی الله تعالی عنہ نے جب ایك کافر کو اپنا محرر بنانا چاہا امیر المومنین عمر فاروق رضی الله تعالی عنہ نے انھیں فرمان بھیجا :
لااکرمھم اذا اھانھم اﷲ و لااعزھم اذا اذلھم اﷲ ولا ادینھم اذا ابعد ھم اﷲ وفی اخری لیس لنا ان ناتمنھم وقد خرنھم اﷲ ولا ان نرفعہم وقد وضعھم اﷲ ۔ میں کافر کو گرامی نہ کروں گا جب کہ انھیں الله نے خوار کیا نہ انھیں عزت دوں گا جب کہ انھیں الله نے ذلیل کیا نہ ان کوقرب دوں گا جب کہ انھیں الله نے دور کیا دوسری روایت میں ہے ہمیں روا نہیں کہ کافروں کو امین بنائیں حالانکہ الله تعالی انھیں خائن بتاتاہے یا ہم انھیں رفعت دیں حالانکہ الله سبحانہ وتعالی نے انھیں پستی دی۔
درمختارمیں ہے :
یمنع من استکتاب ومباشرۃ یکون بھا معظما عند المسلمین ۔ اسے کتابت اور ایسے کام سے روك دیا جائے گا جس کی وجہ سے وہ مسلمانوں کے ہاں معظم ٹھہرے۔ (ت)
اس کی تائید واعانت حرام ہے
قال اﷲ تعالی “ ولا تعاونوا علی الاثم والعدون ۪ “ ۔ الله تعالی نے فرمایا : گناہ اور حد سے بڑھنے پر مدد نہ دو۔
حوالہ / References
تبیین الحقائق شرح کنز الدقائق باب الامامۃ المطبعۃ الکبرٰی الامیریہ بولاق مصر ۱ / ۱۳۴
القرآن الکریم ۳ /۱۱۸
لباب التاویل(تفسیر الخازن)تحت آیۃ ۵ / ۵۱ مصطفی البابی مصر ۲ / ۶۲
لباب التاویل(تفسیر الخازن)تحت آیۃ ۵ / ۵۱ مصطفی البابی مصر ۲ / ۶۲
درمختار باب فضل فی الجزیۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۳۵۲
القرآن الکریم ۵ /۲
القرآن الکریم ۳ /۱۱۸
لباب التاویل(تفسیر الخازن)تحت آیۃ ۵ / ۵۱ مصطفی البابی مصر ۲ / ۶۲
لباب التاویل(تفسیر الخازن)تحت آیۃ ۵ / ۵۱ مصطفی البابی مصر ۲ / ۶۲
درمختار باب فضل فی الجزیۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۳۵۲
القرآن الکریم ۵ /۲
حدیث میں ہے بنی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
من مشی مع ظالم لیعینہ وھو یعلم انہ ظالم فقد خلع من عنقۃ ربقۃ الاسلام ۔ جو دانستہ کسی ظالم کے ساتھ اسے مدد دینے چلے بیشك اس نے اسلام کی رسی اپنی گردن سے نکال دی۔
اس سے راہ ورسم میل جول رکھنا حرام ہے
قال اﷲ وتعالی “ و اما ینسینک الشیطن فلا تقعد بعد الذکری مع القوم الظلمین ﴿۶۸﴾ “ ۔ الله تعالی نے فرمایا : اگر تجھے شیطان بھلادے تو یاد آنے پر ظالموں کے پاس نہ بیٹھ۔
رسول ا لله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
ایاکم وایاھم لایضلونکم ولایفتنونکم ۔ ان سے دور رہو اور انہیں اپنے سے دور کرو کہیں وہ تم کو گمراہ نہ کردیں کہیں وہ تمھیں فتنہ میں نہ ڈال دیں۔
اس کا اخبار بطور پسند خریدنا ہر گز جائز نہیں جب کہ وہ ایسی ناپاك ومخالف دین باتوں پر مشتمل ہوتاہے
قال اﷲ تعالی “ و من الناس من یشتری لہو الحدیث لیضل عن سبیل اللہ بغیر علم ٭ و یتخذہا ہزوا اولئک لہم عذاب مہین ﴿۶﴾ “ ۔
والعیاذ بالله تعالی والله تعالی اعلم الله تعالی کا فرمان مبارك ہے کچھ لوگ لغو باتیں خریدتے ہیں کہ ان کے سبب براہ جہالت خدا کی راہ سے بہکادیں اور اسے ہنسی بنالیں ان کے لئے ہے ذلت دینے والا عذاب۔
من مشی مع ظالم لیعینہ وھو یعلم انہ ظالم فقد خلع من عنقۃ ربقۃ الاسلام ۔ جو دانستہ کسی ظالم کے ساتھ اسے مدد دینے چلے بیشك اس نے اسلام کی رسی اپنی گردن سے نکال دی۔
اس سے راہ ورسم میل جول رکھنا حرام ہے
قال اﷲ وتعالی “ و اما ینسینک الشیطن فلا تقعد بعد الذکری مع القوم الظلمین ﴿۶۸﴾ “ ۔ الله تعالی نے فرمایا : اگر تجھے شیطان بھلادے تو یاد آنے پر ظالموں کے پاس نہ بیٹھ۔
رسول ا لله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
ایاکم وایاھم لایضلونکم ولایفتنونکم ۔ ان سے دور رہو اور انہیں اپنے سے دور کرو کہیں وہ تم کو گمراہ نہ کردیں کہیں وہ تمھیں فتنہ میں نہ ڈال دیں۔
اس کا اخبار بطور پسند خریدنا ہر گز جائز نہیں جب کہ وہ ایسی ناپاك ومخالف دین باتوں پر مشتمل ہوتاہے
قال اﷲ تعالی “ و من الناس من یشتری لہو الحدیث لیضل عن سبیل اللہ بغیر علم ٭ و یتخذہا ہزوا اولئک لہم عذاب مہین ﴿۶﴾ “ ۔
والعیاذ بالله تعالی والله تعالی اعلم الله تعالی کا فرمان مبارك ہے کچھ لوگ لغو باتیں خریدتے ہیں کہ ان کے سبب براہ جہالت خدا کی راہ سے بہکادیں اور اسے ہنسی بنالیں ان کے لئے ہے ذلت دینے والا عذاب۔
حوالہ / References
ا لمعجم الکبیر حدیث ۶۱۹ المکتبۃ الفیصلیہ بیروت ۱ / ۲۲۷ ، شعب الایمان حدیث ۷۶۷۵ درالکتب العلمیہ بیروت ۶ / ۱۲۲
کنز العمال حدیث ۴۱۹۵۵ موسسۃ الرسالۃ بیروت ۶ / ۸۵ ، الفردوس بماثور الخطاب حدیث ۵۷۰۹ دارالکتب العلمیہ بیروت ۳ / ۵۴۷
القرآن الکریم ۶ /۶۸
صحیح مسلم باب نہی عن الروایۃ عن الضعفاء قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۰
القرآن الکریم ۳۱ /۶
کنز العمال حدیث ۴۱۹۵۵ موسسۃ الرسالۃ بیروت ۶ / ۸۵ ، الفردوس بماثور الخطاب حدیث ۵۷۰۹ دارالکتب العلمیہ بیروت ۳ / ۵۴۷
القرآن الکریم ۶ /۶۸
صحیح مسلم باب نہی عن الروایۃ عن الضعفاء قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۰
القرآن الکریم ۳۱ /۶
مسئلہ ۳۴ : از پڑاوہ علاقہ ریاست ٹونك محلہ سلطان پورہ مسئولہ ابراہیم ۲۸ رمضان ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص اپنے ہاتھوں سے تعزیہ بناتاہے اور پرستش جیسے افعال اس سے سرزد ہوتے ہیں یعنی منت وغیرہ ماننا اس شخص میں اور بت پرست میں کیا فرق ہے اس کی زوجہ اس کے نکاح میں رہی یا نہیں بینوا تو جروا
الجواب :
تعزیہ بنانا ناجائز ہے مگر ہر گز کوئی مسلمان اس کی پرستش نہیں کرتا نہ اسے معبود جانتاہے یہ مسلمان پر شدید بد گمانی ہے اور بدگمانی حرام اوروہ منتیں کہ مانی جاتی ہیں عرفی یا اختراعی ہیں شرعی نہیں بلکہ خود نذر شرعی کے عبادت ہونے میں کلام ہے۔ نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے صحیح حدیثوں میں نذر ماننے سے منع فرمایا اور عبادت سے منع نہیں کیا جاتا۔ صحیحین میں ابوہریرہ وعبدالله ابن عمر رضی الله تعالی عنہم سے ہے رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا :
لاتنذروا فان النذر لایغنی من القدر شیئا وانما یستخرج بہ من البخیل ۔ نذر نہ مانو تقدیر کے آگے نذر کچھ کام نہیں دیتی اس سے تو فقط اتنا ہوتاہے کہ بخیل سے مال نکال لیا جاتاہے۔
اولیاء کے لئے نذرعرفی فـــــــ صدہا سال سے مومنین وصالحین میں معمولی ہے جس کا بیان ہماری کتاب “ السنیۃ الانیقہ فی فتاوی افریقہ “ میں ہے غرض اس کی زوجہ کا اس کے نکاح میں نہ رہنا محض بلاوجہ خیال باطل ہے۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۵ : از غازی پور یوپی مسئولہ قاضی محمود احمد صاحب ۲ شوال ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ایسے شخص کی امامت کے بارے میں جو خلافت اسلامیہ کی تباہی اور مقامات مقدسہ پر قبضہ ہونے اعدائے دین اسلام کی مسرت میں شرکت کرتاہو اورمصیبت زدہ مسلمان کوئی ایسی تدبیر کرتے ہوں جس سے خلافت اسلامیہ کا وقار قائم ہوجائے اور جزیرۃ العرب پر اسلامی حکومت قائم ہوجائے تومسلمانوں کے خلافت قاتلان اسلام کی نہ صرف امداد کرتا ہو بلکہ ان کی
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص اپنے ہاتھوں سے تعزیہ بناتاہے اور پرستش جیسے افعال اس سے سرزد ہوتے ہیں یعنی منت وغیرہ ماننا اس شخص میں اور بت پرست میں کیا فرق ہے اس کی زوجہ اس کے نکاح میں رہی یا نہیں بینوا تو جروا
الجواب :
تعزیہ بنانا ناجائز ہے مگر ہر گز کوئی مسلمان اس کی پرستش نہیں کرتا نہ اسے معبود جانتاہے یہ مسلمان پر شدید بد گمانی ہے اور بدگمانی حرام اوروہ منتیں کہ مانی جاتی ہیں عرفی یا اختراعی ہیں شرعی نہیں بلکہ خود نذر شرعی کے عبادت ہونے میں کلام ہے۔ نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے صحیح حدیثوں میں نذر ماننے سے منع فرمایا اور عبادت سے منع نہیں کیا جاتا۔ صحیحین میں ابوہریرہ وعبدالله ابن عمر رضی الله تعالی عنہم سے ہے رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا :
لاتنذروا فان النذر لایغنی من القدر شیئا وانما یستخرج بہ من البخیل ۔ نذر نہ مانو تقدیر کے آگے نذر کچھ کام نہیں دیتی اس سے تو فقط اتنا ہوتاہے کہ بخیل سے مال نکال لیا جاتاہے۔
اولیاء کے لئے نذرعرفی فـــــــ صدہا سال سے مومنین وصالحین میں معمولی ہے جس کا بیان ہماری کتاب “ السنیۃ الانیقہ فی فتاوی افریقہ “ میں ہے غرض اس کی زوجہ کا اس کے نکاح میں نہ رہنا محض بلاوجہ خیال باطل ہے۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۵ : از غازی پور یوپی مسئولہ قاضی محمود احمد صاحب ۲ شوال ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ایسے شخص کی امامت کے بارے میں جو خلافت اسلامیہ کی تباہی اور مقامات مقدسہ پر قبضہ ہونے اعدائے دین اسلام کی مسرت میں شرکت کرتاہو اورمصیبت زدہ مسلمان کوئی ایسی تدبیر کرتے ہوں جس سے خلافت اسلامیہ کا وقار قائم ہوجائے اور جزیرۃ العرب پر اسلامی حکومت قائم ہوجائے تومسلمانوں کے خلافت قاتلان اسلام کی نہ صرف امداد کرتا ہو بلکہ ان کی
حوالہ / References
صحیح مسلم کتاب النذر قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ / ۴۴
فــــــ : نذر عرفی اور نذر فقہی کی وضاحت فتاوٰی رضویہ جلد ۱۳ مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور کے ص ۵۹۷ پر مسئلہ ۲۴۹ کے تحت فتاوٰی افریقہ سے نقل کردی گئی ہے اسے وہاں ملاحظہ کیا جاسکتاہے ۱۲
فــــــ : نذر عرفی اور نذر فقہی کی وضاحت فتاوٰی رضویہ جلد ۱۳ مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور کے ص ۵۹۷ پر مسئلہ ۲۴۹ کے تحت فتاوٰی افریقہ سے نقل کردی گئی ہے اسے وہاں ملاحظہ کیا جاسکتاہے ۱۲
تحسین وتبریك اور ایسی مجالس میں شرکت کرتاہوں جوخلافت کی تباہی وبربادی کے واسطے کی جاتی ہوں اس سے تمام اہل اسلام کے قلوب متنفر ہوں کیا اس کے پیچھے نماز جائزہے یا نہیں بینوا توجروا
الجواب :
اگر یہ باتیں واقعی ہیں کہ وہ معاذالله شکست اسلام پر مسرت کرتاہے اور قاتلان مسلمین کی تحسین تو اس کی قابلیت امامت درکنار اس کے اسلام ہی میں کلام ہے باقی وہ ناجائز طریقے جو مدعیان حمایت نے نکال رکھے ہیں اورجس میں مشرکین سے محبت وداد بلکہ اتحاد بلکہ غلامی وانقیاد برت رہے ہیں وہ سب مخالف قرآن عظیم ہیں مسلمانوں کو ان سے جدائی فرض ہے
قال اﷲ تعالی
“ لا تجد قوما یؤمنون باللہ و الیوم الاخر یوادون من حاد اللہ و رسولہ و لو کانوا اباءہم او ابناءہم او اخونہم او عشیرتہم “ ۔ الله تعالی نے فرمایا : تم نہ پاؤ گے انھیں جو ایمان رکھتے ہیں الله وقیامت پر کہ الله ورسول کے مخالفوں سے دوستی کریں
اگرچہ ون ان کے باپ یابیٹے یا بھائی یا عزیز ہوں۔
اور فرماتاہے :
“ ولو کانوا یؤمنون باللہ والنبی وما انزل الیہ ما اتخذوہم اولیاء “ ۔ اور اگر انھیں الله اور نبی اور قرآن پر ایمان ہوتا تو کافروں کو اپنا دوست یا مدد گار نہ بناتے۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۶ و ۳۷ : ازسہسرام محلہ پرتالہ ضلع آرہ مسئولہ قدرت الله صاحب ۵ شوال ۱۳۳۹ھ
(۱)کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص نے اثنائے تقریر میں کہا کہ غلاف کعبہ جلادیا گیا دوسرے نے کہا کیا ہوا دوسرا غلاف آجائے گا۔ اس پر کہا گیا کہاں سے آئے گا قسطنطیہ سے تو نہیں آسکتا۔ تو اس نے جواب دیا کیا کعبہ کو جاڑا لگتاہے ایسا کہنے والے کے لئے عندالشرع کیا حکم ہے
(۲)خلیفۃ المسلمین کے لئے احکام کو ماننا یا ان کی مدد کرنا ان کے وقار کو قائم رکھنا اندر حدود والوں پر فرض ہے یا ہندوستانیوں پر بھی بینوا تو جروا۔
الجواب :
اگر یہ باتیں واقعی ہیں کہ وہ معاذالله شکست اسلام پر مسرت کرتاہے اور قاتلان مسلمین کی تحسین تو اس کی قابلیت امامت درکنار اس کے اسلام ہی میں کلام ہے باقی وہ ناجائز طریقے جو مدعیان حمایت نے نکال رکھے ہیں اورجس میں مشرکین سے محبت وداد بلکہ اتحاد بلکہ غلامی وانقیاد برت رہے ہیں وہ سب مخالف قرآن عظیم ہیں مسلمانوں کو ان سے جدائی فرض ہے
قال اﷲ تعالی
“ لا تجد قوما یؤمنون باللہ و الیوم الاخر یوادون من حاد اللہ و رسولہ و لو کانوا اباءہم او ابناءہم او اخونہم او عشیرتہم “ ۔ الله تعالی نے فرمایا : تم نہ پاؤ گے انھیں جو ایمان رکھتے ہیں الله وقیامت پر کہ الله ورسول کے مخالفوں سے دوستی کریں
اگرچہ ون ان کے باپ یابیٹے یا بھائی یا عزیز ہوں۔
اور فرماتاہے :
“ ولو کانوا یؤمنون باللہ والنبی وما انزل الیہ ما اتخذوہم اولیاء “ ۔ اور اگر انھیں الله اور نبی اور قرآن پر ایمان ہوتا تو کافروں کو اپنا دوست یا مدد گار نہ بناتے۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۶ و ۳۷ : ازسہسرام محلہ پرتالہ ضلع آرہ مسئولہ قدرت الله صاحب ۵ شوال ۱۳۳۹ھ
(۱)کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص نے اثنائے تقریر میں کہا کہ غلاف کعبہ جلادیا گیا دوسرے نے کہا کیا ہوا دوسرا غلاف آجائے گا۔ اس پر کہا گیا کہاں سے آئے گا قسطنطیہ سے تو نہیں آسکتا۔ تو اس نے جواب دیا کیا کعبہ کو جاڑا لگتاہے ایسا کہنے والے کے لئے عندالشرع کیا حکم ہے
(۲)خلیفۃ المسلمین کے لئے احکام کو ماننا یا ان کی مدد کرنا ان کے وقار کو قائم رکھنا اندر حدود والوں پر فرض ہے یا ہندوستانیوں پر بھی بینوا تو جروا۔
حوالہ / References
لقرآن الکریم ۵۸ / ۲۲
ا لقرآن الکریم ۵ / ۸۱
ا لقرآن الکریم ۵ / ۸۱
الجواب :
(۱)ا س کے کلام سے استہزا مترشح ہوتاہے اس پر توبہ فرض ہے اور اگر معاذالله فی الواقع کعبہ معظمہ سے استہزا مقصود ہو تو کفر ہے۔
(۲)احکام سلطانی اس کے قلمرو تك ہیں اور اعانت وحمایت ابتداء ا س ملك والوں پر ہے اور وہ عاجز ہوں یانہ کریں تو قریب والوں پر یونہی منتہائے دنیا تک مگر ہر فرض بقدر استطاعت ہے اور ہر مطالبہ بقدر قدرت بحالت موجودہ ہندوستانیوں کو جہاد قائم کرنے کی اجازت شرع میں نہیں۔ کما ھو مبین فی المحجہ المؤتمنۃ(جیسا کہ المحجۃ المؤتمنۃ میں اس کا تفصیلی بیان ہے۔ ت)والله تعالی اعلم
مسئلہ ۳۸ : ا ز سرکار اجمیر مقدس لنگر گلی مسئولہ حکیم غلام علی صاحب ۶ شوال ۱۳۳۹ھ
اگر کوئی مولوی اپنے مدرسہ کے دروازے پر اور خلافت کے بورڈ پر اور خلافت کی ٹوپی پر اور خلافت کی رسید پر فقط اجمیر لکھے کیا اجمیر کے ساتھ شریف نہ لکھنا اور اصلی نام غلام معین الدین پر غلام نہ لکھا خلاف عقیدہ اہلسنت ہے یا نہیں بینوا تو جروا
الجواب :
اجمیر شریف کے نام پاك کے ساتھ لفظ شریف نہ لکھنا اور ان تمام مواقع میں اس کا التزام کرنا اگر اس بنا پر ہے کہ حضور سیدناخواجہ غریب نواز رضی الله تعالی عنہ کی جلوہ افروزی حیات ظاہری و مزار پرانوارکو(جن کے سبب مسلمان اجمیر شریف کہتے ہیں)وجہ شرافت نہیں جانتا تو گمراہ بلکہ عدوالله ہے۔ صحیح بخاری شریف میں ہے رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں الله عزوجل فرماتاہے :
من عادی لی ولیا فقد اذنتہ بالحرب ۔ جس نے میرے کسی دوست سے دشمنی کی اس کے خلافت میرا اعلان جنگ ہے۔ (ت)
اور اگر یہ ناپاك التزام بربنائے کسل وکوتاہ قلمی ہے تو سخت بے برکتا اور فضل عظیم وخیر جسیم سے محروم ہے کما افادہ الامام المحقق محی الدین ابوزکریا قدس سرہ فی الترضی(جیسا کہ امام محقق محی الدین ابوزکریا قدس سرہ نے ترضی میں بیان فرمایا ہے۔ ت)اور اس کا مبنی وہابیت ہے تو وہابیت کفرہے اس کے بعد ایسی باتوں کو کیا شکایت ع
(۱)ا س کے کلام سے استہزا مترشح ہوتاہے اس پر توبہ فرض ہے اور اگر معاذالله فی الواقع کعبہ معظمہ سے استہزا مقصود ہو تو کفر ہے۔
(۲)احکام سلطانی اس کے قلمرو تك ہیں اور اعانت وحمایت ابتداء ا س ملك والوں پر ہے اور وہ عاجز ہوں یانہ کریں تو قریب والوں پر یونہی منتہائے دنیا تک مگر ہر فرض بقدر استطاعت ہے اور ہر مطالبہ بقدر قدرت بحالت موجودہ ہندوستانیوں کو جہاد قائم کرنے کی اجازت شرع میں نہیں۔ کما ھو مبین فی المحجہ المؤتمنۃ(جیسا کہ المحجۃ المؤتمنۃ میں اس کا تفصیلی بیان ہے۔ ت)والله تعالی اعلم
مسئلہ ۳۸ : ا ز سرکار اجمیر مقدس لنگر گلی مسئولہ حکیم غلام علی صاحب ۶ شوال ۱۳۳۹ھ
اگر کوئی مولوی اپنے مدرسہ کے دروازے پر اور خلافت کے بورڈ پر اور خلافت کی ٹوپی پر اور خلافت کی رسید پر فقط اجمیر لکھے کیا اجمیر کے ساتھ شریف نہ لکھنا اور اصلی نام غلام معین الدین پر غلام نہ لکھا خلاف عقیدہ اہلسنت ہے یا نہیں بینوا تو جروا
الجواب :
اجمیر شریف کے نام پاك کے ساتھ لفظ شریف نہ لکھنا اور ان تمام مواقع میں اس کا التزام کرنا اگر اس بنا پر ہے کہ حضور سیدناخواجہ غریب نواز رضی الله تعالی عنہ کی جلوہ افروزی حیات ظاہری و مزار پرانوارکو(جن کے سبب مسلمان اجمیر شریف کہتے ہیں)وجہ شرافت نہیں جانتا تو گمراہ بلکہ عدوالله ہے۔ صحیح بخاری شریف میں ہے رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں الله عزوجل فرماتاہے :
من عادی لی ولیا فقد اذنتہ بالحرب ۔ جس نے میرے کسی دوست سے دشمنی کی اس کے خلافت میرا اعلان جنگ ہے۔ (ت)
اور اگر یہ ناپاك التزام بربنائے کسل وکوتاہ قلمی ہے تو سخت بے برکتا اور فضل عظیم وخیر جسیم سے محروم ہے کما افادہ الامام المحقق محی الدین ابوزکریا قدس سرہ فی الترضی(جیسا کہ امام محقق محی الدین ابوزکریا قدس سرہ نے ترضی میں بیان فرمایا ہے۔ ت)اور اس کا مبنی وہابیت ہے تو وہابیت کفرہے اس کے بعد ایسی باتوں کو کیا شکایت ع
حوالہ / References
صحیح البخاری کتاب الرقاق قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ / ۹۶۲ و ۹۶۴
ماعلی مثلہ بعد الخطاء
(خطاء کے بعد اس کی مثل مجھ پر نہیں۔ ت)
اپنے نام سے لفظ غلام اس بناپر ہے کہ حضور خواجہ خواجگان رضی الله تعالی عنہ وعنہم کا غلام بننے سے انکار واستکبار رکھتاہے توبدستور گمراہ اور بحکم حدیث مذکورہ عدوالله ہے اور اس کا ٹھکانا جہنم قال اﷲ “ الیس فی جہنم مثوی للمتکبرین ﴿۶۰﴾ “ (الله تعالی کا ارشاد گرامی ہے : کیا نہیں جہنم میں ٹھکانا متکبرین کا۔ ت)اور اگر بربنائے وہابیت ہے کہ غلام اولیائے کرام بننے والوں کو مشرك اور غلام محی الدین وغلام معین الدین کو شرك جانتاہے تو وہابیہ خود زندیق بے دین کفار ومرتدین ہیں “ و للکفرین عذاب مہین ﴿۵﴾ “ (اور کفار کے لئے رسوا کرنے والا عذاب ہے۔ ت) والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۹ : از رانی کھیت محکمہ ملٹری وائس مسئولہ ثناء الله سب اوورسیئر ۶ شوال ۱۳۳۹ھ
علمائے دین اس مسئلہ میں کیا فرماتے ہیں کہ میں نے ایك شخص سے کہا کہ تمھارا رکوع سجودبالشرع نہیں ہے اس پر اس نے فورا یہ کہا یہ آج سے القط ہے جوآج سے نماز پڑھے وہ مادر ......... ہے اور اس سے کہا کہ تم نے داڑھی منڈوائی توکہا کہ سنت ہے ایسے شخص پر کیا حکم ہے بینوتو جروا۔
الجواب :
اس کا دوسرا لفظ کہ داڑھی منڈوانے کے جواب میں کہا سنت ہے اگر داڑھی منڈوانے کو سنت کہا تو ضرور کلما کفر ہے اور اگر یہ مطلب تھاکہ داڑھی رکھنا صرف سنت ہے فرض واجب نہیں کہ اس کے ترك سے میں نے گناہ کیا تو اگرچہ اس کا یہ جواب شیطانی ہے مگر کفر سے بچ جائے گا لیکن وہ گالی جوا س نے نماز پڑھنے والے کو دی ضرور کلمہ کفر ہے اس پر فرض ہے کہ نئے سرے سے مسلمان ہو پھر عورت کو رکھنا چاہے تو اس سے دوبارہ نکاح کرے۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۴۰ : از قصبہ رچھاروڈ ضلع بریلی مسئولہ حکیم محمد احسن صاحب ۹ شوال ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں پر کسی فعل ناجائز کے سبب کفر کا فتوی دینا جائز ہے یا نہیں ہے بینوا توجروا
(خطاء کے بعد اس کی مثل مجھ پر نہیں۔ ت)
اپنے نام سے لفظ غلام اس بناپر ہے کہ حضور خواجہ خواجگان رضی الله تعالی عنہ وعنہم کا غلام بننے سے انکار واستکبار رکھتاہے توبدستور گمراہ اور بحکم حدیث مذکورہ عدوالله ہے اور اس کا ٹھکانا جہنم قال اﷲ “ الیس فی جہنم مثوی للمتکبرین ﴿۶۰﴾ “ (الله تعالی کا ارشاد گرامی ہے : کیا نہیں جہنم میں ٹھکانا متکبرین کا۔ ت)اور اگر بربنائے وہابیت ہے کہ غلام اولیائے کرام بننے والوں کو مشرك اور غلام محی الدین وغلام معین الدین کو شرك جانتاہے تو وہابیہ خود زندیق بے دین کفار ومرتدین ہیں “ و للکفرین عذاب مہین ﴿۵﴾ “ (اور کفار کے لئے رسوا کرنے والا عذاب ہے۔ ت) والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۹ : از رانی کھیت محکمہ ملٹری وائس مسئولہ ثناء الله سب اوورسیئر ۶ شوال ۱۳۳۹ھ
علمائے دین اس مسئلہ میں کیا فرماتے ہیں کہ میں نے ایك شخص سے کہا کہ تمھارا رکوع سجودبالشرع نہیں ہے اس پر اس نے فورا یہ کہا یہ آج سے القط ہے جوآج سے نماز پڑھے وہ مادر ......... ہے اور اس سے کہا کہ تم نے داڑھی منڈوائی توکہا کہ سنت ہے ایسے شخص پر کیا حکم ہے بینوتو جروا۔
الجواب :
اس کا دوسرا لفظ کہ داڑھی منڈوانے کے جواب میں کہا سنت ہے اگر داڑھی منڈوانے کو سنت کہا تو ضرور کلما کفر ہے اور اگر یہ مطلب تھاکہ داڑھی رکھنا صرف سنت ہے فرض واجب نہیں کہ اس کے ترك سے میں نے گناہ کیا تو اگرچہ اس کا یہ جواب شیطانی ہے مگر کفر سے بچ جائے گا لیکن وہ گالی جوا س نے نماز پڑھنے والے کو دی ضرور کلمہ کفر ہے اس پر فرض ہے کہ نئے سرے سے مسلمان ہو پھر عورت کو رکھنا چاہے تو اس سے دوبارہ نکاح کرے۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۴۰ : از قصبہ رچھاروڈ ضلع بریلی مسئولہ حکیم محمد احسن صاحب ۹ شوال ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں پر کسی فعل ناجائز کے سبب کفر کا فتوی دینا جائز ہے یا نہیں ہے بینوا توجروا
الجواب :
فعل ناجائزکہ صرف گناہ ہو محض اس کی وجہ سےکفر کا فتوی دینا سید وغیر سید کسی پر بھی جائز نہیں والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۴۱ تا ۴۲ : از جمشید پور ڈاك خانہ خاص ضلع سنگھ بھوم آفس کارکمبے مسئولہ حمید الله ۹ شوال ۱۳۳۹ھ
(۱)مسلمان یا ہندو کسی مسلمان کا نام لے کر کہیں کہ فلاں شخص کی جے۔ جیسے شوکت علی محمد علی کی جے یہ درست ہے یا نہیں
(۲)شوکت علی وغیرہ کے مجلسوں میں جانادرست ہے یا نہیں اورلفظ مہاتما کہنا جائز ہے یا نہیں بینوا توجروا
الجواب :
(۱)جے جو کافر بولتے ہیں جیسے گاندھی وغیرہ کی یاعام ہنود کی یہ بحکم فقہائے کرام کفر ہے درمختار وغیرہ میں ہے : تبجیل الکافر کفر (کافر کی تعظیم کفر ہے۔ ت)یونہی جو نام کا مسلمان حد کفر تك پہنچ گیا ہو اس کی جے کا بھی یہی حکم ہے اور مسلمان کی جے بولنا بھی منع ہے کہ کفار سے مشابہت ہے۔
(۲)مشرك کو مہاتما کہنا حرام ہے بلکہ بحکم فقہائے کرام کفر ہے اور ان کے جلسوں میں جانا ناجائز۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۴۳ : از محلہ سوداگران مسئولہ حضرت ننھے میاں صاحب مدظلہم ذی القعدہ ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ امام نے یہ رکوع “ یایہا الذین امنوا کونوا انصار اللہ “ (اے اہل ایمان! ہوجاؤ الله تعالی کے مددگار۔ ت)پڑھا پھر من بنی اسرائیل کی جگہ منکم کہہ گیا۔ زید نے بعد سلام کہا کہ قرآن عظیم صحابہ کرام رضوان الله علیہم اجمعین سے فرماتاہے : الله کے مددگار ہوجاؤ پھر بنی اسرائیل کی حالت دکھائی جاتی ہے کہ ایك گروہ ان میں سے ہمارا فرمانبرادر ہوا ور ایك فرقہ نے کفر کیا منکم کی ضمیر گویاانصار الله ك طرف تم نے راجع کی تو معاذالله صحابہ کے دو گروہ ہوگئے
فعل ناجائزکہ صرف گناہ ہو محض اس کی وجہ سےکفر کا فتوی دینا سید وغیر سید کسی پر بھی جائز نہیں والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۴۱ تا ۴۲ : از جمشید پور ڈاك خانہ خاص ضلع سنگھ بھوم آفس کارکمبے مسئولہ حمید الله ۹ شوال ۱۳۳۹ھ
(۱)مسلمان یا ہندو کسی مسلمان کا نام لے کر کہیں کہ فلاں شخص کی جے۔ جیسے شوکت علی محمد علی کی جے یہ درست ہے یا نہیں
(۲)شوکت علی وغیرہ کے مجلسوں میں جانادرست ہے یا نہیں اورلفظ مہاتما کہنا جائز ہے یا نہیں بینوا توجروا
الجواب :
(۱)جے جو کافر بولتے ہیں جیسے گاندھی وغیرہ کی یاعام ہنود کی یہ بحکم فقہائے کرام کفر ہے درمختار وغیرہ میں ہے : تبجیل الکافر کفر (کافر کی تعظیم کفر ہے۔ ت)یونہی جو نام کا مسلمان حد کفر تك پہنچ گیا ہو اس کی جے کا بھی یہی حکم ہے اور مسلمان کی جے بولنا بھی منع ہے کہ کفار سے مشابہت ہے۔
(۲)مشرك کو مہاتما کہنا حرام ہے بلکہ بحکم فقہائے کرام کفر ہے اور ان کے جلسوں میں جانا ناجائز۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۴۳ : از محلہ سوداگران مسئولہ حضرت ننھے میاں صاحب مدظلہم ذی القعدہ ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ امام نے یہ رکوع “ یایہا الذین امنوا کونوا انصار اللہ “ (اے اہل ایمان! ہوجاؤ الله تعالی کے مددگار۔ ت)پڑھا پھر من بنی اسرائیل کی جگہ منکم کہہ گیا۔ زید نے بعد سلام کہا کہ قرآن عظیم صحابہ کرام رضوان الله علیہم اجمعین سے فرماتاہے : الله کے مددگار ہوجاؤ پھر بنی اسرائیل کی حالت دکھائی جاتی ہے کہ ایك گروہ ان میں سے ہمارا فرمانبرادر ہوا ور ایك فرقہ نے کفر کیا منکم کی ضمیر گویاانصار الله ك طرف تم نے راجع کی تو معاذالله صحابہ کے دو گروہ ہوگئے
حوالہ / References
درمختار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع مطبع مجتبائی دہلی ۲ / ۲۵۱
القرآن الکریم ۶۱ /۱۴
القرآن الکریم ۶۱ /۱۴
اس پر امام نے جواب دیا کہ قرآن عطیم عامہ مسلمین سے بھی خطاب فرماتاہے کفار سے بھی خطاب فرماتاہے اگر ایسا نہیں یعنی مخاطبہ اس کا صرف صحابہ کرام ہی سے ہو تو اوامرا ونواہی سب اٹھ جائیں گے اور کوئی کافر کافر نہ رہے گا۔ اور یہ کہہ دے گا کہ ہم کو کوئی حکم نہیں پہنچا ا س پر زید نے کہاکیا ہم کمینے اس قابل نہیں کہ قابل نہیں کہ قرآن عظیم ہم سے مخاطبہ فرمائے صحابہ سے اس نے خطاب فرمایا ان کے صدقہ میں ہم کوملا عالمگیر دنیا کا بادشاہ ایك چمار سے بات کرنے میں اپنی تذلیل سمجھے گا۔ ہماری نسبت قرآن عظیم سے وہ نہیں جو چمار کو علمگیر سے ہے کافروں سے مخاطبہ نہیں بلکہ ان کو جھڑکیاں دینا ہے
“ وامتزوا الیوم ایہا المجرمون ﴿۵۹﴾ “ (اور جدا ہو جاؤ آج کے دن اے مجرمو۔ ت) یہ جھڑکی ہے یا مخاطبہ شہنشاہ مجرم بدمعاش بدکار کو حکم سزا سنایا کرتا ہے اس کو کلام نہیں کہتے صحابہ کرام کے پاك ذکر میں طغیان کلام میں یہ بھی زید کے منہ سے نکل گیا کہ اگر وہ ایسی جان نثاری اور ایسی کوششیں نہ فرماتے تو مورخین تاریخ میں لکھ دیتے کہ ایك صاحب پیدا ہوئے اور انھوں نے یہ دعوی کیا ان پر کتاب اتاری گئی اس کے سوا اور کچھ پتا نہ چلتا۔ یہ انھیں کی جانبازیوں کا نتیجہ ہے جو ہم مسلمان ہیں ان کا احسان اسلام پر قرآن پر اور سب پر اگر معاذالله احسان سے قائل کی نیت اس وقت غصہ یا حماقت کے سبب منت نہادن ہو تو اس کی نسبت کیا حکم ہوگا حالانکہ زید کے اندر کے دل کا اعتقادیہ ہے کہ قرآن عظیم پر کسی کا احسان نہیں حتی کہ جس اکرم الاکرمین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم پر ا س نے نزول اجلال فرمایا ان کا بھی کوئی احسان اس پر نہیں بلکہ اسی کے احسانات بے نہایت ہیں وہ اپنے عقیدے میں روح ایمان کے طریقہ پر رکھتاہے کہ اس کی ایك آیت کریمہ خود حضور پر نور سیدالمرسلین نبی الانبیاء اور جمیع مخلوقات الہی سے افضل تر ہے کہ وہ باری عزوجلالہ کی صفت کریمہ ہے اور یہ مخلوق وہ قدیم ہے اور یہ حادث اور وہ نماز ہوئی یا نہیں بینوا توجروا
الجواب :
نماز تو یقینا ہوگئی ضمیر منکم صحابہ کرام رضی الله تعالی عنہ کو پھرنی کچھ ضرور نہیں التفات بھی ہوسکتاہے اور پھرے بھی تو حرج نہیں بعض کہ اس وقت الذین امنوا اور بظاہر صحابہ میں داخل تھے معاذالله بعد کو مرتد ہوگئے جن سے صدیق اکبر رضی الله تعالی عنہ نے قتال فرمایا جس کا ذکر آیہ کریمہ :
“ یایہا الذین امنوا من یرتد منکم عن دینہ فسوف یاتی اللہ بقوم یحبہم اے ایمان والو! تم میں جو کوئی اپنے دین سے پھر جائے گا تو عنقریب الله ایسے لوگ لائے گاکہ
“ وامتزوا الیوم ایہا المجرمون ﴿۵۹﴾ “ (اور جدا ہو جاؤ آج کے دن اے مجرمو۔ ت) یہ جھڑکی ہے یا مخاطبہ شہنشاہ مجرم بدمعاش بدکار کو حکم سزا سنایا کرتا ہے اس کو کلام نہیں کہتے صحابہ کرام کے پاك ذکر میں طغیان کلام میں یہ بھی زید کے منہ سے نکل گیا کہ اگر وہ ایسی جان نثاری اور ایسی کوششیں نہ فرماتے تو مورخین تاریخ میں لکھ دیتے کہ ایك صاحب پیدا ہوئے اور انھوں نے یہ دعوی کیا ان پر کتاب اتاری گئی اس کے سوا اور کچھ پتا نہ چلتا۔ یہ انھیں کی جانبازیوں کا نتیجہ ہے جو ہم مسلمان ہیں ان کا احسان اسلام پر قرآن پر اور سب پر اگر معاذالله احسان سے قائل کی نیت اس وقت غصہ یا حماقت کے سبب منت نہادن ہو تو اس کی نسبت کیا حکم ہوگا حالانکہ زید کے اندر کے دل کا اعتقادیہ ہے کہ قرآن عظیم پر کسی کا احسان نہیں حتی کہ جس اکرم الاکرمین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم پر ا س نے نزول اجلال فرمایا ان کا بھی کوئی احسان اس پر نہیں بلکہ اسی کے احسانات بے نہایت ہیں وہ اپنے عقیدے میں روح ایمان کے طریقہ پر رکھتاہے کہ اس کی ایك آیت کریمہ خود حضور پر نور سیدالمرسلین نبی الانبیاء اور جمیع مخلوقات الہی سے افضل تر ہے کہ وہ باری عزوجلالہ کی صفت کریمہ ہے اور یہ مخلوق وہ قدیم ہے اور یہ حادث اور وہ نماز ہوئی یا نہیں بینوا توجروا
الجواب :
نماز تو یقینا ہوگئی ضمیر منکم صحابہ کرام رضی الله تعالی عنہ کو پھرنی کچھ ضرور نہیں التفات بھی ہوسکتاہے اور پھرے بھی تو حرج نہیں بعض کہ اس وقت الذین امنوا اور بظاہر صحابہ میں داخل تھے معاذالله بعد کو مرتد ہوگئے جن سے صدیق اکبر رضی الله تعالی عنہ نے قتال فرمایا جس کا ذکر آیہ کریمہ :
“ یایہا الذین امنوا من یرتد منکم عن دینہ فسوف یاتی اللہ بقوم یحبہم اے ایمان والو! تم میں جو کوئی اپنے دین سے پھر جائے گا تو عنقریب الله ایسے لوگ لائے گاکہ
حوالہ / References
ا لقرآن الکریم ۳۶ / ۵۹
ویحبونہ اذلۃ علی المؤمنین اعزۃ علی الکفرین ۫ یجہدون فی سبیل اللہ ولا یخافون لومۃ لائم ذلک فضل اللہ یؤتیہ من یشاء واللہ وسع علیم ﴿۵۴﴾ “ وہ الله کے پیار ےاور الله ان کا پیارا مسلمانوں پر نرم اور کافروں پر سخت الله کی راہ میں لڑیں گے اور کسی کی ملامت کرنے والے کی ملامت اندیشہ نہ کریں گے یہ الله کا فضل ہے جسے چاہےدے اور الله وسعت والا علم والاہے۔
یہاں بھی یایھاالذین امنوا سے خطاب فرمایا او را نھیں میں سے بعض معاذالله مرتد ہوئے او وہ الله کے پیارے صدیق اکبر اور ان کے پیرو ہوئے زید کاکہنا کہ خطاب الہی صحابہ کرام رضی الله تعالی عنہم سے ہے اورہم بالطبع داخل ہیں بہت صحیح ہے اور واقعی قرآن کریم کفا رسے زجر کے سوا خطاب کم فرماتا ہے غالبا اپنے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو حکم دیتاہے کہ ان سے یوں فرمادو “ قل یایہا الکفرون ﴿۱﴾ “ “ قل یاہل الکتب “ قل یایہا الذین ہادوا “ “ قل للذین کفروا “ وغیر ذالک۔ پھر بھی بعض جگہ سوائے زجر بھی قرآن عظیم نے بنفس نفیس ان سے خطاب فرمایاہے۔
قال تعالی “ یایہا الذین امنوا اتقوا اللہ و امنوا برسولہ یؤتکم کفلین من رحمتہ و یجعل لکم نورا تمشون بہ و یغفر لکم و اللہ غفور رحیم ﴿۲۸﴾ “ ۔ الله تعالی نے فرمایا : اے وہ لوگوں جو موسی وعیسی پرایمان کانام لیتے ہو یعنی یہود ونصاری الله سے ڈرو اورا س کے رسول محمد صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم پر ایمان لاؤ تمھیں اپنی رحمت کا دوہرا حصہ دے گا اور تمھارے لئے نور کردے گا جس سے صراط پر چلو اور تمھارے گناہ بخش دے گا اور الله بخشنے والا مہربان ہے۔
معالم شریف میں ہے :
یایھاالذین امنوا اتقواﷲ الخطاب لاھل الکتابین من الیہود والنصاری یقول یایھا الذین امنوا بموسی وعیسی اے اہل ایمان! الله کا تقوی اختیار کرو یہ یہود ونصاری اہل کتاب کو خطاب ہے فرمایا اے وہ لوگو! جو موسی وعیسی پر ایمان لائے
یہاں بھی یایھاالذین امنوا سے خطاب فرمایا او را نھیں میں سے بعض معاذالله مرتد ہوئے او وہ الله کے پیارے صدیق اکبر اور ان کے پیرو ہوئے زید کاکہنا کہ خطاب الہی صحابہ کرام رضی الله تعالی عنہم سے ہے اورہم بالطبع داخل ہیں بہت صحیح ہے اور واقعی قرآن کریم کفا رسے زجر کے سوا خطاب کم فرماتا ہے غالبا اپنے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو حکم دیتاہے کہ ان سے یوں فرمادو “ قل یایہا الکفرون ﴿۱﴾ “ “ قل یاہل الکتب “ قل یایہا الذین ہادوا “ “ قل للذین کفروا “ وغیر ذالک۔ پھر بھی بعض جگہ سوائے زجر بھی قرآن عظیم نے بنفس نفیس ان سے خطاب فرمایاہے۔
قال تعالی “ یایہا الذین امنوا اتقوا اللہ و امنوا برسولہ یؤتکم کفلین من رحمتہ و یجعل لکم نورا تمشون بہ و یغفر لکم و اللہ غفور رحیم ﴿۲۸﴾ “ ۔ الله تعالی نے فرمایا : اے وہ لوگوں جو موسی وعیسی پرایمان کانام لیتے ہو یعنی یہود ونصاری الله سے ڈرو اورا س کے رسول محمد صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم پر ایمان لاؤ تمھیں اپنی رحمت کا دوہرا حصہ دے گا اور تمھارے لئے نور کردے گا جس سے صراط پر چلو اور تمھارے گناہ بخش دے گا اور الله بخشنے والا مہربان ہے۔
معالم شریف میں ہے :
یایھاالذین امنوا اتقواﷲ الخطاب لاھل الکتابین من الیہود والنصاری یقول یایھا الذین امنوا بموسی وعیسی اے اہل ایمان! الله کا تقوی اختیار کرو یہ یہود ونصاری اہل کتاب کو خطاب ہے فرمایا اے وہ لوگو! جو موسی وعیسی پر ایمان لائے
اتقوا اﷲ فی محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ۔ تمھیں حضرت محمد صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے بارے میں ڈرنا چاہئے۔ (ت)
زید نے جو کچھ مدح صحابہ کرام رضی الله تعالی عنہم میں کہا سب حق ہے اور سچی محبت صحابہ سے ناشی ہے اور وہ لفظ احسان کہ اس کی زبان سے نکلا اس کی توجیہ نہایت صاف وآسان ہے قرآن مصحف کریم کو بھی کہتے ہیں ا س قرآن مجید کا ہدیہ کیا ہے فلاں نے قرآن عظیم کو ہبہ کیا یا فلاں مسجد پر وقف کیا یا قرآن کریم کی جلد بندھواؤ یا چولی چڑھاؤ یا غلاف سی دو ان تمام محاورات میں قرآن سے مصحف ہی مراد ہے اور بلاشبہ یہ محاورہ عام شائع متعارف ہے اور مصحف یعنی یہ اوراق اور ان پر یہ نقوش ساتی روشنائی ضرور حادث وجنس مخلوق ہے اور اجلہ کا اس سے افضل ہونا ممکن نہ ہو یہ کسی دلیل قطعی سے ثابت نہیں بلکہ جب جنگ صفین میں امیر المومنین مولی علی کرم الله وجہہ کے حضور قرآن عظیم بلند کیا گیا فرمایا : ھذا مصحف صامت وانا مصحف ناطق ۔ یہ خاموش قرآن ہے اور میں قرآن ناطق ہوں۔ اگر قرآن سے زید کی یہی مراد تھی تواس پر کچھ الزام نہیں اور اس کاوہ بیان کہ میں قرآن کو ایسا جانتاہوں استدراك ودفع وہم ہوگا یعنی قرآن حقیقی کی نسبت تومیرا یہ اعتقاد ہے جو حرف بحرف ہے مگر حضو ر اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو اکرم الاولین کہنے کے اجازت نہیں یہ نام پاك عرف میں رب العزت کے لئے ہے حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اکرم الاولین والآخرین ہیں غرض زید کی نسبت حکم فتوی تو یہ لکھا کہ اس کا کلام معنی صحیح رکھتا ہے اور وہ کسی سخت الزام کا مورد نہیں________لیکن وہ اپنی نیت کوخوب جانتاہے اور اس کا رب اس سے اعلم اگریہ کلمہ اس نے قرآن حقیقی قدیم ہی کی نسبت کہا ہو توا س صورت میں ضرور حکم سخت ہوا ا س تقدیر پر تجدید اسلام لازم ہوگی پھر اس کے بعد تجدید نکاح وبیعت وحج کے احکام قرآن عظیم غنی عن العلمین ہے وہ اس سے پاك ومنزہ ہے کہ تمام عالم میں اس کا اس پر کچھ احسان ہو اگر سارا جہان کفر کرتا اس کی عظمت میں ذرہ بھر فرق نہ آتا اور اگر سارا جہاں ایمان لے آئے اس کی عظمت میں ذرہ بھر اضافہ نہ ہوکہ اس کی عظمت نا محدود ہے اور نامحدود پر اضافہ محال بالجملہ یہ معاملہ زید اور اس کے رب میں ہے شرعا اس پر کوئی الزام نہیں کہ صاف تاویل موجودہ ہے ہاں حفظ زبان کی احتیاط لازم والله تعالی اعلم۔
زید نے جو کچھ مدح صحابہ کرام رضی الله تعالی عنہم میں کہا سب حق ہے اور سچی محبت صحابہ سے ناشی ہے اور وہ لفظ احسان کہ اس کی زبان سے نکلا اس کی توجیہ نہایت صاف وآسان ہے قرآن مصحف کریم کو بھی کہتے ہیں ا س قرآن مجید کا ہدیہ کیا ہے فلاں نے قرآن عظیم کو ہبہ کیا یا فلاں مسجد پر وقف کیا یا قرآن کریم کی جلد بندھواؤ یا چولی چڑھاؤ یا غلاف سی دو ان تمام محاورات میں قرآن سے مصحف ہی مراد ہے اور بلاشبہ یہ محاورہ عام شائع متعارف ہے اور مصحف یعنی یہ اوراق اور ان پر یہ نقوش ساتی روشنائی ضرور حادث وجنس مخلوق ہے اور اجلہ کا اس سے افضل ہونا ممکن نہ ہو یہ کسی دلیل قطعی سے ثابت نہیں بلکہ جب جنگ صفین میں امیر المومنین مولی علی کرم الله وجہہ کے حضور قرآن عظیم بلند کیا گیا فرمایا : ھذا مصحف صامت وانا مصحف ناطق ۔ یہ خاموش قرآن ہے اور میں قرآن ناطق ہوں۔ اگر قرآن سے زید کی یہی مراد تھی تواس پر کچھ الزام نہیں اور اس کاوہ بیان کہ میں قرآن کو ایسا جانتاہوں استدراك ودفع وہم ہوگا یعنی قرآن حقیقی کی نسبت تومیرا یہ اعتقاد ہے جو حرف بحرف ہے مگر حضو ر اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو اکرم الاولین کہنے کے اجازت نہیں یہ نام پاك عرف میں رب العزت کے لئے ہے حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اکرم الاولین والآخرین ہیں غرض زید کی نسبت حکم فتوی تو یہ لکھا کہ اس کا کلام معنی صحیح رکھتا ہے اور وہ کسی سخت الزام کا مورد نہیں________لیکن وہ اپنی نیت کوخوب جانتاہے اور اس کا رب اس سے اعلم اگریہ کلمہ اس نے قرآن حقیقی قدیم ہی کی نسبت کہا ہو توا س صورت میں ضرور حکم سخت ہوا ا س تقدیر پر تجدید اسلام لازم ہوگی پھر اس کے بعد تجدید نکاح وبیعت وحج کے احکام قرآن عظیم غنی عن العلمین ہے وہ اس سے پاك ومنزہ ہے کہ تمام عالم میں اس کا اس پر کچھ احسان ہو اگر سارا جہان کفر کرتا اس کی عظمت میں ذرہ بھر فرق نہ آتا اور اگر سارا جہاں ایمان لے آئے اس کی عظمت میں ذرہ بھر اضافہ نہ ہوکہ اس کی عظمت نا محدود ہے اور نامحدود پر اضافہ محال بالجملہ یہ معاملہ زید اور اس کے رب میں ہے شرعا اس پر کوئی الزام نہیں کہ صاف تاویل موجودہ ہے ہاں حفظ زبان کی احتیاط لازم والله تعالی اعلم۔
حوالہ / References
معالم التزیل علی ہامش الخازن تحت آیۃ یایھاالذین آمنوا اتقوالله الخ مصطفی البابی الحلبی المصر ۷ / ۴۰
مسئلہ ۴۴ : از میرٹھ کوٹھی سید محمد حسین صاحب بیرسٹر مسئولہ محمد مجتبی خاں ۱۵ ذی الحجہ ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ تبلیغ خلافت کی غرض سے جامع مسجد میں ایك جلسہ ہوا جس میں ہنود بھی شریك ہوئے دوران تقاریر میں مسلمانوں نے الله اکبر کے نعرے لگائے اور ہنود نے بندے ماترم مہاتما گاندھی کی جے تلك مہاراج کی جے کے نعرے لگائے کیا ہنود کو مساجد میں اس قسم کے نعرے لگانا جائزہے اور اگر بعض مسلمانوں نے خود اپنی زبان سے اسی مقام پر دوران تقاریر میں اہل ہنود کے ساتھ یا خود پیش قدمی کرتے ہوئے اس قسم کی جے کی آوازین بلند کی ہوں تو ان کا کیاحکم ہے بینوا بالدلیل توجروا من الرب الجلیل(دلیل کے ساتھ بیان کرو رب جلیل سے اجر پاؤ۔ ت)
الجواب :
مشرکین کی جے پکارنا ان کی تعظیم ہے اور کافروں کی تعظیم کفرہے فتاوی ظہیریہ واشباہ ودرمختار میں ہے تبجیل الکافر کفر (کافر کی تعظیم کفرہے۔ ت)ایسے کلمہ گویوں پر لازم ہے کہ نئے سرے سے اسلام لائیں پھر اپنی عورتیں رکھنا چاہیں تو ان سے از سر نو نکاح کریں بلکہ ایسے جلسوں میں جو مضامین باطلہ و مخالف شرع ہوتے ہیں پر بہ نیت تحسین الله اکبر کہنا بھی حرام قطعی ہے کہ ذکر الہی کی توہین ہے۔ مشرکوں کو مسجد میں اس طرح لےجانا اور ان کا اپنےکلمات کفربالاعلان کہنا اور مسلمان کہلانے والوں کا اسی پر راضی ہونا باجماع امت حرام ہے رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
انما بینت المساجد لما بنیت لہ (وفی اخری)لذکر اﷲ والصلوۃ وقراء ۃ القران ۔ مسجدیں تو صرف اس لئے بنیں جس لئے بنیں دوسری روایت میں ہے وہ تو الله تعالی کی یاد اورنماز اور تلاوت قرآن کے لئے بنیں۔
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ تبلیغ خلافت کی غرض سے جامع مسجد میں ایك جلسہ ہوا جس میں ہنود بھی شریك ہوئے دوران تقاریر میں مسلمانوں نے الله اکبر کے نعرے لگائے اور ہنود نے بندے ماترم مہاتما گاندھی کی جے تلك مہاراج کی جے کے نعرے لگائے کیا ہنود کو مساجد میں اس قسم کے نعرے لگانا جائزہے اور اگر بعض مسلمانوں نے خود اپنی زبان سے اسی مقام پر دوران تقاریر میں اہل ہنود کے ساتھ یا خود پیش قدمی کرتے ہوئے اس قسم کی جے کی آوازین بلند کی ہوں تو ان کا کیاحکم ہے بینوا بالدلیل توجروا من الرب الجلیل(دلیل کے ساتھ بیان کرو رب جلیل سے اجر پاؤ۔ ت)
الجواب :
مشرکین کی جے پکارنا ان کی تعظیم ہے اور کافروں کی تعظیم کفرہے فتاوی ظہیریہ واشباہ ودرمختار میں ہے تبجیل الکافر کفر (کافر کی تعظیم کفرہے۔ ت)ایسے کلمہ گویوں پر لازم ہے کہ نئے سرے سے اسلام لائیں پھر اپنی عورتیں رکھنا چاہیں تو ان سے از سر نو نکاح کریں بلکہ ایسے جلسوں میں جو مضامین باطلہ و مخالف شرع ہوتے ہیں پر بہ نیت تحسین الله اکبر کہنا بھی حرام قطعی ہے کہ ذکر الہی کی توہین ہے۔ مشرکوں کو مسجد میں اس طرح لےجانا اور ان کا اپنےکلمات کفربالاعلان کہنا اور مسلمان کہلانے والوں کا اسی پر راضی ہونا باجماع امت حرام ہے رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
انما بینت المساجد لما بنیت لہ (وفی اخری)لذکر اﷲ والصلوۃ وقراء ۃ القران ۔ مسجدیں تو صرف اس لئے بنیں جس لئے بنیں دوسری روایت میں ہے وہ تو الله تعالی کی یاد اورنماز اور تلاوت قرآن کے لئے بنیں۔
حوالہ / References
الاشباہ والنظائر کتاب السیروالردۃ ادارۃ القرآن کراچی ۱ / ۲۸۸ ، درمختار کتاب الحظرو الاباحۃ مطبع مجتبائی دہلی ۲ / ۲۵۱
صحیح مسلم کتا ب المساجد قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۲۰۱
صحیح مسلم باب وجوہ غسل البول الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۳۸ ، کنزالعمال حدیث ۲۰۷۹۳ موسسۃ الرسالۃ بیروت ۷ / ۶۶۱
صحیح مسلم کتا ب المساجد قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۲۰۱
صحیح مسلم باب وجوہ غسل البول الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۳۸ ، کنزالعمال حدیث ۲۰۷۹۳ موسسۃ الرسالۃ بیروت ۷ / ۶۶۱
یہاں تك کہ صحیح حدیثوں میں فرمایا : جو مسجد میں اپنی گمی چیز کو پوچھے ا س سے کہو لا رداﷲ علیك ضالتك وان المساجد لم تبن لھذا الله تیری گمی چیز کو تجھے نہ ملائے مسجدیں اس لئے نہ بنیں نہ کہ کافروں کے لے جانے اور مشرکوں کی جے پکروانے کے لئے مگر کیا کیجئے کہ ان لوگوں کے دل مسخ ہوگئے انھوں نے مشرك کے غلام ہوکر الله ورسول کے سب احکام منسوخ کردئیے احمق بے عقل وجاہلوں کی کیا گنتی ساری کمیٹی میں سب سے بڑے عالم کہلانے والے مولوی عبدالباری فرنگی محلی ہیں جنھوں نے جلسہ مدراس میں اپنے منہ سے اپنے آپ کو نہ صرف عالم بلکہ بہت بڑا مجدد کہا وہ اقرارلکھ رہے ہیں کہ وہ بالکل پس روگاندھی کے ہیں اس کو اپنا رہنما بنالیا ہے جو وہ کہتاہے وہی مانتے ہیں “ انا للہ و انا الیہ رجعون﴿۱۵۶﴾ “ (ہم الله کے مال ہیں اور ہم کو اسی کی طرف پھرنا ہے۔ ت)ا س کانام دین ہے اس کانام اسلام ہے حالانکہ رب عزوجل فرماتاہے : اگرتم نے کافروں کاکہا مانا تو ضرور تم بھی مشرك ہو۔
“ ولکن الظلمین بایت اللہ یجحدون ﴿۳۳﴾ “
“ و سیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون ﴿۲۲۷﴾ “ واﷲ تعالی اعلم۔ بلکہ ظالم الله کی آیتوں سے انکار کرتے ہیں اور اب جان جائیں گے ظالم کہ کس کروٹ پر پلٹا کھائیں گے والله تعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۴۵ : از مانڈے برمارود نمبر ۲۹ زرباری مرسلہ حاجی حسین احمد صاحب ماسورتی سوداگر آہن
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص نے اپنے وعظ میں کہا کہ فرعون نے ایك نماز میں خداوند کریم سے پانی کی دعا مانگی اور کہا میں تجھ کو وحدہ لاشریك لہ جانتاہوں میری دعا قبول فرما پس اس کی دعا قبول ہوئی آج کل کے مسلمانوں کا ایمان اگر فرعون جتنا بھی ہوتا سب جنت میں چلے جاتے دوسری بات یہ کہی کہ ترك موالات پانچ بنائے اسلام سے بڑھ کرہے پس ایسے واعظ کے لئے کیا حکم ہے ایسے ملعونہ کلمات سے کافر ہوایا نہیں اگر نہیں تو فاسق ہوایا نہیں اس کی امامت کا کیا حکم ہے بینوا تو جروا
الجواب :
اس کی دو نوں باتیں کفر ہیں فرعون بالاجماع وبنص قطعی قرآن کافر تھا
قال اﷲ تعالی “ کذبت قبلہم قوم نوح و اصحب الرس و ثمود ﴿۱۲﴾ و عاد و فرعون و اخون لوط ﴿۱۳﴾ و اصحاب الایکۃ و قوم تبع الله تعالی نے فرمایا : ان کافروں سے پہلے رسولوں کو جھٹلایا نوح کی قوم اور رس والوں اور ثمود نے اور فرعون اور قوم لوط نے اور ایکہ والوں اورتبع
کل کذب الرسل فحق وعید ﴿۱۴﴾ “
کی قوم نے ان سب نے رسولوں کو جھٹلایا تو تکذیب رسل پر ہم نے جو وعید فرمائی تھی ان سب پر ثابت ہوگئی۔
“ ولکن الظلمین بایت اللہ یجحدون ﴿۳۳﴾ “
“ و سیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون ﴿۲۲۷﴾ “ واﷲ تعالی اعلم۔ بلکہ ظالم الله کی آیتوں سے انکار کرتے ہیں اور اب جان جائیں گے ظالم کہ کس کروٹ پر پلٹا کھائیں گے والله تعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۴۵ : از مانڈے برمارود نمبر ۲۹ زرباری مرسلہ حاجی حسین احمد صاحب ماسورتی سوداگر آہن
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص نے اپنے وعظ میں کہا کہ فرعون نے ایك نماز میں خداوند کریم سے پانی کی دعا مانگی اور کہا میں تجھ کو وحدہ لاشریك لہ جانتاہوں میری دعا قبول فرما پس اس کی دعا قبول ہوئی آج کل کے مسلمانوں کا ایمان اگر فرعون جتنا بھی ہوتا سب جنت میں چلے جاتے دوسری بات یہ کہی کہ ترك موالات پانچ بنائے اسلام سے بڑھ کرہے پس ایسے واعظ کے لئے کیا حکم ہے ایسے ملعونہ کلمات سے کافر ہوایا نہیں اگر نہیں تو فاسق ہوایا نہیں اس کی امامت کا کیا حکم ہے بینوا تو جروا
الجواب :
اس کی دو نوں باتیں کفر ہیں فرعون بالاجماع وبنص قطعی قرآن کافر تھا
قال اﷲ تعالی “ کذبت قبلہم قوم نوح و اصحب الرس و ثمود ﴿۱۲﴾ و عاد و فرعون و اخون لوط ﴿۱۳﴾ و اصحاب الایکۃ و قوم تبع الله تعالی نے فرمایا : ان کافروں سے پہلے رسولوں کو جھٹلایا نوح کی قوم اور رس والوں اور ثمود نے اور فرعون اور قوم لوط نے اور ایکہ والوں اورتبع
کل کذب الرسل فحق وعید ﴿۱۴﴾ “
کی قوم نے ان سب نے رسولوں کو جھٹلایا تو تکذیب رسل پر ہم نے جو وعید فرمائی تھی ان سب پر ثابت ہوگئی۔
حوالہ / References
جامع الترمذی ابواب البیوع النہی عن البیع فی المسجد امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی ۱ / ۱۵۸
القرآن الکریم ۲ /۱۵۶
القرآن الکریم ۶ /۳۳
القرآن الکریم ۲۶ /۲۳۷
القرآن الکریم ۵۰ /۱۲ تا ۱۴
القرآن الکریم ۲ /۱۵۶
القرآن الکریم ۶ /۳۳
القرآن الکریم ۲۶ /۲۳۷
القرآن الکریم ۵۰ /۱۲ تا ۱۴
مسلمانوں کے ایمان کو اس کافر اکفر کے ایمان سے کم کہنا صریح کفرہے یہ کفر کو ایمان پر تفضیل دینا ہے کافر میں ایمان کہاں اور وہ بھی مسلمانوں کے ایمان سے افضل جس کانام ان لوگوں نے ترك مولات رکھاہے اول تو وہ ہرگز ترك مولات نہیں مشرکوں سے صراحۃ مولات کررہے ہیں بلکہ ان کے غلام بن رہے ہیں ان میں جذب ہوچکے ان میں فنا ہو رہے ہیں مشرك کے پس روہوئے اسے اپنا رہنما بنالیا جو وہ کہتاہے وہی مانتے ہیں ان کے سب سے بڑے عالم مولوی عبدالباری فرنگی محلی نے صاف صاف ان باتوں کا اقرار اکیا اور صراحۃ لکھ دیا کہ میں نے قرآن وحدیث کی تمام عمر بت پرستی پر نثار کردی قرآن عظیم نے بکثرت آیتوں میں تمام کفار سے موالات قطعا حرام فرمائیں مجوس ہوں خواہ یہود ونصاری ہوں خواہ ہنود اورسب سے بدتر مرتدان ہنود ا ور یہ مدعیان ترك موالات مشرکین مرتدین سے یہ کچھ موالات برت رہے ہیں۔ پھر ترك موالات کا دعوی اس کی نظیر یہی ہوسکتی ہے کہ کوئی مشرك مہادیو کو پوجتا جائے اور کہے دیکھو شرك بہت بری چیز ہے سوا خدا کے کسی کو نہ پوچنا وغیر خدا کو سجدہ نہ کرنا نصاری سے ترك معاملت جائز دنیویہ جس کانام انھوں نے ترك موالات رکھاہے ور اسے فرض بلکہ مدار ایمان بتاتے ہر گز شریعت نے اسے واجب نہ کیا یہ ان کا شریعت پر افتراء اور ان کا بلکہ ان کے رہنما گاندھی کا اختراع ہے ان سب امور کی تفصیل ہماری کتاب المجحۃ المؤتمنہ میں ہے۔ اور بفرض غلط اگر یہ واجب بھی ہوتی تو اسے اسلام کی پانچوں بناؤن سے بڑھ کر کہنا صریح کفر تھا الله عزوجل کو ایك اور نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو اس کا رسول برحق ماننے کے برابربھی کوئی فرض نہیں ہوسکتا سب فرض اس کے نیچے ہیں اور اس کے سبب مقبول یہ نہ ہو تو سب مردود
قال اﷲ تعالی “ و قدمنا الی ما عملوا من عمل فجعلنہ ہباء منثورا ﴿۲۳﴾ “ الله تعالی نے فرمایا : اور جو کچھ انھوں نے کام کئے تھے ہم نے قصد فرماکر انھیں باریك باریك غبار کے بکھرے ہوئے ذرے کردیا۔ (ت)
قال اﷲ تعالی “ و قدمنا الی ما عملوا من عمل فجعلنہ ہباء منثورا ﴿۲۳﴾ “ الله تعالی نے فرمایا : اور جو کچھ انھوں نے کام کئے تھے ہم نے قصد فرماکر انھیں باریك باریك غبار کے بکھرے ہوئے ذرے کردیا۔ (ت)
حوالہ / References
القرآن الکریم ۲۵ /۲۳
وقال تعالی “ ومن یبتغ غیر الاسلم دینا فلن یقبل منہ وہو فی الاخرۃ من الخسرین﴿۸۵﴾ “ ۔ اور الله تعالی نے فرمایا : اور جو اسلام کے سوا کوئی دین چاہے گا وہ ہرگز اس سے قبول نہ کیا جائیگا اوروہ اخرت میں زیاں کاروں سے ہے۔ (ت)
بالجملہ واعظ مذکور کے کفر میں کوئی شك نہیں اور اس کے پیچھے نماز ایسی ہے جیسی گاندھی کے پیچھے اس کی عورت نکاح سے نکل گئی اسے واعظ بنایا اس کا وعظ سننا درکنار مسلمانوں کو اس سے میل جول اس کے پاس اٹھنا بیٹھنا اس سے سلام کلام اس کی موت وحیات میں کوئی معاملہ اہل اسلام سب یکسر حرام جب تك وہ اپنے کلمات ملعونہ سے توبہ کرکے اسلام نہ لائے۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۴۶ : مسئولہ حکیم عبدالرحمن محلہ جمال پورہ مقال سون پت ضلع رہتك ۱۱ شوال امعظم ۱۳۳۴ھ
منبع الفضل وبرکات الزمان مولانا احمدر ضاخان ادامہ الله تعالی بالفیض والاحسان السلام علیکم ورحمۃ الله تعالی اما بعد واضح رائے عالی ہو کہ بسط البنان کے رد میں آنجناب کے دو رسالہ “ ادخال السنان “ اور “ واقع اللسان “ دیکھے جن کے مطالعہ سے تمام شکوك رفع ہوگئے اور اپ کی اقصی مراتب کی تحقیق سے دل خوش ہوا اما ایك یہ شبہ باقی رہ گیا ہے امید ك اس معما کو عما فہم عبارت میں کارڈ ملصقہ پر حل فرماکر تشفی فرمائیں گے شبہ یہ ہےکہ چونکہ “ ادخال السنان “ کے تمام دلائل سے تو حضور سرور کائنات علیہ افضل التحیات کا عالم الغیب ہونا بماکان وبمایکون کاپیش از وفات ہی باحسن طریقہ ثابت ہوگیا لیکن مشکوۃ شریف کے باب الشفاعت میں صحیحین کی حدیث میں یلھنی محمامدہ احمدہ بھا لاتحضرنی الان (مجھے ایسے محامد کا الہام ہوگا جن کا اس وقت مجھے علم نہیں۔ ت)سے معلوم ہوتاہے کہ یہ محامدہ وثنا مستثنی ہیں یعنی بہ محامد حضرت کو قیامت کے اس وقت خاص سے پیشتر نہیں عطا کئے گئے کیونکہ ترمذی شریف میں اسی باب میں لم یفتحہ علی احد قبلی (مجھ سے پہلے کسی کو عطا نہیں کی گئیں۔ ت)فرمایا ہے۔ اور شیخ دہلوی رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے اس کی شرح اشعۃ اللمعات میں اسی طرح کی ہے :
ہم دران وقت نورے خاص از مقام قرب و معرفت در دل من افتد کہ علم آن محامد مقام قرب ومعرفت سے اس وقت میرے دل میں ایك نور خاص پیدا ہواگا جو ان
بالجملہ واعظ مذکور کے کفر میں کوئی شك نہیں اور اس کے پیچھے نماز ایسی ہے جیسی گاندھی کے پیچھے اس کی عورت نکاح سے نکل گئی اسے واعظ بنایا اس کا وعظ سننا درکنار مسلمانوں کو اس سے میل جول اس کے پاس اٹھنا بیٹھنا اس سے سلام کلام اس کی موت وحیات میں کوئی معاملہ اہل اسلام سب یکسر حرام جب تك وہ اپنے کلمات ملعونہ سے توبہ کرکے اسلام نہ لائے۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۴۶ : مسئولہ حکیم عبدالرحمن محلہ جمال پورہ مقال سون پت ضلع رہتك ۱۱ شوال امعظم ۱۳۳۴ھ
منبع الفضل وبرکات الزمان مولانا احمدر ضاخان ادامہ الله تعالی بالفیض والاحسان السلام علیکم ورحمۃ الله تعالی اما بعد واضح رائے عالی ہو کہ بسط البنان کے رد میں آنجناب کے دو رسالہ “ ادخال السنان “ اور “ واقع اللسان “ دیکھے جن کے مطالعہ سے تمام شکوك رفع ہوگئے اور اپ کی اقصی مراتب کی تحقیق سے دل خوش ہوا اما ایك یہ شبہ باقی رہ گیا ہے امید ك اس معما کو عما فہم عبارت میں کارڈ ملصقہ پر حل فرماکر تشفی فرمائیں گے شبہ یہ ہےکہ چونکہ “ ادخال السنان “ کے تمام دلائل سے تو حضور سرور کائنات علیہ افضل التحیات کا عالم الغیب ہونا بماکان وبمایکون کاپیش از وفات ہی باحسن طریقہ ثابت ہوگیا لیکن مشکوۃ شریف کے باب الشفاعت میں صحیحین کی حدیث میں یلھنی محمامدہ احمدہ بھا لاتحضرنی الان (مجھے ایسے محامد کا الہام ہوگا جن کا اس وقت مجھے علم نہیں۔ ت)سے معلوم ہوتاہے کہ یہ محامدہ وثنا مستثنی ہیں یعنی بہ محامد حضرت کو قیامت کے اس وقت خاص سے پیشتر نہیں عطا کئے گئے کیونکہ ترمذی شریف میں اسی باب میں لم یفتحہ علی احد قبلی (مجھ سے پہلے کسی کو عطا نہیں کی گئیں۔ ت)فرمایا ہے۔ اور شیخ دہلوی رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے اس کی شرح اشعۃ اللمعات میں اسی طرح کی ہے :
ہم دران وقت نورے خاص از مقام قرب و معرفت در دل من افتد کہ علم آن محامد مقام قرب ومعرفت سے اس وقت میرے دل میں ایك نور خاص پیدا ہواگا جو ان
حوالہ / References
القرآن الکریم ۳ /۸۵
مشکوٰۃالمصابیح باب الحوض والشفاعۃ مطبع مجتبائی دہلی ص۴۸۸
جامع الترمذی باب ماجاء من الشفاعۃ امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی ۲ / ۶۶
مشکوٰۃالمصابیح باب الحوض والشفاعۃ مطبع مجتبائی دہلی ص۴۸۸
جامع الترمذی باب ماجاء من الشفاعۃ امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی ۲ / ۶۶
اثران باشد ۔ محامد کا اثر ہوگا۔ (ت)
اوراس حدیث سے تیسری حدیث کے اس جملہ لم یفتحہ علی احد من قبلی کی شرح میں لکھتے ہیں :
نکشادہ الہام نکردہ برہیچ یکے پیش ازمن بلکہ برمن نیز پیش ازیں وقت چنانچہ از حدیث سابق لائح می شود ۔ مجھ سے پہلے ان کا کسی پر الہام نہ ہوگا بلکہ میں بھی ا س سے پہلے ان کونہ جانوں گا جیسا کہ سابقہ حدیث سے واضح ہے۔ (ت)
اور شیخ اکبر محی الدین ابن عربی فتوحات مکیہ میں گویا اسی حدیث کو بیان فرماتے ہیں :
فیاتی ویسجدویحمداﷲ بمحامد یلھمہ اﷲ تعالی ایاہ فی ذلك الوقت لم یکن یعلم قبل ذلك الوقت ۔ آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم تشریف لاکر سجدہ ریزی کرینگے اور الله تعالی کی ایسی محامد کریں گے جن سے الله تعالی آپ کو اس وقت نوازے گا اس سے پہلے وہ آپ کے علم میں نہ ہوں گی۔ (ت)
پس ان عبارات سے صاف معلوم ہوتاہے کہ یہ محامد اسی وقت تعلیم ہوں گے اور یہ محامد بھی من جملہ مایکون سے ہے تو گویا ابھی تك اس کا علم حضور کو نہیں۔ اورگویا بعض اشیاء کا علم نہ ہوا جیساکہ ا س حدیث سے ظاہر ہوا تو تمام اشیاء کا علم نہ ہوا اور اس میں احتمال ذہول بھی نہیں رہتا کیونکہ خود اس سے انکار فرماتے ہیں کہ ہم کواس کا علم عطا نہیں ہوا۔ امیدکہ مفصل جواب عطافرمائیں گے اطمینان کے لئے دریافت ہے اورمرقاۃ میں اس کی کیا شرح کی گئی ہے
الجواب :
مولانا المکرم اکرمکم! السلام علیکم ورحمۃ الله وبرکاتہ کارڈ کے مطالعہ سے محظوظ ہوا مولی تعالی آپ کو برکات دے ایسی حق پسندی وحق جوئی نہایت قابل مسرت ہے۔ ماکان ومایکون جس کے ذرہ ذرہ کا احاطہ کلیہ قرآن عظیم واحادیث صحیحہ وارشادات ائمہ سے آفتاب روشن کی طرح ثابت ہے اس کے معنی ماکان من اول یوم ویکون الی اخر الایام یعنی روز اول آفرینش سے روز قیامت تك جو کچھ ہوا اور ہونے والا ہے ایك ایك ذرے کا علم تفصیلی حضور کو عطا ہوا شرق وغرب
اوراس حدیث سے تیسری حدیث کے اس جملہ لم یفتحہ علی احد من قبلی کی شرح میں لکھتے ہیں :
نکشادہ الہام نکردہ برہیچ یکے پیش ازمن بلکہ برمن نیز پیش ازیں وقت چنانچہ از حدیث سابق لائح می شود ۔ مجھ سے پہلے ان کا کسی پر الہام نہ ہوگا بلکہ میں بھی ا س سے پہلے ان کونہ جانوں گا جیسا کہ سابقہ حدیث سے واضح ہے۔ (ت)
اور شیخ اکبر محی الدین ابن عربی فتوحات مکیہ میں گویا اسی حدیث کو بیان فرماتے ہیں :
فیاتی ویسجدویحمداﷲ بمحامد یلھمہ اﷲ تعالی ایاہ فی ذلك الوقت لم یکن یعلم قبل ذلك الوقت ۔ آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم تشریف لاکر سجدہ ریزی کرینگے اور الله تعالی کی ایسی محامد کریں گے جن سے الله تعالی آپ کو اس وقت نوازے گا اس سے پہلے وہ آپ کے علم میں نہ ہوں گی۔ (ت)
پس ان عبارات سے صاف معلوم ہوتاہے کہ یہ محامد اسی وقت تعلیم ہوں گے اور یہ محامد بھی من جملہ مایکون سے ہے تو گویا ابھی تك اس کا علم حضور کو نہیں۔ اورگویا بعض اشیاء کا علم نہ ہوا جیساکہ ا س حدیث سے ظاہر ہوا تو تمام اشیاء کا علم نہ ہوا اور اس میں احتمال ذہول بھی نہیں رہتا کیونکہ خود اس سے انکار فرماتے ہیں کہ ہم کواس کا علم عطا نہیں ہوا۔ امیدکہ مفصل جواب عطافرمائیں گے اطمینان کے لئے دریافت ہے اورمرقاۃ میں اس کی کیا شرح کی گئی ہے
الجواب :
مولانا المکرم اکرمکم! السلام علیکم ورحمۃ الله وبرکاتہ کارڈ کے مطالعہ سے محظوظ ہوا مولی تعالی آپ کو برکات دے ایسی حق پسندی وحق جوئی نہایت قابل مسرت ہے۔ ماکان ومایکون جس کے ذرہ ذرہ کا احاطہ کلیہ قرآن عظیم واحادیث صحیحہ وارشادات ائمہ سے آفتاب روشن کی طرح ثابت ہے اس کے معنی ماکان من اول یوم ویکون الی اخر الایام یعنی روز اول آفرینش سے روز قیامت تك جو کچھ ہوا اور ہونے والا ہے ایك ایك ذرے کا علم تفصیلی حضور کو عطا ہوا شرق وغرب
حوالہ / References
اشعۃ المعات ترجمہ مشکوٰۃ(فارسی)باب الحوض والشفاعۃ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۴ / ۳۸۸
اشعۃ المعات ترجمہ مشکوٰۃ(فارسی)باب الحوض والشفاعۃ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر۴ / ۳۸۹
فتوحات مکیہ الباب الخامس والعشرون وثلثمائۃ الخ داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۸۷ و ۴۰۳ و ۳ / ۹۲ و ۹۳
اشعۃ المعات ترجمہ مشکوٰۃ(فارسی)باب الحوض والشفاعۃ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر۴ / ۳۸۹
فتوحات مکیہ الباب الخامس والعشرون وثلثمائۃ الخ داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۸۷ و ۴۰۳ و ۳ / ۹۲ و ۹۳
میں سموت وارض میں عرش وفرش میں کوئی ذرہ حضور کے علم سے باہر نہیں۔ ذات وصفات حضرت عزت احاطہ وتناہی سے بری ہیں ممکن نہیں کہ جمیع مخلوقات کا علم مل کر اس کی ذات علیہ یا کسی صفت کریمہ کو محیط ہوسکے کبھی کوئی اسے پورا جان سکے گا۔ مومنین واولیاء وانبیاء اور خود حضور سید الانبیاء علیہ وعلیہم افضل الصلوات واکمل التسلیمات ابدالاباد تك اس کی معرفت میں ترقی فرمائیں گے ہر روز اس کے وہ محارم معلوم ہوں گے جوکل تك نہ معلوم تھے اوریہ سلسلہ ابد تك رہے گا کبھی ختم نہ ہوگا۔ روزانہ بے شمار علوم متعلق ذات وصفات ان پر منکشف ہوں گے اور ہمیشہ ذات وصفات میں نامتناہی غیر معلوم رہے گا کہ وہ محیط کل ہے کسی کے احاطہ میں نہیں آسکتا۔ وہ حدیث متعلق بہ محامد علوم ذات وصفات میں ہے اور بیشك حق ہے اوردعوی اہل حق کو کچھ مضر نہیں۔ ولہ الحمد وھو تعالی اعلم۔
مسئلہ ۴۷ : مسئولہ قاضی قاسم میاں از مقام گونڈل علاقہ کاٹھیا وار بروز چہار شنبہ ۴ ذی القعدہ ۱۳۳۳ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومشائخ عظام اس معاملہ میں کہ زید کہتاہے کہ سوائے خدا کے کچھ نہیں یعنی یہ بھی خدا وہ بھی خدا زید بھی خدا بکر بھی خدا علی ہذالقیاس یعنی خالق ومخلوق نہیں فعل فاعل مفعول خدا میں صورت بےصورت ہے بے صورت صورت ہے نہ یہ ہے نہ وہ ہے نہ زید ہے نہ عمرو ہے نہ بکر ہے خدا ہی خداہے جن کی تائید میں یہ چن اشعار جو اپنے بنائے ہوئے ہیں وہ پیش کرتاہے اور چند اشعار دیوان جام جم مصنفہ طالب حسین صاحب فرخ آبادی کے جو فرخ آباد کے مطبع مورس کمپنی بزریہ میں چھپی ہے پیش کرکے اپنا مسلك بتلاتے ہیں جو بطور نمونہ ذیل میں درج کئے جاتے ہیں۔ یہ اشعار بھی زیدخود کے ہیں جن کا تخلص اطہر ہے :
بندے کو تو خدا کہوں اور اس کو کیا کہوں بند کو بندہ اور نہ خدا کو خدا کہوں
اطہر ہی خدا ہے غرض دو میں ایك سے زیور کو زر کہوں نہیں اور کیا کہوں
اگرسب بھول بیٹھا تو خدا بھی بھول جااطہر کہ ہے یہ سب بڑا دھوکا خدا خود ہے خدا خود ہے
میں ہی مرسل میں ہی مرسل میں ہی اخبار اور قرآن محمد اور میں ہی الله آہاہاہا آہا ہاہا
نہ مفتی ہے نہ خنجر ہے نہ حد ہے نہ شریعت ہے خدا ہے تو اگر سچا انا الحق کہہ انا الحق کہہ
خدا ہوکر نہ بندہ بن زباں کھول دے پیارے ہے یہ آزادی کا ر ستہ انا الحق کہہ انا الحق کہہ
نہ رکھ روزہ نہ کر سجدہ نہ جاکعبہ میں توحج کو نہ ہے روزہ نہ ہے سجدہ انا الحق کہہ انا الحق کہہ
خدا تھا کب محمد تھے شریعت تو ہے مفروضہ نہیں ہے ما سوا حق کا انا الحق کہہ انا الحق کہہ
معوبود تو خدا کو کہے حور پر مرے شہوت پرست گر نہ کہو اس کو کیا کہوں
مسئلہ ۴۷ : مسئولہ قاضی قاسم میاں از مقام گونڈل علاقہ کاٹھیا وار بروز چہار شنبہ ۴ ذی القعدہ ۱۳۳۳ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومشائخ عظام اس معاملہ میں کہ زید کہتاہے کہ سوائے خدا کے کچھ نہیں یعنی یہ بھی خدا وہ بھی خدا زید بھی خدا بکر بھی خدا علی ہذالقیاس یعنی خالق ومخلوق نہیں فعل فاعل مفعول خدا میں صورت بےصورت ہے بے صورت صورت ہے نہ یہ ہے نہ وہ ہے نہ زید ہے نہ عمرو ہے نہ بکر ہے خدا ہی خداہے جن کی تائید میں یہ چن اشعار جو اپنے بنائے ہوئے ہیں وہ پیش کرتاہے اور چند اشعار دیوان جام جم مصنفہ طالب حسین صاحب فرخ آبادی کے جو فرخ آباد کے مطبع مورس کمپنی بزریہ میں چھپی ہے پیش کرکے اپنا مسلك بتلاتے ہیں جو بطور نمونہ ذیل میں درج کئے جاتے ہیں۔ یہ اشعار بھی زیدخود کے ہیں جن کا تخلص اطہر ہے :
بندے کو تو خدا کہوں اور اس کو کیا کہوں بند کو بندہ اور نہ خدا کو خدا کہوں
اطہر ہی خدا ہے غرض دو میں ایك سے زیور کو زر کہوں نہیں اور کیا کہوں
اگرسب بھول بیٹھا تو خدا بھی بھول جااطہر کہ ہے یہ سب بڑا دھوکا خدا خود ہے خدا خود ہے
میں ہی مرسل میں ہی مرسل میں ہی اخبار اور قرآن محمد اور میں ہی الله آہاہاہا آہا ہاہا
نہ مفتی ہے نہ خنجر ہے نہ حد ہے نہ شریعت ہے خدا ہے تو اگر سچا انا الحق کہہ انا الحق کہہ
خدا ہوکر نہ بندہ بن زباں کھول دے پیارے ہے یہ آزادی کا ر ستہ انا الحق کہہ انا الحق کہہ
نہ رکھ روزہ نہ کر سجدہ نہ جاکعبہ میں توحج کو نہ ہے روزہ نہ ہے سجدہ انا الحق کہہ انا الحق کہہ
خدا تھا کب محمد تھے شریعت تو ہے مفروضہ نہیں ہے ما سوا حق کا انا الحق کہہ انا الحق کہہ
معوبود تو خدا کو کہے حور پر مرے شہوت پرست گر نہ کہو اس کو کیا کہوں
الله کے سوا نہیں پھر بولتاہے کون اطہر تجھے خدا نہ کہوں اور کیا کہوں
اطہر تو برائے نام ہوں میں حیرت نہیں ہے الله ہوں میں عارف ہے اگر تو شك مت لاؤ اور نہیں میں اور نہیں
آپ ہی عرش اور آپ ہی کرسی آپ ہی دوزخ اور جنت آپ مکیں ہے آپ مکان ہے کیا کیا شور مچایا ہے
کافر کو تو براکہوں مومن کو کیا کہوں! اچھا کہوں نہ اس کو نہ اس کو برا کہوں
مصنفہ طالب حسین فرخ آبادی :
بنا ایك وحدت کی تصویرمیں ہوں مرید آپ ہی آپ ہی پیر میں ہوں
نہ دیکھاہو جس نے اسے مجھ کو دیکھے نہاں وعیاں اس کی تصویر میں ہوں
عذاب کس کا ثواب کیسا گناہ کہتے ہیں کس یارو وہی ہے فاعل جو خیر وشر کا خطا ہے عطا خطا ہے
عجب معمہ ہے یہ عزیز وخلا ملا ہے ملاخلا ہے برابھلا اب کہوں میں کس کو بھلا براہے برابھلاہے
(۱)مذکورہ بالاعقیدہ کو حضور پرنور شافع یوم النشور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے سینہ کا علم بتاتاہے جو آج تك سینہ بہ سینہ مشائخ طریقت میں چلاآتاہے اوراسی کا نام وصول الی الله ہے
(۲)اور یہی زید ظاہر میں نماز کے لئے اٹھتا ہے تواپنے مریدوں کے سامنے یہ بھی کہتاہے کہ ذرا خدا کو دھوکا دے لوں اسی طرح قولی اور فعلی کاروائی کرکے شریعت مطہرہ سے وہ وہ نفرتیں دلاتاہے کہ مسلمان کے کلیجے پاش پاش ہوجاتے ہیں۔
(۳)اور یہی زید وعظ میں بھی پکار پکار کرکہتاہے کہ شریعت تمھارے ماں باپ نے بھی سکھائی شریعت تو تمھارے استادوں نے بھی سکھائی شریعت تو تمھارے مولویوں نے بھی سکھائی مگر خدا کے ملنے کا تو رستہ کچھ اور ہے اوریہ تو منترکچھ اورہے اور اسی قسم کے دھوکے دے کر مسلمانوں کو اپنی مریدی کی طرف راغب کرتاہے اورمرید کرکے مذکور عقیدہ اوریہی الله کی تعظیم کرتاہے یعنی خالق مخلوق نہیں۔ اب التماس یہ ہے کہ اس زید کا عقیدہ کیساہے مسلمان اس کے ساتھ کیا برتاؤ کریں شرع شریف میں ا س کے لئے تعزیزی بھی ہے یا نہیں مسلمانوں کو اس کی مریدی سے خارج ہوکر بعد توبہ جدید نکاح کا ضرورت ہے یا نہیں اگر جدید نکاح کی ضرورت ہے تو پہلا مہرکافی ہے یانہیں اگر اس جدید نکاح میں عورت قبول نہ کرے تو کیا صورت ہے کتاب تذکرہ غوثیہ مسلمانوں کے پڑھنے اور عمل کرنے کے قابل ہے یا نہیں براہ مہربانی اوپر کے سوالوں کے جوابات مفصل طور سے ارقام فرماکر عندالله ماجور ہوں وعندالناس مشکور ہوجئے گا۔ فقط
اطہر تو برائے نام ہوں میں حیرت نہیں ہے الله ہوں میں عارف ہے اگر تو شك مت لاؤ اور نہیں میں اور نہیں
آپ ہی عرش اور آپ ہی کرسی آپ ہی دوزخ اور جنت آپ مکیں ہے آپ مکان ہے کیا کیا شور مچایا ہے
کافر کو تو براکہوں مومن کو کیا کہوں! اچھا کہوں نہ اس کو نہ اس کو برا کہوں
مصنفہ طالب حسین فرخ آبادی :
بنا ایك وحدت کی تصویرمیں ہوں مرید آپ ہی آپ ہی پیر میں ہوں
نہ دیکھاہو جس نے اسے مجھ کو دیکھے نہاں وعیاں اس کی تصویر میں ہوں
عذاب کس کا ثواب کیسا گناہ کہتے ہیں کس یارو وہی ہے فاعل جو خیر وشر کا خطا ہے عطا خطا ہے
عجب معمہ ہے یہ عزیز وخلا ملا ہے ملاخلا ہے برابھلا اب کہوں میں کس کو بھلا براہے برابھلاہے
(۱)مذکورہ بالاعقیدہ کو حضور پرنور شافع یوم النشور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے سینہ کا علم بتاتاہے جو آج تك سینہ بہ سینہ مشائخ طریقت میں چلاآتاہے اوراسی کا نام وصول الی الله ہے
(۲)اور یہی زید ظاہر میں نماز کے لئے اٹھتا ہے تواپنے مریدوں کے سامنے یہ بھی کہتاہے کہ ذرا خدا کو دھوکا دے لوں اسی طرح قولی اور فعلی کاروائی کرکے شریعت مطہرہ سے وہ وہ نفرتیں دلاتاہے کہ مسلمان کے کلیجے پاش پاش ہوجاتے ہیں۔
(۳)اور یہی زید وعظ میں بھی پکار پکار کرکہتاہے کہ شریعت تمھارے ماں باپ نے بھی سکھائی شریعت تو تمھارے استادوں نے بھی سکھائی شریعت تو تمھارے مولویوں نے بھی سکھائی مگر خدا کے ملنے کا تو رستہ کچھ اور ہے اوریہ تو منترکچھ اورہے اور اسی قسم کے دھوکے دے کر مسلمانوں کو اپنی مریدی کی طرف راغب کرتاہے اورمرید کرکے مذکور عقیدہ اوریہی الله کی تعظیم کرتاہے یعنی خالق مخلوق نہیں۔ اب التماس یہ ہے کہ اس زید کا عقیدہ کیساہے مسلمان اس کے ساتھ کیا برتاؤ کریں شرع شریف میں ا س کے لئے تعزیزی بھی ہے یا نہیں مسلمانوں کو اس کی مریدی سے خارج ہوکر بعد توبہ جدید نکاح کا ضرورت ہے یا نہیں اگر جدید نکاح کی ضرورت ہے تو پہلا مہرکافی ہے یانہیں اگر اس جدید نکاح میں عورت قبول نہ کرے تو کیا صورت ہے کتاب تذکرہ غوثیہ مسلمانوں کے پڑھنے اور عمل کرنے کے قابل ہے یا نہیں براہ مہربانی اوپر کے سوالوں کے جوابات مفصل طور سے ارقام فرماکر عندالله ماجور ہوں وعندالناس مشکور ہوجئے گا۔ فقط
الجواب :
صورت مذکورہ میں زید یقینا کافر مرتد ہے اس کے کلام سرتاپاکفر سے بھرے ہوئے ہیں مثلا(۱)زیدوعمر وبکر سب کو خدا کہنا(۲)خداکو مخلوق اور مفعول کہنا(۳)بندہ کو خدا کہوں(۴)خدا کو خدا نہ کہوں دوسرا عــــــہ شعر لکھنے میں سائل سے کچھ رہ گیا ہے(۵)تیسرے شعرمیں خدا کے بھول جانے کی فرمائش اورکہ یہ بھی بڑا دھوکا ہے(۶)چوتھے شعر میں اپنے آپ کو الله کہنا(۷)رسول کہنا(۸)قرآن کہنا(۹)پانچویں شعرمیں شریعت کا انکار(۱۰)اناالحق کہنے پر اصرار(۱۱)چھٹے شعر میں بھی یہی(۱۲)بندہ بننے کی ممانعت(۱۳)ساتویں میں وہی(۱۴)بروجہ انکار نماز روزے حج کی ممانعت(۱۵)آٹھویں شعر میں خدا کی نفی(۱۶)شریعت کو فرضی وساختہ بتانا کہ سیاق وسباق سے یہی مراد متعین ہے۔ (۱۷)وہ ان الحق(۱۸)دسویں شعر میں خدا بننا(۱۹)گیارھویں میں بھی یہی(۲۰)تیرھویں میں مومن کو اچھا نہ کہنا کافر کو برا نہ کہنا یہ بیس کفر تو زید کے کلمات مذکور میں کھلے کھلے ہیں۔ (۲۱)سولھویں شعرمیں عذاب وثواب کاا نکار(۲۲)سترھویں شعر میں بھلے کو برا برے کو بھلا کہنا(۲۳)ان صریح عقائد کفر ملعون کو حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی طر ف نسبت کرنا(۲۴)کفر کو وصول الی الله بتانا(۲۵)نماز کے لئے ا س کا کہنا کہ خدا کو دھوکا دے لوں اس کے کلمات سابقہ کے لحاظ سے لائق تاویل نہ رہا معنی استہزاء میں متعین ہوگیااور وہ کفر ہے(۲۶)شریعت سے نفرت دلانا(۲۷)شریعت کو راہ خدا نہ ماننا
بالجملہ زید ان کافروں میں ہے جن کو فرمایاگیا ہے من شك فی عذاب وکفرہ فقد کفر جو اس کے کافر ہونے میں شك کرے خود کافر ہے۔ سلطنت اسلام ہوتی تو اس کی تعزیز یہ تھی کہ بادشاہ اسلام اسے قتل کرتا اس کا اختیار غیر سلطان کو یہاں نہیں۔ مسلمانوں کو اس سے میل جول حرا اس سے سلام کلام حرام اس کے پاس بیٹھنا حرام اس کا وعظ سننا حرام وہ بیمار پڑے تو اسے پوچھنے جانا حرام مرجائے تو غسل دینا حرام کفن دینا حرا م جنازہ اٹھانا حرا جنازہ کے ساتھ چلنا حرام اس پرنماز حرام اسے مسلمانوں کے گورستان میں دفن کرنا حرام اسے مسلمانوں کی طرح دفن کرنا حرام اس کے لئے دعا ئے بخشش کرنا حرام اسے کچھ ثواب پہنچانا حرام اسکی قبر پر جانا حرام جوان باتوں میں سے کوئی بات اسے مسلمان جان کر کرے گا یا اس کی موت کے بعداس کے لئے دعائے بخشش کرے گا یا اسے
عــــــہ : ظاہرا یوں ہے ع اطہر ہے یا خدا ہے الخ۔
صورت مذکورہ میں زید یقینا کافر مرتد ہے اس کے کلام سرتاپاکفر سے بھرے ہوئے ہیں مثلا(۱)زیدوعمر وبکر سب کو خدا کہنا(۲)خداکو مخلوق اور مفعول کہنا(۳)بندہ کو خدا کہوں(۴)خدا کو خدا نہ کہوں دوسرا عــــــہ شعر لکھنے میں سائل سے کچھ رہ گیا ہے(۵)تیسرے شعرمیں خدا کے بھول جانے کی فرمائش اورکہ یہ بھی بڑا دھوکا ہے(۶)چوتھے شعر میں اپنے آپ کو الله کہنا(۷)رسول کہنا(۸)قرآن کہنا(۹)پانچویں شعرمیں شریعت کا انکار(۱۰)اناالحق کہنے پر اصرار(۱۱)چھٹے شعر میں بھی یہی(۱۲)بندہ بننے کی ممانعت(۱۳)ساتویں میں وہی(۱۴)بروجہ انکار نماز روزے حج کی ممانعت(۱۵)آٹھویں شعر میں خدا کی نفی(۱۶)شریعت کو فرضی وساختہ بتانا کہ سیاق وسباق سے یہی مراد متعین ہے۔ (۱۷)وہ ان الحق(۱۸)دسویں شعر میں خدا بننا(۱۹)گیارھویں میں بھی یہی(۲۰)تیرھویں میں مومن کو اچھا نہ کہنا کافر کو برا نہ کہنا یہ بیس کفر تو زید کے کلمات مذکور میں کھلے کھلے ہیں۔ (۲۱)سولھویں شعرمیں عذاب وثواب کاا نکار(۲۲)سترھویں شعر میں بھلے کو برا برے کو بھلا کہنا(۲۳)ان صریح عقائد کفر ملعون کو حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی طر ف نسبت کرنا(۲۴)کفر کو وصول الی الله بتانا(۲۵)نماز کے لئے ا س کا کہنا کہ خدا کو دھوکا دے لوں اس کے کلمات سابقہ کے لحاظ سے لائق تاویل نہ رہا معنی استہزاء میں متعین ہوگیااور وہ کفر ہے(۲۶)شریعت سے نفرت دلانا(۲۷)شریعت کو راہ خدا نہ ماننا
بالجملہ زید ان کافروں میں ہے جن کو فرمایاگیا ہے من شك فی عذاب وکفرہ فقد کفر جو اس کے کافر ہونے میں شك کرے خود کافر ہے۔ سلطنت اسلام ہوتی تو اس کی تعزیز یہ تھی کہ بادشاہ اسلام اسے قتل کرتا اس کا اختیار غیر سلطان کو یہاں نہیں۔ مسلمانوں کو اس سے میل جول حرا اس سے سلام کلام حرام اس کے پاس بیٹھنا حرام اس کا وعظ سننا حرام وہ بیمار پڑے تو اسے پوچھنے جانا حرام مرجائے تو غسل دینا حرام کفن دینا حرا م جنازہ اٹھانا حرا جنازہ کے ساتھ چلنا حرام اس پرنماز حرام اسے مسلمانوں کے گورستان میں دفن کرنا حرام اسے مسلمانوں کی طرح دفن کرنا حرام اس کے لئے دعا ئے بخشش کرنا حرام اسے کچھ ثواب پہنچانا حرام اسکی قبر پر جانا حرام جوان باتوں میں سے کوئی بات اسے مسلمان جان کر کرے گا یا اس کی موت کے بعداس کے لئے دعائے بخشش کرے گا یا اسے
عــــــہ : ظاہرا یوں ہے ع اطہر ہے یا خدا ہے الخ۔
حوالہ / References
درمختار باب المرتد مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۳۵۶
ثوب پہنچائے گا اگرچہ اسے کافر جان کر وہ خود کافر ہوجائے گا جو لوگ اس کے مرید اس کے ہوچکے ہیں ان پر فرض ہے کہ اس سے جدا ہوں دور بھاگیں کہ وہ بیعت اس کے ہاتھ پر نہیں ابلیس کے ہاتھ پر ہوئی پھر ان مریدوں میں جو اس کے ان کفروں سے آگاہ تھے اور اس کے بعد مرید ہوئے یا بعد مریدی کے آگاہ ہوئے اور اس کی بیعت سے الگ نہ ہوئے وہ سب بھی اسلام سے خارج ہیں ان پر بھی فرض کہ نئے سرے سے مسلمان ہوں تو بہ کریں تو بہ واسلام کے بعد ان کی عورتون اگر ان سے دوبارہ نکاح پر راضی نہ ہوں تو ان پر جبر نہیں۔ عورتیں جس سے چاہیں اگر عدت گزر چکی ہے تو ابھی ورنہ بعد عدت اپنا نکاح کرلیں اور اگر انھیں سے دوبارہ نکاح کریں تو مہر جدید لازم آئیگا اورپہلا مہر بھی اگر باقی ہے دینا ہوگا۔ کتاب تذکرہ غوثیہ جس میں غوث علی شاہ پانی پتی کا تذکرہ ہے ضلالتوں گمراہیوں بلکہ صریح کفر کی باتوں پر مشتمل ہے مثلا غوث علی شاہ جگن ناتھ کی چوکی پراشنان کرتے ملے کسی نے پہچانا تو بولے کہ اس شخص کے دو باپ تھے ایك مسلمان اس کی طرف سے حج کرآیا ہے دوسرا باپ ایك پنڈت تھا اس کی طرف سے جگن ناتھ تیرتھ کرنے آیا ہے ایسی ناپاکی بے دینی کی کتاب کا دیکھنا حرام ہے جس مسلمان کے پاس ہو جلا کر خاك کردے واﷲ الھادی الی صراط مستقیم(الله تعالی ہی صراط مستقیم کی ہدایت دینے والا ہے۔ ت)واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم۔
مسئلہ ۴۸ : مسئولہ عبدالرحمن طالب علم مدرسہ چھیپوں احمد آباد گجرات ۷ ربیع الآخر ۱۳۳۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ چند اشخاص کی موجودگی میں ایك مرید نے اپنے پیر کی شان میں یہ قصیدہ پڑھا اورپیر نے اس قصیدہ کو سن کر پڑھنے والے کو کہا کہ تومیرا حبیب ہے اور اس کے بعد یہ قصیدے منبر پر پڑھے جاتے ہیں اوراس کے جواز کا حکم پیر نے دیا آیا شرعا یہ قصیدہ جائزہیں یا نہیں قصیدہ مذکوریہ ہے :
مرحبا یا مرحبا یاشاہ لواری مرحبا نور الہدی خیرالوری یاشاہ لواری مرحبا
یا امام العالمین و انتحاب اولین ختم ولایت مقتدا یا شاہ لواری مرحبا
پیشوائے اولیا تو برگزیدہ ذو الجلال شافع ہر دوسرا یا شاہ لواری مرحبا
کن عطا فضل وکرم امروز فرد اے کریم صامع بجز تو نیست کس یاشاہ لواری مرحبا
یا بشیر ویا نذیر واے شہ اولو العزم ملجائے والا صفیا یا شاہ لواری مرحبا
منعم و مسجود قیوم و جہان بحرکرم طالب ومطلوب ومصدر یا شاہ لواری مرحبا
ذات تو احد ولے میم موجودات او خلق عالم را سبب یا شاہ لواری مرحبا
مسئلہ ۴۸ : مسئولہ عبدالرحمن طالب علم مدرسہ چھیپوں احمد آباد گجرات ۷ ربیع الآخر ۱۳۳۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ چند اشخاص کی موجودگی میں ایك مرید نے اپنے پیر کی شان میں یہ قصیدہ پڑھا اورپیر نے اس قصیدہ کو سن کر پڑھنے والے کو کہا کہ تومیرا حبیب ہے اور اس کے بعد یہ قصیدے منبر پر پڑھے جاتے ہیں اوراس کے جواز کا حکم پیر نے دیا آیا شرعا یہ قصیدہ جائزہیں یا نہیں قصیدہ مذکوریہ ہے :
مرحبا یا مرحبا یاشاہ لواری مرحبا نور الہدی خیرالوری یاشاہ لواری مرحبا
یا امام العالمین و انتحاب اولین ختم ولایت مقتدا یا شاہ لواری مرحبا
پیشوائے اولیا تو برگزیدہ ذو الجلال شافع ہر دوسرا یا شاہ لواری مرحبا
کن عطا فضل وکرم امروز فرد اے کریم صامع بجز تو نیست کس یاشاہ لواری مرحبا
یا بشیر ویا نذیر واے شہ اولو العزم ملجائے والا صفیا یا شاہ لواری مرحبا
منعم و مسجود قیوم و جہان بحرکرم طالب ومطلوب ومصدر یا شاہ لواری مرحبا
ذات تو احد ولے میم موجودات او خلق عالم را سبب یا شاہ لواری مرحبا
قاب قوسین توئی گفت مازاغ البصیر جائے تو رشك مدینہ یا شاہ لواری مرحبا
سید کونین سالار سل گنج نہاں یامحمدن الزمان یا شاہ لواری مرحبا
ہست مدعا مظہرذات تو مسند نشیں لایموت ولم یزل یاشاہ لواری مرحبا
مشکل کشا احمد زماں القاہ الله بہرما آوارہ پرورحافظایا شاہ لواری مرحبا
الجواب :
یہ خالص کفرہے اوراس کا قائل اس کا اجازت دہندہ اس کا پسند کنندہ سب مرتدہیں کسی امتی کو آں ۱سرور عالم کہنا ۲علیہ الصلوۃ کہنا ۳مسجود ومخلوق کہنا ۴خیرالوری کہنا ۵انتخاب اولین کہنا ۶شافع ہر دوسرا کہنا ۷سید کونین کہنا تو حرام وجزاف تھا ہی یوہیں ۸خلق عالم راسبب اور۹قاب قوسین اور ۱۰مازاغ البصر اور۱۱جائے تو رشك مدینہ کہنا ان میں بہت کلمات موہم کفریا منجر بکفر ہیں ۱۲مگر ذات تو احد اور ۱۳سالار رسل اور ۱۴مسند نشین لم یزل کہنا قطعا یقینا کفر ہے۔ یوہیں فقہائے کرام نے ۱۵قیوم جہاں غیر خدا کو کہنے پر تکفیر فرمائی۔ مجمع الانہر میں ہے :
اذا اطلق علی المخلوق من الاسماء المختصۃ بالخالق (جل وعلا)نحوالقدوس والقیوم والرحمن وغیرہا یکفر اھ واﷲ تعالی اعلم۔ اگر کوئی الله تعالی کی صفات مختصہ میں سے کسی صفت کا اطلاق مخلوق پر کرے مثلا اسے قدوس کے یاقیوم یا رحمن کہے تو کافر ہوجائے گا اھ والله تعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۴۹ : از کلکتہ محلہ دہی ہٹہ ۸۱ مولوی ولی الله خاں صاحب ۵ شعبان المعظم ۱۳۳۵ھ بروز چہار شنبہ
حضرات علمائے کرام کچھ عرصہ سے ایك ضخیم کتاب گلزار وحدت مصنفہ پیر جی نجم الدین متوطن جہنجون ضلع جے پو رطبع ہوئی جس میں جابجا ملحدانہ مولات مندرج ہیں مشتے نمونہ اخروارعرض ہے :
وہی وہی کوئی اور نہ دوجا اس بن کوئی اورنہ سوجا
ہررنگ سے بے رنگی آیا ہر ہر بھیس سے آپ دکھایا
آپ ہی دیکھتے آپ ہی دکھاوے پھروہ آپ کو آپ سراوے
کہیں محمد ہوکر آیا ہادی مہدی نام دھرایا
کہیں عارف ہو اگیانی اپنی اپنے قدرپہچانی
سید کونین سالار سل گنج نہاں یامحمدن الزمان یا شاہ لواری مرحبا
ہست مدعا مظہرذات تو مسند نشیں لایموت ولم یزل یاشاہ لواری مرحبا
مشکل کشا احمد زماں القاہ الله بہرما آوارہ پرورحافظایا شاہ لواری مرحبا
الجواب :
یہ خالص کفرہے اوراس کا قائل اس کا اجازت دہندہ اس کا پسند کنندہ سب مرتدہیں کسی امتی کو آں ۱سرور عالم کہنا ۲علیہ الصلوۃ کہنا ۳مسجود ومخلوق کہنا ۴خیرالوری کہنا ۵انتخاب اولین کہنا ۶شافع ہر دوسرا کہنا ۷سید کونین کہنا تو حرام وجزاف تھا ہی یوہیں ۸خلق عالم راسبب اور۹قاب قوسین اور ۱۰مازاغ البصر اور۱۱جائے تو رشك مدینہ کہنا ان میں بہت کلمات موہم کفریا منجر بکفر ہیں ۱۲مگر ذات تو احد اور ۱۳سالار رسل اور ۱۴مسند نشین لم یزل کہنا قطعا یقینا کفر ہے۔ یوہیں فقہائے کرام نے ۱۵قیوم جہاں غیر خدا کو کہنے پر تکفیر فرمائی۔ مجمع الانہر میں ہے :
اذا اطلق علی المخلوق من الاسماء المختصۃ بالخالق (جل وعلا)نحوالقدوس والقیوم والرحمن وغیرہا یکفر اھ واﷲ تعالی اعلم۔ اگر کوئی الله تعالی کی صفات مختصہ میں سے کسی صفت کا اطلاق مخلوق پر کرے مثلا اسے قدوس کے یاقیوم یا رحمن کہے تو کافر ہوجائے گا اھ والله تعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۴۹ : از کلکتہ محلہ دہی ہٹہ ۸۱ مولوی ولی الله خاں صاحب ۵ شعبان المعظم ۱۳۳۵ھ بروز چہار شنبہ
حضرات علمائے کرام کچھ عرصہ سے ایك ضخیم کتاب گلزار وحدت مصنفہ پیر جی نجم الدین متوطن جہنجون ضلع جے پو رطبع ہوئی جس میں جابجا ملحدانہ مولات مندرج ہیں مشتے نمونہ اخروارعرض ہے :
وہی وہی کوئی اور نہ دوجا اس بن کوئی اورنہ سوجا
ہررنگ سے بے رنگی آیا ہر ہر بھیس سے آپ دکھایا
آپ ہی دیکھتے آپ ہی دکھاوے پھروہ آپ کو آپ سراوے
کہیں محمد ہوکر آیا ہادی مہدی نام دھرایا
کہیں عارف ہو اگیانی اپنی اپنے قدرپہچانی
حوالہ / References
مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر باب المرتد ثم ان الفاظ انواع داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۶۹۰
کہیں عاشق ہوئے پھرے دیوانا کہیں معشوق محبوب یگانہ
کہیں عابد ہوکرے عبادت کہیں زاہد ہوکرے ریاضت
کہیں مؤذن بانگ سناوے آپ ہی آپ کو سیس نواوے
کہیں برہمن سنکھ بجایا آپ ہی اپنا مرجس گایا
کہیں رند ہوا شرابی راگ رنگ جنگ ربابی
کون ہے آدم کون ہے ابلیس کون سلیمان اور بلقیس
یہ سب انچھر وہ ہے معنا پہن لیا ہے ایسا بانا
یہ سب روپ اسی نے دھارے ایك ایك سے بھی نیارے
ص ۳ :
ایك نے اتنے نام دھرائے ایك ایك سے بھی نیارے
اول ہوکر آخر ہوا ظاہر ہو کر باطن بیا
کہیں واجب معبود کہلایا کہیں ممکن بندہ بن آیا
جیسے جل کر برف بنائی جل بن اس میں ا ور نہ کائی
جوں حباب دریا سے اٹھے آخر اس کا اس میں میٹے
بیرنگی بہ رنگ لے آیا ہر ہر نتھہ میں آپ پوجایا
مکھ پر چادر میم کی رکھ کر آپ غفور احمد اپنا نام دھر جگ میں کیا ظہور
نجما دیکھ اس یار کی رمزوں کی دستور ہر رنگ میں بیرنگ رہا دو رکا دور
ص ۴۷ : پھر جس شخص نے خلق اور خالق کو دو سمجھے اور ایك نہ جانا وہ مشرك ہے کہ مبتلا ہوا بیچ شرك خفی کے اور جس شخص نے کہا ذات کو ساتھ فردیت کے یعنی خلق اور خالق کو ایك سمجھا وہ موحد ہے۔
ص ۵۹ : اے عزیز چھٹا مرتبہ انسان کامل کا ہے وہ مشرك ہے مرتبوں ذاتی اور خلق میں یعنی اگر اس تعین بشریت کے خیال سے اس کو دیکھے تو آد می اور اگراس کی کمالیت فقر کی طرف دیکھے تو الله تعالی ہے بموجب ا س قول کے قول صوفیہ : اذااتم الفقر فھواﷲ(جب فقر مکمل ہوا تو الله ہوا۔ ت)
ص ۱۱۹ ص ۱۲۰ : نقل ہے کہ جب حضرت شیخ محی الدین ابن عربی نے درس توحید شروع کیا اور مسئلہ وحدۃ الوجود کو ظاہر فرمانے لگے۔ چنانچہ یہ رباعی ان کی تصنیف ہے :
کہیں عابد ہوکرے عبادت کہیں زاہد ہوکرے ریاضت
کہیں مؤذن بانگ سناوے آپ ہی آپ کو سیس نواوے
کہیں برہمن سنکھ بجایا آپ ہی اپنا مرجس گایا
کہیں رند ہوا شرابی راگ رنگ جنگ ربابی
کون ہے آدم کون ہے ابلیس کون سلیمان اور بلقیس
یہ سب انچھر وہ ہے معنا پہن لیا ہے ایسا بانا
یہ سب روپ اسی نے دھارے ایك ایك سے بھی نیارے
ص ۳ :
ایك نے اتنے نام دھرائے ایك ایك سے بھی نیارے
اول ہوکر آخر ہوا ظاہر ہو کر باطن بیا
کہیں واجب معبود کہلایا کہیں ممکن بندہ بن آیا
جیسے جل کر برف بنائی جل بن اس میں ا ور نہ کائی
جوں حباب دریا سے اٹھے آخر اس کا اس میں میٹے
بیرنگی بہ رنگ لے آیا ہر ہر نتھہ میں آپ پوجایا
مکھ پر چادر میم کی رکھ کر آپ غفور احمد اپنا نام دھر جگ میں کیا ظہور
نجما دیکھ اس یار کی رمزوں کی دستور ہر رنگ میں بیرنگ رہا دو رکا دور
ص ۴۷ : پھر جس شخص نے خلق اور خالق کو دو سمجھے اور ایك نہ جانا وہ مشرك ہے کہ مبتلا ہوا بیچ شرك خفی کے اور جس شخص نے کہا ذات کو ساتھ فردیت کے یعنی خلق اور خالق کو ایك سمجھا وہ موحد ہے۔
ص ۵۹ : اے عزیز چھٹا مرتبہ انسان کامل کا ہے وہ مشرك ہے مرتبوں ذاتی اور خلق میں یعنی اگر اس تعین بشریت کے خیال سے اس کو دیکھے تو آد می اور اگراس کی کمالیت فقر کی طرف دیکھے تو الله تعالی ہے بموجب ا س قول کے قول صوفیہ : اذااتم الفقر فھواﷲ(جب فقر مکمل ہوا تو الله ہوا۔ ت)
ص ۱۱۹ ص ۱۲۰ : نقل ہے کہ جب حضرت شیخ محی الدین ابن عربی نے درس توحید شروع کیا اور مسئلہ وحدۃ الوجود کو ظاہر فرمانے لگے۔ چنانچہ یہ رباعی ان کی تصنیف ہے :
لا آدم فی الکون ولاابلیس لاملك سلیمان ولابلقیس
فالکل عبارۃ وانت المعنی یامن ھو للقلوب مقناطیس
یعنی آدم ہے نہ شیطان ہے جہان میں نہ ملك سلیمان علیہ السلام کا نہ بلقیس کا پھر یہ سب عبارت ہیں اور
واس عبارت کے معنی ہے اسے وہ کوئی جو واسطے دلوں کے لوہ چکا ہے۔
ف : یعنی جس طرح پتھر لوہ چگی کا ہوہ کو اٹھالیتا ہے اسی طرح دلوں مخلوق کو اپنے تابع کر رکھتے ہیں غرضکہ شیخ مذکور نعرہ ہمہ اوست کا مارنے لگے علماؤ ں نے اس میں صلاح اور مشورہ کئے کرے اور بتلائے کہ یہ فقیر تو شریعت میں رخنہ ڈالنے لگا۔ اول تو اس کو قائل کرو اگر نہ مانے گا تو اس کو ماریں گے غرضکہ سب کی صلاح سے ایك شخص نے ان علماؤں سے آکر شیخ کے پاس عرض کیا کہ حضرت آپ کی دعوت ہے آپ ہی نے قبول کری اس شخص نے کئی قسم کے کھانے پکائے اور ایك خوان میں جدا جدا برتنوں میں دھرلایا اور ایك رکابی میں پلیتی بھی بھر کر اس خوان میں لایا۔ آپ نے وے تمام کھانے جو نفیس تھے کھائے اور پاخانہ نہ کھایا جب اس شخص نے کہاکہ حضرت اس کو بھی کھالو ی بھی کوئی غیر نہیں ہے۔ وہ ہی ہے شیخ نے فرمایا بہت اچھا ان کے مکان کے صحن میں ایك حوض پانی کا تھا آپ نے پانی میں غوطہ مارکر خوك کی صورت ہوکر نکلے اور اس پاخانہ کو کھالیا اور پھر حوض میں غوطہ مارا اور آدمی کی شکل ہوکر نکل آئے اور فرمایا اے عزیز وہ طعام بھی میں نے کھایا اور یہ پاخانہ بھی میں نے کھایا مگر طعام واسطے صورت انسان کے تھی اور پاخانہ واسطے شکل خوك کے بناکر آیا وہ میں ہی تھا کہ آدمی تھا اور خوك ہوگیا حضرات اسی طرح تمام کتاب جو ۴۲۵ صفحوں پر لکھی گئی ہے مضامین الحادیہ سے مملو ہے بارہا پیر جی مذکور کے متبعین سے جو ایك جماعت جہلاکی ہیے کہا گیا کہ یہ کتاب سراسر عقائد کو خراب کرنے والی اور ناقابل عمل ہے مگر جواب یہی ملتاہے کہ علمائے عظام حنفی المذہب سے اس کے متعلق استفسار کیا جائے جو ارشاد ہوگا اس کے مطابق عمل کیا جاوے گا۔ اس لئے یہ چند حوالہ جات معروضہ بالامقالات مختلفہ سے نقل کرکے استدعا ہے کہ عندالشرع اس شخص کا معہ اس کے مریدین اور متبعین کے جوحکم ہو بوضاحت تحریر فرماکر مزین بمہر فرمائیں تاکہ جماعت جہلاء جوان کے دام تزویر میں ہے رہائی پاکر راہ یاب ہوں۔ والله تعالی ھوالموافق۔
الجواب :
یہ کلمات الحاد ہیں اور حضرت شیخ اکبر محی الدین ابن عر بی رضی الله تعالی عنہ کی نسبت جو وہ ملعون حکایت نقل کی ہے محض کذب وافتراء وساختہ ابلیس لیعین ہے توحید ایمان ہے اور وحدۃ
فالکل عبارۃ وانت المعنی یامن ھو للقلوب مقناطیس
یعنی آدم ہے نہ شیطان ہے جہان میں نہ ملك سلیمان علیہ السلام کا نہ بلقیس کا پھر یہ سب عبارت ہیں اور
واس عبارت کے معنی ہے اسے وہ کوئی جو واسطے دلوں کے لوہ چکا ہے۔
ف : یعنی جس طرح پتھر لوہ چگی کا ہوہ کو اٹھالیتا ہے اسی طرح دلوں مخلوق کو اپنے تابع کر رکھتے ہیں غرضکہ شیخ مذکور نعرہ ہمہ اوست کا مارنے لگے علماؤ ں نے اس میں صلاح اور مشورہ کئے کرے اور بتلائے کہ یہ فقیر تو شریعت میں رخنہ ڈالنے لگا۔ اول تو اس کو قائل کرو اگر نہ مانے گا تو اس کو ماریں گے غرضکہ سب کی صلاح سے ایك شخص نے ان علماؤں سے آکر شیخ کے پاس عرض کیا کہ حضرت آپ کی دعوت ہے آپ ہی نے قبول کری اس شخص نے کئی قسم کے کھانے پکائے اور ایك خوان میں جدا جدا برتنوں میں دھرلایا اور ایك رکابی میں پلیتی بھی بھر کر اس خوان میں لایا۔ آپ نے وے تمام کھانے جو نفیس تھے کھائے اور پاخانہ نہ کھایا جب اس شخص نے کہاکہ حضرت اس کو بھی کھالو ی بھی کوئی غیر نہیں ہے۔ وہ ہی ہے شیخ نے فرمایا بہت اچھا ان کے مکان کے صحن میں ایك حوض پانی کا تھا آپ نے پانی میں غوطہ مارکر خوك کی صورت ہوکر نکلے اور اس پاخانہ کو کھالیا اور پھر حوض میں غوطہ مارا اور آدمی کی شکل ہوکر نکل آئے اور فرمایا اے عزیز وہ طعام بھی میں نے کھایا اور یہ پاخانہ بھی میں نے کھایا مگر طعام واسطے صورت انسان کے تھی اور پاخانہ واسطے شکل خوك کے بناکر آیا وہ میں ہی تھا کہ آدمی تھا اور خوك ہوگیا حضرات اسی طرح تمام کتاب جو ۴۲۵ صفحوں پر لکھی گئی ہے مضامین الحادیہ سے مملو ہے بارہا پیر جی مذکور کے متبعین سے جو ایك جماعت جہلاکی ہیے کہا گیا کہ یہ کتاب سراسر عقائد کو خراب کرنے والی اور ناقابل عمل ہے مگر جواب یہی ملتاہے کہ علمائے عظام حنفی المذہب سے اس کے متعلق استفسار کیا جائے جو ارشاد ہوگا اس کے مطابق عمل کیا جاوے گا۔ اس لئے یہ چند حوالہ جات معروضہ بالامقالات مختلفہ سے نقل کرکے استدعا ہے کہ عندالشرع اس شخص کا معہ اس کے مریدین اور متبعین کے جوحکم ہو بوضاحت تحریر فرماکر مزین بمہر فرمائیں تاکہ جماعت جہلاء جوان کے دام تزویر میں ہے رہائی پاکر راہ یاب ہوں۔ والله تعالی ھوالموافق۔
الجواب :
یہ کلمات الحاد ہیں اور حضرت شیخ اکبر محی الدین ابن عر بی رضی الله تعالی عنہ کی نسبت جو وہ ملعون حکایت نقل کی ہے محض کذب وافتراء وساختہ ابلیس لیعین ہے توحید ایمان ہے اور وحدۃ
وجود حق اور زعم اتحاد الحاد صوفیہ کرام تو صاحب تحقیق ہیں اور ان کے ایسے مقلدین ملحد ونذیق ہیں اس کتاب کا جس کے پاس ہو اس پر جلادینا فرض ہے اور سامنے دیکھنا حرام اور اس پر اعتقاد رکھنا کفر یہیں سے اس شخص کے مریدین اور متبعین کا حال ظاہر۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۵۰ : ا زگڑھی اختیار خاں تحصیل خان پور ریاست بہاولپور مرسلہ محمد یار صاحب واعظ ۹ شعبان المعظم ۱۳۳۴ھ
قبلہ معتقدین دام ظلہ از خاکسار محمد یار مشتاق دیدار بعد نیاز حسب اینکہ شب معراج آپ کا قصیدہ معراجیہ پڑھا گیا جس پر وہابیوں نے دولھا اور دولھن کے متعلق شور اٹھایا کہ الله جل جلالہ و حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے حق میں ان الفاظ کا استعمال کرنا موجب کفرہے شب برأت یہاں یہاں گڑھی اختیار خاں میں ان الفاظوں کے متعلق وہابیوں کی طرف سے میرے ساتھ ایك طویل بحث ہونے والی ہے اے مجدد بمن بے سروسمان مددے قبلہ دیں مددے کعبہ ایماں مددے ضرور مہربانی فرماکر دلائل قاطع سے اس تشبیہ کا ثبوت مدلل کرکے اسی ہفتہ میں بھیج کر مسلمانان اہلسنت وجماعت کو عزت بخشیں حضور پر فرض سمجھی جارہی ہے یہ فی سبیل الله بصدقہ روضہ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اس کام کو سب کاموں پر مقدم فرماکر وہ تحریر فرمادیں کہ موجب اطمینان اہل اسلام ہو۔
الجواب :
الله عزوجل نے وہابیہ کی قسمت میں کفر لکھاہے انھیں ہر جگہ کفر ہی کفر سوجھتاہے قصیدہ مذکورہ میں دو جگہ دولھن کا لفظ ہے اور چار جگہ دولھا کا وہ اشعار یہ ہیں :
(۱)نئی دولھن کی پھبن میں کعبہ نکھر کے سنورا سنور کے نکھرا
حجر کے صدقے کمر کے آل تل میں رنگ لاکھوں بناؤ کے تھے
(۲)نظر میں دولھا کے پیارے جلوے حیا سے محراب سرجھکائے
سیاہ پردے کے منہ پر آنچل تجلی ذات بحت کے تھے
(۳)دولھن کی خوشبو سے مست کپڑے نسیم گستاخ آنچلوں سے
غلاف مشکیں جو اڑ رہا تھا غزال نافے بسارہے تھے
(۴)خداہی دے صبر جان پر غم دکھاؤں کیونکر تجھے وہ عالم
جب ان کو جھرمٹ میں لے کے قدسی جناں کا دولھا بنارہے تھے
مسئلہ ۵۰ : ا زگڑھی اختیار خاں تحصیل خان پور ریاست بہاولپور مرسلہ محمد یار صاحب واعظ ۹ شعبان المعظم ۱۳۳۴ھ
قبلہ معتقدین دام ظلہ از خاکسار محمد یار مشتاق دیدار بعد نیاز حسب اینکہ شب معراج آپ کا قصیدہ معراجیہ پڑھا گیا جس پر وہابیوں نے دولھا اور دولھن کے متعلق شور اٹھایا کہ الله جل جلالہ و حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے حق میں ان الفاظ کا استعمال کرنا موجب کفرہے شب برأت یہاں یہاں گڑھی اختیار خاں میں ان الفاظوں کے متعلق وہابیوں کی طرف سے میرے ساتھ ایك طویل بحث ہونے والی ہے اے مجدد بمن بے سروسمان مددے قبلہ دیں مددے کعبہ ایماں مددے ضرور مہربانی فرماکر دلائل قاطع سے اس تشبیہ کا ثبوت مدلل کرکے اسی ہفتہ میں بھیج کر مسلمانان اہلسنت وجماعت کو عزت بخشیں حضور پر فرض سمجھی جارہی ہے یہ فی سبیل الله بصدقہ روضہ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اس کام کو سب کاموں پر مقدم فرماکر وہ تحریر فرمادیں کہ موجب اطمینان اہل اسلام ہو۔
الجواب :
الله عزوجل نے وہابیہ کی قسمت میں کفر لکھاہے انھیں ہر جگہ کفر ہی کفر سوجھتاہے قصیدہ مذکورہ میں دو جگہ دولھن کا لفظ ہے اور چار جگہ دولھا کا وہ اشعار یہ ہیں :
(۱)نئی دولھن کی پھبن میں کعبہ نکھر کے سنورا سنور کے نکھرا
حجر کے صدقے کمر کے آل تل میں رنگ لاکھوں بناؤ کے تھے
(۲)نظر میں دولھا کے پیارے جلوے حیا سے محراب سرجھکائے
سیاہ پردے کے منہ پر آنچل تجلی ذات بحت کے تھے
(۳)دولھن کی خوشبو سے مست کپڑے نسیم گستاخ آنچلوں سے
غلاف مشکیں جو اڑ رہا تھا غزال نافے بسارہے تھے
(۴)خداہی دے صبر جان پر غم دکھاؤں کیونکر تجھے وہ عالم
جب ان کو جھرمٹ میں لے کے قدسی جناں کا دولھا بنارہے تھے
(۵)بچا جو تلووں کا ان کے دھوون بناوہ جنت کا رنگ وروغن
جنھوں نے دولھا کی پائی اترن وہ پھول گلزار نور کے تھے
(۶)جھلك سی اك قدسیوں پہ آئی ہوا بھی دامن کی پھر نہ پائی
سواری دولھا کی دور پہنچی برات میں ہوش ہی گئے تھے (ملتقطا)
ان میں کون سی جگہ معاذالله الله عزوجل کو دولھا یا دولھن کہا گیا ہے ولکن الوھابیۃ قوم یفترون(لیکن قوم وہابیہ جھوٹ بولتی ہے۔ ت)وہابیہ کی بنائے مذہب کذب وافترا پر ہے۔ اور کیونکر نہ ہو کہ ان کے پیشوا اسماعیل دہلوی نے اپنے معبود کے لئے جھوٹا ہونا روا رکھاہے ہاں مشیخیت نبی رکھے نہ ہو کہ ان سے بچتاہے اب اگر یہ بھی جھوٹ سے بچیں تو عابد ومعبود برابر ہوجائیں گے اسی لئے ان کے دین میں نماز سے بھی بڑھ کر فرض ہوا کہ جھوٹ بکا کریں کہ کسی طرح اپنے ساختہ معبود سے تو کم رہیں “ ضعف الطالب والمطلوب ﴿۷۳﴾ “ “ لبئس المولی و لبئس العشیر ﴿۱۳﴾ “ (کتنا کمزور چاہنے والا اور وہ جس کو چاہا بیشك کیاہی برا موالی اور بیشك کیا ہی برا رفیق۔ ت)
شعر اول میں تو دولھن کسی کو نہ کہا اپنے معنی حقیقی پر ہے زینت کعبہ کو نئی دولھن کی زیبائش سے تشبیہ دی ہے جس طرح ان حدیثوں میں جنت کی جنبش سرور کو دولھن کی نازش سے خطیب نے تاریخ بغداد میں عقبہ بن عامر جہنی اور طبرانی نے معجم اووسط میں عقبہ اور انس دونوں اور ازدی نے عبدالله ابن عباس رضی الله تعالی عنہم سے دریافت کی کہ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا : جب جنت کو دونوں شہزادوں امام حسن اور امام حسین علی جدہما الکریم وعلیہما الصلوۃ والتسلیم کا اس میں تشریف رکھنا معلوم ہوا ماست الجنۃ میسا کما تمیس العروش فی خدرھا جنت خوشی سے جھومنے لگی جیسے نئی دولھن فرحت سے جھومے۔
شعر سوم میں کعبہ کو دولھن کہا اور مکان آراستہ کو دولھن کہنا محاورہ صحیحہ شائعہ ہے امام احمد
جنھوں نے دولھا کی پائی اترن وہ پھول گلزار نور کے تھے
(۶)جھلك سی اك قدسیوں پہ آئی ہوا بھی دامن کی پھر نہ پائی
سواری دولھا کی دور پہنچی برات میں ہوش ہی گئے تھے (ملتقطا)
ان میں کون سی جگہ معاذالله الله عزوجل کو دولھا یا دولھن کہا گیا ہے ولکن الوھابیۃ قوم یفترون(لیکن قوم وہابیہ جھوٹ بولتی ہے۔ ت)وہابیہ کی بنائے مذہب کذب وافترا پر ہے۔ اور کیونکر نہ ہو کہ ان کے پیشوا اسماعیل دہلوی نے اپنے معبود کے لئے جھوٹا ہونا روا رکھاہے ہاں مشیخیت نبی رکھے نہ ہو کہ ان سے بچتاہے اب اگر یہ بھی جھوٹ سے بچیں تو عابد ومعبود برابر ہوجائیں گے اسی لئے ان کے دین میں نماز سے بھی بڑھ کر فرض ہوا کہ جھوٹ بکا کریں کہ کسی طرح اپنے ساختہ معبود سے تو کم رہیں “ ضعف الطالب والمطلوب ﴿۷۳﴾ “ “ لبئس المولی و لبئس العشیر ﴿۱۳﴾ “ (کتنا کمزور چاہنے والا اور وہ جس کو چاہا بیشك کیاہی برا موالی اور بیشك کیا ہی برا رفیق۔ ت)
شعر اول میں تو دولھن کسی کو نہ کہا اپنے معنی حقیقی پر ہے زینت کعبہ کو نئی دولھن کی زیبائش سے تشبیہ دی ہے جس طرح ان حدیثوں میں جنت کی جنبش سرور کو دولھن کی نازش سے خطیب نے تاریخ بغداد میں عقبہ بن عامر جہنی اور طبرانی نے معجم اووسط میں عقبہ اور انس دونوں اور ازدی نے عبدالله ابن عباس رضی الله تعالی عنہم سے دریافت کی کہ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا : جب جنت کو دونوں شہزادوں امام حسن اور امام حسین علی جدہما الکریم وعلیہما الصلوۃ والتسلیم کا اس میں تشریف رکھنا معلوم ہوا ماست الجنۃ میسا کما تمیس العروش فی خدرھا جنت خوشی سے جھومنے لگی جیسے نئی دولھن فرحت سے جھومے۔
شعر سوم میں کعبہ کو دولھن کہا اور مکان آراستہ کو دولھن کہنا محاورہ صحیحہ شائعہ ہے امام احمد
حوالہ / References
حدائق بخشش قصیدہ معراجیہ مکتبہ رضویہ آرام باغ کراچی حصہ اول ص۱۰۵ تا ۱۰۷
القرآن الکریم ۲۲ /۷۳
القرآن الکریم ۲۲ /۱۳
المعجم الاوسط حدیث ۱۷۱۶ المکتبۃ المعارف الریاض ۸ / ۵۹ ، اللآلی المصنوعۃ فی الاحادیث الموضوعۃ مناقب اہلبیت بحوالہ الخطیب دارالمعرفۃ بیروت ۱ / ۳۸۸
القرآن الکریم ۲۲ /۷۳
القرآن الکریم ۲۲ /۱۳
المعجم الاوسط حدیث ۱۷۱۶ المکتبۃ المعارف الریاض ۸ / ۵۹ ، اللآلی المصنوعۃ فی الاحادیث الموضوعۃ مناقب اہلبیت بحوالہ الخطیب دارالمعرفۃ بیروت ۱ / ۳۸۸
مسند میں انس رضی الله تعالی عنہ سے راوی کہ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
عسقلان احدی العروسین یبعث منھا یوم القیمۃ سبعون الفالاحساب علیہم ۔ عسقلان دو دولہنوں میں کی ایك ہے روز قیامت اس میں سے ستر ہزار ایسے اٹھیں گے جن پر حساب نہیں۔
مسند الفردوس میں عبدالله بن زبیر رضی الله تعالی عنہما سے ہے کہ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
طوبی لمن اسکنہ اﷲ تعالی احدی العروسین عسقلان اوغزۃ ۔ شادمانی ہے اسے جسے الله تعالی دو دلہنوں میں سے ایك بسائے عسقلا ن یا غزہ۔
باقی چار اشعار میںحضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو دولھا کہا ہے اور وہ بیشك تمام سلطنت الہی کے دولھاہیں امام قسطلان مواہب لدینہ شریف میں نقل فرماتے ہیں :
انہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم رأی صورۃ ذاتہ المبارکۃ فی الملکوت فاذاھو عروس المملکۃ ۔ نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے شب معراج عالم ملکوت میں اپنی ذات مبارکہ کی تصویر ملاحظہ فرمائی تو دیکھا کہ حضور تمام اہلسنت الہی کے دولھا ہیں(صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم)
دلائل الخیرات شریف میں ہے :
اللھم صلی علی محمد وعلی الہ بحر انوارك ومعدن اسرارك ولسان حجتك وعروس مملکتك ۔ الہی دورد بھیج محمد صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اور ان کی آل پر جو تیرے انوار کے دریا اور تیرے اسرارکے معدن اور تیری حجت کی زبان اور تیری سلطنت کے دولھا ہیں۔
علامہ محمد فاسی اس کی شرح مطالع المسرات میں فرماتے ہیں :
عسقلان احدی العروسین یبعث منھا یوم القیمۃ سبعون الفالاحساب علیہم ۔ عسقلان دو دولہنوں میں کی ایك ہے روز قیامت اس میں سے ستر ہزار ایسے اٹھیں گے جن پر حساب نہیں۔
مسند الفردوس میں عبدالله بن زبیر رضی الله تعالی عنہما سے ہے کہ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
طوبی لمن اسکنہ اﷲ تعالی احدی العروسین عسقلان اوغزۃ ۔ شادمانی ہے اسے جسے الله تعالی دو دلہنوں میں سے ایك بسائے عسقلا ن یا غزہ۔
باقی چار اشعار میںحضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو دولھا کہا ہے اور وہ بیشك تمام سلطنت الہی کے دولھاہیں امام قسطلان مواہب لدینہ شریف میں نقل فرماتے ہیں :
انہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم رأی صورۃ ذاتہ المبارکۃ فی الملکوت فاذاھو عروس المملکۃ ۔ نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے شب معراج عالم ملکوت میں اپنی ذات مبارکہ کی تصویر ملاحظہ فرمائی تو دیکھا کہ حضور تمام اہلسنت الہی کے دولھا ہیں(صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم)
دلائل الخیرات شریف میں ہے :
اللھم صلی علی محمد وعلی الہ بحر انوارك ومعدن اسرارك ولسان حجتك وعروس مملکتك ۔ الہی دورد بھیج محمد صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اور ان کی آل پر جو تیرے انوار کے دریا اور تیرے اسرارکے معدن اور تیری حجت کی زبان اور تیری سلطنت کے دولھا ہیں۔
علامہ محمد فاسی اس کی شرح مطالع المسرات میں فرماتے ہیں :
حوالہ / References
مسند امام احمد ازحضرت انس رضی الله تعالٰی عنہ دارالفکر بیروت ۳ / ۲۲۵
الفردوس بماثور الخطاب حدیث ۳۹۴۰ دارالکتب العلمیہ بیروت ۲ / ۴۵۰ ، کنزالعمال حدیث ۳۵۰۷۷ موسسۃ الرسالہ بیروت ۱۲ / ۲۸۹
المواہب اللدنیہ المقصد الخامس المکتب الاسلامی بیروت ۳ / ۵۷
دلائل الخیرات منزل دوم جامع مسجد ظفریہ مرید کے شیخوپورہ ص۱۰۵
الفردوس بماثور الخطاب حدیث ۳۹۴۰ دارالکتب العلمیہ بیروت ۲ / ۴۵۰ ، کنزالعمال حدیث ۳۵۰۷۷ موسسۃ الرسالہ بیروت ۱۲ / ۲۸۹
المواہب اللدنیہ المقصد الخامس المکتب الاسلامی بیروت ۳ / ۵۷
دلائل الخیرات منزل دوم جامع مسجد ظفریہ مرید کے شیخوپورہ ص۱۰۵
مملکتك ھوق موضع الملك شبہ بمجتمع العرس ومافیہ من الاحتقال والتناہی فی الصنیع والتانق فی محسناتہ وترتیب امورہ وکونہ جدیداظریفا واھلہ فی فرح وسرور نعمۃ وحبور فرحین بعروسھم راضین بہ محبین مکرمین لہ موتمرین لامرہ متنعمین لہ بانواع المشتھیات بدلیل اثبات اللازم الذی ھوا العروس والمعہود تشبیہ مجتمع العرس بالمملکۃ وعکس التشبیہ ھنا لاقتضاء المقام ذلك لیفید ان سرالمملکۃ ونکتتھا ومعناھا الذی لاجلہ کانت ھو المصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کما ان سرمجتمع العرس ونکتتہ ومعناہ الذی لاجلہ کان ھوالعروس والمصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ھوالانسان الکبیر الذی ھوالخلیفۃ علی الاطلاق فی الملك والملکوت قد خلعت علیہ اسرار الاسماء والصفات ومکن من التصرف فی البسائط والمرکبات والعروس یحاکی شانہ شان الملك والسلطان فی نفوذ الامر وخدمۃ الجمیع لہ وتفرعنھم لشانہ ووجدانہ مایجب ویشتھی مع الرای واصحابہ فی مؤنتہ وتحت اطعامہ فتم التشبیہ وتمکنت الاستعارۃ ۔
اس عبارت سراپا بشارت کا خلاصہ یہ ہے کہ امام محمد بن سلیمان جزولی قدس سرہ الشریف نے اس درود مبارك میں سلطنت کو برأت کے مجمع سے تشبیہ دی کہ اس میں کیسا اجتماع ہوتاہے اوراس کی آرائش انتہاء کو پہنچائی جاتی ہیں سب کام قرینے سے ہوتے ہیں۔ ہر چیز نئی اور خوش آئند لوگ اپنے دولھا پر شاداں وفرحاں اسے چاہنے والے اس کی تعظیم واطاعت میں مصروف اس کے ساتھ قسم قسم کی من مانتی نعمتیں پاتے ہیں۔ اور عادت یوں ہے کہ برأت کے مجمع کو سلطنت اور دولھا کو بادشاہ سے تشبیہ دیتے ہیں یا اس کا عکس کیا کہ سمجھا جائے کہ جس طرح برات کے مجمع کا مغز وسبب دولھا ہوتاہے یوہیں تمام مملکت الہی کے وجود کا سبب اوراس کے اصل راز ومغز ومعنی صرف مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ہیں ع
دولھا کے دم کے ساتھ یہ ساری برات ہے
اس عبارت سراپا بشارت کا خلاصہ یہ ہے کہ امام محمد بن سلیمان جزولی قدس سرہ الشریف نے اس درود مبارك میں سلطنت کو برأت کے مجمع سے تشبیہ دی کہ اس میں کیسا اجتماع ہوتاہے اوراس کی آرائش انتہاء کو پہنچائی جاتی ہیں سب کام قرینے سے ہوتے ہیں۔ ہر چیز نئی اور خوش آئند لوگ اپنے دولھا پر شاداں وفرحاں اسے چاہنے والے اس کی تعظیم واطاعت میں مصروف اس کے ساتھ قسم قسم کی من مانتی نعمتیں پاتے ہیں۔ اور عادت یوں ہے کہ برأت کے مجمع کو سلطنت اور دولھا کو بادشاہ سے تشبیہ دیتے ہیں یا اس کا عکس کیا کہ سمجھا جائے کہ جس طرح برات کے مجمع کا مغز وسبب دولھا ہوتاہے یوہیں تمام مملکت الہی کے وجود کا سبب اوراس کے اصل راز ومغز ومعنی صرف مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ہیں ع
دولھا کے دم کے ساتھ یہ ساری برات ہے
حوالہ / References
مطالع المسرات باب ابتداء الله تعالٰی مکتبہ نوریہ رضویہ لائلپور ص۲۲۳
اس لئےکہ حضورتمام ملك وملکوت پر الله عزوجل کےنائب مطلق ہیں جن کو رب عزوجل نے اپنےاسماء وصفات کے اسرار کا خلعت پہنایا اور ہرمغرد ومرکب ہیں تصرف کا اختیار دیاہے دولھا بادشاہ کی شان دکھاتا ہے اس کا حکم برات میں نافذ ہوتاہے سب اس کی خدمت کرتے ہیں اور اپنے کام چھوڑ کر اس کے کام میں لگے ہوتے جس بات کو اس کا جی چاہے موجود کی جاتی ہے چین میں ہوتاہے سب براتی اس کی خدمت میں اور اس کے طفیل میں کھانا پاتے ہیں یوہیں حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم میں بادشاہ حقیقی عزوجل کی شان دکھاتے ہیں تمام جہاں میں ان کا حکم نافذ ہے سب ان کی خدمت گار وزیر فرمان ہیں جو وہ چاہتے ہیں الله عزوجل موجود کردیتاہے مااری ربك الا یسارع فی ھواك ۔ صحیح بخاری کی حدیث ہے کہ ام المومنین صدیقہ رضی الله تعالی عنہما حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے عرض کرتی ہیں میں حضور کے رب کو دیکھتی ہوں کہ حضور کی خواہش میں شتابی فرماتاہے تمام جہاں حضور کےصدقہ میں حضور کا دیا کھاتاہےکہ “ انما انا قاسم واﷲ المعطی “ صحیح بخاری کی حدیث ہے کہ حضور پر نور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں۔ ہر نعت کع دینے الا الله ہے اور بانٹنے والا میں ہوں۔ یوں تشبیہ کامل ہوئی اور حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم الہی کے دولھا ٹھہرے والحمد اﷲ رب العالمین۔
ان تقریرات سے واضح ہوا کہ ان معانی پر دولھن دولھا زوج زوجہ کی طرح باہم مفہوم متضائف نہیں۔ عسقلان وعزہ کو حدیث نے دولھنیں فرمایا دولھا کون ہے بہیقی شعب الایمان میں امیر المومنین مولی علی رضی الله تعالی عنہ سے بسند حسن روایت کرتے ہیں رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
لکل شی عروس وعروس القران الرحمن ۔ ہر شے کی جنس میں ایك دولھن ہوتی ہے اور قرآن عظیم میں سورۃ الرحمن دولھن ہے۔
یہاں کسے دولھا ٹھہرائے گا توقصیدہ سے وہ مہمل ملعون خیال پیدا کرنا کسی ایسے ہی کاکام ہوگا مگر حدیثیں تو اس سے بڑھ کر اوہام باطلہ والوں پر قہر ڈھائیں گی حاکم صحیح مستدر اور امام الائمہ ابن خزیمہ اپنی صحیح اور بیہقی سنن میں حضرت ابو موسی اشعری رضی الله تعالی عنہ سے راوی رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
ان تقریرات سے واضح ہوا کہ ان معانی پر دولھن دولھا زوج زوجہ کی طرح باہم مفہوم متضائف نہیں۔ عسقلان وعزہ کو حدیث نے دولھنیں فرمایا دولھا کون ہے بہیقی شعب الایمان میں امیر المومنین مولی علی رضی الله تعالی عنہ سے بسند حسن روایت کرتے ہیں رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
لکل شی عروس وعروس القران الرحمن ۔ ہر شے کی جنس میں ایك دولھن ہوتی ہے اور قرآن عظیم میں سورۃ الرحمن دولھن ہے۔
یہاں کسے دولھا ٹھہرائے گا توقصیدہ سے وہ مہمل ملعون خیال پیدا کرنا کسی ایسے ہی کاکام ہوگا مگر حدیثیں تو اس سے بڑھ کر اوہام باطلہ والوں پر قہر ڈھائیں گی حاکم صحیح مستدر اور امام الائمہ ابن خزیمہ اپنی صحیح اور بیہقی سنن میں حضرت ابو موسی اشعری رضی الله تعالی عنہ سے راوی رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
حوالہ / References
صحیح بخاری کتاب التفسیر باب قولہ ترجی من تشاء قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ / ۷۰۶
صحیح بخاری کتاب الاعتصام قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ / ۱۰۸۷
شعب الایمان حدیث ۲۴۹۴ دارالکتب العلمیہ بیروت ۲ / ۴۹۰
صحیح بخاری کتاب الاعتصام قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ / ۱۰۸۷
شعب الایمان حدیث ۲۴۹۴ دارالکتب العلمیہ بیروت ۲ / ۴۹۰
ان اﷲ تعالی یبعث الایام القیمۃ علی ھیأتھا ویبعث یوم الجمعۃ زھراء منیرۃ اھلھا یحفون بھا کالعورس تھدی الی کریمھا ۔ بیشك الله عزوجل قیامت کے دن سب دنوں کو ان کی شکل پر اٹھائے گا اورجمعہ کو چمکتا روشن دیتا جمعہ پڑھنے والے اس کے گرد جھرمٹ کئے ہوئے جیسے نئی دولھن کو اس کے گرامی شوہر کے یہاں رخصت کرکے لے جاتے ہیں۔ (ت)
امام اجل ابو طالب مکی قوت القلوب اور حجۃ الاسلام محمد غزالی احیاء میں فرماتے ہیں :
قال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ان الکعبۃ تحشر کالعروس المزفوفۃ(قال الشارح الی بعلھا)وکل من حجھا یتعلق باستارھا یسعون حولھا حتی تدخل الجنۃ فید خلون معھا ۔ یعنی رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا بیشك کعبہ روز قیامت یوں اٹھایا جائے گا جیسے شب زفاف دولھن کو دولھا کی طرف لے جاتے ہیں تمام اہل سنت جنھوں نے حج مقبول کیا ا سکے پردوں سے لپٹے ہوئے اس کے گرد دوڑتے ہونگے یہاں تك کہ کعبہ اور اس کے ساتھ یہ سب داخل جنت ہوں گے۔
نہایہ امام ابن الاثیر میں ہے :
منہ الحدیث ''یزف علی بینی وبین ابراہےم علیہ الصلوۃ والسلام الی الجنۃ'' ان کسرت الزاء فمعناہ یسرع من زف فی مشیہ وازف اذا اسرع وان فتحت فھومن زففت العروس ازفھا اذا احدیتھا الی زوجھا ۔ یعنی اسی باب سے ہے یہ حدیث کہ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہ علی مرتضی میرے اور ابراہیم خلیل الله علیہ الصلوۃ والسلام کے بیچ میں جنت کی طرف خوش خوش تیز چلیں گے یامیرے اور ان کے بیچ میں جنت کی طرف یوں لیے جائیں گے جیسے نئی دولھن کو دولھا کے یہاں لے جاتے ہیں
امام اجل ابن المبارك وابن ابی الدنیا وابوالشیخ اورابن النجار کتاب الدرر الثمینہ فی تاریخ المدینۃ
امام اجل ابو طالب مکی قوت القلوب اور حجۃ الاسلام محمد غزالی احیاء میں فرماتے ہیں :
قال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ان الکعبۃ تحشر کالعروس المزفوفۃ(قال الشارح الی بعلھا)وکل من حجھا یتعلق باستارھا یسعون حولھا حتی تدخل الجنۃ فید خلون معھا ۔ یعنی رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا بیشك کعبہ روز قیامت یوں اٹھایا جائے گا جیسے شب زفاف دولھن کو دولھا کی طرف لے جاتے ہیں تمام اہل سنت جنھوں نے حج مقبول کیا ا سکے پردوں سے لپٹے ہوئے اس کے گرد دوڑتے ہونگے یہاں تك کہ کعبہ اور اس کے ساتھ یہ سب داخل جنت ہوں گے۔
نہایہ امام ابن الاثیر میں ہے :
منہ الحدیث ''یزف علی بینی وبین ابراہےم علیہ الصلوۃ والسلام الی الجنۃ'' ان کسرت الزاء فمعناہ یسرع من زف فی مشیہ وازف اذا اسرع وان فتحت فھومن زففت العروس ازفھا اذا احدیتھا الی زوجھا ۔ یعنی اسی باب سے ہے یہ حدیث کہ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہ علی مرتضی میرے اور ابراہیم خلیل الله علیہ الصلوۃ والسلام کے بیچ میں جنت کی طرف خوش خوش تیز چلیں گے یامیرے اور ان کے بیچ میں جنت کی طرف یوں لیے جائیں گے جیسے نئی دولھن کو دولھا کے یہاں لے جاتے ہیں
امام اجل ابن المبارك وابن ابی الدنیا وابوالشیخ اورابن النجار کتاب الدرر الثمینہ فی تاریخ المدینۃ
حوالہ / References
المستدرك للحاکم کتاب الجمعہ باب سید الایام یوم الجمعہ دارالفکر بیروت ۱ / ۲۷۷
احیاء العلوم کتاب اسرار الحج باب فضیلۃ البیت مطبعۃ المشہور الحئی القاہرہ مصر ۱ / ۲۴۱ ، اتحاف السادۃ التقین کتاب اسرار الحج باب فضیلۃ البیت دارلفکر بیروت ۴ / ۲۷۴ ، قوت القلوب کتاب الحج ذکرفضائل البیت الحرم دارصادر بیروت ۲ / ۱۲۱
النہایہ لابن الاثیر باب الزء مع الفاء المکتبۃ الاسلامیہ الریاض ۲ / ۳۰۵
احیاء العلوم کتاب اسرار الحج باب فضیلۃ البیت مطبعۃ المشہور الحئی القاہرہ مصر ۱ / ۲۴۱ ، اتحاف السادۃ التقین کتاب اسرار الحج باب فضیلۃ البیت دارلفکر بیروت ۴ / ۲۷۴ ، قوت القلوب کتاب الحج ذکرفضائل البیت الحرم دارصادر بیروت ۲ / ۱۲۱
النہایہ لابن الاثیر باب الزء مع الفاء المکتبۃ الاسلامیہ الریاض ۲ / ۳۰۵
میں کعب احبار سے راوی کہ انھوں نے ام المومنین صدیقہ رضی الله تعالی عنہا کے سامنے بیان کیا اور کتاب التذکرہ میں امام ابو عبدالله محمد قرطبی کے الفاظ یہ ہیں کہ :
روی ابن المبارك ن عائشۃ رضی اﷲ تعالی عنہا انھا قالت ذکر وارسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وکعب الاحبار حاضر فقال کعب الاحبار ۔ یعنی امام ابن المبارك نے ام المومنین صدیقہ رضی الله تعالی عنہا سے روایت کی کہ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کاذکر پاك تھا اور اس وقت کعب احبار حاضر تھے تو کعب احبار نے کہا
ہر صبح ستر ہزار فرشتے اترکر مزار اقدس حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا طواف عــــــہ۱ کرتے اور اس کے گرد حاضررہ کر صلوۃ وسلام عرض کرتے رہتے ہیں۔ جب شام ہوتی ہے وہ چلے جاتے ہیں اور ستر ہزار اور اتر کر یوہیں طواف کرتے اور صلوۃ وسلام عرض کرتے رہتے ہیں یوہیں سترہزار رات میں حاضر رہتے ہیں اور ستر ہزار دن میں۔
حتی اذا انشقت عنہ الارض خرج فی سبعین الفأمن الملئکۃ یزفون عــــــہ۲ صلی اﷲ تعالی جب حضور انور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم مزار مبارك سے روز قیامت اٹھیں گے ستر ہزار ملائکہ کے ساتھ باہر
عــــــہ۱ : فی المواھب الشریفۃ من فجر یطلع الانزل سبعون الفامن الملئکۃ حتی یحفون الحدیث فقال العلامۃ الزرقانی ای یطوفون الخ۔
عــــــہ۲ : ھذا مافی المشکوۃ ومجمع بحار الانوار او المدارج الشریفۃ ولفظ التذکرۃ والمواھب یوقرونہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم من التوقیر بمعنی
التعظیم والکل صحیح واﷲ تعالی اعلم ۱۲ منہ مواہب شریف میں ہے ہر صبح ستر ہزار فرشتے آپ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوتے ہیں۔ علامہ زرقانی فرماتے ہیں کہ یفون کا معنی یطوفون(طواف کرتے ہیں)ہے الخ(ت)
یہ مشکوۃ مجمع بحاالانوار اور مدارج شریف کے الفاظ ہیں۔ تذکرہ اور مواہب میں ہے اس کا معنی یوقرون ہے کہ وہ آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی تعظیم وتوقیر کرتے ہیں۔ اور تمام معانی صحیح ہے والله تعالی اعلم ۱۲ منہ(ت)
روی ابن المبارك ن عائشۃ رضی اﷲ تعالی عنہا انھا قالت ذکر وارسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وکعب الاحبار حاضر فقال کعب الاحبار ۔ یعنی امام ابن المبارك نے ام المومنین صدیقہ رضی الله تعالی عنہا سے روایت کی کہ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کاذکر پاك تھا اور اس وقت کعب احبار حاضر تھے تو کعب احبار نے کہا
ہر صبح ستر ہزار فرشتے اترکر مزار اقدس حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا طواف عــــــہ۱ کرتے اور اس کے گرد حاضررہ کر صلوۃ وسلام عرض کرتے رہتے ہیں۔ جب شام ہوتی ہے وہ چلے جاتے ہیں اور ستر ہزار اور اتر کر یوہیں طواف کرتے اور صلوۃ وسلام عرض کرتے رہتے ہیں یوہیں سترہزار رات میں حاضر رہتے ہیں اور ستر ہزار دن میں۔
حتی اذا انشقت عنہ الارض خرج فی سبعین الفأمن الملئکۃ یزفون عــــــہ۲ صلی اﷲ تعالی جب حضور انور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم مزار مبارك سے روز قیامت اٹھیں گے ستر ہزار ملائکہ کے ساتھ باہر
عــــــہ۱ : فی المواھب الشریفۃ من فجر یطلع الانزل سبعون الفامن الملئکۃ حتی یحفون الحدیث فقال العلامۃ الزرقانی ای یطوفون الخ۔
عــــــہ۲ : ھذا مافی المشکوۃ ومجمع بحار الانوار او المدارج الشریفۃ ولفظ التذکرۃ والمواھب یوقرونہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم من التوقیر بمعنی
التعظیم والکل صحیح واﷲ تعالی اعلم ۱۲ منہ مواہب شریف میں ہے ہر صبح ستر ہزار فرشتے آپ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوتے ہیں۔ علامہ زرقانی فرماتے ہیں کہ یفون کا معنی یطوفون(طواف کرتے ہیں)ہے الخ(ت)
یہ مشکوۃ مجمع بحاالانوار اور مدارج شریف کے الفاظ ہیں۔ تذکرہ اور مواہب میں ہے اس کا معنی یوقرون ہے کہ وہ آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی تعظیم وتوقیر کرتے ہیں۔ اور تمام معانی صحیح ہے والله تعالی اعلم ۱۲ منہ(ت)
حوالہ / References
شرح الزرقانی علی المواہب بحوالہ الدررالثمینہ المقصد العاشر الفصل الثالث دارالمعرفۃ بیروت ۸ / ۳۴۹ ، التذکرۃ فی احوال الموتی باب فی بعث النبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم من قبرہ دارلحدیث مصر ص۱۶۳ المواہب اللدینۃ المقصد العاشر الفصل الثالث المکتب الاسلامی بیروت ۴ / ۶۲۵
المواہب اللدینۃ المقصد العاشر الفصل الثالث المکتب الاسلامی بیروت ۴ / ۶۲۵
شرح الزقانی علی المواہب الدینیۃ القصدالعاشر دارالمعرفۃ بیروت ۸ / ۳۴۹
التذکرۃ فی احوال الموتی والآخرۃ باب فی بعث النبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم من قبرہ دارالحدیث مصر ص۱۶۳
المواہب اللدینۃ المقصد العاشر الفصل الثالث المکتب الاسلامی بیروت ۴ / ۶۲۵
شرح الزقانی علی المواہب الدینیۃ القصدالعاشر دارالمعرفۃ بیروت ۸ / ۳۴۹
التذکرۃ فی احوال الموتی والآخرۃ باب فی بعث النبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم من قبرہ دارالحدیث مصر ص۱۶۳
علیہ وسلم ۔ تشریف لائیں گے جوحضور کو بارگار ہ عزت میں یوں لے چلیں گے جیسے نئی دولھن کو کمال اعزاز واکرام وفرحت وسرور وراحت وآرام وتزك احتشام کے ساتھ دولھا کی طرف لے جاتے ہیں۔
مجمع بحارالانوار میں بعلامت ط علامہ طیبی شارح مشکوۃ سے بعد ذکر حدیث علی مثل عبارت مذکورہ نہایہ ہے :
ومنہ فی الوجھین فی سبعین الفا عــــــہ من الملئکۃ یزفونہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ۔ سترہزار فرشتے آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوکر آپ کا طواف کرتے ہیں(ت)
شیخ محقق محدث دہلوی قدس سرہ مدارج میں اسی حدیث ك ترجمہ میں فرماتے ہیں :
چوں مبعوث می گردد و آنحضرت از قبر شریف بیروں می آید میان ایں فرشتگان زفاف می کنند اورا و زفاف دراصل بمعنی بروں عروس بخانہ زوج ومراد ایں جالازم معنی ست کہ بردن محبوت ست پیش محب یعنی بردن آں حضرت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم بدرگاہ عزت ۔ جب آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم مزار اقدس سے باہر تشریف لائیں گے تو فرشتوں نے دولھا کی طرح آپ کو گھیرا ہوگا۔ زفاف کا معنی دولہن کا خانہ زوج سے باہر آنا ہوتاہے یہاں لازم معنی مراد ہے کہ محبوب کو محب کے پاس لے جانا یعنی حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو رب اکرم کی بارگاہ اقدس میں لے جانا(ت)
اب وہابیہہ بولیں کس کس کو کافرکہیں گے مگر ان کو اس پر تنبیہ بیکار انکے مذہب کی بناء ہی اس پر ہے کہ الله ورسول تك کو مشرك بتاتے ہیں۔ پھر اور کس کی کیا گنتی ان کے امام نے تفویت الایمان میں صاف لکھ دیا : ''جو کہے الله ورسول نے دولتمند کردیا وہ مشرك ہے ''حالانکہ بعینہ یہی کلمہ خود الله عزوجل
عــــــہ : سقط الفاظ الفامن نسختہ الطبع فلیستبنہ ۱۲ منہ باخبر رہیں کہ مطبوعہ نسخہ میں ''الفا'' کا لفظ ساقط ہے ۱۲ منہ (ت)
مجمع بحارالانوار میں بعلامت ط علامہ طیبی شارح مشکوۃ سے بعد ذکر حدیث علی مثل عبارت مذکورہ نہایہ ہے :
ومنہ فی الوجھین فی سبعین الفا عــــــہ من الملئکۃ یزفونہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ۔ سترہزار فرشتے آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوکر آپ کا طواف کرتے ہیں(ت)
شیخ محقق محدث دہلوی قدس سرہ مدارج میں اسی حدیث ك ترجمہ میں فرماتے ہیں :
چوں مبعوث می گردد و آنحضرت از قبر شریف بیروں می آید میان ایں فرشتگان زفاف می کنند اورا و زفاف دراصل بمعنی بروں عروس بخانہ زوج ومراد ایں جالازم معنی ست کہ بردن محبوت ست پیش محب یعنی بردن آں حضرت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم بدرگاہ عزت ۔ جب آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم مزار اقدس سے باہر تشریف لائیں گے تو فرشتوں نے دولھا کی طرح آپ کو گھیرا ہوگا۔ زفاف کا معنی دولہن کا خانہ زوج سے باہر آنا ہوتاہے یہاں لازم معنی مراد ہے کہ محبوب کو محب کے پاس لے جانا یعنی حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو رب اکرم کی بارگاہ اقدس میں لے جانا(ت)
اب وہابیہہ بولیں کس کس کو کافرکہیں گے مگر ان کو اس پر تنبیہ بیکار انکے مذہب کی بناء ہی اس پر ہے کہ الله ورسول تك کو مشرك بتاتے ہیں۔ پھر اور کس کی کیا گنتی ان کے امام نے تفویت الایمان میں صاف لکھ دیا : ''جو کہے الله ورسول نے دولتمند کردیا وہ مشرك ہے ''حالانکہ بعینہ یہی کلمہ خود الله عزوجل
عــــــہ : سقط الفاظ الفامن نسختہ الطبع فلیستبنہ ۱۲ منہ باخبر رہیں کہ مطبوعہ نسخہ میں ''الفا'' کا لفظ ساقط ہے ۱۲ منہ (ت)
حوالہ / References
التذکرۃ فی احوال الموتی باب فی البعث النبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم دارالحدیث مصر ص۱۶۳ ، مشکوٰۃ المصابیح باب الکرامات فضل الثالث مطبع مجتبائی دہلی ص۵۴۶
مجمع بحار انوار تحت لفظ زفف مطبع نولکشور لکھنو ۲ / ۶۳
مدارج النبوت باب پنجم مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۱۴۰
تقویۃ الایمان
مجمع بحار انوار تحت لفظ زفف مطبع نولکشور لکھنو ۲ / ۶۳
مدارج النبوت باب پنجم مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۱۴۰
تقویۃ الایمان
وسید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے قرآن عظیم وحدیث صحیح میں فرمایاہے۔
قال اﷲ تعالی “ وما نقموا الا ان اغنہم اللہ ورسولہ من فضلہ “ ۔ الله تعالی نے فرمایا : اور انھیں کیا برا لگا یہی نا کہ الله ورسول نے انھیں دولتمند کردیا اپنے فضل سے۔
صحیح بخاری وصحیح مسلم میں ابوہریرہ رضی الله تعالی عنہ سے ہے رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا :
ماینقم ابن جمیل الا انہ ان کان فقیرا فاغناہ اﷲ ورسولہ ۔ ابن جمیل کو کیابرا لگاآخر یہی کہ وہ محتارج تھا الله ورسول نے اس کو دولتمند کردیا۔
مسلمان دیکھیں کہ وہ بات جو الله جل جلالہ نے فرمائی الله کے رسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمائی وہابیہ کا امام منہ پھیر کر کہہ رہاہے کہ جو ایسا کہے مشرك ہے پھر بھلا جس مذہب میں الله ورسول تك معاذالله مشرك ٹھہریں اس سے مسلمانوں کو کافر کہنے کی کیا شکایت!
ولا حول ولاقوۃ الا باﷲ العلی العظیم۔ “ و سیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون ﴿۲۲۷﴾ “ ۔ واﷲ تعالی اعلم۔ الله تعالی عظیم کی توفیق وتوانائی کے بغیر نہ برائی سے پھر نے کی قوت اور نہ نیکی بجالانے کی طاقت اب جاننا چاہتے ہیں ظالم کہ کس کروٹ پلٹا کھائیں گے۔ والله تعالی اعلم۔ (ت
مسئلہ ۵۱ : از بمبئی چھاچھ محلہ نمبر ۳ مرسلہ محمد ایوب ابن حاجی صدیق میمن صاحب ۳ شعبان المعظم ۱۳۳۵ھ
یہاں کے باشندے حضرت مولانا ممدوح کے بہت ہی معتقد ہیں اور ان کے فرمان کو بہت عزت اورقدر کی نظر سے دیکھتے ہیں اور ان کے زور قلم کا ہر شخص لوہا مانے ہوئے ہے مولانا کی تحریر ہی پر گویا سارا دارومدار ہے مولانا صاحب میں خدا کی عنایت سے علاوہ عالم ہونے کے یہ بھی بڑا کمال ہے کہ آپ فن شعر اور نکات شاعری سے بخوبی واقف ہیں اور ماہر ہیں یہ بات دوسرے عالم میں نہیں پائی جاتی آپ ہی سے فیصلہ اس کا بھی اچھی طرح ہوسکتاہے ثم التسلیم بالتکریم۔
قال اﷲ تعالی “ وما نقموا الا ان اغنہم اللہ ورسولہ من فضلہ “ ۔ الله تعالی نے فرمایا : اور انھیں کیا برا لگا یہی نا کہ الله ورسول نے انھیں دولتمند کردیا اپنے فضل سے۔
صحیح بخاری وصحیح مسلم میں ابوہریرہ رضی الله تعالی عنہ سے ہے رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا :
ماینقم ابن جمیل الا انہ ان کان فقیرا فاغناہ اﷲ ورسولہ ۔ ابن جمیل کو کیابرا لگاآخر یہی کہ وہ محتارج تھا الله ورسول نے اس کو دولتمند کردیا۔
مسلمان دیکھیں کہ وہ بات جو الله جل جلالہ نے فرمائی الله کے رسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمائی وہابیہ کا امام منہ پھیر کر کہہ رہاہے کہ جو ایسا کہے مشرك ہے پھر بھلا جس مذہب میں الله ورسول تك معاذالله مشرك ٹھہریں اس سے مسلمانوں کو کافر کہنے کی کیا شکایت!
ولا حول ولاقوۃ الا باﷲ العلی العظیم۔ “ و سیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون ﴿۲۲۷﴾ “ ۔ واﷲ تعالی اعلم۔ الله تعالی عظیم کی توفیق وتوانائی کے بغیر نہ برائی سے پھر نے کی قوت اور نہ نیکی بجالانے کی طاقت اب جاننا چاہتے ہیں ظالم کہ کس کروٹ پلٹا کھائیں گے۔ والله تعالی اعلم۔ (ت
مسئلہ ۵۱ : از بمبئی چھاچھ محلہ نمبر ۳ مرسلہ محمد ایوب ابن حاجی صدیق میمن صاحب ۳ شعبان المعظم ۱۳۳۵ھ
یہاں کے باشندے حضرت مولانا ممدوح کے بہت ہی معتقد ہیں اور ان کے فرمان کو بہت عزت اورقدر کی نظر سے دیکھتے ہیں اور ان کے زور قلم کا ہر شخص لوہا مانے ہوئے ہے مولانا کی تحریر ہی پر گویا سارا دارومدار ہے مولانا صاحب میں خدا کی عنایت سے علاوہ عالم ہونے کے یہ بھی بڑا کمال ہے کہ آپ فن شعر اور نکات شاعری سے بخوبی واقف ہیں اور ماہر ہیں یہ بات دوسرے عالم میں نہیں پائی جاتی آپ ہی سے فیصلہ اس کا بھی اچھی طرح ہوسکتاہے ثم التسلیم بالتکریم۔
حوالہ / References
القرآن الکریم ۹ /۷۴
صحیح بخاری کتاب الزکوٰہ باب فی قول الله تعالٰی وفی الرقاب ا لخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۹۸
القرآن الکریم ۲۶ /۲۲۷
صحیح بخاری کتاب الزکوٰہ باب فی قول الله تعالٰی وفی الرقاب ا لخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۹۸
القرآن الکریم ۲۶ /۲۲۷
خیر طلب ہیچدان حیدر علی خاں عفی عنہ حیدر فرخ آبادی
جواب فورا مع فتوی ودستخطی ومہری حضرت مولانا مرشد آنا چاہئے۔
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ خالد سنی المذہب نے مندرجہ ذیل شعر کلمات شہادت کا ابتدائی ٹکڑا نظم کیا ہے جس سے پورا کلمہ شہادت مراد ہے لیکن زید جو مذہبا شیعہ ہے اس سے پورا
کلمہ شہادت مراد نہیں لیتاہے بلکہ صرف اشھدان الا الہ کے معنی سے خالد کو ملحد قرار دیتاہے
اشھد ان لاالہ نقش ہے اس لوح پر
نیر تو حید کب عاشق کی پیشانی نہ تھی
مندرجہ بالا شعر کی نسبت زید نے مندرجہ ذیل الفاظ لکھے ہیں : شعر کا پہلا مصرعہ الحادی کا سائن بورڈ ہے کیونکہ ا شھد ان لا الہ کے تو یہ معنی ہوئے کہ میں گواہی دیتاہوں کہ نہیں ہے کوئی خدا پھر جس پیشانی پر یہ کفر کا کلمہ لکھا ہو اسے ہم الحاد کا سائن بورڈنہ کہیں تو کیا کہیں۔ اسی طرح زید نے بکر سنی المذہب کے اس نعتیہ کی نسبت
پھر روضہ حضرت کی زیارت کو چل اخلاص
پھر چھوڑ دے تو بہر خدا حب وطن کو
مندرجہ ذیل الفاظ تحریر کئے ہیں : اخلاص صاحب! کبھی کبھی تو ہش کی باتیں کیا کیجئے ا پ نے حب الوطن من الایمان (وطن کی محبت ایمان کاحصہ ہے۔ ت)والی حدیث پڑھی نہیں تو کیا سنی بھی نہیں۔
فلہذا زید کا خالد کو ملحد اور بکر کو بے ایمان قرار دینا جائز اور مندرجہ بالاالفاظ زبان سے کہنا جائز ہے یا قلم سے
لکھنا درست ہے یا نہیں اگر نہیں ہے تو علمائے کرام وفضلائے عظام زید اور زید کے ان مؤیدین کی نسبت جو باوجود سنی ہونے کے زید کی تائید وتصدیق کررہے ہیں از روئے شرع شریف کیا فتوی صادر فرماتے ہیں۔ بینوا تو جروا
الجواب :
حاشا شعر مذکور سے خالد سنی المذہب پر کسی طرح حکم کفر والحاد ممکن نہیں۔ مگر اس کے نزدیك جو اس کلمہ طیبہ کو کہ مدار ایمان ہے معاذالله وہ ٹکڑے کفر واسلام پر منقسم کرے اور ا س کا پہلا آدھا کفر خالص جانے اور یہ کس درجہ ناپاك وشنیع ہے۔
اولا : یوں ہو توہر مسلمان جتنی بار لا الہ الله کہے ہر بار اس کا کافر ہونا اور بعد کفر اسلام لانا ٹھہرے کہ جب تك پہلا جز کہا تھا اس معترض کے طور پر تومطلقا ہر الہ کی نفی تھی ارویہ بیشك کفر ہے جب الاالله کہا تو اب الله عزوجل کی الوہیت مان کر مسلمان ہوا۔
جواب فورا مع فتوی ودستخطی ومہری حضرت مولانا مرشد آنا چاہئے۔
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ خالد سنی المذہب نے مندرجہ ذیل شعر کلمات شہادت کا ابتدائی ٹکڑا نظم کیا ہے جس سے پورا کلمہ شہادت مراد ہے لیکن زید جو مذہبا شیعہ ہے اس سے پورا
کلمہ شہادت مراد نہیں لیتاہے بلکہ صرف اشھدان الا الہ کے معنی سے خالد کو ملحد قرار دیتاہے
اشھد ان لاالہ نقش ہے اس لوح پر
نیر تو حید کب عاشق کی پیشانی نہ تھی
مندرجہ بالا شعر کی نسبت زید نے مندرجہ ذیل الفاظ لکھے ہیں : شعر کا پہلا مصرعہ الحادی کا سائن بورڈ ہے کیونکہ ا شھد ان لا الہ کے تو یہ معنی ہوئے کہ میں گواہی دیتاہوں کہ نہیں ہے کوئی خدا پھر جس پیشانی پر یہ کفر کا کلمہ لکھا ہو اسے ہم الحاد کا سائن بورڈنہ کہیں تو کیا کہیں۔ اسی طرح زید نے بکر سنی المذہب کے اس نعتیہ کی نسبت
پھر روضہ حضرت کی زیارت کو چل اخلاص
پھر چھوڑ دے تو بہر خدا حب وطن کو
مندرجہ ذیل الفاظ تحریر کئے ہیں : اخلاص صاحب! کبھی کبھی تو ہش کی باتیں کیا کیجئے ا پ نے حب الوطن من الایمان (وطن کی محبت ایمان کاحصہ ہے۔ ت)والی حدیث پڑھی نہیں تو کیا سنی بھی نہیں۔
فلہذا زید کا خالد کو ملحد اور بکر کو بے ایمان قرار دینا جائز اور مندرجہ بالاالفاظ زبان سے کہنا جائز ہے یا قلم سے
لکھنا درست ہے یا نہیں اگر نہیں ہے تو علمائے کرام وفضلائے عظام زید اور زید کے ان مؤیدین کی نسبت جو باوجود سنی ہونے کے زید کی تائید وتصدیق کررہے ہیں از روئے شرع شریف کیا فتوی صادر فرماتے ہیں۔ بینوا تو جروا
الجواب :
حاشا شعر مذکور سے خالد سنی المذہب پر کسی طرح حکم کفر والحاد ممکن نہیں۔ مگر اس کے نزدیك جو اس کلمہ طیبہ کو کہ مدار ایمان ہے معاذالله وہ ٹکڑے کفر واسلام پر منقسم کرے اور ا س کا پہلا آدھا کفر خالص جانے اور یہ کس درجہ ناپاك وشنیع ہے۔
اولا : یوں ہو توہر مسلمان جتنی بار لا الہ الله کہے ہر بار اس کا کافر ہونا اور بعد کفر اسلام لانا ٹھہرے کہ جب تك پہلا جز کہا تھا اس معترض کے طور پر تومطلقا ہر الہ کی نفی تھی ارویہ بیشك کفر ہے جب الاالله کہا تو اب الله عزوجل کی الوہیت مان کر مسلمان ہوا۔
حوالہ / References
ا لدرالمنتشرۃ فی الاحادیث المشتہرہ حدیث ۱۴۹ حرج الحاء المکتب الاسلامی بیروت ص۱۰۰
ثانیا : بلکہ اب بھی مسلمان ہونا بخیرکہ اس وقت الا الله کہہ لیا تو کیا ہوا اس کا پھر ارادہ ہے کہ یہی کلمہ سرے سے پڑھے اور پہلے جز سے خدا کی نفی مطلق کرکے کافر ہو تو کفر سے رجوع کب ہوئی جب کہ پھر عزم کفر موجود ہے اورعزم کفر فی الحال کفر ہے۔
ثالثا : قرآن عظیم میں کس قدر کثرت سے لا الہ الا الله و لا الہ الا ھو وار دہے اگر پہلے جز میں نفی عام الوہیت ہر الہ ہے جیسے کہ معترض کا خیال تبع ہے تو معاذالله قرآن کریم نے صدہا بار الوہیت رب العزت کی نفی فرمائی اور ہر بار نفی کرکے اثبات فرماکر تنا قضوں کی ٹھہرائی تعالی الله عن ذلك علوا کبیرا (الله تعالی اس سے بلند ہے۔ ت)
رابعا : معترض کے طور پر معاذالله سب کلمہ گو جن میں بزعم معترج خود معترض بھی داخل فاسد النکاح ہوں اور ان کی اولاد اولاد الزنا کہ جب پہلا جزء کہا کافر ہوگئے نکاح ٹوٹ گئے اور الا الله کہنے سے اگرچہ اسلام عو بھی کرائے ٹوٹا نکاح تو نہیں جڑتا تب تك از سر نو نہ وہ اور ہ ونہ ہوا تو سب بے نکاحی رہیں اور اولاد والدالحرام۔
خامسا : معترض کے نزدیك نزع روح کے وقت کلمہ طیبہ کی تلقین سخت حرام وبدخواہی اہل اسلام ہو اپنے آپ تو کافر ہوہو کر الا الله سے مسلمان ہولئے اس پر کیا بھروسہ ہے کہ پہلے ہی جز پر روح پر واز کر جائے یا زبان بند ہوجائے تو معاذالله کافر مرے۔
سادسا : اس کے یہ معنی سمجھنا اسلام پر کیسا سخت الزام پر عبارت صحیح بتانے سے معاذالله عجز کا اتہام ہے کہ ایمان کا آغاز کفر سے رکھا لا الہ الله کی جگہ کلمہ طیبہ یوں کیوں نہ بتایا ان اﷲ ھو الا لہ وحدہ لاشریك لہ لیس غیرہ من الہ یہ خالص اسلام ہوتا اور معترض کا کفر والحاد راہ نہ پاتا۔
بالجملہ اس کے یہ معنی سمجھنا کہ نہیں ہے کوئی خدا عاقل سے معقول نہیں بلکہ بلاشبہ ا س کے معنی نفی الوہیت غیر خدا ہیں یقینا قطعا مسلمان جس وقت اس سے تلفظ کرتاہے یہی مراد لیتاہے تو بحمدالله تعالی اس کے دونوں جزعین ایمان ہیں پہلا جز الوہیت غیرخدا کی نفی اور دوسرا جز الوہیت الہ حق کا اثبات اور دو نوں ایمان ہیں۔ رضی نے کہ نحو وعربیت کا بڑا محقق اور مذہب کا شیعی تھا اس کی تحقیق کی اور بتادیا کہ یہاں ہرگز نفی عام نہیں۔ ورنہ تناقص لازم آئے بلکہ ماوراء مستثنی کی نفی ہوتی ہے شرح کافیہ میں
ثالثا : قرآن عظیم میں کس قدر کثرت سے لا الہ الا الله و لا الہ الا ھو وار دہے اگر پہلے جز میں نفی عام الوہیت ہر الہ ہے جیسے کہ معترض کا خیال تبع ہے تو معاذالله قرآن کریم نے صدہا بار الوہیت رب العزت کی نفی فرمائی اور ہر بار نفی کرکے اثبات فرماکر تنا قضوں کی ٹھہرائی تعالی الله عن ذلك علوا کبیرا (الله تعالی اس سے بلند ہے۔ ت)
رابعا : معترض کے طور پر معاذالله سب کلمہ گو جن میں بزعم معترج خود معترض بھی داخل فاسد النکاح ہوں اور ان کی اولاد اولاد الزنا کہ جب پہلا جزء کہا کافر ہوگئے نکاح ٹوٹ گئے اور الا الله کہنے سے اگرچہ اسلام عو بھی کرائے ٹوٹا نکاح تو نہیں جڑتا تب تك از سر نو نہ وہ اور ہ ونہ ہوا تو سب بے نکاحی رہیں اور اولاد والدالحرام۔
خامسا : معترض کے نزدیك نزع روح کے وقت کلمہ طیبہ کی تلقین سخت حرام وبدخواہی اہل اسلام ہو اپنے آپ تو کافر ہوہو کر الا الله سے مسلمان ہولئے اس پر کیا بھروسہ ہے کہ پہلے ہی جز پر روح پر واز کر جائے یا زبان بند ہوجائے تو معاذالله کافر مرے۔
سادسا : اس کے یہ معنی سمجھنا اسلام پر کیسا سخت الزام پر عبارت صحیح بتانے سے معاذالله عجز کا اتہام ہے کہ ایمان کا آغاز کفر سے رکھا لا الہ الله کی جگہ کلمہ طیبہ یوں کیوں نہ بتایا ان اﷲ ھو الا لہ وحدہ لاشریك لہ لیس غیرہ من الہ یہ خالص اسلام ہوتا اور معترض کا کفر والحاد راہ نہ پاتا۔
بالجملہ اس کے یہ معنی سمجھنا کہ نہیں ہے کوئی خدا عاقل سے معقول نہیں بلکہ بلاشبہ ا س کے معنی نفی الوہیت غیر خدا ہیں یقینا قطعا مسلمان جس وقت اس سے تلفظ کرتاہے یہی مراد لیتاہے تو بحمدالله تعالی اس کے دونوں جزعین ایمان ہیں پہلا جز الوہیت غیرخدا کی نفی اور دوسرا جز الوہیت الہ حق کا اثبات اور دو نوں ایمان ہیں۔ رضی نے کہ نحو وعربیت کا بڑا محقق اور مذہب کا شیعی تھا اس کی تحقیق کی اور بتادیا کہ یہاں ہرگز نفی عام نہیں۔ ورنہ تناقص لازم آئے بلکہ ماوراء مستثنی کی نفی ہوتی ہے شرح کافیہ میں
حوالہ / References
شرح المقاصد المبحث الثانی الوجود مفہوم واحد الخ دارالمعارف النعمانیہ لاہور ۱ / ۷۴
اس کی عبارت بالتلخیص یہ ہے :
ان قلنا انہ داخل فی القوم والاء لاخراج زید منہم بعدالدخول کان المعنی جاء زید مع القوم ولم یجئ زید وھذا تناقض ظاہر ینبغی ان یجنب کلام العقلاء عن مثلہ وقدورد فی الکتاب العزیز من الاستثناء شیئ کثیر کقولہ تعالی فلبث فیھم تلد الخمسین عاما فیکون المعنی لبث الخمسین فی جملۃ الالف ولم یلبث تلك الخمسین تعالی اﷲ عن مثلہ علوا کبیرا(الی ان قال)فزبدۃ الکلام ان دخول المستثنی منہ ثم اخراجہ بالا واخواتھا انما کان قبل اسناد الفعل اوشبھہ الیہ فلایلزم التناقص فی نحوجاء فی القوم الازیدا لانہ بمنزلۃ قولك القوم المخرج منھم زید جاؤنی وذلك لان المنسوب الیہ وان تأخر لفظا لابدلہ من التقدم وجودا علی النسبۃ التی یدل علیہا الفعل اذ المنسوب الیہ والمنسوب سا بقان علی النسبۃ بینھا ضرورۃ ففی الاستثناء لما کان المنسوب الیہ ھو المستثنی منہ مع الاوالمستثنی فلا بدمن من وجود ھذہ الثلثۃ قبل النسبۃ فلا بد ذلك اذن من حصول الدخول والاخراج قبل النسبۃ فلا تناقص اھ۔
(اگر ہم یہ کہیں کہ جاء نی القوم الازیدا میں زید قوم میں شامل ہے اور الا اس کو قوم میں شامل ہونے کے بعد نکالنے کے لئے ہے تو معنی یہ ہوگا کہ زید قوم کے ساتھ آیا اور نہ آیا۔ یہ واضح تناقص ہے لہذا ایسا متناقص کلام عقلاء سےمتصور نہیں ہوسکتا حالانکہ قرآن پاك میں یہ استثناء کثیر موجود ہے جیسے الله تعالی کا ارشاد ہے کہ نوح علیہ السلام اپنی قوم میں ہزار برس بغیر پچاس کے ٹھہرے تومعنی یہ ہوئے کہ آپ پچاس سمیت مجموعہ ہزار ٹھہرے اس واضح تناقص سے الله تعالی پاك ہے آگے انھوں نے یہ تك کہا خلاصہ کلام یہ ہے کہ مستثنی منہ میں دخول اور الا اور دیگر حروف کے ساتھ پھر اس کو خارج کرنا فعل یا شبہ فعل کے اسناد سے قبل ہوتاہے تو اب جاءنی القوم لا زیدا جیسی مثالوں میں تناقص لازم آئے گا کیونکہ اب معنی یوں ہوا “ قوم جس سے زید
ان قلنا انہ داخل فی القوم والاء لاخراج زید منہم بعدالدخول کان المعنی جاء زید مع القوم ولم یجئ زید وھذا تناقض ظاہر ینبغی ان یجنب کلام العقلاء عن مثلہ وقدورد فی الکتاب العزیز من الاستثناء شیئ کثیر کقولہ تعالی فلبث فیھم تلد الخمسین عاما فیکون المعنی لبث الخمسین فی جملۃ الالف ولم یلبث تلك الخمسین تعالی اﷲ عن مثلہ علوا کبیرا(الی ان قال)فزبدۃ الکلام ان دخول المستثنی منہ ثم اخراجہ بالا واخواتھا انما کان قبل اسناد الفعل اوشبھہ الیہ فلایلزم التناقص فی نحوجاء فی القوم الازیدا لانہ بمنزلۃ قولك القوم المخرج منھم زید جاؤنی وذلك لان المنسوب الیہ وان تأخر لفظا لابدلہ من التقدم وجودا علی النسبۃ التی یدل علیہا الفعل اذ المنسوب الیہ والمنسوب سا بقان علی النسبۃ بینھا ضرورۃ ففی الاستثناء لما کان المنسوب الیہ ھو المستثنی منہ مع الاوالمستثنی فلا بدمن من وجود ھذہ الثلثۃ قبل النسبۃ فلا بد ذلك اذن من حصول الدخول والاخراج قبل النسبۃ فلا تناقص اھ۔
(اگر ہم یہ کہیں کہ جاء نی القوم الازیدا میں زید قوم میں شامل ہے اور الا اس کو قوم میں شامل ہونے کے بعد نکالنے کے لئے ہے تو معنی یہ ہوگا کہ زید قوم کے ساتھ آیا اور نہ آیا۔ یہ واضح تناقص ہے لہذا ایسا متناقص کلام عقلاء سےمتصور نہیں ہوسکتا حالانکہ قرآن پاك میں یہ استثناء کثیر موجود ہے جیسے الله تعالی کا ارشاد ہے کہ نوح علیہ السلام اپنی قوم میں ہزار برس بغیر پچاس کے ٹھہرے تومعنی یہ ہوئے کہ آپ پچاس سمیت مجموعہ ہزار ٹھہرے اس واضح تناقص سے الله تعالی پاك ہے آگے انھوں نے یہ تك کہا خلاصہ کلام یہ ہے کہ مستثنی منہ میں دخول اور الا اور دیگر حروف کے ساتھ پھر اس کو خارج کرنا فعل یا شبہ فعل کے اسناد سے قبل ہوتاہے تو اب جاءنی القوم لا زیدا جیسی مثالوں میں تناقص لازم آئے گا کیونکہ اب معنی یوں ہوا “ قوم جس سے زید
حوالہ / References
شرح الکافیہ للرضی بحث الستثنٰی دارالکتب العلمیہ بیروت ۱ / ۲۶۔ ۲۲۵
خارج ہے میرے پاس آئی اس لئے کہ منسوب الیہ اگرچہ لفظی طورپر فعل سے موخر ہے لیکن وجودی طورپر فعل سے مقدم ہے کیونکہ منسوب اور منسوب الیہ اس نسبت سے مقدم ہوتے ہیں جو دونوں میں پائی جاتی ہے اور یہ نسبت وہ ہے جس پر فعل دال ہے تو استثناء میں جب منسوب الیہ یعنی مستثنی منہ اور الا اور مستثنی تین چیزیں ہیں تو لازمی طور پر یہ تین فعل والی نسبت سے پہلے ہوں گے لہذا اب دخول وخروج نسبت سے قبل ہوا تو تناقص نہ رہا۔ ت)
اقول : حاصل یہ ہے کہ لفظ مافی النفس سے تعبیر ہوتے ہیں یہاں اگر یوں ہو کہ متکلم نے اولا نفی عام بلاد استثناء کی اور جزء اول سے تعبیر کیا پھر اس عام میں سے مستثنی کو جداکیا اوراس پر جزء استثنا سے دلالت کی توصریح تناقص ہے کہ یہ دوحکم متنافی ہوئے لا سالبہ کلیہ تھا اور یہ موجبہ جزئیہ او ر وہ دونوں نقیض ہیں ایسا ہر گز نہیں بلکہ وہاں صرف حکم واحد ہے متکلم نے ایك مفرد کلی کو کہ مرتبہ لابشرط شے میں تھا مستثنی سے فارغ کرکے مرتبہ بشرط لا شی میں لیا اور اس مقید پر حکم واحد کیا بے ادخال لا والا سے معبرکیا لاحکم ہے اور الاقید مسند الیہ کہ اس کے مرتبہ بشرط لا پر دال تو یہ لاہر گز نفی جمیع کے لئے نہیں بلکہ نفی ماورائے مستثنی کے لئے تو مافی الذھن یقینا حق ہے ہاں تقیید پر دلالت درکار وہ اگر نفس کلام میں نہ ہوتی تو کلام کی ترکیب مشہور ومعروف کا مسلمان میں دائر وسائر اور قائل کا مسلمان ہونا خودہی دلالت کرتا کہ یہ تنگی شعر کے سبب بعض کلام پر اختصار ہے اور مراد یقینا مجموع جیسے ہے بےتنگی کلام قلیا اور لن تنا کہتے ہیں اور مراد سورہ کافرون وپارہ چہارم مسلمان اگر ابنت الربیع البقل (موسم بہار نے سبزہ اگایا۔ ت)کہے تو اس کا سلام ہی تجوز پر قرینہ ہے اس سے یہ گمان کہ اس نے خود فصل بہار کو سبزی کا خالق ماناہے ہر گز مسلم عاقل کو نہیں ہوسکتا کما نصوا علیہ وصرح بہ فی الفتاوی الخیریہ وغیرہا(جیسا کہ اس پر علماء نے تصریح موجود ہے اور فتاوی خیریہ وغیرہ میں یہ تصریح موجود ہے۔ ت)نہ کہ یہاں نفسی کلام میں معنی صحیح کی صاف تصریح موجود ہے کہ مصرع دوم میں صاف توحید بتائی اور یہ ہی اول سے مراد ٹھہرائی اگر معاذالله نفی مطلق ہوتی توحید کب رہتی تعطیل ہوتی توحید تو ایك کا اثبات ہے نہ کہ معاذالله عام نفی تام تو ثابت ہوا کہ اس پرحکم الحاد اگر از قبیل کل اناء یترشح بما فیہ(ہر برتن وہی کچھ باہر پھینکتا ہیے جو اس میں ہو۔ ت)نہ ہو تو جنون خالص ہے۔ لاجرم جامع الفصولین فصل ۳۸ میں ہے :
من قال لاالہ وارادان یقول الا اﷲ جس نے لا الہ کہا الا الله ارادہ کے باوجود نہ کہہ
اقول : حاصل یہ ہے کہ لفظ مافی النفس سے تعبیر ہوتے ہیں یہاں اگر یوں ہو کہ متکلم نے اولا نفی عام بلاد استثناء کی اور جزء اول سے تعبیر کیا پھر اس عام میں سے مستثنی کو جداکیا اوراس پر جزء استثنا سے دلالت کی توصریح تناقص ہے کہ یہ دوحکم متنافی ہوئے لا سالبہ کلیہ تھا اور یہ موجبہ جزئیہ او ر وہ دونوں نقیض ہیں ایسا ہر گز نہیں بلکہ وہاں صرف حکم واحد ہے متکلم نے ایك مفرد کلی کو کہ مرتبہ لابشرط شے میں تھا مستثنی سے فارغ کرکے مرتبہ بشرط لا شی میں لیا اور اس مقید پر حکم واحد کیا بے ادخال لا والا سے معبرکیا لاحکم ہے اور الاقید مسند الیہ کہ اس کے مرتبہ بشرط لا پر دال تو یہ لاہر گز نفی جمیع کے لئے نہیں بلکہ نفی ماورائے مستثنی کے لئے تو مافی الذھن یقینا حق ہے ہاں تقیید پر دلالت درکار وہ اگر نفس کلام میں نہ ہوتی تو کلام کی ترکیب مشہور ومعروف کا مسلمان میں دائر وسائر اور قائل کا مسلمان ہونا خودہی دلالت کرتا کہ یہ تنگی شعر کے سبب بعض کلام پر اختصار ہے اور مراد یقینا مجموع جیسے ہے بےتنگی کلام قلیا اور لن تنا کہتے ہیں اور مراد سورہ کافرون وپارہ چہارم مسلمان اگر ابنت الربیع البقل (موسم بہار نے سبزہ اگایا۔ ت)کہے تو اس کا سلام ہی تجوز پر قرینہ ہے اس سے یہ گمان کہ اس نے خود فصل بہار کو سبزی کا خالق ماناہے ہر گز مسلم عاقل کو نہیں ہوسکتا کما نصوا علیہ وصرح بہ فی الفتاوی الخیریہ وغیرہا(جیسا کہ اس پر علماء نے تصریح موجود ہے اور فتاوی خیریہ وغیرہ میں یہ تصریح موجود ہے۔ ت)نہ کہ یہاں نفسی کلام میں معنی صحیح کی صاف تصریح موجود ہے کہ مصرع دوم میں صاف توحید بتائی اور یہ ہی اول سے مراد ٹھہرائی اگر معاذالله نفی مطلق ہوتی توحید کب رہتی تعطیل ہوتی توحید تو ایك کا اثبات ہے نہ کہ معاذالله عام نفی تام تو ثابت ہوا کہ اس پرحکم الحاد اگر از قبیل کل اناء یترشح بما فیہ(ہر برتن وہی کچھ باہر پھینکتا ہیے جو اس میں ہو۔ ت)نہ ہو تو جنون خالص ہے۔ لاجرم جامع الفصولین فصل ۳۸ میں ہے :
من قال لاالہ وارادان یقول الا اﷲ جس نے لا الہ کہا الا الله ارادہ کے باوجود نہ کہہ
ولم یقل لایکفر لانہ عقد علی ایمان ۔ سکا تو وہ کافر نہیں کیونکہ ا س نے ایمان کے ارادے سے یہ کہا(ت)
اسی طرح خزانۃ المفتین میں ہے : آثراعنہ الی(عہ)لایکفر (اسی کے عدم کفر کو ترجیح حاصل ہے۔ ت)
اسی طرح فتاوی بزازیہ و شرح ملتقی الابحر میں ہے ہاں شاعر نے اسی قتصار میں تقصیر ضرور کی علماء تو یہاں تك فرماتے ہیں کہ اس لا کا مدطویل نہ کرے کہ صورت نفی سے جلد جانب تصریح اثبات منتقل ہوجائے اس نے اتنی دیر کی کہ صورت نفی مصرع اول میں رکھی اور تصریح اثبات چھ لفظوں کے فاصلہ سے مصرع دوم میں اسے یوں کہنا تھا اشہدان الاالہ غیرہ ہے اس پر نقش۔
اسی طرح بکر سنی کے شعر مذکور پر اعتراض جہل فاضح یا عناد واضح ہے حب الوطن من الایمان (وطن کی محبت ایمان کا حصہ ہے۔ ت)نہ حدیث سے ثابت نہ ہرگز اس کے یہ معنی اس کا یہ معنی امام بدرالدین زرکشی نے اپنے جز اور امام شمس الدین سخاوی نے مقاصد حسنہ اور امام خاتم الحفاظ جلال الدین سیوطی نے الدرالمنتشرہ میں بالاتفاق اس روایت کو فرمایا : لم اقف علیہ (میں ا س سے آگاہ نہیں ہوسکا۔ ت) امام سخاوی نے اس کی اصل ایك اعرابی بدوی اور حکیمان ہند کے کلام میں بتائی کما یظھر بالرجوع الیہ(جیسا کہ اس کی طرف رجوع سے ظاہر ہے۔ ت)الله عزوجل نے قرآن عظیم میں اپنے بندوں کی کمال مدح فرمائی جو الله و رسول جل وعلا وصلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی محبت میں اپنا وطن چھوڑیں یار ودیار سے منہ موڑیں اور ان کی سخت مذمت فرمائی جو جب وطن لئے بیٹھے رہے اور الله ورسول کی طرف مہاجر نہ ہوئے۔
قال اﷲ تعالی “ ان الذین توفىہم الملئکۃ ظالمی انفسہم قالوا فیم کنتم قالوا کنا مستضعفین فی الارض قالوا الم تکن الله تعالی نے فرمایا : بیشك ملائکہ جن کی جان نکالتے ہیں ا س حال میں کہ وہ اپنی جانوں پر ظلم کررہے تھے فرشتے کہتے ہیں تم کاہے میں تھے کہتے ہیں ہم اس بستی میں
عہ : وھکذا فی الاصل لعلہ “ انہ “ ۔
اسی طرح خزانۃ المفتین میں ہے : آثراعنہ الی(عہ)لایکفر (اسی کے عدم کفر کو ترجیح حاصل ہے۔ ت)
اسی طرح فتاوی بزازیہ و شرح ملتقی الابحر میں ہے ہاں شاعر نے اسی قتصار میں تقصیر ضرور کی علماء تو یہاں تك فرماتے ہیں کہ اس لا کا مدطویل نہ کرے کہ صورت نفی سے جلد جانب تصریح اثبات منتقل ہوجائے اس نے اتنی دیر کی کہ صورت نفی مصرع اول میں رکھی اور تصریح اثبات چھ لفظوں کے فاصلہ سے مصرع دوم میں اسے یوں کہنا تھا اشہدان الاالہ غیرہ ہے اس پر نقش۔
اسی طرح بکر سنی کے شعر مذکور پر اعتراض جہل فاضح یا عناد واضح ہے حب الوطن من الایمان (وطن کی محبت ایمان کا حصہ ہے۔ ت)نہ حدیث سے ثابت نہ ہرگز اس کے یہ معنی اس کا یہ معنی امام بدرالدین زرکشی نے اپنے جز اور امام شمس الدین سخاوی نے مقاصد حسنہ اور امام خاتم الحفاظ جلال الدین سیوطی نے الدرالمنتشرہ میں بالاتفاق اس روایت کو فرمایا : لم اقف علیہ (میں ا س سے آگاہ نہیں ہوسکا۔ ت) امام سخاوی نے اس کی اصل ایك اعرابی بدوی اور حکیمان ہند کے کلام میں بتائی کما یظھر بالرجوع الیہ(جیسا کہ اس کی طرف رجوع سے ظاہر ہے۔ ت)الله عزوجل نے قرآن عظیم میں اپنے بندوں کی کمال مدح فرمائی جو الله و رسول جل وعلا وصلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی محبت میں اپنا وطن چھوڑیں یار ودیار سے منہ موڑیں اور ان کی سخت مذمت فرمائی جو جب وطن لئے بیٹھے رہے اور الله ورسول کی طرف مہاجر نہ ہوئے۔
قال اﷲ تعالی “ ان الذین توفىہم الملئکۃ ظالمی انفسہم قالوا فیم کنتم قالوا کنا مستضعفین فی الارض قالوا الم تکن الله تعالی نے فرمایا : بیشك ملائکہ جن کی جان نکالتے ہیں ا س حال میں کہ وہ اپنی جانوں پر ظلم کررہے تھے فرشتے کہتے ہیں تم کاہے میں تھے کہتے ہیں ہم اس بستی میں
عہ : وھکذا فی الاصل لعلہ “ انہ “ ۔
حوالہ / References
جامع الفصولین الفصل الثامن والثلاثون فی مسائل کلمات الکفر اسلامی کتب خانہ کراچی ۲ / ۲۹۸
مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر باب المرتد داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۶۸۹
الدارالمنتشرۃ فی الاحادیث المشتہرۃ حرف الحاء حدیث ۱۸۹ المکتب الاسلامی بیروت ص۱۰۰
المقاصد الحسنہ للسخاوی حدیث ۳۸۶ دارالکتب العلمیہ بیروت ص۱۰۹ ، الدررالمنتشرۃ فی الاحادیث المشتہرۃ حروف الحاء حدیث ۱۸۹ المکتب الاسلامی بیروت ص۱۰۰
مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر باب المرتد داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۶۸۹
الدارالمنتشرۃ فی الاحادیث المشتہرۃ حرف الحاء حدیث ۱۸۹ المکتب الاسلامی بیروت ص۱۰۰
المقاصد الحسنہ للسخاوی حدیث ۳۸۶ دارالکتب العلمیہ بیروت ص۱۰۹ ، الدررالمنتشرۃ فی الاحادیث المشتہرۃ حروف الحاء حدیث ۱۸۹ المکتب الاسلامی بیروت ص۱۰۰
ارض اللہ وسعۃ فتہاجروا فیہا فاولئک ماوىہم جہنم وساءت مصیرا ﴿۹۷﴾ الا المستضعفین من الرجال والنساء والولدن لا یستطیعون حیلۃ ولا یہتدون سبیلا ﴿۹۸﴾ فاولئک عسی اللہ ان یعفو عنہم وکان اللہ عفوا غفورا ﴿۹۹﴾ ومن یہاجر فی سبیل اللہ یجد فی الارض مرغما کثیرا وسعۃ ومن یخرج من بیتہ مہاجرا الی اللہ ورسولہ ثم یدرکہ الموت فقد وقع اجرہ علی اللہ وکان اللہ غفورا رحیما ﴿۱۰۰﴾ “ کمزور دبائے ہوئے تھے فرشتے کہتے ہیں کیا الله کی زمین (مدینہ طیبہ)گنجائش والی نہ تھی کہ تم وطن چھوڑ کر اس میں جارہتے ان کا ٹھکانا جہنم ہے اور کیا ہی بری پلٹنے کی جگہ مگر کمزور اور عورتیں بچے جنھیں کچھ بنائے نہ بنی نہ راہ ملی قریب ہے کہ الله تعالی ان کو معاف فرمائے الله تعالی معاف فرمانے والا بخشنے والا ہے اور جو الله تعالی کی راہ میں وطن چھوڑ کر الله و رسول کی طرف ہجرت کرتاہوا اپنے گھر سے نکلے پھر اسے موت آجائے ا س کا اجر الله کے ذمہ کرم پر ثابت ہولیا اور الله بخشنے والا مہربان ہے۔
جو مدینہ طیبہ کی حاضری پر حب وطن کو ترجیح دیں وہ ظالموں کی طرح ہیں اور جو حب وطن کو خاك بوسی آستان عرش نشان پر تصدق کریں وہ ان مقبولوں میں ہیں :
“ قل کل یعمل علی شاکلتہ فربکم اعلم بمن ہو اہدی سبیلا ﴿۸۴﴾ “ تم فرماؤ سب اپنے کینڈے(طریقے)پر کام کرتے ہیں تو تمھارا رب خوب جانتا ہے کہ کون زیادہ راہ پر ہے۔ (ت)
وہ وطن جس کی محبت ایمان سے ہے وطن اصلی ہے جہاں سے آدمی آیا اور جہاں جاناہے۔
کن فی الدنیا کانك غریب اوعابرسبیل ۔ وحسبنا اﷲ ونعم الوکیل ۔ واﷲ تعالی اعلم۔ دنیا میں اس طرح رہو جیسے اجنبی ہو یا مسافر اور ہمارے لئے الله تعالی کافی ہے اور وہی سب کا کارساز ہے۔ والله تعالی اعلم۔ (ت)
جو مدینہ طیبہ کی حاضری پر حب وطن کو ترجیح دیں وہ ظالموں کی طرح ہیں اور جو حب وطن کو خاك بوسی آستان عرش نشان پر تصدق کریں وہ ان مقبولوں میں ہیں :
“ قل کل یعمل علی شاکلتہ فربکم اعلم بمن ہو اہدی سبیلا ﴿۸۴﴾ “ تم فرماؤ سب اپنے کینڈے(طریقے)پر کام کرتے ہیں تو تمھارا رب خوب جانتا ہے کہ کون زیادہ راہ پر ہے۔ (ت)
وہ وطن جس کی محبت ایمان سے ہے وطن اصلی ہے جہاں سے آدمی آیا اور جہاں جاناہے۔
کن فی الدنیا کانك غریب اوعابرسبیل ۔ وحسبنا اﷲ ونعم الوکیل ۔ واﷲ تعالی اعلم۔ دنیا میں اس طرح رہو جیسے اجنبی ہو یا مسافر اور ہمارے لئے الله تعالی کافی ہے اور وہی سب کا کارساز ہے۔ والله تعالی اعلم۔ (ت)
حوالہ / References
القرآن الکریم ۴ /۹۷ تا ۱۰
القرآن الکریم ۱۷ /۸۴
کنز العمال حدیث ۶۱۲۷ موسسۃ الرسالہ بیروت ۳ / ۱۹۶
القرآن الکریم ۳ /۱۷۳
القرآن الکریم ۱۷ /۸۴
کنز العمال حدیث ۶۱۲۷ موسسۃ الرسالہ بیروت ۳ / ۱۹۶
القرآن الکریم ۳ /۱۷۳
مسئلہ ۵۲ تا ۵۸ : از ریاست رامپور مرسلہ معشوق علی صاحب ۷ جمادی الاولی ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اکثر میلاد خواں مجلس میلاد شریف میں مفصلہ تحت مضامیں کی نظم یا نثر پڑھتے ہیں :
(۱)میم کی چادر مکھ پر ڈالے احمد بن کر آیا
(۲)شب وصل خدا نے نبی سے کہا تو اور نہیں میں اور نہیں
ہے میم کا پردہ کیا پردہ تو اور نہیں میں اور نہیں
(۳)کہیں لیلی بنا کہیں مجنون کہیں شریں بنا کہیں فرہاد
ہے میم کا پردہ کیا پردہ تو اور نہیں میں اور نہیں
(۴)کہتاہے یہ تجھ سے خدا دل میں نہ رکھ اپنے خودی تیرے نگین طبع پر میری حقیقت ہے کھدی
جب عین وحدت کی صفت خاص اپنی میں نے تجھ کو دی من تو شدم تو من شدی من تن شدم تو جاں شدی
تاکس نگوید بعد ازیں من دیگرم تو دیگری
(۵)تر سیٹھ برس خدا مکہ اور مدینہ کی گلیوں میں پھر ا کسی نے نہ پہچانا۔
(۶)محمد نے خدائی کی خدا نے مصطفائی کی۔
کوئی سمجھے تو کیا سمجھے کوئی جانے تو کیا جانے
(۷)ایك روز جبریل علیہ االسلام حضور سرور کائنات علیہ الصلوۃ والتحیات کی خدمت میں حاضر ہوئے آنحضرت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہ اے اخی! تم کو اپنے مقام سے یہاں تك آنے میں کتنا وقفہ ہوتاہے عرض کیا : حضور دستار مبارك کا پیچ تمام نہیں فرمانے پائیں گے کہ غلام اپنے مقام سے
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اکثر میلاد خواں مجلس میلاد شریف میں مفصلہ تحت مضامیں کی نظم یا نثر پڑھتے ہیں :
(۱)میم کی چادر مکھ پر ڈالے احمد بن کر آیا
(۲)شب وصل خدا نے نبی سے کہا تو اور نہیں میں اور نہیں
ہے میم کا پردہ کیا پردہ تو اور نہیں میں اور نہیں
(۳)کہیں لیلی بنا کہیں مجنون کہیں شریں بنا کہیں فرہاد
ہے میم کا پردہ کیا پردہ تو اور نہیں میں اور نہیں
(۴)کہتاہے یہ تجھ سے خدا دل میں نہ رکھ اپنے خودی تیرے نگین طبع پر میری حقیقت ہے کھدی
جب عین وحدت کی صفت خاص اپنی میں نے تجھ کو دی من تو شدم تو من شدی من تن شدم تو جاں شدی
تاکس نگوید بعد ازیں من دیگرم تو دیگری
(۵)تر سیٹھ برس خدا مکہ اور مدینہ کی گلیوں میں پھر ا کسی نے نہ پہچانا۔
(۶)محمد نے خدائی کی خدا نے مصطفائی کی۔
کوئی سمجھے تو کیا سمجھے کوئی جانے تو کیا جانے
(۷)ایك روز جبریل علیہ االسلام حضور سرور کائنات علیہ الصلوۃ والتحیات کی خدمت میں حاضر ہوئے آنحضرت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہ اے اخی! تم کو اپنے مقام سے یہاں تك آنے میں کتنا وقفہ ہوتاہے عرض کیا : حضور دستار مبارك کا پیچ تمام نہیں فرمانے پائیں گے کہ غلام اپنے مقام سے
یہاں حاضر ہوجائے گا آنحضرت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہ جہاں سے تم کو حکم ملتاہے وہاں پردہ پڑا ہے جاؤ اس کو اٹھاکر دیکھو ادھرآں حضرت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے دستار مبارك زیب سر فرمانا شروع کی جبریل علیہ السلام نے مقام مذکور پر پردہ اٹھاکردیکھا تو حضور پٹکا زیب سر فرمارہے ہیں پھر زمین پرآکر اسی طرح پٹکا زیب سر فرماتے ہوئے دیکھا۔ اسی استعجاب میں چند مرتبہ آئے گئے حیران ہوکر عرض کیا کہ حضور! پھر مجھے کیوں دوڑایا جاتاہے جب یہاں بھی آپ ہے وہاں بھی آپ اور مثل ان کے لہذا ایسے مضامین کا پڑھنا اور سننا شرع شریف میں کیا حکم رکھتاہے کسی سے اس بارے میں جھگڑا قصہ نہیں ہے۔ اپنا عقیدہ صاف کرنے کی غرض سے یہ تکلیف دی جاتی ہے۔
الجواب :
(۱)اگر آیا کی ضمیر حضرت عزت عز جلالہ کی طرف ہے تو بیشك عوام کا ایسا بکنا صریح کلمہ کفرہے اور اگر حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی طرف ہے تو بیشك احد واحد ہیں صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم دونوں حضور کے اسمائے طیبہ سے ہیں اور معنی یہ کہ حضور مظہر شان احدیت ہیں تجلی احدیت حضور کی عبدیت میں جلوہ گر ہے اگر میم کہ طوق فـــــــ وکمر پرستش ہے ساتر نہ ہو تو عالم میں کوئی دیکھنے کی تاب نہ لائے پھر بھی ایسے لفظ سے بچنے ہی کا حکم ہے کہ عوام کا ذہن ایسی دقیق تو جیہ کی طرف نہ جائے گا اوران کے فساد عقیدہ یا اس بات کا موہم ہوگا کہ وہ قائل کو گمراہ جانیں۔ حدیث میں ہے :
ایاك ومایعتذر منہ فان الخیر لایعتذر منہ۔ ہر اس شیئ سے بچو جس پر معذرت کرنی پڑے اور خیر میں معذرت نہیں کرنا پڑتی۔ (ت)
دوسری حدیث میں ہے : ایاك ومایسؤ الاذن (ہر اس شے سے بچو جسے کان براجانیں۔ ت)تیسری حدیث میں ہے : حدثوا الناس بما یعرفون (لوگوں سے وہی بیان کرو جو ان کے لئے معروف ہے۔ ت)چوتھی حدیث میں ہے :
ماانت بمحدث قوما حدیثا لا تبلغہ عقولھم الاکان لبعضھم فتنۃ ۔ جب کوئی کسی قوم کو ایسی بات بیان کرے گا جہاں تك ان کی عقل کی رسائی نہیں تو وہ ان میں فنتہ کاسبب بنےگا(ت)
الجواب :
(۱)اگر آیا کی ضمیر حضرت عزت عز جلالہ کی طرف ہے تو بیشك عوام کا ایسا بکنا صریح کلمہ کفرہے اور اگر حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی طرف ہے تو بیشك احد واحد ہیں صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم دونوں حضور کے اسمائے طیبہ سے ہیں اور معنی یہ کہ حضور مظہر شان احدیت ہیں تجلی احدیت حضور کی عبدیت میں جلوہ گر ہے اگر میم کہ طوق فـــــــ وکمر پرستش ہے ساتر نہ ہو تو عالم میں کوئی دیکھنے کی تاب نہ لائے پھر بھی ایسے لفظ سے بچنے ہی کا حکم ہے کہ عوام کا ذہن ایسی دقیق تو جیہ کی طرف نہ جائے گا اوران کے فساد عقیدہ یا اس بات کا موہم ہوگا کہ وہ قائل کو گمراہ جانیں۔ حدیث میں ہے :
ایاك ومایعتذر منہ فان الخیر لایعتذر منہ۔ ہر اس شیئ سے بچو جس پر معذرت کرنی پڑے اور خیر میں معذرت نہیں کرنا پڑتی۔ (ت)
دوسری حدیث میں ہے : ایاك ومایسؤ الاذن (ہر اس شے سے بچو جسے کان براجانیں۔ ت)تیسری حدیث میں ہے : حدثوا الناس بما یعرفون (لوگوں سے وہی بیان کرو جو ان کے لئے معروف ہے۔ ت)چوتھی حدیث میں ہے :
ماانت بمحدث قوما حدیثا لا تبلغہ عقولھم الاکان لبعضھم فتنۃ ۔ جب کوئی کسی قوم کو ایسی بات بیان کرے گا جہاں تك ان کی عقل کی رسائی نہیں تو وہ ان میں فنتہ کاسبب بنےگا(ت)
حوالہ / References
المستدرك للحاکم کتاب الرقاق دارالفکر بیروت ۴ / ۳۲۷
مسند امام احمد بن حبنل بقیہ حدیث ابوالعادیۃ دارالفکر بیروت ۴ / ۷۶
کنز العمال حدیث ۲۹۳۱۸ موسسۃ الرسالۃ بیروت ۱۰ / ۲۴۷
صحیح مسلم باب النہی عن الروایۃ عن الضعفاء قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۹
فـــــ : اصل میں اسی طرح ہے مگر اعلٰحضرت کا خط نہیں اس لئے ناقل سے غالبًا سہو ہوا۔
مسند امام احمد بن حبنل بقیہ حدیث ابوالعادیۃ دارالفکر بیروت ۴ / ۷۶
کنز العمال حدیث ۲۹۳۱۸ موسسۃ الرسالۃ بیروت ۱۰ / ۲۴۷
صحیح مسلم باب النہی عن الروایۃ عن الضعفاء قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۹
فـــــ : اصل میں اسی طرح ہے مگر اعلٰحضرت کا خط نہیں اس لئے ناقل سے غالبًا سہو ہوا۔
(۲)یہ الله عزوجل پرا فتراء ہیے اور اس کا ظاہر کفر
وقدقال اﷲ تعالی
“ انما یفتری الکذب الذین لا یؤمنون “ ۔ الله تعالی کا ارشاد گرامی ہے : جھوٹ بہتان وہی باندھتے ہیں جو ایمان نہیں رکھتے۔ (ت)
(۳)بظاہر کفر ہے فـــــ اور اس کا مقلد زندیق۔ عوام کو ایسا تفوہ کفرکا کھلا راستہ ہے عوام سے مراد وہ ہیں کہ مقام حقائق تك نہ پہنچے اگرچہ علماء کہلاتے ہوں اور ان سے بدتر وہ مسخرگان شیطان کہ جاہل ہیں اور اور علم حقائق کے مدعی۔
(۴)فارسی شعر حضرت امیر خسرو قدس سرہ العزیز کا عاشقانہ غزل ہے اسے یوں نعت شریف میں لے جانا اور کلام الہی ٹھہرانا اور الله ورسول میں یوں اتحاد ماننا بلکہ حضور کو جان اور الله کو تن جاننا یہ صریح کفر وارتداد ہے۔
(۵)ا س کا ظاہر بھی کلمہ کفر ہے
ووقوع مثلہ فی کلام اﷲ وکلام رسولہ کمایذکر عن التورۃ جاء اﷲ من طور سیناء واشرق من ساعیر واستعلن من فاران وحدیث یا موسی کنت مریضا فلم تعدنی کنت جائعا فلم تطعمنی
وامثال ذلك لایکون سندا للجواز فلیس للعبد ان یتعدی طورہ وعلیہ اتباع المحکمات دون ماتشابہ منہ۔ اس کا وقوع کلام الہی اور کلام رسول اہیں جیسا کہ تورات سے ہے کہ الله تعالی طور سیناء سے آیا اور ساعیر اور فاران ان سے وہ چمکا اور حدیث میں ہے : اے موسی! میں مریض تھا تم نے میری عیادت نہ کی میں بھوکا تھا تم نے مجھے کھانا نہ کھلایا۔
اور اس کے دیگر امثال یہ جواز کی سند ودلیل نہیں بن سکتے بندے کو اپنی حد سے آگے نہیں بڑھنا چاہئے بندے پر محکمات کی اتباع لازم اور متشابہات سے بچنا لازم ہے۔ (ت)
(۶)پچھلا مصرع توصحیح ہے اور پہلے کا نصف اخیر بھی صحیح ہے کہ کرنا بنانے پیدا کرنے کو کہتے ہیں :
گفتم ایں جام جہاں بیں بتوکے داد حکیم گفت آں روز کہ ایں گنبد مینا می کرد
وقدقال اﷲ تعالی
“ انما یفتری الکذب الذین لا یؤمنون “ ۔ الله تعالی کا ارشاد گرامی ہے : جھوٹ بہتان وہی باندھتے ہیں جو ایمان نہیں رکھتے۔ (ت)
(۳)بظاہر کفر ہے فـــــ اور اس کا مقلد زندیق۔ عوام کو ایسا تفوہ کفرکا کھلا راستہ ہے عوام سے مراد وہ ہیں کہ مقام حقائق تك نہ پہنچے اگرچہ علماء کہلاتے ہوں اور ان سے بدتر وہ مسخرگان شیطان کہ جاہل ہیں اور اور علم حقائق کے مدعی۔
(۴)فارسی شعر حضرت امیر خسرو قدس سرہ العزیز کا عاشقانہ غزل ہے اسے یوں نعت شریف میں لے جانا اور کلام الہی ٹھہرانا اور الله ورسول میں یوں اتحاد ماننا بلکہ حضور کو جان اور الله کو تن جاننا یہ صریح کفر وارتداد ہے۔
(۵)ا س کا ظاہر بھی کلمہ کفر ہے
ووقوع مثلہ فی کلام اﷲ وکلام رسولہ کمایذکر عن التورۃ جاء اﷲ من طور سیناء واشرق من ساعیر واستعلن من فاران وحدیث یا موسی کنت مریضا فلم تعدنی کنت جائعا فلم تطعمنی
وامثال ذلك لایکون سندا للجواز فلیس للعبد ان یتعدی طورہ وعلیہ اتباع المحکمات دون ماتشابہ منہ۔ اس کا وقوع کلام الہی اور کلام رسول اہیں جیسا کہ تورات سے ہے کہ الله تعالی طور سیناء سے آیا اور ساعیر اور فاران ان سے وہ چمکا اور حدیث میں ہے : اے موسی! میں مریض تھا تم نے میری عیادت نہ کی میں بھوکا تھا تم نے مجھے کھانا نہ کھلایا۔
اور اس کے دیگر امثال یہ جواز کی سند ودلیل نہیں بن سکتے بندے کو اپنی حد سے آگے نہیں بڑھنا چاہئے بندے پر محکمات کی اتباع لازم اور متشابہات سے بچنا لازم ہے۔ (ت)
(۶)پچھلا مصرع توصحیح ہے اور پہلے کا نصف اخیر بھی صحیح ہے کہ کرنا بنانے پیدا کرنے کو کہتے ہیں :
گفتم ایں جام جہاں بیں بتوکے داد حکیم گفت آں روز کہ ایں گنبد مینا می کرد
(میں نے اسے کہا کہ یہ جہاں نما جام تجھےحکیم نےکب دیا اس نے کہا کہ جس دن اس نے یہ گنبد(آسمان بنایا۔ ت)
یعنی الله عزوجل نے حضور کی مصطفائی پیدا کی حضور کویہ مرتبہ بخشا البتہ نصف اول بہت سخت ہے اس میں تاویل بعیدیہ ہے کہ خدائی مخلوق کو کہتے ہیں ع
ساری خدائی اك طرف فضل الہی اك طرف
اور خدائی کی پیدائش بطفیل حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ہے حضور نہ ہوتے تو کچھ نہ ہوتا لولاك لما خلقت الدنیا (اگر آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نہ ہوتے تو میں دنیا پیدا نہ فرماتا۔ ت)حضور تخم وجودواصل موجود ہیں صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم تو نسبت مجاز ہے جیسے انبت الربیع البقل بہار نے سبزہ اگایا۔ وقال اﷲ تعالی “ مما تنبت الارض “ (اور الله تعالی نے فرمایا : زمین کی اگائی ہوئی چیزیں۔ ت)اگانے والا زمین کو فرمایا مگر حق یہ ہے کہ ایسی تاویل نہ لفظ کو کلمہ کفریہ ہونے سے بچائے نہ قاتل کو اشد حرام ہے کے ارتکاب سے بہار و زمین غیر ذوی العقول پر قیاس نہ ہوگا۔ اور ردالمحتار میں ہے :
مجرد ایھام المعنی المحال کاف فی المنع ۔ منع کے لئے محض محال معنی کا ایہام ہی کافی ہوتاہے۔ (ت)
(۷)یہ روایت محض کذب وباطل ومردود وموضوع وافتراء واختراع ہے قاتل اﷲ واضعھا(الله تعالی ایسی روایت گھڑنے والے کو برباد کرے۔ ت)اور اس کاظاہر سخت کفر ملعون ہے۔ ایسے تمام مضامین کاپڑھنا سننا سب حرام ہے والله سبحانہ وتعالی اعلم۔
مسئلہ ۵۹ : ازرام پور مرسلہ معشوق علی صاحب ۷ جمادی الاول ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اکثر میلاد خواں میلاد شریف میں ا س نظم کو پڑھتے ہیں :
(۱) اٹھاکر میم کا پردہ سب الاالله کہتے ہیں احد میں میم کو ضم کرکے صلی الله کہتے ہیں
(۲)ظہور ہوکر کے دنیا میں یہ فرمانا کہ بندہ ہوں توسب ناسوت میں حضرت رسول الله کہتے ہیں
(۳)ہوئے ممکن سے جب واجب نبی ملکوت میں پہنچے وہاں سب دیکھ احمد کوظہور الله کہتے ہیں
یعنی الله عزوجل نے حضور کی مصطفائی پیدا کی حضور کویہ مرتبہ بخشا البتہ نصف اول بہت سخت ہے اس میں تاویل بعیدیہ ہے کہ خدائی مخلوق کو کہتے ہیں ع
ساری خدائی اك طرف فضل الہی اك طرف
اور خدائی کی پیدائش بطفیل حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ہے حضور نہ ہوتے تو کچھ نہ ہوتا لولاك لما خلقت الدنیا (اگر آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نہ ہوتے تو میں دنیا پیدا نہ فرماتا۔ ت)حضور تخم وجودواصل موجود ہیں صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم تو نسبت مجاز ہے جیسے انبت الربیع البقل بہار نے سبزہ اگایا۔ وقال اﷲ تعالی “ مما تنبت الارض “ (اور الله تعالی نے فرمایا : زمین کی اگائی ہوئی چیزیں۔ ت)اگانے والا زمین کو فرمایا مگر حق یہ ہے کہ ایسی تاویل نہ لفظ کو کلمہ کفریہ ہونے سے بچائے نہ قاتل کو اشد حرام ہے کے ارتکاب سے بہار و زمین غیر ذوی العقول پر قیاس نہ ہوگا۔ اور ردالمحتار میں ہے :
مجرد ایھام المعنی المحال کاف فی المنع ۔ منع کے لئے محض محال معنی کا ایہام ہی کافی ہوتاہے۔ (ت)
(۷)یہ روایت محض کذب وباطل ومردود وموضوع وافتراء واختراع ہے قاتل اﷲ واضعھا(الله تعالی ایسی روایت گھڑنے والے کو برباد کرے۔ ت)اور اس کاظاہر سخت کفر ملعون ہے۔ ایسے تمام مضامین کاپڑھنا سننا سب حرام ہے والله سبحانہ وتعالی اعلم۔
مسئلہ ۵۹ : ازرام پور مرسلہ معشوق علی صاحب ۷ جمادی الاول ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اکثر میلاد خواں میلاد شریف میں ا س نظم کو پڑھتے ہیں :
(۱) اٹھاکر میم کا پردہ سب الاالله کہتے ہیں احد میں میم کو ضم کرکے صلی الله کہتے ہیں
(۲)ظہور ہوکر کے دنیا میں یہ فرمانا کہ بندہ ہوں توسب ناسوت میں حضرت رسول الله کہتے ہیں
(۳)ہوئے ممکن سے جب واجب نبی ملکوت میں پہنچے وہاں سب دیکھ احمد کوظہور الله کہتے ہیں
حوالہ / References
الفوائد المجوعۃ باب فضائل النبی حدیث ۱۸ دارالکتب العلمیہ بیروت ص۳۲۶ ، الاسرار المرفوعہ فی الاخبار الموضوعہ حدیث ۷۵۵ دارالکتب العلمیہ بیروت ص۱۹۴
القرآن الکریم ۲ /۶۱
ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ / ۲۵۳
القرآن الکریم ۲ /۶۱
ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ / ۲۵۳
(۴)جو پہنچا مرتبہ جبروت میں مسجود عالی کا تو اس جسم مطہر کو وہ نورالله کہتے ہیں
(۵)الست مرتبہ لاہوت سمجھو ذات کا احمد سب اس رتبہ میں آنحضرت کو عین کہتے ہیں
(۶)خدا فرمائے گامحشرمیں بخشالو تم اب احمد گنہ گاران امت کو شفیع الله کہتے ہیں
(۷)نزول از تاعروج حضرت کا لکھا ہے حقیقت سے خدا پہچان سب سے حسن لله کہتے ہیں
الجواب :
ان اشعار کا پڑھنا حرام حرام سخت حرام ہے ان میں بعض کلمہ کفریہ ہیں اگرچہ تاویل کے سبب قائل کوکافر نہ کہیں اور بعض موہم کفر ہیں اور یہ بھی حرام ہے ردالمحتار میں ہے :
مجرد ایھام المعنی المحال کاف فی المنع ۔ منع کے لئے محض محال کا معنی کا ایہام ہی کافی ہوتاہے۔ (ت)
ہاں بعض جیسے شعر چہارم وششم ایہام کفر سے خالی ہیں پھر بھی ششم میں مصرعہ دوم “ گنہ گاران امت الخ “ کو حضرت عزت کی طرف نسبت کرنا صحیح نہیں اور چہارم میں مسجود کا لفظ مناسب نہیں۔ ہاں شاہ عبدالعزیز صاحب تفسیر عزیزی میں فرماتے ہیں :
ہزاران ہزار عاشق برآستانہ او(صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم) سجدات می کنند وایں مرتبہ ہیچکس را ندادہ اند۔ مگر بطفیل ایں محبوب(صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم)برخے ازاولیائے امت راشمہ محبوبیت آں نصیب شدہ مسجود خلائق ومحبوب دلہا گشتہ اند مثل حضرت غوث الاعظم وسلطان المشائخ نظام الدین اولیاء رضی الله تعالی عنہما (ملخصا)والله تعالی اعلم۔ لاکھوں عشاق ان(صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم)کے مبارك آستاں پر سجدہ کرتے ہیں اور یہ مرتبہ جس کی بھی عطا کیا گیا ہیے وہ اس محبوب(صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم)کی طفیل ہے۔ اولیائے امت میں سے جس کو اس محبوبیت سے حصہ ملا ہے وہ مخلوق کے مسجود و محبوب ہوئے مثلا حضرت غوث الاعظم سلطان المشائخ نظام الدین اولیاء رضی الله تعالی عنہما۔ (ملخصا) والله تعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۶۰ : از ناگور مارواڑ دکان سید محمد صدیق لعل محمد سوداگران مرسلہ حضرات مذکورین ۸جمادی الاولی ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ :
(۵)الست مرتبہ لاہوت سمجھو ذات کا احمد سب اس رتبہ میں آنحضرت کو عین کہتے ہیں
(۶)خدا فرمائے گامحشرمیں بخشالو تم اب احمد گنہ گاران امت کو شفیع الله کہتے ہیں
(۷)نزول از تاعروج حضرت کا لکھا ہے حقیقت سے خدا پہچان سب سے حسن لله کہتے ہیں
الجواب :
ان اشعار کا پڑھنا حرام حرام سخت حرام ہے ان میں بعض کلمہ کفریہ ہیں اگرچہ تاویل کے سبب قائل کوکافر نہ کہیں اور بعض موہم کفر ہیں اور یہ بھی حرام ہے ردالمحتار میں ہے :
مجرد ایھام المعنی المحال کاف فی المنع ۔ منع کے لئے محض محال کا معنی کا ایہام ہی کافی ہوتاہے۔ (ت)
ہاں بعض جیسے شعر چہارم وششم ایہام کفر سے خالی ہیں پھر بھی ششم میں مصرعہ دوم “ گنہ گاران امت الخ “ کو حضرت عزت کی طرف نسبت کرنا صحیح نہیں اور چہارم میں مسجود کا لفظ مناسب نہیں۔ ہاں شاہ عبدالعزیز صاحب تفسیر عزیزی میں فرماتے ہیں :
ہزاران ہزار عاشق برآستانہ او(صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم) سجدات می کنند وایں مرتبہ ہیچکس را ندادہ اند۔ مگر بطفیل ایں محبوب(صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم)برخے ازاولیائے امت راشمہ محبوبیت آں نصیب شدہ مسجود خلائق ومحبوب دلہا گشتہ اند مثل حضرت غوث الاعظم وسلطان المشائخ نظام الدین اولیاء رضی الله تعالی عنہما (ملخصا)والله تعالی اعلم۔ لاکھوں عشاق ان(صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم)کے مبارك آستاں پر سجدہ کرتے ہیں اور یہ مرتبہ جس کی بھی عطا کیا گیا ہیے وہ اس محبوب(صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم)کی طفیل ہے۔ اولیائے امت میں سے جس کو اس محبوبیت سے حصہ ملا ہے وہ مخلوق کے مسجود و محبوب ہوئے مثلا حضرت غوث الاعظم سلطان المشائخ نظام الدین اولیاء رضی الله تعالی عنہما۔ (ملخصا) والله تعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۶۰ : از ناگور مارواڑ دکان سید محمد صدیق لعل محمد سوداگران مرسلہ حضرات مذکورین ۸جمادی الاولی ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ :
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الحضر والاباحۃ فصل فی البیع داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ / ۲۵۳
فتح العزیز(تفسیر عزیزی)پ عم س الم نشرح مسلم بك ڈپو لال کنواں دہلی ۳۲۲
فتح العزیز(تفسیر عزیزی)پ عم س الم نشرح مسلم بك ڈپو لال کنواں دہلی ۳۲۲
ہمارے سرور عالم کا رتبہ کوئی کیا جانے
خدا سے ملنا چاہے تو محمد کو خدا جانے
یہ شعر عام طور پر حضور سرور عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی محفل میلاد میں پڑھنا درست ہے یا نہیں
الجواب :
اس شعر کا ظاہر صریح کفر ہے اور اس کا پڑھنا حرام ہے اور جو اس کے ظاہر مضمون کا معتقد ہو یقینا کافر ہے۔ ہاں اگر بقرینہ مصرعہ اولی یہ تاویل کرے کہ خدا سے ملنا چاہے تو یوں سمجھے کہ محمد صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے مرتبہ کو الله ہی جانتاہے تو یہ معنی صحیح ہے مگر ایسا موہم لفظ بولنا جائز نہیں۔ ردالمحتار میں ہے :
مجرد ایھام المعنی المحال کاف فی المنع ۔ واﷲ تعالی اعلم۔ منع کے لئے محض محال معنی کا ایہام ہی کافی ہوتاہے۔ والله تعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۶۱ : از جودھپور مارواڑ مرسلہ قاضی محمد عبدالرحمن صاحب متخلص بہ طالب مدرس درجہ اول سردار اسکول ۱۸ جمادی الآخر ۱۳۳۷ھ
حضرتم! السلام علیکم ورحمۃ الله وبرکاتہ بتاریخ ۱۶ مارچ سنہ رواں بروز یك شنبہ جودھپور میں مشاعرہ تھا مصرع طرح ھو ہذا : “ شب عاشق سحر نہ ہوجائے “ نمبر ۲ پر ایك غزل نعتیہ پڑھی گئی جس کا مطلع یہ ہے :
نعمت خیریہ البشریہ نہ ہوجائے
دل حقیقت نگر نہ ہوجائے
کیا حضور! یہ مطلع نعت میں ٹھیك ہے اس کا قائل کہتاہے کہ آپ کے دیوان میں بھی اس قسم کا کوئی شعر ہے گر وہ شعر دیوان میں دکھاتانہیں۔ اور خاکسار کے پاس دیوان ہے نہیں۔ لہذا متکلف ہوں کہ اس میں جو کچھ امر حق ہو جواب سے سرفراز فرمادیں۔
الجواب :
وعلیکم السلام ورحمۃ الله وبرکاتہ یہ مطلع سخت باطل وناجائز ہے کہ اس میں نعت اقدس سے ممانعت ہے اور نعت اقدس اعظم فرائض ایمان سے ہے اس سے ممانعت کس حد تك پہنچتی ہے اگر
خدا سے ملنا چاہے تو محمد کو خدا جانے
یہ شعر عام طور پر حضور سرور عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی محفل میلاد میں پڑھنا درست ہے یا نہیں
الجواب :
اس شعر کا ظاہر صریح کفر ہے اور اس کا پڑھنا حرام ہے اور جو اس کے ظاہر مضمون کا معتقد ہو یقینا کافر ہے۔ ہاں اگر بقرینہ مصرعہ اولی یہ تاویل کرے کہ خدا سے ملنا چاہے تو یوں سمجھے کہ محمد صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے مرتبہ کو الله ہی جانتاہے تو یہ معنی صحیح ہے مگر ایسا موہم لفظ بولنا جائز نہیں۔ ردالمحتار میں ہے :
مجرد ایھام المعنی المحال کاف فی المنع ۔ واﷲ تعالی اعلم۔ منع کے لئے محض محال معنی کا ایہام ہی کافی ہوتاہے۔ والله تعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۶۱ : از جودھپور مارواڑ مرسلہ قاضی محمد عبدالرحمن صاحب متخلص بہ طالب مدرس درجہ اول سردار اسکول ۱۸ جمادی الآخر ۱۳۳۷ھ
حضرتم! السلام علیکم ورحمۃ الله وبرکاتہ بتاریخ ۱۶ مارچ سنہ رواں بروز یك شنبہ جودھپور میں مشاعرہ تھا مصرع طرح ھو ہذا : “ شب عاشق سحر نہ ہوجائے “ نمبر ۲ پر ایك غزل نعتیہ پڑھی گئی جس کا مطلع یہ ہے :
نعمت خیریہ البشریہ نہ ہوجائے
دل حقیقت نگر نہ ہوجائے
کیا حضور! یہ مطلع نعت میں ٹھیك ہے اس کا قائل کہتاہے کہ آپ کے دیوان میں بھی اس قسم کا کوئی شعر ہے گر وہ شعر دیوان میں دکھاتانہیں۔ اور خاکسار کے پاس دیوان ہے نہیں۔ لہذا متکلف ہوں کہ اس میں جو کچھ امر حق ہو جواب سے سرفراز فرمادیں۔
الجواب :
وعلیکم السلام ورحمۃ الله وبرکاتہ یہ مطلع سخت باطل وناجائز ہے کہ اس میں نعت اقدس سے ممانعت ہے اور نعت اقدس اعظم فرائض ایمان سے ہے اس سے ممانعت کس حد تك پہنچتی ہے اگر
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الحضر ولاباحۃ فصل فی البیع داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ / ۲۵۳
تاویل کی جگہ نہ ہوتی تو حکم بہت سخت تھا فقیر کے دیوان میں اصلا کوئی شعر اس مضمون کا نہیں۔ ولہ الحمد وھو تعالی اعلم۔
مسئلہ ۶۲ : از شہر دہلی پہاڑ گنج مسجد غریب شاہ مرسلہ محمد عبدالکریم صاحب ۹ شعبان ۱۳۳۷ھ
حضور! مندرجہ ذیل اشعار کے متعلق یہاں کے مولویوں نے کہا ہے کہ ا س کا جوا ب کوئی اہل الله دے گا لہذا اس کا جواب حضور ہی دیں گے۔ اشعار :
(۱)چہ خوش گفت بہلول فرخندہ فال کہ من از خدا پیش بودم دوسال
(۲)من آں وقت کہ دم خدارا سجود کہ ذات وصفات خداہم نہ بود
الجواب :
دوسرا شعر ایسا مشکل نہیں نبود سے نہ نفی مطلق مقصود نہ مفہوم بلکہ نفی مقید بوقت سجدہ یعنی جس وقت میں نے سجدہ کیا اس وقت میں ذات صفات نہیں۔ اوریہ حق ہے کہ ذات وصفات الہی وقت و زمانہ سے متعالی ہیں۔ وہ کسی وقت میں نہیں وقت سے پاك ہیں۔ جیس کسی مکان میں نہیں مکان سے پاك میں زمان ومکان سب حادث ہیں اور ذات وصفات الہی قدیم جب زمان ومکان نہ تھے ذات وصفات ان سے جدا تھیں ایسے ہی اب بھی ہیں اور ہمیشہ رہیں گی پہلے شعر میں از خدا لفظ پیش سے متعلق نہیں بلکہ بودم سے اور پیش کا متعلق از یں محذوف ہے۔ جیسے عربی “ کنا قبل فی اہلنا مشفقین ﴿۲۶﴾ “ یعنی قبل ہذا اردو میں پہلے کہہ چکا یعنی اس سے پہلے یوہیں پیش بودم یعنی پیش از یں۔ اس کا اشارہ حالت موجود کی طرف ہے یعنی عالم اجساد میں ہونا اور سائل سے مراد زمانہ ممتمد کہ یہاں ہزار سال ہے تو مطلب یہ ہوا کہ میں اس عالم اجساد میں آنے سے دوہزار برس پہلے خدا کی طرف سے وجود رکھتاتھا موجود تھا اور یہ حق ہے حدیث میں ہے :
ان اﷲ تعالی خلق الارواح قبل الاجسام بالفی عام ۔ الله تعالی نے روحیں جسموں سے دو ہزار برس پہلے بنائیں۔
باایں ہمہ دونوں شعر موہم معنی کفر ہیں اور ان کا اطلاق سخت اشد حرام والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۶۳ تا ۶۵ : از شہر بریلی محلہ سہسوائی ٹولہ متصل مسجد چپ شاہ مسئولہ لیاقت حسین طالبعلم ۶ رمضان المبارك ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے شرع درباب اس شعر کے نعت رسول اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم وھو ھذا :
مسئلہ ۶۲ : از شہر دہلی پہاڑ گنج مسجد غریب شاہ مرسلہ محمد عبدالکریم صاحب ۹ شعبان ۱۳۳۷ھ
حضور! مندرجہ ذیل اشعار کے متعلق یہاں کے مولویوں نے کہا ہے کہ ا س کا جوا ب کوئی اہل الله دے گا لہذا اس کا جواب حضور ہی دیں گے۔ اشعار :
(۱)چہ خوش گفت بہلول فرخندہ فال کہ من از خدا پیش بودم دوسال
(۲)من آں وقت کہ دم خدارا سجود کہ ذات وصفات خداہم نہ بود
الجواب :
دوسرا شعر ایسا مشکل نہیں نبود سے نہ نفی مطلق مقصود نہ مفہوم بلکہ نفی مقید بوقت سجدہ یعنی جس وقت میں نے سجدہ کیا اس وقت میں ذات صفات نہیں۔ اوریہ حق ہے کہ ذات وصفات الہی وقت و زمانہ سے متعالی ہیں۔ وہ کسی وقت میں نہیں وقت سے پاك ہیں۔ جیس کسی مکان میں نہیں مکان سے پاك میں زمان ومکان سب حادث ہیں اور ذات وصفات الہی قدیم جب زمان ومکان نہ تھے ذات وصفات ان سے جدا تھیں ایسے ہی اب بھی ہیں اور ہمیشہ رہیں گی پہلے شعر میں از خدا لفظ پیش سے متعلق نہیں بلکہ بودم سے اور پیش کا متعلق از یں محذوف ہے۔ جیسے عربی “ کنا قبل فی اہلنا مشفقین ﴿۲۶﴾ “ یعنی قبل ہذا اردو میں پہلے کہہ چکا یعنی اس سے پہلے یوہیں پیش بودم یعنی پیش از یں۔ اس کا اشارہ حالت موجود کی طرف ہے یعنی عالم اجساد میں ہونا اور سائل سے مراد زمانہ ممتمد کہ یہاں ہزار سال ہے تو مطلب یہ ہوا کہ میں اس عالم اجساد میں آنے سے دوہزار برس پہلے خدا کی طرف سے وجود رکھتاتھا موجود تھا اور یہ حق ہے حدیث میں ہے :
ان اﷲ تعالی خلق الارواح قبل الاجسام بالفی عام ۔ الله تعالی نے روحیں جسموں سے دو ہزار برس پہلے بنائیں۔
باایں ہمہ دونوں شعر موہم معنی کفر ہیں اور ان کا اطلاق سخت اشد حرام والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۶۳ تا ۶۵ : از شہر بریلی محلہ سہسوائی ٹولہ متصل مسجد چپ شاہ مسئولہ لیاقت حسین طالبعلم ۶ رمضان المبارك ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے شرع درباب اس شعر کے نعت رسول اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم وھو ھذا :
حوالہ / References
القرآن الکریم ۵۲ /۲۶
الفوائد المجوعہ مناقب الخلفاء الاربعۃ الخ حدیث ۹۴ دارالکتب العلمیہ بیروت ص۳۸۲ ، الموضوعات لابن جوزی حدیث ۵۷ دارالکفر بیروت ۱ / ۴۰۱
الفوائد المجوعہ مناقب الخلفاء الاربعۃ الخ حدیث ۹۴ دارالکتب العلمیہ بیروت ص۳۸۲ ، الموضوعات لابن جوزی حدیث ۵۷ دارالکفر بیروت ۱ / ۴۰۱
کردن مہمانی عشق محمد
جگر کے کوفتے دل کے پسندے
(جگر کے کوفتے اور دل کے کباب بناکر عشق محمد(صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم)کی مہمانی کرنا۔ ت)
(۱)آیا قابلیت نعت اور مولود خوانی کی رکھتا ہے یا نہیں
(۲)انسان کا گوشت حلال یا حرام
(۳)کس مقدس شخص کی مہمانی میں یا اس کے عشق کی مہمانی میں انسان کا گوشت پیش کرسکتے ہیں یا نہیں
الجواب
انسان کا گوشت انسان پر حرام ہے عشق پر حرام نہیں وہ ایك آگ ہے کہ ماسوائے محبوب کو جلادیتی ہے گوشت گھلانا اس کا پہلا فعل ہے ولہذا حدیث میں فرمایا :
ان اﷲ یبغض الحبر السمین ۔ الله دشمن رکھتاہے موٹے عالم کو۔
شعر میں “ مہمانی عشق “ ہی کہا ہے اس میں کوئی حرج نہیں پڑھ سکتے ہیں۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۶۶ : ازشہر کہنہ بریلی مسئولہ قاسم حسین رضوی مصطفائی ۱۰ رمضان المبارك ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مندرجہ ذیل اشعار آیا کفر میں داخل ہیں اور ان کا لکھنے والا کافرہے
یا نہیں دلاور حسین میلاد خواں نے میرے سامنے بیان کیا کہ ایك عالم مجدد نے ایسے شاعرکو کافر فرمایا ہے اور تحریری فتوی میرے پاس موجود ہے اگر اس نے جھوٹ بولا اور ایك مسلمان پر کفر ثابت کرنے کے لئے ایك بزرگ پر اتہام رکھ کر ایسے غلط لفظ کہے تو کیا وہ کافر ہونے سے بری ہوسکتا ہے یا نہیں اشعار یہ ہیں :
۱ جوش کرم پر بحر ہے دیکھو یہ الٹی لہر ہے ہم بھولے بیٹھے ہیں انھیں ان کو ہماری یادہے
۲ ہے ہم سے غلاموں کا کعبہ تو در آقا الله مبارك کرے سجدے کا ادا کرنا
الجواب :
حاشا ان میں کوئی بات کفر تو کفر گمراہی کی بھی نہیں ممکن کہ اور اشعار کی نسبت فتوی ہوا ہو اور دلاور حسین نے بے علمی کے سبب ان کے مضمون کو ویسا ہی گمان کرکے یہ کہہ دیا ہو بہر حال جاہل کو احکام
جگر کے کوفتے دل کے پسندے
(جگر کے کوفتے اور دل کے کباب بناکر عشق محمد(صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم)کی مہمانی کرنا۔ ت)
(۱)آیا قابلیت نعت اور مولود خوانی کی رکھتا ہے یا نہیں
(۲)انسان کا گوشت حلال یا حرام
(۳)کس مقدس شخص کی مہمانی میں یا اس کے عشق کی مہمانی میں انسان کا گوشت پیش کرسکتے ہیں یا نہیں
الجواب
انسان کا گوشت انسان پر حرام ہے عشق پر حرام نہیں وہ ایك آگ ہے کہ ماسوائے محبوب کو جلادیتی ہے گوشت گھلانا اس کا پہلا فعل ہے ولہذا حدیث میں فرمایا :
ان اﷲ یبغض الحبر السمین ۔ الله دشمن رکھتاہے موٹے عالم کو۔
شعر میں “ مہمانی عشق “ ہی کہا ہے اس میں کوئی حرج نہیں پڑھ سکتے ہیں۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۶۶ : ازشہر کہنہ بریلی مسئولہ قاسم حسین رضوی مصطفائی ۱۰ رمضان المبارك ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مندرجہ ذیل اشعار آیا کفر میں داخل ہیں اور ان کا لکھنے والا کافرہے
یا نہیں دلاور حسین میلاد خواں نے میرے سامنے بیان کیا کہ ایك عالم مجدد نے ایسے شاعرکو کافر فرمایا ہے اور تحریری فتوی میرے پاس موجود ہے اگر اس نے جھوٹ بولا اور ایك مسلمان پر کفر ثابت کرنے کے لئے ایك بزرگ پر اتہام رکھ کر ایسے غلط لفظ کہے تو کیا وہ کافر ہونے سے بری ہوسکتا ہے یا نہیں اشعار یہ ہیں :
۱ جوش کرم پر بحر ہے دیکھو یہ الٹی لہر ہے ہم بھولے بیٹھے ہیں انھیں ان کو ہماری یادہے
۲ ہے ہم سے غلاموں کا کعبہ تو در آقا الله مبارك کرے سجدے کا ادا کرنا
الجواب :
حاشا ان میں کوئی بات کفر تو کفر گمراہی کی بھی نہیں ممکن کہ اور اشعار کی نسبت فتوی ہوا ہو اور دلاور حسین نے بے علمی کے سبب ان کے مضمون کو ویسا ہی گمان کرکے یہ کہہ دیا ہو بہر حال جاہل کو احکام
حوالہ / References
اتحاف السادۃ المتقین باب بیان فضیلۃ الجوع دارالکفر بیروت ۷ / ۳۸۸
شرح خصوصا کفر واسلام میں جرأت سخت حرام ہے کوئی ہوکسے باشد۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۶۷ : ازمراد آباد محلہ شیدی سرائے مرسلہ صابر حسین صاحب ۲۲ جمادی الاولی ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کا یہ شعر ہے :
سکھی پاپ کی گٹھری توسیس دھری کہیں روس نہ جاویں سام ہری
کتے جاکے بروں کہاں ڈوب مروں سیاں سے حیا شرماوت ہے
اس میں سام ہری جو خدا کا نام رکھا ہے سو یہ عمرو کے نزدیك کفر ہے آیا یہ قول عمرو کا صحیح ہے یا نہیں
الجواب :
جاہل احمق نادان شاعر نے جوہندی زبان کی نظم کہی اس میں معبود برحق عزوجلالہ کی طرف انھیں لفظوں سے کنایا کیا جو ہندی میں مستعمل ہے ایسے کلام اس قبیل سے ہوتے ہیں۔ جیسے حضرت مولوی قدس سرہ المعنوی فرماتے ہیں :
خوشتر آں باشد کہ سر دلبراں گفتہ آید درحدیث دیگرآں
(وہ خوش بخت ہے جو دلبروں کے راز دوسروں کی زبان سے کہتا ہے۔ ت)
اولیاء اشعار میں لیلی وسلمی باندھتے ہیں اور مطلب سعدی دیگر ست نہ کہ معاذالله رب عزوجل کو ان ناموں سے تعبیر کیا بلکہ وہی گفتہ آید درحدیث دیگراں سید الطائفہ جنید بغدادی رضی الله تعالی فرماتے ہیں :
ان مجنون بنی عامر کان من احباء اﷲ تعالی ستر شأنہ بجنون بلیلی ۔ نقلہ الزرقانی فی شرح المواھب الشریفۃ من روضۃ العاشق لابن القیم واستغربہ۔ حضرت مجنون بنی عامر اولیاء سے تھے عشق لیلی کو پردہ کر رکھا تھا(امام زرقانی نے شرح مواہب الشریفہ میں روضۃ العاشق لابن قیم سے اسے نقل کرکے غریب کہا۔ ت)
سیدی ابوبکر شبلی رضی الله تعالی عنہ نے کسی کویہ شعر پڑھتے سنا :
اسأل عن سلمی فھل من مخبر یکون لہ علم بھا این تنزل
میں سلمی کو پوچھتاہوں ہے کوئی بتانے والا کہ وہ کہاں اترے گی فرمایا واﷲ مافی الدارین
مسئلہ ۶۷ : ازمراد آباد محلہ شیدی سرائے مرسلہ صابر حسین صاحب ۲۲ جمادی الاولی ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کا یہ شعر ہے :
سکھی پاپ کی گٹھری توسیس دھری کہیں روس نہ جاویں سام ہری
کتے جاکے بروں کہاں ڈوب مروں سیاں سے حیا شرماوت ہے
اس میں سام ہری جو خدا کا نام رکھا ہے سو یہ عمرو کے نزدیك کفر ہے آیا یہ قول عمرو کا صحیح ہے یا نہیں
الجواب :
جاہل احمق نادان شاعر نے جوہندی زبان کی نظم کہی اس میں معبود برحق عزوجلالہ کی طرف انھیں لفظوں سے کنایا کیا جو ہندی میں مستعمل ہے ایسے کلام اس قبیل سے ہوتے ہیں۔ جیسے حضرت مولوی قدس سرہ المعنوی فرماتے ہیں :
خوشتر آں باشد کہ سر دلبراں گفتہ آید درحدیث دیگرآں
(وہ خوش بخت ہے جو دلبروں کے راز دوسروں کی زبان سے کہتا ہے۔ ت)
اولیاء اشعار میں لیلی وسلمی باندھتے ہیں اور مطلب سعدی دیگر ست نہ کہ معاذالله رب عزوجل کو ان ناموں سے تعبیر کیا بلکہ وہی گفتہ آید درحدیث دیگراں سید الطائفہ جنید بغدادی رضی الله تعالی فرماتے ہیں :
ان مجنون بنی عامر کان من احباء اﷲ تعالی ستر شأنہ بجنون بلیلی ۔ نقلہ الزرقانی فی شرح المواھب الشریفۃ من روضۃ العاشق لابن القیم واستغربہ۔ حضرت مجنون بنی عامر اولیاء سے تھے عشق لیلی کو پردہ کر رکھا تھا(امام زرقانی نے شرح مواہب الشریفہ میں روضۃ العاشق لابن قیم سے اسے نقل کرکے غریب کہا۔ ت)
سیدی ابوبکر شبلی رضی الله تعالی عنہ نے کسی کویہ شعر پڑھتے سنا :
اسأل عن سلمی فھل من مخبر یکون لہ علم بھا این تنزل
میں سلمی کو پوچھتاہوں ہے کوئی بتانے والا کہ وہ کہاں اترے گی فرمایا واﷲ مافی الدارین
حوالہ / References
مثنوی مولوی معنوی دفتر اول بردن بادشاہ طبیب غیب رابرسربیمار نورانی کتب خانہ پشاور ص۸
عنھا مخبر ۔ خدا کی قسم دونوں جہان میں کوئی اس کی خبر دینے والا نہیں۔ سیدی ابوسعید خراز رضی الله تعالی عنہ سوتے سوتے گھبرا کر روتے ہوئے اٹھے اور فرمایا کہ ابھی مجھ سے رب عزوجل نے خواب میں فرمایا : ابو سعید تو لیلی وسلمی کے اشعار سنتا اور ان کے مضامین کو مجھ پر محمول کرتاہے اگر میں نہ جانتا کہ تو مجھ کو دوست رکھتا ہے تو وہ عذاب کرتا کہ نہ کیا ہوتا ۔
ھر زبان ہندی میں جو معبود برحق کے اسما سے ہے جیسے ایشور اور بظاہر اس میں کوئی معنی محال نہیں جیسے رام میں ہیں کہ ہر چیز پر رما ہونے اور سرایت و حلول پر دلیل ہے اور سیام کنھیا کا نام نہیں اس کا وصف اس سے کرتے ہیں کہ وہ سیہ فام تھا اور سیام سیاہ کر کہتے ہیں۔ اور صوفیہ کرام فرماتے ہیں : تجلی ذات بحت کارنگ خالص سیاہ ہوتاہے شاعر نے بڑی خطا کی بہت برا کیا اس پر تو بہ لازم ہے مگر حکم کفر غلو وغلط ہے
لایخرج العبد من الایمان الاجحود ما ادخلہ فیہ سواء صرح بہ اوجحد وجحد الجحود وھذا اخبث واعند العنود۔ والعیاذباﷲ تعالی۔ واﷲ تعالی اعلم۔ بندہ ایمان سے خارج نہیں ہوتا مگر جب کہ وہ ایسی چیز کا انکار کرے جس کے ذریعہ سے وہ ایمان میں داخل ہواتھا خواہ وہ تصریح کرے یا انکار اور انکار کا انکار یہ زیادہ خبیث اور سبب عناد ہے۔ والعیاذبالله تعالی والله تعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۶۸ تا ۶۹ : از موضع خورد مئوڈاك خانہ بدو سرائے ضلع بارہ بنکی مسئولہ سید صفدر علی صاحب ۲صفر ۱۳۳۹ھ
(۱)کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ اس شعرکا شاعر اور قائل شرعا کیسا ہے وھو ھذا :
نہ مربھوکا نہ رکھ روزہ نہ جا مسجد نہ کر سجدہ
وضو کا توڑکر کوزہ شراب شوق پیتا جا
(۲)بے نمازی کو نہ جانو دیندار پیر ہو یا ہو مرید بابکار
الجواب :
(۱)یہ شعر کفر ہے۔ (۲)یہ شعر ٹھیك ہے۔ والله تعالی اعلم۔
ھر زبان ہندی میں جو معبود برحق کے اسما سے ہے جیسے ایشور اور بظاہر اس میں کوئی معنی محال نہیں جیسے رام میں ہیں کہ ہر چیز پر رما ہونے اور سرایت و حلول پر دلیل ہے اور سیام کنھیا کا نام نہیں اس کا وصف اس سے کرتے ہیں کہ وہ سیہ فام تھا اور سیام سیاہ کر کہتے ہیں۔ اور صوفیہ کرام فرماتے ہیں : تجلی ذات بحت کارنگ خالص سیاہ ہوتاہے شاعر نے بڑی خطا کی بہت برا کیا اس پر تو بہ لازم ہے مگر حکم کفر غلو وغلط ہے
لایخرج العبد من الایمان الاجحود ما ادخلہ فیہ سواء صرح بہ اوجحد وجحد الجحود وھذا اخبث واعند العنود۔ والعیاذباﷲ تعالی۔ واﷲ تعالی اعلم۔ بندہ ایمان سے خارج نہیں ہوتا مگر جب کہ وہ ایسی چیز کا انکار کرے جس کے ذریعہ سے وہ ایمان میں داخل ہواتھا خواہ وہ تصریح کرے یا انکار اور انکار کا انکار یہ زیادہ خبیث اور سبب عناد ہے۔ والعیاذبالله تعالی والله تعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۶۸ تا ۶۹ : از موضع خورد مئوڈاك خانہ بدو سرائے ضلع بارہ بنکی مسئولہ سید صفدر علی صاحب ۲صفر ۱۳۳۹ھ
(۱)کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ اس شعرکا شاعر اور قائل شرعا کیسا ہے وھو ھذا :
نہ مربھوکا نہ رکھ روزہ نہ جا مسجد نہ کر سجدہ
وضو کا توڑکر کوزہ شراب شوق پیتا جا
(۲)بے نمازی کو نہ جانو دیندار پیر ہو یا ہو مرید بابکار
الجواب :
(۱)یہ شعر کفر ہے۔ (۲)یہ شعر ٹھیك ہے۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۷۰ : انتظام علی خاں صاحب چھتہ شیخ بنگلور زیر جامع مسجد دہلی ۱۸ جمادی الآخرہ ۱۳۳۹ھ
شعر اندرون غزل نعتیہ مصنفہ اکبر خاں مرئی :
عجب کھیل کھیلے عجب روپ بدلے زمانہ بہروپیا بن کے آیا
ا س قسم کے شعر حضور کی شان کے خلاف ہیں کہ نہیں اور ایسے شعر محافل میلاد شریف حضور سرور عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم میں پڑھنا چاہئے کہ نہیں “ الله الله گفتہ الله می شوی “ اس سے مراد لی ہے کہ نمك میں ملی شے نمك ہوگئی جو خدا میں ملا وہ خدا ہوگیا۔ یہ شعر قابل اعتراض ہے کہ نہیں اور مصرعہ بالا “ الله الله گفتہ الله می شوی “ سے مراد اور مطلب کیا حاصل ہونا چاہئے
الجواب :
بہروپئے والا شعر رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی صریح توہینوں پر مشتمل ہے کھیل کھیلنا روپ بدلنا کہنا ہی توہین تھا مصرع دوم نے کفر پررجسٹری کردی والعیاذبالله تعالی یہ کہنا کہ جو خدا میں ملا وہ خدا ہوگیا کفر ہے اس مصرع سے احتراز لازم ہے مراد یہ ہے کجہ فنافی الله می شوی “ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۷۱ : از مارہرہ مطہرہ ضلع ایٹہ خانقاہ برکاتیہ مسئولہ والاحضرت عظیم البرکت مولانا مولوی سید محمد میاں صاحب قادری دامت برکاتہم ۳۰ رجب ۱۳۳۹ھ
حضرت مولانا المعظم والمکرم والمحترم دامت برکاتہم العالیہ پس از تسلیم مع التعظیم والتکریم معروض خدمت جناب مولوی حسن رضا خاں صاحب مرحوم کے نگار ستان لطافت میں ان کی ایك غزل میں ان کا ایك شعر یہ ہے :
شب اسری کے دولھا پر نچھاور ہونے والی تھی
نہیں تو کیا غرض تھی اتنی جانوں کے بنانے سے
یہ شعر ان کے دیوان “ ذوق نعت “ میں بھی موجود ہے جس سے یہ مطلب نکلتاہے کہ اتنی جانوں کے بنانے سےغرض یہ تھی کہ شب اسری کے دولھا پر ان کی نچھاور کی جائے حالانکہ افعال مولی عزوجل معلل بالاغراض نہیں ہواکرتے اس کا حل مجھے مطلوب ہے۔
الجواب :
والاحضرت عظیم البرکت دامت برکاتہم العالیہ تسلیم مع التظیم یہاں طرز ادا دو۲ ہیں : اول : ہم نے یہ کام زید کے لئے کیا ورنہ ہمیں کیا غرض تھی دوم اور کیا غرض تھی اول میں اپنی غرض کی نفی مطلق ہے
شعر اندرون غزل نعتیہ مصنفہ اکبر خاں مرئی :
عجب کھیل کھیلے عجب روپ بدلے زمانہ بہروپیا بن کے آیا
ا س قسم کے شعر حضور کی شان کے خلاف ہیں کہ نہیں اور ایسے شعر محافل میلاد شریف حضور سرور عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم میں پڑھنا چاہئے کہ نہیں “ الله الله گفتہ الله می شوی “ اس سے مراد لی ہے کہ نمك میں ملی شے نمك ہوگئی جو خدا میں ملا وہ خدا ہوگیا۔ یہ شعر قابل اعتراض ہے کہ نہیں اور مصرعہ بالا “ الله الله گفتہ الله می شوی “ سے مراد اور مطلب کیا حاصل ہونا چاہئے
الجواب :
بہروپئے والا شعر رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی صریح توہینوں پر مشتمل ہے کھیل کھیلنا روپ بدلنا کہنا ہی توہین تھا مصرع دوم نے کفر پررجسٹری کردی والعیاذبالله تعالی یہ کہنا کہ جو خدا میں ملا وہ خدا ہوگیا کفر ہے اس مصرع سے احتراز لازم ہے مراد یہ ہے کجہ فنافی الله می شوی “ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۷۱ : از مارہرہ مطہرہ ضلع ایٹہ خانقاہ برکاتیہ مسئولہ والاحضرت عظیم البرکت مولانا مولوی سید محمد میاں صاحب قادری دامت برکاتہم ۳۰ رجب ۱۳۳۹ھ
حضرت مولانا المعظم والمکرم والمحترم دامت برکاتہم العالیہ پس از تسلیم مع التعظیم والتکریم معروض خدمت جناب مولوی حسن رضا خاں صاحب مرحوم کے نگار ستان لطافت میں ان کی ایك غزل میں ان کا ایك شعر یہ ہے :
شب اسری کے دولھا پر نچھاور ہونے والی تھی
نہیں تو کیا غرض تھی اتنی جانوں کے بنانے سے
یہ شعر ان کے دیوان “ ذوق نعت “ میں بھی موجود ہے جس سے یہ مطلب نکلتاہے کہ اتنی جانوں کے بنانے سےغرض یہ تھی کہ شب اسری کے دولھا پر ان کی نچھاور کی جائے حالانکہ افعال مولی عزوجل معلل بالاغراض نہیں ہواکرتے اس کا حل مجھے مطلوب ہے۔
الجواب :
والاحضرت عظیم البرکت دامت برکاتہم العالیہ تسلیم مع التظیم یہاں طرز ادا دو۲ ہیں : اول : ہم نے یہ کام زید کے لئے کیا ورنہ ہمیں کیا غرض تھی دوم اور کیا غرض تھی اول میں اپنی غرض کی نفی مطلق ہے
اور ثانی میں اس غرض کا اثبات اور غرض دیگر کی نفی۔ شعر میں طرز اول ہے نہ کہ دوم تو اس میں مطلقا نفی غرض ہے۔ بیان اس کا یہ ہے کہ فعل اختیاری کے لئے مصلحت یا غرض ضرور ہے ورنہ عبث ہوگا اورمولی تعالی عبث سے پاك ہے اس کے افعال مصالح سے مملو ہیں اور اغراض سے منزہ وہ مصالح بھی راجع بعباد ہیں۔ مولی تعالی مصلحت ومفسدت سے پاک مداح مرحوم مصلحت کااس میں حصر کرتاہے
لحدیث خلقت الخلق لاعرفھم کرامتك و منزلتك عندی ولولاك ماخلقت الدنیا ۔ رواہ ابن عساکر عن سلمان فارسی۔ اس حدیث کی وجہ سے کہ میں نے مخلوق اس لئے پیدا فرمائی تاکہ میرے ہاں جو آپ کا مقام و شرف ہے اسے وہ جان لے اور اگر آپ نہ ہوتے تومیں دنیا پیدا نہ فرماتا۔ اسے ابن عساکر نے حضرت سلمان فارسی رضی الله تعالی عنہ سے روایت کیا۔ (ت)
تو عرض کرتاہے کہ مصلحت یہ تھی ورنہ کیاکوئی غرض تھی کہ اگر غرض ومصلحت دونوں نہ ہوں تو عبث لازم آئے اور وہ محال ہے۔ لیکن مولی تعالی غرض سے پاك ہے لاجرم یہی مصلحت تھی وھو تعالی اعلم۔
لحدیث خلقت الخلق لاعرفھم کرامتك و منزلتك عندی ولولاك ماخلقت الدنیا ۔ رواہ ابن عساکر عن سلمان فارسی۔ اس حدیث کی وجہ سے کہ میں نے مخلوق اس لئے پیدا فرمائی تاکہ میرے ہاں جو آپ کا مقام و شرف ہے اسے وہ جان لے اور اگر آپ نہ ہوتے تومیں دنیا پیدا نہ فرماتا۔ اسے ابن عساکر نے حضرت سلمان فارسی رضی الله تعالی عنہ سے روایت کیا۔ (ت)
تو عرض کرتاہے کہ مصلحت یہ تھی ورنہ کیاکوئی غرض تھی کہ اگر غرض ومصلحت دونوں نہ ہوں تو عبث لازم آئے اور وہ محال ہے۔ لیکن مولی تعالی غرض سے پاك ہے لاجرم یہی مصلحت تھی وھو تعالی اعلم۔
حوالہ / References
مختصر تاریخ دمشق لابن عساکر ذکرما خص بہ وشرف بہ من بین الانبیاء دارالفکر بیروت ۲ / ۱۳۷
رسالہ سبحن السبوح عن کذب عیب مقبوح ۱۳۰۷ھ
(کذب جیسے بدترین عیب سے الله تعالی کی ذات پاك ومنزہ ہے)
مسئلہ ۷۲ : از ابومحمد صادق علی مداح عفی عنہ گڑھ مکٹیسری از میرٹھ بالائے کوٹ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین دربارہ مسئلہ امکان کذب باری تعالی جس کا اعلان تحریری وتقریری علمائے گنگوہ ودیوبند اور ان کے اتباع آج کل بڑے زور وشور سے کررہے ہیں تحریرا کتاب “ براہین قاطعہ “ میں کہ مولوی خلیل انبیٹھی کے نام سے شائع کی گئی جس کی لوح پر لکھا ہے : “ بامر حضرت چنین وچنان مولوی رشید احمد صاحب گنگوہی “ اور خاتمہ پر ان کی تقریظ بایں الفاظ ہے : “ احقر الناس رشید احمد گنگوہی نے اس کتاب براہین قاطعہ کو اول سے آخر تك بغور دیکھا الحق کہ یہ جواب کافی اور حجت وافی ہے اور مصنف کی وسعت نور علم اور فسحت ذکاء وفہم پر دلیل واضح۔ حق تعالی اس تالیف نفیس میں کرامت قبولیت عطافرمائے اور مقبول مقبولین ومعمول عاملین فرمائے “ (ملخصا)جس سے ثابت کہ گویا کتاب ہی تالیف ان کی ہے صفحہ ۳ پر یوں مکتوب ہے : “ امکان کذب کا مسئلہ اب جدید کسی نے نہیں نکالا بلکہ قدماء میں اختلاف ہوا ہے کہ خلف وعید آیا جائز ہے۔ ردالمحتار میں ہے : ھل یجوز الخلف فی الوعید فظاھر
(کذب جیسے بدترین عیب سے الله تعالی کی ذات پاك ومنزہ ہے)
مسئلہ ۷۲ : از ابومحمد صادق علی مداح عفی عنہ گڑھ مکٹیسری از میرٹھ بالائے کوٹ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین دربارہ مسئلہ امکان کذب باری تعالی جس کا اعلان تحریری وتقریری علمائے گنگوہ ودیوبند اور ان کے اتباع آج کل بڑے زور وشور سے کررہے ہیں تحریرا کتاب “ براہین قاطعہ “ میں کہ مولوی خلیل انبیٹھی کے نام سے شائع کی گئی جس کی لوح پر لکھا ہے : “ بامر حضرت چنین وچنان مولوی رشید احمد صاحب گنگوہی “ اور خاتمہ پر ان کی تقریظ بایں الفاظ ہے : “ احقر الناس رشید احمد گنگوہی نے اس کتاب براہین قاطعہ کو اول سے آخر تك بغور دیکھا الحق کہ یہ جواب کافی اور حجت وافی ہے اور مصنف کی وسعت نور علم اور فسحت ذکاء وفہم پر دلیل واضح۔ حق تعالی اس تالیف نفیس میں کرامت قبولیت عطافرمائے اور مقبول مقبولین ومعمول عاملین فرمائے “ (ملخصا)جس سے ثابت کہ گویا کتاب ہی تالیف ان کی ہے صفحہ ۳ پر یوں مکتوب ہے : “ امکان کذب کا مسئلہ اب جدید کسی نے نہیں نکالا بلکہ قدماء میں اختلاف ہوا ہے کہ خلف وعید آیا جائز ہے۔ ردالمحتار میں ہے : ھل یجوز الخلف فی الوعید فظاھر
حوالہ / References
براہین قاطعہ خاتمہ کتب مطبع لے بلا ساواقع ڈھور ص۲۷۰
مافی المواقف والمقاصد ان الاشاعرۃ قائلون بجوازہ(کیا خلف وعید جائز ہے مواقف اور مقاصد سے یہی واضح ہوتاہے کہ اشاعرہ اس کے جواز کے قائل ہیں۔ ت)پس اس پر طعن کرنا پہلے مشائخ پر طعن کرنا ہے اور اس پر تعجب کرنا محض لاعلمی اور امکان کذب خلف وعید کی فرع ہے ۔ “ انتھی ملخصا۔ تقریرا مولوی ناظر حسین دیوبندی مدرس اول مدرسہ عربی میرٹھ نے مسجد کوٹ پر بلند آواز سے چند مسلمان میں کہا کہ ہمارا تو اعتقاد یہ ہے کہ خدا نے کبھی جھوٹ بولا نہ بولے مگر بول سکتاہے بہشتیوں کو دوزخ اور دوزخیوں کو بہشت میں بھیج دے تو کسی کا اجارہ نہیں اوریہی امکان کذب ہے انتھی۔
پس ایسا اعتقاد کیسا ہے اوراس کے پیچھے نماز درست ہے یا نہیں جس کا عقیدہ ایسا ہے سچی بات بتاؤ اچھا اجر پاؤ۔
الجواب :
سبحن ربك رب العزۃ عما یصفون وسلام علی المرسلین و الحمد اﷲ رب العالمین والحمد ﷲ المتعال شانہ عن الکذب والجھل والسفہ والھزل و العجز والبخل وکل مالیس من صفات الکمال المنزہ عظیم قدرتہ بکمال قدوسیتہ وجمال سبوحیتہ عن وصمہ خروج ممکن او ولوج محال قولہ الحق ووعدہ الصدق ومن اصدق من اﷲ قیلا وکلامہ الفصل وماھو بالھزل فسبحن اﷲ بکرۃ واصیلا لذاتہ القدم ولنعتہ القدم فلاحادث آپ کار ب رب العزت ہر اس عیب سے پاك ہے جو یہ مخالفین بیان کرتے ہیں تمام رسولوں پر سلام ہو تمام حمد الله کے لئے جو تما م جہانوں کا پالنے والا ہے تمام حمد الله کےلئے جس کی شان اقدس ہرقسم کے کذب جہل بے عقلی غیر سنجیدگی بخل اور ہراس وصف سے پاك ہے جو اس کے کمال منزہ کے خلاف ہے کمال قدوسیت اور جمال سبوحیت کی وجہ سے اس کی قدرت خروج ممکن اور دخول محال کے عیب سے پاك ومبرا ہے ا س کا فرمان حق اور اس کا وعدہ سچا اور قول کے اعتبار سے اس سے بڑھ کر کون سچاہوسکتا ہے اس کا مقدس کلام حق و باطل میں فیصلہ کن ہے اور وہ ومذاق ٹھٹھا نہیں ہے پس الله تعالی کی تسبیح ہے صبح وشام اس کی ذات بھی قدیم اور صفات
پس ایسا اعتقاد کیسا ہے اوراس کے پیچھے نماز درست ہے یا نہیں جس کا عقیدہ ایسا ہے سچی بات بتاؤ اچھا اجر پاؤ۔
الجواب :
سبحن ربك رب العزۃ عما یصفون وسلام علی المرسلین و الحمد اﷲ رب العالمین والحمد ﷲ المتعال شانہ عن الکذب والجھل والسفہ والھزل و العجز والبخل وکل مالیس من صفات الکمال المنزہ عظیم قدرتہ بکمال قدوسیتہ وجمال سبوحیتہ عن وصمہ خروج ممکن او ولوج محال قولہ الحق ووعدہ الصدق ومن اصدق من اﷲ قیلا وکلامہ الفصل وماھو بالھزل فسبحن اﷲ بکرۃ واصیلا لذاتہ القدم ولنعتہ القدم فلاحادث آپ کار ب رب العزت ہر اس عیب سے پاك ہے جو یہ مخالفین بیان کرتے ہیں تمام رسولوں پر سلام ہو تمام حمد الله کے لئے جو تما م جہانوں کا پالنے والا ہے تمام حمد الله کےلئے جس کی شان اقدس ہرقسم کے کذب جہل بے عقلی غیر سنجیدگی بخل اور ہراس وصف سے پاك ہے جو اس کے کمال منزہ کے خلاف ہے کمال قدوسیت اور جمال سبوحیت کی وجہ سے اس کی قدرت خروج ممکن اور دخول محال کے عیب سے پاك ومبرا ہے ا س کا فرمان حق اور اس کا وعدہ سچا اور قول کے اعتبار سے اس سے بڑھ کر کون سچاہوسکتا ہے اس کا مقدس کلام حق و باطل میں فیصلہ کن ہے اور وہ ومذاق ٹھٹھا نہیں ہے پس الله تعالی کی تسبیح ہے صبح وشام اس کی ذات بھی قدیم اور صفات
حوالہ / References
براہین قاطعہ مسئلہ خلف وعید قدماء میں مختلف فیہ ہے مطبع لے بلاساواقع ڈھور ص۳۵۲
یقوم ولاقائم یحول وکلامہ ازلی وصدقہ ازلی فلا الکذب یحدث ولاالصدق یزول والصلاۃ والسلام علی الصادق المصدوق سید المخلوق النبی الرسول الاتی بالحق من عند الحق لدین الحق علی وجہ الحق والحق یقول فھو الحق وکتابہ الحق بالحق انزل وبالحق نزل وعلی الحق النزول واشھد ان لا الہ الا اﷲ وحدہ لاشریك لہ حقا حقا واشھد ان محمد عبدہ ورسولہ بالحق ارسلہ صدقا صدقا صلوات اﷲ وسلامہ علیہ وعلی الہ وصحبہ وکل من ینتمی الیہ وعلینا معھم وبھم ولھم یاارحم الراحمین امین امین الہ الحق امین قال المصدق لربہ بتوفیقہ العظیم المسبح لمولاہ عن کل وصف ذمیم عبدالمصطفی احمد رضا المحمدی السنی الحنفی القادری البرکاتی البریلوی صدق اﷲ تعالی قولہ فی الدنیا والاخرۃ ومصدق فیہ ظنہ بالعفو والمغفرۃ امین اللھم ھدایۃ الحق والصواب۔ بھی قدیم تو حادث قائم نہیں رہتا اور قائم متغیر نہیں ہوتا اور اس کا کلام ازلی ہے اور اس کاصدق ازلی ہے تو اسکے کلام میں کذب کا حدوث نہیں اور اس کے صدق کو زوال نہیں۔ صلوۃ وسلام ہو اس ذات اقدس پر جو صادق ومصدوق تمام مخلوق کے سردار نبی رسول حق کی طرف بلانیوالے بطریق حق دین حق کے لئے حق لانے والے حق کا فرمان ہے کہ وہ حق ہیں۔ ان کی کتاب حق جو حق کے ساتھ نازل کیا اور نازل ہوئی اورا س کا نزول حق پر ہوا میں شہادت دیتاہوں کہ الله وحدہ لاشریك ہے اس کے علاوہ کوئی معبود نہیں وہ سراپا حق ہے میں شہادت دیتاہوں کہ حضرت محمد صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اس کے خاص بندے اور رسول ہیں اور ان کو حق وصدق دے کر بھیجا ان پر الله تعالی کی طرف سے صلوۃ وسلام ہوا ور ان کی آل واصحاب اور ان کی طرف ہر منسوب پر ساتھ ہم پر بھی ان کی وجہ سے ان کی خاطرہو یا ارحم الرحمین آمین آمین الہ الحق آمین اپنے رب کی تصدیق کرنے والے ا س کی عظیم توفیق سے ہر برے وصف سے اپنے رب کی پاکیزگی بیان کرنے والا غلام مصطفی احمد رضا محمدی سنی حنفی قادری برکاتی بریلوی کہتاہے الله تعالی اس کے قول کو دنیاوآخرت میں سچا فرمائے اور اس کا اپنے بارے میں الله تعالی سے عفو ومغفرت کے حسن ظن کو سچا فرمائے آمین اے اللہ! تو ہی حق وصواب کی رہنمائی فرمانے والا ہے۔ (ت)
فقیر غفرلہ الله تعالی لہ بحول وقوقت رب الارباب اس مختصر جواب موضح صواب ومزیح ارتیاب میں اپنے مولی جل وعلا کی تسبیح وتقدیس اور اس جناب رفیع وجلال منیع پر جرأت وجسارت والوں کی تقبیح و تفلیس کے لئے کلام کو چار تنزیہوں پر منقسم اور ایك خاتمہ پر مختم اور بنظر ہدایت عوام و ازاحت اوہام
ایك ضروری مقدمہ ان پر مقدم کرتا ہے۔
تنزیہ ۱اول : میں ائمہ دین وعلمائے معتمدین کے ارشادات متین جن سے بحمدالله شمس وامس کی طرح روشن ومبین کہ کذا لہی بالاجماع محال اور اسے قدیم سے ائمہ سنت میں مختلف فیہ ماننا عناوہ مکابرہ یاجاہلانہ خیال۔
فقیر غفرلہ الله تعالی لہ بحول وقوقت رب الارباب اس مختصر جواب موضح صواب ومزیح ارتیاب میں اپنے مولی جل وعلا کی تسبیح وتقدیس اور اس جناب رفیع وجلال منیع پر جرأت وجسارت والوں کی تقبیح و تفلیس کے لئے کلام کو چار تنزیہوں پر منقسم اور ایك خاتمہ پر مختم اور بنظر ہدایت عوام و ازاحت اوہام
ایك ضروری مقدمہ ان پر مقدم کرتا ہے۔
تنزیہ ۱اول : میں ائمہ دین وعلمائے معتمدین کے ارشادات متین جن سے بحمدالله شمس وامس کی طرح روشن ومبین کہ کذا لہی بالاجماع محال اور اسے قدیم سے ائمہ سنت میں مختلف فیہ ماننا عناوہ مکابرہ یاجاہلانہ خیال۔
تنزیہ ۲دوم : میں بفضل ربانی دعوی اہل حق پر دلائل نورانی جن سے واضح ہو کر کذب الہی قطعا مستحیل اور ادعائے امکان باطل وبے دلیل۔
تنزیہ ۳سوم : میں امام وہابیہ ومعلم ثانی طفائفہ نجدیہ مصنف رسالہ یکروزی کی خدمت گزاری اور ان حضرات کے اوہام باطلہ وہذیانات عاطلہ کی ناز برداری کہ یہی صاحب ان حضرات نو کے امام کہن اور ان کے مرجع وملجاوماخذ ومنتہی انھیں کے سخن۔
تنزیہ ۴چہارم میں جہالات جدیدہ کا علاج کافی اور اس امر حق کا ثبوت وافی کہ مسئلہ قدیمہ خلف وعید اس مزلہ حادثہ سے منزلوں بعید۔
خاتمہ میں جواب مسائل وحکم قائل والحمد الله مجیب السائل۔
مقدمہ اقول : وبالله التوفیق وبہ الوصول الی ذری التحقیق مسلمان کاایمان ہے کہ مولی سبحانہ وتعالی کے سب صفات صفات کمال وبروجہ کمال ہیں جس طرح کسی صفت کمال کا سلب اس سے ممکن نہیں یوہیں معاذالله کسی صفت نقص کا ثبوت بھی امکان نہیں رکھتا اور صفت کا بروجہ کمال ہونا یہ معنی کہ جس قدرچیزیں اس کے تعلق کی قابلیت رکھتی ہیں ان کا کوئی ذرہ اس کے احاطہ دائرہ سے خارج نہ ہو نہ یہ کہ موجود ومعدوم وباطل وموہوم میں کوئی شیئ ومفہوم بے اس کے تعلق کے نہ رہے اگرچہ وہ اصلا صلاحیت تعلق نہ رکھتی ہو اور اس صفت کے دائرہ سے محض اجنبی ہو۔ اب احاطہ دوائر کا تفرقہ دیکھئے :
(۱)خلاق کبیر جل وعلا فرماتاہے : “ خلق کل شیء فاعبدوہ “ وہ ہر چیز کا بنانے والا ہے تو اسے پوجو۔ یہاں صرف حودث مراد ہیں کہ قدیم یعنی ذات وصفات باری تعالی عز مجدہ مخلوقیت سے پاک
(۲)سمیع وبصیر جل مجدہ فرماتاہے : “ انہ بکل شیءۭ بصیر﴿۱۹﴾ “ وہ ہر چیز کودیکھتا ہے یہ
تنزیہ ۳سوم : میں امام وہابیہ ومعلم ثانی طفائفہ نجدیہ مصنف رسالہ یکروزی کی خدمت گزاری اور ان حضرات کے اوہام باطلہ وہذیانات عاطلہ کی ناز برداری کہ یہی صاحب ان حضرات نو کے امام کہن اور ان کے مرجع وملجاوماخذ ومنتہی انھیں کے سخن۔
تنزیہ ۴چہارم میں جہالات جدیدہ کا علاج کافی اور اس امر حق کا ثبوت وافی کہ مسئلہ قدیمہ خلف وعید اس مزلہ حادثہ سے منزلوں بعید۔
خاتمہ میں جواب مسائل وحکم قائل والحمد الله مجیب السائل۔
مقدمہ اقول : وبالله التوفیق وبہ الوصول الی ذری التحقیق مسلمان کاایمان ہے کہ مولی سبحانہ وتعالی کے سب صفات صفات کمال وبروجہ کمال ہیں جس طرح کسی صفت کمال کا سلب اس سے ممکن نہیں یوہیں معاذالله کسی صفت نقص کا ثبوت بھی امکان نہیں رکھتا اور صفت کا بروجہ کمال ہونا یہ معنی کہ جس قدرچیزیں اس کے تعلق کی قابلیت رکھتی ہیں ان کا کوئی ذرہ اس کے احاطہ دائرہ سے خارج نہ ہو نہ یہ کہ موجود ومعدوم وباطل وموہوم میں کوئی شیئ ومفہوم بے اس کے تعلق کے نہ رہے اگرچہ وہ اصلا صلاحیت تعلق نہ رکھتی ہو اور اس صفت کے دائرہ سے محض اجنبی ہو۔ اب احاطہ دوائر کا تفرقہ دیکھئے :
(۱)خلاق کبیر جل وعلا فرماتاہے : “ خلق کل شیء فاعبدوہ “ وہ ہر چیز کا بنانے والا ہے تو اسے پوجو۔ یہاں صرف حودث مراد ہیں کہ قدیم یعنی ذات وصفات باری تعالی عز مجدہ مخلوقیت سے پاک
(۲)سمیع وبصیر جل مجدہ فرماتاہے : “ انہ بکل شیءۭ بصیر﴿۱۹﴾ “ وہ ہر چیز کودیکھتا ہے یہ
تمام موجودات عــــــہ قدیمہ وحادث سب کو شامل مگر معدومات خارج یعنی مطلقا یا جس چیز نے ازل سے ابد تک
عــــــہ : فائدہ : اعلم انہ ربما یلمح کلام القاری فی منح الروض الی تخصیص بصارہ تعالی بالاشکال والالوان وسمعہ بالاصوات والکلام وقد صرح العلامۃ اللاقانی فی شرح جوھرۃ التوحید بعمومھما کل موجود وتبعہ سیدی عبدالغنی فی الحدیقۃ و ھذا کلام اللاقانی قال لیس سمعہ تعالی خاصا بالاصوات بل یعم سائرا لموجودات ذوات کانت اوصفات فسیمع ذاتہ العلیۃ وجمیع صفاتہ الازلیۃ کما یسمع ذواتنا وما قام بنامن صفاتنا کعلومنا و الواننا و ھکذا بصرہ سبحانہ و تعالی لا یختص بالالوان ولا بالاشکال والاکوان فحکمہ حکم السمع سواء بسواء فمتعلقھما واحد انتہی۔ اما ماقال اللاقانی قبل ذلك حیث عرف السمع بانہ صفۃ ازلیہ قائمۃ بذاتہ تعالی تتعلق بالمسموعات اوبالموجودات الخ فائدہ : واضح ہوکہ “ منح الروض “ میں ملا علی قاری کے کلام سے الله تعالی کی بصارت کا اشکال والوان اور اس کی سمع کا اصوات وکلام کے ساتھ اختصاص کا اشارۃ معلوم ہوتاہے حالانکہ علامہ علامہ لاقانی نے “ جوہرۃ التوحید “ کی شرح میں الله تعالی کی مذکورہ دونوں صفات کو تمام موجودات میں عام ہونے کی تصریح کی ہے اور علامہ عبدالغنی نابلسی نے حدیقہ میں ان کی اتباع کی ہے۔ اور علامہ لاقانی کا کلام یہ ہے انھوں نے فرمایا الله تعالی کی سمع صرف اصوات کے ساتھ مختص نہیں کی بلکہ تمام موجودات کو عام ہے خواہ ذوات ہوں یا صفات تو باری تعالی کواپنی ذات وصفات کا سامع ہے جس طرح وہ ہماری ذوات اور ہماری صفات مثلا ہمارے علوم اور الوان کا سامع ہے یونہی سبحانہ وتعالی کی بصر کا معاملہ ہے کہ وہ بھی اکوان و الوان و اشکال کے ساتھ مختص نہیں اس کا معاملہ بھی سمع جیسا ہے اور دونوں صفات برابرہیں تو دونوں کے متصلقات بھی ایك جیسے ہیں انتہی (اور اس پر علامہ نابلسی کا کلام یہ ہے)لیکن علامہ لاقانی نے جو اس سے قبل فرمایا جہاں سمع کی تعریف یوں کی ہے کہ الله تعالی کی ازل صفت ہے جو اس کی(باقی برصفحہ ائندہ)
عــــــہ : فائدہ : اعلم انہ ربما یلمح کلام القاری فی منح الروض الی تخصیص بصارہ تعالی بالاشکال والالوان وسمعہ بالاصوات والکلام وقد صرح العلامۃ اللاقانی فی شرح جوھرۃ التوحید بعمومھما کل موجود وتبعہ سیدی عبدالغنی فی الحدیقۃ و ھذا کلام اللاقانی قال لیس سمعہ تعالی خاصا بالاصوات بل یعم سائرا لموجودات ذوات کانت اوصفات فسیمع ذاتہ العلیۃ وجمیع صفاتہ الازلیۃ کما یسمع ذواتنا وما قام بنامن صفاتنا کعلومنا و الواننا و ھکذا بصرہ سبحانہ و تعالی لا یختص بالالوان ولا بالاشکال والاکوان فحکمہ حکم السمع سواء بسواء فمتعلقھما واحد انتہی۔ اما ماقال اللاقانی قبل ذلك حیث عرف السمع بانہ صفۃ ازلیہ قائمۃ بذاتہ تعالی تتعلق بالمسموعات اوبالموجودات الخ فائدہ : واضح ہوکہ “ منح الروض “ میں ملا علی قاری کے کلام سے الله تعالی کی بصارت کا اشکال والوان اور اس کی سمع کا اصوات وکلام کے ساتھ اختصاص کا اشارۃ معلوم ہوتاہے حالانکہ علامہ علامہ لاقانی نے “ جوہرۃ التوحید “ کی شرح میں الله تعالی کی مذکورہ دونوں صفات کو تمام موجودات میں عام ہونے کی تصریح کی ہے اور علامہ عبدالغنی نابلسی نے حدیقہ میں ان کی اتباع کی ہے۔ اور علامہ لاقانی کا کلام یہ ہے انھوں نے فرمایا الله تعالی کی سمع صرف اصوات کے ساتھ مختص نہیں کی بلکہ تمام موجودات کو عام ہے خواہ ذوات ہوں یا صفات تو باری تعالی کواپنی ذات وصفات کا سامع ہے جس طرح وہ ہماری ذوات اور ہماری صفات مثلا ہمارے علوم اور الوان کا سامع ہے یونہی سبحانہ وتعالی کی بصر کا معاملہ ہے کہ وہ بھی اکوان و الوان و اشکال کے ساتھ مختص نہیں اس کا معاملہ بھی سمع جیسا ہے اور دونوں صفات برابرہیں تو دونوں کے متصلقات بھی ایك جیسے ہیں انتہی (اور اس پر علامہ نابلسی کا کلام یہ ہے)لیکن علامہ لاقانی نے جو اس سے قبل فرمایا جہاں سمع کی تعریف یوں کی ہے کہ الله تعالی کی ازل صفت ہے جو اس کی(باقی برصفحہ ائندہ)
حوالہ / References
الحدیقۃ الندیہ بحوالہ اللاقانی ھی ای الصفات یعنی صفات المعانی الحیاۃ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۱ / ۲۵۵
الحدیقۃ الندیہ بحوالہ اللاقانی ھی ای الصفات یعنی صفات المعانی الحیاۃ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۱ / ۲۵۵
الحدیقۃ الندیہ بحوالہ اللاقانی ھی ای الصفات یعنی صفات المعانی الحیاۃ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۱ / ۲۵۵
کسوت وجود نہ پہنی نہ ابد تك پہنےکہ ابصار کی صلاحیت موجودہی میں ہے جو اصلا ہے ہی نہیں وہ نظر
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
والبصر بانہ صفتۃ ازلیہ تتعلق بالمبصرات او بالموجودات الخ فاقول : لایجب ان یکون اشارۃ الی الخلاف بل اتی اولا بالمبصرات معتمداعلی بداھۃ تصورہ ثم اردت بالموجودات فرارا عن صورۃ الدور و لیس فی التعبیرین تناف الخاصلا فان المبصر ما یتعلق بہ الابصار ولیس فیہ دلالۃ علی خصوصیۃ شیئ دون شیئ فاذاکان الابصار یتعلق بکل شیئ کان المبصر والموجود متسادیین نعم لما کان ابصار نا الدینوی العادی مختصا باللون ونحوہ ربما یسبق الذھن الی ھذا لخصوص فازال الوھم بقولہ او بالموجودات آتیا بکلمۃ اولتخییرفی التعبیر۔ وھذہ نکتۃ اخری للارداف وانما لم یکتف بہ لان ذکر المبصرات ادخل فی التمیز۔
ثم اقول تحقیق التقدم ان الابصار لاشك انہ لیس کاالارادۃ
ذات سے قائم ہے اور تمام مسموعات یا موجودات سے متعلق ہے الخ اور الله تعالی کی بصر کی تعریف یوں کی ہے کہ وہ اس کی ازل صفت ہے جو تمام مبصرات یا موجودات سے متعلق ہے الخ اقول : اس سے متعلق میں کہتا ہوں “ او “ یعنی یا سے تعبیر میں ضروری نہیں کہ یہ اختلاف کا اشارہ ہو بلکہ مبصرات کو پہلے ذکر کرکے اس کے تصور کی بداہت کو ظاہر کیا پھر موجوادت کو ساتھ ذکر کیا تاکہ دور لازم نہ آئے جبکہ مبصرات وموجودات دونوں تعبیر ات میں کوئی منافات نہیں ہے کیونکہ مبصر وہ چیز ہے جس سے ابصار کا تعلق ہوسکے جبکہ کسی شیئ سے خصوصیت پر کوئی دلالت نہیں ہے تو جب ابصار کا تعلق ہر چیز سے ہے تو مبصرا اور موجود دونوں مساوی ہوئے ہاں ہماری دنیاوی عادی بصار چونکہ الوان وغیرہ سے مختص ہیں اس لئے ہوسکتا ہے کہ ذہن اس خصوصیت کو اپنائے اس لئے انھوں نے مذکورہ وہم کے ازلہ کے لئے “ او بالموجودات “ کلمہ “ او “ کو تعبیر میں اختیار دینے کے لئے لائے۔ تو مبصرات کے بعد موجودات کو ذکر کرنے کا دوسرا نکتہ ہوا اور صرف موجودات پر اکتفاء اس لئے نہ کیا کیونکہ مبصرات کو امتیاز میں زیادہ دخل نہیں۔ پھر میں کہتا ہوں مقام کی (باقی برصفحہ ائندہ)
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
والبصر بانہ صفتۃ ازلیہ تتعلق بالمبصرات او بالموجودات الخ فاقول : لایجب ان یکون اشارۃ الی الخلاف بل اتی اولا بالمبصرات معتمداعلی بداھۃ تصورہ ثم اردت بالموجودات فرارا عن صورۃ الدور و لیس فی التعبیرین تناف الخاصلا فان المبصر ما یتعلق بہ الابصار ولیس فیہ دلالۃ علی خصوصیۃ شیئ دون شیئ فاذاکان الابصار یتعلق بکل شیئ کان المبصر والموجود متسادیین نعم لما کان ابصار نا الدینوی العادی مختصا باللون ونحوہ ربما یسبق الذھن الی ھذا لخصوص فازال الوھم بقولہ او بالموجودات آتیا بکلمۃ اولتخییرفی التعبیر۔ وھذہ نکتۃ اخری للارداف وانما لم یکتف بہ لان ذکر المبصرات ادخل فی التمیز۔
ثم اقول تحقیق التقدم ان الابصار لاشك انہ لیس کاالارادۃ
ذات سے قائم ہے اور تمام مسموعات یا موجودات سے متعلق ہے الخ اور الله تعالی کی بصر کی تعریف یوں کی ہے کہ وہ اس کی ازل صفت ہے جو تمام مبصرات یا موجودات سے متعلق ہے الخ اقول : اس سے متعلق میں کہتا ہوں “ او “ یعنی یا سے تعبیر میں ضروری نہیں کہ یہ اختلاف کا اشارہ ہو بلکہ مبصرات کو پہلے ذکر کرکے اس کے تصور کی بداہت کو ظاہر کیا پھر موجوادت کو ساتھ ذکر کیا تاکہ دور لازم نہ آئے جبکہ مبصرات وموجودات دونوں تعبیر ات میں کوئی منافات نہیں ہے کیونکہ مبصر وہ چیز ہے جس سے ابصار کا تعلق ہوسکے جبکہ کسی شیئ سے خصوصیت پر کوئی دلالت نہیں ہے تو جب ابصار کا تعلق ہر چیز سے ہے تو مبصرا اور موجود دونوں مساوی ہوئے ہاں ہماری دنیاوی عادی بصار چونکہ الوان وغیرہ سے مختص ہیں اس لئے ہوسکتا ہے کہ ذہن اس خصوصیت کو اپنائے اس لئے انھوں نے مذکورہ وہم کے ازلہ کے لئے “ او بالموجودات “ کلمہ “ او “ کو تعبیر میں اختیار دینے کے لئے لائے۔ تو مبصرات کے بعد موجودات کو ذکر کرنے کا دوسرا نکتہ ہوا اور صرف موجودات پر اکتفاء اس لئے نہ کیا کیونکہ مبصرات کو امتیاز میں زیادہ دخل نہیں۔ پھر میں کہتا ہوں مقام کی (باقی برصفحہ ائندہ)
حوالہ / References
الحدیقۃ الندیہ بحوالہ اللاقانی ھی ای الصفات یعنی صفات المعانی الحیاۃ مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۱ / ۲۵۵
کیا آئے گا تو نقصان جانب قابل ہے نہ کہ جانب فاعل شرح فقہ اکبر میں ہے :
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
موالقدرۃ والتکوین التی لایجب فعلیۃ جمیع التعلقات الممکنۃ لھا بل ھو امن صفات التی یجب ان تتعلق بالفعل بکل ما یصلح لتعلقھا کالعلم فعدم ابصار بعض مایصح ان یبصرہ نقص فیجب تنزیھہ تعالی عنہ کعدم العلم ببعض مایصح ان یعلم وھذا ممالایجوز ان یتناطع فیہ عنزان انما الشان فی تعبیر مایصح تعلق الابصار بہ فان ثبت القصر علی الاشکال والوان والاکوان فذاک وان ثبت عموم الصحۃ بکل موجود وجب القول بتحقق عموم الابصار ازلا وابدا لجمیع الکائنات القدیمۃ والحادثۃ الموجودۃ فی ازمنتھا المحققۃ اوالمقدرۃ لما عرف من انہ لا یجوز ھھنا شیئ منتظر لکن الاول باطل للاجماع علی رؤیۃ المومنین ربھم تبارك وتعالی فی الدار الاخرۃ فکان اجماع علی ان صحۃ الابصار لاتختص بماذکر وقد صرح اصحابنا فی ھذا المبحث ان مصحح تحقیق یہ ہے کہ ابصار بیشک ارادہ قدرت اور تکوین صفات جیسی نہیں۔ جن کا تمام ممکنہ تعلقات سے بالفعل متعلق ہونا واجب نہیں بلکہ ابصار ان صفات میں سے جن کا ممکن التعلق سے بالفعل متعلق ہونا واجب ہے جیساکہ علم کا معاملہ ہے توبعض وہ چیزیں جن کا ابصار ممکن اور صحیح ہوسکتاہے ان کا عدم ابصار نقص ہوگا لہذا الله تعالی کا اس نقص سے پاك ہونا ضروری ہے جیےس علم سے متعلق بعض اشیاء کا علم نہ ہونا نقص ہے جس سے وہ پاك ومنزہ ہے یہ وہ معاملہ ہے جس میں دو آراء نہیں ہوسکتیں اب صرف یہ بحث ہے کہ ابصار کا تعلق کن چیزوں سے ہوسکتاہے اگر یہ ثابت ہوجائے کہ ابصار صرف اشکال والوان و اکوان سے ہی متعلق ہوسکتی ہے تو یہی ہوگا اور اگر ثابت ہوجائے کہ اس کا تعلق تمام موجودات سے صحیح ہوسکتاہے تو پھر ازلا وابدا تمام کائنات وحادثہ خواہ وہ اپنے زمانوں میں محقق ہوں یا مقدر ہوں سب سے ابصار کا تعلق ماننا اور بیان کرنا واجب ہوگا جیسا کہ واضح ہے کہ اب کوئی چیز انتظار کے مرحلہ میں نہ ہوگی لیکن پہلی شق باطل ہے کیونکہ آخرت میں مومنین کے لئے الله تعالی کی رؤیت پر اجماع ہے(حالانکہ الله تعالی اشکال والوان سے پاك ہے)تو ثابت ہواکہ ابصارکا تعلق اشکال والوان سے مختص نہیں ہے جبکہ ہمارے اصحاب نے اس کے بحث میں تصریح (باقی برصفحہ ائندہ)
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
موالقدرۃ والتکوین التی لایجب فعلیۃ جمیع التعلقات الممکنۃ لھا بل ھو امن صفات التی یجب ان تتعلق بالفعل بکل ما یصلح لتعلقھا کالعلم فعدم ابصار بعض مایصح ان یبصرہ نقص فیجب تنزیھہ تعالی عنہ کعدم العلم ببعض مایصح ان یعلم وھذا ممالایجوز ان یتناطع فیہ عنزان انما الشان فی تعبیر مایصح تعلق الابصار بہ فان ثبت القصر علی الاشکال والوان والاکوان فذاک وان ثبت عموم الصحۃ بکل موجود وجب القول بتحقق عموم الابصار ازلا وابدا لجمیع الکائنات القدیمۃ والحادثۃ الموجودۃ فی ازمنتھا المحققۃ اوالمقدرۃ لما عرف من انہ لا یجوز ھھنا شیئ منتظر لکن الاول باطل للاجماع علی رؤیۃ المومنین ربھم تبارك وتعالی فی الدار الاخرۃ فکان اجماع علی ان صحۃ الابصار لاتختص بماذکر وقد صرح اصحابنا فی ھذا المبحث ان مصحح تحقیق یہ ہے کہ ابصار بیشک ارادہ قدرت اور تکوین صفات جیسی نہیں۔ جن کا تمام ممکنہ تعلقات سے بالفعل متعلق ہونا واجب نہیں بلکہ ابصار ان صفات میں سے جن کا ممکن التعلق سے بالفعل متعلق ہونا واجب ہے جیساکہ علم کا معاملہ ہے توبعض وہ چیزیں جن کا ابصار ممکن اور صحیح ہوسکتاہے ان کا عدم ابصار نقص ہوگا لہذا الله تعالی کا اس نقص سے پاك ہونا ضروری ہے جیےس علم سے متعلق بعض اشیاء کا علم نہ ہونا نقص ہے جس سے وہ پاك ومنزہ ہے یہ وہ معاملہ ہے جس میں دو آراء نہیں ہوسکتیں اب صرف یہ بحث ہے کہ ابصار کا تعلق کن چیزوں سے ہوسکتاہے اگر یہ ثابت ہوجائے کہ ابصار صرف اشکال والوان و اکوان سے ہی متعلق ہوسکتی ہے تو یہی ہوگا اور اگر ثابت ہوجائے کہ اس کا تعلق تمام موجودات سے صحیح ہوسکتاہے تو پھر ازلا وابدا تمام کائنات وحادثہ خواہ وہ اپنے زمانوں میں محقق ہوں یا مقدر ہوں سب سے ابصار کا تعلق ماننا اور بیان کرنا واجب ہوگا جیسا کہ واضح ہے کہ اب کوئی چیز انتظار کے مرحلہ میں نہ ہوگی لیکن پہلی شق باطل ہے کیونکہ آخرت میں مومنین کے لئے الله تعالی کی رؤیت پر اجماع ہے(حالانکہ الله تعالی اشکال والوان سے پاك ہے)تو ثابت ہواکہ ابصارکا تعلق اشکال والوان سے مختص نہیں ہے جبکہ ہمارے اصحاب نے اس کے بحث میں تصریح (باقی برصفحہ ائندہ)
قد افتی ائمۃ سمرقند وبخار اعلی انہ(یعنی المعدوم) غیر مرئی وقدذکر الامام الزاھد الصفار فی اخر کتاب التلخیص ان المعدوم مستحیل الرؤیۃ و کذا المفسرون ذکروا ان المعدوم لایصلح ان یکون مرئ اﷲ تعالی وکذا قول اسلف من الاشعریۃ و الماتریدیۃ ان الوجود علۃ جواز الرؤیۃ مع الاتفاق علی ان المعدوم الذی یستحیل وجودہ لایتعلق بہ برؤیتہ سبحنہ اھ۔ ائمہ سمرقند وبخارا نے یہ فتوی دیاکہ(معدوم)دکھائی نہیں دیتا امام زاہد صفار نے کتاب التلخیص کے آخر میں لکھا معدوم کی رؤیت محال ہوتی ہے اسی طرح مفسرین نے کہا معدوم الله تعالی کے دکھائی دینے کے قابل ہی نہیں۔ اسلاف اشعریہ اور ماتیرید یہ کابھی قول یہی ہے کہ جواز رؤیت کی علت وجود ہے اوراس پر اتفاق ہے کہ ایسا معدوم جس کا وجود محال ہے اس کے ساتھ رؤیت باری کا تعلق نہیں ہوسکتا اھ(ت)
شرح السنوسی للجزائریہ میں ہے :
انھما(یعنی سمعہ تعالی وبصرہ)لایتعلقان ان دونوں(الله تعالی کے سمع وبصر)کا تعلق
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
الرؤیۃھو الوجود وقداجمعوا کما فی المواقف انہ تعالی یری نفسہ فتبین ان الحق ھوا التعمیم وان قولہ تعالی “ انہ بکل شیءۭ بصیر﴿۱۹﴾ “ جار علی صرافۃ عمومہ من دون تطرق تخصیص الیہ اصلا ھکذا ینبغی التحقیق واﷲ ولی التوفیق ومن اتقن ھذا تیسرلہ اجراء فی السمع بدلیل کلام اﷲ سبحانہ وتعالی فافھم واﷲ سبحنہ وتعالی فافھم واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم ۱۲ منہ رضی اﷲ عنہ۔ کردی ہے کہ آخرت میں الله تعالی کی رؤیت کا مدار صرف وجود ہے جبکہ ان کا اجماع ہے کہ الله تعالی اپنی ذات کو دیکھتاہے جیساکہ مواقف میں ہے تو ابصار میں تعمیم ہی حق ہے اور الله تعالی کے ارشاد “ انہ بکل شیءۭ بصیر﴿۱۹﴾ “ کا اجراء اپنے خالص عموم پر ہوگا جس میں کسی قسم کی تخصیص کا شائبہ نہ ہوگا۔ یوں تحقیق ہونی چاہئے جبکہ الله تعالی ہی توفیق کا مالك ہے جو بھی ا س تحقیق پر یقین رکھے گا اس کے لئے صفت سمع میں بھی عموم کاا جراء آسان ہو گا جس کی دلیل الله تعالی کا ارشاد ہے پس سمجھو والله تعالی اعلم ۱۲ منہ رضی الله تعالی عنہ(ت)
شرح السنوسی للجزائریہ میں ہے :
انھما(یعنی سمعہ تعالی وبصرہ)لایتعلقان ان دونوں(الله تعالی کے سمع وبصر)کا تعلق
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
الرؤیۃھو الوجود وقداجمعوا کما فی المواقف انہ تعالی یری نفسہ فتبین ان الحق ھوا التعمیم وان قولہ تعالی “ انہ بکل شیءۭ بصیر﴿۱۹﴾ “ جار علی صرافۃ عمومہ من دون تطرق تخصیص الیہ اصلا ھکذا ینبغی التحقیق واﷲ ولی التوفیق ومن اتقن ھذا تیسرلہ اجراء فی السمع بدلیل کلام اﷲ سبحانہ وتعالی فافھم واﷲ سبحنہ وتعالی فافھم واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم ۱۲ منہ رضی اﷲ عنہ۔ کردی ہے کہ آخرت میں الله تعالی کی رؤیت کا مدار صرف وجود ہے جبکہ ان کا اجماع ہے کہ الله تعالی اپنی ذات کو دیکھتاہے جیساکہ مواقف میں ہے تو ابصار میں تعمیم ہی حق ہے اور الله تعالی کے ارشاد “ انہ بکل شیءۭ بصیر﴿۱۹﴾ “ کا اجراء اپنے خالص عموم پر ہوگا جس میں کسی قسم کی تخصیص کا شائبہ نہ ہوگا۔ یوں تحقیق ہونی چاہئے جبکہ الله تعالی ہی توفیق کا مالك ہے جو بھی ا س تحقیق پر یقین رکھے گا اس کے لئے صفت سمع میں بھی عموم کاا جراء آسان ہو گا جس کی دلیل الله تعالی کا ارشاد ہے پس سمجھو والله تعالی اعلم ۱۲ منہ رضی الله تعالی عنہ(ت)
حوالہ / References
منح الروض الازہر شرح الفقہ الاکبر باب یری الله تعالٰی فی الآخرۃ بلاکیف مصطفی البابی مصر ص۸۴
القرآن الکریم ۶۷ /۱۹
القرآن الکریم ۶۷ /۱۹
الابالموجود والعلم یتعلق بالموجود والمعدوم والمطلق والمقید اھ۔ موجودسے ہوتاہے اور علم کا تعلق موجود ومعدوم اور مطلق ومقید سے ہوتا ہے اھ(ت)
حدیقہ ندیہ شرح طریقہ محمدیہ میں ہے :
المعدومات التی عــــــہ ماارادھا اﷲ تعالی ولاتعلقت القدرۃ بایجادھا فی ازمنتھا المقدرۃ لھا ولاکشف عنھا العلم موجودۃ فی تلك الازمنۃ فلا یتعلق بھا السمع و البصر وکذلك المستحیلات بخلاف العلم فانہ یتعلق بالموجودات والمعدوم ۔ وہ معدومات جن کا الله تعالی نے اردہ نہیں فرمایا اور از منہ مقررہ میں ان کی ایجاد کے لئے قدرت متعلق نہیں ہوتی اور نہ مقدرہ زمانہ میں موجود ہوکر تحت علم آتی ہیں تو ایسی معدومات سے الله تعالی کی سمع وبصر متعلق نہیں ہوتی اور محالات کا معاملہ بھی ایسا ہے بخلاف علم کہ ا س کا تعلق موجود اور معدوم دونوں سے ہے۔ (ت)
عــــــہ : اقول : قولہ مارادولا تعلقت ولاکشف عبارات شتی عن معبر واحد وھو دوام العدم المناقض للوجود بالفعل فان کل ما اراداﷲ تعالی فقد تعلقت القدرۃ بایجادہ بالفعل وبالعکس وما کان کذلك فقد کشف العلم عنہ موجودا بالاطلاق العام وبالعکس وذلك لان العلم موجودا تابع اللوجود ولاوجود للمخلوق الابتعلق القدرۃ ولا تعلق للقدرۃ الا بترجیح الارادۃ کما تقرر کل ذلك فی مقرہ واﷲ تعالی اعلم۔ ۱۲ منہ اقول : حدیقہ کا قول “ ارادہ نہ فرمایا “ قدرت کا تعلق نہ ہو علم کا کشف نہ ہو یہ مختلف عبارات ہیں جن کی مراد ایك ہے اور وہ یہ کہ دائمی جو عدم بالفعل وجود کے مناقض ہے کیونکہ الله تعالی جس چیز کا ارادہ فرماتاہے اس کے ایجاد سے بالفعل قدرت کا تعلق بھی ہوتاہے اور اس کا عکس بھی ہوتاہے جو چیز اس شان میں ہوگی اسی کے بالفعل موجود ہونے کا مطلقا علم بالکشف ہوتاہے اور عکس بھی کیونکہ کسی موجود کا علم ا س چیز کے وجو دسے ہوتا ہے جبکہ مخلوق کاوجود قدرت کے تعلق کے بغیر نہیں ہوسکتا اور قدرت کا تعلق ارادہ سے ترجیح پائے بغیر نہیں ہوسکتا جیسا کہ یہ تمام امور اپنے مقام میں ثابت شدہ ہیں والله تعالی اعلم ۱۲ منہ(ت)
حدیقہ ندیہ شرح طریقہ محمدیہ میں ہے :
المعدومات التی عــــــہ ماارادھا اﷲ تعالی ولاتعلقت القدرۃ بایجادھا فی ازمنتھا المقدرۃ لھا ولاکشف عنھا العلم موجودۃ فی تلك الازمنۃ فلا یتعلق بھا السمع و البصر وکذلك المستحیلات بخلاف العلم فانہ یتعلق بالموجودات والمعدوم ۔ وہ معدومات جن کا الله تعالی نے اردہ نہیں فرمایا اور از منہ مقررہ میں ان کی ایجاد کے لئے قدرت متعلق نہیں ہوتی اور نہ مقدرہ زمانہ میں موجود ہوکر تحت علم آتی ہیں تو ایسی معدومات سے الله تعالی کی سمع وبصر متعلق نہیں ہوتی اور محالات کا معاملہ بھی ایسا ہے بخلاف علم کہ ا س کا تعلق موجود اور معدوم دونوں سے ہے۔ (ت)
عــــــہ : اقول : قولہ مارادولا تعلقت ولاکشف عبارات شتی عن معبر واحد وھو دوام العدم المناقض للوجود بالفعل فان کل ما اراداﷲ تعالی فقد تعلقت القدرۃ بایجادہ بالفعل وبالعکس وما کان کذلك فقد کشف العلم عنہ موجودا بالاطلاق العام وبالعکس وذلك لان العلم موجودا تابع اللوجود ولاوجود للمخلوق الابتعلق القدرۃ ولا تعلق للقدرۃ الا بترجیح الارادۃ کما تقرر کل ذلك فی مقرہ واﷲ تعالی اعلم۔ ۱۲ منہ اقول : حدیقہ کا قول “ ارادہ نہ فرمایا “ قدرت کا تعلق نہ ہو علم کا کشف نہ ہو یہ مختلف عبارات ہیں جن کی مراد ایك ہے اور وہ یہ کہ دائمی جو عدم بالفعل وجود کے مناقض ہے کیونکہ الله تعالی جس چیز کا ارادہ فرماتاہے اس کے ایجاد سے بالفعل قدرت کا تعلق بھی ہوتاہے اور اس کا عکس بھی ہوتاہے جو چیز اس شان میں ہوگی اسی کے بالفعل موجود ہونے کا مطلقا علم بالکشف ہوتاہے اور عکس بھی کیونکہ کسی موجود کا علم ا س چیز کے وجو دسے ہوتا ہے جبکہ مخلوق کاوجود قدرت کے تعلق کے بغیر نہیں ہوسکتا اور قدرت کا تعلق ارادہ سے ترجیح پائے بغیر نہیں ہوسکتا جیسا کہ یہ تمام امور اپنے مقام میں ثابت شدہ ہیں والله تعالی اعلم ۱۲ منہ(ت)
حوالہ / References
الحدیقہ الندیہ بحوالہ شرح السنوسی للجزائریۃ ھی الصفات یعنی صفت المعانی الحیاۃ مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۱ / ۲۵۵
الحدیقہ الندیہ بحوالہ شرح السنوسی للجزائریۃ ھی الصفات یعنی صفت المعانی الحیاۃ مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۱ / ۲۵۵
الحدیقہ الندیہ بحوالہ شرح السنوسی للجزائریۃ ھی الصفات یعنی صفت المعانی الحیاۃ مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۱ / ۲۵۵
(۳)قوی قدیر تبار وتعالی فرماتاہے : “ وہو علی کل شیء قدیر ﴿۱۲۰﴾ “ وہ ہر چیز پر قدرت والا ہے یہ موجود ومعدوم سب کو شامل بشر ط وحدوث وامکان کہ واجب ومحال اصلا لائق مقدوریت نہیں مواقف میں ہے : القدیم لا یستند الی القادر (قدیم کو قادر کی طرف منسوب نہیں کیا جاسکتا۔ ت)شرح مقاصد میں ہے : لاشیئ من الممتنع بمقدور (کوئی ممتنع مقدور نہیں ہوتا۔ ت)امام یافعی فرماتے ہیں :
جمیع المسحیلات العقلیۃ لایتعلق للقدرۃ بھا ۔ تمام محلات عقلیہ کے ساتھ قدرت کا تعلق نہیں ہوتا۔ (ت)
کنزالفوائد میں ہے :
خرج الواجب والمستحیل فلایتعلقان ای القدرۃ والارادۃ بھما ۔ واجب اور محال خارج ہوں گے ان کے ساتھ قدرت اور ارادہ کا تعلق نہیں ہوسکتا۔ (ت)
شرح فقہ اکبر میں ہے :
أقصاھا ان یمتنع بنفس مفہومہ کجمیع الضدین وقلب الحقائق واعدام القدیم وھذا لایدخل تحت القدرۃ القدیمۃ ۔ آخری مرتبہ وہ ہے جونفس مفہوم کے اعتبار سے ممنوع ہو مثلا ضدین کا جمع ہونا حقائق میں قلب قدیم کا معدوم ہونا یہ قدرت قدیمہ کے تحت داخل ہی نہیں۔ (ت)
(۴)علیم خبیر عزشانہ فرماتاہے : “ وہو بکل شیء علیم﴿۲۹﴾ “ وہ ہر چیز کو جانتاہے یہ کلیہ واجب و ممکن وقدیم وحادث وموجود ومعدوم ومفروض وموہوم غرض ہر شی ومفہوم کو قطعا محیط جس کے دائرے سے اصلا کچھ خارج نہیں۔ یہ ان عمومات سے ہے جو عموم قضیہ مامن عام الاوقد خص منہ البعض
جمیع المسحیلات العقلیۃ لایتعلق للقدرۃ بھا ۔ تمام محلات عقلیہ کے ساتھ قدرت کا تعلق نہیں ہوتا۔ (ت)
کنزالفوائد میں ہے :
خرج الواجب والمستحیل فلایتعلقان ای القدرۃ والارادۃ بھما ۔ واجب اور محال خارج ہوں گے ان کے ساتھ قدرت اور ارادہ کا تعلق نہیں ہوسکتا۔ (ت)
شرح فقہ اکبر میں ہے :
أقصاھا ان یمتنع بنفس مفہومہ کجمیع الضدین وقلب الحقائق واعدام القدیم وھذا لایدخل تحت القدرۃ القدیمۃ ۔ آخری مرتبہ وہ ہے جونفس مفہوم کے اعتبار سے ممنوع ہو مثلا ضدین کا جمع ہونا حقائق میں قلب قدیم کا معدوم ہونا یہ قدرت قدیمہ کے تحت داخل ہی نہیں۔ (ت)
(۴)علیم خبیر عزشانہ فرماتاہے : “ وہو بکل شیء علیم﴿۲۹﴾ “ وہ ہر چیز کو جانتاہے یہ کلیہ واجب و ممکن وقدیم وحادث وموجود ومعدوم ومفروض وموہوم غرض ہر شی ومفہوم کو قطعا محیط جس کے دائرے سے اصلا کچھ خارج نہیں۔ یہ ان عمومات سے ہے جو عموم قضیہ مامن عام الاوقد خص منہ البعض
حوالہ / References
القرآن الکریم ۵ /۱۲۰ و ۱۱ / ۴
مواقف مع شرح المواقف المقصد الخامس منشورات الرضی قم ایران ۳ / ۱۷۸
شرح المقاصد المبحث الثانی القدرۃ الحادثۃ علی الفعل دارالمعارف نعمانیہ لاہور ۱ / ۲۴۰
کنز الفوائد
منح الروض الازہر شرح الفقہ الاکبر افعال العبادبعلمہ تعالٰی الخ مصطفی البابی مصر ص۵۶
القرآ ن الکریم ۲ / ۲۹ ، ۶ / ۱۰۱
مواقف مع شرح المواقف المقصد الخامس منشورات الرضی قم ایران ۳ / ۱۷۸
شرح المقاصد المبحث الثانی القدرۃ الحادثۃ علی الفعل دارالمعارف نعمانیہ لاہور ۱ / ۲۴۰
کنز الفوائد
منح الروض الازہر شرح الفقہ الاکبر افعال العبادبعلمہ تعالٰی الخ مصطفی البابی مصر ص۵۶
القرآ ن الکریم ۲ / ۲۹ ، ۶ / ۱۰۱
(ہرعام سے کچھ افراد مخصوص ہوتے ہیں۔ ت)سے مخصوص ہیں شرح مواقف میں فرمایا :
علمہ تعالی یعم المفھوما کلھا الممکنۃ والواجبۃ والممتنعۃ فھو اعم من القدرۃ لانھا تختص بالممکنات دون الواجبات والممتنعات ۔ الله تعالی کا علم تمام مفہومات کو شامل ہے خواہ وہ ممکن ہیں یا واجب یاممتنع اور وہ قدرت سے عام ہے کیونکہ قدرت کا تعلق فقط ممکنات سے ہے واجبات اور ممتنعات کے ساتھ وہ متعلق نہیں ہوتی۔ (ت)
اب دیکھئے لفظ چاروں ایك جگہ ہے یعنی کل شیئ مگر ہر صفت نے اپنے ہی دائرے کی چیزوں کو احاطہ عــــــہ فرمایا جو اس کے قابل اور اس کے احاطہ میں داخل تھیں تو جس طرح ذات وصفات خالق کا دائرہ خلق میں نہ آنا معاذالله عموم خالقیت میں نقصان نہ لایا نقصان جب تھا کہ کوئی مخلوق احاطہ سے باہر رہتا یا معدومات کا دائرہ ابصار سے مہجور رہتا عیاذا باللہ احاطہ بصر الہی میں باعث فتور نہ ہوا فتور جب ہوتا کہ کوئی مبصر خارج رہ جاتا۔ اسی طرح صفت قدرت کا کمال یہ ہے کہ جو شے اپنی
عــــــہ : ای شملت مافی دائرتھا وان لم یشملہ اللفظ کمافی العلم ولم تشمل مالیس فیھا وان شملہ اللفظ کما فی الخلق وذلك ان الشیئ عندنا یخص بالموجود قال تعالی “ اولا یذکر الانسن انا خلقنہ من قبل ولم یک شیـا ﴿۶۷﴾ “
ویعم الواجب قال تعالی “ ای شیء اکبر شہدۃ قل اللہ “ فافھم ۱۲ منہ رضی اﷲ عنہ۔ یعنی اپنے دائرہ کی ہر شی کو شامل ہے اگرچہ اس کو لفظ شامل نہ ہو جیسے علم میں اور جو دائرہ میں نہ ہو اس کو شامل نہیں اگرچہ لفظ اس کوشامل ہو جیسےخلق میں یہ اس لئے کہ ہمارے نزدیك صرف موجود ہی شی کہلاتی ہے الله تعالی نے فرمایا کیا انسان کو یاد نہیں کہ ہم نے اسے پیداکیا جبکہ اس سے قبل کوئی شیئ نہ تھا۔ اور شے واجب کو بھی شامل ہے الله تعالی نے فرمایا۔ فرمادیجئے کون سی شیئ شہادت میں بڑی ہے فرمادو اللہ اسے سمجھو ۱۲ منہ رضی الله تعالی عنہ(ت)
علمہ تعالی یعم المفھوما کلھا الممکنۃ والواجبۃ والممتنعۃ فھو اعم من القدرۃ لانھا تختص بالممکنات دون الواجبات والممتنعات ۔ الله تعالی کا علم تمام مفہومات کو شامل ہے خواہ وہ ممکن ہیں یا واجب یاممتنع اور وہ قدرت سے عام ہے کیونکہ قدرت کا تعلق فقط ممکنات سے ہے واجبات اور ممتنعات کے ساتھ وہ متعلق نہیں ہوتی۔ (ت)
اب دیکھئے لفظ چاروں ایك جگہ ہے یعنی کل شیئ مگر ہر صفت نے اپنے ہی دائرے کی چیزوں کو احاطہ عــــــہ فرمایا جو اس کے قابل اور اس کے احاطہ میں داخل تھیں تو جس طرح ذات وصفات خالق کا دائرہ خلق میں نہ آنا معاذالله عموم خالقیت میں نقصان نہ لایا نقصان جب تھا کہ کوئی مخلوق احاطہ سے باہر رہتا یا معدومات کا دائرہ ابصار سے مہجور رہتا عیاذا باللہ احاطہ بصر الہی میں باعث فتور نہ ہوا فتور جب ہوتا کہ کوئی مبصر خارج رہ جاتا۔ اسی طرح صفت قدرت کا کمال یہ ہے کہ جو شے اپنی
عــــــہ : ای شملت مافی دائرتھا وان لم یشملہ اللفظ کمافی العلم ولم تشمل مالیس فیھا وان شملہ اللفظ کما فی الخلق وذلك ان الشیئ عندنا یخص بالموجود قال تعالی “ اولا یذکر الانسن انا خلقنہ من قبل ولم یک شیـا ﴿۶۷﴾ “
ویعم الواجب قال تعالی “ ای شیء اکبر شہدۃ قل اللہ “ فافھم ۱۲ منہ رضی اﷲ عنہ۔ یعنی اپنے دائرہ کی ہر شی کو شامل ہے اگرچہ اس کو لفظ شامل نہ ہو جیسے علم میں اور جو دائرہ میں نہ ہو اس کو شامل نہیں اگرچہ لفظ اس کوشامل ہو جیسےخلق میں یہ اس لئے کہ ہمارے نزدیك صرف موجود ہی شی کہلاتی ہے الله تعالی نے فرمایا کیا انسان کو یاد نہیں کہ ہم نے اسے پیداکیا جبکہ اس سے قبل کوئی شیئ نہ تھا۔ اور شے واجب کو بھی شامل ہے الله تعالی نے فرمایا۔ فرمادیجئے کون سی شیئ شہادت میں بڑی ہے فرمادو اللہ اسے سمجھو ۱۲ منہ رضی الله تعالی عنہ(ت)
حوالہ / References
شرح المواقف المرصدالرابع القصد الثالث منشورات الشریف الرضی قم ایران ۸ / ۷۰
القرآن الکریم ۱۹ /۶۷
القرآن الکریم ۶ /۱۹
القرآن الکریم ۱۹ /۶۷
القرآن الکریم ۶ /۱۹
حد ذات عــــــہ۱ میں ہونے کے قابل ہے۔ اس سب پر قادر ہو کوئی ممکن احاطہ قدرت سے جدا نہ رہے نہ یہ کہ واجبات ومحالات عقلیہ کو بھی شامل ہو جو اصلا تعلق قدرت کی صلاحیت نہیں رکھتے سبحان الله محال کے معنی ہی یہ ہیں کہ کسی طرح موجود نہ ہوسکے اور مقدور وہ کہ قادر چاہے تو موجود ہوجائے پھر دونوں کیونکہ جمع ہوسکتے ہیں اور اس کے سبب یہ سمجھنا کہ کوئی شےدائرہ قدرت سے خارج رہ گئی محض جہالت کہ محالات مصداق و ذات سے بہرہ ہی نہیں رکھتے حتی کہ فرض وتجویز عقلی عــــــہ۲ میں بھی تو اصلا یہاں کوئی شے تھی ہی نہیں جسے قدرت شامل نہ ہوئی یا
“ ان اللہ علی کل شیء قدیر﴿۲۰﴾ “ کے عموم سے رہ گئی۔ یہاں سے ظاہر ہوگیا کہ مغویان تازہ جو اسی مسئلہ کذب ودیگر نقائص وغیرہا کی بحث میں بے علموں کو بہکاتے ہیں کہ مثلا کذب یا فلاں عیب یا فلاں بات پر الله عزوجل کو قادر نہ مانا تو معاذالله عاجز ٹھہرا اور “ ان اللہ علی کل شیء قدیر﴿۲۰﴾ کا انکار ہوا۔ یہ ان ہوشیاروں کی محض عیاری وتزیر اور بیچارے عوام کو بھڑکانے کی تدبیر ہے ایھا المسلمون! قدرت الہی صفت کمال ہوکر ثابت ہوئی ہے نہ معاذالله صفت نقص و عیب اور اگر محالات پر قدرت مانئے تو بھی انقلاب ہوا جاتاہے وجہ سنئے جب کسی محال پرقدرت مانی اور محال محال سب ایك سے معہذا تمھارے جاہلانہ خیال پر جس محال کو مقدور نہ کہئے اتناہی عجز وقصور سمجھئے تو واجب کہ سب محالات زیر قدرت ہوں اور منجملہ محالات سلب قدرت الہیہ بھی ہے تو لازم کہ الله تعالی اپنی قدرت کھودینے اور اپنے آپ کو عاجز محض بنالینے پر قادر ہو اچھا عموم قدرت مانا کہ اصل قدرت ہی ہاتھ سے گئی یوہیں منجملہ محالات عدم باری عزوجل ہے تو اس پر قدرت لازم اب باری جل وعلا عیاذا بالله واجب الوجود نہ ٹھہرا تعمیم قدرت کی بدولت الوہیت ہی پر ایمان گیا تعالی اﷲ عما یقول الظالمون علوا کبیرا(ظالم جو کچھ کہتے ہیں الله تعالی اس سے کہیں بلند ہے۔ ت)
پس بحمد الله ثابت ہوا کہ محال پر قدرت ماننا قطع نظر اس سے کہ خود قول بالمحال ہے جناب
عــــــہ۱ : یشیر الی ان مصحح المقدوریۃ نفس الامکان الذاتی ۱۲ منہ
عــــــہ۲ : اوردہ تفسیر ا للمراد بالفرض ۱۲ منہ اشارہ کیا کہ مقدوریت کی صحت کا مدار نفس امکان ذاتی پر ہے ۱۲ منہ(ت)
فرض سے مراد کی تفسیر کے لئے ذکر کیا ہے ۱۲ منہ(ت)
“ ان اللہ علی کل شیء قدیر﴿۲۰﴾ “ کے عموم سے رہ گئی۔ یہاں سے ظاہر ہوگیا کہ مغویان تازہ جو اسی مسئلہ کذب ودیگر نقائص وغیرہا کی بحث میں بے علموں کو بہکاتے ہیں کہ مثلا کذب یا فلاں عیب یا فلاں بات پر الله عزوجل کو قادر نہ مانا تو معاذالله عاجز ٹھہرا اور “ ان اللہ علی کل شیء قدیر﴿۲۰﴾ کا انکار ہوا۔ یہ ان ہوشیاروں کی محض عیاری وتزیر اور بیچارے عوام کو بھڑکانے کی تدبیر ہے ایھا المسلمون! قدرت الہی صفت کمال ہوکر ثابت ہوئی ہے نہ معاذالله صفت نقص و عیب اور اگر محالات پر قدرت مانئے تو بھی انقلاب ہوا جاتاہے وجہ سنئے جب کسی محال پرقدرت مانی اور محال محال سب ایك سے معہذا تمھارے جاہلانہ خیال پر جس محال کو مقدور نہ کہئے اتناہی عجز وقصور سمجھئے تو واجب کہ سب محالات زیر قدرت ہوں اور منجملہ محالات سلب قدرت الہیہ بھی ہے تو لازم کہ الله تعالی اپنی قدرت کھودینے اور اپنے آپ کو عاجز محض بنالینے پر قادر ہو اچھا عموم قدرت مانا کہ اصل قدرت ہی ہاتھ سے گئی یوہیں منجملہ محالات عدم باری عزوجل ہے تو اس پر قدرت لازم اب باری جل وعلا عیاذا بالله واجب الوجود نہ ٹھہرا تعمیم قدرت کی بدولت الوہیت ہی پر ایمان گیا تعالی اﷲ عما یقول الظالمون علوا کبیرا(ظالم جو کچھ کہتے ہیں الله تعالی اس سے کہیں بلند ہے۔ ت)
پس بحمد الله ثابت ہوا کہ محال پر قدرت ماننا قطع نظر اس سے کہ خود قول بالمحال ہے جناب
عــــــہ۱ : یشیر الی ان مصحح المقدوریۃ نفس الامکان الذاتی ۱۲ منہ
عــــــہ۲ : اوردہ تفسیر ا للمراد بالفرض ۱۲ منہ اشارہ کیا کہ مقدوریت کی صحت کا مدار نفس امکان ذاتی پر ہے ۱۲ منہ(ت)
فرض سے مراد کی تفسیر کے لئے ذکر کیا ہے ۱۲ منہ(ت)
باری عزاسمہ کو سخت عیب لگانا اور تعیم قدرت کے پردے میں اصل قدرت بلکہ نفس الوہیت سے منکر ہوجاناہے لله انصاف!
حضرات کے یہ تو حالات اور اہل سنت پر معاذالله عجز باری عزوجل ماننے کے الزامات ہمارے دینی بھائی اس مسئلہ کو خوب سمجھ لیں کہ حضرات کے مغالطہ و تلبیس سے امان میں رہیں والله الموفق۔
تنزیہ اول ارشادات علماء میں : اقول : وباﷲ التوفیق میں یہاں ازالہ اوہام حضرات مخالفین کو اکثر عبارات ایسی نقل کرں گا کہ امتناع کذب الہی پر تمام اشعریہ و ماتریدیہ کا اجماع ثابت کریں جس کے باعث اس وہم عاطل کا علاج قاتل ہو کہ معاذالله یہ مسئلہ قدیم سے مختلف فیہا ہے حاش للہ! بلکہ بطلان امکان پر اجماع اہل حق ہے جس میں اہل سنت کے ساتھ معتزلہ وغیرہ فرق باطلہ بھی متفق ناظر ماہر دیکھے گا کہ میرا یہ مدعا ان عبارتوں سے کن کن طور پر رنگ ثبوت پائے گا :
اول : ظاہر وجلی یعنی وہ نصوص جن میں امتناع کذب پر صراحۃ اجماع منصوص۔
دوم : اکثرعبارتیں علمائے اشعریہ کی ہوں گی تاکہ معلوم ہو کہ مسئلہ خلافی نہیں۔
سوم : وہ عبارات جن میں بنائے کلام حسن وقبح عقلی کے انکار پر ہو کہ یہ اصول اشاعرہ سے ہے تو لاجرم مسئلہ اشاعرہ وماتریدیہ کا اجماعی ہوا اگرچہ عندالتحقیق صرف حسن وقبح بمعنی استحقاق مدح وثواب وذم وعقاب کی شرعیت و عقلیت میں تجاذب آراہے نہ بمعنی صفت کمال وصفت نقصان کہ بایں معنی باجماع عقلا عقلی ہیں
کما نصوا علیہ جمیعا ونبہ علیہ ھھنا المولی سعد الدین التفتازانی فی شرح القاصد والمولی المحقق علی الاطلاق کمال الدین محمد بن الھمام وغیرھما من الجہابذۃ الکرام۔ جیسا کہ اس پر تمام نے تصریح کی ہے اور اس پر علامہ سعد الدین تفتا زانی نے شرح المقاصد میں اور محقق علی الاطلاق کمال الدین محمد بن ہمام اور دیگر کبار ماہرین علماء نے تنبیہ کی ہے۔ (ت)
اب بتوفیق الله تعالی نصوص ائمہ وکلمات علماء نقل کرتاہوں :
نص ۱ : شرح مقاصد کے مبحث کلام میں ہے :
الکذب محال باجماع العلماء لان الکذب نقص باتفاق العقلاء وھو علی اﷲ تعالی محال اھ ملخصا۔ جھوٹ باجماع علماء محال ہے کہ وہ باتفاق عقلاء عیب ہے اور عیب الله تعالی پر محال اھ ملخصا۔
نص ۲ : اسی کی بحث وحسن وقبح میں ہے :
حضرات کے یہ تو حالات اور اہل سنت پر معاذالله عجز باری عزوجل ماننے کے الزامات ہمارے دینی بھائی اس مسئلہ کو خوب سمجھ لیں کہ حضرات کے مغالطہ و تلبیس سے امان میں رہیں والله الموفق۔
تنزیہ اول ارشادات علماء میں : اقول : وباﷲ التوفیق میں یہاں ازالہ اوہام حضرات مخالفین کو اکثر عبارات ایسی نقل کرں گا کہ امتناع کذب الہی پر تمام اشعریہ و ماتریدیہ کا اجماع ثابت کریں جس کے باعث اس وہم عاطل کا علاج قاتل ہو کہ معاذالله یہ مسئلہ قدیم سے مختلف فیہا ہے حاش للہ! بلکہ بطلان امکان پر اجماع اہل حق ہے جس میں اہل سنت کے ساتھ معتزلہ وغیرہ فرق باطلہ بھی متفق ناظر ماہر دیکھے گا کہ میرا یہ مدعا ان عبارتوں سے کن کن طور پر رنگ ثبوت پائے گا :
اول : ظاہر وجلی یعنی وہ نصوص جن میں امتناع کذب پر صراحۃ اجماع منصوص۔
دوم : اکثرعبارتیں علمائے اشعریہ کی ہوں گی تاکہ معلوم ہو کہ مسئلہ خلافی نہیں۔
سوم : وہ عبارات جن میں بنائے کلام حسن وقبح عقلی کے انکار پر ہو کہ یہ اصول اشاعرہ سے ہے تو لاجرم مسئلہ اشاعرہ وماتریدیہ کا اجماعی ہوا اگرچہ عندالتحقیق صرف حسن وقبح بمعنی استحقاق مدح وثواب وذم وعقاب کی شرعیت و عقلیت میں تجاذب آراہے نہ بمعنی صفت کمال وصفت نقصان کہ بایں معنی باجماع عقلا عقلی ہیں
کما نصوا علیہ جمیعا ونبہ علیہ ھھنا المولی سعد الدین التفتازانی فی شرح القاصد والمولی المحقق علی الاطلاق کمال الدین محمد بن الھمام وغیرھما من الجہابذۃ الکرام۔ جیسا کہ اس پر تمام نے تصریح کی ہے اور اس پر علامہ سعد الدین تفتا زانی نے شرح المقاصد میں اور محقق علی الاطلاق کمال الدین محمد بن ہمام اور دیگر کبار ماہرین علماء نے تنبیہ کی ہے۔ (ت)
اب بتوفیق الله تعالی نصوص ائمہ وکلمات علماء نقل کرتاہوں :
نص ۱ : شرح مقاصد کے مبحث کلام میں ہے :
الکذب محال باجماع العلماء لان الکذب نقص باتفاق العقلاء وھو علی اﷲ تعالی محال اھ ملخصا۔ جھوٹ باجماع علماء محال ہے کہ وہ باتفاق عقلاء عیب ہے اور عیب الله تعالی پر محال اھ ملخصا۔
نص ۲ : اسی کی بحث وحسن وقبح میں ہے :
حوالہ / References
شرح المقاصد المبحث السادس فی انہ تعالٰی متکلم دارالمعارف النعمانیہ لاہور ۲ / ۱۰۴
قد بینا فی بحث الکلام امتناع الکذب علی الشارع تعالی ۔ ہم بحث کلام میں ثابت کر آئے کہ الله عزوجل پر کذب محال ہے۔
نص ۳ : اسی بحث تکلیف بالمحال میں ہے :
محال ھو جہلہ کذبہ تعالی عن ذلك ۔ الله تبارك وتعالی کاجہل یا کذب دونوں محال ہیں بر تری ہے اسے ان سے۔
نص۴ : اسی میں ہے :
الکذب فی اخبار اﷲ تعالی فیہ مفاسد لاتحصی ومطا عن فی الاسلام لاتخفی منھا مقال الفلاسفۃ فی المعاد ومجال الملاحدۃ فی العناد وھھنا بطلان ماعلیہ الاجماع من القطع بخلود الکفار فی النار فمع صریح اخبار اﷲ تعالی بہ فجواز الخلف وعدم وقوع مضمون ھذا الخبر محتمل ولما کان ھذاباطلاقطعا علم ان القول بجواز الکذب فی اخبار اﷲ تعالی باطل قطعا اھ ملتقطا۔ یعنی خبر الہی میں کذب پر بے شمار خرابیاں اور اسلام میں آشکارا طعن لازم آئیں گے فلاسفہ حشر میں گفتگولائیں گے ملحدین اپنے مکابروں کی جگہ پائیں گے کفار کا ہمیشہ آگ میں رہنا کہ بالاجماع یقینی ہے اس پر یقین اٹھ
جائیں گے کہ اگرچہ خدا نے صریح خبریں دیں مگر ممکن ہے کہ واقع نہ ہوں۔ اور جب یہ امور یقینا باطل ہیں تو ثابت ہوا کہ خبر الہی میں کذب کو ممکن کہنا باطل ہے اھ ملتقطا۔
نص ۵ : شرح عقائد نسفی میں ہے :
کذب کلام اﷲ تعالی محال اھ ملخصا۔ کلام الہی کا کذب محال ہے اھ ملخصا
نص ۶ : طوالع الانوار کی فرع متعلق بمبحث کلام میں ہے :
الکذب نقص والنقص علی اﷲ تعالی محال اھ۔ جھوٹ عیب ہے اور عیب الله تعالی پر محال۔
نص ۳ : اسی بحث تکلیف بالمحال میں ہے :
محال ھو جہلہ کذبہ تعالی عن ذلك ۔ الله تبارك وتعالی کاجہل یا کذب دونوں محال ہیں بر تری ہے اسے ان سے۔
نص۴ : اسی میں ہے :
الکذب فی اخبار اﷲ تعالی فیہ مفاسد لاتحصی ومطا عن فی الاسلام لاتخفی منھا مقال الفلاسفۃ فی المعاد ومجال الملاحدۃ فی العناد وھھنا بطلان ماعلیہ الاجماع من القطع بخلود الکفار فی النار فمع صریح اخبار اﷲ تعالی بہ فجواز الخلف وعدم وقوع مضمون ھذا الخبر محتمل ولما کان ھذاباطلاقطعا علم ان القول بجواز الکذب فی اخبار اﷲ تعالی باطل قطعا اھ ملتقطا۔ یعنی خبر الہی میں کذب پر بے شمار خرابیاں اور اسلام میں آشکارا طعن لازم آئیں گے فلاسفہ حشر میں گفتگولائیں گے ملحدین اپنے مکابروں کی جگہ پائیں گے کفار کا ہمیشہ آگ میں رہنا کہ بالاجماع یقینی ہے اس پر یقین اٹھ
جائیں گے کہ اگرچہ خدا نے صریح خبریں دیں مگر ممکن ہے کہ واقع نہ ہوں۔ اور جب یہ امور یقینا باطل ہیں تو ثابت ہوا کہ خبر الہی میں کذب کو ممکن کہنا باطل ہے اھ ملتقطا۔
نص ۵ : شرح عقائد نسفی میں ہے :
کذب کلام اﷲ تعالی محال اھ ملخصا۔ کلام الہی کا کذب محال ہے اھ ملخصا
نص ۶ : طوالع الانوار کی فرع متعلق بمبحث کلام میں ہے :
الکذب نقص والنقص علی اﷲ تعالی محال اھ۔ جھوٹ عیب ہے اور عیب الله تعالی پر محال۔
حوالہ / References
شرح المقاصد قال وتمسکوا بوجوہ الاول ان حسن الاحسان وقبح العدوان دارالمعارف النعمانیہ لاہور ۲ / ۱۵۲
شرح المقاصد المبحث الخامس التکلیف مالایطاق دارالمعارف النعمانیہ لاہور ۲ / ۱۵۵
شرح المقاصد المبحث الثانی عشر اتفقت الامۃ علی العفوعن الصفاء دارالمعارف النعمانیہ لاہور ۲ / ۲۳۸
شرح العقائد النسفیہ دارالاشاعت العربیہ قندھار ، افغانستان ص۷۱
طوالع الانوار للبیضاوی
شرح المقاصد المبحث الخامس التکلیف مالایطاق دارالمعارف النعمانیہ لاہور ۲ / ۱۵۵
شرح المقاصد المبحث الثانی عشر اتفقت الامۃ علی العفوعن الصفاء دارالمعارف النعمانیہ لاہور ۲ / ۲۳۸
شرح العقائد النسفیہ دارالاشاعت العربیہ قندھار ، افغانستان ص۷۱
طوالع الانوار للبیضاوی
نص ۷ : مواقف کی بحث کلام میں ہے :
انہ تعالی یمتنع علیہ الکذب اتفاقا اما عند المعتزلہ فلان الکذب قبیح وھو سبحانہ لایفعل القبیح واما عندنا فلانہ نقص والنقص علی اﷲ محال اجماعا۔ (ملخصا) یعنی اہلسنت ومعتزلہ سب کا اتفاق ہے کہ الله تعالی کا کذب محال ہے معتزلہ تو اس لئے محال کہتے ہیں کہ کذب برا ہے اور الله تعالی برا فعل نہیں کرتا اور ہم اہلسنت کے نزدیك اس میں دلیل سے ناممکن ہے کہ کذب عیب ہے اور ہر عیب الله تعالی پر بالاجماع محال ہے۔
نص ۸ : مواقف وشرح مواقف کی بحث حسن وقبح میں ہے :
مدرك امتناع الکذب منہ تعالی عندنا لیس ھو قبحہ العقلی حتی یلزم من انتفاء قبحہ ان لایعلم امتناعہ منہ اذلہ مدرك اخر وقد تقدم اھ ملخصا۔ یعنی ہم اشاعرہ کے نزدیك کذب الہی محال ہونے کی دلیل قبح عقلی نہیں ہے کہ اس کے عدم سے لازم آئے کہ کذب الہی محال نہ جانا جائے بلکہ ا س کے لئے دوسری دلیل ہے کہ اوپر گزری یعنی وہ کہ جھوٹ عیب ہے اور الله تعالی میں عیب محال۔
نص۹ : انھیں کی بحث معجزات میں ہے :
قدم فی مسئلۃ الکلام من موقف الالھیات امتناع الکذب علیہ سبحانہ وتعالی ۔ یعنی ہم موقف الہیات سے مسئلہ کلام میں بیان کرآئے کہ الله تعالی کا کذب زنہار ممکن نہیں۔
نص ۱۰ : امام محقق علی الاطلاق کمال الدین محمد مسایرہ میں فرماتے ہیں :
یستحیل علیہ تعالی سمات النقص کالجہل والکذب ۔ جتنی نشانیاں عیب کی ہیں جیسے جہل وکذب سب الله تعالی پر محال ہیں۔
نص ۱۱ : علامہ کمال الدین محمد بن محمد ابن ابی شریف قدس سرہ اس کی شرح مسامرہ میں فرماتے ہیں :
لاخلاف بین الاشعریۃ وغیرہم فی ان کل یعنی اشاعرہ وغیرہ اشاعرہ کسی کو اس میں خلاف نہیں
انہ تعالی یمتنع علیہ الکذب اتفاقا اما عند المعتزلہ فلان الکذب قبیح وھو سبحانہ لایفعل القبیح واما عندنا فلانہ نقص والنقص علی اﷲ محال اجماعا۔ (ملخصا) یعنی اہلسنت ومعتزلہ سب کا اتفاق ہے کہ الله تعالی کا کذب محال ہے معتزلہ تو اس لئے محال کہتے ہیں کہ کذب برا ہے اور الله تعالی برا فعل نہیں کرتا اور ہم اہلسنت کے نزدیك اس میں دلیل سے ناممکن ہے کہ کذب عیب ہے اور ہر عیب الله تعالی پر بالاجماع محال ہے۔
نص ۸ : مواقف وشرح مواقف کی بحث حسن وقبح میں ہے :
مدرك امتناع الکذب منہ تعالی عندنا لیس ھو قبحہ العقلی حتی یلزم من انتفاء قبحہ ان لایعلم امتناعہ منہ اذلہ مدرك اخر وقد تقدم اھ ملخصا۔ یعنی ہم اشاعرہ کے نزدیك کذب الہی محال ہونے کی دلیل قبح عقلی نہیں ہے کہ اس کے عدم سے لازم آئے کہ کذب الہی محال نہ جانا جائے بلکہ ا س کے لئے دوسری دلیل ہے کہ اوپر گزری یعنی وہ کہ جھوٹ عیب ہے اور الله تعالی میں عیب محال۔
نص۹ : انھیں کی بحث معجزات میں ہے :
قدم فی مسئلۃ الکلام من موقف الالھیات امتناع الکذب علیہ سبحانہ وتعالی ۔ یعنی ہم موقف الہیات سے مسئلہ کلام میں بیان کرآئے کہ الله تعالی کا کذب زنہار ممکن نہیں۔
نص ۱۰ : امام محقق علی الاطلاق کمال الدین محمد مسایرہ میں فرماتے ہیں :
یستحیل علیہ تعالی سمات النقص کالجہل والکذب ۔ جتنی نشانیاں عیب کی ہیں جیسے جہل وکذب سب الله تعالی پر محال ہیں۔
نص ۱۱ : علامہ کمال الدین محمد بن محمد ابن ابی شریف قدس سرہ اس کی شرح مسامرہ میں فرماتے ہیں :
لاخلاف بین الاشعریۃ وغیرہم فی ان کل یعنی اشاعرہ وغیرہ اشاعرہ کسی کو اس میں خلاف نہیں
حوالہ / References
مواقف مع شرح المواقف المقصد السابع بحث انہ تعالٰی متکلم منشورات الشریف الرضی قم ایران ۸ / ۱۰۰ ، ۱۰۱
مواقف مع شرح المواقف المرصدا لسادس المقصد الخامس منشورات الشریف الرضی قم ایران ۸ / ۱۹۳
مواقف مع شرح المواقف الموقف السادس فی السمعیات منشورات الشریف الرضی قم ایران ۸ / ۲۴۰
المسایرۃ متن المسامرۃ ختم المصنف کتابہ بیان عقیدہ اہلسنت اجمالا المکتبۃ التجاریۃ الکبرٰی مصر ص۳۹۳
مواقف مع شرح المواقف المرصدا لسادس المقصد الخامس منشورات الشریف الرضی قم ایران ۸ / ۱۹۳
مواقف مع شرح المواقف الموقف السادس فی السمعیات منشورات الشریف الرضی قم ایران ۸ / ۲۴۰
المسایرۃ متن المسامرۃ ختم المصنف کتابہ بیان عقیدہ اہلسنت اجمالا المکتبۃ التجاریۃ الکبرٰی مصر ص۳۹۳
ماکان وصف نقص فالباری تعالی منزہ عنہ وھو محال علیہ تعالی والکذب وصف نقص اھ ملخصا ۔ کہ جو کچھ صفت عیب ہے باری تعالی اس سے پاك ہے اور وہ الله تعالی پرت ممکن نہیں اور کذب صفت عیب ہے۔ (ملخصا)
نص ۱۲ : امام فخر الدین رازی تفسیر کبیر میں فرماتے ہیں :
قول تعالی فلن یخلف اﷲ عہدہ یدل علی انہ سبحانہ وتعال منزہ عن الکذب وعدہ و عیدہ۔ قال اصحابنا لان الکذب وصفۃ نقص والنقص علی اﷲ تعالی محال وقالت المعتزلۃ لان الکذب قبیح لانہ کذب فیستحیل ان یفعلہ فدل علی ان الکذب منہ محال اھ ملخصا۔ الله عزوجل کا فرمانا کہ الله ہرگز اپنا عہد جھوٹا نہ کریگا دلالت کرتاہے کہ مولی تعالی سبحانہ اپنے ہر وعدہ و وعید میں جھوٹ سے منزہ ہے ہمارے اصحاب اہل سنت وجماعت ا س دلیل سے کذب الہی کو نا ممکن جانتے ہیں کہ وہ صفت نقص ہے اور الله عزوجل پر نقص محال اور معتزلہ ا س دلیل سے ممتنع مانتے ہیں کہ کذب قبیح لذاتہ ہے تو باری تعالی عزوجل سے صادر ہونا محال غرض ثابت ہوا کہ کذب الہی اصلا امکان نہیں رکھتا۔ اھ (ملخصا)
نص ۱۳ : الله عزوجل فرماتا ہے :
“ وتمت کلمت ربک صدقا وعدلا لا مبدل لکلمتہ و ہو السمیع العلیم ﴿۱۱۵﴾ “ پوری ہے بات تیرے رب کی سچ اور انصاف میں کوئی بدلنے والا نہیں اس کی باتوں کا اوروہی ہے سنتا جانتاہے۔
امام ممدوح اس آیت کے تحت میں لکھتے ہیں :
اعلم ان ھذہ الایۃ تدل علی ان کلمۃ اﷲ موصوفۃ بصفات کثیرۃ(الی ان قال)الصفۃ الثانیۃ من صفات کلمۃ اﷲ کونھا صدقا والدلیل علی ان الکذب نقص والنقص علی اﷲ تعالی محال ۔ یہ آیت ارشاد فرمائی ہے کہ کذب الله تعالی کی بات بہت صفتون سے موصوف ہے ازانجملہ اس کا سچا ہوناہےاوراس پر دلیل یہ ہے کہ کذب عیب ہے اور عیب الله تعالی پر محال۔
نص ۱۴ : یہیں فرماتے ہیں :
صحۃ الدلائل السمعیۃ موقوفۃ علی ان الکذب علی اﷲ تعالی محال ۔ دلائل قرآن وحدیث کا صحیح ہونا اس پر موقوف ہے کہ کذب الہی محال مانا جائے۔
نص ۱۵ : زیر قولہ تعالی :
نص ۱۲ : امام فخر الدین رازی تفسیر کبیر میں فرماتے ہیں :
قول تعالی فلن یخلف اﷲ عہدہ یدل علی انہ سبحانہ وتعال منزہ عن الکذب وعدہ و عیدہ۔ قال اصحابنا لان الکذب وصفۃ نقص والنقص علی اﷲ تعالی محال وقالت المعتزلۃ لان الکذب قبیح لانہ کذب فیستحیل ان یفعلہ فدل علی ان الکذب منہ محال اھ ملخصا۔ الله عزوجل کا فرمانا کہ الله ہرگز اپنا عہد جھوٹا نہ کریگا دلالت کرتاہے کہ مولی تعالی سبحانہ اپنے ہر وعدہ و وعید میں جھوٹ سے منزہ ہے ہمارے اصحاب اہل سنت وجماعت ا س دلیل سے کذب الہی کو نا ممکن جانتے ہیں کہ وہ صفت نقص ہے اور الله عزوجل پر نقص محال اور معتزلہ ا س دلیل سے ممتنع مانتے ہیں کہ کذب قبیح لذاتہ ہے تو باری تعالی عزوجل سے صادر ہونا محال غرض ثابت ہوا کہ کذب الہی اصلا امکان نہیں رکھتا۔ اھ (ملخصا)
نص ۱۳ : الله عزوجل فرماتا ہے :
“ وتمت کلمت ربک صدقا وعدلا لا مبدل لکلمتہ و ہو السمیع العلیم ﴿۱۱۵﴾ “ پوری ہے بات تیرے رب کی سچ اور انصاف میں کوئی بدلنے والا نہیں اس کی باتوں کا اوروہی ہے سنتا جانتاہے۔
امام ممدوح اس آیت کے تحت میں لکھتے ہیں :
اعلم ان ھذہ الایۃ تدل علی ان کلمۃ اﷲ موصوفۃ بصفات کثیرۃ(الی ان قال)الصفۃ الثانیۃ من صفات کلمۃ اﷲ کونھا صدقا والدلیل علی ان الکذب نقص والنقص علی اﷲ تعالی محال ۔ یہ آیت ارشاد فرمائی ہے کہ کذب الله تعالی کی بات بہت صفتون سے موصوف ہے ازانجملہ اس کا سچا ہوناہےاوراس پر دلیل یہ ہے کہ کذب عیب ہے اور عیب الله تعالی پر محال۔
نص ۱۴ : یہیں فرماتے ہیں :
صحۃ الدلائل السمعیۃ موقوفۃ علی ان الکذب علی اﷲ تعالی محال ۔ دلائل قرآن وحدیث کا صحیح ہونا اس پر موقوف ہے کہ کذب الہی محال مانا جائے۔
نص ۱۵ : زیر قولہ تعالی :
حوالہ / References
المسامرۃ شرح المسایرۃ اتفقوا علی ان ذلك غیر واقع المکتبۃ التجاریۃ الکبرٰی ص۳۹۳
مفاتیح الغیب تحت آیت فلن یخلف اﷲ عہدہ المکتبۃ البہیہ مصر ۳ / ۱۵۹
ا لقرآن الکریم ۶ / ۱۱۵
مفاتیح الغیب تحت آیۃ وقت کلٰمت ربك صدق وعدلًا المطبعۃ البہیۃ المصریۃ مصر ۱۳ / ۶۱۔ ۱۶۰
مفاتیح الغیب(التفسیر الکبیر) تحت آیۃ وتمت کلمت ربك الخ المطبعۃ البہیۃ العربیہ مصر ۱۳ / ۱۶۱
مفاتیح الغیب تحت آیت فلن یخلف اﷲ عہدہ المکتبۃ البہیہ مصر ۳ / ۱۵۹
ا لقرآن الکریم ۶ / ۱۱۵
مفاتیح الغیب تحت آیۃ وقت کلٰمت ربك صدق وعدلًا المطبعۃ البہیۃ المصریۃ مصر ۱۳ / ۶۱۔ ۱۶۰
مفاتیح الغیب(التفسیر الکبیر) تحت آیۃ وتمت کلمت ربك الخ المطبعۃ البہیۃ العربیہ مصر ۱۳ / ۱۶۱
“ ما کان للہ ان یتخذ من ولد سبحنہ “ ۔ الله تعالی کی شان نہیں کہ وہ بیٹا بنائے وہ پاك ہے(ت)
بعض تمسکات معتزلہ کے رد میں فرماتے ہیں :
اجاب اصحابنا عنہ بان الکذب محال علی اﷲ تعالی ۔ اہلسنت نے جواب دیاکہ کذب الہی محال ہے۔
نص ۱۶ : علامہ سعد تفتار زانی شرح مقاصد میں انھیں امام ہمام سے ناقل :
صدق کلام تعالی لما کان عندنا ازلیا امتنع کذبہ لان ماثبت قدمہ امتنع عدمہ ۔ کلام خدا کا صدق جب کہ ہم اہلسنت کے نزدیك ازلی ہے تو اس کا کذب محال ہوا کہ جس چیز کا قدم ثابت ہے اس کا عدم محال ہے۔
تنبیہ : انھیں امام علام کا ارشاد کہ “ کذب الہی کا جواز ماننا قریب بکفر ہے ان شاء الله تعالی تنزیہ چہارم میں آئے گا۔
نص ۱۷ : تفسیر بیضاوی شریف میں ہے :
“ ومن اصدق من اللہ حدیثا ﴿۸۷﴾ “ انکار ان یکون احد اکثر صدقا منہ فانہ لایتطرق الکذب الی خبرہ بوجہ لان نقص وھو علی اﷲ تعالی محال ۔ الله تعالی اس آیت میں انکار فرماتاہے اس لئے کہ کوئی شخص الله سے زیاد ہ سچاہو کہ اس کی خبر تك تو کسی کذب کو کسی طرح راہ ہی نہیں کہ کذب عیب ہے اور عیب الله تعالی پر محال۔
بعض تمسکات معتزلہ کے رد میں فرماتے ہیں :
اجاب اصحابنا عنہ بان الکذب محال علی اﷲ تعالی ۔ اہلسنت نے جواب دیاکہ کذب الہی محال ہے۔
نص ۱۶ : علامہ سعد تفتار زانی شرح مقاصد میں انھیں امام ہمام سے ناقل :
صدق کلام تعالی لما کان عندنا ازلیا امتنع کذبہ لان ماثبت قدمہ امتنع عدمہ ۔ کلام خدا کا صدق جب کہ ہم اہلسنت کے نزدیك ازلی ہے تو اس کا کذب محال ہوا کہ جس چیز کا قدم ثابت ہے اس کا عدم محال ہے۔
تنبیہ : انھیں امام علام کا ارشاد کہ “ کذب الہی کا جواز ماننا قریب بکفر ہے ان شاء الله تعالی تنزیہ چہارم میں آئے گا۔
نص ۱۷ : تفسیر بیضاوی شریف میں ہے :
“ ومن اصدق من اللہ حدیثا ﴿۸۷﴾ “ انکار ان یکون احد اکثر صدقا منہ فانہ لایتطرق الکذب الی خبرہ بوجہ لان نقص وھو علی اﷲ تعالی محال ۔ الله تعالی اس آیت میں انکار فرماتاہے اس لئے کہ کوئی شخص الله سے زیاد ہ سچاہو کہ اس کی خبر تك تو کسی کذب کو کسی طرح راہ ہی نہیں کہ کذب عیب ہے اور عیب الله تعالی پر محال۔
حوالہ / References
القرآن الکریم ۱۹ /۳۵
مفاتیح الغیب(تفسیر کبیر) تحت آیت ماکان الله ان یتخذ من ولد سبحنہ المطبعۃ البہیۃ المصر ۲۱ / ۲۱۷
شرح القاصد المبحث الثانی العشر اتفقت الامۃ علی العفو الخ دارالمعارف نعمانیہ لاہور ۲ / ۲۳۷
انوار التنزیل واسرار التاویل (بیضاوی مع القرآن الکریم)تحت آیۃ ومن اصدق الخ مصطفی البابی مصر ص۹۲
مفاتیح الغیب(تفسیر کبیر) تحت آیت ماکان الله ان یتخذ من ولد سبحنہ المطبعۃ البہیۃ المصر ۲۱ / ۲۱۷
شرح القاصد المبحث الثانی العشر اتفقت الامۃ علی العفو الخ دارالمعارف نعمانیہ لاہور ۲ / ۲۳۷
انوار التنزیل واسرار التاویل (بیضاوی مع القرآن الکریم)تحت آیۃ ومن اصدق الخ مصطفی البابی مصر ص۹۲
نص ۱۸ : تفسیر مدارك شریف میں ہے :
“ ومن اصدق من اللہ حدیثا ﴿۸۷﴾ “ تمییز وھو استفھام بمعنی النفی ای لااحد اصدق منہ فی اخبارہ ووعدہ ووعیدہ لاستحالۃ الکذب علیہ تعالی لقبحہ عــــــہ لکونہ اخبارا عن الشیئ بخلاف ماھو علیہ ۔ آیت میں استفہام انکاری ہے یعنی خبر وعدہ وعید کسی بات میں کوئی شخص الله سے زیادہ سچا نہیں کہ اس کا کذب تو محال بالذات ہے کہ خود اپنے معنی ہی کے رو سے قبیح ہے کہ خلاف واقع خبر دینے کا نام ہے۔
نص ۱۹ : تفسیر علامۃ الوجود سیدی ابی السعود عمادی میں ہے :
“ ومن اصدق من اللہ حدیثا ﴿۸۷﴾ “ انکار لان یکون احد اصدق منہ تعالی فی وعدہ وسائر اخبارہ وبیان لاستحالتہ کیف لاوالکذب محال علیہ سبحنہ دون غیرہ ۔ آیت میں انکار ہے اس کا کہ کو ئی شخص الله تعالی سے زیادہ سچا ہو وعدہ میں یا کسی اور خبر میں اور بیان ہے اس زیادت کے محال ہونے کا اور کیوں نہ محال ہو کہ الله تعالی کا کذب تو ممکن ہی نہیں بخلاف اوروں کے۔
عــــــہ : اقول : استدل قدس سرہ بالقبح اما فی نظر الظاھر فلانہ رحمہ اﷲ تعالی من ائمتنا الما تریدیۃ ولذا عدلت عنہ الاشاعرۃ کصاحب المواقف وصاحب المفاتیح کما سمعت نصھما واما عندالتحقیق فلان عقلیۃ القبح بھذا المعنی من المجمع علیہ بین العقلاء وھوالاء شاعرۃ رحمہم اﷲ تعالی انفسھم ناصون بذلك فلا علیك من ذھول من ذھل کما اومانا الیہ فی صدر البحث واﷲ تعالی اعلم ۱۲ منہ رضی اﷲ تعالی عنہ اقول : علامہ قدس سرہ نے قبح سے استدلال کیا ظاہر نظر میں تو اس لئے کہ آپ رحمہ الله تعالی ہمارے ائمہ ماتریدیہ میں سے ہے اسی لئے اشاعرہ نے قبح سے استدلال نہ کیا جیساکہ آپ نے صاحب مواقف اور صاحب مفاتیح کی نصوص سنیں اورعند التحقیق اس لئے کہ اس معنی میں قبح عقلی ہونا عقلاء اور اشاعرہ میں متقفہ چیز ہے جس کو خود اشاعرہ رحمہم اﷲ تعالی نے بیان فرمایا جیسا کہ ہم نے بحث کی ابتداء میں اشارہ کیا ہے کسی کے ذہول سے تجھ پرکوئی اعتراض نہیں والله تعالی اعلم۱۲ منہ رضی الله تعالی عنہ۔ (ت)
“ ومن اصدق من اللہ حدیثا ﴿۸۷﴾ “ تمییز وھو استفھام بمعنی النفی ای لااحد اصدق منہ فی اخبارہ ووعدہ ووعیدہ لاستحالۃ الکذب علیہ تعالی لقبحہ عــــــہ لکونہ اخبارا عن الشیئ بخلاف ماھو علیہ ۔ آیت میں استفہام انکاری ہے یعنی خبر وعدہ وعید کسی بات میں کوئی شخص الله سے زیادہ سچا نہیں کہ اس کا کذب تو محال بالذات ہے کہ خود اپنے معنی ہی کے رو سے قبیح ہے کہ خلاف واقع خبر دینے کا نام ہے۔
نص ۱۹ : تفسیر علامۃ الوجود سیدی ابی السعود عمادی میں ہے :
“ ومن اصدق من اللہ حدیثا ﴿۸۷﴾ “ انکار لان یکون احد اصدق منہ تعالی فی وعدہ وسائر اخبارہ وبیان لاستحالتہ کیف لاوالکذب محال علیہ سبحنہ دون غیرہ ۔ آیت میں انکار ہے اس کا کہ کو ئی شخص الله تعالی سے زیادہ سچا ہو وعدہ میں یا کسی اور خبر میں اور بیان ہے اس زیادت کے محال ہونے کا اور کیوں نہ محال ہو کہ الله تعالی کا کذب تو ممکن ہی نہیں بخلاف اوروں کے۔
عــــــہ : اقول : استدل قدس سرہ بالقبح اما فی نظر الظاھر فلانہ رحمہ اﷲ تعالی من ائمتنا الما تریدیۃ ولذا عدلت عنہ الاشاعرۃ کصاحب المواقف وصاحب المفاتیح کما سمعت نصھما واما عندالتحقیق فلان عقلیۃ القبح بھذا المعنی من المجمع علیہ بین العقلاء وھوالاء شاعرۃ رحمہم اﷲ تعالی انفسھم ناصون بذلك فلا علیك من ذھول من ذھل کما اومانا الیہ فی صدر البحث واﷲ تعالی اعلم ۱۲ منہ رضی اﷲ تعالی عنہ اقول : علامہ قدس سرہ نے قبح سے استدلال کیا ظاہر نظر میں تو اس لئے کہ آپ رحمہ الله تعالی ہمارے ائمہ ماتریدیہ میں سے ہے اسی لئے اشاعرہ نے قبح سے استدلال نہ کیا جیساکہ آپ نے صاحب مواقف اور صاحب مفاتیح کی نصوص سنیں اورعند التحقیق اس لئے کہ اس معنی میں قبح عقلی ہونا عقلاء اور اشاعرہ میں متقفہ چیز ہے جس کو خود اشاعرہ رحمہم اﷲ تعالی نے بیان فرمایا جیسا کہ ہم نے بحث کی ابتداء میں اشارہ کیا ہے کسی کے ذہول سے تجھ پرکوئی اعتراض نہیں والله تعالی اعلم۱۲ منہ رضی الله تعالی عنہ۔ (ت)
حوالہ / References
مدارك التزیل(تفسیر النسفی) تحت آیہ ومن اصدق من اﷲ الخ دارالکتاب العربی بیروت ۱ / ۲۴۱
ارشاد العقل السلیم تحت آیہ ومن اصدق من اﷲ الخ داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۱۲۔ ۲۱۱
ارشاد العقل السلیم تحت آیہ ومن اصدق من اﷲ الخ داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۱۲۔ ۲۱۱
نص ۲۰ : تفسیر روح البیان میں ہے :
“ ومن اصدق من اللہ حدیثا ﴿۸۷﴾ “ انکار لان یکون احد اکثر صدقامنہ فان الکذب نقص وھو علی اﷲ محال دون غیرہ اھ ملخصا۔ آیت اس امرکا انکار فرماتی ہے کہ کوئی شخص صدق میں الله تعالی سے زائد ہوکر کذب عیب ہے اور وہ خدا پر محال ہے نہ اس کے غیر پر اھ ملخصا۔
نص ۲۱ : شرح السنوسیہ میں ہے :
الکذب علی اﷲ تعالی محال لانہ دناءۃ ۔ الله تعالی پر کذب محال ہے کہ وہ کمینہ پن ہے۔
نص ۲۲ : فاضل سیف الدین ابہر ی کی شرح موقف میں ہے :
ممتنع علیہ الکذب اتفاقا لانہ نقص والنقص علی اﷲ تعالی محال اجماعا ۔ کذب الہی بالاتفاق محال ہے کہ وہ عیب ہے اور ہر عیب الله تعالی پر بالاجماع محال ہے۔
نص ۲۳ : شرح عقائد جلالی میں ہے :
الکذب نقص والنقص علیہ محال فلایکون من المکنات ولاتشملہ القدرۃ کسائر وجوہ النقص علیہ تعالی کالجھل والعجز ۔ جھوٹ عیب ہے اور عیب الله تعالی پر محال تو کذب الہی ممکنات سے نہیں نہ الله تعالی کی قدرت اسے شامل جیسے تمام اسباب عیب مثل جہل وعجز الہی کہ سب محال ہیں اور صلاحیت قدرت سے خارج۔
نص ۲۴ : اسی میں ہے :
لایصح علی تعالی الحرکۃ والانتقال ولا الجھل ولا الکذب لانھما النقص والنقص علی اﷲ تعالی محال ۔ الله تعالی پر حرکت وانتقال وجہل وکذب کچھ ممکن نہیں کہ یہ سب عیب ہیں اور عیب الله تعالی پر محال۔
“ ومن اصدق من اللہ حدیثا ﴿۸۷﴾ “ انکار لان یکون احد اکثر صدقامنہ فان الکذب نقص وھو علی اﷲ محال دون غیرہ اھ ملخصا۔ آیت اس امرکا انکار فرماتی ہے کہ کوئی شخص صدق میں الله تعالی سے زائد ہوکر کذب عیب ہے اور وہ خدا پر محال ہے نہ اس کے غیر پر اھ ملخصا۔
نص ۲۱ : شرح السنوسیہ میں ہے :
الکذب علی اﷲ تعالی محال لانہ دناءۃ ۔ الله تعالی پر کذب محال ہے کہ وہ کمینہ پن ہے۔
نص ۲۲ : فاضل سیف الدین ابہر ی کی شرح موقف میں ہے :
ممتنع علیہ الکذب اتفاقا لانہ نقص والنقص علی اﷲ تعالی محال اجماعا ۔ کذب الہی بالاتفاق محال ہے کہ وہ عیب ہے اور ہر عیب الله تعالی پر بالاجماع محال ہے۔
نص ۲۳ : شرح عقائد جلالی میں ہے :
الکذب نقص والنقص علیہ محال فلایکون من المکنات ولاتشملہ القدرۃ کسائر وجوہ النقص علیہ تعالی کالجھل والعجز ۔ جھوٹ عیب ہے اور عیب الله تعالی پر محال تو کذب الہی ممکنات سے نہیں نہ الله تعالی کی قدرت اسے شامل جیسے تمام اسباب عیب مثل جہل وعجز الہی کہ سب محال ہیں اور صلاحیت قدرت سے خارج۔
نص ۲۴ : اسی میں ہے :
لایصح علی تعالی الحرکۃ والانتقال ولا الجھل ولا الکذب لانھما النقص والنقص علی اﷲ تعالی محال ۔ الله تعالی پر حرکت وانتقال وجہل وکذب کچھ ممکن نہیں کہ یہ سب عیب ہیں اور عیب الله تعالی پر محال۔
حوالہ / References
تفسیر روح البیان تحت ومن اصدق من اﷲ حدیثا المکتبۃ الاسلامیہ الریاض ۲ / ۲۵۵
شرح السنوسیہ
شرح المواقف سیف الدین ابہری(تلمیذ مصنف)
الدوانی علی العقائد العضدیۃ بحث “ علی “ مطبع مجتبائی دہلی ص۷۳
الدوانی علی العقائد العضدیۃ بحث “ لیس “ مطبع مجتبائی دہلی ص۶۶و ۶۷
شرح السنوسیہ
شرح المواقف سیف الدین ابہری(تلمیذ مصنف)
الدوانی علی العقائد العضدیۃ بحث “ علی “ مطبع مجتبائی دہلی ص۷۳
الدوانی علی العقائد العضدیۃ بحث “ لیس “ مطبع مجتبائی دہلی ص۶۶و ۶۷
نص ۲۵ : کنز الفوائد میں ہے :
قدس تعالی شانہ من الکذب شرعا وعقلا اذاھو قبیح یدرك العقل قبحہ من غیر توقف علی شرح فیکون محالا فی حقلہ تعالی عقلا وشرعا کما حققہ ابن الھمام وغیرہ ۔ الله عزوجل بحکم شرح وبحکم عقل ہرطرح کذب سے پاك مانا گیا اس لئے کہ کذب قبیح عقلی ہے کہ عقلی خود بھی اس کے قبح کو مانتی ہے بغیر اس کے کہ اس کاپہچاننا شرح پر موقوف ہیو تو جھوٹ بولنا الله تعالی کے حق میں عقلا وشرعا ہر طرح محال ہے جیسے کہ امام ابن الہمام وغیرہ نے اس کی تحقیق افادہ فرمائی۔
نص ۲۶ : مولانا علی قاری شرح فقہ اکبر امام اعظم ابو حنیفہ رضی الله تعالی عنہ فرماتے ہیں :
الکذب علیہ تعالی محال ۔ الله تعالی پر کذب محال ہے۔
نص ۲۷ : مسلم الثبوت میں ہے :
المعتزلہ قالوا لولاکون الحکم عقلیا لم یمتعن الکذب منہ تعالی عقلا والجواب انہ نقص فیجب تنزیہہ تعالی عنہ کیف وقدمرانہ عقلی باتفاق العقلاء لان ماینافی الوجوب الذاتی من جملۃ النقص فی حق الباری تعالی ومن الاستحالات العقلیۃ علیہ سبحنہ اھ ملخصا مع الشرح۔ خاص یہ کہ معتزلہ نے اہلسنت سے کہا اگرحکم عقلی نہ ہو تو الله تعالی کا کذب محال نہ رہے حالانکہ اسے ہم تم بالاتفاق محال عقلی مانتے ہیں اہلسنت نے جواب دیا کہ کذب اس لئے محال عقلی ہوا کہ وہ عیب ہے تو واجب ہوا کہ الله تعالی کو اس سے منزہ مانیں اس کے عقلی ہونے پر تمام عقلاء کا اجماع ہے وجہ یہ ہے کہ کذب الوہیت کی ضد ہے اور جو کچھ الوہیت کی ضد ہے وہ سب الله تعالی کے حق میں عیب ہے اور اس کی شان میں محال عقلی ہے اھ ملخصا مع الشرح۔
نص ۲۸ : مولانا نظام الدین سہال اس کی شرح میں لکھتے ہیں :
الکذب نقص لان ماینا فی الوجوب الذاتی من الاستحالات العقلیۃ بذالك اثبت الحکماء الذین ھم غیر متشرعین بشریعۃ جھوٹ بولنا عیب ہے کہ جو کچھ خدا ہونے کے منافی ہے وہ سب محال عقلی ہے اس پر دلیل سے وہ حکماء اسے محال جانتے ہیں جو کسی شریعت پر ایمان
قدس تعالی شانہ من الکذب شرعا وعقلا اذاھو قبیح یدرك العقل قبحہ من غیر توقف علی شرح فیکون محالا فی حقلہ تعالی عقلا وشرعا کما حققہ ابن الھمام وغیرہ ۔ الله عزوجل بحکم شرح وبحکم عقل ہرطرح کذب سے پاك مانا گیا اس لئے کہ کذب قبیح عقلی ہے کہ عقلی خود بھی اس کے قبح کو مانتی ہے بغیر اس کے کہ اس کاپہچاننا شرح پر موقوف ہیو تو جھوٹ بولنا الله تعالی کے حق میں عقلا وشرعا ہر طرح محال ہے جیسے کہ امام ابن الہمام وغیرہ نے اس کی تحقیق افادہ فرمائی۔
نص ۲۶ : مولانا علی قاری شرح فقہ اکبر امام اعظم ابو حنیفہ رضی الله تعالی عنہ فرماتے ہیں :
الکذب علیہ تعالی محال ۔ الله تعالی پر کذب محال ہے۔
نص ۲۷ : مسلم الثبوت میں ہے :
المعتزلہ قالوا لولاکون الحکم عقلیا لم یمتعن الکذب منہ تعالی عقلا والجواب انہ نقص فیجب تنزیہہ تعالی عنہ کیف وقدمرانہ عقلی باتفاق العقلاء لان ماینافی الوجوب الذاتی من جملۃ النقص فی حق الباری تعالی ومن الاستحالات العقلیۃ علیہ سبحنہ اھ ملخصا مع الشرح۔ خاص یہ کہ معتزلہ نے اہلسنت سے کہا اگرحکم عقلی نہ ہو تو الله تعالی کا کذب محال نہ رہے حالانکہ اسے ہم تم بالاتفاق محال عقلی مانتے ہیں اہلسنت نے جواب دیا کہ کذب اس لئے محال عقلی ہوا کہ وہ عیب ہے تو واجب ہوا کہ الله تعالی کو اس سے منزہ مانیں اس کے عقلی ہونے پر تمام عقلاء کا اجماع ہے وجہ یہ ہے کہ کذب الوہیت کی ضد ہے اور جو کچھ الوہیت کی ضد ہے وہ سب الله تعالی کے حق میں عیب ہے اور اس کی شان میں محال عقلی ہے اھ ملخصا مع الشرح۔
نص ۲۸ : مولانا نظام الدین سہال اس کی شرح میں لکھتے ہیں :
الکذب نقص لان ماینا فی الوجوب الذاتی من الاستحالات العقلیۃ بذالك اثبت الحکماء الذین ھم غیر متشرعین بشریعۃ جھوٹ بولنا عیب ہے کہ جو کچھ خدا ہونے کے منافی ہے وہ سب محال عقلی ہے اس پر دلیل سے وہ حکماء اسے محال جانتے ہیں جو کسی شریعت پر ایمان
حوالہ / References
کنز الفوائد
منح الروض الازہر شرح الفقہ الاکبر الصفات الفعلیہ مصطفی البابی مصر ص۲۳
فواتح الرحموت شرح مسلم الثبوت بذیل المستصفٰی المقالۃ الثانیہ الخ منشورات الشریف الرضی قم ایران ۱ / ۴۶ ، مسلم الثبوت الطبع الانصاری دہلی ص۱۰
منح الروض الازہر شرح الفقہ الاکبر الصفات الفعلیہ مصطفی البابی مصر ص۲۳
فواتح الرحموت شرح مسلم الثبوت بذیل المستصفٰی المقالۃ الثانیہ الخ منشورات الشریف الرضی قم ایران ۱ / ۴۶ ، مسلم الثبوت الطبع الانصاری دہلی ص۱۰
الاستحالۃ المذکورۃ فان الوجوب والکذب لا یجتمعان کما بین فی اکلام اھ ملخصا۔ نہیں رکھتے کہ خدائی و دروغ گوئی جمع نہ ہوگی جیسا کہ علم کلام میں ثابت ہوچکا ہے اھ ملخصا۔
نص ۲۹ : مولانا بحر العلوم عبدالعلی ملك العلماء فواتح الرحموت میں فرماتے ہیں :
اﷲ تعالی صادق قطعا لاستحالۃ الکذب ھناك ۔ (ملخصا) الله تعالی یقینا سچاہے کہ وہاں کذب کا امکان ہی نہیں۔
نص ۳۰ : افسوس کہ امام الوہابیہ کے نسبا چچا اور علما باپ اور طریقۃ دادا یعنی شاہ عبدالعزیز صاحب دہلوی نے بھی اس پسر نامور کی رعایت نہ فرمائی کہ تفسیر عزیزی میں زیر قولہ تعالی “ فلن یخلف اللہ عہدہ “ (الله تعالی ہرگزاپنے عہد کے خلاف نہیں فرماتا۔ ت)یوں تصریح کی ٹھہرائی :
خبر اوتعالی کلام ازلی اوست وکذب درکلام نقصانے ست عظیم کہ ہرگز بصفات اوراہ نمی یابد در حق اوتعالی کہ مبراز جمیع عیوب ونقائص ست خلاف خبر مطقا نقصان ست اھ ملخصا۔ الله تعالی کی خبر ازلی ہے کلام میں جھوٹ کا ہونا عظیم نقص ہے لہذا وہ الله تعالی کی صفات میں ہرگز راہ نہیں پاسکتا الله تعالی کہ تمام نقائص وعیوب سے پاك ہے اس کی حق میں خبرکے خلاف ہونا سراپا نقص ہے اھ ملخصا(ت)
مدعیان جدید سے پوچھا جائے جناب باری میں کہاں تك نقصان مانتے ہیں ولاحول ولاقوۃ الا بالله العلی العظیم الله تعالی سچا ادب نصیب فرمائے۔ آمین!
یہاں نصوص ائمہ وتصریحات علماء میں نہایت کثرت اورجس قدر فقیر نے ذکر کئے عاقل منصف کے لئے ان میں کفایت بلکہ ایسے مسائل میں ہنگام تنبہ یا ادنی تنبیہ پر سلامت عقلی ونورایمان دوشاہد عدل کی گواہی معتبر
واذ وعیت ما القی علیك الیراع وتبین الاجماع وبان ان لیس لاحد نزاع فلاعلیك من اضطراب مضطرب الحمد اﷲ المنزہ عن الکذب۔ مذکورہ قیمتی گفتگو اگر قارئین نے محفوظ کرلی ہے تو واضح ہوگیا کہ یہ بات اجماعی ہے اور اس میں کسی کو اختلاف نہیں لہذا اضطراب ختم ہوجانا چاہئے تمام تعریف الله تعالی کی جو کذب سے مبراہے۔ (ت)
نص ۲۹ : مولانا بحر العلوم عبدالعلی ملك العلماء فواتح الرحموت میں فرماتے ہیں :
اﷲ تعالی صادق قطعا لاستحالۃ الکذب ھناك ۔ (ملخصا) الله تعالی یقینا سچاہے کہ وہاں کذب کا امکان ہی نہیں۔
نص ۳۰ : افسوس کہ امام الوہابیہ کے نسبا چچا اور علما باپ اور طریقۃ دادا یعنی شاہ عبدالعزیز صاحب دہلوی نے بھی اس پسر نامور کی رعایت نہ فرمائی کہ تفسیر عزیزی میں زیر قولہ تعالی “ فلن یخلف اللہ عہدہ “ (الله تعالی ہرگزاپنے عہد کے خلاف نہیں فرماتا۔ ت)یوں تصریح کی ٹھہرائی :
خبر اوتعالی کلام ازلی اوست وکذب درکلام نقصانے ست عظیم کہ ہرگز بصفات اوراہ نمی یابد در حق اوتعالی کہ مبراز جمیع عیوب ونقائص ست خلاف خبر مطقا نقصان ست اھ ملخصا۔ الله تعالی کی خبر ازلی ہے کلام میں جھوٹ کا ہونا عظیم نقص ہے لہذا وہ الله تعالی کی صفات میں ہرگز راہ نہیں پاسکتا الله تعالی کہ تمام نقائص وعیوب سے پاك ہے اس کی حق میں خبرکے خلاف ہونا سراپا نقص ہے اھ ملخصا(ت)
مدعیان جدید سے پوچھا جائے جناب باری میں کہاں تك نقصان مانتے ہیں ولاحول ولاقوۃ الا بالله العلی العظیم الله تعالی سچا ادب نصیب فرمائے۔ آمین!
یہاں نصوص ائمہ وتصریحات علماء میں نہایت کثرت اورجس قدر فقیر نے ذکر کئے عاقل منصف کے لئے ان میں کفایت بلکہ ایسے مسائل میں ہنگام تنبہ یا ادنی تنبیہ پر سلامت عقلی ونورایمان دوشاہد عدل کی گواہی معتبر
واذ وعیت ما القی علیك الیراع وتبین الاجماع وبان ان لیس لاحد نزاع فلاعلیك من اضطراب مضطرب الحمد اﷲ المنزہ عن الکذب۔ مذکورہ قیمتی گفتگو اگر قارئین نے محفوظ کرلی ہے تو واضح ہوگیا کہ یہ بات اجماعی ہے اور اس میں کسی کو اختلاف نہیں لہذا اضطراب ختم ہوجانا چاہئے تمام تعریف الله تعالی کی جو کذب سے مبراہے۔ (ت)
حوالہ / References
شرح مسلم الثبوت نظام الدین سہالی
فواتح الرحموت شرح مسلم الثبوت بذیل المصطفی الباب الثانی فی الحکم منشورات الشریف الرضی قم ایران ۱ / ۶۲
ا لقرآان الکریم ۲ / ۸۰
فتح العزیز(تفسیر عزیزی) تحت آیۃ فلن یخلف الله عھدہ پ آلم درالکتب لال کنواں دہلی ص۳۰۷
فواتح الرحموت شرح مسلم الثبوت بذیل المصطفی الباب الثانی فی الحکم منشورات الشریف الرضی قم ایران ۱ / ۶۲
ا لقرآان الکریم ۲ / ۸۰
فتح العزیز(تفسیر عزیزی) تحت آیۃ فلن یخلف الله عھدہ پ آلم درالکتب لال کنواں دہلی ص۳۰۷
تنزیہ دوم دلائل قاہرہ و حجج باہرہ میں : فقیر غفرالله تعالی بتوفیق مولی سبحانہ وتعالی ان مختصر سطور میں بلحاظ ایجاز کذب باری عزاسمہ کے محال صریح اور توہم امکان کے باطل قبیح ہونے پر صرف تیس دلیلیں ذکر کرتاہے جن سے خمسہ اولی کلمات طیبات ائمہ کرام وعلمائے عظام علیہم رحمۃ الملك المنعام میں ارشاد وانعام ہوئیں اور باقی پچیس ہادی اجل وعزوجل کے فیض ازل سے عبد اذل کے قلب پر القاء کی گئیں والحمد لله رب العلمین۔
دلیل اول : کہ نصوص سابقہ میں مکرر گزری جس پر ۱طوالع وشرح ۲مقاصد و۳مسایرہ و۴مسامرہ و۵مفاتیح الغیب و۶ مدارك و۷بیضاوی وارشاد ۸العقل و۹روح البیان و۱۰شرح سنوسیہ و۱۱شرح ابہری و۱۲شرح عقائد جلالی و۱۳ کنز الفوائد و۱۴مسلم الثبوت و۱۵شرح نظامی و۱۶فواتح الرحموت وغیرہا کتب کلام وتفیسر واصول میں تاویل فرمائی کہ کذب عیب ہے اور ہر عیب باری عزوجل کے حق میں محال اور فی الواقع یہ کلیہ اصول اسلام وقواعد علم کلام سے ایك اصل عظیم و قاعدہ جلیلہ ہے جس پر تمام عقائد تنزیہ بلکہ مسائل صفات ثبوتیہ بھی متفرع کمالایخفی علی من طالع کلمات القوم(جیسا کہ ہر اس شخص پر مخفی نہیں جو قوم کے کلمات سے آگاہ ہے۔ ت)شرح عقائد نسفی میں ہے :
الحی القادر العلیم السمیع البصیر الشائی المرید لان اضدادھا نقائص یجب تنزیہ اﷲ تعالی عنہا ۔ (ملخصا) زندہ قادر جاننے والا سمیع بصیر مشیت والا ارادے والا ہے کیونکہ ان کے اضداد نقائص ہیں جن سے الله تعالی کا بری ہونا لازم ہے۔ (ت)
شرح سنوسیہ میں ہے :
اما برھان وجوب السمع والبصر والکلام اﷲ تعالی فالکتاب والسنۃ والاجماع وایضا لو لم یتصف بھا لزم ان یتصف باضدادھا وھی نقائص والنقص علیہ تعالی محال ۔ الله تعالی کے لئے سمع بصر اور کلام کا ہونا لازم ہے اس پر دلیل کتاب سنت اور اجماع ہے اور یہ بھی اگر وہ ان سے متصف نہ ہو تو ان کی ضد سے متصف ہوگا اور وہ نقائص ہیں اور نقص الله تعالی کے لئے محال ہے۔ (ت)
شرح مواقف میں ہے :
دلیل اول : کہ نصوص سابقہ میں مکرر گزری جس پر ۱طوالع وشرح ۲مقاصد و۳مسایرہ و۴مسامرہ و۵مفاتیح الغیب و۶ مدارك و۷بیضاوی وارشاد ۸العقل و۹روح البیان و۱۰شرح سنوسیہ و۱۱شرح ابہری و۱۲شرح عقائد جلالی و۱۳ کنز الفوائد و۱۴مسلم الثبوت و۱۵شرح نظامی و۱۶فواتح الرحموت وغیرہا کتب کلام وتفیسر واصول میں تاویل فرمائی کہ کذب عیب ہے اور ہر عیب باری عزوجل کے حق میں محال اور فی الواقع یہ کلیہ اصول اسلام وقواعد علم کلام سے ایك اصل عظیم و قاعدہ جلیلہ ہے جس پر تمام عقائد تنزیہ بلکہ مسائل صفات ثبوتیہ بھی متفرع کمالایخفی علی من طالع کلمات القوم(جیسا کہ ہر اس شخص پر مخفی نہیں جو قوم کے کلمات سے آگاہ ہے۔ ت)شرح عقائد نسفی میں ہے :
الحی القادر العلیم السمیع البصیر الشائی المرید لان اضدادھا نقائص یجب تنزیہ اﷲ تعالی عنہا ۔ (ملخصا) زندہ قادر جاننے والا سمیع بصیر مشیت والا ارادے والا ہے کیونکہ ان کے اضداد نقائص ہیں جن سے الله تعالی کا بری ہونا لازم ہے۔ (ت)
شرح سنوسیہ میں ہے :
اما برھان وجوب السمع والبصر والکلام اﷲ تعالی فالکتاب والسنۃ والاجماع وایضا لو لم یتصف بھا لزم ان یتصف باضدادھا وھی نقائص والنقص علیہ تعالی محال ۔ الله تعالی کے لئے سمع بصر اور کلام کا ہونا لازم ہے اس پر دلیل کتاب سنت اور اجماع ہے اور یہ بھی اگر وہ ان سے متصف نہ ہو تو ان کی ضد سے متصف ہوگا اور وہ نقائص ہیں اور نقص الله تعالی کے لئے محال ہے۔ (ت)
شرح مواقف میں ہے :
حوالہ / References
شرح عقائد نسفی صفات باری تعالٰی دارالاشاعۃ العربیہ قندھار افغانستان ص۳۰
شرح السنوسیہ
شرح السنوسیہ
لاطریق لنا الی معرفۃ عــــــہ۱ الصفات سوی الاستدلال بالافعال والتنزیہ عن النقائص ۔ ہمارے لئے معرفت صفات پر افعال اور نقائص سے تنزیہ کے ساتھ استدلا کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ (ت)
اقول : وبالله التوفیق(میں کہتاہوں اور توفیق الله تعالی سے ہے۔ ت)بداہت عقل شاہد ہے کہ الله عز مجدہ جمیع عیوب ونقائص سے منزہ اور اس کا ادراك عــــــہ۲ شرح پر موقوف نہیں ولہذا بہت عقلائے غیر اہل ملت بھی تنزیہ باری جل مجدہ ہمارے موافق ہوئے۔
وان یثبتوا بجھلم مایستلزم النقص غیر دارکین انہ کذلك بل زاعمین عــــــہ۳ انہ ھوالکمال والاعبرۃ بسخافات الحمقاء الذین لاعقل لھم ولادین اعاذنا اﷲ تعالی من شرھم اجمین۔ اگرانھوں نے اپنی جہالت کے سبب ایسی باتیں ثابت کیں جو نقص کو مستلزم تھیں ہاں ان کا ارادہ نقص ثابت کرنے کا نہ تھا ان کے گمان میں یہ کمال تھا لیکن ایسے بو وقوفوں کی لا یعنی باتوں کا کیا اعتبار جن کے پاس عقل نہ دین الله تعالی ان کے شر سے محفوظ رکھے (ت)
یہاں تك کہ فلاسفہ نے بھی بزعم خود اس اصل اصیل پر مسائل متفرع کئے۔
منھا مافی المواقف وشرحہا قال جمہور الفلاسفۃ لایعلم الجزئیات المتغیرۃ والافاذا علم مثلا ان میں سے ایك وہ ہے جو مواقف اور اس کی شرح میں ہے جمہور فلاسفہ کہتے ہیں کہ الله تعالی تبدیل
عــــــہ۱ : ای عقلا ازفیہ الکلام بدلیل الحصر فافادان التنزہ عن النقائص واجب لذات الواجب عقلا فالاتصاف بشی منھا محال عقلا ۱۲ منہ
عــــــہ ۲ : وقد صرح بہ فی الکنز وشرح المواقف اما الکنز فقد سمعت نصہ واما السید فلما عرقت انفا ۱۲ منہ
عــــــہ ۳ : کما قالو ا فی صدور العالم بالایجاب کما سیأتی ۱۲ منہ یعنی عقلی طورپر کیونکہ کلام اسی میں ہے اس کی دلیل حصر ہے اس سے واجب تعالی کی ذات کا نقائص سے وجوبا پاك ہونے کا عقلا فائدہ حاصل ہوا تو نقائص سے متصف ہونا عقلا محال ہوگا ۱۲ منہ(ت)
اس پر کنز الفوائد اور شرح مواقف میں تصریح کی ہے کنز کی نص آپ نے سن لی اور سید کی بات ابھی آپ نے معلوم کرلی ہے ۱۲ منہ(ت)
جیسا کہ فلاسفہ نے عالم کے صدورکو واجب کہا ہے جیسے عنقریب آئے گا ۱۲ منہ(ت)
اقول : وبالله التوفیق(میں کہتاہوں اور توفیق الله تعالی سے ہے۔ ت)بداہت عقل شاہد ہے کہ الله عز مجدہ جمیع عیوب ونقائص سے منزہ اور اس کا ادراك عــــــہ۲ شرح پر موقوف نہیں ولہذا بہت عقلائے غیر اہل ملت بھی تنزیہ باری جل مجدہ ہمارے موافق ہوئے۔
وان یثبتوا بجھلم مایستلزم النقص غیر دارکین انہ کذلك بل زاعمین عــــــہ۳ انہ ھوالکمال والاعبرۃ بسخافات الحمقاء الذین لاعقل لھم ولادین اعاذنا اﷲ تعالی من شرھم اجمین۔ اگرانھوں نے اپنی جہالت کے سبب ایسی باتیں ثابت کیں جو نقص کو مستلزم تھیں ہاں ان کا ارادہ نقص ثابت کرنے کا نہ تھا ان کے گمان میں یہ کمال تھا لیکن ایسے بو وقوفوں کی لا یعنی باتوں کا کیا اعتبار جن کے پاس عقل نہ دین الله تعالی ان کے شر سے محفوظ رکھے (ت)
یہاں تك کہ فلاسفہ نے بھی بزعم خود اس اصل اصیل پر مسائل متفرع کئے۔
منھا مافی المواقف وشرحہا قال جمہور الفلاسفۃ لایعلم الجزئیات المتغیرۃ والافاذا علم مثلا ان میں سے ایك وہ ہے جو مواقف اور اس کی شرح میں ہے جمہور فلاسفہ کہتے ہیں کہ الله تعالی تبدیل
عــــــہ۱ : ای عقلا ازفیہ الکلام بدلیل الحصر فافادان التنزہ عن النقائص واجب لذات الواجب عقلا فالاتصاف بشی منھا محال عقلا ۱۲ منہ
عــــــہ ۲ : وقد صرح بہ فی الکنز وشرح المواقف اما الکنز فقد سمعت نصہ واما السید فلما عرقت انفا ۱۲ منہ
عــــــہ ۳ : کما قالو ا فی صدور العالم بالایجاب کما سیأتی ۱۲ منہ یعنی عقلی طورپر کیونکہ کلام اسی میں ہے اس کی دلیل حصر ہے اس سے واجب تعالی کی ذات کا نقائص سے وجوبا پاك ہونے کا عقلا فائدہ حاصل ہوا تو نقائص سے متصف ہونا عقلا محال ہوگا ۱۲ منہ(ت)
اس پر کنز الفوائد اور شرح مواقف میں تصریح کی ہے کنز کی نص آپ نے سن لی اور سید کی بات ابھی آپ نے معلوم کرلی ہے ۱۲ منہ(ت)
جیسا کہ فلاسفہ نے عالم کے صدورکو واجب کہا ہے جیسے عنقریب آئے گا ۱۲ منہ(ت)
حوالہ / References
شرح المواقف المقصدالثامن فی صفات اختلف فیہا منشورات الشریف الرضی قم ایران ۴ / ۱۰۵
ان زیدا فی الدار الان ثم خرج زید عنھا فاما ان یزول ذلك ویعلم انہ لیس فی الدار اویبقی ذلك العلم بحالہ والاول یوجب التغیر فی ذاتہ من صفۃ الی اخری والثانی یوجب الجھل وکلاھما نقص یجب تنزیھہ تعالی عنہ اھ ومنھا مافیہ ایضا اما الفلاسفۃ فانکروا القدرۃ بالمعنی المذکور لاعتقادھم انہ نقصان واثبتوالہ الایجاب زعمامنھم انہ الکمال التام ۔ ان میں سے ایك وہ ہے جو مواقف اور اس کی شرح میں ہے جمہور فلاسفہ کہتے ہیں کہ الله تعالی تبدیل ہونے والی جزئیات کا علم نہیں رکھتا ورنہ اگر وہ جانتا ہو مثلا زید اس وقت دار میں ہے پھر وہ وہاں سے نکل گیا تو یا تو سابقہ علم زائل ہوجائے گا اور جان لے گا کہ وہ دار میں نہیں یا پہلا علم ہی بحال رہے گا پہلی صورت میں اس کی ذات اقدس میں ایك صفت سے دوسری صفت کی طرف تغیر اور دوسری صورت میں جہل لازم آئے گا اور یہ دونوں باتیں نقص ہیں جن سے الله تعالی کا منزہ ہونا ضروری ہے اور ان میں سے ایك یہ بھی ہے کہ فلاسفہ نے معنی مذکورہ کے ساتھ قدرت کا انکار کیا ہے کیونکہ ان کے اعتقاد میں یہ نقص ہے اورانھوں نے اس کی ذات اقدس کے لئے یہ زعم کرتے ہوئے ایجاب کا ثبوت کیا ہے کہ یہ کمال تام ہے۔ (ت)
پھر شرع مطہر کی طرف رجوع کیجئے تو مسئلہ اعلی ضروریات دین سے ہے جس طرح قرآن وحدیث نے باری جل مجدہ کی توحید ثابت فرمائی یو ہیں ہر عیب ومنقصت سے اس کی تنزیہ وتقدیس اور خود کلمہ طیبہ سبحانہ الله واسمائے حسنی سبوح وقدوس کے معنی ہی یہ ہیں ولہذا تسبیحات حضور پر نورسید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم میں وارد سبحان الذی لاینبغی التسبیح الالہ (پاك ہے وہ ذات کہ پاکیزگی فقط اسی کے لئے ہے۔ ت)جس کے باعث توقروہ پر وقف اور تسبحوہ کو اس سے فصل کیا گیا پر مرتبہ اجمال میں اس پر اجماع اہل اسلام منعقد کوئی لا الہ الا الله محمد رسول اللہ(صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم)کہنے والا اپنے رب عزوجل پر عیوب ونقائص روانہ رکھنے گا۔
فالاجماع فی الدرجہ الثالثۃ من الادلۃ لاانہ العمدۃ فی اثبات المسئلۃ کما وقع عن بعض الاجلۃ فاعرف۔ دلائل شرعیہ میں اجماع کا تیسرا درجہ ہے یہ نہیں کہ اجماع اثبات مسئلہ کے لئے بہتر صورت ہے جیسا کہ بعض بزرگوں سے ہے اسے اچھی طرح سمجھ لیجئے۔ (ت)
پھر شرع مطہر کی طرف رجوع کیجئے تو مسئلہ اعلی ضروریات دین سے ہے جس طرح قرآن وحدیث نے باری جل مجدہ کی توحید ثابت فرمائی یو ہیں ہر عیب ومنقصت سے اس کی تنزیہ وتقدیس اور خود کلمہ طیبہ سبحانہ الله واسمائے حسنی سبوح وقدوس کے معنی ہی یہ ہیں ولہذا تسبیحات حضور پر نورسید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم میں وارد سبحان الذی لاینبغی التسبیح الالہ (پاك ہے وہ ذات کہ پاکیزگی فقط اسی کے لئے ہے۔ ت)جس کے باعث توقروہ پر وقف اور تسبحوہ کو اس سے فصل کیا گیا پر مرتبہ اجمال میں اس پر اجماع اہل اسلام منعقد کوئی لا الہ الا الله محمد رسول اللہ(صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم)کہنے والا اپنے رب عزوجل پر عیوب ونقائص روانہ رکھنے گا۔
فالاجماع فی الدرجہ الثالثۃ من الادلۃ لاانہ العمدۃ فی اثبات المسئلۃ کما وقع عن بعض الاجلۃ فاعرف۔ دلائل شرعیہ میں اجماع کا تیسرا درجہ ہے یہ نہیں کہ اجماع اثبات مسئلہ کے لئے بہتر صورت ہے جیسا کہ بعض بزرگوں سے ہے اسے اچھی طرح سمجھ لیجئے۔ (ت)
حوالہ / References
شرح المواقف المقصد الثالث فی علمہ تعالٰی منشورات الشریف الرضی قم ایران ۸ / ۷۴
شرح المواقف المقصد الثانی فی قدرتہ تعالٰی منشورات الشریف الرضی قم ایران ۸ / ۴۹
شرح المواقف المقصد الثانی فی قدرتہ تعالٰی منشورات الشریف الرضی قم ایران ۸ / ۴۹
دلیل دوم : العظمۃ لله اگر کذب الہی ممکن ہو تو اسلام پر وہ طعن لازم آئیں کہ اٹھائے نہ اٹھیں کافروں ملحدوں کو اعتراض ومقال وعناد وجدال کی وہ مجالیں ملیں کہ مٹائے نہ مٹیں۔ دلائل قرآن عظیم ووحی حکیم یك دست ہاتھ سے جائیں حشر ونشر وحساب وکتاب وجنت ونار وثواب وعذاب کسی پر یقین کی کوئی راہ نہ پائیں کہ آخر ان امور پر ایمان صرف اخبار الہی سے ہے جب معاذالله کذب الہی ممکن ہو تو عقل کو ہر خبرالہی میں احتمال رہے گا شاید ہونہی فرمادی ہو شاید ٹھیك نہ پڑے سبحنہ وتعالی عمایصفون ولاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم(پاك اور بلند ہے الله تعالی کی ذات جس کی عبارت سے جو وہ بیان کرتے ہیں ولاحول ولاقوۃ الابالله العلی العظیم۔ ت)یہ دلیل شرع مقاصد میں افادہ فرمائی جس کی عبارت نص چہارم میں گزری اور امام رازی نے بھی تفسیر کبیر میں زیر قولہ تعالی وتمت کلمت ربك صدقا وعدلا(پوری ہے بات تیرے رب کی سچ وانصاف میں۔ ت)اس کی طرف اشعار کیا کذب الہی کے محال ہونے پر دلیل عقلی قائم کرکے فرماتے ہیں :
ولایجوز اثبات ان الکذب علی اﷲ محال بالدلائل السمعیۃ لان صحۃ الدلائل السمعیۃ موقوفۃ علی ان الکذب علی اﷲ محال فلو اثبتنا امتناع الکذب علی اﷲ تعالی بالدلائل السمعیۃ لزم الدور و ھو باطل ۔ الله تعالی سے کذب کے محال ہونے کو دلائل سمعیہ سے ثابت کرنا جائز ہی نہیں کیونکہ خود ان دلائل سمعیہ کی صحت اس پر موقوف ہے کہ کذب الله تعالی سے محال ہے اگر ہم الله تعالی کسے امتناعی کذب کو دلائل سمعیہ سے ثابت کریں گے تو دور لازم آجائے گا جو باطل ہے۔ (ت)
اقول : وبالله التوفیق۔ تنویردلیل یہ ہے کہ عقلی جس امر کو ممکن جانے گی اور ممکن وہی جسے وجود وعدم وجود دونوں سے یکساں نسبت ہوتو چاہئے وہ امر کیسا ہی مستعبد ہو مگر عقل از پیش خویش اس کے ازلا ابدا عدم وقوع پر جزم نہیں کرسکتی کہ ہر ممکن مقدور اور ہر مقدور صالح تعلق ارادہ اور ارادہ الہیہ امر غیب ہے جس تك عقل کی اصلا رسائی نہیں پھر وہ بطور خود کیونکر کہہ سکتی ہے کہ اگرچہ کذب الہی زیر قدرت ہے مگر مجھے اس کے ارادہ پر خبر ہے کہ ازل سے ابد تك بولا نہ بولے ارادہ پر حکم وہیں کرسکتے ہیں جہاں خود صاحب ارادہ جل مجدہ خبر دے کہ فلاں امر ہم کبھی صادر نہ فرمائیں گے کقولہ تعالی :
“ لا یکلف اللہ نفسا الا وسعہا “ ۔ الله تعالی کسی نفس کو ا س کی طاقت سے بڑھ کر تکلیف نہیں دیتا۔ (ت)
ولایجوز اثبات ان الکذب علی اﷲ محال بالدلائل السمعیۃ لان صحۃ الدلائل السمعیۃ موقوفۃ علی ان الکذب علی اﷲ محال فلو اثبتنا امتناع الکذب علی اﷲ تعالی بالدلائل السمعیۃ لزم الدور و ھو باطل ۔ الله تعالی سے کذب کے محال ہونے کو دلائل سمعیہ سے ثابت کرنا جائز ہی نہیں کیونکہ خود ان دلائل سمعیہ کی صحت اس پر موقوف ہے کہ کذب الله تعالی سے محال ہے اگر ہم الله تعالی کسے امتناعی کذب کو دلائل سمعیہ سے ثابت کریں گے تو دور لازم آجائے گا جو باطل ہے۔ (ت)
اقول : وبالله التوفیق۔ تنویردلیل یہ ہے کہ عقلی جس امر کو ممکن جانے گی اور ممکن وہی جسے وجود وعدم وجود دونوں سے یکساں نسبت ہوتو چاہئے وہ امر کیسا ہی مستعبد ہو مگر عقل از پیش خویش اس کے ازلا ابدا عدم وقوع پر جزم نہیں کرسکتی کہ ہر ممکن مقدور اور ہر مقدور صالح تعلق ارادہ اور ارادہ الہیہ امر غیب ہے جس تك عقل کی اصلا رسائی نہیں پھر وہ بطور خود کیونکر کہہ سکتی ہے کہ اگرچہ کذب الہی زیر قدرت ہے مگر مجھے اس کے ارادہ پر خبر ہے کہ ازل سے ابد تك بولا نہ بولے ارادہ پر حکم وہیں کرسکتے ہیں جہاں خود صاحب ارادہ جل مجدہ خبر دے کہ فلاں امر ہم کبھی صادر نہ فرمائیں گے کقولہ تعالی :
“ لا یکلف اللہ نفسا الا وسعہا “ ۔ الله تعالی کسی نفس کو ا س کی طاقت سے بڑھ کر تکلیف نہیں دیتا۔ (ت)
حوالہ / References
مفاتیح الغیب تحت آیۃ وتمت کلمت ربك المطبعۃ البہیہ مصر ۱۳ / ۱۶۱
القرآن الکریم ۲ /۲۸۶
القرآن الکریم ۲ /۲۸۶
وقولہ تعالی :
“ یرید اللہ بکم الیسر ولا یرید بکم العسر۫ “ ۔ الله تعالی تمھارے ساتھ آسانی کا ارادہ فرماتاہے تم پر تنگی کا ارادہ نہیں فرماتا۔ (ت)
امام فخر الدین رازی تفسیر سورہ بقر میں زیر آیۃ کریمہ “ ام تقولون علی اللہ ما لا تعلمون﴿۸۰﴾ “ (یا تم الله تعالی کے بارے میں ایسی بات کہتے ہو جس کا تمھیں علم نہیں۔ ت)فرماتے ہیں :
الایۃ تدل علی فوائد(الی ان قال)ثانیہا ان کل ماجاز وجودہ وعدمہ عقلالم یجز المصیر الی الاثبات اوالی النفی لابدلیل سمعی ۔ یہ آیت مبارك ان فوائد پر دال ہے(آگے چل کر کہا)دوسرا فائدہ یہ ہے کہ جس شیئ کا وجود ودم عقلا جائز ہو اس کے اثبات ونفی کے لئے سمعی کی طرف رجوع ضروری ہے۔ (ت)
اور تفسیر سورہ انعام میں زیر قول تعالی : قل اﷲ شہید بینی وبینکم قف(فرمادیجئے الله تعالی میرے اور تمھارے درمیان گواہ ہے۔ ت)فرماتے ہیں :
المطالب علی اقسام ثلثۃ منھا ما یمتنع اثباتہ بالدلائل السمعیۃ فان کل ما یتوقف صحۃ السمع علی صحت امتنع اثباتہ بالسمع والالزم الدور ومنھا مایمتنع اثباتہ بالعقل وھو کل شیئ یصح وجودہ ویصح عدمہ عقلا فلا امتناع فی احد الطرفین اصلا فالقطع علی احد الطرفین بعینہ لایمکن الا بالدلیل السمعی الخ۔ مطالب کی تین اقسام ہیں : ایك جن کا اثبات دلائل سمعیہ سے ممتنع ہے کیونکہ ہر وہ چیز جس کا اثبات صحت سمع پر موقوف ہے اس کا اثبات سمع سے نہیں ہوسکتا ورنہ دور لازم آئے گا دوسراجن کا اثبات عقل سے ممتنع ہے اور وہ ہر شی ہے جس کا وجود وعدم عقلا صحیح ہو وہ دونوں میں سے کوئی ممتنع نہ ہو تو اب ایك جانب میں یقین دلیل سمعی کے بغیر ممکن نہیں الخ (ت)
امام الحرمین قدس سرہ کتاب الارشاد میں ارشاد فرماتے ہیں :
اعلموا وفقکم اﷲ تعالی ان اصول العقائد جان لو(الله تعالی تمھیں توفیق دے)اصول عقائد
“ یرید اللہ بکم الیسر ولا یرید بکم العسر۫ “ ۔ الله تعالی تمھارے ساتھ آسانی کا ارادہ فرماتاہے تم پر تنگی کا ارادہ نہیں فرماتا۔ (ت)
امام فخر الدین رازی تفسیر سورہ بقر میں زیر آیۃ کریمہ “ ام تقولون علی اللہ ما لا تعلمون﴿۸۰﴾ “ (یا تم الله تعالی کے بارے میں ایسی بات کہتے ہو جس کا تمھیں علم نہیں۔ ت)فرماتے ہیں :
الایۃ تدل علی فوائد(الی ان قال)ثانیہا ان کل ماجاز وجودہ وعدمہ عقلالم یجز المصیر الی الاثبات اوالی النفی لابدلیل سمعی ۔ یہ آیت مبارك ان فوائد پر دال ہے(آگے چل کر کہا)دوسرا فائدہ یہ ہے کہ جس شیئ کا وجود ودم عقلا جائز ہو اس کے اثبات ونفی کے لئے سمعی کی طرف رجوع ضروری ہے۔ (ت)
اور تفسیر سورہ انعام میں زیر قول تعالی : قل اﷲ شہید بینی وبینکم قف(فرمادیجئے الله تعالی میرے اور تمھارے درمیان گواہ ہے۔ ت)فرماتے ہیں :
المطالب علی اقسام ثلثۃ منھا ما یمتنع اثباتہ بالدلائل السمعیۃ فان کل ما یتوقف صحۃ السمع علی صحت امتنع اثباتہ بالسمع والالزم الدور ومنھا مایمتنع اثباتہ بالعقل وھو کل شیئ یصح وجودہ ویصح عدمہ عقلا فلا امتناع فی احد الطرفین اصلا فالقطع علی احد الطرفین بعینہ لایمکن الا بالدلیل السمعی الخ۔ مطالب کی تین اقسام ہیں : ایك جن کا اثبات دلائل سمعیہ سے ممتنع ہے کیونکہ ہر وہ چیز جس کا اثبات صحت سمع پر موقوف ہے اس کا اثبات سمع سے نہیں ہوسکتا ورنہ دور لازم آئے گا دوسراجن کا اثبات عقل سے ممتنع ہے اور وہ ہر شی ہے جس کا وجود وعدم عقلا صحیح ہو وہ دونوں میں سے کوئی ممتنع نہ ہو تو اب ایك جانب میں یقین دلیل سمعی کے بغیر ممکن نہیں الخ (ت)
امام الحرمین قدس سرہ کتاب الارشاد میں ارشاد فرماتے ہیں :
اعلموا وفقکم اﷲ تعالی ان اصول العقائد جان لو(الله تعالی تمھیں توفیق دے)اصول عقائد
حوالہ / References
القرآن الکریم ۲ /۱۸۵
مفاتیح الغیب تحت آیۃ ام تقولون علی اﷲ مالاتعلمون المطبعۃ البہیہ مصر ۳ / ۱۶۰
مفاتیح الغیب قل ای شی اکبر شہادۃ الخ المطبعۃ البہیہ مصر ۱۲ / ۱۷۶
مفاتیح الغیب تحت آیۃ ام تقولون علی اﷲ مالاتعلمون المطبعۃ البہیہ مصر ۳ / ۱۶۰
مفاتیح الغیب قل ای شی اکبر شہادۃ الخ المطبعۃ البہیہ مصر ۱۲ / ۱۷۶
تنقسم الی مایدریك عقلا ولایسوع تقدیر ادراکہ سمعا الی مایدریك سمعا ولایتقدر ادارکہ عقلاو الی مایجوز ادراکہ سمعا وعقلا فاما مالایدرك الاعقلا فکل قاعدۃ فی الدین یتقدم علی العلم بکلام اﷲ تعالی ووجوب اتصافہ بکونہ صدقا اذا السمعیات تستندالی کلام اﷲ تعالی وماسبق ثبوتہ فی المرتبۃ علی ثبوت الکلام وجوبا فیستحیل ان یکون مدرکہ السمع واماما لایدرك الاسمعا فھو القضاء بوقوع مایجوز فی العقل فلایتقدرالحکم بثبوت الجائز ثبوتہ فیما یتقدر الحکم بثبوت الجائز ثبوتہ فیما غاب عنا الابسمع الخ۔ کی تقسیم یوں ہے کچھ چیزیں وہ ہیں جن کا ادراك عقل ہے ان کا ادراك سمعی جائز ہی نہیں کچھ ایسی چیزیں ہیں جن کا ادراك سمعی ہے ان کا ادارك عقلی نہیں ہوسکتا کچھ چیزیں ایسی ہیں جن کا ادراك عقلا اور سمعا دونوں طرح جائز ہوتاہے وہ چیزیں جن کا ادراك فقط عقلا ہے تو دین کا ہر وہ قاعدہ جو الله تعالی کے کلام اور صدق سے اس کے وجوبی اتصاف سے پہلے ہے کیونکہ دلائل سمعیہ کا اعتماد اثبات کلام الہی سے ہوتا ہے تو جس کے مرتبہ کا ثبوت کلام کے ثبوت سے پہلے ہونا لازم ہے تو اب محال ہے کہ اس کا سبب ادراك سمع ہو اور جن چیزوں کا ادراك فقط سمع سے ہے تو وہ عقلی طورپر جائز الوجود چیزکے وقوع کافیصلہ ہے تو سمع کے بغیر کسی جائز الوجود چیز جو ہم سے غائب ہے کے ثبوت کا حکم جائز الوجود چیز سے نہیں ہوسکتا الخ (ت)
شرح عقائد نسفی میں ہے :
القضایا منھا ماھی ممکنات لاطریق الی الجزم باحدجانبھا فکان من فضل اﷲ ورحمتہ ارسال الرسل لبیان ذلک اھ ملخصا۔ کچھ چیزیں ان میں سے ممکن ہیں ان کی کسی ایك جانب کا جزم نہیں ہوسکتا تو اس کے بیان کے لئے رسولوں کا بھیجنا الله تعالی کا فضل ورحمت ہے اھ ملخصا(ت)
میں کہتاہوں اب آدمیوں ہی میں دیکھ لیجئے کہ جوکام زید کی قدرت میں ہے دوسرا ہر گز اس پر جزم نہیں کرسکتا کہ وہ کبھی اسے نہ کرے گا پھر یہاں بعد اخبار زید بھی جزم وتیقن کی راہ نہیں۔ مثلا زید کہے بلکہ قسم بھی کھائے کہ میں اس سال ہر گز سفر نہ کروں گا تاہم دوسرا اگرچہ صدق زید کا کیسا ہی معتقد ہو قسم نہیں کھا سکتا کہ زید اس سال یقینا سفر نہ کرے گا اور کھائے تو سخت جری وبیباك اور نگاہ عقلاء میں ہلکا ٹھہرے گا تو وجہ کیا وہی کہ غیب کا حال
شرح عقائد نسفی میں ہے :
القضایا منھا ماھی ممکنات لاطریق الی الجزم باحدجانبھا فکان من فضل اﷲ ورحمتہ ارسال الرسل لبیان ذلک اھ ملخصا۔ کچھ چیزیں ان میں سے ممکن ہیں ان کی کسی ایك جانب کا جزم نہیں ہوسکتا تو اس کے بیان کے لئے رسولوں کا بھیجنا الله تعالی کا فضل ورحمت ہے اھ ملخصا(ت)
میں کہتاہوں اب آدمیوں ہی میں دیکھ لیجئے کہ جوکام زید کی قدرت میں ہے دوسرا ہر گز اس پر جزم نہیں کرسکتا کہ وہ کبھی اسے نہ کرے گا پھر یہاں بعد اخبار زید بھی جزم وتیقن کی راہ نہیں۔ مثلا زید کہے بلکہ قسم بھی کھائے کہ میں اس سال ہر گز سفر نہ کروں گا تاہم دوسرا اگرچہ صدق زید کا کیسا ہی معتقد ہو قسم نہیں کھا سکتا کہ زید اس سال یقینا سفر نہ کرے گا اور کھائے تو سخت جری وبیباك اور نگاہ عقلاء میں ہلکا ٹھہرے گا تو وجہ کیا وہی کہ غیب کا حال
حوالہ / References
الارشاد فی الکلام
شرح العقائد النسفیہ بیان ارسال رسل دارالاشاعۃ العربیہ قندھار افغانستان ص۹۸
شرح العقائد النسفیہ بیان ارسال رسل دارالاشاعۃ العربیہ قندھار افغانستان ص۹۸
معلوم نہیں اور زید کی بات سچی ہی ہونی کیا ضرور ممکن کہ فرق پڑجائے جب یہ مقدمہ ذہن نشین ہو لیا اور اب تم نے کذب الہی کہ زیر قدرت مانا تو عقلا ہر خبر میں احتمال کذب ہواہی رہا یہ کہ خبر الہی یقین دلائے کہ الله عزوجل اگرچہ جھوٹ بولنے پر قادر ہے مگر نہ کبھی بولا نہ بولے ہیہات اس یقین کی طرف بھی کوئی راہ نہیں کہ آخریہ کلام الہی سے خود ایك کلام ہوگی تو عقلا ممکن کہ یہی بروجہ کذب صادر ہوئی ہو پھر وہ کون سا ذریعہ وثوق رہا جس کے سبب عقل یقین کرسکے یہ ممکن جو قدرت الہی میں تھا واقع نہ ہواخلاصہ یہ کہ جب کذب عقلا ممکن تو استحالہ عقلی تو تم خود نہیں مانتے رہا استحالہ شرعی وہ دلیل شرع سے مستفاد ہوتاہے اور دلائل شرع سب کلام الہی کی طر ف منتہی۔ کما مر من ارشاد امام الحرمین(جیسا کہ امام الحرمین کے ارشاد سے گزرا۔ ت)تو جس کلام الہی سے کذب الہی کا استحالہ ثابت کیجئے پہلے خود اسی کلام الہی کا وجوب صدق شرعا ثابت کیجئے لاجرم دو ریا تسلسل سے چارہ نہیں اب عقلی وشرعی دونوں استحالے اٹھ گئے اور الله تعالی کی بات معاذالله زید وعمرو کی سی بات ہو کررہ گئی تعالی اﷲ عما یقولون علوا کبیرا(یہ جو کہتے ہیں الله تعالی اس سے نہایت ہی بلند ہے۔ ت)پھر حشر ونشر وجنت و نار وغیرہا تمام سمعیات پر ایمان لانے کا کیا ذریعہ ہے ولاحول ولاقوۃ الا باﷲ العظیم ھذا ماعندی فی تقریر دلیل ھؤلاء الاعلام وفی المقام ابحاث طوال تعرف بالغوص فی الجج الکلام(میرے نزدیك ان علماء اعلام کی دلیل کی وضاحت وتفصیل یہی ہے اس مقام پر بڑے تفصیل مباحث ہیں جو کلام کے سمندر میں غوطہ زن ہونے سے معلوم ہوتے ہیں۔ ت)دلیل سوم : مواقف وشرح مواقف میں ہے :
اما امتناع الکذب علیہ تعالی عندنا فثلثۃ اوجہ(الی ان قال)وایضا فیلزم علی تقدیر ان یقع الکذب فی کلامہ سبحانہ ان نکون نحن اکمل منہ فی بعض الاوقات اعنی وقت صدقنا فی کلامنا ۔ یعنی کذب الہی کا محال ہونا ہم اہلسنت کے نزدیك تین دلیل سے ہے ایك یہ کہ اس کے کلام میں کذب آئے تو بعض وقت ہم اس سے اکمل ہوجائیں یعنی جس وقت ہم اپنے کلام میں سچے ہوں۔
اقول : تقریر دلیل یہ ہے کہ ہر محکی عنہ میں امکان کہ انسان اسے بروجہ صحیح حکایت کرے اور شك نہیں کہ جس حکایت میں جو سچا ہو وہ اس میں جھوٹے پر خاص اس وجہ کی رو سے فضل رکھتاہے اگرچہ اور کروڑوں وجہ سے مفضول ہو اب اگر کذب الہی ممکن ہو تو معاذالله جس وقت وہ جھوٹ بولے اور انسان اسی بات کو
اما امتناع الکذب علیہ تعالی عندنا فثلثۃ اوجہ(الی ان قال)وایضا فیلزم علی تقدیر ان یقع الکذب فی کلامہ سبحانہ ان نکون نحن اکمل منہ فی بعض الاوقات اعنی وقت صدقنا فی کلامنا ۔ یعنی کذب الہی کا محال ہونا ہم اہلسنت کے نزدیك تین دلیل سے ہے ایك یہ کہ اس کے کلام میں کذب آئے تو بعض وقت ہم اس سے اکمل ہوجائیں یعنی جس وقت ہم اپنے کلام میں سچے ہوں۔
اقول : تقریر دلیل یہ ہے کہ ہر محکی عنہ میں امکان کہ انسان اسے بروجہ صحیح حکایت کرے اور شك نہیں کہ جس حکایت میں جو سچا ہو وہ اس میں جھوٹے پر خاص اس وجہ کی رو سے فضل رکھتاہے اگرچہ اور کروڑوں وجہ سے مفضول ہو اب اگر کذب الہی ممکن ہو تو معاذالله جس وقت وہ جھوٹ بولے اور انسان اسی بات کو
حوالہ / References
شرح المواقف المقصد السابع فی انہ تعالٰی متکلم منشورات الشریف الرضی قم ایران ۸ / ۱۰۱
مطابق واقع اداکرے تو لازم کہ آدمی اس وجہ سے افضل ہوجائے اورباری عزوجل پر کسی جہت سے کسی مخلوق کو کسی طرح کا فضل جزئی بھی اگرچہ نہایت ضعیف ومضمحل ہو ملنا محال تو ثابت ہو اکہ مکان کذب باطل خیال ہے فافھم والعزۃ ﷲ ذی الجلال(پس غور کیجئے اور عزت الله ذوالجلال کے لئے ہے۔ ت)
ثم اقول : اس دلیل کی ایك مختصر تقریر یوں ممکن ہے کہ اگر کذب خالق ممکن ہو تو کتنی بڑی شناعت ہے کہ خلق سچی اور خالق جھوٹا العیاذ بالله رب العالمین لیکن صدق خلق محال نہیں توکذب خالق ممکن نہیں۔
دلیل چہارم : جس کی طرف امام فخر الدین رازی نے نص ۱۶ میں اشارہ فرمایا کہ جب اہلسنت کے نزدیك الله عزوجل کا صدق ازلی تو کذب محال کہ ہر ازلی ممتنع الزوال اقول : وبالله التوفیق تصویر دلیل یہ ہے کہ الله عزوجل پر اسم صادق کا طلاق قطع نظر اس سے کہ قرآن عــــــہ وحدیث واجماع سے ثابت مخالفان عنید یعنی طائفہ جدید کو بھی مقبول کہ وہ بھی الله عزوجل کو صادق بالفعل تو مانتےہیں اگرچہ صادق بالضرورۃ ہونےسے انکار کرتےہیں کہ
عــــــہ : اما القران فقولہ تعالی ذلك جزینھم ببغیھم وانا “ ذلک جزینہم ببغیہم ۫ و انا لصدقون ﴿۱۴۶﴾ “ وقول تعالی “ ومن اصدق من اللہ قیلا ﴿۱۲۲﴾ “ فان المعنی ان اﷲ تعالی اصدق قائل وحمل الاصدق حمل الصادق مع زیادۃ واماالحدیث فقد عد الصادق من الاسماء الحسنی فی حدیث ابن ماجۃ وحدیث الحاکم فی المستدرك وابی الشیخ و ابن مردویۃ فی تفسیریھما وابی نعیم فی کتاب الاسماء الحسنی کلھم عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم واما ا لاجماع فظاھر لاینکر ۱۲ منہ۔ قرآن میں الله تعالی کا فرمان ہے یہ ہم نے ان کی بغاوت کی سزادی اور ہم یقینا سچے ہیں دوسرے مقام پر فرمایا : الله تعالی سے بڑھ کر کون زیاد سچاہے معنی یہ ہے کہ الله تعالی سب سے بڑھ کر صادق ہے اور اصدق کا حمل صادق مع زیادۃ کا حمل ہے رہی حدیث تو حدیث میں اسماء حسنی میں صادق کو شمار وشامل کیا گیاہے اور یہ حدیث حضرت ابوہریرہ رضی الله تعالی عنہ نے رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے روایت کی ہے اور اسے ابن ماجہ حاکم نے مستدرك میں ابوالشیخ اور ابن مردویہ نے اپنی تفاسیر اور امام ابو نعیم نے “ کتاب الاسماء الحسنی “ میں ذکر کیا رہا اجماع تو واضح ہے اس کا انکار کیا ہی نہیں جاسکتا ۱۲ منہ(ت)
ثم اقول : اس دلیل کی ایك مختصر تقریر یوں ممکن ہے کہ اگر کذب خالق ممکن ہو تو کتنی بڑی شناعت ہے کہ خلق سچی اور خالق جھوٹا العیاذ بالله رب العالمین لیکن صدق خلق محال نہیں توکذب خالق ممکن نہیں۔
دلیل چہارم : جس کی طرف امام فخر الدین رازی نے نص ۱۶ میں اشارہ فرمایا کہ جب اہلسنت کے نزدیك الله عزوجل کا صدق ازلی تو کذب محال کہ ہر ازلی ممتنع الزوال اقول : وبالله التوفیق تصویر دلیل یہ ہے کہ الله عزوجل پر اسم صادق کا طلاق قطع نظر اس سے کہ قرآن عــــــہ وحدیث واجماع سے ثابت مخالفان عنید یعنی طائفہ جدید کو بھی مقبول کہ وہ بھی الله عزوجل کو صادق بالفعل تو مانتےہیں اگرچہ صادق بالضرورۃ ہونےسے انکار کرتےہیں کہ
عــــــہ : اما القران فقولہ تعالی ذلك جزینھم ببغیھم وانا “ ذلک جزینہم ببغیہم ۫ و انا لصدقون ﴿۱۴۶﴾ “ وقول تعالی “ ومن اصدق من اللہ قیلا ﴿۱۲۲﴾ “ فان المعنی ان اﷲ تعالی اصدق قائل وحمل الاصدق حمل الصادق مع زیادۃ واماالحدیث فقد عد الصادق من الاسماء الحسنی فی حدیث ابن ماجۃ وحدیث الحاکم فی المستدرك وابی الشیخ و ابن مردویۃ فی تفسیریھما وابی نعیم فی کتاب الاسماء الحسنی کلھم عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم واما ا لاجماع فظاھر لاینکر ۱۲ منہ۔ قرآن میں الله تعالی کا فرمان ہے یہ ہم نے ان کی بغاوت کی سزادی اور ہم یقینا سچے ہیں دوسرے مقام پر فرمایا : الله تعالی سے بڑھ کر کون زیاد سچاہے معنی یہ ہے کہ الله تعالی سب سے بڑھ کر صادق ہے اور اصدق کا حمل صادق مع زیادۃ کا حمل ہے رہی حدیث تو حدیث میں اسماء حسنی میں صادق کو شمار وشامل کیا گیاہے اور یہ حدیث حضرت ابوہریرہ رضی الله تعالی عنہ نے رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے روایت کی ہے اور اسے ابن ماجہ حاکم نے مستدرك میں ابوالشیخ اور ابن مردویہ نے اپنی تفاسیر اور امام ابو نعیم نے “ کتاب الاسماء الحسنی “ میں ذکر کیا رہا اجماع تو واضح ہے اس کا انکار کیا ہی نہیں جاسکتا ۱۲ منہ(ت)
حوالہ / References
القرآن الکریم ۶ /۱۴۶
القرآن اکریم ۴ / ۱۲۲
سنن ابن ماجہ ابواب الدعاء باب اسماء الله عزوجل ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۲۸۳
القرآن اکریم ۴ / ۱۲۲
سنن ابن ماجہ ابواب الدعاء باب اسماء الله عزوجل ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۲۸۳
جب کذب ممکن جانا اور امکان نہیں مگر جانب مخالف سے سلب ضرورت تو لاجرم باری تعالی کے صادق ہونے کو ضروری نہ مانامگر جاہل کہ صادق بالفعل ماننا ہی ان کے مذہب نامہذب کا استیصال کر گیا کہ جب وہ صادق ہے اور صدق مشتق قیام مبدء کو مستلزم تو واجب کہ صدق اس کی ذات پاك سے قائم اور ذات الہی سے قیام حوادث محال تو ثابت کہ صدق الہی ازلی ہے بعینہ اسی طریقہ سے ہمارے ائمہ کرام نے تکوین وغیرہ کا صفات ازلیہ سے ہونا ثابت فرمایا۔ شرح عقائد نسفی میں ہے :
(التکوین صفۃ)ﷲ تعالی لاطباق العقل و النقل علی انہ تعالی خالق للعالم مکون لہ وامتناع اطلاق الاسم المشتق علی الشیئ من غیر ان یکون ماخذ الاشاق وصفالہ قائمہ بہ(ازلیۃ)بوجوہ الاول انہ یمتنع قیام الحوادث بذاتہ تعالی لما مر اھ ملخصا۔ (تکوین صفت ہے)الله تعالی کی کیونکہ عقل ونقل اس پر شاہد ہیں کہ الله تعالی جہاں کا خالق اور بنانے والا ہے اور کسی شے پر اسم مشتق کا اطلاق اس وقت تك ممتنع ہوتاہے جب تك مادہ اشتقاق اس کا وصف اوراس کے ساتھ قائم نہ ہو(ازلی ہے)اس پر متعدد دلائل ہیں اول یہ کہ الله تعالی کی ذات اقدس کے ساتھ حوادث کاقیام ممتنع ہے جیساکہ گزرچکا ہے اھ ملخصا(ت)
اسی میں ہے :
اﷲ تعالی متکلم بکلام ھو صفۃلہ ضرورۃ امتناع اثبات المشتق لشیئ من غیرقیام ماخذ الاشتقاق بہ ۔ الله تعالی متکلم بکلام ہے اور یہ اس کی صفت ہے کیونکہ یہ بدیہی بات ہے کہ کسی شیئ کے لئے مشتق کا اثبات اس کے ساتھ ماخذ اشتقاق کے قیام کے بغیر ممتنع ہوتاہے۔ (ت)
منح الروض میں مسامرہ سے ہے :
الایمان من صفات اﷲ تعالی من اسمائہ الحسنی “ المؤمن “ کما نطقق بہ الکتاب العزیز وایمانہ ھو تصدیقہ ایمان الله تعالی کی صفات میں سے ہے کیونکہ ا س کے اسماء حسنی میں “ المؤمن “ بھی ہے جیسا کہ قرآن عزیز اس پر ناطق ہے اور اس کا ایمان ازل
(التکوین صفۃ)ﷲ تعالی لاطباق العقل و النقل علی انہ تعالی خالق للعالم مکون لہ وامتناع اطلاق الاسم المشتق علی الشیئ من غیر ان یکون ماخذ الاشاق وصفالہ قائمہ بہ(ازلیۃ)بوجوہ الاول انہ یمتنع قیام الحوادث بذاتہ تعالی لما مر اھ ملخصا۔ (تکوین صفت ہے)الله تعالی کی کیونکہ عقل ونقل اس پر شاہد ہیں کہ الله تعالی جہاں کا خالق اور بنانے والا ہے اور کسی شے پر اسم مشتق کا اطلاق اس وقت تك ممتنع ہوتاہے جب تك مادہ اشتقاق اس کا وصف اوراس کے ساتھ قائم نہ ہو(ازلی ہے)اس پر متعدد دلائل ہیں اول یہ کہ الله تعالی کی ذات اقدس کے ساتھ حوادث کاقیام ممتنع ہے جیساکہ گزرچکا ہے اھ ملخصا(ت)
اسی میں ہے :
اﷲ تعالی متکلم بکلام ھو صفۃلہ ضرورۃ امتناع اثبات المشتق لشیئ من غیرقیام ماخذ الاشتقاق بہ ۔ الله تعالی متکلم بکلام ہے اور یہ اس کی صفت ہے کیونکہ یہ بدیہی بات ہے کہ کسی شیئ کے لئے مشتق کا اثبات اس کے ساتھ ماخذ اشتقاق کے قیام کے بغیر ممتنع ہوتاہے۔ (ت)
منح الروض میں مسامرہ سے ہے :
الایمان من صفات اﷲ تعالی من اسمائہ الحسنی “ المؤمن “ کما نطقق بہ الکتاب العزیز وایمانہ ھو تصدیقہ ایمان الله تعالی کی صفات میں سے ہے کیونکہ ا س کے اسماء حسنی میں “ المؤمن “ بھی ہے جیسا کہ قرآن عزیز اس پر ناطق ہے اور اس کا ایمان ازل
حوالہ / References
شرح العقائد النسفیہ بیان صفات باری تعالٰی دارالاشاعۃ العربیہ قندھار افغانستان ص۵۰
شرح العقائد النسفیہ بیان صفات باری تعالٰی دارالاشاعۃ العربیہ قندھار افغانستان ص۴۴
شرح العقائد النسفیہ بیان صفات باری تعالٰی دارالاشاعۃ العربیہ قندھار افغانستان ص۴۴
فی الازل بکلامہ القدیم ولایقال ان تصدیقہ محدث ولامخلوق تعالی اﷲ ان یقوم بہ الحادث اھ ملخصا۔ میں کلام قدیم کی تصدیق ہے یہ نہیں کہا جاسکتا کہ ا س کی تصدیق محدث ومخلوق ہے کیونکہ وہ اس سے بلند ہے کہ اس کے ساتھ کوئی حادث قائم ہو اھ ملخصا(ت)
اور جب صدق الہی ازلی ہوا تو امکان کذب کا محل نہ رہا کہ اس کا وقوع بے انعدام صدق ممکن نہیں تحقیقا لمعنی التضاد (کیونکہ ان میں تضاد پایا جاتا ہے ت)اورانعدام صدق محال ہے کہ علم کلام میں مبین ہوچکا کہ قدیم اصلا قابل عدم نہیں فتبصر۔
دلیل پنجم : اگر باری عزوجل کذب سے متصف ہوسکے تو اس کا کذب اگر ہوگا توقدیم ہی ہوگا کہ اس کی کوئی صفت حادثہ نہیں اور جو قدیم ہے معدوم نہیں ہوسکتا تو لازم کہ صدق الہی محال ہوجائے حالانکہ یہ بالبداہۃ باطل توکذب سے اتصاف ناممکن یہ دلیل تفسیر کبیر و مواقف وشرح مقاصد میں افادہ فرمائی امام کی عبارت یہ ہے زیر قولہ تعالی “ ومن اصدق من اللہ حدیثا ﴿۸۷﴾ “ (الله تعالی سے بڑھ کر کون سے سچی بات فرمانے والا۔ ت) امتناع کذب الہی پر اہل سنت کی دلیل بیان کرتے ہیں :
اما اصحابنا فدلیلھم انہ لوکان کاذبا لکان کذبہ قدیما ولو کان کذبہ قدیما لامتنع زوال کذبہ لامتناع العدم علی التقدیم ولوامتنع زوال کذبہ قدیما لامتنع کونہ صادقا لان وجود احد الضدین یمنع وجود الضد الاخر فلو کان کاذبا لامتنع ان یصدق لکنہ غیر ممتنع لانا نعلم بالضرورۃ ان کل من علم شیئا فان لایمتنع علی ان یحکم علیہ بحکم مطابق للمحکوم علیہم والعلم بھذہ الصحۃ ضروری فاذاکان امکان الصدق قائما کان امتناع الکذب ہمارے علماء کی دلیل یہ ہے کہ اگر وہ کاذب ہے تو اس کا کذب قدیم ہوگا اور اس کا کذب قدیم ہے تو اس کے کذب کا زوال ممتنع ہوگا کیونکہ قدیم پر عدم ممتنع ہوتاہے اوراگر سا کے کذب کا زوال قدیما ممتنع ہے تو اس کا صادق ہونا ممتنع ہوگا کیونکہ ضدین میں سے ایك کا وجود دوسرے کے وجود کے لئے امتناع کاسبب ہوتاہے تواگر وہ کاذب ہے تو اس کا صادق ہونا ممتنع ہوگا لیکن یہ تو ممتنع نہیں کیونکہ ہم بداہۃ جانتے ہیں کہ جو شخص کسی شی کے بارے میں علم رکھتاہو اس کے لئے اس شے پر محکوم علیہ کے مطابق حکم لگانے
اور جب صدق الہی ازلی ہوا تو امکان کذب کا محل نہ رہا کہ اس کا وقوع بے انعدام صدق ممکن نہیں تحقیقا لمعنی التضاد (کیونکہ ان میں تضاد پایا جاتا ہے ت)اورانعدام صدق محال ہے کہ علم کلام میں مبین ہوچکا کہ قدیم اصلا قابل عدم نہیں فتبصر۔
دلیل پنجم : اگر باری عزوجل کذب سے متصف ہوسکے تو اس کا کذب اگر ہوگا توقدیم ہی ہوگا کہ اس کی کوئی صفت حادثہ نہیں اور جو قدیم ہے معدوم نہیں ہوسکتا تو لازم کہ صدق الہی محال ہوجائے حالانکہ یہ بالبداہۃ باطل توکذب سے اتصاف ناممکن یہ دلیل تفسیر کبیر و مواقف وشرح مقاصد میں افادہ فرمائی امام کی عبارت یہ ہے زیر قولہ تعالی “ ومن اصدق من اللہ حدیثا ﴿۸۷﴾ “ (الله تعالی سے بڑھ کر کون سے سچی بات فرمانے والا۔ ت) امتناع کذب الہی پر اہل سنت کی دلیل بیان کرتے ہیں :
اما اصحابنا فدلیلھم انہ لوکان کاذبا لکان کذبہ قدیما ولو کان کذبہ قدیما لامتنع زوال کذبہ لامتناع العدم علی التقدیم ولوامتنع زوال کذبہ قدیما لامتنع کونہ صادقا لان وجود احد الضدین یمنع وجود الضد الاخر فلو کان کاذبا لامتنع ان یصدق لکنہ غیر ممتنع لانا نعلم بالضرورۃ ان کل من علم شیئا فان لایمتنع علی ان یحکم علیہ بحکم مطابق للمحکوم علیہم والعلم بھذہ الصحۃ ضروری فاذاکان امکان الصدق قائما کان امتناع الکذب ہمارے علماء کی دلیل یہ ہے کہ اگر وہ کاذب ہے تو اس کا کذب قدیم ہوگا اور اس کا کذب قدیم ہے تو اس کے کذب کا زوال ممتنع ہوگا کیونکہ قدیم پر عدم ممتنع ہوتاہے اوراگر سا کے کذب کا زوال قدیما ممتنع ہے تو اس کا صادق ہونا ممتنع ہوگا کیونکہ ضدین میں سے ایك کا وجود دوسرے کے وجود کے لئے امتناع کاسبب ہوتاہے تواگر وہ کاذب ہے تو اس کا صادق ہونا ممتنع ہوگا لیکن یہ تو ممتنع نہیں کیونکہ ہم بداہۃ جانتے ہیں کہ جو شخص کسی شی کے بارے میں علم رکھتاہو اس کے لئے اس شے پر محکوم علیہ کے مطابق حکم لگانے
حوالہ / References
منح الروض الازہر شرح فقہ الکبر باب الایمان مخلوق اولا مصطفی البابی مصر ص۱۴۳
القرآن الکریم ۴ /۸۷
القرآن الکریم ۴ /۸۷
حاصلا لامحالۃ ۔ میں کوئی امتناع نہیں اور اس ضابطہ کی صحبت کا علم و یقین ضروری ہے جب امکان صدق قائم ہے تو کذب کا حصول ہر صورت میں ممتنع ہوگا۔ (ت)
اقول : وبالله التوفیق تحریر دلیل یہ ہے کہ تم نے باری عزوجل کا تکلم بکلام کذب تو ممکن مانا اس کا کاذب ومتصف بالکذب ہونا بھی ممکن مانتے ہو یا نہیں اگر کہئے نہ تو قول بالمتناقضین اور بداہت عقل سے خروج ہے کہ کاذب ومتصب بالکذب نہیں مگر وہی جو تکلم بکلام عــــــہ کذب کرے اسے ممکن کہہ کر اسے محال ماننا نرا جنون ہے۔ اور اگر کہئے ہاں تو اب ہم پوچھتے ہیں یہ انصاف صرف لم یزل میں ممکن یا ازل میں بھی شق اول باطل کہ امکان قیام حوادث کو مستلزم اور شق ثانی پر جب ازلیت کذب ممکن ہوئی تو اس کا ممتنع الزوال ہونا ممکن ہوا کہ ہر ازلی واجب الابدیۃ اور کذب کا امتناع زوال استحالہ صدق کو مستلزم کہ کذب وصدق کا اجتماع محال جب اس کا زوال محال ہوگا ا س کا ثبوت ممتنع ہوگا اورامکان وجود ملزوم امکان وجود لازم کو مستلزم تحقیقا لمعنی اللزوم حیث کان ذاتیا لالعارض کما ھھنا(معنی لزوم کے ثبوت کی وجہ سے ذاتی ہے نہ کہ کسی عارض کی وجہ سے جیساکہ یہاں ہے۔ ت)تو لازم آیا کہ صدق الہی کا محال ہونا ممکن ہواور استحالہ اسی شے کا ممکن ہوگا جو فی الواقع محال ہو بھی کہ ممکن کا محال ہوجا ہر گز ممکن نہیں ورنہ انقلاب لازم آئے اوروہ قطعا باطل۔ تو ثابت ہوا کہ اگرباری تعالی کا امکان کذب مانا تو اس کا صدق محال ہوگا لیکن وہ بالبداہۃ محال نہیں تو امکان کذب یقینا باطل اور استحالہ کذب قطعا حاصل۔
و الحمد اﷲ اصدق قائل الدلائل الفائضۃ علی قلب الفقیر بعون القدیر عز جدہ وجل مجدہ۔ تمام تعریف الله تعالی کی ان سچے دلائل پر جو قدیر عزجدہ وجل مجدکی مدد سے فقیر کے دل پر وارد ہوئے۔ (ت)
دلیل ششم : اقول : وبحول اﷲ اصول(میں کہتاہوں اور الله تعالی کی توفیق سے بیان کرتاہوں(کلام الہی
عــــــہ : ای انشاء لاحکایۃ اذلاکلام فیہا کما لایخفی ففی القران العظیم جمل عن الکفار من اراجیفھم الباطلۃ ۱۲ منہ یعنی بطور انشاء نہ کہ بطور حکایت کیونکہ اس میں کلام ہی نہیں جیسا کہ واضح ہے تو قرآن میں ایسے جملے موجود ہے جن میں کفار کی باطل اداکا تذکرہ ہے ۱۲ منہ(ت)
اقول : وبالله التوفیق تحریر دلیل یہ ہے کہ تم نے باری عزوجل کا تکلم بکلام کذب تو ممکن مانا اس کا کاذب ومتصف بالکذب ہونا بھی ممکن مانتے ہو یا نہیں اگر کہئے نہ تو قول بالمتناقضین اور بداہت عقل سے خروج ہے کہ کاذب ومتصب بالکذب نہیں مگر وہی جو تکلم بکلام عــــــہ کذب کرے اسے ممکن کہہ کر اسے محال ماننا نرا جنون ہے۔ اور اگر کہئے ہاں تو اب ہم پوچھتے ہیں یہ انصاف صرف لم یزل میں ممکن یا ازل میں بھی شق اول باطل کہ امکان قیام حوادث کو مستلزم اور شق ثانی پر جب ازلیت کذب ممکن ہوئی تو اس کا ممتنع الزوال ہونا ممکن ہوا کہ ہر ازلی واجب الابدیۃ اور کذب کا امتناع زوال استحالہ صدق کو مستلزم کہ کذب وصدق کا اجتماع محال جب اس کا زوال محال ہوگا ا س کا ثبوت ممتنع ہوگا اورامکان وجود ملزوم امکان وجود لازم کو مستلزم تحقیقا لمعنی اللزوم حیث کان ذاتیا لالعارض کما ھھنا(معنی لزوم کے ثبوت کی وجہ سے ذاتی ہے نہ کہ کسی عارض کی وجہ سے جیساکہ یہاں ہے۔ ت)تو لازم آیا کہ صدق الہی کا محال ہونا ممکن ہواور استحالہ اسی شے کا ممکن ہوگا جو فی الواقع محال ہو بھی کہ ممکن کا محال ہوجا ہر گز ممکن نہیں ورنہ انقلاب لازم آئے اوروہ قطعا باطل۔ تو ثابت ہوا کہ اگرباری تعالی کا امکان کذب مانا تو اس کا صدق محال ہوگا لیکن وہ بالبداہۃ محال نہیں تو امکان کذب یقینا باطل اور استحالہ کذب قطعا حاصل۔
و الحمد اﷲ اصدق قائل الدلائل الفائضۃ علی قلب الفقیر بعون القدیر عز جدہ وجل مجدہ۔ تمام تعریف الله تعالی کی ان سچے دلائل پر جو قدیر عزجدہ وجل مجدکی مدد سے فقیر کے دل پر وارد ہوئے۔ (ت)
دلیل ششم : اقول : وبحول اﷲ اصول(میں کہتاہوں اور الله تعالی کی توفیق سے بیان کرتاہوں(کلام الہی
عــــــہ : ای انشاء لاحکایۃ اذلاکلام فیہا کما لایخفی ففی القران العظیم جمل عن الکفار من اراجیفھم الباطلۃ ۱۲ منہ یعنی بطور انشاء نہ کہ بطور حکایت کیونکہ اس میں کلام ہی نہیں جیسا کہ واضح ہے تو قرآن میں ایسے جملے موجود ہے جن میں کفار کی باطل اداکا تذکرہ ہے ۱۲ منہ(ت)
حوالہ / References
مفاتیح الغیب(تفسیر کبیر) تحت آیۃ ومن اصدق من الله حدیثًا المطبعۃ البہیۃ مصر ۱۰ / ۲۱۷ ، ۲۱۸
ازل میں بایجاب کلی حق تھا معاذالله اس کا بعض باطل یا نہ حق نہ باطل شق ثانی تو کفر صریح عــــــہ۱ اور ثالث میں مطابقت ولا مطابقت دونوں کا ارتفاع اور وہ قطعا محال اولا عــــــہ۲ بالبداہۃ۔
فان ارتفاع محمول الانفصال الحقیقی عن الموضوع کارتفاع النقیضین۔ کیونکہ انفصال حقیقی کے دونوں محمول کا موضوع سے ارتفاع نقیضین کے ارتفاع کی طرح ہوتاہے۔ (ت)
ثانیا : باجماع عقلا
حتی الجاحظ المعتزلی وانما نزاعہ عــــــہ۳ فی مجرد السمیۃ۔ حتی کہ جاحظ معتزلی بھی قائل ہے نزاع محض نام میں ہے۔ (ت)
عــــــہ۱ : ای فلایرضی بہ المخالف ایضا فلاینافی عقلیۃ البرھان وانما اکتفی بہ قصرا للمسافۃ والافلہ طریق قدعرفت وھو وجوب الکذب وامتناع الصدق الباطل ببداھۃ العقل ۱۲ منہ
عــــــہ۲ : فیہ المقنع وحدیث الاجماع والنص تبرعی ۱۲ منہ۔
عــــــہ۳ : الخبر عند الجمہور اما صادق او کاذب لانہ امامطابق للواقع الذی ھو الممخبر عنہ وھو الصادق اولا مطابق وھو الکاذب وھذہ المنفضلۃ حقیقیۃ دائرۃ بین النفی والاثبات ونزاع من نازع لیس الافی اطلاق لفظ الصدق والکذب لغۃ ھل ھما لھذین المعنین لافی صدق ھذہ المنفصلۃ اھ مسلم الثبوت مع شرح فواتح الرحموت لمولانا بحرالعلوم قدس سرہ ۱۲ منہ۔ یعنی اس پر مخالف بھی راضی نہ ہوگا اور یہ عقلی برہان کے منافی نہیں اختصارا اس پر اکفتاء کر لیا گیا ورنہ اس کے لئے وہ طریق جو جان چکا کہ وہ کذب کا وجوب اور صدق کا امتناع ہے جو بداہۃ عقل سے باطل ہے ۱۲ منہ(ت)
یہی کافی ہے اجماع اور نص کی بات بطور تبرع ونفل ہے ۱۲ منہ (ت)
جمہور کے نزدیك خبر صادق ہے یا کاذب کیونکہ اگر وہ واقع کے مطابق نہیں تو کاذب اور یہ مفصلہ حقیقیہ ہے جو نفی واثبات کے درمیان دائرہے اورجس نے بھی اس میں نزاع کیا ہے وہ صرف لغۃ لفظ صدق وکذب کے اطلاق میں کیا ہے کہ کیا وہ ان دونوں معنی کے لئے ہیں منفصلہ حقیقہ جس کے دونوں محمول مرتفع ہوں کے صدق میں نہیں اھ مسلم الثبوت مع شرح فواتح الرحموت لمولانا بحرالعلوم قدس سرہ ۱۲ منہ(ت)
فان ارتفاع محمول الانفصال الحقیقی عن الموضوع کارتفاع النقیضین۔ کیونکہ انفصال حقیقی کے دونوں محمول کا موضوع سے ارتفاع نقیضین کے ارتفاع کی طرح ہوتاہے۔ (ت)
ثانیا : باجماع عقلا
حتی الجاحظ المعتزلی وانما نزاعہ عــــــہ۳ فی مجرد السمیۃ۔ حتی کہ جاحظ معتزلی بھی قائل ہے نزاع محض نام میں ہے۔ (ت)
عــــــہ۱ : ای فلایرضی بہ المخالف ایضا فلاینافی عقلیۃ البرھان وانما اکتفی بہ قصرا للمسافۃ والافلہ طریق قدعرفت وھو وجوب الکذب وامتناع الصدق الباطل ببداھۃ العقل ۱۲ منہ
عــــــہ۲ : فیہ المقنع وحدیث الاجماع والنص تبرعی ۱۲ منہ۔
عــــــہ۳ : الخبر عند الجمہور اما صادق او کاذب لانہ امامطابق للواقع الذی ھو الممخبر عنہ وھو الصادق اولا مطابق وھو الکاذب وھذہ المنفضلۃ حقیقیۃ دائرۃ بین النفی والاثبات ونزاع من نازع لیس الافی اطلاق لفظ الصدق والکذب لغۃ ھل ھما لھذین المعنین لافی صدق ھذہ المنفصلۃ اھ مسلم الثبوت مع شرح فواتح الرحموت لمولانا بحرالعلوم قدس سرہ ۱۲ منہ۔ یعنی اس پر مخالف بھی راضی نہ ہوگا اور یہ عقلی برہان کے منافی نہیں اختصارا اس پر اکفتاء کر لیا گیا ورنہ اس کے لئے وہ طریق جو جان چکا کہ وہ کذب کا وجوب اور صدق کا امتناع ہے جو بداہۃ عقل سے باطل ہے ۱۲ منہ(ت)
یہی کافی ہے اجماع اور نص کی بات بطور تبرع ونفل ہے ۱۲ منہ (ت)
جمہور کے نزدیك خبر صادق ہے یا کاذب کیونکہ اگر وہ واقع کے مطابق نہیں تو کاذب اور یہ مفصلہ حقیقیہ ہے جو نفی واثبات کے درمیان دائرہے اورجس نے بھی اس میں نزاع کیا ہے وہ صرف لغۃ لفظ صدق وکذب کے اطلاق میں کیا ہے کہ کیا وہ ان دونوں معنی کے لئے ہیں منفصلہ حقیقہ جس کے دونوں محمول مرتفع ہوں کے صدق میں نہیں اھ مسلم الثبوت مع شرح فواتح الرحموت لمولانا بحرالعلوم قدس سرہ ۱۲ منہ(ت)
حوالہ / References
فواتح الرحموت شرح المسلم الثبوت بذیل المستصفی الاصل الثانی السنہ منشورات الشریف الرضی قم ایران ۲ / ۱۰۷
ثالثا : خود قرآن عظیم نفی واسطہ پر ناطق
قال مولانا ذوالجلال فما ذا بعد الحق الاالضلل ۔ ہمارے مالك صاحب جلال کا فرمان ہے پھر حق کے بعدکیا ہے مگر گمراہی۔ (ت)
تو لاجرم شق اول متعین اور شاید مخالف بھی اس سے انکار نہ رکھتاہو اب ہم پوچھتے ہیں کذب ممکن علی فرض الوقوع صرف کسی کلام نقل کو عارض ہوگا یا نفیس کو بھی اول محض بے معنی کہ صدق وکذب حقیقۃ موصوصف معنی ہے نہ صفت عبارت ولہذا شرح مقاصد میں فرمایا :
طریق اطراد ھذاالوجہ فی کلام المتنظم من الحروف المسموعہ انہ عبارۃ عن کلامہ الازلی ومرجع الصدق والکذب الی المعنی ۔ یہ تو ایسی کلام میں جاری ہو رہاہے جو صرف مسموعہ سے بنی ہے اوریہ کلام ازلی سے عبارت ہے اور صدق و کذب کا مرجع معنی ہے۔ (ت)
بر تقدیر ثانی یہ کلام نفسی وہی کلام قدیم ہے یا علی تقدیر التجزی اس کا بعض ہوگا جو ازل میں ایجاباکلیاصادق تھا یا اس کا غیر شق ثانی پر قیام حوادث لازم اور اول میں انقلاب صدق بکذب کہ کلام بشر میں بھی محال سچی بات کبھی جھو ٹی عــــــہ
عــــــہ : یہاں بعض اذہان میں یہ شبہہ گزرتاہے کہ زید آج قائم ہے توقضیہ زید قائم حق ہے کل قائم نہ رہا تو زید لیس بقائم حق ہوگیا اور اس کی حقیقت اس کے کذب کو مستلزم اقول : ان صاحبوں نے فعلیہ ودائمہ میں فرق نہ کیا یا نہ جانا کہ دومطلقہ عامہ میں تناقص نہیں مسلم الثبوت میں ہے :
الخبر الصادق صادق دائما والکاذب کاذب دائما ۔ خبر صادق ہمیشہ صادق اور خبر کاذب ہمیشہ کاذب ہوتی ہے۔ (ت)
مولانا قدس سرہ فواتح میں فرماتے ہیں :
ولایکن ان یدخلا فی شیئ من الاخبار وفرق بین تحقق مصداق الخبر وصدقہ فان الاول قدیختلف بحسب الاوقات واما دونوں کاکسی خبر میں جمع ہونا ممکن نہیں اور خبر کے مصداق کے تحقق اوراس کے صدق میں فرق ہے کیونکہ پہلا اوقات کے اعتبار سے مختلف ہوتاہے (باقی اگلے صفحہ پر)
قال مولانا ذوالجلال فما ذا بعد الحق الاالضلل ۔ ہمارے مالك صاحب جلال کا فرمان ہے پھر حق کے بعدکیا ہے مگر گمراہی۔ (ت)
تو لاجرم شق اول متعین اور شاید مخالف بھی اس سے انکار نہ رکھتاہو اب ہم پوچھتے ہیں کذب ممکن علی فرض الوقوع صرف کسی کلام نقل کو عارض ہوگا یا نفیس کو بھی اول محض بے معنی کہ صدق وکذب حقیقۃ موصوصف معنی ہے نہ صفت عبارت ولہذا شرح مقاصد میں فرمایا :
طریق اطراد ھذاالوجہ فی کلام المتنظم من الحروف المسموعہ انہ عبارۃ عن کلامہ الازلی ومرجع الصدق والکذب الی المعنی ۔ یہ تو ایسی کلام میں جاری ہو رہاہے جو صرف مسموعہ سے بنی ہے اوریہ کلام ازلی سے عبارت ہے اور صدق و کذب کا مرجع معنی ہے۔ (ت)
بر تقدیر ثانی یہ کلام نفسی وہی کلام قدیم ہے یا علی تقدیر التجزی اس کا بعض ہوگا جو ازل میں ایجاباکلیاصادق تھا یا اس کا غیر شق ثانی پر قیام حوادث لازم اور اول میں انقلاب صدق بکذب کہ کلام بشر میں بھی محال سچی بات کبھی جھو ٹی عــــــہ
عــــــہ : یہاں بعض اذہان میں یہ شبہہ گزرتاہے کہ زید آج قائم ہے توقضیہ زید قائم حق ہے کل قائم نہ رہا تو زید لیس بقائم حق ہوگیا اور اس کی حقیقت اس کے کذب کو مستلزم اقول : ان صاحبوں نے فعلیہ ودائمہ میں فرق نہ کیا یا نہ جانا کہ دومطلقہ عامہ میں تناقص نہیں مسلم الثبوت میں ہے :
الخبر الصادق صادق دائما والکاذب کاذب دائما ۔ خبر صادق ہمیشہ صادق اور خبر کاذب ہمیشہ کاذب ہوتی ہے۔ (ت)
مولانا قدس سرہ فواتح میں فرماتے ہیں :
ولایکن ان یدخلا فی شیئ من الاخبار وفرق بین تحقق مصداق الخبر وصدقہ فان الاول قدیختلف بحسب الاوقات واما دونوں کاکسی خبر میں جمع ہونا ممکن نہیں اور خبر کے مصداق کے تحقق اوراس کے صدق میں فرق ہے کیونکہ پہلا اوقات کے اعتبار سے مختلف ہوتاہے (باقی اگلے صفحہ پر)
حوالہ / References
القرآن الکریم ۱۰ /۳۲
شرح المقاصد المبحث السادس فی انہ تعالٰی متکلم دارالمعارف النعمانیہ لاہور ۲ / ۱۰۴
مسلم الثبوت الاصل الثانی السنۃ مطبع انصاری دہلی ص۱۷۶
شرح المقاصد المبحث السادس فی انہ تعالٰی متکلم دارالمعارف النعمانیہ لاہور ۲ / ۱۰۴
مسلم الثبوت الاصل الثانی السنۃ مطبع انصاری دہلی ص۱۷۶
نہیں ہوسکتی نہ جھوٹی کبھی سچی ورنہ مطابقت ولا مطابقت میں تصادم لازم آئے اورتقیضین باہم نقیضین نہ رہیں
بالجملہ کلام صادق کے لئے ثبوت صدق ضروری تو سلب ضرورت ضرورۃ مسلوب وھوالمطلوب۔
وانت تعلم ان صدور اکلام القدیم منہ سبحانہ و تعالی لیس علی وجہ الاختیار فان القدیم الا یستند الی المختار من حیث ھومختار و القران کلام اﷲ غیر مخلوق ولافی اقتدار فلایستزلك الشیطان ان الاستحالۃ انماجاءت من ان المولی سبحانہ وتعالی لم یصدر فی الازل الاکلاما صادقا وھو لایقدر ان ان یخلق لنفسہ صفۃ حادثۃ فبقی الامکان فی بدو الامر علی ماکان۔ اورتم جانتے ہوا لله تعالی سبحانہ سے کلام قدیم کا صدور اختیاری نہیں کیونکہ قدیم کسی مختار من حیث مختار کی منسوب نہیں ہوسکتا قرآن الله تعالی کا کلام ہے جو مخلوق نہیں اور تحت قدرت نہیں _____ تمھیں شیطان ا س بات سے نہ پھسلادے کہ استحالہ یہاں سے لازم آیا کہ الله تعالی سے ازل میں کلام صادق ہی صادر ہوا اور وہ اس بات پر قادر نہیں کہ اپنی ذات کے لئے صفت حادثہ پیدا کرے تو ابتدائی امر میں امکان باقی رہا جیسا کہ تھا۔ (ت)
دلیل ہفتم : وھو اختصر واظھر اقول وبالله التوفیق(جو نہایت مختصر اور بہت ہی واضح ہے میں کہتاہوں اور توفیق الله سے ہے۔ ت)امکان کذب اس کی فعلیت بلکہ ضرورت کو مستلزم کہ اگرم کلام نفسی ازلی ابدی واجب للذات مستحیل التجدد وکذب پرمشتمل نہ ہو تو کلام لفظی کا کذب ممکن نہیں ورنہ وجوددال بلامدلول عــــــہ
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
صدق خبر فدائم فان صدق المطلقۃ دائم فالصادق دائما فلایدخلہ الکذب اصلا ولا اجتمعا والکذب کاذب دائما فایدخلہ الصدق اھ ملخصا ۱۲ منہ سلمہ اﷲ تعالی۔
عــــــہ : المدلول ھوالمعنی فلانقض بالمعدوم ۱۲ منہ رہا صدق خبر تو وہ دائمی ہے کیونکہ مطلقہ کا صدق دائمی ہوتاہے لہذا صادق ہمیشہ صادق ہی ہوگا اور اس میں کبھی بھی کذب داخل نہیں ہوسکتا ورنہ دونوں کا اجتماع ہوجائے گا اورکاذب ہمیشہ کاذب ہی رہے گا اس میں صدق داخل نہیں ہوسکتا اھ ملخصا ۱۲ منہ سلمہ الله تعالی۔ (ت)
عــــــہ : مدلول وہ معنی ہی ہے لہذامعدوم کے ساتھ کوئی اعتراض نہیں ہوگا ۱۲ منہ(ت)
بالجملہ کلام صادق کے لئے ثبوت صدق ضروری تو سلب ضرورت ضرورۃ مسلوب وھوالمطلوب۔
وانت تعلم ان صدور اکلام القدیم منہ سبحانہ و تعالی لیس علی وجہ الاختیار فان القدیم الا یستند الی المختار من حیث ھومختار و القران کلام اﷲ غیر مخلوق ولافی اقتدار فلایستزلك الشیطان ان الاستحالۃ انماجاءت من ان المولی سبحانہ وتعالی لم یصدر فی الازل الاکلاما صادقا وھو لایقدر ان ان یخلق لنفسہ صفۃ حادثۃ فبقی الامکان فی بدو الامر علی ماکان۔ اورتم جانتے ہوا لله تعالی سبحانہ سے کلام قدیم کا صدور اختیاری نہیں کیونکہ قدیم کسی مختار من حیث مختار کی منسوب نہیں ہوسکتا قرآن الله تعالی کا کلام ہے جو مخلوق نہیں اور تحت قدرت نہیں _____ تمھیں شیطان ا س بات سے نہ پھسلادے کہ استحالہ یہاں سے لازم آیا کہ الله تعالی سے ازل میں کلام صادق ہی صادر ہوا اور وہ اس بات پر قادر نہیں کہ اپنی ذات کے لئے صفت حادثہ پیدا کرے تو ابتدائی امر میں امکان باقی رہا جیسا کہ تھا۔ (ت)
دلیل ہفتم : وھو اختصر واظھر اقول وبالله التوفیق(جو نہایت مختصر اور بہت ہی واضح ہے میں کہتاہوں اور توفیق الله سے ہے۔ ت)امکان کذب اس کی فعلیت بلکہ ضرورت کو مستلزم کہ اگرم کلام نفسی ازلی ابدی واجب للذات مستحیل التجدد وکذب پرمشتمل نہ ہو تو کلام لفظی کا کذب ممکن نہیں ورنہ وجوددال بلامدلول عــــــہ
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
صدق خبر فدائم فان صدق المطلقۃ دائم فالصادق دائما فلایدخلہ الکذب اصلا ولا اجتمعا والکذب کاذب دائما فایدخلہ الصدق اھ ملخصا ۱۲ منہ سلمہ اﷲ تعالی۔
عــــــہ : المدلول ھوالمعنی فلانقض بالمعدوم ۱۲ منہ رہا صدق خبر تو وہ دائمی ہے کیونکہ مطلقہ کا صدق دائمی ہوتاہے لہذا صادق ہمیشہ صادق ہی ہوگا اور اس میں کبھی بھی کذب داخل نہیں ہوسکتا ورنہ دونوں کا اجتماع ہوجائے گا اورکاذب ہمیشہ کاذب ہی رہے گا اس میں صدق داخل نہیں ہوسکتا اھ ملخصا ۱۲ منہ سلمہ الله تعالی۔ (ت)
عــــــہ : مدلول وہ معنی ہی ہے لہذامعدوم کے ساتھ کوئی اعتراض نہیں ہوگا ۱۲ منہ(ت)
حوالہ / References
فواتح الرحموت بذیل المستصفٰی الاصل الثانی السنۃ منشورات الشریف الرضی قم ایران ۲ / ۱۰۲
یاکذب دال مع صدق المدلول لازم آئے اور یوں دونوں بالبداہۃ محال او جب کلام لفظی میں کذب ممکن نہ ہو تو نفسی میں ممکن نہیں ورنہ باری عزوجل کا عجز عن التعیر لازم آئے تو لاجرم امکان کذب ماننے والا اپنے رب کو واقعی کاذب مانتاہے اور اس کے کلام نفسی میں کذب موجود بالفعل جانتاہے اور وہاں فعل ودوام ووجوب متلازم وبوجہ آخر اوضح وازہر۔
اقول : وباﷲ التوفیق(میں کہتاہوں اور توفیق الله تعالی سے ہے۔ ت)تمھارے دعوی کا حاصل یہ کہ بعض ماھوکلام اﷲ تعالی فھو ممکن الکذب بالضرورۃ(الله تعالی کے کلام کابعض ضرور ممکن الکذب ہے۔ ت)اور شك نہیں کہ کل ماھو ممکن الکذ کاذب بالضرورۃ(اورجو ممکن الکذب ہووہ ضرور کاذب ہوتاہے۔ ت)کہ کلام واحد میں امکان کذب بے فعلیت کذب متصورنہیں اور فعلیت کذب امتناع صدق اور امتناع صدق ضرورت کذب ہے نتیجہ نکلا بعض ماھوا کلام اﷲ تعالی کاذب بالضرورۃ(الله تعالی کے کلام کا بعض ضرور کاذب ہے۔ ت)اب اس میں وصف عنوانی کا صدق خواہ بالفعل لوکماھو المشہور(جیساکہ یہ مشہور ہے۔ ت)خواہ بالامکان لو کما ھو عندالفارابی(جیسا کہ فارابی کے ہاں ہے۔ ت)ہر طرح باری عزوجل کا معاذالله کاذب بالفعل ہونا لازم برتقدیر اول تو لزوم بدیہی اور برتقدیر ثانی اس قضیہ یعنی بعض ما ھو کلام اﷲ بالامکان العام کاذب بالضرورۃ(جو الله تعالی کا کلام بامکان العام ہے وہ ضرور کاذب ہے۔ ت)کو کبری کیجئے اورقضیہ کل ماھو کلام اﷲ بالامکان العام فھو کلام اﷲ بالفعل(ہر کلام جو کلام الله بامکان والعام ہے وہ بالفعل کلام الله ہے۔ ت)کو صغری ثبوت صغری یہ کہ باری تعالی کے لئے کوئی حالت منتظرہ نہیں۔ شکل ثالث کی ضرب خامس پھر وہی نتیجہ دے گی کہ بعض ماھو کلام اﷲ بالفعل کاذب بالضرورۃ(بعض کلام الله بالفعل ضرور کاذب ہے۔ ت)والعیاذبالله تعالی بلکہ حقیقۃ یہ وجہ دلیل عــــــہ مستقل ہونے کے قابل کما لایخفی علی المتأمل۔
عــــــہ : حاصل الوجہ الاول ان علی قول الامکان لابد من فعلیۃ فی الکلام النفسی و الا لامتنع فی اللفظی لانہ لا یکون الاتعبیر ا عن نفسی ولاامکان ھھنا لنفسی اخر غیر ھذا الموجود المفروض ان لاکذب فیہ پہلی وجہ کا حاصل یہ ہے کہ قول امکان پر کلام نفسی میں فعلیت ضروری ہے ورنہ کلام لفظی میں امتناع ہوگا جب لفظی میں امتناع ہوگا تو نفسی میں امتناع ضرور ہوگا کیونکہ لفظی صرف نفسی کی تعبیر ہے جبکہ اس موجود نفسی جس میں کذب نہ ہونا مفروض ہے کے علاوہ کسی اور نفسی کا امکان نہیں اور صادق کی کاذب
(باقی اگلے صفحہ پر)
اقول : وباﷲ التوفیق(میں کہتاہوں اور توفیق الله تعالی سے ہے۔ ت)تمھارے دعوی کا حاصل یہ کہ بعض ماھوکلام اﷲ تعالی فھو ممکن الکذب بالضرورۃ(الله تعالی کے کلام کابعض ضرور ممکن الکذب ہے۔ ت)اور شك نہیں کہ کل ماھو ممکن الکذ کاذب بالضرورۃ(اورجو ممکن الکذب ہووہ ضرور کاذب ہوتاہے۔ ت)کہ کلام واحد میں امکان کذب بے فعلیت کذب متصورنہیں اور فعلیت کذب امتناع صدق اور امتناع صدق ضرورت کذب ہے نتیجہ نکلا بعض ماھوا کلام اﷲ تعالی کاذب بالضرورۃ(الله تعالی کے کلام کا بعض ضرور کاذب ہے۔ ت)اب اس میں وصف عنوانی کا صدق خواہ بالفعل لوکماھو المشہور(جیساکہ یہ مشہور ہے۔ ت)خواہ بالامکان لو کما ھو عندالفارابی(جیسا کہ فارابی کے ہاں ہے۔ ت)ہر طرح باری عزوجل کا معاذالله کاذب بالفعل ہونا لازم برتقدیر اول تو لزوم بدیہی اور برتقدیر ثانی اس قضیہ یعنی بعض ما ھو کلام اﷲ بالامکان العام کاذب بالضرورۃ(جو الله تعالی کا کلام بامکان العام ہے وہ ضرور کاذب ہے۔ ت)کو کبری کیجئے اورقضیہ کل ماھو کلام اﷲ بالامکان العام فھو کلام اﷲ بالفعل(ہر کلام جو کلام الله بامکان والعام ہے وہ بالفعل کلام الله ہے۔ ت)کو صغری ثبوت صغری یہ کہ باری تعالی کے لئے کوئی حالت منتظرہ نہیں۔ شکل ثالث کی ضرب خامس پھر وہی نتیجہ دے گی کہ بعض ماھو کلام اﷲ بالفعل کاذب بالضرورۃ(بعض کلام الله بالفعل ضرور کاذب ہے۔ ت)والعیاذبالله تعالی بلکہ حقیقۃ یہ وجہ دلیل عــــــہ مستقل ہونے کے قابل کما لایخفی علی المتأمل۔
عــــــہ : حاصل الوجہ الاول ان علی قول الامکان لابد من فعلیۃ فی الکلام النفسی و الا لامتنع فی اللفظی لانہ لا یکون الاتعبیر ا عن نفسی ولاامکان ھھنا لنفسی اخر غیر ھذا الموجود المفروض ان لاکذب فیہ پہلی وجہ کا حاصل یہ ہے کہ قول امکان پر کلام نفسی میں فعلیت ضروری ہے ورنہ کلام لفظی میں امتناع ہوگا جب لفظی میں امتناع ہوگا تو نفسی میں امتناع ضرور ہوگا کیونکہ لفظی صرف نفسی کی تعبیر ہے جبکہ اس موجود نفسی جس میں کذب نہ ہونا مفروض ہے کے علاوہ کسی اور نفسی کا امکان نہیں اور صادق کی کاذب
(باقی اگلے صفحہ پر)
واﷲ الموفق لابطال الباطل(جیسا کہ کسی صاحب فکر پر مخفی نہیں اور الله تعالی ہی ابطال باطل کی توفیق دینے والا ہے۔ ت)
دلیل ہشتم : اقول : وباﷲ التوفیق(میں کہتاہوں اور توفیق الله تعالی سے ہے۔ ت)صدق الہی صفت قائمہ بذات کریم ہے ورنہ مخلوق ہوگا کہ ذات وصفات کے سوا سب مخلوق اور ہر مخلوق عدم سے مسبوق تو لازم کہ غیر متناہی دور ازل میں الله تعالی سچا نہ ہو تعالی عن ذلك علوا کبیرا(الله تعالی اس سے بہت بلند ہے۔ ت)اور جب صدق صفت قائمہ بالذات ہے اور صفات مقتضائے ذات اور مقتضائے ذات میں تغیر محال کہ تغیر مقتضی تغیر مقتضی کو مقتضی اور تغیر ذات عموما محال خصوصا جناب عزت میں جہاں تغیر صفت بھی مستحیل تو لاجرم کذب منافی ذات ہوااور منافی ذات کا وقوع نافی ذات اس سے بڑھ کر اور کیا استحالہ متصور۔
دلیل نہم : اقول : وباﷲ التوفیق ہم زیر دلیل چہارم وہشتم بدلائل ثابت کرآئے کہ صدق صفت قائمہ بالذات ہے تو کذب بھی اگر ممکن ہو صفت ہی ہو کرممکن ہوگا۔ فانھما ضدان والتضاد مایکون
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
والتعبیر عن الصادق بالکاذب محال واذا متنع فی الفظی فی النفسی والالزم العجز عن التعبیر فلو لم یوجد فی النفسی بالفعل لامتنع اصلا لکنہ ممکن عندك فیجب ان یوجد فیدوم فیجب وحاصل الثانی ان لو امکن فی کلام لہ لوجد ذلك الکلام لعدم الانتظار فیکون بعض ماھو کلامہ بالفعل ممکن الکذب ولایمکن کذب کلام الا اذا کان کاذبا و الکاذب کاذب بالضرورۃ وظاہران بین الوجھین بونا بینا فھما دلیلان مستقلان حقیقۃ والحمد ﷲ وبہ التوفیق ۱۲ منہ سلمہ اﷲ تعالی۔ کے ساتھ تعبیر محال ہے اور جب لفظی میں امتناع ہے تو نفسی میں بھی ہوگا ورنہ تعبیر سے عجز لازم آئے گا اور اگر وہ نفسی میں عملا موجود نہیں تو وہ اصلا موجود نہ ہوگالیکن وہ تمھارے نزدیك ممکن ہے تو اس کا موجود ہونا ضروری ہوگا پس وہ دائمی اورواجب ہوگا اور ثانی وجہ کاحاصل یہ ہے کہ اگر یہ کلام میں ممکن ہوا تو عدم انتظار کی وجہ سے وہ کلام موجود ہوگا تو بعض کلام عملا ممکن الکذب ہوگا اور کذب کلام اس وقت ممکن ہوگا جو وہ کاذب ہو اور کاذب بالضرورۃ کاذب ہی ہوگا تو بعض کلام عملا بالضرورۃ کاذب ہوگا تو دودلیلوں کے درمیان واضح بعد ہے لہذا یہ دونوں حقیقۃ مستقل دلیلیں ہیں تمام تعریف الله تعالی کے لئے اور توفیق اس سے ہے ۱۲ منہ سلمہ الله تعالی(ت)
دلیل ہشتم : اقول : وباﷲ التوفیق(میں کہتاہوں اور توفیق الله تعالی سے ہے۔ ت)صدق الہی صفت قائمہ بذات کریم ہے ورنہ مخلوق ہوگا کہ ذات وصفات کے سوا سب مخلوق اور ہر مخلوق عدم سے مسبوق تو لازم کہ غیر متناہی دور ازل میں الله تعالی سچا نہ ہو تعالی عن ذلك علوا کبیرا(الله تعالی اس سے بہت بلند ہے۔ ت)اور جب صدق صفت قائمہ بالذات ہے اور صفات مقتضائے ذات اور مقتضائے ذات میں تغیر محال کہ تغیر مقتضی تغیر مقتضی کو مقتضی اور تغیر ذات عموما محال خصوصا جناب عزت میں جہاں تغیر صفت بھی مستحیل تو لاجرم کذب منافی ذات ہوااور منافی ذات کا وقوع نافی ذات اس سے بڑھ کر اور کیا استحالہ متصور۔
دلیل نہم : اقول : وباﷲ التوفیق ہم زیر دلیل چہارم وہشتم بدلائل ثابت کرآئے کہ صدق صفت قائمہ بالذات ہے تو کذب بھی اگر ممکن ہو صفت ہی ہو کرممکن ہوگا۔ فانھما ضدان والتضاد مایکون
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
والتعبیر عن الصادق بالکاذب محال واذا متنع فی الفظی فی النفسی والالزم العجز عن التعبیر فلو لم یوجد فی النفسی بالفعل لامتنع اصلا لکنہ ممکن عندك فیجب ان یوجد فیدوم فیجب وحاصل الثانی ان لو امکن فی کلام لہ لوجد ذلك الکلام لعدم الانتظار فیکون بعض ماھو کلامہ بالفعل ممکن الکذب ولایمکن کذب کلام الا اذا کان کاذبا و الکاذب کاذب بالضرورۃ وظاہران بین الوجھین بونا بینا فھما دلیلان مستقلان حقیقۃ والحمد ﷲ وبہ التوفیق ۱۲ منہ سلمہ اﷲ تعالی۔ کے ساتھ تعبیر محال ہے اور جب لفظی میں امتناع ہے تو نفسی میں بھی ہوگا ورنہ تعبیر سے عجز لازم آئے گا اور اگر وہ نفسی میں عملا موجود نہیں تو وہ اصلا موجود نہ ہوگالیکن وہ تمھارے نزدیك ممکن ہے تو اس کا موجود ہونا ضروری ہوگا پس وہ دائمی اورواجب ہوگا اور ثانی وجہ کاحاصل یہ ہے کہ اگر یہ کلام میں ممکن ہوا تو عدم انتظار کی وجہ سے وہ کلام موجود ہوگا تو بعض کلام عملا ممکن الکذب ہوگا اور کذب کلام اس وقت ممکن ہوگا جو وہ کاذب ہو اور کاذب بالضرورۃ کاذب ہی ہوگا تو بعض کلام عملا بالضرورۃ کاذب ہوگا تو دودلیلوں کے درمیان واضح بعد ہے لہذا یہ دونوں حقیقۃ مستقل دلیلیں ہیں تمام تعریف الله تعالی کے لئے اور توفیق اس سے ہے ۱۲ منہ سلمہ الله تعالی(ت)
بحسب الورود علی محل واحد(یہ دونوں ضدیں ہیں اور تضاد جو ایك محل پر ورود کی صورت میں ہوتاہے۔ ت)اب مخالف متعسف وفوراستحالات دیکھئے : اولا لازم کہ کذب الہی موجود بالفعل ہو کہ صفات باری میں کوئی صفت منتظرہ غیر واقعہ ماننا باطل ورنہ تاثر عــــــہ۱ بالغیر یا تخلف عــــــہ۲ مقتضی یا تاخر عــــــہ۳ اقتضا یا حدوث عــــــہ۴ مقتضی لازم آئے تعالی اﷲ عنہ علوا کبیرا(الله تعالی اس سے بہت بلند ہے۔ ت)
ثانیا واجب کہ کذب واجب ہو کہ صفات الہیہ سب واجب للذات ہیں۔
ثالثا صدق عــــــہ الہی محال ٹھہرے کہ وجوب کذب امتناع صدق ہے۔
رابعا کذب صفت کمال ہو کہ صفات باری سب صفات کمال۔
عــــــہ۱ : ان کان الاتصاف لامن الذات اقول : ولو لتعلق الاارادۃ فان التعلق حادث و الحادث غیر فافھم فانہ علم فی نصف سطر ۱۲ منہ۔
عــــــہ۲ : ان اقتضی الذات ازلا ولم یتحقق۱۲ منہ مدظلہ وزید فیضہ القوی۔
عــــــہ۳ : ان اقتضی فیما لایزال لافی الازل ۱۲ منہ
عــــــہ۴ : ان فرعن الکل والترم تصاحب المقتضی والمقتضی ۱۲ منہ
عــــــہ : فرق بین بناء الکلام علی قدم الصفۃ وان ما ثبت قدمہ استحال عدمہ وھی مقدمۃ عویصۃ الاثبات وبین بناء علی وجوبھا وامتناع ضدھا للذات وھو من اجلی الواضحات والحمد ﷲ رب البرایات ۱۲ منہ سلمہ اﷲ تعالی۔ اگر اتصاف ذات کے اعتبارسے نہ ہو اقول اگرچہ تعلق ارادہ کے اعتبار سے ہو کیونکہ تعلق حادث ہے اور حادث غیر ہے اسے اچھی طرح جان لو کیونکہ اس نصف سطر میں سارا علم ہے ۱۲ منہ(ت)
اگر ذات ازالاتقاضا کرے اور وہ متحقق نہ ہو ۱۲ منہ مدظلہ وزید فیضہ القوی(ت)
اگر وہ تقاضا کرے مگر ازل میں نہ ہو ۱۲ منہ(ت)
اگر سب سے فرار کرے اور متقضی اور متقضی کے ساتھ رہنے کا التزام کرے ۱۲ منہ(ت)
کلام کی بناء پر صفت کے قدیم ہونے پر اور واجب ہونے پر اس میں فرق ہے اول کا مقدمہ کہ جس کا قدم ثابت ہوااس کے عدم محال ہے اس کا اثبات پیچدہ ہے دوسرے کا مقدمہ کہ جو واجب ہوا س کی ضد ذات کے لئے ممتنع ہوتی ہے یہ بہت واضح ہے تمام تعریفیں کائنات کے رب کے لئے ہیں ۱۲ منہ سلمہ الله تعالی(ت)
ثانیا واجب کہ کذب واجب ہو کہ صفات الہیہ سب واجب للذات ہیں۔
ثالثا صدق عــــــہ الہی محال ٹھہرے کہ وجوب کذب امتناع صدق ہے۔
رابعا کذب صفت کمال ہو کہ صفات باری سب صفات کمال۔
عــــــہ۱ : ان کان الاتصاف لامن الذات اقول : ولو لتعلق الاارادۃ فان التعلق حادث و الحادث غیر فافھم فانہ علم فی نصف سطر ۱۲ منہ۔
عــــــہ۲ : ان اقتضی الذات ازلا ولم یتحقق۱۲ منہ مدظلہ وزید فیضہ القوی۔
عــــــہ۳ : ان اقتضی فیما لایزال لافی الازل ۱۲ منہ
عــــــہ۴ : ان فرعن الکل والترم تصاحب المقتضی والمقتضی ۱۲ منہ
عــــــہ : فرق بین بناء الکلام علی قدم الصفۃ وان ما ثبت قدمہ استحال عدمہ وھی مقدمۃ عویصۃ الاثبات وبین بناء علی وجوبھا وامتناع ضدھا للذات وھو من اجلی الواضحات والحمد ﷲ رب البرایات ۱۲ منہ سلمہ اﷲ تعالی۔ اگر اتصاف ذات کے اعتبارسے نہ ہو اقول اگرچہ تعلق ارادہ کے اعتبار سے ہو کیونکہ تعلق حادث ہے اور حادث غیر ہے اسے اچھی طرح جان لو کیونکہ اس نصف سطر میں سارا علم ہے ۱۲ منہ(ت)
اگر ذات ازالاتقاضا کرے اور وہ متحقق نہ ہو ۱۲ منہ مدظلہ وزید فیضہ القوی(ت)
اگر وہ تقاضا کرے مگر ازل میں نہ ہو ۱۲ منہ(ت)
اگر سب سے فرار کرے اور متقضی اور متقضی کے ساتھ رہنے کا التزام کرے ۱۲ منہ(ت)
کلام کی بناء پر صفت کے قدیم ہونے پر اور واجب ہونے پر اس میں فرق ہے اول کا مقدمہ کہ جس کا قدم ثابت ہوااس کے عدم محال ہے اس کا اثبات پیچدہ ہے دوسرے کا مقدمہ کہ جو واجب ہوا س کی ضد ذات کے لئے ممتنع ہوتی ہے یہ بہت واضح ہے تمام تعریفیں کائنات کے رب کے لئے ہیں ۱۲ منہ سلمہ الله تعالی(ت)
خامسا صدق صفت نقصان ہوکہ وہ عدم کذب کو مستلزم اوراب عدم کذب عدم کمال اور عدم کمال عین نقصان۔
سادسا۔ سابعا ثامنا : صدق عــــــہ۵ کل وکذب عــــــہ۶ جزئی جب دونوں صفت عــــــہ۷ اور دونوں ممکن عــــــہ۸ تو دونوں واجب عــــــہ۹ تودونوں محال عــــــہ۱۰ تو اجتماع عــــــہ۱۱نقیضین وارتفاع نقیضین واجتماع وارتفاع سب حاصل تاسع عشر حادی عشر بعینہ اسی طریقہ سے دونوں کمال تو دونوں نقصان تو دونوں مجمع کمال ونقصان ثانی عشر ثالث عشر رابع عشر جب دونوں صفت تو دونوں مقتضی تو دونوں منافی تو دونوں جامع اقتضاء وتنافی خامس عشر جب دونوں مقتضی تو وجود ذات مستلزم اجتماع نقتیضین اور جس کا وجود مستلزم محال ہو تو خود محال تو بر تقدیر امکان کذب وجود باری معاذالله محال ٹھہرتاہے مدعی معاند دیکھے کہ اس کی سلگائی آگ نے بھڑك کر کہاں تك پھونکا یہ سردست پندرہ۱۵ استحالے ہیں اور ہر استحالہ بجائے خود ایك دلیل مستقل تو اب تك آٹھ۸ اور پندرہ۱۵ تیئس۲۳ دلیلیں ہوئیں
دلیل بست وچہارم : اقول : وباﷲ التوفیق بالفرض اگر کذب کو عیب ومنقصت نہ مانئے تو اتنابالضرورۃ ضرور کہ کوئی کمال نہیں ورنہ مولی تعالی کے لئے واجب الثبوت ہوتا اور عقل سلیم شاہد کہ باری عزوجلہ کے لئے ایسی شی کا ثبوت بھی محال جو کمال سے خالی ہو اگرچہ نقص نہ ہو علامہ سعدالدین
عــــــہ۵ : یعنی ہر خبر میں صادق ہونا کہ بالفعل موجود ۱۲ منہ
عــــــہ۶ : یعنی بعض اخبار میں صادق نہ ہونا کہ مخالف ممکن مانتاہے ۱۲ منہ
عــــــہ ۷ : الاولی لما فی الدلیل الرابع والثامن والثانی لما مر انفا ۱۲ منہ۔ عــــــہ۸ : ای بالامکان العام اماالاول فللو جود اما الثانی فبالفرض ۱۲ منہ۔ عــــــہ۹ : وان کل صفۃ تجب للذات ۱۲منہ۔ عــــــہ۱۰ : فان وجوب کل یستلزم استحالۃ الاخر کما مر مرار ۱۲ منہ۔ عــــــہ۱۱ : فان الصدق الکلی یستلزم عدم الکذب و الکذب الجزئی عدم الصدق الکلی ۱۲ منہ اول جیسا کہ چھوتی آٹھویں اور دوسری میں ابھی گزرا ۱۲ منہ(ت)
یعنی امکان عام کے ساتھ پہلا وجود کی وجہ سے اور دوسرا بالفرض ۱۲ منہ(ت)
کیونکہ ہرصفت ذات کےلئے لازم ہے ۱۲ منہ(ت)
کیونکہ ہر ایك کا وجوب دوسرے کے محال ہونے سے مستلزم ہے جیساکہ کئی دفعہ گزرا ۱۲ منہ(ت)
کیونکہ صدق کلی عدم کذب کو اور کذب جزئی عدم صدق کلی کو مستلزم ہے ۱۲ منہ(ت)
سادسا۔ سابعا ثامنا : صدق عــــــہ۵ کل وکذب عــــــہ۶ جزئی جب دونوں صفت عــــــہ۷ اور دونوں ممکن عــــــہ۸ تو دونوں واجب عــــــہ۹ تودونوں محال عــــــہ۱۰ تو اجتماع عــــــہ۱۱نقیضین وارتفاع نقیضین واجتماع وارتفاع سب حاصل تاسع عشر حادی عشر بعینہ اسی طریقہ سے دونوں کمال تو دونوں نقصان تو دونوں مجمع کمال ونقصان ثانی عشر ثالث عشر رابع عشر جب دونوں صفت تو دونوں مقتضی تو دونوں منافی تو دونوں جامع اقتضاء وتنافی خامس عشر جب دونوں مقتضی تو وجود ذات مستلزم اجتماع نقتیضین اور جس کا وجود مستلزم محال ہو تو خود محال تو بر تقدیر امکان کذب وجود باری معاذالله محال ٹھہرتاہے مدعی معاند دیکھے کہ اس کی سلگائی آگ نے بھڑك کر کہاں تك پھونکا یہ سردست پندرہ۱۵ استحالے ہیں اور ہر استحالہ بجائے خود ایك دلیل مستقل تو اب تك آٹھ۸ اور پندرہ۱۵ تیئس۲۳ دلیلیں ہوئیں
دلیل بست وچہارم : اقول : وباﷲ التوفیق بالفرض اگر کذب کو عیب ومنقصت نہ مانئے تو اتنابالضرورۃ ضرور کہ کوئی کمال نہیں ورنہ مولی تعالی کے لئے واجب الثبوت ہوتا اور عقل سلیم شاہد کہ باری عزوجلہ کے لئے ایسی شی کا ثبوت بھی محال جو کمال سے خالی ہو اگرچہ نقص نہ ہو علامہ سعدالدین
عــــــہ۵ : یعنی ہر خبر میں صادق ہونا کہ بالفعل موجود ۱۲ منہ
عــــــہ۶ : یعنی بعض اخبار میں صادق نہ ہونا کہ مخالف ممکن مانتاہے ۱۲ منہ
عــــــہ ۷ : الاولی لما فی الدلیل الرابع والثامن والثانی لما مر انفا ۱۲ منہ۔ عــــــہ۸ : ای بالامکان العام اماالاول فللو جود اما الثانی فبالفرض ۱۲ منہ۔ عــــــہ۹ : وان کل صفۃ تجب للذات ۱۲منہ۔ عــــــہ۱۰ : فان وجوب کل یستلزم استحالۃ الاخر کما مر مرار ۱۲ منہ۔ عــــــہ۱۱ : فان الصدق الکلی یستلزم عدم الکذب و الکذب الجزئی عدم الصدق الکلی ۱۲ منہ اول جیسا کہ چھوتی آٹھویں اور دوسری میں ابھی گزرا ۱۲ منہ(ت)
یعنی امکان عام کے ساتھ پہلا وجود کی وجہ سے اور دوسرا بالفرض ۱۲ منہ(ت)
کیونکہ ہرصفت ذات کےلئے لازم ہے ۱۲ منہ(ت)
کیونکہ ہر ایك کا وجوب دوسرے کے محال ہونے سے مستلزم ہے جیساکہ کئی دفعہ گزرا ۱۲ منہ(ت)
کیونکہ صدق کلی عدم کذب کو اور کذب جزئی عدم صدق کلی کو مستلزم ہے ۱۲ منہ(ت)
تفتازانی مبحث رابع فصل تنزیہات شرح مقاصد میں فرماتے ہیں :
ان لم یکن من صفات الکمال امتنع اتصاف الواجب بہ للاتفاق علی ان کل مایتصف ھو بہ یلزم ان یکون صفۃ کمال ۔ اگر وہ صفات کمالیہ میںسے نہیں تو اس کے ساتھ واجب کا اتصاف ممتنع ہے کیونکہ اس پر اتفاق ہے کہ واجب جس کے ساتھ متصف ہوگا اس کا صفت کمال ہونا ضروری ہے۔ (ت)
علامہ ابن ابی شریف مسایرہ میں فرماتے ہیں :
یستحیل علیہ تعالی کل صفۃ لاکمال فیھا ولانقص لان کلان من صفات الالہ صفۃ کمال ۔ الله تعالی کے لئے ہر وہ صفت محال ہے جس میں نہ کمال ہو اور نہ نقص ہو کیونکہ الله تعالی کی ہر صفت صفت کمال ہے (ت)
دلیل بست وپنجم : اقول : وباﷲ التوفیق(میں کہتاہوں اور توفیق الله تعالی سے ہے۔ ت)بداہت عقل شاہد عدل کہ جو مطلق کذب پر قادر ہوگا کذب مطلق پر بھی قدرت رکھے گا کہ بعض کلام میں کذب پر قادر اور بعض میں اس سے عاجز ہونے کے کوئی معنی نہیں اور قرآن کلام الله قطعا حق جس کے بعض قضایا مثل قولہ تعالی لاالہ الاالله وقولہ تعالی محمد رسول الله وغیرھما کے صدق پر عقل صرف بے توقف شرع وتوقیف سمع خود حکم کرتی ہے تو واجب کہ قرآن عظیم مقتضائے ذات نہ ہو اورنہ کذب مطلق مقدور نہ رہے گا کہ کلام ہر گز کاذب نہیں ہوسکتا اور جو کچھ ذات نہ مقتضائے ذات وہ قطعا حادث ومخلوق تو کذب الہی کا ممکن ماننا قرآن عظیم کلام الله کے حادث ومخلوق ماننے کو مستلزم اب بعد تنبیہ بھی اصرار کرو تو اب معتزلی کرامی گمراہ ہونے سے کیوں انکار کرو۔
دلیل بست وششم : اقول : وباﷲ التوفیق(میں کہتاہوں اورتوفیق الله تعالی سے ہے۔ ت)جب بر تقدیر امکان کذب بوجہ بطلان ترجیح بلامرجح ونیز بحکم بداہت غیرمکذوبہ ہر فرد کذب قدرت الہی میں ہوا تو ہر فرد صدق مقدور ہوگا ورنہ صدق البعض واجب یا محال ہوگا۔ تو کذب فی البعض محال یا واجب حالانکہ ہر فرد کذب مقدور مانا تھا “ ھذا خلف “ پس صدق وکذب کا ہر ہر فرد و مقدور ہوا اور ہر مقدور حادث تو کلام الہی سے مطابقت ولامطابقت دونوں مرتفع اویہ بداہۃ محال۔
دلیل بست وہفتم : اقول : وباﷲ التوفیق کتب حدیث وسیر مطالعہ کیجئے بہت خوش نصیب ذی عقل
ان لم یکن من صفات الکمال امتنع اتصاف الواجب بہ للاتفاق علی ان کل مایتصف ھو بہ یلزم ان یکون صفۃ کمال ۔ اگر وہ صفات کمالیہ میںسے نہیں تو اس کے ساتھ واجب کا اتصاف ممتنع ہے کیونکہ اس پر اتفاق ہے کہ واجب جس کے ساتھ متصف ہوگا اس کا صفت کمال ہونا ضروری ہے۔ (ت)
علامہ ابن ابی شریف مسایرہ میں فرماتے ہیں :
یستحیل علیہ تعالی کل صفۃ لاکمال فیھا ولانقص لان کلان من صفات الالہ صفۃ کمال ۔ الله تعالی کے لئے ہر وہ صفت محال ہے جس میں نہ کمال ہو اور نہ نقص ہو کیونکہ الله تعالی کی ہر صفت صفت کمال ہے (ت)
دلیل بست وپنجم : اقول : وباﷲ التوفیق(میں کہتاہوں اور توفیق الله تعالی سے ہے۔ ت)بداہت عقل شاہد عدل کہ جو مطلق کذب پر قادر ہوگا کذب مطلق پر بھی قدرت رکھے گا کہ بعض کلام میں کذب پر قادر اور بعض میں اس سے عاجز ہونے کے کوئی معنی نہیں اور قرآن کلام الله قطعا حق جس کے بعض قضایا مثل قولہ تعالی لاالہ الاالله وقولہ تعالی محمد رسول الله وغیرھما کے صدق پر عقل صرف بے توقف شرع وتوقیف سمع خود حکم کرتی ہے تو واجب کہ قرآن عظیم مقتضائے ذات نہ ہو اورنہ کذب مطلق مقدور نہ رہے گا کہ کلام ہر گز کاذب نہیں ہوسکتا اور جو کچھ ذات نہ مقتضائے ذات وہ قطعا حادث ومخلوق تو کذب الہی کا ممکن ماننا قرآن عظیم کلام الله کے حادث ومخلوق ماننے کو مستلزم اب بعد تنبیہ بھی اصرار کرو تو اب معتزلی کرامی گمراہ ہونے سے کیوں انکار کرو۔
دلیل بست وششم : اقول : وباﷲ التوفیق(میں کہتاہوں اورتوفیق الله تعالی سے ہے۔ ت)جب بر تقدیر امکان کذب بوجہ بطلان ترجیح بلامرجح ونیز بحکم بداہت غیرمکذوبہ ہر فرد کذب قدرت الہی میں ہوا تو ہر فرد صدق مقدور ہوگا ورنہ صدق البعض واجب یا محال ہوگا۔ تو کذب فی البعض محال یا واجب حالانکہ ہر فرد کذب مقدور مانا تھا “ ھذا خلف “ پس صدق وکذب کا ہر ہر فرد و مقدور ہوا اور ہر مقدور حادث تو کلام الہی سے مطابقت ولامطابقت دونوں مرتفع اویہ بداہۃ محال۔
دلیل بست وہفتم : اقول : وباﷲ التوفیق کتب حدیث وسیر مطالعہ کیجئے بہت خوش نصیب ذی عقل
حوالہ / References
شرح المقاصد المبحث الرابع فی امتناعی اتصافہ بالحادث دارالمعارف النعمانیہ لاہور ۲ / ۷۱
المسامرۃ شرح المسایرۃ ختم المصنف کتابہ بیان عقیدۃ اہل سنت اجمالا المکتبۃ التجاریۃ الکبرٰی المصر ص۳۹۳
المسامرۃ شرح المسایرۃ ختم المصنف کتابہ بیان عقیدۃ اہل سنت اجمالا المکتبۃ التجاریۃ الکبرٰی المصر ص۳۹۳
لبیب صرف جمال جہاں آرائے حضور پرنور سید عالم سرور اکرم مولائے اعظم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم دیکھ کر ایمان لائے کہ لیس ھذا وجہ الکذابین یہ منہ جھوٹ بولنے والے کا نہیں۔ اے شخص! یہ اس کے حبیب کا پیارا منہ تھا جس پر خوبی وبہار دوعالم نثار صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اور۳ پاکی وقدوسی ہے اس کے وجہ کریم کے لئے والله ! اگر آج حجاب اٹھاویں تو ابھی کھلتا ہے کہ اس وجہ کریم پر امکان کذب کی تہمت کس قدر جھوٹی تھی مخالف اسے دلیل خطابی کہے مگر میں اسے حجت ایقانی لقب دیتااور مسلمانوں کی ہدایت ایمانی سے انصاف لیتا اور اپنے رب کے پاس اس دن کے لئے ودیعت رکھتاہوں۔
“ یوم ینفع الصدقین صدقہم “ “ یوم لا ینفع مال و لا بنون ﴿۸۸﴾ “ ۔ “ الا من اتی اللہ بقلب سلیم ﴿۸۹﴾ “ ۔ وہ دن جس میں سچوں کو ان کا سچ کام آئے گا جس دن نہ مال کام آئے گا نہ بیٹے مگر وہ جو الله کے حضور حاضر ہوا سلامت دل لے کر۔ (ت)
باایں ہمہ اگر مجال باز نہ آئے تو دلیل ہفتم میں وجہ دوم کہ بجائے خود دلیل مستقل تھی ا س کے عوض معدود جانے بہرحال تیس کا عدد کامل مانے۔
دلیل بست وہشتم : قال عزوجل : “ ومن اصدق من اللہ قیلا ﴿۱۲۲﴾ “ (الله سے زیادہ کس کی بات سچی ہے)اقول : وباﷲ التوفیق آیہ کریمہ نص جلی کہ کذب الہی محال عقلی ہے وجہ دلالت سنئے خادم تفسیر وحدیث و واقف کلمات فقہاء پر روشن کہ امثال عبارات اگرچہ بظاہر نفی مزیت غیر کرتی ہیں مگر حقیقۃ تفصیل مطلق ونفی برتر وہمسر کے لئے مسوق ہوتی ہیں۔ سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے افضل کوئی نہیں یعنی سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سب سے افضل ہیں
“ ومن احسن من اللہ صبغۃ۫ “ یعنی صبغۃ الله سب سے احسن ہے “ و من احسن قولا ممن دعا الی اللہ “ ای ھوا احسن قولامن کل من عداہ(اوراس سے زیادہ کس کی بات اچھی جو الله کی طرف بلائے یعنی وہ دوسرے تمام سے قول میں خوبصورت ہے۔ ت)علامۃ الوجود سیدی ابولسعود علیہ الرحمۃ الودود رتفسیر ارشاد میں زیر قولہ تعالی عزوجل “ و من اظلم ممن افتری
“ یوم ینفع الصدقین صدقہم “ “ یوم لا ینفع مال و لا بنون ﴿۸۸﴾ “ ۔ “ الا من اتی اللہ بقلب سلیم ﴿۸۹﴾ “ ۔ وہ دن جس میں سچوں کو ان کا سچ کام آئے گا جس دن نہ مال کام آئے گا نہ بیٹے مگر وہ جو الله کے حضور حاضر ہوا سلامت دل لے کر۔ (ت)
باایں ہمہ اگر مجال باز نہ آئے تو دلیل ہفتم میں وجہ دوم کہ بجائے خود دلیل مستقل تھی ا س کے عوض معدود جانے بہرحال تیس کا عدد کامل مانے۔
دلیل بست وہشتم : قال عزوجل : “ ومن اصدق من اللہ قیلا ﴿۱۲۲﴾ “ (الله سے زیادہ کس کی بات سچی ہے)اقول : وباﷲ التوفیق آیہ کریمہ نص جلی کہ کذب الہی محال عقلی ہے وجہ دلالت سنئے خادم تفسیر وحدیث و واقف کلمات فقہاء پر روشن کہ امثال عبارات اگرچہ بظاہر نفی مزیت غیر کرتی ہیں مگر حقیقۃ تفصیل مطلق ونفی برتر وہمسر کے لئے مسوق ہوتی ہیں۔ سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے افضل کوئی نہیں یعنی سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سب سے افضل ہیں
“ ومن احسن من اللہ صبغۃ۫ “ یعنی صبغۃ الله سب سے احسن ہے “ و من احسن قولا ممن دعا الی اللہ “ ای ھوا احسن قولامن کل من عداہ(اوراس سے زیادہ کس کی بات اچھی جو الله کی طرف بلائے یعنی وہ دوسرے تمام سے قول میں خوبصورت ہے۔ ت)علامۃ الوجود سیدی ابولسعود علیہ الرحمۃ الودود رتفسیر ارشاد میں زیر قولہ تعالی عزوجل “ و من اظلم ممن افتری
علی اللہ کذبا “ (الله تعالی پر جھوٹ افترا بولنے والے سے کون بڑاظالم ہے۔ ت)فرماتے ہیں :
ھو انکار واستعباد لان یکون احد اظلم ممن فعل ذلك او مساویا لہ وان کان سبك الترکیب غیر معترض لانکار المساواۃ و نفیھا یشھد بہ العرف الفاشی والاستعمال المطرد فانہ اذا قیل من اکرم من فلان اولا افضل من فلان فالمراد بہ حتما انہ اکرم من کل کریم وافضل من کل فاضل الایری الی قولہ عزوجل “ لاجرم انہم فی الاخرۃ ہم الاخسرون ﴿۲۲﴾ “
بعد قولہ تعالی
“ و من اظلم ممن افتری علی اللہ کذبا “ الخ والسر فی ذلك ان النسبۃ بین الشیئین انما تتصور غالبا لاسیمافی باب المغالابۃ بالتفاوت زیادۃ ونقصانا فاذالم یکن احدھما ازید یتحقق النقصان لامحالۃ ۔ یہ انکار واستعبار ہے کہ اس سے بڑھ کر یا اس کے مساوی کوئی ظالم نہیں ہو سکتا اگرچہ بظاہر ترکیب انکار و نفی مساوات پر ضرب نہیں لیکن اس پر مشہور عرف اور مسلمہ استعمال شاہد ہے مثلا جب یہ کہا جاتاہے فلاں فلاں زیادہ بزرگ ہے یا فلاں سے کوئی افضل نہیں توا س سے یقینا مراد یہ ہے کہ ہر کریم سے اکرم اور ہر فاضل سے افضل ہے کیا رائے ہے الله تعالی کے اس فرمان مبارك میں “ وہ یقینا آخرت میں خسارے میں ہیں “ جس کے بعد فرمایا ومن اظلم ممن افتری علی اﷲ کذبا اوراس میں راز یہ ہے کہ نسبت غالبا دو چیزوں کے درمیان خصوصا غلبہ میں تفاوت کے باب میں زیادتی اور نقصان میں متصور ہوتی ہے جب ان میں سے کوئی ایك زیادہ نہ ہو تو بہر حال نقصان کاہی تحقق ہوگا۔ (ت)
تو لاجرم معنی آیت یہ ہیں کہ مولی عزوجل کی بات سب کی باتوں سے زیادہ صادق ہے جس کے صدق کو کسی کلام کا صدق نہیں پہنچتا اور پر ظاہر کہ صدق عــــــہ کلام فی نفسہ اصلا قابل تشکیك نہیں کہ باعتبار ذوات قضایا خواہ اختلاف قدم وحدوث کلام یا بقا وفنائے سخن یا کمال ونقصان متکلم خواہ کسی وجہ سے اس میں تفاوت مان سکیں سچی سچی باتیں مطابقت واقع میں سب یکساں اگر ذرا بھی فرق ہوا تو سرے سے
عــــــہ : الصدق تارۃ ینسب الی القول واخری الی القائل والکلام ھھنا فی المعنی الاول فلا یذھبن ھذاعنك ۱۲ منہ۔ صدق کبھی قول کی طرف منسوب ہوتاہے اور کبھی قائل کی طرف واضح رہے یہاں گفتگو معنی اول میں ہے یہ بات ذین نشین رہے ۱۲ منہ(ت)
سچ ہی نہ رہا اصدق وصادق کہاں سے صادق آئے گا یہ معنی اگرچہ فی نفسہ بدیہی ہیں مگر کلام واحد میں لحاظ کرنے سے ان اغبیاء پر بھی انکشاف تام پائیں گے جنھیں بدیہیات میں بھی حاجت شانہ جنبانی تنبیہ ہوتی ہے قرآن عظیم نے فرمایا محمد رسول الله کہ ہم کہتے ہیں محمد رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کیا وہ جملہ محمد رسول الله کہ قرآن میں آیا زیادہ مطابق واقع ہے اور ہم نے جو محمد رسول الله کہا کم مطابق ہے حاشا کوئی مجنون بھی اس میں تفاوت گمان نہ کرے گا یا متعدد باتوں میں دیکھئے تو یوں نظر کیجئے فرقان عزیز نے فرمایا : “ و حملہ و فصلہ ثلثون شہرا “ (اور اسے اٹھائے پھرنا اور اس کا دودھ چھڑانا تیس مہینہ میں ہے۔ ت) ہم کہتے ہیں لا الہ الا اﷲ الملك الحق المبین(الله کے سوا کوئی معبود نہیں وہ ہی مالك حق واضح ہے۔ ت)کیا وہ ارشاد کہ بچے کا پیٹ میں رہنا اور دودھ چھوٹنا تیس مہینے میں ہے زیادہ
ھو انکار واستعباد لان یکون احد اظلم ممن فعل ذلك او مساویا لہ وان کان سبك الترکیب غیر معترض لانکار المساواۃ و نفیھا یشھد بہ العرف الفاشی والاستعمال المطرد فانہ اذا قیل من اکرم من فلان اولا افضل من فلان فالمراد بہ حتما انہ اکرم من کل کریم وافضل من کل فاضل الایری الی قولہ عزوجل “ لاجرم انہم فی الاخرۃ ہم الاخسرون ﴿۲۲﴾ “
بعد قولہ تعالی
“ و من اظلم ممن افتری علی اللہ کذبا “ الخ والسر فی ذلك ان النسبۃ بین الشیئین انما تتصور غالبا لاسیمافی باب المغالابۃ بالتفاوت زیادۃ ونقصانا فاذالم یکن احدھما ازید یتحقق النقصان لامحالۃ ۔ یہ انکار واستعبار ہے کہ اس سے بڑھ کر یا اس کے مساوی کوئی ظالم نہیں ہو سکتا اگرچہ بظاہر ترکیب انکار و نفی مساوات پر ضرب نہیں لیکن اس پر مشہور عرف اور مسلمہ استعمال شاہد ہے مثلا جب یہ کہا جاتاہے فلاں فلاں زیادہ بزرگ ہے یا فلاں سے کوئی افضل نہیں توا س سے یقینا مراد یہ ہے کہ ہر کریم سے اکرم اور ہر فاضل سے افضل ہے کیا رائے ہے الله تعالی کے اس فرمان مبارك میں “ وہ یقینا آخرت میں خسارے میں ہیں “ جس کے بعد فرمایا ومن اظلم ممن افتری علی اﷲ کذبا اوراس میں راز یہ ہے کہ نسبت غالبا دو چیزوں کے درمیان خصوصا غلبہ میں تفاوت کے باب میں زیادتی اور نقصان میں متصور ہوتی ہے جب ان میں سے کوئی ایك زیادہ نہ ہو تو بہر حال نقصان کاہی تحقق ہوگا۔ (ت)
تو لاجرم معنی آیت یہ ہیں کہ مولی عزوجل کی بات سب کی باتوں سے زیادہ صادق ہے جس کے صدق کو کسی کلام کا صدق نہیں پہنچتا اور پر ظاہر کہ صدق عــــــہ کلام فی نفسہ اصلا قابل تشکیك نہیں کہ باعتبار ذوات قضایا خواہ اختلاف قدم وحدوث کلام یا بقا وفنائے سخن یا کمال ونقصان متکلم خواہ کسی وجہ سے اس میں تفاوت مان سکیں سچی سچی باتیں مطابقت واقع میں سب یکساں اگر ذرا بھی فرق ہوا تو سرے سے
عــــــہ : الصدق تارۃ ینسب الی القول واخری الی القائل والکلام ھھنا فی المعنی الاول فلا یذھبن ھذاعنك ۱۲ منہ۔ صدق کبھی قول کی طرف منسوب ہوتاہے اور کبھی قائل کی طرف واضح رہے یہاں گفتگو معنی اول میں ہے یہ بات ذین نشین رہے ۱۲ منہ(ت)
سچ ہی نہ رہا اصدق وصادق کہاں سے صادق آئے گا یہ معنی اگرچہ فی نفسہ بدیہی ہیں مگر کلام واحد میں لحاظ کرنے سے ان اغبیاء پر بھی انکشاف تام پائیں گے جنھیں بدیہیات میں بھی حاجت شانہ جنبانی تنبیہ ہوتی ہے قرآن عظیم نے فرمایا محمد رسول الله کہ ہم کہتے ہیں محمد رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کیا وہ جملہ محمد رسول الله کہ قرآن میں آیا زیادہ مطابق واقع ہے اور ہم نے جو محمد رسول الله کہا کم مطابق ہے حاشا کوئی مجنون بھی اس میں تفاوت گمان نہ کرے گا یا متعدد باتوں میں دیکھئے تو یوں نظر کیجئے فرقان عزیز نے فرمایا : “ و حملہ و فصلہ ثلثون شہرا “ (اور اسے اٹھائے پھرنا اور اس کا دودھ چھڑانا تیس مہینہ میں ہے۔ ت) ہم کہتے ہیں لا الہ الا اﷲ الملك الحق المبین(الله کے سوا کوئی معبود نہیں وہ ہی مالك حق واضح ہے۔ ت)کیا وہ ارشاد کہ بچے کا پیٹ میں رہنا اور دودھ چھوٹنا تیس مہینے میں ہے زیادہ
حوالہ / References
القرآن الکریم ۶ /۲۱
ارشاد العقل السلیم(تفسیر ابی السعود) تحت آیۃ ۶ / ۲۱ داراحیاء التراث العربی بیروت ۳ / ۱۱۹
القرآن الکریم ۴۶ /۱۵
ارشاد العقل السلیم(تفسیر ابی السعود) تحت آیۃ ۶ / ۲۱ داراحیاء التراث العربی بیروت ۳ / ۱۱۹
القرآن الکریم ۴۶ /۱۵
سچا ہے اور اس قول کے صدق میں کہ الله کے سوا کوئی سچا معبود نہیں معاذالله کچھ کمی ہے تو ثابت ہوا کہ اصدقیت بمعنی اشد مطابقۃ للواقع غیر معقول ہے ہاں نظر سامع میں ایك تفاوت متصور اور اس تشکیك اصدق وصادق میں وہی مقصود معتبر جسے دو عبارتوں سے تعبیر کرسکتے ہیں ایك یہ کہ وقعت وقبول میں زائد ہے مثلا رسول کی بات ولی کی بات سے زیادہ سچی ہے یعنی ایك کلام کہ ولی سے منقول اگر وہی بعینہ رسول سے ثابت ہوجائے قلوب میں وقعت اور قبول کی قوت اور دلوں میں سکون و طمانیت ہی اور پیدا کرے گا کہ ولی سے ثبوت تك ا س کا عشر نہ تھا اگرچہ بات حرف بحرف ایك ہے۔ دوسرے احتمال کذب سے ابعد ہونا مثلا مستور کی بات سے عادل کی بات صادق تر ہے یعنی بہ نسبت اس کے احتمال کذب سے زیادہ دور ہے اور حقیقۃ تعبیر اول اسی تعبیر دوم کی طرف راجح کہ سامع کے نزدیك جس قدر احتمال کذب سے دوری ہوگی اسی درجہ وقعت ومقبولیت پوری ہوگی جب یہ امر ممہد ہوگیا تو آیہ کریمہ کا مفاد یہ قرار پایا کہ الله عزوجل کی بات ہر بات سے زیادہ احتمال کذب سے پاك ومنزہ ہے کوئی خبر اور کسی کی خبر اس امر میں اس کے مساوی نہیں ہوسکتی اور شاید حضرات مخالفین بھی اس سے انکار کرتے کچھ خوف خدا دل میں لائیں اب جو ہم خبر اہل توارت کو دیکھتے ہیں تو وہ بالبداہۃ بروجہ عادت دائمہ بدیہ غیر متخلفہ علم قطعی یقینی جازم ثابت غیر محتمل النقیض کو مفید ہوتی ہے جس میں عقل کسی طرح تجویز خلاف روا نہیں رکھتی اگرچہ بنظر نفس ذات خبر و مخبرا مکان ذاتی باقی ہے کہ ان کا جمع علی الکذب قدرت الہیہ سے خارج نہیں تلویح میں ہے :
المتو اتریوجب علم الیقینی بمعنی ان العقل متواتر سے علم یقین حاصل ہونے کا معنی یہ ہے کہ عقل یہ حکم
المتو اتریوجب علم الیقینی بمعنی ان العقل متواتر سے علم یقین حاصل ہونے کا معنی یہ ہے کہ عقل یہ حکم
یحکم حکما قطعیا بانھم لم یتواطؤا علی الکذب وان مااتفقوا علیہ حق ثابت فی نفس الامر غیر محتمل للنقیض لابمعنی سلب الامکان العقلی عن تواطئھم علی الکذب اھ ملخصا۔ لگاتی ہے کہ ایسے لوگوں کا اتفاق کذب پر یقینا نہیں ہوسکتا جس پر ان کا اتفاق ہوا ہے وہ حق اور نفس الامر میں ثابت ہے اس میں نقیض کا احتمال نہیں ہے اس کا یہ معنی نہیں کہ ان کے جھوٹ پر جمع ہونے کا امکان عقلی کا سلب ہوگیا ہے۔ (ت)
مگر ایسا امکان منافی قطع بالمعنی الاخس بھی نہیں ہوتا کما حققہ فی المواقف وشرحھا واشار الیہ فی شرح المقاصد و شرح العقائد وغیرھما(جیسا کہ مواقف ااورا س کی شرح میں ہے اوراس کی طرف شرح مقاصد اور شرح عقائد وغیرہ میں اشارہ ہے۔ ت)اسے پیش نظر رکھ کر کلام باری تعالی کی طرف چلئے امکان کذب ماننے کے بعد مباحث مذکورہ دلیل دوم وفرق امور عادیہ وارادہ غیبیہ سے قطع نظر بھی ہو تو غایت درجہ اس قدر کے کلام ربانی وخبر اہل تواتر کانٹے کی تول ہم پلہ ہوں گے جیسا کہ احتمال کذب یعنی نافی قطع ومنافی جزم اس کلام پاك میں نہیں اس سے خبر تواتر کا بھی دامن پاك اور بنظر امکان ذاتی جو احتمال عقلی خبر تواتر میں ناشی وہ بعینہ کلام الہی میں بھی باقی پھر کلام الہی کا سب کلاموں سے اصدق ہونا اور کسی کی بات اس سے صدقا بھی ہمسری نہ کرسکنا کہ مفاد آیہ کریمہ تھا معاذالله کب درست آیا بخلاف عقیدہ مجیدہ اہلسنت وقایۃ اﷲ لھم دامت (ان کو الله تعالی کی حفاظت دائمی ہو۔ ت)یعنی امتناع عقلی کذب الہی کہ اس تقریر پر کلام مولی جل وعلا میں کسی طرح احتمال کذب کا امکان نہیں بخلاف خبر تواتر کہ احتمال امکانی رکھتی ہے اور یہ بات قطعا صرف اسی کے کلام پاك سے خاص محال ہے کہ کوئی شخص ایسی صورت نکال سکے کہ کسی غیر خد ا پر کذب محال عقلی ہوجائے عصمت اگر بمعنی امتناع صدور وعدم قدرت ہی لیجئے تاہم امتناع ذاتی نہیں کہ سلب عصمت خود زیر قدرت اب بحمد اﷲ شمس تابندہ کی طرح روشن درخشندہ صادق آیا کہ “ ومن اصدق من اللہ قیلا ﴿۱۲۲﴾ “ (اور الله سے زیادہ کس کی بات سچی۔ ت)اور العزۃ ﷲ کیوں نہ صادق آئے کہ آخر “ ومن ومن اصدق من اللہ قیلا ﴿۱۲۲﴾ “ (اور الله سے زیادہ کس کی بات سچی۔ ت)یہ دیکھو یہ منشاء تھا علماء کے اس ارشاد کاکہ زیر آیت کریمہ استدلال میں فرمایا کہ کوئی اس سے کیونکر اصدق ہوسکے کہ اس پر تو کذب محال اوروں پر ممکن والحمد اﷲ رب العالمین۔
مگر ایسا امکان منافی قطع بالمعنی الاخس بھی نہیں ہوتا کما حققہ فی المواقف وشرحھا واشار الیہ فی شرح المقاصد و شرح العقائد وغیرھما(جیسا کہ مواقف ااورا س کی شرح میں ہے اوراس کی طرف شرح مقاصد اور شرح عقائد وغیرہ میں اشارہ ہے۔ ت)اسے پیش نظر رکھ کر کلام باری تعالی کی طرف چلئے امکان کذب ماننے کے بعد مباحث مذکورہ دلیل دوم وفرق امور عادیہ وارادہ غیبیہ سے قطع نظر بھی ہو تو غایت درجہ اس قدر کے کلام ربانی وخبر اہل تواتر کانٹے کی تول ہم پلہ ہوں گے جیسا کہ احتمال کذب یعنی نافی قطع ومنافی جزم اس کلام پاك میں نہیں اس سے خبر تواتر کا بھی دامن پاك اور بنظر امکان ذاتی جو احتمال عقلی خبر تواتر میں ناشی وہ بعینہ کلام الہی میں بھی باقی پھر کلام الہی کا سب کلاموں سے اصدق ہونا اور کسی کی بات اس سے صدقا بھی ہمسری نہ کرسکنا کہ مفاد آیہ کریمہ تھا معاذالله کب درست آیا بخلاف عقیدہ مجیدہ اہلسنت وقایۃ اﷲ لھم دامت (ان کو الله تعالی کی حفاظت دائمی ہو۔ ت)یعنی امتناع عقلی کذب الہی کہ اس تقریر پر کلام مولی جل وعلا میں کسی طرح احتمال کذب کا امکان نہیں بخلاف خبر تواتر کہ احتمال امکانی رکھتی ہے اور یہ بات قطعا صرف اسی کے کلام پاك سے خاص محال ہے کہ کوئی شخص ایسی صورت نکال سکے کہ کسی غیر خد ا پر کذب محال عقلی ہوجائے عصمت اگر بمعنی امتناع صدور وعدم قدرت ہی لیجئے تاہم امتناع ذاتی نہیں کہ سلب عصمت خود زیر قدرت اب بحمد اﷲ شمس تابندہ کی طرح روشن درخشندہ صادق آیا کہ “ ومن اصدق من اللہ قیلا ﴿۱۲۲﴾ “ (اور الله سے زیادہ کس کی بات سچی۔ ت)اور العزۃ ﷲ کیوں نہ صادق آئے کہ آخر “ ومن ومن اصدق من اللہ قیلا ﴿۱۲۲﴾ “ (اور الله سے زیادہ کس کی بات سچی۔ ت)یہ دیکھو یہ منشاء تھا علماء کے اس ارشاد کاکہ زیر آیت کریمہ استدلال میں فرمایا کہ کوئی اس سے کیونکر اصدق ہوسکے کہ اس پر تو کذب محال اوروں پر ممکن والحمد اﷲ رب العالمین۔
حوالہ / References
التلویح والتوضیح متن التنقیح الرکن الثانی فی السنۃ مصطفی البابی مصر ۲ / ۳
القرآن الکریم ۴ /۱۲۲
القرآن الکریم ۴ /۸۷
القرآن الکریم ۴ /۱۲۲
القرآن الکریم ۴ /۸۷
دلیل بست ونہم : قال المولی سبحانہ وتعالی : “ قل ای شیء اکبر شہدۃ قل اللہ “ (اے نبی! تو کافروں سے پوچھ کون ہے جس کی گواہی سب سے بڑی ہے۔ توخود ہی فرما کہ اللہ)
اقول : الله کے لئے حمد ومنت کہ یہ آیہ کریمہ آیہ سابقہ سے بھی جلی و اظہر اور افادہ مراد میں اجلی وازہر وہاں ظاہر نظر نفی اصدقیت غیر تھا اور اثبات اصدقیت کلام الله بحوالہ عرف یہاں صراحۃ ارشاد ہوتا ہے کہ الله عزوجل کی گواہیوں سے اکبر واعظم واعلی ہے اب اگر معاذالله امکان کذب کو دخل دیجئے تو ہر گز شہادت الہی کو شہادت اہل تواتر پر تفوق نہیں کہ جو یقین اس سے ملے گا اس سے بھی مہیا اور جو احتمال اس میں باق اس میں بھی پیدا تو قرآن پر ایمان لانے والے کو یہی چارہ کہ مذہب مہذب اہل سنت کی طرف رجوع کرے اور جناب عزت کے امکان کذب سے براءت پر ایمان لائے باقی تقیریر دلیل مثل سابق ہے فافھم واعلم اﷲ اعلم۔
دلیل سیم : قال ربنا عز من قائل :
“ وتمت کلمت ربک صدقا وعدلا لا مبدل لکلمتہ و ہو السمیع العلیم ﴿۱۱۵﴾ “ اور پورا ہے تیرے رب کا کلام صدق وانصاف میں کوئی بدلنے والا نہیں اس کی باتوں کا اور وہی ہے سننے والا جاننے والا۔
علماء فرماتے ہیں یعنی باری عزوجل کا کلام انتہا درجہ صدق وعدل پر ہے جس کا مثل ان امور میں متصور نہیں بیضاوی میں ہے :
بلغت الغایۃ اخبارہ واحکامہ ومواعیدہ صدقا فی الاخبار والمواعید وعدلا فی الانقضیۃ والاحکام ۔ الله تعالی کی اخبار احکام اور مواعید انتہائی کامل ہیں اخبار مواعید صدق کے اعتبار سے اور قضایا واحکام عدل کے اعتبار سے۔ (ت)
ارشاد العقل السلیم میں ہے :
المعنی انھا بلغت الغایۃ القاصیۃ صدقا فی الاخبار والمواعید وعدلا فی الاقضیۃ مفہوم یہ ہے کہ الله تعالی کے کلمات اخبار ومواعید میں صدق کے اعتبار سے اور قضایا واحکام میں
اقول : الله کے لئے حمد ومنت کہ یہ آیہ کریمہ آیہ سابقہ سے بھی جلی و اظہر اور افادہ مراد میں اجلی وازہر وہاں ظاہر نظر نفی اصدقیت غیر تھا اور اثبات اصدقیت کلام الله بحوالہ عرف یہاں صراحۃ ارشاد ہوتا ہے کہ الله عزوجل کی گواہیوں سے اکبر واعظم واعلی ہے اب اگر معاذالله امکان کذب کو دخل دیجئے تو ہر گز شہادت الہی کو شہادت اہل تواتر پر تفوق نہیں کہ جو یقین اس سے ملے گا اس سے بھی مہیا اور جو احتمال اس میں باق اس میں بھی پیدا تو قرآن پر ایمان لانے والے کو یہی چارہ کہ مذہب مہذب اہل سنت کی طرف رجوع کرے اور جناب عزت کے امکان کذب سے براءت پر ایمان لائے باقی تقیریر دلیل مثل سابق ہے فافھم واعلم اﷲ اعلم۔
دلیل سیم : قال ربنا عز من قائل :
“ وتمت کلمت ربک صدقا وعدلا لا مبدل لکلمتہ و ہو السمیع العلیم ﴿۱۱۵﴾ “ اور پورا ہے تیرے رب کا کلام صدق وانصاف میں کوئی بدلنے والا نہیں اس کی باتوں کا اور وہی ہے سننے والا جاننے والا۔
علماء فرماتے ہیں یعنی باری عزوجل کا کلام انتہا درجہ صدق وعدل پر ہے جس کا مثل ان امور میں متصور نہیں بیضاوی میں ہے :
بلغت الغایۃ اخبارہ واحکامہ ومواعیدہ صدقا فی الاخبار والمواعید وعدلا فی الانقضیۃ والاحکام ۔ الله تعالی کی اخبار احکام اور مواعید انتہائی کامل ہیں اخبار مواعید صدق کے اعتبار سے اور قضایا واحکام عدل کے اعتبار سے۔ (ت)
ارشاد العقل السلیم میں ہے :
المعنی انھا بلغت الغایۃ القاصیۃ صدقا فی الاخبار والمواعید وعدلا فی الاقضیۃ مفہوم یہ ہے کہ الله تعالی کے کلمات اخبار ومواعید میں صدق کے اعتبار سے اور قضایا واحکام میں
حوالہ / References
القرآن الکریم ۶ /۱۹
القرآن الکریم ۶ /۱۱۵
انوارالتنزیل(تفسیر بیضاوی) مع القرآن الکریم تحت ۶ / ۱۱۵ النصف الاول مصطفی البابی مصر ص۱۴۳
القرآن الکریم ۶ /۱۱۵
انوارالتنزیل(تفسیر بیضاوی) مع القرآن الکریم تحت ۶ / ۱۱۵ النصف الاول مصطفی البابی مصر ص۱۴۳
والاحکام لا احدیبدل شیئا من ذلك بما ھواصدق واعدل ولابماھو مثلہ ۔ عدل کے اعتبار سے انتہائی درجہ پر ہیں اس سے بڑھ کر کوئی اصدق واعدل نہیں جو ان میں سے کسی حکم کو بدل ڈالے بلکہ ان کے مماثل بھی کوئی نہیں۔ (ت)
اقول : و بالله التوفیق(میں کہتاہوں اور توفیق الله تعالی سے ہے۔ ت)صدق قائل کے لئے سات ۷ درجات ہیں :
درجہ اول : روایات وشہادات میں قطعا کذب سے محترز ہو اور مخالف میں بھی زنہار ایسا جھوٹ روانہ رکھے جس میں کسی کا اضرار ہو اگرچہ اسی قدر کہ غلط بات کا بار کرانا مگر مزاحا یا عبثا ایسے کذب کا استعمال کرے جو نہ کسی کو نقصان دے نہ سننے والا یقین لاسکے مثلا آج زید نے منوں کھایا آج مسجد میں لاکھوں آدمی تھے ایسا عــــــہ شخص کاذب نہ گنا جائے گا یا آثم ومردود الروایۃ نہ ہوگا تاہم بات خلاف واقع ہے اور محض فضول وغیرنافع اگرچہ نفس کلام میں حکایت واقع مراد نہ ہونے پر دلیل قاطع ولہذا حدیث میں ا رشاد فرمایا :
قال بعض اصحابہ فانك تداعبنا یارسول اﷲ آپ کے بعض صحابہ کرام نے عرض کیا : یار سول الله
عــــــہ : قال الامام حجۃ الاسلام محمدن الغزالی قدس سرہ العالی فی منکرات الضیافۃ من کتاب الامر بالمعروف من احیاء العلوم کل کذب لایخفی انہ کذب ولایقصد بہ التلبیس فلیس من جملۃ المنکرات کقول الانسان مثلا طلبتك الیوم مائۃ مرۃ واعدت علیك الکلام الف مرۃ ومایجری مجراہ ممایعلم انہ لیس یقصد بہ التحقیق فذلك لایقدح فی العدالۃ ولاترد الشہادۃ بہ ۔ ۱۲ منہ حجۃ الاسلام امام محمد غزالی قدس سرہ العالی احیاء العلوم کی کتاب الامر بالمعروف میں منکرات ضیافت پر گفتگو کرتے ہوئے فرماتے ہیں ہر وہ کذب جس کا کذب ہونا مخفی نہ ہو اور اس سے کوئی فریب ودھوکا متصور نہ ہو تو وہ منکرات میں سے نہیں ہوگا مثلا انسان کہتاہے میں نے آج تجھے سو دفعہ تلاش کیا میں نے آج تجھے ہزار دفعہ کہا ہے یا ان کے قائم مقام الفاظ جن سے معلوم ہو کہ مقصود تحقیق نہیں تو یہ چیز عدالت پر قادح نہ ہوگی اور نہ ہی اس سے ایسے شخص کی شہادت مردود ہوگی ۱۲ منہ(ت)
اقول : و بالله التوفیق(میں کہتاہوں اور توفیق الله تعالی سے ہے۔ ت)صدق قائل کے لئے سات ۷ درجات ہیں :
درجہ اول : روایات وشہادات میں قطعا کذب سے محترز ہو اور مخالف میں بھی زنہار ایسا جھوٹ روانہ رکھے جس میں کسی کا اضرار ہو اگرچہ اسی قدر کہ غلط بات کا بار کرانا مگر مزاحا یا عبثا ایسے کذب کا استعمال کرے جو نہ کسی کو نقصان دے نہ سننے والا یقین لاسکے مثلا آج زید نے منوں کھایا آج مسجد میں لاکھوں آدمی تھے ایسا عــــــہ شخص کاذب نہ گنا جائے گا یا آثم ومردود الروایۃ نہ ہوگا تاہم بات خلاف واقع ہے اور محض فضول وغیرنافع اگرچہ نفس کلام میں حکایت واقع مراد نہ ہونے پر دلیل قاطع ولہذا حدیث میں ا رشاد فرمایا :
قال بعض اصحابہ فانك تداعبنا یارسول اﷲ آپ کے بعض صحابہ کرام نے عرض کیا : یار سول الله
عــــــہ : قال الامام حجۃ الاسلام محمدن الغزالی قدس سرہ العالی فی منکرات الضیافۃ من کتاب الامر بالمعروف من احیاء العلوم کل کذب لایخفی انہ کذب ولایقصد بہ التلبیس فلیس من جملۃ المنکرات کقول الانسان مثلا طلبتك الیوم مائۃ مرۃ واعدت علیك الکلام الف مرۃ ومایجری مجراہ ممایعلم انہ لیس یقصد بہ التحقیق فذلك لایقدح فی العدالۃ ولاترد الشہادۃ بہ ۔ ۱۲ منہ حجۃ الاسلام امام محمد غزالی قدس سرہ العالی احیاء العلوم کی کتاب الامر بالمعروف میں منکرات ضیافت پر گفتگو کرتے ہوئے فرماتے ہیں ہر وہ کذب جس کا کذب ہونا مخفی نہ ہو اور اس سے کوئی فریب ودھوکا متصور نہ ہو تو وہ منکرات میں سے نہیں ہوگا مثلا انسان کہتاہے میں نے آج تجھے سو دفعہ تلاش کیا میں نے آج تجھے ہزار دفعہ کہا ہے یا ان کے قائم مقام الفاظ جن سے معلوم ہو کہ مقصود تحقیق نہیں تو یہ چیز عدالت پر قادح نہ ہوگی اور نہ ہی اس سے ایسے شخص کی شہادت مردود ہوگی ۱۲ منہ(ت)
حوالہ / References
ارشاد العقل السلیم(تفسیر ابی السعود)تحت ۶ / ۱۱۵ داراحیاء التراث العربی بیروت ۳ / ۱۸۷
احیاء العلوم کتاب الامر بالمعروف الباب الثالث مطبعۃ المشہد الحسینی القاہرہ ۲ / ۳۴۱
احیاء العلوم کتاب الامر بالمعروف الباب الثالث مطبعۃ المشہد الحسینی القاہرہ ۲ / ۳۴۱
فقال انی لا اقول الا حقا ۔ اخرجہ احمد والترمذی باسناد حسن عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔ (صلی الله تعالی علیہ وسلم)! آپ ہم سے مزاج فرماتے ہیں آپ نے فرمایا : میں صرف حق ہی کہتاہوں امام احمد اور ترمذی نے سند حسن کے ساتھ حضرت ابوہریرۃ نے رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے روایت کیا۔ (ت)
درجہ ۲ : ان لغو وعبث جھوٹوں سے بھی بچے مگر نثریا نظم میں خیالات شاعرانہ ظاہر کرتاوہں جس طرح قصائد کی تشبیہیں ع
بانت سعاد فقلبی الیوم متبول
(سعاد کی جدائی پر آج میرادل مضطرب ہے۔ ت)
سب جانتے ہیں کہ وہاں نہ کوئی عورت سعاد نامی تھی نہ حضرت کعب رضی الله تعالی عنہ اس پر مفتون نہ وہ ان سے جدا ہوئی نہ یہ اس کے فراق میں مجروح محض خیالات شاعرانہ ہیں مگر نہ فضول بحث کہ تشخید خاطر و تشویق سامع وترقیق قلب وتزئین سخن کا فائدہ رکھتے ہیں تاہم ازانجا کہ حکایت بے محکی عنہ ہے : ارشاد فرمایاگیا : “ وما علمنہ الشعر وما ینبغی لہ “ نہ ہم نے اسے شعر سکھایا نہ وہ اس کی شان کے لائق۔ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم۔
درجہ ۳ : ان سے بھی تحریر مگر مواعظ وامثال میں ان امور کا استعمال کرتاہوں جن کے لئے حقیقت واقعہ نہیں جیسے کلیلہ دمنہ کی حکایتیں منطق الطیر کی روایتیں اگرچہ کلام قائل بظاہر حکات واقع ہے مگر تغلیظ سامع نہیں کہ سب جانتے ہیں وعظ ونصیحت کے لئے یہ تمثیل باتیں بیان کردی گئی ہیں جن سے دینی منفعت مقصود پھر بھی انعدام مصداق موجود ولہذا قرآن عظیم کو “ اسطیر الاولین “ (پہلوں کے قصے۔ ت)کہنا کفر ہوا جیسے آج کل کے بعض کفار لئام مدعیان اسلام نئی روشنی کے پرانے غلام دعوی کرتے ہیں کہ کلام عزیز میں آدم وحوا کے قصے شیطان وملك کے افسانے سب تمثیل کہانیاں ہیں جن کی حقیقت مقصود نہیں
درجہ ۲ : ان لغو وعبث جھوٹوں سے بھی بچے مگر نثریا نظم میں خیالات شاعرانہ ظاہر کرتاوہں جس طرح قصائد کی تشبیہیں ع
بانت سعاد فقلبی الیوم متبول
(سعاد کی جدائی پر آج میرادل مضطرب ہے۔ ت)
سب جانتے ہیں کہ وہاں نہ کوئی عورت سعاد نامی تھی نہ حضرت کعب رضی الله تعالی عنہ اس پر مفتون نہ وہ ان سے جدا ہوئی نہ یہ اس کے فراق میں مجروح محض خیالات شاعرانہ ہیں مگر نہ فضول بحث کہ تشخید خاطر و تشویق سامع وترقیق قلب وتزئین سخن کا فائدہ رکھتے ہیں تاہم ازانجا کہ حکایت بے محکی عنہ ہے : ارشاد فرمایاگیا : “ وما علمنہ الشعر وما ینبغی لہ “ نہ ہم نے اسے شعر سکھایا نہ وہ اس کی شان کے لائق۔ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم۔
درجہ ۳ : ان سے بھی تحریر مگر مواعظ وامثال میں ان امور کا استعمال کرتاہوں جن کے لئے حقیقت واقعہ نہیں جیسے کلیلہ دمنہ کی حکایتیں منطق الطیر کی روایتیں اگرچہ کلام قائل بظاہر حکات واقع ہے مگر تغلیظ سامع نہیں کہ سب جانتے ہیں وعظ ونصیحت کے لئے یہ تمثیل باتیں بیان کردی گئی ہیں جن سے دینی منفعت مقصود پھر بھی انعدام مصداق موجود ولہذا قرآن عظیم کو “ اسطیر الاولین “ (پہلوں کے قصے۔ ت)کہنا کفر ہوا جیسے آج کل کے بعض کفار لئام مدعیان اسلام نئی روشنی کے پرانے غلام دعوی کرتے ہیں کہ کلام عزیز میں آدم وحوا کے قصے شیطان وملك کے افسانے سب تمثیل کہانیاں ہیں جن کی حقیقت مقصود نہیں
حوالہ / References
جامع الترمذی ابواب البروالصلہ باب ماجاء فی المزاح امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی ۲ / ۲۰ ، مسند امام احمد از مسند ابی ہریرہ رضی الله عنہ دارالفکر بیروت ۲ / ۳۴۰
القرآن الکریم ۳۶ /۶۹
القرآن الکریم ۶ /۲۵
القرآن الکریم ۳۶ /۶۹
القرآن الکریم ۶ /۲۵
تعالی اﷲ عما یقول الظلمون علوا کبیرا(ظالم جو کچھ کہتے ہیں الله تعالی کی ذات گرامی اس سے کہیں بلند ہے۔ ت)
درجہ ۴ : ہر قسم حکایت بے محکی عنہ کے تعمد سے اجتناب کلی کرے اگرچہ برائے سہووخطا حکایت خلاف واقع کاوقوع ہوتاہویہ درجہ خاص اولیاء الله کا ہے۔
درجہ ۵ : الله عزوجل سہوا وخطا بھی صدور کذب سے محفوظ رکھے مگر امکان وقوعی باقی ہو یہ مرتبہ اعاظم صدیقین کا ہے کہ :
ان اﷲ تعالی یکرہ فوق سمائہ ان یخطأ ابوبکر الصدیق فی الارض ۔ رواہ الطبرانی فی المعجم الکبیر واالحارث فی مسندہ وابن شاھین فی السنۃ عن معاذ بن جبل رضی اﷲ تعالی عنہ عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔ الله تعالی آسمان کے اوپر اس بات کونا پسند فرماتاہے کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی الله تعالی عنہ زمین پر غلطی کریں اسے طبرانی نے معجم الکبیر میں شیخ حارث نے مسند میں اور ابن شاھین نے السنۃ میں حضرت معاذ بن جبل رضی الله تعالی عنہ سے اور انھوں نے رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے روایت کیا ہے۔ ت)
درجہ ۶ : معصوم من اﷲ ومؤید بالمعجزات ہوکہ کذب کا امکان وقوع بھی نہ رہے مگر بنظر نفس ذات امکان ذاتی ہو یہ رتبہ حضرات انبیاء مرسلین علیہم الصلوۃ والسلام اجمعین کا ہے۔
درجہ ۷ : کذب کا مکان ذاتی بھی نہ ہو بلکہ اس کی عظمت جلیلہ وجالت عظیمہ بالذات کذب وغلط کی نافی ہو اور اس کی ساحت عزت کے گرد اس گردلوث کا گزر محال عقلی بہ نہایت درجات صدق ہے جس سے مافوق متصور نہیں اب آیہ کریمہ ارشاد فرمارہی ہے کہ تیرے رب کا صدق وعدل اعلی درجہ منتہی پر ہے تو واجب کہ جس طرح اس صدور ظلم وخلاف عدل باجمال اہلسنت محال عقلی ہے یونہی صدور کذب و خلاف صدق بھی عقلا ممتنع ہو ورنہ صدق الہی غایت ونہایت تك نہ پہنچاہوگا کہ اس کے مافوق ایك درجہ اور بھی پیدا ہوگا یہ خود بھی محال اور قرآن عظیم کے خلاف فثبت المقصود والحمد اﷲ العلی الودود (مقصود ثابت ہوگیا اور حمد الله بلند اور محبت فرمانے والے کے لئے ہے۔ ت)
درجہ ۴ : ہر قسم حکایت بے محکی عنہ کے تعمد سے اجتناب کلی کرے اگرچہ برائے سہووخطا حکایت خلاف واقع کاوقوع ہوتاہویہ درجہ خاص اولیاء الله کا ہے۔
درجہ ۵ : الله عزوجل سہوا وخطا بھی صدور کذب سے محفوظ رکھے مگر امکان وقوعی باقی ہو یہ مرتبہ اعاظم صدیقین کا ہے کہ :
ان اﷲ تعالی یکرہ فوق سمائہ ان یخطأ ابوبکر الصدیق فی الارض ۔ رواہ الطبرانی فی المعجم الکبیر واالحارث فی مسندہ وابن شاھین فی السنۃ عن معاذ بن جبل رضی اﷲ تعالی عنہ عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔ الله تعالی آسمان کے اوپر اس بات کونا پسند فرماتاہے کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی الله تعالی عنہ زمین پر غلطی کریں اسے طبرانی نے معجم الکبیر میں شیخ حارث نے مسند میں اور ابن شاھین نے السنۃ میں حضرت معاذ بن جبل رضی الله تعالی عنہ سے اور انھوں نے رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے روایت کیا ہے۔ ت)
درجہ ۶ : معصوم من اﷲ ومؤید بالمعجزات ہوکہ کذب کا امکان وقوع بھی نہ رہے مگر بنظر نفس ذات امکان ذاتی ہو یہ رتبہ حضرات انبیاء مرسلین علیہم الصلوۃ والسلام اجمعین کا ہے۔
درجہ ۷ : کذب کا مکان ذاتی بھی نہ ہو بلکہ اس کی عظمت جلیلہ وجالت عظیمہ بالذات کذب وغلط کی نافی ہو اور اس کی ساحت عزت کے گرد اس گردلوث کا گزر محال عقلی بہ نہایت درجات صدق ہے جس سے مافوق متصور نہیں اب آیہ کریمہ ارشاد فرمارہی ہے کہ تیرے رب کا صدق وعدل اعلی درجہ منتہی پر ہے تو واجب کہ جس طرح اس صدور ظلم وخلاف عدل باجمال اہلسنت محال عقلی ہے یونہی صدور کذب و خلاف صدق بھی عقلا ممتنع ہو ورنہ صدق الہی غایت ونہایت تك نہ پہنچاہوگا کہ اس کے مافوق ایك درجہ اور بھی پیدا ہوگا یہ خود بھی محال اور قرآن عظیم کے خلاف فثبت المقصود والحمد اﷲ العلی الودود (مقصود ثابت ہوگیا اور حمد الله بلند اور محبت فرمانے والے کے لئے ہے۔ ت)
حوالہ / References
کنزالعمال بحوالہ الحارث عن معاذ بن جبل حدیث ۳۲۶۳۱ موسستہ الرسالۃ بیروت ۱۱ / ۵۵۸ ، المعجم الکبیر بحوالہ الحارث حدیث ۱۲۴ المکتبۃ الفیصلیہ البیروت ۲۰ / ۶۸
تنبیہ : اقول : فرق ہے دلیل سمعی کے مناط استحالہ ومظہر استحالہ ہونے میں اول کے یہ معنی کہ استحالہ صدق آیت پر موقو ف ہے یعنی ورود دلیل نے محال کردیا اگر سمع میں نہ آتا عقلا ممکن تھا یہ استحالہ شرعی ہوگا اور ثانی کایہ حاصل کہ صدق آیت ماننا استحالہ پر موقوف یعنی اگر محال عقلی نہ مانئے تو مفاد آیت صادق نہیں آتا یہ استحالہ عقلی ہوگا فقیر نے ان تینوں دلیل آخیرین میں یہی طریقہ برتاہے غایت یہ کہ کلام مقدمات مسلمہ پر مبنی ہوگا اس قدر دلیل کو عقلیت سے خارج نہیں کرتا کما لایخفی(جیسا کہ پوشیدہ نہیں۔ ت)خلاصہ یہ کہ آیات ان اثبات ہیں نہ لم ثبوت والحمد ﷲ مالك الملکوت(تمام حمد ملکوت کے مالك کی ہے۔ ت)یہ بحمدالله تیس۳۰ دلیلیں ہیں کہ عجالۃ حاضر کی گئیں اور اگر غور استقصا کی فرصت ہوتی تو باری عزوجل سے امید زیادت تھی پھر بھی ع
درنہ خانہ اگر کسی ست یك حرف بس ست
(اگر خانہ میں کچھ ہے توایك حرف ہی کافی ہے۔ ت)
واﷲ الھادی الی الحق المبین والحمد اﷲ رب العالمین۔ الله تعالی ہی واضح حق کی طرف رہنمائی فرمانے والا ہے اور سب تعریفیں الله رب العالمین کے لئے ہیں۔ (ت)
تنزیہ سوم عــــــہ رد ہذیانات امام و ہابیہ میں
یامعشرالمسلمین ! ان ہمارے عنایت فرما مخالفین ھداھم اﷲ تعالی الی الحق المبین(الله تعالی حق مبین کی طرف ان کی رہنمائی فرمائے ت)کامعاملہ سخت نازك مجہلہ براہ سادگی ایك شخص کو امام بنالیا
عــــــہ : تنبیہ ضروری : قطع نظر اس سے کہ ان کے امام کا رد ان کے ردکا امام ہے بنظر نفس واقعہ فتنہ براہین بھی جس کے باعث یہ استفتاء میرٹھ سے آیا اورحضرت مولانا دام ظلہ العالی نے یہ جواب ہادی صواب رقم فرمایا اس تنزیہ کا لکھنا نہایت ضروری تھا کہ اس براہین قاطعہ ماارادبہ ان یوصل(جس کی مطلوب تك رسائی نہیں۔ ت)کا یہ قول اسی امام الوہابیہ کی حمایت میں ہے انوار ساطعہ نے اس شخص کی طرف اشارہ کیا تھا کہ کوئی جناب باری عزاسمہ کو امکان کذب کا دھبا لگاتاہے “ اور براہین قاطعہ نے اسی کے درد حمایت وحمیت جاہلیت میں لکھا “ مکان کذب کا مسئلہ تو اب جدید کسی نے نہیں نکالا الی آخر الجہالۃ الفاحشہ “ تو اولا بپاس امامت ثانیا بشرم حمایت ہرطرح ملاگنگوہی صاحب پر(بشرطیکہ یہ رسالہ قدسیہ دیکھ کر ہدایت نہ پائیں اور بعلت (باقی برصفحہ ائندہ)
درنہ خانہ اگر کسی ست یك حرف بس ست
(اگر خانہ میں کچھ ہے توایك حرف ہی کافی ہے۔ ت)
واﷲ الھادی الی الحق المبین والحمد اﷲ رب العالمین۔ الله تعالی ہی واضح حق کی طرف رہنمائی فرمانے والا ہے اور سب تعریفیں الله رب العالمین کے لئے ہیں۔ (ت)
تنزیہ سوم عــــــہ رد ہذیانات امام و ہابیہ میں
یامعشرالمسلمین ! ان ہمارے عنایت فرما مخالفین ھداھم اﷲ تعالی الی الحق المبین(الله تعالی حق مبین کی طرف ان کی رہنمائی فرمائے ت)کامعاملہ سخت نازك مجہلہ براہ سادگی ایك شخص کو امام بنالیا
عــــــہ : تنبیہ ضروری : قطع نظر اس سے کہ ان کے امام کا رد ان کے ردکا امام ہے بنظر نفس واقعہ فتنہ براہین بھی جس کے باعث یہ استفتاء میرٹھ سے آیا اورحضرت مولانا دام ظلہ العالی نے یہ جواب ہادی صواب رقم فرمایا اس تنزیہ کا لکھنا نہایت ضروری تھا کہ اس براہین قاطعہ ماارادبہ ان یوصل(جس کی مطلوب تك رسائی نہیں۔ ت)کا یہ قول اسی امام الوہابیہ کی حمایت میں ہے انوار ساطعہ نے اس شخص کی طرف اشارہ کیا تھا کہ کوئی جناب باری عزاسمہ کو امکان کذب کا دھبا لگاتاہے “ اور براہین قاطعہ نے اسی کے درد حمایت وحمیت جاہلیت میں لکھا “ مکان کذب کا مسئلہ تو اب جدید کسی نے نہیں نکالا الی آخر الجہالۃ الفاحشہ “ تو اولا بپاس امامت ثانیا بشرم حمایت ہرطرح ملاگنگوہی صاحب پر(بشرطیکہ یہ رسالہ قدسیہ دیکھ کر ہدایت نہ پائیں اور بعلت (باقی برصفحہ ائندہ)
حوالہ / References
البراہین القاطعہ مسئلہ خلف وعید قدماء میں مختلف فیہ ہے مطبع لے بلاساڈھور ص۲
الانوار الساطعہ مع البراہین القاطعۃ مسئلہ خلف وعید قدماء میں مختلف فیہ ہے مطبع لے بلاساڈھور ص۲ ، ۳
الانوار الساطعہ مع البراہین القاطعۃ مسئلہ خلف وعید قدماء میں مختلف فیہ ہے مطبع لے بلاساڈھور ص۲ ، ۳
اور پیش خویش آسمان بریں پر اٹھا کر رکھ دیا اب اسکے خلاف کسی کی بات قبول ہونی تو بڑی بات کان تك آئی اور طبیعت نے آگ لی آہٹ ہوئی اور غصہ نے باگ لی سننے سے پہلے ٹھہرایا کہ ہر گز نہ سنیں گے بگڑنے کی قسم بنائے نہ بنائیں گے ان ہٹوں کا پاس ہدایت سے یاس دلا رہا ہے مگر پھر بھی اظہار حق کے بغیر چارہ کیا ہے
من آنچہ شرط بلاغ ست باقومی گویم تو خواہ از سخنم پند گیر وخواہ ملال
(بات کاپہنچانا ضروری ہے میں نے وہ کردیا اب تو میری بات سے نصیحت حاصل کرلے یا غصہ کرلے۔ ت)
کاش خدا اتنی توفیق دے کہ اك ذرادیر کے لئے تعصب ونفسانیت کو پان رخصت ملے قائل امام طریق ہے معترض خصم فریق ان حیثتیوں کے لحاظ سے نظر بچ کر چلے پھر گوش ہوش کو اجازت شنیدن ہو پھر میزان خرد کو حکم سنجیدن اب اگر قول خصم قابل قبول ہو تو اتباع حق سے کیوں ناحق عدول ہو ورنہ پھر وہی تو وہی تمھارے امام جو بادہ آج بکام ہے کل بھی درجام اس چند ساعت میں نہ کچھ بنے بگڑ ے نہ رنگ امامت جماہوا اکھڑے ہاں اے وہ سورا خوجوسرکے دونوں جانب گوہر سماعت کے کان بنے ہو جن پر ہواکی موجیں نیسان سخن سے بارور ہوکر مہین مہین پھوہار سے آواز وں کا جھالا برساتی اور ان قدرتی سیپوں میں ان ننھی ننھی بوندیوں سے سننے کے موتی بناتی ہیں کیا کوئی تم میں “ القی السمع و ہو شہید ﴿۳۷﴾ “ (کان لگائے اور متوجہ ہو۔ ت)کے قابل نہیں۔ ہاں اے گوشت کے وہ صنوبر ی ٹکڑوں جوسینوں کے بائیں پہلوؤں میں ملك بدن کے تخت نشین ہوجن کی سرکار میں آنکھوں کے عرض بیگی کانوں کے جاسوس بیرونی اخبار کے پرچے سناتے اور خرد کے وزیر فہم کے مشیر اپنی روشن تدبیر سے نظم ونسق کے بیڑے اٹھاتے ہیں کیا تم میں کوئی “ الذین یستمعون القول فیتبعون احسنہ “ (کان لگا کر بات سنیں پھر اس کے بہتر پر چلیں۔ ت)
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)نجدیت نجدت وتہمت مکابرہ پر آئیں)اس تنزیہ کا جواب دینا بھی(اگرنفخ صور سے پہلے دے سکیں)نہایت ضروری و لازم ہے یہ تو کوئی مقتضائے غیرت نہیں کہ گھر بیٹھے حمایت امام کا بیڑا اٹھائے اور جب شیر شرزہ کا نعرہ جانگداز سنئے امام کو چھوڑ کر حمایت سے منہ موڑئے اور “ انی بریء منک انی اخاف “ (میں تجھ سے بری ہوں مجھے ڈر ہے ت)کی ٹھہرائے والسلام ۱۲ منہ۔
من آنچہ شرط بلاغ ست باقومی گویم تو خواہ از سخنم پند گیر وخواہ ملال
(بات کاپہنچانا ضروری ہے میں نے وہ کردیا اب تو میری بات سے نصیحت حاصل کرلے یا غصہ کرلے۔ ت)
کاش خدا اتنی توفیق دے کہ اك ذرادیر کے لئے تعصب ونفسانیت کو پان رخصت ملے قائل امام طریق ہے معترض خصم فریق ان حیثتیوں کے لحاظ سے نظر بچ کر چلے پھر گوش ہوش کو اجازت شنیدن ہو پھر میزان خرد کو حکم سنجیدن اب اگر قول خصم قابل قبول ہو تو اتباع حق سے کیوں ناحق عدول ہو ورنہ پھر وہی تو وہی تمھارے امام جو بادہ آج بکام ہے کل بھی درجام اس چند ساعت میں نہ کچھ بنے بگڑ ے نہ رنگ امامت جماہوا اکھڑے ہاں اے وہ سورا خوجوسرکے دونوں جانب گوہر سماعت کے کان بنے ہو جن پر ہواکی موجیں نیسان سخن سے بارور ہوکر مہین مہین پھوہار سے آواز وں کا جھالا برساتی اور ان قدرتی سیپوں میں ان ننھی ننھی بوندیوں سے سننے کے موتی بناتی ہیں کیا کوئی تم میں “ القی السمع و ہو شہید ﴿۳۷﴾ “ (کان لگائے اور متوجہ ہو۔ ت)کے قابل نہیں۔ ہاں اے گوشت کے وہ صنوبر ی ٹکڑوں جوسینوں کے بائیں پہلوؤں میں ملك بدن کے تخت نشین ہوجن کی سرکار میں آنکھوں کے عرض بیگی کانوں کے جاسوس بیرونی اخبار کے پرچے سناتے اور خرد کے وزیر فہم کے مشیر اپنی روشن تدبیر سے نظم ونسق کے بیڑے اٹھاتے ہیں کیا تم میں کوئی “ الذین یستمعون القول فیتبعون احسنہ “ (کان لگا کر بات سنیں پھر اس کے بہتر پر چلیں۔ ت)
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)نجدیت نجدت وتہمت مکابرہ پر آئیں)اس تنزیہ کا جواب دینا بھی(اگرنفخ صور سے پہلے دے سکیں)نہایت ضروری و لازم ہے یہ تو کوئی مقتضائے غیرت نہیں کہ گھر بیٹھے حمایت امام کا بیڑا اٹھائے اور جب شیر شرزہ کا نعرہ جانگداز سنئے امام کو چھوڑ کر حمایت سے منہ موڑئے اور “ انی بریء منک انی اخاف “ (میں تجھ سے بری ہوں مجھے ڈر ہے ت)کی ٹھہرائے والسلام ۱۲ منہ۔
کا قائل نہیںجان برادر! یقین جان تعصب باطل واصرار عاطل کا وبال شدید ہے آج نہ کھلا تو کل کیا بعید ہے شب درمیان فردا “ لو کنا نسمع او نعقل “ (اگر ہم سنتے یا سمجھتے۔ ت)کا “ ہذا یوم عصیب ﴿۷۷﴾ “ (یہ بڑی سختی کا دن ہے۔ ت)الا
“ ان موعدہم الصبح الـیس الصبح بقریب ﴿۸۱﴾ “ (بیشك ان کا وعدہ صبح کے وقت ہے کیا صبح قریب نہیں۔ ت)اس دن
“ رب ارجعون ﴿۹۹﴾ لعلی اعمل صلحا “ (اے میرے رب مجھے واپس پھیر دیجئے شاید اب میں کچھ بھلائی کماؤں۔ ت)کا جواب “ “ (ہر گزنہیں۔ ت)ہوگا اور طعن بے امان “ الم یاتکم نذیر ﴿۸﴾ “ (کیا تمھارے پاس کوئی ڈرسنانے والا نہ آیا تھا۔ ت)کے جگر دوزتیر میں بلا کا پلا ابھی سویراہے ہوش سنبھالو آنکھیں مل ڈالو راستہ سوجھنے کی راہ نکالو چل تو دئیے یہ بھی دیکھتے ہو کہ اس جھکی اندھیری میں کس کے پیچھے ہو جس نے نہ صرف ایك مسئلہ کذب باری بلکہ خوارج روافض معتزلہ مریسیہ ظاہریہ کرامیہ وغیرہم طوائف ضالہ کی بدعات شنیعہ اورا ن کے علاوہ صدہا ضلالت قبیحہ قطعیہ کی خندقیں جھنکائیں اور تمھیں ان قہروں ٹھوکروں ستم لغزشوں کی خبر تك نہ ہوئی چشم فہم میں وہ بلا کی نیندیں جھك آئیں اور پھر گمان یہ کہ اس بیہٹر راہ کا ہدایت مآل ہیہات ہیہات کہاں ہدایت اور کہاں یہ چال
اذاکان الغراب دلیل قوم سیھدیھم طریق الھالکینا
(جب کوا کسی قوم کا رہبر ہو تووہ انھیں ہلاکت کی راہ پر ہی لے جائیگا۔ ت)
لله اپنی حالت پر رحم کرو قبل اس کے کہ پھر معذرت “ ربنا ہؤلاء اضلونا “ (اے ہمارے رب! انھوں نے ہم کو بہکایا تھا۔ ت)کام نہ آئے اور “ قال لا تختصموا “ (میرے پاس نہ جھگڑو۔ ت)کی غضب جھنجھلاہٹ “ اذ تبرا الذین اتبعوا “ (جب بیزار ہوں گے پیشوا اپنے پیروؤں سے۔ ت)کارنگ دکھائے “ ربنا افتح بیننا و بین قومنا بالحق و انت خیر الفتحین ﴿۸۹﴾ “ (اے ہمارے رب! ہم میں اور ہماری قوم میں حق فیصلہ کر اور تیرا فیصلہ سب سے بہتر ہے۔ ت)فقیر اس تمہید حمید وتہدید رشید کو اپنا شفیع بناکر مجال مقال میں قدم دھرتا اور دوڑتے دوڑتے نازك طبعوں گراں سمعوں چیں بجبینوں ناتواں بینوں سے کچھ عرض کرتاہے
کہنے کو ان سے کہتاہوں احوال دل مگر
ڈرہے کہ شان ناز پہ شکوہ گراں نہ ہو
یا ایہاالقوم! ان حضرت امام اول وہابیت ہندیہ معلم ثانی طوائف نجدیہ کو اپنی اپج کا مزہ مقدم تھا بیباك روی میں اہلے کا عالم تھا زبان کے آگے بارہ ہل چلتے جب ابلتے پھر کیا کسی کے سنبھالے سنبھلتے جدھر جانکلے مسجد ہو یا دیر لگی رکھنے سے پورا بیر
“ ان موعدہم الصبح الـیس الصبح بقریب ﴿۸۱﴾ “ (بیشك ان کا وعدہ صبح کے وقت ہے کیا صبح قریب نہیں۔ ت)اس دن
“ رب ارجعون ﴿۹۹﴾ لعلی اعمل صلحا “ (اے میرے رب مجھے واپس پھیر دیجئے شاید اب میں کچھ بھلائی کماؤں۔ ت)کا جواب “ “ (ہر گزنہیں۔ ت)ہوگا اور طعن بے امان “ الم یاتکم نذیر ﴿۸﴾ “ (کیا تمھارے پاس کوئی ڈرسنانے والا نہ آیا تھا۔ ت)کے جگر دوزتیر میں بلا کا پلا ابھی سویراہے ہوش سنبھالو آنکھیں مل ڈالو راستہ سوجھنے کی راہ نکالو چل تو دئیے یہ بھی دیکھتے ہو کہ اس جھکی اندھیری میں کس کے پیچھے ہو جس نے نہ صرف ایك مسئلہ کذب باری بلکہ خوارج روافض معتزلہ مریسیہ ظاہریہ کرامیہ وغیرہم طوائف ضالہ کی بدعات شنیعہ اورا ن کے علاوہ صدہا ضلالت قبیحہ قطعیہ کی خندقیں جھنکائیں اور تمھیں ان قہروں ٹھوکروں ستم لغزشوں کی خبر تك نہ ہوئی چشم فہم میں وہ بلا کی نیندیں جھك آئیں اور پھر گمان یہ کہ اس بیہٹر راہ کا ہدایت مآل ہیہات ہیہات کہاں ہدایت اور کہاں یہ چال
اذاکان الغراب دلیل قوم سیھدیھم طریق الھالکینا
(جب کوا کسی قوم کا رہبر ہو تووہ انھیں ہلاکت کی راہ پر ہی لے جائیگا۔ ت)
لله اپنی حالت پر رحم کرو قبل اس کے کہ پھر معذرت “ ربنا ہؤلاء اضلونا “ (اے ہمارے رب! انھوں نے ہم کو بہکایا تھا۔ ت)کام نہ آئے اور “ قال لا تختصموا “ (میرے پاس نہ جھگڑو۔ ت)کی غضب جھنجھلاہٹ “ اذ تبرا الذین اتبعوا “ (جب بیزار ہوں گے پیشوا اپنے پیروؤں سے۔ ت)کارنگ دکھائے “ ربنا افتح بیننا و بین قومنا بالحق و انت خیر الفتحین ﴿۸۹﴾ “ (اے ہمارے رب! ہم میں اور ہماری قوم میں حق فیصلہ کر اور تیرا فیصلہ سب سے بہتر ہے۔ ت)فقیر اس تمہید حمید وتہدید رشید کو اپنا شفیع بناکر مجال مقال میں قدم دھرتا اور دوڑتے دوڑتے نازك طبعوں گراں سمعوں چیں بجبینوں ناتواں بینوں سے کچھ عرض کرتاہے
کہنے کو ان سے کہتاہوں احوال دل مگر
ڈرہے کہ شان ناز پہ شکوہ گراں نہ ہو
یا ایہاالقوم! ان حضرت امام اول وہابیت ہندیہ معلم ثانی طوائف نجدیہ کو اپنی اپج کا مزہ مقدم تھا بیباك روی میں اہلے کا عالم تھا زبان کے آگے بارہ ہل چلتے جب ابلتے پھر کیا کسی کے سنبھالے سنبھلتے جدھر جانکلے مسجد ہو یا دیر لگی رکھنے سے پورا بیر
عرض کرتاہے
کہنے کو ان سے کہتاہوں احوال دل مگر
ڈرہے کہ شان ناز پہ شکوہ گراں نہ ہو
یا ایہاالقوم! ان حضرت امام اول وہابیت ہندیہ معلم ثانی طوائف نجدیہ کو اپنی اپج کا مزہ مقدم تھا بیباك روی میں اہلے کا عالم تھا زبان کے آگے بارہ ہل چلتے جب ابلتے پھر کیا کسی کے سنبھالے سنبھلتے جدھر جانکلے مسجد ہو یا دیر لگی رکھنے سے پورا بیر
گہ بت شکنی گاہ بمسجد زنی آتش از مذہب تو کافر مسلمان گلہ دارد
(کبھی تو بت توڑتاہے اور کبھی مسجدجلاتاہے تیرے مذہب سے کافرو مسلمان دونوں کو گلہ ہے ت)
اسی لئے حضرت کی ایك کتاب میں جو کفر ہے دوسری میں ایمان آج جوولی ہے کل پکا شیطان ایك انکھ سے راضی دوسری سے خفا ایك پر میں زہر دوسرے میں شفاء دور کیوں جائے ایك ہاتھ پر صراط ایك پر تقویت رکھ لیجئے ایك دوسری کا رد کردے تو سہی اب ایك بڑی مصلحت سے جس کے لئے حضرت نے اپنی تصانیف میں بڑے بڑے پانی باندھے اور پیش خویش آہستہ آہستہ سب سامان کر لئے جسے فقیر نے اپنے مجموعہ مبارکہ “ البارقۃ الشارقۃ علی المارقۃ المشارقۃ “ مجلد سوم عــــــہ۱ فتاوی فقیر مسمی بہ العطایا النبویۃ فی الفتاوی الرضویہ میں مفصل ومدلله بیان کیا۔ یہ سوجھی کہ وہ مطلب نہ نکلے گا جب تك الله تعالی کا وجوب صدق باطل نہ ہو لہذا رسالہ “ یکروزی “ میں امکان کذب کے قائل ہوئے اور اس بیہودہ دعوے کے ثبوت کو بہزار جان کنی دو۲ہذیان بین البطلان ظاہر کئے :
ہذیان اول امام وہابیہ:اگر کذب عــــــہ۲ الہی محال ہوا ور محال پر قدرت نہیں تو الله تعالی جھوٹ
عــــــہ۱ : اب الحمد لله وہ بارھواں ہے ۱۲
عــــــہ۲ : علمائے دین جوارشاد فرمایا کہ کذب عیب ہے اور عیب الله عزوجل پر محال حضرت اس کے رد میں یوں اپنا خبث نفس ظاہر کرتے ہیں :
قولہ وھو محال لانہ نقص والنقص علیہ تعالی محال اقول : اگر مراد از محال ممتنع لذاتہ است کہ تحت قدرت الہیہ داخل نیست پس لانسلم کہ کذب مذکور محال بمعنی مسطور باشد قولہ یہ محال ہے کیونکہ نقص ہے اور الله تعالی پر نقص محال ہے ۔
اقول : اگر محال سے مراد محقق لذاتہ ہے جو قدرت الہیہ کے تحت داخل نہیں توہ م نہیں مانتےکہ کذب مذکور محال بمعنی مسطور ہوگا کیونکہ(باقی برصفحہ ائندہ)
کہنے کو ان سے کہتاہوں احوال دل مگر
ڈرہے کہ شان ناز پہ شکوہ گراں نہ ہو
یا ایہاالقوم! ان حضرت امام اول وہابیت ہندیہ معلم ثانی طوائف نجدیہ کو اپنی اپج کا مزہ مقدم تھا بیباك روی میں اہلے کا عالم تھا زبان کے آگے بارہ ہل چلتے جب ابلتے پھر کیا کسی کے سنبھالے سنبھلتے جدھر جانکلے مسجد ہو یا دیر لگی رکھنے سے پورا بیر
گہ بت شکنی گاہ بمسجد زنی آتش از مذہب تو کافر مسلمان گلہ دارد
(کبھی تو بت توڑتاہے اور کبھی مسجدجلاتاہے تیرے مذہب سے کافرو مسلمان دونوں کو گلہ ہے ت)
اسی لئے حضرت کی ایك کتاب میں جو کفر ہے دوسری میں ایمان آج جوولی ہے کل پکا شیطان ایك انکھ سے راضی دوسری سے خفا ایك پر میں زہر دوسرے میں شفاء دور کیوں جائے ایك ہاتھ پر صراط ایك پر تقویت رکھ لیجئے ایك دوسری کا رد کردے تو سہی اب ایك بڑی مصلحت سے جس کے لئے حضرت نے اپنی تصانیف میں بڑے بڑے پانی باندھے اور پیش خویش آہستہ آہستہ سب سامان کر لئے جسے فقیر نے اپنے مجموعہ مبارکہ “ البارقۃ الشارقۃ علی المارقۃ المشارقۃ “ مجلد سوم عــــــہ۱ فتاوی فقیر مسمی بہ العطایا النبویۃ فی الفتاوی الرضویہ میں مفصل ومدلله بیان کیا۔ یہ سوجھی کہ وہ مطلب نہ نکلے گا جب تك الله تعالی کا وجوب صدق باطل نہ ہو لہذا رسالہ “ یکروزی “ میں امکان کذب کے قائل ہوئے اور اس بیہودہ دعوے کے ثبوت کو بہزار جان کنی دو۲ہذیان بین البطلان ظاہر کئے :
ہذیان اول امام وہابیہ:اگر کذب عــــــہ۲ الہی محال ہوا ور محال پر قدرت نہیں تو الله تعالی جھوٹ
عــــــہ۱ : اب الحمد لله وہ بارھواں ہے ۱۲
عــــــہ۲ : علمائے دین جوارشاد فرمایا کہ کذب عیب ہے اور عیب الله عزوجل پر محال حضرت اس کے رد میں یوں اپنا خبث نفس ظاہر کرتے ہیں :
قولہ وھو محال لانہ نقص والنقص علیہ تعالی محال اقول : اگر مراد از محال ممتنع لذاتہ است کہ تحت قدرت الہیہ داخل نیست پس لانسلم کہ کذب مذکور محال بمعنی مسطور باشد قولہ یہ محال ہے کیونکہ نقص ہے اور الله تعالی پر نقص محال ہے ۔
اقول : اگر محال سے مراد محقق لذاتہ ہے جو قدرت الہیہ کے تحت داخل نہیں توہ م نہیں مانتےکہ کذب مذکور محال بمعنی مسطور ہوگا کیونکہ(باقی برصفحہ ائندہ)
بولنے پر قادر نہ ہوگا حالانکہ اکثر آدمی اس پر قادر ہیں تو آدمی کی قدرت الله سے بڑھ گئی یہ محال ہے تو واجب کہ اس کا جھوٹ بولنا ممکن ہو
ایھا المسلمون! حماکم اﷲ شرالمجون(اے اہل اسلام! الله تعالی اس خطرناك شر سے محفوظ فرمائے۔ ت)للہ! بنظر انصاف اس اغوائے عوام وطغوائے تمام کو غور کرو کہ اس بس کی گانٹھ میں کیا کیا زہر کی پڑیا بندھی ہیں۔
اولا : دھوکا دیا کہ آدمی تو جھوٹ بولتے ہیں خدا نہ بول سکے توقدرت انسانی اس کی قدرت سے زائد ہو حالانکہ اہل سنت کے ایمان میں انسان اور اس کے تمام اعمال واقوال واوصاف واحوال سب جناب باری عزوجل کے مخلوق ہیں قال المولی سبحانہ وتعالی :
“ واللہ خلقکم وما تعملون ﴿۹۶﴾ “ ۔ تم اور جو کچھ تم کرتے ہو سب الله ہی کا پیدا کیاہوا ہے۔
انسا ن کو فقط کسب پر ایك گونہ اختیار ملاہے اس کے سارے افعال مولی عزوجل ہی کی سچی قدرت سے واقع ہوتے ہیں آدمی کی کیاطاقت کہ بے اس کے ارادہ وتکوین کے پلك مارسکے انسان کا صدق وکذب کفرایمان طاعت عصیان جو کچھ ہے سب اسی قدیرمقتدرجل وعلا نے پیدا کیا ا ور اسی کی عمیم قدرت عظیم ارادت سے واقع ہوجاتاہے
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
چہ عقد قضیہ غیر مطالبہ للواقع والقائے آں بر ملائکہ و انبیاء خارج از قدرت الہیہ نیست والالازم آید کہ قدرت انسانی ازید از قدرت ربانی باشد چہ عقد قضیہ غیر مطالبہ للواقع والقائے آں برمخاطبین در قدرت اکثر افراد انسانی ست کذب مذکور آرے منافی حکم اوست پس ممتنع بالغیر ست ولہذا عدم کذب را ازکمالات حضرت حق سبحانہ بیشمار ند الخ یہ قضیہ غیرمطابق للواقع ہے اور اس کا القاء ملائکہ اورانبیاء پر قدرت الہیہ سے خارج نہیں ورنہ لازم آئے گا کہ قدرت انسانی قدرت ربانی سے زائد ہوجائے کیونکہ قضیہ غیر مطابق للواقع اور اس کاالقاء مخاطبین پراکثر افراد انسانی کی قوت میں ہے ہاں کذب مذکور اس کی حکمت کے منافی ہے لہذا یہ ممتنع بالغیر ہے اور اسی لئے عدم کذب کو الله تعالی کے کمالات سے شمار کرتے ہیں الخ۔ (ت)
بقیہ عبارت سراپا شرارت زیر ہذیان دوم آئے گی ۱۲ عفاالله تعالی عنہ۔
ایھا المسلمون! حماکم اﷲ شرالمجون(اے اہل اسلام! الله تعالی اس خطرناك شر سے محفوظ فرمائے۔ ت)للہ! بنظر انصاف اس اغوائے عوام وطغوائے تمام کو غور کرو کہ اس بس کی گانٹھ میں کیا کیا زہر کی پڑیا بندھی ہیں۔
اولا : دھوکا دیا کہ آدمی تو جھوٹ بولتے ہیں خدا نہ بول سکے توقدرت انسانی اس کی قدرت سے زائد ہو حالانکہ اہل سنت کے ایمان میں انسان اور اس کے تمام اعمال واقوال واوصاف واحوال سب جناب باری عزوجل کے مخلوق ہیں قال المولی سبحانہ وتعالی :
“ واللہ خلقکم وما تعملون ﴿۹۶﴾ “ ۔ تم اور جو کچھ تم کرتے ہو سب الله ہی کا پیدا کیاہوا ہے۔
انسا ن کو فقط کسب پر ایك گونہ اختیار ملاہے اس کے سارے افعال مولی عزوجل ہی کی سچی قدرت سے واقع ہوتے ہیں آدمی کی کیاطاقت کہ بے اس کے ارادہ وتکوین کے پلك مارسکے انسان کا صدق وکذب کفرایمان طاعت عصیان جو کچھ ہے سب اسی قدیرمقتدرجل وعلا نے پیدا کیا ا ور اسی کی عمیم قدرت عظیم ارادت سے واقع ہوجاتاہے
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
چہ عقد قضیہ غیر مطالبہ للواقع والقائے آں بر ملائکہ و انبیاء خارج از قدرت الہیہ نیست والالازم آید کہ قدرت انسانی ازید از قدرت ربانی باشد چہ عقد قضیہ غیر مطالبہ للواقع والقائے آں برمخاطبین در قدرت اکثر افراد انسانی ست کذب مذکور آرے منافی حکم اوست پس ممتنع بالغیر ست ولہذا عدم کذب را ازکمالات حضرت حق سبحانہ بیشمار ند الخ یہ قضیہ غیرمطابق للواقع ہے اور اس کا القاء ملائکہ اورانبیاء پر قدرت الہیہ سے خارج نہیں ورنہ لازم آئے گا کہ قدرت انسانی قدرت ربانی سے زائد ہوجائے کیونکہ قضیہ غیر مطابق للواقع اور اس کاالقاء مخاطبین پراکثر افراد انسانی کی قوت میں ہے ہاں کذب مذکور اس کی حکمت کے منافی ہے لہذا یہ ممتنع بالغیر ہے اور اسی لئے عدم کذب کو الله تعالی کے کمالات سے شمار کرتے ہیں الخ۔ (ت)
بقیہ عبارت سراپا شرارت زیر ہذیان دوم آئے گی ۱۲ عفاالله تعالی عنہ۔
حوالہ / References
القرآن الکریم ۳۷ /۹۶
رسالہ یکروزی(فارسی) شاہ محمد اسمعیل فاروقی کتب خانہ ملتان ص۱۷
رسالہ یکروزی(فارسی) شاہ محمد اسمعیل فاروقی کتب خانہ ملتان ص۱۷
“ و ما تشاءون الا ان یشاء اللہ رب العلمین ﴿۲۹﴾ “ تم نہ چاہوں گے مگریہ کہ الله چاہے جو پروردگار ہے سارے جہاں کا۔
ع اس کا چاہا ہوا ہمارا نہ ہوا
ماشئت کان وماتشاء یکون لامایشاء الدھر والافلاک
(جوتوں نے چاہا ہوگیا جو آپ چاہیں گے وہ ہوجائے گا نہیں ہوگا جو دہر اور افلاك چاہیں گے۔ ت)
پھر کتنا بڑا فریب دیا ہے کہ آدمی کافعل قدرت الہی سے جداہے یہ خاص اشقیائے معتزلہ کامذہب نامہذب ہے قرآن عظیم کا مردود ومکذب۔
ثانیا اقول : اس ذی ہوش سے پوچھو انسان کو اپنا بڑا جھوٹ بولنے پر قدرت ہے یامعاذ الله الله عزوجل سے بلوانے پر پھر قدرت عــــــہ بڑھنا تو جب ہوتاکہ الله تعالی آدمی سے جھوٹ بلوانے پر قابو نہ رکھتا اپنے کذب پرقادر نہ ہو تو انسان کو اس عزیل جلیل کے کذب پر کب قدرت تھی کہ قدرت الہی سے اس کی قدرت زائد ہوگئی ولکن “ و من لم یجعل اللہ لہ نورا فما لہ من نور ﴿۴۰﴾ “ (لیکن “ جسے الله نور نہ دے اس کے لئے کہیں نور نہیں “ ۔ ت)
عــــــہ : فائدہ عائدہ ضروری الملاحظہ : ایھا المسلمون پر ظاہر کہ قدرت بڑھنے کے یہ معنی کہ ایك شے پر اسے قدرت ہے اسے نہیں نہ یہ کہ اسے جس شے پر قدرت ہے وہ تو اس کی قدرت میں بھی داخل مگر ایك اور چیز اس کی قدرت سے خارج جوہر گز ا سکی قدرت میں بھی داخل نہ تھی اسے قدرت بڑھنا کوئی مجنون ہی سمجھے گا یہاں بھی دو چیزیں ہیں : ایك کذب انسان وہ قدرت انسانی میں مجازا ہے اور قدرت ربانی میں حقیقۃ دوم کذب ربانی اس پر قدرت انسانی نہ قدرت ربانی تو انسان ك قدرت کس بات میں معاذالله مولی سبحانہ وتعالی کی قدرت سے بڑھ گئی ہوایہ کہ ملاجی نے بغایت سفاہت وغباوت کہ تمغائے عامہ اہل بدعت ہے یوں خیال کیا کہ انسان کو اپنے کذب پر قدرت ہے اور بیعینہ یہی لفظ جناب عزت میں بول کر دیکھا کہ اسے بھی اپنے کذب پر قدرت چاہئے ورنہ جو چیز مقدور انسان بھی ہو مقدوررحمن نہ ہوئی ختم الہی کا ثمرہ کہ دونوں جگہ اپنے اپنے کا لفظ دیکھ لیا اور فرق معنی اصلا نہ جانا ایك جگہ اپنے سے مراد ذات انسان ہے دوسری جگہ ذات رحمن جل وعلا پھر جوشے قدرت انسانی میں تھی قدرت ربانی سے کب خارج ہوئی “ کذلک یطبع اللہ علی کل قلب متکبر جبار ﴿۳۵﴾ “ ۱۲ منہ
ع اس کا چاہا ہوا ہمارا نہ ہوا
ماشئت کان وماتشاء یکون لامایشاء الدھر والافلاک
(جوتوں نے چاہا ہوگیا جو آپ چاہیں گے وہ ہوجائے گا نہیں ہوگا جو دہر اور افلاك چاہیں گے۔ ت)
پھر کتنا بڑا فریب دیا ہے کہ آدمی کافعل قدرت الہی سے جداہے یہ خاص اشقیائے معتزلہ کامذہب نامہذب ہے قرآن عظیم کا مردود ومکذب۔
ثانیا اقول : اس ذی ہوش سے پوچھو انسان کو اپنا بڑا جھوٹ بولنے پر قدرت ہے یامعاذ الله الله عزوجل سے بلوانے پر پھر قدرت عــــــہ بڑھنا تو جب ہوتاکہ الله تعالی آدمی سے جھوٹ بلوانے پر قابو نہ رکھتا اپنے کذب پرقادر نہ ہو تو انسان کو اس عزیل جلیل کے کذب پر کب قدرت تھی کہ قدرت الہی سے اس کی قدرت زائد ہوگئی ولکن “ و من لم یجعل اللہ لہ نورا فما لہ من نور ﴿۴۰﴾ “ (لیکن “ جسے الله نور نہ دے اس کے لئے کہیں نور نہیں “ ۔ ت)
عــــــہ : فائدہ عائدہ ضروری الملاحظہ : ایھا المسلمون پر ظاہر کہ قدرت بڑھنے کے یہ معنی کہ ایك شے پر اسے قدرت ہے اسے نہیں نہ یہ کہ اسے جس شے پر قدرت ہے وہ تو اس کی قدرت میں بھی داخل مگر ایك اور چیز اس کی قدرت سے خارج جوہر گز ا سکی قدرت میں بھی داخل نہ تھی اسے قدرت بڑھنا کوئی مجنون ہی سمجھے گا یہاں بھی دو چیزیں ہیں : ایك کذب انسان وہ قدرت انسانی میں مجازا ہے اور قدرت ربانی میں حقیقۃ دوم کذب ربانی اس پر قدرت انسانی نہ قدرت ربانی تو انسان ك قدرت کس بات میں معاذالله مولی سبحانہ وتعالی کی قدرت سے بڑھ گئی ہوایہ کہ ملاجی نے بغایت سفاہت وغباوت کہ تمغائے عامہ اہل بدعت ہے یوں خیال کیا کہ انسان کو اپنے کذب پر قدرت ہے اور بیعینہ یہی لفظ جناب عزت میں بول کر دیکھا کہ اسے بھی اپنے کذب پر قدرت چاہئے ورنہ جو چیز مقدور انسان بھی ہو مقدوررحمن نہ ہوئی ختم الہی کا ثمرہ کہ دونوں جگہ اپنے اپنے کا لفظ دیکھ لیا اور فرق معنی اصلا نہ جانا ایك جگہ اپنے سے مراد ذات انسان ہے دوسری جگہ ذات رحمن جل وعلا پھر جوشے قدرت انسانی میں تھی قدرت ربانی سے کب خارج ہوئی “ کذلک یطبع اللہ علی کل قلب متکبر جبار ﴿۳۵﴾ “ ۱۲ منہ
ثالثا : حضرت کو اسی “ یکروزی “ میں یہ تسلیم روزی کہ کذب عیب ومنقصت ہے اور بیشك باری عزوجل میں عیب ونقصان آنا محال عقلی اور ہم اسی رسالہ کے مقدمے میں روشن کرچکے محال پر قدرت ماننا الله عزوجل کو سخت عیب لگانا بلکہ اس کی خدائی سے منکر ہوجانا ہے حضرات مبتدعین کے معلم شفیق ابلیس خبیث علیہ اللعن نے یہ عجز وقدرت کا نیا شگوفہ ان دہلوی بہادر سے پہلے ان کے مقتدا ابن حزم فاسد العزم فاقد الجزم ظاہر المذہب ردی المشرب کو بھی سکھایا تھا کہ اپنے رب کا ادب واجلال یکسر پس پشت ڈال کتاب الملل والنحل میں بك گیا کہ انہ تعالی قادر ان یتخذ ولدا اذلو لك یقدر لکان عاجزا یعنی الله تعالی اپنے لئے بیٹا بنانے پر قادر ہے کہ قدرت نہ مانو تو عاجز ہوگا۔
تعالی اﷲ عما یقول الظالمون علوا کبیرا “ لقد جئتم شیـا ادا ﴿۸۹﴾ تکاد السموت یتفطرن منہ وتنشق الارض و تخر الجبال ہدا ﴿۹۰﴾ ان دعوا للرحمن ولدا ﴿۹۱﴾ و ما ینبغی للرحمن ان یتخذ ولدا ﴿۹۲﴾ “ ظالم جو کہتے ہیں الله تعالی اس سے کہیں بلند ہے بیشك تم حد کی بھاری بات لائے قریب ہے کہ آسمان اس سے پھٹ پڑیں اور زمین شق ہوجائے اور پہاڑ گرجائیں ڈھے کر اس پر کہ انھوں نے رحمن کے لئے اولاد بتائی اور رحمن کے لائق نہیں کہ اولاد اختیار کرے۔ (ت)
سیدی عبدالغنی نابلسی قدس سرہ القدسی مطالب الوفیہ میں ابن حزم کا یہ قول نقل کرکے فرماتے ہیں :
فانظر اختلال ھذا المبتدع کیف غفل عمایلزم علی ھذہ المقالۃ الشنیعۃ من اللوازم التی لاتدخل تحت وھم وکیف فاتاہ ان العجز انما یکون لوکان القصور جاء من ناحیۃ القدرۃ عما اذا کان لعدم قبول المستحیل تعلق القدرۃ فلایتوھم عاقل ان ھذا عجز ۔ یعنی اس بدعتی کی بدحواسی دیکھنا کیونکر غافل ہوا کہ اس قول شنیع پر کیا کیا قباحتیں لازم آتی ہیں جو کسی وہم میں نہ سمائیں اور کیونکر اس کے فہم سے گیا کہ عجز توجب ہوکہ قصور قدرت کی طرف سے آئے اور جب وجہ یہ ہے کہ محال خودہی تعلق قدرت کی قابلیت نہیں رکھتا توا س سے کسی عاقل کو عجز کا وہم نہ گزرے گا۔
تعالی اﷲ عما یقول الظالمون علوا کبیرا “ لقد جئتم شیـا ادا ﴿۸۹﴾ تکاد السموت یتفطرن منہ وتنشق الارض و تخر الجبال ہدا ﴿۹۰﴾ ان دعوا للرحمن ولدا ﴿۹۱﴾ و ما ینبغی للرحمن ان یتخذ ولدا ﴿۹۲﴾ “ ظالم جو کہتے ہیں الله تعالی اس سے کہیں بلند ہے بیشك تم حد کی بھاری بات لائے قریب ہے کہ آسمان اس سے پھٹ پڑیں اور زمین شق ہوجائے اور پہاڑ گرجائیں ڈھے کر اس پر کہ انھوں نے رحمن کے لئے اولاد بتائی اور رحمن کے لائق نہیں کہ اولاد اختیار کرے۔ (ت)
سیدی عبدالغنی نابلسی قدس سرہ القدسی مطالب الوفیہ میں ابن حزم کا یہ قول نقل کرکے فرماتے ہیں :
فانظر اختلال ھذا المبتدع کیف غفل عمایلزم علی ھذہ المقالۃ الشنیعۃ من اللوازم التی لاتدخل تحت وھم وکیف فاتاہ ان العجز انما یکون لوکان القصور جاء من ناحیۃ القدرۃ عما اذا کان لعدم قبول المستحیل تعلق القدرۃ فلایتوھم عاقل ان ھذا عجز ۔ یعنی اس بدعتی کی بدحواسی دیکھنا کیونکر غافل ہوا کہ اس قول شنیع پر کیا کیا قباحتیں لازم آتی ہیں جو کسی وہم میں نہ سمائیں اور کیونکر اس کے فہم سے گیا کہ عجز توجب ہوکہ قصور قدرت کی طرف سے آئے اور جب وجہ یہ ہے کہ محال خودہی تعلق قدرت کی قابلیت نہیں رکھتا توا س سے کسی عاقل کو عجز کا وہم نہ گزرے گا۔
حوالہ / References
الملل والنحل لابن جزم
القرآن الکریم ۱۹ /۸۹ تا ۹۲
المطالب الوفیہ لعبد الغنی النابلسی
القرآن الکریم ۱۹ /۸۹ تا ۹۲
المطالب الوفیہ لعبد الغنی النابلسی
اسی میں فرمایا :
وبالجملۃ فذلك التقدیر الفاسد یؤدی الی تخلیط عظیم لا یبقی معہ شیئ من الایمان ولامن المعقولات اصلا ۔ یعنی بہ تقدیر فاسد(کہ باری عزوجل محالات پر قادرہے)وہ سخت درہمی وبرہمی کا باعث ہوگی جس کے ساتھ نہ ایمان کا نام ہے نہ اصلا احکام عقل کا نشان۔
اسی میں فرمایا :
وقع ھھنا لابن حزم ھذیان بین البطلان لیس لہ قدوۃ ورئیس الاشیخ الضلالۃ ابلیس ۔ یعنی سومسئلہ قدرت میں ابن حزم سے وہ بہکی بہکی بات کھلی باطل واقع ہوئی جس میں اس کا کوئی پیشوا نہ رئیس مگر سردار گمراہی ابلیس۔
کنز الفوائد میں فرمایا :
القدرۃ والارادۃ صفتان مؤثرتان و المستحیل لا یمکن ان یتأثربھما اذ یلزم ح ان یجوز تعلقھا باعدام نفسھا واعدام الذات العالیۃ واثبات الالوھیۃ لما لایقبلھا من الحوادث و سلبھا عن مستحقھا جل وعلا فای قصور وفساد ونقص اعظم من ھذا وھذا التقدیر یودی الی تخلیط عظیم وتخریب جسیم لایبقی معہ عقل ولانقل ولاایمان ولاکفر ولعماءۃ بعض الاشیاء من المبتدعۃ من ھذا صرح بنقیضہ فانظر عما ھذا المبتدع کیف عمی یلزم علی ھذا القول یعنی قدرت اور ارادہ دونوں صفتیں مؤثرہیں اور محال کا ان سے متاثر ہونا ممکن نہیں ورنہ لازم آئے کہ قدرت وارادہ اپنے نفس کے عدم اور خود الله تعالی کے عدم اور مخلوق کو خدا کردینے اور خالق سے خدائی چھین لینے ان سب باتوں سے متعلق ہوسکے اس سے بڑھ کر کون ساقصور وفساد ونقصان ہوگا اس تقدیر پر وہ سخت درہمی اور عظیم خرابی لازم آئے گی جس کے ساتھ نہ عقل رہے نہ نقل نہ ایمان نہ کفر اور بعض اشقیائے بدمذہب کو جو یہ امر نہ سوجھا تو صاف لکھ گیا کہ ایسی بات پر خدا قادر ہے اب اس بدعتی کا اندھا پن دیکھو کیونکر اسے نہ سوجھیں وہ شناعتیں جو اس برے قول پر لازم آئیں گی جن کی طرف
وبالجملۃ فذلك التقدیر الفاسد یؤدی الی تخلیط عظیم لا یبقی معہ شیئ من الایمان ولامن المعقولات اصلا ۔ یعنی بہ تقدیر فاسد(کہ باری عزوجل محالات پر قادرہے)وہ سخت درہمی وبرہمی کا باعث ہوگی جس کے ساتھ نہ ایمان کا نام ہے نہ اصلا احکام عقل کا نشان۔
اسی میں فرمایا :
وقع ھھنا لابن حزم ھذیان بین البطلان لیس لہ قدوۃ ورئیس الاشیخ الضلالۃ ابلیس ۔ یعنی سومسئلہ قدرت میں ابن حزم سے وہ بہکی بہکی بات کھلی باطل واقع ہوئی جس میں اس کا کوئی پیشوا نہ رئیس مگر سردار گمراہی ابلیس۔
کنز الفوائد میں فرمایا :
القدرۃ والارادۃ صفتان مؤثرتان و المستحیل لا یمکن ان یتأثربھما اذ یلزم ح ان یجوز تعلقھا باعدام نفسھا واعدام الذات العالیۃ واثبات الالوھیۃ لما لایقبلھا من الحوادث و سلبھا عن مستحقھا جل وعلا فای قصور وفساد ونقص اعظم من ھذا وھذا التقدیر یودی الی تخلیط عظیم وتخریب جسیم لایبقی معہ عقل ولانقل ولاایمان ولاکفر ولعماءۃ بعض الاشیاء من المبتدعۃ من ھذا صرح بنقیضہ فانظر عما ھذا المبتدع کیف عمی یلزم علی ھذا القول یعنی قدرت اور ارادہ دونوں صفتیں مؤثرہیں اور محال کا ان سے متاثر ہونا ممکن نہیں ورنہ لازم آئے کہ قدرت وارادہ اپنے نفس کے عدم اور خود الله تعالی کے عدم اور مخلوق کو خدا کردینے اور خالق سے خدائی چھین لینے ان سب باتوں سے متعلق ہوسکے اس سے بڑھ کر کون ساقصور وفساد ونقصان ہوگا اس تقدیر پر وہ سخت درہمی اور عظیم خرابی لازم آئے گی جس کے ساتھ نہ عقل رہے نہ نقل نہ ایمان نہ کفر اور بعض اشقیائے بدمذہب کو جو یہ امر نہ سوجھا تو صاف لکھ گیا کہ ایسی بات پر خدا قادر ہے اب اس بدعتی کا اندھا پن دیکھو کیونکر اسے نہ سوجھیں وہ شناعتیں جو اس برے قول پر لازم آئیں گی جن کی طرف
حوالہ / References
المطالب الوفیۃ لعبد الغنی النابلسی
المطالب الوفیۃ لعبد الغنی النابلسی
المطالب الوفیۃ لعبد الغنی النابلسی
الشنیع من اللوازم التی لایتطرق الیھا الوھم ۔ وہم کو بھی راستہ نہیں۔
مسلمان انصاف کرے کہ یہ تشنیعیں جو علماء نے اس بد مذہب ابن حزم پر کیں اس بد مشرب عدیم الحزم سے کتنی بچ رہیں
“ کذلک قال الذین من قبلہم مثل قولہم تشبہت قلوبہم “ “ و ان اللہ لا یہدی کید الخائنین ﴿۵۲﴾ “ ۔ ان سے اگلوں نے بھی ایسی ہی کہی ان کی سی بات ان کے ان کے دل ایك سے ہیں اور الله دغابازوں کا مکر نہیں چلنے دیتا۔ (ت)
رابعا اقول : العزۃ للہ اگر دہلوی ملا کی یہ دلیل سچی ہو تو دو خدا دس خدا ہزار خدا بیشمارخدا ممکن ہوجائیں وجہ سنئے جب یہ اقرار پایا کہ آدمی جو کچھ کر سکے خدابھی اپنی ذات کےلئے کرسکتاہے اور معلوم کہ نکاح کرنا عورت سے ہم بستر ہونا اس کے رحم میں نطفہ پینچانا قدرت انسانی میں ہے تو واجب کہ ملاجی کا موہوم خدا بھی یہ باتیں کرسکے ورنہ آدمی کی قدرت تو اس سے بھی بڑھ جائے گی اور جب اتنا ہوچکا تو وہ آفتیں جن کے سبب اہل اسلام اتخاذولد کو محال جانتے تھے امام وہابیہ نے قطعا جائز مان لیں۔ آگے نطفہ ٹھہرنے ور بچہ ہونے میں کیا زہر گھل گیا ہے وہ کون سی ذلت وخواری باقی رہی ہے جن کے باعث انھیں مانتے جھجکنا ہوگا بلکہ یہاں آکر خدا کا عاجز رہ جانا توسخت تعجب ہے کہ یہ توخاص اپنے ہاتھ کے کام ہیں جب دنیا بھر میں بزعم ملاجی سب کے لئے اس کی قدرت سے واعق ہوتے ہیں تو کیا اپنی زوجہ کے بارے میں تھك جائیگا اخر بچہ نہ ہونا یوں ہوتاہے کہ نطفہ استقرار نہ کرے اورخدا استفرار پر قادر ہے یا یوں کہ منی ناقابل عقد و انعقاد یا مزاج رحم مں کوئی فساد یا خلل آسیب مانع اولادتو جب خدائی ہے کیا ان موانع کا ازالہ کرسکے گا بہر حال جب امور سابقہ ممکن ٹھہرے تو بچہ ہونا قطعا ممکن اور خدا کا بچہ خدا ہی ہوگا قال الله تعالی :
قل ان کان للرحمن ولد ٭ فانا اول تو فرما اگرر حمان کے لئے کوئی بچہ ہے تومیں سب سے پہلے
عــــــہ : حملہ السدی علی الظاھر وعلیہ ھول فی تکملہ المفاتیں والبیضاوی والمدارك وارشاد العقل وغیرھا ولاشك انہ صحیح صاف لاغبار علیہ فای حاجۃ الی ارتکاب تاویلات بعیدۃ ۱۲ منہ سدی نے اسے ظاہر پر محمول کیا اور اسی پر اعتماد ہے تکملۃ المفاتیں بیضاوی مدارك اورارشاد العقل وغیرھا میں اور بیشك یہ صحیح صاف ہے اس پر کچھ غبار نہیں تو پھر تاویلات بعیدہ کے ارتکاب کی کیا حاجت ہے ۱۲ منہ(ت)
العبدین ﴿۸۱﴾ “ پوجنے والاہوں۔
تو قطعا دوخدا کا امکان ہوا اگرچہ منافی گیر ہو کر امتناع بالغیر ٹھہرے اور جب ایك ممکن ہو تو کروڑوں ممکن کہ قدرت خدا کو انتہا نہیں ولاحول ولاقوۃ الا باﷲ العلی العظیم۔
مسلمان انصاف کرے کہ یہ تشنیعیں جو علماء نے اس بد مذہب ابن حزم پر کیں اس بد مشرب عدیم الحزم سے کتنی بچ رہیں
“ کذلک قال الذین من قبلہم مثل قولہم تشبہت قلوبہم “ “ و ان اللہ لا یہدی کید الخائنین ﴿۵۲﴾ “ ۔ ان سے اگلوں نے بھی ایسی ہی کہی ان کی سی بات ان کے ان کے دل ایك سے ہیں اور الله دغابازوں کا مکر نہیں چلنے دیتا۔ (ت)
رابعا اقول : العزۃ للہ اگر دہلوی ملا کی یہ دلیل سچی ہو تو دو خدا دس خدا ہزار خدا بیشمارخدا ممکن ہوجائیں وجہ سنئے جب یہ اقرار پایا کہ آدمی جو کچھ کر سکے خدابھی اپنی ذات کےلئے کرسکتاہے اور معلوم کہ نکاح کرنا عورت سے ہم بستر ہونا اس کے رحم میں نطفہ پینچانا قدرت انسانی میں ہے تو واجب کہ ملاجی کا موہوم خدا بھی یہ باتیں کرسکے ورنہ آدمی کی قدرت تو اس سے بھی بڑھ جائے گی اور جب اتنا ہوچکا تو وہ آفتیں جن کے سبب اہل اسلام اتخاذولد کو محال جانتے تھے امام وہابیہ نے قطعا جائز مان لیں۔ آگے نطفہ ٹھہرنے ور بچہ ہونے میں کیا زہر گھل گیا ہے وہ کون سی ذلت وخواری باقی رہی ہے جن کے باعث انھیں مانتے جھجکنا ہوگا بلکہ یہاں آکر خدا کا عاجز رہ جانا توسخت تعجب ہے کہ یہ توخاص اپنے ہاتھ کے کام ہیں جب دنیا بھر میں بزعم ملاجی سب کے لئے اس کی قدرت سے واعق ہوتے ہیں تو کیا اپنی زوجہ کے بارے میں تھك جائیگا اخر بچہ نہ ہونا یوں ہوتاہے کہ نطفہ استقرار نہ کرے اورخدا استفرار پر قادر ہے یا یوں کہ منی ناقابل عقد و انعقاد یا مزاج رحم مں کوئی فساد یا خلل آسیب مانع اولادتو جب خدائی ہے کیا ان موانع کا ازالہ کرسکے گا بہر حال جب امور سابقہ ممکن ٹھہرے تو بچہ ہونا قطعا ممکن اور خدا کا بچہ خدا ہی ہوگا قال الله تعالی :
قل ان کان للرحمن ولد ٭ فانا اول تو فرما اگرر حمان کے لئے کوئی بچہ ہے تومیں سب سے پہلے
عــــــہ : حملہ السدی علی الظاھر وعلیہ ھول فی تکملہ المفاتیں والبیضاوی والمدارك وارشاد العقل وغیرھا ولاشك انہ صحیح صاف لاغبار علیہ فای حاجۃ الی ارتکاب تاویلات بعیدۃ ۱۲ منہ سدی نے اسے ظاہر پر محمول کیا اور اسی پر اعتماد ہے تکملۃ المفاتیں بیضاوی مدارك اورارشاد العقل وغیرھا میں اور بیشك یہ صحیح صاف ہے اس پر کچھ غبار نہیں تو پھر تاویلات بعیدہ کے ارتکاب کی کیا حاجت ہے ۱۲ منہ(ت)
العبدین ﴿۸۱﴾ “ پوجنے والاہوں۔
تو قطعا دوخدا کا امکان ہوا اگرچہ منافی گیر ہو کر امتناع بالغیر ٹھہرے اور جب ایك ممکن ہو تو کروڑوں ممکن کہ قدرت خدا کو انتہا نہیں ولاحول ولاقوۃ الا باﷲ العلی العظیم۔
خامسا ملائے دہلی کا خدائے موہوم کہاں کہاں آدمی کی حرص کرے گا آدمی کھانا کھاتاہے پانی پیتا ہے پاخانہ پھرتاہے پیشاب کرتاہے آدمی قادر ہے کہ جس چیز کودیکھنا نہ چاہے انکھیں بند کرلے سننا نہ چاہے کانوں میں انگلیاں دے لے آدمی قادر ہے کہ آپ کو دریامیں ڈوبو دے آگ سے جلالے خاك پر لیٹے کانٹوں پر لوٹے رافضی ہوجائے وہابی بن جائے مگر ملائے ملوم کامولائے موہوم یہ سب باتیں اپنے لے کرسکتاہوگا ورنہ عاجز ٹھہرے گا اور کمال قدرت میں آدمی سے گھٹ رہے گا
اقول غرض خدائی سے ہر طرح ہاتھ دھوبیٹھنا ہے نہ کرسکا تو حضرت کے زعم میں عاجز ہوا اور عاجز خدا نہیں کرسکا تو ناقص ہوا ناقص خدانہیں۔ محتاج ہوا محتاج خدا نہیں۔ ملوث ہوا ملوث خدا نہیں۔ تو شمس ومس کی طرح اظہر و ازہر کہ دہلوی بہادر کا یہ قول ابتر حقیقۃ انکار خدا کی طرف منجر
“ وما قدروا اللہ حق قدرہ “ والعیاذباﷲ من اضلا الشیطن۔ انھوں نے الله تعالی کی صحیح قدر نہیں کی اور شیطان کی گمراہی سے الله تعالی کی پناہ۔ (ت)
مگر “ سبحان ربنا “ ہمارا سچا خدا سب عیبوں سے پاك اور قدرت علی المحال کی تہمت سراپا ضلال سے کمال منزہ عالم اور عالم کے اعیان اعراض ذوات صفات اعمال اقوال خیر شر صدق کذب حسن قبیح سب اسی کی قدرت کاملہ وارادہ الیہ سے ہوتے ہیں نہ کوئی ممکن اس کی قدرت سے باہر نہ کسی کی قدرت اس کی قدرت کے ہمسر نہ اپنے لئے کسی عیب پر قادر ہونا اس کی شان قدوسی کے لائق ودرخور
تعالی اﷲ عما یقول الظالمون علواکبیرا o وسبحن اﷲ بکرۃواصیلا والحمد اﷲ حمد کثیرا۔ الله تعالی اس سے بہت بلند ہے جو یہ ظالم کہتے ہیں صبح وشام الله تعالی کی تقدیس وپاکیزگی ہے اور تمام اور کثیر حمد الله تعالی کے لئے ہے۔ (ت)
ثم اقول : ذہن فقیر میں ان پانچ کے علاوہ ہذیان مذکور پر اور ابحاث دقیقہ کلامیہ ہیں جن کے ذکر کے لئے مخاطب قابل فہم دقائق درکار نہ وہ حضرات جن میں اجلہ واکابر کا مبلغ علم سیدھی سیدھی
اقول غرض خدائی سے ہر طرح ہاتھ دھوبیٹھنا ہے نہ کرسکا تو حضرت کے زعم میں عاجز ہوا اور عاجز خدا نہیں کرسکا تو ناقص ہوا ناقص خدانہیں۔ محتاج ہوا محتاج خدا نہیں۔ ملوث ہوا ملوث خدا نہیں۔ تو شمس ومس کی طرح اظہر و ازہر کہ دہلوی بہادر کا یہ قول ابتر حقیقۃ انکار خدا کی طرف منجر
“ وما قدروا اللہ حق قدرہ “ والعیاذباﷲ من اضلا الشیطن۔ انھوں نے الله تعالی کی صحیح قدر نہیں کی اور شیطان کی گمراہی سے الله تعالی کی پناہ۔ (ت)
مگر “ سبحان ربنا “ ہمارا سچا خدا سب عیبوں سے پاك اور قدرت علی المحال کی تہمت سراپا ضلال سے کمال منزہ عالم اور عالم کے اعیان اعراض ذوات صفات اعمال اقوال خیر شر صدق کذب حسن قبیح سب اسی کی قدرت کاملہ وارادہ الیہ سے ہوتے ہیں نہ کوئی ممکن اس کی قدرت سے باہر نہ کسی کی قدرت اس کی قدرت کے ہمسر نہ اپنے لئے کسی عیب پر قادر ہونا اس کی شان قدوسی کے لائق ودرخور
تعالی اﷲ عما یقول الظالمون علواکبیرا o وسبحن اﷲ بکرۃواصیلا والحمد اﷲ حمد کثیرا۔ الله تعالی اس سے بہت بلند ہے جو یہ ظالم کہتے ہیں صبح وشام الله تعالی کی تقدیس وپاکیزگی ہے اور تمام اور کثیر حمد الله تعالی کے لئے ہے۔ (ت)
ثم اقول : ذہن فقیر میں ان پانچ کے علاوہ ہذیان مذکور پر اور ابحاث دقیقہ کلامیہ ہیں جن کے ذکر کے لئے مخاطب قابل فہم دقائق درکار نہ وہ حضرات جن میں اجلہ واکابر کا مبلغ علم سیدھی سیدھی
حوالہ / References
القرآن الکریم ۲۲ /۷۴
نفس عبارت مشکوۃ وغیرہ سن سنا کر اجازت وسند کی داد وستد تابہ اذلہ واصاغر چہ رسد امرنا ان نکلم الناس علی قدر عقولھم واﷲ الھادی وولی الایادی(ہمیں یہی حکم ہے کہ ہم لوگوں کی عقل کے مطابق کلام کریں الله تعالی ہی ہادی اور مدد کا مالك ہے۔ ت)
ہذیان دوم مولائے نجدیہ :
عدم کذب رااز کمالات حضرت حق سبحانہ می شمارند واورا جل شانہ بآں مدح می کنند بخلاف اخرس و جماد کہ ایشاں راکسے بعدم کذب مدح نمی کند وپرظاہر ست کہ صفت کمال ہمین ست کہ شخصے قدرت برتکلم بکلام کاذب میدارد وبنا بررعایت مصلحت ومقتضی حکمت بتنزہ از شوت کذب تکلم بکلام کاذب نمی نماید ہماں شخص ممدوح می گردد وبسلب عیب کذب و اتصاف بکمال صدق بخلاف کسے کہ لسان اوماؤف شدہ باشد وتکلم بکلام کاذب نمی تواند کرد یاقوت متفکرہ اوفاسد شدہ باشد کہ عقد قضیہ غیر مطابقہ للواقع نمی تواندکرد یاشخصے کہ ہرگاہ کلام صادق مے گوید کلام مذکور ازوصادر می گردد و ہر گاہ کہ ارادہ تکلم بکلام کاذب می نماید آواز او بند مے گردد یازبان او ماؤف می شود یاکسے دیگر دہن اور رابند می نماید یا حلقوم اور اخفہ می کنند یا کسے کہ چند قضایا صادقہ رایاد گر فتہ است واصلہ پر ترکیب قضایائے دیگر قدرت نمی دارد و بناء علیہ کلام کاذب ازوصادرنمے گردد ایں اشخاص مذکورین نزد عقلا قابل مدح می نشیند بالجملہ عدم تکلم کلام کاذب ترفعا عن عیب الکذب وتنزہا عن التلوث بہ از صفات مدح ست وبنا عجز از تکلم بکلام کاذب ہیچ گونہ از صفات مدائح نیست یا مدح آں بسیار عدم کذب کو الله تعالی کے کمالات سے شمار کرتے ہیں اور اس جل شانہ کی اس کے ساتھ مدح کرتے ہیں بخلاف گونگے اور جماد کے ان کی کوئی عدم کذب سے مدح نہیں کرتا اور یہ بات نہایت ظاہر ہے کہ کمال یہی ہے کہ ایك شخص جھوٹے کلام پر قادر تو ہو لیکن بنابر مصلحت اور بتقاضائے حکمت تقدس جھوٹے کلام کاا رتکاب اور اظہار نہ کرے ایسا شخص ہی سلب عیب کذب سے ممدوح اور کمال صدق سے متصف ہوگا بخلاف اس کے جس کی زبان ہی ماؤف ہوا ور جھوٹا کلام کر ہی نہیں سکتا یا اس کی سوچ وفکر کی قوت فاسد ہوکر قضیہ غیر مطابق للواقع کا انعقاد نہیں کرسکتا یا ایسا شخص ہے جو کسی جگہ سچا کلام کرتاہے اس سے وہ صادر ہوتی ہے اور جس جگہ جھوٹا کلام کرنے کا ارادہ کرتاہے تو اس کی آواز بند ہوجاتی ہے یا اس کی زباں ماؤف ہوجاتی ہے یا کوئی اس کا منہ بند کردیتاہے یااس کا کوئی گلا دبا دیتا ہے یا کسی نے چند سچے جملے رٹ لئے ہیں اور وہ دیگر جملوں پر کوئی قدرت ہی نہیں رکھتا اور اس بناء پر اس سے جھوٹ صادر ہی نہیں ہوتا یہ مذکور لوگ عقلاء کے نزدیك قابل مدح نہیں ہیں بالجملہ عیب کذب سے بچنے اوراس میں ملوث ہونے سے محفوظ رہنے کے لئے جھوٹی کلام کا عدم تکلم صفات مدح میں سے ہے اور
ہذیان دوم مولائے نجدیہ :
عدم کذب رااز کمالات حضرت حق سبحانہ می شمارند واورا جل شانہ بآں مدح می کنند بخلاف اخرس و جماد کہ ایشاں راکسے بعدم کذب مدح نمی کند وپرظاہر ست کہ صفت کمال ہمین ست کہ شخصے قدرت برتکلم بکلام کاذب میدارد وبنا بررعایت مصلحت ومقتضی حکمت بتنزہ از شوت کذب تکلم بکلام کاذب نمی نماید ہماں شخص ممدوح می گردد وبسلب عیب کذب و اتصاف بکمال صدق بخلاف کسے کہ لسان اوماؤف شدہ باشد وتکلم بکلام کاذب نمی تواند کرد یاقوت متفکرہ اوفاسد شدہ باشد کہ عقد قضیہ غیر مطابقہ للواقع نمی تواندکرد یاشخصے کہ ہرگاہ کلام صادق مے گوید کلام مذکور ازوصادر می گردد و ہر گاہ کہ ارادہ تکلم بکلام کاذب می نماید آواز او بند مے گردد یازبان او ماؤف می شود یاکسے دیگر دہن اور رابند می نماید یا حلقوم اور اخفہ می کنند یا کسے کہ چند قضایا صادقہ رایاد گر فتہ است واصلہ پر ترکیب قضایائے دیگر قدرت نمی دارد و بناء علیہ کلام کاذب ازوصادرنمے گردد ایں اشخاص مذکورین نزد عقلا قابل مدح می نشیند بالجملہ عدم تکلم کلام کاذب ترفعا عن عیب الکذب وتنزہا عن التلوث بہ از صفات مدح ست وبنا عجز از تکلم بکلام کاذب ہیچ گونہ از صفات مدائح نیست یا مدح آں بسیار عدم کذب کو الله تعالی کے کمالات سے شمار کرتے ہیں اور اس جل شانہ کی اس کے ساتھ مدح کرتے ہیں بخلاف گونگے اور جماد کے ان کی کوئی عدم کذب سے مدح نہیں کرتا اور یہ بات نہایت ظاہر ہے کہ کمال یہی ہے کہ ایك شخص جھوٹے کلام پر قادر تو ہو لیکن بنابر مصلحت اور بتقاضائے حکمت تقدس جھوٹے کلام کاا رتکاب اور اظہار نہ کرے ایسا شخص ہی سلب عیب کذب سے ممدوح اور کمال صدق سے متصف ہوگا بخلاف اس کے جس کی زبان ہی ماؤف ہوا ور جھوٹا کلام کر ہی نہیں سکتا یا اس کی سوچ وفکر کی قوت فاسد ہوکر قضیہ غیر مطابق للواقع کا انعقاد نہیں کرسکتا یا ایسا شخص ہے جو کسی جگہ سچا کلام کرتاہے اس سے وہ صادر ہوتی ہے اور جس جگہ جھوٹا کلام کرنے کا ارادہ کرتاہے تو اس کی آواز بند ہوجاتی ہے یا اس کی زباں ماؤف ہوجاتی ہے یا کوئی اس کا منہ بند کردیتاہے یااس کا کوئی گلا دبا دیتا ہے یا کسی نے چند سچے جملے رٹ لئے ہیں اور وہ دیگر جملوں پر کوئی قدرت ہی نہیں رکھتا اور اس بناء پر اس سے جھوٹ صادر ہی نہیں ہوتا یہ مذکور لوگ عقلاء کے نزدیك قابل مدح نہیں ہیں بالجملہ عیب کذب سے بچنے اوراس میں ملوث ہونے سے محفوظ رہنے کے لئے جھوٹی کلام کا عدم تکلم صفات مدح میں سے ہے اور
ادون ست ازمدح اول انتھی بلفظ الر کیك المختل۔ عاجز ہونے کی وجہ سے کلام کاذب سے بچنا کوئی صفات مدح میں سے نہیں یا اس کی مدح ہو بھی تو پہلے سے کم ہوگی (رکیك خلل پذیر عبارت ختم ہوئی)(ت)۔
اس تلمیع باطل وطویل لاطائل کا یہ حاصل بے حاصل کہ عدم کذب الله تعالی کے کمالات و صفات مدائح سے ہے اور صفت کمال وقابل مدح یہی ہے کہ متکلم باوجود قدرت بلحاظ مصلحت عیب وآلائش سے بچنے کو کذب سے باز رہے نہ کہ کذب پر قدرت ہی نہ رکھے گونگے یا پتھر کی کوئی تعریف نہ کرے گا کہ جھوٹ نہیں بولتا تو لازم کذب الہی مقدور وممکن ہو۔
اقول : وبالله التوفیق(میں کہتاہوں اور توفیق الله تعالی سے ہے۔ ت)اس ہذیان شدید الطغیان کے شنائع ومفاسد حد شمار سے زائد مگر ان توسنیوں بدلگامیوں پر جو تازیانے بنگاہ اولین ذہن فقیر میں حاضر ہوئے پیش کرتاہوں وباﷲ العصمۃ فی کل حرف وکلمۃ(ہر حرف اور کلمہ میں الله کی عصمت ہے۔ ت)
تازیانہ ۱ : اقول : العزۃ ﷲ والعظمۃ ﷲ واﷲ الذی الا الہ الاھو(عزت الله تعالی کے لئے اور عظمت الله تعالی کے لئے ہے الله کی ذات وہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ ت) “ کبرت کلمۃ تخرج من افوہہم ان یقولون الاکذبا ﴿۵﴾ “ (کتنا بڑا بول ہے کہ ان کے منہ سے نکلتا ہے نرا جھوٹ کہہ رہے ہیں۔ ت)ﷲ! یہ ظلم شدید و ضلال بعید تماشا کردنی کہ جابجا خود اپنی زبان سے کذب کو عیب ولوث کہا جاتاہے پھر اسے باری عزوجل کےلئے ممکن بتاتا اور الله کے جھوٹ نہ بولنے کی وجہ یہ ٹھہراتا ہے کہ حکیم ہے اور مصلحت کی رعایت کرتاہے لہذا ترفعا عن عیب الکذب وتنزھا عن التلوث بہ یعنی اس لحاظ سے کہ کہیں عیب دلوث سے آلودہ نہ ہوجاؤں کذب سے بچتاہے دیکھو صاف صریح مان لیا کہ باری عزوجل کاعیب دار وملوث ہونا ممکن وہ چاہے تو ابھی عیبی وملوث بن جائے مگر یہ امر حکمت ومصلحت کے خلاف ہے اس لئے قصدا پرہیز کرتاہے تعالی اﷲ عما یقولون علوا کبیرا(الله تعالی اس سے کہیں بلند ہے جویہ کہتے ہیں۔ ت)اور خود سرے سے اصل مبنائے خود سری دیکھئے ملائے مقبوح کا یہ املائے مقدوح اس کلام آئمہ کے رد میں ہے کہ کذب نقص ہے اور نقص باری تعالی پر محال اس کے جواب میں فرماتے ہیں محال بالذات ہونا ہمیں تسلیم نہیں بلکہ ان دلیلوں(یعنی دونوں ہذیانوں)سے ممکن ہے تو کیسی صاف روشن تصریح ہے کہ نصرف کذب بلکہ ہر عیب وآلائش کا خدا میں آنا ممکن واہ بہادر! کیا نیم گردش چشم میں تمام عقائد تنزیہ و تقدیس کی جڑکاٹ گیا عاجز جاہل
اس تلمیع باطل وطویل لاطائل کا یہ حاصل بے حاصل کہ عدم کذب الله تعالی کے کمالات و صفات مدائح سے ہے اور صفت کمال وقابل مدح یہی ہے کہ متکلم باوجود قدرت بلحاظ مصلحت عیب وآلائش سے بچنے کو کذب سے باز رہے نہ کہ کذب پر قدرت ہی نہ رکھے گونگے یا پتھر کی کوئی تعریف نہ کرے گا کہ جھوٹ نہیں بولتا تو لازم کذب الہی مقدور وممکن ہو۔
اقول : وبالله التوفیق(میں کہتاہوں اور توفیق الله تعالی سے ہے۔ ت)اس ہذیان شدید الطغیان کے شنائع ومفاسد حد شمار سے زائد مگر ان توسنیوں بدلگامیوں پر جو تازیانے بنگاہ اولین ذہن فقیر میں حاضر ہوئے پیش کرتاہوں وباﷲ العصمۃ فی کل حرف وکلمۃ(ہر حرف اور کلمہ میں الله کی عصمت ہے۔ ت)
تازیانہ ۱ : اقول : العزۃ ﷲ والعظمۃ ﷲ واﷲ الذی الا الہ الاھو(عزت الله تعالی کے لئے اور عظمت الله تعالی کے لئے ہے الله کی ذات وہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ ت) “ کبرت کلمۃ تخرج من افوہہم ان یقولون الاکذبا ﴿۵﴾ “ (کتنا بڑا بول ہے کہ ان کے منہ سے نکلتا ہے نرا جھوٹ کہہ رہے ہیں۔ ت)ﷲ! یہ ظلم شدید و ضلال بعید تماشا کردنی کہ جابجا خود اپنی زبان سے کذب کو عیب ولوث کہا جاتاہے پھر اسے باری عزوجل کےلئے ممکن بتاتا اور الله کے جھوٹ نہ بولنے کی وجہ یہ ٹھہراتا ہے کہ حکیم ہے اور مصلحت کی رعایت کرتاہے لہذا ترفعا عن عیب الکذب وتنزھا عن التلوث بہ یعنی اس لحاظ سے کہ کہیں عیب دلوث سے آلودہ نہ ہوجاؤں کذب سے بچتاہے دیکھو صاف صریح مان لیا کہ باری عزوجل کاعیب دار وملوث ہونا ممکن وہ چاہے تو ابھی عیبی وملوث بن جائے مگر یہ امر حکمت ومصلحت کے خلاف ہے اس لئے قصدا پرہیز کرتاہے تعالی اﷲ عما یقولون علوا کبیرا(الله تعالی اس سے کہیں بلند ہے جویہ کہتے ہیں۔ ت)اور خود سرے سے اصل مبنائے خود سری دیکھئے ملائے مقبوح کا یہ املائے مقدوح اس کلام آئمہ کے رد میں ہے کہ کذب نقص ہے اور نقص باری تعالی پر محال اس کے جواب میں فرماتے ہیں محال بالذات ہونا ہمیں تسلیم نہیں بلکہ ان دلیلوں(یعنی دونوں ہذیانوں)سے ممکن ہے تو کیسی صاف روشن تصریح ہے کہ نصرف کذب بلکہ ہر عیب وآلائش کا خدا میں آنا ممکن واہ بہادر! کیا نیم گردش چشم میں تمام عقائد تنزیہ و تقدیس کی جڑکاٹ گیا عاجز جاہل
حوالہ / References
رسالہ یکروزی(فارسی) شاہ محمداسمعیل فاروقی کتب خانہ ملتان ص۱۷ ، ۱۸
القرآن الکریم ۱۸ /۵
القرآن الکریم ۱۸ /۵
احمق جاہل اندھا بہرا ہکلا گونگا سب کچھ ہونا ممکن ٹھہرا کھانا پینا پاخانہ پھرنا پیشاب کرنا بیمار پڑنا بچہ جننا اونگھنا سونابلکہ مرجانا مرکے پھر پیدا ہونا سب جائز ہوگیا غرض اصول اسلام کے ہزاروں عقیدے جن پر مسلمانوں کے ہاتھ میں یہی دلیل تھی کہ مولی عزوجل پر نقص وعیب محال بالذات ہیں دفعۃ سب باطل وبے دلیل ہوکر رہ گئے فقیر تنزیہ دوم میں زیر دلیل اول ذکر کر آیا کہ یہ مسئلہ کیسی عظمت والااصل دینی تھا جس پر ہزار ہا مسئلہ ذات وصفات بار عزوجل متفرع ومبنی اس ایك کے انکار کرتے ہی وہ سب اڑ گئے وہیں شرح مواقف سے گزرا کہ ہمارے لئے معرفت صفات باری کی طرف کوئی راستہ نہیں مگر افعال الہی سے استدلال یا یہ کہ اس پر عیوب ونقائص محال اب یہ دوسرا راستہ تو تم نے خود ہی بند کردیا رہا پہلا یعنی افعال سے دلیل لاناکہ اس نے ایسی عظم چیزیں پیدا کردیں اور ان میں یہ حکمتیں ودیعت رکھیں تو لاجرم ان کا خالق بالبداہۃ علیم وقدیر وحکیم ومرید ہے
اقول اولا : یہ استدلال صرف انھیں صفات کمال میں جاری جن سے خلق وتکوین کو علاقہ داری باقی ہزار ہا مسائل صفات ثبوتیہ وسلبیہ پر دلیل کہاں سے آئے گی مثلا مصنوعات کا ایسا بدیع ورفیع ہونا ہرگز دلالت نہیں کرتا کہ ان کا صانع صفت کلام یا صفت صدق سے بھی متصف یا نوم واکل وشرب سے بھی منزہ ہے
ثانیا : جن صفات پر دلالت افعال وہاں بھی صرف ان کے حصول پر دال نہ یہ کہ ان کا حدوث ممنوع یا زوال محال مثلا اس نظم حکیم وعظیم بنانے کے لئے بیشك علم وقدرت وارادہ وحکومت درکار مگرا س سے صرف بناتے وقت ان کا ہونا ثابت ہمیشہ سے ہونے اور ہمیشہ رہنے سے دلیل ساکت اگر دلائل سمعیہ کی طر ف چلئے
اقول اولا : بعض صفات سمع پر متقدم تو ان کا سمع سے اثبات دور کو مستلزم۔
ثانیا : سمع بھی صرف گنتی کے سلوب وایجابات میں وارد ان کے سوا ہزاروں مسائل کس گھر سے آئیں گے مثلا نصوص شرعیہ میں کہیں تصریح نہیں کہ باری عزوجل اعراض وامراض وبول وبراز سے پاك ہے اس کا ثبوت کیاہوگا۔
ثالثا : نصوص بھی فقط وقوع وعدم پر دلیل دیں گے وجوب استحالہ وازلیت وابدیت کا پتا کہاں چلے گا مثلا “ بکل شیء علیم﴿۲۹﴾ “ “ علی کل شیء قدیر﴿۲۰﴾ “ (سب کچھ جانتاہے ہر شی پر قادر ہے۔ ت)سے بیشك ثابت کہ اس کے لئے علم وقدرت ثابت یہ کب نکلا کہ ازل سے ہیں اور ابد تك رہیں گے اور ان کا زوال اس سے
اقول اولا : یہ استدلال صرف انھیں صفات کمال میں جاری جن سے خلق وتکوین کو علاقہ داری باقی ہزار ہا مسائل صفات ثبوتیہ وسلبیہ پر دلیل کہاں سے آئے گی مثلا مصنوعات کا ایسا بدیع ورفیع ہونا ہرگز دلالت نہیں کرتا کہ ان کا صانع صفت کلام یا صفت صدق سے بھی متصف یا نوم واکل وشرب سے بھی منزہ ہے
ثانیا : جن صفات پر دلالت افعال وہاں بھی صرف ان کے حصول پر دال نہ یہ کہ ان کا حدوث ممنوع یا زوال محال مثلا اس نظم حکیم وعظیم بنانے کے لئے بیشك علم وقدرت وارادہ وحکومت درکار مگرا س سے صرف بناتے وقت ان کا ہونا ثابت ہمیشہ سے ہونے اور ہمیشہ رہنے سے دلیل ساکت اگر دلائل سمعیہ کی طر ف چلئے
اقول اولا : بعض صفات سمع پر متقدم تو ان کا سمع سے اثبات دور کو مستلزم۔
ثانیا : سمع بھی صرف گنتی کے سلوب وایجابات میں وارد ان کے سوا ہزاروں مسائل کس گھر سے آئیں گے مثلا نصوص شرعیہ میں کہیں تصریح نہیں کہ باری عزوجل اعراض وامراض وبول وبراز سے پاك ہے اس کا ثبوت کیاہوگا۔
ثالثا : نصوص بھی فقط وقوع وعدم پر دلیل دیں گے وجوب استحالہ وازلیت وابدیت کا پتا کہاں چلے گا مثلا “ بکل شیء علیم﴿۲۹﴾ “ “ علی کل شیء قدیر﴿۲۰﴾ “ (سب کچھ جانتاہے ہر شی پر قادر ہے۔ ت)سے بیشك ثابت کہ اس کے لئے علم وقدرت ثابت یہ کب نکلا کہ ازل سے ہیں اور ابد تك رہیں گے اور ان کا زوال اس سے
محال یونہی “ و ہو یطعم و لا یطعم “ ۔ (اور وہ کھلاتاہے اور کھانے سے پاك ہے۔ ت)اور لا تاخذہ سنۃ ولا نوم “ (اسے نہ اونگھ آئے نہ نیند۔ ت)کااتنا حاصل کہ کھاتا پیتا سوتا اونھگتا نہیں نہ یہ کہ یہ باتیں اس پر ممتنع ہاں ہاں ان سب امور پر دلالت قطعی کرنے والا ان تمام دعوائے ازلیت وابدیت ووجوب وامتناع پر بوجہ کامل ٹھیك اترنے والا ہزاروں ہزار مسائل صفات ثبوتیہ وسلبیہ کے اثبات کا یکبارگی سچا ذمہ لینے والا مخالف ذی ہوش غیر مجنون ومدہوش کے منہ میں دفعۃ بھاری پتھر دے دینے والانہ تھا مگروہی دینی یقینی عقلی بدیہی اجماعی ایمانی مسئلہ کہ باری تعالی پر عیب ومنقصت محال بالذات۔ جب یہی ہاتھ سے گیا سب کچھ جاتارہا اب نہ دین ہے نہ نقل نہ ایمان نہ عقل
“ انا للہ و انا الیہ رجعون﴿۱۵۶﴾ “
“ کذلک یطبع اللہ علی کل قلب متکبر جبار ﴿۳۵﴾ “ ہم الله کے مال ہیں اور ہم کو اسی کی طرف پھرنا ہے الله یوں ہی مہر کردیتاہے متکبر سرکش کے سارے دل پر۔ (ت)
ہاں وہابیہ نجدیہ کو دعوت عام ہے اپنے مولائے مسلم وامام مقدم کا یہ ہذیان امکان ثابت مان کر ذرا بتائیں تو کہ ان کا معبود بول وبراز سے بھی پاك ہے یا نہیں۔ حاش للہ! امتناع تو امتناع عدم وقوع کے بھی لالے پڑیں گے آخر قرآن وحدیث میں توکہیں ا س کا ذکر نہیں نہ افعال الہی ا س نفی پر دلیل اگر اجماع مسلمین کی طرف رجوع لائیں اور بیشك اجماع ہے مگر جان برادر! یہ بیشك ہم نے یونہی کہا کہ یہ عیب ہیں اور عیب سے تنزیہ ہر مسلمان کا ایمان تو قطعا کوئی مسلم ان امور کو روانہ رکھے گا جب عیب سے تلوث ممکن ٹھہرا تواب ثبوت اجماع کا کیا ذریعہ رہا کیا نقل وروایت سے ثابت کرو گے حاشا نقل اجماع درکنار سلفا وخلفا کتابوں میں اس مسئلے کا ذکر ہی نہیں اگر کہئے بول وبراز کا وقوع ایسے آلات جسمانیہ پر موقوف جن سے جناب باری منزہ تو اولا : ان آلات کے بطور آلات نہ اجزائے ذات ہونے کے استحالہ پر سوا اس وجوب تنزہ کے کیا دلیل جسے تمھارا امام ومولی روبیٹھا۔
ثانیا : توقف ممنوع آخر بے آلات زبان ومرد مك وپردہ گوش کلام بصر وسمع ثابت یونہی بے آلات
“ انا للہ و انا الیہ رجعون﴿۱۵۶﴾ “
“ کذلک یطبع اللہ علی کل قلب متکبر جبار ﴿۳۵﴾ “ ہم الله کے مال ہیں اور ہم کو اسی کی طرف پھرنا ہے الله یوں ہی مہر کردیتاہے متکبر سرکش کے سارے دل پر۔ (ت)
ہاں وہابیہ نجدیہ کو دعوت عام ہے اپنے مولائے مسلم وامام مقدم کا یہ ہذیان امکان ثابت مان کر ذرا بتائیں تو کہ ان کا معبود بول وبراز سے بھی پاك ہے یا نہیں۔ حاش للہ! امتناع تو امتناع عدم وقوع کے بھی لالے پڑیں گے آخر قرآن وحدیث میں توکہیں ا س کا ذکر نہیں نہ افعال الہی ا س نفی پر دلیل اگر اجماع مسلمین کی طرف رجوع لائیں اور بیشك اجماع ہے مگر جان برادر! یہ بیشك ہم نے یونہی کہا کہ یہ عیب ہیں اور عیب سے تنزیہ ہر مسلمان کا ایمان تو قطعا کوئی مسلم ان امور کو روانہ رکھے گا جب عیب سے تلوث ممکن ٹھہرا تواب ثبوت اجماع کا کیا ذریعہ رہا کیا نقل وروایت سے ثابت کرو گے حاشا نقل اجماع درکنار سلفا وخلفا کتابوں میں اس مسئلے کا ذکر ہی نہیں اگر کہئے بول وبراز کا وقوع ایسے آلات جسمانیہ پر موقوف جن سے جناب باری منزہ تو اولا : ان آلات کے بطور آلات نہ اجزائے ذات ہونے کے استحالہ پر سوا اس وجوب تنزہ کے کیا دلیل جسے تمھارا امام ومولی روبیٹھا۔
ثانیا : توقف ممنوع آخر بے آلات زبان ومرد مك وپردہ گوش کلام بصر وسمع ثابت یونہی بے آلات
حوالہ / References
القرآن الکریم ۶ /۱۴
القرآن الکریم ۲ /۲۵۵
القرآن الکریم ۲ /۱۵۶
القرآن الکریم ۴۰ /۳۵
القرآن الکریم ۲ /۲۵۵
القرآن الکریم ۲ /۱۵۶
القرآن الکریم ۴۰ /۳۵
بول وبراز سے کون مانع اسی طرح لاکھوں کفریات لازم آئیں گے کہ تمھارے امام کا وہ بہتان امکان تسلیم ہوکر قیامت تك ان سے مفر نہ ملے گی۔
“ لیحق الحق ویبطل البطل ولوکرہ المجرمون ﴿۸﴾ “ اسی طرح کہ سچ کو سچ کرے اور جھوٹ کو جھوٹا اگرچہ برا مانیں مجرم(ت)
مسلمانوں نے دیکھا کہ اس طائفہ تالفہ کے سردار وامام مدعی اسلام نے کیا بس بویااور کیا کچھ کھویا اور لاکھوں عقائد اسلام کو کیسے ڈبویا ہزاروں کفر شنیع وضلال کا دروازہ کیسا کھولا کہ اس کا مذہب مان کر کبھی بند نہ ہوگا۔ پھر دعوی یہ ہے کہ دنیا پھر میں ہمیں موحد ہیں باقی سب مشرک سبحان الله یہ منہ اور یہ دعوی اورناقص وعیبی وملوث خدا کے پوجنے والے! کس منہ سے اپنے تراشیدہ موہوم کو حضرت سبحانہ کہتاہے سبحان الله وہی تو سبحانہ کے قابل جس میں دنیابھر کے عیبوں آلائشوں کا امکان حاصل العزۃ لله میں اپنے رب ملك سبوح قدوس عزیز مجید عظیم جلیل کی طرف بہزار جان وصد ہزار جان براءت کرتاہوں تیرے اس عیبی آلائش تراشیدہ معبود اور اس کے سب پوجنے والوں سے مسلمانو! تمھارے رب کی عزت وجلال کی قسم کہ تمھارا سچا معبود جل وعلا وہ پاك ومنزہ وسبوح وقدوس ہے جس کے لئے تمام صفات کمالیہ ازلا ابدا واجب للذات اور اصلا کسی عیب دلوث سے ملوث ہونا جزماقطعا محال بالذات اس کی پاك قدرت اس ناپاك شناعت سے بری ومنزہ کہ معاذالله اپنے عیبی وناقص بنانے پر حاصل ہو “ “ فنعم المولی و نعم النصیر ﴿۷۸﴾ (کیا ہی اچھا مولا اور کیا ہی اچھا مدد گار۔ ت)یہ ملا ئے ملوم کا مولائے موہوم تھا جو اپنے لئے عیوب وفواحش پر قدرت تو رکھتاہے مگر لوگوں کے شرم ولحاظ یا ہمارے سچے خدا کے قہر وغضب سے ڈرکر باز رہتاہے۔
“ ضعف الطالب والمطلوب ﴿۷۳﴾ “ لبئس المولی و لبئس العشیر ﴿۱۳﴾ “ “ ۔ کتنا کمزور چاہنے والا اور جس کو چاہا بیشك کیا ہی برا مولی اور بیشك کیا ہی برا رفیق۔ (ت)
اوسفید ملوم کذب ظلوم الوہیت ومنقصت باہم اعلی درجہ تنافی پر ہیں الہ وہی ہے جس کے لئے جمیع صفات
“ لیحق الحق ویبطل البطل ولوکرہ المجرمون ﴿۸﴾ “ اسی طرح کہ سچ کو سچ کرے اور جھوٹ کو جھوٹا اگرچہ برا مانیں مجرم(ت)
مسلمانوں نے دیکھا کہ اس طائفہ تالفہ کے سردار وامام مدعی اسلام نے کیا بس بویااور کیا کچھ کھویا اور لاکھوں عقائد اسلام کو کیسے ڈبویا ہزاروں کفر شنیع وضلال کا دروازہ کیسا کھولا کہ اس کا مذہب مان کر کبھی بند نہ ہوگا۔ پھر دعوی یہ ہے کہ دنیا پھر میں ہمیں موحد ہیں باقی سب مشرک سبحان الله یہ منہ اور یہ دعوی اورناقص وعیبی وملوث خدا کے پوجنے والے! کس منہ سے اپنے تراشیدہ موہوم کو حضرت سبحانہ کہتاہے سبحان الله وہی تو سبحانہ کے قابل جس میں دنیابھر کے عیبوں آلائشوں کا امکان حاصل العزۃ لله میں اپنے رب ملك سبوح قدوس عزیز مجید عظیم جلیل کی طرف بہزار جان وصد ہزار جان براءت کرتاہوں تیرے اس عیبی آلائش تراشیدہ معبود اور اس کے سب پوجنے والوں سے مسلمانو! تمھارے رب کی عزت وجلال کی قسم کہ تمھارا سچا معبود جل وعلا وہ پاك ومنزہ وسبوح وقدوس ہے جس کے لئے تمام صفات کمالیہ ازلا ابدا واجب للذات اور اصلا کسی عیب دلوث سے ملوث ہونا جزماقطعا محال بالذات اس کی پاك قدرت اس ناپاك شناعت سے بری ومنزہ کہ معاذالله اپنے عیبی وناقص بنانے پر حاصل ہو “ “ فنعم المولی و نعم النصیر ﴿۷۸﴾ (کیا ہی اچھا مولا اور کیا ہی اچھا مدد گار۔ ت)یہ ملا ئے ملوم کا مولائے موہوم تھا جو اپنے لئے عیوب وفواحش پر قدرت تو رکھتاہے مگر لوگوں کے شرم ولحاظ یا ہمارے سچے خدا کے قہر وغضب سے ڈرکر باز رہتاہے۔
“ ضعف الطالب والمطلوب ﴿۷۳﴾ “ لبئس المولی و لبئس العشیر ﴿۱۳﴾ “ “ ۔ کتنا کمزور چاہنے والا اور جس کو چاہا بیشك کیا ہی برا مولی اور بیشك کیا ہی برا رفیق۔ (ت)
اوسفید ملوم کذب ظلوم الوہیت ومنقصت باہم اعلی درجہ تنافی پر ہیں الہ وہی ہے جس کے لئے جمیع صفات
حوالہ / References
القرآن الکریم ۸ /۸
القرآن الکریم ۲۲ /۷۸
القرآن الکریم ۲۲ /۷۳
القرآن الکریم ۲۲ /۱۳
القرآن الکریم ۲۲ /۷۸
القرآن الکریم ۲۲ /۷۳
القرآن الکریم ۲۲ /۱۳
کمال واجب لذاتہ تو کسی عیب سے اتصاف ممکن ماننا زوال الوہیت کو ممکن جاننا ہے پھر خدا کب رہا
“ ولکن الظلمین بایت اللہ یجحدون ﴿۳۳﴾ “ (بلکہ ظالم الله کی آیتوں سے انکار کرتے ہیں۔ ت) عنقریب ان شاء اﷲ تعالی تفسیر کبیر سے منقول ہوگا کہ باری تعالی کےلئے امکان ظلم ماننے کا یہی مطلب کہ اس کی خدائی ممکن الزوال ہے میں گما ن نہیں کرتا کہ اس بیباك کی طرح (مسلمانوں کی تو خدا امان کرے)کسی سمجھ وال کافر نے بھی بے دھڑك تصریح کردی ہو کہ عیب دلوث خدا میں توآسکتے ہیں مگر بطور ترفع یعنی مشیخت بنی رکھنے کے لئے ان سے دور رہتاہے ____ صدق اﷲ(الله تعالی نے سچ فرمایا۔ ت) :
“ ومن اصدق من اللہ قیلا ﴿۱۲۲﴾ “
“ فانہا لا تعمی الابصر ولکن تعمی القلوب التی فی الصدور ﴿۴۶﴾ “ والعیاذ باﷲ سبحانہ وتعالی۔ اور الله سے زیادہ کس کی بات سچی بیشك آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں لیکن وہ دل اندھے ہوتے ہیں جو سینوں میں ہیں۔ (ت)
ثم اقول : طرفہ تماشا ہے کہ خدا کی شان معلم طائفہ کا تو وہ ایمان کہ خدا کے لئے ہر عیب کا امکان اور ارباب طائفہ یوں بے وقت کی چھیڑ کرنا حق ہلکان “ کہ تمام امت عــــــہ کے خلاف حق تعالی کے عجز پر عقیدہ ٹھہرانا تو مؤلف کے پیشوایان دین کاہے مؤلف اس پر اظہار افسوس نہیں کرتا “ ۔ حضرت! ذراگھر کی خبر لیجئے وہاں مولائے طائفہ عجز وجہل وظلم وبخل وسفہ وہزل وغیرہا دنیا بھر کے عیب نقائص کے امکان کا ٹھیکا لے چکے ہیں پھر بفرض غلط
عــــــہ : یہ عبارت براہین کے اسی صفحہ ۳ کی ہے جس کا خلاصہ صدر استفتاء میں گزرا یہاں ملا گنگوہی صاحب جناب مؤلف یعنی مکر منا مولوی عبدالسمیع صاحب مؤلف انوار ساطعہ پر یوں منہ آتے ہیں کہ تم لوگ الله کا عجز مانتے ہو جو محال پر اسے قادر نہیں جانتے ہواور ہم تو اس کے لئے جھوٹ وغیرہ سب کچھ جائز رکھتے ہیں تو عجز تو نہ ہو اگرچہ خدائی گئی ہزارتف اس بھونڈی سمجھ پر رہااس مغالطہ عجز کا دنداں شکن حل وہ اس رسالہ مبارکہ میں جابجا گزرا سبحان اﷲ! محال پر قدرت نہ ہونے کو عجز جاننا الہی کیسے نامشخص کی شخیص ہے والله الہادی ۱۲ عفی عنہ۔
“ ولکن الظلمین بایت اللہ یجحدون ﴿۳۳﴾ “ (بلکہ ظالم الله کی آیتوں سے انکار کرتے ہیں۔ ت) عنقریب ان شاء اﷲ تعالی تفسیر کبیر سے منقول ہوگا کہ باری تعالی کےلئے امکان ظلم ماننے کا یہی مطلب کہ اس کی خدائی ممکن الزوال ہے میں گما ن نہیں کرتا کہ اس بیباك کی طرح (مسلمانوں کی تو خدا امان کرے)کسی سمجھ وال کافر نے بھی بے دھڑك تصریح کردی ہو کہ عیب دلوث خدا میں توآسکتے ہیں مگر بطور ترفع یعنی مشیخت بنی رکھنے کے لئے ان سے دور رہتاہے ____ صدق اﷲ(الله تعالی نے سچ فرمایا۔ ت) :
“ ومن اصدق من اللہ قیلا ﴿۱۲۲﴾ “
“ فانہا لا تعمی الابصر ولکن تعمی القلوب التی فی الصدور ﴿۴۶﴾ “ والعیاذ باﷲ سبحانہ وتعالی۔ اور الله سے زیادہ کس کی بات سچی بیشك آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں لیکن وہ دل اندھے ہوتے ہیں جو سینوں میں ہیں۔ (ت)
ثم اقول : طرفہ تماشا ہے کہ خدا کی شان معلم طائفہ کا تو وہ ایمان کہ خدا کے لئے ہر عیب کا امکان اور ارباب طائفہ یوں بے وقت کی چھیڑ کرنا حق ہلکان “ کہ تمام امت عــــــہ کے خلاف حق تعالی کے عجز پر عقیدہ ٹھہرانا تو مؤلف کے پیشوایان دین کاہے مؤلف اس پر اظہار افسوس نہیں کرتا “ ۔ حضرت! ذراگھر کی خبر لیجئے وہاں مولائے طائفہ عجز وجہل وظلم وبخل وسفہ وہزل وغیرہا دنیا بھر کے عیب نقائص کے امکان کا ٹھیکا لے چکے ہیں پھر بفرض غلط
عــــــہ : یہ عبارت براہین کے اسی صفحہ ۳ کی ہے جس کا خلاصہ صدر استفتاء میں گزرا یہاں ملا گنگوہی صاحب جناب مؤلف یعنی مکر منا مولوی عبدالسمیع صاحب مؤلف انوار ساطعہ پر یوں منہ آتے ہیں کہ تم لوگ الله کا عجز مانتے ہو جو محال پر اسے قادر نہیں جانتے ہواور ہم تو اس کے لئے جھوٹ وغیرہ سب کچھ جائز رکھتے ہیں تو عجز تو نہ ہو اگرچہ خدائی گئی ہزارتف اس بھونڈی سمجھ پر رہااس مغالطہ عجز کا دنداں شکن حل وہ اس رسالہ مبارکہ میں جابجا گزرا سبحان اﷲ! محال پر قدرت نہ ہونے کو عجز جاننا الہی کیسے نامشخص کی شخیص ہے والله الہادی ۱۲ عفی عنہ۔
حوالہ / References
القرآن الکریم ۶ /۳۳
القرآن الکریم ۴ /۱۲۲
القرآن الکریم ۲۲ /۴۶
البراہین القاطعہ مسئلہ خلف وعید قدماء میں مختلف فیہ ہے مطبع لے ساڈھور ص۳
القرآن الکریم ۴ /۱۲۲
القرآن الکریم ۲۲ /۴۶
البراہین القاطعہ مسئلہ خلف وعید قدماء میں مختلف فیہ ہے مطبع لے ساڈھور ص۳
اگر کسی نے ایك جگہ عجز مان لیا تو تمھارے امام کے ایمان عــــــہ۱ پر کیا بے جا کیا ایك امر کہ خدا کے لئے اس سے کروڑ درجہ بدتر ممکن تھا اس نے خرمن سے ایك خوشہ تسلیم کرلیا پھر کیا قہر کیا مگر تمھارا امام جو خدا کے ناقص عیبی ملوث آلائشی ہوسکنے پر ایمان لایا نہ یہ قابل افسوس نہ خلاف امت ہے یہ تمھارے پیشوایان دین کی مت ہے معاذالله اس امام کی بدولت طائفہ بیچارے کی کیا بری گت ہے
ثم اقول : اس سے بڑھ کر مظلمہ حائفہ تناقض صریح امام الطائفہ اسی منہ سے خدا کے لئے عیب و تلوث ممکن مانتا ہے اسی منہ سے کہتا ہے جھوٹ نہ بول سکے تو قدرت جو گھٹ جائے گی جی گھٹ جائے گی توکیا آفت آئے گی آخر جہاں ہزار عیب ممکن تھے اینہم برعلم بس عــــــہ۲ ہے یہ کہ رب کریم رؤف ورحیم عزہ مجدہ اپنے اضلال سے پناہ میں رکھے امین امین بجاہ سید الھادین محمدن الصادق الحق المبین صلوات اﷲ تعالی وسلامہ علیہ وعلی الہ وصحبہ اجمعین۔
تازیانہ ۲ : اقول : وباﷲ التوفیق ایہا المسلمون! حاشا یہ نہ جاننا کہ باری عزوجل کا عیوب و نقائص سے ملوث ہونا اس شخص کے نزدیك صرف ممکن ہی نہیں ہے نہیں نہیں بلکہ یقینا اسے بالفعل ناقص جانتا اور کمال حقیقی سے دور مانتا ہے اے مسلمان! کمال حقیقی یہ ہے کہ اس صاحب کمال کی نفس ذات مقتضی جملہ کمالات ومنافی تولثات ہو اور قطعا جو ایسا ہوگا اسی پر ہر عیب ونقصان محال ذاتی ہوگا کہ ذات سے مقتضائے ذات کا ارتفاع یکاذات یا منافی ذات کا اجتماع دونوں قطعا بدیہی الامنتاع اور بیشك ہم اہلسنت اپنے رب کو ایسا ہی مانتے ہیں اور بیشك وہ سچے کمال والا ایسا ہی ہے اس شخص نے کہ اس عزیز جلیل پر عیب و نقصان کا امکان مانا تو قطعا کمالات کو اس کا مقتضائے ذات نہ جانا تو یہ کمال حقیقی سے بالفعل خالی اور حقیقۃ ناقص وفاقد مرتبہ عالی ہوا آج وجہ معلوم ہوئی کہ یہ طائفہ تالفہ اپنے آپ کو موحد اور اہلسنت کو مشرك کیوں کہتاہے اس کے زعم میں الله عزوجل کے لئے اثبات کمالات واجبہ للذات شرك ہے کہ لفظ وجوب جو مشترك ہوجائے گا اگرچہ وجوب بالذات ووجوب للذات کا فرق اس طفل مکتب پر بھی مخفی نہیں جو اربعہ وزجیت کی حالت جانتاہے ولہذا اس فرقہ ضالہ نے باتباع کرامیہ کمالات الہیہ کو مقتضائے
عــــــہ۱ : وانتظر ماسنلقی علیك ان السفیہ قائل با لامکان الوقوعی بالوقوع لابمجرد الامکان الذاتی ۱۲ منہ سلمہ اﷲ تعالی
عــــــہ۲ : ولاتنس مااشرنا ك الیہ ۱۲ منہ۔ ہماری آئندہ گفتگو کا انتظار کرو یہ بیوقوف امکان وقوعی بلکہ وقوع کاقائل ہے نہ کہ محض امکان ذاتی کا ۱۲ منہ سلمہ الله تعالی ۔ (ت)
جس کی طرف ہم نے تمھیں متوجہ کیا ہے اسے مت بھولنا ۱۲منہ (ت)
ثم اقول : اس سے بڑھ کر مظلمہ حائفہ تناقض صریح امام الطائفہ اسی منہ سے خدا کے لئے عیب و تلوث ممکن مانتا ہے اسی منہ سے کہتا ہے جھوٹ نہ بول سکے تو قدرت جو گھٹ جائے گی جی گھٹ جائے گی توکیا آفت آئے گی آخر جہاں ہزار عیب ممکن تھے اینہم برعلم بس عــــــہ۲ ہے یہ کہ رب کریم رؤف ورحیم عزہ مجدہ اپنے اضلال سے پناہ میں رکھے امین امین بجاہ سید الھادین محمدن الصادق الحق المبین صلوات اﷲ تعالی وسلامہ علیہ وعلی الہ وصحبہ اجمعین۔
تازیانہ ۲ : اقول : وباﷲ التوفیق ایہا المسلمون! حاشا یہ نہ جاننا کہ باری عزوجل کا عیوب و نقائص سے ملوث ہونا اس شخص کے نزدیك صرف ممکن ہی نہیں ہے نہیں نہیں بلکہ یقینا اسے بالفعل ناقص جانتا اور کمال حقیقی سے دور مانتا ہے اے مسلمان! کمال حقیقی یہ ہے کہ اس صاحب کمال کی نفس ذات مقتضی جملہ کمالات ومنافی تولثات ہو اور قطعا جو ایسا ہوگا اسی پر ہر عیب ونقصان محال ذاتی ہوگا کہ ذات سے مقتضائے ذات کا ارتفاع یکاذات یا منافی ذات کا اجتماع دونوں قطعا بدیہی الامنتاع اور بیشك ہم اہلسنت اپنے رب کو ایسا ہی مانتے ہیں اور بیشك وہ سچے کمال والا ایسا ہی ہے اس شخص نے کہ اس عزیز جلیل پر عیب و نقصان کا امکان مانا تو قطعا کمالات کو اس کا مقتضائے ذات نہ جانا تو یہ کمال حقیقی سے بالفعل خالی اور حقیقۃ ناقص وفاقد مرتبہ عالی ہوا آج وجہ معلوم ہوئی کہ یہ طائفہ تالفہ اپنے آپ کو موحد اور اہلسنت کو مشرك کیوں کہتاہے اس کے زعم میں الله عزوجل کے لئے اثبات کمالات واجبہ للذات شرك ہے کہ لفظ وجوب جو مشترك ہوجائے گا اگرچہ وجوب بالذات ووجوب للذات کا فرق اس طفل مکتب پر بھی مخفی نہیں جو اربعہ وزجیت کی حالت جانتاہے ولہذا اس فرقہ ضالہ نے باتباع کرامیہ کمالات الہیہ کو مقتضائے
عــــــہ۱ : وانتظر ماسنلقی علیك ان السفیہ قائل با لامکان الوقوعی بالوقوع لابمجرد الامکان الذاتی ۱۲ منہ سلمہ اﷲ تعالی
عــــــہ۲ : ولاتنس مااشرنا ك الیہ ۱۲ منہ۔ ہماری آئندہ گفتگو کا انتظار کرو یہ بیوقوف امکان وقوعی بلکہ وقوع کاقائل ہے نہ کہ محض امکان ذاتی کا ۱۲ منہ سلمہ الله تعالی ۔ (ت)
جس کی طرف ہم نے تمھیں متوجہ کیا ہے اسے مت بھولنا ۱۲منہ (ت)
ذات نہ ٹھہرایا تو جیسے معتزلہ نے تعدد قدماء سے بچنے کونفی صفات کی اور اپنا نام اصحاب التوحید رکھا یونہی اس طائفہ جدید نے اشتراك لفظ وجوب سے بھاگنے کو نفی اقتضائے ذات کی اور اپنا نام موحد تراشا وفی ذلك اقول :
خسرالذین بالاعتزا ل وبالتوھب جاءوا
ذا اھل توحید وذا ك موحد غواء
نعم القلوب تشابھت فتناسب الاسماء
(خسارے میں مبتلا ہیں جو معتزلی اور وہابی بنے معتزلی اہل توحید اور وہابی موحد گمراہ ان کے دل ایك جیسے ہیں اور ناموں میں بھی مناسب ہے۔ ت)
تنبیہ نبیہ : جہول سفیہ کو جب کہ اس کے استاذ قدیم ابلیس رحیم علیہ اللعن نے یہ نقصان وتلوث باری عزوجل کا مہبلکہ سکھایا تو دوسری کتاب افصاح الباطل مسمی بہ ایضاح الحق میں ترقیق ضلال وشدت نکال کا رستہ دکھایا یعنی اس میں نہایت دردیدہ دہنی مسائل وتقدیس باری تعالی عزوجل کو جن پر تمام اہلسنت کااجماع قطعی ہے صاف بدعت حقیقۃ بتایا جری بیباك کی وہ عبارت ناپاك یہ ہے :
تنزیہ اوتعالی اززمان ومکان وجہت واثبات رؤیت بلاجہت ومحاذات وقول بصدور عالم برسبیل ایجاب واثبات قدم عالم وامثال آں ہمہ از قبیل بدعات حقیقیہ است اگر صاحب آں اعتقادات مذکورہ را از جنس عقائد دینیہ می شمارد اھ ملخصا۔ زمان مکان جہت اور رؤیت بلاجہت ومحاذات سے الله تعالی کو پاك کہنا اورجہاں کا صدور بطور ایجاب وعالم کا قدم ثابت کرنا اور ایسے دیگر امور یہ تمام حقیقی بدعات ہیں جبکہ مذکور اعتقاد والے لوگ ان مذکورہ امور کو دینی عقائد میں شمار کرتے ہیں اھ ملخصا(ت)
دیکھو کیسا بے دھڑك لکھ دیا کہ الله عزوجل کی یہ تنزیہیں کہ اسے زمانہ ومکان وجہت سے پاك جاننا اور اس کا دیدار بلاکیف حق ماننا سب بدعت حقیقیہ ہیں سچ ہے جب الله تعالی کے لئے ہر عیب وآلائش کو ممکن ماننا سنت ملعونہ امام نجدیہ ہے تو اس عزیز مجید جل مجدہ کی تنزیہ وتقدیس آپ ہی بدعت حقیقیہ شریعت
خسرالذین بالاعتزا ل وبالتوھب جاءوا
ذا اھل توحید وذا ك موحد غواء
نعم القلوب تشابھت فتناسب الاسماء
(خسارے میں مبتلا ہیں جو معتزلی اور وہابی بنے معتزلی اہل توحید اور وہابی موحد گمراہ ان کے دل ایك جیسے ہیں اور ناموں میں بھی مناسب ہے۔ ت)
تنبیہ نبیہ : جہول سفیہ کو جب کہ اس کے استاذ قدیم ابلیس رحیم علیہ اللعن نے یہ نقصان وتلوث باری عزوجل کا مہبلکہ سکھایا تو دوسری کتاب افصاح الباطل مسمی بہ ایضاح الحق میں ترقیق ضلال وشدت نکال کا رستہ دکھایا یعنی اس میں نہایت دردیدہ دہنی مسائل وتقدیس باری تعالی عزوجل کو جن پر تمام اہلسنت کااجماع قطعی ہے صاف بدعت حقیقۃ بتایا جری بیباك کی وہ عبارت ناپاك یہ ہے :
تنزیہ اوتعالی اززمان ومکان وجہت واثبات رؤیت بلاجہت ومحاذات وقول بصدور عالم برسبیل ایجاب واثبات قدم عالم وامثال آں ہمہ از قبیل بدعات حقیقیہ است اگر صاحب آں اعتقادات مذکورہ را از جنس عقائد دینیہ می شمارد اھ ملخصا۔ زمان مکان جہت اور رؤیت بلاجہت ومحاذات سے الله تعالی کو پاك کہنا اورجہاں کا صدور بطور ایجاب وعالم کا قدم ثابت کرنا اور ایسے دیگر امور یہ تمام حقیقی بدعات ہیں جبکہ مذکور اعتقاد والے لوگ ان مذکورہ امور کو دینی عقائد میں شمار کرتے ہیں اھ ملخصا(ت)
دیکھو کیسا بے دھڑك لکھ دیا کہ الله عزوجل کی یہ تنزیہیں کہ اسے زمانہ ومکان وجہت سے پاك جاننا اور اس کا دیدار بلاکیف حق ماننا سب بدعت حقیقیہ ہیں سچ ہے جب الله تعالی کے لئے ہر عیب وآلائش کو ممکن ماننا سنت ملعونہ امام نجدیہ ہے تو اس عزیز مجید جل مجدہ کی تنزیہ وتقدیس آپ ہی بدعت حقیقیہ شریعت
حوالہ / References
الدیوان العربی بساتین الغفران رضا دارالاشاعت لاہور ص۱۴۷
ایضاح الحق الصریح(مترجم اردو)فائدہ اول ان امور کابیان جو بدعت حقیقیہ میں داخل ہیں قدیمی کتب خانہ کراچی ص۷۸ ، ۷۷
ایضاح الحق الصریح(مترجم اردو)فائدہ اول ان امور کابیان جو بدعت حقیقیہ میں داخل ہیں قدیمی کتب خانہ کراچی ص۷۸ ، ۷۷
وہابیہ ہوگی وہی حساب ہے ع
کہ تو ہم درمیان ماتلخی
(کہ تو بھی مصیبت میں مبتلا ہے۔ ت)
مشرکین بھی تو دین اسلام کو بدعت بتاتے تھے
“ ما سمعنا بہذا فی الملۃ الاخرۃ ان ہذا الا اختلق ﴿۷﴾ “ یہ تو ہم نے سب سے پچھلے دین نصرانیت میں بھی نہ سنی یہ تو نری نئی گھڑت ہے(ت)
خیریہاں تك تو نری بدعت ہی بدعت تھی آگے شراب ضلالت تیز وتند ہوکر اونچی چڑھی اور نشے کی ترنگ کیف کی امنگ دون پر آکر کفر تك بڑھی کہ الله عزوجل کا پاك ومنزہ اور دیدار الہی کو بے جہت ومقابلہ ماننے کو مخلوقات کے قدیم جاننے اور خالق کو بے اختیار ماننے کے ساتھ گنا اور اسے ان ناپاك مسئلوں کے ساتھ کہ باجماع مسلمین کفر محض ہیں ایك حکم میں شریك کیا اب کیا کہا جائے سوااس کے کہ “ و سیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون ﴿۲۲۷﴾ “ (اب جاننا چاہتے ہیں ظالم کہ کس کروٹ پر پلٹا کھائی گے ت)ولا حوال ولاقوۃ الا باﷲ العلی العظیم اچھے امام اور اچھے ماموم ع
مذہب معلوم واہل مذہب معلوم
تازیانہ ۳ : اقول : وباﷲ التوفیق(میں کہتاہوں اورتوفیق الله تعالی سے ہے۔ ت)سفیہ سحیق کی اور جہالت وضلالت دیکھئے خود مانتا جاتاہے کہ صدق الله عزوجل کی صفات کمالیہ سے ہے حیث قال صفت کمال ہمیں ست الخ(جہاں اس نے یہ کہا صفت کمال یہی ہے الخ۔ ت) پھر اسے امر اختیاری جانتاہے کہ باری تعالی نے باوجود قدرت عدم برعایت مصلحت بطور ترفع اختیار فرمایا اہل سنت کے مذہب میں الله عزوجل کے کمالات اس کے یا کسی کے قدرت واختیار سے نہیں بلکہ باقتضائے نفس ذات بے توسط قدرت وارادہ و اختیار اس کی ذات پاك کے لئے واجب ولازم ہیں نہ کہ معاذالله وہ اس کی صنعت یا ان کا عدم اسکے زیر قدرت تمام کتب کلامیہ اس کی تصریح سے مالا مال وہ احادیث وآثار تمھارے کان تك بھی پہنچے ہوں گے جن میں کلام الہی کو باختیار الہی ماننے والا کافر ٹھہرا ہے اور عجب نہیں کہ بعض ان میں سے ذکر کروں مجھے یہاں حیرت ہے کہ اس بیباك بدعتی کو کیونکر الزادم دوں اگر یہ کہتاہوں کہ صفات کمالیہ الہی کا اختیاری اور ان کے عدم کا زیر قدرت
کہ تو ہم درمیان ماتلخی
(کہ تو بھی مصیبت میں مبتلا ہے۔ ت)
مشرکین بھی تو دین اسلام کو بدعت بتاتے تھے
“ ما سمعنا بہذا فی الملۃ الاخرۃ ان ہذا الا اختلق ﴿۷﴾ “ یہ تو ہم نے سب سے پچھلے دین نصرانیت میں بھی نہ سنی یہ تو نری نئی گھڑت ہے(ت)
خیریہاں تك تو نری بدعت ہی بدعت تھی آگے شراب ضلالت تیز وتند ہوکر اونچی چڑھی اور نشے کی ترنگ کیف کی امنگ دون پر آکر کفر تك بڑھی کہ الله عزوجل کا پاك ومنزہ اور دیدار الہی کو بے جہت ومقابلہ ماننے کو مخلوقات کے قدیم جاننے اور خالق کو بے اختیار ماننے کے ساتھ گنا اور اسے ان ناپاك مسئلوں کے ساتھ کہ باجماع مسلمین کفر محض ہیں ایك حکم میں شریك کیا اب کیا کہا جائے سوااس کے کہ “ و سیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون ﴿۲۲۷﴾ “ (اب جاننا چاہتے ہیں ظالم کہ کس کروٹ پر پلٹا کھائی گے ت)ولا حوال ولاقوۃ الا باﷲ العلی العظیم اچھے امام اور اچھے ماموم ع
مذہب معلوم واہل مذہب معلوم
تازیانہ ۳ : اقول : وباﷲ التوفیق(میں کہتاہوں اورتوفیق الله تعالی سے ہے۔ ت)سفیہ سحیق کی اور جہالت وضلالت دیکھئے خود مانتا جاتاہے کہ صدق الله عزوجل کی صفات کمالیہ سے ہے حیث قال صفت کمال ہمیں ست الخ(جہاں اس نے یہ کہا صفت کمال یہی ہے الخ۔ ت) پھر اسے امر اختیاری جانتاہے کہ باری تعالی نے باوجود قدرت عدم برعایت مصلحت بطور ترفع اختیار فرمایا اہل سنت کے مذہب میں الله عزوجل کے کمالات اس کے یا کسی کے قدرت واختیار سے نہیں بلکہ باقتضائے نفس ذات بے توسط قدرت وارادہ و اختیار اس کی ذات پاك کے لئے واجب ولازم ہیں نہ کہ معاذالله وہ اس کی صنعت یا ان کا عدم اسکے زیر قدرت تمام کتب کلامیہ اس کی تصریح سے مالا مال وہ احادیث وآثار تمھارے کان تك بھی پہنچے ہوں گے جن میں کلام الہی کو باختیار الہی ماننے والا کافر ٹھہرا ہے اور عجب نہیں کہ بعض ان میں سے ذکر کروں مجھے یہاں حیرت ہے کہ اس بیباك بدعتی کو کیونکر الزادم دوں اگر یہ کہتاہوں کہ صفات کمالیہ الہی کا اختیاری اور ان کے عدم کا زیر قدرت
حوالہ / References
القرآن الکریم ۳۸ /۷
القرآن الکریم ۲۶ /۲۲۷
رسالہ یکروزی(فارسی)فاروقی کتب خانہ ملتان ص۱۷
القرآن الکریم ۲۶ /۲۲۷
رسالہ یکروزی(فارسی)فاروقی کتب خانہ ملتان ص۱۷
باری نہ ہونا ائمہ اہلسنت کا مسئلہ اجماعی ہے تو اس نے جیسے اوپر مسائل اجماعیہ تنزیہ وتقدیس کو بدعت حقیقیہ لکھ دیا یہاں کہتےکون اس کی زبان پکڑتاہے کہ ائمہ اہل سنت سب بدعتی تھے اور اگریوں دلیل قائم کرتاہوں کہ صفت کمال کا اختیاری اور اس کے عدم کازیر قدرت ہونا مستلزم عیب ومنقصت ہے کہ جب کمال اختیاری ہوا کہ چاہے حاصل کیا یا نہ کیا تو عیب ونقصان روا ٹھہرا اور مولی سبحانہ وتعالی کا موصوف بصفات کمالیہ ہونا کچھ ضروری نہ ہوا تو یہ اس بدمشرب کاعین مذہب ہے وہ صاف لکھ چکا کہ باری عزوجل میں عیب وآلائش کا ہونا ممکن مگر ہاں ان پیروؤں سے اتنا کہوں گا کہ آنکھ کھول کر دیکھتے جاؤں کس معتزلی کرامی کو امام جانتے ہو جو صراحۃ عقائد اجماعیہ اہل سنت وجماعت کو رد کرتا جاتاہے پھر نہ کہنا کہ ہم سنی ہیں۔
تنبیہ نبیہ : حضرت نے صفات کمالیہ باری جل وعلا کا اختیاری ہونا کچھ فقط صفت صدق ہی میں نہ لکھا بلکہ مستلزم علم الہی میں بھی اس کی تصریح کی کتاب تقویۃ الایمان مسمی بہ تقویت الایمان ع
برعکس نہند نام زنگی کافور
(سیاہ حبشی کانام الٹ کر کافور رکھتے ہیں۔ ت)
میں صاف لکھ دیا : “ غیب کا دریافت کرنا اپنے اختیار میں ہو کہ جب چاہئے کرلیجئے یہ الله صاحب ہی کی شان ہے “
حاشا للہ! الله عزوجل پر صریح بہتان ہے دیکھو یہاں کھلم کھلا اقرار کر گیا کہ الله تعالی چاہے تو علم حاصل کرلے چاہے جاہل رہے شاباش بہادر اچھا ایمان رکھتاہے خدا پر اہل سنت کے مذہب میں ازلا ابدا ہر بات کو جاننا ذات پاك کو لازم ہے کہ نہ وہ کسی کے ارادہ واختیار سے نہ اس کا حاصل ہونا یا زائل ہوجانا کسی کے قابو و اقتدار میں پیر وصاحبو! ذرا پیر طائفہ کی بدمذہبیاں گنتے جاؤاور اپنے امام معظم کے لئے ہم اہلسنت کے امام اعظم ہمام امام الائمہ سراج الامہ امام ابوحنیفہ رضی الله تعالی عنہ کے ارشاد واجب الانقیاد کا تحفہ لو فقہ اکبر میں فرماتے ہیں :
صفاتہ تعالی فی الازل غیر محدثۃ ولامخلوق فمن قال انھا مخلوقۃ او محدثۃ اووقف فیھا اوشك فیھا فھو کافر باﷲ تعالی ۔ صفات الہی ازلی ہیں نہ حادث نہ کسی کے مخلوق تو جو انھیں مخلوق یاحادث بتائے یا ان میں تردد کرے یا شك لائے وہ کافر ہے اور الله تعالی کا منکر۔
تنبیہ نبیہ : حضرت نے صفات کمالیہ باری جل وعلا کا اختیاری ہونا کچھ فقط صفت صدق ہی میں نہ لکھا بلکہ مستلزم علم الہی میں بھی اس کی تصریح کی کتاب تقویۃ الایمان مسمی بہ تقویت الایمان ع
برعکس نہند نام زنگی کافور
(سیاہ حبشی کانام الٹ کر کافور رکھتے ہیں۔ ت)
میں صاف لکھ دیا : “ غیب کا دریافت کرنا اپنے اختیار میں ہو کہ جب چاہئے کرلیجئے یہ الله صاحب ہی کی شان ہے “
حاشا للہ! الله عزوجل پر صریح بہتان ہے دیکھو یہاں کھلم کھلا اقرار کر گیا کہ الله تعالی چاہے تو علم حاصل کرلے چاہے جاہل رہے شاباش بہادر اچھا ایمان رکھتاہے خدا پر اہل سنت کے مذہب میں ازلا ابدا ہر بات کو جاننا ذات پاك کو لازم ہے کہ نہ وہ کسی کے ارادہ واختیار سے نہ اس کا حاصل ہونا یا زائل ہوجانا کسی کے قابو و اقتدار میں پیر وصاحبو! ذرا پیر طائفہ کی بدمذہبیاں گنتے جاؤاور اپنے امام معظم کے لئے ہم اہلسنت کے امام اعظم ہمام امام الائمہ سراج الامہ امام ابوحنیفہ رضی الله تعالی عنہ کے ارشاد واجب الانقیاد کا تحفہ لو فقہ اکبر میں فرماتے ہیں :
صفاتہ تعالی فی الازل غیر محدثۃ ولامخلوق فمن قال انھا مخلوقۃ او محدثۃ اووقف فیھا اوشك فیھا فھو کافر باﷲ تعالی ۔ صفات الہی ازلی ہیں نہ حادث نہ کسی کے مخلوق تو جو انھیں مخلوق یاحادث بتائے یا ان میں تردد کرے یا شك لائے وہ کافر ہے اور الله تعالی کا منکر۔
حوالہ / References
تقویۃ الایمان الفصل الثانی ردالاشراك فی العلم مطبع علیمی اندرون لوہاری گیٹ لاہور ص۱۴
الفقۃ الاکبر مطبوعہ ملك سراج الدین اینڈ سنز کشمیری بازار لاہور ص۴
الفقۃ الاکبر مطبوعہ ملك سراج الدین اینڈ سنز کشمیری بازار لاہور ص۴
اقول : وجہ اس کی وہی ہے کہ صفات مقتضائے ذات تو ان کا حادث وقابل فنا ہونا ذات کے حدوث وقابلیت کو مستلزم اور یہ عین انکار ذات ہے والعیاذ بالله رب العالمین۔
تازیانہ ۴ : اقول : وبالله التوفیق جب صدق الہی اختیاری ہوا اور قرآن عظیم قطعا اس کا کلام صادق تو واجب کہ قرآن مجید الله تعالی کا مقتضائے ذات نہ ہو ورنہ قرآن لازم ذات ہوگا اور صدق لازم قرآن اور لازم لازم لازم اور لازم کا اختیاری ہونا بداہۃ باطل اور باجماع مسلمین جو کچھ ذات ومقتضائے ذات کے سواہے سب حادث ومخلوق تودلیل قطعی سے ثابت ہواکہ مولائے وہابیہ پر قرآن عظیم کو مخلوق ماننا لازم اس بارے میں اگرچہ حضرت عبدالله بن مسعود عــــــہ۱ وعبدالله بن عباس عــــــہ۲ وجابر بن عبدالله عــــــہ۳ وابو درداء عــــــہ۴ وحذیفہ بن الیمان عــــــہ۵ وعمر بن حصین عــــــہ۶ ورافع بن خدیج عــــــہ۷ وابوحکیم شامی عــــــہ۸ وانس بن مالك عــــــہ۹ وابوہریرہ عــــــہ۱۰دس صحابہ کرام رضوان الله تعالی عنہم اجمعین کی حدیثوں سے مروی ہواکہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نےقرآن مجید
عــــــہ۱ : الشیرازی فی الالقاب والخطیب ومن طریقہ ابن الجوزی بوجہ اخر ۱۲ منہ
عــــــہ۲ : ابونصر السجری فی الابانۃ عن اصول الدیانۃ ۱۲ منہ۔ عــــــہ۳ اخرج عنہ الخطیب ۱۲ منہ
عــــــہ۴ : الدیملی فی مسند الفردوس ۱۲ منہ۔
عــــــہ۵ : الشیرازی فی الالقاب والدیلمی فی مسند الفردوس بوجہ اخر ۱۲ منہ
عــــــہ۶ : الدیلمی من طریق الامام الشافعی رضی اﷲ تعالی عنہ ۱۲ منہ
عــــــہ۷ : کالذی قبلہ ۱۲ منہ سلمہ اﷲ تعالی
عــــــہ۸ : روی عنہ الخطیب ۱۲ منہ
عــــــہ۹ : الدیلمی وھو عند الخطیب بوجہ ا خر ۱۲ منہ۔
عــــــہ۱۰ : ابن عدی فی الکامل ۱۲ منہ شیرازی نے القاب میں خطیب نے اور ابن جوزی نے ایك اور سند سے روایت کیا ہے ۱۲ منہ(ت)
ابونصر السجری نے الابانۃ عن اصول الدیانۃمیں ذکر کیا ہے ۱۲ منہ(ت)
ان سے خطیب نے نقل کیا ہے ۱۲ منہ(ت)
دیلمی نے مسند الفردوس میں ذکر کیا ۱۲ منہ(ت)
شیرا زی نے القاب میں اور ویلمی نے مسند الفردوس میں ایك اور سند سے روایت کیاہے۔ ۱۲ منہ(ت)
دیلمی نے امام شافعی رضی الله تعالی عنہ کی سند سے نقل کیا ہے ۱۲ منہ(ت)
یہ پہلے کی ہی مثل ہے ۱۲ منہ سلمہ الله تعالی (ت)
خطیب نے ان سے نقل کیا ۱۲ منہ(ت)
دیلمی میں ہے اور خطیب نے اسے ایك اور سند سے بیان کیا ہے ۱۲ منہ(ت)
ابن عدی نے الکامل میں ذکر کیا ۱۲ منہ(ت)
تازیانہ ۴ : اقول : وبالله التوفیق جب صدق الہی اختیاری ہوا اور قرآن عظیم قطعا اس کا کلام صادق تو واجب کہ قرآن مجید الله تعالی کا مقتضائے ذات نہ ہو ورنہ قرآن لازم ذات ہوگا اور صدق لازم قرآن اور لازم لازم لازم اور لازم کا اختیاری ہونا بداہۃ باطل اور باجماع مسلمین جو کچھ ذات ومقتضائے ذات کے سواہے سب حادث ومخلوق تودلیل قطعی سے ثابت ہواکہ مولائے وہابیہ پر قرآن عظیم کو مخلوق ماننا لازم اس بارے میں اگرچہ حضرت عبدالله بن مسعود عــــــہ۱ وعبدالله بن عباس عــــــہ۲ وجابر بن عبدالله عــــــہ۳ وابو درداء عــــــہ۴ وحذیفہ بن الیمان عــــــہ۵ وعمر بن حصین عــــــہ۶ ورافع بن خدیج عــــــہ۷ وابوحکیم شامی عــــــہ۸ وانس بن مالك عــــــہ۹ وابوہریرہ عــــــہ۱۰دس صحابہ کرام رضوان الله تعالی عنہم اجمعین کی حدیثوں سے مروی ہواکہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نےقرآن مجید
عــــــہ۱ : الشیرازی فی الالقاب والخطیب ومن طریقہ ابن الجوزی بوجہ اخر ۱۲ منہ
عــــــہ۲ : ابونصر السجری فی الابانۃ عن اصول الدیانۃ ۱۲ منہ۔ عــــــہ۳ اخرج عنہ الخطیب ۱۲ منہ
عــــــہ۴ : الدیملی فی مسند الفردوس ۱۲ منہ۔
عــــــہ۵ : الشیرازی فی الالقاب والدیلمی فی مسند الفردوس بوجہ اخر ۱۲ منہ
عــــــہ۶ : الدیلمی من طریق الامام الشافعی رضی اﷲ تعالی عنہ ۱۲ منہ
عــــــہ۷ : کالذی قبلہ ۱۲ منہ سلمہ اﷲ تعالی
عــــــہ۸ : روی عنہ الخطیب ۱۲ منہ
عــــــہ۹ : الدیلمی وھو عند الخطیب بوجہ ا خر ۱۲ منہ۔
عــــــہ۱۰ : ابن عدی فی الکامل ۱۲ منہ شیرازی نے القاب میں خطیب نے اور ابن جوزی نے ایك اور سند سے روایت کیا ہے ۱۲ منہ(ت)
ابونصر السجری نے الابانۃ عن اصول الدیانۃمیں ذکر کیا ہے ۱۲ منہ(ت)
ان سے خطیب نے نقل کیا ہے ۱۲ منہ(ت)
دیلمی نے مسند الفردوس میں ذکر کیا ۱۲ منہ(ت)
شیرا زی نے القاب میں اور ویلمی نے مسند الفردوس میں ایك اور سند سے روایت کیاہے۔ ۱۲ منہ(ت)
دیلمی نے امام شافعی رضی الله تعالی عنہ کی سند سے نقل کیا ہے ۱۲ منہ(ت)
یہ پہلے کی ہی مثل ہے ۱۲ منہ سلمہ الله تعالی (ت)
خطیب نے ان سے نقل کیا ۱۲ منہ(ت)
دیلمی میں ہے اور خطیب نے اسے ایك اور سند سے بیان کیا ہے ۱۲ منہ(ت)
ابن عدی نے الکامل میں ذکر کیا ۱۲ منہ(ت)
کے مخلوق کہنے والے کو کافربتایا مگر از انجا کہ ائمہ محدثین کو ان عــــــہ احادیث میں کلام شدید ہے لہذا آثا ر و اقول صحابہ کرام و تابعین عظام وائمہ اعلام علیہم رضا المنعام استماع کیجئے۔
(ارشاد ۱تا ۱۰)امام لالکائی کتاب السنہ میں بسند صحیح روایت کرتے ہیں :
انبأنا الشیخ ابو حامد بن ابی طاہر الفقیہ انبأنا عمر بن احمد الواعظ حدثنا محمد بن ھارون الحضرمی حدثنا القاسم بن العباس الشیبانی حدثنا سفیان بن عیینۃ عن عمروبن دینار قال ادرکت تسعۃ من اصحاب رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یقولون من قال القران مخلوق فھوکافر ۔ ہمیں خبر دی شیخ ابو حامد بن ابی طاہر الفقیہ نے انھیں خبردی عمر بن احمد الواعظ نے انھیں خبر دی محمد بن ہارون الحضرمی نے انھیں خبر دی قاسم بن عباس الشیبانی نے ان سے بیان کیا سفیان بن عیینہ نے کہ حضرت عمرو بن دینار فرماتے ہیں میں نے رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے نو صحابہ کو پایا کہ فرماتے تھے جو قرآن کو مخلوق بتائے وہ کافرہے۔
عــــــہ : البیہقی فی الاسماء والصفات اسانیدہ مظلمۃ لا ینبغی ان یحتج بشیئ منھا ولا ان یستشھد بھا ابن الجوزی فی الموضاعات موضوع الذھبی فی المیزان والحافظ فی اللسان والسخاوی فی المقاصد باطل القاری فی المنح لااصل لہ السیوطی فی اللالی فما رأیت لھذا الحدیث من طب ۱۲ منہ سلمہ ربہ۔ بیہقی نے “ الاسماء والصفات “ میں کہا ان میں سے کسی کے ساتھ بھی استدلال واستشہاد درست نہیں ابن جوزی نے موضاعات میں موضوع قرارد یا ذہبی نے میزان میں اور حافظ نے لسان میں اور سخاوی نے مقاصد میں باطل کہا علی قاری نے المنح میں کہا اس کی کوئی اصل نہیں سیوطی نے اللآلی میں کہا میں نے اس حدیث کی کوئی صحت نہ پائی ۱۲ منہ سلمہ ربہ(ت)
(ارشاد ۱تا ۱۰)امام لالکائی کتاب السنہ میں بسند صحیح روایت کرتے ہیں :
انبأنا الشیخ ابو حامد بن ابی طاہر الفقیہ انبأنا عمر بن احمد الواعظ حدثنا محمد بن ھارون الحضرمی حدثنا القاسم بن العباس الشیبانی حدثنا سفیان بن عیینۃ عن عمروبن دینار قال ادرکت تسعۃ من اصحاب رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یقولون من قال القران مخلوق فھوکافر ۔ ہمیں خبر دی شیخ ابو حامد بن ابی طاہر الفقیہ نے انھیں خبردی عمر بن احمد الواعظ نے انھیں خبر دی محمد بن ہارون الحضرمی نے انھیں خبر دی قاسم بن عباس الشیبانی نے ان سے بیان کیا سفیان بن عیینہ نے کہ حضرت عمرو بن دینار فرماتے ہیں میں نے رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے نو صحابہ کو پایا کہ فرماتے تھے جو قرآن کو مخلوق بتائے وہ کافرہے۔
عــــــہ : البیہقی فی الاسماء والصفات اسانیدہ مظلمۃ لا ینبغی ان یحتج بشیئ منھا ولا ان یستشھد بھا ابن الجوزی فی الموضاعات موضوع الذھبی فی المیزان والحافظ فی اللسان والسخاوی فی المقاصد باطل القاری فی المنح لااصل لہ السیوطی فی اللالی فما رأیت لھذا الحدیث من طب ۱۲ منہ سلمہ ربہ۔ بیہقی نے “ الاسماء والصفات “ میں کہا ان میں سے کسی کے ساتھ بھی استدلال واستشہاد درست نہیں ابن جوزی نے موضاعات میں موضوع قرارد یا ذہبی نے میزان میں اور حافظ نے لسان میں اور سخاوی نے مقاصد میں باطل کہا علی قاری نے المنح میں کہا اس کی کوئی اصل نہیں سیوطی نے اللآلی میں کہا میں نے اس حدیث کی کوئی صحت نہ پائی ۱۲ منہ سلمہ ربہ(ت)
حوالہ / References
اللآلی المصنوعۃ بحوالہ اللالکائی فی السنۃ کتاب التوحید دارالمعرفۃ بیروت ۱ / ۸
المقاصد الحسنہ بحوالہ الاسماء والصفات تحت حدیث ۷۶۷ دارالکتب العلمیہ بیروت ص۳۰۴
موضوعات ابن الجوزی کتاب التوحید دارالفکر بیروت ۱ / ۱۰۸
المقاصد الحسنہ حدیث ۷۶۷ دارالکتب العلمیہ بیروت ص۳۰۴
منح الروض الازہر شرح الفقہ الاکبر القرآن غیر مخلوق الخ مصطفی البابی مصر ص۲۶
اللآلی المصنوعۃ کتاب التوحید دارالمعرفۃ بیروت ۱ / ۶
المقاصد الحسنہ بحوالہ الاسماء والصفات تحت حدیث ۷۶۷ دارالکتب العلمیہ بیروت ص۳۰۴
موضوعات ابن الجوزی کتاب التوحید دارالفکر بیروت ۱ / ۱۰۸
المقاصد الحسنہ حدیث ۷۶۷ دارالکتب العلمیہ بیروت ص۳۰۴
منح الروض الازہر شرح الفقہ الاکبر القرآن غیر مخلوق الخ مصطفی البابی مصر ص۲۶
اللآلی المصنوعۃ کتاب التوحید دارالمعرفۃ بیروت ۱ / ۶
(۱۱)بیہقی کتاب الاسماء والصفات میں امام جعفرصادق رضی الله تعالی عنہ وعن آباءہ الکرام سے راوی کہ مخلوقیت قرآن ماننے والے کی نسبت فرماتے انہ یقتل ولایستتاب اسے قتل کیا جائے اور اس سے توبہ نہ لیں۔
(۱۲)اسی میں امام علی بن مدینی سے منقول : انہ کافر (وہ کافر ہے۔ ت)
(۱۳)اسی میں امام مالك سے مروی : کافر فاقتلوہ کافرہے اسے قتل کرو۔
(۱۴)جزء الفیل میں یحیی بن ابی طالب سے رایت :
من زعم ان القرآن مخلوق فھو کافر ۔ ذکر ھذہ الاربع مام السخاوی فی المقاصد الحسنۃ۔ جو قرآن کو مخلوق کہے کافرہے (ان چاروں کا ذکر امام سخاوی نے “ المقاصد الحسنہ “ میں کیا ہے۔ ت)
(۱۵)ابن امام احمد کتاب السنہ میں فرماتے ہیں :
من قال القران مخلوق فھو عندنا کافر لان القران من صفۃ اﷲ ۔ قرآن کو مخلوق کہنے والا ہمارے نزدیك کافر ہے کہ قرآن خدا کی صفتوں سے ہے۔
(۱۶)امام عبدالله بن مبارك فرماتے ہیں :
من قال القران مخلوق فھو زندیق ۔ جو قرآن کو مخلوق کہے وہ بے دین ہے۔
(۱۷)امام سفیان بن عیینہ فرماتے ہیں :
القرآن کلام اﷲ من قال مخلوق فھو کافر . قرآن کلام الہی ہیے جو اسے مخلوق کہے کافرہے۔
(۱۸)عبدالله بن ادریس کے سامنے خلق قرآن ماننے والوں کا ذکر ہوا کہ اپنے آپ کو موحدکہتے ہیں
(۱۲)اسی میں امام علی بن مدینی سے منقول : انہ کافر (وہ کافر ہے۔ ت)
(۱۳)اسی میں امام مالك سے مروی : کافر فاقتلوہ کافرہے اسے قتل کرو۔
(۱۴)جزء الفیل میں یحیی بن ابی طالب سے رایت :
من زعم ان القرآن مخلوق فھو کافر ۔ ذکر ھذہ الاربع مام السخاوی فی المقاصد الحسنۃ۔ جو قرآن کو مخلوق کہے کافرہے (ان چاروں کا ذکر امام سخاوی نے “ المقاصد الحسنہ “ میں کیا ہے۔ ت)
(۱۵)ابن امام احمد کتاب السنہ میں فرماتے ہیں :
من قال القران مخلوق فھو عندنا کافر لان القران من صفۃ اﷲ ۔ قرآن کو مخلوق کہنے والا ہمارے نزدیك کافر ہے کہ قرآن خدا کی صفتوں سے ہے۔
(۱۶)امام عبدالله بن مبارك فرماتے ہیں :
من قال القران مخلوق فھو زندیق ۔ جو قرآن کو مخلوق کہے وہ بے دین ہے۔
(۱۷)امام سفیان بن عیینہ فرماتے ہیں :
القرآن کلام اﷲ من قال مخلوق فھو کافر . قرآن کلام الہی ہیے جو اسے مخلوق کہے کافرہے۔
(۱۸)عبدالله بن ادریس کے سامنے خلق قرآن ماننے والوں کا ذکر ہوا کہ اپنے آپ کو موحدکہتے ہیں
حوالہ / References
المقاصد بحوالہ البیہقی فی الاسماء والصفات تحت حدیث ۷۶۷ دارالکتب العلمیہ بیروت ص۳۰۵
المقاصد الحسنہ بحوالہ علی ابن مدینی تحت حدیث ۷۶۷ دارالکتب العلمیہ بیروت ص۳۰۵
المقاصد الحسنہ بحوالامام مالك تحت حدیث ۷۶۷ دارالکتب العلمیہ بیروت ص۳۰۵
المقاصد الحسنہ بحوالہ جزء الفیل عن یحیٰی بن ابی طالب تحت حدیث ۷۶۷ دارالکتب العلمیہ بیروت ص۳۰۵
الحدیقۃ الندیۃ بحوالہ کتاب السنۃ القرآن کلام الله تعالٰی غیر مخلوق مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۱ / ۲۵۷
الحدیقہ الندیہ عبدالله ابن مبارك کتاب السنۃ القرآن کلام الله تعالٰی غیر مخلوق مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۱ / ۲۵۷
الحدیقۃ الندیۃ سفیان بن عینیہ کتاب السنۃ القرآن کلام الله تعالٰی غیر مخلوق مکتبہ نوریہ رٰضویہ فیصل آباد ۱ / ۲۵۷
المقاصد الحسنہ بحوالہ علی ابن مدینی تحت حدیث ۷۶۷ دارالکتب العلمیہ بیروت ص۳۰۵
المقاصد الحسنہ بحوالامام مالك تحت حدیث ۷۶۷ دارالکتب العلمیہ بیروت ص۳۰۵
المقاصد الحسنہ بحوالہ جزء الفیل عن یحیٰی بن ابی طالب تحت حدیث ۷۶۷ دارالکتب العلمیہ بیروت ص۳۰۵
الحدیقۃ الندیۃ بحوالہ کتاب السنۃ القرآن کلام الله تعالٰی غیر مخلوق مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۱ / ۲۵۷
الحدیقہ الندیہ عبدالله ابن مبارك کتاب السنۃ القرآن کلام الله تعالٰی غیر مخلوق مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۱ / ۲۵۷
الحدیقۃ الندیۃ سفیان بن عینیہ کتاب السنۃ القرآن کلام الله تعالٰی غیر مخلوق مکتبہ نوریہ رٰضویہ فیصل آباد ۱ / ۲۵۷
فرمایا :
کذبوا لیس ھؤلاء بموحدین ھؤلاء زنا دقۃ من زعم ان القران مخلوق فقد زعم ان اﷲ مخلوق ومن زعم ان اﷲ مخلوق فقد کفر ھؤلاء زنادقۃ ۔ جھوٹے ہیں وہ موحد نہیں زندیق ہیں جس نے قرآن کو مخلوق کہا اس عــــــہ نے خد ا کو مخلوق کہا اور جس نے خدا کو مخلوق کہا کافرہوا یہ بے دین ہیں۔
(۱۹ تا ۲۱)وکیع بن الجراح ومعاذ بن معاذ ویحیی بن معین فرماتے ہیں : من قال القران مخلوق فھو کافر (جس نے قرآن کو مخلوق کہا وہ کافر ہے۔ ت)
(۲۲)ابن ابی مریم نے فرمایا : من زعم ان القران مخلوق فھو کافر (جو قرآن کو مخلوق مانے وہ کافر ہے۔ ت)
(۲۳و ۲۴)شبابہ بن سور وعبدالعزیز بن ابان قرشی فرماتے ہیں :
القرآن کلام اﷲ ومن زعم انہ مخلوق فھو کافر ۔ قرآن کلام الله ہے جواسے مخلوق مانے کافرہے۔
(۲۵)امام یزید بن ہارون نے فرمایا :
واﷲ الذی لا الہ الا ھوا الرحمن الرحیم عالم الغیب والشہادۃ من قال القران مخلوق فھو زندیق ۔ اورد ھذہ الاواخر فی قسم الله کی جس کے سوا کوئی سچا معبود نہیں بڑا مہربان رحمت والا حاضر غائب سب سےخبردار کہ جوکوئی قرآن کو مخلوق کہے زندیق ہے(ان آخری اقوال کا
عــــــہ : اقول : وجہ ملازمت ظاہر ہے کہ ہر مخلوق حادث اور قرآن لازم ذات اور حدوث لازم حدوث ملزوم کو مستلزم اور ہر حادث مخلوق تو خلق صفت ماننے کو خلق ذات ماننا لازم حضرات نجدیہ غور کریں لازم شنیع یعنی معاذالله ذات باری کا حادث ومخلوق ہونا ان کے امام پر بھی لازم آیا یا نہیں غنیمت جانیں کہ لازم قول قول نہیں ہوتا ۱۲ منہ دام فیضہ
کذبوا لیس ھؤلاء بموحدین ھؤلاء زنا دقۃ من زعم ان القران مخلوق فقد زعم ان اﷲ مخلوق ومن زعم ان اﷲ مخلوق فقد کفر ھؤلاء زنادقۃ ۔ جھوٹے ہیں وہ موحد نہیں زندیق ہیں جس نے قرآن کو مخلوق کہا اس عــــــہ نے خد ا کو مخلوق کہا اور جس نے خدا کو مخلوق کہا کافرہوا یہ بے دین ہیں۔
(۱۹ تا ۲۱)وکیع بن الجراح ومعاذ بن معاذ ویحیی بن معین فرماتے ہیں : من قال القران مخلوق فھو کافر (جس نے قرآن کو مخلوق کہا وہ کافر ہے۔ ت)
(۲۲)ابن ابی مریم نے فرمایا : من زعم ان القران مخلوق فھو کافر (جو قرآن کو مخلوق مانے وہ کافر ہے۔ ت)
(۲۳و ۲۴)شبابہ بن سور وعبدالعزیز بن ابان قرشی فرماتے ہیں :
القرآن کلام اﷲ ومن زعم انہ مخلوق فھو کافر ۔ قرآن کلام الله ہے جواسے مخلوق مانے کافرہے۔
(۲۵)امام یزید بن ہارون نے فرمایا :
واﷲ الذی لا الہ الا ھوا الرحمن الرحیم عالم الغیب والشہادۃ من قال القران مخلوق فھو زندیق ۔ اورد ھذہ الاواخر فی قسم الله کی جس کے سوا کوئی سچا معبود نہیں بڑا مہربان رحمت والا حاضر غائب سب سےخبردار کہ جوکوئی قرآن کو مخلوق کہے زندیق ہے(ان آخری اقوال کا
عــــــہ : اقول : وجہ ملازمت ظاہر ہے کہ ہر مخلوق حادث اور قرآن لازم ذات اور حدوث لازم حدوث ملزوم کو مستلزم اور ہر حادث مخلوق تو خلق صفت ماننے کو خلق ذات ماننا لازم حضرات نجدیہ غور کریں لازم شنیع یعنی معاذالله ذات باری کا حادث ومخلوق ہونا ان کے امام پر بھی لازم آیا یا نہیں غنیمت جانیں کہ لازم قول قول نہیں ہوتا ۱۲ منہ دام فیضہ
حوالہ / References
الحدیقۃ الندیہ بحوالہ عبدالله بن ادریس القرآن کلام الله تعالٰی غیر مخلوق مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۱ / ۲۵۷
الحدیقۃ الندیہ بحوالہ وکیع بن الجراح ومعاذ بن معاذ ویحیٰی بن معین مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۱ / ۵۸ ، ۲۵۷
الحدیقۃ الندیہ بحوالہ ابن ابی مریم القرآن کلام الله غیر مخلوق مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۱ / ۲۵۸
الحدیقۃ الندیہ بحوالہ شبابہ بن سوار وعبدالعزیز بن ابان القرشی القرآن کلام الله غیر مخلوق مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۱ / ۲۵۸
الحدیقۃ الندیہ بحوالہ یزید بن ہارون القرآن کلام الله غیر مخلوق مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۱ / ۵۸ ، ۲۵۷
الحدیقۃ الندیہ بحوالہ وکیع بن الجراح ومعاذ بن معاذ ویحیٰی بن معین مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۱ / ۵۸ ، ۲۵۷
الحدیقۃ الندیہ بحوالہ ابن ابی مریم القرآن کلام الله غیر مخلوق مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۱ / ۲۵۸
الحدیقۃ الندیہ بحوالہ شبابہ بن سوار وعبدالعزیز بن ابان القرشی القرآن کلام الله غیر مخلوق مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۱ / ۲۵۸
الحدیقۃ الندیہ بحوالہ یزید بن ہارون القرآن کلام الله غیر مخلوق مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۱ / ۵۸ ، ۲۵۷
الحدیقۃ الندیۃ شرح الطریقۃ المحمدیۃ للعلامۃ النابلسی۔ تذکرہ علامہ نابلسی نےالحدیقۃ الندیہ شرح الطریقۃ المحمدیہ میں کیا۔ ت)
(۲۶)سیدنا امام اعظم رضی الله تعالی عنہ وصایا میں فرماتے ہیں :
من قال ان کلام اﷲ مخلوق فھو کافر باﷲ العظیم ۔ جو قرآن کو مخلوق کہے اس نے عظمت والے خدا کے ساتھ کفر کیا۔
(۲۷)امام فخر الاسلام فرماتے ہیں :
قدصح عن ابی یوسف انہ قال ناظرت اباحنیفۃ رحمہ اﷲ تعالی فی مسئلۃ خلق القران فاتفق رأیی ورأیہ علی ان من قال بخلق القران فھو کافر ۔ امام ابویوسف رحمہ الله تعالی سے بروایت صحیحہ ثابت ہواکہ انھوں نے فرمایا میں نے امام ابوحنیفہ رضی الله تعالی عنہ سے مسئلہ خلق قرآن میں مناظرہ کیا بالاخر میری اور ان کی رائے متفق ہوئی کہ خلق قرآن ماننے والا کافرہے۔
(۲۸)مولانا علی قاری شرح فقہ اکبر میں اسے نقل کرکے فرماتے ہیں :
صح ھذا القول ایضا عن محمد ۔ یہ قول امام محمد رحمۃ الله تعالی سے بھی بسند صحیح مروی ہوا
(۲۹ و ۳۰)فصر عمادی پھر فتاوی عالمگیری میں ہے :
من قال بخلق القران فھوا کافر الخ۔ جس نے قرآن کے مخلوق ہونے کا قول کیا وہ کافر ہے۔ (ت)
(۳۱)خلاصہ میں ہے :
معلم قال تاقرآن آفریدہ شدہ است پنچ شنبہی نہادہ شدہ است یکفر الخ۔ اگر معلم نے کہا جب سے قرآن پیدا کیا گیا جمعرات بنائی گئی تو کافر ہوجائے گا الخ۔ (ت)
(۲۶)سیدنا امام اعظم رضی الله تعالی عنہ وصایا میں فرماتے ہیں :
من قال ان کلام اﷲ مخلوق فھو کافر باﷲ العظیم ۔ جو قرآن کو مخلوق کہے اس نے عظمت والے خدا کے ساتھ کفر کیا۔
(۲۷)امام فخر الاسلام فرماتے ہیں :
قدصح عن ابی یوسف انہ قال ناظرت اباحنیفۃ رحمہ اﷲ تعالی فی مسئلۃ خلق القران فاتفق رأیی ورأیہ علی ان من قال بخلق القران فھو کافر ۔ امام ابویوسف رحمہ الله تعالی سے بروایت صحیحہ ثابت ہواکہ انھوں نے فرمایا میں نے امام ابوحنیفہ رضی الله تعالی عنہ سے مسئلہ خلق قرآن میں مناظرہ کیا بالاخر میری اور ان کی رائے متفق ہوئی کہ خلق قرآن ماننے والا کافرہے۔
(۲۸)مولانا علی قاری شرح فقہ اکبر میں اسے نقل کرکے فرماتے ہیں :
صح ھذا القول ایضا عن محمد ۔ یہ قول امام محمد رحمۃ الله تعالی سے بھی بسند صحیح مروی ہوا
(۲۹ و ۳۰)فصر عمادی پھر فتاوی عالمگیری میں ہے :
من قال بخلق القران فھوا کافر الخ۔ جس نے قرآن کے مخلوق ہونے کا قول کیا وہ کافر ہے۔ (ت)
(۳۱)خلاصہ میں ہے :
معلم قال تاقرآن آفریدہ شدہ است پنچ شنبہی نہادہ شدہ است یکفر الخ۔ اگر معلم نے کہا جب سے قرآن پیدا کیا گیا جمعرات بنائی گئی تو کافر ہوجائے گا الخ۔ (ت)
حوالہ / References
وصیت نامہ امام اعظم رضی الله تعالٰی عنہ ملك سراج الدین اینڈ سنز کشمیری بازار لاہور ص۲۹و ۳۰
منح الروض الازھر شرح الفقہ الاکبر بحوالہ فخر الاسلام القرآن کلام اﷲ غیر مخلوق مصطفی البابی مصر ص۲۶
منح الروض الازھر شرح الفقہ الاکبر بحوالہ فخر الاسلام القرآن کلام اﷲ غیر مخلوق مصطفی البابی مصر ص۲۶
فتاوٰی ہندیہ الباب التاسع فی احکام المرتدین نورانی کتب خانہ پشاور ۲ / ۲۶۶
خلاصۃ الفتاوٰی کتاب الفاظ الکفرا لجنس التاسع فی القرآن مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۴ / ۳۸۸
منح الروض الازھر شرح الفقہ الاکبر بحوالہ فخر الاسلام القرآن کلام اﷲ غیر مخلوق مصطفی البابی مصر ص۲۶
منح الروض الازھر شرح الفقہ الاکبر بحوالہ فخر الاسلام القرآن کلام اﷲ غیر مخلوق مصطفی البابی مصر ص۲۶
فتاوٰی ہندیہ الباب التاسع فی احکام المرتدین نورانی کتب خانہ پشاور ۲ / ۲۶۶
خلاصۃ الفتاوٰی کتاب الفاظ الکفرا لجنس التاسع فی القرآن مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۴ / ۳۸۸
(۳۲)خزانۃ المفتین میں ہے :
من قال بخلق القران فھو کافر سئل نجم الدین النسفی عن معلمۃ قالت تاقراں افریدہ شد است سیم پنچ شنبی استادنہادہ شدہ است ھل یقع فی نکاحھا شبھۃ قال نعم لانھا قالت بخلق القرآن ۔ جس نے خلق قرآن کا قول کیا تو وہ کافر ہے۔ امام نجم الدین نسفی سے ایك معلمہ کے بارے میں پوچھا گیا جس نے کہا جب قرآن پیدا کیا گیا تیسویں جمعرات استاد رکھا گیا اس معلمہ کے نکاح میں کوئی شبہ واقع ہوگا تو انھوں نے فرمایا : ہاں کیونکہ اس نے خلق قرآن کا قول کیا ہے۔ (ت)
ایہاالمسلمون! امام وہابیہ کے صرف ایك قول کے متعلق صحابہ وتابعین وائمہ مجتہدین وعلمائے دین رضوان الله تعالی علیہم اجمعین کے یہ بتیس فتوے ہیں جن کی رو سے اس پر کفر لازم عــــــہ اور اس کے بہت سے اقوال کہ اس کے مثل یا اس سے بھی شنیع ترہیں ان کا کہناہی کیا ہے ع
قیاس کن زگلستان اوبہارش را
(باغ پر اس کی بہار کو قیاس کرو۔ ت)
اللھم انا نسئلك الختام علی الایمان والسنۃ امین امین یاعظیم المنۃ۔ اے اللہ! ہم تجھ سے ایمان اور سنت پر خاتمہ مانگتے ہیں اے عظیم احسان فرمانے والے ! قبول فرما قبول فرما!(ت)
یہ چار تازیانےخاص ا س امر کے اظہار میں تھے کہ مولائے نجدیہ نے اس ایك قول میں کتنی کتنی بد مذہبیاں کیں معتزلیت کرامیت وغیرہما کس کس طرح کی ضلالتیں لیں کیسا کیسا عقائد اجماعیہ اہل سنت کو جٹھلایا الله عزوجل کی جناب میں گستاخی وبے ادبی کو کس نہایت تك پہنچایا جب بحمدالله تضلیل مستدل سے فراغت پائی
عــــــہ : لیحمدوا ان المحققین فرقوابین اللزوم و الالتزام ثم الایکفیہ مافی ھذا من خسار کامل وبوار تام والعیاذ باﷲ ذی الجلال والاکرام ۱۲منہ۔ محققین نے لزوم اور التزام کے درمیان فرق کیا ہے یہ غنیمت جانیں پھر کیا اسی میں کامل خسارہ اور مکمل ہلاکت کافی نہیں صاحب جلال واکرام ہی کی پناہ ہے ۲۲ منہ(ت)
من قال بخلق القران فھو کافر سئل نجم الدین النسفی عن معلمۃ قالت تاقراں افریدہ شد است سیم پنچ شنبی استادنہادہ شدہ است ھل یقع فی نکاحھا شبھۃ قال نعم لانھا قالت بخلق القرآن ۔ جس نے خلق قرآن کا قول کیا تو وہ کافر ہے۔ امام نجم الدین نسفی سے ایك معلمہ کے بارے میں پوچھا گیا جس نے کہا جب قرآن پیدا کیا گیا تیسویں جمعرات استاد رکھا گیا اس معلمہ کے نکاح میں کوئی شبہ واقع ہوگا تو انھوں نے فرمایا : ہاں کیونکہ اس نے خلق قرآن کا قول کیا ہے۔ (ت)
ایہاالمسلمون! امام وہابیہ کے صرف ایك قول کے متعلق صحابہ وتابعین وائمہ مجتہدین وعلمائے دین رضوان الله تعالی علیہم اجمعین کے یہ بتیس فتوے ہیں جن کی رو سے اس پر کفر لازم عــــــہ اور اس کے بہت سے اقوال کہ اس کے مثل یا اس سے بھی شنیع ترہیں ان کا کہناہی کیا ہے ع
قیاس کن زگلستان اوبہارش را
(باغ پر اس کی بہار کو قیاس کرو۔ ت)
اللھم انا نسئلك الختام علی الایمان والسنۃ امین امین یاعظیم المنۃ۔ اے اللہ! ہم تجھ سے ایمان اور سنت پر خاتمہ مانگتے ہیں اے عظیم احسان فرمانے والے ! قبول فرما قبول فرما!(ت)
یہ چار تازیانےخاص ا س امر کے اظہار میں تھے کہ مولائے نجدیہ نے اس ایك قول میں کتنی کتنی بد مذہبیاں کیں معتزلیت کرامیت وغیرہما کس کس طرح کی ضلالتیں لیں کیسا کیسا عقائد اجماعیہ اہل سنت کو جٹھلایا الله عزوجل کی جناب میں گستاخی وبے ادبی کو کس نہایت تك پہنچایا جب بحمدالله تضلیل مستدل سے فراغت پائی
عــــــہ : لیحمدوا ان المحققین فرقوابین اللزوم و الالتزام ثم الایکفیہ مافی ھذا من خسار کامل وبوار تام والعیاذ باﷲ ذی الجلال والاکرام ۱۲منہ۔ محققین نے لزوم اور التزام کے درمیان فرق کیا ہے یہ غنیمت جانیں پھر کیا اسی میں کامل خسارہ اور مکمل ہلاکت کافی نہیں صاحب جلال واکرام ہی کی پناہ ہے ۲۲ منہ(ت)
حوالہ / References
خزانۃ المفتین فصل فی الفاظ الکفر قلمی نسخہ ۱ / ۱۹۷
بتوفیق تعالی تذلیل دلیل کی طرف چلئے یعنی اس ہذیان دوم میں جو اس نے امکان کذب باری پرایك فریبی مغالطہ دیا اس کارد بلیغ سنئے ذرا اس کی تقریر مغالطہ پر پھرایك نظر ڈال لیجئے کہ تازہ ہوجائے حاصل اس کلام پریشان کا یہ تھا کہ عدم کذب باری تعالی کہ صفات کمال سے ہے جس سے اس کی مدح کی جاتی ہے در صفت عــــــہ۱ کمال وقابل مدح ہےکہ کذب پر قادر ہو کر اس سے بچے سرے سے قدرت ہی نہ ہوئی تو عدم کذب میں کیا خوبی ہے پتھر کی کوئی تعریف نہ کرے گا کہ جھوٹ نہیں بولتا۔ یوہیں جو کذب کا ارادہ کرے مگر کسی مانع کے سبب بول نہ سکے عقلا اس کی بھی مدح نہ کریں گے اب بتوفیق الله تعالی پہلے تقوض اجماع لیجئے پھر حل مغالطہ کا مژدہ دیجئے واﷲ الھادی وولی الایادی(الله تعالی ہی ہادی ہے اور مدد کا مالك ہے۔ ت)
تازیانہ ۵ : رب عزوجل فرماتاہے : “ و ما انا بظلم للعبید ﴿۲۹﴾ “ میں بندوں کے حق میں ستمگر نہیں۔ اور فرماتاہے :
“ و لایظلم ربک احدا ﴿۴۹﴾ “ تیرا رب کسی پر ظلم نہیں کرتا۔ اورفرماتاہے : “ ان اللہ لا یظلم مثقال ذرۃ “ بیشك الله تعالی
ایك ذرے برابر ظلم نہیں فرماتا۔
اقول : ان آیات میں مولی عزوجل نے عدم ظلم سے اپنی مدح فرمائی کیوں عــــــہ۲ ملاجی! بھلا جو ظلم پر
عــــــہ۱ : اقول : اس احمق کا سارا ہذیان دفع کرنے کو صرف اتنا جملہ کافی جو تنزیہ دوم میں زیر دلیل بست وچہارم گزرا کہ الله عزوجل پر ہر وہ شے بھی محال جو کمال سے خالی ہو اگرچہ نقص نہ رکھتی ہو ظاہرہے کہ نفی کمال سے مدح ہونے سے رہی مدح اس کی نفی سے ہوگی جو کمال نہیں اور جو کچھ نہیں وہ باری عزوجل کے لئے محال ایمان ٹھیك ہوتویہی دو حرف بس ہیں ۱۲ منہ
عــــــہ۲ : بحمدا لله یہ نقض نہ رفیع بدیع ملائے شفیع کی ساری تقریر فظیع کو سراپا حاوی جس سے اس کے ہذیانوں کا ایك حرف نہ بچ سکے اس تقریر پریشان کو پیش نظر رکھ لیجئے اور یوں کہہ چلئے ظلم الہی محال نہیں ورنہ لازم آئے کہ قدرت انسانی قدرت ربانی سے زائد ہو کہ ظلم وستم اکثر آدمیوں کی قدرت میں ہے ہاں ظلم خلاف حکمت ہے تو ممتنع بالغیر ہو اسی لئے عدم ظلم کو کمالات حضرت حق سبحانہ سے گنتے اور اس سے اس کی تعریف کرتے ہیں بخلاف شجر وحجر کہ انھیں کوئی عدم ظلم سے ستائش نہیں کرتا اور ظاہر ہے کہ صنعت کمال یہی ہے کہ ظلم پر قدرت تو ہو مگر بر عایت مصلحت ومقتضائے حکمت الائش ستمگاری سے بچنے کو ظلم نہ کرے ایساہی (باقی برصفحہ ایندہ)
تازیانہ ۵ : رب عزوجل فرماتاہے : “ و ما انا بظلم للعبید ﴿۲۹﴾ “ میں بندوں کے حق میں ستمگر نہیں۔ اور فرماتاہے :
“ و لایظلم ربک احدا ﴿۴۹﴾ “ تیرا رب کسی پر ظلم نہیں کرتا۔ اورفرماتاہے : “ ان اللہ لا یظلم مثقال ذرۃ “ بیشك الله تعالی
ایك ذرے برابر ظلم نہیں فرماتا۔
اقول : ان آیات میں مولی عزوجل نے عدم ظلم سے اپنی مدح فرمائی کیوں عــــــہ۲ ملاجی! بھلا جو ظلم پر
عــــــہ۱ : اقول : اس احمق کا سارا ہذیان دفع کرنے کو صرف اتنا جملہ کافی جو تنزیہ دوم میں زیر دلیل بست وچہارم گزرا کہ الله عزوجل پر ہر وہ شے بھی محال جو کمال سے خالی ہو اگرچہ نقص نہ رکھتی ہو ظاہرہے کہ نفی کمال سے مدح ہونے سے رہی مدح اس کی نفی سے ہوگی جو کمال نہیں اور جو کچھ نہیں وہ باری عزوجل کے لئے محال ایمان ٹھیك ہوتویہی دو حرف بس ہیں ۱۲ منہ
عــــــہ۲ : بحمدا لله یہ نقض نہ رفیع بدیع ملائے شفیع کی ساری تقریر فظیع کو سراپا حاوی جس سے اس کے ہذیانوں کا ایك حرف نہ بچ سکے اس تقریر پریشان کو پیش نظر رکھ لیجئے اور یوں کہہ چلئے ظلم الہی محال نہیں ورنہ لازم آئے کہ قدرت انسانی قدرت ربانی سے زائد ہو کہ ظلم وستم اکثر آدمیوں کی قدرت میں ہے ہاں ظلم خلاف حکمت ہے تو ممتنع بالغیر ہو اسی لئے عدم ظلم کو کمالات حضرت حق سبحانہ سے گنتے اور اس سے اس کی تعریف کرتے ہیں بخلاف شجر وحجر کہ انھیں کوئی عدم ظلم سے ستائش نہیں کرتا اور ظاہر ہے کہ صنعت کمال یہی ہے کہ ظلم پر قدرت تو ہو مگر بر عایت مصلحت ومقتضائے حکمت الائش ستمگاری سے بچنے کو ظلم نہ کرے ایساہی (باقی برصفحہ ایندہ)
قدرت ہی نہ رکھے اس کی بے ظلمی کی کیا تعریف یوں تو پتھر کی بھی ثنا کیجئے کہ ظلم نہیں کرتا اسی طرح جو صوبہ چاہے مگر حاکم بالا کاخوف مانع آئے اسکی بھی مدح نہ کریں گے۔ تو لاجرم باری عزوجل کو ظلم پر قادر رکھئے گا سبحان اﷲ! تم سے کیا دور جب کذب وغیرہ وآلائش پر قدرت مان چکے تو ظلم میں کیا ستم رکھاہے مگر اتنا سمجھ لیجئے کہ ظلم کہتے ہیں ملك غیرمیں تصرف بے جاکو جب باری سبحانہ و تعالی کو اس پر قادر مانئے گا توپہلے بعض اشیاء کو اس کی ملك سے خارج اور غیر کی ملك مستقل مان لیجئے مسلمانوں کو تو بزور زبان زور وبہتان مشرك کہتے ہو خود سچے پکے کافر بن جائے قال تعالی :
“ للہ ما فی السموت وما فی الارض “ الله ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں۔ وقال تعالی :
“ قل لمن ما فی السموت والارض قل للہ “ تو فرماؤ کس کا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے تو فرماؤ الله تعالی کاہے وقال تعالی “ ام لہم شرک فی السموت “ کیا ان کاساجھا ہے آسمانوں میں ولہذا اہل سنت وجماعت کا اجماع قطعی قائم کہ باری جل مجدہ سے ظلم ممکن ہی نہیں۔ شرح فقہ اکبر میں ہے :
لایوصف اﷲ تعالی بالقدرۃ علی الظلم لان المحال لایدخل تحت القدرۃ وعند باری تعالی کو ظلم پر قادر نہ کہا جائے گا کہ محال زیر قدرت نہیں آتا اور معتزلہ کے نزدیك قادر
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)شخص سلب عیب ظلم واتصاف کمال عدل سے ممدوح ہوگا بخلاف اس کے جس کے اعضاء وجوارح بیکار ہوگئے ہوں کہ ظلم کرہی نہیں سکتا یا قوت متفکرہ فاسد ہوگئی ہے کہ معنی ظلم سمجھنے اور اس کا قصد کرنے ہی سے عاجز ہے یا وہ شخص کہ جب عدل وانصاف کا حکم دے تو یہ حکم اس سے صادر ہوا ور جب ظلم کا حکم چاہے آواز بند ہوجائے یازبان نہ چلے یاکوئی منہ بند کرلے یا گلا دبادے یا ایك شخص کسی سے سیکھ کر حکم کرتاہے آپ حکم دینا جانتا ہی نہیں اور وہ بتانے والا اسے احکام عدل وانصاف ہی بتاتاہے اس وجہ سے ظلم صادر نہیں ہوتا یہ لوگ عقلاء کے نزدیك قابل مدح نہیں بالجملہ عیب ظلم سے ترفع اور اس کی آلائش سے تنزہ کے لئے ظلم نہ کرناہی صفت مدح ہے اور عجز ہو تو کچھ مدح نہیں یا ا سکی مدح پہلے کی مدح سے بہت کم ہے انتہی ملاحظہ کیجئے نقض اسے کہتے ہیں کہ نام کو لگی نہ رکھے واﷲ الموفق ۱۲ منہ سلمہ
“ للہ ما فی السموت وما فی الارض “ الله ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں۔ وقال تعالی :
“ قل لمن ما فی السموت والارض قل للہ “ تو فرماؤ کس کا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے تو فرماؤ الله تعالی کاہے وقال تعالی “ ام لہم شرک فی السموت “ کیا ان کاساجھا ہے آسمانوں میں ولہذا اہل سنت وجماعت کا اجماع قطعی قائم کہ باری جل مجدہ سے ظلم ممکن ہی نہیں۔ شرح فقہ اکبر میں ہے :
لایوصف اﷲ تعالی بالقدرۃ علی الظلم لان المحال لایدخل تحت القدرۃ وعند باری تعالی کو ظلم پر قادر نہ کہا جائے گا کہ محال زیر قدرت نہیں آتا اور معتزلہ کے نزدیك قادر
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)شخص سلب عیب ظلم واتصاف کمال عدل سے ممدوح ہوگا بخلاف اس کے جس کے اعضاء وجوارح بیکار ہوگئے ہوں کہ ظلم کرہی نہیں سکتا یا قوت متفکرہ فاسد ہوگئی ہے کہ معنی ظلم سمجھنے اور اس کا قصد کرنے ہی سے عاجز ہے یا وہ شخص کہ جب عدل وانصاف کا حکم دے تو یہ حکم اس سے صادر ہوا ور جب ظلم کا حکم چاہے آواز بند ہوجائے یازبان نہ چلے یاکوئی منہ بند کرلے یا گلا دبادے یا ایك شخص کسی سے سیکھ کر حکم کرتاہے آپ حکم دینا جانتا ہی نہیں اور وہ بتانے والا اسے احکام عدل وانصاف ہی بتاتاہے اس وجہ سے ظلم صادر نہیں ہوتا یہ لوگ عقلاء کے نزدیك قابل مدح نہیں بالجملہ عیب ظلم سے ترفع اور اس کی آلائش سے تنزہ کے لئے ظلم نہ کرناہی صفت مدح ہے اور عجز ہو تو کچھ مدح نہیں یا ا سکی مدح پہلے کی مدح سے بہت کم ہے انتہی ملاحظہ کیجئے نقض اسے کہتے ہیں کہ نام کو لگی نہ رکھے واﷲ الموفق ۱۲ منہ سلمہ
المعتزلۃ انہ یقدر ولایفعل ۔ ہے اور کرتانہیں۔
بیضاوی وعمادی وغیرہما تفاسیر میں ہے :
الظلم یستحیل صدورہ عنہ تعالی اھ ملخصا۔ الله تعالی سے ظلم صادر ہونا محال ہے۔
تفسیر روح البیان میں ہے : الظلم محال منہ تعالی الله تعالی سے ظلم محال ہے۔ تفسیر کبیر میں ہے :
الذی یدل علی ان الظلم محال من اﷲ تعالی ان الظلم عبارۃ عن التصرف فی ملك الغیر والحق سبحانہ لایتصرف الافی ملك نفسہ فیمتنع کونہ ظالما وایضا الظالم لایکون الھا والشیئ لایصح الااذ کانت لوازمہ صحیحۃ فلوصح منہ الظلم لکان زوال الھیتہ صحیحا وذلك محال اھ ملخصا۔ ظلم الہی محال ہونے کی دلیل یہ ہے کہ ظلم ملك غیر میں تصرف عــــــہ۱ سے ہوتاہے اور حق سبحانہ تعالی جو تصرف کرے یا اپنی ہی ملك میں کرتاہے تو اس کا ظلم ہونا محال اور نیز ظالم عــــــہ۲ خدا نہیں ہوتا اور شے جبھی ممکن ہوتی ہے کہ اس کے سب لوازم ذاتیہ ممکن ہوں تو اگر ظلم الہی ممکن ہو تو لازم ظلم یعنی زوال الوہیت بھی ممکن ہو یہ محال ہے اھ ملخصا۔
اسی میں زیر قولہ تعالی “ ونضع الموزین القسط لیوم القیمۃ “ الایۃ لکھتے ہیں :
الظالم سفیہ خارج عن الالھیۃ فلوصح ظالم بے وقوف ہے خدائی سے خارج تواگر خدا سے
عــــــہ۱ : لایخفی علی الفطن الفاھم فرق بین تعبیر الاصل وعبارۃ العبد المترجم ۱۲ منہ صاحب ذہن وفہم کے لئے اصل اور مترجم کی عبارت میں فرق واضح ہے ۱۲ منہ(ت)
عــــــہ۲ : یعنی ظلم والوہیت کا جمع ہونا ناممکن کہ ظلم عیب ہے اور الوہیت ہرعیب کو منافی تو صدور ظلم کو عدم الوہیت لازم ۱۲ منہ۔
بیضاوی وعمادی وغیرہما تفاسیر میں ہے :
الظلم یستحیل صدورہ عنہ تعالی اھ ملخصا۔ الله تعالی سے ظلم صادر ہونا محال ہے۔
تفسیر روح البیان میں ہے : الظلم محال منہ تعالی الله تعالی سے ظلم محال ہے۔ تفسیر کبیر میں ہے :
الذی یدل علی ان الظلم محال من اﷲ تعالی ان الظلم عبارۃ عن التصرف فی ملك الغیر والحق سبحانہ لایتصرف الافی ملك نفسہ فیمتنع کونہ ظالما وایضا الظالم لایکون الھا والشیئ لایصح الااذ کانت لوازمہ صحیحۃ فلوصح منہ الظلم لکان زوال الھیتہ صحیحا وذلك محال اھ ملخصا۔ ظلم الہی محال ہونے کی دلیل یہ ہے کہ ظلم ملك غیر میں تصرف عــــــہ۱ سے ہوتاہے اور حق سبحانہ تعالی جو تصرف کرے یا اپنی ہی ملك میں کرتاہے تو اس کا ظلم ہونا محال اور نیز ظالم عــــــہ۲ خدا نہیں ہوتا اور شے جبھی ممکن ہوتی ہے کہ اس کے سب لوازم ذاتیہ ممکن ہوں تو اگر ظلم الہی ممکن ہو تو لازم ظلم یعنی زوال الوہیت بھی ممکن ہو یہ محال ہے اھ ملخصا۔
اسی میں زیر قولہ تعالی “ ونضع الموزین القسط لیوم القیمۃ “ الایۃ لکھتے ہیں :
الظالم سفیہ خارج عن الالھیۃ فلوصح ظالم بے وقوف ہے خدائی سے خارج تواگر خدا سے
عــــــہ۱ : لایخفی علی الفطن الفاھم فرق بین تعبیر الاصل وعبارۃ العبد المترجم ۱۲ منہ صاحب ذہن وفہم کے لئے اصل اور مترجم کی عبارت میں فرق واضح ہے ۱۲ منہ(ت)
عــــــہ۲ : یعنی ظلم والوہیت کا جمع ہونا ناممکن کہ ظلم عیب ہے اور الوہیت ہرعیب کو منافی تو صدور ظلم کو عدم الوہیت لازم ۱۲ منہ۔
حوالہ / References
منح الروض الازھر شرح الفقہ الاکبر باب لایوصف الله تعالٰی بالقدرۃ علی الظلم مصطفی البابی مصر ص۱۳۸
انوار التنزیل(بیضاوی)آل عمران آیۃ وما اﷲ یرید ظلما اللعلمین(نصف اول)مصطفی البابی مصر ص۶۹
روح البیان تحت آیۃ وما انا بظلام للعبید المکتبۃ الاسلامیہ لصحاحبہا الریاض جزء ۲۶ ص۱۲۶
مفاتیح الغیب(تفسیر کبیر) آیۃ ان اﷲ لا یظلم مثقال ذرہ المطبعۃ البہیۃ المصریۃ مصر۱۰ / ۱۰۲
القرآن الکریم ۲۱ /۴۷
انوار التنزیل(بیضاوی)آل عمران آیۃ وما اﷲ یرید ظلما اللعلمین(نصف اول)مصطفی البابی مصر ص۶۹
روح البیان تحت آیۃ وما انا بظلام للعبید المکتبۃ الاسلامیہ لصحاحبہا الریاض جزء ۲۶ ص۱۲۶
مفاتیح الغیب(تفسیر کبیر) آیۃ ان اﷲ لا یظلم مثقال ذرہ المطبعۃ البہیۃ المصریۃ مصر۱۰ / ۱۰۲
القرآن الکریم ۲۱ /۴۷
منہ الظلم لصح خروج عن الالھیۃ ۔ ظلم ممکن ہو تو اس کا خدائی سے نکل جانا ممکن ہو
تفسیر کبیر کی وہی عبارت ہے جس کا ہم تازیانہ اول میں وعدہ کرآئے تھے ۔
تازیانہ۶ : قال ربنا تبارك وتعالی :
وقول “ الحمد للہ الذی لم یتخذ ولدا “ ۔ تو کہہ سب تعریفیں اس خدا کو جس نے اپنے لئے بیٹا نہ بنایا۔
وقال تعالی حاکیا عن الجن :
“ و انہ تعلی جد ربنا ما اتخذ صحبۃ و لا ولدا ﴿۳﴾ “ ۔ بے شك بڑی شان ہے ہمارے رب کی جس نے اپنے لئے نہ عورت اختیار کی نہ بچہ۔
اقول : ان آیات میں سبوح قدوس جل جلالہ نے یوں اپنی تعریف فرمائی اب بھلا میاں جی کہیں اپنی دلیل سے چوکتے ہیں ضرو کہیں گے کہ ان کا خدائے موہوم چاہے تو بیاہ کرے بچے جنائے مگر عیب ولوث سے بچنے کو فرد رہتاہے جب تو صفت مدح ٹھہری ورنہ سرے سے قدرت ہی نہ ہو تو خوبی ہی کیا ہے یحیی علیہ الصلوۃ والسلام کو فرمایاگیا : “ سیدا وحصورا “ سردار اورعورتوں سے پرہیز رکھنے والا احیز نامرد کی کون تعریف کرے گا کہ عورتوں سے بچتا ہے۔ “
تازیانہ ۷ : قال المولی سبحانہ وتعالی : “ وما کان ربک نسیا ﴿۶۴﴾ “ تیرا رب بھولنے ولا نہیں
اقول : اب دہلوی ملا اپنی ہذیانی دلیل کو آیہ کریمہ میں جاری کر دیکھئے “ رب تعالی ذکرہ نے عدم نسیان سے اپنی مدح فرمائی او رصفت کمال وقابل مدح یہی ہے کہ باجود امکان نسیان عیب ولوث سے بچنے کو اپنے علوم حاضر رکھے پتھر کی کوئی تعریف نہ کرے گا کہ یہ بات نہیں بھولتا حالانکہ عدم نسیان قطعا اسے بھی حاصل یوہیں اگر ایك شخص بالقصد کسی مسئلہ کو بھلا دینا چاہتاہے اور عمدا اپنے دل کو اس کی یاد سے پھیرتاہے مگر جب بھولنے پر آتاہے کوئی یاد لاتاہے یوں بھلانے پر قدرت نہیں پاتا عقلا ایسے شخص کو بھی عدم نسیان سے مدح نہ کریں گے تولاجرم
تفسیر کبیر کی وہی عبارت ہے جس کا ہم تازیانہ اول میں وعدہ کرآئے تھے ۔
تازیانہ۶ : قال ربنا تبارك وتعالی :
وقول “ الحمد للہ الذی لم یتخذ ولدا “ ۔ تو کہہ سب تعریفیں اس خدا کو جس نے اپنے لئے بیٹا نہ بنایا۔
وقال تعالی حاکیا عن الجن :
“ و انہ تعلی جد ربنا ما اتخذ صحبۃ و لا ولدا ﴿۳﴾ “ ۔ بے شك بڑی شان ہے ہمارے رب کی جس نے اپنے لئے نہ عورت اختیار کی نہ بچہ۔
اقول : ان آیات میں سبوح قدوس جل جلالہ نے یوں اپنی تعریف فرمائی اب بھلا میاں جی کہیں اپنی دلیل سے چوکتے ہیں ضرو کہیں گے کہ ان کا خدائے موہوم چاہے تو بیاہ کرے بچے جنائے مگر عیب ولوث سے بچنے کو فرد رہتاہے جب تو صفت مدح ٹھہری ورنہ سرے سے قدرت ہی نہ ہو تو خوبی ہی کیا ہے یحیی علیہ الصلوۃ والسلام کو فرمایاگیا : “ سیدا وحصورا “ سردار اورعورتوں سے پرہیز رکھنے والا احیز نامرد کی کون تعریف کرے گا کہ عورتوں سے بچتا ہے۔ “
تازیانہ ۷ : قال المولی سبحانہ وتعالی : “ وما کان ربک نسیا ﴿۶۴﴾ “ تیرا رب بھولنے ولا نہیں
اقول : اب دہلوی ملا اپنی ہذیانی دلیل کو آیہ کریمہ میں جاری کر دیکھئے “ رب تعالی ذکرہ نے عدم نسیان سے اپنی مدح فرمائی او رصفت کمال وقابل مدح یہی ہے کہ باجود امکان نسیان عیب ولوث سے بچنے کو اپنے علوم حاضر رکھے پتھر کی کوئی تعریف نہ کرے گا کہ یہ بات نہیں بھولتا حالانکہ عدم نسیان قطعا اسے بھی حاصل یوہیں اگر ایك شخص بالقصد کسی مسئلہ کو بھلا دینا چاہتاہے اور عمدا اپنے دل کو اس کی یاد سے پھیرتاہے مگر جب بھولنے پر آتاہے کوئی یاد لاتاہے یوں بھلانے پر قدرت نہیں پاتا عقلا ایسے شخص کو بھی عدم نسیان سے مدح نہ کریں گے تولاجرم
حوالہ / References
المفاتیح الغیب(التفسیر الکبیر) آیہ نضع الموازین القسط یوم القیٰمۃ المطبعۃ البہیۃ المصریۃ مصر ۳۱ / ۱۷۷
القرآن الکریم ۱۷ /۱۱۱
القرآن الکریم ۷۲ /۳
القرآن الکریم ۳ /۳۹
القرآن الکریم ۱۹ /۶۴
القرآن الکریم ۱۷ /۱۱۱
القرآن الکریم ۷۲ /۳
القرآن الکریم ۳ /۳۹
القرآن الکریم ۱۹ /۶۴
واجب کہ باری سبحانہ کا نسیان ممکن ہو اور وہ اپنے علوم بھلادینے پر قادر “ تعالی اﷲ عن ذلك علوا کبیرا(الله تعالی اس سے بہت بلند ہے۔ ت)
تازیانہ ۸ : آیہ کریمہ “ لایضل ربی و لاینسی ﴿۫۵۲﴾ “ میرا رب نہ بہکے نہ بھولے اقول : موسی کلیم علی سیدہ وعلیہ الصلوۃ والتسلیم نے عدم ضلال سے اپنے رب کی ثنا کی “ اگر دہلوی میانجی کی دلیل سچی ہو تو لازم کہ باری عزوجل کا بہکنا ممکن ہو کہ مدح اسی میں ہے کہ باوصف امکان عیب ولوث سے بچنے کو ضلال میں نہ پڑے اگر ضلالت پر قدرت ہی نہ پائی تو مجبوری کی بات میں تعریف کا ہے کی پتھر کو کوئی نہ کہے گاکہ یہ راہ نہیں بھولتا یا جب پھینکتے ہیں توسیدھا زمین ہی پر آتا ہے کبھی بہك کر آسمان کو نہیں چلا جاتا اسی طرح جب کوئی شخص بہکنے کو ہو تو راہ بتادی جائے یوں بہکنے نہ پائے اس میں بھی کوئی تعریف نہیں “ یہ چار تازیانے نقض کے لئے بس ہیں اور جو شخص طرز تصویر سمجھ گیا اس پر راہ اور نقوض کثیرہ کا استخراج عــــــہ آسان۔
مگر انصاف یہ ہے کہ جو گستاخ دہن دریدہ حیا پریدہ اپنے رب کے لئے دنیا بھر کے عیب وآلائش رواکرچکا اس سے ان استحالوں کا ذکر بے حاصل کہ وہ سہو وضلالت وجماع ولادت سب کچھ گوارا کرلے گا
تیر برجاہ انبیا انداز طعن درحضرت الہی کن
بے ادب زی وآنچہ دانی گوئے بیحیا باش دہرچہ خواہی کن
(اننبیا علیہم السلام کے رتبہ پر تیر برسا بارگاہ الہی میں طعن کر بے ادب ہوجا پھر جو چاہے کہہ بیحیا ہوجا پھر جو چاہے کر۔ ت)
تازیانہ ۹ : اقول : ع
عیب مے جملہ بگفتی ہنرش نیز بگوئے
(اس کے تمام عیوب بیان کئے اب اسکے ہنر بھی بیان کر۔ ت)
عــــــہ : مثلا قال الله تعالی : “ وما اللہ بغفل عما تعملون﴿۸۵﴾ “ الله غافل نہیں تمھارے کاموں سے تو ملاجی کے مسلك پر لازم کہ اس کی غفلت ممکن ہو وقال الله تعالی :
“ اولم یروا ان اللہ الذی خلق السموت و الارض ولم یعی بخلقہن “ الایۃ۔ کیا انھوں نے نہ دیکھا کہ وہ الله جس نے آسمان اور زمین بنائے اور نہ تھکا ان کے بنانے سے
اب ملا جیل کہیں گےکہ خدا کا تھکنا بھی ممکن وعلی ھذا القیاس۱۲منہ۔
تازیانہ ۸ : آیہ کریمہ “ لایضل ربی و لاینسی ﴿۫۵۲﴾ “ میرا رب نہ بہکے نہ بھولے اقول : موسی کلیم علی سیدہ وعلیہ الصلوۃ والتسلیم نے عدم ضلال سے اپنے رب کی ثنا کی “ اگر دہلوی میانجی کی دلیل سچی ہو تو لازم کہ باری عزوجل کا بہکنا ممکن ہو کہ مدح اسی میں ہے کہ باوصف امکان عیب ولوث سے بچنے کو ضلال میں نہ پڑے اگر ضلالت پر قدرت ہی نہ پائی تو مجبوری کی بات میں تعریف کا ہے کی پتھر کو کوئی نہ کہے گاکہ یہ راہ نہیں بھولتا یا جب پھینکتے ہیں توسیدھا زمین ہی پر آتا ہے کبھی بہك کر آسمان کو نہیں چلا جاتا اسی طرح جب کوئی شخص بہکنے کو ہو تو راہ بتادی جائے یوں بہکنے نہ پائے اس میں بھی کوئی تعریف نہیں “ یہ چار تازیانے نقض کے لئے بس ہیں اور جو شخص طرز تصویر سمجھ گیا اس پر راہ اور نقوض کثیرہ کا استخراج عــــــہ آسان۔
مگر انصاف یہ ہے کہ جو گستاخ دہن دریدہ حیا پریدہ اپنے رب کے لئے دنیا بھر کے عیب وآلائش رواکرچکا اس سے ان استحالوں کا ذکر بے حاصل کہ وہ سہو وضلالت وجماع ولادت سب کچھ گوارا کرلے گا
تیر برجاہ انبیا انداز طعن درحضرت الہی کن
بے ادب زی وآنچہ دانی گوئے بیحیا باش دہرچہ خواہی کن
(اننبیا علیہم السلام کے رتبہ پر تیر برسا بارگاہ الہی میں طعن کر بے ادب ہوجا پھر جو چاہے کہہ بیحیا ہوجا پھر جو چاہے کر۔ ت)
تازیانہ ۹ : اقول : ع
عیب مے جملہ بگفتی ہنرش نیز بگوئے
(اس کے تمام عیوب بیان کئے اب اسکے ہنر بھی بیان کر۔ ت)
عــــــہ : مثلا قال الله تعالی : “ وما اللہ بغفل عما تعملون﴿۸۵﴾ “ الله غافل نہیں تمھارے کاموں سے تو ملاجی کے مسلك پر لازم کہ اس کی غفلت ممکن ہو وقال الله تعالی :
“ اولم یروا ان اللہ الذی خلق السموت و الارض ولم یعی بخلقہن “ الایۃ۔ کیا انھوں نے نہ دیکھا کہ وہ الله جس نے آسمان اور زمین بنائے اور نہ تھکا ان کے بنانے سے
اب ملا جیل کہیں گےکہ خدا کا تھکنا بھی ممکن وعلی ھذا القیاس۱۲منہ۔
حوالہ / References
القرآن الکریم ۲۰ /۵۲
القرآن الکریم ۲ /۸۵ و ۱۴۰ و ۱۴۹ و ۳ / ۹۹
القرآن الکریم ۴۶ /۳۳
القرآن الکریم ۲ /۸۵ و ۱۴۰ و ۱۴۹ و ۳ / ۹۹
القرآن الکریم ۴۶ /۳۳
جامعیت اوصاف عجب چیز ہے اور مجموعہ کا فضل آحاد پرظاہر دہلوی ملا کو بھی الله عزوجل نے جامعیت اصناف بدعت عطا فرمائی تھی دنیا بھر میں کم کوئی طائفہ ارباب ضلالت نکلے گا جس سے ان حضرت نے کچھ تعلیم نہ لی ہو پھر ایجاد بندہ اس پر علاوہ تو اس نئے فتنہ کو چاہے عطر فتنہ کہئے یا ضلالت کی گھانیوں کا عطر مجموعہ اب یہ نفیس دلیل جو حضرت نے امکان کذب باری عزوجل پر قائم کی حاشا ان کی اپنی تراشی نہیں کہ وہ دین میں نئی بات نکالنے کو بہت برا جانتے تھے بلکہ اپنے اساتذہ کا ملہ حضرات معتزلہ خذلہم الله تعالی سے سیکھ کر لکھی ہے ان خبیثوں نے بعینہ حرف بحرف اس دلیل سے مولی تعالی کا امکان ظلم نکالا تھا اور جو نقص فقیر نے ان حضرت پر کئے بعینہ ایسے ہی نقصوں سے ائمہ اہل سنت نے ان باپاکوں کا رد فرمایا امام فخر الدین رازی تفسیر کبیر میں زیر قولہ عزوجل ان اﷲ لایظلم مثقال ذرہ فرماتے ہیں :
قالت المعتزلہ الایۃ تدل علی انہ قادر علی الظلم لانہ تمدح بترکہ ومن تمدح بترك فعل قبیح لم یصح منہ ذلك التمدح الااذاکان ھو قادرا علیہ الاتری ان الزمن لایصح منہ ان یتمدح بانہ لایذھب فی اللیالی الی السرقۃ والجواب انہ تعالی تمدح بانہ لاتاخذہ سنۃ ولانوم ولم یلزم ان یصح ذلك علیہ وتمدح بانہ لاتدرکہ الابصار ولم یدل ذلك عند المعتزلۃ عــــــہ علی انہ یصح ان تدرکہ الابصار ۔ یعنی معتزلہ نے کہا آیت مذکورہ دلالت فرماتی ہے کہ الله تعالی ظلم پر قادر ہے اس لئے کہ رب عزوجل نے اس میں ترك ظلم سے اپنی مدح فرمائی ور کسی فعل قبیح کے ترك پر مدح جب ہی صحیح ہوگی کہ اسے اس کے کرنے پر قدرت ہو آخر نہ دیکھا کہ لنجھا اپنی تعریف نہیں کرسکتا کہ میں راتوں کو چوری کے لئے نہیں جاتا ا سکا جواب یہ ہے کہ الله تعالی نے اپنی مدح میں فرمایا کہ اسےنیند آئے نہ غنودگی حالانکہ معتزلہ کے ہاں بھی الله تعالی کے لئے یہ ممکن نہیں۔ اور اپنی مدح میں یہ بھی فرمایا کہ ابصار اس کا احاطہ نہ کرسکیں حالانکہ یہ بھی ان کے ہاں ممکن نہیں(ت)
مسلمان دیکھیں کہ معتزلہ ذلیل کی یہ بیہودہ دلیل بعینہ وہی ہذیان ملائے ضلیل ہے یا نہیں۔ فرق یہ ہے کہ انھوں نے اس قدیم العدل پر تہمت ظلم رکھی انھوں نے اس واجب الصدق پر افترائے کذب اٹھایا
عــــــہ : اقول : بل وعندنا ایضا اذاکان الادراك بمعنی الاحاطۃ ۱۲منہ میں کہتاہوں بلکہ ہمارے نزدیك بھی جب ادارك بمعنی احاطہ ہو ۱۲ منہ(ت)
قالت المعتزلہ الایۃ تدل علی انہ قادر علی الظلم لانہ تمدح بترکہ ومن تمدح بترك فعل قبیح لم یصح منہ ذلك التمدح الااذاکان ھو قادرا علیہ الاتری ان الزمن لایصح منہ ان یتمدح بانہ لایذھب فی اللیالی الی السرقۃ والجواب انہ تعالی تمدح بانہ لاتاخذہ سنۃ ولانوم ولم یلزم ان یصح ذلك علیہ وتمدح بانہ لاتدرکہ الابصار ولم یدل ذلك عند المعتزلۃ عــــــہ علی انہ یصح ان تدرکہ الابصار ۔ یعنی معتزلہ نے کہا آیت مذکورہ دلالت فرماتی ہے کہ الله تعالی ظلم پر قادر ہے اس لئے کہ رب عزوجل نے اس میں ترك ظلم سے اپنی مدح فرمائی ور کسی فعل قبیح کے ترك پر مدح جب ہی صحیح ہوگی کہ اسے اس کے کرنے پر قدرت ہو آخر نہ دیکھا کہ لنجھا اپنی تعریف نہیں کرسکتا کہ میں راتوں کو چوری کے لئے نہیں جاتا ا سکا جواب یہ ہے کہ الله تعالی نے اپنی مدح میں فرمایا کہ اسےنیند آئے نہ غنودگی حالانکہ معتزلہ کے ہاں بھی الله تعالی کے لئے یہ ممکن نہیں۔ اور اپنی مدح میں یہ بھی فرمایا کہ ابصار اس کا احاطہ نہ کرسکیں حالانکہ یہ بھی ان کے ہاں ممکن نہیں(ت)
مسلمان دیکھیں کہ معتزلہ ذلیل کی یہ بیہودہ دلیل بعینہ وہی ہذیان ملائے ضلیل ہے یا نہیں۔ فرق یہ ہے کہ انھوں نے اس قدیم العدل پر تہمت ظلم رکھی انھوں نے اس واجب الصدق پر افترائے کذب اٹھایا
عــــــہ : اقول : بل وعندنا ایضا اذاکان الادراك بمعنی الاحاطۃ ۱۲منہ میں کہتاہوں بلکہ ہمارے نزدیك بھی جب ادارك بمعنی احاطہ ہو ۱۲ منہ(ت)
حوالہ / References
مفاتیح الغیب(التفسیر کبیر) آیۃ ان الله لایظلم مثقال ذرۃ الخ المطبعۃا لبہیۃ المصریہ مصر ۵ / ۱۰۲
انھوں نے برتقدیر تنزہ اپنے رب کو لنجھے سے تشبیہ دی انھوں نے گونگے اور پتھر سے ملادیا وفی ذلك اقول : (اسی میں میں نے کہا۔ ت)
ھم امنوا ظلما ملیکھم ذاقائل کذبا بکذب عــــــہ الہہ
لاغر وفیہ اذالقلوب تشابہت فالشبہ نزاع الی اشباھہ
(وہ ظالم اپنے مالك کے بارے میں ظلم پر ایمان رکھتے ہیں اور یہ اپنے الہ لوکذاب کہتے ہیں اس میں کوئی شك نہیں کہ ان کے دل ایك جیسے ہیں اور وجہ شبہ اپنے مشابہات کی طرف کھینچنے والا ہوتاہے۔ ت)
اب ائمہ اہل سنت کا جواب سنئے امام ممدوح فرماتے ہیں اس دلیل سے جواب یہ ہے کہ الله تعالی نے اپنی تعریف فرمائی کہ اسے غنودگی وخواب نہیں آتی اس سے یہ لازم نہ آیاکہ معاذالله یہ چیزیں اس کے لئے ممکن بھی ہوں اور اس نے اپنی تعریف فرمائی کہ نگاہیں اسے نہیں پاتیں اس سے معتزلہ کے نزدیك اس پر نظر پہنچنے کا امکان نہ نکلا انتہی کیوں ہم نہ کہتے تھے ع
آنچہ خوباں ہمہ دارند تو تنہاداری
(تمام جواصاف رکھتے ہیں تو تنہا ان سے جامع ہے۔ ت)
تازیانہ ۱۰ : ھو الحل اقول وباﷲ التوفیق
صفات مدائح کے درجات متافاوت ہیں بعض مدائح اولی ہوتے ہیں یعنی اعلی درجہ کمال اور بعض تنزلی یعنی فائت الکمال کے مبلغ کمال پھر یہ اسی کے حق میں مدح ہوں گے جو مدائح اولی نہیں رکھتا صاحب کمال تام کا اس پر قیاس جہل و وسواس مثلا عبادت وتذلل وخشوع وخضوع وانکسار وتواضع انسان کے مدائح جلیلہ سے ہیں اور باری جل شانہ پر محال کہ ان کا مدح ہونا فوت کمال حقیقی یعنی معبودیت پر مبنی تھا معبود عالم عزجلالہ کے حق عیب و منقصت ہیں بلکہ اس کےلئے مدح تعالی وتکبر ہے جل وعلا سبحانہ وتعالی یوہیں ترك نقائص ومعائب میں مخلوق کی مدح بالقصد بازر ہنے پر مبتنی ہونابھی اسکے نقصان ذاتی پر مبنی کہ وہ اپنی ذات میں سبوح وقدوس و واجب الکمال ومستحیل النقصان نہیں بلکہ جائز العیوب والقبوح ہے اور بنظر نفس ذات کے عیوب و نقائص سے
عــــــہ : قدمر ان القول بالامکان قول بالوقوع بل بالوجوب ۱۲ منہ گزرچکا ہے کہ امکان کذب کا قول کذب کے وقوع بلکہ اس کے وجوب کو مستلزم ہے ۱۲ منہ(ت)
ھم امنوا ظلما ملیکھم ذاقائل کذبا بکذب عــــــہ الہہ
لاغر وفیہ اذالقلوب تشابہت فالشبہ نزاع الی اشباھہ
(وہ ظالم اپنے مالك کے بارے میں ظلم پر ایمان رکھتے ہیں اور یہ اپنے الہ لوکذاب کہتے ہیں اس میں کوئی شك نہیں کہ ان کے دل ایك جیسے ہیں اور وجہ شبہ اپنے مشابہات کی طرف کھینچنے والا ہوتاہے۔ ت)
اب ائمہ اہل سنت کا جواب سنئے امام ممدوح فرماتے ہیں اس دلیل سے جواب یہ ہے کہ الله تعالی نے اپنی تعریف فرمائی کہ اسے غنودگی وخواب نہیں آتی اس سے یہ لازم نہ آیاکہ معاذالله یہ چیزیں اس کے لئے ممکن بھی ہوں اور اس نے اپنی تعریف فرمائی کہ نگاہیں اسے نہیں پاتیں اس سے معتزلہ کے نزدیك اس پر نظر پہنچنے کا امکان نہ نکلا انتہی کیوں ہم نہ کہتے تھے ع
آنچہ خوباں ہمہ دارند تو تنہاداری
(تمام جواصاف رکھتے ہیں تو تنہا ان سے جامع ہے۔ ت)
تازیانہ ۱۰ : ھو الحل اقول وباﷲ التوفیق
صفات مدائح کے درجات متافاوت ہیں بعض مدائح اولی ہوتے ہیں یعنی اعلی درجہ کمال اور بعض تنزلی یعنی فائت الکمال کے مبلغ کمال پھر یہ اسی کے حق میں مدح ہوں گے جو مدائح اولی نہیں رکھتا صاحب کمال تام کا اس پر قیاس جہل و وسواس مثلا عبادت وتذلل وخشوع وخضوع وانکسار وتواضع انسان کے مدائح جلیلہ سے ہیں اور باری جل شانہ پر محال کہ ان کا مدح ہونا فوت کمال حقیقی یعنی معبودیت پر مبنی تھا معبود عالم عزجلالہ کے حق عیب و منقصت ہیں بلکہ اس کےلئے مدح تعالی وتکبر ہے جل وعلا سبحانہ وتعالی یوہیں ترك نقائص ومعائب میں مخلوق کی مدح بالقصد بازر ہنے پر مبتنی ہونابھی اسکے نقصان ذاتی پر مبنی کہ وہ اپنی ذات میں سبوح وقدوس و واجب الکمال ومستحیل النقصان نہیں بلکہ جائز العیوب والقبوح ہے اور بنظر نفس ذات کے عیوب و نقائص سے
عــــــہ : قدمر ان القول بالامکان قول بالوقوع بل بالوجوب ۱۲ منہ گزرچکا ہے کہ امکان کذب کا قول کذب کے وقوع بلکہ اس کے وجوب کو مستلزم ہے ۱۲ منہ(ت)
حوالہ / References
الدیوان العربی الموسوم بساتین فی الرد علی القائل بامکان کذب الله تعالٰی دارالاشاعت لاہور ، مجمع بحوث الامام احمد رضاکراچی ص ۲۰۴
منافات نہیں رکھتا تو غایت مدح اس کے لئے یہ ہے کہ جہاں تك بنے اس ممکن سے بچے اور تلوث سے بھاگے ولہذا جہاں بوجہ فقدان اسباب وآلات بعض معائب وفواحش کی استطاعت نہ رہے وہاں مدح بھی نہ ہوگی جیسے نامرد لنجھے اپاہج گونگے کا زناکرنا چوری کو نہ جانا جھوٹ بولنا کہ مناط مدح کے دور بھاگنا اورت اپنے نفس کا باز رکھتاتھا یہاں مفقود اور جب امکان ہے تو کیا معلوم کہ عصمت بی بی از بیچاری نہیں شاید اسباب سالم ہوتے تو مرتکب ہوتا سفیہ جاہل نے اپنے رب جل وعلا کو بھی انھیں گونگوں لنجھوں بلکہ اینٹوں پتھروں پر قیا س کیا اور جب تك عیب ونقصان سے متصف نہ ہوسکے عدم عیب کو مدح نہ سمجھاحالانکہ یہ مدح اول وکمال حقیقی تھا کہ وہ اپنے نفس ذات میں متعالی و قدوس وسبوح وواجب الکمالات و مستحیل القبوح ہے تعالی وتقدس تو یہاں عیب ممکن سے باز رہنے اور بطور ترفع بالقصد بچنے کی صورت ہی متصور نہیں نہ حاش لله یہ اس کے حق میں مدح بلکہ کمال مذمت وقدح ہے واﷲ العزۃ جمیعا(تمام عزت الله تعالی کے لئے ہے۔ ت)ولاحول ولاقوۃ الا باﷲ العلی العظیم۔
تنبیہ نفیس : ایھا المسلمون! ایك عام فہم بات عرض کروں سفیہ جاہل کا سارا مبلغ یہ ہے کہ کذب پر قدرت پاکر ہی اس سے بچنا صفت کمال ہے نہ کہ کذب ممکن ہی نہ ہو ا اقول : جب کذب ممکن ہوا تو صدق ضروری نہ رہا اورجو ضرورری نہیں وہ ممکن الزوال تو حاصل یہ ہواکہ کمال وہی ہے جسے زوال ہوسکے اور جو ایسا کمال ہو جس کا زوال محال تو کمال ہی کیا ہے سبحان اللہ! یہ بھی ایك ہی ہوئی او احمق! کمال حقیقی وہی ہے جس کا زوال امکان ہی نہ رکھے ہر کمال قابل زوال عارضی کمال ہے نہ ذاتی کمال مسلمانو! لله انصاف! باری عزوجل کا مصدق یو ں ماننا کہ ہے تو سچا مگر جھوٹا بھی ہوسکتا ہے یہ کمال ہوا یا یوں کہ وہ سبوح قدوس تبارك وتعالی ایسا سچا ہے جس کا جھوٹا ہونا قطعا محال اہل اسلام ان دونوں باتوں کو میزان ایمان میں تول کردیکھیں کہ کون گستاخ بے ادب اپنے رب کی تنزیہیہ کو بدعت وضلالت جاننے والا بحیلہ مدح اس کی مذمت وتنقیص پراترتا ہے اور کون سچا مسلمان صحیح الایمان اپنے مولی کی تقدیس کو اصل دین ماننے والا ا س کے صدق ونزاہت وجملہ کمالات کوعلی وجہ الکمال ثابت کرتاہے والحمد اﷲ رب العالمین وقیل بعدا للقوم الظلمین۔
لله الحمد اس عشرہ کاملہ نے ہذیان ناپاك گستاخ بیباك کی دھجیاں اڑادیں مگرہنوز ان کی نزاکتوں کو تو بس نہیں ع
صدہا سال می تواں سخن از زلف یارگفت
(زلف محبوب کے بارے میں سو سال بھی گفتگو کی جاسکتی ہے۔ ت)
تنبیہ نفیس : ایھا المسلمون! ایك عام فہم بات عرض کروں سفیہ جاہل کا سارا مبلغ یہ ہے کہ کذب پر قدرت پاکر ہی اس سے بچنا صفت کمال ہے نہ کہ کذب ممکن ہی نہ ہو ا اقول : جب کذب ممکن ہوا تو صدق ضروری نہ رہا اورجو ضرورری نہیں وہ ممکن الزوال تو حاصل یہ ہواکہ کمال وہی ہے جسے زوال ہوسکے اور جو ایسا کمال ہو جس کا زوال محال تو کمال ہی کیا ہے سبحان اللہ! یہ بھی ایك ہی ہوئی او احمق! کمال حقیقی وہی ہے جس کا زوال امکان ہی نہ رکھے ہر کمال قابل زوال عارضی کمال ہے نہ ذاتی کمال مسلمانو! لله انصاف! باری عزوجل کا مصدق یو ں ماننا کہ ہے تو سچا مگر جھوٹا بھی ہوسکتا ہے یہ کمال ہوا یا یوں کہ وہ سبوح قدوس تبارك وتعالی ایسا سچا ہے جس کا جھوٹا ہونا قطعا محال اہل اسلام ان دونوں باتوں کو میزان ایمان میں تول کردیکھیں کہ کون گستاخ بے ادب اپنے رب کی تنزیہیہ کو بدعت وضلالت جاننے والا بحیلہ مدح اس کی مذمت وتنقیص پراترتا ہے اور کون سچا مسلمان صحیح الایمان اپنے مولی کی تقدیس کو اصل دین ماننے والا ا س کے صدق ونزاہت وجملہ کمالات کوعلی وجہ الکمال ثابت کرتاہے والحمد اﷲ رب العالمین وقیل بعدا للقوم الظلمین۔
لله الحمد اس عشرہ کاملہ نے ہذیان ناپاك گستاخ بیباك کی دھجیاں اڑادیں مگرہنوز ان کی نزاکتوں کو تو بس نہیں ع
صدہا سال می تواں سخن از زلف یارگفت
(زلف محبوب کے بارے میں سو سال بھی گفتگو کی جاسکتی ہے۔ ت)
ابھی حضرت کی اس چار سطری چار دیواری میں شواہد وزوائد وغیرہا مفاسد سے بہت ابکار افکار ستم کیش عیار آہوان مردم شکارکی چھلبل نظر آتی ہے جنھیں بے خدمت کامل تسکین بالغ ناشاد نامراد سسکتا بلکتا چھوڑ جانا خلاف مروت وفتوت ذاتی ہے لہذا اپنے سمند ر ہوار غضنفر خونخوار صاعقہ برق بار کی دوبارہ عنان لیتا اور خامہ پختہ کار شہزور شہسوار شیر گیر ضیغم شکار کو از سر نورخصت جولان دیتاہوں وباﷲ التوفیق۔
تازیانہ ۱۱ : قولہ عدم کذب رااز کمالات حضرت حق سبحانہ می شمارند (عدم کذب کو الله تعالی سبحانہ وتعالی کے کمالات سے شمار کرتے ہیں۔ ت)
اقول : اس ہوشیار عیار کی چالاکی دیدنی صدق کو چھوڑا عدم کذب پر مباحثہ چھیڑا تاکہ جماد وغیرہ کی نظریں جما سکے ظاہر ہے کہ پتھرکو سچا نہیں کہہ سکتے مگریہ بھی ٹھیك ہے کہ جھوٹا نہیں حالانکہ قلب حاضر اور عقل ناظر ہوتو فقیر ایك نکتہ بدیعہ القاء کرے سلب کیس شی کا بنفسہ ہر گز صفت کمال نہیں ورنہ لازم آئے کہ معدومات کروڑوں اوصاف کمال سے موصوف اور اعلی درجہ مدح کے مستحق بلکہ باری تعالی کی تنزیہ وتقدیس میں اس کے شریك ہوں کہ بحالت عدم موضوع سب سالبے سچ ہیں جو سرے سے موجود ہی نہیں وہ جسم بھی نہیں جہت میں بھی نہیں زمان میں بھی نہیں مکان میں بھی نہیں۔ مصور بھی نہیں۔ محدود بھی نہیں۔ مرکب بھی نہیں متجزی بھی نہیں حادث بھی نہیں متناہی بھی نہیں۔ کاذب بھی نہیں۔ ظالم بھی نہیں مخلوق بھی نہیں فانی بھی نہیں ذی زوجہ بھی نہیں ذی ولد بھی نہیں اسے خواب بھی نہیں اونگھ بھی نہیں بلکنا بھی نہیں بھول بھی نہیں۔ بیس یہ اوران جیسے صدہا اور سب صادق ہیں مگر کوئی مجنون معرض مدح وبیان کمال میں آتاہے جب کسی صفت کمال کے ثبوت پر مبنی اور صفت مدح سے منبئی ہو ولہذا قضایائے مذکورہ باری عزوجل کے مدائح سے ہیں کہ ان چیزوں کا سلب اعظم صفات کمال یعنی وجوب کے ثبوت سے ناشی اوران کے بیان سے اس کا سبوح وغنی وقدوس ومتعالی ہونا ظاہر باری عزوجل کو کہنا کہ متجزی نہیں بیشك مدح ہے کہ اس سے اس کا غنا سمجھا گیا اور نکتہ کو کہنے میں کچھ تعریف نہیں کہ اس کے لئے خوبی نہ نکلی کہ وہاں غناد رکنار متجزی محتاج کے محتاج المحتاج کی محتاجی ہے وعلی ہذالقیاس جب یہ امر ممہدہولیا توظاہر ہوگیا کہ حقیقۃ صدق صفت کمال ہے نہ مجرد عدم کذب جو معدومات بلکہ محالات کے بارے میں بھی صادق البتہ سلب کذب وہاں مفید مدح جہاں اس کا سلب ثبوت صدق کو مستلزم مثلا زید عاقل ناطق کی تعریف کیجئے کہ جھوٹا نہیں۔ بیشك تعریف ہوئی کہ جھوٹانہیں تو آپ ہی سچا ہوگا اور سچا ہونا صفت کمال تو اس سلب نے ایك صفت کمال کا ثبوت بتایا لہذا محل مدح میں آیا جہاں ایسا نہ ہو وہاں زنہار مفید مدح مظہر کمال ی نکتہ بدیعہ ملحوظ رکھئے پھر دیکھئے کہ عیار بہادر کی دی ہوئی نظیریں کیا کیا کئے کو پہنچتی ہیں۔ والله الموفق۔
تازیانہ ۱۱ : قولہ عدم کذب رااز کمالات حضرت حق سبحانہ می شمارند (عدم کذب کو الله تعالی سبحانہ وتعالی کے کمالات سے شمار کرتے ہیں۔ ت)
اقول : اس ہوشیار عیار کی چالاکی دیدنی صدق کو چھوڑا عدم کذب پر مباحثہ چھیڑا تاکہ جماد وغیرہ کی نظریں جما سکے ظاہر ہے کہ پتھرکو سچا نہیں کہہ سکتے مگریہ بھی ٹھیك ہے کہ جھوٹا نہیں حالانکہ قلب حاضر اور عقل ناظر ہوتو فقیر ایك نکتہ بدیعہ القاء کرے سلب کیس شی کا بنفسہ ہر گز صفت کمال نہیں ورنہ لازم آئے کہ معدومات کروڑوں اوصاف کمال سے موصوف اور اعلی درجہ مدح کے مستحق بلکہ باری تعالی کی تنزیہ وتقدیس میں اس کے شریك ہوں کہ بحالت عدم موضوع سب سالبے سچ ہیں جو سرے سے موجود ہی نہیں وہ جسم بھی نہیں جہت میں بھی نہیں زمان میں بھی نہیں مکان میں بھی نہیں۔ مصور بھی نہیں۔ محدود بھی نہیں۔ مرکب بھی نہیں متجزی بھی نہیں حادث بھی نہیں متناہی بھی نہیں۔ کاذب بھی نہیں۔ ظالم بھی نہیں مخلوق بھی نہیں فانی بھی نہیں ذی زوجہ بھی نہیں ذی ولد بھی نہیں اسے خواب بھی نہیں اونگھ بھی نہیں بلکنا بھی نہیں بھول بھی نہیں۔ بیس یہ اوران جیسے صدہا اور سب صادق ہیں مگر کوئی مجنون معرض مدح وبیان کمال میں آتاہے جب کسی صفت کمال کے ثبوت پر مبنی اور صفت مدح سے منبئی ہو ولہذا قضایائے مذکورہ باری عزوجل کے مدائح سے ہیں کہ ان چیزوں کا سلب اعظم صفات کمال یعنی وجوب کے ثبوت سے ناشی اوران کے بیان سے اس کا سبوح وغنی وقدوس ومتعالی ہونا ظاہر باری عزوجل کو کہنا کہ متجزی نہیں بیشك مدح ہے کہ اس سے اس کا غنا سمجھا گیا اور نکتہ کو کہنے میں کچھ تعریف نہیں کہ اس کے لئے خوبی نہ نکلی کہ وہاں غناد رکنار متجزی محتاج کے محتاج المحتاج کی محتاجی ہے وعلی ہذالقیاس جب یہ امر ممہدہولیا توظاہر ہوگیا کہ حقیقۃ صدق صفت کمال ہے نہ مجرد عدم کذب جو معدومات بلکہ محالات کے بارے میں بھی صادق البتہ سلب کذب وہاں مفید مدح جہاں اس کا سلب ثبوت صدق کو مستلزم مثلا زید عاقل ناطق کی تعریف کیجئے کہ جھوٹا نہیں۔ بیشك تعریف ہوئی کہ جھوٹانہیں تو آپ ہی سچا ہوگا اور سچا ہونا صفت کمال تو اس سلب نے ایك صفت کمال کا ثبوت بتایا لہذا محل مدح میں آیا جہاں ایسا نہ ہو وہاں زنہار مفید مدح مظہر کمال ی نکتہ بدیعہ ملحوظ رکھئے پھر دیکھئے کہ عیار بہادر کی دی ہوئی نظیریں کیا کیا کئے کو پہنچتی ہیں۔ والله الموفق۔
حوالہ / References
رسالہ یکروزی(فارسی) شاہ محمد اسمعیل فاروقی کتب خانہ ملتان ص۱۷
تازیانہ ۱۲ و ۱۳ : قولہ اخرس وجماد کہ کسے ایشاں رابعدم کذب مدح نمی کند (گونگے اور جماد کی مدد عدم کذب سے کوئی نہیں کرتا۔ ت)
اقول : دونوں نظیروں پر پتھر پڑے ہیں گنگ وسنگ کی کیوں مدح کریں کہ وہاں سلب کذب ثبوت صدق سے ناشی نہیں گونگہ یا پتھر اگر جھوٹا اگر جھوٹا نہ ہوا تو کیا خوبی کہ سچا بھی نہیں تووہ استلزام صفت کمال جو مبنائے مدح تھا یا منتفی سر یہ ہے کہ منفصلہ حقیقیہ کے مقدم و تالی میں جب دو صفت مدح وذم محمول ہوں توجس فرد موضوع سے ذمیہ کو سلب کیجئے مدحیہ ثابت ہوگی کہ یہاں ہر ایك کا رفع دوسری کے وضع کو منتج مخلاف ان چیزوں کے جو زیر موضوع مندرج ہی نہیں کہ ان سے دونوں محمول کا ارتفاع معقول پھر سلب ذم ثبوت مدح پر کیونکر محمول یہاں قضیہ کل متکلم مخبر اماصادق واما کاذب(ہر متکلم خبردینے والا یاوہ صادق ہوگا یا کاذب۔ ت)تھا اخرس وجماد پر سرے سے وصف عنوانی ہی صادق نہیں پھر عدم کذب ان کے لئے کیا باعث مدح ہو دیکھ او ذی ہوش! یہ فارق ہے نہ وہ کہ جب تك عیب ممکن نہ ہو کمال حاصل ہی نہیں ولاحول ولاقوۃ الا باﷲ العلی العظیم۔
تکمیل جمیل : اقول : او جھوٹی نظیروں سے بیچارے عوام کو چھلنے والے! اس تفرقہ کی سچی نظیر دیکھ مسلمان کو اہل بدعت کے بہتر فرقے پورا گنا کر کہئے رافضی وہابی خارجی معتزلی جبری قادری ناصبی وغیرہ نہیں تو بیشك اس کی بڑی تعریف ہوئی او ر بعینہ یہی کلمات کسی کافر کے حق میں کہئے تو کچھ تعریف نہیں حالانکہ یہ سالبہ قضیے دونوں جگہ قطعا صادق توکیا اس کی وجہ یہ ہے کہ مسلمان باوجود قدرت رافضی وہابی ہونے سے بچا لہذا محمود ہوا اور دونوں اس کافر کو رافضی وہابی ہونے پر قدرت ہی نہ تھی لہذا مدح نہ ٹھہرا کوئی جاہل سے جاہل یہ فرق سمجھے گا بلکہ تفرقہ وہی ہے کہ جب یہ فرقے اہل قبلہ کے ہیں تو مسلمان کے حق میں ان بہتر کی نفی سنی ہونے کا اثبات کرے گی لہذا اعظم مدائح سے ہوا اور کافر سرے سے مقسم یعنی کلمہ گو ہی سے خارج تو ان کی نفی سے کیس وصف محمود کا ا س کے لئے اثبات نہ نکلا ولہذا مفیدمدح نہ ٹھہرا والحمد اﷲ علی اتمام الحجۃ ووضوح المحجۃ(اتمام حجت او رغلبہ پر الله تعالی کی حمد ہے۔ ت)
تازیانہ ۱۴ : قولہ بخلاف کسے کہ لسان اوماؤف شدہ باشد تکلم بکلام کاذب نمی تواند کرد (بخلاف اس کے جس کی زبان ہی ماؤف ہو اور وہ جھوٹا کلام کرہی نہ سکے ت) اقول اچھا ہوتا کہ تم بھی اسی کس کے مثل ہوتے کہ ایسے کاذب کلاموں کے بس تو نہ بوتے اے عقلمند! وہ ماؤف اللسان تکلم بکلام صادق بھی نہ کر سکے تو عدم مدح کی وہی وجہ کہ سلب کذب سے ثبوت صدق نہیں۔
تازیانہ ۱۵ : قولہ یاقوت متفکرہ او فاسد شدہ باشد کہ عقد قضیہ غیر مطابق للواقع نمی تواند کرد (یا اس کی سوچ وفکر کی قوت فاسد ہوکر قضیہ غیر مطابق للواقع کا انعقاد نہ کرسکے۔ ت)اقول : تم سے بڑھ کر
اقول : دونوں نظیروں پر پتھر پڑے ہیں گنگ وسنگ کی کیوں مدح کریں کہ وہاں سلب کذب ثبوت صدق سے ناشی نہیں گونگہ یا پتھر اگر جھوٹا اگر جھوٹا نہ ہوا تو کیا خوبی کہ سچا بھی نہیں تووہ استلزام صفت کمال جو مبنائے مدح تھا یا منتفی سر یہ ہے کہ منفصلہ حقیقیہ کے مقدم و تالی میں جب دو صفت مدح وذم محمول ہوں توجس فرد موضوع سے ذمیہ کو سلب کیجئے مدحیہ ثابت ہوگی کہ یہاں ہر ایك کا رفع دوسری کے وضع کو منتج مخلاف ان چیزوں کے جو زیر موضوع مندرج ہی نہیں کہ ان سے دونوں محمول کا ارتفاع معقول پھر سلب ذم ثبوت مدح پر کیونکر محمول یہاں قضیہ کل متکلم مخبر اماصادق واما کاذب(ہر متکلم خبردینے والا یاوہ صادق ہوگا یا کاذب۔ ت)تھا اخرس وجماد پر سرے سے وصف عنوانی ہی صادق نہیں پھر عدم کذب ان کے لئے کیا باعث مدح ہو دیکھ او ذی ہوش! یہ فارق ہے نہ وہ کہ جب تك عیب ممکن نہ ہو کمال حاصل ہی نہیں ولاحول ولاقوۃ الا باﷲ العلی العظیم۔
تکمیل جمیل : اقول : او جھوٹی نظیروں سے بیچارے عوام کو چھلنے والے! اس تفرقہ کی سچی نظیر دیکھ مسلمان کو اہل بدعت کے بہتر فرقے پورا گنا کر کہئے رافضی وہابی خارجی معتزلی جبری قادری ناصبی وغیرہ نہیں تو بیشك اس کی بڑی تعریف ہوئی او ر بعینہ یہی کلمات کسی کافر کے حق میں کہئے تو کچھ تعریف نہیں حالانکہ یہ سالبہ قضیے دونوں جگہ قطعا صادق توکیا اس کی وجہ یہ ہے کہ مسلمان باوجود قدرت رافضی وہابی ہونے سے بچا لہذا محمود ہوا اور دونوں اس کافر کو رافضی وہابی ہونے پر قدرت ہی نہ تھی لہذا مدح نہ ٹھہرا کوئی جاہل سے جاہل یہ فرق سمجھے گا بلکہ تفرقہ وہی ہے کہ جب یہ فرقے اہل قبلہ کے ہیں تو مسلمان کے حق میں ان بہتر کی نفی سنی ہونے کا اثبات کرے گی لہذا اعظم مدائح سے ہوا اور کافر سرے سے مقسم یعنی کلمہ گو ہی سے خارج تو ان کی نفی سے کیس وصف محمود کا ا س کے لئے اثبات نہ نکلا ولہذا مفیدمدح نہ ٹھہرا والحمد اﷲ علی اتمام الحجۃ ووضوح المحجۃ(اتمام حجت او رغلبہ پر الله تعالی کی حمد ہے۔ ت)
تازیانہ ۱۴ : قولہ بخلاف کسے کہ لسان اوماؤف شدہ باشد تکلم بکلام کاذب نمی تواند کرد (بخلاف اس کے جس کی زبان ہی ماؤف ہو اور وہ جھوٹا کلام کرہی نہ سکے ت) اقول اچھا ہوتا کہ تم بھی اسی کس کے مثل ہوتے کہ ایسے کاذب کلاموں کے بس تو نہ بوتے اے عقلمند! وہ ماؤف اللسان تکلم بکلام صادق بھی نہ کر سکے تو عدم مدح کی وہی وجہ کہ سلب کذب سے ثبوت صدق نہیں۔
تازیانہ ۱۵ : قولہ یاقوت متفکرہ او فاسد شدہ باشد کہ عقد قضیہ غیر مطابق للواقع نمی تواند کرد (یا اس کی سوچ وفکر کی قوت فاسد ہوکر قضیہ غیر مطابق للواقع کا انعقاد نہ کرسکے۔ ت)اقول : تم سے بڑھ کر
حوالہ / References
رسالہ یك روزہ(فارسی) شاہ اسمعیل فاروقی کتب خانہ ملتان ص۱۷ و ۱۸
رسالہ یك روزہ(فارسی) شاہ اسمعیل فاروقی کتب خانہ ملتان ص۱۷ و ۱۸
رسالہ یك روزہ(فارسی) شاہ اسمعیل فاروقی کتب خانہ ملتان ص۱۷ و ۱۸
رسالہ یك روزہ(فارسی) شاہ اسمعیل فاروقی کتب خانہ ملتان ص۱۷ و ۱۸
رسالہ یك روزہ(فارسی) شاہ اسمعیل فاروقی کتب خانہ ملتان ص۱۷ و ۱۸
فاسد المتفکر کون ہوگا پھر کتنے قضایائے باطلہ عقد کررہے ہو بھلا حضرت کیا فساد متفکرہ صرف قضایائے کازبہ ہی کے لئے ہوگا ا ور جب مطلقا ہے تو عقد قضیہ پر بھی قدرت نہ ہوگی تو صراحۃ وہی فارق اور و ہم زاہق ہاں جس تام العقل سالم النطق کو لطف الہی صدق محض کی استطاعت دے کہ وجہ مانع غیبی اصدا ر کذب سے ممنوع و مصروف ہو تویہ عدم کذب بیشك مدح عظیم ہوگا اسی وجہ سے کہ اب ثبوت صادقیت کبری سے مبنی اور کمال جلیل یعنی عصمت من اﷲ پر مبنی خلاصہ یہ کہ شخص مذکور اس طور پر زیر موضوع مندر ج اور بطور فساد تفکر خارج فظھر التفرقۃ وذھب الوسوسۃ(فرق ظاہر اور وسوسہ ختم ہوا۔ ت)
تازیانہ ۱۶ تا ۱۹ : قولہ یاشخصے کہ کلام صادق از وصادر می گردد وہرگاہ ارادہ کلام کاذب نماید آواز او بند میگرد د یازبان اوماؤف میشودیا کسے دین او بندیا حقوق خفہ کند (یا ایسا شخص ہے جو کسی جگہ سچا کلام کرتاہے وہ اس سے صادر ہوتاہے اور جب جھوٹا کلام کرتاہے تو آواز بند ہوجاتی ہے یا زبان ماؤف ہوجاتی ہے یا کوئی اس کا منہ بند کردیتاہے یا گلا دبادیتاہے۔ ت)
اقول : ایسا تو کیا کہوں جو آپ کی طبع نازك کو بلکل خفہ کند ہاں اتنا کہوں گا کہ اب کی تو اچھل کرتارے ہی توڑ لائے یہ چار نظیریں وہ بے نظیردی ہیں کہ باید وشاید او عقل کی پڑیا! جب وہ عزم تکلم بکذب کرچکا تو کلام نفسی میں کاذب ہوچکا اگرچہ بوجہ مانع صادر نہ ہوسکا ت واس کے عدم سے حکم کذب کیونکر درکار کذب حقیقۃ صفت معانی ہے نہ وصف الفاظ پھراسکی مدح کیا معنی قطعا مذموم ہوگا بھلالے دے کر اگلی نظیروں میں عدم کذب کی صورت تو تھی یہاں الله کی عنایت سے وہ بھی نہ رہی صریح کذب متحقق وموجود اور عدم کذب کی نظیروں میں معدود جبھی تو کہتے ہیں کہ الله تعالی جب گمراہ کرتا ہے عقل پہلے لے لیتا ہے والعیاذ باﷲ رب العالمین۔
تازیانہ ۲۰ : قولہ یاکسے کہ چند قضایائے صادقہ یاد گرفتہ واصلا برتکیب قضایائے دیگر قدرت ندارد بناء علیہ تکلم بکاذب از وصادر نہ گرد (یا کسی نے چند سچے جملے رٹ لئے ہیں دیگر جملوں پر وہ قدرت نہیں رکھتا ہے اس بناء پر اس سے جھوٹ صادر نہیں ہوتاہے۔ ت)
اقول یہ صورت بھی ویسا ہی فساد عقل کی ہے جس سے فقط حفظ صوادق کا شعبہ بڑھایا مگر کام نہ آیا قطع نظر اس سے کہ یہ تصویر کیسی اور ایسے شخص سے حفظ قضایا معقول بھی ہے یا نہیں۔
اولا : انسان مرتبہ عقل بالمبلکہ میں بالبداہۃ ترکیب قضایا پر قادر تو سرے سے تصویر ہی باطل اور عقل ہیولانی میں کہ تعقل انطباعی نہیں ہوتا اگر تعقل نسبت خبر یہ معقول بھی ہو تا ہم حکایت وقصد افادۃ قطعا غیر معقول اور صدق کذب باعتبار حکایت ہی میں نہ باعتبار مجرد علم ورنہ معاذالله علم کواذب کا ذب ٹھہرے تویہاں بھی سلب کذب سے ثبوت لازم نہ ہوا اور وہی فارق پیش آیا۔
تازیانہ ۱۶ تا ۱۹ : قولہ یاشخصے کہ کلام صادق از وصادر می گردد وہرگاہ ارادہ کلام کاذب نماید آواز او بند میگرد د یازبان اوماؤف میشودیا کسے دین او بندیا حقوق خفہ کند (یا ایسا شخص ہے جو کسی جگہ سچا کلام کرتاہے وہ اس سے صادر ہوتاہے اور جب جھوٹا کلام کرتاہے تو آواز بند ہوجاتی ہے یا زبان ماؤف ہوجاتی ہے یا کوئی اس کا منہ بند کردیتاہے یا گلا دبادیتاہے۔ ت)
اقول : ایسا تو کیا کہوں جو آپ کی طبع نازك کو بلکل خفہ کند ہاں اتنا کہوں گا کہ اب کی تو اچھل کرتارے ہی توڑ لائے یہ چار نظیریں وہ بے نظیردی ہیں کہ باید وشاید او عقل کی پڑیا! جب وہ عزم تکلم بکذب کرچکا تو کلام نفسی میں کاذب ہوچکا اگرچہ بوجہ مانع صادر نہ ہوسکا ت واس کے عدم سے حکم کذب کیونکر درکار کذب حقیقۃ صفت معانی ہے نہ وصف الفاظ پھراسکی مدح کیا معنی قطعا مذموم ہوگا بھلالے دے کر اگلی نظیروں میں عدم کذب کی صورت تو تھی یہاں الله کی عنایت سے وہ بھی نہ رہی صریح کذب متحقق وموجود اور عدم کذب کی نظیروں میں معدود جبھی تو کہتے ہیں کہ الله تعالی جب گمراہ کرتا ہے عقل پہلے لے لیتا ہے والعیاذ باﷲ رب العالمین۔
تازیانہ ۲۰ : قولہ یاکسے کہ چند قضایائے صادقہ یاد گرفتہ واصلا برتکیب قضایائے دیگر قدرت ندارد بناء علیہ تکلم بکاذب از وصادر نہ گرد (یا کسی نے چند سچے جملے رٹ لئے ہیں دیگر جملوں پر وہ قدرت نہیں رکھتا ہے اس بناء پر اس سے جھوٹ صادر نہیں ہوتاہے۔ ت)
اقول یہ صورت بھی ویسا ہی فساد عقل کی ہے جس سے فقط حفظ صوادق کا شعبہ بڑھایا مگر کام نہ آیا قطع نظر اس سے کہ یہ تصویر کیسی اور ایسے شخص سے حفظ قضایا معقول بھی ہے یا نہیں۔
اولا : انسان مرتبہ عقل بالمبلکہ میں بالبداہۃ ترکیب قضایا پر قادر تو سرے سے تصویر ہی باطل اور عقل ہیولانی میں کہ تعقل انطباعی نہیں ہوتا اگر تعقل نسبت خبر یہ معقول بھی ہو تا ہم حکایت وقصد افادۃ قطعا غیر معقول اور صدق کذب باعتبار حکایت ہی میں نہ باعتبار مجرد علم ورنہ معاذالله علم کواذب کا ذب ٹھہرے تویہاں بھی سلب کذب سے ثبوت لازم نہ ہوا اور وہی فارق پیش آیا۔
حوالہ / References
رسالہ یك روزہ(فارسی) شاہ اسمعیل فاروقی کتب خانہ ملتان ص ۱۸
رسالہ یك روزہ(فارسی) شاہ اسمعیل فاروقی کتب خانہ ملتان ص ۱۸
رسالہ یك روزہ(فارسی) شاہ اسمعیل فاروقی کتب خانہ ملتان ص ۱۸
ثانیا جواصلا کسی قضیہ کا حتی کہ قضایائے وہمیہ واحکام شخصیہ بدیہیہ حسیہ پر بھی قادر نہ ہو قطعا مجانین بلکہ حیوانات سے بھی بدتر اور جماد سے ملحق تو اس کا کلام کام نہ ہوگا صورت بے صورت ہوگا اور صدق وکذب اولا بالذات صفت معانی ہے نہ وصف عبارات تو بات اگرچہ بایں معنی سچی ہو کہ سامع اس سے ادارك معنی مطلق للواقع کرے مگر اس سے اس جمادی آواز کرنے والے کا صدق لازم نہیں کہ معنی متصف بالصدق اس کے نفس سے قائم نہیں حتی کہ علماء نے کلام مجنون کو بھی خبریت سے خارج کیا اورپر ظاہر کہ صدق وکذب اوصاف خبر ہیں نہ شامل مطلق آواز مولانا بحرالعلوم قدس سرہ فواتح میں فرماتے ہیں :
الکلام الصادر عن المجنون لایکون مقصودا بالافادۃ فلایکون حکایۃ عن امرحتی یکون خبر ۔ پاگل سے صادر ہونےب والاکلام مقصود کے لئے مفید نہیں ہوتا لہذا کسی امر(واقع)سے حکایت ہی نہیں حتی کہ اسے خبر قرار دیا جائے۔ (ت)
تنبیہ دائر وسائر بہ تسفیہ جلہ نظائر : اقول : ایھا المسلمون! سفیہ جاہل نے حتی الامکان اپنے رب میں راہ کذب نکالنے کو نو نظیریں دیں مگر بحمد الله سب نے معنی ہم نے اس وقت تك ان کے رد میں اس مر پر بنائے کار رکھی کہ عدم کذب بنفسہ کمال نہیں۔ جب تك ثبوت کمال پرمبنی نہ ہو اور یہاں ایسا نہیں اس کی سزا کو اسی قدر بس تھا۔ مگر غور کرو کیجئے تو معاملہ اور بھی بالکل معکوس اور عقل مستشہد کا کاسہ منکوس اور تمام نظائر روبہ قفاہیں یعنی یہاں عدم قدرت علی الکذب کا بر بنائے کمال ہونا بالائے طاق الٹا بربنائے عیوب ونقائص ہے کہیں عدم عقل کہیں عجز آلات کہیں لحوق مغلوبی کہیں عروض آفات پھر ایسا عدم کذب اگر ہوگا تو مورث ذم ہوگا نہ باعث مدح یہ وجہ ہے کہ ان صور میں سلب کذب سے تعریف نہیں کرتے نہ وہ جاہلانہ وسفیہانہ خیال کہ عیب پر قدرت نہ ہونا مانع کمال اب ختم الہی کا ثمرہ کہ سفیہ جاہل کہ خدا وجماد میں فرق نہ سوجھا اس کا عدم کذب اس کے کمال عالی یعنی سبو حیت وقدوسیت بلکہ نفس الوہیت سے ناشی کہ الوہیت اپنی حد ذات میں ہر کمال کی مقتضی اور ہر نقص کی منافی اور ان کا کذب عیوب ونقائص پر مبنی پھر کیسی پرلے سرے کی کوری یا سینہ زوری کہ عین کمال کو کمال نقص پر قیاس کرے اوراینٹوں پتھروں کے عیوب ونقائص باری جل مجدہ کے ذمے دھرے جاہل پر ایسی نظیر دینی لازم تھی جس میں عدم کذب باآنکہ کمال سے ناشی ہوتا پھر بھی بحالت عدم امکان مدح نہ سمجھا جاتا “ وانی لہ ذلک “ اب جو اس کا حامی بنے سب کو دعوت عام دیجئے کہ ایسی نظیر ڈھونڈ کر لاؤ “ فان لم تفعلوا ولن تفعلوا “ الایۃ(پہر اگر نہ کرسکو گے اور ہر گز نہ کرسکو گے۔ ت)
الکلام الصادر عن المجنون لایکون مقصودا بالافادۃ فلایکون حکایۃ عن امرحتی یکون خبر ۔ پاگل سے صادر ہونےب والاکلام مقصود کے لئے مفید نہیں ہوتا لہذا کسی امر(واقع)سے حکایت ہی نہیں حتی کہ اسے خبر قرار دیا جائے۔ (ت)
تنبیہ دائر وسائر بہ تسفیہ جلہ نظائر : اقول : ایھا المسلمون! سفیہ جاہل نے حتی الامکان اپنے رب میں راہ کذب نکالنے کو نو نظیریں دیں مگر بحمد الله سب نے معنی ہم نے اس وقت تك ان کے رد میں اس مر پر بنائے کار رکھی کہ عدم کذب بنفسہ کمال نہیں۔ جب تك ثبوت کمال پرمبنی نہ ہو اور یہاں ایسا نہیں اس کی سزا کو اسی قدر بس تھا۔ مگر غور کرو کیجئے تو معاملہ اور بھی بالکل معکوس اور عقل مستشہد کا کاسہ منکوس اور تمام نظائر روبہ قفاہیں یعنی یہاں عدم قدرت علی الکذب کا بر بنائے کمال ہونا بالائے طاق الٹا بربنائے عیوب ونقائص ہے کہیں عدم عقل کہیں عجز آلات کہیں لحوق مغلوبی کہیں عروض آفات پھر ایسا عدم کذب اگر ہوگا تو مورث ذم ہوگا نہ باعث مدح یہ وجہ ہے کہ ان صور میں سلب کذب سے تعریف نہیں کرتے نہ وہ جاہلانہ وسفیہانہ خیال کہ عیب پر قدرت نہ ہونا مانع کمال اب ختم الہی کا ثمرہ کہ سفیہ جاہل کہ خدا وجماد میں فرق نہ سوجھا اس کا عدم کذب اس کے کمال عالی یعنی سبو حیت وقدوسیت بلکہ نفس الوہیت سے ناشی کہ الوہیت اپنی حد ذات میں ہر کمال کی مقتضی اور ہر نقص کی منافی اور ان کا کذب عیوب ونقائص پر مبنی پھر کیسی پرلے سرے کی کوری یا سینہ زوری کہ عین کمال کو کمال نقص پر قیاس کرے اوراینٹوں پتھروں کے عیوب ونقائص باری جل مجدہ کے ذمے دھرے جاہل پر ایسی نظیر دینی لازم تھی جس میں عدم کذب باآنکہ کمال سے ناشی ہوتا پھر بھی بحالت عدم امکان مدح نہ سمجھا جاتا “ وانی لہ ذلک “ اب جو اس کا حامی بنے سب کو دعوت عام دیجئے کہ ایسی نظیر ڈھونڈ کر لاؤ “ فان لم تفعلوا ولن تفعلوا “ الایۃ(پہر اگر نہ کرسکو گے اور ہر گز نہ کرسکو گے۔ ت)
حوالہ / References
فواتح الرحموت بذیل المستصفی الاصل الثانی السنۃ مشورات الشریف الرضی قم ایران ۲ / ۱۰۸
القرآن الکریم ۲ /۲۴
القرآن الکریم ۲ /۲۴
تنبیہ دوم : اقول : اس سے زائد قہر یہ ہے کہ اپنا لکھا خود نہیں سمجھتا نظیریں دے کر بالجملہ کہہ کر آپ ہی خلاصہ مطلب یہ نکلتاہے کہ عدم کذب اگر بربنائے عجز ہو تو مورث مدح نہیں معلوم ہوا کہ ان نظائر میں تحقیق عجز وقصور پر مطلع ہے پھر باری عزوجل کے عدم کذب کو ان سے ملاتاہے حالانکہ وہاں عیب ومنقصت پر عدم قدرت زنہار عجز نہیں بلکہ عین کمال و مدحت اور معاذالله داخل قدرت ماننا ہی صریح نقص ومذمت یہ تقریرکافی ووافی طور پر مقدمہ رسالہ ونیز رد ثالث ہذیان اول میں گزری اور وہیں یہ بھی بیان ہوا کہ عجز جب ہے کہ جانب فاعل قصور وکمی ہو جیسے اے سفیہ! ان تیری نظیروں کہ گنگ وسنگ اپنے نقصان کے باعث جھوٹ سچ کچھ نہیں بول سکتے نہ یہ کہ جانب قابل نالائق ہو کہ تعلق قدرت کی قابلیت نہیں رکھتا جس طرح جناب باری عزوجل کا کذب وغیرہ تمام عیوب سے منزہ ہونا اسے ہر گز کوئی مسلم عاقل عجزگمان نہ کرے گا یارب مگر ابن حزم ساکوئی ضال اجہل یا ان حضرت ساجاہل اضل وباﷲ العصمۃ عن موقع الزلل والحمد اﷲ الاعز الاجل(پھسلنے کے مواقع سے الہہ ہی کی طرف سے حفاظت ہوتی ہے اور تمام حمد اﷲ غالب وبزرگ تر کے لئے ہے۔ ت)
بحمدالله یہ صرف نظار پر تازیانوں کا دوسرا عشرہ کاملہ تھا بلکہ خیال کیجئے تو یہاں تك اسی مسئلہ کے متعلق سفاہات شریفہ پر سات تازیانے اور گزرے تازیانہ ۱اول دوسرا ثم اقول : (میں پھر کہتاہوں۔ ت)جس نے حضرت کا تناقص بتایا اور ۲دوم ۳سوم و۴دہم کے بعد کی تنبیہات اور ۵بستم کا ثانیا اور اس کے بعد کی دو۶ تنبیہیں یہ ساتوں جدا گانہ تازیانے تھے تو حقیقۃ عشرہ اولی میں چودہ۱۴ اور ثانیا میں تیرہ۱۳ کل ستائیس۲۷ تازیانے یہاں تك ہوئے چلتے وقت کے تین۳ اورلیتے جایئے کہ تیس۳۰ کا عدد جو دونوں تنزیہ سبق میں بھی ملحوظ رہاہے پورا ہوجائے خصوصا ان میں ایك تو ایسا شدید کامل جس سے جان بچانی مشکل جو آپ کا خلاصہ طلب کھولے اصل مذہب سر چڑھ کر بولے وباﷲ التوفیق واضافۃ التحقیق(توفیق اور حصول تحقیق الله ہی کی طر ف سے ہے۔ ت)
تازیانہ ۲۸ : اقول : وباﷲ التوفیق(میں کہتاہوں اور توفیق الله تعالی سے ہے۔ ت)شاطر عیار نے اگرچہ بظاہر اغوائے جہال کہ عوام اہل اسلام اپنے رب ذوالجلال ولاکرام کے حق میں صریح دشنام سن کر بھڑ ك نہ جائیں مطلب دل کے روئے زشت پر پردہ ڈالنے کو براہ تقیہ کہ روافض سے بڑھ کر اصل اصیل مذہب نجدیہ ہے یہ کلمات بڑھا دئے کہ “ کذب مذکور آرے منافی حکمت اوست پس ممتنع بالغیر ست “ (ہاں کذب مذکور اس کی حکمت کے منافی ہے لہذایہ کذب ممتنع بالغیر ہے ت)مگر اس کے ساتھ ہی جو م ذہب خفیہ جوش پر آیا اور نظیریں دینے کا شوق گرمایا توکھلے بندوں علانیہ بتایا کہ کذب الہی میں اصلا امتناع بالغیر کی بوبھی نہیں قطعا جزما جائز وقوعی ہے جس کے وقوع میں استحالہ عقلی وشرعی درکنار استعباد عادی کا بھی
بحمدالله یہ صرف نظار پر تازیانوں کا دوسرا عشرہ کاملہ تھا بلکہ خیال کیجئے تو یہاں تك اسی مسئلہ کے متعلق سفاہات شریفہ پر سات تازیانے اور گزرے تازیانہ ۱اول دوسرا ثم اقول : (میں پھر کہتاہوں۔ ت)جس نے حضرت کا تناقص بتایا اور ۲دوم ۳سوم و۴دہم کے بعد کی تنبیہات اور ۵بستم کا ثانیا اور اس کے بعد کی دو۶ تنبیہیں یہ ساتوں جدا گانہ تازیانے تھے تو حقیقۃ عشرہ اولی میں چودہ۱۴ اور ثانیا میں تیرہ۱۳ کل ستائیس۲۷ تازیانے یہاں تك ہوئے چلتے وقت کے تین۳ اورلیتے جایئے کہ تیس۳۰ کا عدد جو دونوں تنزیہ سبق میں بھی ملحوظ رہاہے پورا ہوجائے خصوصا ان میں ایك تو ایسا شدید کامل جس سے جان بچانی مشکل جو آپ کا خلاصہ طلب کھولے اصل مذہب سر چڑھ کر بولے وباﷲ التوفیق واضافۃ التحقیق(توفیق اور حصول تحقیق الله ہی کی طر ف سے ہے۔ ت)
تازیانہ ۲۸ : اقول : وباﷲ التوفیق(میں کہتاہوں اور توفیق الله تعالی سے ہے۔ ت)شاطر عیار نے اگرچہ بظاہر اغوائے جہال کہ عوام اہل اسلام اپنے رب ذوالجلال ولاکرام کے حق میں صریح دشنام سن کر بھڑ ك نہ جائیں مطلب دل کے روئے زشت پر پردہ ڈالنے کو براہ تقیہ کہ روافض سے بڑھ کر اصل اصیل مذہب نجدیہ ہے یہ کلمات بڑھا دئے کہ “ کذب مذکور آرے منافی حکمت اوست پس ممتنع بالغیر ست “ (ہاں کذب مذکور اس کی حکمت کے منافی ہے لہذایہ کذب ممتنع بالغیر ہے ت)مگر اس کے ساتھ ہی جو م ذہب خفیہ جوش پر آیا اور نظیریں دینے کا شوق گرمایا توکھلے بندوں علانیہ بتایا کہ کذب الہی میں اصلا امتناع بالغیر کی بوبھی نہیں قطعا جزما جائز وقوعی ہے جس کے وقوع میں استحالہ عقلی وشرعی درکنار استعباد عادی کا بھی
حوالہ / References
رسالہ یك روزہ شاہ محمد اسمعیل فاروقی کتب کانہ ملتان ص۱۷
نام ونشان نہیں۔ ثبوت لیجئے اگر اس کے مذہب میں کذب الہی ممکن بالذات وممتنع بالغیر ہوتا تو نظیریں وہ دیتا جن میں ممتنع بالذات ہوکہ دیکھو جہاں امتناع ذاتی ہوتاہے عدم کذب باعث مدح نہیں ہوتا اور باری عزوجل کے لئے مدح ہے تو اس کے حق میں امتناع ذاتی نہیں مگر برخلاف اس کے مثالیں وہ دیں جن میں امتناع ذاتی کا پتہ نہیں مثلا جس کا منہ بند کرلیں یا گلا گھونٹ دیں اوراس وجہ سے وہ جھوٹ نہ بول سکے تو پر ظاہر کہ بولنے پریقینا قادر اگر بالفرض امتناع ہے تو اس عارض کی وجہ سے تو نہ ہوا مگر امتناع بالغیر امام نجدیہ اسے بھی مانع مدح جان کر باری عزوجل سے صراحۃ سلب کرتا ہے پھرکیوں منافقانہ کہا تھا “ ممتنع بالغیر ست “ (کذب باری تعالی ممتنع بالغیر ہے۔ ت)صاف کہا ہوتا “ اصلا ازامتناع بالغیر ہم بہرہ ندارد “ (امتناع بالغیر سے بھی کوئی تعلق نہیں ہے۔ ت)اے حضرت! دور کیوں جائے پہلی بسم الله اخرسی وجمادہی کی نظیر لیجئے بھلا اخرس تو انسان ہے جماد کے لئے بھی کلام محال شرعی تك نہیں صرف محال عادی ہے کتب حدیث دیکھئے بطور خرق عادت ہزار بار پتھروں جمادوں سے کلام واقع ہوا اور ہزار ہا بار ہوگا قریب قیامت آدمی سے اس کا کوڑا باتیں کرے گا جب اہل اسلام یہود عنود کو قتل کریں گے اور وہ پتھروں درختوں کی آڑ لیں گے شجر وحجر مسلمان سے کہیں گے اے مسلمان آ یہ میرے پیچھے یہودی ہے اسی طرح سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے گونگے کاکلام کرنا احادیث میں وارد الله عزوجل فرماتا ہے :
“ وقالوا لجلودہم لم شہدتم علینا قالوا انطقنا اللہ الذی انطق کل شیء “ کافر اپنی کھالوں سے بولیں گے تم نے کیوں ہم پر گواہی دی وہ بولیں گی ہمیں اس الله نے بلوایا جس نے ہر چیز کو گواہی بخشی۔
اگر کلام جماد واخرس ممتنع بالغیر یا محال شرعی ہوتا زنہار وقوع کانام نہ پاتا کہ ہر ممتنع بالغیر کا وقوع اس غیر یعنی ممتنع بالذات کے وقوع کومستلزم تو وقوع نے ظاہر کردیاکہ صرف خلاف عادت ہے جب وقوع کلام ثابت اور ان کے استحالہ کذب پر ہر گز کوئی دلیل عقلی نہ شرعی تو یقینا اس کے لئے بھی جواز قوعی جو امتناع بالغیر کا منافی قطعی اب جیوٹ بہادر استدلال کرتاہے کہ ایساعدم کذب مفید مدح نہیں ہوتا اور باری عزوجل میں مدح ہے تولاجرم وہاں ایسا عدم بھی نہ ہوگا اتناتو اس کے کلام کا منطوق صریح ہے آگے خود دیکھ لیجےے کہ اخرس وجماد میں کیسا عدم تھا جس کو باری عزوجل میں نہیں مانتا زنہار نہ امتناع عقلی تھا نہ استحالہ شرعی بلکہ صرف استعباد عادی تو بالضرور ملا ئے بیباك اپنے رب میں کذب کو مستعبد بھی نہیں جانتا العظمۃ اللہ! اگر لازم قول قول ٹھہرنے تو اس سے بڑھ کر کفر جلی اور کیا ہے مگریہ حسن احتیاط الله عزوجل نے ہم اہلسنت ہی کو عطا فرمایا ا ہل بدعت خصوصا نجدیہ کہ
“ وقالوا لجلودہم لم شہدتم علینا قالوا انطقنا اللہ الذی انطق کل شیء “ کافر اپنی کھالوں سے بولیں گے تم نے کیوں ہم پر گواہی دی وہ بولیں گی ہمیں اس الله نے بلوایا جس نے ہر چیز کو گواہی بخشی۔
اگر کلام جماد واخرس ممتنع بالغیر یا محال شرعی ہوتا زنہار وقوع کانام نہ پاتا کہ ہر ممتنع بالغیر کا وقوع اس غیر یعنی ممتنع بالذات کے وقوع کومستلزم تو وقوع نے ظاہر کردیاکہ صرف خلاف عادت ہے جب وقوع کلام ثابت اور ان کے استحالہ کذب پر ہر گز کوئی دلیل عقلی نہ شرعی تو یقینا اس کے لئے بھی جواز قوعی جو امتناع بالغیر کا منافی قطعی اب جیوٹ بہادر استدلال کرتاہے کہ ایساعدم کذب مفید مدح نہیں ہوتا اور باری عزوجل میں مدح ہے تولاجرم وہاں ایسا عدم بھی نہ ہوگا اتناتو اس کے کلام کا منطوق صریح ہے آگے خود دیکھ لیجےے کہ اخرس وجماد میں کیسا عدم تھا جس کو باری عزوجل میں نہیں مانتا زنہار نہ امتناع عقلی تھا نہ استحالہ شرعی بلکہ صرف استعباد عادی تو بالضرور ملا ئے بیباك اپنے رب میں کذب کو مستعبد بھی نہیں جانتا العظمۃ اللہ! اگر لازم قول قول ٹھہرنے تو اس سے بڑھ کر کفر جلی اور کیا ہے مگریہ حسن احتیاط الله عزوجل نے ہم اہلسنت ہی کو عطا فرمایا ا ہل بدعت خصوصا نجدیہ کہ
حوالہ / References
القرآن الکریم ۴۱ /۲۱
یہ شخص جن کا معلم وامام ہے کفر وشرك کوٹکے سیر کئے ہوئے ہیں بات پیچھے اور کفر شرك پہلے اگر “ و جزؤا سیئۃ سیئۃ مثلہا “ (اور برائی کا بدلہ اسی کی برابربرائی ہے ت)کی ٹھہرے تو کیا ہم ان کے ایسے صریح کفریات پر بھی فتوی کفر نہ دیتے مگر الحمد لله یہاں “ ادفع بالتی ہی احسن “ (برائی کو بھلائی سے ٹال۔ ت)پر عمل اور کلمہ طیبہ کا ادب پیش نظر ہے کہ لا الہ الا اﷲ محمد رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کہنے والے کو حتی الامکان کفر سے بچاتے ہیں والحمد الله رب العالمین۔
تازیانہ ۲۹ : اقول : مناجات حکمت کے سبب کذب کو زبانی ممتنع بالغیر کہنا اس سفیہ کا صریح تناقص سے شے ممتنع بالغیر جب ہوسکتی ہے کہ کسی محال بالذات کی طرف منجر ہو ورنہ لزوم ممکن کا ممکن کونا ممکن کرنا لازم آئے اور انتقائے حکمت اگرچہ اہل سنت کے نزدیك ممتنع بالذات مگر ان حضرات کے دین میں بالیقین ممکن کہ اخر سلب حکمت ایك عیب ہے ومنقصت ہے اور وہ تمام عیوب ونقائص کو ممکن مان چکا پھر کس منہ سے کہتاہے کہ منافات حکمت باعث امتناع بالغیر ہوئی الحمد الله اہل بدعت کے بارے میں اس طرح سنت باری تعالی ہے کہ انھیں کے کلام سے انھیں کے کلام پر حجت والزام قائم فرماتاہے ع
ومنھا علی بطلانھا لشواھد
(ان میں سے ان کے بطلان پر شواہد موجودہیں۔ ت)
سچ کہاہے :
دروغ گو راحافظہ بناشد
(جھوٹے شخص کا حافظہ نہیں ہوتا۔ ت)
تازیانہ ۳۰ : اقول : سبحان اﷲ! ہم یہ ثابت کررہے ہیں کہ امام الطائفہ نے امتناع بالغیر محض تقیۃمانا حقیقۃ اس کا مذہب جواز وقوعی ہے مگر غورکیجئے تو وہاں کچھ اور ہی گل کھلاہے امام وماموم خادم ومخدو سارا طائفہ ملوم کذب الہی کو داقع اور موجود گارہاہے صراحۃ کہتے ہیں کہ کذب مقدور اورفر بلاشبہہ مقدوریت کذب مقدوریت صدق کو مستلزم کما دللنا علیہ فی الدلیل السادس و العشرین(جیسا کہ اس پر ہم نے چھبیسویں دلیل میں اشارہ کیاہے۔ ت)اور امام الطائفہ نے توصاف بتادیا کہ بر عایت مصلحت صدق اختیار فرمایا اب کتب عقائد ملاحظہ کیجئے ہزار درہزار قاہر تصریحیں
تازیانہ ۲۹ : اقول : مناجات حکمت کے سبب کذب کو زبانی ممتنع بالغیر کہنا اس سفیہ کا صریح تناقص سے شے ممتنع بالغیر جب ہوسکتی ہے کہ کسی محال بالذات کی طرف منجر ہو ورنہ لزوم ممکن کا ممکن کونا ممکن کرنا لازم آئے اور انتقائے حکمت اگرچہ اہل سنت کے نزدیك ممتنع بالذات مگر ان حضرات کے دین میں بالیقین ممکن کہ اخر سلب حکمت ایك عیب ہے ومنقصت ہے اور وہ تمام عیوب ونقائص کو ممکن مان چکا پھر کس منہ سے کہتاہے کہ منافات حکمت باعث امتناع بالغیر ہوئی الحمد الله اہل بدعت کے بارے میں اس طرح سنت باری تعالی ہے کہ انھیں کے کلام سے انھیں کے کلام پر حجت والزام قائم فرماتاہے ع
ومنھا علی بطلانھا لشواھد
(ان میں سے ان کے بطلان پر شواہد موجودہیں۔ ت)
سچ کہاہے :
دروغ گو راحافظہ بناشد
(جھوٹے شخص کا حافظہ نہیں ہوتا۔ ت)
تازیانہ ۳۰ : اقول : سبحان اﷲ! ہم یہ ثابت کررہے ہیں کہ امام الطائفہ نے امتناع بالغیر محض تقیۃمانا حقیقۃ اس کا مذہب جواز وقوعی ہے مگر غورکیجئے تو وہاں کچھ اور ہی گل کھلاہے امام وماموم خادم ومخدو سارا طائفہ ملوم کذب الہی کو داقع اور موجود گارہاہے صراحۃ کہتے ہیں کہ کذب مقدور اورفر بلاشبہہ مقدوریت کذب مقدوریت صدق کو مستلزم کما دللنا علیہ فی الدلیل السادس و العشرین(جیسا کہ اس پر ہم نے چھبیسویں دلیل میں اشارہ کیاہے۔ ت)اور امام الطائفہ نے توصاف بتادیا کہ بر عایت مصلحت صدق اختیار فرمایا اب کتب عقائد ملاحظہ کیجئے ہزار درہزار قاہر تصریحیں
ملیں گے کہ جو کچھ باختیار صادر ہو قدیم نہیں تولاجرم صدق الہی حادث ٹھہرا اور ہر حادث ازل میں معدوم اور ازل کیلئے نہایت نہیں تو بالیقین لازم کہ ازل غیر متناہی میں مولی تعالی سچانہ رہا ہوا اور جب سچا نہ تھا تو معاذالله ضرور جھوٹا تھا للانفصال الحقیقی بینہما(کیونکہ ان دونوں کے درمیان انفصال حقیقی ہے۔ ت)پھر ضلال پلشت کا چہرہ زشت چھپانے کو کیوں کہتے ہو کہ کذب الہی ممکن ہے کیوں نہیں کہتے کہ خدایئے موہوم طائفہ ملوم کروڑوں برس تك جھوٹا رہ چکاہے پھر اب بھی اپنی پرانی آن پر آئے تو کیا ہے تعالی اﷲ عما یقولون علوا کبیرا(الله تعالی اس سے بہت بالا ہے جو یہ ظالم کہتے ہیں۔ ت)
تازیانہ ۳۱ : میں نے بارہا قصد کیا کہ تازیانوں میں دس بیس تیس پربس کروں مگر جب ان حضرت کی شوخیاں بھی مانیں وہاں تو
زفرق تابقدم ہر کجا کہ مے بنگرم کرشمہ دامن دل می کشد کہ جا ایں جاست
(سر کی مانگ سے لے کر قدم تك ہر جگہ پر نظر ڈالو دامن دل ہر جگہ کے بارے میں کہے گا جگہ یہی ہے۔ ت)
اسی رسالہ یکروزی میں عبارت مذکور ہ سے دو سطر اوپر جو نظر کروں تو وہاں تو خوب ہی سانچے میں ڈھلے ہیں یہاں عروس مذہب کے جمال مطلب پر پردہ تقیہ تھا وہاں حضرت بے نقاب چلے ہیں اعتراض تھا کہ اگر حضور سید علم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا مثل یعنی تمام اوصاف کمالیہ میں حضور کا شریك من حیث ھو شریك ممکن ہو تو خبر الہی کا کذب لازم آئے کہ وہ فرماتا ہے :
“ ولکن رسول اللہ و خاتم النبین “ ۔ لیکن الله کے رسول اور انبیاء کے آخری ہیں۔ (ت)
اور وصف خاتمیت میں شرکت ناممکن حضرت اس کا ایك جواب یوں دیتے ہیں :
بعداخیتار ممکن ست کہ ایشاں رافراموش گردانیدہ شود پس قول بامکان وجود مثل اصلا منتج بتکذیب نص ازنصوص نگردد وسلب قرآن مجید بوصف انزال ممکن ست داخل تحت قدرت الہیہ کما قال اﷲ تعالی
“ و لئن شئنا لنذہبن بالذی اوحینا الیک ثم لا تجد لک اختیار کے بعد یہ ممکن ہے کہ اس آیہ کریمہ کی بھول ہوجائے تو حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی مثل کے وجود کے امکان والی بات نصوص میں سے کسی نص کی تکذیب بالکل نہ ہوگی جبکہ نازل شدہ قرآن کا سلب ممکن ہے جو الله کی قدرت کے تحت داخل ہے جیساکہ الله تعالی نے فرمایا اگرہم چاہیں تو آپ کی طرف کی ہوئی وحی کو اٹھالیں پھر آپ ہمارے
تازیانہ ۳۱ : میں نے بارہا قصد کیا کہ تازیانوں میں دس بیس تیس پربس کروں مگر جب ان حضرت کی شوخیاں بھی مانیں وہاں تو
زفرق تابقدم ہر کجا کہ مے بنگرم کرشمہ دامن دل می کشد کہ جا ایں جاست
(سر کی مانگ سے لے کر قدم تك ہر جگہ پر نظر ڈالو دامن دل ہر جگہ کے بارے میں کہے گا جگہ یہی ہے۔ ت)
اسی رسالہ یکروزی میں عبارت مذکور ہ سے دو سطر اوپر جو نظر کروں تو وہاں تو خوب ہی سانچے میں ڈھلے ہیں یہاں عروس مذہب کے جمال مطلب پر پردہ تقیہ تھا وہاں حضرت بے نقاب چلے ہیں اعتراض تھا کہ اگر حضور سید علم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا مثل یعنی تمام اوصاف کمالیہ میں حضور کا شریك من حیث ھو شریك ممکن ہو تو خبر الہی کا کذب لازم آئے کہ وہ فرماتا ہے :
“ ولکن رسول اللہ و خاتم النبین “ ۔ لیکن الله کے رسول اور انبیاء کے آخری ہیں۔ (ت)
اور وصف خاتمیت میں شرکت ناممکن حضرت اس کا ایك جواب یوں دیتے ہیں :
بعداخیتار ممکن ست کہ ایشاں رافراموش گردانیدہ شود پس قول بامکان وجود مثل اصلا منتج بتکذیب نص ازنصوص نگردد وسلب قرآن مجید بوصف انزال ممکن ست داخل تحت قدرت الہیہ کما قال اﷲ تعالی
“ و لئن شئنا لنذہبن بالذی اوحینا الیک ثم لا تجد لک اختیار کے بعد یہ ممکن ہے کہ اس آیہ کریمہ کی بھول ہوجائے تو حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی مثل کے وجود کے امکان والی بات نصوص میں سے کسی نص کی تکذیب بالکل نہ ہوگی جبکہ نازل شدہ قرآن کا سلب ممکن ہے جو الله کی قدرت کے تحت داخل ہے جیساکہ الله تعالی نے فرمایا اگرہم چاہیں تو آپ کی طرف کی ہوئی وحی کو اٹھالیں پھر آپ ہمارے
حوالہ / References
القرآن الکریم ۳۳ /۴۰
بہ علینا وکیلا ﴿۸۶﴾ “ پاس کوئی وکالت کرنے والا نہ پاتے۔ (ت)
حاصل یہ کہ امکان کذب ماننا تکذیب قرآن کو اسی صورت میں مستلزم کہ آیات قرآن محفوظ رہیں حالانکہ ممکن کہ الله تعالی قرآن ہی کو فنا کردے پھر تکذیب کا ہے کی لازم آئے۔
اقول : ایھا المؤمنون! دیکھو صاف صریح مان لیا کہ خدا کی بات واقع میں جھوٹی ہوجائے تو ہوجائے اس میں کچھ حرج نہیں حرج تو اس میں ہے کہ بندے اسے جھوٹا جانیں یہ اسی تقدیر پر ہوگاکہ آیات باقی رہیں جن کے ذریعہ سے ہم جان لیں گے کہ خدا کی فلانی بات جھوٹی ہوئی اور جب قرآن ہی محو ہوگیا پھر جھوٹی پڑی تو کسی کوجھوٹ کی خبر بھی نہ ہوگی تکذیب کون کرے گا غرض سارا ڈر اس کا ہے کہ بندوں کے سامنے کہیں جھوٹا نہ پڑے واقع میں جھوٹا ہوجائے توکیا پروا انا ﷲ وانا الیہ راجعون (ہم الله کے مال ہیں اور ہم کو اسی کی طرف پھرنا ہے۔ ت)اے سفیہ ملوم! یہ تیرا خدائے موہوم ہوگا جو بندوں کے طعنوں سے ڈرکر جھوٹ سے بچنے اور ان سے چرا چھپا بہلا بھلا کر خوب پیٹ بھر کر بولے ہمارا سچا خدا بالذات ہر عیب ومنقصت سے پاك ہے کہ کذب وغیرہ کسی میں نقصان کو اس کے سرا پردہ عزت تك بار ممکن نہیں اور جو افعال اس کے ہیں حاشا وہ ان میں کسی نہیں ڈرتا “ و یفعل اللہ ما یشاء ﴿۲۷﴾ “ (الله جو چاہے کرے۔ ت) “ یحکم ما یرید ﴿۱﴾ “ (حکم فرماتاہے جو چاہے۔ ت) اس کی شان ہے اور “ لایسـل عما یفعل وہم یسـلون ﴿۲۳﴾ “ (ا س سے نہیں پوچھا جاتا جووہ کرے اوران سب سے سوال ہوگا۔ ت) اس کے جلال عظیم کا بیان “ و لہ الکبریاء فی السموت و الارض “ “ سبحنہ و تعلی عما یصفون ﴿۱۰۰﴾ “ (اور اس کے لئے بڑائی ہے آسمانوں اور زمین میں پاکی اور برتری ہے اس کو ان کی باتوں سے۔ ت)
تازیانہ ۳۲ : رب جلیل کوخلق کا خوف ماننا حضرت کا قدیمی مسلك ہے تقویت الایمان میں بھی بحث شفاعت میں فرماگئے : “ آئین بادشاہت کا خیال کرکے بے سبب درگزر نہیں کرتا کہ کہیں لوگوں کو
حاصل یہ کہ امکان کذب ماننا تکذیب قرآن کو اسی صورت میں مستلزم کہ آیات قرآن محفوظ رہیں حالانکہ ممکن کہ الله تعالی قرآن ہی کو فنا کردے پھر تکذیب کا ہے کی لازم آئے۔
اقول : ایھا المؤمنون! دیکھو صاف صریح مان لیا کہ خدا کی بات واقع میں جھوٹی ہوجائے تو ہوجائے اس میں کچھ حرج نہیں حرج تو اس میں ہے کہ بندے اسے جھوٹا جانیں یہ اسی تقدیر پر ہوگاکہ آیات باقی رہیں جن کے ذریعہ سے ہم جان لیں گے کہ خدا کی فلانی بات جھوٹی ہوئی اور جب قرآن ہی محو ہوگیا پھر جھوٹی پڑی تو کسی کوجھوٹ کی خبر بھی نہ ہوگی تکذیب کون کرے گا غرض سارا ڈر اس کا ہے کہ بندوں کے سامنے کہیں جھوٹا نہ پڑے واقع میں جھوٹا ہوجائے توکیا پروا انا ﷲ وانا الیہ راجعون (ہم الله کے مال ہیں اور ہم کو اسی کی طرف پھرنا ہے۔ ت)اے سفیہ ملوم! یہ تیرا خدائے موہوم ہوگا جو بندوں کے طعنوں سے ڈرکر جھوٹ سے بچنے اور ان سے چرا چھپا بہلا بھلا کر خوب پیٹ بھر کر بولے ہمارا سچا خدا بالذات ہر عیب ومنقصت سے پاك ہے کہ کذب وغیرہ کسی میں نقصان کو اس کے سرا پردہ عزت تك بار ممکن نہیں اور جو افعال اس کے ہیں حاشا وہ ان میں کسی نہیں ڈرتا “ و یفعل اللہ ما یشاء ﴿۲۷﴾ “ (الله جو چاہے کرے۔ ت) “ یحکم ما یرید ﴿۱﴾ “ (حکم فرماتاہے جو چاہے۔ ت) اس کی شان ہے اور “ لایسـل عما یفعل وہم یسـلون ﴿۲۳﴾ “ (ا س سے نہیں پوچھا جاتا جووہ کرے اوران سب سے سوال ہوگا۔ ت) اس کے جلال عظیم کا بیان “ و لہ الکبریاء فی السموت و الارض “ “ سبحنہ و تعلی عما یصفون ﴿۱۰۰﴾ “ (اور اس کے لئے بڑائی ہے آسمانوں اور زمین میں پاکی اور برتری ہے اس کو ان کی باتوں سے۔ ت)
تازیانہ ۳۲ : رب جلیل کوخلق کا خوف ماننا حضرت کا قدیمی مسلك ہے تقویت الایمان میں بھی بحث شفاعت میں فرماگئے : “ آئین بادشاہت کا خیال کرکے بے سبب درگزر نہیں کرتا کہ کہیں لوگوں کو
حوالہ / References
رسالہ یکروزہ(فارسی) شاہ محمد اسمعیل فاروقی کتب خانہ ملتان ص۱۷
القرآن الکریم ۱۴ /۲۷
القرآن الکریم ۵ /۱
القرآن الکریم ۲۱ /۲۳
القرآن الکریم ۴۵ /۳۷
القرآن الکریم ۶ /۱۰۰
القرآن الکریم ۱۴ /۲۷
القرآن الکریم ۵ /۱
القرآن الکریم ۲۱ /۲۳
القرآن الکریم ۴۵ /۳۷
القرآن الکریم ۶ /۱۰۰
دلوں میں اس آئین کی قدر گھٹ نہ جاوے “ العظمۃاﷲ! سفیہ جہول نے خدا کو بھی دارا وسکندر یاہمایوں و اکبر سمجھا ہے کہ اپنی مرضی پوری کرنے کولوگوں کے لحاط سے حیلے ڈھونڈ تاہے : الا “ بعدا للقوم الظلمین ﴿۴۴﴾ “ (دور ہوں بے انصاف لوگ۔ ت)
تازیانہ ۳۳ : قولہ “ سلب قرآن مجید بعد انزال ممکن ست “ (نزول قرآن مجیدکا سلب ممکن ہے۔ ت)
اقول : اے طرفہ معجون جملہ بدعات قرآن مجید الله عزوجل کی صفت قدیمہ ازلیہ ابدیہ ممتنع الزوال ہے نہ اس کا وجودالله عزوعلا کے ارادہ واختیار وخلق ایجاد سے نہ اس کا سلب واعدام الله تعالی کی قدرت میں ورنہ اپنی ذات کریم کو بھی سلب کرسکے مقتضائے ذات بے انتفائے ذات منتفی نہیں ہوسکتا۔
تازیانہ ۳۴ : قولہ کما قال اﷲ تعالی(اس کا قول : جیساکہ الله تعالی نے فرمایا ہے ت)
اقول : کیا خوب کہاں ذاہب کہاں مسلوب مگر آپ کو تحریف معنوی مرغوب
تنبیہ : ہیہات یہ گمان نہ کرنا کہ سلب سے مراد قلب سے زوال ہے اولا جس ضرورت سے اس طرف جائے وہ حضرت کے بالکل خلاف مذہب کہ یہ شخص صفات باری کو علانیہ مخلوق واختیاری مانتاہے جیساکہ علم الہی و صدق ربانی کے بارے میں اس کی تصریحیں ہم نے نقل کیں اور بیشك وہ چیزیں جو مخلوق ومقدور ہے اس کی ذات کا سلب بھی ممکن تو بر خلاف مسلك قائل تاویل قول غلط وباطل۔
ثانیا : ہم نے تنزیہ دوم میں بدلائل ثابت کردیا کہ صدق کواختیاری ماننے والا قطعا قرآن عظیم کو حادث مانتاہے اور بیشك ہر حادث قابل فنا پھر اس کے نزدیك فنائے قرآن یقینا جائز۔
ثالثا : خاص یہاں بھی حضرت کا مطلب ان کی جاہلانہ نظر میں جبھی نکلے گا کہ قرآن مجیدفی نفسہ معدوم ہوسکے کہ جب خبرہی نہ رہی تو کاذب کیا ہوگی ورنہ مجرد سہو ہوجانا ہر گز منافی نہیں ہوسکتا کما لایخفی فاعرف(جیساکہ مخفی نہیں پس اسے اچھی طرح جان لو۔ ت)
تازیانہ ۳۵ : اقول : بفرض محال اگر سلب قرآن ممکن بھی ہو تاہم جناب سفاہت مآب کا جواب عجاب قطعاناصواب معترض نے لزوم کذب سے استحالہ قائم کیا تھا نہ لزوم تکذیب سے اور بیشك اس تقدیر لزوم کذب سے اصلا مفر نہیں کہ خبر جب خلاف واقع ہو تو اس کا صفحہ عالم سے انعدام مانع کذب قائل نہ ہوگا۔ ماناکہ خبر معدوم ہوگئی اس کے بعد ا س کاخلاف واقع ہونا تو غایت یہ کہ ظہور کذب کا وقت نہ تھا
تازیانہ ۳۳ : قولہ “ سلب قرآن مجید بعد انزال ممکن ست “ (نزول قرآن مجیدکا سلب ممکن ہے۔ ت)
اقول : اے طرفہ معجون جملہ بدعات قرآن مجید الله عزوجل کی صفت قدیمہ ازلیہ ابدیہ ممتنع الزوال ہے نہ اس کا وجودالله عزوعلا کے ارادہ واختیار وخلق ایجاد سے نہ اس کا سلب واعدام الله تعالی کی قدرت میں ورنہ اپنی ذات کریم کو بھی سلب کرسکے مقتضائے ذات بے انتفائے ذات منتفی نہیں ہوسکتا۔
تازیانہ ۳۴ : قولہ کما قال اﷲ تعالی(اس کا قول : جیساکہ الله تعالی نے فرمایا ہے ت)
اقول : کیا خوب کہاں ذاہب کہاں مسلوب مگر آپ کو تحریف معنوی مرغوب
تنبیہ : ہیہات یہ گمان نہ کرنا کہ سلب سے مراد قلب سے زوال ہے اولا جس ضرورت سے اس طرف جائے وہ حضرت کے بالکل خلاف مذہب کہ یہ شخص صفات باری کو علانیہ مخلوق واختیاری مانتاہے جیساکہ علم الہی و صدق ربانی کے بارے میں اس کی تصریحیں ہم نے نقل کیں اور بیشك وہ چیزیں جو مخلوق ومقدور ہے اس کی ذات کا سلب بھی ممکن تو بر خلاف مسلك قائل تاویل قول غلط وباطل۔
ثانیا : ہم نے تنزیہ دوم میں بدلائل ثابت کردیا کہ صدق کواختیاری ماننے والا قطعا قرآن عظیم کو حادث مانتاہے اور بیشك ہر حادث قابل فنا پھر اس کے نزدیك فنائے قرآن یقینا جائز۔
ثالثا : خاص یہاں بھی حضرت کا مطلب ان کی جاہلانہ نظر میں جبھی نکلے گا کہ قرآن مجیدفی نفسہ معدوم ہوسکے کہ جب خبرہی نہ رہی تو کاذب کیا ہوگی ورنہ مجرد سہو ہوجانا ہر گز منافی نہیں ہوسکتا کما لایخفی فاعرف(جیساکہ مخفی نہیں پس اسے اچھی طرح جان لو۔ ت)
تازیانہ ۳۵ : اقول : بفرض محال اگر سلب قرآن ممکن بھی ہو تاہم جناب سفاہت مآب کا جواب عجاب قطعاناصواب معترض نے لزوم کذب سے استحالہ قائم کیا تھا نہ لزوم تکذیب سے اور بیشك اس تقدیر لزوم کذب سے اصلا مفر نہیں کہ خبر جب خلاف واقع ہو تو اس کا صفحہ عالم سے انعدام مانع کذب قائل نہ ہوگا۔ ماناکہ خبر معدوم ہوگئی اس کے بعد ا س کاخلاف واقع ہونا تو غایت یہ کہ ظہور کذب کا وقت نہ تھا
حوالہ / References
تقویۃ الایمان الفصل الثالث فی ذکر رد الاشراك فی التصرف مطبع علیمی لوہاری دروازہ لاہور ص۲۲
القرآن الکریم ۱۱ /۴۴
رسالہ یك روزہ(فارسی) شاہ محمد اسمعیل فاروقی کتب خانہ ملتان ص۱۷
القرآن الکریم ۱۱ /۴۴
رسالہ یك روزہ(فارسی) شاہ محمد اسمعیل فاروقی کتب خانہ ملتان ص۱۷
کہ کذب اس وقت اسے عارض ہوتاہے جس کے لئے وجود معروض درکارتھا وہ جس وقت موجود تھی اسی وقت بوجہ مخالفت واقع کاذب تھی گو ظہور کذب بعدکی ہو یا کبھی نہ ہو اب انسان ہی میں دیکھئے اس کا کلام کہ عرض ہے اور عرض علمائے عــــــہ متکلمین کے نزدیك صالح بقا نہیں فورا موجود ہوتے ہی معدوم ہوجاتاہے باایں ہمہ جب اس کا خلاف واقع ہوتا کہتے ہیں کہ فلاں کی بات جھوٹی تھی غرض اس نفیس جواب ملائے عجاب اور ان دوہذیان تباہ وخراب کی قدران کے مثل مجانین ہی جانتے ہوں گے یا معاذالله عفوالہی بشرط صلاحیت کام نہی فرمائے تواس کی سچی قدر اس دن کھلیے گی “ یوم یقوم الناس لرب العلمین ﴿۶﴾ “
(جس دن سب لوگ رب لعالمین کے حضور کھڑے ہوں گے۔ ت)
الحمد للہ! یہ حضرت کی چند سطری تحریر پر بالفعل پنتیس کوڑے ہیں اور پانچ ہذیان اول پر گزرے تو پورے چالیس تازیانے ہوئے واقعی معلم طائفہ نے بغلامی معلم الملکوت ہمارے مولی پر کذب وعیوب کا افترائے ممقوت کیا اور شرعی میں افتراء کی سزا اسی کوڑے مگر غلام کے حق میں آدھی “ فعلیہن نصف ما علی المحصنت من العذاب “ (تو ان پر اس کی سزا آدھی جو آزاد عورتوں پر ہے۔ ت)تو چالیس کوڑے نہایت بجا واقع ہوئے الله عزوجل سے آرزو کہ قبول فرمائے اور ان تازیانون کو متبوع کے حق میں نکال وعقوبت تابع کےلئے ہدایت وعبرت اہل سنت کے واسطے قوت واستقامت بنائے آمین یا ارحم الراحمین! بیشك ہماری طرف کے علماء “ شکر الله مساعیہم الجمیلۃ “ نے حضرت کے ہذیان دوم کی بھی ضرور دھجیاں لی ہوں گی مگر اس وقت تك فقیرکی نظر سے اس بارے میں کوئی تحریر نہ گزریك جو کچھ حاضر کیا بحمدالله القائے ربانی ہے کہ عبد ضعیف پر فیض لطیف سے فائض ہوا امید کرتاہوں کہ ان شاء الله العزیز اس بسلط جلیل ووجہ جمیل پر نقدجزیل حصہ خاص فقیرذلیل ہے۔
عــــــہ : بلکہ مذہب بقا پر بھی مدعا حاصل لفظی غیر قار کاانعدام تو ظاہر اور نفسی نسبت مخلوط بالارادہ ملحوظ بقصد الافادہ کانام ہے پر ظاہر کہ ارادہ افادہ ادائم نہیں اور جو کچھ بعدکو محفوظ رہے صورت علمیہ ہے نہ کلام نفسی معہذا بحالت نسیان وہ بھی زائل علاوہ بریں روح انسانی اگرچہ اہل سنت کے نزدیك فنا نہ ہو گی مگر قطعا ممکن الانعدام اس کے ساتھ اس کے سب صفات معدوم ہوسکتے ہیں ۱۲ منہ رضی اﷲ تعالی عنہ
(جس دن سب لوگ رب لعالمین کے حضور کھڑے ہوں گے۔ ت)
الحمد للہ! یہ حضرت کی چند سطری تحریر پر بالفعل پنتیس کوڑے ہیں اور پانچ ہذیان اول پر گزرے تو پورے چالیس تازیانے ہوئے واقعی معلم طائفہ نے بغلامی معلم الملکوت ہمارے مولی پر کذب وعیوب کا افترائے ممقوت کیا اور شرعی میں افتراء کی سزا اسی کوڑے مگر غلام کے حق میں آدھی “ فعلیہن نصف ما علی المحصنت من العذاب “ (تو ان پر اس کی سزا آدھی جو آزاد عورتوں پر ہے۔ ت)تو چالیس کوڑے نہایت بجا واقع ہوئے الله عزوجل سے آرزو کہ قبول فرمائے اور ان تازیانون کو متبوع کے حق میں نکال وعقوبت تابع کےلئے ہدایت وعبرت اہل سنت کے واسطے قوت واستقامت بنائے آمین یا ارحم الراحمین! بیشك ہماری طرف کے علماء “ شکر الله مساعیہم الجمیلۃ “ نے حضرت کے ہذیان دوم کی بھی ضرور دھجیاں لی ہوں گی مگر اس وقت تك فقیرکی نظر سے اس بارے میں کوئی تحریر نہ گزریك جو کچھ حاضر کیا بحمدالله القائے ربانی ہے کہ عبد ضعیف پر فیض لطیف سے فائض ہوا امید کرتاہوں کہ ان شاء الله العزیز اس بسلط جلیل ووجہ جمیل پر نقدجزیل حصہ خاص فقیرذلیل ہے۔
عــــــہ : بلکہ مذہب بقا پر بھی مدعا حاصل لفظی غیر قار کاانعدام تو ظاہر اور نفسی نسبت مخلوط بالارادہ ملحوظ بقصد الافادہ کانام ہے پر ظاہر کہ ارادہ افادہ ادائم نہیں اور جو کچھ بعدکو محفوظ رہے صورت علمیہ ہے نہ کلام نفسی معہذا بحالت نسیان وہ بھی زائل علاوہ بریں روح انسانی اگرچہ اہل سنت کے نزدیك فنا نہ ہو گی مگر قطعا ممکن الانعدام اس کے ساتھ اس کے سب صفات معدوم ہوسکتے ہیں ۱۲ منہ رضی اﷲ تعالی عنہ
فللہ المنۃ فی کل ان وحین والحمد ﷲ رب العالمین والصلوۃ والسلام علی سید المرسلین محمد والہ و صحبہ اجمعین۔ آمین! ہر وقت وہر گھڑی الله تعالی کی ہی حمد ہے اور حمد ہے تمام جہانوں کے پروردگار کی صلوۃ والسلام رسولوں کے سردار محمد صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم پر اور آپ کے آل واصحاب تمام پر آمین!(ت)
تنزیہ چہارم عــــــہ علاج جہالات جدیدہ میں
اقول : وبحول اﷲ اصول ایھا المسلمون(میں اﷲ کی توفیق سے کہتاہوں اے اہل ایمان سلام! ت)امکان کذب الہی کو خلف وعید کی فرع جاننا اوراس میں اختلاف ائمہ کو وجہ سے امکان کذب کو مختلف فیہ ماننا ایك تو افتراء دوسرے کتنا بے مزہ۔ بیشك مسئلہ خلف وعید میں بعض علماء جانب جواز گئے اور محققین نے منع وانکار فرمایا مگر حاشانہ اس سے امکان کذب ثابت نہ یہ علمائے مجوزین کا مسلك بلکہ وہ اس سے بہزار رزبان تبری وتحاشی کرتے ہیں پھر ان کی طرف امکان کذب کی نسبت سخت کذب وستم جسارت جس کے بہتان واضح البطلان ہونے پر حج قاہرہ قائم
حجت اولی : یہی نصوص قاطعہ کہ تنزیہ اول میں گزرے جن سے واضح کہ کذب باری محال ہونے پر اجماع قطعی منعقد تمام کتب کلامیہ میں جہاں اس مسئلے کا ذکر آیا ہے صاف تصریح فرمادی کہ اس پر اجماع و اتفاق علماء ہے یا بے حکایت خلاف اس پر جزم کیا فرمایا ہے۔
حجت ثانیہ : اقول : طرفہ یہ کہ جو علماء مسئلہ خلف وعید میں خلاف بتاتے ہیں وہی استحالہ کذب پر اجماع نقل فرماتے ہیں جس شرح مقاصد میں ہے :
ان المتاخرین منھم یجوزون الخلف فی الوعید ۔ ان میں کےمتاخرین خلف وعید جائز مانتے ہیں۔
اسی شرح مقاصد میں ہے :
عــــــہ : تنبیہ ضروری : خوب یاد رہے کہ اس ساری تنزیہ اور اس کے مناسب تمام مواضع رسالہ میں ہمارا روئے سخن ان ناقصوں خاسروں کی طرف نہیں جنھیں عروسان منصہ امامت طائفہ نے اپنے بھولے چہروں کانقاب بنایا ہوبلکہ صرف مخاطبہ ان نئے متبدعوں تازہ مقتداؤں سے ہے جو کتاب پر تفریظ لکھیں اور اس کے حرف بحرف صحیح ومسلم ہونے کی تصریح کریں والسلام ۱۲ منہ
تنزیہ چہارم عــــــہ علاج جہالات جدیدہ میں
اقول : وبحول اﷲ اصول ایھا المسلمون(میں اﷲ کی توفیق سے کہتاہوں اے اہل ایمان سلام! ت)امکان کذب الہی کو خلف وعید کی فرع جاننا اوراس میں اختلاف ائمہ کو وجہ سے امکان کذب کو مختلف فیہ ماننا ایك تو افتراء دوسرے کتنا بے مزہ۔ بیشك مسئلہ خلف وعید میں بعض علماء جانب جواز گئے اور محققین نے منع وانکار فرمایا مگر حاشانہ اس سے امکان کذب ثابت نہ یہ علمائے مجوزین کا مسلك بلکہ وہ اس سے بہزار رزبان تبری وتحاشی کرتے ہیں پھر ان کی طرف امکان کذب کی نسبت سخت کذب وستم جسارت جس کے بہتان واضح البطلان ہونے پر حج قاہرہ قائم
حجت اولی : یہی نصوص قاطعہ کہ تنزیہ اول میں گزرے جن سے واضح کہ کذب باری محال ہونے پر اجماع قطعی منعقد تمام کتب کلامیہ میں جہاں اس مسئلے کا ذکر آیا ہے صاف تصریح فرمادی کہ اس پر اجماع و اتفاق علماء ہے یا بے حکایت خلاف اس پر جزم کیا فرمایا ہے۔
حجت ثانیہ : اقول : طرفہ یہ کہ جو علماء مسئلہ خلف وعید میں خلاف بتاتے ہیں وہی استحالہ کذب پر اجماع نقل فرماتے ہیں جس شرح مقاصد میں ہے :
ان المتاخرین منھم یجوزون الخلف فی الوعید ۔ ان میں کےمتاخرین خلف وعید جائز مانتے ہیں۔
اسی شرح مقاصد میں ہے :
عــــــہ : تنبیہ ضروری : خوب یاد رہے کہ اس ساری تنزیہ اور اس کے مناسب تمام مواضع رسالہ میں ہمارا روئے سخن ان ناقصوں خاسروں کی طرف نہیں جنھیں عروسان منصہ امامت طائفہ نے اپنے بھولے چہروں کانقاب بنایا ہوبلکہ صرف مخاطبہ ان نئے متبدعوں تازہ مقتداؤں سے ہے جو کتاب پر تفریظ لکھیں اور اس کے حرف بحرف صحیح ومسلم ہونے کی تصریح کریں والسلام ۱۲ منہ
حوالہ / References
شرح المقاصد المبحث الثانی اتفقت الائمۃ علی العفو عن الصغار دارالمعارف النعمانیہ لاہور ۲ / ۲۳۷
الکذب وھو محال باجماع العلماء لان الکذب نقص باتفاق العقلاء وھو علی اﷲ علی مح ۔ کذب الہی باجماع علماء محال ہے کہ وہ باتفاق عقلاء عیب ہے اور عیب اس پاك بے عیب پر قطعا محال۔
مگر علماء کو خبر نہ تھی کہ امکان کذب جواز خلف وعید پر متفرع تو ہم اسے مختلف فیہ لکھ کر کیونکر اجماع بتائے دیتے ہیں اب چودھویں صدی میں آکر ان حضرات کو اس تفریع کی خبر ہوئی
حجت ثالثہ : اقول : طرفہ تریہ کہ جو علماء خلف وعید کا جواز مانتے ہیں خود ہی کذب الہی کو محال و اجماعی جانتے ہیں جس مواقف میں ہے :
لایعد الخلف فی الوعید نقصا ۔ خلف وعید تنقص نہیں گنا جاتا۔
اسی مواقف میں ہے :
انہ تعالی یمتنع علیہ الکذب اتفاقا ۔ کذب باری بالاتفاق محال ہے۔
جس شرح طوالع میں ہے :
الخلف فی الوعید حسن ۔ وعید میں خلف حسن ہے۔
اسی میں ہے :
الکذب علی اﷲ تعالی محال ۔ الله تعالی کا کذب محال ہے۔
جن علامہ جلال دوانی نے شرح عقائد میں لکھا :
ذھب بعض العلماء الی ان الخلف فی الوعید جائز علی اﷲ تعالی لافی الوعد وبھذا وردت السنۃ ۔ بعض علماء اس طرف گئے کہ وعید میں خلف الله تعالی پر جائز ہے نہ وعدہ میں اور یہی مضمون حدیث میں آیا۔
مگر علماء کو خبر نہ تھی کہ امکان کذب جواز خلف وعید پر متفرع تو ہم اسے مختلف فیہ لکھ کر کیونکر اجماع بتائے دیتے ہیں اب چودھویں صدی میں آکر ان حضرات کو اس تفریع کی خبر ہوئی
حجت ثالثہ : اقول : طرفہ تریہ کہ جو علماء خلف وعید کا جواز مانتے ہیں خود ہی کذب الہی کو محال و اجماعی جانتے ہیں جس مواقف میں ہے :
لایعد الخلف فی الوعید نقصا ۔ خلف وعید تنقص نہیں گنا جاتا۔
اسی مواقف میں ہے :
انہ تعالی یمتنع علیہ الکذب اتفاقا ۔ کذب باری بالاتفاق محال ہے۔
جس شرح طوالع میں ہے :
الخلف فی الوعید حسن ۔ وعید میں خلف حسن ہے۔
اسی میں ہے :
الکذب علی اﷲ تعالی محال ۔ الله تعالی کا کذب محال ہے۔
جن علامہ جلال دوانی نے شرح عقائد میں لکھا :
ذھب بعض العلماء الی ان الخلف فی الوعید جائز علی اﷲ تعالی لافی الوعد وبھذا وردت السنۃ ۔ بعض علماء اس طرف گئے کہ وعید میں خلف الله تعالی پر جائز ہے نہ وعدہ میں اور یہی مضمون حدیث میں آیا۔
حوالہ / References
شرح المقاصد المبحث السادس فی انہ تعالٰی متکلم دارالمعارف النعمانیہ لاہور ۲ / ۱۰۴
شرح المواقف المقصد السادس فی تقریر اصحابنا منشورات الشریف الرضی قم ایران ۸ / ۳۰۷
شرح المواقف المقصد السابع فی انہ تعالٰی متکلم منشورات الشریف الرضی قم ایران ۸ / ۱۰۰
شرح طوالع الانوار
شرح طوالع الانوار
الدوانی علی العضدیہ مطبع مجتبائی دہلی ص۷۴
شرح المواقف المقصد السادس فی تقریر اصحابنا منشورات الشریف الرضی قم ایران ۸ / ۳۰۷
شرح المواقف المقصد السابع فی انہ تعالٰی متکلم منشورات الشریف الرضی قم ایران ۸ / ۱۰۰
شرح طوالع الانوار
شرح طوالع الانوار
الدوانی علی العضدیہ مطبع مجتبائی دہلی ص۷۴
پھر بعد ذکر حدیث اسے عرف وکلام سے مؤید کیا کما نقلہ افندی اسما عیل حقی فی روح البیان(جیسا کہ امام اسماعیل حقی آفندی نے روح البیان میں اسے نقل کیا ہے۔ ت)وہی علامہ جلال فرماچکے :
الکذب علیہ تعالی محال لاتشتملہ القدرۃ ۔ الله تعالی کا کذب محال ہےقدرت الہی میں داخل نہیں۔
مگریہ علماء خود اپنا لکھا نہ سمجھے تھے کہ باہم متلازم چیزوں میں ایك کاجواز دوسرے کا استحالہ کیونکر مان لیتے اور اپنے کلام سے آپ ہی تناقص کرتے ہیں۔ اب صدہا سال کے بعد ان حضرات کو کشف ہوا کہ مذہب کے معنی وہ تھے جو خود اہل مذہب کی فہم نہ تھے۔
حجت رابعہ : اقول : افسوس ان ذی ہوشوں نے انتاہی دیکھا کہ علماء مسلك جواز کا محصل و مبنی کیا ٹھہراتے اور اس تفریع شنیع یعنی امکان کذب کو کیوں کر طرح طرح سے دفع فرماتے ہیں یہاں ان سے بعض وجوہ نقل کرتاہوں :
وجہ ۱ : وعید سے مقصود انشائے تخویف وتہدید ہے نہ اخبار تو سرے سے احتمال کذب کا محل ہی نہ رہا مسلم الثبوت اوراس کی شرح فواتح الرحموت میں ہے :
الخلف فی الوعید جائز فان اھل العقول السلیمۃ یعد ونہ فضلاء لانقصا دون الوعد فان الخلف فیہ نقص مستحیل علیہ سبحانہ وردبان ایعاد اﷲ تعالی خبر فھو صادق قطعا لاستحالہ الکذب ھناک و اعتذر بان کونہ خبرا ممنو ع بل ھو انشاء للتخویف فلا باس ح فی الخلف ۔ (ملخصا) یعنی وعید میں خلف جائز ہے کہ سلیم عقلیں اسے خوبی گنتی ہیں نہ عیب اور وعدہ میں جائز نہیں کہ اس میں خلف عیب ہے اور عیب الله عزوجل پر محال اس پر اعتراض ہو ا کہ الله تعالی کی وعید بھی ایك خبر ہے تو یقینا سچی باری جل وعلا کا کذب محال اور عذر کیا گیا کہ ہم اسے خبر نہیں مانتے بلکہ انشائے تخویف ہے تو اب خلف میں حرج نہیں۔ (ملخصا)
دیکھو! خلف وعید جائز ماننے والوں سے استحالہ کذب الہی کا صراحۃ اقرار اور اس کے امکان سے بہزار زبان اجتناب وانکار کیا اور اپنے مذہب کی وہ توجیہ فرمائی جس نے اس احتمال باطل کی گنجائش ہی نہ رکھی پھر معاذالله امکان کذب ماننے کو ان کے سر باندھنا کیسی وقاحت وشوخ چشمی ہے۔
الکذب علیہ تعالی محال لاتشتملہ القدرۃ ۔ الله تعالی کا کذب محال ہےقدرت الہی میں داخل نہیں۔
مگریہ علماء خود اپنا لکھا نہ سمجھے تھے کہ باہم متلازم چیزوں میں ایك کاجواز دوسرے کا استحالہ کیونکر مان لیتے اور اپنے کلام سے آپ ہی تناقص کرتے ہیں۔ اب صدہا سال کے بعد ان حضرات کو کشف ہوا کہ مذہب کے معنی وہ تھے جو خود اہل مذہب کی فہم نہ تھے۔
حجت رابعہ : اقول : افسوس ان ذی ہوشوں نے انتاہی دیکھا کہ علماء مسلك جواز کا محصل و مبنی کیا ٹھہراتے اور اس تفریع شنیع یعنی امکان کذب کو کیوں کر طرح طرح سے دفع فرماتے ہیں یہاں ان سے بعض وجوہ نقل کرتاہوں :
وجہ ۱ : وعید سے مقصود انشائے تخویف وتہدید ہے نہ اخبار تو سرے سے احتمال کذب کا محل ہی نہ رہا مسلم الثبوت اوراس کی شرح فواتح الرحموت میں ہے :
الخلف فی الوعید جائز فان اھل العقول السلیمۃ یعد ونہ فضلاء لانقصا دون الوعد فان الخلف فیہ نقص مستحیل علیہ سبحانہ وردبان ایعاد اﷲ تعالی خبر فھو صادق قطعا لاستحالہ الکذب ھناک و اعتذر بان کونہ خبرا ممنو ع بل ھو انشاء للتخویف فلا باس ح فی الخلف ۔ (ملخصا) یعنی وعید میں خلف جائز ہے کہ سلیم عقلیں اسے خوبی گنتی ہیں نہ عیب اور وعدہ میں جائز نہیں کہ اس میں خلف عیب ہے اور عیب الله عزوجل پر محال اس پر اعتراض ہو ا کہ الله تعالی کی وعید بھی ایك خبر ہے تو یقینا سچی باری جل وعلا کا کذب محال اور عذر کیا گیا کہ ہم اسے خبر نہیں مانتے بلکہ انشائے تخویف ہے تو اب خلف میں حرج نہیں۔ (ملخصا)
دیکھو! خلف وعید جائز ماننے والوں سے استحالہ کذب الہی کا صراحۃ اقرار اور اس کے امکان سے بہزار زبان اجتناب وانکار کیا اور اپنے مذہب کی وہ توجیہ فرمائی جس نے اس احتمال باطل کی گنجائش ہی نہ رکھی پھر معاذالله امکان کذب ماننے کو ان کے سر باندھنا کیسی وقاحت وشوخ چشمی ہے۔
حوالہ / References
الدوانی علی العضدیۃ مطبع مجتبائی دہلی ص۷۳
فواتح الرحموت بذیل المستصفی الباب الثانی فی الحکم منشورات الرشریف قم ایران ۱ / ۶۲
فواتح الرحموت بذیل المستصفی الباب الثانی فی الحکم منشورات الرشریف قم ایران ۱ / ۶۲
وجہ ۲ : فرماتے ہیں آیات عفو سے مخصوص ومقید ہیں یعنی عفو و وعید دونوں میں وارد تو ان کے ملانے سے آیات وعید کے یہ معنی ٹھہرے کہ جنھیں معاف نہ فرمائے گا وہ سزا پائیں گے جب یہ معنی خود قرآن عظیم ہی نے ارشاد فرمائے تو جو از خلف کو معاذ الله امکان کذب سے کیا علاقہ رہا امکان کذب تو جب نکلتا کہ جزما حتما وعید فرمائی جاتی اور جب خود متکلم جل وعلا نے اسے مقید بعدم عفو فرمادیا ہے تو چاہے وعید واقع ہو یا نہ ہو ہرطرح اس کا کلام یقینا صادق جس میں احتمال کذ ب کو اصلا دخل نہیں یہ وجہ اکثر کتب علماء مثل تفسیر بیضاوی انوار التنزیل وتفسیر عمادی ارشاد العقل السلیم وتفسیر حقی روح البیان وشرح مقاصد وغیرہا میں اختیارفرمائی لطف یہ ہے کہ خود ہی ردالمحتار جس سے مدعی جدید غیر مہتدی و رشید نے مسئلہ خلف میں خلاف نقل کیا اسی ردالمحتار میں اسی جگہ اسی قول جواز کے بیان میں فرمایا :
حاصل ھذا القول جواز التخصیص لما دل علیہ اللفظ بوضعہ اللغوی من العموم فی نصوص الوعید ۔ اس قول کا حاصل یہ ہے کہ نصوص وعید میں جو ظاہر لفظ اپنے معنی لغوی کی رو سے عموم پر دلالت کرتا ہے کہ جوشخص ایسا کرے گا یہ سزا پائے گا اس میں تخصیص جائز ہے۔
یعنی عام مراد نہ ہو بلکہ ان لوگوں کے ساتھ خاص ہو جنھیں مولی تعالی عذاب فرمانا چاہے ایمان سے کہنا اسی ردالمحتار میں یہیں یہیں یہ تصریح تو نہ تھی جس نے اس تفریع خبیث وقبیح کی صاف بیخ کنی کردی آج تك کسی عاقل نے عام مخصوص منہ البعض کو کذب کہا ہے ایسے عام تو قرآن عظیم میں اس وقت بکثرت موجود پھرامکان کذب کیوں مانو! صاف نہ کہہ دو کہ قرآن مجید میں(خاك بدہن گستاخان)جابجا کذب موجود ہے واہ شاباش!ردالمحتار کی عبارت سے اچھااسناد کیا کہ آدھی نقل اور آدھی عقل پھر بھی دعوی رشد ودیانت باقی ہے ذرا آدمی سے تو حیا کرے والاحول ولاقوۃ الا باﷲ العلی العظیم۔
وجہ ۳ : اگر بالفرض کوئی نص مفید تخصیص وعید نہ بھی آتا تاہم کریم کی شان یہی ہے کہ غیر متمرد غلاموں کے حق میں وعید بنظر تہدید فرمائے اور اس سے یہی مراد لے کہ اگر ہم معاف نہ فرمائیں تو یہ سزا ہے خلاصہ یہ کہ قرینہ کرم تخصیص وتقید وعید کے لئے بس ہے اگرچہ مخصص قولی نہ ہو۔
اقول وبہ یحصل قران المخصص بالمخصص بخلاف ماسبق فھو خاص بمذہب میں کہتاہوں اس سے مخصص کاقرینہ حاصل ہوگیا بخلاف ما سبق کے وہ صرف اس شخص کے مذہب کے
حاصل ھذا القول جواز التخصیص لما دل علیہ اللفظ بوضعہ اللغوی من العموم فی نصوص الوعید ۔ اس قول کا حاصل یہ ہے کہ نصوص وعید میں جو ظاہر لفظ اپنے معنی لغوی کی رو سے عموم پر دلالت کرتا ہے کہ جوشخص ایسا کرے گا یہ سزا پائے گا اس میں تخصیص جائز ہے۔
یعنی عام مراد نہ ہو بلکہ ان لوگوں کے ساتھ خاص ہو جنھیں مولی تعالی عذاب فرمانا چاہے ایمان سے کہنا اسی ردالمحتار میں یہیں یہیں یہ تصریح تو نہ تھی جس نے اس تفریع خبیث وقبیح کی صاف بیخ کنی کردی آج تك کسی عاقل نے عام مخصوص منہ البعض کو کذب کہا ہے ایسے عام تو قرآن عظیم میں اس وقت بکثرت موجود پھرامکان کذب کیوں مانو! صاف نہ کہہ دو کہ قرآن مجید میں(خاك بدہن گستاخان)جابجا کذب موجود ہے واہ شاباش!ردالمحتار کی عبارت سے اچھااسناد کیا کہ آدھی نقل اور آدھی عقل پھر بھی دعوی رشد ودیانت باقی ہے ذرا آدمی سے تو حیا کرے والاحول ولاقوۃ الا باﷲ العلی العظیم۔
وجہ ۳ : اگر بالفرض کوئی نص مفید تخصیص وعید نہ بھی آتا تاہم کریم کی شان یہی ہے کہ غیر متمرد غلاموں کے حق میں وعید بنظر تہدید فرمائے اور اس سے یہی مراد لے کہ اگر ہم معاف نہ فرمائیں تو یہ سزا ہے خلاصہ یہ کہ قرینہ کرم تخصیص وتقید وعید کے لئے بس ہے اگرچہ مخصص قولی نہ ہو۔
اقول وبہ یحصل قران المخصص بالمخصص بخلاف ماسبق فھو خاص بمذہب میں کہتاہوں اس سے مخصص کاقرینہ حاصل ہوگیا بخلاف ما سبق کے وہ صرف اس شخص کے مذہب کے
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الصلٰوۃ مطلب فی خلف الوعید وحکم الدعاء بالمغفرۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۳۵۱
من یجیز التراخی والانفصال وھذا جار علی مذہب الکل۔ موافق ہے جس نے تراخی وانفصال کو جائز رکھا ہے اور یہ تمام مذہب پر جاری ہے۔ (ت)
یہ وجہ وجیہ فقیر غفرالله تعالی کے خیال میں آئی تھی یہاں تك کہ علامہ خیالی رحمہ الله تعالی کو دیکھا کہ حاشیہ شرح عقائد میں اس کی تصریح فرمائی :
حیث قال لعل مرادھم ان الکریم اذا اخبر بالوعید فاللائق بشانہ ان یبنی اخبارہ علی المشیۃ وان لم یصرح بذلك بخلاف الوعد فلا کذب ولاتبدیل ۔ یعنی امید ہے کہ خلف وعید جائز ماننے والے یہ مراد لیتے ہیں کہ کریم جب وعید کی خبر دے تو اس کی شان کے لائق یہی ہے کہ اپنی خبر کو مشیت پر مبنی رکھے اگرچہ کلام میں اس کی تصریح نہ فرمائے بخلاف وعدہ کے تو خلف وعید میں نہ کذب ہے نہ بات بدلنا۔
مسلمانو! دیکھا کہ خلف وعید جائز ماننے والے اس تفریع ناپاك سے جو مدعی بیباك نے گھڑی کس قدر دور بھاگتے اور کس کس وجہ سے اسے علانیہ رد کرتے ہیں پھر اپنی جھوٹی بات بنانے کے لئے ناکردہ گناہ ان کے سر ایسا الزام شدید باندھنا کس درجہ جرأت وبے حیائی ہے قال اﷲ سبحانہ وتعالی :
“ ومن یکسب خطیىـۃ او اثما ثم یرم بہ بریــا فقد احتمل بہتنا و اثما مبینا ﴿۱۱۲﴾ “ ۔ او رجو کوئی خطا یا گناہ کمائے پھر اسے کسی بے گناہ پر تھوپ دے اس نے ضرور بہتان اور کھلا گناہ اٹھایا۔ (ت)
حجت خامسہ : اقول : مجوزین خلف وعید اپنے مذہب پر بڑی دلیل پیش کرتے ہیں کہ باری عزاسمہ نے فرمایا :
“ ان اللہ لا یغفر ان یشرک بہ ویغفر ما دون ذلک لمن یشاء “ بیشك الله تعالی کفر کو معاف نہیں فرماتا اور کفر سے نیچے جنتے گناہ ہیں جسے چاہے گا بخش دے گا۔
اسی ردالمحتار میں اسی مقام پر اسی مسئلہ کے بیان میں آپ کی منقولہ عبارت سے چارہی سطر بعد فرمایا :
ادلۃ المثبتین التی من انصہا قولہ تعالی اثبات کرنیوالوں کی مضبوط ترین دلیل الله تعالی کا یہ فرمان ہے
یہ وجہ وجیہ فقیر غفرالله تعالی کے خیال میں آئی تھی یہاں تك کہ علامہ خیالی رحمہ الله تعالی کو دیکھا کہ حاشیہ شرح عقائد میں اس کی تصریح فرمائی :
حیث قال لعل مرادھم ان الکریم اذا اخبر بالوعید فاللائق بشانہ ان یبنی اخبارہ علی المشیۃ وان لم یصرح بذلك بخلاف الوعد فلا کذب ولاتبدیل ۔ یعنی امید ہے کہ خلف وعید جائز ماننے والے یہ مراد لیتے ہیں کہ کریم جب وعید کی خبر دے تو اس کی شان کے لائق یہی ہے کہ اپنی خبر کو مشیت پر مبنی رکھے اگرچہ کلام میں اس کی تصریح نہ فرمائے بخلاف وعدہ کے تو خلف وعید میں نہ کذب ہے نہ بات بدلنا۔
مسلمانو! دیکھا کہ خلف وعید جائز ماننے والے اس تفریع ناپاك سے جو مدعی بیباك نے گھڑی کس قدر دور بھاگتے اور کس کس وجہ سے اسے علانیہ رد کرتے ہیں پھر اپنی جھوٹی بات بنانے کے لئے ناکردہ گناہ ان کے سر ایسا الزام شدید باندھنا کس درجہ جرأت وبے حیائی ہے قال اﷲ سبحانہ وتعالی :
“ ومن یکسب خطیىـۃ او اثما ثم یرم بہ بریــا فقد احتمل بہتنا و اثما مبینا ﴿۱۱۲﴾ “ ۔ او رجو کوئی خطا یا گناہ کمائے پھر اسے کسی بے گناہ پر تھوپ دے اس نے ضرور بہتان اور کھلا گناہ اٹھایا۔ (ت)
حجت خامسہ : اقول : مجوزین خلف وعید اپنے مذہب پر بڑی دلیل پیش کرتے ہیں کہ باری عزاسمہ نے فرمایا :
“ ان اللہ لا یغفر ان یشرک بہ ویغفر ما دون ذلک لمن یشاء “ بیشك الله تعالی کفر کو معاف نہیں فرماتا اور کفر سے نیچے جنتے گناہ ہیں جسے چاہے گا بخش دے گا۔
اسی ردالمحتار میں اسی مقام پر اسی مسئلہ کے بیان میں آپ کی منقولہ عبارت سے چارہی سطر بعد فرمایا :
ادلۃ المثبتین التی من انصہا قولہ تعالی اثبات کرنیوالوں کی مضبوط ترین دلیل الله تعالی کا یہ فرمان ہے
حوالہ / References
حاشیہ الخیال علی شرح العقائد النسفیہ مطبع اصح المطابع بمبئی(انڈیا) ص ۱۲۱
القرآن الکریم ۴ /۱۱۲
القرآن الکریم ۴ /۱۱۶
القرآن الکریم ۴ /۱۱۲
القرآن الکریم ۴ /۱۱۶
“ ان اللہ لا یغفر ان یشرک بہ ویغفر ما دون ذلک ۔ بیشك الله تعالی کفر کو معاف نہیں فرماتا اور کفر سے نیچے جنتے گناہ ہیں جسے چاہے گا بخش دے گا۔ (ت)
یوں ہی اس کی ماخذ حلیہ شرح منیہ میں امام محقق ابن امیر الحاج میں ہے اور پر ظاہر کہ دعوی دلیل پر متفرع اور اس کے مفاد کا تابع ہوتاہے سبحان الله ! جب جواز خلف خو د ارشاد متکلم بالوعید جل مجدہ کی طرف مستند کہ اس نے فرمادیا “ ہم جسے چاہیں گے بخش دیں گے “ تو دلیل امکان کذب کو اصلا راہ نہیں دیتی مگر مدلول میں زبردستی خدا واسطے کو مان لیا جائے گا اس جہالت کی کوئی حد ہے آپ کے نزدیك یہ علماء اپنے دعوی ودلیل کی بھی سمجھ نہ رکھتے تھے کہ خلف تو اس معنی پر جائز مانیں جسے امکان کذب لازم اور دلیل وہ پیش کریں جو اس معنی کی بالکل قاطع وحاسم خدارا اپنی جہالتیں سفاہتیں علماء کے سرکیوں باندھتے ہو ع
اس آنکھ سے ڈرئےے جو خدا سے نہ ڈرے آنکھ
لله ! انصاف! اگر بادشاہ حکم نافذ کرے کہ جو یہ جرم کرے گا یہ سزا پائے گا اور ساتھ ہی اسی فرمان میں یہ بھی ارشاد فرمایئے کہ ہم جسے چاہیں گے معاف فرمادیں گے تو کیا اگر وہ بعض مجرموں سے درگزر کرے تو اپنے پہلے حکم میں جھوٹا پڑے گا یا اس آئین کی قدرلوگوں کے دلوں سے گھٹ جائے گی جیسا کہ وہ احمق جاہل دعوی کرتاہے یا اگر کوئی شخص بدلیل اس دوسرے ارشاد کے ثابت کرے کہ بادشاہ نے جو سزا مقررفرمائی ہے کچھ ضرور نہیں کہ ہو ہی کر رہے بلکہ ٹل بھی سکتی ہے تو کیا اس کے قول کا حاصل یہ ہوگا کہ وہ بادشاہ کا کذب مجتمل مانتا ہے ذرا آدمی سمجھ سوچ کر تو بات منہ سے نکالے سبحن اللہ! جس ردالمحتار سے سند لائے اسی میں وہیں اسی بیان میں اسی صفحہ میں وہ صاف وروشن تصریحیں موجود ہیں جن سے اس تفریع ناپاك کی پوری قلعی کھلتی ہے حضرت ایك ذرا سا ٹکڑا نقل کر لائیں اور باقی بالکل ہضم گویا دیکھا ہی نہیں۔ اسی کانام دین ودیانت ہے۔ اسی پر دعوی رشد وہدایت ہے۔ مگر حضرات وہابیہ عادت سے مجبور ہیں نقل عبارت میں قطع وبریداب صاحبو کا داب قدیم رہاہے۔ یہاں تك کہ ان کے متکلمین نے رسالے کے رسالے جی سے گھڑ کر علمائے سابقین کی طرف نسبت کردیئے۔ انتہی یہ کہ عالم و امام دل سے تراشے کہ باوجود تکرار مطالبہ تمام عالم میں ان کے وجود کا پتا نہ دے سکے۔ فقیر کے بعض احباب سلمہم الله تعالی نے رسالہ “ سیف المصطفی علی ادیان الافتراء “ اسی باب میں لکھا اور اس میں ان حضرات کے عمائد واکابر کی ڈیڑھ سوسے زیادہ ایسی ہی عبارتوں بددیانتوں کا ثبوت دیا۔ واقعی حضرات نجدیہ نے ایك حدیث صحیح عمر بھر کے عمل کو بس سمجھی ہے کہ حضور پر نور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا :
یوں ہی اس کی ماخذ حلیہ شرح منیہ میں امام محقق ابن امیر الحاج میں ہے اور پر ظاہر کہ دعوی دلیل پر متفرع اور اس کے مفاد کا تابع ہوتاہے سبحان الله ! جب جواز خلف خو د ارشاد متکلم بالوعید جل مجدہ کی طرف مستند کہ اس نے فرمادیا “ ہم جسے چاہیں گے بخش دیں گے “ تو دلیل امکان کذب کو اصلا راہ نہیں دیتی مگر مدلول میں زبردستی خدا واسطے کو مان لیا جائے گا اس جہالت کی کوئی حد ہے آپ کے نزدیك یہ علماء اپنے دعوی ودلیل کی بھی سمجھ نہ رکھتے تھے کہ خلف تو اس معنی پر جائز مانیں جسے امکان کذب لازم اور دلیل وہ پیش کریں جو اس معنی کی بالکل قاطع وحاسم خدارا اپنی جہالتیں سفاہتیں علماء کے سرکیوں باندھتے ہو ع
اس آنکھ سے ڈرئےے جو خدا سے نہ ڈرے آنکھ
لله ! انصاف! اگر بادشاہ حکم نافذ کرے کہ جو یہ جرم کرے گا یہ سزا پائے گا اور ساتھ ہی اسی فرمان میں یہ بھی ارشاد فرمایئے کہ ہم جسے چاہیں گے معاف فرمادیں گے تو کیا اگر وہ بعض مجرموں سے درگزر کرے تو اپنے پہلے حکم میں جھوٹا پڑے گا یا اس آئین کی قدرلوگوں کے دلوں سے گھٹ جائے گی جیسا کہ وہ احمق جاہل دعوی کرتاہے یا اگر کوئی شخص بدلیل اس دوسرے ارشاد کے ثابت کرے کہ بادشاہ نے جو سزا مقررفرمائی ہے کچھ ضرور نہیں کہ ہو ہی کر رہے بلکہ ٹل بھی سکتی ہے تو کیا اس کے قول کا حاصل یہ ہوگا کہ وہ بادشاہ کا کذب مجتمل مانتا ہے ذرا آدمی سمجھ سوچ کر تو بات منہ سے نکالے سبحن اللہ! جس ردالمحتار سے سند لائے اسی میں وہیں اسی بیان میں اسی صفحہ میں وہ صاف وروشن تصریحیں موجود ہیں جن سے اس تفریع ناپاك کی پوری قلعی کھلتی ہے حضرت ایك ذرا سا ٹکڑا نقل کر لائیں اور باقی بالکل ہضم گویا دیکھا ہی نہیں۔ اسی کانام دین ودیانت ہے۔ اسی پر دعوی رشد وہدایت ہے۔ مگر حضرات وہابیہ عادت سے مجبور ہیں نقل عبارت میں قطع وبریداب صاحبو کا داب قدیم رہاہے۔ یہاں تك کہ ان کے متکلمین نے رسالے کے رسالے جی سے گھڑ کر علمائے سابقین کی طرف نسبت کردیئے۔ انتہی یہ کہ عالم و امام دل سے تراشے کہ باوجود تکرار مطالبہ تمام عالم میں ان کے وجود کا پتا نہ دے سکے۔ فقیر کے بعض احباب سلمہم الله تعالی نے رسالہ “ سیف المصطفی علی ادیان الافتراء “ اسی باب میں لکھا اور اس میں ان حضرات کے عمائد واکابر کی ڈیڑھ سوسے زیادہ ایسی ہی عبارتوں بددیانتوں کا ثبوت دیا۔ واقعی حضرات نجدیہ نے ایك حدیث صحیح عمر بھر کے عمل کو بس سمجھی ہے کہ حضور پر نور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا :
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الصلٰوۃ مطلب فی خلف الوعید وحکم الدعاء داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۳۵۱
اذا لم تستحیی فاصنع ماشئت (جب کوئی بے حیا ہوجائے تو وہ چاہے کرے۔ ت)ع
بے حیا باش وانچہ خواہی کن
(بے حیا ہوجا پھر جو چاہے کرتارہ۔ ت)
حجت سادسہ : اقول : امام فخر الدین رازی تفسیر کبیر میں فرماتے ہیں :
قال ابوعمر وبن العلا لعمر وبن عبید ماتقول فی اصحاب الکبائر قال اقول : ان اﷲ منجز ایعادہ کما ھوا منجز وعدہ قال ابو عمر وانك رجل اعجم لا اقول اعجم اللسان ولکن اعجم القلب ان العرب تعدا لرجوع عن الوعدلؤماوعن الایعاد کرماء والمعتزلۃ حکوا ان اباعمروبن العلاء لما قال ھذا الکلام قال لہ عمرو بن عبید یاابا عمرو فھل یسمی اﷲ مکذب نفسہ فقال لا فقال عمرو بن عبید فقد سقطت حجتک قالوا فانقطع ابوعمرو بن العلاء وعندی انہ کان لابی عمرو ان یجیب عن ھذا السؤال ان ھذا انما یلزم لوکان الوعید ثابتا جزما من غیر شرط وعندی جمیع الوعیدات مشروطۃ بعدم العفو فلایلزم من ترکہ دخول الکذب فی الکلام اﷲ تعالی اھ ملخصا۔ یعنی امام ابو عمرو بن العلاء رحمہ الله تعالی نے عمروبن عبید پیشوائے معتزلہ سے فرمایا اہل کتاب کبائر کے بارے میں تیرا کیا عقیدہ ہے کہا میں کہتاہوں الله تعالی اپنی وعید ضرور پوری کرے گا جیساکہ اپنا وعدہ بیشك پورا فرمائے گا۔ امام نے فرمایا تو عجمی ہے میں نہیں کہتا کہ زبان کا عجمی بلکہ دل کا عجمی ہے عرب وعدہ سے رجوع کو نالائقی جانتے ہیں اور وعید سے درگزر کو کرم معتزلہ حکایت کرتے ہیں۔ اس پر عمرونے جواب دیا کیا خدا کو اپنی ذات کا جٹھلانے والا ٹھہرائےے گا۔ امام نے فرمایانہ عمرو نے کہا تو آپ کی حجت ساقط ہوئی اس پر امام بند ہوگئے۔ امام رازی فرماتے ہیں میرے نزدیك امام یہ جواب دے سکتے تھے کہ اعتراض تو جب لازم آئے کہ وعید یقینی بلاشرط ہو اور میرے مذہب میں تو سب وعیدیں عدم عفو سے مشروط ہیں تو خلف وعید سے معاذالله کلام الہی میں کذب کہاں سے لازم آیا۔
اب عاقل بنظر انصاف غور کرے۔ اولا : اگر تجویز خلف امکان کذب مانناہی ہوتی تو برتقدیر صدق حکایت امام کا بند ہونا کیا معنی انھیں صاف کہنا تھا میں جواز خلف مانتاہوں تو امکان کذب میرا عین مذہب اور
بے حیا باش وانچہ خواہی کن
(بے حیا ہوجا پھر جو چاہے کرتارہ۔ ت)
حجت سادسہ : اقول : امام فخر الدین رازی تفسیر کبیر میں فرماتے ہیں :
قال ابوعمر وبن العلا لعمر وبن عبید ماتقول فی اصحاب الکبائر قال اقول : ان اﷲ منجز ایعادہ کما ھوا منجز وعدہ قال ابو عمر وانك رجل اعجم لا اقول اعجم اللسان ولکن اعجم القلب ان العرب تعدا لرجوع عن الوعدلؤماوعن الایعاد کرماء والمعتزلۃ حکوا ان اباعمروبن العلاء لما قال ھذا الکلام قال لہ عمرو بن عبید یاابا عمرو فھل یسمی اﷲ مکذب نفسہ فقال لا فقال عمرو بن عبید فقد سقطت حجتک قالوا فانقطع ابوعمرو بن العلاء وعندی انہ کان لابی عمرو ان یجیب عن ھذا السؤال ان ھذا انما یلزم لوکان الوعید ثابتا جزما من غیر شرط وعندی جمیع الوعیدات مشروطۃ بعدم العفو فلایلزم من ترکہ دخول الکذب فی الکلام اﷲ تعالی اھ ملخصا۔ یعنی امام ابو عمرو بن العلاء رحمہ الله تعالی نے عمروبن عبید پیشوائے معتزلہ سے فرمایا اہل کتاب کبائر کے بارے میں تیرا کیا عقیدہ ہے کہا میں کہتاہوں الله تعالی اپنی وعید ضرور پوری کرے گا جیساکہ اپنا وعدہ بیشك پورا فرمائے گا۔ امام نے فرمایا تو عجمی ہے میں نہیں کہتا کہ زبان کا عجمی بلکہ دل کا عجمی ہے عرب وعدہ سے رجوع کو نالائقی جانتے ہیں اور وعید سے درگزر کو کرم معتزلہ حکایت کرتے ہیں۔ اس پر عمرونے جواب دیا کیا خدا کو اپنی ذات کا جٹھلانے والا ٹھہرائےے گا۔ امام نے فرمایانہ عمرو نے کہا تو آپ کی حجت ساقط ہوئی اس پر امام بند ہوگئے۔ امام رازی فرماتے ہیں میرے نزدیك امام یہ جواب دے سکتے تھے کہ اعتراض تو جب لازم آئے کہ وعید یقینی بلاشرط ہو اور میرے مذہب میں تو سب وعیدیں عدم عفو سے مشروط ہیں تو خلف وعید سے معاذالله کلام الہی میں کذب کہاں سے لازم آیا۔
اب عاقل بنظر انصاف غور کرے۔ اولا : اگر تجویز خلف امکان کذب مانناہی ہوتی تو برتقدیر صدق حکایت امام کا بند ہونا کیا معنی انھیں صاف کہنا تھا میں جواز خلف مانتاہوں تو امکان کذب میرا عین مذہب اور
حوالہ / References
المعجم الکبیر مروی از عبدالله بن مسعود حدیث ۶۵۸ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۱۷ / ۲۳۷
مفاتیح الغیب(التفسیر الکبیر) تحت آیۃ اﷲ لا یخلف المیعاد المطبعۃ البہیۃ المصریۃ مصر ۷ / ۱۹۷
مفاتیح الغیب(التفسیر الکبیر) تحت آیۃ اﷲ لا یخلف المیعاد المطبعۃ البہیۃ المصریۃ مصر ۷ / ۱۹۷
برتقدیر کذب معتزلہ علمائے اہلسنت کیوں نہیں فرماتے کہ تم نے وہ حکایت گھڑی جو آپ ہی اپنے کذب کی دلیل ہے مجوزین خلف توامکان کذب مانتے ہیں پھر امام اس الزام پر بند کیوں ہوجاتے۔
ثانیا : آگے چل کر امام رازی امام ابن العلاء کی طرف سے اچھا جواب دیتے ہیں کہ میرے مذہب میں سب وعیدیں مقید ہیں۔ سبحان اللہ! جب وعیدیں مقید ہوں گی تو امکان کذب کدھر جائے گا۔ کیوں نہیں کہتے کہ میرے مذہب میں کذب ممکن تو الزام ساقط غرض بے شمار وجوہ سے ثابت کہ مدعی جدید غیر مہتدی ورشید نے علماء کرام پرجیتا طوفان باندھا۔
حجت سابعہ اقول : آپ کی یہی ردالمحتار جس سے آدھا فقرہ نقل کرکے ائمہ دین پر پوری تہمت کردی اس مبحث میں حلیہ امام علامہ ابن امیر الحاج ناقل ہے شروع عبارت یوں ہے :
واقفہ علی الاول صاحب الحلیۃ المحقق ابن امیر الحاج وخالفہ فی الثانی وحقق ذلك بانہ مبنی علی مسئلۃ شھیرۃ وھی انہ ھل یجوز الخلف فی الوعید فظاھر مافی المواقف الخ۔ صاحب حلیۃ محقق ابن امیر الحاج نے اول میں اس کی مواقف کی ہے اور ثانی میں مخالف اور ثابت کیا کہ اس کامدار ایك مشہور مسئلہ پرہے اور وہ یہ ہے کہ کیا خلف وعید جائزہے۔ تو مواقف میں جو کچھ ہے تو وہ ظاہر ہے الخ۔ (ت)
اور ختم یوں ھذاخلاصۃ مااطال بہ فی الحلیۃ (یہ حلیہ میں ان کی طویل گفتگو کا خلاصہ ہے۔ ت)اور یہ صاحب حلیہ خود مسلمانوں کے حق میں جواز خلف کو ترجیح دیتے ہیں اسی ردالمحتارمیں ان سے منقول :
الاشبۃ ترجح جواز الخلف فی الوعید فی حق المسلمین خاصۃ دون الکفار ۔ اشبہ ومختار یہ ہے کہ خلف وعید کا جواز خاص مسلمانوں کے حق میں ہے نہ کہ کفار کے حق میں ہیں۔ (ت)
اب ملاحظہ ہوکہ یہی امام قائل جوازخود آپ کی اس تفریح شنیع یعنی امکان کذب سے کیسی سخت تحاشی کرتے ہیں۔ اسی حلیہ میں بعد ختم بحث کے فرمایا :
وحاش ﷲ ان یراد بجواز الخلف فی الوعید ان لایقع عذاب من اراداﷲ الاخبار یعنی حاشا ﷲ خلف وعید جائز ہونے کے یہ معنی نہیں کہ الله عزوجل نے جس کے عذاب کی خبر دینی چاہی
ثانیا : آگے چل کر امام رازی امام ابن العلاء کی طرف سے اچھا جواب دیتے ہیں کہ میرے مذہب میں سب وعیدیں مقید ہیں۔ سبحان اللہ! جب وعیدیں مقید ہوں گی تو امکان کذب کدھر جائے گا۔ کیوں نہیں کہتے کہ میرے مذہب میں کذب ممکن تو الزام ساقط غرض بے شمار وجوہ سے ثابت کہ مدعی جدید غیر مہتدی ورشید نے علماء کرام پرجیتا طوفان باندھا۔
حجت سابعہ اقول : آپ کی یہی ردالمحتار جس سے آدھا فقرہ نقل کرکے ائمہ دین پر پوری تہمت کردی اس مبحث میں حلیہ امام علامہ ابن امیر الحاج ناقل ہے شروع عبارت یوں ہے :
واقفہ علی الاول صاحب الحلیۃ المحقق ابن امیر الحاج وخالفہ فی الثانی وحقق ذلك بانہ مبنی علی مسئلۃ شھیرۃ وھی انہ ھل یجوز الخلف فی الوعید فظاھر مافی المواقف الخ۔ صاحب حلیۃ محقق ابن امیر الحاج نے اول میں اس کی مواقف کی ہے اور ثانی میں مخالف اور ثابت کیا کہ اس کامدار ایك مشہور مسئلہ پرہے اور وہ یہ ہے کہ کیا خلف وعید جائزہے۔ تو مواقف میں جو کچھ ہے تو وہ ظاہر ہے الخ۔ (ت)
اور ختم یوں ھذاخلاصۃ مااطال بہ فی الحلیۃ (یہ حلیہ میں ان کی طویل گفتگو کا خلاصہ ہے۔ ت)اور یہ صاحب حلیہ خود مسلمانوں کے حق میں جواز خلف کو ترجیح دیتے ہیں اسی ردالمحتارمیں ان سے منقول :
الاشبۃ ترجح جواز الخلف فی الوعید فی حق المسلمین خاصۃ دون الکفار ۔ اشبہ ومختار یہ ہے کہ خلف وعید کا جواز خاص مسلمانوں کے حق میں ہے نہ کہ کفار کے حق میں ہیں۔ (ت)
اب ملاحظہ ہوکہ یہی امام قائل جوازخود آپ کی اس تفریح شنیع یعنی امکان کذب سے کیسی سخت تحاشی کرتے ہیں۔ اسی حلیہ میں بعد ختم بحث کے فرمایا :
وحاش ﷲ ان یراد بجواز الخلف فی الوعید ان لایقع عذاب من اراداﷲ الاخبار یعنی حاشا ﷲ خلف وعید جائز ہونے کے یہ معنی نہیں کہ الله عزوجل نے جس کے عذاب کی خبر دینی چاہی
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الصلٰوۃ مطلب فی خلف الوعید وحکم الدعاء داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۳۵۱
ردالمحتار کتاب الصلٰوۃ مطلب فی خلف الوعید وحکم الدعاء داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۳۵۱
ردالمحتار کتاب الصلٰوۃ مطلب فی خلف الوعید وحکم الدعاء داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۳۵۱
ردالمحتار کتاب الصلٰوۃ مطلب فی خلف الوعید وحکم الدعاء داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۳۵۱
ردالمحتار کتاب الصلٰوۃ مطلب فی خلف الوعید وحکم الدعاء داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۳۵۱
بعذابہ فانہ محال علی اﷲ تعالی قطعا کما ان عدم وقوع نعیم من اراداﷲ الاخبار عنہ بالنعیم محال علیہ قطعا کیف لا وقد قال تعالی “ ومن اصدق من اللہ قیلا ﴿۱۲۲﴾ “
“ ومن اصدق من اللہ حدیثا ﴿۸۷﴾ “
“ وتمت کلمت ربک صدقا وعدلا لا مبدل لکلمتہ “ ۔ اس کا عذاب واقع نہ ہویہ الله تعالی پر قطعا محال ہے جس طرح یہ بالیقین ممکن نہیں کہ اس نے جس کے لئے نعیم کی خبر دی ہو اس کے لئے نعیم واقع نہ ہو اور کیوں کر نہ ہو اس کی خبر کا کذب محال ہے۔ حالانکہ وہ خود فرماتاہے الله سے کس کا قول سچاہے الله سے زیادہ کس کی بات سچی ہے۔ تیرے رب کی باتیں سچ اور عدل میں کامل ہیں کوئی اس کی باتوں کو بدلنے والا نہیں۔
کیوں ایمان سے کہنا یہ وہی علماء ہیں جن پر تم امکان کذب ماننے کا بہتان کرتے ہو۔ لله حیا دے۔
حجت ثامنہ بقطع عرق ضلالت ضامنہ۔ اقول : وباﷲ التوفیق وبہ الوصول الی ذری التحقیق(میں الله کی توفیق سے کہتاہوں اور اسی کی توفیق سے تحقیقی بات کو پایاجاسکتاہے۔ ت)علمائے مجوزین کے طریق استدلال ومناظرہ وجدال شاہد عدل ہیں کہ ان کے نزدیك خلف وعید وعفو ومغفرت میں نسبت تساوی اور دونوں جانب سے ترفق کلی ہے ثبوت سنئے قریب گزرا کہ انھوں نے اپنے دعوے پر آیہ کریمہ “ ویغفر ما دون ذلک لمن یشاء “ (او کفر سے نیچے جنتے گناہ ہیں جسے چاہے بخش دے گا۔ ت)سے استدلال کیا۔ اور حلیہ پھر ردالمحتار میں جس سے آپ ہمیشہ کے لئے اپنے پیچھے ایك آفت لگانے کو ذر ا سا ٹکڑا نقل کرلائے۔ اس دلیل کو انص واظہر دلائل مجوزین کہا اور پر ظاہر کہ آیت صرف جواز مغفرت ارشاد فرماتی ہے اسی کو انھوں نے جواز خلف پر دلیل ٹھہرایا تو ان کا استدلال برہان قاطع کہ وہ مغفرت کو خلف سے عام نہیں مانتے کہ جواز اعم ہر گز جواز اخص کا مثبت نہیں ہوسکتا اور عنقریب آتاہے کہ معتزلہ نے امتناع عفو پر آیات وعید سے تمسك کیا۔ اس پر ان علماء نے جواب دیا کہ خلف جائز ہے تو لاجرم جواز خلف کو امتناع عفو کا رد مانا اور زنہار جواز اعم امتناع اخص کا نافی نہیں ہوسکتا۔ تو ان کا یہ جواب دلیل ساطع کو وہ خلف کو مغفرت سے عام نہیں مانتے۔ رہا تباین وہ بالبداہۃ اور خود اس رد واثبات سے سے بین البطلان پس تساوی متعین اور مراد متبین یعنی ظاہر ہوگیا کہ وہ صرف عدم وقوع وعید بوجہ عفو کو خلف سے تعبیر فرماتے اور جائز
“ ومن اصدق من اللہ حدیثا ﴿۸۷﴾ “
“ وتمت کلمت ربک صدقا وعدلا لا مبدل لکلمتہ “ ۔ اس کا عذاب واقع نہ ہویہ الله تعالی پر قطعا محال ہے جس طرح یہ بالیقین ممکن نہیں کہ اس نے جس کے لئے نعیم کی خبر دی ہو اس کے لئے نعیم واقع نہ ہو اور کیوں کر نہ ہو اس کی خبر کا کذب محال ہے۔ حالانکہ وہ خود فرماتاہے الله سے کس کا قول سچاہے الله سے زیادہ کس کی بات سچی ہے۔ تیرے رب کی باتیں سچ اور عدل میں کامل ہیں کوئی اس کی باتوں کو بدلنے والا نہیں۔
کیوں ایمان سے کہنا یہ وہی علماء ہیں جن پر تم امکان کذب ماننے کا بہتان کرتے ہو۔ لله حیا دے۔
حجت ثامنہ بقطع عرق ضلالت ضامنہ۔ اقول : وباﷲ التوفیق وبہ الوصول الی ذری التحقیق(میں الله کی توفیق سے کہتاہوں اور اسی کی توفیق سے تحقیقی بات کو پایاجاسکتاہے۔ ت)علمائے مجوزین کے طریق استدلال ومناظرہ وجدال شاہد عدل ہیں کہ ان کے نزدیك خلف وعید وعفو ومغفرت میں نسبت تساوی اور دونوں جانب سے ترفق کلی ہے ثبوت سنئے قریب گزرا کہ انھوں نے اپنے دعوے پر آیہ کریمہ “ ویغفر ما دون ذلک لمن یشاء “ (او کفر سے نیچے جنتے گناہ ہیں جسے چاہے بخش دے گا۔ ت)سے استدلال کیا۔ اور حلیہ پھر ردالمحتار میں جس سے آپ ہمیشہ کے لئے اپنے پیچھے ایك آفت لگانے کو ذر ا سا ٹکڑا نقل کرلائے۔ اس دلیل کو انص واظہر دلائل مجوزین کہا اور پر ظاہر کہ آیت صرف جواز مغفرت ارشاد فرماتی ہے اسی کو انھوں نے جواز خلف پر دلیل ٹھہرایا تو ان کا استدلال برہان قاطع کہ وہ مغفرت کو خلف سے عام نہیں مانتے کہ جواز اعم ہر گز جواز اخص کا مثبت نہیں ہوسکتا اور عنقریب آتاہے کہ معتزلہ نے امتناع عفو پر آیات وعید سے تمسك کیا۔ اس پر ان علماء نے جواب دیا کہ خلف جائز ہے تو لاجرم جواز خلف کو امتناع عفو کا رد مانا اور زنہار جواز اعم امتناع اخص کا نافی نہیں ہوسکتا۔ تو ان کا یہ جواب دلیل ساطع کو وہ خلف کو مغفرت سے عام نہیں مانتے۔ رہا تباین وہ بالبداہۃ اور خود اس رد واثبات سے سے بین البطلان پس تساوی متعین اور مراد متبین یعنی ظاہر ہوگیا کہ وہ صرف عدم وقوع وعید بوجہ عفو کو خلف سے تعبیر فرماتے اور جائز
ٹھہراتے ہیں کہ یہی مغفرت سے مساوی ہے نہ کہ معاذالله تبدیل وتکذیب خبر کہ عفو سے عموم وخصوص دونوں رکھتی ہے مثلا درگزر بر بنائے تخصیص نصوص وتقیید وعید واقع ہوئی تو عفو موجود اور تبدیل مفقود کسی جرم پر ایك سزائے شدید کی وعید حتمی اور ایقاع کے وقت اس میں کمی کی تو عفو عــــــہ مفقود اور تبدیل موجود۔ اوراگر عفو تخفیف کو شامل کیجئے تو عام مطلقا سہی بہر حال خلف کہ اس کا مساوی ہے کذب سے قطعا عام مطلقا یا من وجہ اب تو اپنی جہالت فاحشہ پر متنبہ ہوئے کہ جواز اعم امکان اخص کا مستلزم مان رہے ہو فالحمداﷲ علی اتمام الحجۃ وایضاح المحجۃ۔
حجت تاسعہ قاہرہ قالعہ قاتلہ قارعۃ بارغۃ التبیین دامغۃ الکذابین : اقول : وبالله االتوفیق(میں الله تعالی کی توفیق سے کہتا ہوں۔ ت)ایہاالمسلمون! ذرا قلب حاضر درکار اسی مدعی جدید غیر مہتدی ورشید نے کذب باری عزوجل کا صرف امکان عقلی ہی ائمہ دین کی طرف نسبت نہ کیا۔ بلکہ معاذالله انھیں کفر صریح کا قائل قرار دیا۔ پھر الحمد الله ان کا دامن سنت مامن تو کفرو ضلالت کے ناپاك دھبوں سے پاك ومنزہ مگر حضرت خودہی اپنے ایمان کی خیر منائیں۔ یوں نہ مانیں تو مفصل جانیں۔ اصل مراد یہ ہے کہ خلف بایں معنی کہ متکلم بایك بات کہہ کر پلٹ جائے اور جو خبرت دی تھی اس کے خلاف عمل میں لائے۔ بلاشبہہ اقسام کذب سے ہے کہ کذب نہیں مگر خلاف واقع خبردیناتو اس معنی پر خلف کو ممکن یا سائغ یا واقع یا واجب جو کچھ مانئے بعینہ وہی حکم کذب کے لئے ثابت ہوگا کہ یہ جانب وجود ہے اور جانب وجود میں قسم مقسم کو مستلزم اور عقل احکام قسم سے مقسم پر حاکم کہ اس کا وجود بے اس کے محال وناممکن تو لاجرم اس کا امکان اس کے جواز اوراس کا وجود اس کے وقوع اور اس کا وجوب اس کی ضرورت کو لازم۔ حضرت مدعی جدید نے اپنی جہالت وضلالت سے کلام علماء میں خلف کے یہی معنی سمجھے کہ باری تعالی عیاذا بالله بات کہہ کرپلٹ جائے خبر د کر غلط کردے لہذا جواز خلف پر امکان کذب کو متنفرع کیا حالانکہ حاشاﷲ عالم میں کوئی عالم اس کا قائل نہیں بلکہ وہ صراحۃ اس معنی مردود مخترع عنود کا ردبلیغ فرماتے او جواز خلف کو تخصیص نصوص وتقیید وعید وغیرہما ایسے امور پر بربناکرتے ہیں جن کے بعد نہ معاذالله کہہ کر پلٹنا نہ بات کا بدلنا ہو اس امر پر دلائل قاہرہ وتصریحات باہر سن ہی چکے ہیں مگر ان حضرت کو
عــــــہ : المغفرۃ وقایۃ شرالذنوب بالکلیۃ اھ ۱۲ رضی اﷲ عنہ۔ مغفرت گناہوں کے شر سے کلیۃ محفوظ رہنا ہے اھ ۱۲ رضی الله عنہ(ت)
حجت تاسعہ قاہرہ قالعہ قاتلہ قارعۃ بارغۃ التبیین دامغۃ الکذابین : اقول : وبالله االتوفیق(میں الله تعالی کی توفیق سے کہتا ہوں۔ ت)ایہاالمسلمون! ذرا قلب حاضر درکار اسی مدعی جدید غیر مہتدی ورشید نے کذب باری عزوجل کا صرف امکان عقلی ہی ائمہ دین کی طرف نسبت نہ کیا۔ بلکہ معاذالله انھیں کفر صریح کا قائل قرار دیا۔ پھر الحمد الله ان کا دامن سنت مامن تو کفرو ضلالت کے ناپاك دھبوں سے پاك ومنزہ مگر حضرت خودہی اپنے ایمان کی خیر منائیں۔ یوں نہ مانیں تو مفصل جانیں۔ اصل مراد یہ ہے کہ خلف بایں معنی کہ متکلم بایك بات کہہ کر پلٹ جائے اور جو خبرت دی تھی اس کے خلاف عمل میں لائے۔ بلاشبہہ اقسام کذب سے ہے کہ کذب نہیں مگر خلاف واقع خبردیناتو اس معنی پر خلف کو ممکن یا سائغ یا واقع یا واجب جو کچھ مانئے بعینہ وہی حکم کذب کے لئے ثابت ہوگا کہ یہ جانب وجود ہے اور جانب وجود میں قسم مقسم کو مستلزم اور عقل احکام قسم سے مقسم پر حاکم کہ اس کا وجود بے اس کے محال وناممکن تو لاجرم اس کا امکان اس کے جواز اوراس کا وجود اس کے وقوع اور اس کا وجوب اس کی ضرورت کو لازم۔ حضرت مدعی جدید نے اپنی جہالت وضلالت سے کلام علماء میں خلف کے یہی معنی سمجھے کہ باری تعالی عیاذا بالله بات کہہ کرپلٹ جائے خبر د کر غلط کردے لہذا جواز خلف پر امکان کذب کو متنفرع کیا حالانکہ حاشاﷲ عالم میں کوئی عالم اس کا قائل نہیں بلکہ وہ صراحۃ اس معنی مردود مخترع عنود کا ردبلیغ فرماتے او جواز خلف کو تخصیص نصوص وتقیید وعید وغیرہما ایسے امور پر بربناکرتے ہیں جن کے بعد نہ معاذالله کہہ کر پلٹنا نہ بات کا بدلنا ہو اس امر پر دلائل قاہرہ وتصریحات باہر سن ہی چکے ہیں مگر ان حضرت کو
عــــــہ : المغفرۃ وقایۃ شرالذنوب بالکلیۃ اھ ۱۲ رضی اﷲ عنہ۔ مغفرت گناہوں کے شر سے کلیۃ محفوظ رہنا ہے اھ ۱۲ رضی الله عنہ(ت)
حوالہ / References
حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
یہ مسلم نہیں خواہی نخواہی خلف اسی معنی پر ڈھالتے ہیں جو ایك قسم کذب ہے تاکہ اسکے جواز سے امکان کذب کی راہ نکالیں بہت اچھا اگریہی معنی مرادہوں تو اب نظر کیجئے کہ جواز خلف کے کیامعنی ہیں اور وہ اپنے کس معنی پر ائمی میں مختلف فیہ۔ حاشا جواز صرف بمعنی امکان عقلی محل خلاف نہیں بلکہ عــــــہ۱ قطعا جواز شرعی وامکان وقوعی میں نزاع
عــــــہ۱ : اقول : ھل عیست ان تتفطن مما القینا ونلقی علیك من الابحاث ونقلنا وننقل لك من کلمات العلماء ان الکلام فی مطلق الخلف فی حق العصاۃ لا الخلف المطلق فیھم ولا الخلف فی الکفار لوفاق اھل السنۃ الوعیدیۃ علی استحالتہ شرعا اما الثانی فظاھر واضح وقد نص علیہ القران العزیز واجمعت علیہ الامۃ جمیعا واماالاول فنقل علیہ ایضا غیر واحد الاجماع وھو الصواب من حیث النظر وان نقل العلامۃ فی حاشیہ العلائی خلافہ ففی ھذین ان کان الخلاف فلایکون الافی الامکان العقلی ولذاحمل علیہ العلامۃ ش بید انی لا اعلم خلافا بین اھل السنۃ فی جواز الاول عقلا والثانی وان وقع فیہ خلاف ولکن المحققین ھھنا علی الجواز ولم یخالف فیہ الا اقل قلیل کما سیأتی فالذی عــــــہ۲ وقع عن العلامۃ ش اقول(میں کہتاہوں)آپ نے ہماری اس گفتگو سے جو کی اور کریں گے اور علماء کے منقولہ کلمات سے سمجھ لیں گے کہ کلام گنہ گاروں کے حق میں مطلق خلف میں ہے۔ نہ خلف مطلق میں اور نہ ہی حق کفار میں خلف ہے کیونکہ وعیدی اہلسنت کا اتفاق ہے کہ ایسی خلف وعید شرعامحال ہے دوسری بات(حق کفار میں)تو ظاہر واضح ہے اس پر قرآن عزیز کی تصریح ہے اورتمام امت کا اس پر اتفاق ہے۔ رہی پہلی بات تو اس پر بھی متعدد اہل علم نے اجماع نقل کیا ہے دلیل کے اعتبار سے یہی صواب ہے اگرچہ علامہ نے حاشیہ علائی میں اس کے خلاف نقل کیا ہے ان دونوں میں اگر اختلاف ہو بھی تو محض بطور امکان عقلی ہو ہوگا اس لئے علامہ ش نے اسے اس پر محمول کیا مگر میں اول کے جواز عقلی میں اہلسنت کا اختلاف نہیں جانتا اور دوسری میں اگرچہ اختلاف ہے لیکن محققین یہاں بھی جواز پر ہیں اگرچہ اس کی مخالفت بہت ہی کم لوگوں نے کی ہے جیساکہ آگے آرہا ہے۔
عــــــہ۲ : قولہ فالذی وقع حیث نقل النزاع المشہور وکون المحققین علی المنع قولہ والذین وقع کیونکہ انھوں نے جہاں نزاع مشہور نقل کیا ہے اور محققین کااس کے کلام میں دونوں خلفوں(باقی برصفحہ ائندہ)
عــــــہ۱ : اقول : ھل عیست ان تتفطن مما القینا ونلقی علیك من الابحاث ونقلنا وننقل لك من کلمات العلماء ان الکلام فی مطلق الخلف فی حق العصاۃ لا الخلف المطلق فیھم ولا الخلف فی الکفار لوفاق اھل السنۃ الوعیدیۃ علی استحالتہ شرعا اما الثانی فظاھر واضح وقد نص علیہ القران العزیز واجمعت علیہ الامۃ جمیعا واماالاول فنقل علیہ ایضا غیر واحد الاجماع وھو الصواب من حیث النظر وان نقل العلامۃ فی حاشیہ العلائی خلافہ ففی ھذین ان کان الخلاف فلایکون الافی الامکان العقلی ولذاحمل علیہ العلامۃ ش بید انی لا اعلم خلافا بین اھل السنۃ فی جواز الاول عقلا والثانی وان وقع فیہ خلاف ولکن المحققین ھھنا علی الجواز ولم یخالف فیہ الا اقل قلیل کما سیأتی فالذی عــــــہ۲ وقع عن العلامۃ ش اقول(میں کہتاہوں)آپ نے ہماری اس گفتگو سے جو کی اور کریں گے اور علماء کے منقولہ کلمات سے سمجھ لیں گے کہ کلام گنہ گاروں کے حق میں مطلق خلف میں ہے۔ نہ خلف مطلق میں اور نہ ہی حق کفار میں خلف ہے کیونکہ وعیدی اہلسنت کا اتفاق ہے کہ ایسی خلف وعید شرعامحال ہے دوسری بات(حق کفار میں)تو ظاہر واضح ہے اس پر قرآن عزیز کی تصریح ہے اورتمام امت کا اس پر اتفاق ہے۔ رہی پہلی بات تو اس پر بھی متعدد اہل علم نے اجماع نقل کیا ہے دلیل کے اعتبار سے یہی صواب ہے اگرچہ علامہ نے حاشیہ علائی میں اس کے خلاف نقل کیا ہے ان دونوں میں اگر اختلاف ہو بھی تو محض بطور امکان عقلی ہو ہوگا اس لئے علامہ ش نے اسے اس پر محمول کیا مگر میں اول کے جواز عقلی میں اہلسنت کا اختلاف نہیں جانتا اور دوسری میں اگرچہ اختلاف ہے لیکن محققین یہاں بھی جواز پر ہیں اگرچہ اس کی مخالفت بہت ہی کم لوگوں نے کی ہے جیساکہ آگے آرہا ہے۔
عــــــہ۲ : قولہ فالذی وقع حیث نقل النزاع المشہور وکون المحققین علی المنع قولہ والذین وقع کیونکہ انھوں نے جہاں نزاع مشہور نقل کیا ہے اور محققین کااس کے کلام میں دونوں خلفوں(باقی برصفحہ ائندہ)
ہے جس کے بعد امتناع بالغیر بھی نہیں رہتا۔ دلائل سنئے :
(بقیہ حاشیہ عــــــہ۱ صفحہ گزشتہ)
اشتباہ یجب التنبیہ لہ وقد اوضحناہ علی ہامشہ ولو لا ان عرضنا فی المقام لایتعلق بنقد ذلك لاتینا بالتحقیق فیما ھنالکن ثم من البدیھی ان امکان عدم التعذیب عقلا مع استحالتہ شرعا ادخل فی الرد علی ھؤلاء الجھلۃ کما لایخفی علی عاقل فضلا عن فاضل و سنلقی علیك تحقیقہ فیما سیأتی فی رد الوھابیۃ الدیوبندیۃ فانتظر واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم ۱۲ منہ قدس سرہ۔ علامہ ش سے جو واقع ہوا یہ اشتباہ ہے جس پر تنبیہ ضروری ہے اور ہم نے اس کے حاشیہ پر اس کی وضاحت کردی ہے اگر ہماری غرض اس مقام پر تنقیدکرنا ہوتی تو ہم اس تحقیق کو یہاں کردیتے۔ پھر یہ بات بدیہی ہے کہ عقلا عدم عذاب کا محض امکان جو شرعا محال ہے ان جہال کے رد کا ذریعہ بنتاہے جیساکہ کسی عاقل پر مخفی نہیں چہ جائیکہ کسی فاضل پر مخفی ہو۔ عنقریب اس کی تفصیل وتحقیق وہابیہ دیوبندیہ کے رد میں آرہی ہے تھوڑا سا انتظار کرو۔ واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم ۱۲منہ قدس سرہ (ت)
(بقیہ حاشیہ عــــــہ۲ صفحہ گزشتہ)
فی کلامہ علی ھذین الخلفین وزعم تبعا فالحق ان محل النزاع المشہور ھوالجواز الشرعی وکلامھم انما ھو فی مطلق الخلف وتحقیق الحق فی محصلہ ماسنلقی علیك واﷲ الھادی ۱۲ منہ رضی اﷲ عنہ۔ للحلیۃ ان الاشبہ ترجح جواز الاول عقلا فاوھم ان جوازہ العقلی مختلف فیہ واوھم ایھا ما اشد واعظم ان المحققین علی انکارہ وان کان الاشبہ عندہ ترجح الجواز مع انا لانعلم فیہ نزاع اصلا ولانظنہ محل نزاع وان کان فلا شك ان عامۃ الائمۃ علی الجواز ثم اوھم بل صرح اخر ان الصحیح عن المحققین منع الثانی عقلا مع ان الامر بالعکس پر منع مذکور ہوا اور حلیہ کی اتباع میں اس نے عقلا جوا زاول کی ترجیح کو مختار محسوس کرلیا تو اسے یہ وہم ہوگیاکہ اس کے جواز عقلی میں اختلاف ہے یہ وہم شدید ہے محققین تو اس کا نکار کررہے ہیں اگرچہ اس کے ہاں مختار جواز کو ترجیح دینا ہے حالانکہ ہم تو اس میں نزاع کا علم نہیں رکھتے اورنہ ہی محل نزاع کا گمان کرے ہیں اور اگرہے تو بلاشبہہ اکثر ائمہ جواز پر ہیں پھر وہم میں پڑتے ہوئے آخر تصریح کی کہ محققین کے ہاں صحیح یہ ہے کہ دوسری صورت عقلا منع ہے حالانکہ معاملہ برعکس(باقی اگلے صفحہ پر)
(بقیہ حاشیہ عــــــہ۱ صفحہ گزشتہ)
اشتباہ یجب التنبیہ لہ وقد اوضحناہ علی ہامشہ ولو لا ان عرضنا فی المقام لایتعلق بنقد ذلك لاتینا بالتحقیق فیما ھنالکن ثم من البدیھی ان امکان عدم التعذیب عقلا مع استحالتہ شرعا ادخل فی الرد علی ھؤلاء الجھلۃ کما لایخفی علی عاقل فضلا عن فاضل و سنلقی علیك تحقیقہ فیما سیأتی فی رد الوھابیۃ الدیوبندیۃ فانتظر واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم ۱۲ منہ قدس سرہ۔ علامہ ش سے جو واقع ہوا یہ اشتباہ ہے جس پر تنبیہ ضروری ہے اور ہم نے اس کے حاشیہ پر اس کی وضاحت کردی ہے اگر ہماری غرض اس مقام پر تنقیدکرنا ہوتی تو ہم اس تحقیق کو یہاں کردیتے۔ پھر یہ بات بدیہی ہے کہ عقلا عدم عذاب کا محض امکان جو شرعا محال ہے ان جہال کے رد کا ذریعہ بنتاہے جیساکہ کسی عاقل پر مخفی نہیں چہ جائیکہ کسی فاضل پر مخفی ہو۔ عنقریب اس کی تفصیل وتحقیق وہابیہ دیوبندیہ کے رد میں آرہی ہے تھوڑا سا انتظار کرو۔ واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم ۱۲منہ قدس سرہ (ت)
(بقیہ حاشیہ عــــــہ۲ صفحہ گزشتہ)
فی کلامہ علی ھذین الخلفین وزعم تبعا فالحق ان محل النزاع المشہور ھوالجواز الشرعی وکلامھم انما ھو فی مطلق الخلف وتحقیق الحق فی محصلہ ماسنلقی علیك واﷲ الھادی ۱۲ منہ رضی اﷲ عنہ۔ للحلیۃ ان الاشبہ ترجح جواز الاول عقلا فاوھم ان جوازہ العقلی مختلف فیہ واوھم ایھا ما اشد واعظم ان المحققین علی انکارہ وان کان الاشبہ عندہ ترجح الجواز مع انا لانعلم فیہ نزاع اصلا ولانظنہ محل نزاع وان کان فلا شك ان عامۃ الائمۃ علی الجواز ثم اوھم بل صرح اخر ان الصحیح عن المحققین منع الثانی عقلا مع ان الامر بالعکس پر منع مذکور ہوا اور حلیہ کی اتباع میں اس نے عقلا جوا زاول کی ترجیح کو مختار محسوس کرلیا تو اسے یہ وہم ہوگیاکہ اس کے جواز عقلی میں اختلاف ہے یہ وہم شدید ہے محققین تو اس کا نکار کررہے ہیں اگرچہ اس کے ہاں مختار جواز کو ترجیح دینا ہے حالانکہ ہم تو اس میں نزاع کا علم نہیں رکھتے اورنہ ہی محل نزاع کا گمان کرے ہیں اور اگرہے تو بلاشبہہ اکثر ائمہ جواز پر ہیں پھر وہم میں پڑتے ہوئے آخر تصریح کی کہ محققین کے ہاں صحیح یہ ہے کہ دوسری صورت عقلا منع ہے حالانکہ معاملہ برعکس(باقی اگلے صفحہ پر)
اولا اہلسنت بالاجماع اور معتزلہ کا ایك فرقہ مغفرت عاصیان کبا ئر کردگان وبے تو بہ مردگان کے امکان عقلی پر متفق ہیں یعنی کچھ عقلی محال نہیں جانتی کہ الله تعالی ان سے مواخذہ نہ فرمائے مگر امکان شرعی میں اختلاف پڑا اہلسنت بالاجماع شرعا بھی جائز بلکہ واقع او ر یہ فرقہ وعیدیہ سمعا ناجائز اور عذاب واجب مانتے ہیں۔ انھوں نے آیات وعید سے استناد کیا اس کے جواب میں جواز خلف کا مسئلہ پیش ہوا یعنی اے معتزلہ! تمھارا استدلال تو جب تمام ہوکہ ہم وقوع وعید شرعا واجب مانیں وہ خود ہمارے نزدیك جائز الخلف ہے تو عفو پھر جائز کا جائز ہی رہا اور شرعا وجوب عذاب کہ تمھارا دعوی تھا ثابت نہ ہوا۔ امام علامہ تفتازانی شرح مقاصد میں فرماتے ہیں :
البحث الثانی عشر اتفقت الامۃ ونطق الکتاب والسنۃ بان اﷲ تعالی عفو غفور یعفو عن الصغائر مطلقا وعن الکبائر بعد التوبۃ ولایعفو عن الکفر قطعا واختلفوا فی العفو عن الکبائر بدون التوبۃ فجوزہ الاصحاب بل اثبتوہ خلافاللمعتزلۃ تمسك القائلون بجواز العفو عقلا وامتناعہ سمعا وھم البصریون من المعتزلۃ وبعض البغدادیۃ بالنصوص الوارۃ فی وعید الفساق واصحاب الکبائر واجیب بانھم داخلون فی عمومات الوعد بالثواب ودخول الجنۃ علی مامر والخلف فی الوعد لئوم لایلیق بالکریم وفاقا بخلاف الخلف فی الوعید فانہ بارھویں امت کا اتفاق اور کتاب وسنت اس پر ناطق ہیں کہ الله تعالی معاف فرمانے والا غفور ہے۔ وہ صغائر تو ہر حال میں معاف فرمادیتاہے اور کبائر کو توبہ کے بعد کفر کو قطعا معاف نہیں فرماتا۔ بغیر توبہ کبائر ك بخشش میں اختلاف ہے ہمارے اصحاب(اہل سنت)اس کے جواز کے قائل بلکہ اس کو دلائل سے ثابت کرنے والے ہیں اس میں معتزلہ کا اختلاف ہے ان میں سے کچھ نے کہا عقلا عفو کا جواز ہے مگر شرعا ممتنع ہے۔ یہ بصری معتزلہ کی رائے ہے۔ بغدادی معتزلہ ان کی نصوص سے استدلال کرتے ہیں جو فساق ا ور اصحاب کبائر کے بارے میں وعیدیں آئی ہیں۔ ان کوجواب یہ دیا گیا ہے کہ وہ وعدہ ثواب ودخول جنت کی عمومی نصوص میں داخل ہیں
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ) فالحق ان محل النزاع المشہور ھوالجواز الشرعی وکلامھم انما ھو فی مطلق الخلف وتحقیق الحق فی محصلہ ماسنلقی علیك واﷲ الھادی ۱۲ منہ رضی اﷲ عنہ۔ ہے تو حق یہ ہے کہ نزاع مشہور کا محل جواز شرعی ہے علماء کا کلام مطلق خلف میں ہے حق کی تحقیق ہم آپ پر عنقریب بیان کریں گے۔ والله الھادی ۱۲ منہ رضی الله عنہ(ت)
البحث الثانی عشر اتفقت الامۃ ونطق الکتاب والسنۃ بان اﷲ تعالی عفو غفور یعفو عن الصغائر مطلقا وعن الکبائر بعد التوبۃ ولایعفو عن الکفر قطعا واختلفوا فی العفو عن الکبائر بدون التوبۃ فجوزہ الاصحاب بل اثبتوہ خلافاللمعتزلۃ تمسك القائلون بجواز العفو عقلا وامتناعہ سمعا وھم البصریون من المعتزلۃ وبعض البغدادیۃ بالنصوص الوارۃ فی وعید الفساق واصحاب الکبائر واجیب بانھم داخلون فی عمومات الوعد بالثواب ودخول الجنۃ علی مامر والخلف فی الوعد لئوم لایلیق بالکریم وفاقا بخلاف الخلف فی الوعید فانہ بارھویں امت کا اتفاق اور کتاب وسنت اس پر ناطق ہیں کہ الله تعالی معاف فرمانے والا غفور ہے۔ وہ صغائر تو ہر حال میں معاف فرمادیتاہے اور کبائر کو توبہ کے بعد کفر کو قطعا معاف نہیں فرماتا۔ بغیر توبہ کبائر ك بخشش میں اختلاف ہے ہمارے اصحاب(اہل سنت)اس کے جواز کے قائل بلکہ اس کو دلائل سے ثابت کرنے والے ہیں اس میں معتزلہ کا اختلاف ہے ان میں سے کچھ نے کہا عقلا عفو کا جواز ہے مگر شرعا ممتنع ہے۔ یہ بصری معتزلہ کی رائے ہے۔ بغدادی معتزلہ ان کی نصوص سے استدلال کرتے ہیں جو فساق ا ور اصحاب کبائر کے بارے میں وعیدیں آئی ہیں۔ ان کوجواب یہ دیا گیا ہے کہ وہ وعدہ ثواب ودخول جنت کی عمومی نصوص میں داخل ہیں
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ) فالحق ان محل النزاع المشہور ھوالجواز الشرعی وکلامھم انما ھو فی مطلق الخلف وتحقیق الحق فی محصلہ ماسنلقی علیك واﷲ الھادی ۱۲ منہ رضی اﷲ عنہ۔ ہے تو حق یہ ہے کہ نزاع مشہور کا محل جواز شرعی ہے علماء کا کلام مطلق خلف میں ہے حق کی تحقیق ہم آپ پر عنقریب بیان کریں گے۔ والله الھادی ۱۲ منہ رضی الله عنہ(ت)
ربما یعدکرما اھ ملتقطا۔ جیساکہ گزرچکا ہے۔ اور وعدہ میں خلف ایسا قابل ملامت عمل ہے جو بالاتفاق کریم کے مناسب ولائق نہیں بخلاف خلاف وعید کے کہ اسے اکثر کرم ہی شنار کیا جاتاہے اھ ملتقطا ۔ (ت)
دیکھو علماء اس جواز خلف سے عذاب کے وجوب شرعی کو دفع فرماتے ہیں اور وجوب شرعی کا مقابل نہیں مگرجواز شرعی اگر صرف امکان عقلی مراد ہو تو وہ ان معتزلہ کے مذہب سے کیا منافی اور ان کی دلیل کا کیونکر نافی ہوگو وہ کب کہتے تھے کہ واجب عقلی ہے جو تم امکان عقلی کا قصہ پیش کرو۔ تو ثابت ہواکہ یہ علماء بالیقین خلف وعید کو شرعا جائز مانتے ہیں۔
ثانیا : محققین کہ جواز خلف نہیں مانتے۔ آیہ کریمہ “ ما یبدل القول لدی “ (میرے ہاں قول میں تبدیلی نہیں کی جائے گی۔ ت)استدلال کرتے ہیں کما فی شرح عقائد النسفی وشرح الفقہ الاکبر وغیرھما(جیساکہ شرح عقائد نسفی شرح فقہ اکبر اور دیگر کتب میں ہے۔ ت) اور پر ظاہر کہ آیت میں نفی وقوع صرف استحالہ شرعی پر دلیل ہوگی نہ کہ امتناع عقلی پر تو لازم کہ وہ علماء جواز شرعی مانتے ہوں ورنہ محققین کی دلیل محل نزاع سے محض اجنبی اور امر نزاع کی نافہمی پر مبتنی ہوگی وہ نہ کہہ دیں گے کہ اس سے صرف استحالہ شرعی ثابت ہوا وہ امکان عقلی کے کب خلاف ہے جس کے ہم قائل ہیں۔
ثالثا : واحدی نے بسیط میں آیہ کریمہ “ انک لا تخلف المیعاد ﴿۱۹۴﴾ “ (بیشك تو وعدہ کے خلاف نہیں کرتا۔ ت)سے صرف وعدہ مراد لیا اور وعید پر حمل کرنے سے انکار کیا کہ اس میں تو خلف جائز ہے۔ تفسیر کبیر میں فرمایا :
احتج الجبائی بھذہ الایۃ علی القطع بوعید الفساق (ثم ذکر احتجاجۃ والاجوبۃ عنہ الی ان قال)وذکر الواحدی فی البسیط طریقۃ اخری۔ فقال لم لایجوز ان یحمل ھذا علی میعاد الاولیاء دون وعید الاعداء جبائی نے وعید فساق کی قطعیت پراسی آیہ مبارکہ سے استدلال کیا(پھر اس کا استدلال اور اس کے جوابات ذکر کئے پھرکہا)اور واحدی نے بسیط میں ایك اور طریقہ ذکر کرتے ہوئے کہا یہ کیوں جائز نہیں کہ اسے وعدہ اولیاء پر محمول کرلیا جائے نہ کہ وعید اعدا پر
دیکھو علماء اس جواز خلف سے عذاب کے وجوب شرعی کو دفع فرماتے ہیں اور وجوب شرعی کا مقابل نہیں مگرجواز شرعی اگر صرف امکان عقلی مراد ہو تو وہ ان معتزلہ کے مذہب سے کیا منافی اور ان کی دلیل کا کیونکر نافی ہوگو وہ کب کہتے تھے کہ واجب عقلی ہے جو تم امکان عقلی کا قصہ پیش کرو۔ تو ثابت ہواکہ یہ علماء بالیقین خلف وعید کو شرعا جائز مانتے ہیں۔
ثانیا : محققین کہ جواز خلف نہیں مانتے۔ آیہ کریمہ “ ما یبدل القول لدی “ (میرے ہاں قول میں تبدیلی نہیں کی جائے گی۔ ت)استدلال کرتے ہیں کما فی شرح عقائد النسفی وشرح الفقہ الاکبر وغیرھما(جیساکہ شرح عقائد نسفی شرح فقہ اکبر اور دیگر کتب میں ہے۔ ت) اور پر ظاہر کہ آیت میں نفی وقوع صرف استحالہ شرعی پر دلیل ہوگی نہ کہ امتناع عقلی پر تو لازم کہ وہ علماء جواز شرعی مانتے ہوں ورنہ محققین کی دلیل محل نزاع سے محض اجنبی اور امر نزاع کی نافہمی پر مبتنی ہوگی وہ نہ کہہ دیں گے کہ اس سے صرف استحالہ شرعی ثابت ہوا وہ امکان عقلی کے کب خلاف ہے جس کے ہم قائل ہیں۔
ثالثا : واحدی نے بسیط میں آیہ کریمہ “ انک لا تخلف المیعاد ﴿۱۹۴﴾ “ (بیشك تو وعدہ کے خلاف نہیں کرتا۔ ت)سے صرف وعدہ مراد لیا اور وعید پر حمل کرنے سے انکار کیا کہ اس میں تو خلف جائز ہے۔ تفسیر کبیر میں فرمایا :
احتج الجبائی بھذہ الایۃ علی القطع بوعید الفساق (ثم ذکر احتجاجۃ والاجوبۃ عنہ الی ان قال)وذکر الواحدی فی البسیط طریقۃ اخری۔ فقال لم لایجوز ان یحمل ھذا علی میعاد الاولیاء دون وعید الاعداء جبائی نے وعید فساق کی قطعیت پراسی آیہ مبارکہ سے استدلال کیا(پھر اس کا استدلال اور اس کے جوابات ذکر کئے پھرکہا)اور واحدی نے بسیط میں ایك اور طریقہ ذکر کرتے ہوئے کہا یہ کیوں جائز نہیں کہ اسے وعدہ اولیاء پر محمول کرلیا جائے نہ کہ وعید اعدا پر
حوالہ / References
شرح المقاصد البمحث الثانی عشع دارالمعارف النعمانیہ لاہور ۲ / ۲۳۵ تا ۲۳۷
القرآن الکریم ۵۰ /۲۹
القرآن الکریم ۳ /۱۹۴
القرآن الکریم ۵۰ /۲۹
القرآن الکریم ۳ /۱۹۴
لان خلف الوعید کریم عندالعرب الخ۔ کیونکہ خلف وعید عربوں کے ہاں سراپا کریم ہوتاہے۔ (ت)
ظاہر ہے کہ علمائے مجوزین اگر صرف امکان عقلی مانتے توآیت میں اس حمل کی انھیں کیا حاجت تھی کہ انتفائے شرعی جواز عقلی کے کچھ منافی نہیں۔
رابعا : قائلان جواز کے نزدیك تحقیق یہ ہے کہ خلف وعیدصرف بحق مسلمین جائز ہےنہ بحق کفار۔ عبارت حلیہ :
الاشبہ ترجح القول بجواز الخلف فی الوعید فی حق المسلمین خاصۃ دون الکفار ۔ مختار یہ ہے کہ خلف وعید کا قول مسلمانوں کے ساتھ خاص ہے نہ کہ کفار کے لئے۔ (ت)
ابھی بحوالہ ردالمحتار گزری مگرمیں نے اس کی جگہ اور تحفے پیش کروں مختصر العقائد میں ہے :
الملك ﷲ والناس عبیدہ ولہ ان یفعل بھم مایرید ولکن وعدان لایعذب احدا بغیر ذنب وان لایخلف المؤمن المذنب فی النار ویستحیل ان یخلف فی میعادہ وکذا اوعد ان یعذب المؤمن المذنب زمانا والکافر موبدا وکن قد یعفو عن المؤمن المذنب ولایعذبہ لانہ تکرم وتفضل فیترك الوعید اما فی حق الکفار فلایکون العفو وان کان تکرما وتفضلا قال اﷲ تعالی ولو شئنا لاتینا کل نفس ھداھا ولکن حتی القول منی الایۃ اخبر انہ لایفعل مع الکفار الابطریق العدل ۔ ملك الله کا ہے تمام لوگ اس کے غلام ہیں الله تعالی ان کے بارے میں جو اپنے ارادہ کے مطابق کرسکتاہے لیکن اس نے وعدہ فرمایا وہ کسی کو گناہ کے بغیر عذاب نہیں دے گا۔ کسی مومن گنہگار کو ہمیشہ دوزخ میں نہیں ڈالے گا اور اس سے وعدہ کی خلاف ورزی محال ہے۔ اس طرح اس نے مومن گنہگار کو کچھ وقت کے لئے اور کافر کو ہمیشہ کے لئے عذاب دینے کی وعید فرمائی ہے لیکن اگر وہ کسی مومن کو معاف فرما دیتاہے اور اسے عذاب نہیں دیتا تو یہ اس کا سراپا کرم وفضل ہے تو وعید کو ترك فرمادیتاہے رہا کفار کا معاملہ تو اس میں عفو نہیں اگر چہ عفو کرم وفضل ہی ہوتاہے الله تعالی کا فرمان ہے۔ اگر ہم چاہیں تو ہر نفس کوہدایت دیں لیکن میرا قول حق ہے۔ الآیہ اس میں الله تعالی نے خبر دی ہے کہ کفار کے ساتھ صرف عدل کا معاملہ فرمائے گا۔ (ت)
ظاہر ہے کہ علمائے مجوزین اگر صرف امکان عقلی مانتے توآیت میں اس حمل کی انھیں کیا حاجت تھی کہ انتفائے شرعی جواز عقلی کے کچھ منافی نہیں۔
رابعا : قائلان جواز کے نزدیك تحقیق یہ ہے کہ خلف وعیدصرف بحق مسلمین جائز ہےنہ بحق کفار۔ عبارت حلیہ :
الاشبہ ترجح القول بجواز الخلف فی الوعید فی حق المسلمین خاصۃ دون الکفار ۔ مختار یہ ہے کہ خلف وعید کا قول مسلمانوں کے ساتھ خاص ہے نہ کہ کفار کے لئے۔ (ت)
ابھی بحوالہ ردالمحتار گزری مگرمیں نے اس کی جگہ اور تحفے پیش کروں مختصر العقائد میں ہے :
الملك ﷲ والناس عبیدہ ولہ ان یفعل بھم مایرید ولکن وعدان لایعذب احدا بغیر ذنب وان لایخلف المؤمن المذنب فی النار ویستحیل ان یخلف فی میعادہ وکذا اوعد ان یعذب المؤمن المذنب زمانا والکافر موبدا وکن قد یعفو عن المؤمن المذنب ولایعذبہ لانہ تکرم وتفضل فیترك الوعید اما فی حق الکفار فلایکون العفو وان کان تکرما وتفضلا قال اﷲ تعالی ولو شئنا لاتینا کل نفس ھداھا ولکن حتی القول منی الایۃ اخبر انہ لایفعل مع الکفار الابطریق العدل ۔ ملك الله کا ہے تمام لوگ اس کے غلام ہیں الله تعالی ان کے بارے میں جو اپنے ارادہ کے مطابق کرسکتاہے لیکن اس نے وعدہ فرمایا وہ کسی کو گناہ کے بغیر عذاب نہیں دے گا۔ کسی مومن گنہگار کو ہمیشہ دوزخ میں نہیں ڈالے گا اور اس سے وعدہ کی خلاف ورزی محال ہے۔ اس طرح اس نے مومن گنہگار کو کچھ وقت کے لئے اور کافر کو ہمیشہ کے لئے عذاب دینے کی وعید فرمائی ہے لیکن اگر وہ کسی مومن کو معاف فرما دیتاہے اور اسے عذاب نہیں دیتا تو یہ اس کا سراپا کرم وفضل ہے تو وعید کو ترك فرمادیتاہے رہا کفار کا معاملہ تو اس میں عفو نہیں اگر چہ عفو کرم وفضل ہی ہوتاہے الله تعالی کا فرمان ہے۔ اگر ہم چاہیں تو ہر نفس کوہدایت دیں لیکن میرا قول حق ہے۔ الآیہ اس میں الله تعالی نے خبر دی ہے کہ کفار کے ساتھ صرف عدل کا معاملہ فرمائے گا۔ (ت)
حوالہ / References
مفاتیح الغیب(التفسیر الکبیر) تحت آیۃ ان اﷲ لایخلف المیعاد المطبعۃ البہیۃ المصریۃ مصر ۷ / ۱۹۶
ردالمحتار بحوالہ الحلیۃ مطلب فی خلف الوعید وحکم الدعاء بالمغفرۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۳۵۱
مختصر العقائد
ردالمحتار بحوالہ الحلیۃ مطلب فی خلف الوعید وحکم الدعاء بالمغفرۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۳۵۱
مختصر العقائد
روح البیان میں ہے :
اﷲ تعالی لایغفر ان یشرك بہ فینجز وعیدہ فی حق المشرکین ویغفر مادون ذلك لمن یشاء فیجوز ان یخلف وعیدہ فی حق المومنین ۔ الله تعالی مشرك کو معاف نہیں فرماتا تو مشرکین کے حق میں وعید جاری وساری رہے گی اوراس سے نیچے کو معاف فرمادیتا ہے جس کوچاہے تواہل ایمان کے حق میں خلف وعید جائز ہوگی۔ (ت)
سبحان اللہ! اگر صرف امکان عقلی میں کلام ہوتا تو وہ باجماع اشاعرہ بلکہ جماہیر اہلسنت حق کفار میں بھی حاصل وھو التحقیق یفعل اﷲ مایشاء ویحکم مایرید(اور یہی تحقیق ہے الله تعالی جو چاہتا ہے کرتاہے اور جو چاہتاہے فیصلہ فرماتا ہے۔ ت)شرح مقاصد الطالبین فی علم اصول دین میں ہے :
اتفقت الامۃ ان اﷲ تعالی لایعفو عن الکفر قطعا وان جاز عقلا ومنع بعضھم الجواز العقلی ایضا لانہ مخالف لحکمۃ التفرقۃ بین من احسن غایۃ الاحسان ومن اساء غایۃ الاساءۃ وضعفہ ظاھر اھ ملخصا۔ امت کا اتفاق ہے کہ کفر کو قطعا معاف نہیں کیا جائے گا اگرچہ اس کا عقلی جواز ہے اور بعض نے تو جوازعقلی کا بھی انکار کیا ہے کہ انتہائی نیکی کرنے والے اورانتہائی برائی کرنے والے کے درمیان فرق کرنے کی حکمت کے خلاف ہے اور اس کا ضعف ظاہر ہے اھ ملخصا(ت)
اسی میں ہے :
عند شرذمۃ لایجوزون العفو عنھم فی الحکمۃ ۔ ایك گروہ کے ہاں یہ ہے کہ وہ حکمت کے طورپر کفار سے معافی کو جائز نہیں کہتے۔ (ت)
لاجرم بدلائل قاطعہ ثابت ہواکہ قائلین جواز جواز شرعی لیتے ہیں اور خلف کے امتناع بالغیر سے بھی انکار رکھتے ہیں اب تم نے خلف کے وہ معنی لیے جو ایك قسم کذب ہے تو قطعا لازم کہ تمھارے زعم باطل میں ان علماء کےنزدیك کذب الہی نہ صرف عقلا بلکہ شرعا بھی جائز ہو جسے امتناع بالغیر سے بھی بہرہ نہیں یہ صریح کفر ہے والعیاذ بالله رب العالمین۔ امام علامہ قاضی عیاض قدس سرہ شفا شریف میں فرماتے ہیں :
من دان بالوحدانیۃ وصحۃ النبوۃ و جو الله تعالی کی وحدانیت اور نبوت کی حقانیت اور
اﷲ تعالی لایغفر ان یشرك بہ فینجز وعیدہ فی حق المشرکین ویغفر مادون ذلك لمن یشاء فیجوز ان یخلف وعیدہ فی حق المومنین ۔ الله تعالی مشرك کو معاف نہیں فرماتا تو مشرکین کے حق میں وعید جاری وساری رہے گی اوراس سے نیچے کو معاف فرمادیتا ہے جس کوچاہے تواہل ایمان کے حق میں خلف وعید جائز ہوگی۔ (ت)
سبحان اللہ! اگر صرف امکان عقلی میں کلام ہوتا تو وہ باجماع اشاعرہ بلکہ جماہیر اہلسنت حق کفار میں بھی حاصل وھو التحقیق یفعل اﷲ مایشاء ویحکم مایرید(اور یہی تحقیق ہے الله تعالی جو چاہتا ہے کرتاہے اور جو چاہتاہے فیصلہ فرماتا ہے۔ ت)شرح مقاصد الطالبین فی علم اصول دین میں ہے :
اتفقت الامۃ ان اﷲ تعالی لایعفو عن الکفر قطعا وان جاز عقلا ومنع بعضھم الجواز العقلی ایضا لانہ مخالف لحکمۃ التفرقۃ بین من احسن غایۃ الاحسان ومن اساء غایۃ الاساءۃ وضعفہ ظاھر اھ ملخصا۔ امت کا اتفاق ہے کہ کفر کو قطعا معاف نہیں کیا جائے گا اگرچہ اس کا عقلی جواز ہے اور بعض نے تو جوازعقلی کا بھی انکار کیا ہے کہ انتہائی نیکی کرنے والے اورانتہائی برائی کرنے والے کے درمیان فرق کرنے کی حکمت کے خلاف ہے اور اس کا ضعف ظاہر ہے اھ ملخصا(ت)
اسی میں ہے :
عند شرذمۃ لایجوزون العفو عنھم فی الحکمۃ ۔ ایك گروہ کے ہاں یہ ہے کہ وہ حکمت کے طورپر کفار سے معافی کو جائز نہیں کہتے۔ (ت)
لاجرم بدلائل قاطعہ ثابت ہواکہ قائلین جواز جواز شرعی لیتے ہیں اور خلف کے امتناع بالغیر سے بھی انکار رکھتے ہیں اب تم نے خلف کے وہ معنی لیے جو ایك قسم کذب ہے تو قطعا لازم کہ تمھارے زعم باطل میں ان علماء کےنزدیك کذب الہی نہ صرف عقلا بلکہ شرعا بھی جائز ہو جسے امتناع بالغیر سے بھی بہرہ نہیں یہ صریح کفر ہے والعیاذ بالله رب العالمین۔ امام علامہ قاضی عیاض قدس سرہ شفا شریف میں فرماتے ہیں :
من دان بالوحدانیۃ وصحۃ النبوۃ و جو الله تعالی کی وحدانیت اور نبوت کی حقانیت اور
حوالہ / References
روح البیان الجزء السادس والعشرون سورۃ ق مایبدل القول کے تحت المکتبۃ الاسلامیہ ریاض ۹ / ۱۲۵
شرح المقاصد المبحث الثانی عشر دارالمعارف النعمانیہ لاہور ۲ / ۲۳۵
شرح المقاصد المبحث الثانی عشر دارالمعارف النعمانیہ لاہور ۲ / ۲۳۸
شرح المقاصد المبحث الثانی عشر دارالمعارف النعمانیہ لاہور ۲ / ۲۳۵
شرح المقاصد المبحث الثانی عشر دارالمعارف النعمانیہ لاہور ۲ / ۲۳۸
نبوۃ بنبینا صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ولکن جوز علی الانبیاء الکذب فیما اتوابہ ادعی فی ذلك المصلحۃ بزعمہ ام لم ید عھا فھو کافر باجماع ۔
ہمارے نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا اعتقاد رکھتاہو باایں ہمہ انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام پر ان باتوں میں کہ وہ اپنے رب کے پاس سے لائے کذب جائز مانے خواہ بزعم خود اس میں کسی مصلحت کا ادعا کرے یا نہ کرے۔ ہر طرح بالاجماع کافر ہے۔ (ت)
سبحان اللہ! حضرت انبیاء علیہم افضل الصلوۃ والثناء پر کذب جائز ماننے والا باتفاق کافر ہوا۔ جنا ب باری عزوجل کا جواز کذب ماننے والا کیونکر بالاجماع کافر ومرتد نہ ہوگا۔ اب تو جانا کہ تم نے اپنی جہالت و قاحت سے کفر واسلام میں تمیز نہ کی او رکفر خالص پر معاذالله ائمہ دین میں نزاع ٹھہرادی سبحان اللہ! یہ فہم فقاہت یہ دین ودیانت اورا س پر عالم رشید بلکہ شیخ مرید بننے کی ہمت ع
آدمیاں گم شدند ملك خدا خر گرفت
(آدم ختم ہوگئے اور الله تعالی کے ملك پر گدھے نے قبضہ کرلیا۔ ت)
ذرا یہ مقام یاد رکھئے کہ آپ کو خاتمہ اس سے کام پڑتاہے واﷲ المستعام علی ماتصفون لاحول ولاقوۃ الا باﷲ العلی العظیم
حجت عاشرہ ظاہرہ باہرہ زاہرہ قاہرہ امر و ادھی من قرینتھا الاولی۔
اقول : وبالله التوفیق(میں الله کی توفیق سے کہتاہوں۔ ت)ہنوز بس نہیں اگرچہ علماء مسئلہ خلف میں بلفظ جواز تعبیر کررہے ہیں مگر عقلی صافی ونظروافی نصیب ہو تو کھل جائے کہ وہ جس معنی پر خلف جائزکہتے ہیں اس معنی پر نہ صرف جائز بلکہ بالیقین واقع مانتے ہیں تو تمھارے زعم خبیث پرقطعالازم کہ ائمہ دین کذب الہی کو یقینا واقع وموجود بالفعل جانتے ہیں۔ اس سے بڑھ کر کفر جلی اور کیا ہوگا دلائل لیجئے۔
اولا : ہم ثابت کرآئے کہ خلف وعفو ان کے نزدیك مساوی ہیں۔ اورایك مساوی کا وقوع مساوی دیگر کو قطعا مستلزم خواہ تساوی فی التحقق ہو یا فی الصدق کہ اول کا توعین منطوق تلازم فی الوجود اور ثانی اس سے بھی زیادہ ادخل فی المقصود فان الا نفکاك فی الوجود فی الصدق مع شی زائد(کیونکہ وجودمی ں انفکاک صدق میں انفکاك ہی ہے بلکہ شی زائد کے ساتھ ہے۔ ت)لیکن عفو بالیقین واقع ابھی شرح مقاصد
ہمارے نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا اعتقاد رکھتاہو باایں ہمہ انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام پر ان باتوں میں کہ وہ اپنے رب کے پاس سے لائے کذب جائز مانے خواہ بزعم خود اس میں کسی مصلحت کا ادعا کرے یا نہ کرے۔ ہر طرح بالاجماع کافر ہے۔ (ت)
سبحان اللہ! حضرت انبیاء علیہم افضل الصلوۃ والثناء پر کذب جائز ماننے والا باتفاق کافر ہوا۔ جنا ب باری عزوجل کا جواز کذب ماننے والا کیونکر بالاجماع کافر ومرتد نہ ہوگا۔ اب تو جانا کہ تم نے اپنی جہالت و قاحت سے کفر واسلام میں تمیز نہ کی او رکفر خالص پر معاذالله ائمہ دین میں نزاع ٹھہرادی سبحان اللہ! یہ فہم فقاہت یہ دین ودیانت اورا س پر عالم رشید بلکہ شیخ مرید بننے کی ہمت ع
آدمیاں گم شدند ملك خدا خر گرفت
(آدم ختم ہوگئے اور الله تعالی کے ملك پر گدھے نے قبضہ کرلیا۔ ت)
ذرا یہ مقام یاد رکھئے کہ آپ کو خاتمہ اس سے کام پڑتاہے واﷲ المستعام علی ماتصفون لاحول ولاقوۃ الا باﷲ العلی العظیم
حجت عاشرہ ظاہرہ باہرہ زاہرہ قاہرہ امر و ادھی من قرینتھا الاولی۔
اقول : وبالله التوفیق(میں الله کی توفیق سے کہتاہوں۔ ت)ہنوز بس نہیں اگرچہ علماء مسئلہ خلف میں بلفظ جواز تعبیر کررہے ہیں مگر عقلی صافی ونظروافی نصیب ہو تو کھل جائے کہ وہ جس معنی پر خلف جائزکہتے ہیں اس معنی پر نہ صرف جائز بلکہ بالیقین واقع مانتے ہیں تو تمھارے زعم خبیث پرقطعالازم کہ ائمہ دین کذب الہی کو یقینا واقع وموجود بالفعل جانتے ہیں۔ اس سے بڑھ کر کفر جلی اور کیا ہوگا دلائل لیجئے۔
اولا : ہم ثابت کرآئے کہ خلف وعفو ان کے نزدیك مساوی ہیں۔ اورایك مساوی کا وقوع مساوی دیگر کو قطعا مستلزم خواہ تساوی فی التحقق ہو یا فی الصدق کہ اول کا توعین منطوق تلازم فی الوجود اور ثانی اس سے بھی زیادہ ادخل فی المقصود فان الا نفکاك فی الوجود فی الصدق مع شی زائد(کیونکہ وجودمی ں انفکاک صدق میں انفکاك ہی ہے بلکہ شی زائد کے ساتھ ہے۔ ت)لیکن عفو بالیقین واقع ابھی شرح مقاصد
حوالہ / References
الشفاء بتعریف حقوق المصطفی فصل فی بیان ماھومن المقالات المطبعۃ الشرکۃ الصحافیۃ ۲ / ۲۶۹
سے گزرا “ جواز الاصحاب بل ائبتوہ “ (اصحاب اسے جائز بلکہ اسے ثابت کرتے ہیں۔ ت)تو ثابت ہوا کہ وہ علماء جسے خلف وعیدکہتے ہیں یقینا واقع اب تم خلف کو ا س معنی ناپاك پر حمل کرتے ہو تو معاذالله الہی کے بالیقین واقع و موجود ہونے میں کیا کلام رہا صدق اﷲ تعالی(الله تعالی نے سچ فرمایا۔ ت) :
“ فانہا لا تعمی الابصر ولکن تعمی القلوب التی فی الصدور ﴿۴۶﴾ “ ۔ بیشك آنکھیں اندھی ہوتیں وہ دل اندھے ہوتے ہیں جو سینوں میں ہیں۔ والعیاذباﷲ سبحانہ وتعالی(الله سبحانہ وتعالی کی پناہ۔ ت)
ثانیا : تعیین تساوی سے قطع نظر بھی کیجئے تاہم آیہ کریمہ “ ویغفر ما دون ذلک لمن یشاء “ (شرك سے نیچے معاف فرمادے گا۔ ت)سے ان کا استدالال دلیل قاطع کو خلف عفو س خاص یامباین نہیں لاجرم مساوی نہ سہی تو عام ہوگا۔ بہر حال وقوع مغفرت ووقوع خلف اور تمھارے طورپر وقوع خلف وقوع کذب کو مستلزم ہوکر کذب الہی یقینی الوقوع ٹھہرے گا اور کیا گمراہیوں کے سر پر سینگ ہوتے ہیں۔
ثالثا : مختصر العقائد کی عبارت گزری کچھ دیر نہ ہوئی جس میں خلف وعد کو محال لکھ کر وعید مسلمین کے بارے میں دیکھ لیجئے کیالفظ لکھا یجوز ان یترك الوعید(وعید کا ترك کرنا جائز ہے۔ ت)نہ کہا بلکہ صاف صاف یترك الوعید (وعید کو ترك کردیا۔ ت)مرقوم کیا۔ پھر ثبوت مدعا میں کیا کلام رہا۔
رابعا : ان دلائل قاطعہ کے بعد تمھاری سمجھ کے لائق قاطع نزاع وواقع شغب یہ ہے کہ امام محمد محمد محمد ابن امیرالحاج حلبی رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے اسی حلیہ میں جواسی ردالمحتار کی جس سے آپ ناقل(اس مقام میں)ماخذ صاف بتادیا کہ خلف وعید صرف عفو سے عبارت ہے۔ اب آپ ہی بولئے کہ آپ کے مذہب میں عفو بالیقین واقع ہے یا نہیں۔ اگر ہے تو وہی خلف ہے اور تم خلف کو اصل کذب سمجھے تو اپنے خدا کو یقینا کاذب کہہ چکے یا نہیں۔ حلیہ کی عبارت میں ہے :
الدعاء المذکور یستلزم انہ یجوز الخلف فی الوعید وظاھر المواقف والمقاصد دعا مذکور اس بات کو مستلزم ہے کہ خلف وعید جائز ہے۔ مواقف اور مقاصد کے ظاہر سے ہی
“ فانہا لا تعمی الابصر ولکن تعمی القلوب التی فی الصدور ﴿۴۶﴾ “ ۔ بیشك آنکھیں اندھی ہوتیں وہ دل اندھے ہوتے ہیں جو سینوں میں ہیں۔ والعیاذباﷲ سبحانہ وتعالی(الله سبحانہ وتعالی کی پناہ۔ ت)
ثانیا : تعیین تساوی سے قطع نظر بھی کیجئے تاہم آیہ کریمہ “ ویغفر ما دون ذلک لمن یشاء “ (شرك سے نیچے معاف فرمادے گا۔ ت)سے ان کا استدالال دلیل قاطع کو خلف عفو س خاص یامباین نہیں لاجرم مساوی نہ سہی تو عام ہوگا۔ بہر حال وقوع مغفرت ووقوع خلف اور تمھارے طورپر وقوع خلف وقوع کذب کو مستلزم ہوکر کذب الہی یقینی الوقوع ٹھہرے گا اور کیا گمراہیوں کے سر پر سینگ ہوتے ہیں۔
ثالثا : مختصر العقائد کی عبارت گزری کچھ دیر نہ ہوئی جس میں خلف وعد کو محال لکھ کر وعید مسلمین کے بارے میں دیکھ لیجئے کیالفظ لکھا یجوز ان یترك الوعید(وعید کا ترك کرنا جائز ہے۔ ت)نہ کہا بلکہ صاف صاف یترك الوعید (وعید کو ترك کردیا۔ ت)مرقوم کیا۔ پھر ثبوت مدعا میں کیا کلام رہا۔
رابعا : ان دلائل قاطعہ کے بعد تمھاری سمجھ کے لائق قاطع نزاع وواقع شغب یہ ہے کہ امام محمد محمد محمد ابن امیرالحاج حلبی رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے اسی حلیہ میں جواسی ردالمحتار کی جس سے آپ ناقل(اس مقام میں)ماخذ صاف بتادیا کہ خلف وعید صرف عفو سے عبارت ہے۔ اب آپ ہی بولئے کہ آپ کے مذہب میں عفو بالیقین واقع ہے یا نہیں۔ اگر ہے تو وہی خلف ہے اور تم خلف کو اصل کذب سمجھے تو اپنے خدا کو یقینا کاذب کہہ چکے یا نہیں۔ حلیہ کی عبارت میں ہے :
الدعاء المذکور یستلزم انہ یجوز الخلف فی الوعید وظاھر المواقف والمقاصد دعا مذکور اس بات کو مستلزم ہے کہ خلف وعید جائز ہے۔ مواقف اور مقاصد کے ظاہر سے ہی
حوالہ / References
شرح المقاصد المبحث فی عشر دارالمعارف النعمانیہ بیروت ۲ / ۲۳۵
ا لقرآن الکریم ۲۲ / ۴۶
القرآن الکریم ۴ /۱۱۶
مختصر العقائد
ا لقرآن الکریم ۲۲ / ۴۶
القرآن الکریم ۴ /۱۱۶
مختصر العقائد
ان الاشاعرۃ قائلۃ بہ لانہ لایعد نقصا بل جود او کرما ولھذامدح بہ کعب بن زھیر رضی اﷲ تعالی عنہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم حیث قال
نبئت ان رسول اﷲ اوعدنی
والعفو عند رسول اﷲ مأمول معلوم ہوتاہے کہ اشاعرہ اس کے قائل ہیں کیونکہ اسے نقص نہیں بلکہ جو وہ کرم شمار کیا جاتاہے یہی وجہ ہے حضرت کعب بن زہیر رضی الله تعالی عنہ نے رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی اس کے ساتھ مدح کرتے ہوئے کہا
مجھے بتایا گیا ہے رسول الله صلی الله تعالی علہ وسلم نے وعید سنارکھی ہے مگر سول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے عفو کی ہی امید ہے۔ (ت)
دیکھو صراحۃ مدح بالعفو کو مدح بخلف وعید قرار دیا۔ اسی طرح ختم نبوت میں قول ابن نباتہ مصری :
الحمد ﷲ الذی اذاوعدی وفا واذا اوعد عفا ۔ تمام حمد الله کی جو وعدہ کرکے وفا فرماتاہے اورتو جب وعید سناتاہے تو معاف فرمادیتاہے۔ (ت)
کو اسی باب سے ٹھہرایا اب بھی وضوح حق میں کچھ باقی رہا۔ یہ دوسرا مقام یاد رکھنے کا ہے کہ تم نے صراحۃ وقوع و وجودکذب الہی کو ائمہ اہلسنت کا مذہب جانا اور ایسےکفر شنیع وارتداد فظیع کو اہل حق کا ایك اختلافی مسئلہ مانا
کذلك یطع اﷲ علی کل قلب متکبر جبار ولاحول ولاقوہ الا باﷲ الواحد القہار۔ یوں ہی الله تعالی ہر متکبر اور جابردل پر مہر ثبت فرماتاہے ولا حول ولاقوۃ الا باﷲ الواحد القہار(ت)
بالجملہ بحمدالله بحجج قاہرہ وبینات باہرہ شمس وامس سے زیادہ روشن اوابین ہوگیا کہ علماء جس معنی پرخلف جائز مانتے ہیں حاش اﷲ! اسے امکان کذب اصلا علاقہ نہیں ان کے نزدیك خلف بمعنی عدم ایقاع وعید بوجہ تجاوز وکرم ہے کہ عین عفو یا عفو کا مساوی وملازم اوریہ معنی نہ صرف جائز بلکہ باجماع اہلسنت بلاشبہہ واقع رہا۔ خلف بمعنی تبدیل وتکذیب خبر جس کے جواز پر امکان کذب متفرع ہوسکے۔ ہر گز ان علماء کی مراد نہ عالم میں کوئی عالم اس کا قائل بلکہ وہ بالاتفاق یك زبان ویك دل اس سے تبری وتحاشی کامل کرتے ہیں اور کذب الہی کے استحالہ قطعی وامتناع عقلی پر اجماع تام رکھتے ہیں۔ اول سے آخرتك ان کے تمام کلمات ومحاورات وجوہ مناظرہ طریق ردواثبات ہزار درہزار طور سے اس امر پر شاہد عدل وناطق فصل وقد ظھر علی کل
نبئت ان رسول اﷲ اوعدنی
والعفو عند رسول اﷲ مأمول معلوم ہوتاہے کہ اشاعرہ اس کے قائل ہیں کیونکہ اسے نقص نہیں بلکہ جو وہ کرم شمار کیا جاتاہے یہی وجہ ہے حضرت کعب بن زہیر رضی الله تعالی عنہ نے رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی اس کے ساتھ مدح کرتے ہوئے کہا
مجھے بتایا گیا ہے رسول الله صلی الله تعالی علہ وسلم نے وعید سنارکھی ہے مگر سول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے عفو کی ہی امید ہے۔ (ت)
دیکھو صراحۃ مدح بالعفو کو مدح بخلف وعید قرار دیا۔ اسی طرح ختم نبوت میں قول ابن نباتہ مصری :
الحمد ﷲ الذی اذاوعدی وفا واذا اوعد عفا ۔ تمام حمد الله کی جو وعدہ کرکے وفا فرماتاہے اورتو جب وعید سناتاہے تو معاف فرمادیتاہے۔ (ت)
کو اسی باب سے ٹھہرایا اب بھی وضوح حق میں کچھ باقی رہا۔ یہ دوسرا مقام یاد رکھنے کا ہے کہ تم نے صراحۃ وقوع و وجودکذب الہی کو ائمہ اہلسنت کا مذہب جانا اور ایسےکفر شنیع وارتداد فظیع کو اہل حق کا ایك اختلافی مسئلہ مانا
کذلك یطع اﷲ علی کل قلب متکبر جبار ولاحول ولاقوہ الا باﷲ الواحد القہار۔ یوں ہی الله تعالی ہر متکبر اور جابردل پر مہر ثبت فرماتاہے ولا حول ولاقوۃ الا باﷲ الواحد القہار(ت)
بالجملہ بحمدالله بحجج قاہرہ وبینات باہرہ شمس وامس سے زیادہ روشن اوابین ہوگیا کہ علماء جس معنی پرخلف جائز مانتے ہیں حاش اﷲ! اسے امکان کذب اصلا علاقہ نہیں ان کے نزدیك خلف بمعنی عدم ایقاع وعید بوجہ تجاوز وکرم ہے کہ عین عفو یا عفو کا مساوی وملازم اوریہ معنی نہ صرف جائز بلکہ باجماع اہلسنت بلاشبہہ واقع رہا۔ خلف بمعنی تبدیل وتکذیب خبر جس کے جواز پر امکان کذب متفرع ہوسکے۔ ہر گز ان علماء کی مراد نہ عالم میں کوئی عالم اس کا قائل بلکہ وہ بالاتفاق یك زبان ویك دل اس سے تبری وتحاشی کامل کرتے ہیں اور کذب الہی کے استحالہ قطعی وامتناع عقلی پر اجماع تام رکھتے ہیں۔ اول سے آخرتك ان کے تمام کلمات ومحاورات وجوہ مناظرہ طریق ردواثبات ہزار درہزار طور سے اس امر پر شاہد عدل وناطق فصل وقد ظھر علی کل
حوالہ / References
حلیہ المحلی شرح منیۃ المصلی
حلیہ المحلی شرح منیۃ المصلی
حلیہ المحلی شرح منیۃ المصلی
ذی عقل(اوریہ ہر عقلمند پر ظاہر ہے۔ ت)اورامام ابن امیر الحاج نے تو بحمد الله یہ امر باتم وجوہ منجلی کردیاکہ خود جواز خلف کو راجح مان کر اس معنی ناپاك تراشیدہ مدعی بیباك کی وہ بیخ کنی فرمائی جس کی غرب سے شرق تك خبر آئی۔ یونہی امام فخر الدین رازی نے تفسیر کبیر میں باآنکہ کلام امام ابو عمر وابن العلاء قائل جواز خلف کی وہ کچھ تائید کی جو اوپر گزر چکی۔ جب معنی تبدیل کی نوبت آئی جس پر ان حضرات نے تفریع کی ٹھہرائی اس پر وہ شدید وعظیم نکیر فرمائی کہ کچ فہمی جاہل پر قیامت ڈھائی اسی تفسیرمیں فرماتے ہیں :
الخبرا ذاجواز علی اﷲ الخلف فیہ فقد جوز الکذب علی اﷲ تعالی وھذا خطاء عظیم بل یقرب من ان یکون کفرافان العقلاء اجمعوا علی انہ تعالی منزہ عن الکذب ومعلوم ان فتح ھذا الباب یقضی الی الطعن فی القران وکل الشریعۃ اھ ملخصا ۔ یعنی جب خبر میں خلف الله تعالی پر جائز رکھا جائے تو بیشك کذب الہی کو جائز ماننا ہوگا اور یہ سخت خطا ہے بلکہ قریب ہے کہ کفر ہوجائے اس لئے کہ تمام عقلاء(یعنی نہ صرف اہل اسلام بلکہ سمجھ والے کافر بھی)اتفاق کئے ہوئے ہیں کہ باری تعالی کذب سے منزہ ہے۔ اورمعلوم ہے کہ اس دروازے کا کھولنا قرآن مجید اور تمام شریعت میں طعن تك لے جائیگا اھ ملخصا۔
بس خدا کی شان ہی شان نظر آتی ہے کہ واضح روشن ایمانی اجماعی مسائل ہیں مدعیان علم ودیانت و رشد ومشیخت اغوائے عوام وتلبیس مرام کویوں دیدہ ودانستہ کو یہ مفتری بن جاتے ہیں اور خوف خالق وشرم خلائق سب کو یك دست سلام کرکے ائمہ دین پر یوں کھلے بہتان جیتے طوفان اٹھاتے ہیں
چشم بازو گوش باز وایں ذکا خیرہ ام درچشم بندے خدا
(آنکھیں کھولو کان کھولو اے بند ہ خدا! اس سے آنکھیں خیرہ ہیں۔ ت)
فان کنت لاتدری فتلك مصیبۃ وان کنت تدری فالمصیبۃ اعظم
(اگر تم نہیں جانتے تو یہ مصیبت وپریشانی ہے اور اگر جانتے ہو تو اس سے بڑھ کر آزمائش ہے۔ ت)
بس زیادہ نہ کہو سوا اس کے کہ الله ہدایت دے آمین!
تنبیہ نبیہ : الحمد لله تحقیق ذروہ علیا کہ پہنچی اور عیارون طراروں کی افترا بندی اپنی سزا کو اب صرف یہ امر قابل تنقیح رہا کہ جب خلف بمعنی تبدیل کے استحالہ پر اجماع قطعی قائم اور بمعنی مساوی عفو بالاجماع جائز بلکہ واقع تو علمائے مجوزین ومحققین مانعین میں نزاع کس امر پر ہے۔ اقول : وباﷲ التوفیق وبہ العروج علی
الخبرا ذاجواز علی اﷲ الخلف فیہ فقد جوز الکذب علی اﷲ تعالی وھذا خطاء عظیم بل یقرب من ان یکون کفرافان العقلاء اجمعوا علی انہ تعالی منزہ عن الکذب ومعلوم ان فتح ھذا الباب یقضی الی الطعن فی القران وکل الشریعۃ اھ ملخصا ۔ یعنی جب خبر میں خلف الله تعالی پر جائز رکھا جائے تو بیشك کذب الہی کو جائز ماننا ہوگا اور یہ سخت خطا ہے بلکہ قریب ہے کہ کفر ہوجائے اس لئے کہ تمام عقلاء(یعنی نہ صرف اہل اسلام بلکہ سمجھ والے کافر بھی)اتفاق کئے ہوئے ہیں کہ باری تعالی کذب سے منزہ ہے۔ اورمعلوم ہے کہ اس دروازے کا کھولنا قرآن مجید اور تمام شریعت میں طعن تك لے جائیگا اھ ملخصا۔
بس خدا کی شان ہی شان نظر آتی ہے کہ واضح روشن ایمانی اجماعی مسائل ہیں مدعیان علم ودیانت و رشد ومشیخت اغوائے عوام وتلبیس مرام کویوں دیدہ ودانستہ کو یہ مفتری بن جاتے ہیں اور خوف خالق وشرم خلائق سب کو یك دست سلام کرکے ائمہ دین پر یوں کھلے بہتان جیتے طوفان اٹھاتے ہیں
چشم بازو گوش باز وایں ذکا خیرہ ام درچشم بندے خدا
(آنکھیں کھولو کان کھولو اے بند ہ خدا! اس سے آنکھیں خیرہ ہیں۔ ت)
فان کنت لاتدری فتلك مصیبۃ وان کنت تدری فالمصیبۃ اعظم
(اگر تم نہیں جانتے تو یہ مصیبت وپریشانی ہے اور اگر جانتے ہو تو اس سے بڑھ کر آزمائش ہے۔ ت)
بس زیادہ نہ کہو سوا اس کے کہ الله ہدایت دے آمین!
تنبیہ نبیہ : الحمد لله تحقیق ذروہ علیا کہ پہنچی اور عیارون طراروں کی افترا بندی اپنی سزا کو اب صرف یہ امر قابل تنقیح رہا کہ جب خلف بمعنی تبدیل کے استحالہ پر اجماع قطعی قائم اور بمعنی مساوی عفو بالاجماع جائز بلکہ واقع تو علمائے مجوزین ومحققین مانعین میں نزاع کس امر پر ہے۔ اقول : وباﷲ التوفیق وبہ العروج علی
حوالہ / References
مفاتیح الغیب(التفسیر الکبیر
اوج التحقیق علی الخبیر سقطت(میں کہتاہوں الله کی توفیق سے ا ور اس توفیق سے باخبر کو تحقیق کی بلندیوں پر عروج حاصل ہوتاہے۔ ت)ہاں منشاء نزاع اس اطلاق کی تجویز ہے مجوزین نے خیال کیا کہ خلف وعید معاذالله کسی عیب ومنقصت کا نشان نہیں دیتا بلکہ عفو وکرم پر دلیل ہوتاہے اور محل مدح وستائش میں بولا جاتاہے ولہذا جابجا عرف عرب سے اس پر استناد کرتے ہیں۔ قائل قائلھم(ان میں سے کسی کا قول ہے۔ ت)
وانی وان اوعدتہ او وعدتہ لمخلف ایعادی ومنجزموعدی
(اگر میں نے اسے وعید سنائی یا اس سے وعدہ کیا تو اپنے وعید کا خلاف اور وعدہ کو پورا کرنیووالاہوں۔ ت)
وقال اخر(اور دوسرے نے کہا۔ ت) :
اذا وعد السراء انجزوعدہ وان اوعدا فالعفو مانعہ
(جب خوشحال لوگوں سے وعدہ کیا تو وعدہ پور ا کردیا اور جب فقراء کو وعید سنائی تو عفو اس کے مانع ہوگیا۔ ت)
بنابراں خلف وعید کی تجویز کی۔ محققین نے دیکھاکہ لفظ معنی محال یعنی تبدیل کا موہوم اور یہاں ایہام محال بھی منع میں کافی کما نصوا علیہ فی مسئلۃ معقد العنز(جیسا کہ انھوں نے مسئلہ معقد العنز میں اس پر تصریح کی ہے۔ ت)اور اس کے ساتھ وقوع تمدح صرف مخلوق میں ہے خالق عزوجل کا ان پر قیاس صحیح نہیں لاجرم اس تجویز سے تحاشی کی۔
خلاصہ یہ کہ آیات وعیدمیں بنظر ظاہر عموم عدم ایك صورت خلف میں ہے اگرچہ بنظر تخصیص وتقیید حقیقت خلف سے قطعا منزہ مجوزین اسی خلف صوری کو خلف وعید سے تعبیر کرتے اور اسے جائز رکھتے ہیں کہ مفید مدح ہے اور محققین منع فرماتے ہیں کہ موہم نقص وقدح ہے ورنہ اگر خیال معنی کیجئے تو بلاشبہہ وہ جس امر کو خلف کہتے ہیں قطعا بالاجماع جائز وواقع ولہذا علامہ شہاب الدین خفا کی مصری نے تسلیم الریاض شرح شفائے امام قاضی عیاض میں مسئلہ خلف کواہلسنت کا اتفاقی قرار دیا اور اس میں خلاف صرف معتزلہ کی نسبت کیا
حیث قال الوعید لایجوز تخلفہ عند المعتزلہ لقولھم بانہ یجب علی اﷲ تعالی تعذیب العاصی ۔ جہاں کہاں کہ وعید کا تخلف معتزلہ کے ہاں جائز نہیں کیونکہ ان کا یہ مذہب ہے کہ خاص کو عذاب دینا الله تعالی پر لازم ہے۔ (ت)
وانی وان اوعدتہ او وعدتہ لمخلف ایعادی ومنجزموعدی
(اگر میں نے اسے وعید سنائی یا اس سے وعدہ کیا تو اپنے وعید کا خلاف اور وعدہ کو پورا کرنیووالاہوں۔ ت)
وقال اخر(اور دوسرے نے کہا۔ ت) :
اذا وعد السراء انجزوعدہ وان اوعدا فالعفو مانعہ
(جب خوشحال لوگوں سے وعدہ کیا تو وعدہ پور ا کردیا اور جب فقراء کو وعید سنائی تو عفو اس کے مانع ہوگیا۔ ت)
بنابراں خلف وعید کی تجویز کی۔ محققین نے دیکھاکہ لفظ معنی محال یعنی تبدیل کا موہوم اور یہاں ایہام محال بھی منع میں کافی کما نصوا علیہ فی مسئلۃ معقد العنز(جیسا کہ انھوں نے مسئلہ معقد العنز میں اس پر تصریح کی ہے۔ ت)اور اس کے ساتھ وقوع تمدح صرف مخلوق میں ہے خالق عزوجل کا ان پر قیاس صحیح نہیں لاجرم اس تجویز سے تحاشی کی۔
خلاصہ یہ کہ آیات وعیدمیں بنظر ظاہر عموم عدم ایك صورت خلف میں ہے اگرچہ بنظر تخصیص وتقیید حقیقت خلف سے قطعا منزہ مجوزین اسی خلف صوری کو خلف وعید سے تعبیر کرتے اور اسے جائز رکھتے ہیں کہ مفید مدح ہے اور محققین منع فرماتے ہیں کہ موہم نقص وقدح ہے ورنہ اگر خیال معنی کیجئے تو بلاشبہہ وہ جس امر کو خلف کہتے ہیں قطعا بالاجماع جائز وواقع ولہذا علامہ شہاب الدین خفا کی مصری نے تسلیم الریاض شرح شفائے امام قاضی عیاض میں مسئلہ خلف کواہلسنت کا اتفاقی قرار دیا اور اس میں خلاف صرف معتزلہ کی نسبت کیا
حیث قال الوعید لایجوز تخلفہ عند المعتزلہ لقولھم بانہ یجب علی اﷲ تعالی تعذیب العاصی ۔ جہاں کہاں کہ وعید کا تخلف معتزلہ کے ہاں جائز نہیں کیونکہ ان کا یہ مذہب ہے کہ خاص کو عذاب دینا الله تعالی پر لازم ہے۔ (ت)
حوالہ / References
نسیم الریاض شرح الشفاء للقاضی عیاض فصل فی بیان ماھو من المقالات کفر الخ دارالفکر بیروت ۴ / ۵۳۱
پر ظاہر کہ اس نسبت کا منشا وہی نظر معنی ہے کہ معنی مقصود مجوزین کے جواز میں واقعی اشقیائے معتزلہ ہی کو خلاف ہے اہلسنت میں کوئی اس کا منکر نہیں۔ جس طرح معنی کذب وتبدیل کے بطلان وامتناع پر اہلسنت بلکہ اہل ملل بلکہ اہل عقل کا اجماع ہے جس میں کسی فرقہ کا خلاف معلوم ظاہر نہیں۔ یہ ہے بحمد الله محل نزاع کی تحریر انیق وتقریر رشیق والحمد الله ولی التوفیق علی الھام التحقیق وار شاد الطریق(حمد ہے الله تعالی میں جو عطاء تحقیق اور رہنما طریق کی توفیق کا مالك ہے۔ ت)امام محقق مدقق علامہ حلبی نے اسی حلیہ میں جواز خلف مان کر معنی کذب وتبدیل سے وہ تحاشی عظیم فرمائی جس کی نقل حجت سابعہ میں گزری پھر تصریح مراد کی یوں ارشادکی :
المراد بالوعید صورۃ العموم بالوعید من ارید بالخطاب ۔ مسئلہ جواز خلف میں وعید سے صورت عموم مراد ہے کہ بظاہر حکم سب مخاطبوں کو شامل نظر آتاہے۔
یعنی تنہا الفاظ وعید پر نظر کیجئے تو صاف یہی حکم ہے معلوم ہوتا ہے کہ جہاں ایسا کریں گے سب سزا پائیں گے پھر جبکہ بدلائل قاطعہ ثابت ہوا کہ بعض کو نہ ہوگی تو بظاہر وعید متحلف ہوئی حالانکہ وہ عموم صرف صوری تھا۔ نہ حقیقی کہ حقیقت میں عمومات وعید آیات مشیت سے مکتسب تقیید جن کا حاصل یہ ہے کہ ہم معاف نہ فرمائیں تو سزا ہوگی بس اس قدر محصل خلف ہے جسے معاذالله کذب وتبدیل سے کچھ علاقہ نہیں۔ پھر اس مراد و مقصود کی تحقیق فرماکر ارشاد کرتے ہیں :
ثم حیث کان المراد ھذا فالوجہ ترك اطلاق جواز الخلف فی الوعد والوعیددفعالایھام ان یکون المراد منہ ھذا المحال ۔ یعنی جب معلوم ہوگیا کہ جواز خلف سے صرف اس قدر مراد ہے نہ وہ کہ معاذالله امکان کذب کو راہ دے کہ کذب و تبدیل تو یقینا الله تعالی پر مستحیل تو مناسب یہی ہے کہ وعدہ یا وعید کسی میں جواز خلف کا لفظ نہ بولیں کہ اس سے کسی کو اس معنی محال کا وہم نہ گزرے.
واقعی امام ممدوح کا گمان بجا تھا۔ آخر دیکھئے ناکہ اس چودھویں صدی میں جہال سفہاء کو وہ ہم آڑے ہی آیا۔ والعیاذ بالله سبحانہ وتعالی پھر فرماتے ہیں :
وانما وافقنا ھم علی الاطلاق لشھرۃ المسئلۃ بینھم بھذہ الترجمۃ و ہم نے جو اس لفظ کے اطلاق میں علمائے سابقین کا ساتھ دیا اس پر باعث یہ تھا کہ مسئلہ ان میں سے اسی
المراد بالوعید صورۃ العموم بالوعید من ارید بالخطاب ۔ مسئلہ جواز خلف میں وعید سے صورت عموم مراد ہے کہ بظاہر حکم سب مخاطبوں کو شامل نظر آتاہے۔
یعنی تنہا الفاظ وعید پر نظر کیجئے تو صاف یہی حکم ہے معلوم ہوتا ہے کہ جہاں ایسا کریں گے سب سزا پائیں گے پھر جبکہ بدلائل قاطعہ ثابت ہوا کہ بعض کو نہ ہوگی تو بظاہر وعید متحلف ہوئی حالانکہ وہ عموم صرف صوری تھا۔ نہ حقیقی کہ حقیقت میں عمومات وعید آیات مشیت سے مکتسب تقیید جن کا حاصل یہ ہے کہ ہم معاف نہ فرمائیں تو سزا ہوگی بس اس قدر محصل خلف ہے جسے معاذالله کذب وتبدیل سے کچھ علاقہ نہیں۔ پھر اس مراد و مقصود کی تحقیق فرماکر ارشاد کرتے ہیں :
ثم حیث کان المراد ھذا فالوجہ ترك اطلاق جواز الخلف فی الوعد والوعیددفعالایھام ان یکون المراد منہ ھذا المحال ۔ یعنی جب معلوم ہوگیا کہ جواز خلف سے صرف اس قدر مراد ہے نہ وہ کہ معاذالله امکان کذب کو راہ دے کہ کذب و تبدیل تو یقینا الله تعالی پر مستحیل تو مناسب یہی ہے کہ وعدہ یا وعید کسی میں جواز خلف کا لفظ نہ بولیں کہ اس سے کسی کو اس معنی محال کا وہم نہ گزرے.
واقعی امام ممدوح کا گمان بجا تھا۔ آخر دیکھئے ناکہ اس چودھویں صدی میں جہال سفہاء کو وہ ہم آڑے ہی آیا۔ والعیاذ بالله سبحانہ وتعالی پھر فرماتے ہیں :
وانما وافقنا ھم علی الاطلاق لشھرۃ المسئلۃ بینھم بھذہ الترجمۃ و ہم نے جو اس لفظ کے اطلاق میں علمائے سابقین کا ساتھ دیا اس پر باعث یہ تھا کہ مسئلہ ان میں سے اسی
حوالہ / References
حلیہ المحلی شرح منیۃ المصلی
حلیہ المحلی شرح منیۃ المصلی
حلیہ المحلی شرح منیۃ المصلی
نستغفر اﷲ العظیم من کل مالیس فیہ رضاہ ۔ نام سے شہرت رکھتاہے اور ہم الله عزوجل سے مغفرچاہتے ہیں ہر اس بات کی جو اسے پسند یدہ نہیں۔
سفیہ جاہل دیکھے کہ اس کے امکان کذب کے شوشے کدھر گئے۔
“ و قل جاء الحق و زہق البطل ان البطل کان زہوقا ﴿۸۱﴾ “ ۔ فرماؤ کہ حق آیا اور باطل مٹ گیا بشیك باطل کو مٹنا ہی تھا۔ (ت)
فقیرغفر الله تعالی نے بتوفیی المولی سبحانہ وتعالی اس مقام کی زیادہ تحقیق حواشی شرح عقائد وشرح مواقف پرذکر کی اگر مخافت تطویل نہ ہوتی تو ان نفائس جلیلہ کو زیور گوش سامعین کرتا۔ وفیما ذکرنا کفایۃ و الحمد اﷲ ولی الھدایۃ(جو کچھ ہم نے ذکر کردیا وہی کافی ہے۔ حمد ہے الله تعالی کی جو ہدایت کا مالك ہے۔ ت)غرض اس مقدار سے زائد کسی امر کو محل نزاع ٹھہرانا خود ان کے مقتضائے کلام ومقال وتمسك واستدلال سے جدا پـڑنا اور توجیہ القول بالایرضی بہ قائلہ کرنا اوران کے اجماعیات قاطعہ سے منکر ہونا اوران مہالك شنیعہ و نتائج فظیہ کا ان کے ذمے باندھنا ہے جن سے ہو ہزارجگہ بتصریح صریح تبری کرتے ہیں۔ اور واقعی بحمد الله بارہا دیکھا ہے کہ ائمہ اہلسنت میں جو مسئلہ اصول مختلف فیہ رہاہے اگرچہ بعض ناظرین ظواہر الفاظ سے دھوکا کھائیں مگر عند التحقیق اس کا حاصل نزاع لفظی یا ایسی ہی کسی بلکہ بات کی طرف راجع ہوا ہے۔ پھرایك فریق کے دوسرے پر الزامات حقیقۃ اپنے معنی مرادپر الزام ہیں جس سے دوسرے کا ذہن خالی نہ اس کی مراد سے انھیں تعلق نہ اسے دیکھ کر کوئی عاقل یہ وہم کرسکتاہے کہ وہ امر جس کا الزام دیا گیا فریقین میں مختلف فیہ ہے بلکہ یہ تو عامہ نزاعات حقیقیہ معنویہ میں بھی نہیں ہوتا چہ جائے صور یہ ولفظیہ میں الزام اسی امر سے دیتے ہیں جس کا بطلان متفق علیہ ہو مختلف فیہ سے مختلف فیہ پر احتجاج یعنی چہ خصوصا جب کہ ایك امرمیں اختلاف دوسرے میں تنازع کی فرع ہو کہ اس تقدیر پر فرع سے الزام مصادرہ علی المطلوب ہے۔ یہ نکتہ بھی یادرکھنے کے قابل کہ طرف مقابل سخت ابلہ وجاہل خیر بات دور پہنچی نظائر لیجئے۔ مثلاایمان مخلوق ہے یا غیر مخلوق امام عارف بالله حارث محاسبی وجعفر بن حرب وعبدالله بن کلاب وامام المتکلمین عبدالعزیز مکی وائمہ سمرقنداول کے قائل اور اسی طرف امام ہمام ابو الحسن اشعری قدس سرہ مائل بلکہ اسی پر امام الائمہ سراج الامہ امام اعظم رضی الله تعالی عنہ کا نص شریف دلیل کامل اور امام عماد السنہ احمد بن حنبل وغیرہ جماعت محدثین سے قول منقول اوریہی ائمہ بخارا
سفیہ جاہل دیکھے کہ اس کے امکان کذب کے شوشے کدھر گئے۔
“ و قل جاء الحق و زہق البطل ان البطل کان زہوقا ﴿۸۱﴾ “ ۔ فرماؤ کہ حق آیا اور باطل مٹ گیا بشیك باطل کو مٹنا ہی تھا۔ (ت)
فقیرغفر الله تعالی نے بتوفیی المولی سبحانہ وتعالی اس مقام کی زیادہ تحقیق حواشی شرح عقائد وشرح مواقف پرذکر کی اگر مخافت تطویل نہ ہوتی تو ان نفائس جلیلہ کو زیور گوش سامعین کرتا۔ وفیما ذکرنا کفایۃ و الحمد اﷲ ولی الھدایۃ(جو کچھ ہم نے ذکر کردیا وہی کافی ہے۔ حمد ہے الله تعالی کی جو ہدایت کا مالك ہے۔ ت)غرض اس مقدار سے زائد کسی امر کو محل نزاع ٹھہرانا خود ان کے مقتضائے کلام ومقال وتمسك واستدلال سے جدا پـڑنا اور توجیہ القول بالایرضی بہ قائلہ کرنا اوران کے اجماعیات قاطعہ سے منکر ہونا اوران مہالك شنیعہ و نتائج فظیہ کا ان کے ذمے باندھنا ہے جن سے ہو ہزارجگہ بتصریح صریح تبری کرتے ہیں۔ اور واقعی بحمد الله بارہا دیکھا ہے کہ ائمہ اہلسنت میں جو مسئلہ اصول مختلف فیہ رہاہے اگرچہ بعض ناظرین ظواہر الفاظ سے دھوکا کھائیں مگر عند التحقیق اس کا حاصل نزاع لفظی یا ایسی ہی کسی بلکہ بات کی طرف راجع ہوا ہے۔ پھرایك فریق کے دوسرے پر الزامات حقیقۃ اپنے معنی مرادپر الزام ہیں جس سے دوسرے کا ذہن خالی نہ اس کی مراد سے انھیں تعلق نہ اسے دیکھ کر کوئی عاقل یہ وہم کرسکتاہے کہ وہ امر جس کا الزام دیا گیا فریقین میں مختلف فیہ ہے بلکہ یہ تو عامہ نزاعات حقیقیہ معنویہ میں بھی نہیں ہوتا چہ جائے صور یہ ولفظیہ میں الزام اسی امر سے دیتے ہیں جس کا بطلان متفق علیہ ہو مختلف فیہ سے مختلف فیہ پر احتجاج یعنی چہ خصوصا جب کہ ایك امرمیں اختلاف دوسرے میں تنازع کی فرع ہو کہ اس تقدیر پر فرع سے الزام مصادرہ علی المطلوب ہے۔ یہ نکتہ بھی یادرکھنے کے قابل کہ طرف مقابل سخت ابلہ وجاہل خیر بات دور پہنچی نظائر لیجئے۔ مثلاایمان مخلوق ہے یا غیر مخلوق امام عارف بالله حارث محاسبی وجعفر بن حرب وعبدالله بن کلاب وامام المتکلمین عبدالعزیز مکی وائمہ سمرقنداول کے قائل اور اسی طرف امام ہمام ابو الحسن اشعری قدس سرہ مائل بلکہ اسی پر امام الائمہ سراج الامہ امام اعظم رضی الله تعالی عنہ کا نص شریف دلیل کامل اور امام عماد السنہ احمد بن حنبل وغیرہ جماعت محدثین سے قول منقول اوریہی ائمہ بخارا
“ ومن وافقہم “ کے نزدیك مختار و منصور ومعتمد مقبول اس پر ائمہ سمر قند وبخارا میں نزاع کو جو طول ہوا مخفی نہیں انہوں انھوں نے ان پر مخلوقیت قرآن کا الزام رکھا انھوں نے ان پر نامخلوقیت افعال عباد کا طعن کیا اور حقیقت دیکھئے تو بات کچھ بھی نہیں اپنی اپنی مراد پر دونوں سچ فرماتے ہیں ایمان مخلوق بیشك مخلوق کہ مخلوق وصفات مخلوق سب مخلوق اور ایمان کہ صفت خالق عزوجل ہے جس پر اسمائے حسنی سے پاك مومن دلیل یعنی اس ملك جلیل جل جلالہ کا ازل میں اپنے کلام کی تصدیق فرمانا وہ قطعا غیر مخلوق کہ خالق وصفات خالق مخلوقیت سے منزہ۔
ھکذا قررہ الفاضل العلامۃ کمال الدین بن ابی شریف القدسی فی المسامرۃ شرح المسایرۃ۔ اسی طرح اس کی تفصیل فاضل علامہ کمال الدین بن ابی شریف المقدسی نے المسامرۃ شرح المسایرۃ میں کی ہے۔ (ت)
اب کیا کوئی احمق جاہل اس نزاع کو دیکھ کر یہ گمان کرے گا کہ بعض صفات خالق کا مخلوق یا بعض افعال مخلوق کا نامخلوق ہونا ائمہ اہل سنت میں مختلف فیہ ہے۔ حاشاہ کلایوں ہی مسئلہ زیادت ونقصان ایمان کہ قدیم سے مختلف فیہاہے۔ امام رازی وغیرہ بہت محققین اسے بھی نزاع لفظی پر اتارتے ہیں۔ منح الروض میں ہے :
ذھب الامام الرازی وکثیر من المتکلمین الی ان ھذا الخلاف لفظی راجع الی تفسیر الایمان ۔ امام رازی اور بہت سے متکلمین ا س طرف گئے ہیں یہ اختلاف لفظی ہے جو ایمان کی تفسیر ك طرف لوٹتا ہے۔ (ت)
پھر کہا :
ھذا ھوالتحقیق الذی یجب ان یعول علیہ ۔ یہ وہ تحقیق ہے جس پر اعتماد لازم ہے(ت)
اسی طرح اور مسائل پائے گا۔ اگر اس پر حمل کیجئے جب تو امرنہایت ایسر کہ مجوزین بمعنی مساوی عفہ لیتے ہیں اورمانعین بمعنی تبدیل قول دونوں سچ کہتے ہیں اور دونوں اجماع باتیں ہیں مگر فقیر نے بحمد الله جو تنقیح مناط کردی اس پر نزاع بھی معنوی رہی اورقول مانعین کا محقق وراج ہونا بھی کھل گیا اور جہالت جاہلین کا علاج بھی بحمدالله بروجہ کافی ہولیا
ذلك من فضل اﷲ علینا وعلی الناس یہ الله کا فضل ہے ہم پر او لوگوں پرلیکن اکثر لوگ
ھکذا قررہ الفاضل العلامۃ کمال الدین بن ابی شریف القدسی فی المسامرۃ شرح المسایرۃ۔ اسی طرح اس کی تفصیل فاضل علامہ کمال الدین بن ابی شریف المقدسی نے المسامرۃ شرح المسایرۃ میں کی ہے۔ (ت)
اب کیا کوئی احمق جاہل اس نزاع کو دیکھ کر یہ گمان کرے گا کہ بعض صفات خالق کا مخلوق یا بعض افعال مخلوق کا نامخلوق ہونا ائمہ اہل سنت میں مختلف فیہ ہے۔ حاشاہ کلایوں ہی مسئلہ زیادت ونقصان ایمان کہ قدیم سے مختلف فیہاہے۔ امام رازی وغیرہ بہت محققین اسے بھی نزاع لفظی پر اتارتے ہیں۔ منح الروض میں ہے :
ذھب الامام الرازی وکثیر من المتکلمین الی ان ھذا الخلاف لفظی راجع الی تفسیر الایمان ۔ امام رازی اور بہت سے متکلمین ا س طرف گئے ہیں یہ اختلاف لفظی ہے جو ایمان کی تفسیر ك طرف لوٹتا ہے۔ (ت)
پھر کہا :
ھذا ھوالتحقیق الذی یجب ان یعول علیہ ۔ یہ وہ تحقیق ہے جس پر اعتماد لازم ہے(ت)
اسی طرح اور مسائل پائے گا۔ اگر اس پر حمل کیجئے جب تو امرنہایت ایسر کہ مجوزین بمعنی مساوی عفہ لیتے ہیں اورمانعین بمعنی تبدیل قول دونوں سچ کہتے ہیں اور دونوں اجماع باتیں ہیں مگر فقیر نے بحمد الله جو تنقیح مناط کردی اس پر نزاع بھی معنوی رہی اورقول مانعین کا محقق وراج ہونا بھی کھل گیا اور جہالت جاہلین کا علاج بھی بحمدالله بروجہ کافی ہولیا
ذلك من فضل اﷲ علینا وعلی الناس یہ الله کا فضل ہے ہم پر او لوگوں پرلیکن اکثر لوگ
حوالہ / References
منح الروض الازہر شرح الفقہ الاکبر ومنہا ان الایمان لایزید وینقص مصطفی البابی مصر ص۱۳۵
منح الروض الازہر شرح الفقہ الاکبر ومنہا ان الایمان لایزید وینقص مصطفی البابی مصر ص۱۳۵
منح الروض الازہر شرح الفقہ الاکبر ومنہا ان الایمان لایزید وینقص مصطفی البابی مصر ص۱۳۵
ولکن اکثر الناس لایشکرون o اللھم لك الشکر الابدی والمن السرمدی والحمد ﷲ رب العالمین۔ شکرنہیں بجالاتے۔ اے اللہ! شکر ابدی اور احسان دائمی تیرے لئے ہے اور سب تعریفیں الله رب العالمین کے لئے ہیں۔ (ت)
تسجیل جلیل و تکمیل جمیل : اقول : وبالله التوفیق(میں الله کی توفیق سے کہتاہوں۔ ت)مدعی جدید بیچارے کی حالت نہایت قابل رحم غریب نے امام الطائفہ کی بات بنانے کو عقل ودیانت کو پان رخصت دیا۔ اپنے رب کو جیسے بنے لائق کذب کردینے کا ذمہ لیا۔ ائمہ امت وسادات ملت پر کھلی آنکھوں جیتا بہتان کیا غرض لاکھ جتن کو چھوڑے مگرکال نہ کٹا یعنی امام کی پیشانی سے داغ ضلالت مٹنا تھا نہ مٹا۔ آپ کو یاد ہو کہ اصل بات کا ہے پر چھڑی تھی ذکر یہ تھا کہ حضور پر نور سید المرسلین خاتم النبیین اکرم الاولین والاخرین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا مثل وہمسر حضور کی جلہ صفات کمالیہ میں شریك برابر محال ہے کہ الله تعالی حضورکو خاتم النبیین فرماتاہے اورختم نبوت ناقابل شرکت تو امکان مثل مستلزم کذب الہی اور کذب الہی محال عقلی
منزہ عن شریك فی محاسنہ فجوھر الحسن فیہ غیر منقسم
(اپنے محاسن میں آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کسی شریك سے بالا ہیں آپ کو ہر حسن تقسیم نہیں کیا گیا۔ ت)
اس پر اس سفیہ نے جواب دیا کہ کذب الہی محال نہیں۔ ممکن ہے کہ خدا کی بات جھوٹی ہوجائے اور اس پر جو ہذیانات بکے ان کی خدمت گزاری توآپ سن ہی چکے اب یہ حضرت اس کی حمایت میں خلف وعید کا مسئلہ پیش کرتے ہیں یعنی ان کے امام نے نئی نہ کہی بلکہ اس کا قول ایك گروہ ائمہ کے موافق ہے۔ اے سبحان اللہ!
اما چنیں مقتدے چناں جہاں چوں نہ بیند بدلے چناں
(ایسے امام اور ایسے مقتدی جہاں نے ایسے بدنہ دیکھے ہوں گے۔ ت)
اے حضرت! سب کچھ جانے دیجئے مگریہ آیہ کریمہ “ ولکن رسول اللہ و خاتم النبین “ ہاں الله کے رسول ہیں اور سب نبیوں میں پچھلے۔ ت)بھی معاذالله کوئی وعید ہے جس کے امکان کذب کو جواز علت پر متفرع کیجئے گا یہ تو وعدہ ہے یعنی حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو بشارت عظیمہ کو تمھیں اس فضل جلیل سے مشرف کیا گیا تمھاری شریعت مطہرہ کو شرف افضلیت بخشا تم ناسخ ادیان ہوئے تمھارے دین متین کا ناسخ کوئی نہ آئے گا تم سب سے بلند وبرتر تم سے بالاکوئی ہوا نہ ہوگا۔ اس میں خلف تو
تسجیل جلیل و تکمیل جمیل : اقول : وبالله التوفیق(میں الله کی توفیق سے کہتاہوں۔ ت)مدعی جدید بیچارے کی حالت نہایت قابل رحم غریب نے امام الطائفہ کی بات بنانے کو عقل ودیانت کو پان رخصت دیا۔ اپنے رب کو جیسے بنے لائق کذب کردینے کا ذمہ لیا۔ ائمہ امت وسادات ملت پر کھلی آنکھوں جیتا بہتان کیا غرض لاکھ جتن کو چھوڑے مگرکال نہ کٹا یعنی امام کی پیشانی سے داغ ضلالت مٹنا تھا نہ مٹا۔ آپ کو یاد ہو کہ اصل بات کا ہے پر چھڑی تھی ذکر یہ تھا کہ حضور پر نور سید المرسلین خاتم النبیین اکرم الاولین والاخرین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا مثل وہمسر حضور کی جلہ صفات کمالیہ میں شریك برابر محال ہے کہ الله تعالی حضورکو خاتم النبیین فرماتاہے اورختم نبوت ناقابل شرکت تو امکان مثل مستلزم کذب الہی اور کذب الہی محال عقلی
منزہ عن شریك فی محاسنہ فجوھر الحسن فیہ غیر منقسم
(اپنے محاسن میں آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کسی شریك سے بالا ہیں آپ کو ہر حسن تقسیم نہیں کیا گیا۔ ت)
اس پر اس سفیہ نے جواب دیا کہ کذب الہی محال نہیں۔ ممکن ہے کہ خدا کی بات جھوٹی ہوجائے اور اس پر جو ہذیانات بکے ان کی خدمت گزاری توآپ سن ہی چکے اب یہ حضرت اس کی حمایت میں خلف وعید کا مسئلہ پیش کرتے ہیں یعنی ان کے امام نے نئی نہ کہی بلکہ اس کا قول ایك گروہ ائمہ کے موافق ہے۔ اے سبحان اللہ!
اما چنیں مقتدے چناں جہاں چوں نہ بیند بدلے چناں
(ایسے امام اور ایسے مقتدی جہاں نے ایسے بدنہ دیکھے ہوں گے۔ ت)
اے حضرت! سب کچھ جانے دیجئے مگریہ آیہ کریمہ “ ولکن رسول اللہ و خاتم النبین “ ہاں الله کے رسول ہیں اور سب نبیوں میں پچھلے۔ ت)بھی معاذالله کوئی وعید ہے جس کے امکان کذب کو جواز علت پر متفرع کیجئے گا یہ تو وعدہ ہے یعنی حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو بشارت عظیمہ کو تمھیں اس فضل جلیل سے مشرف کیا گیا تمھاری شریعت مطہرہ کو شرف افضلیت بخشا تم ناسخ ادیان ہوئے تمھارے دین متین کا ناسخ کوئی نہ آئے گا تم سب سے بلند وبرتر تم سے بالاکوئی ہوا نہ ہوگا۔ اس میں خلف تو
حوالہ / References
القرآن الکریم ۳۳ /۴۰
ہر طرح بالا جماع محال ہے پھر تمھارے امام کا کیا کام نکلا اورمخالف اجماع مسلمین واحداث بدعت ضالہ فی الدین کا داغ کیونکر مٹا۔ ہاں یہ کہ اس کی اور ساتھ لگے تمھاری عقل ودیانت کاکام تمام ہوا اسے کام نکلنا سمجھ لیجئے چاہئے کام ہوجانا قسمت کا بداکہ دین ودیانت سے یوں کٹی چھٹی اور امام بیچارے کی بات نہ بنی
نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم حبك الشی یعمی ویصم
(تجھے شی کی محبت اندھا اور بہرہ کردے گی۔ ت)
ذلیل وخوار وخراب وخستہ نہ اس سے ملتے نہ ایسے ہوتے
بہك گئے دین حق کا رستہ نہ اس سے ملتے نہ ایسے ہوتے
صدق القائل(کہنے والے نے سچ کہا۔ ت)
اذا کان الغراب دلیل قوم سیھدیھم طریق الھالکینا
(جب قوم کا رہنما کوا ہو تو اس کو ہلاکت والے راستہ ہی کی رہنمائی کرے گا۔ ت)
الحمد اللہ! یہ بظاہر دس حجج باہرہ اور حقیقۃ اکیس دلائل قاہرہ ہیں کہ حجت رابعہ میں ۱۱وجہ ۲ و۱۲وجہ ۳ حجت سادسہ میں ۱۳ثانیا حجت تاسعہ وعاشرہ دونوں میں ۱۴ ۱۵ثانیا ۱۶ ۱۷ثالثا ر۱۸ ۱۹ابعا بالجملہ کے بعد ۲۰عبارت امام رازی تنبیہ نبیہ میں کلام ۲۱امام حلبی یہ گیارہ مستقل حجتیں تھیں۔ انھیں مدعی جدید پر اکیس کوڑے سمجھئے تو بائیسواں۲۲ تازیانہ تسجیل جلیل کا ہوا اوپر کے سو۱۰۰ ملاکر ایك سو بائیس۱۲۲ کوڑے انھیں جمع رکھئے اور آگے چلئے کہ سائل کے بقیہ سوال کو اظہار جواب وتحقیق صواب کا انتظار کرتے دیر گزری اب وقت وہ آیا کہ ادھر عطف عنان کروں اور بیان حکم قائل کے لئے میدان بدیع تحقیق رفیع میں قدم دھروں : واﷲ الھادی ولی الایادی والصلوۃ علی حبیبہ سراج النادی۔ رہنمائی فرمانے والا الله ہے اور وہی مدد کا مالك ہے اس کے محبوب پر صلوۃ والسلام ہو جو مجلس کائنات کے چراض ہیں۔ (ت)
خاتمہ تحقیق حکم قائل میں
اقول : وباﷲ التوفیق اللھم اغفروقنا الضلال والکفر(میں الله کی توفیق سے کہتاہوں اے اللہ!ہمیں معاف فرمادے اور ہمیں گمراہی اور کفر سے محفوظ فرما۔ ت)جان برادر! یہ پوچھتا ہے کہ ان کا یہ عقیدہ کیساہے اورا ن کے پیچھے نماز کا کیا حکم ہے یہ پوچھب کہ امام وماموم پر ایك جماعت ائمہ کے نزدیك
نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم حبك الشی یعمی ویصم
(تجھے شی کی محبت اندھا اور بہرہ کردے گی۔ ت)
ذلیل وخوار وخراب وخستہ نہ اس سے ملتے نہ ایسے ہوتے
بہك گئے دین حق کا رستہ نہ اس سے ملتے نہ ایسے ہوتے
صدق القائل(کہنے والے نے سچ کہا۔ ت)
اذا کان الغراب دلیل قوم سیھدیھم طریق الھالکینا
(جب قوم کا رہنما کوا ہو تو اس کو ہلاکت والے راستہ ہی کی رہنمائی کرے گا۔ ت)
الحمد اللہ! یہ بظاہر دس حجج باہرہ اور حقیقۃ اکیس دلائل قاہرہ ہیں کہ حجت رابعہ میں ۱۱وجہ ۲ و۱۲وجہ ۳ حجت سادسہ میں ۱۳ثانیا حجت تاسعہ وعاشرہ دونوں میں ۱۴ ۱۵ثانیا ۱۶ ۱۷ثالثا ر۱۸ ۱۹ابعا بالجملہ کے بعد ۲۰عبارت امام رازی تنبیہ نبیہ میں کلام ۲۱امام حلبی یہ گیارہ مستقل حجتیں تھیں۔ انھیں مدعی جدید پر اکیس کوڑے سمجھئے تو بائیسواں۲۲ تازیانہ تسجیل جلیل کا ہوا اوپر کے سو۱۰۰ ملاکر ایك سو بائیس۱۲۲ کوڑے انھیں جمع رکھئے اور آگے چلئے کہ سائل کے بقیہ سوال کو اظہار جواب وتحقیق صواب کا انتظار کرتے دیر گزری اب وقت وہ آیا کہ ادھر عطف عنان کروں اور بیان حکم قائل کے لئے میدان بدیع تحقیق رفیع میں قدم دھروں : واﷲ الھادی ولی الایادی والصلوۃ علی حبیبہ سراج النادی۔ رہنمائی فرمانے والا الله ہے اور وہی مدد کا مالك ہے اس کے محبوب پر صلوۃ والسلام ہو جو مجلس کائنات کے چراض ہیں۔ (ت)
خاتمہ تحقیق حکم قائل میں
اقول : وباﷲ التوفیق اللھم اغفروقنا الضلال والکفر(میں الله کی توفیق سے کہتاہوں اے اللہ!ہمیں معاف فرمادے اور ہمیں گمراہی اور کفر سے محفوظ فرما۔ ت)جان برادر! یہ پوچھتا ہے کہ ان کا یہ عقیدہ کیساہے اورا ن کے پیچھے نماز کا کیا حکم ہے یہ پوچھب کہ امام وماموم پر ایك جماعت ائمہ کے نزدیك
کتنی وجہ سے کفرآتاہے۔ حاش لله حاش لله ہزار ہزار بار حاش لله میں ہر گز ان کی تکفیر پسند نہیں کرتا ان مقتدیوں یعنی مدعیان جدید کوتو ابھی تك مسلمان ہی جانتاہوں اگرچہ ان کی بدعت وضلالت میں شك نہیں اور امام الطائفہ کے کفر پر بھی ہم حکم نہیں کرتا کہ ہمیں ہمارے نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے اہل لا الہ الا اﷲ کی تکفیر سے منع فرمایا ہے جب تك وہ وجہ کفر آفتاب سے زیادہ روشن وجلی نہ ہوجائے اور حکم اسلام کے لئے کوئی ضعیف ساضعیف محمل بھی نہ رہے فان السلام یعلو ولایعلی(اسلام غالب ہے مغلوب نہیں۔ ت)مگریہ کہتاہوں اور بیشك کہتاہون کہ بلاریب ان تابع ومتبوع سب پر ایك گروہ علماء کے مذہب میں بوجہ کثیرہ کفر لازم۔ والعیاذ باﷲ ذی الفضل الدائم(دائمی فضل والے الله کی پناہ۔ ت)میرا مقصود اس بیان سے یہ ہے کہ ان عزیزون کو خواب غفلت سے جگاؤں اور ان کے اقوال باطلہ کی شناعت بائلہ انھیں جتاؤں کہ او بے پروا بکریو! کس نیند سورہی ہو گلا دو رپہنچا سورج ڈھلنے پر آیا گرگ خونخوار بظاہر دوست بن کر تمھارے کان پر تھپك رہا ہے کہ ذرا جھٹپٹا اور اپنا کام کرے چوپایوں میں تمھاری بیجاہٹ کے باعث اختلاف پڑچکا ہے بہت حکم لگاچکے کہ یہ بکریاں ہمارے گلے سے خارج ہیں بھیڑیاں کھائے شیر لے جائے ہمیں کچھ کام نہیں اور جنھیں ابھی تك تم پر ترس باقی ہے وہ بھی تمھاری ناشائستہ حرکتوں سے ناراض ہوکر اپنی خاص گلے میں تمھارا آنا نہیں چاہتے ہیہات ہیہات اس بیہوشی کی نیند اندھیری رات میں جسے چوپان سمجھ رہے ہو والله وہ چوپان نہیں خود بھیڑیا ہے کہ ذیاب فی ثیاب کے کپڑے پہن کر تمھیں دھوکا دے رہا ہے پہلے عــــــہ۱ وہ بھی تمھارے طرح اس گلے کی بکری تھا حقیقی بھیڑیے عــــــہ۲ نے جب اسے اسے شکا رکیا اپنے مطلب کا دیکھ کر دھوکے کی ٹٹی بنالیا اب وہ بھی اکے دکے کی خیر مناتا اور بھولی بھیڑوں کو لگاکر لے جاتاہے لله اپنی حالت پر رحم کرو۔ اورجہاں تك دم رکھتے ہو ان گرگ ونائب گرگ سے بھاگو جیسے بنے ا س مبارك گلے میں جس پر خدا کا ہاتھ ہے کہ یدالله علی الجماعۃ(جماعت پرالله کا ہاتھ ہے۔ ت)اور اس کے سچے راعی محمدر سول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ہیں آکر ملوں کہ امن چین کا رستہ چلوا ور مرغ ز ارجنت میں بے خوف چرو۔ اے رب میرے ہدایت فرما آمین!
عــــــہ۱ : یعنی امام الوہابیہ ۱۲ عــــــہ۲ : یعنی شیطان۱۲
عــــــہ۱ : یعنی امام الوہابیہ ۱۲ عــــــہ۲ : یعنی شیطان۱۲
تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ سید العالمین محمد رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم جو کچھ اپنے رب کے پاس سے لائے ان سب میں ان کی تصدیق کرنا اور سچے دل سے ان کی ایك ایك بات پر یقین لانا ایمان ہے۔
ادامہ اﷲ لنا حتی نلقاہ بہ یوم القیام وندخل بہ بفضل رحمتہ دارالسلام امین! الله تعالی اس پر ہمیں دوام عطا فرمائے حتی کہ ہماری روز قیامت آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے ملاقات ہو اور الله تعالی اپنی رحمت سے دارالسلام میں آپ کے ساتھ داخلہ عطا فرمائے۔ (ت)
اور معاذالله ان میں کسی بات کا جٹھلانا اور اس میں ادنی شك لانا کفر
اعاذنا اﷲ منہ بحفظہ العظیم ورحم عجزنا وضعنا بلطفہ الفخیم انہ ھو الغفور الرحیم امین امین الہ الحق امین! اپنے حفظ عظیم سے الله تعالی ہمیں اپنی پناہ عطا فرمائے اورہمارے عجز اور کمزوری پر لطف عظیم سے رحم فرمائے وہی غفور رحیم ہے آمین آمین اے معبود برحق آمین!(ت)
پھر یہ انکار جس سے خدا مجھے اور سب مسلمانوں کو پناہ دے دو طرح ہوتاہے لزومی ولالتزامی التزامی یہ کہ ضروریات دین سے کسی شئی کا تصریحات خلاف کرے یہ قطعا اجماعا کفر ہے اگر چہ نام کفر سے چڑے اور کمال اسلام کا دعوی کرے۔ کفر التزامی کے یہی معنی نہیں بلکہ صاف صاف اپنے کافر ہونے کا اقرار کرتاہو جیسا کہ بعض جہال سمجھتے ہیں۔ یہ اقرار تو بہت طوائف کفار میں بھی نہ پایا جائے گا ہم نے دیکھا ہے بہیترے ہندو کافر کہنے سے چڑتے ہیں بلکہ اس کے یہ معنی کہ جو انکار اس سے صادر ہوا یا جس بات کا اس نے دعوی کیا وہ بعینہ کفر ومخالف ضروریات دین ہو جیسے طائفہ تالفہ نیاچرہ کا وجود ملك وجن وشیطان وآسمان ونار وجنان و معجزات انبیاء علیہم افضل الصلوۃ والسلام سے ان معانی پر کہ اہل اسلام کے نزدیك حضور ہادی برحق صلوات الله وسلامہ علیہ سے متواتر ہیں انکار کرنا اور اپنی تاویلات باطلہ وتوہمات عاطلہ کو لے مرنا نہ ہر گز ہرگز ان تاویلوں کے شوشے انھیں کفر سے بچائیں گے نہ محبت اسلام وہمدردی قوام کے جھوٹے دعوے کام آئیں گے “ قتلہم اللہ انی یؤفکون ﴿۳۰﴾ “ (الله انھیں مارے کہاں اوندھے جاتے ہیں۔ ت) اور لزومی یہ کہ جوبات اس نے کہی عین کفر نہیں مگر منجر بکفر ہوتی ہے یعنی مآل سخن ولازم حکم کو ترتیب مقدمات وتتمیم تقریبات کرتے لے چلئے توانجام کار اس سے کسی ضرور دین کا انکار لازم آئے جیسے روافض کا خلاف حقہ راشدہ خلیفہ رسول الله صلی الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم حضرت جناب صدیق اکبر وامیر المومنین حضرت جناب فاروق اعظم رضی الله تعالی عنہ سے انکار کرنا کہ تضلیل
ادامہ اﷲ لنا حتی نلقاہ بہ یوم القیام وندخل بہ بفضل رحمتہ دارالسلام امین! الله تعالی اس پر ہمیں دوام عطا فرمائے حتی کہ ہماری روز قیامت آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے ملاقات ہو اور الله تعالی اپنی رحمت سے دارالسلام میں آپ کے ساتھ داخلہ عطا فرمائے۔ (ت)
اور معاذالله ان میں کسی بات کا جٹھلانا اور اس میں ادنی شك لانا کفر
اعاذنا اﷲ منہ بحفظہ العظیم ورحم عجزنا وضعنا بلطفہ الفخیم انہ ھو الغفور الرحیم امین امین الہ الحق امین! اپنے حفظ عظیم سے الله تعالی ہمیں اپنی پناہ عطا فرمائے اورہمارے عجز اور کمزوری پر لطف عظیم سے رحم فرمائے وہی غفور رحیم ہے آمین آمین اے معبود برحق آمین!(ت)
پھر یہ انکار جس سے خدا مجھے اور سب مسلمانوں کو پناہ دے دو طرح ہوتاہے لزومی ولالتزامی التزامی یہ کہ ضروریات دین سے کسی شئی کا تصریحات خلاف کرے یہ قطعا اجماعا کفر ہے اگر چہ نام کفر سے چڑے اور کمال اسلام کا دعوی کرے۔ کفر التزامی کے یہی معنی نہیں بلکہ صاف صاف اپنے کافر ہونے کا اقرار کرتاہو جیسا کہ بعض جہال سمجھتے ہیں۔ یہ اقرار تو بہت طوائف کفار میں بھی نہ پایا جائے گا ہم نے دیکھا ہے بہیترے ہندو کافر کہنے سے چڑتے ہیں بلکہ اس کے یہ معنی کہ جو انکار اس سے صادر ہوا یا جس بات کا اس نے دعوی کیا وہ بعینہ کفر ومخالف ضروریات دین ہو جیسے طائفہ تالفہ نیاچرہ کا وجود ملك وجن وشیطان وآسمان ونار وجنان و معجزات انبیاء علیہم افضل الصلوۃ والسلام سے ان معانی پر کہ اہل اسلام کے نزدیك حضور ہادی برحق صلوات الله وسلامہ علیہ سے متواتر ہیں انکار کرنا اور اپنی تاویلات باطلہ وتوہمات عاطلہ کو لے مرنا نہ ہر گز ہرگز ان تاویلوں کے شوشے انھیں کفر سے بچائیں گے نہ محبت اسلام وہمدردی قوام کے جھوٹے دعوے کام آئیں گے “ قتلہم اللہ انی یؤفکون ﴿۳۰﴾ “ (الله انھیں مارے کہاں اوندھے جاتے ہیں۔ ت) اور لزومی یہ کہ جوبات اس نے کہی عین کفر نہیں مگر منجر بکفر ہوتی ہے یعنی مآل سخن ولازم حکم کو ترتیب مقدمات وتتمیم تقریبات کرتے لے چلئے توانجام کار اس سے کسی ضرور دین کا انکار لازم آئے جیسے روافض کا خلاف حقہ راشدہ خلیفہ رسول الله صلی الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم حضرت جناب صدیق اکبر وامیر المومنین حضرت جناب فاروق اعظم رضی الله تعالی عنہ سے انکار کرنا کہ تضلیل
حوالہ / References
القرآن الکریم ۹ /۳۰ و ۶۳ / ۴
جمیع صحابہ رضوان الله تعالی علیہم اجمعین کی طرف مؤدی اور وہ قطعا کفر مگر انھوں نے صراحۃ اس لازم کا اقرار نہ کیا تھا بلکہ اس سے صاف تحاشی کرتے اور بعض صحابہ یعنی حضرات اہلبیت عظام وغیرہم چند اکابر کرام علی مولا ھم وعلیہم الصلوۃ والسلام کو زبانی دعووں سے اپناپیشوا بناتے اور خلافت صدیقی وفاروقی پر ان کے توافق باطنی سے انکار رکھتے ہیں اس قسم کے کفرمیں علماء اہلسنت مختلف ہوگئے جنھوں نے مآل مقال ولازم سخن کی طرف نظر کی حکم کفر فرمایا اور تحقیق یہ ہے کہ کفر نہیں بدعوت وبدمذہبی وضلالت وگمراہی ہے والعیاذ باﷲ رب العالمین(الله رب العالمین کی پناہ۔ ت)امام علامہ قاضی عیاض رحمہ الله تعالی شفا شریف میں فرماتے ہیں :
من قال بالمال یؤدی الیہ قول ویسوقہ الیہ مذھبہ کفرہ فکانھم صرحوا عندہ بماادی الیہ قولھم ومن لم یراخذھم بمال قولھم ولاالزمھم موجب مذھبھم لم یراکفارھم قال لانھم اذاوقفوا علی ھذا قالوا لا نقول بالمال الذی الزمتموہ لنا۔ و نعتقد ونحن وانتم انہ کفر بل نقول ان قولنا لا یؤل الیہ علی ما اصلنا فعلی ھذین المأخذین اختلف الناس فی الکفار اھل التاویل والصواب ترك اکفار ھم اھ ملخصا۔ جس نے اس مآل کی طرف دیکھا جس کی طرف اس کا قول مؤدی تھا جس کی طرف ا س کا مذہب چلا جاتا ہے تو اس نے اس کی تکفیر کی گویا اس نے ان کے مؤدی قول کو سمجھا ہے اور جنھوں نے ان کے مآل کو نہ دیکھا اورنہ ان کے تقاضا مذہب کا لزوم دیکھا انھوں نے تکفیر نہیں کی اس لئے جب وہ اس سے اگاہ ہوگئے توانھوں نے کہا ہم اس مآل کا قول دونوں اسے کفر تصور کرتے ہیں بلکہ ہم کہتے ہیں کہ ہمارے اصل کے مطابق ہمارے قول کا وہ مآل ہی نہیں ان دونوں ماخذوں کی وجہ سے اہل تاویل کے کفر میں لوگوں کااختلاف ہوا اور درست رائے یہی ہے کہ ان کے کفر کا قول نہ کیا جائے اھ ملخصا(ت)
جب یہ امر ہو لیا تو اب ان امام وماموم کے کفریات لزومیہ ہوگئے۔ امام کے کفروں کا شمار ہی نہیں اس نے توصرف انھیں چند سطروں میں جو تنزیہ سوم میں اس سے منقول ہوئیں کفروی لزومی کی ساتھ اصلیں تیارکیں جن میں ہراصل صدہا کفر کی طرف منجر اور اس کا مذہب مان کر ہرگز ان سے نجات نہ مفر والعیاذبالله العلی الاکبر۔
من قال بالمال یؤدی الیہ قول ویسوقہ الیہ مذھبہ کفرہ فکانھم صرحوا عندہ بماادی الیہ قولھم ومن لم یراخذھم بمال قولھم ولاالزمھم موجب مذھبھم لم یراکفارھم قال لانھم اذاوقفوا علی ھذا قالوا لا نقول بالمال الذی الزمتموہ لنا۔ و نعتقد ونحن وانتم انہ کفر بل نقول ان قولنا لا یؤل الیہ علی ما اصلنا فعلی ھذین المأخذین اختلف الناس فی الکفار اھل التاویل والصواب ترك اکفار ھم اھ ملخصا۔ جس نے اس مآل کی طرف دیکھا جس کی طرف اس کا قول مؤدی تھا جس کی طرف ا س کا مذہب چلا جاتا ہے تو اس نے اس کی تکفیر کی گویا اس نے ان کے مؤدی قول کو سمجھا ہے اور جنھوں نے ان کے مآل کو نہ دیکھا اورنہ ان کے تقاضا مذہب کا لزوم دیکھا انھوں نے تکفیر نہیں کی اس لئے جب وہ اس سے اگاہ ہوگئے توانھوں نے کہا ہم اس مآل کا قول دونوں اسے کفر تصور کرتے ہیں بلکہ ہم کہتے ہیں کہ ہمارے اصل کے مطابق ہمارے قول کا وہ مآل ہی نہیں ان دونوں ماخذوں کی وجہ سے اہل تاویل کے کفر میں لوگوں کااختلاف ہوا اور درست رائے یہی ہے کہ ان کے کفر کا قول نہ کیا جائے اھ ملخصا(ت)
جب یہ امر ہو لیا تو اب ان امام وماموم کے کفریات لزومیہ ہوگئے۔ امام کے کفروں کا شمار ہی نہیں اس نے توصرف انھیں چند سطروں میں جو تنزیہ سوم میں اس سے منقول ہوئیں کفروی لزومی کی ساتھ اصلیں تیارکیں جن میں ہراصل صدہا کفر کی طرف منجر اور اس کا مذہب مان کر ہرگز ان سے نجات نہ مفر والعیاذبالله العلی الاکبر۔
حوالہ / References
الشفاء بتعریف حقوق المصطفی فصل فی بیان ماھو من المقالات المطبعۃ الشرکۃ الصحافیہ بیروت ۲ / ۲۷۸
اصل اول : جو کچھ انسان کرسکے خدا اپنی ذات کریم کے لئے کرسکتاہے ورنہ قدرت انسانی بڑھ جائیگی(دیکھو ہذیان اول)اس اصل کے کفروں کی گنتی نہیں مگر میں اسی قدر شمار کروں جو اوپر گن آیا ہوں یقینا قطعا لازم کہ اس سفیہ کے مذہب پر(۱)اس کا معبود کھانا کھاسکتا ہے(۲)پانی پی سکتاہے(۳)پاخانہ پھرسکتا ہے(۴)پیشاب کرسکتاہے(۵)اپنا سمع روك سکتاہے(۶)بصر روك سکتا ہے(۷)دریا میں ڈوب سکتاہے(۸)آگ میں جل سکتاہے(۹)خاك پر لیٹ سکتاہے(۱۰)کانٹوں پر لوٹ سکتاہے(۱۱)وہابی ہوسکتاہے(۱۲)رافضی ہوسکتاہے(۱۳)اپنا نکاح کرسکتاہے(۱۴)اجماع کرسکتا ہے(۱۵)عورت کے رحم میں اپنا نطفہ پہنچا سکتاہے(۱۶)اپنا بچہ جنا سکتا ہے(۱۷)نیز اس اصل پر لازم کہ خدا خدا نہیں(۱۸)ہزاروں کروڑوں خدا ممکن ہیں(۱۹)آیہ کریمہ “ واللہ خلقکم وما تعملون ﴿۹۶﴾ “ (اور الله نے تمھیں پیدا کیا اورتمھارے اعما ل کو۔ ت)حق نہیں ان سب امور کا ثبوت ہذیان مذکور کے ردوں میں ہدیہ ناظرین ہوا۔
اصل دوم : خدا کے لئے عیوب ونقائص محال نہیں بلکہ مصلحت کے لئے ان سے قصدا بچتاہے(ہذیان دوم)اس اصل کفر اصل اول سے صدہا درجے فزوں جس سے لازم کہ اس بیباك کے مذہب ناپاك پر(۲۰)اہل اسلام کے عامہ عقائد تنزیہی وتقدیس کہ ان کے نزدیك ضروریات دین سے ہیں سب باطل و بے دلیل(۲۱)اس نامسعود کا وہمی معبود عاجز(۲۲)جاہل(۲۳)احمق (۲۴)کاہل(۲۵)اندھا(۲۶)بہرا(۲۷)ہکلا(۲۸)گونگا سب کچھ ہوسکتاہے(۲۹)کھاناکھائے(۳۰)پانی پئےے(۳۱)پاخانہ پھرے(۳۲)پیشاب کرے(۳۳)بیمار پڑے(۳۴)بچہ جنے(۳۵)اونگھے(۳۶)سوئے(۳۷)مرجائے(۳۸)مر کر پھر پیدا ہو سب کچھ روا ہے(۳۹)الله کے علم(۴۰)قدرت(۴۱)سمع(۴۲)بصر(۴۳)کلام(۴۴)مشیت وغیرہا صفات کمال کے(ازلی) ہونے کا کچھ ثبوت نہیں(۴۵ تا ۵۰)ان کے ابدی ہونے کا کچھ ثبوت نہیں(۵۱)اس کی الوہیت قابل زوال ان سب لزوم کا بیان تازیانہ اول میں گزرا بلکہ(۵۲)خود اس اصل کا ماننا در حقیقت بالفعل الله عزوجل کو نا قص جانتاہے(دیکھو تازیانہ ۲)اور بیشك جو الله عزوجل کی طرف نقص کی نسبت کرے قطعا کافر اعلام بقواطع الاسلام میں ہے : من نفی اواثبت ماھو صریح فی النقص کفر الخ۔
اصل دوم : خدا کے لئے عیوب ونقائص محال نہیں بلکہ مصلحت کے لئے ان سے قصدا بچتاہے(ہذیان دوم)اس اصل کفر اصل اول سے صدہا درجے فزوں جس سے لازم کہ اس بیباك کے مذہب ناپاك پر(۲۰)اہل اسلام کے عامہ عقائد تنزیہی وتقدیس کہ ان کے نزدیك ضروریات دین سے ہیں سب باطل و بے دلیل(۲۱)اس نامسعود کا وہمی معبود عاجز(۲۲)جاہل(۲۳)احمق (۲۴)کاہل(۲۵)اندھا(۲۶)بہرا(۲۷)ہکلا(۲۸)گونگا سب کچھ ہوسکتاہے(۲۹)کھاناکھائے(۳۰)پانی پئےے(۳۱)پاخانہ پھرے(۳۲)پیشاب کرے(۳۳)بیمار پڑے(۳۴)بچہ جنے(۳۵)اونگھے(۳۶)سوئے(۳۷)مرجائے(۳۸)مر کر پھر پیدا ہو سب کچھ روا ہے(۳۹)الله کے علم(۴۰)قدرت(۴۱)سمع(۴۲)بصر(۴۳)کلام(۴۴)مشیت وغیرہا صفات کمال کے(ازلی) ہونے کا کچھ ثبوت نہیں(۴۵ تا ۵۰)ان کے ابدی ہونے کا کچھ ثبوت نہیں(۵۱)اس کی الوہیت قابل زوال ان سب لزوم کا بیان تازیانہ اول میں گزرا بلکہ(۵۲)خود اس اصل کا ماننا در حقیقت بالفعل الله عزوجل کو نا قص جانتاہے(دیکھو تازیانہ ۲)اور بیشك جو الله عزوجل کی طرف نقص کی نسبت کرے قطعا کافر اعلام بقواطع الاسلام میں ہے : من نفی اواثبت ماھو صریح فی النقص کفر الخ۔
حوالہ / References
القرآن الکریم ۳۷ /۹۶
الاعلام بقواطع الاسلام مع سبل النجاۃ فصل اول مکتبۃ حقیقہ استنبول ترکی ص
الاعلام بقواطع الاسلام مع سبل النجاۃ فصل اول مکتبۃ حقیقہ استنبول ترکی ص
اصل سوم : جن باتوں کی نفی سے خدا کی مدح کی گئی وہ سب خدا کے لئے ممکن ہیں(ہذیان ۲)اس کے کفر بھی
بکثرت ہیں قطعا لازم کہ اس سفیہ کے طور پر(۵۳)اس کے معبود کی جو رو ہوسکتی ہے۔ (۵۴)بیٹاہو سکتاہے(۵۵)بھول سکتاہے(۵۶)بہك سکتاہے(۵۷)بعض اشیاء اس کی ملك سے خارج ہیں الی غیر ذلك من الکفریات(اس کے علاوہ دیگر کفریات۔ ت)(دیکھو ت۵ تا ۸)
اصل چہارم : صدق الہی اختیاری ہے(ھ۲)اس سے لازم کہ سفیہ کے مذہب پر(۵۸)قرآن مجید مخلوق ہے جس کے کفر پر ۳۲ فتوے گزرے(۵۹)اس کا معبود از ل میں کاذب تھا(۶۰)اب بھی کاذب ہے(۶۱)کبھی صادق نہیں ہوسکتا(۶۲)قرآن مجید کا جملہ جملہ غلط ہے(۶۳)الله مخلوق ہے(۶۴)بلکہ محال ہے الی غیر ذلك وہ کفریات کثیرہ کہ مواضع متعددہ میں جن کا الزام گزرا۔
اصل پنجم : علم الہی اختیاری ہے(تنبیہ بعد ت ۳)اس پر لازم کہ جاہل کے نزدیک(۶۵)علم الہی مخلوق وحادث ہے جس کے کفر پر فتوی امام اعظم رضی الله تعالی عنہ گزرا(الله تعالی از ل میں جاہل تھا(۶۷)جب چاہے جاہل بن جائے(۶۸)الله حادث ہے(۶۹)قابل فنا ہے الی غیر ذلک۔
اصل ششم : کذب الہی ممکن ہے اور ثابت کرآئے کہ اس کا کلام نہ صرف امکان عقلی بلکہ امکان وقوعی بلکہ عدم استبعاد عادی میں نص صریح ہے اور(۷۰)یہ خود کفر ہے پھر اس تقدیر پرقطعا یقینا(۷۱)شریعت سے یکسر مان مرتفع(۷۲)خداکی خبر سے یقین مندفع(۷۳)اسلام پر مطاعن جن سے جواب ناممکن۔
اصل ہفتم : (۷۴)الله تعالی بندوں سے چراچھپاکر بہلا بھلا کر آیات قرآنیہ جھوٹی کردے تو کچھ حرج نہیں(ت۳۱)بیہات یہ تو اس نے صاف صریح کہا تھامیں متحیر ہوں اسے لزوم میں داخل کروں یا التزام میں پھر اس پر(۷۵)حشرنشر حساب کتاب جنت نار عذاب ثواب کس چیز پر ایمان نہ رہا کہ ہرچیز میں صاف صریح احتمال نقص باقی تو یقین کیسا تو ایمان کہاں۔ والعیاذ بالله رب العالمین ہماری تقریرات سابقہ وتقریرات لاحقہ دیکھنے والا اس امام نجدیہ کے کفریات لزومیہ کو صدہا تك پہنچا سکتا ہے۔ بلکہ جس قدر اوپر مذکور ہوئے وہ بھی یہاں پورے نہ گنے گئے پھر بھی معاذالله پچھتر کفرکیا کم ہیں پھریہ تو صرف ایك ہی قول پر ہیں باقی کفریات تفویت الایمان وصرام المستقیم کی گنتی ہی کیا ہے پھر وہ اقبالی کفر علاوہ رہے جو ایمان تفویۃ الایمان پر صراط مستقیم میں اہلے گہلے پھر رہے ہیں۔ غرض حضرت کے کفریات لزومیہ واقبالیہ کی تفصیل کرتے فی کفر ایك نقطہ ان کی قبرپر دیتے جائے تو غالبا دم بھر میں ساری قبر کامنہ کالا ہوجائے یہ اس کی سزا ہے کہ کفر وشرك دھڑی دھڑی کرکے بیچا محض بلاوجہ سچے مسلما نوں کو کافر مشرك کہا یہاں تك کہ ان کے طور پرصحابہ وتابعین سے لے کر شاہ ولی الله وشاہ عبدالعزیز صاحب تك کوئی کفر وشرك سے نہ بچا گویا حضرت کے نزدیك کفر امور عامہ
بکثرت ہیں قطعا لازم کہ اس سفیہ کے طور پر(۵۳)اس کے معبود کی جو رو ہوسکتی ہے۔ (۵۴)بیٹاہو سکتاہے(۵۵)بھول سکتاہے(۵۶)بہك سکتاہے(۵۷)بعض اشیاء اس کی ملك سے خارج ہیں الی غیر ذلك من الکفریات(اس کے علاوہ دیگر کفریات۔ ت)(دیکھو ت۵ تا ۸)
اصل چہارم : صدق الہی اختیاری ہے(ھ۲)اس سے لازم کہ سفیہ کے مذہب پر(۵۸)قرآن مجید مخلوق ہے جس کے کفر پر ۳۲ فتوے گزرے(۵۹)اس کا معبود از ل میں کاذب تھا(۶۰)اب بھی کاذب ہے(۶۱)کبھی صادق نہیں ہوسکتا(۶۲)قرآن مجید کا جملہ جملہ غلط ہے(۶۳)الله مخلوق ہے(۶۴)بلکہ محال ہے الی غیر ذلك وہ کفریات کثیرہ کہ مواضع متعددہ میں جن کا الزام گزرا۔
اصل پنجم : علم الہی اختیاری ہے(تنبیہ بعد ت ۳)اس پر لازم کہ جاہل کے نزدیک(۶۵)علم الہی مخلوق وحادث ہے جس کے کفر پر فتوی امام اعظم رضی الله تعالی عنہ گزرا(الله تعالی از ل میں جاہل تھا(۶۷)جب چاہے جاہل بن جائے(۶۸)الله حادث ہے(۶۹)قابل فنا ہے الی غیر ذلک۔
اصل ششم : کذب الہی ممکن ہے اور ثابت کرآئے کہ اس کا کلام نہ صرف امکان عقلی بلکہ امکان وقوعی بلکہ عدم استبعاد عادی میں نص صریح ہے اور(۷۰)یہ خود کفر ہے پھر اس تقدیر پرقطعا یقینا(۷۱)شریعت سے یکسر مان مرتفع(۷۲)خداکی خبر سے یقین مندفع(۷۳)اسلام پر مطاعن جن سے جواب ناممکن۔
اصل ہفتم : (۷۴)الله تعالی بندوں سے چراچھپاکر بہلا بھلا کر آیات قرآنیہ جھوٹی کردے تو کچھ حرج نہیں(ت۳۱)بیہات یہ تو اس نے صاف صریح کہا تھامیں متحیر ہوں اسے لزوم میں داخل کروں یا التزام میں پھر اس پر(۷۵)حشرنشر حساب کتاب جنت نار عذاب ثواب کس چیز پر ایمان نہ رہا کہ ہرچیز میں صاف صریح احتمال نقص باقی تو یقین کیسا تو ایمان کہاں۔ والعیاذ بالله رب العالمین ہماری تقریرات سابقہ وتقریرات لاحقہ دیکھنے والا اس امام نجدیہ کے کفریات لزومیہ کو صدہا تك پہنچا سکتا ہے۔ بلکہ جس قدر اوپر مذکور ہوئے وہ بھی یہاں پورے نہ گنے گئے پھر بھی معاذالله پچھتر کفرکیا کم ہیں پھریہ تو صرف ایك ہی قول پر ہیں باقی کفریات تفویت الایمان وصرام المستقیم کی گنتی ہی کیا ہے پھر وہ اقبالی کفر علاوہ رہے جو ایمان تفویۃ الایمان پر صراط مستقیم میں اہلے گہلے پھر رہے ہیں۔ غرض حضرت کے کفریات لزومیہ واقبالیہ کی تفصیل کرتے فی کفر ایك نقطہ ان کی قبرپر دیتے جائے تو غالبا دم بھر میں ساری قبر کامنہ کالا ہوجائے یہ اس کی سزا ہے کہ کفر وشرك دھڑی دھڑی کرکے بیچا محض بلاوجہ سچے مسلما نوں کو کافر مشرك کہا یہاں تك کہ ان کے طور پرصحابہ وتابعین سے لے کر شاہ ولی الله وشاہ عبدالعزیز صاحب تك کوئی کفر وشرك سے نہ بچا گویا حضرت کے نزدیك کفر امور عامہ
سے تھا پھر یہ خود اس سے بچ کرکہا جاتے کہ کرد کہ نیافت کما تدین تدان (جو کیا تھا نہ پایا جوکرے گا اس کا بدل دیا جائے گا۔ ت)
دیدی کہ خون ناحق پروانہ شمع را چنداں اماں نداد کہ شب راسحر کند
(تم نے دیکھانہیں کہ پروانہ کا خون ناحق شمع کو اسی طرح امان نہیں دیتاکہ رات کو سحری کردے۔ ت)
“ کذلک العذاب و لعذاب الاخرۃ اکبر لو کانوا یعلمون ﴿۳۳﴾ “ اللھم احفظ لنا الایمان واعصمنا من شر الشیطان بجاہ حبیبك سیدنامحمد سید الانس والجان صلی اﷲ تعالی علیہ وسل وعلی الہ و صحبہ شرف وکرم امین والحمد اﷲ رب العلمین۔ اسی طرح عذاب ہے اورآخرت کا عذاب سب سے بڑا ہے کاش یہ اسے جانیں اے اللہ! ہمارے ایمان کی حفاظت فرما شر شیطان سے ہمیں محفوظ فرما بوسیلہ اپنے حبیب محمد صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے جو انس وجن کے سردار ہیں آپ پر اور آپ کی آل واصحاب پر شرف وکرم ہو آمین والحمدلله رب العالمین۔ (ت)
ان امام صاحب پر چالیس بلکہ سوتازیانے اورپر گزرے تھے پچھتر یہ ہوئے کہ ایك جماعت ائمہ کے نزدیك تم پچھتر وجہ سے کافر ہو امام الطائفہ پر ایك ہی قول میں پونے دو سو کوڑے یادر کھے اب مقتدی صاحبوں کی طرف چلئے ان میں دیوبندی عــــــہ تقلید نے تو دیوبندگی یعنی اس عوام مغوی امام کی پیروی سے قدم آگے نہ بڑھایا
عــــــہ : تنبیہ ضروری : واقف منصب افتاء جانتاہے کہ مفتی سے جس کلام باطل وضلال کی نسبت سوال سائل ہو اس پر اس کلام کی شناعتوں کا اظہار قباحتوں کا ایضاح واجب اگرچہ قائل محض عامی وجاہل ہو کہ اتمام جواب و احکام صواب اس پر موقوف اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ قابل مخاطبہ ٹھہرا پس اگر حضرت دیوبندی مثل مدعیان جدید کوئی اکابر ومتبوعین طائفہ سے ہیں جب تو اس رد بلیغ کا ہدیہ مبارك یا اگر مثل صاحب نسبت براہین قاطعہ نقاب عارض امامت کامنہ ہیں تو خطاب متعدد اور مخاطب واحد ورنہ کلام فقیر بضرورت افتاء محض جانب کلام من حیث ہوکلام معطوف اور خصوصی متکلم سے نظر مصروف ۱۲ منہ۔
دیدی کہ خون ناحق پروانہ شمع را چنداں اماں نداد کہ شب راسحر کند
(تم نے دیکھانہیں کہ پروانہ کا خون ناحق شمع کو اسی طرح امان نہیں دیتاکہ رات کو سحری کردے۔ ت)
“ کذلک العذاب و لعذاب الاخرۃ اکبر لو کانوا یعلمون ﴿۳۳﴾ “ اللھم احفظ لنا الایمان واعصمنا من شر الشیطان بجاہ حبیبك سیدنامحمد سید الانس والجان صلی اﷲ تعالی علیہ وسل وعلی الہ و صحبہ شرف وکرم امین والحمد اﷲ رب العلمین۔ اسی طرح عذاب ہے اورآخرت کا عذاب سب سے بڑا ہے کاش یہ اسے جانیں اے اللہ! ہمارے ایمان کی حفاظت فرما شر شیطان سے ہمیں محفوظ فرما بوسیلہ اپنے حبیب محمد صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے جو انس وجن کے سردار ہیں آپ پر اور آپ کی آل واصحاب پر شرف وکرم ہو آمین والحمدلله رب العالمین۔ (ت)
ان امام صاحب پر چالیس بلکہ سوتازیانے اورپر گزرے تھے پچھتر یہ ہوئے کہ ایك جماعت ائمہ کے نزدیك تم پچھتر وجہ سے کافر ہو امام الطائفہ پر ایك ہی قول میں پونے دو سو کوڑے یادر کھے اب مقتدی صاحبوں کی طرف چلئے ان میں دیوبندی عــــــہ تقلید نے تو دیوبندگی یعنی اس عوام مغوی امام کی پیروی سے قدم آگے نہ بڑھایا
عــــــہ : تنبیہ ضروری : واقف منصب افتاء جانتاہے کہ مفتی سے جس کلام باطل وضلال کی نسبت سوال سائل ہو اس پر اس کلام کی شناعتوں کا اظہار قباحتوں کا ایضاح واجب اگرچہ قائل محض عامی وجاہل ہو کہ اتمام جواب و احکام صواب اس پر موقوف اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ قابل مخاطبہ ٹھہرا پس اگر حضرت دیوبندی مثل مدعیان جدید کوئی اکابر ومتبوعین طائفہ سے ہیں جب تو اس رد بلیغ کا ہدیہ مبارك یا اگر مثل صاحب نسبت براہین قاطعہ نقاب عارض امامت کامنہ ہیں تو خطاب متعدد اور مخاطب واحد ورنہ کلام فقیر بضرورت افتاء محض جانب کلام من حیث ہوکلام معطوف اور خصوصی متکلم سے نظر مصروف ۱۲ منہ۔
حوالہ / References
کنز العمال بحوالہ عد عن ابن عمر حدیث ۴۳۰۳۲ موسستہ الرسالہ بیروت ۱۵ / ۷۷۲
القرآن الکریم ۶۸ /۳۳
القرآن الکریم ۶۸ /۳۳
یعنی کوئی ایسی نئی بات پیش نہ کی جس پر الزام کفر سے جدید حصہ پاتا صرف انھیں احکام امام کا ترکہ پایا اور اس کی باقی خرافات بشدت اہمال قابل التفات اہل علم نہیں تاہم معرض بیان میں سکوت نا محمود لہذا بطور اجمال تعرض مقصود قولہ ہمارا اعتقاد ہے کہ خدا نے کبھی جھوٹ بولا نہ بولے۔
اقول : یہ زبانی اظہار محض بے بنیاد وناپائیدار کہ جب کذب ممکن بلکہ جائز وقوعی ہوا جیسا کہ تمھارے امام کا مشرب تو ہر گز اس اعتقاد کی طرف کوئی راہ نہیں بلکہ صراحۃ “ ام تقولون علی اللہ ما لا تعلمون﴿۸۰﴾ “ (یا خدا پر وہ بات کہتے ہو جس کا علم تمھیں نہیں۔ ت)میں داخل ہونا ہے۔ وہ تقریریں کہ فقیر نے دلیل دوم تنزیہ دوم میں حاضر کیں یہاں بنہایت وضوح وانجلا جاری جنھیں بحمدالله اس اظہار باطل کی ذلت وخواری کی پوری ذمہ داری سچا ہے تو کذب الہی جائز رکھ کر اپنے اعتقاد پردلیل تو قائم کرے اور جب نہ قائم کرسکے تو واضح ہوجائے گاکہ یہ زبانی استمالت بھی صرف خاطر داری عوام کے لئے تھی آخر اس کا امام صراحۃ لکھ ہی چکا کہ چراچھپا کر خدا جھوٹ بول لے تو کچھ حرج نہیں
اللھم انی اعوذبك من اضلال الشیاطین والعیاذ باﷲ رب العالمین۔ اے اللہ! میں شیطان کی گمراہی سے تیری پناہ میں آتاہوں الله رب العالمین کی پناہ ہے۔ (ت)
قولہ مگر بول سکتا ہے اقول : “ انظر کیف یفترون علی اللہ الکذب وکفی بہ اثما مبینا ﴿۵۰﴾ “ (دیکھو کیسا الله پر جھوٹ باندھ رہے ہیں اور یہ کافی ہے صریح گناہ۔ ت)
قولہ۔ بہشتیوں کو دوزخ اور دوزخیوں کو بہشت میں بھیج دے اقول : قطع نظر اس سے کہ مومن مطیع کی تعذیب ہمارے ائمہ کرام ماتریدیہ اعلام قدست اسرارہم کے نزدیك محال عقلی مسلم الثبوت اور اس کی شرح فواتح الرحموت میں ہے :
امتناع تعذیب الطائع مذھبنا معشر الماتریدیۃ فانہ نقص مستحیل علیہ سبحانہ وتعالی عقلا اھ ملخصا۔ مومن مطیع کے عذاب کا ممتنع ہونا ہم ماتریدیہ کا مذہب ہے کیونکہ یہ نقص ہے جو الله تعالی پر محال عقلی ہے اھ ملخصا۔ (ت)
اقول : یہ زبانی اظہار محض بے بنیاد وناپائیدار کہ جب کذب ممکن بلکہ جائز وقوعی ہوا جیسا کہ تمھارے امام کا مشرب تو ہر گز اس اعتقاد کی طرف کوئی راہ نہیں بلکہ صراحۃ “ ام تقولون علی اللہ ما لا تعلمون﴿۸۰﴾ “ (یا خدا پر وہ بات کہتے ہو جس کا علم تمھیں نہیں۔ ت)میں داخل ہونا ہے۔ وہ تقریریں کہ فقیر نے دلیل دوم تنزیہ دوم میں حاضر کیں یہاں بنہایت وضوح وانجلا جاری جنھیں بحمدالله اس اظہار باطل کی ذلت وخواری کی پوری ذمہ داری سچا ہے تو کذب الہی جائز رکھ کر اپنے اعتقاد پردلیل تو قائم کرے اور جب نہ قائم کرسکے تو واضح ہوجائے گاکہ یہ زبانی استمالت بھی صرف خاطر داری عوام کے لئے تھی آخر اس کا امام صراحۃ لکھ ہی چکا کہ چراچھپا کر خدا جھوٹ بول لے تو کچھ حرج نہیں
اللھم انی اعوذبك من اضلال الشیاطین والعیاذ باﷲ رب العالمین۔ اے اللہ! میں شیطان کی گمراہی سے تیری پناہ میں آتاہوں الله رب العالمین کی پناہ ہے۔ (ت)
قولہ مگر بول سکتا ہے اقول : “ انظر کیف یفترون علی اللہ الکذب وکفی بہ اثما مبینا ﴿۵۰﴾ “ (دیکھو کیسا الله پر جھوٹ باندھ رہے ہیں اور یہ کافی ہے صریح گناہ۔ ت)
قولہ۔ بہشتیوں کو دوزخ اور دوزخیوں کو بہشت میں بھیج دے اقول : قطع نظر اس سے کہ مومن مطیع کی تعذیب ہمارے ائمہ کرام ماتریدیہ اعلام قدست اسرارہم کے نزدیك محال عقلی مسلم الثبوت اور اس کی شرح فواتح الرحموت میں ہے :
امتناع تعذیب الطائع مذھبنا معشر الماتریدیۃ فانہ نقص مستحیل علیہ سبحانہ وتعالی عقلا اھ ملخصا۔ مومن مطیع کے عذاب کا ممتنع ہونا ہم ماتریدیہ کا مذہب ہے کیونکہ یہ نقص ہے جو الله تعالی پر محال عقلی ہے اھ ملخصا۔ (ت)
حوالہ / References
القرآن الکریم ۲ /۸۰
القرآن الکریم ۴ /۵۰
فواتح الرحموت بذیل المستصفی الباب الاول فی الحاکم منشورات الشریف الرضی قم ایران ۱ / ۴۶
القرآن الکریم ۴ /۵۰
فواتح الرحموت بذیل المستصفی الباب الاول فی الحاکم منشورات الشریف الرضی قم ایران ۱ / ۴۶
اورامام نسفی وغیرہ عــــــہ۱ بعض علما ء نے عفو کا فرکو بھی عقلا ناممکن جانا امام ابن الہمام مسایرہ میں فرماتےہیں
صاحب العمدۃ اختار ان العفو عن الکفر لا یعفو من الکفر ال یجوز عقلا۔ صاحب عمدہ کا مختار یہ ہے کہ کفر سے عفو عقلا جائز نہیں۔ (ت)
اس قائل سے پوچھئے انبیا ء و اولیا ء علیہم الصلوۃ والسلام کا جنھوں نے کبھی اطاعت کے سوا کچھ گناہ نہ کیامعاذ الله دوزخ میں جانا اورکافروں مشرکوں کا جنت میں آنا محال شرعی بھی مانتا ہے یا نہیں اگر نہیں تو اپنے ایمان کی فکر کرے اور علماء سے اپنا حکم پوچھ دیکھئے اور اگر ہا ں تو ممتنع بالغیر ہو اورممتنع با لغیر وہی جس کا وقوع ماننا کسی ممتنع با لذات کی طرف منجر ہو ورنہ لزوم ممکن سے استحالہ ممکن محض ناممکن اب و ہ غیر کیا ہے یہی لزوم کذب باری عزوجل تو آپ ہی کی دلیل عــــــہ۲ سے ثابت ہوا کہ کذب بار محال ذاتی ہے اسے ذی ہوش !
عــــــہ۱ : طرفہ یہ کہ وہ ردالمحتار جس سے مدعیان جدید اس مسئلہ میں جہلا متمسك اس میں بھی یہی قول اختیار کیا اور اسی کو صحیح و معتمد قرار دیا
حیث قل لکنہ مبنی علی جواز العفو عن الشرك عقلا ع وعلیہ یبتنی القول بجواز الخلف فی الوعید و قد علمت ان الصحیح خلافہ فالد عاء بہ کفر لعد م جواز ہ عقلا و شرعا ۔ انھوں نے کہا یہ اس پر مبنی ہے کہ شرك کا عفو عقلا جائز ہے اور خلف وعید کا قول بھی اسی پر مبنی ہے اور آپ جان چکے صحیح قول اس کے خلاف ہے لہذا اس کا دعوی کفر ہے کیونکہ اس کا جواز نہ عقلا ہے نہ شرعا(ت)
اور اس طرف اس کے ماخذ حلیہ کا کلام ناظرہ
کمالا یخفی علی من طالعہ بامعان النظر والله الموفق ۱۲ منہ رضی الله تعالی عنہ۔
عــــــہ ۲ : فان قلت لم لا یجوز ایکون ھذا ایضا جیسا کہ مخفی نہیں ہر اس شخص پر جس نے گہری نظر سے مطا لعہ کیا ہو اور الله ہی توفیق دینے والا ہے ۱۲ منہ رضی الله تعالی عنہ۔ (ت)
اگر یہ اعتراض کریں یہ کیوں نہیں ہو سکتا کہ یہ بھی محال لغیرہ
(باقی اگلے صفحہ پر)
صاحب العمدۃ اختار ان العفو عن الکفر لا یعفو من الکفر ال یجوز عقلا۔ صاحب عمدہ کا مختار یہ ہے کہ کفر سے عفو عقلا جائز نہیں۔ (ت)
اس قائل سے پوچھئے انبیا ء و اولیا ء علیہم الصلوۃ والسلام کا جنھوں نے کبھی اطاعت کے سوا کچھ گناہ نہ کیامعاذ الله دوزخ میں جانا اورکافروں مشرکوں کا جنت میں آنا محال شرعی بھی مانتا ہے یا نہیں اگر نہیں تو اپنے ایمان کی فکر کرے اور علماء سے اپنا حکم پوچھ دیکھئے اور اگر ہا ں تو ممتنع بالغیر ہو اورممتنع با لغیر وہی جس کا وقوع ماننا کسی ممتنع با لذات کی طرف منجر ہو ورنہ لزوم ممکن سے استحالہ ممکن محض ناممکن اب و ہ غیر کیا ہے یہی لزوم کذب باری عزوجل تو آپ ہی کی دلیل عــــــہ۲ سے ثابت ہوا کہ کذب بار محال ذاتی ہے اسے ذی ہوش !
عــــــہ۱ : طرفہ یہ کہ وہ ردالمحتار جس سے مدعیان جدید اس مسئلہ میں جہلا متمسك اس میں بھی یہی قول اختیار کیا اور اسی کو صحیح و معتمد قرار دیا
حیث قل لکنہ مبنی علی جواز العفو عن الشرك عقلا ع وعلیہ یبتنی القول بجواز الخلف فی الوعید و قد علمت ان الصحیح خلافہ فالد عاء بہ کفر لعد م جواز ہ عقلا و شرعا ۔ انھوں نے کہا یہ اس پر مبنی ہے کہ شرك کا عفو عقلا جائز ہے اور خلف وعید کا قول بھی اسی پر مبنی ہے اور آپ جان چکے صحیح قول اس کے خلاف ہے لہذا اس کا دعوی کفر ہے کیونکہ اس کا جواز نہ عقلا ہے نہ شرعا(ت)
اور اس طرف اس کے ماخذ حلیہ کا کلام ناظرہ
کمالا یخفی علی من طالعہ بامعان النظر والله الموفق ۱۲ منہ رضی الله تعالی عنہ۔
عــــــہ ۲ : فان قلت لم لا یجوز ایکون ھذا ایضا جیسا کہ مخفی نہیں ہر اس شخص پر جس نے گہری نظر سے مطا لعہ کیا ہو اور الله ہی توفیق دینے والا ہے ۱۲ منہ رضی الله تعالی عنہ۔ (ت)
اگر یہ اعتراض کریں یہ کیوں نہیں ہو سکتا کہ یہ بھی محال لغیرہ
(باقی اگلے صفحہ پر)
حوالہ / References
المسایرہ مع المسامرۃ الرکن الرابع فی السفیہات المکتبۃ التجاریۃ الکبرٰی مصر ص ۲۵۵
ردالمحتار مطلب فی خلف لاوعید الخ داراحیا ء الترا ث العربی بیروت ۱ / ۳۵۱
ردالمحتار مطلب فی خلف لاوعید الخ داراحیا ء الترا ث العربی بیروت ۱ / ۳۵۱
ورو د نص کے سبب خلاف منصوص کو محال شرعی اسی لئے کہتے ہیں کہ اس کا وقوع محال عقلی یعنی کذب الہی کو مستلزم شرح عقائد میں ہے :
لوو قع لزم کذب کلام الله تعالی وھو محال ۔ اگر قوع ہو جائے تو الله تعالی کے کلام کا کذب لازم آتا ہے جو محال ہے(ت)
شرح فقہ اکبر میں ہے
قال الله تعالی لا یکف الله نفسا الا وسعھا وعن ھذا النص ذھب المحققون ممن جوزہ عقلا من الا شاعرۃ الی امتنا عہ سمعا وان جاز عقلا ای والا لز م وقوع خلاف خبرہ سبحانہ ۔ الله تعالی کا ارشاد گرامی ہے الله کسی جان پر بوجھ نہیں ڈالتا مگر اس کی طاقت بھر اسی نص کی بنا پر ان اشاعرہ میں سے محققین اس طرف گئے ہیں جو اسے عقلا جائز سمجھتے تھے کہ شرعا محال ہے اگرچہ عقلا جائز ہے یعنی ورنہ الله تعالی کی خبر کے خلاف وقوع لازم آئے گا۔ (ت)
سبحان الله ! یہ تو عقل و فہم اور الہیات میں بحث کاوہم قولہ تو کسی کا اجارہ نہیں اقول : یوں تو تم
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
محالا لغیرہ و ذلك الغیرالمستحیل بالذات شیئا اخر قلت لم لا یجوزان یکون ھذا ھو ذ لك الغیر الا محال بالذات ولا جلہ سارملز و مہ محالا بالغیر فان تشبثت باحتمال تشبثنا با خر و کنا مصیبین وکنت من الخاطئین لا نك مستدل بھذا الرلیل علی امکان الکذب امامد عیا واما غاصبا فکیف یکفیك عسی ولعل ۱۲ منہ رضی الله تعالی عنہ۔ ہو اور یہ غیر جو محال بالذات ہو دوسری شیئ ہے میں کہوں گا یہ کیوں جائز نہیں کہ یہ غیر محال بالذات یہی ہو اور اس کی وجہ سے اسکا ملزوم محال بالغیر ہو اور اگر تم کسی اور احتمال سے استدلال کرو تو ہم مصیب اور تم خاطی ٹھہرو گے کیونکہ تم اس دلیل سے امکان کذب پر استدلال کیا تو تم یا تو مدعی ہو یا غاصب اب تمھارے لئے شاید یہ ہو امید ہے کہ ہو کیسے کام آسکتا ہے ۱۲ منہ رضی الله تعالی عنہ(ت)
لوو قع لزم کذب کلام الله تعالی وھو محال ۔ اگر قوع ہو جائے تو الله تعالی کے کلام کا کذب لازم آتا ہے جو محال ہے(ت)
شرح فقہ اکبر میں ہے
قال الله تعالی لا یکف الله نفسا الا وسعھا وعن ھذا النص ذھب المحققون ممن جوزہ عقلا من الا شاعرۃ الی امتنا عہ سمعا وان جاز عقلا ای والا لز م وقوع خلاف خبرہ سبحانہ ۔ الله تعالی کا ارشاد گرامی ہے الله کسی جان پر بوجھ نہیں ڈالتا مگر اس کی طاقت بھر اسی نص کی بنا پر ان اشاعرہ میں سے محققین اس طرف گئے ہیں جو اسے عقلا جائز سمجھتے تھے کہ شرعا محال ہے اگرچہ عقلا جائز ہے یعنی ورنہ الله تعالی کی خبر کے خلاف وقوع لازم آئے گا۔ (ت)
سبحان الله ! یہ تو عقل و فہم اور الہیات میں بحث کاوہم قولہ تو کسی کا اجارہ نہیں اقول : یوں تو تم
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
محالا لغیرہ و ذلك الغیرالمستحیل بالذات شیئا اخر قلت لم لا یجوزان یکون ھذا ھو ذ لك الغیر الا محال بالذات ولا جلہ سارملز و مہ محالا بالغیر فان تشبثت باحتمال تشبثنا با خر و کنا مصیبین وکنت من الخاطئین لا نك مستدل بھذا الرلیل علی امکان الکذب امامد عیا واما غاصبا فکیف یکفیك عسی ولعل ۱۲ منہ رضی الله تعالی عنہ۔ ہو اور یہ غیر جو محال بالذات ہو دوسری شیئ ہے میں کہوں گا یہ کیوں جائز نہیں کہ یہ غیر محال بالذات یہی ہو اور اس کی وجہ سے اسکا ملزوم محال بالغیر ہو اور اگر تم کسی اور احتمال سے استدلال کرو تو ہم مصیب اور تم خاطی ٹھہرو گے کیونکہ تم اس دلیل سے امکان کذب پر استدلال کیا تو تم یا تو مدعی ہو یا غاصب اب تمھارے لئے شاید یہ ہو امید ہے کہ ہو کیسے کام آسکتا ہے ۱۲ منہ رضی الله تعالی عنہ(ت)
حوالہ / References
شرح العقائد النسفیہ دار الاشاعۃ الاعربیۃ قندھار افغانستان ص ۷۱
منح الرو ض الازھر شرح الفقہ الاکبر معنی قرب الباری من مخلوقاتہ و بعدہ عنہم البابی مصر ص ۱۰۷
منح الرو ض الازھر شرح الفقہ الاکبر معنی قرب الباری من مخلوقاتہ و بعدہ عنہم البابی مصر ص ۱۰۷
اپنے امام کی طرف سے یہ بھی کہہ سکتے ہو کہہ سکتے ہو اگر باری تعالی اپنے آپ کو ناقص و ملوث و عیبی بنالے تو کسی کا اجارہ نہیں اپنی ذات یا قدرت یا علم یا الوہیت کو فنا کردے تو کسی کا اجارہ نہیں ظاہر ہے کہ ان محالات کے فرض پر بھی اس کا اجارہ ثابت نہ ہو گا کہ بے علاقہ ملازمت معقول نہیں پھر اسی نفی اجارہ سے ثبوت امکان کیونکر ہو اور اگر یہ مقصود کہ ایسا کرے تو کچھ حرج نہیں اور بیشك عرف میں یہ کلام اسی معنی کو مفید ہوتا ہے تو محض غلط و باطل اور اجماع امت و نصوص قاطعہ کے خلاف بیشك کتنا بڑا حرج ہے کہ سارے جہان کا سچا مالك معاذالله جھوٹا ٹھہرے جس کے استحالہ پر نصوص بے شمار سنتے آئے اور حلیہ کا کلام تازہ گزرا اور شرح عقائد و شرح فقہ اکبر کی آوازیں تو ابھی تمھارے کان مین گونجتی ہو گی مگر ہاں تمھارے نزدیك الله عزوجل کے جھوٹے ہونے میں کیا حرج ہوتا تھا امام توصاف کہہ چکا کہ اس پا ك بےعیب میں دنیا بھر کے عیب آسکتے ہیں پھر انیہم بر علم الله ایمان و حیابخشے۔ قولہ یہی امکان کذب ہے۔ اقول : عــــــہ محض تمھارا کذب ہے ہر ممتنع بالغیرمحال بالذات کو مستلزم اور باوجود اس کے خود ممکن بالذات ہوتا ہے اسکا امکان ذاتی اس محال بالذات کے امکان ذاتی کو مستلزم ہو محال بالذات اور کو مستلزم ہونا محال بالذات اور لم یہ کہ ان میں استلزام ہی عارضی تھا نہ کہ ذاتی ورنہ محال بالذات ہو تا نہ کہ بالغیر یوں تو لازم کہ باری تعالی و تقدس واجب الوفود نہ رہے یا تمام موجودات واجب بالذات ہو جائیں وجہ ملازمت سنئے زید آج موجود ہو ا اس کا وقت وجود علم الہی سبحانہ و تعالی میں تھا یا نہیں اگر نہیں تو علم محیط باری جل و علامنتفی ہوا اور انتفائے علم کہ مقتضائے ذات ہے انتفا ئے مقتضی کو مقتضی تو باری عزوجل معاذالله معدوم ہوا اور اگر تھا تو اس وقت اس کا عدم بھی ممکن ذاتی تھا یا نہیں اگر نہیں تو زیدواجب بالذات ہوا اور وہاں تو اس کا اس وقت عدم کہ ممکن بالذات ہے۔ عدم علم اور عدم عالم کو مستلزم تو تمھارے طور پر عدم ذات ممکن تو باری جل جلالہ واجب الوجود نہ ہوا اب تو آپ کو اپنی جہالت پر یقین آیا واقعی تم بیچارے معذور ہو کہ حقائق علوم و دقائق فہوم میں بیچاری گنگوہی تعلیم کا حصہ رکھا ہی نہ گیا ذرا کلمات علماء پر
عــــــہ : واقول : ایضا بلکہ اوجاہل ! اگر یہ تیر دلیل جہالت تام ہو تو باری عزوجل کامعاذالله جہل بھی ممکن ٹھہرے کہ اس نے بہشتیوں کے بہشت دوزخیوں کے دوزخ جانے کی صرف ہم کو خبر ہی نہ دی بلکہ اس کے علم میں بھی ایسا ہی ہے بااینہمہ وہ خلاف پر قادر اس تقدیر پر اس کا علم غلط پڑے گا اور یہی امکان جہل ہے تعالی عن ذلك علو کبیرا الله تعالی اس سے بڑھ کر بلند ہے۔ ت)ہاں اے جاہل ! اب تو یا تو امکان جہل بھی مان یا امکان کذب پر ان جھوٹے شوشوں سے درگزر الله تعالی ہدایت بخشے آمین ! ۱۲منہ رضی الله عنہ۔
عــــــہ : واقول : ایضا بلکہ اوجاہل ! اگر یہ تیر دلیل جہالت تام ہو تو باری عزوجل کامعاذالله جہل بھی ممکن ٹھہرے کہ اس نے بہشتیوں کے بہشت دوزخیوں کے دوزخ جانے کی صرف ہم کو خبر ہی نہ دی بلکہ اس کے علم میں بھی ایسا ہی ہے بااینہمہ وہ خلاف پر قادر اس تقدیر پر اس کا علم غلط پڑے گا اور یہی امکان جہل ہے تعالی عن ذلك علو کبیرا الله تعالی اس سے بڑھ کر بلند ہے۔ ت)ہاں اے جاہل ! اب تو یا تو امکان جہل بھی مان یا امکان کذب پر ان جھوٹے شوشوں سے درگزر الله تعالی ہدایت بخشے آمین ! ۱۲منہ رضی الله عنہ۔
نظر کیجئے تو آپ کو اپنی دانشمندی پریقین کامل آئے۔ علامہ سعدالدین تفتازانی شرح عقائد نسفی میں فرماتے ہیں :
ان الله تعالی لما اوجد العالم بقد رتہ اختیارہ فعد مہ ممکن فی نفسہ مع انہ یلزم من فرض و قوعہ تخلف المعلوم عن علتہ التامۃ وہو محال والحاصل ان لاممکن لایلز م من فرض و قوعہ محال بالنظر الی ذاتہ واما بالنظر الی امر ز ائد علی نفسہ فلا نسلم انہ لا یستلزم المحال۔ الله تعالی نے جہان کو اپنی قدرت و اختیار سے تخلیق فرمایا اس کا فی ذاتہ عدم ممکن ہے باوجودیکہ اسکے وقوع کے فرض سے معلول کا اپنی علت تامہ سے تخلف لازم اتا ہے اور یہ محال ہے حاصلیہ ہے کہ ممکن وہ ہوتا ہے جی زاتہ جس کے وقوع کے فرج کرنے سے مال لازم نہ آئے لیکن کسی امرزائد کی بنسبت ہم نہیں مانتے کہ محال کو مستلزم نہیں(ت)
شرح مقاصد میں فرماتے ہیں :
ان قیل ماعلم الله او اخبر بعد م بوقوعہ یلزم من فرض وقوعہ محال ھو جھلہ اوکذبہ تعالی عن ذلك و کل مایلزم من فرض و قوعہ محال فھو محال ضرور ۃ امتناع وجود الملز و م بدون الللازم فجوابہ منع الکبری وانما یصدق لوکان لزوم المحال لذاتہ امالو کان لعارض کالعلم اوالخبر فبما نحن فیہ فلا لجو ازان یکون ھو مکنافی نفسہ ومنشاء لزوم المحال ھو ذلك العارض۔ اگر یہ کہا جائے کہ الله تعالی نے جس چیز کے عدم وقوع کو جانا یا اس کی خبر دی ہو تو اس کے وقوع کے فرض سے محال لازم آئے گا وہ جہالت یا اس کا کذب ہے تو جب اس فرض وقوع سے محال لا زم آئے گا تو یہ بہر حال محال ہو گا کیونکہ لازم کے بغیر ملزوم کا وجود ممتنع ہوتا ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ کبری نہیں مانتے یہ تب سچاہے کہ اگر لزوم محال لذاتہ ہو اوراگر کسی عارضہ کی وجہ سے ہو مثلا وہ زیر بحث علم یا خبر ہو تو اس میں محال نہیں کیونکہ یہ فی نفسہ ہو سکتا ہے ممکن ہے اور لزوم محال کی علت وہ عارض بن رہا ہو۔ (ت)
غرض استحالہ ناشیہ عن نفس الذات وعن خارج میں فرق نہ کرکے بعض نے استلزام عارضی میں بھی استحالہ لازم بالذات سے استحالہ ملزوم بالذات کا حکم کیا جس کا محققین نے یوں حل کر دیا مگر ایسی جگہ امکان ملزوم سے
ان الله تعالی لما اوجد العالم بقد رتہ اختیارہ فعد مہ ممکن فی نفسہ مع انہ یلزم من فرض و قوعہ تخلف المعلوم عن علتہ التامۃ وہو محال والحاصل ان لاممکن لایلز م من فرض و قوعہ محال بالنظر الی ذاتہ واما بالنظر الی امر ز ائد علی نفسہ فلا نسلم انہ لا یستلزم المحال۔ الله تعالی نے جہان کو اپنی قدرت و اختیار سے تخلیق فرمایا اس کا فی ذاتہ عدم ممکن ہے باوجودیکہ اسکے وقوع کے فرض سے معلول کا اپنی علت تامہ سے تخلف لازم اتا ہے اور یہ محال ہے حاصلیہ ہے کہ ممکن وہ ہوتا ہے جی زاتہ جس کے وقوع کے فرج کرنے سے مال لازم نہ آئے لیکن کسی امرزائد کی بنسبت ہم نہیں مانتے کہ محال کو مستلزم نہیں(ت)
شرح مقاصد میں فرماتے ہیں :
ان قیل ماعلم الله او اخبر بعد م بوقوعہ یلزم من فرض وقوعہ محال ھو جھلہ اوکذبہ تعالی عن ذلك و کل مایلزم من فرض و قوعہ محال فھو محال ضرور ۃ امتناع وجود الملز و م بدون الللازم فجوابہ منع الکبری وانما یصدق لوکان لزوم المحال لذاتہ امالو کان لعارض کالعلم اوالخبر فبما نحن فیہ فلا لجو ازان یکون ھو مکنافی نفسہ ومنشاء لزوم المحال ھو ذلك العارض۔ اگر یہ کہا جائے کہ الله تعالی نے جس چیز کے عدم وقوع کو جانا یا اس کی خبر دی ہو تو اس کے وقوع کے فرض سے محال لازم آئے گا وہ جہالت یا اس کا کذب ہے تو جب اس فرض وقوع سے محال لا زم آئے گا تو یہ بہر حال محال ہو گا کیونکہ لازم کے بغیر ملزوم کا وجود ممتنع ہوتا ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ کبری نہیں مانتے یہ تب سچاہے کہ اگر لزوم محال لذاتہ ہو اوراگر کسی عارضہ کی وجہ سے ہو مثلا وہ زیر بحث علم یا خبر ہو تو اس میں محال نہیں کیونکہ یہ فی نفسہ ہو سکتا ہے ممکن ہے اور لزوم محال کی علت وہ عارض بن رہا ہو۔ (ت)
غرض استحالہ ناشیہ عن نفس الذات وعن خارج میں فرق نہ کرکے بعض نے استلزام عارضی میں بھی استحالہ لازم بالذات سے استحالہ ملزوم بالذات کا حکم کیا جس کا محققین نے یوں حل کر دیا مگر ایسی جگہ امکان ملزوم سے
حوالہ / References
شرح العقائد النسفیہ دارالاشاعۃ العربیہ قندھار افغانستان ص ۷۱ و۷۲
شرح المقاصد المبث الرابع لاقبیح من الله تعالٰی دارالمعارف النعمانیہ لاہور ۶ / ۱۵۵
شرح المقاصد المبث الرابع لاقبیح من الله تعالٰی دارالمعارف النعمانیہ لاہور ۶ / ۱۵۵
امکان لازم مستحیل بالذات کا حکم آپ ہی کی عقل شریف کا حصہ خاصہ تھا کہ اس کے رد میں علماء کا وہ حل کافی و وافی ہوا سبحان الله ! میں اپنے علما ء سے کیوں استنادکروں۔ آپ اپنے ہی امام کاقول نہ سنئے اسی محبث کذب والی یکروزی میں کیا کہتا ہے :
اگر مقصوداین ست کہ وقوع مذکوربالفعل(جسے یہاں اپنی بحث میں وقوع تعذیب مطیع و مغفرت کافر فرض کیجئے)مستلزم کذب ست پس آن مسلم ست و کسے دعوی وقوع مذکوربالفعل نکر دہ اگر مقصودش این ست کہ امکان وقوع مذکور مستلزم کذب نصی ست از نصوص قرآنیہ پس آں نص را تلاوت باید کرد تا واضح گرددکہ کدام نص بر نفی امکان وجودمذکوردلالت میکند واگر مقصوداین ست کہ امکان وجود مذکور مستلزم امکان کذب ست پس ملازمت ممنوع ست زیر ا کہ عدم وجود مذکور معلول صدق نص ست پس تحقق عدم مذکور البتہ مستلزم تحقق امکان صدق نص مذکور ست وزوال عدم مذکور بالفعل مستلزم کذب ست واما امکان زوال عدم مذکور پس مستلزم امکان زوال صدق نیست یعنی امکان وجود مثل مذکور مستلزم امکان کذب نیست چہ امکان زوال معلول مستلزم امکان زوال علت نیست والا لازم آید کہ امکان زوال عقل اول مستلزم امکان زوال واجب باشد پس امکان زوال عقل اول ممتنع باشد پس عقل اول واجب لذآباشد حاصلش آنکہ ملازم درمیان علت و معلوم درفعلیت وجود و عدم ست نہ درامکان ذاتی والا لازم آید کہ واجب لذاتہ ممکن لذاتہ اگر دد چہ معلولات او اگر مقصود یہ ہے کہ وقوع مذکور بالفعل ہے(جسے یہاں اپنی بحث میں وقوع تعذیب مطیع و مغفرت کافر فرض کیجئے)تویہ کذب کو مستلزم ہے پس یہ تسلیم شدہ ہے اورکسی نے وقوع مذکورہ بالفعل کا دعوی نہیں کیا اور اگر مقصود یہ ہے کہ وقوع مذکورکا امکان قرآنی نص کے کذب کو مستلزم ہے تو اس نص کی تلاوت کی جائے تا کہ واضح ہو جائے کہ کون سی نص وجود مذکورکے نفی امکان پر دلالت کر رہی ہے اور اگر مقصود یہ ہے کہ وجود مذکور کا امکان امکان کذب کو مستلزم ہے تو یہ لزوم ممنوع ہے کیونکہ وجودمذکور کا عدم صدق نص کا معلول ہے تو عدم مذکور کا تحقق یقینا صدق نص مذکور کے امکان کے تحقق کو مستلزم ہے عدم مذکور کا بالفعل زوال کذب کو مستلزم ہے لیکن زوال عدم مذکور کا امکان زوال صدق کے امکان کو مستلزم نہیں یعنی امکان وجودمذکور امکان کذب کو مستلزم نہیں کیونکہ زوال معلول کاامکان امکان زوال علت کو مستلزم نہیں ورنہ لازم آئے گا زوال عقل اول کا امکان زوال واجب کے امکان کو مستلزم ہو تو زوال عقل اول کا امکان ممتنع ہو تو عقل اول واجب لذاتہ ہو گی۔ اس کا حاصل یہ ہے کہ علت و معلول کے درمیان تلازم فعلیت وجود عدم میں ہے نہ کہ امکان ذاتی میں ورنہ ازم آئے گا کہ واجب لذاتہ ممکن
اگر مقصوداین ست کہ وقوع مذکوربالفعل(جسے یہاں اپنی بحث میں وقوع تعذیب مطیع و مغفرت کافر فرض کیجئے)مستلزم کذب ست پس آن مسلم ست و کسے دعوی وقوع مذکوربالفعل نکر دہ اگر مقصودش این ست کہ امکان وقوع مذکور مستلزم کذب نصی ست از نصوص قرآنیہ پس آں نص را تلاوت باید کرد تا واضح گرددکہ کدام نص بر نفی امکان وجودمذکوردلالت میکند واگر مقصوداین ست کہ امکان وجود مذکور مستلزم امکان کذب ست پس ملازمت ممنوع ست زیر ا کہ عدم وجود مذکور معلول صدق نص ست پس تحقق عدم مذکور البتہ مستلزم تحقق امکان صدق نص مذکور ست وزوال عدم مذکور بالفعل مستلزم کذب ست واما امکان زوال عدم مذکور پس مستلزم امکان زوال صدق نیست یعنی امکان وجود مثل مذکور مستلزم امکان کذب نیست چہ امکان زوال معلول مستلزم امکان زوال علت نیست والا لازم آید کہ امکان زوال عقل اول مستلزم امکان زوال واجب باشد پس امکان زوال عقل اول ممتنع باشد پس عقل اول واجب لذآباشد حاصلش آنکہ ملازم درمیان علت و معلوم درفعلیت وجود و عدم ست نہ درامکان ذاتی والا لازم آید کہ واجب لذاتہ ممکن لذاتہ اگر دد چہ معلولات او اگر مقصود یہ ہے کہ وقوع مذکور بالفعل ہے(جسے یہاں اپنی بحث میں وقوع تعذیب مطیع و مغفرت کافر فرض کیجئے)تویہ کذب کو مستلزم ہے پس یہ تسلیم شدہ ہے اورکسی نے وقوع مذکورہ بالفعل کا دعوی نہیں کیا اور اگر مقصود یہ ہے کہ وقوع مذکورکا امکان قرآنی نص کے کذب کو مستلزم ہے تو اس نص کی تلاوت کی جائے تا کہ واضح ہو جائے کہ کون سی نص وجود مذکورکے نفی امکان پر دلالت کر رہی ہے اور اگر مقصود یہ ہے کہ وجود مذکور کا امکان امکان کذب کو مستلزم ہے تو یہ لزوم ممنوع ہے کیونکہ وجودمذکور کا عدم صدق نص کا معلول ہے تو عدم مذکور کا تحقق یقینا صدق نص مذکور کے امکان کے تحقق کو مستلزم ہے عدم مذکور کا بالفعل زوال کذب کو مستلزم ہے لیکن زوال عدم مذکور کا امکان زوال صدق کے امکان کو مستلزم نہیں یعنی امکان وجودمذکور امکان کذب کو مستلزم نہیں کیونکہ زوال معلول کاامکان امکان زوال علت کو مستلزم نہیں ورنہ لازم آئے گا زوال عقل اول کا امکان زوال واجب کے امکان کو مستلزم ہو تو زوال عقل اول کا امکان ممتنع ہو تو عقل اول واجب لذاتہ ہو گی۔ اس کا حاصل یہ ہے کہ علت و معلول کے درمیان تلازم فعلیت وجود عدم میں ہے نہ کہ امکان ذاتی میں ورنہ ازم آئے گا کہ واجب لذاتہ ممکن
ہمہ ممکنات اند اھ ملحضا۔ لذاتہ ہو جائے کیونکہ اس کے تمام معلولات ممکن ہیں اھ ملخصا(ت)
اگر اس کی یہ تقریر پریشان طویل الذیل جس میں اس نے خواہی نہ خواہی ذرا سی بات کو بیگھوں میں پھیلایا ہے تمھاری مقدس سمجھ میں نہ آئے تواسی کا دوسرا بیان مختصر سنو اسی یکروزی میں لکھتا ہے :
اگر مقصوداین ست کہ ازوقوع ممکن ہیچگونہ محال ناشی نمی گرددلابالنظر الی ذاتہ ولا بالنظر الی الامور الخارجیۃ پس این مقد مہ ممنوع ست چہ بریں تقدیر لازم می آید کہ وجود ہر معدوم و عدم ہر موجود محال باشد زیرا کہ مستلزم محال ست یعنی کذب علم ازلی ۔ اگر مقصود یہ ہے کہ وقوع ممکن سے کو ئی محال لازم نہیں آتا نہ اس کی ذات کے اعتبار سے اور نہ امور خارجی کے اعتبار سے تو یہ مقدمہ ممنوع ہے کیونکہ اس صورت میں لازم آئے گا کہ ہر معدوم کا وجود اور ہر موجود کاعدم محال ہو کیونکہ یہ محال کو مستلزم ہے یعنی علم ازلی میں کذب۔ (ت)
دیکھو باوجود امکان ملزوم لازم کو محال مانتا ہے پھر تمھاری جہالت کہ تعزیب مطیع و عفو کافر کے امکان سے امکان کذب پر استدلال کرتے ہو غرض حق یہ ہے کہ یہ نفیس استدلال کسی ایسے ہی مقدس آدمی کا کام ہے جسے دیو جہالت کی بندوقید میں کبھی علم و فہم کی ہوا نہ لگی ہو والله الھادی خیر یہ تو وہ تھے جنھو ں نے تقلید امام سے تجاوز نہ کیا تھا رہے امام عنید کے مریدرشید انھوں نے بیشك ہمت فرماکر وہ طرفہ ابکار افکار ہدیہ انظار فحول نظار کیں یعنی یہی جواز خلف کی تقریر ناز نین جس کے باعث ان پر لزوم کفر کی تین و جہیں اور بڑھیں :
اولا : وہ وجہ ہائل کہ تمام مقلدین امام طائفہ کو عموما شامل یعنی یہ اس کے قول مذکور وجمیع اقوال کفریہ میں مقلد اور بیشك جو کفریات میں تقلید کرے قطعا لزوم کفر سے حصہ پائے۔
ثانیا : ان حضرت نے جواز خلف بمعنی کذب ائمہ دین کی طرف نسبت کیا ور ہم بد لائل قاطعہ مبرہن کر آئے کہ وہ جس معنی پر خلف جائز فرماتے ہیں اسے قطعا جائز و قوعی بلکہ واقع ٹھہراتے ہیں تو ان حضرت نے مولی سبحانہ و تعالی کا کاذب بالفعل ہو نا کہ قطعا اجما عا کفر خالص ہے ایك جماعت ائمہ دین کا مذہب جانا اور اسے اس قدر ہلکاسمجھا کہ ائمہ اہل سنت کا اختلافی مسئلہ مانا اور اس پر طعن کو بیجا بتایا اور اس سے تعجب کا ر جہلا ٹھہرایا اور بیشك جو شخص کسی عقیدئہ کفر کو ایسا سمجھے خود کافر ہے اعلام بقواطع الاسلام میں ہمارے علمائے اعلام
اگر اس کی یہ تقریر پریشان طویل الذیل جس میں اس نے خواہی نہ خواہی ذرا سی بات کو بیگھوں میں پھیلایا ہے تمھاری مقدس سمجھ میں نہ آئے تواسی کا دوسرا بیان مختصر سنو اسی یکروزی میں لکھتا ہے :
اگر مقصوداین ست کہ ازوقوع ممکن ہیچگونہ محال ناشی نمی گرددلابالنظر الی ذاتہ ولا بالنظر الی الامور الخارجیۃ پس این مقد مہ ممنوع ست چہ بریں تقدیر لازم می آید کہ وجود ہر معدوم و عدم ہر موجود محال باشد زیرا کہ مستلزم محال ست یعنی کذب علم ازلی ۔ اگر مقصود یہ ہے کہ وقوع ممکن سے کو ئی محال لازم نہیں آتا نہ اس کی ذات کے اعتبار سے اور نہ امور خارجی کے اعتبار سے تو یہ مقدمہ ممنوع ہے کیونکہ اس صورت میں لازم آئے گا کہ ہر معدوم کا وجود اور ہر موجود کاعدم محال ہو کیونکہ یہ محال کو مستلزم ہے یعنی علم ازلی میں کذب۔ (ت)
دیکھو باوجود امکان ملزوم لازم کو محال مانتا ہے پھر تمھاری جہالت کہ تعزیب مطیع و عفو کافر کے امکان سے امکان کذب پر استدلال کرتے ہو غرض حق یہ ہے کہ یہ نفیس استدلال کسی ایسے ہی مقدس آدمی کا کام ہے جسے دیو جہالت کی بندوقید میں کبھی علم و فہم کی ہوا نہ لگی ہو والله الھادی خیر یہ تو وہ تھے جنھو ں نے تقلید امام سے تجاوز نہ کیا تھا رہے امام عنید کے مریدرشید انھوں نے بیشك ہمت فرماکر وہ طرفہ ابکار افکار ہدیہ انظار فحول نظار کیں یعنی یہی جواز خلف کی تقریر ناز نین جس کے باعث ان پر لزوم کفر کی تین و جہیں اور بڑھیں :
اولا : وہ وجہ ہائل کہ تمام مقلدین امام طائفہ کو عموما شامل یعنی یہ اس کے قول مذکور وجمیع اقوال کفریہ میں مقلد اور بیشك جو کفریات میں تقلید کرے قطعا لزوم کفر سے حصہ پائے۔
ثانیا : ان حضرت نے جواز خلف بمعنی کذب ائمہ دین کی طرف نسبت کیا ور ہم بد لائل قاطعہ مبرہن کر آئے کہ وہ جس معنی پر خلف جائز فرماتے ہیں اسے قطعا جائز و قوعی بلکہ واقع ٹھہراتے ہیں تو ان حضرت نے مولی سبحانہ و تعالی کا کاذب بالفعل ہو نا کہ قطعا اجما عا کفر خالص ہے ایك جماعت ائمہ دین کا مذہب جانا اور اسے اس قدر ہلکاسمجھا کہ ائمہ اہل سنت کا اختلافی مسئلہ مانا اور اس پر طعن کو بیجا بتایا اور اس سے تعجب کا ر جہلا ٹھہرایا اور بیشك جو شخص کسی عقیدئہ کفر کو ایسا سمجھے خود کافر ہے اعلام بقواطع الاسلام میں ہمارے علمائے اعلام
حوالہ / References
رسالہ یك روزی(فارسی)مطبوعہ فاروقی کتب خانہ ملتان ص ۱۵ و ۱۶
رسالہ یك روزی(فارسی)مطبوعہ فاروقی کتب خانہ ملتان ص ۱۶
رسالہ یك روزی(فارسی)مطبوعہ فاروقی کتب خانہ ملتان ص ۱۶
سے کفر متفق علیہ کی فصل میں منقول
او صدق کالم اھل الا ھواء عــــــہ اوقال عندی کلام مھم کلام معنوی اومعنا ہ صحیح الخ۔ یا وہ تصدیق کرے کلام اہل بدعت کی یا کہے میرے ہاں ان کا کلام بامقصد ہے یا کہے اس کا معنی درست ہے الخ(ت)
فقیر نے اس مسئلہ کی قدرے تفصیل اپنے رسالہ مبارکہ مقامع الحدید علی خدا المنطق الجدید میں ذکر کی والله الموفق۔
ثالثا : الحمد لله کہ علمائے اہلسنت ان نے جہلا کی جہالت فاحشہ سے پاك نرالے اور ان کے بہتانی خیالوں شیطانی ضلالوں پر سب سے پہلے تبرا کرنے والے مگر ان کی قوت واہمہ نے جو انھیں امام الطائفہ کے ترکہ میں ملی ائمہ متقدمین میں کچھ علما ء ایسے تراشے جو کذب الہی کے جواز و قوعی بلکہ وقوع بالفعل کے قائل ہوئے تو وہ تراشیدہ علماء ساختہ ائمہ(جن کا ان جہال کے وہم و خیال کے سواکہیں وجود نہیں)قطعا جماعا کافر مرتد تھے اب انھوں نے ان وہمی موجودوں یقینی مرتدوں کو کافر نہ جانہ بلکہ مشا ئخ دین و علمائے معتمدین مانا تو خود ان پر کفر وار تداد لازم آنے میں کیا کلام رہا کہ جو کسی منکر ضروریات دین کو کافر نہ کہے آپ کافر ہے۔ امام علامہ قاضی عیاض قدس سرہ سفا شریف میں فرماتے ہیں :
الاجماع علی کفر من لم یکفراحدا من النصاری و الیہود و کل من فارق دین المسلیمن او وقف فی تکفیر ھم او شک قال القاضی یعنی اجماع ہے اس کے کفر پر جو یہودونصاری یا مسلمانوں کے دین سے جدا ہونیوالے کافر نہ کہے یا اس کے کافر کہنے میں توقف کرے یا شك لائے امام قاضی
عــــــہ : حمل العلامۃ ابن حجر اھل الاھواء علی الذین نکفر ھم ببد عتھم قلت وھو کما افاد ولا یستقیم التخریج علی قول من اطلق الاکفا ر بکل بدعۃ فانہ الکالم فی الکفر المتفق علیہ فلیتبنہ ۱۲۔ علامہ ابن حجر اہل ہوا سے مراد وہ لوگ لیتے ہیں جنھیں ان کی بدعت کی وجہ سے کافر کہا گیا ہے میں کہتا ہون بات وہی ہے جو انھوں نے کہی اسے یہ حوالہ اس قول پر صحیح نہیں جو مطلقا ہر بدعت کو کفر کہتے ہیں کیونکہ گفتگو اس کفر میں ہو رہی ہے جس پر اتفاق ہو اسے یا د رکھ ۱۲(ت)
او صدق کالم اھل الا ھواء عــــــہ اوقال عندی کلام مھم کلام معنوی اومعنا ہ صحیح الخ۔ یا وہ تصدیق کرے کلام اہل بدعت کی یا کہے میرے ہاں ان کا کلام بامقصد ہے یا کہے اس کا معنی درست ہے الخ(ت)
فقیر نے اس مسئلہ کی قدرے تفصیل اپنے رسالہ مبارکہ مقامع الحدید علی خدا المنطق الجدید میں ذکر کی والله الموفق۔
ثالثا : الحمد لله کہ علمائے اہلسنت ان نے جہلا کی جہالت فاحشہ سے پاك نرالے اور ان کے بہتانی خیالوں شیطانی ضلالوں پر سب سے پہلے تبرا کرنے والے مگر ان کی قوت واہمہ نے جو انھیں امام الطائفہ کے ترکہ میں ملی ائمہ متقدمین میں کچھ علما ء ایسے تراشے جو کذب الہی کے جواز و قوعی بلکہ وقوع بالفعل کے قائل ہوئے تو وہ تراشیدہ علماء ساختہ ائمہ(جن کا ان جہال کے وہم و خیال کے سواکہیں وجود نہیں)قطعا جماعا کافر مرتد تھے اب انھوں نے ان وہمی موجودوں یقینی مرتدوں کو کافر نہ جانہ بلکہ مشا ئخ دین و علمائے معتمدین مانا تو خود ان پر کفر وار تداد لازم آنے میں کیا کلام رہا کہ جو کسی منکر ضروریات دین کو کافر نہ کہے آپ کافر ہے۔ امام علامہ قاضی عیاض قدس سرہ سفا شریف میں فرماتے ہیں :
الاجماع علی کفر من لم یکفراحدا من النصاری و الیہود و کل من فارق دین المسلیمن او وقف فی تکفیر ھم او شک قال القاضی یعنی اجماع ہے اس کے کفر پر جو یہودونصاری یا مسلمانوں کے دین سے جدا ہونیوالے کافر نہ کہے یا اس کے کافر کہنے میں توقف کرے یا شك لائے امام قاضی
عــــــہ : حمل العلامۃ ابن حجر اھل الاھواء علی الذین نکفر ھم ببد عتھم قلت وھو کما افاد ولا یستقیم التخریج علی قول من اطلق الاکفا ر بکل بدعۃ فانہ الکالم فی الکفر المتفق علیہ فلیتبنہ ۱۲۔ علامہ ابن حجر اہل ہوا سے مراد وہ لوگ لیتے ہیں جنھیں ان کی بدعت کی وجہ سے کافر کہا گیا ہے میں کہتا ہون بات وہی ہے جو انھوں نے کہی اسے یہ حوالہ اس قول پر صحیح نہیں جو مطلقا ہر بدعت کو کفر کہتے ہیں کیونکہ گفتگو اس کفر میں ہو رہی ہے جس پر اتفاق ہو اسے یا د رکھ ۱۲(ت)
حوالہ / References
علامہ بقواطع الاسام مع سبل النجاۃ فصل کفر متفق علیہ مکتبہ حقیقیہ استنبول ترکی ص ۳۷۱
ابو بکر لا ن التوقیف والا جماع اتفقاعلی کفرھم فمن وقف فی ذلك فقد کذب النص و التوقیف اوشك فیہ والتکذیب والشك فیہ لا یقع الامن کافر۔ ابوبکر باقلانی نے اس کی وجہ یہ فرمائی کہ نصوص شرعیہ و اجماع امت ان لوگوں کے کفر پر متفق ہیں تو جو ان کے کفر میں توقف کرتا ہے وہ نص و سریعت کی تکذیب کرتا ہے یا اس میں شك رکھتا ہے اور یا امر کافر ہی سے صادر ہوتا ہے۔
اسی میں ہے :
یکفر من لم یکفر من دان بغیر ملۃ الاسلام اووقف فیھم اوشك اوصحح مذ ھبھم وان اظھر الاسلام واعتقد ابطال کل مذھب سواہ فھو کافر باظھار ما اظھر من خلاف ذ لك اھ ملخصا۔ یعنی کافر ہے جو کافر نہ کہے ان لوگوں کو کہ غیر ملت اسلام کا اعتقاد رکھتے ہیں یا ان کے کفر میں شك لائے یا ان کے مذہب کو ٹھیك بتائے اگرچہ اپنے آپ کو مسلمان کہتا اور مذہب اسلام کی حقانیت اور اس کے سواسب مذہبوں کے بطلان کا اعتقاد ظاہر کرتاہوکہ اس نے بعض منکر ضروریات دین کو جب کہ کافر نہ جانا تواپنے اس اظہار کے خلاف اظہار کر چکا ا ھ ملخصا۔
آپ کو یاد ہو کہ ان مدعیان جدید نا مہتدی ورشید پر ایك سو بائیس ۱۲۲کوڑے اوپر جوڑے اور ان کے امام کا وبال انھیں کب چھوڑے کہ یہ آخر اسی کے مقلد اور اسکے اقوال کے پورے معتقد معہذا جب ضرب الغلام اھا نۃ المولی(غلام کی ضرب مولی کی اہانت ہے۔ ت)تو ضرب المولی اھانۃ الغلام(مولی کی ضرب غلام کی اہانت۔ ت)بدرجہ اولی بہر حال یہ پچھتر۷۵ کوڑے جو امام الطائفہ پر تازے پڑے ان کے حصے میں بھی یقینا جڑے کل ایك سو ۱۹۷ ستانوے ہوئے اور تین خاص ان کے دم پر سوار تو اس مختصر رسالے موجز عجالے میں مدعیان جدید پر پورے دو سو ۲۰۰ کوڑوں کی کامل بوچھار
“ کذلک العذاب و لعذاب الاخرۃ اکبر لو کانوا یعلمون ﴿۳۳﴾ “ مارایسی ہوتی ہے اور بیشك آخر کی مار سب سے بڑی کیا اچھا تھا اگر وہ جانتے۔ (ت)
میں نے جس طرح اس رسالہ کا تاریخی نام “ سبحن السبوح عن عیب کذب مقبوح “ رکھا یونہی
اسی میں ہے :
یکفر من لم یکفر من دان بغیر ملۃ الاسلام اووقف فیھم اوشك اوصحح مذ ھبھم وان اظھر الاسلام واعتقد ابطال کل مذھب سواہ فھو کافر باظھار ما اظھر من خلاف ذ لك اھ ملخصا۔ یعنی کافر ہے جو کافر نہ کہے ان لوگوں کو کہ غیر ملت اسلام کا اعتقاد رکھتے ہیں یا ان کے کفر میں شك لائے یا ان کے مذہب کو ٹھیك بتائے اگرچہ اپنے آپ کو مسلمان کہتا اور مذہب اسلام کی حقانیت اور اس کے سواسب مذہبوں کے بطلان کا اعتقاد ظاہر کرتاہوکہ اس نے بعض منکر ضروریات دین کو جب کہ کافر نہ جانا تواپنے اس اظہار کے خلاف اظہار کر چکا ا ھ ملخصا۔
آپ کو یاد ہو کہ ان مدعیان جدید نا مہتدی ورشید پر ایك سو بائیس ۱۲۲کوڑے اوپر جوڑے اور ان کے امام کا وبال انھیں کب چھوڑے کہ یہ آخر اسی کے مقلد اور اسکے اقوال کے پورے معتقد معہذا جب ضرب الغلام اھا نۃ المولی(غلام کی ضرب مولی کی اہانت ہے۔ ت)تو ضرب المولی اھانۃ الغلام(مولی کی ضرب غلام کی اہانت۔ ت)بدرجہ اولی بہر حال یہ پچھتر۷۵ کوڑے جو امام الطائفہ پر تازے پڑے ان کے حصے میں بھی یقینا جڑے کل ایك سو ۱۹۷ ستانوے ہوئے اور تین خاص ان کے دم پر سوار تو اس مختصر رسالے موجز عجالے میں مدعیان جدید پر پورے دو سو ۲۰۰ کوڑوں کی کامل بوچھار
“ کذلک العذاب و لعذاب الاخرۃ اکبر لو کانوا یعلمون ﴿۳۳﴾ “ مارایسی ہوتی ہے اور بیشك آخر کی مار سب سے بڑی کیا اچھا تھا اگر وہ جانتے۔ (ت)
میں نے جس طرح اس رسالہ کا تاریخی نام “ سبحن السبوح عن عیب کذب مقبوح “ رکھا یونہی
حوالہ / References
الشفا ء بتعریف حقوق المصطفٰی فصل فی تحقیق القول فی اکفارالمتاولین المطبعۃ الشرکۃ الصحافیہ ۲ / ۲۹۷
الشفا ء بتعریف حقوق المصطفٰی فصل جی بیان ماھومن المقالات کفر المطبعۃ الشرکۃ الصحافیہ ۲ / ۲۷۱
القرآن الکریم ۶۸ /۳۳
الشفا ء بتعریف حقوق المصطفٰی فصل جی بیان ماھومن المقالات کفر المطبعۃ الشرکۃ الصحافیہ ۲ / ۲۷۱
القرآن الکریم ۶۸ /۳۳
ان تازیانوں کا عدد رخواست کرتا ہے کہ اس کا تاریخی لقب “ دوصد تازیانہ بر فرق جہول زمانہ “ رکھوں بالجملہ آفتاب روشن کی طرح واضح ہوگیا کہ ایك مذہب علمائے دین پر یہ امام و مقتدی سب کے سب نہ ایك دوکفر بلکہ صد ہا کفر سراپا کفر میں ڈوبے ہوئے ہیں وفی ذلك اقول : (اس میں میں نے کہا۔ ت)
فکفر فوق کفر فوق کفر کان الکفر من کثر و وفر
کما ء اسن فی نتین دفر تتا بع قطرہ من تقب کفر
(کفر ہرکفر سے بڑھ کرکفر ہرکثیرسے بڑھ کرکثیر جیسا کہ کھڑا پانی بدبودار پانی ملنے سےخوب بدبودار ہوجاتا ہے۔ ت)
معاذالله ! اس قدر ان کے خسار وبوار کو کیاکم ہے اگرچہ ائمہ محققین و علمائے محتا طین انھیں کافر نہ کہیں اور یہی صواب ہے
وھو الجواب وبہ یفتی و علیہ الفتوی وھو المذھب وعلیہ الاعتما دوفیہ السلامۃ و فیہ السداد۔ جواب یہی ہے اس کے ساتھ فتوی دیا جاتاہے اور اسی پر فتوی ہے یہی مذہب اور اسی پر اعتماد ہے اسی میں سلامتی اور یہی درست ہے۔ (ت)
امام ابن حجر مکی رحمہ الله تعالی اعلام میں فرماتے ہیں :
انہ یصیر مرتد اعلی قول جماعۃ و کفی بھذا خسارا ۔ وہ ایك جماعت علماء کے قول پر مرتد ہو گیا اور اس قدر خسران و زیان میں بس ہیں۔
والعیاذ بالله خیرا الحافظین(اور بہتر حفاظت کرنے والے کی پناہ۔ ت)پھرجب کہ ائمہ دین ان کے کفر میں مختلف ہو گئے تو راہ یہ ہےکہ اگر اپنا بھلا چاہیں جلد از سرنو کلمہ اسلام پڑھیں اور اپنے مذہب نامہذب کی تکذیب صریح اور اس کے رد و تقبیح کی صاف تصریح کریں ورنہ بطور عادت کلمہ شہادت کافی نہیں کہ یہ تو وہ اب بھی پڑھتے یہں اور اسے اپنے مذہب کا رد نہیں سمجھتے۔ بحر الرائق میں بزازیہ و جامع الفصولین سے ہے :
لواتی باشہادتین علی وجہ العادۃ لم ینفعہ مالم یرجع عماقال۔ اگرمعمول کے مطابق وہ کلمہ شہادت پڑھتے تو اسکو وہ نافع نہیں جب تك وہ اپنے قول سے رجوع نہ کرے(ت)
فکفر فوق کفر فوق کفر کان الکفر من کثر و وفر
کما ء اسن فی نتین دفر تتا بع قطرہ من تقب کفر
(کفر ہرکفر سے بڑھ کرکفر ہرکثیرسے بڑھ کرکثیر جیسا کہ کھڑا پانی بدبودار پانی ملنے سےخوب بدبودار ہوجاتا ہے۔ ت)
معاذالله ! اس قدر ان کے خسار وبوار کو کیاکم ہے اگرچہ ائمہ محققین و علمائے محتا طین انھیں کافر نہ کہیں اور یہی صواب ہے
وھو الجواب وبہ یفتی و علیہ الفتوی وھو المذھب وعلیہ الاعتما دوفیہ السلامۃ و فیہ السداد۔ جواب یہی ہے اس کے ساتھ فتوی دیا جاتاہے اور اسی پر فتوی ہے یہی مذہب اور اسی پر اعتماد ہے اسی میں سلامتی اور یہی درست ہے۔ (ت)
امام ابن حجر مکی رحمہ الله تعالی اعلام میں فرماتے ہیں :
انہ یصیر مرتد اعلی قول جماعۃ و کفی بھذا خسارا ۔ وہ ایك جماعت علماء کے قول پر مرتد ہو گیا اور اس قدر خسران و زیان میں بس ہیں۔
والعیاذ بالله خیرا الحافظین(اور بہتر حفاظت کرنے والے کی پناہ۔ ت)پھرجب کہ ائمہ دین ان کے کفر میں مختلف ہو گئے تو راہ یہ ہےکہ اگر اپنا بھلا چاہیں جلد از سرنو کلمہ اسلام پڑھیں اور اپنے مذہب نامہذب کی تکذیب صریح اور اس کے رد و تقبیح کی صاف تصریح کریں ورنہ بطور عادت کلمہ شہادت کافی نہیں کہ یہ تو وہ اب بھی پڑھتے یہں اور اسے اپنے مذہب کا رد نہیں سمجھتے۔ بحر الرائق میں بزازیہ و جامع الفصولین سے ہے :
لواتی باشہادتین علی وجہ العادۃ لم ینفعہ مالم یرجع عماقال۔ اگرمعمول کے مطابق وہ کلمہ شہادت پڑھتے تو اسکو وہ نافع نہیں جب تك وہ اپنے قول سے رجوع نہ کرے(ت)
حوالہ / References
الدیوان العربی الموسوم بساتین الغفران فی الردعلی القائلین بامکان کذب الله الخ رضادارالاشاعۃ لاہور ص ۱۹۲
الاعلام بقواطع الاسلام مع سبل النجاۃ مکتبہ حقیقیہ استنبول ترکی ص ۲ ۶ ۳
بحرالرائق باب احکام المرتدین ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۵ / ۱۲۸
الاعلام بقواطع الاسلام مع سبل النجاۃ مکتبہ حقیقیہ استنبول ترکی ص ۲ ۶ ۳
بحرالرائق باب احکام المرتدین ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۵ / ۱۲۸
اور جس طرح اس مذہب خبیث کا اعلان کیاہے ویسے ہی توبہ و رجوع کا صاف اعلان کریں کہ توبہ نہاں کی نہاں ہے اورعیاں کی عیاں۔ حضور پر نور سید یوم النشور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
اذا عملت سیئۃ فاحد ث عندھا توبۃ السر بالسر والعلا نیۃ بالعلانیۃ۔ دواہ الامام احمد فی کتاب الزھد والطبرانی فی المعجم الکبیر بسند حسن علی اصولنا عن معاذ بن جیل رضی الله تعالی عنہ۔ جب تو کوئی گناہ کرے تو فورا توبہ کر پوشیدہ کی پوشیدہ اور ظاہر کی ظاہر۔ (اسے امام احمد نے کتاب الزہد میں طبرانی نے المعجم الکبیر مین سند صحیح سے ہمار ے اصولوں کے مطابق حضرت معاذبن جبل رضی الله تعالی عنہ سے روایت کیا۔ (ت)
اس سب کے بعد اپنی عورتوں سے تجدید نکاح کریں کہ کفر خلافی کا حکم یہی ہے علامہ حسن شرنبلالی شرح وہانیہ پھر علامہ علائی شرح تنویر میں فرماتے ہیں :
مایکون کفرا اتفاقایبطل العمل والنکاح واولادہ اولاد زنی وما فیہ خلاف یومر بالاستغفاروالتوبۃ و تجدید النکاح ۔ جو بالاتفاق کفر ہو اس سے اعمال نکاح باطل ہوجاتے ہیں تمام اولاد اولاد زناقرارپا جاتی ہے اور جس میں اختلاف ہو وہاں استغفار توبہ اور تجدید نکاح کروایا جائے گا۔ (ت)
پس اگر مولی سبحانہ و تعالی ہدایت فرمائے اور اس کے کرم سے کچھ دور نہیں یعنی یہ حضرات اپنے مذہب مردود سے باز آئیں اورعلانیہ اب العالمین کی طرف توبہ لائیں “ فاخونکم فی الدین “ تمھارے دینی بھائی ہیں ورنہ اہل سنت پر لازم کہ ان سے الگ ہو جائیں ان کی صحبت کو آگ سمجھیں ان کے پیچھے نماز ہر گز نہ پڑھیں اگر نادانستہ پڑھ لی ہو اعادہ کر لیں کہ نماز اعطم عبادات رب بے نیازہے اور تقدیم وامامت ایك علی اعزاز اور فاسق مجاہر واجب التوہین نہ کہ بدعتی گمرہ فاسق فی الدین والعیازبالله ربالعالمین۔ فقیر عفی الله تعالی لہ نے ان مسائل کے قدرے تحقیق و تفصیل اپنے رسالہ النھی الا کید عن الصلوۃ وراء عدم التقلید میں ذکر کی۔ علامہ ابراہیم حلبی غنیہ شرح منیہ میں فرماتے ہیں :
یکرہ تقدیم الفاسق کراھۃ تحریم وکذا یعنی فاسق و بد مذہب کی امامت مکروہ تحریمی
اذا عملت سیئۃ فاحد ث عندھا توبۃ السر بالسر والعلا نیۃ بالعلانیۃ۔ دواہ الامام احمد فی کتاب الزھد والطبرانی فی المعجم الکبیر بسند حسن علی اصولنا عن معاذ بن جیل رضی الله تعالی عنہ۔ جب تو کوئی گناہ کرے تو فورا توبہ کر پوشیدہ کی پوشیدہ اور ظاہر کی ظاہر۔ (اسے امام احمد نے کتاب الزہد میں طبرانی نے المعجم الکبیر مین سند صحیح سے ہمار ے اصولوں کے مطابق حضرت معاذبن جبل رضی الله تعالی عنہ سے روایت کیا۔ (ت)
اس سب کے بعد اپنی عورتوں سے تجدید نکاح کریں کہ کفر خلافی کا حکم یہی ہے علامہ حسن شرنبلالی شرح وہانیہ پھر علامہ علائی شرح تنویر میں فرماتے ہیں :
مایکون کفرا اتفاقایبطل العمل والنکاح واولادہ اولاد زنی وما فیہ خلاف یومر بالاستغفاروالتوبۃ و تجدید النکاح ۔ جو بالاتفاق کفر ہو اس سے اعمال نکاح باطل ہوجاتے ہیں تمام اولاد اولاد زناقرارپا جاتی ہے اور جس میں اختلاف ہو وہاں استغفار توبہ اور تجدید نکاح کروایا جائے گا۔ (ت)
پس اگر مولی سبحانہ و تعالی ہدایت فرمائے اور اس کے کرم سے کچھ دور نہیں یعنی یہ حضرات اپنے مذہب مردود سے باز آئیں اورعلانیہ اب العالمین کی طرف توبہ لائیں “ فاخونکم فی الدین “ تمھارے دینی بھائی ہیں ورنہ اہل سنت پر لازم کہ ان سے الگ ہو جائیں ان کی صحبت کو آگ سمجھیں ان کے پیچھے نماز ہر گز نہ پڑھیں اگر نادانستہ پڑھ لی ہو اعادہ کر لیں کہ نماز اعطم عبادات رب بے نیازہے اور تقدیم وامامت ایك علی اعزاز اور فاسق مجاہر واجب التوہین نہ کہ بدعتی گمرہ فاسق فی الدین والعیازبالله ربالعالمین۔ فقیر عفی الله تعالی لہ نے ان مسائل کے قدرے تحقیق و تفصیل اپنے رسالہ النھی الا کید عن الصلوۃ وراء عدم التقلید میں ذکر کی۔ علامہ ابراہیم حلبی غنیہ شرح منیہ میں فرماتے ہیں :
یکرہ تقدیم الفاسق کراھۃ تحریم وکذا یعنی فاسق و بد مذہب کی امامت مکروہ تحریمی
حوالہ / References
المعجم الکبیر حدیث معاذبن جبل حدیث ۳۳۱ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۲۰ / ۱۵۹ ، الزہد الکبیر حدیث۹۵۴ دارا لقلم کویت ص ۳۶۴
درمختار باب المرتد مطبع مجتبائی ۱ / ۳۵۹
القرآن الکریم ۳۳ /۵
درمختار باب المرتد مطبع مجتبائی ۱ / ۳۵۹
القرآن الکریم ۳۳ /۵
المبتدع اھ ملخصا۔ قریب بحرام ہے اھ ملخصا۔
جس کے سبب نمازکا پھیرنا واجب یہ ہےحکم ولله الحکم والیہ ترجعون oوالحمد لله رب العلمین(اور الله ہی کے لئے حکم ہے اورتم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔ اور سب تعریفیں الله تعالی کے لئے ہیں جو دونوں جہانوں کا پالنے والا ہے۔ ت)
التماس ہدایت اساس : میں جانتا ہوں کہ فقیر کے اس رسالے پر حسب معمول سخن پروری و بحکم دستور تعصب و خود سری اگر بعض سلیم خاطرین شرمائیں گی قبول وانصاف کو کام فرمائیں گی تو بہت عنادی طبیعتیں گر مائیں گی جبلی نزاکتیں غصہ لائیں گی جاہلی حمیتں جوش دکھائیں گی تعصبی حمائتیں ہمت پر آئیں گی وحسبنا الله ونعم الوکیل نعم المولی ونعم الکفیل(ہمارے لئے الله کافی اور وہ سب سے بڑا کار ساز سب سے بہتر آقااور سب سے بہتر کفالت فرمانے والا ہے۔ ت)یہ سب کچھ قبول کھسینا عاجزوں کا قدیمی معمول مگر “ انما اعظکم بوحدۃ “ (میں تمھیں ایك نصیحت کرتا ہوں۔ ت)حق اسلام یادلا کر اتنا مامول کر چند ساعت کے لئے تعصب و نفسا نیت کو راہ بتائیں مثنی و فرادی تنہا یا دو دو صاحب بیٹھ کر غور فرمائیں اگر کلام خصم حق و صواب ہو تو الله ! حق سے کیوں اجتناب ہو کیا قرآن نے نہ سنایا کہ تمھارے رب نے کیا فرمایا سیذکر من یخشی ﴿۱۰﴾ و یتجنبہا الاشقی ﴿۱۱﴾ “ (عنقریب نصیحت مانے گاجوڈرتا ہے اور اس سے وہ بڑا بد بخت دور رہے گا۔ ت) اے میرے پیارے بھائیو! کلمہ اسلام کے ہمراہیو ! اگر نفس امارہ رہزن عیارہ اور شیطان لعین اس کا معین ولہذا خطا کا اقرار آدمی کو نا گوار مگر والله ! “ و اذا قیل لہ اتق اللہ اخذتہ العزۃ بالاثم “ اورجب اس سے کہا جائے کہ الله سے ڈر تو اسے اور ضد چڑھے گناہ کی۔ ت)کی آفت سخت شدید “ الـیس منکم رجل رشید ﴿۷۸﴾ “ (کیا تم میں ایك آدمی بھی نیك چلن نہیں۔ ت) خدارا ذرا انصاف کو کام فرماؤ خلق کا کیا پاس خالق سے شرماؤ کچھ دیکھا بھی کس پر امکان کذب کی تہمت دھرتے ہو کس پاك بے عیب میں عیب آنے کا احتمال کرتے ہو العظمۃ لله ! ارے وہ خدا ہے سب خوبیوں والا ہر عیب و نقصان سے پاك نرالا ذرا تو گربیان میں منہ ڈالو جس نے زبان عطافرمائی اس کے بارے میں تو زبان سنبھالو وائے
جس کے سبب نمازکا پھیرنا واجب یہ ہےحکم ولله الحکم والیہ ترجعون oوالحمد لله رب العلمین(اور الله ہی کے لئے حکم ہے اورتم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔ اور سب تعریفیں الله تعالی کے لئے ہیں جو دونوں جہانوں کا پالنے والا ہے۔ ت)
التماس ہدایت اساس : میں جانتا ہوں کہ فقیر کے اس رسالے پر حسب معمول سخن پروری و بحکم دستور تعصب و خود سری اگر بعض سلیم خاطرین شرمائیں گی قبول وانصاف کو کام فرمائیں گی تو بہت عنادی طبیعتیں گر مائیں گی جبلی نزاکتیں غصہ لائیں گی جاہلی حمیتں جوش دکھائیں گی تعصبی حمائتیں ہمت پر آئیں گی وحسبنا الله ونعم الوکیل نعم المولی ونعم الکفیل(ہمارے لئے الله کافی اور وہ سب سے بڑا کار ساز سب سے بہتر آقااور سب سے بہتر کفالت فرمانے والا ہے۔ ت)یہ سب کچھ قبول کھسینا عاجزوں کا قدیمی معمول مگر “ انما اعظکم بوحدۃ “ (میں تمھیں ایك نصیحت کرتا ہوں۔ ت)حق اسلام یادلا کر اتنا مامول کر چند ساعت کے لئے تعصب و نفسا نیت کو راہ بتائیں مثنی و فرادی تنہا یا دو دو صاحب بیٹھ کر غور فرمائیں اگر کلام خصم حق و صواب ہو تو الله ! حق سے کیوں اجتناب ہو کیا قرآن نے نہ سنایا کہ تمھارے رب نے کیا فرمایا سیذکر من یخشی ﴿۱۰﴾ و یتجنبہا الاشقی ﴿۱۱﴾ “ (عنقریب نصیحت مانے گاجوڈرتا ہے اور اس سے وہ بڑا بد بخت دور رہے گا۔ ت) اے میرے پیارے بھائیو! کلمہ اسلام کے ہمراہیو ! اگر نفس امارہ رہزن عیارہ اور شیطان لعین اس کا معین ولہذا خطا کا اقرار آدمی کو نا گوار مگر والله ! “ و اذا قیل لہ اتق اللہ اخذتہ العزۃ بالاثم “ اورجب اس سے کہا جائے کہ الله سے ڈر تو اسے اور ضد چڑھے گناہ کی۔ ت)کی آفت سخت شدید “ الـیس منکم رجل رشید ﴿۷۸﴾ “ (کیا تم میں ایك آدمی بھی نیك چلن نہیں۔ ت) خدارا ذرا انصاف کو کام فرماؤ خلق کا کیا پاس خالق سے شرماؤ کچھ دیکھا بھی کس پر امکان کذب کی تہمت دھرتے ہو کس پاك بے عیب میں عیب آنے کا احتمال کرتے ہو العظمۃ لله ! ارے وہ خدا ہے سب خوبیوں والا ہر عیب و نقصان سے پاك نرالا ذرا تو گربیان میں منہ ڈالو جس نے زبان عطافرمائی اس کے بارے میں تو زبان سنبھالو وائے
حوالہ / References
غنیہ المستملی شرح منیۃ المصلی فصل فی الاما مۃ سہیل اکیڈیمی لاہور ص ۱۴۔ ۵۱۳
القر آن الکریم ۳۴ / ۴۶
القرآن الکریم ۸۷ /۱۰ و ۱۱
القرآن الکریم ۲ /۲۰۶
القرآن الکریم ۱۱ /۷۸
القر آن الکریم ۳۴ / ۴۶
القرآن الکریم ۸۷ /۱۰ و ۱۱
القرآن الکریم ۲ /۲۰۶
القرآن الکریم ۱۱ /۷۸
بے انصافی تمھیں کوئی جھوٹا کہے تو آپے میں نہ رہو اور ملك جبار و احد قہار کا جھوٹا ہونا یو ممکن کہو یہ کون سی دیانت ہے کیا انصاف ہے اس پر یہ قہر اصرار یہ بلا اعتساف ہے
اے طائفہ حائفہ اے قوم مفتون ! مانو تو ایك تدبیر تمھیں بتاؤں میرا رسا لہ تنہائی میں بیٹھ کر بغور دیکھو ان دو سو ۲۰۰ دلائل و اعتراضات کو ایك ایك کرکے انصاف سے پرکھو فرض کر دم کہ دہ سو ۲۰۰ میں استحالہ کذب الہی پر صرف ایك دلیل اور تمھارے خیال اور تمھارے امام کے ہذیانی اقوال پر فقط ایك ایك اعتراض قاطع ہر قال و قیل باقی رہ گیا باقی سب تم نے جواب دے لیا تو جان برادر ! احقاق حق کو ایك دلیل کافی ابطال باطل کوایك اعتراض و افی نہ کر دلائل باہرہ اعتراضیا ت قاہرہ صد ہانسو اور ایك نہ گنو۔ دل میں جانتے جاؤ کہ دلائل باصواب اور اعتراض لاجواب مگر ماننے کی قسم ' توبہ کی اان بلکہ الٹے تائید باطل کی فکر سامان یہ تو حق پرستی نہ ہوئی بادبد ستی نشہ تعصب میں سیاہ مستی ہوئی پھر قیامت تو نہ آئے گی حساب تو نہ ہو گا خدا کےحضور سوال و جواب تو نہ ہوگا اے رب میرے ! ہدایت فرما اور ان لجیلی آنکھوں کو کچھ تو شرما
می توانی کہ دہی اشك مراحسن قبول اے کہ در ساختہ قطرہ بارانی را
(اے الله ! تو میرے آنسو ؤ ں کو حسن قبول دے سکتا ہے جیسا کہ تو بارس کے قطرہ کو موتی بنا دیتا ہے۔ ت)
اور یہیں سے ظاہر کہ جو صاحب قصد جواب کی ہمت رکھیں ایك ایك دلیل ایك ایك اعتراض کا تفصیلی جواب سمجھ کر لکھیں یہ نہ ہو کہ ابقائے مشیخت رفع مزامت فریب عوام جواب کے نام کو کہیں کچھ اعتراج باقی سے اعراض یہ کلا خصم کا رد نہ کرے گا الٹا تمھیں پر صاعقہ بن کر گرےگا کہ جب حجت خصم مٹا نہ سکے مذہب سے اعتراض ہتا نہ سکے تو نا حق تکلیف خامہ اٹھائی مصیبت سیاہی نامہ اٹھائی اپنے ہی عجز کا اظہار کیا بطلان مذہب کا اقرار کیا لله کچھ دیر تو حق و انصاف کی قدر سمجھو زنجیر تعصب کی قید سے سلجھو خار زارتکبر میں اتنا نہ الجھو افسوس کہ حق کا چاند جلوہ نما اور تمھارے نصیب کی وہی کا لی گھٹا ہمارے ہمایوں سایہ فگن اور تمھارا تاج وہی بال زغن اے سچے خدا سچ سے مو صوف جھوٹ سے نرالے سچے رسو ل پر سچی کتاب اتارنے والے ! اپنے سچے حبیب کی سچی و جاہت کا صدقہ آمت مصطفی کو سچی ہدایت نصیب فرما
صلی الله تعالی علی الحبیب وسلم وعلی الہ و صحبہ و شرف کرمہ مانجی الصادق و ھلك الکا ذب و نھی الصدق عن تعاطی الکواذب قولك الحق و اے الله ! رحمیتں نازل فرما اور آپ کے شرف و بزرگی میں مزید اضافہ فرما جو حبیب ہیں جب تك صادق نجات پاتے رہیں کاذب ہلاك ہوتے رہیں جنھوں نے تمام کواذب سے منع فرمایا تیرا قول حق
اے طائفہ حائفہ اے قوم مفتون ! مانو تو ایك تدبیر تمھیں بتاؤں میرا رسا لہ تنہائی میں بیٹھ کر بغور دیکھو ان دو سو ۲۰۰ دلائل و اعتراضات کو ایك ایك کرکے انصاف سے پرکھو فرض کر دم کہ دہ سو ۲۰۰ میں استحالہ کذب الہی پر صرف ایك دلیل اور تمھارے خیال اور تمھارے امام کے ہذیانی اقوال پر فقط ایك ایك اعتراض قاطع ہر قال و قیل باقی رہ گیا باقی سب تم نے جواب دے لیا تو جان برادر ! احقاق حق کو ایك دلیل کافی ابطال باطل کوایك اعتراض و افی نہ کر دلائل باہرہ اعتراضیا ت قاہرہ صد ہانسو اور ایك نہ گنو۔ دل میں جانتے جاؤ کہ دلائل باصواب اور اعتراض لاجواب مگر ماننے کی قسم ' توبہ کی اان بلکہ الٹے تائید باطل کی فکر سامان یہ تو حق پرستی نہ ہوئی بادبد ستی نشہ تعصب میں سیاہ مستی ہوئی پھر قیامت تو نہ آئے گی حساب تو نہ ہو گا خدا کےحضور سوال و جواب تو نہ ہوگا اے رب میرے ! ہدایت فرما اور ان لجیلی آنکھوں کو کچھ تو شرما
می توانی کہ دہی اشك مراحسن قبول اے کہ در ساختہ قطرہ بارانی را
(اے الله ! تو میرے آنسو ؤ ں کو حسن قبول دے سکتا ہے جیسا کہ تو بارس کے قطرہ کو موتی بنا دیتا ہے۔ ت)
اور یہیں سے ظاہر کہ جو صاحب قصد جواب کی ہمت رکھیں ایك ایك دلیل ایك ایك اعتراض کا تفصیلی جواب سمجھ کر لکھیں یہ نہ ہو کہ ابقائے مشیخت رفع مزامت فریب عوام جواب کے نام کو کہیں کچھ اعتراج باقی سے اعراض یہ کلا خصم کا رد نہ کرے گا الٹا تمھیں پر صاعقہ بن کر گرےگا کہ جب حجت خصم مٹا نہ سکے مذہب سے اعتراض ہتا نہ سکے تو نا حق تکلیف خامہ اٹھائی مصیبت سیاہی نامہ اٹھائی اپنے ہی عجز کا اظہار کیا بطلان مذہب کا اقرار کیا لله کچھ دیر تو حق و انصاف کی قدر سمجھو زنجیر تعصب کی قید سے سلجھو خار زارتکبر میں اتنا نہ الجھو افسوس کہ حق کا چاند جلوہ نما اور تمھارے نصیب کی وہی کا لی گھٹا ہمارے ہمایوں سایہ فگن اور تمھارا تاج وہی بال زغن اے سچے خدا سچ سے مو صوف جھوٹ سے نرالے سچے رسو ل پر سچی کتاب اتارنے والے ! اپنے سچے حبیب کی سچی و جاہت کا صدقہ آمت مصطفی کو سچی ہدایت نصیب فرما
صلی الله تعالی علی الحبیب وسلم وعلی الہ و صحبہ و شرف کرمہ مانجی الصادق و ھلك الکا ذب و نھی الصدق عن تعاطی الکواذب قولك الحق و اے الله ! رحمیتں نازل فرما اور آپ کے شرف و بزرگی میں مزید اضافہ فرما جو حبیب ہیں جب تك صادق نجات پاتے رہیں کاذب ہلاك ہوتے رہیں جنھوں نے تمام کواذب سے منع فرمایا تیرا قول حق
وعدك الصدق ولك الحمد والیك المصیر انك علی کل شئی قدیر و صلی الله تعالی علی سید الصادقین محمد و آلہ و صحبہ اجمین امین امین الہ الحق امین ! تیرا وعدہ سچا حمد تیرے لئے تمام کا لوٹنا تیر طرف اور تو ہر شیئ پر قادر ہے الله تعالی کی رحمت ہو سید الصادقین حضرت محمد آپ کی آ ل اور اصحاب سب پر آمین آمین الہ الحق آمین!(ت)
الحمد لله کہ یہ مبارك رسالہ موجز عجالہ باوجود کثرت اشغال تحریر مسائل و ترتیب رسائل تیرہ ۱۳ دن کے متفرق جلسوں میں مسودہ اور تئیس۲۳ دن میں صاف و مبیضہ ہو کر دوازدہم ماہ مبارك و فاخر شہر ربیع الآخر رو ز ہمایوں جمعہ ۱۳۰۷ھ علی صاحبہا الصلوۃ والتحیۃ کو بہم وجوہ بدر سمای تمام و شمع بزم ہدایت انام ہوا۔
لله الحمد والمنہ کہ آج اس مبارك رسالے سنت کےقبالے رنگ صدق جمانے والے زنگ کذب گمانے والے سے علوم دینیہ میں تصانیف فقیر نے سو۱۰۰ کا عد کامل پایا
والحمد لله وھاب العطایا ربنا تقبل منا انك انت السمیع العلیم oوالحمد لله رب العلمین والصلاۃ و السلام علی سید المرسلین محمد و الہ وصحبہ اجمعین سبحن ربك رب العزۃ عما یصفون و سلام علی المرسلین والحمد لله رب العلمین تمت و بالخیر عمت بعون من قال وقولہ الحق
“ وتمت کلمت ربک صدقا وعدلا لا مبدل لکلمتہ و ہو السمیع العلیم ﴿۱۱۵﴾ “ الحمد لله الذی بنعمہ وجلالہ تتم الصالحات والصلوۃ والسلام علی سیدنا ومولانا محمد سید الکائنات و الہ و صحبہ وامتہ و حزبہ الجمعین و الحمد لله رب العلمین۔ تمام حمد الله تعالی کی ہے جو تمام انعامات کا اعطا کرنیوالا ہے اے ہمارے رب ! ہماری طرف سے قبول فرما بلا شبہ تو سننے والا ہے تمام حمدالله کی جو جہانوں کا پرور دگار ہے صلوۃ وسلام نازل ہو تمام رسولوں کے سردار حضرت محمد صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم پر آپ کی آل و اصحاب تمام پر سلام علی المرسلین والحمد لله رب العلمن۔ رسالہ تام ہوا اور خیر کے ساتھ وسیع ہوا اس ذات کی مدد سے جس نے فرمایا جبکہ اس کا فرمان بر حق ہے “ ترے رب کے کلمات صدق و عدل میں تام ہیں کوئی ان کو تبدیل کرنے والا نہیں وہی سننے جاننے والا ہے۔ “ تمام تعریفیں الله تعالی کی جس کی نعمت و جلال سے خوبیا تام ہوتی ہیں اور صلوۃ ولام ہمارے آقا مولی سید کائنات محمد صلی الله علیہ وسلم ان کی آل و اصحاب و امت اور ان کی سب جماعت پر والحمد رب العالمین(ت)
کتبـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ
عبدہ المذنب احمد رضا البریلوی عفی عنہ بمحمدن
المصطفی النبی الامی صلی الله تعالی علیہ وسلم
الحمد لله کہ یہ مبارك رسالہ موجز عجالہ باوجود کثرت اشغال تحریر مسائل و ترتیب رسائل تیرہ ۱۳ دن کے متفرق جلسوں میں مسودہ اور تئیس۲۳ دن میں صاف و مبیضہ ہو کر دوازدہم ماہ مبارك و فاخر شہر ربیع الآخر رو ز ہمایوں جمعہ ۱۳۰۷ھ علی صاحبہا الصلوۃ والتحیۃ کو بہم وجوہ بدر سمای تمام و شمع بزم ہدایت انام ہوا۔
لله الحمد والمنہ کہ آج اس مبارك رسالے سنت کےقبالے رنگ صدق جمانے والے زنگ کذب گمانے والے سے علوم دینیہ میں تصانیف فقیر نے سو۱۰۰ کا عد کامل پایا
والحمد لله وھاب العطایا ربنا تقبل منا انك انت السمیع العلیم oوالحمد لله رب العلمین والصلاۃ و السلام علی سید المرسلین محمد و الہ وصحبہ اجمعین سبحن ربك رب العزۃ عما یصفون و سلام علی المرسلین والحمد لله رب العلمین تمت و بالخیر عمت بعون من قال وقولہ الحق
“ وتمت کلمت ربک صدقا وعدلا لا مبدل لکلمتہ و ہو السمیع العلیم ﴿۱۱۵﴾ “ الحمد لله الذی بنعمہ وجلالہ تتم الصالحات والصلوۃ والسلام علی سیدنا ومولانا محمد سید الکائنات و الہ و صحبہ وامتہ و حزبہ الجمعین و الحمد لله رب العلمین۔ تمام حمد الله تعالی کی ہے جو تمام انعامات کا اعطا کرنیوالا ہے اے ہمارے رب ! ہماری طرف سے قبول فرما بلا شبہ تو سننے والا ہے تمام حمدالله کی جو جہانوں کا پرور دگار ہے صلوۃ وسلام نازل ہو تمام رسولوں کے سردار حضرت محمد صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم پر آپ کی آل و اصحاب تمام پر سلام علی المرسلین والحمد لله رب العلمن۔ رسالہ تام ہوا اور خیر کے ساتھ وسیع ہوا اس ذات کی مدد سے جس نے فرمایا جبکہ اس کا فرمان بر حق ہے “ ترے رب کے کلمات صدق و عدل میں تام ہیں کوئی ان کو تبدیل کرنے والا نہیں وہی سننے جاننے والا ہے۔ “ تمام تعریفیں الله تعالی کی جس کی نعمت و جلال سے خوبیا تام ہوتی ہیں اور صلوۃ ولام ہمارے آقا مولی سید کائنات محمد صلی الله علیہ وسلم ان کی آل و اصحاب و امت اور ان کی سب جماعت پر والحمد رب العالمین(ت)
کتبـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ
عبدہ المذنب احمد رضا البریلوی عفی عنہ بمحمدن
المصطفی النبی الامی صلی الله تعالی علیہ وسلم
تحریر جناب مولانا گلام دستگیر علیہ الرحمۃ من ربنا القدیر بر رسالہ مبرکہ “ سبحن السبوح من عیب کذب المقبوح فقیر غلام دستگیر قصوری کان اللہ لہ جمادی الاول ۱۳۰۸ ھ میں بریلی میں وار دہوا اور اس مبارک رسالہ کے دیکھنے کا اتفاق پڑا چونکہ مدت دراز کے بعد یہاں آنے کا اتفاق ہوا ہے اور ملاقات احباب اور نیز مشورہ امر دینی کے سبب جو وکلاء سے کرنا تھااس قدر کم فرصتی ہوئی کہ معمولی و ظائف جو کبھی سفر و حضر میں ترک نہیں ہوئے تھے ان چارروز میں وہ بھی پورے نہ ہوسکے اس کشاکش میں اس رسالہ سلالہ کو فقیر بالا ستیعا ب کیا کچھ حصہ معتد بہا بھی نہ دیکھ سکا مگر ابتدا اور درمیان اور انتہا سے جو دیکھا تو مسئلہ امکان کذب باری تعالی کا رد پایا اور اس کا آنکھوں سے لگایا الحمد لله حمداکثیرا کہ اس کے مولف علامہ فہامہ نے جو ایک علم اور فضل کے خاندان سے عمدۃ الخلف و بقیۃ السلف ہیں اس بارے میں بھی اپنے عزیز واقارب کو جو ہمیشہ کار خبر اشاعت علوم دینیہ میں مصروف ہیں صرف فرمایا جزاہ الله الشکور عنی وعن جمیع المسلمین خبر الجزا ء واوصلہ الی غایۃ ما یحب و یر ضی اللھم تقبل منا انك انت السمیع العلیم وصلی ا لله تعالی علی خیر خلقہ و مظھر لطفہ و احسانہ سیدنا محمد و عترتہ اجمعین اللھم ارحمنا معھم برحمتک یا ارحم الراحمین !
۱۵ جمادی الاول روز روانگی وطن پر چند حروف لکھے گئے ولله ھو المسیر للصعاب۔
____________________
۱۵ جمادی الاول روز روانگی وطن پر چند حروف لکھے گئے ولله ھو المسیر للصعاب۔
____________________
رسالہ دامان باغ سبحن السبوح
(سبحن السبوح کے باغ کا دامن ۱۳۰۷ھ)
مسئلہ ۷۳ : کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کی دیو بند کا پڑھا ہوا ایك مولوی کہتا ہے کہ الله تعالی جھوٹا ہو سکتا ہے اور اس پر دلیل یہ پیش کرتا ہے کہ آدمی جھوٹ بول سکتا ہے تو اگر الله تعالی نہ بول سکے تو آدمی کی قدرت خدا کی قدرت سے بڑھ جائے گی کہ ایك کام ایسا نکلا کہ آدمی تو کر سکتا ہے اور خدا نہیں کر سکتا یہ ظاہر بات ہے کہ خدا کی قدرت بے انتہا ہے آدمی جس جس بات پر قادر ہے خدا ضرور ان سب باتوں پر قادر ہے اور ان کے سوا بے انتہا چیزوں پر قدرت رکھتاہے جن پر آدمی کو قدرت نہیں انسان کو اپنے کذب پر قدرت اور خداکو اپنے کذب پر قدرت نہ ہو یہ کیسے ہو سکتا ہے اور اس دلیل کو کہتا ہے کہ یہ ایسی قاطع دلیل ہے کہ جس کا جواب نہیں ہو سکتا ہے امید کہ اس بارہ میں جو حق ہو تحریر فرمائیں اور مسلمانوں کو گمراہ ہونے سے بچائیں۔ بینوا توجروا(بیان کیجئے اجر حاصل کیجئے۔ ت)
الجواب :
سبحن الله رب العر ش عما یصفون(پاکی ہے عرش کے رب کو ان باتوں سےجو یہ بناتے ہیں۔ ت)الله عزوجل سلمانوں کو شیطانوں کے وسوسوں سے بچائے دیو بندی نہ دیوبندی کہ دیو بندیوں نہ دیوبندیوں کہ ان کے امام اسمعیل دہلوی کا یہ قول صریح ضلالت و گمراہی و بد دینی ہے جس میں بلا مبالغہ ہزار ہا وجہ سے کفر لزومی ہے جمہور فقہائےکرام کے طورپر ایسی ضلالت کا قائل صریح کافر ہو جاتاہے اگر ہم باتباع
(سبحن السبوح کے باغ کا دامن ۱۳۰۷ھ)
مسئلہ ۷۳ : کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کی دیو بند کا پڑھا ہوا ایك مولوی کہتا ہے کہ الله تعالی جھوٹا ہو سکتا ہے اور اس پر دلیل یہ پیش کرتا ہے کہ آدمی جھوٹ بول سکتا ہے تو اگر الله تعالی نہ بول سکے تو آدمی کی قدرت خدا کی قدرت سے بڑھ جائے گی کہ ایك کام ایسا نکلا کہ آدمی تو کر سکتا ہے اور خدا نہیں کر سکتا یہ ظاہر بات ہے کہ خدا کی قدرت بے انتہا ہے آدمی جس جس بات پر قادر ہے خدا ضرور ان سب باتوں پر قادر ہے اور ان کے سوا بے انتہا چیزوں پر قدرت رکھتاہے جن پر آدمی کو قدرت نہیں انسان کو اپنے کذب پر قدرت اور خداکو اپنے کذب پر قدرت نہ ہو یہ کیسے ہو سکتا ہے اور اس دلیل کو کہتا ہے کہ یہ ایسی قاطع دلیل ہے کہ جس کا جواب نہیں ہو سکتا ہے امید کہ اس بارہ میں جو حق ہو تحریر فرمائیں اور مسلمانوں کو گمراہ ہونے سے بچائیں۔ بینوا توجروا(بیان کیجئے اجر حاصل کیجئے۔ ت)
الجواب :
سبحن الله رب العر ش عما یصفون(پاکی ہے عرش کے رب کو ان باتوں سےجو یہ بناتے ہیں۔ ت)الله عزوجل سلمانوں کو شیطانوں کے وسوسوں سے بچائے دیو بندی نہ دیوبندی کہ دیو بندیوں نہ دیوبندیوں کہ ان کے امام اسمعیل دہلوی کا یہ قول صریح ضلالت و گمراہی و بد دینی ہے جس میں بلا مبالغہ ہزار ہا وجہ سے کفر لزومی ہے جمہور فقہائےکرام کے طورپر ایسی ضلالت کا قائل صریح کافر ہو جاتاہے اگر ہم باتباع
جمہور متکلمین کرام صرف لزوم پر بے التزام کافر کہنا نہیں چاہتے اور ضال مضل بددین کہنے پر قناعت کرتے ہیں۔
اس مسئلہ میں فقیر کا یك کافر و افی رسالہ مسمی بہ سبحن السبوح عن کذب مقبوح مدت ہوئی چھپ کر شائع ہو چکا اور گنگوہیوں دیو بندیوں وغیر ہم وہابیوں کسی سے اس کا جواب نہ ہو سکا نہ ان شاء الله العزیز قیامت تك ہو سکے
حقت علیم کلمۃ العذاب بما کذبوا ربھم وبما کانو یفسقون اولئك اصمھم الله واعمی البصارھم فھم طغیا نھم یعمھونo عذاب کا قول ان پر ٹھیك اترا بسبب اس کے کہ انھوں نے اپنے رب کی طرف جھوٹ منسوب کیا اور اس سبب سے کہ وہ حکم عدولی کرتے تھے یہی لوگ ہیں جنھیں الله تعالی نے بہرہ کر دیا اور ان کی آنکھوں کو اندھا کردیا پس وہ اپنی سرکشی میں سر گرداں رہتے ہیں(ت)
میں نے اس رسالے میں تیس ۳۰ نصوص اور تیس دلائل قطعیہ سے ثابت کیا ہے کہ الله تعالی کا کذب محال بالذات ہے اور یہ کہ اس کے محال بالذات ہو نے پر تمام ائمہ امت کا اجماع ہے۔ مسلمان جس کے دل میں اس کے رب کی عظمت اور اس کے کلام کی تصدیق ہوا گر کچھ بھی سمجھ رکھتا ہے تو اس کے لئے یہی دو حرف کافی ہیں اول یہ کہ کذب ایسا گندا ناپاك عیب ہے جس سے ہر تھوڑی ظاہری عزت والا بھی بچنا چاہتا ہے اور ہر بھنگی چمار بھی اپنی طرف اس کی نسبت سے عار رکھتا ہے اگر وہ الله عزوجل جلالہ کے لئے ممکن ہوا تو وہ عیبی ناقص ملوث گندہی گھناؤئی نجاست سے آلودہ ہو سکے گا کیا کوئی مسلمان اپنے رب پر ایسا گمان کر سکتا ہے مسلمان تو مسلمان کہ اس کے لئے ا سکے رب کی امان ادنی سمجھ وال یہودی نصرانی بھی ایسی بات اپنے رب کی نسبت گوارا نہ کرے گا پاکی ہے اسے جس کے سراپردہ عزت و جلا ل کے گرد کسی عیب و نقص کا گزر قطعا محال بالذات ہے جس کی عظمت و قدوسیت کو ہرلوث و آلودگی سے بالذات منافات ہے۔ شرح مقاصد میں ہے :
الکذب محال باجماع العلماء لان الکذب نقص باتفاق العقلاء وھو علی الله تعالی محال ۔ یعنی جھوٹ باجمای علماء محال ہے کہ وو بالاتفاق عقلا عیب ہے اور عیب الله تعالی پر محال۔
نیز مقصد سادس فصل ثالث محبث سابع جملہ اہلسنت کے عقئد اجماعیہ میں فرماتے ہیں :
طریقۃ اھل السنۃ ان العالم حادث و اہلسنت کا مذہب یہ ہے کہ تمام جہان حادث و
اس مسئلہ میں فقیر کا یك کافر و افی رسالہ مسمی بہ سبحن السبوح عن کذب مقبوح مدت ہوئی چھپ کر شائع ہو چکا اور گنگوہیوں دیو بندیوں وغیر ہم وہابیوں کسی سے اس کا جواب نہ ہو سکا نہ ان شاء الله العزیز قیامت تك ہو سکے
حقت علیم کلمۃ العذاب بما کذبوا ربھم وبما کانو یفسقون اولئك اصمھم الله واعمی البصارھم فھم طغیا نھم یعمھونo عذاب کا قول ان پر ٹھیك اترا بسبب اس کے کہ انھوں نے اپنے رب کی طرف جھوٹ منسوب کیا اور اس سبب سے کہ وہ حکم عدولی کرتے تھے یہی لوگ ہیں جنھیں الله تعالی نے بہرہ کر دیا اور ان کی آنکھوں کو اندھا کردیا پس وہ اپنی سرکشی میں سر گرداں رہتے ہیں(ت)
میں نے اس رسالے میں تیس ۳۰ نصوص اور تیس دلائل قطعیہ سے ثابت کیا ہے کہ الله تعالی کا کذب محال بالذات ہے اور یہ کہ اس کے محال بالذات ہو نے پر تمام ائمہ امت کا اجماع ہے۔ مسلمان جس کے دل میں اس کے رب کی عظمت اور اس کے کلام کی تصدیق ہوا گر کچھ بھی سمجھ رکھتا ہے تو اس کے لئے یہی دو حرف کافی ہیں اول یہ کہ کذب ایسا گندا ناپاك عیب ہے جس سے ہر تھوڑی ظاہری عزت والا بھی بچنا چاہتا ہے اور ہر بھنگی چمار بھی اپنی طرف اس کی نسبت سے عار رکھتا ہے اگر وہ الله عزوجل جلالہ کے لئے ممکن ہوا تو وہ عیبی ناقص ملوث گندہی گھناؤئی نجاست سے آلودہ ہو سکے گا کیا کوئی مسلمان اپنے رب پر ایسا گمان کر سکتا ہے مسلمان تو مسلمان کہ اس کے لئے ا سکے رب کی امان ادنی سمجھ وال یہودی نصرانی بھی ایسی بات اپنے رب کی نسبت گوارا نہ کرے گا پاکی ہے اسے جس کے سراپردہ عزت و جلا ل کے گرد کسی عیب و نقص کا گزر قطعا محال بالذات ہے جس کی عظمت و قدوسیت کو ہرلوث و آلودگی سے بالذات منافات ہے۔ شرح مقاصد میں ہے :
الکذب محال باجماع العلماء لان الکذب نقص باتفاق العقلاء وھو علی الله تعالی محال ۔ یعنی جھوٹ باجمای علماء محال ہے کہ وو بالاتفاق عقلا عیب ہے اور عیب الله تعالی پر محال۔
نیز مقصد سادس فصل ثالث محبث سابع جملہ اہلسنت کے عقئد اجماعیہ میں فرماتے ہیں :
طریقۃ اھل السنۃ ان العالم حادث و اہلسنت کا مذہب یہ ہے کہ تمام جہان حادث و
حوالہ / References
شرح المقاصد المبحث االسادس فی انہ تعالٰی متکلم دارا لمعارف النعمانیہ لاہور ۲ / ۱۰۴
الصانع قدیم متصف بصفات قدیمۃ و الا یصح علیہ الجھل ولا الکذب ولا النقص ۔ نو پیدا ہے اور اس کا بنانے ولا قدیم اور صفات قدیمہ سے موصوف ہے نہ اس کا جہل ممکن ہے نہ کذب ممکن ہے نہ اس میں کسی طرح کے عیب و نقص کا امکان ہے۔
دوم : یہ کہ جب ا س کاکذب ممکن ہو تو اس کا صدق ضروری نہ رہا جب اس کا صدق ضروری نہ رہا تو اس کی کون سی بات پر اطمینان ہو سکے گا ہر بات میں احتمال رہے گا کہ شاید جھوٹ کہہ دی ہو جب وہ جھوٹ بول سکتا ہے تو اس یقین کاکیا ذریعہ ہے کہ اس نے کبھی نہ بولا کیا اس کسی کا ڈر ہے یا اس پر کوئی حاکم و افسر ہے جو اسے دبائے گا اورجو بات وہ کر سکتا ہے نہ کرنے دے گا ہاں ذریعہ صرف یہی ہو سکتا تھا کہ خود اس کا وعدہ ہو کہ ہمیشہ سچ بولوں گا یا اس نے فرمادیا ہے کہ میر اسب باتیں سچی ہیں مگر جب اس کا جھوٹ ممکن ٹھہرا لو تو سرے سے اس وعدہ و فرمان ہی کے صدق پر کیا اطمینان رہا ہو سکتا ہے کہ پہلا جھوٹ یہی بولا ہو غرض معاذالله اس کا کذب ممکن مان کر دین و شریعت واسلام و ملت کسی کا اصلا پتا نہیں لگا رہتا جزا و سزا و جنت و نارہ حساب و کتاب و حشر و نشر کسی پر ایمان کا کوئی ذریعہ نہیں رہتا
تعالی الله عما یقولون الظلمون علواکبیرا۔ الله تعالی بہت بلند ہے اس سے جو ظالم کہتے ہیں۔ (ت)
علا مہ سعد الدین تفتازانی شرح مقاصدمیں فرماتے ہیں :
الکذب فی اخبار الله تعالی فیہ مفاسد لا تحصی و مطاعن فی الاسلام لا تخفی منھا مقال الفلاسفۃ فی المعاد ومجال الملاحدۃ فی العناد' و بطلان ماعلیہ الاجماع من القطع بخلود الکفار فی نار فمع صریح اخبار الله تعالی بہ فجواز عدم وقوع مضمون ھذا الخبر محتمل ولما کان ھذا باطلا قطعا اخبارالہیہ میں امکان کذب ماننے سے بے شمار خرابیاں اور اسلام میں ایسے طعنے سراٹھائیں گے جو پوشیدہ نہیں منجملہ ان کے معاد کے بارے میں فلاسفہ کا کلام عناد پر مبنی بے دینوں کی جسارت اور کفار کے ہمیشہ جہنم میں رہنے جیسے اجماعی نظریات کا بطلان ہے باوجودیکہ اس بارے میں الله تعالی کی تصریح وارد ہے چناچہ اس خبر کے مضمون کے عدم وقوع کا جائز ہو نا محتمل ہوا اور جب یہ قطعا
دوم : یہ کہ جب ا س کاکذب ممکن ہو تو اس کا صدق ضروری نہ رہا جب اس کا صدق ضروری نہ رہا تو اس کی کون سی بات پر اطمینان ہو سکے گا ہر بات میں احتمال رہے گا کہ شاید جھوٹ کہہ دی ہو جب وہ جھوٹ بول سکتا ہے تو اس یقین کاکیا ذریعہ ہے کہ اس نے کبھی نہ بولا کیا اس کسی کا ڈر ہے یا اس پر کوئی حاکم و افسر ہے جو اسے دبائے گا اورجو بات وہ کر سکتا ہے نہ کرنے دے گا ہاں ذریعہ صرف یہی ہو سکتا تھا کہ خود اس کا وعدہ ہو کہ ہمیشہ سچ بولوں گا یا اس نے فرمادیا ہے کہ میر اسب باتیں سچی ہیں مگر جب اس کا جھوٹ ممکن ٹھہرا لو تو سرے سے اس وعدہ و فرمان ہی کے صدق پر کیا اطمینان رہا ہو سکتا ہے کہ پہلا جھوٹ یہی بولا ہو غرض معاذالله اس کا کذب ممکن مان کر دین و شریعت واسلام و ملت کسی کا اصلا پتا نہیں لگا رہتا جزا و سزا و جنت و نارہ حساب و کتاب و حشر و نشر کسی پر ایمان کا کوئی ذریعہ نہیں رہتا
تعالی الله عما یقولون الظلمون علواکبیرا۔ الله تعالی بہت بلند ہے اس سے جو ظالم کہتے ہیں۔ (ت)
علا مہ سعد الدین تفتازانی شرح مقاصدمیں فرماتے ہیں :
الکذب فی اخبار الله تعالی فیہ مفاسد لا تحصی و مطاعن فی الاسلام لا تخفی منھا مقال الفلاسفۃ فی المعاد ومجال الملاحدۃ فی العناد' و بطلان ماعلیہ الاجماع من القطع بخلود الکفار فی نار فمع صریح اخبار الله تعالی بہ فجواز عدم وقوع مضمون ھذا الخبر محتمل ولما کان ھذا باطلا قطعا اخبارالہیہ میں امکان کذب ماننے سے بے شمار خرابیاں اور اسلام میں ایسے طعنے سراٹھائیں گے جو پوشیدہ نہیں منجملہ ان کے معاد کے بارے میں فلاسفہ کا کلام عناد پر مبنی بے دینوں کی جسارت اور کفار کے ہمیشہ جہنم میں رہنے جیسے اجماعی نظریات کا بطلان ہے باوجودیکہ اس بارے میں الله تعالی کی تصریح وارد ہے چناچہ اس خبر کے مضمون کے عدم وقوع کا جائز ہو نا محتمل ہوا اور جب یہ قطعا
حوالہ / References
شرح المقاصد فصل ثالث مبحث ثامن دارا المعارف النعمانیہ لاہور ۲ / ۲۷۰
علم ان القول بجواز الکذب جی اخبار الله تعالی باطل قطعا (ملتقطا)۔ باطل ہے تو معلوم ہوا کہ اخبار الہیہ میں امکان کذب کا قول قطعا باطل ہے(ملتقطا)(ت)
رہی دیوبندی کی دلیل ذلیل وہ اس کی اپنی ایجاد نہیں امام الوہابیہ کی اختراع خبیث ہے سبحن السبوح میں اسکے ہذیانوں کی پوری خدمت گزاری کر دی ہے یہاں چند حرف گزارش
اولا : جب یہ تھہرا کہ انسان جو کچھ اپنے لئے کرسکتا ہے وہابیہ کاخدابھی خود اپنے واسطے کر سکتا ہے تو جائز ہوا کہ ان کا خدا زنا کرے شراب ئیے چوری کرے بتوں کو پوجے پیشاب کرے پاخان پھرے اپنے آپ کو آگ میں جلائے دریا میں ڈبائے سر بازار بدمعاشوں کے ساتھ دھول چھکڑ لڑے جوتیاں کھائے وغیر ہ وغیرہ وہ کون سی ناپاکی کون سی ذلت کو نسی خواری ہے جو ان کے خدا سے اٹھ رے گی۔
ثانیا : بے دین اس گھمنڈ میں ہیں کہ انھوں نے خدا کا عیبی ہونا فقط ممکن کہا ہےکوئی عیب بالفعل تو اسے نہ لگایا حالانکہ اول تو یہی ان کا گدھا پن ہے اس جلیل جمیل سبوح قدوس کی شان جلال کے لئے فقط امکان عیب ہی خود بڑا بھاری ہے فی سبحن السبوح واوضحناہ اللغواۃ مع مالہ من الواضوح(جیسا کہ ہم نے اس کو سبحن السبوح میں بیان کیا ور گمراہوں کےلئے اس کی خوب وضاحت کی۔ ت)خیر یہ تو ایما ن والے جانتے ہیں میں وہ بتاؤں جسے یہ عیب لگانے والے بھی سمجھ جائیں کہ بیشك انھوں نے خدا کو بالفعل عیبی مانا اور کتنا سخت سے سخت عیبی جانا بلکہ اس کے حق میں کچھ لگی نہ رکھی صاف صاف اس کی الوہیت ہی باطل کردی وجہ سنئے جب ٹھہری کہ آدمی جو کچھ کرتا ہے خدا بھی اپنے لئے کر سکتا ہے اور ظاہر ہے کہ آدمی قادر ہے کہ اپنی ماں کی تواضع و خدمت کے لئے اس کے تلووں پر اپنی آنکھیں ملے اپنے باپ کی تعظیم وغلامی کے لئے اس کے جوتے اپنے سر پر رکھ کر چلے تو ضرور ہے کہ وہابیہ کا خدا بھی اپنے ما ں باپ کے ساتھ ایسی تعظیم و تواضع وخدمت و غلامی پر قادر ہو ورنہ انسان کی قدرت جو اس کی قدرت سے بڑھ جائے گی کہ ایك کام وہ نکلا جو انسان کر سکا اور خدا سے نہیں ہو سکتا اگر کہئے اسے اس کام پر اس وجہ سےقدرت نہ ہوئی کہ اس کے ماں باپ ہی نہیں تو اس میں اس زخم کا کیا علاج ہوا مطلب تو اتنا تھاکہا ایك کام ایسا نکلا جسے بعض انسان کر رہے ہیں اور خدا سے نہیں ہو سکتا خواہ نہ ہو سکنے کی کوئی وجہ ہو لاجرم تمھارے طورپر ضرور ہے کہ خدا کے ماں باپ ہوں تاکہ وہ بھی ایسی سعادت مندی کر سکے جیسی انسان کر رہا ہے اور ظاہر کہ جو ماں باپ سے پیدا ہو وہ حادث ہو گا اور حادث خدا نہیں ہو سکتا اس کا کوئی خالق ہو گا اور مخلوق خدا نہیں ہو سکتا اب تو تم سمجھے کہ تم خدا کو
رہی دیوبندی کی دلیل ذلیل وہ اس کی اپنی ایجاد نہیں امام الوہابیہ کی اختراع خبیث ہے سبحن السبوح میں اسکے ہذیانوں کی پوری خدمت گزاری کر دی ہے یہاں چند حرف گزارش
اولا : جب یہ تھہرا کہ انسان جو کچھ اپنے لئے کرسکتا ہے وہابیہ کاخدابھی خود اپنے واسطے کر سکتا ہے تو جائز ہوا کہ ان کا خدا زنا کرے شراب ئیے چوری کرے بتوں کو پوجے پیشاب کرے پاخان پھرے اپنے آپ کو آگ میں جلائے دریا میں ڈبائے سر بازار بدمعاشوں کے ساتھ دھول چھکڑ لڑے جوتیاں کھائے وغیر ہ وغیرہ وہ کون سی ناپاکی کون سی ذلت کو نسی خواری ہے جو ان کے خدا سے اٹھ رے گی۔
ثانیا : بے دین اس گھمنڈ میں ہیں کہ انھوں نے خدا کا عیبی ہونا فقط ممکن کہا ہےکوئی عیب بالفعل تو اسے نہ لگایا حالانکہ اول تو یہی ان کا گدھا پن ہے اس جلیل جمیل سبوح قدوس کی شان جلال کے لئے فقط امکان عیب ہی خود بڑا بھاری ہے فی سبحن السبوح واوضحناہ اللغواۃ مع مالہ من الواضوح(جیسا کہ ہم نے اس کو سبحن السبوح میں بیان کیا ور گمراہوں کےلئے اس کی خوب وضاحت کی۔ ت)خیر یہ تو ایما ن والے جانتے ہیں میں وہ بتاؤں جسے یہ عیب لگانے والے بھی سمجھ جائیں کہ بیشك انھوں نے خدا کو بالفعل عیبی مانا اور کتنا سخت سے سخت عیبی جانا بلکہ اس کے حق میں کچھ لگی نہ رکھی صاف صاف اس کی الوہیت ہی باطل کردی وجہ سنئے جب ٹھہری کہ آدمی جو کچھ کرتا ہے خدا بھی اپنے لئے کر سکتا ہے اور ظاہر ہے کہ آدمی قادر ہے کہ اپنی ماں کی تواضع و خدمت کے لئے اس کے تلووں پر اپنی آنکھیں ملے اپنے باپ کی تعظیم وغلامی کے لئے اس کے جوتے اپنے سر پر رکھ کر چلے تو ضرور ہے کہ وہابیہ کا خدا بھی اپنے ما ں باپ کے ساتھ ایسی تعظیم و تواضع وخدمت و غلامی پر قادر ہو ورنہ انسان کی قدرت جو اس کی قدرت سے بڑھ جائے گی کہ ایك کام وہ نکلا جو انسان کر سکا اور خدا سے نہیں ہو سکتا اگر کہئے اسے اس کام پر اس وجہ سےقدرت نہ ہوئی کہ اس کے ماں باپ ہی نہیں تو اس میں اس زخم کا کیا علاج ہوا مطلب تو اتنا تھاکہا ایك کام ایسا نکلا جسے بعض انسان کر رہے ہیں اور خدا سے نہیں ہو سکتا خواہ نہ ہو سکنے کی کوئی وجہ ہو لاجرم تمھارے طورپر ضرور ہے کہ خدا کے ماں باپ ہوں تاکہ وہ بھی ایسی سعادت مندی کر سکے جیسی انسان کر رہا ہے اور ظاہر کہ جو ماں باپ سے پیدا ہو وہ حادث ہو گا اور حادث خدا نہیں ہو سکتا اس کا کوئی خالق ہو گا اور مخلوق خدا نہیں ہو سکتا اب تو تم سمجھے کہ تم خدا کو
حوالہ / References
شرح المقاصد المحث الثانی عشر دارا لمعارف النعمانیہ لاہور ۲ / ۲۳۸
بالفعل عیبی مانتے اور سرے سے اس کی الوہیت ہی باطل کر رہے ہو۔ ہاں ایك صورت نکل سکتی ہے کہ بالفعل خدا کے ماں باپ نہ ہوں اور پھربھی اسے ان سعادتمندیوں پر قدرت ہو کہو تو بتا دیں وہ یہ کہ وہابیہ کا خدا کسی دن اپنے آپ کو موت دے اور آواگون کے ہاتھوں کسی پر ش کے بھوگ سے کسی استری کے گربھ میں دوسراجنم لے اپنے ان آئندہ ماں باپوں کی غلامی کرے مگر الوہیت تو یوں بھی گئی کہ جو مر سکا وہ خدا کہاں !
ثالثا : احمق بددین نے اگرچہ مسلمانوں کا دل رکھنے کو اپنے رسالہ یکروزی میں جہاں یہ ناپاك دلیل ذلیل لکھی ہے یہ اظہار کیا کہ خدا کا کذب ممکن بالذات ہونے پر بھی ممتنع بالغیر ضرور ہے مگر دلیل وہ پیش کی جس نے امتناع بالغیر کو بھی صارف اڑا دیا ظاہر ہےکہ انسان کا کذب نہ ممتنع بالذات نہ ممتنع بالغیر بلکہ ہر روز و سب ہزاروں بار واقع تو کذب پر ا س کی قدرت آزاد ہوئی جس پر کوئی روك نہیں اور برابرکام دے رہی ہے مگر خدا کی قدرت بستہ و مسدود ہے کہ واقع کرنے کی مجال نہیں اور شك نہیں کہ آزاد قدرت مسدود قدرت پر صریح فوقیت رکھتی ہے تو یوں کیا انسانی قدرت اس کی قدرت سے فائق نہ رہی باعتبار مقدورات کما نہ سہی تو با عتبار نفاذکیفا سہی ناچار تمھیں ضرور ہے کہ امتناع بالغیر بھی نہ مانو کہ انسانی قدرت سے شرمانا تو نہ پڑے۔
رابعا : اس قول خبیث کی خباثتیں کہاں تك گنیں کہ وہ تو بلا مبالغہ کروڑوں کفریات کا خمیرہ ہے ہاں وہ پوچ بے حقیقت گرہ کھولیں جو اس نے اپنا جادو پھونك کر لگائی اورحماقت سے بہت کری گتھی جانی یہ چار طور پر ہے بغضہا قریب من بعض :
اول : ساری بات یہ ہے کہ احمق نے افعال انسانی کو خدا کی قدرت سے علیحدہ سمجھا ہے کہ آدمی اپنے کام اپنی قدرت سے کرتا ہے یہ رافضیوں معترلیوں فلسفوں کا مذہب ہے اہلسنت کے نزدیك انسانی حیوانی تمام جہان کے افعال اقوال اعمال احوال سب الله عزوجل ہی کی قدرت سے واقع ہوتے ہیں اور وں کی قدرت ایك ظاہری قدرت ہے جسے تاثیر و ایجاد میں کچھ دخل نہیں تمام کائنات وممکنات پر قدرت موثرہ خاص الله عزو جل کے لئے ہے تو کذب ہو یا صدق کفر ہو یا ایمان حسن ہو یا قبح طاعت ہو یا عصیان انسان سے جو کچھ واقع ہو گا وہ الله ہی کا مقددر الله ہی کا مخلوق ہو گا اسی کی قدرت اسی کی ایجاد سے پیدا ہو گا پھر کیونکر ممکن کہ انسان کو فعل قدرت الہی سے جدا کر سکے جس کے لئے وزن برابرکر نے کو خدا کو خوداپنے لئے بھی کر سکنا پڑے اس ضلالت و بدینی کی کوئی حد ہے مقاصد میں ہے :
فعل العبد واقع بقدرۃ الله تعالی انما اللعبد الکسب والمعتزلۃ بقدرۃ یعنی بندے کا ہر فعل الله تعالی ہی کی قدرت سے واقع ہوتا ہے بندہ کا فقط کسب ہے اور معتزلہ و فلاسفہ
ثالثا : احمق بددین نے اگرچہ مسلمانوں کا دل رکھنے کو اپنے رسالہ یکروزی میں جہاں یہ ناپاك دلیل ذلیل لکھی ہے یہ اظہار کیا کہ خدا کا کذب ممکن بالذات ہونے پر بھی ممتنع بالغیر ضرور ہے مگر دلیل وہ پیش کی جس نے امتناع بالغیر کو بھی صارف اڑا دیا ظاہر ہےکہ انسان کا کذب نہ ممتنع بالذات نہ ممتنع بالغیر بلکہ ہر روز و سب ہزاروں بار واقع تو کذب پر ا س کی قدرت آزاد ہوئی جس پر کوئی روك نہیں اور برابرکام دے رہی ہے مگر خدا کی قدرت بستہ و مسدود ہے کہ واقع کرنے کی مجال نہیں اور شك نہیں کہ آزاد قدرت مسدود قدرت پر صریح فوقیت رکھتی ہے تو یوں کیا انسانی قدرت اس کی قدرت سے فائق نہ رہی باعتبار مقدورات کما نہ سہی تو با عتبار نفاذکیفا سہی ناچار تمھیں ضرور ہے کہ امتناع بالغیر بھی نہ مانو کہ انسانی قدرت سے شرمانا تو نہ پڑے۔
رابعا : اس قول خبیث کی خباثتیں کہاں تك گنیں کہ وہ تو بلا مبالغہ کروڑوں کفریات کا خمیرہ ہے ہاں وہ پوچ بے حقیقت گرہ کھولیں جو اس نے اپنا جادو پھونك کر لگائی اورحماقت سے بہت کری گتھی جانی یہ چار طور پر ہے بغضہا قریب من بعض :
اول : ساری بات یہ ہے کہ احمق نے افعال انسانی کو خدا کی قدرت سے علیحدہ سمجھا ہے کہ آدمی اپنے کام اپنی قدرت سے کرتا ہے یہ رافضیوں معترلیوں فلسفوں کا مذہب ہے اہلسنت کے نزدیك انسانی حیوانی تمام جہان کے افعال اقوال اعمال احوال سب الله عزوجل ہی کی قدرت سے واقع ہوتے ہیں اور وں کی قدرت ایك ظاہری قدرت ہے جسے تاثیر و ایجاد میں کچھ دخل نہیں تمام کائنات وممکنات پر قدرت موثرہ خاص الله عزو جل کے لئے ہے تو کذب ہو یا صدق کفر ہو یا ایمان حسن ہو یا قبح طاعت ہو یا عصیان انسان سے جو کچھ واقع ہو گا وہ الله ہی کا مقددر الله ہی کا مخلوق ہو گا اسی کی قدرت اسی کی ایجاد سے پیدا ہو گا پھر کیونکر ممکن کہ انسان کو فعل قدرت الہی سے جدا کر سکے جس کے لئے وزن برابرکر نے کو خدا کو خوداپنے لئے بھی کر سکنا پڑے اس ضلالت و بدینی کی کوئی حد ہے مقاصد میں ہے :
فعل العبد واقع بقدرۃ الله تعالی انما اللعبد الکسب والمعتزلۃ بقدرۃ یعنی بندے کا ہر فعل الله تعالی ہی کی قدرت سے واقع ہوتا ہے بندہ کا فقط کسب ہے اور معتزلہ و فلاسفہ
العبد صحۃ الحکماء ایجابا ۔ کہتے ہیں کہ بندے کا فعل خود بندے کی قدرت سے ہو تا ہے معتزلہ کے نزدیك امکانی طورپر کہ قدرت بندہ سے وقوع فعل ممکن ہے واجب نہیں اور فلاسفہ کے نزدیك وجوبی طور پر کہ تخلف ممکن نہیں۔
دوم : اندھے سے پوچھو انسان کو کس کے کذب پر قدرت ہے اپنے یا خدا کے۔ ظاہر ہے کہ انسان قادر ہے تو صرف کذب انسانی پر نہ کہ معاذ الله کذب ربانی پر۔ اور شك نہیں کہ کذب انسانی ضرور قدرت ربانی میں ہے پھر اگر کذ ب ربانی قدرت ربانی میں نہ ہوا تو قدرت انسانی کیونکر بڑھ گئی وہ کذب ربانی پر کب تھی اور جس پر تھی یعنی کذب انسانی اسے ضرور قدرت ربانی محیط ہے مگر خداجب دین لیتا ہے عقل پہلے چھین لیتا ہے دل کے اندھے نے یہ خیال کیا کہ انسان اپنے کذب پر قادر ہے اور یہی لفظ بارگاہ عزت میں بول کر دیکھا کہ اسے بھی اپنے کذب پر قدرت چاہئے اور نہ سوجھا کہ وہاں اپنے سے انسان مراد تھا اور اب خدا مرا دہو گیا اس کی نظیر یہی ہو سکتی ہے کہ اسی کی طرح کا کوئی کورباطن خیال کرے کہ انسان اپنے خدا کی تسبیح کر سکتا ہے تو چاہئے کہ خدا بھی اپنے خدا کی تسبیح کرسکے ورنہ قدرت انسانی بڑھ جائے گی تو خدا کے لئے اور خدا درکار ہوا
وھلم جرا الی غیر نھایۃ و غیر قرار کذ لك یطبع الله علی کل قلب متکبر جبار۔ اور کھینچتا چل مالا نہایۃ تک یونہی الله تعالی ہر متکبر سر کش کے دل پر مہر لگا دیتا ہے(ت)
سوم : ہم پوچھتے ہیں قدرت انسانی بڑھ جانےسے کیا مراد ہے آیا یہ کہ انسان کے مقدورات گنتی میں خدا کے مقدورات سے زائد ہو جائیں گے یہ تو بداہۃ استحالہ کذب کولازم نہیں کہ کذب و جملہ نقائص سرکا رعزت کے لئے سرکار عزت کی قدرت میں نہ ہو نے پر بھی اس کے مقدورات غیر متناہی ہیں اور انسان کتنی ہی ناپاکیوں پر قادر ہو آخر اس کے مقدورات محدود ہی رہیں گے اور متناہی کو نامتناہی سے کوئی نسبت نہیں ہو سکتی ہاں یہ کہئے کہ ایك چیز بھی ایسی نکلنا جو انسان کے زیر قدرت ہو اور رحمن کے زیر قدرت نہ ہو محال ہے(اور بیشك ایسا ہی ہے)اسی کو زیادت قدرت سے تعبیر کیا ہے تو اب ہم دریافت کرتے ہیں یہ خاص کذب کہ انسان سے واقع ہوا قدرت خدا سے ہوا یا قدرت خدا سے جدا بر تقدیر اول وہ کون سی چیز نکلی جو انسان کے زیر قدرت تھی اور رحمن کے زیر قدرت نہ تھی کہ یہ جو قدرت انسان سے ہوا خود مانتے ہو کہ قدرت رحمن سے ہوا پھرزیادت کہاں بر تقدیر دوم رحمن اگرچہ معاذالله اپنے کروڑکذبوں پر قادر ہو وہ کذب اس کذب کے عین نہ ہوں گے جو انسان سے
دوم : اندھے سے پوچھو انسان کو کس کے کذب پر قدرت ہے اپنے یا خدا کے۔ ظاہر ہے کہ انسان قادر ہے تو صرف کذب انسانی پر نہ کہ معاذ الله کذب ربانی پر۔ اور شك نہیں کہ کذب انسانی ضرور قدرت ربانی میں ہے پھر اگر کذ ب ربانی قدرت ربانی میں نہ ہوا تو قدرت انسانی کیونکر بڑھ گئی وہ کذب ربانی پر کب تھی اور جس پر تھی یعنی کذب انسانی اسے ضرور قدرت ربانی محیط ہے مگر خداجب دین لیتا ہے عقل پہلے چھین لیتا ہے دل کے اندھے نے یہ خیال کیا کہ انسان اپنے کذب پر قادر ہے اور یہی لفظ بارگاہ عزت میں بول کر دیکھا کہ اسے بھی اپنے کذب پر قدرت چاہئے اور نہ سوجھا کہ وہاں اپنے سے انسان مراد تھا اور اب خدا مرا دہو گیا اس کی نظیر یہی ہو سکتی ہے کہ اسی کی طرح کا کوئی کورباطن خیال کرے کہ انسان اپنے خدا کی تسبیح کر سکتا ہے تو چاہئے کہ خدا بھی اپنے خدا کی تسبیح کرسکے ورنہ قدرت انسانی بڑھ جائے گی تو خدا کے لئے اور خدا درکار ہوا
وھلم جرا الی غیر نھایۃ و غیر قرار کذ لك یطبع الله علی کل قلب متکبر جبار۔ اور کھینچتا چل مالا نہایۃ تک یونہی الله تعالی ہر متکبر سر کش کے دل پر مہر لگا دیتا ہے(ت)
سوم : ہم پوچھتے ہیں قدرت انسانی بڑھ جانےسے کیا مراد ہے آیا یہ کہ انسان کے مقدورات گنتی میں خدا کے مقدورات سے زائد ہو جائیں گے یہ تو بداہۃ استحالہ کذب کولازم نہیں کہ کذب و جملہ نقائص سرکا رعزت کے لئے سرکار عزت کی قدرت میں نہ ہو نے پر بھی اس کے مقدورات غیر متناہی ہیں اور انسان کتنی ہی ناپاکیوں پر قادر ہو آخر اس کے مقدورات محدود ہی رہیں گے اور متناہی کو نامتناہی سے کوئی نسبت نہیں ہو سکتی ہاں یہ کہئے کہ ایك چیز بھی ایسی نکلنا جو انسان کے زیر قدرت ہو اور رحمن کے زیر قدرت نہ ہو محال ہے(اور بیشك ایسا ہی ہے)اسی کو زیادت قدرت سے تعبیر کیا ہے تو اب ہم دریافت کرتے ہیں یہ خاص کذب کہ انسان سے واقع ہوا قدرت خدا سے ہوا یا قدرت خدا سے جدا بر تقدیر اول وہ کون سی چیز نکلی جو انسان کے زیر قدرت تھی اور رحمن کے زیر قدرت نہ تھی کہ یہ جو قدرت انسان سے ہوا خود مانتے ہو کہ قدرت رحمن سے ہوا پھرزیادت کہاں بر تقدیر دوم رحمن اگرچہ معاذالله اپنے کروڑکذبوں پر قادر ہو وہ کذب اس کذب کے عین نہ ہوں گے جو انسان سے
حوالہ / References
المقاصدمع شرح المقاصد الفصل الخامس دارا المعارف النعمانیہ لاہور ۲ / ۱۲۰
واقع ہوا بلکہ کذب ہونے میں اس کے مثل ہوں گے اور مثل پر قدرت شے پر قدرت نہیں وہ خاص کذب انسانی جو قدرت انسانی سے واقع ہوا اسے صراحۃ قدرت خدا سے جدا کہہ رہے ہو تو خدا کا کذب ممکن بلکہ اب تازہ ایمان گنگوہی پر معاذالله واقع مان کر بھی وہ کال تو نہ کٹا کہ ایك شیئ جو زیر قدرت انسانی تھی زیر قدرت رحمانی نہ ہوئی اس کی نوع مقدورخدا ہوئی نہ کہ خود وہ فرد تو تونے خدا اور انسان کو دربارہ کذب برابر کے دو عاجز مانا کہ نوع کذب کے افراد سے جس فرد پر انسان قادر ہے اور جس فرد پر خدا قادر ہے انسان قادر نہیں۔ دہلوی کے بندو! اسی پر اس مسئلہ میں “ ان اللہ علیم قدیر ﴿۷۰﴾ “ (بیشك الله تعالی ہر شیئ پر قادر ہے۔ ت)پڑھتے اور کذب الہی محال جاننے والے مسلمانوں پر عجز ماننے کی تہمت رکھتے ہو حالانکہ تم خود ہی وہ ہو کہ خدا کو افراد مقدورہ عبد پر قادر نہیں مانتے جب تو وزن برابر کرنے کوامثال مقدورات عبد خود اس کے نفس کریم میں گھڑنا چاہتے ہو قاتلکم اللہ(الله تعالی تمھیں ہلاك کرے۔ ت)کسی مذہب خبیث کی بھی تقلید چھوڑو گے یا سب میں سے ایك ایك حصہ لو گے یہ طوائف معتزلہ سے طائفہ جبائیہ کامذہب ہے کہ الله تعالی نفس مقدورات عبد پر قادر نہیں۔ مواقف میں ہے :
الجبائیۃ قالوا لایقدر علی عین فعل العبد الخ۔ جبائیہ نے کہا کہ الله تعالی عین فعل عبد پر قدرت نہیں رکھتا الخ(ت)
ہم اہلسنت کے نزدیك الله تعالی عین مقدورات عبد پر بھی قادر ہے کہ وہ اسی کی قدرت کاملہ سے واقع ہوتے ہیں اور ان کے امثال پر بھی کہ امثال عبد سے امثال فعل صادر کر اسکتا ہے مگر ایسے امثا ل پر قدرت کہ خود اپنے نفس کریم سے ویسی ناپاکیاں صادر کر دکھائے اس سے وہ پاك و متعالی ہے سبحن الله رب العر ش عما یصفون(پاکی ہے عرش کے رب کو ان باتوں سے جو یہ بناتے ہیں۔ ت)
اس کی مثال یوں سمجھو کہ زید و عمر و دونوں اپنی اپنی زوجہ عــــــہ۱ کو طلاق عــــــہ۲ دینے پرقادر ہیں مگر ایك دوسرے کی
عــــــہ۱ : یہ فہم امام الوہابیہ کے قابل واضح تغایر لکھا ہے ورنہ مخلوق میں کسی فعل بعینہ پر دوسرے کو قدرت نہیں ہو سکتی کہ فعل فاعل سے تعین پاتا ہےتو وہ فعل مثلا روٹی کھانا پانی پینا یا اٹھنا بیٹھنا وغیرہ وغیرہ جو زید سے صادر ہوا عمرو سے صادر نہیں ہو سکتا اس کی نظیر اس سے صادر ہو گی ۱۲ منہ مد ظلہ
عــــــہ۲ : یعنی ایسی طلاق جس میں اصیل خود مختارہو ۱۲ منہ
الجبائیۃ قالوا لایقدر علی عین فعل العبد الخ۔ جبائیہ نے کہا کہ الله تعالی عین فعل عبد پر قدرت نہیں رکھتا الخ(ت)
ہم اہلسنت کے نزدیك الله تعالی عین مقدورات عبد پر بھی قادر ہے کہ وہ اسی کی قدرت کاملہ سے واقع ہوتے ہیں اور ان کے امثال پر بھی کہ امثال عبد سے امثال فعل صادر کر اسکتا ہے مگر ایسے امثا ل پر قدرت کہ خود اپنے نفس کریم سے ویسی ناپاکیاں صادر کر دکھائے اس سے وہ پاك و متعالی ہے سبحن الله رب العر ش عما یصفون(پاکی ہے عرش کے رب کو ان باتوں سے جو یہ بناتے ہیں۔ ت)
اس کی مثال یوں سمجھو کہ زید و عمر و دونوں اپنی اپنی زوجہ عــــــہ۱ کو طلاق عــــــہ۲ دینے پرقادر ہیں مگر ایك دوسرے کی
عــــــہ۱ : یہ فہم امام الوہابیہ کے قابل واضح تغایر لکھا ہے ورنہ مخلوق میں کسی فعل بعینہ پر دوسرے کو قدرت نہیں ہو سکتی کہ فعل فاعل سے تعین پاتا ہےتو وہ فعل مثلا روٹی کھانا پانی پینا یا اٹھنا بیٹھنا وغیرہ وغیرہ جو زید سے صادر ہوا عمرو سے صادر نہیں ہو سکتا اس کی نظیر اس سے صادر ہو گی ۱۲ منہ مد ظلہ
عــــــہ۲ : یعنی ایسی طلاق جس میں اصیل خود مختارہو ۱۲ منہ
حوالہ / References
القران الکریم ۱۶ / ۷۷
المواقف مع شرح المواقف المر صدالرابع فی الصفات الو جودیۃ منشورات الشریف الر ضی قم ایران ۸ / ۶۴
المواقف مع شرح المواقف المر صدالرابع فی الصفات الو جودیۃ منشورات الشریف الر ضی قم ایران ۸ / ۶۴
زوجہ کو طلاق عــــــہ نہیں دے سکتا تو ہر ایك دوسرے کے مقدور پر قادر نہیں بلکہ اس کی نظیر پر قادر ہے لیکن حق جل مجدہ دونوں پر قادر ہے کہ ان میں جواپنی زوجہ کو طلاق دے گا وہ طلاق الله ہی کی قدرت سے واقع و موجود و مخلوق ہوگی تو الله تعالی زید و عمرو ہر ایك کے عین فعل پر بھی قادر ہے اور مثل فعل پر بھی کہ ایك کا فعل دوسرے کا مثل تھا مگر امام الوہابیہ کی ضلالت نے اسے خدا کی قدرت نہ جانا بلکہ قدرت کے لئے یہ لازم سمجھا کہ جیسے وہ اپنی اپنی جورو کو طلاق دے سکتے ہیں خدا خود بھی اپنی جورو مقدسہ کو طلاق دے سکے اس گدھے پن کی حد ہے اس بے ایمانی کا ٹھکانہ ہے ولا حول ولا قوۃ الا بالله العلی العظیم۔
چہارم : یہ قضیہ بیشك حق تھا کہ جس پر انسان قادر ہے اس سب اور اس کے علاوہ نامتناہی اشیاء پر مولی عزو جل قادر ہے وہ بقدرت ظاہر یہ عطائیہ اور حق بقدرت حقیقیہ ذاتیہ مگر اس حق کو یہ ناحق کوش کس طرح باطل محض کی طرف لے گیا انسان کا کسی فعل کوکرنا کسب کہلاتاہے انسان کی قدرت ظاہر یہ صرف اس قدرہے قدرت حقیقیہ خلق و ایجاد میں اس کا حصہ نہیں وہ خاص مولی عزوجل کی قدرت ہے تو اس کلمہ حق کا حاصل یہ تھا کہ انسان جس چیز کے کسب پر قادر ہے الله عزوجل اسکے خلق اور پیدا کرنے پر قادر ہے کہ وہ کسب نہ ہو گا مگر بقدرت خدا اس دل کے اندھے نے یہ بنا لیا کہ انسان جس چیز کے کسب پر قادر ہے رحمن بھی خود اپنے لئے اس کے کسب پر قادر ہے سبحن الله رب العرش عما یصفون(پاکی ہے عرش کے رب کو ان باتوں سے جو یہ بناتے ہیں۔ ت)اندھے نے نہ جانا کہ کسی کا کسی شے پر قادر ہونا “ صحۃ الشیئ منہ “ ہے نہ کہ “ صحۃ الشیئ علیہ “ اور صاف گھڑلیا کہ “ ما یصح علی العبد یصح علی اللہ “ جو بندے پر جاری ہو سکے خدا پر بھی جاری ہو سکتا ہے اس سے بڑھ کر اور کیا ضلالت و شیطنت بے انتہا ہے
“ و سیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون ﴿۲۲۷﴾ “ اور عنقریب ظالم جان لیں گے کہ کس کروٹ پر پلٹا کھائیں گے(ت)
دیوبندی اسے قطعی دلیل کہتا ہے ہم ایك فائدہ عجیبہ بتائیں میں کہتا ہوں ہاں وہ ضرور قطعی دلیل ہے مگر کاہے پر وہابیہ امام الوہابیہ کے ایك ایك قول ایك ایك فقرے ایك ایك حرف وہابیت کے ابطال صریح پر اس حجت عامۃ الظہور لامعۃ النور کی تقریر ایك مقدمہ واضحہ کے بیان سے روشن و منیر
عــــــہ : بمعنی مذکور ۱۲ منہ
چہارم : یہ قضیہ بیشك حق تھا کہ جس پر انسان قادر ہے اس سب اور اس کے علاوہ نامتناہی اشیاء پر مولی عزو جل قادر ہے وہ بقدرت ظاہر یہ عطائیہ اور حق بقدرت حقیقیہ ذاتیہ مگر اس حق کو یہ ناحق کوش کس طرح باطل محض کی طرف لے گیا انسان کا کسی فعل کوکرنا کسب کہلاتاہے انسان کی قدرت ظاہر یہ صرف اس قدرہے قدرت حقیقیہ خلق و ایجاد میں اس کا حصہ نہیں وہ خاص مولی عزوجل کی قدرت ہے تو اس کلمہ حق کا حاصل یہ تھا کہ انسان جس چیز کے کسب پر قادر ہے الله عزوجل اسکے خلق اور پیدا کرنے پر قادر ہے کہ وہ کسب نہ ہو گا مگر بقدرت خدا اس دل کے اندھے نے یہ بنا لیا کہ انسان جس چیز کے کسب پر قادر ہے رحمن بھی خود اپنے لئے اس کے کسب پر قادر ہے سبحن الله رب العرش عما یصفون(پاکی ہے عرش کے رب کو ان باتوں سے جو یہ بناتے ہیں۔ ت)اندھے نے نہ جانا کہ کسی کا کسی شے پر قادر ہونا “ صحۃ الشیئ منہ “ ہے نہ کہ “ صحۃ الشیئ علیہ “ اور صاف گھڑلیا کہ “ ما یصح علی العبد یصح علی اللہ “ جو بندے پر جاری ہو سکے خدا پر بھی جاری ہو سکتا ہے اس سے بڑھ کر اور کیا ضلالت و شیطنت بے انتہا ہے
“ و سیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون ﴿۲۲۷﴾ “ اور عنقریب ظالم جان لیں گے کہ کس کروٹ پر پلٹا کھائیں گے(ت)
دیوبندی اسے قطعی دلیل کہتا ہے ہم ایك فائدہ عجیبہ بتائیں میں کہتا ہوں ہاں وہ ضرور قطعی دلیل ہے مگر کاہے پر وہابیہ امام الوہابیہ کے ایك ایك قول ایك ایك فقرے ایك ایك حرف وہابیت کے ابطال صریح پر اس حجت عامۃ الظہور لامعۃ النور کی تقریر ایك مقدمہ واضحہ کے بیان سے روشن و منیر
عــــــہ : بمعنی مذکور ۱۲ منہ
حوالہ / References
القرآن الکریم ۲۶ /۲۲۷
وہ مقدمہ یہ کہ جس بات کا حق جاننا خدا پر جائز و رو اہے وہ ضرور فی الواقع حق و بجا ہے ورنہ خدا پر جہل مرکب جائز ہو کہ اپنی غلط فہمی سے ناحق کو حق جان لے باطل کو صحیح مان لے امام الوہابیہ نے اگر چہ اس کا کذب ممکن کہا مگر وہ یوں تھاکہ اس کے علم میں ٹھیك بات ہے اور دوسروں سے اس کے خلاف کہے نہ یہ کہ خود اس کا علم ہی باطل و خلاف حق ہو اس کے امکان کی اس نے تصریح نہ کی دیوبندیوں نے اگرچہ امکان جہل عــــــہ صراحۃ اوڑھ لیا مگر وہ جہل بسیط تھا کہ ایك بات معلوم نہ ہونا نہ کہ جہل مرکب کہ باطل کو حق اعتقاد کرنا اس کا امکان ان سے بھی مسموع نہیں رہے ہم اہل اسلام ہمارے نزدیك تو بحمدالله تعالی یہ مقدمہ اجلی بد یہیات و اعلی ضروریات دین سے ہے اگر خدا کا علم جائز الخطا ہو تو قیامت و حشرو نشر و جنت و نار وغیر ہا جملہ سمعیات باطل محض ہو جائیں کہ ان کی طرف عقل کو آپ تو راہ ہی نہیں کہ کسی دلیل کسی تعلیل کسی استقراء کسی تمثیل سے ان پر اعتقاد کر سکے ان کا اعتقاد محض بربنائے کلام الہی تھا اب اس کی جانچ واجب ٹھہری کہ ایك جائز الخطاء کی بات ہے جانچ کا ہے سے ہوگی عقل سے عقل وہاں چل سکتی ہی نہیں تو محض مہمل و بے ثبوت جاننا اور ان سب کا چھوڑ دینا لازم ہوا کذب نے تو بات ہی میں شبہ ڈالا تھا جہل مرکب نے جڑ سے لگی نہ رکھی بلکہ نظر بمذہب وہابیہ اس تقدیر پر نہ صرف ایمانیات معاد بلکہ خود اصل ایمان اعنی تو حید الہی پر بھی ایمان ہاتھ سے جائے گا وجہ سنئے وہابیہ کے طور پر خدا کےلئے بیٹا ہونا عقلامحال نہیں ان کا امام صاف مان رہا ہے کہ جو کچھ انسان کر سکتا ہے خدا بھی اپنے لئے کر سکتاہے تو واجب ہوا کہ خدا عورت سے نکاح بعدہ جماع بعدہ اس کے رحم میں اپنے نطفے کا ایقاع کر سکے ورنہ قدرت میں انسان سے گھٹ جو رہے گا اور جب یہا ں تك ہو لیا تو اب نطفہ ٹھہرانے اور بچہ بنانے اور پیدا کرلانے میں کیا زہر گھل گیا کہ ان سے عاجز رہے گا دنیا بھر کی ماؤں کے ساتھ یہ افعال کر رہا ہے اپنی زوجہ کے بارے میں کیوں تھك رہے گا آخر وہا بیہ کا ایك پرانا امام ابن حزم غیر مقلد ظاہری المذہب مدعی عمل بالحدیث منہ بھرکر
عــــــہ : مولوی غلام دستگیر صاحب قصوری مرحوم مصنف تقدیس الوکیل عن توہین الرشید و الخلیل وغیرہ نے جو اس ہذیان امام الوہابیہ پر لزوم امکان جہل وغیرہ شناعات سے نقص کیا تھا مولوی محمود حسن دیو بندی وغیرہ پارٹی دیوبند نے عقائد گنگوہی کے بیان و حمایت میں اس کا جواب اخبار نظام الملك پرچہ ۲۵ / اگست ۱۸۸۹ء میں یہ چھاپا “ چوری شراب خوری جہل ظلم سے معارضہ کم فہمی معلوم ہوتا ہے غلام دستگیر کے نزدیك خداکی قدرت بندہ سے زائد ہونا ضروری نہیں حالانکہ یہ کلیہ ہے جو مقدورالعبد ہے مقدور الله ہے۔ “ دیکھو کیسا صاف اقرار ہے کہ وہابیہ کا معبود چوریاں کرئے شرابیں پئے جاہل بنے ظلم میں سے سب کچھ روا ہے اعوذبالله من الخذلان اس پرچہ کی خرافات ملعونہ کا ردآخر کتاب مستطاب سبحن السبوح میں چھپا ہے وہاں ملا حظہ ہو ۱۲ منہ۔
عــــــہ : مولوی غلام دستگیر صاحب قصوری مرحوم مصنف تقدیس الوکیل عن توہین الرشید و الخلیل وغیرہ نے جو اس ہذیان امام الوہابیہ پر لزوم امکان جہل وغیرہ شناعات سے نقص کیا تھا مولوی محمود حسن دیو بندی وغیرہ پارٹی دیوبند نے عقائد گنگوہی کے بیان و حمایت میں اس کا جواب اخبار نظام الملك پرچہ ۲۵ / اگست ۱۸۸۹ء میں یہ چھاپا “ چوری شراب خوری جہل ظلم سے معارضہ کم فہمی معلوم ہوتا ہے غلام دستگیر کے نزدیك خداکی قدرت بندہ سے زائد ہونا ضروری نہیں حالانکہ یہ کلیہ ہے جو مقدورالعبد ہے مقدور الله ہے۔ “ دیکھو کیسا صاف اقرار ہے کہ وہابیہ کا معبود چوریاں کرئے شرابیں پئے جاہل بنے ظلم میں سے سب کچھ روا ہے اعوذبالله من الخذلان اس پرچہ کی خرافات ملعونہ کا ردآخر کتاب مستطاب سبحن السبوح میں چھپا ہے وہاں ملا حظہ ہو ۱۲ منہ۔
بك گیا کہ خدا کے بیٹا ہو سکتاہے ملل ونحل میں کہتا ہے :
انہ تعالی قادر ان یتخذ ولد ااذلو لم یقدر لکان عاجزا بیشك الله تعالی اس بات پر قادر ہے کہ اولاد رکھے کیونکہ اگر اس پر قادر نہ ہوا تو عاجز ہو گا(ت)
اس کا رد سبحن السبوح صفحہ ۳۴ و ۳۵ میں ملا حظہ ہو اور شك نہیں کہ خدا کا بیٹا ہو گا تو ضرور وہ بھی مستحق عبادت ہو گا قال الله تعالی :
“ قل ان کان للرحمن ولد ٭ فانا اول العبدین ﴿۸۱﴾ “ تم فرمادو کہ رحمن کے کوئی بچہ ہے تو سب سے پہلے اس کا پوجنے والا میں ہوں۔
تو ثابت ہوا کہ وہابیہ کے نزدیك ہزاروں خدا مستحق عبادت ممکن ہیں عقلی استحالہ تو یوں یا رہا شرعی اس کے کھونے کو امکان کذب کیا تھوڑا تھا کہ اب خدا کی بات سچی ہونی ضرور نہیں جہل مرکب ممکن مانا گیا تو پوری رجسٹری ہو جائے گی کہ ممکن کہ ادعائے توحید و مذمت شرك سے جو تمام قرآن گونج رہا ہے سب بر بنائے جہل مرکب و غلط فہمی ہو اب لا الہ الاالله بھی ہاتھ سے گیا والعیاذ بالله سبحنہ وتعالی بالجملہ الله عزوجل پر جہل مرکب محال بالذات ہونے میں وہابیہ کو بھی اہل اسلام کا ساتھ دینے سے چارہ نہیں تو یہ مقدمہ کہ “ جس بات کا حق جاننا خدا پر روا ہے وہ ضرور حق و بجا ہے۔ “ بر ہانی ایقانی بھی ہے اور مخالف کا تسلیمی اذعانی بھی اس کا نام مقدمہ ایمانیہ رکھئے۔
اب خلاف وہابیہ و وہابیت جو بات چاہئے فرض کر لیجئے خواہ وہ ہمارے موافق ہو یا ہمارے احکام سے بھی زائد مثلا :
(۱)اسمعیل دہلوی نراکافر تھا۔
(۲)گنگوہی دیوبندی نانوتوی انبٹھی تھانوی وغیر ہم وہابی سب کھلے مرتد ہیں۔
(۳)جو کذب الہی ممکن کہے ملحد ہے۔
(۴)تقویۃ الایمان تنویر العینین ایضاح الحق صراط مستقیم تصانیف اسمعیل دہلوی معیار الحق تصنیف نذیر حسین دہلوی تحذیر الناس تصنیف نانوتوی براہین قاطعہ تصنیف گنگوہی وغیرہا جملہ نباحات انبوہی سب کفری بول نجس تر ازبول ہیں جو ایسا نہ جانے زند یق ہے۔
انہ تعالی قادر ان یتخذ ولد ااذلو لم یقدر لکان عاجزا بیشك الله تعالی اس بات پر قادر ہے کہ اولاد رکھے کیونکہ اگر اس پر قادر نہ ہوا تو عاجز ہو گا(ت)
اس کا رد سبحن السبوح صفحہ ۳۴ و ۳۵ میں ملا حظہ ہو اور شك نہیں کہ خدا کا بیٹا ہو گا تو ضرور وہ بھی مستحق عبادت ہو گا قال الله تعالی :
“ قل ان کان للرحمن ولد ٭ فانا اول العبدین ﴿۸۱﴾ “ تم فرمادو کہ رحمن کے کوئی بچہ ہے تو سب سے پہلے اس کا پوجنے والا میں ہوں۔
تو ثابت ہوا کہ وہابیہ کے نزدیك ہزاروں خدا مستحق عبادت ممکن ہیں عقلی استحالہ تو یوں یا رہا شرعی اس کے کھونے کو امکان کذب کیا تھوڑا تھا کہ اب خدا کی بات سچی ہونی ضرور نہیں جہل مرکب ممکن مانا گیا تو پوری رجسٹری ہو جائے گی کہ ممکن کہ ادعائے توحید و مذمت شرك سے جو تمام قرآن گونج رہا ہے سب بر بنائے جہل مرکب و غلط فہمی ہو اب لا الہ الاالله بھی ہاتھ سے گیا والعیاذ بالله سبحنہ وتعالی بالجملہ الله عزوجل پر جہل مرکب محال بالذات ہونے میں وہابیہ کو بھی اہل اسلام کا ساتھ دینے سے چارہ نہیں تو یہ مقدمہ کہ “ جس بات کا حق جاننا خدا پر روا ہے وہ ضرور حق و بجا ہے۔ “ بر ہانی ایقانی بھی ہے اور مخالف کا تسلیمی اذعانی بھی اس کا نام مقدمہ ایمانیہ رکھئے۔
اب خلاف وہابیہ و وہابیت جو بات چاہئے فرض کر لیجئے خواہ وہ ہمارے موافق ہو یا ہمارے احکام سے بھی زائد مثلا :
(۱)اسمعیل دہلوی نراکافر تھا۔
(۲)گنگوہی دیوبندی نانوتوی انبٹھی تھانوی وغیر ہم وہابی سب کھلے مرتد ہیں۔
(۳)جو کذب الہی ممکن کہے ملحد ہے۔
(۴)تقویۃ الایمان تنویر العینین ایضاح الحق صراط مستقیم تصانیف اسمعیل دہلوی معیار الحق تصنیف نذیر حسین دہلوی تحذیر الناس تصنیف نانوتوی براہین قاطعہ تصنیف گنگوہی وغیرہا جملہ نباحات انبوہی سب کفری بول نجس تر ازبول ہیں جو ایسا نہ جانے زند یق ہے۔
(۵)جو باوصف اطلاع اقوال ان میں سے کسی کا معتقد ہو ابلیس کا بندہ جہنم کا کندہ ہے۔
(۶)ان سفہا اور ان کے نظرا تمام خبثا جنھوں نے شان اقدس وار فع رب العالمین و حضور پر نور سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی تنقیص کی جو شخص رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ورب العزت جل جلالہ کے مقابل ان ملحدوں کی حمایت مروت رعایت کرے ان کی باتوں کی تحسین توجیہ تاویل کرے وہ عدو خدا دشمن مصطفی ہے جل جلالہ وصلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم۔
(۷)غیر مقلدین سب بے دین پکے شیا طین پورے ملاعین ہیں۔
سات یہ اور سات ہزار اور جوبات لو کیا انسان اس کا اعتقاد نہیں کر سکتا ہر شخص بدا ہۃ جانتا ہے کہ آدمی ضرور ان میں سے ہر بات کے اعتقاد عــــــہ پر قادر ہے یہ مقدمہ بدہییہ عامۃ الورود محفوظ رکھئے کہ “ اس امر کا اعتقاد انسان کر سکتا ہے “ ۔ مسلمانو !(اس) میں آپ کو اختیار رہا رد وہابیہ کی جس بات کو چاہئے اس کا مشارالیہ بنائیے اب اس مقدمہ بدیہیہ کو صغری کیجیے اور مقدمہ وہابیہ یعنی دہلوی ضلیل کا وہ دعوی ذلیل کہ “ جو کچھ انسان کر سکتا ہے خدا کر سکتا ہے “ اسے کبری بنائیے شکل اول بد یہی الا نتاج سے نتیجہ نکلا کہ “ اس امر کا اعتقاد خدا کر سکتاہے “ اب اس نتیجہ صغری کیجیے اور مقدمہ ایمانیہ کو کبری کہ “ ہر وہ امرجس کا اعتقاد خدا کر سکتا ہے قطعا یقینا حق ہے شکل اول کا نتیجہ بد یہیہ ہو گا کہ یہ امر قطعا یقینا حق ہے وہابیہ کو یہاں معارضہ بالقلب کی گنجائش نہیں کہ اپنے عقاید باطلہ کو کہیں انسان ان کا بھی اعتقاد کر سکتا ہے تو خدا بھی کر سکتا ہے تو یہ بھی حق ہیں کہ مبنائے دلیل مقدمہ وہابیہ ہے اور وہ ان پر حجت کہ ان کا اور ان کے امام کا ایمان ہے ہمارے نزدیك وہ باطل محض ہے تو کبری قیاس اول مردود ہو کر پہلا ہی نتیجہ باطل ہو گا اب کہئے مفر کدھر تین ہی احتمال ہیں :
اول : مقدمہ ایمانیہ کا انکار کرو اور اپنے خدا کا جہل مرکب میں گرفتار ہونابھی جائز جانو جب تو قیامت و حشر و نشر و جنت و نارجملہ سمعیات اور خود اصل اصول دین لا الہ الا اللہ(پر ایمان کواستعفاء دواور کھلے کافر بنو۔
دوم : اقرارکرو کہ مقدمہ وہابیہ یعنی دہلوی ضلیل کی دلیل ذلیل کا وہ شیطانی کلیہ مردود و ملعون و مطرو دتھا
عــــــہ : ظاہر ہے کہ کوئی خبر بھی ہو حق ہو گی یا باطل اور سب جانتے کہتے مانتے ہیں کہ حق کا اعتقاد فرض یا کم از کم جائز اور باطل کا اعتقاد حرام و ممنوع اور فرض وحرام و ممنوع وہی شے ہو گی جس پر انسان کو قدرت ہو یہی یہاں ملحوظ ہے ۱۲ منہ رضی الله تعالی عنہ
(۶)ان سفہا اور ان کے نظرا تمام خبثا جنھوں نے شان اقدس وار فع رب العالمین و حضور پر نور سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی تنقیص کی جو شخص رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ورب العزت جل جلالہ کے مقابل ان ملحدوں کی حمایت مروت رعایت کرے ان کی باتوں کی تحسین توجیہ تاویل کرے وہ عدو خدا دشمن مصطفی ہے جل جلالہ وصلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم۔
(۷)غیر مقلدین سب بے دین پکے شیا طین پورے ملاعین ہیں۔
سات یہ اور سات ہزار اور جوبات لو کیا انسان اس کا اعتقاد نہیں کر سکتا ہر شخص بدا ہۃ جانتا ہے کہ آدمی ضرور ان میں سے ہر بات کے اعتقاد عــــــہ پر قادر ہے یہ مقدمہ بدہییہ عامۃ الورود محفوظ رکھئے کہ “ اس امر کا اعتقاد انسان کر سکتا ہے “ ۔ مسلمانو !(اس) میں آپ کو اختیار رہا رد وہابیہ کی جس بات کو چاہئے اس کا مشارالیہ بنائیے اب اس مقدمہ بدیہیہ کو صغری کیجیے اور مقدمہ وہابیہ یعنی دہلوی ضلیل کا وہ دعوی ذلیل کہ “ جو کچھ انسان کر سکتا ہے خدا کر سکتا ہے “ اسے کبری بنائیے شکل اول بد یہی الا نتاج سے نتیجہ نکلا کہ “ اس امر کا اعتقاد خدا کر سکتاہے “ اب اس نتیجہ صغری کیجیے اور مقدمہ ایمانیہ کو کبری کہ “ ہر وہ امرجس کا اعتقاد خدا کر سکتا ہے قطعا یقینا حق ہے شکل اول کا نتیجہ بد یہیہ ہو گا کہ یہ امر قطعا یقینا حق ہے وہابیہ کو یہاں معارضہ بالقلب کی گنجائش نہیں کہ اپنے عقاید باطلہ کو کہیں انسان ان کا بھی اعتقاد کر سکتا ہے تو خدا بھی کر سکتا ہے تو یہ بھی حق ہیں کہ مبنائے دلیل مقدمہ وہابیہ ہے اور وہ ان پر حجت کہ ان کا اور ان کے امام کا ایمان ہے ہمارے نزدیك وہ باطل محض ہے تو کبری قیاس اول مردود ہو کر پہلا ہی نتیجہ باطل ہو گا اب کہئے مفر کدھر تین ہی احتمال ہیں :
اول : مقدمہ ایمانیہ کا انکار کرو اور اپنے خدا کا جہل مرکب میں گرفتار ہونابھی جائز جانو جب تو قیامت و حشر و نشر و جنت و نارجملہ سمعیات اور خود اصل اصول دین لا الہ الا اللہ(پر ایمان کواستعفاء دواور کھلے کافر بنو۔
دوم : اقرارکرو کہ مقدمہ وہابیہ یعنی دہلوی ضلیل کی دلیل ذلیل کا وہ شیطانی کلیہ مردود و ملعون و مطرو دتھا
عــــــہ : ظاہر ہے کہ کوئی خبر بھی ہو حق ہو گی یا باطل اور سب جانتے کہتے مانتے ہیں کہ حق کا اعتقاد فرض یا کم از کم جائز اور باطل کا اعتقاد حرام و ممنوع اور فرض وحرام و ممنوع وہی شے ہو گی جس پر انسان کو قدرت ہو یہی یہاں ملحوظ ہے ۱۲ منہ رضی الله تعالی عنہ
ہیہات اول تو اسے تمھارا دل کب گوارا کرے
انی لکم الی الھدی تھویل قد اشرب فی القلوب اسمعیل
(تمھیں ہدایت کی طرف پلٹناکہاں نصیب ہو گا تحقیق تمھارے دلوں میں اسمعیل(کی محبت)رچ گئی ہے۔ ت)
اور خدا کا دھرا سر پر براہ ناچاری اس کے انکار پر آؤ بھی تو تمھارا خصم کب مانے وہ کہے گا میرا استدلال اسی مقدمہ کی بنا پر الزامی تھا اور خصم جب دلیل الزامی قائم کرے تو فریق کو اپنے مقدمہ مسلمہ سے پلٹ جانے کی گنجائش نہیں کما صرح عــــــہ بہ العلما ء الکرام(جیسا کہ علماء کرام نے اس کی تصریح فرمائی ہے۔ ت)ورنہ کوئی دلیل الزامی قائم ہی نہ ہوسکے ہمیشہ مغلوب کے لئے یہ بھاگنے کا رستہ کھلا رہے کہ دلیل جس مقدمہ مسلمہ پر مبنی ہو اس سے انحراف کر جائے اور بالفرض وہ بھی درگزر کر ے تو کیا یہ اقرار نرے قول کی ضلالت پر اقتضاء ہو گا نہیں نہیں صاف صاف کہنا پڑے گا کہ امام الوہابیہ باری سبوح قدوس عزوجل کو ایسی شنیع ناپاك گالی کہ کروڑوں گالیوں پر مشتمل ہے دے کر صریح ضال مضل بے دین ہوا اور تم اور فلاں و فلانی اس کے سارے معتقدین بھی اس کی طرح گمراہ بددین ہوں۔
سوم اگر ان دونوں سے فرار کرو تو اب نہ رہا مگر یہ تیسرا کہ ان سب نتائج کو جو تمھارے امام ہی کے
عــــــہ : فی مسلم الثبوت و شر حہ فواتح الرحموت للمولی بحر العلوم لو تم ھذالم یکن الدلیل الجدلی مفیدا للالز ام اصلا اذ یمکن اعتراضہ بالخطاء فی تسلیم احدی المسلمات و لم تکن القضایا المسلمۃ من مقا طع البحث والکل با طل علی ما تقرر فی محلہ والحق ان المسلمہ کالمفروض فی حکم الضروری لا یصح انکارہ فانکارہ اشد من الا لزام اھ باختصار ۱۲ منہ رضی الله تعالی عنہ۔ مسلم الثبوت اور اس کی شرح فواتح الرحموت تصنیف مولانا بحرالعلوم رحمۃ اللہ تعالی علیہ میں ہے کہ اگر یہ تام ہو جائے تو پھر دلیل جدلی بالکل مفید الزام نہ رہے گی کیونکہ ممکن ہوگا کہ خصم قضائے مسلمہ میں سے کسی کو خطا مان لے اور مسلمات بحث کے خاتمہ کا ذریعہ نہ رہینگے اور یہ سب باطل ہے جیسا کہ ہم اس کو اپنے محل میں ثابت کر چکے ہیں اور حق یہ ہے کہ مسلم حکم ضرورۃ و بداہۃ میں مفروض سمجھا جاتا ہے جس کا انکار صحیح نہیں پس اس کا انکار الزام سے شدید تر ہے ۱ ھ باختصار رضی الله تعالی عنہ(ت)
انی لکم الی الھدی تھویل قد اشرب فی القلوب اسمعیل
(تمھیں ہدایت کی طرف پلٹناکہاں نصیب ہو گا تحقیق تمھارے دلوں میں اسمعیل(کی محبت)رچ گئی ہے۔ ت)
اور خدا کا دھرا سر پر براہ ناچاری اس کے انکار پر آؤ بھی تو تمھارا خصم کب مانے وہ کہے گا میرا استدلال اسی مقدمہ کی بنا پر الزامی تھا اور خصم جب دلیل الزامی قائم کرے تو فریق کو اپنے مقدمہ مسلمہ سے پلٹ جانے کی گنجائش نہیں کما صرح عــــــہ بہ العلما ء الکرام(جیسا کہ علماء کرام نے اس کی تصریح فرمائی ہے۔ ت)ورنہ کوئی دلیل الزامی قائم ہی نہ ہوسکے ہمیشہ مغلوب کے لئے یہ بھاگنے کا رستہ کھلا رہے کہ دلیل جس مقدمہ مسلمہ پر مبنی ہو اس سے انحراف کر جائے اور بالفرض وہ بھی درگزر کر ے تو کیا یہ اقرار نرے قول کی ضلالت پر اقتضاء ہو گا نہیں نہیں صاف صاف کہنا پڑے گا کہ امام الوہابیہ باری سبوح قدوس عزوجل کو ایسی شنیع ناپاك گالی کہ کروڑوں گالیوں پر مشتمل ہے دے کر صریح ضال مضل بے دین ہوا اور تم اور فلاں و فلانی اس کے سارے معتقدین بھی اس کی طرح گمراہ بددین ہوں۔
سوم اگر ان دونوں سے فرار کرو تو اب نہ رہا مگر یہ تیسرا کہ ان سب نتائج کو جو تمھارے امام ہی کے
عــــــہ : فی مسلم الثبوت و شر حہ فواتح الرحموت للمولی بحر العلوم لو تم ھذالم یکن الدلیل الجدلی مفیدا للالز ام اصلا اذ یمکن اعتراضہ بالخطاء فی تسلیم احدی المسلمات و لم تکن القضایا المسلمۃ من مقا طع البحث والکل با طل علی ما تقرر فی محلہ والحق ان المسلمہ کالمفروض فی حکم الضروری لا یصح انکارہ فانکارہ اشد من الا لزام اھ باختصار ۱۲ منہ رضی الله تعالی عنہ۔ مسلم الثبوت اور اس کی شرح فواتح الرحموت تصنیف مولانا بحرالعلوم رحمۃ اللہ تعالی علیہ میں ہے کہ اگر یہ تام ہو جائے تو پھر دلیل جدلی بالکل مفید الزام نہ رہے گی کیونکہ ممکن ہوگا کہ خصم قضائے مسلمہ میں سے کسی کو خطا مان لے اور مسلمات بحث کے خاتمہ کا ذریعہ نہ رہینگے اور یہ سب باطل ہے جیسا کہ ہم اس کو اپنے محل میں ثابت کر چکے ہیں اور حق یہ ہے کہ مسلم حکم ضرورۃ و بداہۃ میں مفروض سمجھا جاتا ہے جس کا انکار صحیح نہیں پس اس کا انکار الزام سے شدید تر ہے ۱ ھ باختصار رضی الله تعالی عنہ(ت)
حوالہ / References
فواتح الرحموت شرح مسلم الثبوت مع بذیل المستصفٰی
گھر سے پیدا ہوئے حق جانو اور دہلوی عــــــہ۱ اول و دہلوی عــــــہ۲ آخروگنگوہی و نانوی و انبیٹھی و تھانوی و دیوبندی اور خود اپنے آپ اور جملہ وہابیہ اور سارے غیر مقلدین سب کو کافر مرتداور تقویۃ الایمان و براہین قاطعہ و تحذیر الناس و معیارالحق وغیر تمام تصانیف وہابیہ کوکفری قول اور پیشاب سے زیادہ نجس و بد مانو فرمائیے ان میں کون سا آپ کو پسند ہے جسے اختیار کیجئے اپنے اور اپنے امام سب کے کفرو نی یا کم از کم گمراہی و بددینی کا اقرار کیجئے کہو کچھ جواب فرماؤ گے یا آج ہی سے
“ ما لکم لا تناصرون ﴿۲۵﴾ بل ہم الیوم مستسلمون ﴿۲۶﴾ “ (تمھیں کیا ہو ا آپس میں ایك دوسرے کی مدد کیوں نہیں کرتے بلکہ وہ آج گردن ڈالے ہیں۔ ت) کارنگ دکھاؤ گےکیوں
ھل ثوب الفجار ماکانو ایا فکون والحمد لله رب العلمین وصلی الله تعالی علی سیدنا و مولانا محمد و ا لہ وصحبہ اجمعین والله تعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔ کیا کچھ بدلہ فاجروں کو اس کا ملا جو وہ جھوٹ بولے تھے اور تمام تعریفیں الله تعالی کےلئے ہیں جو تمام جہانوں کو پالنے والا ہے اور الله تعالی ہمارے آقا و مولی محمد مصطفی اور ان کے تمام آل و اصحاب پر درود نازل فرمائے الله تعالی خوب جانتا ہے اور اس کا علم اتم واحکم ہے(ت)
عــــــہ۱ : اسمعیل ۱۲ عــــــہ۲ : نذیر حسین ۱۲
______________________
“ ما لکم لا تناصرون ﴿۲۵﴾ بل ہم الیوم مستسلمون ﴿۲۶﴾ “ (تمھیں کیا ہو ا آپس میں ایك دوسرے کی مدد کیوں نہیں کرتے بلکہ وہ آج گردن ڈالے ہیں۔ ت) کارنگ دکھاؤ گےکیوں
ھل ثوب الفجار ماکانو ایا فکون والحمد لله رب العلمین وصلی الله تعالی علی سیدنا و مولانا محمد و ا لہ وصحبہ اجمعین والله تعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔ کیا کچھ بدلہ فاجروں کو اس کا ملا جو وہ جھوٹ بولے تھے اور تمام تعریفیں الله تعالی کےلئے ہیں جو تمام جہانوں کو پالنے والا ہے اور الله تعالی ہمارے آقا و مولی محمد مصطفی اور ان کے تمام آل و اصحاب پر درود نازل فرمائے الله تعالی خوب جانتا ہے اور اس کا علم اتم واحکم ہے(ت)
عــــــہ۱ : اسمعیل ۱۲ عــــــہ۲ : نذیر حسین ۱۲
______________________
حوالہ / References
القرآن الکریم ۳۷ /۲۵ و ۶ ۲
رسالہ
القمع المبین لا مال المکذبین ۱۳۲۹ھ
(مسایرہ وشرح مواقف وسیالکوٹی کی عبارات میں مکذبوں کی سر شکنی)
بسم الله الرحمن الرحیم
مسئلہ ۷۴ : از نگلہ اروہ ڈاکخانہ اچھنیرہ ضلع اکبر آباد مرسلہ محمد صاد ق خاں شوال ۱۳۲۹ ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں :
قلت الکذب نقص والنقص علیہ تعالی محال فلا یکون من الممکنات الخ قولہ والنقص علیہ الخ لا یخفی انہ موقوف علی کونہ ممتنعا بالذات ولا نسلم ذلك اذلوکان ممتنعا لما وقع الکذب من احد فھو ممتنع بواسطۃ انہ مناف لکما لہ تعالی فیکون ممتنعا بالغیر والا متناع بالغیر میں کہتاہوں جھوٹ نقص ہے اور نقص الله تعالی کے لئے محال لہذایہ ممکنات میں سے نہیں ہے الخ اس کاقول کہ نقص الله تعالی کے لئے محال الخ مخفی نہ رہے کہ یہ بات کذ ب کے ممتنع بالذات ہونے پر موقوف ہے جبکہ یہ ہم تسلیم نہیں کرتے کیونکہ اگر یہ محال بالذات ہوتا تو پھر کسی سے بھی کذب صادر نہ ہوتا لہذایہ الله تعالی کمال کے منافی ہونے کے واسطہ سے ممتنع ہے تو ممتنع بالغیرہوا جو امکان
القمع المبین لا مال المکذبین ۱۳۲۹ھ
(مسایرہ وشرح مواقف وسیالکوٹی کی عبارات میں مکذبوں کی سر شکنی)
بسم الله الرحمن الرحیم
مسئلہ ۷۴ : از نگلہ اروہ ڈاکخانہ اچھنیرہ ضلع اکبر آباد مرسلہ محمد صاد ق خاں شوال ۱۳۲۹ ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں :
قلت الکذب نقص والنقص علیہ تعالی محال فلا یکون من الممکنات الخ قولہ والنقص علیہ الخ لا یخفی انہ موقوف علی کونہ ممتنعا بالذات ولا نسلم ذلك اذلوکان ممتنعا لما وقع الکذب من احد فھو ممتنع بواسطۃ انہ مناف لکما لہ تعالی فیکون ممتنعا بالغیر والا متناع بالغیر میں کہتاہوں جھوٹ نقص ہے اور نقص الله تعالی کے لئے محال لہذایہ ممکنات میں سے نہیں ہے الخ اس کاقول کہ نقص الله تعالی کے لئے محال الخ مخفی نہ رہے کہ یہ بات کذ ب کے ممتنع بالذات ہونے پر موقوف ہے جبکہ یہ ہم تسلیم نہیں کرتے کیونکہ اگر یہ محال بالذات ہوتا تو پھر کسی سے بھی کذب صادر نہ ہوتا لہذایہ الله تعالی کمال کے منافی ہونے کے واسطہ سے ممتنع ہے تو ممتنع بالغیرہوا جو امکان
لاینافی الامکان الذاتی۔ حاشیہ عبدالحکیم سیالکوٹی ذاتی کے منافی نہ ہوا۔ (ت)حاشیہ عبدالحکیم سیالکوٹی
الجواب :
بسم الله الرحمن الرحیم الحمد لله الواجب الصدق المستحیل الکذب المحال علیہ بذاتہ لذاتہ کل نقص و شین فمن تقول علیہ بامکان کذبہ وتفرق الیہ بخلف وعیدہ فقد استوجب لعنۃالله علیہ فی
الدارین “ قل صدق اللہ “ “ ومن اصدق من اللہ قیلا ﴿۱۲۲﴾ “ ¬
“ ومن کان فی ہذہ اعمی فہو فی الاخرۃ اعمی و اضل سبیلا ﴿۷۲﴾ “ “ و یلکم لا تفتروا علی اللہ کذبا فیسحتکم بعذاب “
“ ان الذین یفترون علی اللہ الکذب لا یفلحون ﴿۱۱۶﴾ “ “ متع قلیل ۪ ولہم عذاب الیم ﴿۱۱۷﴾ “
“ و من اظلم ممن افتری علی اللہ کذبا او کذب بایتہ “ “ اولئک یعرضون علی ربہم ویقول الاشہد ہؤلاء الذین کذبوا علی ربہم الا لعنۃ اللہ علی الظلمین ﴿۱۸﴾ “ “ ہو بسم الله الرحمن الرحیم سب تعریفیں اس الله تعالی کے لئے جو واجب صادق کذب جس کے لئے محال بذاتہ ہے جس کی ذات کے لیے ہر نقص اور عیب محال بذاتہ ہے اور جو شخص اس کے لئے امکان کذب کا قول کرے اور خلف وعید کے ذریعہ اس کا راستہ بنائے تو بیشك وہ دونوں جہانوں میں الله تعالی کی لعنت کا مستحق ہوا فرمادیجئے الله تعالی نے سچ فرمایا الله سے زیادہ کس کی بات سچی جو یہاں اندھا ہو آخرت میں اندھا اور زیادہ گمراہ ہے تمھاری خرابی الله پر کذب کی تہمت نہ باندھو کہ تمھیں عذاب سے پیس ڈالےگا بیشك جو الله پر کذب کی تہمت رکھتے ہیں انھیں چھٹکارانہ ملے گا دنیا میں تھوڑا برتنا ہے اور آخرت میں ان کے لئے درد ناك عذاب اس سے بڑھ کر ظالم کون جو الله پر کذب کی تہمت رکھے یا اس کی آیتیں جھٹلائے یہ لوگ اپنے رب کے حضور پیش کئے جائیں گے اور گواہ کہیں گے کہ یہ ہیں جنھوں نے اپنے رب پر جھوٹ بولا تھا سنتا ہے الله کی لعنت ان ظالموں
عــــــہ : آیۃ ھذا سے جناب گنگوہی کا فوٹو ملا دیکھئے ۱۲ س عفاعنہ
الجواب :
بسم الله الرحمن الرحیم الحمد لله الواجب الصدق المستحیل الکذب المحال علیہ بذاتہ لذاتہ کل نقص و شین فمن تقول علیہ بامکان کذبہ وتفرق الیہ بخلف وعیدہ فقد استوجب لعنۃالله علیہ فی
الدارین “ قل صدق اللہ “ “ ومن اصدق من اللہ قیلا ﴿۱۲۲﴾ “ ¬
“ ومن کان فی ہذہ اعمی فہو فی الاخرۃ اعمی و اضل سبیلا ﴿۷۲﴾ “ “ و یلکم لا تفتروا علی اللہ کذبا فیسحتکم بعذاب “
“ ان الذین یفترون علی اللہ الکذب لا یفلحون ﴿۱۱۶﴾ “ “ متع قلیل ۪ ولہم عذاب الیم ﴿۱۱۷﴾ “
“ و من اظلم ممن افتری علی اللہ کذبا او کذب بایتہ “ “ اولئک یعرضون علی ربہم ویقول الاشہد ہؤلاء الذین کذبوا علی ربہم الا لعنۃ اللہ علی الظلمین ﴿۱۸﴾ “ “ ہو بسم الله الرحمن الرحیم سب تعریفیں اس الله تعالی کے لئے جو واجب صادق کذب جس کے لئے محال بذاتہ ہے جس کی ذات کے لیے ہر نقص اور عیب محال بذاتہ ہے اور جو شخص اس کے لئے امکان کذب کا قول کرے اور خلف وعید کے ذریعہ اس کا راستہ بنائے تو بیشك وہ دونوں جہانوں میں الله تعالی کی لعنت کا مستحق ہوا فرمادیجئے الله تعالی نے سچ فرمایا الله سے زیادہ کس کی بات سچی جو یہاں اندھا ہو آخرت میں اندھا اور زیادہ گمراہ ہے تمھاری خرابی الله پر کذب کی تہمت نہ باندھو کہ تمھیں عذاب سے پیس ڈالےگا بیشك جو الله پر کذب کی تہمت رکھتے ہیں انھیں چھٹکارانہ ملے گا دنیا میں تھوڑا برتنا ہے اور آخرت میں ان کے لئے درد ناك عذاب اس سے بڑھ کر ظالم کون جو الله پر کذب کی تہمت رکھے یا اس کی آیتیں جھٹلائے یہ لوگ اپنے رب کے حضور پیش کئے جائیں گے اور گواہ کہیں گے کہ یہ ہیں جنھوں نے اپنے رب پر جھوٹ بولا تھا سنتا ہے الله کی لعنت ان ظالموں
عــــــہ : آیۃ ھذا سے جناب گنگوہی کا فوٹو ملا دیکھئے ۱۲ س عفاعنہ
“ الذی ارسل رسولہ بالہدی و دین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ ولوکرہ المشرکون ﴿۳۳﴾ “ صلی الله تعالی علیہ وسلم وعلی الہ و صحبہ وبارك وکرم کلما ذکرہ الذا کرون و کلما غفل عن ذکرہ الغافلون والحمد لله رب العلمین۔ پر اور الله تعالی وہ ذات ہے جس نے اپنا رسول ہدایت کے ساتھ اور دین حق کے ساتھ بھیجا تاکہ اس کو تمام ادیان پر غالب کردے اگرچہ مشرك لوگ ناپسند کریں۔ الله تعالی اپنی رحمت فرمائے اس رسول صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم پر اور ان کے صحابہ پر اور ان پر برکتیں اور کرامتیں نازل فرمائےجب تك اس کو یاد کرنے والے یاد کرتے رہیں اور جب تك اس کے ذکر سے غافل لوگ غفلت کرتے رہیں اور سب تعریفیں الله تعالی سب جہانوں کے پالنے والے کےلئے۔ (ت)
الله عزوجل کے غضب سے اسی کی پناہ پھر اس کے حبیب اکرم رحمت عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی پناہ جب غضب الہی کسی قوم سے دین لیتا ہے عقل پہلے چھین لیتا ہے کہ عقل سلیم بفضل کریم باطل کو قبول نہیں کرتی اور اگر کبھی شیطان نے کچھ دھوکا دیناچاہا “ تذکروا فاذا ہم مبصرون ﴿۲۰۱﴾ “ (یاد دلاؤ تو جلد ان کی آنکھیں کھل جاتی ہیں)مگر جب عقل نہ رہی(یعنی دین متین کی سمجھ اگر چہ دنیا و دیگر علوم و فنون کی کتنی ہی دانش ہو “ لا یعقلون شیـا ولا یہتدون﴿۱۷۰﴾ “ (نہ کسی چیز کو سمجھتے ہیں اور نہ ہدایت پاتے ہیں۔ ت)اس وقت انسان شیطان کا مسخرہ ہوجاتا ہے کہ صورت میں آدمی اور باطن میں گدھا ہے
“ کمثل الحمار یحمل اسفارا “ “ کانہم حمر مستنفرۃ ﴿۵۰﴾ “ (گدھے کی مثل کتابوں کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہیں گویا بھاگتے ہو ئے گدھے ہیں۔ ت)اپنی اغراض فاسدہ کے لئے اس کی کتاب مبنی کی مثال بالکل سوئر اور سیر باغ کی ہوتی ہے پھول مہکیں کلیاں چٹکیں تختے لہکیں فوارے چھلیکں بلبلیں چہکیں اسے کسی لطف و سرور سے کام نہیں وہ اس تلاش میں پھرتا ہے کہ کہیں نجاست پڑی ہو تو نوش جان کرے بعینہ یہی حالت گمراہ بد دین کی ہوتی ہے ہزار ورق کی کتاب میں لاکھ باتیں نفیس و جلیل فوائدکی ہوں ان سے اسے بحث نہ ہو گی کتاب بھر میں اگر کوئی غلط و باطل و خطا جملہ اپنے مطلب کا سمجھے گا اسی کو پکڑ لے گا اگر چہ واقع میں وہ اس کے مطلب کا بھی نہ ہو اتنی بات اس میں خنزیر سے بھی بڑھ کر ہوئی کہ وہ نجاست لے گا تو اپنے مطلب کی اور اسے اس کی بھی تمیز نہیں انبیا ء علیہم الصلوۃ والثناء کے سواکوئی بشر معصوم نہیں اور غیر معصوم سے کوئی نہ کوئی کلمہ یا بیجا صادر ہونا کچھ نادر کا لعدم نہیں پھر سلف صالحین و
الله عزوجل کے غضب سے اسی کی پناہ پھر اس کے حبیب اکرم رحمت عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی پناہ جب غضب الہی کسی قوم سے دین لیتا ہے عقل پہلے چھین لیتا ہے کہ عقل سلیم بفضل کریم باطل کو قبول نہیں کرتی اور اگر کبھی شیطان نے کچھ دھوکا دیناچاہا “ تذکروا فاذا ہم مبصرون ﴿۲۰۱﴾ “ (یاد دلاؤ تو جلد ان کی آنکھیں کھل جاتی ہیں)مگر جب عقل نہ رہی(یعنی دین متین کی سمجھ اگر چہ دنیا و دیگر علوم و فنون کی کتنی ہی دانش ہو “ لا یعقلون شیـا ولا یہتدون﴿۱۷۰﴾ “ (نہ کسی چیز کو سمجھتے ہیں اور نہ ہدایت پاتے ہیں۔ ت)اس وقت انسان شیطان کا مسخرہ ہوجاتا ہے کہ صورت میں آدمی اور باطن میں گدھا ہے
“ کمثل الحمار یحمل اسفارا “ “ کانہم حمر مستنفرۃ ﴿۵۰﴾ “ (گدھے کی مثل کتابوں کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہیں گویا بھاگتے ہو ئے گدھے ہیں۔ ت)اپنی اغراض فاسدہ کے لئے اس کی کتاب مبنی کی مثال بالکل سوئر اور سیر باغ کی ہوتی ہے پھول مہکیں کلیاں چٹکیں تختے لہکیں فوارے چھلیکں بلبلیں چہکیں اسے کسی لطف و سرور سے کام نہیں وہ اس تلاش میں پھرتا ہے کہ کہیں نجاست پڑی ہو تو نوش جان کرے بعینہ یہی حالت گمراہ بد دین کی ہوتی ہے ہزار ورق کی کتاب میں لاکھ باتیں نفیس و جلیل فوائدکی ہوں ان سے اسے بحث نہ ہو گی کتاب بھر میں اگر کوئی غلط و باطل و خطا جملہ اپنے مطلب کا سمجھے گا اسی کو پکڑ لے گا اگر چہ واقع میں وہ اس کے مطلب کا بھی نہ ہو اتنی بات اس میں خنزیر سے بھی بڑھ کر ہوئی کہ وہ نجاست لے گا تو اپنے مطلب کی اور اسے اس کی بھی تمیز نہیں انبیا ء علیہم الصلوۃ والثناء کے سواکوئی بشر معصوم نہیں اور غیر معصوم سے کوئی نہ کوئی کلمہ یا بیجا صادر ہونا کچھ نادر کا لعدم نہیں پھر سلف صالحین و
ائمہ دین سے آج تك اہل حق کا یہ معمول رہا ہے
کل ماخوذمن قولہ و مردود علیہ الا صاحب ھذا القبر صلی الله تعالی علیہ و سلم۔ اس روضہ پاك والے صلی الله تعالی علیہ و سلم کے سوا ہر ایك کا قول لیا جا سکتا ہے اور اس پر رد بھی کیا جا سکتا ہے۔ (ت)
جس کی جو بات خلاف اہل حق و جمہور دیکھی وہ اسی پر چھوڑی اور اعتقاد وہی رکھا جو جماعت کا ہے کہ ید الله علی الجمائۃ اتبعو السوادالاعظم الله تعالی کی حمایت جماعت کو حاصل ہے سواداعظم کی پیروی کرو۔ ت)نہ کہ اجماع امت کے خلاف کسی نے محض بطور بحث منطقی کوئی شگوفہ چھوڑ دیا اور دل کی میچ کر اس کے پیچھے ہوئے یا اندھے ملاعین کا طریقہ ہوتا ہے یا اوندھے شیاطین کا کہ رب عزوجل فرماتاہے :
“ و ان یروا سبیل الغی یتخذوہ سبیلا ذلک بانہم کذبوا بایتنا وکانوا عنہا غفلین ﴿۱۴۶﴾ “ اگر ہدایت کی راہ دیکھیں تو اس میں چلنا پسند نہ کریں اور گمراہی کا رستہ نظر پڑے تو اس میں چلنے کو موجود ہو جائیں یہ اس لئے کہ وہ ہمارے کلا م کی طرف کذب کی نسبت کرتے اور ہماری آیتوں میں غافل ہیں۔
اس وصف میں تمام طوائف گمراہان میں طائفہ وہابیہ اور طوائف وہابیہ میں خاص طائفہ دیو بندیہ سب سے ممتاز ہیں اور ہوا ہی چاہیں کہ قرآن عظیم فرماتاہے یہ اس کذب کی شامت ہے جو وہ ہمارے کلا م کی طرف نسبت کرتے ہیں اور الله کی طرف نسبت کذب میں وہابیہ سب سے پیش قدم ہیں کہ ان کے پیشوا اسمعیل دہلوی صاحب نے یك روزی میں اس کی چنائی چنی اور وہابیوں میں دیو بندی اس میں اگواہیں کہ ان کے پیر گنگوہی صاحب نے براہین میں اس پر استر کار ی کی نیز جناب موصوف کی تقلید سے ماشاء الله اندھے ہونے میں بھی اس طائفہ کو دنیا بھر کے دلی اندھوں پر ترجیح ہے اگر ایك آدھ آنکھ آدھی چوتھائی بھی کھلی ہوتی تو یہ نہ سوجھتا کہ سیالکوٹی ملا توجس کذب میں یہاں ممکن بالذات کہہ رہے ہیں اسے نہ صرف ممکن بلکہ واقع بتا رہے ہیں یعنی نفس کذ ب کسی کا ہو جنگلی کا یا کوہی کا دہلوی کا یا گنگوہی کا اور اس کے ممکن بلکہ روزانہ لاکھوں کروڑوں بار واقع ہونے میں کیاکلا م ہے ان کے لفظ دیکھئے کہ “ لوکا ن ممتنعا لما وقع الکذب من احد “ یعنی جس طرح اجتماع نقیضین وارتفاع نقیضین اپنی ذات میں محال ہیں یو ں ہی اگر مطلق جھوٹ خود اپنی ذات میں محال ہوتا تو کبھی کوئی شخص جھوٹ نہ بول سکتا مگر کروڑوں لوگ جھوٹ بول رہے ہیں تو معلوم ہوا کہ جھوٹ خود اپنی حد ذات میں محال نہیں ہاں
کل ماخوذمن قولہ و مردود علیہ الا صاحب ھذا القبر صلی الله تعالی علیہ و سلم۔ اس روضہ پاك والے صلی الله تعالی علیہ و سلم کے سوا ہر ایك کا قول لیا جا سکتا ہے اور اس پر رد بھی کیا جا سکتا ہے۔ (ت)
جس کی جو بات خلاف اہل حق و جمہور دیکھی وہ اسی پر چھوڑی اور اعتقاد وہی رکھا جو جماعت کا ہے کہ ید الله علی الجمائۃ اتبعو السوادالاعظم الله تعالی کی حمایت جماعت کو حاصل ہے سواداعظم کی پیروی کرو۔ ت)نہ کہ اجماع امت کے خلاف کسی نے محض بطور بحث منطقی کوئی شگوفہ چھوڑ دیا اور دل کی میچ کر اس کے پیچھے ہوئے یا اندھے ملاعین کا طریقہ ہوتا ہے یا اوندھے شیاطین کا کہ رب عزوجل فرماتاہے :
“ و ان یروا سبیل الغی یتخذوہ سبیلا ذلک بانہم کذبوا بایتنا وکانوا عنہا غفلین ﴿۱۴۶﴾ “ اگر ہدایت کی راہ دیکھیں تو اس میں چلنا پسند نہ کریں اور گمراہی کا رستہ نظر پڑے تو اس میں چلنے کو موجود ہو جائیں یہ اس لئے کہ وہ ہمارے کلا م کی طرف کذب کی نسبت کرتے اور ہماری آیتوں میں غافل ہیں۔
اس وصف میں تمام طوائف گمراہان میں طائفہ وہابیہ اور طوائف وہابیہ میں خاص طائفہ دیو بندیہ سب سے ممتاز ہیں اور ہوا ہی چاہیں کہ قرآن عظیم فرماتاہے یہ اس کذب کی شامت ہے جو وہ ہمارے کلا م کی طرف نسبت کرتے ہیں اور الله کی طرف نسبت کذب میں وہابیہ سب سے پیش قدم ہیں کہ ان کے پیشوا اسمعیل دہلوی صاحب نے یك روزی میں اس کی چنائی چنی اور وہابیوں میں دیو بندی اس میں اگواہیں کہ ان کے پیر گنگوہی صاحب نے براہین میں اس پر استر کار ی کی نیز جناب موصوف کی تقلید سے ماشاء الله اندھے ہونے میں بھی اس طائفہ کو دنیا بھر کے دلی اندھوں پر ترجیح ہے اگر ایك آدھ آنکھ آدھی چوتھائی بھی کھلی ہوتی تو یہ نہ سوجھتا کہ سیالکوٹی ملا توجس کذب میں یہاں ممکن بالذات کہہ رہے ہیں اسے نہ صرف ممکن بلکہ واقع بتا رہے ہیں یعنی نفس کذ ب کسی کا ہو جنگلی کا یا کوہی کا دہلوی کا یا گنگوہی کا اور اس کے ممکن بلکہ روزانہ لاکھوں کروڑوں بار واقع ہونے میں کیاکلا م ہے ان کے لفظ دیکھئے کہ “ لوکا ن ممتنعا لما وقع الکذب من احد “ یعنی جس طرح اجتماع نقیضین وارتفاع نقیضین اپنی ذات میں محال ہیں یو ں ہی اگر مطلق جھوٹ خود اپنی ذات میں محال ہوتا تو کبھی کوئی شخص جھوٹ نہ بول سکتا مگر کروڑوں لوگ جھوٹ بول رہے ہیں تو معلوم ہوا کہ جھوٹ خود اپنی حد ذات میں محال نہیں ہاں
حوالہ / References
القرآن الکریم ۷ /۱۴۶
جب اسے الله عزوجل کی طرف نسبت کرو تو ضرور محال ہے کہ ذات الہی بالذات مقتضی جملہ کمالات و منافی جملہ نقائص ہے تو اس پر کذب محال بالذات ہے یہ استحالہ جانب باری سے بالذات ہوا کہ اس کی ذات کریم ہر عیب کے منافی ہے مگر مطلق کذب جو کلی عام شامل ہر کذب اور ہر شخص کے کذب کو تھا اس فرد کے استحالہ سے اسے بھی ایك استحالہ عارض ہوا کہ ہر فرد کا حکم طبیعت من حیث کی طرف ساری ہوتا ہے یہ استحالہ مطلق کذب کے حق میں ذاتی نہ ہوا کہ خود مطلق کذب کی ذات سے پیدا نہ ہوا بلکہ الله عزوجل کی ذات سے بعینہ اس کی مثال وہی اجتماع نقیضین ہے مطلق اجتماع کسی کا ہو اپنی حد ذات میں محال نہیں ورنہ کبھی کوئی دو ۲ چیزیں جمع نہ ہو سکتیں ہاں نقیضین کا اجتماع محال بالذات ہے کہ ذات نقیضین منافی اجتماع ہے مگر مطلق اجتماع کہ ہر دوشے کے جمع ہو نے کو عام شامل تھا وہ جو اس مادہ خاصہ میں آکر محال ہوا تو یہ استحالہ اس کے لئے ذاتی نہیں بلکہ خصوص نقیضین کے باعث ہے تو مطلق اجتماع کہ ماہیت مطلقہ ہے ضرور ممکن بالذات بلکہ لاکھوں جگہ موجوداور اس کے سبب اجتماع نقیضین ممکن نہیں ہو سکتا وہ قطعا محال بالذات ہے یو نہی مطلق کذب کہ طبیعت مرسلہ ہے ضرور ممکن بالذات بلکہ ہزاروں جگہ موجود اس کے سبب معاذالله کذب باری ممکن نہیں ہو سکتا وہ یقینامحال بالذات ہے یہ ہے اس عبارت کی تقریر جس سے اعتراض ملا سیالکوٹی صاحب کی تشریح بھی ہو گئی اور اس سے جواب کی خوب تو ضیح بھی کہ یہاں کلام کذب خاص میں ہے نہ کہ مطلق طبیعت کذب میں اور کلی کا امکان اس کے ہر فرد کے امکان کو مستلزم نہیں یہاں ملا سیالکوٹی کی تو اتنی ہی خطا تھی کہ محل نزاع میں فرق نہ کیا امکان فرد میں بحث تھی اور لے کر چلے امکان طبیعت مگر دیو بندی اپنے کفر سے کب باز آتے ہیں وہ اسی کو معاذالله امکان باری پر دلیل بتاتے اور اپنے کفریا ت ان کے سر منڈھاچاہتے ہیں بہت خوب اب دیو بندی سنبھل کر بتائیں کہ یہ سیا لکوٹی تقریر جس طرح تم بتاتے ہو تمھارے نزدیك حق ہے یا باطل اگر باطل ہے تو کیوں دانستہ اوندھے چلتے اور ناواقف مسلمانوں کو چھلتے ہو اور حق ہے تو تمھارے ہی منہ ثابت ہو کہ تم مشرك ہی نہیں بلکہ نرے بت پرست ہو کہ الله عزوجل کو مانتے ہی نہیں صرف اپنے ساختہ ٹھا کر کو پوجتے ہو یوں نہ مانو ہم ثابت کر دیں تو سہی جس تقریر سے اس کا کذب معاذ الله ممکن ٹھہرایا بعینہ بلا تفاوت اسی تقریر سے اس کا شریك بھی ممکن ہےکہ شریك اگر محال ہو تا تو کوئی کسی کا شریك نہ ہو سکتا تو شریك باری اس واسطے سے محال ہو گا کہ اس کے کمال کے منافی ہے تو ممتنع بالغیر ہوا اور امتناع بالغیر امکان ذاتی کا منافی نہیں بعینہ بلاتفاوت اسی تقریر سے اس کی موت و فنا بھی ممکن ہے کہ موت محال ہوتی تو کوئی کبھی نہ مرتا تو موت باری اس واسطے محال ہوئی کہ منافی کما ل ہوئی تو امتناع بالغیر رہا تو اس کا مرنا فنا ہو جا نا ممکن بالذات ہوا تو وہ واجب الوجود نہ ہوا تو الہ نہ ہوا بلکہ کوئی تمھارا ساختہ ٹھا کر ہوا “ الا لعنۃ اللہ علی الظلمین ﴿۱۸﴾ “ (خبر دار ظالموں پر
حوالہ / References
القرآن الکریم ۱۱ /۱۸
الله کی لعنت ہے۔ ت)
اس عبارت کے جواب کو تو اسی قدربس ہے مگر فقیر بعون القدیر چاہتا ہے کہ اس بحث کو اعلی درجہ کمال پر پہنچائے اور گنگوہی و دیو بندی مکذ بان الہی نے مسایرہ و شرح مواقف کی دو عبارتوں سے جو مسلمانوں کو دھوکا دینا چاہا ہے ایك ضربت حیدری و صولت فاروقی سے اس کی بھی پردہ دری ہو جائے وبالله التوفیق ان عبارتوں سے استناد اس سے زیادہ پوچ و لچر ہے جیسا اس عبارت سیالکوٹی سے تھا مگر الله کے مکذبوں کا مقصود مردود تو صرف عوام کو دھوکے دینا اور یہود کے تلبسوا الحق بالباطل و تکتمواالحق(حق کو باطل سے ملا تے ہو اور حق کو چھپاتے ہو۔ ت)سے پورا تر کر لینا ہے۔
“ و سیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون ﴿۲۲۷﴾ “ ظالم لوگ عنقریب معلوم کر لیں گے کہ وہ کس کروٹ پلٹتے ہیں(ت)
فاقول : و بالله التو فیق(میں الله تعالی کی توفیق سے کہتا ہوں۔ ت)مسمانو ! عقائد وہ سنت ہیں جو حضور پر نور سید المرسلین صلی الله تعالی علیہ و سلم و صحابہ و تا بعین و سلف صالحین رضوان الله تعالی علیہم اجمعین سے ثابت ہیں انھیں کے بیان کے لئے کتب عقائد کے متو ن موضوع ہوتے ہیں زمانہ خیر میں یہ عقائد صدور و السنہ ائمہ سے تلقی کئے جاتے تھے اور مسلمان اپنی سلامت صدر سے ان پر ایمان لاتے تھے انھیں چون و چرا و لم ولانسلم کی علت نہ تھی جب بد مذہبوں کا شیوع ہوا اور گمراہ مکلبوں نے عام مسلمین کو بہکانے کےلئے اپنے عقائد باطلہ پر عقلی و نقلی مغالطے پیش کرنے شروع کئے تو علمائے سنت و جماعت کو حاجت ہوئی کہ ان کے دلائل باطلہ کا رد کریں اپنے عقائد حقہ پر دلائل قائم فرمائیں یہاں سے کلام متا خرین کی بنا پڑی اب کہ استدلا ل و بحث و مناظرہ کا پھاٹك کھلا خود اپنے دلائل و جوابات کی جانچ پرکھ کی بھی حاجت ہوئی اذہان مختلف ہوتے ہیں اور بحث و استخراج میں خطا و اصابت آدمی کے ساتھ لگے ہوئے ہیں ایك نے مذہب پر ایك دلیل قائم فرمائی یا مخالفت کی یا کسی اعتراض کا جواب دیا دوسرے نے اس پر بحث کر دی کہ اپنے مذہب پر یہ دلیل کمزور ہے مخالف کی طرف سے اس کا رد یہ ہو سکتا ہے یا اعتراض کا یہ جواب کافی نہیں مخالف اس میں یوں کہہ سکتا ہے اس ردوبحث کااثر فقط اسی دلیل وجواب تك ہوتاہے عام ازیں کہ اس دلیل وجواب ہی میں قصور ہو جیسا کہ بحث کرنے والے کا بیان ہے یا خود اس باحث کی نظر نے خطا کی دلیل و جواب صحیح و صواب ہو بہر حال معاذ الله اس کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ اپنا اصل مذہب باطل یا مخالف کا ضلا ل حق ہے ہر عاقل جانتا ہے کہ
اس عبارت کے جواب کو تو اسی قدربس ہے مگر فقیر بعون القدیر چاہتا ہے کہ اس بحث کو اعلی درجہ کمال پر پہنچائے اور گنگوہی و دیو بندی مکذ بان الہی نے مسایرہ و شرح مواقف کی دو عبارتوں سے جو مسلمانوں کو دھوکا دینا چاہا ہے ایك ضربت حیدری و صولت فاروقی سے اس کی بھی پردہ دری ہو جائے وبالله التوفیق ان عبارتوں سے استناد اس سے زیادہ پوچ و لچر ہے جیسا اس عبارت سیالکوٹی سے تھا مگر الله کے مکذبوں کا مقصود مردود تو صرف عوام کو دھوکے دینا اور یہود کے تلبسوا الحق بالباطل و تکتمواالحق(حق کو باطل سے ملا تے ہو اور حق کو چھپاتے ہو۔ ت)سے پورا تر کر لینا ہے۔
“ و سیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون ﴿۲۲۷﴾ “ ظالم لوگ عنقریب معلوم کر لیں گے کہ وہ کس کروٹ پلٹتے ہیں(ت)
فاقول : و بالله التو فیق(میں الله تعالی کی توفیق سے کہتا ہوں۔ ت)مسمانو ! عقائد وہ سنت ہیں جو حضور پر نور سید المرسلین صلی الله تعالی علیہ و سلم و صحابہ و تا بعین و سلف صالحین رضوان الله تعالی علیہم اجمعین سے ثابت ہیں انھیں کے بیان کے لئے کتب عقائد کے متو ن موضوع ہوتے ہیں زمانہ خیر میں یہ عقائد صدور و السنہ ائمہ سے تلقی کئے جاتے تھے اور مسلمان اپنی سلامت صدر سے ان پر ایمان لاتے تھے انھیں چون و چرا و لم ولانسلم کی علت نہ تھی جب بد مذہبوں کا شیوع ہوا اور گمراہ مکلبوں نے عام مسلمین کو بہکانے کےلئے اپنے عقائد باطلہ پر عقلی و نقلی مغالطے پیش کرنے شروع کئے تو علمائے سنت و جماعت کو حاجت ہوئی کہ ان کے دلائل باطلہ کا رد کریں اپنے عقائد حقہ پر دلائل قائم فرمائیں یہاں سے کلام متا خرین کی بنا پڑی اب کہ استدلا ل و بحث و مناظرہ کا پھاٹك کھلا خود اپنے دلائل و جوابات کی جانچ پرکھ کی بھی حاجت ہوئی اذہان مختلف ہوتے ہیں اور بحث و استخراج میں خطا و اصابت آدمی کے ساتھ لگے ہوئے ہیں ایك نے مذہب پر ایك دلیل قائم فرمائی یا مخالفت کی یا کسی اعتراض کا جواب دیا دوسرے نے اس پر بحث کر دی کہ اپنے مذہب پر یہ دلیل کمزور ہے مخالف کی طرف سے اس کا رد یہ ہو سکتا ہے یا اعتراض کا یہ جواب کافی نہیں مخالف اس میں یوں کہہ سکتا ہے اس ردوبحث کااثر فقط اسی دلیل وجواب تك ہوتاہے عام ازیں کہ اس دلیل وجواب ہی میں قصور ہو جیسا کہ بحث کرنے والے کا بیان ہے یا خود اس باحث کی نظر نے خطا کی دلیل و جواب صحیح و صواب ہو بہر حال معاذ الله اس کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ اپنا اصل مذہب باطل یا مخالف کا ضلا ل حق ہے ہر عاقل جانتا ہے کہ
حوالہ / References
القرآن الکریم ۲۶ /۲۲۷
کسی کی قائم کی ہوئی ایك دلیل یا دیا ہوا جواب بگڑ جانے سے اصل مسئلہ باطل نہیں ہو سکتا نہ معاذ الله یہ بحث کرنے والا اپنا عقیدہ بدلتا اور مذہب اہلسنت کو باطل جان کر اس سے باہر نکلتا ہے یہ ایك ایسی بات ہے جسے نہ فقط اہلسنت بلکہ ہر مذہب و ملت والا اپنے یہاں دیکھتا جانتا ہے پھر بھی جب تك زمانہ خیر کا قرب تھا اس رد و کد میں ایك اعتدال باقی تھا جب فن کلام فلسفہ دان متا خرین کے ہاتھ پڑا اب توبات بات میں وجہ بے وجہ نکتہ چینی کی لے بڑھی جس سے مقصو د صرف بردو مات وردو اثبات و منع و نقض و اخذ میں ذہن آزمائی اور اپنی طاقت سخن کی رونمائی ہوتی ہے وبس نہ کہ معاذ الله مذہب سے پھریں دین و عقائد کو باطل کریں حاشالله یہاں سے ہر ذی انصاف پر ظاہر کہ یہ متاخر شارح محشی جو کچھ بحث میں لکھ جایا کرتے ہیں وہ مطلقا خود ان کا اپنا بھی اعتقا د نہیں ہوتا نہ کہ تمام اہلسنت و جماعت کا عقیدہ عقیدہ وہ ہوتا ہے جو متون و مسائل میں بیان کر دیا بالائی تقریریں اس کے موافق ہیں تو حق ہیں مخالف ہیں تو وہی ان کی بحث بازیاں اور ذہن آزمائیاں اور قلم کی جولانیاں ہیں جن کا خود انھیں اقرار ہے کہ ان میں قواعد اہل حق کی پابندی نہیں کی جاتی اور معرفت سامع پر چھوڑا جاتا ہے کہ عقیدہ اہل حق اسے معلوم ہے اس کی مراعات کر لے گا مواقف میں ہے :
انت تعرف مذھب اھل الحق و انما لا نتعرض لا مثالہ للا عتماد علی معر فتك بھا فی موا ضعھا۔ تم اہل حق کا مذہب جانتے ہو اور تمھاری اس معرفت کی بنا پر ہی ہم ایسے مقامات میں اس سے تعرض نہیں کرتے۔ (ت)
شرح میں ہے :
فعلیك برعایۃ قواعد اھل الحق فی جمیع الباحث وان لم نصرح بھا۔ توتجھ پر لازم ہے کہ تمام مباحث میں اہل حق کے قواعد کا پاس کرے اگرچہ ہم وہاں یہ تصریح نہ کریں۔ (ت)
شرح مقاصد میں ہے :
کثیر اما توردالا راء الباطلۃ للفلا سفۃ من غیر تعرض لبیان البطلان الافیما یحتاج الی زیاد ۃ بیان عام طو رپر فلا سفہ کی باطل آراء کو ان کا بطلان ذکر کئے بغیر وار د کر دیا جاتا ہے ہاں جہاں کسی زائد بیان کی ضرورت ہو تو وہاں ان کا بطلان و اضح کر دیا جاتا ہے۔ (ت)
انت تعرف مذھب اھل الحق و انما لا نتعرض لا مثالہ للا عتماد علی معر فتك بھا فی موا ضعھا۔ تم اہل حق کا مذہب جانتے ہو اور تمھاری اس معرفت کی بنا پر ہی ہم ایسے مقامات میں اس سے تعرض نہیں کرتے۔ (ت)
شرح میں ہے :
فعلیك برعایۃ قواعد اھل الحق فی جمیع الباحث وان لم نصرح بھا۔ توتجھ پر لازم ہے کہ تمام مباحث میں اہل حق کے قواعد کا پاس کرے اگرچہ ہم وہاں یہ تصریح نہ کریں۔ (ت)
شرح مقاصد میں ہے :
کثیر اما توردالا راء الباطلۃ للفلا سفۃ من غیر تعرض لبیان البطلان الافیما یحتاج الی زیاد ۃ بیان عام طو رپر فلا سفہ کی باطل آراء کو ان کا بطلان ذکر کئے بغیر وار د کر دیا جاتا ہے ہاں جہاں کسی زائد بیان کی ضرورت ہو تو وہاں ان کا بطلان و اضح کر دیا جاتا ہے۔ (ت)
حوالہ / References
المواقف شرح المواقف القسم الاول المقصد الثانی منشورات الشریف الرضی قم ایران ۵ / ۲۴۴
المواقف شرح المواقف القسم الاول المقصد الثانی منشورات الشریف الرضی قم ایران ۵ / ۲۴۴
شرح المقاصد المقصدالثالث الفصل الثالث القسم الاول النوع الثالث المسموعات دارالمعارف النعمانیہ لاہور ۱ / ۲۱۶
المواقف شرح المواقف القسم الاول المقصد الثانی منشورات الشریف الرضی قم ایران ۵ / ۲۴۴
شرح المقاصد المقصدالثالث الفصل الثالث القسم الاول النوع الثالث المسموعات دارالمعارف النعمانیہ لاہور ۱ / ۲۱۶
بعینہ اسی طرح حسن چلپی علی السید میں ہے تو عقائد ان کے وہی ہیں جو متون خود اور ان کے کلام میں جابجا مصرح ہیں اگرچہ بحث مباحث میں کچھ کہیں خصو صا وہ جن پر فلسفہ کا رنگ چڑ ھا ان کو تو لم ولا نسلم کا وہ لپکا بڑھا جس کے آگے کھائی خندق دریا پہاڑ سب یکساں ہیں مطارحات میں وہ باتیں کہہ جاتے ہیں کہ خدا کی پناہ شرح فقہ اکبر میں ہے سیدنا امام شافعی رضی الله تعالی عنہ فرماتے ہیں :
لقد اطلعت من اھل الکلام علی شیئ ماطننت مسلما یقولہ۔ میں نے اہل کلام سے بعض باتیں وہ سنیں کہ مجھے گمان نہ تھا کہ کوئی مسلمان ایسا کہتا۔
وہ تو سمجھ لئے کہ بحث مذہب پر حاکم نہیں ہمارے عقائد معلوم و معروف ہیں لم ولانسلم میں جو بات اس کے خلاف ہو گی ناظرین خود ہی سمجھ لیں گے اور ان کے متعدد اکابر نے اس پر تنبیہ بھی کر دی مگر مضل مغوی کا کیا علاج وہ تو ایسے ہی موقع کی تاك میں رہتا ہے ادھر عامی بیچارہ مارا پڑا یا وادی حیرت میں سر گرداں رہا اسے ہر بات میں قاعدہ اہل حق کہاں معلوم کہ اس کی مراعات کر لے گا یہی وہ باتیں ہیں جنھوں نے اس قسم کے کلام متاخرین کو ائمہ دین کی نگاہ میں سخت ذلیل و بے قدر بنا دیا یہاں تك کہ امام ابو یو سب رحمۃالله تعالی نے فرمایا :
من طلب العلم بالکلام تزندق۔ جس نے علم کلا م کے ذریعہ علم حاصل کرنے کی کوشش کی تو وہ زندیق بنا۔ (ت)
فقہائے کرام نے فرمایا جو مال علماء کے لئے وصیت کیا گیاہو متکلمین کا اس میں حصہ نہیں نہ کتب کلام کتب علم میں داخل ہندیہ میں محیط سے ہے :
لا ید خل فی ھذہ الوصیۃ المتکلمون۔ اس وصیت میں متکلمون(علم کلام والے)داخل نہ ہوں گے۔ (ت)
انھیں میں امام ابو القاسم صفار رحمۃ الله تعالی سے ہے : کتب الکلام لیست کتب العلم (کلام کی کتب علم کی کتب نہیں۔ ت)منح الروض الازہر میں فتاوی ظہیر یہ سے ہے :
لقد اطلعت من اھل الکلام علی شیئ ماطننت مسلما یقولہ۔ میں نے اہل کلام سے بعض باتیں وہ سنیں کہ مجھے گمان نہ تھا کہ کوئی مسلمان ایسا کہتا۔
وہ تو سمجھ لئے کہ بحث مذہب پر حاکم نہیں ہمارے عقائد معلوم و معروف ہیں لم ولانسلم میں جو بات اس کے خلاف ہو گی ناظرین خود ہی سمجھ لیں گے اور ان کے متعدد اکابر نے اس پر تنبیہ بھی کر دی مگر مضل مغوی کا کیا علاج وہ تو ایسے ہی موقع کی تاك میں رہتا ہے ادھر عامی بیچارہ مارا پڑا یا وادی حیرت میں سر گرداں رہا اسے ہر بات میں قاعدہ اہل حق کہاں معلوم کہ اس کی مراعات کر لے گا یہی وہ باتیں ہیں جنھوں نے اس قسم کے کلام متاخرین کو ائمہ دین کی نگاہ میں سخت ذلیل و بے قدر بنا دیا یہاں تك کہ امام ابو یو سب رحمۃالله تعالی نے فرمایا :
من طلب العلم بالکلام تزندق۔ جس نے علم کلا م کے ذریعہ علم حاصل کرنے کی کوشش کی تو وہ زندیق بنا۔ (ت)
فقہائے کرام نے فرمایا جو مال علماء کے لئے وصیت کیا گیاہو متکلمین کا اس میں حصہ نہیں نہ کتب کلام کتب علم میں داخل ہندیہ میں محیط سے ہے :
لا ید خل فی ھذہ الوصیۃ المتکلمون۔ اس وصیت میں متکلمون(علم کلام والے)داخل نہ ہوں گے۔ (ت)
انھیں میں امام ابو القاسم صفار رحمۃ الله تعالی سے ہے : کتب الکلام لیست کتب العلم (کلام کی کتب علم کی کتب نہیں۔ ت)منح الروض الازہر میں فتاوی ظہیر یہ سے ہے :
حوالہ / References
منح الروض الاز ھر شر ح الفقہ الاکبر خطبۃ الکتاب مصطفٰی البابی مصر ص ۴
منح الروض الازھر شرح الفقہ الاکبر خطبۃ الکتاب مصطفٰی البابی مصر ص ۴
فتاوی ہندیۃ الباب السادس نورانی کتب خانہ پشاور ۶ / ۱۲۱
فتاوی ہندیۃ الباب السادس نورانی کتب خانہ پشاور ۶ / ۱۲۱
منح الروض الازھر شرح الفقہ الاکبر خطبۃ الکتاب مصطفٰی البابی مصر ص ۴
فتاوی ہندیۃ الباب السادس نورانی کتب خانہ پشاور ۶ / ۱۲۱
فتاوی ہندیۃ الباب السادس نورانی کتب خانہ پشاور ۶ / ۱۲۱
اوصی لعلماء بلدہ لا ید خل المتکلمون ولو اوصی انسان ان یوقف من کتبہ کتب العلم فافتی السلف انہ یباع ما فیھا من کتب الکلام۔
کسی نے علاقہ کے علماء کے لئے کچھ وصیت کی تو اس میں متکلمون(علم کلام والے)داخل نہ ہوں گے اور اگر کسی نے وصیت کی کہ میر ی کتب میں سے علم کی کتب کو وقف کیا جائے تو اسلاف کا فتوی ہے کہ علم کلام کی کتب کو ان میں سے فروخت کیا جائے(یعنی یہ علم کی کتب نہیں ہیں)۔ (ت)
طریقہ محمدیہ میں بحوالہ تا تا ر خانیہ امام حافظ ابو اللیث سمر قندی سے ہے :
من اشتغل بالکلام محی اسمہ علی العلماء۔ جو شخص کلام میں مشغول ہو ا تو اس کا نام علما ء کی فہرست سے خارج قرار دیا جائے گا۔ (ت)
حدیقہ ندیہ میں ہے : فلایقال لہ عالم (اس کو عالم نہ کہا جائے گا۔ ت)اس کے نظائر نظر فقیر میں کثیر و وافر سردست انھیں تین کتابوں سے نظائرلیجئے کہ مکذبان خدانے قرآن عظیم و نصوص صریحہ متون و عقائد و اجماعی قطعی ائمہ سلف و خلف کو یکسر چھوڑ کر ابحاث زائدہ میں ان کی تراشیدہ تقریروں کا دامن پکڑا ہے یعنی مسایرہ و شرح مواقف جن کی دو عبارتیں دیو بندیوں کی پرانی دست مال ہیں اور تیسری حاشیہ سیالکوٹی کی یہ عبارت کہ سوال میں گزری ان کے بعد بحمد الله تعالی مکذبوں کا ہاتھ بالکل خالی رہ جائیگا اور وسوسہ ابلیس مردود و مطرود ہو کر “ فویل یومئذ للمکذبین ﴿۱۱﴾ “ (اس روز جھٹلانے والوں کے لئے ہلاکت ہے۔ ت)کا نقشہ ان پر یہیں سے نظر آئے گا وبا لله التوفیق۔
نظیر اول : ملا عبدالحکیم سیالکوٹی کی سنئے منہیہ خیالی سےمنقول ہوا کہ اس میں باری عز و جل کے علم کا امور متناہیہ سے تفصیلا متعلق ہونا ممنوع کہہ دیا ملا نے خیالی کا خیال خبالی نقل کرکے اس پر رجسٹری کر دی :
حیث قال قولہ فتا مل نقل عنہ وجہ التا مل ان علمہ تعالی الشا مل انمایشتمل مالا یمتنع جہاں انہوں نے کہا قولہ فتامل(اس کا قول کہ تامل کرو)وہاں انھوں نے وجہ تأمل ان سے نقل کرتے ہوئے کہا کہ الله تعالی کا شامل علم ان چیزوں کومشتمل ہو گا جن کا وجو د ممتنع نہ ہو گا جس طرح اس کی شامل قدرت ان چیزوں کو
کسی نے علاقہ کے علماء کے لئے کچھ وصیت کی تو اس میں متکلمون(علم کلام والے)داخل نہ ہوں گے اور اگر کسی نے وصیت کی کہ میر ی کتب میں سے علم کی کتب کو وقف کیا جائے تو اسلاف کا فتوی ہے کہ علم کلام کی کتب کو ان میں سے فروخت کیا جائے(یعنی یہ علم کی کتب نہیں ہیں)۔ (ت)
طریقہ محمدیہ میں بحوالہ تا تا ر خانیہ امام حافظ ابو اللیث سمر قندی سے ہے :
من اشتغل بالکلام محی اسمہ علی العلماء۔ جو شخص کلام میں مشغول ہو ا تو اس کا نام علما ء کی فہرست سے خارج قرار دیا جائے گا۔ (ت)
حدیقہ ندیہ میں ہے : فلایقال لہ عالم (اس کو عالم نہ کہا جائے گا۔ ت)اس کے نظائر نظر فقیر میں کثیر و وافر سردست انھیں تین کتابوں سے نظائرلیجئے کہ مکذبان خدانے قرآن عظیم و نصوص صریحہ متون و عقائد و اجماعی قطعی ائمہ سلف و خلف کو یکسر چھوڑ کر ابحاث زائدہ میں ان کی تراشیدہ تقریروں کا دامن پکڑا ہے یعنی مسایرہ و شرح مواقف جن کی دو عبارتیں دیو بندیوں کی پرانی دست مال ہیں اور تیسری حاشیہ سیالکوٹی کی یہ عبارت کہ سوال میں گزری ان کے بعد بحمد الله تعالی مکذبوں کا ہاتھ بالکل خالی رہ جائیگا اور وسوسہ ابلیس مردود و مطرود ہو کر “ فویل یومئذ للمکذبین ﴿۱۱﴾ “ (اس روز جھٹلانے والوں کے لئے ہلاکت ہے۔ ت)کا نقشہ ان پر یہیں سے نظر آئے گا وبا لله التوفیق۔
نظیر اول : ملا عبدالحکیم سیالکوٹی کی سنئے منہیہ خیالی سےمنقول ہوا کہ اس میں باری عز و جل کے علم کا امور متناہیہ سے تفصیلا متعلق ہونا ممنوع کہہ دیا ملا نے خیالی کا خیال خبالی نقل کرکے اس پر رجسٹری کر دی :
حیث قال قولہ فتا مل نقل عنہ وجہ التا مل ان علمہ تعالی الشا مل انمایشتمل مالا یمتنع جہاں انہوں نے کہا قولہ فتامل(اس کا قول کہ تامل کرو)وہاں انھوں نے وجہ تأمل ان سے نقل کرتے ہوئے کہا کہ الله تعالی کا شامل علم ان چیزوں کومشتمل ہو گا جن کا وجو د ممتنع نہ ہو گا جس طرح اس کی شامل قدرت ان چیزوں کو
حوالہ / References
منح الروض الازہر شرح الفقہ الاکبر خطبۃ الکتاب مصطفٰی البابی مصر ص ۴
طریقہ محمدیۃ النوع الثانی فی المنہی عنہا مطبع اسلامیہ سٹیم پریس لاہور ۱ / ۹۳ و ۹۴
الحدیقۃالندیۃ بحوالہ تا تار خانیہ النوع الثانی فی العلوم المنہی عنہا فیصل آباد ۱ / ۳۳۰
القرآن الکریم ۷۷ /۳۷
طریقہ محمدیۃ النوع الثانی فی المنہی عنہا مطبع اسلامیہ سٹیم پریس لاہور ۱ / ۹۳ و ۹۴
الحدیقۃالندیۃ بحوالہ تا تار خانیہ النوع الثانی فی العلوم المنہی عنہا فیصل آباد ۱ / ۳۳۰
القرآن الکریم ۷۷ /۳۷
وجودہ و امکان تعلق العلم بالمراتب الغیر المتناھیۃ مفصلۃ ممنو ع انتھی فان قیل فیلز م الجھل علی الله قلت الجہل عدم العلم بما یصح تعلق العلم بہ کما ان العجزعدم تعلق القدرۃ بما یصح ان تتعلق بہ فتأ مل اھ ۔ مشتمل ہے جن کا وجو د ممتنع نہ ہو او رمفصل طورپر غیر متناہی مراتب میں علم کے تعلق کا امکان ممنوع ہے انتہی اگر اعتراض کیا جائے کہ اس سے الله تعالی کا جہل لازم آئے گا تو میں کہتا ہوں جن چیزوں سے علم کا تعلق صحیح ہو ان کو نہ جاننا جہل ہے جس طرح جن چیزوں سے قدرت کا تعلق صحیح ہو ان چیزوں کی قدرت نہ ہونا عجز کہلاتا ہے غور کر اھ۔ (ت)
ممنوع کہتے تو کہہ گئے لیکن نظر کرتے کہ یہ وسو سہ باطلہ جو عدد مبین اعاذناالله تعالی من شرہ المہین نے القا کیا اس کی تہ میں کیا کیا آفات قاہرہ ہیں تو ہر گز خامہ و نامہ کو اس سے آلودہ کرنا روانہ رکھتے
فاقول اولا : (دونوں ملا صاحب فرمائیں تو کہ سلسلہ اعداد سے کس قدر پر مولی عزوجل کا علم جاکر رك گیا کہ اس سے آگے کا عدد خدا کو معلوم نہیں سلسلہ ایام آخرت سے کتنے دن خدا کو معلوم ہیں آگے مجہو ل نعیم جنان و عذاب نیران سے کتنی مقدار علم الہی میں ہے زیادہ کی اسے خبر نہیں کیا کوئی عاقل مسلم سوچ سمجھ کر ایسی بات کہہ سکتا ہے حاشاوکلا دیکھو کیسی صریح تصدیق ہے امام شافعی کے اس ارشاد کی کہ ما ظنت مسلما یقولہ (مجھے گمان نہ تھا کہ کوئی مسلمان یہ بات کہے گا۔ ت) ہاں انھوں نے اطلعت علی شیئ (میں نے کسی چیز پراطلاع پائی۔ ت)فرمایا
“ وقد اطلعنا علی اشیا ء اذفسد الزمان و الی الله المشتکی وعلیہ التکلان “ ۔ جبکہ ہم نے فساد زمان کی وجہ سے بہت سی چیزوں پر اطلائی پائی جبکہ شکایت الله تعالی کے دربار میں ہے اور اسی پر تو کل ہے(ت)
ثانیا : جوحد مقرر کیجئے وہاں فارق بتایئے کہ حد بندی کرے کیا سبب کہ یہاں تك کا علم ہوا بعد کا نہیں علم کے لئے معلوم کا وجود خارجی درکا رہو تو آخرت درکنا ر معاذالله کل آئندہ کا علم نہ ہو بلکہ ازل میں جملہ ماورا سے عیاذابالله جہل مطلق ہو پھر خلق کیونکر ہو اور جب وجود ضرور نہیں تو معدوم معدوم سب یکساں کسی حد خاص پر رکنا ترجیح بلا مر جح ہے بخلاف علوم عالم کہ وہاں مر جح ارادہ الہیہ ہے جسے جتنا دیا اتناملا “ ولا یحیطون بشیء من علمہ الا بماشاء “ (الله تعالی کے علم کا احاطہ نہیں کر سکتے مگر صرف جتنا الله تعالی
ممنوع کہتے تو کہہ گئے لیکن نظر کرتے کہ یہ وسو سہ باطلہ جو عدد مبین اعاذناالله تعالی من شرہ المہین نے القا کیا اس کی تہ میں کیا کیا آفات قاہرہ ہیں تو ہر گز خامہ و نامہ کو اس سے آلودہ کرنا روانہ رکھتے
فاقول اولا : (دونوں ملا صاحب فرمائیں تو کہ سلسلہ اعداد سے کس قدر پر مولی عزوجل کا علم جاکر رك گیا کہ اس سے آگے کا عدد خدا کو معلوم نہیں سلسلہ ایام آخرت سے کتنے دن خدا کو معلوم ہیں آگے مجہو ل نعیم جنان و عذاب نیران سے کتنی مقدار علم الہی میں ہے زیادہ کی اسے خبر نہیں کیا کوئی عاقل مسلم سوچ سمجھ کر ایسی بات کہہ سکتا ہے حاشاوکلا دیکھو کیسی صریح تصدیق ہے امام شافعی کے اس ارشاد کی کہ ما ظنت مسلما یقولہ (مجھے گمان نہ تھا کہ کوئی مسلمان یہ بات کہے گا۔ ت) ہاں انھوں نے اطلعت علی شیئ (میں نے کسی چیز پراطلاع پائی۔ ت)فرمایا
“ وقد اطلعنا علی اشیا ء اذفسد الزمان و الی الله المشتکی وعلیہ التکلان “ ۔ جبکہ ہم نے فساد زمان کی وجہ سے بہت سی چیزوں پر اطلائی پائی جبکہ شکایت الله تعالی کے دربار میں ہے اور اسی پر تو کل ہے(ت)
ثانیا : جوحد مقرر کیجئے وہاں فارق بتایئے کہ حد بندی کرے کیا سبب کہ یہاں تك کا علم ہوا بعد کا نہیں علم کے لئے معلوم کا وجود خارجی درکا رہو تو آخرت درکنا ر معاذالله کل آئندہ کا علم نہ ہو بلکہ ازل میں جملہ ماورا سے عیاذابالله جہل مطلق ہو پھر خلق کیونکر ہو اور جب وجود ضرور نہیں تو معدوم معدوم سب یکساں کسی حد خاص پر رکنا ترجیح بلا مر جح ہے بخلاف علوم عالم کہ وہاں مر جح ارادہ الہیہ ہے جسے جتنا دیا اتناملا “ ولا یحیطون بشیء من علمہ الا بماشاء “ (الله تعالی کے علم کا احاطہ نہیں کر سکتے مگر صرف جتنا الله تعالی
حوالہ / References
حاشیہ عبدالحکیم سیا لکوٹی علی الخیالی مطبع مجتبائی دہلی ص ۶۵
منح الروض الازہر شرح الفقہ الا کبر خطبۃ الکتاب مصطفٰی البابی مصر ص ۴
منح الروض الازہر شرح الفقہ الا کبر خطبۃ الکتاب مصطفٰی البابی مصر ص ۴
القرآن الکریم ۲ /۲۵۵
منح الروض الازہر شرح الفقہ الا کبر خطبۃ الکتاب مصطفٰی البابی مصر ص ۴
منح الروض الازہر شرح الفقہ الا کبر خطبۃ الکتاب مصطفٰی البابی مصر ص ۴
القرآن الکریم ۲ /۲۵۵
چاہے۔ ت)
ثالثا : جو حد مقرر کیجئے یقینا معلوم کہ ایام و ایلام و انعام اس سے آگے بڑھیں گے کہ “ لاتقف عند “ حد ہیں اب جو بعد کو آئے ان کا علم باری عزوجل کو ہو گا یا نہیں اگر نہیں تو جہل موجود اور جو عذر کیا تھا زا ہق و مردود کہ اب تو وہ خود عباد کو معلوم و مشہود معہذاانھیں پیدا کون کرے گا وہی خبیر شہید تو نہ جانناکیا معنی!
الا یعلم من خلق و ہو اللطیف الخبیر ﴿۱۴﴾ “ کیا وہ نہ جانے جس نے پیدا کیا اور وہی ہے ہر باریکی جانتا خبر دار۔ (ت)
اور اگر وہاں تم نے اور مانا کہ ان کا علم پہلے نہ تھا تو اس کا علم معا ذالله حادث ہوا متجدد ہوا کیا یہ عقیدہ اہلسنت کا ہے جو ہمارے رب عزوجل نے فرمایا “ و کان اللہ بکل شیء علیما ﴿۲۶﴾الله تعالی ہر شیئ کا عالم ہے۔ ت)
عقیدہ وہ ہے جو خود سیالکوٹی نے حاشیہ شر ح عقاید جلالی میں لکھا :
المعلومات فی انفسھا غیر متناھیۃ لشمولھا الموجوات والمعدومات۔ معلومات باری تعالی اپنی ذات میں غیر متناہی ہیں کیونکہ موجودات اور معدومات سب کو شامل ہیں۔ (ت)
خود شرح میں ہے :
اعلم ان المتکلمین ینفون الوجود الذھنی ویثبتون علم الله تعالی بالحوادث الغیر المتناھیۃ۔ واضح رہے علم کلام والے ذہنی وجود کی نفی کرتے ہیں اور الله تعالی کے لئے غیر متناہی حوادث کا علم ثابت کرتے ہیں(ت)
بلکہ خود اسی حاشیہ سیالکوٹی علی الخیالی میں ہے :
ھذہ التعلقات قد یمۃغیر متناھیۃ بالفصل ضرور ۃ عدم تناھی متعلقا تھا اعنی جمیع مایمکن ان یعلم من الا مور الکلیۃ والجز ئیۃ الا زلیۃ والمتجددۃ لشمولہ یہ تعلقات تفصیلی طور پر غیر متناہی قدیم ہیں یہ اس وجہ سے ضروری ہے کہ ان کے متعلقات غیر متناہی ہیں یعنی تمام وہ امور جن کو جانا جا سکتا ہے کلیات جزئیات ازلیہ ہوں یا حادثہ کیونکہ یہ علم ممکنات
ثالثا : جو حد مقرر کیجئے یقینا معلوم کہ ایام و ایلام و انعام اس سے آگے بڑھیں گے کہ “ لاتقف عند “ حد ہیں اب جو بعد کو آئے ان کا علم باری عزوجل کو ہو گا یا نہیں اگر نہیں تو جہل موجود اور جو عذر کیا تھا زا ہق و مردود کہ اب تو وہ خود عباد کو معلوم و مشہود معہذاانھیں پیدا کون کرے گا وہی خبیر شہید تو نہ جانناکیا معنی!
الا یعلم من خلق و ہو اللطیف الخبیر ﴿۱۴﴾ “ کیا وہ نہ جانے جس نے پیدا کیا اور وہی ہے ہر باریکی جانتا خبر دار۔ (ت)
اور اگر وہاں تم نے اور مانا کہ ان کا علم پہلے نہ تھا تو اس کا علم معا ذالله حادث ہوا متجدد ہوا کیا یہ عقیدہ اہلسنت کا ہے جو ہمارے رب عزوجل نے فرمایا “ و کان اللہ بکل شیء علیما ﴿۲۶﴾الله تعالی ہر شیئ کا عالم ہے۔ ت)
عقیدہ وہ ہے جو خود سیالکوٹی نے حاشیہ شر ح عقاید جلالی میں لکھا :
المعلومات فی انفسھا غیر متناھیۃ لشمولھا الموجوات والمعدومات۔ معلومات باری تعالی اپنی ذات میں غیر متناہی ہیں کیونکہ موجودات اور معدومات سب کو شامل ہیں۔ (ت)
خود شرح میں ہے :
اعلم ان المتکلمین ینفون الوجود الذھنی ویثبتون علم الله تعالی بالحوادث الغیر المتناھیۃ۔ واضح رہے علم کلام والے ذہنی وجود کی نفی کرتے ہیں اور الله تعالی کے لئے غیر متناہی حوادث کا علم ثابت کرتے ہیں(ت)
بلکہ خود اسی حاشیہ سیالکوٹی علی الخیالی میں ہے :
ھذہ التعلقات قد یمۃغیر متناھیۃ بالفصل ضرور ۃ عدم تناھی متعلقا تھا اعنی جمیع مایمکن ان یعلم من الا مور الکلیۃ والجز ئیۃ الا زلیۃ والمتجددۃ لشمولہ یہ تعلقات تفصیلی طور پر غیر متناہی قدیم ہیں یہ اس وجہ سے ضروری ہے کہ ان کے متعلقات غیر متناہی ہیں یعنی تمام وہ امور جن کو جانا جا سکتا ہے کلیات جزئیات ازلیہ ہوں یا حادثہ کیونکہ یہ علم ممکنات
حوالہ / References
القرآن الکریم ۶۷ /۱۴
حاشیہ شرح عقاید جلالی مطبع مجتبائی دہلی ص ۲۱
شرح الدوانی علی العقاید العضدیۃ مطبع مجتبائی دہلی ص ۲۱
حاشیہ شرح عقاید جلالی مطبع مجتبائی دہلی ص ۲۱
شرح الدوانی علی العقاید العضدیۃ مطبع مجتبائی دہلی ص ۲۱
الممکن والممتنع والواجب۔ محالات اور واجبات سب کو شامل ہے(ت)
عقیدہ وہ ہے جو مقاصد و شرح میں فرمایا :
علمہ تعالی لا یتناھی و محیط بما لا یتناھی کا لا عداد والا شکال)ونعیم الجنان و شامل لجمیع الموجودات والمعدومات الممکنۃ والممتنعۃ وجمیع الکلیات و الجزئیات سمعا و عقلا۔ الله تعالی کا علم غیرمتناہی ہے اور اعداد واشکال اور جنت کی نعمتوں جیسی غیر متناہی اشیاء کو محیط اور تمام موجودات و معدومات و ممکنات و ممتنعات کو اور تمام کلیات و جز ئیات کو نقلا و عقلا شامل ہے۔ (ت)
عقیدہ وہ ہے جو مواقف و شرح میں بیا ن فرمایا :
علمہ تعالی یعم المفھومات کلھا الممکنۃ والواجبۃ والممتنعۃ والمخالف فی ھذا الفصل فر ق الاولی من قال لا یعلم نفسہ(الی ان قال)الرابعۃ من قال لا یعقل غیرالمتناھی۔ الله تعالی کا علم تمام ممکنہ واجبہ اور محال مفہومات کو شامل ہے اس بحث میں کچھ مخالف فرقے ہیں پہلا وہ جو کہتا ہے کہ الله تعالی کو اپنی ذات کا بھی علم نہیں ہے اور یہاں تك کہا کہ چوتھا فرقہ وہ ہے جو کہتا ہے کہ الله تعالی کو غیر متناہی امور کا علم نہیں ہے۔ (ت)
عقیدہ وہ ہے جو حدیقہ ندیہ میں فرمایا :
المعلومات موجودۃ او معدومۃ محالۃ او ممکنۃ قدیمۃ اوحادثۃ متناھیۃ اوغیرمتناھیۃ جزئیۃ اوکلیۃ وبالجملۃ جمیع مایمکن ان یتعلق بہ العلم فھو معلوم لله تعالی۔ موجود اور معدوم محال یا ممکن ہوں قدیم و حادث متنا ہی غیر متناہی جزئی یا کلی غرضیکہ جس چیز سے بھی علم کا تعلق ہو سکتا ہے وہ سب الله تعالی کو معلوم ہے۔ (ت)
عقیدہ وہ ہے جو اس فقیر رب قدیر نے الدولۃ المکیہ میں لکھا اور علمائے کرام حرمین طیبین نے
عقیدہ وہ ہے جو مقاصد و شرح میں فرمایا :
علمہ تعالی لا یتناھی و محیط بما لا یتناھی کا لا عداد والا شکال)ونعیم الجنان و شامل لجمیع الموجودات والمعدومات الممکنۃ والممتنعۃ وجمیع الکلیات و الجزئیات سمعا و عقلا۔ الله تعالی کا علم غیرمتناہی ہے اور اعداد واشکال اور جنت کی نعمتوں جیسی غیر متناہی اشیاء کو محیط اور تمام موجودات و معدومات و ممکنات و ممتنعات کو اور تمام کلیات و جز ئیات کو نقلا و عقلا شامل ہے۔ (ت)
عقیدہ وہ ہے جو مواقف و شرح میں بیا ن فرمایا :
علمہ تعالی یعم المفھومات کلھا الممکنۃ والواجبۃ والممتنعۃ والمخالف فی ھذا الفصل فر ق الاولی من قال لا یعلم نفسہ(الی ان قال)الرابعۃ من قال لا یعقل غیرالمتناھی۔ الله تعالی کا علم تمام ممکنہ واجبہ اور محال مفہومات کو شامل ہے اس بحث میں کچھ مخالف فرقے ہیں پہلا وہ جو کہتا ہے کہ الله تعالی کو اپنی ذات کا بھی علم نہیں ہے اور یہاں تك کہا کہ چوتھا فرقہ وہ ہے جو کہتا ہے کہ الله تعالی کو غیر متناہی امور کا علم نہیں ہے۔ (ت)
عقیدہ وہ ہے جو حدیقہ ندیہ میں فرمایا :
المعلومات موجودۃ او معدومۃ محالۃ او ممکنۃ قدیمۃ اوحادثۃ متناھیۃ اوغیرمتناھیۃ جزئیۃ اوکلیۃ وبالجملۃ جمیع مایمکن ان یتعلق بہ العلم فھو معلوم لله تعالی۔ موجود اور معدوم محال یا ممکن ہوں قدیم و حادث متنا ہی غیر متناہی جزئی یا کلی غرضیکہ جس چیز سے بھی علم کا تعلق ہو سکتا ہے وہ سب الله تعالی کو معلوم ہے۔ (ت)
عقیدہ وہ ہے جو اس فقیر رب قدیر نے الدولۃ المکیہ میں لکھا اور علمائے کرام حرمین طیبین نے
حوالہ / References
حاشیہ عبدالحکیم سیالکوٹی علی الخیالی مطبع مجتبائی دہلی ص ۸۲
مقاصد و شرح المقاصد خاتمہ علمہ لایتناہی الخ دارالمعارف النعمانیہ لاہور ۲ / ۹۰
مواقف و شرح المواقف المقصد الثالث فی علمہ تعالٰی منشورات الشریف الرضی قم ایران ۸ / ۷۰
الحدیقۃ الندیۃ شرح الطریقہ المحمدیۃ مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۱ / ۲۵۴
مقاصد و شرح المقاصد خاتمہ علمہ لایتناہی الخ دارالمعارف النعمانیہ لاہور ۲ / ۹۰
مواقف و شرح المواقف المقصد الثالث فی علمہ تعالٰی منشورات الشریف الرضی قم ایران ۸ / ۷۰
الحدیقۃ الندیۃ شرح الطریقہ المحمدیۃ مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۱ / ۲۵۴
مزین بتصدیقات جلیلہ کیا :
ان ربنا تبارك وتعالی یعلم ذاتہ الکریمۃ و وصفا تہ الغیر المتناھیۃ والحوادث التی وجدت والتی توجد غیر متناھیۃ الی ابد الا بد والممکنات التی لم توجد ولن توجد بل والمحالات باسرھا فلیس شیئ من المفاھیم خارجا عن علمہ سبحنہ وتعالی یعلمہا جمیعا تفصیلا تا ما ازلا ابدا وذاتہ سبحنہ وتعالی غیر متناھیۃ وصفا تہ غیر متنا ھیات و کل صفۃ منھا غیر متناھیۃ وسلاسل الاعداد غیرمتناھیۃ وکذا ایام الابد و ساعاتہ واناتہ وکل نعیم من نعم الجنۃ وکل عذاب من عقوبات جھنم و انفاس اھل الجنۃ واھل النار ولمحاتھم وحرکاتھم وغیر ذلك کلھاغیر متناہ والکل معلوم لله تعالی ازلا و ابداباحاطۃ تامۃ تفصیلیۃ ففی علمہ سبحنہ وتعالی سلاسل غیر المتناھیات بمرات غیرمتناھی بل لہ سبحانہ وتعالی فی کل ذرۃ علوم لا متناھی لان لکل ذرۃ مع کل ذرۃ کانت اوتکون اویمکن ان تکون نسبۃ بالقرب والبعد والجھۃ مختلفۃ فی الا ز منۃ باختلاف الا مکنۃ الواقعۃ والممکنۃ من اول یوم الی مالا ا خر لہ والکل معلوم لہ سبحنہ وتعالی بالفعل فعلمہ عز جلالہ غیر متناہ غیر متناہ فی غیر متناہ کا نہ معکب غیر المتناھی علی اصطلاح الحساب وھذا جمیعا واضح عند من لہ من الا سلام ہمارے رب تعالی اپنی ذات کریمہ و صفات غیر متناہیہ اور حوادث جو موجود ہیں یا ہو سکیں خواہ ابدالا بد تك غیر متناہی ہوں اورممکنات غیر موجودہ اور جو موجود نہ ہو سکیں اور محالات تمام ان مفہومات میں سے کوئی بھی الله تعالی کے علم سے خارج نہیں ان تمام کو تفصیلا کا ملا ازل و ابد سے جانتا ہے الله تعالی کی ذات پاك لا محدود اور اس کی صفات غیر متناہی ہیں اور پھر اس کی ہر صفت غیر متناہی ہے اعداد کا سلسلہ اور یو نہی ابد تك ایام ان کے گھنٹے ان کی آنات اور جنت کی نعمتیں اور پھر ہر نعمت یو نہی جہنم کی سزاؤں کے عذاب اور جنتی اور جہنمی لوگوں کے سانس ان کے لمحات حرکات وغیرہا یہ تمام غیر متناہی ہیں اور الله تعالی کا علم ازلا وابدا ان سب کو محیط تام ہے اور تفصیلا ہے تو الله تعالی کے علم میں غیرمتناہی سلسلے غیرمتناہی طور پر داخل ہیں بلکہ ہر ذرہ کے متعلق الله تعالی کے معلومات ہیں کیونکہ ہر ذرہ کو ذرہ کے ساتھ خواہ وہ موجود ہو یا ہو سکتا ہو یا اس کی نسبت قرب وبعد اور زمانہ کی مختلف جہات سے باعتبار اختلاف مکانات وزمانات اول تا غیرمنتہی ضرور نسبت حاصل ہے اور تمام کا الله تعالی کو بالفعل علم ہے تو الله تعالی کا علم غیر متناہی غیر متناہی میں غیرمتناہی ہے گویا کہ حساب والوں کی اصطلاح میں غیر متناہی معکب ہے اور تمام بیان کردہ اس شخص کے ہاں واضح ہے جس کو اسلام
ان ربنا تبارك وتعالی یعلم ذاتہ الکریمۃ و وصفا تہ الغیر المتناھیۃ والحوادث التی وجدت والتی توجد غیر متناھیۃ الی ابد الا بد والممکنات التی لم توجد ولن توجد بل والمحالات باسرھا فلیس شیئ من المفاھیم خارجا عن علمہ سبحنہ وتعالی یعلمہا جمیعا تفصیلا تا ما ازلا ابدا وذاتہ سبحنہ وتعالی غیر متناھیۃ وصفا تہ غیر متنا ھیات و کل صفۃ منھا غیر متناھیۃ وسلاسل الاعداد غیرمتناھیۃ وکذا ایام الابد و ساعاتہ واناتہ وکل نعیم من نعم الجنۃ وکل عذاب من عقوبات جھنم و انفاس اھل الجنۃ واھل النار ولمحاتھم وحرکاتھم وغیر ذلك کلھاغیر متناہ والکل معلوم لله تعالی ازلا و ابداباحاطۃ تامۃ تفصیلیۃ ففی علمہ سبحنہ وتعالی سلاسل غیر المتناھیات بمرات غیرمتناھی بل لہ سبحانہ وتعالی فی کل ذرۃ علوم لا متناھی لان لکل ذرۃ مع کل ذرۃ کانت اوتکون اویمکن ان تکون نسبۃ بالقرب والبعد والجھۃ مختلفۃ فی الا ز منۃ باختلاف الا مکنۃ الواقعۃ والممکنۃ من اول یوم الی مالا ا خر لہ والکل معلوم لہ سبحنہ وتعالی بالفعل فعلمہ عز جلالہ غیر متناہ غیر متناہ فی غیر متناہ کا نہ معکب غیر المتناھی علی اصطلاح الحساب وھذا جمیعا واضح عند من لہ من الا سلام ہمارے رب تعالی اپنی ذات کریمہ و صفات غیر متناہیہ اور حوادث جو موجود ہیں یا ہو سکیں خواہ ابدالا بد تك غیر متناہی ہوں اورممکنات غیر موجودہ اور جو موجود نہ ہو سکیں اور محالات تمام ان مفہومات میں سے کوئی بھی الله تعالی کے علم سے خارج نہیں ان تمام کو تفصیلا کا ملا ازل و ابد سے جانتا ہے الله تعالی کی ذات پاك لا محدود اور اس کی صفات غیر متناہی ہیں اور پھر اس کی ہر صفت غیر متناہی ہے اعداد کا سلسلہ اور یو نہی ابد تك ایام ان کے گھنٹے ان کی آنات اور جنت کی نعمتیں اور پھر ہر نعمت یو نہی جہنم کی سزاؤں کے عذاب اور جنتی اور جہنمی لوگوں کے سانس ان کے لمحات حرکات وغیرہا یہ تمام غیر متناہی ہیں اور الله تعالی کا علم ازلا وابدا ان سب کو محیط تام ہے اور تفصیلا ہے تو الله تعالی کے علم میں غیرمتناہی سلسلے غیرمتناہی طور پر داخل ہیں بلکہ ہر ذرہ کے متعلق الله تعالی کے معلومات ہیں کیونکہ ہر ذرہ کو ذرہ کے ساتھ خواہ وہ موجود ہو یا ہو سکتا ہو یا اس کی نسبت قرب وبعد اور زمانہ کی مختلف جہات سے باعتبار اختلاف مکانات وزمانات اول تا غیرمنتہی ضرور نسبت حاصل ہے اور تمام کا الله تعالی کو بالفعل علم ہے تو الله تعالی کا علم غیر متناہی غیر متناہی میں غیرمتناہی ہے گویا کہ حساب والوں کی اصطلاح میں غیر متناہی معکب ہے اور تمام بیان کردہ اس شخص کے ہاں واضح ہے جس کو اسلام
نصیب۔ نصیب ہے۔ (ت)
عقیدہ وہ ہے جو فقیر نے اس کی تعلیقات الفیوضات الملکیہ میں نقل کیا :
حیث کتبت علی قولی بل لہ سبحنہ فی کل ذرۃ علوم لامتناھی ما نصہ الحمد لله ھذالذی کتبتہ من عندی ایمانا بربی ثم رأیت التصریح بہ فی التفسیر الکبیر اذ یقول تحت کریمۃ وکذلك نری ابرھیم سمعت الشیخ الامام الوالد عمر ضیاء الدین رحمہ الله تعالی قال سمعت الشیخ ابا القاسم الانصاری یقول سمعت امام الحرمین یقول معلومات الله تعالی غیر متناھیۃ ومعلوماتہ فی کل واحد من تلك المعلومات ایضا غیر متناھیۃ و ذلك لان الجو ھر الفر دیمکن و قو عہ فی احیا ز لا نہا یۃ لھا علی البدل ویمکن اتصافہ بصفات لانہا یۃ لھا علی البدل الخ۔ جہاں میں نے اپنے مذکور قول “ بلکہ الله تعالی سبحنہ کے ہر ذرہ میں علوم غیر متناہی ہیں “ پر یہ عبارت لکھی ہے الحمد لله یہ جو کچھ میں نے لکھا ہے یہ میں نے اپنی طرف سے اپنے رب پر اپنے ایمان کا اظہار کرتے ہوئے لکھا ہے'اس کے بعد میں نے تفسیر کبیر میں اس کی تصریح پائی جہاں آیہ کریمہ “ وکذلك نری ابراھیم “ کےتحت فرمایا کہ میں نے اپنے والد شیخ امام عمر ضیاء الدین رحمہ الله تعالی سے سنا انھوں نے فرمایا میں نے شیخ ابوا لقاسم انصاری سے انھوں نے فرمایا میں نے امام الحرمین سے سنا کہ فرمارہے تھے کہ الله تعالی کے معلومات غیر متناہی اور ان معلومات میں سے ہر ایك کے معلومات بھی غیر متناہی ہیں یہ اس لئے کہ جو ہر فرد کا غیرمتناہی احیاز میں علی سبیل البدل پایا جانا ممکن ہے اور یونہی اس کا بدل کے طو ر پر غیر متناہی صفا ت سے متصف ہونا ممکن ہے الخ۔ (ت)
نظیر دوم : مسایرہ میں اصل عقیدہ تو وہی لکھا جو ائمہ اہلسنت و جماعت کا ہے کہ الله کے سوا اصلاکسی شے کا کوئی خالق نہیں بندوں کے افعال اختیا ریہ بھی تمام و کمال اسی کے مخلوق ہیں بندہ صرف کاسب ہے اور اسے دلائل عقلیہ و نقلیہ سے روشن کیا :
حیث قال الا صل الا ول العلم بانہ تعالی لا خالق سواہ فھو سبحنہ الخالق لکل حادث جو ھراو عرض کحرکۃ جہاں انھوں نے فرمایا کہ پہلا ضابطہ یہ ہے کہ الله تعالی کے متعلق یہ علم ہے کہ وہ خالق ہے اور اس کے بغیر کوئی بھی خالق نہیں تو الله تعالی ہر حادث
عقیدہ وہ ہے جو فقیر نے اس کی تعلیقات الفیوضات الملکیہ میں نقل کیا :
حیث کتبت علی قولی بل لہ سبحنہ فی کل ذرۃ علوم لامتناھی ما نصہ الحمد لله ھذالذی کتبتہ من عندی ایمانا بربی ثم رأیت التصریح بہ فی التفسیر الکبیر اذ یقول تحت کریمۃ وکذلك نری ابرھیم سمعت الشیخ الامام الوالد عمر ضیاء الدین رحمہ الله تعالی قال سمعت الشیخ ابا القاسم الانصاری یقول سمعت امام الحرمین یقول معلومات الله تعالی غیر متناھیۃ ومعلوماتہ فی کل واحد من تلك المعلومات ایضا غیر متناھیۃ و ذلك لان الجو ھر الفر دیمکن و قو عہ فی احیا ز لا نہا یۃ لھا علی البدل ویمکن اتصافہ بصفات لانہا یۃ لھا علی البدل الخ۔ جہاں میں نے اپنے مذکور قول “ بلکہ الله تعالی سبحنہ کے ہر ذرہ میں علوم غیر متناہی ہیں “ پر یہ عبارت لکھی ہے الحمد لله یہ جو کچھ میں نے لکھا ہے یہ میں نے اپنی طرف سے اپنے رب پر اپنے ایمان کا اظہار کرتے ہوئے لکھا ہے'اس کے بعد میں نے تفسیر کبیر میں اس کی تصریح پائی جہاں آیہ کریمہ “ وکذلك نری ابراھیم “ کےتحت فرمایا کہ میں نے اپنے والد شیخ امام عمر ضیاء الدین رحمہ الله تعالی سے سنا انھوں نے فرمایا میں نے شیخ ابوا لقاسم انصاری سے انھوں نے فرمایا میں نے امام الحرمین سے سنا کہ فرمارہے تھے کہ الله تعالی کے معلومات غیر متناہی اور ان معلومات میں سے ہر ایك کے معلومات بھی غیر متناہی ہیں یہ اس لئے کہ جو ہر فرد کا غیرمتناہی احیاز میں علی سبیل البدل پایا جانا ممکن ہے اور یونہی اس کا بدل کے طو ر پر غیر متناہی صفا ت سے متصف ہونا ممکن ہے الخ۔ (ت)
نظیر دوم : مسایرہ میں اصل عقیدہ تو وہی لکھا جو ائمہ اہلسنت و جماعت کا ہے کہ الله کے سوا اصلاکسی شے کا کوئی خالق نہیں بندوں کے افعال اختیا ریہ بھی تمام و کمال اسی کے مخلوق ہیں بندہ صرف کاسب ہے اور اسے دلائل عقلیہ و نقلیہ سے روشن کیا :
حیث قال الا صل الا ول العلم بانہ تعالی لا خالق سواہ فھو سبحنہ الخالق لکل حادث جو ھراو عرض کحرکۃ جہاں انھوں نے فرمایا کہ پہلا ضابطہ یہ ہے کہ الله تعالی کے متعلق یہ علم ہے کہ وہ خالق ہے اور اس کے بغیر کوئی بھی خالق نہیں تو الله تعالی ہر حادث
حوالہ / References
الدولۃ المکیہّ القسم الاوّل مطبعہ اہل السنۃ والجماعت بریلی ص ۷
الفیوضات الملکیۃ تعلیقات الدولۃ المکیۃّ مطبعہ اہل السنۃ والجماعت بریلی ص ۹
الفیوضات الملکیۃ تعلیقات الدولۃ المکیۃّ مطبعہ اہل السنۃ والجماعت بریلی ص ۹
کل شعرۃ وکل قدرۃ و فعل اضطراری کحرکۃ المرتعش والنبض اواختیاری کا فعال الحیوانات المقصود لھم واصلہ من النقل قولہ تعالی الله خالق کل شیئ وقولہ تعالی واﷲ خلقکم وما تعملون ومن العقل ان قدرتہ تعالی صالحۃ للکل لا قصورلھا عن شیئ منہ فوجب اضافتہا الیہ بالخلق اھ مختصرا۔ خواہ وہ جو ہر ہو یا عرض جیسے ہر بال کی حرکت ہر طاقت و قدرت اور ہر فعل خواہ اضطراری ہو جیسے رعشہ والے اور نبض کی حرکت یا فعل اختیاری ہو جیسا کہ اپنے مقصدکے لئے ہر حیوان کی حرکت کا خالق ہے اور یہ ضابطہ الله تعالی کے قول “ خالق کل شیئ “ اور اس کے قول “ واﷲ خلقکم وما تعملون “ سے ماخوذ ہے اور یہ عقلی تقاضا ہے کہ الله تعالی کی قدرت کاملہ ہے وہ کسی چیز کے متعلق ناقص نہیں ہے لہذا ہر چیز الله تعالی کی صفت خلق کی طرف منسوب ہے اھ مختصرا (ت)
پھر جب عادت متاخرین اہل کلام بحث کے طو ر پر ایك بات لکھ گئے اگر مسلم ہو تو اس بحر عمیق مسئلہ قدر میں شناوری اور سر الہی کی جلوہ گری چاہے جس میں بحث سے محمد رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے صدیق اکبر و فاروق اعظم رضی الله تعالی عنہما کو ممانعت فرمائی اورآخر نتیجہ وہی ہوا جو ہونا چاہئےکہ گو ہرکی جگہ خزف پر ہاتھ پڑے اور وہ بھی محض
“ لا یسمن و لا یغنی من جوع ﴿۷﴾ “ (نہ فربہ کرے اور نہ بھوك ختم کرے۔ ت)وہ بحث یہ کہ عزم کو نصوص سے مخصوص مان لیجئے اس کا آغاز لقائل ان یقول(سے کیا یعنی کوئی کہنے والا یوں کہہ سکتا ہے اور وہی شبہات جو معتزلہ پیش کرتے ہیں اس کی تقریر میں بیا ن کرکے کہا :
فلنفی الجبر المحض و تصحیح التکلیف وجب التخصیص وھو لا یتو قف علی نسبۃ جمیع افعال العباد الیھم بالایجاد(ای کما فعلت المعتزلۃ)بل یکفی ان یقال جمیع ما یتو قف علیہ افعال الجوارح من الحرکات وکذاالتروك التی ھی افعال النفس من المیل و الداعیۃ والاختیار ربخلق اﷲ تعالی بندے کے مجبور محض ہونے کی نفی اور اس کی تکلیف کی صحت کے لئے تخصیص واجب ہے اور یہ اس بات پر وقوف نہیں کہ بندوں کے تام افعال کا ایجاد بندوں کی طرف منسوب ہو یعنی جیسا کہ معتزلہ نے کیا ہے بلکہ اس کے لئے اتنا کہہ دینا کافی ہے کہ وہ چیز جس پر بندہ کے افعال جوارح حرکات اور تر وك وغیرہ نفس کے افعال مثلامیلان دواعی اور اختیارات وغیرہ ہیں یہ سب کے سب الله تعالی کی تخلیق سے ہیں
پھر جب عادت متاخرین اہل کلام بحث کے طو ر پر ایك بات لکھ گئے اگر مسلم ہو تو اس بحر عمیق مسئلہ قدر میں شناوری اور سر الہی کی جلوہ گری چاہے جس میں بحث سے محمد رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے صدیق اکبر و فاروق اعظم رضی الله تعالی عنہما کو ممانعت فرمائی اورآخر نتیجہ وہی ہوا جو ہونا چاہئےکہ گو ہرکی جگہ خزف پر ہاتھ پڑے اور وہ بھی محض
“ لا یسمن و لا یغنی من جوع ﴿۷﴾ “ (نہ فربہ کرے اور نہ بھوك ختم کرے۔ ت)وہ بحث یہ کہ عزم کو نصوص سے مخصوص مان لیجئے اس کا آغاز لقائل ان یقول(سے کیا یعنی کوئی کہنے والا یوں کہہ سکتا ہے اور وہی شبہات جو معتزلہ پیش کرتے ہیں اس کی تقریر میں بیا ن کرکے کہا :
فلنفی الجبر المحض و تصحیح التکلیف وجب التخصیص وھو لا یتو قف علی نسبۃ جمیع افعال العباد الیھم بالایجاد(ای کما فعلت المعتزلۃ)بل یکفی ان یقال جمیع ما یتو قف علیہ افعال الجوارح من الحرکات وکذاالتروك التی ھی افعال النفس من المیل و الداعیۃ والاختیار ربخلق اﷲ تعالی بندے کے مجبور محض ہونے کی نفی اور اس کی تکلیف کی صحت کے لئے تخصیص واجب ہے اور یہ اس بات پر وقوف نہیں کہ بندوں کے تام افعال کا ایجاد بندوں کی طرف منسوب ہو یعنی جیسا کہ معتزلہ نے کیا ہے بلکہ اس کے لئے اتنا کہہ دینا کافی ہے کہ وہ چیز جس پر بندہ کے افعال جوارح حرکات اور تر وك وغیرہ نفس کے افعال مثلامیلان دواعی اور اختیارات وغیرہ ہیں یہ سب کے سب الله تعالی کی تخلیق سے ہیں
حوالہ / References
المسایرہ متن المسامرۃ الا صل الاول المکتبۃ التجاریۃ الکبرٰی مصر ص ۹۶ تا ۱۰۵
القرآن الکریم ۸۸ /۷
القرآن الکریم ۸۸ /۷
لاتاثیر لقدرۃالعبد فیہ وانما محل قدرتہ عزمہ عقیب خلق اﷲ تعالی ھذہ الا مور فی باطنہ عزما مصمما بلا تردد و تو جھہ توجہا صادقاللفعل طالباایا ہ فاذااوجد العبد ذلك العز م خلق اﷲ لہ الفعل فیکون منسوبا الیہ تعالی من حیث ھو حرکۃ والی العبد من حیث ھو زنا و نحوہ(الی ان قال)وکفی فی التخصیص لتصحیح التکلیف ھذا الامر الواحد اعنی العزم المصمم وما سواہ مما لا یحصی من الافعال الجزئیۃ والتروك کلھامخلوقۃﷲ تعالی متأ ثرۃ عن قدرتہ ابتداء بلا واسطۃ القدرۃ الحادثۃ المتأثرۃ عن قدرتہ تعالی واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم (ملخصا) اور ان امور میں بندے کی قدرت کی کوئی تاثیر نہیں ہے اور بندے کی قدرت صرف اس کے عزم میں ہے جو الله تعالی کی طرف سے ان امور کی تحقیق کے بعد اس کے باطن میں عزم صمیم بلا تر دد پیدا ہوتا ہے اور اس کی توجہ صادق اور طلب برائے فعل سے حاصل ہوتاہے تو جب بندہ اپنے اس عزم کو بروئے کار لاتا ہے تو الله تعالی اس کے لئے فعل کو پیدا فرمادیتا ہے تو یہ فعل الله تعالی کی طرف حرکت ہونے کے لحاظ سے منسوب ہوتا ہے اور بندے کی طرف مثلازنا وغیرہ ہونے کے لحاظ سے منسوب ہوتاہے آگے یہاں تك فرمایا اور بندے کی تکلیف کی صحت کے لئے یہی ایك امر یعنی عزم مصمم کافی ہے اسکے علاوہ باقی تمام افعال جزئیہ اور تروك وغیرہ الله تعالی کی مخلوق ہیں اور براہ راست الله تعالی کی قدرت سے متأ ثر ہیں جبکہ اس تاثیر کے لئے اور جدید تاثیر کی ضرورت نہیں ہے والله سبحانہ وتعالی(ملخصا)۔ (ت)
مسایرہ کے بیان سے کسی نافہم کو دھوکا نہ ہو کہ یہ حنفیہ کا مذہب ہے حاشا بلکہ ان کا مذہب وہ ہے جو ان کے امام امام الائمۃ الانام سیدنا امام اعظم رضی الله تعالی عنہ نے فقہ اکبر ووصایا ئے شریفہ میں تصریح فرمائی کہ افعال عبادجمیع و تمام و کمال بلا تخصیص و بلا استثناء مخلوق الہی ہیں خود مسایرہ کے لفظ صاف بتارہے ہیں کہ یہ ایك طبع زاد بحث ہے نہ کہ مذہب منقول بلکہ فی الواقع یہ صاحب مسایرہ کا بھی عقیدہ نہیں بحث عقیدہ نہیں ہوتی عقیدہ یوں نہیں کہا جاتا کہ کوئی کہنے والا کہہ سکتا ہے ان کا عقیدہ وہی ہے جو اصل مسئلہ یہاں بیان کیا اور آخر کتاب میں عقیدہ اہلسنت و جماعت کی فہرست میں لکھا یہ عبارات عنقریب ا ن شاء الله مذکور ہوتی ہیں یہاں مجھے اس بحث کا نا موجہ و بیحا صل ہونا بتانا ہے جو ضرورت اس بحث کی بیان کی اس کا باذنہ تعالی شافی و کافی جواب فقیر کے رسالہ “ ثلج الصدر لایمان القدر۱۳۳۵ھ “ سے کہ تحفہ حنفیہ میں طبع ہوا ملے گا اور اس
مسایرہ کے بیان سے کسی نافہم کو دھوکا نہ ہو کہ یہ حنفیہ کا مذہب ہے حاشا بلکہ ان کا مذہب وہ ہے جو ان کے امام امام الائمۃ الانام سیدنا امام اعظم رضی الله تعالی عنہ نے فقہ اکبر ووصایا ئے شریفہ میں تصریح فرمائی کہ افعال عبادجمیع و تمام و کمال بلا تخصیص و بلا استثناء مخلوق الہی ہیں خود مسایرہ کے لفظ صاف بتارہے ہیں کہ یہ ایك طبع زاد بحث ہے نہ کہ مذہب منقول بلکہ فی الواقع یہ صاحب مسایرہ کا بھی عقیدہ نہیں بحث عقیدہ نہیں ہوتی عقیدہ یوں نہیں کہا جاتا کہ کوئی کہنے والا کہہ سکتا ہے ان کا عقیدہ وہی ہے جو اصل مسئلہ یہاں بیان کیا اور آخر کتاب میں عقیدہ اہلسنت و جماعت کی فہرست میں لکھا یہ عبارات عنقریب ا ن شاء الله مذکور ہوتی ہیں یہاں مجھے اس بحث کا نا موجہ و بیحا صل ہونا بتانا ہے جو ضرورت اس بحث کی بیان کی اس کا باذنہ تعالی شافی و کافی جواب فقیر کے رسالہ “ ثلج الصدر لایمان القدر۱۳۳۵ھ “ سے کہ تحفہ حنفیہ میں طبع ہوا ملے گا اور اس
حوالہ / References
المسایرۃ متن المسامرۃ الاصل الاول العلم بانہ تعالٰی الخ المکتبۃ التجاریۃ الکبرٰی مصر ص ۱۱۹ تا ۱۲۳
بحث کا نامفید بے ثمر ہونا اس حاشیہ سے واضح جو فقیر نے یہاں ہا مش مسایرہ پر لکھا وہ یہ ہے :
قولہ فاذااوجد العبد ذلك العزم اقول : معاذالله ان یقول بان العبد یخلق شیئا واحدا ولا عشر عشیر معشار شیئ الا لہ الخلق والامر تبارك اﷲ رب العلمین افمن یخلق کمن لا یخلق ما کان لھم الخیرۃ ھل من خالق غیر اﷲ و کون ھذا قلیلا بالنسبۃ الی مقدورات اﷲ تعالی لا یجدی نفعا فانہ کثیر بثیر فی نفسہ جدا فان الا نسان لا یحصی مالہ من العزمات فی یو م واحد فکیف فی عمرہ فکیف عزائم الا ولین والا خرین من الانس والجن والملك وغیر ھم فتخرج ھذہ الکثرۃ التی تفنی دون عد بعضھا الا عمار عن مخلوقات العزیز الغفار بلا واسطۃ و تد خل فی مخلوقات العبید فیکون جواب ھل من خالق غیر اﷲ بالا یجاب والعیاذ باﷲای بلی ھنا ك الوف مؤ لفۃ خالقون غیر اﷲ ولم تبثت المعتزلۃ اکثرمن ھذااذ شنع علیھم ائمتنا من مشائخ ماوراء النھر وغیرھم رحمھم اﷲتعالی قائلین انھم اقبح من المجوس حیث ان المجوس لم یقولوالا بخالقین اثنین قولہ اذا اوجد العبد ذلك العزم(جب بندہ اس عزم کو ایجاد کرتا ہے)اقول : (میں کہتا ہوں)معاذالله کہ ہم یہ کہیں کہ بندہ کسی ایك چیز کو پیدا کرتا ہے جبکہ کسی بھی چیز کا عشر عشیر صرف الله تعالی کی تخلیق اور حکم سے ہوتا ہے الله تبارك تعالی ہی رب العالمین ہے کیا خالق غیر خالق کی طرح ہے جو کوئی اختیار نہیں رکھتے کیا الله تعالی کے سوا کوئی خالق ہو سکتا ہے اس عزم کا الله تعالی کی مقدورات کی نسبت قلیل ہونا کسی طرح مفید نہیں کیونکہ یہ فی نفسہ کثیر و وسیع ہے کیونکہ انسان ایك دن کے اپنے عزمات کا شمار نہیں کر سکتا تو اپنی عمر بھر کے عزمات کا احاطہ کیسے کر سکتا ہے تو اولین و آخرین انسانوں جنات اور فرشتوں وغیرہم کے عزمات کا کیا اندازہ ہو سکتاہے تو اس عظیم کثرت جس کے کچھ حصہ کو شمار کرنے میں عمریں ختم ہو جائیں کو تم الله تعالی عزیز غفار کی مخلوقات سے براہ راست خارج کر دو اور اس کو بندے کی مخلوقات بنا دو تو لازم آئیگا کہ “ ھل خالق من غیراﷲ “ (کیا الله کے ماسوا کوئی خالق ہے)کا جواب ایجاب میں ہو گا(کہ ہاں اور خالق ہے)والعیاذ بالله تعالی(پھر یوں کہنا ہو گا)ہاں یہاں ہزاروں ہزار ماسوا الله خالق ہیں معتزلہ بھی تو اتنا ہی کہتے ہیں جبکہ ماوراء النہرکے ہمارے ائمہ وغیر ہم رحمہم الله تعالی نے ان پر زبر دست تشنیع کی ہے اور انھوں نے ان کی مذمت کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ معتز لہ لوگ مجوس سے بد تر ہیں کیو نکہ مجوس نے دو خالقوں
قولہ فاذااوجد العبد ذلك العزم اقول : معاذالله ان یقول بان العبد یخلق شیئا واحدا ولا عشر عشیر معشار شیئ الا لہ الخلق والامر تبارك اﷲ رب العلمین افمن یخلق کمن لا یخلق ما کان لھم الخیرۃ ھل من خالق غیر اﷲ و کون ھذا قلیلا بالنسبۃ الی مقدورات اﷲ تعالی لا یجدی نفعا فانہ کثیر بثیر فی نفسہ جدا فان الا نسان لا یحصی مالہ من العزمات فی یو م واحد فکیف فی عمرہ فکیف عزائم الا ولین والا خرین من الانس والجن والملك وغیر ھم فتخرج ھذہ الکثرۃ التی تفنی دون عد بعضھا الا عمار عن مخلوقات العزیز الغفار بلا واسطۃ و تد خل فی مخلوقات العبید فیکون جواب ھل من خالق غیر اﷲ بالا یجاب والعیاذ باﷲای بلی ھنا ك الوف مؤ لفۃ خالقون غیر اﷲ ولم تبثت المعتزلۃ اکثرمن ھذااذ شنع علیھم ائمتنا من مشائخ ماوراء النھر وغیرھم رحمھم اﷲتعالی قائلین انھم اقبح من المجوس حیث ان المجوس لم یقولوالا بخالقین اثنین قولہ اذا اوجد العبد ذلك العزم(جب بندہ اس عزم کو ایجاد کرتا ہے)اقول : (میں کہتا ہوں)معاذالله کہ ہم یہ کہیں کہ بندہ کسی ایك چیز کو پیدا کرتا ہے جبکہ کسی بھی چیز کا عشر عشیر صرف الله تعالی کی تخلیق اور حکم سے ہوتا ہے الله تبارك تعالی ہی رب العالمین ہے کیا خالق غیر خالق کی طرح ہے جو کوئی اختیار نہیں رکھتے کیا الله تعالی کے سوا کوئی خالق ہو سکتا ہے اس عزم کا الله تعالی کی مقدورات کی نسبت قلیل ہونا کسی طرح مفید نہیں کیونکہ یہ فی نفسہ کثیر و وسیع ہے کیونکہ انسان ایك دن کے اپنے عزمات کا شمار نہیں کر سکتا تو اپنی عمر بھر کے عزمات کا احاطہ کیسے کر سکتا ہے تو اولین و آخرین انسانوں جنات اور فرشتوں وغیرہم کے عزمات کا کیا اندازہ ہو سکتاہے تو اس عظیم کثرت جس کے کچھ حصہ کو شمار کرنے میں عمریں ختم ہو جائیں کو تم الله تعالی عزیز غفار کی مخلوقات سے براہ راست خارج کر دو اور اس کو بندے کی مخلوقات بنا دو تو لازم آئیگا کہ “ ھل خالق من غیراﷲ “ (کیا الله کے ماسوا کوئی خالق ہے)کا جواب ایجاب میں ہو گا(کہ ہاں اور خالق ہے)والعیاذ بالله تعالی(پھر یوں کہنا ہو گا)ہاں یہاں ہزاروں ہزار ماسوا الله خالق ہیں معتزلہ بھی تو اتنا ہی کہتے ہیں جبکہ ماوراء النہرکے ہمارے ائمہ وغیر ہم رحمہم الله تعالی نے ان پر زبر دست تشنیع کی ہے اور انھوں نے ان کی مذمت کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ معتز لہ لوگ مجوس سے بد تر ہیں کیو نکہ مجوس نے دو خالقوں
فما اثبتوا لا شریکا واحد ا والمعتزلۃ اثبتوا شرکاء لا تحصی و ذلك انھا انما قالت بخلق العبد فعلہ الا ختیاری و کل فعل اختیاری لا بد لہ من عزم فعدد العزمات والا فعال سواء بل ربما تکون العزمات اکثر اذ قدیعزم العبد علی فعل ثم یصرف عنہ فلا یقع قال سیدنا علی کرم اﷲ تعالی وجھہ عر فت ربی بفسخ العزائم فان کانت العزمات یشملھا اسم واحد و ھو العزم فکذلك الا فعال ینتظمہا اسم واحد وھو الفعل فلا طائل تحت ما قد م الشارح و یأ تی ا نفا للمصنف انہ یکفی اسناد جزئی واحد الی العبد وھو العزم بل لو فرضنا انہ واحد بالشخص فاﷲ تعالی متعال عن ان یشارکہ احد فی خلق شیئ ولو جزئیا واحدااما اعتذار المصنف بان البراھین ای الا یات الناصۃ باختصاص الخلق بہ تعالی عمو مات تحتمل التخصیص وقد اوجبہ العقل اذ ار ادۃ العموم فیھا تستلزم الجبر المحض المستلزم لضیا ع التکلیف و بطلان الا مرو النھی و تعلق القدر ۃ بلا تا ثیر ای کما تقو لہ الا شاعرۃ لا ید فعہ لا ن موجب الجبر لیس کا قول کیا ہے یعنی الله تعالی کے ساتھ ایك اور شریك بنا دیا ہے جکہ معتزلہ نے الله تعالی کے بے شمار شریك بنا دئے یہ اس طرح کہ انھوں نے کہا کہ بندہ اپنے افعال اختیار یہ کا خود خالق ہے جبکہ ہر اختیاری فعل کےلئے عزم ضروری ہے تو اس طرح افعال اور عزمات کی تعداد مساوی ہوئی بلکہ عزمات کی تعداد بڑھ جاتی ہے کیونکہ بندہ کبھی ایك فعل کا عزم کرکے اس فعل کو ترك کر دیتا ہے جس سے فعل وجود میں نہیں آتا جیسا کہ علی المر تضی رضی الله تعالی عنہ نے فرمایا کہ میں نے اپنے رب کو عزائم کے ناکام ہونے سے پہچانا ہے اگر تمام عزائم کو ایك عزم کے نام سے تعبیر کیا جا سکتا ہے اس طرح تو تمام افعال کو بھی ایك فعل کے نام سے تعبیر کیا جاسکتا ہے کہ یہ ایك سب کو شامل ہے تو یہ بات شارح کی گزشتہ اور مصنف کی آئندہ گفتگوکہ بندہ کی طرف ایك جزئی چیز یعنی عزم کی نسبت اس کے مکلف ہونے کے لئے کافی ہے کو مفیدنہیں بلکہ اگر ہم فرض بھی کر لیں کہ یہ واحد شخصی ہے تب بھی الله تعالی اپنی تخلیق میں اس ایك شریك سے بھی پاك ہے اگرچہ یہ ایك جزئی ہو مصنف کا یہ عذر کہ وہ آیات جن میں تخلیق کو الله تعالی کا خاصہ بیان کیا گیا ہے وہ ایسے عمومات ہیں جن میں تخصیص کا احتمال ہے اور اس تخصیص کو عقل نے لازم کیا ہے کیو نکہ ان آیات کا عموم انسان کے مجبور محض ہونے کو مستلزم ہے جس سے مکلف ہونے اور امرونہی کا بطلان اور انسانی قدرت کا غیر مؤثر ہونا لازم آتا ہے اور اشاعرہ کا اس کے متعلق موقف کو ختم
سوی ان لا تاثیر لقدرۃ العبد فی ایجاد فعل اھ ملخصا فاعترضہ القاری فی منح الروض بان ذلك العزم المصمم داخل تحت الحکم المعمم اھ ۔
اقول : ھذا من اعجب ما تسمع من الرد فابن الھما م متی انکر د خولہ تحت العام ولو انکرہ فما کان یحوجہ الی التخصیص بل النظر فیہ بما ستسمع بتو فیق اﷲتعالی
فاقول اولا : بل الا یات عمومات لا تحتمل التخصیص لا جماع ائمۃ السنۃ علی اجرائھا علی سنتھا وان الخلق مختص باﷲ تعالی لا حظ فیہ للعبد فما ذاینفع کون اللفظ فی ذاتہ محتملا للخصوص مع الا جماع علی ان لا خصوص و من کان فی ریب مما قلنا فلیأ تنا بنقل من الصحا بۃ والتا بعین اومن بعد ھم من ائمۃ السنۃ المتقدمین
نہیں کرتا کیونکہ جبر کا موجب صرف یہی ہے کہ اس کے فعل کے ایجاد میں انسان کی اپنی قدرت کی تاثیر نہیں ہے اھ ملخصا تو اس عذر پر ملا علی قاری نے منح الروض میں اعتراض کیا ہے کہ انسان کا یہ عزم صمیم خود ان آیات کے عموم میں داخل ہے اور وہ الله تعالی کا مخلوق ہے اھ۔
اقول : (میں کہتا ہوں)تیری شنید میں یہ پسندیدہ رد ہے تو علامہ ابن ھمام نے عزم کو کب آیات کے عموم میں داخل ہونے سے انکار کیا ہے اگر انکار کیا ہوتا تو پھر تخصیص کی ان کو ضرورت پیش نہ آتی بلکہ ا س میں قابل غور وہ بات ہے جو آپ ابھی الله تعالی کی تو فیق سے سنیں گے
فاقول : (تو میں کہتا ہوں) کہ یہ آیا ت اپنے عموم پر ہیں ان میں کسی تخصیـص کا احتمال نہیں کہ اہلسنت کے ائمہ کا اجماع ہے کہ یہ آیات اپنے عمومی اقتضاء پر جاری ہیں اور یہ کہ خلق کی صفت صرف الله تعالی سے خاص ہے اس میں بندے کا کوئی دخل نہیں ہے تو لفظ کافی نفسہ محتمل تخصیص ہونا کیا مفید ہو سکتاہے جبکہ اجماع یہ ہے کہ یہاں تخصیص نہیں ہے اور اگر ہمارے اس بیان میں کسی کو شك ہو تو اسے چاہئے کہ وہ صحابہ کرام تابعین اور ان کے بعد والے متقدمین ائمہ اہلسنت میں سے کوئی نقل پیش کرے
اقول : ھذا من اعجب ما تسمع من الرد فابن الھما م متی انکر د خولہ تحت العام ولو انکرہ فما کان یحوجہ الی التخصیص بل النظر فیہ بما ستسمع بتو فیق اﷲتعالی
فاقول اولا : بل الا یات عمومات لا تحتمل التخصیص لا جماع ائمۃ السنۃ علی اجرائھا علی سنتھا وان الخلق مختص باﷲ تعالی لا حظ فیہ للعبد فما ذاینفع کون اللفظ فی ذاتہ محتملا للخصوص مع الا جماع علی ان لا خصوص و من کان فی ریب مما قلنا فلیأ تنا بنقل من الصحا بۃ والتا بعین اومن بعد ھم من ائمۃ السنۃ المتقدمین
نہیں کرتا کیونکہ جبر کا موجب صرف یہی ہے کہ اس کے فعل کے ایجاد میں انسان کی اپنی قدرت کی تاثیر نہیں ہے اھ ملخصا تو اس عذر پر ملا علی قاری نے منح الروض میں اعتراض کیا ہے کہ انسان کا یہ عزم صمیم خود ان آیات کے عموم میں داخل ہے اور وہ الله تعالی کا مخلوق ہے اھ۔
اقول : (میں کہتا ہوں)تیری شنید میں یہ پسندیدہ رد ہے تو علامہ ابن ھمام نے عزم کو کب آیات کے عموم میں داخل ہونے سے انکار کیا ہے اگر انکار کیا ہوتا تو پھر تخصیص کی ان کو ضرورت پیش نہ آتی بلکہ ا س میں قابل غور وہ بات ہے جو آپ ابھی الله تعالی کی تو فیق سے سنیں گے
فاقول : (تو میں کہتا ہوں) کہ یہ آیا ت اپنے عموم پر ہیں ان میں کسی تخصیـص کا احتمال نہیں کہ اہلسنت کے ائمہ کا اجماع ہے کہ یہ آیات اپنے عمومی اقتضاء پر جاری ہیں اور یہ کہ خلق کی صفت صرف الله تعالی سے خاص ہے اس میں بندے کا کوئی دخل نہیں ہے تو لفظ کافی نفسہ محتمل تخصیص ہونا کیا مفید ہو سکتاہے جبکہ اجماع یہ ہے کہ یہاں تخصیص نہیں ہے اور اگر ہمارے اس بیان میں کسی کو شك ہو تو اسے چاہئے کہ وہ صحابہ کرام تابعین اور ان کے بعد والے متقدمین ائمہ اہلسنت میں سے کوئی نقل پیش کرے
حوالہ / References
المسایرۃ مع المسامرۃ العلم بانہ تعالٰی لاخالق سواہ المکتبۃ التجاریۃ الکبرٰی مصر ص ۱۱۶ و ۱۱۷
منح الروض الازہر شرح الفقہ الاکبر افعال العبدکسبھم الخ مصطفٰی البابی مصر ص ۵۲
منح الروض الازہر شرح الفقہ الاکبر افعال العبدکسبھم الخ مصطفٰی البابی مصر ص ۵۲
قبل حدوث ھؤلا المتأ خرین یکون فیہ ان للعبد ایضا قسطا من الخلق والا یجاد ولن یاتی بہ حتی بوب القار ظان ویمکن التکلف بارجاع ماللقاری الی ھذا ای الا جماع قائم علی عدم التخصیص فذلك العز م ایضا غیر مخرج من الحکم۔
ثانیا : لا حاجۃ بنا الی تخصیص النصوص و اثبات منصب افاضۃ الوجود لمن لا وجود لہ فی حد ذاتہ بل تندفع الحاجۃ علی وزان ماتز عمون اندفاعھاھھنا باثبات تا ثیر القدرۃ الحادثۃ فی شیئ دون الوجود کما ھو مذھب الا مام ابی بکر الباقلانی اناللانسان قدرۃ مؤثرۃ لکن لا فی الوجود بل فی حال زائدۃ علی الوجود وقد ارتضاہ جمع من المحققین ذاھبین الی ان تا ثیر ھا فی القصد والقصد حال لا موجود ولا معدوم ای ھو من الامور الا عتبار یۃ التی وجو دھا بمنا شیھا والخلف فی الحال لفظی کما فی الفصول البد ائع وغیرھا فلیس افاضتھا خلقا فانہ افاضۃ الوجو د بل ھو احداث والا حداث اھون من الخلق کما فی المسلم وفواتح وعلیہ تد ور کلمات الامام
جس میں یہ ہو کہ بندے کے لئے کبھی خلق و ایجاد میں دخل ہے ان سے قبل کسی امام سے کوئی نقل پیش نہیں کی جا سکتی حتی کہ قارظان واپس لوٹ آئیں اور علامہ قاری کی کلام کوتکلف سے اسی عدم تخصیص کے اجماع کی طرف راجع کیا جائے گا کہ یہ عزم صمیم بھی ان آیات کے عموم سے خارج نہیں ہے۔
ثانیا : ہمیں ان نصوص کے عموم میں تخصیص کرنے اور ایجاد کا منصب ایسی ذات کے لئے ثابت کرنے کی حاجت نہیں جس کا اپنا وجود ذاتی نہیں ہے بلکہ بندے کے مجبور محض کو دفع کرنے کی حاجت ان کے اس اندفاع سے پوری ہو جاتی ہے جس کو انھوں نے اپنے خیال میں اند فاع قرار دیتے ہوئے یہ کہا ہے کہ الله تعالی کی قدرت کی تا ثیر کے بعد بندے کی نئی تاثیر کا تعلق وجود میں نہیں بلکہ اور چیز میں ہے جیسا کہ امام ابو بکر با قلانی کا مذہب ہے کہ انسان کی قدرت مؤثر ہے لیکن وجود میں نہیں بلکہ وجود سے زائد ایك حال میں ہے جس کو بہت سے محققین نے پسند کرتے ہوئے کہا کہ انسان کی تا ثیر کا تعلق قصد سے ہے اور یہ قصد ایك حال ہے جو نہ موجود ہے اور نہ معدوم ہے یعنی وہ ایك ایسی اعتباری چیز ہے جس کا و جود صرف اس کے منشاء کے تابع ہے اور اس حال میں اختلاف صرف لفظی جیسا کہ الفصول البدائع وغیرہ میں ہے تو اس قصد کو بروئے کار لانا بطور خلق نہیں ہوتابلکہ خلق اور وجود کا فیضان ہے جس کو احداث کہاجاتاہے اور احداث کی شان خلق سے کمزور ہے جیسا کہ مسلم الثبوت اور فواتح میں ہے اور امام محقق
ثانیا : لا حاجۃ بنا الی تخصیص النصوص و اثبات منصب افاضۃ الوجود لمن لا وجود لہ فی حد ذاتہ بل تندفع الحاجۃ علی وزان ماتز عمون اندفاعھاھھنا باثبات تا ثیر القدرۃ الحادثۃ فی شیئ دون الوجود کما ھو مذھب الا مام ابی بکر الباقلانی اناللانسان قدرۃ مؤثرۃ لکن لا فی الوجود بل فی حال زائدۃ علی الوجود وقد ارتضاہ جمع من المحققین ذاھبین الی ان تا ثیر ھا فی القصد والقصد حال لا موجود ولا معدوم ای ھو من الامور الا عتبار یۃ التی وجو دھا بمنا شیھا والخلف فی الحال لفظی کما فی الفصول البد ائع وغیرھا فلیس افاضتھا خلقا فانہ افاضۃ الوجو د بل ھو احداث والا حداث اھون من الخلق کما فی المسلم وفواتح وعلیہ تد ور کلمات الامام
جس میں یہ ہو کہ بندے کے لئے کبھی خلق و ایجاد میں دخل ہے ان سے قبل کسی امام سے کوئی نقل پیش نہیں کی جا سکتی حتی کہ قارظان واپس لوٹ آئیں اور علامہ قاری کی کلام کوتکلف سے اسی عدم تخصیص کے اجماع کی طرف راجع کیا جائے گا کہ یہ عزم صمیم بھی ان آیات کے عموم سے خارج نہیں ہے۔
ثانیا : ہمیں ان نصوص کے عموم میں تخصیص کرنے اور ایجاد کا منصب ایسی ذات کے لئے ثابت کرنے کی حاجت نہیں جس کا اپنا وجود ذاتی نہیں ہے بلکہ بندے کے مجبور محض کو دفع کرنے کی حاجت ان کے اس اندفاع سے پوری ہو جاتی ہے جس کو انھوں نے اپنے خیال میں اند فاع قرار دیتے ہوئے یہ کہا ہے کہ الله تعالی کی قدرت کی تا ثیر کے بعد بندے کی نئی تاثیر کا تعلق وجود میں نہیں بلکہ اور چیز میں ہے جیسا کہ امام ابو بکر با قلانی کا مذہب ہے کہ انسان کی قدرت مؤثر ہے لیکن وجود میں نہیں بلکہ وجود سے زائد ایك حال میں ہے جس کو بہت سے محققین نے پسند کرتے ہوئے کہا کہ انسان کی تا ثیر کا تعلق قصد سے ہے اور یہ قصد ایك حال ہے جو نہ موجود ہے اور نہ معدوم ہے یعنی وہ ایك ایسی اعتباری چیز ہے جس کا و جود صرف اس کے منشاء کے تابع ہے اور اس حال میں اختلاف صرف لفظی جیسا کہ الفصول البدائع وغیرہ میں ہے تو اس قصد کو بروئے کار لانا بطور خلق نہیں ہوتابلکہ خلق اور وجود کا فیضان ہے جس کو احداث کہاجاتاہے اور احداث کی شان خلق سے کمزور ہے جیسا کہ مسلم الثبوت اور فواتح میں ہے اور امام محقق
المحقق صدر الشریعۃ فی التو ضیح والعلامۃ الشمس الفناری فی الفصول البدائع و تبعہ العلامۃ قاسم تلمیذ المحقق ابن الھما م فی تعلیقاتہ علی المسایرۃ وغیرھم رحمھم اﷲ تعالی وھم مع تنو ع مناز عھم یر جعون الی ذلك الحرف الواحد ولم ار احد منھم یر ضی بتخصیص العمومات اللھم الا ماحکی عن الامام ابی المعالی علی الاضطر اب فیہ فتارۃ یثبتہ و تا رۃ ینفیہ کما فی الیواقیت عن الشیخ ابی طاھر القزوینی بل الکلام فی ثبوتہ عنہ کما سیأتی والمنقول عن الحنفیۃفی کتب المتا خرین ھو ھذا القد راعنی ان للقدرۃ الحادثۃ اثرا فی القصد ا ما انہ خلق وایجاد او النصوص مخصصۃ فکلا لا یو جد ھذا الا للمحقق و قد قال الا ما م صدر الشریعۃ فی التو ضیح بعد ما استفرغ و سعہ فی التو ضیح والتنقیح فالحاصل ان مشایخنا ر حمھم اﷲ تعالی ینفون عن العبد قدرۃ الا یجاد والتکوین فلا خالق ولا مکون الا اﷲ تعالی لکن یقولون ان للعبد قدرۃ ماعلی وجہ لا یلزم منہ وجود امر حقیقی لم یکن بل انما یختلف بقدرتہ النسب والا ضافات فقط کتعین احد المتسا ویین و ترجیحہ اھ فھذا نص صدرالشریعۃ کا تو ضیح اور علامہ شمس فناری کا الفصول البدائع میں کلا م اسی پر دائر ہے اور علامہ قاسم شاگردرشید محقق ابن ہمام نے مسایرہ پر اپنی تعلیقات میں اس کی اتباع کی ہے اور مذکور حضرات کے غیر رحمہم الله تعالی باوجودیکہ وہ اپنے اپنے بیان میں مختلف ہیں وہ سب اس ایك بات پر متفق ہیں میں نے اس میں سے کسی کو بھی عمومات میں تخصیص پر راضی نہیں پایا صرف امام ابو المعالی سے اس میں اضطراب منقول ہے کہ کبھی وہ تخصیص کوثابت اور کبھی اسکی نفی کرتے ہیں جیسا کہ یواقیت میں شیخ ابو طاہر قزوینی سےمنقول ہے بلکہ ان سے ثبوت میں کلا م ہے جیسا کہ آرہا ہے اور متأخرین کی کتب میں جو کچھ احناف سے منقول ہے وہ صرف یہ ہے کہ انسان کی قدرت حادثہ کا اثر قصد میں ہے لیکن یہ کہ وہ خلق و ایجاد ہے یا آیات میں تخصیص ہے اس کاہر گز کہیں وجود نہیں ہاں صرف محقق مذکور نے ذکر کیا ہے جبکہ امام صدر الشریعۃ نے توضیح میں مکمل تو ضیح و تنقیح سے فراغت کے بعد فرمایا کہ حاصل یہ ہے کہ ہمارے مشائخ رحمہم الله تعالی بندے کی قدرت خلق و ایجاد اور تکوین کی نفی کرتے ہیں لہذا الله تعالی کے ماسوا کوئی خالق اور مکون نہیں ہے لیکن اس کے باوجود وہ بندے کی قدرت کے اس طرح قائل ہیں کہ اس سے کسی معدوم چیز کے حقیقی وجود کا قول لازم نہ آئے بلکہ انسانی قدرت سے صرف نسبت و اضافت تبدیل ہوتی ہے مثلا دو مساوی چیزوں میں سے ایك کا تعین اور ترجیح
حوالہ / References
التو ضیح مع التلو یح فصل فی مسائل الجبر والقدر المطبعۃ الخیریۃ مصر ۲ / ۱۵۵
صریح فی ان مذھب الحنفیۃ علی خلاف ما بحث المحقق ولو لا نسحب الکلام علی منوال الا لتزا م لقلت انہ ابداہ نقضا علی القدریۃ اللئام بانہ لو سلم ان الحاجۃ الی تصحیح التکلیف والجزاء تؤ دی الی ذلك ولا بد فھی تندفع بشیئ واحد وھو القصد فلم قلتم فی جمیع الافعال بخالقیۃ العبد ولعمری ھذا قاطع لھم لا یمکنھم الخروج عنہ۔ ھذاوقال الامام محمد السنوسی رحمہ اﷲ تعالی فی شرح ام البراھین مقدمتہ فی التوحید وبالجملۃ فلیعلم ان الکائنات کلھا یستحیل منھا الاختراع لا ثر ما بل جمیعھا مخلوق لمو لنا جل و عز و مفتقر الیہ اشد الا فتقار ابتداء ودوا ما بلا واسطۃ فبھذاشھدالبرھان العقلی و دل علیہ الکتاب والسنۃ واجماع السلف الصالح قبل ظہور البدع ولا تصغ باذ نیك لما ینقلہ بعض من اولع ینقل الغث والسمین عن مذھب بعض اھل السنۃ مما یخالف ما ذکرنا ہ لك فشد یدك علی ما ذکر نا ہ فھو الحق الذی لا شك فیہ ولا یصح غیرہ واقطع تشرفك الی سماع الباطل تعش سعیدا و تمت ان شا ء اﷲ تعالی ہو جائے اھ تو یہ صریح نص ہے کہ احناف کا مسلك محقق مذکور کی بحث کے خلاف ہے اگر محقق مذکور کے کلام کو ان کے التزام پر محمول نہ کریں تو میں کہوں گا کہ انھوں نے یہ گفتگو قدریہ ملعون فرقے پر بطور نقض ذکر کی ہے کہ اگر بقول قدریہ یہ تسلیم بھی کر لیا جائے کہ انسان کے مکلف ہونے اور علم کی جزادئے جانے کی بنا پر اس چیز کی حاجت ہے تو بھی یہ حاجت صرف ایك قصد کے ایجاد سے پوری ہو جاتی ہے تو پھر تم تمام افعال کے لئے بندے کی خالقیت کا قول کیوں کرتے ہو تو یقینا محقق مذکور کا یہ موقف قدریہ کے موقف کا قاطع ہے جس سے ان کو فرار ممکن نہیں ہے اس کو محفوظ کرو۔ امام سنوسی رحمہ الله تعالی نے ام البراہین کے مقدمہ فی التوحید میں فرمایا خلاصہ یہ کہ معلوم ہونا چاہئے کہ تمام کائنات میں کسی اثر سے اختراع محال ہے بلکہ پوری کائنات الله تعالی مولی عزوجل کی مخلوق ہے اور ابتداء و دوام میں بلا واسطہ اسی کی سخت محتاج ہے عقلی دلیل کی یہی شہادت ہے اور کتا ب و سنت اور اجماع سلف صالحین کا یہی مدلول ہے اور بدعات کے ظہور سے قبل یہ مسلم ہے لہذا بعض ایسے لوگوں کی بات مت سنو جو مذہب اہل سنت و جماعت کے متعلق ضعیف و قوی ہر قسم کی بات ہمارے ذکر کردہ کے خلاف نقل کردیتے ہیں لہذا ہمارے ذکرکردہ پر ہاتھ کو مضبوط کر یہی حق ہے جس میں شك کی گنجائش نہیں ہے اور اس کے علاوہ سب نادرست ہے اس لئے باطل کی طرف اپنی توجہ کو مبذول مت کر ان شاء الله
طیبا رشیدا واﷲ المستعان اھ قال محشیہ الفا ضل محمد الد سوقی اشاربھذاالی ثلثۃ اقوال نقلت عن اھل السنۃ قول القاضی بتا ثیر قدرۃ العبد فی حال الفعل و قول الاستاذالا سفر ائنی تو ثر فی اعتبار لا ن الا ستاذ لایقول بالا حوال و قول امام الحرمین فی ذات الفعل علی وفق مشیئۃ الرب وھذہ الا قوال غیرصحیحۃ لمخالفتھا لا جماع السلف الصالح فان قلت کیف یصح من ھؤ لاء الا ئمۃ مخالفۃ الاجماع قلت قال فی شرح الکبری لا یصح نسبتھا لھم بل ھی مکذوبۃ عنھم ولئن صحت فانما قالوہ فی مناظرۃ مع المعتزلۃ جرالیھا الجدل اھ ملخصا۔
اقول : اما مخالفۃ مانقل عن ابی المعالی للا جماع فظا ھر و قد صح خلافہ سعادت مند زندگی پائے گا اور پاکیزہ کامیاب موت پائے گا جبکہ الله تعالی ہی مستعان و مدد گار ہے اھ اس کے محشی فاضل محمد دسوقی نے یہاں کہا کہ انھوں نے بعض ناقلین کہہ کر تین اقوال کی طرف اشارہ کیا ہے جو اہلسنت و جماعت کی طرف منسوب ہیں جن میں ایك قاضی کا قول ہے کہ بندے کی قدرت فعل کے حال میں تاثیر کرتی ہے اور دوسرا قول استاذا سفرائنی کا ہے کہ بندے کی قدرت اعتبار میں مؤثر ہے کیونکہ یہ استاذ احوال کے قائل نہیں اور تیسراقول امام الحرمین کا ہے کہ بندے کی قدرت کی تاثیر نفس فعل میں الله تعالی کی مشیت کے مطابق ہوتی ہے یہ تینوں اقوال نادرست ہیں کیونکہ یہ سلف صالحین کے اجماع کے خلاف ہیں۔ اگر یہ اعتراض ہو کہ ان ائمہ کرام کے اقوال اجماع کے خلاف کیونکر صادر ہوئے تو اس کے جواب میں میں کہتا ہوں کہ شرح کبری میں فرمایا کہ ان اقوال کی نسبت ان ائمہ کی طرف درست نہیں ہے بلکہ یہ ان پر جھوٹ کہا گیا ہے اور اگر یہ نسبت درست بھی ہو تو انھوں نے یہ بات معتزلہ کے ساتھ مناظرہ میں بطور ارخاء عنان کہی ہے اھ ملخصا۔
اقول(میں کہتا ہوں)ابو المعالی سے جو منقول ہے اس کا اجماع کے مخالف ہونا ظاہر ہے حالانکہ ان سے اس کا خلاف صحیح ثابت ہے جیسا کہ
اقول : اما مخالفۃ مانقل عن ابی المعالی للا جماع فظا ھر و قد صح خلافہ سعادت مند زندگی پائے گا اور پاکیزہ کامیاب موت پائے گا جبکہ الله تعالی ہی مستعان و مدد گار ہے اھ اس کے محشی فاضل محمد دسوقی نے یہاں کہا کہ انھوں نے بعض ناقلین کہہ کر تین اقوال کی طرف اشارہ کیا ہے جو اہلسنت و جماعت کی طرف منسوب ہیں جن میں ایك قاضی کا قول ہے کہ بندے کی قدرت فعل کے حال میں تاثیر کرتی ہے اور دوسرا قول استاذا سفرائنی کا ہے کہ بندے کی قدرت اعتبار میں مؤثر ہے کیونکہ یہ استاذ احوال کے قائل نہیں اور تیسراقول امام الحرمین کا ہے کہ بندے کی قدرت کی تاثیر نفس فعل میں الله تعالی کی مشیت کے مطابق ہوتی ہے یہ تینوں اقوال نادرست ہیں کیونکہ یہ سلف صالحین کے اجماع کے خلاف ہیں۔ اگر یہ اعتراض ہو کہ ان ائمہ کرام کے اقوال اجماع کے خلاف کیونکر صادر ہوئے تو اس کے جواب میں میں کہتا ہوں کہ شرح کبری میں فرمایا کہ ان اقوال کی نسبت ان ائمہ کی طرف درست نہیں ہے بلکہ یہ ان پر جھوٹ کہا گیا ہے اور اگر یہ نسبت درست بھی ہو تو انھوں نے یہ بات معتزلہ کے ساتھ مناظرہ میں بطور ارخاء عنان کہی ہے اھ ملخصا۔
اقول(میں کہتا ہوں)ابو المعالی سے جو منقول ہے اس کا اجماع کے مخالف ہونا ظاہر ہے حالانکہ ان سے اس کا خلاف صحیح ثابت ہے جیسا کہ
حوالہ / References
شرح ام البراہین للا مام محمدالسنوسی
حاشیہ شرح ام البراہین للفاضل الدسوقی
حاشیہ شرح ام البراہین للفاضل الدسوقی
کما ستسمع اما قول امام اھل السنۃ الباقلانی والاستاذ الا مام ابی اسحق علی مانقل ھھنا فلیس فیہ رائحۃ خلاف ما اسقر علیہ الا جماع والا تفاق لما علمت انہ لیس فی شیئ من الا یجاد والتکوین علی الا طلاق و قال العلامۃ فی شرح المقاصد المشہورفیما بین القوم والمذکور فی کتبھم ان مذھب امام الحرمین ان فعل العبد واقع بقدرتہ وارادتہ کما ھور أی الحکما ء وھذا خلاف ما صرح بہ الامام فیما وقع الینا من کتبہ قال فی الا رشاد اتفق ائمۃ السلف قبل ظھور البدع والا ھواء علی ان الخالق ھواﷲ ولا خالق سواہ ان الحوادث کلھا حدثت بقدرۃ اﷲ تعالی من غیر فرق بین ما یتعلق قدرۃ العبادبہ و بین ما یتعلق فان تعلق الصفۃ بشیئ لا یستلزم تا ثیر ھا فیہ کالعلم بالمعلوم والا رادۃ عــــــہ بفعل الغیرفا لقدرۃ عنقریب آپ سنیں گے لیکن امام اہلسنت باقلانی اور استا ذ امام ابو اسحق اسفرائنی سے جو یہاں ان کے اقوال نقل کئے گئے ہیں اس میں اجماع اور اتفاق کے خلاف بو تك بھی نہیں ہے کیونکہ انکے کلام میں ایجاد و تکوین کے متعلق علی الا طلاق کوئی بات نہیں ہے اور شرح مقاصد میں علامہ نے فرمایا کہ قوم میں مشہور اور ان کی کتب میں مذکور ہے کہ امام الحرمین کا مذہب یہ ہے کہ بندے کا فعل اس کی اپنی قدرت اور ارادہ سے واقع ہوتا ہے جیسا کہ حکماء کی رائے ہے حالانکہ یہ بات امام کی اس تصریح کے خلاف ہے جو انھوں نے اپنی ان کتب میں کی ہے جو ہمارے پاس پہنچی ہیں انھوں نے ارشاد میں فرمایا کہ بد عات و گمراہی کے ظہور سے قبل ائمہ سلف کاا تفاق ہے کہ خالق صرف الله تعالی ہے اس کے سو ا کوئی خالق نہیں ہے اور تمام حوادث کا وجو د الله تعالی کی قدرت سے ہوتا ہے خواہ ان کے ساتھ بندوں کی قدرت کا تعلق ہو یا نہ ہو ان میں کوئی فرق نہیں کیونکہ کسی چیز کے ساتھ صفت کے تعلق سے یہ لازم نہیں آتا کہ اس صفت کی تاثیر اس چیز میں پائی جائے جیسا کہ علم کا تعلق معلوم سے اور ارادہ کا تعلق
عــــــہ : اقول : ارادۃ فعل الغیر وان لم تکن من الا ر ادۃ المبحوث عنھا اعنی صفۃ من شانھا تخصیص احد المقدورین کما لا یخفی بل بمعنی المحبۃ والھوی لکنہ اقول : (میں کہتا ہوں۔ ت)غیر کے فعل کا ارادہ وہ ارادہ نہیں جو زیر بحث ہے یعنی وہ صفت جو مقدورین میں سے ایك کو خاص کرے یہ مراد نہیں کمالا یخفی بلکہ یہاں بمعنی محبت اور خواہش کے ہے دوسری صفت کے ذکر سے (باقی اگلے صفحہ پر)
عــــــہ : اقول : ارادۃ فعل الغیر وان لم تکن من الا ر ادۃ المبحوث عنھا اعنی صفۃ من شانھا تخصیص احد المقدورین کما لا یخفی بل بمعنی المحبۃ والھوی لکنہ اقول : (میں کہتا ہوں۔ ت)غیر کے فعل کا ارادہ وہ ارادہ نہیں جو زیر بحث ہے یعنی وہ صفت جو مقدورین میں سے ایك کو خاص کرے یہ مراد نہیں کمالا یخفی بلکہ یہاں بمعنی محبت اور خواہش کے ہے دوسری صفت کے ذکر سے (باقی اگلے صفحہ پر)
الحادثۃ لا تؤ ثرفی مقدورھا غیر کے فعل سے ہوتا ہے تو قدرت حادثہ اپنی مقدورات میں ہر گز
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
یر یدا الا ستیضا ح بصفا ت اخری الا تر ی انہ ذکر العلم ثم التقیید الفعل الغیر لیکون اوضح واظھر والا فارادۃ فعل نفسہ ایضا غیر مؤ ثرۃ فی الفعل انما شانھا التخصیص والتاثیر شان القدرۃ کما نص علیہ فی المسا یرۃ غیرانہ یتجہ لھم الجواب بان الکلام فی القدرۃ ولیس من شانھا الا التاثیر عند تعلق الا رادۃ ا ما العلم والا رادۃ فبمعزل عن التاثیر وکانہ لھذا عدل عنہ الامام حجۃ الاسلام فی قواعد العقائد فاستند بنفس القدرۃ اذ یقول ولیس من ضرورۃ تعلق القدرۃ بالمقدوران یکون بالا ختراع فقط اذ قدرہ اﷲ تعالی فی الا زل قد کانت متعلقۃ با لعالم ولم یکن الاختراع حاصلا بھا وھی عندالا ختراع متعلقۃ بہ نو عا اخر من التعلق فیہ فبطل ان القدرۃ تختص بایجاد المقدر اھ ان کا مقصد صرف وضاحت کرنا آپ غو رنہیں کرتے کہ انھوں نے صفت علم ذکر کی اور پھر ارادہ کو غیر کے فعل سے مقید کیا تاکہ زیادہ وضاحت و اظہار ہوسکے ورنہ تو اپنے فعل کا ارادہ بھی غیر مؤثر ہوتا ہے جس کی شان صرف تخصیص کرنا ہے جبکہ تاثیر صرف قدرت کی شان ہوتی ہے جیسا کہ اس پر مسایرہ میں نص کی گئی ہے علا وہ ازیں وہ معتزلہ کو جواب دے رہے ہیں کہ بحث قدرت میں ہو رہی ہے جو صرف اس وقت تاثیر کرتی ہے جب ارادہ کا تعلق ہو لیکن محض علم اور ارادہ کا تاثیر میں کوئی دخل نہیں ہے گویا کہ اسی لئے امام حجۃ الاسلام نے اس انداز کو تبدیل کرتے ہوئے قواعد العقائد میں نفس قدرت کو دلیل میں اختیار کیا جب انھوں نے فرمایا کہ مقدور کے ساتھ قدرت کے تعلق کو یہ لازم نہیں ہے کہ وہ تعلق صرف ایجاد و اختراع کے لئے ہو کیونکہ ازل میں الله تعالی کی قدرت کا تعلق تمام عالم سے ہوا حالانکہ اس وقت اختراع و ایجاد اس تعلق سے نہ ہوا جبکہ اختراع کے وقت ایك اور تعلق ہوا تو اس سے یہ کہنا باطل ٹھہرا کہ قدرت صرف ایجاد مقدر سے مختص ہے اھ (باقی اگلے صفحہ پر)
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
یر یدا الا ستیضا ح بصفا ت اخری الا تر ی انہ ذکر العلم ثم التقیید الفعل الغیر لیکون اوضح واظھر والا فارادۃ فعل نفسہ ایضا غیر مؤ ثرۃ فی الفعل انما شانھا التخصیص والتاثیر شان القدرۃ کما نص علیہ فی المسا یرۃ غیرانہ یتجہ لھم الجواب بان الکلام فی القدرۃ ولیس من شانھا الا التاثیر عند تعلق الا رادۃ ا ما العلم والا رادۃ فبمعزل عن التاثیر وکانہ لھذا عدل عنہ الامام حجۃ الاسلام فی قواعد العقائد فاستند بنفس القدرۃ اذ یقول ولیس من ضرورۃ تعلق القدرۃ بالمقدوران یکون بالا ختراع فقط اذ قدرہ اﷲ تعالی فی الا زل قد کانت متعلقۃ با لعالم ولم یکن الاختراع حاصلا بھا وھی عندالا ختراع متعلقۃ بہ نو عا اخر من التعلق فیہ فبطل ان القدرۃ تختص بایجاد المقدر اھ ان کا مقصد صرف وضاحت کرنا آپ غو رنہیں کرتے کہ انھوں نے صفت علم ذکر کی اور پھر ارادہ کو غیر کے فعل سے مقید کیا تاکہ زیادہ وضاحت و اظہار ہوسکے ورنہ تو اپنے فعل کا ارادہ بھی غیر مؤثر ہوتا ہے جس کی شان صرف تخصیص کرنا ہے جبکہ تاثیر صرف قدرت کی شان ہوتی ہے جیسا کہ اس پر مسایرہ میں نص کی گئی ہے علا وہ ازیں وہ معتزلہ کو جواب دے رہے ہیں کہ بحث قدرت میں ہو رہی ہے جو صرف اس وقت تاثیر کرتی ہے جب ارادہ کا تعلق ہو لیکن محض علم اور ارادہ کا تاثیر میں کوئی دخل نہیں ہے گویا کہ اسی لئے امام حجۃ الاسلام نے اس انداز کو تبدیل کرتے ہوئے قواعد العقائد میں نفس قدرت کو دلیل میں اختیار کیا جب انھوں نے فرمایا کہ مقدور کے ساتھ قدرت کے تعلق کو یہ لازم نہیں ہے کہ وہ تعلق صرف ایجاد و اختراع کے لئے ہو کیونکہ ازل میں الله تعالی کی قدرت کا تعلق تمام عالم سے ہوا حالانکہ اس وقت اختراع و ایجاد اس تعلق سے نہ ہوا جبکہ اختراع کے وقت ایك اور تعلق ہوا تو اس سے یہ کہنا باطل ٹھہرا کہ قدرت صرف ایجاد مقدر سے مختص ہے اھ (باقی اگلے صفحہ پر)
حوالہ / References
احیاء العلوم کتاب قواعد العقائد الفصل الثالث مطبعۃ المشہد الحسینی قاہرہ ۱ / ۱۱۱
اصلا و اتفقت المعتزلۃ ومن تابعہم من اھل الزیغ مؤ ثر نہیں ہوتی جبکہ معتزلہ اور انکے متبعین گمراہ حضرات
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
وانت تعلم ان القدرۃ انما تؤ ثر علی وفق الارادۃ وانما تعلقت الارادۃ فی الازل ان توجدالکائنات فی اوقاتھا المخصوصۃ فیمالایزال فلانسلم ان القدرۃ تعلقت مع العراء عن الاختراع بل اثرت واختراعت علی و فق الارادۃ اماھھنا فتعلق بلا تاثیر اصلافلم تکن الااسما بلا مسمی ولفظا بلا معنی وھذاما حصل ماناقشہ بہ فی المسایرۃ۔
اقول : ولا اری ھذہ العقدۃتنفك الاباحدامرین الاول لیست القدرۃماتؤثرحتماولامع الارادۃولامحیدعنہ للمعتزلۃ ایضا الاتری ان الکفرۃبذلواجھدھم فی ایذاء النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وھموابمالم ینالوا ورداﷲالذین کفروابغیظھم فانما القدرۃ صفۃمن شانھا التاثیروتؤثرمع الارادۃ لولامانع وقدقال فی المسامرۃ شرح المسایرۃاعلم ان الاشعریۃلاینفون عن القدرۃ الحادثۃ آپ جانتے ہیں کہ قدرت کی تا ثیرارادہ کے موافق ہوتی ہے تو ازل میں اس ارادہ کا تعلق ہوا کہ کائنات اپنے مخصوص اوقات میں یعنی لا یزال میں موجود ہو اس لئے ہم یہ تسلیم نہیں کرتے کہ قدرت کا تعلق اختراع سے خالی ہو سکتا ہے بلکہ قدرت ارادہ کے موافق تاثیر کرتی ہے اور اختراع کرتی ہے لیکن یہاں بند ے کے معاملہ میں قدرت کا تعلق ہر گز تاثیر کے لئے معنی نہیں مسایرہ میں جو مناقشہ بیان کیا ہے یہ اس کا ماحصل ہے۔
اقول : (میں کہتاہوں)اور یہ عقدہ میری رائے میں صرف دوامور میں سے ایك کے ساتھ حل ہو گا اول یہ کہ کوئی بھی قدرت اگرچہ ارادہ کے ساتھ بھی ہو حتمی طور پر موثر نہیں ہے اور معتزلہ کو بھی اس سے فرار نہیں ہے کیاآپ نہیں دیکھتےکہ کفار نے حضورنبی پاك صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو ایذارسانی میں مکمل جدوجہد کی اور پورا عزم کیا جو حاصل نہ کر پائے اور الله تعالی نے کفار کے غیظ و غضب کو مردود کر دیا لہذا قدرت ایك ایسی صفت ہے جس کی شان صرف تاثیر کرنا ہے اوروہ ارادہ کے ساتھ تاثیر کرتی ہے بشرطیکہ کوئی مانع نہ ہو چنانچہ مسامرہ شرح مسایرہ میں کہا ہے کہ اشعری حضرات قدرت حادثہ کی تاثیر بالفعل کی نفی کرتے ہیں اس کی (باقی اگلے صفحہ پر)
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
وانت تعلم ان القدرۃ انما تؤ ثر علی وفق الارادۃ وانما تعلقت الارادۃ فی الازل ان توجدالکائنات فی اوقاتھا المخصوصۃ فیمالایزال فلانسلم ان القدرۃ تعلقت مع العراء عن الاختراع بل اثرت واختراعت علی و فق الارادۃ اماھھنا فتعلق بلا تاثیر اصلافلم تکن الااسما بلا مسمی ولفظا بلا معنی وھذاما حصل ماناقشہ بہ فی المسایرۃ۔
اقول : ولا اری ھذہ العقدۃتنفك الاباحدامرین الاول لیست القدرۃماتؤثرحتماولامع الارادۃولامحیدعنہ للمعتزلۃ ایضا الاتری ان الکفرۃبذلواجھدھم فی ایذاء النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وھموابمالم ینالوا ورداﷲالذین کفروابغیظھم فانما القدرۃ صفۃمن شانھا التاثیروتؤثرمع الارادۃ لولامانع وقدقال فی المسامرۃ شرح المسایرۃاعلم ان الاشعریۃلاینفون عن القدرۃ الحادثۃ آپ جانتے ہیں کہ قدرت کی تا ثیرارادہ کے موافق ہوتی ہے تو ازل میں اس ارادہ کا تعلق ہوا کہ کائنات اپنے مخصوص اوقات میں یعنی لا یزال میں موجود ہو اس لئے ہم یہ تسلیم نہیں کرتے کہ قدرت کا تعلق اختراع سے خالی ہو سکتا ہے بلکہ قدرت ارادہ کے موافق تاثیر کرتی ہے اور اختراع کرتی ہے لیکن یہاں بند ے کے معاملہ میں قدرت کا تعلق ہر گز تاثیر کے لئے معنی نہیں مسایرہ میں جو مناقشہ بیان کیا ہے یہ اس کا ماحصل ہے۔
اقول : (میں کہتاہوں)اور یہ عقدہ میری رائے میں صرف دوامور میں سے ایك کے ساتھ حل ہو گا اول یہ کہ کوئی بھی قدرت اگرچہ ارادہ کے ساتھ بھی ہو حتمی طور پر موثر نہیں ہے اور معتزلہ کو بھی اس سے فرار نہیں ہے کیاآپ نہیں دیکھتےکہ کفار نے حضورنبی پاك صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو ایذارسانی میں مکمل جدوجہد کی اور پورا عزم کیا جو حاصل نہ کر پائے اور الله تعالی نے کفار کے غیظ و غضب کو مردود کر دیا لہذا قدرت ایك ایسی صفت ہے جس کی شان صرف تاثیر کرنا ہے اوروہ ارادہ کے ساتھ تاثیر کرتی ہے بشرطیکہ کوئی مانع نہ ہو چنانچہ مسامرہ شرح مسایرہ میں کہا ہے کہ اشعری حضرات قدرت حادثہ کی تاثیر بالفعل کی نفی کرتے ہیں اس کی (باقی اگلے صفحہ پر)
علی ان العبادموجدون لافعالھم اس پر متفق ہیں کہ بندے اپنے فعال کے موجد ہیں
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
الا التا ثیربالفعل لا بالقوۃ لان القدرۃالحادثۃعندھم صفۃشانھا التأثیروالایجادولکن تخلف اثرھا فی افعال العبادلمانع ھوتعلق قدرۃاﷲتعالی بایجادھا کما حقق فی شرح المقاصدوغیرہ اھ قلت وصرح بہ الامدی ثم رأیت فی شرح المقاصدمن بحث القدرۃ الحادثۃ من مقصدالاعراض نسبہ لہ ولم یأت بتحقیق یزیدعلی مامر
اقول : وفیہ حزازۃ والقلب لا یطمئن بہ ولا یسکن الیہ والالکان کل حیوان ولواخس مایکون واضعہ قادراعلی الخلق والایجاد وان لم یتفق لہ ذلك لعروض مانع وھوسبقۃالخلق الالھی وماذاتفعل الاشاعرۃالاقدمون ح بدلیلھم ان لوقدر العبدعلی فعلہ لقدرعلی خلق الاجسام والجواھر
بالقوۃ تاثیر کی نفی نہیں کرتے کیونکہ ان کے ہاں حادث قدرت ایسی صفت ہے جس کی شان تاثیرکرنا ہے لیکن بندوں کے افعال میں اس کا اثر اس لئے نہیں ہوتا کہ وہاں مانع موجود ہے اور وہ الله تعالی کی قدرت کا تعلق جو ان کے افعال کے ایجاد میں مؤثر ہے کا موجود ہونا جیسا کہ شرح مقاصد وغیرہ میں اس کی تحقیق ہے اھ قلت(میں کہتا ہوں)اس بیان کی تصریح آمد ی نے کی ہے پھر میں نے شرح مقاصد کی بحث قدرت حادثہ جو اعراض کے مقصد میں ہے اس بحث کو ان کی طرف منسوب پایا جس میں گزشتہ تحقیق سے کچھ زائد نہیں ہے
اقول : (میں کہتا ہوں)اس میں خلش ہے اور دل کو اطمینان و سکون ا س سے حاصل نہ ہوسکا ورنہ تو اس سے لازم آتا ہے کہ ہر انسان بلکہ خسیس ترین اور ضعیف ترین حیوان بھی خلق و ایجاد پر قادر ہوجائے اگرچہ اس کو مانع کی وجہ سے اتفاق نہ ہو سکے اوروہ مانع الله تعالی کی تخلیق کاپہلے موجود ہونا ہے اور اشاعرہ متقدمین اس وقت اپنی اس دلیل کو کیسے بیان کریں گے کہ اگر بندہ اپنے فعل پر قادر ہو تو پھر وہ اجسام و جواہر کے خلق پر بھی قادر ہو گا کیونکہ فعل اور اجسام دونوں (باقی اگلے صفحہ پر)
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
الا التا ثیربالفعل لا بالقوۃ لان القدرۃالحادثۃعندھم صفۃشانھا التأثیروالایجادولکن تخلف اثرھا فی افعال العبادلمانع ھوتعلق قدرۃاﷲتعالی بایجادھا کما حقق فی شرح المقاصدوغیرہ اھ قلت وصرح بہ الامدی ثم رأیت فی شرح المقاصدمن بحث القدرۃ الحادثۃ من مقصدالاعراض نسبہ لہ ولم یأت بتحقیق یزیدعلی مامر
اقول : وفیہ حزازۃ والقلب لا یطمئن بہ ولا یسکن الیہ والالکان کل حیوان ولواخس مایکون واضعہ قادراعلی الخلق والایجاد وان لم یتفق لہ ذلك لعروض مانع وھوسبقۃالخلق الالھی وماذاتفعل الاشاعرۃالاقدمون ح بدلیلھم ان لوقدر العبدعلی فعلہ لقدرعلی خلق الاجسام والجواھر
بالقوۃ تاثیر کی نفی نہیں کرتے کیونکہ ان کے ہاں حادث قدرت ایسی صفت ہے جس کی شان تاثیرکرنا ہے لیکن بندوں کے افعال میں اس کا اثر اس لئے نہیں ہوتا کہ وہاں مانع موجود ہے اور وہ الله تعالی کی قدرت کا تعلق جو ان کے افعال کے ایجاد میں مؤثر ہے کا موجود ہونا جیسا کہ شرح مقاصد وغیرہ میں اس کی تحقیق ہے اھ قلت(میں کہتا ہوں)اس بیان کی تصریح آمد ی نے کی ہے پھر میں نے شرح مقاصد کی بحث قدرت حادثہ جو اعراض کے مقصد میں ہے اس بحث کو ان کی طرف منسوب پایا جس میں گزشتہ تحقیق سے کچھ زائد نہیں ہے
اقول : (میں کہتا ہوں)اس میں خلش ہے اور دل کو اطمینان و سکون ا س سے حاصل نہ ہوسکا ورنہ تو اس سے لازم آتا ہے کہ ہر انسان بلکہ خسیس ترین اور ضعیف ترین حیوان بھی خلق و ایجاد پر قادر ہوجائے اگرچہ اس کو مانع کی وجہ سے اتفاق نہ ہو سکے اوروہ مانع الله تعالی کی تخلیق کاپہلے موجود ہونا ہے اور اشاعرہ متقدمین اس وقت اپنی اس دلیل کو کیسے بیان کریں گے کہ اگر بندہ اپنے فعل پر قادر ہو تو پھر وہ اجسام و جواہر کے خلق پر بھی قادر ہو گا کیونکہ فعل اور اجسام دونوں (باقی اگلے صفحہ پر)
حوالہ / References
المسامرۃشرح المسایرۃ العلم بانہ تعالٰی لا خالق سواہ المکتبۃ التجاریۃا لکبرٰی مصر ص ۱۱۲
مخترعون لھابقدرتھم ثم المتقدمون اورا پنی قدرت سے ان کو سرزد کرتے ہیں پھر معتزلہ
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
اذلامصحح سوی الحدوث والامکان وھمامشترکان افتراھم قائلین ان کل انسان وحیوان حتی الخناس والدیدان یقدرعلی خلق السموت والارض وان لم یقع لھم لسبقۃخلق اﷲتعالی وقدنص الاشعریۃان لیس للعبدمن الفعل الاالمحلیۃ فتدبروا نصف والثانی ان الحادثۃ تحدث ولا تخلق وکفی بہ تاثیرا وھذاھوالذی حمل الحنفیۃ والقاضی والاستادوجمعامن المحققین علی القول بان للحادثۃتاثیرافیمادون الوجودوالحق ان العقل لایستقل بادارك تلك الحقائق فنؤمن بما اتی بہ القران وشہدت بہ الضرورۃ وادی الیہ البرھان ان الفرق بین الانسان والحجروبین حرکتی البطش والارتعاش والصعود والھبوط والوثبۃ والسقوط بدیھی وان لیس للانسان الاماسعی ولان لاخالق لشیئ الا العلی الاعلی وان لامشیئۃ للانسان الابمشیئۃاﷲتعالی ولانزید علی ھذاولانقتحم حدوث وامکان میں مساوی طور پر مشترك ہیں اور یہی حدوث و امکان ہی خلق و ایجاد کی صحت کا معیار ہیں تو کیا اشعریہ کو اس بات کا قائل تصور کرو گے کہ ہر انسان اور حیوان حتی کہ کیڑے مکوڑے زمین و آسمان کی تخلیق پر قادر ہیں اگر چہ اس تخلیق کا ان کو اتفاق نہ ہوا کہ الله تعالی کا خلق پہلے موجود ہے حالانکہ اشعریہ کی صریح نص ہے کہ فعل میں بندے کا دخل صرف محلیۃ کا ہے تو غور اور انصاف کرو۔ دوسرا یہ کہ قدرت حادثہ صرف حدوث کر سکتی ہے خلق نہیں کر سکتی اس کے لئے اتنی تا ثیر ہی کافی ہے یہی وہ حقیقت ہے جس نے احناف قاضی استاذ ار محققین کی جماعت کو اس قول پر مجبور کیا کہ حادث قدرت کی تاثیر ہے لیکن وجود کے لئے مؤثر نہیں ہے حق تو یہ ہے کہ ان حقائق کے ادراك میں عقل کو استقلال نہیں ہے لہذا قرآن کے بیان کردہ اور بداہت کی شہادت اور جہاں تك دلائل کی رسائی ہے کہ انسان اور پتھر ارادی اور رعشہ کی حرکتوں اٹھنے اور کودنے گرنے اوراترنے میں بدیہی فرق پر ہم ایمان رکھیں اور انسان کے بس میں صرف سعی کرنا ہے اور الله تعالی کے بغیر کسی چیز کا کوئی خالق نہیں اور انسان کی مشیئت الله تعالی کی مشیئت کے تابع(باقی اگلے صفحہ پر)
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
اذلامصحح سوی الحدوث والامکان وھمامشترکان افتراھم قائلین ان کل انسان وحیوان حتی الخناس والدیدان یقدرعلی خلق السموت والارض وان لم یقع لھم لسبقۃخلق اﷲتعالی وقدنص الاشعریۃان لیس للعبدمن الفعل الاالمحلیۃ فتدبروا نصف والثانی ان الحادثۃ تحدث ولا تخلق وکفی بہ تاثیرا وھذاھوالذی حمل الحنفیۃ والقاضی والاستادوجمعامن المحققین علی القول بان للحادثۃتاثیرافیمادون الوجودوالحق ان العقل لایستقل بادارك تلك الحقائق فنؤمن بما اتی بہ القران وشہدت بہ الضرورۃ وادی الیہ البرھان ان الفرق بین الانسان والحجروبین حرکتی البطش والارتعاش والصعود والھبوط والوثبۃ والسقوط بدیھی وان لیس للانسان الاماسعی ولان لاخالق لشیئ الا العلی الاعلی وان لامشیئۃ للانسان الابمشیئۃاﷲتعالی ولانزید علی ھذاولانقتحم حدوث وامکان میں مساوی طور پر مشترك ہیں اور یہی حدوث و امکان ہی خلق و ایجاد کی صحت کا معیار ہیں تو کیا اشعریہ کو اس بات کا قائل تصور کرو گے کہ ہر انسان اور حیوان حتی کہ کیڑے مکوڑے زمین و آسمان کی تخلیق پر قادر ہیں اگر چہ اس تخلیق کا ان کو اتفاق نہ ہوا کہ الله تعالی کا خلق پہلے موجود ہے حالانکہ اشعریہ کی صریح نص ہے کہ فعل میں بندے کا دخل صرف محلیۃ کا ہے تو غور اور انصاف کرو۔ دوسرا یہ کہ قدرت حادثہ صرف حدوث کر سکتی ہے خلق نہیں کر سکتی اس کے لئے اتنی تا ثیر ہی کافی ہے یہی وہ حقیقت ہے جس نے احناف قاضی استاذ ار محققین کی جماعت کو اس قول پر مجبور کیا کہ حادث قدرت کی تاثیر ہے لیکن وجود کے لئے مؤثر نہیں ہے حق تو یہ ہے کہ ان حقائق کے ادراك میں عقل کو استقلال نہیں ہے لہذا قرآن کے بیان کردہ اور بداہت کی شہادت اور جہاں تك دلائل کی رسائی ہے کہ انسان اور پتھر ارادی اور رعشہ کی حرکتوں اٹھنے اور کودنے گرنے اوراترنے میں بدیہی فرق پر ہم ایمان رکھیں اور انسان کے بس میں صرف سعی کرنا ہے اور الله تعالی کے بغیر کسی چیز کا کوئی خالق نہیں اور انسان کی مشیئت الله تعالی کی مشیئت کے تابع(باقی اگلے صفحہ پر)
منھم کانوا یمنعون من تسمیۃ العبد خالقالقرب عھد ھھم باجماع السلف علی انہ لا خالق الااﷲ تعالی واجترأ المتأ خرون فسموا العبد خالقا علی الحقیقۃ ھذا کلامہ ثم اورد ادلۃ الاصحاب واجاب عن شبہ المعتزلۃ وبالغ فی الردعلیھم وعلی الجبریۃ واثبت للعبد کسبا وقدرۃ مقارنۃ للفعل غیر مؤثرفیہ اھ فھذا اصرح نص علی ان معتقدہ رحمہ اﷲتعالی ھواھل السنۃ سواء بسواء فلم یبق احد تسایرہ المسایرۃ
اقول : ولکن العجب کل العجب من العلامۃ بحرالعلوم الکنوی عفااﷲتعالی عنا وعنہ جنح فی الفواتح الی مافی المسایرۃ مع تصریحہ فیھاقبلہ باسطربما نصہ(وما فھموا)ادی المعتزلۃ بل ھؤلاء الجھلۃ ایضا(ان الامکان لیس من شانہ افاضۃ الوجود) کے متقدمین حضرات اجماع سلف سے قریب زمانہ کی بنا پر بندے پر خالق کا اطلاق نہ کرتے تھے اور لا خالق الا الله پر اجماع کے خلاف قول نہ کرتے اور انکے متاخرین نے جرأت کرتے ہوئے بندے پر حقیقی خالق کا اطلاق شروع کر دیا امام نے اپنے اس کلام کے بعد معتزلہ کے دلائل کا رد اور ان کے شبہات کا جواب دیا انھوں نے ان کا اور جبریہ کا خوب رد فرمایا اور یہ ثابت کیا کہ بندے کا صرف کسب ہوتا ہے اور فعل کے مقارن اس کو ایك قسم کی قدرت حاصل ہوتی ہے جو کہ غیر مؤثر ہوتی ہے اھ تو ان کیطرف سے یہ واضح نص ہے کہ انکا عقیدہ وہی ہے جو اہلسنت کا عقیدہ ہے اور کوئی فرق نہیں ہے تو مسایرہ کی راہ چلنے والا کوئی بھی نہ ہوا
اقول : (میں کہتا ہوں)لیکن تعجب ہے کہ علامہ بحرالعلوم لکھنوی(ہمیں اور انھیں الله تعالی معاف فرمائے)نے فواتح میں مسایرہ میں مذکور کی طرف میلان فرمایا حالانکہ انھوں نے خود فواتح میں چند سطر قبل ازیں تصریح کی ہے جس کی عبارت یوں ہے کہ(ومافھموا)یعنی معتزلہ اور ان جاہلوں نے بھی نہ سمجھا کہ(ممکن کی یہ شان نہیں کہ وہ وجود عطا کرے)
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
بحرا لانقدرعلی سباحتہ و اﷲ الھادی۱۲منہ۔
ہے پر پختہ یقین کریں اور اس پر مزید کوئی بات نہ کریں اور ایسے سمندر میں چھلانگ نہ لگائیں جس میں تیرنے کی ہمیں قدرت نہیں ہے اور الله تعالی ہی ہدایت دینے والا ہے ۱۲ منہ(ت)
اقول : ولکن العجب کل العجب من العلامۃ بحرالعلوم الکنوی عفااﷲتعالی عنا وعنہ جنح فی الفواتح الی مافی المسایرۃ مع تصریحہ فیھاقبلہ باسطربما نصہ(وما فھموا)ادی المعتزلۃ بل ھؤلاء الجھلۃ ایضا(ان الامکان لیس من شانہ افاضۃ الوجود) کے متقدمین حضرات اجماع سلف سے قریب زمانہ کی بنا پر بندے پر خالق کا اطلاق نہ کرتے تھے اور لا خالق الا الله پر اجماع کے خلاف قول نہ کرتے اور انکے متاخرین نے جرأت کرتے ہوئے بندے پر حقیقی خالق کا اطلاق شروع کر دیا امام نے اپنے اس کلام کے بعد معتزلہ کے دلائل کا رد اور ان کے شبہات کا جواب دیا انھوں نے ان کا اور جبریہ کا خوب رد فرمایا اور یہ ثابت کیا کہ بندے کا صرف کسب ہوتا ہے اور فعل کے مقارن اس کو ایك قسم کی قدرت حاصل ہوتی ہے جو کہ غیر مؤثر ہوتی ہے اھ تو ان کیطرف سے یہ واضح نص ہے کہ انکا عقیدہ وہی ہے جو اہلسنت کا عقیدہ ہے اور کوئی فرق نہیں ہے تو مسایرہ کی راہ چلنے والا کوئی بھی نہ ہوا
اقول : (میں کہتا ہوں)لیکن تعجب ہے کہ علامہ بحرالعلوم لکھنوی(ہمیں اور انھیں الله تعالی معاف فرمائے)نے فواتح میں مسایرہ میں مذکور کی طرف میلان فرمایا حالانکہ انھوں نے خود فواتح میں چند سطر قبل ازیں تصریح کی ہے جس کی عبارت یوں ہے کہ(ومافھموا)یعنی معتزلہ اور ان جاہلوں نے بھی نہ سمجھا کہ(ممکن کی یہ شان نہیں کہ وہ وجود عطا کرے)
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
بحرا لانقدرعلی سباحتہ و اﷲ الھادی۱۲منہ۔
ہے پر پختہ یقین کریں اور اس پر مزید کوئی بات نہ کریں اور ایسے سمندر میں چھلانگ نہ لگائیں جس میں تیرنے کی ہمیں قدرت نہیں ہے اور الله تعالی ہی ہدایت دینے والا ہے ۱۲ منہ(ت)
حوالہ / References
شرح المقاصد الفصل الخامس فی افعال البحث الا ول فعل العبد الخ دارا لمعارف النعمانیہ لاہور ۲ / ۱۲۶
فان من ھو فی نفسہ باطل الذات محتاج فی الواقعیۃ الی الغیروکل عــــــہ علی مولا ہ کیف یقدرعلی ایجاد الافعال من غیراختلال بالنظام الاجود وھذاظاھر لمن لہ اقل حدس من اصحاب العنایۃ الالھیۃ لکن من لم یجعل اﷲ لہ نورفمالہ من نور(وعند اھل الحق)اصحاب العنایۃ الذین ھم اھل السنۃ الباذلون انفسھم فی سبیل اﷲ بالجھادالاکبر(لہ قدرۃکاسبۃ)فقط لا خالقۃ الخ فکیف رضی مع ھذابان جعل الممکن الباطل الذات خالقا لعزائمہ مع ان قول التاثیرفی امر اعتباری کان بمرأی عینیہ و قد کان بینہ ھو بنفسہ علی وجہ کاف و لم یتعقبہ فان کان مختار اولا بدفکان اختیار ماعلیہ جمع من المحققین ولبس کیونکہ جو چیز فی نفسہ اپنی ذات میں باطل اور اپنے وجود میں غیر کی محتاج ہو اور اپنے مالك پر بوجھ قرار پائے وہ بہترین نظام عالم میں خلل انداز ہوکر افعال کو کیسے ایجاد کر سکتی ہے اور یہ حقیقت ہر اس شخص پر عیاں ہے جس کو الله تعالی کی طرف سے عنایت پر معمولی سی سمجھ ہے لیکن جس کو الله تعالی نور علم نہ عطا فرمائے اس کو نور کیسے نصیب ہو سکتا ہے (اور اہل حق کے ہاں)یعنی الله تعالی کی عنایت والے لوگ وہ اہل سنت و جماعت ہیں جو الله تعالی کے راستے میں جہاد اکبر کرتے ہوئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرتے ہیں(بندہ کو صرف قدرت کا سبہ حاصل ہے)نہ کہ قدرت خالقہ الخ تو اس تصریح کے باوجود انھوں نے ممکن باطل الذات کو کیسے اپنے عزائم کا خالق کہہ دیا حالانکہ انکا مطمح نظر یہ ہے کہ بندے کی تاثیر صرف اعتباری چیز میں ہوتی ہے اس کو انھوں نے خود کافی تفصیل سے بیان کیا اور پھر اس پر کوئی اعتراض نہیں کیا اگر یہی ان کا مختار ہے اور ہونا بھی ضروری ہے تو یہ تمام محققین کا اجماعی مختار ہے اور اس میں نہ کسی نص کی
عــــــہ : استعملہ بمعنی المحتاج وانماھو بمعنی التقیل واﷲ متعال ان یکون احد کلا علیہ ۱۲ منہ۔ کل “ کالفظ انھوں نے یہاں محتاج کے معنی میں استعمال کیا ہے اور اس کا معنی بوجھ ہے جبکہ الله تعالی اس سے پاك ہے کہ کوئی اس پر بوجھ بنے ۱۲ منہ(ت)
عــــــہ : استعملہ بمعنی المحتاج وانماھو بمعنی التقیل واﷲ متعال ان یکون احد کلا علیہ ۱۲ منہ۔ کل “ کالفظ انھوں نے یہاں محتاج کے معنی میں استعمال کیا ہے اور اس کا معنی بوجھ ہے جبکہ الله تعالی اس سے پاك ہے کہ کوئی اس پر بوجھ بنے ۱۲ منہ(ت)
حوالہ / References
فواتح الرحموت بذیل المستصفی فائدہ فی تحقیق صدو رالافعال الخ منشورا ت الشریف الرضی قم ایران ۱ / ۴۰ و ۴۱
فیہ مخالفۃ نص ولا اجماع وھو اولی واحری ولکن اﷲ یفعل مایرید ھذا وتلمیذالمحقق العلامۃ الکمال بن ابی شریف وان سایر ھھنا شیخہ رحمھما اﷲتعالی لکنہ اشار بعدہ الی ان ھذا خلاف ما علیہ اھل السنۃ حیث قال فی المسامرۃعندقول المصنف قد منا ان للمکلف اختیار ااوعزما یصمم مانصہ(اختیارا)علی ما علیہ اھل السنۃ(اوعزما)علی مااختارہ المصنف اھ و تلمیذہ الاخرالعلامۃ الذین بن قطلوبغافی تعلیقہ علی المسایرۃ لم یرض بہ من اول الامروقال للطریق الذی سبلکہ المصنف انہ المرضی عندہ الرفع للجبر فلم یندفع بہ سأنبہ علیہ ثم اوردطریقا اختارہ العلامۃ الفناری فی الفصول واقرہ ومحصلہ ھو التاثیر فی الا عتباری ولو لاغرابۃ المقام لاوردتہ مع ما یرد علیہ اقول : وبما ذکرنا ظھران الفرق بین ما سارہ فی المسایرۃ مخالفت ہے نہ اجماع کی یہی مناسب اور اولی ہے لیکن الله تعالی جو چاہتا ہے کرتاہے اسے محفوظ کرو ار محقق مذکور کے شاگرد علامہ کمال بن ابی شریف اگر چہ یہاں انھوں نے اپنے شیخ کی موافقت کی ہے لیکن اس کے بعد انھوں نے اشارہ دیاکہ یہ بات اہلسنت کے مسلك کے خلاف ہے جہاں انھوں نے مسامرہ میں مصنف کے قول(کہ ہم نے پہلے ذکر کیا کہ مکلف کو اختیار یا عزم صمیم حاصل ہے)پر کہاجس کی عبارت یوں ہے(اختیار حاصل ہے)جیسا کہ اہلسنت کا مؤقف ہے(یا عزم صمیم حاصل ہے)جیسا کہ مصنف نے خود پسند کیا اھ اور محقق مذکور کے دوسرے شاگرد(علامہ زین بن قطلوبغا مسایرہ پر اپنی تعلیقات میں ابتداہی اپنے استاذ کے موقف پر راضی نہ ہوئے اور یوں کہاجس راستہ پر مصنف چلے وہ انکا اپنا پسندیدہ ہے اور وہ جبر کو ختم کرنے کےلئے کہاجبکہ اس سے جبر مند فع نہ ہوا میں اس پر عنقریب تنبیہ لاؤں گا اس کے بعد انھوں نے علامہ فناری کا راستہ اپنایا جس کو انھوں نے فصول میں بیان کرکے اس پر ثابت قدم رہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ بندے کی تاثیرا عتباری چیزمیں ہوتی ہے اگر یہ مقام غرابت کا حامل نہ ہوتا تو میں اس کو اور اس پر اعتراض کو ذکر کرتا اقول : (میں کہتا ہوں)ہمارے ذکر کردہ سے مسایرہ کی روش
حوالہ / References
المسامرۃ شرح المسایرۃ فعل العبدالخ المکتبۃ التجاریۃ الکبرٰی مصر ص ۱۴۳
وماقضی بہ القاضی کالفرق بین الغرب والشرق فماقال فی المسامرۃان حاصل کلام المصنف رحمہ اﷲ تعالی تعویل علی مذھب القاضی الباقلانی الخ وتبعہ علی القاری فی منح الروض الا زھرفقال ما اختارہ ھوقول الباقلانی من ائمۃ اھل السنۃ الخ فھما لا وجہ لہ نعم انما وافقہ فی لفظ وھوانہ یکون منسوباالیہ تعالی من حیث ھوحرکۃ والی العبد من حیث ھوزنا ونحوہ وقال القاضی قدرۃ اﷲتعالی تتعلق باصل الفعل وقدرۃ العبد بوصفہ من کونہ طاعۃ اومعصیۃ فمتعلق تاثیرالقدرتین مختلف کمافی لطم الیتیم تادیباوایذاء فان ذات اللطم واقعۃ بقدرۃاﷲتعالی وتاثیرہ وکونہ طاعۃ علی الاول ومعصیۃعلی الثانی بقدرۃالعبدوتاثیرہ لتعلق ذلك بعزمہ المصمم اھ فانماالاشتراك فی نسبۃ اور قاضی باقلانی کے فیصلہ میں فرق واضح ہو گیا یہ مغرب و مشرق جیسا فرق ہے مسامرہ میں جو کہا کہ مصنف رحمہ الله تعالی کے کلام کا ماحصل قاضی باقلانی کے مذہب پر اظہار اعتماد ہے الخ اور ملا علی قاری نے منح الروض الازہر میں اس کی اتباع کرتے ہوئے کہا کہ مصنف نے جسے اختیار کیا وہ اہلسنت کے ایك امام قاضی باقلانی کا قول ہے الخ حالانکہ ان دونوں کی بات میں کوئی وزن نہیں ہے ہاں اتنا ضرور ہے کہ فعل سے دو۲ قسم کی تا ثیروں کے تعلق میں دونوں کا لفظی اشتراك ہے مصنف نے کہا کہ فعل حرکت ہونے کے اعتبار سے الله تعالی کی طرف منسوب ہے اور مثلازنا وغیرہ ہونے کے اعتبار سے بندے کی طرف منسوب ہے اور قاضی نے فرمایا الله تعالی کی قدرت کا تعلق اصل فعل سے ہے اور بندے کی قدرت کا تعلق فعل کی صفت کہ طاعت یا معصیت ہونے سے ہے تو دونوں قدرتوں کی تا ثیر کا تعلق مختلف ہے جیسا کہ یتیم بچے کو تھپڑ مارنا تربیت اور ایذا بھی ہوتا ہے تو تھپڑ کالگنا الله تعالی کی قدرت اور تا ثیر سے ہوتا ہے اور طاعت کے لحاظ سے نیکی اور اذیت کے لحاظ سے گناہ ہونا یہ بندے کی قدرت اور تا ثیر سے ہے جو اس کے عزم مصمم کے تعلق کی وجہ سے ہوئی اھ تو یہاں
حوالہ / References
المسامرۃ العلم بانہ تعالٰی لا خالق سواہ المکتبۃ التجاریۃ الکبرٰی مصر ص ۱۴۳
منح الروض الازھر شرح الفقہ الاکبر افعال العبد کسبہم الخ مصطفی البابی مصر ص ۵۲
منح الروض الازھر شرح الفقہ الاکبر افعال العبد کسبہم الخ مصطفی البابی مصر ص ۵۲
منح الروض الازھر شرح الفقہ الاکبر افعال العبد کسبہم الخ مصطفی البابی مصر ص ۵۲
منح الروض الازھر شرح الفقہ الاکبر افعال العبد کسبہم الخ مصطفی البابی مصر ص ۵۲
صفۃالفعل الی تاثیرقدرۃ العبد واین ماادعی المحقق من خلقہ عزمہ۔
اقول : ماذکرمن ان الصفۃاثرقدرۃ العبدحق بلا مریۃ لکن لاعلی الوجہ الذی قررالمصنف بل الا مران المولی تعالی اجری سنتہ بان العبد اذا اراد فعلا یخلقہ اﷲ تعالی فیہ فالارادۃبخلق اﷲ تعالی والفعل بخلق اﷲتعالی ولیس للعبدمن الخلق شیئ لکن کون الفعل ارادیایتوقف علی ارادۃ العبد توقفا عقلیاقطعیااذلوخلق اﷲفیہ الفعل من دون ان یخلق فیہ ارادۃ لہ لکان کحرکۃالحجربالتحریك فلم یکن ارادیا والفعل لایکون طاعۃ ولامعصیۃالا اذا کان ارادیافھذہ الصفۃ للفعل لاتحصل الا بارادتنا ای لکونہ مصحوبا لارادۃ خلقھااﷲتعالی فیناولولا ذلك لم یکن طاعۃ ولامعصیۃ قطعا ثم انی رأیت المحقق ذکرفی التحریراماالحنفیۃ فالکسب صرف القدرۃالمخلوقۃ الی القصدالمصمم فاثرھا فی القصد ویخلق سبحنہ الفعل عندہ بالعادۃ اشتراك صرف فعل کی صفت کو بندے کی قدرت کی طرف منسوب کرنے میں ہے جبکہ محقق مذکور کا یہ دعوی کہ بندہ اپنے عزم کا خالق ہے وہ کہاں ہے۔
اقول : (میں کہتا ہوں)قاضی کا یہ کہنا کہ فعل کی صفت بندے کی قدرت کا اثر ہے بلا شك یہ حق ہے لیکن اس طورپر نہیں جس طرح مصنف نے اس کی تقریر کی بلکہ معاملہ یوں ہے کہ الله تعالی کی یہ سنت جاریہ ہے کہ بندہ جب کسی فعل کا ارادہ کرتا ہے تو الله تعالی اس کے ارادہ پر فعل کی تخلیق فرماتا ہے لہذا ارادہ اور فعل دونوں الله تعالی کی مخلوق ہوئے اور بندے کا خلق میں کسی قسم کا کوئی دخل نہیں ہوتا لیکن کسی فعل کے ارادی ہونے کا دار و مدار بندے کے ارادے پر ہے یہ دار و مدار عقلی اور قطعی ہے کیونکہ اگر الله تعالی بندے کے ارادہ کے بغیر فعل کی اس میں تخلیق کر دے تو پھر یوں ہوا جیسے پتھر کو حرکت دی جائے تو وہ حرکت کرتا ہے تو اس طرح فعل نہ ارادی ہو گا نہ طاعت و معصیت ہو گا یہ جبھی ممکن ہے وہ فعل ارادی ہو تو فعل کی یہ صفت ہمارے ارادے سے حاصل ہوئی یعنی یہ صفت الله تعالی کی طرف سے ارادہ کی تخلیق کے ساتھ حاصل ہوئی اگر یہ نہ ہو تو وہ فعل قطعا طاعت و معصیت نہ بنے گا۔ پھر میں نے محقق ابن ہمام کو تحریر میں یہ ذکر کرتے ہوئے پایا کہ حنفی حضرات کے ہاں کسب یہ ہے کہ مخلوق قدرت کو مصمم قصد کے لئے صرف کرنا اس مخلوق قدرت کا اثر قصد میں ہوتا ہے تو الله تعالی اس وقت اپنی عادت کریمہ کے مطابق فعل کو پیدا فرماتاہے
اقول : ماذکرمن ان الصفۃاثرقدرۃ العبدحق بلا مریۃ لکن لاعلی الوجہ الذی قررالمصنف بل الا مران المولی تعالی اجری سنتہ بان العبد اذا اراد فعلا یخلقہ اﷲ تعالی فیہ فالارادۃبخلق اﷲ تعالی والفعل بخلق اﷲتعالی ولیس للعبدمن الخلق شیئ لکن کون الفعل ارادیایتوقف علی ارادۃ العبد توقفا عقلیاقطعیااذلوخلق اﷲفیہ الفعل من دون ان یخلق فیہ ارادۃ لہ لکان کحرکۃالحجربالتحریك فلم یکن ارادیا والفعل لایکون طاعۃ ولامعصیۃالا اذا کان ارادیافھذہ الصفۃ للفعل لاتحصل الا بارادتنا ای لکونہ مصحوبا لارادۃ خلقھااﷲتعالی فیناولولا ذلك لم یکن طاعۃ ولامعصیۃ قطعا ثم انی رأیت المحقق ذکرفی التحریراماالحنفیۃ فالکسب صرف القدرۃالمخلوقۃ الی القصدالمصمم فاثرھا فی القصد ویخلق سبحنہ الفعل عندہ بالعادۃ اشتراك صرف فعل کی صفت کو بندے کی قدرت کی طرف منسوب کرنے میں ہے جبکہ محقق مذکور کا یہ دعوی کہ بندہ اپنے عزم کا خالق ہے وہ کہاں ہے۔
اقول : (میں کہتا ہوں)قاضی کا یہ کہنا کہ فعل کی صفت بندے کی قدرت کا اثر ہے بلا شك یہ حق ہے لیکن اس طورپر نہیں جس طرح مصنف نے اس کی تقریر کی بلکہ معاملہ یوں ہے کہ الله تعالی کی یہ سنت جاریہ ہے کہ بندہ جب کسی فعل کا ارادہ کرتا ہے تو الله تعالی اس کے ارادہ پر فعل کی تخلیق فرماتا ہے لہذا ارادہ اور فعل دونوں الله تعالی کی مخلوق ہوئے اور بندے کا خلق میں کسی قسم کا کوئی دخل نہیں ہوتا لیکن کسی فعل کے ارادی ہونے کا دار و مدار بندے کے ارادے پر ہے یہ دار و مدار عقلی اور قطعی ہے کیونکہ اگر الله تعالی بندے کے ارادہ کے بغیر فعل کی اس میں تخلیق کر دے تو پھر یوں ہوا جیسے پتھر کو حرکت دی جائے تو وہ حرکت کرتا ہے تو اس طرح فعل نہ ارادی ہو گا نہ طاعت و معصیت ہو گا یہ جبھی ممکن ہے وہ فعل ارادی ہو تو فعل کی یہ صفت ہمارے ارادے سے حاصل ہوئی یعنی یہ صفت الله تعالی کی طرف سے ارادہ کی تخلیق کے ساتھ حاصل ہوئی اگر یہ نہ ہو تو وہ فعل قطعا طاعت و معصیت نہ بنے گا۔ پھر میں نے محقق ابن ہمام کو تحریر میں یہ ذکر کرتے ہوئے پایا کہ حنفی حضرات کے ہاں کسب یہ ہے کہ مخلوق قدرت کو مصمم قصد کے لئے صرف کرنا اس مخلوق قدرت کا اثر قصد میں ہوتا ہے تو الله تعالی اس وقت اپنی عادت کریمہ کے مطابق فعل کو پیدا فرماتاہے
فان کان القصد حالا غیر موجود و لا معد وم فلیس بخلق وعلیہ جمع من المحققین وعلی نفیہ فکذلك (ای لیس الکسب بخلق ایضا)علی ما قیل(ای قول صدر الشریعۃ)الخلق یقع بہ المقدورلامحل فی القدرۃ و یصح انفراد القادر با یجاد المقدور و الکسب یقع بہ فی محلھا ولا یصح انفرادہ با یجادہ ولو بطلت ھذہ التفرقۃ(بین الخلق و الکسب)علی تعذرہ(ای بطلانھا)وجب تخصیص القصد المصمم من عمو م الخلق بالعقل اھ باختصار مزیدا ما بین الھلا لین من شرحہ التقریر والتحبیر لتلمیذہ المحقق ابن امیر حاج رحمھما اﷲتعالی فقد ابان البون البین بین مابحثہ فی المسایرۃ وبین ماذھب الیہ الا مام القاضی وظھر ت بحمد اﷲتعالی منہ علی فائدۃ نفسیۃ وھوانی کنت کتبت علی المسایرۃ قبل ھذا بنحو اربع سنین ما نصہ نرجوان المصنف رحمہ اﷲتعالی رجع عنہ اذلم یذکرہ فی فکذلك ما یعتقدہ الا ما علیہ اھل السنۃ کما سیأ تی و نر جوان المولی سبحنہ وتعالی تو اگر قصد صرف ایسا حال ہو جو نہ معدوم اور نہ موجود ہو تو مخلوق نہ بنے گا۔ قصد کے مخلوق نہ ہونے اور اس کے حال ہونے کی نفی محققین کی ایك جماعت کا موقف ہے اوریوں ہی کسب بھی مخلوق نہیں ہے ایك قول کے مطابق یعنی صدر الشریعہ کے قول پرکہ خلق سے مقدور کا وجود محل قدرت کے بغیر ہوتا ہے اور اس میں قادر کا مقدور کے ایجاد میں منفرد ہونا صحیح ہوتا ہے اور کسب سے مقدور کا وجود محل قدرت (قصد)کے ذریہ ہوتا ہے اور اس کے بغیر ایجاد میں منفرد ہونا صحیح نہیں ہوتا اور اگر(خلق اورکسب کا یہ فرق) باطل ہو جائے جبکہ یہ فرق متعذر ہے یعنی یہ فرق باطل ہے تو پھر عموم خلق میں سے قصد مصمم کی تخصیص ضروری ہو گی اھ اختصارا اور ہلا لین میں اسکی شرح التقریر والتحبیر سے اضافہ ہے یہ شرح ان کے شاگرد محقق ابن امیر الحاج(رحمہا الله تعالی)کی ہے تو انھوں نے اپنی مسایرہ کی بحث اور امام قاضی کے مذہب میں واضح فرق کر دیا ہے اور میرے لئے بحمد الله تعالی یہاں ایك نفیس فائدہ ظاہر ہوا وہ یہ کہ میں نے مسایرہ پر چار سال قبل حاشیہ لکھا تھا جس کی عبارت یہ ہے ہمیں امید ہے کہ مصنف رحمہ الله تعالی نے اسی سے رجوع کر لیا ہو گا کیونکہ انھوں نے تشبیہ(فکذلک)(میں اپنا عقیدہ ذکر کئے بغیر صرف اہلسنت کا موقف ذکر فرمایا ہے کما سیأتی اور مجھے امید ہے کہ الله تعالی
حوالہ / References
التحریر فی اصول الفقہ الباب الاول الفصل الثانی فی الحکم مصطفی البابی مصر ص ۲۲۸
جعل ھذہ الزلۃالواحدۃوان عظمت مغمورۃ فیما اولاہ من بحارالحسنات الجمیلۃ ونسأل اﷲالثبات علی الحق وھدایۃ الصواب فی کل باب وصلی اﷲتعالی علی سیدنامحمدوالہ وسلم ابداامین اھ فبحمد اﷲ تعالی قدحقق اﷲ رجائی وظھررجوع المحقق عن اختیارما بحثہ اذعلقہ ھھناعلی تعذرالتفرقۃبین الخلق والکسب وصرح ببطلان التعذر فاذا بطل المبنی وجب تھدم البناء وﷲ الحمدوتصنیف التحریرمتأخرعن تالیف المسایرۃکمالاتخفی علی من طالعہ وذلك قولہ تعالی یثبت اﷲالذین امنوا بالقول الثابت فی الحیوۃ الدنیا والا خرۃ والحمد ﷲ رب العلمین اما ما اورد الشیخ القزوینی علی الامام ابی بکر الباقلانی کما نقلہ فی الیواقیت لامام الشعرانی مقرا علیہ انہ یقال لہ ھذہ الحال مقدورۃ ﷲتعالی ام لا علی الثانی لا محالۃ تکون مقدورۃ للعبد وھو مذھب المعتزلۃ بعینہ وعلی الا ول لم یکن للعبد شیئ البتۃ و ذلك ھو مذھب الجبر یۃ بعینہ
ان کی اس ایك خطا کو(اگرچہ یہ گراں ہے)انکو عطا کردہ نیکیوں کے دریاؤں میں غوطہ زن کر دے گا اور ہم الله تعالی سے ثابت قدمی کے سائل ہیں کہ وہ ہمیں ہر معاملہ میں حق اور صواب کی رہنمائی فرمائے و صلی الله تعالی علی حبیبہ محمد وآلہ و سلم ابدا آمین اھ۔ الله تعالی کا شکر ہے کہ اس نے میر ی امید کو پورا فرمادیا اور محقق مذکور نے اپنی بحث کو مختار قرار دینے سے رجوع فرمالیا جب انھوں نے خلق اور کسب میں فرق کے متعذر ہونے پر حاشیہ لکھ کر اس تعذر کو باطل قرار دیا تو جب مبنی باطل ہو گیا تو اس پر بنی ہوئی عمارت بھی گر گئی ولله الحمد اور انکی کتاب التحریر مسایرہ سے بعد کی تصنیف ہے جیسا کہ مطالعہ کرنے والے پر مخفی نہیں ہے اور یہ الله تعالی کے ارشاد کہ “ الله تعالی ایمان و الوں کو دنیا و آخرت میں حق پر ثابت قدمی عطا فرماتا ہے “ کا مظہر ہے الحمد لله رب العالمین لیکن شیخ قزوینی کا اما م ابو بکر باقلانی پر وہ اعتراض جس کو امام شعرانی نے یوا قیت میں نقل کرکے ثابت رکھا یعنی اس حال(قصد)کے متعلق ان سے سوال کیا گیا کہ یہ ا لله تعالی کا مقدور ہے یا نہیں اور اگر نہیں توپھر لا محالہ یہ بند ے کا مقدور ہو گا جبکہ معتزلہ کابعینہ یہی مذہب ہے اور اول صورت یعنی اگر الله تعالی کا مقدور ہے تو پھر بندے کےلئے کچھ مقدور نہ ہوا جبکہ یہ بعینہ جبریہ کا
ان کی اس ایك خطا کو(اگرچہ یہ گراں ہے)انکو عطا کردہ نیکیوں کے دریاؤں میں غوطہ زن کر دے گا اور ہم الله تعالی سے ثابت قدمی کے سائل ہیں کہ وہ ہمیں ہر معاملہ میں حق اور صواب کی رہنمائی فرمائے و صلی الله تعالی علی حبیبہ محمد وآلہ و سلم ابدا آمین اھ۔ الله تعالی کا شکر ہے کہ اس نے میر ی امید کو پورا فرمادیا اور محقق مذکور نے اپنی بحث کو مختار قرار دینے سے رجوع فرمالیا جب انھوں نے خلق اور کسب میں فرق کے متعذر ہونے پر حاشیہ لکھ کر اس تعذر کو باطل قرار دیا تو جب مبنی باطل ہو گیا تو اس پر بنی ہوئی عمارت بھی گر گئی ولله الحمد اور انکی کتاب التحریر مسایرہ سے بعد کی تصنیف ہے جیسا کہ مطالعہ کرنے والے پر مخفی نہیں ہے اور یہ الله تعالی کے ارشاد کہ “ الله تعالی ایمان و الوں کو دنیا و آخرت میں حق پر ثابت قدمی عطا فرماتا ہے “ کا مظہر ہے الحمد لله رب العالمین لیکن شیخ قزوینی کا اما م ابو بکر باقلانی پر وہ اعتراض جس کو امام شعرانی نے یوا قیت میں نقل کرکے ثابت رکھا یعنی اس حال(قصد)کے متعلق ان سے سوال کیا گیا کہ یہ ا لله تعالی کا مقدور ہے یا نہیں اور اگر نہیں توپھر لا محالہ یہ بند ے کا مقدور ہو گا جبکہ معتزلہ کابعینہ یہی مذہب ہے اور اول صورت یعنی اگر الله تعالی کا مقدور ہے تو پھر بندے کےلئے کچھ مقدور نہ ہوا جبکہ یہ بعینہ جبریہ کا
فلا فائدۃ لتمسك بالحال اھ باختصار۔
اقول : و تلك شکاۃ ظاھر عنك عارھا ولما یتراأی ظاھر ان ھذا سوال عام الورود لا محیص عنہ لشیئ من الاقوال فشان من اثبت للقدرۃ الحادثۃ تا ثیرا مافی شیئ من عین اوحال فیقال لہ کما قلتم فان قال ان ذلك الشیئ لیس مقدوراﷲتعالی فھوالاعتزال اوقال مقدور لہ فلم یبق للعبد شیئ وھو الجبر ومن لم یثبت کسا دتنا الا شعریۃ فقد افصح بالشق الا خیر من الاول فیقال اذن لا شیئ للعبد البتۃ فھو الجبر بعینہ و ذلك لا نہ انما یر ید انکم لجأ تم الی ھذا نفیا للجبر فاذااعترفتم انہ واقع بقدرۃ اﷲتعالی لا بقدرۃ العبد لا ستحالۃ اجتماع مؤثرین علی اثر فقد انتفی الملجأ ولزم القرار علی ما منہ الفرار فالمعنی ھو الجبر بعینہ عند کم بل لما اقول یختار انہ مقدور اﷲتعالی بل و مرادہ ایضا لکن ارادان یر ید العبد فیکون فلا جبر ولا اعتزال
مذہب ہے لہذا حال کا سہارا لینا بیکار ہوا اھ اختصارا
اقول(میں کہتا ہوں)یہ ایسی شکایت ہے جس کی عار آپ کی طرف سے ظاہر اورظاہرا نظر آرہا ہے کہ یہ سوال عام الورود ہے اس سے کسی قول کو بھی چھٹکارا نہیں ہے تو جو بھی حادث قدرت کےلئے کسی قسم کی تاثیر کسی عین چیز یا حال میں ثابت کرے گاتو اس پر تمھارا یہی اعتراض وارد ہو گا کہ اگر یہ چیز الله تعالی کا مقدور نہیں تو اعتزال لازم آئے گا اور اگر الله تعالی کامقدور ہو تو پھر بندے کا کچھ دخل نہ رہا تو یہ جبر ہے اور جو لوگ اس قدرت کے لئے کوئی تاثیر ثابت نہ مانیں جیسا کہ ہمارے سادات اشعریہ کا موقف ہے تو ان پر پہلی دو۲ شقوں میں سے دوسری شق والا اعتراض ہو گا کہ بندے کی کوئی تاثیر نہیں تو یہ بعینہ جبر ہے بندے کے لئے تاثیر نہ ماننے والوں کی مراد یہ ہے کہ بندے کی تا ثیر ماننے والوں کو اس بات پر جبر کی نفی کرنے کے لئے مجبور ہونا پڑا تو ان سے کہا جائےگا کہ تم نے بندے کی تاثیر ماننے کے باوجود جب یہ اعتراف کر لیا کہ الله تعالی کی قدرت سے بندے کا فعل ہوتا ہے اور بندے کی قدرت سے نہیں کیونکہ ایك اثر کے لئے دو موثر محال ہیں تو اس سے تمھار امقصد(یعنی جبر کی نفی)فوت ہو گیا اور جس سے فرار تھا اسی پر قرار ہوا یہی فعل کا الله تعالی کی قدرت سے ہونا تمھارے ہاں بعینہ جبر ہے تو
اقول : و تلك شکاۃ ظاھر عنك عارھا ولما یتراأی ظاھر ان ھذا سوال عام الورود لا محیص عنہ لشیئ من الاقوال فشان من اثبت للقدرۃ الحادثۃ تا ثیرا مافی شیئ من عین اوحال فیقال لہ کما قلتم فان قال ان ذلك الشیئ لیس مقدوراﷲتعالی فھوالاعتزال اوقال مقدور لہ فلم یبق للعبد شیئ وھو الجبر ومن لم یثبت کسا دتنا الا شعریۃ فقد افصح بالشق الا خیر من الاول فیقال اذن لا شیئ للعبد البتۃ فھو الجبر بعینہ و ذلك لا نہ انما یر ید انکم لجأ تم الی ھذا نفیا للجبر فاذااعترفتم انہ واقع بقدرۃ اﷲتعالی لا بقدرۃ العبد لا ستحالۃ اجتماع مؤثرین علی اثر فقد انتفی الملجأ ولزم القرار علی ما منہ الفرار فالمعنی ھو الجبر بعینہ عند کم بل لما اقول یختار انہ مقدور اﷲتعالی بل و مرادہ ایضا لکن ارادان یر ید العبد فیکون فلا جبر ولا اعتزال
مذہب ہے لہذا حال کا سہارا لینا بیکار ہوا اھ اختصارا
اقول(میں کہتا ہوں)یہ ایسی شکایت ہے جس کی عار آپ کی طرف سے ظاہر اورظاہرا نظر آرہا ہے کہ یہ سوال عام الورود ہے اس سے کسی قول کو بھی چھٹکارا نہیں ہے تو جو بھی حادث قدرت کےلئے کسی قسم کی تاثیر کسی عین چیز یا حال میں ثابت کرے گاتو اس پر تمھارا یہی اعتراض وارد ہو گا کہ اگر یہ چیز الله تعالی کا مقدور نہیں تو اعتزال لازم آئے گا اور اگر الله تعالی کامقدور ہو تو پھر بندے کا کچھ دخل نہ رہا تو یہ جبر ہے اور جو لوگ اس قدرت کے لئے کوئی تاثیر ثابت نہ مانیں جیسا کہ ہمارے سادات اشعریہ کا موقف ہے تو ان پر پہلی دو۲ شقوں میں سے دوسری شق والا اعتراض ہو گا کہ بندے کی کوئی تاثیر نہیں تو یہ بعینہ جبر ہے بندے کے لئے تاثیر نہ ماننے والوں کی مراد یہ ہے کہ بندے کی تا ثیر ماننے والوں کو اس بات پر جبر کی نفی کرنے کے لئے مجبور ہونا پڑا تو ان سے کہا جائےگا کہ تم نے بندے کی تاثیر ماننے کے باوجود جب یہ اعتراف کر لیا کہ الله تعالی کی قدرت سے بندے کا فعل ہوتا ہے اور بندے کی قدرت سے نہیں کیونکہ ایك اثر کے لئے دو موثر محال ہیں تو اس سے تمھار امقصد(یعنی جبر کی نفی)فوت ہو گیا اور جس سے فرار تھا اسی پر قرار ہوا یہی فعل کا الله تعالی کی قدرت سے ہونا تمھارے ہاں بعینہ جبر ہے تو
حوالہ / References
الیواقیت والجواہر المبحث الرابع والعشرون الخ مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۴۰
والی منحی ھذا ینحو مافی المسایرۃ غایۃ مافیہ انہ تعالی قدرہ علی بعض مقدوراتہ تعالی کما انہ اعلمنا بعض معلوماتہ سبحنہ تفضلا الخ
وبالجملۃ لاتنافی بین کونہ مقدوراﷲ تعالی ومقدورالعبد باقدارہ حتی یقال لم یکن للعبد شیئ وایضا لایلزم من کونھا مقدورۃ للعبد الاعتزال لانھم یقولون بخالقیۃ العبد والخلق افاضۃ الوجود والحال غیر موجود ھذا ولیعلم انی لاارید بالدفاع عن ھذاالقول ان اقول بہ انما اقول انی لااعلم مایردہ من نص اواجماع وقد رأوا ان ھھنا ثلثۃ اشیاء حال بین عینین ارادۃ العبد وفعلہ وتعلقھا بہ فان
کوئی قول بھی مذکورہ اعتراض سے نہ بچ سکے گا بلکہ یہ اعتراض ختم ہوگا تو میرے اس قول سے ہوگا کہ بندے کا فعل اﷲ تعالی کا مقدور ہے بلکہ اسکی مراد بھی ہے لیکن اﷲ تعالی ارادہ فرماتا ہے کہ بندہ اس فعل کا ارادہ کرے تو پایا جائے تواس طرح نہ جبر لازم آیااور نہ ہی اعتزال ہوا میرے کلام کے انداز پر ہی مسایرہ کا یہ بیان ہے اس میں انتہائی قابل اعتراض بات یہ ہوگی کہ اﷲ تعالی نے اپنے بعض مقدورات پر بندے کو قادر بنادیا(جبکہ واقع میں ایسا ہے)جیسے اﷲ تعالی اپنے بعض معلومات کا ہمیں علم دیتا ہے اور یہ اس کا فضل ہے الخ خلاصہ یہ کہ اﷲ تعالی کے مقدور اور اﷲ تعالی کے قادربننے پر بندے کے مقدور میں کوئی منافات نہیں تاکہ یہ کہا جائے کہ بندے کی کوئی قدرت نہیں نیز فعل کا اﷲ تعالی کی قدرت سے بندے کا مقدور ہوجانے سے اعتزال بھی لازم نہ آئے گا کیونکہ معتزلہ بندے کی خالقیت کا قول کرتے ہیں جبکہ خلق وجود عطا کرنے کا نام ہے حالانکہ حال(قصد)موجود نہیں ہوتا اسے محفوظ کرو۔ معلوم ہونا چاہئے کہ حال(قصد) میں بندے کی تاثیر والے قول کے دفاع سے میرا مقصد یہ نہیں کہ میں اس کا قائل ہوں میں تو یہ کہہ رہا ہوں کہ اس قول کے رد میں کوئی نص یا اجماع میرے علم میں نہیں ہے جبکہ ان کے خیال میں یہاں تین
وبالجملۃ لاتنافی بین کونہ مقدوراﷲ تعالی ومقدورالعبد باقدارہ حتی یقال لم یکن للعبد شیئ وایضا لایلزم من کونھا مقدورۃ للعبد الاعتزال لانھم یقولون بخالقیۃ العبد والخلق افاضۃ الوجود والحال غیر موجود ھذا ولیعلم انی لاارید بالدفاع عن ھذاالقول ان اقول بہ انما اقول انی لااعلم مایردہ من نص اواجماع وقد رأوا ان ھھنا ثلثۃ اشیاء حال بین عینین ارادۃ العبد وفعلہ وتعلقھا بہ فان
کوئی قول بھی مذکورہ اعتراض سے نہ بچ سکے گا بلکہ یہ اعتراض ختم ہوگا تو میرے اس قول سے ہوگا کہ بندے کا فعل اﷲ تعالی کا مقدور ہے بلکہ اسکی مراد بھی ہے لیکن اﷲ تعالی ارادہ فرماتا ہے کہ بندہ اس فعل کا ارادہ کرے تو پایا جائے تواس طرح نہ جبر لازم آیااور نہ ہی اعتزال ہوا میرے کلام کے انداز پر ہی مسایرہ کا یہ بیان ہے اس میں انتہائی قابل اعتراض بات یہ ہوگی کہ اﷲ تعالی نے اپنے بعض مقدورات پر بندے کو قادر بنادیا(جبکہ واقع میں ایسا ہے)جیسے اﷲ تعالی اپنے بعض معلومات کا ہمیں علم دیتا ہے اور یہ اس کا فضل ہے الخ خلاصہ یہ کہ اﷲ تعالی کے مقدور اور اﷲ تعالی کے قادربننے پر بندے کے مقدور میں کوئی منافات نہیں تاکہ یہ کہا جائے کہ بندے کی کوئی قدرت نہیں نیز فعل کا اﷲ تعالی کی قدرت سے بندے کا مقدور ہوجانے سے اعتزال بھی لازم نہ آئے گا کیونکہ معتزلہ بندے کی خالقیت کا قول کرتے ہیں جبکہ خلق وجود عطا کرنے کا نام ہے حالانکہ حال(قصد)موجود نہیں ہوتا اسے محفوظ کرو۔ معلوم ہونا چاہئے کہ حال(قصد) میں بندے کی تاثیر والے قول کے دفاع سے میرا مقصد یہ نہیں کہ میں اس کا قائل ہوں میں تو یہ کہہ رہا ہوں کہ اس قول کے رد میں کوئی نص یا اجماع میرے علم میں نہیں ہے جبکہ ان کے خیال میں یہاں تین
حوالہ / References
المسایرۃ متن المسامرۃ العلم بانہ تعالٰی لاخالق سواہ المکتبۃ التجاریۃ الکبرٰی مصر ص۱۸۔ ۱۱۷
لم یکن للعبد مدخل فی شیئ من ذلك خرج من البین قطعا وھوالجبر حقاکما لازم بہ الحنفیۃ الاشعریۃ بل قدنصت الاشاعرۃ انفسھم فی بحث عقلیۃ الحسن والقبح ان فعل العبد اضطراری غیر اختیار فوجب ان لایوصف بحسن ولاقبح عقلا ونص الامام ابوالحسن الاشعری ان العبد محل الفعل فحسب وصرح کبراء الاشاعرۃ کالامام الفخر والعلامۃ سعدالدین فی اخرین ان المال ھو الجبر وان العبد مجبور فی صورۃ مختار وتبعھم القاری فی منح الروض فجعلہ الانصاف ومن المعلوم قطعا اجماعا وسمعا ان لیس للعبد شیئ من الایجاد فارادتہ کقولہ لیست الاخلق ربہ تبارك وتعالی فلم یبق الاالتعلق المسمی بالقصد فقالوا ھذامااقدرہ علیہ ربہ ولیس من الخلق فی شیئ کما عرفت فھذا نزاع ساداتنا الحنفیۃ فی ھذاالباب اما انا فکما ذکرت فی الفیوض الملکیۃ تعلیقات کتابی الدولۃ المکیۃ لست ممن یخوض فی ھذاوانما ایمانی و ﷲ الحمد ماثبت بالقران امور ہیں بندے کے فعل اوراس کے ارادے کے درمیان ایك حال اور بندے کے ارادے کا اس سے تعلق ان تینوں امور میں اگر بندے کا کوئی دخل نہیں تو بندہ بالکل الگ تھلگ رہا تو یہ قطعا جبر ہے جس کا اشعری حنفی لوگ الزام دیتے ہیں بلکہ اشاعرہ نے حسن وقبح کے عقلی ہونے کی بحث میں خود تصریح کی ہے کہ بندے کا فعل اضطراری غیر ارادی ہے تو وہ کیسے حسن وقبح سے عقلا موصوف ہوسکتا ہے امام ابوالحسن اشعری نے یہ تصریح کی ہے کہ بندہ تو صرف فعل کا محل ہے اور بس اور امام فخر الدین اور علامہ سعدالدین جیسے بڑے اشاعرہ نے آخری دور میں تصریح کی ہے کہ نتیجۃ جبرلازم ہے اور بندہ مختار کی صورت میں مجبور ہے اور ملا علی قاری نے منح الروض میں ان کی اتباع کرتے ہوئے اسی کو انصاف قرار دیا ہے اور یہ بات قطعا اجماعی اور سماعی طور پر معلوم ہے کہ بندے کوایجاد میں کوئی دخل نہیں ہے تو اس کا ارادہ اس کے قول کی طرح صرف اور صرف اﷲ تعالی کی مخلوق ہے اب صرف ارادے کا فعل سے تعلق باقی ہے جس کو قصد کا نام دیا جاتا ہے تو اس کے لئے انہوں نے کہا ہے کہ اس پر اﷲ تعالی نے بندے کو قادر فرمایا ہے اور یہ قصد کسی شئے کے خلق میں دخیل نہیں ہے جیسا کہ تو معلوم کرچکا ہے تو اس باب میں ہمارے سادات احناف کا یہ نزاع ہے۔ لیکن میرا معاملہ تو وہ ہے جو میں نے اپنی کتاب الدولۃ المکیہ کے حاشیہ الفیوض الملکیہ میں ذکر کردیا ہے کہ میں اس گہرائی میں نہیں پڑتا میرا توصرف وہ ایمان ہے(وﷲ الحمد)جس کو قرآن نے
واجمع علیہ الفریقان شھدت بہ البداھۃ وادی الیہ البرھان ان لاجبرولاتفویض ولکن امربین امرین (وسرت اسرد فیہ الکلام الی ان قلت) فالتکلیف حق والجزاء حق والحکم عدل و الاعتراض کفر والاستبداد ضلال والتحج رجنون والجنون فنون ولا حجۃ لاحد علی اﷲ تعالی مھما فعل وﷲ الحجۃ البالغۃ لایسئل عما یفعل وھم یسئلون فھذا ایماننا ولانزید علیہ وان سئلنا عما ورائہ قلنا لا ندری ولاکلفنا بہ ولا نخوض بحرا لانقدر علی سباحتہ نسأل اﷲ الثبات علی دین الحق وسذا جتہ والحمد ﷲ رب العلمین اھ۔
وثالثا : الخلق لغۃ وعرفا وشرعا ھوالایجاد بالاختیار قال تعالی “ الا یعلم من خلق “ فافادان العلم لازم للخلق وذلك ھوالایجاد بالقصد فان الموجب لایجب ان یعلم الموجب من جھۃ کونہ موجبا ثابت کیا جس پر دونوں فریق متفق ہیں جس پر بداہت شاہد ہے اور جس پر دلیل و برہان نے آگاہی دی ہے کہ نہ جبر ہے نہ تفویض ہے بلکہ ان دونوں چیزوں کے بین بین ایك امر ہے میں نے اپنا کلام جاری رکھتے ہوئے آخر میں یہ کہا کہ تکلیف حق ہے جزاء حق ہے اورحکم عدل اور انکار کفر ہے بندہ کو مستقل بنانا گمراہی ہے اور اس کو پتھر بنانا جنون ہے اور جنون کئی قسم ہے اور اﷲتعالی جو کرتا ہے اس پر کسی کو اعتراض نہیں ہے کامل حجت اﷲ تعالی کی ہے وہ جو کرے اس پر اعتراض نہیں لوگ جو کریں ان سے پوچھ ہوگی پس ہمارا تو یہ ایمان ہے اور بس اس سے زائد کوئی ہم سے سوال کرے تو کہہ دیں گے کہ ہم نہیں جانتے اور نہ ہم اس کے مکلف ہیں ہم اس سمندر میں غوطہ زن نہ ہونگے جس میں تیراکی نہیں کرسکتے ہم تو اﷲ تعالی سے اس کے دین پر ثابت قدمی اور سادہ فہمی کی دعا کرتے ہیں والحمدﷲ رب العالمین اھ
ثالثا : لغت عرف اور شرع میں خلق کا معنی “ اختیار سے کسی چیز کو ایجاد کرنا “ ہے اﷲ تعالی کا ارشاد ہے الایعلم من خلق یعنی کیا تخلیق کرنے والا علم نہیں رکھتا تو اس آیہ کریمہ نے یہ فائدہ دیا کہ خلق کو علم لازم ہے جبکہ یہی ایجاد بالقصد ہے اس کے برخلاف موجب کے لئے ضروری نہیں کہ وہ موجب ہونے کی حیثیت سے موجب کوجانے
وثالثا : الخلق لغۃ وعرفا وشرعا ھوالایجاد بالاختیار قال تعالی “ الا یعلم من خلق “ فافادان العلم لازم للخلق وذلك ھوالایجاد بالقصد فان الموجب لایجب ان یعلم الموجب من جھۃ کونہ موجبا ثابت کیا جس پر دونوں فریق متفق ہیں جس پر بداہت شاہد ہے اور جس پر دلیل و برہان نے آگاہی دی ہے کہ نہ جبر ہے نہ تفویض ہے بلکہ ان دونوں چیزوں کے بین بین ایك امر ہے میں نے اپنا کلام جاری رکھتے ہوئے آخر میں یہ کہا کہ تکلیف حق ہے جزاء حق ہے اورحکم عدل اور انکار کفر ہے بندہ کو مستقل بنانا گمراہی ہے اور اس کو پتھر بنانا جنون ہے اور جنون کئی قسم ہے اور اﷲتعالی جو کرتا ہے اس پر کسی کو اعتراض نہیں ہے کامل حجت اﷲ تعالی کی ہے وہ جو کرے اس پر اعتراض نہیں لوگ جو کریں ان سے پوچھ ہوگی پس ہمارا تو یہ ایمان ہے اور بس اس سے زائد کوئی ہم سے سوال کرے تو کہہ دیں گے کہ ہم نہیں جانتے اور نہ ہم اس کے مکلف ہیں ہم اس سمندر میں غوطہ زن نہ ہونگے جس میں تیراکی نہیں کرسکتے ہم تو اﷲ تعالی سے اس کے دین پر ثابت قدمی اور سادہ فہمی کی دعا کرتے ہیں والحمدﷲ رب العالمین اھ
ثالثا : لغت عرف اور شرع میں خلق کا معنی “ اختیار سے کسی چیز کو ایجاد کرنا “ ہے اﷲ تعالی کا ارشاد ہے الایعلم من خلق یعنی کیا تخلیق کرنے والا علم نہیں رکھتا تو اس آیہ کریمہ نے یہ فائدہ دیا کہ خلق کو علم لازم ہے جبکہ یہی ایجاد بالقصد ہے اس کے برخلاف موجب کے لئے ضروری نہیں کہ وہ موجب ہونے کی حیثیت سے موجب کوجانے
حوالہ / References
الفیوضا ت الملکیۃ تعلیقات الدولۃ المکیۃ مطبعۃ اہل السنۃ والجماعت بریلی ص۲۲
القرآن الکریم ۶۷ /۱۴
القرآن الکریم ۶۷ /۱۴
وان علم علمہ من جھۃ اخری واما ما نوزع فیہ بان الدلالۃ بالتتمۃ “ و ہو اللطیف الخبیر ﴿۱۴﴾ “ فاقول : کونہ لطیفا خبیرا کاف فلولم یکف للخالقیۃ لکان اقحام من خلق مستدرکا علی انہ قد تواتر من القراء الوقف علی من خلق فھی جملۃ مستقلۃ ولا توقف لھا علی مابعدھا والحق ان الکل دلیل مستقل فلوکان قصدنا بخلقنا لکان بقصد نا وکل احد یعلم من وجدانہ انمایرید الفعل لاانہ یرید ان یرید ثم یرید۔
و رابعا لایخالف ملأ حتی المعتزلی ان الارادۃ الکلیۃ فینا لیس بخلقنا بل خلق ربنا خالق القول والقدر فلا یکون لنا ان کان الاالقصد الجزئی۔
اقول : ولیست کلیۃ الارادۃ المخلوقۃ فی عبدانھا نوع تحتہ افراد بل ھی صفۃ شخصیۃ قائمۃ بشخص وانما کلیتھا بمعنی الاطلاق
اگر وہ اسے جانے گا تو دوری جہت سے جانے گا اور یہ نزاع کہ علم پر اس آیہ کریمہ کا تتمہ دلالت کررہا ہے تو میں کہتا ہوں کہ اﷲ تعالی کا لطیف و خبیر ہونا خالقیت کے لئے کافی ہے اور اگر یہ خالقیت کیلئے کافی نہ ہوتو پھر اس آیہ کریمہ کے درمیان “ من خلق “ کا ذکر زائد قرار پائے گا اس کے علاوہ قراء حضرات کا “ من خلق “ پر وقت تواترسے منقول ہے لہذا یہ مستقل جملہ ہے جس کا معنی مابعد پر موقوف نہیں ہے اور حق تو یہ کہ یہ دونوں جملے خالق کے عالم ہونے پر مستقل دلیل ہیں تواگر ہمارا قصد ہمارے خلق سے ہو تو وہ بھی ہمارے قصد سے ہوگا اور ہر ایك اپنے وجدان سے جانتا ہے کہ یہ فعل کا قصد اور ارادہ ہے نہ کہ یہ ارادے کا ارادہ ہے اور پھر اس ارادے کےلئے ارادہ کرنا ہوگا(تو اگر یہ قصدوارادہ فعل کیلئے نہ ہوبلکہ ارادے کےلئے ہوتو یوں ارادہ در ارادہ سے تسلسل لازم آئے گا)
رابعا کوئی گروہ حتی کہ معتزلہ حضرات بھی اس بات سے انکاری نہیں ہیں کہ ہمارا کلی ارادہ ہمارا خلق نہیں ہے بلکہ یہ ارادہ کلیہ ہم میں اﷲ تعالی کا خلق ہے اور ہمارا رب خالق قول اورخالق قدرہے تو یہ ارادہ کلیہ ہمارا خلق نہیں اگر ہمارا ہے توصرف جزئی ارادہ ہے۔ اقول : (میں کہتا ہوں)بندے میں پیدا شدہ ارادہ اس معنی میں کلیہ نہیں کہ اس کے تحت کئی افراد ہوں بلکہ یہ ایك صفت ہے جو شخصی ہے اور ایك شخص سے قائم ہے اس ارادے کی کلیت اس معنی میں ہے کہ یہ ارادہ تمام
و رابعا لایخالف ملأ حتی المعتزلی ان الارادۃ الکلیۃ فینا لیس بخلقنا بل خلق ربنا خالق القول والقدر فلا یکون لنا ان کان الاالقصد الجزئی۔
اقول : ولیست کلیۃ الارادۃ المخلوقۃ فی عبدانھا نوع تحتہ افراد بل ھی صفۃ شخصیۃ قائمۃ بشخص وانما کلیتھا بمعنی الاطلاق
اگر وہ اسے جانے گا تو دوری جہت سے جانے گا اور یہ نزاع کہ علم پر اس آیہ کریمہ کا تتمہ دلالت کررہا ہے تو میں کہتا ہوں کہ اﷲ تعالی کا لطیف و خبیر ہونا خالقیت کے لئے کافی ہے اور اگر یہ خالقیت کیلئے کافی نہ ہوتو پھر اس آیہ کریمہ کے درمیان “ من خلق “ کا ذکر زائد قرار پائے گا اس کے علاوہ قراء حضرات کا “ من خلق “ پر وقت تواترسے منقول ہے لہذا یہ مستقل جملہ ہے جس کا معنی مابعد پر موقوف نہیں ہے اور حق تو یہ کہ یہ دونوں جملے خالق کے عالم ہونے پر مستقل دلیل ہیں تواگر ہمارا قصد ہمارے خلق سے ہو تو وہ بھی ہمارے قصد سے ہوگا اور ہر ایك اپنے وجدان سے جانتا ہے کہ یہ فعل کا قصد اور ارادہ ہے نہ کہ یہ ارادے کا ارادہ ہے اور پھر اس ارادے کےلئے ارادہ کرنا ہوگا(تو اگر یہ قصدوارادہ فعل کیلئے نہ ہوبلکہ ارادے کےلئے ہوتو یوں ارادہ در ارادہ سے تسلسل لازم آئے گا)
رابعا کوئی گروہ حتی کہ معتزلہ حضرات بھی اس بات سے انکاری نہیں ہیں کہ ہمارا کلی ارادہ ہمارا خلق نہیں ہے بلکہ یہ ارادہ کلیہ ہم میں اﷲ تعالی کا خلق ہے اور ہمارا رب خالق قول اورخالق قدرہے تو یہ ارادہ کلیہ ہمارا خلق نہیں اگر ہمارا ہے توصرف جزئی ارادہ ہے۔ اقول : (میں کہتا ہوں)بندے میں پیدا شدہ ارادہ اس معنی میں کلیہ نہیں کہ اس کے تحت کئی افراد ہوں بلکہ یہ ایك صفت ہے جو شخصی ہے اور ایك شخص سے قائم ہے اس ارادے کی کلیت اس معنی میں ہے کہ یہ ارادہ تمام
حوالہ / References
القرآن الکریم ۶۷ /۱۴
عن التعلقات فکلما تعلقت بمقدور معین سمیت جزئیۃ فما القصد الجزئی الاخصوص تعلق تلك الصفۃ الشخصیۃ بفعل شخصی والتعلق امراضافی لاوجودلہ فی الاعیان فان اسند الی العبد لم یکن فی شیئ من الخلق فلم عدلتم عن قول الحنیفۃ وملتم الی تخصیص النصوص۔
وخامسا عــــــہ ھب ان القصد بالقصد تعلقات سے خالی ہے توجب اس کا تعلق کسی جزئی اور معین مقدور سے ہوتا ہے تو وہی ارادہ جزئی کہلاتا ہے لہذا جزئی قصد وارادہ صرف اسی معنی میں ہے کہ اس شخصی صفت کا شخصی فعل سے خصوصی تعلق ہوتا ہے جبکہ یہ تعلق ایك نسبت و اضافت ہے جس کا خارج میں کوئی وجود نہیں ہے لہذا اگر اس قصد جزئی کوبندے کی طرف منسوب کیا جائے تو کسی بھی چیز کا خلق نہ ہوگا(کیونکہ یہ خاص تعلق ہے جس کا کوئی وجودنہیں ہے)تو آپ حضرات نے کس خاطر احناف رضی اﷲ تعالی عنہم کے قول سے اعراض کیا اور کیوں نصوص میں تخصیص کا تکلف کیا۔ خامسا تسلیم کرلیں کہ قصد وارادہ کے لئے
عــــــہ : اقول وھنا دلیلان اخران یمکن لہ الجواب عنھما۔
سادسا : “ و ما تشاءون الا ان یشاء اللہ “ فمشیتنا لیست بمشیتنا بل بمشیۃ ربنا۔
سابعا : ورد مرفوعا وانعقد اجماع المسلمین علی قولھم ماشاء اﷲ اقول(میں کہتاہوں)یہاں دو دلیلیں اور ہیں ان کا جواب ممکن ہے پہلی سادسا اور دوسری سابعا ہے۔
سادسا اﷲ تعالی کے ارشاد “ تم نہیں چاہو گے سوائے اس کے کہ اﷲ تعالی چاہے “ کی رو سے ہماری کوئی مشیت نہیں ہے اگر ہے تو اﷲ تعالی کی مشیت سے ہے(توبندے کا مجبور ہونا ثابت ہے)
سابعا مرفوع حدیث اور اجماع مسلمین سے ثابت ہے کہ یہ مسلم قول ہے جو اﷲ تعالی چاہے گا وہ (باقی اگلے صفحہ پر)
وخامسا عــــــہ ھب ان القصد بالقصد تعلقات سے خالی ہے توجب اس کا تعلق کسی جزئی اور معین مقدور سے ہوتا ہے تو وہی ارادہ جزئی کہلاتا ہے لہذا جزئی قصد وارادہ صرف اسی معنی میں ہے کہ اس شخصی صفت کا شخصی فعل سے خصوصی تعلق ہوتا ہے جبکہ یہ تعلق ایك نسبت و اضافت ہے جس کا خارج میں کوئی وجود نہیں ہے لہذا اگر اس قصد جزئی کوبندے کی طرف منسوب کیا جائے تو کسی بھی چیز کا خلق نہ ہوگا(کیونکہ یہ خاص تعلق ہے جس کا کوئی وجودنہیں ہے)تو آپ حضرات نے کس خاطر احناف رضی اﷲ تعالی عنہم کے قول سے اعراض کیا اور کیوں نصوص میں تخصیص کا تکلف کیا۔ خامسا تسلیم کرلیں کہ قصد وارادہ کے لئے
عــــــہ : اقول وھنا دلیلان اخران یمکن لہ الجواب عنھما۔
سادسا : “ و ما تشاءون الا ان یشاء اللہ “ فمشیتنا لیست بمشیتنا بل بمشیۃ ربنا۔
سابعا : ورد مرفوعا وانعقد اجماع المسلمین علی قولھم ماشاء اﷲ اقول(میں کہتاہوں)یہاں دو دلیلیں اور ہیں ان کا جواب ممکن ہے پہلی سادسا اور دوسری سابعا ہے۔
سادسا اﷲ تعالی کے ارشاد “ تم نہیں چاہو گے سوائے اس کے کہ اﷲ تعالی چاہے “ کی رو سے ہماری کوئی مشیت نہیں ہے اگر ہے تو اﷲ تعالی کی مشیت سے ہے(توبندے کا مجبور ہونا ثابت ہے)
سابعا مرفوع حدیث اور اجماع مسلمین سے ثابت ہے کہ یہ مسلم قول ہے جو اﷲ تعالی چاہے گا وہ (باقی اگلے صفحہ پر)
حوالہ / References
القرآن الکریم ۷۶ /۳۰
فلابد من الانتھاء الی قصد لیس بالقصد والا تسلسل فی الاعیان لانہ وجودی عندکم واذا انتھی الامر الی الایجاب انتھی الاختیار لزم القرار علی ماکان منہ الفرار ماقولھم الوجوب بالاختیار لا ینافی الاختیار بل یحققہ اقول : لیس ھذا وجوبا بالاختیار بل اختیار بالوجوب ای لایستطیع ان لا یختار وھو ینافی الاختیار بمعنی التمکن من الترك قطعا فیعود المحذور وارداعلی القائلین بالتاثیر فی الحال ایضا ولا محیص بماقالوا
بھی قصد ضروری ہے تو لازما آخر میں ایسا قصد ہوگا ورنہ تو خارج میں تسلسل کا وجود لازم آئے گا کیونکہ تمہارے ہاں قصد وجودی چیز ہے توجب آخر میں قصد خود بخود بغیر قصد پایا گیا تو یہ بطور ایجاب ہوگا اور اختیاری نہ ہوگا یہی وہ جبر ہے تو نے جس سے فرار اختیار کیا وہی پیش آیا لیکن یہاں ان کا یہ کہنا کہ یہ وجوب بالاختیار ہے جو اختیارکے منافی نہیں بلکہ اس کے بندے کا اختیار ثابت ہوتا ہے اقول : (میں کہتا ہوں)یہ وجوب بالاختیار نہیں بلکہ اختیاربالوجوب ہے یعنی بندہ کو اس کے اختیار نہ کرنے کی استطاعت نہ ہو گی یہ تو قطعا اختیار بمعنی قدرت ترك کے منافی ہے تو خرابی کا عود لازم آیا جو بندے کے لئے حال میں تاثیر کے قائل ہیں ان پر بھی یہ اعتراض وارد ہوگا اور ان کا یہ کہنا کہ قصداعتباری چیز ہے جس میں
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
کان ومالم یشاء لم یکن فلولم یشاء مشیتنالما کانت لکن کانت فقد شاء ھا والجواب عنھما مشیتنا بمشیتنا لمشیتہ ان تکون بمشیتنا ویخص الاول ان المعنی لاتشاؤن شیئا من افعالکم الاماشاء اﷲ ان یخلقہ عند مشیتکم ۱۲منہ۔ ہوگا اور جو نہ چاہے گا نہ ہوگا تو اگر اﷲ تعالی ہماری مشیئت کو نہ چاہے تو نہ ہوگی لیکن ہماری مشیئت پائی جاتی ہے لہذا اﷲ تعالی نے اس کی مشیئت فرمائی ہے(تو بندے کے لئے جبرثابت ہے)دونوں دلیلوں کاجواب یہ ہے کہ ہماری مشیئت کا وجود ہماری مشیئت سے ہے کہ الله تعالی کی مشیئت ہے کہ بندے کی مشیئت پائی جائے اور پہلی دلیل میں آیہ کریمہ میں تخصیص یوں ہوگی تم اپنے افعال سے کچھ نہ چاہوگے مگر جب اﷲ تعالی تمہاری مشیت سے اس کو پیدا کرنا چاہے گا ۱۲منہ(ت)
بھی قصد ضروری ہے تو لازما آخر میں ایسا قصد ہوگا ورنہ تو خارج میں تسلسل کا وجود لازم آئے گا کیونکہ تمہارے ہاں قصد وجودی چیز ہے توجب آخر میں قصد خود بخود بغیر قصد پایا گیا تو یہ بطور ایجاب ہوگا اور اختیاری نہ ہوگا یہی وہ جبر ہے تو نے جس سے فرار اختیار کیا وہی پیش آیا لیکن یہاں ان کا یہ کہنا کہ یہ وجوب بالاختیار ہے جو اختیارکے منافی نہیں بلکہ اس کے بندے کا اختیار ثابت ہوتا ہے اقول : (میں کہتا ہوں)یہ وجوب بالاختیار نہیں بلکہ اختیاربالوجوب ہے یعنی بندہ کو اس کے اختیار نہ کرنے کی استطاعت نہ ہو گی یہ تو قطعا اختیار بمعنی قدرت ترك کے منافی ہے تو خرابی کا عود لازم آیا جو بندے کے لئے حال میں تاثیر کے قائل ہیں ان پر بھی یہ اعتراض وارد ہوگا اور ان کا یہ کہنا کہ قصداعتباری چیز ہے جس میں
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
کان ومالم یشاء لم یکن فلولم یشاء مشیتنالما کانت لکن کانت فقد شاء ھا والجواب عنھما مشیتنا بمشیتنا لمشیتہ ان تکون بمشیتنا ویخص الاول ان المعنی لاتشاؤن شیئا من افعالکم الاماشاء اﷲ ان یخلقہ عند مشیتکم ۱۲منہ۔ ہوگا اور جو نہ چاہے گا نہ ہوگا تو اگر اﷲ تعالی ہماری مشیئت کو نہ چاہے تو نہ ہوگی لیکن ہماری مشیئت پائی جاتی ہے لہذا اﷲ تعالی نے اس کی مشیئت فرمائی ہے(تو بندے کے لئے جبرثابت ہے)دونوں دلیلوں کاجواب یہ ہے کہ ہماری مشیئت کا وجود ہماری مشیئت سے ہے کہ الله تعالی کی مشیئت ہے کہ بندے کی مشیئت پائی جائے اور پہلی دلیل میں آیہ کریمہ میں تخصیص یوں ہوگی تم اپنے افعال سے کچھ نہ چاہوگے مگر جب اﷲ تعالی تمہاری مشیت سے اس کو پیدا کرنا چاہے گا ۱۲منہ(ت)
ان القصد اعتباری فلیتسلسل وذلك لانہ فی المبدء محال ولوفی الاعتباریات اقول لان سر تجویزہ ھو انقطاعہ بانقطاع الاعتبار وھھنا حیث انقطع انقطع ماتحتہ لانعدام العلۃ فینعدم الفعل ولابان قصد القصد عین القصد فان المحتاج کیف یکون عین المحتاج الیہ ولا بانہ عدمی فلایحتاج الی مؤثر فان کل متجدد لاغناء لہ عن مؤثر ولو عدمیا کالعمی ولابان اختیار المختار لایعلل کایجاب الموجب اقول نعم لایسأل لم خصص ھذا لاذاك کما حققتہ فی رسالۃ “ الافھام المصحح للترجیح بدون مرجح “ التی الفتھا بعد ورود ھذاالاستفتاء اما نفس التخصیص فمتجدد ولیس لہ عن المؤثر محیص فان قال الکل لانرید بالاختیاری الامایقع بالاختیار او عند الاختیار وان لم یکن الاختیار بالاختیار
تسلسل ہوسکتاہے(یہ قول بھی اس اعتراض سے ان کو نجات نہیں دے سکتا)کیونکہ اس تسلسل کے مبدء میں(بلاقصد ہونا)ایك محال چیز ہے اگرچہ یہ اعتباری چیزوں کا تسلسل بھی ہو اقول : (میں کہتا ہوں)اعتبار یات میں تسلسل کے جواز کا قول اس بنیاد پر تھا کہ یہ اعتبار کے انقطاع سے منقطع ہوجاتاہے تو یہاں جب اعتباری قصد منقطع ہوگیا تو تسلسل بھی ختم ہوگیا کیوں کہ علت(قصد)جب ختم ہوگئی تو فعل ختم ہوجائے گا اس تسلسل کے جواز کی بنیاد یہ نہیں کہ قصد کا قصد عین وہی قصد ہوتا ہے کیونکہ یہ غلط ہے اس لئے دوسرا قصد پہلے کی طرف محتاج ہے اور پہلا محتاج الیہ ہے تو محتاج کا عین محتاج الیہ ہونا کیونکر ہوسکتا ہے اور اس کے جواز کی بنیاد یہ بھی نہیں کہ قصد عدمی ہے تو عدمی کسی مؤثر کا محتاج نہیں ہوتا یہ اس لئے غلط ہے کہ قصد متجد د ہوتا ہے تو متجدد چیز مؤثر سے مستغنی نہیں ہوسکتی اگرچہ وہ متجدد عدمی ہو جیسا کہ بینا نہ ہونا اور اس کے جواز کی وجہ یہ بھی نہیں کہ مختار کے اختیار کےلئے کسی اور علت کی ضرورت نہیں جیسا کہ موجب کے ایجاب کےلئے ضرورت نہیں اقول یہ اس لئے غلط ہے کہ مختار کے اختیار سے تخصیص ہوتی ہے تو اس تخصیص کے متعلق وجہ نہیں پوچھی جاسکتی کہ اس کو کیوں خاص کیا یا اسکو کیوں خاص نہ کیا مختار کو اختیار تخصیص کی تحقیق میں نے اپنے رسالہ الافھام المصحح للترجیح بدون المرجح میں کی ہے جس کو میں نے اس استفتاء کے بعد تالیف کیا ہے لیکن
تسلسل ہوسکتاہے(یہ قول بھی اس اعتراض سے ان کو نجات نہیں دے سکتا)کیونکہ اس تسلسل کے مبدء میں(بلاقصد ہونا)ایك محال چیز ہے اگرچہ یہ اعتباری چیزوں کا تسلسل بھی ہو اقول : (میں کہتا ہوں)اعتبار یات میں تسلسل کے جواز کا قول اس بنیاد پر تھا کہ یہ اعتبار کے انقطاع سے منقطع ہوجاتاہے تو یہاں جب اعتباری قصد منقطع ہوگیا تو تسلسل بھی ختم ہوگیا کیوں کہ علت(قصد)جب ختم ہوگئی تو فعل ختم ہوجائے گا اس تسلسل کے جواز کی بنیاد یہ نہیں کہ قصد کا قصد عین وہی قصد ہوتا ہے کیونکہ یہ غلط ہے اس لئے دوسرا قصد پہلے کی طرف محتاج ہے اور پہلا محتاج الیہ ہے تو محتاج کا عین محتاج الیہ ہونا کیونکر ہوسکتا ہے اور اس کے جواز کی بنیاد یہ بھی نہیں کہ قصد عدمی ہے تو عدمی کسی مؤثر کا محتاج نہیں ہوتا یہ اس لئے غلط ہے کہ قصد متجد د ہوتا ہے تو متجدد چیز مؤثر سے مستغنی نہیں ہوسکتی اگرچہ وہ متجدد عدمی ہو جیسا کہ بینا نہ ہونا اور اس کے جواز کی وجہ یہ بھی نہیں کہ مختار کے اختیار کےلئے کسی اور علت کی ضرورت نہیں جیسا کہ موجب کے ایجاب کےلئے ضرورت نہیں اقول یہ اس لئے غلط ہے کہ مختار کے اختیار سے تخصیص ہوتی ہے تو اس تخصیص کے متعلق وجہ نہیں پوچھی جاسکتی کہ اس کو کیوں خاص کیا یا اسکو کیوں خاص نہ کیا مختار کو اختیار تخصیص کی تحقیق میں نے اپنے رسالہ الافھام المصحح للترجیح بدون المرجح میں کی ہے جس کو میں نے اس استفتاء کے بعد تالیف کیا ہے لیکن
قلنا ان دفع قول الاشعری ان فعل العبد اضطراری ولکن این المحیص من ثبوت الحجۃ للعبد فی المعاصی فانہ یقول ماخلقت وانما قصدت وماکان قصدی ایضا باختیاری فماذنبی واعلم ان الکلام ھھنا ینجر الی حویصۃ اخری امر وادھی لاتنحل بانامل الافکار الابتوفیق العزیز الغفار ولعصوبۃ ھذاسکت عنہ مثل السید الشریف فی موضعین من شرح المواقف والتزم مصیبتہ البحر فی الفواتح والعیاذ باﷲ تعالی وتتبعت کلمات المتکلمین و الاصولیین من جمیع مظان ھذا البحث الیھا فاجمتعت لی منھا ثمانیۃ اجوبۃ لاغناء فی شیئ منھا ثم المولی سبحنہ وتعالی فتح بفضلہ وھدانی للجواب الحق کما اوردت کل ذلك فی رسالتی “ تحبیرالحبر بقصم الجبر۱۳۲۹ھ “ التی الفتھا بعد ورود ھذا الاستفتاء قبل ان انھی الجواب عنہ فنکل ھذا البحث قبل ان انھی الجواب عنہ فنکل ھذا البحث الیھا ونفیض فیما کنا فیہ فنقول لھم تبین ان
نفس تخصیص تومتجدد ہے جس کو مؤثر سے غنی نہیں اور تمام مذکور حضرات یہ کہیں کہ اختیاری سے ہماری مراد یہ ہے کہ وہ مختار سے یا اختیار پر صادر ہواگرچہ وہ اختیار اختیاری نہ ہو تو ہم کہیں گے کہ یہ بات اگرچہ اشعری کے اس قول کے لئے دافع ہوجائیگی کہ بندے کا فعل اضطراری ہے لیکن قیامت کے روز گناہوں پر جواب طلبی کے وقت بندے کی اس حجت کہ میں نے گناہ کے فعل کی تخلیق نہ کی صرف قصد کیا اور میرا قصداختیار ی بھی نہ تھا تو گناہ میرا کیسے ہوگیا کا جواب کیسے بنے گا تو خلاصی نہ ہوئی اور معلوم ہونا چاہئے کہ یہاں کلام ایك نئی مشکل میں پڑگیا ہے جو مشکل ترین ہے اوراﷲ تعالی العزیز الغفار کی توفیق کے بغیر افکار کے ذریعہ حل نہیں ہوسکتی بحث کی اس صعوبت کی بناء پر سید شریف نے شرح المواقف کے دو مقام پر خاموشی اختیارکرلی اوربحر العلوم نے فواتح میں اس کو مصیبت تسلیم کیا ہے والعیاذ باﷲ تعالی اس معاملہ میں متکلمین اوراصولیین کے مواقع بحث کی میں نے چھان بین کی تو مجھے وہاں سے آٹھ جواب ملے جن سے کوئی تسلی بخش اطمینان نہ ملا پھر مولی تعالی نے اپنے فضل اور رہنمائی سے حق جواب کا راستہ کھول دیا جیسا کہ میں نے اس تمام بحث کو اپنے رسالہ “ تجبیر الحبر بقصم الجبر “ میں لایا ہوں اس رسالہ کو میں نے اس استفتا کے ورود کے بعد اور اس کے جواب کو مکمل کرنے سے قبل تالیف کیا ہے تو میں اس بحث کو اس کے سپرد کرتا ہوں اور اپنی جاری کلام میں چل رہا ہوں تو ہم ان سے
نفس تخصیص تومتجدد ہے جس کو مؤثر سے غنی نہیں اور تمام مذکور حضرات یہ کہیں کہ اختیاری سے ہماری مراد یہ ہے کہ وہ مختار سے یا اختیار پر صادر ہواگرچہ وہ اختیار اختیاری نہ ہو تو ہم کہیں گے کہ یہ بات اگرچہ اشعری کے اس قول کے لئے دافع ہوجائیگی کہ بندے کا فعل اضطراری ہے لیکن قیامت کے روز گناہوں پر جواب طلبی کے وقت بندے کی اس حجت کہ میں نے گناہ کے فعل کی تخلیق نہ کی صرف قصد کیا اور میرا قصداختیار ی بھی نہ تھا تو گناہ میرا کیسے ہوگیا کا جواب کیسے بنے گا تو خلاصی نہ ہوئی اور معلوم ہونا چاہئے کہ یہاں کلام ایك نئی مشکل میں پڑگیا ہے جو مشکل ترین ہے اوراﷲ تعالی العزیز الغفار کی توفیق کے بغیر افکار کے ذریعہ حل نہیں ہوسکتی بحث کی اس صعوبت کی بناء پر سید شریف نے شرح المواقف کے دو مقام پر خاموشی اختیارکرلی اوربحر العلوم نے فواتح میں اس کو مصیبت تسلیم کیا ہے والعیاذ باﷲ تعالی اس معاملہ میں متکلمین اوراصولیین کے مواقع بحث کی میں نے چھان بین کی تو مجھے وہاں سے آٹھ جواب ملے جن سے کوئی تسلی بخش اطمینان نہ ملا پھر مولی تعالی نے اپنے فضل اور رہنمائی سے حق جواب کا راستہ کھول دیا جیسا کہ میں نے اس تمام بحث کو اپنے رسالہ “ تجبیر الحبر بقصم الجبر “ میں لایا ہوں اس رسالہ کو میں نے اس استفتا کے ورود کے بعد اور اس کے جواب کو مکمل کرنے سے قبل تالیف کیا ہے تو میں اس بحث کو اس کے سپرد کرتا ہوں اور اپنی جاری کلام میں چل رہا ہوں تو ہم ان سے
ما زعمتم ان الحاجۃ تندفع بہ فماحملکم علی تخصیص النصوص وانت تعلم ان ھذاکما یکفی للرد علی المحقق رحمہ اﷲ تعالی کذلك لرد کل مایدعی العبد خالقالہ من فعل اوعزم اوغیر ذلك للخلاص من ھذہ الورطۃ الظلماء فان الکلام یجری فی الکل ولایزال یتسلسل الابالانھاء الی الالجاء وھذامانقل فی شرح المقاصد وغیرہ عن المحققین ان المال ھوالجبر فثبت بالبرھان اسناد خلق شیئ ماالی العبد مع کونہ مخالفا للقران العظیم والاجماع القدیم والدین القویم لایسمن ولایغنی من جوع فوجب حمل کلام اﷲ تعالی علی عمومہ والایمان بان لاخالق الااﷲ تعالی ثم البداھۃ شاھدۃ بالفرق بین البشروالحجر فلاجبر ولا تفویض ولکن امربین امرین ولا یلزم للعلم بحقیقۃ شیئ العلم بحقیقتہ کما بینتہ فی “ ثلج الصدر لایمان القدر “ وھذا ھو العلم الموروث عن رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی گزارش کررہے ہیں کہ واضح ہوچکا ہے کہ تمہاری مجبوری والی حاجت اس سے ختم ہوگئی ہے تو پھر کس لئے تم نصوص کی تخصیص کررہے ہو۔ آپ جانتے ہیں کہ جس طرح یہ بیان محقق رحمہ اﷲ تعالی کے رد کےلئے کافی ہے اسی طرح ان تمام لوگوں کے رد کے لئے کافی ہے جو بندے کو فعل یا عز م وغیرہ کیلئے خالق ہونے کا دعوی کرتے ہیں اور اس اندھیری نگری سے خلاصی دینے کے لئے کافی ہے کیونکہ یہ کلام تمام لوگوں کے موقف پر جاری ہوتا ہے اور یہ سلسلہ کلام جاری رہے گا تاوقتیکہ جبر تك انتہا نہ ہوجائے اور یہی کچھ ہے جو شرح المقاصد وغیرہ میں محققین سے منقول ہے کہ بالآخر معاملہ جبر پر ختم ہوتا ہے تو برہان سے ثابت ہوگیا ہے کہ بندے کی طرف کسی چیز کے خلق کو منسوب کرنا باوجود یکہ قرآن قدیم اجماع اور دین قویم کے مخالف ہے نہ کسی طرح مفید ہے اور نہ ہی کسی حاجت میں کار آمد ہے تو ضروری ہے کہ اﷲ تعالی کے کلام کو اس کے عموم پر محمول کیا جائے اور اﷲ تعالی کے سواکسی کے خالق نہ ہونے پر ایمان رکھاجائے پھر بداہت اس بات پر شاہد ہے کہ بشر اورحجر میں فرق ہے لہذا جبر کا قول نہ کیا جائے اور نہ ہی تفویض کی بات کی جائے بلکہ ان دونوں کے درمیان معاملہ ہے اور کسی چیز کے حق ہونے کے علم سے یہ لازم نہیں آتا کہ اس کی حقیقت کا علم ہوجائے جیسا کہ میں نے اپنے رسالہ “ ثلج الصدر لایمان بالقدر “ میں بیان کیا ہے یہی وہ علم ہے
علیہ وسلم ومن رام فوقہ فانما یروم خرط القتاد۔
اقول : ومن الدلیل القاطع علی بطلان کل کلام ارید بہ حل ھذہ العقدۃ ماتواتر عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم من نھیہ الامۃ حتی اجلۃ صحابۃ الکرام الذین کانوااعقل واعلم وافھم من کل من بعدھم عن الخوض فیہ وقد اخرج الطبرانی فی المعجم الکبیر عن ثوبان رضی اﷲ تعالی عنہ مولی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم قال اجتمع اربعون من الصحابۃ رضی اﷲ تعالی عنہم ینظرون فی القدرو الجبر فیھم ابوبکر وعمر وضی اﷲ تعالی عنہما فنزل الروح الامین جبرئیل علیہ الصلوۃ والسلام فقال یامحمد اخرج علی امتك فقد احدثوا فخرج صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ملتمعالونہ متوردۃ وجنتاہ کانما تفقأ بحب الرمان الحامض فنھضواالی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم حاسرین اذرعھم ترعد اکفھم واذرعھم فقالوا جو رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے وراثت میں ملا ہے اور جو شخص اس سے زائد کا متلاشی ہے وہ ناممکن کا متلاشی ہے۔
اقول : (میں کہتا ہوں)اس پیچیدہ بحث میں ہر کلام کے بطلان پر ایك قاطع دلیل وہ ہے جو تواتر کے ساتھ حضور علیہ الصلوۃ والسلام سے منقول ہے کہ آپ نے اپنی امت حتی کہ اجلہ صحابہ کرام جو کہ اپنے بعد والے لوگوں سے ہر طرح زیادہ عقل زیادہ علم اور زیادہ فہم والے تھے کو اس خطرناك بحث سے منع فرمایا چنانچہ امام طبرانی نے معجم کبیر میں حضرت ثوبان رضی اﷲتعالی عنہ جو حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے آزاد کردہ تھے سے روایت کیا کہ چالیس صحابہ کرام جن میں ابوبکر اور عمر رضی اﷲتعالی عنہما بھی تھے جمع ہوکر جبر وقدر میں بحث کرنے لگے تو روح الامین جبرائیل علیہ الصلوۃ والسلام حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے دربار میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ یارسول اﷲصلی اﷲ تعالی علیك وسلم !آپ باہراپنی امت کے پاس تشریف لے جائیں انہوں نے ایك نیا کام شروع کردیا ہے تو حضور علیہ الصلوۃ والسلام باہر اس حال میں تشریف لائے کہ غصہ سے آپ کا چہرہ مبارك سرخی میں اس طرح نمایاں تھا جیسے سرخ انار کا دانہ آپ کے رخسار مبارك پر نچوڑا گیا ہو تو صحابہ کرام حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی اس کیفیت کو دیکھ کر کھلے بازو حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے استقبال
اقول : ومن الدلیل القاطع علی بطلان کل کلام ارید بہ حل ھذہ العقدۃ ماتواتر عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم من نھیہ الامۃ حتی اجلۃ صحابۃ الکرام الذین کانوااعقل واعلم وافھم من کل من بعدھم عن الخوض فیہ وقد اخرج الطبرانی فی المعجم الکبیر عن ثوبان رضی اﷲ تعالی عنہ مولی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم قال اجتمع اربعون من الصحابۃ رضی اﷲ تعالی عنہم ینظرون فی القدرو الجبر فیھم ابوبکر وعمر وضی اﷲ تعالی عنہما فنزل الروح الامین جبرئیل علیہ الصلوۃ والسلام فقال یامحمد اخرج علی امتك فقد احدثوا فخرج صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ملتمعالونہ متوردۃ وجنتاہ کانما تفقأ بحب الرمان الحامض فنھضواالی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم حاسرین اذرعھم ترعد اکفھم واذرعھم فقالوا جو رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے وراثت میں ملا ہے اور جو شخص اس سے زائد کا متلاشی ہے وہ ناممکن کا متلاشی ہے۔
اقول : (میں کہتا ہوں)اس پیچیدہ بحث میں ہر کلام کے بطلان پر ایك قاطع دلیل وہ ہے جو تواتر کے ساتھ حضور علیہ الصلوۃ والسلام سے منقول ہے کہ آپ نے اپنی امت حتی کہ اجلہ صحابہ کرام جو کہ اپنے بعد والے لوگوں سے ہر طرح زیادہ عقل زیادہ علم اور زیادہ فہم والے تھے کو اس خطرناك بحث سے منع فرمایا چنانچہ امام طبرانی نے معجم کبیر میں حضرت ثوبان رضی اﷲتعالی عنہ جو حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے آزاد کردہ تھے سے روایت کیا کہ چالیس صحابہ کرام جن میں ابوبکر اور عمر رضی اﷲتعالی عنہما بھی تھے جمع ہوکر جبر وقدر میں بحث کرنے لگے تو روح الامین جبرائیل علیہ الصلوۃ والسلام حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے دربار میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ یارسول اﷲصلی اﷲ تعالی علیك وسلم !آپ باہراپنی امت کے پاس تشریف لے جائیں انہوں نے ایك نیا کام شروع کردیا ہے تو حضور علیہ الصلوۃ والسلام باہر اس حال میں تشریف لائے کہ غصہ سے آپ کا چہرہ مبارك سرخی میں اس طرح نمایاں تھا جیسے سرخ انار کا دانہ آپ کے رخسار مبارك پر نچوڑا گیا ہو تو صحابہ کرام حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی اس کیفیت کو دیکھ کر کھلے بازو حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے استقبال
تبنا الی اﷲ ورسولہ فقال اولی لکم ان کدتم لتوجبون اتانی الروح الامین فقال اخرج الی امتك یامحمد فقد احدثت اھ افتری ان ھذا الغضب الشدید والنھی الاکید کان لان ابابکر وعمر وسائر الصحابۃ رضی اﷲ تعالی عنھم لم یکونوا اھلالان یعرفواکلمۃ سھلۃ خفیفۃ ان العزم لکم والباقی لربکم اوغیر ذلك ممایزعمہ زاعم کلابل ھو دلیل قاطع علی ان الامر سر لاتبلغہ العقول ولایحیط بہ البیان وان لاخیر للامۃ فی کشفہ علیھم والالماضن اﷲ بہ ورسولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فالحق الناصع ماعلیہ ائمۃ السلف ان الامر بین لاولا ولا مصدر لنا الان فوق ذلك ومانحن من المتکلفین الحمد ﷲ رب العلمین کے لئے آگے بڑھے در انحالیکہ ان کے ہاتھ اور بازو کانپ رہے تھے اورعرض کی ہم نے اﷲ تعالی اور رسول اﷲصلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے دربار میں توبہ پیش کی تو آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا قریب تھا کہ تم اپنے پر جہنم کوواجب کرلیتے میرے پاس جبرائیل امین تشریف لائے اور کہا کہ آپ باہر امت کے پاس جائیں انہوں نے حادثہ کردیا ہے الخ آپ نے یہ شدید غضب اور پر تاکید نہی دیکھ لی اور کیا یہ اس وجہ سے تھی کہ ابوبکر اور عمر فاروق و دیگر صحابہ رضوان اﷲتعالی علیہم اجمعین معمولی سی اس بات کو سمجھنے کے اہل نہ تھے کہ عزم بندے کا خلق ہے اور باقی سب اﷲ تعالی کی مخلوق ہے یا جیسا کہ گمان کرنے والوں نے یہ گمان کیا ہرگز ہرگز یہ بات نہ تھی بلکہ یہ اس بات پر قطعی دلیل تھی کہ جبر وقدر کا معاملہ ایك راز ہے جس تك عقلوں کی رسائی نہیں اور جس کو احاطہ بیان میں نہیں لایا جاسکتا اور اس راز کو عیاں کرنے میں امت کے لئے بھلائی نہیں ورنہ اﷲ تعالی اور اس کا رسول صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلماس کے بیان پر بخیل نہ تھے تو خالص حق وہی ہے جس پر ائمہ سلف قائم رہے کہ یہ معاملہ نہ جبر ہے نہ قدر ہے بلکہ دونوں کے درمیان ایك امر ہے جس کو اب تك ہم پر اس سے زائد واضح نہیں کیا گیا اور نہ ہی ہم تکلف میں مبتلا ہوں گے الحمد رب العلمین۔ (ت)
حوالہ / References
العجم الکبیر حدیث۱۴۲۳ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۲ / ۹۵ و ۹۶
بالجملہ یہ بحث کہ نصوص کے خلاف اجماع کے خلاف اشعریہ کے خلاف حنفیہ کے خلاف وجدان کے خلاف برہان کے خلاف کیا عقیدہ اہلسنت ہوسکتی ہے یا امام ابن الہمام کا یہ عقیدہ ہے حاش ﷲ عقیدہ وہی ہے جو خود ہمارے رب عزوجل نے فرمایا : “ ہل من خلق غیر اللہ “ (کیا اﷲ تعالی کے بغیر کوئی خالق ہے۔ ت)' اور فرمایا : “ الا لہ الخلق والامر “ (صرف اسی کےلئے خلق اور امر ہے۔ ت)اور فرمایا : “ افمن یخلق کمن لا یخلق “ (توکیا پیدا کرنے والا اس کی طر ح ہے جو پیدا نہیں کرتا۔ ت)اور فرمایا : “ لایخلقون شیـا و ہم یخلقون “ (وہ کسی چیز کو پیدا نہیں کرتے جبکہ وہ خود مخلوق ہیں۔ ت)
عقیدہ وہی ہے جو خود امام ابن الہمام نے اسی اصل کے آغاز میں لکھا کہ ان اﷲ لاخالق سواہ (بیشك اﷲ تعالی کے سوا کوئی خالق نہیں۔ ت)
عقیدہ وہی ہے جوخود امام ممدوح نے اسی کتاب مسایرہ کے آخر میں لکھا جہاں عقائد اہلسنت کی فہرست دی اور تادم مرگ اس پر اپنے ثابت قدم رہنے کی دعا کی کہ فرماتے ہیں :
ولنختم الکتاب بایضاح عقیدۃ اھل السنۃ و الجماعۃ وھی انہ تعالی واحد لاشریك لہ منفرد بخلق الذوات وافعالھا (الی ان قال علیہ رحمۃ ذی الجلال)واﷲ سبحنہ نسألہ من عظیم جودہ وکبر منہ ان یتوفانا علی یقین ذلك مسلمین انہ ذو الفضل العظیم وھو ہم اپنی کتاب کو اہلسنت وجماعت کے عقیدہ کی وضاحت پر ختم کرتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ اﷲ تعالی واحد لاشریك ہے وہ ذات اور افعال کے پیدا کرنے میں منفرد ہے اور ان رحمہ اﷲ تعالی نے آخر میں یوں فرمایا اور اﷲ سبحانہ وتعالی کے جودو کرم اور اس کی کبریائی سے ہم سوالی ہیں کہ وہ ہمیں اس پختہ یقین حالت اسلام میں وفات نصیب فرمائے وہ بڑے فضل والا ہے اور وہی
عقیدہ وہی ہے جو خود امام ابن الہمام نے اسی اصل کے آغاز میں لکھا کہ ان اﷲ لاخالق سواہ (بیشك اﷲ تعالی کے سوا کوئی خالق نہیں۔ ت)
عقیدہ وہی ہے جوخود امام ممدوح نے اسی کتاب مسایرہ کے آخر میں لکھا جہاں عقائد اہلسنت کی فہرست دی اور تادم مرگ اس پر اپنے ثابت قدم رہنے کی دعا کی کہ فرماتے ہیں :
ولنختم الکتاب بایضاح عقیدۃ اھل السنۃ و الجماعۃ وھی انہ تعالی واحد لاشریك لہ منفرد بخلق الذوات وافعالھا (الی ان قال علیہ رحمۃ ذی الجلال)واﷲ سبحنہ نسألہ من عظیم جودہ وکبر منہ ان یتوفانا علی یقین ذلك مسلمین انہ ذو الفضل العظیم وھو ہم اپنی کتاب کو اہلسنت وجماعت کے عقیدہ کی وضاحت پر ختم کرتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ اﷲ تعالی واحد لاشریك ہے وہ ذات اور افعال کے پیدا کرنے میں منفرد ہے اور ان رحمہ اﷲ تعالی نے آخر میں یوں فرمایا اور اﷲ سبحانہ وتعالی کے جودو کرم اور اس کی کبریائی سے ہم سوالی ہیں کہ وہ ہمیں اس پختہ یقین حالت اسلام میں وفات نصیب فرمائے وہ بڑے فضل والا ہے اور وہی
حوالہ / References
القرآن الکریم ۳۵ /۳
القرآن الکریم ۷ /۵۴
القرآن الکریم ۱۶ /۱۷
القرآن الکریم ۱۶ /۲۰
المسایرۃ متن المسامرۃ العلم بانہ تعالٰی لاخالق سواہ المکتبۃ التجاریۃ الکبرٰی مصر ص۹۶
المسایرۃ متن المسامرۃ ختم المصنف کتابہ ببیان عقیدہ اہلسنت المکتبۃ التجاریۃ الکبرٰی مصر ص۳۹۰
القرآن الکریم ۷ /۵۴
القرآن الکریم ۱۶ /۱۷
القرآن الکریم ۱۶ /۲۰
المسایرۃ متن المسامرۃ العلم بانہ تعالٰی لاخالق سواہ المکتبۃ التجاریۃ الکبرٰی مصر ص۹۶
المسایرۃ متن المسامرۃ ختم المصنف کتابہ ببیان عقیدہ اہلسنت المکتبۃ التجاریۃ الکبرٰی مصر ص۳۹۰
حسبنا ونعم الوکیل ولاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم ۔ ہمیں کافی ہے اور بہترین وکیل ہے ولاحول ولا قوۃ الا باﷲ العلی العظیم۔ (ت)عقیدہ وہ ہے جو امام صدر الشریعۃ کی توضیح سے گزرا (یہ رسالہ ناقص ملا)
مسئلہ۷۵ : ازڈیرہ غازی خاں بلاک۱۲ مرسلہ مولوی احمد بخش صاحب ۲۱ذی القعدہ ۱۳۳۹ھ
حضرت ملك العلماء والفضلاء ثقتی رجائی ادام اﷲ تعالی ظلہ علی رؤس المستفیضین!نیاز بے انداز وشوق زیارت کے بعد جن کا کوئی حد وانداز نہیں گزارش میں دیوبندیوں کو امکان کذب کے متعلق سخت مبغوض اور ملحد جانتا تھا ان ایام میں جہد المقل مؤلفہ محمود حسن دیوبندی کا اتفاق مطالعہ ہوا تو عقلی دلائل کی پرواہ نہ کرکے کتب معتبرہ کی نقول وروایات جو اس میں موجود ہیں سخت مخالف عقیدہ خودثابت ہوئی ہے سوا اس کے کوئی چارہ نہ ملا کہ حضور کی خدمت میں دریافت کرنے سے یہ مشکل حل ہو اگر کوئی جہد المقل کا جواب مفصل یا کوئی اور تسلی بخش رسالہ یا کتاب چھپی ہوتو کسی خادم کے نام حکم فرماکر کہ وی پی بھیج دیں ممنون فرمائیں ورنہ مجھے مطمئن فرمادیں کہ شرح مقاصد وشرح مواقف وشرح طوالع ومسائرہ وغیرہ کتب کثیرہ کی عبارات کا کیا جواب ہے جن میں صاف طور پر موجود ہے کہ خدائے پاك جل شانہ سے صدور قبائح ممکن ہے فقط۔
الجواب :
بملاحظہ مولینا المکرم ذی المجدالاتم والفضل والکرم دامت معالیہ وبورکت ایامہ ولیالہ السلام علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ نامی نامہ بریلی سے واپس ہوکر یہاں آیا فقیر ۱۲ربیع الاول شریف کی مجلس مبارك پڑھ کر شام سے سخت علیل ہو اکہ ایسا مرض کبھی نہ ہوا تھا میں نے وصیت نامہ لکھوادیا بارے بحمدہ تعالی مولی عزوجل نے شفا بخشی ولہ الحمد۔ اسی دوران میں آپ کا قصیدہ حمیدہ نعتیہ آیاتھا مجھ میں دیکھنے کی قوت کہاں تھی وہ کاغذات میں مل گیا اور مہینوں گم رہا مجھے زیادہ ندامت اس کی تھی کہ جناب نے تحریر فرمایا کہ اس کا مثنی یہاں نہیں اب الحمد ﷲ مہینوں کے بعد مل گیا زوال مرض کو مہینے گزرے مگر جو ضعف شدید اس سے پیدا ہوا تھا اب تك بدستور ہے۔ فرض ووتر اور صبح کی سنتیں بدقت کھڑے ہوکر پڑھتا ہوں باقی سنتیں بیٹھ کر۔ مسجد میرے دروازے سے دس بارہ قدم ہے وہاں تك چار آدمی کرسی پر بٹھاکر لے جاتے اور لاتے اور باقی امراض کہ کئی برس سے کاللازم ہیں بدستور ہیں کبھی ترقی کبھی تنزل
والحمدﷲ علی کل حال واعوذ باﷲ من حال اھل النار۔ تمام تعریفیں ہرحال میں اﷲ تعالی کےلئے ہیں اور دوزخیوں کے حال سے میں اﷲ تعالی کی پناہ مانگتا ہوں(ت)
مسئلہ۷۵ : ازڈیرہ غازی خاں بلاک۱۲ مرسلہ مولوی احمد بخش صاحب ۲۱ذی القعدہ ۱۳۳۹ھ
حضرت ملك العلماء والفضلاء ثقتی رجائی ادام اﷲ تعالی ظلہ علی رؤس المستفیضین!نیاز بے انداز وشوق زیارت کے بعد جن کا کوئی حد وانداز نہیں گزارش میں دیوبندیوں کو امکان کذب کے متعلق سخت مبغوض اور ملحد جانتا تھا ان ایام میں جہد المقل مؤلفہ محمود حسن دیوبندی کا اتفاق مطالعہ ہوا تو عقلی دلائل کی پرواہ نہ کرکے کتب معتبرہ کی نقول وروایات جو اس میں موجود ہیں سخت مخالف عقیدہ خودثابت ہوئی ہے سوا اس کے کوئی چارہ نہ ملا کہ حضور کی خدمت میں دریافت کرنے سے یہ مشکل حل ہو اگر کوئی جہد المقل کا جواب مفصل یا کوئی اور تسلی بخش رسالہ یا کتاب چھپی ہوتو کسی خادم کے نام حکم فرماکر کہ وی پی بھیج دیں ممنون فرمائیں ورنہ مجھے مطمئن فرمادیں کہ شرح مقاصد وشرح مواقف وشرح طوالع ومسائرہ وغیرہ کتب کثیرہ کی عبارات کا کیا جواب ہے جن میں صاف طور پر موجود ہے کہ خدائے پاك جل شانہ سے صدور قبائح ممکن ہے فقط۔
الجواب :
بملاحظہ مولینا المکرم ذی المجدالاتم والفضل والکرم دامت معالیہ وبورکت ایامہ ولیالہ السلام علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ نامی نامہ بریلی سے واپس ہوکر یہاں آیا فقیر ۱۲ربیع الاول شریف کی مجلس مبارك پڑھ کر شام سے سخت علیل ہو اکہ ایسا مرض کبھی نہ ہوا تھا میں نے وصیت نامہ لکھوادیا بارے بحمدہ تعالی مولی عزوجل نے شفا بخشی ولہ الحمد۔ اسی دوران میں آپ کا قصیدہ حمیدہ نعتیہ آیاتھا مجھ میں دیکھنے کی قوت کہاں تھی وہ کاغذات میں مل گیا اور مہینوں گم رہا مجھے زیادہ ندامت اس کی تھی کہ جناب نے تحریر فرمایا کہ اس کا مثنی یہاں نہیں اب الحمد ﷲ مہینوں کے بعد مل گیا زوال مرض کو مہینے گزرے مگر جو ضعف شدید اس سے پیدا ہوا تھا اب تك بدستور ہے۔ فرض ووتر اور صبح کی سنتیں بدقت کھڑے ہوکر پڑھتا ہوں باقی سنتیں بیٹھ کر۔ مسجد میرے دروازے سے دس بارہ قدم ہے وہاں تك چار آدمی کرسی پر بٹھاکر لے جاتے اور لاتے اور باقی امراض کہ کئی برس سے کاللازم ہیں بدستور ہیں کبھی ترقی کبھی تنزل
والحمدﷲ علی کل حال واعوذ باﷲ من حال اھل النار۔ تمام تعریفیں ہرحال میں اﷲ تعالی کےلئے ہیں اور دوزخیوں کے حال سے میں اﷲ تعالی کی پناہ مانگتا ہوں(ت)
حوالہ / References
المسایرۃ متن المسامرۃ ختم المصنف کتابہ ببیان عقیدۃ اہلسنت اجمالًا المکتبۃ التجاریۃ الکبرٰی مصر ص۳۹۵
حاش ﷲ استغفر اﷲ معاذ اﷲ یہ بطور شکایت نہیں بلکہ صرف معذرت کیلئے اظہار واقعیت اس کی وجہ کریم کو حمد ابدی ہے بعزتہ وجلالہ سر سے پاؤں تك ایك ایك رونگٹے پر کروڑوں بے شمار نعمتیں ہیں لاکھوں بے حساب عافتیں ہیں۔
ولہ الحمد حمداکثیراطیبا مبارکا فیہ کما یجب ربنا ویرضی ملأ السموت وملأ الارض وملأ ماشاء من شیئ بعد والحمدﷲ رب العالمین۔ حمد اسی کے لئے ہے ایسی حمد جو بہت زیادہ پاک برکت والی ہے جیسے ہمارا رب چاہے آسمان بھر زمین بھر اور ہر وہ شیئ بھر جو وہ چاہے اور تمام تعریفیں ا س معبود کے لئے ہیں جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے(ت)
ان حالات میں شدت گرما سے گھبرا کر رمضان شریف کرنے اور گرمیاں گزارنے ۲۹شعبان سے یہاں پہاڑ پر آیا طالب دعا ہوں یہ کمزوری یہ قوت ضعف یہ علالتیں پھر میری تنہائی اور اس پر اعدائے دین کا چاروں طرف سے نرغہ اسی کی پھر اس کے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی مدد ہے کہ برابر دفع اعداء دین ودشمنان اسلام میں وقت صرف ہوتا ہے
تقبل المولی بکرمہ ولہ الحمد علی نعمہ۔ مولاتعالی اپنے کرم سے قبول فرمائے اور اس کی نعمتوں پر اسی کےلئے حمد ہے(ت)
یہاں آکر بھی پانچ رسالے رد خبثاء میں تصنیف ہوچکے ہیں اور چھٹازیر تصنیف ہے۔ یہ سوال کہ جناب نے فرمایا مدت ہوئی اس کے جواب میں بھی ایك مستقل رسالہ “ القمع المبین لآمال المکذبین “ تصنیف کرچکا ہوں جومیرے رسالہ “ سبحن السبوح عن عیب کذب مقبوح “ کے آخر میں طبع ہونا شروع ہواتھا مگر افسوس کہ اب تك پورا نہ چھپا میں مطبع کو لکھتا ہوں کہ وہ جس قدر بھی چھپا ہے حاضر خدمت کرے۔ اجمالا یہاں بھی دو حرف گزارش کروں کہ جناب جیسے فاضل کامل کے لئے بعونہ عزوجل کافی ووافی ہوں گے۔ ان عبارتوں کے جواب کو ارباب دین وانصاف کےلئے بحمدہ تعالی ایك نکتہ بس ہے۔ عقیدہ وہ ہوتا ہے جو متون یا تراجم ابواب و فصول یا فہرست وفذبلکہ عقائد میں لکھتے ہیں وہی اہلسنت کا معتقد ہوتا ہے وہ ہی خود ان علماء کا دین معتمد ہوتا ہے۔ ہنگام ذکر دلائل وابحاث ومناظرہ جو کچھ ضمنا لکھ جاتے ہیں اس پر نہ اعتماد ہے نہ خود انکا اعتقاد ہے اورتو اورخود سب سے اعلی واجلی مسئلہ توحید میں ملاحظہ فرمائیے۔ اس کلام محدث میں اس کے دلائل پر کیا کیا نقض وارد کئے ہیں۔ دلائل عقلیہ بالائے طاق رکھئے خود برہان قطعی یقینی ایمانی قرآنی :
“ لوکان فیہما الہۃ الا اللہ لفسدتا “ ۔ اگر زمین وآسمان میں اﷲ تعالی کے سوا اور خدا ہوتے تو ضرور تباہ ہوجاتے(ت)
ولہ الحمد حمداکثیراطیبا مبارکا فیہ کما یجب ربنا ویرضی ملأ السموت وملأ الارض وملأ ماشاء من شیئ بعد والحمدﷲ رب العالمین۔ حمد اسی کے لئے ہے ایسی حمد جو بہت زیادہ پاک برکت والی ہے جیسے ہمارا رب چاہے آسمان بھر زمین بھر اور ہر وہ شیئ بھر جو وہ چاہے اور تمام تعریفیں ا س معبود کے لئے ہیں جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے(ت)
ان حالات میں شدت گرما سے گھبرا کر رمضان شریف کرنے اور گرمیاں گزارنے ۲۹شعبان سے یہاں پہاڑ پر آیا طالب دعا ہوں یہ کمزوری یہ قوت ضعف یہ علالتیں پھر میری تنہائی اور اس پر اعدائے دین کا چاروں طرف سے نرغہ اسی کی پھر اس کے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی مدد ہے کہ برابر دفع اعداء دین ودشمنان اسلام میں وقت صرف ہوتا ہے
تقبل المولی بکرمہ ولہ الحمد علی نعمہ۔ مولاتعالی اپنے کرم سے قبول فرمائے اور اس کی نعمتوں پر اسی کےلئے حمد ہے(ت)
یہاں آکر بھی پانچ رسالے رد خبثاء میں تصنیف ہوچکے ہیں اور چھٹازیر تصنیف ہے۔ یہ سوال کہ جناب نے فرمایا مدت ہوئی اس کے جواب میں بھی ایك مستقل رسالہ “ القمع المبین لآمال المکذبین “ تصنیف کرچکا ہوں جومیرے رسالہ “ سبحن السبوح عن عیب کذب مقبوح “ کے آخر میں طبع ہونا شروع ہواتھا مگر افسوس کہ اب تك پورا نہ چھپا میں مطبع کو لکھتا ہوں کہ وہ جس قدر بھی چھپا ہے حاضر خدمت کرے۔ اجمالا یہاں بھی دو حرف گزارش کروں کہ جناب جیسے فاضل کامل کے لئے بعونہ عزوجل کافی ووافی ہوں گے۔ ان عبارتوں کے جواب کو ارباب دین وانصاف کےلئے بحمدہ تعالی ایك نکتہ بس ہے۔ عقیدہ وہ ہوتا ہے جو متون یا تراجم ابواب و فصول یا فہرست وفذبلکہ عقائد میں لکھتے ہیں وہی اہلسنت کا معتقد ہوتا ہے وہ ہی خود ان علماء کا دین معتمد ہوتا ہے۔ ہنگام ذکر دلائل وابحاث ومناظرہ جو کچھ ضمنا لکھ جاتے ہیں اس پر نہ اعتماد ہے نہ خود انکا اعتقاد ہے اورتو اورخود سب سے اعلی واجلی مسئلہ توحید میں ملاحظہ فرمائیے۔ اس کلام محدث میں اس کے دلائل پر کیا کیا نقض وارد کئے ہیں۔ دلائل عقلیہ بالائے طاق رکھئے خود برہان قطعی یقینی ایمانی قرآنی :
“ لوکان فیہما الہۃ الا اللہ لفسدتا “ ۔ اگر زمین وآسمان میں اﷲ تعالی کے سوا اور خدا ہوتے تو ضرور تباہ ہوجاتے(ت)
حوالہ / References
القرآن الکریم ۲۱ /۲۲
پر کیا کچھ شور و شغب نہ ہوا حتی کہ علامہ سعد الدین تفتازانی نے اسے محض اقناعی لکھ دیا جس پر نوبت کہاں تك پہنچی کیا معاذ اﷲ اس کے یہ معنی ہیں کہ ان کو توحید پر ایمان نہیں یا اس میں کچھ شك ہے نہیں یہ صرف طبع آزمائیاں اور بحث ومباحثہ کی خامہ فرسائیاں ہیں جو گمراہوں کے لئے باعث ضلال ودستاویز اضلال ہوجاتی ہیں اور اہل متانت واستقامت جانتے ہیں کہ :
“ ما ضربوہ لک الا جدلا بل ہم قوم خصمون ﴿۵۸﴾ “ ۔ انہوں نے تم سے یہ نہ کہی مگر ناحق جھگڑنے کو بلکہ وہ ہیں جھگڑالولوگ(ت)
ولہذا ائمہ دین وکبرائے ناصحین ہمیشہ سے اس کلام محدث کی مذمت اور اس میں اشتغال سے ممانعت فرماتے آئے یہاں تك کہ سیدنا امام ابویوسف رضی اللہ تعالی عنہنے فرمایا :
من طلب العلم بالکلام تزندق ۔ جس نے علم کلام حاصل کیا وہ زندیق ہوگیا(ت)
فقہائے کرام نے فرمایا جو وصیت علماء کے لئے کی جائے متکلمین اس سے کچھ حصہ نہ پائیں گے میں نے “ القمع المبین “ میں متعدد نظائر اس کے ذکر کئے ہیں کہ ایمان وعقیدہ کچھ ہے اور بحث ومباحثہ میں کچھ کا کچھ حتی کہ کفر صریح تك لکھتے ہیں مولوی نے حاشیہ خیالی میں خود خیالی سے کیسا ناپاك خیال نقل کیا اور خود اسے مسلم و مقرر رکھا کہ باری عزوجل کا علم متناہی ہے “ انا للہ و انا الیہ رجعون﴿۱۵۶﴾ “ (ہم اﷲ کے مال ہیں ہم کو اسی کی طرف پھرنا ہے۔ ت) یہ صریح مناقض ایمان ہے۔ علامہ سید شریف قدس سرہ کے استاد سید مبارك شاہ نے شرح حکمۃ العین میں لکھ دیا کہ واجب صرف اپنے وجود میں کسی کا محتاج نہیں ہوتا اپنے تعین وتشخص میں دوسرے کا محتاج ہوتو کیا حرج ہے کیا یہ دین ہے کیا یہ اسلام ہے کلاواﷲ اوراتنا بھی خیال نہ کیا کہ اس کے تعین ووجود تو ایك ہی ہیں کہ اسکے ذات کریم کے عین ہیں معاذاﷲ تعین میں محتاج ہوا تو نفس وجود میں محتاج غیر ہوا پھر واجب الوجود کیسے رہا ولاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم یہ حضرات خود بھی تصریح کر گئے ہیں کہ عقائد معلوم ومتعین ہوچکے ابحاث ومشاجرات وغیرہا میں جو کچھ ہم لکھیں اس پر اعتماد نہ کرو۔ عقیدہ سے مطابقت سے ومخالفت دیکھ لو پھر بھی اگر “ الذین فی قلوبہم زیغ “ (وہ لوگ جن کے دلوں میں کجی ہے)بگڑیں “ فیتبعون
“ ما ضربوہ لک الا جدلا بل ہم قوم خصمون ﴿۵۸﴾ “ ۔ انہوں نے تم سے یہ نہ کہی مگر ناحق جھگڑنے کو بلکہ وہ ہیں جھگڑالولوگ(ت)
ولہذا ائمہ دین وکبرائے ناصحین ہمیشہ سے اس کلام محدث کی مذمت اور اس میں اشتغال سے ممانعت فرماتے آئے یہاں تك کہ سیدنا امام ابویوسف رضی اللہ تعالی عنہنے فرمایا :
من طلب العلم بالکلام تزندق ۔ جس نے علم کلام حاصل کیا وہ زندیق ہوگیا(ت)
فقہائے کرام نے فرمایا جو وصیت علماء کے لئے کی جائے متکلمین اس سے کچھ حصہ نہ پائیں گے میں نے “ القمع المبین “ میں متعدد نظائر اس کے ذکر کئے ہیں کہ ایمان وعقیدہ کچھ ہے اور بحث ومباحثہ میں کچھ کا کچھ حتی کہ کفر صریح تك لکھتے ہیں مولوی نے حاشیہ خیالی میں خود خیالی سے کیسا ناپاك خیال نقل کیا اور خود اسے مسلم و مقرر رکھا کہ باری عزوجل کا علم متناہی ہے “ انا للہ و انا الیہ رجعون﴿۱۵۶﴾ “ (ہم اﷲ کے مال ہیں ہم کو اسی کی طرف پھرنا ہے۔ ت) یہ صریح مناقض ایمان ہے۔ علامہ سید شریف قدس سرہ کے استاد سید مبارك شاہ نے شرح حکمۃ العین میں لکھ دیا کہ واجب صرف اپنے وجود میں کسی کا محتاج نہیں ہوتا اپنے تعین وتشخص میں دوسرے کا محتاج ہوتو کیا حرج ہے کیا یہ دین ہے کیا یہ اسلام ہے کلاواﷲ اوراتنا بھی خیال نہ کیا کہ اس کے تعین ووجود تو ایك ہی ہیں کہ اسکے ذات کریم کے عین ہیں معاذاﷲ تعین میں محتاج ہوا تو نفس وجود میں محتاج غیر ہوا پھر واجب الوجود کیسے رہا ولاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم یہ حضرات خود بھی تصریح کر گئے ہیں کہ عقائد معلوم ومتعین ہوچکے ابحاث ومشاجرات وغیرہا میں جو کچھ ہم لکھیں اس پر اعتماد نہ کرو۔ عقیدہ سے مطابقت سے ومخالفت دیکھ لو پھر بھی اگر “ الذین فی قلوبہم زیغ “ (وہ لوگ جن کے دلوں میں کجی ہے)بگڑیں “ فیتبعون
حوالہ / References
القرآن الکریم ۴۳ /۵۸
منح الروض الازھر شرح الفقہ الاکبر عن ابی یوسف مصطفی البابی مصر ص۴
القرآن الکریم ۲ /۱۵۶
القرآن الکریم ۳ /۷
منح الروض الازھر شرح الفقہ الاکبر عن ابی یوسف مصطفی البابی مصر ص۴
القرآن الکریم ۲ /۱۵۶
القرآن الکریم ۳ /۷
ما تشبہ منہ ابتغاء الفتنۃ “ (وہ تو اشتباہ والی آیتوں کے پیچھے پڑتے ہیں گمراہی چاہنے کو۔ ت) پراڑیں تو یہ ان کی بدنصیبی و بے ایمانی۔ شرح مقاصد میں فرمایا :
کثیر ماتوردالاراء الباطلۃ للفلاسفۃ من غیر تعرض لبیان البطلان الافیما یحتاج الی زیادۃ بیان ۔ بسااوقات فلاسفہ کی آراء باطلہ ذکر کردی جاتی ہیں اور ان کے بطلان کے بیان سے تعرض نہیں کیا جاتا سوائے اس کے جس کے بیان کی زیادتی اور تفصیل کی محتاجی ہو۔ (ت)
اسی طرح حسن چلپی علی شرح المواقف میں ہے ___خود مواقف میں فرمایا :
انمالانتعرض لامثالہ للاعتماد علی معرفتك بھافی موضعھا ۔ ہم اس مباحث کا تعرض نہیں کرتے اس اعتماد پر کہ تو ان کو ان کی جگہوں پر پہچان چکا ہے(ت)
شرح مواقف میں فرمایا :
علیك برعایۃ قواعد اھل الحق فی جمیع المباحث وان لم یصرح بھا۔ تجھ پر تمام مباحث میں اہل حق کے قواعد کی رعایت لازم ہے اگرچہ ان کی تصریح نہ کی گئی ہو(ت)
فتح القدیر ونہر الفائق ودرمختار کتاب النکاح میں ہے :
الحق عدم تکفیر اھل القبلۃ وان وقع الزاما لھم فی المباحث۔ حق اہل قبلہ کی عدم تکفیر ہے اگرچہ مباحث میں الزامی طور پر تکفیر واقع ہوئی ہے(ت)
شاہ عبدالعزیز صاحب نے تحفہ اثنا عشریہ میں تصریح کی کہ جو کچھ میں اس میں کہوں میر امذہب نہ سمجھاجائے میری باگ ایك قوم بے ادب کے ہاتھ میں ہے جدھر لیجاتے ہیں جانا پڑتاہے بالجملہ مباحث کلام ومناظرہ کا کچھ اعتبار نہیں کہ محل بیان عقائد میں جو لکھا ہے وہ عقیدہ ہے یا جس پر صراحۃ اجماع ملت بتایا جائے یا اسے تصریحا عقیدہ اہلسنت کہاجائے یا اس کے خلاف کو مذہب گمراہاں بتایا جائے ایسے مواقع پر ملاحظہ فرمائے کتب مذکورہ میں کیا لکھا ہے شرح مقاصد میں ہے :
کثیر ماتوردالاراء الباطلۃ للفلاسفۃ من غیر تعرض لبیان البطلان الافیما یحتاج الی زیادۃ بیان ۔ بسااوقات فلاسفہ کی آراء باطلہ ذکر کردی جاتی ہیں اور ان کے بطلان کے بیان سے تعرض نہیں کیا جاتا سوائے اس کے جس کے بیان کی زیادتی اور تفصیل کی محتاجی ہو۔ (ت)
اسی طرح حسن چلپی علی شرح المواقف میں ہے ___خود مواقف میں فرمایا :
انمالانتعرض لامثالہ للاعتماد علی معرفتك بھافی موضعھا ۔ ہم اس مباحث کا تعرض نہیں کرتے اس اعتماد پر کہ تو ان کو ان کی جگہوں پر پہچان چکا ہے(ت)
شرح مواقف میں فرمایا :
علیك برعایۃ قواعد اھل الحق فی جمیع المباحث وان لم یصرح بھا۔ تجھ پر تمام مباحث میں اہل حق کے قواعد کی رعایت لازم ہے اگرچہ ان کی تصریح نہ کی گئی ہو(ت)
فتح القدیر ونہر الفائق ودرمختار کتاب النکاح میں ہے :
الحق عدم تکفیر اھل القبلۃ وان وقع الزاما لھم فی المباحث۔ حق اہل قبلہ کی عدم تکفیر ہے اگرچہ مباحث میں الزامی طور پر تکفیر واقع ہوئی ہے(ت)
شاہ عبدالعزیز صاحب نے تحفہ اثنا عشریہ میں تصریح کی کہ جو کچھ میں اس میں کہوں میر امذہب نہ سمجھاجائے میری باگ ایك قوم بے ادب کے ہاتھ میں ہے جدھر لیجاتے ہیں جانا پڑتاہے بالجملہ مباحث کلام ومناظرہ کا کچھ اعتبار نہیں کہ محل بیان عقائد میں جو لکھا ہے وہ عقیدہ ہے یا جس پر صراحۃ اجماع ملت بتایا جائے یا اسے تصریحا عقیدہ اہلسنت کہاجائے یا اس کے خلاف کو مذہب گمراہاں بتایا جائے ایسے مواقع پر ملاحظہ فرمائے کتب مذکورہ میں کیا لکھا ہے شرح مقاصد میں ہے :
حوالہ / References
القرآن الکریم ۳ /۷
شرح المقاصد المقصد الثالث النوع الثالث المسموعات دارالمعارف النعمانیہ لاہور ۱ / ۲۴۲
المواقف مع شرح المواقف القسم الاول فی الالوان المقصد الثانی منشورات الشریف الرضی ۵ / ۲۴۲
شرح المواقف القسم الاول فی الالوان المقصد الثانی منشورات الشریف الرضی ۵ / ۲۴۲
درمختار کتاب النکاح فصل فی المحرمات مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۸۹
شرح المقاصد المقصد الثالث النوع الثالث المسموعات دارالمعارف النعمانیہ لاہور ۱ / ۲۴۲
المواقف مع شرح المواقف القسم الاول فی الالوان المقصد الثانی منشورات الشریف الرضی ۵ / ۲۴۲
شرح المواقف القسم الاول فی الالوان المقصد الثانی منشورات الشریف الرضی ۵ / ۲۴۲
درمختار کتاب النکاح فصل فی المحرمات مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۸۹
طریقۃ اھل السنۃ ان العالم حادث والصانع قدیم متصف بصفات قدیمۃ لیست عینہ ولاغیرہ وواحد لاشبۃ لہ ولاضد ولاند ولانھایۃ لہ ولاصورۃ ولاحد ولایحل فی شیئ ولایقوم بہ حادث ولایصح علیہ الحرکۃ والانتقال ولاالجھل ولا الکذب ولاالنقص وانہ یری فی الاخرۃ ۔ اہل سنت وجماعت کا راستہ یہ ہے کہ بے شك عالم حادث ہے اور صانع عالم قدیم ایسی صفات قدیمہ سے متصف ہے جونہ اس کاعین ہیں نہ غیر۔ وہ واحد ہے نہ اس کی کوئی مثل ہے نہ مقابل نہ شریک نہ انتہا نہ صورت نہ حد نہ وہ کسی میں حلول کرتا ہے ۔ نہ اسکے ساتھ کوئی حادث قائم ہوتا ہے نہ اس پر حرکت صحیح نہ انتقال نہ جہالت نہ جھوٹ اور نہ نقص۔ اور بیشك آخرت میں اس کو دیکھا جائےگا۔ (ت)
اسی میں ہے :
الکذب محال اما اولا فباجماع العلماء واما ثانیا فبما تواترمن اخبار الانبیاء علیھم الصلوۃ والسلام واما ثالثا فلان الکذب نقص باتفاق العقلاء وھو علی اﷲتعالی محال الخ۔ اﷲ تعالی کے لئے جھوٹ محال ہے اولا اس لئے کہ اس پر علماء کا اجماع ہے اور ثانیا اس لئے کہ اس میں پہلے انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام سے متواتر خبریں منقول ہیں اور ثالثا اس لئے کہ جھوٹ نقص ہے جس پر تمام عقلمندوں کا اتفاق ہے اور نقص کااﷲ تعالی میں ہونا محال الخ(ت)
مواقف وشرح مواقف میں ہے :
(تفریع علی)ثبوت(الکلام)ﷲ تعالی وھوانہ(یمتنع علیہ الکذب اتفاقا اما عندنا فثلثۃ اوجہ الاول انہ نقص والنقص علی اﷲ تعالی محال)اجماعا ۔ یہ اﷲ تعالی کے لئے ثبوت کلام پر متفرع ہے اور وہ یہ کہ بیشك بالاتفاق اﷲ تعالی کے لئے جھوٹ ممتنع ہے ہمارے نزدیك اس کی تین وجوہ ہیں پہلی وجہ یہ کہ جھوٹ نقص ہے اور نقص اﷲ تعالی پر بالاجماع محال ہے۔ (ت)
اسی میں ہے :
الکذب محال اما اولا فباجماع العلماء واما ثانیا فبما تواترمن اخبار الانبیاء علیھم الصلوۃ والسلام واما ثالثا فلان الکذب نقص باتفاق العقلاء وھو علی اﷲتعالی محال الخ۔ اﷲ تعالی کے لئے جھوٹ محال ہے اولا اس لئے کہ اس پر علماء کا اجماع ہے اور ثانیا اس لئے کہ اس میں پہلے انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام سے متواتر خبریں منقول ہیں اور ثالثا اس لئے کہ جھوٹ نقص ہے جس پر تمام عقلمندوں کا اتفاق ہے اور نقص کااﷲ تعالی میں ہونا محال الخ(ت)
مواقف وشرح مواقف میں ہے :
(تفریع علی)ثبوت(الکلام)ﷲ تعالی وھوانہ(یمتنع علیہ الکذب اتفاقا اما عندنا فثلثۃ اوجہ الاول انہ نقص والنقص علی اﷲ تعالی محال)اجماعا ۔ یہ اﷲ تعالی کے لئے ثبوت کلام پر متفرع ہے اور وہ یہ کہ بیشك بالاتفاق اﷲ تعالی کے لئے جھوٹ ممتنع ہے ہمارے نزدیك اس کی تین وجوہ ہیں پہلی وجہ یہ کہ جھوٹ نقص ہے اور نقص اﷲ تعالی پر بالاجماع محال ہے۔ (ت)
حوالہ / References
شرح المقاصد المبحث الثامن حکم المومن الخ دارالمعارف النعمانیہ لاہور ۲ / ۲۷۰
شرح المقاصد المبحث السادس فی انہ متکلم دارالمعارف النعمانیہ لاہور ۲ / ۱۰۴
شرح المواقف المرصد الرابع المقصد السابع منشورات الشریف الرضی قم ایران ۸ / ۰۱۔ ۱۰۰
شرح المقاصد المبحث السادس فی انہ متکلم دارالمعارف النعمانیہ لاہور ۲ / ۱۰۴
شرح المواقف المرصد الرابع المقصد السابع منشورات الشریف الرضی قم ایران ۸ / ۰۱۔ ۱۰۰
انہیں میں آخر کتاب فذبلکہ عقائد اہلسنت میں ہے :
الفرق الناجیۃ اھل السنۃ والجماعۃ فقد اجمعواعلی حدوث العالم ووجود الباری تعالی وانہ لاخالق سواہ وانہ قدیم لیس فی حیز ولاجھۃ ولایصح علیہ الحرکۃ والانتقال ولاالجھل ولایصح الکذب ولا شیئ من صفات النقص۔ (ملخصا) ناجی فرقے یعنی اہلسنت وجماعت کا اس پر اجماع ہے کہ عالم حادث ہے اور باری تعالی موجود ہے اور یہ کہ اس کے بغیر کوئی خالق نہیں اور یہ کہ وہ قدیم ہے نہ وہ کسی جہت میں ہے نہ حیز میں اس پر حرکت وانتقال اور جہل وکذب صحیح نہیں اور نہ ہی کوئی صفت نقص اس کے لئے صحیح ہے(ت)
انہیں میں بیان فرقہ ضالہ میں ہے :
(المزداریۃ ھوابوموسی عیسی بن صبیح المزدار تلمیذ بشر)اخذ العلم عنہ وتزھد حتی سمی راھب المعتزلۃ(قال اﷲ قادر علی ان یکذب ویظلم)ولوفعل لکان الھا کاذبا ظالما تعالی اﷲ عما قالہ علواکبیرا ۔ (مزداریہ وہ ابوموسی عیسی بن صبیح مزدار شاگرد ہے بشرکا) اس سے علم حاصل کیا اور زہد اختیار کیا حتی کہ اس کا نام راہب معتزلہ پڑگیا(اس نے کہا کہ اﷲ تعالی جھوٹ اور ظلم پر قادرہے)اگر وہ ایسا کرلے تو وہ جھوٹا ظالم معبود ہوگا حالانکہ اﷲ تعالی بہت بلند ہے اس سے جو کچھ اس نے کہا۔ (ت)
مسایرہ امام ابن الہمام میں ہے :
یستحیل علیہ تعالی سمات النقص والجہل والکذب ۔ اﷲ تعالی پر نقص جہل اور جھوٹ کی علامات محال ہیں۔ (ت)
اس کی شرح مسایرہ میں ہے :
لاخلاف بین الاشعریۃ وغیرہم فی ان کل ماکان وصف نقص فالباری تعالی عنہ منزہ وھو محال علیہ تعالی والکذب وصف اشاعرہ اور ان کے غیر میں اس بات پر کوئی اختلاف نہیں جو بھی وصف نقص ہے باری تعالی اس سے پاك ہے اورایسا وصف اس پر محال ہے اور جھوٹ
الفرق الناجیۃ اھل السنۃ والجماعۃ فقد اجمعواعلی حدوث العالم ووجود الباری تعالی وانہ لاخالق سواہ وانہ قدیم لیس فی حیز ولاجھۃ ولایصح علیہ الحرکۃ والانتقال ولاالجھل ولایصح الکذب ولا شیئ من صفات النقص۔ (ملخصا) ناجی فرقے یعنی اہلسنت وجماعت کا اس پر اجماع ہے کہ عالم حادث ہے اور باری تعالی موجود ہے اور یہ کہ اس کے بغیر کوئی خالق نہیں اور یہ کہ وہ قدیم ہے نہ وہ کسی جہت میں ہے نہ حیز میں اس پر حرکت وانتقال اور جہل وکذب صحیح نہیں اور نہ ہی کوئی صفت نقص اس کے لئے صحیح ہے(ت)
انہیں میں بیان فرقہ ضالہ میں ہے :
(المزداریۃ ھوابوموسی عیسی بن صبیح المزدار تلمیذ بشر)اخذ العلم عنہ وتزھد حتی سمی راھب المعتزلۃ(قال اﷲ قادر علی ان یکذب ویظلم)ولوفعل لکان الھا کاذبا ظالما تعالی اﷲ عما قالہ علواکبیرا ۔ (مزداریہ وہ ابوموسی عیسی بن صبیح مزدار شاگرد ہے بشرکا) اس سے علم حاصل کیا اور زہد اختیار کیا حتی کہ اس کا نام راہب معتزلہ پڑگیا(اس نے کہا کہ اﷲ تعالی جھوٹ اور ظلم پر قادرہے)اگر وہ ایسا کرلے تو وہ جھوٹا ظالم معبود ہوگا حالانکہ اﷲ تعالی بہت بلند ہے اس سے جو کچھ اس نے کہا۔ (ت)
مسایرہ امام ابن الہمام میں ہے :
یستحیل علیہ تعالی سمات النقص والجہل والکذب ۔ اﷲ تعالی پر نقص جہل اور جھوٹ کی علامات محال ہیں۔ (ت)
اس کی شرح مسایرہ میں ہے :
لاخلاف بین الاشعریۃ وغیرہم فی ان کل ماکان وصف نقص فالباری تعالی عنہ منزہ وھو محال علیہ تعالی والکذب وصف اشاعرہ اور ان کے غیر میں اس بات پر کوئی اختلاف نہیں جو بھی وصف نقص ہے باری تعالی اس سے پاك ہے اورایسا وصف اس پر محال ہے اور جھوٹ
حوالہ / References
شرح المواقف المرصد الرابع فی الامۃ منشورات الشریف الرضی قم ایران ۸ / ۴۰۰
شرح المواقف المرصد الرابع فی الامۃ منشورات الشریف الرضی قم ایران ۸ / ۳۸۱
المسایرہ مع المسامرۃ ختم المصنف کتابہ ببیان عقیدہ اہل سنۃ اجمالا المکتبۃ التجاریۃ الکبرٰی مصر ص۳۹۳
شرح المواقف المرصد الرابع فی الامۃ منشورات الشریف الرضی قم ایران ۸ / ۳۸۱
المسایرہ مع المسامرۃ ختم المصنف کتابہ ببیان عقیدہ اہل سنۃ اجمالا المکتبۃ التجاریۃ الکبرٰی مصر ص۳۹۳
نقص ۔ وصف نقص ہے۔ (ت)
یونہی مسایرہ میں تلخیص عقائد اہلسنت میں اس کی تصریح فرمائی۔ مسایرہ کی یہ عبارت میرے پاس منقول نکل آئی کتاب وطن میں ہے۔ یونہی شرح طوالع یہاں پاس نہیں ورنہ اور عبارتیں بھی حاضر کرتا اور انصافا کسی مسلم صحیح الاعتقاد کو یہاں عبارات کی کیا حاجت اگر بفرض غلط علماء تصریح نہ بھی فرماتے تو اپنا ایمان بھی کوئی چیز ہے جس میں معاذا ﷲ نقص کی گنجائش وہ سبوح وقدوس کیونکر ہوااور اس کی تسبیح کیسی تعالی اﷲ عما یقول الظلمون علوا کبیرا(جو کچھ ظالم کہتے ہیں اﷲ تعالی اس سے بہت بلند ہے۔ ت)اور دیوبندیوں سے تو اب امکان کذب کی بحث ہی فضول ہے ان کے پیشواگنگوہی نے صراحۃ وقوع کذب مان لیا اور تصریح کردی کہ جو “ اﷲتعالی کو معاذ اﷲ کاذب بالفعل کہے اسے کافر یا گمراہ یا فاسق کہنا کیا معنی کوئی سخت لفظ نہ کہنا چاہئے اس کا اختلاف حنفی شافعی کا سا ہے “ اس بیان کے لئے میرے قصیدہ الاستمدادصفحہ ۲۴ کے پہلے تین شعر پھر ص۲۵پر ان کا حاشیہ نمبری۱۷۶ تا۱۸۰ پھر اس کی تکمیلات میں ص۹۱ سے ص ۹۴ تك تکمیل ۵۹ ملاحظہ فرمائیے۔ جہد المقل کا مصنف اﷲ عزوجل کا نہ صرف کاذب ہونا ممکن جانتا تھا بلکہ اسے بالامکان ظالم چور شرابی بھی جانتا تھا۔ یوں کروڑوں خدا موجود بالفعل مانتا تھا اس کے بیان کے لئے قصیدہ الاستمدادصفحہ۲۲پر ع چور شرابی ظالم جاہل یہاں سے چار شعر تک اور اسی صفحہ پر اس کا حاشیہ نمبری۱۵۴ تا۱۵۷ ۱۵۸ ۱۵۹ ۱۶۰ اورتکمیلات آخر صفحہ ۸۱ سے ص۸۲ تك تکمیل۵۰و۵۱ اور اس کے متعلق رسالہ اڈیٹر شکن کہ ص۸۲سے ص۹۰ تك نوٹ میں ملاحظہ ہو میں مطبع کو لکھ دوں گا کہ یہ اور سبحن السبوح ہدیۃ خدمت میں بنظر احتیاط بیرنگ حاضر کرے والسلام مع الکرام۔
تحریر عــــــہ فہرست عقائد دیوبندیان مرتبہ مولوی رکن الدین صاحب الوری پیش کردہ مولوی حاکم علی صاحب پروفیسر اسلامیہ کالج لاہور غرہ ربیع الاول ۱۳۳۹ھ
بسم اﷲ الرحمن الرحیم
الحمدﷲ وکفی سلام علی عبادہ الذین اصطفی لاسیما علی حبیبہ المصطفی
فہرست نظر سے گزری جزی اﷲ من حررہ ووصف بہ وقدرہ حضرات کفر سمات گنگوہ ونانوتہ وانبٹھہ وتھانہ بھون
عــــــہ : اصل میں۔
یونہی مسایرہ میں تلخیص عقائد اہلسنت میں اس کی تصریح فرمائی۔ مسایرہ کی یہ عبارت میرے پاس منقول نکل آئی کتاب وطن میں ہے۔ یونہی شرح طوالع یہاں پاس نہیں ورنہ اور عبارتیں بھی حاضر کرتا اور انصافا کسی مسلم صحیح الاعتقاد کو یہاں عبارات کی کیا حاجت اگر بفرض غلط علماء تصریح نہ بھی فرماتے تو اپنا ایمان بھی کوئی چیز ہے جس میں معاذا ﷲ نقص کی گنجائش وہ سبوح وقدوس کیونکر ہوااور اس کی تسبیح کیسی تعالی اﷲ عما یقول الظلمون علوا کبیرا(جو کچھ ظالم کہتے ہیں اﷲ تعالی اس سے بہت بلند ہے۔ ت)اور دیوبندیوں سے تو اب امکان کذب کی بحث ہی فضول ہے ان کے پیشواگنگوہی نے صراحۃ وقوع کذب مان لیا اور تصریح کردی کہ جو “ اﷲتعالی کو معاذ اﷲ کاذب بالفعل کہے اسے کافر یا گمراہ یا فاسق کہنا کیا معنی کوئی سخت لفظ نہ کہنا چاہئے اس کا اختلاف حنفی شافعی کا سا ہے “ اس بیان کے لئے میرے قصیدہ الاستمدادصفحہ ۲۴ کے پہلے تین شعر پھر ص۲۵پر ان کا حاشیہ نمبری۱۷۶ تا۱۸۰ پھر اس کی تکمیلات میں ص۹۱ سے ص ۹۴ تك تکمیل ۵۹ ملاحظہ فرمائیے۔ جہد المقل کا مصنف اﷲ عزوجل کا نہ صرف کاذب ہونا ممکن جانتا تھا بلکہ اسے بالامکان ظالم چور شرابی بھی جانتا تھا۔ یوں کروڑوں خدا موجود بالفعل مانتا تھا اس کے بیان کے لئے قصیدہ الاستمدادصفحہ۲۲پر ع چور شرابی ظالم جاہل یہاں سے چار شعر تک اور اسی صفحہ پر اس کا حاشیہ نمبری۱۵۴ تا۱۵۷ ۱۵۸ ۱۵۹ ۱۶۰ اورتکمیلات آخر صفحہ ۸۱ سے ص۸۲ تك تکمیل۵۰و۵۱ اور اس کے متعلق رسالہ اڈیٹر شکن کہ ص۸۲سے ص۹۰ تك نوٹ میں ملاحظہ ہو میں مطبع کو لکھ دوں گا کہ یہ اور سبحن السبوح ہدیۃ خدمت میں بنظر احتیاط بیرنگ حاضر کرے والسلام مع الکرام۔
تحریر عــــــہ فہرست عقائد دیوبندیان مرتبہ مولوی رکن الدین صاحب الوری پیش کردہ مولوی حاکم علی صاحب پروفیسر اسلامیہ کالج لاہور غرہ ربیع الاول ۱۳۳۹ھ
بسم اﷲ الرحمن الرحیم
الحمدﷲ وکفی سلام علی عبادہ الذین اصطفی لاسیما علی حبیبہ المصطفی
فہرست نظر سے گزری جزی اﷲ من حررہ ووصف بہ وقدرہ حضرات کفر سمات گنگوہ ونانوتہ وانبٹھہ وتھانہ بھون
عــــــہ : اصل میں۔
حوالہ / References
المسامرۃ شرح المسایرۃ اتفقوا علی ان ذلك غیر واقع المکتبۃ التجاریۃ الکبرٰی مصر ص۲۰۶
وسائر وہابیہ(اخذھم اﷲ تعالی اخذۃ الرابیہ)کے کفر وضلال حد شمار سے خارج ہیں جسے انموذج وافرووافی پر اطلاع منظور ہو فقیر کاقصیدہ الاستمداد علی اجھال الاتداداس کی شرح کشف ضلال دیوبند مطالعہ فرمائے جس میں بحوالہ کتب وصفحات ان کے دو سو تیس اقوال کفر وضلال ہیں یہ پندرہ سولہ کہ یہاں شمار ہوئے بلکہ ان میں سے صرف دو ایک “ علم شیطان کا علم نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے زائد ہونا “ کہ براہین قاطعہ گنگوہی میں ہے
دوسرا “ حضور کا سالم علم غیب ہر پاگل ہر چوپایہ ہر جانور کوحاصل ہونا کہ خفض الایمان تھانوی میں ہے “ ۔ ہر مسلمان کے سمجھنے کو یہی بس ہیں۔
یہ دونوں کفر قطعی وارتداد یقینی ہیں ان پر علمائے حرمین شریفین نے بحوالہ شفا شریف وبزازیہ ومجمع الانہرودرمختار وغیرہا حکم فرمایا کہ :
من شك فی کفرہ وعذابہ فقد کفر ۔ ان قائلوں کے کافر ہونے میں جوشك کرے وہ بھی کافر۔
(۱)ابن عبدالوہاب نجدی کے کفر عام آشکار ہیں اکابر عرب وعجم نے دفتر کے دفتر اس کی تکفیر وتضلیل میں تصنیف فرمائے۔ وہ روضہ انور کو صنم اکبر کہتا اور چھ سو برس کے تمام ائمہ واکابر کو کافر اکفر۔ اور کچھ نہ ہوتا تو یہی اس کے کفر کو کیا کم تھا کہ حضور سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلموامیر المومنین مولا علی کرم اﷲ تعالی وجہہ وسیدنا غوث اعظم رضی اللہ تعالی عنہکے خالی اسماء طیبہ بلاتعظیم لکھ کر کہا کہ یہ سب جہنم کی راہیں ہیں۔
الالعنۃ اﷲ علی الظلمین(خبردار ظالموں پر اﷲ تعالی کی لعنت ہے۔ ت)گنگوہی صاحب اسے اچھا اور اس کے عقائد کو عمدہ کیوں نہ بتائیں کہ وہ ان کے دشمن محمد رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکو سخت گالیاں دینے والاتھا۔ طرفہ یہ کہ گنگوہی صاحب کو اس پر ایمان بالغیب ہے ان کے فتاوی حصہ اول ص۶۴میں ہے : “ محمد بن عبدالوہاب کے عقائد کاحال مجھ کو معلوم نہیں “ ۔ پھر بھی ص۸پر لکھتے ہیں : “
محمد بن عبدالوہاب کے عقائد عمدہ تھے وہ اوران کے مقتدی اچھے ہیں “ ۔
یعنی اتنا اجمالا معلوم تھا کہ وہ محمد رسول اﷲ صلی اﷲتعالی علیہ وسلم کو سخت گالیاں دیتا بس اتنا ہی اس کے اچھے
دوسرا “ حضور کا سالم علم غیب ہر پاگل ہر چوپایہ ہر جانور کوحاصل ہونا کہ خفض الایمان تھانوی میں ہے “ ۔ ہر مسلمان کے سمجھنے کو یہی بس ہیں۔
یہ دونوں کفر قطعی وارتداد یقینی ہیں ان پر علمائے حرمین شریفین نے بحوالہ شفا شریف وبزازیہ ومجمع الانہرودرمختار وغیرہا حکم فرمایا کہ :
من شك فی کفرہ وعذابہ فقد کفر ۔ ان قائلوں کے کافر ہونے میں جوشك کرے وہ بھی کافر۔
(۱)ابن عبدالوہاب نجدی کے کفر عام آشکار ہیں اکابر عرب وعجم نے دفتر کے دفتر اس کی تکفیر وتضلیل میں تصنیف فرمائے۔ وہ روضہ انور کو صنم اکبر کہتا اور چھ سو برس کے تمام ائمہ واکابر کو کافر اکفر۔ اور کچھ نہ ہوتا تو یہی اس کے کفر کو کیا کم تھا کہ حضور سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلموامیر المومنین مولا علی کرم اﷲ تعالی وجہہ وسیدنا غوث اعظم رضی اللہ تعالی عنہکے خالی اسماء طیبہ بلاتعظیم لکھ کر کہا کہ یہ سب جہنم کی راہیں ہیں۔
الالعنۃ اﷲ علی الظلمین(خبردار ظالموں پر اﷲ تعالی کی لعنت ہے۔ ت)گنگوہی صاحب اسے اچھا اور اس کے عقائد کو عمدہ کیوں نہ بتائیں کہ وہ ان کے دشمن محمد رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکو سخت گالیاں دینے والاتھا۔ طرفہ یہ کہ گنگوہی صاحب کو اس پر ایمان بالغیب ہے ان کے فتاوی حصہ اول ص۶۴میں ہے : “ محمد بن عبدالوہاب کے عقائد کاحال مجھ کو معلوم نہیں “ ۔ پھر بھی ص۸پر لکھتے ہیں : “
محمد بن عبدالوہاب کے عقائد عمدہ تھے وہ اوران کے مقتدی اچھے ہیں “ ۔
یعنی اتنا اجمالا معلوم تھا کہ وہ محمد رسول اﷲ صلی اﷲتعالی علیہ وسلم کو سخت گالیاں دیتا بس اتنا ہی اس کے اچھے
حوالہ / References
براہین قاطعہ بحث علم غیب مطبع لے بلاسا واقع ڈھور ص۵۱
حفظ الایمان مع بسط البنان کتب خانہ اعزازیہ دیوبند سہانپور ص۸
حسام الحرمین مکتبہ نبویہ ، لاہور ص۱۳
فتاوٰی رشیدیہ کتاب الایمان والکفر قرآن محل کراچی ص۴۴
فتاوٰی رشیدیہ مسائل مشورہ قرآن محل کراچی ص ۲۳۵
حفظ الایمان مع بسط البنان کتب خانہ اعزازیہ دیوبند سہانپور ص۸
حسام الحرمین مکتبہ نبویہ ، لاہور ص۱۳
فتاوٰی رشیدیہ کتاب الایمان والکفر قرآن محل کراچی ص۴۴
فتاوٰی رشیدیہ مسائل مشورہ قرآن محل کراچی ص ۲۳۵
اور اس کے عقائد عمدہ ہونے کےلئے کافی ہے زیادہ تحقیقات کی کیا حاجت ہے دیگ سے ایك ہی چاول دیکھ لینا بس ہے۔
(۲)قول دوم میں وبابیہ غیر مقلدین کے ساتھ عقائد میں اپنا اتحاد اور اعمال میں خلاف بتایا پہلا جملہ ضرور صحیح ہے بیشك وہابیہ مقلدین وغیر مقلدین یقینا تمام عقائد کفر وضلال میں متحد ہیں اور اگر کچھ اختلاف ہوتا تو نہ ہوتا کہ “ الکفر ملۃ واحدۃ “ عجب کہ گنگوہی صاحب جو اپنے رب کو کاذب مانتے ہیں خود یہاں سچ بول گئے مگر الکذاب قد یصدق(بہت بڑا جھوٹا کبھی کبھار سچ بول دیتا ہے۔ ت)دوسرا جملہ کہ اعمال میں اختلاف ہے جھوٹ ہے صوری اختلاف ہو معنوی کچھ نہیں کہ براہین قاطعہ ص۱۳۷ میں صاف لکھا ہے کہ
“ مختلف فیہ مسئلہ تو یوں بھی بلاضرورت جائز ہوجاتا ہے “ ۔
اور فتاوی حصہ اول ص۵میں ہے : “ حدیث پر عمل کرنا لوجہ اﷲ تعالی اچھا ہے “
ص۶پر رفع یدین وآمین بالجہر کرنے والے کو کہا : “ تعصب اچھا نہیں وہ بھی عامل بحدیث ہے “ ۔
بلکہ کہا : “ اگرچہ نفسانیت سے کرتا ہے مگر فعل توفی حد ذاتہ درست ہے “ ۔
صفحہ ۵پرتھا : “ سب حدیث پر ہی عامل ہیں مقلد ہویا غیرمقلد “ ۔
(۳)ترك تقلید کا بیج ہندوستان میں اسمعیل دہلوی نے بویا جیسا کہ ا س کی تقویۃ الایمان اور تنویر العینین سے ظاہر ہے۔ گنگوہی صاحب کا اس پر ایمان قرآن عظیم پر ایمان سے بہت زائد ہے۔
فتاوی حصہ اول ص۱۲۲میں کہتے ہیں : “ اس کا رکھنا اور پڑھنااور عمل کرنا عین اسلام ہے “
(۲)قول دوم میں وبابیہ غیر مقلدین کے ساتھ عقائد میں اپنا اتحاد اور اعمال میں خلاف بتایا پہلا جملہ ضرور صحیح ہے بیشك وہابیہ مقلدین وغیر مقلدین یقینا تمام عقائد کفر وضلال میں متحد ہیں اور اگر کچھ اختلاف ہوتا تو نہ ہوتا کہ “ الکفر ملۃ واحدۃ “ عجب کہ گنگوہی صاحب جو اپنے رب کو کاذب مانتے ہیں خود یہاں سچ بول گئے مگر الکذاب قد یصدق(بہت بڑا جھوٹا کبھی کبھار سچ بول دیتا ہے۔ ت)دوسرا جملہ کہ اعمال میں اختلاف ہے جھوٹ ہے صوری اختلاف ہو معنوی کچھ نہیں کہ براہین قاطعہ ص۱۳۷ میں صاف لکھا ہے کہ
“ مختلف فیہ مسئلہ تو یوں بھی بلاضرورت جائز ہوجاتا ہے “ ۔
اور فتاوی حصہ اول ص۵میں ہے : “ حدیث پر عمل کرنا لوجہ اﷲ تعالی اچھا ہے “
ص۶پر رفع یدین وآمین بالجہر کرنے والے کو کہا : “ تعصب اچھا نہیں وہ بھی عامل بحدیث ہے “ ۔
بلکہ کہا : “ اگرچہ نفسانیت سے کرتا ہے مگر فعل توفی حد ذاتہ درست ہے “ ۔
صفحہ ۵پرتھا : “ سب حدیث پر ہی عامل ہیں مقلد ہویا غیرمقلد “ ۔
(۳)ترك تقلید کا بیج ہندوستان میں اسمعیل دہلوی نے بویا جیسا کہ ا س کی تقویۃ الایمان اور تنویر العینین سے ظاہر ہے۔ گنگوہی صاحب کا اس پر ایمان قرآن عظیم پر ایمان سے بہت زائد ہے۔
فتاوی حصہ اول ص۱۲۲میں کہتے ہیں : “ اس کا رکھنا اور پڑھنااور عمل کرنا عین اسلام ہے “
حوالہ / References
البراہین القاطعۃ تحقیق مسئلہ اجرۃ تعلیم القرآن الخ مطبع لے بلاسا واقع ڈھورہ ص۱۳۷
فتاوٰی رشیدیہ کتاب التقلید والجہاد قرآن محل کراچی ص۱۷۹
فتاوٰی رشیدیہ کتاب التقلید والجہاد قرآن محل کراچی ص ۱۸۰
فتاوٰی رشیدیہ کتاب التقلید والجہاد قرآن محل کراچی ص ۱۸۰
فتاوٰی رشیدیہ کتاب التقلید والجہاد قرآن محل کراچی ص ۱۷۹
فتاوٰی رشیدیہ کتاب الایمان والکفر قرآن محل کراچی ص ۴۱
فتاوٰی رشیدیہ کتاب التقلید والجہاد قرآن محل کراچی ص۱۷۹
فتاوٰی رشیدیہ کتاب التقلید والجہاد قرآن محل کراچی ص ۱۸۰
فتاوٰی رشیدیہ کتاب التقلید والجہاد قرآن محل کراچی ص ۱۸۰
فتاوٰی رشیدیہ کتاب التقلید والجہاد قرآن محل کراچی ص ۱۷۹
فتاوٰی رشیدیہ کتاب الایمان والکفر قرآن محل کراچی ص ۴۱
ہرشخص جانتا ہے کہ عین کی نفی ضد کا ثبوت ہے جب تقویۃ الایمان کاپڑھنا عین اسلام ہے تو نہ پڑھنا قطعا کفر ہے حالانکہ کروڑوں مسلمان ہیں جو قرآن عظیم پڑھے ہوئے نہیں وہ کافر نہ ہوئے جب تقویۃ الایمان کارکھنا عین اسلام ہے تونہ رکھنا کفر ہے حالانکہ کروڑوں مسلمانوں کے پاس قرآن نہیں ہوتا وہ کافرنہ ہوئے لیکن تفویۃ الایمان وہابیہ ضرور پاخانہ میں لیجاتے ہوں گے کہ جس وقت نہ رکھی عین اسلام سے چھٹے اور کافر ہوئے غالبا گنگوہی صاحب کی قبر میں بھی رکھ دی گئی ہوگی کہ مر کر تو کافر نہ ہوں۔ مگر مصیبت یہ ہے کہ انہیں مٹی میں ملے پندرہ سال سے زائد ہوئے کتاب بھی گل گئی ہوگی جب رسول اﷲ صلی اﷲتعالی علیہ وسلم کے دشمن ان کے نزدیك مرکر مٹی میں مل گئے تو وہ ناپاك کتاب کیارہی ہوگی بہر حال گنگوہی صاحب اب تو اپنے حکم سے بھی کافر ہوئے ہونگے۔ خیر کہنا یہ ہے کہ جب ایك ایسی کتاب نے غیر مقلدی بوئی تو گنگوہی صاحب اس کی اجازت کیوں نہ دیں ثابت ہوا کہ ان کے نزدیك مقلدین ائمہ معاذ اﷲکفار تھے اور ہیں کہ تقلید کرکے تفویۃ الایمان کا خلاف کیا اور اس پر عمل عین اسلام تھا تو ضرور کافر ہوئے اور اگر کہئے کہ یوں تو گنگوہی ونانوتوی وتھانوی و دیوبندی صاحبان سب کفار ٹھہرینگے کہ ظاہرا ان سب کا عمل تقلید پر ہے تو گنگوہی صاحب تقیہ کا حکم دے کر اس کا علاج کر گئے ہیں وہ کہہ دیں گے کہ ہمارا اور ان کا تقلید پر عمل تقیۃ ہے تو صورۃ کافرہوئے دل میں تو کفر نہیں غیر مقلدی بھری ہے۔
(۴)امکان کذب کا اب ذکر فضول ہے گنگوہی اور ان کے اتباع صراحۃ وقوع کذب لکھ چکے اس کی تفصیل کشف ضلال دیوبند میں ص۹۱سے ص۹۴تك دیکھئے۔
(۵)وصف کریم رحمۃ للعالمین مسلمانوں کے نزدیك تو ضرور خاصہ رحمت عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم مگر گنگوہی صاحب اسے کیونکر مانتے کہ اس سے نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکا مثل محال ہوجاتا کہ آیہ کریمہ
“ وما ارسلنک الا رحمۃ للعلمین ﴿۱۰۷﴾ “ (اور ہم نے تمہیں نہ بھیجا مگر رحمت تمام جہانوں کیلئے۔ ت) تمام ماسوااﷲ کو حضور کی رسالت عام کررہی ہے سب ماسوا اﷲ حضور کے امتی ہیں اور امتی کا مثل نبی ہونا بداہۃ محال لہذا عالمین کے عموم قطعی کو رد کرکے اس وصف کریم کو گلی گلی کے ملوں میں متبذل کردیا۔
(۶)اس کی نسبت اوپر گزرا کہ کفر قطعی ہے مگر گنگوہی صاحب سے اس کی شکایت نہ چاہئے ہر شخص اپنے بڑے کی بڑائی چاہتا ہے۔
(۷)مجلس میلاد مبارك کی نسبت جو مبشرات علمائے کرام وصلحائے عظام نے دیکھے کہ حضور اقدس
(۴)امکان کذب کا اب ذکر فضول ہے گنگوہی اور ان کے اتباع صراحۃ وقوع کذب لکھ چکے اس کی تفصیل کشف ضلال دیوبند میں ص۹۱سے ص۹۴تك دیکھئے۔
(۵)وصف کریم رحمۃ للعالمین مسلمانوں کے نزدیك تو ضرور خاصہ رحمت عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم مگر گنگوہی صاحب اسے کیونکر مانتے کہ اس سے نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکا مثل محال ہوجاتا کہ آیہ کریمہ
“ وما ارسلنک الا رحمۃ للعلمین ﴿۱۰۷﴾ “ (اور ہم نے تمہیں نہ بھیجا مگر رحمت تمام جہانوں کیلئے۔ ت) تمام ماسوااﷲ کو حضور کی رسالت عام کررہی ہے سب ماسوا اﷲ حضور کے امتی ہیں اور امتی کا مثل نبی ہونا بداہۃ محال لہذا عالمین کے عموم قطعی کو رد کرکے اس وصف کریم کو گلی گلی کے ملوں میں متبذل کردیا۔
(۶)اس کی نسبت اوپر گزرا کہ کفر قطعی ہے مگر گنگوہی صاحب سے اس کی شکایت نہ چاہئے ہر شخص اپنے بڑے کی بڑائی چاہتا ہے۔
(۷)مجلس میلاد مبارك کی نسبت جو مبشرات علمائے کرام وصلحائے عظام نے دیکھے کہ حضور اقدس
حوالہ / References
القرآن الکریم ۱۲ /۱۰۷
صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلماس عمل مبارك سے شاد ہیں۔ اور فرماتے ہیں صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم: “ من فرح بنافرحنابہ “ جو ہماری خوشی کرتا ہے ہم اس سے خوش ہوتے ہیں۔ یونہی ولی اﷲ صاحب کے والد شاہ عبدالرحیم صاحب نے حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکو اپنی نیاز سالانہ پر شادوفرحاں دیکھا ان خوابوں کے جواب میں ان کے متکلمین کہتے ہیں کہ خواب کا کیا اعتبار یہاں تك کہ عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما کی خواب مروی صحیح بخاری شریف کہ شادی ولادت اقدس پر ابولہب ملعون پر روز دوشنبہ قدرے تخفیف ہوتی ہے اسے بھی مہمل بتاتے اور یہ شعر گاتے ہیں۔
چو غلام آفتابم ہمہ زآفتاب گویم نہ شبنم نہ شب پرستم کہ حدیث خواب گویم
(جب میں آفتاب کاغلام ہوں تو میں یہ کہتا ہوں کہ سب کچھ آفتاب سے ہے میں شبنم و شب پرست نہیں کہ خواب کی بات کروں۔ ت)
سبحان اﷲ! غلام محمد وغلام نبی شرک اور غلام آفتاب ہونے کا خود اقرار اس کا ترجمہ عربی میں عبد شمس اور ہندی میں سورج داس ہی ہوا یا کچھ اور وہاں تو خوابوں کی یہ کیفیت اور اپنے سے استاذی نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکا فخر ثابت کرنے کےلئے ایك جعلی خواب سے تمسک مگر ہونا ضرور تھا “ لترکبن طبقا عن طبق ﴿۱۹﴾ “ (ضرور تم منزل بمنزل چڑھوگے۔ ت) ان کے اگلوں نے رسول اﷲصلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکو کیا کہا تھا “ قالوا معلم مجنون ﴿۱۴﴾ “ پڑھایا ہوا دیوانہ انہوں نے پڑھائے کی تصدیق اس خواب سے کی اور دیوانہ کی تکمیل تھانوی صاحب نے خفض الایمان کہ “ ان کا ساعلم غیب ہر مجنون کو ہے “ و سیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون ﴿۲۲۷﴾ “ (عنقریب جان لیں گے ظالم کہ کس کروٹ پر پلٹا کھائیں گے۔ ت)
(۸) وہ مجلس مبارك جنم کنھیا سے تشبیہ کیوں نہ دیں جو قرآن عظیم کو ویداشلوك سے تشبیہ دے چکے ہیں دیکھو براہین قاطعہ ص۷۹۔
(۹ و ۱۰) نفس میلاد وعرس سے انکار کا کیا گلہ جب کہ انہیں نفس انبیاء واولیاء اور خود حضور سید الانبیاء
چو غلام آفتابم ہمہ زآفتاب گویم نہ شبنم نہ شب پرستم کہ حدیث خواب گویم
(جب میں آفتاب کاغلام ہوں تو میں یہ کہتا ہوں کہ سب کچھ آفتاب سے ہے میں شبنم و شب پرست نہیں کہ خواب کی بات کروں۔ ت)
سبحان اﷲ! غلام محمد وغلام نبی شرک اور غلام آفتاب ہونے کا خود اقرار اس کا ترجمہ عربی میں عبد شمس اور ہندی میں سورج داس ہی ہوا یا کچھ اور وہاں تو خوابوں کی یہ کیفیت اور اپنے سے استاذی نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکا فخر ثابت کرنے کےلئے ایك جعلی خواب سے تمسک مگر ہونا ضرور تھا “ لترکبن طبقا عن طبق ﴿۱۹﴾ “ (ضرور تم منزل بمنزل چڑھوگے۔ ت) ان کے اگلوں نے رسول اﷲصلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکو کیا کہا تھا “ قالوا معلم مجنون ﴿۱۴﴾ “ پڑھایا ہوا دیوانہ انہوں نے پڑھائے کی تصدیق اس خواب سے کی اور دیوانہ کی تکمیل تھانوی صاحب نے خفض الایمان کہ “ ان کا ساعلم غیب ہر مجنون کو ہے “ و سیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون ﴿۲۲۷﴾ “ (عنقریب جان لیں گے ظالم کہ کس کروٹ پر پلٹا کھائیں گے۔ ت)
(۸) وہ مجلس مبارك جنم کنھیا سے تشبیہ کیوں نہ دیں جو قرآن عظیم کو ویداشلوك سے تشبیہ دے چکے ہیں دیکھو براہین قاطعہ ص۷۹۔
(۹ و ۱۰) نفس میلاد وعرس سے انکار کا کیا گلہ جب کہ انہیں نفس انبیاء واولیاء اور خود حضور سید الانبیاء
حوالہ / References
القرآن الکریم ۸۴ /۱۹
القرآن الکریم ۴۴ /۱۴
حفظ الایمان مع بسط البنان کتب خانہ اعزازیہ دیوبند ضلع سہارن پور ص۸
القرآن الکریم ۲۶ /۲۲۷
القرآن الکریم ۴۴ /۱۴
حفظ الایمان مع بسط البنان کتب خانہ اعزازیہ دیوبند ضلع سہارن پور ص۸
القرآن الکریم ۲۶ /۲۲۷
علیہم الصلوۃ والسلام سے صاف انکار ہے اور ان کا ماننا نرا خبط ٹھہراتے ہیں۔ ان کے قرآن بلکہ ان کے نزدیك قرآن سے اعظم تقویت الایمان مطبع صدیقی دہلی ۲۱۷۰ھ ص۲۱میں ہے : اﷲ کے سوا کسی کو نہ مان ۔ “
ص۸ : “ اوروں کا ماننا محض خبط ہے “ ۔
ص۱۹ : “ اﷲ صاحب نے فرمایا میرے سوانہ مانیو۔ “ ۔
ص۱۷ : “ جتنے پیغمبر آئے سواﷲکی طرف سے یہی حکم لائے ہیں کہ اﷲ کو مانے اور اس کے سواکسی کو نہ مانے “ ۔
(۱۱) ایصال ثواب کے طریقوں کو بدعت سیئہ وحرام کیوں نہ کہیں
جگ بیتی سے کیا مطلب ہے اپنی بیتی سناتے یہ ہیں
ان کی میت کو ثواب پہنچنا محال کہ “ وما لہ فی الاخرۃ من خلق﴿۲۰۰﴾ “ (آخرت میں اس کا کچھ حصہ نہیں۔ ت)ان کے قاری کو ثواب ملنا محال کہ “ و قدمنا الی ما عملوا من عمل فجعلنہ ہباء منثورا ﴿۲۳﴾ “ (جو کچھ انہوں نے کام کئے تھے ہم نے قصد فرماکر انہیں باریك باریك غبار کے بکھرے ہوئے ذرے کردیا یعنی برباد کردیا۔ ت)
(۱۲) سالگرہ دو طرح ہوتی ہے ایك میں کچھ قرآن مجید ودرو دشریف پڑھ کر حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلموسیدنا غوث اعظم وغیرہ اولیائے کرام رضی اﷲ تعالی عنہم کی نیاز اور احباب وفقراء کو کچھ تقسیم گنگوہی صاحب اسے ہرگز جائزنہیں کہہ سکتے کہ اس میں تو دن کی تعیین بھی ہے اور ہر سال کا التزام بھی اوران کے دشمنوں کی نیاز بھی اسے جائز کہہ کروہابیت میں کس دین کے رہتے۔ دوسری وہ جوکہ کفاروفجار کرتے ہیں کہ جس میں لہو لعب ناچ رنگ وغیرہا شیطنتیں ہوتی ہیں گنگوہی صاحب اسے جائز فرماتے ہیں
ص۸ : “ اوروں کا ماننا محض خبط ہے “ ۔
ص۱۹ : “ اﷲ صاحب نے فرمایا میرے سوانہ مانیو۔ “ ۔
ص۱۷ : “ جتنے پیغمبر آئے سواﷲکی طرف سے یہی حکم لائے ہیں کہ اﷲ کو مانے اور اس کے سواکسی کو نہ مانے “ ۔
(۱۱) ایصال ثواب کے طریقوں کو بدعت سیئہ وحرام کیوں نہ کہیں
جگ بیتی سے کیا مطلب ہے اپنی بیتی سناتے یہ ہیں
ان کی میت کو ثواب پہنچنا محال کہ “ وما لہ فی الاخرۃ من خلق﴿۲۰۰﴾ “ (آخرت میں اس کا کچھ حصہ نہیں۔ ت)ان کے قاری کو ثواب ملنا محال کہ “ و قدمنا الی ما عملوا من عمل فجعلنہ ہباء منثورا ﴿۲۳﴾ “ (جو کچھ انہوں نے کام کئے تھے ہم نے قصد فرماکر انہیں باریك باریك غبار کے بکھرے ہوئے ذرے کردیا یعنی برباد کردیا۔ ت)
(۱۲) سالگرہ دو طرح ہوتی ہے ایك میں کچھ قرآن مجید ودرو دشریف پڑھ کر حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلموسیدنا غوث اعظم وغیرہ اولیائے کرام رضی اﷲ تعالی عنہم کی نیاز اور احباب وفقراء کو کچھ تقسیم گنگوہی صاحب اسے ہرگز جائزنہیں کہہ سکتے کہ اس میں تو دن کی تعیین بھی ہے اور ہر سال کا التزام بھی اوران کے دشمنوں کی نیاز بھی اسے جائز کہہ کروہابیت میں کس دین کے رہتے۔ دوسری وہ جوکہ کفاروفجار کرتے ہیں کہ جس میں لہو لعب ناچ رنگ وغیرہا شیطنتیں ہوتی ہیں گنگوہی صاحب اسے جائز فرماتے ہیں
حوالہ / References
تقویۃ الایمان الفصل الاول فی الاجتناب عن الاشراك مطبع علیمی لوہاری دروازہ لاہور ص۱۲
تقویۃ الایمان مقدمہ کتاب مطبع علیمی لوہاری دروازہ لاہور ص۵
تقویۃ الایمان الفصل الاول فی الاجتناب عن الاشراك مطبع علیمی لوہاری دروازہ لاہور ص۱۲
تقویۃ الایمان الفصل الاول فی الاجتناب عن الاشراك مطبع علیمی لوہاری دروازہ لاہور ص ص۱۰
القرآن الکریم ۲ /۲۰۰
القرآن الکریم ۲۵ /۲۳
تقویۃ الایمان مقدمہ کتاب مطبع علیمی لوہاری دروازہ لاہور ص۵
تقویۃ الایمان الفصل الاول فی الاجتناب عن الاشراك مطبع علیمی لوہاری دروازہ لاہور ص۱۲
تقویۃ الایمان الفصل الاول فی الاجتناب عن الاشراك مطبع علیمی لوہاری دروازہ لاہور ص ص۱۰
القرآن الکریم ۲ /۲۰۰
القرآن الکریم ۲۵ /۲۳
تو ان پر اعتراض بیجا ہے رہا یہ کہ اس میں بھی تعیین والتزام ہے ہوا کرے تعیین تو التزام ہی کے لئے ہوتی ہے اور ان کے یہاں حسنات ہی کا التزام حرام ہے نہ کہ سیئات بلکہ بسااوقات سیئات کا التزام ان کے یہاں فرض قطعی بلکہ مدار ایمان ہے جیسا ان کے قرآن تقویۃ الایمان سے عیاں ہے۔ ص۱۲میں ہے :
“ اس کے گھر دور دور سے قصد کرکے سفر کرنا اور راستے میں نامعقول باتیں کرنے سے بچنا یہ کام عبادت کے ہیں جوکسی پیغمبر یا بھوت کو کرے اس پر شرك ثابت ہے “ ۔ (ملخصا)
تو ثابت ہوا کہ مدینہ طیبہ کے راستے میں نامعقول باتیں کرنا فرض بلکہ مدار ایمان ہیں اگر نہ کرے گا مشرك ہوجائیگا اور نہ ایك مدینہ طیبہ بلکہ سفر حج کے سوا گنگوہ یا دیوبند یا تھا نہ بھون جہاں کہیں جاتے ہوئے بھی نامعقول باتیں اور جنگ وجدال بلکہ فسق وفجور بھی نہ کرے گا مشرك ہوجائے گا کہ آیت نے سب کو ایك نسق میں بیان فرمایا ہے کہ :
“ فلا رفث ولا فسوق ولا جدال فی الحج “ ۔ تو نہ عورتوں کے سامنے صحبت کا تذکرہ ہو نہ کوئی گناہ نہ کسی سے جھگڑا حج کے وقت(ت)
(۱۳) داداپیر سے بغض کی کیا شکایت جب خود رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے شدید بغض رکھتے ہیں جن کی تفصیل کتب کثیرہ میں ہوچکی اور پھر آپس میں اپنا اصطلاحی فیض بانٹ رہے ہیں الحق یہ فیض شیطانی ہے اور محبوبوں کے بغض ہی سے ملتا ہے تو نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے انقطاع سلسلہ جو بغض مشائخ سلسلہ سے حاصل ہوگا مضر نہیں بلکہ ضرور ہے۔
(۱۴) اوپر گزرا کہ یہ ملعون اخبث قول کفر قطعی وارتداد یقینی ہے لعن اﷲ قائلہ وقابلہ(اﷲ تعالی لعنت کرے اس کے قائل اور اس کو قبول کرنے والے پر۔ ت) ان مرتدین سے کیا شکایت عجب ان سے جو مسلمان کہلاتے اور رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی شان میں ایسی شدید ناپاك گالیاں سنتے اور پھر ان کی تاویل کرتے یا قائل کو کافر کہتے ہچکچاتے ہیں لاوا ﷲ وہ خود اپنا ایمان اس دشنام دہندہ پر لٹاتے ہیں۔ اﷲ تعالی فرماتا ہے :
“ لا تجد قوما یؤمنون باللہ و الیوم الاخر یوادون من حاد اللہ و رسولہ و لو کانوا اباءہم او ابناءہم او اخونہم تونہ پائے گا ان لوگوں کو جو اﷲ اور قیامت پر ایمان رکھتے ہیں کہ دوستی کریں ان سے جنہوں نے اﷲ ورسول سے مخالفت کی اگرچہ وہ ان کے باپ یا بیٹے
“ اس کے گھر دور دور سے قصد کرکے سفر کرنا اور راستے میں نامعقول باتیں کرنے سے بچنا یہ کام عبادت کے ہیں جوکسی پیغمبر یا بھوت کو کرے اس پر شرك ثابت ہے “ ۔ (ملخصا)
تو ثابت ہوا کہ مدینہ طیبہ کے راستے میں نامعقول باتیں کرنا فرض بلکہ مدار ایمان ہیں اگر نہ کرے گا مشرك ہوجائیگا اور نہ ایك مدینہ طیبہ بلکہ سفر حج کے سوا گنگوہ یا دیوبند یا تھا نہ بھون جہاں کہیں جاتے ہوئے بھی نامعقول باتیں اور جنگ وجدال بلکہ فسق وفجور بھی نہ کرے گا مشرك ہوجائے گا کہ آیت نے سب کو ایك نسق میں بیان فرمایا ہے کہ :
“ فلا رفث ولا فسوق ولا جدال فی الحج “ ۔ تو نہ عورتوں کے سامنے صحبت کا تذکرہ ہو نہ کوئی گناہ نہ کسی سے جھگڑا حج کے وقت(ت)
(۱۳) داداپیر سے بغض کی کیا شکایت جب خود رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے شدید بغض رکھتے ہیں جن کی تفصیل کتب کثیرہ میں ہوچکی اور پھر آپس میں اپنا اصطلاحی فیض بانٹ رہے ہیں الحق یہ فیض شیطانی ہے اور محبوبوں کے بغض ہی سے ملتا ہے تو نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے انقطاع سلسلہ جو بغض مشائخ سلسلہ سے حاصل ہوگا مضر نہیں بلکہ ضرور ہے۔
(۱۴) اوپر گزرا کہ یہ ملعون اخبث قول کفر قطعی وارتداد یقینی ہے لعن اﷲ قائلہ وقابلہ(اﷲ تعالی لعنت کرے اس کے قائل اور اس کو قبول کرنے والے پر۔ ت) ان مرتدین سے کیا شکایت عجب ان سے جو مسلمان کہلاتے اور رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی شان میں ایسی شدید ناپاك گالیاں سنتے اور پھر ان کی تاویل کرتے یا قائل کو کافر کہتے ہچکچاتے ہیں لاوا ﷲ وہ خود اپنا ایمان اس دشنام دہندہ پر لٹاتے ہیں۔ اﷲ تعالی فرماتا ہے :
“ لا تجد قوما یؤمنون باللہ و الیوم الاخر یوادون من حاد اللہ و رسولہ و لو کانوا اباءہم او ابناءہم او اخونہم تونہ پائے گا ان لوگوں کو جو اﷲ اور قیامت پر ایمان رکھتے ہیں کہ دوستی کریں ان سے جنہوں نے اﷲ ورسول سے مخالفت کی اگرچہ وہ ان کے باپ یا بیٹے
او عشیرتہم “ یابھائی یا عزیز ہوں۔
(۱۵) تقیہ کی اجازت بلکہ حکم دینے کی کیا شکایت کہ آخر ان بڑوں کی وراثت ہے جو بارگاہ اقدس میں حاضر آکر شدید غلیظ قسمیں کھاکر کہا کرتے : “ نشہد انک لرسول اللہ “ ہم گواہی دیتے ہیں کہ بیشك حضور یقینا اﷲ کے رسول ہیں۔ رب العزت نے اس پر ارشاد فرمایا کہ اﷲ خوب جانتا ہے بیشك تم اس کے رسول ہو اور اﷲ گواہی دیتا ہے کہ یہ خبیث جھوٹے ہیں زبانی ادعایہ تھا اور دل کی خباثت وہ کہ “ لئن رجعنا الی المدینۃ “ الآیۃ (کہ اگر ہم لوٹ کر مدینہ گئے الآیۃ۔ ت)یہی حال ان صاحبوں کا ہے مسلمانوں کے دکھاوے کو حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی تعریفیں کرینگے بات بات پر “ بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر “ کہیں گے اور دلی خباثتیں وہ کہ چوڑھا چمارہرذرہ ناچیز سے کمتر ان کی سرداری ایسی جیسے گاؤں کا چودھری عاجز ناکارے مرکرمٹی میں مل گئے وغیرہ وغیرہ۔
“ الا لعنۃ اللہ علی الظلمین ﴿۱۸﴾ “ “ ان الذین یؤذون اللہ و رسولہ لعنہم اللہ فی الدنیا و الاخرۃ و اعد لہم عذابا مہینا ﴿۵۷﴾ “ خبردار ظالموں پر اﷲ کی لعنت۔ بیشك وہ لوگ جوایذا دیتے ہیں اﷲ تعالی اور اس کے رسول کو ان پر دنیا وآخرت میں اﷲ تعالی کی لعنت اور اﷲ نے ان کیلئے ذلت کا عذاب تیار کررکھا ہے۔ (ت)
(۱۶) سبحان اﷲ وہ جو اﷲ ورسول کو شدید گالیاں دے چکے ان سے کوا کھانے بلکہ اسے ثواب بتانے کی کیا شکایت۔ سنن ابن ماجہ شریف میں عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما سے ہے کہ فرمایا :
من یاکل الغراب وقد سماہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فاسقا واﷲ ماھو من الطیبات ۔ کوا کون کھائے گا رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے تو اس کا نام فاسق رکھا ہے خدا کی قسم وہ پاك چیزوں سے نہیں۔
یہی مجانست وجہ موانست ہوئی شاعر کا قول
پردہم جنس باہم جنس درزاغ کبوترباکبوتر زاغ بازاغ
(ہر جنس اپنی جنس کے ساتھ پرواز کرتی ہے۔ کبوتر کبوتر کے ساتھ کواکوے کے ساتھ۔ ت)
(۱۵) تقیہ کی اجازت بلکہ حکم دینے کی کیا شکایت کہ آخر ان بڑوں کی وراثت ہے جو بارگاہ اقدس میں حاضر آکر شدید غلیظ قسمیں کھاکر کہا کرتے : “ نشہد انک لرسول اللہ “ ہم گواہی دیتے ہیں کہ بیشك حضور یقینا اﷲ کے رسول ہیں۔ رب العزت نے اس پر ارشاد فرمایا کہ اﷲ خوب جانتا ہے بیشك تم اس کے رسول ہو اور اﷲ گواہی دیتا ہے کہ یہ خبیث جھوٹے ہیں زبانی ادعایہ تھا اور دل کی خباثت وہ کہ “ لئن رجعنا الی المدینۃ “ الآیۃ (کہ اگر ہم لوٹ کر مدینہ گئے الآیۃ۔ ت)یہی حال ان صاحبوں کا ہے مسلمانوں کے دکھاوے کو حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی تعریفیں کرینگے بات بات پر “ بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر “ کہیں گے اور دلی خباثتیں وہ کہ چوڑھا چمارہرذرہ ناچیز سے کمتر ان کی سرداری ایسی جیسے گاؤں کا چودھری عاجز ناکارے مرکرمٹی میں مل گئے وغیرہ وغیرہ۔
“ الا لعنۃ اللہ علی الظلمین ﴿۱۸﴾ “ “ ان الذین یؤذون اللہ و رسولہ لعنہم اللہ فی الدنیا و الاخرۃ و اعد لہم عذابا مہینا ﴿۵۷﴾ “ خبردار ظالموں پر اﷲ کی لعنت۔ بیشك وہ لوگ جوایذا دیتے ہیں اﷲ تعالی اور اس کے رسول کو ان پر دنیا وآخرت میں اﷲ تعالی کی لعنت اور اﷲ نے ان کیلئے ذلت کا عذاب تیار کررکھا ہے۔ (ت)
(۱۶) سبحان اﷲ وہ جو اﷲ ورسول کو شدید گالیاں دے چکے ان سے کوا کھانے بلکہ اسے ثواب بتانے کی کیا شکایت۔ سنن ابن ماجہ شریف میں عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما سے ہے کہ فرمایا :
من یاکل الغراب وقد سماہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فاسقا واﷲ ماھو من الطیبات ۔ کوا کون کھائے گا رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے تو اس کا نام فاسق رکھا ہے خدا کی قسم وہ پاك چیزوں سے نہیں۔
یہی مجانست وجہ موانست ہوئی شاعر کا قول
پردہم جنس باہم جنس درزاغ کبوترباکبوتر زاغ بازاغ
(ہر جنس اپنی جنس کے ساتھ پرواز کرتی ہے۔ کبوتر کبوتر کے ساتھ کواکوے کے ساتھ۔ ت)
حوالہ / References
القرآن الکریم ۵۸ /۲۲
القرآن الکریم ۶۳ /۱
القرآن الکریم ۶۳ /۸
القرآن الکریم ۱۱ /۱۸
القرآن الکریم ۳۳ /۵۷
سنن ابن ماجہ ابواب الصید اب الغراب ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ص۲۴۱
القرآن الکریم ۶۳ /۱
القرآن الکریم ۶۳ /۸
القرآن الکریم ۱۱ /۱۸
القرآن الکریم ۳۳ /۵۷
سنن ابن ماجہ ابواب الصید اب الغراب ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ص۲۴۱
اگر نہ مانے تو کیا اﷲ عزوجل کا ارشاد بھی نہ مانیں گے کہ “ الخبیثت للخبیثین و الخبیثون للخبیثت “ (گندیاں گندوں کے لئے اور گندے گندیوں کے لئے ہیں۔ ت) تمام کتب مذہب متون وشروح وفتاوی مملو ہیں کہ غراب ابقع یعنی دورنگا کو احرام ہے۔ گنگوہی صاحب اگر اب آنکھوں سے معذور ہوگئے تھے تو مادر زادداند ھے تو نہ تھے کہ دیسی کوے میں دورنگ نظر نہ آئے بڑی دلیل یہ لاتے ہیں کہ وہ صرف نجاست نہیں بلکہ دانہ بھی کھاتاہے تو مرغی کی طرح ہوا۔ یوں تو پہاڑی کوابھی حلال کرلیں وہ بھی بکثرت دانہ کھاتا ہے کھیتوں پر کثرت سے گرتا ہے اور کتا تو روٹی اور گوشت سب کھاتاہے یہ مرغی کے دانہ کھانے پر گئے اور نہ دیکھا کہ وہ فاسق نہیں جیفہ خوار نہیں اور کوا فاسق وجیفہ خوار ہے بہر حال ان باتوں میں ان سے بحث بیکار ہے کہ ان کو نفس اسلام ہی سے انکار ہے
“ و سیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون ﴿۲۲۷﴾ “ ۔ سیعلم الذین اجرموا ای منقلب ینقلبون۔ نسأل اﷲ العافیۃ ولاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم وصلی اﷲ تعالی علی سیدنا ومولنا محمد والہ وصحبہ اجمعین وبارك وسلم ومجد وکرم۔ واﷲ تعالی اعلم۔ اور عنقریب جان لیں گے ظالم کہ کس کروٹ پلٹا کھائیں گے۔ اور عنقریب جان لیں گے مجرم کہ کس کروٹ پلٹا کھائیں گے۔ اور ہم اﷲ تعالی سے عافیت مانگتے ہیں۔ گناہ سے بچنے اور نیکی کرنے کی قوت نہیں سوائے اﷲ تعالی کی مددکے۔ اﷲ تعالی ہمارے آقا ومولی محمد مصطفی آپ کی آل اور آپ کے تمام اصحاب پر درود برکت اور سلام نازل فرمائے اور انہیں بزرگی وکرم سے نوازے (ت) واﷲ تعالی اعلم۔
“ و سیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون ﴿۲۲۷﴾ “ ۔ سیعلم الذین اجرموا ای منقلب ینقلبون۔ نسأل اﷲ العافیۃ ولاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم وصلی اﷲ تعالی علی سیدنا ومولنا محمد والہ وصحبہ اجمعین وبارك وسلم ومجد وکرم۔ واﷲ تعالی اعلم۔ اور عنقریب جان لیں گے ظالم کہ کس کروٹ پلٹا کھائیں گے۔ اور عنقریب جان لیں گے مجرم کہ کس کروٹ پلٹا کھائیں گے۔ اور ہم اﷲ تعالی سے عافیت مانگتے ہیں۔ گناہ سے بچنے اور نیکی کرنے کی قوت نہیں سوائے اﷲ تعالی کی مددکے۔ اﷲ تعالی ہمارے آقا ومولی محمد مصطفی آپ کی آل اور آپ کے تمام اصحاب پر درود برکت اور سلام نازل فرمائے اور انہیں بزرگی وکرم سے نوازے (ت) واﷲ تعالی اعلم۔
حوالہ / References
القرآن الکریم ۲۴ /۲۶
رسالہ
باب العقائد والکلام ۱۳۳۵ھ
(عقائد وکلام کا باب)
مسئلہ۷۶ : کفار اﷲ تعالی کو جانتے ہیں یانہیں
رسالہ باب العقائد والکلام جس کا رسالہ حسن التعمم میں وعدہ عــــــہ تھا یہ بیان اگرچہ مسائل تیمم و طہارت ظاہری سے جدا ہے مگر باذنہ تعالی طہارت باطن کا اعلی ذریعہ ہے جس طرح قرآن عظیم نے مسائل طلاق کے وسط میں تاکید نماز کاذکر فرمایاکہ :
حفظوا علی الصلوت والصلوۃ الوسطی٭ وقوموا للہ قنتین﴿۲۳۸﴾ “ “ ۔ نگاہداشت کرو نمازوں اور خصوصا نماز اوسط کی اور اﷲ کے حضور ادب سے کھڑے ہو۔
اسی سنت کریمہ کے اتباع سے یہ مسائل تیمم کے وسط میں عقائد اسلام کی یاددہانی ہے مولی تعالی قبول فرمائے
عــــــہ : مصنف علیہ الرحمۃ کی طرف سے یہ نوٹ اس صورت میں ہے جبکہ یہ رسالہ جلد اول قدیم کتاب الطہارت باب التیمم(از صفحہ ۷۳۵تاصفحہ۷۴۹)پر تھا اب اسے باقی رکھتے ہوئے وہاں سے خارج کرکے مضمون کی مناسبت سے یہاں شامل کیا جارہا ہے۔
باب العقائد والکلام ۱۳۳۵ھ
(عقائد وکلام کا باب)
مسئلہ۷۶ : کفار اﷲ تعالی کو جانتے ہیں یانہیں
رسالہ باب العقائد والکلام جس کا رسالہ حسن التعمم میں وعدہ عــــــہ تھا یہ بیان اگرچہ مسائل تیمم و طہارت ظاہری سے جدا ہے مگر باذنہ تعالی طہارت باطن کا اعلی ذریعہ ہے جس طرح قرآن عظیم نے مسائل طلاق کے وسط میں تاکید نماز کاذکر فرمایاکہ :
حفظوا علی الصلوت والصلوۃ الوسطی٭ وقوموا للہ قنتین﴿۲۳۸﴾ “ “ ۔ نگاہداشت کرو نمازوں اور خصوصا نماز اوسط کی اور اﷲ کے حضور ادب سے کھڑے ہو۔
اسی سنت کریمہ کے اتباع سے یہ مسائل تیمم کے وسط میں عقائد اسلام کی یاددہانی ہے مولی تعالی قبول فرمائے
عــــــہ : مصنف علیہ الرحمۃ کی طرف سے یہ نوٹ اس صورت میں ہے جبکہ یہ رسالہ جلد اول قدیم کتاب الطہارت باب التیمم(از صفحہ ۷۳۵تاصفحہ۷۴۹)پر تھا اب اسے باقی رکھتے ہوئے وہاں سے خارج کرکے مضمون کی مناسبت سے یہاں شامل کیا جارہا ہے۔
حوالہ / References
القرآن الکریم ۲ /۲۳۸
اور مسلمانوں کےلئے ذریعہ ثبات ایمان بنائے اور اس کے کرم پر دشوار نہیں کہ بعض مخالفین کو بھی اس سے راہ ہدایت دکھائے وباﷲ التوفیق۔
بسم اﷲ الرحمن الرحیم
الحمد للذی ھدانا للایمان : واتانا القران والفرقان : والصلوۃ والسلام الاتمان الاکملان : علی من اعطانا العلم بربنافصح لنا الایمان : وعلی الہ وصحبہ وتابعیھم باحسان :
جانا جس نے جانا اور جس نے نہ جانا وہ اب جانے کہ اﷲ عزوجل کو جاننا بحمدہ تعالی مسلمانوں کے ساتھ خاص ہے کوئی کافر کسی قسم کا ہو ہرگز اسے نہیں جانتا کفر کہتے ہی جہل باﷲ کو ہیں یہاں ناواقفوں کو ایك شبہہ گزرتا ہے جس کا جواب کاشف صواب ورافع حجاب والتوفیق من اﷲالوھاب۔
تقریر شبہہ : کافروں کے صدہافرقے اﷲ تعالی کو جانتے بلکہ مانتے بھی ہیں
فلاسفہ تو اس کی توحید پر دلائل قائم کرتے ہیں یہود ونصاری توراۃ وانجیل اور مجوس اپنے زعم میں ژندواستا کو اسی کا کلام جان کر اعتقاد رکھتے ہیں آریہ اگرچہ وید کو اس کا کلام نہیں جانتے مگر بزعم خود اسی کا الہام مانتے اور اسی کو مالك وخالق کل اعتقاد کرتے اور توحید کا محض جھوٹا دم بھرتے ہیں ہنود وغیرہم بت پرست تك کہتے ہیں کہ سارے جہاں کا مالك سب خداؤں کا خدا ایك ہی ہے عرب کے مشرك کہا کرتے
“ ما نعبدہم الا لیقربونا الی اللہ زلفی “ یعنی وہ تو ان بتوں کو صرف اس لئے پوجتے ہیں کہ بت انہیں اﷲ سے قریب کردیں۔
اور لبیك میں کہا کرتے :
لبیك لاشریك لك الاشریکا ھولك تمبلکہ وما ملک ۔ ہم تیری خدمت کو حاضر ہیں تیرا کوئی شریك نہیں مگر وہ شریك کہ تیر اہی مملوك ہے توا س کا بھی مالك اور اس کی ملك کا بھی مالک۔
جب وہ لاشریك لك تك پہنچتے کہ تیرا کوئی شریك نہیں حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے : ویلکم قدقد تمہیں خرابی ہو بس بس یعنی آگے نہ بڑھو استثناء نہ گھڑو رب عزوجل فرماتا ہے :
بسم اﷲ الرحمن الرحیم
الحمد للذی ھدانا للایمان : واتانا القران والفرقان : والصلوۃ والسلام الاتمان الاکملان : علی من اعطانا العلم بربنافصح لنا الایمان : وعلی الہ وصحبہ وتابعیھم باحسان :
جانا جس نے جانا اور جس نے نہ جانا وہ اب جانے کہ اﷲ عزوجل کو جاننا بحمدہ تعالی مسلمانوں کے ساتھ خاص ہے کوئی کافر کسی قسم کا ہو ہرگز اسے نہیں جانتا کفر کہتے ہی جہل باﷲ کو ہیں یہاں ناواقفوں کو ایك شبہہ گزرتا ہے جس کا جواب کاشف صواب ورافع حجاب والتوفیق من اﷲالوھاب۔
تقریر شبہہ : کافروں کے صدہافرقے اﷲ تعالی کو جانتے بلکہ مانتے بھی ہیں
فلاسفہ تو اس کی توحید پر دلائل قائم کرتے ہیں یہود ونصاری توراۃ وانجیل اور مجوس اپنے زعم میں ژندواستا کو اسی کا کلام جان کر اعتقاد رکھتے ہیں آریہ اگرچہ وید کو اس کا کلام نہیں جانتے مگر بزعم خود اسی کا الہام مانتے اور اسی کو مالك وخالق کل اعتقاد کرتے اور توحید کا محض جھوٹا دم بھرتے ہیں ہنود وغیرہم بت پرست تك کہتے ہیں کہ سارے جہاں کا مالك سب خداؤں کا خدا ایك ہی ہے عرب کے مشرك کہا کرتے
“ ما نعبدہم الا لیقربونا الی اللہ زلفی “ یعنی وہ تو ان بتوں کو صرف اس لئے پوجتے ہیں کہ بت انہیں اﷲ سے قریب کردیں۔
اور لبیك میں کہا کرتے :
لبیك لاشریك لك الاشریکا ھولك تمبلکہ وما ملک ۔ ہم تیری خدمت کو حاضر ہیں تیرا کوئی شریك نہیں مگر وہ شریك کہ تیر اہی مملوك ہے توا س کا بھی مالك اور اس کی ملك کا بھی مالک۔
جب وہ لاشریك لك تك پہنچتے کہ تیرا کوئی شریك نہیں حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے : ویلکم قدقد تمہیں خرابی ہو بس بس یعنی آگے نہ بڑھو استثناء نہ گھڑو رب عزوجل فرماتا ہے :
حوالہ / References
القرآن الکریم ۳۹ /۳
صحیح مسلم باب التلبیۃ وصفتہا ووقتہا قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۳۷۶
صحیح مسلم باب التلبیۃ وصفتہا ووقتہا قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۳۷۶
صحیح مسلم باب التلبیۃ وصفتہا ووقتہا قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۳۷۶
صحیح مسلم باب التلبیۃ وصفتہا ووقتہا قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۳۷۶
“ ولئن سالتہم من خلق السموت و الارض لیقولن اللہ “
اور اگر تم ان سے پوچھو کہ آسمان وزمین کس نے بنائے ضرور کہیں گے اﷲنے۔
اور کلمہ گو فرقوں میں جو مرتد ہیں وہ تو نبی وقرآن سبھی کو جانتے قال اﷲ وقال الرسول سے سند لاتے نمازیں پڑھتے روزے رکھتے ہیں جیسے قادیانی نیچری چکڑالوی وہابی رافضی دیوبندی غیر مقلد خذلہم اﷲ تعالی اجمعین پھر کیونکر کہا جائے کہ یہ اﷲ عزوجل کو جانتے ہی نہیں ہاں نرے دہریوں کی نسبت یہ کہنا ٹھیك ہے جو اﷲ تعالی کو مانتے ہی نہیں۔
تقریر جواب : بعون الوھاب اقول وباﷲ التوفیق ایجاب وسلب متناقض ہیں جمع نہیں ہوسکتے وجود شیئ اس کے لوازم کے وجود کامقتضی اور ان کے نقائض ومنافیات کانافی ہے کہ لازم کا منافی موجود ہوتو لازم نہ ہو اور لازم نہ ہو تو شیئ نہ ہو تو ظاہرہوا کہ سلب شے کے تین طریقے ہیں :
اول : خود اس کی نفی مثلا کہے انسان ہے ہی نہیں۔
دوم : اس کے لوازم سے کسی شئے کی نفی مثلا کہے انسان تو ہے لیکن وہ ایك ایسی شیئ کانام ہے جو حیوان یا ناطق نہیں۔
سوم : ان کے منافیات سے کسی شئے کا اثبات مثلا کہے انسان حیوان ناہق یا صاہل سے عبارت ہے ظاہرہے کہ ان دونوں پچھلوں نے اگرچہ زبان سے انسان کو موجود کہا مگر حقیقۃ انسان کو نہ جانا وہ اپنے زعم باطل میں کسی ایسی چیز کو انسان سمجھے ہوئے ہیں جو ہرگز انسان نہیں تو انسان کی نفی اور اس سے جہل میں یہ دونوں اور وہ پہلا جس نے سرے سے انسان کا انکار کیا سب برابر ہیں فقط لفظ میں فرق ہے۔
مولی عزوجل کو جمیع صفات کمال لازم ذات اور جمیع عیوب ونقائص اس پر محال بالذات کہ اس کے کمال ذاتی کے منافی ہیں ك فار میں ہرگز کوئی نہ ملے گا جو اس کی کسی صفت کمالیہ کا منکر یا معاذ اﷲ اس کے عیوب ونقص ونقص کا مثبت نہ ہو تو دہریے اگر قسم اول کے کے منکر ہیں کہ نفس وجود سے انکار رکھتے ہیں باقی سب کفار دوقسم اخیر کے منکر ہیں کہ کسی کمال لازم ذات کے نافی یا کسی عیب منافی ذات کے مثبت ہیں بہر حال اﷲ عزوجل کونہ جاننے میں وہ اور دہریے برابر ہوئے وہی لفظ وطرزادا کافرق ہے دہریوں نے سرے سے انکار کیا اور ان قہریوں نے اپنے اوہام تراشیدہ کانام خدا رکھ کر لفظ کا اقرار کیا مولی سبحنہ وتعالی فرماتا ہے :
اور اگر تم ان سے پوچھو کہ آسمان وزمین کس نے بنائے ضرور کہیں گے اﷲنے۔
اور کلمہ گو فرقوں میں جو مرتد ہیں وہ تو نبی وقرآن سبھی کو جانتے قال اﷲ وقال الرسول سے سند لاتے نمازیں پڑھتے روزے رکھتے ہیں جیسے قادیانی نیچری چکڑالوی وہابی رافضی دیوبندی غیر مقلد خذلہم اﷲ تعالی اجمعین پھر کیونکر کہا جائے کہ یہ اﷲ عزوجل کو جانتے ہی نہیں ہاں نرے دہریوں کی نسبت یہ کہنا ٹھیك ہے جو اﷲ تعالی کو مانتے ہی نہیں۔
تقریر جواب : بعون الوھاب اقول وباﷲ التوفیق ایجاب وسلب متناقض ہیں جمع نہیں ہوسکتے وجود شیئ اس کے لوازم کے وجود کامقتضی اور ان کے نقائض ومنافیات کانافی ہے کہ لازم کا منافی موجود ہوتو لازم نہ ہو اور لازم نہ ہو تو شیئ نہ ہو تو ظاہرہوا کہ سلب شے کے تین طریقے ہیں :
اول : خود اس کی نفی مثلا کہے انسان ہے ہی نہیں۔
دوم : اس کے لوازم سے کسی شئے کی نفی مثلا کہے انسان تو ہے لیکن وہ ایك ایسی شیئ کانام ہے جو حیوان یا ناطق نہیں۔
سوم : ان کے منافیات سے کسی شئے کا اثبات مثلا کہے انسان حیوان ناہق یا صاہل سے عبارت ہے ظاہرہے کہ ان دونوں پچھلوں نے اگرچہ زبان سے انسان کو موجود کہا مگر حقیقۃ انسان کو نہ جانا وہ اپنے زعم باطل میں کسی ایسی چیز کو انسان سمجھے ہوئے ہیں جو ہرگز انسان نہیں تو انسان کی نفی اور اس سے جہل میں یہ دونوں اور وہ پہلا جس نے سرے سے انسان کا انکار کیا سب برابر ہیں فقط لفظ میں فرق ہے۔
مولی عزوجل کو جمیع صفات کمال لازم ذات اور جمیع عیوب ونقائص اس پر محال بالذات کہ اس کے کمال ذاتی کے منافی ہیں ك فار میں ہرگز کوئی نہ ملے گا جو اس کی کسی صفت کمالیہ کا منکر یا معاذ اﷲ اس کے عیوب ونقص ونقص کا مثبت نہ ہو تو دہریے اگر قسم اول کے کے منکر ہیں کہ نفس وجود سے انکار رکھتے ہیں باقی سب کفار دوقسم اخیر کے منکر ہیں کہ کسی کمال لازم ذات کے نافی یا کسی عیب منافی ذات کے مثبت ہیں بہر حال اﷲ عزوجل کونہ جاننے میں وہ اور دہریے برابر ہوئے وہی لفظ وطرزادا کافرق ہے دہریوں نے سرے سے انکار کیا اور ان قہریوں نے اپنے اوہام تراشیدہ کانام خدا رکھ کر لفظ کا اقرار کیا مولی سبحنہ وتعالی فرماتا ہے :
حوالہ / References
القرآن الکریم ۳۱ /۲۵
“ افرءیت من اتخذ الـہہ ہوىہ “ دیکھوتو وہ جس نے اپنی خواہش کو خدا بنالیا۔
ولہذاکریمہ “ لیقولن اﷲ “ کے تتمہ میں ارشاد ہوا : “ قل الحمد للہ بل اکثرہم لا یعقلون ﴿۶۳﴾ “ ۔ اگر ان سے پوچھو کہ آسمان وزمین کا خالق کون ہے کہیں گے “ اﷲقل الحمدﷲ “ تم کہو حمد اﷲ کو کہ اس کے منکر بھی ان صفات میں اسی کانام لیتے ہیں اپنے معبود ان باطل کو اس لائق نہیں جانتے مگر کیا اس سے کوئی یہ سمجھے کہ وہ اﷲ کو جانتے ہیں نہیں نہیں بل اکثرھم لایعلمونoبلکہ اکثر اسے جانتے ہی نہیں وہ تو یونہی اپنی سی اٹکلیں دوڑاتے ہیں جیسے اور بہتیرے معبود گھڑلئے کہ :
“ ان ہی الا اسماء سمیتموہا انتم و اباؤکم ما انزل اللہ بہا من سلطن ۔ وہ تو نرے نام ہیں کہ تم نے اور تمہارے باپ دادوں نے دھر لئے اﷲ نے ان کی کوئی سند نہ اتاری۔
یونہی اپنی اندھی اٹکل سے ایك سب سے بڑی ہستی خیال کرکے اس کا نام اﷲ رکھ لیا ہے حالانکہ وہ اﷲ نہیں کہ جس صفات کی اسے بتاتے ہیں اﷲ عزوجل ان سے بہت بلند وبالا ہے تعالی اﷲ عما یقول الظلمون علوا کبیراo سبحن رب العرش عمایصفونoرہایہ کہ یہاں اکثر سے نفی علم فرمائی اقول اولا : دفع شبہہ کو اتنا ہی کافی کہ آخر یہ ان کے اکثر سے نفی ہے جو اقرار کرتے تھے کہ آسمان وزمین کا خالق اﷲ ہی ہے معلوم ہوا کہ ان کا اقرارباﷲ منافی جہل باﷲ نہیں اور ہمارے سالبہ کلیہ کی نفی نہ فرمائے گا کہ یہ مفہوم لقب سے استدلال ہوا اور وہ صحیح نہیں اکثر سے نفی سلب جزئی ہوئی اور سلب جزئی کلی کو لازم ہے نہ کہ اس کا منافی۔ ثانیا : ایسی جگہ اکثر پر حکم فرمانا قرآن عظیم کی سنت کریمہ ہے حالانکہ وہ احکام یقینا سب کفار پر ہیں
“ اوکلما عہدوا عہدا نبذہ فریق منہم بل اکثرہم لا یؤمنون﴿۱۰۰﴾ “ “ و ان اکثرکم فسقون ﴿۵۹﴾ “ “ ولکن الذین کفروا یفترون علی اللہ الکذب و اکثرہم لا یعقلون ﴿۱۰۳﴾ “ “ ولکن اکثرہم یجہلون ﴿۱۱۱﴾ “ “ یرضونکم بافوہہم وتابی قلوبہم واکثرہم فسقون ﴿۸﴾ “ “ یعرفون نعمت اللہ ثم ینکرونہا و اکثرہم الکفرون ﴿۸۳﴾ “ کافروں کو “ زفرمایا ان میں اکثر ایمان نہیں رکھتے ان کے اکثر فاسق ہیں ان کے
ولہذاکریمہ “ لیقولن اﷲ “ کے تتمہ میں ارشاد ہوا : “ قل الحمد للہ بل اکثرہم لا یعقلون ﴿۶۳﴾ “ ۔ اگر ان سے پوچھو کہ آسمان وزمین کا خالق کون ہے کہیں گے “ اﷲقل الحمدﷲ “ تم کہو حمد اﷲ کو کہ اس کے منکر بھی ان صفات میں اسی کانام لیتے ہیں اپنے معبود ان باطل کو اس لائق نہیں جانتے مگر کیا اس سے کوئی یہ سمجھے کہ وہ اﷲ کو جانتے ہیں نہیں نہیں بل اکثرھم لایعلمونoبلکہ اکثر اسے جانتے ہی نہیں وہ تو یونہی اپنی سی اٹکلیں دوڑاتے ہیں جیسے اور بہتیرے معبود گھڑلئے کہ :
“ ان ہی الا اسماء سمیتموہا انتم و اباؤکم ما انزل اللہ بہا من سلطن ۔ وہ تو نرے نام ہیں کہ تم نے اور تمہارے باپ دادوں نے دھر لئے اﷲ نے ان کی کوئی سند نہ اتاری۔
یونہی اپنی اندھی اٹکل سے ایك سب سے بڑی ہستی خیال کرکے اس کا نام اﷲ رکھ لیا ہے حالانکہ وہ اﷲ نہیں کہ جس صفات کی اسے بتاتے ہیں اﷲ عزوجل ان سے بہت بلند وبالا ہے تعالی اﷲ عما یقول الظلمون علوا کبیراo سبحن رب العرش عمایصفونoرہایہ کہ یہاں اکثر سے نفی علم فرمائی اقول اولا : دفع شبہہ کو اتنا ہی کافی کہ آخر یہ ان کے اکثر سے نفی ہے جو اقرار کرتے تھے کہ آسمان وزمین کا خالق اﷲ ہی ہے معلوم ہوا کہ ان کا اقرارباﷲ منافی جہل باﷲ نہیں اور ہمارے سالبہ کلیہ کی نفی نہ فرمائے گا کہ یہ مفہوم لقب سے استدلال ہوا اور وہ صحیح نہیں اکثر سے نفی سلب جزئی ہوئی اور سلب جزئی کلی کو لازم ہے نہ کہ اس کا منافی۔ ثانیا : ایسی جگہ اکثر پر حکم فرمانا قرآن عظیم کی سنت کریمہ ہے حالانکہ وہ احکام یقینا سب کفار پر ہیں
“ اوکلما عہدوا عہدا نبذہ فریق منہم بل اکثرہم لا یؤمنون﴿۱۰۰﴾ “ “ و ان اکثرکم فسقون ﴿۵۹﴾ “ “ ولکن الذین کفروا یفترون علی اللہ الکذب و اکثرہم لا یعقلون ﴿۱۰۳﴾ “ “ ولکن اکثرہم یجہلون ﴿۱۱۱﴾ “ “ یرضونکم بافوہہم وتابی قلوبہم واکثرہم فسقون ﴿۸﴾ “ “ یعرفون نعمت اللہ ثم ینکرونہا و اکثرہم الکفرون ﴿۸۳﴾ “ کافروں کو “ زفرمایا ان میں اکثر ایمان نہیں رکھتے ان کے اکثر فاسق ہیں ان کے
اکثر بے عقل ہیں ان کے اکثر جاہل ہیں ان کے اکثر کافر ہیں حالانکہ وہ سب ایسے ہی ہیں۔ یونہی یہاں فرمایا کہ ان کے اکثر نہیں جانتے حالانکہ ان میں کوئی بھی نہیں جانتا یہاں تك کہ شیاطین کے بارے میں فرمایا “ یلقون السمع و اکثرہم کذبون ﴿۲۲۳﴾ “ ان میں اکثر جھوٹے ہیں حالانکہ یقینا وہ سب جھوٹے ہیں اور ان کے سوااور آیات کثیرہ اب یا تو یہ کہ اکثر سے کل مراد ہے جیسے کبھی کل سے اکثر مراد ہوتا ہے کریمہ “ ومایتبع اکثرھم الاظنا “ کے تحت میں مدارك التنزیل میں ہے : المراد با لاکثر الجمیع اکثر سے مراد کل ہے۔ ت)معالم التنزیل میں ہے : اراد بالاکثر جمیع من یقول ذلک ۔ اکثرسے مراد وہ سب جو یہ کہتے ہیں(ت)شہاب علی البیضاوی میں ہے :
یعنی ان الاکثر یستعمل بمعنی الجمیع کما یرد القلیل بمعنی العدم وحمل النقیض علی النقیض حسن وطریقۃ مسلوکۃ اھ ۔ اقول : لکن لاشك ان منھم من لایتبع ظناولاوھما ولاادنی شبھۃ انما یتبع ھوی نفسہ عناداواستکبارا
“ یعرفونہ کما یعرفون ابناءہم “
“ فلما جاءہم ما عرفوا کفروا بہ ۫ فلعنۃ اللہ علی الکفرین﴿۸۹﴾ “ “ وجحدوا بہا و استیقنتہا یعنی اکثر بمعنی کل ہے جیسے قلیل بمعنی معدوم استعمال ہوتا ہے اور ایك نقیض کی مراد پر دوسری نقیض کو مراد لینا اچھا اور مروج طریقہ ہے اھ۔ میں کہتا ہوں لیکن اس میں شك نہیں کہ ان کے بعض ظن اور وہم اور کسی ادنی شبہ میں متبلا نہیں وہ تو قطعا عناد اور تکبر کی بنا پر نفسانی خواہش کے پیروکار ہیں(جس کو قرآن میں ہم نے یوں بیان فرمایا)نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکو وہ خوب جانتے ہیں جیسے وہ اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں(اور فرمایا)جب انکی پہچان کے مطابق وہ تشریف لائے تو انہوں نے اس کا انکار کردیا تو
یعنی ان الاکثر یستعمل بمعنی الجمیع کما یرد القلیل بمعنی العدم وحمل النقیض علی النقیض حسن وطریقۃ مسلوکۃ اھ ۔ اقول : لکن لاشك ان منھم من لایتبع ظناولاوھما ولاادنی شبھۃ انما یتبع ھوی نفسہ عناداواستکبارا
“ یعرفونہ کما یعرفون ابناءہم “
“ فلما جاءہم ما عرفوا کفروا بہ ۫ فلعنۃ اللہ علی الکفرین﴿۸۹﴾ “ “ وجحدوا بہا و استیقنتہا یعنی اکثر بمعنی کل ہے جیسے قلیل بمعنی معدوم استعمال ہوتا ہے اور ایك نقیض کی مراد پر دوسری نقیض کو مراد لینا اچھا اور مروج طریقہ ہے اھ۔ میں کہتا ہوں لیکن اس میں شك نہیں کہ ان کے بعض ظن اور وہم اور کسی ادنی شبہ میں متبلا نہیں وہ تو قطعا عناد اور تکبر کی بنا پر نفسانی خواہش کے پیروکار ہیں(جس کو قرآن میں ہم نے یوں بیان فرمایا)نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکو وہ خوب جانتے ہیں جیسے وہ اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں(اور فرمایا)جب انکی پہچان کے مطابق وہ تشریف لائے تو انہوں نے اس کا انکار کردیا تو
حوالہ / References
القرآن الکریم ۲۶ /۲۲۳
مدارك التنزیل سورۃ یونس آیۃ ومایتبع اکثرھم الاظناکے تحت دارالکتاب العربی بیروت ۲ / ۱۶۳
معالم التزیل علی ہامش الخازن سورۃ یونس آیۃومایتبع اکثرھم الاظنا کے تحت مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۸۹
حاشیۃ الشہاب علی البیضاوی سورۃ یونس آیۃومایتبع اکثرھم الاظنا کے تحت دارصادر بیروت ۵ / ۲۸
القرآن الکریم ۲ /۱۴۲و۶ / ۲۰
القرآن الکریم ۲ /۸۹
مدارك التنزیل سورۃ یونس آیۃ ومایتبع اکثرھم الاظناکے تحت دارالکتاب العربی بیروت ۲ / ۱۶۳
معالم التزیل علی ہامش الخازن سورۃ یونس آیۃومایتبع اکثرھم الاظنا کے تحت مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۸۹
حاشیۃ الشہاب علی البیضاوی سورۃ یونس آیۃومایتبع اکثرھم الاظنا کے تحت دارصادر بیروت ۵ / ۲۸
القرآن الکریم ۲ /۱۴۲و۶ / ۲۰
القرآن الکریم ۲ /۸۹
انفسہم ظلما و علوا “ وقد سلفت الایۃ یعرفون نعمۃ اﷲ ثم ینکرونھا نعمۃ اﷲ محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم قالہ ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما۔ کافروں پر اﷲ تعالی کی لعنت ہے(نیز فرمایا)انہوں نے ان کا انکار کردیا باوجود یکہ دلی طور پروہ یقینی سمجھتے تھے یہ انکار ظلم اور تکبر کی بناء پر کیا۔ پہلے آیہ کریمہ گزری کہ اﷲ تعالی کی نعمت کو پہچانتے ہیں اور پھر اس کا انکار کردیتے ہیں ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما کے قول کے مطابق نعمۃ اﷲ سے مراد محمد صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمہیں(ت)
اقول : (میں کہتا ہوں۔ ت)یا یہ کہ ان میں سے جو علم الہی میں ایمان لانے والے ہیں ان کا استثناء فرمایا جاتا ہے۔
وھو مسلك حسن نفیس ذھب الیہ خاطری بحمد اﷲ تعالی اول وھلۃ ثم رأیت العلامۃ ابالسعود اشار الیہ فی “ ارشاد العقل السلیم “ حیث قال تخصیص اکثرھم للتلویح بما سیکون من بعضھم من اتباع الحق والتوبۃ ۔ یہ نفیس اور خوب مسلك ہے ابتداء ہی میرا دل اس کی طرف مائل ہوا پھر میں نے علامہ ابوالسعود کو “ ارشاد العقل السلیم “ میں اس کی طرف اشارۃ کرتے ہوئے پایا جہاں انہوں نے فرمایا کہ خصوصیت سے اکثر کفار کاذکر اس لئے کہ ان میں سے بعض حق کی اتباع اور توبہ کو پالیں گے(ت)
مشرکین کاجہل باﷲ تو اسی کریمہ سے ثابت جس سے ان کے جاننے پر شبہہ میں استدلال تھا مدعیان توحید پر کلام کیجئے جن میں نصاری بھی باوصف تثلیث اپنے آپ کو شریك کرتے ہیں اور شرع مطہر نے بھی ان کے احکام کو احکام مشرکین سے جدا فرمایا : فاقول : وباﷲ التوفیق پس میں کہتا ہوں اور توفیق اﷲ تعالی سے ہے۔ ت)
(۱)فلاسفہ کے جھوٹے خدا
فلاسفہ ایسے کو خداکہتے ہیں جو صرف ایك عقل اول کاخالق ہے دوسری چیز بناہی نہیں سکتا تمام جزئیات عالم سے جاہل ہے
اقول : (میں کہتا ہوں۔ ت)یا یہ کہ ان میں سے جو علم الہی میں ایمان لانے والے ہیں ان کا استثناء فرمایا جاتا ہے۔
وھو مسلك حسن نفیس ذھب الیہ خاطری بحمد اﷲ تعالی اول وھلۃ ثم رأیت العلامۃ ابالسعود اشار الیہ فی “ ارشاد العقل السلیم “ حیث قال تخصیص اکثرھم للتلویح بما سیکون من بعضھم من اتباع الحق والتوبۃ ۔ یہ نفیس اور خوب مسلك ہے ابتداء ہی میرا دل اس کی طرف مائل ہوا پھر میں نے علامہ ابوالسعود کو “ ارشاد العقل السلیم “ میں اس کی طرف اشارۃ کرتے ہوئے پایا جہاں انہوں نے فرمایا کہ خصوصیت سے اکثر کفار کاذکر اس لئے کہ ان میں سے بعض حق کی اتباع اور توبہ کو پالیں گے(ت)
مشرکین کاجہل باﷲ تو اسی کریمہ سے ثابت جس سے ان کے جاننے پر شبہہ میں استدلال تھا مدعیان توحید پر کلام کیجئے جن میں نصاری بھی باوصف تثلیث اپنے آپ کو شریك کرتے ہیں اور شرع مطہر نے بھی ان کے احکام کو احکام مشرکین سے جدا فرمایا : فاقول : وباﷲ التوفیق پس میں کہتا ہوں اور توفیق اﷲ تعالی سے ہے۔ ت)
(۱)فلاسفہ کے جھوٹے خدا
فلاسفہ ایسے کو خداکہتے ہیں جو صرف ایك عقل اول کاخالق ہے دوسری چیز بناہی نہیں سکتا تمام جزئیات عالم سے جاہل ہے
حوالہ / References
القرآن الکریم ۲۷ /۱۴
الجامع لاحکام القرآن بحوالہ السدی داراحیاء التراث العربی بیروت ۱۰ / ۱۶۱
ارشاد العقل السلیم سورہ یونس آیۃ ومایتبع اکثر ہم الاظنا داراحیاء التراث العربی بیروت۴ / ۱۴۵
الجامع لاحکام القرآن بحوالہ السدی داراحیاء التراث العربی بیروت ۱۰ / ۱۶۱
ارشاد العقل السلیم سورہ یونس آیۃ ومایتبع اکثر ہم الاظنا داراحیاء التراث العربی بیروت۴ / ۱۴۵
اپنے افعال میں مختار نہیں اجسام کو معدوم کرکے پھر نہیں بناسکتا ولہذا حشرجساد کے منکر ہیں آسمان اس نے نہ بنائے بلکہ عقلوں نے اور ایسے مضبوط گھڑے کہ فلسفی خدا انہیں شق نہیں کرسکتا ولہذا قیامت کے منکر ہیں وغیرہ وغیرہ خرافات ملعونہ کیا انہوں نے خدا کو جانا حاش ﷲ سبحن رب العرش عما یصفون۔
(۲)اریہ کے جھوٹے خدا
آریہ ایسے کو ایشر کہتے ہیں جس کے برابر کے ہم عمردوواجب الوجود اور ہیں روح ومادہ۔ ایشر نہ کا خالق نہ ان کے مالك اور ناحق نارواانہیں دبابیٹھا ان پر ظالمانہ حکم چلارہا ہے۔ ایسے کوجس کا اصلا کوئی ثبوت ہی نہیں آریہ نے زبردستی مان رکھا ہے۔ جب روح ومادہ بے کسی کے بنائے آپ ہی ازل سے موجود ہیں تو کیا آپ ہی اپنا میل نہیں کرسکتے تو جونون کے بننے میں بھی اس کے وجود پر دلیل نہیں رہا جونون کا بدلنا وہ کرم کے ہاتھ ہے ایشور کی کیاحاجت اور اس کے ہونے پر کیادلیل ایسے کو جو عــــــہ۱ ماں رکھتا ہے اور وہ اس کی جان کی حفاظت کرتی ہے تو باپ بھی ضرور ہوگا کہ خودآریہ ولادت مسیح علیہ الصلوۃ والسلام پر کہتے ہیں کہ بےباپ ولادت نرا مضحکہ ہے جب ایشور کے ہوتے ہوئے بے باپ ولادت نہیں ہوسکتی تو جب ایشور بھی نہ تھے ان کی ماتاآپ سے آپ کیسے گربھ کر لاتی۔ اور خاکی انڈا ہو بھی تو گندا۔ ایسے کو جو بستر عــــــہ۲ پر بیمار پڑااور اپنی ماں کو دوا کے لئے پکار رہا ہے وید آتے اور اس کا تنگ حال دیکھ کر سخت کڑھتے اور سر ہلاتے ہیں ایسے کو جس سے زیادہ علم وعقل والے موجود ہیں یہ اپنی بیماری میں جن کی دوہائی دیتا اور چیخ رہا ہے کہ اوسیکڑوں طرح کے عقل وعلم والو! تمہاری ہزاروں بوٹیاں عــــــہ۳ ہیں ان سے میرے شریر کو نروگ کرو اے اماں جان! تو بھی ایسا ہی کر ایسے کو جو گونگا ہے اصلا بول نہیں سکتا(اور یہ دوا کےلئے دوہائی تہائی کون مچارہاتھا)بات تو یوں نہیں کرتا کہ انسان کی مشابہت نہ پیدا ہو مگر ویداتارنے کے لئے رشیوں کو بینڈ باجے کی طرح بجاتا اور کٹھ پتلیوں کی مانند نچاتا ہے فضیلت انسانی میں مشابہت گوارا نہ ہوئی اور بجانے نچانے کے رذیل
عــــــہ۱ : دیکھو یجروید۱۲
عــــــہ۲ : یجروید ادھیانمبر۱۲و۱۴
عــــــہ۳ : یہ سمجھ میں آنے کی بات نہیں کہ بوٹی بواؤ معروف اور ان کے پاس ہو ایشرجی کے پاس نہ ہو دیکھنا کہیں یہ بوٹی بواؤ مجہول تو نہیں تو یہ ضرور ایشر جی کے یہاں کہاں کہ ان کے ہوم کرنے والے ماس سے بہت برا مانتے ہیں عجب نہیں کہ بیماری میں طاقت آنے کے لئے مسلمانوں سے گوشت کی بوٹیاں مانگتے ہوں۱۲اعجب العقاب تصنیف مولوی نواب مرزا صاحب قادری برکاتی رضوی۔
(۲)اریہ کے جھوٹے خدا
آریہ ایسے کو ایشر کہتے ہیں جس کے برابر کے ہم عمردوواجب الوجود اور ہیں روح ومادہ۔ ایشر نہ کا خالق نہ ان کے مالك اور ناحق نارواانہیں دبابیٹھا ان پر ظالمانہ حکم چلارہا ہے۔ ایسے کوجس کا اصلا کوئی ثبوت ہی نہیں آریہ نے زبردستی مان رکھا ہے۔ جب روح ومادہ بے کسی کے بنائے آپ ہی ازل سے موجود ہیں تو کیا آپ ہی اپنا میل نہیں کرسکتے تو جونون کے بننے میں بھی اس کے وجود پر دلیل نہیں رہا جونون کا بدلنا وہ کرم کے ہاتھ ہے ایشور کی کیاحاجت اور اس کے ہونے پر کیادلیل ایسے کو جو عــــــہ۱ ماں رکھتا ہے اور وہ اس کی جان کی حفاظت کرتی ہے تو باپ بھی ضرور ہوگا کہ خودآریہ ولادت مسیح علیہ الصلوۃ والسلام پر کہتے ہیں کہ بےباپ ولادت نرا مضحکہ ہے جب ایشور کے ہوتے ہوئے بے باپ ولادت نہیں ہوسکتی تو جب ایشور بھی نہ تھے ان کی ماتاآپ سے آپ کیسے گربھ کر لاتی۔ اور خاکی انڈا ہو بھی تو گندا۔ ایسے کو جو بستر عــــــہ۲ پر بیمار پڑااور اپنی ماں کو دوا کے لئے پکار رہا ہے وید آتے اور اس کا تنگ حال دیکھ کر سخت کڑھتے اور سر ہلاتے ہیں ایسے کو جس سے زیادہ علم وعقل والے موجود ہیں یہ اپنی بیماری میں جن کی دوہائی دیتا اور چیخ رہا ہے کہ اوسیکڑوں طرح کے عقل وعلم والو! تمہاری ہزاروں بوٹیاں عــــــہ۳ ہیں ان سے میرے شریر کو نروگ کرو اے اماں جان! تو بھی ایسا ہی کر ایسے کو جو گونگا ہے اصلا بول نہیں سکتا(اور یہ دوا کےلئے دوہائی تہائی کون مچارہاتھا)بات تو یوں نہیں کرتا کہ انسان کی مشابہت نہ پیدا ہو مگر ویداتارنے کے لئے رشیوں کو بینڈ باجے کی طرح بجاتا اور کٹھ پتلیوں کی مانند نچاتا ہے فضیلت انسانی میں مشابہت گوارا نہ ہوئی اور بجانے نچانے کے رذیل
عــــــہ۱ : دیکھو یجروید۱۲
عــــــہ۲ : یجروید ادھیانمبر۱۲و۱۴
عــــــہ۳ : یہ سمجھ میں آنے کی بات نہیں کہ بوٹی بواؤ معروف اور ان کے پاس ہو ایشرجی کے پاس نہ ہو دیکھنا کہیں یہ بوٹی بواؤ مجہول تو نہیں تو یہ ضرور ایشر جی کے یہاں کہاں کہ ان کے ہوم کرنے والے ماس سے بہت برا مانتے ہیں عجب نہیں کہ بیماری میں طاقت آنے کے لئے مسلمانوں سے گوشت کی بوٹیاں مانگتے ہوں۱۲اعجب العقاب تصنیف مولوی نواب مرزا صاحب قادری برکاتی رضوی۔
کاموں میں شرکت کی ع
فکر ہر کس بقدر ہمت اوست
(ہر شخص کی فکر اس کی ہمت بھر ہوتی ہے۔ ت)
اس بجنے ناچنے میں جو کچھ رشیوں کے سر کے بولے وہ اس کی الہامی کتاب وید ہے ایسے کوجس نے نیوگ جیسی بیحیائی کو ذریعہ نجات کیا ہے ایسے کو جس کے عــــــہ۱ ہزار سر ہیں دو۲مونھے سانپ سے پانسو حصے سوا ہزار آنکھ ہیں ہر سر میں ایك ٭ہر منہ سے کانا یا بعض چہروں میں کئی کئی باقی چہروں سے اندھا ہزارپاؤں ہیں کنکھجور ا تو نہیں جسے ہزار پاکہتے ہیں۔ ایسے کوجو زمین پر ہر جگہ ہے الٹا سیدھا نٹ کی کلا کو بھی مات کیا اور کلام حرام کہ انسان سے مشابہت نہ ہو پھرجگہ پاخانہ بھی ہے سیدھا ہوتا تو پاؤں ہی بھرتے الٹا بھی ہے تو سر بھی سنا تب بھی دس۱۰ انگلی کے فاصلے پر ہر آدمی کے آگے بیٹھا ہے تو ہر جگہ کب ہوا پھر دو۲ آدمی آمنے سامنے دس۱۰ انگل کے فاصلے سے ہوں تو ان میں ہر ایك ایشور کا جگہ میں شریك ہوا اور دو۲ انگل کے فاصلے پر ہوں تو ایشور آٹھ آٹھ انگل ہر ایك کے پیٹ میں گھساٹھہرا ایسےکہ جو سر وبیاپك ہے ہر چیز میں حلول کئے ہوئے ہے ہر مادہ کی فرج ہر شخص کی مقعد ہر پاخانے کی ڈھیری میں نجاست کا کیڑا بھی اتنا گھناؤنا تو نہیں ہوتا۔ پھر یہ سب جگہ رما ہوا ایك ہی ایشور ہے یا ہر جگہ نیا بر تقدیر دوم ایشوروں کی گنتی تمام مخلوقات کے شمار سے بڑھ نہ گئی تو برابر ضروررہی اس پر توحید کا دم بھرتے ہیں بر تقدیر اول ایشور کے سنکھوں مہا سنکھوں ٹکڑے ہوئے کہ ذرے ذرے بھر جگہ میں اس کا نیا ٹکڑا ہے تو ایشور مرکب ہوا اور ہر مرکب محتاج ہے کہ جب تك اس کے سب اجزااکٹھے نہ ہوں نہیں ہوسکتا تو ایشور محتاج ہوا پھر جب ہر جگہ رما ہوا ہے فرض کرو ایك شخص نے دوسرے کے جو تا مارا تو یہ فضا جس میں جو تا چل کر اس کے بدن تك گیا اس میں بھی ایشور تھا یا نہیں نہ کیونکر ہو گا وہ سب جگہ ہے اورجب یہاں بھی تھا تو جوتاآتے ہوئے دیکھ کر ہٹ گیا یا جوتا اس کے اندر ہوتا ہوا گزر گیا ہٹ تو سکتا نہیں ورنہ ہر جگہ کب رہا یہ جگہ خالی ہو جائے گی ضرور جوتا اس میں ہو کرگزرا عجب ایشور کے جوتے سے پھٹ گیا پھر اس شخص کے جس حصہ بدن پر جوتاپڑا وہاں بھی ایشور تھا یا نہیں نہ کیسے ہو گا ورنہ ہر جگہ نہ رہے گا اور جب وہاں بھی تھا تو اب بتاؤ کہ یہ جو تا کس پر پڑا کاش نراالٹاہوتا تو پاؤوں پر لگتا سیدھا بھی ہے تو سر پر پڑا یہ ہیں آریہ اور ان کا ایشور کیا انھوں نے خدا کوجانا حاش ﷲ سبحن رب العرش عما یصفونo
عــــــہ : یہاں سے ان الفاظ تك کہ ہر آدمی کے آگے بیٹھا ہے جس جس عبارت پر خط ہے یہ مضمون یجر وید ادھیا ۳۱ منتر اول کا ہے ۱۲۔
فکر ہر کس بقدر ہمت اوست
(ہر شخص کی فکر اس کی ہمت بھر ہوتی ہے۔ ت)
اس بجنے ناچنے میں جو کچھ رشیوں کے سر کے بولے وہ اس کی الہامی کتاب وید ہے ایسے کوجس نے نیوگ جیسی بیحیائی کو ذریعہ نجات کیا ہے ایسے کو جس کے عــــــہ۱ ہزار سر ہیں دو۲مونھے سانپ سے پانسو حصے سوا ہزار آنکھ ہیں ہر سر میں ایك ٭ہر منہ سے کانا یا بعض چہروں میں کئی کئی باقی چہروں سے اندھا ہزارپاؤں ہیں کنکھجور ا تو نہیں جسے ہزار پاکہتے ہیں۔ ایسے کوجو زمین پر ہر جگہ ہے الٹا سیدھا نٹ کی کلا کو بھی مات کیا اور کلام حرام کہ انسان سے مشابہت نہ ہو پھرجگہ پاخانہ بھی ہے سیدھا ہوتا تو پاؤں ہی بھرتے الٹا بھی ہے تو سر بھی سنا تب بھی دس۱۰ انگلی کے فاصلے پر ہر آدمی کے آگے بیٹھا ہے تو ہر جگہ کب ہوا پھر دو۲ آدمی آمنے سامنے دس۱۰ انگل کے فاصلے سے ہوں تو ان میں ہر ایك ایشور کا جگہ میں شریك ہوا اور دو۲ انگل کے فاصلے پر ہوں تو ایشور آٹھ آٹھ انگل ہر ایك کے پیٹ میں گھساٹھہرا ایسےکہ جو سر وبیاپك ہے ہر چیز میں حلول کئے ہوئے ہے ہر مادہ کی فرج ہر شخص کی مقعد ہر پاخانے کی ڈھیری میں نجاست کا کیڑا بھی اتنا گھناؤنا تو نہیں ہوتا۔ پھر یہ سب جگہ رما ہوا ایك ہی ایشور ہے یا ہر جگہ نیا بر تقدیر دوم ایشوروں کی گنتی تمام مخلوقات کے شمار سے بڑھ نہ گئی تو برابر ضروررہی اس پر توحید کا دم بھرتے ہیں بر تقدیر اول ایشور کے سنکھوں مہا سنکھوں ٹکڑے ہوئے کہ ذرے ذرے بھر جگہ میں اس کا نیا ٹکڑا ہے تو ایشور مرکب ہوا اور ہر مرکب محتاج ہے کہ جب تك اس کے سب اجزااکٹھے نہ ہوں نہیں ہوسکتا تو ایشور محتاج ہوا پھر جب ہر جگہ رما ہوا ہے فرض کرو ایك شخص نے دوسرے کے جو تا مارا تو یہ فضا جس میں جو تا چل کر اس کے بدن تك گیا اس میں بھی ایشور تھا یا نہیں نہ کیونکر ہو گا وہ سب جگہ ہے اورجب یہاں بھی تھا تو جوتاآتے ہوئے دیکھ کر ہٹ گیا یا جوتا اس کے اندر ہوتا ہوا گزر گیا ہٹ تو سکتا نہیں ورنہ ہر جگہ کب رہا یہ جگہ خالی ہو جائے گی ضرور جوتا اس میں ہو کرگزرا عجب ایشور کے جوتے سے پھٹ گیا پھر اس شخص کے جس حصہ بدن پر جوتاپڑا وہاں بھی ایشور تھا یا نہیں نہ کیسے ہو گا ورنہ ہر جگہ نہ رہے گا اور جب وہاں بھی تھا تو اب بتاؤ کہ یہ جو تا کس پر پڑا کاش نراالٹاہوتا تو پاؤوں پر لگتا سیدھا بھی ہے تو سر پر پڑا یہ ہیں آریہ اور ان کا ایشور کیا انھوں نے خدا کوجانا حاش ﷲ سبحن رب العرش عما یصفونo
عــــــہ : یہاں سے ان الفاظ تك کہ ہر آدمی کے آگے بیٹھا ہے جس جس عبارت پر خط ہے یہ مضمون یجر وید ادھیا ۳۱ منتر اول کا ہے ۱۲۔
(۳)مجوس کے جھوٹے خدا
ایسے کو خدا کہتے ہیں جس کے برابر کی چوٹ کا دوسرا خالق شیطان ہے پھر بعض کے نزدیك تو شیطان اس کا مخلوق ہی نہیں اسی کی طرح واجب الوجود ہے خود بخود موجود ہے جب تو شیطان اس کا ہمسر ہونا ظاہر اورجن کے نزدیك وہ بھی اسی سے پیدا ہوا وہ اور سخت اعجوبہ ہے یزدان سے کوئی جزئی شرتو اس لئے نہ بن سکا کہ وہ خیر محض ہے اس سے شر کیونکر پیدا ہو مگر اہر من کی ہر شر کی جڑ اور کلی شر ہے اس سے پیدا ہوگیا اور جب سب شراہرمن سے پیدا ہیں اور اہر من یزدان سے تو جملہ شرور کا ٹیکا یزدان ہی کے ماتھے رہا ایسے کوجسے بیٹھے بٹھائے ایك دن فکر ہوئی کہ اگر کوئی میرامخالف ہو تو کیسا ہو اس خیال فاسد سے ایك دھواں اٹھا جو شیطان بنا اور اس نے قوت پکڑی یہاں تك کہ لشکر جوڑ کر یزدان کے مقابل ہوا مجوس کا یزدان اس کے مقابلہ کی تاب نہ لاکر بھاگا اورجنت میں قلعہ بند ہوا اہرمن تین ہزار برس جنت کا محاصرہ کئے رہا یزدان اس کا کچھ نہ بگاڑ سکا آخر فرشتوں نے بیچ بچاؤ کرکے تصفیہ کرادیا کہ سات ہزار برس دنیا میں شیطان سلطنت کرے پھر ملك یزدان کو سونپ دے مجوس کا یزدان طول محاصرہ سے عاجز آچکا تھا جبراوقہرا قبول کیا اور اب اس سے دعا فضول کی کہ وہ دنیا کی سلطنت سے معزول ایسے کو جس نے بیٹے کےلئے ماں باپ کے لئے بیٹی جیسی بیحیائیاں حلال کی ہیں کیا انھوں نے خدا کو جانا حاش ﷲ سبحن رب العر ش عما یصفونo
(۴) یہود کے جھوٹے خدا
یہود ایسے کو خدا کہتے ہیں جو آسمان و زمین بنا کر اتناتھکا کہ عرش پر جاکر پاؤں پر پاؤں رکھ کر چت لیٹ گیا ایسے کو جو ان میں بعض کے نزدیك عزیر کا باپ ہے ایسے کو جو ایك حکم دے کر اس کا پابند ہوجاتا ہے زمانہ و مصالح کتنے ہی بدلیں اس کے بدلے دوسرا حکم نہیں بھیج سکتا و لہذانسخ کے منکر ہیں اور شریعت موسوی کوابدی کہتے اور اس صریح کذب کا افترا اپنے معبود کے سر دھرتے ہیں ایسے کو جس نے آپ ہی قوم نوح پرطوفان بھیجا پھر اپنی اس حرکت پر ایسا نادم ہوا اتنا رویا کہ آنکھیں دکھ آئیں نسخ تو پچتا نا ٹھہر کر محال حالانکہ اسے پچتانے سے کوئی تعلق نہیں رات کو دن کرتا ہے پھر دن کو رات کر دیتا ہے کوئی مجنون ہی اسے پچتا نا کہے گا جب احکام تکوینیہ میں یہ ہے احکام تشریعیہ میں کون مانع ہے خیر وہ تو پچتانے کے خوف سے نہ بدل سکے مگر آدم کو بنا کر پچتا یا اور طوفان بھیج کر تو پچتا نے کا وہ طوفان آیاجس نے رلا رلا کر آنکھوں کا یہ دن کر دکھایا ایسے کو جس نے یہودی کے لئے اسکی سگی بہن حلال کی اور توراۃ میں اسکی حرمت غلط لکھ دی اس لئے کہ شریعت آدم میں یقینا حلت تھی اب حرام کرے تو منسوخی حکم سے پچتا نا ٹھہرے ایسے کو جس نے خلیل و اسمعیل علیہما الصلوۃ والسلام کی دعا قبول کی اور ان سے کہا کہ میں نے اسمعیل واولاد اسمعیل کو برکت دی اور تمام خیر و خوبی ان میں رکھی عنقریب تمام امتوں پر انھیں غالب کروں گا اور ان میں انھیں میں سے اپنا رسول اپنےکلام کے ساتھ بھیجوں گا پھر کیا کچھ نہیں بلکہ ان کا عکس کیا جیسا یہود بکتے ہیں۔ ایسےکو کہ نہ تورات اس کی کتاب
ایسے کو خدا کہتے ہیں جس کے برابر کی چوٹ کا دوسرا خالق شیطان ہے پھر بعض کے نزدیك تو شیطان اس کا مخلوق ہی نہیں اسی کی طرح واجب الوجود ہے خود بخود موجود ہے جب تو شیطان اس کا ہمسر ہونا ظاہر اورجن کے نزدیك وہ بھی اسی سے پیدا ہوا وہ اور سخت اعجوبہ ہے یزدان سے کوئی جزئی شرتو اس لئے نہ بن سکا کہ وہ خیر محض ہے اس سے شر کیونکر پیدا ہو مگر اہر من کی ہر شر کی جڑ اور کلی شر ہے اس سے پیدا ہوگیا اور جب سب شراہرمن سے پیدا ہیں اور اہر من یزدان سے تو جملہ شرور کا ٹیکا یزدان ہی کے ماتھے رہا ایسے کوجسے بیٹھے بٹھائے ایك دن فکر ہوئی کہ اگر کوئی میرامخالف ہو تو کیسا ہو اس خیال فاسد سے ایك دھواں اٹھا جو شیطان بنا اور اس نے قوت پکڑی یہاں تك کہ لشکر جوڑ کر یزدان کے مقابل ہوا مجوس کا یزدان اس کے مقابلہ کی تاب نہ لاکر بھاگا اورجنت میں قلعہ بند ہوا اہرمن تین ہزار برس جنت کا محاصرہ کئے رہا یزدان اس کا کچھ نہ بگاڑ سکا آخر فرشتوں نے بیچ بچاؤ کرکے تصفیہ کرادیا کہ سات ہزار برس دنیا میں شیطان سلطنت کرے پھر ملك یزدان کو سونپ دے مجوس کا یزدان طول محاصرہ سے عاجز آچکا تھا جبراوقہرا قبول کیا اور اب اس سے دعا فضول کی کہ وہ دنیا کی سلطنت سے معزول ایسے کو جس نے بیٹے کےلئے ماں باپ کے لئے بیٹی جیسی بیحیائیاں حلال کی ہیں کیا انھوں نے خدا کو جانا حاش ﷲ سبحن رب العر ش عما یصفونo
(۴) یہود کے جھوٹے خدا
یہود ایسے کو خدا کہتے ہیں جو آسمان و زمین بنا کر اتناتھکا کہ عرش پر جاکر پاؤں پر پاؤں رکھ کر چت لیٹ گیا ایسے کو جو ان میں بعض کے نزدیك عزیر کا باپ ہے ایسے کو جو ایك حکم دے کر اس کا پابند ہوجاتا ہے زمانہ و مصالح کتنے ہی بدلیں اس کے بدلے دوسرا حکم نہیں بھیج سکتا و لہذانسخ کے منکر ہیں اور شریعت موسوی کوابدی کہتے اور اس صریح کذب کا افترا اپنے معبود کے سر دھرتے ہیں ایسے کو جس نے آپ ہی قوم نوح پرطوفان بھیجا پھر اپنی اس حرکت پر ایسا نادم ہوا اتنا رویا کہ آنکھیں دکھ آئیں نسخ تو پچتا نا ٹھہر کر محال حالانکہ اسے پچتانے سے کوئی تعلق نہیں رات کو دن کرتا ہے پھر دن کو رات کر دیتا ہے کوئی مجنون ہی اسے پچتا نا کہے گا جب احکام تکوینیہ میں یہ ہے احکام تشریعیہ میں کون مانع ہے خیر وہ تو پچتانے کے خوف سے نہ بدل سکے مگر آدم کو بنا کر پچتا یا اور طوفان بھیج کر تو پچتا نے کا وہ طوفان آیاجس نے رلا رلا کر آنکھوں کا یہ دن کر دکھایا ایسے کو جس نے یہودی کے لئے اسکی سگی بہن حلال کی اور توراۃ میں اسکی حرمت غلط لکھ دی اس لئے کہ شریعت آدم میں یقینا حلت تھی اب حرام کرے تو منسوخی حکم سے پچتا نا ٹھہرے ایسے کو جس نے خلیل و اسمعیل علیہما الصلوۃ والسلام کی دعا قبول کی اور ان سے کہا کہ میں نے اسمعیل واولاد اسمعیل کو برکت دی اور تمام خیر و خوبی ان میں رکھی عنقریب تمام امتوں پر انھیں غالب کروں گا اور ان میں انھیں میں سے اپنا رسول اپنےکلام کے ساتھ بھیجوں گا پھر کیا کچھ نہیں بلکہ ان کا عکس کیا جیسا یہود بکتے ہیں۔ ایسےکو کہ نہ تورات اس کی کتاب
نہ موسی سے اس کا کلام یہ سارے کرشمے ایك فرشتے کے ہیں۔ کیا انھوں نے خدا کو جانا حاش ﷲ سبحن رب العرش عما یصفونo
(۵)نصاری کے جھوٹے خدا
نصاری ایسے کو خدا کہتے ہیں جو مسیح کا باپ ہے اور مزرہ یہ کہ اس کے بھا ئیوں عــــــہ۱ کا بھی باپ ہے اس عــــــہ۲ کے شاگردوں کا باپ ہے اس عــــــہ۳ کے چھوٹے جھنڈ کا باپ ہے۔ ہر عیسائی عــــــہ۴ کا باپ ہے پھر عــــــہ۵ ہر مصلح کا باپ ہے خود عــــــہ۶ آدمیوں کے باپ آدم کا باپ ہے تو ہر بشر کا باپ ہے یہاں تك کہ حکم عــــــہ۷ ہے کہ زمین پر کسی کو اپنا باپ مت کہو کیونکہ تمھاراایك ہی باپ ہے جو آسمان پر ہے یہ کچھ تونات پودھ پھیلی ہوئی ہے اور پھراکیلا مسیح اس کا اکلوتا ایسے کو جو اپنے اکلوتے کو سولی سے نہ بچا سکا ایسے کو کہ جب اس کا بیگناہ اکلوتایہاں کی مصیبت جھیل کر ہاں ہاں عیسا ئیوں کا خدا مخلوق کے مارے سے دم گنوا کر باپ کے پاس گیا اس نے اکلوتے کی یہ عزت کی اس کی مظلومی و بیگناہی کی یہ داد دی کہ اسے عــــــہ۸ دوزخ میں جھونك دیا اوروں کے بدلے اسے تین دن جہنم میں بھونا ایسے کو عــــــہ۹ جو روٹی اور گوشت کھاتا ہے اور سفر سے آکر اپنے پاؤں دھلو اکر درخت کے نیچے آرام کرتا ہے درخت اونچا اور وہ نیچا ہے ایسے کو جو فقط زندوں عــــــہ۱۰ کا خدا ہے مردوں کا نہیں جو جو مرتے جاتے ہیں اس کی خدائی سے نکلتے جاتے ہیں ایسے کو جو اپنے ایك بندے عــــــہ۱۱ سے رات کو صبح ہونے تك کشتی لڑا ور اسے گرانہ سکا جب دیکھا کہ میں اس پر غالب نہیں آتا اس کے پاؤں کی نس چڑھا کر کمزور کیا ایسے کو جس کا عــــــہ۱۲ بیٹا اسے جلا ل بخشتا ہے آریوں کے ایشور کی تو ماں اس کی جان کی حفاظت کرتی تھی عیسائیوں کے خدا کا بیٹااسے عزت بخشتا ہے کیوں نہ ہو سپوت ایسے ہی ہوتے ہیں اس پر پھرا سے بے خطا جہنم میں جھونکنا کیسی محسن کشی ناانصافی ہے۔ ایسے کو جو عــــــہ۱۳ یقینا دغاباز ہے پچتاتا عــــــہ۱۴ بھی ہے
عــــــہ۱ : انجیل یوحنا باب ۲۰ درس ۱۷ عــــــہ۲ : انجیل متی باب ۵ درس ۴۵ و ۴۸ و باب ۶ درس ۲و ۴و ۱۵ و ۱۸ و ۲۶ و ۳۲ و باب درس ۱۱۔ و انجیل لو قا باب ۱۱ درس ۲ و باب ۱۲ درس ۳۰۔ عــــــہ۳ : انجیل لوقا باب ۲ درس ۳۲۔ عــــــہ۴ : پولس کاخط گلتیوں کو باب ۳ درس ۲۶۔ عــــــہ۵ : انجیل متی باب ۵ درس ۹۔ عــــــہ۶ : انجیل لوقا باب ۳ درس ۳۸۔ عــــــہ۷ : انجیل متی باب ۲۳ درس ۹۔ عــــــہ۸ : مسئلہ کفارہ ۱۲۔ عــــــہ۹ : پیدائش باب ۱۸ درس ۴ تا ۸۔ عــــــہ۱۰ : انجیل متی باب ۲۲ درس ۳۲۔ عــــــہ۱۱ : موسی کی پہلی کتاب باب ۳۲ درس ۵و ۲۴۔ عــــــہ۱۲ : انجیل یوحنا باب ۱۷ درس اول۔ عــــــہ۱۳ : کتاب یر میاہ نبی باب ۴ درس ۱۹۔ عــــــہ۱۴ : کتاب یر میاہ باب ۱۵ درس ۶۔
(۵)نصاری کے جھوٹے خدا
نصاری ایسے کو خدا کہتے ہیں جو مسیح کا باپ ہے اور مزرہ یہ کہ اس کے بھا ئیوں عــــــہ۱ کا بھی باپ ہے اس عــــــہ۲ کے شاگردوں کا باپ ہے اس عــــــہ۳ کے چھوٹے جھنڈ کا باپ ہے۔ ہر عیسائی عــــــہ۴ کا باپ ہے پھر عــــــہ۵ ہر مصلح کا باپ ہے خود عــــــہ۶ آدمیوں کے باپ آدم کا باپ ہے تو ہر بشر کا باپ ہے یہاں تك کہ حکم عــــــہ۷ ہے کہ زمین پر کسی کو اپنا باپ مت کہو کیونکہ تمھاراایك ہی باپ ہے جو آسمان پر ہے یہ کچھ تونات پودھ پھیلی ہوئی ہے اور پھراکیلا مسیح اس کا اکلوتا ایسے کو جو اپنے اکلوتے کو سولی سے نہ بچا سکا ایسے کو کہ جب اس کا بیگناہ اکلوتایہاں کی مصیبت جھیل کر ہاں ہاں عیسا ئیوں کا خدا مخلوق کے مارے سے دم گنوا کر باپ کے پاس گیا اس نے اکلوتے کی یہ عزت کی اس کی مظلومی و بیگناہی کی یہ داد دی کہ اسے عــــــہ۸ دوزخ میں جھونك دیا اوروں کے بدلے اسے تین دن جہنم میں بھونا ایسے کو عــــــہ۹ جو روٹی اور گوشت کھاتا ہے اور سفر سے آکر اپنے پاؤں دھلو اکر درخت کے نیچے آرام کرتا ہے درخت اونچا اور وہ نیچا ہے ایسے کو جو فقط زندوں عــــــہ۱۰ کا خدا ہے مردوں کا نہیں جو جو مرتے جاتے ہیں اس کی خدائی سے نکلتے جاتے ہیں ایسے کو جو اپنے ایك بندے عــــــہ۱۱ سے رات کو صبح ہونے تك کشتی لڑا ور اسے گرانہ سکا جب دیکھا کہ میں اس پر غالب نہیں آتا اس کے پاؤں کی نس چڑھا کر کمزور کیا ایسے کو جس کا عــــــہ۱۲ بیٹا اسے جلا ل بخشتا ہے آریوں کے ایشور کی تو ماں اس کی جان کی حفاظت کرتی تھی عیسائیوں کے خدا کا بیٹااسے عزت بخشتا ہے کیوں نہ ہو سپوت ایسے ہی ہوتے ہیں اس پر پھرا سے بے خطا جہنم میں جھونکنا کیسی محسن کشی ناانصافی ہے۔ ایسے کو جو عــــــہ۱۳ یقینا دغاباز ہے پچتاتا عــــــہ۱۴ بھی ہے
عــــــہ۱ : انجیل یوحنا باب ۲۰ درس ۱۷ عــــــہ۲ : انجیل متی باب ۵ درس ۴۵ و ۴۸ و باب ۶ درس ۲و ۴و ۱۵ و ۱۸ و ۲۶ و ۳۲ و باب درس ۱۱۔ و انجیل لو قا باب ۱۱ درس ۲ و باب ۱۲ درس ۳۰۔ عــــــہ۳ : انجیل لوقا باب ۲ درس ۳۲۔ عــــــہ۴ : پولس کاخط گلتیوں کو باب ۳ درس ۲۶۔ عــــــہ۵ : انجیل متی باب ۵ درس ۹۔ عــــــہ۶ : انجیل لوقا باب ۳ درس ۳۸۔ عــــــہ۷ : انجیل متی باب ۲۳ درس ۹۔ عــــــہ۸ : مسئلہ کفارہ ۱۲۔ عــــــہ۹ : پیدائش باب ۱۸ درس ۴ تا ۸۔ عــــــہ۱۰ : انجیل متی باب ۲۲ درس ۳۲۔ عــــــہ۱۱ : موسی کی پہلی کتاب باب ۳۲ درس ۵و ۲۴۔ عــــــہ۱۲ : انجیل یوحنا باب ۱۷ درس اول۔ عــــــہ۱۳ : کتاب یر میاہ نبی باب ۴ درس ۱۹۔ عــــــہ۱۴ : کتاب یر میاہ باب ۱۵ درس ۶۔
تھك جاتا بھی ہے ایسے کو عــــــہ۱ جس کی دو ۲ جوروہیں ہیں دونوں پکی زناکا رحد بھر کی فاحشہ ایسے کوجس عــــــہ۲ کے لئے زنا کی کمائی فاحشہ کی خرچی کمال مقدس پاك کمائی ہے ایسے کو جس عــــــہ۳ نے باندی غلام بنانا جائز رکھ کر نصاری کے دھرم میں حددرجے کی ناپاك ظالمانہ وحشیا نہ حرکت کی اور پھر خالی عــــــہ۴ کام خدمت ہی کے لئے نہیں بلکہ موسی کو حکم دیا کہ مخالفوں کی عورتیں پکڑکر حرم بناؤ ان سے ہم بستری کرو ایسے کو جس عــــــہ۵ کی شریعت محض باطل ہے اس سے راستبازی نہیں آتی اسے ایمان عــــــہ۶ سے کچھ علاقہ نہیں جو ا س کی شریعت عــــــہ۷ پر عمل کرے ملعون ہے بلکہ اس کا اکلوتا عــــــہ۸ بیٹا خود ہی ملعون ہے پھر بھی ایسی لعنتی شریعت عــــــہ۹ پر عمل کا حکم دیتا بندوں سے اس کا التزام مانگتا اسکے ترك عــــــہ۱۰ پر عذاب کرتا ہے ایسے کو عــــــہ۱۱ جو اتنا جاہل کہ نہایت سیدھا ساحساب نہ کر سکا بیٹے کوباپ سے عمر میں بڑا بتایا گیا ایسے کوجو عــــــہ۱۲ اتنا بھلکڑ کہ اپنے اکلوتے کے باپوں کی صحیح گنتی نہ گنا سکا کہیں داؤد تك اس کے ستائیس ۲۷باپ کہیں پندرہ۱۵ بڑھا کر بیالیس۴۲ باپ وغیرہ وغیرہ خرافات ملعونہ کیا انھوں نے خدا کو جانا۔ حاش ﷲ سبحن رب العرش عما یصفونo
(۶)نیچریوں کے جھوٹے خدا
نیچری ایسے کو خدا کہتا ہے جو نیچر کی زنجیروں میں جکڑا ہے اس کے خلاف کچھ نہیں کر سکتا اور نیچر بھی اتنا جو نیچری کی سمجھ میں آئے جو اس کی ناقص عقل سے وراء ہے معجزہ ہو یا قدرت سب پادر ہوا ہے ایسے کو جس نے(خاك بدہن ملعونان)جھوٹا دین اسلام بھیجا کہ اس میں باندی غلام حلال کیا(اگرچہ پیر نیچر کے نزدیك ابتدا ہی میں) عــــــہ۱۳ اور وہ دین جس
عــــــہ۱ : کتاب حز قیل نبی باب ۲۳ درس اتا ۲۳ عــــــہ۲ : کتاب یسیعا ہ نبی باب ۲۳ درس ۱۸۔ عــــــہ۳ : خروج باب ۱۲ درس ۱ و ۴ تا ۶ و پیدائش باب ۱۶ درس ۱ تا ۶ وغیرہ۔ عــــــہ۴ : استثنا باب ۷ درس ۲ باب ۲۱ درس۱۰ و ۱۱۔ عـــــہ۵ : پولس کا خط گلتیوں کو باب ۳ ورس ۱۱۔ عــــــہ۶ : ایضا درس ۱۲۔ عــــــہ۷ : ایضا درس ۱۰ و ۱۳۔ عــــــہ۸ : ایضا درس ۱۳۔ عـــــہ۹ : انجیل متی باب ۲۳ درس ۲۳۔ عــــــہ۱۰ : کتاب یرمیاہ باب ۹ درس ۱۲ تا ۱۶۔ عــــــہ۱۱ : تواریخ کی دوسری کتاب باب ۲۲ درس او ۲ مع باب ۲۱ درس ۲۰۔ عــــــہ۱۲ : انجیل لو قادرس ۲۳ تا ۳۱ مع انجیل متی درس ۶تا ۱۷۔
عــــــہ۱۳ : رسالہ سید احمد خان پیر نیچر ابطال غلامی صفحہ ۳ ایسی حالت صانع کی مرضی نہیں ہوسکتی صاف عیاں ہے کہ غلامی اس قادر مطلق کی مرضی اور قانون قدرت دونوں کے برخلاف ہے صفحہ ۲۰ غلامی خدا کی مرضی کے مطابق نہیں ہو سکتی کیا پاك پروردگار ہی ناپاك چیز کو انسان کے حق میں جائز کرتااصلی ظلم اور ٹھیٹ ناانصافی ہے(باقی اگلے صفحہ پر)
(۶)نیچریوں کے جھوٹے خدا
نیچری ایسے کو خدا کہتا ہے جو نیچر کی زنجیروں میں جکڑا ہے اس کے خلاف کچھ نہیں کر سکتا اور نیچر بھی اتنا جو نیچری کی سمجھ میں آئے جو اس کی ناقص عقل سے وراء ہے معجزہ ہو یا قدرت سب پادر ہوا ہے ایسے کو جس نے(خاك بدہن ملعونان)جھوٹا دین اسلام بھیجا کہ اس میں باندی غلام حلال کیا(اگرچہ پیر نیچر کے نزدیك ابتدا ہی میں) عــــــہ۱۳ اور وہ دین جس
عــــــہ۱ : کتاب حز قیل نبی باب ۲۳ درس اتا ۲۳ عــــــہ۲ : کتاب یسیعا ہ نبی باب ۲۳ درس ۱۸۔ عــــــہ۳ : خروج باب ۱۲ درس ۱ و ۴ تا ۶ و پیدائش باب ۱۶ درس ۱ تا ۶ وغیرہ۔ عــــــہ۴ : استثنا باب ۷ درس ۲ باب ۲۱ درس۱۰ و ۱۱۔ عـــــہ۵ : پولس کا خط گلتیوں کو باب ۳ ورس ۱۱۔ عــــــہ۶ : ایضا درس ۱۲۔ عــــــہ۷ : ایضا درس ۱۰ و ۱۳۔ عــــــہ۸ : ایضا درس ۱۳۔ عـــــہ۹ : انجیل متی باب ۲۳ درس ۲۳۔ عــــــہ۱۰ : کتاب یرمیاہ باب ۹ درس ۱۲ تا ۱۶۔ عــــــہ۱۱ : تواریخ کی دوسری کتاب باب ۲۲ درس او ۲ مع باب ۲۱ درس ۲۰۔ عــــــہ۱۲ : انجیل لو قادرس ۲۳ تا ۳۱ مع انجیل متی درس ۶تا ۱۷۔
عــــــہ۱۳ : رسالہ سید احمد خان پیر نیچر ابطال غلامی صفحہ ۳ ایسی حالت صانع کی مرضی نہیں ہوسکتی صاف عیاں ہے کہ غلامی اس قادر مطلق کی مرضی اور قانون قدرت دونوں کے برخلاف ہے صفحہ ۲۰ غلامی خدا کی مرضی کے مطابق نہیں ہو سکتی کیا پاك پروردگار ہی ناپاك چیز کو انسان کے حق میں جائز کرتااصلی ظلم اور ٹھیٹ ناانصافی ہے(باقی اگلے صفحہ پر)
میں باندی غلام بنانا حلال ہواہو نیچری کے نزدیك خدا کی طرف سے ہر گز نہیں ہو سکتا ایسے کو جس نے مدتوں اسلام میں اپنی خلاف مرضی باتیں ناپاك چیزیں اصلی ظلم ٹھیٹ نا انصافی روارکھی ایسی بد باتیں بہائم کی حرکتیں کہ ایك لمحہ کے لئے بھی یہ بات مانی نہیں جا سکتی کہ سچا مذہب جو خدا کی طرف سے اترا ہو اس میں ایسے امور جائز ہوں۔ ایسے کو جو ان سخت ظالموں ٹھیٹ ناانصافوں جانور سے بدتروحشیوں کو جن کا
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
خدا ایسے قصور کا تقصیر وار نہیں ہو سکتا صفحہ ۲۴ جو امور لونڈیوں اور قیدی عورتوں کے ساتھ جائز سمجھے جاتے ہیں کیا حرکات بہا ئم سے کچھ زیادہ رتبہ رکھتے ہیں کیا وہ کسی مذہب کے سچے اور خدا کے دئے پر دلیل ہو سکتے ہیں حاشاوکلا ایك لمحہ کےلئے بھی یہ بات مانی نہیں جا سکتی کہ سچا مذہب جو خدا کی طرف سے اترا ہو اس میں ایسے امور جائز ہوں صفحہ ۲۵ یہودی مذہب نے غلامی کے قانون کو جائز سمجھا اور عیسی مسیح نے اس کی نسبت کچھ نہ کہا مگر محمد صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے جو کچھ کہا اس کو کسی نے نہ سمجھا صفحہ ۲۹ زمانہ اسلام میں بھی غلامی کی رسم پر جب تك آیت حریت نازل نہ ہوئی کچھ تھوڑا سا عملدر آمد ہوا اس میں کچھ شك نہیں کہ قبل نزول آیت حریت جو غلام موجود تھے ان کو اسلام نے دفعۃ آزاد نہ کیا نہ ان کے تعلقات کو توڑا ملا حظہ ہو موسوی عیسوی محمدی تینوں دین باطل کردئے موسوی تو یوں کہ اس نے غلامی کے قانون کو جائز رکھا اور عیسوی یوں کہ عیسی مسیح نے اسی شدید بیحیائی ٹھیٹ ظلم پر کچھ نہ کہا نبی کا کسی بات پر سکوت بھی اسے جائز کرنا ہے اسلام یوں کہ صدر اسلام میں غلامی کی رسم پر عملدر آمد رہا پھر جب اس مرتد کے زعم میں آیت آزادی اتری اس نے بھی اگلے حکموں کو بر قرار رکھا ان بے حیائیوں کو معدوم نہ کیا۔ سود منع فرمایا جب تو یہ حکم دیا کہ پہلے کا جو باقی رہا ہو وہ ابھی چھوڑدو ورنہ اﷲ و رسول سے لڑائی کو تیار ہو جاؤ اور یہاں موجودہ ظلموں بے حیائیوں کو قائم رکھا جائز کر دیا فقط آئندہ کے لئے اس کے زعم ملعون میں منع کیا بہر حال تینوں دینوں میں ہمیشہ یا ایك زمانہ دراز تك رسم غلامی جائز رہی اور خود کہہ چکا کہ ایك لمحہ کےلئے یہ بات نہیں مانی جا سکتی کہ سچا مذہب جو خدا کی طرف سے اترا ہو اس میں ایسے امور جائز ہوں کیسا صاف صریح کہہ دیا کہ موسوی عیسوی محمدی تینوں دین باطل اور پھر عجب ہے کہ اس کے پیرو اسے نہ صرف مسلمان بلکہ اسلام کا سنورانے والا بتاتے ہیں کلا واﷲ بلکہ “ ابی واستکبر٭۫ وکان من الکفرین﴿۳۴﴾ “ “ و سیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون ﴿۲۲۷﴾ “ (منکر ہو ا اور غرور کیا اور کافر ہو گیا عنقریب جان لیں گے ظالم کہ کس کروٹ پر پلٹا کھائیں گے۔ ت)۱۲ منہ علیہ الرحمۃ ۔
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
خدا ایسے قصور کا تقصیر وار نہیں ہو سکتا صفحہ ۲۴ جو امور لونڈیوں اور قیدی عورتوں کے ساتھ جائز سمجھے جاتے ہیں کیا حرکات بہا ئم سے کچھ زیادہ رتبہ رکھتے ہیں کیا وہ کسی مذہب کے سچے اور خدا کے دئے پر دلیل ہو سکتے ہیں حاشاوکلا ایك لمحہ کےلئے بھی یہ بات مانی نہیں جا سکتی کہ سچا مذہب جو خدا کی طرف سے اترا ہو اس میں ایسے امور جائز ہوں صفحہ ۲۵ یہودی مذہب نے غلامی کے قانون کو جائز سمجھا اور عیسی مسیح نے اس کی نسبت کچھ نہ کہا مگر محمد صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے جو کچھ کہا اس کو کسی نے نہ سمجھا صفحہ ۲۹ زمانہ اسلام میں بھی غلامی کی رسم پر جب تك آیت حریت نازل نہ ہوئی کچھ تھوڑا سا عملدر آمد ہوا اس میں کچھ شك نہیں کہ قبل نزول آیت حریت جو غلام موجود تھے ان کو اسلام نے دفعۃ آزاد نہ کیا نہ ان کے تعلقات کو توڑا ملا حظہ ہو موسوی عیسوی محمدی تینوں دین باطل کردئے موسوی تو یوں کہ اس نے غلامی کے قانون کو جائز رکھا اور عیسوی یوں کہ عیسی مسیح نے اسی شدید بیحیائی ٹھیٹ ظلم پر کچھ نہ کہا نبی کا کسی بات پر سکوت بھی اسے جائز کرنا ہے اسلام یوں کہ صدر اسلام میں غلامی کی رسم پر عملدر آمد رہا پھر جب اس مرتد کے زعم میں آیت آزادی اتری اس نے بھی اگلے حکموں کو بر قرار رکھا ان بے حیائیوں کو معدوم نہ کیا۔ سود منع فرمایا جب تو یہ حکم دیا کہ پہلے کا جو باقی رہا ہو وہ ابھی چھوڑدو ورنہ اﷲ و رسول سے لڑائی کو تیار ہو جاؤ اور یہاں موجودہ ظلموں بے حیائیوں کو قائم رکھا جائز کر دیا فقط آئندہ کے لئے اس کے زعم ملعون میں منع کیا بہر حال تینوں دینوں میں ہمیشہ یا ایك زمانہ دراز تك رسم غلامی جائز رہی اور خود کہہ چکا کہ ایك لمحہ کےلئے یہ بات نہیں مانی جا سکتی کہ سچا مذہب جو خدا کی طرف سے اترا ہو اس میں ایسے امور جائز ہوں کیسا صاف صریح کہہ دیا کہ موسوی عیسوی محمدی تینوں دین باطل اور پھر عجب ہے کہ اس کے پیرو اسے نہ صرف مسلمان بلکہ اسلام کا سنورانے والا بتاتے ہیں کلا واﷲ بلکہ “ ابی واستکبر٭۫ وکان من الکفرین﴿۳۴﴾ “ “ و سیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون ﴿۲۲۷﴾ “ (منکر ہو ا اور غرور کیا اور کافر ہو گیا عنقریب جان لیں گے ظالم کہ کس کروٹ پر پلٹا کھائیں گے۔ ت)۱۲ منہ علیہ الرحمۃ ۔
چھوٹا بڑا اول سے آج تك ان ناپاکیوں پر اجماع کئے ہوئے ہے خیر الامم کا خطاب دیتا اور اپنے چنے ہوئے بندے کہتا ہے۔ ایسے کو جس نے کہا تو یہ روشن آیتیں بھیجتا ہوں تمھیں اندھریوں سے نکال کر روشنی میں لاتاہوں اور کیا یہ کہ جو کہی کہہ مکر فی کہی تمثیلی داستان پہیلیاں چیستا لفظ کچھ مراد کچھ جو لغۃ عرفا کسی طرح اس کا مفہوم نہ ہو۔ فرشتے آسمان جن شیطان بہشت دوزخ حشراجساد معراج معجزات سب باتیں بتائیں اور بتائیں بھی کیسی ایمانیات ٹھہراہیں اور من میں یہ کہ درحقیقت یہ کچھ نہیں یو ہیں طو طا مینا کی سی کہانیاں کہہ سنائیں وغیر ہ وغیرہ خرافات ملعونہ۔ کیا انھوں نے خداکو جانا۔ حاش ﷲ سبحن رب العرش عما یصفونo
(۷)چکڑالوی کے جھوٹے خدا
چکڑالوی ایسے کو خدا کہتا ہے جس کے رسول کی قدرایك ڈاکئے سے زیادہ نہیں جس نے اپنے نبی کا اتباع کچھ نہ رکھا ایسے کوجس نے کہا تو یہ کہ میری کتاب میں ہر شیئ کا روشن بیان ہے ہر چیز کی پوری تفصیل ہے ہم نے اس میں کوئی بات نہ اٹھا رکھی اور حالت یہ کہ نماز فرض کی اور یہ بھی نہ بتایا کہ کےوقت کی یہ بھی نہ بتایا کہ ہر وقت میں کے رکعتیں یہ بھی نہ بتایا کہ اس کے پڑھنے کی ترکیب کیا ہے اس کے ارکان کیا ہیں اگر رکوع سجود قیام قرأت اس کے رکن مانے بھی جائیں اگرچہ اس نے کہیں اس کا اظہار نہ کیا تو ان میں آگے کیا ہو پیچھے کیا اس کے مفسدات کیا کیا ہیں کیونکر جاتی ہے کیونکر ہوتی ہے سب سے بڑا فرض ایمان اس میں تو یہ گول مجمل بے سود بیان جس سے کچھ پتا ہی نہ چلے اور دعوی وہ ہے کہ جملہ اشیا ء کا روشن بیان مزہ یہ کہ متواترات کی جڑکاٹ دی کہ سوا میری کتاب کے کچھ حجت نہیں اپنی کتاب کیا وہ خود ہمارے ہاتھ میں دے گیا یہ بھی تو ہم کو تو اتر ہی سے ملی جب تو اتر حجت نہیں یہ بھی حجت نہیں غرض ایمان اسلام سب برباد وناکام وغیرہ وغیرہ خرافات ملعونہ۔ کیا اس نے خدا کو جانا۔ حا ش ﷲ سبحن رب العرش عما یصفونo
(۸)قادیانی کے جھوٹے خدا
ایسے کو خدا کہتا ہے جس عــــــہ۱ نے چار سو جھوٹوں کو اپنا نبی کیا ان سے جھوٹی پیشین گوئیاں کہلوائیں جس نے ایسے عــــــہ۲ کو ایك عظیم الشان رسول بنایا جس کی نبوت پر اصلا دلیل نہیں بلکہ اس کی نفی نبوت پر دلائل قائم جو(خاك بدہن ملعونان)ولد الزنا عــــــہ۳ تھا جس کی تین دادیاں نانیاں زنا کا رکسبیاں تھیں۔ ایسے کو جس عــــــہ۴ نے ایك بڑھئی کے
عــــــہ۱ : ازالہ ص ۶۲۹۔ عــــــہ۲ : اعجاز احمدی ص ۱۳۔ عــــــہ۳ : ضمیمہ انجام آتھم ص ۷۔ عــــــہ۴ : رسالہ کشتی نوح ص ۱۶ مع نوٹ۔
(۷)چکڑالوی کے جھوٹے خدا
چکڑالوی ایسے کو خدا کہتا ہے جس کے رسول کی قدرایك ڈاکئے سے زیادہ نہیں جس نے اپنے نبی کا اتباع کچھ نہ رکھا ایسے کوجس نے کہا تو یہ کہ میری کتاب میں ہر شیئ کا روشن بیان ہے ہر چیز کی پوری تفصیل ہے ہم نے اس میں کوئی بات نہ اٹھا رکھی اور حالت یہ کہ نماز فرض کی اور یہ بھی نہ بتایا کہ کےوقت کی یہ بھی نہ بتایا کہ ہر وقت میں کے رکعتیں یہ بھی نہ بتایا کہ اس کے پڑھنے کی ترکیب کیا ہے اس کے ارکان کیا ہیں اگر رکوع سجود قیام قرأت اس کے رکن مانے بھی جائیں اگرچہ اس نے کہیں اس کا اظہار نہ کیا تو ان میں آگے کیا ہو پیچھے کیا اس کے مفسدات کیا کیا ہیں کیونکر جاتی ہے کیونکر ہوتی ہے سب سے بڑا فرض ایمان اس میں تو یہ گول مجمل بے سود بیان جس سے کچھ پتا ہی نہ چلے اور دعوی وہ ہے کہ جملہ اشیا ء کا روشن بیان مزہ یہ کہ متواترات کی جڑکاٹ دی کہ سوا میری کتاب کے کچھ حجت نہیں اپنی کتاب کیا وہ خود ہمارے ہاتھ میں دے گیا یہ بھی تو ہم کو تو اتر ہی سے ملی جب تو اتر حجت نہیں یہ بھی حجت نہیں غرض ایمان اسلام سب برباد وناکام وغیرہ وغیرہ خرافات ملعونہ۔ کیا اس نے خدا کو جانا۔ حا ش ﷲ سبحن رب العرش عما یصفونo
(۸)قادیانی کے جھوٹے خدا
ایسے کو خدا کہتا ہے جس عــــــہ۱ نے چار سو جھوٹوں کو اپنا نبی کیا ان سے جھوٹی پیشین گوئیاں کہلوائیں جس نے ایسے عــــــہ۲ کو ایك عظیم الشان رسول بنایا جس کی نبوت پر اصلا دلیل نہیں بلکہ اس کی نفی نبوت پر دلائل قائم جو(خاك بدہن ملعونان)ولد الزنا عــــــہ۳ تھا جس کی تین دادیاں نانیاں زنا کا رکسبیاں تھیں۔ ایسے کو جس عــــــہ۴ نے ایك بڑھئی کے
عــــــہ۱ : ازالہ ص ۶۲۹۔ عــــــہ۲ : اعجاز احمدی ص ۱۳۔ عــــــہ۳ : ضمیمہ انجام آتھم ص ۷۔ عــــــہ۴ : رسالہ کشتی نوح ص ۱۶ مع نوٹ۔
بیٹے کو محض جھوٹ کہہ دیا کہ ہم نے بن باپ کے بنایا اور اس پر یہ فخر کی جھوٹی ڈینگ ماری کہ یہ ہماری قدرت کی کیسی کھلی نشانی ہے۔ ایسے کو جس نے عــــــہ۱ ایك بد چلن عیاش کو اپنا نبی کیا جس نے ایك عــــــہ۲ یہودی فتنہ گر عــــــہ۳ کو اپنا رسول کرکے بھیجا جس کے پہلے ہی فتنہ نے دنیا کو تباہ کردیا۔ ایسے کو جو عــــــہ۴ اسے ایك بار دنیا میں لاکر دوبارہ لانےسے عاجز ہے وہ جس نے ایك شعبدہ باز عــــــہ۵ کی مسمر یزم والی مکروہ حرکات قابل نفرت حرکات جھوٹی بے ثبات کو اپنی آیات بینات بتایا ایسےکو جس کی آیات بینات لہو لعب ہیں اتنی بے اصل کہ عام لوگ ویسے عجائب کرلیتے تھے اور اب بھی کر دکھاتے ہیں بلکہ آجکل کے کرشمے ان سے زیادہ بے لاگ ہیں اہل کمال کو ایسی باتوں سے پرہیز رہا ہے۔ ایسے کو جس نے اپنا عــــــہ۶ سب سے پیارا بروزی خاتم النبیین دوبارہ قادیان میں بھیجا مگر اپنی جھوٹ فریب تمسخر ٹھٹول کی چالوں سے ا س کے ساتھ بھی نہ چوکا ا س سے کہہ دیا کہ تیری جو رو کے اس عمل سے بیٹا ہو گا جو انبیاء کا چاند ہو گا بادشاہ اس کے کپڑوں سے برکت لیں گے بروزی بیچارہ اس کے دھوکے میں آکر اسے اشتہاروں میں چھاپ بیٹھا اسے تو یوں ملك بھر میں جھوٹا بننے کی ذلت ورسوائی اوڑھنے کےلئے یہ جل دیا اور جھٹ پٹ میں الٹی کل پھرا دی بیٹی بنادی بروزی بیچارہ کو اپنی غلط فہمی کا اقرار چھاپنا پڑا اور اب دوسرے پیٹ کا منتظر ر ہا اب کی یہ مسخر گی کی کہ بیٹا دے کر امید دلائی اور ڈھائی برس کے بچے ہی کا دم نکال دیا نہ نبیوں کا چاند بننے دیا نہ بادشاہوں کو اس کے کپڑوں سے برکت لینے دی غرضکہ اپنے چہیتے بروزی کا جھوٹا کذاب ہونا خوب اچھالا اور اس پر مزہ یہ کہ عــــــہ۷ عرش پر بیٹھا اس کی تعریفیں گا رہا ہے اس پر بھی صبر نہ آیابروزی کے چلتے وقت کمال بے حیائی کی ذلت ورسوائی تمام ملك میں طشت ازبام ہونے کے لئے اسے یوں چاؤ دلایا کہ اپنی بہن احمدی کی بیٹی محمدی کا پیام دے بروزی بیچارے کے منہ میں پانی بھر آیا پیام پر پیام لالچ پر لالچ دھمکی پر دھمکی ادھر احمد ی کے دل میں ڈال دیا کہ ہر گز نہ پسیج یوں لڑائی ٹھنوا کر اپنے امدادی وعدوں سے بروزی کی امیدوار بڑھائی کہ دیکھ احمدی کا باپ اگر دوسری جگہ اس کا
عــــــہ۱ : ضمیمہ مذکوہ صفحہ ۷۔ عــــــہ۲ : مواہب الرحمن صفحہ ۷۲۔ عــــــہ۳ : دافع البلا صفحہ ۱۵۔ عــــــہ۴ : ایضا عبارت مذکورہ۔ عــــــہ۵ : ازالہ آخر صفحہ ۱۵۱ تا آخر صفحہ ۱۶۲۔ عــــــہ۶ : دافع البلا صفحہ ۳ و صفحہ ۹ وغیرہ۔ عــــــہ۷ : اعجاز احمدی ص ۶۹۔
عــــــہ۱ : ضمیمہ مذکوہ صفحہ ۷۔ عــــــہ۲ : مواہب الرحمن صفحہ ۷۲۔ عــــــہ۳ : دافع البلا صفحہ ۱۵۔ عــــــہ۴ : ایضا عبارت مذکورہ۔ عــــــہ۵ : ازالہ آخر صفحہ ۱۵۱ تا آخر صفحہ ۱۶۲۔ عــــــہ۶ : دافع البلا صفحہ ۳ و صفحہ ۹ وغیرہ۔ عــــــہ۷ : اعجاز احمدی ص ۶۹۔
نکاح کر دے گا تو ڈھائی برس میں وہ مرے گا اور تین برس میں وہ شوہر یا بالعکس بروزی جی تو ہمیشہ اس کی چالوں میں آجاتے تھے اسے بھی چھاپ بیٹھے یہاں تك تو وہی جھوٹی پیشن گوئیاں رہتیں جو سدا کی تھیں۔ اب اس قادیانی کے ساختہ خدا کو اور شرارت سوجھی جھٹ بروزی کو وحی پھنٹا دی کہ “ زوجنا کھا “ محمدی سے ہم نے تیرا نکاح کر دیا۔ اب کیا تھا بروزی جی ایمان لے آئے کہ اب محمدی کہاں جاسکتی ہے یوں جل دے کر بروزی کے منہ سے اسے اپنی منکوحہ چھپوا دیا تاکہ وہ حد بھر کی ذلت جو ایك چمار بھی گوارا نہ کرے کہ اس کی جورو اور اس کے جیتے جی دوسرے کی بغل میں یہ مرتے وقت بروزی کے ماتھے پر کلنك کا ٹیکا ہو اور رہتی دنیا تك بیچارے کی فضیحت و خواری و بے عزتی و کذابی کا ملك میں ڈنکا ہو ادھر تو عابد و معبود کی یہ وحی بازی ہوئی ادھر سلطان محمدآیا اور نہ عابد کی چلنے دی نہ معبود کی بروزی جی کی آسمانی جورو سے بیاہ کر ساتھ لے یہ جا وہ جا چلتا بنا ڈھائی تین برس پر موت دینے کا وعدہ تھا وہ بھی جھوٹا گیا الٹے بروزی جی زمین کے نیچے چل بسے وغیرہ وغیرہ خرافات ملعونہ۔ یہ ہے قادیانی اور اس کا ساختہ خدا۔ کیا وہ خدا کو جانتا تھا یا اب اس کے پیرو جانتے ہیں حاش ﷲ سبحن رب العرش عما یصفونo
(۹)رافضیوں کے جھوٹے خدا
ایسے کو خدا کہتا ہے جو حکم کرکے پچتاتا ہے جو مصلحت عــــــہ سے جاہل رہ کر ایك حکم کرتا ہے جب مصلحت کا علم آیا اسے بدل دیتا ہے اس سے تو یہودی خدا غنیمت تھا کہ پچتانے کے عیب سے بچنے کو نسخ تك نہ کر سکا ایسے کو جو وعدے کا جھوٹا یا بندوں سے عاجز ہے کہ اپنا کلام اتارا اور اس کی حفاظت کا ذمہ دار بنا مگر عثمان غنی وغیرہ صحابہ رضی اﷲ تعالی عنہم واہلسنت نے اس کی آیتیں الٹ پلٹ کردیں سورتوں کی سورتیں کتر لیں اور وہ یا تو وعدہ خلافی سے چپکا دیکھا کیا اور کچھ نہ کہا یا گھٹانے والو ں کے آگے کچھ نہ چل سکی دم سادھ گیا۔ ایسے کو جس نے کہا تو یہ کہ میں یہ دین سب پر غالب کرتا ہوں اورکیا یہ کہ خود ہی اسے ملیا میٹ کر دیا اپنی کتاب ہی کا آپ ہی تھل بیڑا نہ رکھا فاسقوں کی روایت بے تحقیق ماننے سے منع کیا اور اپنی کتا ب کی روایت کا سلسلہ(خاك بد ہن ملعونان)کافروں سے رکھا اور کافر بھی وہ جن کا ایك گروہ ایك جتھا خیانت میں طاق اور عداوت اہلبیت میں تحریف و اخفائے آیات پر سب کا اتفاق کیا معلوم کہ انھوں نے کتنا بدلا کیا کچھ چھپایا آیتوں کی ترتیب بدل کر کہاں کا حکم کہاں لگایا ایسے کو جو بندوں سے عاجز تر ہے وہ بندے سے نیکی چاہے اور بندہ بدی چاہے تو بندہ ہی کا چاہا ہوتا ہے ا س کی ایك نہیں چلتی۔ ایسے کو کہ ہر چمار ہر کافر ہر کتا ہر سوئر خالقیت میں اس کا شریك ہے وہ اعیان گھڑتاہے یہ اپنی
عــــــہ۱ : فتوائے مجتہد لکھنو مجموعہ تکملہ رد روافض ۱۲۔
(۹)رافضیوں کے جھوٹے خدا
ایسے کو خدا کہتا ہے جو حکم کرکے پچتاتا ہے جو مصلحت عــــــہ سے جاہل رہ کر ایك حکم کرتا ہے جب مصلحت کا علم آیا اسے بدل دیتا ہے اس سے تو یہودی خدا غنیمت تھا کہ پچتانے کے عیب سے بچنے کو نسخ تك نہ کر سکا ایسے کو جو وعدے کا جھوٹا یا بندوں سے عاجز ہے کہ اپنا کلام اتارا اور اس کی حفاظت کا ذمہ دار بنا مگر عثمان غنی وغیرہ صحابہ رضی اﷲ تعالی عنہم واہلسنت نے اس کی آیتیں الٹ پلٹ کردیں سورتوں کی سورتیں کتر لیں اور وہ یا تو وعدہ خلافی سے چپکا دیکھا کیا اور کچھ نہ کہا یا گھٹانے والو ں کے آگے کچھ نہ چل سکی دم سادھ گیا۔ ایسے کو جس نے کہا تو یہ کہ میں یہ دین سب پر غالب کرتا ہوں اورکیا یہ کہ خود ہی اسے ملیا میٹ کر دیا اپنی کتاب ہی کا آپ ہی تھل بیڑا نہ رکھا فاسقوں کی روایت بے تحقیق ماننے سے منع کیا اور اپنی کتا ب کی روایت کا سلسلہ(خاك بد ہن ملعونان)کافروں سے رکھا اور کافر بھی وہ جن کا ایك گروہ ایك جتھا خیانت میں طاق اور عداوت اہلبیت میں تحریف و اخفائے آیات پر سب کا اتفاق کیا معلوم کہ انھوں نے کتنا بدلا کیا کچھ چھپایا آیتوں کی ترتیب بدل کر کہاں کا حکم کہاں لگایا ایسے کو جو بندوں سے عاجز تر ہے وہ بندے سے نیکی چاہے اور بندہ بدی چاہے تو بندہ ہی کا چاہا ہوتا ہے ا س کی ایك نہیں چلتی۔ ایسے کو کہ ہر چمار ہر کافر ہر کتا ہر سوئر خالقیت میں اس کا شریك ہے وہ اعیان گھڑتاہے یہ اپنی
عــــــہ۱ : فتوائے مجتہد لکھنو مجموعہ تکملہ رد روافض ۱۲۔
قدرت سے اپنے افعال اور پھر اس پر یہ دعوی کہ ہے میرے سوا کوئی خالق۔ ایسے کو جس نے بہتیر ا چاہا کہ میرے نائب کے بعد میرا شیر مسند پر بیٹھے مگر امیر المومنین عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہنے ایك نہ چلنے دی آیت عــــــہ اتاری وہ کترلی اور سب نے اس کے کترنے پر اتفاق کیا آج تك ویسی ہی کتری ہوئی چلی آتی ہے اس کے رسول نے تمام صحابہ کے مجمع میں اپنے بھائی کا ہاتھ پکڑ کر دکھایا اور عمامہ باندھ کر اپنا ولیعہد بنایا مگر رسول کی آنکھیں بند ہوتے ہی بالاتفاق تمام صحابہ نے وہ عہد و پیمان پاؤں کے نیچے مل ڈالا اور کمیٹی کرکے ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہکو مسند نشین کر دیا اور شیر منہ دیکھتا رہ گیا نہ ا سکی چلی نہ رافضی صاحبوں کے ساختہ خداکی۔ ایسوں کے ہاتھ میں قرآن رکھا اچھا حفاظت کا وعدہ نباہا۔ ایسا بے اعتبار قرآن شائع کیا اچھا دین کو غلبہ دیا اپنے نبی کی صحبت اور اس کے دین کی روایت کو چھانٹ چھانٹ کر ایسے چنے لطف وعدل و اصلح کا واجب خوب ادا کیا ایسے کو جس کا شیر اور شیر بھی کیسا غالب شیر ہمیشہ دشمنوں کامطیع و فرما نبردار رہا(خاك بدہن ملعونان)کافروں کے پیچھے نماز پڑھا کیا کافروں کے جھنڈے کے نیچے لڑا کیا بزدلی سے دو رویہ و منافق ہو کر دشمنوں کی بڑی بڑی تعریفیں گاتا رہا اہلبیت رسالت پر کرے کرے گھنو نے گھنونے ظلم دیکھتا اور ڈر کے مارے دم نہ مارتا بلکہ اپنی مدح وستا ئش سے اور مدد کرتا یہاں تك کہ کافر لوگ اس کی سگی بیٹی چھین کر لے گئے اور بی بی بنایا اور وہ تیوری پر میل نہ لایا ویسا ہی ان کا خادم و ہمدم بنا رہا اور وہ کیا کرے رافضی دھرم میں رسول ہی کو یہ توفیق تھی کہ بیٹیاں لے تو کافروں منافقوں سے اور بیٹیاں دے تو کافروں منافقوں کو اور اپنا یار وانیس و وزیر و جلیس بنائے تو کافروں منافقوں کو اور وہ بھی کیا کرے روافض کا خدا ہی ان ظالموں کافروں کے بڑے بڑے مناقب اپنے کلام میں اتارتا رہا جسے لاکھ کے مجمع میں مقبول تو فقط چار چھ باقی سب دشمن اور وہ اس بھری جماعت میں بلا تعیین عام صیغوں سے عام وصفوں سے مہاجرین و انصار و صحابہ کہہ کر تعریفیں کرتا بندوں کو دھوکے دیتا دو ٹوك بات نہ کہنی تھی نہ کہہ سکا ایسے کو جس نے ان موجود حاضروں میں اپنے نیك بندوں کو مخاطب کرکے وعدہ دیا کہ ضرور ضرور تمھیں اس زمین کی خلافت دوں گا اور تمھارا دین تمھارے لئے جمادوں گا اور تمھارا خوف امن سے بدل دوں گا کاش وہ کسی کے لئے ان میں سے کچھ نہ کرتا تو نرا وعدہ خلاف ہی رہتا۔ نہیں ا س نے کی اور الٹی کی اپنے نیك بندوں کے بدلے(خاك بد ہن ملعونان) کافروں کوزمین عرب کی خلافت دی اور انھیں کا دین خوب جما دیا اور انھیں کے خوف کو امن سے بدل دیا۔ رہے
عــــــہ : یا ایھا النبی بلغ ما انزل الیك من ربك ان علیا ولی المؤمنین قرآن عظیم میں اتنا ٹکڑا روافض زیادہ مانتے ہیں اور یہ کہ صحابہ نے اسے گھٹا دیا ۱۲۔
عــــــہ : یا ایھا النبی بلغ ما انزل الیك من ربك ان علیا ولی المؤمنین قرآن عظیم میں اتنا ٹکڑا روافض زیادہ مانتے ہیں اور یہ کہ صحابہ نے اسے گھٹا دیا ۱۲۔
چار چھ نیك بندے بے بس بیچارے تر ساں ہراساں خوف کے مارے انھوں نے ان کی خدمتگاری فرمانبرداری کرتے دن گزارے جس نے روشن کر دیا کہ کافر ہی اس کے نیك بندے ہیں تو وعدہ خلاف د غاباز حق کا چھپانے والا باطل کا چمکانے والا بندوں کو دھوکے دے کر الٹی سمجھانے والا سب کچھ ہوا ایسے کو جو خود مختار نہیں بلکہ اس پر واجب ہے کہ یہ یہ کرے اور یہ یہ نہ کرے اور مزہ یہ کہ اس پر واجب تھا بندوں کے حق میں بہتر کرنا یہ بندوں کے حق میں بہتر تھا کہ ان کی ہدایت کو جو کتاب اتری ظالموں کے پنجے میں رکھی جائے کہ وہ اسے کتریں بدلیں اور اصل ہدایت پہاڑ کی کھوہ میں چھپا دی جائے جس کی وہ ہوا نہ پائیں یہ بندوں کے حق میں اصلح تھا کہ اعداء غالب محبوب مغلوب باطل غالب حق مغلوب اچھا واجب ادا کیا وغیرہ وغیرہ خرافات ملعونہ یہ ہے رافضیوں کا خدا کیا خدا ایسا ہوتا ہے تعالی اﷲ کیا وہ خدا کو جانتے ہیں حاش ﷲ سبحن رب العرش عما یصفونo
(۱۰)وہابیوں کے جھوٹے خدا
وہابی ایسے کو خداکہتا ہے جسے عــــــہ۱ مکان زمان جہت ماہیت ترکیب عقلی سے پاك کہنا بدعت حقیقیہ کے قبیل سے اور صریح کفروں کے ساتھ گننے کے قابل ہے جس کا سچا ہونا کچھ ضرور نہیں جھوٹا بھی ہو سکتاہے۔ ایسے کہ عــــــہ۲ جس کی بات پر اعتبار نہیں نہ اس کی کتاب قابل استناد نہ اس کا دین لائق اعتماد ایسے کو جس عــــــہ۳ میں ہر عیب و نقص کی گنجائش ہے جو اپنی مشیخت بنی رکھنے کو قصدا عیبی بننے سے بچتا ہے چاہے تو ہر گندگی میں آلودہ ہو جائے ایسے کو جس عــــــہ۴ کا علم حاصل کئے حاصل ہوتا ہے اس کا علم اس کے اختیار میں ہے چائے تو جاہل رہے ایسے کو جس عــــــہ۵ کا بہکنا بھولنا سونا اونگنا غافل رہنا ظالم ہونا حتی کہ مرجا نا سب کچھ ممکن ہے کھانا پینا پیشاب کرنا پاخانہ پھرنا ناچنا تھرکنا نٹ کی طرح کلا کھیلنا عورتوں سے جماع کرنا لواطت جیسی خبیث بیحیائی کا مرتکب ہونا حتی کہ مخنث کی طرح خود مفعول بننا کوئی خباثت کوئی فضیحت ا س کی شان عــــــہ۶
عــــــہ۱ : ایضاح الحق اسمعیل دہلوی مطبع فاروقی ۱۲۹۷ ھ دہلی مع ترجمہ صفحہ ۳۵ و ۳۶۔
عــــــہ۲ : دیکھو سبحن السبوح تنزیہ دوم دلیل دوم۔ عــــــہ۳ : رسالہ یکروزی اسمعیل دہلوی ص ۱۴۵۔
عــــــہ۴ : تقویۃ الایمان اسمعیل دہلوی مطبع فاروقی دہلی ۱۲۹۳ ھ ص ۲۰۔
عــــــہ۵ : دیکھو یکروزی ص ۱۴۵ مع کوکب شہابیہ ۱۵ و سبحن السبوح طبع بار سوم ص ۶۴ تا ۶۷ ودامان باغ سبحن السبوح ص ۱۵۴ تا ۱۵۶ اوپیکان جانگداز ص ۱۶۱ وغیرہ۔ عــــــہ۶ : یکروزی مردود مع مذکورہ ردود۔
(۱۰)وہابیوں کے جھوٹے خدا
وہابی ایسے کو خداکہتا ہے جسے عــــــہ۱ مکان زمان جہت ماہیت ترکیب عقلی سے پاك کہنا بدعت حقیقیہ کے قبیل سے اور صریح کفروں کے ساتھ گننے کے قابل ہے جس کا سچا ہونا کچھ ضرور نہیں جھوٹا بھی ہو سکتاہے۔ ایسے کہ عــــــہ۲ جس کی بات پر اعتبار نہیں نہ اس کی کتاب قابل استناد نہ اس کا دین لائق اعتماد ایسے کو جس عــــــہ۳ میں ہر عیب و نقص کی گنجائش ہے جو اپنی مشیخت بنی رکھنے کو قصدا عیبی بننے سے بچتا ہے چاہے تو ہر گندگی میں آلودہ ہو جائے ایسے کو جس عــــــہ۴ کا علم حاصل کئے حاصل ہوتا ہے اس کا علم اس کے اختیار میں ہے چائے تو جاہل رہے ایسے کو جس عــــــہ۵ کا بہکنا بھولنا سونا اونگنا غافل رہنا ظالم ہونا حتی کہ مرجا نا سب کچھ ممکن ہے کھانا پینا پیشاب کرنا پاخانہ پھرنا ناچنا تھرکنا نٹ کی طرح کلا کھیلنا عورتوں سے جماع کرنا لواطت جیسی خبیث بیحیائی کا مرتکب ہونا حتی کہ مخنث کی طرح خود مفعول بننا کوئی خباثت کوئی فضیحت ا س کی شان عــــــہ۶
عــــــہ۱ : ایضاح الحق اسمعیل دہلوی مطبع فاروقی ۱۲۹۷ ھ دہلی مع ترجمہ صفحہ ۳۵ و ۳۶۔
عــــــہ۲ : دیکھو سبحن السبوح تنزیہ دوم دلیل دوم۔ عــــــہ۳ : رسالہ یکروزی اسمعیل دہلوی ص ۱۴۵۔
عــــــہ۴ : تقویۃ الایمان اسمعیل دہلوی مطبع فاروقی دہلی ۱۲۹۳ ھ ص ۲۰۔
عــــــہ۵ : دیکھو یکروزی ص ۱۴۵ مع کوکب شہابیہ ۱۵ و سبحن السبوح طبع بار سوم ص ۶۴ تا ۶۷ ودامان باغ سبحن السبوح ص ۱۵۴ تا ۱۵۶ اوپیکان جانگداز ص ۱۶۱ وغیرہ۔ عــــــہ۶ : یکروزی مردود مع مذکورہ ردود۔
کے خلاف نہیں وہ کھانے عــــــہ۱ کا منہ اور بھرنے کا پیٹ اور مردی و زنی کی دونوں علامتیں بالفعل رکھتا ہے صمد نہیں جوف دار کہگل ہے سبوح قدوس نہیں خنثی مشکل ہے یا کم از کم اپنے آپ کو ایسا بنا سکتا ہے اور یہی نہیں بلکہ اپنے آپ کو عــــــہ۲ جلا بھی سکتا ہے ڈبو بھی سکتا ہے زہر کھا کر یا اپنا گلا گھونٹ کر بندوق مار کر خود کشی بھی کر سکتا ہے اس کے ماں باپ جور وبیٹا سب عــــــہ۳ ممکن ہیں بلکہ ماں باپ ہی سے عــــــہ۴ پیدا ہو ا ہے ربڑکی طرح پھیلتا عــــــہ۵ سمٹتا ہے برمھاکی طرح چومکھا عــــــہ۶ ہے ایسے کو جس عــــــہ۷ کا کلام فنا ہو سکتا ہے جو بندوں کے خوف کے باعث جھوٹ عــــــہ۸ سے بچتا ہے کہ کہیں وہ مجھے جھوٹا نہ سمجھ لیں بندوں سے پرا چھپا کر پیٹ بھر کر جھوٹ بك سکتا ہے ایسے کوجس کی خبر کچھ ہے عــــــہ۹ اور علم کچھ خبر سچی ہے تو علم جھوٹا علم سچا ہے تو خبر جھوٹی۔ ایسے کو جو سزا عــــــہ۱۰ دینے پر مجبور ہے نہ دے تو بے غیرت ہے معاف کرنا چاہے تو حیلے ڈھونڈھتا ہے خلق کی آڑ لیتا ہے ایسے کو جس کی خدائی کی اتنی حقیقت کہ جو شخص ایك پیڑ کے پتے گن دے اس کا شریك ہو جائے جس نے ا پنا سب سے بڑھ کر
عــــــہ۱ : دیکھو مضمون محمود حسن دیو بندی مطبوع پرچہ نظام الملك ۲۵ اگست ۸۹ء مع رسالہ الہیبۃ الجباریہ علی جہالۃ الا خباریہ و پیکان جانگداز وغیرہ۔
عــــــہ۲ : یکروزی مردود مع مذکورہ ردود۔
عــــــہ۳ : ایضا یکروزی و مضمون محمود حسن دیو بندی مع سبحن السبوح صفحہ ۴۷ و ۴۸ و ۶۶ و دامان باغ صفحہ ۱۵۸وغیر ہما اور جورو بیٹے کا امکان ایك دیو بندی اپنے رسالہ ادلہ واہیہ صفحہ ۱۴۲ میں صراحۃ مان گیا دیکھو پیکان جانگداز صفحہ ۱۷۶۔
عــــــہ۴ : یکروزی و مضمون محمود حسن دیوبندی مع دامان باغ سبحن السبوح ص ۱۸۷
عــــــہ ۵ : یکروزی و محمود حسن مع پیکان جانگداز ص ۱۷۵۔
عــــــہ۶ : یکروزی و محمود حسن مع پیکان جانگداز ۱۷۶۔
عــــــہ۷ : یکروزی مع سبحن السبوح ص۸۳۔
عــــــہ۸ : یکروزی مع سبحن السبوح ص ۲ ۸
عــــــہ۹ : رسالہ تقدیس دیوبندی ص ۳۶۔
عــــــہ۱۰ : یہاں سے شروع بیان دیو بندیاں تك سب اقوال تقویۃ الایمان اسمعیل دہلوی کے ہیں جو بار ہا دکھا کر رد کر دئے گئے ۱۲
عــــــہ۱ : دیکھو مضمون محمود حسن دیو بندی مطبوع پرچہ نظام الملك ۲۵ اگست ۸۹ء مع رسالہ الہیبۃ الجباریہ علی جہالۃ الا خباریہ و پیکان جانگداز وغیرہ۔
عــــــہ۲ : یکروزی مردود مع مذکورہ ردود۔
عــــــہ۳ : ایضا یکروزی و مضمون محمود حسن دیو بندی مع سبحن السبوح صفحہ ۴۷ و ۴۸ و ۶۶ و دامان باغ صفحہ ۱۵۸وغیر ہما اور جورو بیٹے کا امکان ایك دیو بندی اپنے رسالہ ادلہ واہیہ صفحہ ۱۴۲ میں صراحۃ مان گیا دیکھو پیکان جانگداز صفحہ ۱۷۶۔
عــــــہ۴ : یکروزی و مضمون محمود حسن دیوبندی مع دامان باغ سبحن السبوح ص ۱۸۷
عــــــہ ۵ : یکروزی و محمود حسن مع پیکان جانگداز ص ۱۷۵۔
عــــــہ۶ : یکروزی و محمود حسن مع پیکان جانگداز ۱۷۶۔
عــــــہ۷ : یکروزی مع سبحن السبوح ص۸۳۔
عــــــہ۸ : یکروزی مع سبحن السبوح ص ۲ ۸
عــــــہ۹ : رسالہ تقدیس دیوبندی ص ۳۶۔
عــــــہ۱۰ : یہاں سے شروع بیان دیو بندیاں تك سب اقوال تقویۃ الایمان اسمعیل دہلوی کے ہیں جو بار ہا دکھا کر رد کر دئے گئے ۱۲
مقرب ایسوں کو بنایا جو اس کی شان کے آگے چمار سے بھی زیادہ ذلیل ہیں جو چوڑھوں چماروں سے لائق تمثیل ہیں ایسے کو جس نے اپنے کلام میں خود شرك بولے اور جا بجا بندوں کو شرك کا حکم دیا۔ قرآن عظیم تو فرمائے “ اغنہم اللہ ورسولہ من فضلہ “ انھیں اﷲ و رسول نے اپنے فضل سے دولتمند کر دیا اور مسلمانوں کو اس کہنے کی ترغیب دے کہ
“ حسبنا اللہ سیؤتینا اللہ من فضلہ ورسولہ “ ہمیں اﷲ کافی ہے اب دیتے ہیں اﷲ ورسول ہمیں اپنے فضل سے۔ اور وہابیہ کا خدا اسمعیل دہلوی کے کان میں پھو نك جائے کہ ایسا کہنے والا مشرك ہے قرآن عظیم تو جبریل امین کو بیٹا دینے والا فرمائے کہ انھوں نے حضرت مریم سے کہا : “ انما انا رسول ربک ٭ لاہب لک غلما زکیا ﴿۱۹﴾ “ میں تو تیرے رب کا رسول ہوں اس لئے کہ میں تجھے ستھرا بیٹا دوں۔ یعنی مسیح علیہ الصلوۃ والتسلیم رسول بخش ہیں اور وہابیہ کا خدا ان کے کان میں ڈال جائے کہ رسول بخش کہنا شرك قرآن عظیم تو اس گستاخ پر جس نے کہا تھا رسول غیب کیاجانے حکم کفر فرمائے کہ :
“ لاتعتذروا قدکفرتم بعد ایمنکم “ بہانے نہ بناؤ تم کافر ہو چکے اپنے ایمان کے بعد۔
اور وہابیہ کا خدا اسمعیل دہلوی کو یہی ایمان سجھائے کہ رسول غیب کیا جانے اور وہ بھی اس تصریح کے ساتھ کہ اﷲ کے دئے سے مانے جب بھی شرك ہے۔ اب کہئے اگر رسول کو غیب کی خبر مانے تو وہابی خدا کے حکم سے مشرک نہ مانے تو قرآن عظیم کے حکم سے کافر پھر مفر کدھر یہی مانتے بنے گی کہ یہ مسلمانوں کے خدا کے احکام ہیں جس نے قرآن کریم محمد رسول اﷲ تعالی علیہ وسلم پر اتارا ا ور وہ وہابیہ کے خدا کے جس نے تقویۃ الایمان اسمعیل دہلوی اتاری ہاں وہابیہ کا خدا وہ ہے جس کے سب سے اعلی رسول کی شان اتنی ہے جیسے قوم کا چودھری یا گاؤں کا پدھان جس نے حکم دیا ہے کہ رسولوں کو ہر گز نہ ماننا رسولوں کا ماننا نراخبط ہے وغیرہ وغیرہ خرافات ملعونہ۔ یہ ہے وہابیوں کا خدا کیاخدا ایسا ہوتا ہے لا الہ الا اﷲ کیا وہ خداکو جانتے ہیں حا ش ﷲ سبحن رب العرش عما یصفون o
(۱۱)دیوبندیوں کے جھوٹے خدا
دیو بندی ایسے کو خدا کہتے ہیں جو وہابیہ کا خدا ہے جس کا بیان ابھی گزر چکا ہے اور اتنے وصف اور رکھتا ہے کہ
“ حسبنا اللہ سیؤتینا اللہ من فضلہ ورسولہ “ ہمیں اﷲ کافی ہے اب دیتے ہیں اﷲ ورسول ہمیں اپنے فضل سے۔ اور وہابیہ کا خدا اسمعیل دہلوی کے کان میں پھو نك جائے کہ ایسا کہنے والا مشرك ہے قرآن عظیم تو جبریل امین کو بیٹا دینے والا فرمائے کہ انھوں نے حضرت مریم سے کہا : “ انما انا رسول ربک ٭ لاہب لک غلما زکیا ﴿۱۹﴾ “ میں تو تیرے رب کا رسول ہوں اس لئے کہ میں تجھے ستھرا بیٹا دوں۔ یعنی مسیح علیہ الصلوۃ والتسلیم رسول بخش ہیں اور وہابیہ کا خدا ان کے کان میں ڈال جائے کہ رسول بخش کہنا شرك قرآن عظیم تو اس گستاخ پر جس نے کہا تھا رسول غیب کیاجانے حکم کفر فرمائے کہ :
“ لاتعتذروا قدکفرتم بعد ایمنکم “ بہانے نہ بناؤ تم کافر ہو چکے اپنے ایمان کے بعد۔
اور وہابیہ کا خدا اسمعیل دہلوی کو یہی ایمان سجھائے کہ رسول غیب کیا جانے اور وہ بھی اس تصریح کے ساتھ کہ اﷲ کے دئے سے مانے جب بھی شرك ہے۔ اب کہئے اگر رسول کو غیب کی خبر مانے تو وہابی خدا کے حکم سے مشرک نہ مانے تو قرآن عظیم کے حکم سے کافر پھر مفر کدھر یہی مانتے بنے گی کہ یہ مسلمانوں کے خدا کے احکام ہیں جس نے قرآن کریم محمد رسول اﷲ تعالی علیہ وسلم پر اتارا ا ور وہ وہابیہ کے خدا کے جس نے تقویۃ الایمان اسمعیل دہلوی اتاری ہاں وہابیہ کا خدا وہ ہے جس کے سب سے اعلی رسول کی شان اتنی ہے جیسے قوم کا چودھری یا گاؤں کا پدھان جس نے حکم دیا ہے کہ رسولوں کو ہر گز نہ ماننا رسولوں کا ماننا نراخبط ہے وغیرہ وغیرہ خرافات ملعونہ۔ یہ ہے وہابیوں کا خدا کیاخدا ایسا ہوتا ہے لا الہ الا اﷲ کیا وہ خداکو جانتے ہیں حا ش ﷲ سبحن رب العرش عما یصفون o
(۱۱)دیوبندیوں کے جھوٹے خدا
دیو بندی ایسے کو خدا کہتے ہیں جو وہابیہ کا خدا ہے جس کا بیان ابھی گزر چکا ہے اور اتنے وصف اور رکھتا ہے کہ
علم ذاتی عــــــہ۱ میں اس کی توحید یقینی دوسرے کو اپنی ذات سے بے عطائے خدا عالم بالذات کہنا قطعا کفر نہیں ہاں وہ جوبالفعل جھوٹا ہے جس عــــــہ۲ کے لئے وقوع کذب کے معنے درست ہو گئے جو اسے جھٹلائے مسلمان عــــــہ۳ سنی صالح ہے اسے کوئی سخت کلمہ نہ کہنا چاہئے دیوبندی خدا عــــــہ۴ چوری بھی کر سکتا ہے وہ تمام جہان عــــــہ۵ کا تنہا مالك نہیں اس کے سوا اور بھی مالك مستقل ہیں جن کی ملك میں وہ چیزیں ہیں جو دیو بندی خدا کی کی ملك میں نہیں ان پر للچائے تو چاہے ٹھگوں لٹیروں کی طرح جبرا غصب کر بیٹھے کیونکہ وہ ظالم بھی عــــــہ۶ ہو سکتا ہے اچکوں چوروں کی طرح مالکوں کی آنکھ بچا کر لے بھاگے کیونکہ وہ چوری کر سکتا ہے ہاں وہ جس کی تو حید باطل ہے کہ ایك وہی خدا ہوتا تو دوسرا مالك مستقل نہ ہوسکتا اور دوسرا مالك مستقل نہ ہوتا تو دیو بندی خدا چوری کیسے کر سکتا کہ اپنی ملك لینے کو چوری نہیں کہہ سکتے اور اگر وہ چوری نہ کرسکتا تو دیو بندی بلکہ عام وہابی دھرم میں علی کل شیئ قدیر نہ رہتا انسان اس سے قدرت میں بڑھ جاتا کہ آدمی تو چوری کر سکتا ہے اور وہ کر نہ سکا اور یہ محال ہے۔ لا جرم ضرور ہے کہ دیو بندی خدا چوری کر سکے تو ضرور ہے کہ اس کے سوا اور بھی مالك مستقل ہوں تو لازم ہے کہ دیو بندی خدا کم ازکم مجوسی خداؤں کی طرح دو۲ہوں نہیں نہیں بلکہ قطعا لازم کہ کروڑوں ہوں کہ آدمی کروڑوں اشخاص کی چوری کرسکتا ہے دیوبندی خدا نہ کرسکے تو آدمی سے قدرت میں گھٹ رہے لا جرم ضرور ہے کہ کروڑوں خدا ہوں جن کی چوری دیو بندی خدا کر سکے رہا یہ کہ وہ سب کے سب اسی کی طرح چوٹے بد معاش ہیں یا صرف یہ اس کا فیصلہ تھانوی صاحب کے سر ہے۔ ہاں دیو بندی خدا وہ ہے کہ علم عــــــہ۷ میں شیطان اس کا شریك ہے سب سے بد تر
عــــــہ۱ : یہ قول رشید احمد گنگوہی کا ہے فتا وی گنگوہی جلد اول ص ۳ ۸ “ جو یہ عقیدہ ہو کہ خودبخود آپ کو علم تھا بدون اطلاع حق تعالی کے تو اندیشہ کفر کا ہے امام نہ بنانا چاہیے اگر چہ کافر کہنے سے بھی زبان روکے “ تھانوی صاحب وغیرہ علمائے وہابیہ سے استفتا ہے کہ علم ذاتی بے عطائے الہی کسی مخلوق کے لئے ماننا ضروریات دین کا انکار ہے یانہیں ہے تو ایسے کے کفر میں شك کرنا بلکہ کفر نہ ماننا صرف اندیشہ کفر جاننا کفر ہے یا نہیں ہے تو جنا ب گنگوہی صاحب کافر ہوئے یانہیں نہیں تو کیوں ۱۲۔
عــــــہ۲ : فتوائے گنگوہی ۱۲۔ عــــــہ۳ : فتوائے گنگوہی ۱۲۔
عــــــہ۴ : مضمون محمود و حسن دیو بندی پر چہ مذکورہ نظام الملك ۱۲
عــــــہ۵ : دیکھو مضمون مذکور دیو بندی مع پیکان جانگداز ص ۱۷۲۔ عــــــہ۶ : مضمون مذکور
عــــــہ۷ : براہین قاطعہ ایمان گنگوہی صاحب ص ۴۷۔
عــــــہ۱ : یہ قول رشید احمد گنگوہی کا ہے فتا وی گنگوہی جلد اول ص ۳ ۸ “ جو یہ عقیدہ ہو کہ خودبخود آپ کو علم تھا بدون اطلاع حق تعالی کے تو اندیشہ کفر کا ہے امام نہ بنانا چاہیے اگر چہ کافر کہنے سے بھی زبان روکے “ تھانوی صاحب وغیرہ علمائے وہابیہ سے استفتا ہے کہ علم ذاتی بے عطائے الہی کسی مخلوق کے لئے ماننا ضروریات دین کا انکار ہے یانہیں ہے تو ایسے کے کفر میں شك کرنا بلکہ کفر نہ ماننا صرف اندیشہ کفر جاننا کفر ہے یا نہیں ہے تو جنا ب گنگوہی صاحب کافر ہوئے یانہیں نہیں تو کیوں ۱۲۔
عــــــہ۲ : فتوائے گنگوہی ۱۲۔ عــــــہ۳ : فتوائے گنگوہی ۱۲۔
عــــــہ۴ : مضمون محمود و حسن دیو بندی پر چہ مذکورہ نظام الملك ۱۲
عــــــہ۵ : دیکھو مضمون مذکور دیو بندی مع پیکان جانگداز ص ۱۷۲۔ عــــــہ۶ : مضمون مذکور
عــــــہ۷ : براہین قاطعہ ایمان گنگوہی صاحب ص ۴۷۔
مخلوق عــــــہ۱ شیطان کا علم اس کے سب سے اعلی رسول کے علم سے وسیع تر ہے اور ہونا ہی چاہئے کہ رسول اس کے برابر کیسے ہو سکے جو خدا کا شریك ہے اس نے جیسا عــــــہ۲ علم اپنے حبیب کو دیا اور اسے اپنا بڑا فضل کہا اور اس پر اعلی درجہ کا احسان جتایا اس کی حقیقت اتنی کہ ایسا تو ہر پاگل ہر چوپائے کو ہوتاہے ہاں دیوبندی خدا وہ ہے جسے قادر مطلق کہنا اسی دلیل سے باطل ہے کہ جمیع اشیاء پر قدرت تو عقلا و نقلا باطل ورنہ خود وہ بھی مقدور ہو تو ممکن ہو تو خدانہ رہے اور اگر بعض مراد تو اس میں اس کی کیا تخصیص ایسی قدرت تو ہر پاگل چوپا ئے کو ہے۔ دیوبندی خدا وہ ہے جس عــــــہ۳ نے ایسے کو اپنا سب سے اعلی رسول چنا جو اس کا کلام سمجھنے کی لیاقت نہ رکھتا خیالات عوام کے لائق اس کی سمجھ تھی جس کی خطا اہل فہم پر روشن تھی پھر یہ دیو بندی خدا اسے اس فاحش غلطی پر بھی نہ روکتا یا شاید خود بھی اپنا کلام نہ سمجھتا کیونکہ وہ عــــــہ۴ جاہل بھی ہو سکتا ہے دیو بندی خدا وہ ہے کہ جس دلیل سے اس کے خاتم النبین کے سوا چھ عــــــہ۵ خاتم البنین اور مانتا خاتم کی شان بڑھانا ہے یو ہیں اسے تنہا خدا کہنا اس کی شان گھٹانا ہے اس کی بڑی بڑائی یہ ہے کہ بہت سے خداؤں کا خدا ہے کیا خدا ایسا ہوتا ہے حاش ﷲ سبحن رب العرش عما یصفون o
(۱۲)غیر مقلدوں کے جھوٹے خدا
غیر مقلد کا خدا یہ سب کچھ ہے جو دیوبندی وہابی کا قال اﷲ تعالی “ “ (اور وہ بعض نزاکتیں اور زیادہ رکھتا ہے ایسا کہ جس عــــــہ۶ کے دین میں کتا حلال سوئر کی چربی حلال سوئر کے گرد سے حلال سوئر کی تلی حلال سوئر کی کلیجی حلال سوئر کی اوجھڑی حلال سوئر کی کھال کا ڈول بناکر اس سے پانی پینا حلال وضو کرنا
عــــــہ۱ : براہین قاطعہ ایمان گنگوہی صاحب ص ۴۷۔ عــــــہ۲ : حفظ الایمان تھانوی صاحب ص ۷۔
عــــــہ ۳ : تحذیر الناس قاسم نانوتوی صاحب ص ۲ مع حدیث متواتر “ انا خاتم البنیین لانبی بعدی “ ۔
عــــــہ۴ : تقویۃ الایمان ص ۲۰ و تصریح صریح مضمون مذکور محمود حسن دیو بندی۔ عــــــہ۵ : تحذیر الناس نانوتوی ص۳۷ و ۳۸۔
حلال۔ عــــــہ۶ : آیہ کریمہ “ قل لا اجد فی ما اوحی الی محرما علی طاعم یطعمہ “ میں کھانے کی صرف چار۴ چیزوں میں حرمت کا حصر ہے جن میں کتا نہیں اور سوئر کا گوشت ہے چربی گردے تلی کلیجی کھال نہیں اور انکی حرمت میں کوئی صحیح صریح حدیث بھی نہیں اور ہو تو آیت کا رد نہیں کر سکتی لہذا غیر مقلدی دھرم میں یہ سب چیزیں حلال و شیر مادر ہیں۔
(۱۲)غیر مقلدوں کے جھوٹے خدا
غیر مقلد کا خدا یہ سب کچھ ہے جو دیوبندی وہابی کا قال اﷲ تعالی “ “ (اور وہ بعض نزاکتیں اور زیادہ رکھتا ہے ایسا کہ جس عــــــہ۶ کے دین میں کتا حلال سوئر کی چربی حلال سوئر کے گرد سے حلال سوئر کی تلی حلال سوئر کی کلیجی حلال سوئر کی اوجھڑی حلال سوئر کی کھال کا ڈول بناکر اس سے پانی پینا حلال وضو کرنا
عــــــہ۱ : براہین قاطعہ ایمان گنگوہی صاحب ص ۴۷۔ عــــــہ۲ : حفظ الایمان تھانوی صاحب ص ۷۔
عــــــہ ۳ : تحذیر الناس قاسم نانوتوی صاحب ص ۲ مع حدیث متواتر “ انا خاتم البنیین لانبی بعدی “ ۔
عــــــہ۴ : تقویۃ الایمان ص ۲۰ و تصریح صریح مضمون مذکور محمود حسن دیو بندی۔ عــــــہ۵ : تحذیر الناس نانوتوی ص۳۷ و ۳۸۔
حلال۔ عــــــہ۶ : آیہ کریمہ “ قل لا اجد فی ما اوحی الی محرما علی طاعم یطعمہ “ میں کھانے کی صرف چار۴ چیزوں میں حرمت کا حصر ہے جن میں کتا نہیں اور سوئر کا گوشت ہے چربی گردے تلی کلیجی کھال نہیں اور انکی حرمت میں کوئی صحیح صریح حدیث بھی نہیں اور ہو تو آیت کا رد نہیں کر سکتی لہذا غیر مقلدی دھرم میں یہ سب چیزیں حلال و شیر مادر ہیں۔
حلال گندی حخبیث عــــــہ۱ شراب سے نہا کر سارے کپڑے اس میں رنگ کر نماز پڑھنا حلال ایك وقت میں ایك عورت عــــــہ۲ متعدد مردوں پر حلال وہ جس نے آپ ہی تو عــــــہ۳ حکم دیا کہ خود نہ جانو تو جاننے والوں سے پوچھو اپنے علماء کی اطاعت کرو اپنے نیکوں کی پیروی کر و جب پوچھا اور اطاعت و پیروی کی تو شرك کی جڑ دی۔ وہ جس نے ائمہ دین کی تقلید حرام و شرك ٹھہرائی اور پوربی عــــــہ۴ بنگالی پنجابی بھوپالی کی فرض۔ وہ جس نے اپنے اور رسولوں کے سوا کسی کی بات حجت نہ رکھی اور بیچ میں چند محدثوں عــــــہ۵ اور جارحوں معدلوں کوکھڑا کرکے ان کے قول کو کتاب وسنت کے برابر ٹھہرا کر حجیت دی یعنی یہ شریك الوہیت نہیں تو شریك رسالت ضرور ہیں نہیں نہیں بلکہ شریك الوہیت ہی ہیں کہ
“ اتخذوا احبارہم ورہبنہم اربابا من دون اللہ “ (انھوں نے اپنے پادریوں اور جوگیوں کو اللہ
عــــــہ۱ : روضہ ندیہ صدیق حسن بھوپالی ص ۱۲۔ عــــــہ۲ : دیکھو ضمیمہ النیر الشہابی ص ۳۴ تا ۳۶۔
عــــــہ۳ : قال اﷲتعالی
“ فسـلوا اہل الذکر ان کنتم لا تعلمون ﴿۴۳﴾ “
وقال تعالی “ اطیعوا اللہ واطیعوا الرسول و اولی الامر منکم “ ۔
وقال تعالی “ واتبع سبیل من اناب الی “ ۔ ۱۲ (اﷲ تعالی نے فرمایا تو اے لوگو! علم والوں سے پوچھو اگر تم کو علم نہیں(ت)
(اﷲ تعالی نے فرمایا : اطاعت کروا ﷲ کی اور اطاعت کرو رسول کی اور حکم والوں کی جو تم میں سے ہوں(ت)
(اﷲ تعالی نے فرمایا : اور اس کی راہ چل جو میر ی طرف رجوع لایا(ت)
عــــــہ۴ : کہ جو کچھ یہ کہہ دیں کہ قرآن حدیث سے ثابت ہے ان کے جاہلوں پر اس کا ماننا فرض۱۲
عــــــہ۵ : بخار ی و مسلم فلا ں فلاں نے حدیث روایت کر دی صحیح ہو گئی یحیی نسائی دارقطنی فلا ں فلاں نے راوی کو ثقہ کہہ دیا ضعیف کہہ دیا ضعیف ہے۔ اگر چہ یحیی وغیرہ تك سند خود مقطوع ہو ذہبی وابن حجر نے قال کہہ دیاسند صحیح ہے روی کہا ضیعف ہے یہ سب نری تقلید جامد ہے جس پراﷲ نے کوئی سند نہ اتاری قرآن وحدیث سے اسکا کہیں ثبوت نہیں ۱۲
“ اتخذوا احبارہم ورہبنہم اربابا من دون اللہ “ (انھوں نے اپنے پادریوں اور جوگیوں کو اللہ
عــــــہ۱ : روضہ ندیہ صدیق حسن بھوپالی ص ۱۲۔ عــــــہ۲ : دیکھو ضمیمہ النیر الشہابی ص ۳۴ تا ۳۶۔
عــــــہ۳ : قال اﷲتعالی
“ فسـلوا اہل الذکر ان کنتم لا تعلمون ﴿۴۳﴾ “
وقال تعالی “ اطیعوا اللہ واطیعوا الرسول و اولی الامر منکم “ ۔
وقال تعالی “ واتبع سبیل من اناب الی “ ۔ ۱۲ (اﷲ تعالی نے فرمایا تو اے لوگو! علم والوں سے پوچھو اگر تم کو علم نہیں(ت)
(اﷲ تعالی نے فرمایا : اطاعت کروا ﷲ کی اور اطاعت کرو رسول کی اور حکم والوں کی جو تم میں سے ہوں(ت)
(اﷲ تعالی نے فرمایا : اور اس کی راہ چل جو میر ی طرف رجوع لایا(ت)
عــــــہ۴ : کہ جو کچھ یہ کہہ دیں کہ قرآن حدیث سے ثابت ہے ان کے جاہلوں پر اس کا ماننا فرض۱۲
عــــــہ۵ : بخار ی و مسلم فلا ں فلاں نے حدیث روایت کر دی صحیح ہو گئی یحیی نسائی دارقطنی فلا ں فلاں نے راوی کو ثقہ کہہ دیا ضعیف کہہ دیا ضعیف ہے۔ اگر چہ یحیی وغیرہ تك سند خود مقطوع ہو ذہبی وابن حجر نے قال کہہ دیاسند صحیح ہے روی کہا ضیعف ہے یہ سب نری تقلید جامد ہے جس پراﷲ نے کوئی سند نہ اتاری قرآن وحدیث سے اسکا کہیں ثبوت نہیں ۱۲
حوالہ / References
القرآن الکریم ۹ /۳۱
القرآن الکریم ۱۶ /۴۳
القرآن الکریم ۴ /۵۹
القرآن الکریم ۳۱ /۱۵
القرآن الکریم ۱۶ /۴۳
القرآن الکریم ۴ /۵۹
القرآن الکریم ۳۱ /۱۵
کے سواخدا بنالیا۔ ت)نہ کہ رسلا من دون النبی(نبی کے سو ا رسول۔ ت)ہاں وہ جس نے آپ ہی تو عــــــہ اتباع ظن حرام اور افادہ حق میں محض ناکام کیاپھر ان چند کی ظنی روایات ظنی جرح و تعدیلات کا اتباع عین دین کر دیا تو بات کیاوہی کہ یہ مثل انبیاء معصوم ہیں نہیں نہیں بلکہ دین غیر مقلدی کے اربابا من دون اﷲجھوٹے خدا ہیں وہ جس نے چند جاہلان عالم نما کے سواجوابو حنیفہ و شافعی پر منہ آتے اور ان کے احکام پررکھنے کی اپنے میں طاقت بتا تے ہیں تمام عالم کو بے نتھا بیل کیا ہے کیونکہ وہ آپ دلیل نہیں سمجھ سکتے اور دوسرے کی کہی ہوئی اگر چہ بنگالی بھوپالی دہلوی امر تسری کی مان لیں کہ دلیل سے یہ ثابت ہے یہ تو وہی تقلید ہوئی جو شرك ہے لہذا ضرور بے نتھے بیل ہیں وہ کہ عام جہاں پر جس کے لئے کوئی حجت قائم نہیں ہوسکتی کہ حجت قائم ہو دلیل سے دلیل وہ خود سمجھ نہیں سکتے اور دوسرے کی سمجھ پر اعتماد شرک۔ وہ جس نے(خاك بد ہن خبثا)کھلے مشرکوں کو خیرامۃ کہا اور ان کے تین قرنوں کو خیر القرون(کہلوایا جن کا روز اول سے آج تك یہی معمول کہ عامی کو جو مسئلہ پوچھنا ہوا عالم سے پوچھا عالم نے حکم بتا دیا سائل نے مانا اور کار بند ہوا صحابہ سے آج تك کبھی دلیل بتانے اور اسے عامی کے اس قدر ذہن نشین کرنے کا کہ وہ خود سمجھ لے کہ واقعی یہ حکم قرآن و حدیث سے ثابت بروجہ صحیح غیر معارض و غیر منسوخ ہے ہر گز نہ دستور تھا نہ ہوا نہ ہے تو پوچھنے والے بے علم دلیل تفصیلی ان کا فتوی مانا کئے اور یہی تقلید ہے اور تقلید شرك تو عہد صحابہ سے آج تك سب
عــــــہ : قال اﷲتعالی
“ وما یتبع اکثرہم الا ظنا ان الظن لایغنی من الحق شیـا “
قال تعالی “ وما یتبع اکثرہم الا ظنا ان الظن لایغنی من الحق شیـا
وقال تعالی “ و لا تقف ما لیس لک بہ علم “ ۔ ۱۲ (اﷲ تعالی نے فرمایا اور ان میں اکثر تو نہیں چلتے مگر گمان پر بیشك گمان حق کا کچھ کا نہیں دیتا(ت)
(اﷲ تعالی نے فرمایا : وہ تو نرے گمان کے پیچھے ہیں اور بیشك گمان یقین کی جگہ کچھ کام نہیں دیتا(ت)
(اور اﷲ تعالی نے فرمایا : اور اس بات کے پیچھے نہ پڑجس کا تجھے علم نہیں(ت)
عــــــہ : قال اﷲتعالی
“ وما یتبع اکثرہم الا ظنا ان الظن لایغنی من الحق شیـا “
قال تعالی “ وما یتبع اکثرہم الا ظنا ان الظن لایغنی من الحق شیـا
وقال تعالی “ و لا تقف ما لیس لک بہ علم “ ۔ ۱۲ (اﷲ تعالی نے فرمایا اور ان میں اکثر تو نہیں چلتے مگر گمان پر بیشك گمان حق کا کچھ کا نہیں دیتا(ت)
(اﷲ تعالی نے فرمایا : وہ تو نرے گمان کے پیچھے ہیں اور بیشك گمان یقین کی جگہ کچھ کام نہیں دیتا(ت)
(اور اﷲ تعالی نے فرمایا : اور اس بات کے پیچھے نہ پڑجس کا تجھے علم نہیں(ت)
مفتیان وعلما ء مشرك گرو شرك دوست ہوئے اور ہر مشرك گرخود مشرك اور مشرکوں سے بد تر تو غیر مقلد کے دھرم میں صحابہ سے اب تك تمام امت مشرک لیکن غیرمقلد کا خدا انھیں کو خیر الامۃ اور خیر القرون کہتا کہلواتا ہے پھر اس کی کیا شکایت کیہ ایسوں کو کہا جو غیر مقلدی دھرم میں “ فرقوا دینہم وکانوا شیعا “ تھےجنھوں نے اپنا دین ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور جدا جدا گروہ ہو گئے۔ عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہما کے اتباع ان سے فتوی لیتے اور اس پر چلتے۔ عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما کے اتباع ان کی طرف تھے عبداﷲ بن عبا س رضی اﷲ تعالی عنہما کے اتباع ان کے ساتھ تھے اور وہ اختلاف آج تك برابر قائم رہے سب فریق مشورہ کرکے ایك بات پر عامل نہ ہونے تھے نہ ہوئے قرآن عظیم میں ہمیشہ پڑھا کئے :
“ فان تنزعتم فی شیء فردوہ الی اللہ والرسول “ ۔ (جب تم میں کسی بات میں اختلاف ہو تو اسے اﷲ و رسول کی طرف رجوع کرو۔
اس پر نہ عمل کرنا تھا نہ کیا اس پر عمل کرتے تو سب ایك نہ ہو جاتے کہ اﷲ ورسول کا حکم ایك ہی تھا مگر وہ اپنے ہی عالموں کے قول پر اڑے رہے مسعودی عمری عباسی نام نہ کہلانا کوئی چیز نہیں کام وہی رہا جو حنفی شافعی مالکی حنبلی نے کیاکام کام سے ہے نہ کہ نام سے۔ دین کے ایسے ٹکڑے کرنے والوں کو “ خیرامۃ و خیرالقرون “ ٹھہرایا وغیرہ وغیرہ خرافات ملعونہ کیا انھوں نے خدا کو جانا حاش ﷲ “ ما لہم بذلک من علم ٭ ان ہم الا یخرصون ﴿۲۰﴾ “
“ سبحن رب السموت و الارض رب العرش عما یصفون ﴿۸۲﴾ “ (انھیں اس کی حقیقت کچھ معلوم نہیں یونہی اٹکلیں دوڑاتے ہیں۔ پاکی ہے عرش کے ر ب کو ان باتوں سے جو یہ بناتے ہیں۔ ت)
تنبیہ : مسلمانو! تم نے دیکھا یہ ہیں گمراہ فرقے اور یہ ہیں ان کے ساختہ خدا “ وما قدروا اللہ حق قدرہ “ (اور یہود نے اﷲ کی قدر نہ جانی جیسی چاہئے تھی۔ ت)اور ایك عام بات یہ ہے کہ کفر کیا ہے اس بات کی تکذیب جو بالقطع والیقین ارشاد الہی عزوجل ہے اب یہ تکذیب کرنے والا اگر اسے ارشاد الہی عزوجل نہیں مانتا تو ایسے کو خدا سمجھا ہے جس کا یہ ارشاد نہیں حالانکہ خدا وہ ہے جس کا یہ ارشاد ہے تو اس نے خداکو کہاں جانا اور اگر اس کا ارشاد مان کر تکذیب کرتا ہے تو ایسے کو خدا سمجھا ہے جس کی بات
“ فان تنزعتم فی شیء فردوہ الی اللہ والرسول “ ۔ (جب تم میں کسی بات میں اختلاف ہو تو اسے اﷲ و رسول کی طرف رجوع کرو۔
اس پر نہ عمل کرنا تھا نہ کیا اس پر عمل کرتے تو سب ایك نہ ہو جاتے کہ اﷲ ورسول کا حکم ایك ہی تھا مگر وہ اپنے ہی عالموں کے قول پر اڑے رہے مسعودی عمری عباسی نام نہ کہلانا کوئی چیز نہیں کام وہی رہا جو حنفی شافعی مالکی حنبلی نے کیاکام کام سے ہے نہ کہ نام سے۔ دین کے ایسے ٹکڑے کرنے والوں کو “ خیرامۃ و خیرالقرون “ ٹھہرایا وغیرہ وغیرہ خرافات ملعونہ کیا انھوں نے خدا کو جانا حاش ﷲ “ ما لہم بذلک من علم ٭ ان ہم الا یخرصون ﴿۲۰﴾ “
“ سبحن رب السموت و الارض رب العرش عما یصفون ﴿۸۲﴾ “ (انھیں اس کی حقیقت کچھ معلوم نہیں یونہی اٹکلیں دوڑاتے ہیں۔ پاکی ہے عرش کے ر ب کو ان باتوں سے جو یہ بناتے ہیں۔ ت)
تنبیہ : مسلمانو! تم نے دیکھا یہ ہیں گمراہ فرقے اور یہ ہیں ان کے ساختہ خدا “ وما قدروا اللہ حق قدرہ “ (اور یہود نے اﷲ کی قدر نہ جانی جیسی چاہئے تھی۔ ت)اور ایك عام بات یہ ہے کہ کفر کیا ہے اس بات کی تکذیب جو بالقطع والیقین ارشاد الہی عزوجل ہے اب یہ تکذیب کرنے والا اگر اسے ارشاد الہی عزوجل نہیں مانتا تو ایسے کو خدا سمجھا ہے جس کا یہ ارشاد نہیں حالانکہ خدا وہ ہے جس کا یہ ارشاد ہے تو اس نے خداکو کہاں جانا اور اگر اس کا ارشاد مان کر تکذیب کرتا ہے تو ایسے کو خدا سمجھا ہے جس کی بات
جھٹلانا رواہے اور خدا اس سے پاك و وراء و بلند و بالا تو اس نے خدا کو کب جانا حاصل وہی ہوا کہ “ اتخذ الـہہ ہوىہ “ (اپنی خواہش کو اپناخداٹھہرالیا۔ ت)اور یہاں سے ظاہر ہوا کہ اس جہل باﷲ میں نرے دہریوں کے بعد جو سرے سے وجود خدا کے منکر ہیں سب سے بھاری حصہ ان وہابیوں اسمعیلیوں خصوصا دیوبندیوں کا ہے کہ اور کافر تو اس سے کافر ہوئے کہ انھوں نے خدا کو جھٹلایا خدا کو عیب لگایا مگر ان میں ایسا کھلا بیباك مشکل سے نکلے گا جو اپنی زبان سے خود ہی کہے کہ ہاں ہاں اس کا خدا جھوٹا ہونے اور نہ صرف جھوٹ بلکہ ہر سڑے سے سڑے عیب ہر ناپاك سی ناپاك گندگی میں سننے کے قابل ہے یہودی نصرانی بھی شایداسے کہتے جھجکیں گے یہ دھوئی دھائی دیدے کی صفائی انہی صاحبوں کے حصہ میں آئی کہ اپنے معبود کے کذاب عیبی آلودہ ہونے کو دھڑلے سے جائز کریں اور اس پر تحریر کریں لکھیں چھا پیں اسی پر کمال اسلام کا مدار جانیں
“ و سیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون ﴿۲۲۷﴾ “ (اور اب جان جائیں گے ظالم کہ کس کروٹ پلٹا کھائیں گے۔ ت)
تنبیہ : ان چند اوراق میں جو کچھ بیان ہوا کتب ورسائل فقیر و اصحاب فقیر میں بحمدہ تعالی مبسوط و مبرہن ہیں مسلمان انھیں حروف کو یاد رکھیں تو ضرور ضرور ان تمام بے دینوں کے سائے سے بچیں انکی پرچھائیں سے دور بھاگیں انکے نام سے گھن کریں انکے قال اﷲ وقال الرسول کے مکر کے جال میں نہ پھنسیں “ یثبت اللہ الذین امنوا بالقول الثابت فی الحیوۃ الدنیا “ تو بعونہ تعالی یہیں روشن ہوا اور ان شاء اﷲ الکریم ان شاء اﷲ الکریم ان شاء اﷲ الکریم ان شاء اﷲ الکریم وفی الاخرۃ کل کے دن پر وہ برافگن ہو یعنی ثابت رکھے اﷲ ایمان والوں کو حق دین پر دنیا کی زندگی میں اور آخرت میں واﷲ قدیرواﷲ غفور رحیمoوﷲ الحمد۔ والیہ الصمد۔ وصلی اﷲتعالی علی خیر خلقہ محمد والہ وصحبہ وابنہ وحزبہ اجمعین۔ امین والحمد ﷲ رب العلمینo
“ و سیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون ﴿۲۲۷﴾ “ (اور اب جان جائیں گے ظالم کہ کس کروٹ پلٹا کھائیں گے۔ ت)
تنبیہ : ان چند اوراق میں جو کچھ بیان ہوا کتب ورسائل فقیر و اصحاب فقیر میں بحمدہ تعالی مبسوط و مبرہن ہیں مسلمان انھیں حروف کو یاد رکھیں تو ضرور ضرور ان تمام بے دینوں کے سائے سے بچیں انکی پرچھائیں سے دور بھاگیں انکے نام سے گھن کریں انکے قال اﷲ وقال الرسول کے مکر کے جال میں نہ پھنسیں “ یثبت اللہ الذین امنوا بالقول الثابت فی الحیوۃ الدنیا “ تو بعونہ تعالی یہیں روشن ہوا اور ان شاء اﷲ الکریم ان شاء اﷲ الکریم ان شاء اﷲ الکریم ان شاء اﷲ الکریم وفی الاخرۃ کل کے دن پر وہ برافگن ہو یعنی ثابت رکھے اﷲ ایمان والوں کو حق دین پر دنیا کی زندگی میں اور آخرت میں واﷲ قدیرواﷲ غفور رحیمoوﷲ الحمد۔ والیہ الصمد۔ وصلی اﷲتعالی علی خیر خلقہ محمد والہ وصحبہ وابنہ وحزبہ اجمعین۔ امین والحمد ﷲ رب العلمینo
رسالہ حجب العوار عن مخدوم بھار ۱۳۳۹ھ
(مخدوم بہار سے عیب کو روکنا)
مسئلہ ۷۷ : از دانا پور مرسلہ محمد حنیف خان ۸ شعبان ۱۳۳۹ھ
بخدمت فیضدرجت جناب اعلیحضرت مولانا مولوی احمد رضاخاں صاحب مدظلہ العالی گزرارش ہے کہ اسمعیل نے چمار سے مثال دی یہاں کے غیر مقلد کہتے ہیں کہ مخدوم صاحب نے مینگنی سے مثال دی ہے اس کا کیا جواب ہے حضور کا کوئی رسالہ یا فتوی ہے اس بارے میں ہے یا نہیں
الجواب :
بسم اﷲ الرحمن الرحیم
نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم
اولا : کوئی کتاب یا رسالہ کسی بزرگ کے نام سے منسوب ہونا اس سے ثبوت قطعی کو مستلزم نہیں بہت رسالے خصوصا اکابر چشت کے نام منسوب ہیں جس کا اصلا ثبوت نہیں۔
ثانیا : کسی کتاب کا ثابت ہونا اس کے ہر فقرے کا ثابت ہونا نہیں بہت اکابر کی کتابوں میں الحاقات ہیں جن کا مفصل بیان کتاب الیواقیت والجواھر امام عارف باﷲ عبدالوہاب شعرانی
(مخدوم بہار سے عیب کو روکنا)
مسئلہ ۷۷ : از دانا پور مرسلہ محمد حنیف خان ۸ شعبان ۱۳۳۹ھ
بخدمت فیضدرجت جناب اعلیحضرت مولانا مولوی احمد رضاخاں صاحب مدظلہ العالی گزرارش ہے کہ اسمعیل نے چمار سے مثال دی یہاں کے غیر مقلد کہتے ہیں کہ مخدوم صاحب نے مینگنی سے مثال دی ہے اس کا کیا جواب ہے حضور کا کوئی رسالہ یا فتوی ہے اس بارے میں ہے یا نہیں
الجواب :
بسم اﷲ الرحمن الرحیم
نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم
اولا : کوئی کتاب یا رسالہ کسی بزرگ کے نام سے منسوب ہونا اس سے ثبوت قطعی کو مستلزم نہیں بہت رسالے خصوصا اکابر چشت کے نام منسوب ہیں جس کا اصلا ثبوت نہیں۔
ثانیا : کسی کتاب کا ثابت ہونا اس کے ہر فقرے کا ثابت ہونا نہیں بہت اکابر کی کتابوں میں الحاقات ہیں جن کا مفصل بیان کتاب الیواقیت والجواھر امام عارف باﷲ عبدالوہاب شعرانی
رحمۃ اﷲ تعالی علیہ ہے خصوصا حضرت شیخ اکبر رضی اللہ تعالی عنہکے کلام میں توالحاقات کی گنتی نہیں کھلے ہوئے صریح کفر بھردئے ہیں جس پر درمختار ابوالسعود سے نقل کیا :
تیقنا ان بعض الیھود افترھا علی الشیخ قدس اﷲ سرہ ۔ ہم کو یقین ہے کہ شیخ قدس سرہ پر یہ عبارتیں بعض یہودیوں نے گھڑدی ہیں۔
حضرت مخدوم صاحب ہی کی کتاب عقائد ترجمہ عمدۃ الکلام میں ہے :
قریش اعلی جد مصطفی بود واودوپسر داشت یکے را نام ہاشم بود ودوم رانام تیم پیغامبر از نسل ہاشم است وابوبکر از نسل تیم است ۔ ہاشم کے باپ کا نام قریش اور ان کے دو بیٹے تھے ایك ہاشم دوسرا تیم پیغامبر ہاشم کی نسل سے اور ابوبکر تیم کی نسل سے ہیں۔
کوئی جاہل سے جاہل ایسی بات کہہ سکتاہے کہ ہاشم کے باپ کا نام قریش تھا اور انکے دو بیٹے تھے ایك ہاشم دوسرا تیم۔ ہم ہرگز ایسی نسبت بھی مخدوم صاحب کی طرف نہیں مان سکتے ضرور کسی جاہل کا الحاق ہے نہ کہ معاذاﷲ توہین شان رسالت یہ وہابیہ ہی میں سے کسی کا الحاق ہے۔
ثالثا : امام حجۃ الاسلام غزالی قدس سرہ العالی احیاء العلوم میں فرماتے ہیں :
لاتجوز نسبۃ مسلم الی کبیرۃ من غیر تحقیق نعم یجوز ان یقال قتل ابن ملجم علیا وقتل ابو لؤلوء عمر رضی اﷲ تعالی عنہما فان ذلك ثبت متواترا فلا یجوزان یری المسلم بفسق او کفر من غیر تحقیق ۔ یعنی کسی مسلمان کی طرف کسی کبیرہ کی نسبت بلا تحقیق حرام ہے۔ ہاں یہ کہنا جائز ہے کہ ابو ملجم نے مولا علی اور ابو لولؤ نے امیر المومنین عمر رضی اﷲ تعالی عنہما کو شہید کیا کہ یہ تواتر سے ثابت ہے تو کسی مسلمان کی طرف بلاتحقیق کفر یا فسق کی نسبت اصلا جائز نہیں۔
اس کے بعد وہ احادیث ذکر فرمائیں جن سے ثابت ہے کہ کسی کو کافر کہنے والا خود کافر ہوجاتاہے اگر وہ کافر نہ تھا۔ یوں ہی فسق کی طرف نسبت کرنے والا فاسق ہوجاتاہے اگر وہ فاسق نہ تھا۔ کتاب کا چھپ جانا اسے متواتر نہیں کردیتا کہ چھاپے کا اصل وہ نسخہ ہے جو کسی الماری میں ملا اس سے نقل کرکے کاپی ہوئی سیدھی صاف باتوں میں کسی کتاب سے کہ ظنی طور پر کسی بزرگ کی طرف منسوب ہو۔ اسناد اور بات ہے اور ایسے
تیقنا ان بعض الیھود افترھا علی الشیخ قدس اﷲ سرہ ۔ ہم کو یقین ہے کہ شیخ قدس سرہ پر یہ عبارتیں بعض یہودیوں نے گھڑدی ہیں۔
حضرت مخدوم صاحب ہی کی کتاب عقائد ترجمہ عمدۃ الکلام میں ہے :
قریش اعلی جد مصطفی بود واودوپسر داشت یکے را نام ہاشم بود ودوم رانام تیم پیغامبر از نسل ہاشم است وابوبکر از نسل تیم است ۔ ہاشم کے باپ کا نام قریش اور ان کے دو بیٹے تھے ایك ہاشم دوسرا تیم پیغامبر ہاشم کی نسل سے اور ابوبکر تیم کی نسل سے ہیں۔
کوئی جاہل سے جاہل ایسی بات کہہ سکتاہے کہ ہاشم کے باپ کا نام قریش تھا اور انکے دو بیٹے تھے ایك ہاشم دوسرا تیم۔ ہم ہرگز ایسی نسبت بھی مخدوم صاحب کی طرف نہیں مان سکتے ضرور کسی جاہل کا الحاق ہے نہ کہ معاذاﷲ توہین شان رسالت یہ وہابیہ ہی میں سے کسی کا الحاق ہے۔
ثالثا : امام حجۃ الاسلام غزالی قدس سرہ العالی احیاء العلوم میں فرماتے ہیں :
لاتجوز نسبۃ مسلم الی کبیرۃ من غیر تحقیق نعم یجوز ان یقال قتل ابن ملجم علیا وقتل ابو لؤلوء عمر رضی اﷲ تعالی عنہما فان ذلك ثبت متواترا فلا یجوزان یری المسلم بفسق او کفر من غیر تحقیق ۔ یعنی کسی مسلمان کی طرف کسی کبیرہ کی نسبت بلا تحقیق حرام ہے۔ ہاں یہ کہنا جائز ہے کہ ابو ملجم نے مولا علی اور ابو لولؤ نے امیر المومنین عمر رضی اﷲ تعالی عنہما کو شہید کیا کہ یہ تواتر سے ثابت ہے تو کسی مسلمان کی طرف بلاتحقیق کفر یا فسق کی نسبت اصلا جائز نہیں۔
اس کے بعد وہ احادیث ذکر فرمائیں جن سے ثابت ہے کہ کسی کو کافر کہنے والا خود کافر ہوجاتاہے اگر وہ کافر نہ تھا۔ یوں ہی فسق کی طرف نسبت کرنے والا فاسق ہوجاتاہے اگر وہ فاسق نہ تھا۔ کتاب کا چھپ جانا اسے متواتر نہیں کردیتا کہ چھاپے کا اصل وہ نسخہ ہے جو کسی الماری میں ملا اس سے نقل کرکے کاپی ہوئی سیدھی صاف باتوں میں کسی کتاب سے کہ ظنی طور پر کسی بزرگ کی طرف منسوب ہو۔ اسناد اور بات ہے اور ایسے
حوالہ / References
درمختار باب المرتد مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۳۵۸
کتاب عقائد ترجمہ عمدۃ الکلام
احیاء العلوم والدین کتاب آفات اللسان الآفۃ الثامنۃ اللعن مطبعۃ المشہد الحسینی القاہرہ ۳ / ۱۲۵
کتاب عقائد ترجمہ عمدۃ الکلام
احیاء العلوم والدین کتاب آفات اللسان الآفۃ الثامنۃ اللعن مطبعۃ المشہد الحسینی القاہرہ ۳ / ۱۲۵
امر میں جسے مسند کلمہ کفر بنایا اور اس سے توہین شان رسالت کے جواز پر سند لانا ہے اس پر اعتماد اور بات علما کے نزدیك ادنی درجہ ثبوت یہ تھاکہ ناقل کے لئے مصنف تك سند مسلسل متصل بذریعہ ثقات ہو خطیب بغدادی بطریق الرحمان سلمی امیر المومنین عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہسے راوی کہ فرمایا :
اذا وجد احد کم کتابا فیہ علم لم یسمعہ عن عالم فلیدع باناء وماء فلینقعہ فیہ حتی یختلط سوادہ فی بیاضہ ۔ جب تك تم میں کوئی ایك کتاب پائے جس میں علم کی بات ہے اور اسے کسی عالم سے نہ سنا تو برتن میں پانی منگاکر وہ کتاب اس میں ڈبو دے کہ سیاہی سپیدی سب ایك ہو جائے۔
فتاوی حدیثیہ امام زین الدین عراقی سے ہے :
نقل الانسان مالیس لہ بہ روایۃ غیر سائغ بالاجماع عند اھل الدرایۃ ۔ یعنی علمائے کرا م کا اجماع ہے کہ آدمی جس بات کی سند متصل نہ رکھتا ہو اس کا نقل اسے حلال نہیں۔
ہاں اگر اس کے پاس نسخہ صحیحہ معتمدہ ہو کہ خود اس نے یا کسی ثقہ معتمد نے خود اصل نسخہ مصنف سے مقابلہ کیا یا اس نسخہ صحیحہ معتمدہ سے جس کا مقا بلہ اصل نسخہ مصنف یا اور ثقہ نے کیا وسائط زیادہ ہوں تو سب کا اسی طرح کے متعمدات ہونا معلوم ہو تو یہ بھی ایك طریقہ روایت ہے اور ایسے نسخہ کی عبارت کو مصنف کا قول بتانا جائز فتاوی حدیثیہ میں ہے :
قالوا ماوجد فی نسخۃ من تصنیف فان وثق بصحۃ النسخۃ بان قابلھا المصنف اوثقہ غیرہ بالاصل او بفرع مقابل بالاصل وھکذا جاز الجزم بنسبتھا الی صاحب ذلك الکتاب وان لم یوثق لم یجزم ۔ یعنی علماء نے فرمایا جو عبارت کسی تصنیف کے کسی نسخہ میں ملے اگر صحت نسخہ پر اعتماد ہے یوں کہ اس نسخہ کو خود مصنف یا کسی اور ثقہ نے خاص اصل مصنف سے مقابلہ کیا ہے یا اس نسخہ سے جسے اصل پر مقابلہ کیا تھا یوں ہی اس ناقل تک جب تو یہ کہنا جائز ہے کہ مصنف نے فلاں کتاب میں یہ لکھا ورنہ جائز نہیں۔
اذا وجد احد کم کتابا فیہ علم لم یسمعہ عن عالم فلیدع باناء وماء فلینقعہ فیہ حتی یختلط سوادہ فی بیاضہ ۔ جب تك تم میں کوئی ایك کتاب پائے جس میں علم کی بات ہے اور اسے کسی عالم سے نہ سنا تو برتن میں پانی منگاکر وہ کتاب اس میں ڈبو دے کہ سیاہی سپیدی سب ایك ہو جائے۔
فتاوی حدیثیہ امام زین الدین عراقی سے ہے :
نقل الانسان مالیس لہ بہ روایۃ غیر سائغ بالاجماع عند اھل الدرایۃ ۔ یعنی علمائے کرا م کا اجماع ہے کہ آدمی جس بات کی سند متصل نہ رکھتا ہو اس کا نقل اسے حلال نہیں۔
ہاں اگر اس کے پاس نسخہ صحیحہ معتمدہ ہو کہ خود اس نے یا کسی ثقہ معتمد نے خود اصل نسخہ مصنف سے مقابلہ کیا یا اس نسخہ صحیحہ معتمدہ سے جس کا مقا بلہ اصل نسخہ مصنف یا اور ثقہ نے کیا وسائط زیادہ ہوں تو سب کا اسی طرح کے متعمدات ہونا معلوم ہو تو یہ بھی ایك طریقہ روایت ہے اور ایسے نسخہ کی عبارت کو مصنف کا قول بتانا جائز فتاوی حدیثیہ میں ہے :
قالوا ماوجد فی نسخۃ من تصنیف فان وثق بصحۃ النسخۃ بان قابلھا المصنف اوثقہ غیرہ بالاصل او بفرع مقابل بالاصل وھکذا جاز الجزم بنسبتھا الی صاحب ذلك الکتاب وان لم یوثق لم یجزم ۔ یعنی علماء نے فرمایا جو عبارت کسی تصنیف کے کسی نسخہ میں ملے اگر صحت نسخہ پر اعتماد ہے یوں کہ اس نسخہ کو خود مصنف یا کسی اور ثقہ نے خاص اصل مصنف سے مقابلہ کیا ہے یا اس نسخہ سے جسے اصل پر مقابلہ کیا تھا یوں ہی اس ناقل تک جب تو یہ کہنا جائز ہے کہ مصنف نے فلاں کتاب میں یہ لکھا ورنہ جائز نہیں۔
حوالہ / References
الفتاوٰی الحدیثیہ بحوالہ الخطیب مطلب فی ان الانسان لایصح لہ الخ المطبعۃ الجمالیہ مصر ص۶۵
الفتاوٰی الحدیثیہ بحوالہ الخطیب مطلب فی ان الانسان لایصح لہ الخ المطبعۃ الجمالیہ مصر ص۶۴
الفتاوٰی الحدیثیہ بحوالہ الخطیب مطلب فی ان الانسان لایصح لہ الخ المطبعۃ الجمالیہ مصر ص۶۵
الفتاوٰی الحدیثیہ بحوالہ الخطیب مطلب فی ان الانسان لایصح لہ الخ المطبعۃ الجمالیہ مصر ص۶۴
الفتاوٰی الحدیثیہ بحوالہ الخطیب مطلب فی ان الانسان لایصح لہ الخ المطبعۃ الجمالیہ مصر ص۶۵
مقدمہ امام ابوعمر وبن الصلاح میں عروہ بن زبیر رضی اﷲ تعالی عنہما سے ہے کہ انھوں نے اپنے صاحبزادے ہشام سے فرمایا : تم نے لکھ لیا کہا : ہاں۔ مقابلہ کرلیا کہا : نہ۔ فرمایا : لم تکتب تم نےلکھا ہی نہیں۔ اسی میں امام شافعی ویحیی بن ابی کثیر سے ہے کہ دونوں صاحبوں نے فرمایا :
من کتب ولم یعارض کمن دخل الماء ولم یستنج ۔ جس نے لکھا اور مقابلہ نہ کیا وہ ایسا ہے کہ پانی میں داخل ہے اور استنجا نہ کیا۔
اسی میں ہے :
اذا اراد ان ینقل من کتاب منسوب الی مصنف فلا یقل “ قال فلان کذا وکذا “ الا اذا وثق بصحۃ النسخۃ بان قابلھا ھواوثقۃ غیرہ باصول متعددۃ ۔ جب کسی کتاب سے کہ کسی مصنف کی طرف منسوب ہے کچھ نقل کرنا چاہے تو یوں نہ کہے کہ مصنف نے ایسا کہا جب تك کہ صحت عامہ نسخہ پر اعتماد نہ ہو یوں کہ اس نے خواہ اور ثقہ نے اس متعدد صحیح نسخوں سے مقابلہ کیا ہو۔
اسی میں ہے :
یطالع احدھم کتابا منسوبا الی مصنف معین وینقل منہ عنہ من غیر ان یثق بصحۃ النسخۃ قائلا “ قال فلان کذاوکذا او ذکر فلان کذا وکذا “ والصواب ماقدمناہ اھ و لفظ الفتاوی الحدیثیۃ عنہ والصواب ان ذلك لایجوز ۔ کسی معین مصنف کی طرف منسوب کتاب میں ایك عبارت دیکھ کر آدمی نقل کردیتاہے کہ مصنف نے ایسا کہا حالانکہ صحت نسخہ پر وثوق(بروجہ مذکور کہ اصل نسخہ مصنف سے بلا واسطہ یا بوساطت ثقات اس نے یا اورثقہ نے مقابلہ کیا ہو) حاصل نہیں مثلا یوں کہے کہ فلاں نے یوں یوں کہا یا فلاں نے یوں یوں ذکر کیا حق یہ ہے کہ یہ ناجائز ہے۔
من کتب ولم یعارض کمن دخل الماء ولم یستنج ۔ جس نے لکھا اور مقابلہ نہ کیا وہ ایسا ہے کہ پانی میں داخل ہے اور استنجا نہ کیا۔
اسی میں ہے :
اذا اراد ان ینقل من کتاب منسوب الی مصنف فلا یقل “ قال فلان کذا وکذا “ الا اذا وثق بصحۃ النسخۃ بان قابلھا ھواوثقۃ غیرہ باصول متعددۃ ۔ جب کسی کتاب سے کہ کسی مصنف کی طرف منسوب ہے کچھ نقل کرنا چاہے تو یوں نہ کہے کہ مصنف نے ایسا کہا جب تك کہ صحت عامہ نسخہ پر اعتماد نہ ہو یوں کہ اس نے خواہ اور ثقہ نے اس متعدد صحیح نسخوں سے مقابلہ کیا ہو۔
اسی میں ہے :
یطالع احدھم کتابا منسوبا الی مصنف معین وینقل منہ عنہ من غیر ان یثق بصحۃ النسخۃ قائلا “ قال فلان کذاوکذا او ذکر فلان کذا وکذا “ والصواب ماقدمناہ اھ و لفظ الفتاوی الحدیثیۃ عنہ والصواب ان ذلك لایجوز ۔ کسی معین مصنف کی طرف منسوب کتاب میں ایك عبارت دیکھ کر آدمی نقل کردیتاہے کہ مصنف نے ایسا کہا حالانکہ صحت نسخہ پر وثوق(بروجہ مذکور کہ اصل نسخہ مصنف سے بلا واسطہ یا بوساطت ثقات اس نے یا اورثقہ نے مقابلہ کیا ہو) حاصل نہیں مثلا یوں کہے کہ فلاں نے یوں یوں کہا یا فلاں نے یوں یوں ذکر کیا حق یہ ہے کہ یہ ناجائز ہے۔
حوالہ / References
مقدمہ ابن الصلاح النوع الخامس والعشرون فاروقی کتب خانہ ملتان ص۹۲
مقدمہ ابن الصلاح النوع الخامس والعشرون فاروقی کتب خانہ ملتان ص۹۲
مقدمہ ابن الصلاح النوع الرابع والعشرون فاروقی کتب خانہ ملتان ص۸۷
مقدمہ ابن الصلاح النوع الرابع والعشرون فاروقی کتب خانہ ملتان ص۸۷
الفتاوٰی الحدیثیہ مطلب ان الانسان لایصح لہ ان یقول الخ المطبعۃ الجمالیۃ مصر ص۶۵
مقدمہ ابن الصلاح النوع الخامس والعشرون فاروقی کتب خانہ ملتان ص۹۲
مقدمہ ابن الصلاح النوع الرابع والعشرون فاروقی کتب خانہ ملتان ص۸۷
مقدمہ ابن الصلاح النوع الرابع والعشرون فاروقی کتب خانہ ملتان ص۸۷
الفتاوٰی الحدیثیہ مطلب ان الانسان لایصح لہ ان یقول الخ المطبعۃ الجمالیۃ مصر ص۶۵
امام نووی نے تقریب میں فرمایا :
فان قابلھا باصل محقق معتمداجزاہ ۔ اگر ایك اصل تحقیق معتمد سے اس نے مقابلہ کیا ہے تو یہ بھی کافی ہے۔
یعنی اصول معتمدہ متعدد سے مقابلہ زیادت احتیاط ہے یہ اتصال سند اصل وہ شیئ ہے جس پر اعتماد کرکے مصنف کی طرف نسبت جائز ہوسکے اور متاخرین نے کتاب کا علماء میں ایسا مشہور ہونا جس سے اطمینان کہ اس میں تغییر وتحریف نہ ہوئی اسے بھی مثل اتصال سند جانا اور وہ ایسا ہی ہے مقدمہ امام ابوعمرو نوع اول میں ہے :
ال الامران الاعتماد علی مانص علیہ فی تصانیفھم المعتمدۃ المشہورۃ التی یؤمن فیھا لشھرتھا من التغییر و التحریف (ملخصا) یعنی آخر قرار داد اس پر ہوا کہ اعتماد اس پر ہے جو ایسی مشہور ومعتمد کتابوں میں ہو جن کی شہرت کے سبب ان میں تغییر وتحریف سے امان ہو۔ (ملخصا)
فتح القدیر وبحرالرائق ونہر الفائق ومنح الغفار میں فرمایا :
علی ھذا لو وجدنا بعض نسخ النوادر فی زماننا لایحل عزوما فیھا الی محمد والا الی ابی یوسف لانھا لم تشتھر فی دیارنا ولم تتداول ۔ یعنی اگر کتب ستہ کے سوا اورکتب تلامذہ امام کے بعض نسخے پائیں تو حلال نہیں کہ ان کے اقوال کو امام محمد یا امام ا بو یوسف کی طرف نسبت کریں کہ وہ کتابیں ہمارے دیار میں مشہور ومتداول نہ ہوئیں۔
تداول کے یہ معنی کہ کتاب جب سے اب تك علماء کے درس وتدریس یا نقل وتمسك یا ان کی مطمح نظررہی ہو جس سے روشن ہو کہ اس کے مقامات ومقالات علماء کے زیر نظر آچکے اور وہ بحالت موجودہ اسے مصنف کا کلام مانا کئے زبان علما ء میں صرف وجود کتاب کافی نہیں کہ وجود تداول میں زمین وآسمان کا فرق ہے پر ظاہر کہ یہاں دونوں باتیں مفقود تداول درکنار کوئی سند متصل بھی نہیں نہ کہ تواتر جو ایسی نسبت کے لئے لازم ہے رہا وجود نسخ انصافا متعدد بلکہ کثیرووافر قلمی نسخے موجود ہونا بھی ثبوت تواتر کو بس نہیں جب تك ثا بت نہ ہو کہ یہ سب نسخے جدا جدا اصل مصنف سے نقل کئے گئے یا ان نسخوں سے جو اصل سے نقل ہوئے ورنہ ممکن کہ بعض نسخ محرفہ ان کی اصل ہوں ان میں الحاق ہوا اور یہ ان سے نقل ونقل درنقل ہوکر کثیر ہوگئے جیسے آج کل کی
فان قابلھا باصل محقق معتمداجزاہ ۔ اگر ایك اصل تحقیق معتمد سے اس نے مقابلہ کیا ہے تو یہ بھی کافی ہے۔
یعنی اصول معتمدہ متعدد سے مقابلہ زیادت احتیاط ہے یہ اتصال سند اصل وہ شیئ ہے جس پر اعتماد کرکے مصنف کی طرف نسبت جائز ہوسکے اور متاخرین نے کتاب کا علماء میں ایسا مشہور ہونا جس سے اطمینان کہ اس میں تغییر وتحریف نہ ہوئی اسے بھی مثل اتصال سند جانا اور وہ ایسا ہی ہے مقدمہ امام ابوعمرو نوع اول میں ہے :
ال الامران الاعتماد علی مانص علیہ فی تصانیفھم المعتمدۃ المشہورۃ التی یؤمن فیھا لشھرتھا من التغییر و التحریف (ملخصا) یعنی آخر قرار داد اس پر ہوا کہ اعتماد اس پر ہے جو ایسی مشہور ومعتمد کتابوں میں ہو جن کی شہرت کے سبب ان میں تغییر وتحریف سے امان ہو۔ (ملخصا)
فتح القدیر وبحرالرائق ونہر الفائق ومنح الغفار میں فرمایا :
علی ھذا لو وجدنا بعض نسخ النوادر فی زماننا لایحل عزوما فیھا الی محمد والا الی ابی یوسف لانھا لم تشتھر فی دیارنا ولم تتداول ۔ یعنی اگر کتب ستہ کے سوا اورکتب تلامذہ امام کے بعض نسخے پائیں تو حلال نہیں کہ ان کے اقوال کو امام محمد یا امام ا بو یوسف کی طرف نسبت کریں کہ وہ کتابیں ہمارے دیار میں مشہور ومتداول نہ ہوئیں۔
تداول کے یہ معنی کہ کتاب جب سے اب تك علماء کے درس وتدریس یا نقل وتمسك یا ان کی مطمح نظررہی ہو جس سے روشن ہو کہ اس کے مقامات ومقالات علماء کے زیر نظر آچکے اور وہ بحالت موجودہ اسے مصنف کا کلام مانا کئے زبان علما ء میں صرف وجود کتاب کافی نہیں کہ وجود تداول میں زمین وآسمان کا فرق ہے پر ظاہر کہ یہاں دونوں باتیں مفقود تداول درکنار کوئی سند متصل بھی نہیں نہ کہ تواتر جو ایسی نسبت کے لئے لازم ہے رہا وجود نسخ انصافا متعدد بلکہ کثیرووافر قلمی نسخے موجود ہونا بھی ثبوت تواتر کو بس نہیں جب تك ثا بت نہ ہو کہ یہ سب نسخے جدا جدا اصل مصنف سے نقل کئے گئے یا ان نسخوں سے جو اصل سے نقل ہوئے ورنہ ممکن کہ بعض نسخ محرفہ ان کی اصل ہوں ان میں الحاق ہوا اور یہ ان سے نقل ونقل درنقل ہوکر کثیر ہوگئے جیسے آج کل کی
حوالہ / References
تقریب النووی مع تدریب الراوی النوع الاول الصحیح دارالکتب الاسلامیہ لاہور ۱ / ۱۵۰
مقدمہ ابن الصلاح النوع الاول الصحیح فاروقی کتب خانہ ملتان ص۹
فتح القدیر کتاب الحوالہ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۶ / ۳۶۰
مقدمہ ابن الصلاح النوع الاول الصحیح فاروقی کتب خانہ ملتان ص۹
فتح القدیر کتاب الحوالہ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۶ / ۳۶۰
محرف بائبل کے ہزار در ہزار نسخے فتوحات مکیہ کے تمام مصری نسخے نسخہ محرفہ سے منقول ہوئے او ر اس کی نقلیں مصرمیں چھپیں اور اب وہ گھر گھر موجود ہیں حالانکہ تواتر درکنار ایك سلسلہ صحیحہ آحادسے بھی ثبوت ہیں “ و اللہ یقول الحق وہو یہدی السبیل ﴿۴﴾ “ (اور اﷲ حق فرماتا ہے اور وہی راہ دکھاتا ہے۔ ت)علامہ شامی کا ظن پر اکتفا صاف باتوں کے لئے وجہ ہے مگر ایسے امور میں اس پر قناعت قطعا حرام ورنہ معاذاﷲ اکا بر ائمہ واعاظم علماء کی طرف نسبت کفر ماننی پڑے ہماری نظر میں ہیں وہ کلمات جو اکابر اولیاء سے گزر کر اکابر علماء معتمدین مثل امام ابن حجر مکی وملا علی قاری وغیرہما کی کتب مطبوعہ میں پائے جاتے ہیں اور ہم یقین کرتے ہیں کہ وہ الحاقی ہیں ایك ہلکی نظیر علی قاری کی شرح فقہ اکبر صفحہ ۴۷ پر ہے :
ماسمی بہ الرب نفسہ وسمی بہ مخلوقاتہ مثل الحی والقیوم والعلیم والقدیر ۔ نا م کہ رب تعالی نے اپنے لئے اور مخلوق کے لئے مقرر فرمائے وہ مثل حی قیوم علیم قدیر ہیں۔ (ت)
اس میں مخلوقات پر قیوم کے اطلاق کا جواز ہے حالانکہ ائمہ فرماتے ہیں کہ غیر خدا کو قیوم کہنا کفر ہے۔ مجمع الانہر میں ہے :
اذا اطلق علی المخلوق من الاسماء المختصۃ بالخالق نحو القدوس والقیوم والرحمن وغیرھا یکفر ۔ جو اﷲ تعالی کے مخصوص ناموں میں سے کسی نام کا اطلاق مخلوق پر کرے جیسے قدوس قیوم اور رحمن وغیرہ تو وہ کافر ہوجائے گا۔ (ت)
اسی طرح او رکتابوں میں ہے۔ حتی کہ خود اسی شرح فقہ اکبر صفحہ ۲۴۵ میں ہے :
من قال لمخلوق یا قدوس اوالقیوم او الرحمن کفر ۔ جو کسی مخلوق کو قدوس یا قیوم یا رحمن کہے کافر ہوجائے۔
پھر کیونکر مان سکتے ہیں کہ وہ صفحہ ۴۷ کی عبارت علی قاری کی ہے ضرور الحاق ہے اگر چہ کتاب اجمالا مشہور ومعروف ہے بخلاف کلمات اسمعیل کہ موافق ومخالف کے نزدیك اس سے متواتر ہیں مخالفین رد کرتے ہیں۔
ماسمی بہ الرب نفسہ وسمی بہ مخلوقاتہ مثل الحی والقیوم والعلیم والقدیر ۔ نا م کہ رب تعالی نے اپنے لئے اور مخلوق کے لئے مقرر فرمائے وہ مثل حی قیوم علیم قدیر ہیں۔ (ت)
اس میں مخلوقات پر قیوم کے اطلاق کا جواز ہے حالانکہ ائمہ فرماتے ہیں کہ غیر خدا کو قیوم کہنا کفر ہے۔ مجمع الانہر میں ہے :
اذا اطلق علی المخلوق من الاسماء المختصۃ بالخالق نحو القدوس والقیوم والرحمن وغیرھا یکفر ۔ جو اﷲ تعالی کے مخصوص ناموں میں سے کسی نام کا اطلاق مخلوق پر کرے جیسے قدوس قیوم اور رحمن وغیرہ تو وہ کافر ہوجائے گا۔ (ت)
اسی طرح او رکتابوں میں ہے۔ حتی کہ خود اسی شرح فقہ اکبر صفحہ ۲۴۵ میں ہے :
من قال لمخلوق یا قدوس اوالقیوم او الرحمن کفر ۔ جو کسی مخلوق کو قدوس یا قیوم یا رحمن کہے کافر ہوجائے۔
پھر کیونکر مان سکتے ہیں کہ وہ صفحہ ۴۷ کی عبارت علی قاری کی ہے ضرور الحاق ہے اگر چہ کتاب اجمالا مشہور ومعروف ہے بخلاف کلمات اسمعیل کہ موافق ومخالف کے نزدیك اس سے متواتر ہیں مخالفین رد کرتے ہیں۔
حوالہ / References
القرآن الکریم ۳۳ /۴
منح الروض الازھر شرح الفقہ الاکبر اﷲ سبحانہ اوجد المخلوقات مصطفی البابی مصر ص۳۹
مجمع الانھر شرح ملتقی الابحرثم ان الفاظ الکفر انواع دار احیا التراث العربی بیروت۱ / ۶۹۰
منح الروض الازھر شرح الفقہ الاکبر فصل فی الکفر صریحا وکنایۃ مصطفی البابی مصر ص۱۹۳
منح الروض الازھر شرح الفقہ الاکبر اﷲ سبحانہ اوجد المخلوقات مصطفی البابی مصر ص۳۹
مجمع الانھر شرح ملتقی الابحرثم ان الفاظ الکفر انواع دار احیا التراث العربی بیروت۱ / ۶۹۰
منح الروض الازھر شرح الفقہ الاکبر فصل فی الکفر صریحا وکنایۃ مصطفی البابی مصر ص۱۹۳
موافقین تاویلیں کرتے ہیں اب یہیں دیکھئے اس چمار والے کلام پر سے دفع ایراد کہ یہ عبارت پیش کی خود اسمعیل کی زندگی میں اس پر مواخذے ہوئے جامع مسجد دہلی میں شاہ عبدالعزیز کے اعزہ واخص تلامذہ مثل مفتی رشید الدین خاں صاحب وشاہ موسی صاحب نے مناظرے کئے الزام دئے نہ اس نے کہا کہ یہ کلمات میرے نہیں نہ اس کے ہوا خواہوں نے جب سے آج تک تو اس سے ثبوت یقینی ہے اور وہابیہ کہ بحالت موجودہ اسے مثل قرآن وعین ایمان مان رہے ہیں ان پر رد تو کسی ثبوت کی بھی حاجت نہیں کمالایخفی(جیسا کہ پوشیدہ نہیں۔ ت)
رابعا : ایسی جگہ خلق سے مراد وہ ہوتے ہیں جو عظمت دینی سے اصلا حصہ نہیں رکھتے شیخ سعدی قدس سرہ فرماتے ہیں :
نگہدارد آں شوخ درکیسہ در کہ داند ہمہ خلق راکیسہ بر ۔
(موتیوں کی بات ایسے شوخ سے ہوشیار رہو جو تمام لوگوں کو جیب کترا سمجھتا ہے۔ ت)
ابلیس ہوگا وہ جو کہے کہ اس سے عام مراد ہے کہ انبیاء واولیاء علیہم الصلوۃ والسلام کو بھی معاذاﷲ گرہ کاٹ جانے حقیقت امر یہ ہے کہ مخلوق دو قسم ہے :
اول : وہ کہ عظمت دینی رکھتے ہیں جن کے سروسر ورمطلق حضور سید المرسلین ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وعلیہم وبارك وسلم پھر باقی حضرات انبیاء وملائکہ واولیاء واہلبیت وصحابہ پھر دیگر علماء وصلحاء واتقیاء پھر سلاطین اسلام پھر عام مومنین نیز صحائف دینیہ مثل مصحف شریف وکتب فقہ وحدیث صفات جمیلہ مثل ایمان وعمل اعمال صالحہ مثل نماز وحج اخلاق فاضلہ مثل زہد وتواضع اماکن مقدسہ مثل کعبہ مکرمہ وروضہ منورہ غرض جملہ اشخاص واشیاء جن کو مولی عزوجل سے علاقہ قرب ہے۔ اس علاقہ کے سبب ان کی تعظیم اﷲ عزوجل ہی کی تعظیم ہے اور ان کی عزت اس کی عزت ہے رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں :
ان من اجلال اﷲ اکرام ذی الشیبۃ المسلم وحامل القران غیر الغالی فیہ والجافی عنہ واکرام ذی السلطان المقسط ۔ بیشك اﷲ کی تعظیم سے ہے بوڑھے مسلمان کی عزت کرنی اور حافظ قرآن کی کہ نہ اس میں حد سے بڑھے نہ اس سے دوری کرے اور حاکم عادل کی۔
رابعا : ایسی جگہ خلق سے مراد وہ ہوتے ہیں جو عظمت دینی سے اصلا حصہ نہیں رکھتے شیخ سعدی قدس سرہ فرماتے ہیں :
نگہدارد آں شوخ درکیسہ در کہ داند ہمہ خلق راکیسہ بر ۔
(موتیوں کی بات ایسے شوخ سے ہوشیار رہو جو تمام لوگوں کو جیب کترا سمجھتا ہے۔ ت)
ابلیس ہوگا وہ جو کہے کہ اس سے عام مراد ہے کہ انبیاء واولیاء علیہم الصلوۃ والسلام کو بھی معاذاﷲ گرہ کاٹ جانے حقیقت امر یہ ہے کہ مخلوق دو قسم ہے :
اول : وہ کہ عظمت دینی رکھتے ہیں جن کے سروسر ورمطلق حضور سید المرسلین ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وعلیہم وبارك وسلم پھر باقی حضرات انبیاء وملائکہ واولیاء واہلبیت وصحابہ پھر دیگر علماء وصلحاء واتقیاء پھر سلاطین اسلام پھر عام مومنین نیز صحائف دینیہ مثل مصحف شریف وکتب فقہ وحدیث صفات جمیلہ مثل ایمان وعمل اعمال صالحہ مثل نماز وحج اخلاق فاضلہ مثل زہد وتواضع اماکن مقدسہ مثل کعبہ مکرمہ وروضہ منورہ غرض جملہ اشخاص واشیاء جن کو مولی عزوجل سے علاقہ قرب ہے۔ اس علاقہ کے سبب ان کی تعظیم اﷲ عزوجل ہی کی تعظیم ہے اور ان کی عزت اس کی عزت ہے رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں :
ان من اجلال اﷲ اکرام ذی الشیبۃ المسلم وحامل القران غیر الغالی فیہ والجافی عنہ واکرام ذی السلطان المقسط ۔ بیشك اﷲ کی تعظیم سے ہے بوڑھے مسلمان کی عزت کرنی اور حافظ قرآن کی کہ نہ اس میں حد سے بڑھے نہ اس سے دوری کرے اور حاکم عادل کی۔
حوالہ / References
بوستان سعدی باب اول منشی گلاب سنگھ لکھنؤ ص۱۲۸
سنن ابوداؤد کتاب الادب باب فی تنزیل الناس منازلہم آفتاب عالم پریس لاہور ۲ / ۳۰۹
سنن ابوداؤد کتاب الادب باب فی تنزیل الناس منازلہم آفتاب عالم پریس لاہور ۲ / ۳۰۹
رواہ ابوداؤد بسند حسن عن ابی موسی الاشعری رضی اﷲ تعالی عنہ۔ (اسے ابوداؤد نے سندحسن کے ساتھ ابو موسی اشعری رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کیا ہے۔ ت)
مولی عزوجل فرماتاہے : “ فان العزۃ للہ جمیعا ﴿۱۳۹﴾ “ عزت ساری اﷲ ہی کے لئے ہے اور خود فرماتاہے :
“ و للہ العزۃ و لرسولہ و للمؤمنین و لکن المنفقین لا یعلمون ﴿۸﴾ “
۔ عزت اﷲ اوراس کے رسول اور مسلمانوں کے لئے ہے مگر منافقوں کو خبر نہیں۔
رسول اور مسلمانوں کی عزت اگر عزت الہی سے جدا ہوتی تو عزت کے حصے ہوجاتے۔ ایك حصہ اﷲ کے لئے ایك رسول کا ایك مومنین کا حالانکہ رب عزوجل فرماچکا کہ عزت ساری اﷲ ہی کے لئے ہے تو قطعا ان کی عزت اﷲ ہی کی عزت سے ہے اور ان کی تعظیم اﷲ ہی کی تعظیم۔ اﷲ اوراس کے رسولوں میں تفرقہ کرنے والوں کو قرآن عظیم کافر فرماتاہے ایك قوم کا حال ارشاد فرمایا :
“ ویریدون ان یفرقوا بین اللہ ورسلہ “ ۔ اﷲ اور اس کے رسولوں میں جدائی ڈالنی چاہتے ہیں۔
پھر فرمایا : “ اولئک ہم الکفرون حقا “ یہی پکے کافر ہیں۔ رسولوں کی عزت رسولوں کی عظمت اﷲ عزوجل کی عزت وعظمت سے جدا ماننی اﷲ اور اس کے رسولوں میں جدائی ڈالنی ہے
خاصان خدا خدا نبا شند لیکن زخدا جدا نبا شند
اﷲ تعالی کے خاص بندے خدا نہیں لیکن خدا سے جدا بھی نہیں۔ ت)
ولہذا ان کی تعظیم مدار ایمان ہوئی اور ان کی ادنی توہین کفر ارسال رسول کا ایك مقصد اعلی تعظیم و توقیر رسول ہے
قال اﷲ تعالی “ انا ارسلنک شہدا و مبشرا و نذیرا ﴿۸﴾ لتؤمنوا باللہ و رسولہ و تعزروہ و توقروہ “ ۔ اﷲ تعالی نے فرمایا : اے نبی! ہم نے تمہیں بھیجا حاضروناظر اور خوشخبری دینے والا اور ڈر سنانے والا تاکہ اے لوگو! تم اﷲ اور رسول پر ایمان لاؤ اور رسول کی تعظیم وتوقیر کرو۔
مولی عزوجل فرماتاہے : “ فان العزۃ للہ جمیعا ﴿۱۳۹﴾ “ عزت ساری اﷲ ہی کے لئے ہے اور خود فرماتاہے :
“ و للہ العزۃ و لرسولہ و للمؤمنین و لکن المنفقین لا یعلمون ﴿۸﴾ “
۔ عزت اﷲ اوراس کے رسول اور مسلمانوں کے لئے ہے مگر منافقوں کو خبر نہیں۔
رسول اور مسلمانوں کی عزت اگر عزت الہی سے جدا ہوتی تو عزت کے حصے ہوجاتے۔ ایك حصہ اﷲ کے لئے ایك رسول کا ایك مومنین کا حالانکہ رب عزوجل فرماچکا کہ عزت ساری اﷲ ہی کے لئے ہے تو قطعا ان کی عزت اﷲ ہی کی عزت سے ہے اور ان کی تعظیم اﷲ ہی کی تعظیم۔ اﷲ اوراس کے رسولوں میں تفرقہ کرنے والوں کو قرآن عظیم کافر فرماتاہے ایك قوم کا حال ارشاد فرمایا :
“ ویریدون ان یفرقوا بین اللہ ورسلہ “ ۔ اﷲ اور اس کے رسولوں میں جدائی ڈالنی چاہتے ہیں۔
پھر فرمایا : “ اولئک ہم الکفرون حقا “ یہی پکے کافر ہیں۔ رسولوں کی عزت رسولوں کی عظمت اﷲ عزوجل کی عزت وعظمت سے جدا ماننی اﷲ اور اس کے رسولوں میں جدائی ڈالنی ہے
خاصان خدا خدا نبا شند لیکن زخدا جدا نبا شند
اﷲ تعالی کے خاص بندے خدا نہیں لیکن خدا سے جدا بھی نہیں۔ ت)
ولہذا ان کی تعظیم مدار ایمان ہوئی اور ان کی ادنی توہین کفر ارسال رسول کا ایك مقصد اعلی تعظیم و توقیر رسول ہے
قال اﷲ تعالی “ انا ارسلنک شہدا و مبشرا و نذیرا ﴿۸﴾ لتؤمنوا باللہ و رسولہ و تعزروہ و توقروہ “ ۔ اﷲ تعالی نے فرمایا : اے نبی! ہم نے تمہیں بھیجا حاضروناظر اور خوشخبری دینے والا اور ڈر سنانے والا تاکہ اے لوگو! تم اﷲ اور رسول پر ایمان لاؤ اور رسول کی تعظیم وتوقیر کرو۔
حوالہ / References
القرآن الکریم ۴ /۱۳۹
القرآن الکریم ۶۳ /۸
القرآن الکریم ۴ /۱۵۰
القرآن الکریم ۴ /۱۵۱
القرآن الکریم ۴۷ /۸ و ۹
القرآن الکریم ۶۳ /۸
القرآن الکریم ۴ /۱۵۰
القرآن الکریم ۴ /۱۵۱
القرآن الکریم ۴۷ /۸ و ۹
۲دوم وہ کہ عظمت دینی سے اصلا بہرہ نہیں رکھتے کہ اﷲ عزوجل سے انھیں کوئی علاقہ قرب نہیں ہے تو بعد ہی ہے ان کے بدتر وذلیل ترکفار ومشرکین ومرتدین مثل وہابیہ دیوبندیہ وغیر مقلدین ہیں پھر باقی ضالین نیز صفات رذیلہ مثل کفر وضلال اعمال خبیثہ مثل زنا وشرب خمر اخلاق رذیلہ مثل تکبر وعجب اماکن نجسہ مثل معابد کفار غرض دنیا ومافیہا جس کو اﷲ عزوجل سے علاقہ قرب نہیں۔ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں :
الدنیا ملعونۃ ملعون مافیہا الاما کان منھا ﷲ عزوجل ۔ رواہ ابو نعیم فی الحلیۃ و الضیاء فی المختارۃ عن جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالی عنھما بسند حسن۔ دنیا ملعون ہے اور دنیا میں جو کچھ ہے ملعون ہے مگر وہ جو اس میں سے اﷲ عزوجل کے لئے ہو(اسے ابو نعیم نے حلیہ میں اور ضیاء نے مختارہ میں جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالی عنہما سے سند حسن کے ساتھ روایت کیا۔ ت)
اور فرماتے ہیں صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم:
الدنیا ملعونۃ ملعون مافیہا الاذکر اﷲ وماوالاہ وعالما اومتعلما رواہ ابن ماجۃ عن ابی ھریرۃ و الطبرانی فی الاوسط عن ابی مسعود رضی اﷲ تعالی عنہما۔ دنیا پر لعنت ہے اور دنیا میں جو کچھ ہے سب پر لعنت ہے مگر اﷲ کا ذکر اور جسے اس سے علاقہ قر ب ہے اور عالم یا طالب علم دین(اس کو ابن ماجہ نے ابوہریرہ سے اور طبرانی نے اوسط میں ابن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہما سے روایت کیا۔ ت)
اور فرماتے ہیں صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم:
الدنیا ملعونۃ ملعون مافیہا الاما ابتغی بہ وجہ اﷲ تعالی ۔ رواہ الطبرانی فی الکبیر عن ابی الدرداء رضی اﷲ تعالی عنہ۔ دنیا لعینہ ہے اور جو کچھ دنیا میں ہے سب لعین ہے مگر جس سے رضائے الہی مطلوب ہو(اس کو طبرانی نے کبیر میں ابی الدرداء رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کیا ہے۔ ت)
رب عزوجل فرماتاہے :
الدنیا ملعونۃ ملعون مافیہا الاما کان منھا ﷲ عزوجل ۔ رواہ ابو نعیم فی الحلیۃ و الضیاء فی المختارۃ عن جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالی عنھما بسند حسن۔ دنیا ملعون ہے اور دنیا میں جو کچھ ہے ملعون ہے مگر وہ جو اس میں سے اﷲ عزوجل کے لئے ہو(اسے ابو نعیم نے حلیہ میں اور ضیاء نے مختارہ میں جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالی عنہما سے سند حسن کے ساتھ روایت کیا۔ ت)
اور فرماتے ہیں صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم:
الدنیا ملعونۃ ملعون مافیہا الاذکر اﷲ وماوالاہ وعالما اومتعلما رواہ ابن ماجۃ عن ابی ھریرۃ و الطبرانی فی الاوسط عن ابی مسعود رضی اﷲ تعالی عنہما۔ دنیا پر لعنت ہے اور دنیا میں جو کچھ ہے سب پر لعنت ہے مگر اﷲ کا ذکر اور جسے اس سے علاقہ قر ب ہے اور عالم یا طالب علم دین(اس کو ابن ماجہ نے ابوہریرہ سے اور طبرانی نے اوسط میں ابن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہما سے روایت کیا۔ ت)
اور فرماتے ہیں صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم:
الدنیا ملعونۃ ملعون مافیہا الاما ابتغی بہ وجہ اﷲ تعالی ۔ رواہ الطبرانی فی الکبیر عن ابی الدرداء رضی اﷲ تعالی عنہ۔ دنیا لعینہ ہے اور جو کچھ دنیا میں ہے سب لعین ہے مگر جس سے رضائے الہی مطلوب ہو(اس کو طبرانی نے کبیر میں ابی الدرداء رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کیا ہے۔ ت)
رب عزوجل فرماتاہے :
حوالہ / References
حلیۃ الاولیاء ترجمہ ۲۳۰ محمد بن المنکدر دارالکتاب العربی بیروت ۳ / ۱۵۷
سنن ابن ماجہ ابواب الزہد باب مثل الدنیا ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۳۔ ۳۱۲
مجمع الزوائد بحوالہ المعجم الکبیر کتاب الزہد باب ماجاء فی الریاء دارالکتاب بیروت ۱۰ / ۲۲۲
سنن ابن ماجہ ابواب الزہد باب مثل الدنیا ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۳۔ ۳۱۲
مجمع الزوائد بحوالہ المعجم الکبیر کتاب الزہد باب ماجاء فی الریاء دارالکتاب بیروت ۱۰ / ۲۲۲
“ ان الذین یحادون اللہ و رسولہ اولئک فی الاذلین ﴿۲۰﴾ “ بیشك اﷲ ورسول کے مخالف وہی سب ذلیلوں سے ذلیل تروں میں ہیں۔
اور فرماتاہے تبارك وتعالی :
“ ان الذین کفروا من اہل الکتب و المشرکین فی نار جہنم خلدین فیہا اولئک ہم شر البریۃ ﴿۶﴾ ان الذین امنوا و عملوا الصلحت اولئک ہم خیر البریۃ ﴿۷﴾ “ بیشك تمام کافر کتابی ومشرك جہنم کی آگ میں ہیں ہمیشہ اس میں رہیں گے وہ تمام مخلوق الہی سے بدترہیں(اونٹ کی مینگنی سے بدتر کتے سورکے غلیظ سے بدتر)بیشك جو ایمان لائے اور اچھے کام کئے وہ تمام مخلوق الہی سے بہترہیں(کعبہ وعرش سے بہتر ملائکہ سے بہتر)
جب یہ دونوں قسمیں معلوم ہوگئیں اور واضح ہوا کہ قسم اول سے جدا نہیں بلکہ بعینہ اسی کی تعظیم تو محل تحقیر میں غیر اﷲ یا خلق سے یقینا وہی مراد ہوتا ہے جسے مولی عزوجل سے علاقہ قرب نہیں۔ علاقہ قرب والے تو جانب خالق میں ہیں نہ کہ جانب غیر میں دیکھو علماء فرماتے ہیں غیر خدا کے لئے تواضع حرام ہے ملتقط پھر درمختار میں قبیل فصل فی البیع نیز فتاوی عالمگیریہ باب ۲۸ میں ہے : التواضع لغیر اﷲ حرام (غیر اﷲ کے لئے تواضع حرام ہے۔ ت)حالانکہ ماں باپ کے لئے تواضع کا قرآن عظیم میں حکم ہے :
“ و اخفض لہما جناح الذل من الرحمۃ “ ماں باپ کے لئے نرم دل سے ذلت کا بازو بچھا۔
اپنے استاد بلکہ شاگردوں کے لئے بھی تواضع کا حدیث میں حکم ہے :
تواضعوا لمن تعلمون منہ وتواضعوا لمن تعلمونہ ولاتکوا جبابرۃ العلماء ۔ رواہ جس سے علم سیکھتے ہو اس کے لئے تواضع کرو اور جسے سکھاتے ہو اس کے لئے تواضع کرو۔ اور گردن کش عالم
اور فرماتاہے تبارك وتعالی :
“ ان الذین کفروا من اہل الکتب و المشرکین فی نار جہنم خلدین فیہا اولئک ہم شر البریۃ ﴿۶﴾ ان الذین امنوا و عملوا الصلحت اولئک ہم خیر البریۃ ﴿۷﴾ “ بیشك تمام کافر کتابی ومشرك جہنم کی آگ میں ہیں ہمیشہ اس میں رہیں گے وہ تمام مخلوق الہی سے بدترہیں(اونٹ کی مینگنی سے بدتر کتے سورکے غلیظ سے بدتر)بیشك جو ایمان لائے اور اچھے کام کئے وہ تمام مخلوق الہی سے بہترہیں(کعبہ وعرش سے بہتر ملائکہ سے بہتر)
جب یہ دونوں قسمیں معلوم ہوگئیں اور واضح ہوا کہ قسم اول سے جدا نہیں بلکہ بعینہ اسی کی تعظیم تو محل تحقیر میں غیر اﷲ یا خلق سے یقینا وہی مراد ہوتا ہے جسے مولی عزوجل سے علاقہ قرب نہیں۔ علاقہ قرب والے تو جانب خالق میں ہیں نہ کہ جانب غیر میں دیکھو علماء فرماتے ہیں غیر خدا کے لئے تواضع حرام ہے ملتقط پھر درمختار میں قبیل فصل فی البیع نیز فتاوی عالمگیریہ باب ۲۸ میں ہے : التواضع لغیر اﷲ حرام (غیر اﷲ کے لئے تواضع حرام ہے۔ ت)حالانکہ ماں باپ کے لئے تواضع کا قرآن عظیم میں حکم ہے :
“ و اخفض لہما جناح الذل من الرحمۃ “ ماں باپ کے لئے نرم دل سے ذلت کا بازو بچھا۔
اپنے استاد بلکہ شاگردوں کے لئے بھی تواضع کا حدیث میں حکم ہے :
تواضعوا لمن تعلمون منہ وتواضعوا لمن تعلمونہ ولاتکوا جبابرۃ العلماء ۔ رواہ جس سے علم سیکھتے ہو اس کے لئے تواضع کرو اور جسے سکھاتے ہو اس کے لئے تواضع کرو۔ اور گردن کش عالم
حوالہ / References
القرآن الکریم ۵۸ /۲۰
القرآن الکریم ۹۸ /۶ و ۷
الدرالمختار کتاب الحظروالاباحۃ باب الاستبراء مطبع مجتبائی دہلی ۲ / ۲۴۵
القرآن الکریم ۱۷ /۲۴
الجامع لاخلاق الراوی عن عمر باب ذکر ماینبغی للراوی والسامع دارالکتب العلمیہ بیروت ص۱۹ ، اتحاف السادہ عن ابی ہریرہ فضیلۃ الحلم دارالفکر بیروت ۸ / ۲۷
القرآن الکریم ۹۸ /۶ و ۷
الدرالمختار کتاب الحظروالاباحۃ باب الاستبراء مطبع مجتبائی دہلی ۲ / ۲۴۵
القرآن الکریم ۱۷ /۲۴
الجامع لاخلاق الراوی عن عمر باب ذکر ماینبغی للراوی والسامع دارالکتب العلمیہ بیروت ص۱۹ ، اتحاف السادہ عن ابی ہریرہ فضیلۃ الحلم دارالفکر بیروت ۸ / ۲۷
الخطیب عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ۔ نہ بنو(اسے خطیب نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کیا۔ ت)
بلکہ خود حضور سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکو رب عزوجل نے صحابہ کی تواضع فرمانے کا حکم دیا ہے :
“ واخفض جناحک للمؤمنین ﴿۸۸﴾ “ مومنوں کے لئے اپنا پہلو جھکائے۔ اور فرمایا :
“ واخفض جناحک لمن اتبعک من المؤمنین ﴿۲۱۵﴾ “ ۔ اپنے پیرو ایمان والوں کے لئے اپنا بازو نرم فرمائیے۔
بات وہی ہے کہ ایسی جگہ غیر اﷲ سے وہی مراد جسے اﷲ سے علاقہ نہ ہو ولہذا ردالمحتار میں اس عبارت درمختار کی شرح کی : ای اذلال النفس لنیل الدنیا یعنی تواضع لغیر کا یہ مطلب ہے کہ دنیا ملنے کے لئے اپنے آپ کو کسی کے سامنے ذلیل کرنا۔ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا :
لعن اﷲ من ذبح لغیر اﷲ رواہ احمد ومسلم و النسائی عن امیر المومنین علی کرم اﷲ وجہہ۔ اﷲ کی لعنت اس پر جو غیر خدا کے لئے ذبح کرے(اسے احمد اور مسلم اور نسائی نے امیر المومنین علی کرم اﷲ وجہہ سے روایت کیا۔ ت)
حالانکہ خود حدیث کا ارشاد ہے :
من ذبح لضیفہ ذبیحۃ کانت فدائہ من النار ۔ رواہ الحاکم فی تاریخہ عن جابر رضی اﷲ تعالی عنہ۔ جو اپنے مہمان کے لئے جانور ذبح کرے وہ دوزخ سے اس کا فدیہ ہوجائے(اسے حاکم نے اپنی تاریخ میں جابر رضی اﷲ
تعالی عنہ سے روایت کیا۔ ت)
تو وجہ وہی ہے کہ اکرام مہمان اخلاق سے تھا اور مکارم اخلاق سے رضائے الہی مطلوب مہمان کے لئے ذبح کرنا غیر اﷲ کے لئے ذبح نہ ہوا بلکہ اﷲ عزوجل ہی کے لئے صوفی کہ غیر خدا کی تحقیر کرے اور اسے اونٹ کی
بلکہ خود حضور سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکو رب عزوجل نے صحابہ کی تواضع فرمانے کا حکم دیا ہے :
“ واخفض جناحک للمؤمنین ﴿۸۸﴾ “ مومنوں کے لئے اپنا پہلو جھکائے۔ اور فرمایا :
“ واخفض جناحک لمن اتبعک من المؤمنین ﴿۲۱۵﴾ “ ۔ اپنے پیرو ایمان والوں کے لئے اپنا بازو نرم فرمائیے۔
بات وہی ہے کہ ایسی جگہ غیر اﷲ سے وہی مراد جسے اﷲ سے علاقہ نہ ہو ولہذا ردالمحتار میں اس عبارت درمختار کی شرح کی : ای اذلال النفس لنیل الدنیا یعنی تواضع لغیر کا یہ مطلب ہے کہ دنیا ملنے کے لئے اپنے آپ کو کسی کے سامنے ذلیل کرنا۔ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا :
لعن اﷲ من ذبح لغیر اﷲ رواہ احمد ومسلم و النسائی عن امیر المومنین علی کرم اﷲ وجہہ۔ اﷲ کی لعنت اس پر جو غیر خدا کے لئے ذبح کرے(اسے احمد اور مسلم اور نسائی نے امیر المومنین علی کرم اﷲ وجہہ سے روایت کیا۔ ت)
حالانکہ خود حدیث کا ارشاد ہے :
من ذبح لضیفہ ذبیحۃ کانت فدائہ من النار ۔ رواہ الحاکم فی تاریخہ عن جابر رضی اﷲ تعالی عنہ۔ جو اپنے مہمان کے لئے جانور ذبح کرے وہ دوزخ سے اس کا فدیہ ہوجائے(اسے حاکم نے اپنی تاریخ میں جابر رضی اﷲ
تعالی عنہ سے روایت کیا۔ ت)
تو وجہ وہی ہے کہ اکرام مہمان اخلاق سے تھا اور مکارم اخلاق سے رضائے الہی مطلوب مہمان کے لئے ذبح کرنا غیر اﷲ کے لئے ذبح نہ ہوا بلکہ اﷲ عزوجل ہی کے لئے صوفی کہ غیر خدا کی تحقیر کرے اور اسے اونٹ کی
حوالہ / References
القرآن الکریم ۱۵ /۸۸
القرآن الکریم ۲۶ /۲۱۵
ردالمحتار کتاب الحظرو لاباحۃ باب الاستبراء داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ / ۲۴۶
صحیح مسلم کتاب الاضاحی باب تحریم الذبح لغیر اﷲ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ / ۱۶۰
السیاق فی ذیل التاریخ نیشاپور
القرآن الکریم ۲۶ /۲۱۵
ردالمحتار کتاب الحظرو لاباحۃ باب الاستبراء داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ / ۲۴۶
صحیح مسلم کتاب الاضاحی باب تحریم الذبح لغیر اﷲ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ / ۱۶۰
السیاق فی ذیل التاریخ نیشاپور
مینگنی سے حقیر تر جانے قطعا اسی کی تحقیر کرتاہے جس کی تعظیم تعظیم الہی نہیں۔ جسے مولی عزوجل سے علاقہ نہیں ورنہ جانب خالق کی تحقیر کرے تو وہ خود رب عزوجل کی تحقیر کرے گا۔ یہ صوفی کا کام ہوگا یا ابلیس لعین کا۔ ملعون ملعون ملعون ہے وہ کہ اس سے یہ سمجھے کہ مصحف شریف وانبیاء کرام کو مینگنی سے حقیر تر بتایا ہے کیا ایسا بتانے والا قرآن عظیم کی تکذیب نہیں کرتا کیا خود اﷲ عزوجل کو گالی نہیں دیتا۔ کیا تمام دین وشریعت واسلام پائمال نہیں کرتا۔ قرآن وحدیث وشریعت ودین واسلام وایمان جن کی تعظیم کے حکم سے مملوہیں جن کی ادنی توہین کو کفر بتارہے ہیں۔ کیا ان کی ایسی تحقیر کرنیوالا بجھنم عــــــہ)اس مردود کو مسلمان جاننے والا مسلمان رہ سکتاہے۔
کلا واﷲ “ بل لعنہم اللہ بکفرہم فقلیلا ما یؤمنون﴿۸۸﴾ “ ۔ بلکہ اﷲ نے ان پر لعنت کی ان کے کفر کے سبب تو ان میں تھوڑے ایمان لاتے ہیں۔ (ت)
حضرت مخدوم صاحب تو معاذاﷲ اس معنی ملعون کے وہم سے بھی پاك ہیں۔ ہاں یہی کافروملعون ومرتد و شیطان وابلیس ہیں جو ان کےکلام کو(اگر ان کا کلام ہے)ایسے گندے کفر پر ڈھالتے ہیں “ وما کفر سلیمن ولکن الشیطین “ (سلیمان نے تو کفر نہ کیا ہاں یہ شیطان ہی کافر ہوئے۔ “ قتلہم اللہ انی یؤفکون ﴿۳۰﴾ “ (اﷲ انھیں مارے کہاں اوندھے جاتے ہیں۔ ت) بخلاف ذلیل ضلیل دہلوی اسمعیل علیہ اللوم والتذلیل کہ اس نے چوڑھے چمار سے بھی ذلیل اور ناکارے لوگ اور ذرہ ناچیز سے کم تر یہ ناپاك الفاظ صراحۃ تمام انبیاء کرام و اولیاء عظام علیہم الصلوۃ والسلام کو کہے اس نے شرك کی چار قسمیں گھڑیں اور ان میں صراحۃ انبیاء واولیاء وبھوت پری سب کو یکساں رکھا۔ تفویت الایمان مطبع صدیقی دہلی ۱۲۷۰ھ ص ۹ “ مشکل کے وقت پکارنا شرك ہے “ اس بات میں اولیاء انبیاء شیطان بھوت میں کچھ فرق نہیں جس سے معاملہ کرے گا مشرك ہوجائے گا خواہ انبیاء واولیاء سے کرے خواہ بھوت سے ۔
صفحہ ۱۲ جو کوئی کسی پیر پیغمبر بھوت کو ہاتھ باندھ کر کھڑا ہو یا دور سے قصد کرکے جاوے یا وہاں روشنی
عــــــہ : کذافی الاصل لعلہ “ بجھنم نہیں “
کلا واﷲ “ بل لعنہم اللہ بکفرہم فقلیلا ما یؤمنون﴿۸۸﴾ “ ۔ بلکہ اﷲ نے ان پر لعنت کی ان کے کفر کے سبب تو ان میں تھوڑے ایمان لاتے ہیں۔ (ت)
حضرت مخدوم صاحب تو معاذاﷲ اس معنی ملعون کے وہم سے بھی پاك ہیں۔ ہاں یہی کافروملعون ومرتد و شیطان وابلیس ہیں جو ان کےکلام کو(اگر ان کا کلام ہے)ایسے گندے کفر پر ڈھالتے ہیں “ وما کفر سلیمن ولکن الشیطین “ (سلیمان نے تو کفر نہ کیا ہاں یہ شیطان ہی کافر ہوئے۔ “ قتلہم اللہ انی یؤفکون ﴿۳۰﴾ “ (اﷲ انھیں مارے کہاں اوندھے جاتے ہیں۔ ت) بخلاف ذلیل ضلیل دہلوی اسمعیل علیہ اللوم والتذلیل کہ اس نے چوڑھے چمار سے بھی ذلیل اور ناکارے لوگ اور ذرہ ناچیز سے کم تر یہ ناپاك الفاظ صراحۃ تمام انبیاء کرام و اولیاء عظام علیہم الصلوۃ والسلام کو کہے اس نے شرك کی چار قسمیں گھڑیں اور ان میں صراحۃ انبیاء واولیاء وبھوت پری سب کو یکساں رکھا۔ تفویت الایمان مطبع صدیقی دہلی ۱۲۷۰ھ ص ۹ “ مشکل کے وقت پکارنا شرك ہے “ اس بات میں اولیاء انبیاء شیطان بھوت میں کچھ فرق نہیں جس سے معاملہ کرے گا مشرك ہوجائے گا خواہ انبیاء واولیاء سے کرے خواہ بھوت سے ۔
صفحہ ۱۲ جو کوئی کسی پیر پیغمبر بھوت کو ہاتھ باندھ کر کھڑا ہو یا دور سے قصد کرکے جاوے یا وہاں روشنی
عــــــہ : کذافی الاصل لعلہ “ بجھنم نہیں “
حوالہ / References
القرآن الکریم ۲ /۸۸
القرآن الکریم ۲ /۱۰۲
القرآن الکریم ۹ /۳۰
تقویۃ الایمان باب اول توحید وشرك کے بیان میں مطبع لوہاری گیٹ لاہور ص۶
القرآن الکریم ۲ /۱۰۲
القرآن الکریم ۹ /۳۰
تقویۃ الایمان باب اول توحید وشرك کے بیان میں مطبع لوہاری گیٹ لاہور ص۶
کرے ان کی قبر پر شامیانہ کھڑا کرے وہاں کے گردوپیش کے جنگل کا ادب کرے اس پر شرك ثابت ہے ۔
صفحہ ۲۵ “ جو کوئی کسی نبی ولی بھوت پری کو ایسا جانے وہ مشرك ہے “
صفحہ ۵۱ کسی مخلوق کے نام کا کردیجئے ولی نبی بھوت پری کا سب حرام ہے اور ناپاك او رکرنیوالے پر شرك ثابت
وغیر ذلك مقامات۔ تو اس کاکلام قطعا ماسوی اﷲ کو عام اور خود حضرات انبیاء واولیاء کے بالخصوص نام انھیں بیانات ص ۹ ۱۱ ۱۲ کے ثبوت میں اس نے پانچ فصلیں باندھیں جن میں سے فصل اول ص ۲۲ میں کہا : “ ہماراخالق جب اﷲ ہے تو ہم کو بھی چاہئے اپنے ہر کاموں پر اسی کو پکاریں اور کسی سے ہم کو کیا کام جیسے جو کوئی ایك بادشاہ کا غلام ہوچکا وہ اپنے ہر کام کا علاقہ اسی سے رکھتا ہے دوسرے بادشاہ سے بھی نہیں رکھتاا ور کسی چوڑھے چمار کا کیا ذکر “
ص ۱۶ میں کہا : “ جس نے اﷲ کا حق مخلوق کو دیا توبڑے کا حق ذلیل سے ذلیل کو دیا۔ جیسے بادشاہ کا تاج چما ر کے سر پر اور یہ یقین جان لینا چاہئے کہ ہر مخلوق بڑاہو یا چھوٹا اﷲ کی شان کے آگے چمار سے بھی ذلیل ہے “
فصل سوم ص ۳۵ پرکہا : “ ایسے عاجز لوگوں کو پکارنا کہ کچھ فائدہ اور نقصان نہ پہنچا سکتے۔ محض بے انصافی ہے کہ ایسے بڑے شخص کا مرتبہ ایسے ناکارے لوگوں کو ثابت کیجئے “
فصل پنجم ص ۷۴ پر کہا : “ سب انبیاء واولیاء اس کے رو برو ایك ذرہ ناچیز سے کمتر ہیں “
ان صریح ملعون کلاموں کی سند میں وہ عبارت پیش کرنی کیسی شدید کھلی بے ایمانی ہے مخدوم صاحب نے اگر کہا تو دنیا اور دنیا کی چیزوں کوکہا جن کو اﷲ سے علاقہ نہیں بیشك وہ مینگنی سے حقیر تر ہیں۔ اور اس گمراہ نے صاف صاف یہ چوہڑے چمار سے ذلیل ناکارے لوگ ذرہ ناچیز سے کمتر حضرات انبیاء علیہم الصلوۃ والثناء اور خود سید الانبیاء صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکو کہا “ و سیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون ﴿۲۲۷﴾ “ (اب جان جائیں گے ظالم کہ کس کروٹ پر پلٹا کھاتے ہیں۔ ت)
صفحہ ۲۵ “ جو کوئی کسی نبی ولی بھوت پری کو ایسا جانے وہ مشرك ہے “
صفحہ ۵۱ کسی مخلوق کے نام کا کردیجئے ولی نبی بھوت پری کا سب حرام ہے اور ناپاك او رکرنیوالے پر شرك ثابت
وغیر ذلك مقامات۔ تو اس کاکلام قطعا ماسوی اﷲ کو عام اور خود حضرات انبیاء واولیاء کے بالخصوص نام انھیں بیانات ص ۹ ۱۱ ۱۲ کے ثبوت میں اس نے پانچ فصلیں باندھیں جن میں سے فصل اول ص ۲۲ میں کہا : “ ہماراخالق جب اﷲ ہے تو ہم کو بھی چاہئے اپنے ہر کاموں پر اسی کو پکاریں اور کسی سے ہم کو کیا کام جیسے جو کوئی ایك بادشاہ کا غلام ہوچکا وہ اپنے ہر کام کا علاقہ اسی سے رکھتا ہے دوسرے بادشاہ سے بھی نہیں رکھتاا ور کسی چوڑھے چمار کا کیا ذکر “
ص ۱۶ میں کہا : “ جس نے اﷲ کا حق مخلوق کو دیا توبڑے کا حق ذلیل سے ذلیل کو دیا۔ جیسے بادشاہ کا تاج چما ر کے سر پر اور یہ یقین جان لینا چاہئے کہ ہر مخلوق بڑاہو یا چھوٹا اﷲ کی شان کے آگے چمار سے بھی ذلیل ہے “
فصل سوم ص ۳۵ پرکہا : “ ایسے عاجز لوگوں کو پکارنا کہ کچھ فائدہ اور نقصان نہ پہنچا سکتے۔ محض بے انصافی ہے کہ ایسے بڑے شخص کا مرتبہ ایسے ناکارے لوگوں کو ثابت کیجئے “
فصل پنجم ص ۷۴ پر کہا : “ سب انبیاء واولیاء اس کے رو برو ایك ذرہ ناچیز سے کمتر ہیں “
ان صریح ملعون کلاموں کی سند میں وہ عبارت پیش کرنی کیسی شدید کھلی بے ایمانی ہے مخدوم صاحب نے اگر کہا تو دنیا اور دنیا کی چیزوں کوکہا جن کو اﷲ سے علاقہ نہیں بیشك وہ مینگنی سے حقیر تر ہیں۔ اور اس گمراہ نے صاف صاف یہ چوہڑے چمار سے ذلیل ناکارے لوگ ذرہ ناچیز سے کمتر حضرات انبیاء علیہم الصلوۃ والثناء اور خود سید الانبیاء صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکو کہا “ و سیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون ﴿۲۲۷﴾ “ (اب جان جائیں گے ظالم کہ کس کروٹ پر پلٹا کھاتے ہیں۔ ت)
حوالہ / References
تقویۃ الایمان باب اول توحید وشرك کے بیان میں مطبع علیمی لوہاری گیٹ لاہور ص۸
تقویۃ الایمان الفصل ثانی فی ردالاشراك فی العلم مطبع علیمی لوہاری گیٹ لاہور ص۱۵
تقویۃ الایمان الفصل الرابع فی ذکر ردالاشراك فی العبادات مطبع علیمی لوہاری گیٹ لاہور ص۲۸
تقویۃ الایمان الفصل الاول فی الاجتناب عن الاشراك مطبع علیمی لوہاری گیٹ لاہور ص۱۳
تقویۃ الایمان الفصل الاول فی الاجتناب عن الاشراك مطبع علیمی لوہاری گیٹ لاہور ص۱۰
تقویۃ الایمان الفصل الثالث فی ذکر ردالاشراك فی التصرف مطبع علیمی لوہاری گیٹ لاہور ص۲۰
تقویۃ الایمان الفصل الخامس فی ردالاشراك فی العادات مطبع علیمی لوہاری گیٹ لاہور ص۳۸
القرآن الکریم ۲۶ /۲۲۷
تقویۃ الایمان الفصل ثانی فی ردالاشراك فی العلم مطبع علیمی لوہاری گیٹ لاہور ص۱۵
تقویۃ الایمان الفصل الرابع فی ذکر ردالاشراك فی العبادات مطبع علیمی لوہاری گیٹ لاہور ص۲۸
تقویۃ الایمان الفصل الاول فی الاجتناب عن الاشراك مطبع علیمی لوہاری گیٹ لاہور ص۱۳
تقویۃ الایمان الفصل الاول فی الاجتناب عن الاشراك مطبع علیمی لوہاری گیٹ لاہور ص۱۰
تقویۃ الایمان الفصل الثالث فی ذکر ردالاشراك فی التصرف مطبع علیمی لوہاری گیٹ لاہور ص۲۰
تقویۃ الایمان الفصل الخامس فی ردالاشراك فی العادات مطبع علیمی لوہاری گیٹ لاہور ص۳۸
القرآن الکریم ۲۶ /۲۲۷
خامسا وہابیہ ان میں سے کچھ نہیں مانتے خواہی نخواہی مدعی ہیں کہ حضرت مخدوم نے ایسافرمایا او ریہ کہ تمام انبیاء واولیاء وحضور سید الانبیاء علیہ وعلیہم الصلوۃ والثناء سب کو کہا والعیاذ باﷲ تعالی۔ اب ان سے پوچھئے کہ یہ کہنا تمھارے نزدیك حق ہے یا باطل اگر باطل ہے تو باطل سے سند لانیوالا مکار عیار اور اس سے توہین شان رسالت کا ہلکا پن چاہنے والا کافر بے دین فی النار ہے یا نہیں۔ اور اگرکہیں کہ ہاں وہ حق ہے ۔ اور حضرات انبیاء سید الانبیاء صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلممعاذاﷲ اس ناپاك مثال کے لائق ہیں تو پردہ کھل گیا ہر بچہ ہر بے علم ہر ناخواندہ بشرطیکہ مسلمان ہو اور محمد رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی عظمت پر ایمان سے اس کا دل کچھ بھی حصہ رکھتاہو وہ تین باتوں پر فورا یقین کرے گا :
(۱)یہ جو انبیاء کرام واولیاء عظام وخود حضور اقدس سید الانام علیہ وعلیہم الصلوۃ والسلام کو اس ناپاك گندی مثال کے لائق بتارہے ہیں قطعا کافرہیں۔ اور اﷲ ورسول کے کھلے دشمن کیا اسلام نے محمد رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی یہی عظمت سکھائی ہے۔ “ الا لعنۃ اللہ علی الظلمین ﴿۱۸﴾ “ (ارے ظالموں پر خدا کی لعنت۔ ت)
(۲)اسے صاف روشن ہوجائے گاکہ ہر گز حضرت مخدوم صاحب نے ایسی ملعون بات نہ فرمائی نہ وہ یاکوئی مسلمان ایسا کہہ سکتاہے جن کے غلامان غلام کے غلامان غلاموں کی عمر بھر کفش برداری سے حضرت مخدوم صاحب حضرت مخدوم صاحب ہوئے اگر انھیں کو ایسا ناپاك بتاتے تو خود کہاں رہتے۔ اور اپنے آپ اس سے کتنے لاکھ درجے بدتر گندی گھناؤنی ذلیل ناپاك مثال کے قابل ہوتے نہ کہ سند لانے کے لائق مگر حاشاﷲ بات وہی ہے کہ “ وما کفر سلیمن ولکن الشیطین کفروا “ (اور سلیمان نے کفر نہ کیا ہاں شیطان کافر ہوئے۔ ت)حضرت مخدوم صاحب نے تو کفر نہ کیا یہ شیاطین ہی کفر کر رہے ہیں۔
(۳)کھل جائیگا کہ اسمعیل دہلوی کے نجس اقوال ایسے ہی خبیث وناپاك ہیں کہ ان کے بنانے کے لئے انبیاء واولیاء وخود محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وعلیہم وسلم کو ایسی گندی مثال ایسی سڑی دشنامیں دینے کی حاجت ہوتی ہے۔ پھر وہ گالیاں اﷲ رسول پر تو چسپاں ہو نہیں سکتیں۔ وہ پاك ومنزہ ہیں۔ انھیں اسمعیل پرستوں کے کفر خبیث پر اور رجسٹری ہوتی ہے کہ ان کے دل میں اتنی قدر ہے۔
(۱)یہ جو انبیاء کرام واولیاء عظام وخود حضور اقدس سید الانام علیہ وعلیہم الصلوۃ والسلام کو اس ناپاك گندی مثال کے لائق بتارہے ہیں قطعا کافرہیں۔ اور اﷲ ورسول کے کھلے دشمن کیا اسلام نے محمد رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی یہی عظمت سکھائی ہے۔ “ الا لعنۃ اللہ علی الظلمین ﴿۱۸﴾ “ (ارے ظالموں پر خدا کی لعنت۔ ت)
(۲)اسے صاف روشن ہوجائے گاکہ ہر گز حضرت مخدوم صاحب نے ایسی ملعون بات نہ فرمائی نہ وہ یاکوئی مسلمان ایسا کہہ سکتاہے جن کے غلامان غلام کے غلامان غلاموں کی عمر بھر کفش برداری سے حضرت مخدوم صاحب حضرت مخدوم صاحب ہوئے اگر انھیں کو ایسا ناپاك بتاتے تو خود کہاں رہتے۔ اور اپنے آپ اس سے کتنے لاکھ درجے بدتر گندی گھناؤنی ذلیل ناپاك مثال کے قابل ہوتے نہ کہ سند لانے کے لائق مگر حاشاﷲ بات وہی ہے کہ “ وما کفر سلیمن ولکن الشیطین کفروا “ (اور سلیمان نے کفر نہ کیا ہاں شیطان کافر ہوئے۔ ت)حضرت مخدوم صاحب نے تو کفر نہ کیا یہ شیاطین ہی کفر کر رہے ہیں۔
(۳)کھل جائیگا کہ اسمعیل دہلوی کے نجس اقوال ایسے ہی خبیث وناپاك ہیں کہ ان کے بنانے کے لئے انبیاء واولیاء وخود محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وعلیہم وسلم کو ایسی گندی مثال ایسی سڑی دشنامیں دینے کی حاجت ہوتی ہے۔ پھر وہ گالیاں اﷲ رسول پر تو چسپاں ہو نہیں سکتیں۔ وہ پاك ومنزہ ہیں۔ انھیں اسمعیل پرستوں کے کفر خبیث پر اور رجسٹری ہوتی ہے کہ ان کے دل میں اتنی قدر ہے۔
اﷲ واحد قہار کے حبیب اکرم وخلیفہ اعظم محمد رسول اﷲ کی(صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم)۔
واخذ اعداءہ باشد النقم امین ولاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم۔ واﷲ تعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
اﷲ تعالی آپ کے دشمنوں سے سخت انتقام لے ولا حول ولاقوۃ الا باﷲ العلی العظیم۔ واﷲ تعالی اعلم۔ اس جل مجدہ کا علم اتم واکمل ہے۔ (ت)
کتب عبدہ المذنب احمد رضاخاں البریلوی عفی عنہ
بمحمدن المصطفی النبی الامی صلی اﷲ علیہ وسلم۔
واخذ اعداءہ باشد النقم امین ولاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم۔ واﷲ تعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
اﷲ تعالی آپ کے دشمنوں سے سخت انتقام لے ولا حول ولاقوۃ الا باﷲ العلی العظیم۔ واﷲ تعالی اعلم۔ اس جل مجدہ کا علم اتم واکمل ہے۔ (ت)
کتب عبدہ المذنب احمد رضاخاں البریلوی عفی عنہ
بمحمدن المصطفی النبی الامی صلی اﷲ علیہ وسلم۔
رسالہ السوء والعقاب علی المسیح الکذاب۱۳۲۰ھ
(جھوٹے مسیح پر وبال اور عذاب)
مسئلہ۷۸ : از امر تسر کڑہ گر باسنگھ کوچہ ٹنڈ ا شاہ مرسلہ جناب مولانا مولوی محمد عبدالغنی صاحب واعظ ۲۱ ربیع الآخر شریف ۱۳۲۰ھ
باسمہ سبحانہ مستفتی نے ظاہر کیا کہ ایك شخص نے درآنحا لیکہ مسلمان تھا ایك مسلمہ سے نکاح کیا زوجین ایك عرصہ تك باہم مباشرت کرتے رہے اولاد بھی ہوئی اب کسی قدر عرصہ سے شخص مذکور مرزاقادیانی کے مریدوں میں منسلك ہو کر صبغ عقائد کفریہ مرزائیہ سے مصطبغ ہو کر علی رؤس الاشہاد ضروریات دین سے انکار کرتا رہتا ہے سو مطلوب عن الاظہار یہ ہے کہ شخص مذکور شرعا مرتد ہوچکا اور اس کی منکوحہ اس کی زوجیت سے علیحدہ ہوچکی اور منکوحہ مذکورہ کا کل مہر معجل مؤجل مرتد مذکور کے ذمہ ہے اولاد صغار اپنے والد مرتد کی ولایت سے نکل چکی یا نہ بینوا تؤجروا(بیان کر کے اجر حاصل کیجئے۔ ت)
خلاصہ جوابات امرتسر :
(۱)شخص مذکور بباعث آنکہ بہم عقیدہ مرزا کا ہے جو باتفاق علمائے دین کا فر ہے مرتد ہوچکا منکوحہ
(جھوٹے مسیح پر وبال اور عذاب)
مسئلہ۷۸ : از امر تسر کڑہ گر باسنگھ کوچہ ٹنڈ ا شاہ مرسلہ جناب مولانا مولوی محمد عبدالغنی صاحب واعظ ۲۱ ربیع الآخر شریف ۱۳۲۰ھ
باسمہ سبحانہ مستفتی نے ظاہر کیا کہ ایك شخص نے درآنحا لیکہ مسلمان تھا ایك مسلمہ سے نکاح کیا زوجین ایك عرصہ تك باہم مباشرت کرتے رہے اولاد بھی ہوئی اب کسی قدر عرصہ سے شخص مذکور مرزاقادیانی کے مریدوں میں منسلك ہو کر صبغ عقائد کفریہ مرزائیہ سے مصطبغ ہو کر علی رؤس الاشہاد ضروریات دین سے انکار کرتا رہتا ہے سو مطلوب عن الاظہار یہ ہے کہ شخص مذکور شرعا مرتد ہوچکا اور اس کی منکوحہ اس کی زوجیت سے علیحدہ ہوچکی اور منکوحہ مذکورہ کا کل مہر معجل مؤجل مرتد مذکور کے ذمہ ہے اولاد صغار اپنے والد مرتد کی ولایت سے نکل چکی یا نہ بینوا تؤجروا(بیان کر کے اجر حاصل کیجئے۔ ت)
خلاصہ جوابات امرتسر :
(۱)شخص مذکور بباعث آنکہ بہم عقیدہ مرزا کا ہے جو باتفاق علمائے دین کا فر ہے مرتد ہوچکا منکوحہ
زوجیت سے علیحدہ ہوچکی کل مہر بذمہ مرتد واجب الادا ہوچکا مرتد کو اپنی اولاد صغار پر ولایت نہیں۔
(ابو محمد زبیر غلام رسول الحنفی القاسمی عفی عنہ)
(۲)شك نہیں کہ مرزا قادیانی اپنے آپ کو رسول اﷲ نبی اﷲ کہتا ہے اور اس کے مرید اس کو نبی مرسل جانتے ہیں اور دعوی نبوت کا بعد رسول اﷲ کے بالاجماع کفر ہے جب اس طائفے کا ارتداد ثابت ہوا پس مسلمہ ایسے شخص کے نکاح سے خارج ہوگئی ہے عورت کو مہر ملنا ضروری ہے اور اولاد کی ولایت بھی ماں کا حق ہے عبدالجبار بن عبداﷲ الغزنوی۔
(۳)لا یشك فی ارتداد من نسب المسمریزم الذی ھو من اقسام السحر الی الانبیاء علیھم السلام واھان روح اﷲ عیسی بن مریم علیھما السلام وادعی النبوۃ وغیرھا من الکفریات کالمرزا فنکاح المسلمۃ لا شك فی فسخہ لکن لھا المھر والاولاد الصغائر ابو الحسن غلام مصطفی عفی عنہ۔ ترجمہ : بیشك جو شخص جادو کی قسم مسمریزم کو انبیاء علیہم السلام کی طرف منسوب کرے اور حضرت روح اﷲ عیسی بن مریم علیہما السلام کی توہین کرے اور نبوت کا دعوی وغیرہ کفریات کا ارتکاب کرے جیسے مرزا قادیانی تو اس کے مرتد ہونے میں کیا شك ہے تو مسلمان عورت کا اس سے نکاح بلا شك فسخ ہوجائے گا لیکن اس مسلمان عورت کو مہر و اولاد کا استحقاق ہے۔ (ابوالحسن غلام مصطفی عفی عنہ۔ ت)
(۴)شك نہیں کہ مرزا کے معتقدات کا معتقد مرتد ہے نکاح منفسخ ہوا اولاد عورت کو دی جائے گی عورت کا مل مہر لے سکتی ہے۔ (ابو محمد یوسف غلام محی الدین عفی عنہ)
(۵)انچہ علمائے کرام از عرب وہند و پنجاب در تکفیر مرزا قادیانی و معتقدان وے فتوی دادہ اند ثابت و صحیح ست قادیانی خود را نبی و مرسل یزدانی قرار میدہد وتوہین وتحقیر انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام وانکار معجزات شیوہ اوست کہ از تحریر اتش پر ظاہر ست(نقل عبارات ازالہ رسائل مرزاست)۔
(احقر عباد اﷲ العلی واعظ محمد عبدالغنی) علماء عرب وہند و پنجاب نے مرزا قادیانی اور اس کے معتقدین کی تکفیر کا جو فتوی دیا ہے وہ صحیح و ثابت ہے مرزا قادیانی اپنے کو نبی و رسول یزدانی قرار دیتا ہے اور انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کی توہین و تحقیر کرنا اور معجزات کا انکار کرنا اس کا شیوہ ہے۔ جیسا کہ اس کی تحریروں سے ظاہر ہے(یہ عبارات ازالہ اوہام میں منقول ہیں جو کہ مرزا کے رسائل میں سے ایك رسالہ ہے)احقر عباد اﷲ العلی واعظ محمد عبدالغنی(ت)
(ابو محمد زبیر غلام رسول الحنفی القاسمی عفی عنہ)
(۲)شك نہیں کہ مرزا قادیانی اپنے آپ کو رسول اﷲ نبی اﷲ کہتا ہے اور اس کے مرید اس کو نبی مرسل جانتے ہیں اور دعوی نبوت کا بعد رسول اﷲ کے بالاجماع کفر ہے جب اس طائفے کا ارتداد ثابت ہوا پس مسلمہ ایسے شخص کے نکاح سے خارج ہوگئی ہے عورت کو مہر ملنا ضروری ہے اور اولاد کی ولایت بھی ماں کا حق ہے عبدالجبار بن عبداﷲ الغزنوی۔
(۳)لا یشك فی ارتداد من نسب المسمریزم الذی ھو من اقسام السحر الی الانبیاء علیھم السلام واھان روح اﷲ عیسی بن مریم علیھما السلام وادعی النبوۃ وغیرھا من الکفریات کالمرزا فنکاح المسلمۃ لا شك فی فسخہ لکن لھا المھر والاولاد الصغائر ابو الحسن غلام مصطفی عفی عنہ۔ ترجمہ : بیشك جو شخص جادو کی قسم مسمریزم کو انبیاء علیہم السلام کی طرف منسوب کرے اور حضرت روح اﷲ عیسی بن مریم علیہما السلام کی توہین کرے اور نبوت کا دعوی وغیرہ کفریات کا ارتکاب کرے جیسے مرزا قادیانی تو اس کے مرتد ہونے میں کیا شك ہے تو مسلمان عورت کا اس سے نکاح بلا شك فسخ ہوجائے گا لیکن اس مسلمان عورت کو مہر و اولاد کا استحقاق ہے۔ (ابوالحسن غلام مصطفی عفی عنہ۔ ت)
(۴)شك نہیں کہ مرزا کے معتقدات کا معتقد مرتد ہے نکاح منفسخ ہوا اولاد عورت کو دی جائے گی عورت کا مل مہر لے سکتی ہے۔ (ابو محمد یوسف غلام محی الدین عفی عنہ)
(۵)انچہ علمائے کرام از عرب وہند و پنجاب در تکفیر مرزا قادیانی و معتقدان وے فتوی دادہ اند ثابت و صحیح ست قادیانی خود را نبی و مرسل یزدانی قرار میدہد وتوہین وتحقیر انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام وانکار معجزات شیوہ اوست کہ از تحریر اتش پر ظاہر ست(نقل عبارات ازالہ رسائل مرزاست)۔
(احقر عباد اﷲ العلی واعظ محمد عبدالغنی) علماء عرب وہند و پنجاب نے مرزا قادیانی اور اس کے معتقدین کی تکفیر کا جو فتوی دیا ہے وہ صحیح و ثابت ہے مرزا قادیانی اپنے کو نبی و رسول یزدانی قرار دیتا ہے اور انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کی توہین و تحقیر کرنا اور معجزات کا انکار کرنا اس کا شیوہ ہے۔ جیسا کہ اس کی تحریروں سے ظاہر ہے(یہ عبارات ازالہ اوہام میں منقول ہیں جو کہ مرزا کے رسائل میں سے ایك رسالہ ہے)احقر عباد اﷲ العلی واعظ محمد عبدالغنی(ت)
(۶)احقر العباد خدا بخش امام مسجد شیخ خیرالدین۔
(۷)شك نہیں کہ مرزا قادیانی مدعی نبوت و رسالت ہے(نقل عبارات کثیرہ ازالہ وغیر ہا تحریرات مرزا)پس ایسا شخص کا فر تو کیا میرا وجدان یہی کہتا ہے کہ اس کو خدا پر بھی ایمان نہیں ابوالو فاء ثناء اﷲ کفاہ اﷲ مصنف تفسیر ثنائی امرتسری۔
(۸)قادیانی کی کتابوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کو ضروریات دین سے انکار ہے نیز دعوی رسالت کا بھی چنانچہ(ایك غلطی کا ازالہ)میں اس نے صراحتا لکھا ہے کہ میں رسول ہوں۔ لہذا غلام احمد اور اس کے معتقدین بھی کافر بلکہ اکفر ہوئے مرتد کا نکاح فسخ ہوجاتا ہے اولاد صغار والد کے حق سے نکل جاتی ہے پس مرزائی مرتد سے اولاد لے لینی چاہیے اور مہر معجل اور مؤجل لے کر عورت کو اس سے علیحدہ کرناچاہیے۔ (ابوتراب محمد عبدالحق بازار صابونیاں)
(۹)مرزائی مرتد ہیں اور انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کے منکر معجزات کو مسمریزم تحریر کیا ہے مرزا کافر ہے مرزا سے جو دوست ہو یا اس کے دوست سے دوست وہ بھی کافر مرتد ہے۔
(صاحبزادہ صاحب سید ظہور الحسن قادری فاضلی سجادہ نشین حضرات سادات جیلانی بٹالہ شریف)
(۱۰)آنحضرت صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے بعد نبوت و رسالت کا دعوی اور ضروریات دین کا انکار بیشك کفر وارتداد ہے ایسے شخص پر قادیانی ہو یا غیر مرتدوں کے احکام جاری ہوں گے۔ (نور احمد عفی عنہ)
از جناب مولانا مولوی محمد عبدالغنی صاحب امرتسری باسم سامی حضرت عالم اہلسنت دام ظلہم العالی
بخدمت شریف جناب فیض مآب قامع فساد و بدعات دافع جہالت وضلالات مفخر العلماء الحنفیہ قاطع اصول الفرقۃ الضالۃ النجدیہ مولانا مولوی محمد احمد رضاخاں صاحب متعنا اﷲ بعلمہ تحفہ تحیات وتسلیمات مسنونہ رسانیدہ مکشوف ضمیر مہر انجلا آنکہ چوں دریں بلا داز مدت مدیدہ بہ ظہور دجال کذاب قادیانی فتور وفساد برخاستہ است بموجب حکم آزادگی بہ ہیچ صورتے درچنگ علما آں د ہری رہزن دین اسلام نمی آید اکنوں ایں واقعہ درخانہ بخدمت شریف جناب فیض مآب قامع فساد و بدعات جہالت و گمراہی کو دفع کرنے والے حنفی علماء کا فخر گمراہ نجدی فرقہ کے اصول کو مٹانے والے مولانامولوی احمد رضا خاں صاحب اﷲ تعالی ہمیں اس کے علوم سے بہرہ ور فرمائے سلام وتحیت مسنونہ پیش ہوں دلی مراد واضح ہو کہ جب سے اس علاقہ میں قادیانی فتور وفساد برپا ہواہے قانونی آزادی کی وجہ سے اس بے دین اسلام کے ڈاکو پر علماء کی گرفت نہ ہوسکی ابھی ایك واقعہ حنفی شخص کے ہاں ہوا ہے کہ اس کے نکاح میں مسلمان عورت
(۷)شك نہیں کہ مرزا قادیانی مدعی نبوت و رسالت ہے(نقل عبارات کثیرہ ازالہ وغیر ہا تحریرات مرزا)پس ایسا شخص کا فر تو کیا میرا وجدان یہی کہتا ہے کہ اس کو خدا پر بھی ایمان نہیں ابوالو فاء ثناء اﷲ کفاہ اﷲ مصنف تفسیر ثنائی امرتسری۔
(۸)قادیانی کی کتابوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کو ضروریات دین سے انکار ہے نیز دعوی رسالت کا بھی چنانچہ(ایك غلطی کا ازالہ)میں اس نے صراحتا لکھا ہے کہ میں رسول ہوں۔ لہذا غلام احمد اور اس کے معتقدین بھی کافر بلکہ اکفر ہوئے مرتد کا نکاح فسخ ہوجاتا ہے اولاد صغار والد کے حق سے نکل جاتی ہے پس مرزائی مرتد سے اولاد لے لینی چاہیے اور مہر معجل اور مؤجل لے کر عورت کو اس سے علیحدہ کرناچاہیے۔ (ابوتراب محمد عبدالحق بازار صابونیاں)
(۹)مرزائی مرتد ہیں اور انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کے منکر معجزات کو مسمریزم تحریر کیا ہے مرزا کافر ہے مرزا سے جو دوست ہو یا اس کے دوست سے دوست وہ بھی کافر مرتد ہے۔
(صاحبزادہ صاحب سید ظہور الحسن قادری فاضلی سجادہ نشین حضرات سادات جیلانی بٹالہ شریف)
(۱۰)آنحضرت صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے بعد نبوت و رسالت کا دعوی اور ضروریات دین کا انکار بیشك کفر وارتداد ہے ایسے شخص پر قادیانی ہو یا غیر مرتدوں کے احکام جاری ہوں گے۔ (نور احمد عفی عنہ)
از جناب مولانا مولوی محمد عبدالغنی صاحب امرتسری باسم سامی حضرت عالم اہلسنت دام ظلہم العالی
بخدمت شریف جناب فیض مآب قامع فساد و بدعات دافع جہالت وضلالات مفخر العلماء الحنفیہ قاطع اصول الفرقۃ الضالۃ النجدیہ مولانا مولوی محمد احمد رضاخاں صاحب متعنا اﷲ بعلمہ تحفہ تحیات وتسلیمات مسنونہ رسانیدہ مکشوف ضمیر مہر انجلا آنکہ چوں دریں بلا داز مدت مدیدہ بہ ظہور دجال کذاب قادیانی فتور وفساد برخاستہ است بموجب حکم آزادگی بہ ہیچ صورتے درچنگ علما آں د ہری رہزن دین اسلام نمی آید اکنوں ایں واقعہ درخانہ بخدمت شریف جناب فیض مآب قامع فساد و بدعات جہالت و گمراہی کو دفع کرنے والے حنفی علماء کا فخر گمراہ نجدی فرقہ کے اصول کو مٹانے والے مولانامولوی احمد رضا خاں صاحب اﷲ تعالی ہمیں اس کے علوم سے بہرہ ور فرمائے سلام وتحیت مسنونہ پیش ہوں دلی مراد واضح ہو کہ جب سے اس علاقہ میں قادیانی فتور وفساد برپا ہواہے قانونی آزادی کی وجہ سے اس بے دین اسلام کے ڈاکو پر علماء کی گرفت نہ ہوسکی ابھی ایك واقعہ حنفی شخص کے ہاں ہوا ہے کہ اس کے نکاح میں مسلمان عورت
یك شخص حنفی شد کہ زنے مسلمہ درعقد شخصے بود ہ آں مرد مرزائی گردید زن مذکورہ ازوے ایں کفریات شنیدہ گریز نمودہ بخانہ پدر رسید لہذا برائے آں و برائے سد آیندہ و تنبیہ مرزائیاں فتوی ہذا طبع کردہ آید امید کہ آں حضرت ہم بمہر ودستخط شریف خود مزین فرمایند کہ باعث افتخار با شد سفیر از ند وہ کدام مولوی غلام محمد ہوشیار پوری وارد امرتسر ازمدت دو ماہ شدہ است فتوائے ہذا نزد وے فرستادم مشار الیہ دستخط ننمود وگفت اگر دریں فتوی دستخط کنم ندوہ ازمن بیزار شو د خاکش بدہن ازیں جہت مرد ماں بلدہ را بسیار بدظنی درحق ندوہ می شود زیادہ چہ نوشتہ آید جزاکم اﷲ عن الاسلام و المسلمین۔ الملتمس بندہ کثیر المعاصی واعظ محمد عبدالغنی از امرتسر کڑہ گربا سنگھ کوچہ ٹنڈا شاہ۔ تھی وہ شخص مرزائی ہوگیا اس کی مذکورہ عورت نے اس کے کفریات سن کر اس سے علیحدگی اختیار کر کے اپنے والد کے گھر چلی گئی لہذا اس واقعہ اور آئندہ سد باب اور مرزائیوں کی تنبیہ کے لئے یہ فتوی طبع کرایا ہے امید ہے کہ آپ بھی اپنی مہر اور دستخط سے اس کو مزین فرمائیں گے جو کہ باعث افتخار ہوگا۔ ندوہ کا ایك نمائندہ مولوی غلام محمد ہوشیارپوری دو ماہ سے امرتسر میں آیا ہوا ہے میں نے یہ فتوی اس کے پاس بھیجا تاکہ وہ دستخط کردے تو اس نے کہا اگر میں نے اس فتوی پر دستخط کئے تو ندوہ والے مجھ سے ناراض ہوجائیں گے اس کے منہ میں خاك ہو اس کی اس بات کی وجہ سے شہر کے لوگ ندوہ والوں سے نہایت بدظن ہوگئے ہیں۔ مزید کیا لکھوں اﷲ تعالی آپ کو اسلام اور مسلمانوں کی طرف سے جزاء عطا فرمائے الملتمس گنہگار بندہ واعظ محمد عبدالغنی از امرتسر کڑہ گر با سنگھ کوچہ ٹنڈا شاہ۔ (ت)
الجواب :
الحمدﷲ وحدہ والصلوۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ وعلی الہ و صحبہ المکرمین عندہ رب انی اعوذ بك من ھمزات الشیطین واعوذبك رب ان یحضرون۔ (تمام تعریفیں اﷲ وحدہ لا شریك کے لئے ہیں اور صلوۃ و سلام اس ذات پر جس کے بعد نبی نہیں ہے اور اس کی آل و اصحاب پر جو عزت و کرامت والے ہیں اے رب!میں تیری پناہ چاہتا ہوں شیطان کی کھلی بدگوئیوں سے اور تیری پناہ چاہتا ہوں انکے حاضر ہونے سے۔ ت)
اﷲ عزوجل د ین حق پر استقامت عطا فرمائے اور ہر ضلال و وبال ونکال سے بچائے قادیانی مرزا کا اپنے آپ کو مسیح و مثل مسیح کہنا تو شہرہ آفاق ہے اور بحکم آنکہ ع
الجواب :
الحمدﷲ وحدہ والصلوۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ وعلی الہ و صحبہ المکرمین عندہ رب انی اعوذ بك من ھمزات الشیطین واعوذبك رب ان یحضرون۔ (تمام تعریفیں اﷲ وحدہ لا شریك کے لئے ہیں اور صلوۃ و سلام اس ذات پر جس کے بعد نبی نہیں ہے اور اس کی آل و اصحاب پر جو عزت و کرامت والے ہیں اے رب!میں تیری پناہ چاہتا ہوں شیطان کی کھلی بدگوئیوں سے اور تیری پناہ چاہتا ہوں انکے حاضر ہونے سے۔ ت)
اﷲ عزوجل د ین حق پر استقامت عطا فرمائے اور ہر ضلال و وبال ونکال سے بچائے قادیانی مرزا کا اپنے آپ کو مسیح و مثل مسیح کہنا تو شہرہ آفاق ہے اور بحکم آنکہ ع
عیب می جملہ بگفتی ہنرش نیز بگو
(شراب کے تمام عیب بیان کئے اب اس کے ہنر بھی بیان کر۔ ت)
فقیر کو بھی اس دعوی سے اتفاق ہے مرزا کے مسیح و مثل مسیح ہونے میں اصلا شك نہیں مگر لا واﷲ نہ مسیح کلمۃ اﷲ علیہ صلوۃ اﷲ بلکہ مسیح دجال علیہ اللعن و النکال پہلے اس ادعائے کاذب کی نسبت سہارن پور سے سوال آیا تھا جس کا ایك مبسوط جواب ولد اعز فاضل نوجوان مولوی حامد رضا خاں محمد حفظہ اﷲ تعالی نے لکھا اور بنام تاریخی “ الصارم الربانی علی اسراف القادیانی “ مسمی کیا۔ یہ رسالہ حامی سنن ماحی فتن ندوہ شکن ندوی فگن مکر منا قاضی عبدا لوحید صاحب حنفی فردوسی صین عن الفتن نے اپنے رسالہ مبارکہ تحفہ حنفیہ میں کہ عظیم آباد سے ماہوار شائع ہوتا ہے طبع فرمادیا بحمد اﷲ تعالی اس شہر میں مرزا کا فتنہ نہ آیا اور اﷲ عزوجل قادر ہے کہ کبھی نہ لائے اس کی تحریرات یہاں نہیں ملتیں مجیب ہفتم نے جو اقوال ملعونہ اس کی کتابوں سے بہ نشان صفحات نقل کئے مثیل مسیح ہونے کے ادعا کو شناعت و نجاست میں ان سے کچھ نسبت نہیں ان میں صاف صاف انکار ضروریات دین اور بوجوہ کثیرہ کفر وارتداد مبین ہے فقیر ان میں سے بعض کی اجمالی تفصیل کرے۔
کفر اول : مرزا کا ایك رسالہ ہے جس کا نام “ ایك غلطی کا ازالہ “ ہے اس کے صفحہ ۶۷۳ پر لکھتا ہے : میں احمد ہوں جو آیت “ مبشرا برسول یاتی من بعدی اسمہ احمد “ میں مراد ہے آیہ کریمہ کا مطلب یہ ہے کہ سیدنا مسیح ربانی عیسی بن مریم روح اﷲ علیہما الصلوۃ والسلام نے بنی اسرائیل سے فرمایا کہ مجھے اﷲ عزوجل نے تمہاری طرف رسول بنا کر بھیجا ہے توریت کی تصدیق کرتا اور اس رسول کی خوشخبری سناتا جو میرے بعد تشریف لانے والا ہے جس کا نام پاك احمد ہے ۔ ازالہ کے قول ملعون مذکور میں صراحتا ادعا ہوا کہ وہ رسول پاك جن کی جلوہ افروزی کا مژدہ حضرت مسیح لائے معاذ اﷲ مرزا قادیانی ہے۔
کفر دوم : توضیح مرام طبع ثانی صفحہ ۹ پر لکھتا ہے کہ “ میں محدث ہوں اور محدث عــــــہ بھی ایك معنی سے نبی ہوتا ہے۔
عــــــہ : لا الہ الا اﷲ لقد کذب عدو اﷲ ایھا المسلمون(اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں دشمن خدا نے جھوٹ بولا اے مسلمانو!۔ ت)سید المحدثین عمر فاروق اعظم رضی اﷲتعالی عنہ ہیں کہ انہیں کے(باقی اگلے صفحہ پر)
(شراب کے تمام عیب بیان کئے اب اس کے ہنر بھی بیان کر۔ ت)
فقیر کو بھی اس دعوی سے اتفاق ہے مرزا کے مسیح و مثل مسیح ہونے میں اصلا شك نہیں مگر لا واﷲ نہ مسیح کلمۃ اﷲ علیہ صلوۃ اﷲ بلکہ مسیح دجال علیہ اللعن و النکال پہلے اس ادعائے کاذب کی نسبت سہارن پور سے سوال آیا تھا جس کا ایك مبسوط جواب ولد اعز فاضل نوجوان مولوی حامد رضا خاں محمد حفظہ اﷲ تعالی نے لکھا اور بنام تاریخی “ الصارم الربانی علی اسراف القادیانی “ مسمی کیا۔ یہ رسالہ حامی سنن ماحی فتن ندوہ شکن ندوی فگن مکر منا قاضی عبدا لوحید صاحب حنفی فردوسی صین عن الفتن نے اپنے رسالہ مبارکہ تحفہ حنفیہ میں کہ عظیم آباد سے ماہوار شائع ہوتا ہے طبع فرمادیا بحمد اﷲ تعالی اس شہر میں مرزا کا فتنہ نہ آیا اور اﷲ عزوجل قادر ہے کہ کبھی نہ لائے اس کی تحریرات یہاں نہیں ملتیں مجیب ہفتم نے جو اقوال ملعونہ اس کی کتابوں سے بہ نشان صفحات نقل کئے مثیل مسیح ہونے کے ادعا کو شناعت و نجاست میں ان سے کچھ نسبت نہیں ان میں صاف صاف انکار ضروریات دین اور بوجوہ کثیرہ کفر وارتداد مبین ہے فقیر ان میں سے بعض کی اجمالی تفصیل کرے۔
کفر اول : مرزا کا ایك رسالہ ہے جس کا نام “ ایك غلطی کا ازالہ “ ہے اس کے صفحہ ۶۷۳ پر لکھتا ہے : میں احمد ہوں جو آیت “ مبشرا برسول یاتی من بعدی اسمہ احمد “ میں مراد ہے آیہ کریمہ کا مطلب یہ ہے کہ سیدنا مسیح ربانی عیسی بن مریم روح اﷲ علیہما الصلوۃ والسلام نے بنی اسرائیل سے فرمایا کہ مجھے اﷲ عزوجل نے تمہاری طرف رسول بنا کر بھیجا ہے توریت کی تصدیق کرتا اور اس رسول کی خوشخبری سناتا جو میرے بعد تشریف لانے والا ہے جس کا نام پاك احمد ہے ۔ ازالہ کے قول ملعون مذکور میں صراحتا ادعا ہوا کہ وہ رسول پاك جن کی جلوہ افروزی کا مژدہ حضرت مسیح لائے معاذ اﷲ مرزا قادیانی ہے۔
کفر دوم : توضیح مرام طبع ثانی صفحہ ۹ پر لکھتا ہے کہ “ میں محدث ہوں اور محدث عــــــہ بھی ایك معنی سے نبی ہوتا ہے۔
عــــــہ : لا الہ الا اﷲ لقد کذب عدو اﷲ ایھا المسلمون(اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں دشمن خدا نے جھوٹ بولا اے مسلمانو!۔ ت)سید المحدثین عمر فاروق اعظم رضی اﷲتعالی عنہ ہیں کہ انہیں کے(باقی اگلے صفحہ پر)
حوالہ / References
توضیح المرام مطبوعہ ریاض الہند امرتسر ، ص۱۶
توضیح المرام مطبوعہ ریاض الہند امرتسر ، ص۱۶
توضیح المرام مطبوعہ ریاض الہند امرتسر ، ص۱۶
کفر سوم : دافع البلاء مطبوعہ ریاض ہند صفحہ ۹ پر لکھتا ہے “ سچا خدا وہی ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)واسطے حدیث محدثین آئی۔ انھیں کے صدقے میں ہم نے اس پر اطلاع پائی کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا :
قد کان فیما مضی قبلکم من الامم اناس محدثون فان یکن فی امتی منھم احد فانہ عمر بن الخطاب رواہ احمد والبخاری عن ابی ھریرۃ واحمد ومسلم والترمذی والنسائی عن ام المؤمنین الصدیقۃ رضی اﷲ تعالی عنہما۔ اگلی امتوں میں کچھ لوگ محدث ہوتے تھے یعنی فراست صادقہ و الہام حق والے اگر میری امت میں ان میں سے کوئی ہوگا تووہ ضرور عمر بن خطاب ہے رضی اﷲ تعالی عنہ(اسے احمد اور بخاری نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہسے اور احمد مسلم ترمذی اور نسائی نے ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اﷲ تعالی عنہا سے روایت کیا۔ ت)
فاروق اعظم نے نبوت کے کوئی معنی نہ پائے صرف ارشاد فرمایا :
لوکان بعدی نبی لکان عمر بن الخطاب رواہ احمد و الترمذی والحاکم عن عقبۃ بن عامر والطبرانی فی الکبیر عن عصمۃ بن مالك رضی اﷲ تعالی عنھما۔ اگر میرے بعد کوئی نبی ہوسکتا تو عمر ہوتا (اسے احمد و ترمذی اور حاکم نے عقبہ بن عامر سے اور طبرانی نے کبیر میں عصمۃ بن مالك رضی اﷲتعالی عنہما سے روایت کیا ہے ت)
مگر پنجاب کا محدث حادث کہ حقیقۃ نہ محدث ہے نہ محدث یہ ضرور ایك معنی پر نبی ہوگیا الا لعنۃ اﷲ علی الکذبین (خبردار جھوٹوں پر خدا کی لعنت۔ ت)والعیاذ باﷲ رب العلمین۔
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)واسطے حدیث محدثین آئی۔ انھیں کے صدقے میں ہم نے اس پر اطلاع پائی کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا :
قد کان فیما مضی قبلکم من الامم اناس محدثون فان یکن فی امتی منھم احد فانہ عمر بن الخطاب رواہ احمد والبخاری عن ابی ھریرۃ واحمد ومسلم والترمذی والنسائی عن ام المؤمنین الصدیقۃ رضی اﷲ تعالی عنہما۔ اگلی امتوں میں کچھ لوگ محدث ہوتے تھے یعنی فراست صادقہ و الہام حق والے اگر میری امت میں ان میں سے کوئی ہوگا تووہ ضرور عمر بن خطاب ہے رضی اﷲ تعالی عنہ(اسے احمد اور بخاری نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہسے اور احمد مسلم ترمذی اور نسائی نے ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اﷲ تعالی عنہا سے روایت کیا۔ ت)
فاروق اعظم نے نبوت کے کوئی معنی نہ پائے صرف ارشاد فرمایا :
لوکان بعدی نبی لکان عمر بن الخطاب رواہ احمد و الترمذی والحاکم عن عقبۃ بن عامر والطبرانی فی الکبیر عن عصمۃ بن مالك رضی اﷲ تعالی عنھما۔ اگر میرے بعد کوئی نبی ہوسکتا تو عمر ہوتا (اسے احمد و ترمذی اور حاکم نے عقبہ بن عامر سے اور طبرانی نے کبیر میں عصمۃ بن مالك رضی اﷲتعالی عنہما سے روایت کیا ہے ت)
مگر پنجاب کا محدث حادث کہ حقیقۃ نہ محدث ہے نہ محدث یہ ضرور ایك معنی پر نبی ہوگیا الا لعنۃ اﷲ علی الکذبین (خبردار جھوٹوں پر خدا کی لعنت۔ ت)والعیاذ باﷲ رب العلمین۔
حوالہ / References
دافع البلاء مطبوعہ ضیاء الاسلام قادیان ص ۲۶
صحیح البخاری مناقب عمر بن خطاب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُقدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۵۲۱ ، جامع الترمذی مناقب عمر بن خطاب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُامین کمپنی مکتبہ رشیدیہ دہلی ۲ / ۲۱۰
صحیح البخاری مناقب عمر بن خطاب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُقدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۵۲۰ ، المستدرك للحاکم معرفتہ الصحابۃ دارالفکر ، بیروت ۳ / ۸۵ ، جامع الترمذی مناقب عمر بن خطاب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُامین کمپنی دہلی ۲ / ۲۰۹
صحیح البخاری مناقب عمر بن خطاب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُقدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۵۲۱ ، جامع الترمذی مناقب عمر بن خطاب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُامین کمپنی مکتبہ رشیدیہ دہلی ۲ / ۲۱۰
صحیح البخاری مناقب عمر بن خطاب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُقدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۵۲۰ ، المستدرك للحاکم معرفتہ الصحابۃ دارالفکر ، بیروت ۳ / ۸۵ ، جامع الترمذی مناقب عمر بن خطاب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُامین کمپنی دہلی ۲ / ۲۰۹
کفر چہارم : مجیب پنجم نے نقل کیا ونیز میگو ید کہ خدائے تعالی نے براہین احمدیہ میں اس عاجز کا نام امتی بھی رکھا ہے اور نبی بھی ان اقوال خبیثہ میں اولا : کلام الہی کے معنی میں صریح تحریف کی کہ معاذ اﷲ آیہ کریمہ میں یہ شخص مراد ہے نہ کہ حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔ ثانیا : نبی اﷲ و رسول اﷲ و کلمۃ اﷲ عیسی روح اﷲ علیہ الصلوۃ والسلام پر افتراء کیا وہ اس کی بشارت دینے کو اپنا تشریف لانا بیان فرماتے تھے۔ ثالثا : اﷲ عزوجل پر افتراء کیا کہ اس نے عیسی علیہ الصلوۃ والسلام کواس شخص کی بشارت دینے کے لئے بھیجا اور اﷲ عزوجل فرماتا ہے :
“ ان الذین یفترون علی اللہ الکذب لا یفلحون ﴿۱۱۶﴾ “ بیشك جو لوگ اﷲ عزوجل پر جھوٹ بہتان اٹھاتے ہیں فلاح نہ پائیں گے۔
اور فرماتا ہے :
“ انما یفتری الکذب الذین لا یؤمنون “ ایسے افتراء وہی باندھتے ہیں جو بے ایمان کافر ہیں۔
رابعا : اپنی گھڑی ہوئی کتاب براہین غلامیہ کو اﷲ عزوجل کا کلام ٹھہرایا کہ خدائے تعالی نے براہین احمدیہ میں یوں فرمایا اور اﷲ عزوجل فرماتا ہے :
“ فویل للذین یکتبون الکتب بایدیہم ٭ ثم یقولون ہذا من عند اللہ لیشتروا بہ ثمنا قلیلا فویل لہم مما کتبت ایدیہم وویل لہم مما یکسبون﴿۷۹﴾ “ خرابی ہے ان کے لئے جو اپنے ہاتھوں کتاب لکھیں پھر کہہ دیں یہ اﷲ کے پاس سے ہے تاکہ اس کے بدلے کچھ ذلیل قیمت حاصل کریں سو خرابی ہے ان کے لئے ان کے لکھے ہاتھوں سے اور خرابی ہے ان کے لئے اس کمائی سے۔
ان سب سے قطع نظر ان کلمات ملعونہ میں صراحۃ اپنے لئے نبوت و رسالت کا ادعائے قبیحہ ہے اور وہ باجماع قطعی کفر صریح ہے فقیر نے “ رسالہ جزاء اﷲ عدوہ بابائہ ختم النبوۃ ۱۳۱۷ھ “ خاص اسی مسئلے میں لکھا اور اس میں آیت قرآن عظیم اور ایك سو دس۱۱۰حدیثوں اور تیس۳۰نصوں کو جلوہ دیا اور ثابت کیا کہ محمد رسول اﷲ صلی اﷲ
“ ان الذین یفترون علی اللہ الکذب لا یفلحون ﴿۱۱۶﴾ “ بیشك جو لوگ اﷲ عزوجل پر جھوٹ بہتان اٹھاتے ہیں فلاح نہ پائیں گے۔
اور فرماتا ہے :
“ انما یفتری الکذب الذین لا یؤمنون “ ایسے افتراء وہی باندھتے ہیں جو بے ایمان کافر ہیں۔
رابعا : اپنی گھڑی ہوئی کتاب براہین غلامیہ کو اﷲ عزوجل کا کلام ٹھہرایا کہ خدائے تعالی نے براہین احمدیہ میں یوں فرمایا اور اﷲ عزوجل فرماتا ہے :
“ فویل للذین یکتبون الکتب بایدیہم ٭ ثم یقولون ہذا من عند اللہ لیشتروا بہ ثمنا قلیلا فویل لہم مما کتبت ایدیہم وویل لہم مما یکسبون﴿۷۹﴾ “ خرابی ہے ان کے لئے جو اپنے ہاتھوں کتاب لکھیں پھر کہہ دیں یہ اﷲ کے پاس سے ہے تاکہ اس کے بدلے کچھ ذلیل قیمت حاصل کریں سو خرابی ہے ان کے لئے ان کے لکھے ہاتھوں سے اور خرابی ہے ان کے لئے اس کمائی سے۔
ان سب سے قطع نظر ان کلمات ملعونہ میں صراحۃ اپنے لئے نبوت و رسالت کا ادعائے قبیحہ ہے اور وہ باجماع قطعی کفر صریح ہے فقیر نے “ رسالہ جزاء اﷲ عدوہ بابائہ ختم النبوۃ ۱۳۱۷ھ “ خاص اسی مسئلے میں لکھا اور اس میں آیت قرآن عظیم اور ایك سو دس۱۱۰حدیثوں اور تیس۳۰نصوں کو جلوہ دیا اور ثابت کیا کہ محمد رسول اﷲ صلی اﷲ
تعالی علیہ وسلم کو خاتم النبیین ماننا ان کے زمانہ میں خواہ ان کے بعد کسی نبی جدید کی بعثت کو یقینا قطعامحال و باطل جاننا فرض اجل وجزء ایقان ہے “ ولکن رسول اللہ و خاتم النبین “ (ہاں اﷲ کے رسول ہیں اور سب نبیوں کے پچھلے۔ ت)نص قطعی قرآن ہے اس کا منکر نہ منکر بلکہ شك کرنے والا نہ شاك کہ ادنی ضعیف احتمال خفیف سے تو ہم خلاف رکھنے والا قطعا اجماعا کافر ملعون مخلد فی النیران ہے نہ ایسا کہ وہی کافر ہو بلکہ جو اس کے اس عقیدہ ملعونہ پر مطلع ہو کر اسے کافر نہ جانے وہ بھی کافر ہونے میں شك و تردد کو راہ دے وہ بھی کافر ہیں الکفر جلی الکفران ہے قول دوم وسوم میں شائد وہ یااس کے اذناب آج کل کے بعض شیاطین سے سیکھ کر تاویل کی آڑلیں کہ یہاں نبی ورسول سے معنی لغوی مراد ہیں یعنی خبردار یا خبر دہندہ اور فرستادہ مگر یہ محض ہوس ہے۔
اولا : صریح لفظ میں تاویل نہیں سنی جاتی فتاوی خلاصہ و فصول عمادیہ و جامع الفصولین وفتاوی ہندیہ وغیرہا میں ہے :
واللفظ للعمادی لو قال انا رسول اﷲ او قال بالفارسیۃ من پیغمبرم یرید بہ من پیغام می برم یکفر یعنی اگر کوئی اپنے آپ کو اﷲ کا رسول کہے یا بزبان فارسی کہے میں پیغمبر ہوں اور مراد یہ لے کہ میں کسی کا پیغام پہنچانے والا ایلچی ہوں کافر ہوجائے گا۔
امام قاضی عیاض کتاب الشفاء فی تعریف حقوق المصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم میں فرماتے ہیں :
قال احمد بن ابی سلیمن صاحب سحنون رحمھما اﷲ تعالی فی رجل قیل لہ لا وحق رسول اﷲ فقال فعل اﷲ برسول اﷲ کذاوذکر کلا ما قبیحا فقیل لہ ما تقول یا عدو اﷲ فی حق رسول اﷲ فقال لہ اشد من کلامہ الاول ثم قال انما اردت برسول اﷲ العقرب فقال ابن ابی سلیمن للذی سألہ اشھد علیہ وانا شریکك یرید فی یعنی امام احمد بن ابی سلیمان تلمیذ و رفیق امام سحنون رحمہما اﷲ تعالی سے ایك مردك کی نسبت کسی نے پوچھا کہ اس سے کہا گیا تھا رسول کے حق کی قسم اس نے کہا اﷲ رسول اﷲ کے ساتھ ایسا ایسا کرے اور ایك بدکلام ذکر کیا کہا گیا اے دشمن خدا!تو رسول اﷲ کے بارے میں کیا بکتا ہے تو اس سے بھی سخت تر لفظ بکا پھر بولا میں نے تورسول اﷲ سے بچھو مراد لیا تھا۔ امام احمد بن ابی سلیمان نے مستفتی سے فرمایا تم اس پر گواہ ہو جاؤ اور اسے سزائے موت دلانے اور
اولا : صریح لفظ میں تاویل نہیں سنی جاتی فتاوی خلاصہ و فصول عمادیہ و جامع الفصولین وفتاوی ہندیہ وغیرہا میں ہے :
واللفظ للعمادی لو قال انا رسول اﷲ او قال بالفارسیۃ من پیغمبرم یرید بہ من پیغام می برم یکفر یعنی اگر کوئی اپنے آپ کو اﷲ کا رسول کہے یا بزبان فارسی کہے میں پیغمبر ہوں اور مراد یہ لے کہ میں کسی کا پیغام پہنچانے والا ایلچی ہوں کافر ہوجائے گا۔
امام قاضی عیاض کتاب الشفاء فی تعریف حقوق المصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم میں فرماتے ہیں :
قال احمد بن ابی سلیمن صاحب سحنون رحمھما اﷲ تعالی فی رجل قیل لہ لا وحق رسول اﷲ فقال فعل اﷲ برسول اﷲ کذاوذکر کلا ما قبیحا فقیل لہ ما تقول یا عدو اﷲ فی حق رسول اﷲ فقال لہ اشد من کلامہ الاول ثم قال انما اردت برسول اﷲ العقرب فقال ابن ابی سلیمن للذی سألہ اشھد علیہ وانا شریکك یرید فی یعنی امام احمد بن ابی سلیمان تلمیذ و رفیق امام سحنون رحمہما اﷲ تعالی سے ایك مردك کی نسبت کسی نے پوچھا کہ اس سے کہا گیا تھا رسول کے حق کی قسم اس نے کہا اﷲ رسول اﷲ کے ساتھ ایسا ایسا کرے اور ایك بدکلام ذکر کیا کہا گیا اے دشمن خدا!تو رسول اﷲ کے بارے میں کیا بکتا ہے تو اس سے بھی سخت تر لفظ بکا پھر بولا میں نے تورسول اﷲ سے بچھو مراد لیا تھا۔ امام احمد بن ابی سلیمان نے مستفتی سے فرمایا تم اس پر گواہ ہو جاؤ اور اسے سزائے موت دلانے اور
حوالہ / References
القرآن الکریم ۳۳ /۴۰
فتاوٰی ہندیۃ الباب التاسع فی احکام المرتدین نورانی کتب خانہ پشاور ۲ / ۲۶۳
فتاوٰی ہندیۃ الباب التاسع فی احکام المرتدین نورانی کتب خانہ پشاور ۲ / ۲۶۳
قتلہ و ثواب ذلک قال حبیب بن الربیع لان ادعاء التاویل فی لفظ صراح لا یقبل ۔ اس پر جو ثواب ملے گا اس میں میں تمہارا شریك ہوں (یعنی تم حاکم شرع کے حضور اس پر شہادت دو اور میں بھی سعی کروں گا کہ ہم تم دونوں بحکم حاکم اسے سزائے موت دلانے کا ثواب عظیم پائیں)امام حبیب بن ربیع نے فرمایا یہ اس لئے کہ کھلے لفظ میں تاویل کا دعوی مسموع نہیں ہوتا۔
مولانا علی قاری شرح شفاء میں فرماتے ہیں :
ثم قال انما اردت برسول اﷲ العقرب فانہ ارسل من عندا لحق وسلط علی الخلق تاویلا للرسالۃ العرفیۃ بالارادۃ اللغویۃ وھو مردود عندالقواعد الشرعیۃ یعنی وہ جو اس مردك نے کہا کہ میں نے بچھو مراد لیا اس طر ح اس نے رسالت عرفی کو معنی لغوی کی طرف ڈھالا کہ بچھو کو بھی خدا ہی نے بھیجا اور خلق پر مسلط کیا ہے اور ایسی تاویل قواعد شرع کے نزدیك مردود ہے۔
علامہ شہاب خفاجی نسیم الریاض میں فرماتے ہیں :
ھذا حقیقۃ معنی الارسال وھذا مما لا شك فی معنا ہ وانکارہ مکابرۃ لکنہ لا یقبل من قائلہ وادعاؤہ انہ مرادہ لبعدہ غایۃ البعد وصرف اللفظ عن ظاھرہ لا یقبل کما لو قال انت طالق قال اردت محلولۃ غیر مربوطۃ لا یلتفت لمثلہ و یعد ھذیانا ۱ ھ ملتقطا۔ یعنی یہ لغوی معنی جن کی طرف اس نے ڈھالا ضرور بلا شك حقیقی معنی ہیں اس کا انکار ہٹ دھرمی ہے بایں ہمہ قائل کا ادعا مقبول نہیں کہ اس نے یہ معنی لغوی مراد لئے تھے اس لئے کہ یہ تاویل نہایت دور ازکار ہے اور لفظ کا اس کے معنی ظاہر سے پھیرنا مسموع نہیں ہوتا جیسے کوئی اپنی عورت کو کہے تو طالق ہے اور کہے میں نے تو یہ مراد لیا تھا کہ تو کھلی ہوئی ہے بندھی نہیں ہے(کہ لغت میں طالق کشادہ کو کہتے ہیں)تو ایسی تاویل کی طرف التفات نہ ہوگا اور اسے ہذیان سمجھا جائے گا۔
ثانیا : وہ بالیقین ان الفاظ کو اپنے لئے مدح و فضل جانتا ہے نہ ایك ایسی بات کہ
دندان تو جملہ در دہانند چشمان تو زیر ابرو انند
(تیرے تمام دانت منہ میں ہیں تیری آنکھیں ابرو کے نیچے ہیں۔ ت)
مولانا علی قاری شرح شفاء میں فرماتے ہیں :
ثم قال انما اردت برسول اﷲ العقرب فانہ ارسل من عندا لحق وسلط علی الخلق تاویلا للرسالۃ العرفیۃ بالارادۃ اللغویۃ وھو مردود عندالقواعد الشرعیۃ یعنی وہ جو اس مردك نے کہا کہ میں نے بچھو مراد لیا اس طر ح اس نے رسالت عرفی کو معنی لغوی کی طرف ڈھالا کہ بچھو کو بھی خدا ہی نے بھیجا اور خلق پر مسلط کیا ہے اور ایسی تاویل قواعد شرع کے نزدیك مردود ہے۔
علامہ شہاب خفاجی نسیم الریاض میں فرماتے ہیں :
ھذا حقیقۃ معنی الارسال وھذا مما لا شك فی معنا ہ وانکارہ مکابرۃ لکنہ لا یقبل من قائلہ وادعاؤہ انہ مرادہ لبعدہ غایۃ البعد وصرف اللفظ عن ظاھرہ لا یقبل کما لو قال انت طالق قال اردت محلولۃ غیر مربوطۃ لا یلتفت لمثلہ و یعد ھذیانا ۱ ھ ملتقطا۔ یعنی یہ لغوی معنی جن کی طرف اس نے ڈھالا ضرور بلا شك حقیقی معنی ہیں اس کا انکار ہٹ دھرمی ہے بایں ہمہ قائل کا ادعا مقبول نہیں کہ اس نے یہ معنی لغوی مراد لئے تھے اس لئے کہ یہ تاویل نہایت دور ازکار ہے اور لفظ کا اس کے معنی ظاہر سے پھیرنا مسموع نہیں ہوتا جیسے کوئی اپنی عورت کو کہے تو طالق ہے اور کہے میں نے تو یہ مراد لیا تھا کہ تو کھلی ہوئی ہے بندھی نہیں ہے(کہ لغت میں طالق کشادہ کو کہتے ہیں)تو ایسی تاویل کی طرف التفات نہ ہوگا اور اسے ہذیان سمجھا جائے گا۔
ثانیا : وہ بالیقین ان الفاظ کو اپنے لئے مدح و فضل جانتا ہے نہ ایك ایسی بات کہ
دندان تو جملہ در دہانند چشمان تو زیر ابرو انند
(تیرے تمام دانت منہ میں ہیں تیری آنکھیں ابرو کے نیچے ہیں۔ ت)
حوالہ / References
الشفاء فی تعریف حقوق المصطفٰی القسم الرابع الباب الاول مطبع شرکۃ صحافیۃ فی البلاد العثمانیہ ۲ / ۲۰۹
شرح الشفاء لملّا علی قاری مع نسیم الریاض الباب الاول دارالفکر بیروت ۴ / ۳۴۳
نسیم الریاض شرح الشفاء للقاضی عیاض الباب الاول دارالفکربیروت ، ۴ / ۳۴۳
شرح الشفاء لملّا علی قاری مع نسیم الریاض الباب الاول دارالفکر بیروت ۴ / ۳۴۳
نسیم الریاض شرح الشفاء للقاضی عیاض الباب الاول دارالفکربیروت ، ۴ / ۳۴۳
کوئی عاقل بلکہ نیم پاگل بھی ایسی بات کو جو ہر انسان ہر بھنگی چمار بلکہ ہر جانور بلکہ ہر کافر مرتد میں موجود ہو محل مدح میں ذکر نہ کریگا نہ اس میں اپنے لئے فضل وشرف جانے گا بھلا کہیں براہین غلامیہ میں یہ بھی لکھا کہ سچا خدا وہی ہے جس نے مرزا کی ناك میں دو۲نتھنے رکھے مرزا کے کان میں دو۲ گھونگے بنائے یا خدا نے براہین احمدیہ میں لکھا ہے کہ اس عاجز کی ناك ہونٹوں سے اوپر اور بھوؤں کے نیچے ہے کیا ایسی بات لکھنے والا پورا مجنون پکا پاگل نہ کہلایا جائے گا۔ اور شك نہیں کہ وہ معنی لغوی یعنی کسی چیز کی خبر رکھنا یا دینا یا بھیجا ہوا ہونا ان مثالوں سے بھی زیادہ عام ہیں بہت جانوروں کے ناك کان بھویں اصلا نہیں ہوتیں مگر خدا کے بھیجے ہوئے وہ بھی ہیں اﷲ نے انہیں عدم سے وجود نر کی پیٹھ سے مادہ کے پیٹ سے دنیا کے میدان میں بھیجا جس طرح اس مرد ك خبیث نے بچھو کو رسول بمعنی لغوی بنایا۔ مولوی معنوی قدس سرہ القوی مثنوی شریف میں فرماتے ہیں :
۱۔ کل یوم ھو فی شان بخواں مرورابیکار و بے فعلے مداں
۲۔ کمتریں کارش کہ ہر روز ست آں کوسہ لشکر روانہ میکند
۳۔ لشکر ے زاصلاب سوئے امہات بہرآں تا دررحم روید نبات
۴۔ لشکرے زار حام سوئے خاکدان تاز نر ومادہ پر گرددجہاں
۵۔ لشکرے از خاکداں سوئے اجل تابہ بیند ہر کسے حسن عمل
((۱)روزانہ اﷲ تعالی اپنی شان میں پڑھ اس کو بیکار اور بے عمل ذات نہ سمجھ۔ ت) (۲)اس کا معمولی کام ہر روز یہ ہوتا ہے کہ روزانہ تین لشکر روانہ فرماتا ہے۔ ت) (۳)ایك لشکر پشتوں سے امہات کی طرف تاکہ عورتوں کے رحموں میں پیدائش ظاہر فرمائے۔ ت) (۴)ایك لشکر ماؤں کے رحموں سے زمین کی طرف تاکہ نر و مادہ سے جہان کو پر فرمائے۔ ت) (۵)ایك لشکر دنیا سے موت کی جانب تاکہ ہر ایك اپنے عمل کی جزا کو دیکھے۔ ت)حق عزوجل فرماتا ہے :
“ فارسلنا علیہم الطوفان والجراد والقمل والضفادع والدم “ ہم نے فرعونیوں پر بھیجے طوفان اور ٹڈیاں اور جوئیں اور مینڈکیں اور خون۔
کیا مرزا ایسی ہی رسالت پر فخر رکھتا ہے جسے ٹڈی اور مینڈك اور جوں اور کتے اور سؤر سب کو شامل مانے گا ہر جانور بلکہ ہر حجر و شجر بہت سے علوم سے خبردار ہے اور ایك دوسرے کو خبر دینا بھی صحاح احادیث سے ثابت
۱۔ کل یوم ھو فی شان بخواں مرورابیکار و بے فعلے مداں
۲۔ کمتریں کارش کہ ہر روز ست آں کوسہ لشکر روانہ میکند
۳۔ لشکر ے زاصلاب سوئے امہات بہرآں تا دررحم روید نبات
۴۔ لشکرے زار حام سوئے خاکدان تاز نر ومادہ پر گرددجہاں
۵۔ لشکرے از خاکداں سوئے اجل تابہ بیند ہر کسے حسن عمل
((۱)روزانہ اﷲ تعالی اپنی شان میں پڑھ اس کو بیکار اور بے عمل ذات نہ سمجھ۔ ت) (۲)اس کا معمولی کام ہر روز یہ ہوتا ہے کہ روزانہ تین لشکر روانہ فرماتا ہے۔ ت) (۳)ایك لشکر پشتوں سے امہات کی طرف تاکہ عورتوں کے رحموں میں پیدائش ظاہر فرمائے۔ ت) (۴)ایك لشکر ماؤں کے رحموں سے زمین کی طرف تاکہ نر و مادہ سے جہان کو پر فرمائے۔ ت) (۵)ایك لشکر دنیا سے موت کی جانب تاکہ ہر ایك اپنے عمل کی جزا کو دیکھے۔ ت)حق عزوجل فرماتا ہے :
“ فارسلنا علیہم الطوفان والجراد والقمل والضفادع والدم “ ہم نے فرعونیوں پر بھیجے طوفان اور ٹڈیاں اور جوئیں اور مینڈکیں اور خون۔
کیا مرزا ایسی ہی رسالت پر فخر رکھتا ہے جسے ٹڈی اور مینڈك اور جوں اور کتے اور سؤر سب کو شامل مانے گا ہر جانور بلکہ ہر حجر و شجر بہت سے علوم سے خبردار ہے اور ایك دوسرے کو خبر دینا بھی صحاح احادیث سے ثابت
حوالہ / References
المثنوی المعنوی قصہ آنکس کہ دریا رے بکوفت گفت الخ نورانی کتب خانہ پشاور ، دفتر اول ص ۷۹
القرآن الکریم ۷ /۱۳۳
القرآن الکریم ۷ /۱۳۳
حضرت مولوی قدس سرہ المعنوی ان کی طرف سے فرماتے ہیں :
ما سمیعیم وبصیریم وخوشیم باشما نامحرماں ما خامشیم
ہم آپس میں سننے دیکھنے والے اور خوش ہیں تم نامحرموں کے سامنے ہم خاموش ہیں۔ اﷲ عزوجل فرماتا ہے :
“ و ان من شیء الا یسبح بحمدہ ولکن لا تفقہون تسبیحہم “
کوئی چیز ایسی نہیں جو اﷲ کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح نہ کرتی ہو مگر ان کی تسبیح تمہاری سمجھ میں نہیں آتی۔
حدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
ما من شیئ الا یعلم انی رسول اﷲ الاکفرۃ او فسقۃ الجن والانس رواہ الطبرانی فی الکبیر عن یعلی بن مرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ وصححہ خاتم الحفاظ۔ کوئی چیز ایسی نہیں جو مجھے اﷲ کا رسول نہ جانتی ہو سوا کافر جن اور آدمیوں کے۔ (طبرانی نے کبیر میں یعلی بن مرہ سے روایت کیا اور خاتم الحفاظ نے اسے صحیح کہا۔ ت)
حق سبحانہ تعالی فرماتا ہے :
“ فمکث غیر بعید فقال احطت بما لم تحط بہ و جئتک من سباۭ بنبا یقین ﴿۲۲﴾ “ کچھ دیر ٹھہر کر ہد ہد بارگاہ سلیمانی میں حاضر ہوا اور عرض کی مجھے ایك بات وہ معلوم ہوئی ہے جس پر حضورکو اطلاع نہیں اور میں خدمت عالی میں ملك سبا سے ایك یقینی خبر لے کر حاضر ہوا ہوں۔
حدیث میں رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
ما من صباح ولا رواح الاوبقاع الارض ینادی بعضہا بعضا یا جارۃ ھل مربك الیوم عبد صالح صلی علیك او ذکر اﷲ کوئی صبح اور شام ایسی نہیں ہوتی کہ زمین کے ٹکڑے ایك دوسرے کو پکار کر نہ کہتے ہوں کہ اے ہمسائے! آج تجھ پر کوئی نیك بندہ گزرا جس نے تجھ پر
فان قالت نعم رأت ان لھا بذلك فضلا ۔ رواہ الطبرانی فی الاوسط وابونعیم فی الحلیۃ عن انس رضی اﷲ تعالی عنہ۔ نماز پڑھی یا ذکر الہی کیا اگر وہ ٹکڑا جواب دیتا ہے کہ ہاں تو وہ پوچھنے والا ٹکڑا اعتقاد کرتا ہے کہ اسے مجھ پر فضیلت ہے۔ (اسے طبرانی نے اوسط میں اور ابونعیم نے حلیہ میں حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کیا۔ ت)
ما سمیعیم وبصیریم وخوشیم باشما نامحرماں ما خامشیم
ہم آپس میں سننے دیکھنے والے اور خوش ہیں تم نامحرموں کے سامنے ہم خاموش ہیں۔ اﷲ عزوجل فرماتا ہے :
“ و ان من شیء الا یسبح بحمدہ ولکن لا تفقہون تسبیحہم “
کوئی چیز ایسی نہیں جو اﷲ کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح نہ کرتی ہو مگر ان کی تسبیح تمہاری سمجھ میں نہیں آتی۔
حدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
ما من شیئ الا یعلم انی رسول اﷲ الاکفرۃ او فسقۃ الجن والانس رواہ الطبرانی فی الکبیر عن یعلی بن مرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ وصححہ خاتم الحفاظ۔ کوئی چیز ایسی نہیں جو مجھے اﷲ کا رسول نہ جانتی ہو سوا کافر جن اور آدمیوں کے۔ (طبرانی نے کبیر میں یعلی بن مرہ سے روایت کیا اور خاتم الحفاظ نے اسے صحیح کہا۔ ت)
حق سبحانہ تعالی فرماتا ہے :
“ فمکث غیر بعید فقال احطت بما لم تحط بہ و جئتک من سباۭ بنبا یقین ﴿۲۲﴾ “ کچھ دیر ٹھہر کر ہد ہد بارگاہ سلیمانی میں حاضر ہوا اور عرض کی مجھے ایك بات وہ معلوم ہوئی ہے جس پر حضورکو اطلاع نہیں اور میں خدمت عالی میں ملك سبا سے ایك یقینی خبر لے کر حاضر ہوا ہوں۔
حدیث میں رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
ما من صباح ولا رواح الاوبقاع الارض ینادی بعضہا بعضا یا جارۃ ھل مربك الیوم عبد صالح صلی علیك او ذکر اﷲ کوئی صبح اور شام ایسی نہیں ہوتی کہ زمین کے ٹکڑے ایك دوسرے کو پکار کر نہ کہتے ہوں کہ اے ہمسائے! آج تجھ پر کوئی نیك بندہ گزرا جس نے تجھ پر
فان قالت نعم رأت ان لھا بذلك فضلا ۔ رواہ الطبرانی فی الاوسط وابونعیم فی الحلیۃ عن انس رضی اﷲ تعالی عنہ۔ نماز پڑھی یا ذکر الہی کیا اگر وہ ٹکڑا جواب دیتا ہے کہ ہاں تو وہ پوچھنے والا ٹکڑا اعتقاد کرتا ہے کہ اسے مجھ پر فضیلت ہے۔ (اسے طبرانی نے اوسط میں اور ابونعیم نے حلیہ میں حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کیا۔ ت)
حوالہ / References
المثنوی المعنوی حکایت مارگیرے کہ اژدہائے افسردہ الخ نورانی کتب خانہ پشاور دفتر سوم ص ۲۷
القرآن الکریم ۱۷ /۴۴
المعجم الکبیر حدیث ۶۷۲ المکتبہ الفیصلیۃ بیروت ۲۲ / ۲۶۲ ، الجامع الصغیر حدیث ۸۰۴۸ دارالکتب العلمیہ بیروت الجزء الثانی ص ۴۹۲
القرآن الکریم ۲۷ /۲۲
المعجم الاوسط حدیث ۵۶۶ مکتبہ المعارف الریاض ۱ / ۳۳۶
القرآن الکریم ۱۷ /۴۴
المعجم الکبیر حدیث ۶۷۲ المکتبہ الفیصلیۃ بیروت ۲۲ / ۲۶۲ ، الجامع الصغیر حدیث ۸۰۴۸ دارالکتب العلمیہ بیروت الجزء الثانی ص ۴۹۲
القرآن الکریم ۲۷ /۲۲
المعجم الاوسط حدیث ۵۶۶ مکتبہ المعارف الریاض ۱ / ۳۳۶
تو خبر رکھنا خبر دینا سب کچھ ثابت ہے۔ کیا مرزا ہر اینٹ پتھر ہر بت پرست کافر ہر ریچھ بندر ہر کتے سؤر کو بھی اپنی طرح نبی و رسول کہے گا ہرگز نہیں تو صاف روشن ہوا کہ معنی لغوی ہر گز مراد نہیں بلکہ یقینا وہی شرعی و عرفی رسالت ونبوت مقصود اور کفر وارتداد یقینی قطعی موجود۔
وبعبارۃ اخری معنی کے چار ہی قسم ہیں لغوی شرعی عرفی عام یا خاص یہاں عرف عام تو بعینہ وہی معنی شرعی ہے جس پر کفر قطعا حاصل اور ارادہ لغوی کا ادعاء یقینا باطل اب یہی رہا کہ فریب دہی عوام کو یوں کہہ دے کہ میں نے اپنی خاص اصطلاح میں نبی و رسول کے معنی اور رکھے ہیں جن میں مجھے سگ و خوك سے امتیاز بھی ہے اور حضرات انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کے وصف نبوت میں اشتراك بھی نہیں مگر حاش ﷲ! ایسا باطل ادعاء اصلا شرعا عقلا عرفا کسی طرح بادشتر سے زیادہ وقعت نہیں رکھتا ایسی جگہ لغت وشرع وعرف عام سب سے الگ اپنی نئی اصطلاح کا مدعی ہونا قابل قبول ہو تو کبھی کسی کافر کی کسی سخت سے سخت بات پر گرفت نہ ہوسکے کوئی مجر م کسی معظم کی کیسی ہی شدید توہین کر کے مجرم نہ ٹھہرسکے کہ ہر ایك کو اختیار ہے اپنی کسی اصطلاح خاص کا دعوی کردے جس میں کفرو توہین کچھ نہ ہو کیا زید کہہ سکتا ہے خدا دو ہیں جب اس پر اعتراض ہو کہہ دے میری اصطلاح میں ایك کو دو کہتے ہیں کیا عمرو جنگل میں سؤر کو بھاگتا دیکھ کر کہہ سکتا ہے وہ قادیانی بھاگا جاتا ہے جب کوئی مرزائی گرفت چاہے کہہ دے میری مراد وہ نہیں جو آپ سمجھے میری اصطلاح میں ہر بھگوڑے یا جنگلی کو قادیانی کہتے ہیں اگر کہئے کوئی مناسبت بھی ہے تو جواب دے کہ اصطلاح میں مناسبت شرط نہیں لا مشاحۃ فی الاصطلاح(اصطلاح میں کوئی اعتراض نہیں)آخر سب جگہ منقول ہی ہونا کیا ضرور لفظ مرتجل بھی ہوتا ہے جس میں معنی اول سے مناسبت اصلا منظور نہیں معہذا قادی بمعنی جلدی کنندہ ہے یا جنگل سے آنے والا۔ قاموس میں ہے :
قدت قادیۃ جاء قوم قدا قحموا قوم جلدی میں آئی قدت قادیۃ کا ایك معنی
وبعبارۃ اخری معنی کے چار ہی قسم ہیں لغوی شرعی عرفی عام یا خاص یہاں عرف عام تو بعینہ وہی معنی شرعی ہے جس پر کفر قطعا حاصل اور ارادہ لغوی کا ادعاء یقینا باطل اب یہی رہا کہ فریب دہی عوام کو یوں کہہ دے کہ میں نے اپنی خاص اصطلاح میں نبی و رسول کے معنی اور رکھے ہیں جن میں مجھے سگ و خوك سے امتیاز بھی ہے اور حضرات انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کے وصف نبوت میں اشتراك بھی نہیں مگر حاش ﷲ! ایسا باطل ادعاء اصلا شرعا عقلا عرفا کسی طرح بادشتر سے زیادہ وقعت نہیں رکھتا ایسی جگہ لغت وشرع وعرف عام سب سے الگ اپنی نئی اصطلاح کا مدعی ہونا قابل قبول ہو تو کبھی کسی کافر کی کسی سخت سے سخت بات پر گرفت نہ ہوسکے کوئی مجر م کسی معظم کی کیسی ہی شدید توہین کر کے مجرم نہ ٹھہرسکے کہ ہر ایك کو اختیار ہے اپنی کسی اصطلاح خاص کا دعوی کردے جس میں کفرو توہین کچھ نہ ہو کیا زید کہہ سکتا ہے خدا دو ہیں جب اس پر اعتراض ہو کہہ دے میری اصطلاح میں ایك کو دو کہتے ہیں کیا عمرو جنگل میں سؤر کو بھاگتا دیکھ کر کہہ سکتا ہے وہ قادیانی بھاگا جاتا ہے جب کوئی مرزائی گرفت چاہے کہہ دے میری مراد وہ نہیں جو آپ سمجھے میری اصطلاح میں ہر بھگوڑے یا جنگلی کو قادیانی کہتے ہیں اگر کہئے کوئی مناسبت بھی ہے تو جواب دے کہ اصطلاح میں مناسبت شرط نہیں لا مشاحۃ فی الاصطلاح(اصطلاح میں کوئی اعتراض نہیں)آخر سب جگہ منقول ہی ہونا کیا ضرور لفظ مرتجل بھی ہوتا ہے جس میں معنی اول سے مناسبت اصلا منظور نہیں معہذا قادی بمعنی جلدی کنندہ ہے یا جنگل سے آنے والا۔ قاموس میں ہے :
قدت قادیۃ جاء قوم قدا قحموا قوم جلدی میں آئی قدت قادیۃ کا ایك معنی
من البادیۃ والفرس قدیانا اسرع قدت من البادیۃ یا قدت الفرس جنگل سے آیا یا گھوڑے کو تیز کیا۔
قادیان اس کی جمع اور قادیانی اس کی طرف منسوب یعنی جلدی کرنے والوں یا جنگل سے آنے والوں کا ایک اس مناسبت سے میری اصطلاح میں ہر بھگوڑے جنگلی کا نام قادیانی ہوا کیا زید کی وہ تقریر کسی مسلمان یا عمرو کی یہ توجیہ کسی مرزائی کو مقبول ہوسکتی ہے حاشا وکلا کوئی عاقل ایسی بناوٹوں کو نہ مانے گا بلکہ اسی پر کیا موقوف یوں اصطلاح خاص کا ادعاء مسموع ہوجائے تو دین و دنیا کے تمام کارخانے درہم برہم ہوں عورتیں شوہروں کے پاس سے نکل کر جس سے چاہیں نکاح کرلیں کہ ہم نے تو ایجاب وقبول نہ کیا تھا اجازت لیتے وقت ہاں کہاتھا ہماری اصطلاح(ہاں)بمعنی(ہوں)یعنی کلمہ جزر وانکار ہے لوگ بیع نامے لکھ کر رجسٹری کر اکر جائدادیں چھین لیں کہ ہم نے تو بیع نہ کی تھی بیچنا لکھا تھا ہماری اصطلاح میں عاریت یا اجارے کو بیچنا کہتے ہیں الی غیر ذلك من فسادات لا تحصی(ایسے بہت سے فسادات ہوں گے۔ ت)تو ایسی جھوٹی تاویل والا خود اپنے معاملات میں اسے نہ مانے گا کیا مسلمانوں کو زن ومال اﷲ ورسول(جل جلالہ و صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم)سے زیادہ پیارے ہیں کہ جو رو اور جائداد کے باب میں تاویل سنیں اور اﷲ و رسول کے معاملے میں ایسی ناپاك بناوٹیں قبول کرلیں لا الہ الا اﷲ مسلمان ہر گز ایسے مردود بہانوں پر التفات بھی نہ کریں گے انہیں اﷲ و رسول اپنی جان اور تمام جہان سے زیادہ عزیز ہیں و ﷲ الحمد جل جلا لہ و صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم خود ان کا رب جل وعلا قرآن عظیم میں ایسے بیہودہ عذروں کا دربار جلا چکا ہے فرماتا ہے :
لاتعتذروا قدکفرتم بعد ایمنکم “ ان سے کہہ دو بہانے نہ بناؤ بیشك تم کافر ہوچکے ایمان کے بعد۔ والعیاذ باﷲ تعالی رب العالمین۔
ثالثا : کفر چہارم میں امتی و نبی کا مقابلہ صاف اسی معنی شرعی وعرفی کی تعیین کررہا ہے۔
رابعا : کفر اول میں تو کسی جھوٹے ادعائے تاویل کی بھی گنجائش نہیں آیت میں قطعا معنی شرعی ہی مراد ہیں نہ کہ لغوی نہ اس شخص کی کوئی اصطلاح خاص اور اسی کو اس نے اپنے نفس کے لئے مانا تو قطعا یقینا بمعنی شرعی ہی اپنے نبی اﷲ ورسول اﷲ ونے کا مدعی اور “ ولکن رسول اللہ و خاتم النبین “
قادیان اس کی جمع اور قادیانی اس کی طرف منسوب یعنی جلدی کرنے والوں یا جنگل سے آنے والوں کا ایک اس مناسبت سے میری اصطلاح میں ہر بھگوڑے جنگلی کا نام قادیانی ہوا کیا زید کی وہ تقریر کسی مسلمان یا عمرو کی یہ توجیہ کسی مرزائی کو مقبول ہوسکتی ہے حاشا وکلا کوئی عاقل ایسی بناوٹوں کو نہ مانے گا بلکہ اسی پر کیا موقوف یوں اصطلاح خاص کا ادعاء مسموع ہوجائے تو دین و دنیا کے تمام کارخانے درہم برہم ہوں عورتیں شوہروں کے پاس سے نکل کر جس سے چاہیں نکاح کرلیں کہ ہم نے تو ایجاب وقبول نہ کیا تھا اجازت لیتے وقت ہاں کہاتھا ہماری اصطلاح(ہاں)بمعنی(ہوں)یعنی کلمہ جزر وانکار ہے لوگ بیع نامے لکھ کر رجسٹری کر اکر جائدادیں چھین لیں کہ ہم نے تو بیع نہ کی تھی بیچنا لکھا تھا ہماری اصطلاح میں عاریت یا اجارے کو بیچنا کہتے ہیں الی غیر ذلك من فسادات لا تحصی(ایسے بہت سے فسادات ہوں گے۔ ت)تو ایسی جھوٹی تاویل والا خود اپنے معاملات میں اسے نہ مانے گا کیا مسلمانوں کو زن ومال اﷲ ورسول(جل جلالہ و صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم)سے زیادہ پیارے ہیں کہ جو رو اور جائداد کے باب میں تاویل سنیں اور اﷲ و رسول کے معاملے میں ایسی ناپاك بناوٹیں قبول کرلیں لا الہ الا اﷲ مسلمان ہر گز ایسے مردود بہانوں پر التفات بھی نہ کریں گے انہیں اﷲ و رسول اپنی جان اور تمام جہان سے زیادہ عزیز ہیں و ﷲ الحمد جل جلا لہ و صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم خود ان کا رب جل وعلا قرآن عظیم میں ایسے بیہودہ عذروں کا دربار جلا چکا ہے فرماتا ہے :
لاتعتذروا قدکفرتم بعد ایمنکم “ ان سے کہہ دو بہانے نہ بناؤ بیشك تم کافر ہوچکے ایمان کے بعد۔ والعیاذ باﷲ تعالی رب العالمین۔
ثالثا : کفر چہارم میں امتی و نبی کا مقابلہ صاف اسی معنی شرعی وعرفی کی تعیین کررہا ہے۔
رابعا : کفر اول میں تو کسی جھوٹے ادعائے تاویل کی بھی گنجائش نہیں آیت میں قطعا معنی شرعی ہی مراد ہیں نہ کہ لغوی نہ اس شخص کی کوئی اصطلاح خاص اور اسی کو اس نے اپنے نفس کے لئے مانا تو قطعا یقینا بمعنی شرعی ہی اپنے نبی اﷲ ورسول اﷲ ونے کا مدعی اور “ ولکن رسول اللہ و خاتم النبین “
حوالہ / References
القاموس المحیط باب الواؤ فصل القاف مصطفی البابی مصر ۴ / ۳۷۹
القرآن الکریم ۹ /۶۶
القرآن الکریم ۳۳ /۴۰
القرآن الکریم ۹ /۶۶
القرآن الکریم ۳۳ /۴۰
(ہاں اﷲ کے رسول ہیں اور سب نبیو ں میں پچھلے۔ ت)کا منکر اور باجماع قطعی جمیع امت مرحومہ مرتدو کافر ہوا سچ فرمایا سچے خدا کے سچے رسول سچے خاتم النبیین محمد مصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے کہ عنقریب میرے بعد آئیں گے ثلثون دجالون کذابون کلھم یزعم انہ نبی تیس۳۰دجال کذاب کہ ہر ایك اپنے کو نبی کہے گا وانا خاتم النبیین لا نبی بعدی حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں امنت امنت صلی اﷲ تعالی علیك وسلم۔ میں ایمان لایا میں ایمان لایا اﷲ تعالی آپ پر صلوۃ و سلام نازل فرمائے۔ ت)اسی لئے فقیر نے عرض کیا تھا کہ مرزا ضرور مثیل مسیح ہے صدق بلکہ مسیح دجال کا کہ ایسے مدعیوں کو یہ لقب خود بارگاہ رسالت سے عطا ہوا والعیاذ باﷲ رب العلمین۔
کفر پنجم : دافع البلاء ص ۱۰ پر حضرت مسیح علیہ السلام سے اپنی برتری کا اظہار کیا ہے
کفر ششم : اسی رسالے کے صفحہ ۱۷ پر لکھا ہے :
ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو
اس سے بہتر غلام احمد ہے
کفر ہفتم : اشتہار معیار الاخیار میں لکھا ہے میں بعض نبیوں سے بھی افضل ہوں۔ یہ ادعاء بھی باجماع قطعی کفر وارتداد یقینی ہیں فقیر نے اپنے فتوی مسمی بہ ردالرفضۃ میں شفاء شریف امام قاضی عیاض و روضہ امام نووی وارشاد الساری امام قسطلانی وشرح عقائد نسفی و شرح مقاصد امام تفتازانی واعلام امام ابن حجر مکی ومنح الروض علامہ قاری وطریقہ محمدیہ علامہ برکوی وحدیقہ ندیہ مولی نابلسی وغیرہا کتب کثیرہ کے نصوص سے ثابت کیا ہے کہ باجماع مسلمین کوئی ولی کوئی غوث کوئی صدیق بھی کسی نبی سے افضل نہیں ہوسکتا جو ایسا کہے قطعا اجماعا کافر ملحد ہے ازاں جملہ شرح صحیح بخاری شریف میں ہے :
النبی افضل من الولی وھو امر مقطوع بہ والقائل بخلافہ کافر کانہ معلوم من یعنی ہر نبی ہر ولی سے افضل ہے اور یہ امر یقینی ہے اور اس کے خلاف کہنے والا کافر ہے کہ
کفر پنجم : دافع البلاء ص ۱۰ پر حضرت مسیح علیہ السلام سے اپنی برتری کا اظہار کیا ہے
کفر ششم : اسی رسالے کے صفحہ ۱۷ پر لکھا ہے :
ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو
اس سے بہتر غلام احمد ہے
کفر ہفتم : اشتہار معیار الاخیار میں لکھا ہے میں بعض نبیوں سے بھی افضل ہوں۔ یہ ادعاء بھی باجماع قطعی کفر وارتداد یقینی ہیں فقیر نے اپنے فتوی مسمی بہ ردالرفضۃ میں شفاء شریف امام قاضی عیاض و روضہ امام نووی وارشاد الساری امام قسطلانی وشرح عقائد نسفی و شرح مقاصد امام تفتازانی واعلام امام ابن حجر مکی ومنح الروض علامہ قاری وطریقہ محمدیہ علامہ برکوی وحدیقہ ندیہ مولی نابلسی وغیرہا کتب کثیرہ کے نصوص سے ثابت کیا ہے کہ باجماع مسلمین کوئی ولی کوئی غوث کوئی صدیق بھی کسی نبی سے افضل نہیں ہوسکتا جو ایسا کہے قطعا اجماعا کافر ملحد ہے ازاں جملہ شرح صحیح بخاری شریف میں ہے :
النبی افضل من الولی وھو امر مقطوع بہ والقائل بخلافہ کافر کانہ معلوم من یعنی ہر نبی ہر ولی سے افضل ہے اور یہ امر یقینی ہے اور اس کے خلاف کہنے والا کافر ہے کہ
حوالہ / References
جامع ترمذی ابواب الفتن باب لاتقوم الساعۃ الخ امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی ۲ / ۴۵ ، مسند احمد بن حنبل دارالفکر بیروت ۵ / ۳۹۶
دافع البلاء ضیاء الاسلام قادیان ص ۳۰
دافع البلاء ضیاء الاسلام قادیان ص۳۰
دافع البلاء ضیاء الاسلام قادیان ص ۳۰
دافع البلاء ضیاء الاسلام قادیان ص۳۰
الشرع بالضرورۃ یہ ضروریات دین سے ہے۔
کفر ہفتم : میں ایسے ایك لطیف تاویل کی گنجائش تھی کہ یہ لفظ(نبیوں)بتقدیم نون نہیں بلکہ(بنیوں)بہ تقدیم با ہے یعنی بھنگی درکنار کہ خود ان کے تو لال گرو کا بھائی ہوں ان سے تو افضل ہوا ہی چاہوں میں تو بعض بنیوں سے بھی افضل ہوں کہ انہوں نے صرف آٹے دال میں ڈنڈی ماری اور یہاں وہ ہتھ پھیری کی بیسیوں کا دین ہی اڑ گیا مگر افسوس کہ دیگر تصریحات نے اس تاویل کی جگہ نہ رکھی۔
کفر ہشتم : ازالہ صفحہ ۳۰۹ پر حضرت مسیح علیہ الصلوۃ والسلام کے معجزات کو جن کا ذکر خدا وند تعالی بطور احسان فرماتا ہے مسمریزم لکھ کر کہتا ہے : اگر میں اس قسم کے معجزات کو مکروہ نہ جانتا تو ابن مریم سے کم نہ رہتا یہ کفر متعدد کفروں کا خمیرہ ہے معجزات کو مسمریزم کہنا ایك کفر کہ اس تقدیر پر وہ معجزہ نہ ہوئے بلکہ معاذ اﷲ ایك کسبی کرشمے ٹھہرے اگلے کافروں نے بھی ایسا ہی کہا تھا۔
“ اذ قال اللہ یعیسی ابن مریم اذکر نعمتی علیک وعلی ولدتک اذ ایدتک بروح القدس تکلم الناس فی المہد وکہلا و اذ علمتک الکتب والحکمۃ والتورىۃ والانجیل و اذ تخلق من الطین کہیــۃ الطیر باذنی فتنفخ فیہا فتکون طیرا باذنی وتبری الاکمہ والابرص باذنی و اذ تخرج الموتی باذنی و اذ کففت بنی اسرءیل عنک اذ جئتہم بالبینت فقال الذین کفروا منہم ان ہذا الا سحر مبین ﴿۱۱۰﴾ “ جب فرمایا اﷲ سبحانہ نے اے مریم کے بیٹے! یاد کر میری نعمتیں اپنے اوپر اور اپنی ماں پر جب میں نے پاك روح سے تجھے قوت بخشی لوگوں سے باتیں کرتا پالنے میں اور پکی عمر کا ہو کر اور جب میں نے تجھے سکھایا لکھنا اور علم کی تحقیقی باتیں اور توریت اور انجیل اور جب تو بناتا مٹی سے پرند کی سی شکل میری پروانگی سے پھر تو اس میں پھونکتا تو وہ پرند ہوجاتی میرے حکم سے اور تو چنگا کرتا مادر زاد اندھے اور سفید داغ والے کو میری اجازت سے اور جب تو قبروں سے جیتا نکالتا مردوں کو میرے اذن سے اور جب میں نے یہود کو تجھ سے روکا جب تو ان کے پاس یہ روشن معجزے لے کر آیا تو ان میں کے کافر بولے یہ تو نہیں مگر کھلا جادو۔
مسمریزم بتایا یا جادو کہا بات ایك ہی ہوئی یعنی الہی معجزے نہیں کسبی ڈھکوسلے ہیں ایسے ہی
کفر ہفتم : میں ایسے ایك لطیف تاویل کی گنجائش تھی کہ یہ لفظ(نبیوں)بتقدیم نون نہیں بلکہ(بنیوں)بہ تقدیم با ہے یعنی بھنگی درکنار کہ خود ان کے تو لال گرو کا بھائی ہوں ان سے تو افضل ہوا ہی چاہوں میں تو بعض بنیوں سے بھی افضل ہوں کہ انہوں نے صرف آٹے دال میں ڈنڈی ماری اور یہاں وہ ہتھ پھیری کی بیسیوں کا دین ہی اڑ گیا مگر افسوس کہ دیگر تصریحات نے اس تاویل کی جگہ نہ رکھی۔
کفر ہشتم : ازالہ صفحہ ۳۰۹ پر حضرت مسیح علیہ الصلوۃ والسلام کے معجزات کو جن کا ذکر خدا وند تعالی بطور احسان فرماتا ہے مسمریزم لکھ کر کہتا ہے : اگر میں اس قسم کے معجزات کو مکروہ نہ جانتا تو ابن مریم سے کم نہ رہتا یہ کفر متعدد کفروں کا خمیرہ ہے معجزات کو مسمریزم کہنا ایك کفر کہ اس تقدیر پر وہ معجزہ نہ ہوئے بلکہ معاذ اﷲ ایك کسبی کرشمے ٹھہرے اگلے کافروں نے بھی ایسا ہی کہا تھا۔
“ اذ قال اللہ یعیسی ابن مریم اذکر نعمتی علیک وعلی ولدتک اذ ایدتک بروح القدس تکلم الناس فی المہد وکہلا و اذ علمتک الکتب والحکمۃ والتورىۃ والانجیل و اذ تخلق من الطین کہیــۃ الطیر باذنی فتنفخ فیہا فتکون طیرا باذنی وتبری الاکمہ والابرص باذنی و اذ تخرج الموتی باذنی و اذ کففت بنی اسرءیل عنک اذ جئتہم بالبینت فقال الذین کفروا منہم ان ہذا الا سحر مبین ﴿۱۱۰﴾ “ جب فرمایا اﷲ سبحانہ نے اے مریم کے بیٹے! یاد کر میری نعمتیں اپنے اوپر اور اپنی ماں پر جب میں نے پاك روح سے تجھے قوت بخشی لوگوں سے باتیں کرتا پالنے میں اور پکی عمر کا ہو کر اور جب میں نے تجھے سکھایا لکھنا اور علم کی تحقیقی باتیں اور توریت اور انجیل اور جب تو بناتا مٹی سے پرند کی سی شکل میری پروانگی سے پھر تو اس میں پھونکتا تو وہ پرند ہوجاتی میرے حکم سے اور تو چنگا کرتا مادر زاد اندھے اور سفید داغ والے کو میری اجازت سے اور جب تو قبروں سے جیتا نکالتا مردوں کو میرے اذن سے اور جب میں نے یہود کو تجھ سے روکا جب تو ان کے پاس یہ روشن معجزے لے کر آیا تو ان میں کے کافر بولے یہ تو نہیں مگر کھلا جادو۔
مسمریزم بتایا یا جادو کہا بات ایك ہی ہوئی یعنی الہی معجزے نہیں کسبی ڈھکوسلے ہیں ایسے ہی
حوالہ / References
ارشاد الساری شرح صحیح البخاری کتاب العلم باب ما یستحب للعالم الخ دارالکتاب العربی بیروت ۱ / ۲۱۴
ازالہ اوہام ، ریاض الہند امرتسر ، بھارت ، ص ۱۱۶
القران الکریم ۵ / ۱۱۰
ازالہ اوہام ، ریاض الہند امرتسر ، بھارت ، ص ۱۱۶
القران الکریم ۵ / ۱۱۰
منکروں کے خیال ضلال کو حضرت مسیح کلمۃ اﷲ صلی اﷲ تعالی علی سیدہ وعلیہ وسلم نے بار بار بتا کید رد فرمادیا تھا اپنے معجزات مذکورہ ارشاد کرنے سے پہلے فرمایا :
“ انی قد جئتکم بایۃ من ربکم انی اخلق لکم من الطین کہیئۃ الطیر “ الآیۃ۔ میں تمہارے پاس رب کی طرف سے معجزے لایا کہ میں مٹی سے پرند بناتا اورپھونك مار کر اسے جلاتا اور اندھے اور بدن بگڑے کو شفا دیتا اور خدا کے حکم سے مردے جلاتا اور جو کچھ گھر سے کھا کر آؤ اور جو کچھ گھر میں اٹھا رکھو وہ سب تمہیں بتاتا ہوں۔
اور اس کے بعد فرمایا :
“ ان فی ذلک لایۃ لکم ان کنتم مؤمنین﴿۴۹﴾ “ بیشك ان میں تمہارے لئے بڑی نشانی ہے اگر تم ایمان لاؤ۔
پھر مکرر فرمایا :
“ وجئتکم بایۃ من ربکم فاتقوا اللہ واطیعون﴿۵۰﴾ “ میں تمہارے رب کے پاس سے معجزہ لایا ہوں تو خدا سے ڈرو اور میرا حکم مانو۔
مگر جو حضرت عیسی علیہ السلام کے رب کی نہ مانے وہ حضرت عیسی علیہ السلام کی کیوں ماننے لگا یہاں تو اسے صاف گنجائش ہے
کہ اپنی بڑائی سبھی کرتے ہیں ع
کس نہ گوید کہ دروغ من ترش ست
(کو ئی نہیں کہتا کہ میرا جھوٹ ترش ہے۔ ت)
پھر ان معجزات کو مکروہ جاننا دوسرا کفریہ کہ کراہت اگر اس بنا پر ہے کہ وہ فی نفسہ مذموم کام تھے جب تو کفر ظاہر ہے قال اﷲ تعالی :
تلك الرسل فضلنا بعضہم علی بعض یہ رسول ہیں کہ ہم نے ان میں ایك کو دوسرے پر فضیلت دی۔
“ انی قد جئتکم بایۃ من ربکم انی اخلق لکم من الطین کہیئۃ الطیر “ الآیۃ۔ میں تمہارے پاس رب کی طرف سے معجزے لایا کہ میں مٹی سے پرند بناتا اورپھونك مار کر اسے جلاتا اور اندھے اور بدن بگڑے کو شفا دیتا اور خدا کے حکم سے مردے جلاتا اور جو کچھ گھر سے کھا کر آؤ اور جو کچھ گھر میں اٹھا رکھو وہ سب تمہیں بتاتا ہوں۔
اور اس کے بعد فرمایا :
“ ان فی ذلک لایۃ لکم ان کنتم مؤمنین﴿۴۹﴾ “ بیشك ان میں تمہارے لئے بڑی نشانی ہے اگر تم ایمان لاؤ۔
پھر مکرر فرمایا :
“ وجئتکم بایۃ من ربکم فاتقوا اللہ واطیعون﴿۵۰﴾ “ میں تمہارے رب کے پاس سے معجزہ لایا ہوں تو خدا سے ڈرو اور میرا حکم مانو۔
مگر جو حضرت عیسی علیہ السلام کے رب کی نہ مانے وہ حضرت عیسی علیہ السلام کی کیوں ماننے لگا یہاں تو اسے صاف گنجائش ہے
کہ اپنی بڑائی سبھی کرتے ہیں ع
کس نہ گوید کہ دروغ من ترش ست
(کو ئی نہیں کہتا کہ میرا جھوٹ ترش ہے۔ ت)
پھر ان معجزات کو مکروہ جاننا دوسرا کفریہ کہ کراہت اگر اس بنا پر ہے کہ وہ فی نفسہ مذموم کام تھے جب تو کفر ظاہر ہے قال اﷲ تعالی :
تلك الرسل فضلنا بعضہم علی بعض یہ رسول ہیں کہ ہم نے ان میں ایك کو دوسرے پر فضیلت دی۔
اور اسی فضیلت کے بیان میں ارشاد ہوا :
“ واتینا عیسی ابن مریم البینت وایدنہ بروح القدس “ اورہم نے عیسی بن مریم کو معجزے دئے اور جبرئیل سے اس کی تائید فرمائی۔
اور اگر اس بنا پر ہے کہ وہ کام اگرچہ فضیلت کے تھے مگر میرے منصب اعلی کے لائق نہیں تو یہ وہی نبی پر اپنی تفضیل ہے ہر طرح کفر وارتداد قطعی سے مفر نہیں پھر ان کلمات شیطانیہ میں مسیح کلمۃ اﷲ صلی اﷲ تعالی علی سیدہ وعلیہ وسلم کی تحقیر تیسرا کفر ہے اور ایسی ہی تحقیر اس کلام ملعون کفر ششم میں تھی اور سب سے بڑھ کر اس کفرنہم میں ہے کہ ازالہ صفحہ ۱۶۱ پر حضرت مسیح علیہ الصلوۃ والسلام کی نسبت لکھا “ بوجہ مسمریزم کے عمل کرنے کے تنویر باطن اور توحید اور دینی استقامت میں کم درجے پر بلکہ قریب ناکام رہے
انا ﷲ وانا الیہ راجعون الا لعنۃ اﷲ علی اعداء انبیاء اﷲ وصلی اﷲ تعالی علی انبیائہ وبارك وسلم۔ (ہم اﷲ کی ملکیت اور ہم اس کی طرف ہی لوٹنے والے ہیں انبیاء اﷲ کے دشمنوں پر اﷲ تعالی کی لعنت اﷲ تعالی کی رحمتیں اس کے انبیاء علیہم السلام پر اور برکتیں اور سلام۔ ت)
ہر ۱ نبی کی تحقیر مطلقا کفر قطعی ہے جس کی تفصیل سے شفاء شریف وشروح شفاء وسیف مسلول امام تقی الملۃ والدین سبکی وروضہ امام نووی و وجیز امام کردری و اعلام امام حجر مکی وغیر ہا تصانیف ائمہ کرام کے دفتر گونج رہے ہیں نہ کہ ۲نبی بھی کون نبی مرسل نہ کہ ۳مرسل بھی کیسا ۴مرسل اولوالعزم نہ کہ تحقیر بھی کتنی کہ مسمریزم کے سبب نور باطن نہ نور ۵باطن بلکہ دینی استقامت نہ ۶دینی استقامت بلکہ نفس توحید میں ۷کم درجہ بلکہ ناکام رہے اس ملعون قول لعن اﷲ قائلہ وقابلہ(اسے کہنے والے اور قبول کرنے والے پر اﷲ کی لعنت)نے اولوالعزمی ورسالت و نبوت درکنار اس عبداﷲ و کلمۃ اﷲ و روح اﷲ علیہ وصلوۃ اﷲ وسلام وتحیات اﷲ کے نفس ایمان میں کلام کردیا اس کا جواب ہمارے ہاتھ میں کیا ہے سوا اس کے کہ :
“ ان الذین یؤذون اللہ و رسولہ لعنہم اللہ فی الدنیا و الاخرۃ و اعد لہم عذابا مہینا ﴿۵۷﴾ “ بیشك جو لوگ ایذا دیتے ہیں اﷲ اور اس کے رسول کو ان پر اﷲنے لعنت کی دنیا و آخرت میں اور ان کے لئے تیار کر رکھا ہے ذلت کا عذاب۔
“ واتینا عیسی ابن مریم البینت وایدنہ بروح القدس “ اورہم نے عیسی بن مریم کو معجزے دئے اور جبرئیل سے اس کی تائید فرمائی۔
اور اگر اس بنا پر ہے کہ وہ کام اگرچہ فضیلت کے تھے مگر میرے منصب اعلی کے لائق نہیں تو یہ وہی نبی پر اپنی تفضیل ہے ہر طرح کفر وارتداد قطعی سے مفر نہیں پھر ان کلمات شیطانیہ میں مسیح کلمۃ اﷲ صلی اﷲ تعالی علی سیدہ وعلیہ وسلم کی تحقیر تیسرا کفر ہے اور ایسی ہی تحقیر اس کلام ملعون کفر ششم میں تھی اور سب سے بڑھ کر اس کفرنہم میں ہے کہ ازالہ صفحہ ۱۶۱ پر حضرت مسیح علیہ الصلوۃ والسلام کی نسبت لکھا “ بوجہ مسمریزم کے عمل کرنے کے تنویر باطن اور توحید اور دینی استقامت میں کم درجے پر بلکہ قریب ناکام رہے
انا ﷲ وانا الیہ راجعون الا لعنۃ اﷲ علی اعداء انبیاء اﷲ وصلی اﷲ تعالی علی انبیائہ وبارك وسلم۔ (ہم اﷲ کی ملکیت اور ہم اس کی طرف ہی لوٹنے والے ہیں انبیاء اﷲ کے دشمنوں پر اﷲ تعالی کی لعنت اﷲ تعالی کی رحمتیں اس کے انبیاء علیہم السلام پر اور برکتیں اور سلام۔ ت)
ہر ۱ نبی کی تحقیر مطلقا کفر قطعی ہے جس کی تفصیل سے شفاء شریف وشروح شفاء وسیف مسلول امام تقی الملۃ والدین سبکی وروضہ امام نووی و وجیز امام کردری و اعلام امام حجر مکی وغیر ہا تصانیف ائمہ کرام کے دفتر گونج رہے ہیں نہ کہ ۲نبی بھی کون نبی مرسل نہ کہ ۳مرسل بھی کیسا ۴مرسل اولوالعزم نہ کہ تحقیر بھی کتنی کہ مسمریزم کے سبب نور باطن نہ نور ۵باطن بلکہ دینی استقامت نہ ۶دینی استقامت بلکہ نفس توحید میں ۷کم درجہ بلکہ ناکام رہے اس ملعون قول لعن اﷲ قائلہ وقابلہ(اسے کہنے والے اور قبول کرنے والے پر اﷲ کی لعنت)نے اولوالعزمی ورسالت و نبوت درکنار اس عبداﷲ و کلمۃ اﷲ و روح اﷲ علیہ وصلوۃ اﷲ وسلام وتحیات اﷲ کے نفس ایمان میں کلام کردیا اس کا جواب ہمارے ہاتھ میں کیا ہے سوا اس کے کہ :
“ ان الذین یؤذون اللہ و رسولہ لعنہم اللہ فی الدنیا و الاخرۃ و اعد لہم عذابا مہینا ﴿۵۷﴾ “ بیشك جو لوگ ایذا دیتے ہیں اﷲ اور اس کے رسول کو ان پر اﷲنے لعنت کی دنیا و آخرت میں اور ان کے لئے تیار کر رکھا ہے ذلت کا عذاب۔
حوالہ / References
القرآن الکریم ۲ /۲۵۳
ازالہ اوہام ریاض الہند امرتسر ، بھارت ص ۱۱۶
القرآن الکریم ۳۳ /۵۷
ازالہ اوہام ریاض الہند امرتسر ، بھارت ص ۱۱۶
القرآن الکریم ۳۳ /۵۷
کفر دہم : ازالہ صفحہ ۶۲۹ پر لکھتا ہے : ایك زمانے میں چار سو نبیوں کی پیشگوئی غلط عــــــہ ہوئی اور وہ جھوٹے۔ یہ صراحۃ انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کی تکذیب ہے عام اقوام کفار لعنہم اﷲ کا کفر حضرت عزت عز جلالہ نے یوں ہی تو بیان فرمایا :
“ کذبت قوم نوح المرسلین ﴿۱۰۵﴾ “
“ کذبت عادۨ المرسلین ﴿۱۲۳﴾ “ “ کذبت ثمود المرسلین ﴿۱۴۱﴾ “
“ کذبت قوم لوط المرسلین ﴿۱۶۰﴾ “
“ کذب اصحب لــیکۃ المرسلین ﴿۱۷۶﴾ “ (نوح کی قوم نے پیغمبروں کو جھٹلایا عاد نے رسولوں کو جھٹلایا ثمود نے رسولوں کو جھٹلایا لوط کی قوم نے رسولوں کو جھٹلایا بن والوں نے رسولوں کو جھٹلایا۔ ت)
ائمہ کرام فرماتے ہیں جو نبی پر اس کی لائی ہوئی بات میں کذب جائز ہی مانے اگرچہ وقوع نہ جانے باجماع کفر ہے نہ کہ معاذ اﷲ چارسو انبیاء کا اپنے اخبار بالغیب میں کہ و ہ ضرور اﷲ ہی کی طرف سے ہوتا ہے۔ واقع میں جھوٹا ہوجانا شفا شریف میں ہے :
من دان بالوحدانیۃ وصحۃ النبوۃ و نبوۃ بنبیناصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ولکن جوز علی الانبیاء الکـــذب فیمــا اتوا بہ ادعی فی ذلك المصلحۃ بزعمہ اولم یدعھا فہوکافر باجماع یعنی جو اﷲ تعالی کی وحدانیت نبوت کی حقانیت ہمارے نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی نبوت کا اعتقاد رکھتا ہو بایں ہمہ انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام پر انکی باتوں میں کذب جائز مانے خواہ بزعم خود اس میں کسی مصلحت کا ادعا کرے یا نہ کرے ہر طرح بالاتفاق کافر ہے۔
عــــــہ : یہ اس کی پیش بندی ہے کہ یہ کذاب اپنی بڑ میں ہمیشہ پیشگوئیاں ہانکتا رہتا ہے اور بعنایت الہی وہ آئے دن جھوٹی پڑا کرتی ہیں تو یہاں یہ بتانا چاہتا ہے کہ پیشگوئی غلط پڑی کچھ شان نبوت کے خلاف نہیں معاذ اﷲ اگلے انبیاء میں بھی ایسا ہوتا ہے۔ (اینہم برعلم)
“ کذبت قوم نوح المرسلین ﴿۱۰۵﴾ “
“ کذبت عادۨ المرسلین ﴿۱۲۳﴾ “ “ کذبت ثمود المرسلین ﴿۱۴۱﴾ “
“ کذبت قوم لوط المرسلین ﴿۱۶۰﴾ “
“ کذب اصحب لــیکۃ المرسلین ﴿۱۷۶﴾ “ (نوح کی قوم نے پیغمبروں کو جھٹلایا عاد نے رسولوں کو جھٹلایا ثمود نے رسولوں کو جھٹلایا لوط کی قوم نے رسولوں کو جھٹلایا بن والوں نے رسولوں کو جھٹلایا۔ ت)
ائمہ کرام فرماتے ہیں جو نبی پر اس کی لائی ہوئی بات میں کذب جائز ہی مانے اگرچہ وقوع نہ جانے باجماع کفر ہے نہ کہ معاذ اﷲ چارسو انبیاء کا اپنے اخبار بالغیب میں کہ و ہ ضرور اﷲ ہی کی طرف سے ہوتا ہے۔ واقع میں جھوٹا ہوجانا شفا شریف میں ہے :
من دان بالوحدانیۃ وصحۃ النبوۃ و نبوۃ بنبیناصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ولکن جوز علی الانبیاء الکـــذب فیمــا اتوا بہ ادعی فی ذلك المصلحۃ بزعمہ اولم یدعھا فہوکافر باجماع یعنی جو اﷲ تعالی کی وحدانیت نبوت کی حقانیت ہمارے نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی نبوت کا اعتقاد رکھتا ہو بایں ہمہ انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام پر انکی باتوں میں کذب جائز مانے خواہ بزعم خود اس میں کسی مصلحت کا ادعا کرے یا نہ کرے ہر طرح بالاتفاق کافر ہے۔
عــــــہ : یہ اس کی پیش بندی ہے کہ یہ کذاب اپنی بڑ میں ہمیشہ پیشگوئیاں ہانکتا رہتا ہے اور بعنایت الہی وہ آئے دن جھوٹی پڑا کرتی ہیں تو یہاں یہ بتانا چاہتا ہے کہ پیشگوئی غلط پڑی کچھ شان نبوت کے خلاف نہیں معاذ اﷲ اگلے انبیاء میں بھی ایسا ہوتا ہے۔ (اینہم برعلم)
حوالہ / References
ازالہ اوہام ریاض الہند امر تسر بھارت ص ۲۳۴
القرآن الکریم ۲۶ /۱۰۵
القرآن الکریم ۲۶ /۱۲۳
القرآن الکریم ۲۶ /۱۴۱
القرآن الکریم ۲۶ /۱۶۰
القرآن الکریم ۲۶ /۱۷۶
الشفا بتعریف حقوق المصطفٰی فصل فی بیان ما ھو من المقالات مکتبہ شرکۃ صحافیہ فی بلاد العثمانیہ ۲ / ۲۶۹
القرآن الکریم ۲۶ /۱۰۵
القرآن الکریم ۲۶ /۱۲۳
القرآن الکریم ۲۶ /۱۴۱
القرآن الکریم ۲۶ /۱۶۰
القرآن الکریم ۲۶ /۱۷۶
الشفا بتعریف حقوق المصطفٰی فصل فی بیان ما ھو من المقالات مکتبہ شرکۃ صحافیہ فی بلاد العثمانیہ ۲ / ۲۶۹
ظالم نے چار سو کہہ کر گمان کیا کہ اس نے باقی انبیاء کو تکذیب سے بچالیا حالانکہ یہی آیتیں جو ابھی تلاوت کی گئی ہیں شہادت دے رہی ہیں کہ اس نے آدم نبی اﷲ سے محمد رسول اﷲ تك تمام انبیائے کرام علیہم افضل الصلوۃ والسلام کو کاذب کہہ دیا کہ ایك رسول کی تکذیب تمام مرسلین کی تکذیب ہے۔
دیکھو قوم نوح وہود وصالح ولوط و شعیب علیہم الصلوۃ والسلام نے اپنے ایك ہی نبی کی تکذیب کی تھی مگر قرآن نے فرمایا : قوم نوح نے سب رسولوں کی تکذیب کی عاد نے کل پیغمبروں کو جھٹلایا ثمود نے جمیع انبیاء کو کاذب کہا قوم لوط نے تمام رسل کو جھوٹا بتایا ایکہ والوں نے سارے نبیوں کو دروغ گو کہا یونہی واﷲ اس قائل نے نہ صرف چار سو بلکہ جملہ انبیاء و مرسلین کو کذاب مانا۔
فلعن اﷲ من کذب احدا من انبیائہ وصلی اﷲ تعالی علی انبیائہ ورسلہ والمؤمنین بھم اجمعین وجعلنا منھم وحشرنا فیھم وادخلنا معھم دار النعیم بجاھھم عندہ وبرحمتہ بھم ورحمتھم بنا انہ ارحم الراحمین والحمد ﷲ رب العلمین۔ (اﷲ تعالی کے کسی نبی کو جھوٹا کہنے والے پر اﷲتعالی کی لعنت اور اﷲ تعالی اپنے انبیاء ورسولوں پر اور ان کے وسیلہ سے تمام مومنین پر رحمت فرمائے اور ہمیں ان میں بنائے ان کے ساتھ حشر اور ان کے ساتھ جنت میں داخل فرمائے ان کی اپنے ہاں وجاہت اور ان پر اپنی رحمت اور انکی ہم پر رحمت کے سبب وہ برحق بڑا رحیم و رحمن ہے سب حمدیں اﷲ تعالی کے لئے جو سب جہانوں کا رب ہے۔ ت)
طبرانی معجم کبیر میں وبر حنفی رضی اللہ تعالی عنہسے راوی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
انی اشہد عدد تراب الدنیا ان مسیلمۃ کذاب بیشك میں ذرہ ہائے خاك تمام دنیا کے برابر گواہیاں دیتا ہوں کہ مسیلمہ(جس نے زمانہ اقدس میں ادعائے نبوت کیا تھا)کذاب ہے۔
وانا اشھد معك یارسول اﷲ(یا رسول اﷲ! میں بھی آپ کے ساتھ گواہی دیتا ہوں)اور محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی بارگاہ عالم پناہ کا یہ ادنی کتا بعدد دانہائے ریگ و ستا رہا ئے آسمان گواہی دیتا ہے اور میرے ساتھ تمام ملائکہ سموت وارض وحاملان عرش گواہ ہیں اور خو د عرش عظیم کا مالك گواہ ہے “ و کفی باللہ شہیدا ﴿۲۸﴾ “ (اور اﷲ کافی ہے گواہ۔ ت)کہ ان اقوال مذکورہ کا قائل بیباك کافر مرتد ناپاك ہے۔
دیکھو قوم نوح وہود وصالح ولوط و شعیب علیہم الصلوۃ والسلام نے اپنے ایك ہی نبی کی تکذیب کی تھی مگر قرآن نے فرمایا : قوم نوح نے سب رسولوں کی تکذیب کی عاد نے کل پیغمبروں کو جھٹلایا ثمود نے جمیع انبیاء کو کاذب کہا قوم لوط نے تمام رسل کو جھوٹا بتایا ایکہ والوں نے سارے نبیوں کو دروغ گو کہا یونہی واﷲ اس قائل نے نہ صرف چار سو بلکہ جملہ انبیاء و مرسلین کو کذاب مانا۔
فلعن اﷲ من کذب احدا من انبیائہ وصلی اﷲ تعالی علی انبیائہ ورسلہ والمؤمنین بھم اجمعین وجعلنا منھم وحشرنا فیھم وادخلنا معھم دار النعیم بجاھھم عندہ وبرحمتہ بھم ورحمتھم بنا انہ ارحم الراحمین والحمد ﷲ رب العلمین۔ (اﷲ تعالی کے کسی نبی کو جھوٹا کہنے والے پر اﷲتعالی کی لعنت اور اﷲ تعالی اپنے انبیاء ورسولوں پر اور ان کے وسیلہ سے تمام مومنین پر رحمت فرمائے اور ہمیں ان میں بنائے ان کے ساتھ حشر اور ان کے ساتھ جنت میں داخل فرمائے ان کی اپنے ہاں وجاہت اور ان پر اپنی رحمت اور انکی ہم پر رحمت کے سبب وہ برحق بڑا رحیم و رحمن ہے سب حمدیں اﷲ تعالی کے لئے جو سب جہانوں کا رب ہے۔ ت)
طبرانی معجم کبیر میں وبر حنفی رضی اللہ تعالی عنہسے راوی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
انی اشہد عدد تراب الدنیا ان مسیلمۃ کذاب بیشك میں ذرہ ہائے خاك تمام دنیا کے برابر گواہیاں دیتا ہوں کہ مسیلمہ(جس نے زمانہ اقدس میں ادعائے نبوت کیا تھا)کذاب ہے۔
وانا اشھد معك یارسول اﷲ(یا رسول اﷲ! میں بھی آپ کے ساتھ گواہی دیتا ہوں)اور محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی بارگاہ عالم پناہ کا یہ ادنی کتا بعدد دانہائے ریگ و ستا رہا ئے آسمان گواہی دیتا ہے اور میرے ساتھ تمام ملائکہ سموت وارض وحاملان عرش گواہ ہیں اور خو د عرش عظیم کا مالك گواہ ہے “ و کفی باللہ شہیدا ﴿۲۸﴾ “ (اور اﷲ کافی ہے گواہ۔ ت)کہ ان اقوال مذکورہ کا قائل بیباك کافر مرتد ناپاك ہے۔
حوالہ / References
المعجم الکبیر حدیث ۴۱۲ از و بربن مشہر الحنفی المکتبہ الفیصلیہ بیروت ۲۲ / ۱۵۴
القران الکریم ۴۸ / ۲۸
القران الکریم ۴۸ / ۲۸
اگر یہ عــــــہ اقوال مرزا کی تحریروں میں اسی طرح ہیں تو واﷲ واﷲ وہ یقینا کافر اور جو اس کے ان اقوال یا ان کے امثال پر مطلع ہو کر اسے کافر نہ کہے وہ بھی کافر ندوہ مخذولہ اور اس کے اراکین کہ صرف طوطے کی طرح کلمہ گوئی پر مدار اسلام رکھتے اور تمام بددینوں گمراہوں کو حق پر جانتے خدا کو سب سے یکساں راضی مانتے سب مسلمانوں پر مذہب سے لادعوے دینا لازم کرتے ہیں جیسا کہ ندوہ کی رو داد اول و دوم ورسالہ اتفاق وغیرہا میں مصرح ہے ان اقوال پر بھی اپنا وہی قاعدہ ملعونہ مجرد کلمہ گوئی نیچریت کا اعلی نمونہ جاری رکھیں اس کی تکفیر میں چون وچرا کریں تووہ بھی کافر وہ اراکین بھی کفار مرزا کے پیرو اگرچہ خود ان اقوال انجس الابوال کے معتقد نہ بھی ہوں مگر جب کہ صریح کفر و کھلے ارتداد دیکھتے سنتے پھر مرزا کو امام و پیشوا و مقبول خدا کہتے ہیں قطعا یقینا سب مرتد ہیں سب مستحق نار۔ شفاء شریف میں ہے :
نکفر من لم یکفر من دان بغیر ملۃ المسلمین من الملل اووقف فیھم اوشک یعنی ہم ہر اس شخص کو کافر کہتے ہیں جوکافر کو کافر نہ کہے یا اسکی تکفیر میں توقف کرے یا شك رکھے۔
شفاء شریف نیز فتاوی بزازیہ و دررو غرر و فتاوی خیریہ و درمختار و مجمع الانہر و غیر ہا میں ہے :
من شك فی کفرہ وعذابہ فقد کفر ۔ جو اس کے کفر و عذاب میں شك کرے یقینا خود کافر ہے۔ (ت)
اور جو شخص باوصف کلمہ گوئی وادعائے اسلام کفر کرے وہ کافروں کی سب سے بدتر قسم مرتد کے حکم میں ہے ہدایہ و درمختار وعالمگیری و غرر و ملتقی الابحر ومجمع الانہر وغیر ہا میں ہے :
صاحب الھوی ان کان یکفر فہو بمنزلۃ المرتد (بدعتی اگر کفر کرے تو وہ مرتد کے حکم میں ہے۔ ت)
فتاوی ظہیریہ وطریقہ محمدیہ وحدیقہ ندیہ وبرجندی شرح نقایہ وفتاوی ہندیہ میں ہے :
عــــــہ : یہ اقوال دوسرے کے منقول تھے اس فتوے کے بعد مرزا کی بعض نئی تحریریں خود نظر سے گزریں جن میں قطعی کفر بھرے ہیں بلاشبہ وہ یقینا کافر مرتد ہے۱۲۔
نکفر من لم یکفر من دان بغیر ملۃ المسلمین من الملل اووقف فیھم اوشک یعنی ہم ہر اس شخص کو کافر کہتے ہیں جوکافر کو کافر نہ کہے یا اسکی تکفیر میں توقف کرے یا شك رکھے۔
شفاء شریف نیز فتاوی بزازیہ و دررو غرر و فتاوی خیریہ و درمختار و مجمع الانہر و غیر ہا میں ہے :
من شك فی کفرہ وعذابہ فقد کفر ۔ جو اس کے کفر و عذاب میں شك کرے یقینا خود کافر ہے۔ (ت)
اور جو شخص باوصف کلمہ گوئی وادعائے اسلام کفر کرے وہ کافروں کی سب سے بدتر قسم مرتد کے حکم میں ہے ہدایہ و درمختار وعالمگیری و غرر و ملتقی الابحر ومجمع الانہر وغیر ہا میں ہے :
صاحب الھوی ان کان یکفر فہو بمنزلۃ المرتد (بدعتی اگر کفر کرے تو وہ مرتد کے حکم میں ہے۔ ت)
فتاوی ظہیریہ وطریقہ محمدیہ وحدیقہ ندیہ وبرجندی شرح نقایہ وفتاوی ہندیہ میں ہے :
عــــــہ : یہ اقوال دوسرے کے منقول تھے اس فتوے کے بعد مرزا کی بعض نئی تحریریں خود نظر سے گزریں جن میں قطعی کفر بھرے ہیں بلاشبہ وہ یقینا کافر مرتد ہے۱۲۔
حوالہ / References
الشفا بتعریف حقوق المصطفٰی صلی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلم فصل فی بیان ماھو من المقالات مکتبہ شرکۃ صحافیہ فی البلاد والعثمانیہ ۲ / ۲۵
درمختار باب المرتد مطبع مجتبائی دہلی ، ۱ / ۳۵۶
درمختار فصل فی وصایا الذمی وغیرہ مطبع مجتبائی دہلی ، ۲ / ۳۳۳
درمختار باب المرتد مطبع مجتبائی دہلی ، ۱ / ۳۵۶
درمختار فصل فی وصایا الذمی وغیرہ مطبع مجتبائی دہلی ، ۲ / ۳۳۳
ھؤلاء القوم خار جون عن ملۃ الاسلام واحکامھم احکام المرتدین یہ لوگ دین اسلام سے خارج ہیں اور انکے احکام بعینہ مرتدین کے احکام ہیں۔
اور شوہر کے کفر کرتے ہی عورت نکاح سے فورا نکل جاتی ہے اب اگر بے اسلام لائے اپنے اس قول و مذہب سے بغیر توبہ کئے یا بعد اسلام و توبہ عورت سے بغیر نکاح جدید کئے اس سے قربت کرے زنائے محض ہو جو اولاد ہو یقینا ولدالزنا ہو یہ احکام سب ظاہر اور تمام کتب میں دائر و سائر ہیں۔
فی الدرالمختار عن غنیۃ ذوی الاحکام مایکون کفرا اتفاقا یبطل العمل والنکاح واولادہ اولادزنا درمختار میں غنیۃ ذوی الاحکام سے منقول ہے جو بالاتفاق کفر ہو وہ عمل نکاح کوباطل کردیتا ہے اسکی اولاد ولد الزنا ہے۔
اور عورت کا کل مہر اس کے ذمہ عائد ہونے میں بھی شك نہیں جب کہ خلوت صحیحہ ہوچکی ہو کہ ارتداد کسی دین کو ساقط نہیں کرتا۔
فی التنویر وارث کسب اسلامہ وارثہ المسلم بعد قضاء دین اسلامہ وکسب ردتہ فی بعد قضاء دین ردتہ تنویر میں ہے قرضہ کی ادائیگی کے بعد اس کے اسلامی وقت کی کمائی کا وارث مسلمان ہے اور اس کے ارتدادی دور کی کمائی بیت المال میں جمع ہوگی۔
اور معجل تو فی الحال آپ ہی واجب الادا ہے رہا مؤجل وہ ہنوز اپنی اجل پر رہے گا مگر یہ کہ مرتد بحال ارتداد ہی مرجائے یا دارالحرب کو چلا جائے اور حاکم شرع حکم فرمادے کہ وہ دارالحرب سے ملحق ہوگیا اس وقت مؤجل بھی فی الحال واجب الادا ہوجائے گا اگرچہ اجل موعود میں دس بیس برس باقی ہوں۔
فی الدر ان حکم القاضی بلحاقہ حل دینہ فی رد المحتار لا نہ باللحاق صار من اھل الحرب وھم اموات فی حق احکام الاسلام فصار کالموت الا (درمختار میں ہے کہ اگر قاضی نے مرتد کو دارالحرب سے ملحق ہونے کا فیصلہ دے دیا تو اس کا دین لوگوں کو حلال ہے ردالمحتار میں ہے کیونکہ دارالحرب سے لاحق ہونے پر حربی ہوگیا اور حربی اسلام کے احکام میں مردوں
اور شوہر کے کفر کرتے ہی عورت نکاح سے فورا نکل جاتی ہے اب اگر بے اسلام لائے اپنے اس قول و مذہب سے بغیر توبہ کئے یا بعد اسلام و توبہ عورت سے بغیر نکاح جدید کئے اس سے قربت کرے زنائے محض ہو جو اولاد ہو یقینا ولدالزنا ہو یہ احکام سب ظاہر اور تمام کتب میں دائر و سائر ہیں۔
فی الدرالمختار عن غنیۃ ذوی الاحکام مایکون کفرا اتفاقا یبطل العمل والنکاح واولادہ اولادزنا درمختار میں غنیۃ ذوی الاحکام سے منقول ہے جو بالاتفاق کفر ہو وہ عمل نکاح کوباطل کردیتا ہے اسکی اولاد ولد الزنا ہے۔
اور عورت کا کل مہر اس کے ذمہ عائد ہونے میں بھی شك نہیں جب کہ خلوت صحیحہ ہوچکی ہو کہ ارتداد کسی دین کو ساقط نہیں کرتا۔
فی التنویر وارث کسب اسلامہ وارثہ المسلم بعد قضاء دین اسلامہ وکسب ردتہ فی بعد قضاء دین ردتہ تنویر میں ہے قرضہ کی ادائیگی کے بعد اس کے اسلامی وقت کی کمائی کا وارث مسلمان ہے اور اس کے ارتدادی دور کی کمائی بیت المال میں جمع ہوگی۔
اور معجل تو فی الحال آپ ہی واجب الادا ہے رہا مؤجل وہ ہنوز اپنی اجل پر رہے گا مگر یہ کہ مرتد بحال ارتداد ہی مرجائے یا دارالحرب کو چلا جائے اور حاکم شرع حکم فرمادے کہ وہ دارالحرب سے ملحق ہوگیا اس وقت مؤجل بھی فی الحال واجب الادا ہوجائے گا اگرچہ اجل موعود میں دس بیس برس باقی ہوں۔
فی الدر ان حکم القاضی بلحاقہ حل دینہ فی رد المحتار لا نہ باللحاق صار من اھل الحرب وھم اموات فی حق احکام الاسلام فصار کالموت الا (درمختار میں ہے کہ اگر قاضی نے مرتد کو دارالحرب سے ملحق ہونے کا فیصلہ دے دیا تو اس کا دین لوگوں کو حلال ہے ردالمحتار میں ہے کیونکہ دارالحرب سے لاحق ہونے پر حربی ہوگیا اور حربی اسلام کے احکام میں مردوں
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ الباب التاسع فی احکام المرتدین نورانی کتب خانہ پشاور ۲ / ۲۶۴
درمختار باب المرتد مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۳۵۹
درمختار باب المرتد مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۳۵۹
درمختار باب المرتد مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۳۵۹
درمختار باب المرتد مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۳۵۹
درمختار باب المرتد مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۳۵۹
درمختار باب المرتد مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۳۵۹
انہ لا یستقر لحاقہ الا بالقضاء لا حتمال العود واذا تقرر موتہ تثبت الاحکام المتعلقۃ بہ کما ذکرنھر کی طرح ہوتے ہیں مگر اس کا طوق قاضی کے فیصلہ پر دائمی قرار پائے گا کیونکہ قبل ازیں اس کے واپس دارالاسلام آنے کا احتمال ہے تو جب اس کی موت ثابت ہوگئی تو موت سے متعلقہ تمام احکام نافذ ہوجائیں گے جیسا کہ نہر نے ذکر کیا۔ ت)
اولاد صغار ضرور اس کے قبضے سے نکال لی جائے گی
حذرا علی دینھم الاتری انھم صرحوا بنزع الولد من الام الشفیقۃ المسلمۃ ان کانت فاسقۃ والولد یعقل یخشی علیہ التخلق بسیرھا الذمیۃ فما ظنك بالاب المرتد والعیاذ باﷲ تعالی قال فی ردالمحتار الفاجرۃ بمنزلۃ الکتابیۃ فان الولد یبقی عندھا الی ان یعقل الادیان کما سیاتی خوفا علیہ من تعلمہ منہا ما تفعلہ فکذا الفاجرۃ الخ وانت تعلم الولد لا یحضنہ الاب الا بعد ما بلغ سبعا او تسعا وذلك عمر العقل قطعا فیحرم الدفع الیہ ویجب النزع منہ وانما احوجنا الی ھذا لان الملك لیس بید الاسلام والا عــــــہ فالسلطان این یبقی
نابالغ بچوں کے دین کے خطرے کی وجہ سے کیا آپ نے نہ دیکھا کہ فقہاء نے مسلمان شفیق ماں اگر فاسقہ ہو تو اس سے بچے کو الگ کرنے کی تصریح کی ہے بچے کے سمجھدار ہونے پر اس کی ماں کے برے اخلاق سے متاثر ہونے کے خوف کی وجہ سے تو مرتد باپ کے بارے میں تیرا کیا گمان ہوگا والعیاذ باﷲ تعالی ردالمحتار میں فرمایا کہ فاجر عورت اہل کتاب عورت کے حکم میں ہے کہ اس کے پاس بچہ صرف اس وقت تك رہے گا جب تك دین سمجھنے نہ پائے جیسا کہ بیان ہوگا اس خوف سے کہ کہیں بچہ اس کے اعمال سے متاثر نہ ہوجائے تو فاجرہ عورت کا بھی یہی حکم ہے الخ اور تجھے علم ہے کہ والد بچے کو سات یا نو سال کے بعد ہی اپنی پرورش میں لیتا ہے اور یہ سمجھ کی عمر ہے لہذا بچے کو اس کے سپرد کرنا حرام ہے اور اس سے الگ کرلینا ضروری ہے اور
عــــــہ : فان سلطان الاسلام مامور بقتلہ لایجوز لہ ابقاؤہ بعد ثلثۃ ایام ۱۲ منہ کیونکہ اسلامی حکمران کو مرتد کے قتل کا حکم ہے تو اسے جائز نہیں کہ مرتد کو تین دن کے بعد باقی رکھے۔ ۱۲ منہ
اولاد صغار ضرور اس کے قبضے سے نکال لی جائے گی
حذرا علی دینھم الاتری انھم صرحوا بنزع الولد من الام الشفیقۃ المسلمۃ ان کانت فاسقۃ والولد یعقل یخشی علیہ التخلق بسیرھا الذمیۃ فما ظنك بالاب المرتد والعیاذ باﷲ تعالی قال فی ردالمحتار الفاجرۃ بمنزلۃ الکتابیۃ فان الولد یبقی عندھا الی ان یعقل الادیان کما سیاتی خوفا علیہ من تعلمہ منہا ما تفعلہ فکذا الفاجرۃ الخ وانت تعلم الولد لا یحضنہ الاب الا بعد ما بلغ سبعا او تسعا وذلك عمر العقل قطعا فیحرم الدفع الیہ ویجب النزع منہ وانما احوجنا الی ھذا لان الملك لیس بید الاسلام والا عــــــہ فالسلطان این یبقی
نابالغ بچوں کے دین کے خطرے کی وجہ سے کیا آپ نے نہ دیکھا کہ فقہاء نے مسلمان شفیق ماں اگر فاسقہ ہو تو اس سے بچے کو الگ کرنے کی تصریح کی ہے بچے کے سمجھدار ہونے پر اس کی ماں کے برے اخلاق سے متاثر ہونے کے خوف کی وجہ سے تو مرتد باپ کے بارے میں تیرا کیا گمان ہوگا والعیاذ باﷲ تعالی ردالمحتار میں فرمایا کہ فاجر عورت اہل کتاب عورت کے حکم میں ہے کہ اس کے پاس بچہ صرف اس وقت تك رہے گا جب تك دین سمجھنے نہ پائے جیسا کہ بیان ہوگا اس خوف سے کہ کہیں بچہ اس کے اعمال سے متاثر نہ ہوجائے تو فاجرہ عورت کا بھی یہی حکم ہے الخ اور تجھے علم ہے کہ والد بچے کو سات یا نو سال کے بعد ہی اپنی پرورش میں لیتا ہے اور یہ سمجھ کی عمر ہے لہذا بچے کو اس کے سپرد کرنا حرام ہے اور اس سے الگ کرلینا ضروری ہے اور
عــــــہ : فان سلطان الاسلام مامور بقتلہ لایجوز لہ ابقاؤہ بعد ثلثۃ ایام ۱۲ منہ کیونکہ اسلامی حکمران کو مرتد کے قتل کا حکم ہے تو اسے جائز نہیں کہ مرتد کو تین دن کے بعد باقی رکھے۔ ۱۲ منہ
حوالہ / References
ردالمحتار باب المرتد داراحیاء التراث العربی بیروت ۳ / ۳۰۰
ردالمحتار باب الحضانۃ دار احیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۶۳۴
ردالمحتار باب الحضانۃ دار احیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۶۳۴
المرتد حتی یبحث عن حضانتہ الاتری الی قولھم لا حضانۃ لمرتدۃ لا نھا تضرب وتحبس کالیوم فانی تتفرغ للحضانۃ فاذا کان ھذا فی المحبوس فما ظنك بالمقتول ولکن انا ﷲ وانا الیہ راجعون ولا حول ولا قوۃ الا باﷲ العلی العظیم۔ ہم نے یہ ضرورت اس لئے محسوس کی کہ یہ ملك مسلمان کے اختیار میں نہیں ورنہ اسلامی حکمران مرتد کو کب چھوڑے گا کہ مرتد کی پرورش کا مسئلہ زیر بحث آئے آپ نے غور نہیں کیا کہ فقہاء کا ارشاد ہے کہ مرتدہ کو حق پرورش نہیں ہے کیونکہ وہ قید میں سزا یافتہ ہوگی جیسا کہ آج ہے لہذا وہ پرورش کرنے کی فرصت کہاں پاسکتی ہے تو یہ حکم قیدی کے متعلق ہے تو مقتول مرتد کے متعلق تیرا کیا گمان ہوسکتا ہے لیکن ہم اﷲ تعالی کا مال اور ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔ ولا حول ولا قوۃ الا باﷲ العلی العظیم۔ ت
مگران کے نفس یا مال میں بدعوے ولایت اس کے تصرفات موقوف رہیں گے اگر پھر اسلام لے آیا اور اس مذہب ملعون سے توبہ کی تووہ تصرف سب صحیح ہوجائیں گے اور اگر مرتد ہی مرگیا یا دارالحرب کو چلا گیا تو باطل ہوجائیں گے
فی الدرالمختار یبطل منہ اتفاقا ما یعتمد الملۃ وھی خمس النکاح والذبیحۃ والصید والشھادۃ والارث و یتوقف منہ اتفاقا ما یعتمد المساواۃ وھو المفاوضۃ او ولایۃ متعد یۃ وھوالتصرف علی ولدہ الصغیر ان اسلم نفذ وان ھلك اولحق بدارالحرب وحکم بلحاقہ بطل اھ مختصرا نسأل اﷲ الثبات علی الایمان وحسبنا اﷲ ونعم الوکیل وعلیہ التکلان ولا حول ولا قوۃ الا باﷲ العلی العظیم وصلی اﷲ تعالی علی سیدنا ومولانا محمد والہ وصحبہ اجمعین امین (درمختار میں ہے مرتد کے وہ تمام امور بالاتفاق باطل ہیں جن کا تعلق دین سے ہو اور وہ پانچ امور ہیں : نکاح ذبیحہ شکار گواہی اور وراثت اور وہ امور بالاتفاق موقوف قرار پائیں گے جو مساوات عمل مثلا لین دین اور کسی پر ولایت اور یہ نابالغ اولاد کے بارے میں تصرفات ہیں اگر وہ دوبارہ مسلمان ہوگیا تو موقوف امور نافذ ہوجائیں گے اور اگر وہ ارتداد میں مرگیا یا دارالحرب پہنچ گیا اور قاضی نے اس کے طوق کا فیصلہ دے دیا تو وہ امور باطل ہوجائیں گے اھ مختصرا ہم اﷲ تعالی سے ایمان پر ثابت قدمی کے لئے دعا گو ہیں ہمیں اﷲ تعالی کافی ہے اور وہ اچھا وکیل ہے اور اس پر ہی بھروسا ہے لاحول
مگران کے نفس یا مال میں بدعوے ولایت اس کے تصرفات موقوف رہیں گے اگر پھر اسلام لے آیا اور اس مذہب ملعون سے توبہ کی تووہ تصرف سب صحیح ہوجائیں گے اور اگر مرتد ہی مرگیا یا دارالحرب کو چلا گیا تو باطل ہوجائیں گے
فی الدرالمختار یبطل منہ اتفاقا ما یعتمد الملۃ وھی خمس النکاح والذبیحۃ والصید والشھادۃ والارث و یتوقف منہ اتفاقا ما یعتمد المساواۃ وھو المفاوضۃ او ولایۃ متعد یۃ وھوالتصرف علی ولدہ الصغیر ان اسلم نفذ وان ھلك اولحق بدارالحرب وحکم بلحاقہ بطل اھ مختصرا نسأل اﷲ الثبات علی الایمان وحسبنا اﷲ ونعم الوکیل وعلیہ التکلان ولا حول ولا قوۃ الا باﷲ العلی العظیم وصلی اﷲ تعالی علی سیدنا ومولانا محمد والہ وصحبہ اجمعین امین (درمختار میں ہے مرتد کے وہ تمام امور بالاتفاق باطل ہیں جن کا تعلق دین سے ہو اور وہ پانچ امور ہیں : نکاح ذبیحہ شکار گواہی اور وراثت اور وہ امور بالاتفاق موقوف قرار پائیں گے جو مساوات عمل مثلا لین دین اور کسی پر ولایت اور یہ نابالغ اولاد کے بارے میں تصرفات ہیں اگر وہ دوبارہ مسلمان ہوگیا تو موقوف امور نافذ ہوجائیں گے اور اگر وہ ارتداد میں مرگیا یا دارالحرب پہنچ گیا اور قاضی نے اس کے طوق کا فیصلہ دے دیا تو وہ امور باطل ہوجائیں گے اھ مختصرا ہم اﷲ تعالی سے ایمان پر ثابت قدمی کے لئے دعا گو ہیں ہمیں اﷲ تعالی کافی ہے اور وہ اچھا وکیل ہے اور اس پر ہی بھروسا ہے لاحول
حوالہ / References
درمختار ، باب المرتد ، مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۳۵۹
واﷲ تعالی اعلم۔ ولا قوۃ الا باﷲ العلی العظیم وصلی اﷲتعالی علی سیدنا و مولانا محمد وآلہ وصحبہ اجمعین آمین۔ واﷲ تعالی اعلم۔ ت)
محمد وصی احمد عبدہ المذنب احمد رضا البریلوی عبدالمصطفی
ناصر دین احمدرضاخاں عفی عنہ بمحمدن المصطفی النبی الامی
محمدی سنی حنفی قادری
صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم
__________________
محمد وصی احمد عبدہ المذنب احمد رضا البریلوی عبدالمصطفی
ناصر دین احمدرضاخاں عفی عنہ بمحمدن المصطفی النبی الامی
محمدی سنی حنفی قادری
صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم
__________________
رسالہ
قھر الدیان علی مرتد بقادیان ۱۲۲۳ھ
(قادیانی مرتد پر قہر خداوندی)
الحمدﷲ وکفی سمع اﷲ لمن دعا لیس وراء اﷲ منتھی ان ربی لطیف لما یشاء صلوات العلی الاعلی وتسلیماتہ المنزھۃ عن الانتھاء وبرکاتہ التی تنمی وتنمی علی خاتم النبیین جمیعا فمن تنبأ بعدہ تاما اوناقصا فقد کفر وغوی اﷲ اکبر علی من عاث وعتا ومرد وعصی وفی ھوۃ ھواہ ھوی اللھم اجرنا من ان نذل ونخزی او نزل ونشقی ربنا وانصرنا بنصرك علی من طغی وبغی تمام تعریفیں اﷲ تعالی کے لئے دعا کرنے والے کیلئے کفایت فرماتا اور سنتا ہے اﷲ تعالی کے بغیر کو منتہی نہیں بیشك میرا رب جس پر چاہے لطف فرماتا ہے اﷲ تعالی کی صلوتیں تسلیمات اور برکتیں جو بڑھتی ہیں اور انتہا سے پاك ہیں تمام انبیاء کے خاتم پر تو جو آپ کے بعد تام یا ناقص نبوت کا مدعی ہوا تو وہ کافر ہوا اور گمراہ اﷲ تعالی ہر سرکش باغی کھلے نافرمان اور اپنی خواہش کے گڑھے میں گرنے والے پر غالب و بلند ہے اے باری تعالی! ہمیں ذلت رسوائی پھسلنے اور بدبختی سے محفوظ فرما۔ یا اﷲ! ہماری اپنی خاص مدد فرما ہر باغی اور سرکش اور
قھر الدیان علی مرتد بقادیان ۱۲۲۳ھ
(قادیانی مرتد پر قہر خداوندی)
الحمدﷲ وکفی سمع اﷲ لمن دعا لیس وراء اﷲ منتھی ان ربی لطیف لما یشاء صلوات العلی الاعلی وتسلیماتہ المنزھۃ عن الانتھاء وبرکاتہ التی تنمی وتنمی علی خاتم النبیین جمیعا فمن تنبأ بعدہ تاما اوناقصا فقد کفر وغوی اﷲ اکبر علی من عاث وعتا ومرد وعصی وفی ھوۃ ھواہ ھوی اللھم اجرنا من ان نذل ونخزی او نزل ونشقی ربنا وانصرنا بنصرك علی من طغی وبغی تمام تعریفیں اﷲ تعالی کے لئے دعا کرنے والے کیلئے کفایت فرماتا اور سنتا ہے اﷲ تعالی کے بغیر کو منتہی نہیں بیشك میرا رب جس پر چاہے لطف فرماتا ہے اﷲ تعالی کی صلوتیں تسلیمات اور برکتیں جو بڑھتی ہیں اور انتہا سے پاك ہیں تمام انبیاء کے خاتم پر تو جو آپ کے بعد تام یا ناقص نبوت کا مدعی ہوا تو وہ کافر ہوا اور گمراہ اﷲ تعالی ہر سرکش باغی کھلے نافرمان اور اپنی خواہش کے گڑھے میں گرنے والے پر غالب و بلند ہے اے باری تعالی! ہمیں ذلت رسوائی پھسلنے اور بدبختی سے محفوظ فرما۔ یا اﷲ! ہماری اپنی خاص مدد فرما ہر باغی اور سرکش اور
و ضل واضل عن سبیل الاھتداء صل علی المولی والہ وصحبہ ابدا ابدا واشھد ان لا الہ الا اﷲ وحدہ لا شریك لہ احدا صمدا وان محمدا عبدہ ورسولہ بالحق ودین الھدی صلی اﷲ تعالی علیہ وعلی الہ و صحبہ دائما سرمدا۔ جو بھی گمراہ ہو اور گمراہ کرتا ہو سیدھے طریقے سے ان سب کے خلاف۔ اور رحمت نازل فرما ہمارے آقا پر اور ان کی آل واصحاب پر ہمیشہ ہمیشہ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اﷲ کے سوا کوئی برحق معبود نہیں وہ وحدہ لا شریك احد صمد ہے اور یہ کہ محمدصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اس کے خاص بندے اور برحق رسول ہیں اور اس کا دین ہدایت ہے۔ اﷲ تعالی کی رحمت نازل ہو ان پر اور ان کے آل و اصحاب پر دائمی۔ ت
اﷲ اکبر علی من عتا وتکبر
(اﷲ تعالی ہر سرکش اور متکبر پر غالب وبلند ہے۔ ت)
مدتے ایں مثنوی تا خیر شد مہلتے بایست تاخوں شیر شد
(اس مثنوی کو ایك مدت تاخیر ہوئی خون کے دودھ بننے کے لئے مدت چاہیے۔ ت)
اﷲ عزوجل اپنے دین کا ناصر اپنے بندوں کا کفیل وحسبنا اﷲ ونعم الوکیل رسالہ ماہواری رد قادیانی کی ابتداء حکمت الہیہ نے اس وقت پر رکھی تھی کہ یہاں دو چار جاہلان محض اس کے مرید ہو آئے مسلمانوں نے حسب حکم شرع شریف ان سے میل جول ارتباط سلام کلام یك لخت ترك کردیا۔ دین میں فساد مسلمانوں میں فتنہ پیدا کرنے والوں نے یہ “ العذاب الادنی دون العذاب الاکبر “ (بڑے عذاب سے قبل دنیاوی چھوٹا عذاب چکھا)مسلمانوں پر حملے میں اپنی چلتی میں کوئی گئی نہ کی بس نہ چلا تو متواتر عرضیاں دیں کہ ہمارا پانی بند ہے ہم پر زندگی تلخ ہے بیدار مغز حکومت ایسی لغویات کو کب سنتی ہر بار جواب ملا کہ مذہبی امور میں دست اندازی نہ ہوگی سائلان آپ اپنا انتظام کریں آخر بحکم آنکہ
ع دست بگیرد سر شمشیر تیز
(تیز تلوار کا سرا ہاتھ میں پکڑا۔ ت)
ایك بے قید پرچے روہیل کھنڈ گزٹ میں اشتہار چھاپا کہ عمائد شہر اگر علمائے طرفین سے مناظرہ کرائیں اور وہ
اﷲ اکبر علی من عتا وتکبر
(اﷲ تعالی ہر سرکش اور متکبر پر غالب وبلند ہے۔ ت)
مدتے ایں مثنوی تا خیر شد مہلتے بایست تاخوں شیر شد
(اس مثنوی کو ایك مدت تاخیر ہوئی خون کے دودھ بننے کے لئے مدت چاہیے۔ ت)
اﷲ عزوجل اپنے دین کا ناصر اپنے بندوں کا کفیل وحسبنا اﷲ ونعم الوکیل رسالہ ماہواری رد قادیانی کی ابتداء حکمت الہیہ نے اس وقت پر رکھی تھی کہ یہاں دو چار جاہلان محض اس کے مرید ہو آئے مسلمانوں نے حسب حکم شرع شریف ان سے میل جول ارتباط سلام کلام یك لخت ترك کردیا۔ دین میں فساد مسلمانوں میں فتنہ پیدا کرنے والوں نے یہ “ العذاب الادنی دون العذاب الاکبر “ (بڑے عذاب سے قبل دنیاوی چھوٹا عذاب چکھا)مسلمانوں پر حملے میں اپنی چلتی میں کوئی گئی نہ کی بس نہ چلا تو متواتر عرضیاں دیں کہ ہمارا پانی بند ہے ہم پر زندگی تلخ ہے بیدار مغز حکومت ایسی لغویات کو کب سنتی ہر بار جواب ملا کہ مذہبی امور میں دست اندازی نہ ہوگی سائلان آپ اپنا انتظام کریں آخر بحکم آنکہ
ع دست بگیرد سر شمشیر تیز
(تیز تلوار کا سرا ہاتھ میں پکڑا۔ ت)
ایك بے قید پرچے روہیل کھنڈ گزٹ میں اشتہار چھاپا کہ عمائد شہر اگر علمائے طرفین سے مناظرہ کرائیں اور وہ
حوالہ / References
القرآن الکریم ۳۲ /۲۱
بھی اس شرط پر کہ دونوں طرف سے خود وہی منتظم رہیں تو ہمیں اطلاع دیں کہ ہم بھی مرزائی ملانوں کو بلا لیں اور اس میں علمائے اہلسنت کی شان میں کوئی دقیقہ بد زبانی واکاذیب بہتانی وکلمات شیطانی کا اٹھا نہ رکھا یہ حرکت نہ فقط ان بے علم بے فہم مرزائیوں بلکہ بعونہ تعالی خود مرزا کے حق میں کالباحث عن حتفہ بظلفہ(اس کی طرح جو اپنی موت اپنے کھر سے کرید کر نکالے۔ ت)سے کم نہ تھی
ست باز و بجہل میفگند پنجہ با مرد آہنیں چنگال
(ہر فاہم و جاہل کو چھیڑا آہنی پنجے والے مرد سے پنجہ آزمائی کی۔ ت)
مگر از انجا کہ “ وعسی ان تکرہوا شیـا وہو خیر لکم “ ۔ قریب ہے کہ تم ناگوار سمجھو گے بعض چیزیں اور وہ تمہارے لئے بہتر ہوں گی۔ ت)
ع خدا شرے بر انگیز د کہ خیر ما دراں باشد
(اﷲ تعالی ایسا شر لاتا ہے جس میں ہماری خیر ہو۔ ت)
یہ ایك غیبی تحریك خیر ہوگئی جس نے اس ارادہ رسالہ کی سلسلہ جنبانی فرمادی اشتہار کا جواب اشتہاروں سے دیا گیا۔ مناظرہ کے لئے ابکار افکار مرزا قادیانی کو پیام دیا اس کے ہولناك اقوال ادعائے رسالت و نبوت وافضلیت من الانبیاء وغیرہا کفر وضلال کا خاکہ اڑایا گالیوں کے جواب میں گالی سے قطعی احتراز کیا صرف اتنا دکھا دیا کہ تمہاری آج کی گالی نرالی نہیں قادیانی تو ہمیشہ سے اﷲ ورسول وانبیائے سابقین وائمہ دین سب کو گالیاں سناتا رہا ہے ہر عبارت اس کی کتابوں سے بحوالہ صفحہ مذکور ہوئی مضمون کثیر تھا متعدد پرچوں میں اشاعت منظور ہوئی “ ہدایت نوری بجواب اطلاع ضروری “ نام رکھا گیا اس میں دعوت مناظرہ شرائط مناظرہ طریق مناظرہ مبادی مناظرہ سب کچھ موجود ہے۔ اس مختصر تحریر نے اپنی سلك منیر میں متعدد سلاسل لئے سلسلہ د شنام ہائے قادیانی بر حضرت ربانی و رسولان رحمانی ومحبوبان یزدانی سلسلہ کفریات وضلالات قادیانی سلسلہ تناقضات وتہافتات قادیانی سلسلہ دجالی و تلبیسات قادیانی سلسلہ جہالات وبطالات قادیانی سلسلہ تاصیلات سلسلہ سوالات اور واقعی وقتی ضرورات مختلف مضامین پر کلام کی مقتضی ہوتی ہیں اور اس کے اکثر رسائل الٹ پھیر کر انہیں ڈھاك کے تین پات کے حامل لہذا ہر رسالے کے جدا گانہ رو سے انہیں سلاسل کا انتظام احسن واولی۔
اب بعونہ تعالی اسی ہدایت نوری سے ابتدائے رسالہ ہے اور مولی تعالی مدد فرمانے والا ہے اس کے
ست باز و بجہل میفگند پنجہ با مرد آہنیں چنگال
(ہر فاہم و جاہل کو چھیڑا آہنی پنجے والے مرد سے پنجہ آزمائی کی۔ ت)
مگر از انجا کہ “ وعسی ان تکرہوا شیـا وہو خیر لکم “ ۔ قریب ہے کہ تم ناگوار سمجھو گے بعض چیزیں اور وہ تمہارے لئے بہتر ہوں گی۔ ت)
ع خدا شرے بر انگیز د کہ خیر ما دراں باشد
(اﷲ تعالی ایسا شر لاتا ہے جس میں ہماری خیر ہو۔ ت)
یہ ایك غیبی تحریك خیر ہوگئی جس نے اس ارادہ رسالہ کی سلسلہ جنبانی فرمادی اشتہار کا جواب اشتہاروں سے دیا گیا۔ مناظرہ کے لئے ابکار افکار مرزا قادیانی کو پیام دیا اس کے ہولناك اقوال ادعائے رسالت و نبوت وافضلیت من الانبیاء وغیرہا کفر وضلال کا خاکہ اڑایا گالیوں کے جواب میں گالی سے قطعی احتراز کیا صرف اتنا دکھا دیا کہ تمہاری آج کی گالی نرالی نہیں قادیانی تو ہمیشہ سے اﷲ ورسول وانبیائے سابقین وائمہ دین سب کو گالیاں سناتا رہا ہے ہر عبارت اس کی کتابوں سے بحوالہ صفحہ مذکور ہوئی مضمون کثیر تھا متعدد پرچوں میں اشاعت منظور ہوئی “ ہدایت نوری بجواب اطلاع ضروری “ نام رکھا گیا اس میں دعوت مناظرہ شرائط مناظرہ طریق مناظرہ مبادی مناظرہ سب کچھ موجود ہے۔ اس مختصر تحریر نے اپنی سلك منیر میں متعدد سلاسل لئے سلسلہ د شنام ہائے قادیانی بر حضرت ربانی و رسولان رحمانی ومحبوبان یزدانی سلسلہ کفریات وضلالات قادیانی سلسلہ تناقضات وتہافتات قادیانی سلسلہ دجالی و تلبیسات قادیانی سلسلہ جہالات وبطالات قادیانی سلسلہ تاصیلات سلسلہ سوالات اور واقعی وقتی ضرورات مختلف مضامین پر کلام کی مقتضی ہوتی ہیں اور اس کے اکثر رسائل الٹ پھیر کر انہیں ڈھاك کے تین پات کے حامل لہذا ہر رسالے کے جدا گانہ رو سے انہیں سلاسل کا انتظام احسن واولی۔
اب بعونہ تعالی اسی ہدایت نوری سے ابتدائے رسالہ ہے اور مولی تعالی مدد فرمانے والا ہے اس کے
حوالہ / References
القرآن الکریم ۲ /۲۱۶
بعد وقتا فوقتا رسائل و مضامین میں حسب حاجت اندراج گزین مناسب کہ جو کلام جس سلسلے کے متعلق آتا جائے بہ شمار سلسلہ اسی کی سلك میں انسلاك پائے جو نیا کلام اس سلاسل سے جدا شروع ہو اس کے لئے تازہ سلسلہ موضوع ہو۔ اعتراضات کے تازیانے جن کا شمار خدا جانے اول تا آخر ایك سلسلہ میں منضود اور ہر اعتراض حاشیہ پر تازیانہ یا اس کی علامت “ ت “ لکھ کر جدا معدود۔
مسلمانوں سے تو بفضلہ تعالی یقینی امید مدد و موافقت ہے مرزائی بھی اگر تعصب چھوڑ کر خوف خدا اور روز جزاء سامنے رکھ کر دیکھیں تو بعونہ تعالی امید ہدایت ہے وما توفیقی الا باﷲ علیہ توکلت والیہ انیب وصلی اﷲ تعالی علی سیدنا محمد والہ وصحبہ انہ ھو القریب المجیب۔
ہدایت نوری بجواب اطلاع ضروری
بسم اﷲ الرحمن الرحیم ط
نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم خاتم النبیین والہ وصحبہ اجمعین ط
اس میں قادیانی کو دعوت مناظرہ اور اس کے بعض سخت ہولناک اقوال کا تذکرہ ہے۔
اﷲ عزوجل مسلمانوں کو دین حق پر استقامت اور اعدائے دین پر فتح و نصرت بخشے آمین!
روہیل کھنڈ گزٹ مطبوعہ یکم جولائی۱۹۰۵ء فقیرغفرلہ میں تصور حسین نیچہ بند کے نام سے ایك مضمون بعنوان “ اطلاع ضروری “ نظر سے گزرا جس میں اولا علمائے اہلسنت نصرھم اﷲ تعالی پر سخت زبان درازی و افتراء پردازی کی ہے کوئی دقیقہ توہین کا باقی نہ رکھا اور آخر میں عمائد شہر کو ترغیب دی ہے کہ علمائے طرفین میں مناظرہ کرادیں کہ حق جس طرف ہو ظاہر ہوجائے
ہر ذی عقل جانتا ہے کہ نیچہ بند صاحب جیسے بے علم فاضل کیا کلام و خطاب کے قابل بلکہ فوج کی اگاڑی آندھی کی پچھاڑی مشہور ہے جس فوج کی یہ اگاڑی یہ ہر اول اس کی پچھاڑی معلوم از اول مگر اپنے دینی بھائیوں سے دفع فتنہ لازم لہذا دونوں باتوں کے جواب کو یہ ہدایت نوری دو عدد پر منقسم آئندہ حسب حاجت اس کے شمار کا اﷲ عالم(پہلے عددمیں)ان گالیوں کا جواب متین جو علمائے اہلسنت کو دی گئیں۔
پیارے بھائیو! عزیز مسلمانو! کیا یہ خیال کرتے ہو کہ ہم گالیوں کا جواب گالیاں دیں حاشاﷲ ہر گز نہیں بلکہ ان دل کے مریضوں اور ان کے ساختہ مسیح مرزا قادیانی کو گالی کے جواب میں یہ دکھائیں گے ان کی آنکھیں صرف اتنا دکھا کر کھولیں گے کہ شستہ دہنو! تمہاری گندی گالی تو آج کی نئی نرالی نہیں قادیانی بہادر
مسلمانوں سے تو بفضلہ تعالی یقینی امید مدد و موافقت ہے مرزائی بھی اگر تعصب چھوڑ کر خوف خدا اور روز جزاء سامنے رکھ کر دیکھیں تو بعونہ تعالی امید ہدایت ہے وما توفیقی الا باﷲ علیہ توکلت والیہ انیب وصلی اﷲ تعالی علی سیدنا محمد والہ وصحبہ انہ ھو القریب المجیب۔
ہدایت نوری بجواب اطلاع ضروری
بسم اﷲ الرحمن الرحیم ط
نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم خاتم النبیین والہ وصحبہ اجمعین ط
اس میں قادیانی کو دعوت مناظرہ اور اس کے بعض سخت ہولناک اقوال کا تذکرہ ہے۔
اﷲ عزوجل مسلمانوں کو دین حق پر استقامت اور اعدائے دین پر فتح و نصرت بخشے آمین!
روہیل کھنڈ گزٹ مطبوعہ یکم جولائی۱۹۰۵ء فقیرغفرلہ میں تصور حسین نیچہ بند کے نام سے ایك مضمون بعنوان “ اطلاع ضروری “ نظر سے گزرا جس میں اولا علمائے اہلسنت نصرھم اﷲ تعالی پر سخت زبان درازی و افتراء پردازی کی ہے کوئی دقیقہ توہین کا باقی نہ رکھا اور آخر میں عمائد شہر کو ترغیب دی ہے کہ علمائے طرفین میں مناظرہ کرادیں کہ حق جس طرف ہو ظاہر ہوجائے
ہر ذی عقل جانتا ہے کہ نیچہ بند صاحب جیسے بے علم فاضل کیا کلام و خطاب کے قابل بلکہ فوج کی اگاڑی آندھی کی پچھاڑی مشہور ہے جس فوج کی یہ اگاڑی یہ ہر اول اس کی پچھاڑی معلوم از اول مگر اپنے دینی بھائیوں سے دفع فتنہ لازم لہذا دونوں باتوں کے جواب کو یہ ہدایت نوری دو عدد پر منقسم آئندہ حسب حاجت اس کے شمار کا اﷲ عالم(پہلے عددمیں)ان گالیوں کا جواب متین جو علمائے اہلسنت کو دی گئیں۔
پیارے بھائیو! عزیز مسلمانو! کیا یہ خیال کرتے ہو کہ ہم گالیوں کا جواب گالیاں دیں حاشاﷲ ہر گز نہیں بلکہ ان دل کے مریضوں اور ان کے ساختہ مسیح مرزا قادیانی کو گالی کے جواب میں یہ دکھائیں گے ان کی آنکھیں صرف اتنا دکھا کر کھولیں گے کہ شستہ دہنو! تمہاری گندی گالی تو آج کی نئی نرالی نہیں قادیانی بہادر
ہمیشہ سے علماء وائمہ کو سڑی گالیاں دینے کا دھنی ہے استغفراﷲ! علماء وائمہ کی کیا گنتی وہ کون سی شدید خبیث ناپاك گالی ہے جو اس نے اﷲ کے محبوبوں اﷲ کے رسولوں بلکہ خود اﷲ واحد قہار کی شان میں اٹھا رکھی ہے یہ اطلاع ضروری کی پہلی بات کا جواب ہوا۔
(دوسرے عدد)میں بعونہ تعالی قادیانی مرزا کو دعوت مناظرہ ہے اس میں شرائط مناظرہ مندرج ہیں اور نیز اس کا طریق مذکور ہے جو نہایت متین ومہذب اور احتمال فتنہ سے یکسر دور ہے اس میں قادیانی کی طرح فریق مقابل پر شرائط میں کوئی سختی نہ رکھی گئی بلکہ قادیانی کی باگ ڈھیلی کی اور اس کی تنگی کھول دی گئی ہے اس میں بحولہ تعالی شرائط کے ساتھ مبادی بھی ہیں جو کمال تہذیب و متانت سے ضلالت ضال کے کاشف اور مناظرہ حسنہ کے بادی بھی ہیں۔
ایك مدعی وحی کو لازم کہ اپنے وحی کنندوں کو جو رات دن اس پر اترتے رہتے ہیں جمع کر رکھے اور اپنی حال کی اور پچھلی قوت سب حق کا وارسہارنے کے لئے ملا لے۔ ہاں ہاں قادیانی کو تیار ہورہنا چاہیے اس سخت وقت کے لئے جب واحد قہار اپنی مدد مسلمانوں کے لئے نازل فرمائے گا اور جھوٹی مسیحی جھوٹی وحی کا سب جال پیچ بعونہ کھل جائے گا۔
وما ذلك علی اﷲ بعزیز لقد عز نصر من قال وقولہ الحق ان جندنا لھم الغلبون ولن یجعل اﷲ للکفرین علی المؤمنین سبیلا والحمد ﷲ رب العلمین۔ (اور یہ اﷲ تعالی پر گراں نہیں اس ذات کی مد د غالب جس نے فرمایا اور اس کا فرمان برحق ہے کہ ہمارا تیار کردہ لشکر ہی ان پر غالب رہے گا اور اﷲ تعالی کا فروں کو مومنوں پر ہر گزر اہ نہ دے گا الحمد ﷲ رب العالمین۔ ت)
یہ دوسرا عدد بحولہ تعالی اس کے متصل ہی آتا ہے اب بعونہ تعالی پہلے عدد کا آغاز ہوتا ہے۔
وما توفیقی الا باﷲ علیہ توکلت والیہ انیب۔ (اور مجھے صرف اﷲ تعالی سے توفیق ہے اور اسی پر بھروسا ہے اور اسی کی طرف میرا لوٹنا ہے۔ ت)
عدد اول
اللہ کے محبوبوں اللہ کے رسولوں حتی کہ خود اللہ عزوجل پر قادیانی کی لچھے دار گالیاں
مسلمانو! اﷲ تعالی تمہارا مالك و مولی تمہیں کفر و کافرین کے شر سے بچائے قادیانی نے سب سے زیادہ اپنی گالیوں کا تختہ مشق رسول اﷲ وکلمۃ اﷲ و روح اﷲ سیدنا عیسی بن مریم علیہما الصلوۃ والسلام کو
(دوسرے عدد)میں بعونہ تعالی قادیانی مرزا کو دعوت مناظرہ ہے اس میں شرائط مناظرہ مندرج ہیں اور نیز اس کا طریق مذکور ہے جو نہایت متین ومہذب اور احتمال فتنہ سے یکسر دور ہے اس میں قادیانی کی طرح فریق مقابل پر شرائط میں کوئی سختی نہ رکھی گئی بلکہ قادیانی کی باگ ڈھیلی کی اور اس کی تنگی کھول دی گئی ہے اس میں بحولہ تعالی شرائط کے ساتھ مبادی بھی ہیں جو کمال تہذیب و متانت سے ضلالت ضال کے کاشف اور مناظرہ حسنہ کے بادی بھی ہیں۔
ایك مدعی وحی کو لازم کہ اپنے وحی کنندوں کو جو رات دن اس پر اترتے رہتے ہیں جمع کر رکھے اور اپنی حال کی اور پچھلی قوت سب حق کا وارسہارنے کے لئے ملا لے۔ ہاں ہاں قادیانی کو تیار ہورہنا چاہیے اس سخت وقت کے لئے جب واحد قہار اپنی مدد مسلمانوں کے لئے نازل فرمائے گا اور جھوٹی مسیحی جھوٹی وحی کا سب جال پیچ بعونہ کھل جائے گا۔
وما ذلك علی اﷲ بعزیز لقد عز نصر من قال وقولہ الحق ان جندنا لھم الغلبون ولن یجعل اﷲ للکفرین علی المؤمنین سبیلا والحمد ﷲ رب العلمین۔ (اور یہ اﷲ تعالی پر گراں نہیں اس ذات کی مد د غالب جس نے فرمایا اور اس کا فرمان برحق ہے کہ ہمارا تیار کردہ لشکر ہی ان پر غالب رہے گا اور اﷲ تعالی کا فروں کو مومنوں پر ہر گزر اہ نہ دے گا الحمد ﷲ رب العالمین۔ ت)
یہ دوسرا عدد بحولہ تعالی اس کے متصل ہی آتا ہے اب بعونہ تعالی پہلے عدد کا آغاز ہوتا ہے۔
وما توفیقی الا باﷲ علیہ توکلت والیہ انیب۔ (اور مجھے صرف اﷲ تعالی سے توفیق ہے اور اسی پر بھروسا ہے اور اسی کی طرف میرا لوٹنا ہے۔ ت)
عدد اول
اللہ کے محبوبوں اللہ کے رسولوں حتی کہ خود اللہ عزوجل پر قادیانی کی لچھے دار گالیاں
مسلمانو! اﷲ تعالی تمہارا مالك و مولی تمہیں کفر و کافرین کے شر سے بچائے قادیانی نے سب سے زیادہ اپنی گالیوں کا تختہ مشق رسول اﷲ وکلمۃ اﷲ و روح اﷲ سیدنا عیسی بن مریم علیہما الصلوۃ والسلام کو
بنایا ہے اور واقعی اسے اس کی ضرورت بھی تھی وہ مثیل عیسی بلکہ نزول عیسی یا دوسرے لفظوں میں عیسی کا اتار بنا ہے عیسی کے تمام اوصاف اپنے میں بتاتا ہے اور حقیقت دیکھئے تو مسیح صادق کی جمیع اوصاف حمیدہ سے اپنے آپ کو خالی اور اپنے تمام شنائع ذمیمہ سے اس پاك مبارك رسول کو منزہ پاتا ہے لہذا ضرور ہوا کہ ان کے معجزات ان کے کمالات سے یك لخت انکار اور اپنی تمام شنیع خصلتوں ذمیم حالتوں کی ان پر بوچھاڑ کرے جب تو اتار بننا ٹھیك اترے۔ میں یہاں اس کی گالیاں جمع کروں تو دفتر ہو لہذا اس کی خروار سے مشت نمونہ پیش نظر ہو۔
فصل اول
رسول اللہ عیسی بن مریم اور انکی ماں علیھما الصلوۃ و السلام پر قادیانی کا گالیاں
تازیانہ ۱تا۳(۱) : اعجاز احمدی ص۱۳ پر صاف لکھ دیا کہ : “ یہود عیسی کے بارے میں ایسے قوی اعتراض رکھتے ہیں کہ ہم بھی جواب میں حیران ہیں بغیر اس کے کہ یہ کہہ دیں کہ ضرور عیسی نبی ہے کیونکہ قرآن نے اس کو نبی قرار دیاہے اور کوئی دلیل ان کی نبوت پر قائم نہیں ہوسکتی بلکہ ابطال نبوت پر کئی دلائل قائم ہیں۔ یہاں عیسی کے ساتھ قرآن عظیم پر بھی جڑ دی کہ وہ ایسی باطل بات بتا رہا ہے جس کے ابطال پر متعدد دلائل قائم ہیں “ ۔
ت ۴ و ۵۔ (۲) : ایضا ص ۲۴ : “ کبھی عــــــہ آپ کو شیطانی الہام بھی ہوتے تھے۔ “
ت ۶۔ (۳) : ایضا ص ۲۴ : “ ان کی اکثر پیشگوئیاں غلطی سے پر ہیں۔ “ یہ بھی صراحۃ نبوت عیسی سے انکار ہے کیونکہ قادیانی خود اپنی ساختہ کشتی ص ۵ پر کہتا ہے : “ ممکن نہیں کہ نبیوں کی پیشین گوئیاں ٹل جائیں۔ “
ت۷ : نیز پیشگوئی لیکھرام آخر دافع الوساوس ص ۷ پر کہتا ہے : “ کسی انسان کا اپنی پیشگوئی میں جھوٹا نکلنا تمام رسوائیوں سے بڑھ کر رسوائی ہے۔ “
ت ۸ : ضمیمہ انجام آتھم ص۲۷ پر کہا : “ کیا اس کے سوا کسی اور چیز کا نام ذلت ہے کہ جو کچھ اس نے کہا وہ پورا نہ ہوا۔ “
ت ۹ : اور کشتی ساختہ میں اپنی نسبت یوں لکھتا ہے ص۶ : “ اگر کوئی تلاش کرتا کرتا مر بھی جائے تو ایسی کوئی
عــــــہ : یہ خود ان کا اپنا عقیدہ ہے بظاہر انجیل کے سر تھوپا ہے خود اسے اپنے یہاں حدیث سے ثابت مانتاہے۔ اس کا بیان ان شاء اﷲ آگے آتا ہے۔
فصل اول
رسول اللہ عیسی بن مریم اور انکی ماں علیھما الصلوۃ و السلام پر قادیانی کا گالیاں
تازیانہ ۱تا۳(۱) : اعجاز احمدی ص۱۳ پر صاف لکھ دیا کہ : “ یہود عیسی کے بارے میں ایسے قوی اعتراض رکھتے ہیں کہ ہم بھی جواب میں حیران ہیں بغیر اس کے کہ یہ کہہ دیں کہ ضرور عیسی نبی ہے کیونکہ قرآن نے اس کو نبی قرار دیاہے اور کوئی دلیل ان کی نبوت پر قائم نہیں ہوسکتی بلکہ ابطال نبوت پر کئی دلائل قائم ہیں۔ یہاں عیسی کے ساتھ قرآن عظیم پر بھی جڑ دی کہ وہ ایسی باطل بات بتا رہا ہے جس کے ابطال پر متعدد دلائل قائم ہیں “ ۔
ت ۴ و ۵۔ (۲) : ایضا ص ۲۴ : “ کبھی عــــــہ آپ کو شیطانی الہام بھی ہوتے تھے۔ “
ت ۶۔ (۳) : ایضا ص ۲۴ : “ ان کی اکثر پیشگوئیاں غلطی سے پر ہیں۔ “ یہ بھی صراحۃ نبوت عیسی سے انکار ہے کیونکہ قادیانی خود اپنی ساختہ کشتی ص ۵ پر کہتا ہے : “ ممکن نہیں کہ نبیوں کی پیشین گوئیاں ٹل جائیں۔ “
ت۷ : نیز پیشگوئی لیکھرام آخر دافع الوساوس ص ۷ پر کہتا ہے : “ کسی انسان کا اپنی پیشگوئی میں جھوٹا نکلنا تمام رسوائیوں سے بڑھ کر رسوائی ہے۔ “
ت ۸ : ضمیمہ انجام آتھم ص۲۷ پر کہا : “ کیا اس کے سوا کسی اور چیز کا نام ذلت ہے کہ جو کچھ اس نے کہا وہ پورا نہ ہوا۔ “
ت ۹ : اور کشتی ساختہ میں اپنی نسبت یوں لکھتا ہے ص۶ : “ اگر کوئی تلاش کرتا کرتا مر بھی جائے تو ایسی کوئی
عــــــہ : یہ خود ان کا اپنا عقیدہ ہے بظاہر انجیل کے سر تھوپا ہے خود اسے اپنے یہاں حدیث سے ثابت مانتاہے۔ اس کا بیان ان شاء اﷲ آگے آتا ہے۔
پیشگوئی جو میرے منہ سے نکلی ہو اسے نہیں ملے گی جس کی نسبت وہ کہہ سکتا ہو کہ خالی گئی۔ “ تو مطلب یہ ہوا کہ اس کے لئے تو بھاری عزت ہے اور سیدنا عیسی علیہ الصلوۃ والسلام کے لئے وہ خواری و ذلت ہے جس سے بڑھ کر کوئی رسوائی نہیں۔ الا لعنۃ اﷲ علی الظلمین۔
ت ۱۰ تا ۱۲(۴) : دافع البلاء ٹائیٹل پیج ص ۳ : “ ہم مسیح کو بیشك راستباز آدمی جانتے ہیں کہ اپنے زمانہ کے اکثر لوگوں سے البتہ اچھا تھا واﷲ اعلم مگر وہ حقیقی منجی نہ تھا “ ۔
رسول اﷲ اور وہ بھی ان پانچ مرسلین اولوالعزم سے کہ تمام رسولوں سے افضل ہیں یعنی ابراہیم و نوح وموسی و عیسی و محمدصلی اﷲ علیہ وعلیہم وسلم اس کی صرف اتنی قدر ہے کہ ایك راستباز آدمی تھا جو ان کی خاك پاکے ادنی غلاموں کا بھی پورا وصف نہیں تو بات کیا وہی کہ عیسی کی نبوت باطل ہے فقط ایك نیك شخص تھا وہ بھی نہ ایسا کہ دوسرے کو نجات ملنے کا واقعی سبب ہوسکے بلکہ حقیقی نجات دہندہ نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم تھے اور اب قادیانی ہے کہ اسی کے متصل کہتا ہے کہ “ حقیقی منجی وہ ہے جو حجاز میں پیدا ہوا تھا اور اب آیا مگر بروز کے طور پر خاکسار غلام احمد از قادیان “ ۔
ت۱۳۔ (۵) : پھر یہاں تك تو عیسی کا ایك راستباز آدمی اور اپنے بہت اہل زمانہ سے اچھا ہونا یقینی تھا کہ بیشك اور البتہ کے ساتھ کہا نوٹ میں چل کر وہ یقین بھی زائل ہوگیا اسی صفحہ پر کہا “ یہ ہمارا بیان محض نیك ظنی کے طور پر ہے ورنہ ممکن ہے کہ عیسی کے وقت میں بعض راستباز اپنی راستبازی میں عیسی سے بھی اعلی ہوں۔ “ اے سبحن اﷲ!
ایماں یقین شعار باید حسن ظن تو چکار آید
(پختہ ایمان انسان کا شعار ہونا چاہیے صرف اچھا گمان تیرے کیا کام آئے گا۔ ت)
ت۱۴۔ (۶) : پھر ساتھ لگے خدا کی شریعت بھی ناقص وہ تمام ہوگئی اسی کے ص۴ پر کہا “ عیسی کوئی کامل شریعت نہ لائے تھے “ ۔
ت۱۵تا۱۷۔ (۷) : عیسی کی راستبازی پر شراب خوری اور انواع انواع بد اطواری کے داغ بھی لگ گئے ایضا ص ۴۔ مسیح کی راستبازی اپنے زمانے میں دوسرے راستبازوں سے بڑھ کر ثابت نہیں ہوتی بلکہ یحیی کو اس پر ایك فضیلت ہے کیونکہ وہ (یعنی یحیی)شراب نہیں پیتا تھا اور کبھی نہ سنا کہ کسی فاحشہ عورت نے اپنی کمائی کے مال سے اس کے سر پر عطر ملا تھا یا ہاتھوں اور اپنے سر کے بالوں سے اس کے بدن کو چھوا تھایا کوئی بے تعلق جوان عورت اس کی خدمت کرتی تھی اسی وجہ سے قرآن میں یحیی کا نام حصور رکھا گیا مگر مسیح کا نہ رکھا کیونکہ ایسے قصے اس نام کے رکھنے سے مانع تھے۔
ت ۱۰ تا ۱۲(۴) : دافع البلاء ٹائیٹل پیج ص ۳ : “ ہم مسیح کو بیشك راستباز آدمی جانتے ہیں کہ اپنے زمانہ کے اکثر لوگوں سے البتہ اچھا تھا واﷲ اعلم مگر وہ حقیقی منجی نہ تھا “ ۔
رسول اﷲ اور وہ بھی ان پانچ مرسلین اولوالعزم سے کہ تمام رسولوں سے افضل ہیں یعنی ابراہیم و نوح وموسی و عیسی و محمدصلی اﷲ علیہ وعلیہم وسلم اس کی صرف اتنی قدر ہے کہ ایك راستباز آدمی تھا جو ان کی خاك پاکے ادنی غلاموں کا بھی پورا وصف نہیں تو بات کیا وہی کہ عیسی کی نبوت باطل ہے فقط ایك نیك شخص تھا وہ بھی نہ ایسا کہ دوسرے کو نجات ملنے کا واقعی سبب ہوسکے بلکہ حقیقی نجات دہندہ نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم تھے اور اب قادیانی ہے کہ اسی کے متصل کہتا ہے کہ “ حقیقی منجی وہ ہے جو حجاز میں پیدا ہوا تھا اور اب آیا مگر بروز کے طور پر خاکسار غلام احمد از قادیان “ ۔
ت۱۳۔ (۵) : پھر یہاں تك تو عیسی کا ایك راستباز آدمی اور اپنے بہت اہل زمانہ سے اچھا ہونا یقینی تھا کہ بیشك اور البتہ کے ساتھ کہا نوٹ میں چل کر وہ یقین بھی زائل ہوگیا اسی صفحہ پر کہا “ یہ ہمارا بیان محض نیك ظنی کے طور پر ہے ورنہ ممکن ہے کہ عیسی کے وقت میں بعض راستباز اپنی راستبازی میں عیسی سے بھی اعلی ہوں۔ “ اے سبحن اﷲ!
ایماں یقین شعار باید حسن ظن تو چکار آید
(پختہ ایمان انسان کا شعار ہونا چاہیے صرف اچھا گمان تیرے کیا کام آئے گا۔ ت)
ت۱۴۔ (۶) : پھر ساتھ لگے خدا کی شریعت بھی ناقص وہ تمام ہوگئی اسی کے ص۴ پر کہا “ عیسی کوئی کامل شریعت نہ لائے تھے “ ۔
ت۱۵تا۱۷۔ (۷) : عیسی کی راستبازی پر شراب خوری اور انواع انواع بد اطواری کے داغ بھی لگ گئے ایضا ص ۴۔ مسیح کی راستبازی اپنے زمانے میں دوسرے راستبازوں سے بڑھ کر ثابت نہیں ہوتی بلکہ یحیی کو اس پر ایك فضیلت ہے کیونکہ وہ (یعنی یحیی)شراب نہیں پیتا تھا اور کبھی نہ سنا کہ کسی فاحشہ عورت نے اپنی کمائی کے مال سے اس کے سر پر عطر ملا تھا یا ہاتھوں اور اپنے سر کے بالوں سے اس کے بدن کو چھوا تھایا کوئی بے تعلق جوان عورت اس کی خدمت کرتی تھی اسی وجہ سے قرآن میں یحیی کا نام حصور رکھا گیا مگر مسیح کا نہ رکھا کیونکہ ایسے قصے اس نام کے رکھنے سے مانع تھے۔
ت۱۸تا۲۰۔ (۸) : اسی ملعون قصے کو اپنے رسالہ ضمیمہ انجام آتھم ص ۷ میں یوں لکھا : “ آپ کا کنجریوں سے میلان اور صحبت بھی شاید اسی وجہ سے ہو کہ جدی مناسبت درمیان ہے(یعنی عیسی بھی ایسوں ہی کی اولاد تھے)ورنہ کوئی پرہیزگار انسان ایك جوان کنجری کو یہ موقع نہیں دے سکتا کہ و ہ اس کے سر پر اپنے ناپاك ہاتھ لگاوے اور زنا کاری کی کمائی کا پلید عطر اس کے سر پر ملے اور اپنے بالوں کو اس کے پیروں پر ملے سمجھنے والے سمجھ لیں کہ ایسا انسان کس چلن کا آدمی ہوسکتا ہے۔ “
ت۲۱تا۳۶ : اسی رسالہ ص ۴ سے ص ۸ تك مناظرہ کی آڑلے کر خوب ہی جلے دل کے پھپھولے پھوڑے ہیں۔ اﷲ عزوجل کے سچے مسیح عیسی بن مریم کو نادان۹اسرائیلی شریر۱۰ مکار۱۱ بدعقل۱۲ زنا نے خیال والا۱۳فحش گو۱۴ بدزبان۱۵ کٹیل۱۶ جھوٹا۱۷ چور۱۸ علمی۱۹عملی۲۰قوت میں بہت کچا خلل دماغ والا۲۱ گندی گالیاں دینے والا۲۲ بدقسمت۲۳ نرافریبی۲۴ پیرو شیطان۲۵وغیرہ وغیرہ خطاب اس قادیانی دجال نے دئیے۔
ت ۳۷(۲۶) : صاف لکھ دیاص ۶ “ حق بات یہ ہے کہ آپ سے کوئی معجزہ نہ ہوا۔ “
ت۳۸(۲۷) : “ اس زمانے میں ایك تالاب سے بڑے بڑے نشان ظاہر ہوتے تھے آپ سے کوئی معجزہ ہوا بھی ہو تو آپ کا نہیں اس تالاب کا ہے آپ کے ہاتھ میں سوا مکرو فریب کے کچھ نہ تھا۔ “
ت۳۹و۴۰۔ (۲۸) : انتہاء یہ کہ ص ۷ پر لکھا : آپ کا خاندان بھی نہایت پاك و مطہر ہے تین دادیاں اور نانیاں آپ کی زنا کار اور کسبی عورتیں تھیں جن کے خون سے آپ کا وجود ہوا۔ انا ﷲ وانا الیہ راجعون۔ خدائے قہار کا حلم کہ رسول اﷲ کو بحیلہ عــــــہ وبے حیلہ یہ ناپاك گالیاں دی جاتی ہیں اور آسمان نہیں پھٹتا۔ ان شدید ملعون گالیوں کے آگے ان لچھے دار شرافتوں کا کیا ذکر جو نیچہ بند صاحب نے علماء اہلسنت کو دیں ان کا پیر تو نانی دادی تك کی دے چکا۔ الا لعنۃ اﷲ علی الظلمین۔
ت ۴۱تا۴۴۔ (۲۹) : وہ پاك کنواری مریم صدیقہ کا بیٹا کلمۃ اﷲ جسے اﷲ نے بے باپ کے پیدا کیا نشان سارے جہان کے لئے۔ قادیانی نے اس کے لئے دادیاں بھی گنا دیں اور ایك جگہ اس کا دادا بھی لکھا ہے اور اس کے حقیقی بھائی سگی بہنیں بھی لکھی ہیں ظاہر ہے کہ دادا دادی حقیقی بہنیں سگے بھائی اسی کے ہوسکتے ہیں جس کے لئے باپ ہو جس کے نطفے سے وہ بنا ہو پھر بے باپ کے پیدا ہونا کہاں رہا یہ قرآن عظیم کی تکذیب اور طیبہ طاہرہ مریم کو سخت گالی ہے۔
ت۴۵ : کشتی ساختہ ص ۱۶ پر لکھا : “ مسیح تو مسیح ہیں اس کے چاروں بھائیوں کی بھی عزت کرتا ہوں۔ مسیح کی
عــــــہ : خبیث حیلہ مناظرہ کا ہے اس کا رد عنقریب آتاہے۔
ت۲۱تا۳۶ : اسی رسالہ ص ۴ سے ص ۸ تك مناظرہ کی آڑلے کر خوب ہی جلے دل کے پھپھولے پھوڑے ہیں۔ اﷲ عزوجل کے سچے مسیح عیسی بن مریم کو نادان۹اسرائیلی شریر۱۰ مکار۱۱ بدعقل۱۲ زنا نے خیال والا۱۳فحش گو۱۴ بدزبان۱۵ کٹیل۱۶ جھوٹا۱۷ چور۱۸ علمی۱۹عملی۲۰قوت میں بہت کچا خلل دماغ والا۲۱ گندی گالیاں دینے والا۲۲ بدقسمت۲۳ نرافریبی۲۴ پیرو شیطان۲۵وغیرہ وغیرہ خطاب اس قادیانی دجال نے دئیے۔
ت ۳۷(۲۶) : صاف لکھ دیاص ۶ “ حق بات یہ ہے کہ آپ سے کوئی معجزہ نہ ہوا۔ “
ت۳۸(۲۷) : “ اس زمانے میں ایك تالاب سے بڑے بڑے نشان ظاہر ہوتے تھے آپ سے کوئی معجزہ ہوا بھی ہو تو آپ کا نہیں اس تالاب کا ہے آپ کے ہاتھ میں سوا مکرو فریب کے کچھ نہ تھا۔ “
ت۳۹و۴۰۔ (۲۸) : انتہاء یہ کہ ص ۷ پر لکھا : آپ کا خاندان بھی نہایت پاك و مطہر ہے تین دادیاں اور نانیاں آپ کی زنا کار اور کسبی عورتیں تھیں جن کے خون سے آپ کا وجود ہوا۔ انا ﷲ وانا الیہ راجعون۔ خدائے قہار کا حلم کہ رسول اﷲ کو بحیلہ عــــــہ وبے حیلہ یہ ناپاك گالیاں دی جاتی ہیں اور آسمان نہیں پھٹتا۔ ان شدید ملعون گالیوں کے آگے ان لچھے دار شرافتوں کا کیا ذکر جو نیچہ بند صاحب نے علماء اہلسنت کو دیں ان کا پیر تو نانی دادی تك کی دے چکا۔ الا لعنۃ اﷲ علی الظلمین۔
ت ۴۱تا۴۴۔ (۲۹) : وہ پاك کنواری مریم صدیقہ کا بیٹا کلمۃ اﷲ جسے اﷲ نے بے باپ کے پیدا کیا نشان سارے جہان کے لئے۔ قادیانی نے اس کے لئے دادیاں بھی گنا دیں اور ایك جگہ اس کا دادا بھی لکھا ہے اور اس کے حقیقی بھائی سگی بہنیں بھی لکھی ہیں ظاہر ہے کہ دادا دادی حقیقی بہنیں سگے بھائی اسی کے ہوسکتے ہیں جس کے لئے باپ ہو جس کے نطفے سے وہ بنا ہو پھر بے باپ کے پیدا ہونا کہاں رہا یہ قرآن عظیم کی تکذیب اور طیبہ طاہرہ مریم کو سخت گالی ہے۔
ت۴۵ : کشتی ساختہ ص ۱۶ پر لکھا : “ مسیح تو مسیح ہیں اس کے چاروں بھائیوں کی بھی عزت کرتا ہوں۔ مسیح کی
عــــــہ : خبیث حیلہ مناظرہ کا ہے اس کا رد عنقریب آتاہے۔
دونوں ہمشیروں کو بھی مقدسہ سمجھتا ہوں “ اور خود ہی اس کے نوٹ میں لکھا “ یسوع مسیح کے چار بھائی اور دو بہنیں تھیں یہ سب یسوع مسیح کے حقیقی بھائی اور حقیقی بہنیں تھیں یعنی یوسف اور مریم کی اولاد تھے۔ “
ت۴۶ : دیکھو کیسے کھلے لفظوں میں یوسف بڑھئی کو سیدنا عیسی کلمۃ اﷲ کا باپ بنا دیا اور اس صریح کفر میں صرف ایك پادری کے لکھ جانے پر اعتماد کیا۔ ہاں ہاں یقین جانو آسمانی قہر سے واحد قہار سے سخت لعنت پائے گا اور جو ایك پادری کی بے معنی ز ٹل سے قرآن کو رد کرتا ہے۔
ت۴۷۔ (۳۰) : نیز اسی دافع البلاء کے ص ۱۵ پر لکھا “ خدا ایسے شخص(یعنی عیسی)کو کسی طرح دوبارہ دنیا میں نہیں لاسکتا جس کے پہلے فتنے نے ہی دنیا کو تباہ کردیا۔ “ یہ ان گالیوں کے لحاظ سے عیسی علیہ الصلوۃ والسلام کو ایك ہلکی سی گالی ہے کہ اس کے فتنے نے دنیا تباہ کردی مگر اس میں دو شدید گالیاں اور ہیں کہ ان شاء اﷲ تعالی فصل سوم میں مذکور ہوں گی۔
ت۴۸(۳۱) : اربعین نمبر ۲ ص ۱۳ پر لکھا “ کامل مہدی نہ موسی تھا نہ عیسی۔ ان مرسلین اولوالعزم کا کامل ہادی ہونا بالائے طاق پورے مہدی بھی نہ ہوئے اور کامل کون ہیں جناب قادیانی۔ “ دیکھو اسی کا ص۱۲ و ۱۳۔
ت۴۹ و۵۰(۳۲)مواہب الرحمن پر صاف لکھ دیا کہ عیسی یہودی تھا لو قدر اﷲ رجوع عیسی الذی ھو من الیھود لرجع العزۃ الی تلك الیوم(اگر اﷲ تعالی نے یہودی عیسی کا دوبارہ آنا مقدر کیا تو عزت اس دن لوٹ آئے گی۔ )ت ظاہر ہے کہ یہودی مذہب کا نام ہے نہ کہ نسب کا کیا مرزا کہ پارسیوں کی اولاد ہے مجوسی ہے۔
قادیانی نے حضرت عیسی علیہ الصلوۃ والسلام کی تکفیر کردی۔
ت۵۲(۳۳) : حدیہ کہ عیسی علیہ الصلوۃ والسلام کی تکفیر کردی۔ مسلمانو! وہ اتنا احمق نہیں کہ صاف حرفوں میں لکھ دے عیسی کافر تھا بلکہ اس کے مقدمات متفرق کر کے لکھے یہ تودشنام سوم میں سن چکے کہ عیسی کی سخت رسوائیاں ہوئیں اور کشتی ساختہ ص ۱۸ پر کہتا ہے “ جو اپنے دلوں کو صاف کرتے ہیں ممکن نہیں کہ خدا ان کو رسوا کرے کون خدا پر ایمان لایا صرف وہی جو ایسے ہیں “ دیکھو کیسا صاف بتادیا کہ جسے خدا پر ایمان ہے ممکن نہیں کہ اسے خدا رسوا کرے لیکن عیسی کو رسوا کیا تو ضرور اسے خدا پر ایمان نہ تھا اور کیا کافر کہنے کے سر پر سینگ ہوتے ہیں۔ الا لعنۃ اﷲ علی الکفرین۔
قصد تھا کہ فصل اول یہیں ختم کی جائے کہ اتنے میں قادیانی کی “ ازالۃ الاوھام “ ملی اس کی برہنہ گوئیاں بہت بے لاگ اور قابل تماشا ہیں۔
معجزات مسیح کی تحقیر وانکار۔
ت۵۳تا۵۷(۳۴) : یہ جو مثیل مسیح بنا اور اس پر لوگوں نے مسیح کے معجزے مثلا مردے جلانا اس سے طلب کئے تو صاف جواب دیتا ہے ص ۳ “ احیاء جسمانی کچھ چیز نہیں احیاء روحانی کے لئے یہ عاجز آیا ہے “ ۔ دیکھو
ت۴۶ : دیکھو کیسے کھلے لفظوں میں یوسف بڑھئی کو سیدنا عیسی کلمۃ اﷲ کا باپ بنا دیا اور اس صریح کفر میں صرف ایك پادری کے لکھ جانے پر اعتماد کیا۔ ہاں ہاں یقین جانو آسمانی قہر سے واحد قہار سے سخت لعنت پائے گا اور جو ایك پادری کی بے معنی ز ٹل سے قرآن کو رد کرتا ہے۔
ت۴۷۔ (۳۰) : نیز اسی دافع البلاء کے ص ۱۵ پر لکھا “ خدا ایسے شخص(یعنی عیسی)کو کسی طرح دوبارہ دنیا میں نہیں لاسکتا جس کے پہلے فتنے نے ہی دنیا کو تباہ کردیا۔ “ یہ ان گالیوں کے لحاظ سے عیسی علیہ الصلوۃ والسلام کو ایك ہلکی سی گالی ہے کہ اس کے فتنے نے دنیا تباہ کردی مگر اس میں دو شدید گالیاں اور ہیں کہ ان شاء اﷲ تعالی فصل سوم میں مذکور ہوں گی۔
ت۴۸(۳۱) : اربعین نمبر ۲ ص ۱۳ پر لکھا “ کامل مہدی نہ موسی تھا نہ عیسی۔ ان مرسلین اولوالعزم کا کامل ہادی ہونا بالائے طاق پورے مہدی بھی نہ ہوئے اور کامل کون ہیں جناب قادیانی۔ “ دیکھو اسی کا ص۱۲ و ۱۳۔
ت۴۹ و۵۰(۳۲)مواہب الرحمن پر صاف لکھ دیا کہ عیسی یہودی تھا لو قدر اﷲ رجوع عیسی الذی ھو من الیھود لرجع العزۃ الی تلك الیوم(اگر اﷲ تعالی نے یہودی عیسی کا دوبارہ آنا مقدر کیا تو عزت اس دن لوٹ آئے گی۔ )ت ظاہر ہے کہ یہودی مذہب کا نام ہے نہ کہ نسب کا کیا مرزا کہ پارسیوں کی اولاد ہے مجوسی ہے۔
قادیانی نے حضرت عیسی علیہ الصلوۃ والسلام کی تکفیر کردی۔
ت۵۲(۳۳) : حدیہ کہ عیسی علیہ الصلوۃ والسلام کی تکفیر کردی۔ مسلمانو! وہ اتنا احمق نہیں کہ صاف حرفوں میں لکھ دے عیسی کافر تھا بلکہ اس کے مقدمات متفرق کر کے لکھے یہ تودشنام سوم میں سن چکے کہ عیسی کی سخت رسوائیاں ہوئیں اور کشتی ساختہ ص ۱۸ پر کہتا ہے “ جو اپنے دلوں کو صاف کرتے ہیں ممکن نہیں کہ خدا ان کو رسوا کرے کون خدا پر ایمان لایا صرف وہی جو ایسے ہیں “ دیکھو کیسا صاف بتادیا کہ جسے خدا پر ایمان ہے ممکن نہیں کہ اسے خدا رسوا کرے لیکن عیسی کو رسوا کیا تو ضرور اسے خدا پر ایمان نہ تھا اور کیا کافر کہنے کے سر پر سینگ ہوتے ہیں۔ الا لعنۃ اﷲ علی الکفرین۔
قصد تھا کہ فصل اول یہیں ختم کی جائے کہ اتنے میں قادیانی کی “ ازالۃ الاوھام “ ملی اس کی برہنہ گوئیاں بہت بے لاگ اور قابل تماشا ہیں۔
معجزات مسیح کی تحقیر وانکار۔
ت۵۳تا۵۷(۳۴) : یہ جو مثیل مسیح بنا اور اس پر لوگوں نے مسیح کے معجزے مثلا مردے جلانا اس سے طلب کئے تو صاف جواب دیتا ہے ص ۳ “ احیاء جسمانی کچھ چیز نہیں احیاء روحانی کے لئے یہ عاجز آیا ہے “ ۔ دیکھو
وہ ظاہر باہر قاہر معجزہ جسے قرآن عظیم نے جا بجا کمال تعظیم کے ساتھ بیان فرمایا اور آیۃ اﷲ ٹھہرایا قادیانی کیسے کھلے لفظوں میں اس کی تحقیر کرتا ہے کہ وہ کچھ نہیں پھر اس کے متصل کہتا ہے ص۴ ۔ “ ما سوائے اس کے اگر مسیح کے اصلی کاموں کو ان حواشی سے الگ کر کے دیکھا جائے جو محض افتراء یا غلط فہمی سے گھڑے ہیں تو کوئی اعجوبہ نظر نہیں آتا بلکہ مسیح کے معجزات پر جس قدر اعتراض ہیں میں نہیں سمجھ سکتا کہ کسی اور نبی کے خوارق پر ایسے شبہات ہوں کیا تالاب کاقصہ مسیحی معجزات کی رونق دور نہیں کرتا “ ۔
دیکھو “ کوئی اعجوبہ نظر نہیں آتا “ کہہ کر ان کے تمام معجزات سے کیسا صاف انکار کیا اور تالاب کے قصے سے اور بھی پانی پھیر دیا اور آخر میں لکھا ص ۴ و ۵ “ زیادہ تر تعجب یہ ہے کہ حضرت مسیح معجزہ نمائی سے صاف انکار کر کے کہتے ہیں کہ میں ہر گز کوئی معجزہ دکھا نہیں سکتا مگر پھر بھی عوام الناس ایك انبار معجزات کا ان کی طرف منسوب کررہے ہیں۔ “
غرض اپنی مسیحیت قائم رکھنے کو نہایت کھلے طور پر تمام معجزات مسیح وتصریحات قرآن عظیم سے صاف منکر ہے اور پھر مہدی و رسول و نبی ہونے کا ادعا مسلمان تو مکذب قرآن کو مسلمان بھی نہیں کہہ سکتے قطعا کافر مرتد زندیق بے دین ہے نہ کہ نبی ورسول بن کر اور کفر پر کفر چڑھے الا لعنۃ اﷲ علی الکفرین(خبردار! کا فروں پر اﷲ کی لعنت ہے۔ ت)اور اس کذاب کا کہنا کہ مسیح علیہ الصلوۃ و السلام خود اپنے معجزے سے منکر تھے رسول اﷲ پر محض افتراء اور قرآن عظیم کی صاف تکذیب ہے قرآن عظیم تو مسیح صادق سے یہ نقل فرماتا ہے کہ :
“ انی قد جئتکم بایۃ من ربکم انی اخلق لکم من الطین کہیئۃ الطیر فانفخ فیہ فیکون طیرا باذن اللہ وابری الاکمہ والابرص واحی الموتی باذن اللہ وانبئکم بما تاکلون وما تدخرون فی بیوتکم ان فی ذلک لایۃ لکم ان کنتم مؤمنین﴿۴۹﴾ “ بیشك میں تمہارے پاس تمہارے رب سے یہ معجزے لے کر آیا ہوں کہ میں تمہارے لئے مٹی سے پرند کی سی صورت بنا کر اس میں پھونك مارتا ہوں وہ خدا کے حکم سے پرند ہوجاتی ہے اور میں بحکم خدا مادر زاد اندھے اور بدن بگڑے کو اچھا کرتا اور مردے زندہ کرتا ہوں اور تمہیں خبر دیتا ہوں جو تم کھاتے اور جو گھروں میں اٹھا رکھتے ہو بیشك اس میں تمہاے لئے بڑا معجزہ ہے اگر تم ایمان رکھتے ہو۔
دیکھو “ کوئی اعجوبہ نظر نہیں آتا “ کہہ کر ان کے تمام معجزات سے کیسا صاف انکار کیا اور تالاب کے قصے سے اور بھی پانی پھیر دیا اور آخر میں لکھا ص ۴ و ۵ “ زیادہ تر تعجب یہ ہے کہ حضرت مسیح معجزہ نمائی سے صاف انکار کر کے کہتے ہیں کہ میں ہر گز کوئی معجزہ دکھا نہیں سکتا مگر پھر بھی عوام الناس ایك انبار معجزات کا ان کی طرف منسوب کررہے ہیں۔ “
غرض اپنی مسیحیت قائم رکھنے کو نہایت کھلے طور پر تمام معجزات مسیح وتصریحات قرآن عظیم سے صاف منکر ہے اور پھر مہدی و رسول و نبی ہونے کا ادعا مسلمان تو مکذب قرآن کو مسلمان بھی نہیں کہہ سکتے قطعا کافر مرتد زندیق بے دین ہے نہ کہ نبی ورسول بن کر اور کفر پر کفر چڑھے الا لعنۃ اﷲ علی الکفرین(خبردار! کا فروں پر اﷲ کی لعنت ہے۔ ت)اور اس کذاب کا کہنا کہ مسیح علیہ الصلوۃ و السلام خود اپنے معجزے سے منکر تھے رسول اﷲ پر محض افتراء اور قرآن عظیم کی صاف تکذیب ہے قرآن عظیم تو مسیح صادق سے یہ نقل فرماتا ہے کہ :
“ انی قد جئتکم بایۃ من ربکم انی اخلق لکم من الطین کہیئۃ الطیر فانفخ فیہ فیکون طیرا باذن اللہ وابری الاکمہ والابرص واحی الموتی باذن اللہ وانبئکم بما تاکلون وما تدخرون فی بیوتکم ان فی ذلک لایۃ لکم ان کنتم مؤمنین﴿۴۹﴾ “ بیشك میں تمہارے پاس تمہارے رب سے یہ معجزے لے کر آیا ہوں کہ میں تمہارے لئے مٹی سے پرند کی سی صورت بنا کر اس میں پھونك مارتا ہوں وہ خدا کے حکم سے پرند ہوجاتی ہے اور میں بحکم خدا مادر زاد اندھے اور بدن بگڑے کو اچھا کرتا اور مردے زندہ کرتا ہوں اور تمہیں خبر دیتا ہوں جو تم کھاتے اور جو گھروں میں اٹھا رکھتے ہو بیشك اس میں تمہاے لئے بڑا معجزہ ہے اگر تم ایمان رکھتے ہو۔
حوالہ / References
القرآن الکریم ۳ /۴۹
پھر مکرر فرمایا :
“ وجئتکم بایۃ من ربکم فاتقوا اللہ واطیعون﴿۵۰﴾ “ میں تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے بڑے معجزات لے کر آیا تو اﷲ سے ڈرو اور میرا حکم مانو اور یہ قرآن کا جھٹلانے والا ہے کہ انہیں اپنے معجزات سے انکار تھا۔
کیوں مسلمانو! قرآن سچا یا قادیانیضرور قرآن سچا ہے اور قادیانی کذاب جھوٹا کیوں مسلمانو! جو قرآن کی تکذیب کرے وہ مسلمان ہے یا کافرضرور کافر ہے ضرور کافر بخدا۔
ت۵۸و۵۹ : (۳۵)اسی بکر فکر قادیانی کے ازالہ شیطانی میں آخر ص ۱۶۱ سے آخر ۱۶۲ تك تو نوٹ میں پیٹ بھر کر رسول اﷲ و کلمۃ اﷲ کو وہ گالیاں دیں اور آیات اﷲ و کلام اﷲ سے وہ مسخریاں کیں جن کی حد ونہایت نہیں صاف لکھ دیا کہ جیسے عجائب انہوں نے دکھائے عام لوگ کرلیتے تھے اب بھی لوگ ویسی باتیں کردکھاتے ہیں۔
ت۶۰(۳۶) : بلکہ آجکل کے کرشمے ان سے زیادہ بے لاگ ہیں۔
ت ۶۱ و ۶۲(۳۷) : وہ معجزے نہ تھے کل کا دور تھا عیسی نے اپنے باپ بڑھئی کے ساتھ بڑھئی کا کام کیا تھا اس سے یہ کلیں بنانی آگئی تھیں۔ ت۶۳(۳۸) : عیسی کے سب کرشمے مسمریزم سے تھے۔
(۳۹) : وہ جھوٹی جھلك تھی۔
(۴۰) : سب کھیل تھا لہو ولعب تھا۔ ت۶۴(۴۱) : سامری جادوگرکے گئوسالے کے مانند تھا۔
ت ۶۵(۴۲) : بہت مکروہ و قابل نفرت کام تھے۔ ت۶۶(۴۳) : اہل کمال کوایسی باتوں سے پرہیز رہا ہے۔
ت۶۷(۴۴) : عیسی روحانی علاج میں بہت ضعیف اورنکما تھا۔
ت۶۸ : وہ ناپاك عبارات بروجہ التقاط یہ ہیں ص ۱۵۱ : انبیاء کے معجزات دو قسم ہیں ایك محض سماوی جس میں انسان کی تدبیر و عقل کو کچھ دخل نہیں جیسے شق القمر دوسرے عقلی جو خارق عادت عقل کے ذریعہ سے ہوتے ہیں جو الہام سے ملتی ہے جیسے سلیمان کا معجزہ صرح ممرد من قواریر (شیشے جڑا صحن ہے۔ ت) بظاہر مسیح کا معجزہ سلیمان کی طرح عقلی تھا۔ تاریخ سے
ثابت ہے کہ ان دونوں میں ایسے امور کی طرف لوگوں کے خیالات جھکے ہوئے تھے جو شعبدہ بازی اور دراصل بے سود اور عوام کو فریفتہ کرنے والے تھے وہ لوگ جو سانپ بنا کر دکھلادیتے اور کئی قسم کے جانور تیار کر کے
“ وجئتکم بایۃ من ربکم فاتقوا اللہ واطیعون﴿۵۰﴾ “ میں تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے بڑے معجزات لے کر آیا تو اﷲ سے ڈرو اور میرا حکم مانو اور یہ قرآن کا جھٹلانے والا ہے کہ انہیں اپنے معجزات سے انکار تھا۔
کیوں مسلمانو! قرآن سچا یا قادیانیضرور قرآن سچا ہے اور قادیانی کذاب جھوٹا کیوں مسلمانو! جو قرآن کی تکذیب کرے وہ مسلمان ہے یا کافرضرور کافر ہے ضرور کافر بخدا۔
ت۵۸و۵۹ : (۳۵)اسی بکر فکر قادیانی کے ازالہ شیطانی میں آخر ص ۱۶۱ سے آخر ۱۶۲ تك تو نوٹ میں پیٹ بھر کر رسول اﷲ و کلمۃ اﷲ کو وہ گالیاں دیں اور آیات اﷲ و کلام اﷲ سے وہ مسخریاں کیں جن کی حد ونہایت نہیں صاف لکھ دیا کہ جیسے عجائب انہوں نے دکھائے عام لوگ کرلیتے تھے اب بھی لوگ ویسی باتیں کردکھاتے ہیں۔
ت۶۰(۳۶) : بلکہ آجکل کے کرشمے ان سے زیادہ بے لاگ ہیں۔
ت ۶۱ و ۶۲(۳۷) : وہ معجزے نہ تھے کل کا دور تھا عیسی نے اپنے باپ بڑھئی کے ساتھ بڑھئی کا کام کیا تھا اس سے یہ کلیں بنانی آگئی تھیں۔ ت۶۳(۳۸) : عیسی کے سب کرشمے مسمریزم سے تھے۔
(۳۹) : وہ جھوٹی جھلك تھی۔
(۴۰) : سب کھیل تھا لہو ولعب تھا۔ ت۶۴(۴۱) : سامری جادوگرکے گئوسالے کے مانند تھا۔
ت ۶۵(۴۲) : بہت مکروہ و قابل نفرت کام تھے۔ ت۶۶(۴۳) : اہل کمال کوایسی باتوں سے پرہیز رہا ہے۔
ت۶۷(۴۴) : عیسی روحانی علاج میں بہت ضعیف اورنکما تھا۔
ت۶۸ : وہ ناپاك عبارات بروجہ التقاط یہ ہیں ص ۱۵۱ : انبیاء کے معجزات دو قسم ہیں ایك محض سماوی جس میں انسان کی تدبیر و عقل کو کچھ دخل نہیں جیسے شق القمر دوسرے عقلی جو خارق عادت عقل کے ذریعہ سے ہوتے ہیں جو الہام سے ملتی ہے جیسے سلیمان کا معجزہ صرح ممرد من قواریر (شیشے جڑا صحن ہے۔ ت) بظاہر مسیح کا معجزہ سلیمان کی طرح عقلی تھا۔ تاریخ سے
ثابت ہے کہ ان دونوں میں ایسے امور کی طرف لوگوں کے خیالات جھکے ہوئے تھے جو شعبدہ بازی اور دراصل بے سود اور عوام کو فریفتہ کرنے والے تھے وہ لوگ جو سانپ بنا کر دکھلادیتے اور کئی قسم کے جانور تیار کر کے
زندہ جانوروں کی طرح چلادیتے مسیح کے وقت میں عام طور پر ملکوں میں تھے سو کچھ تعجب نہیں کہ خدائے تعالی نے مسیح کو عقلی طور سے ایسے طریق پر اطلاع دے دی ہو جو ایك مٹی کا کھلونا کسی کل کے دبانے یا پھونك مارنے پر ایسا پرواز کرتا ہو جیسے پرندہ یا پیروں سے چلتا ہو کیونکہ مسیح اپنے باپ عــــــہ۱ یوسف کے ساتھ بائیس۲۲برس تك نجاری کرتے رہے ہیں اور ظاہر ہے کہ بڑھئی کا کام درحقیقت ایسا ہے جس میں کلوں کے ایجاد میں عقل تیز ہوجاتی ہے پس کچھ تعجب نہیں کہ مسیح نے اپنے دادا عــــــہ۲سلیمان کی طرح یہ عقلی معجزہ دکھلایا ہو ایسا معجزہ عقل سے بعید بھی نہیں حال کے زمانہ میں اکثر صناع ایسی چڑیا ں بنالیتے ہیں کہ بولتی بھی ہیں ہلتی بھی ہیں۔ دم بھی ہلاتی ہیں اور میں نے سنا ہے کہ بعض چڑیاں کل کے ذریعہ سے پرواز بھی کرتی ہیں بمبئی اور کلکتے میں ایسے کھلونے بہت بنتے ہیں اور ہر سال نئے نئے نکلتے آتے ہیں عــــــہ۳ ماسوا اس کے یہ قرین قیاس ہے کہ ایسے ایسے اعجاز عمل الترب یعنی مسمریزی طریق سے بطور لہو ولعب نہ بطور حقیقت ظہور میں آسکیں کیونکہ مسمریزم میں ایسے ایسے عجائبات ہیں سو یقینی طور پر خیال کیا جاتا ہے کہ اس فن میں مشق والا مٹی کا پرند بنا کر پرواز کرتا دکھادے تو کچھ بعید نہیں کیونکہ کچھ اندازہ کیا گیا کہ اس فن کی کہاں تك انتہا ہے عــــــہ۴ سلب امراض عمل الترب(مسمریزم)کی شاخ ہے ہر زمانے میں ایسے لوگ ہوتے رہے ہیں اور اب بھی ہیں جو اس عمل سے سلب امراض کرتے ہیں اور مفلوج مبروص ان کی توجہ سے اچھے ہوتے ہیں بعض نقشبندی وغیرہ نے بھی ان کی طرف بہت توجہ کی تھی محی الدین ابن عربی کو بھی اس میں خاص مشق تھی کاملین ایسے عملوں سے پرہیز کرتے رہے ہیں اور یقینی طور پر ثابت ہے کہ مسیح بحکم الہی اس عمل(مسمریزم)میں کمال رکھتے تھے مگر یاد رکھنا چاہیے کہ یہ عمل ایسا قدر کے لائق نہیں جیسا کہ عوام الناس اس کو خیال کرتے ہیں اگر یہ عاجز اس عمل کو مکروہ اور قابل نفرت نہ سمجھتا تو ان عجوبہ نمائیوں میں ابن مریم سے کم نہ رہتا اس عمل کا ایك نہایت برا خاصہ یہ ہے کہ جو اپنے تئیں اس مشغولی میں ڈالے وہ روحانی تاثیروں میں جو روحانی بیماریوں کو دور کرتی ہیں بہت ضعیف اور نکما ہوجاتا ہے یہی وجہ ہے کہ گو مسیح جسمانی بیماریوں کو اس عمل(مسمریزم)کے ذریعہ سے اچھا کرتے رہے مگر ہدایت و توحید اور دینی استقامتوں کے دلو ں میں قائم
عــــــہ۱ : اس کا باپ دیکھئے مسیح و مریم دونوں کو سخت گالی ہے۔
عــــــہ۲ : اس کا دادا دیکھئے وہی مسیح و مریم کو گالی ہے۔
عــــــہ۳ : یہاں تك تو مسیح کا معجزہ کل دبانے سے تھا اب دوسرا پہلو بدلتا ہے کہ مسمریزم تھا۔
عــــــہ۴ : یہاں تك مسیح علیہ الصلوۃ و السلام کے پرند بنانے پر استہزاء تھے اب اندھے اور کوڑھی کو اچھا کرنے پر مسخرگی کرتا ہے۔
عــــــہ۱ : اس کا باپ دیکھئے مسیح و مریم دونوں کو سخت گالی ہے۔
عــــــہ۲ : اس کا دادا دیکھئے وہی مسیح و مریم کو گالی ہے۔
عــــــہ۳ : یہاں تك تو مسیح کا معجزہ کل دبانے سے تھا اب دوسرا پہلو بدلتا ہے کہ مسمریزم تھا۔
عــــــہ۴ : یہاں تك مسیح علیہ الصلوۃ و السلام کے پرند بنانے پر استہزاء تھے اب اندھے اور کوڑھی کو اچھا کرنے پر مسخرگی کرتا ہے۔
کرنے میں ان کا نمبر ایسا کم رہا کہ قریب قریب ناکام رہے جب یہ اعتقاد رکھا جائے کہ ان پرندوں میں صرف جھوٹی حیات جھوٹی جھلك نمودار ہوجاتی تھی تو ہم اس کو تسلیم کرچکے ہیں ممکن ہے کہ عمل الترب(مسمریزم)کے ذریعہ سے پھونك میں وہی قوت ہوجائے جو اس دخان میں ہوتی ہے جس سے غبارہ اوپر کو چڑھتا ہے۔ مسیح جو جو کام اپنی قوم کو دکھلاتا تھا وہ دعا کے ذریعہ سے ہرگز نہ تھے بلکہ وہ ایسے کام اقتداری طور پر دکھاتا تھا۔ خدا تعالی نے صاف فرمادیا ہے کہ وہ ایك فطری طاقت تھی جو ہر فرد بشر میں ہے مسیح کی کچھ خصوصیت نہیں چنانچہ اس کا تجربہ اس زمانے میں ہورہا ہے مسیح کے معجزات تو اس تالاب کی وجہ سے بے رونق و بے قدر تھے جو مسیح کی ولادت سے پہلے مظہر عجائبات تھا جس میں ہر قسم کے بیمار اور تمام مجذوم مفلوج مبروص ایك ہی غوطہ مار کر اچھے ہوجاتے تھے لیکن بعض بعد کے زمانوں میں جو لوگوں نے اس قسم کے خوارق دکھلائے اس وقت تو کوئی تالاب بھی نہ تھا یہ بھی ممکن عــــــہ ہے کہ مسیح ایسے کام کے لئے اس تالاب کی مٹی لاتا تھا جس میں روح القدس کی تاثیر تھی بہرحال یہ معجزہ صرف ایك کھیل تھا جیسے سامر ی کا گوسالہ۔
مسلمانو! دیکھا کہ اس دشمن اسلام نے اﷲ عزوجل کے سچے رسول کو کیسی مغلظ گالیاں دیں کون سی ناگفتنی اس ناشد نی نے ان کے حق میں اٹھا رکھی ان کے معجزوں کو کیسا صاف صاف کھیل اور لہو ولعب و شعبدہ و سحر ٹھہرایا ابرائے اکمہ وابرص کو مسمریزم پر ڈھالا اور معجزہ پرند میں تین احتمال پیدا کئے بڑھئی کی کل یا مسمریزم یا کراماتی تالاب کا اثر اور اسے صاف سامری کا بچھڑا بتادیا بلکہ اس سے بدتر کہ سامری نے جو اسپ جبریل کی خاك سم اٹھائی وہ اسی کو نظر آئی دوسرے نے اطلاع نہ پائی قال اﷲ تعالی :
“ قال بصرت بما لم یبصروا بہ فقبضت قبضۃ من اثر الرسول فنبذتہا وکذلک سولت لی نفسی ﴿۹۶﴾ “ سامری نے کہا میں نے وہ دیکھا جو انہیں نظر نہ آیا تو میں نے اسپ رسول کی خاك قدم سے ایك مٹھی لے کر گوسالے میں ڈال دی کہ وہ بولنے لگا نفس امارہ کی تعلیم سے مجھے یونہی بھلا معلوم ہوا۔
مگر مسیح کاکرتب ایك دست مال تھا جس سے دنیا جہان کوخبر تھی مسیح پیدا بھی نہ ہوئے تھے جب تالاب کی کرامات شہرہ آفاق تھیں تو اﷲکا رسول یقینا اس کافر جادوگر سے بہت کم رہا اور مزہ یہ ہے کہ مسیح کے وقت میں بھی ایسے شعبد ے تماشے بہت ہوتے تھے پھرمعجزہ کدھر سے ہوا اﷲ اﷲ رسولوں کو گالیاں معجزات کے انکار
عــــــہ : یہ تیسرا پہلو ہے کہ حضرت مسیح اس مٹی کے پرند میں تالاب کی مٹی ڈال دیتے جس میں روح القدس کا اثر تھا اس کے زور سے حرکت کرتا جیسے سامری نے اسپ روح القدس کے پاؤں تلے کی خاك بچھڑے میں ڈال دی بولنے لگا۔
مسلمانو! دیکھا کہ اس دشمن اسلام نے اﷲ عزوجل کے سچے رسول کو کیسی مغلظ گالیاں دیں کون سی ناگفتنی اس ناشد نی نے ان کے حق میں اٹھا رکھی ان کے معجزوں کو کیسا صاف صاف کھیل اور لہو ولعب و شعبدہ و سحر ٹھہرایا ابرائے اکمہ وابرص کو مسمریزم پر ڈھالا اور معجزہ پرند میں تین احتمال پیدا کئے بڑھئی کی کل یا مسمریزم یا کراماتی تالاب کا اثر اور اسے صاف سامری کا بچھڑا بتادیا بلکہ اس سے بدتر کہ سامری نے جو اسپ جبریل کی خاك سم اٹھائی وہ اسی کو نظر آئی دوسرے نے اطلاع نہ پائی قال اﷲ تعالی :
“ قال بصرت بما لم یبصروا بہ فقبضت قبضۃ من اثر الرسول فنبذتہا وکذلک سولت لی نفسی ﴿۹۶﴾ “ سامری نے کہا میں نے وہ دیکھا جو انہیں نظر نہ آیا تو میں نے اسپ رسول کی خاك قدم سے ایك مٹھی لے کر گوسالے میں ڈال دی کہ وہ بولنے لگا نفس امارہ کی تعلیم سے مجھے یونہی بھلا معلوم ہوا۔
مگر مسیح کاکرتب ایك دست مال تھا جس سے دنیا جہان کوخبر تھی مسیح پیدا بھی نہ ہوئے تھے جب تالاب کی کرامات شہرہ آفاق تھیں تو اﷲکا رسول یقینا اس کافر جادوگر سے بہت کم رہا اور مزہ یہ ہے کہ مسیح کے وقت میں بھی ایسے شعبد ے تماشے بہت ہوتے تھے پھرمعجزہ کدھر سے ہوا اﷲ اﷲ رسولوں کو گالیاں معجزات کے انکار
عــــــہ : یہ تیسرا پہلو ہے کہ حضرت مسیح اس مٹی کے پرند میں تالاب کی مٹی ڈال دیتے جس میں روح القدس کا اثر تھا اس کے زور سے حرکت کرتا جیسے سامری نے اسپ روح القدس کے پاؤں تلے کی خاك بچھڑے میں ڈال دی بولنے لگا۔
حوالہ / References
القرآن الکریم ۲۰ /۹۶
قرآن کی تکذیبیں اور پھر اسلام باقی ہےع
چوں وضوئے محکم بی بی تمیزہ
(جیسے تمیزہ بی بی کا وضوئے محکم ہو۔ ت)
اس سے تعجب نہیں کہ ہر مرتد جو اتنے بڑے دعوے کر کے اٹھے اسے ایسے کفروں سے چارہ نہیں اندھے تو وہ ہیں جو یہ کچھ دیکھتے ہیں پھر اتنے بڑے مکذب قرآن و دشمن انبیاء وعدو الرحمن کو امام وقت مسیح و مہدی مان رہے ہیں۔
ع گر مسیح ایں ست لعنت برمسیح
(اگر یہی مسیحیت ہے ایسی مسیحیت پر لعنت۔ ت)
اور ان سے بڑھ کر اندھا وہ ہے جو شد بد پڑھ لکھ کر اس کے ان صریح کفروں کو دیکھ بھال کر کہے میں جناب عــــــہ مرزا صاحب کو کافر نہیں کہتا خطا پر جانتا ہوں ہاں شاید ایسوں کے نزدیك کافر وہ ہوگا جو انبیاء اﷲ کی تعظیم کرے کلام اﷲ کی تصدیق وتکریم کرے ولا حول ولا قوۃ الا باﷲ العلی العظیم۔
“ کذلک یطبع اللہ علی کل قلب متکبر جبار ﴿۳۵﴾ اﷲ یوں ہی مہر کردیتا ہے متکبر سرکش کے سارے دل پر۔
تنبیہ : ان عبارات ازالہ سے بحمداﷲ تعالی اس جھوٹے عذر معمولی کاازالہ بھی ہوگیا جو عبارات ضمیمہ انجام آتھم کی نسبت بعض مرزائی پیش کرتے ہیں کہ یہ تو عیسائیوں کے مقابلہ میں حضرت عیسی علیہ الصلوۃ و السلام کو گالیاں دی ہیں۔
عــــــہ : ایسوں کو شایداتنی بھی خبر نہیں کہ جو مخالف ضروریات دین کو کافر نہ جانے خود کافر ہے۔
من شك فی کفرہ وعذابہ فقد کفر ۔ جس نے اس کے کفر اور عذاب میں شك کیا وہ خود کافر ہے۔
جب تکذیب قرآن و سب وشتم انبیاء کرام بھی کفر نہ ٹھہرے تو خدا جانے آریہ وہنود ونصاری نے اس سے بڑھ کر کیا جرم کیا ہے کہ وہ کفار ٹھہرائے جائیں یا شاید ایسوں کے دھرم میں تمام دنیا مسلمان ہے کافر کوئی تھا نہ ہے نہ ہو یہ بھی معجزات مسیح کی طرح قرآن کے بے اصل کہ فلانا مسلم فلاناکافر ولا حول ولا قوۃ الا باﷲ العلی العظیم۔
چوں وضوئے محکم بی بی تمیزہ
(جیسے تمیزہ بی بی کا وضوئے محکم ہو۔ ت)
اس سے تعجب نہیں کہ ہر مرتد جو اتنے بڑے دعوے کر کے اٹھے اسے ایسے کفروں سے چارہ نہیں اندھے تو وہ ہیں جو یہ کچھ دیکھتے ہیں پھر اتنے بڑے مکذب قرآن و دشمن انبیاء وعدو الرحمن کو امام وقت مسیح و مہدی مان رہے ہیں۔
ع گر مسیح ایں ست لعنت برمسیح
(اگر یہی مسیحیت ہے ایسی مسیحیت پر لعنت۔ ت)
اور ان سے بڑھ کر اندھا وہ ہے جو شد بد پڑھ لکھ کر اس کے ان صریح کفروں کو دیکھ بھال کر کہے میں جناب عــــــہ مرزا صاحب کو کافر نہیں کہتا خطا پر جانتا ہوں ہاں شاید ایسوں کے نزدیك کافر وہ ہوگا جو انبیاء اﷲ کی تعظیم کرے کلام اﷲ کی تصدیق وتکریم کرے ولا حول ولا قوۃ الا باﷲ العلی العظیم۔
“ کذلک یطبع اللہ علی کل قلب متکبر جبار ﴿۳۵﴾ اﷲ یوں ہی مہر کردیتا ہے متکبر سرکش کے سارے دل پر۔
تنبیہ : ان عبارات ازالہ سے بحمداﷲ تعالی اس جھوٹے عذر معمولی کاازالہ بھی ہوگیا جو عبارات ضمیمہ انجام آتھم کی نسبت بعض مرزائی پیش کرتے ہیں کہ یہ تو عیسائیوں کے مقابلہ میں حضرت عیسی علیہ الصلوۃ و السلام کو گالیاں دی ہیں۔
عــــــہ : ایسوں کو شایداتنی بھی خبر نہیں کہ جو مخالف ضروریات دین کو کافر نہ جانے خود کافر ہے۔
من شك فی کفرہ وعذابہ فقد کفر ۔ جس نے اس کے کفر اور عذاب میں شك کیا وہ خود کافر ہے۔
جب تکذیب قرآن و سب وشتم انبیاء کرام بھی کفر نہ ٹھہرے تو خدا جانے آریہ وہنود ونصاری نے اس سے بڑھ کر کیا جرم کیا ہے کہ وہ کفار ٹھہرائے جائیں یا شاید ایسوں کے دھرم میں تمام دنیا مسلمان ہے کافر کوئی تھا نہ ہے نہ ہو یہ بھی معجزات مسیح کی طرح قرآن کے بے اصل کہ فلانا مسلم فلاناکافر ولا حول ولا قوۃ الا باﷲ العلی العظیم۔
اولا ان عبارات کے علاوہ جو گالیاں اس کے اور رسائل مثل اعجاز احمدی ودافع البلاء وکشتی نوح و اربعین ومواہب الرحمن وغیرہ میں اہلی وگہلی پھر رہی ہیں وہ کس عیسائی کے مقابلہ میں ہیں مثل مشہور ہے دلہن کا منہ کالا مشاطہ کب تك ہاتھ دئے رہے گی۔
ثانیا : کس شریعت نے اجازت دی ہے کہ کسی بد مذہب کے مقابل اﷲ کے رسولوں کو گالیاں دی جائیں
ثالثا : مرزا کو ادعا ہے کہ اگرچہ اس پر وحی آتی ہے مگر کوئی نیا حکم جو شریعت محمدیہ سے باہر ہو نہیں آسکتا ہم تو قرآن عظیم میں یہ حکم پاتے ہیں کہ :
“ ولا تسبوا الذین یدعون من دون اللہ فیسبوا اللہ عدوا بغیر علم کافروں کے جھوٹے معبودوں کو گالی نہ دو کہ وہ اس کے جواب میں بے جانے بوجھے دشمنی کی راہ سے اﷲ عزوجل کی جناب میں گستاخی کریں گے۔
مرزا اپنی وہ وحی بتائے جس نے قرآن کے اس حکم کو منسوخ کردیا۔
رابعا : مرزا کو ادعا ہے کہ وہ مصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے قدم بقدم چل رہا ہے التبلیغ ص ۴۸۳ پر لکھتا ہے :
من ایات صدقی انہ تعالی وفقنی باتباع رسولہ واقتداء نبیہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فما رأیت اثرا من اثار النبی الاقفوتہ۔ (میری سچائی کی نشانی یہ ہے کہ اﷲ تعالی نے مجھے اپنے رسول کی اتباع اور نبی کی اقتداء پر توفیق دی میں نے نبی کا جو بھی نشان دیکھا اس پر قدم رکھا۔ ت)
بتائے تو کہ مصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے کس دن عیسائیوں کے مقابل معاذ اﷲ عیسی علیہ الصلوۃ والسلام او ر ان کی والدہ ماجدہ کو گالیاں دی ہیں۔
خامسا : مرزا کے ازالہ نے مرزائیوں کی اس بکر فکر کا کامل ازالہ کردیا ازالہ کی یہ عبارتیں تو کسی عیسائی کے مقابل نہیں ان میں وہ کون سی گالی ہے جو ضمیمہ انجام آتھم سے کم ہے حتی کہ چو ر اور ولد الزنا کا بھی اثبات ہے وہاں چوری کسی مال کی نہ بتائی تھی بلکہ علم کی ضمیمہ انجام ص۶ نہایت شرم کی یہ بات ہے کہ آپ نے پہاڑی تعلیم کو یہودیوں کی کتاب طالمود سے چرا کر لکھا ہے اور پھر ایسا ظاہر کیا کہ گویا یہ میری
ثانیا : کس شریعت نے اجازت دی ہے کہ کسی بد مذہب کے مقابل اﷲ کے رسولوں کو گالیاں دی جائیں
ثالثا : مرزا کو ادعا ہے کہ اگرچہ اس پر وحی آتی ہے مگر کوئی نیا حکم جو شریعت محمدیہ سے باہر ہو نہیں آسکتا ہم تو قرآن عظیم میں یہ حکم پاتے ہیں کہ :
“ ولا تسبوا الذین یدعون من دون اللہ فیسبوا اللہ عدوا بغیر علم کافروں کے جھوٹے معبودوں کو گالی نہ دو کہ وہ اس کے جواب میں بے جانے بوجھے دشمنی کی راہ سے اﷲ عزوجل کی جناب میں گستاخی کریں گے۔
مرزا اپنی وہ وحی بتائے جس نے قرآن کے اس حکم کو منسوخ کردیا۔
رابعا : مرزا کو ادعا ہے کہ وہ مصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے قدم بقدم چل رہا ہے التبلیغ ص ۴۸۳ پر لکھتا ہے :
من ایات صدقی انہ تعالی وفقنی باتباع رسولہ واقتداء نبیہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فما رأیت اثرا من اثار النبی الاقفوتہ۔ (میری سچائی کی نشانی یہ ہے کہ اﷲ تعالی نے مجھے اپنے رسول کی اتباع اور نبی کی اقتداء پر توفیق دی میں نے نبی کا جو بھی نشان دیکھا اس پر قدم رکھا۔ ت)
بتائے تو کہ مصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے کس دن عیسائیوں کے مقابل معاذ اﷲ عیسی علیہ الصلوۃ والسلام او ر ان کی والدہ ماجدہ کو گالیاں دی ہیں۔
خامسا : مرزا کے ازالہ نے مرزائیوں کی اس بکر فکر کا کامل ازالہ کردیا ازالہ کی یہ عبارتیں تو کسی عیسائی کے مقابل نہیں ان میں وہ کون سی گالی ہے جو ضمیمہ انجام آتھم سے کم ہے حتی کہ چو ر اور ولد الزنا کا بھی اثبات ہے وہاں چوری کسی مال کی نہ بتائی تھی بلکہ علم کی ضمیمہ انجام ص۶ نہایت شرم کی یہ بات ہے کہ آپ نے پہاڑی تعلیم کو یہودیوں کی کتاب طالمود سے چرا کر لکھا ہے اور پھر ایسا ظاہر کیا کہ گویا یہ میری
حوالہ / References
القرآن الکریم ۶ /۱۰۸
تعلیم ہے۔
ازالہ میں اس سے بدتر چوری معجزہ کی چوری مانی کہ تالاب کی مٹی لاکر بے پر کی اڑاتے اور اپنا معجزہ ٹھہراتے رہی ولادت زنا وہ اس نے اس بائیبل محرف کے بھروسے پر لکھی برائے نام کہہ سکتا تھاکہ عیسائیوں پر الزاما پیش کی اگرچہ مرزا کی عملی کارروائی صراحۃ اس کی مکذب تھی کہ وہ اپنے رسائل میں بکثرت مسلمانوں کے مقابل اسی بائیبل محرف کو نزول الیاس و غیر ہ کے مسئلہ میں پیش کرتا ہے مگر ازالہ میں تو صاف تصریح کردی کہ قرآن عظیم اسی بائیبل محرف کی طرف رجوع کرنے اور اس سے علم سیکھنے کا حکم دیتا ہے ازالہ ص ۳۰۸ “ آیت ہے “ فسـلوا اہل الذکر ان کنتم لا تعلمون ﴿۴۳﴾ “ یعنی تمہیں علم نہ ہو تو اہل کتاب کی طرف رجوع کرو ان کی کتابوں پر نظر ڈالو اصل حقیقت منکشف ہو ہم نے موافق حکم اس آیت کے یہود و نصاری کی کتابوں کی طرف رجوع کیا تو معلوم ہوا کہ مسیح کے فیصلے کا ہمارے ساتھ اتفاق ہے دیکھو کتاب سلاطین و کتاب ملاکی نبی اور انجیل “ ۔ تو ثابت ہوا کہ یہ توریت و انجیل بلکہ تمام بائیبل موجودہ اس کے نزدیك سب بحکم قرآن مستند ہیں توجو کچھ اس سے لکھا ہر گز الزاما نہ تھابلکہ اس کے طور پر قرآن سے ثابت اور خود اس کا عقیدہ تھا اور اﷲ تعالی دجالوں کا پردہ یونہی کھولتا ہے والحمد ﷲ رب العلمین۔
____________________
ازالہ میں اس سے بدتر چوری معجزہ کی چوری مانی کہ تالاب کی مٹی لاکر بے پر کی اڑاتے اور اپنا معجزہ ٹھہراتے رہی ولادت زنا وہ اس نے اس بائیبل محرف کے بھروسے پر لکھی برائے نام کہہ سکتا تھاکہ عیسائیوں پر الزاما پیش کی اگرچہ مرزا کی عملی کارروائی صراحۃ اس کی مکذب تھی کہ وہ اپنے رسائل میں بکثرت مسلمانوں کے مقابل اسی بائیبل محرف کو نزول الیاس و غیر ہ کے مسئلہ میں پیش کرتا ہے مگر ازالہ میں تو صاف تصریح کردی کہ قرآن عظیم اسی بائیبل محرف کی طرف رجوع کرنے اور اس سے علم سیکھنے کا حکم دیتا ہے ازالہ ص ۳۰۸ “ آیت ہے “ فسـلوا اہل الذکر ان کنتم لا تعلمون ﴿۴۳﴾ “ یعنی تمہیں علم نہ ہو تو اہل کتاب کی طرف رجوع کرو ان کی کتابوں پر نظر ڈالو اصل حقیقت منکشف ہو ہم نے موافق حکم اس آیت کے یہود و نصاری کی کتابوں کی طرف رجوع کیا تو معلوم ہوا کہ مسیح کے فیصلے کا ہمارے ساتھ اتفاق ہے دیکھو کتاب سلاطین و کتاب ملاکی نبی اور انجیل “ ۔ تو ثابت ہوا کہ یہ توریت و انجیل بلکہ تمام بائیبل موجودہ اس کے نزدیك سب بحکم قرآن مستند ہیں توجو کچھ اس سے لکھا ہر گز الزاما نہ تھابلکہ اس کے طور پر قرآن سے ثابت اور خود اس کا عقیدہ تھا اور اﷲ تعالی دجالوں کا پردہ یونہی کھولتا ہے والحمد ﷲ رب العلمین۔
____________________
رسالہ
الجراز الدیانی علی المرتد القادیانی ۱۳۴۰ھ
(قادیانی مرتد پر خدائی خنجر)
بسم اﷲ الرحمن الرحیم
مسئلہ ۷۹۔ ۸۰ : از پیلی بھیت مسؤلہ شاہ میر خاں قادری رضوی ۳ محرم الحرام ۱۳۴۰ھ
اعلی حضرت مدظلکم العالی السلام علیکم ورحمۃ اﷲوبرکاتہ اس میں شك نہیں آپ کی خدمت میں بہت سے جواب طلب خطوط موجود ہوں گے لیکن عریضہ ہذا بحالت اشد ضرورت ارسال خدمت ہے امید کہ بواپسی جواب سے شرف بخشا جائے۔
(۱)آیت کریمہ :
“ والذین یدعون من دون اللہ لا یخلقون شیـا وہم یخلقون ﴿۲۰﴾ اموت غیر احیاء وما یشعرون ایان یبعثون ﴿۲۱﴾ “ (اور اﷲ کے سوا جن کی عبادت کرتے ہیں وہ کچھ بھی نہیں بناتے اور وہ خود بنائے ہوئے ہیں مردے ہیں زندہ نہیں اور انہیں خبر نہیں لوگ کب اٹھائے جائیں گے۔ ت)
یہ ظاہر کرتی ہے کہ ماسوا اﷲ تعالی کے جس کسی کو خدا کہا جاتاہے وہ خالق نہ ہونے اور مخلوق ہونے کے علاوہ
الجراز الدیانی علی المرتد القادیانی ۱۳۴۰ھ
(قادیانی مرتد پر خدائی خنجر)
بسم اﷲ الرحمن الرحیم
مسئلہ ۷۹۔ ۸۰ : از پیلی بھیت مسؤلہ شاہ میر خاں قادری رضوی ۳ محرم الحرام ۱۳۴۰ھ
اعلی حضرت مدظلکم العالی السلام علیکم ورحمۃ اﷲوبرکاتہ اس میں شك نہیں آپ کی خدمت میں بہت سے جواب طلب خطوط موجود ہوں گے لیکن عریضہ ہذا بحالت اشد ضرورت ارسال خدمت ہے امید کہ بواپسی جواب سے شرف بخشا جائے۔
(۱)آیت کریمہ :
“ والذین یدعون من دون اللہ لا یخلقون شیـا وہم یخلقون ﴿۲۰﴾ اموت غیر احیاء وما یشعرون ایان یبعثون ﴿۲۱﴾ “ (اور اﷲ کے سوا جن کی عبادت کرتے ہیں وہ کچھ بھی نہیں بناتے اور وہ خود بنائے ہوئے ہیں مردے ہیں زندہ نہیں اور انہیں خبر نہیں لوگ کب اٹھائے جائیں گے۔ ت)
یہ ظاہر کرتی ہے کہ ماسوا اﷲ تعالی کے جس کسی کو خدا کہا جاتاہے وہ خالق نہ ہونے اور مخلوق ہونے کے علاوہ
حوالہ / References
القرآن الکریم ۱۶ /۲۰و۲۱
مردہ ہے زندہ نہیں۔
بنا بریں عیسی علیہ السلام کو بھی جبکہ نصاری خدا کہتے ہیں تو کیوں نہ ان کو مردہ تسلیم کیا جائے اور کیوں ان کو آسمان پر زندہ مانا جائے
(۲)صاحب بخاری بروایت عائشہ رضی اﷲ تعالی عنہا ارقام فرماتے ہیں۔ (منقول ازمشارق الانوار حدیث ۱۱۱۸) :
لعن اﷲ الیھود والنصاری اتخذوا قبور انبیائھم مسجد اﷲ تعالی یہود و نصاری پر لعنت فرمائے انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو مسجدیں بنالیا۔ (ت)
اس سے ظاہر ہے کہ نبی یہود حضرت موسی ونبی نصاری حضرت عیسی علی نبینا وعلیہما الصلوۃ والسلام کی قبریں پوجی جاتی تھیں۔
حسب ارشاد باری تعالی عزا سمہ “ فان تنزعتم فی شیء فردوہ الی اللہ والرسول “ (پھر اگر تم میں کسی بات کا جھگڑا اٹھے تو اسے اﷲ و رسول کے حضور رجوع کرو۔ ت)آیات الہیہ احادیث نبویہ ثبوت ممات عیسی علیہ السلام میں موجود ہوتے ہوئے کیونکر ان کو زندہ مان لیا جائےمیں ہوں حضور کا ادنی خادم شاہ میر خاں قادری رضوی غفرلہ ربہ ساکن پیلی بھیت۳ محر م الحرام ۱۳۴۰ھ
الجواب :
نحمد ہ و نصلی علی رسولہ الکریم ط
(۱)قبل جواب ایك امر ضروری کہ اس سوال و جواب سے ہزار درجہ اہم ہے معلوم کرنا لازم بے دینوں کی بڑی راہ فرار یہ ہے کہ انکار کریں ضروریات دین کا اور بحث چاہیں کسی ہلکے مسئلے میں جس میں کچھ گنجائش دست وپا زدن ہو۔
قادیانی صدہا درجہ سے منکر ضروریات دین تھا اور اس کے پس ماندے حیات و وفات سیدنا عیسی رسول اﷲ علی نبینا الکریم وعلیہ صلوات اﷲ وتسلیمات اﷲ کی بحث چھیڑتے ہیں جو ایك فرعی مسئلہ خود مسلمانوں میں ایك نوع کا اختلافی مسئلہ ہے جس کا اقرار یا انکار کفر تو درکنار ضلال بھی نہیں(فائدہ نمبر ۴ میں آئے گا کہ
بنا بریں عیسی علیہ السلام کو بھی جبکہ نصاری خدا کہتے ہیں تو کیوں نہ ان کو مردہ تسلیم کیا جائے اور کیوں ان کو آسمان پر زندہ مانا جائے
(۲)صاحب بخاری بروایت عائشہ رضی اﷲ تعالی عنہا ارقام فرماتے ہیں۔ (منقول ازمشارق الانوار حدیث ۱۱۱۸) :
لعن اﷲ الیھود والنصاری اتخذوا قبور انبیائھم مسجد اﷲ تعالی یہود و نصاری پر لعنت فرمائے انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو مسجدیں بنالیا۔ (ت)
اس سے ظاہر ہے کہ نبی یہود حضرت موسی ونبی نصاری حضرت عیسی علی نبینا وعلیہما الصلوۃ والسلام کی قبریں پوجی جاتی تھیں۔
حسب ارشاد باری تعالی عزا سمہ “ فان تنزعتم فی شیء فردوہ الی اللہ والرسول “ (پھر اگر تم میں کسی بات کا جھگڑا اٹھے تو اسے اﷲ و رسول کے حضور رجوع کرو۔ ت)آیات الہیہ احادیث نبویہ ثبوت ممات عیسی علیہ السلام میں موجود ہوتے ہوئے کیونکر ان کو زندہ مان لیا جائےمیں ہوں حضور کا ادنی خادم شاہ میر خاں قادری رضوی غفرلہ ربہ ساکن پیلی بھیت۳ محر م الحرام ۱۳۴۰ھ
الجواب :
نحمد ہ و نصلی علی رسولہ الکریم ط
(۱)قبل جواب ایك امر ضروری کہ اس سوال و جواب سے ہزار درجہ اہم ہے معلوم کرنا لازم بے دینوں کی بڑی راہ فرار یہ ہے کہ انکار کریں ضروریات دین کا اور بحث چاہیں کسی ہلکے مسئلے میں جس میں کچھ گنجائش دست وپا زدن ہو۔
قادیانی صدہا درجہ سے منکر ضروریات دین تھا اور اس کے پس ماندے حیات و وفات سیدنا عیسی رسول اﷲ علی نبینا الکریم وعلیہ صلوات اﷲ وتسلیمات اﷲ کی بحث چھیڑتے ہیں جو ایك فرعی مسئلہ خود مسلمانوں میں ایك نوع کا اختلافی مسئلہ ہے جس کا اقرار یا انکار کفر تو درکنار ضلال بھی نہیں(فائدہ نمبر ۴ میں آئے گا کہ
حوالہ / References
صحیح البخاری کتاب الجنائز باب مایکرہ من اتخاذ المسجد علی القبور ، قدیمی کتب خانہ کراچی ، ۱ / ۱۷۷
القرآن الکریم ۴ /۵۹
القرآن الکریم ۴ /۵۹
نزول حضرت عیسی علیہ السلام اہلسنت کا اجماعی عقیدہ ہے)نہ ہرگز وفات مسیح ان مرتدین کو مفید فرض کر دم کہ رب عزوجل نے ان کو اس وقت وفات ہی دی پھر اس سے انکا نزول کیونکر ممتنع ہوگیا انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کی موت محض ایك آن کو تصدیق وعدہ الہیہ کے لئے ہوتی ہے پھر وہ ویسے ہی حیات حقیقی دنیاوی و جسمانی سے زندہ ہوتے ہیں جیسے اس سے پہلے تھے زندہ کا دوبارہ تشریف لانا کیا دشوار رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
الا نبیاء احیاء فی قبورھم یصلون انبیاء زندہ ہیں اپنی قبروں میں نماز پڑھتے ہیں۔
(۲)معاذاﷲ کوئی گمراہ بددین یہی مانے کہ ان کی وفات اوروں کی طرح ہے جب بھی ان کا دوبارہ تشریف لانا کیوں محال ہوگیا وعدہ “ وحرم علی قریۃ اہلکنہا انہم لایرجعون ﴿۹۵﴾ “ (اور حرام ہے اس بستی پر جسے ہم نے ہلاك کردیا کہ پھر لوٹ کر آئیں۔ ت)ایك شہر کے لئے ہے بعض افراد کا بعد موت دنیا میں پھر آنا خود قرآن کریم سے ثابت ہے جیسے سیدنا عزیر علیہ الصلوۃ والسلام۔ قال اﷲ تعالی :
“ فاماتہ اللہ مائۃ عام ثم بعثہ “ (تو اﷲ نے اسے مردہ رکھا سو برس پھر زندہ کردیا۔ ت)
چاروں طائران خلیل علیہ الصلوۃ والسلام قال اﷲ تعالی :
“ ثم اجعل علی کل جبل منہن جزءا ثم ادعہن یاتینک سعیا “ (پھر ان کا ایك ایك ٹکڑا ہر پہاڑ پر رکھ دے پھر انہیں بلا وہ تیرے پاس چلے آئیں گے دوڑتے ہوئے۔ ت)
ہاں مشرکین ملاعنہ منکرین بعث اسے محال جانتے ہیں اور دربارہ مسیح علیہ الصلوۃ والسلام قادیانی بھی اس قادر مطلق عز جلالہ کو معاذ اﷲ صراحۃ عاجز مانتا اور دافع البلاء کے صفحہ ۳۴ پر یوں کفر بکتا ہے : خدا ایسے شخص کو پھر دنیا میں نہیں لا سکتا جس کے پہلے فتنے ہی نے دنیا کو تباہ کردیا ہے ۔ مشرك و قادیانی دونوں کے رد میں اﷲ عزوجل فرماتا ہے :
“ افعیینا بالخلق الاول بل ہم فی لبس من (تو کیا ہم پہلی بار بنا کر تھك گئے بلکہ وہ نئے بننے سے
الا نبیاء احیاء فی قبورھم یصلون انبیاء زندہ ہیں اپنی قبروں میں نماز پڑھتے ہیں۔
(۲)معاذاﷲ کوئی گمراہ بددین یہی مانے کہ ان کی وفات اوروں کی طرح ہے جب بھی ان کا دوبارہ تشریف لانا کیوں محال ہوگیا وعدہ “ وحرم علی قریۃ اہلکنہا انہم لایرجعون ﴿۹۵﴾ “ (اور حرام ہے اس بستی پر جسے ہم نے ہلاك کردیا کہ پھر لوٹ کر آئیں۔ ت)ایك شہر کے لئے ہے بعض افراد کا بعد موت دنیا میں پھر آنا خود قرآن کریم سے ثابت ہے جیسے سیدنا عزیر علیہ الصلوۃ والسلام۔ قال اﷲ تعالی :
“ فاماتہ اللہ مائۃ عام ثم بعثہ “ (تو اﷲ نے اسے مردہ رکھا سو برس پھر زندہ کردیا۔ ت)
چاروں طائران خلیل علیہ الصلوۃ والسلام قال اﷲ تعالی :
“ ثم اجعل علی کل جبل منہن جزءا ثم ادعہن یاتینک سعیا “ (پھر ان کا ایك ایك ٹکڑا ہر پہاڑ پر رکھ دے پھر انہیں بلا وہ تیرے پاس چلے آئیں گے دوڑتے ہوئے۔ ت)
ہاں مشرکین ملاعنہ منکرین بعث اسے محال جانتے ہیں اور دربارہ مسیح علیہ الصلوۃ والسلام قادیانی بھی اس قادر مطلق عز جلالہ کو معاذ اﷲ صراحۃ عاجز مانتا اور دافع البلاء کے صفحہ ۳۴ پر یوں کفر بکتا ہے : خدا ایسے شخص کو پھر دنیا میں نہیں لا سکتا جس کے پہلے فتنے ہی نے دنیا کو تباہ کردیا ہے ۔ مشرك و قادیانی دونوں کے رد میں اﷲ عزوجل فرماتا ہے :
“ افعیینا بالخلق الاول بل ہم فی لبس من (تو کیا ہم پہلی بار بنا کر تھك گئے بلکہ وہ نئے بننے سے
حوالہ / References
مسند ابو یعلٰی مروی از انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ حدیث ۳۴۱۲ ، موسسہ علوم القرآن بیروت۳ / ۳۷۹
القرآن الکریم ۲۱ /۹۵
القرآن الکریم ۲ /۲۵۹
القرآن الکریم ۲ /۲۶۰
دافع البلاء مطبوعہ ربوہ ص ۳۴
القرآن الکریم ۲۱ /۹۵
القرآن الکریم ۲ /۲۵۹
القرآن الکریم ۲ /۲۶۰
دافع البلاء مطبوعہ ربوہ ص ۳۴
خلق جدید ﴿۱۵﴾ “ شبہ میں ہیں۔ ت)
جب صادق و مصدوق صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ان کے نزول کی خبر دی اور وہ اپنی حقیقت پر ممکن و داخل زیر قدر ت و جائز تو انکار نہ کرے گا مگر گمراہ۔
(۳)اگر وہ حکم افراد کو بھی عام مانا جائے تو موت بعد استیفائے اجل کے لئے ہے اس سے پہلے اگر کسی وجہ خاص سے اماتت ہو تو مانع اعادت نہیں بلکہ استیفائے اجل کے لئے ضرور اور ہزاروں کے لئے ثابت ہے قال اﷲ تعالی :
“ الم تر الی الذین خرجوا من دیرہم وہم الوف حذر الموت۪ فقال لہم اللہ موتوا ثم احیہم “ (اے محبوب ! کیا تم نے نہ دیکھا انہیں جو اپنے گھروں سے نکلے اور وہ ہزاروں تھے موت کے ڈر سے تو اﷲ نے ان سے فرمایا مرجاؤ پھر انہیں زندہ فرمادیا۔ ت)
قتادہ نے کہا :
اما تھم عقوبۃ ثم بعثوا لیتوفوا مدۃ اجا لھم ولو جآء ت اجا لھم ما بعثوا۔ (معنا) (اﷲ تعالی نے ان کو سزا کے طور پر موت دی پھر زندہ کر دئیے گئے تاکہ اپنی مقررہ عمر کو پورا کریں اگر ان کی مقررہ عمر پوری ہوجاتی تو دوبارہ نہ اٹھائے جاتے۔ ت)
(۴)اس وقت حیات و وفات حضرت مسیح علیہ الصلوۃ والسلام کا مسئلہ قدیم سے مختلف چلا آتا ہے مگر آخر زمانے میں ان کے تشریف لانے اور دجال لعین کو قتل فرمانے میں کسی کو کلام نہیں یہ بلا شبہ اہلسنت کا اجماعی عقیدہ ہے تو وفات مسیح نے قادیانی کو کیا فائدہ دیا اور مغل بچہ عیسی رسول اﷲ بے باپ سے پیدا ابن مریم کیونکر ہوسکا قادیانی اس اختلاف کو پیش کرتے ہیں کہیں اس کا بھی ثبوت رکھتے ہیں کہ اس پنجابی کے ابتداع فی الدین سے پہلے مسلمانوں کا یہ اعتقاد تھا کہ عیسی آپ تو نہ اتریں گے کوئی ان کا مثیل پیدا ہوگا اسے نزول عیسی فرمایا گیا اور اس کو ابن مریم کہا گیا اور جب یہ عام مسلمانوں کے عقیدے کے خلاف ہے تو آیہ :
“ ویتبع غیر سبیل المؤمنین نولہ ما تولی ونصلہ جہنم وساءت مصیرا﴿۱۱۵﴾ “ (مسلمانوں کی راہ سے جدا راہ چلے ہم اسے اس کے حال پر چھوڑ دیں گے اور اسے دوزخ میں داخل کرینگے اور کیا ہی بری جگہ پلٹنے کی۔ ت)
جب صادق و مصدوق صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ان کے نزول کی خبر دی اور وہ اپنی حقیقت پر ممکن و داخل زیر قدر ت و جائز تو انکار نہ کرے گا مگر گمراہ۔
(۳)اگر وہ حکم افراد کو بھی عام مانا جائے تو موت بعد استیفائے اجل کے لئے ہے اس سے پہلے اگر کسی وجہ خاص سے اماتت ہو تو مانع اعادت نہیں بلکہ استیفائے اجل کے لئے ضرور اور ہزاروں کے لئے ثابت ہے قال اﷲ تعالی :
“ الم تر الی الذین خرجوا من دیرہم وہم الوف حذر الموت۪ فقال لہم اللہ موتوا ثم احیہم “ (اے محبوب ! کیا تم نے نہ دیکھا انہیں جو اپنے گھروں سے نکلے اور وہ ہزاروں تھے موت کے ڈر سے تو اﷲ نے ان سے فرمایا مرجاؤ پھر انہیں زندہ فرمادیا۔ ت)
قتادہ نے کہا :
اما تھم عقوبۃ ثم بعثوا لیتوفوا مدۃ اجا لھم ولو جآء ت اجا لھم ما بعثوا۔ (معنا) (اﷲ تعالی نے ان کو سزا کے طور پر موت دی پھر زندہ کر دئیے گئے تاکہ اپنی مقررہ عمر کو پورا کریں اگر ان کی مقررہ عمر پوری ہوجاتی تو دوبارہ نہ اٹھائے جاتے۔ ت)
(۴)اس وقت حیات و وفات حضرت مسیح علیہ الصلوۃ والسلام کا مسئلہ قدیم سے مختلف چلا آتا ہے مگر آخر زمانے میں ان کے تشریف لانے اور دجال لعین کو قتل فرمانے میں کسی کو کلام نہیں یہ بلا شبہ اہلسنت کا اجماعی عقیدہ ہے تو وفات مسیح نے قادیانی کو کیا فائدہ دیا اور مغل بچہ عیسی رسول اﷲ بے باپ سے پیدا ابن مریم کیونکر ہوسکا قادیانی اس اختلاف کو پیش کرتے ہیں کہیں اس کا بھی ثبوت رکھتے ہیں کہ اس پنجابی کے ابتداع فی الدین سے پہلے مسلمانوں کا یہ اعتقاد تھا کہ عیسی آپ تو نہ اتریں گے کوئی ان کا مثیل پیدا ہوگا اسے نزول عیسی فرمایا گیا اور اس کو ابن مریم کہا گیا اور جب یہ عام مسلمانوں کے عقیدے کے خلاف ہے تو آیہ :
“ ویتبع غیر سبیل المؤمنین نولہ ما تولی ونصلہ جہنم وساءت مصیرا﴿۱۱۵﴾ “ (مسلمانوں کی راہ سے جدا راہ چلے ہم اسے اس کے حال پر چھوڑ دیں گے اور اسے دوزخ میں داخل کرینگے اور کیا ہی بری جگہ پلٹنے کی۔ ت)
حوالہ / References
القرآن الکریم ۵۰ /۱۵
القرآن الکریم ۲ /۲۴۳
جامع البیان(تفسیر ابن جریر طبری)القول فی تاویل قولہ تعالٰی الم تر الی الذین الآیۃ المطبعۃ المیمنہ مصر ۲ / ۳۴۷
القرآن الکریم ۴ /۱۱۵
القرآن الکریم ۲ /۲۴۳
جامع البیان(تفسیر ابن جریر طبری)القول فی تاویل قولہ تعالٰی الم تر الی الذین الآیۃ المطبعۃ المیمنہ مصر ۲ / ۳۴۷
القرآن الکریم ۴ /۱۱۵
کا حکم صاف ہے۔
(۵)مسیح سے مثیل مسیح مراد لینا تحریف نصوص ہے کہ عادت یہود ہے بے دینی کی بڑی ڈھال یہی ہے کہ نصوص کے معنی بدل دیں “ یحرفون الکلم عن مواضعہ “ (اﷲ کی باتوں کو ان کے ٹھکانوں سے بدل دیتے ہیں۔ ت)ایسی تاویل گھڑنی نصوص شریعت سے استہزاء اور احکام وارشادات کو درہم برہم کر دینا ہے جس جگہ جس شئی کا ذکر آیا کہہ سکتے ہیں وہ شیئ خود مراد نہیں اس کا مثیل مقصود ہے کیا یہ اس کی نظیر نہیں جو اباحیہ ملا عنہ کہا کرتے ہیں کہ نماز و روزہ فرض ہے نہ شراب و زنا حرام بلکہ وہ کچھ اچھے لوگوں کے نام ہیں جن سے محبت کا ہمیں حکم دیا گیا اور یہ کچھ بدوں کے جن سے عداوت کا۔
(۶)بفرض باطل اینہم برعلم پھر اس سے قادیان کا مرتد رسول اﷲ کا مثیل کیونکر بن بیٹھا کیا اس کے کفر اس کے کذب اس کی وقاحتیں اس کی فضیحتیں اس کی خباثتیں اس کی ناپاکیاں اس کی بیباکیاں کہ عالم آشکار ہیں چھپ سکیں گی اور جہان میں کوئی عقل و دین والا ابلیس کو جبریل کا مثیل مان لے گا اس کے خرو ارہزار ہا کفریات سے مشتے نمونہ رسائل السوء والعقاب علی المسیح الکذاب وقہر الدیان علی مرتد بقادیان و نور الفرقان و باب العقائد والکلام وغیرہا میں ملا حظہ ہوں کہ یہ نبیوں کی علانیہ تکذیب کرنے والا یہ رسولوں کو فحش گالیاں دینے والا یہ قرآن مجید کو طرح طرح رد کرنے والا مسلمان بھی ہونا محال نہ کہ رسول اﷲ کی مثال قادیانیوں کی چالاکی کہ اپنے مسیلمہ کے نامسلم ہونے سے یوں گریز کرتے اور اس کے ان صریح ملعون کفروں کی بحث چھوڑ کر حیات و وفات مسیح کا مسئلہ چھیڑتے ہیں۔
(۷)مسیح رسول اﷲ علیہ الصلوۃ والسلام کے مشہور اوصاف جلیلہ اور وہ کہ قرآن عظیم نے بیان کئے یہ تھے کہ اﷲ عزوجل نے ان کو بے باپ کے کنواری بتول کے پیٹ سے پیدا کیا نشانی سارے جہان کے لئے :
“ قالت انی یکون لی غلم و لم یمسسنی بشر و لم اک بغیا ﴿۲۰﴾ قال کذلک قال ربک ہو علی ہین و لنجعلہ ایۃ للناس و رحمۃ منا وکان امرا مقضیا ﴿۲۱﴾ “ بولی میرے لڑکا کہاں سے ہوگا مجھے تو کسی آدمی نے ہاتھ نہ لگایا نہ میں بدکار ہوں کہا یونہی ہے تیرے رب نے فرمایا ہے کہ یہ مجھے آسان ہے اور اس لئے کہ ہم اسے لوگوں کے واسطے نشانی کریں اور اپنی طرف سے ایك رحمت اور یہ امر ٹھہر چکا ہے۔ (ت)
(۵)مسیح سے مثیل مسیح مراد لینا تحریف نصوص ہے کہ عادت یہود ہے بے دینی کی بڑی ڈھال یہی ہے کہ نصوص کے معنی بدل دیں “ یحرفون الکلم عن مواضعہ “ (اﷲ کی باتوں کو ان کے ٹھکانوں سے بدل دیتے ہیں۔ ت)ایسی تاویل گھڑنی نصوص شریعت سے استہزاء اور احکام وارشادات کو درہم برہم کر دینا ہے جس جگہ جس شئی کا ذکر آیا کہہ سکتے ہیں وہ شیئ خود مراد نہیں اس کا مثیل مقصود ہے کیا یہ اس کی نظیر نہیں جو اباحیہ ملا عنہ کہا کرتے ہیں کہ نماز و روزہ فرض ہے نہ شراب و زنا حرام بلکہ وہ کچھ اچھے لوگوں کے نام ہیں جن سے محبت کا ہمیں حکم دیا گیا اور یہ کچھ بدوں کے جن سے عداوت کا۔
(۶)بفرض باطل اینہم برعلم پھر اس سے قادیان کا مرتد رسول اﷲ کا مثیل کیونکر بن بیٹھا کیا اس کے کفر اس کے کذب اس کی وقاحتیں اس کی فضیحتیں اس کی خباثتیں اس کی ناپاکیاں اس کی بیباکیاں کہ عالم آشکار ہیں چھپ سکیں گی اور جہان میں کوئی عقل و دین والا ابلیس کو جبریل کا مثیل مان لے گا اس کے خرو ارہزار ہا کفریات سے مشتے نمونہ رسائل السوء والعقاب علی المسیح الکذاب وقہر الدیان علی مرتد بقادیان و نور الفرقان و باب العقائد والکلام وغیرہا میں ملا حظہ ہوں کہ یہ نبیوں کی علانیہ تکذیب کرنے والا یہ رسولوں کو فحش گالیاں دینے والا یہ قرآن مجید کو طرح طرح رد کرنے والا مسلمان بھی ہونا محال نہ کہ رسول اﷲ کی مثال قادیانیوں کی چالاکی کہ اپنے مسیلمہ کے نامسلم ہونے سے یوں گریز کرتے اور اس کے ان صریح ملعون کفروں کی بحث چھوڑ کر حیات و وفات مسیح کا مسئلہ چھیڑتے ہیں۔
(۷)مسیح رسول اﷲ علیہ الصلوۃ والسلام کے مشہور اوصاف جلیلہ اور وہ کہ قرآن عظیم نے بیان کئے یہ تھے کہ اﷲ عزوجل نے ان کو بے باپ کے کنواری بتول کے پیٹ سے پیدا کیا نشانی سارے جہان کے لئے :
“ قالت انی یکون لی غلم و لم یمسسنی بشر و لم اک بغیا ﴿۲۰﴾ قال کذلک قال ربک ہو علی ہین و لنجعلہ ایۃ للناس و رحمۃ منا وکان امرا مقضیا ﴿۲۱﴾ “ بولی میرے لڑکا کہاں سے ہوگا مجھے تو کسی آدمی نے ہاتھ نہ لگایا نہ میں بدکار ہوں کہا یونہی ہے تیرے رب نے فرمایا ہے کہ یہ مجھے آسان ہے اور اس لئے کہ ہم اسے لوگوں کے واسطے نشانی کریں اور اپنی طرف سے ایك رحمت اور یہ امر ٹھہر چکا ہے۔ (ت)
انہوں نے پیدا ہوتے ہی کلام فرمایا :
“ فنادىہا من تحتہا الا تحزنی قد جعل ربک تحتک سریا ﴿۲۴﴾ “
الآیۃ۔
علی قراءۃ من تحتہا بالفتح فیہما وتفسیرہ بالمسیح علیہ الصلوۃ والسلام(معنا) تو اس کے نیچے والے نے اسے آواز دی کہ تو غم نہ کر تیرے رب نے تیرے نیچے نہر بہادی ہے۔
اس قرأ ت پر جس میں من کی میم مفتوح اور تحتہا کی دوسری تاء مفتوح ہے اور اس کی تفسیر حضرت عیسی علیہ الصلوۃ والسلام سے کی گئی ہے۔
انہوں نے گہوارے میں لوگوں کو ہدایت فرمائی۔
“ ویکلم الناس فی المہد وکہلا “ لوگوں سے باتیں کرے گا پالنے میں اور پکی عمر میں۔ (ت)
انہیں ماں کے پیٹ یا گود میں کتاب عطا ہوئی نبوت دی گئی
“ قال انی عبد اللہ اتىنی الکتب وجعلنی نبیا ﴿۳۰﴾ “ بچہ نے فرمایا میں ہوں اﷲ کا بندہ اس نے مجھے کتاب دی اور مجھے غیب کی خبریں بتانے والا(نبی)کیا۔
وہ جہاں تشریف لے جائیں برکتیں ان کے قدم کے ساتھ رکھی گئیں۔
“ و جعلنی مبارکا این ما کنت ۪ “ اس نے مجھے مبارك کیا میں کہیں ہوں۔ (ت)
برخلاف کفرطاغیہ قادیان کہ کہتا ہے جس کے پہلے فتنے ہی نے دنیا کو تباہ کردیا۔ انہیں اپنے غیبوں پر مسلط کیا
“ علم الغیب فلا یظہر علی غیبہ احدا ﴿۲۶﴾ الا من ارتضی من رسول “ ۔ غیب کا جاننے والا تو اپنے غیب پر کسی کو مسلط نہیں کرتا سوائے اپنے پسندیدہ رسولوں کے۔ (ت)
جس کا ایك نمونہ یہ تھا کہ لوگ جو کچھ کھاتے اگرچہ سات کوٹھڑیوں میں چھپ کر اور جو کچھ گھروں میں ذخیرہ
“ فنادىہا من تحتہا الا تحزنی قد جعل ربک تحتک سریا ﴿۲۴﴾ “
الآیۃ۔
علی قراءۃ من تحتہا بالفتح فیہما وتفسیرہ بالمسیح علیہ الصلوۃ والسلام(معنا) تو اس کے نیچے والے نے اسے آواز دی کہ تو غم نہ کر تیرے رب نے تیرے نیچے نہر بہادی ہے۔
اس قرأ ت پر جس میں من کی میم مفتوح اور تحتہا کی دوسری تاء مفتوح ہے اور اس کی تفسیر حضرت عیسی علیہ الصلوۃ والسلام سے کی گئی ہے۔
انہوں نے گہوارے میں لوگوں کو ہدایت فرمائی۔
“ ویکلم الناس فی المہد وکہلا “ لوگوں سے باتیں کرے گا پالنے میں اور پکی عمر میں۔ (ت)
انہیں ماں کے پیٹ یا گود میں کتاب عطا ہوئی نبوت دی گئی
“ قال انی عبد اللہ اتىنی الکتب وجعلنی نبیا ﴿۳۰﴾ “ بچہ نے فرمایا میں ہوں اﷲ کا بندہ اس نے مجھے کتاب دی اور مجھے غیب کی خبریں بتانے والا(نبی)کیا۔
وہ جہاں تشریف لے جائیں برکتیں ان کے قدم کے ساتھ رکھی گئیں۔
“ و جعلنی مبارکا این ما کنت ۪ “ اس نے مجھے مبارك کیا میں کہیں ہوں۔ (ت)
برخلاف کفرطاغیہ قادیان کہ کہتا ہے جس کے پہلے فتنے ہی نے دنیا کو تباہ کردیا۔ انہیں اپنے غیبوں پر مسلط کیا
“ علم الغیب فلا یظہر علی غیبہ احدا ﴿۲۶﴾ الا من ارتضی من رسول “ ۔ غیب کا جاننے والا تو اپنے غیب پر کسی کو مسلط نہیں کرتا سوائے اپنے پسندیدہ رسولوں کے۔ (ت)
جس کا ایك نمونہ یہ تھا کہ لوگ جو کچھ کھاتے اگرچہ سات کوٹھڑیوں میں چھپ کر اور جو کچھ گھروں میں ذخیرہ
حوالہ / References
القرآن الکریم ۱۹ /۲۴
جامع البیان(تفسیر ابن جریر طبری)القول فی تاویل قولہ تعالٰی فنادٰہا من تحتہا الخ مطبعہ میمنہ مصر ۱۶ / ۴۵
القرآن الکریم ۳ /۴۶
القرآن الکریم ۱۹ /۳۰
القرآن الکریم ۱۹ /۳۱
القرآن الکریم ۷۲ /۲۶ ، ۲۷
جامع البیان(تفسیر ابن جریر طبری)القول فی تاویل قولہ تعالٰی فنادٰہا من تحتہا الخ مطبعہ میمنہ مصر ۱۶ / ۴۵
القرآن الکریم ۳ /۴۶
القرآن الکریم ۱۹ /۳۰
القرآن الکریم ۱۹ /۳۱
القرآن الکریم ۷۲ /۲۶ ، ۲۷
رکھتے اگرچہ سات تہ خانوں کے اندر وہ سب ان پر آئینہ تھا۔
“ وانبئکم بما تاکلون وما تدخرون فی بیوتکم “ اور تمہیں بتاتا ہوں جو تم کھاتے ہو اور جو اپنے گھروں میں جمع کر رکھتے ہو۔ (ت)
انہیں تورات مقدس کے بعض احکام کا ناسخ کیا
“ ومصدقا لما بین یدی من التورىۃ ولاحل لکم بعض الذی حرم علیکم “ اور تصدیق کرتا آیا ہوں اپنے سے پہلی کتاب تورات کی اور اس لئے کہ حلال کروں تمہارے لئے کچھ وہ چیزیں جو تم پر حرام تھیں۔ (ت)
انہیں قدرت دی کہ مادر زاد اندھے اور لا علاج برص کو شفا دیتے
“ وتبری الاکمہ والابرص باذنی “ اور تو مادر زاد اندھے اور سفید داغ والے کو میرے حکم سے شفا دیتا۔ (ت)
انہیں قدرت دی کہ مردے زندہ کرتے
“ و اذ تخرج الموتی باذنی “ “ واحی الموتی باذن اللہ “ اور جب تو مردوں کو میرے حکم سے زندہ نکالتا۔ اور میں مردے جلاتا ہوں اﷲ کے حکم سے۔ (ت)
ان پر اپنے وصف خالقیت کا پر تو ڈالا کہ مٹی سے پرند کی صورت خلق فرماتے اور اپنی پھونك سے اس میں جان ڈالتے کہ اڑتا چلا جاتا
“ و اذ تخلق من الطین کہیــۃ الطیر باذنی فتنفخ فیہا فتکون طیرا باذن “ اور جب تو مٹی سے پرند کی سی مورت میرے حکم سے بناتا پھراس میں پھونك مارتا تو وہ میرے حکم سے اڑنے لگتا۔ (ت)
ظاہر ہے کہ قادیانی میں ان میں سے کچھ نہ تھا پھر وہ کیونکر مثیل مسیح ہوگیا
اخیر کی چار یعنی مادر زاد ۱اندھے اور ۲ ابرص کو شفاء دینا ۳مردے جلانا مٹی کی مورت میں پھونك سے ۴جان ڈال دینا یہ قادیانی کے دل میں بھی کھٹکے کہ اگر کوئی پوچھ بیٹھا کہ تو مثیل مسیح بنتا ہے ان میں سے
“ وانبئکم بما تاکلون وما تدخرون فی بیوتکم “ اور تمہیں بتاتا ہوں جو تم کھاتے ہو اور جو اپنے گھروں میں جمع کر رکھتے ہو۔ (ت)
انہیں تورات مقدس کے بعض احکام کا ناسخ کیا
“ ومصدقا لما بین یدی من التورىۃ ولاحل لکم بعض الذی حرم علیکم “ اور تصدیق کرتا آیا ہوں اپنے سے پہلی کتاب تورات کی اور اس لئے کہ حلال کروں تمہارے لئے کچھ وہ چیزیں جو تم پر حرام تھیں۔ (ت)
انہیں قدرت دی کہ مادر زاد اندھے اور لا علاج برص کو شفا دیتے
“ وتبری الاکمہ والابرص باذنی “ اور تو مادر زاد اندھے اور سفید داغ والے کو میرے حکم سے شفا دیتا۔ (ت)
انہیں قدرت دی کہ مردے زندہ کرتے
“ و اذ تخرج الموتی باذنی “ “ واحی الموتی باذن اللہ “ اور جب تو مردوں کو میرے حکم سے زندہ نکالتا۔ اور میں مردے جلاتا ہوں اﷲ کے حکم سے۔ (ت)
ان پر اپنے وصف خالقیت کا پر تو ڈالا کہ مٹی سے پرند کی صورت خلق فرماتے اور اپنی پھونك سے اس میں جان ڈالتے کہ اڑتا چلا جاتا
“ و اذ تخلق من الطین کہیــۃ الطیر باذنی فتنفخ فیہا فتکون طیرا باذن “ اور جب تو مٹی سے پرند کی سی مورت میرے حکم سے بناتا پھراس میں پھونك مارتا تو وہ میرے حکم سے اڑنے لگتا۔ (ت)
ظاہر ہے کہ قادیانی میں ان میں سے کچھ نہ تھا پھر وہ کیونکر مثیل مسیح ہوگیا
اخیر کی چار یعنی مادر زاد ۱اندھے اور ۲ ابرص کو شفاء دینا ۳مردے جلانا مٹی کی مورت میں پھونك سے ۴جان ڈال دینا یہ قادیانی کے دل میں بھی کھٹکے کہ اگر کوئی پوچھ بیٹھا کہ تو مثیل مسیح بنتا ہے ان میں سے
کچھ کر دکھا اور وہ اپنا حال خوب جانتا تھا کہ سخت جھوٹا ملوم ہے اور الہی برکات سے پورا محروم لہذا اس کی یوں پیش بندی کی کہ قرآن عظیم کو پس پشت پھینك کر رسول اﷲ کے روشن معجزوں کو پاؤں تلے مل کر صاف کہہ دیا کہ معجزے نہ تھے مسمریزم کے شعبدے تھے میں ایسی باتیں مکروہ نہ جانتا تو کر دکھاتا وہی ملاعنہ مشرکین کا طریقہ اپنے عجز پریوں پردہ ڈالنا کہ “ لو نشاء لقلنا مثل ہذا “ اگر ہم چاہتے تو ایسا کلام کہتے۔ ہم چاہتے تو اس قرآن کا مثل تصنیف کر دیتے ہم خود ہی ایسا نہیں کرتے الا لعنۃ اﷲ علی الکفرین۔
قادیانی خذ لہ اﷲ کے ازالہ اوہام ص ۳ ۴ ۵ و نوٹ آخر میں ۱۵۱ تا آخر صفحہ ۱۶۲ ملا حظہ ہوں جہاں اس نے پیٹ بھر کر یہ کفر
بکے ہیں یا ان کی تلخیص رسالہ قہر الدیان ص ۱۰ تا ۱۵ مطالعہ ہوں یہاں دو چار صرف بطور نمونہ منقول :
ملعون ازالہ ص ۳ : ۱احیاء جسمانی کچھ چیز نہیں۔
ملعون ازالہ ص ۴ : کیا ۲تالاب کا قصہ مسیحی معجزات کی رونق دور نہیں کرتا۔
ملعون ازالہ ص ۱۵۱ : عــــــہ ۳شعبدہ بازی اور ۴دراصل بے سود ۵عوام کو فریفتہ کرنے والے ۶مسیح اپنے باپ یوسف کے ساتھ بائیس۲۲ برس تك نجاری کرتے رہے ۷بڑھئی کا کام درحقیقت ایسا ہے جس میں کلوں کے ایجاد میں عقل تیز ہوجاتی ہے ۸بعض چڑیاں کل کے ذریعہ سے پرواز کرتی ہیں ۹بمبئی کلکتہ میں ۱۰ایسے کھلونے بہت بنتے ہیں یہ بھی قرین قیاس ہے کہ ایسے اعجاز ۱۱مسمریزمی ۱۲بطور لہو و لعب نہ ۱۳بطور حقیقت ظہور میں آسکیں ۱۴سلب امراض مسمریزم کی شاخ ہے ایسے لوگ ہوتے رہے ہیں جو اس سے سلب امراض کرتے ہیں مبروص ان کی توجہ سے اچھے ہوتے ہیں ۱۵مسیح مسمریزم میں کمال رکھتے تھے یہ ۱۶قدر کے لائق نہیں یہ ۱۷عاجز اس کو مکروہ قابل نفرت نہ سمجھتا تو ان عجوبہ نمائیوں میں ۲۰ابن مریم سے کم نہ رہتا اس عمل کا ایك نہایت برا خاصہ ہے جو اپنے تئیں اس میں ڈالے روحانی تاثیروں میں بہت ۲۲ضعیف اور۲۳نکما ہوجاتا ہے یہی وجہ ہے کہ مسیح جسمانی بیماریوں کو اس ۲۴عمل (مسمریزم)سے اچھا کرتے مگر ۲۵ہدایت توحید اور دینی استقامتوں کے دلوں میں قائم کرنے میں ان کا نمبر ایسا کم رہا کہ ۲۶قریب قریب ناکام رہے ان پرندوں میں صرف ۲۷جھوٹی حیات
عــــــہ : ازالہ اوہام مطبع ریاض الہند ص ۱۲۱۔ ۱۱۳
قادیانی خذ لہ اﷲ کے ازالہ اوہام ص ۳ ۴ ۵ و نوٹ آخر میں ۱۵۱ تا آخر صفحہ ۱۶۲ ملا حظہ ہوں جہاں اس نے پیٹ بھر کر یہ کفر
بکے ہیں یا ان کی تلخیص رسالہ قہر الدیان ص ۱۰ تا ۱۵ مطالعہ ہوں یہاں دو چار صرف بطور نمونہ منقول :
ملعون ازالہ ص ۳ : ۱احیاء جسمانی کچھ چیز نہیں۔
ملعون ازالہ ص ۴ : کیا ۲تالاب کا قصہ مسیحی معجزات کی رونق دور نہیں کرتا۔
ملعون ازالہ ص ۱۵۱ : عــــــہ ۳شعبدہ بازی اور ۴دراصل بے سود ۵عوام کو فریفتہ کرنے والے ۶مسیح اپنے باپ یوسف کے ساتھ بائیس۲۲ برس تك نجاری کرتے رہے ۷بڑھئی کا کام درحقیقت ایسا ہے جس میں کلوں کے ایجاد میں عقل تیز ہوجاتی ہے ۸بعض چڑیاں کل کے ذریعہ سے پرواز کرتی ہیں ۹بمبئی کلکتہ میں ۱۰ایسے کھلونے بہت بنتے ہیں یہ بھی قرین قیاس ہے کہ ایسے اعجاز ۱۱مسمریزمی ۱۲بطور لہو و لعب نہ ۱۳بطور حقیقت ظہور میں آسکیں ۱۴سلب امراض مسمریزم کی شاخ ہے ایسے لوگ ہوتے رہے ہیں جو اس سے سلب امراض کرتے ہیں مبروص ان کی توجہ سے اچھے ہوتے ہیں ۱۵مسیح مسمریزم میں کمال رکھتے تھے یہ ۱۶قدر کے لائق نہیں یہ ۱۷عاجز اس کو مکروہ قابل نفرت نہ سمجھتا تو ان عجوبہ نمائیوں میں ۲۰ابن مریم سے کم نہ رہتا اس عمل کا ایك نہایت برا خاصہ ہے جو اپنے تئیں اس میں ڈالے روحانی تاثیروں میں بہت ۲۲ضعیف اور۲۳نکما ہوجاتا ہے یہی وجہ ہے کہ مسیح جسمانی بیماریوں کو اس ۲۴عمل (مسمریزم)سے اچھا کرتے مگر ۲۵ہدایت توحید اور دینی استقامتوں کے دلوں میں قائم کرنے میں ان کا نمبر ایسا کم رہا کہ ۲۶قریب قریب ناکام رہے ان پرندوں میں صرف ۲۷جھوٹی حیات
عــــــہ : ازالہ اوہام مطبع ریاض الہند ص ۱۲۱۔ ۱۱۳
حوالہ / References
القرآن الکریم ۸ /۳۱
۲۸جھوٹی جھلك نمودار ہوجاتی تھی ۲۹مسیح کے معجزات اس تالاب کی وجہ سے ۳۰بے رونق ۳۱بے قدر تھے جو مسیح کی ولادت سے پہلے مظہر عجائبات تھا بہرحال یہ معجزہ صرف ایك ۳۲کھیل تھا جیسے ۳۳سامری کا گوسالہ۔
مسلمانو! دیکھا ان ملعون کلمات میں وہ کون سی گالی ہے جو رسول اﷲ کو نہ دی اور وہ کونسی تکذیب ہے جو آیات قرآن کی نہ کی اتنے ہی جملوں میں تینتیس۳۳کفر ہیں۔
بہرحال یہ تو ثابت ہوا کہ یہ مرتد مثیل مسیح نہیں مسلمانوں کے نزدیك یوں کہ وہ نبی مرسل اولواالعزم صاحب معجزات وآیات بینات اور یہ مردود و مطرود و مرتد ومورد آفات اور خود اس کے نزدیك یوں کہ معاذاﷲ وہ شعبدہ باز بھانمتی مسمریزمی تھے روحانی تاثیروں میں ضعیف نکمے اوریہ ڈال کا ٹوٹا مقدس مہذب برگزیدہ ہادی الا لعنۃ اﷲ علی الظلمین خبردار! ظالموں پر خدا کی لعنت۔ (ت)
ہاں ایك صورت ہے اس نے اپنے زعم ملعون میں مسیح کے یہ اوصاف گنے دافع البلاء ص ۴ : مسیح کی راستبازی اپنے زمانے میں دوسروں سے بڑھ کر ثابت نہیں ہوتی بلکہ یحیی کو اس پر ایك فضیلت ہے کیونکہ وہ(یحیی)۳۴شراب نہ پیتا تھا کبھی نہ سنا کہ کسی ۳۵فاحشہ نے اپنی کمائی کے مال سے اس کے سر پر عطر ملا یا ۳۶ہاتھوں اور اپنے سر کے بالوں سے اس کے بدن کو چھوا یا کوئی ۳۷بے تعلق جوان عورت اس کی خدمت کرتی اسی وجہ سے خدا نے یحیی کا نام حصور رکھا مسیح نہ رکھا کہ ۳۸ایسے قصے اس نام کے رکھنے سے مانع تھے۔
ضمیمہ انجام آتھم ص ۷ : آپ(یعنی عیسی)کا ۳۹کنجریوں سے میلان اور ۴۰صحبت بھی شاید اسی وجہ سے ہو کہ جدی ۴۱مناسبت درمیان ہے(یعنی عیسی بھی ایسوں ہی کی اولاد تھے)۴۲ورنہ کوئی پرہیزگار ایك جوان کنجری کو یہ موقع نہیں دے سکتا کہ وہ اس کے سر پر اپنے ناپاك ہاتھ لگائے ۴۳زنا کاری کی کمائی کا پلید عطر اس کے سر پر ملے ۴۴اپنے بال اس کے پیروں پر ملے سمجھنے والے سمجھ لیں کہ ایسا ۴۵انسان کس چلن کا آدمی ہوسکتا ہے۔
ص۶ : ۴۶حق یہ ہے کہ آپ سے کوئی معجزہ نہ ہوا۔
ص۷ : آپ کے ہاتھ میں سوا ۴۷مکرو۴۸فریب کے کچھ نہ تھا آپ کا ۴۹خاندان بھی نہایت ناپاك ہے تین ۵۰دادیاں اور نانیاں آپ کی زنا کار اور کسبی عورتیں تھیں جن کے خون سے آپ کا وجود ہوا۔ یہ پچاس۵۰ کفر ہوئے۔
نیز اسی رسالہ ملعونہ میں ص ۴ سے ۸ تك بحیلہ باطلہ مناظرہ خود ہی جلے دل کے پھپھولے پھوڑے اﷲ عزوجل کے سچے رسو ل مسیح عیسی بن مریم کو ۵۱نادان ۵۲شریر ۵۳مکار ۵۴بدعقل ۵۵زنا نے خیال والا ۵۶فحش گو ۵۷بدزبان ۵۸کٹیل ۵۹جھوٹا
مسلمانو! دیکھا ان ملعون کلمات میں وہ کون سی گالی ہے جو رسول اﷲ کو نہ دی اور وہ کونسی تکذیب ہے جو آیات قرآن کی نہ کی اتنے ہی جملوں میں تینتیس۳۳کفر ہیں۔
بہرحال یہ تو ثابت ہوا کہ یہ مرتد مثیل مسیح نہیں مسلمانوں کے نزدیك یوں کہ وہ نبی مرسل اولواالعزم صاحب معجزات وآیات بینات اور یہ مردود و مطرود و مرتد ومورد آفات اور خود اس کے نزدیك یوں کہ معاذاﷲ وہ شعبدہ باز بھانمتی مسمریزمی تھے روحانی تاثیروں میں ضعیف نکمے اوریہ ڈال کا ٹوٹا مقدس مہذب برگزیدہ ہادی الا لعنۃ اﷲ علی الظلمین خبردار! ظالموں پر خدا کی لعنت۔ (ت)
ہاں ایك صورت ہے اس نے اپنے زعم ملعون میں مسیح کے یہ اوصاف گنے دافع البلاء ص ۴ : مسیح کی راستبازی اپنے زمانے میں دوسروں سے بڑھ کر ثابت نہیں ہوتی بلکہ یحیی کو اس پر ایك فضیلت ہے کیونکہ وہ(یحیی)۳۴شراب نہ پیتا تھا کبھی نہ سنا کہ کسی ۳۵فاحشہ نے اپنی کمائی کے مال سے اس کے سر پر عطر ملا یا ۳۶ہاتھوں اور اپنے سر کے بالوں سے اس کے بدن کو چھوا یا کوئی ۳۷بے تعلق جوان عورت اس کی خدمت کرتی اسی وجہ سے خدا نے یحیی کا نام حصور رکھا مسیح نہ رکھا کہ ۳۸ایسے قصے اس نام کے رکھنے سے مانع تھے۔
ضمیمہ انجام آتھم ص ۷ : آپ(یعنی عیسی)کا ۳۹کنجریوں سے میلان اور ۴۰صحبت بھی شاید اسی وجہ سے ہو کہ جدی ۴۱مناسبت درمیان ہے(یعنی عیسی بھی ایسوں ہی کی اولاد تھے)۴۲ورنہ کوئی پرہیزگار ایك جوان کنجری کو یہ موقع نہیں دے سکتا کہ وہ اس کے سر پر اپنے ناپاك ہاتھ لگائے ۴۳زنا کاری کی کمائی کا پلید عطر اس کے سر پر ملے ۴۴اپنے بال اس کے پیروں پر ملے سمجھنے والے سمجھ لیں کہ ایسا ۴۵انسان کس چلن کا آدمی ہوسکتا ہے۔
ص۶ : ۴۶حق یہ ہے کہ آپ سے کوئی معجزہ نہ ہوا۔
ص۷ : آپ کے ہاتھ میں سوا ۴۷مکرو۴۸فریب کے کچھ نہ تھا آپ کا ۴۹خاندان بھی نہایت ناپاك ہے تین ۵۰دادیاں اور نانیاں آپ کی زنا کار اور کسبی عورتیں تھیں جن کے خون سے آپ کا وجود ہوا۔ یہ پچاس۵۰ کفر ہوئے۔
نیز اسی رسالہ ملعونہ میں ص ۴ سے ۸ تك بحیلہ باطلہ مناظرہ خود ہی جلے دل کے پھپھولے پھوڑے اﷲ عزوجل کے سچے رسو ل مسیح عیسی بن مریم کو ۵۱نادان ۵۲شریر ۵۳مکار ۵۴بدعقل ۵۵زنا نے خیال والا ۵۶فحش گو ۵۷بدزبان ۵۸کٹیل ۵۹جھوٹا
حوالہ / References
دافع البلاء مطبع ضیاء الاسلام ، قادیان ص ۶۔ ۵
۶۰چور ۶۱علمی ۶۲عملی قوت میں بہت کچا ۶۴خلل دماغ والا ۶۵ گندی گالیاں دینے والا ۶۶بدقسمت ۶۷نرافریبی ۶۸پیروشیطان وغیرہ وغیرہ خطاب اس قادیانی دجال نے دئیے اور اس کے تین کفر اوپر گزرے کہ اﷲ مسیح کو دوبارہ نہیں لا سکتا ۶۹مسیح فتنہ تھا ۷۰مسیح کے فتنے نے تباہ کردیا۔ یہ سب ستر۷۰ کفر ہوئے اور ہزاروں ستر کی گنتی کیا غرض تیس۳۰ سے اوپر اوصاف اس دجال مرتد نے اپنے مزعوم مسیح میں بتائے اگر قادیانی خود اپنے لئے ان میں سے دس وصف بھی قبول کرلے کہ یہ شخص یعنی یہی قادیانی ۱بدچلن ۲بدمعاش ۳فریبی ۴مکار ۵زنانے خیال والا ۶کٹیل بھی جھوٹا ۷چور ۸گندی گالیوں والا ۹ابلیس کا چیلہ ۱۰کنجریوں کی اولاد کسبیوں کا جنا ہے زنا کے خون سے بنا ہے تو ہم بھی اس کی مان لیں گے کہ یہ ضرور مثیل مسیح ہے مگر کون سے مسیح کا اسی مسیح قبیح کا جو اس کا موہوم و مزعوم ہے الالعنۃ اﷲ علی الظلمین۔
مسلمانو! یہ سات فائدے محفوظ رکھئے کیسا آفتاب سے زیادہ روشن ہوا کہ قادیانیوں کا مسئلہ وفات وحیات مسیح چھیڑنا کیسا ابلیسی مکر کیسی عبث بحث کیسی تضییع وقت کیسا قادیانی کے صریح کفروں کی بحث سے جان چھڑانا اور فضول زق زق میں وقت گنوانا ہے!
اس کے بعد ہمیں حق تھا کہ ان ناپاك وبے اصل و پا در ہوا شبہوں کی طرف التفات بھی نہ کرتے جو انہوں نے حیات رسول علیہ الصلوۃ و السلام پر پیش کئے ایسی مہمل عیاریوں کیادیوں کا بہتر جواب یہی تھا کہ ہشت۔ پہلے قادیانی کے کفر اٹھاؤ یا اسے کافر مان کر توبہ کرو اسلام لاؤ اس کے بعد یہ فرعی مسئلہ بھی پوچھ لینا مگر ہم ان مرتدین سے قطع نظر کر کے اپنے دوست سائل سنی المذہب سے جواب شبہات گزارش کرتے ہیں وباﷲ التوفیق۔
پہلا شبہ : کریمہ والذین یدعون من دون اﷲ ا لایۃ۔
اقول اولا : یہ شبہ مرتدان حال نے کافران ماضی سے ترکہ میں پایا ہے جب آیہ کریمہ : “ انکم وما تعبدون من دون اللہ حصب جہنم انتم لہا وردون ﴿۹۸﴾ “ نازل ہوئی کہ بیشك تم اور جوکچھ تم اﷲ کے سوا پوجتے ہو سب دوزخ کے ایندھن ہو تمہیں اس میں جانا ہے۔ مشرکین نے کہا کہ ملائکہ اور عیسی اور عزیر بھی تو اﷲ کے سوا پوجے جاتے ہیں اس پر رب عزوجل نے ان جھگڑالو کا فروں کو قرآن کریم کی مراد بتائی کہ آیت بتوں کے حق میں ہے۔
مسلمانو! یہ سات فائدے محفوظ رکھئے کیسا آفتاب سے زیادہ روشن ہوا کہ قادیانیوں کا مسئلہ وفات وحیات مسیح چھیڑنا کیسا ابلیسی مکر کیسی عبث بحث کیسی تضییع وقت کیسا قادیانی کے صریح کفروں کی بحث سے جان چھڑانا اور فضول زق زق میں وقت گنوانا ہے!
اس کے بعد ہمیں حق تھا کہ ان ناپاك وبے اصل و پا در ہوا شبہوں کی طرف التفات بھی نہ کرتے جو انہوں نے حیات رسول علیہ الصلوۃ و السلام پر پیش کئے ایسی مہمل عیاریوں کیادیوں کا بہتر جواب یہی تھا کہ ہشت۔ پہلے قادیانی کے کفر اٹھاؤ یا اسے کافر مان کر توبہ کرو اسلام لاؤ اس کے بعد یہ فرعی مسئلہ بھی پوچھ لینا مگر ہم ان مرتدین سے قطع نظر کر کے اپنے دوست سائل سنی المذہب سے جواب شبہات گزارش کرتے ہیں وباﷲ التوفیق۔
پہلا شبہ : کریمہ والذین یدعون من دون اﷲ ا لایۃ۔
اقول اولا : یہ شبہ مرتدان حال نے کافران ماضی سے ترکہ میں پایا ہے جب آیہ کریمہ : “ انکم وما تعبدون من دون اللہ حصب جہنم انتم لہا وردون ﴿۹۸﴾ “ نازل ہوئی کہ بیشك تم اور جوکچھ تم اﷲ کے سوا پوجتے ہو سب دوزخ کے ایندھن ہو تمہیں اس میں جانا ہے۔ مشرکین نے کہا کہ ملائکہ اور عیسی اور عزیر بھی تو اﷲ کے سوا پوجے جاتے ہیں اس پر رب عزوجل نے ان جھگڑالو کا فروں کو قرآن کریم کی مراد بتائی کہ آیت بتوں کے حق میں ہے۔
حوالہ / References
القرآن الکریم ۲۱ /۹۸
“ ان الذین سبقت لہم منا الحسنی اولئک عنہا مبعدون ﴿۱۰۱﴾ لا یسمعون حسیسہا “ بیشك وہ جن کے لئے ہمارا بھلائی کا وعدہ ہوچکا وہ جہنم سے دور رکھے گئے ہیں وہ اس کی بھنك تك نہ سنیں گے۔
قرآن کریم نے خود اپنا محاورہ بتایا جب بھی مرتدوں نے وہی راگ گایا۔ ابوداؤد کتاب الناسخ والمنسوخ میں اور فریابی عبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم طبرانی و ابن مردویہ اور حاکم مع تصحیح مستدرك میں حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے راوی :
لما نزلت انکم وما تعبدون من دون اﷲ حصب جہنم انتم لہا واردون فقال المشرکون الملئکۃ وعیسی وعزیر یعبدون من دون اﷲ فنزلت ان الذین سبقت لھم منا الحسنی اولئك عنہا مبعدون جب یہ آیت نازل ہوئی۔ انکم وما تعبدون (الایۃ)تو مشرکین نے کہا ملائکہ حضرت عیسی اور حضرت عزیر کو بھی اﷲ تعالی کے سوا پوجا جاتا ہے تو یہ آیت نازل ہوئی ان الذین سبقت(الایۃ) بیشك وہ جن کے لئے ہمارا وعدہ بھلائی کا ہوچکا وہ جہنم سے دور رکھے گئے ہیں۔
ثانیا یدعون من دون اﷲ یقینا مشرکین ہیں اور قرآن عظیم نے اہل کتاب کو مشرکین سے جدا کیا ان کے احکام ان سے جدا رکھے ان کی عورتوں سے نکاح صحیح ہے مشرکہ سے باطل ان کا ذبیحہ حلال ہوجائے گا ان کا مردار قال اﷲ تعالی :
“ لم یکن الذین کفروا من اہل الکتب و المشرکین منفکین حتی تاتیہم البینۃ ﴿۱﴾ “ (کتابی کافر اور مشرك اپنا دین چھوڑنے کو نہ تھے جب تك ان کے پاس دلیل نہ آئے۔ ت)
وقال اﷲ تعالی :
“ ان الذین کفروا من اہل الکتب و المشرکین فی نار جہنم خلدین فیہا اولئک ہم شر البریۃ ﴿۶﴾ “ بیشك جتنے کافر ہیں کتابی اور مشرك سب جہنم کی آگ میں ہیں ہمیشہ اس میں رہیں گے وہی تمام مخلوق سے بدتر ہیں۔ (ت)۔
قرآن کریم نے خود اپنا محاورہ بتایا جب بھی مرتدوں نے وہی راگ گایا۔ ابوداؤد کتاب الناسخ والمنسوخ میں اور فریابی عبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم طبرانی و ابن مردویہ اور حاکم مع تصحیح مستدرك میں حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے راوی :
لما نزلت انکم وما تعبدون من دون اﷲ حصب جہنم انتم لہا واردون فقال المشرکون الملئکۃ وعیسی وعزیر یعبدون من دون اﷲ فنزلت ان الذین سبقت لھم منا الحسنی اولئك عنہا مبعدون جب یہ آیت نازل ہوئی۔ انکم وما تعبدون (الایۃ)تو مشرکین نے کہا ملائکہ حضرت عیسی اور حضرت عزیر کو بھی اﷲ تعالی کے سوا پوجا جاتا ہے تو یہ آیت نازل ہوئی ان الذین سبقت(الایۃ) بیشك وہ جن کے لئے ہمارا وعدہ بھلائی کا ہوچکا وہ جہنم سے دور رکھے گئے ہیں۔
ثانیا یدعون من دون اﷲ یقینا مشرکین ہیں اور قرآن عظیم نے اہل کتاب کو مشرکین سے جدا کیا ان کے احکام ان سے جدا رکھے ان کی عورتوں سے نکاح صحیح ہے مشرکہ سے باطل ان کا ذبیحہ حلال ہوجائے گا ان کا مردار قال اﷲ تعالی :
“ لم یکن الذین کفروا من اہل الکتب و المشرکین منفکین حتی تاتیہم البینۃ ﴿۱﴾ “ (کتابی کافر اور مشرك اپنا دین چھوڑنے کو نہ تھے جب تك ان کے پاس دلیل نہ آئے۔ ت)
وقال اﷲ تعالی :
“ ان الذین کفروا من اہل الکتب و المشرکین فی نار جہنم خلدین فیہا اولئک ہم شر البریۃ ﴿۶﴾ “ بیشك جتنے کافر ہیں کتابی اور مشرك سب جہنم کی آگ میں ہیں ہمیشہ اس میں رہیں گے وہی تمام مخلوق سے بدتر ہیں۔ (ت)۔
حوالہ / References
القرآن الکریم ۲۱ /۱۰۱ و ۱۰۲
المستدرك کتاب التفسیر تفسیر سُورہ انبیاء دارالفکربیروت ۲ / ۳۸۵
القرآن الکریم ۹۸ /۱
القرآن الکریم ۹۸ /۶
المستدرك کتاب التفسیر تفسیر سُورہ انبیاء دارالفکربیروت ۲ / ۳۸۵
القرآن الکریم ۹۸ /۱
القرآن الکریم ۹۸ /۶
وقال اﷲ تعالی :
“ ما یود الذین کفروا من اہل الکتب ولا المشرکین ان ینزل علیکم من خیر من ربکم “ (وہ جو کافر ہیں کتابی یا مشرک وہ نہیں چاہتے کہ تم پر کوئی بھلائی اترے تمہارے رب کے پاس سے۔ ت)
وقال اﷲ تعالی :
“ لتجدن اشد الناس عدوۃ للذین امنوا الیہود والذین اشرکوا ولتجدن اقربہم مودۃ للذین امنوا الذین قالوا انا نصری “ ضرور تم مسلمانوں کا سب سے بڑھ کر دشمن یہودیوں اور مشرکوں کو پاؤ گے اور ضرور تم مسلمانوں کی دوستی میں سب سے زیادہ قریب ان کو پاؤ گے جنہوں نے کہا کہ بیشك ہم نصاری ہیں ت۔
وقال اﷲ تعالی :
“ الیوم احل لکم الطیبت وطعام الذین اوتوا الکتب حل لکم ۪ وطعامکم حل لہم ۫ والمحصنت من المؤمنت والمحصنت من الذین اوتوا الکتب “
“ و لا تنکحوا المشرکت حتی یؤمن “ (آج تمہارے لئے پاك چیزیں حلال ہوئیں اور کتابیوں کا کھانا تمہارے لئے حلال ہے اور تمہارا کھانا ان کے لئے حلال ہے اور پارسا عورتیں مسلمان اور پارسا عورتیں ان میں سے جن کو تم سے پہلے کتاب ملی۔ ت)
(اور شرك والی عورتوں سے نکاح نہ کرو جب تك مسلمان نہ ہوجائیں۔ ت)
جب قرآن عظیم “ ید عون من دون اﷲ “ میں نصاری کو داخل نہیں فرماتا اس “ الذین “ میں مسیح علیہ الصلوۃ والسلام کیونکر داخل ہوسکیں گے
ثالثا : سورت مکیہ ہے اور سوائے عاصم قراء سبعہ کی قرأت “ تدعون “ بہ تائے خطاب تو بت پرست ہی مراد ہیں اور “ الذین یدعون اصنام “ (جنہیں وہ پوجتے ہیں وہ بت ہیں۔ ت)
رابعا : خود آیہ کریمہ طرح طرح دلیل ناطق کہ حضرات انبیاء علیہم الصلوۃ والثناء عموما اور حضرت مسیح
“ ما یود الذین کفروا من اہل الکتب ولا المشرکین ان ینزل علیکم من خیر من ربکم “ (وہ جو کافر ہیں کتابی یا مشرک وہ نہیں چاہتے کہ تم پر کوئی بھلائی اترے تمہارے رب کے پاس سے۔ ت)
وقال اﷲ تعالی :
“ لتجدن اشد الناس عدوۃ للذین امنوا الیہود والذین اشرکوا ولتجدن اقربہم مودۃ للذین امنوا الذین قالوا انا نصری “ ضرور تم مسلمانوں کا سب سے بڑھ کر دشمن یہودیوں اور مشرکوں کو پاؤ گے اور ضرور تم مسلمانوں کی دوستی میں سب سے زیادہ قریب ان کو پاؤ گے جنہوں نے کہا کہ بیشك ہم نصاری ہیں ت۔
وقال اﷲ تعالی :
“ الیوم احل لکم الطیبت وطعام الذین اوتوا الکتب حل لکم ۪ وطعامکم حل لہم ۫ والمحصنت من المؤمنت والمحصنت من الذین اوتوا الکتب “
“ و لا تنکحوا المشرکت حتی یؤمن “ (آج تمہارے لئے پاك چیزیں حلال ہوئیں اور کتابیوں کا کھانا تمہارے لئے حلال ہے اور تمہارا کھانا ان کے لئے حلال ہے اور پارسا عورتیں مسلمان اور پارسا عورتیں ان میں سے جن کو تم سے پہلے کتاب ملی۔ ت)
(اور شرك والی عورتوں سے نکاح نہ کرو جب تك مسلمان نہ ہوجائیں۔ ت)
جب قرآن عظیم “ ید عون من دون اﷲ “ میں نصاری کو داخل نہیں فرماتا اس “ الذین “ میں مسیح علیہ الصلوۃ والسلام کیونکر داخل ہوسکیں گے
ثالثا : سورت مکیہ ہے اور سوائے عاصم قراء سبعہ کی قرأت “ تدعون “ بہ تائے خطاب تو بت پرست ہی مراد ہیں اور “ الذین یدعون اصنام “ (جنہیں وہ پوجتے ہیں وہ بت ہیں۔ ت)
رابعا : خود آیہ کریمہ طرح طرح دلیل ناطق کہ حضرات انبیاء علیہم الصلوۃ والثناء عموما اور حضرت مسیح
علیہ الصلوۃ والتسلیم خصوصا مراد نہیں جہاں فرمایا اموت غیر احیاء (مردے ہیں زندہ نہیں۔ ت)اموات سے متبادریہ ہوتا ہے کہ پہلے زندہ تھے پھر موت لاحق ہوئی لہذا ارشاد ہوا “ غیر احیاء “ یہ وہ مردے ہیں کہ نہ اب تك زندہ ہیں نہ کبھی تھے نرے جماد ہیں یہ بتوں ہی پر صادق ہے تفسیر ارشاد العقل السلیم میں ہے :
حیث کان بعض الاموات مما یعتریہ الحیاۃ سابقا اولاحقا کاجساد الحیوان والنطف التی ینشئھا اﷲ تعالی حیوانا احترز عن ذلك فقیل غیر احیاء ای لا یعتریھا الحیوۃ اصلا فھی اموات علی الاطلاق بعض اموات وہ تھے جنہیں زندگی حاصل تھی جیسے مردہ حیوان کا جسم اور بعض وہ ہیں جنہیں زندگی ملنے والی ہے مثلا نطفہ جسے اﷲ تعالی مستقبل میں حیوان بنائے گا اس لئے ایسے اموات سے احتراز کیا اور فرمایا غیر احیاء یعنی یہ وہ اموات ہیں جنہیں زندگانی(ماضی یا مستقبل میں)بالکل حاصل نہیں لہذا یہ علی الاطلاق اموات ہیں۔
خامسا رب عزوجل فرماتا ہے :
“ ولا تحسبن الذین قتلوا فی سبیل اللہ اموتا بل احیاء عند ربہم یرزقون ﴿۱۶۹﴾ فرحین بما اتىہم اللہ من فضلہ “ خبردار! شہیدوں کو ہرگز مردہ نہ جا نیو بلکہ وہ اپنے رب کے یہاں زندہ ہیں روزی پاتے ہیں اﷲ نے جو اپنے فضل سے دیا اس پر خوش ہیں۔
اور فرماتا ہے :
“ ولا تقولوا لمن یقتل فی سبیل اللہ اموت بل احیاء ولکن لا تشعرون﴿۱۵۴﴾ “ جو اﷲ کی راہ میں مارے جائیں انہیںمردہ نہ کہو بلکہ وہ زندہ ہیں تمہیں خبر نہیں۔
محال ہے کہ شہید کو تو مردہ کہنا حرام مردہ سمجھنا حرام اور انبیاء معاذ اﷲ مردے کہے سمجھے جائیں یقینا قطعا ایمانا وہ “ احیاء غیر اموات “ (زندہ ہیں مردے نہیں۔ ت)ہیں نہ کہ عیاذا باﷲ “ اموات غیر احیاء “ (مردے ہیں زندہ نہیں۔ ت)جس وعدہ الہیہ کی تصدیق کے لئے ان کو عروض موت ایك آن کے لئے لازم ہے قطعا شہداء کو بھی لازم ہے۔ “ کل نفس ذآئقۃ الموت “ (ہر جان کو موت کا
حیث کان بعض الاموات مما یعتریہ الحیاۃ سابقا اولاحقا کاجساد الحیوان والنطف التی ینشئھا اﷲ تعالی حیوانا احترز عن ذلك فقیل غیر احیاء ای لا یعتریھا الحیوۃ اصلا فھی اموات علی الاطلاق بعض اموات وہ تھے جنہیں زندگی حاصل تھی جیسے مردہ حیوان کا جسم اور بعض وہ ہیں جنہیں زندگی ملنے والی ہے مثلا نطفہ جسے اﷲ تعالی مستقبل میں حیوان بنائے گا اس لئے ایسے اموات سے احتراز کیا اور فرمایا غیر احیاء یعنی یہ وہ اموات ہیں جنہیں زندگانی(ماضی یا مستقبل میں)بالکل حاصل نہیں لہذا یہ علی الاطلاق اموات ہیں۔
خامسا رب عزوجل فرماتا ہے :
“ ولا تحسبن الذین قتلوا فی سبیل اللہ اموتا بل احیاء عند ربہم یرزقون ﴿۱۶۹﴾ فرحین بما اتىہم اللہ من فضلہ “ خبردار! شہیدوں کو ہرگز مردہ نہ جا نیو بلکہ وہ اپنے رب کے یہاں زندہ ہیں روزی پاتے ہیں اﷲ نے جو اپنے فضل سے دیا اس پر خوش ہیں۔
اور فرماتا ہے :
“ ولا تقولوا لمن یقتل فی سبیل اللہ اموت بل احیاء ولکن لا تشعرون﴿۱۵۴﴾ “ جو اﷲ کی راہ میں مارے جائیں انہیںمردہ نہ کہو بلکہ وہ زندہ ہیں تمہیں خبر نہیں۔
محال ہے کہ شہید کو تو مردہ کہنا حرام مردہ سمجھنا حرام اور انبیاء معاذ اﷲ مردے کہے سمجھے جائیں یقینا قطعا ایمانا وہ “ احیاء غیر اموات “ (زندہ ہیں مردے نہیں۔ ت)ہیں نہ کہ عیاذا باﷲ “ اموات غیر احیاء “ (مردے ہیں زندہ نہیں۔ ت)جس وعدہ الہیہ کی تصدیق کے لئے ان کو عروض موت ایك آن کے لئے لازم ہے قطعا شہداء کو بھی لازم ہے۔ “ کل نفس ذآئقۃ الموت “ (ہر جان کو موت کا
حوالہ / References
القرآن الکریم ۱۶ /۲۱
ارشاد العقل السلیم(تفسیر ابی السعود)آیۃ ۱۶ / ۲۱ داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ / ۱۰۶
القرآن الکریم ۳ /۱۶۹ ، ۱۷۰
القرآن الکریم ۲ /۱۵۴
القرآن الکریم ۲۱ /۳۵
ارشاد العقل السلیم(تفسیر ابی السعود)آیۃ ۱۶ / ۲۱ داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ / ۱۰۶
القرآن الکریم ۳ /۱۶۹ ، ۱۷۰
القرآن الکریم ۲ /۱۵۴
القرآن الکریم ۲۱ /۳۵
مزہ چکھنا ہے۔ ت)پھر جب یہ “ احیاء غیر اموات “ ہیں وہ یقینا ان سے لاکھوں درجے زائد “ احیا ء غیر اموات “ ہیں نہ کہ “ اموات غیر احیاء “ ۔
سادسا : آیہ کریمہ میں “ وھم قد خلقوا “ بصیغہ ماضی نہیں بلکہ “ وہم یخلقون ﴿۲۰﴾ “ بصیغہ مضارع ہے کہ دلیل تجدد واستمرار ہو یعنی بنائے گھڑے جاتے ہیں اور نئے نئے بنائے گھڑے جائیں گے یہ یقینا بت ہیں۔
سابعا : آیہ کریمہ میں ان سے کسی چیز کی خلق کا سلب کلی فرمایا کہ “ لا یخلقون شیـا “ (وہ کوئی چیز نہیں بناتے۔ ت) اور قرآن عظیم نے عیسی علیہ الصلوۃ والسلام کے لئے بعض اشیاء کی خلق ثابت فرمائی “ اذ تخلق من الطین کہیــۃ الطیر “ (اور جب تو مٹی سے پرند کی مورت بناتا)اور ایجاب جزئی نقیض سلب کلی ہے تو عیسی علیہ الصلوۃ والسلام پر صادق نہیں نامناسب سے قطع نظر ہو تو اموات قضیہ مطلقہ عامہ ہے یا دائمہ بر تقدیر ثانی یقینا انس وجن وملك سے کوئی مراد نہیں ہوسکتا کہ ان کیلئے حیات بالفعل ثابت ہے نہ کہ ازل سے ابد تك دائم موت برتقدیر اول قضیہ کا اتنا مفاد کہ کسی نہ کسی زمانے میں ان کو موت عارض ہو یہ ضرور عیسی وملائکہ علیہم الصلوۃ والسلام سب کے لئے ثابت بیشك ایك وقت وہ آئے گا کہ مسیح علیہ الصلوۃ والسلام وفات پائیں گے اور روز قیامت ملائکہ کو بھی موت ہے اس سے یہ کب ثابت ہوا کہ موت ہوچکی ورنہ “ ید عون من دون اﷲ “ میں ملائکہ بھی داخل ہیں لازم کہ وہ بھی مر چکے ہوں اور یہ باطل ہے۔ تفسیر انوارالتنزیل میں ہے :
(اموات)حالا اومالا غیر احیاء بالذات لیتناول کل معبود (مردے حال میں یا آئندہ غیر زندے بالذات تاکہ ہر معبود کو شامل ہو۔ ت)
تفسیر عنایۃ القاضی میں ہے :
فالمراد مالا حیوۃ لہ سواء کان لہ حیوۃ ثم مات کعزیر او سیموت کعیسی والملئکۃ علیھم السلام اولیس من شانہ الحیوۃ کالا صنام یعنی ان اموات سے عام مراد ہے خواہ اس میں حیات کی قابلیت ہی نہ ہو جیسے بت یا حیات تھی اور موت عارض ہوئی جیسے عزیر یا آئندہ عارض ہونے والی ہے جیسے عیسی وملائکہ علیہم الصلوۃ والسلام ۔
منکرین دیکھیں کہ ان کا شبہ ہر پہلو پر مردود ہے وﷲ الحمد۔
سادسا : آیہ کریمہ میں “ وھم قد خلقوا “ بصیغہ ماضی نہیں بلکہ “ وہم یخلقون ﴿۲۰﴾ “ بصیغہ مضارع ہے کہ دلیل تجدد واستمرار ہو یعنی بنائے گھڑے جاتے ہیں اور نئے نئے بنائے گھڑے جائیں گے یہ یقینا بت ہیں۔
سابعا : آیہ کریمہ میں ان سے کسی چیز کی خلق کا سلب کلی فرمایا کہ “ لا یخلقون شیـا “ (وہ کوئی چیز نہیں بناتے۔ ت) اور قرآن عظیم نے عیسی علیہ الصلوۃ والسلام کے لئے بعض اشیاء کی خلق ثابت فرمائی “ اذ تخلق من الطین کہیــۃ الطیر “ (اور جب تو مٹی سے پرند کی مورت بناتا)اور ایجاب جزئی نقیض سلب کلی ہے تو عیسی علیہ الصلوۃ والسلام پر صادق نہیں نامناسب سے قطع نظر ہو تو اموات قضیہ مطلقہ عامہ ہے یا دائمہ بر تقدیر ثانی یقینا انس وجن وملك سے کوئی مراد نہیں ہوسکتا کہ ان کیلئے حیات بالفعل ثابت ہے نہ کہ ازل سے ابد تك دائم موت برتقدیر اول قضیہ کا اتنا مفاد کہ کسی نہ کسی زمانے میں ان کو موت عارض ہو یہ ضرور عیسی وملائکہ علیہم الصلوۃ والسلام سب کے لئے ثابت بیشك ایك وقت وہ آئے گا کہ مسیح علیہ الصلوۃ والسلام وفات پائیں گے اور روز قیامت ملائکہ کو بھی موت ہے اس سے یہ کب ثابت ہوا کہ موت ہوچکی ورنہ “ ید عون من دون اﷲ “ میں ملائکہ بھی داخل ہیں لازم کہ وہ بھی مر چکے ہوں اور یہ باطل ہے۔ تفسیر انوارالتنزیل میں ہے :
(اموات)حالا اومالا غیر احیاء بالذات لیتناول کل معبود (مردے حال میں یا آئندہ غیر زندے بالذات تاکہ ہر معبود کو شامل ہو۔ ت)
تفسیر عنایۃ القاضی میں ہے :
فالمراد مالا حیوۃ لہ سواء کان لہ حیوۃ ثم مات کعزیر او سیموت کعیسی والملئکۃ علیھم السلام اولیس من شانہ الحیوۃ کالا صنام یعنی ان اموات سے عام مراد ہے خواہ اس میں حیات کی قابلیت ہی نہ ہو جیسے بت یا حیات تھی اور موت عارض ہوئی جیسے عزیر یا آئندہ عارض ہونے والی ہے جیسے عیسی وملائکہ علیہم الصلوۃ والسلام ۔
منکرین دیکھیں کہ ان کا شبہ ہر پہلو پر مردود ہے وﷲ الحمد۔
حوالہ / References
القرآن الکریم ۱۶ /۲۰
القرآن الکریم ۱۶ /۲۰
القرآن الکریم ۵ /۱۱۰
انوارالتنزیل(تفسیر بیضاوی)آیۃ ۱۶ / ۲۱ مصطفٰی البابی مصر ، ۱ / ۲۷۰
عنایۃ القاضی حاشیۃ الشہاب علی تفسیر البیضاوی آیۃ ۱۶ / ۲۱ ، دار صادر بیروت ، ۵ / ۳۲۲
القرآن الکریم ۱۶ /۲۰
القرآن الکریم ۵ /۱۱۰
انوارالتنزیل(تفسیر بیضاوی)آیۃ ۱۶ / ۲۱ مصطفٰی البابی مصر ، ۱ / ۲۷۰
عنایۃ القاضی حاشیۃ الشہاب علی تفسیر البیضاوی آیۃ ۱۶ / ۲۱ ، دار صادر بیروت ، ۵ / ۳۲۲
شبہ دوم : لعن اﷲ الیھود والنصاری اﷲ تعالی یہود و نصاری پر لعنت فرمائے۔ اقول : والمرزائیۃ لعنھم لعنا کبیرا (میں کہتا ہوں کہ مرزائیوں پر بھی بڑی لعنت ہو)اولا : انبیائھم میں اضافت استغراق کے لئے نہیں کہ موسی سے یحیی علیہما الصلوۃ والسلام تك ہر نبی کی قبر کو یہود و نصاری سب نے مسجد کرلیا ہو یہ یقینا غلط ہے جس طرح “ وقتلہم الانبیاء بغیر حق “ (انہوں نے انبیاء کو ناحق شہید کیا۔ ت)میں اضافت ولام کوئی استغراق کا نہیں کہ نہ سب قاتل اور نہ سب انبیاء شہید کئے قال اﷲ تعالی :
“ ففریقا کذبتم ۫ وفریقا تقتلون﴿۸۷﴾ “ (انبیاء کے ایك گروہ کو تم نے جھٹلایا اور ایك گروہ کو قتل کرتے ہو۔ ت)
اور جب استغراق نہیں تو بعض میں مسیح علیہ الصلوۃ والسلام کا داخل کرلینا ادعائے باطل و مردود ہے یہود کے سب انبیاء نصاری کے بھی انبیاء تھے یہود و نصاری کا ان میں بعض قبور کریمہ کو(مسجد بنا لینا)صدق حدیث کے لئے بس اور اس سے زیادہ مرتدین کی ہوس۔ فتح الباری شرح صحیح بخاری میں یہ اشکال ذکر کر کے کہ نصاری کے انبیاء کہاں ہیں ان کے تو صرف ایك عیسی نبی تھے ان کی قبر نہیں ایك جواب یہی دیا جو بتوفیقہ تعالی ہم نے ذکر کیا کہ :
اوالمراد بالا تخاذ اعم من ان یکون ابتداعا او اتباعا فالیہود ابتدعت والنصاری اتبعت ولا ریب ان النصاری تعظم قبور کثیر من الانبیاء الذین تعظمھم الیہود انبیاء کی قبروں کو مسجد بنا نا عام ہے کہ ابتدا ہو یا کسی کی پیروی میں یہودیوں نے ابتداء کی اور عیسائیوں نے پیروی کی اور اس میں شك نہیں کہ نصاری بہت سے ان انبیاء کی قبروں کی تعظیم کرتے ہیں جن کی یہودی تعظیم کرتے ہیں۔
ثانیا : امام حافظ الشان(ابن حجر)نے دوسرا جواب یہ دیا کہ اس روایت میں اقتصار واقع ہوا واقع یہ ہے کہ یہود اپنے انبیاء کی قبور کو مساجد کرتے اور نصاری اپنے صالحین کی قبروں کو ولہذا صحیح بخاری حدیث ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہمیں دربارہ قبور انبیاء تنہا یہود کا نام ہے :
ان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم قال قاتل اﷲ الیھود اتخذوا قبور فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے ا ﷲ تعالی یہودیوں کو ہلاك فرمائے انہوں نے اپنے
“ ففریقا کذبتم ۫ وفریقا تقتلون﴿۸۷﴾ “ (انبیاء کے ایك گروہ کو تم نے جھٹلایا اور ایك گروہ کو قتل کرتے ہو۔ ت)
اور جب استغراق نہیں تو بعض میں مسیح علیہ الصلوۃ والسلام کا داخل کرلینا ادعائے باطل و مردود ہے یہود کے سب انبیاء نصاری کے بھی انبیاء تھے یہود و نصاری کا ان میں بعض قبور کریمہ کو(مسجد بنا لینا)صدق حدیث کے لئے بس اور اس سے زیادہ مرتدین کی ہوس۔ فتح الباری شرح صحیح بخاری میں یہ اشکال ذکر کر کے کہ نصاری کے انبیاء کہاں ہیں ان کے تو صرف ایك عیسی نبی تھے ان کی قبر نہیں ایك جواب یہی دیا جو بتوفیقہ تعالی ہم نے ذکر کیا کہ :
اوالمراد بالا تخاذ اعم من ان یکون ابتداعا او اتباعا فالیہود ابتدعت والنصاری اتبعت ولا ریب ان النصاری تعظم قبور کثیر من الانبیاء الذین تعظمھم الیہود انبیاء کی قبروں کو مسجد بنا نا عام ہے کہ ابتدا ہو یا کسی کی پیروی میں یہودیوں نے ابتداء کی اور عیسائیوں نے پیروی کی اور اس میں شك نہیں کہ نصاری بہت سے ان انبیاء کی قبروں کی تعظیم کرتے ہیں جن کی یہودی تعظیم کرتے ہیں۔
ثانیا : امام حافظ الشان(ابن حجر)نے دوسرا جواب یہ دیا کہ اس روایت میں اقتصار واقع ہوا واقع یہ ہے کہ یہود اپنے انبیاء کی قبور کو مساجد کرتے اور نصاری اپنے صالحین کی قبروں کو ولہذا صحیح بخاری حدیث ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہمیں دربارہ قبور انبیاء تنہا یہود کا نام ہے :
ان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم قال قاتل اﷲ الیھود اتخذوا قبور فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے ا ﷲ تعالی یہودیوں کو ہلاك فرمائے انہوں نے اپنے
حوالہ / References
صحیح البخاری کتاب الجنائز باب مایکرہ من اتخاذ المسجد علی القبور ، قدیمی کتب خانہ کراچی ، ۱ / ۱۷۷
صحیح البخاری کتاب الجنائز باب مایکرہ من اتخاذ المسجد علی القبور ، قدیمی کتب خانہ کراچی ، ۱ / ۱۷۷
القرآن الکریم ۴ /۱۵۵
القرآن الکریم ۲ /۸۷
فتح الباری شرح صحیح بخاری ، کتاب الصلٰوۃ دارالمعرفۃ بیروت ۱ / ۴۴۴
صحیح البخاری کتاب الجنائز باب مایکرہ من اتخاذ المسجد علی القبور ، قدیمی کتب خانہ کراچی ، ۱ / ۱۷۷
القرآن الکریم ۴ /۱۵۵
القرآن الکریم ۲ /۸۷
فتح الباری شرح صحیح بخاری ، کتاب الصلٰوۃ دارالمعرفۃ بیروت ۱ / ۴۴۴
انبیائھم مساجد انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہیں بنالیا۔
اور صحیح بخاری حدیث ام سلمہ رضی اﷲ تعالی عنہا میں جہاں تنہا نصاری کا ذکر تھا صرف صالحین کا ذکر فرمایا انبیاء کا نام نہ لیا کہ :
قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اولئك قوم اذا مات فیھم العبد الصالح اوالرجل الصالح بنوا علی قبرہ مسجدا وصوروا فیہ تلك الصور رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا نصاری وہ قوم ہے کہ جب ان میں کوئی نیك آدمی فوت ہوجاتا تو اس کی قبر پر مسجد بنالیتے اور اس میں تصویریں بناتے۔
اور صحیح مسلم حدیث جندب رضی اللہ تعالی عنہمیں یہود و نصاری دونوں کو عام تھا انبیاء و صالحین کو جمع فرمایا کہ :
سمعت النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم قال الاوان من کان قبلکم کانوا یتخذون قبور انبیائھم وصالحیھم مساجدا میں نے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے سنا آپ نے فرمایا خبردار! تم سے پہلے لوگ اپنے انبیاء اور صالحین کی قبروں کو سجدہ گاہیں بنالیتے تھے۔ ہمیشہ جمع طرق سے معنی حدیث کا ایضاح ہوتا ہے۔
ثالثا اقول : چالاکی بھی سمجھئے! یہ فقط قبر عیسی ثابت کرنا نہیں بلکہ اس میں بہت اہم راز مضمر ہے قادیانی مدعی نبوت تھا اور سخت جھوٹا کذاب جس کے سفید چمکتے ہوئے جھوٹ وہ محمدی والے نکاح اور انبیاء کے چاند والے بیٹے قادیان و قادیانیہ کے محفوظ از طاعون رہنے کی پیشین گوئیاں وغیرہا ہیں اور ہر عاقل جانتا ہے کہ نبوت اور جھوٹ کا اجتماع محال اس سے قادیانی کا سارا گھر ہر عاقل کے نزدیك گھروندا ہوگیا اس لئے فکر ہوئی کہ انبیائے کرام علیہم الصلوۃ والسلام کو معاذ اﷲ جھوٹا ثابت کریں کہ قادیانی کذاب کی نبوت بھی بن پڑے اس کا علاج خود قادیانی نے اپنے ازالہ اوہام ص ۶۲۹ پر یہ کیا کہ ایك زمانے میں چار سو نبیوں کی پیشگوئی غلط ہوئی اور وہ جھوٹے یہ اس مرتدکے اکٹھے چار سو کفر کہ ہر نبی کی تکذیب کفر ہے بلکہ کروڑوں کفر ہیں کہ ایك نبی کی تکذیب تمام انبیاء اﷲ کی تکذیب ہے قال اﷲ تعالی : “ کذبت قوم نوح المرسلین ﴿۱۰۵﴾ “ (نوح کی قوم نے پیغمبروں کو
اور صحیح بخاری حدیث ام سلمہ رضی اﷲ تعالی عنہا میں جہاں تنہا نصاری کا ذکر تھا صرف صالحین کا ذکر فرمایا انبیاء کا نام نہ لیا کہ :
قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اولئك قوم اذا مات فیھم العبد الصالح اوالرجل الصالح بنوا علی قبرہ مسجدا وصوروا فیہ تلك الصور رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا نصاری وہ قوم ہے کہ جب ان میں کوئی نیك آدمی فوت ہوجاتا تو اس کی قبر پر مسجد بنالیتے اور اس میں تصویریں بناتے۔
اور صحیح مسلم حدیث جندب رضی اللہ تعالی عنہمیں یہود و نصاری دونوں کو عام تھا انبیاء و صالحین کو جمع فرمایا کہ :
سمعت النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم قال الاوان من کان قبلکم کانوا یتخذون قبور انبیائھم وصالحیھم مساجدا میں نے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے سنا آپ نے فرمایا خبردار! تم سے پہلے لوگ اپنے انبیاء اور صالحین کی قبروں کو سجدہ گاہیں بنالیتے تھے۔ ہمیشہ جمع طرق سے معنی حدیث کا ایضاح ہوتا ہے۔
ثالثا اقول : چالاکی بھی سمجھئے! یہ فقط قبر عیسی ثابت کرنا نہیں بلکہ اس میں بہت اہم راز مضمر ہے قادیانی مدعی نبوت تھا اور سخت جھوٹا کذاب جس کے سفید چمکتے ہوئے جھوٹ وہ محمدی والے نکاح اور انبیاء کے چاند والے بیٹے قادیان و قادیانیہ کے محفوظ از طاعون رہنے کی پیشین گوئیاں وغیرہا ہیں اور ہر عاقل جانتا ہے کہ نبوت اور جھوٹ کا اجتماع محال اس سے قادیانی کا سارا گھر ہر عاقل کے نزدیك گھروندا ہوگیا اس لئے فکر ہوئی کہ انبیائے کرام علیہم الصلوۃ والسلام کو معاذ اﷲ جھوٹا ثابت کریں کہ قادیانی کذاب کی نبوت بھی بن پڑے اس کا علاج خود قادیانی نے اپنے ازالہ اوہام ص ۶۲۹ پر یہ کیا کہ ایك زمانے میں چار سو نبیوں کی پیشگوئی غلط ہوئی اور وہ جھوٹے یہ اس مرتدکے اکٹھے چار سو کفر کہ ہر نبی کی تکذیب کفر ہے بلکہ کروڑوں کفر ہیں کہ ایك نبی کی تکذیب تمام انبیاء اﷲ کی تکذیب ہے قال اﷲ تعالی : “ کذبت قوم نوح المرسلین ﴿۱۰۵﴾ “ (نوح کی قوم نے پیغمبروں کو
حوالہ / References
صحیح البخاری کتاب الصلوٰۃ ، قدیمی کتب خانہ کراچی۔ ۱ / ۶۲
صحیح البخاری کتاب الصلوٰۃ ، قدیمی کتب خانہ ، کراچی۔ ۱ / ۶۲
صحیح مسلم کتاب المساجد ، باب : النہی عن بناء المسجد علی القبور ، قدیمی کتب خانہ ، کراچی ۱ / ۲۰۱
القرآن الکریم ۲۶ /۱۰۵
صحیح البخاری کتاب الصلوٰۃ ، قدیمی کتب خانہ ، کراچی۔ ۱ / ۶۲
صحیح مسلم کتاب المساجد ، باب : النہی عن بناء المسجد علی القبور ، قدیمی کتب خانہ ، کراچی ۱ / ۲۰۱
القرآن الکریم ۲۶ /۱۰۵
جھٹلایا۔ ت)تو اس نے چار سو ہر نبی کی تکذیب کی اگر انبیاء ایك لاکھ عــــــہ۱ چوبیس ہزار ہیں تو قادیانی کے چار کروڑ چھیانوے لاکھ کفر اور اگر دو لاکھ عــــــہ۲ چوبیس ہزار ہیں تو یہ اس کے آٹھ کروڑ چھیانوے لاکھ کفر ہیں اور اب ان مرزائیوں نے خود یا اسی سے سیکھ کر اندارج کفر میں اور ترقی معکوس کر کے اسفل سافلین پہنچنا چاہا کہ معاذاﷲ معاذاﷲ سید المرسلین محمد رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلموعلیہم اجمعین کا جھوٹ ثابت کریں اس حدیث کے یہ معنے گھڑے کہ نصاری نے عیسی علیہ الصلوۃ و السلام کی قبر کو مسجد کر لیا یہ صریح سپید جھوٹ ہے نصاری ہر گز مسیح کی قبر ہی نہیں مانتے اسے مسجد کر لینا تو دوسرا درجہ ہے تو مطلب یہ ہوا کہ دیکھو مصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم(کے دشمنوں)نے(خاك بدہن ملعونان)کیسی صریح جھوٹی خبر دی پھر اگر ہمارا قادیانی نبی جھوٹ کے پھنکے اڑاتا تھا تو کیا ہوا قادیانی مرتدین کا اگر یہ مطلب نہیں تو جلد بتائیں کہ نصاری مسیح علیہ الصلوۃ والسلام کی قبر کب مانتے ہیں کہاں بتاتے ہیں کس کس نصرانی نے اس قبر کو مسجد کر لیا جس کا مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے ذکر کیا اس مسجد کا روئے زمین پر کہیں پتا ہے ان نصرانیوں کا دنیا کے پردے پر کہیں نشان ہے اور جب یہ نہ بتا سکو اور ہرگز نہ بتا سکو گے تو اقرار کر و کہ تم نے محمد رسو ل اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے ذمے معاذ اﷲ دروغ گوئی کا الزام لگانے کو حدیث کے یہ معنی گھڑے اور :
“ ان الذین یؤذون اللہ و رسولہ لعنہم اللہ فی الدنیا و الاخرۃ و اعد لہم (بیشك جو ایذا دیتے ہیں اﷲ اور اس کے رسول کو ان پر اﷲ کی لعنت دنیا اور آخرت میں اور اﷲ نے
عــــــہ۱ : کما رواہ احمد وابن حبان والحاکم والبیھقی وغیر ھم عن ابی ذرو ھؤلاء وابن ابی حاتم والطبرانی وابن مردویہ عن ابی امامۃ رضی اﷲ تعالی عنہما ۱۲ منہ غفرلہ(م)
عــــــہ۲ : کما فی روایۃ علی ما فی شرح عقائد النسفی للتفتازانی قال خاتم الحفاظ لم اقف علیھا ۱۲ منہ غفرلہ(م) (جیسا کہ احمدابن حبان حاکم بیہقی وغیر ہم نے ابو ذر رضی اللہ تعالی عنہسے نیز انہوں نے اور ابن ابی حاتم طبرانی اور ابن مردویہ نے ابی امامہ رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کیا ۱۲ منہ غفرلہ۔ ت)
(جیسا کہ دوسری روایت میں ہے جس کو علامہ تفتازانی نے شرح عقائد نسفی میں ذکر فرمایا خاتم الحفاظ نے فرمایا میں اس پر واقف نہیں ہوا ۱۲ منہ )
“ ان الذین یؤذون اللہ و رسولہ لعنہم اللہ فی الدنیا و الاخرۃ و اعد لہم (بیشك جو ایذا دیتے ہیں اﷲ اور اس کے رسول کو ان پر اﷲ کی لعنت دنیا اور آخرت میں اور اﷲ نے
عــــــہ۱ : کما رواہ احمد وابن حبان والحاکم والبیھقی وغیر ھم عن ابی ذرو ھؤلاء وابن ابی حاتم والطبرانی وابن مردویہ عن ابی امامۃ رضی اﷲ تعالی عنہما ۱۲ منہ غفرلہ(م)
عــــــہ۲ : کما فی روایۃ علی ما فی شرح عقائد النسفی للتفتازانی قال خاتم الحفاظ لم اقف علیھا ۱۲ منہ غفرلہ(م) (جیسا کہ احمدابن حبان حاکم بیہقی وغیر ہم نے ابو ذر رضی اللہ تعالی عنہسے نیز انہوں نے اور ابن ابی حاتم طبرانی اور ابن مردویہ نے ابی امامہ رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کیا ۱۲ منہ غفرلہ۔ ت)
(جیسا کہ دوسری روایت میں ہے جس کو علامہ تفتازانی نے شرح عقائد نسفی میں ذکر فرمایا خاتم الحفاظ نے فرمایا میں اس پر واقف نہیں ہوا ۱۲ منہ )
حوالہ / References
مسند احمد بن حنبل ، حدیث ابو امامۃ الباہلی ، دارالفکربیروت ، ۵ / ۲۶۶
شرح عقائد النسفی داراشاعۃ العربیۃ قندھار ، افغانستان ، ص ۱۰۱
شرح عقائد النسفی داراشاعۃ العربیۃ قندھار ، افغانستان ، ص ۱۰۱
عذابا مہینا ﴿۵۷﴾ “ ان کے لئے ذلت کا عذاب تیار کر رکھا ہے۔ ت)
کی گہرائی میں پڑے الا لعنۃ اﷲ علی الظلمین کیوں حدیث سے موت عیسی علیہ الصلوۃ والسلام پر استدلال کا مزا چکھا
“ کذلک العذاب و لعذاب الاخرۃ اکبر لو کانوا یعلمون ﴿۳۳﴾ “ (واﷲ تعالی اعلم) (مار ایسی ہوتی ہے اور بیشك آخرت کی مار سب سے بڑی کیا اچھا تھا اگر وہ جانتے۔ ت)(واﷲ تعالی اعلم)
کتبــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ
العبد المذنب
احمد رضا البریلوی عفی عنہ
بمحمد ن المصطفی
صلی اﷲ تعالی علیہ والہ وسلم۔
______________
کی گہرائی میں پڑے الا لعنۃ اﷲ علی الظلمین کیوں حدیث سے موت عیسی علیہ الصلوۃ والسلام پر استدلال کا مزا چکھا
“ کذلک العذاب و لعذاب الاخرۃ اکبر لو کانوا یعلمون ﴿۳۳﴾ “ (واﷲ تعالی اعلم) (مار ایسی ہوتی ہے اور بیشك آخرت کی مار سب سے بڑی کیا اچھا تھا اگر وہ جانتے۔ ت)(واﷲ تعالی اعلم)
کتبــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ
العبد المذنب
احمد رضا البریلوی عفی عنہ
بمحمد ن المصطفی
صلی اﷲ تعالی علیہ والہ وسلم۔
______________
رسالہ
جزاء ﷲ عدوہ بابائہ ختم النبوۃ ۱۳۱۶ھ
(دشمن خدا کے ختم نبوت کا انکار کرنے پر خدائی جزاء)
مسئلہ۸۱ : از شیخ خدا بخش اہلسنت والجماعت محلہ سوئی گری کی پول ۱۹ رجب ۱۳۱۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ولید ساکن مشہد کہ اپنے آپ کو سید کہلواتا اپنا عقیدہ بایں طور پر رکھتا ہے کہ حضرت علی و فاطمہ و حسنین رضی اﷲ تعالی عنہم کو انبیاء و رسول کہنا ثابت ہے اور اپنے زعم میں اس کا ثبوت حدیثوں سے بتاتا ہے ایسا عقیدہ رکھنے والا مسلمان سنت و جماعت اولیائے کاملین سے ہے یا غالی رافضی کافر اولیائے شیاطین سے اور جو شخص عقیدہ کفریہ رکھے وہ سید ہوسکتا ہے یا نہیں اور اسے سید کہنا روا ہے یا نہیں بینوا توجروا(بیان کیجئے اجر حاصل کیجئے۔ ت)
الجواب :
الحمد ﷲ رب العلمین وسلام علی المرسلین ما کان محمد ابا احد من رجالکم ولکن رسول اﷲ و خاتم النبیین وکان اﷲ بکل شیئ علیما تمام خوبیاں اﷲ تعالی رب العالمین کو اور سلام تمام رسولوں پر محمدصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم تم میں سے کسی ایك مرد کے باپ نہیں لیکن اﷲ کے رسول اور نبیوں کے پچھلے اور اﷲ تعالی ہر شئے کا عالم ہے
جزاء ﷲ عدوہ بابائہ ختم النبوۃ ۱۳۱۶ھ
(دشمن خدا کے ختم نبوت کا انکار کرنے پر خدائی جزاء)
مسئلہ۸۱ : از شیخ خدا بخش اہلسنت والجماعت محلہ سوئی گری کی پول ۱۹ رجب ۱۳۱۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ولید ساکن مشہد کہ اپنے آپ کو سید کہلواتا اپنا عقیدہ بایں طور پر رکھتا ہے کہ حضرت علی و فاطمہ و حسنین رضی اﷲ تعالی عنہم کو انبیاء و رسول کہنا ثابت ہے اور اپنے زعم میں اس کا ثبوت حدیثوں سے بتاتا ہے ایسا عقیدہ رکھنے والا مسلمان سنت و جماعت اولیائے کاملین سے ہے یا غالی رافضی کافر اولیائے شیاطین سے اور جو شخص عقیدہ کفریہ رکھے وہ سید ہوسکتا ہے یا نہیں اور اسے سید کہنا روا ہے یا نہیں بینوا توجروا(بیان کیجئے اجر حاصل کیجئے۔ ت)
الجواب :
الحمد ﷲ رب العلمین وسلام علی المرسلین ما کان محمد ابا احد من رجالکم ولکن رسول اﷲ و خاتم النبیین وکان اﷲ بکل شیئ علیما تمام خوبیاں اﷲ تعالی رب العالمین کو اور سلام تمام رسولوں پر محمدصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم تم میں سے کسی ایك مرد کے باپ نہیں لیکن اﷲ کے رسول اور نبیوں کے پچھلے اور اﷲ تعالی ہر شئے کا عالم ہے
یا من یصلی علیہ ھو وملئکتہ صل علیہ وعلی الہ و صحبہ وبارك وسلم تسلیما امین رب انی اعوذبك من ھمزات الشیطین واعوذبك رب ان یحضرون و صلی اﷲ تعالی علی خاتم المرسلین اول الانبیاء خلقا واخرھم بعثا والہ وصحبہ والتابعین ولعن وقتل واخزی وخذل مردۃ الجن وشیطین الانس و اعاذنا ابدا من شرھم اجمعین امین۔ اے وہ ذات جس پر اﷲ تعالی اور اس کے فرشتوں کے درود اور اس کے آل واصحاب پر اور سلام کامل۔ آمین۔ اے میرے رب میں تیری پناہ مانگتا ہوں شیاطین کے وسوسوں سے اور اے میرے رب میں تیری پناہ مانگتا ہوں کہ وہ میرے پاس آئیں اور صلوۃ اﷲ خاتم المرسلین پر جو تمام انبیاء سے پیدائش میں اول اور بعثت میں ان سے آخر اور اس کی آل واصحاب اور تابعین پر اور لعنت اور ہلاکت رسوائی اور ذلت ہو اﷲ تعالی کی طرف سے سرکش جنوں اور انسانی شیطانوں پر اور ان سب کے شر سے ہمیشہ ہمیں پناہ دے آمین۔ ت)
اﷲ عزوجل سچا اور اس کا کلام سچا مسلمان پر جس طرح لا الہ الا اﷲ ماننا اﷲ سبحنہ وتعالی کو احد صمد لا شریك لہ جاننا فرض اول ومناط ایمان ہے یونہی محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو خاتم النبیین ماننا ان کے زمانے میں خواہ ان کے بعد کسی نبی جدید کی بعثت کو یقینا محال وباطل جاننا فرض اجل وجزء ایقان ہے “ ولکن رسول اللہ و خاتم النبین “ (ہاں اﷲ کے رسول ہیں اور سب نبیوں میں پچھلے۔ ت)نص قطعی قرآن ہے اس کا منکر نہ منکر بلکہ شبہ کرنے والا نہ شاك کہ ادنی ضعیف احتمال خفیف سے توہم خلاف رکھنے والا قطعا اجماعا کافر ملعون مخلد فی النیران ہے نہ ایسا کہ وہی کافر ہو بلکہ جو اس کے عقیدہ ملعونہ پر مطلع ہو کر اسے کافر نہ جانے وہ بھی کافر جو اس کے کافر ہونے میں شك و تردد کو راہ دے وہ بھی کافر بین الکافر جلی الکفران ہے ولید پلید جس کا قول نجس تراز بول سوال میں مذکور ضرور ولی ہے بیشك ضرور مگر حاشانہ ولی الرحمن بلکہ عدو الرحمن ولی الشیطان ہے یہ جو میں کہہ رہا ہوں میرا فتوی نہیں اﷲ واحد قہار کا فتوی ہے خاتم الانبیاء الاخیار کا فتوی ہے علی مرتضی وبتول زہرا وحسن مجتبی وشہید کربلا تمام ائمہ اطہار کا فتوی ہے صلی اﷲ تعالی علی سید ھم ومولاھم وعلیھم وسلم۔ شفاء شریف واعلام بقواطع الاسلام میں ہے :
یکفر ایضا من کذب بشیئ مما صرح نیز تکفیر کی جائیگی جس نے قرآن کے صریح حکم یا خبر
اﷲ عزوجل سچا اور اس کا کلام سچا مسلمان پر جس طرح لا الہ الا اﷲ ماننا اﷲ سبحنہ وتعالی کو احد صمد لا شریك لہ جاننا فرض اول ومناط ایمان ہے یونہی محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو خاتم النبیین ماننا ان کے زمانے میں خواہ ان کے بعد کسی نبی جدید کی بعثت کو یقینا محال وباطل جاننا فرض اجل وجزء ایقان ہے “ ولکن رسول اللہ و خاتم النبین “ (ہاں اﷲ کے رسول ہیں اور سب نبیوں میں پچھلے۔ ت)نص قطعی قرآن ہے اس کا منکر نہ منکر بلکہ شبہ کرنے والا نہ شاك کہ ادنی ضعیف احتمال خفیف سے توہم خلاف رکھنے والا قطعا اجماعا کافر ملعون مخلد فی النیران ہے نہ ایسا کہ وہی کافر ہو بلکہ جو اس کے عقیدہ ملعونہ پر مطلع ہو کر اسے کافر نہ جانے وہ بھی کافر جو اس کے کافر ہونے میں شك و تردد کو راہ دے وہ بھی کافر بین الکافر جلی الکفران ہے ولید پلید جس کا قول نجس تراز بول سوال میں مذکور ضرور ولی ہے بیشك ضرور مگر حاشانہ ولی الرحمن بلکہ عدو الرحمن ولی الشیطان ہے یہ جو میں کہہ رہا ہوں میرا فتوی نہیں اﷲ واحد قہار کا فتوی ہے خاتم الانبیاء الاخیار کا فتوی ہے علی مرتضی وبتول زہرا وحسن مجتبی وشہید کربلا تمام ائمہ اطہار کا فتوی ہے صلی اﷲ تعالی علی سید ھم ومولاھم وعلیھم وسلم۔ شفاء شریف واعلام بقواطع الاسلام میں ہے :
یکفر ایضا من کذب بشیئ مما صرح نیز تکفیر کی جائیگی جس نے قرآن کے صریح حکم یا خبر
حوالہ / References
القرآن الکریم ۳۳ /۴۰
فی القران من حکم او خبر او اثبت ما نفاہ او نفی ما اثبتہ علی علم منہ بذلک اوشك فی شیئ من ذلک کی تکذیب کی یا جس نے علم کے باوجود اس کی نفی کردہ کا اثبات کیا یا اس کے ثابت کردہ کی نفی کی یا جس نے اس میں شك کیا۔ ت۔
فتاوی حدیثیہ امام ابن حجر مکی میں ہے :
الترددفی المعلوم من الدین بالضرورۃ کالا نکار بدیہی ضروری دینی معلوم چیز میں تردد کرنا ایسا ہی ہے جیسا کہ اس کا انکار کرنا ہے۔ ت
شفاء میں ہے :
وقع الاجماع علی تکفیر کل من دافع نص الکتاب او خص حدیثا مجمعا علی نقلہ مقطوعا بہ مجمعا علی حملہ علی ظاھرہ ولھذا نکفر من لم یکفر من دان بغیر ملۃ الاسلام اوو قف فیھم اوشک(فی کفرھم) اوصحح مذھبھم وان اظھر الاسلام واعتقدہ واعتقد ابطال کل مذھب سواہ فھو کافر باظہار ما اظھر من خلاف ذلک۱ھ مختصرا مزیدا من نسیم الریاض ما بین الھلا لین۔ ایسے شخص کے کفر پر امت مسلمہ کا اجماع ہے جو کتاب اﷲ کی نص کا انکار کرے یا ایسی حدیث جس کے نقل پر یقین ہے اس کی تخصیص کرے حالانکہ اجماع کے مطابق اپنے ظاہری معنی پر محمول ہے۔ اسی لئے ہم ایسے شخص کی تکفیر کرتے ہیں جو اسلام کے غیر کسی دین والے کی تکفیر نہ کرے یا توقف یا شك کرے(ان کے کفر میں )یا ان کے مذہب کو صحیح سمجھے اگر چہ ایسا شخص اسلام کا اظہار کرے اور عقیدہ رکھے اور اسلام کے سوا ہر مذہب کے بطلان کا عقیدہ رکھے اس سبب سے کہ وہ اپنے ظاہر کئے کا خلاف ظاہر کرتا ہے لہذا وہ کافر ہے ۱ھ مختصرا ہلالین کے درمیان نسیم الریاض کی طرف سے زائد ہے۔ (ت)
اسی میں ہے :
اجمـاع علی کفــر من لم یکفـر کل من اسلام سے علیحدگی اختیار کرنے والے کی تکفیر نہ کرنے والے
فتاوی حدیثیہ امام ابن حجر مکی میں ہے :
الترددفی المعلوم من الدین بالضرورۃ کالا نکار بدیہی ضروری دینی معلوم چیز میں تردد کرنا ایسا ہی ہے جیسا کہ اس کا انکار کرنا ہے۔ ت
شفاء میں ہے :
وقع الاجماع علی تکفیر کل من دافع نص الکتاب او خص حدیثا مجمعا علی نقلہ مقطوعا بہ مجمعا علی حملہ علی ظاھرہ ولھذا نکفر من لم یکفر من دان بغیر ملۃ الاسلام اوو قف فیھم اوشک(فی کفرھم) اوصحح مذھبھم وان اظھر الاسلام واعتقدہ واعتقد ابطال کل مذھب سواہ فھو کافر باظہار ما اظھر من خلاف ذلک۱ھ مختصرا مزیدا من نسیم الریاض ما بین الھلا لین۔ ایسے شخص کے کفر پر امت مسلمہ کا اجماع ہے جو کتاب اﷲ کی نص کا انکار کرے یا ایسی حدیث جس کے نقل پر یقین ہے اس کی تخصیص کرے حالانکہ اجماع کے مطابق اپنے ظاہری معنی پر محمول ہے۔ اسی لئے ہم ایسے شخص کی تکفیر کرتے ہیں جو اسلام کے غیر کسی دین والے کی تکفیر نہ کرے یا توقف یا شك کرے(ان کے کفر میں )یا ان کے مذہب کو صحیح سمجھے اگر چہ ایسا شخص اسلام کا اظہار کرے اور عقیدہ رکھے اور اسلام کے سوا ہر مذہب کے بطلان کا عقیدہ رکھے اس سبب سے کہ وہ اپنے ظاہر کئے کا خلاف ظاہر کرتا ہے لہذا وہ کافر ہے ۱ھ مختصرا ہلالین کے درمیان نسیم الریاض کی طرف سے زائد ہے۔ (ت)
اسی میں ہے :
اجمـاع علی کفــر من لم یکفـر کل من اسلام سے علیحدگی اختیار کرنے والے کی تکفیر نہ کرنے والے
حوالہ / References
اعلام بقواطع الاسلام مع سبل النجاۃ ، فصل آخر فی الخطاء مکتبۃ الحقیقیۃ استنبول ، ص ۳۸۱
فتاوٰی حدیثیہ ، باب اصول الدین ، مطبعہ جمالیہ مصر ، ص ۱۴۶
الشفاء للقاضی عیاض فصل فی بیان ما ھو من المقالات ، مطبعۃ شرکۃ صحافیۃ فی البلاد العثمانیۃ ۲ / ۲۷۱ ، نسیم الریاض شرح الشفاء فصل فی بیان ما ھو من المقالات ، دارالفکر بیروت ، ۴ / ۱۰۔ ۵۰۹
فتاوٰی حدیثیہ ، باب اصول الدین ، مطبعہ جمالیہ مصر ، ص ۱۴۶
الشفاء للقاضی عیاض فصل فی بیان ما ھو من المقالات ، مطبعۃ شرکۃ صحافیۃ فی البلاد العثمانیۃ ۲ / ۲۷۱ ، نسیم الریاض شرح الشفاء فصل فی بیان ما ھو من المقالات ، دارالفکر بیروت ، ۴ / ۱۰۔ ۵۰۹
فارق دین المسلمین اووقف فی تکفیر ھم اوشک مختصرا۔ یا ان کی تکفیر میں توقف یا شك کرنے والے کی تکفیر نہ کرنے والے کے کفر پر اجماع ہے مختصرا۔ (ت)
بزازیہ و درمختار وغیر ہما میں ہے :
من شك فی کفرہ وعذابہ فقد کفر جس نے اس کے کفر اور عذاب میں شك کیا وہ کافر ہے۔ (ت)
بلکہ شخص مذکور پر لازم و ضرور ہے کہ اپنے آپ ہی اپنے کفر و الحاد و زندقہ و ارتداد کا فتوی لکھے آخر یہ تو بداہۃ ضرورۃ موافقین ومخالفین حتی کہ کفار و مشرکین سب کو معلوم و مسلم کہ حضرات حسنین اور ان کے والدین کریمین رضی اﷲ تعالی عنہم مسلمان تھے قرآن عظیم پر ایمان رکھتے اور بلاشبہ اسے کلام اﷲ جانتے اس کے ایك ایك حرف کو حق مانتے اور اسی قرآن کا ارشاد ہے کہ محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں تو قطعا وہ بھی حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو خاتم النبیین اعتقاد کرتے تو قطعا یقینا اپنے آپ کو نبی ورسول نہ جانتے اور اس ادعائے ملعون کو باطل وملعون ہی مانتے کہ قول بالمتنافیین کسی عاقل سے معقول نہیں اب یہ شخص کہ انہیں نبی ورسول مانتا ہے خود اپنے ہی ساختہ رسولوں کو کاذب و مبطل جانتا ہے اور رسولوں کی تکذیب کفر ظاہر ہے تو خود ہی اپنے عقیدے کی رو سے کافر ہے غرض انہیں رسول کہہ کر اعتقاد ختم نبوت میں سچا جانا تو اس ایمانی عقیدے کا منکر ہو کر کافر ہوا اور جھوٹا مانا تو اپنے ہی رسولوں کی آپ تکذیب کر کے کافر ہوا مفر کدھر ولا حول ولا قوۃ الا باﷲ العزیز الاکبر۔
ولید کے مقابل ذکر احادیث ونصوص علمائے قدیم وحدیث کا کیا موقع کہ جو نص قطعی قرآن کو نہ مانے حدیث و علماء کی کیا قدر جانے مگر بحمد اﷲ تعالی مسلمانوں کے لئے متعدد منافع ظاہر و بین ہیں قرآن وحدیث دونوں ایمان مومن ہیں احادیث کا بار بار تکرار اظہار دلوں میں ایمان کی جڑ جمائے گا آیہ کریمہ میں وساوس ملعونہ
ف : اہل بیت کرام خواہ کسی امتی کو نبی ماننے والا خود اپنے اقرار سے بھی کافر ہے۔
بزازیہ و درمختار وغیر ہما میں ہے :
من شك فی کفرہ وعذابہ فقد کفر جس نے اس کے کفر اور عذاب میں شك کیا وہ کافر ہے۔ (ت)
بلکہ شخص مذکور پر لازم و ضرور ہے کہ اپنے آپ ہی اپنے کفر و الحاد و زندقہ و ارتداد کا فتوی لکھے آخر یہ تو بداہۃ ضرورۃ موافقین ومخالفین حتی کہ کفار و مشرکین سب کو معلوم و مسلم کہ حضرات حسنین اور ان کے والدین کریمین رضی اﷲ تعالی عنہم مسلمان تھے قرآن عظیم پر ایمان رکھتے اور بلاشبہ اسے کلام اﷲ جانتے اس کے ایك ایك حرف کو حق مانتے اور اسی قرآن کا ارشاد ہے کہ محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں تو قطعا وہ بھی حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو خاتم النبیین اعتقاد کرتے تو قطعا یقینا اپنے آپ کو نبی ورسول نہ جانتے اور اس ادعائے ملعون کو باطل وملعون ہی مانتے کہ قول بالمتنافیین کسی عاقل سے معقول نہیں اب یہ شخص کہ انہیں نبی ورسول مانتا ہے خود اپنے ہی ساختہ رسولوں کو کاذب و مبطل جانتا ہے اور رسولوں کی تکذیب کفر ظاہر ہے تو خود ہی اپنے عقیدے کی رو سے کافر ہے غرض انہیں رسول کہہ کر اعتقاد ختم نبوت میں سچا جانا تو اس ایمانی عقیدے کا منکر ہو کر کافر ہوا اور جھوٹا مانا تو اپنے ہی رسولوں کی آپ تکذیب کر کے کافر ہوا مفر کدھر ولا حول ولا قوۃ الا باﷲ العزیز الاکبر۔
ولید کے مقابل ذکر احادیث ونصوص علمائے قدیم وحدیث کا کیا موقع کہ جو نص قطعی قرآن کو نہ مانے حدیث و علماء کی کیا قدر جانے مگر بحمد اﷲ تعالی مسلمانوں کے لئے متعدد منافع ظاہر و بین ہیں قرآن وحدیث دونوں ایمان مومن ہیں احادیث کا بار بار تکرار اظہار دلوں میں ایمان کی جڑ جمائے گا آیہ کریمہ میں وساوس ملعونہ
ف : اہل بیت کرام خواہ کسی امتی کو نبی ماننے والا خود اپنے اقرار سے بھی کافر ہے۔
حوالہ / References
الشفاء للقاضی فصل فی تحقیق القول فی اکفار المتا ؤلین ، مطبعۃ شرکۃ صحافیۃ فی البلاد العثمانیۃ ۲ / ۲۶۷
درمختار ، باب المرتد ، مطبع مجتبائی دہلی ، ۱ / ۳۵۶
درمختار ، باب المرتد ، مطبع مجتبائی دہلی ، ۱ / ۳۵۶
بعض شیاطین نجدیہ کا استیصال فرمائے گا ختم نبوت و خاتم النبیین کے صحیح و نجیح معنی بتائے گا بعض قاسمان کفرو مجون کے اختراع جنون کو مردود وملعون بنائے گا۔
ولید پلید کے ادعائے خبیث ثبوت بالحدیث کا بطلان دکھائے گا نصوص ائمہ سے اہل ایمان کو صحت فتوی پر زیادہ تر اعتبار واعتماد آئے گا معہذا ذکر محبوب راحت قلوب ہے ان کی یاد سے مسلمانوں کا دل چین پائے گا ۔
بریت ادم اور ختم نبوت :
فاقول : وبحول اﷲ احول(ارشادات الہیہ)
طبرانی معجم کبیر میں اور حاکم بافادہ تصحیح اور بیہقی دلائل النبوۃ میں امیر المؤمنین عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہسے راوی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں جب آدم علیہ الصلوۃ والسلام سے لغزش واقع ہوئی عرض کی یا رب اسئلك بحق محمد ان غفرت لی(الہی! میں تجھے محمدصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا واسطہ دے کر سوال کرتا ہوں کہ میری مغفرت فرما)ارشاد ہوا : اے آدم! تو نے محمدصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم )کو کیونکر پہچانا حالانکہ میں نے ابھی اسے پیدا نہ کیا عرض کی : الہی! جب تونے مجھے اپنی قدرت سے بنایا اور مجھ میں اپنی روح پھونکی میں نے سر اٹھا کر دیکھا تو عرش کے پایوں پر لکھا پایا لا الہ الا اﷲ محمد رسول اﷲ تو میں نے جاناتو نے اسی کا نام اپنے نام پاك کے ساتھ ملایا ہوگا جو تجھے تمام جہان سے زیادہ پیارا ہے۔ فرمایا :
صدقت یا ادم انہ لاحب الخلق الی واذ سألتنی بحقہ فقد غفرت لك ولو لا محمد ما خلقتک ۔ زاد الطبرانی وھو اخر الانبیاء من ذریتک اے آدم! تو نے سچ کہا بیشك وہ مجھے تمام جہان سے زیادہ پیارا ہے اور جب تونے مجھے اس کا واسطہ دے کر سوال کیا تو میں نے تیرے لئے مغفرت فرمائی اگر محمد نہ ہوتا تو میں تجھے نہ بناتا۔ طبرانی نے یہ اضافہ کیا : وہ تیری اولاد میں سب سے پچھلا نبی ہےصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔
حضرت موسی علیہ السلام اور ختم نبوت :
ابو نعیم ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہسے راوی رسول اﷲصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
ان موسی لما نزلت علیہ التوراۃ وقرأھا جب موسی علیہ الصلوۃ والسلام پر توریت اتری اسے
ولید پلید کے ادعائے خبیث ثبوت بالحدیث کا بطلان دکھائے گا نصوص ائمہ سے اہل ایمان کو صحت فتوی پر زیادہ تر اعتبار واعتماد آئے گا معہذا ذکر محبوب راحت قلوب ہے ان کی یاد سے مسلمانوں کا دل چین پائے گا ۔
بریت ادم اور ختم نبوت :
فاقول : وبحول اﷲ احول(ارشادات الہیہ)
طبرانی معجم کبیر میں اور حاکم بافادہ تصحیح اور بیہقی دلائل النبوۃ میں امیر المؤمنین عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہسے راوی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں جب آدم علیہ الصلوۃ والسلام سے لغزش واقع ہوئی عرض کی یا رب اسئلك بحق محمد ان غفرت لی(الہی! میں تجھے محمدصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا واسطہ دے کر سوال کرتا ہوں کہ میری مغفرت فرما)ارشاد ہوا : اے آدم! تو نے محمدصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم )کو کیونکر پہچانا حالانکہ میں نے ابھی اسے پیدا نہ کیا عرض کی : الہی! جب تونے مجھے اپنی قدرت سے بنایا اور مجھ میں اپنی روح پھونکی میں نے سر اٹھا کر دیکھا تو عرش کے پایوں پر لکھا پایا لا الہ الا اﷲ محمد رسول اﷲ تو میں نے جاناتو نے اسی کا نام اپنے نام پاك کے ساتھ ملایا ہوگا جو تجھے تمام جہان سے زیادہ پیارا ہے۔ فرمایا :
صدقت یا ادم انہ لاحب الخلق الی واذ سألتنی بحقہ فقد غفرت لك ولو لا محمد ما خلقتک ۔ زاد الطبرانی وھو اخر الانبیاء من ذریتک اے آدم! تو نے سچ کہا بیشك وہ مجھے تمام جہان سے زیادہ پیارا ہے اور جب تونے مجھے اس کا واسطہ دے کر سوال کیا تو میں نے تیرے لئے مغفرت فرمائی اگر محمد نہ ہوتا تو میں تجھے نہ بناتا۔ طبرانی نے یہ اضافہ کیا : وہ تیری اولاد میں سب سے پچھلا نبی ہےصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔
حضرت موسی علیہ السلام اور ختم نبوت :
ابو نعیم ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہسے راوی رسول اﷲصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
ان موسی لما نزلت علیہ التوراۃ وقرأھا جب موسی علیہ الصلوۃ والسلام پر توریت اتری اسے
حوالہ / References
المستدرك للحاکم کتاب التاریخ ، استغفار آدم علیہ السلام بحق محمدصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم دارالفکر بیروت ، ۲ / ۶۱۵ ، دلا ئل النبوۃ للبیہقی باب ما جاء فی تحدّث رسول اﷲصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم دارالکتب العلمیہ ، بیروت ، ۵ / ۴۸۹
المعجم الاوسط للطبرانی ، حدیث ۶۴۹۸ ، مکتبتہ المعارف ریاض ، ۷ / ۲۵۹
المعجم الاوسط للطبرانی ، حدیث ۶۴۹۸ ، مکتبتہ المعارف ریاض ، ۷ / ۲۵۹
وجد فیھا ذکر ھذہ الامۃ فقال یارب انی اجد فی الالواح امۃ ھم الاخرون السابقون فاجعلھا امتی قال تلك امۃ احمد ( پڑھا تو اس میں اس امت کا ذکر پایا عرض کی : اے رب میرے!میں ان لوحوں میں ایك امت پاتا ہوں کہ وہ زمانے میں سب سے پچھلی اور مرتبے میں سب سے اگلی تو یہ میری امت کر فرمایا : یہ امت احمد کی ہےصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔ )
حضرت ادم علیہ السلام اور سرکار دو عالم :
ابن عساکر حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہسے راوی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
لما خلق اﷲ ادم اخبرہ ببنیہ فجعل یری فضائل بعضھم علی بعض فرای نورا ساطعا فی اسفلھم فقال یا رب من ھذا قال ھذا ابنك احمد و ھوالاول وھو الاخر وھو اول شافع واول مشفع جب اﷲ تعالی نے آدم علیہ الصلوۃ والسلام کو پیدا کیا انہیں ان کے بیٹوں پر مطلع فرمایا وہ ان میں ایك کی دوسر ے پر فضیلتیں دیکھا کئے تو ان سب کے آخر میں بلند و روشن نور دیکھا عرض کی الہی!یہ کون ہے فرمایا : یہ تیرا بیٹا احمد ہے یہی اول ہے اور یہی آخر ہے اور یہی سب سے پہلا شفیع اور یہی سب سے پہلا شفاعت مانا گیاصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔
خاتم النبیین :
نیز بطریق ابی الزبیر حضرت جابر بن عبدا ﷲ رضی اﷲ تعالی عنہما سے راوی فرمایا :
بین کتفی ادم مکتوب محمد رسول اﷲ خاتم النبیین صلی اﷲ علیہ وسلم۔ آدم علیہ الصلوۃ والسلام کے دونوں شانوں کے وسط میں قلم قدرت سے لکھا ہوا ہے محمد رسول اﷲ خاتم النبیین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔
محمد اور دروازہ جنت :
ابن ابی شیبہ مصنف میں بطریق مصعب بن سعد حضرت کعب احبار رضی اﷲ تعالی عنہما سے راوی :
حضرت ادم علیہ السلام اور سرکار دو عالم :
ابن عساکر حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہسے راوی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
لما خلق اﷲ ادم اخبرہ ببنیہ فجعل یری فضائل بعضھم علی بعض فرای نورا ساطعا فی اسفلھم فقال یا رب من ھذا قال ھذا ابنك احمد و ھوالاول وھو الاخر وھو اول شافع واول مشفع جب اﷲ تعالی نے آدم علیہ الصلوۃ والسلام کو پیدا کیا انہیں ان کے بیٹوں پر مطلع فرمایا وہ ان میں ایك کی دوسر ے پر فضیلتیں دیکھا کئے تو ان سب کے آخر میں بلند و روشن نور دیکھا عرض کی الہی!یہ کون ہے فرمایا : یہ تیرا بیٹا احمد ہے یہی اول ہے اور یہی آخر ہے اور یہی سب سے پہلا شفیع اور یہی سب سے پہلا شفاعت مانا گیاصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔
خاتم النبیین :
نیز بطریق ابی الزبیر حضرت جابر بن عبدا ﷲ رضی اﷲ تعالی عنہما سے راوی فرمایا :
بین کتفی ادم مکتوب محمد رسول اﷲ خاتم النبیین صلی اﷲ علیہ وسلم۔ آدم علیہ الصلوۃ والسلام کے دونوں شانوں کے وسط میں قلم قدرت سے لکھا ہوا ہے محمد رسول اﷲ خاتم النبیین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔
محمد اور دروازہ جنت :
ابن ابی شیبہ مصنف میں بطریق مصعب بن سعد حضرت کعب احبار رضی اﷲ تعالی عنہما سے راوی :
حوالہ / References
دلائل النبوۃ لا بی نعیم ذکر الفضیلۃ الرابعۃ ، عالم الکتب بیروت ۱ / ۱۴
مختصر تاریخ دمشق لا بن عَساکر باب ماورد فی اصطفائہٖ علی العالمین الخ دارالفکر بیروت ، ۲ / ۱۱۱ ، کنزالعمال حدیث ۳۲۰۵۲ ، موسسۃ الرسالۃ بیروت ۱۱ / ۴۳۷
مختصر تاریخ دمشق لابن عساکر باب ذکر ما خص بہ و شرف بہ الخ عالم الکتب بیروت ۲ / ۱۳۷
مختصر تاریخ دمشق لا بن عَساکر باب ماورد فی اصطفائہٖ علی العالمین الخ دارالفکر بیروت ، ۲ / ۱۱۱ ، کنزالعمال حدیث ۳۲۰۵۲ ، موسسۃ الرسالۃ بیروت ۱۱ / ۴۳۷
مختصر تاریخ دمشق لابن عساکر باب ذکر ما خص بہ و شرف بہ الخ عالم الکتب بیروت ۲ / ۱۳۷
انہ قال اول من یاخذ بحلقۃ باب الجنۃ فیفتح لہ محمد صلی اﷲ تعالی علیہ و سلم ثم قرأ ایۃ من التوراۃ اضرابا قدما یا نحن الاخرون الاولون یعنی انہوں نے کہا سب سے پہلے جو دروازہ جنت کی زنجیر پر ہاتھ رکھے گا پس اس کے لئے دروازہ کھولا جائے گا وہ محمدصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ہیں پھر توریت مقدس کی آیت پڑھی کہ سب سے پہلے مرتبے میں سابق زمانے میں لاحق یعنی امت محمدصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔
خاتم الانبیاء کی بشارت :
ابن سعد عامر شعبی سے راوی سیدنا ابراہیم علیہ الصلوۃ والتسلیم کے صحیفوں میں ارشاد ہوا :
انہ کائن من ولدك شعوب وشعوب حتی یاتی النبی الامی الذی یکون خاتم الانبیاء بیشك تیری اولاد میں قبائل در قبائل ہوں گے یہاں تك کہ نبی امی خاتم الانبیاء جلوہ فرما ہوصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔
یعقوب علیہ السلام و خاتم الانبیاء :
محمد بن کعب قرظی سے راوی :
اوحی اﷲ تعالی الی یعقوب انی ابعث من ذریتك ملوکا وانبیاء حتی ابعث النبی الحرمی الذی تبنی امتہ ھیکل بیت المقدس وھو خاتم الانبیاء واسمہ احمد اﷲ عزوجل نے یعقوب علیہ الصلوۃ والسلام کو وحی بھیجی میں تیری اولاد سے سلاطین وانبیاء بھیجتا رہا کروں گا یہاں تك کہ ارسال فرماؤں اس حرم محترم والے نبی کو جس کی امت بیت المقدس کی بلند تعمیر بنائے گی اور اس کا نام احمدصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ہے۔
اشعیاء اور احمد مجتبی :
ابن ابی حاتم وہب بن منبہ سے راوی :
قال اوحی اﷲ تعالی الی اشعیاء انی باعث اﷲ عزوجل نے اشعیاء علیہ الصلوۃ والسلام پر وحی بھیجی
خاتم الانبیاء کی بشارت :
ابن سعد عامر شعبی سے راوی سیدنا ابراہیم علیہ الصلوۃ والتسلیم کے صحیفوں میں ارشاد ہوا :
انہ کائن من ولدك شعوب وشعوب حتی یاتی النبی الامی الذی یکون خاتم الانبیاء بیشك تیری اولاد میں قبائل در قبائل ہوں گے یہاں تك کہ نبی امی خاتم الانبیاء جلوہ فرما ہوصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔
یعقوب علیہ السلام و خاتم الانبیاء :
محمد بن کعب قرظی سے راوی :
اوحی اﷲ تعالی الی یعقوب انی ابعث من ذریتك ملوکا وانبیاء حتی ابعث النبی الحرمی الذی تبنی امتہ ھیکل بیت المقدس وھو خاتم الانبیاء واسمہ احمد اﷲ عزوجل نے یعقوب علیہ الصلوۃ والسلام کو وحی بھیجی میں تیری اولاد سے سلاطین وانبیاء بھیجتا رہا کروں گا یہاں تك کہ ارسال فرماؤں اس حرم محترم والے نبی کو جس کی امت بیت المقدس کی بلند تعمیر بنائے گی اور اس کا نام احمدصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ہے۔
اشعیاء اور احمد مجتبی :
ابن ابی حاتم وہب بن منبہ سے راوی :
قال اوحی اﷲ تعالی الی اشعیاء انی باعث اﷲ عزوجل نے اشعیاء علیہ الصلوۃ والسلام پر وحی بھیجی
حوالہ / References
مصنف ابن ابی شیبہ کتاب الفضائل ، ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ، ۱۱ / ۴۳۴
الطبقات الکبرٰی لا بن سعد ذکر من تسمی فی الجاہلیہ بمحمدصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم دارصادر بیروت ، ۱ / ۱۶۳
الطبقات الکبرٰی لا بن سعد ذکر من تسمی فی الجاہلیہ بمحمد ؐ دارصادر بیروت ، ۱ / ۱۶۳
الطبقات الکبرٰی لا بن سعد ذکر من تسمی فی الجاہلیہ بمحمدصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم دارصادر بیروت ، ۱ / ۱۶۳
الطبقات الکبرٰی لا بن سعد ذکر من تسمی فی الجاہلیہ بمحمد ؐ دارصادر بیروت ، ۱ / ۱۶۳
نبیا امیا افتح بہ آذانا صما وقلوبا غلفا واعینا عمیا مولدہ بمکۃ ومھاجرہ بطیبۃ ومبلکہ بالشام (وساق الحدیث فیہ)الکثیر الطیب من فضائلہ و شمائلہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم الی ان قال ولا جعلن امتہ خیر امۃ اخرجت للناس(وذکر صفاتھم الی ان قال)اختم بکتابھم الکتب بشریعتھم الشرائع و بدینھم الادیان الحدیث الجلیل الجمیل۔ میں نبی امی کو بھیجنے والا ہوں اس کے سبب بہرے کان اور غافل دل اور اندھی آنکھیں کھول دوں گا اس کی پیدائش مکے میں ہے اور ہجرت گاہ مدینہ اور اس کا تخت گاہ ملك شام میں ضرور اس کی امت کو سب امتوں سے جو لوگوں کے لئے ظاہر کی گئیں بہتر و افضل کروں گا میں ان کی کتاب پر کتابوں کو ختم فرماؤں گا اور ان کی شریعت پر شریعتوں اور ان کے دین پر سب دینوں کو تمام کروں گا۔
کتب سماوی میں اسم محمد :
ابن عساکر حضرت ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے راوی :
قال النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کان یسمی فی الکتب القدیمۃ احمد و محمد والماحی والمقفی ونبی الملاحم وحمطایا وفار قلیطا وما ذماذ نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا اگلی کتابوں میں میرے یہ نام تھے احمد محمد ماحی(کفر و شرك کو مٹانے والے) مقفی (سب پیغمبروں سے پیچھے تشریف لانے والے) نبی الملاحم (جہادوں کے پیغمبر) حمطایا(حرم الہی کے حمایتی) فارقلیطا(حق کو باطل سے جدا کرنے والے) ماذ ماذ (ستھرے پاکیزہ)صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔
خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ و الہ وسلم :
سلمان فارسی رضی اللہ تعالی عنہسے راوی :
ھبط جبریل فقال ان ربك یقول قد ختمت بك الانبیاء وما خلقت خلقا اکرم علی منك وقرنت اسمك مع اسمی جبریل امین علیہ الصلوۃ والتسلیم نے حاضر ہو کر حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے عرض کی حضور کا رب فرماتا ہے بیشك میں نے تم پر انبیاء کو ختم کیا اور
کتب سماوی میں اسم محمد :
ابن عساکر حضرت ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے راوی :
قال النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کان یسمی فی الکتب القدیمۃ احمد و محمد والماحی والمقفی ونبی الملاحم وحمطایا وفار قلیطا وما ذماذ نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا اگلی کتابوں میں میرے یہ نام تھے احمد محمد ماحی(کفر و شرك کو مٹانے والے) مقفی (سب پیغمبروں سے پیچھے تشریف لانے والے) نبی الملاحم (جہادوں کے پیغمبر) حمطایا(حرم الہی کے حمایتی) فارقلیطا(حق کو باطل سے جدا کرنے والے) ماذ ماذ (ستھرے پاکیزہ)صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔
خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ و الہ وسلم :
سلمان فارسی رضی اللہ تعالی عنہسے راوی :
ھبط جبریل فقال ان ربك یقول قد ختمت بك الانبیاء وما خلقت خلقا اکرم علی منك وقرنت اسمك مع اسمی جبریل امین علیہ الصلوۃ والتسلیم نے حاضر ہو کر حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے عرض کی حضور کا رب فرماتا ہے بیشك میں نے تم پر انبیاء کو ختم کیا اور
حوالہ / References
الخصائص الکبرٰی ، بحوالہ ابن ابی حاتم وابو نعیم با ب ذکرہ فی التوراۃ والا نجیل الخ دارالکتب الحدیثیہ ، ۱ / ۳۴ ، ۳۳ ، الدرالمنثور ، بحوالہ ابن ابی حاتم وابو نعیم آیۃ الذی یجدونہ مکتوبا فی التوراۃ الخ منشورات مکتبہ آیۃ اﷲ العظمی قم ایران ، ۳ / ۱۳۴
الخصائص الکبرٰی ، بحوالہ ابی نعیم عن ابن عباس باب اختصاصہ صلی اﷲ علیہ وسلم الخ دارالکتب الحدیثیہ شارع الجمہوریہ ، بعابدین ۱ / ۱۹۲
الخصائص الکبرٰی ، بحوالہ ابی نعیم عن ابن عباس باب اختصاصہ صلی اﷲ علیہ وسلم الخ دارالکتب الحدیثیہ شارع الجمہوریہ ، بعابدین ۱ / ۱۹۲
فلا اذکرنی موضع حتی تذکر معی ولقد خلقت الدنیا واھلھالا عرفھم کرامتك علی ومنزلتك عندی ولو لاك ما خلقت السموت والارض وما بینہما لولاك ما خلقت الدنیا ھذا مختصر کوئی ایسا نہ بنایا جو تم سے زیادہ میرے نزدیك عزت والا ہو تمہارا نام میں نے اپنے نام سے ملایا کہ کہیں میرا ذکر نہ ہو جب تك میرے ساتھ یاد نہ کئے جاؤ بیشك میں نے دنیا واہل دنیا سب کو اس لئے بنایا کہ تمہاری عزت اور اپنی بارگاہ میں تمہارا مرتبہ ان پر ظاہر کروں اور اگر تم نہ ہوتے تو میں آسمان و زمین اور جو کچھ ان میں ہے اصلا نہ بناتا صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔
اخر النبیین :
خطیب بغدادی حضرت انس بن مالك رضی اللہ تعالی عنہسے راوی رسول اﷲصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
لما اسری بی الی السماء قربنی حتی کان بینی وبینہ کقاب قوسین او ادنی وقال لی یامحمد ھل غمك ان جعلتك اخر النبیین قلت لا قال فھل غم امتك ان جعلتہم اخر الامم قلت لا قال اخبر امتك انی جعلتہم اخر الامم لافضح الامم عندہ ولا افضحھم عند الامم ۔ شب اسری مجھے میرے رب عزوجل نے نزدیك کیا یہاں تك کہ مجھ میں اور اس میں دو کمان بلکہ اس سے کم کا فاصلہ رہا اور مجھ سے فرمایا : اے محمد!کیا تجھے اس کا غم ہوا کہ میں نے تجھے سب پیغمبروں کے پیچھے بھیجا میں نے عرض کی نہ۔ فرمایا : کیا تیری امت کو اس کا رنج ہوا کہ میں نے انہیں سب امتوں کے پیچھے رکھا میں عرض کی نہ۔ فرمایا : اپنی امت کو خبر دے دے کہ میں نے انہیں سب سے پیچھے اس لئے کیا کہ اور امتوں کو ان کے سامنے رسوا کروں اور انہیں اوروں کے سامنے رسوائی سے محفوظ رکھوں والحمد ﷲ رب العالمین!
رحمۃ للعلمین :
ابن جریر وابن ابی حاتم وابن مردویہ و بزار وابویعلی و بیہقی بطریق ابو العالیہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہسے حدیث طویل اسرا میں راوی :
ثم لقی ارواح الانبیاء فاثنوا علی یعنی پھر حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم
اخر النبیین :
خطیب بغدادی حضرت انس بن مالك رضی اللہ تعالی عنہسے راوی رسول اﷲصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
لما اسری بی الی السماء قربنی حتی کان بینی وبینہ کقاب قوسین او ادنی وقال لی یامحمد ھل غمك ان جعلتك اخر النبیین قلت لا قال فھل غم امتك ان جعلتہم اخر الامم قلت لا قال اخبر امتك انی جعلتہم اخر الامم لافضح الامم عندہ ولا افضحھم عند الامم ۔ شب اسری مجھے میرے رب عزوجل نے نزدیك کیا یہاں تك کہ مجھ میں اور اس میں دو کمان بلکہ اس سے کم کا فاصلہ رہا اور مجھ سے فرمایا : اے محمد!کیا تجھے اس کا غم ہوا کہ میں نے تجھے سب پیغمبروں کے پیچھے بھیجا میں نے عرض کی نہ۔ فرمایا : کیا تیری امت کو اس کا رنج ہوا کہ میں نے انہیں سب امتوں کے پیچھے رکھا میں عرض کی نہ۔ فرمایا : اپنی امت کو خبر دے دے کہ میں نے انہیں سب سے پیچھے اس لئے کیا کہ اور امتوں کو ان کے سامنے رسوا کروں اور انہیں اوروں کے سامنے رسوائی سے محفوظ رکھوں والحمد ﷲ رب العالمین!
رحمۃ للعلمین :
ابن جریر وابن ابی حاتم وابن مردویہ و بزار وابویعلی و بیہقی بطریق ابو العالیہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہسے حدیث طویل اسرا میں راوی :
ثم لقی ارواح الانبیاء فاثنوا علی یعنی پھر حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم
حوالہ / References
مختصر تاریخ دمشق لا بن عساکر ذکر ما خصّ بہ وشرف بہ من بین الانبیاء دارالفکر بیروت ، ۲ / ۳۷۔ ۱۳۶
تاریخ البغداد ترجمہ ، ۲۵۵۷ ، ابوعبداﷲ احمد بن محمد النزلی ، دارلکتب العربی ، بیروت ، ۵ / ۱۳۰
تاریخ البغداد ترجمہ ، ۲۵۵۷ ، ابوعبداﷲ احمد بن محمد النزلی ، دارلکتب العربی ، بیروت ، ۵ / ۱۳۰
ربھم فقال ابراھیم ثم موسی ثم داؤد ثم سلیمن ثم عیسی ثم ان محمد ا صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اثنی علی ربہ فقال کلکم اثنی علی ربہ وانی مثن علی ربی الحمد ﷲ الذی ارسلنی رحمۃ للعلمین وکافۃ للناس بشیرا ونذیرا و انزل علی الفرقان فیہ تبیان لکل شیئ وجعل امتی خیر امۃ اخرجت للناس وجعل امۃ وسطا وجعل امتی ھم الاولون وھم الاخرون ورفع لی ذکری وجعلنی فاتحاو خاتما فقال ابراھیم بھذا فضلکم محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ثم انتھی الی السدرۃ فکلمہ تعالی عند ذلك فقال لہ قد اتخذتك خلیلا وھو مکتوب فی التوراۃ حبیب الرحمن ورفعت لك ذکرك فلا اذکر الا ان ذکرت معی وجعلت امتك ھم الاولون والاخرون وجعلتك اول النبیین خلقا واخرھم بعثا وجعلتك فاتحاو خاتما ھذا مختصر ملتقطا۔ ارواح انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام سے ملے پیغمبروں نے اپنے رب عزوجل کی حمد کی ابراہیم پھر موسی پھر داؤد پھر سلیمان پھر عیسی علیہم الصلوۃ بترتیب حمد الہی بجا لائے اور اس کے ضمن میں اپنے فضائل و خصائص بیان فرمائے سب کے بعد محمد رسول اﷲصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے اپنے رب جل جلالہ کی ثنا کی اور فرمایا تم سب اپنے رب کی تعریف کرچکے اور اب میں اپنے رب کی حمد کرتا ہوں سب خوبیاں اﷲ کو جس نے مجھے سارے جہان کے لئے رحمت بنا کر بھیجا اور تمام آدمیوں کی طرف بشارت دیتا اور ڈر سناتا مبعوث کیا اور مجھ پر قرآن اتارا جس میں ہر شیئ کا روشن بیان ہے اور میری امت کو تمام امتوں پر فضیلت دی اور انہیں عدل و عدالت و اعتدال والی امت کیا اور انہیں کو اول اور انہیں کو آخر رکھا اور میرے واسطے میرا ذکر بلند فرمایا اور مجھے فاتحہ دیوان نبوت و خاتمہ دفتر رسالت بنایا ابراہیم علیہ الصلوۃ والتسلیم نے فرمایا ان وجوہ سے محمدصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم تم سے ا فضل ہوئے پھر حضورصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سدرہ تك پہنچے اس وقت رب عزجلالہ نے ان سے کلام کیا اور فرمایا میں نے تجھے اپنا خالص پیارا بنایا اور تیرا نام توریت میں حبیب الرحمن لکھا ہے میں نے تیرے لئے تیرا ذکر اونچا کیا کہ میرا ذکر نہ ہو جب تك میرے ساتھ تیری یاد نہ آئے اور میں نے تیری امت کو یہ فضل دیا کہ وہی سب سے اگلے اور وہی سب سے پچھلے اور میں نے تجھے سب پیغمبروں سے پہلے پیدا کیا اور سب کے بعد بھیجا اور تجھے فاتح وخاتم کیا ۔
حوالہ / References
جامع البیان(تفسیر ابن جریر)تحت آیۃ سبحان الذی اسرٰی الخ ، المطبعۃ المیمنۃ مصر ، ۱۵ / ۷ تا ۹
ارشادات انبیاءو ملائکہ و اقوال علماء کتب سابقہ
حدیث شفاعت :
امام احمد وابو داؤد طیالسی مطولا اور ابن ماجہ مختصرا اور ابو یعلی حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے راوی رسول اﷲصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم حدیث طویل شفاعت کبری میں فرماتے ہیں :
فیاتون عیسی فیقولون اشفع لنا الی ربك فلیقض بیننا فیقول انی لست ھناکم انی اتخذت الھا من دون اﷲ وانہ لا یھمنی الیوم الانفسی ولکن ان کل متاع فی وعاء مختوم علیہ أکان یقدر علی ما فی جوفہ حتی یفض الخاتم فیقولون لا فیقول ان محمدا صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فیاتونی فاقول انا لھا فاذا اراداﷲ ان یقضی بین خلقہ نادی مناد این احمد و امتہ فنحــن الاخــرون الاولون نحــن اخر الامــم واول من یحاسب فتفرج لنا الامم عن طریقنا الحدیث ھذا مختصر۔ یعنی جب لوگ اور انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کے حضور سے مایوس ہو کر پھریں گے تو سیدنا عیسی علیہ الصلوۃ والسلام کے پاس حاضر ہو کر شفاعت چاہیں گے مسیح فرمائیں گے میں اس منصب کا نہیں مجھے لوگوں نے اﷲ کے سوا خدا بنایا تھا مجھے آج اپنی ہی فکر ہے مگر ہے یہ کہ جو چیز کسی سر بمہر برتن میں رکھی ہو کیا بے مہر اٹھائے اسے پاسکتے ہیں لوگ کہیں گے نہ فرمائیں گے تو محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں اور یہاں تشریف فرماہیں لوگ میرے حضور حاضر ہو کر شفاعت چاہیں گے میں فرماؤں گا میں ہو ں شفاعت کے لئے پھر جب اﷲ عزوجل اپنی مخلوق میں فیصلہ کرنا چاہے گا ایك منادی پکارے گا کہاں ہیں احمد اور ان کی امت صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم تو ہمیں پچھلے ہیں اور ہمیں اگلی سب امتوں سے پیچھے آئے اور سب سے پہلے ہمارا حساب ہوگا اور سب امتیں عرصات محشر میں ہمارے لئے راستہ دیں گی۔
انبیاء کا التجائے شفاعت :
احمد وبخاری و مسلم و ترمذی حدیث طویل شفاعت میں ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہسے راوی رسول اﷲصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
فیاتون محمد افیقولون یا محمد اولین و آخرین حضور خاتم النبیین افضل المرسلین
حدیث شفاعت :
امام احمد وابو داؤد طیالسی مطولا اور ابن ماجہ مختصرا اور ابو یعلی حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے راوی رسول اﷲصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم حدیث طویل شفاعت کبری میں فرماتے ہیں :
فیاتون عیسی فیقولون اشفع لنا الی ربك فلیقض بیننا فیقول انی لست ھناکم انی اتخذت الھا من دون اﷲ وانہ لا یھمنی الیوم الانفسی ولکن ان کل متاع فی وعاء مختوم علیہ أکان یقدر علی ما فی جوفہ حتی یفض الخاتم فیقولون لا فیقول ان محمدا صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فیاتونی فاقول انا لھا فاذا اراداﷲ ان یقضی بین خلقہ نادی مناد این احمد و امتہ فنحــن الاخــرون الاولون نحــن اخر الامــم واول من یحاسب فتفرج لنا الامم عن طریقنا الحدیث ھذا مختصر۔ یعنی جب لوگ اور انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کے حضور سے مایوس ہو کر پھریں گے تو سیدنا عیسی علیہ الصلوۃ والسلام کے پاس حاضر ہو کر شفاعت چاہیں گے مسیح فرمائیں گے میں اس منصب کا نہیں مجھے لوگوں نے اﷲ کے سوا خدا بنایا تھا مجھے آج اپنی ہی فکر ہے مگر ہے یہ کہ جو چیز کسی سر بمہر برتن میں رکھی ہو کیا بے مہر اٹھائے اسے پاسکتے ہیں لوگ کہیں گے نہ فرمائیں گے تو محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں اور یہاں تشریف فرماہیں لوگ میرے حضور حاضر ہو کر شفاعت چاہیں گے میں فرماؤں گا میں ہو ں شفاعت کے لئے پھر جب اﷲ عزوجل اپنی مخلوق میں فیصلہ کرنا چاہے گا ایك منادی پکارے گا کہاں ہیں احمد اور ان کی امت صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم تو ہمیں پچھلے ہیں اور ہمیں اگلی سب امتوں سے پیچھے آئے اور سب سے پہلے ہمارا حساب ہوگا اور سب امتیں عرصات محشر میں ہمارے لئے راستہ دیں گی۔
انبیاء کا التجائے شفاعت :
احمد وبخاری و مسلم و ترمذی حدیث طویل شفاعت میں ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہسے راوی رسول اﷲصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
فیاتون محمد افیقولون یا محمد اولین و آخرین حضور خاتم النبیین افضل المرسلین
حوالہ / References
مسند ابویعلٰی حدیث ۲۳۲۴عبداﷲ ابن عباس ، مؤسسۃ علوم القرآن بیروت ، ۳ / ۶
انت رسول اﷲ وخاتم الانبیاء صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے حضور آکر عرض کرینگے حضور اﷲ تعالی کے رسول اور تمام انبیاء کے خاتم ہیں ہماری شفاعت فرمائیں۔
حضرت ادم علیہ السلام اور اذان اول :
ابو نعیم حلیۃ الاولیا اور ابن عساکر دونوں بطریق عطاء حضر ت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہسے راوی رسول اﷲصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
نزل ادم بالھند واستوحش فنزل جبریل فنادی بالاذان اﷲ اکبر اﷲ اکبر اشہد ان لا الہ الااﷲ اشھد ان لا الہ الا اﷲ اشھد ان محمد ارسول اﷲ اشھد ان محمد ارسول اﷲ قال ادم من محمد قال اخر ولدك من الانبیاء جب آدم علیہ الصلوۃ و السلام بہشت سے ہند میں اترے تو گھبرائے جبریل امین علیہ الصلوۃ والتسلیم نے اتر کر اذان دی جب نام پاك آیا آدم علیہ الصلوۃ والسلام نے پوچھا : محمد کون ہیں کہا : آپ کی اولاد میں سب سے پچھلے نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔
انشراح صدر :
ابونعیم دلائل میں یونس بن میسرہ بن حلبس سے مرسلا اور دارمی وابن عساکر بطریق یونس ھذا عن ابی ادریس الخولانی عبد الرحمن بن غنم اشعری رضی اﷲ تعالی عنہ سے موصولا راوی وھذا لفظ المرسل رسو ل اﷲصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں : فرشتہ سونے کا طشت لے کر آیا اور میرا شکم مبارك چیر کر دل مقدس نکالا اور اسے دھو کر کچھ اس پر چھڑك دیا پھر کہا :
انت محمد رسول اﷲ المقفی الحاشر (الحدیث ھذا مختصر) حضور محمد رسول اﷲ ہیں سب انبیاء کے بعد تشریف لانے والے تمام عالم کو حشر دینے والے صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔
حدیث متصل میں یوں ہے : جبریل نے اتر کر حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا شکم چاك کیا پھر کہا :
قلب وکیع فیہ اذنان سمیعتان و عینان بصیر تان محمد رسول اﷲ مضبوط و محکم دل ہے اس میں دوکان ہیں شنوا اور دو آنکھیں ہیں بینا محمد اﷲ کے رسول ہیں۔
حضرت ادم علیہ السلام اور اذان اول :
ابو نعیم حلیۃ الاولیا اور ابن عساکر دونوں بطریق عطاء حضر ت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہسے راوی رسول اﷲصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
نزل ادم بالھند واستوحش فنزل جبریل فنادی بالاذان اﷲ اکبر اﷲ اکبر اشہد ان لا الہ الااﷲ اشھد ان لا الہ الا اﷲ اشھد ان محمد ارسول اﷲ اشھد ان محمد ارسول اﷲ قال ادم من محمد قال اخر ولدك من الانبیاء جب آدم علیہ الصلوۃ و السلام بہشت سے ہند میں اترے تو گھبرائے جبریل امین علیہ الصلوۃ والتسلیم نے اتر کر اذان دی جب نام پاك آیا آدم علیہ الصلوۃ والسلام نے پوچھا : محمد کون ہیں کہا : آپ کی اولاد میں سب سے پچھلے نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔
انشراح صدر :
ابونعیم دلائل میں یونس بن میسرہ بن حلبس سے مرسلا اور دارمی وابن عساکر بطریق یونس ھذا عن ابی ادریس الخولانی عبد الرحمن بن غنم اشعری رضی اﷲ تعالی عنہ سے موصولا راوی وھذا لفظ المرسل رسو ل اﷲصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں : فرشتہ سونے کا طشت لے کر آیا اور میرا شکم مبارك چیر کر دل مقدس نکالا اور اسے دھو کر کچھ اس پر چھڑك دیا پھر کہا :
انت محمد رسول اﷲ المقفی الحاشر (الحدیث ھذا مختصر) حضور محمد رسول اﷲ ہیں سب انبیاء کے بعد تشریف لانے والے تمام عالم کو حشر دینے والے صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔
حدیث متصل میں یوں ہے : جبریل نے اتر کر حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا شکم چاك کیا پھر کہا :
قلب وکیع فیہ اذنان سمیعتان و عینان بصیر تان محمد رسول اﷲ مضبوط و محکم دل ہے اس میں دوکان ہیں شنوا اور دو آنکھیں ہیں بینا محمد اﷲ کے رسول ہیں۔
حوالہ / References
صحیح البخاری کتاب التفسیر ، سورہ بنی اسرائیل ، قدیمی کتب خانہ ، کراچی ۲ / ۶۸۵
حلیۃ الاولیاء ترجمہ عمر و بن قیس الملائی ، دارالکتاب العربی بیروت ، ۵ / ۱۰۷
الخصائص الکبرٰی بحوالہ ابی نعیم عن یونس باب ما جاء فی قلبہ الشریف دارالکتب الحدیثۃ ، ۱ / ۱۶۲
حلیۃ الاولیاء ترجمہ عمر و بن قیس الملائی ، دارالکتاب العربی بیروت ، ۵ / ۱۰۷
الخصائص الکبرٰی بحوالہ ابی نعیم عن یونس باب ما جاء فی قلبہ الشریف دارالکتب الحدیثۃ ، ۱ / ۱۶۲
المقفی الحاشر (الحدیث) انبیاء کے خاتم اور خلائق کو حشر دینے والے صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم
بشارت میلاد الرسول :
ابونعیم بطریق شہر بن حوشب اور ابن عساکر بطریق مسیب بن رافع وغیرہ حضرت کعب احبار سے راوی انہوں نے فرمایا میرے باپ اعلم علمائے توراۃ تھے اﷲ عزوجل نے جو کچھ موسی علیہ الصلوۃ والسلام پر اتارا ا س کا علم ان کے برابر کسی کو نہ تھا وہ اپنے علم سے کوئی شے مجھ سے نہ چھپاتے جب مرنے لگے مجھے بلا کر کہا : اے میرے بیٹے! تجھے معلوم ہے کہ میں نے اپنے علم سے کوئی چیز تجھ سے نہ چھپائی مگر ہاں دو ورق رکھے ہیں ان میں ایك نبی کا بیان ہے جس کی بعثت کا زمانہ قریب آپہنچا میں نے اس اندیشے سے تجھے ان دو ورقوں کی خبر نہ دی کہ شاید کوئی جھوٹا مدعی نکل کھڑا ہو تو اس کی پیروی کرلے یہ طاق تیرے سامنے ہے میں نے اس میں وہ اوراق رکھ کر اوپر سے مٹی لگادی ہے ابھی ان سے تعرض نہ کرنا نہ انہیں دیکھنا جب وہ نبی جلوہ فرما ہو اگر اﷲ تعالی تیرا بھلا چاہے گا تو تو آپ ہی اس کا پیرو ہوجائے گا یہ کہہ کر وہ مرگئے ہم ان کے دفن سے فارغ ہوئے مجھے ان دونوں ورقوں کے دیکھنے کا شوق ہر چیز سے زیادہ تھا میں نے طاق کھولا ورق نکالے تو کیا دیکھتا ہوں کہ ان میں لکھا ہے :
محمد رسو ل اﷲ خاتم النبیین لا نبی بعدہ مولدہ بمکۃ ومھاجرہ بطیبۃ (الحدیث) محمد اﷲ کے رسول ہیں سب انبیاء کے خاتم ان کے بعد کوئی نبی نہیں ان کی پیدائش مکے میں اور ہجرت مدینے کو صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔
راہب کا استفسار :
بیہقی و طبرانی وابونعیم اور خرائطی کتاب الہواتف میں خلیفہ بن عبدہ سے راوی میں نے محمد بن عدی بن ربیعہ سے پوچھا جاہلیت میں کہ ابھی اسلام نہ آیا تھا تمہارے باپ نے تمہارا نام محمد کیو نکر رکھا کہا میں نے اپنے باپ سے اس کا سبب پوچھا جواب دیا کہ بنی تمیم سے ہم چار آدمی سفر کو گئے تھے ایك میں اور سفیان بن مجاشع بن دارم اور عمر بن ربیعہ اور اسامہ بن مالک جب ملك شام میں پہنچے ایك تالاب پر اترے جس کے کنارے پیڑ تھے ایك راہب نے
بشارت میلاد الرسول :
ابونعیم بطریق شہر بن حوشب اور ابن عساکر بطریق مسیب بن رافع وغیرہ حضرت کعب احبار سے راوی انہوں نے فرمایا میرے باپ اعلم علمائے توراۃ تھے اﷲ عزوجل نے جو کچھ موسی علیہ الصلوۃ والسلام پر اتارا ا س کا علم ان کے برابر کسی کو نہ تھا وہ اپنے علم سے کوئی شے مجھ سے نہ چھپاتے جب مرنے لگے مجھے بلا کر کہا : اے میرے بیٹے! تجھے معلوم ہے کہ میں نے اپنے علم سے کوئی چیز تجھ سے نہ چھپائی مگر ہاں دو ورق رکھے ہیں ان میں ایك نبی کا بیان ہے جس کی بعثت کا زمانہ قریب آپہنچا میں نے اس اندیشے سے تجھے ان دو ورقوں کی خبر نہ دی کہ شاید کوئی جھوٹا مدعی نکل کھڑا ہو تو اس کی پیروی کرلے یہ طاق تیرے سامنے ہے میں نے اس میں وہ اوراق رکھ کر اوپر سے مٹی لگادی ہے ابھی ان سے تعرض نہ کرنا نہ انہیں دیکھنا جب وہ نبی جلوہ فرما ہو اگر اﷲ تعالی تیرا بھلا چاہے گا تو تو آپ ہی اس کا پیرو ہوجائے گا یہ کہہ کر وہ مرگئے ہم ان کے دفن سے فارغ ہوئے مجھے ان دونوں ورقوں کے دیکھنے کا شوق ہر چیز سے زیادہ تھا میں نے طاق کھولا ورق نکالے تو کیا دیکھتا ہوں کہ ان میں لکھا ہے :
محمد رسو ل اﷲ خاتم النبیین لا نبی بعدہ مولدہ بمکۃ ومھاجرہ بطیبۃ (الحدیث) محمد اﷲ کے رسول ہیں سب انبیاء کے خاتم ان کے بعد کوئی نبی نہیں ان کی پیدائش مکے میں اور ہجرت مدینے کو صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔
راہب کا استفسار :
بیہقی و طبرانی وابونعیم اور خرائطی کتاب الہواتف میں خلیفہ بن عبدہ سے راوی میں نے محمد بن عدی بن ربیعہ سے پوچھا جاہلیت میں کہ ابھی اسلام نہ آیا تھا تمہارے باپ نے تمہارا نام محمد کیو نکر رکھا کہا میں نے اپنے باپ سے اس کا سبب پوچھا جواب دیا کہ بنی تمیم سے ہم چار آدمی سفر کو گئے تھے ایك میں اور سفیان بن مجاشع بن دارم اور عمر بن ربیعہ اور اسامہ بن مالک جب ملك شام میں پہنچے ایك تالاب پر اترے جس کے کنارے پیڑ تھے ایك راہب نے
حوالہ / References
الخصائص الکبرٰی باب ما جاء فی قلبہ الشریف صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم دارالحدیثۃ شارع الجمہوریۃ بعابدین ، ۱ / ۱۶۲
الخصائص الکبرٰی باب ما جاء فی قلبہ الشریف صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم دارالحدیثۃ شارع الجمہوریۃ بعابدین ، ۱ / ۱۶۲ ، تہذیب تاریخ دمشق ، باب تطہیر قلبہ من انعل الخ ، داراحیاء التراث العربی ، بیروت ، ۱ / ۳۷۹ ، الخصائص الکبرٰی بحوالہ ابی نعیم باب ذکرہ فی التوراۃ والانجیل ، دارالحدیثہ شارع الجمہوریہ بعابدین ، ۱ / ۳۶
الخصائص الکبرٰی باب ما جاء فی قلبہ الشریف صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم دارالحدیثۃ شارع الجمہوریۃ بعابدین ، ۱ / ۱۶۲ ، تہذیب تاریخ دمشق ، باب تطہیر قلبہ من انعل الخ ، داراحیاء التراث العربی ، بیروت ، ۱ / ۳۷۹ ، الخصائص الکبرٰی بحوالہ ابی نعیم باب ذکرہ فی التوراۃ والانجیل ، دارالحدیثہ شارع الجمہوریہ بعابدین ، ۱ / ۳۶
اپنے دیر سے ہمیں جھانکا اور کہا تم کون ہو ہم نے کہا اولاد مضر سے کچھ لوگ ہیں۔ کہا :
اما انہ سوف یبعث منکم و شیکا نبی فسارعوا الیہ و خذوا بحظکم منہ ترشدوا فانہ خاتم النبیین۔ سنتے ہو عنقریب بہت جلد تم میں سے ایك نبی مبعوث ہونے والا ہے تم اس کی طرف دوڑنا اور اس کی خدمت واطاعت سے بہرہ یاب ہو ناکہ وہ سب میں پچھلا نبی ہے۔
ہم نے کہا اس کا نام پاك کیا ہوگا کہا محمدصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔ جب ہم اپنے گھروں کو واپس آئے سب کے ایك ایك لڑکا ہوا اس کا نام محمد رکھا انتھی واﷲ اعلم حیث یجعل رسالتہ۔
قبل از ولادت شہادت ایمان :
زید بن عمر و بن نفیل کہ احد العشرۃ المبشرۃ سیدنا سعید بن زید کے والد ماجد ہیں رضی اﷲ تعالی عنہم و عنہ موحدان و مومنان عہد جاہلیت سے تھے طلوع آفتاب عالمتاب اسلام سے پہلے انتقال کیا مگر اسی زمانے میں توحید الہی و رسالت حضرت ختم پناہی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی شہادت دیتے ابن سعد وابونعیم حضرت عامر بن ربیعہ رضی اللہ تعالی عنہسے راوی میں زید رضی اللہ تعالی عنہسے ملا مکہ معظمہ سے کوہ حرا کو جاتے تھے انہوں نے قریش کی مخالفت اور ان کے معبودان باطل سے جدائی کی تھی اس پر آج ان سے اور قریش سے کچھ لڑائی رنجش ہوچکی تھی مجھے دیکھ کر بولے اے عامر!میں اپنی قوم کا مخالف اور ملت ابراہیم کا پیرو ہوا اسی کو معبود مانتا ہوں جسے ابراہیم علیہ الصلوۃ و السلام پوجتے تھے میں ایك نبی کا منتظر ہوں جو بنی اسماعیل اور اولاد عبدالمطلب سے ہوں گے ان کا نام پاك احمد ہے میرے خیال میں میں ان کا زمانہ پاؤں گا میں ابھی ان پر ایمان لاتا اور ان کی تصدیق کرتا ان کی نبوت کی گواہی دیتا ہوں تمہیں اگر اتنی عمر ملے کہ انہیں پاؤ تو میرا سلام انہیں پہنچانا اے عامر! میں تم سے ان کی نعت و صفت بیان کئے دیتا ہوں کہ تم خوب پہچان لو درمیانہ قد ہیں سر کے بال کثرت وقلت میں معتدل ان کی آنکھوں میں ہمیشہ سرخ ڈورے رہیں گے ان کی شانوں کے بیچ میں مہر نبوت ہے ان کا نام احمد اور یہ شہر ان کا مولد ہے یہیں ان کی رسالت ظاہر ہوگی ان کی قوم انہیں مکے میں نہ رہنے دے گی کہ ان کا دین اسے ناگوار ہوگا وہ ہجرت فرما کر مدینے جائیں گے وہاں سے ان کا دین ظاہر و غالب ہوگا دیکھو تم کسی دھوکے فریب میں آکر ان کی اطاعت سے محروم نہ رہنا۔
فانی بلغت البلاد کلھا اطلب دین ابراھیم کہ میں دین ابراہیمی کی تلاش میں شہروں شہروں پھرا
اما انہ سوف یبعث منکم و شیکا نبی فسارعوا الیہ و خذوا بحظکم منہ ترشدوا فانہ خاتم النبیین۔ سنتے ہو عنقریب بہت جلد تم میں سے ایك نبی مبعوث ہونے والا ہے تم اس کی طرف دوڑنا اور اس کی خدمت واطاعت سے بہرہ یاب ہو ناکہ وہ سب میں پچھلا نبی ہے۔
ہم نے کہا اس کا نام پاك کیا ہوگا کہا محمدصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔ جب ہم اپنے گھروں کو واپس آئے سب کے ایك ایك لڑکا ہوا اس کا نام محمد رکھا انتھی واﷲ اعلم حیث یجعل رسالتہ۔
قبل از ولادت شہادت ایمان :
زید بن عمر و بن نفیل کہ احد العشرۃ المبشرۃ سیدنا سعید بن زید کے والد ماجد ہیں رضی اﷲ تعالی عنہم و عنہ موحدان و مومنان عہد جاہلیت سے تھے طلوع آفتاب عالمتاب اسلام سے پہلے انتقال کیا مگر اسی زمانے میں توحید الہی و رسالت حضرت ختم پناہی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی شہادت دیتے ابن سعد وابونعیم حضرت عامر بن ربیعہ رضی اللہ تعالی عنہسے راوی میں زید رضی اللہ تعالی عنہسے ملا مکہ معظمہ سے کوہ حرا کو جاتے تھے انہوں نے قریش کی مخالفت اور ان کے معبودان باطل سے جدائی کی تھی اس پر آج ان سے اور قریش سے کچھ لڑائی رنجش ہوچکی تھی مجھے دیکھ کر بولے اے عامر!میں اپنی قوم کا مخالف اور ملت ابراہیم کا پیرو ہوا اسی کو معبود مانتا ہوں جسے ابراہیم علیہ الصلوۃ و السلام پوجتے تھے میں ایك نبی کا منتظر ہوں جو بنی اسماعیل اور اولاد عبدالمطلب سے ہوں گے ان کا نام پاك احمد ہے میرے خیال میں میں ان کا زمانہ پاؤں گا میں ابھی ان پر ایمان لاتا اور ان کی تصدیق کرتا ان کی نبوت کی گواہی دیتا ہوں تمہیں اگر اتنی عمر ملے کہ انہیں پاؤ تو میرا سلام انہیں پہنچانا اے عامر! میں تم سے ان کی نعت و صفت بیان کئے دیتا ہوں کہ تم خوب پہچان لو درمیانہ قد ہیں سر کے بال کثرت وقلت میں معتدل ان کی آنکھوں میں ہمیشہ سرخ ڈورے رہیں گے ان کی شانوں کے بیچ میں مہر نبوت ہے ان کا نام احمد اور یہ شہر ان کا مولد ہے یہیں ان کی رسالت ظاہر ہوگی ان کی قوم انہیں مکے میں نہ رہنے دے گی کہ ان کا دین اسے ناگوار ہوگا وہ ہجرت فرما کر مدینے جائیں گے وہاں سے ان کا دین ظاہر و غالب ہوگا دیکھو تم کسی دھوکے فریب میں آکر ان کی اطاعت سے محروم نہ رہنا۔
فانی بلغت البلاد کلھا اطلب دین ابراھیم کہ میں دین ابراہیمی کی تلاش میں شہروں شہروں پھرا
حوالہ / References
الخصائص الکبرٰی بحوالہ البیہقی والطبرانی والخرائطی باب اخبار الاحبار الخ دارالکتب الحدیثہ شارع الجمہوریۃ ، بعابدین ۱ / ۵۸۔ ۵۷
وکل من اسأل من الیہود والنصاری و المجوس یقول ھذا الدین وراء ک وینعتونہ مثل ما نعتہ لک و یقولون لم یبق نبی غیرہ۔ یہود ونصاری مجوس جس سے پوچھا سب نے یہی جواب دیا کہ یہ دین تمہارے پیچھے آتا ہے اور اس نبی کی وہی صفت بیان کی جو میں تم سے کہہ چکا اور سب کہتے تھے کہ ان کے سوا کوئی نبی باقی نہ رہا۔
عامر رضی اللہ تعالی عنہفرماتے ہیں جب حضور خاتم الانبیاء علیہ و علیہم الصلوۃ والسلام کی نبوت ظاہر ہوئی میں نے زید رضی اللہ تعالی عنہکی یہ باتیں حضور سے عرض کیں حضور نے ان کے حق میں دعائے رحمت فرمائی اور ارشاد کیا قد ر أیتہ فی الجنۃ یسحب ذیلہ میں نے اسے جنت میں دامن کشاں دیکھا۔
انکار ختم نبوت کی وجوہات :
اﷲ اﷲ اس زمانے کے یہود ونصاری ومجوس نے تو بالاتفاق حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پر نبوت ختم ہوجانے کی شہادتیں دیں اور آج کل کے کذاب بد لگام مدعیان اسلام یہ شاخسانے نکالیں مگر ہے یہ کہ اس وقت تك ان فرقوں کو نہ حضور پر نورصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے بغض وحسد تھا نہ اپنے کسی پیشوا ئےمردود کا سخن مطرود بنانا مراد و مقصد نہ اپنے کسی سگے بھائی کی بات رکھنی نہ بعد ظہور نور خاتمیت اپنے باپ دادا کی نبوت گھڑنی وہ کیوں جھوٹ بولتے جو کچھ علوم انبیاء واخبار احبار ورہبان وعلماء سے پہنچا تھا صاف کہتے تھے بعد ظہور اسلام ان ملا عنہ کے دل میں حسد و عنا د کا پھوڑا پھوٹا اور ان مدعیان اسلام پر قہر ٹوٹا کہ کسی خبیث کا پیشوا خبیث معاذ اﷲ آیہ کریمہ وخاتم النبیین میں خدا کا جھوٹ ممکن لکھ گیا اب یہ جب تك اپنی سینہ زوری سے کچھ خاتم الانبیاء گھڑ کر نہ دکھائیں اگر چہ زمین کے اسفل السافلین طبقے میں تو گروجی پیشوا کی خدمت ہی کیا ہوئی ہونہار سپوتوں کی سعادت ہی کیا ہوئی کسی قاسم کفرو ضلالت قسیم و مباین حق وہدایت کا کوئی بھائی لگتا ان نئے مرتدوں کے ہاتھ بك گیا۔ ساتھ خاتم النبیین کا فتوی لکھ گیا اب یہ اگر تازی نبوتوں کا ٹھیکہ نہ لیں ختم نبوت کے معنی متواتر کو مہمل نہ کہیں تو اکلوتے بھیا کی حمایت ہی کیا ہوئی اختراعی طبیعت کی جودت ہی کیا ہوئی کسی مردك کو یہ دھن سمائی کہ سید بنے تو کیا بنے کوئی گنے تو نبی کا نواسا ہی گنے پائچے کا رشتہ کوئی بات نہیں پیرجی پوتے نہ بن بیٹھے تو کچھ کرامات نہیں “ و سیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون ﴿۲۲۷﴾ “ اور اب جان جائیں گے ظالم کہ کس کروٹ پلٹا کھائیں گے۔ ولا حول ولا قوۃ الا باﷲ العلی العظیم۔
عامر رضی اللہ تعالی عنہفرماتے ہیں جب حضور خاتم الانبیاء علیہ و علیہم الصلوۃ والسلام کی نبوت ظاہر ہوئی میں نے زید رضی اللہ تعالی عنہکی یہ باتیں حضور سے عرض کیں حضور نے ان کے حق میں دعائے رحمت فرمائی اور ارشاد کیا قد ر أیتہ فی الجنۃ یسحب ذیلہ میں نے اسے جنت میں دامن کشاں دیکھا۔
انکار ختم نبوت کی وجوہات :
اﷲ اﷲ اس زمانے کے یہود ونصاری ومجوس نے تو بالاتفاق حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پر نبوت ختم ہوجانے کی شہادتیں دیں اور آج کل کے کذاب بد لگام مدعیان اسلام یہ شاخسانے نکالیں مگر ہے یہ کہ اس وقت تك ان فرقوں کو نہ حضور پر نورصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے بغض وحسد تھا نہ اپنے کسی پیشوا ئےمردود کا سخن مطرود بنانا مراد و مقصد نہ اپنے کسی سگے بھائی کی بات رکھنی نہ بعد ظہور نور خاتمیت اپنے باپ دادا کی نبوت گھڑنی وہ کیوں جھوٹ بولتے جو کچھ علوم انبیاء واخبار احبار ورہبان وعلماء سے پہنچا تھا صاف کہتے تھے بعد ظہور اسلام ان ملا عنہ کے دل میں حسد و عنا د کا پھوڑا پھوٹا اور ان مدعیان اسلام پر قہر ٹوٹا کہ کسی خبیث کا پیشوا خبیث معاذ اﷲ آیہ کریمہ وخاتم النبیین میں خدا کا جھوٹ ممکن لکھ گیا اب یہ جب تك اپنی سینہ زوری سے کچھ خاتم الانبیاء گھڑ کر نہ دکھائیں اگر چہ زمین کے اسفل السافلین طبقے میں تو گروجی پیشوا کی خدمت ہی کیا ہوئی ہونہار سپوتوں کی سعادت ہی کیا ہوئی کسی قاسم کفرو ضلالت قسیم و مباین حق وہدایت کا کوئی بھائی لگتا ان نئے مرتدوں کے ہاتھ بك گیا۔ ساتھ خاتم النبیین کا فتوی لکھ گیا اب یہ اگر تازی نبوتوں کا ٹھیکہ نہ لیں ختم نبوت کے معنی متواتر کو مہمل نہ کہیں تو اکلوتے بھیا کی حمایت ہی کیا ہوئی اختراعی طبیعت کی جودت ہی کیا ہوئی کسی مردك کو یہ دھن سمائی کہ سید بنے تو کیا بنے کوئی گنے تو نبی کا نواسا ہی گنے پائچے کا رشتہ کوئی بات نہیں پیرجی پوتے نہ بن بیٹھے تو کچھ کرامات نہیں “ و سیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون ﴿۲۲۷﴾ “ اور اب جان جائیں گے ظالم کہ کس کروٹ پلٹا کھائیں گے۔ ولا حول ولا قوۃ الا باﷲ العلی العظیم۔
حوالہ / References
الخصائص الکبرٰی بحوالہ ابن سعد وابی نعیم عن عامر بن ربیعہ ، باب اخبارالاحبار الخ ، دارالکتب الحدیثہ شارع الجمہوریۃ بعابدین ۱ / ۶۲۔ ۶۱
القرآن الکریم ۲۶ /۲۲۷
القرآن الکریم ۲۶ /۲۲۷
مقوقس شاہ مصر کی تصدیق ولادت :
امام واقدی وابو نعیم حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ تعالی عنہسے حدیث طویل ملاقات مقوقس بادشاہ مصر میں راوی جب ہم نے اس نصرانی بادشاہ سے حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی مدح وتصدیق سنی اس کے پاس سے وہ کلام سن کر اٹھے جس نے ہمیں محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے لئے ذلیل و خاضع کردیا ہم نے کہا سلاطین عجم ان کی تصدیق کرتے اور ان سے ڈرتے ہیں حالانکہ ان سے کچھ رشتہ علاقہ نہیں اور ہم تو ان کے رشتہ دار ان کے ہمسائے ہیں وہ ہمارے گھر ہمیں دین کی طرف بلانے آئے اور ہم ابھی ان کے پیرو نہ ہوئے پھر میں اسکندریہ میں ٹھہرا کوئی گرجا کوئی پادری قبطی خواہ رومی نہ چھوڑا جہاں جا کر محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی صفت جو وہ اپنی کتاب میں پاتے ہیں نہ پوچھی ہو ان میں ایك پادری قبطی سب سے بڑا مجتہد تھا اس سے پوچھا : ھل بقی احد من الانبیاء “ آیا پیغمبروں میں سے کوئی باقی رہاوہ بولا :
نعم وھو اخر الانبیاء لیس بینہ وبین عیسی نبی قد امر عیسی باتباعہ وھو النبی الامی العربی اسمہ احمد۔ ہاں ایك نبی باقی ہیں وہ سب انبیاء سے پچھلے ہیں ان کے اور عیسی کے بیچ میں کوئی نبی نہیں عیسی علیہ الصلوۃ والسلام کو ان کی پیروی کا حکم ہوا ہے وہ نبی امی عربی ہیں ان کا نام پاك احمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔
پھر اس نے حلیہ شریفہ و دیگر فضائل لطیفہ ذکر کئے مغیرہ نے فرمایا : اور بیان کر۔ اس نے اور بتائے ازانجملہ کہا :
یخص بمالم یخص بہ الانبیاء قبلہ کان النبی یبعث الی قومہ وبعث الی الناس کافۃ۔ انہیں وہ خصائص عطا ہوں گے جو کسی نبی کو نہ ملے ہر نبی اپنی قوم کی طرف بھیجا جاتا وہ تمام لوگوں کی طرف مبعوث ہوئے۔
مغیرہ فرماتے ہیں میں نے یہ سب باتیں خوب یاد رکھیں اور وہاں سے واپس آکر اسلام لایا
میلاد النبی پر خاص تارے کا طلوع :
ابو نعیم حضرت حسان بن ثابت انصاری رضی اللہ تعالی عنہسے راوی میں سات برس کا تھا ایك دن پچھلی رات کو وہ سخت آواز آئی کہ ایسی جلد پہنچتی آواز میں نے کبھی نہ سنی تھی کیا دیکھتا ہوں کہ مدینے کے ایك بلند ٹیلے پر ایك یہودی ہاتھ میں آگ کا شعلہ لئے چیخ رہا ہے لوگ اس کی آواز پر جمع ہوئے وہ بولا :
ھذا کو کب احمد قد طلع ھذا الکوکب یہ احمد کے ستارے نے طلوع کیا یہ ستارہ کسی
امام واقدی وابو نعیم حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ تعالی عنہسے حدیث طویل ملاقات مقوقس بادشاہ مصر میں راوی جب ہم نے اس نصرانی بادشاہ سے حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی مدح وتصدیق سنی اس کے پاس سے وہ کلام سن کر اٹھے جس نے ہمیں محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے لئے ذلیل و خاضع کردیا ہم نے کہا سلاطین عجم ان کی تصدیق کرتے اور ان سے ڈرتے ہیں حالانکہ ان سے کچھ رشتہ علاقہ نہیں اور ہم تو ان کے رشتہ دار ان کے ہمسائے ہیں وہ ہمارے گھر ہمیں دین کی طرف بلانے آئے اور ہم ابھی ان کے پیرو نہ ہوئے پھر میں اسکندریہ میں ٹھہرا کوئی گرجا کوئی پادری قبطی خواہ رومی نہ چھوڑا جہاں جا کر محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی صفت جو وہ اپنی کتاب میں پاتے ہیں نہ پوچھی ہو ان میں ایك پادری قبطی سب سے بڑا مجتہد تھا اس سے پوچھا : ھل بقی احد من الانبیاء “ آیا پیغمبروں میں سے کوئی باقی رہاوہ بولا :
نعم وھو اخر الانبیاء لیس بینہ وبین عیسی نبی قد امر عیسی باتباعہ وھو النبی الامی العربی اسمہ احمد۔ ہاں ایك نبی باقی ہیں وہ سب انبیاء سے پچھلے ہیں ان کے اور عیسی کے بیچ میں کوئی نبی نہیں عیسی علیہ الصلوۃ والسلام کو ان کی پیروی کا حکم ہوا ہے وہ نبی امی عربی ہیں ان کا نام پاك احمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔
پھر اس نے حلیہ شریفہ و دیگر فضائل لطیفہ ذکر کئے مغیرہ نے فرمایا : اور بیان کر۔ اس نے اور بتائے ازانجملہ کہا :
یخص بمالم یخص بہ الانبیاء قبلہ کان النبی یبعث الی قومہ وبعث الی الناس کافۃ۔ انہیں وہ خصائص عطا ہوں گے جو کسی نبی کو نہ ملے ہر نبی اپنی قوم کی طرف بھیجا جاتا وہ تمام لوگوں کی طرف مبعوث ہوئے۔
مغیرہ فرماتے ہیں میں نے یہ سب باتیں خوب یاد رکھیں اور وہاں سے واپس آکر اسلام لایا
میلاد النبی پر خاص تارے کا طلوع :
ابو نعیم حضرت حسان بن ثابت انصاری رضی اللہ تعالی عنہسے راوی میں سات برس کا تھا ایك دن پچھلی رات کو وہ سخت آواز آئی کہ ایسی جلد پہنچتی آواز میں نے کبھی نہ سنی تھی کیا دیکھتا ہوں کہ مدینے کے ایك بلند ٹیلے پر ایك یہودی ہاتھ میں آگ کا شعلہ لئے چیخ رہا ہے لوگ اس کی آواز پر جمع ہوئے وہ بولا :
ھذا کو کب احمد قد طلع ھذا الکوکب یہ احمد کے ستارے نے طلوع کیا یہ ستارہ کسی
حوالہ / References
دلائل النبوۃ لابی نعیم الفصل الخامس عالم الکتب بیروت ، ص ۲۱ و ۲۲
لا یطلع الا بالنبوۃ ولم یبق من الانبیاء الا احمد نبی ہی کی پیدائش پر طلوع کرتا ہے اور اب انبیاء میں سوائے احمد کے کوئی باقی نہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔
یہودی علماء کے ہاں ذکر ولادت :
امام واقدی وابو نعیم حضرت حویصربن مسعود رضی اللہ تعالی عنہسے راوی :
قـــال کنا و یھودفــینا کانوا یذکــرون نبیا یبعث بمکۃ اسمہ احمد ولم یبق من الانبیاء غیرہ وھو فی کتبنا الحدیث یعنی میرے بچپن میں یہود ہم میں ایك نبی کا ذکر کرتے جو مکے میں مبعوث ہوں گے ان کا نام پاك احمد ہے اب ان کے سوا کوئی نبی باقی نہیں وہ ہماری کتابوں میں لکھے ہوئے ہیں۔
احبار کی زبان پر نعت نبی :
ابونعیم سعد بن ثابت سے راوی :
قال کان احبار یہود بنی قریظۃ والنضیر یذکرون صفۃ النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فلما طلع الکوکب الاحمر اخبروا انہ نبی وانہ لا نبی بعدہ اسمہ احمد ومھاجرہ الی یثرب فلما قدم النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم المدینۃ و نزلھا انکروا وحسدوا و بغوا
“ فلما جاءہم ما عرفوا کفروا بہ ۫ فلعنۃ اللہ یہود بنی قریظہ وبنی نضیر کے علماء حضور سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی صفت بیان کرتے جب سرخ ستارہ چمکا تو انہوں نے خبر دی کہ وہ نبی ہیں اور ان کے بعد کوئی نبی نہیں ان کا نام پاك احمد ہے ان کی ہجرت گاہ مدینہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم جب حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم مدینہ طیبہ تشریف لا کر رونق افروز ہوئے یہود براہ حسد و بغاوت منکر ہوگئے۔
توجب تشریف لایا ان کے پاس وہ جانا پہچانا اس کے
یہودی علماء کے ہاں ذکر ولادت :
امام واقدی وابو نعیم حضرت حویصربن مسعود رضی اللہ تعالی عنہسے راوی :
قـــال کنا و یھودفــینا کانوا یذکــرون نبیا یبعث بمکۃ اسمہ احمد ولم یبق من الانبیاء غیرہ وھو فی کتبنا الحدیث یعنی میرے بچپن میں یہود ہم میں ایك نبی کا ذکر کرتے جو مکے میں مبعوث ہوں گے ان کا نام پاك احمد ہے اب ان کے سوا کوئی نبی باقی نہیں وہ ہماری کتابوں میں لکھے ہوئے ہیں۔
احبار کی زبان پر نعت نبی :
ابونعیم سعد بن ثابت سے راوی :
قال کان احبار یہود بنی قریظۃ والنضیر یذکرون صفۃ النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فلما طلع الکوکب الاحمر اخبروا انہ نبی وانہ لا نبی بعدہ اسمہ احمد ومھاجرہ الی یثرب فلما قدم النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم المدینۃ و نزلھا انکروا وحسدوا و بغوا
“ فلما جاءہم ما عرفوا کفروا بہ ۫ فلعنۃ اللہ یہود بنی قریظہ وبنی نضیر کے علماء حضور سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی صفت بیان کرتے جب سرخ ستارہ چمکا تو انہوں نے خبر دی کہ وہ نبی ہیں اور ان کے بعد کوئی نبی نہیں ان کا نام پاك احمد ہے ان کی ہجرت گاہ مدینہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم جب حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم مدینہ طیبہ تشریف لا کر رونق افروز ہوئے یہود براہ حسد و بغاوت منکر ہوگئے۔
توجب تشریف لایا ان کے پاس وہ جانا پہچانا اس کے
حوالہ / References
دلائل النبوۃ لابی نعیم ، الفصل الخامس ، عالم الکتب بیروت ، ص ۱۷ ، الخصائص الکبرٰی بحوالہ ابی نعیم باب اخبار الاخیار الخ دارالکتب الحدیثۃ شارع الجمہوریۃ بعابدین ، ۱ / ۶۴
الخصائص الکبرٰی بحوالہ ابی نعیم باب اخبار الاحبار الخ دارالکتب الحدیثۃ شارع الجمہوریۃ بعابدین ، ۱ / ۶۴ ، دلائل النبوۃ لابی نعیم ، الفصل الخامس ، عالم الکتب بیروت ، ص ۱۷
الخصائص الکبرٰی بحوالہ ابی نعیم باب اخبار الاحبار الخ دارالکتب الحدیثہ شارع الجمہوریہ بعابدین ، ۱ / ۶۷
الخصائص الکبرٰی بحوالہ ابی نعیم باب اخبار الاحبار الخ دارالکتب الحدیثۃ شارع الجمہوریۃ بعابدین ، ۱ / ۶۴ ، دلائل النبوۃ لابی نعیم ، الفصل الخامس ، عالم الکتب بیروت ، ص ۱۷
الخصائص الکبرٰی بحوالہ ابی نعیم باب اخبار الاحبار الخ دارالکتب الحدیثہ شارع الجمہوریہ بعابدین ، ۱ / ۶۷
علی الکفرین﴿۸۹﴾ “ منکر ہو بیٹھے تو اﷲ کی لعنت منکروں پر۔ (ت)
اہل یثرب کو بشارت میلاد النبی :
زیاد بن لبید سے راوی میں مدینہ طیبہ میں ایك ٹیلے پر تھا ناگاہ ایك آواز سنی کہ کوئی کہنے والا کہتا ہے :
یا اھل یثرب قد ذھبت واﷲ نبوۃ بنی اسرائیل ھذا نجم قد طلع بمولداحمد وھو نبی اخرالانبیاء و مھاجرہ الی یثرب اے اہل مدینہ! خدا کی قسم بنی اسرائیل کی نبوت گئی ولادت احمد کا تارا چمکا وہ سب سے پچھلے نبی ہیں مدینے کی طرف ہجرت فرمائیں گےصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔
یوشع کی زبان پر نعت رسول :
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہسے راوی میں نے مالك بن سنان رضی اللہ تعالی عنہکو کہتے سنا کہ میں ایك روز بنی عبدالاشہل میں بات چیت کرنے گیا یوشع یہودی بولا اب وقت آلگا ہے ایك نبی کے ظہور کا جس کا نام احمدصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم حرم سے تشریف لائیں گے ان کا حلیہ ووصف یہ ہوگا میں اس کی باتوں سے تعجب کرتا اپنی قوم میں آیا وہاں بھی ایك شخص کو ایسا ہی بیان کرتے پایا میں بنی قریظہ میں گیا وہاں بھی ایك مجمع میں نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا ذکر پاك ہورہا تھا ان میں سے زبیر بن باطا نے کہا :
قد طلع الکوکب الاحمر الذی لم یطلع الا لخروج نبی وظہورہ ولم یبق احد الا احمد وھذہ مھاجرہ بیشك سرخ ستارہ طلوع ہو کر آیا یہ تارا کسی نبی ہی کی ولادت و ظہور پر چمکتا ہے اور اب میں کوئی نبی نہیں پاتا سوا احمد کے اور یہ شہر ان کی ہجرت گاہ ہے صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔
تذییل :
ابن سعد و حاکم و بیہقی وابونعیم حضرت ام المؤمنین صدیقہ رضی اﷲ تعالی عنہما سے راوی مکہ معظمہ میں ایك یہودی بغرض تجارت رہتا جس رات حضور پر نورصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پیدا ہوئے قریش کی مجلس میں گیا اور پوچھا کیا آج تم میں کوئی لڑکا پیدا ہوا انہوں نے کہا ہمیں نہیں
اہل یثرب کو بشارت میلاد النبی :
زیاد بن لبید سے راوی میں مدینہ طیبہ میں ایك ٹیلے پر تھا ناگاہ ایك آواز سنی کہ کوئی کہنے والا کہتا ہے :
یا اھل یثرب قد ذھبت واﷲ نبوۃ بنی اسرائیل ھذا نجم قد طلع بمولداحمد وھو نبی اخرالانبیاء و مھاجرہ الی یثرب اے اہل مدینہ! خدا کی قسم بنی اسرائیل کی نبوت گئی ولادت احمد کا تارا چمکا وہ سب سے پچھلے نبی ہیں مدینے کی طرف ہجرت فرمائیں گےصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔
یوشع کی زبان پر نعت رسول :
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہسے راوی میں نے مالك بن سنان رضی اللہ تعالی عنہکو کہتے سنا کہ میں ایك روز بنی عبدالاشہل میں بات چیت کرنے گیا یوشع یہودی بولا اب وقت آلگا ہے ایك نبی کے ظہور کا جس کا نام احمدصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم حرم سے تشریف لائیں گے ان کا حلیہ ووصف یہ ہوگا میں اس کی باتوں سے تعجب کرتا اپنی قوم میں آیا وہاں بھی ایك شخص کو ایسا ہی بیان کرتے پایا میں بنی قریظہ میں گیا وہاں بھی ایك مجمع میں نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا ذکر پاك ہورہا تھا ان میں سے زبیر بن باطا نے کہا :
قد طلع الکوکب الاحمر الذی لم یطلع الا لخروج نبی وظہورہ ولم یبق احد الا احمد وھذہ مھاجرہ بیشك سرخ ستارہ طلوع ہو کر آیا یہ تارا کسی نبی ہی کی ولادت و ظہور پر چمکتا ہے اور اب میں کوئی نبی نہیں پاتا سوا احمد کے اور یہ شہر ان کی ہجرت گاہ ہے صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔
تذییل :
ابن سعد و حاکم و بیہقی وابونعیم حضرت ام المؤمنین صدیقہ رضی اﷲ تعالی عنہما سے راوی مکہ معظمہ میں ایك یہودی بغرض تجارت رہتا جس رات حضور پر نورصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پیدا ہوئے قریش کی مجلس میں گیا اور پوچھا کیا آج تم میں کوئی لڑکا پیدا ہوا انہوں نے کہا ہمیں نہیں
حوالہ / References
القرآن الکریم ۲ /۸۹
الخصائص الکبرٰی باب اخبار الاحبار بحوالہ ابی نعیم دارالکتب الحدیثہ شارع الجمہوریۃ بعابدین ، ۱ / ۶۸
الخصائص الکبرٰی باب اخبار الاحبار بحوالہ ابی نعیم داراکتب الحدیثہ شارع الجمہوریۃ بعابدین ، ۱ / ۶۶۔ ۶۵ ، دلائل النبوۃ ، الفصل الخامس ، عالم الکتب بیروت ، ص۸
الخصائص الکبرٰی باب اخبار الاحبار بحوالہ ابی نعیم دارالکتب الحدیثہ شارع الجمہوریۃ بعابدین ، ۱ / ۶۸
الخصائص الکبرٰی باب اخبار الاحبار بحوالہ ابی نعیم داراکتب الحدیثہ شارع الجمہوریۃ بعابدین ، ۱ / ۶۶۔ ۶۵ ، دلائل النبوۃ ، الفصل الخامس ، عالم الکتب بیروت ، ص۸
معلوم کہا :
احفظوا ما اقول لکم ولد ھذہ اللیلۃ نبی ھذہ الامۃ الاخیرۃ بین کتفیہ علامۃ الحدیث جو تم سے کہہ رہا ہوں اسے حفظ کر رکھو آج کی رات اس پچھلی امت کا نبی پیدا ہوا اس کے شانوں کے درمیان علامت ہے صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔
ارشادات حضور ختم الانبیاء علیھم افضل الصلوۃ و الثناء
وفیھا انواع فی اسماء النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم
اسماء النبی :
اجلہ ائمہ بخاری و مسلم وترمذی ونسائی وامام مالك و امام احمد وابوداؤد طیالسی وابن سعد و طبرانی وحاکم وبیہقی وابو نعیم وغیر ہم حضرت جبیر بن مطعم رضی اﷲ تعالی عنہ سے راوی رسول اﷲصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
ان لی اسماء انا محمد و انا احمد وانا الماحی الذی یمحوا اﷲ بی الکفر وانا الحاشر الذی یحشر الناس علی قدمی وانا العاقب الذی لیس بعدہ نبی بیشك میرے متعدد نام ہیں میں محمد ہوں میں احمد ہوں میں ماحی ہوں کہ اﷲ تعالی میرے سبب سے کفر مٹاتا ہے میں حاشر ہوں میرے قدموں پر لوگوں کا حشر ہوگا میں عاقب ہوں اور عاقب وہ جس کے بعد کوئی نبی نہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔
سبعہ اخیرہ الاالطبرانی کی روایت میں والخاتم زائد ہے یعنی اور میں خاتم ہوں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔
انا محمد و احمد :
امام احمد مسند اور مسلم صحیح اور طبرانی معجم کبیر میں حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ تعالی عنہسے راوی رسول اﷲصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
انا محمد واحمد والمقفی والحاشر میں محمد ہوں اور احمد اور سب انبیاء کے بعد
احفظوا ما اقول لکم ولد ھذہ اللیلۃ نبی ھذہ الامۃ الاخیرۃ بین کتفیہ علامۃ الحدیث جو تم سے کہہ رہا ہوں اسے حفظ کر رکھو آج کی رات اس پچھلی امت کا نبی پیدا ہوا اس کے شانوں کے درمیان علامت ہے صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔
ارشادات حضور ختم الانبیاء علیھم افضل الصلوۃ و الثناء
وفیھا انواع فی اسماء النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم
اسماء النبی :
اجلہ ائمہ بخاری و مسلم وترمذی ونسائی وامام مالك و امام احمد وابوداؤد طیالسی وابن سعد و طبرانی وحاکم وبیہقی وابو نعیم وغیر ہم حضرت جبیر بن مطعم رضی اﷲ تعالی عنہ سے راوی رسول اﷲصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
ان لی اسماء انا محمد و انا احمد وانا الماحی الذی یمحوا اﷲ بی الکفر وانا الحاشر الذی یحشر الناس علی قدمی وانا العاقب الذی لیس بعدہ نبی بیشك میرے متعدد نام ہیں میں محمد ہوں میں احمد ہوں میں ماحی ہوں کہ اﷲ تعالی میرے سبب سے کفر مٹاتا ہے میں حاشر ہوں میرے قدموں پر لوگوں کا حشر ہوگا میں عاقب ہوں اور عاقب وہ جس کے بعد کوئی نبی نہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔
سبعہ اخیرہ الاالطبرانی کی روایت میں والخاتم زائد ہے یعنی اور میں خاتم ہوں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔
انا محمد و احمد :
امام احمد مسند اور مسلم صحیح اور طبرانی معجم کبیر میں حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ تعالی عنہسے راوی رسول اﷲصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
انا محمد واحمد والمقفی والحاشر میں محمد ہوں اور احمد اور سب انبیاء کے بعد
حوالہ / References
الخصائص الکبرٰی بحوالہ ابن سعد و الحاکم والبیہقی وابی نعیم ، باب ما ظہر فی لیلۃ مولدہ الخ ، دارالکتب الحدیثہ ، بعابدین ۱ / ۱۲۳
صحیح مسلم کتاب الفضائل ، باب فی اسمائہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم قدیمی کتب خانہ ، کراچی ۲ / ۲۶۱ ، شعب الایمان للبیہقی ، فصل فی اسماء رسول اﷲصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم حدیث ۱۳۹۷ ، دارالکتب العلمیہ ، بیروت ۲ / ۱۴۱
شعب الایمان للبیہقی فصل فی اسماء رسول صلی اﷲ علیہ وسلم حدیث ۱۳۹۸ ، دارالکتب العلمیہ بیروت۲ / ۱۴۱ ، الطبقات الکبرٰی ذکر اسماء رسول صلی اﷲ علیہ وسلم دار صادر بیروت ۲ / ۱۰۴
صحیح مسلم کتاب الفضائل ، باب فی اسمائہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم قدیمی کتب خانہ ، کراچی ۲ / ۲۶۱ ، شعب الایمان للبیہقی ، فصل فی اسماء رسول اﷲصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم حدیث ۱۳۹۷ ، دارالکتب العلمیہ ، بیروت ۲ / ۱۴۱
شعب الایمان للبیہقی فصل فی اسماء رسول صلی اﷲ علیہ وسلم حدیث ۱۳۹۸ ، دارالکتب العلمیہ بیروت۲ / ۱۴۱ ، الطبقات الکبرٰی ذکر اسماء رسول صلی اﷲ علیہ وسلم دار صادر بیروت ۲ / ۱۰۴
ونبی التوبۃ ونبی الرحمۃ آنے والا اور خلائق کو حشر دینے والا اور رحمت کا نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔
نام مبارك نبی التوبۃ عجب جامع و کثیر المنافع نام پاك ہے اس کی تیرہ توجیہیں فقیر غفرلہ المولی القدیر نے شرح صحیح مسلم للامام النووی و شرح الشفا للقاری والخفاجی و مرقاۃ واشعۃ اللمعات شروح مشکوۃ و تیسیر وسراج المنیر و حفنی شروح جامع صغیرو جمع الوسائل شرح شمائل ومطالع المسرات ومواہب وشرح زرقانی ومجمع البحار سے التقاط کیں اور چار بتوفیق اﷲ تعالی اپنی طرف سے بڑھائیں سب سترہ ہوئیں بعضہا املح من بعض واحلی(ان میں ہر ایك دوسری سے لذیذ اور میٹھی ہے۔ ت)
خصائص مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
(۱)حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی ہدایت سے عالم نے توبہ و رجوع الی اﷲ کی دولتیں پائیں حضور کی آواز پر متفرق جماعتیں مختلف امتیں اﷲ عزوجل کی طرف پلٹ آئیں ۔
ذکرہ فی مطالع المسرات وقاری فی شرح الشفاء والشیخ المحقق فی اشعۃ اللمعات وعلیہ اقتصر فی المواھب اللدنیۃ شرح الاسماء العلیۃ وقبلہ شارحھا الزرقانی عند سردھا۔ (اس کو مطالع المسرات میں اور ملا علی قاری نے شرح شفاء میں شیخ محقق نے اشعۃ اللمعات میں ذکر کیا۔ اور اسی پر مواہب لدنیہ کے شرح اسماء مبارکہ میں اور اس سے قبل اپنے بیان میں شارح زرقانی نے انحصار کیا۔ ت)
(۲)ان کی برکت سے خلائق کو توبہ نصیب ہوئی الشیخ فی اللمعات والاشعۃ اقول : ولیس بالاول فان الھدایۃ دعوۃ وارائۃ و بالبرکۃ توفیق الوصول(اقول یہ چیز اول یعنی ہدایت سے حاصل نہیں ہوتی کیونکہ ہدایت دعوت راستہ دکھانے اور برکت سے وصول مقصود کی توفیق کا
نام مبارك نبی التوبۃ عجب جامع و کثیر المنافع نام پاك ہے اس کی تیرہ توجیہیں فقیر غفرلہ المولی القدیر نے شرح صحیح مسلم للامام النووی و شرح الشفا للقاری والخفاجی و مرقاۃ واشعۃ اللمعات شروح مشکوۃ و تیسیر وسراج المنیر و حفنی شروح جامع صغیرو جمع الوسائل شرح شمائل ومطالع المسرات ومواہب وشرح زرقانی ومجمع البحار سے التقاط کیں اور چار بتوفیق اﷲ تعالی اپنی طرف سے بڑھائیں سب سترہ ہوئیں بعضہا املح من بعض واحلی(ان میں ہر ایك دوسری سے لذیذ اور میٹھی ہے۔ ت)
خصائص مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
(۱)حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی ہدایت سے عالم نے توبہ و رجوع الی اﷲ کی دولتیں پائیں حضور کی آواز پر متفرق جماعتیں مختلف امتیں اﷲ عزوجل کی طرف پلٹ آئیں ۔
ذکرہ فی مطالع المسرات وقاری فی شرح الشفاء والشیخ المحقق فی اشعۃ اللمعات وعلیہ اقتصر فی المواھب اللدنیۃ شرح الاسماء العلیۃ وقبلہ شارحھا الزرقانی عند سردھا۔ (اس کو مطالع المسرات میں اور ملا علی قاری نے شرح شفاء میں شیخ محقق نے اشعۃ اللمعات میں ذکر کیا۔ اور اسی پر مواہب لدنیہ کے شرح اسماء مبارکہ میں اور اس سے قبل اپنے بیان میں شارح زرقانی نے انحصار کیا۔ ت)
(۲)ان کی برکت سے خلائق کو توبہ نصیب ہوئی الشیخ فی اللمعات والاشعۃ اقول : ولیس بالاول فان الھدایۃ دعوۃ وارائۃ و بالبرکۃ توفیق الوصول(اقول یہ چیز اول یعنی ہدایت سے حاصل نہیں ہوتی کیونکہ ہدایت دعوت راستہ دکھانے اور برکت سے وصول مقصود کی توفیق کا
حوالہ / References
صحیح مسلم کتاب الفضائل باب فی اسمائہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم قدیمی کتب خانہ ، کراچی ، ۲ / ۲۶۱
مطالع المسرات ذکر اسماء النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ، ص ۱۰۱ ، شرح الشفالعلی قاری علی ہامش نسیم الریاض فصل فی اسمائہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم دارالفکر بیروت ، ۲ / ۳۹۳ ، شرح الزرقانی علی المواہب المقصد الثانی ، الفصل الاول حرف ن ، دارالمعرفۃ ، بیروت ، ۳ / ۱۴۹
اشعۃ اللمعات شرح مشکوٰۃ باب اسماء النبی وصفاتہ الخ فصل نمبر۱ ، مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ، ۴ / ۴۸۲
مطالع المسرات ذکر اسماء النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ، ص ۱۰۱ ، شرح الشفالعلی قاری علی ہامش نسیم الریاض فصل فی اسمائہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم دارالفکر بیروت ، ۲ / ۳۹۳ ، شرح الزرقانی علی المواہب المقصد الثانی ، الفصل الاول حرف ن ، دارالمعرفۃ ، بیروت ، ۳ / ۱۴۹
اشعۃ اللمعات شرح مشکوٰۃ باب اسماء النبی وصفاتہ الخ فصل نمبر۱ ، مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ، ۴ / ۴۸۲
نام ہے)
(۳)ان کے ہاتھ پر جس قد ر بندوں نے توبہ کی اور انبیائے کرام کے ہاتھوں پر نہ ہوئی الشیخ فی اللمعات واشار الیہ فی الاشعۃ حیث قال بعد ذکر الاولین(شیخ نے لمعات میں اسے ذکر کیا اور اشعہ میں اس کی طرف اشارہ فرمایا جہاں انہوں نے پہلے دونوں کا ذکر کیا وہاں یہ ہے۔ ت)
ایں صفت درجمیع انبیاء مشترك ست و در ذات شریف آں حضرت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمازہمہ بیشتر و وافرو کامل ترست تمام انبیاء میں یہ صفت مشترك ہے اور آنحضرت صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی ذات میں یہ سب سے زیادہ اور وافر اور کامل تر ہے۔
صحیح حدیثوں سے ثابت کہ روز قیامت یہ امت سب امتوں سے شمار میں زیادہ ہوگی نہ فقط ہر ایك امت جداگانہ بلکہ مجموع جمیع امم سے اہل جنت کی ایك سو بیس صفیں ہوں گی جن میں بحمدا ﷲ تعالی اسی۸۰ہماری اور چالیس۴۰میں باقی سب امتیں والحمدﷲ رب العالمین۔
(۴)وہ توبہ کا حکم لے کر آئے (الامام النووی فی شرح صحیح مسلم والقاری فی جمع الوسائل والزرقانی فی شرح المواھب(اسے امام نووی نے شرح مسلم ملا علی قاری نے جمع الوسائل اور زرقانی نے شرح مواہب میں ذکر کیا۔ ت)
(۵)اﷲ عزوجل کے حضور سے قبول توبہ کی بشارت لائے شرح المواھب والمناوی فی التیسیر۔
(۶)اقول بلکہ وہ توبہ عام لائے ہر نبی صرف اپنی قوم کے لئے توبہ لاتا ہے وہ تمام جہان سے توبہ لینے آئے صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔
(۷)بلکہ توبہ کا حکم وہی لے کر آئے کہ انبیاء علیہم الصلوۃ والثناء سب ان کے نائب ہیں تو روز اول سے آج تك اور آج سے قیامت تك جو توبہ خلق سے طلب کی گئی یا کی جائے گی واقع ہوئی یا وقوع پائے گی۔ سب کے نبی ہمارے نبی توبہ ہیں صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم الفاسی فی مطالع المسرات فجزاہ اﷲ معانی المبرات وعوالی المسرات(یہ علامہ فاسی نے مطالع المسرات میں ذکر کیا اﷲ تعالی ان کو نیکیوں کا ذخیرہ اور بلند خوشیاں جزا میں عطا فرمائے۔ ت)
(۳)ان کے ہاتھ پر جس قد ر بندوں نے توبہ کی اور انبیائے کرام کے ہاتھوں پر نہ ہوئی الشیخ فی اللمعات واشار الیہ فی الاشعۃ حیث قال بعد ذکر الاولین(شیخ نے لمعات میں اسے ذکر کیا اور اشعہ میں اس کی طرف اشارہ فرمایا جہاں انہوں نے پہلے دونوں کا ذکر کیا وہاں یہ ہے۔ ت)
ایں صفت درجمیع انبیاء مشترك ست و در ذات شریف آں حضرت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمازہمہ بیشتر و وافرو کامل ترست تمام انبیاء میں یہ صفت مشترك ہے اور آنحضرت صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی ذات میں یہ سب سے زیادہ اور وافر اور کامل تر ہے۔
صحیح حدیثوں سے ثابت کہ روز قیامت یہ امت سب امتوں سے شمار میں زیادہ ہوگی نہ فقط ہر ایك امت جداگانہ بلکہ مجموع جمیع امم سے اہل جنت کی ایك سو بیس صفیں ہوں گی جن میں بحمدا ﷲ تعالی اسی۸۰ہماری اور چالیس۴۰میں باقی سب امتیں والحمدﷲ رب العالمین۔
(۴)وہ توبہ کا حکم لے کر آئے (الامام النووی فی شرح صحیح مسلم والقاری فی جمع الوسائل والزرقانی فی شرح المواھب(اسے امام نووی نے شرح مسلم ملا علی قاری نے جمع الوسائل اور زرقانی نے شرح مواہب میں ذکر کیا۔ ت)
(۵)اﷲ عزوجل کے حضور سے قبول توبہ کی بشارت لائے شرح المواھب والمناوی فی التیسیر۔
(۶)اقول بلکہ وہ توبہ عام لائے ہر نبی صرف اپنی قوم کے لئے توبہ لاتا ہے وہ تمام جہان سے توبہ لینے آئے صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔
(۷)بلکہ توبہ کا حکم وہی لے کر آئے کہ انبیاء علیہم الصلوۃ والثناء سب ان کے نائب ہیں تو روز اول سے آج تك اور آج سے قیامت تك جو توبہ خلق سے طلب کی گئی یا کی جائے گی واقع ہوئی یا وقوع پائے گی۔ سب کے نبی ہمارے نبی توبہ ہیں صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم الفاسی فی مطالع المسرات فجزاہ اﷲ معانی المبرات وعوالی المسرات(یہ علامہ فاسی نے مطالع المسرات میں ذکر کیا اﷲ تعالی ان کو نیکیوں کا ذخیرہ اور بلند خوشیاں جزا میں عطا فرمائے۔ ت)
حوالہ / References
اشعۃ اللمعات شرح مشکوٰۃ باب اسماء النبی وصفاتہ الخ فصل نمبر۱ ، مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ، ۴ / ۴۸۲
شرح صحیح مسلم للنووی کتاب الفضائل باب فی اسمائہٖ الخ قدیمی کتب خانہ کراچی۔ ۲ / ۲۶۱
التیسیر شرح الجامع الصغیر ، تحت حدیث انا محمد واحمد الخ مکتبہ امام الشافعی ریاض ، ۱ / ۳۷۶
مطالع المسرات ، ذکر اسماء النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم مکتبہ نوریہ رضویہ ، فیصل آباد ، ص ۱۰۲۔ ۱۰۱
شرح صحیح مسلم للنووی کتاب الفضائل باب فی اسمائہٖ الخ قدیمی کتب خانہ کراچی۔ ۲ / ۲۶۱
التیسیر شرح الجامع الصغیر ، تحت حدیث انا محمد واحمد الخ مکتبہ امام الشافعی ریاض ، ۱ / ۳۷۶
مطالع المسرات ، ذکر اسماء النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم مکتبہ نوریہ رضویہ ، فیصل آباد ، ص ۱۰۲۔ ۱۰۱
(۸)توبہ سے مراد اہل توبہ ہیں ای علی وزان قولہ تعالی واسئل القریۃ(اﷲ تعالی کے قول واسئل القریۃ کے انداز پر) (ت)یعنی توابین کے نبی مطالع المسرات مع زیادۃ منی(مطالع المسرات اور جو کچھ زیادہ ہے وہ میری طر ف سے)اقول : اب اوفق یہ ہے کہ توبہ سے مراد ایمان لیں کما سوغہ المناوی ثم العزیزی فی شروح الجامع الصغیر(جیسا کہ علامہ مناوی نے پھر عزیزی نے الجامع الصغیر کی شرحوں میں ذکر فرمایا)(ت)حاصل یہ کہ تمام اہل ایمان کے نبی۔
(۹)ان کی امت توابین ہیں وصف توبہ میں سب امتوں سے ممتاز ہیں قرآن ان کی صفت میں التائبون فرماتا ہے جمع الوسائل جب گناہ کرتے ہیں تو بہ لاتے ہیں یہ امت کا فضل ہے اور امت کا ہر فضل اس کے نبی کی طرف راجع مطالع اقول : و بہ فارق ماقبلہ فلیس فیہ حذف ولا یجوز(میں کہتا ہوں اس سبب سے وہ پہلے سے جدا ہوا تو اس میں نہ حذف ہے اور نہ یہ جائز ہے۔ ت)
(۱۰)ان کی امت کی توبہ سب امتوں سے زائد مقبول ہوئی حفنی علی الجامع الصغیر کہ ان کی توبہ میں مجرد ندامت وترك فی الحال وعزم امتناع پر کفایت کی گئی نبی الرحمۃصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ان کے بوجھ اتار لئے اگلی امتوں کے سخت وشدید باران پر نہ آنے دئیے اگلوں کی توبہ سخت سخت شرائط سے مشروط کی جاتی تھی گؤسالہ پرستی سے بنی اسرائیل کی توبہ اپنی جانوں کے قتل سے رکھی گئی کما نطق بہ القران العزیز(جیسا کہ قرآن نے اس کو بیان فرمایا)(ت)جب ستر ہزار آپس میں کٹ چکے اس وقت توبہ قبول ہوئی شرح الشفاء للقاری عــــــہ والمرقاۃ ونسیم الریاض والفاسی ومجمع البحار۔ برمز(ن)
عــــــہ : اقتصر الحنفی فی تقریر ھذا الوجہ علی ذکر الاستغفار فقط فقال لانہ حنفی نے اپنی تقریر میں اس وجہ پر استغفار کے ذکر کا اقتصار کیا تو فرمایا آپ کی امت (باقی اگلے صفحہ پر)
(۹)ان کی امت توابین ہیں وصف توبہ میں سب امتوں سے ممتاز ہیں قرآن ان کی صفت میں التائبون فرماتا ہے جمع الوسائل جب گناہ کرتے ہیں تو بہ لاتے ہیں یہ امت کا فضل ہے اور امت کا ہر فضل اس کے نبی کی طرف راجع مطالع اقول : و بہ فارق ماقبلہ فلیس فیہ حذف ولا یجوز(میں کہتا ہوں اس سبب سے وہ پہلے سے جدا ہوا تو اس میں نہ حذف ہے اور نہ یہ جائز ہے۔ ت)
(۱۰)ان کی امت کی توبہ سب امتوں سے زائد مقبول ہوئی حفنی علی الجامع الصغیر کہ ان کی توبہ میں مجرد ندامت وترك فی الحال وعزم امتناع پر کفایت کی گئی نبی الرحمۃصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ان کے بوجھ اتار لئے اگلی امتوں کے سخت وشدید باران پر نہ آنے دئیے اگلوں کی توبہ سخت سخت شرائط سے مشروط کی جاتی تھی گؤسالہ پرستی سے بنی اسرائیل کی توبہ اپنی جانوں کے قتل سے رکھی گئی کما نطق بہ القران العزیز(جیسا کہ قرآن نے اس کو بیان فرمایا)(ت)جب ستر ہزار آپس میں کٹ چکے اس وقت توبہ قبول ہوئی شرح الشفاء للقاری عــــــہ والمرقاۃ ونسیم الریاض والفاسی ومجمع البحار۔ برمز(ن)
عــــــہ : اقتصر الحنفی فی تقریر ھذا الوجہ علی ذکر الاستغفار فقط فقال لانہ حنفی نے اپنی تقریر میں اس وجہ پر استغفار کے ذکر کا اقتصار کیا تو فرمایا آپ کی امت (باقی اگلے صفحہ پر)
حوالہ / References
مطالع المسرات ، ذکر اسماء النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم مکتبہ نوریہ رضویہ ، فیصل آباد ص ۱۰۱و ۱۰۲
التیسیر شرح الجامع الصغیر ، تحت حدیث انا محمد واحمد ، مکتبہ امام الشافعی ، ریاض ، ۱ / ۳۷۶
جمع الوسائل فی شرح الشمائل باب ماجاء فی اسماء رسول اﷲ الخ ، دارالمعرفۃ ، بیروت ، ۲ / ۱۸۳
مطالع المسرات ذکر اسماء النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم مکتبہ نوریہ رضویہ ، سکھر ، ص۱۰۱
حاشیۃ الحفنی علی الجامع الصغیر علٰی ہامش السراج المنیر المطبعۃ الازہریۃ المصریۃ ، مصر ، ۲ / ۶۳
التیسیر شرح الجامع الصغیر ، تحت حدیث انا محمد واحمد ، مکتبہ امام الشافعی ، ریاض ، ۱ / ۳۷۶
جمع الوسائل فی شرح الشمائل باب ماجاء فی اسماء رسول اﷲ الخ ، دارالمعرفۃ ، بیروت ، ۲ / ۱۸۳
مطالع المسرات ذکر اسماء النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم مکتبہ نوریہ رضویہ ، سکھر ، ص۱۰۱
حاشیۃ الحفنی علی الجامع الصغیر علٰی ہامش السراج المنیر المطبعۃ الازہریۃ المصریۃ ، مصر ، ۲ / ۶۳
للامام النووی والذی رأیتہ فی منھاجہ ماقدمت فحسب۔ (ن کی رمز امام نووی کی طرف ہے)اور جو میں نے ان کی کتاب منہاج میں دیکھا وہ میں نے پہلے بیان کردیا ہے اور بس۔ ت)
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
قبل من امتہ التوبۃ بمجرد الاستغفار زاد میرك بخلاف الامم السابقۃ واستدل بقولہ تعالی فاستغفروا اﷲ واستغفرلھم الرسول الآیۃ وقد اقرہ العلامۃ القاری فی المرقاۃ وفی شرح الشفاء و شدد النکیر علیہ فی جمع الوسائل شرح الشمائل فقال ھذا قول لم یقل بہ احد من العلماء فہو خلاف الامۃ وقد قال وارکان التوبۃ علی ما قالہ العلماء ثلثۃ الندم والقلع والعزم علی ان لا یعود ولا احد جعل الاستغفار اللسانی شرطا للتوبۃ الخ اقول رحم اﷲ مولانا القاری این فی کلام الحنفی ومیرك ان التوبۃ لا تقبل الا بالاستغفار فضلا عن اشتراط الاستغفار باللسان انما ذکر ان مجرد الاستغفار کاف فی توبۃ ھذہ الامۃ من دون الزام امور اخر شاقۃ جدا کقتل الانفس وغیرہ مما الزمت بہ سے صرف استغفار پر توبہ قبول فرمائی اس پر میرك نے “ بخلاف الامم السابقہ “ کا اضافہ کیا انہوں نے دلیل میں اﷲ تعالی کا قول “ اﷲ تعالی سے استغفار کرو اور رسول ان کے لئے استغفار فرمائیں الآیۃ “ ذکر کیا علامہ قاری نے مرقات اور شرح شفاء میں اس کو ثابت رکھا جبکہ جمع الوسائل میں اس پر سخت اعتراض کیا اور کہا کہ یہ بات علماء میں سے کسی نے نہ کی تو یہ امت کے خلاف ہے اور فرمایا کہ توبہ کے ارکان علماء کے بیان کے مطابق تین ہیں ندامت اور چھوڑنا اور آئندہ نہ کرنے کا عزم اور کسی نے بھی زبانی استغفار کو توبہ کی شرط نہ کہا الخ اقول : (میں کہتا ہوں)اﷲ تعالی ملا علی قاری پر رحم فرمائے حنفی اور میرك کے کلام میں استغفار کے بغیر توبہ کا قبول نہ ہونا کہاں ہے چہ جائیکہ زبانی استغفار کی شرط ہو انہوں نے تو یوں کہا ہے کہ اس امت کی توبہ میں صرف استغفار کافی ہے دوسرے شاق امور لازم نہیں مثلا جانوروں کو قتل کرنا وغیرہ جو کچھ پہلی امتوں پر لازم کیا گیا
(باقی برصفحہ ائندہ)
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
قبل من امتہ التوبۃ بمجرد الاستغفار زاد میرك بخلاف الامم السابقۃ واستدل بقولہ تعالی فاستغفروا اﷲ واستغفرلھم الرسول الآیۃ وقد اقرہ العلامۃ القاری فی المرقاۃ وفی شرح الشفاء و شدد النکیر علیہ فی جمع الوسائل شرح الشمائل فقال ھذا قول لم یقل بہ احد من العلماء فہو خلاف الامۃ وقد قال وارکان التوبۃ علی ما قالہ العلماء ثلثۃ الندم والقلع والعزم علی ان لا یعود ولا احد جعل الاستغفار اللسانی شرطا للتوبۃ الخ اقول رحم اﷲ مولانا القاری این فی کلام الحنفی ومیرك ان التوبۃ لا تقبل الا بالاستغفار فضلا عن اشتراط الاستغفار باللسان انما ذکر ان مجرد الاستغفار کاف فی توبۃ ھذہ الامۃ من دون الزام امور اخر شاقۃ جدا کقتل الانفس وغیرہ مما الزمت بہ سے صرف استغفار پر توبہ قبول فرمائی اس پر میرك نے “ بخلاف الامم السابقہ “ کا اضافہ کیا انہوں نے دلیل میں اﷲ تعالی کا قول “ اﷲ تعالی سے استغفار کرو اور رسول ان کے لئے استغفار فرمائیں الآیۃ “ ذکر کیا علامہ قاری نے مرقات اور شرح شفاء میں اس کو ثابت رکھا جبکہ جمع الوسائل میں اس پر سخت اعتراض کیا اور کہا کہ یہ بات علماء میں سے کسی نے نہ کی تو یہ امت کے خلاف ہے اور فرمایا کہ توبہ کے ارکان علماء کے بیان کے مطابق تین ہیں ندامت اور چھوڑنا اور آئندہ نہ کرنے کا عزم اور کسی نے بھی زبانی استغفار کو توبہ کی شرط نہ کہا الخ اقول : (میں کہتا ہوں)اﷲ تعالی ملا علی قاری پر رحم فرمائے حنفی اور میرك کے کلام میں استغفار کے بغیر توبہ کا قبول نہ ہونا کہاں ہے چہ جائیکہ زبانی استغفار کی شرط ہو انہوں نے تو یوں کہا ہے کہ اس امت کی توبہ میں صرف استغفار کافی ہے دوسرے شاق امور لازم نہیں مثلا جانوروں کو قتل کرنا وغیرہ جو کچھ پہلی امتوں پر لازم کیا گیا
(باقی برصفحہ ائندہ)
حوالہ / References
مرقات المفاتیح کتاب الفضائل باب اسماء النبی وصفاتہ الخ مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ، ۱۰ / ۵۰ ، جمع الوسائل فی شرح الشمائل ، باب ما جاء اسماء رسول صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم دارالمعرفۃ ، بیروت ، ۲ / ۱۸۳
جمع الوسائل فی شرح الشمائل ، باب ما جاء اسماء رسول صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم دارالمعرفۃ ، بیروت ، ۲ / ۱۸۳
جمع الوسائل فی شرح الشمائل ، باب ما جاء اسماء رسول صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم دارالمعرفۃ ، بیروت ، ۲ / ۱۸۳
(۱۱)وہ خود کثیر التوبہ ہیں صحیح بخاری میں ہے : میں روز اﷲ سبحانہ سے سو بار استغفار کرتاہوں۔ شرح الشفا و المرقاۃ واللمعات والمجمع برمز(ط)للطیبی والزرقانی ہر ایك کی توبہ اس کے لائق ہے حسنات الابرار سیات المقربین (نیکوں کی خوبیاں مقربین کے گناہ ہیں۔ ت)حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ہر آن ترقی مقامات قرب و مشاہدہ میں ہیں۔ “ و للاخرۃ خیر لک من الاولی ﴿۴﴾ “ (آپ کے لئے ہر پہلی ساعت سے دوسری افضل ہے۔ ت)جب ایك مقام اجل واعلی پر ترقی فرماتے گزشتہ مقام کو بہ نسبت اس کے ایك نوع تقصیر تصور فرما کر اپنے رب کے حضور توبہ واستغفار لاتے تو وہ ہمیشہ ترقی اور ہمیشہ
الامم السابقۃ فلا تشم منہ رائحۃ اشتراط الاستغفار لمطلق التوبۃ وان امعنت النظر لم تجد فیہ خلا فالحدیث الارکان ایضا فان الاستغفار الصادق لا ینشؤا الاعن ندم صحیح والندم الصحیح یلزمہ الاقلاع وعزم الترک ولذا صح عنہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم قولہ الندم توبۃ علا ان المقصود الحصر بالنسبۃ الی ما کان علی الامم السابقۃ من الامرثم ھذا کلہ لا مساغ لہ فی تقریرا لوجہ بما قررنا کما تری فاعرف ۱۲ منہ۔ اس سے مطلق توبہ کے لئے استغفار کی شرط کی بو تك محسوس نہیں ہوتی اگر آپ گہری نظر سے دیکھیں تو اس میں آپ کوئی خلاف نہ پائیں گے کہ سچی استغفار کا وجود سچی ندامت کے بغیر نہیں ہوسکتا کیونکہ صحیح ندامت کو گناہ کا ختم کرنا اور اس کے ترك کا عزم لازم ہے اسی معنی میں حضورصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے صحیح منقول ہے کہ ندامت توبہ ہے اس کے علاوہ ان کا مقصد پہلی امتوں پر لازم امور کی نسبت سے حصر کرنا ہے پھر اس وجہ کی تقریر میں اس تمام بیان کا کوئی دخل نہیں ہے جس کی ہم نے تقریر کی جیسا کہ آپ اسے دیکھ رہے ہیں غور کرو ۱۲ منہ۔ (ت)
الامم السابقۃ فلا تشم منہ رائحۃ اشتراط الاستغفار لمطلق التوبۃ وان امعنت النظر لم تجد فیہ خلا فالحدیث الارکان ایضا فان الاستغفار الصادق لا ینشؤا الاعن ندم صحیح والندم الصحیح یلزمہ الاقلاع وعزم الترک ولذا صح عنہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم قولہ الندم توبۃ علا ان المقصود الحصر بالنسبۃ الی ما کان علی الامم السابقۃ من الامرثم ھذا کلہ لا مساغ لہ فی تقریرا لوجہ بما قررنا کما تری فاعرف ۱۲ منہ۔ اس سے مطلق توبہ کے لئے استغفار کی شرط کی بو تك محسوس نہیں ہوتی اگر آپ گہری نظر سے دیکھیں تو اس میں آپ کوئی خلاف نہ پائیں گے کہ سچی استغفار کا وجود سچی ندامت کے بغیر نہیں ہوسکتا کیونکہ صحیح ندامت کو گناہ کا ختم کرنا اور اس کے ترك کا عزم لازم ہے اسی معنی میں حضورصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے صحیح منقول ہے کہ ندامت توبہ ہے اس کے علاوہ ان کا مقصد پہلی امتوں پر لازم امور کی نسبت سے حصر کرنا ہے پھر اس وجہ کی تقریر میں اس تمام بیان کا کوئی دخل نہیں ہے جس کی ہم نے تقریر کی جیسا کہ آپ اسے دیکھ رہے ہیں غور کرو ۱۲ منہ۔ (ت)
حوالہ / References
شرح الشفاء لعلی قاری علی ہامش نسیم الریاض ، فصل فی اسمائہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم دارالفکربیروت ، ۲ / ۳۹۳ ، مرقات المفاتیح کتاب الفضائل باب اسماء النبی صلی اﷲ علیہ وسلم وصفاتہ مکتبہ حبیبہ کوئٹہ ، ۱۰ / ۴۹ ، ۵۰
القرآن الکریم ۹۳ /۴
القرآن الکریم ۹۳ /۴
توبہ بے تقصیر میں ہیں صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم مطالع مع بعض زیادات منی
(۱۲)باب توبہ : انہیں کے امت کے آخر عہد میں باب توبہ بند ہوگا شرح الشفا للقاری اگلی نبوتوں میں اگر کوئی ایك نبی کے ہاتھ پر تائب نہ ہو تاکہ دوسرا نبی آئے اس کے ہاتھ پر توبہ لائے یہاں باب نبوت مسدود اور ختم ملت پر توبہ مفقود توجو ان کے دست اقدس پر توبہ نہ لائے اس کے لئے کہیں توبہ نہیں افادہ الفاسی وبہ استقام کونہ من وجود التسمی بھذا الاسم العلی السمی۔
(یہ فائدہ علامہ فاسی نے بیان کیا اور اس معنی کی بناء پر آپ کی ذات مبارکہ کا اس نام سے مسمی ہونا درست ہے۔ ت)
(۱۳)فاتح باب توبہ : وہ فاتح باب توبہ ہیں سب میں پہلے سیدنا آدم علیہ الصلوۃ والسلام نے توبہ کی وہ انہیں کے توسل سے تھی تو وہی اصل توبہ ہیں اور وہی وسیلہ توبہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم مطالع
(۱۴)کعب کا خون : وہ توبہ قبول کرنے والے ہیں ان کا دروازہ کرم توبہ و معذرت کرنے والوں کے لئے ہمیشہ مفتوح ہے جب سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے کعب بن زہیر رضی اللہ تعالی عنہکا خون ان کے زمانہ نصرانیت میں مباح فرمادیا ہے ان کے بھائی بجیربن زہیر رضی اللہ تعالی عنہنے انہیں لکھا فطر الیہ فانہ لا یرد من جاء تائبا ان کے حضور اڑ کر آؤ جو ان کے سامنے تو بہ کرتا حاضر ہو یہ اسے کبھی رد نہیں فرماتے مطالع المسرات اسی بناء پر کعب رضی اللہ تعالی عنہجب حاضر ہوئے راہ میں قصیدہ نعتیہ بانت سعاد نظم کیا جس میں عرض رسا ہیں :
انبئت ان رسول اﷲ اوعدنی والعفو عند رسول اﷲ مامول
انی اتیت رسول اﷲ معتذرا والعذر عند رسول اﷲ مقبول
مجھے خبر پہنچی کہ رسول اﷲصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے میرے لئے سزا کا حکم فرمایا ہے اور رسول کے ہاں معافی کی امید کی جاتی ہے اور رسول اﷲصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے حضور معذرت کرتا حاضر ہوا اور رسول اﷲصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی
(۱۲)باب توبہ : انہیں کے امت کے آخر عہد میں باب توبہ بند ہوگا شرح الشفا للقاری اگلی نبوتوں میں اگر کوئی ایك نبی کے ہاتھ پر تائب نہ ہو تاکہ دوسرا نبی آئے اس کے ہاتھ پر توبہ لائے یہاں باب نبوت مسدود اور ختم ملت پر توبہ مفقود توجو ان کے دست اقدس پر توبہ نہ لائے اس کے لئے کہیں توبہ نہیں افادہ الفاسی وبہ استقام کونہ من وجود التسمی بھذا الاسم العلی السمی۔
(یہ فائدہ علامہ فاسی نے بیان کیا اور اس معنی کی بناء پر آپ کی ذات مبارکہ کا اس نام سے مسمی ہونا درست ہے۔ ت)
(۱۳)فاتح باب توبہ : وہ فاتح باب توبہ ہیں سب میں پہلے سیدنا آدم علیہ الصلوۃ والسلام نے توبہ کی وہ انہیں کے توسل سے تھی تو وہی اصل توبہ ہیں اور وہی وسیلہ توبہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم مطالع
(۱۴)کعب کا خون : وہ توبہ قبول کرنے والے ہیں ان کا دروازہ کرم توبہ و معذرت کرنے والوں کے لئے ہمیشہ مفتوح ہے جب سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے کعب بن زہیر رضی اللہ تعالی عنہکا خون ان کے زمانہ نصرانیت میں مباح فرمادیا ہے ان کے بھائی بجیربن زہیر رضی اللہ تعالی عنہنے انہیں لکھا فطر الیہ فانہ لا یرد من جاء تائبا ان کے حضور اڑ کر آؤ جو ان کے سامنے تو بہ کرتا حاضر ہو یہ اسے کبھی رد نہیں فرماتے مطالع المسرات اسی بناء پر کعب رضی اللہ تعالی عنہجب حاضر ہوئے راہ میں قصیدہ نعتیہ بانت سعاد نظم کیا جس میں عرض رسا ہیں :
انبئت ان رسول اﷲ اوعدنی والعفو عند رسول اﷲ مامول
انی اتیت رسول اﷲ معتذرا والعذر عند رسول اﷲ مقبول
مجھے خبر پہنچی کہ رسول اﷲصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے میرے لئے سزا کا حکم فرمایا ہے اور رسول کے ہاں معافی کی امید کی جاتی ہے اور رسول اﷲصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے حضور معذرت کرتا حاضر ہوا اور رسول اﷲصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی
حوالہ / References
مطالع المسرات ، ذکر اسماء النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ، مکتبہ نوریہ رضویہ ، فیصل آباد ، ص ۱۰۲
شرح الشفاء للعلی قاری علی ھامش نسیم الریاض فصل فی اسمائہ صلی اﷲ علیہ وسلم ، دارالفکر بیروت ، ۲ / ۳۹۳
مطالع المسرات ذکر اسماء النبی صلی اﷲ علیہ وسلم ، مکتبہ نوریہ رضویہ ، فیصل آباد ۱۰۱
مطالع المسرات ، ذکر اسماء النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ، مکتبہ نوریہ رضویہ ، فیصل آباد ، ص ۱۰۱
مطالع المسرات ، ذکر اسماء النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ، مکتبہ نوریہ رضویہ ، فیصل آباد ، ص ۱۰۲
المجموعۃ النبہانیۃ فی المدائح النبویۃ قصیدہ بانت سعاد لکعب بن زہیر رضی اﷲ تعالٰی عنہ ، دارالمعرفۃ ، بیروت۳ / ۶
شرح الشفاء للعلی قاری علی ھامش نسیم الریاض فصل فی اسمائہ صلی اﷲ علیہ وسلم ، دارالفکر بیروت ، ۲ / ۳۹۳
مطالع المسرات ذکر اسماء النبی صلی اﷲ علیہ وسلم ، مکتبہ نوریہ رضویہ ، فیصل آباد ۱۰۱
مطالع المسرات ، ذکر اسماء النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ، مکتبہ نوریہ رضویہ ، فیصل آباد ، ص ۱۰۱
مطالع المسرات ، ذکر اسماء النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ، مکتبہ نوریہ رضویہ ، فیصل آباد ، ص ۱۰۲
المجموعۃ النبہانیۃ فی المدائح النبویۃ قصیدہ بانت سعاد لکعب بن زہیر رضی اﷲ تعالٰی عنہ ، دارالمعرفۃ ، بیروت۳ / ۶
بارگاہ میں عذر دولت قبول پاتا ہے۔
توراۃ مقدس میں ہے : لایجزئ بالسیئۃ السیئۃ ولکن یعفو ویغفر احمدصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بدی کا بدلہ بدی نہ دیں گے بلکہ بخش دیں گے اور مغفرت فرمائیں گے رواہ البخاری عن عبداﷲ بن عمرو والدارمی وابن سعد وعسا کر عن ابن عباس والاخیر عن عبداﷲ بن سلام وابن ابی حاتم عن وھب بن منبہ وابونعیم عن کعب الاحبار رضی اﷲ تعالی عنہم اجمعین۔
اس کو بخاری نے عبداﷲ بن عمرو اور دارمی ابن سعد اور ابن عساکر نے ابن عباس سے اور آخری نے عبداﷲ بن سلام سے ابن ابی حاتم نے وہب بن منبہ سے اور ابو نعیم نے کعب الاحبار رضی اﷲ تعالی عنہم اجمعین سے روایت کیا۔ ت۔ ولہذا حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے اسمائے طیبہ ہیں عفو غفور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔
(۱۵)نبی توبہ : اقول : وہ نبی توبہ ہیں بندوں کو حکم ہے کہ ان کی بارگاہ میں حاضر ہو کر توبہ و استغفار کریں اﷲ تو ہر جگہ سنتا ہے اس کا علم اس کا سمع اس کا شہود سب جگہ ایك سا ہے مگر حکم یہی فرمایا کہ میری طرف توبہ چاہو تو میرے محبوب کے حضور حاضر ہو۔ قال تعالی :
ولو انہم اذ ظلموا انفسہم جاءوک فاستغفروا اللہ واستغفر لہم الرسول لوجدوا اللہ توابا رحیما ﴿۶۴﴾ اپنی جانوں پر ظلم کریں تیرے پاس حاضر ہو کر خدا سے بخشش چاہیں اور رسول ان کی مغفرت مانگے تو ضرور خدا کو توبہ قبول کرنے والا مہربان پائیں۔
حضور کے عالم حیات ظاہری میں حضور ظاہر تھا اب حضور مزار پر انوار ہے اور جہاں یہ بھی میسر نہ ہو تو دل سے حضور پر نور کی طرف توجہ حضور سے توسل فریاد استغاثہ طلب شفاعت کہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اب بھی ہر مسلمان کے گھر میں جلوہ فرما ہیں ملا علی قاری علیہ رحمۃ الباری شرح شفا شریف میں فرماتے ہیں :
روح النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم حاضرۃ فی بیوت اھل الاسلام نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ہر مسلمان کے گھر میں جلوہ فرما ہیں۔
توراۃ مقدس میں ہے : لایجزئ بالسیئۃ السیئۃ ولکن یعفو ویغفر احمدصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بدی کا بدلہ بدی نہ دیں گے بلکہ بخش دیں گے اور مغفرت فرمائیں گے رواہ البخاری عن عبداﷲ بن عمرو والدارمی وابن سعد وعسا کر عن ابن عباس والاخیر عن عبداﷲ بن سلام وابن ابی حاتم عن وھب بن منبہ وابونعیم عن کعب الاحبار رضی اﷲ تعالی عنہم اجمعین۔
اس کو بخاری نے عبداﷲ بن عمرو اور دارمی ابن سعد اور ابن عساکر نے ابن عباس سے اور آخری نے عبداﷲ بن سلام سے ابن ابی حاتم نے وہب بن منبہ سے اور ابو نعیم نے کعب الاحبار رضی اﷲ تعالی عنہم اجمعین سے روایت کیا۔ ت۔ ولہذا حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے اسمائے طیبہ ہیں عفو غفور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔
(۱۵)نبی توبہ : اقول : وہ نبی توبہ ہیں بندوں کو حکم ہے کہ ان کی بارگاہ میں حاضر ہو کر توبہ و استغفار کریں اﷲ تو ہر جگہ سنتا ہے اس کا علم اس کا سمع اس کا شہود سب جگہ ایك سا ہے مگر حکم یہی فرمایا کہ میری طرف توبہ چاہو تو میرے محبوب کے حضور حاضر ہو۔ قال تعالی :
ولو انہم اذ ظلموا انفسہم جاءوک فاستغفروا اللہ واستغفر لہم الرسول لوجدوا اللہ توابا رحیما ﴿۶۴﴾ اپنی جانوں پر ظلم کریں تیرے پاس حاضر ہو کر خدا سے بخشش چاہیں اور رسول ان کی مغفرت مانگے تو ضرور خدا کو توبہ قبول کرنے والا مہربان پائیں۔
حضور کے عالم حیات ظاہری میں حضور ظاہر تھا اب حضور مزار پر انوار ہے اور جہاں یہ بھی میسر نہ ہو تو دل سے حضور پر نور کی طرف توجہ حضور سے توسل فریاد استغاثہ طلب شفاعت کہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اب بھی ہر مسلمان کے گھر میں جلوہ فرما ہیں ملا علی قاری علیہ رحمۃ الباری شرح شفا شریف میں فرماتے ہیں :
روح النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم حاضرۃ فی بیوت اھل الاسلام نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ہر مسلمان کے گھر میں جلوہ فرما ہیں۔
حوالہ / References
صحیح البخاری کتاب البیوع باب کراھیۃ الصخب فی السوق ، قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۲۸۵ ، سنن دارمی باب صفۃ النبی صلی اﷲ علیہ وسلم ، دارالمحاسن بیروت ۱ / ۱۵
القرآن الکریم ۴ /۶۴
شرح شفاء للقاری علی ہامش نسیم الریاض ، الباب الرابع من القسم الثانی ، مطبعۃ الازہر یۃ المصریۃ ، مصر ۳ / ۴۶۴
القرآن الکریم ۴ /۶۴
شرح شفاء للقاری علی ہامش نسیم الریاض ، الباب الرابع من القسم الثانی ، مطبعۃ الازہر یۃ المصریۃ ، مصر ۳ / ۴۶۴
(۱۶)وہ مفیض توبہ ہیں توبہ لیتے بھی یہی ہیں اور دیتے بھی یہی یہ توبہ نہ دیں تو کوئی توبہ نہ کرسکے توبہ ایك نعمت عظمی بلکہ اجل نعم ہے اور نصوص متواترہ اولیائے کرام وعلمائے اعلام سے مبرہن ہوچکا کہ ہر نعمت قلیل یا کثیر صغیر یا کبیر جسمانی یا روحانی دینی یا دنیوی ظاہری یا باطنی روز اول سے اب تک اب سے قیامت تک قیامت سے آخرت آخرت سے ابد تک مومن یا کافر مطیع یا فاجر ملك یا انسان جن یا حیوان بلکہ تمام ماسوا اﷲ میں جسے جو کچھ ملی یا ملتی ہے یا ملے گی اس کی کلی انہیں کے صبائے کرم سے کھلی اور کھلتی ہے اور کھلے گی انہیں کے ہاتھوں پر بٹی اور بٹتی ہے یہ سرا لو جو دواصل الوجود وخلیفۃ اﷲ الاعظم وولی نعمت عالم ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یہ خود فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم :
انا ابوالقاسم اﷲ یعطی وانا اقسم فــــــ رواہ الحاکم فی المستدرك وصححہ واقرہ الناقدون۔ میں ابوالقاسم ہوں اﷲ دیتا ہے اور میں تقسیم کرتا ہوں۔ (اسے حاکم نے مستدرك میں روایت کیا اور اس کی تصحیح کی اور تحقیق کرنے والوں نے اسے ثابت رکھا ہے۔ ت)
ان کا رب اﷲ عزوجل فرماتا ہے :
“ وما ارسلنک الا رحمۃ للعلمین ﴿۱۰۷﴾ “ ہم نے نہ بھیجا تمہیں مگر رحمت سارے جہان کے لئے۔
فقیر غفر اﷲ تعالی لہ نے اس جا نفزا وایمان افروز ودشمن گزا وشیطان سوز بحث کی تفصیل جلیل اور اس پر نصوص قاہرہ کثیرہ وافر کی تکثیر جمیل اپنے رسالہ مبارکہ سلطنت المصطفی فی ملکوت الوری۱۳۹۷ھ میں ذکر کی والحمد ﷲ رب العلمین۔
(۱۷)اقول : وہ نبی توبہ ہیں کہ گناہوں سے ان کی طرف توبہ کی جاتی ہے توبہ میں انکا نام نام پاك نام جلالت حضرت عزت جلالہ کے ساتھ لیا جاتا ہے کہ میں اﷲ و رسول کی طرف توبہ کرتا ہوں جل جلالہ وصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔ صحیح بخاری وصحیح مسلم شریف میں ہے ام المؤمنین صدیقہ رضی اﷲ تعالی عنہا نے عرض کی :
یا رسول اﷲ اتوب الی اﷲ والی رسولہ ما ذا اذنبت یا رسول اﷲ! میں اﷲ اور اﷲ کے رسول کی طرف توبہ کرتی ہوں مجھ سے کیا خطا ہوئی۔
انا ابوالقاسم اﷲ یعطی وانا اقسم فــــــ رواہ الحاکم فی المستدرك وصححہ واقرہ الناقدون۔ میں ابوالقاسم ہوں اﷲ دیتا ہے اور میں تقسیم کرتا ہوں۔ (اسے حاکم نے مستدرك میں روایت کیا اور اس کی تصحیح کی اور تحقیق کرنے والوں نے اسے ثابت رکھا ہے۔ ت)
ان کا رب اﷲ عزوجل فرماتا ہے :
“ وما ارسلنک الا رحمۃ للعلمین ﴿۱۰۷﴾ “ ہم نے نہ بھیجا تمہیں مگر رحمت سارے جہان کے لئے۔
فقیر غفر اﷲ تعالی لہ نے اس جا نفزا وایمان افروز ودشمن گزا وشیطان سوز بحث کی تفصیل جلیل اور اس پر نصوص قاہرہ کثیرہ وافر کی تکثیر جمیل اپنے رسالہ مبارکہ سلطنت المصطفی فی ملکوت الوری۱۳۹۷ھ میں ذکر کی والحمد ﷲ رب العلمین۔
(۱۷)اقول : وہ نبی توبہ ہیں کہ گناہوں سے ان کی طرف توبہ کی جاتی ہے توبہ میں انکا نام نام پاك نام جلالت حضرت عزت جلالہ کے ساتھ لیا جاتا ہے کہ میں اﷲ و رسول کی طرف توبہ کرتا ہوں جل جلالہ وصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔ صحیح بخاری وصحیح مسلم شریف میں ہے ام المؤمنین صدیقہ رضی اﷲ تعالی عنہا نے عرض کی :
یا رسول اﷲ اتوب الی اﷲ والی رسولہ ما ذا اذنبت یا رسول اﷲ! میں اﷲ اور اﷲ کے رسول کی طرف توبہ کرتی ہوں مجھ سے کیا خطا ہوئی۔
حوالہ / References
المستدرك للحاکم ، کتاب التاریخ ذکر اسماء النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم دارالفکربیروت ، ۲ / ۶۰۴
القرآن الکریم ۲۱ /۱۰۷
صحیح البخاری ، کتاب النکاح باب ھل یرجع اذا راٰی منکرًا فی الدعوۃ ، قدیمی کتب خانہ ، کراچی۔ ۲ / ۷۷۸
فــــــ : ہر نعمت ہر شخص کو نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے ملی اور ملتی ہے اور ملے گی۔
القرآن الکریم ۲۱ /۱۰۷
صحیح البخاری ، کتاب النکاح باب ھل یرجع اذا راٰی منکرًا فی الدعوۃ ، قدیمی کتب خانہ ، کراچی۔ ۲ / ۷۷۸
فــــــ : ہر نعمت ہر شخص کو نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے ملی اور ملتی ہے اور ملے گی۔
معجم کبیر میں حضرت ثوبان رضی اللہ تعالی عنہسے ہے ابوبکر صدیق وعمر فاروق وغیرہما چالیس اجلہ صحابہ کرام رضی اﷲ تعالی عنہم حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی طرف کھڑے ہو کر ہاتھ پھیلا کر لرزتے کا نپتے حضور سے عرض کی :
تبنا الی اﷲ والی رسولہ ہم اﷲ اور اس کے رسول کی طرف توبہ کرتے ہیں۔
فقیر نے یہ حدیثیں مع جلیل و نفیس بحثیں اپنے رسالہ مبارکہ الامن والعلی لناعتی المصطفی بدافع البلاء میں ذکر کیں۔ اقول : توبہ کے معنی ہیں نافرمانی سے باز آنا جس کی معصیت کی ہے اس سے عہد اطاعت کی تجدید کر کے اسے راضی کرنا اور نص قطعی قرآن سے ثابت کہ اﷲ عزوجل کا ہر گنہگار حضور سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا گنہگار ہے۔ قال اﷲ تعالی :
“ من یطع الرسول فقد اطاع اللہ “
ویلز مہ عکس النقیض من لم یطع اﷲ لم یطع الرسول وھو معنی قولنا من عصی اﷲ فقد عصی الرسول۔ جس نے رسول کی اطاعت کی اس نے اﷲ کی اطاعت کی۔
اس کو عکس نقیض من لم یطع اﷲ لم یطع الرسول لازم ہے اور ہمارے قول “ من عصی اﷲ فقد عصی الرسول “ کا یہی معنی ہے۔ (ت)
اور قرآن عظیم حکم دیتا ہے کہ اﷲ و رسول کو راضی کرو۔ قال اﷲ تعالی :
“ واللہ ورسولہ احق ان یرضوہ ان کانوا مؤمنین ﴿۶۲﴾ “
نسأل اﷲ الایمان والامن والامان و رضا ہ ورضی رسولہ الکریم علیہ و علی الہ الصلوۃ والتسلیم۔ سب سے زیادہ راضی کرنے کے مستحق اﷲ ورسول ہیں اگر یہ لوگ ایمان رکھتے ہیں۔
ہم اﷲ تعالی سے ایمان امن وامان اس کی رضا اس کے رسول کریم کی رضا چاہتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ الصلوۃ والتسلیم۔ (ت)
یہ نفیس فوائد کہ استطرادا زبان پر آگئے قابل حفظ ہیں کہ اس رسالے کے غیر میں نہ ملیں گے یوں تو ع
تبنا الی اﷲ والی رسولہ ہم اﷲ اور اس کے رسول کی طرف توبہ کرتے ہیں۔
فقیر نے یہ حدیثیں مع جلیل و نفیس بحثیں اپنے رسالہ مبارکہ الامن والعلی لناعتی المصطفی بدافع البلاء میں ذکر کیں۔ اقول : توبہ کے معنی ہیں نافرمانی سے باز آنا جس کی معصیت کی ہے اس سے عہد اطاعت کی تجدید کر کے اسے راضی کرنا اور نص قطعی قرآن سے ثابت کہ اﷲ عزوجل کا ہر گنہگار حضور سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا گنہگار ہے۔ قال اﷲ تعالی :
“ من یطع الرسول فقد اطاع اللہ “
ویلز مہ عکس النقیض من لم یطع اﷲ لم یطع الرسول وھو معنی قولنا من عصی اﷲ فقد عصی الرسول۔ جس نے رسول کی اطاعت کی اس نے اﷲ کی اطاعت کی۔
اس کو عکس نقیض من لم یطع اﷲ لم یطع الرسول لازم ہے اور ہمارے قول “ من عصی اﷲ فقد عصی الرسول “ کا یہی معنی ہے۔ (ت)
اور قرآن عظیم حکم دیتا ہے کہ اﷲ و رسول کو راضی کرو۔ قال اﷲ تعالی :
“ واللہ ورسولہ احق ان یرضوہ ان کانوا مؤمنین ﴿۶۲﴾ “
نسأل اﷲ الایمان والامن والامان و رضا ہ ورضی رسولہ الکریم علیہ و علی الہ الصلوۃ والتسلیم۔ سب سے زیادہ راضی کرنے کے مستحق اﷲ ورسول ہیں اگر یہ لوگ ایمان رکھتے ہیں۔
ہم اﷲ تعالی سے ایمان امن وامان اس کی رضا اس کے رسول کریم کی رضا چاہتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ الصلوۃ والتسلیم۔ (ت)
یہ نفیس فوائد کہ استطرادا زبان پر آگئے قابل حفظ ہیں کہ اس رسالے کے غیر میں نہ ملیں گے یوں تو ع
حوالہ / References
المعجم الکبیر ، حدیث ۱۴۲۳ ، المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ، ۲ / ۹۵و ۹۶
القرآن الکریم ۴ /۸۰
القرآن الکریم ۹ /۶۲
القرآن الکریم ۴ /۸۰
القرآن الکریم ۹ /۶۲
ہر گلے را رنگ و بوئے دیگر ست
(ہر پھول کا رنگ و خوشبو علیحدہ ہے۔ ت)
مگر میں امید کرتا ہوں کہ فقیر کی یہ تین توجہیں اخیر بحمد اﷲ تعالی چیزے دیگر ہیں وباﷲ التوفیق۔
توبہ قبول کرنے والے نبی :
امام احمد وابن سعدوابن ابی شیبہ اور امام بخاری تاریخ اور ترمذی شمائل میں حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالی عنہسے راوی مدینہ طیبہ کے ایك راستے میں حضور سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم مجھے ملے ارشاد فرمایا :
انا محمد وانا احمد وانا نبی الرحمۃ ونبی التوبۃ وانا المقفی وانا الحاشر و نبی الملاحم میں محمد ہوں میں احمد ہوں میں رحمت کا نبی ہوں میں توبہ کا نبی ہوں میں سب میں آخر نبی ہوں میں حشر دینے والا ہوں میں جہادوں کا نبی ہوں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔
مالک لوائے احمد :
طبرانی معجم کبیر اور سعید بن منصور سنن میں حضرت جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالی عنہما سے راوی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
انا محمد وانا احمد وانا الحاشر الذی احشر الناس علی قدمی وانا ماحی الذی یمحوا اﷲ بی الکفر فاذا کان یوم القیمۃ کان لواء الحمدمعی وکنت امام المرسلین وصاحب شفاعتھم میں محمد ہوں میں احمد ہوں میں حاشر ہوں کہ لوگوں کو اپنے قدموں پر میں حشر دوں گا میں ماحی ہوں کہ اﷲ تعالی میرے سبب سے کفر کو محو فرماتا ہے قیامت کے دن لواء الحمد میرے ہاتھ میں ہوگا میں سب پیغمبروں کا امام اور ان کی شفاعتوں کا مالك ہوں گا صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔
اسمائے طیبہ خاتم و عاقب ومقفی تو معنی ختم نبوت میں نص صریح ہیں علماء فرماتے ہیں اسم پاك حاشر بھی اسی طرف ناظر۔ امام نووی شرح صحیح مسلم میں فرماتے ہیں :
قال العلماء معنا ھما(ای معنی روایتی قدمی بالتثنیۃ والافراد)یحشرون علی علماء نے فرمایا ان دونوں یعنی قدمی مفرد اور قدمی تثنیہ کا معنی یہ ہے کہ لوگوں کا حشر میرے پیچھے
(ہر پھول کا رنگ و خوشبو علیحدہ ہے۔ ت)
مگر میں امید کرتا ہوں کہ فقیر کی یہ تین توجہیں اخیر بحمد اﷲ تعالی چیزے دیگر ہیں وباﷲ التوفیق۔
توبہ قبول کرنے والے نبی :
امام احمد وابن سعدوابن ابی شیبہ اور امام بخاری تاریخ اور ترمذی شمائل میں حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالی عنہسے راوی مدینہ طیبہ کے ایك راستے میں حضور سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم مجھے ملے ارشاد فرمایا :
انا محمد وانا احمد وانا نبی الرحمۃ ونبی التوبۃ وانا المقفی وانا الحاشر و نبی الملاحم میں محمد ہوں میں احمد ہوں میں رحمت کا نبی ہوں میں توبہ کا نبی ہوں میں سب میں آخر نبی ہوں میں حشر دینے والا ہوں میں جہادوں کا نبی ہوں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔
مالک لوائے احمد :
طبرانی معجم کبیر اور سعید بن منصور سنن میں حضرت جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالی عنہما سے راوی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
انا محمد وانا احمد وانا الحاشر الذی احشر الناس علی قدمی وانا ماحی الذی یمحوا اﷲ بی الکفر فاذا کان یوم القیمۃ کان لواء الحمدمعی وکنت امام المرسلین وصاحب شفاعتھم میں محمد ہوں میں احمد ہوں میں حاشر ہوں کہ لوگوں کو اپنے قدموں پر میں حشر دوں گا میں ماحی ہوں کہ اﷲ تعالی میرے سبب سے کفر کو محو فرماتا ہے قیامت کے دن لواء الحمد میرے ہاتھ میں ہوگا میں سب پیغمبروں کا امام اور ان کی شفاعتوں کا مالك ہوں گا صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔
اسمائے طیبہ خاتم و عاقب ومقفی تو معنی ختم نبوت میں نص صریح ہیں علماء فرماتے ہیں اسم پاك حاشر بھی اسی طرف ناظر۔ امام نووی شرح صحیح مسلم میں فرماتے ہیں :
قال العلماء معنا ھما(ای معنی روایتی قدمی بالتثنیۃ والافراد)یحشرون علی علماء نے فرمایا ان دونوں یعنی قدمی مفرد اور قدمی تثنیہ کا معنی یہ ہے کہ لوگوں کا حشر میرے پیچھے
حوالہ / References
شمائل الترمذی مع جامع الترمذی باب ماجاء فی اسماء رسول اﷲ الخ نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ۲ / ۵۹۷ ، مسند احمد بن حنبل ، حدیث حضرت حذیفہ بن یمان رضی اﷲ عنہ ، دارالفکربیروت ، ۵ / ۴۰۵
المعجم الکبیر للطبرانی ، حدیث ۱۷۵۰ ، باب من اسمہ جابر بن عبداﷲ ، المکتبۃ الفیصلیہ بیروت ، ۲ / ۱۸۴
المعجم الکبیر للطبرانی ، حدیث ۱۷۵۰ ، باب من اسمہ جابر بن عبداﷲ ، المکتبۃ الفیصلیہ بیروت ، ۲ / ۱۸۴
اثری وزمان نبوتی ورسالتی ولیس بعدی نبی میری رسالت ونبوت کے زمانہ میں ہوگا اور میرے بعد کوئی نبی نہیں۔
تیسیر میں ہے :
ای علی اثر نوبتی ای زمنھا ای لیس بعدہ نبی (یعنی میری نبوت کے زمانہ کے بعد یعنی میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ ت)
جمع الوسائل میں ہے :
قال الجزری ای یحشر الناس علی اثر زمان نبوتی لیس بعدی نبی (جزری نے فرمایا یعنی لوگوں کا حشر میری نبوت کے زمانہ کے بعد ہوگا میرے بعد کوئی نبی نہ ہوگا۔ ت)
دس۱۰ اسمائے مبارکہ :
ابن مردویہ تفسیر اور ابو نعیم دلائل میں اور ابن عدی وابن عساکر ودیلمی حضرت ابو الطفیل رضی اﷲ تعالی عنہم سے راوی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
ان لی عشرۃ اسماء عند ربی انا محمد واحمد والفاتح والخاتم وابو القاسم والحاشر والعاقب والماحی ویس وطہ میرے رب کے یہاں میرے دس نام ہیں محمد و احمد وفاتح عالم ایجاد وخاتم نبوت وابو القاسم و حاشر و آخر الانبیاء وماحی کفر و یس و طہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔
ابن عدی کامل میں حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہسے راوی ان لی عند ربی عشرۃ اسماء میرے رب کے پاس میرے لیئے دس نام ہیں ازانجملہ محمد واحمد وماحی وحاشر وعاقب یعنی خاتم الانبیاء ورسول الرحمۃ ورسول التوبہ ورسول الملاحم ذکر کر کے فرمایا : وانا المقفی قفیت النبیین عامۃ وانا
تیسیر میں ہے :
ای علی اثر نوبتی ای زمنھا ای لیس بعدہ نبی (یعنی میری نبوت کے زمانہ کے بعد یعنی میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ ت)
جمع الوسائل میں ہے :
قال الجزری ای یحشر الناس علی اثر زمان نبوتی لیس بعدی نبی (جزری نے فرمایا یعنی لوگوں کا حشر میری نبوت کے زمانہ کے بعد ہوگا میرے بعد کوئی نبی نہ ہوگا۔ ت)
دس۱۰ اسمائے مبارکہ :
ابن مردویہ تفسیر اور ابو نعیم دلائل میں اور ابن عدی وابن عساکر ودیلمی حضرت ابو الطفیل رضی اﷲ تعالی عنہم سے راوی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
ان لی عشرۃ اسماء عند ربی انا محمد واحمد والفاتح والخاتم وابو القاسم والحاشر والعاقب والماحی ویس وطہ میرے رب کے یہاں میرے دس نام ہیں محمد و احمد وفاتح عالم ایجاد وخاتم نبوت وابو القاسم و حاشر و آخر الانبیاء وماحی کفر و یس و طہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔
ابن عدی کامل میں حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہسے راوی ان لی عند ربی عشرۃ اسماء میرے رب کے پاس میرے لیئے دس نام ہیں ازانجملہ محمد واحمد وماحی وحاشر وعاقب یعنی خاتم الانبیاء ورسول الرحمۃ ورسول التوبہ ورسول الملاحم ذکر کر کے فرمایا : وانا المقفی قفیت النبیین عامۃ وانا
حوالہ / References
شرح صحیح مسلم للنووی مع صحیح مسلم ، باب فی اسمائہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم قدیمی کتب خانہ ، کراچی ، ۲ / ۲۶۱
التیسیر شرح الجامع الصغیر تحت حدیث ان لی اسماء ، مکتبہ امام شافعی الریاض ، ۱ / ۳۴۳
جمع الوسائل فی شرح الشمائل باب ماجاء فی اسماء رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم دارالمعرفۃ بیروت ، ۲ / ۱۸۲
الکامل فی ضعفاء ، ترجمہ سیف بن وہب ، دارالفکر بیروت ، ۳ / ۱۲۷۳ ، دلائل النبوۃ لابی نعیم ، الفصل الثالث ، عالم الکتب بیروت ، ص۱۲ ، تہذیب تاریخ ابن عساکر ، باب معرفۃ اسمائہٖ الخ داراحیاء التراث العربی ، بیروت ، ۱ / ۲۷۵
التیسیر شرح الجامع الصغیر تحت حدیث ان لی اسماء ، مکتبہ امام شافعی الریاض ، ۱ / ۳۴۳
جمع الوسائل فی شرح الشمائل باب ماجاء فی اسماء رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم دارالمعرفۃ بیروت ، ۲ / ۱۸۲
الکامل فی ضعفاء ، ترجمہ سیف بن وہب ، دارالفکر بیروت ، ۳ / ۱۲۷۳ ، دلائل النبوۃ لابی نعیم ، الفصل الثالث ، عالم الکتب بیروت ، ص۱۲ ، تہذیب تاریخ ابن عساکر ، باب معرفۃ اسمائہٖ الخ داراحیاء التراث العربی ، بیروت ، ۱ / ۲۷۵
قثم (میں مقفی ہوں کہ تمام پیغمبروں کے بعد آیا اور میں کامل جامع ہوں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔ )
تنبیہ : یہ حدیث ابن عدی نے مولی علی وام المؤمنین صدیقہ واسامہ بن زید و عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالی عنہم سے بھی روایت کی
کما فی مطالع المسرات فان کان کلھا عاقب او مقف ونحوھما کانت خمسۃ احادیث۔ (جیسا کہ مطالع المسرات میں ہے تو اگر تمام میں عاقب یا مقف وغیر ہما ہوں تو پانچ احادیث ہوئیں۔ ت)
الحاشر و العاقب :
حاکم مستدرك میں بافادہ تصحیح حضرت عوف بن مالك رضی اللہ تعالی عنہسے راوی سید المرسلین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کنیسہ یہود میں تشریف لے گئے میں ہمرکاب تھا فرمایا اے گروہ یہود! مجھے بارہ آدمی دکھاؤ جو گواہی دینے والے ہوں کہ لا الہ الا اﷲ محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اﷲ عزوجل سب یہود سے اپنا غضب(یعنی جس میں وہ زمانہ موسی علیہ الصلوۃ والسلام سے گرفتار ہیں کہ “ وباءو بغضب من اللہ فبآءو بغضب علی غضب “ (اور خدا کے غضب میں لوٹے تو غضب پر غضب کے سزاوار ہوئے۔ ت)اٹھا لے گا یہود سن کر چپ رہے کسی نے جواب نہ دیا۔ حضور نے فرمایا :
ابیتم فواﷲ لانا الحاشروانا العاقب وانا النبی المصطفی امنتم اوکذبتم تم نے نہ مانا خدا کی قسم بیشك میں حاشر ہوں اور میں خاتم الانبیاء ہوں اور میں نبی مصطفی ہوں خواہ تم مانو یا نہ مانو۔
رسول جہاد :
ابن سعد مجاہد مکی سے مرسلا راوی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
انا محمد واحمد انا رسول الرحمۃ انا الملحمۃ انا المقفی والحاشر میں محمد واحمد ہوں میں رسول رحمت ہوں میں رسول جہاد ہوں میں خاتم الانبیا ہوں میں لوگوں کو حشر دینے والا ہوں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔
تنبیہ : یہ حدیث ابن عدی نے مولی علی وام المؤمنین صدیقہ واسامہ بن زید و عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالی عنہم سے بھی روایت کی
کما فی مطالع المسرات فان کان کلھا عاقب او مقف ونحوھما کانت خمسۃ احادیث۔ (جیسا کہ مطالع المسرات میں ہے تو اگر تمام میں عاقب یا مقف وغیر ہما ہوں تو پانچ احادیث ہوئیں۔ ت)
الحاشر و العاقب :
حاکم مستدرك میں بافادہ تصحیح حضرت عوف بن مالك رضی اللہ تعالی عنہسے راوی سید المرسلین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کنیسہ یہود میں تشریف لے گئے میں ہمرکاب تھا فرمایا اے گروہ یہود! مجھے بارہ آدمی دکھاؤ جو گواہی دینے والے ہوں کہ لا الہ الا اﷲ محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اﷲ عزوجل سب یہود سے اپنا غضب(یعنی جس میں وہ زمانہ موسی علیہ الصلوۃ والسلام سے گرفتار ہیں کہ “ وباءو بغضب من اللہ فبآءو بغضب علی غضب “ (اور خدا کے غضب میں لوٹے تو غضب پر غضب کے سزاوار ہوئے۔ ت)اٹھا لے گا یہود سن کر چپ رہے کسی نے جواب نہ دیا۔ حضور نے فرمایا :
ابیتم فواﷲ لانا الحاشروانا العاقب وانا النبی المصطفی امنتم اوکذبتم تم نے نہ مانا خدا کی قسم بیشك میں حاشر ہوں اور میں خاتم الانبیاء ہوں اور میں نبی مصطفی ہوں خواہ تم مانو یا نہ مانو۔
رسول جہاد :
ابن سعد مجاہد مکی سے مرسلا راوی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
انا محمد واحمد انا رسول الرحمۃ انا الملحمۃ انا المقفی والحاشر میں محمد واحمد ہوں میں رسول رحمت ہوں میں رسول جہاد ہوں میں خاتم الانبیا ہوں میں لوگوں کو حشر دینے والا ہوں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔
حوالہ / References
الکامل فی ضعفاء الرجال ترجمہ وہب بن وھب بن خیر بن عبداﷲ بن زہیر ، دارالفکر بیروت ، ۷ / ۲۵۲۷
القرآن الکریم ۲ /۶۱و۹۰
المستدرك للحاکم ، کتاب معرفۃ الصحابۃ ، مطبع دارالفکر بیروت ، ۳ / ۴۱۵
الطبقات الکبرٰی لابن سعد ذکر اسماء الرسول صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم دارصادر ، بیروت ، ۱ / ۱۰۵
القرآن الکریم ۲ /۶۱و۹۰
المستدرك للحاکم ، کتاب معرفۃ الصحابۃ ، مطبع دارالفکر بیروت ، ۳ / ۴۱۵
الطبقات الکبرٰی لابن سعد ذکر اسماء الرسول صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم دارصادر ، بیروت ، ۱ / ۱۰۵
نوع اخر :
“ ہو الاول و الاخر و الظہر و الباطن “
وہی ہیں اول وہی ہیں آخر وہی ہیں باطن وہی ہیں ظاھر
انہیں سے عالم کی ابتدا ہے وہی رسولوں کی انتہا ہیں
صحیحین میں ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہسے ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
نحن الاخرون السابقون یوم القیمۃ ہم زمانے میں سب سے پچھلے اور قیامت میں سب سے اگلے ہیں۔
مسلم وابن ماجہ ابوہریرہ وحذیفہ رضی اﷲ تعالی عنہما سے راوی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
نحن الاخرون من اھل الدنیا والاولون یوم القیمۃ المقضی لھم قبل الخلائق ۔ ہم دنیا میں سب کے بعد اور آخرت میں سب پر سابق ہیں تمام جہان سے پہلے ہمارے لئے حکم ہوگا۔
دارمی ابن مکتوم رضی اللہ تعالی عنہسے راوی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
ان اﷲ ادرك بی الاجل المرجوواختار نی اختیار افنحن الاخرون ونحن السابقون یوم القیمۃ ۔ بیشك اﷲ نے مجھے مدت اخیر وزمانہ انتظار پر پہنچایا اور مجھے چن کر پسند فرمایا تو ہمیں سب سے پچھلے اور ہمیں روز قیامت سب سے اگلے صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔
اس حدیث میں نسخ مختلف ہیں بعض میں یوں ہے :
ان اﷲ ادرك بی الاجل المرحوم و مجھے اﷲ عزوجل نے محض رحمت کے وقت پہنچایا اور
“ ہو الاول و الاخر و الظہر و الباطن “
وہی ہیں اول وہی ہیں آخر وہی ہیں باطن وہی ہیں ظاھر
انہیں سے عالم کی ابتدا ہے وہی رسولوں کی انتہا ہیں
صحیحین میں ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہسے ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
نحن الاخرون السابقون یوم القیمۃ ہم زمانے میں سب سے پچھلے اور قیامت میں سب سے اگلے ہیں۔
مسلم وابن ماجہ ابوہریرہ وحذیفہ رضی اﷲ تعالی عنہما سے راوی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
نحن الاخرون من اھل الدنیا والاولون یوم القیمۃ المقضی لھم قبل الخلائق ۔ ہم دنیا میں سب کے بعد اور آخرت میں سب پر سابق ہیں تمام جہان سے پہلے ہمارے لئے حکم ہوگا۔
دارمی ابن مکتوم رضی اللہ تعالی عنہسے راوی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
ان اﷲ ادرك بی الاجل المرجوواختار نی اختیار افنحن الاخرون ونحن السابقون یوم القیمۃ ۔ بیشك اﷲ نے مجھے مدت اخیر وزمانہ انتظار پر پہنچایا اور مجھے چن کر پسند فرمایا تو ہمیں سب سے پچھلے اور ہمیں روز قیامت سب سے اگلے صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔
اس حدیث میں نسخ مختلف ہیں بعض میں یوں ہے :
ان اﷲ ادرك بی الاجل المرحوم و مجھے اﷲ عزوجل نے محض رحمت کے وقت پہنچایا اور
حوالہ / References
القرآن الکریم ۵۷ /۳
صحیح البخاری ، کتاب الجمعہ ، باب فرض الجمعہ ، قدیمی کتب خانہ ، کراچی ، ۱ / ۱۲۰ ، صحیح مسلم ، کتاب الجمعہ ، باب فضیلۃ یوم الجمعۃ ، قدیمی کتب خانہ ، کراچی ، ۱ / ۲۸۲
صحیح مسلم ، کتاب الجمعہ ، باب فضیلۃ یوم الجمعۃ ، قدیمی کتب خانہ ، کراچی ، ۱ / ۲۸۲
کنز العمال بحوالہ الدارمی ، حدیث ۳۲۰۸۰ ، موسسۃ الرسالۃ ، بیروت ، ۱۱ / ۴۴۲
صحیح البخاری ، کتاب الجمعہ ، باب فرض الجمعہ ، قدیمی کتب خانہ ، کراچی ، ۱ / ۱۲۰ ، صحیح مسلم ، کتاب الجمعہ ، باب فضیلۃ یوم الجمعۃ ، قدیمی کتب خانہ ، کراچی ، ۱ / ۲۸۲
صحیح مسلم ، کتاب الجمعہ ، باب فضیلۃ یوم الجمعۃ ، قدیمی کتب خانہ ، کراچی ، ۱ / ۲۸۲
کنز العمال بحوالہ الدارمی ، حدیث ۳۲۰۸۰ ، موسسۃ الرسالۃ ، بیروت ، ۱۱ / ۴۴۲
اختصر لی اختصارا ۔ مجھے اﷲ عزوجل نے محض رحمت کے وقت پہنچایا اور میرے لئے کمال اختصار فرمایا۔
اس اختصار کی شرح و تفسیر پانچ وجہ منیر پر فقیر نے ۱۳۰۵ھ میں اپنے رسالہ تجلی الیقین بان نبینا سید المرسلین میں بیان کی۔
آخر زمان اور اولین یوم قیامت :
اسحق بن راہویہ مسند اور ابوبکر ابن ابی شیبہ استاذ بخاری و مسلم مصنف میں مکحول سے راوی امیر المؤمنین عمر رضی اللہ تعالی عنہکا ایك یہودی پر کچھ آتا تھا لینے کے لئے تشریف لے گئے اور فرمایا :
لا والذی اصطفی محمدا علی البشر لا افارقك قسم اس کی جس نے محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو تمام آدمیوں سے برگزیدہ کیا میں تجھے نہ چھوڑوں گا۔
یہودی بولا : واﷲ! خدا نے انہیں تمام بشر سے افضل نہ کیا امیر المؤمنین نے اسے تمانچہ مارا وہ بارگاہ رسالت میں نالشی آیا حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا : عمر! تم اس تمانچہ کے بدلے اسے راضی کردو(یعنی ذمی ہے)اورہاں اے یہودی! آدم صفی اﷲ ابراہیم خلیل اﷲ نوح نجی اﷲ موسی کلیم اﷲ عیسی روح اﷲ ہیں وانا حبیب اﷲ اور میں اﷲ کا پیارا ہوں ہاں اے یہودی! اﷲ نے اپنے دو ناموں پر میری امت کے نام رکھے اﷲ سلام ہے اور میری امت کا نام مسلمین رکھا اور اﷲ مومن ہے اور میری امت کو مومنین کا لقب دیا ہاں اے یہودی! تم زمانہ میں پہلے ہو ونحن الاخرون السابقون یوم القیمۃ اور ہم زمانے میں بعد اور روز قیامت میں سب سے پہلے ہیں ہاں ہاں جنت حرام ہے انبیاء پر جب تك میں اس میں جلوہ افروز نہ ہوؤں اور حرام ہے امتوں پر جب تك میری امت نہ داخل ہو صلی اﷲ تعالی علیك وعلیہم وسلم۔
دریائے رحمت :
بیہقی شعب الایمان میں ابو قلابہ سے مرسلا راوی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں : انما بعثت فاتحاوخاتما میں بھیجا گیا دریائے رحمت کھولتا اور نبوت ورسالت ختم کر تا ہوا۔
آخرین بعثت :
ابن ابی حاتم و بغوی وثعلبی تفاسیر اور ابو اسحق جوزجانی تاریخ اور ابو نعیم دلائل میں بطریق عدیدہ عن قتادۃ عن الحسن عن ابی ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہمسندا اور
اس اختصار کی شرح و تفسیر پانچ وجہ منیر پر فقیر نے ۱۳۰۵ھ میں اپنے رسالہ تجلی الیقین بان نبینا سید المرسلین میں بیان کی۔
آخر زمان اور اولین یوم قیامت :
اسحق بن راہویہ مسند اور ابوبکر ابن ابی شیبہ استاذ بخاری و مسلم مصنف میں مکحول سے راوی امیر المؤمنین عمر رضی اللہ تعالی عنہکا ایك یہودی پر کچھ آتا تھا لینے کے لئے تشریف لے گئے اور فرمایا :
لا والذی اصطفی محمدا علی البشر لا افارقك قسم اس کی جس نے محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو تمام آدمیوں سے برگزیدہ کیا میں تجھے نہ چھوڑوں گا۔
یہودی بولا : واﷲ! خدا نے انہیں تمام بشر سے افضل نہ کیا امیر المؤمنین نے اسے تمانچہ مارا وہ بارگاہ رسالت میں نالشی آیا حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا : عمر! تم اس تمانچہ کے بدلے اسے راضی کردو(یعنی ذمی ہے)اورہاں اے یہودی! آدم صفی اﷲ ابراہیم خلیل اﷲ نوح نجی اﷲ موسی کلیم اﷲ عیسی روح اﷲ ہیں وانا حبیب اﷲ اور میں اﷲ کا پیارا ہوں ہاں اے یہودی! اﷲ نے اپنے دو ناموں پر میری امت کے نام رکھے اﷲ سلام ہے اور میری امت کا نام مسلمین رکھا اور اﷲ مومن ہے اور میری امت کو مومنین کا لقب دیا ہاں اے یہودی! تم زمانہ میں پہلے ہو ونحن الاخرون السابقون یوم القیمۃ اور ہم زمانے میں بعد اور روز قیامت میں سب سے پہلے ہیں ہاں ہاں جنت حرام ہے انبیاء پر جب تك میں اس میں جلوہ افروز نہ ہوؤں اور حرام ہے امتوں پر جب تك میری امت نہ داخل ہو صلی اﷲ تعالی علیك وعلیہم وسلم۔
دریائے رحمت :
بیہقی شعب الایمان میں ابو قلابہ سے مرسلا راوی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں : انما بعثت فاتحاوخاتما میں بھیجا گیا دریائے رحمت کھولتا اور نبوت ورسالت ختم کر تا ہوا۔
آخرین بعثت :
ابن ابی حاتم و بغوی وثعلبی تفاسیر اور ابو اسحق جوزجانی تاریخ اور ابو نعیم دلائل میں بطریق عدیدہ عن قتادۃ عن الحسن عن ابی ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہمسندا اور
حوالہ / References
سنن الدارمی باب ۸ ، ما اعطی النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم من الفضل ، دارالمحاسن ، للطباعۃ مصر ، ۱ / ۳۲
المصنف لابن ابی شیبہ ، کتاب الفضائل ، حدیث ۱۱۸۵۱ ، ادارۃ القرآن والعلوم اسلامیہ ، کراچی ، ۱۱ / ۵۱۱
بیہقی شعب الایمان ، حدیث ۵۲۰۲ ، دارالکتب العلمیہ ، بیروت ، ۴ / ۳۰۸
المصنف لابن ابی شیبہ ، کتاب الفضائل ، حدیث ۱۱۸۵۱ ، ادارۃ القرآن والعلوم اسلامیہ ، کراچی ، ۱۱ / ۵۱۱
بیہقی شعب الایمان ، حدیث ۵۲۰۲ ، دارالکتب العلمیہ ، بیروت ، ۴ / ۳۰۸
ابن سعد طبقات اور ابن لال مکارم الاخلاق میں قتادہ سے مرسلا راوی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے آیہ کریمہ “ و اذ اخذنا من النبین میثقہم و منک و من نوح و ابرہیم و موسی و عیسی ابن مریم ۪ “ کی تفسیر میں فرمایا :
کنت اول النبیین فی الخلق واخرھم فی البعث میں سب نبیوں سے پہلے پیدا ہوا اور سب کے بعد بھیجا گیا۔
قتادہ نے کہا : فبداء بی قبلھم۔ اسی لئے رب العزت تبارك و تعالی نے آیہ کریمہ میں انبیائے سابقین سے پہلے حضور پر نور کا نام پاك لیا صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم
تذییل :
ابو سہل قطان اپنے امالی میں سہل بن صالح ہمدانی سے راوی میں نے حضرت سیدنا امام باقر رضی اللہ تعالی عنہسے پوچھا : نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم تو سب انبیاء کے بعد مبعوث ہوئے حضور کو سب پر تقدم کیونکر ہوا فرمایا :
ان اﷲ تعالی لما اخذ من بنی ادم من ظہور ھم ذریاتھم واشہد ھم علی انفسھم الست بربکم کان محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اول من قال بلی ولذلك صار یتقدم الانبیاء وھو اخر یبعث جب اﷲ تعالی نے آدمیوں کی پیٹھوں سے ان کی اولادیں روز میثاق نکالیں اور انہیں خود ان پر گواہ بنانے کو فرمایا کیا میں تمہارا رب نہیں تو سب سے پہلے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے کلمہ بلی عرض کیا کہ ہاں کیوں نہیں اس وجہ سے نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو سب انبیاء پر تقدم ہوا حالانکہ حضور سب کے بعد مبعوث ہوئے صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔
حضرت فاروق کا طریق ندا و خطاب بعد از وصال :
شفا شریف امام قاضی عیاض و احیا ء العلوم امام حجۃ الاسلام ومدخل امام ابن الحاج واقتباس الانوار علامہ ابو عبداﷲ محمد بن علی رشاطی وشرح البردہ ابو العباس قصار و مواہب لدنیہ امام قسطلانی وغیرہا کتب معتمدین میں ہے امیر المؤمنین عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہنے بعد وفات
کنت اول النبیین فی الخلق واخرھم فی البعث میں سب نبیوں سے پہلے پیدا ہوا اور سب کے بعد بھیجا گیا۔
قتادہ نے کہا : فبداء بی قبلھم۔ اسی لئے رب العزت تبارك و تعالی نے آیہ کریمہ میں انبیائے سابقین سے پہلے حضور پر نور کا نام پاك لیا صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم
تذییل :
ابو سہل قطان اپنے امالی میں سہل بن صالح ہمدانی سے راوی میں نے حضرت سیدنا امام باقر رضی اللہ تعالی عنہسے پوچھا : نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم تو سب انبیاء کے بعد مبعوث ہوئے حضور کو سب پر تقدم کیونکر ہوا فرمایا :
ان اﷲ تعالی لما اخذ من بنی ادم من ظہور ھم ذریاتھم واشہد ھم علی انفسھم الست بربکم کان محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اول من قال بلی ولذلك صار یتقدم الانبیاء وھو اخر یبعث جب اﷲ تعالی نے آدمیوں کی پیٹھوں سے ان کی اولادیں روز میثاق نکالیں اور انہیں خود ان پر گواہ بنانے کو فرمایا کیا میں تمہارا رب نہیں تو سب سے پہلے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے کلمہ بلی عرض کیا کہ ہاں کیوں نہیں اس وجہ سے نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو سب انبیاء پر تقدم ہوا حالانکہ حضور سب کے بعد مبعوث ہوئے صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔
حضرت فاروق کا طریق ندا و خطاب بعد از وصال :
شفا شریف امام قاضی عیاض و احیا ء العلوم امام حجۃ الاسلام ومدخل امام ابن الحاج واقتباس الانوار علامہ ابو عبداﷲ محمد بن علی رشاطی وشرح البردہ ابو العباس قصار و مواہب لدنیہ امام قسطلانی وغیرہا کتب معتمدین میں ہے امیر المؤمنین عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہنے بعد وفات
حوالہ / References
تفسیر ابن ابی حاتم تحت آیۃ واذ اخذنا من النبیین الخ حدیث ۱۷۵۹۴ مکتبہ نزار مصطفی الباز مکہ المکرمۃ ۹ / ۳۱۱۶ ، تفسیر نبوی المعروف معالم التنزیل علی ہامش الخازن ، تحت آیۃ واذا خذنا من النبیین الخ مصطفی البابی الحلبی مصر ۵ / ۲۳۲
الخصائص الکبرٰی بحوالہ ابی سہل باب خصوصیۃ النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بکونہ اول النبیین فی الخلق ، دارالکتب الحدیثہ بعابدین ۱ / ۹
الخصائص الکبرٰی بحوالہ ابی سہل باب خصوصیۃ النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بکونہ اول النبیین فی الخلق ، دارالکتب الحدیثہ بعابدین ۱ / ۹
حضور سید الکائنات علیہ افضل الصلوۃ والتحیات جو فضائل عالیہ حضور پر نور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم حضور کو ندا و خطاب کر کے عرض کئے ہیں انہیں میں گزارش کرتے ہیں :
بابی انت وامی یا رسول اﷲ لقد بلغ من فضیلتك عند اﷲ ان بعثك اخر الانبیاء وذکرك فی اولھم فقال اﷲ تعالی
“ و اذ اخذنا من النبین میثقہم و منک و من نوح “ لایۃ۔ یارسول اﷲ! میرے ماں باپ حضور پر قربان حضور کی فضیلت اﷲ عزوجل کی بارگاہ میں اس حد کو پہنچی کہ حضور کو تمام انبیاء کے بعد بھیجا اور ان سب سے پہلے ذکر فرمایا کہ فرماتا ہے اور یادکر جب ہم نے پیغمبروں سے ان کا عہد لیا اور تجھ سے اے محبوب اور نوح وابراہیم و موسی وعیسی بن(مریم سے علیہم الصلوۃ والسلام۔ )
حضرت جبرائیل سلام کہتے ہیں :
علامہ محمد بن احمد بن محمدبن محمد بن ابی بکر بن مرذوق تلمسانی شرح شفاء شریف میں سیدنا عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے راوی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں : جبریل نے حاضر ہو کر مجھے یوں سلام کیا : السلام علیك یا ظاھر السلام علیك یا باطن۔ میں نے فرمایا : اے جبریل!یہ صفات تو اﷲ عزوجل کی ہیں کہ اسی کو لائق ہیں مجھ سی مخلوق کی کیونکر ہوسکتی ہیں جبریل نے عرض کی اﷲ تبارك و تعالی نے حضور کو ان صفات سے فضیلت دی اور تمام انبیاء و مرسلین پر ان سے خصوصیت بخشی اپنے نام وصف سے حضور کے نام و صف مشتق فرمائے۔
وسماك بالاول لانك اول الانبیاء خلقا وسماك بالاخر لانك اخر الانبیاء فی العصور خاتم الانبیاء الی اخر الامم۔ حضور کا اول نام رکھا کہ حضور سب انبیاء سے آفرینش میں مقدم ہیں اور حضور کا آخر نام رکھا کہ حضور سب پیغمبروں سے ز مانے میں مؤخر و خاتم الانبیاء و نبی امت آخرین ہیں۔
باطن نام رکھا کہ اس نے اپنے نام پاك کے ساتھ حضور کا نام نامی سنہرے نور سے ساق عرش پر آفرینش آدم علیہ الصلوۃ والسلام سے دو ہزار برس پہلے ابد تك لکھاپھر مجھے حضور پر درود بھیجنے کا حکم دیا میں نے حضور پر ہزار سال درود بھیجا اور ہزار سال بھیجا یہاں تك کہ اﷲ تعالی نے حضور کو مبعوث کیاخوشخبری دیتا اور ڈرسناتا اور اﷲ کی طرف اس کے حکم سے بلاتا اور جگمگاتا سورج۔
بابی انت وامی یا رسول اﷲ لقد بلغ من فضیلتك عند اﷲ ان بعثك اخر الانبیاء وذکرك فی اولھم فقال اﷲ تعالی
“ و اذ اخذنا من النبین میثقہم و منک و من نوح “ لایۃ۔ یارسول اﷲ! میرے ماں باپ حضور پر قربان حضور کی فضیلت اﷲ عزوجل کی بارگاہ میں اس حد کو پہنچی کہ حضور کو تمام انبیاء کے بعد بھیجا اور ان سب سے پہلے ذکر فرمایا کہ فرماتا ہے اور یادکر جب ہم نے پیغمبروں سے ان کا عہد لیا اور تجھ سے اے محبوب اور نوح وابراہیم و موسی وعیسی بن(مریم سے علیہم الصلوۃ والسلام۔ )
حضرت جبرائیل سلام کہتے ہیں :
علامہ محمد بن احمد بن محمدبن محمد بن ابی بکر بن مرذوق تلمسانی شرح شفاء شریف میں سیدنا عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے راوی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں : جبریل نے حاضر ہو کر مجھے یوں سلام کیا : السلام علیك یا ظاھر السلام علیك یا باطن۔ میں نے فرمایا : اے جبریل!یہ صفات تو اﷲ عزوجل کی ہیں کہ اسی کو لائق ہیں مجھ سی مخلوق کی کیونکر ہوسکتی ہیں جبریل نے عرض کی اﷲ تبارك و تعالی نے حضور کو ان صفات سے فضیلت دی اور تمام انبیاء و مرسلین پر ان سے خصوصیت بخشی اپنے نام وصف سے حضور کے نام و صف مشتق فرمائے۔
وسماك بالاول لانك اول الانبیاء خلقا وسماك بالاخر لانك اخر الانبیاء فی العصور خاتم الانبیاء الی اخر الامم۔ حضور کا اول نام رکھا کہ حضور سب انبیاء سے آفرینش میں مقدم ہیں اور حضور کا آخر نام رکھا کہ حضور سب پیغمبروں سے ز مانے میں مؤخر و خاتم الانبیاء و نبی امت آخرین ہیں۔
باطن نام رکھا کہ اس نے اپنے نام پاك کے ساتھ حضور کا نام نامی سنہرے نور سے ساق عرش پر آفرینش آدم علیہ الصلوۃ والسلام سے دو ہزار برس پہلے ابد تك لکھاپھر مجھے حضور پر درود بھیجنے کا حکم دیا میں نے حضور پر ہزار سال درود بھیجا اور ہزار سال بھیجا یہاں تك کہ اﷲ تعالی نے حضور کو مبعوث کیاخوشخبری دیتا اور ڈرسناتا اور اﷲ کی طرف اس کے حکم سے بلاتا اور جگمگاتا سورج۔
حوالہ / References
المواہب اللدنیہ ، باب وفاتہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم مکتب الاسلامی ، بیروت ، ۴ / ۵۵۵
حضور کو ظاھر نام عطا فرمایا کہ اس نے حضور کو تمام دینوں پر ظہور و غلبہ دیا اور حضور کی شریعت و فضیلت کو تمام اہل سماوات وارض پر ظاہر و آشکارا کیا تو کوئی ایسا نہ رہا جس نے حضور پر نور پر درود نہ بھیجا ہو اﷲ حضور پر درود بھیجے۔
فربك محمود وانت محمد وربك الاول والاخر والظاھر والباطن وانت الاول والاخر والظاھر والباطن۔ پس حضور کا رب محمود ہے اور حضور محمد حضور کا رب اول وآخر وظاہر وباطن ہے اور حضور اول و آخر وظاہر و باطن ہیں۔
سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا :
الحمدﷲ الذی فضلنی علی جمیع النبیین حتی فی اسمی وصفتی۔
ذکرہ القاری فی شرح الشفاء فقال قد روی التلمسانی عن ابن عباس الخ۔
اقول : ظاھرہ انہ اخرجہ بسندہ فان الاسناد ماخوذ فی مفھوم الروایۃ کما قالہ الزرقانی فی شرح المواھب ولعل الظاھر ان فیہ تجریدا والمراد اورد وذکر اﷲ تعالی اعلم۔ سب خوبیاں اﷲ عزوجل کو جس نے مجھے تمام انبیاء پر فضیلت دی یہاں تك کہ میرے نام و صفت میں علی قاری نے شرح شفاء میں اس کا ذکر کیا اور فرمایا کہ تلمسانی نے ابن عباس سے روایت کیا الخ۔
اقول : (میں کہتا ہوں)اس کا ظاہر یہ ہے کہ اس کو انہوں نے اپنی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے کہ اسناد روایت کے مفہوم میں ماخوذ ہے جیسا کہ زرقانی نے شرح مواہب میں فرمایا ہوسکتا ہے کہ ظاہر اس میں تجرید ہو(اسناد ماخوذ نہ ہو)اور صرف وارد کرنا اور ذکر کرنا مراد ہو۔ (ت)
نوع آخر خصوص نصوص ختم نبوت :
صحیح مسلم شریف میں ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہسے ہے :
فضلت علی الانبیاء بست اعطیت جوامع الکلم و نصرت بالرعب واحلت لی الغنائم وجعلت لی الارض مسجدا و طھورا وارسلت الی میں تمام انبیاء پر چھ وجہ سے فضیلت دیا گیا مجھے جامع باتیں عطا ہوئیں اور مخالفوں کے دل میں میرا رعب ڈالنے سے میری مدد کی گئی اور میرے لئے غنیمتیں حلال ہوئیں اور میرے لئے زمین پاك
فربك محمود وانت محمد وربك الاول والاخر والظاھر والباطن وانت الاول والاخر والظاھر والباطن۔ پس حضور کا رب محمود ہے اور حضور محمد حضور کا رب اول وآخر وظاہر وباطن ہے اور حضور اول و آخر وظاہر و باطن ہیں۔
سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا :
الحمدﷲ الذی فضلنی علی جمیع النبیین حتی فی اسمی وصفتی۔
ذکرہ القاری فی شرح الشفاء فقال قد روی التلمسانی عن ابن عباس الخ۔
اقول : ظاھرہ انہ اخرجہ بسندہ فان الاسناد ماخوذ فی مفھوم الروایۃ کما قالہ الزرقانی فی شرح المواھب ولعل الظاھر ان فیہ تجریدا والمراد اورد وذکر اﷲ تعالی اعلم۔ سب خوبیاں اﷲ عزوجل کو جس نے مجھے تمام انبیاء پر فضیلت دی یہاں تك کہ میرے نام و صفت میں علی قاری نے شرح شفاء میں اس کا ذکر کیا اور فرمایا کہ تلمسانی نے ابن عباس سے روایت کیا الخ۔
اقول : (میں کہتا ہوں)اس کا ظاہر یہ ہے کہ اس کو انہوں نے اپنی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے کہ اسناد روایت کے مفہوم میں ماخوذ ہے جیسا کہ زرقانی نے شرح مواہب میں فرمایا ہوسکتا ہے کہ ظاہر اس میں تجرید ہو(اسناد ماخوذ نہ ہو)اور صرف وارد کرنا اور ذکر کرنا مراد ہو۔ (ت)
نوع آخر خصوص نصوص ختم نبوت :
صحیح مسلم شریف میں ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہسے ہے :
فضلت علی الانبیاء بست اعطیت جوامع الکلم و نصرت بالرعب واحلت لی الغنائم وجعلت لی الارض مسجدا و طھورا وارسلت الی میں تمام انبیاء پر چھ وجہ سے فضیلت دیا گیا مجھے جامع باتیں عطا ہوئیں اور مخالفوں کے دل میں میرا رعب ڈالنے سے میری مدد کی گئی اور میرے لئے غنیمتیں حلال ہوئیں اور میرے لئے زمین پاك
حوالہ / References
شرح الشفاء لعلی قاری علی ہامش نسیم الریاض فصل فی اسماء رسول اﷲ الخ دارالفکر بیروت ، ۲ / ۴۲۵
الخلق کافۃ وختم بی النبیون کرنے والی اور نماز کی جگہ قرار دی گئی اور میں تمام جہان سب ماسوی اﷲ کا رسول ہوا اور مجھ سے انبیاء ختم کئے گئے صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔
خاتم النبیین :
دارمی اپنی سنن میں بسند صحیح اوربخاری تاریخ اور طبرانی اوسط اور بیہقی سنن میں اور ابو نعیم حضرت جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالی عنہما سے راوی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
انا قائد المرسلین ولا فخر وانا خاتم النبیین ولا فخر وانا شافع ومشفع ولا فخر میں تمام رسولوں کا پیش رو ہوں اور بطور فخرنہیں کہتا میں تمام پیغمبروں کا خاتم ہوں اور بطور فخر نہیں کہتا اور میں سب سے پہلی شفاعت کرنے والا اور سب سے پہلا شفاعت قبول کیا گیا ہوں اور بروجہ فخر ارشاد نہیں کرتا صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔
احمد وحاکم وبیہقی وابن حبان عرباض بن ساریہ رضی اللہ تعالی عنہسے راوی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
انی مکتوب عنداﷲ فی ام الکتاب لخاتم النبیین وان ادم لمنجدل فی طینتہ بیشك بالیقین میں اﷲ کے حضور لوح محفوظ میں خاتم النبیین لکھا تھا اور ہنوز آدم اپنی مٹی میں پڑے تھے۔
آدم سروتن بآب وگل داشت
کو حکم بملك جان ودل داشت
(حضرت آدم علیہ السلام اپنے خمیر میں ہی تھے جبکہ حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بحکم خداوندی جان ودل سے سرفراز تھے۔ ت)
لوح محفوظ پر شہادت ختم نبوت :
مواہب لدنیہ ومطالع المسرات میں ہے :
اخرج مسلم فی صحیحہ من حدیث عبداﷲ بن عمر وبن العاص عن النبی صلی یعنی صحیح مسلم شریف میں حضرت عبداﷲ بن عمرو رضی اﷲ تعالی عنہما سے ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ
خاتم النبیین :
دارمی اپنی سنن میں بسند صحیح اوربخاری تاریخ اور طبرانی اوسط اور بیہقی سنن میں اور ابو نعیم حضرت جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالی عنہما سے راوی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
انا قائد المرسلین ولا فخر وانا خاتم النبیین ولا فخر وانا شافع ومشفع ولا فخر میں تمام رسولوں کا پیش رو ہوں اور بطور فخرنہیں کہتا میں تمام پیغمبروں کا خاتم ہوں اور بطور فخر نہیں کہتا اور میں سب سے پہلی شفاعت کرنے والا اور سب سے پہلا شفاعت قبول کیا گیا ہوں اور بروجہ فخر ارشاد نہیں کرتا صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔
احمد وحاکم وبیہقی وابن حبان عرباض بن ساریہ رضی اللہ تعالی عنہسے راوی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
انی مکتوب عنداﷲ فی ام الکتاب لخاتم النبیین وان ادم لمنجدل فی طینتہ بیشك بالیقین میں اﷲ کے حضور لوح محفوظ میں خاتم النبیین لکھا تھا اور ہنوز آدم اپنی مٹی میں پڑے تھے۔
آدم سروتن بآب وگل داشت
کو حکم بملك جان ودل داشت
(حضرت آدم علیہ السلام اپنے خمیر میں ہی تھے جبکہ حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بحکم خداوندی جان ودل سے سرفراز تھے۔ ت)
لوح محفوظ پر شہادت ختم نبوت :
مواہب لدنیہ ومطالع المسرات میں ہے :
اخرج مسلم فی صحیحہ من حدیث عبداﷲ بن عمر وبن العاص عن النبی صلی یعنی صحیح مسلم شریف میں حضرت عبداﷲ بن عمرو رضی اﷲ تعالی عنہما سے ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ
حوالہ / References
صحیح مسلم کتاب المساجد باب مواضع الصلوٰۃ ، قدیمی کتب خانہ ، کراچی ، ۱ / ۱۹۹
سنن الدارمی ، حدیث ۵۰ ، باب ما اعطی النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم من الفضل دارالمحاسن قاہرہ مصر ، ۱ / ۳۱
المستدرك کتاب التاریخ ، ذکر اخبار سید المرسلین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم دارالفکر بیروت ، ۲ / ۶۰۰ ، کنزالعمال حدیث ۳۲۱۱۴ ، موسسۃ الرسالۃ ، بیروت ، ۱۱ / ۴۴۹
سنن الدارمی ، حدیث ۵۰ ، باب ما اعطی النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم من الفضل دارالمحاسن قاہرہ مصر ، ۱ / ۳۱
المستدرك کتاب التاریخ ، ذکر اخبار سید المرسلین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم دارالفکر بیروت ، ۲ / ۶۰۰ ، کنزالعمال حدیث ۳۲۱۱۴ ، موسسۃ الرسالۃ ، بیروت ، ۱۱ / ۴۴۹
اﷲ تعالی علیہ وسلم انہ قال ان اﷲ عزوجل کتب مقادیر الخلق قبل ان یخلق السموت والارض بخمسین الف سنۃ فکان عرشہ علی الماء ومن جملۃ ماکتب فی الذکر وھوام الکتاب ان محمدا خاتم النبیین۔
ثم قال بعد ھذا فی المواھب وعن العرباض بن ساریۃ فذکر الحدیث المذکور انفا و قال بعدہ فی المطالع وغیر ذلك من الاحادیث اھ وقال الزرقانی بعد قولہ ان محمد ا خاتم النبیین فــان قیل الحدیث یفــید سبق العرش علی التقدیر وعلی کتابۃ محمد خاتم النبیین الخ فافادوا جمیعا انہ بتمامہ حدیث واحد مخرج ھکذا فی صحیح مسلم والعبد الضعیف راجع الصحیح من کتاب القدر فلم یجد فیہ الا الی قولہ وکان عرشہ علی الماء وبھذا القدر عزاہ لہ فی المشکوۃ والجامع الصغیر والکبیر وغیرھا فاﷲ اعلم۔ وسلم فرماتے ہیں اﷲعزوجل نے زمین وآسمان کی آفرینش سے پچاس ہزار برس پہلے خلق کی تقدیر لکھی اور اس کا عرش پانی پر تھامنجملہ ان تحریرات کے لوح محفوظ میں لکھا بیشك محمد خاتم النبیین ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔
پھر اس کے بعد مواہب میں فرمایا اور عرباض بن ساریہ رضی اللہ تعالی عنہسے مروی ہے ابھی مذکور حدیث کو ذکر کیا اور اس کے بعد مطالع المسرات میں فرمایا اس کے علاوہ احادیث میں ہے۱ھ اور علامہ زرقانی نے اپنے قول “ تحقیق محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں “ کے بعد فرمایا اگر اعتراض ہو کہ حدیث سے عرش کی تخلیق تقدیر اور محمد خاتم النبیین لکھنے سے قبل کا فائدہ دے رہی ہے الخ تو ان سب نے افادہ کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ سب ایك حدیث ہے جس کو صحیح مسلم میں تخریج کیا ہے جبکہ اس عبد ضعیف نے صحیح مسلم کی کتاب القدر کو دیکھا تو اس میں صرف ان کا قول یہ پایا “ وکان عرشہ علی الماء “ اس کا عرش پانی پر تھا “ اور اسی قدر کو مشکوۃ میں صحیح مسلم وجامع صغیرو کبیر و غیر ہما کی طرف منسوب کیا ہے تو اﷲ تعالی زیادہ علم والا ہے۔
ثم قال بعد ھذا فی المواھب وعن العرباض بن ساریۃ فذکر الحدیث المذکور انفا و قال بعدہ فی المطالع وغیر ذلك من الاحادیث اھ وقال الزرقانی بعد قولہ ان محمد ا خاتم النبیین فــان قیل الحدیث یفــید سبق العرش علی التقدیر وعلی کتابۃ محمد خاتم النبیین الخ فافادوا جمیعا انہ بتمامہ حدیث واحد مخرج ھکذا فی صحیح مسلم والعبد الضعیف راجع الصحیح من کتاب القدر فلم یجد فیہ الا الی قولہ وکان عرشہ علی الماء وبھذا القدر عزاہ لہ فی المشکوۃ والجامع الصغیر والکبیر وغیرھا فاﷲ اعلم۔ وسلم فرماتے ہیں اﷲعزوجل نے زمین وآسمان کی آفرینش سے پچاس ہزار برس پہلے خلق کی تقدیر لکھی اور اس کا عرش پانی پر تھامنجملہ ان تحریرات کے لوح محفوظ میں لکھا بیشك محمد خاتم النبیین ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔
پھر اس کے بعد مواہب میں فرمایا اور عرباض بن ساریہ رضی اللہ تعالی عنہسے مروی ہے ابھی مذکور حدیث کو ذکر کیا اور اس کے بعد مطالع المسرات میں فرمایا اس کے علاوہ احادیث میں ہے۱ھ اور علامہ زرقانی نے اپنے قول “ تحقیق محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں “ کے بعد فرمایا اگر اعتراض ہو کہ حدیث سے عرش کی تخلیق تقدیر اور محمد خاتم النبیین لکھنے سے قبل کا فائدہ دے رہی ہے الخ تو ان سب نے افادہ کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ سب ایك حدیث ہے جس کو صحیح مسلم میں تخریج کیا ہے جبکہ اس عبد ضعیف نے صحیح مسلم کی کتاب القدر کو دیکھا تو اس میں صرف ان کا قول یہ پایا “ وکان عرشہ علی الماء “ اس کا عرش پانی پر تھا “ اور اسی قدر کو مشکوۃ میں صحیح مسلم وجامع صغیرو کبیر و غیر ہما کی طرف منسوب کیا ہے تو اﷲ تعالی زیادہ علم والا ہے۔
حوالہ / References
المواہب اللدنیۃ ، باب سبق نبوتہ ، المکتب الاسلامی ، بیروت ، ۱ / ۵۷ ، مطالع المسرات ، مکتبہ نوریہ رضویہ ، فیصل آباد ، ص ۹۸
مطالع المسرات ، مکتبہ نوریہ رضویہ ، فیصل آباد ، ص ۹۸
شرح الزرقانی علی المواہب اللدنیۃ ، المقصد الاول ، دارالمعرفۃ ، بیروت ، ۱ / ۳۱
مطالع المسرات ، مکتبہ نوریہ رضویہ ، فیصل آباد ، ص ۹۸
شرح الزرقانی علی المواہب اللدنیۃ ، المقصد الاول ، دارالمعرفۃ ، بیروت ، ۱ / ۳۱
عمارت نبوت کی آخری اینٹ :
احمد و بخاری و مسلم وتر مذی حضرت جابر بن عبداﷲ اور احمد و شیخین حضرت ابوہریرہ اور احمد و مسلم حضرت ابو سعید خدری اور احمد و ترمذی حضرت ابی بن کعب رضی اﷲ تعالی عنہم سے بالفاظ متناسبہ و معانی متقاربہ راوی حضور خاتم المرسلین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
مثلی و مثل الانبیاء کمثل قصرا حسن بنیانہ ترك منہ موضع لبنۃ فطاف بہ النظار یتعجبون من حسن بنیانہ الاموضع تلك اللبنۃ فکنت انا سددت موضع اللبنۃ ختم بی البنیان وختم بی الرسل وفی لفظ للشیخین فانا اللبنۃ وانا خاتم النبیین میری اور تمام انبیاء کی کہاوت ایسی ہے جیسے ایك محل نہایت عمدہ بنایا گیا اور اس میں ایك اینٹ کی جگہ خالی رہی دیکھنے والے اس کے آس پاس پھرنے اور اس کی خوبی تعمیر سے تعجب کرتے مگر وہی ایك اینٹ کی جگہ کہ نگاہوں میں کھٹکتی میں نے تشریف لا کر وہ جگہ بند کی مجھ سے یہ عمارت پوری کی گئی مجھ سے رسولوں کی انتہا ہوئی میں عمارت نبوت کی وہ پچھلی اینٹ ہوں میں تمام انبیاء کا خاتم ہوں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔
امام ترمذی حکیم عارف باﷲ محمد بن علی نوا درالاصول میں سیدنا ابوذر رضی اللہ تعالی عنہسے راوی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں : اول الرسل ادم و اخرھم محمد سب رسولوں میں پہلے آدم علیہ الصلوۃ والسلام ہیں اور سب میں پچھلے محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔
سوسمار کی گواہی :
طبرانی معجم اوسط و معجم صغیر اور ابن عدی کا مل اور حاکم کتاب المعجزات اور بیہقی وابو نعیم کتاب دلائل النبوۃ اور ابن عسا کر تاریخ میں امیر المؤمنین عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہسے راوی حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم مجمع اصحاب میں تشریف فرماتھے کہ ایك بادیہ نشین قبیلہ بنی سلیم کا آیا سو سمار شکار کر کے لایا تھا وہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے سامنے
احمد و بخاری و مسلم وتر مذی حضرت جابر بن عبداﷲ اور احمد و شیخین حضرت ابوہریرہ اور احمد و مسلم حضرت ابو سعید خدری اور احمد و ترمذی حضرت ابی بن کعب رضی اﷲ تعالی عنہم سے بالفاظ متناسبہ و معانی متقاربہ راوی حضور خاتم المرسلین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
مثلی و مثل الانبیاء کمثل قصرا حسن بنیانہ ترك منہ موضع لبنۃ فطاف بہ النظار یتعجبون من حسن بنیانہ الاموضع تلك اللبنۃ فکنت انا سددت موضع اللبنۃ ختم بی البنیان وختم بی الرسل وفی لفظ للشیخین فانا اللبنۃ وانا خاتم النبیین میری اور تمام انبیاء کی کہاوت ایسی ہے جیسے ایك محل نہایت عمدہ بنایا گیا اور اس میں ایك اینٹ کی جگہ خالی رہی دیکھنے والے اس کے آس پاس پھرنے اور اس کی خوبی تعمیر سے تعجب کرتے مگر وہی ایك اینٹ کی جگہ کہ نگاہوں میں کھٹکتی میں نے تشریف لا کر وہ جگہ بند کی مجھ سے یہ عمارت پوری کی گئی مجھ سے رسولوں کی انتہا ہوئی میں عمارت نبوت کی وہ پچھلی اینٹ ہوں میں تمام انبیاء کا خاتم ہوں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔
امام ترمذی حکیم عارف باﷲ محمد بن علی نوا درالاصول میں سیدنا ابوذر رضی اللہ تعالی عنہسے راوی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں : اول الرسل ادم و اخرھم محمد سب رسولوں میں پہلے آدم علیہ الصلوۃ والسلام ہیں اور سب میں پچھلے محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔
سوسمار کی گواہی :
طبرانی معجم اوسط و معجم صغیر اور ابن عدی کا مل اور حاکم کتاب المعجزات اور بیہقی وابو نعیم کتاب دلائل النبوۃ اور ابن عسا کر تاریخ میں امیر المؤمنین عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہسے راوی حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم مجمع اصحاب میں تشریف فرماتھے کہ ایك بادیہ نشین قبیلہ بنی سلیم کا آیا سو سمار شکار کر کے لایا تھا وہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے سامنے
حوالہ / References
مشکوٰۃ المصابیح بحوالہ متفق علیہ باب فضائل سید المرسلین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم مطبع مجتبائی دہلی ، ص ۵۱۱
صحیح البخاری ، باب خاتم النبیین ، قدیمی کتب ، کراچی۔ ۱ / ۵۰۱ ، صحیح مسلم ، باب ذکر کونہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم خاتم النبیین ، قدیمی کتب خانہ ، کراچی ۲ / ۲۴۸
نوادرالاصول حکیم ترمذی
صحیح البخاری ، باب خاتم النبیین ، قدیمی کتب ، کراچی۔ ۱ / ۵۰۱ ، صحیح مسلم ، باب ذکر کونہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم خاتم النبیین ، قدیمی کتب خانہ ، کراچی ۲ / ۲۴۸
نوادرالاصول حکیم ترمذی
ڈال دیا اور بولا قسم ہے لات وعزی کی وہ شخص آپ پر ایمان نہ لائے گا جب تك یہ سو سمار ایمان نہ لائے حضور پر نور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے جانور کو پکارا وہ فصیح زبان روشن بیان عربی میں بولا جسے سب حاضرین نے خوب سنا اور سمجھا :
لبیك وسعدیك یا زین من وافی یوم القیمۃ۔ میں خدمت وبندگی میں حاضر ہوں اے تمام حاضرین مجمع محشر کی زینت۔
حضور نے فرمایا : من تعبد تیرا معبود کون ہےعرض کی :
الذی فی السماء عرشہ وفی الارض سلطانہ وفی البحر سبیلہ وفی الجنۃ رحمتہ وفی النارعذابہ۔ وہ جس کا عرش آسمان میں اور سلطنت زمین میں اور راہ سمندر میں رحمت جنت میں اور عذاب نار میں۔
فرمایا : من انا بھلا میں کون ہوںعرض کی :
انت رسول رب العلمین وخاتم النبیین قد افلح من صدقك وقدخاب من کذبک۔ حضور پروردگار عالم کے رسول ہیں اور رسولوں کے خاتم جس نے حضور کی تصدیق کی وہ مراد کو پہنچا اور جس نے نہ مانا نامراد رہا۔
اعرابی نے کہا اب آنکھوں دیکھے کے بعد کیا شبہہ ہے خدا کی قسم میں جس وقت حاضر ہوا حضور سے زیادہ اس شخص کو دشمن کوئی نہ تھا اور اب حضور مجھے اپنے باپ اوراپنی جان سے زیادہ محبوب ہیں اشھد ان لا الہ الا اﷲ وانك رسول اﷲ (میں گواہی دیتا ہوں کہ اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں اور آپ اﷲ کے رسول ہیں۔ ت)یہ مختصر ہے اور حدیث میں اس سے زیادہ کلام اطیب واکثر۔
یہ حدیث امیر المؤمنین مولی علی وام المؤمنین عائشہ صدیقہ و حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہم کی روایات سے بھی آئی۔
کما فی الجامع الکبیر والخصائص الکبری ولم اقف علی الفاظھم فان اشتملت جمیعا علی لفظ خاتم النبیین کانت اربعۃ احادیث۔ جیسا کہ جامع کبیر اور خصائص کبری میں ہے میں نے ان کے الفاظ نہ پائے اگر ان سب کے الفاظ خاتم النبیین کے لفظ پر مشتمل ہوں تو یہ چار احادیث ہوئیں۔
لبیك وسعدیك یا زین من وافی یوم القیمۃ۔ میں خدمت وبندگی میں حاضر ہوں اے تمام حاضرین مجمع محشر کی زینت۔
حضور نے فرمایا : من تعبد تیرا معبود کون ہےعرض کی :
الذی فی السماء عرشہ وفی الارض سلطانہ وفی البحر سبیلہ وفی الجنۃ رحمتہ وفی النارعذابہ۔ وہ جس کا عرش آسمان میں اور سلطنت زمین میں اور راہ سمندر میں رحمت جنت میں اور عذاب نار میں۔
فرمایا : من انا بھلا میں کون ہوںعرض کی :
انت رسول رب العلمین وخاتم النبیین قد افلح من صدقك وقدخاب من کذبک۔ حضور پروردگار عالم کے رسول ہیں اور رسولوں کے خاتم جس نے حضور کی تصدیق کی وہ مراد کو پہنچا اور جس نے نہ مانا نامراد رہا۔
اعرابی نے کہا اب آنکھوں دیکھے کے بعد کیا شبہہ ہے خدا کی قسم میں جس وقت حاضر ہوا حضور سے زیادہ اس شخص کو دشمن کوئی نہ تھا اور اب حضور مجھے اپنے باپ اوراپنی جان سے زیادہ محبوب ہیں اشھد ان لا الہ الا اﷲ وانك رسول اﷲ (میں گواہی دیتا ہوں کہ اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں اور آپ اﷲ کے رسول ہیں۔ ت)یہ مختصر ہے اور حدیث میں اس سے زیادہ کلام اطیب واکثر۔
یہ حدیث امیر المؤمنین مولی علی وام المؤمنین عائشہ صدیقہ و حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہم کی روایات سے بھی آئی۔
کما فی الجامع الکبیر والخصائص الکبری ولم اقف علی الفاظھم فان اشتملت جمیعا علی لفظ خاتم النبیین کانت اربعۃ احادیث۔ جیسا کہ جامع کبیر اور خصائص کبری میں ہے میں نے ان کے الفاظ نہ پائے اگر ان سب کے الفاظ خاتم النبیین کے لفظ پر مشتمل ہوں تو یہ چار احادیث ہوئیں۔
حوالہ / References
دلائل النبوۃ لابی نعیم ، ذکر الظبی والضّب ، عالم الکتب ، بیروت ، ۲ / ۱۳۴
تذییل : ترمذی حدیث طویل حلیہ اقدس میں امیر المؤمنین مولی علی کرم اﷲ تعالی وجہہ الکریم سے راوی کہ انہوں نے فرمایا : بین کتفیہ خاتم النبوۃ وھو خاتم النبیین حضور کے دونوں شانوں کے بیچ میں مہر نبوت ہے اور حضور خاتم النبیین ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔
تذییل : طبرانی معجم اور ابو نعیم عوالی سعید بن منصور میں امیر المؤمنین مولی علی کرم اﷲ تعالی وجہہ سے درود شریف کا ایك صیغہ بلیغہ راوی جس میں فرماتے ہیں :
اجعل شرائف صلوتك ونوامی برکاتك و رأفۃ تحننك علی محمد عبدك ورسولك الخاتم لماسبق والفاتح لما اغلق الہی! اپنی بزرگ درودیں اور بڑھتی برکتیں اور رحمت کی مہر نازل کرمحمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پر کہ تیرے بندے اور تیرے رسول ہیں گزروں کے خاتم اور مشکلوں کے کھولنے والے صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔
نوع آخرفــــــ نبوت گئی نبوت منقطع ہوئی جب سے نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو نبوت ملی کسی دوسرے کو نہیں مل سکتی۔
ولا نبی بعدی :
صحیح بخاری شریف میں مروی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
کانت بنو اسرائیل تسوسھم الانبیاء کلما ھلك نبی خلفہ نبی ولا نبی بعدی انبیاء بنی اسرائیل کی سیاست فرماتے جب ایك نبی تشریف لے جاتا دوسرا اس کے بعد آتا میرے بعد کوئی نبی نہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔
احمد و ترمذی وحاکم بسند صحیح بر شرط صحیح مسلم کما قالہ الحاکم واقرہ الناقدون(جیسے حاکم نے کہا ہے اور محققین نے اسے ثابت رکھا ہے) حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہسے راوی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
ان الرسالۃ والنبوۃ قد انقطعت بیشك رسالت و نبوت ختم ہوگئی اب میرے بعد
تذییل : طبرانی معجم اور ابو نعیم عوالی سعید بن منصور میں امیر المؤمنین مولی علی کرم اﷲ تعالی وجہہ سے درود شریف کا ایك صیغہ بلیغہ راوی جس میں فرماتے ہیں :
اجعل شرائف صلوتك ونوامی برکاتك و رأفۃ تحننك علی محمد عبدك ورسولك الخاتم لماسبق والفاتح لما اغلق الہی! اپنی بزرگ درودیں اور بڑھتی برکتیں اور رحمت کی مہر نازل کرمحمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پر کہ تیرے بندے اور تیرے رسول ہیں گزروں کے خاتم اور مشکلوں کے کھولنے والے صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔
نوع آخرفــــــ نبوت گئی نبوت منقطع ہوئی جب سے نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو نبوت ملی کسی دوسرے کو نہیں مل سکتی۔
ولا نبی بعدی :
صحیح بخاری شریف میں مروی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
کانت بنو اسرائیل تسوسھم الانبیاء کلما ھلك نبی خلفہ نبی ولا نبی بعدی انبیاء بنی اسرائیل کی سیاست فرماتے جب ایك نبی تشریف لے جاتا دوسرا اس کے بعد آتا میرے بعد کوئی نبی نہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔
احمد و ترمذی وحاکم بسند صحیح بر شرط صحیح مسلم کما قالہ الحاکم واقرہ الناقدون(جیسے حاکم نے کہا ہے اور محققین نے اسے ثابت رکھا ہے) حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہسے راوی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
ان الرسالۃ والنبوۃ قد انقطعت بیشك رسالت و نبوت ختم ہوگئی اب میرے بعد
حوالہ / References
جامع ترمذی ابواب المناقب ، باب ماجاء فی صفۃ النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ ، دہلی ، ۲ / ۲۰۵
المعجم الاوسط ، حدیث ۹۰۸۵ ، مکتبۃ المعارف الریاض ، ۱۰ / ۳۶
صحیح بخاری کتاب الانبیاء ، باب ما ذکر عن بنی اسرائیل ، قدیمی کتب خانہ ، کراچی ، ۱ / ۴۹۱
فــــــ : نوع چہارم نبوت منقطع ہوئی اب کوئی نبی نہیں ہوسکتا۔
المعجم الاوسط ، حدیث ۹۰۸۵ ، مکتبۃ المعارف الریاض ، ۱۰ / ۳۶
صحیح بخاری کتاب الانبیاء ، باب ما ذکر عن بنی اسرائیل ، قدیمی کتب خانہ ، کراچی ، ۱ / ۴۹۱
فــــــ : نوع چہارم نبوت منقطع ہوئی اب کوئی نبی نہیں ہوسکتا۔
فلا رسول بعدی ولا نبی نہ کوئی رسول نہ نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔
صحیح بخاری شریف میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہسے ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
لم یبق من النبوۃ الاالمبشرات الرؤیا الصالحۃ نبوت سے کچھ باقی نہ رہا صرف بشارتیں باقی ہیں اچھی خوابیں۔
طبرانی معجم کبیر میں حضرت حذیفہ بن اسیدرضی اللہ تعالی عنہسے بسند صحیح راوی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
ذھبت النبوۃ فلا نبوۃ بعدی الا المبشرات الرؤیا الصالحۃ یراھا الرجل او تری لہ نبوت گئی اب میرے بعد نبوت نہیں مگر بشارتیں ہیں اچھا خواب کہ انسان آپ دیکھے یا اس کے لئے دیکھا جائے۔
احمد وابنائے ماجہ و خزیمہ وحبان حضر ت ام کرز رضی اﷲ تعالی عنہا سے بسند حسن راوی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
ذھبت النبوۃ وبقیت المبشرات نبوت گئی اور بشارتیں باقی ہیں۔
صحیح مسلم وسنن ابی داؤد وسنن ابن ماجہ میں حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے اپنے مرض مبارك میں جس میں وصال اقدس واقع ہوا پردہ اٹھایا سر انور پر پٹی بندھی تھی لوگ صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہکے پیچھے صف بستہ تھے حضور نے ارشاد فرمایا :
یا ایھا الناس انہ لم یبق من مبشرات النبوۃ الا الرؤیا الصالحۃ یراھا المسلم او تری لہ اے لوگو!نبوت کی بشارتوں سے کچھ نہ رہا مگر اچھا خواب کہ مسلمان دیکھے یا اس کے لئے دوسرے کو دکھایا جائے۔
صحیح بخاری شریف میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہسے ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
لم یبق من النبوۃ الاالمبشرات الرؤیا الصالحۃ نبوت سے کچھ باقی نہ رہا صرف بشارتیں باقی ہیں اچھی خوابیں۔
طبرانی معجم کبیر میں حضرت حذیفہ بن اسیدرضی اللہ تعالی عنہسے بسند صحیح راوی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
ذھبت النبوۃ فلا نبوۃ بعدی الا المبشرات الرؤیا الصالحۃ یراھا الرجل او تری لہ نبوت گئی اب میرے بعد نبوت نہیں مگر بشارتیں ہیں اچھا خواب کہ انسان آپ دیکھے یا اس کے لئے دیکھا جائے۔
احمد وابنائے ماجہ و خزیمہ وحبان حضر ت ام کرز رضی اﷲ تعالی عنہا سے بسند حسن راوی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
ذھبت النبوۃ وبقیت المبشرات نبوت گئی اور بشارتیں باقی ہیں۔
صحیح مسلم وسنن ابی داؤد وسنن ابن ماجہ میں حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے اپنے مرض مبارك میں جس میں وصال اقدس واقع ہوا پردہ اٹھایا سر انور پر پٹی بندھی تھی لوگ صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہکے پیچھے صف بستہ تھے حضور نے ارشاد فرمایا :
یا ایھا الناس انہ لم یبق من مبشرات النبوۃ الا الرؤیا الصالحۃ یراھا المسلم او تری لہ اے لوگو!نبوت کی بشارتوں سے کچھ نہ رہا مگر اچھا خواب کہ مسلمان دیکھے یا اس کے لئے دوسرے کو دکھایا جائے۔
حوالہ / References
جامع الترمذی ، ابواب الرؤیا ، باب ذھبت النبوۃ الخ امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی ، ۲ / ۵۱
صحیح البخاری ، کتاب التعبیر ، باب مبشرات ، قدیمی کتب خانہ ، کراچی۔ ۲ / ۱۰۳۵
المعجم الکبیرللطبرانی ، حدیث ۳۰۵۱ ، مکتبۃ الفیصلیہ ، بیروت ، ۳ / ۱۷۹
سنن ابن ماجہ ، ابواب تعبیر الرؤیا ، باب الرؤیا الصالحۃ ، ایچ ایم سعید کمپنی ، کراچی ، ص ۲۸۶
سنن ابن ماجہ ، ابواب تعبیر الرؤیا ، باب الرؤیا الصالحۃ ، ایچ ایم سعید کمپنی ، کراچی ، ص ۸۷۔ ۲۸۶
صحیح البخاری ، کتاب التعبیر ، باب مبشرات ، قدیمی کتب خانہ ، کراچی۔ ۲ / ۱۰۳۵
المعجم الکبیرللطبرانی ، حدیث ۳۰۵۱ ، مکتبۃ الفیصلیہ ، بیروت ، ۳ / ۱۷۹
سنن ابن ماجہ ، ابواب تعبیر الرؤیا ، باب الرؤیا الصالحۃ ، ایچ ایم سعید کمپنی ، کراچی ، ص ۲۸۶
سنن ابن ماجہ ، ابواب تعبیر الرؤیا ، باب الرؤیا الصالحۃ ، ایچ ایم سعید کمپنی ، کراچی ، ص ۸۷۔ ۲۸۶
اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو حضرت عمر ہوتے :
احمد و ترمذی وحاکم بتصحیح ورؤیانی وطبرانی وابویعلی حضرت عقبہ بن عامر اور طبرانی و ابن عساکر اور خطیب کتاب رواۃ مالك میں حضرت عبداﷲ بن عمر اور طبرانی حضرت عصمہ بن مالك و حضرت ابو سعید خدری رضی اﷲ تعالی عنہم سے راوی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
لوکان بعدی نبی لکان عمر بن الخطاب اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر ہوتا رضی اﷲ تعالی عنہ۔
تذ ییل : صحیح بخاری شریف میں اسماعیل بن ابی خالد سے ہے :
قلت لعبداﷲ بن ابی اوفی رضی اﷲ تعالی عنہما أرأیت ابراھیم ابن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم قال مات صغیرا ولو قضی ان یکون بعد محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نبی عاش ابنہ ولکن لا نبی بعدہ میں نے حضرت عبداﷲ بن ابی اوفی رضی اﷲ تعالی عنہما سے پوچھا آپ نے حضرت ابراہیم صاحبزادہ رسول صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو دیکھا تھا فرمایا ان کا بچپن میں انتقال ہوا اور اگر مقدر ہوتا کہ محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی ہو تو حضور کے صاحبزادے ابراہیم زندہ رہتے مگر حضور کے بعد نبی نہیں۔
امام احمد کی روایت انہیں سے یوں ہے میں نے حضرت ابن ابی اوفی کو فرماتے سنا :
لوکان بعد النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نبی مامات ابنہ ابراھیم اگر حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے بعد کوئی نبی ہوتا توحضور کے صاحبزادے انتقال نہ فرماتے۔
تذییل : امام ابو عمر ابن عبدالبربطریق اسماعیل بن عبدالرحمن سدی حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہسے راوی انہوں نے فرمایا :
کان ابراھیم قد ملأ المھد ولو عاش لکان نبیا لکن لم یکن لیبقی فان نبیکم اخر الانبیاء حضرت ابراہیم اتنے ہوگئے تھے کہ ان کا جسم مبارك گہوارے کو بھر دیتا اگر زندہ رہتے نبی ہوتے مگر زندہ نہ رہ سکتے تھے کہ تمہارے نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم آخر الانبیاء ہیں۔
احمد و ترمذی وحاکم بتصحیح ورؤیانی وطبرانی وابویعلی حضرت عقبہ بن عامر اور طبرانی و ابن عساکر اور خطیب کتاب رواۃ مالك میں حضرت عبداﷲ بن عمر اور طبرانی حضرت عصمہ بن مالك و حضرت ابو سعید خدری رضی اﷲ تعالی عنہم سے راوی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
لوکان بعدی نبی لکان عمر بن الخطاب اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر ہوتا رضی اﷲ تعالی عنہ۔
تذ ییل : صحیح بخاری شریف میں اسماعیل بن ابی خالد سے ہے :
قلت لعبداﷲ بن ابی اوفی رضی اﷲ تعالی عنہما أرأیت ابراھیم ابن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم قال مات صغیرا ولو قضی ان یکون بعد محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نبی عاش ابنہ ولکن لا نبی بعدہ میں نے حضرت عبداﷲ بن ابی اوفی رضی اﷲ تعالی عنہما سے پوچھا آپ نے حضرت ابراہیم صاحبزادہ رسول صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو دیکھا تھا فرمایا ان کا بچپن میں انتقال ہوا اور اگر مقدر ہوتا کہ محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی ہو تو حضور کے صاحبزادے ابراہیم زندہ رہتے مگر حضور کے بعد نبی نہیں۔
امام احمد کی روایت انہیں سے یوں ہے میں نے حضرت ابن ابی اوفی کو فرماتے سنا :
لوکان بعد النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نبی مامات ابنہ ابراھیم اگر حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے بعد کوئی نبی ہوتا توحضور کے صاحبزادے انتقال نہ فرماتے۔
تذییل : امام ابو عمر ابن عبدالبربطریق اسماعیل بن عبدالرحمن سدی حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہسے راوی انہوں نے فرمایا :
کان ابراھیم قد ملأ المھد ولو عاش لکان نبیا لکن لم یکن لیبقی فان نبیکم اخر الانبیاء حضرت ابراہیم اتنے ہوگئے تھے کہ ان کا جسم مبارك گہوارے کو بھر دیتا اگر زندہ رہتے نبی ہوتے مگر زندہ نہ رہ سکتے تھے کہ تمہارے نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم آخر الانبیاء ہیں۔
حوالہ / References
جامع الترمذی ، مناقب ابی حفص عمر بن الخطاب ، امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ ، دہلی ، ۲ / ۲۰۹
صحیح البخاری ، کتاب الآداب ، باب من سمی باسماء الانبیاء ، قدیمی کتب خانہ ، کراچی ، ۲ / ۹۱۴
مسند امام احمد بن حنبل ، بقیہ حدیث حضرت عبداﷲ ابن اوفٰی ، دارالفکر بیروت ، ۴ / ۳۵۳
شرح الزرقانی علی المواہب اللدنیہ ، بحوالہ اسماعیل بن عبدالرحمن عن انس ، المقصد الثانی ، دارالمعرفۃ بیروت ، ۳ / ۱۶۔ ۲۱۵
صحیح البخاری ، کتاب الآداب ، باب من سمی باسماء الانبیاء ، قدیمی کتب خانہ ، کراچی ، ۲ / ۹۱۴
مسند امام احمد بن حنبل ، بقیہ حدیث حضرت عبداﷲ ابن اوفٰی ، دارالفکر بیروت ، ۴ / ۳۵۳
شرح الزرقانی علی المواہب اللدنیہ ، بحوالہ اسماعیل بن عبدالرحمن عن انس ، المقصد الثانی ، دارالمعرفۃ بیروت ، ۳ / ۱۶۔ ۲۱۵
فائدہ : فــــــ اس کی اصل متعدد احادیث مرفوعہ سے ہے ماوردی حضرت انس اور ابن عساکر حضرات جابر بن عبداﷲ وعبداﷲ بن عباس وعبداﷲ بن ابی اوفی رضی اﷲ تعالی عنہم سے راوی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
لو عاش ابراھیم لکان صدیقا نبیا
وبہ انجلی ما اشتبہ علی الامام النووی مع جلالۃ شانہ وسعۃ عرفانہ اما ما قال الامام ابوعمر بن عبدالبرلاادری ما ھذا فقد کان ابن نوح غیر نبی ولو لم یلد النبی الا نبیا کان کل احد نبیا لانہم من ولد نوح قال اﷲ تعالی “ و جعلنا ذریتہ ہم الباقین ﴿۫۷۷﴾ “ فاجابوا عنہ بان الشرطیۃ لا یلزمھا الوقوع اقول : نعم لکنھا لا شك تفید الملازمۃ فان کانت مبینۃ علی ان ابن نبی لایکون الا نبیا لزم ما الزم ابو عمرو لا مفر فالحق فی الجواب ما اقول : من عدم صحۃ قیاس الانبیاء السابقین وبنیھم علی نبینا سید المرسلین وبنیہ صلی اﷲ تعالی علیہ وعلیھم وسلم فلواستحق ابنہ بعدہ النبوۃ لا یلزم منہ استحقاق (اگر ابراہیم زندہ رہتا تو صدیق پیغمبر ہوتا)
اس سے امام نووی کو درپیش ہونے والا اشتباہ ختم ہوگیا ب اوجودیکہ ان کی شان اجل ہے اور ان کا عرفان وسیع ہے لیکن امام ابو عمر بن عبدالبر نے جو یہ فرمایا کہ مجھے یہ معلوم نہ ہوسکا حالانکہ نوح علیہ السلام کے بیٹے نبی نہ ہوئے اور اگر یہ ہوتا کہ نبی سے نبی ہی پیدا ہو تو ہر ایك نبی ہوتا کیونکہ وہ بھی تو نوح علیہ السلام کی اولاد تھے کیونکہ اﷲ تعالی نے فرمایا ہم نے اس کی ذریت کو ہی باقی رکھا اس کا جواب انہوں نے یہ دیا کہ کسی شرطیہ قضیہ کو وقوع لازم نہیں ہے۔
اقول : (میں کہتا ہوں)ہاں درست ہے لیکن بے شك شرطیہ ملازمہ کا فائدہ ضرور دیتا ہے اگر یہ قضیہ شرطیہ اس معنی پر مبنی ہو کہ نبی کا بیٹا ضرور نبی ہی ہوتا ہے تو ابو عمر کا الزام لازم آئے گا جس سے مفر نہیں ہے تو جواب میں حق وہ ہے جو میں کہہ رہا ہوں کہ انبیاء سابقین اور ان کے بیٹوں کا قیاس ہمارے نبی سید المرسلین اور ان کے صاحبزادوں پر درست نہیں اﷲ تعالی ہمارے نبی اور سب انبیاء پر درود و سلام
فــــــ : حدیث ولو عاش ابراہیم لکان نبیا والبحث علیہ۔ حدیث “ اگر ابراہیم زندہ رہتے تو نبی ہوتے “ کی تحقیق اور اس پر بحث سے متعلق یہ فائدہ ہے(ت)
لو عاش ابراھیم لکان صدیقا نبیا
وبہ انجلی ما اشتبہ علی الامام النووی مع جلالۃ شانہ وسعۃ عرفانہ اما ما قال الامام ابوعمر بن عبدالبرلاادری ما ھذا فقد کان ابن نوح غیر نبی ولو لم یلد النبی الا نبیا کان کل احد نبیا لانہم من ولد نوح قال اﷲ تعالی “ و جعلنا ذریتہ ہم الباقین ﴿۫۷۷﴾ “ فاجابوا عنہ بان الشرطیۃ لا یلزمھا الوقوع اقول : نعم لکنھا لا شك تفید الملازمۃ فان کانت مبینۃ علی ان ابن نبی لایکون الا نبیا لزم ما الزم ابو عمرو لا مفر فالحق فی الجواب ما اقول : من عدم صحۃ قیاس الانبیاء السابقین وبنیھم علی نبینا سید المرسلین وبنیہ صلی اﷲ تعالی علیہ وعلیھم وسلم فلواستحق ابنہ بعدہ النبوۃ لا یلزم منہ استحقاق (اگر ابراہیم زندہ رہتا تو صدیق پیغمبر ہوتا)
اس سے امام نووی کو درپیش ہونے والا اشتباہ ختم ہوگیا ب اوجودیکہ ان کی شان اجل ہے اور ان کا عرفان وسیع ہے لیکن امام ابو عمر بن عبدالبر نے جو یہ فرمایا کہ مجھے یہ معلوم نہ ہوسکا حالانکہ نوح علیہ السلام کے بیٹے نبی نہ ہوئے اور اگر یہ ہوتا کہ نبی سے نبی ہی پیدا ہو تو ہر ایك نبی ہوتا کیونکہ وہ بھی تو نوح علیہ السلام کی اولاد تھے کیونکہ اﷲ تعالی نے فرمایا ہم نے اس کی ذریت کو ہی باقی رکھا اس کا جواب انہوں نے یہ دیا کہ کسی شرطیہ قضیہ کو وقوع لازم نہیں ہے۔
اقول : (میں کہتا ہوں)ہاں درست ہے لیکن بے شك شرطیہ ملازمہ کا فائدہ ضرور دیتا ہے اگر یہ قضیہ شرطیہ اس معنی پر مبنی ہو کہ نبی کا بیٹا ضرور نبی ہی ہوتا ہے تو ابو عمر کا الزام لازم آئے گا جس سے مفر نہیں ہے تو جواب میں حق وہ ہے جو میں کہہ رہا ہوں کہ انبیاء سابقین اور ان کے بیٹوں کا قیاس ہمارے نبی سید المرسلین اور ان کے صاحبزادوں پر درست نہیں اﷲ تعالی ہمارے نبی اور سب انبیاء پر درود و سلام
فــــــ : حدیث ولو عاش ابراہیم لکان نبیا والبحث علیہ۔ حدیث “ اگر ابراہیم زندہ رہتے تو نبی ہوتے “ کی تحقیق اور اس پر بحث سے متعلق یہ فائدہ ہے(ت)
حوالہ / References
کنزالعمال بحوالہ الماوردی عن انس وابن عساکر حدیث ۳۳۲۰۴ موسسۃ الرسالۃ ، بیروت ، ۱۱ / ۴۶۹
الاسرار المرفوعہ بحوالہ ابن عبدالبرفی التمہید ، حدیث ۷۴۳ ، دارالکتب العلمیۃ ، بیروت ، ص ۱۹۱
تہذیب تاریخ ابن عساکر ، باب ذکر بنیہ وبناتہ ، داراحیاء التراث العربی ، بیروت ، ۱ / ۲۹۵
الاسرار المرفوعہ بحوالہ ابن عبدالبرفی التمہید ، حدیث ۷۴۳ ، دارالکتب العلمیۃ ، بیروت ، ص ۱۹۱
تہذیب تاریخ ابن عساکر ، باب ذکر بنیہ وبناتہ ، داراحیاء التراث العربی ، بیروت ، ۱ / ۲۹۵
ابناء الانبیاء جمیعا ھکذا رأیتنی کتبت علی ھامش نسختی التیسیر ثم رأیت العلامۃ علی القاری ذکر مثلہ فی الموضوعات الکبیر فللہ الحمد
وقد اخرج الدیلمی عن انس بن مالك رضی اﷲ تعالی عنہ قال قال رسو ل اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نحن اھل بیت لا یقاس بنا احد علی انی اقول : لا نسلم ان الحدیث یحکم بالنبوۃ بل انبأ عما تکامل فی جوھر ابراہیم من خصائل الانبیاء و خلال المرسلین بحیث لو لم ینسد باب النبوۃ لنا لکان نبیا تفضلا من اﷲ لا استحقاقامنہ فان النبوۃ لا یستحقہا احد من قبل ذات لکن اﷲ تعالی یصطفی من عبادہ من تم و کمل صورۃ ومعنی ونسبا وحسبا وبلغ الغایۃ القصوی من کل خیر اﷲ اعلم حیث یجعل رسالتہ فاذن الحدیث علی وزان مامر لو کان بعدی نبی لکان عمر واﷲ تعالی اعلم۔
فرمائے پھر اگر آپ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے بعد آپ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا بیٹا نبوت کا مستحق ٹھہرے تو اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ باقی تمام انبیا کے بیٹے بھی نبوت کے مستحق ہوں میں نے اپنی تیسیر کے نسخے پر یونہی حاشیہ لکھا بعد ازاں میں نے علامہ ملا قاری کو موضوعات کبیر میں اسی طرح ذکر کرتے ہوئے پایا فللہ الحمد۔
دیلمی نے حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہسے تخریج کی ہے انہوں نے فرمایا کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا ہم اہلبیت پر کسی کو قیاس نہ کیا جائے۔ علاوہ ازیں میں کہتا ہوں کہ مذکورہ حدیث نبوت کا حکم بیان کررہی ہے یہ بات ہمیں تسلیم نہیں بلکہ حدیث مذکور حضرت کے صاحبزادے ابراہیم رضی اللہ تعالی عنہکے متعلق یہ خبر دے رہی ہے کہ ان میں انبیاء علیہم السلام جیسے خصائل واوصاف تھے کہ اگر ہمارے لئے نبوت ختم نہ ہوتی تو وہ اﷲ تعالی کہ فضل محض سے نبی ہوتے نہ کہ بطور استحقاق نبی بنتے کیونکہ کوئی بھی اپنی ذات میں نبوت کا استحقاق نہیں رکھتا لیکن اﷲ تعالی نبوت کے لئے اپنے بندوں میں سے ایسے کو منتخب فرماتا ہے جو صورۃ معنی نسبا حسبا ہر اعتبار سے تام و کامل ہو اور ہر خیر میں انتہائی مرتبہ کو پہنچا ہو اﷲ تعالی بہتر جانتا ہے کہ کہاں رسالت بنائے تو حدیث مذکور کی دلالت وہی ہے جو “ لو کان بعدی نبیا لکان عمر “ الحدیث کی دلالت ہے واﷲ تعالی اعلم۔
وقد اخرج الدیلمی عن انس بن مالك رضی اﷲ تعالی عنہ قال قال رسو ل اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نحن اھل بیت لا یقاس بنا احد علی انی اقول : لا نسلم ان الحدیث یحکم بالنبوۃ بل انبأ عما تکامل فی جوھر ابراہیم من خصائل الانبیاء و خلال المرسلین بحیث لو لم ینسد باب النبوۃ لنا لکان نبیا تفضلا من اﷲ لا استحقاقامنہ فان النبوۃ لا یستحقہا احد من قبل ذات لکن اﷲ تعالی یصطفی من عبادہ من تم و کمل صورۃ ومعنی ونسبا وحسبا وبلغ الغایۃ القصوی من کل خیر اﷲ اعلم حیث یجعل رسالتہ فاذن الحدیث علی وزان مامر لو کان بعدی نبی لکان عمر واﷲ تعالی اعلم۔
فرمائے پھر اگر آپ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے بعد آپ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا بیٹا نبوت کا مستحق ٹھہرے تو اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ باقی تمام انبیا کے بیٹے بھی نبوت کے مستحق ہوں میں نے اپنی تیسیر کے نسخے پر یونہی حاشیہ لکھا بعد ازاں میں نے علامہ ملا قاری کو موضوعات کبیر میں اسی طرح ذکر کرتے ہوئے پایا فللہ الحمد۔
دیلمی نے حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہسے تخریج کی ہے انہوں نے فرمایا کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا ہم اہلبیت پر کسی کو قیاس نہ کیا جائے۔ علاوہ ازیں میں کہتا ہوں کہ مذکورہ حدیث نبوت کا حکم بیان کررہی ہے یہ بات ہمیں تسلیم نہیں بلکہ حدیث مذکور حضرت کے صاحبزادے ابراہیم رضی اللہ تعالی عنہکے متعلق یہ خبر دے رہی ہے کہ ان میں انبیاء علیہم السلام جیسے خصائل واوصاف تھے کہ اگر ہمارے لئے نبوت ختم نہ ہوتی تو وہ اﷲ تعالی کہ فضل محض سے نبی ہوتے نہ کہ بطور استحقاق نبی بنتے کیونکہ کوئی بھی اپنی ذات میں نبوت کا استحقاق نہیں رکھتا لیکن اﷲ تعالی نبوت کے لئے اپنے بندوں میں سے ایسے کو منتخب فرماتا ہے جو صورۃ معنی نسبا حسبا ہر اعتبار سے تام و کامل ہو اور ہر خیر میں انتہائی مرتبہ کو پہنچا ہو اﷲ تعالی بہتر جانتا ہے کہ کہاں رسالت بنائے تو حدیث مذکور کی دلالت وہی ہے جو “ لو کان بعدی نبیا لکان عمر “ الحدیث کی دلالت ہے واﷲ تعالی اعلم۔
حوالہ / References
الفردوس بمأ ثور الخطاب ، حدیث ۶۸۳۸ ، دارالکتب العلمیۃ ، بیروت ، ۴ / ۲۸۳
جامع الترمذی ، مناقب ابی حفص عمر بن الخطاب ، امین کمپنی خانہ رشیدیہ ، دہلی ، ۲ / ۲۰۹
جامع الترمذی ، مناقب ابی حفص عمر بن الخطاب ، امین کمپنی خانہ رشیدیہ ، دہلی ، ۲ / ۲۰۹
نوع آخر فــــــ بعد طلوع آفتاب عالمتاب خاتمیت صلوات اﷲ تعالی وسلامہ علیہ وعلی آلہ الکرام جو کسی کے لئے ادعائے نبوت کرے دجال کذاب مستحق لعنت و عذاب ہے۔
امام بخاری حضرت ابوہریرہ اور احمد و مسلم وابوداؤد و ترمذی وابن ماجہ حضرت ثوبان رضی اﷲ تعالی عنہما سے راوی وھذا حدیث ثوبان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
انہ سیکون فی امتی کذابون ثلثون کلھم یزعم انہ نبی وانا خاتم النبیین لا نبی بعدی ولفظ البخاری دجالون کذابون قریبا من ثلثین عنقریب اس امت میں قریب تیس کے دجال کذاب نکلیں گے ہر ایك ادعا کرے گا کہ وہ نبی ہے حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم(اور بخاری کے الفاظ ہیں دجال کذاب تقریبا تیس ہوں گے۔ ت)
کذاب اور دجال
امام احمد و طبرانی و ضیاء حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالی عنہسے راوی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
فی امتی کــذابون و دجالون سبعـــۃ و عشرون منھم اربع نسوۃ وانی خاتم النبیین لا نبی بعدی میری امت دعوت میں(کہ مومن و کافر سب کو شامل ہے) ستائیس کذاب دجال ہوں گے ان میں چار عورتیں ہیں حالانکہ میں خاتم الانبیاء ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔
جھوٹے مدعیان نبوت :
ابن عساکر علاء بن زیادرحمۃ اﷲ تعالی علیہ سے مرسلا راوی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
لا تقوم الساعۃ حتی یخرج ثلثون دجالون کذابون کلھم یزعم انہ نبی (الحدیث) قیامت قائم نہ ہوگی یہاں تك کہ تیس دجال کذاب مدعی نبوت نکلیں گے۔
فــــــ : نوع پنجم حضور کے بعد جو کسی کو نبوت ملنی مانے دجال کذاب ہے۔
امام بخاری حضرت ابوہریرہ اور احمد و مسلم وابوداؤد و ترمذی وابن ماجہ حضرت ثوبان رضی اﷲ تعالی عنہما سے راوی وھذا حدیث ثوبان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
انہ سیکون فی امتی کذابون ثلثون کلھم یزعم انہ نبی وانا خاتم النبیین لا نبی بعدی ولفظ البخاری دجالون کذابون قریبا من ثلثین عنقریب اس امت میں قریب تیس کے دجال کذاب نکلیں گے ہر ایك ادعا کرے گا کہ وہ نبی ہے حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم(اور بخاری کے الفاظ ہیں دجال کذاب تقریبا تیس ہوں گے۔ ت)
کذاب اور دجال
امام احمد و طبرانی و ضیاء حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالی عنہسے راوی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
فی امتی کــذابون و دجالون سبعـــۃ و عشرون منھم اربع نسوۃ وانی خاتم النبیین لا نبی بعدی میری امت دعوت میں(کہ مومن و کافر سب کو شامل ہے) ستائیس کذاب دجال ہوں گے ان میں چار عورتیں ہیں حالانکہ میں خاتم الانبیاء ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔
جھوٹے مدعیان نبوت :
ابن عساکر علاء بن زیادرحمۃ اﷲ تعالی علیہ سے مرسلا راوی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
لا تقوم الساعۃ حتی یخرج ثلثون دجالون کذابون کلھم یزعم انہ نبی (الحدیث) قیامت قائم نہ ہوگی یہاں تك کہ تیس دجال کذاب مدعی نبوت نکلیں گے۔
فــــــ : نوع پنجم حضور کے بعد جو کسی کو نبوت ملنی مانے دجال کذاب ہے۔
حوالہ / References
سنن ابی داؤد ، کتاب الفتن ، ذکر الفتن ودلائلہا ، آفتاب عالم پریس ، لاہور ، ۲ / ۲۲۸
صحیح البخاری ، کتاب الفتن ، قدیمی کتب خانہ ، کراچی ، ۲ / ۱۰۵۴
مسند امام احمد ، حدیث حضرت حذیفہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ ، دارالفکر بیروت ، ۵ / ۳۹۶
تہذیب تاریخ ابن عساکر ، ترجمہ الحارث بن سعید الکذاب ، داراحیاء التراث العربی ، بیروت ، ۳ / ۴۴۵
صحیح البخاری ، کتاب الفتن ، قدیمی کتب خانہ ، کراچی ، ۲ / ۱۰۵۴
مسند امام احمد ، حدیث حضرت حذیفہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ ، دارالفکر بیروت ، ۵ / ۳۹۶
تہذیب تاریخ ابن عساکر ، ترجمہ الحارث بن سعید الکذاب ، داراحیاء التراث العربی ، بیروت ، ۳ / ۴۴۵
تذییل : ابویعلی مسند میں بسند حسن حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ تعالی عنہما سے راوی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
لا تقوم الساعۃ حتی یخرج ثلثون کذابا منھم مسیلمۃ والعنسی والمختار قیامت نہ آئے گی جب تك کہ تیس کذاب نکلیں ان میں سے مسیلمہ اور اسود عنسی ومختار ثقفی ہے اخذ ہم اﷲ تعالی۔
الحمد ﷲ بفضلہ تعالی یہ تینوں خبیث کتے شیران اسلام کے ہاتھ سے مارے گئے اسود مردود خودزمانہ اقدس اور مسیلمہ ملعون زمانہ خلافت حضرت سیدنا ابوبکرصدیق ومختار ثقفی ملعون زمانہ حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ تعالی عنہما میں وﷲ الحمدعــــــہ
حضرت علی اور ختم نبوت :
نوع آخرفــــــ خاص امیر المؤمنین مولی علی کرم اﷲ تعالی وجہہ الکریم کے بارے میں متواتر حدیثیں ہیں کہ نبوت ختم ہوئی نبوت میں ان کا کچھ حصہ نہیں۔
امام احمد مسند اور بخاری و مسلم و ترمذی ونسائی وابن ماجہ صحاح ابن ابی شیبہ سنن ابن جریر تہذیب الآثار میں بطریق عدیدہ کثیرہ سیدنا سعد بن ابی وقاص اور حاکم بتصحیح اسناد مستدرک اور طبرانی معجم کبیر و اوسط اور ابوبکر عاقولی فوائد میں اور ابن مردویہ مطولا اور بزار بطریق عبداﷲ بن ابی بکر عن حکیم بن جبیر عن الحسن بن سعد مولی علی اور ابن عساکر بطریق عبداﷲ بن محمد بن عقیل عن ابیہ عن جدہ عقیل امیر المؤمنین مولی علی اور احمد و حاکم وطبرانی وعقیلی حضرت عبداﷲ بن عباس اور احمد حضرت امیر معاویہ اور احمد و بزار و ابو جعفر بن محمد طبری وابوبکر مطیری حضرت ابو سعید خدری اور ترمذی بافادہ تحسین حضرت جابر بن عبداﷲ سے مسندا اور حضرت ابو ہریرہ سے تعلیقا اور طبرانی کبیر اور خطیب کتاب المتفق والمتفرق میں حضرت عبداﷲ بن عمر اور ابو نعیم فضائل الصحابہ میں حضرت سعید بن زید اور طبرانی کبیر میں حضرات براء بن عازب وزید بن ارقم وجیش
فــــــ : نوع ششم خاص مولی علی کے باب میں متواتر حدیثیں کہ نبوت ختم ہوگئی نبوت میں ان کا حصہ نہیں۔
عــــــہ : مسلیمہ خبیث کے قاتل وحشی رضی اللہ تعالی عنہہیں جنہوں نے زمانہ کفر میں سیدنا حمزہ رضی اللہ تعالی عنہکو شہید کیا وہ فرمایا کرتے قتلت خیرالناس وشرالناس میں نے بہتر شخص کو شہید کیا پھر سب سے بدتر کو مارا۔
لا تقوم الساعۃ حتی یخرج ثلثون کذابا منھم مسیلمۃ والعنسی والمختار قیامت نہ آئے گی جب تك کہ تیس کذاب نکلیں ان میں سے مسیلمہ اور اسود عنسی ومختار ثقفی ہے اخذ ہم اﷲ تعالی۔
الحمد ﷲ بفضلہ تعالی یہ تینوں خبیث کتے شیران اسلام کے ہاتھ سے مارے گئے اسود مردود خودزمانہ اقدس اور مسیلمہ ملعون زمانہ خلافت حضرت سیدنا ابوبکرصدیق ومختار ثقفی ملعون زمانہ حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ تعالی عنہما میں وﷲ الحمدعــــــہ
حضرت علی اور ختم نبوت :
نوع آخرفــــــ خاص امیر المؤمنین مولی علی کرم اﷲ تعالی وجہہ الکریم کے بارے میں متواتر حدیثیں ہیں کہ نبوت ختم ہوئی نبوت میں ان کا کچھ حصہ نہیں۔
امام احمد مسند اور بخاری و مسلم و ترمذی ونسائی وابن ماجہ صحاح ابن ابی شیبہ سنن ابن جریر تہذیب الآثار میں بطریق عدیدہ کثیرہ سیدنا سعد بن ابی وقاص اور حاکم بتصحیح اسناد مستدرک اور طبرانی معجم کبیر و اوسط اور ابوبکر عاقولی فوائد میں اور ابن مردویہ مطولا اور بزار بطریق عبداﷲ بن ابی بکر عن حکیم بن جبیر عن الحسن بن سعد مولی علی اور ابن عساکر بطریق عبداﷲ بن محمد بن عقیل عن ابیہ عن جدہ عقیل امیر المؤمنین مولی علی اور احمد و حاکم وطبرانی وعقیلی حضرت عبداﷲ بن عباس اور احمد حضرت امیر معاویہ اور احمد و بزار و ابو جعفر بن محمد طبری وابوبکر مطیری حضرت ابو سعید خدری اور ترمذی بافادہ تحسین حضرت جابر بن عبداﷲ سے مسندا اور حضرت ابو ہریرہ سے تعلیقا اور طبرانی کبیر اور خطیب کتاب المتفق والمتفرق میں حضرت عبداﷲ بن عمر اور ابو نعیم فضائل الصحابہ میں حضرت سعید بن زید اور طبرانی کبیر میں حضرات براء بن عازب وزید بن ارقم وجیش
فــــــ : نوع ششم خاص مولی علی کے باب میں متواتر حدیثیں کہ نبوت ختم ہوگئی نبوت میں ان کا حصہ نہیں۔
عــــــہ : مسلیمہ خبیث کے قاتل وحشی رضی اللہ تعالی عنہہیں جنہوں نے زمانہ کفر میں سیدنا حمزہ رضی اللہ تعالی عنہکو شہید کیا وہ فرمایا کرتے قتلت خیرالناس وشرالناس میں نے بہتر شخص کو شہید کیا پھر سب سے بدتر کو مارا۔
حوالہ / References
مسند ابو یعلٰی ، مروی از عبداﷲ بن زبیر ، حدیث ۶۷۸۶ ، موسسۃ علوم القرآن ، بیروت ، ۶ / ۱۹۹
الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب علی ہامش الاصابۃ باب الافراد فی الواو ، دارصادر ، بیروت ، ۳ / ۶۴۵
الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب علی ہامش الاصابۃ باب الافراد فی الواو ، دارصادر ، بیروت ، ۳ / ۶۴۵
بن جنادہ و جابر بن سمرہ و مالك بن حویرث و حضرت ام المؤمنین ام سلمہ زوجہ امیر المؤمنین علی حضرت اسماء بنت عمیس رضی اﷲ تعالی عنہم اجمعین سے راوی حضور پر نور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے غزوہ تبوك کو تشریف لیجاتے وقت امیر المؤمنین مولی علی کرم اﷲ وجہہ الکریم کو مدینے میں چھوڑا امیر المؤمنین نے عرض کی یارسول اﷲ! حضور مجھے عورتوں اور بچوں میں چھوڑے جاتے ہیں فرمایا :
اما ترضی ان تکون منی بمنزلۃ ھارون من موسی غیر انہ لا نبی بعدی یعنی کیا تم اس پر راضی نہیں کہ تم یہاں میری نیابت میں ایسے رہو جیسے موسی علیہ الصلوۃ والسلام جب اپنے رب سے کلام کے لئے حاضر ہوئے ہارون علیہ الصلوۃ والسلام کو اپنی نیابت میں چھوڑ گئے تھے ہاں یہ فرق ہے کہ ہارون نبی تھے میں جب سے نبی ہوا دوسرے کے لئے نبوت نہیں۔
مسند و مستدرك میں حدیث ابن عباس یوں ہے :
الا ترضی ان تکون بمنزلۃ ھارون من موسی الا انك لست بنبی کیا تم راضی نہیں کہ بمنزلہ ہارون کے ہو موسی سے مگر یہ کہ تم نبی نہیں۔
حضرت اسماء کی حدیث اس طرح ہے :
قالت ھبط جبریل علی النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فقال یا محمد ان ربك یقرأك السلام ویقول لك علی منك بمنزلۃ ھارون من موسی لکن لا نبی بعدک جبریل امین علیہ الصلوہ والسلام نے حاضر ہو کر حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے عرض کی حضور کا رب حضور کو سلام کہتا ہے اور فرماتا ہے علی(رضی اﷲ تعالی عنہ)تمہاری نیابت میں ایسا ہے جیسا موسی کے لئے ہارون مگر تمہارے بعد کوئی نبی نہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔
اما ترضی ان تکون منی بمنزلۃ ھارون من موسی غیر انہ لا نبی بعدی یعنی کیا تم اس پر راضی نہیں کہ تم یہاں میری نیابت میں ایسے رہو جیسے موسی علیہ الصلوۃ والسلام جب اپنے رب سے کلام کے لئے حاضر ہوئے ہارون علیہ الصلوۃ والسلام کو اپنی نیابت میں چھوڑ گئے تھے ہاں یہ فرق ہے کہ ہارون نبی تھے میں جب سے نبی ہوا دوسرے کے لئے نبوت نہیں۔
مسند و مستدرك میں حدیث ابن عباس یوں ہے :
الا ترضی ان تکون بمنزلۃ ھارون من موسی الا انك لست بنبی کیا تم راضی نہیں کہ بمنزلہ ہارون کے ہو موسی سے مگر یہ کہ تم نبی نہیں۔
حضرت اسماء کی حدیث اس طرح ہے :
قالت ھبط جبریل علی النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فقال یا محمد ان ربك یقرأك السلام ویقول لك علی منك بمنزلۃ ھارون من موسی لکن لا نبی بعدک جبریل امین علیہ الصلوہ والسلام نے حاضر ہو کر حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے عرض کی حضور کا رب حضور کو سلام کہتا ہے اور فرماتا ہے علی(رضی اﷲ تعالی عنہ)تمہاری نیابت میں ایسا ہے جیسا موسی کے لئے ہارون مگر تمہارے بعد کوئی نبی نہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔
حوالہ / References
صحیح البخاری ، مناقب علی بن ابی طالب رضی اﷲ تعالٰی عنہ ، قدیمی کتب خانہ ، کراچی ، ۱ / ۵۲۶ ، جامع الترمذی ، مناقب علی بن ابی طالب رضی اﷲ تعالٰی عنہ ، امین کمپنی کتب خانہ ، رشیدیہ ، دہلی ، ۲ / ۱۱۴ ، صحیح مسلم کتاب الفضائل ، مناقب علی بن ابی طالب رضی اﷲ تعالٰی عنہ ، قدیمی کتب خانہ ، کراچی۔ ۲ / ۲۷۸ ، مسند احمد بن حنبل ، حدیث حضرت سعد ابن وقاص ، دارالفکر بیروت ، ۱ / ۱۸۲
المجمع الزوائد بحوالہ احمد وغیرہ عن ابن عباس باب جامع مناقب علی رضی اﷲ تعالٰی عنہ ، دارالکتاب بیروت ، ۹ / ۱۲۰ ، المستدرك للحاکم ، کتاب معرفۃ الصحابہ ، دارالفکر ، بیروت ، ۳ / ۱۰۹
المعجم الکبیر ، حدیث ۳۸۴ تا ۳۸۹ ، المکتبۃ الفیصلیۃ ، بیروت ، ۲۴ / ۱۴۶ و ۱۴۷
المجمع الزوائد بحوالہ احمد وغیرہ عن ابن عباس باب جامع مناقب علی رضی اﷲ تعالٰی عنہ ، دارالکتاب بیروت ، ۹ / ۱۲۰ ، المستدرك للحاکم ، کتاب معرفۃ الصحابہ ، دارالفکر ، بیروت ، ۳ / ۱۰۹
المعجم الکبیر ، حدیث ۳۸۴ تا ۳۸۹ ، المکتبۃ الفیصلیۃ ، بیروت ، ۲۴ / ۱۴۶ و ۱۴۷
فضائل صحابہ امام احمد میں حدیث امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہیوں ہے کسی نے ان سے ایك مسئلہ پوچھا فرمایا : سل عنھا علی ابن ابی طالب فھو اعلم مولا علی سے پوچھیو وہ اعلم ہیں سائل نے کہا : یا امیر المؤمنین! مجھے آپ کا جواب ان کے جواب سے زیادہ محبوب ہے فرمایا :
بئسما قلت لقد کرھت رجلا کان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یغرہ بالعلم غرا ولقد قال لہ انت منی بمنزلۃ ھارون من موسی الا انہ لا نبی بعدی وکان عمر اذا اشکل علیہ شیئ یاخذ منہ تونے سخت بری بات کہی ایسے کو ناپسند کیا جس کے علم کی نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم عزت فرماتے تھے اور بیشك حضور نے ان سے کہا تجھے مجھ سے وہ نسبت ہے جو ہارون کو موسی علیہما الصلوۃوالسلام سے مگر یہ کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں امیر المؤمنین عمر رضی اللہ تعالی عنہکو جب کسی بات میں شبہ پڑتا ان سے حاصل کرتے رضی اﷲ تعالی عنہم اجمعین۔
ابو نعیم حلیۃ الاولیاء میں حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالی عنہسے راوی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا :
یا علی أخصمك بالنبوۃ ولا نبوۃ بعدی اے علی! میں مناصب جلیلہ و خصائص کثیرہ جزیلہ نبوت میں تجھ پر غالب ہوں اور میر ے بعد نبوت اصلا نہیں۔
حضرت علی کی عیادت :
ابن ابی عاصم اور ابن جریر با فادہ تصحیح اور طبرانی اوسط اور ابن شاہین کتاب السنہ میں امیر المؤمنین مولی علی کرم اﷲ تعالی وجہہ الکریم سے راوی میں بیمار تھا خدمت اقدس حضور سرور عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم میں حاضر ہوا حضور نے مجھے اپنی جگہ کھڑا کیا اور خود نماز میں مشغول ہوئے ردائے مبارك کا آنچل مجھ پر ڈال لیا پھر بعد نماز فرمایا :
برئت یا ابن ابی طالب فلا بأس علیك ما سألت اﷲ لی شیئا الا سألت لك مثلہ ولا سألت اﷲ شیئا اے ابن ابی طالب!تم اچھے ہوگئے تم پر کچھ تکلیف نہیں میں نے اﷲ عزوجل سے جو کچھ اپنے لئے مانگا تمہارے لئے بھی اس کی مانند سوال کیا
بئسما قلت لقد کرھت رجلا کان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یغرہ بالعلم غرا ولقد قال لہ انت منی بمنزلۃ ھارون من موسی الا انہ لا نبی بعدی وکان عمر اذا اشکل علیہ شیئ یاخذ منہ تونے سخت بری بات کہی ایسے کو ناپسند کیا جس کے علم کی نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم عزت فرماتے تھے اور بیشك حضور نے ان سے کہا تجھے مجھ سے وہ نسبت ہے جو ہارون کو موسی علیہما الصلوۃوالسلام سے مگر یہ کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں امیر المؤمنین عمر رضی اللہ تعالی عنہکو جب کسی بات میں شبہ پڑتا ان سے حاصل کرتے رضی اﷲ تعالی عنہم اجمعین۔
ابو نعیم حلیۃ الاولیاء میں حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالی عنہسے راوی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا :
یا علی أخصمك بالنبوۃ ولا نبوۃ بعدی اے علی! میں مناصب جلیلہ و خصائص کثیرہ جزیلہ نبوت میں تجھ پر غالب ہوں اور میر ے بعد نبوت اصلا نہیں۔
حضرت علی کی عیادت :
ابن ابی عاصم اور ابن جریر با فادہ تصحیح اور طبرانی اوسط اور ابن شاہین کتاب السنہ میں امیر المؤمنین مولی علی کرم اﷲ تعالی وجہہ الکریم سے راوی میں بیمار تھا خدمت اقدس حضور سرور عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم میں حاضر ہوا حضور نے مجھے اپنی جگہ کھڑا کیا اور خود نماز میں مشغول ہوئے ردائے مبارك کا آنچل مجھ پر ڈال لیا پھر بعد نماز فرمایا :
برئت یا ابن ابی طالب فلا بأس علیك ما سألت اﷲ لی شیئا الا سألت لك مثلہ ولا سألت اﷲ شیئا اے ابن ابی طالب!تم اچھے ہوگئے تم پر کچھ تکلیف نہیں میں نے اﷲ عزوجل سے جو کچھ اپنے لئے مانگا تمہارے لئے بھی اس کی مانند سوال کیا
حوالہ / References
فضائل الصحابۃ لامام احمد بن حنبل ، حدیث ۱۱۵۳ ، فضائل علی علیہ السلام ، موسسۃ الرسالہ ، بیروت ، ۶۷۵
حلیۃ الاولیاء ، المسندۃ فی مناقبہم وفضائلھم نمبر۴ علی ابن ابی طالب رضی اﷲ تعالٰی عنہ ، دارالکتاب العربی ، بیروت ، ۱ / ۶۵
حلیۃ الاولیاء ، المسندۃ فی مناقبہم وفضائلھم نمبر۴ علی ابن ابی طالب رضی اﷲ تعالٰی عنہ ، دارالکتاب العربی ، بیروت ، ۱ / ۶۵
الا اعطانیہ غیرانہ قیل لی انہ لا نبی بعدک۔ اور میں نے جو کچھ چاہا رب عزوجل نے مجھے عطا فرمایا مگر مجھ سے یہ فرمایا گیا کہ تمہارے بعد کوئی نبی نہیں۔
مولا علی کرم اﷲ وجہہ الکریم فرماتے ہیں میں اسی وقت ایسا تندرست ہوگیا گویا بیمار ہی نہ تھا
تنبیہ : اقول : وباﷲ التوفیق(میں کہتا ہوں اور توفیق اﷲ تعالی سے ہے)یہ حدیث حضرت امیر المؤمنین کے لئے مرتبہ صدیقیت کا حصول بتاتی ہے صدیقیت ایك مرتبہ تلو نبوت ہے کہ اس کے اور نبوت کے بیچ میں کوئی مرتبہ نہیں مگر ایك مقام ادق واخفی کہ نصیبہ حضرت صدیق اکبر اکرم واتقی رضی اللہ تعالی عنہہے تو اجناس وانواع واصناف فضائل وکمالات وبلندی درجات میں خصائص و ملزومات نبوت کے سوا صدیقین ہر عطیہ بہیہ کے لائق واہل ہیں اگرچہ باہم ان میں تفاوت و تفاضل کثیرو وافر ہو۔
آخر نہ دیکھا کہ محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے ابن جمیل ونائب جلیل حضور پر نور سید الاسیاد فرد الافراد غوث اعظم غیث اکرم غیاث عالم محبوب سبحانی مطلوب ربانی سیدنا ومولانا ابو محمد محی الدین عبدالقادر جیلانی رضی ا ﷲ تعالی عنہ فرماتے ہیں :
کل ولی علی قدم نبی وانا علی قدم جدی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وما رفع المصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم قد ما الاوضعت انا قدمی فی الموضع الذی رفع قدمہ منہ الا ان یکون قد ما من اقدام النبوۃ فانہ لا سبیل ان ینالہ غیر نبی رواہ الامام الاجل ابوالحسن علی الشطنوفی قد س سرہ فی بہجۃ الاسرار فقال اخبرنا ابو محمد سالم بن علی بن عبد اﷲ بن سنان الدمیاطی المصری ہر ولی ایك نبی کے قدم پر ہوتا ہے اور میں اپنے جد اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے قدم پاك پر ہوں مصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے جہاں سے قدم اٹھایا میں نے اسی جگہ قدم رکھا مگر نبوت کے قدم کہ ان کی طرف غیر نبی کو اصلا راہ نہیں (اس کو امام ابوالحسن علی شطنوفی قدس سرہ نے بہجۃ الاسرار میں روایت کیا تو کہا ابو محمد سالم بن علی بن عبداﷲ بن سنان الدمیاطی المصری جو قاھرہ میں ۶۷۱ھ میں پیدا ہوئے انہوں نے کہا مجھے شیخ شہاب الدین ابو حفص عمر بن عبداﷲ سہروردی
مولا علی کرم اﷲ وجہہ الکریم فرماتے ہیں میں اسی وقت ایسا تندرست ہوگیا گویا بیمار ہی نہ تھا
تنبیہ : اقول : وباﷲ التوفیق(میں کہتا ہوں اور توفیق اﷲ تعالی سے ہے)یہ حدیث حضرت امیر المؤمنین کے لئے مرتبہ صدیقیت کا حصول بتاتی ہے صدیقیت ایك مرتبہ تلو نبوت ہے کہ اس کے اور نبوت کے بیچ میں کوئی مرتبہ نہیں مگر ایك مقام ادق واخفی کہ نصیبہ حضرت صدیق اکبر اکرم واتقی رضی اللہ تعالی عنہہے تو اجناس وانواع واصناف فضائل وکمالات وبلندی درجات میں خصائص و ملزومات نبوت کے سوا صدیقین ہر عطیہ بہیہ کے لائق واہل ہیں اگرچہ باہم ان میں تفاوت و تفاضل کثیرو وافر ہو۔
آخر نہ دیکھا کہ محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے ابن جمیل ونائب جلیل حضور پر نور سید الاسیاد فرد الافراد غوث اعظم غیث اکرم غیاث عالم محبوب سبحانی مطلوب ربانی سیدنا ومولانا ابو محمد محی الدین عبدالقادر جیلانی رضی ا ﷲ تعالی عنہ فرماتے ہیں :
کل ولی علی قدم نبی وانا علی قدم جدی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وما رفع المصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم قد ما الاوضعت انا قدمی فی الموضع الذی رفع قدمہ منہ الا ان یکون قد ما من اقدام النبوۃ فانہ لا سبیل ان ینالہ غیر نبی رواہ الامام الاجل ابوالحسن علی الشطنوفی قد س سرہ فی بہجۃ الاسرار فقال اخبرنا ابو محمد سالم بن علی بن عبد اﷲ بن سنان الدمیاطی المصری ہر ولی ایك نبی کے قدم پر ہوتا ہے اور میں اپنے جد اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے قدم پاك پر ہوں مصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے جہاں سے قدم اٹھایا میں نے اسی جگہ قدم رکھا مگر نبوت کے قدم کہ ان کی طرف غیر نبی کو اصلا راہ نہیں (اس کو امام ابوالحسن علی شطنوفی قدس سرہ نے بہجۃ الاسرار میں روایت کیا تو کہا ابو محمد سالم بن علی بن عبداﷲ بن سنان الدمیاطی المصری جو قاھرہ میں ۶۷۱ھ میں پیدا ہوئے انہوں نے کہا مجھے شیخ شہاب الدین ابو حفص عمر بن عبداﷲ سہروردی
حوالہ / References
کنزالعمال بحوالہ ابن ابی عاصم وابن جریر وطس وابن شاہین فی السنۃ حدیث ۳۶۵۱۳ موسسۃ الرسالۃ بیروت ۱۳ / ۱۷۰
بہجۃ الاسرار ، ذکر کلمات اخبر بہا عن نفسہ الخ ، مطبع مصطفی البابی ، الحلبی ، مصر ص ۲۲
بہجۃ الاسرار ، ذکر کلمات اخبر بہا عن نفسہ الخ ، مطبع مصطفی البابی ، الحلبی ، مصر ص ۲۲
المولد بالقاھرۃ ۶۷۱سنۃ احدی وسبعین وستمائۃ قال اخبرنا الشیخ القدوۃ شہاب الدین ابو حفص عمر بن عبداﷲ السھروردی ببغداد ۶۲۴ سنۃ اربع و عشرین وستمائۃ قال سمعت الشیخ محی الدین عبدالقادر رضی اﷲ تعالی عنہ یقول علی الکرسی بمدرستہ (فذکرہ)۔ نے ۶۲۴ھ کو بغداد میں بیان کیا کہ میں نے شیخ محی الدین عبدالقادر رضی اللہ تعالی عنہکو مدرسہ میں کرسی پر تشریف فرما کہتے ہوئے سنا تو وہ ذکر فرمایا جو گزرا۔ (ت)
بالجملہ ما دون نبوت پر فائز ہونا نہ تفرد کی دلیل نہ حجت تفضیل کہ وہ صدہا میں مشترك اور فی نفسہ مشکک ہر غوث و صدیق اس میں شریك اور ان پر بشدت مقول با لتشکیک بلکہ خود حدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
من اتاہ ملك الموت وھو یطلب العلم کان بینہ وبین الانبیاء درجۃ واحدۃ درجۃ النبوۃ رواہ ابن النجار عن انس رضی اﷲ تعالی عنہ۔ جس کے پاس ملك الموت آئیں اور وہ طلب علم میں ہو اس میں اور انبیاء علیہم الصلوۃ و السلام میں صرف ایك درجے کا فر ق ہے کہ درجہ نبوت ہے(اسے ابن النجار نے حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کیا۔ ت)
دوسری حدیث میں ہے :
کا دحملۃ القران ان یکونوا انبیاء الا انہ لا یوحی الیھم رواہ الدیلمی فی حدیث عن عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالی عنھما۔ قریب ہے حاملان قرآن انبیا ء ہوں مگر یہ کہ ان کی طرف وحی نہیں آتی(اسے دیلمی نے ایك حدیث میں عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما سے روایت کیا)
تو اس کے امثال سے حضرات خلفائے ثلثہ رضی اﷲ تعالی عنہم پر امیر المؤمنین مولی علی کرم اﷲ وجہہ الکریم کی تفضیل کا وہم نہیں ہوسکتا۔
بالجملہ ما دون نبوت پر فائز ہونا نہ تفرد کی دلیل نہ حجت تفضیل کہ وہ صدہا میں مشترك اور فی نفسہ مشکک ہر غوث و صدیق اس میں شریك اور ان پر بشدت مقول با لتشکیک بلکہ خود حدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
من اتاہ ملك الموت وھو یطلب العلم کان بینہ وبین الانبیاء درجۃ واحدۃ درجۃ النبوۃ رواہ ابن النجار عن انس رضی اﷲ تعالی عنہ۔ جس کے پاس ملك الموت آئیں اور وہ طلب علم میں ہو اس میں اور انبیاء علیہم الصلوۃ و السلام میں صرف ایك درجے کا فر ق ہے کہ درجہ نبوت ہے(اسے ابن النجار نے حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کیا۔ ت)
دوسری حدیث میں ہے :
کا دحملۃ القران ان یکونوا انبیاء الا انہ لا یوحی الیھم رواہ الدیلمی فی حدیث عن عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالی عنھما۔ قریب ہے حاملان قرآن انبیا ء ہوں مگر یہ کہ ان کی طرف وحی نہیں آتی(اسے دیلمی نے ایك حدیث میں عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما سے روایت کیا)
تو اس کے امثال سے حضرات خلفائے ثلثہ رضی اﷲ تعالی عنہم پر امیر المؤمنین مولی علی کرم اﷲ وجہہ الکریم کی تفضیل کا وہم نہیں ہوسکتا۔
حوالہ / References
بہجۃ الاسرار ، ذکر کلمات اخبر بہا عن نفسہ الخ ، مطبع مصطفی البابی ، الحلبی ، مصر ص ۲۲
کنزالعمال ، بحوالہ ابن النجار عن انس حدیث ۲۸۸۲۹ ، موسسۃ الرسالۃ ، بیروت ، ۱۰ / ۱۶۰
الفردوس بمأ ثور الخطاب ، حدیث ۲۲۱ ، دارالکتب العلمیہ بیروت ، ۱ / ۷۵
کنزالعمال ، بحوالہ ابن النجار عن انس حدیث ۲۸۸۲۹ ، موسسۃ الرسالۃ ، بیروت ، ۱۰ / ۱۶۰
الفردوس بمأ ثور الخطاب ، حدیث ۲۲۱ ، دارالکتب العلمیہ بیروت ، ۱ / ۷۵
ابو بکر صدیق صدیق اکبر ہیں :
علماء فرماتے ہیں ابوبکر صدیق صدیق اکبر ہیں اور علی مرتضی صدیق اصغر صدیق اکبر کا مقام اعلی صدیقیت سے بلند و بالا ہے نسیم الریاض شرح شفائے امام قاضی عیاض میں ہے :
اما تخصیص ابی بکر رضی اﷲ تعالی عنہ فلانہ الصدیق الاکبر الذی سبق الناس کلھم لتصدیقہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ولم یصدر منہ غیرہ قط وکذا علی کرم اﷲ تعالی وجھہ فانہ یسمی الصدیق الاصغر الذی لم یتلبس بکفر قط ولم یسجد لغیر اﷲمع صغرہ وکون ابیہ علی غیر الملۃ ولذا خص بقول علی کرم اﷲ تعالی وجھہ لیکن ابو بکر رضی اللہ تعالی عنہکی تخصیص اس لئے کہ وہ صدیق اکبر ہیں جو تمام لوگوں میں آگے ہیں کیونکہ انہوں نے جو حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی تصدیق کی وہ کسی کو حاصل نہیں اور یونہی علی کرم اﷲ تعالی وجہہ کا نام صدیق اصغر ہے جو ہرگز کفر سے ملتبس نہ ہوئے اور نہ ہی انہوں نے غیر اﷲ کو سجدہ کیا باوجود یکہ وہ نابالغ تھے اور ان کے والد ملت اسلامیہ پر نہ تھے اسی وجہ سے انہوں نے علی کرم اﷲ وجہہ کے قول کو خاص طور پر لیا۔
حضر ت خاتم الولایۃ المحمدیۃ فی زمانہ بحر الحقائق ولسان القوم بجنانہ وبیانہ سیدی شیخ اکبر محی الدین ابن عربی نفعنا اﷲ فی الدارین بفیضانہ فتوحات مکیہ شریفہ میں فرماتے ہیں :
فلو فقد النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فی ذلك الوطن وحضرہ ابوبکر لقام فی ذلك المقام الذی اقیم فیہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لانہ لیس ثم اعلی منہ یحجبہ عن ذلك فھو صادق ذلك الوقت وحکمہ وماسواہ تحت حکمہ(ثم قال)وھذا المقام الذی اثبتناہ بین الصدیقیۃ ونبوۃ التشریع الذی ھو مقام القربۃ وھو للافراد ھودون نبوۃ التشریع۔ یعنی اگر حضور سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اس موطن میں تشریف نہ رکھتے ہوں اور صدیق اکبر حاضر ہوں تو حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے مقام پر صدیق قیام کریں گے کہ وہاں صدیق سے اعلی کوئی نہیں جو انہیں اس سے روکے وہ اس وقت کے صادق و حکیم ہیں اور جو ان کے سوا ہیں سب ان کے زیر حکم یہ مقام جو ہم نے ثابت کیا صدیقیت اور نبوت شریعت کے بیچ میں ہے یہ مقام قربت فردوں کے لئے ہے اﷲ کے نزدیك
علماء فرماتے ہیں ابوبکر صدیق صدیق اکبر ہیں اور علی مرتضی صدیق اصغر صدیق اکبر کا مقام اعلی صدیقیت سے بلند و بالا ہے نسیم الریاض شرح شفائے امام قاضی عیاض میں ہے :
اما تخصیص ابی بکر رضی اﷲ تعالی عنہ فلانہ الصدیق الاکبر الذی سبق الناس کلھم لتصدیقہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ولم یصدر منہ غیرہ قط وکذا علی کرم اﷲ تعالی وجھہ فانہ یسمی الصدیق الاصغر الذی لم یتلبس بکفر قط ولم یسجد لغیر اﷲمع صغرہ وکون ابیہ علی غیر الملۃ ولذا خص بقول علی کرم اﷲ تعالی وجھہ لیکن ابو بکر رضی اللہ تعالی عنہکی تخصیص اس لئے کہ وہ صدیق اکبر ہیں جو تمام لوگوں میں آگے ہیں کیونکہ انہوں نے جو حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی تصدیق کی وہ کسی کو حاصل نہیں اور یونہی علی کرم اﷲ تعالی وجہہ کا نام صدیق اصغر ہے جو ہرگز کفر سے ملتبس نہ ہوئے اور نہ ہی انہوں نے غیر اﷲ کو سجدہ کیا باوجود یکہ وہ نابالغ تھے اور ان کے والد ملت اسلامیہ پر نہ تھے اسی وجہ سے انہوں نے علی کرم اﷲ وجہہ کے قول کو خاص طور پر لیا۔
حضر ت خاتم الولایۃ المحمدیۃ فی زمانہ بحر الحقائق ولسان القوم بجنانہ وبیانہ سیدی شیخ اکبر محی الدین ابن عربی نفعنا اﷲ فی الدارین بفیضانہ فتوحات مکیہ شریفہ میں فرماتے ہیں :
فلو فقد النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فی ذلك الوطن وحضرہ ابوبکر لقام فی ذلك المقام الذی اقیم فیہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لانہ لیس ثم اعلی منہ یحجبہ عن ذلك فھو صادق ذلك الوقت وحکمہ وماسواہ تحت حکمہ(ثم قال)وھذا المقام الذی اثبتناہ بین الصدیقیۃ ونبوۃ التشریع الذی ھو مقام القربۃ وھو للافراد ھودون نبوۃ التشریع۔ یعنی اگر حضور سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اس موطن میں تشریف نہ رکھتے ہوں اور صدیق اکبر حاضر ہوں تو حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے مقام پر صدیق قیام کریں گے کہ وہاں صدیق سے اعلی کوئی نہیں جو انہیں اس سے روکے وہ اس وقت کے صادق و حکیم ہیں اور جو ان کے سوا ہیں سب ان کے زیر حکم یہ مقام جو ہم نے ثابت کیا صدیقیت اور نبوت شریعت کے بیچ میں ہے یہ مقام قربت فردوں کے لئے ہے اﷲ کے نزدیك
حوالہ / References
نسیم الریاض شرح شفاء امام عیاض ، الباب الاول ، الفصل الاول ، دارالفکر بیروت ، ۱ / ۱۴۲
وفوق الصدیقیۃ فی المنزلۃ عند اﷲ والمشار الیہ بالسرالذی وقر فی صدر ابی بکر ففضل بہ الصدیقین اذحصل لہ مالیس فی شرط الصدیقیۃ ولا من لوازمھا فلیس بین ابی بکر وبین رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم رجل لانہ صاحب الصدیقیۃ وصاحب سر نبوت شریعت سے نیچا اور صدیقیت سے مرتبے میں بالا ہے اسی کی طرف اس راز سے اشارہ ہے جو سینہ صدیق میں متمکن ہوا جس کے باعث وہ تمام صدیقوں سے افضل قرار پائے کہ ان کے قلوب میں وہ راز الہی حاصل ہوا جو نہ صدیقیت کی شرط ہے نہ اس کے لوازم سے تو ابوبکر صدیق اور رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے درمیان کوئی شخص نہیں کہ وہ توصدیقیت والے بھی ہیں اور صاحب راز بھی رضی اﷲ تعالی عنہ۔
تذییل : بعض احادیث علویہ مبطلہ دعوی غلویہ۔
مولا علی کی نگاہ میں مقام صدیق اکبر
صحیح بخاری شریف میں امام محمد بن حنفیہ صاحبزادہ امیر المؤمنین مولی علی کرم اﷲ تعالی وجہہ الکریم سے ہے :
قال قلت لابی ای الناس خیر بعد النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم قال ابوبکر قال قلت ثم من قال ثم عمرثم خشیت ان اقول ثم من فیقول عثمان فقلت ثم انت یا ابت فقال ما انا الارجل من المسلمین رواہ ایضا ابن ابی عاصم و خشیش وابو نعیم فی الحلیۃ الاولیاء۔ میں نے اپنے والدماجد مولی علی رضی اللہ تعالی عنہسے عرض کی نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے بعد سب آدمیوں سے بہتر کون ہےفرمایا : ابوبکر۔ میں نے کہا پھر کون فرمایا : پھر عمر۔ پھر مجھے خوف ہوا کہ کہیں میں کہوں پھر کون تو فرمادیں عثمان اس لئے میں نے سبقت کر کے کہا اے باپ میرے! پھر آپفرمایا : میں تو نہیں مگر ایك مرد مسلمانوں میں سے(اسے ابن ابی عاصم اور خشیش اور ابو نعیم نے بھی حلیۃ الاولیاء میں بیان کیا ہے۔ ت)
تذییل : بعض احادیث علویہ مبطلہ دعوی غلویہ۔
مولا علی کی نگاہ میں مقام صدیق اکبر
صحیح بخاری شریف میں امام محمد بن حنفیہ صاحبزادہ امیر المؤمنین مولی علی کرم اﷲ تعالی وجہہ الکریم سے ہے :
قال قلت لابی ای الناس خیر بعد النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم قال ابوبکر قال قلت ثم من قال ثم عمرثم خشیت ان اقول ثم من فیقول عثمان فقلت ثم انت یا ابت فقال ما انا الارجل من المسلمین رواہ ایضا ابن ابی عاصم و خشیش وابو نعیم فی الحلیۃ الاولیاء۔ میں نے اپنے والدماجد مولی علی رضی اللہ تعالی عنہسے عرض کی نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے بعد سب آدمیوں سے بہتر کون ہےفرمایا : ابوبکر۔ میں نے کہا پھر کون فرمایا : پھر عمر۔ پھر مجھے خوف ہوا کہ کہیں میں کہوں پھر کون تو فرمادیں عثمان اس لئے میں نے سبقت کر کے کہا اے باپ میرے! پھر آپفرمایا : میں تو نہیں مگر ایك مرد مسلمانوں میں سے(اسے ابن ابی عاصم اور خشیش اور ابو نعیم نے بھی حلیۃ الاولیاء میں بیان کیا ہے۔ ت)
حوالہ / References
الفتوحات المکیۃ ، الباب الثالث والسبعون ، داراحیائ ، التراث العربی ، بیروت ، ۲ / ۲۵
صحیح بخاری ، کتاب المناقب ، فضائل ابی بکر رضی اﷲ تعالٰی عنہ ، قدیمی کتب خانہ کراچی ، ۱ / ۵۱۸ ، جامع الاحادیث بحوالہ خ و د وابن ابی عاصم و خشیش وغیرہ ، حدیث ۷۷۱۴ دارالفکر بیروت ، ۱۶ / ۲۱۷ ، کنزالعمال ، بحوالہ خ و د وابن ابی عاصم و خشیش وغیرہ ، ۳۶۰۹۴ موسسۃ الرسالہ ، بیروت ، ۱۳ / ۷
صحیح بخاری ، کتاب المناقب ، فضائل ابی بکر رضی اﷲ تعالٰی عنہ ، قدیمی کتب خانہ کراچی ، ۱ / ۵۱۸ ، جامع الاحادیث بحوالہ خ و د وابن ابی عاصم و خشیش وغیرہ ، حدیث ۷۷۱۴ دارالفکر بیروت ، ۱۶ / ۲۱۷ ، کنزالعمال ، بحوالہ خ و د وابن ابی عاصم و خشیش وغیرہ ، ۳۶۰۹۴ موسسۃ الرسالہ ، بیروت ، ۱۳ / ۷
طبرا نی معجم اوسط میں صلہ بن زفر سے راوی جب امیر المؤمنین مولی علی کے سامنے لوگ ابوبکر صدیق کا ذکر کرتے امیر المؤمنین فرماتے :
السباق یذکرون السابق یذکرون والذی نفسی بیدہ ما استبقنا الی خیر قط الاسبقنا الیہ ابوبکر ابوبکر کا بڑی سبقت والے ذکر کر رہے ہیں کمال پیشی لے جانے والے کا تذکرہ کرتے ہیں قسم اس کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے جب ہم نے کسی خیر میں پیشی چاہی ہے ابوبکر ہم سب پر سبقت لے گئے ہیں۔
حضرت صدیق کے بارے میں حضرت علی رائے :
ابو القاسم طلحی وابن ابی عاصم وابن شاہین واللالکائی سب اپنی اپنی کتاب السنہ میں اور عشاری فضائل صدیق اور اصبہانی کتاب الحجہ اور ابن عساکر تاریخ دمشق میں راوی امیر المؤمنین کو خبر پہنچی کچھ لوگ انہیں ابو بکر و عمر(رضی اﷲ تعالی عنہما)سے افضل بتاتے ہیں منبر شریف پر تشریف لے گئے حمد و ثنائے الہی کے بعد فرمایا :
ایھا الناس بلغنی ان اقواما یفضلو نی علی ابی بکر و عمر ولو کنت تقدمت فیہ لعاقبت فیہ فمن سمعتہ بعد ھذا الیوم یقول ھذا فھو مفتر علیہ حد المفتری خیرالناس بعد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ابو بکر ثم عمر(زاد غیر الطلحی)ثم احدثنا بعضھم احدا ثا یقضی اﷲ فیھا ما یشاء اے لوگو! مجھے خبر پہنچی کہ کچھ لوگ مجھے ابو بکر و عمر پر فضیلت دیتے ہیں اگر میں پہلے متنبہ کرچکا ہوتا تو اب سزا دیتا آج کے بعد جسے ایسا کہتا سنوں گا وہ مفتری ہے اس پر مفتری کی حد آئے گی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے بعد سب آدمیوں سے بہتر ابوبکر ہیں پھر عمر پھر ان کے بعد ہم سے کچھ نئے امور واقع ہوئے کہ خدا ان میں جو چاہے گا حکم فرمائے گا۔
امام ابو عمران عبدالبراستیعاب میں حکم بن حجل سے اور امام ابو الحسن دارقطنی سنن میں روایت کرتے ہیں امیر المؤمنین مولا علی فرماتے ہیں :
السباق یذکرون السابق یذکرون والذی نفسی بیدہ ما استبقنا الی خیر قط الاسبقنا الیہ ابوبکر ابوبکر کا بڑی سبقت والے ذکر کر رہے ہیں کمال پیشی لے جانے والے کا تذکرہ کرتے ہیں قسم اس کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے جب ہم نے کسی خیر میں پیشی چاہی ہے ابوبکر ہم سب پر سبقت لے گئے ہیں۔
حضرت صدیق کے بارے میں حضرت علی رائے :
ابو القاسم طلحی وابن ابی عاصم وابن شاہین واللالکائی سب اپنی اپنی کتاب السنہ میں اور عشاری فضائل صدیق اور اصبہانی کتاب الحجہ اور ابن عساکر تاریخ دمشق میں راوی امیر المؤمنین کو خبر پہنچی کچھ لوگ انہیں ابو بکر و عمر(رضی اﷲ تعالی عنہما)سے افضل بتاتے ہیں منبر شریف پر تشریف لے گئے حمد و ثنائے الہی کے بعد فرمایا :
ایھا الناس بلغنی ان اقواما یفضلو نی علی ابی بکر و عمر ولو کنت تقدمت فیہ لعاقبت فیہ فمن سمعتہ بعد ھذا الیوم یقول ھذا فھو مفتر علیہ حد المفتری خیرالناس بعد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ابو بکر ثم عمر(زاد غیر الطلحی)ثم احدثنا بعضھم احدا ثا یقضی اﷲ فیھا ما یشاء اے لوگو! مجھے خبر پہنچی کہ کچھ لوگ مجھے ابو بکر و عمر پر فضیلت دیتے ہیں اگر میں پہلے متنبہ کرچکا ہوتا تو اب سزا دیتا آج کے بعد جسے ایسا کہتا سنوں گا وہ مفتری ہے اس پر مفتری کی حد آئے گی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے بعد سب آدمیوں سے بہتر ابوبکر ہیں پھر عمر پھر ان کے بعد ہم سے کچھ نئے امور واقع ہوئے کہ خدا ان میں جو چاہے گا حکم فرمائے گا۔
امام ابو عمران عبدالبراستیعاب میں حکم بن حجل سے اور امام ابو الحسن دارقطنی سنن میں روایت کرتے ہیں امیر المؤمنین مولا علی فرماتے ہیں :
حوالہ / References
المعجم الاوسط ، حدیث ۷۱۶۴ ، مکتبۃ المعارف الریاض ، ۸ / ۸۲ ، جامع الاحادیث بحوالہ طس ، حدیث ۷۶۸۸ ، دارالفکر بیروت ، ۱۶ / ۲۰۹
کنزالعمال بحوالہ ابن ابی عاصم و ابن شاہین واللالکائی والعشاری ، حدیث ۳۶۱۴۳ ، موسسۃ الرسالۃ ، بیروت ، ۱۳ / ۲۱ ، جامع الاحادیث ابن ابی عاصم و ابن شاہین واللالکائی والعشاری ، حدیث ۷۷۳۵ ، دارالفکر بیروت ، ۱۶ / ۲۲۲
کنزالعمال بحوالہ ابن ابی عاصم و ابن شاہین واللالکائی والعشاری ، حدیث ۳۶۱۴۳ ، موسسۃ الرسالۃ ، بیروت ، ۱۳ / ۲۱ ، جامع الاحادیث ابن ابی عاصم و ابن شاہین واللالکائی والعشاری ، حدیث ۷۷۳۵ ، دارالفکر بیروت ، ۱۶ / ۲۲۲
لا اجد احدا فضلنی علی ابی بکر و عمر الاجلد تہ حد المفتری میں جسے پاؤں گا کہ ابو بکر و عمر پر مجھے تفضیل دیتا ہے اسے مفتری کی حد اسی کوڑے لگاؤں گا۔
ابن عساکر بطریق الزہری عن عبداﷲ بن کثیر راوی امیر المؤمنین فرماتے ہیں :
لا یفضلنی احد علی ابی بکر و عمر الاجلد تہ جلدا وجیعا جو مجھے ابو بکر و عمر سے افضل کہے گا اسے دردناك کوڑے لگاؤں گا۔
امام احمد مسند اور عدنی مائتین اور ابو عبید کتاب الغریب اور نعیم بن حماد فتن اور خثیمہ بن سلیمان طرابلسی فضائل الصحابہ اور حاکم مستدرك اور خطیب تلخیص المتشابہ میں راوی امیر المؤمنین فرماتے ہیں :
سبق رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وصلی ابوبکر وثلث عمر ثم خطبتنا فتنۃ و یعفواﷲ عمن یشاء وللخطیب وغیرہ فھو ما شاء اﷲ زاد ھو فمن فضلنی علی ابی بکر وعمر رضی اﷲ تعالی عنہما فعلیہ حد المفتری من الجلد و اسقاط الشہادۃ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سبقت لے گئے اور ان کے دوسرے ابوبکر اور تیسرے عمر ہوئے پھر ہمیں فتنے نے مضطرب کیا اور خدا جسے چاہے معاف فرمائے گا یا فرمایا جو خدا نے چاہا وہ ہوا تو جو مجھے ابو بکر و عمر رضی اﷲ تعالی عنہما پر فضیلت دے اس پر مفتری کی حد واجب ہے اسی کوڑے لگائے جائیں اور گواہی کبھی نہ سنی جائے۔
ابو طالب عشاری بطریق الحسن بن کثیر عن ابیہ راوی ایك شخص نے امیر المؤمنین علی مرتضی کرم اﷲ تعالی وجہہ کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کی : آپ خیر الناس ہیں۔ فرمایا تو نے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو دیکھا ہے کہا نہ۔ فرمایا : ابو بکر کو دیکھاکہا : نہ فرمایا : عمر کو دیکھاکہا : نہ فرمایا :
اما انك لو قلت انك رأیت النبی سن لے اگر تو نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے دیکھنے
ابن عساکر بطریق الزہری عن عبداﷲ بن کثیر راوی امیر المؤمنین فرماتے ہیں :
لا یفضلنی احد علی ابی بکر و عمر الاجلد تہ جلدا وجیعا جو مجھے ابو بکر و عمر سے افضل کہے گا اسے دردناك کوڑے لگاؤں گا۔
امام احمد مسند اور عدنی مائتین اور ابو عبید کتاب الغریب اور نعیم بن حماد فتن اور خثیمہ بن سلیمان طرابلسی فضائل الصحابہ اور حاکم مستدرك اور خطیب تلخیص المتشابہ میں راوی امیر المؤمنین فرماتے ہیں :
سبق رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وصلی ابوبکر وثلث عمر ثم خطبتنا فتنۃ و یعفواﷲ عمن یشاء وللخطیب وغیرہ فھو ما شاء اﷲ زاد ھو فمن فضلنی علی ابی بکر وعمر رضی اﷲ تعالی عنہما فعلیہ حد المفتری من الجلد و اسقاط الشہادۃ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سبقت لے گئے اور ان کے دوسرے ابوبکر اور تیسرے عمر ہوئے پھر ہمیں فتنے نے مضطرب کیا اور خدا جسے چاہے معاف فرمائے گا یا فرمایا جو خدا نے چاہا وہ ہوا تو جو مجھے ابو بکر و عمر رضی اﷲ تعالی عنہما پر فضیلت دے اس پر مفتری کی حد واجب ہے اسی کوڑے لگائے جائیں اور گواہی کبھی نہ سنی جائے۔
ابو طالب عشاری بطریق الحسن بن کثیر عن ابیہ راوی ایك شخص نے امیر المؤمنین علی مرتضی کرم اﷲ تعالی وجہہ کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کی : آپ خیر الناس ہیں۔ فرمایا تو نے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو دیکھا ہے کہا نہ۔ فرمایا : ابو بکر کو دیکھاکہا : نہ فرمایا : عمر کو دیکھاکہا : نہ فرمایا :
اما انك لو قلت انك رأیت النبی سن لے اگر تو نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے دیکھنے
حوالہ / References
جامع الاحادیث عن الحکم بن حجل عن علی ، حدیث ۷۷۴۷ ، دارالفکر بیروت ، ۱۶ / ۲۲۵ ، مختصر تاریخ دمشق لابن عساکر ، ترجمہ ۲۲ ، عبداﷲ ابن ابی قحافہ ، دارالفکر بیروت ، ۱۳ / ۱۱۰
جامع الاحادیث بحوالہ ابن عساکر عن علی ، حدیث ۷۷۲۳ ، دارالفکر بیروت ، ۱۶ / ۲۱۹ ، کنزالعمال بحوالہ ابن عساکر عن علی ، حدیث ۳۶۱۰۳ ، موسسۃ الرسالۃ ، بیروت ، ۱۳ / ۹
المستدرك علی الصحیحین کتاب معرفۃ الصحابہ رضی اﷲ تعالٰی عنہم ، مناقب ابی بکر ، دارالفکر بیروت ، ۳ / ۶۸۔ ۶۷
کنزالعمال بحوالہ خط فی تلخیص المتشابہ ، حدیث ۳۶۱۰۲ ، موسسۃ الرسالہ ، بیروت ، ۱۳ / ۹ ، جامع الاحادیث خط فی تلخیص المتشابہ ، حدیث ۷۷۲۲ ، دارالفکر بیروت ، ۱۶ / ۲۱۹
جامع الاحادیث بحوالہ ابن عساکر عن علی ، حدیث ۷۷۲۳ ، دارالفکر بیروت ، ۱۶ / ۲۱۹ ، کنزالعمال بحوالہ ابن عساکر عن علی ، حدیث ۳۶۱۰۳ ، موسسۃ الرسالۃ ، بیروت ، ۱۳ / ۹
المستدرك علی الصحیحین کتاب معرفۃ الصحابہ رضی اﷲ تعالٰی عنہم ، مناقب ابی بکر ، دارالفکر بیروت ، ۳ / ۶۸۔ ۶۷
کنزالعمال بحوالہ خط فی تلخیص المتشابہ ، حدیث ۳۶۱۰۲ ، موسسۃ الرسالہ ، بیروت ، ۱۳ / ۹ ، جامع الاحادیث خط فی تلخیص المتشابہ ، حدیث ۷۷۲۲ ، دارالفکر بیروت ، ۱۶ / ۲۱۹
صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لقتلتك ولو قلت رأیت ابا بکر و عمر لجلد تک کے بعد خیرالناس بعد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا اقرار کرتا اور پھر مجھے خیرالناس کہتا تو میں تجھے قتل کرتا اور اگر تو ابو بکر و عمر کو دیکھے ہوتا اور مجھے افضل بتاتا تو تجھے حد لگاتا۔
ابن عسا کر سیدنا عمار بن یا سر رضی اﷲ تعالی عنہما سے راوی امیر المؤمنین مولی علی کرم اﷲتعالی وجہہ نے فرمایا :
لایفضلنی احد علی ابی بکر و عمر الاوقد انکر حقی وحق اصحاب رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم جو مجھے ابوبکر و عمر پر تفضیل دے گا وہ میر ے اور تمام اصحاب رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے حق کا منکر ہوگا۔
حضرات شیخین اولین جنتی ہیں :
ابو طالب عشاری اور اصبہانی کتاب الحجہ میں عبد خیر سے راوی میں نے امیر المؤمنین مولی علی سے عرض کی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے بعد سب سے پہلے جنت میں کون جائے گافرمایا : ابوبکر و عمر۔ میں نے عرض کی : یا امیر المؤمنین ! کیا وہ دونوں آپ سے پہلے جنت میں جائیں گےفرمایا :
ای والذی فلق الحبۃ وبرأالنسمۃ انھما لیاکلان من ثمارھا و یرویان من مائھا ویتکئان علی فرشہا وانا موقوف بالحساب ہاں قسم اس کی جس نے بیج کو چیر کر پیڑا گایا اور آدمی کو اپنی قدرت سے تصویر فرمایا بیشك وہ دونوں جنت کے پھل کھائیں گے اس کے پانی سے سیراب ہوں گے اس کی مسندوں پر آرام کریں گے اور میں ابھی حساب میں کھڑا ہوں گا۔
خیر الناس بعد رسول اﷲ :
ابو ذر ہروی و دارقطنی وغیرہما حضرت ابو جحیفہ رضی اللہ تعالی عنہسے راوی میں نے امیر المؤمنین سے عرض کی :
یا خیرالناس بعد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فقال مھلا یا ابا جحیفۃ یا خیر الناس بعد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرمایا ٹھہرواے ابو جحیفہ! کیا میں تمہیں نہ بتادوں کہ
ابن عسا کر سیدنا عمار بن یا سر رضی اﷲ تعالی عنہما سے راوی امیر المؤمنین مولی علی کرم اﷲتعالی وجہہ نے فرمایا :
لایفضلنی احد علی ابی بکر و عمر الاوقد انکر حقی وحق اصحاب رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم جو مجھے ابوبکر و عمر پر تفضیل دے گا وہ میر ے اور تمام اصحاب رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے حق کا منکر ہوگا۔
حضرات شیخین اولین جنتی ہیں :
ابو طالب عشاری اور اصبہانی کتاب الحجہ میں عبد خیر سے راوی میں نے امیر المؤمنین مولی علی سے عرض کی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے بعد سب سے پہلے جنت میں کون جائے گافرمایا : ابوبکر و عمر۔ میں نے عرض کی : یا امیر المؤمنین ! کیا وہ دونوں آپ سے پہلے جنت میں جائیں گےفرمایا :
ای والذی فلق الحبۃ وبرأالنسمۃ انھما لیاکلان من ثمارھا و یرویان من مائھا ویتکئان علی فرشہا وانا موقوف بالحساب ہاں قسم اس کی جس نے بیج کو چیر کر پیڑا گایا اور آدمی کو اپنی قدرت سے تصویر فرمایا بیشك وہ دونوں جنت کے پھل کھائیں گے اس کے پانی سے سیراب ہوں گے اس کی مسندوں پر آرام کریں گے اور میں ابھی حساب میں کھڑا ہوں گا۔
خیر الناس بعد رسول اﷲ :
ابو ذر ہروی و دارقطنی وغیرہما حضرت ابو جحیفہ رضی اللہ تعالی عنہسے راوی میں نے امیر المؤمنین سے عرض کی :
یا خیرالناس بعد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فقال مھلا یا ابا جحیفۃ یا خیر الناس بعد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرمایا ٹھہرواے ابو جحیفہ! کیا میں تمہیں نہ بتادوں کہ
حوالہ / References
جامع الاحادیث بحوالہ العشاری ، حدیث ۷۷۴۳ ، دارالفکر بیروت ، ۱۶ / ۲۲۵ ، کنزالعمال بحوالہ العشاری ، حدیث ۳۶۱۵۳ ، موسسۃ الرسالہ بیروت ، ۱۳ / ۲۶
جامع الاحادیث بحوالہ ابن عساکر ، حدیث ۷۷۳۳ ، دارالفکر بیروت ، ۱۶ / ۲۲۔ ۲۲۱
جامع الاحادیث بحوالہ ابو طالب العشاری والا صفہانی الخ حدیث ۷۷۲۰ ، دارالفکر بیروت ، ۱۶ / ۲۱۹
جامع الاحادیث بحوالہ ابن عساکر ، حدیث ۷۷۳۳ ، دارالفکر بیروت ، ۱۶ / ۲۲۔ ۲۲۱
جامع الاحادیث بحوالہ ابو طالب العشاری والا صفہانی الخ حدیث ۷۷۲۰ ، دارالفکر بیروت ، ۱۶ / ۲۱۹
الا اخبرك بخیر الناس بعد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ابو بکر و عمر کون ہےفرمایا اے ابوجحیفہ! خیر الناس بعد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ابو بکر و عمر(رضی اﷲ تعالی عنہما)ہیں۔
افضل الناس بعد رسول اﷲ :
ابو نعیم حلیہ اور ابن شاہین کتاب السنہ اور ابن عساکر تاریخ میں عمرو بن حریث سے راوی میں نے امیر المؤمنین مولی علی کرم اﷲ وجہہ کو منبر پر فرماتے سنا :
ان افضل الناس بعد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ابوبکر و عمر و عثمان وفی لفظ ثم عمر ثم عثمان بیشك رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے بعد سب آدمیوں سے افضل ابو بکر و عمر و عثمان ہیں اور بالفاظ دیگر پھر عمر پھر عثمان۔
مولود ازکی فی الاسلام :
ابن عساکر بطریق سعد ابن طریف اصبغ بن نباتہ سے راوی فرمایا :
قلت لعلی یا امیر المؤمنین من خیر الناس بعد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم قال ابوبکر قلت ثم من قال ثم عمر قلت ثم من قال ثم عثمان قلت ثم من قال انا رأیت رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بعینی ھاتین والا فعمیتا وباذنی ھاتین والا فصمتا یقول ماولد فی الاسلام مولود ازکی ولا اطھر ولا افضل من ابی بکر ثم عمر میں نے مولی علی سے عرض کی یا امیر المؤمنین! رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے بعد سب سے افضل کون ہے فرمایا : ابوبکر۔ میں نے کہا : پھر کونفرمایا : عمر کہا پھر کون فرمایا : عثمان کہا : پھر کونفرمایا : میں میں نے ان آنکھو ں سے نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو دیکھا ورنہ یہ آنکھیں پھوٹ جائیں اور ان کانوں سے فرماتے سنا ورنہ بہرے ہوجائیں حضور فرماتے تھے اسلام میں کوئی شخص ایسا پیدا نہ ہوا جو ابوبکر پھر عمر سے زیادہ پاکیزہ زیادہ فضیلت والا ہو۔
افضل الناس بعد رسول اﷲ :
ابو نعیم حلیہ اور ابن شاہین کتاب السنہ اور ابن عساکر تاریخ میں عمرو بن حریث سے راوی میں نے امیر المؤمنین مولی علی کرم اﷲ وجہہ کو منبر پر فرماتے سنا :
ان افضل الناس بعد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ابوبکر و عمر و عثمان وفی لفظ ثم عمر ثم عثمان بیشك رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے بعد سب آدمیوں سے افضل ابو بکر و عمر و عثمان ہیں اور بالفاظ دیگر پھر عمر پھر عثمان۔
مولود ازکی فی الاسلام :
ابن عساکر بطریق سعد ابن طریف اصبغ بن نباتہ سے راوی فرمایا :
قلت لعلی یا امیر المؤمنین من خیر الناس بعد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم قال ابوبکر قلت ثم من قال ثم عمر قلت ثم من قال ثم عثمان قلت ثم من قال انا رأیت رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بعینی ھاتین والا فعمیتا وباذنی ھاتین والا فصمتا یقول ماولد فی الاسلام مولود ازکی ولا اطھر ولا افضل من ابی بکر ثم عمر میں نے مولی علی سے عرض کی یا امیر المؤمنین! رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے بعد سب سے افضل کون ہے فرمایا : ابوبکر۔ میں نے کہا : پھر کونفرمایا : عمر کہا پھر کون فرمایا : عثمان کہا : پھر کونفرمایا : میں میں نے ان آنکھو ں سے نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو دیکھا ورنہ یہ آنکھیں پھوٹ جائیں اور ان کانوں سے فرماتے سنا ورنہ بہرے ہوجائیں حضور فرماتے تھے اسلام میں کوئی شخص ایسا پیدا نہ ہوا جو ابوبکر پھر عمر سے زیادہ پاکیزہ زیادہ فضیلت والا ہو۔
حوالہ / References
جامع الاحادیث بحوالہ الصابونی فی المائتین ، حدیث ۷۷۳۴ ، دارالفکر بیروت ، ۱۶ / ۲۲۲ ، کنزالعمال بحوالہ الصابونی فی المائتین ، وطس وکر حدیث ۳۶۱۴۱ ، موسسۃ الرسالہ ، بیروت ، ۱۳ / ۲۱
کنز العمال ، بحوالہ ابن عسا کر وحل ابن شاہین فی السنہ ، حدیث ۸۰۰۶ ، دارالفکربیروت ، ۱۶ / ۲۹۰
جامع احادیث ابن عساکر حدیث ۸۰۲۳ ، دارالفکر بیروت ، ۱۶ / ۲۹۴
کنز العمال ، بحوالہ ابن عسا کر وحل ابن شاہین فی السنہ ، حدیث ۸۰۰۶ ، دارالفکربیروت ، ۱۶ / ۲۹۰
جامع احادیث ابن عساکر حدیث ۸۰۲۳ ، دارالفکر بیروت ، ۱۶ / ۲۹۴
ابو طالب عشاری فضائل الصدیق میں راوی امیر المؤمنین مولی علی کرم اﷲ تعالی وجہہ الکریم فرماتے ہیں :
وھل انا الا حسنۃ من حسنات ابی بکر میں کون ہوں مگر ابو بکر کی نیکیوں سے ایك نیکی۔
سیدنا صدیق کی سبقت کی چہار وجوہات :
خیثمہ طرابلسی وابن عسا کر ابو الزناد سے راوی ایك شخص نے مولی علی سے عرض کی : یا امیر المؤمنین! کیا بات ہوئی کہ مہاجرین وانصار نے ابو بکر کو تقدیم دی حالانکہ آپ کے مناقب بیشتر اور اسلام وسوابق پیشتر فرمایا : اگر مسلمان کے لئے خدا کی پناہ نہ ہوتی تو میں تجھے قتل کردیتا افسوس تجھ پر ابوبکر چار وجہ سے مجھ پر سبقت لے گئے افشائے اسلام میں مجھ سے پہلے ہجرت میں مجھ سے سابق صحبت غار میں انہیں کا حصہ نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے امامت کے لئے انہیں کو مقدم فرمایا ویحك ان اﷲ ذم الناس کلھم ومدح ابابکر فقال الا تنصروہ فقد نصرہ اﷲ (الایۃ)افسوس تجھ پر بیشك اﷲتعالی نے سب کی مذمت کی اور ابوبکر کی مدح فرمائی کہ ارشاد فرماتا ہے اگر تم اس نبی کی مدد نہ کرو تو ا ﷲ تعالی نے اس کی مدد فرمائی جب کافروں نے اسے مکے سے باہر کیا دوسرا ان دو کا جب وہ غارمیں تھے جب اپنے یار سے فرماتا تھا غم نہ کھا اﷲ ہمارے ساتھ ہے۔
حضرت صدیق کا تقدم :
خطیب بغدادی وابن عساکر اور دیلمی مسند الفردوس اور عشاری فضائل الصدیق میں امیر المؤمنین مولی علی کرم اﷲ تعالی وجہہ الکریم سے راوی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
سألت اﷲ ثلثا ان یقدمك فابی علی الا تقدیم ابی بکر اے علی! میں نے اﷲ عزوجل سے تین بار سوال کیا کہ تجھے تقدیم دے اﷲ تعالی نے نہ مانا مگر ابوبکر کو مقدم رکھنا۔
حضرت علی کی مدح افراط و تفریط کا شکار :
عبداﷲ بن احمد زوائد مسند میں اور ابو یعلی ودورقی وحاکم وابن ابی عاصم
وھل انا الا حسنۃ من حسنات ابی بکر میں کون ہوں مگر ابو بکر کی نیکیوں سے ایك نیکی۔
سیدنا صدیق کی سبقت کی چہار وجوہات :
خیثمہ طرابلسی وابن عسا کر ابو الزناد سے راوی ایك شخص نے مولی علی سے عرض کی : یا امیر المؤمنین! کیا بات ہوئی کہ مہاجرین وانصار نے ابو بکر کو تقدیم دی حالانکہ آپ کے مناقب بیشتر اور اسلام وسوابق پیشتر فرمایا : اگر مسلمان کے لئے خدا کی پناہ نہ ہوتی تو میں تجھے قتل کردیتا افسوس تجھ پر ابوبکر چار وجہ سے مجھ پر سبقت لے گئے افشائے اسلام میں مجھ سے پہلے ہجرت میں مجھ سے سابق صحبت غار میں انہیں کا حصہ نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے امامت کے لئے انہیں کو مقدم فرمایا ویحك ان اﷲ ذم الناس کلھم ومدح ابابکر فقال الا تنصروہ فقد نصرہ اﷲ (الایۃ)افسوس تجھ پر بیشك اﷲتعالی نے سب کی مذمت کی اور ابوبکر کی مدح فرمائی کہ ارشاد فرماتا ہے اگر تم اس نبی کی مدد نہ کرو تو ا ﷲ تعالی نے اس کی مدد فرمائی جب کافروں نے اسے مکے سے باہر کیا دوسرا ان دو کا جب وہ غارمیں تھے جب اپنے یار سے فرماتا تھا غم نہ کھا اﷲ ہمارے ساتھ ہے۔
حضرت صدیق کا تقدم :
خطیب بغدادی وابن عساکر اور دیلمی مسند الفردوس اور عشاری فضائل الصدیق میں امیر المؤمنین مولی علی کرم اﷲ تعالی وجہہ الکریم سے راوی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
سألت اﷲ ثلثا ان یقدمك فابی علی الا تقدیم ابی بکر اے علی! میں نے اﷲ عزوجل سے تین بار سوال کیا کہ تجھے تقدیم دے اﷲ تعالی نے نہ مانا مگر ابوبکر کو مقدم رکھنا۔
حضرت علی کی مدح افراط و تفریط کا شکار :
عبداﷲ بن احمد زوائد مسند میں اور ابو یعلی ودورقی وحاکم وابن ابی عاصم
حوالہ / References
جامع الاحادیث بحوالہ ابی طالب العشاری ، حدیث ۷۶۸۴ ، دارالفکر بیروت ، ۱۶ / ۲۰۸
جامع الاحادیث بحوالہ خیثمہ وابن عساکر حدیث ۷۶۸۹ ، دارالفکر بیروت ، ۱۶ / ۲۰۹
تاریخ بغداد ، حدیث ۵۹۲۱ ، دارالکتاب العربی ، بیروت ، ۱۱ / ۲۱۳ ، کنزالعمال بحوالہ ابی طالب العشاری وغیرہ حدیث ۳۵۶۸۰ ، موسسۃ الرسالہ ، بیروت ، ۱۲ / ۵۱۵
جامع الاحادیث بحوالہ خیثمہ وابن عساکر حدیث ۷۶۸۹ ، دارالفکر بیروت ، ۱۶ / ۲۰۹
تاریخ بغداد ، حدیث ۵۹۲۱ ، دارالکتاب العربی ، بیروت ، ۱۱ / ۲۱۳ ، کنزالعمال بحوالہ ابی طالب العشاری وغیرہ حدیث ۳۵۶۸۰ ، موسسۃ الرسالہ ، بیروت ، ۱۲ / ۵۱۵
وابن شاہین امیرالمؤمنین مولی علی کرم اﷲ وجہہ سے راوی کہ انہوں نے فرمایا :
دعانی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فقال یا علی ان فیك من عیسی مثلا ابغضتہ الیھود حتی بھتوا امہ واحبتہ النصاری حتی انزلوہ بالمنزلۃ التی لیس بھا وقال علی الاوانہ یھلك فی رجلان محب مطریئ یفرطنی بما لیس فی و مبغض مفتر یحملہ شنانی علی ان یبھتنی الاوانی لست بنبی ولا یوحی الی ولکنی اعمل بکتاب اﷲ وسنۃ نبیہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ما استطعت فما امرتکم بہ من طاعۃ اﷲ فحق علیکم طاعتی فیما احببتم اوکرھتم وما امرتکم بمعصیۃانا وغیری فلاطاعۃ لا حد فی معصیۃ اﷲ انما الطاعۃ فی المعروف مجھے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے بلا کر ارشاد فرمایا : اے علی! تجھ میں ایك کہاوت عیسی علیہ الصلوۃ والسلام کی طرح ہے یہود نے ان سے دشمنی کی یہاں تك کہ ان کی ماں پر بہتان باندھا اور نصاری ان کے دوست بنے یہاں تك کہ جو مرتبہ ان کا نہ تھا وہا ں جا اتارا مولا علی فرماتے ہیں سن لو میرے معاملے میں دو شخص ہلاك ہوں گے ایك دوست میری تعریف میں حد سے بڑھنے والا جو میرا وہ مرتبہ بتائے گا جو مجھ میں نہیں اور ایك دشمن مفتری جسے میری عداوت اس پر باعث ہوگی کہ مجھ پر تہمت اٹھائے سن لو میں نہ تو نبی ہوں نہ مجھ پر وحی آتی ہے تو جہاں تك ہوسکے اﷲ عزوجل کی کتاب اور اس کے نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی سنت پر عمل کرتا ہوں تو میں جب تمہیں اطاعت الہی کا حکم دوں تو میری فرما نبرداری تم پر لازم ہے چاہے تمہیں پسند ہو خواہ ناگوار اور اگر معصیت کا حکم دوں میں یا کوئی تو اﷲ کی نافرمانی میں کسی کی اطاعت نہیں اطاعت تو مشروع بات میں ہے۔
افضل الایمان : ابن عساکر سالم بن ابی الجعد سے راوی فرمایا :
قلت لمحمد بن الحنفیۃ ھل کان ابو بکر اول القوم اسلاما قال لا قلت فیما علا ابو بکر و سبق حتی لا یذکر احد غیر ابی بکر قال لانہ کان افضلھم میں نے امام محمد بن حنفیہ صاحبزادہ مولاعلی رضی اﷲ تعالی عنہما سے دریافت کیا کہ ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہسب سے پہلے اسلام لائے تھے فرمایانہ۔ میں نے کہا پھر کس وجہ سے ابوبکر سب پر بلند و سابق ہوئے میں نے امام محمد بن حنفیہ صاحبزادہ مولاعلی رضی اﷲ تعالی عنہما سے دریافت کیا کہ ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہسب سے پہلے اسلام لائے تھے فرمایانہ۔ میں نے کہا پھر کس وجہ سے ابوبکر سب پر بلند و سابق ہوئے
دعانی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فقال یا علی ان فیك من عیسی مثلا ابغضتہ الیھود حتی بھتوا امہ واحبتہ النصاری حتی انزلوہ بالمنزلۃ التی لیس بھا وقال علی الاوانہ یھلك فی رجلان محب مطریئ یفرطنی بما لیس فی و مبغض مفتر یحملہ شنانی علی ان یبھتنی الاوانی لست بنبی ولا یوحی الی ولکنی اعمل بکتاب اﷲ وسنۃ نبیہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ما استطعت فما امرتکم بہ من طاعۃ اﷲ فحق علیکم طاعتی فیما احببتم اوکرھتم وما امرتکم بمعصیۃانا وغیری فلاطاعۃ لا حد فی معصیۃ اﷲ انما الطاعۃ فی المعروف مجھے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے بلا کر ارشاد فرمایا : اے علی! تجھ میں ایك کہاوت عیسی علیہ الصلوۃ والسلام کی طرح ہے یہود نے ان سے دشمنی کی یہاں تك کہ ان کی ماں پر بہتان باندھا اور نصاری ان کے دوست بنے یہاں تك کہ جو مرتبہ ان کا نہ تھا وہا ں جا اتارا مولا علی فرماتے ہیں سن لو میرے معاملے میں دو شخص ہلاك ہوں گے ایك دوست میری تعریف میں حد سے بڑھنے والا جو میرا وہ مرتبہ بتائے گا جو مجھ میں نہیں اور ایك دشمن مفتری جسے میری عداوت اس پر باعث ہوگی کہ مجھ پر تہمت اٹھائے سن لو میں نہ تو نبی ہوں نہ مجھ پر وحی آتی ہے تو جہاں تك ہوسکے اﷲ عزوجل کی کتاب اور اس کے نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی سنت پر عمل کرتا ہوں تو میں جب تمہیں اطاعت الہی کا حکم دوں تو میری فرما نبرداری تم پر لازم ہے چاہے تمہیں پسند ہو خواہ ناگوار اور اگر معصیت کا حکم دوں میں یا کوئی تو اﷲ کی نافرمانی میں کسی کی اطاعت نہیں اطاعت تو مشروع بات میں ہے۔
افضل الایمان : ابن عساکر سالم بن ابی الجعد سے راوی فرمایا :
قلت لمحمد بن الحنفیۃ ھل کان ابو بکر اول القوم اسلاما قال لا قلت فیما علا ابو بکر و سبق حتی لا یذکر احد غیر ابی بکر قال لانہ کان افضلھم میں نے امام محمد بن حنفیہ صاحبزادہ مولاعلی رضی اﷲ تعالی عنہما سے دریافت کیا کہ ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہسب سے پہلے اسلام لائے تھے فرمایانہ۔ میں نے کہا پھر کس وجہ سے ابوبکر سب پر بلند و سابق ہوئے میں نے امام محمد بن حنفیہ صاحبزادہ مولاعلی رضی اﷲ تعالی عنہما سے دریافت کیا کہ ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہسب سے پہلے اسلام لائے تھے فرمایانہ۔ میں نے کہا پھر کس وجہ سے ابوبکر سب پر بلند و سابق ہوئے
حوالہ / References
المستدرك للحاکم ، کتاب معرفۃ الصحابہ ، دارالفکر بیروت ، ۳ / ۱۲۳ ، مسند احمد بن حنبل مروی از علی رضی اﷲ تعالٰی عنہ ، دارالفکر بیروت ، ۱ / ۱۶۰
اسلاما حین اسلم حتی لحق بربہ کہ ان کے سوا کوئی دوسرے کا ذکر ہی نہیں کرتا
فرمایا : اس لئے کہ وہ جب سے مسلمان ہوئے اور جب تك اپنے رب عزوجل کے پاس گئے ان کا ایمان سب سے افضل رہا۔
شیخین کی افضلیت : امام دارقطنی جندب اسدی سے راوی :
ان محمد بن عبداﷲ بن الحسن اتاہ قوم من اھل الکوفۃ والجزیرۃ فسألوہ عن ابی بکر و عمر فالتفت الی فقال انظر الی اھل بلاد ك یسأ لونی عن ابی بکر و عمر لھما افضل عندی من علی یعنی امام نفس زکیہ محمد بن عبداﷲ محض ابن امام حسن مثنی ابن امام حسن مجتبی ابن مولی علی مرتضی کرم اﷲ تعالی وجوھہم کے پاس اہل کوفہ و جزیرہ سے کچھ لوگو ں نے حاضر ہو کر ابو بکر صدیق و عمر فاروق رضی اﷲ تعالی عنہما کے بارے میں سوال کیا امام نے میری طرف التفات کرکے فرمایا اپنے وطن والوں کو دیکھو مجھ سے ابو بکر و عمر کے با ب میں سوال کرتے ہیں بیشك وہ دونوں میرے نزدیك علی سے افضل ہیں رضی اﷲ تعالی عنہم اجمعین۔
رافضی اور خارجی نظریات :
حافظ عمر بن شبہ سیدنا امام زید شہید ابن امام زین العابدین ابن امام حسین شہید کربلا ابن مولا علی مرتضی رضی اﷲ تعالی عنہم سے راوی انہوں نے رافضیوں سے فرمایا :
انطلقت الخوارج فبرئت ممن دون ابی بکر و عمر ولم یستطیعو ا ان یقولوا فیھما شیاا وانطلقتم انتم فطفرتم فوق ذلك فبرئتم منھا فمن بقی فواﷲ ما بقی احدا لا برئتم منہ خارجیوں نے چل کر تو انہیں سے برأت کی جو ابوبکر و عمر سے نیچے ہیں یعنی عثمان و علی رضی اﷲ تعالی عنہم مگر ابوبکر و عمر کی شان میں کچھ نہ کہہ سکے اور اے رافضیو! تم نے ان سے اوپر جست کی کہ خود ابو بکر و عمر سے برأت کر بیٹھے تو اب کون رہ گیا خدا کی قسم کوئی باقی نہ رہا جس سے تم نے تبرا نہ کیا۔
فرمایا : اس لئے کہ وہ جب سے مسلمان ہوئے اور جب تك اپنے رب عزوجل کے پاس گئے ان کا ایمان سب سے افضل رہا۔
شیخین کی افضلیت : امام دارقطنی جندب اسدی سے راوی :
ان محمد بن عبداﷲ بن الحسن اتاہ قوم من اھل الکوفۃ والجزیرۃ فسألوہ عن ابی بکر و عمر فالتفت الی فقال انظر الی اھل بلاد ك یسأ لونی عن ابی بکر و عمر لھما افضل عندی من علی یعنی امام نفس زکیہ محمد بن عبداﷲ محض ابن امام حسن مثنی ابن امام حسن مجتبی ابن مولی علی مرتضی کرم اﷲ تعالی وجوھہم کے پاس اہل کوفہ و جزیرہ سے کچھ لوگو ں نے حاضر ہو کر ابو بکر صدیق و عمر فاروق رضی اﷲ تعالی عنہما کے بارے میں سوال کیا امام نے میری طرف التفات کرکے فرمایا اپنے وطن والوں کو دیکھو مجھ سے ابو بکر و عمر کے با ب میں سوال کرتے ہیں بیشك وہ دونوں میرے نزدیك علی سے افضل ہیں رضی اﷲ تعالی عنہم اجمعین۔
رافضی اور خارجی نظریات :
حافظ عمر بن شبہ سیدنا امام زید شہید ابن امام زین العابدین ابن امام حسین شہید کربلا ابن مولا علی مرتضی رضی اﷲ تعالی عنہم سے راوی انہوں نے رافضیوں سے فرمایا :
انطلقت الخوارج فبرئت ممن دون ابی بکر و عمر ولم یستطیعو ا ان یقولوا فیھما شیاا وانطلقتم انتم فطفرتم فوق ذلك فبرئتم منھا فمن بقی فواﷲ ما بقی احدا لا برئتم منہ خارجیوں نے چل کر تو انہیں سے برأت کی جو ابوبکر و عمر سے نیچے ہیں یعنی عثمان و علی رضی اﷲ تعالی عنہم مگر ابوبکر و عمر کی شان میں کچھ نہ کہہ سکے اور اے رافضیو! تم نے ان سے اوپر جست کی کہ خود ابو بکر و عمر سے برأت کر بیٹھے تو اب کون رہ گیا خدا کی قسم کوئی باقی نہ رہا جس سے تم نے تبرا نہ کیا۔
حوالہ / References
الصواعق المحرقۃ بحوالہ ابن عساکر ، الباب الثانی ، مکتبہ مجیدیہ ، ملتان ، ص ۵۳
الصواعق المحرقۃ بحوالہ الدارقطنی عن جندب الاسدی ، مکتبہ مجیدیہ ، ملتان ، ص ۵۵
الصواعق المحرقۃ بحوالہ الحافظ عمر بن شعبہ ، مکتبہ مجیدیہ ، ملتان ، ص ۵۳
الصواعق المحرقۃ بحوالہ الدارقطنی عن جندب الاسدی ، مکتبہ مجیدیہ ، ملتان ، ص ۵۵
الصواعق المحرقۃ بحوالہ الحافظ عمر بن شعبہ ، مکتبہ مجیدیہ ، ملتان ، ص ۵۳
رافضی کی سزا :
دارقطنی فضیل بن مرزوق سے راوی فرمایا :
قلت لعمر بن علی بن الحسین بن علی رضی اﷲ تعالی عنھم افیکم امام تفترض طاعتہ تعرفون ذلك لہ من لم یعرف ذلك لہ فمات مات میتۃ جاھلیۃ فقال لا واﷲ ما ذلك فینامن قال ھذا فھو کاذب فقلت انھم یقولون ان ھذہ المنزلۃ کانت لعلی ثم للحسن ثم للحسین قال قاتلھم اﷲ ویلھم ما ھذا من الدین واﷲ ما ھؤلاء الا متأکلین بنا ھذا مختصر میں نے امام زین العابدین کے صاحبزادے امام باقر کے بھائی امام عمر بن علی سے پوچھا آپ میں کوئی ایسا امام ہے جس کی طاعت فرض ہوآپ اس کا یہ حق پہنچانتے ہیں جو اسے بے پہچانے مرجائے جاہلیت کی موت مرے فرمایا خدا کی قسم ہم میں کوئی ایسا نہیں جو ایسا کہے جھوٹا ہے میں نے کہا رافضی تو کہتے ہیں یہ مرتبہ مولا علی کا تھا پھر امام حسن پھر امام حسین کو ملا۔ فرمایا : اﷲ رافضیوں کو قتل کرے خرابی ہو ان کے لئے کیا دین ہے خدا کی قسم یہ لوگ نہیں مگر ہمارا نام لے کر دنیا کمانے والے والعیاذ باﷲ عزوجل۔
نصوص ختم نبوت :
یہاں تك سو ۱۰۰ احادیث فقیر نے لکھیں اور چاہا کہ اسی پر بس کرے پھر خیال آیا کہ ذکر پاك امیر المؤمنین علی کرم اﷲ وجہہ ہے دس حدیثیں اور شامل ہوں کہ نام مبارك مولی علی رضی اللہ تعالی عنہکے عدد حاصل ہوں نظر کروں تو فیضان روح مبارك امیر المؤمنین سے تذییلات میں دس حدیثیں خود ہی گزر چکی ہیں تذییل بعد حدیث ۲۵ یك و بعد ۳۹ سہ و بعد ۴۲ یك و بعد ۴۸ و ۵۸دو۲ دو۲ وبعد ۶۲ یك یہ مقصود تو یوں حاصل تھا مگر از انجا کہ وضع رسالہ نصوص ختم نبوت میں ہے اور ۸ سے ۱۰۰ تك بیس۲۰ حدیثیں اس مطلب کو دوسرے طرز سے ادا کرتی تھیں لہذا خاص مقصود کی بیس حدیثوں کا اضافہ ہی مناسب نظر آیا کہ خود اصل مرام پر سو حدیثوں کا عدد کامل اور اصل مرویات ایك سو بیس۱۲۰ ہو کر تین چہل حدیث کا فضل حاصل ہو۔
ارشادات انبیاء و علمائے کتب سابقہ :
حاکم صحیح مستدرك میں وہب بن منبہ سے وہ حضرت عبداﷲ بن عباس اور سات دےگر صحابہ کرام
دارقطنی فضیل بن مرزوق سے راوی فرمایا :
قلت لعمر بن علی بن الحسین بن علی رضی اﷲ تعالی عنھم افیکم امام تفترض طاعتہ تعرفون ذلك لہ من لم یعرف ذلك لہ فمات مات میتۃ جاھلیۃ فقال لا واﷲ ما ذلك فینامن قال ھذا فھو کاذب فقلت انھم یقولون ان ھذہ المنزلۃ کانت لعلی ثم للحسن ثم للحسین قال قاتلھم اﷲ ویلھم ما ھذا من الدین واﷲ ما ھؤلاء الا متأکلین بنا ھذا مختصر میں نے امام زین العابدین کے صاحبزادے امام باقر کے بھائی امام عمر بن علی سے پوچھا آپ میں کوئی ایسا امام ہے جس کی طاعت فرض ہوآپ اس کا یہ حق پہنچانتے ہیں جو اسے بے پہچانے مرجائے جاہلیت کی موت مرے فرمایا خدا کی قسم ہم میں کوئی ایسا نہیں جو ایسا کہے جھوٹا ہے میں نے کہا رافضی تو کہتے ہیں یہ مرتبہ مولا علی کا تھا پھر امام حسن پھر امام حسین کو ملا۔ فرمایا : اﷲ رافضیوں کو قتل کرے خرابی ہو ان کے لئے کیا دین ہے خدا کی قسم یہ لوگ نہیں مگر ہمارا نام لے کر دنیا کمانے والے والعیاذ باﷲ عزوجل۔
نصوص ختم نبوت :
یہاں تك سو ۱۰۰ احادیث فقیر نے لکھیں اور چاہا کہ اسی پر بس کرے پھر خیال آیا کہ ذکر پاك امیر المؤمنین علی کرم اﷲ وجہہ ہے دس حدیثیں اور شامل ہوں کہ نام مبارك مولی علی رضی اللہ تعالی عنہکے عدد حاصل ہوں نظر کروں تو فیضان روح مبارك امیر المؤمنین سے تذییلات میں دس حدیثیں خود ہی گزر چکی ہیں تذییل بعد حدیث ۲۵ یك و بعد ۳۹ سہ و بعد ۴۲ یك و بعد ۴۸ و ۵۸دو۲ دو۲ وبعد ۶۲ یك یہ مقصود تو یوں حاصل تھا مگر از انجا کہ وضع رسالہ نصوص ختم نبوت میں ہے اور ۸ سے ۱۰۰ تك بیس۲۰ حدیثیں اس مطلب کو دوسرے طرز سے ادا کرتی تھیں لہذا خاص مقصود کی بیس حدیثوں کا اضافہ ہی مناسب نظر آیا کہ خود اصل مرام پر سو حدیثوں کا عدد کامل اور اصل مرویات ایك سو بیس۱۲۰ ہو کر تین چہل حدیث کا فضل حاصل ہو۔
ارشادات انبیاء و علمائے کتب سابقہ :
حاکم صحیح مستدرك میں وہب بن منبہ سے وہ حضرت عبداﷲ بن عباس اور سات دےگر صحابہ کرام
حوالہ / References
الصواعق المحرقۃ بحوالہ الدارقطنی عن فضیل بن مرزوق ، الباب الثالث ، مکتبہ مجیدیہ ، ملتان ، ص۵۶
سے کہ سب اہل بدر تھے رضی اﷲ تعالی عنہم اجمعین روایت کرتے ہیں رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں بیشك اﷲ عزوجل روز قیامت اوروں سے پہلے نوح علیہ الصلوۃ والسلام اور ان کی قوم کو بلا کر فرمائے گا تم نے نوح کو کیا جواب دیا وہ کہیں گے نوح نے نہ ہمیں تیری طرف بلایا نہ تیرا کوئی حکم پہنچایا نہ کچھ نصیحت کی نہ ہاں یا نہ کا کوئی حکم سنایا نوح علیہ الصلوۃ والسلام عرض کریں گے :
دعوتھم یا رب دعاء فاشیا فی الاولین و الاخرین امۃ حتی انتھی الی خاتم النبیین احمد فانتسخہ وقرأہ وامن بہ وصدقہ۔ الہی! میں نے انہیں ایسی دعوت کی جس کی خبر یکے بعد دےگرے سب اگلوں پچھلوں میں پھیل گئی یہاں تك کہ سب سے پچھلے نبی احمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم تك پہنچی انہوں نے اسے لکھا اور پڑھا اور اس پر ایمان لائے اور اس کی تصدیق فرمائی
حق سبحانہ وتعالی فرمائے گا احمد وامت احمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو بلاؤ۔
فیاتی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وامتہ یسعی نورھم بین ایدیھم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضور کی امت حاضر آئینگے یوں کہ ان کے نور ان کے آگے جولان کرتے ہوں گے۔
نوح علیہ الصلوۃ والسلام کے لئے شہادت ادا کریں گے الحدیث وقد اختصرناہ(ہم نے حدیث کو اختصارا نقل کیا ہے)
دارقطنی غرائب امام مالك اور بیہقی دلائل اور خطیب رواۃ مالك میں بطریق عدیدہ عن مالك بن انس عن نافع عن ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما اور ابن ابی الدنیا اور بیہقی وابو نعیم دلائل میں بطریق ابن لہیعہ عن مالك بن الازہر عن نافع عن ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما اور ابو نعیم دلائل میں من طریق یحیی بن ابراہیم بن ابی قتیلۃ عن بن اسلم عن ابیہ اسلم مولی عمر رضی اﷲ تعالی عنہ اور معاذ بن المثنی زوائد مسند مسدد میں بطریق منتصر بن دینار عن عبداﷲ بن ابی الھذیل راوی ہیں اور بروجہ آخر واقدی مغازی میں عن عبدالعزیزبن عمر بن جعونۃ بن نضلۃ رضی اﷲ تعالی عنہ اور ابن جریر تاریخ اور باوردی کتاب الصحابہ میں بطریق ابی معروف عبداﷲ بن معروف عن ابی عبدالرحمن الانصاری عن محمد بن حسین بن علی بن ابی طالب اور ابن ابی الدنیا امام محمد باقر رضی اللہ تعالی عنہسے راوی :
وھذا حدیث معاذ و فیہ صریح النص یہ حدیث معاذکی ہے اور اس میں صریح نص ہے
دعوتھم یا رب دعاء فاشیا فی الاولین و الاخرین امۃ حتی انتھی الی خاتم النبیین احمد فانتسخہ وقرأہ وامن بہ وصدقہ۔ الہی! میں نے انہیں ایسی دعوت کی جس کی خبر یکے بعد دےگرے سب اگلوں پچھلوں میں پھیل گئی یہاں تك کہ سب سے پچھلے نبی احمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم تك پہنچی انہوں نے اسے لکھا اور پڑھا اور اس پر ایمان لائے اور اس کی تصدیق فرمائی
حق سبحانہ وتعالی فرمائے گا احمد وامت احمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو بلاؤ۔
فیاتی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وامتہ یسعی نورھم بین ایدیھم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضور کی امت حاضر آئینگے یوں کہ ان کے نور ان کے آگے جولان کرتے ہوں گے۔
نوح علیہ الصلوۃ والسلام کے لئے شہادت ادا کریں گے الحدیث وقد اختصرناہ(ہم نے حدیث کو اختصارا نقل کیا ہے)
دارقطنی غرائب امام مالك اور بیہقی دلائل اور خطیب رواۃ مالك میں بطریق عدیدہ عن مالك بن انس عن نافع عن ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما اور ابن ابی الدنیا اور بیہقی وابو نعیم دلائل میں بطریق ابن لہیعہ عن مالك بن الازہر عن نافع عن ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما اور ابو نعیم دلائل میں من طریق یحیی بن ابراہیم بن ابی قتیلۃ عن بن اسلم عن ابیہ اسلم مولی عمر رضی اﷲ تعالی عنہ اور معاذ بن المثنی زوائد مسند مسدد میں بطریق منتصر بن دینار عن عبداﷲ بن ابی الھذیل راوی ہیں اور بروجہ آخر واقدی مغازی میں عن عبدالعزیزبن عمر بن جعونۃ بن نضلۃ رضی اﷲ تعالی عنہ اور ابن جریر تاریخ اور باوردی کتاب الصحابہ میں بطریق ابی معروف عبداﷲ بن معروف عن ابی عبدالرحمن الانصاری عن محمد بن حسین بن علی بن ابی طالب اور ابن ابی الدنیا امام محمد باقر رضی اللہ تعالی عنہسے راوی :
وھذا حدیث معاذ و فیہ صریح النص یہ حدیث معاذکی ہے اور اس میں صریح نص ہے
حوالہ / References
المستدرك للحاکم ، کتاب التواریخ المتقد مین من الانبیائ ، دارالفکربیروت ، ۲ / ۴۸۔ ۵۴۷
علی مرادنا ومازدنا من الطریق الاول ادرنا حولہ ھلالین۔ ہماری مراد پر اور پہلے طریقہ سے ہم جو زیادتی کریں گے وہ ہلالین میں ہے۔
ذریب بن برثملا کی شہادت :
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالی عنہنے نضلہ بن عمرو انصاری کو تین سو مہاجرین وانصار کے ساتھ تاراج حلوان عراق کے لئے بھیجا یہ قیدی اور غنیمتیں لے آتے تھے ایك پہاڑ کے دامن میں شام ہوئی نضلہ نے اذان کہی جب کہا اﷲ اکبر اﷲ اکبر پہاڑ سے آواز آئی اور صور ت نہ دکھائی دی کہ کوئی کہتا ہے کبرت کبیرایا نضلۃ تم نے کبیر کی بڑائی کی اے نضلہ! جب کہا اشھد ان لا الہ الا اﷲ جواب آیا اخلصت یا نضلۃ اخلاصا نضلہ! تم نے خالص توحید کی جب کہا اشھدان محمد ا رسول اﷲ آواز آئی نبی بعث لا نبی بعدہ ھو النذیر وھو الذی بشرنا بہ عیسی بن مریم وعلی راس امتہ تقوم الساعۃ یہ نبی ہیں کہ مبعوث ہوئے ان کے بعد کوئی نبی نہیں یہی ڈر سنانے والے یہی ہیں جن کی بشارت ہمیں عیسی بن مریم علیہم الصلوۃ والسلام نے دی تھی انہیں کی امت کے سر پر قیامت قائم ہوگی۔ جب کہا حی علی الصلوۃ جواب آیا فریضۃ فرضت عــــــہ۱ (طوبی لمن مشی الیہا وواظب علیھا)نماز ایك فرض ہے کہ بندوں پر رکھا گیا خوبی و شادمانی اس کے لئے جو اس کی طرف چلے اور اس کی پابندی رکھے جب کہا حی علی الفلاح آواز آئی افلح من اتاھا و واظب علیہا(افلح عــــــہ۲ من اجاب محمد
عــــــہ۱ : ھکذا فی السابع وفی الطریق الثانی عند البیھقی فی الصلوۃ قال کلمۃ مقبولۃ وفی الفلاح قال البقاء لامۃ احمد صلی اﷲ علیہ وسلم وعکس ابن ابی الدنیا فذکر فی الصلوۃ البقاء لامۃ محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم و فی الفلاح کلمۃ مقبولۃ ۱۲ منہ۔ (م)
عــــــہ۲ : زاد الخطیب وھو البقاء لا متہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ۱۲ منہ(م) ساتویں طریقہ میں یوں ہے اور دوسرے طریقہ میں بیہقی کے ہاں یوں ہے حی علی الصلوۃ پر کہا یہ مقبول کلمہ ہے اور حی علی الفلاح پر کہا اس میں امت محمدیہ کے لئے بقاء ہے اور ابن ابی الدنیا نے اس کا عکس بیان کیا کہ پہلے میں امت محمدیہ کی بقاء اور دوسرے میں مقبول کلمہ کہا ۱۲ منہ ۔
خطیب نے یوں زیادہ کہا یہ امت محمدیہ کی بقا ہے ۱۲ منہ
ذریب بن برثملا کی شہادت :
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالی عنہنے نضلہ بن عمرو انصاری کو تین سو مہاجرین وانصار کے ساتھ تاراج حلوان عراق کے لئے بھیجا یہ قیدی اور غنیمتیں لے آتے تھے ایك پہاڑ کے دامن میں شام ہوئی نضلہ نے اذان کہی جب کہا اﷲ اکبر اﷲ اکبر پہاڑ سے آواز آئی اور صور ت نہ دکھائی دی کہ کوئی کہتا ہے کبرت کبیرایا نضلۃ تم نے کبیر کی بڑائی کی اے نضلہ! جب کہا اشھد ان لا الہ الا اﷲ جواب آیا اخلصت یا نضلۃ اخلاصا نضلہ! تم نے خالص توحید کی جب کہا اشھدان محمد ا رسول اﷲ آواز آئی نبی بعث لا نبی بعدہ ھو النذیر وھو الذی بشرنا بہ عیسی بن مریم وعلی راس امتہ تقوم الساعۃ یہ نبی ہیں کہ مبعوث ہوئے ان کے بعد کوئی نبی نہیں یہی ڈر سنانے والے یہی ہیں جن کی بشارت ہمیں عیسی بن مریم علیہم الصلوۃ والسلام نے دی تھی انہیں کی امت کے سر پر قیامت قائم ہوگی۔ جب کہا حی علی الصلوۃ جواب آیا فریضۃ فرضت عــــــہ۱ (طوبی لمن مشی الیہا وواظب علیھا)نماز ایك فرض ہے کہ بندوں پر رکھا گیا خوبی و شادمانی اس کے لئے جو اس کی طرف چلے اور اس کی پابندی رکھے جب کہا حی علی الفلاح آواز آئی افلح من اتاھا و واظب علیہا(افلح عــــــہ۲ من اجاب محمد
عــــــہ۱ : ھکذا فی السابع وفی الطریق الثانی عند البیھقی فی الصلوۃ قال کلمۃ مقبولۃ وفی الفلاح قال البقاء لامۃ احمد صلی اﷲ علیہ وسلم وعکس ابن ابی الدنیا فذکر فی الصلوۃ البقاء لامۃ محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم و فی الفلاح کلمۃ مقبولۃ ۱۲ منہ۔ (م)
عــــــہ۲ : زاد الخطیب وھو البقاء لا متہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ۱۲ منہ(م) ساتویں طریقہ میں یوں ہے اور دوسرے طریقہ میں بیہقی کے ہاں یوں ہے حی علی الصلوۃ پر کہا یہ مقبول کلمہ ہے اور حی علی الفلاح پر کہا اس میں امت محمدیہ کے لئے بقاء ہے اور ابن ابی الدنیا نے اس کا عکس بیان کیا کہ پہلے میں امت محمدیہ کی بقاء اور دوسرے میں مقبول کلمہ کہا ۱۲ منہ ۔
خطیب نے یوں زیادہ کہا یہ امت محمدیہ کی بقا ہے ۱۲ منہ
صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم)مراد کو پہنچا جو نماز کے لئے آیا اور اس پر مداومت کی مراد کو پہنچا جس نے محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی اطاعت کی جب کہا قد قامت الصلوۃ جواب آیا البقاء لا مۃ محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وعلی رؤسھا تقوم الساعۃ بقا ہے امت محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے لئے اور انہیں کے سروں پر قیامت ہوگی(جب کہا اﷲ اکبر اﷲ اکبرلا الہ الا اﷲ آواز آئی اخلصت الاخلاص کلہ یا نضلۃ فحرم اﷲ بھا جسدك علی النار اے نضلہ! تم نے پورا اخلاص کیا تو اﷲ تعالی نے اس کے سبب تمہارا بدن دوزخ پر حرام فرمادیا)نماز کے بعد نضلہ کھڑے ہوئے اور کہا اے اچھے پاکیزہ خوب کلام والے!ہم نے تمہاری بات سنی تم فرشتے ہو یا کوئی سیاح یا جن ظاہر ہو کر ہم سے بات کرو کہ ہم اﷲ عزوجل اور اس کے نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم(اور امیر المؤمنین عمر)کے سفیر ہیں اس کہنے پر پہاڑ سے ایك بوڑھے شخص نمودار ہوئے سپید مو دراز ریش سرایك چکی کے برابر سپید اون کی ایك چادر اوڑھے ایك باندھے اور کہا السلام علیکم ورحمۃ اﷲ حاضرین نے جواب دیا اور نضلہ نے پوچھا اﷲ تم پر رحم کرے تم کون ہو میں ذریب بن برثملا ہوں بندہ صالح عیسی بن مریم علیہم الصلوۃ والسلام کا وصی ہوں انہوں نے میرے لئے دعا فرمائی تھی کہ میں ان کے نزول تك باقی رہوں(زادفی الطریق الثانی) (دوسرے طریقہ میں یہ زائد ہے۔ ت)پھر ان سے پوچھا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کہا ں ہیںکہا انتقال فرمایا۔ اس پر وہ بزرگ بشدت روئے پھر کہا ان کے بعد کون ہوا کہا ابوبکر۔ وہ کہاں ہیں کہاانتقال ہوا۔ کہا پھر کون بیٹھا کہا عمر۔ کہا امیر المؤمنین عمر سے میرا سلام کہو اور کہا کہ ثبات وسدا دوآسانی پر عمل رکھئے کہ وقت قریب آلگا ہے پھر علامات قرب قیامت اور بہت کلمات وعظ وحکمت کہے اور غائب ہوگئے۔ جب امیر المؤمنین کو خبر پہنچی سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالی عنہکے نام فرمان جاری فرمایا کہ خود اس پہاڑ کے نیچے جائیے(اور وہ ملیں تو انہیں میرا سلام کہئے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ہمیں خبر دی تھی کہ عیسی علیہ الصلوۃ والسلام کا ایك وصی عراق کے اس پہاڑ میں منزل گزین ہے)سعد رضی اللہ تعالی عنہ(چار ہزار مہاجرین وانصار کے ساتھ)اس پہاڑ کو گئے چالیس دن ٹھہرے پنجگانہ اذانیں کہیں مگر جواب نہ ملا۔ آخر واپس آئے
حوالہ / References
دلائل النبوۃ ابو نعیم ، عالم الکتب بیروت ، الجزء الاول ص ۲۸۔ ۲۵ ، دلائل النبوۃ للبیہقی ، باب ماجاء فی قصہّ وصیئ عیسٰی ابن مریم علیہما السلام ، المکتبۃ الاثریہ ، لاہور ، ۵ / ۴۲۵تا۴۲۷
شام کے نصرانی ختم نبوت کی شہادت دیتے ہیں :
طبرانی معجم کبیر میں سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ تعالی عنہسے راوی میں زمانہ جاہلیت میں ملك شام کو تجارت کے لئے گیا تھا ملك کے اسی کنارے پر اہل کتاب سے ایك شخص مجھے ملا پوچھا کیا تمہارے یہاں کسی شخص نے نبوت کا دعوی کیا ہےہم نے کہاہاں کہا تم ان کی صورت دیکھو تو پہچان لو گےمیں نے کہا ہاں وہ ہمیں ایك مکان میں لے گیا جس میں تصاویر تھیں وہاں نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی صورت کریمہ مجھے نظر نہ آئی اتنے میں ایك اور کتابی آکر بولا : کس شغل میں ہوہم نے حال کہا وہ ہمیں اپنے گھر لے گیا وہا ں جاتے ہی حضور پر نور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی تصویر منیرمجھے نظر آئی اور دیکھا کہ ایك شخص حضور کے پیچھے حضور کے قدم مبارك کو پکڑے ہوئے ہے میں نے کہا یہ دوسرا کون ہے وہ کتابی بولا :
انہ لم یکن نبی الا کان بعدہ نبی الا ھذا فانہ لا نبی بعدہ وھذا الخلیفۃ بعدہ۔ بیشك کوئی نبی ایسا نہ ہوا جس کے بعد نبی نہ ہو سوا اس نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے کہ ان کے بعد کوئی نبی نہیں اور یہ دوسرا ان کے بعد خلیفہ ہے۔
اسے جو میں دیکھوں تو ابوبکر صدیق کی تصویر تھی
بادشاہ روم کی دربار میں ذکر مصطفی :
تذ ییل اول : ابن عساکر بطریق قاضی معافی بن زکریا حضرت عبادہ بن صامت اور بیہقی و ابو نعیم بطریق حضرت ابوامامہ باہلی حضرت ہشام بن عاص سے راوی رضی اﷲ تعالی عنہم اجمعین جب صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہنے ہمیں بادشاہ روم ہرقل کے پاس بھیجا اور ہم اس کے شہ نشین کے نزدیك پہنچے وہاں سواریاں بٹھائیں اور کہا لا الہ الا اﷲ واﷲ اکبر اﷲ جانتا ہے یہ کہتے ہی اس کا شہ نشین ایسا ہلنے لگا جیسے ہوا کے جھونکے میں کھجور اس نے کہلا بھیجا یہ تمہیں حق نہیں پہنچتا کہ شہروں میں اپنے دین کا اعلان کرو پھر ہمیں بلایا ہم گئے وہ سرخ کپڑے پہنے سرخ مسند پر بیٹھا تھا آس پاس ہر چیز سرخ تھی اس کے اراکین دربار اس کے ساتھ تھے ہم نے سلام نہ کیا اور ایك گوشے میں بیٹھ گئے وہ ہنس کر بولا تم آپس میں جیسا ایك دوسرے کو سلام کرتے ہو مجھے کیوں نہ کیا ہم نے کہا ہم تجھے اس سلام کے قابل نہیں سمجھتے اور جس مجرے پر تو راضی ہوتا ہے وہ ہمیں روا نہیں کہ کسی کے لئے بجا لائیں پھر اس نے پوچھا سب سے بڑا کلمہ تمہارے یہا ں کیا ہےہم نے
طبرانی معجم کبیر میں سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ تعالی عنہسے راوی میں زمانہ جاہلیت میں ملك شام کو تجارت کے لئے گیا تھا ملك کے اسی کنارے پر اہل کتاب سے ایك شخص مجھے ملا پوچھا کیا تمہارے یہاں کسی شخص نے نبوت کا دعوی کیا ہےہم نے کہاہاں کہا تم ان کی صورت دیکھو تو پہچان لو گےمیں نے کہا ہاں وہ ہمیں ایك مکان میں لے گیا جس میں تصاویر تھیں وہاں نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی صورت کریمہ مجھے نظر نہ آئی اتنے میں ایك اور کتابی آکر بولا : کس شغل میں ہوہم نے حال کہا وہ ہمیں اپنے گھر لے گیا وہا ں جاتے ہی حضور پر نور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی تصویر منیرمجھے نظر آئی اور دیکھا کہ ایك شخص حضور کے پیچھے حضور کے قدم مبارك کو پکڑے ہوئے ہے میں نے کہا یہ دوسرا کون ہے وہ کتابی بولا :
انہ لم یکن نبی الا کان بعدہ نبی الا ھذا فانہ لا نبی بعدہ وھذا الخلیفۃ بعدہ۔ بیشك کوئی نبی ایسا نہ ہوا جس کے بعد نبی نہ ہو سوا اس نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے کہ ان کے بعد کوئی نبی نہیں اور یہ دوسرا ان کے بعد خلیفہ ہے۔
اسے جو میں دیکھوں تو ابوبکر صدیق کی تصویر تھی
بادشاہ روم کی دربار میں ذکر مصطفی :
تذ ییل اول : ابن عساکر بطریق قاضی معافی بن زکریا حضرت عبادہ بن صامت اور بیہقی و ابو نعیم بطریق حضرت ابوامامہ باہلی حضرت ہشام بن عاص سے راوی رضی اﷲ تعالی عنہم اجمعین جب صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہنے ہمیں بادشاہ روم ہرقل کے پاس بھیجا اور ہم اس کے شہ نشین کے نزدیك پہنچے وہاں سواریاں بٹھائیں اور کہا لا الہ الا اﷲ واﷲ اکبر اﷲ جانتا ہے یہ کہتے ہی اس کا شہ نشین ایسا ہلنے لگا جیسے ہوا کے جھونکے میں کھجور اس نے کہلا بھیجا یہ تمہیں حق نہیں پہنچتا کہ شہروں میں اپنے دین کا اعلان کرو پھر ہمیں بلایا ہم گئے وہ سرخ کپڑے پہنے سرخ مسند پر بیٹھا تھا آس پاس ہر چیز سرخ تھی اس کے اراکین دربار اس کے ساتھ تھے ہم نے سلام نہ کیا اور ایك گوشے میں بیٹھ گئے وہ ہنس کر بولا تم آپس میں جیسا ایك دوسرے کو سلام کرتے ہو مجھے کیوں نہ کیا ہم نے کہا ہم تجھے اس سلام کے قابل نہیں سمجھتے اور جس مجرے پر تو راضی ہوتا ہے وہ ہمیں روا نہیں کہ کسی کے لئے بجا لائیں پھر اس نے پوچھا سب سے بڑا کلمہ تمہارے یہا ں کیا ہےہم نے
حوالہ / References
المعجم الکبیر ، حدیث ۱۵۳۷ ، المکتبۃ الفیصلیۃ ، بیروت ، ۲ / ۱۲۵ ، دلائل النبوۃ ابو نعیم ، عالم الکتب ، بیروت ، ۱ / ۹
کہا لا الہ الا اﷲ واﷲ اکبر خدا گواہ ہے یہ کہتے ہی بادشاہ کے بدن پر لرزہ پڑگیا پھر آنکھیں کھول کر غور سے ہمیں دیکھا اور کہا یہی وہ کلمہ ہے جو تم نے میرے شہ نشین کے نیچے اترتے وقت کہا تھا ہم نے کہا ہاں کہا جب اپنے گھروں میں اسے کہتے ہو تو کیا تمہاری چھتیں بھی اس طرح کانپنے لگتی ہیں ہم نے کہا خدا کی قسم یہ تو ہم نے یہیں دیکھا اور اس میں خدا کی کوئی حکمت ہے بولا سچی بات خوب ہوتی ہے سن لو خدا کی قسم مجھے آرزو تھی کہ کاش میرا آدھا ملك نکل جاتا اور تم یہ کلمہ جس چیز کے پاس کہتے وہ لرزنے لگتی۔ ہم نے کہا یہ کیوںکہا یوں ہوتا تو کام آسان تھا اور اس وقت لائق تھا کہ یہ زلزلہ شان نبوت سے نہ ہو بلکہ کوئی انسانی شعبدہ ہو (یعنی اﷲ تعالی ایسے معجزات ہر وقت ظاہر نہیں فرماتا بلکہ عالم اسباب میں شان نبوت کو بھی غالبا مجرائے عادت کے مطابق رکھتا ہے)
“ ولو جعلنہ ملکا لجعلنہ رجلا وللبسنا علیہم ما یلبسون ﴿۹﴾ “ اگر ہم فرشتے کو نبی بناتے تو مرد ہی بناتے اور اس کو وہی لباس پہناتے جو مرد لوگ پہنتے ہیں۔
ولہذا انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کے جہادوں میں بھی جنگ دو سرداروں کا مضمون رہتا ہے۔
الحرب بیننا وبینہ سجال ینال منا و ننال منہ ۔ رواہ الشیخان عن ابی سفیان رضی اﷲ تعالی عنہ۔ (ہمارے اور ان کے درمیان جنگ کبھی وہ کامیاب اور کبھی ہم کامیاب ہوتے ہیں اس کو شیخین نے ابوسفیان رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کیا۔ ت)
لہذا جب ابوسفیان رضی اللہ تعالی عنہنے ہر قل کو خبر دی کہ لڑائی میں کبھی ہم بھی ان پر غالب آتے ہیں ہر قل نے کہا ھذہ ایۃ النبوۃ یہ نبوت کی نشانی ہے رواہ البزار و ابونعیم عن دحیۃ الکلبی رضی اﷲ تعالی عنہ(اسے بزار اور ابو نعیم نے دحیہ کلبی رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کیا۔ ت)
“ ولو جعلنہ ملکا لجعلنہ رجلا وللبسنا علیہم ما یلبسون ﴿۹﴾ “ اگر ہم فرشتے کو نبی بناتے تو مرد ہی بناتے اور اس کو وہی لباس پہناتے جو مرد لوگ پہنتے ہیں۔
ولہذا انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کے جہادوں میں بھی جنگ دو سرداروں کا مضمون رہتا ہے۔
الحرب بیننا وبینہ سجال ینال منا و ننال منہ ۔ رواہ الشیخان عن ابی سفیان رضی اﷲ تعالی عنہ۔ (ہمارے اور ان کے درمیان جنگ کبھی وہ کامیاب اور کبھی ہم کامیاب ہوتے ہیں اس کو شیخین نے ابوسفیان رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کیا۔ ت)
لہذا جب ابوسفیان رضی اللہ تعالی عنہنے ہر قل کو خبر دی کہ لڑائی میں کبھی ہم بھی ان پر غالب آتے ہیں ہر قل نے کہا ھذہ ایۃ النبوۃ یہ نبوت کی نشانی ہے رواہ البزار و ابونعیم عن دحیۃ الکلبی رضی اﷲ تعالی عنہ(اسے بزار اور ابو نعیم نے دحیہ کلبی رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کیا۔ ت)
حوالہ / References
دلائل النبوۃ للبیہقی ، باب ما وجد من صورۃ نبینا محمد ، دارالکتب العلمیہ ، بیروت ، ۱ / ۸۷۔ ۳۸۶ ، جامع الاحادیث بحوالہ ابن عساکر عن المعافی عن عبادۃ بن الصامت ، حدیث ۱۵۶۴۱ دارالفکر ، بیروت ، ۲۰ / ۶۲
القرآن الکریم ۶ /۹
صحیح البخاری ، باب کیف کان بدء الوحی ، قدیمی کتب خانہ ، کراچی ، ۱ / ۴
کشف الاستار عن زوائد البزار باب فیما کان عند اہل الکتاب من علامات نبوتہ ، موسسۃ الرسالہ ، بیروت ، ۳ / ۱۱۷
القرآن الکریم ۶ /۹
صحیح البخاری ، باب کیف کان بدء الوحی ، قدیمی کتب خانہ ، کراچی ، ۱ / ۴
کشف الاستار عن زوائد البزار باب فیما کان عند اہل الکتاب من علامات نبوتہ ، موسسۃ الرسالہ ، بیروت ، ۳ / ۱۱۷
تصرف اولیاء اور مظلومیت حسین :
یہ بات یادر کھنے کی ہے کہ بعض جہال ضعیف الایمان اس پر شك کرنے لگتے ہیں اور اسی قبیل سے ہے جاہل وہابیوں کا اعتراض کہ اولیاء اگر اﷲ تعالی کی طرف سے کچھ قدرت رکھتے تو امام حسین رضی اللہ تعالی عنہکیوں ایسی مظلومی کے ساتھ شہید ہوجاتے ایك اشارے میں یزید پلید کے لشکر کو کیوں نہ غارت فرمادیا۔ مگر یہ سفہاء نہیں جانتے کہ ان کی قدرت جو انہیں ان کے رب نے عطا فرمائی رضا و تسلیم وعبدیت کے ساتھ ہے نہ کہ معاذ اﷲ جباری و سرکشی و خود سری کے ساتھ مقوقس بادشاہ مصر نے حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ تعالی عنہسے امتحانا پوچھا کہ جب تم انہیں نبی کہتے ہو تو انہوں نے دعا کر کے اپنی قوم کو کیوں نہ ہلاك فرمادیا جب انہوں نے ان کا شہر مکہ چھڑایا تھا حاطب رضی اللہ تعالی عنہنے فرمایا : کیا تو عیسی علیہ الصلوۃ والسلام کو رسول نہیں مانتا انہوں نے دعا کر کے اپنی قوم کو کیوں نہ ہلاك کردیا جب انہوں نے انہیں پکڑا اور سولی دینے کا ارادہ کیا تھا مقوقس بولا : انت حکـیم جـآء من عند حکیم تم حکیم ہو کہ حکیم کامل صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے پاس سے آئے رواہ البیھقی عن حاطب رضی اﷲ تعالی عنہ(اس کو بیہقی نے حاطب رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کیا۔ ت)
خیر یہ تو فائدہ زائدہ تھا حدیث سابق کی طرف عود کریں۔
ہرقل کے پاس انبیاء کی تصاویر :
پھر ہر قل نے ہمیں باعزاز و اکرام ایك مکان میں اتارا دونوں وقت عزت کی مہمانیاں بھیجتا ایك رات ہمیں پھر بلا بھیجا ہم گئے اس وقت اکیلا بالکل تنہا بیٹھا تھا ایك بڑا صندوقچہ زرنگار منگا کر کھولا اس میں چھوٹے چھوٹے خانے تھے ہر خانے پر دروازہ لگا تھا اس نے ایك خانہ کھول کر سیاہ ریشم کا کپڑا تہہ کیا ہوا نکالا اسے کھولا تو اس میں ایك سرخ تصویر تھی مرد فراخ چشم بزرگ سرین کہ ایسے خوبصورت بدن میں ایسی لمبی گردن کبھی نہ دیکھی تھی سر کے بال نہایت کثیر(بے ریش دو گیسو غایت حسن و جمال میں)ہرقل بولا : انہیں پہچانتے ہوہم نے کہا : نہ کہا : یہ آدم ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پھر وہ تصویر رکھ کر دوسرا خانہ کھولا اس میں سے ایك سیاہ ریشم کا کپڑا نکالا اس میں خوب گورے رنگ کی تصویر تھی مرد بسیار موئے سر مانند موئے قبطیاں فراخ چشم کشادہ سینہ بزرگ سر(آنکھیں سرخ داڑھی خوبصورت)پوچھا : انہیں جانتے ہو ہم نے کہا : نہ کہا یہ نوح ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔ پھر اسے رکھ کر اور خانہ کھولا اس میں سے حریر سبز کا ٹکڑا نکالا اس میں نہایت گورے رنگ
یہ بات یادر کھنے کی ہے کہ بعض جہال ضعیف الایمان اس پر شك کرنے لگتے ہیں اور اسی قبیل سے ہے جاہل وہابیوں کا اعتراض کہ اولیاء اگر اﷲ تعالی کی طرف سے کچھ قدرت رکھتے تو امام حسین رضی اللہ تعالی عنہکیوں ایسی مظلومی کے ساتھ شہید ہوجاتے ایك اشارے میں یزید پلید کے لشکر کو کیوں نہ غارت فرمادیا۔ مگر یہ سفہاء نہیں جانتے کہ ان کی قدرت جو انہیں ان کے رب نے عطا فرمائی رضا و تسلیم وعبدیت کے ساتھ ہے نہ کہ معاذ اﷲ جباری و سرکشی و خود سری کے ساتھ مقوقس بادشاہ مصر نے حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ تعالی عنہسے امتحانا پوچھا کہ جب تم انہیں نبی کہتے ہو تو انہوں نے دعا کر کے اپنی قوم کو کیوں نہ ہلاك فرمادیا جب انہوں نے ان کا شہر مکہ چھڑایا تھا حاطب رضی اللہ تعالی عنہنے فرمایا : کیا تو عیسی علیہ الصلوۃ والسلام کو رسول نہیں مانتا انہوں نے دعا کر کے اپنی قوم کو کیوں نہ ہلاك کردیا جب انہوں نے انہیں پکڑا اور سولی دینے کا ارادہ کیا تھا مقوقس بولا : انت حکـیم جـآء من عند حکیم تم حکیم ہو کہ حکیم کامل صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے پاس سے آئے رواہ البیھقی عن حاطب رضی اﷲ تعالی عنہ(اس کو بیہقی نے حاطب رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کیا۔ ت)
خیر یہ تو فائدہ زائدہ تھا حدیث سابق کی طرف عود کریں۔
ہرقل کے پاس انبیاء کی تصاویر :
پھر ہر قل نے ہمیں باعزاز و اکرام ایك مکان میں اتارا دونوں وقت عزت کی مہمانیاں بھیجتا ایك رات ہمیں پھر بلا بھیجا ہم گئے اس وقت اکیلا بالکل تنہا بیٹھا تھا ایك بڑا صندوقچہ زرنگار منگا کر کھولا اس میں چھوٹے چھوٹے خانے تھے ہر خانے پر دروازہ لگا تھا اس نے ایك خانہ کھول کر سیاہ ریشم کا کپڑا تہہ کیا ہوا نکالا اسے کھولا تو اس میں ایك سرخ تصویر تھی مرد فراخ چشم بزرگ سرین کہ ایسے خوبصورت بدن میں ایسی لمبی گردن کبھی نہ دیکھی تھی سر کے بال نہایت کثیر(بے ریش دو گیسو غایت حسن و جمال میں)ہرقل بولا : انہیں پہچانتے ہوہم نے کہا : نہ کہا : یہ آدم ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پھر وہ تصویر رکھ کر دوسرا خانہ کھولا اس میں سے ایك سیاہ ریشم کا کپڑا نکالا اس میں خوب گورے رنگ کی تصویر تھی مرد بسیار موئے سر مانند موئے قبطیاں فراخ چشم کشادہ سینہ بزرگ سر(آنکھیں سرخ داڑھی خوبصورت)پوچھا : انہیں جانتے ہو ہم نے کہا : نہ کہا یہ نوح ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔ پھر اسے رکھ کر اور خانہ کھولا اس میں سے حریر سبز کا ٹکڑا نکالا اس میں نہایت گورے رنگ
حوالہ / References
دلائل النبوۃ للبیہقی باب ماجاء الی کتاب النبی صلی اﷲ علیہ وسلم المقوقس دارالکتب العلمیہ بیروت ۴ / ۳۹۶
کی ایك تصویر تھی مرد خوب چہرہ خوش چشم دراز بینی(کشادہ پیشانی) رخسارے ستے ہوئے سر پر نشان پیری ریش مبارك سپید نورانی تصویر کی یہ حالت ہے کہ گویا جان رکھتی ہے سانس لے رہی ہے(مسکرا رہی ہے)کہا : ان سے واقف ہوہم نے کہا : نہ کہا : یہ ابراہیم ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔ پھر اسے رکھ کر ایك اور خانہ کھولا اس میں سے سبز ریشم کا پارچہ نکالا اسے جو ہم نظر کریں تو محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی تصویر منیر تھی بولا : انہیں پہچانتے ہو ہم رونے لگے اور کہا : یہ محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ہیں وہ بولا : تمہیں اپنے دین کی قسم یہ محمد ہیں ہم نے کہا : ہاں ہمیں اپنے دین کی قسم یہ حضور اکرم کی تصویرپاك ہے گویا ہم حضور کو حالت حیات دنیوی میں دیکھ رہے ہیں اسے سنتے ہی وہ اچھل پڑا بے حواس ہوگیا سیدھا کھڑا ہوا پھر بیٹھ گیا دیر تك دم بخود رہا پھر ہماری طرف نظر اٹھا کر بولا : اما انہ اخر البیوت ولکنی عجلتہ لا نظر ما عندکم سنتے ہو یہ خانہ سب خانوں کے بعد تھا مگر میں نے جلدی کر کے دکھایا کہ دیکھوں تمہارے پاس اس باب میں کیا ہے یعنی اگر ترتیب وار دکھاتا آتا تو احتمال تھا کہ تصویر حضرت مسیح کے بعد دکھانے پر تم خواہ مخواہ کہہ دو کہ یہ ہمارے نبی کی تصویر ہے اس لئے میں نے ترتیب قطع کر کے اسے پیش کیا کہ اگر یہ وہی نبی موعود ہیں تو ضرور پہچان لو گے بحمداﷲ تعالی ایسا ہی ہوا اور یہی دیکھ کر اس حرماں نصیب کے دل میں درد اٹھا کہ حواس جاتے رہے اٹھا بیٹھا دم بخود رہا۔
و اللہ متم نورہ ولو کرہ الکفرون ﴿۸﴾
“ الحمد للہ رب العلمین﴿۱﴾ “ (اﷲ تعالی اپنے نور کو تام فرمائیگا اگرچہ کافر ناپسند کریں۔ والحمدﷲ رب العلمین۔ ت)
ہمارا مطلب تو بحمد اﷲ یہیں پورا ہوگیا کہ یہ خانہ سب خانوں کے بعد ہے اس کے بعد حدیث میں اور انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کی تصاویر کریمہ کا ذکرہے حلیہ ہائے منورہ پر اطلاع مسلمین کے لئے اس کا خلاصہ بھی مناسب یہاں تك کہ دونوں حدیثیں متفق تھیں ترجمہ مختصرا حدیث عبادہ بن صامت رضی اﷲتعالی عنہ کا تھا جو لفظ حدیث ہشام رضی اللہ تعالی عنہسے بڑھائے خطوط ہلالی میں تھے اب حدیث ہشام اتم وازید ہے کہ اس میں پانچ انبیاء لوط واسحق و یعقوب و اسماعیل و یوسف علیہم الصلوۃ والسلام کا ذکر شریف زائد ہے لہذا اسی سے
و اللہ متم نورہ ولو کرہ الکفرون ﴿۸﴾
“ الحمد للہ رب العلمین﴿۱﴾ “ (اﷲ تعالی اپنے نور کو تام فرمائیگا اگرچہ کافر ناپسند کریں۔ والحمدﷲ رب العلمین۔ ت)
ہمارا مطلب تو بحمد اﷲ یہیں پورا ہوگیا کہ یہ خانہ سب خانوں کے بعد ہے اس کے بعد حدیث میں اور انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کی تصاویر کریمہ کا ذکرہے حلیہ ہائے منورہ پر اطلاع مسلمین کے لئے اس کا خلاصہ بھی مناسب یہاں تك کہ دونوں حدیثیں متفق تھیں ترجمہ مختصرا حدیث عبادہ بن صامت رضی اﷲتعالی عنہ کا تھا جو لفظ حدیث ہشام رضی اللہ تعالی عنہسے بڑھائے خطوط ہلالی میں تھے اب حدیث ہشام اتم وازید ہے کہ اس میں پانچ انبیاء لوط واسحق و یعقوب و اسماعیل و یوسف علیہم الصلوۃ والسلام کا ذکر شریف زائد ہے لہذا اسی سے
حوالہ / References
جامع الاحادیث بحوالہ ابن عساکر عن معافی عن عبادۃ بن الصامت حدیث ۱۵۶۴۱ ، دارالفکر بیروت۲۰ / ۶۳ ، دلائل النبوۃ للبیہقی باب ماوجد فی صورۃ النبی صلی اﷲ علیہ وسلم ، دارالکتب العلمیہ ، بیروت ۱ / ۸۸ ، ۳۸۷
القران الکریم ۶۱ / ۸
القرآن الکریم ۱ /۱
القران الکریم ۶۱ / ۸
القرآن الکریم ۱ /۱
اخذ کریں اور جو مضمون حدیث عبادہ رضی اللہ تعالی عنہمیں زائد ہو اسے خطوط ہلالی میں بڑھائیں۔
فرماتے ہیں پھر اس نے ایك اور خانہ کھولا حریر سیاہ پر ایك تصویر گندمی رنگ سانولی نکالی(مگر حدیث عبادہ میں گورا رنگ ہے) مرد مرغول عــــــہ۱ مو سخت گھونگر والے بال آنکھیں جانب باطن مائل تیز نظر ترش رو دانت باہم چڑھے ہونٹ سمٹا جیسے کوئی حالت غضب میں ہو۔ ہم سے کہا : انہیں پہچانتے ہو یہ موسی علیہ الصلوۃ و السلام ہیں اور ان کے پہلو میں ایك اور تصویر تھی صورت ان سے ملتی مگر سر پر خوب تیل پڑا ہوا پیشانی کشادہ پتلیاں جانب بینی مائل(سر مبارك مدور گول) کہا : انہیں جانتے ہو یہ ہارون علیہ السلام ہیں۔ پھر اور خانہ کھول کر حریر سپید پر ایك تصویر نکالی مرد گندم گوں سر کے بال سیدھے قدمیانہ چہرے سے آثار غضب نمایاں کہا : یہ لوط علیہ الصلوۃ والسلام ہیں پھر حریر سپید پر ایك تصویر نکالی گورا رنگ جس میں سرخی جھلکتی ناك اونچی رخسارے ہلکے چہرہ خوبصورت کہا یہ اسحق علیہ الصلوۃ والسلام ہیں پھر حریر سپید پر ایك تصویر نکالی صورت صورت اسحق علیہ الصلوۃ والسلام کی مشابہ تھی مگر لب زیریں پر ایك تل تھا کہا : یہ یعقوب علیہ الصلوۃ والسلام ہیں پھر حریر سیاہ پر ایك تصویر نکالی رنگ گورا چہرہ حسین ناك بلند قامت خوبصورت چہرے پر نوردرخشاں اور اس میں آثار خشوع نمایاں رنگ میں سرخی کی جھلك تاباں کہا : یہ تمہارے نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے جد کریم اسماعیل علیہ الصلوۃ والسلام ہیں پھر حریر سپید پر ایك تصویر نکالی کہ صورت آدم علیہ الصلوۃ والسلام سے مشابہ تھی چہرہ گویاآفتاب تھا کہا یہ یوسف علیہ الصلوۃ والسلام ہیں پھر حریر سپید پر ایك تصویر نکالی سرخ رنگ باریك ساقیں آنکھیں کم کھلی ہوئی عــــــہ۲ جیسے کسی کو روشنی میں چوندھ لگے پیٹ ابھرا ہوا قدمیانہ تلوار حمائل کئے مگر حدیث عبادہ میں اس کے عوض
عــــــہ۱ : الحمدﷲ حدیثیں ایك دوسرے کی تصدیق کرتی ہیں ابو یعلی وابن عسا کر نے بطریق یحیی بن ابی عمر و الشیبانی عن ابی صالح عن ام ھانی رضی اﷲ تعالی عنھا نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے حدیث معراج میں موسی علیہ الصلوۃ والسلام کا یہی حلیہ روایت کیا کہ سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا :
واما موسی فضخم ادم طوال کانہ من رجال شنوأۃ کثیر الشعر غائر العینین متراکب الاسنان مقلص الشفۃ خارج اللثۃ عابس لیکن موسی علیہ السلام بھاری بدن گند م گوں طویل گویا شنوہ قبیلہ کے لوگ آنکھیں جانب باطن مائل باہم چڑھے ہوئے دانت باہم ملے ہوئے ہونٹ لٹکی داڑھی سمٹا جیسے حالت غضب۔ ت۔ اور یہیں سے ترجیح حدیث صحیح ہشام رضی اللہ تعالی عنہظاہر ہوئی کہ گندمی رنگ بتایا تھا ۱۲ منہ۔
عــــــہ۲ : یہ اس سالہا سال کے گریہ خوف الہی کا اثر تھا جس کے باعث رخسارہ انور پر دو خط سیاہ بن گئے تھے۔
فرماتے ہیں پھر اس نے ایك اور خانہ کھولا حریر سیاہ پر ایك تصویر گندمی رنگ سانولی نکالی(مگر حدیث عبادہ میں گورا رنگ ہے) مرد مرغول عــــــہ۱ مو سخت گھونگر والے بال آنکھیں جانب باطن مائل تیز نظر ترش رو دانت باہم چڑھے ہونٹ سمٹا جیسے کوئی حالت غضب میں ہو۔ ہم سے کہا : انہیں پہچانتے ہو یہ موسی علیہ الصلوۃ و السلام ہیں اور ان کے پہلو میں ایك اور تصویر تھی صورت ان سے ملتی مگر سر پر خوب تیل پڑا ہوا پیشانی کشادہ پتلیاں جانب بینی مائل(سر مبارك مدور گول) کہا : انہیں جانتے ہو یہ ہارون علیہ السلام ہیں۔ پھر اور خانہ کھول کر حریر سپید پر ایك تصویر نکالی مرد گندم گوں سر کے بال سیدھے قدمیانہ چہرے سے آثار غضب نمایاں کہا : یہ لوط علیہ الصلوۃ والسلام ہیں پھر حریر سپید پر ایك تصویر نکالی گورا رنگ جس میں سرخی جھلکتی ناك اونچی رخسارے ہلکے چہرہ خوبصورت کہا یہ اسحق علیہ الصلوۃ والسلام ہیں پھر حریر سپید پر ایك تصویر نکالی صورت صورت اسحق علیہ الصلوۃ والسلام کی مشابہ تھی مگر لب زیریں پر ایك تل تھا کہا : یہ یعقوب علیہ الصلوۃ والسلام ہیں پھر حریر سیاہ پر ایك تصویر نکالی رنگ گورا چہرہ حسین ناك بلند قامت خوبصورت چہرے پر نوردرخشاں اور اس میں آثار خشوع نمایاں رنگ میں سرخی کی جھلك تاباں کہا : یہ تمہارے نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے جد کریم اسماعیل علیہ الصلوۃ والسلام ہیں پھر حریر سپید پر ایك تصویر نکالی کہ صورت آدم علیہ الصلوۃ والسلام سے مشابہ تھی چہرہ گویاآفتاب تھا کہا یہ یوسف علیہ الصلوۃ والسلام ہیں پھر حریر سپید پر ایك تصویر نکالی سرخ رنگ باریك ساقیں آنکھیں کم کھلی ہوئی عــــــہ۲ جیسے کسی کو روشنی میں چوندھ لگے پیٹ ابھرا ہوا قدمیانہ تلوار حمائل کئے مگر حدیث عبادہ میں اس کے عوض
عــــــہ۱ : الحمدﷲ حدیثیں ایك دوسرے کی تصدیق کرتی ہیں ابو یعلی وابن عسا کر نے بطریق یحیی بن ابی عمر و الشیبانی عن ابی صالح عن ام ھانی رضی اﷲ تعالی عنھا نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے حدیث معراج میں موسی علیہ الصلوۃ والسلام کا یہی حلیہ روایت کیا کہ سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا :
واما موسی فضخم ادم طوال کانہ من رجال شنوأۃ کثیر الشعر غائر العینین متراکب الاسنان مقلص الشفۃ خارج اللثۃ عابس لیکن موسی علیہ السلام بھاری بدن گند م گوں طویل گویا شنوہ قبیلہ کے لوگ آنکھیں جانب باطن مائل باہم چڑھے ہوئے دانت باہم ملے ہوئے ہونٹ لٹکی داڑھی سمٹا جیسے حالت غضب۔ ت۔ اور یہیں سے ترجیح حدیث صحیح ہشام رضی اللہ تعالی عنہظاہر ہوئی کہ گندمی رنگ بتایا تھا ۱۲ منہ۔
عــــــہ۲ : یہ اس سالہا سال کے گریہ خوف الہی کا اثر تھا جس کے باعث رخسارہ انور پر دو خط سیاہ بن گئے تھے۔
حوالہ / References
درمنثور بحوالہ ابی یعلٰی وابن عساکر ، تحت آیہ سبحٰن الذی ، منشورات مکتبۃ آیۃ اﷲ العظمی ، قم ایران ، ۴ / ۱۴۸ ، المطالب العالیۃ بحوالہ ابی یعلی ، حدیث ۴۲۸۷ ، دارالباز مکۃ المکرمۃ ، ۴ / ۲۰۲
یوں ہے حریر سبز پر گوری تصویر جس کے عضو عضو سے نزاکت و دلکشی ٹپکتی ساق و سرین خوب گول کہا : یہ داؤد علیہ الصلوۃ والسلام ہیں۔ پھر حریر سپید پر ایك تصویر نکالی فربہ سرین پاؤں میں طول گھوڑے پر سوار(جس کے ہر طرف پر لگے تھے گردن عــــــہ۱ دبی ہوئی پشت کو تاہ گورارنگ)کہا : یہ سلیمان علیہ الصلوۃ والسلام ہیں(اور یہ پردار گھوڑا جس کی ہر جانب پر ہیں ہوا ہے کہ انہیں اٹھائے ہوئے ہے)پھر حریر سیاہ پر ایك گوری تصویر نکالی مرد جوان داڑھی نہایت سیاہ سر کے بال کثیر چہرہ خوبصورت(آنکھیں حسین اعضا متناسب)کہا عــــــہ۲ یہ عیسی بن مریم علیہما الصلوۃ والسلام ہیں۔ ہم نے کہا : یہ تصویریں تیرے پاس کہاں سے آئیں۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ ضرور سچی تصاویر ہیں کہ ہم نے اپنے نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی تصویر کریم کے مطابق پائی۔ کہا : آدم علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے رب عزوجل سے عرض کی تھی کہ میری اولاد کے انبیاء مجھے دکھادے حق سبحانہ تعالی نے ان پر تصاویر انبیاء اتاریں کہ مغرب شمس کے پاس خزانہ آدم علیہ الصلوۃ والسلام میں تھیں ذوالقرنین نے وہاں سے نکال کر دانیال علیہ السلام کو دیں(انہوں نے پارچہ ہائے حریر پر اتاریں کہ یہ بعینہا وہی چلی آتی ہیں)سن لو خدا کی قسم مجھے آرزو تھی کاش میرا نفس ترك سلطنت کو گوارا کرتا اور میں مرتے دم تك تم میں کسی ایسے کا بندہ بنتا جو غلاموں کے ساتھ نہایت سخت برتاؤ رکھتا(مگر کیا کروں نفس راضی نہیں ہوتا)پھر ہمیں عمدہ جائزے دے کر رخصت کیا(اور ہمارے ساتھ آدمی کر کے سرحد اسلام تك پہنچادیا)ہم نے آکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہسے حال عرض کیا صدیق روئے اور فرمایا : مسکین اگر اﷲ اس کا بھلا چاہتا وہ ایسا ہی کرتا ہمیں رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے خبر دی کہ یہ اور یہودی اپنے یہاں محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی نعت پاتے ہیں
مقوقس کے دربار میں فرمان نبوی :
تذ ییل دوم : امام واقدی اور ابو القاسم بن عبدا لحکم فتوح مصر میں بطریق ابان بن صالح راوی جب حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ تعالی عنہفرمان اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لے کر مقوقس نصرانی بادشاہ
عــــــہ۱ : حدیث مذکورام ہانی رضی اﷲ تعالی عنہا میں حلیہ سیدنا عیسی علیہ الصلوۃ والسلام میں ہے قدمیانہ سے زائد دراز سے کم سینہ چوڑا خون کی سرخی بدن پر جھلکتی بال عمدہ ان کی سیاہی سرخی مائل ۱۲ منہ۔
عــــــہ۲ : فائدہ : یہ نفیس جلیل حدیث طویل جس کا خلاصہ اختصار کے ساتھ تین ورق میں بیان ہوا بحمدﷲ صحیح ہے امام حافظ عماد الدین بن کثیر امام خاتم الحفاظ سیوطی نے فرمایا ھذا حدیث جیدالاسناد ورجالہ ثقات۔ ۱۲منہ
مقوقس کے دربار میں فرمان نبوی :
تذ ییل دوم : امام واقدی اور ابو القاسم بن عبدا لحکم فتوح مصر میں بطریق ابان بن صالح راوی جب حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ تعالی عنہفرمان اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لے کر مقوقس نصرانی بادشاہ
عــــــہ۱ : حدیث مذکورام ہانی رضی اﷲ تعالی عنہا میں حلیہ سیدنا عیسی علیہ الصلوۃ والسلام میں ہے قدمیانہ سے زائد دراز سے کم سینہ چوڑا خون کی سرخی بدن پر جھلکتی بال عمدہ ان کی سیاہی سرخی مائل ۱۲ منہ۔
عــــــہ۲ : فائدہ : یہ نفیس جلیل حدیث طویل جس کا خلاصہ اختصار کے ساتھ تین ورق میں بیان ہوا بحمدﷲ صحیح ہے امام حافظ عماد الدین بن کثیر امام خاتم الحفاظ سیوطی نے فرمایا ھذا حدیث جیدالاسناد ورجالہ ثقات۔ ۱۲منہ
حوالہ / References
دلائل النبوۃ للبیہقی ، باب ما وجد من صورۃ نبینا محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم مکتبہ الاثریہ ، لاہور ۱ / ۳۸۸ تا ۳۹۰ ، جامع الاحادیث بحوالہ ابن عسا کر عن المعافی عن عبادہ بن الصامت ، حدیث ۱۵۶۴۱ دارالفکر بیروت ، ۲۰ / ۶۳ و ۶۴
مصر و اسکندریہ کے پاس تشریف لے گئے اس نے ان سے دریافت کیا کہ محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کس بات کی طرف بلاتے ہیںانہوں نے فرمایا : توحید و نماز پنجگانہ و روزہ رمضان وحج و فائے عہد۔ پھر اس نے حضور کا حلیہ پوچھا انہوں نے باختصار بیان کیا وہ بولا :
قد بقیت اشیاء لم تذکر ھا فی عینیہ حمرۃ قلت ما تفارقہ وبین کتفیہ خاتم النبوۃ الخ ابھی اور باتیں باقی رہیں کہ تم نے نہ بیان کیں ان کے آنکھو ںمیں سرخ ڈورے ہیں کہ کم کسی وقت جدا ہوتے ہوں اور ان کے دونوں شانوں کے بیچ مہر نبوت ہے۔
پھر حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی اور صفات کریمہ بیان کر کے بولا :
قد کنت اعلم ان نبیا قدبقی وقد کنت اظن مخرجہ بالشام وھناك کانت تخریج الانبیاء قبلہ فاراہ قد خرج فی ارض العرب فی ارض جھد وبؤس والقبط لا تطاوعنی علی اتباعہ وسیظھر علی البلاد مجھے یقینا معلوم تھا کہ ایك نبی باقی ہے اور مجھے گمان تھا کہ وہ شام میں ظاہر ہوگا کہ اگلے انبیاء نے وہاں ظہور کیا اب میں دیکھتا ہوں کہ انہوں نے عرب میں ظہور فرمایا محنت میں مشقت کی زمین میں اور قبطی ان کی پیروی میں میری نہ مانیں گے عنقریب وہ ان شہروں پر غلبہ پائیں گے۔
تتمہ حدیث : ابوالقاسم نے بطریق ہشام بن اسحق وغیرہ اور ابن سعد نے طبقات میں بطریق محمد بن عمر بن واقد ان کے شیوخ سے روایت کیا کہ مقوقس نے حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو اسی مضمون کی عرضی لکھی کہ :
قد علمت ان نبیا بقی وکنت اظن انہ یخرج بالشام وقد اکرمتك رسولك وبعثت الیك بھدیۃ مجھے یقین تھا کہ ایك نبی باقی ہے اور میرے گمان میں وہ شام سے ظہور کرتا اور میں نے حضور کے قاصد کا اعزاز کیا اور حضور کے لئے نذر حاضر کرتا ہوں۔
عبد اللہ بن سلام کا واقعہ ایمان :
تذ ییل سوم : بیہقی دلائل میں حضرت عبداﷲ بن سلام رضی اللہ تعالی عنہسے راوی جب میں نے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا چرچا سنا اور حضور کے صفت ونام وہیات اور جن جن باتوں کی ہم حضور
قد بقیت اشیاء لم تذکر ھا فی عینیہ حمرۃ قلت ما تفارقہ وبین کتفیہ خاتم النبوۃ الخ ابھی اور باتیں باقی رہیں کہ تم نے نہ بیان کیں ان کے آنکھو ںمیں سرخ ڈورے ہیں کہ کم کسی وقت جدا ہوتے ہوں اور ان کے دونوں شانوں کے بیچ مہر نبوت ہے۔
پھر حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی اور صفات کریمہ بیان کر کے بولا :
قد کنت اعلم ان نبیا قدبقی وقد کنت اظن مخرجہ بالشام وھناك کانت تخریج الانبیاء قبلہ فاراہ قد خرج فی ارض العرب فی ارض جھد وبؤس والقبط لا تطاوعنی علی اتباعہ وسیظھر علی البلاد مجھے یقینا معلوم تھا کہ ایك نبی باقی ہے اور مجھے گمان تھا کہ وہ شام میں ظاہر ہوگا کہ اگلے انبیاء نے وہاں ظہور کیا اب میں دیکھتا ہوں کہ انہوں نے عرب میں ظہور فرمایا محنت میں مشقت کی زمین میں اور قبطی ان کی پیروی میں میری نہ مانیں گے عنقریب وہ ان شہروں پر غلبہ پائیں گے۔
تتمہ حدیث : ابوالقاسم نے بطریق ہشام بن اسحق وغیرہ اور ابن سعد نے طبقات میں بطریق محمد بن عمر بن واقد ان کے شیوخ سے روایت کیا کہ مقوقس نے حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو اسی مضمون کی عرضی لکھی کہ :
قد علمت ان نبیا بقی وکنت اظن انہ یخرج بالشام وقد اکرمتك رسولك وبعثت الیك بھدیۃ مجھے یقین تھا کہ ایك نبی باقی ہے اور میرے گمان میں وہ شام سے ظہور کرتا اور میں نے حضور کے قاصد کا اعزاز کیا اور حضور کے لئے نذر حاضر کرتا ہوں۔
عبد اللہ بن سلام کا واقعہ ایمان :
تذ ییل سوم : بیہقی دلائل میں حضرت عبداﷲ بن سلام رضی اللہ تعالی عنہسے راوی جب میں نے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا چرچا سنا اور حضور کے صفت ونام وہیات اور جن جن باتوں کی ہم حضور
حوالہ / References
شرح الزرقانی علی المواہب بحوالہ واقدی وابن عبدالحکیم ، المقصد الثانی ، الفصل الثالث ، دارالمعرفۃ ، بیروت ، ۳ / ۳۵۰
الطبقات الکبرٰی ، ذکر بعثتہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم الخ ، دارصادر ، بیروت ، ۱ / ۲۶۰
الطبقات الکبرٰی ، ذکر بعثتہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم الخ ، دارصادر ، بیروت ، ۱ / ۲۶۰
کے لئے۔ توقع کر رہے تھے سب پہچان لیں تو میں نے خاموشی کے ساتھ اسے دل میں رکھا یہاں تك کہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم مدینہ طیبہ تشریف لائے مجھے خبر رونق افروزی پہنچی میں نے تکبیر کہی میری پھوپھی بولی : اگر تم موسی بن عمران علیہ الصلوۃ والسلام کا آنا سنتے تو اس سے زیادہ کیا کرتےمیں نے کہا : اے پھوپھی ! خدا کی قسم وہ موسی بن عمران کے بھائی ہیں جس بات پر موسی بھیجے گئے تھے اسی پر یہ بھی مبعوث ہوئے ہیں وہ بولی :
یا ابن اخی اھو النبی الذی کنا نخبر بہ انہ یبعث مع بعث الساعۃ قلت لھا نعم اے میرے بھتیجے! کیایہ وہ نبی ہیں جن کی ہم خبر دئے جاتے تھے کہ وہ قیامت کے ساتھ مبعوث ہوں گے میں کہا : نعم ہاں۔ (الحدیث)
خطیب و ابن عساکر حضرت عبدا ﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے راوی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
انا احمد و محمد والحاشر والمقفی و الخاتم میں احمد ہوں اور محمد اور تمام جہان کو حشر دینے والا اور سب انبیاء کے پیچھے آنے والا اور نبوت ختم فرمانے والا صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔
ہجرت حضرت عباس :
ابو یعلی و طبرانی و شاشی وابونعیم فضائل الصحابہ میں اور ابن عسا کر و ابن النجار حضرت سہل بن سعد رضی اللہ تعالی عنہسے موصولا اور رؤیانی وابن عساکر محمد بن شہاب زہری سے مرسلا راوی حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اﷲ تعالی عنہما عم نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی بارگاہ میں(مکہ معظمہ سے)عرضی حاضر کی کہ مجھے اذن عطا ہو تو ہجرت کر کے(مدینہ طیبہ)حاضر ہوں۔ اس کے جواب میں حضور پر نور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے یہ فرمان نافذ فرمایا :
یا عم اقم مکانك الذی انت فیہ فان اﷲ یختم بك الھجرۃ کما ختم بی النبوۃ اے چچا! اطمینان سے رہو کہ تم ہجرت میں خاتم المہاجرین ہونے والے ہو جس طرح میں نبوت میں خاتم النبیین ہوں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔
یا ابن اخی اھو النبی الذی کنا نخبر بہ انہ یبعث مع بعث الساعۃ قلت لھا نعم اے میرے بھتیجے! کیایہ وہ نبی ہیں جن کی ہم خبر دئے جاتے تھے کہ وہ قیامت کے ساتھ مبعوث ہوں گے میں کہا : نعم ہاں۔ (الحدیث)
خطیب و ابن عساکر حضرت عبدا ﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے راوی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
انا احمد و محمد والحاشر والمقفی و الخاتم میں احمد ہوں اور محمد اور تمام جہان کو حشر دینے والا اور سب انبیاء کے پیچھے آنے والا اور نبوت ختم فرمانے والا صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔
ہجرت حضرت عباس :
ابو یعلی و طبرانی و شاشی وابونعیم فضائل الصحابہ میں اور ابن عسا کر و ابن النجار حضرت سہل بن سعد رضی اللہ تعالی عنہسے موصولا اور رؤیانی وابن عساکر محمد بن شہاب زہری سے مرسلا راوی حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اﷲ تعالی عنہما عم نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی بارگاہ میں(مکہ معظمہ سے)عرضی حاضر کی کہ مجھے اذن عطا ہو تو ہجرت کر کے(مدینہ طیبہ)حاضر ہوں۔ اس کے جواب میں حضور پر نور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے یہ فرمان نافذ فرمایا :
یا عم اقم مکانك الذی انت فیہ فان اﷲ یختم بك الھجرۃ کما ختم بی النبوۃ اے چچا! اطمینان سے رہو کہ تم ہجرت میں خاتم المہاجرین ہونے والے ہو جس طرح میں نبوت میں خاتم النبیین ہوں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔
حوالہ / References
دلائل النبوۃ للبیہقی ، باب ما جاء فی دخول عبداﷲ بن سلام علٰی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم دارالکتاب العلمیہ ، بیروت ، ۲ / ۵۳۰
تاریخ بغدادللخطیب ، ترجمہ ۲۵۰۱ احمد بن محمد السوطی ، دارالکتاب العربی ، بیروت ، ۵ / ۹۹
تہذیب تاریخ دمشق الکبیر ، ذکر من اسمہ عباس ، داراحیاء التراث العربی ، بیروت ، ۷ / ۲۳۵
تاریخ بغدادللخطیب ، ترجمہ ۲۵۰۱ احمد بن محمد السوطی ، دارالکتاب العربی ، بیروت ، ۵ / ۹۹
تہذیب تاریخ دمشق الکبیر ، ذکر من اسمہ عباس ، داراحیاء التراث العربی ، بیروت ، ۷ / ۲۳۵
امام اجل فقیہ محدث ابوالیث سمر قندی تنبیہہ الغافلین میں فرماتے ہیں :
حدثنا ابوبکر محمد بن احمد ثنا ابو عمران ثنا عبدالرحمن ثنا داؤد ثنا عباد بن الکثیر عن عبد خیر عن علی بن ابی طالب رضی اﷲ تعالی عنہ۔ ہمیں ابو بکر محمد بن احمد ان کو ابو عمران ان کو عبدالرحمن ان کو داؤد ان کو عباد بن کثیر ان کو عبد خیر سے انہوں نے حضرت علی مرتضی رضی اللہ تعالی عنہسے بیان کیا۔
جب سورۃ اذا جاء نصراﷲ حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے مرض وصال شریف میں نازل ہوئی حضور فورا برآمد ہوئے پنجشنبہ کا دن تھا منبر پر جلوس فرمایا بلال رضی اللہ تعالی عنہکو حکم دیا کہ مدینے میں ندا کردو “ لوگو!رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی وصیت سننے چلو “ یہ آواز سنتے ہی سب چھوٹے بڑے جمع ہوئے گھروں کے دروازے ویسے ہی کھلے چھوڑدئیے یہاں تك کہ کنواریاں پردوں سے باہر نکل آئیں حد یہ کہ مسجد شریف حاضرین پر تنگ ہوئی اور حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرمارہے ہیں اور اپنے پچھلوں کے لئے جگہ وسیع کرو اپنے پچھلوں کے لئے جگہ وسیع کرو۔ پھر حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم منبر پر قیام فرما کر حمد و ثنائے الہی بجا لائے انبیاء کرام علیہم الصلوۃ و السلام پر درود بھیجی پھر ارشاد ہوا :
انا محمد بن عبداﷲ بن عبدالمطلب بن ھاشم العربی الحرمی المکی لا نبی بعدی الحدیث ھذا مختصر۔ میں محمد بن عبداﷲ بن عبدالمطلب بن ہاشم عربی صاحب حرم محترم و مکہ معظمہ ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں الحدیث ہذا مختصر
مدینہ طیبہ میں حضور کی تشریف آوری :
اﷲ اﷲ ایك وہ دن تھا کہ مدینہ طیبہ میں حضورپر نور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی تشریف آوری کی دھوم ہے زمین و آسمان میں خیر مقدم کی صدائیں گونج رہی ہیں خوشی و شادمانی ہے کہ درو دیوار سے ٹپکی پڑتی ہے مدینے کے ایك ایك بچے کا دمکتا چہرہ انار دانہ ہورہا ہے باچھیں کھلی جاتی ہیں دل ہیں کہ سینوں میں نہیں سماتے سینوں پر جامے تنگ جاموں میں قبائے گل کا رنگ نور ہے کہ چھماچھم برس رہا ہے فرش سے عرش تك کا نور کا بقعہ بنا ہے پردہ نشین کنواریاں شوق دیدار محبوب کر دگار میں گاتی ہوئی باہر آئی ہیں کہ :
طلع البدر علینا من ثنیات الوداع وجب الشکر علینا ما دعاﷲ داع
(ہم پر چاند نکل آیا وداع کی گھاٹیوں سے ہم پر خدا کا شکر واجب ہے جب تك دعا مانگنے والا دعا مانگے) (ت)
حدثنا ابوبکر محمد بن احمد ثنا ابو عمران ثنا عبدالرحمن ثنا داؤد ثنا عباد بن الکثیر عن عبد خیر عن علی بن ابی طالب رضی اﷲ تعالی عنہ۔ ہمیں ابو بکر محمد بن احمد ان کو ابو عمران ان کو عبدالرحمن ان کو داؤد ان کو عباد بن کثیر ان کو عبد خیر سے انہوں نے حضرت علی مرتضی رضی اللہ تعالی عنہسے بیان کیا۔
جب سورۃ اذا جاء نصراﷲ حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے مرض وصال شریف میں نازل ہوئی حضور فورا برآمد ہوئے پنجشنبہ کا دن تھا منبر پر جلوس فرمایا بلال رضی اللہ تعالی عنہکو حکم دیا کہ مدینے میں ندا کردو “ لوگو!رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی وصیت سننے چلو “ یہ آواز سنتے ہی سب چھوٹے بڑے جمع ہوئے گھروں کے دروازے ویسے ہی کھلے چھوڑدئیے یہاں تك کہ کنواریاں پردوں سے باہر نکل آئیں حد یہ کہ مسجد شریف حاضرین پر تنگ ہوئی اور حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرمارہے ہیں اور اپنے پچھلوں کے لئے جگہ وسیع کرو اپنے پچھلوں کے لئے جگہ وسیع کرو۔ پھر حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم منبر پر قیام فرما کر حمد و ثنائے الہی بجا لائے انبیاء کرام علیہم الصلوۃ و السلام پر درود بھیجی پھر ارشاد ہوا :
انا محمد بن عبداﷲ بن عبدالمطلب بن ھاشم العربی الحرمی المکی لا نبی بعدی الحدیث ھذا مختصر۔ میں محمد بن عبداﷲ بن عبدالمطلب بن ہاشم عربی صاحب حرم محترم و مکہ معظمہ ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں الحدیث ہذا مختصر
مدینہ طیبہ میں حضور کی تشریف آوری :
اﷲ اﷲ ایك وہ دن تھا کہ مدینہ طیبہ میں حضورپر نور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی تشریف آوری کی دھوم ہے زمین و آسمان میں خیر مقدم کی صدائیں گونج رہی ہیں خوشی و شادمانی ہے کہ درو دیوار سے ٹپکی پڑتی ہے مدینے کے ایك ایك بچے کا دمکتا چہرہ انار دانہ ہورہا ہے باچھیں کھلی جاتی ہیں دل ہیں کہ سینوں میں نہیں سماتے سینوں پر جامے تنگ جاموں میں قبائے گل کا رنگ نور ہے کہ چھماچھم برس رہا ہے فرش سے عرش تك کا نور کا بقعہ بنا ہے پردہ نشین کنواریاں شوق دیدار محبوب کر دگار میں گاتی ہوئی باہر آئی ہیں کہ :
طلع البدر علینا من ثنیات الوداع وجب الشکر علینا ما دعاﷲ داع
(ہم پر چاند نکل آیا وداع کی گھاٹیوں سے ہم پر خدا کا شکر واجب ہے جب تك دعا مانگنے والا دعا مانگے) (ت)
حوالہ / References
تنبیہ الغافلین ، باب الرفق ، دارالکتب العلمیۃ ، بیروت ، ص ۴۳۷
المواہب اللدنیۃ ، الہجرۃ الی المدینۃ متی انشد طلع البدر ، المکتب الاسلامی ، بیروت ، ۱ / ۳۱۳
المواہب اللدنیۃ ، الہجرۃ الی المدینۃ متی انشد طلع البدر ، المکتب الاسلامی ، بیروت ، ۱ / ۳۱۳
بنی النجار کی لڑکیاں کوچے کوچے محو نغمہ سرائی ہیں کہ :
نحن جوار من بنی النجار یا حبذامحمد من جار
ہم بنو نجار کی لڑکیاں ہیں اے نجاریو! محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کیسا اچھا ہمسایہ ہے۔ ت
ایك دن آج ہے کہ اس محبوب کی رخصت ہے مجلس آخری وصیت ہے مجمع تو آج بھی وہی ہے بچوں سے بوڑھوں تک مردوں سے پردہ نشینوں تك سب کا ہجوم ہے ندا ئے بلال سنتے ہی چھوٹے بڑے سینوں سے دل کی طرح بے تابانہ نکلے ہیں شہر بھرنے مکانوں کے دروازے کھلے چھوڑ دئے ہیں دل کمھلائے چہرے مرجھائے دن کی روشنی دھیمی پڑگئی کہ آفتاب جہاں تاب کی وداع نزدیك ہے آسمان پژمردہ زمین افسردہ جدھر دیکھو سناٹے کا عالم اتنا اژدھام اور ہو کا مقام آخری نگاہیں اس محبوب کے روئے حق نما تك کس حسرت و یاس کے ساتھ جاتی اور ضعف نومیدی سے ہلکان ہو کر بیخودانہ قدموں پر گر جاتی ہیں فرط ادب سے لب بند مگر دل کے دھوئیں سے یہ صدا بلند
کنت السواد لناظری فعمی علیك الناظر
من شاء بعدك فلیمت فعلیك کنت احاذر
(میں اپنے دیکھنے والوں کے لئے سیاہ تھا پس اندھا کیا گیا آپکو دیکھنے والے کو پس جو چاہے آپ کے بعد ماردے پس آپ پر ہی بھروسا تھا کہ مجھے بچالیں گے۔ ت)
اﷲ کا محبوب امت کا داعی کس پیار کی نظر سے اپنی پالی ہوئی بکریوں کو دیکھتا اور محبت بھرے دل سے انہیں حافظ حقیقی کے سپرد کر رہا ہے شان رحمت کو ان کی جدائی کا غم بھی ہے اور فوج فوج امنڈ تے ہوئے آنے کی خوشی بھی کہ محنت ٹھکانے لگی جس خدمت کو ملك العرش نے بھیجا تھا با حسن الوجوہ انجام کو پہنچی۔
نوح کی ساڑھے نوسو برس وہ سخت مشقت اور صرف پچاس شخصوں کو ہدایت یہاں بیس۲۰ تئیس۲۳ہی سال میں بحمداﷲ یہ روز افزوں کثرت کنیز و غلام جوق جوق آرہے ہیں جگہ باربار تنگ ہوجاتی ہے دفعہ دفعہ ارشاد ہوتا ہے آنے والوں کو جگہ دو آنے والوں کوجگہ دو اس عام دعوت پر جب یہ مجمع ہو لیا ہے سلطان عالم نے منبر اکرم پر قیام کیا ہے بعد حمد و صلوۃ اپنے نسب و نام و قوم و مقام و فضائل عظام کا بیان ارشاد ہوا ہے مسلمانو! خدارا پھر مجلس میلا د اور کیا ہے وہی دعوت عام وہی مجمع تام وہی منبر و قیام وہی بیان فضائل سید الانام علیہ وآلہ الصلوۃ و السلام مجلس میلاد اور کس شئے کا نام مگر نجدی صاحبوں کو ذکر محبوب
نحن جوار من بنی النجار یا حبذامحمد من جار
ہم بنو نجار کی لڑکیاں ہیں اے نجاریو! محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کیسا اچھا ہمسایہ ہے۔ ت
ایك دن آج ہے کہ اس محبوب کی رخصت ہے مجلس آخری وصیت ہے مجمع تو آج بھی وہی ہے بچوں سے بوڑھوں تک مردوں سے پردہ نشینوں تك سب کا ہجوم ہے ندا ئے بلال سنتے ہی چھوٹے بڑے سینوں سے دل کی طرح بے تابانہ نکلے ہیں شہر بھرنے مکانوں کے دروازے کھلے چھوڑ دئے ہیں دل کمھلائے چہرے مرجھائے دن کی روشنی دھیمی پڑگئی کہ آفتاب جہاں تاب کی وداع نزدیك ہے آسمان پژمردہ زمین افسردہ جدھر دیکھو سناٹے کا عالم اتنا اژدھام اور ہو کا مقام آخری نگاہیں اس محبوب کے روئے حق نما تك کس حسرت و یاس کے ساتھ جاتی اور ضعف نومیدی سے ہلکان ہو کر بیخودانہ قدموں پر گر جاتی ہیں فرط ادب سے لب بند مگر دل کے دھوئیں سے یہ صدا بلند
کنت السواد لناظری فعمی علیك الناظر
من شاء بعدك فلیمت فعلیك کنت احاذر
(میں اپنے دیکھنے والوں کے لئے سیاہ تھا پس اندھا کیا گیا آپکو دیکھنے والے کو پس جو چاہے آپ کے بعد ماردے پس آپ پر ہی بھروسا تھا کہ مجھے بچالیں گے۔ ت)
اﷲ کا محبوب امت کا داعی کس پیار کی نظر سے اپنی پالی ہوئی بکریوں کو دیکھتا اور محبت بھرے دل سے انہیں حافظ حقیقی کے سپرد کر رہا ہے شان رحمت کو ان کی جدائی کا غم بھی ہے اور فوج فوج امنڈ تے ہوئے آنے کی خوشی بھی کہ محنت ٹھکانے لگی جس خدمت کو ملك العرش نے بھیجا تھا با حسن الوجوہ انجام کو پہنچی۔
نوح کی ساڑھے نوسو برس وہ سخت مشقت اور صرف پچاس شخصوں کو ہدایت یہاں بیس۲۰ تئیس۲۳ہی سال میں بحمداﷲ یہ روز افزوں کثرت کنیز و غلام جوق جوق آرہے ہیں جگہ باربار تنگ ہوجاتی ہے دفعہ دفعہ ارشاد ہوتا ہے آنے والوں کو جگہ دو آنے والوں کوجگہ دو اس عام دعوت پر جب یہ مجمع ہو لیا ہے سلطان عالم نے منبر اکرم پر قیام کیا ہے بعد حمد و صلوۃ اپنے نسب و نام و قوم و مقام و فضائل عظام کا بیان ارشاد ہوا ہے مسلمانو! خدارا پھر مجلس میلا د اور کیا ہے وہی دعوت عام وہی مجمع تام وہی منبر و قیام وہی بیان فضائل سید الانام علیہ وآلہ الصلوۃ و السلام مجلس میلاد اور کس شئے کا نام مگر نجدی صاحبوں کو ذکر محبوب
حوالہ / References
المواہب اللدنیۃ ، الھجرۃ الی المدینۃ متی انشد طلع البدر ، المکتب الاسلامی ، بیروت ، ۱ / ۳۱۴
المواہب اللدنیۃ المقصد العاشر ، الفصل الاول(وثائ)المکتب الاسلامی ، بیروت ، ۴ / ۵۵۴
المواہب اللدنیۃ المقصد العاشر ، الفصل الاول(وثائ)المکتب الاسلامی ، بیروت ، ۴ / ۵۵۴
مٹانے سے کام وربنا الرحمن المستعان وبہ الاعتصام وعلیہ التکلان(ہمارا رب رحمن مددگار ہے اور اسی ذات سے مضبوطی اور اسی پر اعتماد۔ ت)
چارپائے کلام کرتے ہیں :
ابن حبان و ابن عساکر حضرت ابو منظور اور ابو نعیم بروجہ آخر حضرت معاذ بن جبل رضی اﷲ تعالی عنہما سے راوی جب خیبر فتح ہوا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ایك دراز گوش سیاہ رنگ دیکھا اس سے کلام فرمایا وہ جانور بھی تکلم میں آیا ارشاد ہوا تیرا کیا نام ہے عرض کی : یزید بیٹا شہاب کا اﷲ تعالی نے میرے دادا کی نسل سے ساٹھ دراز گوش پیدا کئے کلھم لا یرکبہ الا نبی ان سب پر انبیاء سوار ہوا کئے وقد کنت اتوقعك ان ترکبنی لم یبق من نسل جدی غیری ولا من الانبیاء غیرك مجھے یقینی توقع تھی کہ حضور مجھے اپنی سواری سے مشرف فرمائیں گے کہ اب اس نسل میں سوا میرے اور انبیاء میں سوا حضور کے کوئی باقی نہیں میں ایك یہودی کے پاس تھا اسے قصدا گرا دیا کرتا وہ مجھے بھوکا رکھتا اور مارتا حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے اس کا نام یعفور رکھا جسے بلانا چاہتے اسے بھیج دیتے چوکھٹ پر سرمارتا جب صاحب خانہ باہر آتا اسے اشارے سے بتاتا کہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یاد فرماتے ہیں جب حضور پر نور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے انتقال فرمایا وہ مفارقت کی تاب نہ لایا ابو الہیثم بن التیہان رضی اللہ تعالی عنہکے کنویں میں گر کر مرگیا
ھذا حدیث ابی منظور ونحوہ عن معاذ باختصار غیر انہ ذکر مکان الاباء ثلثۃ اخوۃ واسمہ مکان یزید عمر وقال کلنا رکبنا الانبیاء انا اصغرھم وکنت لک الحدیث قلت ولا علیك من دندنۃ العلامۃ ابن الجوزی کعادتہ علیہ ولا من تحامل ابن دحیۃ علی حدیث الضب المارسابقا فلیس فیھما ما ینکر شرعا ولا فی یہ ابو منظور کی حدیث ہے اور اسی کی مثل حضرت معاذ سے بطریق اختصار مروی ہے مگر انہوں نے آباء کی جگہ تین بھائیوں کا اور یزید کی جگہ نام عمر ذکر کیا اور اس نے کہا ہم سب پر انبیاء علیہم السلام سوا ر ہوئے جبکہ میں سب سے چھوٹا ہوں اور میں آپ کے لئے ہوں الحدیث۔ قلت(میں کہتا ہوں) علامہ ابن جوزی کا اعتراض جیسا کہ اس کی عادت ہے تجھے مضر نہیں اور نہ ہی ابن دحیہ کی سو سمار سے متعلق گزشتہ حدیث پر جسارت تجھے مضر ہے ان دونوں حدیثوں میں شرعی طور پر کوئی قابل انکار چیز نہیں
چارپائے کلام کرتے ہیں :
ابن حبان و ابن عساکر حضرت ابو منظور اور ابو نعیم بروجہ آخر حضرت معاذ بن جبل رضی اﷲ تعالی عنہما سے راوی جب خیبر فتح ہوا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ایك دراز گوش سیاہ رنگ دیکھا اس سے کلام فرمایا وہ جانور بھی تکلم میں آیا ارشاد ہوا تیرا کیا نام ہے عرض کی : یزید بیٹا شہاب کا اﷲ تعالی نے میرے دادا کی نسل سے ساٹھ دراز گوش پیدا کئے کلھم لا یرکبہ الا نبی ان سب پر انبیاء سوار ہوا کئے وقد کنت اتوقعك ان ترکبنی لم یبق من نسل جدی غیری ولا من الانبیاء غیرك مجھے یقینی توقع تھی کہ حضور مجھے اپنی سواری سے مشرف فرمائیں گے کہ اب اس نسل میں سوا میرے اور انبیاء میں سوا حضور کے کوئی باقی نہیں میں ایك یہودی کے پاس تھا اسے قصدا گرا دیا کرتا وہ مجھے بھوکا رکھتا اور مارتا حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے اس کا نام یعفور رکھا جسے بلانا چاہتے اسے بھیج دیتے چوکھٹ پر سرمارتا جب صاحب خانہ باہر آتا اسے اشارے سے بتاتا کہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یاد فرماتے ہیں جب حضور پر نور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے انتقال فرمایا وہ مفارقت کی تاب نہ لایا ابو الہیثم بن التیہان رضی اللہ تعالی عنہکے کنویں میں گر کر مرگیا
ھذا حدیث ابی منظور ونحوہ عن معاذ باختصار غیر انہ ذکر مکان الاباء ثلثۃ اخوۃ واسمہ مکان یزید عمر وقال کلنا رکبنا الانبیاء انا اصغرھم وکنت لک الحدیث قلت ولا علیك من دندنۃ العلامۃ ابن الجوزی کعادتہ علیہ ولا من تحامل ابن دحیۃ علی حدیث الضب المارسابقا فلیس فیھما ما ینکر شرعا ولا فی یہ ابو منظور کی حدیث ہے اور اسی کی مثل حضرت معاذ سے بطریق اختصار مروی ہے مگر انہوں نے آباء کی جگہ تین بھائیوں کا اور یزید کی جگہ نام عمر ذکر کیا اور اس نے کہا ہم سب پر انبیاء علیہم السلام سوا ر ہوئے جبکہ میں سب سے چھوٹا ہوں اور میں آپ کے لئے ہوں الحدیث۔ قلت(میں کہتا ہوں) علامہ ابن جوزی کا اعتراض جیسا کہ اس کی عادت ہے تجھے مضر نہیں اور نہ ہی ابن دحیہ کی سو سمار سے متعلق گزشتہ حدیث پر جسارت تجھے مضر ہے ان دونوں حدیثوں میں شرعی طور پر کوئی قابل انکار چیز نہیں
حوالہ / References
المواھب اللدنیۃ بحوالہ ابن عساکر عن ابی منظور ، مقصد رابع ، فصل اول ، المکتب الاسلامی بیروت ۲ / ۵۵۴
دلائل النبوۃ لابی نعیم ، الفصل الثانی والعشرون ، عالم الکتب ، بیروت ، ص ۱۳۸
دلائل النبوۃ لابی نعیم ، الفصل الثانی والعشرون ، عالم الکتب ، بیروت ، ص ۱۳۸
سندھما کذاب ولا وضاع ولا متھم بہ فانی یاتھما الوضع وھذا امام الشان العسقلانی قد اقتصرفی حدیث ابی منظور علی تضعیفہ ولہ شاھد من حدیث معاذکما تری لا جرم ان قال الزرقانی نہایتہ الضعف لا الوضع وقال ھو والقسطلانی فی حدیث الضب (معجزاتہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فیھا ما ھو ابلغ من ھذا ولیس فیہ ما ینکر شر عا خصوصا و قدرواہ الائمۃ)الحافظ الکبار کابن عدی وتلمیذہ الحاکم و تلمیذہ البیھقی وھو لا یروی موضوعا والدارقطنی وناھیك بہ(فنھا یتہ الضعف لاالوضع)کما زعم کیف ولحدیث ابن عمر طریق اخر لیس فیہ السلمی رواہ ابو نعیم وورد مثلہ من حدیث عائشۃ وابی ھریرۃ عند غیر ھما ۱ھ قلت وقد اوردکلا الحدیثین الامام خاتم الحفاظ فی الخصائص الکبری وقد قال فی خطبتہا نزھتہ عن الاخبار الموضوعۃ وما یرد ۱ھ قلت وعزو الزرقانی
اور نہ ہی ان کی سندوں میں کوئی کذاب اور وضاع اور متہم راوی ہے تو ان حدیثوں کا موضوع ہونا کہاں سے ہوا جبکہ امام عسقلانی نے ابو منظور کی حدیث کو ضعیف کہنے پر اقتصار کیا حالانکہ اس حدیث کا شاہد حضرت معاذ کی حدیث ہے جیسا کہ آپ دیکھ رہے اسی بنا پر علامہ زرقانی نے فرمایا زیادہ سے زیادہ یہ ضعیف ہے موضوع نہیں ہے اور انہوں نے اور امام قسطلانی نے بھی سو سمار والی حدیث کے متعلق فرمایا کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے معجزات میں تو اس سے بڑھ کر واقعات ہیں جبکہ اس حدیث میں شرعی طور پر قابل انکا ر چیز بھی نہیں خصوصا جبکہ اس کو بڑے ائمہ حفاظ جیسے ابن عدی ان کے شاگرد امام حاکم اور ان کے شاگرد امام بیہقی نے روایت کیا ہو امام بیہقی تو موضوع روایت ذکر نہیں کرتے اس کو دارقطنی نے روایت کیا ان کی سند تو تجھے کافی ہے تو زیادہ سے زیادہ یہ حدیث ضعیف ہوسکتی ہے موضوع نہیں ہے جیسا کہ بعض نے خیال کیا موضوع کیسے کہا جائے جبکہ ابن عمر کی حدیث دوسرے طریقہ سے بھی مروی ہے جس میں سلمی مذکور نہیں اس طریق کو ابو نعیم نے روایت کیا اور حضرت عائشہ صدیقہ اور ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہسے اس کی مثل دونوں کے غیر سے وارد ہے ۱ھ قلت(میں کہتا ہوں)ان دونوں حدیثوں کو امام جلا ل الدین سیوطی
اور نہ ہی ان کی سندوں میں کوئی کذاب اور وضاع اور متہم راوی ہے تو ان حدیثوں کا موضوع ہونا کہاں سے ہوا جبکہ امام عسقلانی نے ابو منظور کی حدیث کو ضعیف کہنے پر اقتصار کیا حالانکہ اس حدیث کا شاہد حضرت معاذ کی حدیث ہے جیسا کہ آپ دیکھ رہے اسی بنا پر علامہ زرقانی نے فرمایا زیادہ سے زیادہ یہ ضعیف ہے موضوع نہیں ہے اور انہوں نے اور امام قسطلانی نے بھی سو سمار والی حدیث کے متعلق فرمایا کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے معجزات میں تو اس سے بڑھ کر واقعات ہیں جبکہ اس حدیث میں شرعی طور پر قابل انکا ر چیز بھی نہیں خصوصا جبکہ اس کو بڑے ائمہ حفاظ جیسے ابن عدی ان کے شاگرد امام حاکم اور ان کے شاگرد امام بیہقی نے روایت کیا ہو امام بیہقی تو موضوع روایت ذکر نہیں کرتے اس کو دارقطنی نے روایت کیا ان کی سند تو تجھے کافی ہے تو زیادہ سے زیادہ یہ حدیث ضعیف ہوسکتی ہے موضوع نہیں ہے جیسا کہ بعض نے خیال کیا موضوع کیسے کہا جائے جبکہ ابن عمر کی حدیث دوسرے طریقہ سے بھی مروی ہے جس میں سلمی مذکور نہیں اس طریق کو ابو نعیم نے روایت کیا اور حضرت عائشہ صدیقہ اور ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہسے اس کی مثل دونوں کے غیر سے وارد ہے ۱ھ قلت(میں کہتا ہوں)ان دونوں حدیثوں کو امام جلا ل الدین سیوطی
حوالہ / References
شرح الزرقانی علی المواہب اللدنیۃ مقصد رابع ، فصل اول ، حدیث الضب ، دارالمعرفۃ بیروت ، ۵ / ۱۴۸
المواہب اللدنیہ مقصد رابع ، فصل اول ، حدیث الضب ، المکتب الاسلامی ، بیروت ، ۲ / ۵۵۵ ، شرح الزرقانی علی المواہب اللدنیہ مقصد رابع ، فصل اول ، حدیث الضب ، دارالمعرفۃ بیروت ، ۵ / ۵۰۔ ۱۴۹
الخصائص الکبرٰی ، مقدمۃ المؤلف ، دارالکتب الحدیثیہ ، بیروت ، ۱ / ۸
المواہب اللدنیہ مقصد رابع ، فصل اول ، حدیث الضب ، المکتب الاسلامی ، بیروت ، ۲ / ۵۵۵ ، شرح الزرقانی علی المواہب اللدنیہ مقصد رابع ، فصل اول ، حدیث الضب ، دارالمعرفۃ بیروت ، ۵ / ۵۰۔ ۱۴۹
الخصائص الکبرٰی ، مقدمۃ المؤلف ، دارالکتب الحدیثیہ ، بیروت ، ۱ / ۸
حدیث الضب لا بن عمر تبع فیہ الماتن اعنی الامام القسطلانی صاحب المواھب وسبقھما الد میری فی حیوۃ الحیوان الکبری لکن الذی رأیت فی الخصائص الکبری والجامع الکبیر للامام الجلیل الجلال السیوطی ھو عزوہ لامیرالمؤمنین عمر رضی اﷲ تعالی عنہ کما قدمت وقد اوردہ فی الجامع فی مسند عمر فزیادۃ لفظ الابن اما وقع سھوا اویکون الحدیث من طریق ابن عمر عن عمر رضی اﷲ تعالی عنھما فیصح العزو الی کل وان کان الاولی ذکرا لمنتھی ویحتمل علی بعد عن کل منھما فاذن یکون مرویا عن ستۃ من الصحابۃ رضی اﷲ تعالی عنھم واﷲ تعالی اعلم۔ نے خصائص الکبری میں ذکر فرمایا حالانکہ انہوں نے اس کتاب کے خطبہ میں فرمایا ہے میں نے اس کتاب کو موضوع اور مردودروایات سے دور رکھا ہے۱ھ قلت(میں کہتا ہوں)زرقانی کا سو سمار والی حدیث کو ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما کی طرف منسوب کرنا ماتن یعنی مصنف مواہب امام قسطلانی کی پیروی ہے جبکہ ان دونوں سے قبل علامہ دمیری نے حیوۃ الحیوان میں اس کو ذکر کیا لیکن میں نے امام جلا ل الدین سیوطی کی خصائص الکبری اور جامع کبیر میں دیکھا انہوں نے اس کو امیر المؤمنین عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہکی طرف منسوب کیا ہے جیسا کہ میں پہلے ذکر کرچکا ہوں انہوں نے اسے اپنی جامع میں حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہکے مسند میں ذکر فرمایا تو “ ابن “ کا لفظ سہوا لکھا گیا ہے یا پھر ابن عمر کے ذریعے حضرت عمر رضی اﷲ تعالی عنہما سے مروی ہے لہذا دونوں حضرات کی طرف نسبت درست ہے اگر چہ منتہی راوی یعنی عمر رضی اللہ تعالی عنہکی طرف منسوب کرنا اولی ہے اور بعید احتمال کے طور پر دونوں حضرات سے مستقل روایت بھی ہوسکتی ہے تو یوں چھ صحابہ سے یہ حدیث مروی ہوگی۔ (واﷲ تعالی اعلم)۔ ت
میرے بعد کوئی نبی نہیں :
سعید بن ابی منصور و امام احمد وابن مردویہ حضرت ابوالطفیل رضی اللہ تعالی عنہسے راوی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
لا نبوۃ بعدی الا المبشرات الرؤیا الصالحۃ میرے بعد نبوت نہیں مگر بشارتیں ہیں اچھے خواب۔
میرے بعد کوئی نبی نہیں :
سعید بن ابی منصور و امام احمد وابن مردویہ حضرت ابوالطفیل رضی اللہ تعالی عنہسے راوی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
لا نبوۃ بعدی الا المبشرات الرؤیا الصالحۃ میرے بعد نبوت نہیں مگر بشارتیں ہیں اچھے خواب۔
حوالہ / References
مسند امام احمد بن حنبل ، حدیث ابی الطفیل رضی اﷲ تعالٰی عنہ ، دارالفکر بیروت ، ۵ / ۴۵۴ ، مجمع الزوائد ، کتاب التعبیر ، دارالکتاب ، بیروت ، ۷ / ۱۷۳
احمد وخطیب اور بیہقی شعب الایمان میں اس کے قریب ام المؤمنین صدیقہ رضی اﷲتعالی عنہا سے راوی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
لا یبقی بعدی من النبوۃ شیئ الاالمبشرات الرؤیا الصالحۃ یراھا العبد اوتری لہ میرے بعد نبوت سے کچھ باقی نہ رہے گا مگر بشارتیں اچھا خواب کہ بندہ آپ دیکھے یا اس کے لئے دوسرے کو دکھایا جائے۔
تیس۳۰ کذاب :
ابو بکر ابن ابی شیبہ مصنف میں عبید بن عمر ولیثی اور طبرانی کبیرمیں نعیم بن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہما سے راوی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
لا تقوم الساعۃ حتی یخرج ثلثون کذابا کلھم یزعم انہ نبی زاد عبید قبل یوم القیمۃ۔
اقول : وانما اخرنا ھما الی التذییل بخلاف عین اللفظ المتقدم فی الحدیث الثانی والستین لان فی تتمتہ ان من قال فافعلوا بہ کذاوکذا وھذا العموم انما تم لا جل ختم النبوۃ اذلوجاز ان یکون بعدہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نبی صادق لما ساع الامر المذکور بالعموم وان کان یاتی ایضا ثلثون او الوف من الکذابین بل کان یجب اقسامۃ امارۃ تمیز الصادق من الکاذب والامر بالایقاع بمن ھو کاذب قیامت قائم نہ ہوگی یہاں تك کہ اس سے پہلے تیس کذاب نکلیں ہر ایك اپنے آپ کو نبی کہتا ہو۔ عبید نے اس پر “ قبل یوم القیمۃ “ کو زائد کیا۔
اقول : (میں کہتا ہوں)ان دونوں حدیثوں کو ہم نے تذییل کے آخر میں ذکر کیا برخلاف اس کے جو باسٹھویں حدیث میں پہلے گزرا عین لفظ اس کے کیونکہ اس کے آخر میں یوں ہے کہ جو بھی نبوت کا دعوی کرے اسے یہ یہ کرو۔ اور جو بھی ایسا دعوی کرے اس سے یوں کرو “ یہ عموم ختم نبوت کے لئے ہی تام ہوسکتا ہے کیونکہ اگر آپ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے بعد کسی نبی کا آنا جائز ہوتا تو پھر یہ عام حکم ایسے لوگ تیس ہوں یا ہزاروں ہوں سب کو شامل نہ ہوتا بلکہ پھر سچے اور جھوٹے نبی کی تمیز میں کوئی امتیازی علامت بیان کر کے “ یہ یہ کرنے “ کا حکم ان میں سے صرف کاذبین کے لئے ہوتا
لا یبقی بعدی من النبوۃ شیئ الاالمبشرات الرؤیا الصالحۃ یراھا العبد اوتری لہ میرے بعد نبوت سے کچھ باقی نہ رہے گا مگر بشارتیں اچھا خواب کہ بندہ آپ دیکھے یا اس کے لئے دوسرے کو دکھایا جائے۔
تیس۳۰ کذاب :
ابو بکر ابن ابی شیبہ مصنف میں عبید بن عمر ولیثی اور طبرانی کبیرمیں نعیم بن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہما سے راوی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
لا تقوم الساعۃ حتی یخرج ثلثون کذابا کلھم یزعم انہ نبی زاد عبید قبل یوم القیمۃ۔
اقول : وانما اخرنا ھما الی التذییل بخلاف عین اللفظ المتقدم فی الحدیث الثانی والستین لان فی تتمتہ ان من قال فافعلوا بہ کذاوکذا وھذا العموم انما تم لا جل ختم النبوۃ اذلوجاز ان یکون بعدہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نبی صادق لما ساع الامر المذکور بالعموم وان کان یاتی ایضا ثلثون او الوف من الکذابین بل کان یجب اقسامۃ امارۃ تمیز الصادق من الکاذب والامر بالایقاع بمن ھو کاذب قیامت قائم نہ ہوگی یہاں تك کہ اس سے پہلے تیس کذاب نکلیں ہر ایك اپنے آپ کو نبی کہتا ہو۔ عبید نے اس پر “ قبل یوم القیمۃ “ کو زائد کیا۔
اقول : (میں کہتا ہوں)ان دونوں حدیثوں کو ہم نے تذییل کے آخر میں ذکر کیا برخلاف اس کے جو باسٹھویں حدیث میں پہلے گزرا عین لفظ اس کے کیونکہ اس کے آخر میں یوں ہے کہ جو بھی نبوت کا دعوی کرے اسے یہ یہ کرو۔ اور جو بھی ایسا دعوی کرے اس سے یوں کرو “ یہ عموم ختم نبوت کے لئے ہی تام ہوسکتا ہے کیونکہ اگر آپ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے بعد کسی نبی کا آنا جائز ہوتا تو پھر یہ عام حکم ایسے لوگ تیس ہوں یا ہزاروں ہوں سب کو شامل نہ ہوتا بلکہ پھر سچے اور جھوٹے نبی کی تمیز میں کوئی امتیازی علامت بیان کر کے “ یہ یہ کرنے “ کا حکم ان میں سے صرف کاذبین کے لئے ہوتا
حوالہ / References
مسند امام احمد بن حنبل ، حدیث سیدہ عائشہ صدیقہ رضی ا ﷲتعالٰی عنہا ، دارالفکر بیروت ، ۶ / ۱۲۹ ، تاریخ بغداد للخطیب ، ترجمہ ۵۸۳۶ ، عبدالغالب بن جعفر ، دارالکتاب ، العربی ، بیروت ، ۱۱ / ۱۴۰
مصنف ابن ابی شیبہ ، کتاب الفتن حدیث ۱۹۴۱۱ ، ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ ، کراچی ۱۵ / ۱۷۰
مصنف ابن ابی شیبہ ، کتاب الفتن حدیث ۱۹۴۱۱ ، ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ ، کراچی ۱۵ / ۱۷۰
منھم لا غیر کما لا یخفی والی اﷲ المشتکی من ضعفنا فی ھذہ الزمان الکثیر فجارہ القلیل انصارہ الغالب کفارہ البین عوارہ وقد ظھر الان بعض ھؤلاء الدجالین الکذابین فلواراد اﷲ باحدھم شیئا یطیروا بالمسلم والمسلم انما حدث فانا ﷲ وانا الیہ رجعون لکن الاحتراس کان اسلم للمسلم وانفی للفساد فاحببنا الاقتصار علی القدر المراد واﷲ المستعان وعلیہ التکلان ولا حول ولا قوۃ الا باﷲ العلی العظیم۔ ہر ایك کے لئے نہ ہوتا جیسا کہ ظاہر ہے اور اﷲ تعالی سے ہی اس زمانہ میں ہمیں اپنے کمزور ہونے کی شکایت ہے یہ زمانہ جس میں فجار کی کثرت مددگاروں کی قلت کافروں کا غلبہ اور کج روی عام ہے جبکہ اب بعض ایسے کذاب دجال لوگ ظاہر ہوئے ہیں اگر ایسے دجالوں کو اﷲ تعالی کے ارادہ سے کچھ ہوگیا تو اس کو مسلمانوں کی طرف منسوب کیا جائے گا کہ انہوں نے ایسی حدیث بیان کی جس پریہ کچھ ہوا ہم اﷲ تعالی کی ملك ہیں اور اس کی طرف ہمارا لوٹنا ہے تاہم مسلمانوں کو اپنی حفاظت مناسب ہے اور فساد کو دفع کرنا زیادہ بہتر ہے تو اس لئے صرف مراد کو بیان کرنا ہی پسند کیا ہے اور اﷲ تعالی ہی سے مدد اور اسی پر توکل ہے لاحو ل ولا قوۃ الا باﷲ العلی العظیم۔ (ت)
علی بمنزلہ ہارون ہیں :
خطیب حضرت امیر المؤمنین عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہسے راوی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا :
انما علی منی بمنزلۃ ھارون من موسی الا انہ لا نبی بعدی علی مجھ سے ایسا ہے جیسا موسی سے ہارون(کہ بھائی بھی اور نائب بھی)مگر میرے بعد کوئی نبی نہیں۔
امام احمد مناقب امیر المؤمنین علی میں مختصرا اور بغوی وطبرانی اپنی معاجیم باوردی معرفت ابن عدی کامل ابو احمد حاکم کنی میں بطریق امام بخاری ابن عساکر تاریخ میں سب زید بن ابی اوفی رضی اللہ تعالی عنہسے حدیث طویل میں راوی وھذا حدیث احمد(یہ حدیث احمد ہے۔ ت)جب حضور سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے باہم صحابہ کرام رضی اﷲ تعالی عنہم میں بھائی چارہ کیا امیر المؤمنین مولی علی کرم اﷲ تعالی وجہہ نے عرض کی : میری جان نکل گئی اور پیٹھ ٹوٹ گئی یہ دیکھ کر حضورصلی اﷲ علیہ وسلم نے اصحاب کے ساتھ کیا جو میرے ساتھ نہ کیا یہ اگر مجھ سے کسی ناراضی کے سبب ہے تو حضور ہی کے لئے منانا اور عزت ہے۔
علی بمنزلہ ہارون ہیں :
خطیب حضرت امیر المؤمنین عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہسے راوی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا :
انما علی منی بمنزلۃ ھارون من موسی الا انہ لا نبی بعدی علی مجھ سے ایسا ہے جیسا موسی سے ہارون(کہ بھائی بھی اور نائب بھی)مگر میرے بعد کوئی نبی نہیں۔
امام احمد مناقب امیر المؤمنین علی میں مختصرا اور بغوی وطبرانی اپنی معاجیم باوردی معرفت ابن عدی کامل ابو احمد حاکم کنی میں بطریق امام بخاری ابن عساکر تاریخ میں سب زید بن ابی اوفی رضی اللہ تعالی عنہسے حدیث طویل میں راوی وھذا حدیث احمد(یہ حدیث احمد ہے۔ ت)جب حضور سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے باہم صحابہ کرام رضی اﷲ تعالی عنہم میں بھائی چارہ کیا امیر المؤمنین مولی علی کرم اﷲ تعالی وجہہ نے عرض کی : میری جان نکل گئی اور پیٹھ ٹوٹ گئی یہ دیکھ کر حضورصلی اﷲ علیہ وسلم نے اصحاب کے ساتھ کیا جو میرے ساتھ نہ کیا یہ اگر مجھ سے کسی ناراضی کے سبب ہے تو حضور ہی کے لئے منانا اور عزت ہے۔
حوالہ / References
تاریخ بغداد للخطیب ، ترجمہ ۴۰۲۳ ، الحسن بن یزید ، دارالکتاب العربی ، بیروت ، ۷ / ۴۵۳
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا :
والذی بعثنی بالحق ما اخرتك الا لنفسی وانت منی بمنزلۃ ھارون من موسی غیر انہ لا نبی بعدی قسم اس کی جس نے مجھے حق کے ساتھ بھیجا میں نے تمہیں خاص اپنے لئے رکھ چھوڑا ہے تم مجھ سے ایسے ہو جیسے ہارون موسی سے مگر یہ کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں تم میرے بھائی اور وارث ہو۔
امیر المؤمنین نے عرض کی : مجھے حضور سے کیا میراث ملے گیفرمایا : جو اگلے انبیاء کو ملی۔ عرض کی : انہیں کیا ملی تھی فرمایا : خدا کی کتاب اور نبی کی سنت اور تم میرے ساتھ جنت میں میری صاحبزادی کے ساتھ میرے محل میں ہوگے اور تم میرے بھائی اور رفیق ہو۔
ابن عساکر عــــــہ بطریق عبداﷲ بن محمد بن عقیل عن ابیہ عن جدہ عقیل بن ابی طالب رضی اللہ تعالی عنہراوی حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے حضرت عقیل رضی اللہ تعالی عنہسے فرمایا : خدا کی قسم میں تمہیں دو جہت سے دوست رکھتا ہوں ایك تو قرابت دوسرے یہ کہ ابوطالب کو تم سے محبت تھی اے جعفر! تمہارے اخلاق میرے اخلاق کریمہ سے مشابہ ہیں :
عــــــہ : فی نسخۃ کنزالعمال المطبوعۃ عن عبداﷲ بن عقیل عن ابیہ عن جدہ عقیل وھو خطاء وصوابہ عبداﷲ بن محمد بن عقیل عبداﷲ تابعی صدوق من رجال الاربعۃ ما خلا النسائی قال الذھبی حدیثہ فی مرتبۃ الحسن وابوہ تابعی مقبول رجال ابن ماجۃ۱۲ منہ(م) کنزالعمال کے مطبوعہ نسخہ میں عبداﷲ بن عقیل اپنے والد ماجد اور ان کے دادا عقیل سے راوی جبکہ یہ خطا ہے اور صحیح یہ ہے عبداﷲ بن محمد بن عقیل یہ عبداﷲ تابعی ہیں نہایت صادق نسائی کے ماسوا سنن صحاح کے راویوں میں شمار ہیں امام ذہبی نے فرمایا ان کی روایت حسن کے مرتبہ میں ہے اور ان کے والد بھی تابعی اور مقبول ابن ماجہ کے راویوں میں شمار ہیں۔ ت
والذی بعثنی بالحق ما اخرتك الا لنفسی وانت منی بمنزلۃ ھارون من موسی غیر انہ لا نبی بعدی قسم اس کی جس نے مجھے حق کے ساتھ بھیجا میں نے تمہیں خاص اپنے لئے رکھ چھوڑا ہے تم مجھ سے ایسے ہو جیسے ہارون موسی سے مگر یہ کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں تم میرے بھائی اور وارث ہو۔
امیر المؤمنین نے عرض کی : مجھے حضور سے کیا میراث ملے گیفرمایا : جو اگلے انبیاء کو ملی۔ عرض کی : انہیں کیا ملی تھی فرمایا : خدا کی کتاب اور نبی کی سنت اور تم میرے ساتھ جنت میں میری صاحبزادی کے ساتھ میرے محل میں ہوگے اور تم میرے بھائی اور رفیق ہو۔
ابن عساکر عــــــہ بطریق عبداﷲ بن محمد بن عقیل عن ابیہ عن جدہ عقیل بن ابی طالب رضی اللہ تعالی عنہراوی حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے حضرت عقیل رضی اللہ تعالی عنہسے فرمایا : خدا کی قسم میں تمہیں دو جہت سے دوست رکھتا ہوں ایك تو قرابت دوسرے یہ کہ ابوطالب کو تم سے محبت تھی اے جعفر! تمہارے اخلاق میرے اخلاق کریمہ سے مشابہ ہیں :
عــــــہ : فی نسخۃ کنزالعمال المطبوعۃ عن عبداﷲ بن عقیل عن ابیہ عن جدہ عقیل وھو خطاء وصوابہ عبداﷲ بن محمد بن عقیل عبداﷲ تابعی صدوق من رجال الاربعۃ ما خلا النسائی قال الذھبی حدیثہ فی مرتبۃ الحسن وابوہ تابعی مقبول رجال ابن ماجۃ۱۲ منہ(م) کنزالعمال کے مطبوعہ نسخہ میں عبداﷲ بن عقیل اپنے والد ماجد اور ان کے دادا عقیل سے راوی جبکہ یہ خطا ہے اور صحیح یہ ہے عبداﷲ بن محمد بن عقیل یہ عبداﷲ تابعی ہیں نہایت صادق نسائی کے ماسوا سنن صحاح کے راویوں میں شمار ہیں امام ذہبی نے فرمایا ان کی روایت حسن کے مرتبہ میں ہے اور ان کے والد بھی تابعی اور مقبول ابن ماجہ کے راویوں میں شمار ہیں۔ ت
حوالہ / References
تاریخ دمشق لابن عسا کر ، ذکر من اسمہ سلمان ، ترجمہ سلمان بن الاسلام الفارسی ، داراحیاء التراث ، العربی بیروت ، ۶ / ۲۰۳ ، فضائل الصحابۃ لاحمد بن حنبل ، حدیث ۱۰۸۵ ، موسسۃ الرسالہ ، بیروت ، ۲ / ۳۹۔ ۶۳۸
واما انت یا علی فانت منی بمنزلۃ ھارون من موسی غیر انہ لانبی بعدی تم اے علی! مجھ سے ایسے ہو جیسے موسی سے ہارون مگر یہ کہ میرے بعد نبی نہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔
الحمدﷲ تین چہل حدیث کا عدد تو کامل ہواجن میں چوراسی ۸۴ حدیثیں مرفوع تھیں اور سترہ۱۷ تذییلات علاوہ پہلے گزری تھیں سات عــــــہ اس تکمیل میں بڑھیں ان سترہ میں بھی پانچ مرفوع تھیں تو جملہ مرفوعات یعنی وہ حدیثیں جو خود حضور پر نور خاتم النبیین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے مروی حضور کے ارشاد و تقریر کی طرف منتہی ہیں نواسی ۸۹ ہوئیں لہذا چاہا کہ ایك حدیث مرفوع اور شامل ہو کہ نوے ۹۰ احادیث مرفوعہ کا عدد کامل ہو نیز ان اﷲ وتر یحب الوتر(اﷲ واحد ہے اور واحد کو پسند کرتا ہے۔ ت)کا فضل حاصل ہو۔ میں
آخری نبی اور میری امت آخری امت ہے :
بیہقی سنن میں حضر ت ابن زمل جہنی رضی اللہ تعالی عنہسے حدیث طویل رؤیا میں راوی جس کا خلاصہ یہ ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بعد نماز صبح پاؤں بدلنے سے پہلے ستر بار سبحان اﷲ وبحمدہ واستغفراﷲ ان اﷲ کان توابا پڑھتے پھر فرماتے یہ ستر ۷۰ سات سو ۷۰۰ کے برابر ہیں نرا بے خیر ہے جو ایك دن میں سات سو ۷۰۰ سے زیادہ گناہ کرے(یعنی ہر نیکی کم از کم دس ہے من جاء بالحسنۃ فلہ عشر امثالھا تو یہ ستر کلمے سات سو نیکیاں ہوئے اور ہر نیکی کم از کم ایك بد ی کو محو کرتی ہے۔ ان الحسنات یذھبن السیات تو اس کے پڑھنے والے کے لئے نیکیاں ہی غالب رہیں گی مگر وہ کہ دن میں سات سو گناہ سے زیادہ کرے اور ایسا سخت ہی بے خیر ہوگا وحسبنا اﷲ ونعم الوکیل۔
پھر لوگوں کی طرف منہ کر کے تشریف رکھتے اور اچھا خواب حضور کو خوش آتا دریافت فرماتے : کسی نے کچھ دیکھا ہے ابن زمل نے عرض کی : یارسول اﷲ ! میں نے ایك خواب دیکھا ہے۔ فرمایا : بھلائی پاؤ اور برائی سے بچو ہمیں اچھا اور ہمارے دشمنوں پر برا رب العالمین کے لئے ساری خوبیاں ہیں خواب بیان کرو۔ انہوں نے عرض کی : میں نے دیکھا کہ سب لوگ ایك وسیع نرم بے نہایت راستے پر بیچ شارع عام میں
عــــــہ : بعد حدیث ۱۱۰ تذییل اول دو حدیث عبادہ بن صامت وہشام بن عاص وتذییل دوم دو حدیث حاطب وشیوخ واقدی وتذییل سوم حدیث ابن سلام وبعد حدیث ۱۱۷ دو حدیث عبید و نعیم رضی اﷲ تعالی عنہم ۱۲ منہ(م)
الحمدﷲ تین چہل حدیث کا عدد تو کامل ہواجن میں چوراسی ۸۴ حدیثیں مرفوع تھیں اور سترہ۱۷ تذییلات علاوہ پہلے گزری تھیں سات عــــــہ اس تکمیل میں بڑھیں ان سترہ میں بھی پانچ مرفوع تھیں تو جملہ مرفوعات یعنی وہ حدیثیں جو خود حضور پر نور خاتم النبیین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے مروی حضور کے ارشاد و تقریر کی طرف منتہی ہیں نواسی ۸۹ ہوئیں لہذا چاہا کہ ایك حدیث مرفوع اور شامل ہو کہ نوے ۹۰ احادیث مرفوعہ کا عدد کامل ہو نیز ان اﷲ وتر یحب الوتر(اﷲ واحد ہے اور واحد کو پسند کرتا ہے۔ ت)کا فضل حاصل ہو۔ میں
آخری نبی اور میری امت آخری امت ہے :
بیہقی سنن میں حضر ت ابن زمل جہنی رضی اللہ تعالی عنہسے حدیث طویل رؤیا میں راوی جس کا خلاصہ یہ ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بعد نماز صبح پاؤں بدلنے سے پہلے ستر بار سبحان اﷲ وبحمدہ واستغفراﷲ ان اﷲ کان توابا پڑھتے پھر فرماتے یہ ستر ۷۰ سات سو ۷۰۰ کے برابر ہیں نرا بے خیر ہے جو ایك دن میں سات سو ۷۰۰ سے زیادہ گناہ کرے(یعنی ہر نیکی کم از کم دس ہے من جاء بالحسنۃ فلہ عشر امثالھا تو یہ ستر کلمے سات سو نیکیاں ہوئے اور ہر نیکی کم از کم ایك بد ی کو محو کرتی ہے۔ ان الحسنات یذھبن السیات تو اس کے پڑھنے والے کے لئے نیکیاں ہی غالب رہیں گی مگر وہ کہ دن میں سات سو گناہ سے زیادہ کرے اور ایسا سخت ہی بے خیر ہوگا وحسبنا اﷲ ونعم الوکیل۔
پھر لوگوں کی طرف منہ کر کے تشریف رکھتے اور اچھا خواب حضور کو خوش آتا دریافت فرماتے : کسی نے کچھ دیکھا ہے ابن زمل نے عرض کی : یارسول اﷲ ! میں نے ایك خواب دیکھا ہے۔ فرمایا : بھلائی پاؤ اور برائی سے بچو ہمیں اچھا اور ہمارے دشمنوں پر برا رب العالمین کے لئے ساری خوبیاں ہیں خواب بیان کرو۔ انہوں نے عرض کی : میں نے دیکھا کہ سب لوگ ایك وسیع نرم بے نہایت راستے پر بیچ شارع عام میں
عــــــہ : بعد حدیث ۱۱۰ تذییل اول دو حدیث عبادہ بن صامت وہشام بن عاص وتذییل دوم دو حدیث حاطب وشیوخ واقدی وتذییل سوم حدیث ابن سلام وبعد حدیث ۱۱۷ دو حدیث عبید و نعیم رضی اﷲ تعالی عنہم ۱۲ منہ(م)
حوالہ / References
کنزالعمال بحوالہ ابن عساکر عن عبداﷲ بن عقیل حدیث ۳۳۶۱۶ ، موسسۃ الرسالۃ ، بیروت ، ۱۱ / ۷۳۹
چل رہے ہیں ناگہاں اس راہ کے لبوں پر خوبصورت سبزہ زار نظر آیا کہ ایسا کبھی نہ دیکھا تھا اس کا لہلہاتا سبزہ چمك رہا ہے شادابی کا پانی ٹپك رہا ہے اس میں ہر قسم کی گھاس ہے پہلا ہجو م آیا جب اس سبزہ زار پر پہنچے تکبیر کہی اور سواریاں سیدھے راستے پر ڈالے چلے گئے ادھر ادھر اصلا نہ پھرے پھر اس مرغزار کی طرف کچھ التفات نہ کیا پھر دوسرا ہلہ آیا کہ پہلوں سے کئی گنا زائد تھا سبزہ زار پرپہنچے تکبیر کہی راہ پر چلے مگر کوئی کوئی اس چراگاہ میں چرانے بھی لگا اور کسی نے چلتے میں ایك مٹھا لے لیا پھر روانہ ہوئے پھر عام اژدھام آیا جب یہ سبزہ زار پر پہنچے تکبیر کہی اور بولے یہ منزل سب سے اچھی ہے یہ ادھر ادھر پڑگئے میں ماجرا دیکھ کر سیدھا راہ راہ پڑلیا جب سبزہ زار سے گزر گیا تو دیکھا کہ سات زینے کا ایك منبر ہے اور حضور اس کے سب سے اونچے درجے پر جلوہ فرما ہیں حضور کے آگے ایك سال خوردلاغر ناقہ ہے حضور اس کے پیچھے تشریف لے جاتے ہیں سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا وہ راہ نرم و وسیع وہ ہدایت ہے جس پر میں تمہیں لایا اور تم اس پر قائم ہو اور وہ سبزہ زار دنیا اور اس کے عیش کی تازگی ہے میں اور میرے صحابہ تو چلے گئے کہ دنیا سے اصلا علاقہ نہ رکھا نہ اسے ہم سے تعلق ہوا نہ ہم نے اسے چاہا نہ اس نے ہمیں چاہا پھر دوسرا ہجوم ہمارے بعد آیا وہ ہم سے کئی گنا زیادہ ہے ان میں سے کسی نے چرایا کسی نے گھاس کا مٹھا لیا اور نجات پا گئے پھربڑا ہجوم آیا وہ سبزہ زار میں دہنے بائیں پڑگئے تو انا ﷲ وانا الیہ رجعونoاور اے ابن زمل!تم اچھی راہ پر چلتے رہو گے یہاں تك کہ مجھ سے ملو اور وہ سات زینے کا منبر جس کے درجہ اعلی پر مجھے دیکھا یہ جہان ہے اس کی عمر سات ہزار برس کی ہے اور میں اخیر ہزار میں ہوں واما ناقۃ التی رأیت ورأیتنی اتبعھا فھی الساعۃ علینا تقوم لا نبی بعدی ولا امۃ بعد امتی اور وہ ناقہ جس کے پیچھے مجھے جاتا دیکھا قیامت ہے ہمارے ہی زمانے میں آئے گی نہ میرے بعد کوئی نبی نہ میری امت کے بعد کوئی امت صلی اﷲ تعالی علیك وعلی امتك اجمعین وبارك وسلم واخردعونا ان الحمدﷲ رب العلمین۔
تسجیل جمیل : بحمداﷲ بیس۲۰ احادیث علویہ کے علاوہ خاص مقصود محمود ختم نبوت پر یہ ایك سو ایک۱۰۱ حدیثیں ہیں اور مع تذییلات ایك سو اٹھارہ ۱۱۸ جن میں نوے۹۰ مرفوع ہیں اور ان کے رواۃ و اصحاب اکہتر۷۱۔
تسجیل جمیل : بحمداﷲ بیس۲۰ احادیث علویہ کے علاوہ خاص مقصود محمود ختم نبوت پر یہ ایك سو ایک۱۰۱ حدیثیں ہیں اور مع تذییلات ایك سو اٹھارہ ۱۱۸ جن میں نوے۹۰ مرفوع ہیں اور ان کے رواۃ و اصحاب اکہتر۷۱۔
حوالہ / References
کنزالعمال بحوالہ البیہقی ، حدیث ۴۲۰۱۸ ، موسسۃ الرسالۃ ، بیروت ، ۱۵ / ۵۱۸تا ۵۲۱ ، المعجم الکبیر حدیث ۸۱۴۶ ، عن ابن زمل الجہنی ، المکتبۃ الفیصلیۃ ، بیروت ، ۸ / ۳۶۲و۳۶۷
گیارہ تابعی : صحابہ وتابعین جن میں صرف گیارہ تابعی :
۱۔ امام اجل محمد باقر ۲۔ سعد بن ثابت
۳۔ ابن شہاب زہری ۴۔ عامر شعبی
۵۔ عبداﷲ بن ابی الہذیل ۶۔ علاء بن زیاد
۷۔ ابو قلابہ ۸۔ کعب احبار
۹۔ مجاھد مکی ۱۰۔ محمد بن کعب قرظی
۱۱۔ وہب بن منبہ
اکاون صحابہ : باقی ساٹھ۶۰ صحابی ازاں جملہ اکاون۵۱ صحابہ خاص اصول مرویات میں :
۱۲۔ ابی بن کعب ۱۳۔ ابوامامہ باہلی
۱۴۔ انس بن مالك ۱۵۔ اسماء بنت عمیس
۱۶۔ براء بن عازب ۱۷۔ بلال مؤذن
۱۸۔ ثوبان مولی رسول اﷲ ۱۹۔ جابر بن سمرہ
۲۰۔ جابر بن عبداﷲ ۲۱۔ جبیر بن مطعم
۲۲۔ حبیش بن جنادہ ۲۳۔ حذیفہ بن اسید
۲۴۔ حذیفہ بن الیمان ۲۵۔ حسان بن ثابت
۲۶۔ حویصہ بن مسعود ۲۷۔ ابوذر
۲۸۔ ابن زمل ۲۹۔ زیاد بن لبید
۳۰۔ زیدبن ارقم ۳۱۔ زیدبن ابی اوفی
۳۲۔ سعد بن ابی وقاص ۳۳۔ سعید بن زید
۳۴۔ ابو سعید خدری ۳۵۔ سلمان فارسی
۳۶۔ سہل بن سعد ۳۷۔ ام المؤمنین ام سلمہ
۳۸۔ ابو الطفیل عامر بن ربیعہ ۳۹۔ عامر بن ربیعہ
۴۰۔ عبداﷲ بن عباس ۴۱۔ عبداﷲ بن عمر
۱۔ امام اجل محمد باقر ۲۔ سعد بن ثابت
۳۔ ابن شہاب زہری ۴۔ عامر شعبی
۵۔ عبداﷲ بن ابی الہذیل ۶۔ علاء بن زیاد
۷۔ ابو قلابہ ۸۔ کعب احبار
۹۔ مجاھد مکی ۱۰۔ محمد بن کعب قرظی
۱۱۔ وہب بن منبہ
اکاون صحابہ : باقی ساٹھ۶۰ صحابی ازاں جملہ اکاون۵۱ صحابہ خاص اصول مرویات میں :
۱۲۔ ابی بن کعب ۱۳۔ ابوامامہ باہلی
۱۴۔ انس بن مالك ۱۵۔ اسماء بنت عمیس
۱۶۔ براء بن عازب ۱۷۔ بلال مؤذن
۱۸۔ ثوبان مولی رسول اﷲ ۱۹۔ جابر بن سمرہ
۲۰۔ جابر بن عبداﷲ ۲۱۔ جبیر بن مطعم
۲۲۔ حبیش بن جنادہ ۲۳۔ حذیفہ بن اسید
۲۴۔ حذیفہ بن الیمان ۲۵۔ حسان بن ثابت
۲۶۔ حویصہ بن مسعود ۲۷۔ ابوذر
۲۸۔ ابن زمل ۲۹۔ زیاد بن لبید
۳۰۔ زیدبن ارقم ۳۱۔ زیدبن ابی اوفی
۳۲۔ سعد بن ابی وقاص ۳۳۔ سعید بن زید
۳۴۔ ابو سعید خدری ۳۵۔ سلمان فارسی
۳۶۔ سہل بن سعد ۳۷۔ ام المؤمنین ام سلمہ
۳۸۔ ابو الطفیل عامر بن ربیعہ ۳۹۔ عامر بن ربیعہ
۴۰۔ عبداﷲ بن عباس ۴۱۔ عبداﷲ بن عمر
۴۲۔ عبدالرحمن بن غنم ۴۳۔ عدی بن ربیعہ
۴۴۔ عرباض بن ساریہ ۴۵۔ عصمہ بن مالک
۴۶۔ عقبہ بن عامر ۴۷۔ عقیل بن ابی طالب
۴۸۔ امیر المؤمنین علی ۴۹۔ امیر المؤمنین عمر
۵۰۔ عوف بن مالك اشجعی ۵۱۔ ام المؤمنین صدیقہ
۵۲۔ ام کرز ۵۳۔ مالك بن حویرث
۵۴۔ مالك بن سنان والد ابی سعید خدری ۵۵۔ محمد بن عدی بن ربیعہ
۵۶۔ معاذ بن جبل ۵۷۔ امیر معاویہ
۵۸۔ مغیرہ بن شعبہ ۵۹۔ ابن ام مکتوم
۶۰۔ ابو منظور ۶۱۔ ابو موسی اشعری
۶۲۔ ابوہریرہ
اور نو صحابی تذییلات میں :
۶۳۔ حاطب بن ابی بلتعہ ۶۴۔ عبداﷲ ابن ابی اوفی
۶۵۔ عبداﷲ بن زبیر ۶۶۔ عبداﷲ بن سلام
۶۷۔ عبداﷲبن عمرو بن عاص ۶۸۔ عبادہ بن صامت
۶۹۔ عبید بن عمرو لیثی ۷۰۔ نعیم بن مسعود
۷۱۔ ہشام بن عاص رضی اﷲ تعالی عنہم اجمعین۔
ختم نبوت پر دیوبندی عقیدہ :
ان احادیث کثیرہ وافرہ شہیرہ متواترہ میں صرف گیارہ حدیثیں وہ ہیں جن میں فقط نبوت کا انہیں الفاظ موجودہ قرآن عظیم سے ذکر ہے جن میں آج کل کے بعض ضلال قاسمان کفر و ضلال نے تحریف معنوی کی اور معاذ اﷲ حضور کے بعد اور نبوتوں کی نیو جمانے کو خاتمیت بمعنی نبوت بالذات لی یعنی معنی خاتم النبیین صرف اس قدر ہیں کہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نبی بالذات ہیں اور انبیاء نبی بالعرض باقی زمانے میں تمام انبیاء کے بعد ہونا حضور کے بعد اور کسی کو نبوت ملنی ممتنع ہونا یہ معنی ختم نبوت نہیں اور صاف لکھ دیا کہ حضور کے بعد بھی کسی کو نبوت مل جائے تو ختم نبوت کے اصلا منافی نہیں اس کے رسالہ ضلالت مقالہ کا خلاصہ
۴۴۔ عرباض بن ساریہ ۴۵۔ عصمہ بن مالک
۴۶۔ عقبہ بن عامر ۴۷۔ عقیل بن ابی طالب
۴۸۔ امیر المؤمنین علی ۴۹۔ امیر المؤمنین عمر
۵۰۔ عوف بن مالك اشجعی ۵۱۔ ام المؤمنین صدیقہ
۵۲۔ ام کرز ۵۳۔ مالك بن حویرث
۵۴۔ مالك بن سنان والد ابی سعید خدری ۵۵۔ محمد بن عدی بن ربیعہ
۵۶۔ معاذ بن جبل ۵۷۔ امیر معاویہ
۵۸۔ مغیرہ بن شعبہ ۵۹۔ ابن ام مکتوم
۶۰۔ ابو منظور ۶۱۔ ابو موسی اشعری
۶۲۔ ابوہریرہ
اور نو صحابی تذییلات میں :
۶۳۔ حاطب بن ابی بلتعہ ۶۴۔ عبداﷲ ابن ابی اوفی
۶۵۔ عبداﷲ بن زبیر ۶۶۔ عبداﷲ بن سلام
۶۷۔ عبداﷲبن عمرو بن عاص ۶۸۔ عبادہ بن صامت
۶۹۔ عبید بن عمرو لیثی ۷۰۔ نعیم بن مسعود
۷۱۔ ہشام بن عاص رضی اﷲ تعالی عنہم اجمعین۔
ختم نبوت پر دیوبندی عقیدہ :
ان احادیث کثیرہ وافرہ شہیرہ متواترہ میں صرف گیارہ حدیثیں وہ ہیں جن میں فقط نبوت کا انہیں الفاظ موجودہ قرآن عظیم سے ذکر ہے جن میں آج کل کے بعض ضلال قاسمان کفر و ضلال نے تحریف معنوی کی اور معاذ اﷲ حضور کے بعد اور نبوتوں کی نیو جمانے کو خاتمیت بمعنی نبوت بالذات لی یعنی معنی خاتم النبیین صرف اس قدر ہیں کہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نبی بالذات ہیں اور انبیاء نبی بالعرض باقی زمانے میں تمام انبیاء کے بعد ہونا حضور کے بعد اور کسی کو نبوت ملنی ممتنع ہونا یہ معنی ختم نبوت نہیں اور صاف لکھ دیا کہ حضور کے بعد بھی کسی کو نبوت مل جائے تو ختم نبوت کے اصلا منافی نہیں اس کے رسالہ ضلالت مقالہ کا خلاصہ
عبارت یہ ہے :
قاسم نانوتوی کا عقیدہ :
عوام کے خیال میں تو رسول اﷲ کا خاتم ہونا بایں معنی ہے کہ آپ سب میں آخر نبی ہیں مگر اہل فہم پر روشن کہ تقدم یا تاخر زمانی میں بالذات کچھ فضیلت نہیں پھرمقام مدح میں ولکن رسول اﷲ و خاتم النبیین فرمانا کیونکر صحیح ہوسکتا بلکہ موصوف بالعرض کا قصہ موصوف بالذات پر ختم ہوجاتا ہے اسی طور پر رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی خاتمیت کو تصور فرمائیے آپ موصوف بوصف نبوت بالذات ہیں اور نبی موصوف بالعرض ایں معنی جو میں نے عرض کیا آپ کا خاتم ہونا انبیائے گزشتہ ہی کی نسبت خاص نہ ہوگا بلکہ بالفرض آپ کے زمانے میں بھی کہیں اور کوئی نبی ہو جب بھی آپ کا خاتم ہونا بدستور باقی رہتا ہے بلکہ اگر بالفرض بعد زمانہ نبوی بھی کوئی نبی پیدا ہوتو خاتمیت محمدی میں کچھ فرق نہ آئے گا چہ جائیکہ آپ کے معاصر کسی اور زمین میں یا اسی زمین میں کوئی اور نبی تجویز کیا جائے ھ ملتقطا مسلمانو! دیکھا اس ملعون ناپاك شیطانی قول نے ختم نبوت کی کیسی جڑ کاٹ دی خاتمیت محمدیہ علی صاحبہا الصلوۃ والتحیۃ کہ وہ تاویل گھڑی کہ خاتمیت خود ہی ختم کردی صاف لکھ دیا کہ اگر حضور خاتم الانبیاء علیہ وعلیہم افضل الصلوۃ والثنا کے زمانے میں بلکہ حضور کے بعد بھی کوئی نبی پیدا ہوتو ختم نبوت کے کچھ منافی نہیں اﷲ اﷲ جس کفر ملعون کے موجد کو خود قرآن عظیم کا وخاتم النبیین فرمانا نافع نہ ہوا کما قال تعالی (جیسا کہ اﷲ تعالی نے فرمایا۔ :
“ وننزل من القران ما ہو شفاء و رحمۃ للمؤمنین و لایزید الظلمین الا خسارا ﴿۸۲﴾ “ اتارتے ہیں ہم اس قرآن سے وہ چیز کہ مسلمانوں کیلئے شفاء ورحمت ہے اور ظالموں کو اس سے کچھ نہیں بڑھتا سوا زیاں کے۔
اسے احادیث میں خاتم النبیین فرمانا کیا کام دے سکتا ہے فبای حدیث بعدہ یومنون قرآن کے بعد اور کون سی حدیث پر ایمان لائیں گے۔
قاسم نانوتوی کا عقیدہ :
عوام کے خیال میں تو رسول اﷲ کا خاتم ہونا بایں معنی ہے کہ آپ سب میں آخر نبی ہیں مگر اہل فہم پر روشن کہ تقدم یا تاخر زمانی میں بالذات کچھ فضیلت نہیں پھرمقام مدح میں ولکن رسول اﷲ و خاتم النبیین فرمانا کیونکر صحیح ہوسکتا بلکہ موصوف بالعرض کا قصہ موصوف بالذات پر ختم ہوجاتا ہے اسی طور پر رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی خاتمیت کو تصور فرمائیے آپ موصوف بوصف نبوت بالذات ہیں اور نبی موصوف بالعرض ایں معنی جو میں نے عرض کیا آپ کا خاتم ہونا انبیائے گزشتہ ہی کی نسبت خاص نہ ہوگا بلکہ بالفرض آپ کے زمانے میں بھی کہیں اور کوئی نبی ہو جب بھی آپ کا خاتم ہونا بدستور باقی رہتا ہے بلکہ اگر بالفرض بعد زمانہ نبوی بھی کوئی نبی پیدا ہوتو خاتمیت محمدی میں کچھ فرق نہ آئے گا چہ جائیکہ آپ کے معاصر کسی اور زمین میں یا اسی زمین میں کوئی اور نبی تجویز کیا جائے ھ ملتقطا مسلمانو! دیکھا اس ملعون ناپاك شیطانی قول نے ختم نبوت کی کیسی جڑ کاٹ دی خاتمیت محمدیہ علی صاحبہا الصلوۃ والتحیۃ کہ وہ تاویل گھڑی کہ خاتمیت خود ہی ختم کردی صاف لکھ دیا کہ اگر حضور خاتم الانبیاء علیہ وعلیہم افضل الصلوۃ والثنا کے زمانے میں بلکہ حضور کے بعد بھی کوئی نبی پیدا ہوتو ختم نبوت کے کچھ منافی نہیں اﷲ اﷲ جس کفر ملعون کے موجد کو خود قرآن عظیم کا وخاتم النبیین فرمانا نافع نہ ہوا کما قال تعالی (جیسا کہ اﷲ تعالی نے فرمایا۔ :
“ وننزل من القران ما ہو شفاء و رحمۃ للمؤمنین و لایزید الظلمین الا خسارا ﴿۸۲﴾ “ اتارتے ہیں ہم اس قرآن سے وہ چیز کہ مسلمانوں کیلئے شفاء ورحمت ہے اور ظالموں کو اس سے کچھ نہیں بڑھتا سوا زیاں کے۔
اسے احادیث میں خاتم النبیین فرمانا کیا کام دے سکتا ہے فبای حدیث بعدہ یومنون قرآن کے بعد اور کون سی حدیث پر ایمان لائیں گے۔
حوالہ / References
تحذیر الناس ، مطبوعہ دارالاشاعت کراچی۔ ص۱۸و۲۴
القرآن الکریم ۱۷ /۸۲
القرآن الکریم ۷ /۱۸۵
القرآن الکریم ۱۷ /۸۲
القرآن الکریم ۷ /۱۸۵
صحابہ کرام اور ختم نبوت :
فقیر غفرلہ المولی القدیر نے ان احادیث کثیرہ میں صرف گیارہ حدیثیں ایسی لکھیں جن میں تنہا ختم نبوت کا ذکر ہے باقی نوے ۹۰ احادیث اور اکثر تذییلات ان پر علاوہ سو ۱۰۰ سے زائد حدیثیں وہی جمع کیں کہ بالتصریح حضور کا اسی معنی پر خاتم ہونا بتارہی ہیں جسے وہ گمراہ ضال عوام کا خیال جانتا ہے اور اس میں نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے لئے کوئی تعریف نہیں مانتا صحابہ کرام وتابعین عظام کے ارشادات کہ تذییلوں میں گزرے مثلا :
۱۔ امیر المؤمنین عمر رضی اللہ تعالی عنہنے عرض کی کہ اﷲ تعالی نے حضور کو سب انبیاء کے بعد بھیجا۔
۲۔ انس رضی اللہ تعالی عنہکا قول تمہارے نبی آخر الانبیاء ہیں۔
۳۔ عبداﷲ بن ابی اوفی رضی اللہ تعالی عنہکا ارشاد کہ ان کے بعد کوئی نبی نہیں۔
۴۔ امام باقر رضی اللہ تعالی عنہکا قول کہ وہ سب انبیاء کے بعد بھیجے گئے۔
انہیں تو یہ گمراہ کب سنے گا کہ وہ اسی وسوسۃ الخناس میں صاف یہ خود بھی بتایا گیا ہے کہ وہ سلف صالح کے خلاف چلا ہے اور اسکا عذر یوں پیش کیا کہ : اگر بوجہ کم التفاتی بڑوں کا فہم کسی مضمون تك نہ پہنچا تو ان کی شان میں کیا نقصان آگیا اور کسی طفل ناداں نے کوئی ٹھکانے کی بات کہہ دی تو کیا وہ عظیم الشان ہوگیا “ ۔
مگر آنکھیں کھول کر خود محمد رسول اﷲ خاتم النبیین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی متواتر حدیثیں دیکھئے کہ :
۱۔ میں عاقب ہوں جس کے بعد کوئی نبی نہیں۔
۲۔ میں سب انبیاء میں آخر نبی ہوں۔
۳۔ میں تمام انبیاء کے بعد آیا۔
۴۔ ہمیں پچھلے ہیں۔
۵۔ میں سب پیغمبروں کے بعد بھیجا گیا۔
۶۔ قصر نبوت میں جو ایك اینٹ کی جگہ تھی مجھ سے کامل کی گئی۔
۷۔ میں آخر الانبیاء ہوں۔
۸۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔
۹۔ رسالت و نبوت منقطع ہوگئی اب نہ کوئی رسول ہوگا نہ نبی۔
۱۰۔ نبوت میں سے اب کچھ نہ رہا سوا اچھے خواب کے۔
۱۱۔ میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر ہوتا۔
فقیر غفرلہ المولی القدیر نے ان احادیث کثیرہ میں صرف گیارہ حدیثیں ایسی لکھیں جن میں تنہا ختم نبوت کا ذکر ہے باقی نوے ۹۰ احادیث اور اکثر تذییلات ان پر علاوہ سو ۱۰۰ سے زائد حدیثیں وہی جمع کیں کہ بالتصریح حضور کا اسی معنی پر خاتم ہونا بتارہی ہیں جسے وہ گمراہ ضال عوام کا خیال جانتا ہے اور اس میں نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے لئے کوئی تعریف نہیں مانتا صحابہ کرام وتابعین عظام کے ارشادات کہ تذییلوں میں گزرے مثلا :
۱۔ امیر المؤمنین عمر رضی اللہ تعالی عنہنے عرض کی کہ اﷲ تعالی نے حضور کو سب انبیاء کے بعد بھیجا۔
۲۔ انس رضی اللہ تعالی عنہکا قول تمہارے نبی آخر الانبیاء ہیں۔
۳۔ عبداﷲ بن ابی اوفی رضی اللہ تعالی عنہکا ارشاد کہ ان کے بعد کوئی نبی نہیں۔
۴۔ امام باقر رضی اللہ تعالی عنہکا قول کہ وہ سب انبیاء کے بعد بھیجے گئے۔
انہیں تو یہ گمراہ کب سنے گا کہ وہ اسی وسوسۃ الخناس میں صاف یہ خود بھی بتایا گیا ہے کہ وہ سلف صالح کے خلاف چلا ہے اور اسکا عذر یوں پیش کیا کہ : اگر بوجہ کم التفاتی بڑوں کا فہم کسی مضمون تك نہ پہنچا تو ان کی شان میں کیا نقصان آگیا اور کسی طفل ناداں نے کوئی ٹھکانے کی بات کہہ دی تو کیا وہ عظیم الشان ہوگیا “ ۔
مگر آنکھیں کھول کر خود محمد رسول اﷲ خاتم النبیین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی متواتر حدیثیں دیکھئے کہ :
۱۔ میں عاقب ہوں جس کے بعد کوئی نبی نہیں۔
۲۔ میں سب انبیاء میں آخر نبی ہوں۔
۳۔ میں تمام انبیاء کے بعد آیا۔
۴۔ ہمیں پچھلے ہیں۔
۵۔ میں سب پیغمبروں کے بعد بھیجا گیا۔
۶۔ قصر نبوت میں جو ایك اینٹ کی جگہ تھی مجھ سے کامل کی گئی۔
۷۔ میں آخر الانبیاء ہوں۔
۸۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔
۹۔ رسالت و نبوت منقطع ہوگئی اب نہ کوئی رسول ہوگا نہ نبی۔
۱۰۔ نبوت میں سے اب کچھ نہ رہا سوا اچھے خواب کے۔
۱۱۔ میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر ہوتا۔
۱۲۔ میرے بعد دجال کذاب ادعائے نبوت کریں گے۔
۱۳۔ میں خاتم النبیین ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں۔
۱۴۔ نہ میری امت کے بعد کوئی امت۔
ادھر علمائے کتب سابقہ عــــــہ اﷲ و رسل جل جلالہ و صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے ارشادات سن سن کر شہادات ادا کریں گے کہ :
۱۔ احمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم خاتم النبیین ہوں گے ان کے بعد کوئی نبی نہیں۔
۲۔ انکے سوا کوئی نبی باقی نہیں۔
۳۔ وہ آخر الانبیاء ہیں۔
ادھر ملائکہ و انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کی صدائیں آرہی ہیں کہ :
۴۔ وہ پسین پیغمبراں ہیں۔
۵۔ وہ آخر مرسلان ہیں۔
خود حضرت عزت عزت عزتہ سے ارشادات جانفزا و دلنواز آرہے ہیں کہ :
۶۔ محمد ہی اول و آخر ہے۔
۷۔ اس کی امت مرتبے میں سب سے اگلی اور زمانے میں سب سے پچھلی۔
۸۔ وہ سب انبیاء کے پیچھے آیا۔
۹۔ اے محبوب! میں نے تجھے آخر النبیین کیا۔
۱۰۔ اے محبوب! میں نے تجھے سب انبیاء سے پہلے بنایا اور سب کے بعد بھیجا۔
۱۱۔ محمد آخر الانبیاء ہے صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔
مگر یہ ضال مضل محرف قرآن مغیر ایمان ہے کہ نہ ملائکہ کی سنے نہ انبیاء کی نہ مصطفی کی مانے نہ ان کے خدا کی۔ سب کی طرف سے ایك کان گونگا ایك بہرا ایك دیدہ اندھا ایك پھوٹا اپنی ہی ہانك لگائے جاتا ہے کہ یہ سب نافہمی کے اوہام خیالات عوام ہیں آخر الانبیاء ہونے میں فضیلت ہی کیا ہے انا ﷲ
عــــــہ : نیز تذییلات میں مقوقس کی دو حدیثیں گزریں کہ ایك نبی باقی تھے وہ عرب میں ظاہر ہوئے ہرقل کی دو حدیثیں کہ یہ خانہ آخر البیوت تھا عبداﷲ بن سلام کی حدیث کہ وہ قیامت کے ساتھ مبعوث ہوئے ایك حبر کا قول کہ وہ امت آخرہ کے نبی ہیں بلکہ جبریل علیہ الصلوۃ والسلام کی عرض کہ حضور سب پیغمبروں سے زمانے میں متاخر ہیں۔ (م)
۱۳۔ میں خاتم النبیین ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں۔
۱۴۔ نہ میری امت کے بعد کوئی امت۔
ادھر علمائے کتب سابقہ عــــــہ اﷲ و رسل جل جلالہ و صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے ارشادات سن سن کر شہادات ادا کریں گے کہ :
۱۔ احمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم خاتم النبیین ہوں گے ان کے بعد کوئی نبی نہیں۔
۲۔ انکے سوا کوئی نبی باقی نہیں۔
۳۔ وہ آخر الانبیاء ہیں۔
ادھر ملائکہ و انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کی صدائیں آرہی ہیں کہ :
۴۔ وہ پسین پیغمبراں ہیں۔
۵۔ وہ آخر مرسلان ہیں۔
خود حضرت عزت عزت عزتہ سے ارشادات جانفزا و دلنواز آرہے ہیں کہ :
۶۔ محمد ہی اول و آخر ہے۔
۷۔ اس کی امت مرتبے میں سب سے اگلی اور زمانے میں سب سے پچھلی۔
۸۔ وہ سب انبیاء کے پیچھے آیا۔
۹۔ اے محبوب! میں نے تجھے آخر النبیین کیا۔
۱۰۔ اے محبوب! میں نے تجھے سب انبیاء سے پہلے بنایا اور سب کے بعد بھیجا۔
۱۱۔ محمد آخر الانبیاء ہے صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔
مگر یہ ضال مضل محرف قرآن مغیر ایمان ہے کہ نہ ملائکہ کی سنے نہ انبیاء کی نہ مصطفی کی مانے نہ ان کے خدا کی۔ سب کی طرف سے ایك کان گونگا ایك بہرا ایك دیدہ اندھا ایك پھوٹا اپنی ہی ہانك لگائے جاتا ہے کہ یہ سب نافہمی کے اوہام خیالات عوام ہیں آخر الانبیاء ہونے میں فضیلت ہی کیا ہے انا ﷲ
عــــــہ : نیز تذییلات میں مقوقس کی دو حدیثیں گزریں کہ ایك نبی باقی تھے وہ عرب میں ظاہر ہوئے ہرقل کی دو حدیثیں کہ یہ خانہ آخر البیوت تھا عبداﷲ بن سلام کی حدیث کہ وہ قیامت کے ساتھ مبعوث ہوئے ایك حبر کا قول کہ وہ امت آخرہ کے نبی ہیں بلکہ جبریل علیہ الصلوۃ والسلام کی عرض کہ حضور سب پیغمبروں سے زمانے میں متاخر ہیں۔ (م)
وانا الیہ رجعونo
“ کذلک یطبع اللہ علی کل قلب متکبر جبار ﴿۳۵﴾ “
“ ربنا لا تز غ قلوبنا بعد اذ ہدیتنا وہب لنا من لدنک رحمۃ انک انت الوہاب﴿۸﴾ “ اﷲ یونہی مہر کر دیتا ہے متکبر سر کش کے دل پر۔ اے ہمارے رب ! ہمارے دل ٹیڑھے نہ کر بعد اس کے کہ تونے ہمیں ہدایت دی اور ہمیں اپنے پاس سے رحمت عطا کر بیشك توہی بڑا دینے والا۔
ہاں ان نوے ۹۰ حدیثوں میں تین حدیثیں صرف بلفظ خاتمیت بھی ہیں دو حدیث سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کہ اے چچا! جس طرح اﷲ تعالی نے مجھ پر نبوت ختم کی تم پر ہجرت کو ختم فرمائے گا جیسے میں خاتم النبیین ہوں تم خاتم المہاجرین ہوگے۔ شاید وہ گمراہ یہاں بھی کہہ دے کہ تمام مہاجرین کرام مہاجر بالعرض تھے حضرت عباس مہاجر بالذات ہوئے۔
ایك اور حدیث الہی جل وعلا کہ میں ان کی کتاب پر کتابوں کو ختم کرو نگا اور ان کے دین وشریعت پر ادیان شرائع کو۔
اوگمراہ! اب یہاں بھی کہہ دے کہ اور دین دین بالعرض تھے یہ دین دین بالذات ہے توریت و انجیل و زبور اﷲ تعالی کے کلام بالعرض تھے قرآن کلام بالذات ہے مگر ہے یہ کہ :
“ و من لم یجعل اللہ لہ نورا فما لہ من نور ﴿۴۰﴾ “
نسأل اﷲ العفووالعافیۃ ونعوذ بہ من الحور بعد الکور والکفر بعد الایمان والضلال بعد الھدی ولا حول ولا قوۃ الا باﷲ العلی العظیم وصلی اﷲ تعالی علی سیدنا ومولانا محمد اخر المرسلین و خاتم النبیین والہ و جس کے لئے اﷲ تعالی نور نہ بنائے تو اس کے لئے کوئی نور نہیں ہم اﷲ تعالی سے معافی اور عافیت کے طلبگار ہیں اور ہم سنور نے کے بعد بگڑنے اور ایمان کے بعد کفر اور ہدایت کے بعد گمراہی سے اس کی پناہ کے طالب ہیں حرکت اور طاقت نہیں مگر صرف اﷲ تعالی سے جو بلند و عظیم ہے اﷲ تعالی کی صلواتیں ہمارے آقا و مولی محمد صلی اللہ
“ کذلک یطبع اللہ علی کل قلب متکبر جبار ﴿۳۵﴾ “
“ ربنا لا تز غ قلوبنا بعد اذ ہدیتنا وہب لنا من لدنک رحمۃ انک انت الوہاب﴿۸﴾ “ اﷲ یونہی مہر کر دیتا ہے متکبر سر کش کے دل پر۔ اے ہمارے رب ! ہمارے دل ٹیڑھے نہ کر بعد اس کے کہ تونے ہمیں ہدایت دی اور ہمیں اپنے پاس سے رحمت عطا کر بیشك توہی بڑا دینے والا۔
ہاں ان نوے ۹۰ حدیثوں میں تین حدیثیں صرف بلفظ خاتمیت بھی ہیں دو حدیث سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کہ اے چچا! جس طرح اﷲ تعالی نے مجھ پر نبوت ختم کی تم پر ہجرت کو ختم فرمائے گا جیسے میں خاتم النبیین ہوں تم خاتم المہاجرین ہوگے۔ شاید وہ گمراہ یہاں بھی کہہ دے کہ تمام مہاجرین کرام مہاجر بالعرض تھے حضرت عباس مہاجر بالذات ہوئے۔
ایك اور حدیث الہی جل وعلا کہ میں ان کی کتاب پر کتابوں کو ختم کرو نگا اور ان کے دین وشریعت پر ادیان شرائع کو۔
اوگمراہ! اب یہاں بھی کہہ دے کہ اور دین دین بالعرض تھے یہ دین دین بالذات ہے توریت و انجیل و زبور اﷲ تعالی کے کلام بالعرض تھے قرآن کلام بالذات ہے مگر ہے یہ کہ :
“ و من لم یجعل اللہ لہ نورا فما لہ من نور ﴿۴۰﴾ “
نسأل اﷲ العفووالعافیۃ ونعوذ بہ من الحور بعد الکور والکفر بعد الایمان والضلال بعد الھدی ولا حول ولا قوۃ الا باﷲ العلی العظیم وصلی اﷲ تعالی علی سیدنا ومولانا محمد اخر المرسلین و خاتم النبیین والہ و جس کے لئے اﷲ تعالی نور نہ بنائے تو اس کے لئے کوئی نور نہیں ہم اﷲ تعالی سے معافی اور عافیت کے طلبگار ہیں اور ہم سنور نے کے بعد بگڑنے اور ایمان کے بعد کفر اور ہدایت کے بعد گمراہی سے اس کی پناہ کے طالب ہیں حرکت اور طاقت نہیں مگر صرف اﷲ تعالی سے جو بلند و عظیم ہے اﷲ تعالی کی صلواتیں ہمارے آقا و مولی محمد صلی اللہ
صحبہ اجمعین والحمد ﷲ رب العلمین۔ تعالی علیہ وسلم پر جو رسولوں کے آخری اور نبیوں کے آخری ہیں اور آپ کی سب آل و اصحاب پر والحمد ﷲ رب العالمین (ت)
دیوبندی اور شیعہ عقائد میں مماثلت :
الحمدﷲ کہ بیان اپنے منتہی کو پہنچا اور حق کا وضوح ذروہ اعلی کو۔ احادیث متواترہ سے اصل مقصد یعنی حضور اقدس صلی اﷲ
تعالی علیہ وسلم کا خاتم النبیین اور اہلبیت کرام کا نبوت و رسالت سے بے علاقہ ہونا تو بروجہ تواتر قطعی خود ہی روشن و آشکار ا ہوا اور اس کے ساتھ طائفہ تالفہ وہابیہ قاسمیہ کو خاتم النبیین کو بہ معنی آخر النبیین نہ ماننا اور حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے بعد اور نبی ہونے سے ختم نبوت میں نقصان نہ جاننا اس کے کفر خفی ونفاق جلی کا بھی بفضلہ تعالی خوب اظہار ہوا اور ساتھ لگے رافضیوں کے چھوٹے بھائی حضرات تفضیلیہ کی بھی شامت آئی اسد الغالب کی بارگاہ سے اسی ۸۰ کوڑوں کی سزا پائی ان چھوٹے مبتدعوں کا رد یہاں محض تبعاواستطرادا مذکور ورنہ ان کے ابطال مشرب ضلال سے قرآن عظیم واحادیث مرفوعہ واقوال اہلبیت وصحابہ وارشادات امیر المؤمنین علی مرتضی واولیائے کرام وعلمائے اعلام و دلائل شرعیہ اصلیہ و فرعیہ کے دفتر معمور جس کی تفصیل جلیل وتحقیق جزیل فقیر غفراﷲ تعالی لہ کی کتاب مطلع القمرین فی ابانۃ سبقۃ العمرین ۱۲۹۷ھ میں مسطور ہے۔
منکران ختم نبوت پر علمائے اسلام کی گرفت :
اب بتوفیقہ تعالی تکفیر منکران ختم نبوت میں بعض نصو ص ائمہ کرام لکھ کر بقیہ سوال کی طرف عنان گردانی منظور۔
علامہ تور پشتی : (نص ۱) : امام علامہ شہاب الدین فضل اﷲ بن حسین تورپشتی حنفی معتمد فی المعتقد میں فرماتے ہیں :
بحمداﷲ ایں مسئلہ در اسلامیان روشن ترازان ست کہ آنرا بکشف وبیان حاجت نہ افتداما ایں مقدار از قرآن از ترس آں یاد کردیم کہ مبادا زندیقے جاہلے رادرشبہتے اندازد و بسیار باشد کہ ظاہر نیار ند کردن وبدیں طریقہا پائے درنہند کہ خدائے تعالی برہمہ چیز قادرست کسے قدرت اورا منکر نیست اما چوں خدائے تعالی بحمد اﷲ تعالی یہ مسئلہ مسلمانوں میں روشن تر ہے کہ اسے بیان و وضاحت کی حاجت کیا ہے لیکن قرآن سے کچھ اس لئے بیان کررہے ہیں کہ کسی زندیق کے لئے کسی جاہل کو شبہ میں مبتلا کرنے کا خطرہ نہ رہے بسا اوقات کھلی بات کے بجائے یوں فریب دیتے ہیں کہ اﷲ ہر چیز پر قادر ہے کوئی اس کی قدرت کا انکار نہیں کرسکتا لیکن جب اﷲ تعالی
دیوبندی اور شیعہ عقائد میں مماثلت :
الحمدﷲ کہ بیان اپنے منتہی کو پہنچا اور حق کا وضوح ذروہ اعلی کو۔ احادیث متواترہ سے اصل مقصد یعنی حضور اقدس صلی اﷲ
تعالی علیہ وسلم کا خاتم النبیین اور اہلبیت کرام کا نبوت و رسالت سے بے علاقہ ہونا تو بروجہ تواتر قطعی خود ہی روشن و آشکار ا ہوا اور اس کے ساتھ طائفہ تالفہ وہابیہ قاسمیہ کو خاتم النبیین کو بہ معنی آخر النبیین نہ ماننا اور حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے بعد اور نبی ہونے سے ختم نبوت میں نقصان نہ جاننا اس کے کفر خفی ونفاق جلی کا بھی بفضلہ تعالی خوب اظہار ہوا اور ساتھ لگے رافضیوں کے چھوٹے بھائی حضرات تفضیلیہ کی بھی شامت آئی اسد الغالب کی بارگاہ سے اسی ۸۰ کوڑوں کی سزا پائی ان چھوٹے مبتدعوں کا رد یہاں محض تبعاواستطرادا مذکور ورنہ ان کے ابطال مشرب ضلال سے قرآن عظیم واحادیث مرفوعہ واقوال اہلبیت وصحابہ وارشادات امیر المؤمنین علی مرتضی واولیائے کرام وعلمائے اعلام و دلائل شرعیہ اصلیہ و فرعیہ کے دفتر معمور جس کی تفصیل جلیل وتحقیق جزیل فقیر غفراﷲ تعالی لہ کی کتاب مطلع القمرین فی ابانۃ سبقۃ العمرین ۱۲۹۷ھ میں مسطور ہے۔
منکران ختم نبوت پر علمائے اسلام کی گرفت :
اب بتوفیقہ تعالی تکفیر منکران ختم نبوت میں بعض نصو ص ائمہ کرام لکھ کر بقیہ سوال کی طرف عنان گردانی منظور۔
علامہ تور پشتی : (نص ۱) : امام علامہ شہاب الدین فضل اﷲ بن حسین تورپشتی حنفی معتمد فی المعتقد میں فرماتے ہیں :
بحمداﷲ ایں مسئلہ در اسلامیان روشن ترازان ست کہ آنرا بکشف وبیان حاجت نہ افتداما ایں مقدار از قرآن از ترس آں یاد کردیم کہ مبادا زندیقے جاہلے رادرشبہتے اندازد و بسیار باشد کہ ظاہر نیار ند کردن وبدیں طریقہا پائے درنہند کہ خدائے تعالی برہمہ چیز قادرست کسے قدرت اورا منکر نیست اما چوں خدائے تعالی بحمد اﷲ تعالی یہ مسئلہ مسلمانوں میں روشن تر ہے کہ اسے بیان و وضاحت کی حاجت کیا ہے لیکن قرآن سے کچھ اس لئے بیان کررہے ہیں کہ کسی زندیق کے لئے کسی جاہل کو شبہ میں مبتلا کرنے کا خطرہ نہ رہے بسا اوقات کھلی بات کے بجائے یوں فریب دیتے ہیں کہ اﷲ ہر چیز پر قادر ہے کوئی اس کی قدرت کا انکار نہیں کرسکتا لیکن جب اﷲ تعالی
از چیز ے خبر دہد کہ چنیں خواھد بودن یا نخواہد بودن جزچناں نبا شد کہ خدائے تعالی ازاں خبر دہد وخدائے تعالی خبر داد کہ بعد از وے نبی دیگر نباشد ومنکر ایں مسئلہ کسے تواند بود کہ اصلا در نبوت او معتقد نبا شد کہ اگر برسالت او معترف بودے ویرادر ہرچہ ازاں خبر دادے صادق دانستے وبہماں حجت ہاکہ از طریق تواتر رسالت او پیش مابداں درست شدہ است ایں نیز درست شد کہ وے باز پسیں پیغمبران ست در زمان او و تاقیامت بعد ازوے ہیچ نبی نبا شد و ہر کہ دریں بہ شك ست درآں نیز بہ شك ست وآنکس کہ گوید کہ بعد از وے نبی دیگر بود یا ہست باخوامد بود وآنکس کہ گوید کہ امکان دارد کہ باشد کافر ست اینست شرط درستی ایمان بخاتم انبیاء محمد مصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کسی چیز کے متعلق خبر دے دے کہ ایسے ہوگی یا نہ ہوگی تو اس کا خلاف نہیں ہوسکتا کیونکہ اﷲ تعالی اسی سے خبر دیتا ہے اور اﷲتعالی خبر دیتا ہے کہ اس کے بعد دوسرا نبی نہ ہوگا اس بات کا منکر وہی ہوسکتا ہے جو سرے سے نبوت کا منکر ہوگا جو شخص آپ کی رسالت کا معترف ہوگا وہ آپ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی بیان کردہ ہر خبر کو سچ جانے گا جن دلائل سے آپ کی رسالت کا ثبوت بطریق تواتر ہمارے لئے درست ہے اسی طرح یہ بھی درست ثابت ہے کہ تمام انبیاء علیہم السلام کے بعد آپ کے زمانہ میں اور قیامت تك آپ کے بعد کوئی نبی نہ ہوگا جو آپ کی اس بات میں شك کرے گا وہ آپ کی رسالت میں شك کرے گا جو شخص کہے آپ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے بعد دوسرا نبی تھا یا ہے یا ہوگا اور جو شخص کہے کسی نبی کے آنے کا امکان ہے وہ کافر ہے یہی خاتم الانبیاء محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پر صحیح ایمان کی شرط ہے۔ (ت)
امام ابن حجر مکی : (نص ۲ ۳)امام ابن حجر مکی شافعی خیرات الحسان فی مناقب الامام الاعظم ابی حنیفۃ النعمان میں فرماتے ہیں :
تنبأ فی زمنہ رضی اﷲ تعالی عنہ رجل قال امھلونی حتی اتی بعلامۃ فقال من طلب منہ علامۃ کفر لانہ بطلبہ ذلك مکذب لقول النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لا نبی بعدی ۔ امام اعظم رضی اللہ تعالی عنہکے زمانے میں ایك مدعی نبوت نے کہا مجھے مہلت دو کہ کوئی نشانی دکھاؤں امام ہمام نے فرمایا جو اس سے نشانی مانگے گا کافر ہوجائے گا کہ وہ اس مانگنے کے سبب مصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے ارشاد قطعی و متواتر ضروردینی کی تکذیب کرتا ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔
امام ابن حجر مکی : (نص ۲ ۳)امام ابن حجر مکی شافعی خیرات الحسان فی مناقب الامام الاعظم ابی حنیفۃ النعمان میں فرماتے ہیں :
تنبأ فی زمنہ رضی اﷲ تعالی عنہ رجل قال امھلونی حتی اتی بعلامۃ فقال من طلب منہ علامۃ کفر لانہ بطلبہ ذلك مکذب لقول النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لا نبی بعدی ۔ امام اعظم رضی اللہ تعالی عنہکے زمانے میں ایك مدعی نبوت نے کہا مجھے مہلت دو کہ کوئی نشانی دکھاؤں امام ہمام نے فرمایا جو اس سے نشانی مانگے گا کافر ہوجائے گا کہ وہ اس مانگنے کے سبب مصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے ارشاد قطعی و متواتر ضروردینی کی تکذیب کرتا ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔
حوالہ / References
معتمد فی المعتقد(فارسی)
خیرات الحسان فی مناقب الامام الفصل الحادی والعشرون فی فراستہ ، ایچ ایم سعید کمپنی ، کراچی ، ص ۱۱۹
خیرات الحسان فی مناقب الامام الفصل الحادی والعشرون فی فراستہ ، ایچ ایم سعید کمپنی ، کراچی ، ص ۱۱۹
فتاوی ہندیہ : (نص ۴ تا ۷)فتاوی خلاصہ و فصول عمادیہ و جامع الفصولین وفتاوی ہندیہ وغیرہا میں ہیں :
واللفظ للعمادی قال قال انا رسول اﷲ او قال بالفارسیۃ من پیغمبرم یرید بہ من پیغام می برم یکفر ولوانہ حین قال ھذہ المقالۃ طلب غیرہ منہ المعجزۃ قیل یکفر الطالب والمتأخرون من المشائخ قالوا ان کان غرض الطالب تعجیزہ و افتضاحہ لا یکفر یعنی اگر کوئی شخص کہے میں اﷲ کا رسول ہوں یا فارسی میں کہے میں پیغمبر ہوں کافر ہوجائے گا اگرچہ مراد یہ لے کہ میں کسی کا پیغام پہنچانے والا ایلچی ہوں اور اگر اس کہنے والے سے کوئی معجزہ مانگے تو کہا گیا یہ بھی مطلقا کافر ہے اور مشائخ متأخرین نے فرمایا اگر اسے عاجز و رسوا کرنے کی غرض سے معجزہ طلب کیا تو کافر نہ ہوگا ورنہ ختم نبوۃ میں شك لانے کے سبب یہ بھی کافر ہوجائے گا۔
اعلام بقواطع الاسلام : (نص ۸)اعلام بقواطع الاسلام میں ہے :
واضح تکفیر مدعی النبوۃ و یظھر کفر من طلب منہ معجزۃ لانہ بطلبہ لھا منہ مجوز لصدقہ مع استحالتہ المعلومۃ من الدین بالضرورۃ نعم ان اراد بذلك تسفیھہ وبیان کذبہ فلا کفر مدعی نبوت کی تکفیر تو خود ہی روشن ہے اور جو اس سے معجزہ مانگے اس کا بھی کفر ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اس مانگنے میں اس مدعی کا صدق محتمل مان رہا ہے حالانکہ دین متین سے بالضرورۃ معلوم ہے کہ نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے بعد دوسرا نبی ممکن نہیں ہاں اگر اس طلب سے اسے احمق بنانا اس کا جھوٹ ظاہر کرنا مقصود ہو تو کفر نہیں۔
(نص ۹ ۱۰)اسی(اعلام بقواطع الاسلام)میں ہے :
ومن ذلک(ای المکفرات)ایضا تکذیب نبی او نسبۃ تعمد کذب الیہ انہیں باتوں میں جو معاذ اﷲ آدمی کو کافر کر دیتی ہیں کسی نبی کو جھٹلانا یا اس کی طرف قصدا جھوٹ بولنے
واللفظ للعمادی قال قال انا رسول اﷲ او قال بالفارسیۃ من پیغمبرم یرید بہ من پیغام می برم یکفر ولوانہ حین قال ھذہ المقالۃ طلب غیرہ منہ المعجزۃ قیل یکفر الطالب والمتأخرون من المشائخ قالوا ان کان غرض الطالب تعجیزہ و افتضاحہ لا یکفر یعنی اگر کوئی شخص کہے میں اﷲ کا رسول ہوں یا فارسی میں کہے میں پیغمبر ہوں کافر ہوجائے گا اگرچہ مراد یہ لے کہ میں کسی کا پیغام پہنچانے والا ایلچی ہوں اور اگر اس کہنے والے سے کوئی معجزہ مانگے تو کہا گیا یہ بھی مطلقا کافر ہے اور مشائخ متأخرین نے فرمایا اگر اسے عاجز و رسوا کرنے کی غرض سے معجزہ طلب کیا تو کافر نہ ہوگا ورنہ ختم نبوۃ میں شك لانے کے سبب یہ بھی کافر ہوجائے گا۔
اعلام بقواطع الاسلام : (نص ۸)اعلام بقواطع الاسلام میں ہے :
واضح تکفیر مدعی النبوۃ و یظھر کفر من طلب منہ معجزۃ لانہ بطلبہ لھا منہ مجوز لصدقہ مع استحالتہ المعلومۃ من الدین بالضرورۃ نعم ان اراد بذلك تسفیھہ وبیان کذبہ فلا کفر مدعی نبوت کی تکفیر تو خود ہی روشن ہے اور جو اس سے معجزہ مانگے اس کا بھی کفر ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اس مانگنے میں اس مدعی کا صدق محتمل مان رہا ہے حالانکہ دین متین سے بالضرورۃ معلوم ہے کہ نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے بعد دوسرا نبی ممکن نہیں ہاں اگر اس طلب سے اسے احمق بنانا اس کا جھوٹ ظاہر کرنا مقصود ہو تو کفر نہیں۔
(نص ۹ ۱۰)اسی(اعلام بقواطع الاسلام)میں ہے :
ومن ذلک(ای المکفرات)ایضا تکذیب نبی او نسبۃ تعمد کذب الیہ انہیں باتوں میں جو معاذ اﷲ آدمی کو کافر کر دیتی ہیں کسی نبی کو جھٹلانا یا اس کی طرف قصدا جھوٹ بولنے
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیۃ بحوالہ الفصول العمادیۃ ، الباب التاسع ، نورانی کتب خانہ ، پشاور ، ۲ / ۲۶۳
اعلام بقواطع الاسلام مع سبل النجاۃ ، مکتبۃ الحقیقۃ استنبول ، ترکی ، ص۳۷۶
اعلام بقواطع الاسلام مع سبل النجاۃ ، مکتبۃ الحقیقۃ استنبول ، ترکی ، ص۳۷۶
او محاربتہ اوسبہ او الاستخفاف ومثل ذلك کما قال الحلیمی مالو تمنی فی زمن نبینا او بعدہ ان لو کان نبیا فیکفر فی جمیع ذلك والظاھر انہ لافرق بین تمنی ذلك باللسان او القلب اھ مختصرا۔ کی نسبت کرنا یا نبی سے لڑنا یا اسے برا کہنا اس کی شان میں گستاخی کا مرتکب ہونا اور بتصریح امام حلیمی انہیں کفریات کی مثل ہے ہمارے نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے زمانے میں یا حضور کے بعد کسی شخص کا تمنا کرنا کہ کسی طرح سے نبی ہوجاتا ان صورتوں میں کافر ہوجائے گا اور ظاہر یہ ہے کہ اس میں کچھ فرق نہیں وہ تمنا زبان سے یا صرف دل میں کرے ۱ھ مختصرا۔
سبحان اﷲ! جب مجرد تمنا پر کافر ہوتا ہے تو کسی کی نسبت ادعائے نبوت کس درجہ کا کفر خبیث ہوگا والعیاذ باﷲ رب العلمین۔
(نص ۱۱ تا ۱۴)تیمیۃ الدہر پھر ہندیہ میں بعض ائمہ حنفیہ سے اور اشباہ والنظائر وغیر ہا میں ہے :
واللفظ لھا اذالم یعرف ان محمدا صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اخر الانبیاء فلیس بمسلم لانہ من الضروریات جب نہ پہچانے کہ نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم تمام انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام سے پچھلے نبی ہیں تو مسلمان نہیں کہ یہ ضروریات دین سے ہے۔
طائفہ قاسمیہ : مولی سبحانہ و تعالی ہزاراں ہزار جزا ہائے خیر و کرم ورضوان اتم کرامت فرمائے ہمارے علمائے کرام کو ان سے کس نے کہہ دیا تھا کہ صد ہا برس بعد وہابیہ میں ایك طائفہ حائفہ قاسمیہ ہونے والا ہے کہ اگرچہ براہ نفاق و فریب کہ عوام مسلمین بھڑك نہ جائیں بظاہر لفظ خاتم النبیین کا اقرار کرے گا مگر اس کے بہ معنی آخر الانبیاء ہونے سے صاف انکار کرے گا اس معنی کو خیال عوام و ناقابل مدح قرار دے گا اسی دن کے لئے ان اجلہ کرام نے لفظ اشھرواعرف ومکتوب فی المصحف اعنی خاتم النبیین کے عوض مسئلہ بلفظ آخر الانبیاء تحریر فرمایا کہ جو حضور کو سب سے پچھلا نبی نہ مانے مسلمان نہیں یعنی ختم نبوت اسی معنی پر داخل ضروریات دین ہے یہی مراد رب العالمین ہے اسی ضروری دین وارشاد الہ العالمین کو یہ گمراہ معاذ اﷲ عامی خیال بتاتے ہیں۔
سبحان اﷲ! جب مجرد تمنا پر کافر ہوتا ہے تو کسی کی نسبت ادعائے نبوت کس درجہ کا کفر خبیث ہوگا والعیاذ باﷲ رب العلمین۔
(نص ۱۱ تا ۱۴)تیمیۃ الدہر پھر ہندیہ میں بعض ائمہ حنفیہ سے اور اشباہ والنظائر وغیر ہا میں ہے :
واللفظ لھا اذالم یعرف ان محمدا صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اخر الانبیاء فلیس بمسلم لانہ من الضروریات جب نہ پہچانے کہ نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم تمام انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام سے پچھلے نبی ہیں تو مسلمان نہیں کہ یہ ضروریات دین سے ہے۔
طائفہ قاسمیہ : مولی سبحانہ و تعالی ہزاراں ہزار جزا ہائے خیر و کرم ورضوان اتم کرامت فرمائے ہمارے علمائے کرام کو ان سے کس نے کہہ دیا تھا کہ صد ہا برس بعد وہابیہ میں ایك طائفہ حائفہ قاسمیہ ہونے والا ہے کہ اگرچہ براہ نفاق و فریب کہ عوام مسلمین بھڑك نہ جائیں بظاہر لفظ خاتم النبیین کا اقرار کرے گا مگر اس کے بہ معنی آخر الانبیاء ہونے سے صاف انکار کرے گا اس معنی کو خیال عوام و ناقابل مدح قرار دے گا اسی دن کے لئے ان اجلہ کرام نے لفظ اشھرواعرف ومکتوب فی المصحف اعنی خاتم النبیین کے عوض مسئلہ بلفظ آخر الانبیاء تحریر فرمایا کہ جو حضور کو سب سے پچھلا نبی نہ مانے مسلمان نہیں یعنی ختم نبوت اسی معنی پر داخل ضروریات دین ہے یہی مراد رب العالمین ہے اسی ضروری دین وارشاد الہ العالمین کو یہ گمراہ معاذ اﷲ عامی خیال بتاتے ہیں۔
حوالہ / References
الاعلام بقواطع الاسلام مع سبل النجاۃ ، مکتبۃ الحقیقۃ استنبول ترکی ، ص ۳۵۲
الاشباہ والنظائر ، کتاب السیر باب الردۃ ، ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ ، کراچی ، ۱ / ۲۹۶
الاشباہ والنظائر ، کتاب السیر باب الردۃ ، ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ ، کراچی ، ۱ / ۲۹۶
مہمل و مختل ٹھہراتے ہیں “ قتلہم اللہ انی یؤفکون ﴿۳۰﴾ “ (اﷲ انہیں مارے کہاں اوندھے جاتے ہیں۔ ت)بحمداﷲ یہ کرامت علمائے کرام امت ہے فجزاھم اﷲ المثوبات الفاخرۃ ونفعنا ببرکاتھم فی الدنیا والاخرۃ امین(اﷲ تعالی ان کو قابل فخر ثواب کی جزا دے اور ہمیں ان کی برکات سے دنیا و آخر ت میں نفع عطا فرمائے۔ آمین۔ ت)
فتاوی تاتارخانیہ : تاتارخانیہ پھر عالمگیر یہ میں ہے :
رجل قال لا خر من فرشتہ توام فی موضع کذااعینك علی امرك فقد قیل انہ لا یکفر وکذااذا قال مطلقا انا ملك بخلاف مااذا قال انا نبی یعنی ایك نے دوسرے سے کہا میں تیرا فرشتہ ہوں فلاں جگہ تیرے کام میں مدد کروں گا اس پر تو بعض نے بیشك کہا کافر نہ ہوگا یوں ہی اگر مطلقا کہا میں فرشتہ ہوں بخلاف دعوی نبوت کہ بالاجماع کفر ہے۔ یہ حکم عام ہے کہ مدعی زمانہ اقدس میں ہو مثل ابن صیاد و اسود خواہ بعد کما تقدم و سیاتی(جیسا کہ گزرا اور آگے آئے گا۔ ت)
شفاء قاضی عیاض : شفاء شریف امام قاضی عیاض مالکی اور اس کی شرح نسیم الریاض للعلامۃ الشہاب الخفاجی میں ہے۔
(وکذلك یکفر من ادعی نبوۃ احد مع نبینا صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم)ای فی زمنہ کمسیلمۃ الکذاب والاسود العنسی(او)ادعی(نبوۃ احد بعدہ)فانہ خاتم النبیین بنص القران والحدیث فھذا تکذیب اﷲ ورسولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم(کالعیسویۃ)وھم طائفۃ(من الیھود) نسبوا لعیسی بن اسحق الیہودی ادعی النبوۃ فی زمن یعنی اسی طرح وہ بھی کفر ہے جو ہمارے نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے زمانے میں کسی کی نبوت کا ادعا کرے جیسے مسیلمہ کذاب واسود عنسی یا حضور کے بعد کسی کی نبوت مانے اس لئے کہ قرآن و حدیث میں حضور کے خاتم النبیین ہونے کی تصریح ہے تو یہ شحص اﷲ و رسول کو جھٹلاتا ہے جل جلالہ و صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم جیسے یہود کا ایك طائفہ عیسویہ کہ عیسی بن اسحق یہودی کی طرف منسوب ہے اس نے مروان الحمار کے زمانے میں ادعائے نبوت کیا تھا اور بہت یہود
فتاوی تاتارخانیہ : تاتارخانیہ پھر عالمگیر یہ میں ہے :
رجل قال لا خر من فرشتہ توام فی موضع کذااعینك علی امرك فقد قیل انہ لا یکفر وکذااذا قال مطلقا انا ملك بخلاف مااذا قال انا نبی یعنی ایك نے دوسرے سے کہا میں تیرا فرشتہ ہوں فلاں جگہ تیرے کام میں مدد کروں گا اس پر تو بعض نے بیشك کہا کافر نہ ہوگا یوں ہی اگر مطلقا کہا میں فرشتہ ہوں بخلاف دعوی نبوت کہ بالاجماع کفر ہے۔ یہ حکم عام ہے کہ مدعی زمانہ اقدس میں ہو مثل ابن صیاد و اسود خواہ بعد کما تقدم و سیاتی(جیسا کہ گزرا اور آگے آئے گا۔ ت)
شفاء قاضی عیاض : شفاء شریف امام قاضی عیاض مالکی اور اس کی شرح نسیم الریاض للعلامۃ الشہاب الخفاجی میں ہے۔
(وکذلك یکفر من ادعی نبوۃ احد مع نبینا صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم)ای فی زمنہ کمسیلمۃ الکذاب والاسود العنسی(او)ادعی(نبوۃ احد بعدہ)فانہ خاتم النبیین بنص القران والحدیث فھذا تکذیب اﷲ ورسولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم(کالعیسویۃ)وھم طائفۃ(من الیھود) نسبوا لعیسی بن اسحق الیہودی ادعی النبوۃ فی زمن یعنی اسی طرح وہ بھی کفر ہے جو ہمارے نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے زمانے میں کسی کی نبوت کا ادعا کرے جیسے مسیلمہ کذاب واسود عنسی یا حضور کے بعد کسی کی نبوت مانے اس لئے کہ قرآن و حدیث میں حضور کے خاتم النبیین ہونے کی تصریح ہے تو یہ شحص اﷲ و رسول کو جھٹلاتا ہے جل جلالہ و صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم جیسے یہود کا ایك طائفہ عیسویہ کہ عیسی بن اسحق یہودی کی طرف منسوب ہے اس نے مروان الحمار کے زمانے میں ادعائے نبوت کیا تھا اور بہت یہود
حوالہ / References
القرآن الکریم ۶۳ /۴
فتاوٰی ہندیہ ، الباب التاسع فی احکام المرتدین ، نورانی کتب خانہ ، پشاور ، ۴ / ۲۶۶
فتاوٰی ہندیہ ، الباب التاسع فی احکام المرتدین ، نورانی کتب خانہ ، پشاور ، ۴ / ۲۶۶
مروان الحمار و تبعہ کثیر من الیہود وکان من مذھبہ تجویز حدوث النبوۃ بعد نبینا صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم(وکاکثر الرافضۃ القائلین بمشارکۃ علی فی الرسالۃ للنبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وبعدہ کالبزیغیۃ والبیانیۃ منھم)وھم اکفر من النصاری و اشد ضررا منھم لا نھم بحسب الصورۃ مسلمون ویلتبس امرھم علی العوام (فھؤلاء) کلھم(کفار مکذبون للنبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لانہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اخبر انہ خاتم النبیین وانہ ارسل کافۃ للناس واجمعت الامۃ علی ان ھذا الکلام علی ظاھرہ وان مفھومہ المراد منہ دون تاویل ولا تخصیص فلا شك فی کفر ھؤلاء الطوائف کلھا قطعا اجماعا وسمعا) ۱ ھ مختصرا۔ اس کے تابع ہوگئے اس کا مذہب تھا کہ ہمارے نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے بعد نئی نبوت ممکن ہے اور جیسے بہت رافضی کہ مولا علی کو رسالت میں نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا شریك اور حضور کے بعد انہیں نبی کہتے ہیں اور جیسے رافضیوں کے دو فرقے بزیغیہ و بیانیہ ان لوگوں کا کفر نصاری سے بڑھ کر ہے اور ان سے زائد ان کا ضرر کہ یہ صورت میں مسلمان ہیں ان سے عوام دھوکے میں پڑجاتے ہیں یہ سب کے سب کفار ہیں نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی تکذیب کر نے والے اس لئے کہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے خبر دی کہ حضور خاتم النبیین ہیں اور خبر دی کہ حضور کے بعد کوئی نبی نہیں اور اپنے رب عزوجل سے خبر دی کہ وہ حضور کو خاتم النبیین اور تمام جہان کی طرف رسول بتاتا ہے اور امت نے اجماع کیا کہ یہ آیات و احادیث اپنے معنی ظاہر پر ہیں جو کچھ ان سے مفہوم ہوتا ہے خدا اور رسول کی یہی مراد ہے نہ ان میں کچھ تاویل ہے نہ تخصیص تو کچھ شك نہیں کہ یہ سب طائفے بحکم اجماع امت وبحکم حدیث وآیت بالیقین کا فر ہیں۔
منکران ختم نبوت کے طریقے :
الحمد ﷲ اس کلام رشید نے ولید پلید وروافض بلید و قاسمیہ جدید و امیر یہ عــــــہ طرید کسی مردود و عنید کا تسمہ نہ لگا وﷲ الحجۃ السامیہ
عــــــہ : اسی طرح طائفہ مرزائیہ متبعان غلام احمد قادیانی کہ سب سے تازہ ہے یہ بھی مرزا کو مرسل من اﷲ کہتا ہے اور خود مرزا اپنے اوپر وحی اترنے کا مدعی ہے اپنے کلام کو کلام الہی ومنزل من اﷲ(باقی برصفحہ ائندہ)
منکران ختم نبوت کے طریقے :
الحمد ﷲ اس کلام رشید نے ولید پلید وروافض بلید و قاسمیہ جدید و امیر یہ عــــــہ طرید کسی مردود و عنید کا تسمہ نہ لگا وﷲ الحجۃ السامیہ
عــــــہ : اسی طرح طائفہ مرزائیہ متبعان غلام احمد قادیانی کہ سب سے تازہ ہے یہ بھی مرزا کو مرسل من اﷲ کہتا ہے اور خود مرزا اپنے اوپر وحی اترنے کا مدعی ہے اپنے کلام کو کلام الہی ومنزل من اﷲ(باقی برصفحہ ائندہ)
حوالہ / References
کتاب الشفاء للقاضی عیاض ، فصل فی بیان ما ھو من المقالات ، مطبعۃ شرکۃ صحافیہ ، ۲ / ۷۱۔ ۲۷۰ ، نسیم الریاض شرح شفاء للقاضی عیاض فصل فی بیان ما ھو من المقالات دارالفکر بیروت ، ۴ / ۵۰۶ تا ۵۰۹
یہ فقرے آب زر سے لکھنے کے ہیں کہ ان خبیثوں کا کفر یہود و نصاری سے بدتر اور کھلے کافروں سے انکار زائد ضرر والعیاذ باﷲ العزیز الاکبر۔
مجمع الانہر : وجیز امام کردری و مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر میں ہے :
اما الایمان بسیدنا محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فیجب بانہ رسولنا فی الحال وخاتم الانبیاء والرسل فاذا امن بانہ رسول ولم یؤمن بانہ خاتم الانبیاء لا یکون مؤمنا ہمارے مولا ہمارے سردار محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پر یوں ایمان لانا فرض ہے کہ حضور اب بھی ہمارے رسول ہیں(نہ یہ کہ معاذ اﷲ بعد وصال شریف حضور رسول نہ رہے یا حضور کے بعد اب اور کوئی ہمارا رسول ہوگیا)اور ایمان لانا فرض ہے کہ حضور تمام انبیاء ومرسلین کے خاتم ہیں اگر حضور کے رسول ہونے پر ایمان لایا اور خاتم الانبیاء ہونے پر ایمان نہ لایا تو مسلمان نہ ہوگا۔
یہاں رسالت پر ایمان مجازا بنظر صورت بحسب ادعائے قائل بولا گیا ورنہ جو ختم نبوت پر ایمان نہ لایا قطعا حضور کی رسالت ہی پر ایمان نہ لایا کہ رسول جانتا تو حضور جو کچھ اپنے رب جل جلالہ کے پاس سے لائے سب پر ایمان لاتا۔ کما تقدم فی کلام الامام التور پشتی رحمہ اﷲ تعالی(جیسا کہ امام تورپشتی کے کلام میں پہلے گزر چکا ہے۔ ت)
علامہ یوسف اردبیلی : امام علامہ یوسف اردبیلی شافعی کتاب الانوار میں فرماتے ہیں :
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)بتاتا ہے اور اس کے رسالہ “ ایك غلطی کا ازالہ “ سے منقول کہ اس میں صراحۃ اپنے آپ کو نبی بلکہ بہت انبیاء سے افضل لکھا ہے اس بارے میں ابھی چند روز ہوئے امر تسر سے سوال آیاتھا جس پر حضرت مصنف علامہ مدظلہ نے مدلل و مفصل فتوی تحریر فرمایا جس کا حسن بیان دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے جس کا نام السوء والعقاب ہے۔ وﷲ الحمد عفی عنہ مصحح (م)
مجمع الانہر : وجیز امام کردری و مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر میں ہے :
اما الایمان بسیدنا محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فیجب بانہ رسولنا فی الحال وخاتم الانبیاء والرسل فاذا امن بانہ رسول ولم یؤمن بانہ خاتم الانبیاء لا یکون مؤمنا ہمارے مولا ہمارے سردار محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پر یوں ایمان لانا فرض ہے کہ حضور اب بھی ہمارے رسول ہیں(نہ یہ کہ معاذ اﷲ بعد وصال شریف حضور رسول نہ رہے یا حضور کے بعد اب اور کوئی ہمارا رسول ہوگیا)اور ایمان لانا فرض ہے کہ حضور تمام انبیاء ومرسلین کے خاتم ہیں اگر حضور کے رسول ہونے پر ایمان لایا اور خاتم الانبیاء ہونے پر ایمان نہ لایا تو مسلمان نہ ہوگا۔
یہاں رسالت پر ایمان مجازا بنظر صورت بحسب ادعائے قائل بولا گیا ورنہ جو ختم نبوت پر ایمان نہ لایا قطعا حضور کی رسالت ہی پر ایمان نہ لایا کہ رسول جانتا تو حضور جو کچھ اپنے رب جل جلالہ کے پاس سے لائے سب پر ایمان لاتا۔ کما تقدم فی کلام الامام التور پشتی رحمہ اﷲ تعالی(جیسا کہ امام تورپشتی کے کلام میں پہلے گزر چکا ہے۔ ت)
علامہ یوسف اردبیلی : امام علامہ یوسف اردبیلی شافعی کتاب الانوار میں فرماتے ہیں :
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)بتاتا ہے اور اس کے رسالہ “ ایك غلطی کا ازالہ “ سے منقول کہ اس میں صراحۃ اپنے آپ کو نبی بلکہ بہت انبیاء سے افضل لکھا ہے اس بارے میں ابھی چند روز ہوئے امر تسر سے سوال آیاتھا جس پر حضرت مصنف علامہ مدظلہ نے مدلل و مفصل فتوی تحریر فرمایا جس کا حسن بیان دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے جس کا نام السوء والعقاب ہے۔ وﷲ الحمد عفی عنہ مصحح (م)
حوالہ / References
مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر باب المرتد ، ثم ان الفاظ الکفر انواع داراحیاء التراث العربی ، بیروت ، ۱ / ۶۹۱
من ادعی النبوۃ فی زماننا او صدق مدعیا لھا او اعتقدنبیا فی زمانہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اوقبلہ من لم یکن نبیا کفر ۱ھ ملخصا جو ہمارے زمانے میں نبوت کا مدعی ہو یا دوسرے کسی مدعی کی تصدیق کرے یا حضور کے زمانے میں کسی کو نبی مانے یا حضور سے پہلے کسی غیر کو نبی جانے کافر ہوجائے ۱ھ ملخصا۔
امام غزالی : امام حجۃ الاسلام محمد محمدمحمدغزالی کتاب الاقتصاد میں فرماتے ہیں :
ان الامت فھمت من ھذا اللفظ انہ افھم عدم نبی بعدہ ابدا وعدم رسول بعدہ ابدا وانہ لیس فیہ تاویل ولا تخصیص ومن اولہ بتخصیص فکلامہ من انواع الھذیان لا یمنع الحکم بتکفیرہ لانہ مکذب لھذا النص الذی اجمعت الامۃ علی انہ غیر مؤول ولا مخصوص یعنی تمام امت محمدیہ علی صاحبہا وعلیہا الصلوۃ والتحیۃ نے لفظ خاتم النبیین سے یہی سمجھا کہ وہ بتاتا ہے کہ نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے بعد کبھی کوئی نبی نہ ہوگا حضور کے بعد کبھی کوئی رسول نہ ہوگا اور تمام امت نے یہی مانا کہ اس لفظ میں نہ کوئی تاویل ہے کہ آخر النبیین کے سوا خاتم النبیین کے کچھ اور معنی گھڑئیے نہ اس عموم میں کچھ تخصیص ہے کہ حضور کے ختم نبوت کو کسی زمانے یا زمین کے کسی طبقے سے خاص کیجئے اور جو اس میں تاویل و تخصیص کو راہ دے اس کی بات جنون یا نشے یا سرسام میں بہکنے برانے بکنے کے قبیل سے ہے اسے کافر کہنے سے کچھ ممانعت نہیں کہ وہ آیت قرآن کی تکذیب کررہا ہے جس میں اصلا تاویل و تخصیص نہ ہونے پر امت مرحومہ کا اجماع ہوچکا ہے۔
بحمد اﷲ یہ عبارت بھی مثل عبارت شفاء و نسیم تمام طوائف جدیدہ قاسمیہ وامیریہ خذلہم اﷲ تعالی کے ہذیانات کا رد جلیل وجلی ہے آٹھ آٹھ سو برس بعد آنے والے کافروں کا رد فرما گئے یہ ائمہ دین کی کرامت منجلی ہے۔
غنیۃ الطالبین : غنیۃ الطالبین شریف میں عقائد ملعونہ غلاۃ روافض کے بیان میں فرمایا :
ادعت ایضاان علیا نبی(الی قولہ رضی اﷲ یعنی غالی رافضیوں کا یہ دعوی بھی ہے کہ مولا علی نبی
امام غزالی : امام حجۃ الاسلام محمد محمدمحمدغزالی کتاب الاقتصاد میں فرماتے ہیں :
ان الامت فھمت من ھذا اللفظ انہ افھم عدم نبی بعدہ ابدا وعدم رسول بعدہ ابدا وانہ لیس فیہ تاویل ولا تخصیص ومن اولہ بتخصیص فکلامہ من انواع الھذیان لا یمنع الحکم بتکفیرہ لانہ مکذب لھذا النص الذی اجمعت الامۃ علی انہ غیر مؤول ولا مخصوص یعنی تمام امت محمدیہ علی صاحبہا وعلیہا الصلوۃ والتحیۃ نے لفظ خاتم النبیین سے یہی سمجھا کہ وہ بتاتا ہے کہ نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے بعد کبھی کوئی نبی نہ ہوگا حضور کے بعد کبھی کوئی رسول نہ ہوگا اور تمام امت نے یہی مانا کہ اس لفظ میں نہ کوئی تاویل ہے کہ آخر النبیین کے سوا خاتم النبیین کے کچھ اور معنی گھڑئیے نہ اس عموم میں کچھ تخصیص ہے کہ حضور کے ختم نبوت کو کسی زمانے یا زمین کے کسی طبقے سے خاص کیجئے اور جو اس میں تاویل و تخصیص کو راہ دے اس کی بات جنون یا نشے یا سرسام میں بہکنے برانے بکنے کے قبیل سے ہے اسے کافر کہنے سے کچھ ممانعت نہیں کہ وہ آیت قرآن کی تکذیب کررہا ہے جس میں اصلا تاویل و تخصیص نہ ہونے پر امت مرحومہ کا اجماع ہوچکا ہے۔
بحمد اﷲ یہ عبارت بھی مثل عبارت شفاء و نسیم تمام طوائف جدیدہ قاسمیہ وامیریہ خذلہم اﷲ تعالی کے ہذیانات کا رد جلیل وجلی ہے آٹھ آٹھ سو برس بعد آنے والے کافروں کا رد فرما گئے یہ ائمہ دین کی کرامت منجلی ہے۔
غنیۃ الطالبین : غنیۃ الطالبین شریف میں عقائد ملعونہ غلاۃ روافض کے بیان میں فرمایا :
ادعت ایضاان علیا نبی(الی قولہ رضی اﷲ یعنی غالی رافضیوں کا یہ دعوی بھی ہے کہ مولا علی نبی
حوالہ / References
الانوار لا عمال الابرار
الاقتصاد فی الاعتقاد
الاقتصاد فی الاعتقاد
تعالی عنہ)لعنھم اﷲ وملئکتہ وسائر خلقہ الی یوم الدین وقلع آثارھم واباد خضراءھم ولا جعل منھم فی الارض دیارافانھم بالغوا فی غلوھم ومرضوا علی الکفر وترکوا الاسلام وفارقوا الایمان وجحدوا الالہ والرسل والتنزیل فنعوذ باﷲ ممن ذھب الی ھذہ المقالۃ ہیں اﷲ اور اس کے فرشتے اور تمام مخلوق قیامت تك ان رافضیوں پر لعنت کریں اﷲ ان کے درخت کی جڑ اکھاڑ کر پھینك دے تباہ کردے زمین پر ان میں کوئی بسنے والا نہ رکھے کہ انہوں نے اپنا غلو حد سے گزار دیا کفر پر جم گئے اسلام چھوڑ بیٹھے ایمان سے جدا ہوئے اﷲ و رسول و قرآن سب کے منکر ہوگئے ہم اﷲ کی پناہ مانگتے ہیں اس سے جو ایسا مذہب رکھے۔
الحمدﷲ اﷲ عزوجل نے یہ دعائے کریم مستجاب فرمائی غرابیہ و غیر ہا ملعون طوائف کا نشان نہ رہا اب جو اس دارالفتن ہند پر محن کی زمین میں فتنوں کی بوچھاڑ کی گندہ بہار میں دو ایك حشرات الارض کہیں کہیں تازہ نکل پڑے وہ بھی بحمد اﷲ تعالی جلد جلد اپنے مقرسقر کو پہنچ گئے ایك آدھ کہیں باقی ہو تو وہ بھی قہر الہی سے
“ الم نہلک الاولین ﴿۱۶﴾ ثم نتبعہم الاخرین ﴿۱۷﴾ کذلک نفعل بالمجرمین ﴿۱۸﴾ “ کیا ہم نے اگلو ں کو ہلاك نہ فرمایا پھر پچھلوں کو ان کے پیچھے پہنچائیں گے مجرموں کے ساتھ ہم ایسا ہی کرتے ہیں۔ ت)کا منتظر ہے۔
تحفہ شرح منہاج : تحفہ شرح منہاج میں ہے :
اوکذب رسولا اونبیا او نقصہ بای منقص کان صغر اسمہ مریدا تحقیرہ او جوز نبوۃ احد بعد وجود نبینا صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وعیسی علیہ الصلوۃ و السلام نبی قبل فلا یرد یعنی کافر ہے جو کسی نبی کی تکذیب کرے یا کسی طرح اس کی شان گھٹائے مثلا بہ نیت توہین اس کا نام چھوٹا کر کے لے یا ہمارے نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی تشریف آوری کے بعد کسی کی نبوت ممکن مانے اور عیسی علیہ الصلوۃ والسلام تو حضور کی تشریف آوری سے پہلے نبی ہوچکے ان سے اعتراض وارد نہ ہوگا۔
الحمدﷲ اﷲ عزوجل نے یہ دعائے کریم مستجاب فرمائی غرابیہ و غیر ہا ملعون طوائف کا نشان نہ رہا اب جو اس دارالفتن ہند پر محن کی زمین میں فتنوں کی بوچھاڑ کی گندہ بہار میں دو ایك حشرات الارض کہیں کہیں تازہ نکل پڑے وہ بھی بحمد اﷲ تعالی جلد جلد اپنے مقرسقر کو پہنچ گئے ایك آدھ کہیں باقی ہو تو وہ بھی قہر الہی سے
“ الم نہلک الاولین ﴿۱۶﴾ ثم نتبعہم الاخرین ﴿۱۷﴾ کذلک نفعل بالمجرمین ﴿۱۸﴾ “ کیا ہم نے اگلو ں کو ہلاك نہ فرمایا پھر پچھلوں کو ان کے پیچھے پہنچائیں گے مجرموں کے ساتھ ہم ایسا ہی کرتے ہیں۔ ت)کا منتظر ہے۔
تحفہ شرح منہاج : تحفہ شرح منہاج میں ہے :
اوکذب رسولا اونبیا او نقصہ بای منقص کان صغر اسمہ مریدا تحقیرہ او جوز نبوۃ احد بعد وجود نبینا صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وعیسی علیہ الصلوۃ و السلام نبی قبل فلا یرد یعنی کافر ہے جو کسی نبی کی تکذیب کرے یا کسی طرح اس کی شان گھٹائے مثلا بہ نیت توہین اس کا نام چھوٹا کر کے لے یا ہمارے نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی تشریف آوری کے بعد کسی کی نبوت ممکن مانے اور عیسی علیہ الصلوۃ والسلام تو حضور کی تشریف آوری سے پہلے نبی ہوچکے ان سے اعتراض وارد نہ ہوگا۔
حوالہ / References
غنیۃ الطالبین فصل علامات اہل بدعت کے بیان میں ، مصطفی البابی مصر ، ۱ / ۸۸
القرآن الکریم ۷۷ /۱۶تا۱۸
المعتقد المنتقد بحوالہ التحفہ شرح المنہاج مع المستند المعتمد ، مکتبہ حامدیہ ، لاہور ، ص ۲۸۔ ۱۲۷
القرآن الکریم ۷۷ /۱۶تا۱۸
المعتقد المنتقد بحوالہ التحفہ شرح المنہاج مع المستند المعتمد ، مکتبہ حامدیہ ، لاہور ، ص ۲۸۔ ۱۲۷
شرح فرائد : عارف باﷲ علامہ عبدالغنی نابلسی شرح الفرائد میں فرماتے ہیں :
فساد مذھبھم غنی عن البیان بشھادۃ العیان کیف وھو یؤدی الی تجویز مع نبینا صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اوبعدہ و ذلك یستلزم تکذیب القران اذ قد نص علی انہ خاتم النبیین واخر المرسلین وفی السنۃ انا العاقب لا نبی بعدی واجمعت الامۃ علی ابقاء ھذا الکلام علی ظاھرہ وھذا احدی المسائل المشھورۃ التی کفرنا بھا الفلاسفۃ لعنھم اﷲ تعالی نقل ھذین خاتم المحققین معین الحق المبین السیف المسلول مولانا فضل الرسول قدس سرہ فی المعتقد المنتقد۔ فلاسفہ نے کہا تھا کہ نبوت کسب سے مل سکتی ہے آدمی ریاضتیں مجاہدے کرنے سے پا سکتا ہے اس کے رد میں فرماتے ہیں کہ ان کے مذہب کا بطلان محتاج بیان نہیں آنکھوں دیکھا باطل ہے اور کیوں نہ ہو کہ اس کے نتیجے میں ہمارے نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے زمانے میں یا حضور کے بعد کسی نبی کا امکان نکلے گا اور یہ تکذیب قرآن کو مستلزم ہے قرآن عظیم نص فرما چکا کہ حضور خاتم النبیین و آخر المرسلین ہیں اور حدیث میں ہے میں پچھلا نبی ہوں کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں اور امت کا اجماع ہے کہ یہ کلام اسی معنی پر ہے جو اس کے ظاہر سے سمجھ میں آتے ہیں یہ ان مشہور مسئلوں میں سے ہے جن کے سبب ہم اہل اسلام نے فلاسفہ کو کافر کہا اﷲ تعالی ان پر لعنت کرے۔ یہ مذکورہ دونوں عبارتیں خاتم المحققین حق مبین کے معاون ننگی تلوار مولانا فضل رسول قدس سرہ نے اپنی کتاب المعتقد المنتقد میں نقل کی ہیں۔
مواہب شریف : مواہب شریف آخر نوع ثالث مقصد سادس میں امام ابن حبان صاحب صحیح مسمی بالتقاسیم والانواع سے نقل فرمایا :
من ذھب الی ان النبوۃ مکتسبۃ لا تنقطع او الی ان الولی افضل من النبی فھو زندیق الی آخرہ جو اس طرف جائے کہ نبوت کسب سے مل سکتی ہے ختم نہ ہوگی یا کسی ولی کو کسی نبی سے افضل بتائے وہ زندیق بے دین ملحد دہریہ ہے۔
فساد مذھبھم غنی عن البیان بشھادۃ العیان کیف وھو یؤدی الی تجویز مع نبینا صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اوبعدہ و ذلك یستلزم تکذیب القران اذ قد نص علی انہ خاتم النبیین واخر المرسلین وفی السنۃ انا العاقب لا نبی بعدی واجمعت الامۃ علی ابقاء ھذا الکلام علی ظاھرہ وھذا احدی المسائل المشھورۃ التی کفرنا بھا الفلاسفۃ لعنھم اﷲ تعالی نقل ھذین خاتم المحققین معین الحق المبین السیف المسلول مولانا فضل الرسول قدس سرہ فی المعتقد المنتقد۔ فلاسفہ نے کہا تھا کہ نبوت کسب سے مل سکتی ہے آدمی ریاضتیں مجاہدے کرنے سے پا سکتا ہے اس کے رد میں فرماتے ہیں کہ ان کے مذہب کا بطلان محتاج بیان نہیں آنکھوں دیکھا باطل ہے اور کیوں نہ ہو کہ اس کے نتیجے میں ہمارے نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے زمانے میں یا حضور کے بعد کسی نبی کا امکان نکلے گا اور یہ تکذیب قرآن کو مستلزم ہے قرآن عظیم نص فرما چکا کہ حضور خاتم النبیین و آخر المرسلین ہیں اور حدیث میں ہے میں پچھلا نبی ہوں کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں اور امت کا اجماع ہے کہ یہ کلام اسی معنی پر ہے جو اس کے ظاہر سے سمجھ میں آتے ہیں یہ ان مشہور مسئلوں میں سے ہے جن کے سبب ہم اہل اسلام نے فلاسفہ کو کافر کہا اﷲ تعالی ان پر لعنت کرے۔ یہ مذکورہ دونوں عبارتیں خاتم المحققین حق مبین کے معاون ننگی تلوار مولانا فضل رسول قدس سرہ نے اپنی کتاب المعتقد المنتقد میں نقل کی ہیں۔
مواہب شریف : مواہب شریف آخر نوع ثالث مقصد سادس میں امام ابن حبان صاحب صحیح مسمی بالتقاسیم والانواع سے نقل فرمایا :
من ذھب الی ان النبوۃ مکتسبۃ لا تنقطع او الی ان الولی افضل من النبی فھو زندیق الی آخرہ جو اس طرف جائے کہ نبوت کسب سے مل سکتی ہے ختم نہ ہوگی یا کسی ولی کو کسی نبی سے افضل بتائے وہ زندیق بے دین ملحد دہریہ ہے۔
حوالہ / References
المعتقد المنتقد بحوالہ شرح الفرائد للنابلسی مع المستند المعتمد ، مکتبہ حامدیہ ، لاہور ، ص ۱۵۔ ۱۱۴
المواہب اللدنیہ ، المقصد السادس ، النوع الثالث ، المکتب الاسلامی ، بیروت ، ۳ / ۱۸۳
المواہب اللدنیہ ، المقصد السادس ، النوع الثالث ، المکتب الاسلامی ، بیروت ، ۳ / ۱۸۳
علامہ زرقانی نے اس کی دلیل میں فرمایا : لتکذیب القران وخاتم النبیین یہ شخص اس وجہ سے کافر ہوا کہ قرآن عظیم و ختم نبوت کی تکذیب کرتا ہے۔
امام نسفی : بحرالکلام امام نسفی پھر تفسیر روح البیان میں ہے :
صنف من الروا فض قالوا بان الارض لا تخلو عن النبی والنبوۃ صارت میراثا لعلی واولادہ وقال اھل السنۃ والجماعۃ لا نبی بعد نبینا صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم قال اﷲ ولکن رسول اﷲ وخاتم النبیین و قال النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لا نبی بعدی ومن قال بعد نبینا نبی یکفر لانہ انکر النص وکذلك لوشك فیہ ببعض اختصار۔ رافضیوں کا ایك طائفہ کہتا ہے زمین نبی سے خالی نہیں ہوتی اور نبوت مولا علی اور ان کی اولاد کے لئے میراث ہوگئی ہے اور اہلسنت و جماعت نے فرمایا ہمارے نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں کہ اﷲ تعالی فرماتا ہے ہاں خدا کے رسول ہیں اور سب انبیاء میں پچھلے اور حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں میرے بعد کوئی نبی نہیں تو جو حضور کے بعد کسی کو نبی مانے کافر ہے کہ قرآن عظیم و نص صریح کا منکر ہے یوں ہی جسے ختم نبوت میں کچھ شك ہو وہ بھی کافر ہے۔
تمہید ابو شکور سالمی : تمہید ابو شکور سالمی میں ہے :
قالت الروافض ان العالم لا یکون خالیا عن النبی قط وھذا کفر لان اﷲ تعالی قال وخاتم النبیین ومن ادعی النبوۃ فی زماننا فانہ یصیر کافرا ومن طلب منہ المعجزات فانہ یصیر کافر ا لانہ شك فی النص ویجب الاعتقاد بانہ ماکان لاحد شرکۃ فی النبوۃ لمحمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بخلاف ما قالت الروافض رافضی کہتے ہیں دنیا نبی سے خالی نہ ہوگی اور یہ کفر ہے کہ اﷲ عزوجل فرماتا ہے وخاتم النبیین اب جو دعوی نبوت کرے کافر ہے اور جو اس سے معجزہ مانگے وہ بھی کافر کہ اسے ارشاد الہی میں شك پیدا ہوا جب تو معجزہ مانگا اور اس کا اعتقاد فرض ہے کہ کوئی شخص نبوت محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا شریك نہ تھا بخلاف روافض کے کہ مولی علی کو حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے
امام نسفی : بحرالکلام امام نسفی پھر تفسیر روح البیان میں ہے :
صنف من الروا فض قالوا بان الارض لا تخلو عن النبی والنبوۃ صارت میراثا لعلی واولادہ وقال اھل السنۃ والجماعۃ لا نبی بعد نبینا صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم قال اﷲ ولکن رسول اﷲ وخاتم النبیین و قال النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لا نبی بعدی ومن قال بعد نبینا نبی یکفر لانہ انکر النص وکذلك لوشك فیہ ببعض اختصار۔ رافضیوں کا ایك طائفہ کہتا ہے زمین نبی سے خالی نہیں ہوتی اور نبوت مولا علی اور ان کی اولاد کے لئے میراث ہوگئی ہے اور اہلسنت و جماعت نے فرمایا ہمارے نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں کہ اﷲ تعالی فرماتا ہے ہاں خدا کے رسول ہیں اور سب انبیاء میں پچھلے اور حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں میرے بعد کوئی نبی نہیں تو جو حضور کے بعد کسی کو نبی مانے کافر ہے کہ قرآن عظیم و نص صریح کا منکر ہے یوں ہی جسے ختم نبوت میں کچھ شك ہو وہ بھی کافر ہے۔
تمہید ابو شکور سالمی : تمہید ابو شکور سالمی میں ہے :
قالت الروافض ان العالم لا یکون خالیا عن النبی قط وھذا کفر لان اﷲ تعالی قال وخاتم النبیین ومن ادعی النبوۃ فی زماننا فانہ یصیر کافرا ومن طلب منہ المعجزات فانہ یصیر کافر ا لانہ شك فی النص ویجب الاعتقاد بانہ ماکان لاحد شرکۃ فی النبوۃ لمحمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بخلاف ما قالت الروافض رافضی کہتے ہیں دنیا نبی سے خالی نہ ہوگی اور یہ کفر ہے کہ اﷲ عزوجل فرماتا ہے وخاتم النبیین اب جو دعوی نبوت کرے کافر ہے اور جو اس سے معجزہ مانگے وہ بھی کافر کہ اسے ارشاد الہی میں شك پیدا ہوا جب تو معجزہ مانگا اور اس کا اعتقاد فرض ہے کہ کوئی شخص نبوت محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا شریك نہ تھا بخلاف روافض کے کہ مولی علی کو حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے
حوالہ / References
شرح الزرقانی علی المواہب اللدنیہ ، المقصد السادس النوع الثالث ، دارالمعرفۃ بیروت ۶ / ۱۸۸
روح البیان ، آیہ ماکان محمد ابا احد من رجالکم الخ المکتبۃ الاسلامیہ ریاض الشیخ ، ۷ / ۱۸۸
روح البیان ، آیہ ماکان محمد ابا احد من رجالکم الخ المکتبۃ الاسلامیہ ریاض الشیخ ، ۷ / ۱۸۸
ان علیا کا ن شریکا لمحمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فی النبوۃ وھذا منھم کفر شریك نبوت مانتے ہیں اور یہ ان کا کفر ہے۔
مولانا عبدالعلی : بحر العلوم ملك العلماء مولانا عبدالعلی محمد شرح سلم میں فرماتے ہیں :
محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم خاتم النبیین وابو بکر رضی اﷲ تعالی عنہ افضل الاصحاب والاولیاء وھا تان القضیتان مما یطلب بالبرھان فی علم الکلام والیقین المتعلق بھما یقین ثابت ضروری باق الی الابد ولیس الحکم فیھما علی امر کلی یجوز العقل تناول ھذا الحکم لغیر ھذین الشخصین وانکار ھذا مکابرۃ وکفر محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں اور ابو بکر رضی اللہ تعالی عنہتمام اولیاء سے افضل ہیں اور ان دونوں باتوں پر دلیل قطعی علم عقائد میں مذکور ہے اور ان پر یقین وہ جما ہوا ضروری یقین ہے جو ابدا لآباد تك باقی رہے گا اور یہ خاتم النبیین اور افضل الانبیاء ہونا کسی امر کلی کے لئے ثابت نہیں کیا ہے کہ عقل ان دونوں ذات پاك کے سوا کسی اور کے لئے اس کا ثبوت ممکن مانے اور اس کا انکار ہٹ دھرمی اور کفر ہے۔
فیہ لف ونشر بالقلب یعنی صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہکے افضل الاولیاء ہونے سے انکار قرآن و سنت واجماع امت کے ساتھ مکابرہ ہے اور سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے خاتم الانبیاء ہونے سے انکار کفر والعیاذ باﷲ رب العالمین۔
امام احمد قسطلانی : امام احمد قسطلانی مواہب لدنیہ مقصد سابع فصل اول پھر علامہ عبدالغنی نابلسی حدیقہ ندیہ باب اول فصل ثانی میں فرماتے ہیں :
العلم اللدنی نوعان لدنی رحمانی ولدنی شیطانی والمحك ھو الوحی و لا وحی بعد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم واما قصۃ موسی مع الخضر یعنی علم لدنی دو قسم ہے رحمانی اور شیطانی اور ان کے پہچاننے کا معیار وحی ہے کہ جو اس کے مطابق ہے رحمانی ہے اور جو اس کے خلاف ہے شیطانی ہے اور رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے بعد وحی نہیں کہ کوئی کہے میرا یہ علم وحی جدید کے
مولانا عبدالعلی : بحر العلوم ملك العلماء مولانا عبدالعلی محمد شرح سلم میں فرماتے ہیں :
محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم خاتم النبیین وابو بکر رضی اﷲ تعالی عنہ افضل الاصحاب والاولیاء وھا تان القضیتان مما یطلب بالبرھان فی علم الکلام والیقین المتعلق بھما یقین ثابت ضروری باق الی الابد ولیس الحکم فیھما علی امر کلی یجوز العقل تناول ھذا الحکم لغیر ھذین الشخصین وانکار ھذا مکابرۃ وکفر محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں اور ابو بکر رضی اللہ تعالی عنہتمام اولیاء سے افضل ہیں اور ان دونوں باتوں پر دلیل قطعی علم عقائد میں مذکور ہے اور ان پر یقین وہ جما ہوا ضروری یقین ہے جو ابدا لآباد تك باقی رہے گا اور یہ خاتم النبیین اور افضل الانبیاء ہونا کسی امر کلی کے لئے ثابت نہیں کیا ہے کہ عقل ان دونوں ذات پاك کے سوا کسی اور کے لئے اس کا ثبوت ممکن مانے اور اس کا انکار ہٹ دھرمی اور کفر ہے۔
فیہ لف ونشر بالقلب یعنی صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہکے افضل الاولیاء ہونے سے انکار قرآن و سنت واجماع امت کے ساتھ مکابرہ ہے اور سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے خاتم الانبیاء ہونے سے انکار کفر والعیاذ باﷲ رب العالمین۔
امام احمد قسطلانی : امام احمد قسطلانی مواہب لدنیہ مقصد سابع فصل اول پھر علامہ عبدالغنی نابلسی حدیقہ ندیہ باب اول فصل ثانی میں فرماتے ہیں :
العلم اللدنی نوعان لدنی رحمانی ولدنی شیطانی والمحك ھو الوحی و لا وحی بعد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم واما قصۃ موسی مع الخضر یعنی علم لدنی دو قسم ہے رحمانی اور شیطانی اور ان کے پہچاننے کا معیار وحی ہے کہ جو اس کے مطابق ہے رحمانی ہے اور جو اس کے خلاف ہے شیطانی ہے اور رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے بعد وحی نہیں کہ کوئی کہے میرا یہ علم وحی جدید کے
حوالہ / References
التمہید فی بیان التوحید ، الباب السابع فی المعرفۃ والایمان دارالعلوم حزب الاحناف لاہور ، ص ۱۴۔ ۱۱۳
شرح سلم لعبد العلی ، بحث التصدیقات آخر کتاب ، مطبع مجتبائی ، دہلی ، ص ۲۶۰
شرح سلم لعبد العلی ، بحث التصدیقات آخر کتاب ، مطبع مجتبائی ، دہلی ، ص ۲۶۰
علیھما الصلوۃ والسلام فالتعلق بھا فی تجویز الاستغناء عن الوحی بالعلم اللدنی الحاد وکفر یخرج عن الاسلام موجب لاراقۃ الدم والفرق ان موسی علیہ الصلوۃ والسلام لم یکن مبعوثا الی الخضر ولم یکن الخضر مامورا بمتا بعتہ ومحمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم الی جمیع الثقلین فرسالتہ عامۃ للجن والانس فی کل زمان فمن ادعی انہ مع محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کالخضر مع موسی علیھما الصلوۃ والسلام اوجوز ذلك لاحد من الامۃ فلیجدد اسلامہ(لکفرہ بھذہ الدعوی)ولیشھد شھادۃ الحق(لیعود الی الاسلام)فانہ مفارق لدین الاسلام بالکلیۃ فضلا عن ان یکون من خاصۃ اولیاء اﷲ تعالی وانما ھو من اولیاء الشیطن و خلفائہ ونوابہ(فی الضلال والاضلال)والعلم اللدنی الرحمانی ھوثمرۃ العبودیۃ والمتابعۃ لھذا النبی الکریم علیہ ازکی الصلوۃ واتم التسلیم وبہ یحصل الفھم فی الکتاب والسنۃ بامریختص بہ صاحبہ کما قال علی (امیر المؤمنین)وقد سئل مطابق ہے رہا خضر و موسی علیہما الصلوۃ والسلام کا قصہ(کہ خضر کے پاس وہ علم لدنی تھا جو موسی علیہما الصلوۃ والسلام کو معلوم نہ تھا اسے یہاں دستاویز بنا کر علم لدنی کے سبب وحی کی پروا نہ رکھنا نری بے دینی و کفر ہے اسلام سے نکال دینے والی بات ہے جس کے قائل کا قتل واجب اور فرق یہ ہے کہ موسی علیہ الصلوۃ و السلام حضر ت خضر کی طرف مبعوث نہ تھے نہ خضر کو ان کی پیروی کا حکم(کہ وہ تو خاص بنی اسرائیل کی طرف بھیجے گئے تھے کان النبی یبعث الی قومہ خاصۃ)اور محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم تمام جن و انس(بلکہ تمام ماسوائے اﷲ)کی طرف مبعوث ہیں(وارسلت الی الخلق کافۃ)تو حضور کی رسالت ہر زمانے میں سب جن و انس کو شامل ہے تو جو مدعی ہو کہ وہ محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے ساتھ ایسے تھے جیسے موسی کے ساتھ خضر امت میں کسی کے لئے یہ مرتبہ ممکن مانے وہ نئے سرے سے مسلمان ہو کہ اس قول کے باعث کافر ہوگیا مسلمان ہونے کے لئے کلمہ شہادت پڑھے کہ وہ دین اسلام سے یك لخت جدا ہوگیا چہ جائیکہ اﷲ عزوجل کے خاص اولیاء سے ہو وہ تو شیطان کا ولی اور گمراہی و گمراہ گری میں ابلیس کا خلیفہ و نائب ہے علم لدنی رحمانی بندگی خدا و پیروی محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا پھل ہے جس سے قرآن و حدیث میں ایك خاص سمجھ حاصل ہوجاتی ہے جس طرح صحیح بخاری و سنن نسائی میں ہے کہ امیر المومنین مولا علی کرم اﷲ تعالی وجہہ سے سوال ہوا کہ تم اہل بیت کو نبی صلی اللہ
(کما فی الصحیح وسنن النسائی)ھل خصکم رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بشیئ دون الناس(کما تزعم الشیعۃ)فقال لا الا فھمایؤتیہ اﷲ عبدا فی کتابہ ۱ھ مختصرا مزیدا ما بین الھلالین من شرح العلامۃ الزرقانی۔ رزقنا اﷲ تعالی بمنہ والائہ بفضل رحمتہ باولیائہ وصل وسلم علی خاتم انبیائہ محمد والہ وصحبہ واحبائہ امین۔ تعالی علیہ وسلم نے کوئی خاص شئے ایسی عطا فرمائی ہے جو اور لوگوں کو نہ دی جیسا کہ رافضی گمان کرتے ہیںفرمایا : نہ مگر وہ سمجھو جو اﷲ عزوجل نے اپنے بندوں کوقرآن عزیز میں عطا فرمائی ۱ھ مختصرا ہلالین میں شرح زرقانی کی عبارت زائد لائی گئی ہے۔ اﷲ تعالی اپنی رحمت و فضل احسان و نعمت ہمیں عطا فرمائے بوسیلہ اولیاء اﷲ صلوۃ وسلام نازل فرمائے خاتم الانبیاء محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پر اور ان کی آل و اصحاب سب پر۔ آمین۔ (ت)
سید کفریہ عقیدہ نہیں رکھ سکتا :
ولید بلید خواہ کوئی پلید ختم نبوت کا ہر منکر عنید صراحۃ جاحد ہو یا تاویل کا مرید مطلقا نفی کرے یا تخصیص بعید امیری قاسمی مشہدی مرید رافضی غالی وہابی شدید سب صریح کا فر مرتد طرید علیھم لعنۃ العزیز الحمید(ان پر اﷲ عزوجل کی لعنت ہو)اور جو کافر ہو وہ قطعا سید نہیں اﷲ تعالی فرماتا ہے :
“ انہ لیس من اہلک انہ عمل غیر صلح ۫٭ “ وہ تیرے گھر والوں میں نہیں بیشك اس کے کام بڑے نالائق ہیں۔ (ت)نہ اسے سید کہنا جائز۔
منافق کو سید نہ کہو :
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
لا تقولوا للمنافق سید فانہ ان یکن سیدا فقد استخطتم ربکم عزوجل رواہ منافق کو سید نہ کہو کہ اگر وہ تمہارا سید ہو تو بیشك تم پر تمہارے رب عزوجل کا غضب ہو(اس کو
سید کفریہ عقیدہ نہیں رکھ سکتا :
ولید بلید خواہ کوئی پلید ختم نبوت کا ہر منکر عنید صراحۃ جاحد ہو یا تاویل کا مرید مطلقا نفی کرے یا تخصیص بعید امیری قاسمی مشہدی مرید رافضی غالی وہابی شدید سب صریح کا فر مرتد طرید علیھم لعنۃ العزیز الحمید(ان پر اﷲ عزوجل کی لعنت ہو)اور جو کافر ہو وہ قطعا سید نہیں اﷲ تعالی فرماتا ہے :
“ انہ لیس من اہلک انہ عمل غیر صلح ۫٭ “ وہ تیرے گھر والوں میں نہیں بیشك اس کے کام بڑے نالائق ہیں۔ (ت)نہ اسے سید کہنا جائز۔
منافق کو سید نہ کہو :
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
لا تقولوا للمنافق سید فانہ ان یکن سیدا فقد استخطتم ربکم عزوجل رواہ منافق کو سید نہ کہو کہ اگر وہ تمہارا سید ہو تو بیشك تم پر تمہارے رب عزوجل کا غضب ہو(اس کو
حوالہ / References
المواہب اللدنیۃ المقصد السابع ، الفصل الاول علامات محبۃ الرسول ، المکتب الاسلامی ، بیروت ، ۳ / ۹۷۔ ۲۹۶ ، شرح الزرقانی علی المواہب اللدنیۃ ، الفصل الاول علامات محبۃ الرسول ، دارالفکر بیروت ، ۶ / ۱۱۔ ۳۱۰
القرآن الکریم ۱۱ /۴۶
سنن ابی داؤد ، کتاب الادب باب لا یقول المملوك ربی وربتی ، آفتاب عالم پریس ، لاہور ، ۲ / ۳۲۴
القرآن الکریم ۱۱ /۴۶
سنن ابی داؤد ، کتاب الادب باب لا یقول المملوك ربی وربتی ، آفتاب عالم پریس ، لاہور ، ۲ / ۳۲۴
ابوداؤد والنسائی بسند صحیح عن بریدۃ رضی اﷲ تعالی عنہ۔ ابوداؤد اور نسائی نے بسند صحیح حضرت بریدہ رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کیا)
روایت حاکم کے لفظ یہ ہیں رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
اذا قال الرجل للمنافق یا سید فقد اغضب ربہ عزوجل جو کسی منافق کو “ اے سید “ کہے اس نے اپنے رب کا غضب اپنے اوپر لیا۔ والعیاذ باﷲ رب العلمین۔
پھر یہی نہیں کہ یہاں صرف اطلاق لفظ سے ممانعت شرعی اور نسب سیادت کا انتقائے حکمی ہو حاشا بلکہ واقع میں کافر اس نسل طیب و طاہر سے تھا ہی نہیں اگرچہ سید بنتا اور لوگوں میں براہ غلط سید کہلاتا ہو ائمہ دین اولیائے کاملین علمائے عالمین رحمۃ اﷲ تعالی علیہم اجمعین تصریح فرماتے ہیں کہ سادات کرام بحمد اﷲ تعالی خباثت کفر سے محفوظ و مصئون ہیں جو واقعی سید ہے اس سے کبھی کفر واقع نہ ہوگا قال اﷲ تعالی :
“ انما یرید اللہ لیـذہب عنکم الرجس اہل البیت و یطہرکم تطہیرا ﴿۳۳﴾ “ اﷲ یہی چاہتا ہے کہ تم سے نجاست دور رکھے اے نبی کے گھر والو! اور تمہیں خوب پاك کردے ستھرا کر کے۔
تمام فوائد اور بزار وابویعلی مسند اور طبرانی کبیر اور حاکم بافادہ تصحیح مستدرك میں حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہسے راوی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
ان فاطمۃ احصنت فرجھا فحر مھا اﷲ و ذریتھا علی النار بیشك فاطمہ نے اپنی حرمت پر نگاہ رکھی تو اﷲ عزوجل نے اسے اور اس کی ساری نسل کو آگ پر حرام کردیا۔
اہل بیت سے کوئی بھی جہنمی نہیں :
ابوالقاسم بن بشران اپنے امالی میں حضرت عمران بن حصین رضی اﷲ تعالی عنہما سے راوی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
سالت ربی ان لا یدخل احدا من اھل بیتی النار فاعطا نیھا میں نے اپنے رب عزوجل سے سوال کیا کہ میرے اہلبیت سے کسی کو دوزخ میں نہ ڈالے اس نے میری یہ مراد عطا فرمائی۔
روایت حاکم کے لفظ یہ ہیں رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
اذا قال الرجل للمنافق یا سید فقد اغضب ربہ عزوجل جو کسی منافق کو “ اے سید “ کہے اس نے اپنے رب کا غضب اپنے اوپر لیا۔ والعیاذ باﷲ رب العلمین۔
پھر یہی نہیں کہ یہاں صرف اطلاق لفظ سے ممانعت شرعی اور نسب سیادت کا انتقائے حکمی ہو حاشا بلکہ واقع میں کافر اس نسل طیب و طاہر سے تھا ہی نہیں اگرچہ سید بنتا اور لوگوں میں براہ غلط سید کہلاتا ہو ائمہ دین اولیائے کاملین علمائے عالمین رحمۃ اﷲ تعالی علیہم اجمعین تصریح فرماتے ہیں کہ سادات کرام بحمد اﷲ تعالی خباثت کفر سے محفوظ و مصئون ہیں جو واقعی سید ہے اس سے کبھی کفر واقع نہ ہوگا قال اﷲ تعالی :
“ انما یرید اللہ لیـذہب عنکم الرجس اہل البیت و یطہرکم تطہیرا ﴿۳۳﴾ “ اﷲ یہی چاہتا ہے کہ تم سے نجاست دور رکھے اے نبی کے گھر والو! اور تمہیں خوب پاك کردے ستھرا کر کے۔
تمام فوائد اور بزار وابویعلی مسند اور طبرانی کبیر اور حاکم بافادہ تصحیح مستدرك میں حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہسے راوی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
ان فاطمۃ احصنت فرجھا فحر مھا اﷲ و ذریتھا علی النار بیشك فاطمہ نے اپنی حرمت پر نگاہ رکھی تو اﷲ عزوجل نے اسے اور اس کی ساری نسل کو آگ پر حرام کردیا۔
اہل بیت سے کوئی بھی جہنمی نہیں :
ابوالقاسم بن بشران اپنے امالی میں حضرت عمران بن حصین رضی اﷲ تعالی عنہما سے راوی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
سالت ربی ان لا یدخل احدا من اھل بیتی النار فاعطا نیھا میں نے اپنے رب عزوجل سے سوال کیا کہ میرے اہلبیت سے کسی کو دوزخ میں نہ ڈالے اس نے میری یہ مراد عطا فرمائی۔
حوالہ / References
المستدرك للحاکم ، کتاب الرقاق ، دارالفکر بیروت ، ۴ / ۳۱۱
القرآن الکریم ۳۳ /۳۳
المستدرك للحاکم ، کتاب معرفۃ الصحابۃ ، دارالفکر بیروت ، ۳ / ۱۵۲
کنزالعمال بحوالہ ابن بشران فی امالیہ عن عمران بن حصین حدیث ۳۴۱۴۹ ، موسسۃ الرسالہ ، بیروت ، ۱۲ / ۹۵
القرآن الکریم ۳۳ /۳۳
المستدرك للحاکم ، کتاب معرفۃ الصحابۃ ، دارالفکر بیروت ، ۳ / ۱۵۲
کنزالعمال بحوالہ ابن بشران فی امالیہ عن عمران بن حصین حدیث ۳۴۱۴۹ ، موسسۃ الرسالہ ، بیروت ، ۱۲ / ۹۵
اہل بیت عذاب سے بر ہیں :
طبرانی بسندصحیح عــــــہحضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے راوی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے حضرت بتول رضی اﷲ تعالی عنہا سے فرمایا :
ان اﷲ تعالی غیر معذبك ولا ولدك بیشك اﷲ تعالی نہ تجھے عذاب فرمائے گا نہ تیری اولاد کو۔
حضرت فاطمہ کی وجہ تسمیہ :
ابن عساکر حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہسے راوی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
انما سمیت فاطمۃ لان اﷲ فطمہا وذریتہا عن النار یوم القیمۃ فاطمہ اس لئے نام ہوا کہ اﷲ عزوجل نے اسے اور اس کی نسل کو روز قیامت آگ سے محفوظ فرمادیا۔
اہل بیت آگ میں نہیں جاسکتے :
قرطبی آیہ کریمہ “ و لسوف یعطیک ربک فترضی ﴿۵﴾ “ کی تفسیر میں حضرت ترجمان القرآن رضی اللہ تعالی عنہسے ناقل کہ انہوں نے فرمایا :
رضا محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ان لا یدخل احد من اھل بیتہ النار یعنی اﷲ عزوجل نے حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے راضی کردینے کا وعدہ فرمایا اور محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی رضا اس میں ہے کہ ان کے اہل بیت سے کوئی دوزخ میں نہ جائے۔
نار دوقسم کی ہے نار تطہیرکہ مومن عاصی جس کا مستحق ہو اور نار خلود کافرکے لئے ہے اہل بیت کرام
عــــــہ : افادہ الھیثمی فی الصواعق حیث قال جاء بسند رواتہ ثقات انہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم قال لفاطمۃ فذکرہ۔ ۱۲ منہ(م) ہیثمی نے صواعق میں اس کا افادہ کیا جہاں انہوں نے کہا سند کے ساتھ مروی جس کے تمام راوی ثقہ ہیں کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے حضرت فاطمہ رضی اﷲ تعالی عنہا کو فرمایا تو پھر اس حدیث کا ذکر کیا ۱۲ منہ(ت)
طبرانی بسندصحیح عــــــہحضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے راوی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے حضرت بتول رضی اﷲ تعالی عنہا سے فرمایا :
ان اﷲ تعالی غیر معذبك ولا ولدك بیشك اﷲ تعالی نہ تجھے عذاب فرمائے گا نہ تیری اولاد کو۔
حضرت فاطمہ کی وجہ تسمیہ :
ابن عساکر حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہسے راوی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
انما سمیت فاطمۃ لان اﷲ فطمہا وذریتہا عن النار یوم القیمۃ فاطمہ اس لئے نام ہوا کہ اﷲ عزوجل نے اسے اور اس کی نسل کو روز قیامت آگ سے محفوظ فرمادیا۔
اہل بیت آگ میں نہیں جاسکتے :
قرطبی آیہ کریمہ “ و لسوف یعطیک ربک فترضی ﴿۵﴾ “ کی تفسیر میں حضرت ترجمان القرآن رضی اللہ تعالی عنہسے ناقل کہ انہوں نے فرمایا :
رضا محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ان لا یدخل احد من اھل بیتہ النار یعنی اﷲ عزوجل نے حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے راضی کردینے کا وعدہ فرمایا اور محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی رضا اس میں ہے کہ ان کے اہل بیت سے کوئی دوزخ میں نہ جائے۔
نار دوقسم کی ہے نار تطہیرکہ مومن عاصی جس کا مستحق ہو اور نار خلود کافرکے لئے ہے اہل بیت کرام
عــــــہ : افادہ الھیثمی فی الصواعق حیث قال جاء بسند رواتہ ثقات انہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم قال لفاطمۃ فذکرہ۔ ۱۲ منہ(م) ہیثمی نے صواعق میں اس کا افادہ کیا جہاں انہوں نے کہا سند کے ساتھ مروی جس کے تمام راوی ثقہ ہیں کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے حضرت فاطمہ رضی اﷲ تعالی عنہا کو فرمایا تو پھر اس حدیث کا ذکر کیا ۱۲ منہ(ت)
حوالہ / References
المعجم الکبیر عن ابن عباس حدیث ۱۱۶۸۵ ، المکتبۃ الفیصلیۃ ، بیروت ، ۱۱ / ۲۶۳
المواہب اللدنیہ ، بحوالہ ابن عساکر ، المقصد الثانی ، الفصل الثانی ، المکتب الاسلامی ، بیروت ، ۲ / ۶۴ ، تنزیہ الشریعۃ بحوالہ ابن عساکر باب مناقب السبطین الخ الفصل الاول ، دارالکتب العلمیہ ، بیروت ، ۱ / ۴۱۳
الجامع لاحکام القرآن(تفسیر القرطبی)تحت اٰیۃ ولسوف یعطیك ربک ، داراحیاء التراث العربی ، بیروت ، ۲۰ / ۹۵
المواہب اللدنیہ ، بحوالہ ابن عساکر ، المقصد الثانی ، الفصل الثانی ، المکتب الاسلامی ، بیروت ، ۲ / ۶۴ ، تنزیہ الشریعۃ بحوالہ ابن عساکر باب مناقب السبطین الخ الفصل الاول ، دارالکتب العلمیہ ، بیروت ، ۱ / ۴۱۳
الجامع لاحکام القرآن(تفسیر القرطبی)تحت اٰیۃ ولسوف یعطیك ربک ، داراحیاء التراث العربی ، بیروت ، ۲۰ / ۹۵
میں حضرت امیر المؤمنین مرتضی و حضرت بتول زہرا و حضرت سید مجتبی و حضرت شہید کربلا صلی اﷲ تعالی علی سید ہم و علیہم وبارك وسلم تو بالقطع والیقین ہر قسم سے ہمیشہ ہمیشہ محفوظ ہیں اس پر تو اجماع قائم اور نصوص متواترہ حاکم باقی نسل کریم تا قیام قیامت کے حق میں اگر بفضلہ تعالی مطلق دخول سے محفوظی لیجئے اور یہی ظاہر لفظ سے متبادر اور اسی طرف کلمات اہل تحقیق ناظر جب تو مراد بہت ظاہر اور منع خلود مقصود جب بھی نفی کفر پر دلالت موجود۔ شرح المواہب للعلامۃ الزرقانی میں زیر حدیث مذکور :
انما سمیت فاطمۃ ھی فاما ھی وابنا ھا فالمنع مطلق واما من عداھم فالممنوع عنھم نار الخلود
واما مارواہ ابو نعیم والخطیب ان علیا الرضا بن موسی الکاظم ابن جعفر الصادق سئل عن حدیث ان فاطمۃ احصنت فقال خاص بالحسن و الحسین وما نقلہ الاخبار یون عنہ من توبیخہ لاخیہ زید حین خرج علی المامون وقولہ اغرك قولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ان فاطمۃ احصنت الحدیث ان ھذا لمن خرج من بطنہا لا لی ولا لك فھذا من باب التواضع وعدم الاغترار بالمناقب وان کثرت کما کان الصحابۃ المقطوع لھم بالجنۃ علی غایۃ من الخوف والمراقبۃ والا فلفظ ذریۃ لا یخص بمن خرج من بطنھا فی لسان العرب ومن ذریتہ بیشك فاطمہ رضی اﷲ تعالی عنہا کا یہ نام ہے لیکن فاطمہ اور ان کے بیٹے تو ان پر مطلقا جہنم کی آگ ممنوع ہے لیکن ان کے ماسوا کے لئے جہنم کا خلود ممنوع ہے۔ آپ پر اور ان پر اﷲ تعالی کا سلام ہو۔ اور لیکن جو ابونعیم اور خطیب نے روایت کیا ہے کہ علی رضا بن موسی کاظم ابن جعفر الصادق سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا گیا کہ فاطمہ نے اپنے حرم گاہ کو محفوظ رکھا تو انہوں نے جواب میں فرمایا یہ حسن اور حسین کے لئے خاص ہے اور وہ جو مورخین نے ان سے یہ نقل کیا کہ انہوں نے اپنے بھائی زید کو ڈانٹتے ہوئے فرمایا جب اس نے مامون پر خروج کیااو رکہا کیا تجھے حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے اس فرمان نے غرور میں مبتلا کیا ہے کہ فاطمہ نے اپنی حرم گاہ کو محفوظ رکھا ہے۔ (الحدیث)اس پر انہوں نے فرمایا یہ میرے اور تیرے لئے خاص نہیں بلکہ جو آپ رضی اﷲ تعالی عنہا کے بطن سے پیدا ہوا ہے ان سب کے لئے ہے تو یہ تواضع اور مناقب کثیرہ کے باوجود غرور نہ کرنے کے باب سے ہے جیسے صحابہ کرام رضوان اﷲ علیہم اجمعین کے لئے جنت قطعی ہے اس کے باوجود وہ خوف و مراقبہ میں مبتلا تھے ورنہ تو ذریت کا لفظ عربی
انما سمیت فاطمۃ ھی فاما ھی وابنا ھا فالمنع مطلق واما من عداھم فالممنوع عنھم نار الخلود
واما مارواہ ابو نعیم والخطیب ان علیا الرضا بن موسی الکاظم ابن جعفر الصادق سئل عن حدیث ان فاطمۃ احصنت فقال خاص بالحسن و الحسین وما نقلہ الاخبار یون عنہ من توبیخہ لاخیہ زید حین خرج علی المامون وقولہ اغرك قولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ان فاطمۃ احصنت الحدیث ان ھذا لمن خرج من بطنہا لا لی ولا لك فھذا من باب التواضع وعدم الاغترار بالمناقب وان کثرت کما کان الصحابۃ المقطوع لھم بالجنۃ علی غایۃ من الخوف والمراقبۃ والا فلفظ ذریۃ لا یخص بمن خرج من بطنھا فی لسان العرب ومن ذریتہ بیشك فاطمہ رضی اﷲ تعالی عنہا کا یہ نام ہے لیکن فاطمہ اور ان کے بیٹے تو ان پر مطلقا جہنم کی آگ ممنوع ہے لیکن ان کے ماسوا کے لئے جہنم کا خلود ممنوع ہے۔ آپ پر اور ان پر اﷲ تعالی کا سلام ہو۔ اور لیکن جو ابونعیم اور خطیب نے روایت کیا ہے کہ علی رضا بن موسی کاظم ابن جعفر الصادق سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا گیا کہ فاطمہ نے اپنے حرم گاہ کو محفوظ رکھا تو انہوں نے جواب میں فرمایا یہ حسن اور حسین کے لئے خاص ہے اور وہ جو مورخین نے ان سے یہ نقل کیا کہ انہوں نے اپنے بھائی زید کو ڈانٹتے ہوئے فرمایا جب اس نے مامون پر خروج کیااو رکہا کیا تجھے حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے اس فرمان نے غرور میں مبتلا کیا ہے کہ فاطمہ نے اپنی حرم گاہ کو محفوظ رکھا ہے۔ (الحدیث)اس پر انہوں نے فرمایا یہ میرے اور تیرے لئے خاص نہیں بلکہ جو آپ رضی اﷲ تعالی عنہا کے بطن سے پیدا ہوا ہے ان سب کے لئے ہے تو یہ تواضع اور مناقب کثیرہ کے باوجود غرور نہ کرنے کے باب سے ہے جیسے صحابہ کرام رضوان اﷲ علیہم اجمعین کے لئے جنت قطعی ہے اس کے باوجود وہ خوف و مراقبہ میں مبتلا تھے ورنہ تو ذریت کا لفظ عربی
داؤد وسلیمن الایۃ وبینھم وبینہ قرون کثیرۃ فلا یرید ذلك مثل علی الرضا مع فصاحتہ ومعرفتہ لغۃ العرب علی ان التقلید بالطائع یبطل خصوصیۃ ذریتھا ومحبیھا الا ان یقال ﷲ تعذیب الطائع فالخصوصیۃ ان لا یعذ بہ اکراما لھا واﷲ اعلم ۱ھ مختصرا و رأیتنی کتبت علی ھا مش قولہ الا ان یقال ما نصہ۔ اقول : ولا یجدی فان الوقوع ممنوع باجماع اھل السنۃ واما الامکان فثابت عند من یقول بہ الی خلاف ائمتنا الماتریدۃ رضی اﷲ تعالی عنھم فانھم یحیلونہ وقد تکلمت فی مسئلۃ علی ھامش فواتح الرحموت شرح مسلم الثبوت لبحرا لعلوم بما یکفی ویشفی فانی اجدنی فیھا ارکن وامیل الی قول ساداتنا الاشعریۃ رحمھم اﷲ تعالی و رحمنا بھم جمیعا واﷲ اعلم بالصواب فی کل باب۔ زبان میں ایك پیٹ کی اولاد کے لئے خاص نہیں جیسے آیہ کریمہ ومن ذریتہ داؤد سلیمن ہے حالانکہ ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام اور داؤد و سلیمن علیہما السلام کے درمیان کئی قرون کا فاصلہ ہے لہذا علی رضا اپنی فصاحت اور عربی لغت کی معرفت کے باوجود یہ خاص مراد نہیں لے سکتے علاوہ ازیں نافرمان کی تقلید حضرت زہرا رضی اﷲ تعالی عنہا کی اولاد کی خصوصیت کو باطل کردیتی ہے مگر یوں کہا جاسکتا ہے کہ اﷲ تعالی کو نافرمان کی تعذیب کا اختیار ہے لیکن حضرت زہرا رضی اﷲ تعالی عنہا کے اکرام کے لئے اسے ۱ عذاب نہیں دیتا واﷲ تعالی اعلم ۱ھ مختصرا۔ میں نے زرقانی کے قول “ الا ان یقال “ پر حاشیہ لکھا ہے جس کی عبارت یہ ہے اقول : (میں کہتا ہوں)ان کا یہ بیان مفید نہیں ہے عذاب کا وقوع تو باجماع اہلسنت ممنوع ہے باقی رہا امکان تو یہ اس قائل کے ہاں ثابت ہے جو ہمارے ائمہ ماتریدیہ رضی اﷲ تعالی عنہم کے خلاف ہے کیونکہ یہ ائمہ محال سمجھتے ہیں میں نے اس مسئلہ پر کتاب مسلم الثبوت کی شرح بحرالعلوم فواتح الرحموت پر حاشیہ میں کافی اور شافی بحث کی ہے میں نے وہاں اپنے کو سادات اشعریہ رحمہم اﷲ کے قول کی طرف مائل پایا اﷲ تعالی ہم سب پر رحم فرمائے۔ (واﷲ تعالی اعلم)
فتاوی حدیثیہ امام ابن حجر مکی میں ہے :
اذا تقرر ذلك فمن علمت نسبتہ الی ال تو جب یہ ثابت ہوا تو جس کی نسبت اہلبیت نبی اور
فتاوی حدیثیہ امام ابن حجر مکی میں ہے :
اذا تقرر ذلك فمن علمت نسبتہ الی ال تو جب یہ ثابت ہوا تو جس کی نسبت اہلبیت نبی اور
حوالہ / References
شرح الزرقانی المواہب اللدنیۃ ، المقصد الثانی ، الفصل الثانی ، دارالمعرفۃ ، بیروت ، ۳ / ۲۰۳
البیت النبوی والسرالعلوی لا یخرجہ عن ذلك عظیم جنایتہ ولا عدم دیانتہ وصیانتہ ومن ثم قال بعض المحققین ما مثال الشریف الزانی او الشارب او السارق مثلا اذا اقمنا علیہ الحد الا کامیر اوسلطان تلطخت رجلاہ بقذر فغسلہ عنھما بعض خدمہ ولقدبر فی ھذا المثال وحقق ولیتأمل قول الناس فی امثالھم الولد العاق لا یحرم المیراث نعم الکفران فرض وقوعہ لاحد من اھل البیت والعیاذ باﷲ تعالی ھو الذی یقطع النسبۃ بین من وقع منہ وبین شرفہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم انما قلت ان فرض لا ننی اکادان اجزم ان حقیقۃ الکفر لا تقع ممن علم اتصال نسبہ الصحیح بتلك البضغۃ الکریمۃ حاشا ھم اﷲ من ذلك و قد احال بعضھم وقوع نحو الزنا واللواط ممن علم شرفہ فما ظنك بالکفر علوی حضرات کی طرف معلوم ہے تو اس کی بڑی جنایت اور عدم دیانت وصیانت اس کو اس نسبت سے خارج نہ کرے گی اس بات کی بناء پر بعض محققین نے فرمایا زانی یا شرابی یا چو رسید پر حد قائم کرنے کی مثال صرف یہی ہے جیسے امیر یا سلطان کا کوئی خادم اس کے پاؤں پر لگی نجاست کو صاف کرے اس مثال کو غور سے سمجھا جائے اور لوگوں کی اس بات پر بھی غور کیا جائے کہ نافرمان اولاد وراثت سے محروم نہیں ہوتی ہاں اگر ان حضرات سے کفر کا وقوع فرض کیا جائے والعیاذ باﷲ تو اس سے وہ نسبت منقطع ہوجائے گی میں نے صرف فرض کرنے کی بات اس لئے کی ہے کیونکہ مجھے جزم کی حد تك یقین ہے کہ جو صحیح النسب سید ہو اس سے حقیقی کفر کا وقوع نہیں ہوسکتا اﷲ تعالی ان کو اس سے بلند رکھے بعض نے ان سے زنا اور لواطت جیسے افعال کو بھی محال کہا ہے بشرطیکہ ان کی نسبی شرافت یقینی ہو تو پھر کفر کے متعلق تیرا کیا خیال ہے۔ (ت)
حوالہ / References
فتاوٰی حدیثیہ ، طلب ما الحکمۃ فی خصوص اولاد فاطمہ بالمشرف ، المطبعۃ الجمالیہ ، مصر ، ص ۱۲۲
شیخ اکبر اور اہلبیت :
امام الطریقۃ لسان الحقیقۃ شیخ اکبر رضی اللہ تعالی عنہفتوحات مکیہ باب ۲۹ میں فرماتے ہیں :
لما کان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم عبدا مخصا قد طھرہ اﷲ و اھل بیتہ تطھیرا واذھب عنہم الرجس وھو کل ما یشینھم فھم المطھرون بل ھم عین الطھارۃ فھذہ الایۃ تدل علی ان اﷲ تعالی قد شرك اھل البیت مع رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فی قولہ تعالی
“ لیغفر لک اللہ ما تقدم من ذنبک و ما تاخر “ و ای وسخ وقذر من الذنوب فطھر اﷲ سبحانہ نبیہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بالمغفرۃ مما ھو ذنب بالنسبۃ الینا فدخل الشرفاء اولاد فاطمۃ کلھم رضی اﷲ تعالی عنہم الی یوم القیمۃ فی حکم ھذہ الایۃ من الغفران الی اخر ما افادوا جا دو ثمہ کلام طویل نفیس جلیل فعلیك بہ رزقنا اﷲ العمل بما یحبہ ویرضاہ امین! جب حضور علیہ الصلوۃ والسلام اﷲ تعالی کے خاص عبد ہیں کہ ان کو اور ان کے اہل بیت کو کامل طورپر پاك کردیا ہے اور ناپاکی کو ان سے دور کردیا ہے اور رجس ہر ایسی چیز ہے جو ان حضرات کو داغدار کرے تو وہ پاکیزہ لوگ بلکہ وہ عین طہارت ہیں تو اﷲ تعالی نے حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ اہل بیت کو طہارت میں شریك فرمایا ہے جس پر آیہ کریمہ ہے “ لیغفر لك اﷲ “ اﷲتعالی نے آپ کے لئے پہلے اور پچھلے آپ کے خطا یا معاف کردئے یعنی گناہوں کی میل و قذر سے آپ کو پاك رکھا ہے جو ہماری نسبت سے گناہ ہوسکتے ہیں تو تمام سادات حضرت فاطمہ رضی اﷲ تعالی عنہا کی اولاد اس حکم میں داخل ہے الخ تك جو حضر ت شیخ نے بہترین فائدہ مند کلام فرمایا یہاں آپ کا جلیل نفیس طویل کلام ہے تو آپ پر لازم ہے کہ اس کی طرف راجع ہوں اﷲ تعالی ہمیں اپنے پسندیدہ عمل کا حصہ عطا فرمائے آمین!(ت)
امام الطریقۃ لسان الحقیقۃ شیخ اکبر رضی اللہ تعالی عنہفتوحات مکیہ باب ۲۹ میں فرماتے ہیں :
لما کان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم عبدا مخصا قد طھرہ اﷲ و اھل بیتہ تطھیرا واذھب عنہم الرجس وھو کل ما یشینھم فھم المطھرون بل ھم عین الطھارۃ فھذہ الایۃ تدل علی ان اﷲ تعالی قد شرك اھل البیت مع رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فی قولہ تعالی
“ لیغفر لک اللہ ما تقدم من ذنبک و ما تاخر “ و ای وسخ وقذر من الذنوب فطھر اﷲ سبحانہ نبیہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بالمغفرۃ مما ھو ذنب بالنسبۃ الینا فدخل الشرفاء اولاد فاطمۃ کلھم رضی اﷲ تعالی عنہم الی یوم القیمۃ فی حکم ھذہ الایۃ من الغفران الی اخر ما افادوا جا دو ثمہ کلام طویل نفیس جلیل فعلیك بہ رزقنا اﷲ العمل بما یحبہ ویرضاہ امین! جب حضور علیہ الصلوۃ والسلام اﷲ تعالی کے خاص عبد ہیں کہ ان کو اور ان کے اہل بیت کو کامل طورپر پاك کردیا ہے اور ناپاکی کو ان سے دور کردیا ہے اور رجس ہر ایسی چیز ہے جو ان حضرات کو داغدار کرے تو وہ پاکیزہ لوگ بلکہ وہ عین طہارت ہیں تو اﷲ تعالی نے حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ اہل بیت کو طہارت میں شریك فرمایا ہے جس پر آیہ کریمہ ہے “ لیغفر لك اﷲ “ اﷲتعالی نے آپ کے لئے پہلے اور پچھلے آپ کے خطا یا معاف کردئے یعنی گناہوں کی میل و قذر سے آپ کو پاك رکھا ہے جو ہماری نسبت سے گناہ ہوسکتے ہیں تو تمام سادات حضرت فاطمہ رضی اﷲ تعالی عنہا کی اولاد اس حکم میں داخل ہے الخ تك جو حضر ت شیخ نے بہترین فائدہ مند کلام فرمایا یہاں آپ کا جلیل نفیس طویل کلام ہے تو آپ پر لازم ہے کہ اس کی طرف راجع ہوں اﷲ تعالی ہمیں اپنے پسندیدہ عمل کا حصہ عطا فرمائے آمین!(ت)
حوالہ / References
الفتوحات المکیۃ ، الباب التاسع والعشرون ، داراحیاء التراث العربی بیروت ، ۱ / ۱۹۶
بدعقیدہ سید :
اگر کہے بعض کٹر نیچری بیشمار اشد غالی رافضی بہت سچے ملحد جھوٹے صوفی کچھ ہفت خاتم شش مثل والے وہابی غرض بکثرت
کفار کہ صراحۃ منکرین ضروریات دین ہیں سید کہلاتے میر فلاں لکھے جاتے ہیں۔
اقول : کہلانے سے واقعیت تك ہزاروں منزل ہیں نسب میں اگرچہ شہرت پر قناعت والناس امناء علی انسابھم(لوگ اپنے نسبوں میں امین ہیں۔ ت)مگر جب خلاف پر دلیل قائم ہو تو شہرت بے دلیل نامقبول وعلیل اور خود اس کے کفر سے بڑھ کر نفی سیادت پر اور کیا دلیل درکار کافر نجس ہے قال تعالی “ انما المشرکون نجس “ (اﷲ تعالی نے فرمایا : بے شك مشرك نر ے ناپاك ہیں)اور سادات کرام طیب و طاہر قال اﷲ تعالی “ و یطہرکم تطہیرا ﴿۳۳﴾ “ (اﷲ تعالی نے فرمایا : اور تمہیں پاك کر کے خوب ستھرا کردے)اور نجس و طاہر باہم متبائن ہیں کہ ایك شیئ پر معا ان کا صدق محال جب علمائے کرام تصریح فرما چکے کہ سید صحیح النسب سے کفر واقع نہ ہوگا اور یہ شخص صراحۃ کافر تو اس کا سید صحیح النسب نہ ہونا ضرورۃ ظاہر اب اگر اس نسب کریم سے انتساب پر کوئی سند معتمد نہ رکھتا ہو تو امر آسان ہے ہزاروں اپنی اغراض فاسدہ سے براہ دعوی سید بن بیٹھے : ع
غلہ تا ارزاں شود امسال سید می شوم
(اس سال سید بنوں گا تاکہ خوراك میں آسانی ہو)
رافضی سید : رافضی صاحبوں کے یہاں تو یہ بائیں ہاتھ کا کھیل ہے آج ایك رذیل سا رذیل دوسرے شہر میں جاکر رفض اختیار کرے کل میر صاحب کا تمغا پائے توفلاں کافر سے کیا دور ہے کہ خودبن بیٹھا ہو یا اس کے باپ دادا میں کسی نے ادعائے سیادت کیا اور جب سے یونہی مشہور چلا آتا ہو اور اگر بالفرض کوئی سند بھی ہو تو اس پر کیا دلیل ہے کہ یہ اسی خاندان کا ہے جس کی نسبت یہ شہادت تامہ ہے علامہ محمد بن علی صبان مصری اسعاف الراغبین فی سیرۃ المصطفی و فضائل اھل بیت الطاھرین میں فرماتے ہیں :
ومن این تحقق ذلك لقیام احتمال زوال بعض النساء و کذب بعض الاصول فی الانتساب یہ کیسے ثابت ہوا جبکہ بعض عورتوں کی غلط کاری اور نسب بنانے میں بعض مردوں کے جھوٹ کا احتمال ہے۔ (ت)
اگر کہے بعض کٹر نیچری بیشمار اشد غالی رافضی بہت سچے ملحد جھوٹے صوفی کچھ ہفت خاتم شش مثل والے وہابی غرض بکثرت
کفار کہ صراحۃ منکرین ضروریات دین ہیں سید کہلاتے میر فلاں لکھے جاتے ہیں۔
اقول : کہلانے سے واقعیت تك ہزاروں منزل ہیں نسب میں اگرچہ شہرت پر قناعت والناس امناء علی انسابھم(لوگ اپنے نسبوں میں امین ہیں۔ ت)مگر جب خلاف پر دلیل قائم ہو تو شہرت بے دلیل نامقبول وعلیل اور خود اس کے کفر سے بڑھ کر نفی سیادت پر اور کیا دلیل درکار کافر نجس ہے قال تعالی “ انما المشرکون نجس “ (اﷲ تعالی نے فرمایا : بے شك مشرك نر ے ناپاك ہیں)اور سادات کرام طیب و طاہر قال اﷲ تعالی “ و یطہرکم تطہیرا ﴿۳۳﴾ “ (اﷲ تعالی نے فرمایا : اور تمہیں پاك کر کے خوب ستھرا کردے)اور نجس و طاہر باہم متبائن ہیں کہ ایك شیئ پر معا ان کا صدق محال جب علمائے کرام تصریح فرما چکے کہ سید صحیح النسب سے کفر واقع نہ ہوگا اور یہ شخص صراحۃ کافر تو اس کا سید صحیح النسب نہ ہونا ضرورۃ ظاہر اب اگر اس نسب کریم سے انتساب پر کوئی سند معتمد نہ رکھتا ہو تو امر آسان ہے ہزاروں اپنی اغراض فاسدہ سے براہ دعوی سید بن بیٹھے : ع
غلہ تا ارزاں شود امسال سید می شوم
(اس سال سید بنوں گا تاکہ خوراك میں آسانی ہو)
رافضی سید : رافضی صاحبوں کے یہاں تو یہ بائیں ہاتھ کا کھیل ہے آج ایك رذیل سا رذیل دوسرے شہر میں جاکر رفض اختیار کرے کل میر صاحب کا تمغا پائے توفلاں کافر سے کیا دور ہے کہ خودبن بیٹھا ہو یا اس کے باپ دادا میں کسی نے ادعائے سیادت کیا اور جب سے یونہی مشہور چلا آتا ہو اور اگر بالفرض کوئی سند بھی ہو تو اس پر کیا دلیل ہے کہ یہ اسی خاندان کا ہے جس کی نسبت یہ شہادت تامہ ہے علامہ محمد بن علی صبان مصری اسعاف الراغبین فی سیرۃ المصطفی و فضائل اھل بیت الطاھرین میں فرماتے ہیں :
ومن این تحقق ذلك لقیام احتمال زوال بعض النساء و کذب بعض الاصول فی الانتساب یہ کیسے ثابت ہوا جبکہ بعض عورتوں کی غلط کاری اور نسب بنانے میں بعض مردوں کے جھوٹ کا احتمال ہے۔ (ت)
حوالہ / References
القرآن الکریم ۹ /۲۸
القرآن الکریم ۳۳ /۳۳
اسعاف الراغبین فی سیرۃ المصطفٰی وفضائل اہل البیت الطاہرین ، محمد بن علی صبان مصری
القرآن الکریم ۳۳ /۳۳
اسعاف الراغبین فی سیرۃ المصطفٰی وفضائل اہل البیت الطاہرین ، محمد بن علی صبان مصری
یہ وجوہ ہیں ورنہ حاشا ﷲ ہزار ہزار حاشاﷲ نہ بطن پاك حضرت بتول زہرا میں معاذ اﷲ کفر و کافری کی گنجائش نہ جسم اطہر سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا کوئی پارہ کتنے ہی بعدپر عیاذا باﷲ دخول نار کے لائق الحمدﷲ یہ دو دلیل جلیل واجب التعویل ہیں کہ کوئی عقیدہ کفریہ رکھنے والا رافضی وہابی متصوف نیچری ہر گز سید صحیح النسب نہیں۔ تین قیاس پر مشتمل
دلیل اول :
(۱)یہ شخص کافر ہے اور ہر کافر نجس۔ نتیجہ : یہ شخص نجس ہے۔
(۲)ہر سید صحیح النسب طاہر ہے اور کوئی طاہر نجس نہیں نتیجہ : کوئی سید صحیح النسب نجس نہیں۔
(۳)اب یہ دونوں نتیجے ضم کیجئے یہی شخص نجس ہے اور کوئی سید صحیح النسب نجس نہیں۔
نتیجہ : یہ شخص سید صحیح النسب نہیں۔
قیاس اول کا صغری مفروض اور کبری منصوص اور دوم کا صغری منصوص اور کبری بدیہی تو نتیجہ قطعی۔
دلیل دوم :
قیاس مرکب یہ بھی تین قیاسوں کو متضمن یہ شخص کافر ہے اور ہر کافر مستحق نار۔
نتیجہ : یہ شخص مستحق نار ہے اور نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے جسم اقدس کا کوئی پارہ مستحق نار نہیں۔
نتیجہ : یہ شخص نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے جسم اقدس کا پارہ نہیں اور ہر سیدصحیح النسب نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے جسم اقدس کا پارہ ہے۔
نتیجہ : یہ شخص سید صحیح النسب نہیں۔
پہلا کبری منصوص قرآن اور دوسرے کا شاہد ہر مومن کا ایمان اور تیسرا عقلا و فقہا واضح البیان۔
و الحمدﷲ الکریم المنان والصلوۃ والسلام الاتمان الاکملان علی سیدنا ومولانا سید الانس والجان خاتم النبیین بنص الفرقان وعلی الہ وصحبہ و تابعیھم باحسان وعلینا معھم یااﷲ یارحمن امین امین یارؤف یاحنان سبحانك اللھم و بحمدك اشھد ان لا الہ الا انت استغفرك واتوب الیك واﷲ سبحانہ وتعالی تمام تعریفیں احسان فرمانے والے اﷲ کریم کے لئے تام وکامل صلوۃ وسلام ہمارے آقا و مولی انسان و جن کے سردار قرآنی نص سے خاتم النبیین اور آپ کی آل واصحاب اور تابعین اور ان کے ساتھ ہم پر یا اﷲ یا رحمان آمین آمین اے شفقت ومہربانی فرمانے والے! تو پاك ہے اے اﷲ! اور تیری ہی تعریفیں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے بغیر کوئی معبود برحق نہیں تجھ سے بخشش کا طالب ہوں اور تیری طرف ہی رجوع اﷲ سبحانہ وتعالی
دلیل اول :
(۱)یہ شخص کافر ہے اور ہر کافر نجس۔ نتیجہ : یہ شخص نجس ہے۔
(۲)ہر سید صحیح النسب طاہر ہے اور کوئی طاہر نجس نہیں نتیجہ : کوئی سید صحیح النسب نجس نہیں۔
(۳)اب یہ دونوں نتیجے ضم کیجئے یہی شخص نجس ہے اور کوئی سید صحیح النسب نجس نہیں۔
نتیجہ : یہ شخص سید صحیح النسب نہیں۔
قیاس اول کا صغری مفروض اور کبری منصوص اور دوم کا صغری منصوص اور کبری بدیہی تو نتیجہ قطعی۔
دلیل دوم :
قیاس مرکب یہ بھی تین قیاسوں کو متضمن یہ شخص کافر ہے اور ہر کافر مستحق نار۔
نتیجہ : یہ شخص مستحق نار ہے اور نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے جسم اقدس کا کوئی پارہ مستحق نار نہیں۔
نتیجہ : یہ شخص نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے جسم اقدس کا پارہ نہیں اور ہر سیدصحیح النسب نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے جسم اقدس کا پارہ ہے۔
نتیجہ : یہ شخص سید صحیح النسب نہیں۔
پہلا کبری منصوص قرآن اور دوسرے کا شاہد ہر مومن کا ایمان اور تیسرا عقلا و فقہا واضح البیان۔
و الحمدﷲ الکریم المنان والصلوۃ والسلام الاتمان الاکملان علی سیدنا ومولانا سید الانس والجان خاتم النبیین بنص الفرقان وعلی الہ وصحبہ و تابعیھم باحسان وعلینا معھم یااﷲ یارحمن امین امین یارؤف یاحنان سبحانك اللھم و بحمدك اشھد ان لا الہ الا انت استغفرك واتوب الیك واﷲ سبحانہ وتعالی تمام تعریفیں احسان فرمانے والے اﷲ کریم کے لئے تام وکامل صلوۃ وسلام ہمارے آقا و مولی انسان و جن کے سردار قرآنی نص سے خاتم النبیین اور آپ کی آل واصحاب اور تابعین اور ان کے ساتھ ہم پر یا اﷲ یا رحمان آمین آمین اے شفقت ومہربانی فرمانے والے! تو پاك ہے اے اﷲ! اور تیری ہی تعریفیں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے بغیر کوئی معبود برحق نہیں تجھ سے بخشش کا طالب ہوں اور تیری طرف ہی رجوع اﷲ سبحانہ وتعالی
اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم و احکم۔ بڑے علم والا اور اسی جل مجدہ کا علم نہایت تام اور نہایت قطعی ہے۔ (ت)
کتبــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ
عبدہ المذنب احمد رضا البریلوی عفی عنہ محمد
المصطفی النبی الامی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم
تقریظ جناب مولانا شیخ احمد مکی مدرس مکہ معظمہ دام مجدہ
الحمد ﷲ الذی جعلنا من ذوی العقول و منحنا بالرضا والقبول نسألہ الصلوۃ والسلام کما ینبغی لجلال عظمۃ قدر نبینا و سیدنا محمد صلی اﷲ علیہ وسلم خاتم الانبیاء وسید کل رسول اشھد ان لا الہ الا اﷲ وحدہ لا شریك لہ المنزہ عن الکذب والاقول والصلوۃ والسلام علی سیدنا محمدخاتم انبیائہ و اشرف رسلہ المبعوث الی کافۃ الخلق والی الاسود و الاحمر ھو الشافع المشفع فی المحشر صلی اﷲ تعالی علیہ وعلی الہ واصحابہ المصابیح العزر وعلی الائمۃ المجتھدین الی یوم الیقین اما بعد فقد نورت جفنی باثمدھذا الجواب فیاطرب من جواب اصاب لا یاتیہ الباطل من بین تمام تعریفیں اﷲ تعالی کے لئے جس نے ہمیں ذوالعقول بنایا اور رضا و قبول کا تحفہ دیا اس سے ہم اپنے نبی و سردار محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم جو انبیاء کے پچھلے اور تمام رسولوں کے سردار کی پر جلال عظمت قدر کے مناسب پر صلوۃ وسلام کا سوال کرتے ہیں میں گواہی دیتا ہوں کہ اﷲ وحدہ لا شریك کے بغیر کوئی معبود برحق نہیں جو کذب اور بے جا بات سے پاك ہے ہمارے سردار اﷲتعالی کے انبیاء و رسولوں کے خاتم و اشرف جو تمام مخلوق کی طرف مبعوث و ہ محشر کے روز شفاعت کرنے والے جن کی شفاعت مقبول ہے سیدنامحمدپر صلوۃ و سلام اور ان کی آل و اصحاب پر جو قابل قدر چراغ ہیں اور ائمہ مجتہدین پر قیامت تک امابعد میں نے اس جواب کے سرمہ اثمد سے اپنی پلکوں کو منور کیا کیا ہی خوشی ہے ایسے جواب باصواب سے کہ باطل اس کے قریب نہیں پھٹك سکتا بلکہ یہ نری ہدایت ہے جو حق وصواب تك پہنچانے
کتبــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ
عبدہ المذنب احمد رضا البریلوی عفی عنہ محمد
المصطفی النبی الامی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم
تقریظ جناب مولانا شیخ احمد مکی مدرس مکہ معظمہ دام مجدہ
الحمد ﷲ الذی جعلنا من ذوی العقول و منحنا بالرضا والقبول نسألہ الصلوۃ والسلام کما ینبغی لجلال عظمۃ قدر نبینا و سیدنا محمد صلی اﷲ علیہ وسلم خاتم الانبیاء وسید کل رسول اشھد ان لا الہ الا اﷲ وحدہ لا شریك لہ المنزہ عن الکذب والاقول والصلوۃ والسلام علی سیدنا محمدخاتم انبیائہ و اشرف رسلہ المبعوث الی کافۃ الخلق والی الاسود و الاحمر ھو الشافع المشفع فی المحشر صلی اﷲ تعالی علیہ وعلی الہ واصحابہ المصابیح العزر وعلی الائمۃ المجتھدین الی یوم الیقین اما بعد فقد نورت جفنی باثمدھذا الجواب فیاطرب من جواب اصاب لا یاتیہ الباطل من بین تمام تعریفیں اﷲ تعالی کے لئے جس نے ہمیں ذوالعقول بنایا اور رضا و قبول کا تحفہ دیا اس سے ہم اپنے نبی و سردار محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم جو انبیاء کے پچھلے اور تمام رسولوں کے سردار کی پر جلال عظمت قدر کے مناسب پر صلوۃ وسلام کا سوال کرتے ہیں میں گواہی دیتا ہوں کہ اﷲ وحدہ لا شریك کے بغیر کوئی معبود برحق نہیں جو کذب اور بے جا بات سے پاك ہے ہمارے سردار اﷲتعالی کے انبیاء و رسولوں کے خاتم و اشرف جو تمام مخلوق کی طرف مبعوث و ہ محشر کے روز شفاعت کرنے والے جن کی شفاعت مقبول ہے سیدنامحمدپر صلوۃ و سلام اور ان کی آل و اصحاب پر جو قابل قدر چراغ ہیں اور ائمہ مجتہدین پر قیامت تک امابعد میں نے اس جواب کے سرمہ اثمد سے اپنی پلکوں کو منور کیا کیا ہی خوشی ہے ایسے جواب باصواب سے کہ باطل اس کے قریب نہیں پھٹك سکتا بلکہ یہ نری ہدایت ہے جو حق وصواب تك پہنچانے
یدیہ ولا من خلفہ بل ھدایۃ مھداۃ الی الحق و الصواب وکیف لا وھو للبحرالطمطام والحبر الفھام قدوۃ الفقھاء والمحدثین وزبدۃ الکملاء و المفسرین ریاض البلغاء المتکلمین ومرکز الفصحاء الماھرین جامع المتون وشارح الفنون التقی النقی نعمان الزمان مولانا الحاج الحافظ القاری الشیخ احمد رضا خاں لا زالت شموس افاضتہ علی العلمین مشرقۃ وصمصام اجوبتہ لاعناق الملحدین قاطعۃ جزاہ اﷲ عنا وعن المسلمین خیرا لجزاء وجمع اﷲ شملہ مع الاوتاد والنجباء فلعمری ان ھذا الجواب لا یقبلہ الا ذو قلب سلیم ولا یخوض فیہ بالباطل الا الملحد الزندیق الرجیم کما قیل
الحمدﷲ ان الحق قد ظھرا
الا علی اکمہ لا یعرف القمرا
من فاضل نال من ابائہ الشرفا
اروی سحاب نداہ الجن والبشرا
والحق ان من یضلل اﷲ فلا ھادی لہ ومن یھد ہ فلا مضل لہ اللھم اجعلنا متصفین بالافعال کما جعلتنا واصفین بالاقوال وارضنا وارض عنا بجاہ سیدنا محمد والال واحفظنا عن زائغ الزائغین ومن ھمزات الشیاطین واخر دعوانا والی ہے کیوں نہ ہو کہ ٹھاٹھیں مارتے ہوئے سمندر انتہائی فہم والے ماہر فقہاء اور محدثین کے مقتداء کاملین ومفسرین کے نشان بلیغ کلام والوں کے باغ فصیح ماہرین کے مرکز متون کے جامع فنون کے شارح پاکیزہ متقی نعمان وقت مولانا الحاج حافظ قاری الشیخ احمد رضا خاں کا یہ جواب ہے ان کے فیض کا سورج تمام جہانوں پر چمکتا رہے اور ان کے جوابات کی تلوا ر ملحدین کی گرد ن کو کاٹتی رہے اﷲ ان کو ہماری اور تمام مسلمانوں کی طرف سے جزائے خیر عطا فرمائے اور اﷲ تعالی ان کی مقبول خدمات کو اوتاد و نجباء کے ساتھ شمار فرمائے مجھے اپنی عمر کی قسم اس جواب کو صرف سلیم قلب والے لوگ ہی قبول کریں گے اور اس میں باطل کی تلاش صرف ملحد و زندیق مردود کو ہی ہوگی جیسے کسی نے کہا :
الحمد ﷲ بیشك حق ظاہر ہوا مگر اندھوں کے لئے نہیں جو چاند کو نہیں پہچانتے یہ ظہور ایسے فاضل سے ہوا جس نے اپنے آباء واجداد سے شرف پایا ا س کی مجلس کے بادل نے جن و بشر کو سیراب کیا۔
یہ حق ہے کہ جس کو اﷲ تعالی گمراہ کرے اس کا کوئی ہادی نہیں اور جس کو وہ ہدایت دے اس کو گمراہ کرنے والا کوئی نہیں اے اﷲ!ہمیں افعال میں ایسے متصف فرما جیسے تو نے ہمیں اقوال میں واصف بنایا حضور علیہ الصلوۃ والسلام اور ان کی آل پاك کے وسیلہ سے
الحمدﷲ ان الحق قد ظھرا
الا علی اکمہ لا یعرف القمرا
من فاضل نال من ابائہ الشرفا
اروی سحاب نداہ الجن والبشرا
والحق ان من یضلل اﷲ فلا ھادی لہ ومن یھد ہ فلا مضل لہ اللھم اجعلنا متصفین بالافعال کما جعلتنا واصفین بالاقوال وارضنا وارض عنا بجاہ سیدنا محمد والال واحفظنا عن زائغ الزائغین ومن ھمزات الشیاطین واخر دعوانا والی ہے کیوں نہ ہو کہ ٹھاٹھیں مارتے ہوئے سمندر انتہائی فہم والے ماہر فقہاء اور محدثین کے مقتداء کاملین ومفسرین کے نشان بلیغ کلام والوں کے باغ فصیح ماہرین کے مرکز متون کے جامع فنون کے شارح پاکیزہ متقی نعمان وقت مولانا الحاج حافظ قاری الشیخ احمد رضا خاں کا یہ جواب ہے ان کے فیض کا سورج تمام جہانوں پر چمکتا رہے اور ان کے جوابات کی تلوا ر ملحدین کی گرد ن کو کاٹتی رہے اﷲ ان کو ہماری اور تمام مسلمانوں کی طرف سے جزائے خیر عطا فرمائے اور اﷲ تعالی ان کی مقبول خدمات کو اوتاد و نجباء کے ساتھ شمار فرمائے مجھے اپنی عمر کی قسم اس جواب کو صرف سلیم قلب والے لوگ ہی قبول کریں گے اور اس میں باطل کی تلاش صرف ملحد و زندیق مردود کو ہی ہوگی جیسے کسی نے کہا :
الحمد ﷲ بیشك حق ظاہر ہوا مگر اندھوں کے لئے نہیں جو چاند کو نہیں پہچانتے یہ ظہور ایسے فاضل سے ہوا جس نے اپنے آباء واجداد سے شرف پایا ا س کی مجلس کے بادل نے جن و بشر کو سیراب کیا۔
یہ حق ہے کہ جس کو اﷲ تعالی گمراہ کرے اس کا کوئی ہادی نہیں اور جس کو وہ ہدایت دے اس کو گمراہ کرنے والا کوئی نہیں اے اﷲ!ہمیں افعال میں ایسے متصف فرما جیسے تو نے ہمیں اقوال میں واصف بنایا حضور علیہ الصلوۃ والسلام اور ان کی آل پاك کے وسیلہ سے
ان الحمد ﷲ رب العلمین نمقہ ببنانہ الراجی عفو ربہ الحفی الباری احمد المکی الجشتی الصابری الامدادی المدرس بالمدرسۃ الاحمدیۃ الواقعۃ فی مکۃ المحمیۃ ۱۳۱۷ھ۔ ہمیں راضی بنا اور ہم سے راضی رہ اور ہمیں گمراہوں کی گمراہی اور شیطانوں کی شیطنت سے محفوظ فرما ہماری آخری التجا اﷲ رب العالمین کی حمد ہے احمد مکی چشتی صابری امدادی مدرس مدرسہ احمدیہ نے ۱۳۱۷ھ میں اپنے دستخطوں سے مکہ مکرمہ میں جاری کیا۔ (ت)
_________________
نوٹ :
جلد پانز دھم کتاب السیر(حصہ دوم)ختم ہوئی
جلد شانز دھم کاآغاز کتاب الشرکۃ سے ہوگا۔
______________________
_________________
نوٹ :
جلد پانز دھم کتاب السیر(حصہ دوم)ختم ہوئی
جلد شانز دھم کاآغاز کتاب الشرکۃ سے ہوگا۔
______________________







