بسم الله الرحمن الرحیم ط
پیش لفظ
الحمد اﷲ! اعلیحضرت امام المسلمین مولانا شاہ احمد رضاخاں بریلوی رحمۃ اللہ تعالی علیہ کے خزائن علمیہ اور ذخائر فقہیہ کو جدید انداز میں عصر حاضر کے تقاضوں کے عین مطابق منظر عام پر لانے کے لئے دارالعلوم جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور میں رضافاؤنڈیشن کے نام سے جو ادارہ مارچ ۱۹۸۸ء میں قائم ہوا تھا وہ انتہائی کامیابی اور برق رفتاری سے مجوزہ منصوبہ کے ارتقائی مراحل کو طے کرتے ہوئے اپنے ہدف کی طرف بڑھ رہا ہے۔اب تک یہ ادارہ امام احمد رضا کی متعدد تصانیف شائع کرچکا ہے جن میں بین الاقوامی معیار کے مطابق شائع ہونے والی مندرجہ ذیل عربی تصانیف خاص اہمیت کی حامل ہیں:
(۱)الدولۃ المکیۃ بالمادۃ الغیبیۃ (۱۳۲۳ھ)
مع الفیوضات الملکیۃ لمحب الدولۃ المکیۃ (۱۳۲۶ھ)
(۲)انباء الحی ان کلامہ المصون تبیانا لکل شیئ (۱۳۲۶ھ)
مع التعلیقات حاسم المفتری علی السید البری (۱۳۲۸ھ)
(۳)کفل الفقیہ الفاھم فی احکام قرطاس الداراھم (۱۳۲۴ھ)
(۴)صیقل الرین عن احکام مجاورۃ الحرمین (۱۳۰۵ھ)
(۵)ھادی الاضحیۃ بالشاۃ الھندیۃ (۱۳۱۴ھ)
پیش لفظ
الحمد اﷲ! اعلیحضرت امام المسلمین مولانا شاہ احمد رضاخاں بریلوی رحمۃ اللہ تعالی علیہ کے خزائن علمیہ اور ذخائر فقہیہ کو جدید انداز میں عصر حاضر کے تقاضوں کے عین مطابق منظر عام پر لانے کے لئے دارالعلوم جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور میں رضافاؤنڈیشن کے نام سے جو ادارہ مارچ ۱۹۸۸ء میں قائم ہوا تھا وہ انتہائی کامیابی اور برق رفتاری سے مجوزہ منصوبہ کے ارتقائی مراحل کو طے کرتے ہوئے اپنے ہدف کی طرف بڑھ رہا ہے۔اب تک یہ ادارہ امام احمد رضا کی متعدد تصانیف شائع کرچکا ہے جن میں بین الاقوامی معیار کے مطابق شائع ہونے والی مندرجہ ذیل عربی تصانیف خاص اہمیت کی حامل ہیں:
(۱)الدولۃ المکیۃ بالمادۃ الغیبیۃ (۱۳۲۳ھ)
مع الفیوضات الملکیۃ لمحب الدولۃ المکیۃ (۱۳۲۶ھ)
(۲)انباء الحی ان کلامہ المصون تبیانا لکل شیئ (۱۳۲۶ھ)
مع التعلیقات حاسم المفتری علی السید البری (۱۳۲۸ھ)
(۳)کفل الفقیہ الفاھم فی احکام قرطاس الداراھم (۱۳۲۴ھ)
(۴)صیقل الرین عن احکام مجاورۃ الحرمین (۱۳۰۵ھ)
(۵)ھادی الاضحیۃ بالشاۃ الھندیۃ (۱۳۱۴ھ)
(۶)الصافیۃ الموحیۃ الموحیۃ لحکم جلود الاضحیۃ (۱۳۰۷ھ)
(۷)الاجازات المتینۃ لعلماء بکۃ والمدینۃ (۱۳۲۴ھ)
مگر اس ادارے کا عظیم ترین کارنامہ العطایا النبویۃ فی الفتاوی الرضویہ المعروف بہ فتاوی رضویہ کی تخریج وترجمہ کے ساتھ عمدہ وخوبصورت انداز میں اشاعت ہے۔فتاوی مذکورہ کی اشاعت کاآغاز شعبا ن المعظم ۱۴۱۰ھ /مارچ ۱۹۹۰ء میں ہوا تھا اور بفضلہ تعالی جل مجدہ وبعنایت رسولہ الکریم تقریبا تقریبا پندرہ۱۵ سال کے مختصر عرصہ میں انتیسویں۲۹ جلد آپ کے ہاتھوں میں ہے۔اس سے قبل شائع ہونے والی اٹھائیس جلدوں کے مشمولات کی تفصیل سنین اشاعت۔کتب وابوابمجموعی صفحاتتعداد سوالات وجوابات اوران میں شامل رسائل کی تعداد کے اعتبار سے حسب ذیل ہے:
جلد عنوان جوابات اسئلہ تعداد رسائل سنین اشاعت صفحات
۱ کتاب الطہارۃ ۲۲ ۱۱ شعبان المعظم ھ ______مارچ ء ۸۳۸
۲ کتاب الطہارۃ ۳۳ ۷ ربیع الثانی ___________نومبر ء ۷۱۰
۳ کتاب الطہارۃ ۵۹ ۶ شعبان المعظم _________فروری ۷۵۶
۴ کتاب الطہارۃ ۱۳۲ ۵ رجب المرجب ۱۱۳ ________جنوری ۷۶۰
۵ کتاب الصلوۃ ۱۴۰ ۶ ربیع الاول ___________ستمبر ۶۹۲
۶ کتاب الصلوۃ ۴۵۷ ۴ ربیع الاول ___________اگست ۷۳۶
۷ کتاب الصلوۃ ۲۶۹ ۷ رجب المرجب _________دسمبر ۷۲۰
۸ کتاب الصلوۃ ۳۳۷ ۶ محرم الحرام___________جون ۶۶۴
۹ کتاب الجنائز ۲۷۳ ۱۳ ذیقعدہ______________اپریل ۹۴۶
۱۰ کتاب زکوۃصومحج ۳۱۶ ۱۶ ربیع الاول___________اگست ۸۳۲
۱۱ کتاب النکاح ۴۵۹ ۶ محرم الحرام___________مئی ۷۳۶
۱۲ کتاب نکاحطلاق ۳۲۸ ۳ رجب المرجب_________نومبر ۶۸۸
۱۳ کتاب طلاقایمان اور حدود و تعزیر ۲۹۳ ۲ ذیقعدہ _____________مارچ ۶۸۸
۱۴ کتاب السیر ۳۳۹ ۷ جمادی الاخری ۱۴۱۹_________ستمبر ۱۹۹۸ ۷۱۲
(۷)الاجازات المتینۃ لعلماء بکۃ والمدینۃ (۱۳۲۴ھ)
مگر اس ادارے کا عظیم ترین کارنامہ العطایا النبویۃ فی الفتاوی الرضویہ المعروف بہ فتاوی رضویہ کی تخریج وترجمہ کے ساتھ عمدہ وخوبصورت انداز میں اشاعت ہے۔فتاوی مذکورہ کی اشاعت کاآغاز شعبا ن المعظم ۱۴۱۰ھ /مارچ ۱۹۹۰ء میں ہوا تھا اور بفضلہ تعالی جل مجدہ وبعنایت رسولہ الکریم تقریبا تقریبا پندرہ۱۵ سال کے مختصر عرصہ میں انتیسویں۲۹ جلد آپ کے ہاتھوں میں ہے۔اس سے قبل شائع ہونے والی اٹھائیس جلدوں کے مشمولات کی تفصیل سنین اشاعت۔کتب وابوابمجموعی صفحاتتعداد سوالات وجوابات اوران میں شامل رسائل کی تعداد کے اعتبار سے حسب ذیل ہے:
جلد عنوان جوابات اسئلہ تعداد رسائل سنین اشاعت صفحات
۱ کتاب الطہارۃ ۲۲ ۱۱ شعبان المعظم ھ ______مارچ ء ۸۳۸
۲ کتاب الطہارۃ ۳۳ ۷ ربیع الثانی ___________نومبر ء ۷۱۰
۳ کتاب الطہارۃ ۵۹ ۶ شعبان المعظم _________فروری ۷۵۶
۴ کتاب الطہارۃ ۱۳۲ ۵ رجب المرجب ۱۱۳ ________جنوری ۷۶۰
۵ کتاب الصلوۃ ۱۴۰ ۶ ربیع الاول ___________ستمبر ۶۹۲
۶ کتاب الصلوۃ ۴۵۷ ۴ ربیع الاول ___________اگست ۷۳۶
۷ کتاب الصلوۃ ۲۶۹ ۷ رجب المرجب _________دسمبر ۷۲۰
۸ کتاب الصلوۃ ۳۳۷ ۶ محرم الحرام___________جون ۶۶۴
۹ کتاب الجنائز ۲۷۳ ۱۳ ذیقعدہ______________اپریل ۹۴۶
۱۰ کتاب زکوۃصومحج ۳۱۶ ۱۶ ربیع الاول___________اگست ۸۳۲
۱۱ کتاب النکاح ۴۵۹ ۶ محرم الحرام___________مئی ۷۳۶
۱۲ کتاب نکاحطلاق ۳۲۸ ۳ رجب المرجب_________نومبر ۶۸۸
۱۳ کتاب طلاقایمان اور حدود و تعزیر ۲۹۳ ۲ ذیقعدہ _____________مارچ ۶۸۸
۱۴ کتاب السیر ۳۳۹ ۷ جمادی الاخری ۱۴۱۹_________ستمبر ۱۹۹۸ ۷۱۲
۱۵
کتاب السیر ۸۱ ۱۵ محرم الحرام۱۴۲۰__________ اپریل ۱۹۹۹ ۷۴۴
۱۶ کتاب الشرکۃکتاب الوقف ۴۳۲ ۳ جمادی الاولی ۱۴۰ __________ستمبر ۱۹۹۹ ۶۳۲
۱۷ کتاب البیوعکتاب الحوالہکتاب الکفالہ ۱۵۳ ۲ ذیقعد ۱۴۲۰ _____________فروری ۲۰۰۰ ۷۲۶
۱۸ کتاب الشھادۃکتاب القضاء و الدعاوی ۱۵۲ ۲ ربیع الثانی ۱۴۲۱___________جولائی ۲۰۰۰ ۷۴۰
۱۹ کتاب الوکالۃکتاب الاقرارکتاب الصلحکتاب المضاربۃکتاب الاماناتکتاب العاریۃکتاب الھبہکتاب الاجارۃکتاب الاکراہکتاب الحجرکتاب الغصب ۲۹۶ ۳ ذیقعدہ ۱۴۲۱ فروری ۲۰۰۱ ۶۹۲
۲۰ کتاب الشفعہکتاب القسمہکتاب المزارعہکتاب الصید و الذبائحکتاب الاضحیہ ۳۳۴ ۳ صفر المظفر______۱۴۲۲ ____مئی ۲۰۰۱ ۶۳۲
۲۱ کتاب الحظر و لاباحۃ(حصہ اول) ۲۹۱ ۹ ربیع الاول _____۱۴۲۳ _____مئی ۲۰۰۲ ۶۷۶
۲۲ کتاب الحظر و لاباحۃ(حصہ دوم) ۲۴۱ ۶ جمادی الاخری____۱۴۲۳___اگست ۲۰۰۲ ۶۹۲
۲۳ کتاب الحظر و لاباحۃ(حصہ سوم) ۴۰۹ ۷ ذو الحجہ_____۱۴۲۳______فروری ۲۰۰۳ ۷۶۸
۲۴ کتاب الحظر و لاباحۃ ۲۸۴ ۹ ذو الحجہ_____۱۴۲۳______فروری ۲۰۰۳ ۷۲۰
۲۵ کتاب المدایناتکتاب الاشربہکتاب الرھنباب القسمکتاب الوصایا ۱۸۳ ۳ رجب المرجب____۱۴۲۴ ___ستمبر ۲۰۰۳ ۶۵۸
۲۶ کتاب الفرائضکتاب الشتی حصہ اول ۳۲۵ ۸ محرم الحرام _____۱۴۲۵ مارچ _____۲۰۰۴ ۶۱۶
۲۷ کتاب الشتی حصہ دوم ۳۵ ۱۰ جمادی الاخری ____۱۴۲۵ ___اگست ۲۰۰۴ ۶۸۴
۲۸ کتاب الشتی حصہ سوم ۲۲ ۶ ذیقعدہ _____۱۴۲۵ ______جنوری ۲۰۰۵ ۶۸۴
فتاوی رضویہ قدیم کی پہلی آٹھ جلدوں کے ابواب کی ترتیب وہی ہے جو معروف ومتداول کتب فقہ و فتاوی میں مذکور ہے۔رضافاؤنڈیشن کی طرف سے شائع ہونے والی بیس۲۰ جلدوں میں اسی ترتیب کو
کتاب السیر ۸۱ ۱۵ محرم الحرام۱۴۲۰__________ اپریل ۱۹۹۹ ۷۴۴
۱۶ کتاب الشرکۃکتاب الوقف ۴۳۲ ۳ جمادی الاولی ۱۴۰ __________ستمبر ۱۹۹۹ ۶۳۲
۱۷ کتاب البیوعکتاب الحوالہکتاب الکفالہ ۱۵۳ ۲ ذیقعد ۱۴۲۰ _____________فروری ۲۰۰۰ ۷۲۶
۱۸ کتاب الشھادۃکتاب القضاء و الدعاوی ۱۵۲ ۲ ربیع الثانی ۱۴۲۱___________جولائی ۲۰۰۰ ۷۴۰
۱۹ کتاب الوکالۃکتاب الاقرارکتاب الصلحکتاب المضاربۃکتاب الاماناتکتاب العاریۃکتاب الھبہکتاب الاجارۃکتاب الاکراہکتاب الحجرکتاب الغصب ۲۹۶ ۳ ذیقعدہ ۱۴۲۱ فروری ۲۰۰۱ ۶۹۲
۲۰ کتاب الشفعہکتاب القسمہکتاب المزارعہکتاب الصید و الذبائحکتاب الاضحیہ ۳۳۴ ۳ صفر المظفر______۱۴۲۲ ____مئی ۲۰۰۱ ۶۳۲
۲۱ کتاب الحظر و لاباحۃ(حصہ اول) ۲۹۱ ۹ ربیع الاول _____۱۴۲۳ _____مئی ۲۰۰۲ ۶۷۶
۲۲ کتاب الحظر و لاباحۃ(حصہ دوم) ۲۴۱ ۶ جمادی الاخری____۱۴۲۳___اگست ۲۰۰۲ ۶۹۲
۲۳ کتاب الحظر و لاباحۃ(حصہ سوم) ۴۰۹ ۷ ذو الحجہ_____۱۴۲۳______فروری ۲۰۰۳ ۷۶۸
۲۴ کتاب الحظر و لاباحۃ ۲۸۴ ۹ ذو الحجہ_____۱۴۲۳______فروری ۲۰۰۳ ۷۲۰
۲۵ کتاب المدایناتکتاب الاشربہکتاب الرھنباب القسمکتاب الوصایا ۱۸۳ ۳ رجب المرجب____۱۴۲۴ ___ستمبر ۲۰۰۳ ۶۵۸
۲۶ کتاب الفرائضکتاب الشتی حصہ اول ۳۲۵ ۸ محرم الحرام _____۱۴۲۵ مارچ _____۲۰۰۴ ۶۱۶
۲۷ کتاب الشتی حصہ دوم ۳۵ ۱۰ جمادی الاخری ____۱۴۲۵ ___اگست ۲۰۰۴ ۶۸۴
۲۸ کتاب الشتی حصہ سوم ۲۲ ۶ ذیقعدہ _____۱۴۲۵ ______جنوری ۲۰۰۵ ۶۸۴
فتاوی رضویہ قدیم کی پہلی آٹھ جلدوں کے ابواب کی ترتیب وہی ہے جو معروف ومتداول کتب فقہ و فتاوی میں مذکور ہے۔رضافاؤنڈیشن کی طرف سے شائع ہونے والی بیس۲۰ جلدوں میں اسی ترتیب کو
ملحوظ رکھا گیا ہے۔مگر فتاوی رضویہ قدیم کی بقیہ چار مطبوعہ(جلد نہمدہمیازدہمدواز دہم)کی ترتیب ابواب فقہ سے عدم مطابقت کی وجہ سے محل نظر ہے۔چنانچہ ادارہ ہذا کے سرپرست اعلی محسن اہلسنت مفتی اعظم پاکستان حضرت علامہ مولانا مفتی محمد عبدالقیوم ہزاروی صاحب اور دیگر اکابر علماء ومشائخ سے استشارہ و استفسار کے بعد اراکین ادارہ نے فیصلہ کیا کہ بیسویں جلد کے بعد والی جلدوں میں فتاوی رضویہ کی قدیم جلدوں کی ترتیب کے بجائے ابواب فقہ کی معروف ترتیب کو بنیاد بنایا جائےنیز اس سلسلہ میں بحر العلوم حضرت مولانا مفتی عبدالمنان صاحب اعظمی دامت برکاتہم العالیہ کی گرانقدر تحقیق انیق کو بھی ہم نے پیش نظر رکھا اور اس سے بھرپور استفادہ اور راہنمائی حاصل کی۔عام طور پر فقہ وفتاوی کی کتب میں کتاب الاضحیہ کے بعد کتاب الحظروالاباحۃ کاعنوان ذکر کیاجاتاہے اور ہمارے ادارے سے شائع شدہ بیسویں۲۰ جلد کا اختتام چونکہ کتاب الاضحیۃ پرہواتھا لہذا اکیسویں۲۱ جلد سے مسائل حظرواباحۃ کی اشاعت کاآغاز کیاگیا۔کتاب الحظروالاباحۃ(جوچارجلدوں ۲۱۲۲۲۳۲۴ پرمشتمل ہے)کی تکمیل کے بعد ابواب مدایناتاشربہرہنقسم اور وصایا پرمشتمل پچیسویں۲۵ جلد بھی منصہ شہود پرآچکی ہے۔اب ابواب فقہیہ میں سے صرف کتاب الفرائض باقی تھی جس کو پیش نظرجلد میں شامل کردیاگیاہے۔باقی رہے مسائل کلامیہ و دیگر متفرق عنوانات پرمشتمل مباحث وفتاوائے اعلیحضرت جوفتاوی رضویہ قدیم کی جلد نہم ودوازدہم میں غیرمبوب و غیر مترتب طورپرمندرج ہیںان کی ترتیب وتبویب اگرچہ آسان کام نہ تھا مگررب العالمین عزوجل کی توفیقرحمۃ العالمین صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ واصحابہ اجمعین کی نظرعنایتاعلیحضرت اور مفتی اعظم رحمۃ اﷲ علیہما کے روحانی تصرف وکرامت سے راقم نے یہ گھاٹی بھی عبورکرلی اور کتاب الحظروالاباحۃ کی طرح ان بکھرے ہوئے موتیوں کوابواب کی لڑی میں پروکرمرتبط ومنضبط کردیاہے وﷲ الحمد۔
اس سلسلہ میں ہم نے مندرجہ ذیل امورکوبطورخاص ملحوظ رکھا:
(ا)ان تمام مسائل کلامیہ ومتفرقہ کو کتاب الشتی کامرکزی عنوان دے کر مختلف ابواب پرتقسیم کردیاہے۔
(ب)تبویب میں سوال واستفتاء کااعتبارکیاگیاہے۔
(ج)ایک ہی استفتاء میں مختلف ابواب سے متعلق سوالات مذکور ہونے کی صورت میں ہرمسئلہ کومستفتی کے نام سمیت متعلقہ ابواب کے تحت داخل کردیاہے۔
(د)مذکورہ بالادونوں جلدوں(نہم ودوازدہم قدیم)میں شامل رسائل کو ان کے عنوانات کے مطابق متعلقہ ابواب کے تحت داخل کردیا ہے۔
(ھ)رسائل کی ابتداء وانتہاء کوممتاز کیاہے۔
اس سلسلہ میں ہم نے مندرجہ ذیل امورکوبطورخاص ملحوظ رکھا:
(ا)ان تمام مسائل کلامیہ ومتفرقہ کو کتاب الشتی کامرکزی عنوان دے کر مختلف ابواب پرتقسیم کردیاہے۔
(ب)تبویب میں سوال واستفتاء کااعتبارکیاگیاہے۔
(ج)ایک ہی استفتاء میں مختلف ابواب سے متعلق سوالات مذکور ہونے کی صورت میں ہرمسئلہ کومستفتی کے نام سمیت متعلقہ ابواب کے تحت داخل کردیاہے۔
(د)مذکورہ بالادونوں جلدوں(نہم ودوازدہم قدیم)میں شامل رسائل کو ان کے عنوانات کے مطابق متعلقہ ابواب کے تحت داخل کردیا ہے۔
(ھ)رسائل کی ابتداء وانتہاء کوممتاز کیاہے۔
(و)کتاب الشتی کے ابواب سے متعلق اعلیحضرت کے بعض رسائل جوفتاوی رضویہ قدیم میں شامل نہ ہوسکے تھے ان کوبھی موزوں ومناسب جگہ پر شامل کردیاہے۔
(ز)تبویب جدید کے بعد موجودہ ترتیب چونکہ سابق ترتیب سے بالکل مختلف ہوگئی ہے لہذامسائل کی مکمل فہرست موجودہ ابواب کے مطابق نئے سرے سے مرتب کرناپڑی۔
(ح)کتاب الشتی میں داخل تمام رسائل کے مندرجات کی مکمل ومفصل فہرستیں مرتب کی گئی ہیں۔
انتیسویں۲۹ جلد
یہ جلد۲۱۵ سوالوں کے جوابات اور مجموعی طور پر ۷۵۲ صفحات پر مشتمل ہے۔اس جلد کی عربی و فارسی عبارات کا ترجمہ راقم الحروف نے کیا ہے۔البتہ رسالہ "خالص الاعتقاد"کی بعض عبارات کا ترجمہ حضرت مولانا تحسین رضا خان صاحب نے کیا ہے جب کہ التحبیر بباب التدبیر اور ثلج الصدر لایمان القدر کی اکثر عبارات کا ترجمہ حضرت علامہ مولانا محمد احمد مصباحی دامت برکاتہم العالیہ کے رشحات قلم کا ثمر ہے۔رسالہ قوارع القہار کا ترجمہ مفتی اعظم پاکستان حضرت علامہ شیخ الحدیث مولانا مفتی محمد عبد القیوم قادری ہزاروی علیہ الرحمہ کا تحریر کردہ ہے اور رسالہ اعتقاد الاحباب کی تزیین وترتیب اور توضیح و تشریح خلیل العلماء حضرت علامہ مولانا مفتی محمد خلیل القادری البرکاتی علیہ الرحمہ نے فرمائی ہے۔
پیش نظر جلد(کتاب الشتی حصہ چہارم)بنیادی طور پر مسائل کلامیہ واعتقادیہ پر مشتمل ہے جو فتاوی رضویہ قدیم جلد نہم و دوازدہم میں متفرق طور پر مذکور ہیں ہم نے ان کو یکجا کردیا ہے علاوہ ازیں اس جلد میں عروض وقوافی۔علم و تعلیم زبان و بیان علم الحیوانعلم حروف و ریاضیوعظ و تبلیغحقوق العبادتشریح ابدانخوابلغت اور اجارہ کے بارے میں سوالوں کے جوابات بھی شامل ہیں۔مذکورہ بالا عنوانات کے علاوہ متعدد عنوانات سے متعلق مسائل ضمنا زیر بحث آئے ہیں
انتہائی وقیع اور گرانقدر تحقیقات و تدقیقات پر مشتمل مندرجہ ذیل گیارہ رسائل بھی اس جلد کی زینت ہیں۔
(۱)قوارع القھار علی المجسمۃ الفجار المعروف بہ ضرب قہاری(۱۳۱۸ھ)
آیات متشابہات پر آریوں کے اعتراضات کا منہ توڑ جواب
(ز)تبویب جدید کے بعد موجودہ ترتیب چونکہ سابق ترتیب سے بالکل مختلف ہوگئی ہے لہذامسائل کی مکمل فہرست موجودہ ابواب کے مطابق نئے سرے سے مرتب کرناپڑی۔
(ح)کتاب الشتی میں داخل تمام رسائل کے مندرجات کی مکمل ومفصل فہرستیں مرتب کی گئی ہیں۔
انتیسویں۲۹ جلد
یہ جلد۲۱۵ سوالوں کے جوابات اور مجموعی طور پر ۷۵۲ صفحات پر مشتمل ہے۔اس جلد کی عربی و فارسی عبارات کا ترجمہ راقم الحروف نے کیا ہے۔البتہ رسالہ "خالص الاعتقاد"کی بعض عبارات کا ترجمہ حضرت مولانا تحسین رضا خان صاحب نے کیا ہے جب کہ التحبیر بباب التدبیر اور ثلج الصدر لایمان القدر کی اکثر عبارات کا ترجمہ حضرت علامہ مولانا محمد احمد مصباحی دامت برکاتہم العالیہ کے رشحات قلم کا ثمر ہے۔رسالہ قوارع القہار کا ترجمہ مفتی اعظم پاکستان حضرت علامہ شیخ الحدیث مولانا مفتی محمد عبد القیوم قادری ہزاروی علیہ الرحمہ کا تحریر کردہ ہے اور رسالہ اعتقاد الاحباب کی تزیین وترتیب اور توضیح و تشریح خلیل العلماء حضرت علامہ مولانا مفتی محمد خلیل القادری البرکاتی علیہ الرحمہ نے فرمائی ہے۔
پیش نظر جلد(کتاب الشتی حصہ چہارم)بنیادی طور پر مسائل کلامیہ واعتقادیہ پر مشتمل ہے جو فتاوی رضویہ قدیم جلد نہم و دوازدہم میں متفرق طور پر مذکور ہیں ہم نے ان کو یکجا کردیا ہے علاوہ ازیں اس جلد میں عروض وقوافی۔علم و تعلیم زبان و بیان علم الحیوانعلم حروف و ریاضیوعظ و تبلیغحقوق العبادتشریح ابدانخوابلغت اور اجارہ کے بارے میں سوالوں کے جوابات بھی شامل ہیں۔مذکورہ بالا عنوانات کے علاوہ متعدد عنوانات سے متعلق مسائل ضمنا زیر بحث آئے ہیں
انتہائی وقیع اور گرانقدر تحقیقات و تدقیقات پر مشتمل مندرجہ ذیل گیارہ رسائل بھی اس جلد کی زینت ہیں۔
(۱)قوارع القھار علی المجسمۃ الفجار المعروف بہ ضرب قہاری(۱۳۱۸ھ)
آیات متشابہات پر آریوں کے اعتراضات کا منہ توڑ جواب
(۲)ازاحۃ العیب بسیف الغیب
علم غیب کے موضوع پر مدلل رسالہ
(۳)"خالص الاعتقاد "مع تمہیدرماح القہار علی کفر الکفار(۱۳۲۸ھ)
مسئلہ علم غیب کا مدلل رسالہ
(۴)انباء المصطفی بحال سروا خفی(۱۳۱۸ھ)
حضور انور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے عالم ماکان ومایکون ہونے کا ثبوت
(۵) انوار الانتباہ فی حل نداء یارسول اللہ (۱۳۰۴ھ)
یارسول اللہ کہنے کے جواز پر زور دار دلائل
(۶)شرح المطالب فی مبحث ابی طالب(۱۳۱۶ھ)
ایمان ابو طالب کے بارے میں مفصل بحث
(۷)اعتقاد الاحباب فی الجمیل والمصطفی والال والاصحاب(۱۲۹۸ھ)
اہل سنت و جماعت کے دس عقائد حقہ کا بیان
(۸)التحبیربباب التدبیر(۱۳۲۵ھ)
مسئلہ قضاء وقدرکا روشن بیان
(۱۰)اسماع الاربعین فی شفاعۃ سید المحبوبین(۱۳۰۵ھ)
(۱۱)امور عشرین درعقائد سنین
سنی اور غیر سنی میں امتیاز کرنے والے بیس۲۰ امور کا بیان۔
ضروری بات
گو مفتی اعظم علیہ الرحمۃ کے وصال پرملال سے جامعہ نظامیہ رضویہ کوناقابل برداشت صدمہ سے دوچار ہوناپڑامگریہ اس سراپاکرامت وجود باجود کافیضان ہے کہ ان کے فرزندارجمند حضرت مولانا علامہ مفتی محمدعبدالمصطفی ہزاروی مدظلہ جوعلوم دینیہ وعصریہ کے مستند فاضل
علم غیب کے موضوع پر مدلل رسالہ
(۳)"خالص الاعتقاد "مع تمہیدرماح القہار علی کفر الکفار(۱۳۲۸ھ)
مسئلہ علم غیب کا مدلل رسالہ
(۴)انباء المصطفی بحال سروا خفی(۱۳۱۸ھ)
حضور انور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے عالم ماکان ومایکون ہونے کا ثبوت
(۵) انوار الانتباہ فی حل نداء یارسول اللہ (۱۳۰۴ھ)
یارسول اللہ کہنے کے جواز پر زور دار دلائل
(۶)شرح المطالب فی مبحث ابی طالب(۱۳۱۶ھ)
ایمان ابو طالب کے بارے میں مفصل بحث
(۷)اعتقاد الاحباب فی الجمیل والمصطفی والال والاصحاب(۱۲۹۸ھ)
اہل سنت و جماعت کے دس عقائد حقہ کا بیان
(۸)التحبیربباب التدبیر(۱۳۲۵ھ)
مسئلہ قضاء وقدرکا روشن بیان
(۱۰)اسماع الاربعین فی شفاعۃ سید المحبوبین(۱۳۰۵ھ)
(۱۱)امور عشرین درعقائد سنین
سنی اور غیر سنی میں امتیاز کرنے والے بیس۲۰ امور کا بیان۔
ضروری بات
گو مفتی اعظم علیہ الرحمۃ کے وصال پرملال سے جامعہ نظامیہ رضویہ کوناقابل برداشت صدمہ سے دوچار ہوناپڑامگریہ اس سراپاکرامت وجود باجود کافیضان ہے کہ ان کے فرزندارجمند حضرت مولانا علامہ مفتی محمدعبدالمصطفی ہزاروی مدظلہ جوعلوم دینیہ وعصریہ کے مستند فاضل
اورحضرت مفتی اعظم کی علمی وتجرباتی وسعت وفراست کے وارث وامین ہیںنہایت صبرواستقامت کامظاہرہ فرماتے ہوئے تمام شعبہ جات کی ترویج وترقی کے لئے شب وروز ایک کئے ہوئے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ موصوف نے جامعہ کے طلباء کی تعداد میں خاصا اضافہ ہونے کے باعث متعدد تجربہ کارمدرسین مقررکئے ہیں اور فتاوی رضویہ جدید کی اشاعت وطباعت میں بھی بدستور مفتی اعظم علیہ الرحمۃ کے نقوش جمیلہ پرگامزن ہیں۔یہی وجہ ہے کہ حسب معمول سالانہ دوجلدوں کی اشاعت باقاعدگی سے ہورہی ہے۔بس آپ حضرات سے درخواست ہے کہ دعاؤں سے نوازتے رہئے تاکہ حضرت مفتی اعظم علیہ الرحمۃ کے مشن کو ان کے جسمانی وروحانی نائبین بحسن وخوبی ترقی سے ہمکنار کرنے میں اپناکردار سرانجام دیتے رہیں۔فقط
رجب المرجب ۱۴۲۶ھ حافظ محمدعبدالستارسعیدی
اگست ۲۰۰۵ ناظم تعلیمات جامعہ نظامیہ رضویہ
لاہوروشیخوپورہ(پاکستان)
رجب المرجب ۱۴۲۶ھ حافظ محمدعبدالستارسعیدی
اگست ۲۰۰۵ ناظم تعلیمات جامعہ نظامیہ رضویہ
لاہوروشیخوپورہ(پاکستان)
کتاب الشتی
(حصہ چہارم)
عروض و قوافی
مسئلہ۱: از سہارن پور ضلع ایٹہ مرسلہ جناب چودھری مولوی عبدالحمیدصاحب ۲۰ جمادی الاولی ۱۳۳۱ھ
اعلیحضرت عظیم البرکت مجددمائۃ حاضرہ مؤید ظاہرہ عالی جناب مولوی مفتی احمد رضا خان صاحب۔ادام اﷲ تعالی ظلال اشادہ علی راس الطالبینپس از آداب عجز و نیاز و سلام مسنونمارہرہ سے ایك صاحب نے کنز الآخرہ پر مندرجہ پرچہ بااضافہ و ترمیم کرکے بھیجا ہے جس کے جوابات ذیل بغرض ملاحظہ اعلیحضرت ارسال ہیںبعد ملاحظہ اس امر کی تنقیح فرمائی جائے کہ اعتراض کس حد تك صحیح ہیں اور جوابات کس حد تك کافیتاکہ اس کے مطابق عملدرآمد کیا جائے۔معترض صاحب فن شاعری میں دستگاہ قادر رکھتے ہیں اور عروض و قوافی میں مہارت کامل۔
(۱)صفحہ ٹائیٹل محمد الرسول اﷲ۔
اعتراض:مضاف پر الف لام نہیں آتا۔
جواب:میں نے عنوان کتاب پر سوا نام کتاب کے کچھ تحریر نہ کیا۔باقی سب عبارت تالیف کا تب ہے۔" ولا تزر وازرۃ وزر اخری "
(اور کوئی بوجھ اٹھانے والی جان دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گی۔ت)
(حصہ چہارم)
عروض و قوافی
مسئلہ۱: از سہارن پور ضلع ایٹہ مرسلہ جناب چودھری مولوی عبدالحمیدصاحب ۲۰ جمادی الاولی ۱۳۳۱ھ
اعلیحضرت عظیم البرکت مجددمائۃ حاضرہ مؤید ظاہرہ عالی جناب مولوی مفتی احمد رضا خان صاحب۔ادام اﷲ تعالی ظلال اشادہ علی راس الطالبینپس از آداب عجز و نیاز و سلام مسنونمارہرہ سے ایك صاحب نے کنز الآخرہ پر مندرجہ پرچہ بااضافہ و ترمیم کرکے بھیجا ہے جس کے جوابات ذیل بغرض ملاحظہ اعلیحضرت ارسال ہیںبعد ملاحظہ اس امر کی تنقیح فرمائی جائے کہ اعتراض کس حد تك صحیح ہیں اور جوابات کس حد تك کافیتاکہ اس کے مطابق عملدرآمد کیا جائے۔معترض صاحب فن شاعری میں دستگاہ قادر رکھتے ہیں اور عروض و قوافی میں مہارت کامل۔
(۱)صفحہ ٹائیٹل محمد الرسول اﷲ۔
اعتراض:مضاف پر الف لام نہیں آتا۔
جواب:میں نے عنوان کتاب پر سوا نام کتاب کے کچھ تحریر نہ کیا۔باقی سب عبارت تالیف کا تب ہے۔" ولا تزر وازرۃ وزر اخری "
(اور کوئی بوجھ اٹھانے والی جان دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گی۔ت)
حوالہ / References
& القرآن الکریم €∞۶/ ۱۶۴€
(۲)ص ۴:
وہ یگانہ ہے صفات وذات میں نیز یکتا اس کے سب افعال ہیں
اعتراض:قافیہ صحیح نہیںیوں ہو: ع
نیز یکتا ہو وہ ہر بات میں
جواب:اختلاف حرکت قافیہ میں اساتذہ کی سندیں حد تواتر پر ہیں حضرت سعدی:
(۱) چو خواہد کہ ویراں کند عالمے کند ملك درپنجہ ظالمے
(۲) برائے جہاندیدگاں کارکن کہ صیدآموزد است گرگ کہن
(۳) چوخدمت گزاریت گردد کہن حق سالیانش فرامش مکن
(۴) کنونت کہ دستت خاری بکن دگر کے برآری تو دست از کفن
(۵) بخائیدش از کینہ دنداں بزہر کہ دوں پرورست ایں فرومایہ دہر
(۱)جب وہ چاہتا ہے کہ کوئی ملك برباد ہوجائے تو وہ ملك کسی ظالم کے قبضہ میں دے دیتا ہے۔
(۲)جنہوں نے جہاں دیکھا ہوا ہے ان کی رائے کے مطابق عمل کر کیونکہ پرانے بھیڑیئے کو شکار کا تجربہ ہوتا ہے۔
(۳)جب تیرا خدمتگار بوڑھا ہوجائے تو اس کے سالانہ وظیفے کومت بھول۔
(۴)اب جب کہ تیر اہاتھ(طاقت)ہے کوئی کانٹا نکالپھر کفن سے کب ہاتھ باہر نکال سکے گا۔
(۵)کینہ کی وجہ سے اس کو زہریلے دانتوں سے چبائیں گے کیونکہ کینہ پرور ہے یہ کمینہ زمانہ۔(ت)
وہ یگانہ ہے صفات وذات میں نیز یکتا اس کے سب افعال ہیں
اعتراض:قافیہ صحیح نہیںیوں ہو: ع
نیز یکتا ہو وہ ہر بات میں
جواب:اختلاف حرکت قافیہ میں اساتذہ کی سندیں حد تواتر پر ہیں حضرت سعدی:
(۱) چو خواہد کہ ویراں کند عالمے کند ملك درپنجہ ظالمے
(۲) برائے جہاندیدگاں کارکن کہ صیدآموزد است گرگ کہن
(۳) چوخدمت گزاریت گردد کہن حق سالیانش فرامش مکن
(۴) کنونت کہ دستت خاری بکن دگر کے برآری تو دست از کفن
(۵) بخائیدش از کینہ دنداں بزہر کہ دوں پرورست ایں فرومایہ دہر
(۱)جب وہ چاہتا ہے کہ کوئی ملك برباد ہوجائے تو وہ ملك کسی ظالم کے قبضہ میں دے دیتا ہے۔
(۲)جنہوں نے جہاں دیکھا ہوا ہے ان کی رائے کے مطابق عمل کر کیونکہ پرانے بھیڑیئے کو شکار کا تجربہ ہوتا ہے۔
(۳)جب تیرا خدمتگار بوڑھا ہوجائے تو اس کے سالانہ وظیفے کومت بھول۔
(۴)اب جب کہ تیر اہاتھ(طاقت)ہے کوئی کانٹا نکالپھر کفن سے کب ہاتھ باہر نکال سکے گا۔
(۵)کینہ کی وجہ سے اس کو زہریلے دانتوں سے چبائیں گے کیونکہ کینہ پرور ہے یہ کمینہ زمانہ۔(ت)
حوالہ / References
بوستان سعدی باب اول مکتبہ شرکتِ علمیہ ملتان ص ۴۱
بوستان سعدی باب اول مکتبہ شرکتِ علمیہ ملتان ص ۶۳
بوستان سعدی باب اول مکتبہ شرکتِ علمیہ ملتان ص ۱۹
بوستان سعدی باب اول مکتبہ شرکتِ علمیہ ملتان ص ۵۰
بوستان سعدی باب اول مکتبہ شرکتِ علمیہ ملتان ص ۹۳
بوستان سعدی باب اول مکتبہ شرکتِ علمیہ ملتان ص ۶۳
بوستان سعدی باب اول مکتبہ شرکتِ علمیہ ملتان ص ۱۹
بوستان سعدی باب اول مکتبہ شرکتِ علمیہ ملتان ص ۵۰
بوستان سعدی باب اول مکتبہ شرکتِ علمیہ ملتان ص ۹۳
مثنوی شریف:
گفت پیغمبر بکن اے رائے زن مشورت کالمستشار مؤتمن
مؤتمن بکسر میم ثانی بمعنی امین ہے۔
کالے خدا افغاں ازیں گر گ کہن گویدش نك وقت آمد صبر کن
کمال اسمعیل:
اے زرایت ملك ودیں درنازش ودرپرورش اے شہنشاہ فریدوں فرداسکندرمنش
سایہ حق است و یارب سایہ اش پایندہ دار زانکہ فرض ست ازمیان بادعائے دولتش
منش اور دولتش کا اختلاف اظہر من الشمس ہےمولوی حافظ عزیز الدین جلیسری مؤلف نادرالترتیب جو اب بھی حیات ہیں اور بڑے استاد اور پرانے تجربہ کار شاعر ہیں نادرالترتیب میں لکھتے ہیں۔
چھ سو بارہ تیرہ فصل دوباب اس میں ہیں تھوڑے تھوڑے حاشیہ پر ہیں لغت ہر باب میں
مہربان من اختلاف دکن قافیہ بے تکلف درست ہے۔(۳)ص ۴:
ہے وہی خلاق مخلوقات کا ہے وہی رزاق حیوانات کا
اعتراض:مخلوقات و حیوانات میں ایکار ہےیوں چاہیےہے وہی رزاق مرزوقات کا
جواب:جمع کے قوافیمیں مفرد کا لحاظ نہ رکھا جائے گامستحسن ضرور ہے لازم نہیں۔مولانا روم:
یاکریم العفوستار العیوب ! انتقام ازمامکش اندر ذنوب
پس پیغمبر گفت استفت القلوب گرچہ مفتی تاں بروں گوید خطوب
عیوب وذنوب میں علامت جمع واؤ ہے اس کو علیحدہ کرکے دیکھا جائے تو عیب و ذنب کا قافیہ نہ بنے گا اسی طرح قلوب و خطوب۔
آتش گلزار نسیم
حلوا اس دیو کو دکھلاؤ گڑ سے جو مرے تو زہر کیوں دو
گفت پیغمبر بکن اے رائے زن مشورت کالمستشار مؤتمن
مؤتمن بکسر میم ثانی بمعنی امین ہے۔
کالے خدا افغاں ازیں گر گ کہن گویدش نك وقت آمد صبر کن
کمال اسمعیل:
اے زرایت ملك ودیں درنازش ودرپرورش اے شہنشاہ فریدوں فرداسکندرمنش
سایہ حق است و یارب سایہ اش پایندہ دار زانکہ فرض ست ازمیان بادعائے دولتش
منش اور دولتش کا اختلاف اظہر من الشمس ہےمولوی حافظ عزیز الدین جلیسری مؤلف نادرالترتیب جو اب بھی حیات ہیں اور بڑے استاد اور پرانے تجربہ کار شاعر ہیں نادرالترتیب میں لکھتے ہیں۔
چھ سو بارہ تیرہ فصل دوباب اس میں ہیں تھوڑے تھوڑے حاشیہ پر ہیں لغت ہر باب میں
مہربان من اختلاف دکن قافیہ بے تکلف درست ہے۔(۳)ص ۴:
ہے وہی خلاق مخلوقات کا ہے وہی رزاق حیوانات کا
اعتراض:مخلوقات و حیوانات میں ایکار ہےیوں چاہیےہے وہی رزاق مرزوقات کا
جواب:جمع کے قوافیمیں مفرد کا لحاظ نہ رکھا جائے گامستحسن ضرور ہے لازم نہیں۔مولانا روم:
یاکریم العفوستار العیوب ! انتقام ازمامکش اندر ذنوب
پس پیغمبر گفت استفت القلوب گرچہ مفتی تاں بروں گوید خطوب
عیوب وذنوب میں علامت جمع واؤ ہے اس کو علیحدہ کرکے دیکھا جائے تو عیب و ذنب کا قافیہ نہ بنے گا اسی طرح قلوب و خطوب۔
آتش گلزار نسیم
حلوا اس دیو کو دکھلاؤ گڑ سے جو مرے تو زہر کیوں دو
حوالہ / References
مثنوی معنوی دفتر اول مؤسسۃ انتشارات اسلامی لاہور ۱/ ۱۳۱
مثنوی معنوی دفتر سوم مؤسسۃ انتشارات اسلامی لاہور ۳/ ۵۰
مثنوی معنوی دفتر اول مؤسسۃ انتشارات اسلامی لاہور ۱/ ۱۴۵
مثنوی معنوی دفتر ششم حامد اینڈ کمپنی لاہور ۶/ ۵۰
مثنوی معنوی دفتر سوم مؤسسۃ انتشارات اسلامی لاہور ۳/ ۵۰
مثنوی معنوی دفتر اول مؤسسۃ انتشارات اسلامی لاہور ۱/ ۱۴۵
مثنوی معنوی دفتر ششم حامد اینڈ کمپنی لاہور ۶/ ۵۰
یہاں بھی علامت جمع واؤ کے علیحدہ کرنے سے قافیہ مفرد کا صحیح نہیں رہتاایك استاد جن کا نام مجھ کو یاد نہیں فرماتے ہیں
تم درود اس نام پر پڑھتے رہو اے مومنین ! چھوڑ دو سب ذکر جب ہو ذکر ختم المرسلین
(۴)صفحہ ۵:
وہ کسی کا بھی نہیں محتا ج ہے اس کے سب محتاج ہیں چھوٹے بڑے
اعتراض:قافیہ غلطیوں چاہیے اس کی ہی محتاج ہے ہر ایك شے
جواب:نمبر۲ میں گزر چکا۔
(۵)صفحہ ۵:
پاك ہے وہ جسم و جوہر عرض سے مادہ سے اور مکاں سے مرض سے
اعتراض:جوہر کے مقابل عرض بفتحتین ہے اور نیز مرضیوں چاہیے:
ہے عرض اور جسم و جوہر سے وہ پاك مادہ سے اور مرض اور گھر سے پاک
جواب:یہ بضرورت جائز ہے اس کا نام تفریس ہےاگرچہ یہ تفریس قبیح ہےلیکن جائز ہونے میں شك نہیںاکثر اہل فارس نے لغات عربی میں بموجب شہرت عام کی ہےمثلا حرکت بفتحات ثلثہ ملا فوقی: ع
زبس خوش حرکت وشیریں ادا بود
کفن بفتحتینلیکن شفائی کہتا ہے۔
از لتہ حیض خواہرش کفن کند
پس ایك زبان کے لغت کو دوسری میں تفریس کرکے لانا صحیحہاں عربی کو عربیفارسی کو فارسی میں تفریس کرے تو ضرور نا جائزباایں ہمہ اس تفریس کو میں بھی پسند نہیں کرتا اور اب میں نے ان تمام متغیر الحرکات لغات کو اصلی حرکات سے ملبس کر کے درست کرلیا ہے۔شعر کو جناب نے ترمیم فرما کر جو تحریر فرمایا ہے اس میں پاك ہر دو جگہ متحدالمعنی ہے پھر میری سمجھ میں نہیں آتا کہ قافیہ کیونکر درست ہوگا۔ہاں اس طرح تر میم کیا جائے۔
وہ عرض اور جسم و جوہر سے ہے پاک مادہ سے اور مرض گھر سے ہے پاک
یا یوں
ہے عرض اور جسم جوہر سے پاك مادہ سے اور مرض اور گھر سے پاک
تم درود اس نام پر پڑھتے رہو اے مومنین ! چھوڑ دو سب ذکر جب ہو ذکر ختم المرسلین
(۴)صفحہ ۵:
وہ کسی کا بھی نہیں محتا ج ہے اس کے سب محتاج ہیں چھوٹے بڑے
اعتراض:قافیہ غلطیوں چاہیے اس کی ہی محتاج ہے ہر ایك شے
جواب:نمبر۲ میں گزر چکا۔
(۵)صفحہ ۵:
پاك ہے وہ جسم و جوہر عرض سے مادہ سے اور مکاں سے مرض سے
اعتراض:جوہر کے مقابل عرض بفتحتین ہے اور نیز مرضیوں چاہیے:
ہے عرض اور جسم و جوہر سے وہ پاك مادہ سے اور مرض اور گھر سے پاک
جواب:یہ بضرورت جائز ہے اس کا نام تفریس ہےاگرچہ یہ تفریس قبیح ہےلیکن جائز ہونے میں شك نہیںاکثر اہل فارس نے لغات عربی میں بموجب شہرت عام کی ہےمثلا حرکت بفتحات ثلثہ ملا فوقی: ع
زبس خوش حرکت وشیریں ادا بود
کفن بفتحتینلیکن شفائی کہتا ہے۔
از لتہ حیض خواہرش کفن کند
پس ایك زبان کے لغت کو دوسری میں تفریس کرکے لانا صحیحہاں عربی کو عربیفارسی کو فارسی میں تفریس کرے تو ضرور نا جائزباایں ہمہ اس تفریس کو میں بھی پسند نہیں کرتا اور اب میں نے ان تمام متغیر الحرکات لغات کو اصلی حرکات سے ملبس کر کے درست کرلیا ہے۔شعر کو جناب نے ترمیم فرما کر جو تحریر فرمایا ہے اس میں پاك ہر دو جگہ متحدالمعنی ہے پھر میری سمجھ میں نہیں آتا کہ قافیہ کیونکر درست ہوگا۔ہاں اس طرح تر میم کیا جائے۔
وہ عرض اور جسم و جوہر سے ہے پاک مادہ سے اور مرض گھر سے ہے پاک
یا یوں
ہے عرض اور جسم جوہر سے پاك مادہ سے اور مرض اور گھر سے پاک
تب درست ہے لیکن اس میں یہ قباحت ہے کہ ضمیر(وہ)کسی جگہ نہیں آتامیں نے ترمیم اس طرح کی ہے:
وہ مکاں سے اور مرض سے پاك ہے جسم و جوہر سے عرض سے پاك ہے
اس میں اگرچہ کلمہ مادہ کا دور ہوا جاتا ہے لیکن بندش میں شگفتگی ہوتی ہے اور مادہ کی توضیح یوں بھی ہوسکتی ہے کہ جب مرض سے پاك ہے لامحالہ مادہ سے بھی پاك ہے کہ مادی شے کو مرض لازمی ہے۔
(۶)صفحہ ۵:
حاضر و ناظر وہی ہے ہر جگہ کچھ نہیں پوشیدہ اس سے بے شبہ
اعتراض:شبہ غلط ہے صحیح:
حاضر وناظر وہ ہے ہر ایك جا اس سے پوشیدہ نہیں کوئی ذرا
جواب:چونکہ اس تفریس کو میں خود مقبوح کہہ چکا ہوں لہذ ااس سے مجھ کو اتفاق ہے۔
(۷)صفحہ ۶:
وہ مجیب عرض اور دعوات ہے بیشبہ وہ قاضی الحاجات ہے
اعتراض:قافیہترمیم:شرك و کفر و فسق سے نفرت اسے
جواب:ترمیم تسلیم۔
(۸)صفحہ ۷:
ہے وہ راضی طاعت و ایماں سے شرك و کفرو فسق سے ناخوش وہ ہے
اعتراض:ترمیم:بالیقین وہ قاضی الحاجات ہے۔
جواب نمبر ۲:مفصل گزرااس کو غلط سمجھنا معترض کی غلطی ہے۔
(۹)صفحہ ۸:
حق ہے معراج محمد دیں پناہ آسمانوں پر الی ماشاء اللہ
اعتراض:بغیر اضافت محمد دیں پناہ کی ترکیب اجنب ہے۔
جواب:جناب بغیر اضافت کیوں رکھتے ہیںاگر محمد کی دال کو خفیف اضافت دی جائے تو کیا حرج ہےشعر وزن سے نہیں گرے گا۔
حق ہے معراج محمد دیں پناہ فاعلاتن فاعلاتن فاعلن
(۱۰)الی ماشاء الله غلط ہےترمیم
وہ مکاں سے اور مرض سے پاك ہے جسم و جوہر سے عرض سے پاك ہے
اس میں اگرچہ کلمہ مادہ کا دور ہوا جاتا ہے لیکن بندش میں شگفتگی ہوتی ہے اور مادہ کی توضیح یوں بھی ہوسکتی ہے کہ جب مرض سے پاك ہے لامحالہ مادہ سے بھی پاك ہے کہ مادی شے کو مرض لازمی ہے۔
(۶)صفحہ ۵:
حاضر و ناظر وہی ہے ہر جگہ کچھ نہیں پوشیدہ اس سے بے شبہ
اعتراض:شبہ غلط ہے صحیح:
حاضر وناظر وہ ہے ہر ایك جا اس سے پوشیدہ نہیں کوئی ذرا
جواب:چونکہ اس تفریس کو میں خود مقبوح کہہ چکا ہوں لہذ ااس سے مجھ کو اتفاق ہے۔
(۷)صفحہ ۶:
وہ مجیب عرض اور دعوات ہے بیشبہ وہ قاضی الحاجات ہے
اعتراض:قافیہترمیم:شرك و کفر و فسق سے نفرت اسے
جواب:ترمیم تسلیم۔
(۸)صفحہ ۷:
ہے وہ راضی طاعت و ایماں سے شرك و کفرو فسق سے ناخوش وہ ہے
اعتراض:ترمیم:بالیقین وہ قاضی الحاجات ہے۔
جواب نمبر ۲:مفصل گزرااس کو غلط سمجھنا معترض کی غلطی ہے۔
(۹)صفحہ ۸:
حق ہے معراج محمد دیں پناہ آسمانوں پر الی ماشاء اللہ
اعتراض:بغیر اضافت محمد دیں پناہ کی ترکیب اجنب ہے۔
جواب:جناب بغیر اضافت کیوں رکھتے ہیںاگر محمد کی دال کو خفیف اضافت دی جائے تو کیا حرج ہےشعر وزن سے نہیں گرے گا۔
حق ہے معراج محمد دیں پناہ فاعلاتن فاعلاتن فاعلن
(۱۰)الی ماشاء الله غلط ہےترمیم
حق ہے معراج محمد بالیقین آسمانوں پر گئے سلطان دیں
وقس ھذاالبواقی۔
جواب:ماشاء کے ہمزہ کو آپ ظاہر کرکے کیوں پڑھتے ہیںہمزہ کو ماشاء اﷲ کے الف اور اﷲ کے لام میں ادغام کرکے پڑھئے۔ جناب نے ترمیمی شعر کہا ہے اس شعر اور اس کی خوبی میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔
آسمانوں پر گئے سلطان دیں اس میں انتہائے سیر معراج آسمانوں تك ثابت ہوتی ہےاور شعر کتاب میں الی ماشاء اﷲ کا کلمہ ایسا پر معنی ہے جس میں انتہائے سیر کی کچھ حد ہی نہیں رہتی اور جس کی تفسیر فکان قاب قوسین اوادنی سے مزین ہے کما لا یخفی علی اھل البصیرۃ(جیسا کہ اہل بصیرت پر پوشیدہ نہیں۔ت)تمت۔
الجواب:کامل النصاب چودھری صاحب زیدت محالیہ و بورکت ایام ولیالیہ۔بعد اہدائے ہدیہ سنت ملتمسنوازشنامہ اسی وقت تشریف لایابکمال اختصار جواب حاضر۔جو کچھ حضرت معترض کے خلاف گزارش کروں گا اس پر نمبر حرفی ہوں گے۔ا ب ح ء اور خلاف جناب معروض ہوگا اس پر نمبر عددی ۱۔۲۔۳۔۴ اور مشترك پر مشترک۔
(اعتراض اول)(ا)بے محل ہے اور جواب کافی(ب)یہی زیر اعتراض لینے تھے تو اسم تاریخی الموسوم بہ کیوں ترك ہوا کون سی ترکیب سے موسوم باسم تاریخی چاہیے تھا۔(ح)الموسوم بہ(ء)المعروف بہ یہ کائتھانہ عــــــہ الف لام ہیں عند الپرتال معلوم بھیو ان کی بھی تغییر چاہیے تھی۔(ھ)(۱)ہاں کنزالاخرۃ کے نام ہونے پر ایك باریك مواخذہ برمحل ہوتا تائے مدورہ شکلا ہا ہے اور لفظا وقف میں ہا اور وصل میں تا اولا عام اعتبار کتابت کا ہے اور تلفظ بھی لیجئے تو محل محل وقف ہے اور الف لام سے ترکیب ترکیب عربیتو بہرحال ۵ ہی عدد ہوئی نہ ۴۰۰ ہاں منطق عوام پر کنزالاخرت پڑھے تو باعتبار تلفظ تاریخ صحیح ہوسکتی ہے مگر ایك علمی تصنیفاس سے محفوظ رہنا اولی۔
(اعتراض دوم)(۲)میں اور ہاں کا قافیہ معیوب ضرور ہے۔(۳)عالمے ظالمے پر قیاس
عــــــہ: مطلب یہ ہے کہ الموسوم اور المعروف پر جوالف لام ہےیہ کایستھ لوگ بولتے اور کاغذات پٹواری میں لکھتے ہیں لاعند الپرتال معلوم بھیو یعنی جانچ پرتال سے معلوم ہوااس جملے میں ان لوگوں نے ایك خرابی تو یہ کی عند کو عند کہا اور دوسری یہ کہ الف لام داخل کیا۔۱۲ عبدالمنان اعظمی۔
وقس ھذاالبواقی۔
جواب:ماشاء کے ہمزہ کو آپ ظاہر کرکے کیوں پڑھتے ہیںہمزہ کو ماشاء اﷲ کے الف اور اﷲ کے لام میں ادغام کرکے پڑھئے۔ جناب نے ترمیمی شعر کہا ہے اس شعر اور اس کی خوبی میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔
آسمانوں پر گئے سلطان دیں اس میں انتہائے سیر معراج آسمانوں تك ثابت ہوتی ہےاور شعر کتاب میں الی ماشاء اﷲ کا کلمہ ایسا پر معنی ہے جس میں انتہائے سیر کی کچھ حد ہی نہیں رہتی اور جس کی تفسیر فکان قاب قوسین اوادنی سے مزین ہے کما لا یخفی علی اھل البصیرۃ(جیسا کہ اہل بصیرت پر پوشیدہ نہیں۔ت)تمت۔
الجواب:کامل النصاب چودھری صاحب زیدت محالیہ و بورکت ایام ولیالیہ۔بعد اہدائے ہدیہ سنت ملتمسنوازشنامہ اسی وقت تشریف لایابکمال اختصار جواب حاضر۔جو کچھ حضرت معترض کے خلاف گزارش کروں گا اس پر نمبر حرفی ہوں گے۔ا ب ح ء اور خلاف جناب معروض ہوگا اس پر نمبر عددی ۱۔۲۔۳۔۴ اور مشترك پر مشترک۔
(اعتراض اول)(ا)بے محل ہے اور جواب کافی(ب)یہی زیر اعتراض لینے تھے تو اسم تاریخی الموسوم بہ کیوں ترك ہوا کون سی ترکیب سے موسوم باسم تاریخی چاہیے تھا۔(ح)الموسوم بہ(ء)المعروف بہ یہ کائتھانہ عــــــہ الف لام ہیں عند الپرتال معلوم بھیو ان کی بھی تغییر چاہیے تھی۔(ھ)(۱)ہاں کنزالاخرۃ کے نام ہونے پر ایك باریك مواخذہ برمحل ہوتا تائے مدورہ شکلا ہا ہے اور لفظا وقف میں ہا اور وصل میں تا اولا عام اعتبار کتابت کا ہے اور تلفظ بھی لیجئے تو محل محل وقف ہے اور الف لام سے ترکیب ترکیب عربیتو بہرحال ۵ ہی عدد ہوئی نہ ۴۰۰ ہاں منطق عوام پر کنزالاخرت پڑھے تو باعتبار تلفظ تاریخ صحیح ہوسکتی ہے مگر ایك علمی تصنیفاس سے محفوظ رہنا اولی۔
(اعتراض دوم)(۲)میں اور ہاں کا قافیہ معیوب ضرور ہے۔(۳)عالمے ظالمے پر قیاس
عــــــہ: مطلب یہ ہے کہ الموسوم اور المعروف پر جوالف لام ہےیہ کایستھ لوگ بولتے اور کاغذات پٹواری میں لکھتے ہیں لاعند الپرتال معلوم بھیو یعنی جانچ پرتال سے معلوم ہوااس جملے میں ان لوگوں نے ایك خرابی تو یہ کی عند کو عند کہا اور دوسری یہ کہ الف لام داخل کیا۔۱۲ عبدالمنان اعظمی۔
صحیح نہیں کہ روی جب متحرك ہو تو قبل کی حرکت میں اختلاف باجماع جائز و بے عیب ہے جیسے دلش و گلشن بخلاف اختلاف دل کہ روی ساکن ہے جیسے یہاں(۴)کہن بفتح ہا و بضمتین دونوں طرح ہے جس کی سندیہی اشعار اور ان کی امثال بے شمار ہیں۔ حضرت مولوی قدس سرہ
نفس فرعونے ست ہاں سیرمش مکن تانیا رد یادزاں کفر کہن
(نفس فرعون ہے خبردار اس کو سیر مت کرتاکہ وہ پرانے کفر کی یاد نہ لائے۔ت)
اکابر نے اس کثرت سے کن کا قافیہ من یابزن یا حسن وغیرہا بھی کبھی باندھا(۵)جاری بکن غلطی کا تب ہے صحیح خارے بکن ہے(۶)زہر و دہر دونوں بالفتح ہیں۔(۷)حدیث شریف میں مؤتمن بروزن معتمد بفتح میم دوم ہی ہے مؤتمن بالکسر امین دارندہ وبالفتح امین داشتہ شدہ یعنی جس سے مشورہ طلب کیا گیا اسے امین بنایا گیا تو خلاف مشورہ دینا خیانت ہے۔لہذا فقیر کو ان گزارشوں پر جرات ہے کہ یہی حکم شریعت و مقتضائے امانت ہے۔(۸)منش اور دولتش میں ضرور اختلاف حرکت ہے اور عیب ہے۔کوئی عیب لفظی خواہ معنوی ایسا نہیں جس کی مثال اساتذہ کے کلام سے نہ دی گئی ہو اس سے نہ وہ جائز ہوتا ہے نہ عیب ہونے سے باہر آتا ہے اور نہ اس میں ان کی تقلید روا ہو۔ائمہ محققین مثل ابن الہمام رحمۃ اﷲ تعالی علیہ تصریح فرماتے ہیں کہ ان کا باندھ جانا بے پرواہی پر محمول ہوگا کہ قادر سخن تھے دوسرا باندھے تو جہل و عجز پر محمول ہوگامیں نے اس مصرعہ کو یوں بدلا ہے:
وہ یگانہ ہے صفات وذات میں حکم میں افعال میں ہر بات میں
(اعتراض سوم)کا(و)وہ جواب صحیح ہے جو جناب نے دیا کہ اس کا لحاظ مستحسن ہے ورنہ اکابر کے کلام میں بکثرت موجود
قلوب العارفین لہاعیون تری ما لا یراہ الناظرونا
واجنحۃ تطیر بغیر ریش الی ملکوت رب العالمینا
والسنۃ بسر قدتنا جی بغیب عن کرام کاتبینا
(عارفوں کے لیے دل کی آنکھیں ہیں وہ دیکھتی ہیں جو ہم میں سے دیکھنے والے نہیں دیکھتے۔اور ان کے بازو ہیں کہ وہ پروں کے بغیر اڑتے ہیں پروردگار عالم کی بادشاہی میں۔اور ان کی زبانیں ہیں جو ایسے خفیہ راز کہہ دیتی ہیں جو کراما کاتبین سے پوشیدہ ہیں ت)
نفس فرعونے ست ہاں سیرمش مکن تانیا رد یادزاں کفر کہن
(نفس فرعون ہے خبردار اس کو سیر مت کرتاکہ وہ پرانے کفر کی یاد نہ لائے۔ت)
اکابر نے اس کثرت سے کن کا قافیہ من یابزن یا حسن وغیرہا بھی کبھی باندھا(۵)جاری بکن غلطی کا تب ہے صحیح خارے بکن ہے(۶)زہر و دہر دونوں بالفتح ہیں۔(۷)حدیث شریف میں مؤتمن بروزن معتمد بفتح میم دوم ہی ہے مؤتمن بالکسر امین دارندہ وبالفتح امین داشتہ شدہ یعنی جس سے مشورہ طلب کیا گیا اسے امین بنایا گیا تو خلاف مشورہ دینا خیانت ہے۔لہذا فقیر کو ان گزارشوں پر جرات ہے کہ یہی حکم شریعت و مقتضائے امانت ہے۔(۸)منش اور دولتش میں ضرور اختلاف حرکت ہے اور عیب ہے۔کوئی عیب لفظی خواہ معنوی ایسا نہیں جس کی مثال اساتذہ کے کلام سے نہ دی گئی ہو اس سے نہ وہ جائز ہوتا ہے نہ عیب ہونے سے باہر آتا ہے اور نہ اس میں ان کی تقلید روا ہو۔ائمہ محققین مثل ابن الہمام رحمۃ اﷲ تعالی علیہ تصریح فرماتے ہیں کہ ان کا باندھ جانا بے پرواہی پر محمول ہوگا کہ قادر سخن تھے دوسرا باندھے تو جہل و عجز پر محمول ہوگامیں نے اس مصرعہ کو یوں بدلا ہے:
وہ یگانہ ہے صفات وذات میں حکم میں افعال میں ہر بات میں
(اعتراض سوم)کا(و)وہ جواب صحیح ہے جو جناب نے دیا کہ اس کا لحاظ مستحسن ہے ورنہ اکابر کے کلام میں بکثرت موجود
قلوب العارفین لہاعیون تری ما لا یراہ الناظرونا
واجنحۃ تطیر بغیر ریش الی ملکوت رب العالمینا
والسنۃ بسر قدتنا جی بغیب عن کرام کاتبینا
(عارفوں کے لیے دل کی آنکھیں ہیں وہ دیکھتی ہیں جو ہم میں سے دیکھنے والے نہیں دیکھتے۔اور ان کے بازو ہیں کہ وہ پروں کے بغیر اڑتے ہیں پروردگار عالم کی بادشاہی میں۔اور ان کی زبانیں ہیں جو ایسے خفیہ راز کہہ دیتی ہیں جو کراما کاتبین سے پوشیدہ ہیں ت)
حوالہ / References
مثنوی معنوی دفتر چہارم مؤسسۃ انتشارات اسلامی لاہور ۲/ ۳۴۲
(۹)مگر عیوب وذنوب اور قلوب و خطوب کے قوافی سے استشہاد صحیح نہیں کہ کلام جمع سالم میں ہے۔فقیر نے بھی یہ قافیہ نہ بدلاتھا۔کہ ضروری نہ تھا بعد اعتراض مرزوقات ہی بنا دینا انسب معلوم ہوا۔
(اعتراض چہارم)وہی دوم ہے والکلام الکلام میں نے یہاں پہلا مصرعہ یوں بدلا ہے
پاك ہے ہر حاجت و ہر عیب سے اس کے سب محتاج ہیں چھوٹے بڑے
اس میں ایك مسئلہ کلیہ زائد ہوگیا۔
(اعتراض پنجم)(۱۰)یہ بھی ضرور قابل اخذ وواجب الترك ہے اور ایسے تصرفات کا ہم کو اختیار نہ دیا گیا نہ وہ کوئی قاعدہ ہے کہ سماع بے سماع ہر جگہ جاری کرسکیں اور ضرورت کا جواب وہی ہے کہ شعر گفتن چہ ضرور۔حرکت و برکت اور ان کے امثال میں بوجہ توالی حرکات سکون ثانی بے شك عام طور پر مستعمل مگر مرض و عرض و عرض و غرض و حرج و فرس و امثالہا کو اس پر قیاس نہیں کرسکتے۔میں نے یہاں دو شعروں کو تین سے یوں تبدیل کیا ہے:
ہے منزہ جسم سے وہ پاك ذات بے مکان و بے زمان و بے جہات
خالق ان کا ان سے پہلے جیسے تھا ان کے ہونے پر بھی ویسا ہی رہا
جسم و جوہر سے عرض سے پاك ہے مادہ سے اور مرض سے پاك ہے
مکان سے تنزیہہ شعر اول میں آگئی(۱۱)پاك صفت ہے اور اس میں ضمیر مستتر ہےضمیر مظہر کی ضرورت نہیں جیسے اس شعر میں
جانتا ہے راز ہائے سینہ کو دیکھتا ہے دل میں حب و کینہ کو
(ز)حضرت معترض نے جو تبدیلی فرمائی اس پر جناب کا اعتراض بہت صحیح ہے۔
(اعتراض ششم)بے شبہہ صحیح ہے جسے جناب نے بھی تسلیم فرمایا مگر(ح)شبہ صحیح بتانا خود غلط ہے صحیح شبہہ ہے۔ (ط)(۱۲) حاضر و ناظر کا اطلاق بھی باری عزوجل پر نہ کیا جائے گا۔علماء کرام کو اس کے اطلاق میں یہاں تك حاجت ہوئی کہ اس پر سے نفی تکفیر فرمائی
شرح الوہبانیہ ودرمختار میں ہے۔ویاحاضر یا ناظر لیس یکفر۔ یعنی اﷲ عزوجل کو یا حاضر یا ناظر کہنے سے کافر نہ ہوگا۔
میں نے اس شعر کو یوں بدلاہے۔
ہے وہی ہر چیز کا شاہد بصیر کچھ نہیں پوشیدہ تجھ سے اے خبیر
مصرعہ ثانی میں التفات ہے کہ نفائس صنعت سے ہے ۔
(اعتراض چہارم)وہی دوم ہے والکلام الکلام میں نے یہاں پہلا مصرعہ یوں بدلا ہے
پاك ہے ہر حاجت و ہر عیب سے اس کے سب محتاج ہیں چھوٹے بڑے
اس میں ایك مسئلہ کلیہ زائد ہوگیا۔
(اعتراض پنجم)(۱۰)یہ بھی ضرور قابل اخذ وواجب الترك ہے اور ایسے تصرفات کا ہم کو اختیار نہ دیا گیا نہ وہ کوئی قاعدہ ہے کہ سماع بے سماع ہر جگہ جاری کرسکیں اور ضرورت کا جواب وہی ہے کہ شعر گفتن چہ ضرور۔حرکت و برکت اور ان کے امثال میں بوجہ توالی حرکات سکون ثانی بے شك عام طور پر مستعمل مگر مرض و عرض و عرض و غرض و حرج و فرس و امثالہا کو اس پر قیاس نہیں کرسکتے۔میں نے یہاں دو شعروں کو تین سے یوں تبدیل کیا ہے:
ہے منزہ جسم سے وہ پاك ذات بے مکان و بے زمان و بے جہات
خالق ان کا ان سے پہلے جیسے تھا ان کے ہونے پر بھی ویسا ہی رہا
جسم و جوہر سے عرض سے پاك ہے مادہ سے اور مرض سے پاك ہے
مکان سے تنزیہہ شعر اول میں آگئی(۱۱)پاك صفت ہے اور اس میں ضمیر مستتر ہےضمیر مظہر کی ضرورت نہیں جیسے اس شعر میں
جانتا ہے راز ہائے سینہ کو دیکھتا ہے دل میں حب و کینہ کو
(ز)حضرت معترض نے جو تبدیلی فرمائی اس پر جناب کا اعتراض بہت صحیح ہے۔
(اعتراض ششم)بے شبہہ صحیح ہے جسے جناب نے بھی تسلیم فرمایا مگر(ح)شبہ صحیح بتانا خود غلط ہے صحیح شبہہ ہے۔ (ط)(۱۲) حاضر و ناظر کا اطلاق بھی باری عزوجل پر نہ کیا جائے گا۔علماء کرام کو اس کے اطلاق میں یہاں تك حاجت ہوئی کہ اس پر سے نفی تکفیر فرمائی
شرح الوہبانیہ ودرمختار میں ہے۔ویاحاضر یا ناظر لیس یکفر۔ یعنی اﷲ عزوجل کو یا حاضر یا ناظر کہنے سے کافر نہ ہوگا۔
میں نے اس شعر کو یوں بدلاہے۔
ہے وہی ہر چیز کا شاہد بصیر کچھ نہیں پوشیدہ تجھ سے اے خبیر
مصرعہ ثانی میں التفات ہے کہ نفائس صنعت سے ہے ۔
حوالہ / References
الدرالمختار کتاب الجہاد باب المرتد مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۶۱
(اعتراض ہفتم)وہی ششم ہے مگر(ی)(۱۳)قاضی الحاجات باثبات یا برقرار رکھنا عجب ہے میں نے اسے یوں بدلا ہے۔ع
بالیقین وہ قاضی حاجات ہے(یا)
(۱۴)اس کے پہلے مصرعہ وہ مجیب عرض اور دعوات ہے میں مجیب عرض ترکیب فارسی ہے لفظ اور سے اس پر عطف ناجائز ہےاس پر اعتراض کیوں نہ ہوامیں نے اسے یوں تبدیل کیا۔
وہ مجیب العرض والدعوات ہے۔(س)
(۱۵)اسی صفحہ کا ۱۱ شعر بے دلیل و حجت و برہان لیك میں بھی عطف بہ ترکیب فارسی ہیں تو اظہار نون ناجائز اس پر بھی اعتراض نہ ہوا۔میں نے اسے یوں بدلا: ع
حاجت حجت نہیں ایمان میں لیک(لح)
(۱۶)صفحہ ۷ کے پہلے مصرعہ خالق خیر اور شراﷲ ہے میں وہی بات ہے کہ ترکیب اور عطف ہندی اور اب وہ سخت معنی فاسد کو موہم کہ شرکا عطف معاذ اﷲ خالق خیر پڑھو اور شر الله ہے یہ بھی اعتراض سے رہ گیا میں نے اسے یوں بدلا۔
خالق ہر خیر و شر ا ﷲ ہے
(اعتراض ہشتم)وہی دوم ہے والکلام الکلام(بہ)اس میں یوں تبدیل شرك و کفر و فسق سے نفرت اسے بہت سخت قبیح واقع ہوئی اگر کروڑوں قافیے تبدیل بلکہ روی رکھتے بلکہ ہر مصرعہ خارج ازوزن ہوتا تو بھی ان کروڑوں کی شناعت اس تبدیلی کی کروڑویں حصہ کو نہ پہنچتی۔نفرت بھاگنے اور بدکنے کو کہتے ہیںالله عزوجل کی طرف اس کی نسبت حلال نہیں(یہ)(۱۷)نیز اس مصرعہ "ہے وہ راضی طاعت و ایمان سے" میں ترکیب فارسی کے بعد اظہار نون ممنوع تھا۔اس پر اعتراض نہ ہوا میں نے یہ شعر یوں بدلا ہے:
طاعت و ایمان سے راضی ہے وہ حیی شرك و کفر و فسق سے ناراض ہے
(یو)(۱۸)اسی صفحہ میں "بعض افضل پر ہیں بالضرور " تھا لفظ ضرور ہے یا بالضرور ۃبالضرور کوئی چیز نہیںمیں نے اسے یوں بدلا ہے: ع
بعض افضل بعض سے ہیں پر ضرور
(اعتراض نہم)(یر)" حق ہے معراج محمد دیں پناہ" صلی الله تعالی علیہ وسلم۔فلك اضافت پر اعتراض بیجا ہے فلك لك دو لك جگہ ملے گا۔یہیں ص ۷ پر اول ان کے حضرت آدم ابوالبشر
بالیقین وہ قاضی حاجات ہے(یا)
(۱۴)اس کے پہلے مصرعہ وہ مجیب عرض اور دعوات ہے میں مجیب عرض ترکیب فارسی ہے لفظ اور سے اس پر عطف ناجائز ہےاس پر اعتراض کیوں نہ ہوامیں نے اسے یوں تبدیل کیا۔
وہ مجیب العرض والدعوات ہے۔(س)
(۱۵)اسی صفحہ کا ۱۱ شعر بے دلیل و حجت و برہان لیك میں بھی عطف بہ ترکیب فارسی ہیں تو اظہار نون ناجائز اس پر بھی اعتراض نہ ہوا۔میں نے اسے یوں بدلا: ع
حاجت حجت نہیں ایمان میں لیک(لح)
(۱۶)صفحہ ۷ کے پہلے مصرعہ خالق خیر اور شراﷲ ہے میں وہی بات ہے کہ ترکیب اور عطف ہندی اور اب وہ سخت معنی فاسد کو موہم کہ شرکا عطف معاذ اﷲ خالق خیر پڑھو اور شر الله ہے یہ بھی اعتراض سے رہ گیا میں نے اسے یوں بدلا۔
خالق ہر خیر و شر ا ﷲ ہے
(اعتراض ہشتم)وہی دوم ہے والکلام الکلام(بہ)اس میں یوں تبدیل شرك و کفر و فسق سے نفرت اسے بہت سخت قبیح واقع ہوئی اگر کروڑوں قافیے تبدیل بلکہ روی رکھتے بلکہ ہر مصرعہ خارج ازوزن ہوتا تو بھی ان کروڑوں کی شناعت اس تبدیلی کی کروڑویں حصہ کو نہ پہنچتی۔نفرت بھاگنے اور بدکنے کو کہتے ہیںالله عزوجل کی طرف اس کی نسبت حلال نہیں(یہ)(۱۷)نیز اس مصرعہ "ہے وہ راضی طاعت و ایمان سے" میں ترکیب فارسی کے بعد اظہار نون ممنوع تھا۔اس پر اعتراض نہ ہوا میں نے یہ شعر یوں بدلا ہے:
طاعت و ایمان سے راضی ہے وہ حیی شرك و کفر و فسق سے ناراض ہے
(یو)(۱۸)اسی صفحہ میں "بعض افضل پر ہیں بالضرور " تھا لفظ ضرور ہے یا بالضرور ۃبالضرور کوئی چیز نہیںمیں نے اسے یوں بدلا ہے: ع
بعض افضل بعض سے ہیں پر ضرور
(اعتراض نہم)(یر)" حق ہے معراج محمد دیں پناہ" صلی الله تعالی علیہ وسلم۔فلك اضافت پر اعتراض بیجا ہے فلك لك دو لك جگہ ملے گا۔یہیں ص ۷ پر اول ان کے حضرت آدم ابوالبشر
میں بھی فك تھا وہ کیوں جائز رکھا گیا۔(یح)اگر فك نامعقول ہو تو دیں پناہ کو صفت کیوں مانئے بلکہ بحذف مبتدا جملہ مستقلہ مدحیہ ہے یعنی وہ دیں پناہ ہیں صلی الله علیہ وسلم۔اس کے نظائر خود قرآن عظیم میں ہیں۔(یط)یہ بھی نہ سہی کیوں نہ ٹھہرائیں کہ مخاطب سعید کو ندا ہے یعنی اے دیں پناہ
(۱۹)یہ جواب کو خفیف اضافت دی جائے صحیح نہیں اب وزن فاعلاتن فاعلن نہیں ہوسکتا فاعلن کی گنجائش تو پہلے ہی نہ تھی دین پناہ فاعلات ہے اب کسرہ دال یہ تقطیع کردے گافاعلاتن فاعلات مفاعلن۔
(اعتراض دہم)صحیح ہے(۲۰)ماشاء الله یعنی جو اس طرح پڑھا جائے۔ماشال لا ہ کسی قاعدہ کا مقتضی نہیں حذف ہمزہ بے شك جائز و شائع ہے مگر اب الف و لام میں التقائے ساکنین ہو کر الف گر جائے گا اور یوں پڑھا جائے گا۔ماشلا میں نے اسے دو طرح بدلا ہے۔آسمانوں پر"الی ماشا الالہ" یعنی ہمزہ محذوف اور الف شابوجہ التقاساقط ہو کر شین لام سے مل گیا۔دوم آسمانوں "لماشاء الا لہ" لام بمعنی الی بکثرت شائع اور خود قرآن عظیم میں واقع اور اصلا کسی تکلف کی حاجت نہیں۔(ی)اس تبدیلی پر جو اعتراض جناب نے کیا وہ صحیح ہے واقعی مفاد اصل و بدل میں زمین و آسمان کا تفاوت ہےیہ ایك اربعین ہے مع انصاف تام یعنی بیس متعلق بحضرت معترض اور بیس متعلق بجناب و السلام فقیر کی رائے میں دوسری جگہ بھیجنے کی نہ حاجت نہ حصول منفعت کہ بہت تبدیلیں جو درکا رہیں رہ جائیں۔بعض کہ درکار نہیں عمل میں آئیں بعض کہ خود اشد اعظم تبدیل کے محتاج ہوں ظہور پائیں امید کہ یہاں کی ترمیم کے بعد کوئی غلطی نہ شرعی باقی رہی نہ شعریان شاء الله تعالی جناب کو فقیر نے لکھا تھا کہ اغلاط شعریہ سے قطع نظر کروں گا اس کے جواب میں فرمائش جناب پر وہ بھی زیر نظر رکھے گئے میری عظیم بے فرصتی بے حد کثرت کار اور اس پر محض تنہائی اور پھر علالت و نقاہت کا دس مہینے سے دورہ ضرورباعث دیر تاخیر ہوں گے۔اگر عجلت نہ فرمائیں اور منظور حضرت عزجلالہ ہو تو کام پورا اور تمام نقائص سے مبرا ہوجائے گا۔آئندہ جو رائے سامی ہو والتسلیم مع التکریم۔
مسئلہ ۲:از مطبع اہلسنت وجماعت بریلی مسئولہ منشی اعجاز احمد صاحب قیصر مراد آبادی کاتب مطبع مذکور ۵رجب ۱۳۳۵ھ
اسی پر آپ کو قیصر مسلمانی کا دعوی ہے
کبھی یاد خدا کرلیں کبھی ذکر بتاں کرلیں
یہ بحر ہزج سالم ہے یا مزاحف مسبع کریںاور کر لیںمیں کیا فرق ہے اور کرلیںکی فارسی کیاہوگی
(۱۹)یہ جواب کو خفیف اضافت دی جائے صحیح نہیں اب وزن فاعلاتن فاعلن نہیں ہوسکتا فاعلن کی گنجائش تو پہلے ہی نہ تھی دین پناہ فاعلات ہے اب کسرہ دال یہ تقطیع کردے گافاعلاتن فاعلات مفاعلن۔
(اعتراض دہم)صحیح ہے(۲۰)ماشاء الله یعنی جو اس طرح پڑھا جائے۔ماشال لا ہ کسی قاعدہ کا مقتضی نہیں حذف ہمزہ بے شك جائز و شائع ہے مگر اب الف و لام میں التقائے ساکنین ہو کر الف گر جائے گا اور یوں پڑھا جائے گا۔ماشلا میں نے اسے دو طرح بدلا ہے۔آسمانوں پر"الی ماشا الالہ" یعنی ہمزہ محذوف اور الف شابوجہ التقاساقط ہو کر شین لام سے مل گیا۔دوم آسمانوں "لماشاء الا لہ" لام بمعنی الی بکثرت شائع اور خود قرآن عظیم میں واقع اور اصلا کسی تکلف کی حاجت نہیں۔(ی)اس تبدیلی پر جو اعتراض جناب نے کیا وہ صحیح ہے واقعی مفاد اصل و بدل میں زمین و آسمان کا تفاوت ہےیہ ایك اربعین ہے مع انصاف تام یعنی بیس متعلق بحضرت معترض اور بیس متعلق بجناب و السلام فقیر کی رائے میں دوسری جگہ بھیجنے کی نہ حاجت نہ حصول منفعت کہ بہت تبدیلیں جو درکا رہیں رہ جائیں۔بعض کہ درکار نہیں عمل میں آئیں بعض کہ خود اشد اعظم تبدیل کے محتاج ہوں ظہور پائیں امید کہ یہاں کی ترمیم کے بعد کوئی غلطی نہ شرعی باقی رہی نہ شعریان شاء الله تعالی جناب کو فقیر نے لکھا تھا کہ اغلاط شعریہ سے قطع نظر کروں گا اس کے جواب میں فرمائش جناب پر وہ بھی زیر نظر رکھے گئے میری عظیم بے فرصتی بے حد کثرت کار اور اس پر محض تنہائی اور پھر علالت و نقاہت کا دس مہینے سے دورہ ضرورباعث دیر تاخیر ہوں گے۔اگر عجلت نہ فرمائیں اور منظور حضرت عزجلالہ ہو تو کام پورا اور تمام نقائص سے مبرا ہوجائے گا۔آئندہ جو رائے سامی ہو والتسلیم مع التکریم۔
مسئلہ ۲:از مطبع اہلسنت وجماعت بریلی مسئولہ منشی اعجاز احمد صاحب قیصر مراد آبادی کاتب مطبع مذکور ۵رجب ۱۳۳۵ھ
اسی پر آپ کو قیصر مسلمانی کا دعوی ہے
کبھی یاد خدا کرلیں کبھی ذکر بتاں کرلیں
یہ بحر ہزج سالم ہے یا مزاحف مسبع کریںاور کر لیںمیں کیا فرق ہے اور کرلیںکی فارسی کیاہوگی
الجواب:
مثمن سالم ہے لین کا نون تقطیع میں حسب قاعدہ نہ آئے گا لہذا مسبع نہیں۔ہاں ایك مصرع مسبع ہے۔ ع
اسیران قفس کا دم گھٹا جاتا ہے اے صیاد
فعل کا اثر اپنے لیے حاصل کرنا ہو خواہ دوسرے کے لیے اسے مطلقا کرنا کہیں گے اور کرلینا وہاں کہ اپنے لیے تحصیل اثر مقصود ہو اگرچہ اس قدر کہ اس سے فراغ حاصل ہوا میں نے بات کرلی یعنی کرچکا اور کردینا وہاں کہ دوسرے تك وصول اثر مقصود ہو نفع خواہ ضررنکاح کرلیا یعنی اپنا اور کردیا یعنی دوسرے سے اور کیا د ونوں کو شامل ہے سراپنا چاك کرلیا اور دوسرے کا کردیا اور کیا عام۔فارسی میں اس مختصر ترکیب کا ترجمہ نہیں اور یہ فقط کرنے ہی سے خاص نہیں بلکہ ہر فعل میں ہے جیسے کھالو پی لو مگر دو وہیں ہوگا۔جہاں دوسرے پر اثر پہنچے کھادو نہ کہا جائے گا انار توڑ دو یعنی دوسرے کو اور توڑ لو یعنی اپنے لیے اور اگر دوسرے کے لیے توڑ رہا ہے اس سے کہا انار توڑ لو تو ایك بات نہیں یہاں وہی بمعنی فراغ ہے کہ یہ اثر اپنے لیے ہے فقط۔
مثمن سالم ہے لین کا نون تقطیع میں حسب قاعدہ نہ آئے گا لہذا مسبع نہیں۔ہاں ایك مصرع مسبع ہے۔ ع
اسیران قفس کا دم گھٹا جاتا ہے اے صیاد
فعل کا اثر اپنے لیے حاصل کرنا ہو خواہ دوسرے کے لیے اسے مطلقا کرنا کہیں گے اور کرلینا وہاں کہ اپنے لیے تحصیل اثر مقصود ہو اگرچہ اس قدر کہ اس سے فراغ حاصل ہوا میں نے بات کرلی یعنی کرچکا اور کردینا وہاں کہ دوسرے تك وصول اثر مقصود ہو نفع خواہ ضررنکاح کرلیا یعنی اپنا اور کردیا یعنی دوسرے سے اور کیا د ونوں کو شامل ہے سراپنا چاك کرلیا اور دوسرے کا کردیا اور کیا عام۔فارسی میں اس مختصر ترکیب کا ترجمہ نہیں اور یہ فقط کرنے ہی سے خاص نہیں بلکہ ہر فعل میں ہے جیسے کھالو پی لو مگر دو وہیں ہوگا۔جہاں دوسرے پر اثر پہنچے کھادو نہ کہا جائے گا انار توڑ دو یعنی دوسرے کو اور توڑ لو یعنی اپنے لیے اور اگر دوسرے کے لیے توڑ رہا ہے اس سے کہا انار توڑ لو تو ایك بات نہیں یہاں وہی بمعنی فراغ ہے کہ یہ اثر اپنے لیے ہے فقط۔
علم وتعلیم
مسئلہ ۳تا۷:از اسارا ڈاکخانہ کرہٹل ضلع میرٹھ مدرسہ حفاظت اسلام مرسلہ منشی محمود علی مدرس مدرسہ مذکور۲۹ ربیع الاخر ۱۳۳۶ھ
(۱)اس زمانے میں جب کہ عام جہالت کی گھٹا پھیلی ہوئی ہے تو اس وجہ سے قرآن پاکحدیث شریففقہ حنفیہ کا بوجہ بعض مسائل شرمناك ہونے کے مثلا حیضنفاسجماعطلاقثبوت نسب وغیرہ کے کتب بالا کا ترجمہ کرکے عوام کے روبرو اظہار کرنا کیا منع ہے۔
(۲)کتب فقہ جو مذہب حنفی کی درسی وغیردرسی مثلا کنزالدقائقشرح وقایہہدایہدرمختارعالمگیریشامیقاضیخاں وغیرہ اور انکی شروح جو مشہور مدارس عربیہ میں داخل درس ہیں آیا صحیح ہیں یا فرضی
(۳)جو مسائل کتب مذکورہ بالا سے اخذ کرکے اردو میں کردیئے جائیں تاکہ عوام اس سے فائدہ مند ہوں تو کیا وہ قابل یقین و عمل نہ ہوں گے جیسے کتب فارسی واردو مالا بدمنہمفتاح الجنتبہشتی زیور وغیرہ۔
(۴)جو شخص باوجود دعوی حنفیت کرتے ہوئے کتب بالا سے انکار کرے اور کہے کہ ان کے مسائل فرضی ہیں۔حنفی مذہب کے نہیں جس کی وجہ سے ایك گروہ عظیم کا کتب بالا سے اعتقاد خراب ہوجاتا ہےیہ لوگ اپنے دعوی میں مقلد ہوں گے یا غیر مقلد
(۵)اکثر لوگ بہشتی زیور کے بعض مسائل پر کہ متفرق طور سے فصل نجاست اور ثبوت نسبت وغیرہ میں ہیں۔
مسئلہ ۳تا۷:از اسارا ڈاکخانہ کرہٹل ضلع میرٹھ مدرسہ حفاظت اسلام مرسلہ منشی محمود علی مدرس مدرسہ مذکور۲۹ ربیع الاخر ۱۳۳۶ھ
(۱)اس زمانے میں جب کہ عام جہالت کی گھٹا پھیلی ہوئی ہے تو اس وجہ سے قرآن پاکحدیث شریففقہ حنفیہ کا بوجہ بعض مسائل شرمناك ہونے کے مثلا حیضنفاسجماعطلاقثبوت نسب وغیرہ کے کتب بالا کا ترجمہ کرکے عوام کے روبرو اظہار کرنا کیا منع ہے۔
(۲)کتب فقہ جو مذہب حنفی کی درسی وغیردرسی مثلا کنزالدقائقشرح وقایہہدایہدرمختارعالمگیریشامیقاضیخاں وغیرہ اور انکی شروح جو مشہور مدارس عربیہ میں داخل درس ہیں آیا صحیح ہیں یا فرضی
(۳)جو مسائل کتب مذکورہ بالا سے اخذ کرکے اردو میں کردیئے جائیں تاکہ عوام اس سے فائدہ مند ہوں تو کیا وہ قابل یقین و عمل نہ ہوں گے جیسے کتب فارسی واردو مالا بدمنہمفتاح الجنتبہشتی زیور وغیرہ۔
(۴)جو شخص باوجود دعوی حنفیت کرتے ہوئے کتب بالا سے انکار کرے اور کہے کہ ان کے مسائل فرضی ہیں۔حنفی مذہب کے نہیں جس کی وجہ سے ایك گروہ عظیم کا کتب بالا سے اعتقاد خراب ہوجاتا ہےیہ لوگ اپنے دعوی میں مقلد ہوں گے یا غیر مقلد
(۵)اکثر لوگ بہشتی زیور کے بعض مسائل پر کہ متفرق طور سے فصل نجاست اور ثبوت نسبت وغیرہ میں ہیں۔
اعتراض کرتے ہیں ہم نے ان کی تحقیق کتب فقہ میں کی تو شرح و قایہدرمختارکنزالدقائق میں پائے جاتے ہیں ایك مفتی صاحب کہتے ہیں کہ مسائل فرضی ہیں ان کا کہا کیونکر صحیح ہے
الجواب:
(۱)ایسے سوال میں قرآن عظیم کا شامل کرنا سوء ادب ہے الله ورسول جل وعلا وصلی الله تعالی علیہ وسلم نے ہماری ہرحاجت کے متعلق حق و باطلنفع و ضرر پر ہمیں مطلع فرمایا۔جس طرح ہمیں نماز روزہ سکھایا یونہی جماع و استنجاء تعلیم فرمایا مگر امور شرم کا ذکر طرز بیان مختلف ہوجانے سے مختلف ہوجاتا ہے۔ایك ہی مسئلہ اگر حیاء کے پیرایہ میں بیان کیا جائے تو کنواری لڑکی کو اس کی تعلیم ہوسکتی ہے اور بے حیائی کے طور پر ہو تو کوئی مہذب آدمی مردوں کے سامنے بھی بیان نہیں کرسکتا۔خصوصا ترجمہ کہ وہ گویا متکلم کی طرف سے اس کی زبان کا بیان ہوتا ہےتو نہایت ضرور ہے کہ اس کی عظمت و شان ملحوظ رہےوہ لفظ لکھے جائیں جو اس کے کہنے کے ہوںبعض گمراہوں نے ترجمہ قرآن مجید میں اس کا لحاظ نہ رکھا یہ سخت سوء ادب ہے۔غرض ایك ہی بات اختلاف طرز بیان سے تعظیم سے توہین تك بدل جاتی ہے جیسے اوش فرمائیےتناول فرمائیے نوش جان فرمایئے۔کھاؤنگلو تھوروزہر مار کرو اور تعظیم و توہین میں کس قدر مختلف ہیں تو صرف اتنا عذر کہ ہم نے ترجمہ کیا ہے کافی نہیں ہوسکتا جب کہ طرز بیان بے ہودہ ہو۔واﷲ تعالی اعلم۔
(۲)صحیح مقابل فرضی کے لیے تو اس قدر بس ہے کہ وہ کتاب جس کی طرف نسبت کی جائے اس کی ہو اگرچہ کتنے ہی اغلاط پر مشتمل ہوجن کتابوں کے نام سائل نے لیے ان میں کوئی فرضی نہیںکنزسے قاضیخاں تك جتنے نام مذکور ہوئے یہ سب صحیح بمعنی معتمد بھی ہیںمگر اعتماد کیا حاصل اس کی تفصیل ہم نے اپنے فتاوی میں ذکر کی ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
(۳)اگر کتب مذکورہ بالا سے صحیح ترجمہ کیا جائے اورطرز بیان بھی مقبول و محمود ہو اور اپنی طرف سے کچھ اضافہ نہ ہو تو وہ گویا انہیں کتابوں کا وجود ثانی ہوگا یقین تو اعتقادیات میں درکار ہوتا ہے اور قابل عمل وہ مسئلہ جو مفتی بہ ہو۔مالا بد میں بھی زیادات ہیں اور مفتاح الجنۃ تو وہابیہ کے ہاتھ میں رہی جس میں بہت کچھ اصلاح ہوئی اور بہشتی زیور اغلاط و ضلالت و بطالت وجہالت کا مجموعہ ہےواﷲ تعالی اعلم۔
(۴)کنز سے قاضیخاں تك جتنی کتابوں کے نام لیے ان کی نسبت کوئی حنفی نہیں کہتا کہ ان کے مسائل حنفیہ کے خلاف ہیں اور فرضی ہیںتو سوال ہی فرضی ہےمالا بد و مفتاح الجنۃ کے بعض زیادات و الحاقات کو اگر کسی نے ایساکہا تو بیجا نہ کہا اور بہشتی زیور لا فی العیرولا فی النفیر(نہ قافلے میں نہ لشکر میںیعنی کسی شمار میں نہیںت)واﷲ تعالی اعلم۔
الجواب:
(۱)ایسے سوال میں قرآن عظیم کا شامل کرنا سوء ادب ہے الله ورسول جل وعلا وصلی الله تعالی علیہ وسلم نے ہماری ہرحاجت کے متعلق حق و باطلنفع و ضرر پر ہمیں مطلع فرمایا۔جس طرح ہمیں نماز روزہ سکھایا یونہی جماع و استنجاء تعلیم فرمایا مگر امور شرم کا ذکر طرز بیان مختلف ہوجانے سے مختلف ہوجاتا ہے۔ایك ہی مسئلہ اگر حیاء کے پیرایہ میں بیان کیا جائے تو کنواری لڑکی کو اس کی تعلیم ہوسکتی ہے اور بے حیائی کے طور پر ہو تو کوئی مہذب آدمی مردوں کے سامنے بھی بیان نہیں کرسکتا۔خصوصا ترجمہ کہ وہ گویا متکلم کی طرف سے اس کی زبان کا بیان ہوتا ہےتو نہایت ضرور ہے کہ اس کی عظمت و شان ملحوظ رہےوہ لفظ لکھے جائیں جو اس کے کہنے کے ہوںبعض گمراہوں نے ترجمہ قرآن مجید میں اس کا لحاظ نہ رکھا یہ سخت سوء ادب ہے۔غرض ایك ہی بات اختلاف طرز بیان سے تعظیم سے توہین تك بدل جاتی ہے جیسے اوش فرمائیےتناول فرمائیے نوش جان فرمایئے۔کھاؤنگلو تھوروزہر مار کرو اور تعظیم و توہین میں کس قدر مختلف ہیں تو صرف اتنا عذر کہ ہم نے ترجمہ کیا ہے کافی نہیں ہوسکتا جب کہ طرز بیان بے ہودہ ہو۔واﷲ تعالی اعلم۔
(۲)صحیح مقابل فرضی کے لیے تو اس قدر بس ہے کہ وہ کتاب جس کی طرف نسبت کی جائے اس کی ہو اگرچہ کتنے ہی اغلاط پر مشتمل ہوجن کتابوں کے نام سائل نے لیے ان میں کوئی فرضی نہیںکنزسے قاضیخاں تك جتنے نام مذکور ہوئے یہ سب صحیح بمعنی معتمد بھی ہیںمگر اعتماد کیا حاصل اس کی تفصیل ہم نے اپنے فتاوی میں ذکر کی ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
(۳)اگر کتب مذکورہ بالا سے صحیح ترجمہ کیا جائے اورطرز بیان بھی مقبول و محمود ہو اور اپنی طرف سے کچھ اضافہ نہ ہو تو وہ گویا انہیں کتابوں کا وجود ثانی ہوگا یقین تو اعتقادیات میں درکار ہوتا ہے اور قابل عمل وہ مسئلہ جو مفتی بہ ہو۔مالا بد میں بھی زیادات ہیں اور مفتاح الجنۃ تو وہابیہ کے ہاتھ میں رہی جس میں بہت کچھ اصلاح ہوئی اور بہشتی زیور اغلاط و ضلالت و بطالت وجہالت کا مجموعہ ہےواﷲ تعالی اعلم۔
(۴)کنز سے قاضیخاں تك جتنی کتابوں کے نام لیے ان کی نسبت کوئی حنفی نہیں کہتا کہ ان کے مسائل حنفیہ کے خلاف ہیں اور فرضی ہیںتو سوال ہی فرضی ہےمالا بد و مفتاح الجنۃ کے بعض زیادات و الحاقات کو اگر کسی نے ایساکہا تو بیجا نہ کہا اور بہشتی زیور لا فی العیرولا فی النفیر(نہ قافلے میں نہ لشکر میںیعنی کسی شمار میں نہیںت)واﷲ تعالی اعلم۔
(۵)بہشتی زیور کا حال بالاجمال اوپر گزرا بے شك اس میں بہت مسائل باطل و ساختہ ہیں وہ کسی طرح اس قابل نہیں کہ کوئی مسلمان اسے دیکھے یا اپنے گھر میں رکھے مگر عالم جید بغرض ردوابطالمفتی صاحب کا اس پر اعتراض بجا ہے اور عوام اس کے مسائل سے جتنی بھی نفرت کریں ان کے حق میں مصلحت دینیہ ہے۔قال صلی الله تعالی علیہ وسلم:
ایاکم وایاھم لایضلونکم و لایفتنو نکم۔ ان سے دور بھاگو اور اپنے سے دور رکھو کہیں وہ تمہیں گمراہ نہ کردیں کہیں وہ تمہیں فتنہ میں نہ ڈالیں۔
علمائے کرام نے وصیت فرمائی کہ جاہل کے لکھے ہوئے مسئلہ پر تصدیق نہ کرو اگرچہ مسئلہ فی نفسہا صحیح ہو کہ اس کی تصدیق نگاہ عوام میں وقعت کاتب کی موجب ہوگی۔وہ یہ سمجھ لیں گے کہ یہ بھی کوئی مفتی ہےپھر اور جو اپنی جہالت سے غلط فتوی لکھے گا اس پر بھی اعتبار کریں گے۔جب جاہل کے لیے یہ حکم ہے تو چہ جائے مبتدی چہ جائے مرتد واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۸: ازجے پور راجپوتانہبازار ہوا محلمرسلہ محمد یوسف مدرس مدرسہ فیض محمدی ۲ ربیع الاول ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ درمختار و شرح وقایہ و ہدایہ وفتاوی عالمگیر ی و کنزالدقائق و قدوری ومنیۃ المصلی وغیرہ کتب فقہ میں وہ مسائل جو بلفظ قال ابوحنیفہ و عند ابی حنفیہ(ابوحنیفہ نے فرمایا اور ابوحنیفہ کے نزدیك یوں ہے ت)منقول ہیں کیا ان کی اسناد بقاعدہ محدثین صاحب کتاب سے امام ابوحنفیہ رحمۃ اﷲ تعالی علیہ تك پہنچتی ہیں تو ایك دو مسئلہ کی سند بطور نظیر کے ارقام فرمادیں۔
الجواب:
تمام مسائل کہ صاحب مذہب رضی الله تعالی عنہ کی طرف بلفظ قال وعند نسبت کئے جاتے ہیں کتب ظاہر الروایہ کے مسئلے ہیں اور ان تك اسانید متصلہ موجود ہر مسئلہ کے لیے جدا سند کی حاجت نہیں جس طرح صحیح بخاری تك ہم اسانید متصلہ رکھتے ہیںصحیح کی تمام حدیثیں ہمارے پاس انہیں سندوں سے ہیں ہر حدیث میں جدید سند کی ضرورت نہیں۔صاحب درمختار رضی الله تعالی عنہ درمختار میں فرماتے ہیں:
ایاکم وایاھم لایضلونکم و لایفتنو نکم۔ ان سے دور بھاگو اور اپنے سے دور رکھو کہیں وہ تمہیں گمراہ نہ کردیں کہیں وہ تمہیں فتنہ میں نہ ڈالیں۔
علمائے کرام نے وصیت فرمائی کہ جاہل کے لکھے ہوئے مسئلہ پر تصدیق نہ کرو اگرچہ مسئلہ فی نفسہا صحیح ہو کہ اس کی تصدیق نگاہ عوام میں وقعت کاتب کی موجب ہوگی۔وہ یہ سمجھ لیں گے کہ یہ بھی کوئی مفتی ہےپھر اور جو اپنی جہالت سے غلط فتوی لکھے گا اس پر بھی اعتبار کریں گے۔جب جاہل کے لیے یہ حکم ہے تو چہ جائے مبتدی چہ جائے مرتد واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۸: ازجے پور راجپوتانہبازار ہوا محلمرسلہ محمد یوسف مدرس مدرسہ فیض محمدی ۲ ربیع الاول ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ درمختار و شرح وقایہ و ہدایہ وفتاوی عالمگیر ی و کنزالدقائق و قدوری ومنیۃ المصلی وغیرہ کتب فقہ میں وہ مسائل جو بلفظ قال ابوحنیفہ و عند ابی حنفیہ(ابوحنیفہ نے فرمایا اور ابوحنیفہ کے نزدیك یوں ہے ت)منقول ہیں کیا ان کی اسناد بقاعدہ محدثین صاحب کتاب سے امام ابوحنفیہ رحمۃ اﷲ تعالی علیہ تك پہنچتی ہیں تو ایك دو مسئلہ کی سند بطور نظیر کے ارقام فرمادیں۔
الجواب:
تمام مسائل کہ صاحب مذہب رضی الله تعالی عنہ کی طرف بلفظ قال وعند نسبت کئے جاتے ہیں کتب ظاہر الروایہ کے مسئلے ہیں اور ان تك اسانید متصلہ موجود ہر مسئلہ کے لیے جدا سند کی حاجت نہیں جس طرح صحیح بخاری تك ہم اسانید متصلہ رکھتے ہیںصحیح کی تمام حدیثیں ہمارے پاس انہیں سندوں سے ہیں ہر حدیث میں جدید سند کی ضرورت نہیں۔صاحب درمختار رضی الله تعالی عنہ درمختار میں فرماتے ہیں:
حوالہ / References
صحیح مسلم باب النھی عن الروایۃ عن الضعفاء قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۰
انی ارویہ عن شیخنا الشیخ عبدالنبی الخلیلی عن المصنف(ای شیخ الاسلام ابی عبداﷲ محمد بن عبداﷲ الغزی التمر تاشی)عن ابن نجیم المصری (ای العلامۃ المحقق زین صاحب البحر الرائق) بسندہ الی صاحب المذہب ابی حنیفۃ رضی الله تعالی عنہ(الی قولہ)کما ھو مبسوط فی اجازاتنا بطرق عدیدۃ عن المشائخ المتبحرین الکبار۔ میں اس(علم فقہ)کو روایت کرتا ہوں اپنے استاذ شیخ عبدالنبی خلیلی سےوہ روایت کرتے ہیں مصنف(یعنی شیخ الاسلام ابو عبد الله محمد بن عبدالله غزی تمرتاشی)سے وہ ابن نجیم مصری(یعنی علامہ محقق زین صاحب بحرالرائق)سے وہ اپنی سند کے ساتھ جو متصل ہے صاحب مذہب امام ابوحنیفہ رضی الله تعالی عنہ کے ساتھ(مصنف کے اس قول تك کہ)یہ متبحر علماء کبار سے متعدد طرق کے ساتھ ہماری اجازت میں مفصل مذکور ہے(ت)
علامہ صاحب بحر کی سند یہ ہے:
المحقق زین عن العلامۃ ابن الشلبی صاحب الفتاوی عن ابن الشحنۃ شارح الوھبانیۃ عن الامام ابن الہمام صاحب فتح القدیر وزادالفقیر عن الامام العلامۃ قارئ الھدایۃ عن العلامۃ علاء الدین السیرانی عن السید جلال الدین صاحب الکفایۃ عن الامام عبدالعزیز البخاری صاحب کشف بزدوی عن الامام حافظ الدین النفسی صاحب الکنز و الوافی والکافی عن الامام شمس الائمۃ الکردری عن الامام برھان الدین صاحب الھدایۃ وکفایۃ المنتھی والتجنیس عن الامام فخر الاسلام علی البزدوی عن محقق زین روایت کرتے ہیں علامہ ابن شلبی صاحب فتاوی سے وہ ابن شحنہ شارح وہبانیہ سے وہ امام ابن ہمام مصنف فتح القدیر وزاد الفقیر سے وہ علامہ قاری الہدایہ سے وہ علامہ علاء الدین سیرانی سے وہ سید جلال الدین صاحب کفایہ سے وہ امام عبدالعزیز بخاری صاحب کشف بزدوی سے وہ کنزووافی و کافی کے مصنف حافظ الدین نسفی سے وہ امام شمس الائمہ کردری سے وہ ہدایہکفایۃ المنتہی اور تجنیس کے مصنف امام برہان الدین سے وہ امام فخر الاسلام علی بزدوی سے وہ امام شمس الائمہ سرخسی صاحب مبسوط سے وہ امام شمس الائمہ حلوانی سے وہ قاضی ابوعلی نسفی سے وہ امام
علامہ صاحب بحر کی سند یہ ہے:
المحقق زین عن العلامۃ ابن الشلبی صاحب الفتاوی عن ابن الشحنۃ شارح الوھبانیۃ عن الامام ابن الہمام صاحب فتح القدیر وزادالفقیر عن الامام العلامۃ قارئ الھدایۃ عن العلامۃ علاء الدین السیرانی عن السید جلال الدین صاحب الکفایۃ عن الامام عبدالعزیز البخاری صاحب کشف بزدوی عن الامام حافظ الدین النفسی صاحب الکنز و الوافی والکافی عن الامام شمس الائمۃ الکردری عن الامام برھان الدین صاحب الھدایۃ وکفایۃ المنتھی والتجنیس عن الامام فخر الاسلام علی البزدوی عن محقق زین روایت کرتے ہیں علامہ ابن شلبی صاحب فتاوی سے وہ ابن شحنہ شارح وہبانیہ سے وہ امام ابن ہمام مصنف فتح القدیر وزاد الفقیر سے وہ علامہ قاری الہدایہ سے وہ علامہ علاء الدین سیرانی سے وہ سید جلال الدین صاحب کفایہ سے وہ امام عبدالعزیز بخاری صاحب کشف بزدوی سے وہ کنزووافی و کافی کے مصنف حافظ الدین نسفی سے وہ امام شمس الائمہ کردری سے وہ ہدایہکفایۃ المنتہی اور تجنیس کے مصنف امام برہان الدین سے وہ امام فخر الاسلام علی بزدوی سے وہ امام شمس الائمہ سرخسی صاحب مبسوط سے وہ امام شمس الائمہ حلوانی سے وہ قاضی ابوعلی نسفی سے وہ امام
حوالہ / References
الدرالمختار مقدمۃ الکتاب مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳
الجواب:
مولانا اکرمکمالسلام علیکم ورحمتہ و برکاتہ !
یہ عبارت مرقاۃ کتاب الصلوۃباب ما علی الماموم من المتابعۃفصل ثانیحدیث علی و معاذ بن جبل علیہما الرضوان کی شرح میں ہے۔مطبع مصر جلد دوم صفحہ ۱۰۲)
مولانا اکرمکمالسلام علیکم ورحمتہ و برکاتہ !
یہ عبارت مرقاۃ کتاب الصلوۃباب ما علی الماموم من المتابعۃفصل ثانیحدیث علی و معاذ بن جبل علیہما الرضوان کی شرح میں ہے۔مطبع مصر جلد دوم صفحہ ۱۰۲)
حوالہ / References
مرقاۃ المفاتیح،کتاب الصلوۃ،الفصل الثانی،حدیث ۱۱۴۲ مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۳/ ۲۲۲
زبان و بیان
مسئلہ ۱۰: از ملك بنگال ضلع فرید پور مرسلہ شمس الدین صاحب
زنائے خلاف رضا مندی و بلا رضا مندی میں کیا فرق ہے
الجواب:
مہمل و بے حاصل سوال ہےخلاف رضا وعدم رضا میں عموم وخصوص مطلق ہے وہ بات جس کی طرف نہ رغبت نہ نفرت خلاف رضا نہیں بلا رضا ہےواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۱:
یزول ملکہ عن المسجد والمصلی بالفعل و بقولہ جعلتہ مسجدا۔ مسجد اور عیدگاہ میں فعل نماز سے مالك کی ملکیت زائل ہو جاتی ہے اور یہ کہنے سے بھی ملکیت زائل ہوجاتی ہے کہ میں نے اس کو مسجد کردیا۔(ت)
یہ واؤ جس پر بنا ہوا ہے یا کے معنی دے گایا اور کے
دوم:واذا بنی مسجدا لم یزل ملکہ عنہ حتی یفززہ عن ملکہ بطریقہ جس شخص نے مسجد بنائی تو اس سے بانی کی ملکیت زائل نہ ہوگی جب تك اس کا راستہ الگ کرکے
مسئلہ ۱۰: از ملك بنگال ضلع فرید پور مرسلہ شمس الدین صاحب
زنائے خلاف رضا مندی و بلا رضا مندی میں کیا فرق ہے
الجواب:
مہمل و بے حاصل سوال ہےخلاف رضا وعدم رضا میں عموم وخصوص مطلق ہے وہ بات جس کی طرف نہ رغبت نہ نفرت خلاف رضا نہیں بلا رضا ہےواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۱:
یزول ملکہ عن المسجد والمصلی بالفعل و بقولہ جعلتہ مسجدا۔ مسجد اور عیدگاہ میں فعل نماز سے مالك کی ملکیت زائل ہو جاتی ہے اور یہ کہنے سے بھی ملکیت زائل ہوجاتی ہے کہ میں نے اس کو مسجد کردیا۔(ت)
یہ واؤ جس پر بنا ہوا ہے یا کے معنی دے گایا اور کے
دوم:واذا بنی مسجدا لم یزل ملکہ عنہ حتی یفززہ عن ملکہ بطریقہ جس شخص نے مسجد بنائی تو اس سے بانی کی ملکیت زائل نہ ہوگی جب تك اس کا راستہ الگ کرکے
حوالہ / References
الدرالمختار کتاب الوقف مطبع مجتبائی دہلی ۱/۳۷۹
و یاذن للناس بالصلوۃ فیہ اسے اپنی ملکیت سے جدا نہ کردے اور جب تك لوگوں کو اس میں نماز پڑھنے کی عام اجازت نہ دے دے۔(ت)
یہ واؤ جس پر دوسری جگہ ہے اس کے معنی یا کے ہوں گے یا اور کے اور وجہ کیا ہے
الجواب:
پہلی عبارت درمختار کی ہے اور اس میں واؤ بمعنی یا ہے یعنی مسجد میں فعل نماز سے ملك مالك زائل ہوجاتی ہے اور مالك کے اس قول سے بھی کہ میں نے اس کو مسجد کردیادونوں میں جو ہو کافی ہے دونوں کا وجود ضروری نہیں ردالمحتار میں اسی پر لکھا ہے:
لم یردانہ لایزول بدونہ لما عرفت انہ یزول بالفعل ایضا بلا خلاف ۔ واﷲ تعالی اعلم۔ اس سے یہ مراد نہیں کہ اس کے بغیر ملکیت زائل نہیں ہوگی اس لیے کہ تو جان چکا ہے کہ ملکیت تو محض فعل نماز سے بھی زائل ہوجاتی ہے اس میں نماز پڑھنے کی عام اجازت نہ دے دے۔(ت)
دوسری عبارت ہدایہ کی ہے اور اس میں واؤ بمعنی یا نہیں بلکہ امران ضرور ہے اور اس کے بعد طرفین کے نزدیك ایك بار نماز باذن ہونا لازماور امام ابویوسف کے نزدیك صرف زبان سے کہہ دینا کافی کہ میں نے اسے مسجد کیااسی کو اس عبارت کے متصل ہدایہ میں بتایا:
وقال ابو یوسف یزول ملکہ لقولہ جعلتہ مسجدا ۔ امام ابویوسف نے فرمایا اس کے صرف یہ کہہ دینے سے کہ میں نے اس کو مسجد کردیا ہے اس کی ملکیت زائل ہوجاتی ہے۔(ت)
اور قول امام ابویوسف پر ہی فتوی ہے کہ دونوں میں سے جو ہو کافی ہے فعل و قول کا جمع ہونا ضروری نہیں۔ردالمحتار میں ہے:
فی الدر المنتقی وقدم فی التنویر و الدرر والوقایۃ و غیرھا قول ابی یوسف علمت ارجحیتہ فی الوقف و القضا۔ دررمنتقی میں ہے کہ تنویردر اور وقایہ میں امام ابویوسف کے قول کو مقدم کیا گیا ہے اور وقف وقضا میں اس کا ارجح ہونا معلوم ہوچکا ہے۔(ت)
یہ واؤ جس پر دوسری جگہ ہے اس کے معنی یا کے ہوں گے یا اور کے اور وجہ کیا ہے
الجواب:
پہلی عبارت درمختار کی ہے اور اس میں واؤ بمعنی یا ہے یعنی مسجد میں فعل نماز سے ملك مالك زائل ہوجاتی ہے اور مالك کے اس قول سے بھی کہ میں نے اس کو مسجد کردیادونوں میں جو ہو کافی ہے دونوں کا وجود ضروری نہیں ردالمحتار میں اسی پر لکھا ہے:
لم یردانہ لایزول بدونہ لما عرفت انہ یزول بالفعل ایضا بلا خلاف ۔ واﷲ تعالی اعلم۔ اس سے یہ مراد نہیں کہ اس کے بغیر ملکیت زائل نہیں ہوگی اس لیے کہ تو جان چکا ہے کہ ملکیت تو محض فعل نماز سے بھی زائل ہوجاتی ہے اس میں نماز پڑھنے کی عام اجازت نہ دے دے۔(ت)
دوسری عبارت ہدایہ کی ہے اور اس میں واؤ بمعنی یا نہیں بلکہ امران ضرور ہے اور اس کے بعد طرفین کے نزدیك ایك بار نماز باذن ہونا لازماور امام ابویوسف کے نزدیك صرف زبان سے کہہ دینا کافی کہ میں نے اسے مسجد کیااسی کو اس عبارت کے متصل ہدایہ میں بتایا:
وقال ابو یوسف یزول ملکہ لقولہ جعلتہ مسجدا ۔ امام ابویوسف نے فرمایا اس کے صرف یہ کہہ دینے سے کہ میں نے اس کو مسجد کردیا ہے اس کی ملکیت زائل ہوجاتی ہے۔(ت)
اور قول امام ابویوسف پر ہی فتوی ہے کہ دونوں میں سے جو ہو کافی ہے فعل و قول کا جمع ہونا ضروری نہیں۔ردالمحتار میں ہے:
فی الدر المنتقی وقدم فی التنویر و الدرر والوقایۃ و غیرھا قول ابی یوسف علمت ارجحیتہ فی الوقف و القضا۔ دررمنتقی میں ہے کہ تنویردر اور وقایہ میں امام ابویوسف کے قول کو مقدم کیا گیا ہے اور وقف وقضا میں اس کا ارجح ہونا معلوم ہوچکا ہے۔(ت)
حوالہ / References
الہدایۃ کتاب الوقف المکتبۃ العربیۃ کراچی ۲/ ۶۲۴
ردالمحتار کتاب الوقف مطلب فی احکام المسجد داراحیاء التراث العربی بیروت ۳/ ۳۶۹
الہدایۃ کتاب الوقف المکتبۃ العربیۃ کراچی ۲/ ۶۲۴
ردالمحتار کتاب الوقف داراحیاء التراث العربی بیروت ۳/ ۳۷۰
ردالمحتار کتاب الوقف مطلب فی احکام المسجد داراحیاء التراث العربی بیروت ۳/ ۳۶۹
الہدایۃ کتاب الوقف المکتبۃ العربیۃ کراچی ۲/ ۶۲۴
ردالمحتار کتاب الوقف داراحیاء التراث العربی بیروت ۳/ ۳۷۰
مسئلہ ۱۲: از مدرسہ منظر الاسلام بریلیمرسلہ مولوی اکبر حسین رام پوری طالب علم ۲۸ ربیع الاول شریف ۱۳۲۶ھ
بعالی خدمت اعلیحضرت مدظلہ العالی عرض ہے کہ ایك شعر کے معنی میں نہایت فکر کرتا ہوں لیکن سمجھ میں نہیں آتاامید کہ میں حضور کی ذات اقدس سے کامیاب ہوں گاشعر یہ ہے:
میری تعمیر میں مضمر اك صورت خرابی کی ہیولی برق خرمن کا ہے خون گرم دہقان کا
الجواب:
ہیولی مادے کو کہتے ہیں جس میں شے کی قابلیت اور استعداد ہوتی ہے اور خون گرم سعی کا سبب کہ دہقان کی سعی سے کھیتی کی پیداوار ہےاور اس کا محاصل خرمنکہ برق گرے تو اسے بالکلیہ نیست و نابود کردےتو کہتا ہے کہ وہ خون گرم دہقان کے سبب پیدا ہوا۔وہی برق خرمن کا مادہ بنا کر حرارت میں برق بننے کی استعداد تھی اور وہی بالاخر اپنے پیدا کردہ خرمن پر بجلی ہو کر گرا اور اسے فنا کرگیا تو اس تعمیر میں ویرانی کی صورت پنہاں تھی کہ:
لدواللموت وابنواللخراب
جیو مرنے کے لیے اور عمارتیں بناؤ خراب و برباد ہونے کے لیے۔
مسئلہ ۱۳: از پیلی بھیت محلہ احمد زئی مرسلہ مولوی سید محمد عمر الہ آبادی سہروردی ۱۸ رجب ۱۳۳۲ھ
(۱) من آن وقت بودم کہ آدم نبود کہ حوا عدم بود آدم نبود
(۲) من آں وقت کردم خداراسجود کہ ذات وصفات خدا ہم نبود
(۳) غور سے ہم نے محمد کو جو دیکھا فرحاں تین سو ساٹھ برس پایا خدا سے پہلے
(۱)میں اس وقت تھا کہ آدم نہ تھا کہ حوا معدوم تھی اور آدم نہ تھا۔
(۲)میں نے اس وقت خدا کو سجدہ کیا کہ خدا کی ذات و صفات بھی موجود نہ تھیں۔ت)
ان تینوں شعروں کا مطلب تحریر فرمائیے کہ یہ اشعار کس کے ہیں اور کس کتاب میں ہیں ایك شخص نے مجھ سے ان شعروں کا مطلب دریافت کیا ہے مگر مجھے نہیں معلوم میں کیسے بتلاؤں لہذا آنجناب سے سوال ہے کہ مطلب تحریر فرمائیے فقط المستفتی محمد عمر۔
الجواب:
ایسے اشعار کا مطلب اس وقت پوچھا جاتا ہے جب معلوم ہو کہ قائل کوئی معتبر شخص تھا ورنہ
بعالی خدمت اعلیحضرت مدظلہ العالی عرض ہے کہ ایك شعر کے معنی میں نہایت فکر کرتا ہوں لیکن سمجھ میں نہیں آتاامید کہ میں حضور کی ذات اقدس سے کامیاب ہوں گاشعر یہ ہے:
میری تعمیر میں مضمر اك صورت خرابی کی ہیولی برق خرمن کا ہے خون گرم دہقان کا
الجواب:
ہیولی مادے کو کہتے ہیں جس میں شے کی قابلیت اور استعداد ہوتی ہے اور خون گرم سعی کا سبب کہ دہقان کی سعی سے کھیتی کی پیداوار ہےاور اس کا محاصل خرمنکہ برق گرے تو اسے بالکلیہ نیست و نابود کردےتو کہتا ہے کہ وہ خون گرم دہقان کے سبب پیدا ہوا۔وہی برق خرمن کا مادہ بنا کر حرارت میں برق بننے کی استعداد تھی اور وہی بالاخر اپنے پیدا کردہ خرمن پر بجلی ہو کر گرا اور اسے فنا کرگیا تو اس تعمیر میں ویرانی کی صورت پنہاں تھی کہ:
لدواللموت وابنواللخراب
جیو مرنے کے لیے اور عمارتیں بناؤ خراب و برباد ہونے کے لیے۔
مسئلہ ۱۳: از پیلی بھیت محلہ احمد زئی مرسلہ مولوی سید محمد عمر الہ آبادی سہروردی ۱۸ رجب ۱۳۳۲ھ
(۱) من آن وقت بودم کہ آدم نبود کہ حوا عدم بود آدم نبود
(۲) من آں وقت کردم خداراسجود کہ ذات وصفات خدا ہم نبود
(۳) غور سے ہم نے محمد کو جو دیکھا فرحاں تین سو ساٹھ برس پایا خدا سے پہلے
(۱)میں اس وقت تھا کہ آدم نہ تھا کہ حوا معدوم تھی اور آدم نہ تھا۔
(۲)میں نے اس وقت خدا کو سجدہ کیا کہ خدا کی ذات و صفات بھی موجود نہ تھیں۔ت)
ان تینوں شعروں کا مطلب تحریر فرمائیے کہ یہ اشعار کس کے ہیں اور کس کتاب میں ہیں ایك شخص نے مجھ سے ان شعروں کا مطلب دریافت کیا ہے مگر مجھے نہیں معلوم میں کیسے بتلاؤں لہذا آنجناب سے سوال ہے کہ مطلب تحریر فرمائیے فقط المستفتی محمد عمر۔
الجواب:
ایسے اشعار کا مطلب اس وقت پوچھا جاتا ہے جب معلوم ہو کہ قائل کوئی معتبر شخص تھا ورنہ
بے معنی لوگوں کے ہذیان کیا قابل التفات۔
شعر اول کے مصرعہ اخیر میں آں دم نبود چاہیے ورنہ قافیہ غلط ہے بہرحال اس کا مطلب صحیح و صاف ہے وجود ارواح قبل اجسام کی طرف اشارہ ہے۔
شعر دوم صریح کفر ہے۔
شعر سوم میں دراصل تین سو تیرہ برس کا لفظ ہے فرحان ہمارے بریلی کے شاعر تھے ان کی زندگی میں ان کی یہ غزل چھپی تھی فقیر نے جبھی دیکھی تھی اس میں تین سو تیرہ کا لفظ تھا اس میں شاعر نے یہ مہمل و بے ہودہ و لغو مطلب رکھا ہے کہ لفظ محمد کے عدد ۹۲ ہیں اور لفظ خدا کے عدد ۶۰۵ ظاہر ہے کہ ۶۰۵ سے ۹۲ بقدر ۵۱۳ کے مقدم ہے۔بے ہودہ معنی اور بے معنی بات واستغفراﷲ العظیم یہ وہ ہے جو شاعر صاحب نے سمجھا تھا اور اس کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ محمد سے مراد مرتبہ رسالت حضور سید المرسلین صلی الله تعالی علیہ وعلیہم اجمعین ہو جس کا سر صرف ر ہے کہ رویت و روایت و ردیت درائے سب کا مبدا ہے اور انہار رسالت کی یہی منابع ہیں۔اس کے عدد ۲۰۰ ہیں اور رسول ۳۱۳ کہ حقیقۃ سب ظلال رسالت محمدیہ علیہ صاحبہا افضل الصلوۃ والتحیۃ ہیں مجموع ۵۱۳ ہوا۔رسل کرام علیہم الصلوۃ والسلام کی سیرمن اﷲ الی الخلق ہے اور امت کی سیر من الرسل الی اﷲ جب تك رسولوں پر ایمان نہ لائے اﷲ عزوجل پر ایمان نہیں مل سکتا۔پھر اس تك رسائی تو بے وساطت رسل محال ہے اور تصدیق سب رسولوں کی جزء ایمان ہے۔" لا نفرق بین احد من رسلہ" (ہم اس کے کسی رسول پر ایمان لانے میں فرق نہیں کرتے)برس کو عربی میں حول کہتے ہیں کہ تحویل سے مشعر ہے رسولوں کی بدلیاں بھی تحویل تھیں اور برس بمعنی بارش ہے ہر رسول کی رسالت بارش رحمت ہے یعنی محمد صلی الله تعالی علیہ وسلم نے آدم سے خاتم تك رائے رسالت میں یہ تین سو تیرہ تطور فرمائے تین سو تیرہ ابر رحمت برسائے جب تك ان سب کی تصدیق سے بہرہ ور ہو خدا تك رسائی ناممکن ہے واﷲ تعالی اعلم۔
شعر اول کے مصرعہ اخیر میں آں دم نبود چاہیے ورنہ قافیہ غلط ہے بہرحال اس کا مطلب صحیح و صاف ہے وجود ارواح قبل اجسام کی طرف اشارہ ہے۔
شعر دوم صریح کفر ہے۔
شعر سوم میں دراصل تین سو تیرہ برس کا لفظ ہے فرحان ہمارے بریلی کے شاعر تھے ان کی زندگی میں ان کی یہ غزل چھپی تھی فقیر نے جبھی دیکھی تھی اس میں تین سو تیرہ کا لفظ تھا اس میں شاعر نے یہ مہمل و بے ہودہ و لغو مطلب رکھا ہے کہ لفظ محمد کے عدد ۹۲ ہیں اور لفظ خدا کے عدد ۶۰۵ ظاہر ہے کہ ۶۰۵ سے ۹۲ بقدر ۵۱۳ کے مقدم ہے۔بے ہودہ معنی اور بے معنی بات واستغفراﷲ العظیم یہ وہ ہے جو شاعر صاحب نے سمجھا تھا اور اس کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ محمد سے مراد مرتبہ رسالت حضور سید المرسلین صلی الله تعالی علیہ وعلیہم اجمعین ہو جس کا سر صرف ر ہے کہ رویت و روایت و ردیت درائے سب کا مبدا ہے اور انہار رسالت کی یہی منابع ہیں۔اس کے عدد ۲۰۰ ہیں اور رسول ۳۱۳ کہ حقیقۃ سب ظلال رسالت محمدیہ علیہ صاحبہا افضل الصلوۃ والتحیۃ ہیں مجموع ۵۱۳ ہوا۔رسل کرام علیہم الصلوۃ والسلام کی سیرمن اﷲ الی الخلق ہے اور امت کی سیر من الرسل الی اﷲ جب تك رسولوں پر ایمان نہ لائے اﷲ عزوجل پر ایمان نہیں مل سکتا۔پھر اس تك رسائی تو بے وساطت رسل محال ہے اور تصدیق سب رسولوں کی جزء ایمان ہے۔" لا نفرق بین احد من رسلہ" (ہم اس کے کسی رسول پر ایمان لانے میں فرق نہیں کرتے)برس کو عربی میں حول کہتے ہیں کہ تحویل سے مشعر ہے رسولوں کی بدلیاں بھی تحویل تھیں اور برس بمعنی بارش ہے ہر رسول کی رسالت بارش رحمت ہے یعنی محمد صلی الله تعالی علیہ وسلم نے آدم سے خاتم تك رائے رسالت میں یہ تین سو تیرہ تطور فرمائے تین سو تیرہ ابر رحمت برسائے جب تك ان سب کی تصدیق سے بہرہ ور ہو خدا تك رسائی ناممکن ہے واﷲ تعالی اعلم۔
حوالہ / References
القرآن الکریم ۲ /۲۸۵
وعظ و تبلیغ
مسئلہ ۱۴: ازسہسرام ضلع گیا محلہ پٹیاں ٹولی عرف نیم کالے خان مرسلہ حکیم سراج الدین احمد صاحب ۱۷ شوال ۱۳۳۵ھ
دیوبندی سہارنپوری نانوتوی والہ آبادی وغیر ہم واعظین مدارس و مساجد کی تعمیر و تحفظ میں بلا ترجیح یکدیگر جو کچھ اقوال مختلفہ بیان کرتے ہیں کہاں تك حق بجانب ہے تاوقتیکہ بدعت واجب مندوب مباح حرام مکروہ اور بدعت کی وجہ حسن و قبح اور فرق درمیان بدعت و مباح و تخصیص حدیثیں۔
(۱)من سن سنۃ حسنۃ ومن سن سنۃ سیئۃ ۔
(۲)من احدث فی امرنا ھذا مالیس منہ فہورد ۔
(۳)من ابتدع بدعۃ ضلالۃ لایرضا ھا اﷲ ورسولہ ۔ جس نے اچھا طریقہ ایجاد کیا اور جس نے برا طریقہ ایجاد کیا(ت)
جو شخص ہمارے دین میں کوئی نئی نکالے وہ مردود ہے۔(ت)
جس نے کوئی ایسی نئی بات نکالی جو بری ہے جسے اﷲ و رسول پسند نہیں فرماتے۔(ت)
مسئلہ ۱۴: ازسہسرام ضلع گیا محلہ پٹیاں ٹولی عرف نیم کالے خان مرسلہ حکیم سراج الدین احمد صاحب ۱۷ شوال ۱۳۳۵ھ
دیوبندی سہارنپوری نانوتوی والہ آبادی وغیر ہم واعظین مدارس و مساجد کی تعمیر و تحفظ میں بلا ترجیح یکدیگر جو کچھ اقوال مختلفہ بیان کرتے ہیں کہاں تك حق بجانب ہے تاوقتیکہ بدعت واجب مندوب مباح حرام مکروہ اور بدعت کی وجہ حسن و قبح اور فرق درمیان بدعت و مباح و تخصیص حدیثیں۔
(۱)من سن سنۃ حسنۃ ومن سن سنۃ سیئۃ ۔
(۲)من احدث فی امرنا ھذا مالیس منہ فہورد ۔
(۳)من ابتدع بدعۃ ضلالۃ لایرضا ھا اﷲ ورسولہ ۔ جس نے اچھا طریقہ ایجاد کیا اور جس نے برا طریقہ ایجاد کیا(ت)
جو شخص ہمارے دین میں کوئی نئی نکالے وہ مردود ہے۔(ت)
جس نے کوئی ایسی نئی بات نکالی جو بری ہے جسے اﷲ و رسول پسند نہیں فرماتے۔(ت)
حوالہ / References
مسند الامام احمد بن حنبل المکتب الاسلامی بیروت۴/ ۳۶۱ وصحیح مسلم کتاب العلم قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/۳۴۱
صحیح مسلم کتاب الاقضیۃ باب نقض الاحکام الباطلۃ الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۷۷
جامع الترمذی کتاب العلم باب الاخذ بالسنۃ واجتناب البدعۃ امین کمپنی دہلی ۲/ ۹۲
صحیح مسلم کتاب الاقضیۃ باب نقض الاحکام الباطلۃ الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۷۷
جامع الترمذی کتاب العلم باب الاخذ بالسنۃ واجتناب البدعۃ امین کمپنی دہلی ۲/ ۹۲
کے مطابق ہر امور حسنہ کو سیئہ سے پاك رہنے کا حال مفصل نہ کہہ سنائیں کہ عوام غلط فہمی سے حق تلفی کرکے امور حسنہ کو بآمیزش ممنوعات کے مذموم نہ کردیں اگر اس کا التزام مذکورین اپنے اپنے وعظ میں نہ کریں تو مورد الزام ہوسکتے ہیں یا نہیں
الجواب:
واعظ کے لیے پہلی شرط یہ ہے کہ مسلمان ہو دیوبندی عقیدے والے مسلمان ہی نہیں ان کا وعظ سننا حرام اور دانستہ انہیں واعظ بنانا کفر علمائے حرمین شریفین نے فرمایا ہے کہ:
من شك فی کفرہ وعذابہ فقد کفر جس نے ان کے کفر اور عذاب میں شك کیا اس نے کفر کیا۔(ت)
اسی طرح تمام وہابیہ و غیر مقلدین فانھم جمیعا اخوان الشیاطین۔(کہ وہ سب شیطانوں کے بھائی ہیں۔ت)دوسری شرط سنی ہونا غیر سنی کو واعظ بنانا حرام ہے اگرچہ بالفرض وہ بات ٹھیك ہی کہے۔حدیث میں ہے نبی کریم صلی الله تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من وقرصاحب بدعۃ فقد اعان علی ھدم الاسلام جس نے کسی بدمذہب کی توقیر کی اس نے دین اسلام کے ڈھانے پر مد دد ی۔
تیسری شرط عالم ہونا جاہل کو واعظ کہنا ناجائز ہے جیسا کہ ارشا دہے:
اتخذالناس رؤسا جہا لا فسئلوا فافتوا بغیر علم فضلوا واضلوا۔ لوگوں نے جاہلوں کو سردار بنالیا پس جب ان سے سوال کیا گیا تو انہوں نے بے علم احکام شرعی بیان کرنے شروع کیے تو آپ بھی گمراہ ہوئے اور اوروں کو بھی گمراہ کیا۔
چوتھی شرط فاسق نہ ہونا۔تبیین الحقائق وغیرہ میں ہے:
لان فی تقدیمہ للامامۃ تعظیمہ کیونکہ اسے امامت کے لیے مقدم کرنے میں اس کی
الجواب:
واعظ کے لیے پہلی شرط یہ ہے کہ مسلمان ہو دیوبندی عقیدے والے مسلمان ہی نہیں ان کا وعظ سننا حرام اور دانستہ انہیں واعظ بنانا کفر علمائے حرمین شریفین نے فرمایا ہے کہ:
من شك فی کفرہ وعذابہ فقد کفر جس نے ان کے کفر اور عذاب میں شك کیا اس نے کفر کیا۔(ت)
اسی طرح تمام وہابیہ و غیر مقلدین فانھم جمیعا اخوان الشیاطین۔(کہ وہ سب شیطانوں کے بھائی ہیں۔ت)دوسری شرط سنی ہونا غیر سنی کو واعظ بنانا حرام ہے اگرچہ بالفرض وہ بات ٹھیك ہی کہے۔حدیث میں ہے نبی کریم صلی الله تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من وقرصاحب بدعۃ فقد اعان علی ھدم الاسلام جس نے کسی بدمذہب کی توقیر کی اس نے دین اسلام کے ڈھانے پر مد دد ی۔
تیسری شرط عالم ہونا جاہل کو واعظ کہنا ناجائز ہے جیسا کہ ارشا دہے:
اتخذالناس رؤسا جہا لا فسئلوا فافتوا بغیر علم فضلوا واضلوا۔ لوگوں نے جاہلوں کو سردار بنالیا پس جب ان سے سوال کیا گیا تو انہوں نے بے علم احکام شرعی بیان کرنے شروع کیے تو آپ بھی گمراہ ہوئے اور اوروں کو بھی گمراہ کیا۔
چوتھی شرط فاسق نہ ہونا۔تبیین الحقائق وغیرہ میں ہے:
لان فی تقدیمہ للامامۃ تعظیمہ کیونکہ اسے امامت کے لیے مقدم کرنے میں اس کی
حوالہ / References
الدرالمختار کتاب الجہاد باب المرتد مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۵۶،حسام الحرمین علی منحرالکفروالمین مطبع اہلسنت وجماعت بریلی ص ۹۴
کنزالعمال حدیث ۱۱۰۲ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱/ ۲۱۹
صحیح البخاری کتاب العلم باب کیف یقبض العلم الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۲۰
کنزالعمال حدیث ۱۱۰۲ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱/ ۲۱۹
صحیح البخاری کتاب العلم باب کیف یقبض العلم الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۲۰
وقدوجب علیہم اھانتہ شرعا ۔ تعظیم ہے حالانکہ شرعا مسلمانوں پر اس کی توہین واجب ہے۔(ت)
اور جب یہ سب شرائط مجتمع ہوں سنی صحیح القعیدہ عالم دین متقی وعظ فرمائے تو عوام کو اس کے وعظ میں دخل دینے کی اجازت نہیں وہ ضرور مصالح شرعیہ کا لحاظ رکھے گا ہاں اگر کسی جگہ کوئی خاص مصلحت ہو جس پر اسے اطلاع نہیں تو پیش از وعظ مطلع کر دیا جائے کہ یہاں یہ حالت ہے واﷲ تعالی اعلم۔
اور جب یہ سب شرائط مجتمع ہوں سنی صحیح القعیدہ عالم دین متقی وعظ فرمائے تو عوام کو اس کے وعظ میں دخل دینے کی اجازت نہیں وہ ضرور مصالح شرعیہ کا لحاظ رکھے گا ہاں اگر کسی جگہ کوئی خاص مصلحت ہو جس پر اسے اطلاع نہیں تو پیش از وعظ مطلع کر دیا جائے کہ یہاں یہ حالت ہے واﷲ تعالی اعلم۔
حوالہ / References
تبیین الحقائق باب الامامۃ والحدث فی الصلوۃ المطبعۃ الکبرٰی بولاق مصر ۱/ ۱۳۴
علم الحیوان
مسئلہ ۱۵:کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع اس مسئلہ میں۔
کتا اور کل جانور چرند و پرند کس کی اولاد میں سے ہیں
الجواب:
ہر جانور کہ مادہ سے پیدا ہوتا ہے اپنی قسم کے اس پہلے جانور کی اولاد میں ہے جسے رب عزوجل نے ابتدا بنایا تھا مثلا سب میں پہلا گھوڑا جو مٹی اور پانی سے رب عزوجل نے بنایا سب گھوڑے اس کی نسل ہیں یونہی کتے وغیرہ۔واﷲ تعالی اعلم۔
_________________
مسئلہ ۱۵:کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع اس مسئلہ میں۔
کتا اور کل جانور چرند و پرند کس کی اولاد میں سے ہیں
الجواب:
ہر جانور کہ مادہ سے پیدا ہوتا ہے اپنی قسم کے اس پہلے جانور کی اولاد میں ہے جسے رب عزوجل نے ابتدا بنایا تھا مثلا سب میں پہلا گھوڑا جو مٹی اور پانی سے رب عزوجل نے بنایا سب گھوڑے اس کی نسل ہیں یونہی کتے وغیرہ۔واﷲ تعالی اعلم۔
_________________
تشریح ابدان
مسئلہ ۱۶: مرسلہ مولوی نواب محمد سلطان احمد خان صاحب ۲۹ محرم الحرام ۱۳۲۵ھ
زید کہتا ہے حال میں دو شخص ایسے پائے گئے ہیں جن کے دو دو دل ہیں اور ڈاکٹر وں نے بھی اس کو اپنے طور پر جانچ کیا ہے بکر کہتا ہے کہ ایك شخص کے دو دل نہیں ہوسکتے کیونکہ الله تعالی ارشاد فرماتا ہے:
" ما جعل اللہ لرجل من قلبین فی جوفہ " ۔ اﷲ تعالی نے کسی آدمی کے اندر دو دل نہ رکھے۔(ت)
اس پر خالد کہتا ہے خدا ئے تعالی نے یہ بھی تو فرمایا ہے:
" ہو الذی یصورکم فی الارحام کیف یشاء" ۔ وہی ہے جو تمہاری تصویر بناتاہے ماؤں کے پیٹ میں جیسی چاہے)
پس یہ امر عجائب صنع باری سے ہے جیسے کہ ایك شخص ایسا بھی موجود ہے جس کا دل داہنی طرف ہے اسی طرح عجیب الخلقت بچے ہمیشہ پیدا ہوتے رہتے ہیں کیا انسان کیا جانور اور پہلی آیت تو اس شخص کے بارے میں اتری ہے جو دعوی کرتا ہے کہ اس شخص کے دو دل ہیں لہذا میں نبی کریم صلی الله تعالی علیہ وسلم سے زیادہ علم و فہم رکھتاہوں۔چونکہ اس وقت میں لوگ طرح طرح سے آپ کی مخالفت پر کمر بستہ تھے اس لیے اس شخص نے
مسئلہ ۱۶: مرسلہ مولوی نواب محمد سلطان احمد خان صاحب ۲۹ محرم الحرام ۱۳۲۵ھ
زید کہتا ہے حال میں دو شخص ایسے پائے گئے ہیں جن کے دو دو دل ہیں اور ڈاکٹر وں نے بھی اس کو اپنے طور پر جانچ کیا ہے بکر کہتا ہے کہ ایك شخص کے دو دل نہیں ہوسکتے کیونکہ الله تعالی ارشاد فرماتا ہے:
" ما جعل اللہ لرجل من قلبین فی جوفہ " ۔ اﷲ تعالی نے کسی آدمی کے اندر دو دل نہ رکھے۔(ت)
اس پر خالد کہتا ہے خدا ئے تعالی نے یہ بھی تو فرمایا ہے:
" ہو الذی یصورکم فی الارحام کیف یشاء" ۔ وہی ہے جو تمہاری تصویر بناتاہے ماؤں کے پیٹ میں جیسی چاہے)
پس یہ امر عجائب صنع باری سے ہے جیسے کہ ایك شخص ایسا بھی موجود ہے جس کا دل داہنی طرف ہے اسی طرح عجیب الخلقت بچے ہمیشہ پیدا ہوتے رہتے ہیں کیا انسان کیا جانور اور پہلی آیت تو اس شخص کے بارے میں اتری ہے جو دعوی کرتا ہے کہ اس شخص کے دو دل ہیں لہذا میں نبی کریم صلی الله تعالی علیہ وسلم سے زیادہ علم و فہم رکھتاہوں۔چونکہ اس وقت میں لوگ طرح طرح سے آپ کی مخالفت پر کمر بستہ تھے اس لیے اس شخص نے
کہہ دیا جس سے لوگ آپ سے برگشتہ ہوجائیں تو خدا تعالی نے اس کا جھوٹ ظاہر کردیا۔پس علماء دین قویم سے بقلب استفسار ہے کہ منشاہر دو آیت کا کیا ہے اور اس بارہ میں کیا اعتقاد رکھنا چاہیے القوا کلام نفسیکم فی قلبی توجروامن ربی(اپنا نفیس کلام میرے دل میں ڈالو میرے رب سے اجر پاؤ گے۔ت)
الجواب:
قلب و ہ عضو ہے کہ سلطان اقلیم بدن و محل عقل و فہم و منشا قصد واختیارورضا و انکار ہے ایك شخص کے دو دل نہیں ہوسکتے دوبادشاہ دراقلیمے نہ گنجند(ایك سلطنت میں دو بادشاہ نہیں ہوتے۔ت)آیۃ کریمہ میں رجل نکرہ ہے اور تحت نفی داخل ہے تو مفید عموم و استغراق ہے یعنی الله عزوجل نے کسی کے دو دل نہ بنائے نہ کہ فقط اس شخص خاص کی نسبت انکار فرمایا ہو۔
رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:
الا وان فی الجسد مضغۃ اذا صلحت صلح الجسد کلہ واذا فسدت فسد الجسد کلہ الا وھی القلب۔ سنتے ہو بدن میں ایك پارہ گوشت ہے کہ وہ ٹھیك ہے تو سارا بدن ٹھیك رہتا ہے اور وہ بگڑ جائے تو سارا بدن بگڑ جاتا ہے سنتے ہو وہ دل ہے۔
تو اگر کسی کے دو دل ہوں ان میں ایك ٹھیك رہے ایك بگڑ جائے تو چاہیے معا ایك آن میں سارا بدن بگڑا اور سنبھلا دونوں ہوا اور یہ محال ہے جب دو دل ہیں ایك نے ارادہ کیا یہ کام کیجئے دوسرے نے ارادہ کیا نہ کیجئے تو اب بدن ایك کی اطاعت کرے گا یا دونوں کی یا کسی کی نہیں۔ظاہر ہے کہ دونوں کی اطاعت محال ہے اور کسی کی نہ ہو تو ان میں کوئی قلب نہیں کہ قلب تو وہی ہے کہ بدن اسی کے ارادے سے حرکت وسکون ارادی کرتا ہے اور اگر ایك کی اطاعت کرے گا دوسرے کی نہیں تو جس کی اطاعت کرے گا وہی قلب ہے اور دوسرا ایك بدگوشت ہے کہ بدن میں صورت قلب پر پیدا ہوگیا جیسے کسی کے پنجے میں چھ انگلیاں اور بعض کے ایك ہاتھ میں دو ہاتھ لگے ہوتے ہیں ان میں جو کام دیتا ہے اور ٹھیك موقع پر ہے وہی ہاتھ ہے دوسر ابدگوشت ہے۔ ڈاکٹروں کا بیان اگر سچا ہو تو اس کی یہی صورت ہوگی کہ بدن میں
الجواب:
قلب و ہ عضو ہے کہ سلطان اقلیم بدن و محل عقل و فہم و منشا قصد واختیارورضا و انکار ہے ایك شخص کے دو دل نہیں ہوسکتے دوبادشاہ دراقلیمے نہ گنجند(ایك سلطنت میں دو بادشاہ نہیں ہوتے۔ت)آیۃ کریمہ میں رجل نکرہ ہے اور تحت نفی داخل ہے تو مفید عموم و استغراق ہے یعنی الله عزوجل نے کسی کے دو دل نہ بنائے نہ کہ فقط اس شخص خاص کی نسبت انکار فرمایا ہو۔
رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:
الا وان فی الجسد مضغۃ اذا صلحت صلح الجسد کلہ واذا فسدت فسد الجسد کلہ الا وھی القلب۔ سنتے ہو بدن میں ایك پارہ گوشت ہے کہ وہ ٹھیك ہے تو سارا بدن ٹھیك رہتا ہے اور وہ بگڑ جائے تو سارا بدن بگڑ جاتا ہے سنتے ہو وہ دل ہے۔
تو اگر کسی کے دو دل ہوں ان میں ایك ٹھیك رہے ایك بگڑ جائے تو چاہیے معا ایك آن میں سارا بدن بگڑا اور سنبھلا دونوں ہوا اور یہ محال ہے جب دو دل ہیں ایك نے ارادہ کیا یہ کام کیجئے دوسرے نے ارادہ کیا نہ کیجئے تو اب بدن ایك کی اطاعت کرے گا یا دونوں کی یا کسی کی نہیں۔ظاہر ہے کہ دونوں کی اطاعت محال ہے اور کسی کی نہ ہو تو ان میں کوئی قلب نہیں کہ قلب تو وہی ہے کہ بدن اسی کے ارادے سے حرکت وسکون ارادی کرتا ہے اور اگر ایك کی اطاعت کرے گا دوسرے کی نہیں تو جس کی اطاعت کرے گا وہی قلب ہے اور دوسرا ایك بدگوشت ہے کہ بدن میں صورت قلب پر پیدا ہوگیا جیسے کسی کے پنجے میں چھ انگلیاں اور بعض کے ایك ہاتھ میں دو ہاتھ لگے ہوتے ہیں ان میں جو کام دیتا ہے اور ٹھیك موقع پر ہے وہی ہاتھ ہے دوسر ابدگوشت ہے۔ ڈاکٹروں کا بیان اگر سچا ہو تو اس کی یہی صورت ہوگی کہ بدن میں
حوالہ / References
صحیح البخاری کتاب الایمان باب فضل من استبراء لدینہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۳۱،صحیح مسلم کتاب المساقات باب اخذ الحلال وترك الشبہات قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۲۸
ایك بدگوشت بصورت دل زیادہ پیدا ہوگیا ہوگا۔ہاتھ میں تو یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اصلی اور زائد دونوں ہاتھ کام دیں مگر قلب میں یہ ناممکن ہے آدمی روح انسانی سے آدمی ہے اور اسی کے مرکب کا نام قلب ہے اور روح انسانی متجزی نہیں کہ آدھی ایك دل میں رہے آدھی دوسرے میں۔تو جس سے وہ اصالۃ متعلق ہوگی تو وہی قلب ہے دوسرا سلب ہے۔اور آیہ کریمہ میں " یصورکم فی الارحام کیف یشاء"۔ فرمایا ہے کہ ماں کے پیٹ میں تمہاری تصویر بناتا ہے جیسی وہ چاہے۔یہ نہیں فرمایا کہ کیف تشاء ؤن وبتخیلاتکم تخترعون جیسی تم چاہو اور اپنے خیالات میں گھڑو ویسی ہی تصویر بنادے یہ محض باطل ہے اور اس نے اپنی مشیت بتادی کہ کسی کے جوف میں میں نے دو دل نہ رکھے تو اس کے خلاف تصویر نہ ہوگی۔واﷲ تعالی اعلم۔
حوالہ / References
القرآن الکریم ۳ /۶
علم حروف وریاضی
مسئلہ ۱۷: از شہر محلہ بہاریپور نواب وزیر احمد خان صاحب قادری رضو ی ۱۴ جمادی الاولی ۱۳۳۸ھ
بعز عرض بندگان عالی متعالی خداوند متعالی خداوند نعمت میر ساند السلام علیکم ورحمۃ الله وبرکاتہ آداب فدویانہ معروض۔لا۲ = ۷۵ء۲ لا+ ء = ۳۰ اگر یہ نمونہ صحیح ہوجاتا تو اسی نمونے پر یہ مساوات قائم ہوجاتی۔لا ۲/ ۷۵ =(۳۰۔لا)۲ لا۲ = ۷۵ (۳۰۔لا)۲ یا لا۲ = ۷۵(۹۰۰۔۰ ۶ لا + لا۲)یا لا۲ = ۶۷۵۰۰۔۴۵۰۰ لا + ۷۵ لا۲ یا ۷۴ لا۲ + ۴۵۰۰ لا = ۶۷۵۰۰ تقسیم کیا۔۲ سے ۳۷ لا۲۔۲۲۵۰ لا = ۳۳۷۵۰۰۰ مربع کامل کیا ۳۷ لا۲۔۲۲۵۰ +۱/ ۳۷(۲۲۵۰/۲)۲= ۳۳۷۵۰ +۳۷/ ۱(۲۲۵۰/۲)۲ یا۳۷ لا۲۔۲۲۵۰ لا +۳۷/ ۱(۱۱۲۵)۲ =۔۳۳۷۵۰ + ۳۷/ ۱(۱۱۲۵)۲ یا ۳۷لا۲ء۔ ۳۷/ ۱ (۱۱۲۵)۲ = ۳۳۷۵۰ + ۳۷/ ۱(۱۱۲۵)۲ اس کو ملاحظہ فرمالیا جائے یہاں تك کہ اگر صحیح ہو تو آگے عمل کیا جائے۔
الجواب:
مکرم کرم فرماچھوٹے نواب صاحب سلمہ وعلیکم السلام ورحمتہ وبرکاتہ تکمیل مجذور کا یہ نیا قاعدہ ہے کہ سرمجذور کی طرف ایك کو نسبت کرکے مجذور نصف سرلا کا سرکر کے شامل کریں مجذور کامل ہوجائے میرے نزدیك یہ صحیح نہ آئے گا مثلا ۲لا۲ + ۶ لا = ۲۰ طور مذکور پر ۲ لا۲ + ۲/ ۱(۳)۲ = ۲۰ + ۹/ ۲ = ۴۹/ ۲ ہر گز مجذور کامل نہیں یا ۳ لا۲۔۴ لا ۴ بطور مذکور ۳ لا۲۔ ۴ لا + ۳/ ۱(۲)۲ = ۴ + ۴/ ۳ = ۱۶/ ۳ ہر گز مربع نہیں۔
مسئلہ ۱۷: از شہر محلہ بہاریپور نواب وزیر احمد خان صاحب قادری رضو ی ۱۴ جمادی الاولی ۱۳۳۸ھ
بعز عرض بندگان عالی متعالی خداوند متعالی خداوند نعمت میر ساند السلام علیکم ورحمۃ الله وبرکاتہ آداب فدویانہ معروض۔لا۲ = ۷۵ء۲ لا+ ء = ۳۰ اگر یہ نمونہ صحیح ہوجاتا تو اسی نمونے پر یہ مساوات قائم ہوجاتی۔لا ۲/ ۷۵ =(۳۰۔لا)۲ لا۲ = ۷۵ (۳۰۔لا)۲ یا لا۲ = ۷۵(۹۰۰۔۰ ۶ لا + لا۲)یا لا۲ = ۶۷۵۰۰۔۴۵۰۰ لا + ۷۵ لا۲ یا ۷۴ لا۲ + ۴۵۰۰ لا = ۶۷۵۰۰ تقسیم کیا۔۲ سے ۳۷ لا۲۔۲۲۵۰ لا = ۳۳۷۵۰۰۰ مربع کامل کیا ۳۷ لا۲۔۲۲۵۰ +۱/ ۳۷(۲۲۵۰/۲)۲= ۳۳۷۵۰ +۳۷/ ۱(۲۲۵۰/۲)۲ یا۳۷ لا۲۔۲۲۵۰ لا +۳۷/ ۱(۱۱۲۵)۲ =۔۳۳۷۵۰ + ۳۷/ ۱(۱۱۲۵)۲ یا ۳۷لا۲ء۔ ۳۷/ ۱ (۱۱۲۵)۲ = ۳۳۷۵۰ + ۳۷/ ۱(۱۱۲۵)۲ اس کو ملاحظہ فرمالیا جائے یہاں تك کہ اگر صحیح ہو تو آگے عمل کیا جائے۔
الجواب:
مکرم کرم فرماچھوٹے نواب صاحب سلمہ وعلیکم السلام ورحمتہ وبرکاتہ تکمیل مجذور کا یہ نیا قاعدہ ہے کہ سرمجذور کی طرف ایك کو نسبت کرکے مجذور نصف سرلا کا سرکر کے شامل کریں مجذور کامل ہوجائے میرے نزدیك یہ صحیح نہ آئے گا مثلا ۲لا۲ + ۶ لا = ۲۰ طور مذکور پر ۲ لا۲ + ۲/ ۱(۳)۲ = ۲۰ + ۹/ ۲ = ۴۹/ ۲ ہر گز مجذور کامل نہیں یا ۳ لا۲۔۴ لا ۴ بطور مذکور ۳ لا۲۔ ۴ لا + ۳/ ۱(۲)۲ = ۴ + ۴/ ۳ = ۱۶/ ۳ ہر گز مربع نہیں۔
(۲)مساوات درجہ دوم سے یہ بہت سہل حل ہوسکتا یہاں تك آپ لے آئے کہ۔۷۴ لا۲ + ۴۵۰۰لا = ۶۷۵۰۰ یہاں نفی واثبات کا قلب کرلیجئے مساوات یہ ہوجائے گی ۷۴لا۲ ۴۵۰۰ = ۶۷۵۰۰۰ پھر خواہ یوں عمل کیجئے لا ۲۔۴۵۰۰ /۷۴ لا =۔ ۶۷۵۰۰/۷۴ طرفین میں ۲۲۵۰/۷۴ کا مجذور شامل کیجئے یا مساوات کو بحال رکھ کر ۲۹۶ میں ضرب دے کر طرفین میں (۶۷۵۰۰)۲ شامل فرمائیے مدعا حاصل ہوگا۔
(۳)ہاں لطیف تر یہ ہے کہ درجہ دوم کا نام نہ آنے پائے صرف مساوات درجہ اول سے حاصل ہو اسے بتائیے وہ بہت آسان ہے فقط۔
مسئلہ ۱۸: مسئولہ قاضی فضل احمد صاحب لودیانوی ۲۲ صفر مظفر ۱۳۳۹ھ
علمائے کرام کا اس میں کیا ارشاد ہے ایك رافضی نے کہا ایت کریمہ" انا من المجرمین منتقمون ﴿۲۲﴾ " ۔ (بے شك ہم مجرموں سے انتقام لینے والے ہیں۔ت)کے عدد ۱۲۰۲ ہیں اور یہ ہی عدد ابوبکر عثمان کے ہیں۔
الجواب:
روافض لعنہم اﷲ تعالی کی بنائے مذہب ایسے ہی اوہام بے سرو پاو پا در ہوا پر ہے۔
اولا:ہر آیت عذاب کے عدد اسماء اخیار سے مطابق کرسکتے ہیں اور آیت ثواب کے اسماء کفار سے کہ اسماء میں وسعت وسیعہ ہے۔
ثانیا: امیر المومنین علی کرم اﷲ تعالی وجہہ کے تین صاحبزادوں کے نام ابوبکر و عمر و عثمان ہیں۔
رافضی نے آیت کو ادھر پھیرا کوئی ناصبی ادھر پھیر دے گا اور دونوں ملعون ہیں۔حدیث میں ہے سیدنا امام حسن رضی الله تعالی عنہ کی ولاد ت پر حضور اقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم تشریف لے گئے اور ارشاد فرمایا۔ارونی ابنی ما سمیتموہ مجھے میرا بیٹا دکھاؤ تم نے اس کا کیا نام رکھا۔مولی علی نے عرض کی حرب۔فرمایا:نہیں بلکہ وہ حسن ہے۔پھر سیدنا امام حسین رضی الله تعالی عنہ کی ولادت پر تشریف لے گئے اور فرمایا مجھے میرا بیٹا دکھاؤ تم نے اس کا کیا نام رکھا مولی علی نے عرض کی:حرب۔ فرمایا: نہیں بلکہ وہ حسین ہے پھر امام محسن کی ولادت پر وہی فرمایا مولی علی نے وہی عرض کی۔فرمایا:نہیں بلکہ وہ محسن ہے پھر فرمایا میں نے اپنے بیٹوں کے نام داؤد علیہ الصلوۃ والسلام
(۳)ہاں لطیف تر یہ ہے کہ درجہ دوم کا نام نہ آنے پائے صرف مساوات درجہ اول سے حاصل ہو اسے بتائیے وہ بہت آسان ہے فقط۔
مسئلہ ۱۸: مسئولہ قاضی فضل احمد صاحب لودیانوی ۲۲ صفر مظفر ۱۳۳۹ھ
علمائے کرام کا اس میں کیا ارشاد ہے ایك رافضی نے کہا ایت کریمہ" انا من المجرمین منتقمون ﴿۲۲﴾ " ۔ (بے شك ہم مجرموں سے انتقام لینے والے ہیں۔ت)کے عدد ۱۲۰۲ ہیں اور یہ ہی عدد ابوبکر عثمان کے ہیں۔
الجواب:
روافض لعنہم اﷲ تعالی کی بنائے مذہب ایسے ہی اوہام بے سرو پاو پا در ہوا پر ہے۔
اولا:ہر آیت عذاب کے عدد اسماء اخیار سے مطابق کرسکتے ہیں اور آیت ثواب کے اسماء کفار سے کہ اسماء میں وسعت وسیعہ ہے۔
ثانیا: امیر المومنین علی کرم اﷲ تعالی وجہہ کے تین صاحبزادوں کے نام ابوبکر و عمر و عثمان ہیں۔
رافضی نے آیت کو ادھر پھیرا کوئی ناصبی ادھر پھیر دے گا اور دونوں ملعون ہیں۔حدیث میں ہے سیدنا امام حسن رضی الله تعالی عنہ کی ولاد ت پر حضور اقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم تشریف لے گئے اور ارشاد فرمایا۔ارونی ابنی ما سمیتموہ مجھے میرا بیٹا دکھاؤ تم نے اس کا کیا نام رکھا۔مولی علی نے عرض کی حرب۔فرمایا:نہیں بلکہ وہ حسن ہے۔پھر سیدنا امام حسین رضی الله تعالی عنہ کی ولادت پر تشریف لے گئے اور فرمایا مجھے میرا بیٹا دکھاؤ تم نے اس کا کیا نام رکھا مولی علی نے عرض کی:حرب۔ فرمایا: نہیں بلکہ وہ حسین ہے پھر امام محسن کی ولادت پر وہی فرمایا مولی علی نے وہی عرض کی۔فرمایا:نہیں بلکہ وہ محسن ہے پھر فرمایا میں نے اپنے بیٹوں کے نام داؤد علیہ الصلوۃ والسلام
حوالہ / References
القرآن الکریم ۳۳ /۲۲
اسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ باب الحاء والسین ترجمہ حسن بن علی ۱۱۶۵ دارالفکر بیروت ۱/ ۵۵۷
اسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ باب الحاء والسین ترجمہ حسن بن علی ۱۱۶۵ دارالفکر بیروت ۱/ ۵۵۷
کے بیٹوں پر رکھے۔شبر شبیر مشبر حسن حسین محسن ان سے ہم وزن و ہم معنی ہیں اس سے مولی علی کرم الله تعالی وجہہ الکریم کو تنبیہ ہوئی کہ اولاد کے نام اخیار کے ناموں پر رکھنے چاہیئں لہذا ان کے بعد اپنے صاحبزادوں کے نام ابوبکر عمر عثمان عباس وغیرہا رکھے۔
ثالثا:رافضی نے عدد غلط بتائے امیر المومنین عثمن غنی رضی الله تعالی عنہ کے نام پاك میں الف نہیں لکھا جاتا تو عدد بارہ سو ایك ہیں نہ کہ دو۔
ہاں او رافضی(۱)بارہ سو دو عدد کا ہے کے ہیں ابن سینا رافضہ کے۔
(۲)ہاں او ر افضی! بارہ سو دو عدد ان کے ہیں ابلیس یزید ابن زیاد شیطان الطاق کلینی ابن بابویہ قمی طوسی حلی۔
(۳)ہاں او رافضی ! الله عزوجل فرماتا ہے:
" ان الذین فرقوا دینہم وکانوا شیعا لست منہم فی شیء"
۔ بے شك جنہوں نے اپنا دین ٹکڑے ٹکڑے کردیا اور شیعہ ہو گئے اے نبی ! تمہیں ان سے کچھ علاقہ نہیں۔
اس آیہ کریمہ کے عدد ۲۸ ۲۸ ہیں اور یہی عددی ہیں رفاض اثنا عشریہ شیطنیہ اسمعیلیہ کے اور اگر اپنی طرح سے اسمعیلیہ میں الف چاہے تو یہ ہی عدد ہیں روافض اثنا عشریہ و نصیریہ و اسماعیلیہ کے۔
(۴)ہاں او رافضی ! الله تعالی فرماتا ہے:
" لہم اللعنۃ ولہم سوء الدار ﴿۵۲﴾" ۔ ان کے لیے ہے لعنت اور ان کے لیے ہے برا گھر۔
اس کے عدد چھ سو چوالیس ہیں اور یہی عدد ہیں شیطان الطاق طوسی حلی کے۔
(۵)نہیں او رافضی! بلکہ الله عزوجل فرماتا ہے:
" اولئک ہم الصدیقون ٭ و الشہداء عند ربہم لہم اجرہم" ۔ وہی اپنے رب کے یہاں صدیق و شہید ہیں ان کے لیے ان کا ثواب ہے۔
اس کے عدد چودہ سو پینتالیس ہیں اور یہی عدد ابوبکر عمر عثمان علی سعد کے۔
ثالثا:رافضی نے عدد غلط بتائے امیر المومنین عثمن غنی رضی الله تعالی عنہ کے نام پاك میں الف نہیں لکھا جاتا تو عدد بارہ سو ایك ہیں نہ کہ دو۔
ہاں او رافضی(۱)بارہ سو دو عدد کا ہے کے ہیں ابن سینا رافضہ کے۔
(۲)ہاں او ر افضی! بارہ سو دو عدد ان کے ہیں ابلیس یزید ابن زیاد شیطان الطاق کلینی ابن بابویہ قمی طوسی حلی۔
(۳)ہاں او رافضی ! الله عزوجل فرماتا ہے:
" ان الذین فرقوا دینہم وکانوا شیعا لست منہم فی شیء"
۔ بے شك جنہوں نے اپنا دین ٹکڑے ٹکڑے کردیا اور شیعہ ہو گئے اے نبی ! تمہیں ان سے کچھ علاقہ نہیں۔
اس آیہ کریمہ کے عدد ۲۸ ۲۸ ہیں اور یہی عددی ہیں رفاض اثنا عشریہ شیطنیہ اسمعیلیہ کے اور اگر اپنی طرح سے اسمعیلیہ میں الف چاہے تو یہ ہی عدد ہیں روافض اثنا عشریہ و نصیریہ و اسماعیلیہ کے۔
(۴)ہاں او رافضی ! الله تعالی فرماتا ہے:
" لہم اللعنۃ ولہم سوء الدار ﴿۵۲﴾" ۔ ان کے لیے ہے لعنت اور ان کے لیے ہے برا گھر۔
اس کے عدد چھ سو چوالیس ہیں اور یہی عدد ہیں شیطان الطاق طوسی حلی کے۔
(۵)نہیں او رافضی! بلکہ الله عزوجل فرماتا ہے:
" اولئک ہم الصدیقون ٭ و الشہداء عند ربہم لہم اجرہم" ۔ وہی اپنے رب کے یہاں صدیق و شہید ہیں ان کے لیے ان کا ثواب ہے۔
اس کے عدد چودہ سو پینتالیس ہیں اور یہی عدد ابوبکر عمر عثمان علی سعد کے۔
حوالہ / References
اسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ باب الحاء والسین ترجمہ حسن بن علی ۱۱۶۵ دارالفکر بیروت ۱/۵۵۷
القرآن الکریم ۶ /۱۵۹
القرآن الکریم ۱۳ /۲۵
القرآن لکریم ۵۷/ ۱۹
القرآن الکریم ۶ /۱۵۹
القرآن الکریم ۱۳ /۲۵
القرآن لکریم ۵۷/ ۱۹
(۶)نہیں او رافضی ! بلکہ مولی تعالی فرماتا ہے:
" اولئک ہم الصدیقون ٭ و الشہداء عند ربہم لہم اجرہم و نورہم " ۔ وہی اپنے رب کے حضور صدیق وشہید ہیں ان کے لیے ہے ان کا ثواب اور ان کا نور۔
اس کے عدد ۱۷۵۲ ہیں اور یہی عدد ہیں ابوبکر و عمر و عثمن و علی وطلحہ و زبیر کے۔
(۷)نہیں اورافضی ! بلکہ اﷲ عزوجل فرماتاہے:
" و الذین امنوا باللہ و رسلہ اولئک ہم الصدیقون ٭ و الشہداء عند ربہم لہم اجرہم و نورہم " ۔ جو لوگ ایمان لائے اﷲ اور اس کے رسولوں پر وہی اپنے رب کے نزدیك صدیق و شہید ہیں ان کے لیے ہے ان کا ثواب اور ان کا نور۔
آیۃ کریمہ کے عدد ۳۰۱۶ ہیں اور یہی عدد ہیں صدیق فاروق ذوالنورین علی طلحہ زبیر سعد سعید ابوعبیدہ عبدالرحمن بن عوف کے۔
الحمدﷲ آیۃ کریمہ کا تمام و کمال جملہ مدح بھی پورا ہوگیا اور حضرات عشرہ مبشرہ رضی الله تعالی عنہم کے اسمائے طیبہ بھی سب آگئے جس میں اصلا تکلف و تصنع کو دخل نہیں کچھ روزوں سے آنکھ دکھتی ہے یہ تمام آیات عذاب و اسمائے اشرار و آیت مدح و اسمائے اخیار کے عدد محض خیال میں مطابق کیے جن میں صرف چند منٹ صرف ہوئے اگر لکھ کر اعداد جوڑے جاتے تو مطابقتوں کی بہار نظر آتی مگر بعونہ تعالی اس قدر بھی کافی ہے وﷲ الحمد واﷲ تعالی اعلم۔
" اولئک ہم الصدیقون ٭ و الشہداء عند ربہم لہم اجرہم و نورہم " ۔ وہی اپنے رب کے حضور صدیق وشہید ہیں ان کے لیے ہے ان کا ثواب اور ان کا نور۔
اس کے عدد ۱۷۵۲ ہیں اور یہی عدد ہیں ابوبکر و عمر و عثمن و علی وطلحہ و زبیر کے۔
(۷)نہیں اورافضی ! بلکہ اﷲ عزوجل فرماتاہے:
" و الذین امنوا باللہ و رسلہ اولئک ہم الصدیقون ٭ و الشہداء عند ربہم لہم اجرہم و نورہم " ۔ جو لوگ ایمان لائے اﷲ اور اس کے رسولوں پر وہی اپنے رب کے نزدیك صدیق و شہید ہیں ان کے لیے ہے ان کا ثواب اور ان کا نور۔
آیۃ کریمہ کے عدد ۳۰۱۶ ہیں اور یہی عدد ہیں صدیق فاروق ذوالنورین علی طلحہ زبیر سعد سعید ابوعبیدہ عبدالرحمن بن عوف کے۔
الحمدﷲ آیۃ کریمہ کا تمام و کمال جملہ مدح بھی پورا ہوگیا اور حضرات عشرہ مبشرہ رضی الله تعالی عنہم کے اسمائے طیبہ بھی سب آگئے جس میں اصلا تکلف و تصنع کو دخل نہیں کچھ روزوں سے آنکھ دکھتی ہے یہ تمام آیات عذاب و اسمائے اشرار و آیت مدح و اسمائے اخیار کے عدد محض خیال میں مطابق کیے جن میں صرف چند منٹ صرف ہوئے اگر لکھ کر اعداد جوڑے جاتے تو مطابقتوں کی بہار نظر آتی مگر بعونہ تعالی اس قدر بھی کافی ہے وﷲ الحمد واﷲ تعالی اعلم۔
حوالہ / References
القرآن لکریم ۵۷/ ۱۹
القرآن لکریم ۵۷/ ۱۹
القرآن لکریم ۵۷/ ۱۹
حقوق العباد
مسئلہ ۱۹: از شہر بریلی محلہ لودی ٹولہ مسئولہ نظیر احمد شہر کہنہ شنبہ ۲۳ شعبان ۱۳۳۴ھ
کوئی شخص اگر کسی کی عورت کے ساتھ بدفعلی کرے اور اس عو رت کے خاوند سے معافی چاہے تو کیا معاف ہوجائے گا یا تو بہ بھی اس پر لازم ہوگی اگر فقط توبہ کرنے سے گناہ معاف ہوجائے تو اس وقت میری عرض یہ ہے کہ حق العباد تو معاف نہیں ہوتا تاوقتیکہ صاحب حق سے معافی نہ لے کیا یہ حق العباد نہیں ہے مفصلا تحریر فرمائیں۔بینوا توجروا(بیان فرمائیے اجردیئے جاؤ گے۔ت)
الجواب:
عورت جس کا شوہر ہو یا باپ بھائی وغیر ہم اولیاء جن کو اس امر سے عار پہنچے فرض کیجئے وہ دس شخص ہیں تو اس کے ساتھ معاذ الله بدکاری اگر بے اس کی رضا کے ہے تو بارہ حقوق میں گرفتاری ہے ایك حق مولی عزوجل کا کہ اس کی نافرمانی کی دوسرا اس عورت کا کہ اس کی عصمت خراب کی تیسرا اس کے شوہر کا یوں ہی باقی دس حقداروں کا جب تك یہ سب معاف نہ کریں معاف نہ ہوگا۔بحالیکہ ان کو اطلاع پہنچ جائے اور اگر برضائے زن ہے تو عورت اور یہ دونوں گیارہ سخت حقوق میں گرفتار ہوئے ایك حق مولی عزوجل کا دس ان دسوں کے او راس صورت میں عورت کا حق نہ ہوگا کہ وہ راضی ہے اور عورت زنا کے باعث نکاح سے خارج نہیں ہوتی مگر اس حالت میں کہ شوہر کے باپ یا بیٹے سے یہ امر واقع ہو تو
مسئلہ ۱۹: از شہر بریلی محلہ لودی ٹولہ مسئولہ نظیر احمد شہر کہنہ شنبہ ۲۳ شعبان ۱۳۳۴ھ
کوئی شخص اگر کسی کی عورت کے ساتھ بدفعلی کرے اور اس عو رت کے خاوند سے معافی چاہے تو کیا معاف ہوجائے گا یا تو بہ بھی اس پر لازم ہوگی اگر فقط توبہ کرنے سے گناہ معاف ہوجائے تو اس وقت میری عرض یہ ہے کہ حق العباد تو معاف نہیں ہوتا تاوقتیکہ صاحب حق سے معافی نہ لے کیا یہ حق العباد نہیں ہے مفصلا تحریر فرمائیں۔بینوا توجروا(بیان فرمائیے اجردیئے جاؤ گے۔ت)
الجواب:
عورت جس کا شوہر ہو یا باپ بھائی وغیر ہم اولیاء جن کو اس امر سے عار پہنچے فرض کیجئے وہ دس شخص ہیں تو اس کے ساتھ معاذ الله بدکاری اگر بے اس کی رضا کے ہے تو بارہ حقوق میں گرفتاری ہے ایك حق مولی عزوجل کا کہ اس کی نافرمانی کی دوسرا اس عورت کا کہ اس کی عصمت خراب کی تیسرا اس کے شوہر کا یوں ہی باقی دس حقداروں کا جب تك یہ سب معاف نہ کریں معاف نہ ہوگا۔بحالیکہ ان کو اطلاع پہنچ جائے اور اگر برضائے زن ہے تو عورت اور یہ دونوں گیارہ سخت حقوق میں گرفتار ہوئے ایك حق مولی عزوجل کا دس ان دسوں کے او راس صورت میں عورت کا حق نہ ہوگا کہ وہ راضی ہے اور عورت زنا کے باعث نکاح سے خارج نہیں ہوتی مگر اس حالت میں کہ شوہر کے باپ یا بیٹے سے یہ امر واقع ہو تو
نکاح فاسد ہوجائے گا۔شوہر پر ہمیشہ کے لیے حرام ہوجائے گی کہ کبھی حلال نہیں ہوتی۔شوہر پر فرض ہوگا کہ اسے چھوڑ دے مگر بے اس کے چھوڑے نکاح سے نکلے گی اب بھی نہیں دوسری جگہ نکاح نہ کرسکے گی واﷲ تعالی اعلم۔
لغت
مسئلہ ۲۰:ازکانپور محلہ ناچ گھر قدیم مرسلہ مولانا مولوی محمد آصف صاحب قادری رضوی برکاتی ۱۴ رمضان المبارك ۱۳۳۶ھ
یا حبیب محبوب اﷲ روحی فداك قبلہ قبلہ پرستان وکعبہ ارباب ایقان مدظلہم العالی بعد تسلیمات فدویانہ وتمنائے حضور شرف آستانہ الفاظ شکیل و عقیل بمعنی دانا کی صحت و تغلیط سے مطلع فرمائیں۔
جناب جلال لکھنوی آنجہانی کو کمترین نے حسب ذیل تحریر بھیجی تھی ہر دو الفاظ مذکورہ ان کے نزدیك غلط ہیں۔شکیل اور عقیل ذوق مرحوم کے مندرجہ ذیل اشعار میں پائے جاتے ہیں۔
نور معنی ہے بہر شکل نتیجہ اس کا اﷲ اﷲ رے زہے شکل شہنشاہ شکیل
دانش آموز ہو گر تربیت عام تری بید مجنون کو بنادے ابھی انسان عقیل
غیاث میں ہے۔
عقیل بفتح اول و کسر قاف مرد بزرگ و بسیاردانا وزانو بند شتر و نام پسر ابی طالب کہ دانا تربود بہ نسبت قریش ۔ عقیل(ع پر زبر اور ق کے نیچے زیر)بزرگ اور بہت عقل والا آدمی اور اونٹ کا زانو بند۔اور ابوطالب کے بیٹے کا نام کہ وہ قریش کی نسبت زیادہ عقلمند تھا۔(ت)
مسئلہ ۲۰:ازکانپور محلہ ناچ گھر قدیم مرسلہ مولانا مولوی محمد آصف صاحب قادری رضوی برکاتی ۱۴ رمضان المبارك ۱۳۳۶ھ
یا حبیب محبوب اﷲ روحی فداك قبلہ قبلہ پرستان وکعبہ ارباب ایقان مدظلہم العالی بعد تسلیمات فدویانہ وتمنائے حضور شرف آستانہ الفاظ شکیل و عقیل بمعنی دانا کی صحت و تغلیط سے مطلع فرمائیں۔
جناب جلال لکھنوی آنجہانی کو کمترین نے حسب ذیل تحریر بھیجی تھی ہر دو الفاظ مذکورہ ان کے نزدیك غلط ہیں۔شکیل اور عقیل ذوق مرحوم کے مندرجہ ذیل اشعار میں پائے جاتے ہیں۔
نور معنی ہے بہر شکل نتیجہ اس کا اﷲ اﷲ رے زہے شکل شہنشاہ شکیل
دانش آموز ہو گر تربیت عام تری بید مجنون کو بنادے ابھی انسان عقیل
غیاث میں ہے۔
عقیل بفتح اول و کسر قاف مرد بزرگ و بسیاردانا وزانو بند شتر و نام پسر ابی طالب کہ دانا تربود بہ نسبت قریش ۔ عقیل(ع پر زبر اور ق کے نیچے زیر)بزرگ اور بہت عقل والا آدمی اور اونٹ کا زانو بند۔اور ابوطالب کے بیٹے کا نام کہ وہ قریش کی نسبت زیادہ عقلمند تھا۔(ت)
حوالہ / References
غیاث اللغات فصل عین مہملہ مع قاف نولکشور لکھنو ص ۴۶۶
اس تحریر کا جواب جناب جلال نے یہ تحریر فرمایا تھا:ذوق نے جو شکیل و عقیل بمعنی دانا باندھا ہے آپ کے نزدیك وہ پایہ اعتبار میں ہوگا میرے نزدیك نہیں اس لیے کہ شکیل و عقیل بمعنی دانا کسی لغت معتبر میں مثل صراح وقاموس کے نہیں نکلتا نہ اساتذہ پارس کے اشعار میں ہے پھر کیونکر میں مان لوں۔اور صاحب غیاث بھی عقیل کو بمعنی دانا لکھا کریں مگر صاحب غیاث کا ماخذ جو لغت ہیں ان میں سے بھی کسی نے لکھا ہے۔فافہم بیچمدان جلال۔
الجواب:
صدہا الفاظ عربی ہیں کہ اردو میں غیر معنی عربی پر مستعمل ہیں ان معانی کو قاموس میں تلاش کرنا حماقت ہے بلکہ اردو کے اہل زبان سے دریافت کرنا چاہیے ذوق مرحوم اس زبان کے مسلم اساتذہ سے تھے۔معترض صاحب کا تخلص جلال ہے لفظ تخلص اس معنی پر کون سے قاموس میں ہے۔اردو میں جب غصہ کو کہتے ہیں جلال آگیا۔عربی میں اس معنی پر کب ہے بلکہ غصہ بھی عربی میں گلے کا اچھو ہے نہ کہ خشم۔اس قسم کے الفاظ کی فہرست لکھی جائے تو ایك رسالہ ہو۔انہیں میں شکیل وعقیل بھی ہیں شکیل بمعنی حسین اور عقیل بمعنی صاحب عقل معترض کا کہنا کہ ذوق نے شکیل و عقیل بمعنی دانا باندھا محض نادانی ہے شکیل بمعنی دانا شعر ذوق میں کہاں سے سمجھا بلکہ عقیل و دانا میں بھی عقیل دانا کے نزدیك فرق ہے عقل و علم شے واحد نہیں علمہ اکبر من عقلہ(اس کا علم اس کی عقل سے بڑا ہے۔ت)مشہور ہے جہاں تك میرے کان کا سنا ہوا ہے معترض کامذہب شیعی تھا ایسی حالت میں جناب اور فرمایا نہ چاہیے والسلام مع الکریم واﷲ تعالی اعلم۔
الجواب:
صدہا الفاظ عربی ہیں کہ اردو میں غیر معنی عربی پر مستعمل ہیں ان معانی کو قاموس میں تلاش کرنا حماقت ہے بلکہ اردو کے اہل زبان سے دریافت کرنا چاہیے ذوق مرحوم اس زبان کے مسلم اساتذہ سے تھے۔معترض صاحب کا تخلص جلال ہے لفظ تخلص اس معنی پر کون سے قاموس میں ہے۔اردو میں جب غصہ کو کہتے ہیں جلال آگیا۔عربی میں اس معنی پر کب ہے بلکہ غصہ بھی عربی میں گلے کا اچھو ہے نہ کہ خشم۔اس قسم کے الفاظ کی فہرست لکھی جائے تو ایك رسالہ ہو۔انہیں میں شکیل وعقیل بھی ہیں شکیل بمعنی حسین اور عقیل بمعنی صاحب عقل معترض کا کہنا کہ ذوق نے شکیل و عقیل بمعنی دانا باندھا محض نادانی ہے شکیل بمعنی دانا شعر ذوق میں کہاں سے سمجھا بلکہ عقیل و دانا میں بھی عقیل دانا کے نزدیك فرق ہے عقل و علم شے واحد نہیں علمہ اکبر من عقلہ(اس کا علم اس کی عقل سے بڑا ہے۔ت)مشہور ہے جہاں تك میرے کان کا سنا ہوا ہے معترض کامذہب شیعی تھا ایسی حالت میں جناب اور فرمایا نہ چاہیے والسلام مع الکریم واﷲ تعالی اعلم۔
خواب
مسئلہ ۲۱: ازکانپور محلہ مولگنج مرسلہ الدین صاحب امام مسجد شکر اﷲ صاحب سوداگر ۱۳ ربیع الاخر شریف
خواب کیا چیز ہے
الجواب:
خواب چار۴ قسم ہے:
ایك حدیث نفس کہ دن میں جو خیالات قلب پر غالب رہے جب سویا اور اس طرف سے حواس معطل ہوئے عالم مثال بقدر استعداد منکشف ہوا انہیں تخیلات کی شکلیں سامنے آئیں یہ خواب مہمل و بے معنی ہے اور اس میں داخل ہے وہ جو کسی خلط کے غلبہ اس کے مناسبات نظر آتے ہیں مثلا صفراوی آگ دیکھے بلغمی پانی۔
دوسرا خواب القائے شیطان ہے اور وہ اکثر وحشتناك ہوتا ہے شیطان آدمی کو ڈراتا یا خواب میں اس کے ساتھ کھیلتا ہے اس کو فرمایا کہ کسی سے ذکر نہ کرو کہ تمہیں ضرر نہ دے۔ایسا خواب دیکھے تو بائیں طرف تین بار تھوك دے اور اعوذ پڑھے اور بہتر یہ ہے کہ وضو کرکے دو رکعت نفل پڑھے۔
تیسرا خواب القائے فرشتہ ہوتا ہے اس سے گزشتہ و موجودہ و آئندہ غیب ظاہر ہوتے ہیں مگر اکثر پردہ تاویل قریب یا بعید میں و لہذا محتاج تعبیر ہوتا ہے۔
مسئلہ ۲۱: ازکانپور محلہ مولگنج مرسلہ الدین صاحب امام مسجد شکر اﷲ صاحب سوداگر ۱۳ ربیع الاخر شریف
خواب کیا چیز ہے
الجواب:
خواب چار۴ قسم ہے:
ایك حدیث نفس کہ دن میں جو خیالات قلب پر غالب رہے جب سویا اور اس طرف سے حواس معطل ہوئے عالم مثال بقدر استعداد منکشف ہوا انہیں تخیلات کی شکلیں سامنے آئیں یہ خواب مہمل و بے معنی ہے اور اس میں داخل ہے وہ جو کسی خلط کے غلبہ اس کے مناسبات نظر آتے ہیں مثلا صفراوی آگ دیکھے بلغمی پانی۔
دوسرا خواب القائے شیطان ہے اور وہ اکثر وحشتناك ہوتا ہے شیطان آدمی کو ڈراتا یا خواب میں اس کے ساتھ کھیلتا ہے اس کو فرمایا کہ کسی سے ذکر نہ کرو کہ تمہیں ضرر نہ دے۔ایسا خواب دیکھے تو بائیں طرف تین بار تھوك دے اور اعوذ پڑھے اور بہتر یہ ہے کہ وضو کرکے دو رکعت نفل پڑھے۔
تیسرا خواب القائے فرشتہ ہوتا ہے اس سے گزشتہ و موجودہ و آئندہ غیب ظاہر ہوتے ہیں مگر اکثر پردہ تاویل قریب یا بعید میں و لہذا محتاج تعبیر ہوتا ہے۔
چوتھا خواب کہ رب العزۃ بلا واسطہ القاء فرمائے وہ صاف صریح ہوتا ہے اور احتیاج تعبیر سے بری ۔واﷲ تعالی اعلم۔
___________________
___________________
اجارہ
مسئلہ ۲۲: از کراچی میمن مسجد آرام باغ گاڑی حاطہ ۱۹ ربیع الآخر ۱۳۳۶ھ
جو شخص جس کام کے لیے منتخب کیا گیا وہ اس کو پوری طرح سے ادا نہ کرے یعنی قاصر رہے تو اس کو کیا سمجھنا چاہیے۔ بینوا توجرا۔(بیان کیجئے اجردیئے جاؤ گے۔ت)
الجواب:
اس میں ہزاروں صورتیں ہوسکتی ہیں ایسی گول بات قابل جواب نہیں ہوتی۔کیا کام کیسا اتخاب کیونکر نہ کرنا ایك ایسے کام کے لیے منتخب کیا تھا جو اس کے لیے مباح ہے نہ کیا تو کیا الزام اور اگر اس پر فرض تھا اور نہ کیا تو سخت گناہگار اور حرام تھا اور نہ کیا تو بہت اچھا کیا۔واﷲ تعالی اعلم۔
_________________
مسئلہ ۲۲: از کراچی میمن مسجد آرام باغ گاڑی حاطہ ۱۹ ربیع الآخر ۱۳۳۶ھ
جو شخص جس کام کے لیے منتخب کیا گیا وہ اس کو پوری طرح سے ادا نہ کرے یعنی قاصر رہے تو اس کو کیا سمجھنا چاہیے۔ بینوا توجرا۔(بیان کیجئے اجردیئے جاؤ گے۔ت)
الجواب:
اس میں ہزاروں صورتیں ہوسکتی ہیں ایسی گول بات قابل جواب نہیں ہوتی۔کیا کام کیسا اتخاب کیونکر نہ کرنا ایك ایسے کام کے لیے منتخب کیا تھا جو اس کے لیے مباح ہے نہ کیا تو کیا الزام اور اگر اس پر فرض تھا اور نہ کیا تو سخت گناہگار اور حرام تھا اور نہ کیا تو بہت اچھا کیا۔واﷲ تعالی اعلم۔
_________________
عقائد و کلام و دینیات
مسئلہ ۲۳:از حسن پور ضلع مراد آباد بذریعہ طفیل احمد صاحب قادری برکاتی رضوی مرسلہ حافظ اکرام اﷲ خاں۱۸ ربیع الآخر ۱۳۳۶ھ
سوال اول:تقویۃ الایمان مولوی اسمعیل کی فخر المطابع لکھنؤ کی چھپی ہوئی کے صفحہ ۳۲۹ پر جو عرس شریف کی تردید میں کچھ نظم ہےاور رنڈی وغیرہ کا حوالہ دیا ہے اسے جو پڑھا تو جہاں تك عقل نے کام دیا سچا معلوم ہوا کیونکہ اکثر عرس میں رنڈیاں ناچتی ہیں اور بہت بہت گناہ ہوتے ہیں اور رنڈیوں کے ساتھ ان کے یار آشنا بھی ہوتے ہیں اور آنکھوں سے سب آدمی دیکھتے ہیں اور طرح طرح کے خیال آتے ہیں کیونکہ خیال بد و نیك اپنے قبضہ میں نہیںایسی اور بہت ساری باتیں لکھی ہیں جن کو دیکھ کر تسلی بخش جواب دیجئے۔
سوال دوم:اور اس کتاب کے صفحہ ۳۰۰ پر دربارہ علم غیب کے جو فتوے درج ہیں کہ مچھر مارنے کا آپ کو علم ہوجاتا ہے اس کے جواب میں جو مولوی صاحب نے درج کی سورہ نمل آیۃ چہارمپارہ ۷ سورہ انعام آیت پنجم و سورہ اعراف و سورہ احقاف اور اس سے آگے حدیث شریف پیش کی ہیں جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ آپ کو علم غیب کیا کل کا بھی حال معلوم نہیں تھا کہ کیا ہوگا حدیث شریف سے ظاہر ہوتا ہےاور یہ کہنا کہ شیطان کو علم زیادہ ہے اور آپ کو کمتو عرض ہے کہ بہت ساری باتیں ایسی ہیں کہ ہمارے محمد صلی الله تعالی علیہ وسلم کو نہیں دی گئیں اوروں کو دی گئیں۔
مسئلہ ۲۳:از حسن پور ضلع مراد آباد بذریعہ طفیل احمد صاحب قادری برکاتی رضوی مرسلہ حافظ اکرام اﷲ خاں۱۸ ربیع الآخر ۱۳۳۶ھ
سوال اول:تقویۃ الایمان مولوی اسمعیل کی فخر المطابع لکھنؤ کی چھپی ہوئی کے صفحہ ۳۲۹ پر جو عرس شریف کی تردید میں کچھ نظم ہےاور رنڈی وغیرہ کا حوالہ دیا ہے اسے جو پڑھا تو جہاں تك عقل نے کام دیا سچا معلوم ہوا کیونکہ اکثر عرس میں رنڈیاں ناچتی ہیں اور بہت بہت گناہ ہوتے ہیں اور رنڈیوں کے ساتھ ان کے یار آشنا بھی ہوتے ہیں اور آنکھوں سے سب آدمی دیکھتے ہیں اور طرح طرح کے خیال آتے ہیں کیونکہ خیال بد و نیك اپنے قبضہ میں نہیںایسی اور بہت ساری باتیں لکھی ہیں جن کو دیکھ کر تسلی بخش جواب دیجئے۔
سوال دوم:اور اس کتاب کے صفحہ ۳۰۰ پر دربارہ علم غیب کے جو فتوے درج ہیں کہ مچھر مارنے کا آپ کو علم ہوجاتا ہے اس کے جواب میں جو مولوی صاحب نے درج کی سورہ نمل آیۃ چہارمپارہ ۷ سورہ انعام آیت پنجم و سورہ اعراف و سورہ احقاف اور اس سے آگے حدیث شریف پیش کی ہیں جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ آپ کو علم غیب کیا کل کا بھی حال معلوم نہیں تھا کہ کیا ہوگا حدیث شریف سے ظاہر ہوتا ہےاور یہ کہنا کہ شیطان کو علم زیادہ ہے اور آپ کو کمتو عرض ہے کہ بہت ساری باتیں ایسی ہیں کہ ہمارے محمد صلی الله تعالی علیہ وسلم کو نہیں دی گئیں اوروں کو دی گئیں۔
مثل سلیمان علیہ السلام کو تخت اور لڑائی کے لیے گھوڑے اور اونٹاور ہمارے محمد صلی الله تعالی علیہ وسلم نہیں پیدل چل کر لڑتے تھے۔بہت ساری باتیں عرض حال ہے جس سے طول ہونے کا خیال ہے۔تسلی بخش جواب بادلیل عنایت کیجئے اور وہ آیت مع ترجمہ جس سے کہ علم غیب معلوم ہوتا ہے اور حدیث شریف جس سے علم غیب پایا جاتا ہے اور وہ مثل حضرت عائشہ صدیقہ(رضی اﷲ تعالی عنہا)کی جو تہمت لگائی گئی تھی اگر علم غیب ہوتا تو آپ کو کیوں خبر نہ ہوئی۔
سوال سوم:اگرکسی عورت کا خاوند شراب پیتا ہے اور شراب پی کر عورت سے جماع کرے تو اس عورت کو کیا کرنا چاہیے
سوال چہارم:اگر کوئی ہندو کوئی چیز میرے پاس نقد یا سامان رکھ گیا تو اس کو نہ دینا چاہیےجائز ہے یا ناجائز یا کوئی چیز بھول گیا تو میں نے اس کو اٹھالیا تو دینا چاہیے یا نہیں غرض ہندوؤں کا مال چوری دھوکا دے کرلینا جائز ہے یا نہیں
سوال پنجم:یہ جو مشہور ہے کہ عورت کو خواہش نفس مرد سے نو حصے زیادہ ہےاس کا پتہ شریعت سے چلتا ہے یا نہیں
سوال ششم:کنگھاداڑھی میں کس کس وقت کیا جائے
سوال ہفتم:مولوی اشرفعلی تھانہ بھون والے کے پیچھے نماز پڑھنا جائز ہے یا نہیں
سوال ہشتم:وہ کون سی باتیں ہیں جن کی وجہ سے کتاب تقویۃ الایمان خراب ہے
الجواب:
جواب سوال اول:
رنڈیوں کا ناچ بے شك حرام ہےاولیائے کرام کے عرسوں میں بیقید جاہلوں نے یہ معصیت پھیلائی ہے۔
جواب سوال دوم:علم غیب ذاتی کہ اپنی ذات سے بے کسی کے دیئے ہوئے اﷲ عزوجل کے لیے خاص ہے ان آیتوں میں یہی معنی مراد ہیں کہ بے خدا کے دیئے کوئی نہیں جان سکتا اور اﷲ کے بتائے سے انبیاء کو معلوم ہونا ضروریات دین سے ہےقرآن مجید کی بہت آیتیں اس کے ثبوت میں ہیںاز انجملہ سورہ جن میں فرماتا ہے:
" علم الغیب فلا یظہر علی غیبہ احدا ﴿۲۶﴾ الا من ارتضی من اﷲ ہے غیب کا جاننے والا تو اپنے خاص غیب پر کسی کو مسلط نہیں کرتا سوائے اپنے پسند یدہ
سوال سوم:اگرکسی عورت کا خاوند شراب پیتا ہے اور شراب پی کر عورت سے جماع کرے تو اس عورت کو کیا کرنا چاہیے
سوال چہارم:اگر کوئی ہندو کوئی چیز میرے پاس نقد یا سامان رکھ گیا تو اس کو نہ دینا چاہیےجائز ہے یا ناجائز یا کوئی چیز بھول گیا تو میں نے اس کو اٹھالیا تو دینا چاہیے یا نہیں غرض ہندوؤں کا مال چوری دھوکا دے کرلینا جائز ہے یا نہیں
سوال پنجم:یہ جو مشہور ہے کہ عورت کو خواہش نفس مرد سے نو حصے زیادہ ہےاس کا پتہ شریعت سے چلتا ہے یا نہیں
سوال ششم:کنگھاداڑھی میں کس کس وقت کیا جائے
سوال ہفتم:مولوی اشرفعلی تھانہ بھون والے کے پیچھے نماز پڑھنا جائز ہے یا نہیں
سوال ہشتم:وہ کون سی باتیں ہیں جن کی وجہ سے کتاب تقویۃ الایمان خراب ہے
الجواب:
جواب سوال اول:
رنڈیوں کا ناچ بے شك حرام ہےاولیائے کرام کے عرسوں میں بیقید جاہلوں نے یہ معصیت پھیلائی ہے۔
جواب سوال دوم:علم غیب ذاتی کہ اپنی ذات سے بے کسی کے دیئے ہوئے اﷲ عزوجل کے لیے خاص ہے ان آیتوں میں یہی معنی مراد ہیں کہ بے خدا کے دیئے کوئی نہیں جان سکتا اور اﷲ کے بتائے سے انبیاء کو معلوم ہونا ضروریات دین سے ہےقرآن مجید کی بہت آیتیں اس کے ثبوت میں ہیںاز انجملہ سورہ جن میں فرماتا ہے:
" علم الغیب فلا یظہر علی غیبہ احدا ﴿۲۶﴾ الا من ارتضی من اﷲ ہے غیب کا جاننے والا تو اپنے خاص غیب پر کسی کو مسلط نہیں کرتا سوائے اپنے پسند یدہ
رسول" ۔ رسولوں کے۔
اور فرماتا ہے:
" تلک من انباء الغیب نوحیہا الیک " یہ غیب کی باتیں ہیں کہ ہم تمہیں بتاتے ہیں۔
اور فرماتا ہے:
" و ما ہو علی الغیب بضنین ﴿۲۴﴾ " یہ نبی غیب کی باتیں بتانے میں بخل نہیں فرماتے۔
اس مسئلہ کے بیان کو رسالہ انباء المصطفی ورسالہ خالص الاعتقاد دیکھئے کہ کتنی آیتوںحدیثوں اور اقوال ائمہ دین سے ثبوت ہےجو شخص شیطان کے علم کو زیادہ بتاتا ہےنبی صلی تعالی علیہ وسلم کی توہین کرتا ہے اور کافر ہے اس کے بیان کو علمائے حرمین شریفین کا فتوی حسام الحرمین دیکھئے یہ سب کتابیں بریلی مطبع اہلسنت سے مل سکتی ہیں۔کوئی دولتکوئی نعمتکوئی عزت جو حقیقۃ دولت وعزت ہو ایسی نہیں کہ الله عزوجل نے کسی اور کو دی ہو اور حضور اقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم کو عطا نہ کی ہو جو کچھ جسے عطا ہوا یا عطا ہوگا دنیا میں یا آخرت میں وہ سب حضور کے صدقہ میں ہے حضور کے طفیل میں ہے حضور کے ہاتھ سے عطاہوا۔حضور اقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
انما انا قاسم واﷲ المعطی ۔ دینے والا اﷲ ہے اور بانٹنے والا میں۔
جواب سوال سوم:خاوند کے شراب پینے کا وبال اس پر ہے عورت اسے جماع سے منع نہیں کرسکتی
جواب سوال چہارم:امانت میں خیانت جائز نہیں اگرچہ ہندو کی ہوغدرو بدعہدی جائز نہیں اگرچہ ہندو سے ہوخیانت و غدر کے سوا اس کا بھی لحاظ ضرور ہے کہ کسی جرم قانونی کا ارتکاب کرکے اپنے آپ کو ذلت پر پیش کرنا بھی منع ہے۔حدیث میں ہے:
من اعطی الذلۃ من نفسہ جو شخص بغیر کسی مجبوری کے اپنے آپ کو بخوشی
اور فرماتا ہے:
" تلک من انباء الغیب نوحیہا الیک " یہ غیب کی باتیں ہیں کہ ہم تمہیں بتاتے ہیں۔
اور فرماتا ہے:
" و ما ہو علی الغیب بضنین ﴿۲۴﴾ " یہ نبی غیب کی باتیں بتانے میں بخل نہیں فرماتے۔
اس مسئلہ کے بیان کو رسالہ انباء المصطفی ورسالہ خالص الاعتقاد دیکھئے کہ کتنی آیتوںحدیثوں اور اقوال ائمہ دین سے ثبوت ہےجو شخص شیطان کے علم کو زیادہ بتاتا ہےنبی صلی تعالی علیہ وسلم کی توہین کرتا ہے اور کافر ہے اس کے بیان کو علمائے حرمین شریفین کا فتوی حسام الحرمین دیکھئے یہ سب کتابیں بریلی مطبع اہلسنت سے مل سکتی ہیں۔کوئی دولتکوئی نعمتکوئی عزت جو حقیقۃ دولت وعزت ہو ایسی نہیں کہ الله عزوجل نے کسی اور کو دی ہو اور حضور اقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم کو عطا نہ کی ہو جو کچھ جسے عطا ہوا یا عطا ہوگا دنیا میں یا آخرت میں وہ سب حضور کے صدقہ میں ہے حضور کے طفیل میں ہے حضور کے ہاتھ سے عطاہوا۔حضور اقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
انما انا قاسم واﷲ المعطی ۔ دینے والا اﷲ ہے اور بانٹنے والا میں۔
جواب سوال سوم:خاوند کے شراب پینے کا وبال اس پر ہے عورت اسے جماع سے منع نہیں کرسکتی
جواب سوال چہارم:امانت میں خیانت جائز نہیں اگرچہ ہندو کی ہوغدرو بدعہدی جائز نہیں اگرچہ ہندو سے ہوخیانت و غدر کے سوا اس کا بھی لحاظ ضرور ہے کہ کسی جرم قانونی کا ارتکاب کرکے اپنے آپ کو ذلت پر پیش کرنا بھی منع ہے۔حدیث میں ہے:
من اعطی الذلۃ من نفسہ جو شخص بغیر کسی مجبوری کے اپنے آپ کو بخوشی
حوالہ / References
القران الکریم ۷۲/ ۲۶ و ۲۷
القرآن الکریم ۱۱ /۴۹
القرآن الکریم ۸۱ /۲۴
صحیح البخاری کتاب العلم باب من یرد اﷲ بہ خیرایفقہ فی الدین قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۶،صحیح البخاری کتاب الجہاد باب قول اﷲ تعالٰی فان ﷲ خمسۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۴۳۹
القرآن الکریم ۱۱ /۴۹
القرآن الکریم ۸۱ /۲۴
صحیح البخاری کتاب العلم باب من یرد اﷲ بہ خیرایفقہ فی الدین قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۶،صحیح البخاری کتاب الجہاد باب قول اﷲ تعالٰی فان ﷲ خمسۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۴۳۹
طائعا غیر مکرہ فلیس منا ۔ ذلت پر پیش کرے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔
اور جب نہ غدر ہو نہ قانونی جرم تو پھر جس طرح اس کا مال ملے مباح ہے۔
جواب سوال پنجم:ضرور اس کی اصل ہےحدیث میں ارشاد ہوا ہے کہ عورت کو مرد سے سو حصے زائد خواہش(شہوت)ہے مگر اﷲ تعالی نے اس پر حیا ڈال دی ہے۔
جواب سوال ششم:کنگھے کے لیے شریعت میں کوئی خاص وقت مقرر نہیں ہے اعتدال کا حکم ہےنہ تو یہ ہو کہ آدمی جناتی شکل بنارہے نہ یہ ہو کہ ہر وقت مانگ چوٹی میں گرفتارخیر الامور اوسطہا ۔ (بہترین امروہ ہے جو درمیانہ ہو۔ت)
جواب ہفتم:اشرف علی کی نسبت علمائے حرمین شریفین نے اسی کتاب حسام الحرمین میں فرمایا ہے۔
من شك فی کفرہ وعذابہ فقد کفر۔ جو اس کے اقوال کفر پر مطلع ہو کر اس کے کافر و معذب ہونے میں شك کرے وہ بھی کافر ہے۔
جواب سوال ہشتم:تقویۃ الایمان ایك گمراہی اور بے دینی کی کتاب ہےعلمائے حرمین شریفین نے اس گروہ کو گمراہ و بے دین لکھا ہےاور فرمایا ہے۔
" اولئک حزب الشیطن الا ان حزب الشیطن ہم الخسرون ﴿۱۹﴾"
۔ یہ لوگ شیطان کے گروہ ہیں خبردار رہو شیطان ہی کے گروہ نقصان میں ہیں۔
اس کتاب اور اس کے مصنف کے کلمات کفر کوکبہ شہابیہ میں بطور نمونہ ستر۷۰ کے قریب بیان کیے ہیں جس میں صفحات کے حوالہ سے اس کی عبارتیں اور پھر اس کے کلمہ کفر ہونے پر آیتیںحدیثیں ائمہ کی روایتیں لکھی ہیں اور اس رسالہ کو دیکھئے تو آپ کو معلوم ہو کہ یہ شخص کیسا بے دین تھا بیدین کی کتاب دیکھنا حرام ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
اور جب نہ غدر ہو نہ قانونی جرم تو پھر جس طرح اس کا مال ملے مباح ہے۔
جواب سوال پنجم:ضرور اس کی اصل ہےحدیث میں ارشاد ہوا ہے کہ عورت کو مرد سے سو حصے زائد خواہش(شہوت)ہے مگر اﷲ تعالی نے اس پر حیا ڈال دی ہے۔
جواب سوال ششم:کنگھے کے لیے شریعت میں کوئی خاص وقت مقرر نہیں ہے اعتدال کا حکم ہےنہ تو یہ ہو کہ آدمی جناتی شکل بنارہے نہ یہ ہو کہ ہر وقت مانگ چوٹی میں گرفتارخیر الامور اوسطہا ۔ (بہترین امروہ ہے جو درمیانہ ہو۔ت)
جواب ہفتم:اشرف علی کی نسبت علمائے حرمین شریفین نے اسی کتاب حسام الحرمین میں فرمایا ہے۔
من شك فی کفرہ وعذابہ فقد کفر۔ جو اس کے اقوال کفر پر مطلع ہو کر اس کے کافر و معذب ہونے میں شك کرے وہ بھی کافر ہے۔
جواب سوال ہشتم:تقویۃ الایمان ایك گمراہی اور بے دینی کی کتاب ہےعلمائے حرمین شریفین نے اس گروہ کو گمراہ و بے دین لکھا ہےاور فرمایا ہے۔
" اولئک حزب الشیطن الا ان حزب الشیطن ہم الخسرون ﴿۱۹﴾"
۔ یہ لوگ شیطان کے گروہ ہیں خبردار رہو شیطان ہی کے گروہ نقصان میں ہیں۔
اس کتاب اور اس کے مصنف کے کلمات کفر کوکبہ شہابیہ میں بطور نمونہ ستر۷۰ کے قریب بیان کیے ہیں جس میں صفحات کے حوالہ سے اس کی عبارتیں اور پھر اس کے کلمہ کفر ہونے پر آیتیںحدیثیں ائمہ کی روایتیں لکھی ہیں اور اس رسالہ کو دیکھئے تو آپ کو معلوم ہو کہ یہ شخص کیسا بے دین تھا بیدین کی کتاب دیکھنا حرام ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
حوالہ / References
الترغیب والترھیب الترغیب فی الزھد فی الدنیا الخ حدیث ۶۰ مصطفٰی البابی مصر ۴/ ۱۷۹
المقاصد الحسنہ حدیث ۶۰۵ دارالکتاب العربی بیروت ص ۳۰۴،کنزا العمال حدیث ۴۴۸۴۵ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۶/ ۳۴۵
کشف الخفاء حدیث ۱۲۴۵ دارالکتب العلمیہ بیروت ۱/ ۳۴۶
حسام الحرمین مع تمہیدِ ایمان مطبع اہلسنت بریلی ص ۹۴
القرآن الکریم ۵۸ /۱۹
المقاصد الحسنہ حدیث ۶۰۵ دارالکتاب العربی بیروت ص ۳۰۴،کنزا العمال حدیث ۴۴۸۴۵ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۶/ ۳۴۵
کشف الخفاء حدیث ۱۲۴۵ دارالکتب العلمیہ بیروت ۱/ ۳۴۶
حسام الحرمین مع تمہیدِ ایمان مطبع اہلسنت بریلی ص ۹۴
القرآن الکریم ۵۸ /۱۹
مسئلہ ۳۰:از مراد آباد مدرسہ اہلسنت بازار دیوان مرسلہ مولوی ابوالمسعود عبدالودود صاحب طالب علم مدرسہ مذکور یکم جمادی الاولی ۱۳۳۶ھ
وہابی جو مشہور ہیں وہ کون سا فرقہ ہے اوران کی اصل کہاں سے نکلی اور ان کے عقائدکیا ہیںاوران کی بابت حدیث میں کیاواردہے
الجواب:
وہابی ایك بے دین فرقہ ہے جو محبوبان خدا کی تعظیم سے جلتا ہے اور طرح طرح کے حیلوں سے ان کے ذکر و تعظیم کو مٹانا چاہتا ہے ابتداء اس کی ابلیس لعین سے ہے کہ الله عزوجل نے تعظیم سیدنا آدم علیہ الصلوۃ والسلام کا حکم دیا اور اس ملعون نے نہ مانا اور زمانہ اسلام میں اس کا ہادی ذوالخویصرہ تمیمی ہوا جس نے حضور اقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم کی شان ارفع میں کلمہ توہین کہا اس کے بعد ایك پورا گروہ خوارج کا اس طریق پر چلا جن کو امیر المومنین مولی علی نے قتل فرمایا لوگوں نے کہا حمد اﷲ کو جس نے ان کی نجاستوں سے زمین کو پاك کیا امیر المومنین نے فرمایا یہ منقطع نہیں ہوئے ابھی ان میں کے ماؤں کے پیٹوں میں ہیں باپوں کی پیٹھوں میں ہیںکلما قطع قرن نشاءقرن جب ان میں کی ایك سنگت کاٹ دی جائے گی دوسری سر اٹھائے گیحتی یکون اخرھم یخرج مع المسیح الدجال ۔ یہاں تك کہ ان کا پچھلا گروہ دجال کے ساتھ نکلے گا۔اس حدیث کے مطابق ہر زمانہ میں یہ لوگ نئے نئے نام سے ظاہر ہوتے رہے یہاں تك کہ بارھویں صدی کے آخر میں ابن عبدالوہاب نجدی اس فرقہ کا سرغنہ ہوا اور اس نے کتاب التوحید لکھی اور توحید الہی عزوجل کے پردے میں انبیاء و اولیاء علیہم الصلوۃ والسلام اور خود حضور اقدس سیدالانام علیہ افضل الصلوۃ کی توہین دل کھول کر کی اس کی طرف نسبت کرکے اس گروہ کا نام نجدی وہابی ہوا۔ہندوستان میں اس فتنہ ملعونہ کو اسمعیل دہلوی نے پھیلایا کتاب التوحید کا ترجمہ کیا اس کا نام تقویۃ الایمان رکھادلی عقیدہ وہ ہے جو تقویۃ الایمان میں کئی جگہ صاف لفظوں میں لکھ دیاکہ:اﷲ کے سوا کسی کو نہ مان ۔اوروں کا ماننا محض خبط ہے۔
اس کے متبعین جو گروہ ہیں عقائد میں سب ایك ہیں مگر اعمال میں یوں متفرق ہوئے کہ ایك فرقہ نے
وہابی جو مشہور ہیں وہ کون سا فرقہ ہے اوران کی اصل کہاں سے نکلی اور ان کے عقائدکیا ہیںاوران کی بابت حدیث میں کیاواردہے
الجواب:
وہابی ایك بے دین فرقہ ہے جو محبوبان خدا کی تعظیم سے جلتا ہے اور طرح طرح کے حیلوں سے ان کے ذکر و تعظیم کو مٹانا چاہتا ہے ابتداء اس کی ابلیس لعین سے ہے کہ الله عزوجل نے تعظیم سیدنا آدم علیہ الصلوۃ والسلام کا حکم دیا اور اس ملعون نے نہ مانا اور زمانہ اسلام میں اس کا ہادی ذوالخویصرہ تمیمی ہوا جس نے حضور اقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم کی شان ارفع میں کلمہ توہین کہا اس کے بعد ایك پورا گروہ خوارج کا اس طریق پر چلا جن کو امیر المومنین مولی علی نے قتل فرمایا لوگوں نے کہا حمد اﷲ کو جس نے ان کی نجاستوں سے زمین کو پاك کیا امیر المومنین نے فرمایا یہ منقطع نہیں ہوئے ابھی ان میں کے ماؤں کے پیٹوں میں ہیں باپوں کی پیٹھوں میں ہیںکلما قطع قرن نشاءقرن جب ان میں کی ایك سنگت کاٹ دی جائے گی دوسری سر اٹھائے گیحتی یکون اخرھم یخرج مع المسیح الدجال ۔ یہاں تك کہ ان کا پچھلا گروہ دجال کے ساتھ نکلے گا۔اس حدیث کے مطابق ہر زمانہ میں یہ لوگ نئے نئے نام سے ظاہر ہوتے رہے یہاں تك کہ بارھویں صدی کے آخر میں ابن عبدالوہاب نجدی اس فرقہ کا سرغنہ ہوا اور اس نے کتاب التوحید لکھی اور توحید الہی عزوجل کے پردے میں انبیاء و اولیاء علیہم الصلوۃ والسلام اور خود حضور اقدس سیدالانام علیہ افضل الصلوۃ کی توہین دل کھول کر کی اس کی طرف نسبت کرکے اس گروہ کا نام نجدی وہابی ہوا۔ہندوستان میں اس فتنہ ملعونہ کو اسمعیل دہلوی نے پھیلایا کتاب التوحید کا ترجمہ کیا اس کا نام تقویۃ الایمان رکھادلی عقیدہ وہ ہے جو تقویۃ الایمان میں کئی جگہ صاف لفظوں میں لکھ دیاکہ:اﷲ کے سوا کسی کو نہ مان ۔اوروں کا ماننا محض خبط ہے۔
اس کے متبعین جو گروہ ہیں عقائد میں سب ایك ہیں مگر اعمال میں یوں متفرق ہوئے کہ ایك فرقہ نے
حوالہ / References
کنزالعمال حدیث ۳۱۲۴۴ موسسۃ الرسالہ بیروت ۱۱/ ۲۰۵
تقویۃ الایمان الفصل الاول مطبع علیمی اندرون لوہاری دروازہ لاہور،ص ۱۲
تقویۃ الایمان مقدمۃ الکتاب مطبع علیمی اندرون لوہاری دروازہ لاہور،ص ۵
تقویۃ الایمان الفصل الاول مطبع علیمی اندرون لوہاری دروازہ لاہور،ص ۱۲
تقویۃ الایمان مقدمۃ الکتاب مطبع علیمی اندرون لوہاری دروازہ لاہور،ص ۵
تقلید کو بھی ترك کیا اور خود اہلحدیث بنے یہ غیر مقلد وہابی ہیں ان کا سرگروہ نذیر حسین دہلوی اور کچھ پنجابی بنگالی تھے اور ہیں اور مقلد وہابیوں کے سرگروہ رشید احمد گنگوہی اور قاسم نانوتویاور اب اشرف علی تھانویجوان لوگوں کو اچھا جانے یا تقویۃ الایمان وغیرہ ان کی کتابوں کو مانے یا ان کے گمراہ بددین ہونے میں شك کرے وہ وہابی ہےوہابی کی علامت حدیث میں ارشاد ہوئی کہ ظاہرا شریعت کے بڑے پابند بنیں گے۔تحقرون صلوتکم مع صلوتہم وصیامکم مع صیامھم وعملکم مع عملھم ۔تم اپنی نماز کو ان کی نماز کے آگے حقیر جانو گے اور اپنے روزوں کو ان کے روزوں کے آگے اوراپنے اعمال کو ان کے اعمال کے آگے یقرؤن القرآن ولا یجاوزتراقھیم ۔قرآن پڑھیں گے مگر ان کے گلے سے نہ اترے گا یعنی دل میں اس کا کچھ اثر نہ ہوگا۔یقولون من خیر قول البریۃ ۔باتیں بظاہر بہت اچھی کریں گےا ور ایك روایت ہے۔من قول خیر البریۃ۔ حدیث حدیث بہت پکاریں گے۔با ینہمہ حال یہ ہوگا یمرقون من الدین کما یمرق السھم من الرمیۃ نکل جائیں گے دین سے ایسے جیسے تیر نکل جاتا ہے نشانہ سے ثم لا یعودون فیہ پھر لوٹ کر دین میں نہ آئیں گے۔سیما ھم التحلیق ۔ان کی علامت سرمنڈانا ہوگی۔مشمر الازار ۔تہبند یا پائچے بہت اونچے۔ان کے عقائد کا بیان ہمارے رسالہ نور الفرقان اور رسالہ کو کبہ الشہابیہ میں ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۱:از مراد آباد مدرسہ اہلسنت بازار دیوان مرسلہ مولوی ابوالمسعود عبدالودود صاحب طالب علم مدرسہ مذکوریکم جمادی الاولی۱۳۳۶ھ
مولود شریف کی حقیقت کیا ہےاور محفل میلاد میں خاص وقت ذکر ولادت شریف حضور
مسئلہ ۳۱:از مراد آباد مدرسہ اہلسنت بازار دیوان مرسلہ مولوی ابوالمسعود عبدالودود صاحب طالب علم مدرسہ مذکوریکم جمادی الاولی۱۳۳۶ھ
مولود شریف کی حقیقت کیا ہےاور محفل میلاد میں خاص وقت ذکر ولادت شریف حضور
حوالہ / References
کنزالعمال حدیث ۳۰۹۶۲ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۱/ ۱۴۳
کنزالعمال حدیث ۳۰۹۵۰ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۱ /۱۴۰،صحیح مسلم کتاب الزکوۃ باب اعطاء المؤلفۃ و بیان الخوارج قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۳۴۰ و۳۴۳
صحیح مسلم کتاب الزکوۃ باب اعطاء المؤلفۃ و بیان الخوارج قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۳۴۲
کنزالعمال حدیث ۳۰۹۵۴ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۱/ ۱۴۱
کنزالعمال حدیث ۳۰۹۴۴ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۱/ ۱۳۹
کنزالعمال حدیث ۳۰۹۴۶ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۱/ ۱۳۹
صحیح مسلم کتاب الزکوۃ باب اعطاء المؤلفۃ و بیان الخوارج قدیمی کتب خانہ راچی ۱/ ۳۴۰
کنزالعمال حدیث ۳۰۹۵۰ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۱ /۱۴۰،صحیح مسلم کتاب الزکوۃ باب اعطاء المؤلفۃ و بیان الخوارج قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۳۴۰ و۳۴۳
صحیح مسلم کتاب الزکوۃ باب اعطاء المؤلفۃ و بیان الخوارج قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۳۴۲
کنزالعمال حدیث ۳۰۹۵۴ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۱/ ۱۴۱
کنزالعمال حدیث ۳۰۹۴۴ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۱/ ۱۳۹
کنزالعمال حدیث ۳۰۹۴۶ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۱/ ۱۳۹
صحیح مسلم کتاب الزکوۃ باب اعطاء المؤلفۃ و بیان الخوارج قدیمی کتب خانہ راچی ۱/ ۳۴۰
پر نور احمد مجتبے محمد مصطفی صلی الله تعالی علیہ وسلم کے کھڑے ہونا اور لوگوں کوکھڑے ہونے کے لیے حکم دینا اور نعتیہ اشعار خوش الحانی سے پڑھنا جائز ہے یا نہیں
الجواب:
یہ سب باتیں جائز و مستحسن و باعث برکات ہیں او ان کی اصل قرآن عظیم کے ان احکام کا ماننا ہے کہ " و اما بنعمۃ ربک فحدث ﴿۱۱﴾" اپنے رب کی نعمت لوگوں کے سامنے خوب بیان کرو" وذکرہم بایىم اللہ " ۔انہیں اﷲ کے دن یا د دلاؤ" و قل بفضل اللہ وبرحمتہ فبذلک فلیفرحوا " تم حکم دو کہ اﷲ کے فضل اور اﷲ کی رحمت کی خوشی منائیں لتؤمنوا باللہ و رسولہ و تعزروہ و توقروہ " ۔تاکہ تم الله اور اس کے رسول کی تعظیم و توقیر کرو۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۲: رام نگر ضلع بنارس مرسلہ امام الدین صاحب ۹ جمادی الاولی ۱۳۳۶ھ
گزشتہ محرم خواجہ حسن نظامی دہلوی نے ایك کتاب لکھی جس کا نام محرم نامہ رکھا ہےخواجہ صاحب ایك مشہور شخصیت کے آدمی ہیں اس لیے ان کی اس کتاب کی بڑی اشاعت ہوئی اس کا ایك نسخہ ناچیز کے ایك دوست نے بھی منگایا اس محرم نامہ میں خواجہ صاحب نے عام بنو امیہ پر اور حضرت عمر و بن العاص رضی الله تعالی عنہ پر خصوصا نہایت سخت و شدید حملے کیے ہیں اور ان کے متعلق ایسی باتیں لکھی ہیں سنی المذہب محرم نامہ پڑھنے والوں کے خیالات میں نہایت ہلچل پڑ گئی ہے۔لہذا محرم نامہ مذکور سے اخذ کرکے کچھ حوالہ کرتا ہوں اور دریافت کرنا چاہتا ہوں کہ یہ باتیں کیسی ہیں تاکہ معلوم کرکے خود کو اور دیگر برادران اہل سنن کو خیالات کی کشمکش سے چھڑاؤںمحرم نامہ میں ہے۔
(۱)بغیر سوچے تم کو معلوم ہوجائے گا کہ حضرت عثمان کی شروع خلافت سے لے کر قتل عثمان تك جنگ جملجنگ صفین فیصلہ صفین اور آخر تك ہر بڑے چھوٹے فساد کی بنیاد میں عمرو بن العاص کا ہاتھ ضرور تھا۔
(۲)حضرت علی کو دھوکا دے کر خلافت حضرت عثمان کو انہوں نے دلوائی۔
الجواب:
یہ سب باتیں جائز و مستحسن و باعث برکات ہیں او ان کی اصل قرآن عظیم کے ان احکام کا ماننا ہے کہ " و اما بنعمۃ ربک فحدث ﴿۱۱﴾" اپنے رب کی نعمت لوگوں کے سامنے خوب بیان کرو" وذکرہم بایىم اللہ " ۔انہیں اﷲ کے دن یا د دلاؤ" و قل بفضل اللہ وبرحمتہ فبذلک فلیفرحوا " تم حکم دو کہ اﷲ کے فضل اور اﷲ کی رحمت کی خوشی منائیں لتؤمنوا باللہ و رسولہ و تعزروہ و توقروہ " ۔تاکہ تم الله اور اس کے رسول کی تعظیم و توقیر کرو۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۲: رام نگر ضلع بنارس مرسلہ امام الدین صاحب ۹ جمادی الاولی ۱۳۳۶ھ
گزشتہ محرم خواجہ حسن نظامی دہلوی نے ایك کتاب لکھی جس کا نام محرم نامہ رکھا ہےخواجہ صاحب ایك مشہور شخصیت کے آدمی ہیں اس لیے ان کی اس کتاب کی بڑی اشاعت ہوئی اس کا ایك نسخہ ناچیز کے ایك دوست نے بھی منگایا اس محرم نامہ میں خواجہ صاحب نے عام بنو امیہ پر اور حضرت عمر و بن العاص رضی الله تعالی عنہ پر خصوصا نہایت سخت و شدید حملے کیے ہیں اور ان کے متعلق ایسی باتیں لکھی ہیں سنی المذہب محرم نامہ پڑھنے والوں کے خیالات میں نہایت ہلچل پڑ گئی ہے۔لہذا محرم نامہ مذکور سے اخذ کرکے کچھ حوالہ کرتا ہوں اور دریافت کرنا چاہتا ہوں کہ یہ باتیں کیسی ہیں تاکہ معلوم کرکے خود کو اور دیگر برادران اہل سنن کو خیالات کی کشمکش سے چھڑاؤںمحرم نامہ میں ہے۔
(۱)بغیر سوچے تم کو معلوم ہوجائے گا کہ حضرت عثمان کی شروع خلافت سے لے کر قتل عثمان تك جنگ جملجنگ صفین فیصلہ صفین اور آخر تك ہر بڑے چھوٹے فساد کی بنیاد میں عمرو بن العاص کا ہاتھ ضرور تھا۔
(۲)حضرت علی کو دھوکا دے کر خلافت حضرت عثمان کو انہوں نے دلوائی۔
حوالہ / References
القرآن الکریم ۹۳ /۱۱
القرآن الکریم ۱۴ /۵
القرآن الکریم ۱۰ /۵۸
القرآن الکریم ۴۸ /۹
القرآن الکریم ۱۴ /۵
القرآن الکریم ۱۰ /۵۸
القرآن الکریم ۴۸ /۹
(۳)اور پھر سب سے پہلے مخالفت عثمان پر یہ آمادہ ہوئے
(۴)حضرت عثمان کی بہن کو طلاق دی۔
(۵)اور مسجد میں سخت کلامی کا افتتاح بھی انہی عمرو بن العاص نے حضرت عثمان کے ساتھ کیا۔
(۶)یہی عمرو بن العاص تھے جنہوں نے لوگوں کو علانیہ جوش دلا کر حضرت عثمان کے مار ڈالنے پرترغیب دی۔
(۷)اور پھر یہی عمر و بن العاص تھے جو معاویہ کے وزیر بن کر حضرت علی سے خون عثمان کا انتقام لینے آئے۔
(۸)فیصلہ خلافت میں ابو موسی اشعری کو دھوکا دینے والے بھی یہی تھے۔
(۹)بنی امیہ اور عمرو بن العاص جیسے چند آدمیوں کی یہ آگ لگائی ہوئی ہے جو آج تك نہیں بجھی۔
مندرجہ بالا باتوں کا تعلق اگر چہ زیادہ تر تاریخ سے ہے لیکن چونکہ ایك ایك حرف مذہب پر اثر ڈال رہا ہےاور اس لیے ناچیز نے دارالافتاء کے دروازے ہی پر دستك دینی مناسب سمجھیحضرت عمرو بن العاص رضی الله تعالی عنہ کے متعلق تین باتیں اور پوچھنی ہیں۔
(۱)حضرت کا نسب نامہ۔
(۲)آیا آپ کی حضور رسول خدا صلی الله تعالی علیہ وسلم سے کوئی رشتہ داری تھی یا نہیں
(۳)کسی گروہ کو آپ کے صحیح النسب ہونے میں کلام ہے محرم نامہ مذکور کی نسبت یہ دریافت کرنا ہے کہ آیا اس کا پڑھنا سنیوں کے لیے کیسا ہے اور اس کو درست سمجھنا
الجواب:
سیدنا عمرو بن العاص رضی الله تعالی عنہ جلیل القدرصحابہ کرام سے ہیں ان کی شان میں گستاخی نہ کرے گا مگر رافضیجس کتاب میں ایسی باتیں ہوں اس کا پڑھنا سننا مسلمان سنیوں پر حرام ہےایسے مسئلہ میں کتابوں کے حوالے کی کیا حاجتاہلسنت کے مسنون عقائد میں تصریح ہے
الصحابۃ کلھم عدول لانذکرھم الابخیر ۔ صحابہ سب کے سب اہل خیر و عدالت ہیں ہم ان کا ذکر نہ کریں گے مگر بھلائی سے۔
اگر کوئی شخص اہل سنت کی کتابوں کو نہ مانے تو رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم کے
(۴)حضرت عثمان کی بہن کو طلاق دی۔
(۵)اور مسجد میں سخت کلامی کا افتتاح بھی انہی عمرو بن العاص نے حضرت عثمان کے ساتھ کیا۔
(۶)یہی عمرو بن العاص تھے جنہوں نے لوگوں کو علانیہ جوش دلا کر حضرت عثمان کے مار ڈالنے پرترغیب دی۔
(۷)اور پھر یہی عمر و بن العاص تھے جو معاویہ کے وزیر بن کر حضرت علی سے خون عثمان کا انتقام لینے آئے۔
(۸)فیصلہ خلافت میں ابو موسی اشعری کو دھوکا دینے والے بھی یہی تھے۔
(۹)بنی امیہ اور عمرو بن العاص جیسے چند آدمیوں کی یہ آگ لگائی ہوئی ہے جو آج تك نہیں بجھی۔
مندرجہ بالا باتوں کا تعلق اگر چہ زیادہ تر تاریخ سے ہے لیکن چونکہ ایك ایك حرف مذہب پر اثر ڈال رہا ہےاور اس لیے ناچیز نے دارالافتاء کے دروازے ہی پر دستك دینی مناسب سمجھیحضرت عمرو بن العاص رضی الله تعالی عنہ کے متعلق تین باتیں اور پوچھنی ہیں۔
(۱)حضرت کا نسب نامہ۔
(۲)آیا آپ کی حضور رسول خدا صلی الله تعالی علیہ وسلم سے کوئی رشتہ داری تھی یا نہیں
(۳)کسی گروہ کو آپ کے صحیح النسب ہونے میں کلام ہے محرم نامہ مذکور کی نسبت یہ دریافت کرنا ہے کہ آیا اس کا پڑھنا سنیوں کے لیے کیسا ہے اور اس کو درست سمجھنا
الجواب:
سیدنا عمرو بن العاص رضی الله تعالی عنہ جلیل القدرصحابہ کرام سے ہیں ان کی شان میں گستاخی نہ کرے گا مگر رافضیجس کتاب میں ایسی باتیں ہوں اس کا پڑھنا سننا مسلمان سنیوں پر حرام ہےایسے مسئلہ میں کتابوں کے حوالے کی کیا حاجتاہلسنت کے مسنون عقائد میں تصریح ہے
الصحابۃ کلھم عدول لانذکرھم الابخیر ۔ صحابہ سب کے سب اہل خیر و عدالت ہیں ہم ان کا ذکر نہ کریں گے مگر بھلائی سے۔
اگر کوئی شخص اہل سنت کی کتابوں کو نہ مانے تو رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم کے
حوالہ / References
منح الروض الازہر شرح الفقہ الاکبر افضل الناس بعدہ علیہ الصلوۃ والسلام مصطفی البابی مصر ص۷۱
ارشادات کو تو مانے گا نبی کریم صلی الله تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اسلم الناس وامن عمر و بن العاص رواہ الترمذی عن عقبۃ ابن عامر رضی الله تعالی عنہ۔ بہت لوگ وہ ہیں کہ اسلام لائے مگر عمرو بن العاص ان میں ہیں جو ایمان لائے۔(اس کو ترمذی نے عقبہ ابن عامر رضی الله تعالی عنہ سے روایت کیا۔ت)
رسول اﷲ صلی الله تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ان عمرو بن العاص من صالحی قریش رواہ الترمذی والا مام احمد فی مسند عن سیدنا طلحۃ بن عبید اﷲ احد العشرۃ ا لمبشرۃ رضی الله تعالی عنہم اجمعین۔ عمرو بن العاص صالحین قریش سے ہیں(ترمذی اور امام احمد نے اپنی مسند میں اسے سیدنا طلحہ بن عبید اﷲ جو عشر ہ مبشرہ رضی الله تعالی عنہم اجمعین سے ایك ہیں سے روایت کیا۔ت)
رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
نعم اھل البیت عبداﷲ وابوعبداﷲ وام عبداﷲ رواہ البغوی وابویعلی عن طلحۃ رضی الله تعالی عنہ۔ بہت اچھے گھر والے ہیں عبدالله بن عمرو بن العاص اور عبد الله کا باپ اور اس کی ماں۔اس کو بغوی اور ابویعلی رضی الله تعالی عنہ نے طلحہ رضی الله تعالی عنہ سے روایت کیا ہے۔ت)
واخرجہ ابن سعد فی الطبقات بسند صحیح عن ابن ابی ملکیۃ وزاد(اس کو ابن سعد نے طبقات میں صحیح سند کے ساتھ ابن ابی ملکیہ سے روایت کیا اور اتنا زیادہ کیا۔)یعنی عبدالله بن عمر و بن العاصرسول اﷲ صلی الله تعالی علیہ وسلم نے انہیں عبداﷲ بن عمرو بن العاص رضی الله تعالی عنہ کو غزوہ ذات السلاسل میں اسی الہی فوج کا سردار کیا۔جس میں صدیق اکبر و فاروق اعظم
اسلم الناس وامن عمر و بن العاص رواہ الترمذی عن عقبۃ ابن عامر رضی الله تعالی عنہ۔ بہت لوگ وہ ہیں کہ اسلام لائے مگر عمرو بن العاص ان میں ہیں جو ایمان لائے۔(اس کو ترمذی نے عقبہ ابن عامر رضی الله تعالی عنہ سے روایت کیا۔ت)
رسول اﷲ صلی الله تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ان عمرو بن العاص من صالحی قریش رواہ الترمذی والا مام احمد فی مسند عن سیدنا طلحۃ بن عبید اﷲ احد العشرۃ ا لمبشرۃ رضی الله تعالی عنہم اجمعین۔ عمرو بن العاص صالحین قریش سے ہیں(ترمذی اور امام احمد نے اپنی مسند میں اسے سیدنا طلحہ بن عبید اﷲ جو عشر ہ مبشرہ رضی الله تعالی عنہم اجمعین سے ایك ہیں سے روایت کیا۔ت)
رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
نعم اھل البیت عبداﷲ وابوعبداﷲ وام عبداﷲ رواہ البغوی وابویعلی عن طلحۃ رضی الله تعالی عنہ۔ بہت اچھے گھر والے ہیں عبدالله بن عمرو بن العاص اور عبد الله کا باپ اور اس کی ماں۔اس کو بغوی اور ابویعلی رضی الله تعالی عنہ نے طلحہ رضی الله تعالی عنہ سے روایت کیا ہے۔ت)
واخرجہ ابن سعد فی الطبقات بسند صحیح عن ابن ابی ملکیۃ وزاد(اس کو ابن سعد نے طبقات میں صحیح سند کے ساتھ ابن ابی ملکیہ سے روایت کیا اور اتنا زیادہ کیا۔)یعنی عبدالله بن عمر و بن العاصرسول اﷲ صلی الله تعالی علیہ وسلم نے انہیں عبداﷲ بن عمرو بن العاص رضی الله تعالی عنہ کو غزوہ ذات السلاسل میں اسی الہی فوج کا سردار کیا۔جس میں صدیق اکبر و فاروق اعظم
حوالہ / References
جامع الترمذی ابواب المناقب مناقب عمروبن العاص حدیث ۳۸۷۰ دارالفکربیروت ۵/۴۵۶
سنن الترمذی ابواب المناقب مناقب عمروبن العاص حدیث ۳۸۷۱ دارالفکربیروت ۵/۴۵۶،مسند احمد بن حنبل عن طلحہ بن عبید الله حدیث ۱۳۸۵ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/۲۶۰
مسند احمد بن حنبل عن طلحہ بن عبید الله حدیث ۱۳۸۴ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/۲۶۰،مسند ابی یعلی حدیث ۶۴۱ موسسۃ علوم القرآن بیروت ۱/۳۱۳
سنن الترمذی ابواب المناقب مناقب عمروبن العاص حدیث ۳۸۷۱ دارالفکربیروت ۵/۴۵۶،مسند احمد بن حنبل عن طلحہ بن عبید الله حدیث ۱۳۸۵ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/۲۶۰
مسند احمد بن حنبل عن طلحہ بن عبید الله حدیث ۱۳۸۴ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/۲۶۰،مسند ابی یعلی حدیث ۶۴۱ موسسۃ علوم القرآن بیروت ۱/۳۱۳
تھے رضی الله تعالی عنہم۔
ایك بار اہل مدینہ طیبہ کوکچھ ایسا خوف پیدا ہوا کہ متفرق ہوگئے سالم مولی ابی حذیفہ اور عمرو بن العاص دونوں صاحب رضی الله تعالی عنہما تلوار لے کر مسجد شریف میں حاضر رہےحضور اقدس صلی الله تعالی وسلمنے خطبہ فرمایا اور اس میں ارشاد کیا:
الا کان مفزعکم الی اﷲ والی رسولہ الا فعلتم کما فعل ھذا ن الرجلان المؤمنان۔ کیوں نہ ہوا کہ تم خوف میں اﷲ ورسول کی طرف التجا لاتے تم نے ایسا کیوں نہ کیا جیسا ان دونوں ایمان والے مردوں نے کیا۔
منکر اگر احادیث کو بھی نہ مانے تو قرآن عظیم کو تو مانے گا الله عزوجل فرماتا ہے:
" لا یستوی منکم من انفق من قبل الفتح و قتل اولئک اعظم درجۃ من الذین انفقوا من بعد و قتلوا وکلا وعد اللہ الحسنی و اللہ بما تعملون خبیر ﴿۱۰﴾" تم میں برابر نہیں جنہوں نے فتح مکہ سے پہلے خرچ و قتال کیا وہ درجے میں ان سے بڑے ہیں جنہوں نے بعد میں خرچ و قتال کیا اور دونوں فریق سے الله نے بھلائی کا وعدہ فرمایا اور الله خوب جانتا ہے جو کچھ کہ تم کرو گے۔
اﷲ عزوجل نے صحابہ حضور اقدس صلی الله تعالی علیہ وآلہ وسلم کو دو قسم فرمایا:ایك مومنین قبل فتح مکہدوسرے مومنین بعد فتح مکہفریق اول کو فریق دوم پر فضیلت بخشی اور دونوں فریق کو فرمایا کہ اﷲ تعالی نے ان سے بھلائی کا وعدہ کیا۔عمروابن العاص مومنین قبل فتح مکہ میں ہیں۔اصابہ فی تمیز الصحابہ میں ہے:
عمروبن العاص بن وائل بن ھاشم بن سعید بالتصغیر ابن سھم بن عمرو ابن ھصیص بن کعب بن لوی قرشی السھمی امیر مصریکنی ابا عبداﷲ و ابا محمد اسلم قبل الفتح فی صفر ۸ھ عمر و بن عاص بن وائل بن ہاشم بن سعید(تصغیر کے ساتھ) بن سہم بن عمرو بن ھصیص بن کعب بن لوی قرشی سہمی امیر مصر جن کی کنیت ابوعبداﷲ اور ابو محمد ہے وہ فتح مکہ سے پہلے ماہ صفر ۸ ہجری میں اسلام لائے اور
ایك بار اہل مدینہ طیبہ کوکچھ ایسا خوف پیدا ہوا کہ متفرق ہوگئے سالم مولی ابی حذیفہ اور عمرو بن العاص دونوں صاحب رضی الله تعالی عنہما تلوار لے کر مسجد شریف میں حاضر رہےحضور اقدس صلی الله تعالی وسلمنے خطبہ فرمایا اور اس میں ارشاد کیا:
الا کان مفزعکم الی اﷲ والی رسولہ الا فعلتم کما فعل ھذا ن الرجلان المؤمنان۔ کیوں نہ ہوا کہ تم خوف میں اﷲ ورسول کی طرف التجا لاتے تم نے ایسا کیوں نہ کیا جیسا ان دونوں ایمان والے مردوں نے کیا۔
منکر اگر احادیث کو بھی نہ مانے تو قرآن عظیم کو تو مانے گا الله عزوجل فرماتا ہے:
" لا یستوی منکم من انفق من قبل الفتح و قتل اولئک اعظم درجۃ من الذین انفقوا من بعد و قتلوا وکلا وعد اللہ الحسنی و اللہ بما تعملون خبیر ﴿۱۰﴾" تم میں برابر نہیں جنہوں نے فتح مکہ سے پہلے خرچ و قتال کیا وہ درجے میں ان سے بڑے ہیں جنہوں نے بعد میں خرچ و قتال کیا اور دونوں فریق سے الله نے بھلائی کا وعدہ فرمایا اور الله خوب جانتا ہے جو کچھ کہ تم کرو گے۔
اﷲ عزوجل نے صحابہ حضور اقدس صلی الله تعالی علیہ وآلہ وسلم کو دو قسم فرمایا:ایك مومنین قبل فتح مکہدوسرے مومنین بعد فتح مکہفریق اول کو فریق دوم پر فضیلت بخشی اور دونوں فریق کو فرمایا کہ اﷲ تعالی نے ان سے بھلائی کا وعدہ کیا۔عمروابن العاص مومنین قبل فتح مکہ میں ہیں۔اصابہ فی تمیز الصحابہ میں ہے:
عمروبن العاص بن وائل بن ھاشم بن سعید بالتصغیر ابن سھم بن عمرو ابن ھصیص بن کعب بن لوی قرشی السھمی امیر مصریکنی ابا عبداﷲ و ابا محمد اسلم قبل الفتح فی صفر ۸ھ عمر و بن عاص بن وائل بن ہاشم بن سعید(تصغیر کے ساتھ) بن سہم بن عمرو بن ھصیص بن کعب بن لوی قرشی سہمی امیر مصر جن کی کنیت ابوعبداﷲ اور ابو محمد ہے وہ فتح مکہ سے پہلے ماہ صفر ۸ ہجری میں اسلام لائے اور
حوالہ / References
مسند احمد بن حنبل بقیہ حدیث عمروبن العاص المکتب الاسلامی بیروت ۴/۲۰۳
القرآن الکریم ۵۷ /۱۰
القرآن الکریم ۵۷ /۱۰
ثمان وقیل بین الحدیبیۃ و خیبر ۔ کہا گیا ہے کہ حدیبیہ اور خیبر کے درمیان اسلام لائے۔ت)
اور بعد فتح تو راہ خدا میں جو ان کے جہاد ہیں آسمان و زمین ان کے آواز ے سے گونج رہے ہیں اور اﷲ عزوجل نے دونوں فریق سے بھلائی کا وعدہ فرمایااور مریض القلب معترضین جو ان پر طعن کریں کہ فلاں نے یہ کام کیا فلاں نے یہ کام کیا اگر ایمان رکھتے ہوں تو ان کا منہ تتمہ آیت سے بند فرمادیا کہ " و اللہ بما تعملون خبیر ﴿۱۰﴾" مجھے خوب معلوم ہے جو کچھ تم کرنے والے ہومگر میں تو تم سب سے بھلائی کا وعدہ فرماچکا۔ اب یہ بھی قرآن عظیم ہی سے پوچھ دیکھئےکہ الله عزوجل نے جس سے بھلائی کا وعدہ فرمایا اس کے لیے کیا ہے فرماتا ہے:
" ان الذین سبقت لہم منا الحسنی اولئک عنہا مبعدون ﴿۱۰۱﴾لا یسمعون حسیسہا و ہم فی ما اشتہت انفسہم خلدون ﴿۱۰۲﴾ لا یحزنہم الفزع الاکبر و تتلقىہم الملئکۃ ہذا یومکم الذی کنتم توعدون ﴿۱۰۳﴾" ۔ بے شك وہ جن کے لیے ہمارا وعدہ بھلائی کا ہو جہنم سے دور رکھے گئے ہیں اس کی بھنك تك نہ سنیں گے اور اپنی من مانتی نعمتوں میں ہمیشہ رہیں گے وہ قیامت سب سے بڑی گھبراہٹ انہیں غمگین نہ کرے گی اور ملائکہ ان کا استقبال کریں گے یہ کہتے ہوئے کہ یہ ہے تمہارا وہ دن جس کا تم سے وعدہ تھا۔
ان ارشادات الہیہ کے بعد مسلمان کی شان نہیں کہ کسی صحابی پر طعن کرےبفرض غلط بفرض باطل طعن کرنے والا جتنی بات بتاتا ہے اس سے ہزار حصے زائد سہی اس سے یہ کہیے " ءانتم اعلم ام اللہ " کیا تم زیادہ جانتے ہو یا اللہکیا الله کو ان باتوں کی خبر نہ تھی باینہمہ وہ ان سے فرماچکا کہ میں نے تم سب سے بھلائی کا وعدہ فرمالیا تمہارے کام مجھ سے پوشیدہ نہیںتو اب اعتراض نہ کرے گا مگر وہ جسے الله عزوجل پر اعتراض مقصود ہے۔عمرو بن عاص رضی الله تعالی عنہ
اور بعد فتح تو راہ خدا میں جو ان کے جہاد ہیں آسمان و زمین ان کے آواز ے سے گونج رہے ہیں اور اﷲ عزوجل نے دونوں فریق سے بھلائی کا وعدہ فرمایااور مریض القلب معترضین جو ان پر طعن کریں کہ فلاں نے یہ کام کیا فلاں نے یہ کام کیا اگر ایمان رکھتے ہوں تو ان کا منہ تتمہ آیت سے بند فرمادیا کہ " و اللہ بما تعملون خبیر ﴿۱۰﴾" مجھے خوب معلوم ہے جو کچھ تم کرنے والے ہومگر میں تو تم سب سے بھلائی کا وعدہ فرماچکا۔ اب یہ بھی قرآن عظیم ہی سے پوچھ دیکھئےکہ الله عزوجل نے جس سے بھلائی کا وعدہ فرمایا اس کے لیے کیا ہے فرماتا ہے:
" ان الذین سبقت لہم منا الحسنی اولئک عنہا مبعدون ﴿۱۰۱﴾لا یسمعون حسیسہا و ہم فی ما اشتہت انفسہم خلدون ﴿۱۰۲﴾ لا یحزنہم الفزع الاکبر و تتلقىہم الملئکۃ ہذا یومکم الذی کنتم توعدون ﴿۱۰۳﴾" ۔ بے شك وہ جن کے لیے ہمارا وعدہ بھلائی کا ہو جہنم سے دور رکھے گئے ہیں اس کی بھنك تك نہ سنیں گے اور اپنی من مانتی نعمتوں میں ہمیشہ رہیں گے وہ قیامت سب سے بڑی گھبراہٹ انہیں غمگین نہ کرے گی اور ملائکہ ان کا استقبال کریں گے یہ کہتے ہوئے کہ یہ ہے تمہارا وہ دن جس کا تم سے وعدہ تھا۔
ان ارشادات الہیہ کے بعد مسلمان کی شان نہیں کہ کسی صحابی پر طعن کرےبفرض غلط بفرض باطل طعن کرنے والا جتنی بات بتاتا ہے اس سے ہزار حصے زائد سہی اس سے یہ کہیے " ءانتم اعلم ام اللہ " کیا تم زیادہ جانتے ہو یا اللہکیا الله کو ان باتوں کی خبر نہ تھی باینہمہ وہ ان سے فرماچکا کہ میں نے تم سب سے بھلائی کا وعدہ فرمالیا تمہارے کام مجھ سے پوشیدہ نہیںتو اب اعتراض نہ کرے گا مگر وہ جسے الله عزوجل پر اعتراض مقصود ہے۔عمرو بن عاص رضی الله تعالی عنہ
حوالہ / References
الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ حرف العین ترجمہ عمروبن العاص ۵۸۸۲ دارصادر بیروت ۳/۲
القرآن الکریم ۵۷ /۱۰
القرآن الکریم ۲۱ /۱۰۱ و ۱۰۲ و۱۰۳
القرآن الکریم ۲ /۱۴۰
القرآن الکریم ۵۷ /۱۰
القرآن الکریم ۲۱ /۱۰۱ و ۱۰۲ و۱۰۳
القرآن الکریم ۲ /۱۴۰
جلیل القدر قریشی ہیں رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم کے جد امجد کعب بن لوی رضی الله تعالی عنہما کی اولاد سےاور ان کی نسبت و ہ ملعون کلمہ طعن فی النسب کا اگر کہا ہوگا تو کسی رافضی نےپھر وہ صدیق وفاروق کو کب چھوڑتے ہیں عمر وبن عاص کی کیا گنتیرضی الله تعالی عنہم اجمعین۔
" و سیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون ﴿۲۲۷﴾"واﷲ تعالی اعلم۔ اور عنقریب ظالم جان لیں گے کہ کس کروٹ پر پلٹا کھائیں گے۔(ت)واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۳ تا ۳۸: ازکانپور محلہ روئی گودام مسجد حسینی مستری مرسلہ محمد یعقوب خان ۹ جمادی الاولی ۱۳۳۶ھ
(۱)حضرات اولیاء اﷲ بعد وصال زندہ رہتے ہیں یا نہیں اگر زندہ رہتے ہیں تو کوئی دلیل قطعی ان کی حیات ابدی پر ہے یا نہیں اور اگر نہیں زندہ رہتے تو اس پر کوئی برہان قاطع ہے یا نہیں
(۲)اولیاء اﷲ کے تصرفات اور انکے فیوض و انوار و برکات بعد وصال بھی موجود رہتے ہیں یا بعد موت ظاہری وہ سب ختم ہوجاتے ہیں حاجتمندوں کا بزرگان دین کی درگاہوں سے فیضیاب ہونا برحق ہے اور اس پر کوئی دلیل شرعی ہے اگر ہے تو کیا دلیل ہے اور اگر نہیں ہے تو کیا یہ سب محض توہمات ہیں ان کے توہمات ہونے پر کیا دلیل ہے
(۳)بزرگان دین کی درگاہوں میں حاضر ہونا اور ان سے یہ کہنا کہ آپ مستجاب الدعوات اور مقبول بارگاہ ہیں ہمارے لیے دعا کیجئے کہ خداوند عالم ہماری وہ غرض پوری کردے شریعت غرا میں اس کی کوئی اصل ہے یا نہیں اگر اس کی کوئی اصل ہے تو کس کتاب میں ہے
(۴)اولیاء اﷲ کو مزارات پر جانے سے خبر ہوتی ہے یا نہیں اور ان میں یہ احساس ہے تو بارگاہ ذوالجلال میں عرض کرکے کسی مصیبت زدہ کی تکلیف اور مصیبت کا ازالہ کرادیں یا نہیں
(۵)حضرت غوث اعظم پاك قدس سرہ کو دستگیر کہنا جائز ہے یا نہیں
(۶)حضرت خواجہ معین الدین سنجری قدس سرہ کو غریب نواز کے لقب سے پکارنا جائز ہے یا نہیں
" و سیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون ﴿۲۲۷﴾"واﷲ تعالی اعلم۔ اور عنقریب ظالم جان لیں گے کہ کس کروٹ پر پلٹا کھائیں گے۔(ت)واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۳ تا ۳۸: ازکانپور محلہ روئی گودام مسجد حسینی مستری مرسلہ محمد یعقوب خان ۹ جمادی الاولی ۱۳۳۶ھ
(۱)حضرات اولیاء اﷲ بعد وصال زندہ رہتے ہیں یا نہیں اگر زندہ رہتے ہیں تو کوئی دلیل قطعی ان کی حیات ابدی پر ہے یا نہیں اور اگر نہیں زندہ رہتے تو اس پر کوئی برہان قاطع ہے یا نہیں
(۲)اولیاء اﷲ کے تصرفات اور انکے فیوض و انوار و برکات بعد وصال بھی موجود رہتے ہیں یا بعد موت ظاہری وہ سب ختم ہوجاتے ہیں حاجتمندوں کا بزرگان دین کی درگاہوں سے فیضیاب ہونا برحق ہے اور اس پر کوئی دلیل شرعی ہے اگر ہے تو کیا دلیل ہے اور اگر نہیں ہے تو کیا یہ سب محض توہمات ہیں ان کے توہمات ہونے پر کیا دلیل ہے
(۳)بزرگان دین کی درگاہوں میں حاضر ہونا اور ان سے یہ کہنا کہ آپ مستجاب الدعوات اور مقبول بارگاہ ہیں ہمارے لیے دعا کیجئے کہ خداوند عالم ہماری وہ غرض پوری کردے شریعت غرا میں اس کی کوئی اصل ہے یا نہیں اگر اس کی کوئی اصل ہے تو کس کتاب میں ہے
(۴)اولیاء اﷲ کو مزارات پر جانے سے خبر ہوتی ہے یا نہیں اور ان میں یہ احساس ہے تو بارگاہ ذوالجلال میں عرض کرکے کسی مصیبت زدہ کی تکلیف اور مصیبت کا ازالہ کرادیں یا نہیں
(۵)حضرت غوث اعظم پاك قدس سرہ کو دستگیر کہنا جائز ہے یا نہیں
(۶)حضرت خواجہ معین الدین سنجری قدس سرہ کو غریب نواز کے لقب سے پکارنا جائز ہے یا نہیں
حوالہ / References
القرآن الکریم ۲۶ /۲۲۷
الجواب:
اہلسنت کا مذہب یہ ہے کہ روح انسانی بعد موت بھی زندہ رہتی ہےموت بدن کے لیے ہے روح کے لیے نہیںانما خلقتم للابد تم ہمیشہ رہنے کے لیے بنائے گئے ہو۔امام جلال الدین سیوطی شرح الصدور میں بعض ائمہ کرام سے نقل فرماتے ہیں کہ کسی نے ان کے سامنے موت و روح کا ذکر کیافرمایا:
سبحن اﷲ ھذا قول اھل البدع سبحان اﷲ ! یہ بدمذہبوں کا قول ہے۔
اﷲ عزوجل فرماتا ہے:
" کل نفس ذائقۃ الموت " ۔ ہر جان موت کا مزہ چکھنے والی ہے۔
موت جب تك واقع نہ ہوئی معدوم کا مزہ کہاں سے آیا اور جب واقع ہوئی اگر روح مرجائے تو موت کا مزہ کون چکھے یوں ہی اہلسنت و جماعت کا اجماع اور صحیح حدیثوں کی تصریح ہے کہ ہر میت اپنی قبرپر آنے والے کو دیکھتا اور اس کا کلام سنتا ہےموت کے بعد سمع بصرعلم ادراکسب بدستور باقی رہتے ہیں بلکہ پہلے سے بہت زیادہ ہوجاتے ہیںکہ یہ صفتیں روح کی تھیں اور روح اب بھی زندہ ہے پہلے بدن میں مقید تھی اور اب اس قید سے آزاد ہےاولیائے کرام سے اس طرح عرض حاجت بلاشبہ جائز ہےامام اجل ثقی الملۃ والدین علی بن عبدالکافی سبکی قدس سرہ الملکی نے کتاب مستطاب شفاء السقام اور شیخ محقق مولنا عبد الحق محدث دہلوی رحمۃ الله تعالی علیہ نے اشعۃ اللمعات اور دیگر اکابر نے اپنی تصنیفات میں ان مسائل کی تحقیق جلیل فرمائی۔شاہ عبدالعزیز صاحب محدث دہلوی تفسیر عزیزی میں زیر آیہ کریمہ والقمر اذا اتسق لکھتے ہیں:
بعضے از خواص اولیاء اﷲ را کہ آلہ جارحہ تکمیل وارشاد بنی نوع خود گردانیدہ انددریں حالت ہم تصرف دردنیا اﷲ تعالی کے بعض خاص اولیاء ہیں جن کو بندوں کی تربیت کاملہ اور رہنمائی کے لیے ذریعہ بنایا گیا ہےانہیں اس حالت میں بھی
اہلسنت کا مذہب یہ ہے کہ روح انسانی بعد موت بھی زندہ رہتی ہےموت بدن کے لیے ہے روح کے لیے نہیںانما خلقتم للابد تم ہمیشہ رہنے کے لیے بنائے گئے ہو۔امام جلال الدین سیوطی شرح الصدور میں بعض ائمہ کرام سے نقل فرماتے ہیں کہ کسی نے ان کے سامنے موت و روح کا ذکر کیافرمایا:
سبحن اﷲ ھذا قول اھل البدع سبحان اﷲ ! یہ بدمذہبوں کا قول ہے۔
اﷲ عزوجل فرماتا ہے:
" کل نفس ذائقۃ الموت " ۔ ہر جان موت کا مزہ چکھنے والی ہے۔
موت جب تك واقع نہ ہوئی معدوم کا مزہ کہاں سے آیا اور جب واقع ہوئی اگر روح مرجائے تو موت کا مزہ کون چکھے یوں ہی اہلسنت و جماعت کا اجماع اور صحیح حدیثوں کی تصریح ہے کہ ہر میت اپنی قبرپر آنے والے کو دیکھتا اور اس کا کلام سنتا ہےموت کے بعد سمع بصرعلم ادراکسب بدستور باقی رہتے ہیں بلکہ پہلے سے بہت زیادہ ہوجاتے ہیںکہ یہ صفتیں روح کی تھیں اور روح اب بھی زندہ ہے پہلے بدن میں مقید تھی اور اب اس قید سے آزاد ہےاولیائے کرام سے اس طرح عرض حاجت بلاشبہ جائز ہےامام اجل ثقی الملۃ والدین علی بن عبدالکافی سبکی قدس سرہ الملکی نے کتاب مستطاب شفاء السقام اور شیخ محقق مولنا عبد الحق محدث دہلوی رحمۃ الله تعالی علیہ نے اشعۃ اللمعات اور دیگر اکابر نے اپنی تصنیفات میں ان مسائل کی تحقیق جلیل فرمائی۔شاہ عبدالعزیز صاحب محدث دہلوی تفسیر عزیزی میں زیر آیہ کریمہ والقمر اذا اتسق لکھتے ہیں:
بعضے از خواص اولیاء اﷲ را کہ آلہ جارحہ تکمیل وارشاد بنی نوع خود گردانیدہ انددریں حالت ہم تصرف دردنیا اﷲ تعالی کے بعض خاص اولیاء ہیں جن کو بندوں کی تربیت کاملہ اور رہنمائی کے لیے ذریعہ بنایا گیا ہےانہیں اس حالت میں بھی
حوالہ / References
شرح الصدور باب فضل الموت خلافت اکیڈمی سوات ص ۵
شرح الصدور باب مقرالارواح خلافت اکیڈمی سوات ص ۱۰۶
القرآن الکریم ۳ /۱۸۵
شرح الصدور باب مقرالارواح خلافت اکیڈمی سوات ص ۱۰۶
القرآن الکریم ۳ /۱۸۵
دادہواستغراق آنہا بجہت کمال وسعت مدارك آنہا مانع توجہ بایں سمت نمی گردد و اویسیان تحصیل کمالات باطنی از آنہامے نمایند وارباب حاجات و مطالب حل مشکلات خود ازانہامی طلبند و مے یابند۔ دنیا کے اندر تصرف کی طاقت و اختیار دیا گیا ہے اور کامل وسعت مدارك کی وجہ سے ان کا استغراق اس طرف متوجہ ہونے سے مانع نہیں ہوتا۔صوفیائے اویسیہ باطنی کمالات ان اولیاء اﷲ سے حاصل کرتے ہیں اور غرض مندو محتاج لوگ اپنی مشکلات کا حل ان سے طلب کرتے اور پاتے ہیں(ت)
نیز تفسیر عزیزی میں ہے:
سوختن گویا روح را بے مکان کردن است و دفن کردن گویا مسکنے برائے روح ساختن است بنا بریں ازا ولیائے مدفونین و دیگر صلحائے مومنین انتفاع واستفادہ جاری ست و آنہا راافادہ اعانت نیز متصور۔ جلادینا گویا کہ روح کو بے مکان کرنا ہے جب کہ دفن کرنا گویا کہ روح کے لیے ٹھکانا بنانا ہے۔اسی سبب سے دفن شدہ اولیاء اﷲاور دیگر صلحائے مومنین سے نفع و فائدہ کا حصول جاری ہے اور ان کے لیے امداد و فائدہ رسانی بھی متصور ہے۔(ت)
نیز اسی میں تفسیر سورہ مطففین میں ہے:
مقام علیین بالائے ہفت آسمان ست وپائن آں متصل بسدرۃ المنتہی است و بالائے آں متصل بہ پایہ راست عرش مجید است و ارواح نیکاں بعد از قبض در آنجامی رسند و مقربان یعنی انبیاء و اولیاء دراں مستقرمی مانندوعوام صلحاء ربرحسب مراتب در آسمان دنیا یا درمیان آسمان و زمین یا در چاہ زمزم قرار می دہند و تعلقے بقبر نیز ایں ارواح رامی باشد کہ بحضور زیارت کنندگان واقارب و دیگر دوستاں مقام علیین ساتویں آسمانوں کے اوپر ہےاس کا نچلا حصہ سدرۃ المنتہی اور اوپر والا عرش مجید کے دائیں پائے سے ملا ہوا ہے نیك لوگوں کی روحیں قبض ہونے کے بعد وہاں پہنچتی ہیں مقربین یعنی انبیاء و اولیاء تو وہیں برقرار رہتے ہیں جب کہ عام صالحین کو ان کے مراتب کے مطابق آسمان دنیا یا آسمان و زمین کے درمیان یا چاہ زمزم میں ٹھہراتے ہیں ان روحوں کا تعلق قبروں کے ساتھ بھی قائم رہتا ہےچنانچہ وہ زیارت کے لیے قبر پر
نیز تفسیر عزیزی میں ہے:
سوختن گویا روح را بے مکان کردن است و دفن کردن گویا مسکنے برائے روح ساختن است بنا بریں ازا ولیائے مدفونین و دیگر صلحائے مومنین انتفاع واستفادہ جاری ست و آنہا راافادہ اعانت نیز متصور۔ جلادینا گویا کہ روح کو بے مکان کرنا ہے جب کہ دفن کرنا گویا کہ روح کے لیے ٹھکانا بنانا ہے۔اسی سبب سے دفن شدہ اولیاء اﷲاور دیگر صلحائے مومنین سے نفع و فائدہ کا حصول جاری ہے اور ان کے لیے امداد و فائدہ رسانی بھی متصور ہے۔(ت)
نیز اسی میں تفسیر سورہ مطففین میں ہے:
مقام علیین بالائے ہفت آسمان ست وپائن آں متصل بسدرۃ المنتہی است و بالائے آں متصل بہ پایہ راست عرش مجید است و ارواح نیکاں بعد از قبض در آنجامی رسند و مقربان یعنی انبیاء و اولیاء دراں مستقرمی مانندوعوام صلحاء ربرحسب مراتب در آسمان دنیا یا درمیان آسمان و زمین یا در چاہ زمزم قرار می دہند و تعلقے بقبر نیز ایں ارواح رامی باشد کہ بحضور زیارت کنندگان واقارب و دیگر دوستاں مقام علیین ساتویں آسمانوں کے اوپر ہےاس کا نچلا حصہ سدرۃ المنتہی اور اوپر والا عرش مجید کے دائیں پائے سے ملا ہوا ہے نیك لوگوں کی روحیں قبض ہونے کے بعد وہاں پہنچتی ہیں مقربین یعنی انبیاء و اولیاء تو وہیں برقرار رہتے ہیں جب کہ عام صالحین کو ان کے مراتب کے مطابق آسمان دنیا یا آسمان و زمین کے درمیان یا چاہ زمزم میں ٹھہراتے ہیں ان روحوں کا تعلق قبروں کے ساتھ بھی قائم رہتا ہےچنانچہ وہ زیارت کے لیے قبر پر
حوالہ / References
فتح العزیز(تفسیر عزیزی)پارہ عم تحت آیۃ والقمر اذااتسق الخ مسلم بکڈپو لال کنواں دہلی ص ۲۰۶
فتح العزیز(تفسیر عزیزی)پارہ عم سورہ عبس استفادہ از اولیائے مدفونین مسلم بکڈپو لال کنواں دہلی ص ۱۴۳
فتح العزیز(تفسیر عزیزی)پارہ عم سورہ عبس استفادہ از اولیائے مدفونین مسلم بکڈپو لال کنواں دہلی ص ۱۴۳
بر قبر مطلع و مستانس میگردند زیرا کہ روح را قرب و بعد مکانی مانع ایں دریافت نمی شودو مثال آں دروجود انسانی روح بصری ست کہ ستارہ ہائے ہفت آسمان در ون چاہ مے توانددید۔ آنے والے عزیز و اقارب اور دوستوں سے آگاہ ہوتے ہیں اور ان سے انس حاصل کرتے ہیں کیونکہ مکانی قرب و بعد روح کے لیے اس دریافت و علم سے مانع نہیں ہوتااس کی مثال انسانی وجود میں روح بصری ہے جو ساتویں آسمان کے ستاروں کو چاہ کے اندر دیکھ سکتی ہے۔(ت)
حیات شہداء قرآن عظیم سے ثابت ہے اور شہداء سے علماء افضلحدیث میں ہے۔روز قیامت شہداء کا خون اور علماء کی دوات کی سیاہی تو لے جائیں گے علماء کی دوات کی سیاہی شہداء کے خون پر غالب آئے گی۔
اور علماء سےاولیاء افضل ہیںتو جب شہداء زندہ ہیں اور فرمایا کہ انہیں مردہ نہ کہوتو اولیاء کہ بدرجہا ان سے افضل ہیں ضرور ان سے بہتر حی ابدی ہیںقرآن کریم کے ایجازات میں یہ بھی ہے کہ امرارشاد فرماتے ہیں اور اس سے اس کے امثال اور اس سے امثل پر دلالت فرمادیتے ہیں۔جیسے:
" فلا تقل لہما اف ولا تنہرہما" ان سے ہوں نہ کہنا اور انہیں نہ جھڑکنا(ت)
ماں باپ کو ہوں کہنے سے ممانعت فرمائی جو کچھ ا سے زیادہ ہو وہ خود ہی منع ہوگیااور یہیں دیکھئے حیات شہداء کی تصریح فرمائی اور حیات انبیاء کا ذکر نہیں کہ اعلی خود ہی مفہوم ہوجائے گا اس دلالۃ النص میں اولیاء بلاشبہہ داخل۔
حضرت سیدناغوث اعظم رضی الله تعالی عنہ ضرور دستگیر ہیںاور حضرت سلطان الہند معین الحق والدین ضرور غریب نواز سیدنا ابوالحسن نورالدین بہجۃ الاسرار شریف میں سیدنا ابوالقاسم عمر بزاز قدس سرہ سے روایت فرماتے ہیں:
قال سمعت السیدالشیخ عبدالقادر یعنی میں نے اپنے مولی حضرت سید شیخ عبدالقادر
حیات شہداء قرآن عظیم سے ثابت ہے اور شہداء سے علماء افضلحدیث میں ہے۔روز قیامت شہداء کا خون اور علماء کی دوات کی سیاہی تو لے جائیں گے علماء کی دوات کی سیاہی شہداء کے خون پر غالب آئے گی۔
اور علماء سےاولیاء افضل ہیںتو جب شہداء زندہ ہیں اور فرمایا کہ انہیں مردہ نہ کہوتو اولیاء کہ بدرجہا ان سے افضل ہیں ضرور ان سے بہتر حی ابدی ہیںقرآن کریم کے ایجازات میں یہ بھی ہے کہ امرارشاد فرماتے ہیں اور اس سے اس کے امثال اور اس سے امثل پر دلالت فرمادیتے ہیں۔جیسے:
" فلا تقل لہما اف ولا تنہرہما" ان سے ہوں نہ کہنا اور انہیں نہ جھڑکنا(ت)
ماں باپ کو ہوں کہنے سے ممانعت فرمائی جو کچھ ا سے زیادہ ہو وہ خود ہی منع ہوگیااور یہیں دیکھئے حیات شہداء کی تصریح فرمائی اور حیات انبیاء کا ذکر نہیں کہ اعلی خود ہی مفہوم ہوجائے گا اس دلالۃ النص میں اولیاء بلاشبہہ داخل۔
حضرت سیدناغوث اعظم رضی الله تعالی عنہ ضرور دستگیر ہیںاور حضرت سلطان الہند معین الحق والدین ضرور غریب نواز سیدنا ابوالحسن نورالدین بہجۃ الاسرار شریف میں سیدنا ابوالقاسم عمر بزاز قدس سرہ سے روایت فرماتے ہیں:
قال سمعت السیدالشیخ عبدالقادر یعنی میں نے اپنے مولی حضرت سید شیخ عبدالقادر
حوالہ / References
فتح العزیز(تفسیر عزیزی)پارہ عم سورہ مطففین مقام ارواح انبیاء وصلحا مسلم بکڈپو لال کنواں دہلی ص ۱۹۳
کنزالعمال حدیث ۲۸۷۱۵ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۰/ ۱۴۱
القرآن الکریم ۱۷ /۲۳
کنزالعمال حدیث ۲۸۷۱۵ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۰/ ۱۴۱
القرآن الکریم ۱۷ /۲۳
الجیلی رضی الله تعالی عنہ یقول غیر مرۃ عثرا خی حسین الحلاج فلم یکن فی زمانہ من یاخذ بیدہ ولوکنت فی زمانہ لاخذت بیدہ وانا لکل من عثربہ مرکوبہ من اصحابی و مریدی و محبی الی یوم القیمۃ اخذبیدہ ۔والحمد ﷲ رب العلمین۔ جیلانی رضی الله تعالی عنہ کو بار ہا فرماتے سنا میرے بھائی حسین حلاج کا پاؤں پھسلا ان کے وقت میں کوئی ایسا نہ تھا کہ ان کی دستیگری کرتا اس وقت میں ہوتا تو ان کی دستگیری فرماتا اور میرے اصحاب اور میرے مریدوں اور مجھ سے محبت رکھنے والوں میں قیامت تك جس سے لغزش ہوگی میں اس کا دستگیر ہوں۔
تمام مسلمانوں کی زبانوں پر حضور کا لقب غوث اعظم ہے یعنی سب سے بڑے فریاد رس شاہ ولی الله صاحب اور شاہ عبدالعزیز صاحب درکنار خود اسمعیل دہلوی نے جا بجا حضور کو غوث اعظم یاد کیا ہے یہ فریاد رسی و دستگیری نہیں تو کیا ہےحضرت شیخ مجدد الف ثانی اپنے مکتوبات میں فرماتے ہیں:
بعداز رحلت ارشاد پناہی قبلہ گاہی روز عید بزیارت مزار ایشآں رفتہ بوددراثنائے توجہ بمزار متبرك التفات تمام از روحانیت مقدسہ ایشاں ظاہر گشت و از کمال غریب نوازی نسبت خاصہ خود راکہ کہ بحضرت خواجہ احرار منسوب بود مرحمت فرمودند۔ و اﷲ تعالی اعلم مرشد گرامی کے وصال کے بعد عید کے روز ان کے مزار اقدس کی زیارت کے لیے حاضر ہوا۔مزار مبارك کی طرف توجہ کے دوران مرشد گرامی کی روحانیت مقدسہ کا التفات تام ظاہر ہوا اور کمال غریب نوازی سے آپ نے وہ نسبت خاص عنایت فرمائی جو آپ کو حضرت خواجہ احرار علیہ الرحمۃ سے حاصل تھی۔(ت)
مسئلہ ۳۹و۴۰: از موضع درؤ ضلع نینی تال مرسلہ مٹھو نورباف ۹ جمادی الاولی ۱۳۳۶ھ
اﷲ تعالی کا جو فرمان ہے وہ کلام پاك ہےاس میں سب فیصلے موجود ہیںاس سے کوئی فیصلہ بچا نہیں ہےاب اماموں کا جو اختلاف ہے وہ کس بنا پر ہے ایك فعل حرام اور کسی کے یہاں وہی فعل حلال ہے اور کسی کے یہاں وہی فعل فرض اور کسی کے یہاں وہی فعل سنتبعض کے
تمام مسلمانوں کی زبانوں پر حضور کا لقب غوث اعظم ہے یعنی سب سے بڑے فریاد رس شاہ ولی الله صاحب اور شاہ عبدالعزیز صاحب درکنار خود اسمعیل دہلوی نے جا بجا حضور کو غوث اعظم یاد کیا ہے یہ فریاد رسی و دستگیری نہیں تو کیا ہےحضرت شیخ مجدد الف ثانی اپنے مکتوبات میں فرماتے ہیں:
بعداز رحلت ارشاد پناہی قبلہ گاہی روز عید بزیارت مزار ایشآں رفتہ بوددراثنائے توجہ بمزار متبرك التفات تمام از روحانیت مقدسہ ایشاں ظاہر گشت و از کمال غریب نوازی نسبت خاصہ خود راکہ کہ بحضرت خواجہ احرار منسوب بود مرحمت فرمودند۔ و اﷲ تعالی اعلم مرشد گرامی کے وصال کے بعد عید کے روز ان کے مزار اقدس کی زیارت کے لیے حاضر ہوا۔مزار مبارك کی طرف توجہ کے دوران مرشد گرامی کی روحانیت مقدسہ کا التفات تام ظاہر ہوا اور کمال غریب نوازی سے آپ نے وہ نسبت خاص عنایت فرمائی جو آپ کو حضرت خواجہ احرار علیہ الرحمۃ سے حاصل تھی۔(ت)
مسئلہ ۳۹و۴۰: از موضع درؤ ضلع نینی تال مرسلہ مٹھو نورباف ۹ جمادی الاولی ۱۳۳۶ھ
اﷲ تعالی کا جو فرمان ہے وہ کلام پاك ہےاس میں سب فیصلے موجود ہیںاس سے کوئی فیصلہ بچا نہیں ہےاب اماموں کا جو اختلاف ہے وہ کس بنا پر ہے ایك فعل حرام اور کسی کے یہاں وہی فعل حلال ہے اور کسی کے یہاں وہی فعل فرض اور کسی کے یہاں وہی فعل سنتبعض کے
حوالہ / References
بہجۃ الاسرار فضل اصحابہ وبشراھم مصطفی البابی مصر ص ۱۰۲
مکتوبات مجدد الف ثانی مکتوب ۲۹۱ نولکشور لکھنو ۱/ ۴۱۳
مکتوبات مجدد الف ثانی مکتوب ۲۹۱ نولکشور لکھنو ۱/ ۴۱۳
یہاں واجبمثلا ایك فعل امام شافعی کے یہاں جائز ہے اور ہمارے امام اعظم رحمۃ اﷲ تعالی علیہ کے یہاں ناجائزاور کچھ لوگ اس فعل کو کرتے ہیں اور ہم بچتے ہیںاور یہ بھی سنا ہے کہ خدا کے حرام کو حلال جاننے والا کافراور یہ بھی سنا ہے کہ غیر مقلد کے پیچھے نماز ناجائز نہیں ہے بلکہ مکروہ ہےحضور اس کی تسکین ہو۔
دوسرے یہ کہ جناب باری نے اپنے محبوب کو سب مراتب عنایت فرمائے ہیں اکثر وہابیہ کا جھگڑا سننے کو ملتا ہے تو حضرت بی بی عائشہ رضی الله تعالی عنہا کی مثال پیش کرتے ہیں تہمت والیمیرے حضور ! گزارش یہ ہے کہ بعض موقع پر جناب باری کی طرف سے پردہ ہوتا تھا یا کیا
الجواب:
قرآن عظیم میں بے شك سب کچھ موجود ہے مگر اسے کوئی نہ سمجھ سکتا اگرحدیث اس کی شرح نہ فرماتی۔ قال اﷲ تعالی:
" لتبین للناس ما نزل الیہم " ۔ تاکہ تم لوگوں سے بیان کردو جو ان کی طرف اترا(ت)
اور حدیث بھی کوئی نہ سمجھ سکتا اگر ائمہ مجتہدین اس کی شرح نہ فرماتےان کی سمجھ میں مدارج مختلف ہیںنبی صلی الله تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
رب مبلغ یبلغہ اوعی لہ من سامع۔ بہت سے لوگ جن تك بات پہنچائی جاتی وہ سننے والے سے زیادہ اس کو یاد رکھنے والے ہوتے ہیں۔(ت)
اور فرماتے ہیں:
رب حامل فقہ الی من ھو افقہ منہ۔ بہت سے فقہ اٹھانے والوں سے وہ زیادہ فقیہ ہوتا ہے جس کو وہ پہنچاتے ہیں۔(ت)
اس تفقہ فی الدین میں اختلاف مراتب باعث اختلاف ہوا اور ادھر مصلحت الہیہ احادیث
دوسرے یہ کہ جناب باری نے اپنے محبوب کو سب مراتب عنایت فرمائے ہیں اکثر وہابیہ کا جھگڑا سننے کو ملتا ہے تو حضرت بی بی عائشہ رضی الله تعالی عنہا کی مثال پیش کرتے ہیں تہمت والیمیرے حضور ! گزارش یہ ہے کہ بعض موقع پر جناب باری کی طرف سے پردہ ہوتا تھا یا کیا
الجواب:
قرآن عظیم میں بے شك سب کچھ موجود ہے مگر اسے کوئی نہ سمجھ سکتا اگرحدیث اس کی شرح نہ فرماتی۔ قال اﷲ تعالی:
" لتبین للناس ما نزل الیہم " ۔ تاکہ تم لوگوں سے بیان کردو جو ان کی طرف اترا(ت)
اور حدیث بھی کوئی نہ سمجھ سکتا اگر ائمہ مجتہدین اس کی شرح نہ فرماتےان کی سمجھ میں مدارج مختلف ہیںنبی صلی الله تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
رب مبلغ یبلغہ اوعی لہ من سامع۔ بہت سے لوگ جن تك بات پہنچائی جاتی وہ سننے والے سے زیادہ اس کو یاد رکھنے والے ہوتے ہیں۔(ت)
اور فرماتے ہیں:
رب حامل فقہ الی من ھو افقہ منہ۔ بہت سے فقہ اٹھانے والوں سے وہ زیادہ فقیہ ہوتا ہے جس کو وہ پہنچاتے ہیں۔(ت)
اس تفقہ فی الدین میں اختلاف مراتب باعث اختلاف ہوا اور ادھر مصلحت الہیہ احادیث
حوالہ / References
القرآن الکریم ۱۶ /۴۴
سنن ابن ماجہ باب من بلغ علمًا ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص ۲۱
جامع الترمذی ابواب العلم باب ماجاء فی الحث علی تبلیغ السماع امین کمپنی دہلی ۲/ ۹۰،سنن ابن ماجہ باب من بلغ علمًا ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص ۲۱
سنن ابن ماجہ باب من بلغ علمًا ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص ۲۱
جامع الترمذی ابواب العلم باب ماجاء فی الحث علی تبلیغ السماع امین کمپنی دہلی ۲/ ۹۰،سنن ابن ماجہ باب من بلغ علمًا ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص ۲۱
مختلف آئیںکسی صحابی نے کوئی حدیث سنی اور کسی نے کوئی اور وہ بلاد میں متفرق ہوئےہر ایك نے اپنا علم شائع فرمایایہ دوسرا باعث اختلاف ہوا۔عبداﷲ بن عمر کا علم امام مالك کو آیااور عبدالله بن عباس کا امام شافعی کواور افضل العباد لہ عبداﷲ بن مسعود کا علم ہمارے امام اعظم ابوحنیفہ کو رضی الله تعالی عنہم اجمعینحلال کو حرام یا حرام کو حلال جاننا جو کفر کہا گیا ہے وہ ان چیزوں میں ہے جن کا حرام یا حلال ہونا ضروریات دین سے ہے یا کم از کم نصوص قطعیہ سے ثابت ہو۔اجتہادی مسائل میں کسی پر طعن بھی جائز نہیں نہ کہ معاذ اﷲ ایسا خیالغیر مقلدوں کے پیچھے نماز باطل محض ہے کہ اصلا ہوتی ہی نہیں۔اس کی تفصیل ہمارے رسالہ النہی الاکید میں ہے ان غیر مقلدوں پر بحکم فقہاء کرام ستر وجہ سے کفر لازم ہے او ر ان کے پیچھے نماز ہوسکنا کیا معنی۔امام اعظم اعظم و امام ابویوسف و امام محمد رضی الله تعالی عنہم فرماتے ہیں:
لاتجوز الصلوۃ خلف اھل الاھواء۔ بدمذہبوں کے پیچھے نماز جائز نہیں۔(ت)
الله عزوجل نے اپنے حبیب صلی الله تعالی علیہ وسلم پر قرآن عظیم اتارا کہ ہر چیز ان پر روشن فرمادی۔قال اﷲ تعالی:
" نزلنا علیک الکتب تبینا لکل شیء" ہم نے تم پر یہ قرآن اتارا کہ ہر چیز کا روشن بیان ہے۔(ت)
قرآن عظیم تھوڑا تھوڑا کرکے تئیس۲۳ برس میں نازل ہواجتنا قرآن عظیم اترتا گیاحضور پر غیب روشن ہوتا گیاجب قرآن عظیم پورانازل ہوچکا روز اول سے روز آخر تك کا جمیع ماکان و مایکون کا علم محیط حضور کو حاصل ہوگیا۔تمامی نزول قرآن سے پہلے اگر کوئی واقعہ کسی حکمت الہیہ کے سبب منکشف نہ ہوا ہو تو احاطہ علم اقدس کا منافی نہیں معہذا زمانہ افك میں حضور اقدس صلی الله تعالی نے سکوت فرمایا جس سے یہ لازم نہیں آتا کہ حضور کو علم نہ تھااپنے اہل کی براء ت اپنی زبان سے ظاہر فرمانا یہ بہتر ہوتا یا یہ کہ رب السموت والارض نے قرآن کریم میں سترہ۱۷ ایتیں ان کی براء ت میں نازل فرمائیں جو قیام قیامت تك مساجد و مجالس و مجامع میں تلاوت کی جائے گی۔واﷲ تعالی اعلم۔
لاتجوز الصلوۃ خلف اھل الاھواء۔ بدمذہبوں کے پیچھے نماز جائز نہیں۔(ت)
الله عزوجل نے اپنے حبیب صلی الله تعالی علیہ وسلم پر قرآن عظیم اتارا کہ ہر چیز ان پر روشن فرمادی۔قال اﷲ تعالی:
" نزلنا علیک الکتب تبینا لکل شیء" ہم نے تم پر یہ قرآن اتارا کہ ہر چیز کا روشن بیان ہے۔(ت)
قرآن عظیم تھوڑا تھوڑا کرکے تئیس۲۳ برس میں نازل ہواجتنا قرآن عظیم اترتا گیاحضور پر غیب روشن ہوتا گیاجب قرآن عظیم پورانازل ہوچکا روز اول سے روز آخر تك کا جمیع ماکان و مایکون کا علم محیط حضور کو حاصل ہوگیا۔تمامی نزول قرآن سے پہلے اگر کوئی واقعہ کسی حکمت الہیہ کے سبب منکشف نہ ہوا ہو تو احاطہ علم اقدس کا منافی نہیں معہذا زمانہ افك میں حضور اقدس صلی الله تعالی نے سکوت فرمایا جس سے یہ لازم نہیں آتا کہ حضور کو علم نہ تھااپنے اہل کی براء ت اپنی زبان سے ظاہر فرمانا یہ بہتر ہوتا یا یہ کہ رب السموت والارض نے قرآن کریم میں سترہ۱۷ ایتیں ان کی براء ت میں نازل فرمائیں جو قیام قیامت تك مساجد و مجالس و مجامع میں تلاوت کی جائے گی۔واﷲ تعالی اعلم۔
حوالہ / References
فتح القدیر کتاب الصلوۃ باب الامامۃ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱/ ۳۰۴
القرآن الکریم ۱۶ /۸۹
القرآن الکریم ۱۶ /۸۹
مسئلہ ۴۱ تا ۴۶: از شہر عقب کو توالی مسئولہ عزیز الدین صاحب پیشکار ۱۳ جمادی الاولی ۱۳۳۶ھ
(۱)حضرت عیسی علیہ الصلوۃ والسلام کی والدہ ماجدہ کا نکاح بعد ولادت حضرت عیسی علیہ الصلوۃ والسلام کے یوسف نجارحضرت مریم کے خالہ زاد بھائی سے ہوا ہے یا نہیں
(۲)حضرت مریم نبیہ ہیں یا نہیں
(۳)اب کے پیغمبر زندہ ہیں اور کہاں کہاں ہیں
(۴)حضرت عیسی علیہ السلام کیا چوتھے آسمان پر ہیں
(۵)ایك شخص زندہ ہونے پیغمبروں کا قائل نہیں ہے اور آیت " قد خلت من قبلہ الرسل" ۔
(ان سے پہلے رسول ہوچکے۔ت)کہ استدلال میں لاتا ہےاس آیت کا کیا مطلب ہے
(۶)اور اسی کا یہ قول ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام اگر اتر یں گے تو وہ رسول ہوں گے یا نہیں اور اگر وہ رسول نہ ہوں اورامت محمد صلی الله تعالی علیہ وآلہ وسلم سے اس وقت ہوں تو خلاف کلام پاك ہوگا کہ اﷲ تعالی کسی کی رسالت نہ چھینے گااور کیا ان کی امت بلا رسول کے رہ جائے گی
الجواب:
(۱)شرع مطہر میں اس کا کہیں ثبوت نہیںنصاری کے یہاں بھی صرف منگیتر لکھا ہے ہاں وہ جنت میں حضور اقدس سید المرسلین صلی الله تعالی علیہ وسلم کی ازواج مطہرات سے ہوں گیکمافی الحدیث۔
(۲)نہیںکوئی عورت نبیہ نہیں۔
(۳)ہاں بایں معنی کہ اب تك لحوق موت اصلا نہ ہوا چار نبی زندہ ہیں:عیسی و ادریس علیہما الصلوۃ والسلام آسمان پراور الیاس و خضر علیہما الصلوۃ والسلام زمین پر۔شرح مقاصد میں ہے:
ذھب الیہ العظماء من العلماء ان ربعۃ من انبیاء فی زمرۃ الاحیاء بزرگ علماء اس طرف گئے ہیں کہ چار انبیاء زندوں کے زمرہ میں ہیںحضرت خضر اور
(۱)حضرت عیسی علیہ الصلوۃ والسلام کی والدہ ماجدہ کا نکاح بعد ولادت حضرت عیسی علیہ الصلوۃ والسلام کے یوسف نجارحضرت مریم کے خالہ زاد بھائی سے ہوا ہے یا نہیں
(۲)حضرت مریم نبیہ ہیں یا نہیں
(۳)اب کے پیغمبر زندہ ہیں اور کہاں کہاں ہیں
(۴)حضرت عیسی علیہ السلام کیا چوتھے آسمان پر ہیں
(۵)ایك شخص زندہ ہونے پیغمبروں کا قائل نہیں ہے اور آیت " قد خلت من قبلہ الرسل" ۔
(ان سے پہلے رسول ہوچکے۔ت)کہ استدلال میں لاتا ہےاس آیت کا کیا مطلب ہے
(۶)اور اسی کا یہ قول ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام اگر اتر یں گے تو وہ رسول ہوں گے یا نہیں اور اگر وہ رسول نہ ہوں اورامت محمد صلی الله تعالی علیہ وآلہ وسلم سے اس وقت ہوں تو خلاف کلام پاك ہوگا کہ اﷲ تعالی کسی کی رسالت نہ چھینے گااور کیا ان کی امت بلا رسول کے رہ جائے گی
الجواب:
(۱)شرع مطہر میں اس کا کہیں ثبوت نہیںنصاری کے یہاں بھی صرف منگیتر لکھا ہے ہاں وہ جنت میں حضور اقدس سید المرسلین صلی الله تعالی علیہ وسلم کی ازواج مطہرات سے ہوں گیکمافی الحدیث۔
(۲)نہیںکوئی عورت نبیہ نہیں۔
(۳)ہاں بایں معنی کہ اب تك لحوق موت اصلا نہ ہوا چار نبی زندہ ہیں:عیسی و ادریس علیہما الصلوۃ والسلام آسمان پراور الیاس و خضر علیہما الصلوۃ والسلام زمین پر۔شرح مقاصد میں ہے:
ذھب الیہ العظماء من العلماء ان ربعۃ من انبیاء فی زمرۃ الاحیاء بزرگ علماء اس طرف گئے ہیں کہ چار انبیاء زندوں کے زمرہ میں ہیںحضرت خضر اور
حوالہ / References
القرآن الکریم ۱۶ /۸۹
الخضر والیاس فی الارض وعیسی وادریس فی السماء علیہم الصلوۃ والسلام ۔ الیاس علیہما الصلوۃ والسلام زمین میں جب کہ حضرت عیسی علیہ السلام اور حضرت ادریس علیہما الصلوۃ والسلام آسمان پر(ت)
(۴)حضور اقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم نے شب اسری انہیں آسمان دوم پر پایا استقبال سرکار و اقتداء حضور کے لیے تمام انبیاء کرام علیہ وعلیہم افضل الصلوۃ والسلام اولا بیت المقدس میں جمع ہوئے پھر ہر نبی کو ان کے محل میں دیکھا اس سے ظاہر یہ کہ مقام سیدنا مسیح علیہ السلام آسمان دوم ہے اور مشہور چہارمواﷲ تعالی اعلم۔
(۵)حیات انبیاء علیہم الصلوۃ والثناء کا منکر گمراہ بددین ہے اور خلت سرے سے طریان موت پر بھی دلیل نہیںنہ کہ معاذ اﷲ استمرار موت یہ لفظ صرف انقضائے عہد پر دال ہے جیسے بلاتشبیہ یہ کہنا کہ سلطان محمد خاں خامس سے پہلے اتنے سلاطین ہو گزرے اس سے یہ نہ سمجھا جائے گا کہ سلطان حمید خان زندہ ہی نہیں۔انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام سب بجیات حقیقی دنیاوی جسمانی زندہ ہیں۔ رسول اﷲ صلی الله تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
الانبیاء احیاء فی قبور ھم یصلون۔ انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام اپنی قبروں میں زندہ ہیں اور نماز پڑھتے ہیں۔(ت)
اور فرماتے ہیں صلی الله تعالی علیہ وسلم:
ان اﷲ حرم علی الارض ان تاکل اجساد الانبیاء فنبی اﷲ حی یرزق۔ بے شك اﷲ تعالی نے نبیوں کے جسم کو کھانا ز مین پر حرام کر دیا ہے چنانچہ اﷲ تعالی کا نبی زندہ ہوتا ہے اس کو رزق دیا جاتا ہے۔ت)
(۶)حاشا نہ کوئی رسول رسالت سے معزول کیا جاتا ہے نہ سیدنا مسیح علیہ الصلوۃ
(۴)حضور اقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم نے شب اسری انہیں آسمان دوم پر پایا استقبال سرکار و اقتداء حضور کے لیے تمام انبیاء کرام علیہ وعلیہم افضل الصلوۃ والسلام اولا بیت المقدس میں جمع ہوئے پھر ہر نبی کو ان کے محل میں دیکھا اس سے ظاہر یہ کہ مقام سیدنا مسیح علیہ السلام آسمان دوم ہے اور مشہور چہارمواﷲ تعالی اعلم۔
(۵)حیات انبیاء علیہم الصلوۃ والثناء کا منکر گمراہ بددین ہے اور خلت سرے سے طریان موت پر بھی دلیل نہیںنہ کہ معاذ اﷲ استمرار موت یہ لفظ صرف انقضائے عہد پر دال ہے جیسے بلاتشبیہ یہ کہنا کہ سلطان محمد خاں خامس سے پہلے اتنے سلاطین ہو گزرے اس سے یہ نہ سمجھا جائے گا کہ سلطان حمید خان زندہ ہی نہیں۔انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام سب بجیات حقیقی دنیاوی جسمانی زندہ ہیں۔ رسول اﷲ صلی الله تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
الانبیاء احیاء فی قبور ھم یصلون۔ انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام اپنی قبروں میں زندہ ہیں اور نماز پڑھتے ہیں۔(ت)
اور فرماتے ہیں صلی الله تعالی علیہ وسلم:
ان اﷲ حرم علی الارض ان تاکل اجساد الانبیاء فنبی اﷲ حی یرزق۔ بے شك اﷲ تعالی نے نبیوں کے جسم کو کھانا ز مین پر حرام کر دیا ہے چنانچہ اﷲ تعالی کا نبی زندہ ہوتا ہے اس کو رزق دیا جاتا ہے۔ت)
(۶)حاشا نہ کوئی رسول رسالت سے معزول کیا جاتا ہے نہ سیدنا مسیح علیہ الصلوۃ
حوالہ / References
شرح المقاصد الحسنہ الفصل الرابع المبحث السابع دارالمعارف النعمانیہ لاہور ۲/ ۳۱۱
مسند ابی یعلٰی حدیث ۳۴۱۲ مؤسسۃ علوم القران بیروت ۳/ ۳۷۹
سنن ابن ماجہ ابواب الجنائز باب ذکر وفاتہ ودفنہ صلی الله تعالٰی علیہ وسلم ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص ۱۱۹
مسند ابی یعلٰی حدیث ۳۴۱۲ مؤسسۃ علوم القران بیروت ۳/ ۳۷۹
سنن ابن ماجہ ابواب الجنائز باب ذکر وفاتہ ودفنہ صلی الله تعالٰی علیہ وسلم ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص ۱۱۹
والسلام رسالت سے معزول ہوں گےنہ حضور کا امتی ہونا رسالت کے خلافوہ قبل نزول اپنے عہد میں بھی ہمارے حضور اقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم کے امتی تھے اور بعد رفع بھی امتی ہو کر اتریں گےتمام انبیاء و مرسلین اپنے عہد میں بھی حضور کے امتی تھے اور اب بھی امتی ہیںجب بھی رسول تھے اور اب بھی رسول ہیں کہ ہمارے حضور نبی الانبیاء ہیں۔ قال اﷲ تعالی: " لتؤمنن بہ ولتنصرنہ"ن بہ ولتنصرنہ ۔ (تم ضرور ضرور اس پر ایمان لانا اور ضرور ضرور اس کی مدد کرنا ت)ہاں اس وقت وہ اپنی شریعت پر حکم فرماتے تھے اب کہ شریعت محمدیہ صلی الله علی صاحبہا افضل الصلوۃ والتحیہ نے اگلی شریعتیں منسوخ فرمادیں۔ایك حضرت مسیح نہیں جو کوئی رسول بھی اب ظاہر ہو شریعت محمدیہ پر ہی حکم کرے گامنسوخ پر حکم باطل رسول اﷲ صلی الله تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:اگر موسی میرا زمانہ پاتے تو میری اتباع کے سوا انہیں کچھ گنجائش نہ ہوتی ۔اور اس کا کہنا ان کی امت بلا رسول کے رہ جائے گی اس کی سخت جہالت پر دلیل ہے اور اگر سمجھ کر کہے تو اس کی نصرانیتکیا اب نصرانی امت مسیح ہیںکیا اب وہ ان کے دین پر ہیں حاشا " کبرت کلمۃ تخرج من افوہہم " ۔ (کتنا بڑا بول ہے کہ ان کے مونہوں سے نکلتا ہے۔ت)واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۴۷:از بریلی مدرسہ اہلسنت و جماعت مسئولہ مولوی شفیع احمد صاحب مبسیلپوری طالب علم مدرسہ مذکور ۱۴ جمادی الاولی ۱۳۳۶ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مسلم الثبوت میں جو یہ دو مذہب بیان کیے ہیں یہ باطل و مردود ہیں یا نہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ مصنف آزاد خیال شخص ہیں پہلے کی بنا پر ارادہ میں عبد مختار محض ہوا دوسرے کی بنا پر افعال قلوب جزئیہ کا خالق ہوا۔عبارت یہ ہے:
وقیل بل موجود فیجب تخصیص القصدالمصمم من عموم اور کہا گیا ہے بلکہ قصد موجود ہے چنانچہ نصوص خلق کے عموم سے بندے کے مصمم ارادہ کی تخصیص
مسئلہ ۴۷:از بریلی مدرسہ اہلسنت و جماعت مسئولہ مولوی شفیع احمد صاحب مبسیلپوری طالب علم مدرسہ مذکور ۱۴ جمادی الاولی ۱۳۳۶ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مسلم الثبوت میں جو یہ دو مذہب بیان کیے ہیں یہ باطل و مردود ہیں یا نہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ مصنف آزاد خیال شخص ہیں پہلے کی بنا پر ارادہ میں عبد مختار محض ہوا دوسرے کی بنا پر افعال قلوب جزئیہ کا خالق ہوا۔عبارت یہ ہے:
وقیل بل موجود فیجب تخصیص القصدالمصمم من عموم اور کہا گیا ہے بلکہ قصد موجود ہے چنانچہ نصوص خلق کے عموم سے بندے کے مصمم ارادہ کی تخصیص
حوالہ / References
القرآن الکریم ۳ /۸۱
مسند احمد بن حنبل عن جابر بن عبداﷲ المکتب الاسلامی بیروت ۳/ ۳۸۷،دلائل النبوۃ لابی نعیم الفصل الاول عالم الکتب بیروت الجزء الاول ص ۸
القرآن الکریم ۱۸ /۵
مسند احمد بن حنبل عن جابر بن عبداﷲ المکتب الاسلامی بیروت ۳/ ۳۸۷،دلائل النبوۃ لابی نعیم الفصل الاول عالم الکتب بیروت الجزء الاول ص ۸
القرآن الکریم ۱۸ /۵
الخلق بالعقل ۔ بقرنیہ عقل واجب ہے(ت)
ایك سطر بعد ہے:
وعندی مختار بحسب الادراکات الجزئیۃ الجسمانیۃ مجبور بحسب العلوم الکلیۃ العقلیۃ۔ اور میرے نزدیك بندہ ادراکات جزئیہ جسمانیہ کے اعتبار سے مختار اور علوم کلیہ عقلیہ کے اعتبار سے مجبور ہے۔(ت)
الجواب:
پہلا مذہب باطل ہےاس کا رد فقیر کے رسالہ القمع المبین میں ہے۔مذہب دوم محض مہمل و بے معنی ہے جس کا اصلا کوئی محصل نہیںمصنف سنی حنفی ہیں آزاد خیال نہیں مگر اس بحر خونخوار میں غوطہ زنی سے ممانعت فرمائی گئی تھی اس پر جرات باعث لغزش و زلت ہوئی اور ہونی ہی تھی۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۴۸: از کانپور نئی سڑك مسجد حاجی شکر اﷲ مرحوم مرسلہ امام الدین صاحب ۱۵ جمادی الاولی ۱۳۳۶ھ
زید خدا کی شان میں یہ کلمات توہینیہ کہتا ہے گویا ابتو خدا اچھا خاصا ربڑ ہوگیا۔آیا زید خدا کی شان میں ایسے کلمات توہینیہ کہنے سے کافر ہوگیا یا مسلمان رہا مجھے چونکہ بجز حضور کی تحقیقات علمیہ کے تسکین نہیں ہوتی اس واسطے عریضہ خدمت میں روانہ کیا جاتا ہے۔
الجواب:
ایسے مجمل گول مول سوال پر کوئی حکم نہیں ہوسکتالفظ ابتو صاف دلالت کررہا ہے کہ یہ کسی بات پر تفریع ہے وہ بات کیا تھی اور اس کا قائل یہ تھا یا دوسرامثلا کسی کافر یا مرتدیا منافق خبیث نے اپنے معبود کے لیے کوئی بات ایسی کہی جس سے اس کا پھیلنا سمٹنا ثابت ہویا اسی قدر کہ یہ ناپاك تغیرات اس کی شان سے ٹھہریں اس پر کسی مسلمان نے اس اندھے کافر کی آنکھیں کھولنے کو یہ تنبیہ کی تو توہین اس کافر مرتد نے کی نہ کہ اس مسلمان نےغرض اس میں بہت صورتیں ہوسکتیں ہیں۔مفصل بات کہی جائے تو حکم دیا جائےواﷲ تعالی اعلم۔
ایك سطر بعد ہے:
وعندی مختار بحسب الادراکات الجزئیۃ الجسمانیۃ مجبور بحسب العلوم الکلیۃ العقلیۃ۔ اور میرے نزدیك بندہ ادراکات جزئیہ جسمانیہ کے اعتبار سے مختار اور علوم کلیہ عقلیہ کے اعتبار سے مجبور ہے۔(ت)
الجواب:
پہلا مذہب باطل ہےاس کا رد فقیر کے رسالہ القمع المبین میں ہے۔مذہب دوم محض مہمل و بے معنی ہے جس کا اصلا کوئی محصل نہیںمصنف سنی حنفی ہیں آزاد خیال نہیں مگر اس بحر خونخوار میں غوطہ زنی سے ممانعت فرمائی گئی تھی اس پر جرات باعث لغزش و زلت ہوئی اور ہونی ہی تھی۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۴۸: از کانپور نئی سڑك مسجد حاجی شکر اﷲ مرحوم مرسلہ امام الدین صاحب ۱۵ جمادی الاولی ۱۳۳۶ھ
زید خدا کی شان میں یہ کلمات توہینیہ کہتا ہے گویا ابتو خدا اچھا خاصا ربڑ ہوگیا۔آیا زید خدا کی شان میں ایسے کلمات توہینیہ کہنے سے کافر ہوگیا یا مسلمان رہا مجھے چونکہ بجز حضور کی تحقیقات علمیہ کے تسکین نہیں ہوتی اس واسطے عریضہ خدمت میں روانہ کیا جاتا ہے۔
الجواب:
ایسے مجمل گول مول سوال پر کوئی حکم نہیں ہوسکتالفظ ابتو صاف دلالت کررہا ہے کہ یہ کسی بات پر تفریع ہے وہ بات کیا تھی اور اس کا قائل یہ تھا یا دوسرامثلا کسی کافر یا مرتدیا منافق خبیث نے اپنے معبود کے لیے کوئی بات ایسی کہی جس سے اس کا پھیلنا سمٹنا ثابت ہویا اسی قدر کہ یہ ناپاك تغیرات اس کی شان سے ٹھہریں اس پر کسی مسلمان نے اس اندھے کافر کی آنکھیں کھولنے کو یہ تنبیہ کی تو توہین اس کافر مرتد نے کی نہ کہ اس مسلمان نےغرض اس میں بہت صورتیں ہوسکتیں ہیں۔مفصل بات کہی جائے تو حکم دیا جائےواﷲ تعالی اعلم۔
حوالہ / References
مسلم الثبوت فائدۃ عندالجہمیۃ لاقدرۃ فی العبداصلا المطبع الانصاری دہلی ص ۹
مسلم الثبوت فائدۃ عندالجہمیۃ لاقدرۃ فی العبداصلا المطبع الانصاری دہلی ص ۹
مسلم الثبوت فائدۃ عندالجہمیۃ لاقدرۃ فی العبداصلا المطبع الانصاری دہلی ص ۹
مسئلہ ۴۹: ازتیلن پاڑہ اندرون باڑی عجب میاں ضلع ہگلی مرسلہ سلطان احمد خاں مرزا پوری ۱۵ جمادی الاخرے ۱۳۳۶ھ
لولاك لما خلقت الافلاک ۔کو علمائے دین ہمیشہ سے محفل میلاد شریف میں بیان کرتے آئے اور اب بھی بیان کرتے ہیں اور اکثر علمائے دین نے برسر مجلس اس حدیث کو بتلایا کہ یہ حدیث قدسی ہے اور بہت سی اردو میلاد کی کتابوں میں یہی لکھا ہے اور تمام دنیا کے میلاد خواں اسی کو پڑھتے ہیں مگر کسی عالم نے کبھی اس کی نسبت کچھ اعتراض نہ کیا اورمولانا غلام امام شہید کے میلاد شریف شہیدی میں یہی حاشیہ پر لکھا ہے کہ حدیث قدسی ہےاسی طرح بہت سی اردو کی میلاد کی کتابوں میں ہےاور لغات کشوری میں بھی لکھا ہے کہ قدسی ہےبرعکس اس کے مولانا محمد یعقوب صاحب نے اس حدیث کی بابت بیان کیا ہے کہ یہ حدیث قدسی نہیں ہے اور نہ کسی حدیث میں ہےاور یہ بھی کہتے ہیں کہ ہم نے اکثر بزرگان دین سے دریافت کیا تو معلوم ہوا کہ بے شك یہ کوئی حدیث نہیں ہے بلکہ اس کے معنی صحیح ہیں۔اس حدیث کی نسبت جو کچھ حکم خدا و رسول کا ہو بیان فرمائیں۔
الجواب :
یہ ضرور صحیح ہے کہ اﷲ عزوجل نے تمام جہان حضور اقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم کے لیے بنایا اگر حضور نہ ہوتے کچھ نہ ہوتا۔یہ مضمون احادیث کثیرہ سے ثابت ہے جن کا بیان ہمارے رسالہ تلالؤ الا فلاك بحلال احادیث لولاك میں ہے اور انہی لفظوں کے ساتھ شاہ ولی اﷲ صاحب محدث دہلوی نے اپنی بعض تصانیف میں لکھی مگر سندا ثابت یہ لفظ ہیں۔
خلقت الدنیا واھلہالاعرفہم کرامتك ومنزلتك عندی ولولاك یا محمد ماخلقت الدنیا ۔ (یعنی اﷲ عزوجل اپنے محبوب اکرم صلی الله تعالی علیہ وسلم سے فرماتا ہے کہ)میں نے دنیا اور اہل دنیا کو اس لیے بنایا کہ تمہاری عزت اور مرتبہ جو میری بارگاہ مہں ہے ان پر ظاہر کروںاے محمد ! اگر تم نہ ہوتے میں دنیا کو نہ بتاتا۔
اس میں تو فقط افلاك کا لفظ تھا اس میں ساری دنیا کو فرمایا جس میں افلاك و زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب داخل ہیں اسی کو حدیث قدسی کہتے ہیں کہ وہ کلام الہی جو حدیث
لولاك لما خلقت الافلاک ۔کو علمائے دین ہمیشہ سے محفل میلاد شریف میں بیان کرتے آئے اور اب بھی بیان کرتے ہیں اور اکثر علمائے دین نے برسر مجلس اس حدیث کو بتلایا کہ یہ حدیث قدسی ہے اور بہت سی اردو میلاد کی کتابوں میں یہی لکھا ہے اور تمام دنیا کے میلاد خواں اسی کو پڑھتے ہیں مگر کسی عالم نے کبھی اس کی نسبت کچھ اعتراض نہ کیا اورمولانا غلام امام شہید کے میلاد شریف شہیدی میں یہی حاشیہ پر لکھا ہے کہ حدیث قدسی ہےاسی طرح بہت سی اردو کی میلاد کی کتابوں میں ہےاور لغات کشوری میں بھی لکھا ہے کہ قدسی ہےبرعکس اس کے مولانا محمد یعقوب صاحب نے اس حدیث کی بابت بیان کیا ہے کہ یہ حدیث قدسی نہیں ہے اور نہ کسی حدیث میں ہےاور یہ بھی کہتے ہیں کہ ہم نے اکثر بزرگان دین سے دریافت کیا تو معلوم ہوا کہ بے شك یہ کوئی حدیث نہیں ہے بلکہ اس کے معنی صحیح ہیں۔اس حدیث کی نسبت جو کچھ حکم خدا و رسول کا ہو بیان فرمائیں۔
الجواب :
یہ ضرور صحیح ہے کہ اﷲ عزوجل نے تمام جہان حضور اقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم کے لیے بنایا اگر حضور نہ ہوتے کچھ نہ ہوتا۔یہ مضمون احادیث کثیرہ سے ثابت ہے جن کا بیان ہمارے رسالہ تلالؤ الا فلاك بحلال احادیث لولاك میں ہے اور انہی لفظوں کے ساتھ شاہ ولی اﷲ صاحب محدث دہلوی نے اپنی بعض تصانیف میں لکھی مگر سندا ثابت یہ لفظ ہیں۔
خلقت الدنیا واھلہالاعرفہم کرامتك ومنزلتك عندی ولولاك یا محمد ماخلقت الدنیا ۔ (یعنی اﷲ عزوجل اپنے محبوب اکرم صلی الله تعالی علیہ وسلم سے فرماتا ہے کہ)میں نے دنیا اور اہل دنیا کو اس لیے بنایا کہ تمہاری عزت اور مرتبہ جو میری بارگاہ مہں ہے ان پر ظاہر کروںاے محمد ! اگر تم نہ ہوتے میں دنیا کو نہ بتاتا۔
اس میں تو فقط افلاك کا لفظ تھا اس میں ساری دنیا کو فرمایا جس میں افلاك و زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب داخل ہیں اسی کو حدیث قدسی کہتے ہیں کہ وہ کلام الہی جو حدیث
حوالہ / References
کشف الخفاء حدیث ۲۱۲۱ دارالکتب العلمیہ بیروت ۲/ ۱۴۸
تاریخ دمشق الکبیر ذکر عروجہ الی السماء داراحیاء التراث العربی بیروت ۳ / ۲۹۷
تاریخ دمشق الکبیر ذکر عروجہ الی السماء داراحیاء التراث العربی بیروت ۳ / ۲۹۷
میں فرمایا گیا ایسی جگہ لفظی بحث پیش کرکے عوام کے دلوں میں شك و شبہہ ڈالنا اور ان کے قلوب کو متزلزل کرنا ہر گز مسلمانوں کی خیر خواہی نہیںاور رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
الدین النصح لکل مسلم۔ دین یہ ہے کہ آدمی ہر مسلمان کی خیر خواہی کرے واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۵۰: ازقدمتلی پوسٹ بانچہ رام پور ضلع تپرہ مرسلہ طالب علی صاحب ۱۵ جمادی الاولی ۱۳۳۶ھ
ذات باری تعالی کو فقط عرش ہی پر سمجھے اور ماسوا فوق العرش کسی کو مخلوقات الہی سے بے ذات باری تعالے محیط نہ جاننا بلکہ یہ کہنا کہ فقط علم الہی ساری اشیاء کو محیط ہے اور ذات اس کی فقط عرش ہی پر ہے اور دوسری جگہ نہیںیہ عقیدہ اہل سنت کا ہے یا نہیں اور جو معتقد اس عقیدے کا ہو نماز پیچھے اس کے ادا کرنا جائز ہے یا نہیں
واینہم تحریر فرمایند کہ ایشایان ایں عقیدہ را منسوب بحنابلہ مے گویند فی الحقیقت عقائد حنابلہ ہمچنین ست یانہ اور یہ بھی تحریر فرمائیں کہ لوگ اس عقیدے کو حنابلہ کی طرف منسوب کرتے ہیںکیا درحقیقت عقائد حنابلہ ایسے ہیں یا نہیں(ت)
ھو المصوب ذات پروردگار کو عرش پر سمجھنا بدوں بیان کیفیت استوا اور اس کے علم کو محیط تمام عالم سمجھنا اور آیت معیت و قرب وغیرہ کو قرب و معیت علمی پر حمل کرنا مذہب اہلسنت کا ہے اور معتقد اس مذہب کے پیچھے نماز درست ہے بلا کراہتشرح حکمت نبویہ میں ہے:
نعتقد انہ علی العرش مستو علیہ استواء منزھا عن التمکن والا ستقرارو انہ فوق العرش مع ذلك ھو قریب من کل موجود وھو ا قرب من حبل الورید ولا یماثل قربہ قرب الاجسام ۔اھ ہمارا اعتقادیہ ہے کہ اﷲ تعالی عرش پر ایسے استواء کے ساتھ مستوی ہے جو تمکن وا ستقرار سے منزہ ہےاور عرش پر جلوہ گر ہونے کے باوجود وہ ہر موجود کے نزدیك اور شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے اور اس کا قرب اجسام کے قرب کی مثل نہیں ہے۔ا ھ(ت)
الدین النصح لکل مسلم۔ دین یہ ہے کہ آدمی ہر مسلمان کی خیر خواہی کرے واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۵۰: ازقدمتلی پوسٹ بانچہ رام پور ضلع تپرہ مرسلہ طالب علی صاحب ۱۵ جمادی الاولی ۱۳۳۶ھ
ذات باری تعالی کو فقط عرش ہی پر سمجھے اور ماسوا فوق العرش کسی کو مخلوقات الہی سے بے ذات باری تعالے محیط نہ جاننا بلکہ یہ کہنا کہ فقط علم الہی ساری اشیاء کو محیط ہے اور ذات اس کی فقط عرش ہی پر ہے اور دوسری جگہ نہیںیہ عقیدہ اہل سنت کا ہے یا نہیں اور جو معتقد اس عقیدے کا ہو نماز پیچھے اس کے ادا کرنا جائز ہے یا نہیں
واینہم تحریر فرمایند کہ ایشایان ایں عقیدہ را منسوب بحنابلہ مے گویند فی الحقیقت عقائد حنابلہ ہمچنین ست یانہ اور یہ بھی تحریر فرمائیں کہ لوگ اس عقیدے کو حنابلہ کی طرف منسوب کرتے ہیںکیا درحقیقت عقائد حنابلہ ایسے ہیں یا نہیں(ت)
ھو المصوب ذات پروردگار کو عرش پر سمجھنا بدوں بیان کیفیت استوا اور اس کے علم کو محیط تمام عالم سمجھنا اور آیت معیت و قرب وغیرہ کو قرب و معیت علمی پر حمل کرنا مذہب اہلسنت کا ہے اور معتقد اس مذہب کے پیچھے نماز درست ہے بلا کراہتشرح حکمت نبویہ میں ہے:
نعتقد انہ علی العرش مستو علیہ استواء منزھا عن التمکن والا ستقرارو انہ فوق العرش مع ذلك ھو قریب من کل موجود وھو ا قرب من حبل الورید ولا یماثل قربہ قرب الاجسام ۔اھ ہمارا اعتقادیہ ہے کہ اﷲ تعالی عرش پر ایسے استواء کے ساتھ مستوی ہے جو تمکن وا ستقرار سے منزہ ہےاور عرش پر جلوہ گر ہونے کے باوجود وہ ہر موجود کے نزدیك اور شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے اور اس کا قرب اجسام کے قرب کی مثل نہیں ہے۔ا ھ(ت)
حوالہ / References
صحیح البخاری کتاب الایمان باب قول النبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم الدین النصیحۃ الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۳،صحیح مسلم کتاب الایمان باب بیان ان الدین النصیحۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۵۴ و۵۵
شرح حکمت نبویہ
شرح حکمت نبویہ
اور سیرالنبلا میں ہے:
قال اسحق بن راھویۃ اجمع اھل العلم علی انہ تعالی علی العرش استوی وھو یعلم کل شیئ فی اسفل الارض السابعۃ۔ انتہی اسحاق بن راہویہ نے کہا:تمام اہل علم کا اس پر اجماع ہے کہ الله تعالی نے عرش پر استواء فرمایا اور وہ ساتویں زمین کے نیچے ہر شیئ کو جانتا ہے۔انتہی(ت)
اور جامع ترمذی میں بعد ذکر حدیث:
لوانکم دلیتم اجلا بحبل الی الارض السفلی لھبط علی اﷲ ثم قرأ رسول اﷲ صلی الله تعالی علیہ وسلم ھو الاول والاخر والظاھر و الباطن وھو بکل شیئ علیم۔ اگر تم کوئی رسی نیچے والی زمین کی طرف لٹکاؤ تو وہ الله کے پاس پہنچے گی۔پھر رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم نے یہ آیت کریمہ تلاوت فرمائی وہی اولوہی آخروہی ظاہروہی باطن اور وہی سب کچھ جانتا ہے۔(ت)
مرقوم ہے:
قرأۃ الایۃ تدل علی انہ ارادبھبط علی اﷲ علی علم اﷲ وقدرتہ وسلطانہ وعلم اﷲ فی کل مکان وھو علی العرش کما وصف فی کتابہ۔ آیت کریمہ کی تلاوت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ رسی کے الله تعالی کے پاس پہنچے سے رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم کی مراد یہ ہے کہ وہ اﷲ تعالی کے علمقدرت اور سلطنت میں پہنچی ہے۔اور اﷲ تعالی کا علم ہر جگہ ہے جب کہ وہ خود عرش پر ہے۔جیسا کہ اس نے اپنی کتاب میں خود اپنا یہ وصف بیان فرمایا ہے۔(ت)
اور یہ جو مشہور ہے کہ یہ مذہب حنابلہ کا ہےغلط ہے۔بلکہ یہ مذہب جمہور محققین حنفیہ و شافعیہ و
قال اسحق بن راھویۃ اجمع اھل العلم علی انہ تعالی علی العرش استوی وھو یعلم کل شیئ فی اسفل الارض السابعۃ۔ انتہی اسحاق بن راہویہ نے کہا:تمام اہل علم کا اس پر اجماع ہے کہ الله تعالی نے عرش پر استواء فرمایا اور وہ ساتویں زمین کے نیچے ہر شیئ کو جانتا ہے۔انتہی(ت)
اور جامع ترمذی میں بعد ذکر حدیث:
لوانکم دلیتم اجلا بحبل الی الارض السفلی لھبط علی اﷲ ثم قرأ رسول اﷲ صلی الله تعالی علیہ وسلم ھو الاول والاخر والظاھر و الباطن وھو بکل شیئ علیم۔ اگر تم کوئی رسی نیچے والی زمین کی طرف لٹکاؤ تو وہ الله کے پاس پہنچے گی۔پھر رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم نے یہ آیت کریمہ تلاوت فرمائی وہی اولوہی آخروہی ظاہروہی باطن اور وہی سب کچھ جانتا ہے۔(ت)
مرقوم ہے:
قرأۃ الایۃ تدل علی انہ ارادبھبط علی اﷲ علی علم اﷲ وقدرتہ وسلطانہ وعلم اﷲ فی کل مکان وھو علی العرش کما وصف فی کتابہ۔ آیت کریمہ کی تلاوت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ رسی کے الله تعالی کے پاس پہنچے سے رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم کی مراد یہ ہے کہ وہ اﷲ تعالی کے علمقدرت اور سلطنت میں پہنچی ہے۔اور اﷲ تعالی کا علم ہر جگہ ہے جب کہ وہ خود عرش پر ہے۔جیسا کہ اس نے اپنی کتاب میں خود اپنا یہ وصف بیان فرمایا ہے۔(ت)
اور یہ جو مشہور ہے کہ یہ مذہب حنابلہ کا ہےغلط ہے۔بلکہ یہ مذہب جمہور محققین حنفیہ و شافعیہ و
حوالہ / References
سیراعلام النبلاء ترجمہ اسحاق بن راہویۃ ۷۹ مؤسسۃ الرسالۃ بیرت ۱۱/ ۳۷۰
جامع الترمذی ابواب التفسیر سورۃ الحدید امین کمپنی دہلی ۲/ ۱۶۲
جامع الترمذی ابواب التفسیر سورۃ الحدید امین کمپنی دہلی ۲/ ۱۶۲
جامع الترمذی ابواب التفسیر سورۃ الحدید امین کمپنی دہلی ۲/ ۱۶۲
جامع الترمذی ابواب التفسیر سورۃ الحدید امین کمپنی دہلی ۲/ ۱۶۲
مالکیہ وحنابلہ و محدثین وغیرہم کا ہے البتہ بعض حنابلہ استواء مع بیان الکیفیت کے قائل ہوگئے ہیں اور استقرار پر پروردگار کو مثل استقرار مخلوقات کے سمجھتے ہیں یہ مذہب مردود ہےوالتفصیل یتدعی بسطا بسیطاوفیما ذکرناہ کفایۃواﷲ تعالی اعلم بالصواب(اور تفصیل بہت زیادہ وسعت کو چاہتی ہے جب کہ ہم نے جو کچھ ذکر کیا اس میں کفایت ہے اور اﷲ تعالی درست بات کو خوب جانتا ہے۔ت) حررہمحمد کرامت علی عفی عنہ
الجواب :
حاشا ﷲ ! یہ ہر گز عقیدہ اہلسنت کا نہیںوہ مکان و تمکن سے پاك ہےنہ عرش اس کا مکان ہے نہ دوسری جگہعرش و فرش سب حادثات ہیںاور وہ قدیم ازلی ابدی سرمدی جب تك یہ کچھ نہ تھے کہاں تھاجیسا جب تھا ویسا ہی اب ہے اور جیسا اب ہے ویسا ہی ابدالآباد تك رہے گا۔عرش و فرش سب متغیر ہیںحادث ہیںفانی ہیںاور وہ اور اس کی صفات تغیرو حدوث وفنا سب سے پاکاستواء پر اجماع نقل کرنے کی کیا حاجتخود رحمن عزوجل فرماتا ہے:
" الرحمن علی العرش استوی ﴿۵﴾ " ۔ وہ بڑا مہروالا اس نے عرش پر استواء فرمایا جیسا کہ اس کی شان کے لائق ہے۔(ت)
مگر اعتقاد اہلسنت کا وہ ہے جو ان کے رب عزوجل نے راسخین فی العلم کو تعلیم فرمایا:
" والراسخون فی العلم یقولون امنا بہ کل من عند ربنا وما یذکر الا اولوا الالبب﴿۷﴾" ۔ اورو ہ پختہ علم والے کہتے ہیں ہم اس پر ایمان لائے سب ہمارے رب کے پاس سے ہےاور نصیحت نہیں مانتے مگر عقل والے۔(ت)
اعتقاد اہل سنت کا وہ ہے جو ام المومنین ام سلمہ رضی الله تعالی عنہا نے فرمایا:
الاستواء معلوم والکیف مجہول والایمان بہ واجب و السؤال عنہ بدعۃ۔ استواء معلوم ہے اور کیفیت مجہولاور اس پر ایمان واجباور اس کی تفتیش گمراہی۔
الجواب :
حاشا ﷲ ! یہ ہر گز عقیدہ اہلسنت کا نہیںوہ مکان و تمکن سے پاك ہےنہ عرش اس کا مکان ہے نہ دوسری جگہعرش و فرش سب حادثات ہیںاور وہ قدیم ازلی ابدی سرمدی جب تك یہ کچھ نہ تھے کہاں تھاجیسا جب تھا ویسا ہی اب ہے اور جیسا اب ہے ویسا ہی ابدالآباد تك رہے گا۔عرش و فرش سب متغیر ہیںحادث ہیںفانی ہیںاور وہ اور اس کی صفات تغیرو حدوث وفنا سب سے پاکاستواء پر اجماع نقل کرنے کی کیا حاجتخود رحمن عزوجل فرماتا ہے:
" الرحمن علی العرش استوی ﴿۵﴾ " ۔ وہ بڑا مہروالا اس نے عرش پر استواء فرمایا جیسا کہ اس کی شان کے لائق ہے۔(ت)
مگر اعتقاد اہلسنت کا وہ ہے جو ان کے رب عزوجل نے راسخین فی العلم کو تعلیم فرمایا:
" والراسخون فی العلم یقولون امنا بہ کل من عند ربنا وما یذکر الا اولوا الالبب﴿۷﴾" ۔ اورو ہ پختہ علم والے کہتے ہیں ہم اس پر ایمان لائے سب ہمارے رب کے پاس سے ہےاور نصیحت نہیں مانتے مگر عقل والے۔(ت)
اعتقاد اہل سنت کا وہ ہے جو ام المومنین ام سلمہ رضی الله تعالی عنہا نے فرمایا:
الاستواء معلوم والکیف مجہول والایمان بہ واجب و السؤال عنہ بدعۃ۔ استواء معلوم ہے اور کیفیت مجہولاور اس پر ایمان واجباور اس کی تفتیش گمراہی۔
حوالہ / References
القرآن الکریم ۲۰ /۵
القرآن الکریم ۳ /۷
الدرالمنثور تحت الآیۃ ۷/ ۵۴ داراحیاء التراث العربی بیروت ۳/ ۴۲۹،فتح الباری کتاب التوحید باب قولہ وکان عرشہ علی الماء مصطفی البابی مصر ۱۷/ ۱۷۷
القرآن الکریم ۳ /۷
الدرالمنثور تحت الآیۃ ۷/ ۵۴ داراحیاء التراث العربی بیروت ۳/ ۴۲۹،فتح الباری کتاب التوحید باب قولہ وکان عرشہ علی الماء مصطفی البابی مصر ۱۷/ ۱۷۷
اہلسنت کے دو۲ مسلك ایات متشابہات میں ہیں سلف صالح کا مسلك تفویض کاہم نہ ان کے معنی جانیں ن ان سے بحث کریں جو کچھ ان کے ظاہر سے سمجھ میں آتا ہےوہ قطعا مراد نہیں اور جو کچھ ان کے رب عزوجل کی مراد ہے ہم اس پر ایمان لاتے ہیں۔
" کل من عند ربنا" ۔ ہم سب اس پر ایمان لائے سب ہمارے رب کے پاس سے ہے۔
دوسرا مسلك متاخرین کا کہ حفظ دین عوام کے لیے معنی محال سے پھیر کر کسی قریب معنی صحیح کی طرف لے جائیںمثلا استواء بمعنی استیلا بھی آتا ہے۔
قد استوی بشر علی العراق من غیر سیف اودم مھرا ق
(تحقیق بشر عراق پر غالب آگیا تلوار کے ساتھ خون بہائے بغیر۔ت)
مگر یہ مسلك باطل کہ آیات معیت تو تاویل پر محمول ہیں اور آیت استواء ظاہر پر یہ ہر گز مسلك اہل سنت نہیںعرش پر ہے دوسری جگہ نہیںیہ صاف تمکن کو بتارہا ہے عرش پر معاذ اﷲ اس کے لیے جگہ ثابت کی جب تو اور مکانات کی نفی کی عالمگیریہطریقہ محمدیہحدیقہ ندیہتاتارخانیہخلاصہجامع الفصولینخزانۃ المفتین وغیرہا میں تصریح ہے کہ رب عزوجل کے لیے کسی طرح کسی جگہ مکان ثابت کرنا کفر ہے۔متاخرین حنابلہ میں بعض خبثاء مجسمہ ہوگئے جیسے ابن تیمیہ وابن قیمابن تیمیہ کہتا ہے کہ میں نے سب جگہ ڈھونڈا کہیں نہ پایا اور معدوم ہے ان دونوں میں کچھ فرق نہیں یعنی جو کسی جگہ نہیں ہے وہ ہے ہی نہیں لیکن رب عزوجل تو معاذ اﷲ ضرور کسی جگہ ہےاس احمق سفیہ کو اگر مادی اور مجردعن المادہ کا فرق نہ معلوم ہو تو وہ سیف قاطع جو اوپر ہم نے ذکر کی اس کی گردن کاٹنے کو کافی جگہ حادث ہے جب جگہ تھی ہی نہیں کہاں تھا وہ شاید یہ کہے گا کہ جب جگہ نہ تھی وہ بھی نہ تھا یا یہ کہے گا کہ جگہ بھی قدیم ازلی ہے اور دونوں کفر ہیں جب اس کا معبود اس کے نزدیك بغیر کسی جگہ میں موجود ہوئے نہیں ہوسکتا تو جگہ کا محتاج ہوااور جو محتاج ہے الله نہیں تو حقیقۃ ان پر انکار خدا ہی لازم ہے ایسے عقیدے والے کے پیچھے نماز ممنوع و ناجائز ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
" کل من عند ربنا" ۔ ہم سب اس پر ایمان لائے سب ہمارے رب کے پاس سے ہے۔
دوسرا مسلك متاخرین کا کہ حفظ دین عوام کے لیے معنی محال سے پھیر کر کسی قریب معنی صحیح کی طرف لے جائیںمثلا استواء بمعنی استیلا بھی آتا ہے۔
قد استوی بشر علی العراق من غیر سیف اودم مھرا ق
(تحقیق بشر عراق پر غالب آگیا تلوار کے ساتھ خون بہائے بغیر۔ت)
مگر یہ مسلك باطل کہ آیات معیت تو تاویل پر محمول ہیں اور آیت استواء ظاہر پر یہ ہر گز مسلك اہل سنت نہیںعرش پر ہے دوسری جگہ نہیںیہ صاف تمکن کو بتارہا ہے عرش پر معاذ اﷲ اس کے لیے جگہ ثابت کی جب تو اور مکانات کی نفی کی عالمگیریہطریقہ محمدیہحدیقہ ندیہتاتارخانیہخلاصہجامع الفصولینخزانۃ المفتین وغیرہا میں تصریح ہے کہ رب عزوجل کے لیے کسی طرح کسی جگہ مکان ثابت کرنا کفر ہے۔متاخرین حنابلہ میں بعض خبثاء مجسمہ ہوگئے جیسے ابن تیمیہ وابن قیمابن تیمیہ کہتا ہے کہ میں نے سب جگہ ڈھونڈا کہیں نہ پایا اور معدوم ہے ان دونوں میں کچھ فرق نہیں یعنی جو کسی جگہ نہیں ہے وہ ہے ہی نہیں لیکن رب عزوجل تو معاذ اﷲ ضرور کسی جگہ ہےاس احمق سفیہ کو اگر مادی اور مجردعن المادہ کا فرق نہ معلوم ہو تو وہ سیف قاطع جو اوپر ہم نے ذکر کی اس کی گردن کاٹنے کو کافی جگہ حادث ہے جب جگہ تھی ہی نہیں کہاں تھا وہ شاید یہ کہے گا کہ جب جگہ نہ تھی وہ بھی نہ تھا یا یہ کہے گا کہ جگہ بھی قدیم ازلی ہے اور دونوں کفر ہیں جب اس کا معبود اس کے نزدیك بغیر کسی جگہ میں موجود ہوئے نہیں ہوسکتا تو جگہ کا محتاج ہوااور جو محتاج ہے الله نہیں تو حقیقۃ ان پر انکار خدا ہی لازم ہے ایسے عقیدے والے کے پیچھے نماز ممنوع و ناجائز ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
حوالہ / References
القرآن الکریم ۳ /۷
فتح الباری کتاب التوحید باب قولہ وکان عرشہ علی الماء مصطفیٰ البابی مصر ۱۷/ ۱۷۶
فتح الباری کتاب التوحید باب قولہ وکان عرشہ علی الماء مصطفیٰ البابی مصر ۱۷/ ۱۷۶
قوارع القھار علی المجسمۃ الفجار ۱۳۱۸ھ
جسمیت باری تعالی کے قائل فاجروں پر قہر فرمانے والے(اﷲ تعالی)کی طرف سے سخت مصیبتیں)
ملقب بلقب تاریخی
ضرب قہاری ۱۳۱۸ھ
بسم اﷲ الرحمن الرحیم
سبحنك یا من تعالی عما یقول المجسمۃ الظالمون علواکبیرا ٭ صل و سلم وبارك علی من اتانا بشیرا و نذیرا ٭ داعیا الیك باذنك سراجا منیرا ٭ وعلی الہ وصحابتہ واھلسنتہ وجماعتہ کثیراکثیرا۔ پاك ہے تو اے وہ ذات جو بلند ترین ہے اس بات سے جو جسم ثابت کرنے والے ظالم لوگ کہتے ہیںرحمتسلامتی اور برکت فرما اس شخصیت پر جو ہمارے پاس بشیر و نذیربن کر تشریف لائے اور تیری طرف دعوت دینے والے تیرے حکم سے روشن چراغ ہیں اور ان کی آل و صحابہ و اہلسنت و جماعت پر کثرت در کثرت سے(ت)
اﷲ عزوجل کی تنزیہ میں اہلسنت و جماعت کے عقیدے
(۱)اﷲ تعالی ہر عیب و نقصان سے پاك ہے۔
(۲)سب اس کے محتاج ہیں وہ کسی چیز کی طرف کسی طرح کسی بات میں اصلا احتیاج للہ
جسمیت باری تعالی کے قائل فاجروں پر قہر فرمانے والے(اﷲ تعالی)کی طرف سے سخت مصیبتیں)
ملقب بلقب تاریخی
ضرب قہاری ۱۳۱۸ھ
بسم اﷲ الرحمن الرحیم
سبحنك یا من تعالی عما یقول المجسمۃ الظالمون علواکبیرا ٭ صل و سلم وبارك علی من اتانا بشیرا و نذیرا ٭ داعیا الیك باذنك سراجا منیرا ٭ وعلی الہ وصحابتہ واھلسنتہ وجماعتہ کثیراکثیرا۔ پاك ہے تو اے وہ ذات جو بلند ترین ہے اس بات سے جو جسم ثابت کرنے والے ظالم لوگ کہتے ہیںرحمتسلامتی اور برکت فرما اس شخصیت پر جو ہمارے پاس بشیر و نذیربن کر تشریف لائے اور تیری طرف دعوت دینے والے تیرے حکم سے روشن چراغ ہیں اور ان کی آل و صحابہ و اہلسنت و جماعت پر کثرت در کثرت سے(ت)
اﷲ عزوجل کی تنزیہ میں اہلسنت و جماعت کے عقیدے
(۱)اﷲ تعالی ہر عیب و نقصان سے پاك ہے۔
(۲)سب اس کے محتاج ہیں وہ کسی چیز کی طرف کسی طرح کسی بات میں اصلا احتیاج للہ
نہیں رکھتا۔
(۳)مخلوق کی مشابہت سے منزہ ہے۔
(۴)اس میں تغیر نہیں آسکتاازل میں جیسا تھا ویسا ہی اب ہے اور ویسا ہی ہمیشہ ہمیشہ رہے گایہ کبھی نہیں ہوسکتا کہ پہلے ایك طور پر ہو پھر بدل کر اور حالت پر ہوجائے۔
(۵)وہ جسم نہیں جسم والی کسی چیز کو اس سے لگاؤ نہیں۔
(۶)اسے مقدار عارض نہیں کہ اتنا یا اتنا کہہ سکیںلمبا چوڑا یا دلدار یا موٹا یا پتلا یا بہت یا تھوڑا یا گنتی یا تول میں بڑا یا چھوٹا یا بھاری یا ہلکا نہیں۔
(۷)وہ شکل سے منزہ ہےپھیلا یا سمٹاگول یا لمباتکونا یا چوکھونٹاسیدھا یا ترچھا یا اور کسی صورت کا نہیں۔
(۸)حد و طرف و نہایت سے پاك ہے اور اس معنی پر نامحدود بھی نہیں کہ بے نہایت پھیلا ہوا ہو بلکہ یہ معنی کہ وہ مقدار وغیرہ تمام اعراض سے منزہ ہےغرض نامحدود کہنا نفی حد کے لیے ہے نہ اثبات بے مقدار بے نہایت کے لیے۔
(۹)وہ کسی چیز سے بنا نہیں۔
(۱۰)اس میں اجزا یا حصے فرض نہیں کرسکتے۔
(۱۱)جہت اور طرف سے پاك ہے جس طرح اسے دہنے بائیں یا نیچے نہیں کہہ سکتے یونہی جہت کے معنی پر آگے پیچھے یا اوپر بھی ہر گز نہیں۔
(۱۲)وہ کسی مخلوق سے مل نہیں سکتا کہ اس سے لگا ہوا ہو۔
(۱۳)کسی مخلوق سے جدا نہیں کہ اس میں اور مخلوق میں مسافت کا فاصلہ ہو۔
(۱۴)اس کے لیے مکان اور جگہ نہیں۔
(۱۵)اٹھنےبیٹھنےاترنےچڑھنےچلنےٹھہرنے وغیرہا تمام عوارض جسم و جسمانیات سے منزہ ہے۔
محل تفصیل میں عقائد تزیہہ بے شمار ہیںیہ پندرہ۱۵ کہ بقدر حاجت یہاں مذکور ہوئے اور انکے سوا ان جملہ مسائل کی اصل یہی تین عقیدے ہیں جو پہلے مذکور ہوئے اور ان میں بھی اصل الاصول عقیدہ اولی ہے کہ تمام مطالب تنزیہیہ کا حاصل و خلاصہ ہے ان کی دلیل قرآن عظیم کی وہ سب آیات ہیں جن میں باری عزوجل کی تسبیح وتقدیس و پاکی و بے نیازی و بے مثلی و بے نظیری ارشاد
(۳)مخلوق کی مشابہت سے منزہ ہے۔
(۴)اس میں تغیر نہیں آسکتاازل میں جیسا تھا ویسا ہی اب ہے اور ویسا ہی ہمیشہ ہمیشہ رہے گایہ کبھی نہیں ہوسکتا کہ پہلے ایك طور پر ہو پھر بدل کر اور حالت پر ہوجائے۔
(۵)وہ جسم نہیں جسم والی کسی چیز کو اس سے لگاؤ نہیں۔
(۶)اسے مقدار عارض نہیں کہ اتنا یا اتنا کہہ سکیںلمبا چوڑا یا دلدار یا موٹا یا پتلا یا بہت یا تھوڑا یا گنتی یا تول میں بڑا یا چھوٹا یا بھاری یا ہلکا نہیں۔
(۷)وہ شکل سے منزہ ہےپھیلا یا سمٹاگول یا لمباتکونا یا چوکھونٹاسیدھا یا ترچھا یا اور کسی صورت کا نہیں۔
(۸)حد و طرف و نہایت سے پاك ہے اور اس معنی پر نامحدود بھی نہیں کہ بے نہایت پھیلا ہوا ہو بلکہ یہ معنی کہ وہ مقدار وغیرہ تمام اعراض سے منزہ ہےغرض نامحدود کہنا نفی حد کے لیے ہے نہ اثبات بے مقدار بے نہایت کے لیے۔
(۹)وہ کسی چیز سے بنا نہیں۔
(۱۰)اس میں اجزا یا حصے فرض نہیں کرسکتے۔
(۱۱)جہت اور طرف سے پاك ہے جس طرح اسے دہنے بائیں یا نیچے نہیں کہہ سکتے یونہی جہت کے معنی پر آگے پیچھے یا اوپر بھی ہر گز نہیں۔
(۱۲)وہ کسی مخلوق سے مل نہیں سکتا کہ اس سے لگا ہوا ہو۔
(۱۳)کسی مخلوق سے جدا نہیں کہ اس میں اور مخلوق میں مسافت کا فاصلہ ہو۔
(۱۴)اس کے لیے مکان اور جگہ نہیں۔
(۱۵)اٹھنےبیٹھنےاترنےچڑھنےچلنےٹھہرنے وغیرہا تمام عوارض جسم و جسمانیات سے منزہ ہے۔
محل تفصیل میں عقائد تزیہہ بے شمار ہیںیہ پندرہ۱۵ کہ بقدر حاجت یہاں مذکور ہوئے اور انکے سوا ان جملہ مسائل کی اصل یہی تین عقیدے ہیں جو پہلے مذکور ہوئے اور ان میں بھی اصل الاصول عقیدہ اولی ہے کہ تمام مطالب تنزیہیہ کا حاصل و خلاصہ ہے ان کی دلیل قرآن عظیم کی وہ سب آیات ہیں جن میں باری عزوجل کی تسبیح وتقدیس و پاکی و بے نیازی و بے مثلی و بے نظیری ارشاد
ہوئی آیات تسبیح خود کس قدر کثیر ووافر ہیں۔ وقال تعالی: " الملک القدوس السلم " ۔بادشاہ نہایت پاکی والا ہر عیب سے سلامت۔وقال تعالی: " فان اللہ غنی عن العلمین﴿۹۷﴾ " ۔بے شك اﷲ سارے جہان سے بے نیاز ہے۔وقال تعالی: " فان اللہ غنی عن العلمین﴿۹۷﴾ " ۔بے شك اﷲ ہی بے پروا ہے سب خوبیوں سراہاوقال تعالی: " لیس کمثلہ شیء " ۔اس کے مثل کوئی چیز نہیں۔وقال تعالی: " ہل تعلم لہ سمیا ﴿۶۵﴾ " ۔کیا تو جانتا ہے اس کے نام کا کوئیوقال تعالی: " و لم یکن لہ کفوا احد ﴿۴﴾ " ۔اس کے جوڑ کا کوئی نہیں۔ ان مطالب کی آیتیں صدہا ہیںیہ آیات محکمات ہیںیہ ام الکتاب ہیںان کے معنی میں کوئی خفا و اجمال نہیںاصلا دقت واشکال نہیں جو کچھ ان کے صریح لفظوں سے بے پردہ روشن وہویدا ہے بے تغیر وتبدیل بے تخصیص وتاویل اس پر ایمان لانا ضروریات دین اسلام سے ہےوباﷲ التوفیق۔
ایات متشابہات کے باب میں اہلسنت کا اعتقاد
قال اﷲ تعالی(اﷲ تعالی نے فرمایا):
" ہو الذی انزل علیک الکتب منہ ایت محکمت ہن ام الکتب واخر متشبہت فاما الذین فی قلوبہم زیغ فیتبعون ما تشبہ منہ ابتغاء الفتنۃ وابتغاء تاویلہ وما یعلم تاویلہ الا اللہ والراسخون فی العلم یقولون امنا بہ کل من عند ربنا وما یذکر الا اولوا الالبب﴿۷﴾ (موضح القرآن میں اس کا ترجمہ یوں ہے۔وہی ہے جس نے اتاری تجھ پر کتاب اس میں بعض آیتیں پکی ہیں سو جڑ ہیں کتاب کیاور دوسری ہیں کئی طرف ملتیسوجن کے دل ہیں پھرے ہوئے وہ لگتے ہیں ان کے ڈھب والیوں سےتلاش کرتے ہیں گمراہی اور تلاش کرتے ہیں ان کی کل بیٹھانیاور ان کی کل کوئی نہیں جانتا سوائے اﷲ کےاور جو مضبوط علم والے ہیں سوکہتے ہیں ہم اس پر ایمان لائے سب کچھ ہمارے رب کی طرف سے ہےاور سمجھائے وہی سمجھے ہیں
ایات متشابہات کے باب میں اہلسنت کا اعتقاد
قال اﷲ تعالی(اﷲ تعالی نے فرمایا):
" ہو الذی انزل علیک الکتب منہ ایت محکمت ہن ام الکتب واخر متشبہت فاما الذین فی قلوبہم زیغ فیتبعون ما تشبہ منہ ابتغاء الفتنۃ وابتغاء تاویلہ وما یعلم تاویلہ الا اللہ والراسخون فی العلم یقولون امنا بہ کل من عند ربنا وما یذکر الا اولوا الالبب﴿۷﴾ (موضح القرآن میں اس کا ترجمہ یوں ہے۔وہی ہے جس نے اتاری تجھ پر کتاب اس میں بعض آیتیں پکی ہیں سو جڑ ہیں کتاب کیاور دوسری ہیں کئی طرف ملتیسوجن کے دل ہیں پھرے ہوئے وہ لگتے ہیں ان کے ڈھب والیوں سےتلاش کرتے ہیں گمراہی اور تلاش کرتے ہیں ان کی کل بیٹھانیاور ان کی کل کوئی نہیں جانتا سوائے اﷲ کےاور جو مضبوط علم والے ہیں سوکہتے ہیں ہم اس پر ایمان لائے سب کچھ ہمارے رب کی طرف سے ہےاور سمجھائے وہی سمجھے ہیں
حوالہ / References
القرآن الکریم ۵۹ /۲۳
القرآن الکریم ۳ /۹۷
القرآن الکریم ۳۱ /۲۶
القرآن الکریم ۴۲ /۱۱
القرآن الکریم ۱۹ /۶۵
القرآن ا لکریم ۱۱۲/ ۴
القرآن الکریم ۳ /۹۷
القرآن الکریم ۳۱ /۲۶
القرآن الکریم ۴۲ /۱۱
القرآن الکریم ۱۹ /۶۵
القرآن ا لکریم ۱۱۲/ ۴
اولوا الالبب﴿۷﴾" ۔ جن کو عقل ہے۔
اور اس کے فائدے میں لکھا:اﷲ صاحب فرماتا ہے کہ ہر کلام میں اﷲ نے بعضی باتیں رکھی ہیں جن کے معنی صاف نہیں کھلتے تو جو گمراہ ہو ان کے معنی عقل سے لگے پکڑنے اور جو مضبوط علم رکھے وہ ان کے معنی اور آیتوں سے ملا کر سمجھے جو جڑ کتاب کی ہے اس کے موافق سمجھ پائے تو سمجھے اور اگر نہ پائے تو اﷲ پر چھوڑ دے کہ وہی بہترجانے ہم کو ایمان سے کام ہے انتہی۔
اقول:(میں کہتا ہوںت)بات یہ ہے کہ اﷲ تعالی نے قرآن مجید اتارا ہے ہدایت فرمانے اور بندوں کو جانچنے آزمانے کو " یضل بہ کثیرا ویہدی بہ کثیرا " ۔اسی قرآن سے بہتوں کو گمراہ فرمائے اور بہتیروں کو راہ دکھائے۔
اس ہدایت وضلالت کا بڑا منشا قرآن عظیم کی آیتوں کا دو قسم ہونا ہے:محکمات جن کے معنی صاف بے دقت ہیں جیسے ا ﷲ تعالی کی پاکی و بے نیازی و بے مثلی کی آیتیں جن کا ذکر اوپر گزرااور دوسری متشا بہات جن کے معنی میں اشکال ہے یا تو ظاہر لفظ سے کچھ سمجھ ہی نہیں آتا جیسے حروف مقطعات الم وغیرہ یا جو سمجھ میں آتا ہے وہ اﷲ عزوجل پر محال ہےجیسے " الرحمن علی العرش استوی ﴿۵﴾ " ۔ (وہ بڑا مہروالا اس نے عرش پر استواء فرمایا۔ت)یا " ثم استوی علی العرش" ۔ (پھر اس نے عرش پر استواء فرمایا۔ت)
پھر جن کے دلوں میں کجی و گمراہی تھی وہ تو ان کو اپنے ڈھب کا پاکر ان کے ذریعہ سے بے علموں کو بہکانے اور دین میں فتنے پھیلانے لگے کہ دیکھو قرآن میں آیا ہے اﷲ عرش پر بیٹھا ہےعرش پر چڑھا ہوا ہےعرش پر ٹھہر گیا ہے۔اور آیات محکمات جو کتاب کی جڑ تھیں ان کے ارشاد دل سے بھلادیئے حالانکہ قرآن عظیم میں تو استواء آیا ہے اور اس کے معنی چڑھنابیٹھنا ٹھہرنا ہونا کچھ ضرور نہیں یہ تو تمہاری اپنی
اور اس کے فائدے میں لکھا:اﷲ صاحب فرماتا ہے کہ ہر کلام میں اﷲ نے بعضی باتیں رکھی ہیں جن کے معنی صاف نہیں کھلتے تو جو گمراہ ہو ان کے معنی عقل سے لگے پکڑنے اور جو مضبوط علم رکھے وہ ان کے معنی اور آیتوں سے ملا کر سمجھے جو جڑ کتاب کی ہے اس کے موافق سمجھ پائے تو سمجھے اور اگر نہ پائے تو اﷲ پر چھوڑ دے کہ وہی بہترجانے ہم کو ایمان سے کام ہے انتہی۔
اقول:(میں کہتا ہوںت)بات یہ ہے کہ اﷲ تعالی نے قرآن مجید اتارا ہے ہدایت فرمانے اور بندوں کو جانچنے آزمانے کو " یضل بہ کثیرا ویہدی بہ کثیرا " ۔اسی قرآن سے بہتوں کو گمراہ فرمائے اور بہتیروں کو راہ دکھائے۔
اس ہدایت وضلالت کا بڑا منشا قرآن عظیم کی آیتوں کا دو قسم ہونا ہے:محکمات جن کے معنی صاف بے دقت ہیں جیسے ا ﷲ تعالی کی پاکی و بے نیازی و بے مثلی کی آیتیں جن کا ذکر اوپر گزرااور دوسری متشا بہات جن کے معنی میں اشکال ہے یا تو ظاہر لفظ سے کچھ سمجھ ہی نہیں آتا جیسے حروف مقطعات الم وغیرہ یا جو سمجھ میں آتا ہے وہ اﷲ عزوجل پر محال ہےجیسے " الرحمن علی العرش استوی ﴿۵﴾ " ۔ (وہ بڑا مہروالا اس نے عرش پر استواء فرمایا۔ت)یا " ثم استوی علی العرش" ۔ (پھر اس نے عرش پر استواء فرمایا۔ت)
پھر جن کے دلوں میں کجی و گمراہی تھی وہ تو ان کو اپنے ڈھب کا پاکر ان کے ذریعہ سے بے علموں کو بہکانے اور دین میں فتنے پھیلانے لگے کہ دیکھو قرآن میں آیا ہے اﷲ عرش پر بیٹھا ہےعرش پر چڑھا ہوا ہےعرش پر ٹھہر گیا ہے۔اور آیات محکمات جو کتاب کی جڑ تھیں ان کے ارشاد دل سے بھلادیئے حالانکہ قرآن عظیم میں تو استواء آیا ہے اور اس کے معنی چڑھنابیٹھنا ٹھہرنا ہونا کچھ ضرور نہیں یہ تو تمہاری اپنی
حوالہ / References
القرآن الکریم ۳ /۷
موضح القرآن ترجمہ و تفسیر شاہ عبدالقادر ۱۲۱ تاج کمپنی لاہور ص ۶۲
موضح القرآن ترجمہ و تفسیر شاہ عبدالقادر ۱۲۱ تاج کمپنی لاہور ص ۶۲
القرآن الکریم ۲ /۲۶
القرآن الکریم ۲۰ /۵
القرآن الکریم ۷ /۵۴ و ۱۰/ ۳ وغیرہ
موضح القرآن ترجمہ و تفسیر شاہ عبدالقادر ۱۲۱ تاج کمپنی لاہور ص ۶۲
موضح القرآن ترجمہ و تفسیر شاہ عبدالقادر ۱۲۱ تاج کمپنی لاہور ص ۶۲
القرآن الکریم ۲ /۲۶
القرآن الکریم ۲۰ /۵
القرآن الکریم ۷ /۵۴ و ۱۰/ ۳ وغیرہ
سمجھ ہے جس کا حکم خدا پر لگا رہے۔" ما انزل اللہ بہا من سلطن " ۔ (اﷲ تعالی نے اس پر کوئی دلیل نازل نہ فرمائی۔ت)اگر بالفرض قرآن مجید میں یہی الفاظ چڑھنابیٹھناٹھہرنا آتے تو قرآن ہی کے حکم سے فرض قطعی تھا کہ انہیں ان ظاہری معنی پر نہ سمجھو جو ان لفظوں سے ہمارے ذہن میں آتے ہیں کہ یہ کام تو اجسام کے ہیں اور اﷲ تعالی جسم نہیں مگر یہ لوگ اپنی گمراہی سے اسی معنی پر جم گئے انہیں کو قرآن مجید نے فرمایا۔
" الذین فی قلوبہم زیغ" ۔ ان کے دل پھرے ہوئے ہیں۔
اور جو لوگ علم میں پکے اور اپنے رب کے پاس سے ہدایت رکھتے تھے وہ سمجھے کہ آیات محکمات سے قطعا ثابت ہے کہ اﷲ تعالی مکان وجہت و جسم و اعراض سے پاك ہے بیٹھنےچڑھنےبیٹھنے سے منزہ ہے کہ یہ سب باتیں اس بے عیب کے حق میں عیب ہیں جن کا بیان ان شاء اﷲ المستعان عنقریب آتا ہے اور وہ ہر عیب سے پاك ہے ان میں اﷲ عزوجل کے لیے اپنی مخلوق عرش کی طرف حاجت نکلے گی اور وہ ہر احتیاج سے پاك ہے ان میں مخلوقات سے مشابہت ثابت ہوگی کہ اٹھنابیٹھنا چڑھنا اترنا سرکنا ٹھہرنا اجسام کے کام ہیں اور وہ ہر مشابہت خلق سے پاك ہے تو قطعا یقینا ان لفظوں کے ظاہری معنی جو ہماری سمجھ میں اتے ہیں ہر گز مراد نہیںپھر آخر معنی کیا لیں۔اس میں یہ ہدایت والے دوروش ہوگئے۔اکثر نے فرمایا جب یہ ظاہری معنی قطعا مقصود نہیں اور تاویلی مطلب متعین و محدود نہیں تو ہم اپنی طرف سے کیا کہیںیہی بہتر کہ اس کا علم اﷲ پر چھوڑیں ہمیں ہمارے رب نے آیات متشابہات کے پیچھے پڑنے سے منع فرمایا اور ان کی تعیین مراد میں خوض کرنے کو گمراہی بتایا تو ہم حد سے باہر کیوں قدم دھریںاسی قرآن کے بتائے حصے پر قناعت کریں کہ " امنا بہ کل من عند ربنا" ۔ جو کچھ ہمارے مولی کی مراد ہے ہم اس پر ایمان لائے محکم متشابہ سب ہمارے رب کے پاس سے ہےیہ مذہب جمہورائمہ سلف کا ہے اور یہی اسلم واولی ہے اسے مسلك تفویض و تسلیم کہتے ہیںان ائمہ نے فرمایا استواء معلوم ہے کہ ضرور اﷲ تعالی کی ایك صفت ہے اور کیف مجہول ہے کہ اس کے معنی ہماری سمجھ سے وراء ہیںاور ایمان اس پر واجب ہے کہ نص قطعی قرآن سے ثابت ہے اور سوال اس سے بدعت
" الذین فی قلوبہم زیغ" ۔ ان کے دل پھرے ہوئے ہیں۔
اور جو لوگ علم میں پکے اور اپنے رب کے پاس سے ہدایت رکھتے تھے وہ سمجھے کہ آیات محکمات سے قطعا ثابت ہے کہ اﷲ تعالی مکان وجہت و جسم و اعراض سے پاك ہے بیٹھنےچڑھنےبیٹھنے سے منزہ ہے کہ یہ سب باتیں اس بے عیب کے حق میں عیب ہیں جن کا بیان ان شاء اﷲ المستعان عنقریب آتا ہے اور وہ ہر عیب سے پاك ہے ان میں اﷲ عزوجل کے لیے اپنی مخلوق عرش کی طرف حاجت نکلے گی اور وہ ہر احتیاج سے پاك ہے ان میں مخلوقات سے مشابہت ثابت ہوگی کہ اٹھنابیٹھنا چڑھنا اترنا سرکنا ٹھہرنا اجسام کے کام ہیں اور وہ ہر مشابہت خلق سے پاك ہے تو قطعا یقینا ان لفظوں کے ظاہری معنی جو ہماری سمجھ میں اتے ہیں ہر گز مراد نہیںپھر آخر معنی کیا لیں۔اس میں یہ ہدایت والے دوروش ہوگئے۔اکثر نے فرمایا جب یہ ظاہری معنی قطعا مقصود نہیں اور تاویلی مطلب متعین و محدود نہیں تو ہم اپنی طرف سے کیا کہیںیہی بہتر کہ اس کا علم اﷲ پر چھوڑیں ہمیں ہمارے رب نے آیات متشابہات کے پیچھے پڑنے سے منع فرمایا اور ان کی تعیین مراد میں خوض کرنے کو گمراہی بتایا تو ہم حد سے باہر کیوں قدم دھریںاسی قرآن کے بتائے حصے پر قناعت کریں کہ " امنا بہ کل من عند ربنا" ۔ جو کچھ ہمارے مولی کی مراد ہے ہم اس پر ایمان لائے محکم متشابہ سب ہمارے رب کے پاس سے ہےیہ مذہب جمہورائمہ سلف کا ہے اور یہی اسلم واولی ہے اسے مسلك تفویض و تسلیم کہتے ہیںان ائمہ نے فرمایا استواء معلوم ہے کہ ضرور اﷲ تعالی کی ایك صفت ہے اور کیف مجہول ہے کہ اس کے معنی ہماری سمجھ سے وراء ہیںاور ایمان اس پر واجب ہے کہ نص قطعی قرآن سے ثابت ہے اور سوال اس سے بدعت
ہے کہ سوال نہ ہوگا مگر تعیین مراد کے لیے اور تعین مراد کی طرف راہ نہیں اور بعض نے خیال کیا کہ جب اﷲ عزوجل نے محکم متشابہ دو۲ قسمیں فرما کر محکمات کو " ہن ام الکتب" فرمایا کہ وہ کتاب کی جڑ ہیں۔اور ظاہر ہے کہ ہر فرع اپنی اصل کی طرف پلٹتی ہے تو آیہ کریمہ نے تاویل متشا بہات کی راہ خود بتادی اور ان کی ٹھیك معیار ہمیں سجھادی کہ ان میں وہ درست وپاکیز ہ احتمالات پیدا کرو جن سے یہ اپنی اصل یعنی محکمات کے مطابق آجائیں اور فتنہ و ضلال و باطل و محال راہ نہ پائیں۔یہ ضرور ہے کہ اپنے نکالے ہوئے معنی پر یقین نہیں کرسکتے کہ اﷲ عزوجل کی یہی مراد ہے مگر جب معنی صاف و پاکیزہ ہیں اور مخالفت محکمات سے بری و منزہ ہیں اور محاورات عرب کے لحاظ سے بن بھی سکتے ہیں تو احتمالی طور پر بیان کرنے میں کیا حرج ہے اور اس میں نفع یہ ہے کہ بعض عوام کی طبائع صرف اتنی بات پر مشکل سے قناعت کریں کہ انکے معنی ہم کچھ نہیں کہہ سکتے اور جب انہیں روکا جائے گا تو خواہ مخواہ ان میں فکر کی اور حرص بڑھے گی۔
ان ابن ادم عــــــہ لحریص علی مامنع انسان کو جس چیز سے منع کیا جائے وہ اس پر حریص ہوتا ہے۔(ت)
اور جب فکر کریں گے فتنے میں پڑیں گے گمراہی میں گریں گےتو یہی انسب ہے کہ ان کی افکار ایك مناسب و ملائم معنی کی طرف کہ محکمات سے مطابق محاورات سے موافق ہوں پھیردی جائیں کہ فتنہ و ضلال سے نجات پائیں یہ مسلك بہت علمائے متاخرین کا ہے کہ نظر بحال عوام اسے اختیار کیا ہے اسے مسلك تاویل کہتے یہ علماء بوجوہ کثیر تاویل آیت فرماتے ہیں ان میں چار وجہیں نفیس و واضح ہیں۔
اول:ا ستواء بمعنی قہرو غلبہ ہےیہ زبان عرب سے ثابت و پیدا ہے عرش سب مخلوقات سے اوپر اور اونچا ہے اس لیے اس کے ذکر پر اکتفا فرمایا اور مطلب یہ ہوا کہ اﷲ تمام مخلوقات پر قاہر و غالب ہے۔
عــــــہ:رواہ الطبرانی ومن طریقہ الدیلمی عن ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔ اس کو طبرانی نے روایت کیا اور دیلمی نے طبرانی کے طریق پر ابن عمر رضی اﷲ عنہما سے انہوں نے نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے روایت کیا ہے۔(ت)
ان ابن ادم عــــــہ لحریص علی مامنع انسان کو جس چیز سے منع کیا جائے وہ اس پر حریص ہوتا ہے۔(ت)
اور جب فکر کریں گے فتنے میں پڑیں گے گمراہی میں گریں گےتو یہی انسب ہے کہ ان کی افکار ایك مناسب و ملائم معنی کی طرف کہ محکمات سے مطابق محاورات سے موافق ہوں پھیردی جائیں کہ فتنہ و ضلال سے نجات پائیں یہ مسلك بہت علمائے متاخرین کا ہے کہ نظر بحال عوام اسے اختیار کیا ہے اسے مسلك تاویل کہتے یہ علماء بوجوہ کثیر تاویل آیت فرماتے ہیں ان میں چار وجہیں نفیس و واضح ہیں۔
اول:ا ستواء بمعنی قہرو غلبہ ہےیہ زبان عرب سے ثابت و پیدا ہے عرش سب مخلوقات سے اوپر اور اونچا ہے اس لیے اس کے ذکر پر اکتفا فرمایا اور مطلب یہ ہوا کہ اﷲ تمام مخلوقات پر قاہر و غالب ہے۔
عــــــہ:رواہ الطبرانی ومن طریقہ الدیلمی عن ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔ اس کو طبرانی نے روایت کیا اور دیلمی نے طبرانی کے طریق پر ابن عمر رضی اﷲ عنہما سے انہوں نے نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے روایت کیا ہے۔(ت)
حوالہ / References
القرآن الکریم ۳ /۷
الفردوس بماثورالخطاب حدیث ۸۸۵ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۱/ ۲۳۱
کشف الخفاء بحوالہ الطبرانی حدیث ۶۷۴ ۱/ ۱۹۹
الفردوس بماثورالخطاب حدیث ۸۸۵ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۱/ ۲۳۱
کشف الخفاء بحوالہ الطبرانی حدیث ۶۷۴ ۱/ ۱۹۹
دوم:استواء بمعنی علو ہےاور علو اﷲ عزوجل کی صفت ہے نہ علو مکان بلکہ علو مالکیت و سلطانیہ دونوں معنی امام بیہقی نے کتاب الاسماء والصفات میں ذکر فرمائے جس کی عبارات عنقریب آتی ہیں۔ان شاء اﷲ تعالی
سوم:استواء بمعنی قصد وارادہ ہےثم استوی علی العرش یعنی پھر عرش کی طرف متوجہ ہوا یعنی اس کی آفرینش کا ارادہ فرمایا یعنی اس کی تخلیق شروع کییہ تاویل امام اہلسنت امام ابوالحسن اشعری نے افادہ فرمائی۔امام اسمعیل ضریر نے فرمایا:انہ الصواب یہی ٹھیك ہےنقلہ الامام جلال الدین سیوطی فی الاتقان عــــــہ (اس کو امام جلال الدین سیوطی نے اتقان میں نقل کیا ہے۔ت)
عــــــہ:قالہ الفراء والا شعری وجماعۃ اھل المعانی ثم قال یبعدہ تعدیتہ بعلی ولوکان کما ذکروہ لتعدی بالی کما فی قولہ تعالی ثم استوی علی السماء۔وفیہ ان حروف المعانی تنوب بعضہا عن بعض کما نص علیہ فی الصحاح وغیرھا و قدروی الامام البیہقی فی کتاب الاسماء والصفات عن الفراء ان تقول کان مقبلا علی فلان ثم استوی علی یشاتمنی والی سواء علی معنی اقبل الی وعلی۔ ۱۲ منہ۔ فراءاشعری اور اہل معانی کی ایك جماعت کا یہ قول ہےپھر امام سیوطی نے کہا کہ یہ قول اس کے علی کے ساتھ متعدی ہونے سے بعید ہے اگر مطلب وہی ہوتا جو انہوں نے ذکر کیا ہے تو یہ الی کے ساتھ متعدی ہوتا جیسا کہ اﷲ تعالی کے ارشاد ثم استوی الی اسماء میں ہےمگر اس پر یہ اعتراض ہے کہ حروف ایك دوسرے کی جگہ استعمال ہوتے رہتے ہیںجیسا کہ صحاح وغیرہ میں اس پر نص کی گئی ہےاور امام بیہقی نے کتاب الاسماء والصفات میں فراء سے روایت کیا ہے مثلا تو کہے کہ وہ فلاں کی طرف متوجہ تھا پھر وہ مجھے برا بھلا کہتے ہوئے میری طرف متوجہ ہوا یعنی چاہے استوی الی کہے یا استوی علی دونوں برابر ہیں۔۱۲ منہ(ت)
سوم:استواء بمعنی قصد وارادہ ہےثم استوی علی العرش یعنی پھر عرش کی طرف متوجہ ہوا یعنی اس کی آفرینش کا ارادہ فرمایا یعنی اس کی تخلیق شروع کییہ تاویل امام اہلسنت امام ابوالحسن اشعری نے افادہ فرمائی۔امام اسمعیل ضریر نے فرمایا:انہ الصواب یہی ٹھیك ہےنقلہ الامام جلال الدین سیوطی فی الاتقان عــــــہ (اس کو امام جلال الدین سیوطی نے اتقان میں نقل کیا ہے۔ت)
عــــــہ:قالہ الفراء والا شعری وجماعۃ اھل المعانی ثم قال یبعدہ تعدیتہ بعلی ولوکان کما ذکروہ لتعدی بالی کما فی قولہ تعالی ثم استوی علی السماء۔وفیہ ان حروف المعانی تنوب بعضہا عن بعض کما نص علیہ فی الصحاح وغیرھا و قدروی الامام البیہقی فی کتاب الاسماء والصفات عن الفراء ان تقول کان مقبلا علی فلان ثم استوی علی یشاتمنی والی سواء علی معنی اقبل الی وعلی۔ ۱۲ منہ۔ فراءاشعری اور اہل معانی کی ایك جماعت کا یہ قول ہےپھر امام سیوطی نے کہا کہ یہ قول اس کے علی کے ساتھ متعدی ہونے سے بعید ہے اگر مطلب وہی ہوتا جو انہوں نے ذکر کیا ہے تو یہ الی کے ساتھ متعدی ہوتا جیسا کہ اﷲ تعالی کے ارشاد ثم استوی الی اسماء میں ہےمگر اس پر یہ اعتراض ہے کہ حروف ایك دوسرے کی جگہ استعمال ہوتے رہتے ہیںجیسا کہ صحاح وغیرہ میں اس پر نص کی گئی ہےاور امام بیہقی نے کتاب الاسماء والصفات میں فراء سے روایت کیا ہے مثلا تو کہے کہ وہ فلاں کی طرف متوجہ تھا پھر وہ مجھے برا بھلا کہتے ہوئے میری طرف متوجہ ہوا یعنی چاہے استوی الی کہے یا استوی علی دونوں برابر ہیں۔۱۲ منہ(ت)
حوالہ / References
الاتقان فی علوم القرآن النوع الثالث والا ربعون فی المحکم والمتشابہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۶۰۵
الاتقان فی علوم القرآن النوع الثالث والا ربعون فی المحکم والمتشابہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۶۰۵
کتاب الاسماء والصفات باب ماجاء فی قول اﷲ تعالٰی الرحمن علی العرش استوٰی المکتبۃ الاثریہ سانگلہ ہل شیخوپورہ ۲/ ۱۵۴
الاتقان فی علوم القرآن النوع الثالث والا ربعون فی المحکم والمتشابہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۶۰۵
کتاب الاسماء والصفات باب ماجاء فی قول اﷲ تعالٰی الرحمن علی العرش استوٰی المکتبۃ الاثریہ سانگلہ ہل شیخوپورہ ۲/ ۱۵۴
چہارم:استواء بمعنی فراغ وتمامی کار ہے یعنی سلسلہ خلق وآفرینش کو عرش پر تمام فرمایا اس سے باہر کوئی چیز نہ پائیدنیا وآخرت میں جو کچھ بنایا اور بنائے گا دائرہ عرش سے باہر نہیں کہ وہ تمام مخلوق کو حاوی ہے۔قرآن کی بہترتفسیر وہ ہے وہ قرآن سے ہو۔ استواء بمعنی تمامی خود قرآن عظیم میں ہےقال اﷲ تعالی:
" ولما بلغ اشدہ واستوی" جب اپنی قوت کے زمانے کو پہنچا اور اس کا شباب پورا ہوا۔
اسی طرح قولہ تعالی:
" کزرع اخرج شطاہ فازرہ فاستغلظ فاستوی علی سوقہ "
۔ جیسے پودا کہ اس کا خوشہ نکلا تو اس کو بوجھل کیا تو وہ موٹا ہوا تو وہ اپنے تنے پر درست ہوا۔(ت)
میں استواء حالت کمال سے عبارت ہےیہ تاویل امام حافظ الحدیث ابن الحجر عسقلانی نے امام ابوالحسن علی بن خلف ابن بطال سے نقل کی اور یہ کلام امام ابوطاہرقزوینی کا ہے کہ سراج العقول میں افادہ فرمایااور امام عبدالوہاب شعرانی کی کتاب الیواقیت میں منقول۔
اقول:(میں کہتاہوںت)اور اس کے سوا یہ ہے کہ قرآن عظیم میں یہ استواء سات جگہ مذکور ہواساتوں جگہ ذکر آفرینش آسمان و زمین کے ساتھ اور بلافصل اس کے بعد ہےسورہ اعراف وسورہ یونس علیہ الصلوۃ والسلام میں فرمایا۔
" ان ربکم اللہ الذی خلق السموت والارض فی ستۃ ایام ثم استوی علی العرش" تمہارا رب وہ ہے جس نے آسمانوں ا ور زمین کو پیدا کیا چھ دنوں میں پھر عرش پر استوا فرمایا(ت)
سورہ رعد میں فرمایا:
" اللہ الذی رفع السموت بغیر عمد اﷲ تعالی وہ ذات ہے جس نے آسمانوں کو
" ولما بلغ اشدہ واستوی" جب اپنی قوت کے زمانے کو پہنچا اور اس کا شباب پورا ہوا۔
اسی طرح قولہ تعالی:
" کزرع اخرج شطاہ فازرہ فاستغلظ فاستوی علی سوقہ "
۔ جیسے پودا کہ اس کا خوشہ نکلا تو اس کو بوجھل کیا تو وہ موٹا ہوا تو وہ اپنے تنے پر درست ہوا۔(ت)
میں استواء حالت کمال سے عبارت ہےیہ تاویل امام حافظ الحدیث ابن الحجر عسقلانی نے امام ابوالحسن علی بن خلف ابن بطال سے نقل کی اور یہ کلام امام ابوطاہرقزوینی کا ہے کہ سراج العقول میں افادہ فرمایااور امام عبدالوہاب شعرانی کی کتاب الیواقیت میں منقول۔
اقول:(میں کہتاہوںت)اور اس کے سوا یہ ہے کہ قرآن عظیم میں یہ استواء سات جگہ مذکور ہواساتوں جگہ ذکر آفرینش آسمان و زمین کے ساتھ اور بلافصل اس کے بعد ہےسورہ اعراف وسورہ یونس علیہ الصلوۃ والسلام میں فرمایا۔
" ان ربکم اللہ الذی خلق السموت والارض فی ستۃ ایام ثم استوی علی العرش" تمہارا رب وہ ہے جس نے آسمانوں ا ور زمین کو پیدا کیا چھ دنوں میں پھر عرش پر استوا فرمایا(ت)
سورہ رعد میں فرمایا:
" اللہ الذی رفع السموت بغیر عمد اﷲ تعالی وہ ذات ہے جس نے آسمانوں کو
حوالہ / References
القرآن الکریم ۲۸ /۱۴
القرآن الکریم ۴۸ /۲۹
الیوقیت والجواھر بحوالہ سراج العقول المبحث السابع مصطفی البابی مصر ۱/ ۱۰۲
القرآن الکریم ۱۰ /۳
القرآن الکریم ۴۸ /۲۹
الیوقیت والجواھر بحوالہ سراج العقول المبحث السابع مصطفی البابی مصر ۱/ ۱۰۲
القرآن الکریم ۱۰ /۳
ترونہا ثم استوی علی العرش" ۔ بغیر ستون کے بلند کیا تم دیکھ رہے ہو پھر عرش پر استواء فرمایا (ت)
سورہ طہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم میں فرمایا:
" تنزیلا ممن خلق الارض والسموت العلی ﴿۴﴾ الرحمن علی العرش استوی ﴿۵﴾" ۔ قرآن نازل کردہ ہے اس ذات کی طرف سے جس نے پیدا کیا زمین کو اور بلند آسمانوں کووہ رحمن ہے جس نے عرش پر استوا فرمایا۔(ت)
سورہ فرقان میں فرمایا:
" الذی خلق السموت و الارض وما بینہما فی ستۃ ایام ثم استوی علی العرش " ۔ وہ جس نے آسمانوں اور زمین کو اور ان دونوں کے درمیان کو چھ دنوں میں پیدا کیا پھر عرش پر استواء فرمایا(ت)
سورہ رعد میں فرمایا:
" ہو الذی خلق السموت و الارض فی ستۃ ایام ثم استوی علی العرش " ۔ و ہ جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا پھر عرش پر استواء فرمایا(ت)
یہ مطالب کہ اول سے یہاں تك اجمالا مذکور ہوئے صدہا ائمہ دین کے کلمات عالیہ میں ان کی تصریحات جلیہ ہیں انہیں نقل کیجئے تو دفتر عظیم ہواور فقیر کو اس رسالہ میں التزام ہے کہ جن کتابوں کے نام مخالف گمنام نے اغوائے عوام کے لیے لکھ دیئے ہیں اس کے رد میں انہی کی عبارتیں نقل کرے کہ مسلمان دیکھیں کہ وہابی صاحب کس قدر بے حیابیباکمکارچالاک بد دینناپاك ہوتے ہیں کہ جن کتابوں میں ان کی گمراہیوں کے صریح رد لکھے ہیں انہی کے نام اپنی سند میں لکھ دیتے ہیں۔ع
چہ دلاورست دزدے کہ بکف چراغ دارد
(چور کیسا دلیر ہے کہ ہاتھ میں چراغ لیے ہوئے ہے۔ت)
سورہ طہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم میں فرمایا:
" تنزیلا ممن خلق الارض والسموت العلی ﴿۴﴾ الرحمن علی العرش استوی ﴿۵﴾" ۔ قرآن نازل کردہ ہے اس ذات کی طرف سے جس نے پیدا کیا زمین کو اور بلند آسمانوں کووہ رحمن ہے جس نے عرش پر استوا فرمایا۔(ت)
سورہ فرقان میں فرمایا:
" الذی خلق السموت و الارض وما بینہما فی ستۃ ایام ثم استوی علی العرش " ۔ وہ جس نے آسمانوں اور زمین کو اور ان دونوں کے درمیان کو چھ دنوں میں پیدا کیا پھر عرش پر استواء فرمایا(ت)
سورہ رعد میں فرمایا:
" ہو الذی خلق السموت و الارض فی ستۃ ایام ثم استوی علی العرش " ۔ و ہ جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا پھر عرش پر استواء فرمایا(ت)
یہ مطالب کہ اول سے یہاں تك اجمالا مذکور ہوئے صدہا ائمہ دین کے کلمات عالیہ میں ان کی تصریحات جلیہ ہیں انہیں نقل کیجئے تو دفتر عظیم ہواور فقیر کو اس رسالہ میں التزام ہے کہ جن کتابوں کے نام مخالف گمنام نے اغوائے عوام کے لیے لکھ دیئے ہیں اس کے رد میں انہی کی عبارتیں نقل کرے کہ مسلمان دیکھیں کہ وہابی صاحب کس قدر بے حیابیباکمکارچالاک بد دینناپاك ہوتے ہیں کہ جن کتابوں میں ان کی گمراہیوں کے صریح رد لکھے ہیں انہی کے نام اپنی سند میں لکھ دیتے ہیں۔ع
چہ دلاورست دزدے کہ بکف چراغ دارد
(چور کیسا دلیر ہے کہ ہاتھ میں چراغ لیے ہوئے ہے۔ت)
حوالہ / References
القرآن الکریم ۱۳ /۲
القرآن الکریم ۲۰ /۴ و ۵
القرآن الکریم ۲۵ /۵۹
القرآن الکریم ۵۷ /۴
القرآن الکریم ۲۰ /۴ و ۵
القرآن الکریم ۲۵ /۵۹
القرآن الکریم ۵۷ /۴
مباحث آئندہ میں جو عبارات ان کتابوں کی منقول ہوں گی انہیں سے ان شاء اﷲ العظیم یہ سب بیان واضح ہوجائیں گے یہاں صرف آیات متشابہات کے متعلق بعض عبارات نقل کروں جن سے مطلب سابق بھی ظاہر ہو اور یہ بھی کھل جائے کہ آیہ کریمہ الرحمن علی العرش استوی آیات متشابہات سے ہےاور یہ بھی کہ جس طرح مخالف کا مذہب نامہذب یقینا صریح ضلالت اور مخالف جملہ اہل سنت ہے۔یونہی اجمالا اس آیت کے معنی جاننے پر مخالف سلف صالح وجمہور ائمہ اہلسنت وجماعت ہے۔
(۱)موضح القرآن کی عبارت اوپر گزری۔
(۲)معالم و مدارك و کتاب الاسماء و الصفات وجامع البیان کے بیان یہاں سنئے کہ یہ پانچوں کتابیں بھی انہیں کتب سے ہیں جن کا نام مخالف نے گن دیا۔معالم التنزیل میں ہے:
اما اھل السنۃ یقولون الاستواء علی العرش صفۃ ﷲ تعالی بلا کیف یجب علی الرجل الایمان بہ ویکل العلم فیہ الی اﷲ عزوجل۔ یعنی رہے اہلسنتوہ یہ فرماتےہیں کہ عرش پر استواء اﷲ عزوجل کی ایك صفت بے چونی و چگونگی ہےمسلمان پر فرض ہے کہ اس پر ایمان لائے اور اس کے معنی کا علم خدا کو سونپے۔
مخالف کو سوجھے کہ اسی کی مستند کتاب نے خاص مسئلہ استواء میں اہلسنت کا مذہب کیا لکھا ہے شرم رکھتا ہے تو اپنی خرافات سے باز آئے اور عقیدہ اپنا مطابق اعتقاد اہلسنت کرے۔
(۳)اسی میں ہے:
ذھب الاکثرون الی ان الواو فی قولہوالراسحون واو الاستئناف وتم الکلام عند قولہ و مایعلم تاویلہ الا اﷲ وھو قول ابی بن کعب یعنی جمہور ائمہ دین صحابہ و تابعین رضی اﷲ تعالی عنہم اجمعین کا مذہب یہ ہے کہ والراسخون فی العلم سے جدا بات شروع ہوئی پہلا کلام وہیں پورا ہوگیا کہ متشابہات کے معنی اﷲ عزوجل کے سوا کوئی نہیں جانتا
(۱)موضح القرآن کی عبارت اوپر گزری۔
(۲)معالم و مدارك و کتاب الاسماء و الصفات وجامع البیان کے بیان یہاں سنئے کہ یہ پانچوں کتابیں بھی انہیں کتب سے ہیں جن کا نام مخالف نے گن دیا۔معالم التنزیل میں ہے:
اما اھل السنۃ یقولون الاستواء علی العرش صفۃ ﷲ تعالی بلا کیف یجب علی الرجل الایمان بہ ویکل العلم فیہ الی اﷲ عزوجل۔ یعنی رہے اہلسنتوہ یہ فرماتےہیں کہ عرش پر استواء اﷲ عزوجل کی ایك صفت بے چونی و چگونگی ہےمسلمان پر فرض ہے کہ اس پر ایمان لائے اور اس کے معنی کا علم خدا کو سونپے۔
مخالف کو سوجھے کہ اسی کی مستند کتاب نے خاص مسئلہ استواء میں اہلسنت کا مذہب کیا لکھا ہے شرم رکھتا ہے تو اپنی خرافات سے باز آئے اور عقیدہ اپنا مطابق اعتقاد اہلسنت کرے۔
(۳)اسی میں ہے:
ذھب الاکثرون الی ان الواو فی قولہوالراسحون واو الاستئناف وتم الکلام عند قولہ و مایعلم تاویلہ الا اﷲ وھو قول ابی بن کعب یعنی جمہور ائمہ دین صحابہ و تابعین رضی اﷲ تعالی عنہم اجمعین کا مذہب یہ ہے کہ والراسخون فی العلم سے جدا بات شروع ہوئی پہلا کلام وہیں پورا ہوگیا کہ متشابہات کے معنی اﷲ عزوجل کے سوا کوئی نہیں جانتا
حوالہ / References
معالم التنزیل تحت الآیۃ ۷/ ۵۴ دارالکتب العلمیہ بیروت ۲/ ۱۳۷
وعائشۃ وعروۃ بن الزبیر رضی اﷲ تعالی عنہمو روایۃ طاؤس عن ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنھما و بہ قال الحسن واکثر التابعین واختارہ الکسائی و الفراء والاخفش(الی ان قال)ومما یصدق ذلك قراء ۃ عبد ﷲ ان تاویلہ الا عند اﷲ والراسخون فی العلم یقولون امناو فی حرف ابی ویقول الراسخون فی العلم امنا بہوقال عمر بن عبدالعزیز فی ھذہ الایۃ انتھی علم الراسخین فی العلم تاویل القرآن الی ان قالوامنا بہ کل من عند ربنا وھذا القول اقیس فی العربیۃ واشبہ بظاھر الایۃ۔ یہی قول حضرت سید قاریان صحابہ ابی بن کعب اور حضرت ام المومنین عائشہ صدیقہ اور عروہ بن زبیررضی اﷲ تعالی عنہم کا ہےاور یہی امام طاؤس نے حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے روایت کیااور یہی مذہب امام حسن بصری و اکثر تابعین کاہےاور اسی کو امام کسائی وفراء واخفش نے اختیار کیا اور اس مطلب کی تصدیق حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ کی اس قراء ت سے بھی ہوتی ہے کہ آیات متشابہات کی تفسیر اﷲ عزوجل کے سوا کسی کے پاس نہیں اور پکے علم والے کہتے ہیں ہم ایمان لائے اور ابی بن کعب رضی اﷲ تعالی عنہ کی قراء ت بھی اسی معنی کی تصدیق کرتی ہے۔امیر المومنین عمر بن عبدالعزیز رضی اﷲ تعالی عنہ نے فرمایا ان کی تفسیر میں محکم علم والوں کا منتہائے علم بس اس قدر ہے کہ کہیں ہم ان پر ایمان لائے سب ہمارے رب کے پاس سے ہے اور یہ قول عربیت کی رو سے زیادہ دلنشین اور ظاہر آیت سے بہت موافق ہے۔
(۴)مدارك التنزیل میں ہے۔
منہ ایت محکمت احکمت عبارتھا بان حفظت من الاحتمال و یعنی قرآن عظیم کی بعض آیتیں محکمات ہیں جن کے معنی صاف ہیں احتمال و اشتباہ کو ان میں
(۴)مدارك التنزیل میں ہے۔
منہ ایت محکمت احکمت عبارتھا بان حفظت من الاحتمال و یعنی قرآن عظیم کی بعض آیتیں محکمات ہیں جن کے معنی صاف ہیں احتمال و اشتباہ کو ان میں
حوالہ / References
معالم التنزیل تحت الآیۃ ۳/ ۷ دارالکتب العلمیہ بیروت ۱/ ۲۱۴ و ۲۱۵
الاشتباہ ھن ام الکتباصل الکتاب تحمل المتشابہات علیہا وترد الیہا واخرمتشابہات مشتبہات محتملات مثال ذلك الرحمن علی العرش استوی فالا ستواء یکون بمعنی الجلوس وبمعنی القدرۃ و الاستیلاء و لا یجوز الاول علی اﷲ تعالی بدلیل المحکم وھو قولہ تعالی لیس کمثلہ شیئفاما الذین فی قلوبھم زیغ میل عن الحق وھم اھل البدع فیتبعون ماتشابہ فیتعلقون بالمتشابہ الذی یحتمل مایذھب الیہ المبتدع ممالا یطابق المحکم ویحتمل مایطابقہ من قول اھل الحق منہ ابتغاء الفتنۃ طلب ان یفتنوا الناس دینھم ویضلوھم وابتغاء تاویلہ وطلب ان یؤولوہ التاویل الذی یشتہونہ وما یعلم تاویلہ الا اﷲ ای لایھتدی الی تاویلہ الحق الذی یجب ان یحمل علیہ الا اﷲ اھ مختصرا۔ گزر نہیں یہ آیات تو کتاب کی اصلی ہیں کہ متشابہات انہیں پر حمل کی جائیں گی اور ان کے معنی انہیں کی طرف پھیرے جائیں گے اور بعض دوسری متشابہات ہیں جن کے معنی میں اشکال و احتمال ہے جیسے کریمہ الرحمن علی العرش استوی بیٹھنے کے معنی پر بھی آتا ہے اور قدرت و غلبہ کے معنی پر بھی اور پہلے معنی اﷲ عزوجل پر محال ہیں کہ آیات محکمات اﷲ تعالی کو بیٹھنے سے پاك و منزہ بتارہی ہیں ان محکمات سے ایك یہ آیت ہے لیس کمثلہ شیئ اﷲ کے مثل کوئی چیز نہیں پھر وہ جن کے دل حق سے پھرے ہوئے ہیں اور وہ بدمذہب لوگ ہوئے وہ تو آیات متشابہات کے پیچھے پڑتے ہیں ایسی آیتوں کی آڑ لیتے ہیں جن میں ان کی بدمذہبی کے معنی کا احتمال ہوسکے جو آیات محکمات کے مطابق نہیں اور اس مطلب کا بھی احتمال ہو جو محکمات کے مطابق اور اہلسنت کا مذہب ہے وہ بدمذہب ان آیات متشابہات کی آڑ اس لیے لیتے ہیں کہ فتنہ اٹھائیں لوگوں کو سچے دین سے بہکائیں ان کے وہ معنی بتائیں جو اپنی خواہش کے موافق ہوںاور انکے معنی تو کوئی نہیں جانتا مگر اﷲاﷲ ہی کو خبر ہے کہ ان کے حق معنی کیا ہیں جن پر ان کا اتارنا واجب ہے انتہی۔
گمراہ شخص آنکھیں کھول کر دیکھے کہ یہ پاکیزہ تقریر یہ آیت و تفسیر اس کی گمراہی کا کیسا رد واضح و
گمراہ شخص آنکھیں کھول کر دیکھے کہ یہ پاکیزہ تقریر یہ آیت و تفسیر اس کی گمراہی کا کیسا رد واضح و
حوالہ / References
مدارك التنزیل(تفسیر النسفی) آیت ۳/ ۷ دارالکتاب العربی بیروت ۱/ ۱۴۶
منیر ہے۔والحمدﷲ رب العلمین۔
(۵)امام بیہقی کتاب الاسماء والصفات میں فرماتے ہیں:
الاستواء فالمتقدمون من اصحابنا رضی اﷲ تعالی عنہم کانو الا یفسرونہ ولا یتکلمون فیہ کنحو مذھبہم فی امثال ذلک۔ ہمارے اصحاب متقدمین رضی اﷲ تعالی عنہم استواء کے کچھ معنی نہ کہتے تھے نہ اس میں اصلا زبان کھولتے جس طرح تمام صفات متشابہات میں ان کا یہی مذہب ہے۔
(۶)اسی میں ہے:
حکینا عن المتقدمین من اصحابنا ترك الکلام فی امثال ذلکھذا مع اعتقاد ھم نفی الحدوالتشبیہ و التمثیل عن اﷲ سبحنہ وتعالی ۔ ہم اپنے اصحاب متقدمین کا مذہب لکھ چکے کہ ایسے نصوص میں اصلا لب نہ کھولتے اور اس کے ساتھ یہ اعتقاد رکھتے کہ اﷲ تعالی محدود ہونے یا مخلوق سے کسی بات میں متشابہ و مانند ہونے سے پاك ہے۔
(۷)اسی میں یحیی بن یحیی سے روایت کی:
کنا عند مالك بن انس فجاء رجل فقال یا ابا عبدا ﷲ الرحمن علی العرش استوی فکیف استوی قال فاطرق مالك راسہ حتی علاہ الرحضاء ثم قال الاستواء غیر مجہول والکیف غیر معقول والایمان بہ واجبوالمسؤل عنہ بد عۃوما اراك الامبتدعا فامربہ ان یخرج۔ ہم امام مالك رضی اﷲ تعالی عنہ کی خدمت میں حاضر تھے ایك شخص نے حاضر ہو کر عرض کی اے ابوعبداللہ! رحمن نے عرش پر استواء فرمایا یہ استواء کس طرح ہے اس کے سنتے ہی امام نے سر مبارك جھکالیا یہاں تك کہ بدن مقدس پسینہ پسینہ ہوگیاپھر فرمایا:استواء مجہول نہیں اور کیفیت معقول نہیں اور اس پر ایمان فرض اور اس سے استفسار بدعت اور میرے خیال میں تو ضرور بدمذہب ہےپھر حکم دیا کہ اسے نکال دو۔
(۵)امام بیہقی کتاب الاسماء والصفات میں فرماتے ہیں:
الاستواء فالمتقدمون من اصحابنا رضی اﷲ تعالی عنہم کانو الا یفسرونہ ولا یتکلمون فیہ کنحو مذھبہم فی امثال ذلک۔ ہمارے اصحاب متقدمین رضی اﷲ تعالی عنہم استواء کے کچھ معنی نہ کہتے تھے نہ اس میں اصلا زبان کھولتے جس طرح تمام صفات متشابہات میں ان کا یہی مذہب ہے۔
(۶)اسی میں ہے:
حکینا عن المتقدمین من اصحابنا ترك الکلام فی امثال ذلکھذا مع اعتقاد ھم نفی الحدوالتشبیہ و التمثیل عن اﷲ سبحنہ وتعالی ۔ ہم اپنے اصحاب متقدمین کا مذہب لکھ چکے کہ ایسے نصوص میں اصلا لب نہ کھولتے اور اس کے ساتھ یہ اعتقاد رکھتے کہ اﷲ تعالی محدود ہونے یا مخلوق سے کسی بات میں متشابہ و مانند ہونے سے پاك ہے۔
(۷)اسی میں یحیی بن یحیی سے روایت کی:
کنا عند مالك بن انس فجاء رجل فقال یا ابا عبدا ﷲ الرحمن علی العرش استوی فکیف استوی قال فاطرق مالك راسہ حتی علاہ الرحضاء ثم قال الاستواء غیر مجہول والکیف غیر معقول والایمان بہ واجبوالمسؤل عنہ بد عۃوما اراك الامبتدعا فامربہ ان یخرج۔ ہم امام مالك رضی اﷲ تعالی عنہ کی خدمت میں حاضر تھے ایك شخص نے حاضر ہو کر عرض کی اے ابوعبداللہ! رحمن نے عرش پر استواء فرمایا یہ استواء کس طرح ہے اس کے سنتے ہی امام نے سر مبارك جھکالیا یہاں تك کہ بدن مقدس پسینہ پسینہ ہوگیاپھر فرمایا:استواء مجہول نہیں اور کیفیت معقول نہیں اور اس پر ایمان فرض اور اس سے استفسار بدعت اور میرے خیال میں تو ضرور بدمذہب ہےپھر حکم دیا کہ اسے نکال دو۔
حوالہ / References
کتاب الاسماء والصفات للبیہقی باب ماجاء فی قول اﷲ تعالٰی الرحمن علی العرش استوٰی،المکتبۃ الاثریہ سانگلہ ہل شیخوپورہ ۲/ ۱۵۰
کتاب الاسماء والصفات باب قول اﷲ تعالٰی یعیسی علیہ السلام انی متوفیك ورافعك الٰی المکتبۃ الاثریہ سانگلہ ہل شیخوپورہ ۲/ ۱۶۹
کتاب الاسماء والصفات باب ماجاء فی قول اﷲ تعالٰی الرحمن علی العرش الخ المکتبۃ الاثریہ سانگلہ ہل شیخوپورہ ۲/ ۱۵۰ و ا۱۵
کتاب الاسماء والصفات باب قول اﷲ تعالٰی یعیسی علیہ السلام انی متوفیك ورافعك الٰی المکتبۃ الاثریہ سانگلہ ہل شیخوپورہ ۲/ ۱۶۹
کتاب الاسماء والصفات باب ماجاء فی قول اﷲ تعالٰی الرحمن علی العرش الخ المکتبۃ الاثریہ سانگلہ ہل شیخوپورہ ۲/ ۱۵۰ و ا۱۵
(۸)اسی میں عبداﷲ بن صالح بن مسلم سے روایت کی:
سئل ربیعۃ الرأی عن قول اﷲ تبارك وتعالی الرحمن علی العرش استوی کیف استوی قال الکیف غیر معقول والا ستواء غیر مجہول ویجب علی وعلیك الایمان بذلك کلہ۔ یعنی امام ربیعہ بن ابی عبدالرحمن استاذ امام مالك سے جنہیں بوجہ قوت عقل و کثرت قیاس ربیعۃ الرائے لکھا جاتا یہی سوال ہوافرمایا کیفیت غیر معقول ہے اور اﷲ تعالی کا استواء مجہول نہیں اور مجھ پر اور تجھ پر ان سب باتوں پر ایمان لانا واجب ہے۔
(۹)اسی میں بطریق امام احمد بن ابی الحواری امام سفین بن عیینہ سے روایت کی کہ فرماتے:
ماوصف اﷲ تعالی من نفسہ فی کتابہ فتفسیرہ تلاوتہ والسکوت علیہ۔ یعنی اس قسم کی جتنی صفات اﷲ عزوجل نے قرآن عظیم میں اپنے لیے بیان فرمائی ہیں ان کی تفسیر یہی ہے کہ تلاوت کیجئے اور خاموش رہیے۔
بطریق اسحق بن موسی انصاری زائد کیا:
لیس لاحدان یفسرہ بالعربیۃ و لابالفارسیۃ۔ کسی کو جائز نہیں کہ عربی میں خواہ فارسی کسی زبان میں اس کے معنی کہے۔
(۱۰)اسی میں حاکم سے روایت کی انہوں نے امام ابوبکر احمد بن اسحق بن ایوب کا عقائد نامہ دکھایا جس میں مذہب اہلسنت مندرجہ تھا اس میں لکھا ہے:
الرحمن علی العرش استوی بلاکیف ۔ رحمن کا استواء بیچون و بیچگون ہے۔
(۱۱)اسی میں ہے:
والاثار عن السلف فی مثل ھذاکثیرۃ وعلی ھذہ الطریقۃ یدل مذھب الشافعی رضی اﷲ تعالی عنہ یعنی اس باب میں سلف صالح سے روایات بکثرت ہیں اور اس طریقہ سکوت پر ایمان شافعی کا مذہب دلالت کرتا ہے اور یہی مسلك
سئل ربیعۃ الرأی عن قول اﷲ تبارك وتعالی الرحمن علی العرش استوی کیف استوی قال الکیف غیر معقول والا ستواء غیر مجہول ویجب علی وعلیك الایمان بذلك کلہ۔ یعنی امام ربیعہ بن ابی عبدالرحمن استاذ امام مالك سے جنہیں بوجہ قوت عقل و کثرت قیاس ربیعۃ الرائے لکھا جاتا یہی سوال ہوافرمایا کیفیت غیر معقول ہے اور اﷲ تعالی کا استواء مجہول نہیں اور مجھ پر اور تجھ پر ان سب باتوں پر ایمان لانا واجب ہے۔
(۹)اسی میں بطریق امام احمد بن ابی الحواری امام سفین بن عیینہ سے روایت کی کہ فرماتے:
ماوصف اﷲ تعالی من نفسہ فی کتابہ فتفسیرہ تلاوتہ والسکوت علیہ۔ یعنی اس قسم کی جتنی صفات اﷲ عزوجل نے قرآن عظیم میں اپنے لیے بیان فرمائی ہیں ان کی تفسیر یہی ہے کہ تلاوت کیجئے اور خاموش رہیے۔
بطریق اسحق بن موسی انصاری زائد کیا:
لیس لاحدان یفسرہ بالعربیۃ و لابالفارسیۃ۔ کسی کو جائز نہیں کہ عربی میں خواہ فارسی کسی زبان میں اس کے معنی کہے۔
(۱۰)اسی میں حاکم سے روایت کی انہوں نے امام ابوبکر احمد بن اسحق بن ایوب کا عقائد نامہ دکھایا جس میں مذہب اہلسنت مندرجہ تھا اس میں لکھا ہے:
الرحمن علی العرش استوی بلاکیف ۔ رحمن کا استواء بیچون و بیچگون ہے۔
(۱۱)اسی میں ہے:
والاثار عن السلف فی مثل ھذاکثیرۃ وعلی ھذہ الطریقۃ یدل مذھب الشافعی رضی اﷲ تعالی عنہ یعنی اس باب میں سلف صالح سے روایات بکثرت ہیں اور اس طریقہ سکوت پر ایمان شافعی کا مذہب دلالت کرتا ہے اور یہی مسلك
حوالہ / References
کتاب الاسماء والصفات للبیہقی باب ماجاء فی قول اﷲ عزوجل الرحمن علی العرش استوٰی المکتبۃ الاثر یہ سانگلہ ہل شیخوپورہ ۲/ ۱۵۱
کتاب الاسماء والصفات للبیہقی باب ماجاء فی قول اﷲ عزوجل الرحمن علی العرش ۲/ ۱۵۱ وباب ماذکر فی یمین والکف ۲/ ۱۵۱
کتاب الاسماء والصفات للبیہقی باب ماجاء فی اثبات العین المکتبۃ الاثر یہ سانگلہ ہل شیخوپورہ ۲/ ۴۲
کتاب الاسماء والصفات للبیہقی باب ماجاء فی قول اﷲ عزوجل الرحمن علی العرش استوٰی المکتبۃ الاثر یہ سانگلہ ہل شیخوپورہ ۲/ ۱۵۲
کتاب الاسماء والصفات للبیہقی باب ماجاء فی قول اﷲ عزوجل الرحمن علی العرش ۲/ ۱۵۱ وباب ماذکر فی یمین والکف ۲/ ۱۵۱
کتاب الاسماء والصفات للبیہقی باب ماجاء فی اثبات العین المکتبۃ الاثر یہ سانگلہ ہل شیخوپورہ ۲/ ۴۲
کتاب الاسماء والصفات للبیہقی باب ماجاء فی قول اﷲ عزوجل الرحمن علی العرش استوٰی المکتبۃ الاثر یہ سانگلہ ہل شیخوپورہ ۲/ ۱۵۲
والیہاذھب احمد بن حنبل والحسین بن الفضل البلخی ومن المتاخرین ابوسلیمن الخطابی۔ امام احمد بن حنبل و امام حسین بن فضل بلخی اور متاخرین سے امام ابوسلیمن خطابی کا ہے۔
الحمدﷲ امام اعظم سے روایت عنقریب آتی ہےائمہ ثلثہ سے یہ موجود ہیںثابت ہوا کہ چاروں اماموں کا اجماع ہے کہ استواء کے معنی کچھ نہ کہے جائیں اس پر ایمان واجب ہے اور معنی کی تفتیش حرام یہی طریقہ جملہ سلف صالحین کا ہے۔
(۱۲)اسی میں امام خطابی سے ہے
"ونحن احری بان لانتقدم فیما تأخر عنہ من ھو اکثر علما و اقدم زمانا وسناولکن الزمان الذی نحن فیہ قد صاراھلہ حزبین منکرلما یروی من نوع ھذہ الاحادیث راسا ومکذب بہ اصلاوفی ذلك تکذیب العلماء الذین ردوا ھذہ الاحادیث وھم ائمۃ الدین ونقلۃ السنن و الواسطۃ بیننا و بین رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلموالطائفۃ الاخری مسلمۃ للروایۃ فیہا ذاھبۃ فی تحقیق منہا مذھبا یکاد یفضی بھم الی القول بالتشبیہ و نحن نرغب عن الامرین معاولا نرضی بواحد منھما مذھبافیحق علینا ان نطلب یعنی جب ان ائمہ کرام نے جو ہم میں سے علم میں زائد اور زمانے میں مقدم اور عمر میں بڑے تھے متشا بہات میں سکوت فرمایا تو ہمیں ساکت رہنا اور ان کے معنی کچھ نہ کہنا اور زیادہ لائق تھا مگر ہمارے زمانے میں دو گروہ پیدا ہوئے ایك تو اس قسم کی حدیثوں کو سرے سے رد کرتا اور جھوٹ بتاتا ہےاس میں علمائے رواۃ احادیث کی تکذیب لازم آتی ہےحالانکہ وہ دین کے امام ہیں اور سنتوں کے ناقل اور نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم تك ہمارے وسائط و رسائل۔اور دوسرا گر وہ ان روایتوں کو مان کر ان کے ظاہری معنی کی طرف ایسا جاتا ہے کہ اس کا کلام اﷲ عزوجل کو خلق سے مشابہ کردینے تك پہنچنا چاہتا ہے اور ہمیں یہ دونوں باتیں ناپسند ہیں ہم ان میں سے کسی کو مذہب بنانے پر راضی نہیںتو ہمیں ضرور ہوا کہ اس باب میں
الحمدﷲ امام اعظم سے روایت عنقریب آتی ہےائمہ ثلثہ سے یہ موجود ہیںثابت ہوا کہ چاروں اماموں کا اجماع ہے کہ استواء کے معنی کچھ نہ کہے جائیں اس پر ایمان واجب ہے اور معنی کی تفتیش حرام یہی طریقہ جملہ سلف صالحین کا ہے۔
(۱۲)اسی میں امام خطابی سے ہے
"ونحن احری بان لانتقدم فیما تأخر عنہ من ھو اکثر علما و اقدم زمانا وسناولکن الزمان الذی نحن فیہ قد صاراھلہ حزبین منکرلما یروی من نوع ھذہ الاحادیث راسا ومکذب بہ اصلاوفی ذلك تکذیب العلماء الذین ردوا ھذہ الاحادیث وھم ائمۃ الدین ونقلۃ السنن و الواسطۃ بیننا و بین رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلموالطائفۃ الاخری مسلمۃ للروایۃ فیہا ذاھبۃ فی تحقیق منہا مذھبا یکاد یفضی بھم الی القول بالتشبیہ و نحن نرغب عن الامرین معاولا نرضی بواحد منھما مذھبافیحق علینا ان نطلب یعنی جب ان ائمہ کرام نے جو ہم میں سے علم میں زائد اور زمانے میں مقدم اور عمر میں بڑے تھے متشا بہات میں سکوت فرمایا تو ہمیں ساکت رہنا اور ان کے معنی کچھ نہ کہنا اور زیادہ لائق تھا مگر ہمارے زمانے میں دو گروہ پیدا ہوئے ایك تو اس قسم کی حدیثوں کو سرے سے رد کرتا اور جھوٹ بتاتا ہےاس میں علمائے رواۃ احادیث کی تکذیب لازم آتی ہےحالانکہ وہ دین کے امام ہیں اور سنتوں کے ناقل اور نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم تك ہمارے وسائط و رسائل۔اور دوسرا گر وہ ان روایتوں کو مان کر ان کے ظاہری معنی کی طرف ایسا جاتا ہے کہ اس کا کلام اﷲ عزوجل کو خلق سے مشابہ کردینے تك پہنچنا چاہتا ہے اور ہمیں یہ دونوں باتیں ناپسند ہیں ہم ان میں سے کسی کو مذہب بنانے پر راضی نہیںتو ہمیں ضرور ہوا کہ اس باب میں
حوالہ / References
کتاب الاسماء والصفات للبیہقی باب ماجاء فی قول اﷲ عزوجل الرحمن علی العرش المکتبۃ الاثر یہ سانگلہ ہل شیخوپورہ ۲/ ۱۵۲
لما یرد من ھذہ الاحادیث اذا صحت من طریق فالنقل و السندتاویلا یخرج علی معانی اصول الدین ومذاھب العلماء و لاتبطل الروایۃ فیہا اصلا اذا کانت طرقہا مرضیۃ ونقلتہا عدولا۔ جو صحیح حدیثیں آئیں ان کی وہ تاویل کردیں جس سے ان کے معنی اصول عقائد وآیات محکمات کے مطابق ہوجائیں اور صحیح روایتیں کہ علماء ثقات کی سند سے آئیں باطل نہ ہونے پائیں۔
(۱۳)امام ابوالقاسم لالکائی کتاب السنہ میں سیدنا امام محمد سردار مذہب حنفی تلمیذ سیدنا امام اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ سے راوی کہ فرماتے:
اتفق الفقہاء کلھم من المشرق الی المغرب علی الایمان بالقرآن و بالاحادیث التی جاء بہا الثقات عن رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فی صفۃ الرب من غیر تشبیہ ولا تفسیر فمن فسر شیئا من ذلك فقد خرج عما کان علیہ النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم و فارق الجماعۃ فانہم لم یصفوا ولم یفسرواولکن امنوا بما فی الکتاب والسنۃ ثم سکتوا۔ شرق سے غرب تك تمام ائمہ مجتہدین کا اجماع ہے کہ آیات قرآن عظیم و احادیث صحیحہ میں جو صفات الہیہ آئیں ان پر ایمان لائیں بلاتشبیہ و بلا تفسیر تو جو ان میں سے کسی کے معنی بیان کرے وہ نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے طریقے سے خارج اور جماعت علماء سے جدا ہوا اس لیے کہ ائمہ نے نہ ان صفات کا کچھ حال بیان فرمایا نہ ان کے معنی کہے بلکہ قرآن و حدیث پر ایمان لا کر چپ رہے۔
طرفہ یہ کہ امام محمد کے اس ارشاد و ذکر اجماع ائمہ امجاد کو خود ذہبی نے بھی کتاب العلو میں نقل کیا اور کہا محمد سے یہ اجماع لالکائی اور ابو محمد بن قدامہ نے اپنی کتابوں میں روایت کیا بلکہ خود ابن تیمیہ مخذول بھی اسے نقل کرگیا۔ وﷲ الحمد ولہ الحجۃ السامیۃ(حمد ﷲ تعالی کے لیے ہے اور غالب حجت اسی کی ہے۔ت)
(۱۴)نیز مدارك میں زیر سورہ طہ ہے:
(۱۳)امام ابوالقاسم لالکائی کتاب السنہ میں سیدنا امام محمد سردار مذہب حنفی تلمیذ سیدنا امام اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ سے راوی کہ فرماتے:
اتفق الفقہاء کلھم من المشرق الی المغرب علی الایمان بالقرآن و بالاحادیث التی جاء بہا الثقات عن رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فی صفۃ الرب من غیر تشبیہ ولا تفسیر فمن فسر شیئا من ذلك فقد خرج عما کان علیہ النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم و فارق الجماعۃ فانہم لم یصفوا ولم یفسرواولکن امنوا بما فی الکتاب والسنۃ ثم سکتوا۔ شرق سے غرب تك تمام ائمہ مجتہدین کا اجماع ہے کہ آیات قرآن عظیم و احادیث صحیحہ میں جو صفات الہیہ آئیں ان پر ایمان لائیں بلاتشبیہ و بلا تفسیر تو جو ان میں سے کسی کے معنی بیان کرے وہ نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے طریقے سے خارج اور جماعت علماء سے جدا ہوا اس لیے کہ ائمہ نے نہ ان صفات کا کچھ حال بیان فرمایا نہ ان کے معنی کہے بلکہ قرآن و حدیث پر ایمان لا کر چپ رہے۔
طرفہ یہ کہ امام محمد کے اس ارشاد و ذکر اجماع ائمہ امجاد کو خود ذہبی نے بھی کتاب العلو میں نقل کیا اور کہا محمد سے یہ اجماع لالکائی اور ابو محمد بن قدامہ نے اپنی کتابوں میں روایت کیا بلکہ خود ابن تیمیہ مخذول بھی اسے نقل کرگیا۔ وﷲ الحمد ولہ الحجۃ السامیۃ(حمد ﷲ تعالی کے لیے ہے اور غالب حجت اسی کی ہے۔ت)
(۱۴)نیز مدارك میں زیر سورہ طہ ہے:
حوالہ / References
کتاب الاسماء والصفات للبیہقی باب ماذکر فی القدم الرجل المکتبۃ الاثریہ سانگلہ ہل شیخوپورہ ۲/ ۸۶
کتاب السنۃ امام ابوالقاسم لالکائی
کتاب السنۃ امام ابوالقاسم لالکائی
والمذھب قول علی رضی اﷲ تعالی عنہ الاستواء غیر مجہول والتکیف غیر معقول والایمان بہ واجب و السوال عنہ بدعۃ لانہ تعالی کان ولا مکان فھو علی ما کان قبل خلق المکان لم یتغیر عما کان۔ مذہب وہ ہے جو مولی علی کرم اﷲ وجہہ الکریم نے فرمایا کہ استواء مجہول نہیں اور اس کی چگونگی عقل میں نہیں آسکتی اس پر ایمان واجب ہے اور اس کے معنی سے بحث بدعت ہے اس لیے کہ مکان پیدا ہونے سے پہلے اﷲ تعالی موجود تھا اور مکان نہ تھا پھر وہ اپنی اس شان سے بدلا نہیں یعنی جیسا جب مکان سے پاك تھا اب بھی پاك ہے۔
گمراہ اپنی ہی مستند کی اس عبارت کو سوجھے اور اپنا ایمان ٹھیك کرے۔
(۱۵)اسی میں زیر سورہ اعراف یہی قول امام جعفر صادق و امام حسن بصری و امام اعظم ابوحنیفہ و امام مالك رضی اﷲ تعالی عنہم سے نقل فرمایا ۔
(۱۶)یہی مضمون جامع البیان سورہ یونس میں ہے۔
الاستواء معلوم والکیفیۃ مجہولۃ والسؤال عنہ بدعۃ۔ استواء معلوم ہے اور اس کی کیفیت مجہول ہے اور اس سے بحث و سوال بدعت ہے۔(ت)
(۱۷)یہی مضمون سورہ رعد میں سلف صالح سے نقل کیا کہ:
قال السلف الاستواء معلوم و الکیفیۃ مجھولۃ۔ سلف نے فرمایا:استواء معلوم ہے اور کیفیت مجہول ہے۔(ت)
(۱۸)سورہ طہ میں لکھا ہے:
سئل الشافعی عن الاستواء فاجاب امنت بلاتشبیہ واتھمت یعنی امام شافعی سے استواء کے معنی پوچھے گئےفرمایا:میں استواء پر ایمان لایا اور
گمراہ اپنی ہی مستند کی اس عبارت کو سوجھے اور اپنا ایمان ٹھیك کرے۔
(۱۵)اسی میں زیر سورہ اعراف یہی قول امام جعفر صادق و امام حسن بصری و امام اعظم ابوحنیفہ و امام مالك رضی اﷲ تعالی عنہم سے نقل فرمایا ۔
(۱۶)یہی مضمون جامع البیان سورہ یونس میں ہے۔
الاستواء معلوم والکیفیۃ مجہولۃ والسؤال عنہ بدعۃ۔ استواء معلوم ہے اور اس کی کیفیت مجہول ہے اور اس سے بحث و سوال بدعت ہے۔(ت)
(۱۷)یہی مضمون سورہ رعد میں سلف صالح سے نقل کیا کہ:
قال السلف الاستواء معلوم و الکیفیۃ مجھولۃ۔ سلف نے فرمایا:استواء معلوم ہے اور کیفیت مجہول ہے۔(ت)
(۱۸)سورہ طہ میں لکھا ہے:
سئل الشافعی عن الاستواء فاجاب امنت بلاتشبیہ واتھمت یعنی امام شافعی سے استواء کے معنی پوچھے گئےفرمایا:میں استواء پر ایمان لایا اور
حوالہ / References
مدارك التنزیل(تفسیر النسفی)آیت ۳/ ۵ دارالکتاب العربی بیروت ۳/۴۸
مدارك التنزیل(تفسیر النسفی)آیت ۷/۵۴ دارالکتاب العربی بیروت ۲/۵۶
جامع البیان محمد بن عبدالرحمن الشافعی آیۃ ۱۰/۳ دارنشر الکتب الاسلامیہ گوجرانوالہ ۱/ ۲۹۲
جامع البیان محمد بن عبدالرحمن الشافعی آیۃ ۱۳/ ۲ دارنشر الکتب الاسلامیہ گوجرانوالہ ۱/ ۳۴۵
مدارك التنزیل(تفسیر النسفی)آیت ۷/۵۴ دارالکتاب العربی بیروت ۲/۵۶
جامع البیان محمد بن عبدالرحمن الشافعی آیۃ ۱۰/۳ دارنشر الکتب الاسلامیہ گوجرانوالہ ۱/ ۲۹۲
جامع البیان محمد بن عبدالرحمن الشافعی آیۃ ۱۳/ ۲ دارنشر الکتب الاسلامیہ گوجرانوالہ ۱/ ۳۴۵
نفسی فی الادراك وامسکت عن الخوض فیہ کل الامساک۔ وہ معنی نہیں ہوسکتے جن میں اﷲ تعالی کی مشابہت مخلوق سے نکلے اور میں اپنے آپ کو اس کے معنی سمجھنے میں متہم رکھتا ہوں مجھے اپنے نفس پر اطمینان نہیں کہ اس کے صحیح معنی سمجھ سکوں لہذا میں نے اس میں فکر کرنے سے یك قلم قطعی دست کشی کی۔
(۱۹)سورہ اعراف میں لکھا:
اجمع السلف علی ان استواء ہ علی العرش صفۃ لہ بلا کیف نؤمن بہ ونکل العلم الی اﷲ تعالی۔ سلف صالح کا اجماع ہے کہ عرش پر استواء اﷲ تعالی کی ایك صفت بیچون و بے چگون ہے ہم اس پر ایمان لاتے ہیں اور ان کا علم خدا کو سونپتے ہیں۔
(۲۰)طرفہ یہ کہ سورہ اعراف میں تو صرف اتنا لکھا کہ اس کے معنی ہم کچھ نہیں جانتے اور سورہ فرقان میں لکھا۔
قدمرفی سورۃ الاعراف تفصیل معناہ۔ اس کے معنی کی تفصیل سورہ اعراف میں گزری۔
یونہی سورہ سجدہ میں لکھا قدمر فی سورۃ الاعراف ۔ (سورہ اعراف میں گزرا۔ت)
یونہی سورہ حدید میں قد مرتفصیلہ فی سورۃ الاعراف وغیرھا ۔ (اس کی تفصیل سورہ اعراف وغیرہ میں گزر چکی ہے۔ت)
دیکھو کیسا صاف بتایا کہ اس کے معنی کی تفصیل یہی ہے کہ ہم کچھ نہیں جانتےاب تو کھلا کہ وہابیہ مجسمہ کا اپنی سند میں کتاب الاسماء و معالم ومدارك وجامع البیان کے نام لے دینا
(۱۹)سورہ اعراف میں لکھا:
اجمع السلف علی ان استواء ہ علی العرش صفۃ لہ بلا کیف نؤمن بہ ونکل العلم الی اﷲ تعالی۔ سلف صالح کا اجماع ہے کہ عرش پر استواء اﷲ تعالی کی ایك صفت بیچون و بے چگون ہے ہم اس پر ایمان لاتے ہیں اور ان کا علم خدا کو سونپتے ہیں۔
(۲۰)طرفہ یہ کہ سورہ اعراف میں تو صرف اتنا لکھا کہ اس کے معنی ہم کچھ نہیں جانتے اور سورہ فرقان میں لکھا۔
قدمرفی سورۃ الاعراف تفصیل معناہ۔ اس کے معنی کی تفصیل سورہ اعراف میں گزری۔
یونہی سورہ سجدہ میں لکھا قدمر فی سورۃ الاعراف ۔ (سورہ اعراف میں گزرا۔ت)
یونہی سورہ حدید میں قد مرتفصیلہ فی سورۃ الاعراف وغیرھا ۔ (اس کی تفصیل سورہ اعراف وغیرہ میں گزر چکی ہے۔ت)
دیکھو کیسا صاف بتایا کہ اس کے معنی کی تفصیل یہی ہے کہ ہم کچھ نہیں جانتےاب تو کھلا کہ وہابیہ مجسمہ کا اپنی سند میں کتاب الاسماء و معالم ومدارك وجامع البیان کے نام لے دینا
حوالہ / References
جامع البیان محمد بن عبدالرحمن الشافعی آیۃ ۲۰/ ۵ دارنشر الکتب الاسلامیہ گوجرانوالہ۲/ ۱۶و ۱۵
جامع البیان محمد بن عبدالرحمن الشافعی آیۃ ۷/ ۵۴ دارنشر الکتب الاسلامیہ گوجرانوالہ ۱/۲۲۳
جامع البیان محمد بن عبدالرحمن الشافعی آیۃ ۲۵/ ۵۹ دارنشر الکتب الاسلامیہ گوجرانوالہ ۲/ ۸۹
جامع البیان محمد بن عبدالرحمن الشافعی آیۃ ۳۲/ ۴ دارنشر الکتب الاسلامیہ گوجرانوالہ ۲/ ۱۵۷
جامع البیان محمد بن عبدالرحمن الشافعی آیۃ ۵۷ /۴ دارنشر الکتب الاسلامیہ گوجرانوالہ ۲/ ۳۳۶
جامع البیان محمد بن عبدالرحمن الشافعی آیۃ ۷/ ۵۴ دارنشر الکتب الاسلامیہ گوجرانوالہ ۱/۲۲۳
جامع البیان محمد بن عبدالرحمن الشافعی آیۃ ۲۵/ ۵۹ دارنشر الکتب الاسلامیہ گوجرانوالہ ۲/ ۸۹
جامع البیان محمد بن عبدالرحمن الشافعی آیۃ ۳۲/ ۴ دارنشر الکتب الاسلامیہ گوجرانوالہ ۲/ ۱۵۷
جامع البیان محمد بن عبدالرحمن الشافعی آیۃ ۵۷ /۴ دارنشر الکتب الاسلامیہ گوجرانوالہ ۲/ ۳۳۶
کیسی سخت بے حیائی تھا۔ولاحول ولا قوۃ الا باﷲ العلی العظیم۔
وھابیہ مجسمہ کی بد دینی
صفات متشابہات کے باب میں اہلسنت کا عقیدہ تو معلوم ہولیا کہ ان میں ہمارا حصہ بس اس قدر ہے کہ اﷲ تعالی کی جو کچھ مراد ہے ہم اس پر ایمان لائےظاہر لفظ سے جو معنی ہماری سمجھ میں آتے ہیں ان سے اﷲ تعالی یقینا پاك ہے او ر مراد الہی پر ہمیں اطلاع نہیں لہذا ہم ان کے معنی کچھ کہہ ہی نہیں سکتے یا بطور تاویل کچھ کہیں بھی تو وہی کہیں گے جو ہمارے رب کی شان قدوسی کے لائق اور آیات محکمات کے مطابق اور اہلسنت کو اﷲ تعالی نے صراط مستقیم عطا فرمائی ہے وہ ہمیشہ راہ وسط ہوتی ہے اس کے دونوں پہلوؤں پر افراط و تفریظ دو ہولناك مہلك گھاٹیاں ہیں اسی لیے اکثر مسائل میں اہلسنت دو فرقہ متناقض کے وسط میں رہتے ہیں جیسے رافضی ناصبی یا خارجی مرجی یا قدری جبری یا باطنی ظاہری یا وہابی بدعتی یا اسمعیل پرست گورپر ست وعلی ہذا القیاس اسی طرح یہاں بھی دو فرقہ باطلہ نکلے معطلہ و مشبہہمعطلہ جنہیں جہمیہ بھی کہتے ہیں صفات متشابہات سے یکسر منکر ہی ہوگئے یہاں تك کہ ان کا پہلا پیشوا جعد بن درہم مردود کہتا کہ نہ اﷲ تعالی نے ابراہیم علیہ الصلوۃ والتسلیم کو اپنا خلیل بنایا نہ موسی کلیم علیہ الصلوۃ والتسلیم سے کلام فرمایایہ گمراہ لوگ اپنے افراط کے باعث " امنا بہ کل من عند ربنا" ۔ (ہم اس پر ایمان لائے سب ہمارے رب کی طرف سے ہے۔ت)سے بے بہرہ ہوئے ان کی طرف نقیض پر انتہائے تفریط میں مشبہہ آئے جنہیں حشویہ و مجمسہ بھی کہتے ہیں ان خبیثوں نے صاف صاف مان لیا کہ ہاں اﷲ تعالی کے لیے مکان ہے جسم ہے جہت ہے۔اور جب یہ سب کچھ ہے تو پھر چڑھنا اترنا اٹھنا بیٹھنا چلنا ٹھہرنا سب آپ ہی ثابت ہےیہ مردود وہی ہوئے جنہیں قرآن عظیم نے " فی قلوبہم زیغ" ۔ (ان کے دلوں میں زیغ ہے۔ت)فرمایا اور گمراہ فتنہ پر داز بتایا تھا۔وہابیہ ناپاك کو آپ جانیں کہ سب گمراہوں کے فضلہ خوار ہیں مختلف بدمذہبوں سے کچھ کچھ عقائد ضلالت لے کر آپ بھرت پورا کیا ہے یہاں بھی نہ چوکےاور ان کے پیشوا اسمعیل نے صراط نا مستقیم میں جو اپنے جاہل پیر کی اﷲ تعالی سے
وھابیہ مجسمہ کی بد دینی
صفات متشابہات کے باب میں اہلسنت کا عقیدہ تو معلوم ہولیا کہ ان میں ہمارا حصہ بس اس قدر ہے کہ اﷲ تعالی کی جو کچھ مراد ہے ہم اس پر ایمان لائےظاہر لفظ سے جو معنی ہماری سمجھ میں آتے ہیں ان سے اﷲ تعالی یقینا پاك ہے او ر مراد الہی پر ہمیں اطلاع نہیں لہذا ہم ان کے معنی کچھ کہہ ہی نہیں سکتے یا بطور تاویل کچھ کہیں بھی تو وہی کہیں گے جو ہمارے رب کی شان قدوسی کے لائق اور آیات محکمات کے مطابق اور اہلسنت کو اﷲ تعالی نے صراط مستقیم عطا فرمائی ہے وہ ہمیشہ راہ وسط ہوتی ہے اس کے دونوں پہلوؤں پر افراط و تفریظ دو ہولناك مہلك گھاٹیاں ہیں اسی لیے اکثر مسائل میں اہلسنت دو فرقہ متناقض کے وسط میں رہتے ہیں جیسے رافضی ناصبی یا خارجی مرجی یا قدری جبری یا باطنی ظاہری یا وہابی بدعتی یا اسمعیل پرست گورپر ست وعلی ہذا القیاس اسی طرح یہاں بھی دو فرقہ باطلہ نکلے معطلہ و مشبہہمعطلہ جنہیں جہمیہ بھی کہتے ہیں صفات متشابہات سے یکسر منکر ہی ہوگئے یہاں تك کہ ان کا پہلا پیشوا جعد بن درہم مردود کہتا کہ نہ اﷲ تعالی نے ابراہیم علیہ الصلوۃ والتسلیم کو اپنا خلیل بنایا نہ موسی کلیم علیہ الصلوۃ والتسلیم سے کلام فرمایایہ گمراہ لوگ اپنے افراط کے باعث " امنا بہ کل من عند ربنا" ۔ (ہم اس پر ایمان لائے سب ہمارے رب کی طرف سے ہے۔ت)سے بے بہرہ ہوئے ان کی طرف نقیض پر انتہائے تفریط میں مشبہہ آئے جنہیں حشویہ و مجمسہ بھی کہتے ہیں ان خبیثوں نے صاف صاف مان لیا کہ ہاں اﷲ تعالی کے لیے مکان ہے جسم ہے جہت ہے۔اور جب یہ سب کچھ ہے تو پھر چڑھنا اترنا اٹھنا بیٹھنا چلنا ٹھہرنا سب آپ ہی ثابت ہےیہ مردود وہی ہوئے جنہیں قرآن عظیم نے " فی قلوبہم زیغ" ۔ (ان کے دلوں میں زیغ ہے۔ت)فرمایا اور گمراہ فتنہ پر داز بتایا تھا۔وہابیہ ناپاك کو آپ جانیں کہ سب گمراہوں کے فضلہ خوار ہیں مختلف بدمذہبوں سے کچھ کچھ عقائد ضلالت لے کر آپ بھرت پورا کیا ہے یہاں بھی نہ چوکےاور ان کے پیشوا اسمعیل نے صراط نا مستقیم میں جو اپنے جاہل پیر کی اﷲ تعالی سے
دوستانہ ملاقات اور ہاتھ سے ہاتھ ملا کر گڈ مارننگ(good morning)ثابت کی تھی۔(دیکھو کتاب مستطاب الکوکبۃ الشہابیہ علی کفریات ابی الوھابیہ)لہذا اس کے بعضے سپوت صاف صاف مجسمہ مبہوت کا مذہب ممقوت مان گئے اور اس کی جڑ بھی وہی ان کا پیشوائے قبیح اپنے رسالہ ایضاح الحق الصریح میں جما گیا تھا کہ اﷲ تعالی کو مکان وجہت سے پاك جاننا بدعت وضلالت ہے جس کے رد میں کو کبہ شہابیہ نے تحفہ اثنا عشریہ شاہ عبدالعزیز صاحب کی یہ تحریر پیش کی تھی کہ اہل سنت و جماعت کے عقیدے میں اﷲ تعالی کے لیے مکان نہیںنہ اس کے لیے فوق یا تحت کوئی جہت ہوسکتی ہے ۔اور بحرالرائق و عالمگیری کی یہ عبارت:
یکفر باثبات المکان ﷲ تعالی یعنی اﷲ تعالی کے لیے مکان ماننے سے آدمی کافر ہوجاتا ہے۔
اور فتاوی امام اجل قاضی خاں کی یہ عبارت:
رجل قال خدائے برآسمان می داند کہ من چیز ے ندارم یکون کفرالان اﷲ تعالی منزہ عن المکان ۔ یعنی کسی نے کہا خدا آسمان پر جانتا ہے کہ میرے پاس کچھ نہیں کافر ہوگیا اس لیے کہ اﷲ تعالی مکان سے پاك ہے۔
اور فتاوی خلاصہ کی یہ عبارت:
لوقال نردبان بنہ و بآسمان برآئے و باخدا جنگ کن یکفرلانہ اثبت المکان ﷲ تعالی ۔ اگر کوئی یہ کہے نیزہ لے اور آسمان پر جا اور خدا سے جنگ کرتو کافر ہوجائے گا کیونکہ اس نے اﷲ تعالی کے لیے مکان مانا۔(ت)(دیکھو کو کبہ شہابیہ)
انہیں مجسمہ گستاخ کے تازہ افراخ سے ایك صاحب سہسوانی بکاسہ لیسی گمراہ ہزاری غلام نواب بھوپال قنوجی آنجہانی از سر نو اس فتنہ خوابیدہ کے بادی وبانی اور اس سبوح قدوس جل جلالہ
یکفر باثبات المکان ﷲ تعالی یعنی اﷲ تعالی کے لیے مکان ماننے سے آدمی کافر ہوجاتا ہے۔
اور فتاوی امام اجل قاضی خاں کی یہ عبارت:
رجل قال خدائے برآسمان می داند کہ من چیز ے ندارم یکون کفرالان اﷲ تعالی منزہ عن المکان ۔ یعنی کسی نے کہا خدا آسمان پر جانتا ہے کہ میرے پاس کچھ نہیں کافر ہوگیا اس لیے کہ اﷲ تعالی مکان سے پاك ہے۔
اور فتاوی خلاصہ کی یہ عبارت:
لوقال نردبان بنہ و بآسمان برآئے و باخدا جنگ کن یکفرلانہ اثبت المکان ﷲ تعالی ۔ اگر کوئی یہ کہے نیزہ لے اور آسمان پر جا اور خدا سے جنگ کرتو کافر ہوجائے گا کیونکہ اس نے اﷲ تعالی کے لیے مکان مانا۔(ت)(دیکھو کو کبہ شہابیہ)
انہیں مجسمہ گستاخ کے تازہ افراخ سے ایك صاحب سہسوانی بکاسہ لیسی گمراہ ہزاری غلام نواب بھوپال قنوجی آنجہانی از سر نو اس فتنہ خوابیدہ کے بادی وبانی اور اس سبوح قدوس جل جلالہ
حوالہ / References
تحفہ اثنا عشریہ باب پنجم درالہٰیات سہیل اکیڈمی لاہور ص ۱۴۱
فتاوٰی ہندیہ کتاب السیر،الباب التاسع نوری کتب خانہ پشاور ۲/ ۲۵۹،بحرالرئق کتاب السیرباب احکام المرتدین ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۵/ ۱۲۰
فتاوٰی قاضی خان کتاب السیرباب مایکون کفرًا من المسلم نولکشور لکھنو ۴/ ۸۸۴
خلاصۃ الفتاوٰی کتاب الفاظ الکفر فصل ۲ جنس ۲ مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۴/ ۳۸۴
فتاوٰی ہندیہ کتاب السیر،الباب التاسع نوری کتب خانہ پشاور ۲/ ۲۵۹،بحرالرئق کتاب السیرباب احکام المرتدین ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۵/ ۱۲۰
فتاوٰی قاضی خان کتاب السیرباب مایکون کفرًا من المسلم نولکشور لکھنو ۴/ ۸۸۴
خلاصۃ الفتاوٰی کتاب الفاظ الکفر فصل ۲ جنس ۲ مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۴/ ۳۸۴
کی شان میں مدعی عیوب جسمی و مکانی ہوئےچہارم محرم الحرام ۱۳۱۸ ہجریہ قدسیہ کو اس باب اور انہیں صاحب کے متعلق دو امر دیگر میں حضرت تاج المحققین عالم اہلسنت دام ظلہم العالی سے استفتاء ہوا حضرت نے نفس حکم بنہایت اجمال ارشاد فرمایا: پونے دو مہینے کے بعد بست و ششم ۲۶ صفر کو ان کے متعلق ایك پریشان تحریر گمراہی و جہالت و سفاہت و ضلالت کی بو لتی تصویر آئی ایسے ہذیانات کیا قابل التفات مگر حفظ عقائد عوام و نصرت سنت و اسلام کے لحاظ سے یہ چند سطور لوجہ اﷲ مسطوراہل حق بنگاہ انصاف نظر فرمائیں اور امر عقائد میں کسی گمراہ مکار کے کہنے میں نہ آئیں۔
وما توفیقی الا باﷲ علیہ توکلت والیہ انیب۔(مجھے توفیق صرف اﷲ تعالی سے ہے اسی پر میں نے توکل کیا ہے اور اسی کی طرف میرا رجوع ہے۔ت)
مسئلہ ۵۱: ازسہسوان قاضی محلہ مرسلہ حاجی فرحت علی صاحب ۴ محرم ۱۳۱۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جو شخص یہ کہے کہ اﷲ رب العزت عرش پر بیٹھا ہے اور کہیں نہیں ہے شرعا اس کا کیا حکم ہے
الجواب:
اﷲ عزوجل مکان وجہت وجلوس وغیرہا تمام عوارض جسم و جسمانیات و عیوب و نقائص سے پاك ہےیہ لفظ کہ اس شخص نے کہا سخت گمراہی کے معنی دیتا ہے اس پر توبہ لازم ہے عقیدہ اپنا مطابق اہل سنت کرےواﷲ الہادی۔
نقل تحریر ضلالت تخمیر از نجدی بقیر:
مسئلہ:اﷲ تعالی کا عرش پر ہی ہونا:
الجواب:
الرحمن علی العرش استوی اﷲ تعالی عرش پر بیٹھایا چڑھا یا ٹھہرا۔ان تین معنی کے سوا اس آیت میں جو کوئی اور معنی کہے گا وہ بدعتی ہےاﷲ تعالی نے اپنے کلام شریف میں سات جگہ اس مضمون کو ذکر فرمایا ہے۔دیکھو فتح الرحمن تفسیر قاری شاہ ولی اﷲ صاحب محدث دہلوی وتفسیر موضح القرآن
وما توفیقی الا باﷲ علیہ توکلت والیہ انیب۔(مجھے توفیق صرف اﷲ تعالی سے ہے اسی پر میں نے توکل کیا ہے اور اسی کی طرف میرا رجوع ہے۔ت)
مسئلہ ۵۱: ازسہسوان قاضی محلہ مرسلہ حاجی فرحت علی صاحب ۴ محرم ۱۳۱۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جو شخص یہ کہے کہ اﷲ رب العزت عرش پر بیٹھا ہے اور کہیں نہیں ہے شرعا اس کا کیا حکم ہے
الجواب:
اﷲ عزوجل مکان وجہت وجلوس وغیرہا تمام عوارض جسم و جسمانیات و عیوب و نقائص سے پاك ہےیہ لفظ کہ اس شخص نے کہا سخت گمراہی کے معنی دیتا ہے اس پر توبہ لازم ہے عقیدہ اپنا مطابق اہل سنت کرےواﷲ الہادی۔
نقل تحریر ضلالت تخمیر از نجدی بقیر:
مسئلہ:اﷲ تعالی کا عرش پر ہی ہونا:
الجواب:
الرحمن علی العرش استوی اﷲ تعالی عرش پر بیٹھایا چڑھا یا ٹھہرا۔ان تین معنی کے سوا اس آیت میں جو کوئی اور معنی کہے گا وہ بدعتی ہےاﷲ تعالی نے اپنے کلام شریف میں سات جگہ اس مضمون کو ذکر فرمایا ہے۔دیکھو فتح الرحمن تفسیر قاری شاہ ولی اﷲ صاحب محدث دہلوی وتفسیر موضح القرآن
مؤلفہ شاہ عبدالقادر صاحب دہلوی و ترجمہ لفظی شاہ رفیع الدین صاحب دہلوی و کتاب الاسماء و الصفات بیہقی و کتاب العلوامام ذہبی و تفسیر ابن کثیر و معالم التنزیل و جامع البیان و مدارك وغیرہا اور محیط ہونا باری تعالی کا ہر چیز پر فقط ازروئے علم ہے۔قال تعالی: " احاط بکل شیء علما﴿۱۲﴾" ۔ (اﷲ تعالی نے اپنے علم سے ہر چیز کا احاطہ کیا)احادیث صریحہ صحیحہ سے عرش کا مکان الہی ہونا ثابت ہےچنانچہ بخاری کی معراج کی حدیث میں فرمایا:وھو فی مکانہ (اور وہ اپنے مکان میں ہے۔ت)اورمشکوۃ کے باب الاستغفار و التوبہ میں مسند احمد کی حدیث میں وارد ہے کہ:
وعزتی و جلالی وارتفاع مکانی الخ ۔ میری عزتمیرے جلال اور میرے بلند مکان کی قسم الخ (ت)
ہاں جن صفات سے کلام شارع ساکت ہے ان میں سکوت لازم ہے بعض اشخاص بریلی نے جو علم منقول وعقائد اہل حق سے بے بہرہ ہیں اس عقیدہ صحیحہ کے معتقد کو بزورگمراہی گمراہ بنایا " و ما لہم بہ من علم " ۔ (ان کو اس کا علم نہیں۔ت)ایسے شخص سے اہل اسلام کو بچنا چاہیے۔
ضرب قہاری
(۱۸ ۱۳ھ)
مسلمانو! دیکھو اس گمراہ نے ان چند سطور میں کیسی کیسی جہالتیں ضلالتیں تناقض سفاہتیں اﷲ و رسول پر افتراء علما وکتب پر تہمتیں بھردی ہیں۔
اولا: ادعا کیا کہ استواء علی العرش میں بیٹھنےچڑھنےٹھہرنے کے سوا جو کوئی اور معنی کہے بدعتی ہے اور اسی کی سند میں بکمال جرات و بے حیائی ان نو کتابوں کے نام گن دیئے۔
ثانیا: زعم کیا کہ احاطہ الہی صرف ازروئے علم ہے حالانکہ اس مسئلہ کا یہاں کچھ ذکر نہ تھا مگر اس نے اس بیان سے اپنی وہ گمراہی پالنی چاہی ہے۔کہ اﷲ تعالی عرش پر ہے اور عرش کے سوا
وعزتی و جلالی وارتفاع مکانی الخ ۔ میری عزتمیرے جلال اور میرے بلند مکان کی قسم الخ (ت)
ہاں جن صفات سے کلام شارع ساکت ہے ان میں سکوت لازم ہے بعض اشخاص بریلی نے جو علم منقول وعقائد اہل حق سے بے بہرہ ہیں اس عقیدہ صحیحہ کے معتقد کو بزورگمراہی گمراہ بنایا " و ما لہم بہ من علم " ۔ (ان کو اس کا علم نہیں۔ت)ایسے شخص سے اہل اسلام کو بچنا چاہیے۔
ضرب قہاری
(۱۸ ۱۳ھ)
مسلمانو! دیکھو اس گمراہ نے ان چند سطور میں کیسی کیسی جہالتیں ضلالتیں تناقض سفاہتیں اﷲ و رسول پر افتراء علما وکتب پر تہمتیں بھردی ہیں۔
اولا: ادعا کیا کہ استواء علی العرش میں بیٹھنےچڑھنےٹھہرنے کے سوا جو کوئی اور معنی کہے بدعتی ہے اور اسی کی سند میں بکمال جرات و بے حیائی ان نو کتابوں کے نام گن دیئے۔
ثانیا: زعم کیا کہ احاطہ الہی صرف ازروئے علم ہے حالانکہ اس مسئلہ کا یہاں کچھ ذکر نہ تھا مگر اس نے اس بیان سے اپنی وہ گمراہی پالنی چاہی ہے۔کہ اﷲ تعالی عرش پر ہے اور عرش کے سوا
حوالہ / References
القرآن الکریم ۶۵ /۱۲
صحیح بخاری کتاب التوحید باب قول اﷲ تعالٰی وکلم اﷲ موسٰی تکلیمًا قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۱۱۲۰
مشکوۃ المصابیح باب الاستغفار والتوبۃ الفصل الثانی قدیمی کتب خانہ کراچی ص ۲۰۴
القرآن الکریم ۵۳ /۲۸
صحیح بخاری کتاب التوحید باب قول اﷲ تعالٰی وکلم اﷲ موسٰی تکلیمًا قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۱۱۲۰
مشکوۃ المصابیح باب الاستغفار والتوبۃ الفصل الثانی قدیمی کتب خانہ کراچی ص ۲۰۴
القرآن الکریم ۵۳ /۲۸
کہیں نہیں۔
ثالثا: منہ بھر کر اس سبوح قدوس کو گالی دی کہ اس کے لیے مکان ثابت ہےعرش اس کا مکان ہےاور اس کے ثبوت میں بزور زبان دو حدیثیں نقل کردیں۔
رابعا: یہ تین دعوے تو منطوق عبارت تھے مفہوم استثناء سے بتایا کہ استواء علی العرش کے معنی اﷲ تعالی کا عرش پر بیٹھنا چڑھناٹھہرنا مطابق سنت ہیں۔
خامسا:اپنے معبود کو بٹھانےچڑھانےٹھہرانے ہی پر قناعت نہ کی بلکہ ان لفظوں کے مفہوم سے کہ جن صفات سے کلام شارع ساکت ہے ان میں سکوت لازم ہے تمام متشابہات استواء کی طرح انہیں معانی پر محمول کرلیں جو ان کے ظاہر سے مفہوم ہوتے ہیں۔
سادسا: باوصف ان کے اصل دعوی یہ ہے کہ خدا عرش کے سوا کہیں نہیں۔
ہم بھی ان چھ باتوں کو بعونہ تعالی ا سی ترتیب پر چھ تپانچوں سے خبر لیں اور ساتویں تپانچے میں دو مسئلہ باقیہ کے متعلق اجمالی گوشمالی کریں وباﷲ التوفیق۔
پہلا تپانچہ
گمراہ نے ادعا کیا کہ اﷲ تعالی کے بیٹھنےچڑھنےٹھہرنے کے سوا جو کوئی اور معنی استواء کے کہے بدعتی ہےاور اس پر ان نو۹ کتابوں کا حوالہ دیا۔
ضرب اول:فقیر نے اگر یہ التزام نہ کیا ہوتا کہ اس کی گنائی ہوئی کتابوں سے سند لاؤں گا تو آپ سیر دیکھتے کہ یہ تپانچہ اس گمراہ کو کیونکر خاك و خون میں لٹاتا مگر اجمالا اقوال مذکورہ بالا ہی ملاحظہ ہوجائیں کہ اس گمراہ نے کس کس امام دین و سنت کو بدعتی بنا دیا۱امام ابوالحسن علی ابن بطالی۲امام ابن حجر عسقلانی۳امام ابوطاہر قزوینی۴امام عارف شعرانی۵امام جلال الدین سیوطی ۶امام اسمعیل ضریر ۷حتی کہ خود امام اہلسنت سیدنا امام ابوالحسن اشعری رضی اﷲ تعالی عنہم اجمعینتو کم از کم اس ضرب کو سات۷ ضرب سمجھئے بلکہ تیرہ۱۳ کہ امام نسفی وامام بیہقی وامام بغوی و امام علی بن محمد ابوالحسن طبری و امام ابوبکر بن فورك وامام ابو منصور بن ابی ایوب کے اقوال عنقریب آتے ہیں۔یہ حضرات بھی اس بدعتی کے طور پر معاذ اﷲ بدعتی ہوئےاور بیس۲۰ ضرب اوپر گزریں جملہ تینتس۳۳ ہوئیںآگے چلیے اور اب صرف اس کے مستندوں سے اس کی خبر لیجئے۔
ضرب ۳۴:مدارك شریف سورہ سجدہ میں استواء علی العرش کا حاصل اس کا احداث اور
ثالثا: منہ بھر کر اس سبوح قدوس کو گالی دی کہ اس کے لیے مکان ثابت ہےعرش اس کا مکان ہےاور اس کے ثبوت میں بزور زبان دو حدیثیں نقل کردیں۔
رابعا: یہ تین دعوے تو منطوق عبارت تھے مفہوم استثناء سے بتایا کہ استواء علی العرش کے معنی اﷲ تعالی کا عرش پر بیٹھنا چڑھناٹھہرنا مطابق سنت ہیں۔
خامسا:اپنے معبود کو بٹھانےچڑھانےٹھہرانے ہی پر قناعت نہ کی بلکہ ان لفظوں کے مفہوم سے کہ جن صفات سے کلام شارع ساکت ہے ان میں سکوت لازم ہے تمام متشابہات استواء کی طرح انہیں معانی پر محمول کرلیں جو ان کے ظاہر سے مفہوم ہوتے ہیں۔
سادسا: باوصف ان کے اصل دعوی یہ ہے کہ خدا عرش کے سوا کہیں نہیں۔
ہم بھی ان چھ باتوں کو بعونہ تعالی ا سی ترتیب پر چھ تپانچوں سے خبر لیں اور ساتویں تپانچے میں دو مسئلہ باقیہ کے متعلق اجمالی گوشمالی کریں وباﷲ التوفیق۔
پہلا تپانچہ
گمراہ نے ادعا کیا کہ اﷲ تعالی کے بیٹھنےچڑھنےٹھہرنے کے سوا جو کوئی اور معنی استواء کے کہے بدعتی ہےاور اس پر ان نو۹ کتابوں کا حوالہ دیا۔
ضرب اول:فقیر نے اگر یہ التزام نہ کیا ہوتا کہ اس کی گنائی ہوئی کتابوں سے سند لاؤں گا تو آپ سیر دیکھتے کہ یہ تپانچہ اس گمراہ کو کیونکر خاك و خون میں لٹاتا مگر اجمالا اقوال مذکورہ بالا ہی ملاحظہ ہوجائیں کہ اس گمراہ نے کس کس امام دین و سنت کو بدعتی بنا دیا۱امام ابوالحسن علی ابن بطالی۲امام ابن حجر عسقلانی۳امام ابوطاہر قزوینی۴امام عارف شعرانی۵امام جلال الدین سیوطی ۶امام اسمعیل ضریر ۷حتی کہ خود امام اہلسنت سیدنا امام ابوالحسن اشعری رضی اﷲ تعالی عنہم اجمعینتو کم از کم اس ضرب کو سات۷ ضرب سمجھئے بلکہ تیرہ۱۳ کہ امام نسفی وامام بیہقی وامام بغوی و امام علی بن محمد ابوالحسن طبری و امام ابوبکر بن فورك وامام ابو منصور بن ابی ایوب کے اقوال عنقریب آتے ہیں۔یہ حضرات بھی اس بدعتی کے طور پر معاذ اﷲ بدعتی ہوئےاور بیس۲۰ ضرب اوپر گزریں جملہ تینتس۳۳ ہوئیںآگے چلیے اور اب صرف اس کے مستندوں سے اس کی خبر لیجئے۔
ضرب ۳۴:مدارك شریف سورہ سجدہ میں استواء علی العرش کا حاصل اس کا احداث اور
پیدا کرنا لیا یہ انہیں معنی سوم کے قریب ہے جو اوپر گزرے۔
ضرب ۳۵:اس سورۃ اور سورہ فرقان کے سوا کہ وہاں استواء کی تفسیر سے سکوت مطلق ہے باقی پانچوں جگہ اس کے معنی استیلاء و غلبہ و قابو بتائے۔حدید میں ہے:ثم استوی استولی علی العرش ۔(پھر عرش پر استواء فرمایا۔ت)رعد میں ہے:
استولی بالاقتدار ونفوذ السلطان اقتدار اور حکومت کا مالك ہوا۔(ت)
اعراف میں ہے:
اضاف الاستیلاء الی العرش وان کان سبحنہ وتعالی مستولیا علی جمیع المخلوقات لان العرش اعظمھا و اعلاھا ۔ یعنی اﷲ تعالی کا قابو اس کی تمام مخلوقات پر ہےخاص عرش پر قابو ہونے کا ذکر اس لیے فرمایا کہ عرش سب مخلوقات سے جسامت میں بڑا اور سب سے اوپر ہے۔
ضرب ۳۶:سورہ طہ میں بعد ذکر معنی استیلاء ایك وجہ یہ نقل فرمائی۔
لما کان الاستواء علی العرش وھو سریر الملك مما یردف الملك جعلوہ کنایۃ عن الملك فقال استوی فلان علی العرش ای ملك وان لم یقعد علی السریر البتۃ وھذا کقولك یدفلان مبسوطۃ ای جواد وان لم یکن لہ ید رأسا ۔ یعنی جب کہ تخت نشینی آثار شاہی سے ہے تو عرف میں تخت نشینی بولتے اور اس سے سلطنت مراد لیتے ہیںکہتے ہیں فلاں شخص تخت نشین ہوایعنی بادشاہ ہوا اگرچہ اصلا تخت پر نہ بیٹھا ہوجس طرح تیرے اس کہنے سے کہ فلاں کا ہاتھ کشادہ ہے اس کا سخی ہونا مراد ہوتا ہے اگرچہ وہ سرے سے ہاتھ ہی نہ رکھتا ہو۔
حاصل یہ کہ استواء علی العرش بمعنی بادشاہی ہے حقیقۃ بیٹھنا ہر گز لازم نہیںجب
ضرب ۳۵:اس سورۃ اور سورہ فرقان کے سوا کہ وہاں استواء کی تفسیر سے سکوت مطلق ہے باقی پانچوں جگہ اس کے معنی استیلاء و غلبہ و قابو بتائے۔حدید میں ہے:ثم استوی استولی علی العرش ۔(پھر عرش پر استواء فرمایا۔ت)رعد میں ہے:
استولی بالاقتدار ونفوذ السلطان اقتدار اور حکومت کا مالك ہوا۔(ت)
اعراف میں ہے:
اضاف الاستیلاء الی العرش وان کان سبحنہ وتعالی مستولیا علی جمیع المخلوقات لان العرش اعظمھا و اعلاھا ۔ یعنی اﷲ تعالی کا قابو اس کی تمام مخلوقات پر ہےخاص عرش پر قابو ہونے کا ذکر اس لیے فرمایا کہ عرش سب مخلوقات سے جسامت میں بڑا اور سب سے اوپر ہے۔
ضرب ۳۶:سورہ طہ میں بعد ذکر معنی استیلاء ایك وجہ یہ نقل فرمائی۔
لما کان الاستواء علی العرش وھو سریر الملك مما یردف الملك جعلوہ کنایۃ عن الملك فقال استوی فلان علی العرش ای ملك وان لم یقعد علی السریر البتۃ وھذا کقولك یدفلان مبسوطۃ ای جواد وان لم یکن لہ ید رأسا ۔ یعنی جب کہ تخت نشینی آثار شاہی سے ہے تو عرف میں تخت نشینی بولتے اور اس سے سلطنت مراد لیتے ہیںکہتے ہیں فلاں شخص تخت نشین ہوایعنی بادشاہ ہوا اگرچہ اصلا تخت پر نہ بیٹھا ہوجس طرح تیرے اس کہنے سے کہ فلاں کا ہاتھ کشادہ ہے اس کا سخی ہونا مراد ہوتا ہے اگرچہ وہ سرے سے ہاتھ ہی نہ رکھتا ہو۔
حاصل یہ کہ استواء علی العرش بمعنی بادشاہی ہے حقیقۃ بیٹھنا ہر گز لازم نہیںجب
حوالہ / References
مدارك التنزیل(تفسیر النسفی) آیۃ ۵۷/ ۴ دارالکتاب العربی بیروت ۴/ ۲۲۳
مدارك التنزیل(تفسیر النسفی) آیۃ ۱۳/ ۲ دارالکتاب العربی بیروت ۲/ ۲۴۱
مدارك التنزیل(تفسیر النسفی) آیۃ ۷/ ۵۴ دارالکتاب العربی بیروت ۲/ ۵۶
مدارك التنزیل(تفسیر النسفی) آیۃ ۲۰ /۵ دارالکتاب العربی بیروت ۳/ ۴۸
مدارك التنزیل(تفسیر النسفی) آیۃ ۱۳/ ۲ دارالکتاب العربی بیروت ۲/ ۲۴۱
مدارك التنزیل(تفسیر النسفی) آیۃ ۷/ ۵۴ دارالکتاب العربی بیروت ۲/ ۵۶
مدارك التنزیل(تفسیر النسفی) آیۃ ۲۰ /۵ دارالکتاب العربی بیروت ۳/ ۴۸
خلق کے باب میں یہ محاورہ ہے جن کا اٹھنا بیٹھنا سب ممکنتو خالق عزوجل کے بارے میں اس سے معاذ اﷲ حقیقۃ بیٹھنا سمجھ لینا کیسا ظلم صریح ہے۔
ضرب ۳۷:معالم سورہ اعراف کا بیان تو وہ تھا کہ اہلسنت کا طریقہ سکوت ہے اتنا جانتے ہیں کہ استواء اﷲ تعالی کی ایك صفت ہے اور اس کے معنی کا علم اﷲ کے سپرد ہےیہ طریقہ سلف صالحین تھاسورہ رعد میں استواء کو علوسے تاویل کیا۔یہ معنی دوم ہیں کہ اوپر گزرے۔
ضرب ۳۸:امام بیہقی نے کتاب الاسماء میں دربارہ استواء ائمہ متقدمین کا وہ مسلك ارشاد فرمایا جس کا بیان اوپر گزرا۔پھر فرمایا:
وذھب ابوالحسن علی بن اسمعیل الاشعری الی ان اﷲ تعالی جل ثناؤہ فعل فی العرش فعلا سماہ استواء کما فعل فی غیرہ فعلا سماہ رزقا اونعمۃ اوغیرھما من افعالہ ثم لم یکیف الاستواء الا انہ جعلہ من صفات الفعل لقولہ تعالی ثم استوی علی العرش وثم للتراخی والتراخی انما یکون فی الافعال وافعال اﷲ تعالی توجد بلامباشرۃ منہ ایاھا ولا حرکۃ۔ یعنی امام اہلسنت امام ابوالحسن اشعری نے فرمایا کہ اﷲ عزوجل نے عرش کے ساتھ کوئی فعل فرمایا ہے جس کا نام استواء رکھا ہے جیسے من و تو زید و عمرو کے ساتھ افعال فرمائے اور ان کا نام رزق و نعمت وغیرہ رکھا اس فعل استواء کی کیفیت ہم نہیں جانتے اتنا ضرور ہے کہ اس کے افعال میں مخلوق کے ساتھ ملناچھوناان سے لگاہوا ہونا یا حرکت کرنا نہیں جیسے بیٹھنے چڑھنے وغیرہ میں ہے اور استواء کے فعل ہونے پر دلیل یہ ہے کہ اﷲ تعالی نے فرمایا پھر عرش پر استواء کیا تو معلوم ہوا کہ استواء حادث ہے پہلے نہ تھا اور حدوث افعال میں ہوسکتا ہے اﷲ تعالی کی صفات ذات حدوث سے پاك ہیںتو ثابت ہوا کہ استواء اﷲ تعالی کی کوئی صفت ذاتی نہیں بلکہ اس کے کاموں میں سے ایك کام ہے جس کی کیفیت ہمیں معلوم نہیں۔
ضرب ۳۷:معالم سورہ اعراف کا بیان تو وہ تھا کہ اہلسنت کا طریقہ سکوت ہے اتنا جانتے ہیں کہ استواء اﷲ تعالی کی ایك صفت ہے اور اس کے معنی کا علم اﷲ کے سپرد ہےیہ طریقہ سلف صالحین تھاسورہ رعد میں استواء کو علوسے تاویل کیا۔یہ معنی دوم ہیں کہ اوپر گزرے۔
ضرب ۳۸:امام بیہقی نے کتاب الاسماء میں دربارہ استواء ائمہ متقدمین کا وہ مسلك ارشاد فرمایا جس کا بیان اوپر گزرا۔پھر فرمایا:
وذھب ابوالحسن علی بن اسمعیل الاشعری الی ان اﷲ تعالی جل ثناؤہ فعل فی العرش فعلا سماہ استواء کما فعل فی غیرہ فعلا سماہ رزقا اونعمۃ اوغیرھما من افعالہ ثم لم یکیف الاستواء الا انہ جعلہ من صفات الفعل لقولہ تعالی ثم استوی علی العرش وثم للتراخی والتراخی انما یکون فی الافعال وافعال اﷲ تعالی توجد بلامباشرۃ منہ ایاھا ولا حرکۃ۔ یعنی امام اہلسنت امام ابوالحسن اشعری نے فرمایا کہ اﷲ عزوجل نے عرش کے ساتھ کوئی فعل فرمایا ہے جس کا نام استواء رکھا ہے جیسے من و تو زید و عمرو کے ساتھ افعال فرمائے اور ان کا نام رزق و نعمت وغیرہ رکھا اس فعل استواء کی کیفیت ہم نہیں جانتے اتنا ضرور ہے کہ اس کے افعال میں مخلوق کے ساتھ ملناچھوناان سے لگاہوا ہونا یا حرکت کرنا نہیں جیسے بیٹھنے چڑھنے وغیرہ میں ہے اور استواء کے فعل ہونے پر دلیل یہ ہے کہ اﷲ تعالی نے فرمایا پھر عرش پر استواء کیا تو معلوم ہوا کہ استواء حادث ہے پہلے نہ تھا اور حدوث افعال میں ہوسکتا ہے اﷲ تعالی کی صفات ذات حدوث سے پاك ہیںتو ثابت ہوا کہ استواء اﷲ تعالی کی کوئی صفت ذاتی نہیں بلکہ اس کے کاموں میں سے ایك کام ہے جس کی کیفیت ہمیں معلوم نہیں۔
حوالہ / References
کتاب الاسماء والصفات للبیہقی باب ماجاء فی قول اﷲ تعالٰی الرحمن علی العرش استوٰی المکتبۃ الاثریہ سانگلہ ہل شیخوپورہ ۲/ ۱۵۲
ضرب ۳۹:ابوالحسن علی بن محمد طبری وغیرہ ائمہ متکلمین سے نقل فرمایا:
القدیم سبحنہ عال علی عرشہ لا قاعد ولاقائم ولا مماس و لامبائن عن العرشیریدبہ مباینۃ الذات التی ھی بمعنی الاعتزال اوالتباعد لان المماسۃ و المباینۃ التی ھی ضدھا والقیام والقعود من اوصاف الاجسامواﷲ عزوجل احد صمد لم یلد ولم یولد و لم یکن لہ کفوا احدفلایجوز علیہ مایجوز علی الاجسام تبارك وتعالی۔ مولی تعالی عرش پر علو رکھتا ہے مگر نہ اس پر بیٹھا ہے نہ کھڑا نہ اس سے لگا ہوا نہ اس معنی پر جدا کہ اس سے ایك کنارے پر ہو یا دور ہو کہ لگایا الگ ہونا اور اٹھنا بیٹھنا تو جسم کی صفتیں ہیں اور اﷲ تعالی احد صمد ہےنہ جنا نہ جنا گیانہ اس کے جوڑ کا کوئی تو جو باتیں اجسام پر روا ہیں اﷲ عزوجل پر روا نہیں ہوسکتیں۔
ضرب ۴۰:امام استاذ ابوبکر بن فورك سے نقل فرمایا کہ انہوں نے بعض ائمہ اہلنست سے حکایت کی:
استوی بمعنی علا ولا یرید بذلك علوا بالمسافۃ و التحیز والکون فی مکان متمکنافیہ ولکن یرید معنی قول اﷲ عزوجل ء امنتم من فی السماء ای من فوقہا علی معنی نفی الحد عنہ وانہ لیس ممایحویہ طبق او یحیط بہ قطر۔ یعنی استواء بمعنی علو ہے اور اس سے مسافت کی بلندی یا مکان میں ہونا مراد نہیں بلکہ یہ کہ وہ حدو نہایت سے پاك ہے عرش و فرش کا کوئی طبقہ اسے محیط نہیں ہوسکتا نہ کوئی مکان اسے گھیرےاسی معنی پر قرآن عظیم میں اسے آسمان کے اوپر فرمایایعنی اس سے بلند و بالا ہے کہ آسمان میں سماسکے۔
امام بیہقی فرماتے ہیں:
قلت وھو علی ھذہ الطریقۃ من حاصل یہ کہ اس طریقہ پر استواء صفات ذات
القدیم سبحنہ عال علی عرشہ لا قاعد ولاقائم ولا مماس و لامبائن عن العرشیریدبہ مباینۃ الذات التی ھی بمعنی الاعتزال اوالتباعد لان المماسۃ و المباینۃ التی ھی ضدھا والقیام والقعود من اوصاف الاجسامواﷲ عزوجل احد صمد لم یلد ولم یولد و لم یکن لہ کفوا احدفلایجوز علیہ مایجوز علی الاجسام تبارك وتعالی۔ مولی تعالی عرش پر علو رکھتا ہے مگر نہ اس پر بیٹھا ہے نہ کھڑا نہ اس سے لگا ہوا نہ اس معنی پر جدا کہ اس سے ایك کنارے پر ہو یا دور ہو کہ لگایا الگ ہونا اور اٹھنا بیٹھنا تو جسم کی صفتیں ہیں اور اﷲ تعالی احد صمد ہےنہ جنا نہ جنا گیانہ اس کے جوڑ کا کوئی تو جو باتیں اجسام پر روا ہیں اﷲ عزوجل پر روا نہیں ہوسکتیں۔
ضرب ۴۰:امام استاذ ابوبکر بن فورك سے نقل فرمایا کہ انہوں نے بعض ائمہ اہلنست سے حکایت کی:
استوی بمعنی علا ولا یرید بذلك علوا بالمسافۃ و التحیز والکون فی مکان متمکنافیہ ولکن یرید معنی قول اﷲ عزوجل ء امنتم من فی السماء ای من فوقہا علی معنی نفی الحد عنہ وانہ لیس ممایحویہ طبق او یحیط بہ قطر۔ یعنی استواء بمعنی علو ہے اور اس سے مسافت کی بلندی یا مکان میں ہونا مراد نہیں بلکہ یہ کہ وہ حدو نہایت سے پاك ہے عرش و فرش کا کوئی طبقہ اسے محیط نہیں ہوسکتا نہ کوئی مکان اسے گھیرےاسی معنی پر قرآن عظیم میں اسے آسمان کے اوپر فرمایایعنی اس سے بلند و بالا ہے کہ آسمان میں سماسکے۔
امام بیہقی فرماتے ہیں:
قلت وھو علی ھذہ الطریقۃ من حاصل یہ کہ اس طریقہ پر استواء صفات ذات
حوالہ / References
کتاب الاسماء والصفات للبیہقی باب ماجاء فی قول اﷲ تعالٰی الرحمن علی العرش استوٰی المکتبۃ الاثریۃ سانگلہ ہل شیخوپورہ ۲/ ۱۵۲
کتاب الاسماء والصفات للبیہقی باب ماجاء فی قول اﷲ تعالٰی الرحمن علی العرش استوٰی المکتبۃ الاثریۃ سانگلہ ہل شیخوپورہ ۲/ ۱۵۲۔۱۵۳
کتاب الاسماء والصفات للبیہقی باب ماجاء فی قول اﷲ تعالٰی الرحمن علی العرش استوٰی المکتبۃ الاثریۃ سانگلہ ہل شیخوپورہ ۲/ ۱۵۲۔۱۵۳
صفات الذات و کلمۃ ثم تعلقت بالمستوی علیہلا بالاستواء وھو کقولہ عزوجل ثم اﷲ شھید علی مایفعلون یعنی ثم یکون عملھم فیشھدہ وقداشار ابوالحسن علی بن اسمعیل الی ھذہ الطریقۃ حکایۃ فقال وقال بعض اصحابنا انہ صفۃ ذات ولا یقال لم یزل مستویا علی عرشہ کما ان العلم بان الاشیاء قد حدثت من صفات الذاتولایقال لم یزل عالما بان قد حدثت ولما حدثت بعد ۔ سے ہوگا کہ اﷲ سبحنہ بذاتہ اپنی تمام مخلوق سے بلندوبالا ہے نہ بلندی مکان بلکہ بلندی مالکیت وسلطاناور اب پھر کا لفظ نظر بحدوث عرش ہوگا کہ وہ بلندی ذاتی ہر حادث سے اس کے حدوث کے بعد متعلق ہوتی ہے جیسے قرآن عظیم میں فرمایا کہ پھر اﷲ شاہد ہے ان کے افعال پر یعنی جب ان کے افعال پیدا ہوئے تو شہود الہی ان سے متعلق ہوا جس طرح علم الہی قدیم ہے مگر یہ علم کہ چیز حادث ہوگئی اس کے حدوث کے بعد ہی متعلق ہوگا یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ ازل میں جانتا تھا کہ اشیاء پیدا ہوچکیں حالانکہ ہنوز ناپیدا تھیں۔
ضرب ۴۱:پھر امام اہلسنت قدس سرہ سے نقل فرمایا:
وجو ابی ھوالاول وھو ان اﷲ مستوی علی عرشہ وانہ فوق الاشیاء بائن منہا بمعنی انہا لا تحلہ ولا یحلھا ولا یمسہا ولا یشبہہا ولیست البینونۃ بالعزلۃ تعالی اﷲ ربنا عن الحلول والمماسۃ علوا کبیرا ۔ میرا قول وہی پہلا ہے کہ اﷲ عزوجل نے عرش کے ساتھ فعل استواء کیا اور ایك عرش ہی کیا وہ تمام اشیاء سے بالا اور سب سے جدا ہے بایں معنی کہ نہ اشیاء اس میں حلول کریں نہ وہ ان میںنہ وہ ان سے مس کرے نہ ان سے کوئی مشابہت رکھےاور یہ جدائی نہیں کہ اﷲ تعالی اشیاء سے ایك کنارے پر ہوہمارا رب حلول و مس وفاصلہ وعزلت سے بہت بلند ہےجل وعلا۔
دیکھو ائمہ اہلسنت بیٹھنےچڑھنےٹھہرنے کی کیسی جڑ کاٹ رہے ہیں۔
ضرب ۴۱:پھر امام اہلسنت قدس سرہ سے نقل فرمایا:
وجو ابی ھوالاول وھو ان اﷲ مستوی علی عرشہ وانہ فوق الاشیاء بائن منہا بمعنی انہا لا تحلہ ولا یحلھا ولا یمسہا ولا یشبہہا ولیست البینونۃ بالعزلۃ تعالی اﷲ ربنا عن الحلول والمماسۃ علوا کبیرا ۔ میرا قول وہی پہلا ہے کہ اﷲ عزوجل نے عرش کے ساتھ فعل استواء کیا اور ایك عرش ہی کیا وہ تمام اشیاء سے بالا اور سب سے جدا ہے بایں معنی کہ نہ اشیاء اس میں حلول کریں نہ وہ ان میںنہ وہ ان سے مس کرے نہ ان سے کوئی مشابہت رکھےاور یہ جدائی نہیں کہ اﷲ تعالی اشیاء سے ایك کنارے پر ہوہمارا رب حلول و مس وفاصلہ وعزلت سے بہت بلند ہےجل وعلا۔
دیکھو ائمہ اہلسنت بیٹھنےچڑھنےٹھہرنے کی کیسی جڑ کاٹ رہے ہیں۔
حوالہ / References
کتاب الاسماء والصفات للبیہقی باب ماجاء فی قول اﷲ تعالٰی الرحمن علٰی العرش استوٰی المکتبۃ الاثریۃ سانگلہ ہل شیخوپورہ ۲/ ۱۵۳
کتاب الاسماء والصفات للبیہقی باب ماجاء فی قول اﷲ تعالٰی الرحمن علٰی العرش استوٰی المکتبۃ الاثریۃ سانگلہ ہل شیخوپورہ ۲/ ۱۵۳
کتاب الاسماء والصفات للبیہقی باب ماجاء فی قول اﷲ تعالٰی الرحمن علٰی العرش استوٰی المکتبۃ الاثریۃ سانگلہ ہل شیخوپورہ ۲/ ۱۵۳
ضرب ۴۲:پھر امام اہلسنت سے نقل فرمایا:
وقد قال بعض اصحابنا ان الاستواء صفۃ اﷲ تعالی ینفی الاعوجاج عنہ ۔ یعنی بعض ائمہ اہلسنت نے فرمایا کہ صفت استواء کے معنی ہیں کہ اﷲ عزوجل کجی سے پاك ہے۔
اقول:(میں کہتا ہوںت)اس تقدیر پر استواء صفات سلبیہ سے ہوگا جیسے غنی یعنی کسی کامحتاج نہیںیونہی مستوی یعنی اس میں کجی اور اعوجاج نہیںاور اب علی ظرف مستقر ہوگا اور اسی علوملك وسلطان کا مفیداور ثم تراخی فی الذکر کے لیے (ت) کقولہ تعالی: " ثم کان من الذین امنوا" (پھر ایمان والوں میں ہوا۔ت)وقولہ تعالی خلقہ من تراب ثم قال لہ کن فیکون﴿۵۹﴾"" (اس کو مٹی سے پیدا کیا پھر اس کو فرمایا ہوجاتو وہ ہوگیا۔ت) واﷲ تعالی اعلم۔
ضرب ۴۳:پھر امام استاذ ابومنصور ابن ابی ایوب سے نقل فرمایا کہ انہوں نے مجھے لکھ بھیجا:
یعنی بہت متاخرین علمائے اہل سنت اس طرف گئے کہ استواء بمعنی قہر و غلبہ ہےآیت کے معنی یہ ہیں کہ رحمن عزجلالہ عرش پر غالب اور اس کا قاہر ہےاور اس ارشاد کا فائدہ یہ خبر دینا ہے کہ مولی تعالی اپنی تمام مملوکات پر قابو رکھتا ہے مملوکات کا اس پر قابو نہیں اور عرش کا خاص ذکر اس لیے فرمایا کہ وہ جسامت میں سب مملوکات سے بڑا ہےتو اس کے ذکر سے باقی سب پر تنبیہ فرمادی اور استواء بمعنی قہر و غلبہ زبان عرب میں شائع ہے۔پھر نژو نظم سے اس کی نظریں پیش کیں کہ ان کثیرا من متاخری اصحابنا ذھبوا الی ان الاستواء ھوالقھروالغلبۃو معناہ ان الرحمن غلب العرش و قھرہوفائدتہ الاخبار عن قھرہ مملوکاتہوانہا لم تقھرہ وانما خص العرش بالذکر لا نہ اعظم المملوکات فنبہ بالاعلی علی الادنیقال والاستواء بعمنی القھر و الغلبۃ شائع فی اللغۃ کما یقال استوی فلان علی الناحیۃ اذا غلب اھلہا وقال الشاعر فی
وقد قال بعض اصحابنا ان الاستواء صفۃ اﷲ تعالی ینفی الاعوجاج عنہ ۔ یعنی بعض ائمہ اہلسنت نے فرمایا کہ صفت استواء کے معنی ہیں کہ اﷲ عزوجل کجی سے پاك ہے۔
اقول:(میں کہتا ہوںت)اس تقدیر پر استواء صفات سلبیہ سے ہوگا جیسے غنی یعنی کسی کامحتاج نہیںیونہی مستوی یعنی اس میں کجی اور اعوجاج نہیںاور اب علی ظرف مستقر ہوگا اور اسی علوملك وسلطان کا مفیداور ثم تراخی فی الذکر کے لیے (ت) کقولہ تعالی: " ثم کان من الذین امنوا" (پھر ایمان والوں میں ہوا۔ت)وقولہ تعالی خلقہ من تراب ثم قال لہ کن فیکون﴿۵۹﴾"" (اس کو مٹی سے پیدا کیا پھر اس کو فرمایا ہوجاتو وہ ہوگیا۔ت) واﷲ تعالی اعلم۔
ضرب ۴۳:پھر امام استاذ ابومنصور ابن ابی ایوب سے نقل فرمایا کہ انہوں نے مجھے لکھ بھیجا:
یعنی بہت متاخرین علمائے اہل سنت اس طرف گئے کہ استواء بمعنی قہر و غلبہ ہےآیت کے معنی یہ ہیں کہ رحمن عزجلالہ عرش پر غالب اور اس کا قاہر ہےاور اس ارشاد کا فائدہ یہ خبر دینا ہے کہ مولی تعالی اپنی تمام مملوکات پر قابو رکھتا ہے مملوکات کا اس پر قابو نہیں اور عرش کا خاص ذکر اس لیے فرمایا کہ وہ جسامت میں سب مملوکات سے بڑا ہےتو اس کے ذکر سے باقی سب پر تنبیہ فرمادی اور استواء بمعنی قہر و غلبہ زبان عرب میں شائع ہے۔پھر نژو نظم سے اس کی نظریں پیش کیں کہ ان کثیرا من متاخری اصحابنا ذھبوا الی ان الاستواء ھوالقھروالغلبۃو معناہ ان الرحمن غلب العرش و قھرہوفائدتہ الاخبار عن قھرہ مملوکاتہوانہا لم تقھرہ وانما خص العرش بالذکر لا نہ اعظم المملوکات فنبہ بالاعلی علی الادنیقال والاستواء بعمنی القھر و الغلبۃ شائع فی اللغۃ کما یقال استوی فلان علی الناحیۃ اذا غلب اھلہا وقال الشاعر فی
حوالہ / References
کتاب الاسماء والصفات للبیہقی باب ماجاء فی قول اﷲ تعالٰی الرحمن علی العرش استوٰی المکتبۃ الاثریۃ سانگلہ ہل شیخوپورہ ۲/ ۱۵۳
القرآن الکریم ۹۰ /۱۷
القرآن الکریم ۳ /۵۹
القرآن الکریم ۹۰ /۱۷
القرآن الکریم ۳ /۵۹
بشربن مروان
قد استوی بشر علی العراق
من غیر سیف ودم مھراق
یریدانہ غلب اھلہ من غیر محاربۃ۔ جب کوئی شخص کسی بستی والوں پر غالب آجائے تو کہا جاتا ہے استوی فلان علی الناحیۃ اور شاعر نے بشر بن مروان کے بارے میں کہا تحقیق بشر عراق پر غالب آگیا تلوار کے ساتھ خون بہائے بغیرشاعر کی مراد یہ ہے کہ وہ جنگ کیے بغیر بستی والوں پر غالب آگیا۔(ت)
گمراہ وہابیو! تم نے دیکھا کہ تمہاری ہی پیش کردہ کتابوں نے تمہیں کیا کیا سزائے کردار کو پہنچایا مگر تمہیں حیا کہاں!
دوسرا تپانچہ:
جاہل بے خرد نے بك دیا کہ اﷲ تعالی کا احاطہ فقط ازروئے علم ہے اس میں اﷲ تعالی کی قدرت کا بھی منکر ہوااﷲ عزوجل کی صفت بصر سے بھی بے بصر ہوااپنی مستندہ کتابوں کابھی خلاف کیاخود اپنی بے ہودہ تحریر سے بھی تناقض و اختلاف کیا۔وجوہ سنیئے۔
ضرب ۴۴:قال اﷲ تعالی:
" الا انہم فی مریۃ من لقاء ربہم الا انہ بکل شیء محیط ﴿۵۴﴾" سنتا ہے وہ شك میں ہیں اپنے رب سے ملنے سےسنتا ہے خدا ہر چیز کو محیط ہے۔
ضرب ۴۵:قال اﷲ تعالی:
" وکان اللہ بکل شیء محیطا ﴿۱۲۶﴾ " ۔ اﷲ ہر شے کو محیط ہے۔
ضرب ۴۶:قال اﷲ تعالی:
" و اللہ من و رائہم محیط ﴿۲۰﴾" ۔ اﷲ ان کے آس پاس سے محیط ہے۔
ان تینوں آیتوں میں اﷲ عزوجل کو محیط بتایا ہےاحاطہ علم کی آیت جدا ہے۔
قد استوی بشر علی العراق
من غیر سیف ودم مھراق
یریدانہ غلب اھلہ من غیر محاربۃ۔ جب کوئی شخص کسی بستی والوں پر غالب آجائے تو کہا جاتا ہے استوی فلان علی الناحیۃ اور شاعر نے بشر بن مروان کے بارے میں کہا تحقیق بشر عراق پر غالب آگیا تلوار کے ساتھ خون بہائے بغیرشاعر کی مراد یہ ہے کہ وہ جنگ کیے بغیر بستی والوں پر غالب آگیا۔(ت)
گمراہ وہابیو! تم نے دیکھا کہ تمہاری ہی پیش کردہ کتابوں نے تمہیں کیا کیا سزائے کردار کو پہنچایا مگر تمہیں حیا کہاں!
دوسرا تپانچہ:
جاہل بے خرد نے بك دیا کہ اﷲ تعالی کا احاطہ فقط ازروئے علم ہے اس میں اﷲ تعالی کی قدرت کا بھی منکر ہوااﷲ عزوجل کی صفت بصر سے بھی بے بصر ہوااپنی مستندہ کتابوں کابھی خلاف کیاخود اپنی بے ہودہ تحریر سے بھی تناقض و اختلاف کیا۔وجوہ سنیئے۔
ضرب ۴۴:قال اﷲ تعالی:
" الا انہم فی مریۃ من لقاء ربہم الا انہ بکل شیء محیط ﴿۵۴﴾" سنتا ہے وہ شك میں ہیں اپنے رب سے ملنے سےسنتا ہے خدا ہر چیز کو محیط ہے۔
ضرب ۴۵:قال اﷲ تعالی:
" وکان اللہ بکل شیء محیطا ﴿۱۲۶﴾ " ۔ اﷲ ہر شے کو محیط ہے۔
ضرب ۴۶:قال اﷲ تعالی:
" و اللہ من و رائہم محیط ﴿۲۰﴾" ۔ اﷲ ان کے آس پاس سے محیط ہے۔
ان تینوں آیتوں میں اﷲ عزوجل کو محیط بتایا ہےاحاطہ علم کی آیت جدا ہے۔
حوالہ / References
کتاب الاسماء والصفات للبیہقی باب ماجاء فی قول اﷲ تعالٰی الرحمن علی العرش استوٰی المکتبۃ الاثریۃ سانگلہ ہل شیخوپورہ ۲/ ۱۵۳
القرآن الکریم ۴۱ /۵۴
القرآن الکریم ۴ /۱۲۶
القرآن الکریم ۸۵ /۲۰
القرآن الکریم ۴۱ /۵۴
القرآن الکریم ۴ /۱۲۶
القرآن الکریم ۸۵ /۲۰
" و ان اللہ قد احاط بکل شیء علما﴿۱۲﴾" ۔ بے شك اﷲ تعالی کاعلم ہر شے کو محیط ہے۔(ت)
ضرب ۴۷:ترجمہ رفیعیہ میں ہے:خبردار ہو تحقیق وہ بیچ شك کے ہیں ملاقات پروردگار اپنے کی سےخبردار ہو تحقیق وہ ہر چیز کو گھیررہا ہے ۔
ضرب ۴۸:اسی میں ہے۔اور ہے اﷲ ساتھ ہر چیز کے گھیرنے والا
ضرب ۴۹:اسی میں ہے:اور اﷲ ان کے پیچھے سے گھیررہا ہے۔
ضرب ۵۰:موضح القرآن میں ہے:سنتا ہے وہ دھوکے میں ہیں اپنے رب کی ملاقات سےسنتا ہے وہ گھیررہا ہے ہر چیز کو۔
ضرب ۵۱:اسی میں زیر آیت ثالثہ ہے:اور اﷲ نے ان کے گرد سے گھیرا ہے۔
ان دونوں تیرے مستند مترجموں نے بھی یہ احاطہ خود اﷲ عزوجل ہی کی طرف نسبت کیا۔
ضرب ۵۲:اسی میں زیر آیت ثانیہ ہے:اﷲ کے ڈھب میں ہےسب چیز ۔یہ احاطہ ازروئے قدرت لیا۔
ضرب ۵۳:جامع البیان میں زیر آیت اولی ہے:
ضرب ۴۷:ترجمہ رفیعیہ میں ہے:خبردار ہو تحقیق وہ بیچ شك کے ہیں ملاقات پروردگار اپنے کی سےخبردار ہو تحقیق وہ ہر چیز کو گھیررہا ہے ۔
ضرب ۴۸:اسی میں ہے۔اور ہے اﷲ ساتھ ہر چیز کے گھیرنے والا
ضرب ۴۹:اسی میں ہے:اور اﷲ ان کے پیچھے سے گھیررہا ہے۔
ضرب ۵۰:موضح القرآن میں ہے:سنتا ہے وہ دھوکے میں ہیں اپنے رب کی ملاقات سےسنتا ہے وہ گھیررہا ہے ہر چیز کو۔
ضرب ۵۱:اسی میں زیر آیت ثالثہ ہے:اور اﷲ نے ان کے گرد سے گھیرا ہے۔
ان دونوں تیرے مستند مترجموں نے بھی یہ احاطہ خود اﷲ عزوجل ہی کی طرف نسبت کیا۔
ضرب ۵۲:اسی میں زیر آیت ثانیہ ہے:اﷲ کے ڈھب میں ہےسب چیز ۔یہ احاطہ ازروئے قدرت لیا۔
ضرب ۵۳:جامع البیان میں زیر آیت اولی ہے:
حوالہ / References
القرآن الکریم ۶۵ /۱۲
ترجمہ شاہ رفیع الدین آیۃ ۴۱ / ۵۴ ممتاز کمپنی لاہور ص ۵۲۹ و۵۳۰
ترجمہ شاہ رفیع الدین آیۃ ۴/ ۱۲۶ ممتاز کمپنی لاہور ص ۱۰۹
ترجمہ شاہ رفیع الدین آیۃ ۸۵/ ۱۲ ممتاز کمپنی لاہور ص ۶۵
موضح القرآن ترجمہ وتفسیر شاہ عبدالقادر ۱۲۱ تاج کمپنی لاہور ص ۵۱۱
موضح القرآن ترجمہ وتفسیر شاہ عبدالقادر۱۲۱ تاج کمپنی لاہور ص ۷۱۶
موضح القرآن ترجمہ وتفسیر شاہ عبدالقادر ۱۲۱ تاج کمپنی لاہور ص ۱۲۰
ترجمہ شاہ رفیع الدین آیۃ ۴۱ / ۵۴ ممتاز کمپنی لاہور ص ۵۲۹ و۵۳۰
ترجمہ شاہ رفیع الدین آیۃ ۴/ ۱۲۶ ممتاز کمپنی لاہور ص ۱۰۹
ترجمہ شاہ رفیع الدین آیۃ ۸۵/ ۱۲ ممتاز کمپنی لاہور ص ۶۵
موضح القرآن ترجمہ وتفسیر شاہ عبدالقادر ۱۲۱ تاج کمپنی لاہور ص ۵۱۱
موضح القرآن ترجمہ وتفسیر شاہ عبدالقادر۱۲۱ تاج کمپنی لاہور ص ۷۱۶
موضح القرآن ترجمہ وتفسیر شاہ عبدالقادر ۱۲۱ تاج کمپنی لاہور ص ۱۲۰
الکل تحت علمہ وقدرتہ ۔ یعنی سب اس کے علم و قدرت کے نیچے ہیں۔
ضرب ۵۴:زیر آیت ثانیہ ہے:بعلمہ وقدرتہ۔اﷲ علم و قدرت دونوں کی رو سے محیط ہے ۔ضرب ۵۵:مدارك شریف میں زیر آیت ثالثہ ہے:
ضعالم باحوالھم وقادر علیھم وھم لایعجزونہ۔ یعنی ا ﷲ ان کے احوال کا عالم اور ان پر قادر ہے وہ اسے عاجز نہیں کرسکتے۔
ضرب ۵۶:کتاب الاسماء میں ہے:
المحیط راجع الی کمال العلم و القدرۃ ۔ اسم الہی محیط کے معنی کمال علم و قدرت کی طرف راجع ہیں۔
ان تیرے مستندوں نے احاطہ فقط ازروئے علم ہونا کیسا باطل کیا۔ضرب ۵۷:اﷲ عزوجل کی بصر بھی محیط ہےقال تعالی:
" انہ بکل شیءۭ بصیر﴿۱۹﴾ " ۔ اﷲ تعالی ہر چیز کو دیکھ رہا ہے۔
ضرب ۵۸:اس کا سمع بھی محیط اشیاء ہے۔
کما حققہ عالم اھل السنۃ مدظلہ فی منھیات سبحن السبوح۔ جیسا کہ عالم اہلسنت نے سبحن السبوح کے منہیات میں اس کی تحقیق فرمائی ہے(ت)
ضرب ۵۹:قدرت بھی محیط ہےقال تعالی:
" ان اللہ علی کل شیء قدیر﴿۲۰﴾" ۔ بے شك اﷲ تعالی ہر شے پر قادر ہے۔(ت)
ضرب ۶۰:خالقیت بھی محیط ہےقال تعالی:
" خلق کل شیء فاعبدوہ " ۔ اﷲ تعالی ہر شے کا خالق ہے پس اسی کی عبادت کرو۔(ت)
ضرب ۵۴:زیر آیت ثانیہ ہے:بعلمہ وقدرتہ۔اﷲ علم و قدرت دونوں کی رو سے محیط ہے ۔ضرب ۵۵:مدارك شریف میں زیر آیت ثالثہ ہے:
ضعالم باحوالھم وقادر علیھم وھم لایعجزونہ۔ یعنی ا ﷲ ان کے احوال کا عالم اور ان پر قادر ہے وہ اسے عاجز نہیں کرسکتے۔
ضرب ۵۶:کتاب الاسماء میں ہے:
المحیط راجع الی کمال العلم و القدرۃ ۔ اسم الہی محیط کے معنی کمال علم و قدرت کی طرف راجع ہیں۔
ان تیرے مستندوں نے احاطہ فقط ازروئے علم ہونا کیسا باطل کیا۔ضرب ۵۷:اﷲ عزوجل کی بصر بھی محیط ہےقال تعالی:
" انہ بکل شیءۭ بصیر﴿۱۹﴾ " ۔ اﷲ تعالی ہر چیز کو دیکھ رہا ہے۔
ضرب ۵۸:اس کا سمع بھی محیط اشیاء ہے۔
کما حققہ عالم اھل السنۃ مدظلہ فی منھیات سبحن السبوح۔ جیسا کہ عالم اہلسنت نے سبحن السبوح کے منہیات میں اس کی تحقیق فرمائی ہے(ت)
ضرب ۵۹:قدرت بھی محیط ہےقال تعالی:
" ان اللہ علی کل شیء قدیر﴿۲۰﴾" ۔ بے شك اﷲ تعالی ہر شے پر قادر ہے۔(ت)
ضرب ۶۰:خالقیت بھی محیط ہےقال تعالی:
" خلق کل شیء فاعبدوہ " ۔ اﷲ تعالی ہر شے کا خالق ہے پس اسی کی عبادت کرو۔(ت)
حوالہ / References
جامع البیان لمحمد بن عبدالرحمن آیہ ۴۱/ ۵۴ دارنشرالکتب الاسلامیہ گوجرانوالہ ۲/ ۲۵۲
جامع البیان لمحمد بن عبدالرحمن آیہ ۴۱/ ۵۴ دارنشرالکتب الاسلامیہ گوجرانوالہ ۱/۱۴۶
مدارك التنزیل(تفسیر النسفی)آیۃ ۸۵/ ۲۰ دارالکتاب العربی بیروت ۴/ ۳۴۷
کتاب الاسماء والصفات للبیہقی ابواب ذکر الاسماء التی متبع فی التشبیہ الخ،المکتبۃ الاثریہ سانگلہ ہل شیخوپورہ ۱/ ۸۱
القرآن الکریم ۶۷ /۱۹
القرآن الکریم ۲ /۲۰ و ۲/ ۱۰۶ و ۲/ ۱۰۹ و ۲/ ۱۴۸ وغیرہ
القرآن الکریم ۶ /۱۰۲
جامع البیان لمحمد بن عبدالرحمن آیہ ۴۱/ ۵۴ دارنشرالکتب الاسلامیہ گوجرانوالہ ۱/۱۴۶
مدارك التنزیل(تفسیر النسفی)آیۃ ۸۵/ ۲۰ دارالکتاب العربی بیروت ۴/ ۳۴۷
کتاب الاسماء والصفات للبیہقی ابواب ذکر الاسماء التی متبع فی التشبیہ الخ،المکتبۃ الاثریہ سانگلہ ہل شیخوپورہ ۱/ ۸۱
القرآن الکریم ۶۷ /۱۹
القرآن الکریم ۲ /۲۰ و ۲/ ۱۰۶ و ۲/ ۱۰۹ و ۲/ ۱۴۸ وغیرہ
القرآن الکریم ۶ /۱۰۲
ضرب ۶۱:مالکیت بھی محیط ہے قال تعالی۔
" بیدہ ملکوت کل شیء و الیہ ترجعون ﴿۸۳﴾" ۔ اسی کے ہاتھ میں ہر چیز کا قبضہ ہے۔(ت)
اس بے خرد وہابی نے فقط ازروئے علم کہہ کر ان تمام صفات الہیہ کے احاطہ سے انکار کردیاآنکھیں رکھتا ہو تو سوجھے کہ اپنی گہری جہالت کی گھٹا ٹوپ اندھیری میں کتنی آیتوں کا رد کرگیا۔
بالجملہ اگر مذہب متقد مین لیجئے تو ہم ایمان لائے کہ ہمارے مولی تعالی کا علم محیط ہے جیسا کہ سورہ طلاق میں فرمایااور احاطہ علم کے معنی ہمیں معلوم ہیں کہ۔
" لا یعزب عنہ مثقال ذرۃ فی السموت و لا فی الارض" ۔ اس سے غائب نہیں ذرہ بھر کوئی چیز آسمانوں میں اور نہ زمین میں۔(ت)
اور ہمارا مولی عزوجل محیط ہے جیسا کہ سورہ نساء سورہ فصلت و سورہ بروج میں ارشاد فرمایا اور اس کا احاطہ ہماری عقل سے وراء ہے۔
" امنا بہ کل من عند ربنا
" ہم اس پر ایمان لائے سب ہمارے رب کے پاس سے ہے۔(ت)
اور اگر مسلك متاخرین چلیے تو اﷲ تعالی جس طرح ازروئے علم محیط ہے یونہی ازروئے قدرت و ازروئے سمع و ازراہ بصروازجہت ملك و ازوجہ خلق وغیر ذلکتو فقط علم میں احاطہ منحصر کردینا ان سب صفات و آیات سے منکر ہوجانا ہے۔
ضرب ۶۲:بے وقوف چند سطر بعد مانے گا کہ جتنی صفتیں کلام شارع میں وارد ہیں ان سے سکوت نہ ہوگایہاں احاطہ ذات سے سکوت کیساانکار کرگیا مگر وہابی را حافظہ نباشدیہ کیسا صریح تناقض ہے۔
تیسرا تپانچہ:
اصل تپانچہ قیامت کا تپانچہ جس سے مجسمی گمراہی کا سرمہ ہوجائے
بدمذہب گمراہ نے صاف بك دیا کہ اس کا معبود مکان رکھتا ہے عرش پر بستا ہے۔
" بیدہ ملکوت کل شیء و الیہ ترجعون ﴿۸۳﴾" ۔ اسی کے ہاتھ میں ہر چیز کا قبضہ ہے۔(ت)
اس بے خرد وہابی نے فقط ازروئے علم کہہ کر ان تمام صفات الہیہ کے احاطہ سے انکار کردیاآنکھیں رکھتا ہو تو سوجھے کہ اپنی گہری جہالت کی گھٹا ٹوپ اندھیری میں کتنی آیتوں کا رد کرگیا۔
بالجملہ اگر مذہب متقد مین لیجئے تو ہم ایمان لائے کہ ہمارے مولی تعالی کا علم محیط ہے جیسا کہ سورہ طلاق میں فرمایااور احاطہ علم کے معنی ہمیں معلوم ہیں کہ۔
" لا یعزب عنہ مثقال ذرۃ فی السموت و لا فی الارض" ۔ اس سے غائب نہیں ذرہ بھر کوئی چیز آسمانوں میں اور نہ زمین میں۔(ت)
اور ہمارا مولی عزوجل محیط ہے جیسا کہ سورہ نساء سورہ فصلت و سورہ بروج میں ارشاد فرمایا اور اس کا احاطہ ہماری عقل سے وراء ہے۔
" امنا بہ کل من عند ربنا
" ہم اس پر ایمان لائے سب ہمارے رب کے پاس سے ہے۔(ت)
اور اگر مسلك متاخرین چلیے تو اﷲ تعالی جس طرح ازروئے علم محیط ہے یونہی ازروئے قدرت و ازروئے سمع و ازراہ بصروازجہت ملك و ازوجہ خلق وغیر ذلکتو فقط علم میں احاطہ منحصر کردینا ان سب صفات و آیات سے منکر ہوجانا ہے۔
ضرب ۶۲:بے وقوف چند سطر بعد مانے گا کہ جتنی صفتیں کلام شارع میں وارد ہیں ان سے سکوت نہ ہوگایہاں احاطہ ذات سے سکوت کیساانکار کرگیا مگر وہابی را حافظہ نباشدیہ کیسا صریح تناقض ہے۔
تیسرا تپانچہ:
اصل تپانچہ قیامت کا تپانچہ جس سے مجسمی گمراہی کا سرمہ ہوجائے
بدمذہب گمراہ نے صاف بك دیا کہ اس کا معبود مکان رکھتا ہے عرش پر بستا ہے۔
تعالی اﷲ عما یقول الظلمون علواکبیراo اﷲ تعالی اس سے بہت بلند ہے جو ظالم کہتے ہیں ت)
ضرب ۶۳:وہابیہ مجسمہ کے پیر مغاں اسمعیل آنجہانی علیہ ما علیہ کے دادا پیراور استاد اور باپ یعنی جناب شاہ عبدالعزیز صاحب کا ارشاد اوپر گزرا کہ اہلسنت کے اعتقاد میں اﷲ تعالی عزوجل مکان سے پاك ہےاس کے بدعتی ہونے میں انہیں کا فتوی کافی۔
ضرب ۶۴ تا ۶۷:بحرالرائق و عالمگیری و قاضی خان و فتاوی خلاصہ کی عبارتیں بھی اوپر گزریں کہ جو اﷲ عزوجل کے لیے مکان مانے کافر ہے۔
یہ تو اوپر کے پانچ تھے اب اصل طرز کے لیجئے یعنی اس کی مستند کتابوں سے اسے رگیدناپھر کچھ دلائل قاطعہ عقلیہ ونقلیہ کے جگر دوز جوشن گزار تیروں سے مجسمیت کا کلیجا چھیدناوباﷲ التوفیق ووصول التحقیق۔
ضرب ۶۸:مدارك شریف سورہ اعراف میں ہے:
انہ تعالی کان قبل العرش ولا مکان و ھو الان کما کانلان التغیرمن صفات الاکوان ۔ بے شك اﷲ تعالی عرش سے پہلے موجود تھا جب مکان کا نام و نشان نہ تھا اور وہ اب بھی ویسا ہی ہے جیسا جب تھا اس لیے کہ بدل جانا تو مخلوق کی شان ہے۔
ضرب ۶۹:یونہی سورہ طہ میں تصریح فرمائی کہ عرش مکان الہی نہیںاﷲ عزوجل مکان سے پاك ہےعبارت سابقا منقول ہوئی۔
ضرب ۷۰:سورہ یونس میں فرمایا:
ای استولی فقد یقدس الدیان جل و عزعن المکان والمعبود عن الحدود ۔ استواء بمعنی استیلاء وغلبہ ہے نہ بمعنی مکانیت اس لیے کہ اﷲ عزوجل مکان سے پاك اور معبود جل و علا حدو نہایت سے منزہ ہے۔
ہزار نفرین اس بیحیا آنکھ کو جو ایسے ناپاك بول بول کر ایسی کتابوں کا نام لیتے ہوئے ذرا نہ جھپکے۔
ضرب ۶۳:وہابیہ مجسمہ کے پیر مغاں اسمعیل آنجہانی علیہ ما علیہ کے دادا پیراور استاد اور باپ یعنی جناب شاہ عبدالعزیز صاحب کا ارشاد اوپر گزرا کہ اہلسنت کے اعتقاد میں اﷲ تعالی عزوجل مکان سے پاك ہےاس کے بدعتی ہونے میں انہیں کا فتوی کافی۔
ضرب ۶۴ تا ۶۷:بحرالرائق و عالمگیری و قاضی خان و فتاوی خلاصہ کی عبارتیں بھی اوپر گزریں کہ جو اﷲ عزوجل کے لیے مکان مانے کافر ہے۔
یہ تو اوپر کے پانچ تھے اب اصل طرز کے لیجئے یعنی اس کی مستند کتابوں سے اسے رگیدناپھر کچھ دلائل قاطعہ عقلیہ ونقلیہ کے جگر دوز جوشن گزار تیروں سے مجسمیت کا کلیجا چھیدناوباﷲ التوفیق ووصول التحقیق۔
ضرب ۶۸:مدارك شریف سورہ اعراف میں ہے:
انہ تعالی کان قبل العرش ولا مکان و ھو الان کما کانلان التغیرمن صفات الاکوان ۔ بے شك اﷲ تعالی عرش سے پہلے موجود تھا جب مکان کا نام و نشان نہ تھا اور وہ اب بھی ویسا ہی ہے جیسا جب تھا اس لیے کہ بدل جانا تو مخلوق کی شان ہے۔
ضرب ۶۹:یونہی سورہ طہ میں تصریح فرمائی کہ عرش مکان الہی نہیںاﷲ عزوجل مکان سے پاك ہےعبارت سابقا منقول ہوئی۔
ضرب ۷۰:سورہ یونس میں فرمایا:
ای استولی فقد یقدس الدیان جل و عزعن المکان والمعبود عن الحدود ۔ استواء بمعنی استیلاء وغلبہ ہے نہ بمعنی مکانیت اس لیے کہ اﷲ عزوجل مکان سے پاك اور معبود جل و علا حدو نہایت سے منزہ ہے۔
ہزار نفرین اس بیحیا آنکھ کو جو ایسے ناپاك بول بول کر ایسی کتابوں کا نام لیتے ہوئے ذرا نہ جھپکے۔
حوالہ / References
مدارك التنزیل(تفسیر النسفی)آیت ۷/ ۵۴دارالکتاب العربی بیروت ۲/۵۶
مدارك النتزیل(تفسیرالنسفی)آیت ۱۰/ ۳ دارالکتاب العربی بیروت ۲/ ۱۵۳
مدارك النتزیل(تفسیرالنسفی)آیت ۱۰/ ۳ دارالکتاب العربی بیروت ۲/ ۱۵۳
ضرب ۷۱:امام بیہقی کتاب الاسماء والصفات میں امام اجل ابوعبداﷲ حلیمی سے زیر اسم پاك متعالی نقل فرماتے ہیں:
معناہ المرتفع عن ان یجوز علیہ مایجوز علی المحدثین من الازواج والاولادو الجوارح والاعضاء و اتخاذ السریرللجلوس علیہوالا حتجاب بالستور عن ان تنفذ الابصار الیہو الانتفال من مکان الی مکانونحو ذلك فان اثبات بعض ھذہ الاشیاء یوجب النہایۃ وبعضہا یوجب الحاجۃوبعضہا یوجب التغیر والاستحالۃو شیئ من ذلك غیر لا ئق بالقدیم ولا جائز علیہ۔ یعنی نام الہی متعالی کے یہ معنی ہیں کہ اﷲ عزوجل اس سے پاك و منزہ ہے کہ جو باتیں مخلوقات پر روا ہیں جیسے جوروبیٹاآلاتاعضاءتخت پر بیٹھناپردوں میں چھپناایك مکان سے دوسرے کی طرف انتقال کرنا(جس طرح چڑھنےاترنےچلنےٹھہرنے میں ہوتا ہے)اس پر روا ہوسکیں اس لیے کہ ان میں بعض باتوں سے نہایت لازم آئے گی بعض سے احتیاج بعض سے بدلنا متغیر ہونا اور ان میں سے کوئی امر اﷲ عزوجل کے لائق نہیںنہ اس کے لیے امکان رکھے۔
کیوں پچتا ئے تو نہ ہوگے کتاب الاسماء کا حوالہ دے کرتف ہزار تف وہابیہ مجسمہ کی بے حیائی پر۔
ضرب ۷۲:باب ماجاء فی العرش میں امام سلیمن خطابی علیہ الرحمۃ سے نقل فرماتے ہیں:
لیس معنی قول المسلمین ان اﷲ تعالی استوی علی العرش ھوانہ مماس لہ او متمکن فیہاومتحیز فی جہۃ من جہاتہلکنہ بائن من جمیع خلقہوانما ھو خبرجاء بہ التوقیف فقلنا بہونفینا عنہ التکیف اذ لیس کمثلہ شیئ وھو مسلمانوں کے اس قول کے کہ اﷲ تعالی عرش پر ہےیہ معنی نہیں کہ وہ عرش سے لگایا ہوا ہے یا وہ ا س کا مکان ہے یا وہ اس کی کسی جانب میں ٹھہرا ہوا ہے بلکہ وہ تو اپنی تمام مخلوق سے نرالا ہے یہ تو ایك خبر ہے کہ شرع میں وارد ہوئی تو ہم نے مانی اور چگونگی اس سے دور و مسلوب جانی اس لیے کہ اﷲ کے مشابہ کوئی
معناہ المرتفع عن ان یجوز علیہ مایجوز علی المحدثین من الازواج والاولادو الجوارح والاعضاء و اتخاذ السریرللجلوس علیہوالا حتجاب بالستور عن ان تنفذ الابصار الیہو الانتفال من مکان الی مکانونحو ذلك فان اثبات بعض ھذہ الاشیاء یوجب النہایۃ وبعضہا یوجب الحاجۃوبعضہا یوجب التغیر والاستحالۃو شیئ من ذلك غیر لا ئق بالقدیم ولا جائز علیہ۔ یعنی نام الہی متعالی کے یہ معنی ہیں کہ اﷲ عزوجل اس سے پاك و منزہ ہے کہ جو باتیں مخلوقات پر روا ہیں جیسے جوروبیٹاآلاتاعضاءتخت پر بیٹھناپردوں میں چھپناایك مکان سے دوسرے کی طرف انتقال کرنا(جس طرح چڑھنےاترنےچلنےٹھہرنے میں ہوتا ہے)اس پر روا ہوسکیں اس لیے کہ ان میں بعض باتوں سے نہایت لازم آئے گی بعض سے احتیاج بعض سے بدلنا متغیر ہونا اور ان میں سے کوئی امر اﷲ عزوجل کے لائق نہیںنہ اس کے لیے امکان رکھے۔
کیوں پچتا ئے تو نہ ہوگے کتاب الاسماء کا حوالہ دے کرتف ہزار تف وہابیہ مجسمہ کی بے حیائی پر۔
ضرب ۷۲:باب ماجاء فی العرش میں امام سلیمن خطابی علیہ الرحمۃ سے نقل فرماتے ہیں:
لیس معنی قول المسلمین ان اﷲ تعالی استوی علی العرش ھوانہ مماس لہ او متمکن فیہاومتحیز فی جہۃ من جہاتہلکنہ بائن من جمیع خلقہوانما ھو خبرجاء بہ التوقیف فقلنا بہونفینا عنہ التکیف اذ لیس کمثلہ شیئ وھو مسلمانوں کے اس قول کے کہ اﷲ تعالی عرش پر ہےیہ معنی نہیں کہ وہ عرش سے لگایا ہوا ہے یا وہ ا س کا مکان ہے یا وہ اس کی کسی جانب میں ٹھہرا ہوا ہے بلکہ وہ تو اپنی تمام مخلوق سے نرالا ہے یہ تو ایك خبر ہے کہ شرع میں وارد ہوئی تو ہم نے مانی اور چگونگی اس سے دور و مسلوب جانی اس لیے کہ اﷲ کے مشابہ کوئی
حوالہ / References
کتاب الاسماء والصفات للبیہقی جماع ابواب ذکر الاسماء التی تتبع نفی التشبیہ المکتبۃ الاثریہ سانگلہ ہل ۲/۷۱ و۷۲
السمیع العلیم ۔ چیز نہیں اور وہی ہے سننے دیکھنے والا۔
ضرب ۷۳:اس سے گزرا کہ اﷲ عزوجل کے علو سے اس کا امکان بالا میں ہونا مراد نہیںمکان اسے نہیں گھیرتا۔
ضرب ۷۴:نیز یہ کلیہ بھی گزرا کہ جو اجسام پر روا ہے اﷲ عزوجل پر روا نہیں۔
ضرب ۷۵:اسی میں یہ حدیث ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کی کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے طبقات اسمان پھر ان کے اوپر عرش پھر طبقات زمین کا بیان کرکے فرمایا:
والذی نفس محمد بیدہ لو انکم دلیتم احدکم بحبل الی الارض السابعۃ لھبط علی اﷲ تبارك و تعالی ثم قرأرسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم و ھو الاول والاخرو والظاھر والباطن۔ قسم اس کی جس کے دست قدرت میں محمدصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی جان ہے اگر تم کسی کو رسی کے ذریعہ سے ساتویں زمین تك لٹکاؤ تو وہاں بھی وہ اﷲ عزوجل ہی تك پہنچے گا۔پھر رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی کہ اﷲ ہی ہے اول و آخرو ظاہر و باطن۔
اس حدیث کے بعد امام فرماتے ہیں:
الذی روی فی اخر ھذا الحدیث اشارۃ الی نفی المکان عن اﷲ تعالی وان العبداینما کان فہو فی القرب و البعد من اﷲ تعالی سواء وانہ الظاھرفیصح ادراکہ بالدلالۃالباطن فلا یصح ادراکہ بالکون فی مکان۔ اس حدیث کا پچھلا فقرہ اﷲ عزوجل سے نفی مکان پر دلالت کرتا ہے اور یہ کہ بندہ کہیں ہو اﷲ عزوجل سے قرب و بعد میں یکساں ہےاور یہ کہ اﷲ ہی ظاہر ہے تو دلائل سے اسے پہچان سکتے ہیں اور وہی باطن ہے کسی مکان میں نہیں کہ یوں اسے جان سکیں۔
اقول:یعنی اگر عرش اس کا مکان ہوتا تو جو ساتویں زمین تك پہنچا وہ اس سے کمال دوری و بعد پر ہوجاتا نہ کہ وہاں بھی اﷲ ہی تك پہنچتااور مکانی چیز کا ایك آن میں دو مختلف
ضرب ۷۳:اس سے گزرا کہ اﷲ عزوجل کے علو سے اس کا امکان بالا میں ہونا مراد نہیںمکان اسے نہیں گھیرتا۔
ضرب ۷۴:نیز یہ کلیہ بھی گزرا کہ جو اجسام پر روا ہے اﷲ عزوجل پر روا نہیں۔
ضرب ۷۵:اسی میں یہ حدیث ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کی کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے طبقات اسمان پھر ان کے اوپر عرش پھر طبقات زمین کا بیان کرکے فرمایا:
والذی نفس محمد بیدہ لو انکم دلیتم احدکم بحبل الی الارض السابعۃ لھبط علی اﷲ تبارك و تعالی ثم قرأرسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم و ھو الاول والاخرو والظاھر والباطن۔ قسم اس کی جس کے دست قدرت میں محمدصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی جان ہے اگر تم کسی کو رسی کے ذریعہ سے ساتویں زمین تك لٹکاؤ تو وہاں بھی وہ اﷲ عزوجل ہی تك پہنچے گا۔پھر رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی کہ اﷲ ہی ہے اول و آخرو ظاہر و باطن۔
اس حدیث کے بعد امام فرماتے ہیں:
الذی روی فی اخر ھذا الحدیث اشارۃ الی نفی المکان عن اﷲ تعالی وان العبداینما کان فہو فی القرب و البعد من اﷲ تعالی سواء وانہ الظاھرفیصح ادراکہ بالدلالۃالباطن فلا یصح ادراکہ بالکون فی مکان۔ اس حدیث کا پچھلا فقرہ اﷲ عزوجل سے نفی مکان پر دلالت کرتا ہے اور یہ کہ بندہ کہیں ہو اﷲ عزوجل سے قرب و بعد میں یکساں ہےاور یہ کہ اﷲ ہی ظاہر ہے تو دلائل سے اسے پہچان سکتے ہیں اور وہی باطن ہے کسی مکان میں نہیں کہ یوں اسے جان سکیں۔
اقول:یعنی اگر عرش اس کا مکان ہوتا تو جو ساتویں زمین تك پہنچا وہ اس سے کمال دوری و بعد پر ہوجاتا نہ کہ وہاں بھی اﷲ ہی تك پہنچتااور مکانی چیز کا ایك آن میں دو مختلف
حوالہ / References
کتاب الاسماء والصفات باب ماجاء فی العرش والکرسی المکتبۃ الاثریہ سانگلہ ہل شیخوپورہ ۲/ ۱۳۹
کتاب الاسماء والصفات للبیہقی جماع ابواب ذکر الاسماء التی تتبع نفی التشبیہ المکتبۃ الاثریہ سانگلہ ہل ۲/ ۱۴۴
کتاب الاسماء والصفات للبیہقی جماع ابواب ذکر الاسماء التی تتبع نفی التشبیہ المکتبۃ الاثریہ سانگلہ ہل ۲/ ۱۴۴
کتاب الاسماء والصفات للبیہقی جماع ابواب ذکر الاسماء التی تتبع نفی التشبیہ المکتبۃ الاثریہ سانگلہ ہل ۲/ ۱۴۴
کتاب الاسماء والصفات للبیہقی جماع ابواب ذکر الاسماء التی تتبع نفی التشبیہ المکتبۃ الاثریہ سانگلہ ہل ۲/ ۱۴۴
مکان میں موجود ہونا محال اور یہ اس سے بھی شنیع تر ہے کہ عرش تا فرش تمام مکانات بالا و زیریں دفعۃ اس سے بھرے ہوئے مانوکہ تجزیہ وغیرہ صدہا استحالے لازم آنے کے علاوہ معاذ اﷲ اﷲ تعالی کو اسفل وادنی کہنا بھی صحیح ہوگا لاجرم قطعا یقینا ایمان لانا پڑے گا کہ عرش وفرش کچھ اس کا مکان نہیںنہ وہ عرش میں ہے نہ ماتحت الثری میںنہ کسی جگہ میں ہاں اس کا علم و قدرت و سمع و بصرو ملك ہر جگہ ہے۔جس طرح امام ترمذی نے جامع میں ذکر فرمایا:
واستدل بعض اصحابنا فی نفی المکان عنہ تعالی بقول النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم انت الظاھر فلیس فوقك شیئ وانت الباطن فلیس دونك شیئ واذا لم یکن فوقہ شیئ ولادونہ شیئ لم یکن فی مکان ۔ یعنی اور بعض ائمہ اہلسنت نے اﷲ عزوجل سے نفی مکان پر نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے اس قول سے استدلال کیا کہ اپنے رب عزوجل سے عرض کرتے ہیں تو ہی ظاہر ہے توکوئی تجھ سے اوپر نہیںاور تو ہی باطن ہے تو کوئی تیرے نیچے نہیںجب اﷲ عزوجل سے نہ کوئی اوپر ہوا نہ کوئی نیچے تو اﷲ تعالی کسی مکان میں نہ ہوا۔
یہ حدیث صحیح مسلم شریف و سنن ابی داؤد میں حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے ورواہ البیھقی فی الاسم الاول و الاخر (اسے بیہقی نے اسم اول و آخر میں ذکر کیا ہے۔ت)
اقول:حاصل دلیل یہ کہ اﷲ عزوجل کا تمام امکنہ زیر و بالا کو بھرے ہونا تو بداہۃ محال ہے ورنہ وہی استحالے لازم آئیںاب اگر مکان بالا میں ہوگا تو اشیاء اس کے نیچے ہوں گی اور مکان زیریں میں ہوا تو اشیاء اس سے اوپر ہوں گی اور وسط میں ہوا تو اوپر نیچے دونوں ہوں گی حالانکہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی وسلم فرماتے ہیںنہ اس سے اوپر کچھ ہے نہ نیچے کچھتو واجب ہوا کہ مولی تعالی مکان سے پاك ہو۔
ضرب ۷۷:عرش فرش جگہ کو معاذ اﷲ مکان الہی کہو اﷲ تعالی ازل سے اس میں متمکن تھا یا اب متمکن ہواپہلی تقدیر پر وہ مکان بھی ازلی ٹھہرا اور کسی مخلوق کو ازلی ماننا باجماع مسلمین
واستدل بعض اصحابنا فی نفی المکان عنہ تعالی بقول النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم انت الظاھر فلیس فوقك شیئ وانت الباطن فلیس دونك شیئ واذا لم یکن فوقہ شیئ ولادونہ شیئ لم یکن فی مکان ۔ یعنی اور بعض ائمہ اہلسنت نے اﷲ عزوجل سے نفی مکان پر نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے اس قول سے استدلال کیا کہ اپنے رب عزوجل سے عرض کرتے ہیں تو ہی ظاہر ہے توکوئی تجھ سے اوپر نہیںاور تو ہی باطن ہے تو کوئی تیرے نیچے نہیںجب اﷲ عزوجل سے نہ کوئی اوپر ہوا نہ کوئی نیچے تو اﷲ تعالی کسی مکان میں نہ ہوا۔
یہ حدیث صحیح مسلم شریف و سنن ابی داؤد میں حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے ورواہ البیھقی فی الاسم الاول و الاخر (اسے بیہقی نے اسم اول و آخر میں ذکر کیا ہے۔ت)
اقول:حاصل دلیل یہ کہ اﷲ عزوجل کا تمام امکنہ زیر و بالا کو بھرے ہونا تو بداہۃ محال ہے ورنہ وہی استحالے لازم آئیںاب اگر مکان بالا میں ہوگا تو اشیاء اس کے نیچے ہوں گی اور مکان زیریں میں ہوا تو اشیاء اس سے اوپر ہوں گی اور وسط میں ہوا تو اوپر نیچے دونوں ہوں گی حالانکہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی وسلم فرماتے ہیںنہ اس سے اوپر کچھ ہے نہ نیچے کچھتو واجب ہوا کہ مولی تعالی مکان سے پاك ہو۔
ضرب ۷۷:عرش فرش جگہ کو معاذ اﷲ مکان الہی کہو اﷲ تعالی ازل سے اس میں متمکن تھا یا اب متمکن ہواپہلی تقدیر پر وہ مکان بھی ازلی ٹھہرا اور کسی مخلوق کو ازلی ماننا باجماع مسلمین
حوالہ / References
کتاب الاسماء والصفات باب ماجاء فی العرش والکرسی المکتبۃ الاثریہ سانگلہ ہل شیخوپورہ ۲/ ۱۴۴
کفر ہے دوسری تقدیر پر اﷲ تعالی عزوجل میں تغیر آیا اور یہ خلاف شان الوہیت ہے۔
ضرب ۷۸:اقول:مکان خواہ بعد موہوم ہو یا مجرد یا سطح حاوی مکین کو اس کا محیط ہونا لازممحیط یامماس بعض شے مکان یا بعض مکان ہے نہ مکان شےمثلا ٹوپی کو نہیں کہہ سکتے کہ پہننے والے کا مکانتم جوتا پہنے ہو تو یہ نہ کہیں گے کہ تمہارا مکان جوتے میں ہےتو عرش اگر معاذ اﷲ مکان الہی ہو لازم کہ اﷲ عزوجل کو محیط ہویہ محال ہے۔قال اﷲ تعالی: " وکان اللہ بکل شیء محیطا ﴿۱۲۶﴾" اﷲ تعالی عرش و فرش سب کو محیط ہے۔وہ احاطہ جو عقل سے وراء ہے اور اس کی شان قدوسی کے لائق ہے اس کا غیر اسے محیط نہیں ہوسکتا۔
ضرب ۷۹:نیز لازم کہ اﷲ عزوجل عرش سے چھوٹا ہو۔
ضرب ۸۰:نیز محدود محصور ہو۔
ضرب ۸۱:ان سب شناعتوں کے بعد جس آیت سے عرش کی مکانیت نکالی تھی وہی باطل ہوگئیآیت میں عرش پر فرمایا ہے اور عرش مکان خدا ہو تو خدا عرش کے اندر ہوگا نہ کہ عرش پر۔
ضرب ۸۲:اقول:جب تیرے نزدیك تیرا معبود مکانی ہوا تو دو حال سے خالی نہیں جزءلایتجزی کے برابر ہوگا یا اس سے بڑااول باطل ہے کہ اس تقدیر پر تیرا معبود ہر چھوٹی چیز سے چھوٹا ہواایك دانہ ریگ کے ہزارویں لاکھوں حصے سے بھی کمتر ہوانیز اس صورت میں صد ہا آیات و احادیث عین و ید ووجہ و ساق وغیرہا کا انکار ہوگا کہ جب متشابہات ظاہر پر محمول ٹھہریں تو یہاں بھی معانی مفہومہ ظاہرہ مراد لینے واجب ہوں گے اور جزء لایتجزی کے لیے آنکھہاتھچہرہپاؤں ممکن نہیں۔اگر کہیے وہ ایك ہی جز ء ان سب اعضاء کے کام دیتا ہےلہذا ان ناموں سے مسمی ہوا تو یہ بھی باطل ہے کہ اولا تو اس کے لیے یہ اشیاء مانی گئی ہیں نہ یہ کہ وہ خود یہ اشیاء ہے۔ثانیا: با عیننا اور بل یداہ کا کیا جواب ہوگا کہ جزء لایتجزی میں دو فرض نہیں کرسکتے۔اور مبسوطتان تو صراحۃ اس کا ابطال ہے جو ہر فرد میں بسط کہاںاور ثانی بھی باطل ہے کہ اس تقدیر پر تیرے معبود کے ٹکڑے ہو سکیں گے اس میں حصے فرض کرسکیں گے اور معبود حق عزجلالہ اس سے پاك ہے۔
ضرب ۷۸:اقول:مکان خواہ بعد موہوم ہو یا مجرد یا سطح حاوی مکین کو اس کا محیط ہونا لازممحیط یامماس بعض شے مکان یا بعض مکان ہے نہ مکان شےمثلا ٹوپی کو نہیں کہہ سکتے کہ پہننے والے کا مکانتم جوتا پہنے ہو تو یہ نہ کہیں گے کہ تمہارا مکان جوتے میں ہےتو عرش اگر معاذ اﷲ مکان الہی ہو لازم کہ اﷲ عزوجل کو محیط ہویہ محال ہے۔قال اﷲ تعالی: " وکان اللہ بکل شیء محیطا ﴿۱۲۶﴾" اﷲ تعالی عرش و فرش سب کو محیط ہے۔وہ احاطہ جو عقل سے وراء ہے اور اس کی شان قدوسی کے لائق ہے اس کا غیر اسے محیط نہیں ہوسکتا۔
ضرب ۷۹:نیز لازم کہ اﷲ عزوجل عرش سے چھوٹا ہو۔
ضرب ۸۰:نیز محدود محصور ہو۔
ضرب ۸۱:ان سب شناعتوں کے بعد جس آیت سے عرش کی مکانیت نکالی تھی وہی باطل ہوگئیآیت میں عرش پر فرمایا ہے اور عرش مکان خدا ہو تو خدا عرش کے اندر ہوگا نہ کہ عرش پر۔
ضرب ۸۲:اقول:جب تیرے نزدیك تیرا معبود مکانی ہوا تو دو حال سے خالی نہیں جزءلایتجزی کے برابر ہوگا یا اس سے بڑااول باطل ہے کہ اس تقدیر پر تیرا معبود ہر چھوٹی چیز سے چھوٹا ہواایك دانہ ریگ کے ہزارویں لاکھوں حصے سے بھی کمتر ہوانیز اس صورت میں صد ہا آیات و احادیث عین و ید ووجہ و ساق وغیرہا کا انکار ہوگا کہ جب متشابہات ظاہر پر محمول ٹھہریں تو یہاں بھی معانی مفہومہ ظاہرہ مراد لینے واجب ہوں گے اور جزء لایتجزی کے لیے آنکھہاتھچہرہپاؤں ممکن نہیں۔اگر کہیے وہ ایك ہی جز ء ان سب اعضاء کے کام دیتا ہےلہذا ان ناموں سے مسمی ہوا تو یہ بھی باطل ہے کہ اولا تو اس کے لیے یہ اشیاء مانی گئی ہیں نہ یہ کہ وہ خود یہ اشیاء ہے۔ثانیا: با عیننا اور بل یداہ کا کیا جواب ہوگا کہ جزء لایتجزی میں دو فرض نہیں کرسکتے۔اور مبسوطتان تو صراحۃ اس کا ابطال ہے جو ہر فرد میں بسط کہاںاور ثانی بھی باطل ہے کہ اس تقدیر پر تیرے معبود کے ٹکڑے ہو سکیں گے اس میں حصے فرض کرسکیں گے اور معبود حق عزجلالہ اس سے پاك ہے۔
حوالہ / References
القرآن الکریم ۴ /۱۲۶
ضرب ۸۳:اقول:جو کسی چیز پر بیٹھا ہو اس کی تین ہی صورتیں ممکنیا تو وہ بیٹھك اس کے برابر ہے یا اس سے بڑی ہے کہ وہ بیٹھا ہے اور جگہ خالی باقی ہے یا چھوٹی ہے کہ وہ پورا اس بیٹھك پر نہ آیا کچھ حصہ باہر ہےاﷲ عزوجل میں یہ تینوں صورتیں محال ہیںوہ عرش کے برابر ہوتو جتنے حصے عرش میں ہوسکتے ہیں اس میں بھی ہوسکیں گےاور چھوٹا ہو تو اسے خدا کہنے سے عرش کو خدا کہنا اولی ہے کہ وہ خدا سے بھی بڑا ہے اور بڑا ہو تو بالفعل حصے متعین ہوگئے کہ خدا کا ایك حصہ عرش سے ملا ہے ا ور ایك حصہ باہر ہے۔
ضرب ۸۴:اقول:خدا اس عرش سے بھی بڑا بنا سکتا ہے یا نہیںاگر نہیں تو عاجز ہوا حالانکہ " ان اللہ علی کل شیء قدیر﴿۲۰﴾ " ۔بے شك اﷲ تعالی ہر چیز پر قادر ہے۔ت)اور اگر ہاں تو اب اگر خدا عرش سے چھوٹا نہیں برابر بھی ہو تو جب عرش سے بڑا بناسکتا ہے اپنے سے بڑا بھی بناسکتا ہے کہ جب دونوں برابر ہیں تو جو عرش سے بڑا ہے خدا سے بھی بڑا ہے اور اگر خدا عرش سے بڑا ہی تو غیر متناہی بڑا نہیں ہوسکتا کہ لاتناہی ابعاد دلائل قاطعہ سے باطل ہے لاجرم بقدر متناہی بڑا ہوگا۔مثلا عرش سے دونا فرض کیجئےاب عرش سے سوائی ڈیوڑھیپون دگنیتگنی مقداروں کو پوچھتے جائیے کہ خدا ان کے بنانے پر قادر ہے یا نہیںجہاں انکار کرو گے خدا کو عاجز کہو گے اور اقرار کرتے جاؤ گے تو وہی مصیبت آڑے آئے گی کہ خدا اپنے سے بڑا بناسکتا ہے۔
ضرب ۸۵:اقول:یہ تو ضرو رہے کہ خدا جب عرش پر بیٹھے تو عرش سے بڑا ہو ورنہ خدا اور مخلوق برابر ہوجائیں گے یا مخلوق اس سے بڑی ٹھہرے گیاور جب وہ بیٹھنے والا اپنی بیٹھك سے بڑا ہے تو قطعا اس پر پورا نہیں آسکتا جتنا بڑا ہے اتنا حصہ باہر رہے گا تو اس میں دو حصے ہوئے ایك عرش سے لگا اور ایك الگ۔اب سوال ہوگا کہ یہ دونوں حصے خدا ہیں یا جتنا عرش سے لگا ہے وہی خدا ہے باہر والا خدائی سے جدا ہے یا اس کا عکس ہے یا ان میں کوئی خدا نہیں بلکہ دونوں کا مجموعہ خدا ہے پہلی تقدیر پر دو خدا لازم آئیں گےدوسری پر خدا و عرش برابر ہوگئے کہ خدا تو اتنے ہی کا نام رہا جو عرش سے ملا ہوا ہے۔تیسری تقدیر پر خدا عرش پر نہ بیٹھا کہ جو خدا ہے وہ الگ ہے اور جو لگا ہے وہ خدا نہیںچوتھی پر عرش خدا کا مکان نہ ہوا کہ وہ اگر مکان ہے تو اتنے ٹکڑے کا جو اس سے ملا ہے اور وہ خدا نہیں۔
ضرب ۸۴:اقول:خدا اس عرش سے بھی بڑا بنا سکتا ہے یا نہیںاگر نہیں تو عاجز ہوا حالانکہ " ان اللہ علی کل شیء قدیر﴿۲۰﴾ " ۔بے شك اﷲ تعالی ہر چیز پر قادر ہے۔ت)اور اگر ہاں تو اب اگر خدا عرش سے چھوٹا نہیں برابر بھی ہو تو جب عرش سے بڑا بناسکتا ہے اپنے سے بڑا بھی بناسکتا ہے کہ جب دونوں برابر ہیں تو جو عرش سے بڑا ہے خدا سے بھی بڑا ہے اور اگر خدا عرش سے بڑا ہی تو غیر متناہی بڑا نہیں ہوسکتا کہ لاتناہی ابعاد دلائل قاطعہ سے باطل ہے لاجرم بقدر متناہی بڑا ہوگا۔مثلا عرش سے دونا فرض کیجئےاب عرش سے سوائی ڈیوڑھیپون دگنیتگنی مقداروں کو پوچھتے جائیے کہ خدا ان کے بنانے پر قادر ہے یا نہیںجہاں انکار کرو گے خدا کو عاجز کہو گے اور اقرار کرتے جاؤ گے تو وہی مصیبت آڑے آئے گی کہ خدا اپنے سے بڑا بناسکتا ہے۔
ضرب ۸۵:اقول:یہ تو ضرو رہے کہ خدا جب عرش پر بیٹھے تو عرش سے بڑا ہو ورنہ خدا اور مخلوق برابر ہوجائیں گے یا مخلوق اس سے بڑی ٹھہرے گیاور جب وہ بیٹھنے والا اپنی بیٹھك سے بڑا ہے تو قطعا اس پر پورا نہیں آسکتا جتنا بڑا ہے اتنا حصہ باہر رہے گا تو اس میں دو حصے ہوئے ایك عرش سے لگا اور ایك الگ۔اب سوال ہوگا کہ یہ دونوں حصے خدا ہیں یا جتنا عرش سے لگا ہے وہی خدا ہے باہر والا خدائی سے جدا ہے یا اس کا عکس ہے یا ان میں کوئی خدا نہیں بلکہ دونوں کا مجموعہ خدا ہے پہلی تقدیر پر دو خدا لازم آئیں گےدوسری پر خدا و عرش برابر ہوگئے کہ خدا تو اتنے ہی کا نام رہا جو عرش سے ملا ہوا ہے۔تیسری تقدیر پر خدا عرش پر نہ بیٹھا کہ جو خدا ہے وہ الگ ہے اور جو لگا ہے وہ خدا نہیںچوتھی پر عرش خدا کا مکان نہ ہوا کہ وہ اگر مکان ہے تو اتنے ٹکڑے کا جو اس سے ملا ہے اور وہ خدا نہیں۔
حوالہ / References
القرآن الکریم ۲ /۲۰ و ۱۰۶ و ۱۰۹ و ۱۴۸ وغیرہ
ضرب ۸۶:اقول:جو مکانی ہے اور جزء لایتجزے کے برابر نہیں اسے مقدار سے مفر نہیں اور مقدار غیر متناہی بالفعل باطل ہے اور مقدار متناہی کے افراد نامتناہی ہیں اور شخص معین کو ان میں سے کوئی قدر معین ہی عارض ہوگیتو لاجرم تیرا معبود ایك مقدار مخصوص محدود پر ہوا اس تخصیص کو علت سے چارہ نہیں مثلا کروڑ گز کا ہے تو دو کروڑ کا کیوں نہ ہوادو کروڑ کا ہے تو کروڑ کا کیوں نہ ہوااس تخصیص کی علت تیرا معبود آپ ہی ہے یا اس کا غیر اگر غیر ہے جب تو سچا خداوہی ہے جس نے تیرے معبود کو اتنے یا اتنے گز کا بنایااور اگر خود ہی ہو تا ہم بہرحال اس کا حادث ہونا لازم کہ امور متساویۃ النسبۃ میں ایك کی ترجیح ارادے پر موقوفاور ہر مخلوق بالا رادہ حادث ہے تو وہ مقدار مخصوص حادث ہوئی اور مقداری کا وجود بے مقدار کے محالتو تیرا معبود حادث ہوا اور تقدم الشیئ علی نفسہ کا لزوم علاوہ۔
ضرب ۸۷:اقول:ہر مقدار متناہی قابل زیادت ہے تو تیرے معبود سے بڑا اور اس کے بڑے سے بڑا ممکن۔
ضرب ۸۸:اقول:جہات فوق و تحت دو مفہوم اضافی ہیں ایك کا وجود بے د وسرے کے محال ہر بچہ جانتا ہے کہ کسی چیز کو اوپر نہیں کہہ سکتے جب تك دوسری چیز نیچی نہ ہواور ازل میں اﷲ عزوجل کے سوا کچھ نہ تھا۔صحیح بخاری شریف میں عمران بن حصین رضی اﷲ تعالی عنہ سے ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
کان اﷲ تعالی ولم یکن شیئ غیرہ ۔ اﷲ تعالی تھا اور اس کے سوا کچھ نہ تھا۔
تو ازل میں اﷲ عزوجل کا فوق یا تحت ہونا محال اور جب ازل میں محال تھا تو ہمیشہ محال رہے گا ورنہ اﷲ عزوجل کے ساتھ حوادث کا قیام لازم آئے گا اور یہ محال ہےکتاب الاسماء والصفات میں امام ابوعبداﷲ حلیمی سے ہے:
اذاقیل ﷲ العزیز فانما یراد بہ الاعتراف لہ بالقدم الذی لا یتھیأ معہ تغیرہ عمالم یزل علیہ من القدرۃ والقوۃ و جب اﷲ تعالی کو عزیز کہا جائے تو اس سے اس کے قدم کا اعتراف ہے کہ جس کی بناء پر ازل سے اس کی قدرت و طاقت پر کوئی تغیر نہیں ہوااور اﷲ تعالی کی پاکیزگی کی طرف راجع ہے ان چیزوں سے جو
ضرب ۸۷:اقول:ہر مقدار متناہی قابل زیادت ہے تو تیرے معبود سے بڑا اور اس کے بڑے سے بڑا ممکن۔
ضرب ۸۸:اقول:جہات فوق و تحت دو مفہوم اضافی ہیں ایك کا وجود بے د وسرے کے محال ہر بچہ جانتا ہے کہ کسی چیز کو اوپر نہیں کہہ سکتے جب تك دوسری چیز نیچی نہ ہواور ازل میں اﷲ عزوجل کے سوا کچھ نہ تھا۔صحیح بخاری شریف میں عمران بن حصین رضی اﷲ تعالی عنہ سے ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
کان اﷲ تعالی ولم یکن شیئ غیرہ ۔ اﷲ تعالی تھا اور اس کے سوا کچھ نہ تھا۔
تو ازل میں اﷲ عزوجل کا فوق یا تحت ہونا محال اور جب ازل میں محال تھا تو ہمیشہ محال رہے گا ورنہ اﷲ عزوجل کے ساتھ حوادث کا قیام لازم آئے گا اور یہ محال ہےکتاب الاسماء والصفات میں امام ابوعبداﷲ حلیمی سے ہے:
اذاقیل ﷲ العزیز فانما یراد بہ الاعتراف لہ بالقدم الذی لا یتھیأ معہ تغیرہ عمالم یزل علیہ من القدرۃ والقوۃ و جب اﷲ تعالی کو عزیز کہا جائے تو اس سے اس کے قدم کا اعتراف ہے کہ جس کی بناء پر ازل سے اس کی قدرت و طاقت پر کوئی تغیر نہیں ہوااور اﷲ تعالی کی پاکیزگی کی طرف راجع ہے ان چیزوں سے جو
حوالہ / References
صحیح البخاری کتاب بدءِ الخلق باب ماجاء فی قول اﷲ تعالٰی وھو الذی یبدؤ الخلق الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۴۵۳
ذلك عائد الی تنزیہہ تعالی عما یحوز علی المصنوعین لاعراضھم بالحدوث فی انفسہم للحوادث ان تصیبہم وتغیرھم ۔ مخلوق کے لیے ہوسکتی ہیں کیونکہ وہ خود اور ان کے حوادث تغیر پاتے ہیں۔(ت)
ضرب ۸۹:اقول:ہر ذی جہت قابل اشارہ حسیہ ہے کہ اوپر ہوا تو انگلی اوپر کو اٹھا کر بتاسکتے ہیںکہ وہ ہے اور نیچے ہوا تو نیچے کواور ہر قابل اشارہ حسیہ متحیز ہے اور متحیز جسم یا جسمانی ہے اور ہر جسم و جسمانی محتاج ہے اور اﷲ عزوجل احتیاج سے پاك ہے تو واجب ہوا کہ جہت سے پاك ہونہ اوپر ہو نہ نیچےنہ آگے نہ پیچھےنہ دہنے نہ بائیں تو قطعا لازم کہ کسی مکان میں نہ ہو۔
ضرب ۹۰:اقول:عرش زمین سے غایت بعد پر ہے اور اﷲ بندے سے نہایت قرب میں۔قال اﷲ تعالی:
" و نحن اقرب الیہ من حبل الورید ﴿۱۶﴾" ۔ ہم تمہاری شہ رگ سے زیادہ قریب ہیں۔(ت)
قال اﷲ تعالی:
" و اذا سالک عبادی عنی فانی قریب" ۔ جب تجھ سے میرے متعلق میرے بندے سوال کریں تو میں قریب ہوں۔(ت)
تو اگر عرش پر اﷲ عزوجل کا مکان ہوتا اﷲ تعالی ہردور ترسے زیادہ ہم سے دور ہوتااور وہ بنص قرآن باطل ہے۔
ضرب ۹۱:مولی تعالی اگر عرش پر چڑھا بیٹھا ہے تو اس سے اتر بھی سکتا ہے یا نہیںاگر نہیں تو عاجز ہوا اور عاجز خدا نہیںاور اگر ہاں تو جب اترے گا عرش سے نیچے ہوگا تو اس کا اسفل ہونا بھی ممکن ہوا اور اسفل خدا نہیں۔
ضرب ۹۲:اقول:اگر تیرے معبود کے لیے مکان ہے اور مکان و مکانی کو جہت سے چارہ نہیں کہ جہات نفس امکنہ ہیں یا حدود امکنہتو اب دو حال سے خالی نہیںیا تو آفتاب کی طرح صرف ایك ہی طرف ہوگا یا آسمان کی مانند ہر جہت سے محیطاولی باطل ہے بوجوہ۔
ضرب ۸۹:اقول:ہر ذی جہت قابل اشارہ حسیہ ہے کہ اوپر ہوا تو انگلی اوپر کو اٹھا کر بتاسکتے ہیںکہ وہ ہے اور نیچے ہوا تو نیچے کواور ہر قابل اشارہ حسیہ متحیز ہے اور متحیز جسم یا جسمانی ہے اور ہر جسم و جسمانی محتاج ہے اور اﷲ عزوجل احتیاج سے پاك ہے تو واجب ہوا کہ جہت سے پاك ہونہ اوپر ہو نہ نیچےنہ آگے نہ پیچھےنہ دہنے نہ بائیں تو قطعا لازم کہ کسی مکان میں نہ ہو۔
ضرب ۹۰:اقول:عرش زمین سے غایت بعد پر ہے اور اﷲ بندے سے نہایت قرب میں۔قال اﷲ تعالی:
" و نحن اقرب الیہ من حبل الورید ﴿۱۶﴾" ۔ ہم تمہاری شہ رگ سے زیادہ قریب ہیں۔(ت)
قال اﷲ تعالی:
" و اذا سالک عبادی عنی فانی قریب" ۔ جب تجھ سے میرے متعلق میرے بندے سوال کریں تو میں قریب ہوں۔(ت)
تو اگر عرش پر اﷲ عزوجل کا مکان ہوتا اﷲ تعالی ہردور ترسے زیادہ ہم سے دور ہوتااور وہ بنص قرآن باطل ہے۔
ضرب ۹۱:مولی تعالی اگر عرش پر چڑھا بیٹھا ہے تو اس سے اتر بھی سکتا ہے یا نہیںاگر نہیں تو عاجز ہوا اور عاجز خدا نہیںاور اگر ہاں تو جب اترے گا عرش سے نیچے ہوگا تو اس کا اسفل ہونا بھی ممکن ہوا اور اسفل خدا نہیں۔
ضرب ۹۲:اقول:اگر تیرے معبود کے لیے مکان ہے اور مکان و مکانی کو جہت سے چارہ نہیں کہ جہات نفس امکنہ ہیں یا حدود امکنہتو اب دو حال سے خالی نہیںیا تو آفتاب کی طرح صرف ایك ہی طرف ہوگا یا آسمان کی مانند ہر جہت سے محیطاولی باطل ہے بوجوہ۔
حوالہ / References
کتاب الاسماء والصفات للبیہقی جماع ابواب ذکر الاسماء التی تتبع نفی التشبیہ الخ،المکتبۃ الاثریہ سانگلہ ہل شیخوپورہ ۱/ ۷۱
القرآن الکریم ۵۰ /۱۶
القرآن الکریم ۲ /۱۸۶
القرآن الکریم ۵۰ /۱۶
القرآن الکریم ۲ /۱۸۶
اولا:آیہ کریمہ " وکان اللہ بکل شیء محیطا ﴿۱۲۶﴾" ۔ (اﷲ تعالی کی قدرت ہر چیز کو محیط ہے۔ت)کے مخالف ہے۔
ثانیا:کریمہ " فاینما تولوا فثم وجہ اللہ" ۔ (تم جدھر پھرو تو وہاں اﷲ تعالی کی ذات ہے۔ت)کے خلاف ہے۔
ثالثا:زمین کروی یعنی گول ہے اور اس کی ہر طرف آبادی ثابت ہوئی ہے اور بحمداﷲ ہر جگہ اسلام پہنچا ہوا ہے نئی پرانی دنیائیں سب محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے کلمے سے گونج رہی ہیں شریعت مطہرہ تمام بقاع کو عام ہے۔
" تبارک الذی نزل الفرقان علی عبدہ لیکون للعلمین نذیرۨا﴿۱﴾" ۔ وہ پاك ذات ہے جس نے اپنے خاص بندے پر قرآن نازل فرمایا تاکہ سب جہانوں کے لیے ڈر سنانے والا ہو۔(ت)
اور صحیح بخاری میں عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما سے ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ان احدکم اذا کان فی الصلوۃ فان اﷲ تعالی قبل وجہہ فلا یتنخمن احد قبل وجہہ فی الصلوۃ ۔ جب تم میں کوئی شخص نماز میں ہوتا ہے تو اﷲ تعالی اس کے منہ کے سامنے ہے تو ہر گز کوئی شخص نماز میں سامنے کو کھکار نہ ڈالے۔
اگر اﷲ تعالی ایك ہی طرف ہے تو ہر پارہ زمین میں نماز پڑھنے والے کے سامنے کیونکر ہوسکتا ہے۔
رابعا: ان گمراہوں مکان و جہت ماننے والوں کے پیشواؤں ابن تیمیہ وغیرہ نے اﷲ تعالی کے جہت بالا میں ہونے پر خود ہی یہ دلیل پیش کی ہے کہ تمام جہان کے مسلمان دعا و مناجات کے وقت ہاتھ اپنے سروں کی طرف اٹھاتے ہیں۔پر ظاہر کہ یہ دلیل ذلیل طبل کلیل کہ ائمہ کرام جس کے پرخچے اڑا چکے اگر ثابت کرے گی تو اﷲ عزوجل کا سب طرف سے محیط ہونا کہ ایك ہی طرف ہوتا تو وہیں کے
ثانیا:کریمہ " فاینما تولوا فثم وجہ اللہ" ۔ (تم جدھر پھرو تو وہاں اﷲ تعالی کی ذات ہے۔ت)کے خلاف ہے۔
ثالثا:زمین کروی یعنی گول ہے اور اس کی ہر طرف آبادی ثابت ہوئی ہے اور بحمداﷲ ہر جگہ اسلام پہنچا ہوا ہے نئی پرانی دنیائیں سب محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے کلمے سے گونج رہی ہیں شریعت مطہرہ تمام بقاع کو عام ہے۔
" تبارک الذی نزل الفرقان علی عبدہ لیکون للعلمین نذیرۨا﴿۱﴾" ۔ وہ پاك ذات ہے جس نے اپنے خاص بندے پر قرآن نازل فرمایا تاکہ سب جہانوں کے لیے ڈر سنانے والا ہو۔(ت)
اور صحیح بخاری میں عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما سے ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ان احدکم اذا کان فی الصلوۃ فان اﷲ تعالی قبل وجہہ فلا یتنخمن احد قبل وجہہ فی الصلوۃ ۔ جب تم میں کوئی شخص نماز میں ہوتا ہے تو اﷲ تعالی اس کے منہ کے سامنے ہے تو ہر گز کوئی شخص نماز میں سامنے کو کھکار نہ ڈالے۔
اگر اﷲ تعالی ایك ہی طرف ہے تو ہر پارہ زمین میں نماز پڑھنے والے کے سامنے کیونکر ہوسکتا ہے۔
رابعا: ان گمراہوں مکان و جہت ماننے والوں کے پیشواؤں ابن تیمیہ وغیرہ نے اﷲ تعالی کے جہت بالا میں ہونے پر خود ہی یہ دلیل پیش کی ہے کہ تمام جہان کے مسلمان دعا و مناجات کے وقت ہاتھ اپنے سروں کی طرف اٹھاتے ہیں۔پر ظاہر کہ یہ دلیل ذلیل طبل کلیل کہ ائمہ کرام جس کے پرخچے اڑا چکے اگر ثابت کرے گی تو اﷲ عزوجل کا سب طرف سے محیط ہونا کہ ایك ہی طرف ہوتا تو وہیں کے
حوالہ / References
القرآن الکریم ۴ /۱۲۶
القرآن الکریم ۲ /۱۱۵
القرآن الکریم ۲۵ /۱
صحیح البخاری کتاب الاذان باب ھل یلتفت لامرینزل بہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۰۴
القرآن الکریم ۲ /۱۱۵
القرآن الکریم ۲۵ /۱
صحیح البخاری کتاب الاذان باب ھل یلتفت لامرینزل بہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۰۴
مسلمان سر کی طرف ہاتھ اٹھاتے جہاں وہ سروں کے مقابل ہے باقی اطراف کے مسلمان سروں کی طرف کیونکر اٹھاتے بلکہ سمت مقابل کے رہنے والوں پر لازم ہوتا کہ اپنے پاؤں کی طرف ہاتھ بڑھائیں کہ ان مجمسہ کا معبود ان کے پاؤوں کی طرف ہے۔بالجملہ پہلی شق باطل ہےرہی دوسری اس پر یہ احاطہ عرش کے اندر اندر ہر گز نہ ہوگا ورنہ استواء باطل ہوجائے گاان کا معبود عرش کے اوپر نہ ہوگا نیچے قرار پائے گالاجرم عرش کے باہر سے احاطہ کرے گا اب عرش ان کے معبود کے پیٹ میں ہوگا تو عرش اس کا مکان کیونکر ہوسکتا ہے بلکہ وہ عرش کا مکان ٹھہرا اور اب عرش پر بیٹھنا بھی باطل ہوگیاکہ جو چیز اپنے اندر ہو اس پر بیٹھنا نہیں کہہ سکتے کیا تمہیں کہیں گے کہ تم اپنے دل یا جگر یا طحال پر بیٹھے ہوئے ہوگمرا ہوحجۃ اﷲ یوں قائم ہوتی ہے۔
ضرب ۹۳:اقول:شرع مطہر نے تمام جہان کے مسلمانوں کو نماز میں قبلہ کی طرف منہ کرنے کا حکم فرمایایہی حکم دلیل قطعی ہے کہ اﷲ عزوجل جہت و مکان سے پاك و بری ہےاگر خود حضرت عزت جلالہ کے لیے طرف وجہت ہوتی محض مہمل باطل تھا کہ اصل معبود کی طرف منہ کرکے اس کی خدمت میں کھڑا ہونا اس کی عظمت کے حضور پیٹھ جھکانا اس کے سامنے خاك پر منہ ملنا چھوڑ کر ایك اور مکان کی طرف سجدہ کرنے لگیں حالانکہ معبود دوسرے مکان میں ہےبادشاہ کا مجرئی اگر بادشاہ کو چھوڑ کر دیوان خانہ کی کسی دیوار کی طرف منہ کرکے آداب مجرا بجالائے اور دیوار ہی کے سامنے ہاتھ باندھے کھڑا رہے تو بے ادب مسخرہ کہلائے گا یا مجنون پاگل۔ہاں اگر معبود سب طرف سے زمین کو گھیرے ہوتا تو البتہ جہت قبلہ مقرر کرنے کی جہت نکل سکتی کہ جب وہ ہر سمت سے محیط ہے تو اس کی طرف منہ تو ہر حال میں ہوگا ہیایك ادب قاعدے کے طور پر ایك سمت خاص بنادی گئیمگر معبود ایسے گھیرے سے پاك ہے کہ یہ صورت دو ہی طور پر متصور ہےایك یہ کہ عرش تا فرش سب جگہیں اس سے بھری ہوں جیسے ہر خلا میں ہوا بھری ہے۔دوسرے یہ کہ وہ عرش سے باہر باہر افلاك کی طرح محیط عالم ہو اور بیچ میں خلا جس میں عرش و کرسیآسمان و زمین و مخلوقات واقع ہیںاور دونوں صورتیں محال ہیںپچھلی اس لیے کہ اب وہ صمد نہ رہے گا صمد وہ جس کے لیے جوف نہ ہواور اس کا جوف تو اتنا بڑا ہوا معہذا جب خالق عالم آسمان کی شکل پر ہوا تو تمہیں کیا معلوم ہوا کہ وہ یہی آسمان اعلی ہو جسے فلك اطلس و فلك الافلاك کہتے ہیںجب تشبیہ ٹھہری تو اس کے استحالے پر کیا دلیل ہوسکتی ہے اور پہلی صورت اس سے بھی شنیع تروبد یہی البطلان ہے کہ جب مجسمہ گمراہوں کا وہمی معبود عرش تا فرش ہر مکان کو بھرے ہوئے ہے تو معاذ اﷲ ہر پاخانے غسل خانے میں ہوگا مردوں کے پیٹ اور عورتوں کے
ضرب ۹۳:اقول:شرع مطہر نے تمام جہان کے مسلمانوں کو نماز میں قبلہ کی طرف منہ کرنے کا حکم فرمایایہی حکم دلیل قطعی ہے کہ اﷲ عزوجل جہت و مکان سے پاك و بری ہےاگر خود حضرت عزت جلالہ کے لیے طرف وجہت ہوتی محض مہمل باطل تھا کہ اصل معبود کی طرف منہ کرکے اس کی خدمت میں کھڑا ہونا اس کی عظمت کے حضور پیٹھ جھکانا اس کے سامنے خاك پر منہ ملنا چھوڑ کر ایك اور مکان کی طرف سجدہ کرنے لگیں حالانکہ معبود دوسرے مکان میں ہےبادشاہ کا مجرئی اگر بادشاہ کو چھوڑ کر دیوان خانہ کی کسی دیوار کی طرف منہ کرکے آداب مجرا بجالائے اور دیوار ہی کے سامنے ہاتھ باندھے کھڑا رہے تو بے ادب مسخرہ کہلائے گا یا مجنون پاگل۔ہاں اگر معبود سب طرف سے زمین کو گھیرے ہوتا تو البتہ جہت قبلہ مقرر کرنے کی جہت نکل سکتی کہ جب وہ ہر سمت سے محیط ہے تو اس کی طرف منہ تو ہر حال میں ہوگا ہیایك ادب قاعدے کے طور پر ایك سمت خاص بنادی گئیمگر معبود ایسے گھیرے سے پاك ہے کہ یہ صورت دو ہی طور پر متصور ہےایك یہ کہ عرش تا فرش سب جگہیں اس سے بھری ہوں جیسے ہر خلا میں ہوا بھری ہے۔دوسرے یہ کہ وہ عرش سے باہر باہر افلاك کی طرح محیط عالم ہو اور بیچ میں خلا جس میں عرش و کرسیآسمان و زمین و مخلوقات واقع ہیںاور دونوں صورتیں محال ہیںپچھلی اس لیے کہ اب وہ صمد نہ رہے گا صمد وہ جس کے لیے جوف نہ ہواور اس کا جوف تو اتنا بڑا ہوا معہذا جب خالق عالم آسمان کی شکل پر ہوا تو تمہیں کیا معلوم ہوا کہ وہ یہی آسمان اعلی ہو جسے فلك اطلس و فلك الافلاك کہتے ہیںجب تشبیہ ٹھہری تو اس کے استحالے پر کیا دلیل ہوسکتی ہے اور پہلی صورت اس سے بھی شنیع تروبد یہی البطلان ہے کہ جب مجسمہ گمراہوں کا وہمی معبود عرش تا فرش ہر مکان کو بھرے ہوئے ہے تو معاذ اﷲ ہر پاخانے غسل خانے میں ہوگا مردوں کے پیٹ اور عورتوں کے
رحم میں بھی ہوگاراہ چلنے والے اسی پر پاؤں اور جوتا رکھ کر چلیں گے معہذا اس تقدیر پر تمہیں کیا معلوم کہ وہ یہی ہوا ہو جو ہر جگہ بھری ہےجب احاطہ جسمانیہ ہر طرح باطل ہوا تو بالضرورۃ ایك ہی کنارے کو ہوگا اور شك نہیں کہ کرہ زمین کے ہر سمت رہنے والے جب نمازوں میں کعبے کو منہ کریں گے تو سب کا منہ اس ایك ہی کنارے کی طرف نہ ہوگا جس میں تم نے خدا کو فرض کیا ہے بلکہ ایك کا منہ ہے تو دوسرے کی پیٹھ ہوگیتیسرے کا بازوایك کا سر ہوگا تو دوسرے کے پاؤںیہ شریعت مطہرہ کو سخت عیب لگانا ہوگا۔لاجرم ایمان لانا فرض ہے کہ وہ غنی بے نیاز مکان و جہت و جملہ اعراض سے پاك ہے وﷲ الحمد۔
ضرب ۹۴:اقول:صحیحین میں ابوہریرہ اور صحیح مسلم میں ابوہریرہ وابو سعید رضی اﷲ تعالی عنہما سے ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ینزل ربنا کل اللیلۃ الی سماء الدنیا حین یبقی ثلث اللیل الاخر فیقول من یدعونی فاستجیب لہ الحدیث ۔ ہمارا رب عزوجل ہر رات تہائی رات رہے اس آسمان زیریں تك نزول کرتا اور ارشاد فرماتاہےہے کوئی دعا کرنے والا کہ میں اس کی دعا قبول کروں۔
اور ارصاد صحیحہ متواترہ نے ثابت کیا ہے کہ آسمان وزمین دونوں گول بشکل کرہ ہیںآفتاب ہر آن طلوع و غروب میں ہےجب ایك موضع میں طالع ہوتا ہے تو دوسرے میں غروب ہوتا ہےآٹھ پہر یہی حالت ہے تو دن اور رات کا ہر حصہ بھی یونہی آٹھ پہر باختلاف مواضع موجود رہے گا اس وقت یہاں تہائی رات رہی تو ایك لحظہ کے بعد دوسری جگہ تہائی رہے گی جو پہلی جگہ سے ایك مقدار خفیف پر مغرب کو ہٹی ہوگی ایك لحظہ بعد تیسری جگہ تہائی رہے گی وعلی ہذا القیاستو واجب ہے کہ مجسمہ کا معبود جن کے طور پر یہ نزول وغیرہ سب معنی حقیقی پر حمل کرنا لازمہمیشہ ہر وقت آٹھوں پہر بارھوں مہینے اسی نیچے کے آسمان پر رہتا ہوغایت یہ کہ جو جو رات سرکتی جائے خود بھی ان لوگوں کے محاذات میں سرکنا ہو خواہ آسمان پر ایك ہی جگہ بیٹھا آواز دیتا ہو بہرحال جب ہر وقت اسی آسمان پر براج رہا ہے تو عرش پر بیٹھنے کا کون سا وقت آئے گا اور آسمان پر اترنے کے کیا معنی ہوں گے۔
ضرب ۹۴:اقول:صحیحین میں ابوہریرہ اور صحیح مسلم میں ابوہریرہ وابو سعید رضی اﷲ تعالی عنہما سے ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ینزل ربنا کل اللیلۃ الی سماء الدنیا حین یبقی ثلث اللیل الاخر فیقول من یدعونی فاستجیب لہ الحدیث ۔ ہمارا رب عزوجل ہر رات تہائی رات رہے اس آسمان زیریں تك نزول کرتا اور ارشاد فرماتاہےہے کوئی دعا کرنے والا کہ میں اس کی دعا قبول کروں۔
اور ارصاد صحیحہ متواترہ نے ثابت کیا ہے کہ آسمان وزمین دونوں گول بشکل کرہ ہیںآفتاب ہر آن طلوع و غروب میں ہےجب ایك موضع میں طالع ہوتا ہے تو دوسرے میں غروب ہوتا ہےآٹھ پہر یہی حالت ہے تو دن اور رات کا ہر حصہ بھی یونہی آٹھ پہر باختلاف مواضع موجود رہے گا اس وقت یہاں تہائی رات رہی تو ایك لحظہ کے بعد دوسری جگہ تہائی رہے گی جو پہلی جگہ سے ایك مقدار خفیف پر مغرب کو ہٹی ہوگی ایك لحظہ بعد تیسری جگہ تہائی رہے گی وعلی ہذا القیاستو واجب ہے کہ مجسمہ کا معبود جن کے طور پر یہ نزول وغیرہ سب معنی حقیقی پر حمل کرنا لازمہمیشہ ہر وقت آٹھوں پہر بارھوں مہینے اسی نیچے کے آسمان پر رہتا ہوغایت یہ کہ جو جو رات سرکتی جائے خود بھی ان لوگوں کے محاذات میں سرکنا ہو خواہ آسمان پر ایك ہی جگہ بیٹھا آواز دیتا ہو بہرحال جب ہر وقت اسی آسمان پر براج رہا ہے تو عرش پر بیٹھنے کا کون سا وقت آئے گا اور آسمان پر اترنے کے کیا معنی ہوں گے۔
حوالہ / References
صحیح البخاری کتاب التہجد باب الدعاء والصلوۃ من آخر اللیل قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۵۳،صحیح مسلم کتاب صلوۃ المسافرین باب صلوۃ اللیل وعدد رکعات الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۲۵۸
بحمد اﷲ یہ بیس۲۰ دلائل جلائلمثبت حق و مبطل باطل ہیںتین افادہ ائمہ کرام اور سترہ افاضہ مولائے علام کہ بلا مراجعت کتاب ارتجالا لکھ دیںچودہ ایك جلسہ واحدہ خفیفہ میں اور باقی تین نماز کے بعد جلسہ ثانیہ میںاگر کتب کلامیہ کی طرف رجوع کی جائے تو ظاہرا بہت دلائل ان میں ان سے جدا ہوں گے بہت ان میں جدید و تازہ ہوں گےاور عجب نہیں کہ بعض مشترك بھی ملیںمگر نہ زیادہ کی فرصت نہ حاجتنہ اس رسالے میں کتب دیگرسے استناد کا قرار دادلہذا اسی پر اقتصار و قناعتاور توفیق الہی ساتھ ہو تو انہیں میں کفایت و ہدایتوالحمدﷲ رب العلمین۔
اب رد جہالات مخالف لیجئے یعنی وہ جو اس بے علم نے اپنی گمراہی کے زور میں دو حدیثیں پیش خویش اپنی مفید جان کرپیش کیں۔
ضرب ۹۵:حدیث صحیح بخاری تو ان علامۃ الدہر صاحب نے بالکل آنکھیں بند کرکے لکھ دی اپنے معبود کا مکانی و جسم ہونا جو ذہن میں جم گیا ہے تو خواہی نخواہی بھی ہرا ہی ہرا سوجھتا ہے حدیث کے لفظ یہ ہیں۔
فقال وھو مکانہ یارب خفف عنا فان امتی لاتستطیع ھذا ۔ آپ نے اپنی جگہ پر فرمایا۔اے رب ! ہم پر تخفیف فرما کیونکہ میری امت میں یہ استطاعت نہیں۔(ت)
یعنی جب نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پر پچاس نمازیں فرض ہوئیں اور حضور سدرہ سے واپس آئے آسمان ہفتم پر موسی علیہ الصلوۃ والسلام نے تخفیف چاہنے کے لیے گزارش کی حضور بمشورہ جبریل امین علیہ الصلوۃ والتسلیم پھر عازم سدرہ ہوئے اور اپنے اسی مکان سابق پر پہنچ کر جہاں تك پہلے پہنچے تھے اپنے رب سے عرض کی:الہی ! ہم سے تخفیف فرمادے کہ میری امت سے اتنی نہ ہوسکیں گی۔
یہاں سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے مکان ترقی کا ذکر ہےباؤلے فاضل نے جھٹ ضمیر حضرت عزت کی طرف پھیر دی یعنی حضور نے عرض کی اس حال میں کہ خدا اپنے اسی مکان میں بیٹھا ہوا تھا کہیں چلا نہ گیا تھا۔ولاحول ولاقوۃ الا باﷲ العلی العظیم بصیر صاحب کو اتنی بھی نہ سوجھی کہ وھو مکانہ جملہ حالیہ قال اور اس کے مقولے کے درمیان واقع ہے
اب رد جہالات مخالف لیجئے یعنی وہ جو اس بے علم نے اپنی گمراہی کے زور میں دو حدیثیں پیش خویش اپنی مفید جان کرپیش کیں۔
ضرب ۹۵:حدیث صحیح بخاری تو ان علامۃ الدہر صاحب نے بالکل آنکھیں بند کرکے لکھ دی اپنے معبود کا مکانی و جسم ہونا جو ذہن میں جم گیا ہے تو خواہی نخواہی بھی ہرا ہی ہرا سوجھتا ہے حدیث کے لفظ یہ ہیں۔
فقال وھو مکانہ یارب خفف عنا فان امتی لاتستطیع ھذا ۔ آپ نے اپنی جگہ پر فرمایا۔اے رب ! ہم پر تخفیف فرما کیونکہ میری امت میں یہ استطاعت نہیں۔(ت)
یعنی جب نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پر پچاس نمازیں فرض ہوئیں اور حضور سدرہ سے واپس آئے آسمان ہفتم پر موسی علیہ الصلوۃ والسلام نے تخفیف چاہنے کے لیے گزارش کی حضور بمشورہ جبریل امین علیہ الصلوۃ والتسلیم پھر عازم سدرہ ہوئے اور اپنے اسی مکان سابق پر پہنچ کر جہاں تك پہلے پہنچے تھے اپنے رب سے عرض کی:الہی ! ہم سے تخفیف فرمادے کہ میری امت سے اتنی نہ ہوسکیں گی۔
یہاں سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے مکان ترقی کا ذکر ہےباؤلے فاضل نے جھٹ ضمیر حضرت عزت کی طرف پھیر دی یعنی حضور نے عرض کی اس حال میں کہ خدا اپنے اسی مکان میں بیٹھا ہوا تھا کہیں چلا نہ گیا تھا۔ولاحول ولاقوۃ الا باﷲ العلی العظیم بصیر صاحب کو اتنی بھی نہ سوجھی کہ وھو مکانہ جملہ حالیہ قال اور اس کے مقولے کے درمیان واقع ہے
حوالہ / References
صحیح البخاری کتاب التوحید باب قول اﷲ عزوجل وکلم اﷲ موسی تکلیما قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۱۱۲۰
تو اقرب کو چھوڑ کر بلا دلیل کیونکر گھڑ لیا جائے کہ یہ حال حضور سے نہیں اﷲ عزوجل سے ہے جو اس جملے میں مذکور بھی نہیں مگر یہ ہے کہ۔
" و من لم یجعل اللہ لہ نورا فما لہ من نور ﴿۴۰﴾" ۔ جس کے لیے اﷲ تعالی نور نہ بنائے تو اس کے لیے نور نہیں۔ (ت)
ضرب ۹۶:اپنی مستند کتاب الاسماء والصفات کو دیکھ کر اس حدیث کے باب میں کیا کیا فرماتے ہیں یہ حدیث شریك بن عبداﷲ بن ابی نمر نے(جنہیں امام یحیی بن معین و امام نسائی نے لیس بالقوی ۔کہا ویسے قوی نہیںاور تم غیر مقلدوں کے پیشوا ابن حزم نے اسی حدیث کی وجہ سے واہی وضعیف بتایا اور حافظ الشان نے تقریب ۔میں صدوق یخطی فرمایا۔)حضرت انس بن مالك رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کی جس میں جا بجا ثقات حفاظ کی مخالفت کی اس پر کتاب موصوف میں فرماتے ہیں:
وروی حدیث المعراج ابن شہاب الزھری عن انس بن مالك عن ابی ذر وقتادۃ عن انس بن مالك عن مالك بن صعصعۃ رضی اﷲ تعالی عنہ لیس فی حدیث واحد منھما شیئ من ذلکوقد ذکر شریك بن عبداﷲ بن ابی نمرفی روایتہ ھذا ما یستدل بہ علی انہ لم یحفظ الحدیث کما ینبغی لہ۔ یعنی یہ حدیث معراج امام ابن شہاب زہری نے حضرت انس بن مالك انہوں نے حضرت ابوذر رضی اﷲ تعالی عنہما سے اور قتادہ نے حضرت انس بن مالك انہوں نے حضرت مالك بن صعصعہ رضی اﷲ تعالی عنہما سے روایت کی ان روایات میں اصلا ان الفاظ کا پتہ نہیں اور بیشك شریك نے روایت میں وہ باتیں ذکر کی ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ حدیث جیسی چاہیے انہیں یاد نہ تھی۔
ضرب ۹۷:وجوہ مخالفت بیان کرکے فرمایا:
" و من لم یجعل اللہ لہ نورا فما لہ من نور ﴿۴۰﴾" ۔ جس کے لیے اﷲ تعالی نور نہ بنائے تو اس کے لیے نور نہیں۔ (ت)
ضرب ۹۶:اپنی مستند کتاب الاسماء والصفات کو دیکھ کر اس حدیث کے باب میں کیا کیا فرماتے ہیں یہ حدیث شریك بن عبداﷲ بن ابی نمر نے(جنہیں امام یحیی بن معین و امام نسائی نے لیس بالقوی ۔کہا ویسے قوی نہیںاور تم غیر مقلدوں کے پیشوا ابن حزم نے اسی حدیث کی وجہ سے واہی وضعیف بتایا اور حافظ الشان نے تقریب ۔میں صدوق یخطی فرمایا۔)حضرت انس بن مالك رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کی جس میں جا بجا ثقات حفاظ کی مخالفت کی اس پر کتاب موصوف میں فرماتے ہیں:
وروی حدیث المعراج ابن شہاب الزھری عن انس بن مالك عن ابی ذر وقتادۃ عن انس بن مالك عن مالك بن صعصعۃ رضی اﷲ تعالی عنہ لیس فی حدیث واحد منھما شیئ من ذلکوقد ذکر شریك بن عبداﷲ بن ابی نمرفی روایتہ ھذا ما یستدل بہ علی انہ لم یحفظ الحدیث کما ینبغی لہ۔ یعنی یہ حدیث معراج امام ابن شہاب زہری نے حضرت انس بن مالك انہوں نے حضرت ابوذر رضی اﷲ تعالی عنہما سے اور قتادہ نے حضرت انس بن مالك انہوں نے حضرت مالك بن صعصعہ رضی اﷲ تعالی عنہما سے روایت کی ان روایات میں اصلا ان الفاظ کا پتہ نہیں اور بیشك شریك نے روایت میں وہ باتیں ذکر کی ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ حدیث جیسی چاہیے انہیں یاد نہ تھی۔
ضرب ۹۷:وجوہ مخالفت بیان کرکے فرمایا:
حوالہ / References
القرآن الکریم ۲۴ /۴۰
میزان الاعتدال بحوالہ النسائی ترجمہ ۳۶۹۶ شریك بن عبداﷲ دارالمعرفۃ بیروت ۲/ ۲۶۹
تقریب التہذیب ترجمہ ۲۷۹۶ دارالکتب العلمیہ بیروت ۱/ ۴۱۸
کتاب الاسماء والصفات للبیہقی باب ماجاء فی قول اﷲ ثم دنافتدلیء الخ المکتبۃ الاثریہ سانگلہ ہل شیخوپورہ ۲/ ۱۸۷
میزان الاعتدال بحوالہ النسائی ترجمہ ۳۶۹۶ شریك بن عبداﷲ دارالمعرفۃ بیروت ۲/ ۲۶۹
تقریب التہذیب ترجمہ ۲۷۹۶ دارالکتب العلمیہ بیروت ۱/ ۴۱۸
کتاب الاسماء والصفات للبیہقی باب ماجاء فی قول اﷲ ثم دنافتدلیء الخ المکتبۃ الاثریہ سانگلہ ہل شیخوپورہ ۲/ ۱۸۷
ثم ان ھذہ القصۃ بطولہا انما ھی حکایۃ حکاھا شریك عن انس بن مالك رضی اﷲ تعالی عنہ من تلقاء نفسہ لم یعزھا الی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ولارواھا عنہ ولا اضافہا الی قولہ وقد خالفہ فیما تفرد بہ منہا عبد اﷲ بن مسعود و عائشۃ و ابو ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہم و ھم احفظ واکبر واکثر ۔ یعنی پھر یہ قصہ حدیث مرفوع نہیں شریك نے صرف حضرت انس کا اپنا قول روایت کیا ہے جسے نہ نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی طرف نسبت کیا نہ حضور کا قول روایت کیا اور ان الفاظ میں ان کی مخالفت فرمائی حضرت عبداﷲ بن مسعود وحضرت ام المومنین صدیقہ و حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہم نے اور وہ حفظ میں زائدعمر میں زائدعدد میں زائد۔
ضرب ۹۸:پھر امام ابوسلیمن خطابی سے نقل فرمایا:
وفی الحدیث لفظۃ اخری تفرد بہا شریك ایضا لم یذکرھا غیرہ وھی قولہ فقال وھو مکانہ والمکان لایضاف الی اﷲ تعالی سبحنہ انما ھو مکان النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم و مقامہ الاول الذی اقیم فیہ۔ یعنی یہ لفظ مکان بھی صرف شریك نے ذکر کیا اوروں کی روایت میں اس کا پتہ نہیں اور مکان اﷲ سبحنہ کی طرف منسوب نہیںاس سے مراد تو نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا مکان اور حضور کا وہ مقام ہے جہاں اس نزول سے پہلے قائم کیے گئے تھے۔
کیوں کچے تو نہ ہوئے ہو گےمگر توبہ وہابی گمراہ کو حیا کہاں۔
ضرب ۹۹:اقول:مسند امام احمد رضی اﷲ تعالی عنہ کی حدیث مسند سیدنا ابی سعید خدری رضی اﷲ تعالی عنہ میں ایك بار اس سند سے مروی۔
حدثنا ابوسلمۃ انا لیث عن یزید بن الہاد عن عمرو بن ابی سعید الخدری ۔دوبارہ یوں:
ضرب ۹۸:پھر امام ابوسلیمن خطابی سے نقل فرمایا:
وفی الحدیث لفظۃ اخری تفرد بہا شریك ایضا لم یذکرھا غیرہ وھی قولہ فقال وھو مکانہ والمکان لایضاف الی اﷲ تعالی سبحنہ انما ھو مکان النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم و مقامہ الاول الذی اقیم فیہ۔ یعنی یہ لفظ مکان بھی صرف شریك نے ذکر کیا اوروں کی روایت میں اس کا پتہ نہیں اور مکان اﷲ سبحنہ کی طرف منسوب نہیںاس سے مراد تو نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا مکان اور حضور کا وہ مقام ہے جہاں اس نزول سے پہلے قائم کیے گئے تھے۔
کیوں کچے تو نہ ہوئے ہو گےمگر توبہ وہابی گمراہ کو حیا کہاں۔
ضرب ۹۹:اقول:مسند امام احمد رضی اﷲ تعالی عنہ کی حدیث مسند سیدنا ابی سعید خدری رضی اﷲ تعالی عنہ میں ایك بار اس سند سے مروی۔
حدثنا ابوسلمۃ انا لیث عن یزید بن الہاد عن عمرو بن ابی سعید الخدری ۔دوبارہ یوں:
حوالہ / References
کتاب الاسماء والصفات للبیہقی باب ماجاء فی قول اﷲ تعالٰی ثم دنا فتدلٰی الخ المکتبۃ الاثریہ سانگلہ ہل شیخوپورہ ۲/۱۸۷
کتاب الاسماء والصفات للبیہقی باب ماجاء فی قول اﷲ تعالٰی ثم دنا فتدلٰی الخ المکتبۃ الاثریہ سانگلہ ہل شیخوپورہ ۲/۱۸۷
مسند احمد بن حنبل مروی ازابوسعید الخدری دارالفکر بیروت ۳/ ۲۹
کتاب الاسماء والصفات للبیہقی باب ماجاء فی قول اﷲ تعالٰی ثم دنا فتدلٰی الخ المکتبۃ الاثریہ سانگلہ ہل شیخوپورہ ۲/۱۸۷
مسند احمد بن حنبل مروی ازابوسعید الخدری دارالفکر بیروت ۳/ ۲۹
حدثنا یونس ثنالیث الحدیث سندا ومتنا ۔
ان میں صرف اس قدر ہے کہ رب عزوجل نے فرمایا۔بعزتی وجلالی ۔مجھے اپنی عزت و جلال کی قسم۔
ارتفاع مکانی کا اصلا ذکر نہیںسہ بارہ اس سند سے روایت فرمائی۔
حدثنا یحیی بن اسحق انا ابن لھیعۃ عن دراج عن ابی الھیثم عن ابی سعید الخدری۔
یہاں سرے سے قسم کا ذکر ہی نہیں صرف اتنا ہے کہ:
قال الرب عزوجل لا ازال اغفرلھم مااستغفرونی ۔ رب عزوجل نے فرمایا میں انہیں ہمیشہ بخشتا رہوں گا جب تك وہ مجھ سے استغفار کریں گے۔
امام اجل حافظ الحدیث عبدالعظیم منذری نے بھی یہ حدیث کتاب الترغیب والترہیب میں بحوالہ مسند امام احمد و مستدرك حاکم ذکر فرمائی انہوں نے بھی صرف اسی قدر نقل کیا کہ بعزتی وجلالی اور امام جلیل جلال الدین سیوطی نے جامع صغیر و جامع کبیر میں بھی بحوالہ مسند احمد و ابی یعلی و حاکم ذکر کی ان میں بھی اتنا ہی ہے ارتفاع مکانی کا لفظ کسی میں نہیںہاں بیہقی نے کتاب الاسماء میں یہ حدیث اس طریق اخیر ابن لہیعہ سے روایت کی۔
حیث قال اخبرنا علی بن احمد بن عبدان انا احمد بن عبید ثنا جعفر بن محمد ثنا قتیبۃ ثنا ابن لھیعۃ عن دراج عن ابی الھیثم عن ابی سعید الخدری رضی اﷲ تعالی عنہ ۔
ان میں صرف اس قدر ہے کہ رب عزوجل نے فرمایا۔بعزتی وجلالی ۔مجھے اپنی عزت و جلال کی قسم۔
ارتفاع مکانی کا اصلا ذکر نہیںسہ بارہ اس سند سے روایت فرمائی۔
حدثنا یحیی بن اسحق انا ابن لھیعۃ عن دراج عن ابی الھیثم عن ابی سعید الخدری۔
یہاں سرے سے قسم کا ذکر ہی نہیں صرف اتنا ہے کہ:
قال الرب عزوجل لا ازال اغفرلھم مااستغفرونی ۔ رب عزوجل نے فرمایا میں انہیں ہمیشہ بخشتا رہوں گا جب تك وہ مجھ سے استغفار کریں گے۔
امام اجل حافظ الحدیث عبدالعظیم منذری نے بھی یہ حدیث کتاب الترغیب والترہیب میں بحوالہ مسند امام احمد و مستدرك حاکم ذکر فرمائی انہوں نے بھی صرف اسی قدر نقل کیا کہ بعزتی وجلالی اور امام جلیل جلال الدین سیوطی نے جامع صغیر و جامع کبیر میں بھی بحوالہ مسند احمد و ابی یعلی و حاکم ذکر کی ان میں بھی اتنا ہی ہے ارتفاع مکانی کا لفظ کسی میں نہیںہاں بیہقی نے کتاب الاسماء میں یہ حدیث اس طریق اخیر ابن لہیعہ سے روایت کی۔
حیث قال اخبرنا علی بن احمد بن عبدان انا احمد بن عبید ثنا جعفر بن محمد ثنا قتیبۃ ثنا ابن لھیعۃ عن دراج عن ابی الھیثم عن ابی سعید الخدری رضی اﷲ تعالی عنہ ۔
حوالہ / References
مسند احمد بن حنبل مروی از ابوسعید خدری دارالفکر بیروت ۳/ ۴۱
مسند احمد بن حنبل مروی از ابوسعید خدری دارالفکر بیروت ۳/ ۲۹ و ۴۱
مسند احمد بن حنبل مروی از ابوسعید خدری دارالفکر بیروت ۳/ ۷۱
الترغیب والترہیب کتاب الذکروالدعاء الترغیب فی الاستغفار مصطفی البابی مصر ۲/ ۴۶۸
کتاب الاسماء والصفات للبیہقی باب ماجاء فی اثبات العزۃ المکتبۃ الاثریہ سانگلہ ہل شیخوپورہ ۱/ ۲۲۱
مسند احمد بن حنبل مروی از ابوسعید خدری دارالفکر بیروت ۳/ ۲۹ و ۴۱
مسند احمد بن حنبل مروی از ابوسعید خدری دارالفکر بیروت ۳/ ۷۱
الترغیب والترہیب کتاب الذکروالدعاء الترغیب فی الاستغفار مصطفی البابی مصر ۲/ ۴۶۸
کتاب الاسماء والصفات للبیہقی باب ماجاء فی اثبات العزۃ المکتبۃ الاثریہ سانگلہ ہل شیخوپورہ ۱/ ۲۲۱
یہاں وہ لفظ(ارتفاع مکانی فـــــــ) ہے اس سند میں اول تو ابن لہیعہ موجود ان میں محدثین کا جو کلام ہے معلوم و معہود جب باب احکام میں ان کی حدیث پرائمہ کو وہ نزاعیں ہیں تو باب صفات تو اشد الابواب ہے۔
ضرب ۱۰۰:اقول:وہ مدلس ہیں کما فی فتح المغیث(جیسا کہ فتح المغیث میں ہےت)اور مدلس کا عنعنہ محدثین قبول نہیں کرتے۔
ضرب ۱۰۱:اقول:وہ دراج سے راوی ہیں اور دراج ابوالہیثم سےمیزان الاعتدال میں دراج کی توثیق صرف یحیی سے نقل کی اور امام احمد نے ان کی تضعیف فرمائی اور ان کی حدیثوں کو منکر کہا۔امام فضلك رازی نے کہا وہ ثقہ نہیںامام نسائی نے فرمایا:منکر الحدیث ہیںامام ابوحاتم نے کہا ضعیف ہیں ابن عدی نے ان کی حدیثیں روایت کرکے کہہ دیا۔اور حفاظ ان کی موافقت نہیں کرتے۔امام دارقطنی نے کہا:ضعیف ہیںاور ایك بار فرمایا:متروك ہیںیہ سب اقوال میزان الاعتدال میں ہیں ۔بالاخر ان کے باب میں قول منقح یہ ٹھہرا جو حافظ الشان نے تقریب میں لکھا کہ:
صدوق فی حدیثہ عن ابی الھیثم ضعیف ۔ آدمی فی نفسہ سچے ہیں مگر ابوالہیثم سے ان کی روایت ضعیف ہے۔
اور یہاں یہ روایت ابوالہیثم ہی سے ہے تو حدیث کا ضعف ثابت ہوگیابڑے محدث جیاسی برتے پر احادیث صحیحہ کہا تھا۔
ضرب ۱۰۲:یہ سات ضربیں ان خاص خاص حدیثوں کے متعلق آپ کے دم پر تھیں۔اب عام لیجئے کہ یہ حدیث اور اس جیسی اور جولاؤ سب میں منہ کی کھاؤ مکان و منزل و مقام بمعنی عــــــہ مکانت ومنزلت
عــــــہ:ولہذا مرقات میں اسی حدیث کے نیچے لکھا۔وارتفاع مکانی ای مکانتی ۔ ۱۲ منہ
فـــــ:اسی مقام پر تحقیق والے نے بھی مکان سے مراد مکانتہ لیا ہےالمرادھنا ارتفاع المکانۃ لیس المکان لان اﷲ موجود بلامکان ودلیلہ حدیث اھل الیمن۔نذیر احمد سعیدی
ضرب ۱۰۰:اقول:وہ مدلس ہیں کما فی فتح المغیث(جیسا کہ فتح المغیث میں ہےت)اور مدلس کا عنعنہ محدثین قبول نہیں کرتے۔
ضرب ۱۰۱:اقول:وہ دراج سے راوی ہیں اور دراج ابوالہیثم سےمیزان الاعتدال میں دراج کی توثیق صرف یحیی سے نقل کی اور امام احمد نے ان کی تضعیف فرمائی اور ان کی حدیثوں کو منکر کہا۔امام فضلك رازی نے کہا وہ ثقہ نہیںامام نسائی نے فرمایا:منکر الحدیث ہیںامام ابوحاتم نے کہا ضعیف ہیں ابن عدی نے ان کی حدیثیں روایت کرکے کہہ دیا۔اور حفاظ ان کی موافقت نہیں کرتے۔امام دارقطنی نے کہا:ضعیف ہیںاور ایك بار فرمایا:متروك ہیںیہ سب اقوال میزان الاعتدال میں ہیں ۔بالاخر ان کے باب میں قول منقح یہ ٹھہرا جو حافظ الشان نے تقریب میں لکھا کہ:
صدوق فی حدیثہ عن ابی الھیثم ضعیف ۔ آدمی فی نفسہ سچے ہیں مگر ابوالہیثم سے ان کی روایت ضعیف ہے۔
اور یہاں یہ روایت ابوالہیثم ہی سے ہے تو حدیث کا ضعف ثابت ہوگیابڑے محدث جیاسی برتے پر احادیث صحیحہ کہا تھا۔
ضرب ۱۰۲:یہ سات ضربیں ان خاص خاص حدیثوں کے متعلق آپ کے دم پر تھیں۔اب عام لیجئے کہ یہ حدیث اور اس جیسی اور جولاؤ سب میں منہ کی کھاؤ مکان و منزل و مقام بمعنی عــــــہ مکانت ومنزلت
عــــــہ:ولہذا مرقات میں اسی حدیث کے نیچے لکھا۔وارتفاع مکانی ای مکانتی ۔ ۱۲ منہ
فـــــ:اسی مقام پر تحقیق والے نے بھی مکان سے مراد مکانتہ لیا ہےالمرادھنا ارتفاع المکانۃ لیس المکان لان اﷲ موجود بلامکان ودلیلہ حدیث اھل الیمن۔نذیر احمد سعیدی
حوالہ / References
میزان الاعتدال ترجمہ ۲۶۶۷ دراج ابوالسمح المصری دارالمعرفۃ بیروت ۲/ ۲۴،۲۵
تقریب التہذیب ترجمہ ۱۸۲۹ دارالکتب العلمیہ بیروت ۱/ ۲۸۴
مرقات المفاتیح باب الاستغفار والتوبہ فصل ثانی،مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۵/ ۱۷۵
تقریب التہذیب ترجمہ ۱۸۲۹ دارالکتب العلمیہ بیروت ۱/ ۲۸۴
مرقات المفاتیح باب الاستغفار والتوبہ فصل ثانی،مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۵/ ۱۷۵
و مرتبہ ایسے شائع الاستعمال نہیں کہ کسی ادنی ذی علم پر مخفی رہیں مگر جاہل بےخرد کا کیا علاج۔
ضرب ۱۰۳:اقول:ممکن کہ مکان مصدر میمی ہو تو اس کا حاصل کون ووجود و ارتفاع و اعتلائے وجود الہی ہوگا۔
ضرب ۱۰۴:اضافت تشریفی بھی کبھی کسی ذی علم سے سنی ہےکعبہ کو فرمایا:بیتی میرا گھر جبریل امین کو فرمایا:روحنا ہماری روحناقہ صالح کو فرمایا:ناقۃ اﷲ اﷲ کی اونٹنی اب کہہ دینا کہ اﷲ کا بڑا شیش محل تو اوپر ہے اور ایك چھوٹی سی کوٹھری رات کو سونے کی مکے میں بنا رکھی ہے اور تیرا معبود کوئی جاندار بھی ہے اونچی سی اونٹنی پر سوار بھی ہے۔
بیحیا باش وانچہ خواہی گوئے
(بے حیاہوجا اور جو چاہے کہہ ت)
وہی تیری جان کے دشمن امام بیہقی جن کی کتاب الاسماء کا نام تو نے ہمیشہ کے لیے اپنی جان کو آفت لگادینے کے واسطے لے دیا اسی کتاب الاسماء میں بعد عبارت مذکورہ سابق فرماتے ہیں:
قال ابوسلیمن وھھنا لفظۃ اخری فی قصۃ الشفاعۃ رواھا قتادۃ عن انس رضی اﷲ تعالی عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فیأ تونی یعنی اھل المحشریسأ لونی للشفاعۃ فاستأذن علی ربی فی دارہ فیؤذن لی علیہ ای فی دارہ التی دورھا لاولیائہ وھی الجنۃ کقولہ عزوجل لھم دارالسلام عند ربھم وکقولہ تعالی واﷲ یدعوالی دارالسلم وکما یقال بیت اﷲ و حرم اﷲیریدون البیت الذی جعل اﷲ مثابۃ ابوسلیمان نے فرمایا کہ یہاں شفاعت کے واقعہ میں ایك دوسرا لفظ ہے جس کو حضرت قتادہ نے انس رضی اﷲ تعالی عنہ اور انہوں نے نبی پاك صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے روایت کیا:تو میرے پاس اہل محشر آئیں گے شفاعت کی درخواست کریں گےتو میں اﷲ تعالی سے اجازت طلب کروں گا اس کے گھر میں تو مجھے اجازت شفاعت ہوگیفی دارہ سے مراد وہ دار ہے جس کو اﷲ تعالی نے اپنے اولیاء کے لیے دار بنایا اور وہ جنت ہےجیسے اﷲ تعالی کا ارشاد ہے اور اﷲ تعالی دارالسلام کی طرف دعوت دیتا ہے۔(جنت کو اﷲ تعالی کا دار کہنا)ایسے ہی ہے جیسے بیت اﷲ اور حرم اﷲ کہا جاتا ہے اور یہ مراد لیتے ہیں کہ وہ بیت جس کو
ضرب ۱۰۳:اقول:ممکن کہ مکان مصدر میمی ہو تو اس کا حاصل کون ووجود و ارتفاع و اعتلائے وجود الہی ہوگا۔
ضرب ۱۰۴:اضافت تشریفی بھی کبھی کسی ذی علم سے سنی ہےکعبہ کو فرمایا:بیتی میرا گھر جبریل امین کو فرمایا:روحنا ہماری روحناقہ صالح کو فرمایا:ناقۃ اﷲ اﷲ کی اونٹنی اب کہہ دینا کہ اﷲ کا بڑا شیش محل تو اوپر ہے اور ایك چھوٹی سی کوٹھری رات کو سونے کی مکے میں بنا رکھی ہے اور تیرا معبود کوئی جاندار بھی ہے اونچی سی اونٹنی پر سوار بھی ہے۔
بیحیا باش وانچہ خواہی گوئے
(بے حیاہوجا اور جو چاہے کہہ ت)
وہی تیری جان کے دشمن امام بیہقی جن کی کتاب الاسماء کا نام تو نے ہمیشہ کے لیے اپنی جان کو آفت لگادینے کے واسطے لے دیا اسی کتاب الاسماء میں بعد عبارت مذکورہ سابق فرماتے ہیں:
قال ابوسلیمن وھھنا لفظۃ اخری فی قصۃ الشفاعۃ رواھا قتادۃ عن انس رضی اﷲ تعالی عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فیأ تونی یعنی اھل المحشریسأ لونی للشفاعۃ فاستأذن علی ربی فی دارہ فیؤذن لی علیہ ای فی دارہ التی دورھا لاولیائہ وھی الجنۃ کقولہ عزوجل لھم دارالسلام عند ربھم وکقولہ تعالی واﷲ یدعوالی دارالسلم وکما یقال بیت اﷲ و حرم اﷲیریدون البیت الذی جعل اﷲ مثابۃ ابوسلیمان نے فرمایا کہ یہاں شفاعت کے واقعہ میں ایك دوسرا لفظ ہے جس کو حضرت قتادہ نے انس رضی اﷲ تعالی عنہ اور انہوں نے نبی پاك صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے روایت کیا:تو میرے پاس اہل محشر آئیں گے شفاعت کی درخواست کریں گےتو میں اﷲ تعالی سے اجازت طلب کروں گا اس کے گھر میں تو مجھے اجازت شفاعت ہوگیفی دارہ سے مراد وہ دار ہے جس کو اﷲ تعالی نے اپنے اولیاء کے لیے دار بنایا اور وہ جنت ہےجیسے اﷲ تعالی کا ارشاد ہے اور اﷲ تعالی دارالسلام کی طرف دعوت دیتا ہے۔(جنت کو اﷲ تعالی کا دار کہنا)ایسے ہی ہے جیسے بیت اﷲ اور حرم اﷲ کہا جاتا ہے اور یہ مراد لیتے ہیں کہ وہ بیت جس کو
للناسوالحرم الذی جعلہ امنا ومثلہ روح اﷲ علی سبیل التفضیل لہ علی سائر الارواحوانما ذلك فی ترتیب الکلام کقولہ جل وعلا(ای حکایۃ عن فرعون) ان رسولکم الذی ارسل الیکم لمجنون فاضاف الرسول الیہم وانما ھو رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ارسل الیھم اھ باختصار ۔ اﷲ تعالی نے لوگوں کے لیے مرجع بنایا اوروہ حرم جس کو اﷲ تعالی نے لوگوں کے لیے جائے امن بنایااس طرح روح اﷲ کہا گیا کہ جس کا مطلب ہے کہ اﷲ تعالی نے اس کو باقی روحوں پر فضیلت دی اور یہ صرف کلامی ترتیب ہے جیسے اﷲ تعالی کا ارشاد فرعون سے حکایت کرتے ہوئے ہے کہ اس نے کہا:بنی اسرائیل!تمہارا رسول جو تمہاری طرف بھیجا گیا وہ مجنون ہے تو یہاں رسول کی اضافت بنی اسرائیل کی طرف کی حالانکہ وہ صرف اﷲ کے رسول ہیںصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم جس کو اﷲ تعالی نے ان کی طرف بھیجا ہےا ھ اختصارا(ت)
ضرب ۱۰۵:کہ حدیث اول سے بھی جواب آخر ہے یہ دونوں حدیثیں بھی فرض کرلیں اور مکان اسی تیرے گمان ہی کے معنی پر رکھیں اور اس کی نسبت جانب حضرت عزت بھی تیرے ہی حسب دلخواہ قرار دیں تو غایت یہ کہ دو حدیث آحاد میں لفظ مکان وارد ہوا اس قدر کیا قابل استناد ولائق اعتماد کہ ایسے مسائل ذات و صفات الہی میں احادیث اصلا قابل قبول نہیں وہی تیرے دشمن مستندامام بیہقی اسی کتاب الاسماء والصفات میں فرماتے ہیں:
ترك اھل النظر اصحابنا الاحتجاج باخبار الآحاد فی صفات اﷲ تعالی اذا لم یکن لما انفرد منہا اصل فی الکتاب او الاجماع واشتغلوا بتاویلہ ۔ ہمارے ائمہ متکلمین اہلسنت و جماعت نے مسائل صفات الہیہ میں اخبار آحاد سے سند لانی قبول نہ کی جب کہ وہ بات کہ تنہا ان میں آئی اس کی اصل قرآن عظیم یا باجماع امت سے ثابت نہ ہوا اور ایسی حدیثوں کی تاویل میں مشغول ہوئے۔
اسی میں امام خطابی سے نقل فرمایا:
ضرب ۱۰۵:کہ حدیث اول سے بھی جواب آخر ہے یہ دونوں حدیثیں بھی فرض کرلیں اور مکان اسی تیرے گمان ہی کے معنی پر رکھیں اور اس کی نسبت جانب حضرت عزت بھی تیرے ہی حسب دلخواہ قرار دیں تو غایت یہ کہ دو حدیث آحاد میں لفظ مکان وارد ہوا اس قدر کیا قابل استناد ولائق اعتماد کہ ایسے مسائل ذات و صفات الہی میں احادیث اصلا قابل قبول نہیں وہی تیرے دشمن مستندامام بیہقی اسی کتاب الاسماء والصفات میں فرماتے ہیں:
ترك اھل النظر اصحابنا الاحتجاج باخبار الآحاد فی صفات اﷲ تعالی اذا لم یکن لما انفرد منہا اصل فی الکتاب او الاجماع واشتغلوا بتاویلہ ۔ ہمارے ائمہ متکلمین اہلسنت و جماعت نے مسائل صفات الہیہ میں اخبار آحاد سے سند لانی قبول نہ کی جب کہ وہ بات کہ تنہا ان میں آئی اس کی اصل قرآن عظیم یا باجماع امت سے ثابت نہ ہوا اور ایسی حدیثوں کی تاویل میں مشغول ہوئے۔
اسی میں امام خطابی سے نقل فرمایا:
حوالہ / References
کتاب الاسماء والصفات باب ماجاء فی قول اﷲ تعالٰی ثم دنا فتدلّٰی الخ المکتبۃ الاثریہ سانگلہ ہل شیخوپورہ ۲/ ۱۸۸و ۱۸۹
کتاب الاسماء والصفات باب ماذکرفی القدم والرجل ثم دنا فتدلّٰی الخ المکتبۃ الاثریہ سانگلہ ہل شیخوپورہ ۲/۹۲
کتاب الاسماء والصفات باب ماذکرفی القدم والرجل ثم دنا فتدلّٰی الخ المکتبۃ الاثریہ سانگلہ ہل شیخوپورہ ۲/۹۲
الاصل فی ھذا وما اشبہہ فی اثبات الصفاتانہ لا یجوز ذلك الاان یکون بکتاب ناطق اوخبر مقطوع بصحتہ فان لم یکونا فیما یثبت من اخبار الاحادیث المستندۃ الی اصل فی الکتاب اوفی السنۃ المقطوع بصحتہا او بموافقۃ معانیہا و ماکان بخلاف ذلك فالتوقف عن اطلاق الاسم بہ ھوالواجب ویتأول حینئذعلی مایلیق بمعانی الاصول المتفق علیہا من اقاویل اھل الدین والعلم مع نفی التشبیہ فیہھذا ھوالاصل الذی یبنی علیہ الکلام والمعتمدۃ فی ھذا الباب۔ اس میں اور اس قسم کی صفات کے اثبات میں قاعدہ یہ ہے کہ یہ اثبات صرف کتاب اﷲ یا قطعی حدیث سے ہواگر ان دونوں سے نہ ہو پھر اس کا ثبوت ان احادیث سے ہو جو کتاب اﷲ اور قطعی صحیح حدیث سے مستند کسی ضابطہ کے مطابق اور ان کے معانی کے موافق ہواور جوان کے مخالف ہو تو پھر اس صفت کے اسم کے اطلاق پر ہی اکتفا کیا جانا ضروری ہوگا اور اس کی مراد کے لیے ایسی تاویل کی جائے گی جو اہل دین اور اہل علم کے متفقہ اقوال کے معانی کے موافق ہواور ضروری ہے کہ اس صفات میں کوئی تشبیہ کا پہلو نہ ہویہی وہ قاعدہ ہے جس پر کلام کو مبنی کیا جائے اور اس باب میں یہی قابل اعتماد قاعدہ ہے۔(ت)
ضرب ۱۰۶:اقول:تیری سب جہالتوں سے قطع نظر کی جائے تو ذرا اپنے دعوے کو سوجھ کہ احادیث صریحہ صحیحہ سے عرش کا مکان الہی ہونا ثابت ہےصریح ہونا بالائے طاق ان احادیث سے اگر بفرض باطل ثابت ہوگا تو یہ تیرے معبود کے لیے تیرے زعم میں مکان ہے اس سے یہ کیونکر نکلا کہ وہ مکان عرش ہی ہےخود اپنا دعوی سمجھنے کی لیاقت نہیں اور چلے صفات الہیہ میں کلام کرنے۔
ضرب ۱۰۷:اقول:بلکہ حدیث اول میں تو سدرۃ المنتہی کا ذکر ہے کہ:
ثم علابہ فوق ذلك بمالایعلمہ الا اﷲ حتی جاء سدرۃ المنتہی ودنا الجبار رب العزۃ فتدلی حتی کان منہ قاب قوسین اوادنی فاوحی الیہ فیما اوحی خمسین پھر آپ اس سے اوپر گئے جہاں کا صرف اﷲ تعالی کو ہی علم ہے حتی کہ آپ سدرۃ المنتہی پر آئے اور رب العزت کا قرب پایا پھر اور قرب پایا حتی کہ دو کمانوں کے فاصلہ پر ہوئے یا اس سے بھی زیادہ قرب پایاتو اﷲ تعالی نے ان کی طرف وحی
ضرب ۱۰۶:اقول:تیری سب جہالتوں سے قطع نظر کی جائے تو ذرا اپنے دعوے کو سوجھ کہ احادیث صریحہ صحیحہ سے عرش کا مکان الہی ہونا ثابت ہےصریح ہونا بالائے طاق ان احادیث سے اگر بفرض باطل ثابت ہوگا تو یہ تیرے معبود کے لیے تیرے زعم میں مکان ہے اس سے یہ کیونکر نکلا کہ وہ مکان عرش ہی ہےخود اپنا دعوی سمجھنے کی لیاقت نہیں اور چلے صفات الہیہ میں کلام کرنے۔
ضرب ۱۰۷:اقول:بلکہ حدیث اول میں تو سدرۃ المنتہی کا ذکر ہے کہ:
ثم علابہ فوق ذلك بمالایعلمہ الا اﷲ حتی جاء سدرۃ المنتہی ودنا الجبار رب العزۃ فتدلی حتی کان منہ قاب قوسین اوادنی فاوحی الیہ فیما اوحی خمسین پھر آپ اس سے اوپر گئے جہاں کا صرف اﷲ تعالی کو ہی علم ہے حتی کہ آپ سدرۃ المنتہی پر آئے اور رب العزت کا قرب پایا پھر اور قرب پایا حتی کہ دو کمانوں کے فاصلہ پر ہوئے یا اس سے بھی زیادہ قرب پایاتو اﷲ تعالی نے ان کی طرف وحی
حوالہ / References
کتاب الاسماء والصفات للبیہقی باب ماذکرفی الاصابع المکتبۃ الاثریہ سانگلہ ہل شیخوپورہ ۲/۷۰
صلوۃ الحدیث ۔ فرمائی جو فرمائی اس وحی میں پچاس نمازیں بھی ہیں۔ الحدیث(ت)
تو اگر تیرے زعم باطل کے طور پر اطلاق مکان ثابت ہوگا تو سدرہ پر نہ عرش پرانہیں کو احادیث صریحہ کہا تھا۔
لاحول ولاقوۃ الا باﷲ العلی العظیم
چوتھا تپانچہ
یہ ادعا کہ استواء علی العرش کے معنی بیٹھناچڑھناٹھہرنا مطابق سنت ہیں۔
ضرب ۱۰۸:اقول:تم وہابیہ کے دھرم میں تشریع کا منصب تین قرن تك جاری رہا تھااور اس کے بعد عمومات و اطلاقات شرعیہ کا دروازہ بھی بند ہوگیاتو نے اسی تحریر میں لکھا ہے۔جو بات امور دین میں بعد قرون ثلثہ کے ایجاد ہوئی بالاتفاق بدعت ہے وکل بدعۃ ضلالۃ(اور ہر بدعت گمراہی ہے۔ت)
اب ذرا تھوڑی دیر کو مردبن کر استواء علی العرش کے ان تینوں معنی کا صحابہ کرام یا تابعین یا تبع تابعین کے ائمہ سنت سے باسانید صحیحہ معتمدہ ثبوت دیجئے ورنہ خود اپنی بدعتی گمراہ بددین فی النار ہونے کا اقرار کیجئے تیرہ صدی کے دو ایك ہندیوں کا لکھ دینا سنت نہ ثابت کرسکے گا۔
ضرب ۱۰۹:اقول:تو نے اسی تحریر میں نماز کے بعد ہاتھ اٹھا کر دعا مانگنے کے انکار میں لکھا:کسی صحیح حدیث قولی و فعلی و تقریری سے ثابت نہیںکہے کی شرم اور غیر مقلدی کی لاج ہے تو ان تینوں معنی کا ثبوت بھی کسی حدیث صحیح سے دو ورنہ اپنے لکھے کو سر پر ہاتھ رکھ کر روؤ۔
ضرب ۱۱۰:اقول:یہ تو الزامی ضربیں تھیں اور تحقیقا بھی قرآن عظیم کے معنی اپنی رائے سے کہنا سخت شنیع و ممنوع ہے تو ایسے معنی کا سلف صالح سے ثابت دینا ضرور اور قول بے ثبوت مردود و مہجور۔
ضرب ۱۱۱:ہر عاقل سمجھتا ہے کہ مولی سبحنہ و تعالی نےاستواء کو اپنی مدح و ثناء میں ذکر فرمایا ہے۔معاذ اﷲ بیٹھنےچڑھنے ٹھہرنے میں اس کی کیا تعریف نکلتی ہے کہ ان سے اپنی مدح فرماتا اور مدح بھی ایسی کہ بار بار بتکرار سات سورتوں میں اس کا بیان لاتا تو ان معانی پر استواء کو لینا مدح و تعریف میں قدح و تحریف میں کر دینا ہے لاجرم بالیقین یہ ناقص و بے معنی معانی ہر گز مراد رب العزۃ نہیں۔
ضرب ۱۱۲:اوپر معلوم ہوچکا کہ آیات متشابہات میں اہل سنت کے صرف دو۲ طریق ہیں:
تو اگر تیرے زعم باطل کے طور پر اطلاق مکان ثابت ہوگا تو سدرہ پر نہ عرش پرانہیں کو احادیث صریحہ کہا تھا۔
لاحول ولاقوۃ الا باﷲ العلی العظیم
چوتھا تپانچہ
یہ ادعا کہ استواء علی العرش کے معنی بیٹھناچڑھناٹھہرنا مطابق سنت ہیں۔
ضرب ۱۰۸:اقول:تم وہابیہ کے دھرم میں تشریع کا منصب تین قرن تك جاری رہا تھااور اس کے بعد عمومات و اطلاقات شرعیہ کا دروازہ بھی بند ہوگیاتو نے اسی تحریر میں لکھا ہے۔جو بات امور دین میں بعد قرون ثلثہ کے ایجاد ہوئی بالاتفاق بدعت ہے وکل بدعۃ ضلالۃ(اور ہر بدعت گمراہی ہے۔ت)
اب ذرا تھوڑی دیر کو مردبن کر استواء علی العرش کے ان تینوں معنی کا صحابہ کرام یا تابعین یا تبع تابعین کے ائمہ سنت سے باسانید صحیحہ معتمدہ ثبوت دیجئے ورنہ خود اپنی بدعتی گمراہ بددین فی النار ہونے کا اقرار کیجئے تیرہ صدی کے دو ایك ہندیوں کا لکھ دینا سنت نہ ثابت کرسکے گا۔
ضرب ۱۰۹:اقول:تو نے اسی تحریر میں نماز کے بعد ہاتھ اٹھا کر دعا مانگنے کے انکار میں لکھا:کسی صحیح حدیث قولی و فعلی و تقریری سے ثابت نہیںکہے کی شرم اور غیر مقلدی کی لاج ہے تو ان تینوں معنی کا ثبوت بھی کسی حدیث صحیح سے دو ورنہ اپنے لکھے کو سر پر ہاتھ رکھ کر روؤ۔
ضرب ۱۱۰:اقول:یہ تو الزامی ضربیں تھیں اور تحقیقا بھی قرآن عظیم کے معنی اپنی رائے سے کہنا سخت شنیع و ممنوع ہے تو ایسے معنی کا سلف صالح سے ثابت دینا ضرور اور قول بے ثبوت مردود و مہجور۔
ضرب ۱۱۱:ہر عاقل سمجھتا ہے کہ مولی سبحنہ و تعالی نےاستواء کو اپنی مدح و ثناء میں ذکر فرمایا ہے۔معاذ اﷲ بیٹھنےچڑھنے ٹھہرنے میں اس کی کیا تعریف نکلتی ہے کہ ان سے اپنی مدح فرماتا اور مدح بھی ایسی کہ بار بار بتکرار سات سورتوں میں اس کا بیان لاتا تو ان معانی پر استواء کو لینا مدح و تعریف میں قدح و تحریف میں کر دینا ہے لاجرم بالیقین یہ ناقص و بے معنی معانی ہر گز مراد رب العزۃ نہیں۔
ضرب ۱۱۲:اوپر معلوم ہوچکا کہ آیات متشابہات میں اہل سنت کے صرف دو۲ طریق ہیں:
حوالہ / References
صحیح البخاری کتاب التوحید باب کلم اﷲ موسٰی تکلیما قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۱۱۲۰
اول:تفویض کہ کچھ معنی نہ کہے جائیںاس طریق پر اصلا عــــــہ ترجمے کی اجازت ہی نہیں کہ جب معنی ہم
عــــــہ:فائدہ جلیلہ:امام حجۃ الاسلام محمد محمد محمد غزالی قدس سرہ العالی کتاب الجام العوام میں فرماتے ہیں:
یجب علی من سمع ایات الصفات واحادیثہا من العوام و النحوی و المحدث والمفسروالفقیہ ان ینزہ اﷲ سبحنہ من الجسمیۃ وتوابعہا من الصورۃ والمکان والجہۃ فیقطع بان معنا ہ التحقیق اللغوی غیرمر اد لانہ فی حق اﷲ تعالی محال وان لہذا معنی یلیق بجلالہ تعالی وان لا یتصرف فی الالفاظ الواردۃ لابالتفسیر ای تبدیل اللفظ بلفظ آخر عربی اوغیرہ لان جواز التبدیل فرع معرفۃ المعنی المراد ولا بالاشتقاق من الوارد کان یقول مستو اخذا من استوی ولا بالقیاس کان یطلق لفظۃ الساعد والکف قیاسا علی ورودالید وان یکف باطنہ عن التفکر فی ھذہ الامور فان حدثتہ نفسہ بذلك تشاغل بالصلوۃ و الذکروقراء ۃ القرآن فان لم یقدر علی الدوام علی ذلك تشاغل بشیئ من العلوم فان لم یمکنہ فبحرفۃ او صناعۃ فان لم یقدرفبلعب ولہوفان ذلك خیر من الخوض فی ھذا البحر یعنی جو شخص عامی یا نحوی یا محدث یا مفسر یا فقیہ اس قسم کی آیات و احادیث سنے اس پر فرض ہے کہ جسمیت اور اس کے توابع مثل صورت و مکان و جہت سے اﷲ تعالی کی تنزیہ کرے۔یقین جانے کہ ان کے حقیقی لغوی معنی مراد نہیں کہ وہ اﷲ تعالی کے حق میں محال ہیں اور جانے کہ ان کے کچھ معنی ہیں جو اﷲ سبحنہ کے جلال کے لائق ہیں اور جو لفظ وارد ہوئے ان میں اصلا تصرف نہ کرے نہ کسی دوسرے لفظ عرب سے بدلےنہ کسی اور زبان میں ترجمہ کرے کہ تبدیل و ترجمہ تو جب جائز ہو کہ پہلے معنی مراد ہولیںنہ لفظ وارد سے کوئی مشتق نکال کر اطلاع کرے جیسے استوی آیا ہے مستوی نہ کہے نہ لفظ وارد پر قیاس کرے ید آیا ہے اس کے قیاس سے ساعد و کف نہ بولے اور فرض ہے کہ اپنے دل کو بھی اس میں فکر سے روکے اگر دل میں اس کا خطرہ آئے تو فورا نماز و ذکر و تلاوت میں مشغول ہوجائےاگر ان عبادات پر دوام نہ ہوسکے تو کسی علم میں مشغول ہو کر دھیان بٹادے۔یہ بھی نہ ہوسکے تو کسی حرفت یا صنعت میں یہ بھی نہ جانے تو کھیل کود میں کہ متشابہات میں فکر کرنے سے کھیل کود ہی بھلا ہے بلکہ اگر گناہوں میں مشغول ہو تو اس (باقی اگلے صفحہ پر)
عــــــہ:فائدہ جلیلہ:امام حجۃ الاسلام محمد محمد محمد غزالی قدس سرہ العالی کتاب الجام العوام میں فرماتے ہیں:
یجب علی من سمع ایات الصفات واحادیثہا من العوام و النحوی و المحدث والمفسروالفقیہ ان ینزہ اﷲ سبحنہ من الجسمیۃ وتوابعہا من الصورۃ والمکان والجہۃ فیقطع بان معنا ہ التحقیق اللغوی غیرمر اد لانہ فی حق اﷲ تعالی محال وان لہذا معنی یلیق بجلالہ تعالی وان لا یتصرف فی الالفاظ الواردۃ لابالتفسیر ای تبدیل اللفظ بلفظ آخر عربی اوغیرہ لان جواز التبدیل فرع معرفۃ المعنی المراد ولا بالاشتقاق من الوارد کان یقول مستو اخذا من استوی ولا بالقیاس کان یطلق لفظۃ الساعد والکف قیاسا علی ورودالید وان یکف باطنہ عن التفکر فی ھذہ الامور فان حدثتہ نفسہ بذلك تشاغل بالصلوۃ و الذکروقراء ۃ القرآن فان لم یقدر علی الدوام علی ذلك تشاغل بشیئ من العلوم فان لم یمکنہ فبحرفۃ او صناعۃ فان لم یقدرفبلعب ولہوفان ذلك خیر من الخوض فی ھذا البحر یعنی جو شخص عامی یا نحوی یا محدث یا مفسر یا فقیہ اس قسم کی آیات و احادیث سنے اس پر فرض ہے کہ جسمیت اور اس کے توابع مثل صورت و مکان و جہت سے اﷲ تعالی کی تنزیہ کرے۔یقین جانے کہ ان کے حقیقی لغوی معنی مراد نہیں کہ وہ اﷲ تعالی کے حق میں محال ہیں اور جانے کہ ان کے کچھ معنی ہیں جو اﷲ سبحنہ کے جلال کے لائق ہیں اور جو لفظ وارد ہوئے ان میں اصلا تصرف نہ کرے نہ کسی دوسرے لفظ عرب سے بدلےنہ کسی اور زبان میں ترجمہ کرے کہ تبدیل و ترجمہ تو جب جائز ہو کہ پہلے معنی مراد ہولیںنہ لفظ وارد سے کوئی مشتق نکال کر اطلاع کرے جیسے استوی آیا ہے مستوی نہ کہے نہ لفظ وارد پر قیاس کرے ید آیا ہے اس کے قیاس سے ساعد و کف نہ بولے اور فرض ہے کہ اپنے دل کو بھی اس میں فکر سے روکے اگر دل میں اس کا خطرہ آئے تو فورا نماز و ذکر و تلاوت میں مشغول ہوجائےاگر ان عبادات پر دوام نہ ہوسکے تو کسی علم میں مشغول ہو کر دھیان بٹادے۔یہ بھی نہ ہوسکے تو کسی حرفت یا صنعت میں یہ بھی نہ جانے تو کھیل کود میں کہ متشابہات میں فکر کرنے سے کھیل کود ہی بھلا ہے بلکہ اگر گناہوں میں مشغول ہو تو اس (باقی اگلے صفحہ پر)
جانتے ہی نہیں ترجمہ کیا کریںامیر المومنین عمر بن عبدالعزیز رضی اﷲ تعالی عنہ کا ارشاد گزرا کہ ان کی تفسیر میں منتہائے علم بس اس قدر ہے کہ کہیں ہم ان پر ایمان لائےکتاب الاسماء سے گزرا کہ ہمارے اصحاب متقدمین رضی اﷲ تعالی عنہم استواء کے کچھ معنی نہ کہتے نہ اس میں اصلا زبان کھولتے۔
امام سفین کا ارشاد گزرا کہ ان کی تفسیر یہی ہے کہ تلاوت کیجئے اور خاموش رہئےکسی کو جائز نہیں کہ عربی یا فارسی کسی زبان میں اس کے معنی کہے۔
سید نا امام محمد رضی اﷲ تعالی عنہ کا ارشاد گزرا کہ ان کے معنی نہ کہنا ہی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے منقولاور اسی پر سلف صالح کا اجماع ہے۔
طریق دوم:کہ متاخرین نے بضرورت اختیار کیا اس کا یہ منشا تھا کہ وہ معنی نہ رہیں جن سے اﷲ عزوجل کا خلق سے مشابہ ہونا متوہم ہو بلکہ اس کے جلال و قدوسیت کے معنی پیدا ہوجائیں۔بیٹھناچڑھناٹھہرنا تو خاص اجسام کے کام اور باری عزوجل کے حق میں صریح عیب ہیں تو تم نے تاویل خاك کی بلکہ اور وہم کی جڑ جمادی۔
بالجملہ یہ تینوں معانی دونوں طریقہ اہلسنت سے دور و مہجور ہیں ان کو مطابق سنت کہنا نام زنگی کافور رکھنا ہے اب آپ ملاحظہ ہی کریں گے کہ ائمہ اہلسنت نے ان معانی کو کیسا کیسا رد فرمایا ہے دو ایك ہندیوں کے قدم نے اگر لغزش کی اور خیال نہ رہا کہ ان لفظوں سے ترجمہ ہر گز صحیح نہیں تو ان کا لکھنا ائمہ سلف و خلف کے اجماع کو رد نہیں کرسکتانہ وہ مسلك اہلسنت قرار پاسکتا ہے مگر وہابیوں بلکہ سب گمراہوں کی ہمیشہ یہی حالت رہی ہے کہ ڈوبتا سوار پکڑتا ہے جہاں کسی کا کوئی لفظ شاذ مہجور پکڑ لیا خوش ہو گئے اور اس کے مقابل تصریحات قاہرہ سلف و خلف بلکہ ارشادات صریحہ قرآن و حدیث کو
بل لواشتغل لملاھی البدنیۃ کان اسلم من الخوض فی ھذا البحر البعید غورہ بل لو اشتغل بالمعاصی البدنیۃ کان اسلم فان ذلك غایتہ لفسق وھذا عاقبتہ الشرك اھ مختصرا ۔ سے بہتر ہے کہ ان کی نہایت فسق ہے اور اس کا انجام کفر والعیاذ باﷲ تعالی ۱۲ منہ۔
امام سفین کا ارشاد گزرا کہ ان کی تفسیر یہی ہے کہ تلاوت کیجئے اور خاموش رہئےکسی کو جائز نہیں کہ عربی یا فارسی کسی زبان میں اس کے معنی کہے۔
سید نا امام محمد رضی اﷲ تعالی عنہ کا ارشاد گزرا کہ ان کے معنی نہ کہنا ہی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے منقولاور اسی پر سلف صالح کا اجماع ہے۔
طریق دوم:کہ متاخرین نے بضرورت اختیار کیا اس کا یہ منشا تھا کہ وہ معنی نہ رہیں جن سے اﷲ عزوجل کا خلق سے مشابہ ہونا متوہم ہو بلکہ اس کے جلال و قدوسیت کے معنی پیدا ہوجائیں۔بیٹھناچڑھناٹھہرنا تو خاص اجسام کے کام اور باری عزوجل کے حق میں صریح عیب ہیں تو تم نے تاویل خاك کی بلکہ اور وہم کی جڑ جمادی۔
بالجملہ یہ تینوں معانی دونوں طریقہ اہلسنت سے دور و مہجور ہیں ان کو مطابق سنت کہنا نام زنگی کافور رکھنا ہے اب آپ ملاحظہ ہی کریں گے کہ ائمہ اہلسنت نے ان معانی کو کیسا کیسا رد فرمایا ہے دو ایك ہندیوں کے قدم نے اگر لغزش کی اور خیال نہ رہا کہ ان لفظوں سے ترجمہ ہر گز صحیح نہیں تو ان کا لکھنا ائمہ سلف و خلف کے اجماع کو رد نہیں کرسکتانہ وہ مسلك اہلسنت قرار پاسکتا ہے مگر وہابیوں بلکہ سب گمراہوں کی ہمیشہ یہی حالت رہی ہے کہ ڈوبتا سوار پکڑتا ہے جہاں کسی کا کوئی لفظ شاذ مہجور پکڑ لیا خوش ہو گئے اور اس کے مقابل تصریحات قاہرہ سلف و خلف بلکہ ارشادات صریحہ قرآن و حدیث کو
بل لواشتغل لملاھی البدنیۃ کان اسلم من الخوض فی ھذا البحر البعید غورہ بل لو اشتغل بالمعاصی البدنیۃ کان اسلم فان ذلك غایتہ لفسق وھذا عاقبتہ الشرك اھ مختصرا ۔ سے بہتر ہے کہ ان کی نہایت فسق ہے اور اس کا انجام کفر والعیاذ باﷲ تعالی ۱۲ منہ۔
حوالہ / References
الجام العوام
بالائے طاق رکھ دیا مگر اہل حق بحمد اﷲ تعالی خوب جانتے ہیں کہ شاہراہ ہدایت اتباع جمہور ہے جس سے سہوا خطا ہوئی اگرچہ معذور ہے مگر اس کا وہ قول متروك و مہجور ہےوہ جانتے ہیں کہ لکل جواد کبوۃ لکل صارم نبوۃ و لکل عالم ھفوۃ ہر تیز گھوڑا کبھی ٹھوکر کھا لیتا ہے اور ہر تیغ براں کبھی کر جاتی ہے اور ہر عالم سے کبھی کوئی لغزش وقوع پاتی ہے۔وباﷲ العصمۃ۔
ضرب ۱۱۳:اب اپنے مستندات سے ان معانی کا رد سنتے جائیے جنہیں آپ نے براہ جہالت مطابق سنت بلکہ سنت کو انہیں میں منحصر بتایا۔مدارك شریف سے گزرا:
الاستواء بمعنی الجلوس لایجوز علی اﷲ تعالی ۔ استواء بیٹھنے کے معنی پر اﷲ تعالی عزوجل کے حق میں محال ہے۔
ضرب ۱۱۴:کتاب الاسماء سے گزرا:
متعال عن ان یجوز علیہ اتخاذ السریر للجلوس ۔ اﷲ تعالی عزوجل اس سے پاك و برتر ہے کہ بیٹھنے کے لیے تخت بنائے۔
ضرب ۱۱۵:اسی میں امام ابوالحسن طبری وغیرہ ائمہ متکلمین سے گزرا ا ستواء کے یہ معنی نہیں کہ مولی تعالی عرش پر بیٹھا یا کھڑا ہےیہ جسم کی صفات ہیں اور اﷲ عزوجل ان سے پاک۔
ضرب ۱۱۶:اسی میں فرا نحوی سے یہ حکایت کرکے کہ استواء بمعنی اقبال ہےاور ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما نے چڑھنے سے تفسیر کیفرمایا:
استوی بمعنی اقبل صحیح لان الا قبال ھو القصد و القصد ھو الارادۃ وذلك جائز فی صفات اﷲ تعالی اما ماحکی عن ابن عباس یعنی استوا بمعنی اقبال صحیح کہ اقبال قصد ہے اور قصد ارادہ ہےیہ تو اﷲ سبحنہ کی صفات میں جائز ہےمگر وہ جو ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنھما سے حکایت کی کہ استواء چڑھنے عــــــہ کے معنی
عــــــہ:امام جلال الدین سیوطی نے اتقان میں فرمایا:رد بانہ تعالی منزہ عن الصعود ایضا ۔یہ معنی یوں مردود ہوئے کہ اﷲ تعالی چڑھنے سے پا ك ہے ۱۲ منہ
ضرب ۱۱۳:اب اپنے مستندات سے ان معانی کا رد سنتے جائیے جنہیں آپ نے براہ جہالت مطابق سنت بلکہ سنت کو انہیں میں منحصر بتایا۔مدارك شریف سے گزرا:
الاستواء بمعنی الجلوس لایجوز علی اﷲ تعالی ۔ استواء بیٹھنے کے معنی پر اﷲ تعالی عزوجل کے حق میں محال ہے۔
ضرب ۱۱۴:کتاب الاسماء سے گزرا:
متعال عن ان یجوز علیہ اتخاذ السریر للجلوس ۔ اﷲ تعالی عزوجل اس سے پاك و برتر ہے کہ بیٹھنے کے لیے تخت بنائے۔
ضرب ۱۱۵:اسی میں امام ابوالحسن طبری وغیرہ ائمہ متکلمین سے گزرا ا ستواء کے یہ معنی نہیں کہ مولی تعالی عرش پر بیٹھا یا کھڑا ہےیہ جسم کی صفات ہیں اور اﷲ عزوجل ان سے پاک۔
ضرب ۱۱۶:اسی میں فرا نحوی سے یہ حکایت کرکے کہ استواء بمعنی اقبال ہےاور ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما نے چڑھنے سے تفسیر کیفرمایا:
استوی بمعنی اقبل صحیح لان الا قبال ھو القصد و القصد ھو الارادۃ وذلك جائز فی صفات اﷲ تعالی اما ماحکی عن ابن عباس یعنی استوا بمعنی اقبال صحیح کہ اقبال قصد ہے اور قصد ارادہ ہےیہ تو اﷲ سبحنہ کی صفات میں جائز ہےمگر وہ جو ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنھما سے حکایت کی کہ استواء چڑھنے عــــــہ کے معنی
عــــــہ:امام جلال الدین سیوطی نے اتقان میں فرمایا:رد بانہ تعالی منزہ عن الصعود ایضا ۔یہ معنی یوں مردود ہوئے کہ اﷲ تعالی چڑھنے سے پا ك ہے ۱۲ منہ
حوالہ / References
مدارك التنزیل(تفسیر النسفی)آیت ۳/ ۷ دارالکتاب العربی بیروت ۱/ ۱۴۶
کتاب الاسماء والصفات للبیہقی جماع ابواب ذکر اسماء التی تتبع المکتبۃ الاثریہ سانگلہ ہل شیخوپورہ ۱/ ۷۱،۷۲
الاتقان فی علوم القرآن النوع الثالث والاربعون داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/۶۰۵
کتاب الاسماء والصفات للبیہقی جماع ابواب ذکر اسماء التی تتبع المکتبۃ الاثریہ سانگلہ ہل شیخوپورہ ۱/ ۷۱،۷۲
الاتقان فی علوم القرآن النوع الثالث والاربعون داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/۶۰۵
رضی اﷲ تعالی عنہما فانما اخذہ عن تفسیر الکلبی و الکلبی ضعیف والروایۃ عنہ فی موضع اخرعن الکلبی عن ابی صالح عن ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما استوی یعنی صعدا مرہ اھ ملخصا ۔ پر ہے فراء نے کلبی کی تفسیر سے اخذ کیا اور کلبی ضعیف ہے اور خود ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے اس کلبی نے دوسری جگہ یوں روایت کی کہ استواء کے معنی حکم الہی کا چڑھنا ہے۔
ضرب ۱۱۷:اسی میں فرمایا:
عن محمد بن مروان عن الکلبی عن ابی صالح عن ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما فی قولہ تعالی ثم استوی علی العرش یقول استقر علی العرشھذہ الروایۃ منکرۃ وقد قال فی موضع اخر بھذاالاسناد ا استوی علی العرش یقول استقرامرہ علی السریر ورد الاستقرار الی الامروابوصالح ھذا والکلبی و محمد بن مروان کلھم متروك عنداھل العلم بالحدیث لایحتجون بشیئ من روایا تھم لکثرۃ المناکیر فیہا وظہور الکذب منہم فی روایا تھماخبرنا ابو سعید المالینی(فذکر باسنادہ)عن حبیب بن ابی ثابت قال کنا نسمیہ دروغ زن یعنی ابا صالح مولی ام ھانیواخبرنا ابو عبد اﷲ الحافظ (فاسند)عن سفین قال قال الکلبی قال لی ابوصالح یعنی محمد بن مروان نے کلبی سے اس نے ابوصالح سے اس نے ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے روایت کی کہ اﷲ تعالی کے قول ثم استوی علی العرش میں عرش پر استوا کے معنی ٹھہرنا ہے یہ روایت منکر ہےاور خود کلبی نے اسی سند سے دوسری جگہ یوں روایت کی کہ عرش پر استوا کے معنی حکم الہی کا ٹھہرنا ہے یہاں ٹھہرنے کو حکم کی طرف پھیرا اور یہ ابوصالح اور کلبی اور محمد بن مروان سب کے سب علمائے محدثین کے نزدیك متروك ہیں ان کی کوئی روایت حجت لانے کے قابل نہیں کہ ان کی روایتوں میں منکرات بکثرت ہیں اور ان میں ان کا جھوٹ بولنا آشکارا ہےحبیب بن ابی ثابت نے فرمایا ہم نے اس ابوصالح کا نام ہی دروغ زن رکھ دیا تھا امام سفیان نے فرمایا خود کلبی نے مجھ سے بیان کیا کہ ابو صالح نے مجھ سے کہا جتنی حدیثیں میں نے تجھ سے بیان کی ہیں سب جھوٹ ہیں نیز کلبی نے کہا
ضرب ۱۱۷:اسی میں فرمایا:
عن محمد بن مروان عن الکلبی عن ابی صالح عن ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما فی قولہ تعالی ثم استوی علی العرش یقول استقر علی العرشھذہ الروایۃ منکرۃ وقد قال فی موضع اخر بھذاالاسناد ا استوی علی العرش یقول استقرامرہ علی السریر ورد الاستقرار الی الامروابوصالح ھذا والکلبی و محمد بن مروان کلھم متروك عنداھل العلم بالحدیث لایحتجون بشیئ من روایا تھم لکثرۃ المناکیر فیہا وظہور الکذب منہم فی روایا تھماخبرنا ابو سعید المالینی(فذکر باسنادہ)عن حبیب بن ابی ثابت قال کنا نسمیہ دروغ زن یعنی ابا صالح مولی ام ھانیواخبرنا ابو عبد اﷲ الحافظ (فاسند)عن سفین قال قال الکلبی قال لی ابوصالح یعنی محمد بن مروان نے کلبی سے اس نے ابوصالح سے اس نے ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے روایت کی کہ اﷲ تعالی کے قول ثم استوی علی العرش میں عرش پر استوا کے معنی ٹھہرنا ہے یہ روایت منکر ہےاور خود کلبی نے اسی سند سے دوسری جگہ یوں روایت کی کہ عرش پر استوا کے معنی حکم الہی کا ٹھہرنا ہے یہاں ٹھہرنے کو حکم کی طرف پھیرا اور یہ ابوصالح اور کلبی اور محمد بن مروان سب کے سب علمائے محدثین کے نزدیك متروك ہیں ان کی کوئی روایت حجت لانے کے قابل نہیں کہ ان کی روایتوں میں منکرات بکثرت ہیں اور ان میں ان کا جھوٹ بولنا آشکارا ہےحبیب بن ابی ثابت نے فرمایا ہم نے اس ابوصالح کا نام ہی دروغ زن رکھ دیا تھا امام سفیان نے فرمایا خود کلبی نے مجھ سے بیان کیا کہ ابو صالح نے مجھ سے کہا جتنی حدیثیں میں نے تجھ سے بیان کی ہیں سب جھوٹ ہیں نیز کلبی نے کہا
حوالہ / References
کتاب الاسماء والصفات للبیہقی باب الرحمن علی العرش استوی المکتبۃ الاثریہ سانگلہ ہل شیخوپورہ ۲/ ۱۵۴و ۱۵۵
کل ما حدثك کذبواخبرنا المالینی(بسندہ)عن الکلبی قال قال لی ابو صالح انظر کل شیئ رویت عنی عن ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما فلا تروہاخبرنا ابو سہل احمد بن محمد المزکی ثنا ابوالحسین محمد بن حامد العطار اخبرنی ابو عبد اﷲ الرواسانی قال سمعت محمد بن اسمعیل البخاری یقول محمد بن مروان الکوفی صاحب الکلبی سکتواعنہ لایکتب حدیثہ البتۃ اھ مختصرا ۔ مجھ سے ابوصالح نے کہا دیکھو جو کچھ تو نے میرے واسطے سے حضرت ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے روایت کیا ہے اس میں سے کچھ روایت نہ کرناامام بخاری فرماتے ہیں کلبی کے شاگرد محمد بن مروان کوفی سے ائمہ حدیث نے سکوت کیا ہےیعنی اس کی روایات متروك کردیں اس کی حدیث کا ہر گز اعتبار نہ کیا جائے۔
ضرب ۱۱۸:پھر فرمایا:
وکیف یجوزان یکون مثل ھذہ الاقاویل صحیحۃ عن ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنھما ثم لایرویھا ولایعرفہا احد من اصحابہ الثقات الاثبات مع شدۃ الحاجۃ الی معرفتہاوما تفردبہ الکلبی وامثالہ یوجب الحد والحد یوجب الحدث لحاجۃ الحد الی حادخصہ بہ والباری تعالی قدیم لم یزل۔ بھلا کیونکر ہوسکتا ہے کہ ایسی باتیں ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے صحیح ہوں پھر ان کے ثقہ شاگرد محکم فہم و حفظ والے نہ انہیں روایت کریں نہ ان سے آگاہ ہوں حالانکہ ان کے جاننے کی کیسی ضرورت ہے اور جو کچھ کلبی اور اس کی حالت کے اور لوگ تنہا روایت کررہے ہیں اس سے تو اﷲ عزوجل کا محدود ہونا لازم آتا ہے اور محدود ہونا حادث ہونے کو واجب کرتا ہے کہ حد کے لیے کوئی ایسا درکار ہے جو خاص اس حد معین سے اس محدود کو مخصوص کرے اور اﷲ عزوجل تو قدیم ہے ہمیشہ سے ہے۔
ضرب ۱۱۸:پھر فرمایا:
وکیف یجوزان یکون مثل ھذہ الاقاویل صحیحۃ عن ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنھما ثم لایرویھا ولایعرفہا احد من اصحابہ الثقات الاثبات مع شدۃ الحاجۃ الی معرفتہاوما تفردبہ الکلبی وامثالہ یوجب الحد والحد یوجب الحدث لحاجۃ الحد الی حادخصہ بہ والباری تعالی قدیم لم یزل۔ بھلا کیونکر ہوسکتا ہے کہ ایسی باتیں ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے صحیح ہوں پھر ان کے ثقہ شاگرد محکم فہم و حفظ والے نہ انہیں روایت کریں نہ ان سے آگاہ ہوں حالانکہ ان کے جاننے کی کیسی ضرورت ہے اور جو کچھ کلبی اور اس کی حالت کے اور لوگ تنہا روایت کررہے ہیں اس سے تو اﷲ عزوجل کا محدود ہونا لازم آتا ہے اور محدود ہونا حادث ہونے کو واجب کرتا ہے کہ حد کے لیے کوئی ایسا درکار ہے جو خاص اس حد معین سے اس محدود کو مخصوص کرے اور اﷲ عزوجل تو قدیم ہے ہمیشہ سے ہے۔
حوالہ / References
کتاب الاسماء والصفات للبیہقی باب الرحمن علی العرش استوی المکتبۃ الاثریہ سانگلہ ہل شیخوپورہ ۲/ ۲۵۵ تا ۲۵۷
کتاب الاسماء والصفات للبیہقی باب الرحمن علی العرش استوی المکتبۃ الاثریہ سانگلہ ہل شیخوپورہ ۲/ ۱۵۷
کتاب الاسماء والصفات للبیہقی باب الرحمن علی العرش استوی المکتبۃ الاثریہ سانگلہ ہل شیخوپورہ ۲/ ۱۵۷
ضرب ۱۱۹:اسی میں ہے:
ان اﷲ تعالی لامکان لہ ولا مرکب و ان الحرکۃ و السکون والانتقال والا ستقرار من صفات الاجسام واﷲ تعالی احد صمد لیس کمثلہ شیئ ۔ اھ باختصار بے شك اﷲ تعالی کے لیے نہ مکان ہے نہ کوئی چیز ایسی جس پر سوار ہو اور بے شك حرکت اور سکون اور ہٹنا اور ٹھہرنا یہ جسم کی صفتیں ہیں اور اﷲ تعالی احد صمد ہے کوئی چیز اس سے مشابہت نہیں رکھتی ا ھ باختصار۔
ضرب ۱۲۰:مدارك شریف میں فرمایا:
تفسیرالعرش بالسریرو والاستواء بالاستقرار کما تقولہ المشبہۃ باطل ۔ عرش کے معنی تخت اور استواء کے معنی ٹھہرنا کہنا جس طرح فرقہ مجسمہ کہتا ہے باطل ہے۔
دیکھا تو نے حق کیسا واضح ہواوﷲ الحمد۔
پانچواں تپانچہ
اقول:یہ تو اوپر واضح ہو لیا کہ یہ مدعی خود ہی دعوے پر نہ جما اور جن صفات سے کلام شارع ساکت نہیں ان سے سکوت درکنار ان کا صاف انکار کر گیا مگر یہاں یہ کہنا ہے کہ اس مدعی بے باك کے نزدیك تسلیم وعدم سکوت کا وہ مطلب ہر گز نہیں جو اہلسنت کے نزدیك ہے یعنی کچھ معنی نہ کہنا صرف اجمالا اتنی بات پر ایمان لے آنا کہ جو کچھ مراد الہی ہے حق ہے یا تاویل کرکے صاف و پاك معنی کی طرف ڈھال دنیا جن میں مشابہت مخلوق و جسمیت و مکان وجہت کی بو اصلا نہ پیدا ہو۔اس مسلك پر ایمان لاتا تو استواء کے معنی بیٹھناچڑھناٹھہرنا نہ بتاتا ان کے علاوہ اور معانی کو کہ ائمہ اہلسنت نے ذکر فرمائے بدعت و ضلالت نہ بتاتا لاجرم اس کا مسلك وہی مسلك مجسمہ ہے کہ جو کچھ وارد ہوا وہ اپنے حقیقی لغوی معنی مفہوم و متبادر پر محمول ٹھہرا کر مانا جائے گا۔ شروع سے اب تك جولکھا گیا وہ اسی ضلالت ملعونہ کے رد میں تھا اتنا اور اس کے کان میں ڈال دوں شاید خدا سمجھ دے اور ہدایت کرے کہ اے بے خرد ! یہ ناپاك مسلك جو استوا میں خصوصا اور باقی متشابہات میں مطلقا تیرا ہے۔(کھلی گمراہی کا نجس رستہ ہے)اس طریقہ پر تیرا معبود جسے تو اپنے
ان اﷲ تعالی لامکان لہ ولا مرکب و ان الحرکۃ و السکون والانتقال والا ستقرار من صفات الاجسام واﷲ تعالی احد صمد لیس کمثلہ شیئ ۔ اھ باختصار بے شك اﷲ تعالی کے لیے نہ مکان ہے نہ کوئی چیز ایسی جس پر سوار ہو اور بے شك حرکت اور سکون اور ہٹنا اور ٹھہرنا یہ جسم کی صفتیں ہیں اور اﷲ تعالی احد صمد ہے کوئی چیز اس سے مشابہت نہیں رکھتی ا ھ باختصار۔
ضرب ۱۲۰:مدارك شریف میں فرمایا:
تفسیرالعرش بالسریرو والاستواء بالاستقرار کما تقولہ المشبہۃ باطل ۔ عرش کے معنی تخت اور استواء کے معنی ٹھہرنا کہنا جس طرح فرقہ مجسمہ کہتا ہے باطل ہے۔
دیکھا تو نے حق کیسا واضح ہواوﷲ الحمد۔
پانچواں تپانچہ
اقول:یہ تو اوپر واضح ہو لیا کہ یہ مدعی خود ہی دعوے پر نہ جما اور جن صفات سے کلام شارع ساکت نہیں ان سے سکوت درکنار ان کا صاف انکار کر گیا مگر یہاں یہ کہنا ہے کہ اس مدعی بے باك کے نزدیك تسلیم وعدم سکوت کا وہ مطلب ہر گز نہیں جو اہلسنت کے نزدیك ہے یعنی کچھ معنی نہ کہنا صرف اجمالا اتنی بات پر ایمان لے آنا کہ جو کچھ مراد الہی ہے حق ہے یا تاویل کرکے صاف و پاك معنی کی طرف ڈھال دنیا جن میں مشابہت مخلوق و جسمیت و مکان وجہت کی بو اصلا نہ پیدا ہو۔اس مسلك پر ایمان لاتا تو استواء کے معنی بیٹھناچڑھناٹھہرنا نہ بتاتا ان کے علاوہ اور معانی کو کہ ائمہ اہلسنت نے ذکر فرمائے بدعت و ضلالت نہ بتاتا لاجرم اس کا مسلك وہی مسلك مجسمہ ہے کہ جو کچھ وارد ہوا وہ اپنے حقیقی لغوی معنی مفہوم و متبادر پر محمول ٹھہرا کر مانا جائے گا۔ شروع سے اب تك جولکھا گیا وہ اسی ضلالت ملعونہ کے رد میں تھا اتنا اور اس کے کان میں ڈال دوں شاید خدا سمجھ دے اور ہدایت کرے کہ اے بے خرد ! یہ ناپاك مسلك جو استوا میں خصوصا اور باقی متشابہات میں مطلقا تیرا ہے۔(کھلی گمراہی کا نجس رستہ ہے)اس طریقہ پر تیرا معبود جسے تو اپنے
حوالہ / References
کتاب الاسماء والصفات باب ھل ینظرون الا ان یاتیہم اﷲ الخ المکتبۃ الاثر یہ شیخوپورہ ۲/ ۱۹۴
مدارك التنزیل(تفسیر النسفی)آیۃ ۷/ ۵۴ دارالکتاب العربی بیروت ۲/ ۵۶
مدارك التنزیل(تفسیر النسفی)آیۃ ۷/ ۵۴ دارالکتاب العربی بیروت ۲/ ۵۶
ذہن میں ایك صورت تراش کر معبود سمجھ لیا ہے اگر بت خانہ چین کی ایك مورت ہو کر نہ رہ جائے تو میرا ذمہ۔
ضرب ۱۲۱ تا ۱۸۲:جانتا ہے وہ تیرا وہمی معبود کیسا ہے۔
لہ وجہ کوجہ الانسان فیہ عینان تنظران ولکن من سخط علیہ لاینظر الیہ ثم العجب ان وجہہ الی کل جہۃ واعظم عجبا انہ مع ذلك یصرفہ عمن یغضب علیہ فلیت شعری کیف یصرف عن جہۃ ما ھو الی کل وجہۃ بل المصلی مادام یصلی یقبل علیہ بوجہہ فاذا انصرف صرف لہ صوت فلتکن حنجرۃ ونفس ایضا بل قد وجد من قبل الیمن لہ اذنان یاذن لمن یرضی علیہ جعد ذو وفرۃ الی شحمۃ اذنیہ اما اللحیۃ فلم توجد بل شاب امردلہ یدان کا لانسان فیھما یمین و شمال وساعد وکف واصابع مبسو طتان الی بعید و ربما قبض و قد یحثولہ جنب وضحکہ یخبر عن فم یغفر واسنان تکشرلہ حقو تعلقت بہ الرحم و رجلان وساق قد جلس علی السریر مدلیا قدمیہ و اضعھما علی کرسی وربما استلقی اس کا انسان جیسا چہرہاس میں دوآنکھیں دیکھتی ہیں لیکن جس پر وہ ناراض ہو اس کی طرف نہیں دیکھتا پھر عجب ہے کہ اس کا چہرہ ہر طرف ہے اس سے بڑھ کر عجیب یہ کہ اس کے باوجود جس سے ناراض ہو اس سے چہرہ پھیرلےکاش سمجھ ہوتیجو ہر طرف ہو وہ کس طرح دوسری طرف پھر جائے بلکہ جب تك نمازی نماز میں ہے تو وہ اپنے چہرہ کو نمازی کی طرف کرتا ہے اور جب وہ نمازی فارغ ہوجاتا ہے تو وہ بھی پھر جاتا ہےاس کی آواز ہے تو آہٹ اور سانس بھی ہوگابلکہ یمن کی طرف سے پایا جاتا ہےاس کے دوکان ہیں جس سے راضی ہو اس پر کان لگاتا ہے قد آور ہے اس کے سر کے بال دونوں کانوں سے نیچے تك بڑھے ہوئے ہیںلیکن داڑھی نہیں بلکہ نوجوان بے داڑھی ہےانسان کی طرح اس کے دو۲ ہاتھ ہیں انمیں ایك دایاں دوسرا بایاں ہےاس کا بازو اور ہتھیلی اور انگلیاں ہیںدور تك اس کے ہاتھ پھیلے ہوئےکبھی ہاتھوں کو بند کرتا ہے اور کبھی کھول کر پھرتا ہےاس کا پہلو ہےہنستا ہے اپنے منہ سے خبر بتاتا ہےاس کے دانت ہیں جو چباتے ہیں اس کا زیر جامہ ہے جس سے رحم لٹکتا ہےدو۲ پاؤں ہیں پنڈلی ہےتخت پر بیٹھ کر دونوں پاؤں کو لٹکاتا ہے اور ان دونوں کو کرسی پر رکھتا ہے اور کبھی چت لیٹ کر
ضرب ۱۲۱ تا ۱۸۲:جانتا ہے وہ تیرا وہمی معبود کیسا ہے۔
لہ وجہ کوجہ الانسان فیہ عینان تنظران ولکن من سخط علیہ لاینظر الیہ ثم العجب ان وجہہ الی کل جہۃ واعظم عجبا انہ مع ذلك یصرفہ عمن یغضب علیہ فلیت شعری کیف یصرف عن جہۃ ما ھو الی کل وجہۃ بل المصلی مادام یصلی یقبل علیہ بوجہہ فاذا انصرف صرف لہ صوت فلتکن حنجرۃ ونفس ایضا بل قد وجد من قبل الیمن لہ اذنان یاذن لمن یرضی علیہ جعد ذو وفرۃ الی شحمۃ اذنیہ اما اللحیۃ فلم توجد بل شاب امردلہ یدان کا لانسان فیھما یمین و شمال وساعد وکف واصابع مبسو طتان الی بعید و ربما قبض و قد یحثولہ جنب وضحکہ یخبر عن فم یغفر واسنان تکشرلہ حقو تعلقت بہ الرحم و رجلان وساق قد جلس علی السریر مدلیا قدمیہ و اضعھما علی کرسی وربما استلقی اس کا انسان جیسا چہرہاس میں دوآنکھیں دیکھتی ہیں لیکن جس پر وہ ناراض ہو اس کی طرف نہیں دیکھتا پھر عجب ہے کہ اس کا چہرہ ہر طرف ہے اس سے بڑھ کر عجیب یہ کہ اس کے باوجود جس سے ناراض ہو اس سے چہرہ پھیرلےکاش سمجھ ہوتیجو ہر طرف ہو وہ کس طرح دوسری طرف پھر جائے بلکہ جب تك نمازی نماز میں ہے تو وہ اپنے چہرہ کو نمازی کی طرف کرتا ہے اور جب وہ نمازی فارغ ہوجاتا ہے تو وہ بھی پھر جاتا ہےاس کی آواز ہے تو آہٹ اور سانس بھی ہوگابلکہ یمن کی طرف سے پایا جاتا ہےاس کے دوکان ہیں جس سے راضی ہو اس پر کان لگاتا ہے قد آور ہے اس کے سر کے بال دونوں کانوں سے نیچے تك بڑھے ہوئے ہیںلیکن داڑھی نہیں بلکہ نوجوان بے داڑھی ہےانسان کی طرح اس کے دو۲ ہاتھ ہیں انمیں ایك دایاں دوسرا بایاں ہےاس کا بازو اور ہتھیلی اور انگلیاں ہیںدور تك اس کے ہاتھ پھیلے ہوئےکبھی ہاتھوں کو بند کرتا ہے اور کبھی کھول کر پھرتا ہےاس کا پہلو ہےہنستا ہے اپنے منہ سے خبر بتاتا ہےاس کے دانت ہیں جو چباتے ہیں اس کا زیر جامہ ہے جس سے رحم لٹکتا ہےدو۲ پاؤں ہیں پنڈلی ہےتخت پر بیٹھ کر دونوں پاؤں کو لٹکاتا ہے اور ان دونوں کو کرسی پر رکھتا ہے اور کبھی چت لیٹ کر
واضعا احدی رجلیہ علی الاخری فلا بد من ظہر وقفا ویستانس للصدر ایضا فمن نور صدرہ خلقت الملئکۃ قد ماہ فی کل مسجد علیہما یسجد الساجدون وبقیۃ الاعضاء لم تفصل الاخبراعم واشمل انہ علی صورۃ الانسان اذخلق ادم علی صورۃ الرحمن یصعدوینزل ویمشی ویہرول وقد یاتی الارض و کانت اخر وطاتہ بموضع وج ثم یجیئ یوم القیمۃ فیطوف الارض مکتس ثیابا ازارا و رداء یسترالمؤمن بکتفہ رداؤہ علی وجہ فی جنۃ عدن لہ ظل ظلیل یصیب بہ من یشاء ویصرف عنہ من یشاء یاتی یوم القیام فی ظلل من الغمام یتعجب ویستحیی و یمل ویتردد و یستھزئ وقد یتقذر نفسہ شیئا تحملہ وعرشہ اربعۃ املاك اثنان تحت رجلہ الیمنی و اثنان تحت رجلہ الیسری تقبل شدید الوزر ویأط منہ العرش اطیط الرجل الجدید من ثقل الراکب الشدید ربما لبس حلۃ خضراء ونعلین من ذھب وجلس علی کرسی ذھب تحتہ فراش من ذھب ودونہ سترمن ایك ٹانگ کو دوسری پر رکھتا ہے لہذا اس کی پیٹھ اور گدی ہوگیاور چھاتی سے مانوس کرتا ہےاس کی چھاتی کے نور سے فرشتے پیدا ہوئےاس کے قدم ہر مسجد میں ہیں تاکہ سجدہ کرنے والا ان قدموں پر سجدہ کرےاور باقی اعضاء جن کی تفصیل نہیں صرف یہ خبر عام و اشمل ہے کہ وہ انسانی صورت پر ہے کیونکہ اس نے آدم کو اپنی صورت پر پیدا کیاچڑھتا ہے اترتا ہےچلتا ہےدوڑتا ہےکبھی زمین پر آتا ہے اور آخری قدم موضع وج میں ہوتا ہےپھر قیامت کو آکر زمین پر چکر لگائے گالباس والا تہبند اور چادر پہنے ہوئےاپنے دامن سے مومن کو ڈھانپتا ہے اس کی چادر چہرہ پر ہے جنت عدن میں اس کا گہرا سایہ ہے جس کو چاہتا ہے اس پر ڈالتا ہے اور جس چیز پر نہیں چاہتا نہیں ڈالتاقیامت میں بادل کے سایہ میں آئے گا۔تعجب و حیا کرتا ہےمیلان آگے پیچھے ہوتا ہے مذاق کرتا ہےکبھی کسی چیز سے گھن کرتا ہےاس کا عرش چار ملك ہیںدو اس کے داہنے قدم اور دو اس کے بائیں قدم کے نیچے ہیںشدید بوجھ ڈالے تو اس سے عرش اس طرح آواز نکالتا ہے جیسے نیا کجاوا بھاری سوار سے آواز پیدا کرتا ہےکبھی سبز جوڑا پہنتا ہےاور سونے کے جوتے ہیں اور سونے کی کرسی پر بیٹھا اور اس کے نیچے سونے کا بستر اور پاس موتیوں کے پردے ہوتے ہیں
لؤلؤ رجلاہ فی خضرۃ فی روضۃ خضراء الی غیر ذلك مما نطقت ببعضہ الایات ووردت بالباقی الاحادیثاتی علی اکثرھا فی کتاب الاسماء و الصفات۔ اس کے پاؤں سبزے کے باغ میں سبزے پر ہوتے ہیں بعض ان میں وہ صفات ہیں جن کو قرآنی آیات نے بیان کیا اور باقی وہ جن کے بارے میں احادیث وارد ہوئی ہیں ان میں سے اکثر کو کتاب الاسماء و الصفات میں پیش کیا ہے۔(ت)
کیوں اے جاہل بے خرد ! اے حدیث احادو ضعیف ارتفاع مکانی سے سند لا کر اپنے معبود کو مکان ماننے والےکیا ایسے ہی معبود ك زو پوجتا ہے پھر اس میں اور انسان کے جسم میں چھوٹے بڑے کے سوا فرق کیا ہےمگر الحمد ﷲ اہلسنت ایسے سچے رب حقیقی معبود کو پوجتے ہیں جو احدصمدبے شبہہ و نمون و بیچون وچگون ہے۔
" لم یلد ۬ و لم یولد ﴿۳﴾ و لم یکن لہ کفوا احد " ﴿۴﴾ ۔ نہ اس کی کوئی اولاد اور نہ وہ کسی سے پیدا ہوااور نہ اس کے جوڑ کا کوئی(ت)
جسم و جسمانیات و مکان و جہالت و اعضاء و آلات و تمام عیوب و نقصانات سے پاك و منزہ ہے یہ سب اور اس کے مثل جو کچھ وارد ہوا ان میں کچھ روایۃ ضعیف ہے اور زیادہ وہی ہوگا اور صریح تشبیہہ کی صاف تصریحیں کہ تاویلی محاوروں سے بعید پڑیں اسی میں ملیں گی اسے تو یہ خدا کے موفق بندے ایك جو کے برابر بھی نہیں سمجھتے اور جو کچھ روایۃ صحیح مگر خبر احاد ہو اسے بھی جب کہ متواترات سے موافق المعنے نہ ہو پایہ قبول پر جگہ نہیں دیتے۔
فان الاحاد لاتفید الاعتماد فی باب الاعتقا دو لو فرضت فی اصح الکتب باصح الاسناد۔ اعتقاد کے باب میں اخبار احاد اگرچہ صحیح کتاب اور صحیح سند سے ہوں وہ اعتماد کے لیے مفید نہیں ہیں۔(ت)
رہ گئے متواترات اور وہ نہیں مگر معدود ے چنداور وہ بھی معروف و مشہور محاورات عرب کے موافق تاویل پسند مثل ید و وجہ و عین و ساق واستواء واتیان ونزول وغیرہا ان میں تاویل کیجئے تو راہ روشن اور تفویض کیجئے تو سب سے احسننہ یہ کہ منہ بھر کر خدا کو گالی دیجئے اور اس کے لیے صاف صاف مکان مان لیجئےیا اٹھتابیٹھتاچڑھتااترتاچلتاٹھہرتاتسلیم کیجئےاﷲ عزوجل
کیوں اے جاہل بے خرد ! اے حدیث احادو ضعیف ارتفاع مکانی سے سند لا کر اپنے معبود کو مکان ماننے والےکیا ایسے ہی معبود ك زو پوجتا ہے پھر اس میں اور انسان کے جسم میں چھوٹے بڑے کے سوا فرق کیا ہےمگر الحمد ﷲ اہلسنت ایسے سچے رب حقیقی معبود کو پوجتے ہیں جو احدصمدبے شبہہ و نمون و بیچون وچگون ہے۔
" لم یلد ۬ و لم یولد ﴿۳﴾ و لم یکن لہ کفوا احد " ﴿۴﴾ ۔ نہ اس کی کوئی اولاد اور نہ وہ کسی سے پیدا ہوااور نہ اس کے جوڑ کا کوئی(ت)
جسم و جسمانیات و مکان و جہالت و اعضاء و آلات و تمام عیوب و نقصانات سے پاك و منزہ ہے یہ سب اور اس کے مثل جو کچھ وارد ہوا ان میں کچھ روایۃ ضعیف ہے اور زیادہ وہی ہوگا اور صریح تشبیہہ کی صاف تصریحیں کہ تاویلی محاوروں سے بعید پڑیں اسی میں ملیں گی اسے تو یہ خدا کے موفق بندے ایك جو کے برابر بھی نہیں سمجھتے اور جو کچھ روایۃ صحیح مگر خبر احاد ہو اسے بھی جب کہ متواترات سے موافق المعنے نہ ہو پایہ قبول پر جگہ نہیں دیتے۔
فان الاحاد لاتفید الاعتماد فی باب الاعتقا دو لو فرضت فی اصح الکتب باصح الاسناد۔ اعتقاد کے باب میں اخبار احاد اگرچہ صحیح کتاب اور صحیح سند سے ہوں وہ اعتماد کے لیے مفید نہیں ہیں۔(ت)
رہ گئے متواترات اور وہ نہیں مگر معدود ے چنداور وہ بھی معروف و مشہور محاورات عرب کے موافق تاویل پسند مثل ید و وجہ و عین و ساق واستواء واتیان ونزول وغیرہا ان میں تاویل کیجئے تو راہ روشن اور تفویض کیجئے تو سب سے احسننہ یہ کہ منہ بھر کر خدا کو گالی دیجئے اور اس کے لیے صاف صاف مکان مان لیجئےیا اٹھتابیٹھتاچڑھتااترتاچلتاٹھہرتاتسلیم کیجئےاﷲ عزوجل
حوالہ / References
القرآن الکریم ۱۱۲ /۳ و۴
اتباع حق کی توفیق دے اور مخالفت اہلسنت سے ہر قول و فعل میں محفوظ رکھےآمین۔
چھٹا تپانچہ
اقول:طرفہ تماشا ہے جب اس گمراہ نے سب مصائب اپنے سر پر اوڑھ لیے اپنے معبود کو مکانی کہہ دیاجسم مان لیاعرش پر متمکن ٹھہر اکر جہت میں جان لیاپھر یہ کیا خبط سوجھا کہ اور کہیں نہیں کہہ کر طرح طرح اپنے ہی لکھے سے تناقض کیا۔
ضرب ۱۸۳:سچا ہے تو قرآن و حدیث سے ثبوت دے کہ اﷲ تعالی عرش پر تو ہے اور عرش کے سوا کہیں نہیںیہ اور کہیں نہیںکون سی آیت حدیث میں ہے " ام تقولون علی اللہ ما لا تعلمون﴿۸۰﴾ " ۔یا یہود کی طرح بے جانے بوجھے دل سے گھڑ کر خدا پر حکم لگادیتے ہو۔
ضرب ۱۸۴:جب تو اس سبوح و قدوس جل جلالہ کو مکان سے پاك نہیں مانتا تو اب کوئی وجہ نہیں کہ اور آیات و احادیث جن کے ظاہر الفاظ سے اور جگہ ہونا مفہوم ہو اپنے ظاہر سے پھیری جائیں۔تیرے طور پر ان سب کو معنی لغوی حقیقی ظاہر متبادر پر عمل کرنا واجب ہوگااب دیکھ کہ تو نے کتنی آیات و احادیث کا انکار کردیا اور کتنی بار اپنے اس لکھے سے کہ جو شرع میں وارد ہے اس سے سکوت نہ ہوگاصاف تناقض کیا سب میں پہلے تو یہی حدیث صحیح بخاری وھو مکانہ ۔ہے جس میں تو نے بزور زبان ضمیر حضرت عزت جل شانہ کی طرف ٹھہرادی اور پھر مکانہ سے محض زبردستی عرش مراد لے لیا حالانکہ وہاں سدرۃ المنتہی کا ذکر ہے تو عرش ہی پر ہونا غلط ہوا کبھی سدرہ پر بھی ٹھہرا ہے۔
ضرب ۱۸۵:صحیح بخاری حدیث شفاعت میں انس رضی اﷲ تعالی عنہ سے ہے:
فاستاذن علی ربی فی دارہ فیؤذن لی علیہ ۔ میں اپنے رب پر اذن طلب کروں گا اس کی حویلی میں تو مجھے اس کے پاس حاضر ہونے کا اذن ملے گا۔
ظاہر ہے کہ تخت کو حویلی نہیں کہتےنہ عرش کسی مکان میں ہےبلکہ وہ بالائے جملہ اجسام ہے
چھٹا تپانچہ
اقول:طرفہ تماشا ہے جب اس گمراہ نے سب مصائب اپنے سر پر اوڑھ لیے اپنے معبود کو مکانی کہہ دیاجسم مان لیاعرش پر متمکن ٹھہر اکر جہت میں جان لیاپھر یہ کیا خبط سوجھا کہ اور کہیں نہیں کہہ کر طرح طرح اپنے ہی لکھے سے تناقض کیا۔
ضرب ۱۸۳:سچا ہے تو قرآن و حدیث سے ثبوت دے کہ اﷲ تعالی عرش پر تو ہے اور عرش کے سوا کہیں نہیںیہ اور کہیں نہیںکون سی آیت حدیث میں ہے " ام تقولون علی اللہ ما لا تعلمون﴿۸۰﴾ " ۔یا یہود کی طرح بے جانے بوجھے دل سے گھڑ کر خدا پر حکم لگادیتے ہو۔
ضرب ۱۸۴:جب تو اس سبوح و قدوس جل جلالہ کو مکان سے پاك نہیں مانتا تو اب کوئی وجہ نہیں کہ اور آیات و احادیث جن کے ظاہر الفاظ سے اور جگہ ہونا مفہوم ہو اپنے ظاہر سے پھیری جائیں۔تیرے طور پر ان سب کو معنی لغوی حقیقی ظاہر متبادر پر عمل کرنا واجب ہوگااب دیکھ کہ تو نے کتنی آیات و احادیث کا انکار کردیا اور کتنی بار اپنے اس لکھے سے کہ جو شرع میں وارد ہے اس سے سکوت نہ ہوگاصاف تناقض کیا سب میں پہلے تو یہی حدیث صحیح بخاری وھو مکانہ ۔ہے جس میں تو نے بزور زبان ضمیر حضرت عزت جل شانہ کی طرف ٹھہرادی اور پھر مکانہ سے محض زبردستی عرش مراد لے لیا حالانکہ وہاں سدرۃ المنتہی کا ذکر ہے تو عرش ہی پر ہونا غلط ہوا کبھی سدرہ پر بھی ٹھہرا ہے۔
ضرب ۱۸۵:صحیح بخاری حدیث شفاعت میں انس رضی اﷲ تعالی عنہ سے ہے:
فاستاذن علی ربی فی دارہ فیؤذن لی علیہ ۔ میں اپنے رب پر اذن طلب کروں گا اس کی حویلی میں تو مجھے اس کے پاس حاضر ہونے کا اذن ملے گا۔
ظاہر ہے کہ تخت کو حویلی نہیں کہتےنہ عرش کسی مکان میں ہےبلکہ وہ بالائے جملہ اجسام ہے
حوالہ / References
القرآن الکریم ۲ /۸۰
صحیح البخاری کتاب التوحید باب قول اﷲ تعالٰی وکلم اﷲ موسٰی تکلیما قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۱۱۲۰
صحیح البخاری کتاب التوحید باب قول اﷲ وجوہ یومئذ ناضرۃ الٰی ربہا ناظرۃ قدیمی کتب خانہ کراچی،۲/ ۱۱۰۸
صحیح البخاری کتاب التوحید باب قول اﷲ تعالٰی وکلم اﷲ موسٰی تکلیما قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۱۱۲۰
صحیح البخاری کتاب التوحید باب قول اﷲ وجوہ یومئذ ناضرۃ الٰی ربہا ناظرۃ قدیمی کتب خانہ کراچی،۲/ ۱۱۰۸
لاجرم یہ حویلی جنت ہی ہوگی۔
ضرب ۱۸۶:صحیحین میں ابوموسی اشعری رضی اﷲ تعالی عنہ سے:
قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم جنتان من فضۃ انیتہما وما فیھماوجنتان من ذھب انیتھما وما فیھما وما بین القوم وبین ان ینظروا الی ربھم عزوجل الارداء الکبریاء علی وجہہ فی جنۃ عدن ۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:دو جنتیں ہیں جن کے برتن اور تمام سامان چاندی کا ہےدو۲ جنتیں ہیں جن کے برتن اور تمام سامان سونے کا ہے اﷲ تعالی کے دیدار اور قوم میں صرف کبریائی کی چادر ہوگی جو جنت عدن میں اس کے چہرے پر ہوگیحائل ہوگی۔(ت)
یہاں جنت عدن میں ہونے کی تصریح ہے۔
ضرب ۱۸۷:بزار و ابن ابی الدنیا اور طبرانی بسند جید قوی اوسط میں انس بن مالك رضی اﷲ تعالی عنہ سے حدیث دیدار اہل جنت ہر روز جمعہ میں مرفوعا راوی:
فاذا کان یوم الجمۃ نزل تبارك و تعالی من علیین علی کرسیہ ثم حف الکرسی بمنابر من نور و جاء النبیون حتی یجلسوا علیہا ۔الحدیث جب جمعہ کا روز ہوگا تو اﷲ تبارك و تعالی علیین سے کرسی پر نزول فرمائے گا پھر ا س کے گرد نور کے منبر بچھائے جائیں گےانبیاء علیہم الصلوۃ والسلام تشریف لا کر ان منبروں پر جلوہ گر ہوں گے۔الحدیث(ت)
یہاں علیین سے اتر کر کرسی پر حلقہ انبیاء و صدیقین و شہداء وسائر اہل جنت کے اندر تجلی ہے۔
ضرب ۱۸۸:قال تعالی: " ءامنتم من فی السماء " ۔ (کیاتم اس سے نڈر ہوگئے ہو جس کی
ضرب ۱۸۶:صحیحین میں ابوموسی اشعری رضی اﷲ تعالی عنہ سے:
قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم جنتان من فضۃ انیتہما وما فیھماوجنتان من ذھب انیتھما وما فیھما وما بین القوم وبین ان ینظروا الی ربھم عزوجل الارداء الکبریاء علی وجہہ فی جنۃ عدن ۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:دو جنتیں ہیں جن کے برتن اور تمام سامان چاندی کا ہےدو۲ جنتیں ہیں جن کے برتن اور تمام سامان سونے کا ہے اﷲ تعالی کے دیدار اور قوم میں صرف کبریائی کی چادر ہوگی جو جنت عدن میں اس کے چہرے پر ہوگیحائل ہوگی۔(ت)
یہاں جنت عدن میں ہونے کی تصریح ہے۔
ضرب ۱۸۷:بزار و ابن ابی الدنیا اور طبرانی بسند جید قوی اوسط میں انس بن مالك رضی اﷲ تعالی عنہ سے حدیث دیدار اہل جنت ہر روز جمعہ میں مرفوعا راوی:
فاذا کان یوم الجمۃ نزل تبارك و تعالی من علیین علی کرسیہ ثم حف الکرسی بمنابر من نور و جاء النبیون حتی یجلسوا علیہا ۔الحدیث جب جمعہ کا روز ہوگا تو اﷲ تبارك و تعالی علیین سے کرسی پر نزول فرمائے گا پھر ا س کے گرد نور کے منبر بچھائے جائیں گےانبیاء علیہم الصلوۃ والسلام تشریف لا کر ان منبروں پر جلوہ گر ہوں گے۔الحدیث(ت)
یہاں علیین سے اتر کر کرسی پر حلقہ انبیاء و صدیقین و شہداء وسائر اہل جنت کے اندر تجلی ہے۔
ضرب ۱۸۸:قال تعالی: " ءامنتم من فی السماء " ۔ (کیاتم اس سے نڈر ہوگئے ہو جس کی
حوالہ / References
صحیح البخاری کتاب التفسیر ۲/ ۷۳۴ وکتاب التوحید ۲/ ۱۱۰۹ قدیمی کتب خانہ کراچی،صحیح مسلم کتاب الایمان قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۰۰
الترغیب و الترھیب فصل فی نظر اہل الجنۃ الی ربھم حدیث ۱۲۹ مصطفی البابی مصر ۴/ ۵۵۴،کشف الاستار عن زوائد البزار باب فی نعیم اہل الجنۃ حدیث ۳۵۱۹ موسسۃ الرسالہ بیروت ۴/ ۱۹۵،المعجم الاوسط حدیث ۶۷۱۳ مکتبۃ المعارف الریاض ۷/ ۳۶۷
القرآن الکریم ۶۷ /۱۶
الترغیب و الترھیب فصل فی نظر اہل الجنۃ الی ربھم حدیث ۱۲۹ مصطفی البابی مصر ۴/ ۵۵۴،کشف الاستار عن زوائد البزار باب فی نعیم اہل الجنۃ حدیث ۳۵۱۹ موسسۃ الرسالہ بیروت ۴/ ۱۹۵،المعجم الاوسط حدیث ۶۷۱۳ مکتبۃ المعارف الریاض ۷/ ۳۶۷
القرآن الکریم ۶۷ /۱۶
سلطنت آسمان میں ہے۔ت)
ضرب ۱۸۹:قال تعالی " ءامنتم من فی السماء " ۔ (کیا تم نڈر ہوگئے ہو اس سے جس کی سلطنت آسمان میں ہے۔(ت)
ضرب ۱۹۰:احمد و ابن ماجہ و حاکم بسند صحیح ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے حدیث قبض روح میں مرفوعا راوی۔
فلایزال یقال لہا ذلك حتی تنتہی بہا الی السماء التی فیہا اﷲ تبارك و تعالی ۔ روح کو یہ کہا جاتا رہے گا حتی کہ وہ اس آسمان تك پہنچ جائے جس میں اﷲ تعالی ہے۔(ت)
ضرب ۱۹۱:مسلم ابوداؤد و نسائی معویہ بن حکم رضی اﷲ تعالی عنہ سے حدیث جاریہ میں راوی:
قال لہا این اﷲ قالت فی السماء قال من انا قالت انت رسول اﷲ قال اعتقہا فانہا مؤمنۃ ۔ لونڈی کو فرمایا اﷲ کہاں ہے اس نے کہا آسمان میںپھر پوچھا میں کون ہوں تو اس نے کہا آپ رسول اﷲ ہیںتو آپ نے مالك کو فرمایا اس کو آزاد کردو کیونکہ مومنہ ہے۔(ت)
ضرب ۱۹۲:ابوداؤد و ترمذی بافادہ تصحیح عبداﷲ بن عمر و رضی اﷲ تعالی عنہما سے راوی:
قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ارحموا من فی الارض یر حمکم من فی السماء ۔ حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا:زمین والوں پر رحم کرو تم پر رحم کرے گا جو آسمان میں ہے۔(ت)
ضرب ۱۹۳:صحیح مسلم میں ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے:
قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا:مجھے اس
ضرب ۱۸۹:قال تعالی " ءامنتم من فی السماء " ۔ (کیا تم نڈر ہوگئے ہو اس سے جس کی سلطنت آسمان میں ہے۔(ت)
ضرب ۱۹۰:احمد و ابن ماجہ و حاکم بسند صحیح ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے حدیث قبض روح میں مرفوعا راوی۔
فلایزال یقال لہا ذلك حتی تنتہی بہا الی السماء التی فیہا اﷲ تبارك و تعالی ۔ روح کو یہ کہا جاتا رہے گا حتی کہ وہ اس آسمان تك پہنچ جائے جس میں اﷲ تعالی ہے۔(ت)
ضرب ۱۹۱:مسلم ابوداؤد و نسائی معویہ بن حکم رضی اﷲ تعالی عنہ سے حدیث جاریہ میں راوی:
قال لہا این اﷲ قالت فی السماء قال من انا قالت انت رسول اﷲ قال اعتقہا فانہا مؤمنۃ ۔ لونڈی کو فرمایا اﷲ کہاں ہے اس نے کہا آسمان میںپھر پوچھا میں کون ہوں تو اس نے کہا آپ رسول اﷲ ہیںتو آپ نے مالك کو فرمایا اس کو آزاد کردو کیونکہ مومنہ ہے۔(ت)
ضرب ۱۹۲:ابوداؤد و ترمذی بافادہ تصحیح عبداﷲ بن عمر و رضی اﷲ تعالی عنہما سے راوی:
قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ارحموا من فی الارض یر حمکم من فی السماء ۔ حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا:زمین والوں پر رحم کرو تم پر رحم کرے گا جو آسمان میں ہے۔(ت)
ضرب ۱۹۳:صحیح مسلم میں ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے:
قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا:مجھے اس
حوالہ / References
القرآن الکریم ۶۷ /۱۷
مسند احمد بن حنبل مروی از ابو ھریرہ دارالفکر بیروت ۲/ ۳۶۴۔سنُن ابن ماجہ باب ذکر الموت والاستعدادلہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص ۳۲۵،کنزالعمال حدیث ۴۲۴۹۶ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۵/ ۲۳۰
صحیح مسلم کتاب المساجد باب تحریم الکلام فی الصلوۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۲۰۴،سنن ابوداؤد باب تشمیت العاطس فی الصلوۃ آفتاب عالم پریس لاہور ۱/ ۱۳۴
جامع الترمذی ابواب البروالصلۃ امین کمپنی کتب خانہ رشید یہ دہلی ۲/ ۱۴،سنن ابوداؤد کتاب الادب باب فی الادب آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۳۱۹
مسند احمد بن حنبل مروی از ابو ھریرہ دارالفکر بیروت ۲/ ۳۶۴۔سنُن ابن ماجہ باب ذکر الموت والاستعدادلہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص ۳۲۵،کنزالعمال حدیث ۴۲۴۹۶ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۵/ ۲۳۰
صحیح مسلم کتاب المساجد باب تحریم الکلام فی الصلوۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۲۰۴،سنن ابوداؤد باب تشمیت العاطس فی الصلوۃ آفتاب عالم پریس لاہور ۱/ ۱۳۴
جامع الترمذی ابواب البروالصلۃ امین کمپنی کتب خانہ رشید یہ دہلی ۲/ ۱۴،سنن ابوداؤد کتاب الادب باب فی الادب آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۳۱۹
والذی نفسی بیدہ مامن رجل یدعو امراتہ الی فراشہا فتابی علیہ الاکان الذی فی السماء ساخطا علیہا حتی یرضی عنہا۔ ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے جب کوئی خاوند اپنی بیوی کو جماع کے لیے طلب کرتا ہے اور وہ انکار کرتی ہے تو وہ ذات جو آسمان میں ہے بیوی پر ناراض ہوتی ہے۔(ت)
ضرب ۱۹۴:ابویعلی وبزار و ابونعیم بسند حسن ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے راوی:
قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لما القی ابراہیم فی النار قال اللھم انت فی السماء واحدوانا فی الارض واحد أعبدک ۔ حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا:جب براہیم علیہ السلام کو آگ میں ڈالا گیا تو انہوں نے کہا:اے اﷲ تو آسمان میں ایك ہے اور میں زمین میں ایك ہوںتیری عبادت کرتا ہوں۔(ت)
ضرب ۱۹۵:ابویعلی و حکیم و حاکم و سعید بن منصور و ابن حبان و ابونعیم اور بیہقی کتاب الاسماء میں ابوسعید خدری رضی اﷲ تعالی عنہ سے مرفوعا راویاﷲ عزوجل نے فرمایا:
یاموسی لو ان السموت السبع و عامر ھن غیری و الارضین السبع فی کفۃ ولاالہ الا اﷲ فی کفۃ مالت بھن لا الہ الا اﷲ ۔ اے موسی اگر ساتوں آسمان اور ان میں موجود ہر چیز میرے سوااور سات زمینیں ایك پلڑے میں ہوں اور دوسرے پلڑے میں لاالہ الا اﷲ ہو تو لا الہ الا اﷲ والا پلڑا سب پر بھاری ہوگا۔(ت)
ان آیات و احادیث سے آسمان میں ہونا ثابت ہوا۔
ضرب ۱۹۴:ابویعلی وبزار و ابونعیم بسند حسن ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے راوی:
قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لما القی ابراہیم فی النار قال اللھم انت فی السماء واحدوانا فی الارض واحد أعبدک ۔ حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا:جب براہیم علیہ السلام کو آگ میں ڈالا گیا تو انہوں نے کہا:اے اﷲ تو آسمان میں ایك ہے اور میں زمین میں ایك ہوںتیری عبادت کرتا ہوں۔(ت)
ضرب ۱۹۵:ابویعلی و حکیم و حاکم و سعید بن منصور و ابن حبان و ابونعیم اور بیہقی کتاب الاسماء میں ابوسعید خدری رضی اﷲ تعالی عنہ سے مرفوعا راویاﷲ عزوجل نے فرمایا:
یاموسی لو ان السموت السبع و عامر ھن غیری و الارضین السبع فی کفۃ ولاالہ الا اﷲ فی کفۃ مالت بھن لا الہ الا اﷲ ۔ اے موسی اگر ساتوں آسمان اور ان میں موجود ہر چیز میرے سوااور سات زمینیں ایك پلڑے میں ہوں اور دوسرے پلڑے میں لاالہ الا اﷲ ہو تو لا الہ الا اﷲ والا پلڑا سب پر بھاری ہوگا۔(ت)
ان آیات و احادیث سے آسمان میں ہونا ثابت ہوا۔
حوالہ / References
صحیح مسلم کتاب النکاح باب تحریم امتناعھامن فراش الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۴۶۴
حلیۃ الاولیاء مقدمۃ المؤلف دارالکتاب العربی بیروت ۱/ ۱۹،کنزالعمال بحوالہ ابی یعلٰی حدیث ۳۲۲۸۶ موسسۃ الرسالہ بیروت ۱۱/ ۴۸۴
مسند ابویعلی حدیث ۱۳۸۹ مروی ازابوسعید خدری موسسۃ علوم القرآن بیروت ۲/ ۱۳۵،کتاب الاسماء والصفات باب ماجاء فی فضل الکلمۃ الباقیہ المکتبۃ الاثریہ سانگلہ ہل شیخوپور ہ ۱/ ۱۷۵،المستدرك للحاکم کتاب الدعاء دارالفکربیروت ۱/ ۵۲۸،مواردالظمآن حدیث ۲۳۲۴ المطبعۃ السلفیہ ص ۵۷۷
حلیۃ الاولیاء مقدمۃ المؤلف دارالکتاب العربی بیروت ۱/ ۱۹،کنزالعمال بحوالہ ابی یعلٰی حدیث ۳۲۲۸۶ موسسۃ الرسالہ بیروت ۱۱/ ۴۸۴
مسند ابویعلی حدیث ۱۳۸۹ مروی ازابوسعید خدری موسسۃ علوم القرآن بیروت ۲/ ۱۳۵،کتاب الاسماء والصفات باب ماجاء فی فضل الکلمۃ الباقیہ المکتبۃ الاثریہ سانگلہ ہل شیخوپور ہ ۱/ ۱۷۵،المستدرك للحاکم کتاب الدعاء دارالفکربیروت ۱/ ۵۲۸،مواردالظمآن حدیث ۲۳۲۴ المطبعۃ السلفیہ ص ۵۷۷
ضرب ۱۹۶:ہر رات آسمان دنیا پر ہونے کی حدیث گزری اور احادیث اس باب میں بکثرت ہیں۔ضرب ۱۹۷:قال اﷲ تعالی:
" وہو اللہ فی السموت و فی الارض " ۔ وہ اﷲ آسمانوں اور زمینوں میں ہے۔(ت)
ضرب ۱۹۸:قال تعالی:
" و نحن اقرب الیہ من حبل الورید ﴿۱۶﴾ " ۔ ہم اس کی شہ رگ سے زیادہ قریب ہیں۔(ت)
ضرب ۱۹۹:قال تعالی:
"و اسجد و اقترب ﴿۱۹﴾ " ۔ سجدہ کر اور قریب ہو۔(ت)
ضرب ۲۰۰:قال تعالی:
" و اذا سالک عبادی عنی فانی قریب " ۔ جب آپ سے سوال کریں میرے بندے میرے متعلق تو میں قریب ہوں۔(ت)
ضرب ۲۰۱:قال تعالی:
" انہ سمیع قریب ﴿۵۰﴾ " وہ سمیع و قریب ہے۔(ت)
ضرب ۲۰۲:قال تعالی:
" و ندینہ من جانب الطور الایمن و قربنہ نجیا ﴿۵۲﴾ " ۔ اور ہم نے ان کو ندادی طور کی دائیں جانب سے اور اس کو ہم نے قریب کیا مناجات کرتے ہوئے۔(ت)
ضرب ۲۰۳:قال تعالی۔
" فلما جاءہا نودی ان بورک من فی النار ومن حولہا و سبحن اللہ رب العلمین ﴿۸﴾ " ۔ جب وہاں آئے تو ندا دی گئی کہ جو آگ میں ہے اس کو برکت دی گئی اور اس کے اردگرد والوں کواﷲ پاك رب العالمین ہے(ت)
" وہو اللہ فی السموت و فی الارض " ۔ وہ اﷲ آسمانوں اور زمینوں میں ہے۔(ت)
ضرب ۱۹۸:قال تعالی:
" و نحن اقرب الیہ من حبل الورید ﴿۱۶﴾ " ۔ ہم اس کی شہ رگ سے زیادہ قریب ہیں۔(ت)
ضرب ۱۹۹:قال تعالی:
"و اسجد و اقترب ﴿۱۹﴾ " ۔ سجدہ کر اور قریب ہو۔(ت)
ضرب ۲۰۰:قال تعالی:
" و اذا سالک عبادی عنی فانی قریب " ۔ جب آپ سے سوال کریں میرے بندے میرے متعلق تو میں قریب ہوں۔(ت)
ضرب ۲۰۱:قال تعالی:
" انہ سمیع قریب ﴿۵۰﴾ " وہ سمیع و قریب ہے۔(ت)
ضرب ۲۰۲:قال تعالی:
" و ندینہ من جانب الطور الایمن و قربنہ نجیا ﴿۵۲﴾ " ۔ اور ہم نے ان کو ندادی طور کی دائیں جانب سے اور اس کو ہم نے قریب کیا مناجات کرتے ہوئے۔(ت)
ضرب ۲۰۳:قال تعالی۔
" فلما جاءہا نودی ان بورک من فی النار ومن حولہا و سبحن اللہ رب العلمین ﴿۸﴾ " ۔ جب وہاں آئے تو ندا دی گئی کہ جو آگ میں ہے اس کو برکت دی گئی اور اس کے اردگرد والوں کواﷲ پاك رب العالمین ہے(ت)
معالم میں ہے:
روی عن ابن عباس وسعید بن جبیر والحسن فی قولہ بورك من فی النار قدس من فی النار وھو اﷲ تعالی عنی بہ نفسہ علی معنی انہ نادی موسی منہا واسمعہ کلامہ من جھتہا ۔ ابن عباسسعید بن جبیر اور حسن رضی اﷲ تعالی عنہم سے روایت کیا گیا کہ من بورك فی النار کے بارے میںیعنی برگزیدہ ہے جو آگ میں ہے اور وہ اﷲ کی ذات ہے جس کو اپنی ذات کے بارے میں فرمایا یعنی یہ ہے کہ موسی نے ندا کی تو اس کو اپنا کلام سنایا اس جانب سے۔(ت)
ضرب ۲۰۴:قال تعالی:
" و ہو معکم این ما کنتم " ۔ وہ تمہارے ساتھ ہے تم جہاں بھی ہو۔(ت)
ضرب ۲۰۵:صحیحین میں ابو موسی اشعری رضی اﷲ تعالی عنہ سے ہےرسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:
یایہا الناس اربعواعلی انفسکم فانکم لاتدعون اصم ولا غائبا انکم تدعونہ سمیعا قریبا وھو معکم۔ اے لوگو! اپنے آپ پر نرمی کرو کیونکہ تم کسی بہرے اور غائب کو نہیں پکارتےتم تو پکارتے ہو سمیع قریب کووہ تمہارے پاس ہے۔(ت)
اسی حدیث کی ایك روایت میں ہے:
والذی تدعون اقرب الی احد کم من عنق راحلۃ احدکم وہ ذات جسے تم پکارتے ہو وہ تمہاری سواری کی گردن سے بھی قریب تر ہے۔(ت)
ضرب ۲۰۶:مسلمابوداؤدو نسائی ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایرسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اقرب ما یکون العبد من ربہ بندہ اﷲ تعالی کے قریب ترین ہوتا ہے جب
روی عن ابن عباس وسعید بن جبیر والحسن فی قولہ بورك من فی النار قدس من فی النار وھو اﷲ تعالی عنی بہ نفسہ علی معنی انہ نادی موسی منہا واسمعہ کلامہ من جھتہا ۔ ابن عباسسعید بن جبیر اور حسن رضی اﷲ تعالی عنہم سے روایت کیا گیا کہ من بورك فی النار کے بارے میںیعنی برگزیدہ ہے جو آگ میں ہے اور وہ اﷲ کی ذات ہے جس کو اپنی ذات کے بارے میں فرمایا یعنی یہ ہے کہ موسی نے ندا کی تو اس کو اپنا کلام سنایا اس جانب سے۔(ت)
ضرب ۲۰۴:قال تعالی:
" و ہو معکم این ما کنتم " ۔ وہ تمہارے ساتھ ہے تم جہاں بھی ہو۔(ت)
ضرب ۲۰۵:صحیحین میں ابو موسی اشعری رضی اﷲ تعالی عنہ سے ہےرسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:
یایہا الناس اربعواعلی انفسکم فانکم لاتدعون اصم ولا غائبا انکم تدعونہ سمیعا قریبا وھو معکم۔ اے لوگو! اپنے آپ پر نرمی کرو کیونکہ تم کسی بہرے اور غائب کو نہیں پکارتےتم تو پکارتے ہو سمیع قریب کووہ تمہارے پاس ہے۔(ت)
اسی حدیث کی ایك روایت میں ہے:
والذی تدعون اقرب الی احد کم من عنق راحلۃ احدکم وہ ذات جسے تم پکارتے ہو وہ تمہاری سواری کی گردن سے بھی قریب تر ہے۔(ت)
ضرب ۲۰۶:مسلمابوداؤدو نسائی ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایرسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اقرب ما یکون العبد من ربہ بندہ اﷲ تعالی کے قریب ترین ہوتا ہے جب
حوالہ / References
معالم النتزیل(تفسیر البغوی)آیۃ ۲۷/۸ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۳/ ۳۴۸
القرآن الکریم ۵۷ /۴
صحیح البخاری کتاب الجہاد باب مایکرہ من رفع الصوت الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۴۲۰،صحیح مسلم کتاب الذکروالدعاء باب استحباب خفض الصوت الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۳۴۶
صحیح مسلم کتاب الذکر والدعاء باب استحباب خفض الصوت الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۳۴۶
القرآن الکریم ۵۷ /۴
صحیح البخاری کتاب الجہاد باب مایکرہ من رفع الصوت الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۴۲۰،صحیح مسلم کتاب الذکروالدعاء باب استحباب خفض الصوت الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۳۴۶
صحیح مسلم کتاب الذکر والدعاء باب استحباب خفض الصوت الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۳۴۶
وھوساجد فاکثرواالدعاء وہ سجدہ کرتا ہےتو دعا زیادہ کرو۔(ت)
ضرب ۲۰۷:دیلمی ثوبان رضی اﷲ تعالی عنہ سے راویرسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
قال اﷲ تعالی انا خلفك واما مك وعن یمینك وعن شمالك یا موسی انا جلیس عبدی حین یذکر نی وانا معہ اذا دعانی۔ اﷲ تعالی نے فرمایا:اے موسی ! میں تیرے پیچھےآگے دائیں اور بائیں ہوںمیں بندے کا ہم نشین ہوتا ہوں جب وہ میرا ذکر کرتا ہےاور میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں جب مجھے یاد کرتا ہے۔(ت)
ضرب ۲۰۸:صحیحین میں ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں اﷲ عزوجل فرماتا ہے:
انا عندظن عبدی بی وانا معہ اذا ذکرنی میں اپنے بندے کے گمان کے ساتھ ہوں جب وہ مجھے یاد کرتا ہے(ت)
ضرب ۲۰۹:مستدرك میں بروایت انس رضی اﷲ تعالی عنہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے حدیث قدسی ہے۔
عبدی انا عند ظنك بی وانا معك اذا ذکرتنی اے بندے میں تیرے گمان کے ساتھ ہوں جو تو میرے متعلق کرتا ہے اور میں تیرے ساتھ ہوتا ہوں جب تو مجھے یاد کرتا ہے۔(ت)
ضرب ۲۱۰:سعید بن منصور ابوعمارہ سے مرفوعا راوی:
ضرب ۲۰۷:دیلمی ثوبان رضی اﷲ تعالی عنہ سے راویرسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
قال اﷲ تعالی انا خلفك واما مك وعن یمینك وعن شمالك یا موسی انا جلیس عبدی حین یذکر نی وانا معہ اذا دعانی۔ اﷲ تعالی نے فرمایا:اے موسی ! میں تیرے پیچھےآگے دائیں اور بائیں ہوںمیں بندے کا ہم نشین ہوتا ہوں جب وہ میرا ذکر کرتا ہےاور میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں جب مجھے یاد کرتا ہے۔(ت)
ضرب ۲۰۸:صحیحین میں ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں اﷲ عزوجل فرماتا ہے:
انا عندظن عبدی بی وانا معہ اذا ذکرنی میں اپنے بندے کے گمان کے ساتھ ہوں جب وہ مجھے یاد کرتا ہے(ت)
ضرب ۲۰۹:مستدرك میں بروایت انس رضی اﷲ تعالی عنہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے حدیث قدسی ہے۔
عبدی انا عند ظنك بی وانا معك اذا ذکرتنی اے بندے میں تیرے گمان کے ساتھ ہوں جو تو میرے متعلق کرتا ہے اور میں تیرے ساتھ ہوتا ہوں جب تو مجھے یاد کرتا ہے۔(ت)
ضرب ۲۱۰:سعید بن منصور ابوعمارہ سے مرفوعا راوی:
حوالہ / References
صحیح مسلم کتاب الصلوۃ باب مایقال فی الرکوع قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۹۱،سنن ابی داؤد کتاب الصلوۃ باب الدعافی الرکوع والسجود آفتاب عالم پریس لاہور ۱/ ۱۲۷،سنن النسائی اقرب مایکون العبدمن اﷲ عزوجل نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ۱/۱۷۰
الفردوس بما ثور الخطاب حدیث ۴۵۳۳ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۳/ ۱۹۲
صحیح البخاری کتاب التوحید باب قول اﷲ تعالٰی ویحذرکم اﷲ نفسہ قدیمی کتب کتب خانہ کراچی ۳/ ۱۱۰۱،صحیح مسلم کتاب الذکروالدعاء ۲/ ۳۴۳ وکتاب التوبۃ ۲/ ۳۵۴
المستدرك للحاکم کتاب الدعا باب قال عزوجل عبدی انا عند ظنك بی دارالفکر ۱/ ۴۹۷
الفردوس بما ثور الخطاب حدیث ۴۵۳۳ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۳/ ۱۹۲
صحیح البخاری کتاب التوحید باب قول اﷲ تعالٰی ویحذرکم اﷲ نفسہ قدیمی کتب کتب خانہ کراچی ۳/ ۱۱۰۱،صحیح مسلم کتاب الذکروالدعاء ۲/ ۳۴۳ وکتاب التوبۃ ۲/ ۳۵۴
المستدرك للحاکم کتاب الدعا باب قال عزوجل عبدی انا عند ظنك بی دارالفکر ۱/ ۴۹۷
الساجد یسجد علی قدمی اﷲ تعالی سجدہ کرنے والا اﷲ تعالی کے قدموں پر سجدہ کرتا ہے۔(ت)
ان آیات و احادیث سے زمین پر اور طور پر اور ہر مسجد میں اور بندے کے آگے پیچھے دہنے بائیں اور ہر ذاکر کے پاس اور ہر شخص کے ساتھ اور ہر جگہ اور ہر ایك کی شہ رگ گردن سے زیادہ قریب ہونا ثابت ہے۔
ضرب ۲۱۱:قال اﷲ تعالی: " ان طہرا بیتی" (تم دونوں میرے گھر کو صاف کروت)یہاں کعبے کو اپنا گھر بتایا۔
ضرب ۲۱۲:معالم میں ہے مروی ہوا کہ توریت مقدس میں لکھا ہے:
جاء اﷲ تعالی من سیناء واشرف من ساعین واستعلی من جبال فاران۔ اﷲ تعالی سیناء کے پہاڑ سے آیا اور ساعین کے پہاڑ سے جھانکا اور مکہ معظمہ کے پہاڑوں سے بلند ہوا۔
ذکرہ تحت ایۃ بورک(اسے آیہ بورك کے تحت ذکر کیا۔ت)
ضرب ۲۱۳:طبرانی کبیر میں سلمہ بن نفیل رضی اﷲ تعالی عنہ سے راوی:
قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم انی اجد نفس الرحمن من ھھنا و اشارالی الیمن۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے یمن کی طرف اشارہ کر کے فرمایا:بے شك میں رحمان کی خوشبو یہاں سے پاتا ہوں۔
ضرب ۲۱۴:مسند احمد و جامع ترمذی میں حدیث سابق ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:
والذی نفس محمد بیدہ لوانکم دلیتم بحبل الی الارض السفلی لھبط علی اﷲ عزوجلثم اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی جان ہے اگر تم سب سے نچلی زمین تك رسی لٹکاؤ تو وہ رسی اﷲ تعالی پر گرے گیپھر
ان آیات و احادیث سے زمین پر اور طور پر اور ہر مسجد میں اور بندے کے آگے پیچھے دہنے بائیں اور ہر ذاکر کے پاس اور ہر شخص کے ساتھ اور ہر جگہ اور ہر ایك کی شہ رگ گردن سے زیادہ قریب ہونا ثابت ہے۔
ضرب ۲۱۱:قال اﷲ تعالی: " ان طہرا بیتی" (تم دونوں میرے گھر کو صاف کروت)یہاں کعبے کو اپنا گھر بتایا۔
ضرب ۲۱۲:معالم میں ہے مروی ہوا کہ توریت مقدس میں لکھا ہے:
جاء اﷲ تعالی من سیناء واشرف من ساعین واستعلی من جبال فاران۔ اﷲ تعالی سیناء کے پہاڑ سے آیا اور ساعین کے پہاڑ سے جھانکا اور مکہ معظمہ کے پہاڑوں سے بلند ہوا۔
ذکرہ تحت ایۃ بورک(اسے آیہ بورك کے تحت ذکر کیا۔ت)
ضرب ۲۱۳:طبرانی کبیر میں سلمہ بن نفیل رضی اﷲ تعالی عنہ سے راوی:
قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم انی اجد نفس الرحمن من ھھنا و اشارالی الیمن۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے یمن کی طرف اشارہ کر کے فرمایا:بے شك میں رحمان کی خوشبو یہاں سے پاتا ہوں۔
ضرب ۲۱۴:مسند احمد و جامع ترمذی میں حدیث سابق ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:
والذی نفس محمد بیدہ لوانکم دلیتم بحبل الی الارض السفلی لھبط علی اﷲ عزوجلثم اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی جان ہے اگر تم سب سے نچلی زمین تك رسی لٹکاؤ تو وہ رسی اﷲ تعالی پر گرے گیپھر
حوالہ / References
حلیۃ الاولیاء ترجمہ حسان بن عطیہ دارالکتاب العربی بیروت ۶/ ۷۱
القرآن الکریم ۲ /۱۲۵
معالم التنزیل(تفسیر البغوی)تحت الایۃ ۲۷/ ۸ دارالکتب العلمیہ بیروت ۳/۳۴۸
المعجم الکبیر حدیث ۶۳۵۸ المکتبہ الفیصلیۃ بیروت ۷/۵۲
القرآن الکریم ۲ /۱۲۵
معالم التنزیل(تفسیر البغوی)تحت الایۃ ۲۷/ ۸ دارالکتب العلمیہ بیروت ۳/۳۴۸
المعجم الکبیر حدیث ۶۳۵۸ المکتبہ الفیصلیۃ بیروت ۷/۵۲
قرأھوالاول والاخروالظاھر والباطن وھو بکل شیئ علیم o۔ اپ نے ھوالاول والاخروالظاھر والباطن وھو بکل شیئ علیم کو تلاوت کیا۔(ت)
یہاں سے ثابت کہ سب زمینوں کے نیچے ہے۔
ضرب فیصلہعــــــہ ضرب ۲۱۵:اقول:یہی آیات و احادیث ہر مجسم خبیث کی دہن دوزی اور ہر مسلم سنی کی ایمان افروزی کو بس ہیں اس مجسم سے کہا جائے کہ اگر ظاہر پر حمل کرتا ہے تو ان آیات و احادیث پر کیوں ایمان نہیں لاتا۔" افتؤمنون ببعض الکتب وتکفرون ببعض " (قرآن پاك کی بعض آیتوں پر ایمان لاتے ہو اور بعض کا انکار کرتے ہوت) دیکھ تیرے اس کہنے میں کہ عرش پر ہے اور کہیں نہیں کتنی آیتوں حدیثوں کا صاف انکار ہےاور اگر ان میں تاویل کی راہ چلتا ہے تو آیات استوا وحدیث مکان میں کیوں حد سے نکلتا ہےاب یہ تیرا بکنا صریح جھوٹ اور تحکم ٹھہرا کہ تیرا معبود مکان رکھتا اور عرش پر بیٹھتا ہےاور مومن سنی کو ان سے بحمداﷲ یوں روشن راستہ ہدایت کا ملتا ہے کہ جب آیات واحادیث عرش و کعبہ و آسمان و زمین و ہر موضع و مقام کے لیے وارد ہیں تو اب تین حال سے خالی نہیںیا تو ان میں بعض کو ظاہر پر محمول کریں اور بعض میں تفویض و تاویلیا سب ظاہر پر ہوں یا سب میں تفویض و تاویلاول تحکم بیجا و ترجیح بلامرجح اور اﷲ عزوجل پر بے دلیل حکم لگادینا ہےاور شق دوم قطع نظر ان قاطعہ قاہرہ دلائل زاہرہ تنزیہ الہی کے یوں بھی عقلا ونقلا ہر طرح باطل کہ مکین واحد وقت واحد میں امکنہ متعددہ میں نہیں ہوسکتا تو ہر جگہ ہونا اسی صورت پر بنے گا کہ ہوا کی طرح ہر جگہ بھرا ہو اور اس سے زائد شنیع و ناپاك اور بداہۃ باطل کیا بات ہوگی کہ ہر نجاست کی جگہہر پاؤں کے تلے ہر شخض کے منہہر مادہ کے رحم میں ہونا لازم آتا ہے۔اور پھر جتنی جگہ مکانوں پہاڑوں وغیرہ اجسام سے بھری ہوئی ہے بعینہ اس میں بھی ہو تو تداخل ہے اور نہ ہو تو اس میں کروڑوں ٹکڑے پرزے جوف سوراخ لازم آئیں گےاور جو نیا پیڑ اگے نئی دیوار اٹھے تیرے معبود کو سمٹنا پڑے ایك نیا جوف اس میں اور بڑھے اور اب استوا کے لیے عرش اور دار کے لیے
عــــــہ:لفظ فیصلہ کے بھی ۲۱۵ عدد ہیں منہ۔
یہاں سے ثابت کہ سب زمینوں کے نیچے ہے۔
ضرب فیصلہعــــــہ ضرب ۲۱۵:اقول:یہی آیات و احادیث ہر مجسم خبیث کی دہن دوزی اور ہر مسلم سنی کی ایمان افروزی کو بس ہیں اس مجسم سے کہا جائے کہ اگر ظاہر پر حمل کرتا ہے تو ان آیات و احادیث پر کیوں ایمان نہیں لاتا۔" افتؤمنون ببعض الکتب وتکفرون ببعض " (قرآن پاك کی بعض آیتوں پر ایمان لاتے ہو اور بعض کا انکار کرتے ہوت) دیکھ تیرے اس کہنے میں کہ عرش پر ہے اور کہیں نہیں کتنی آیتوں حدیثوں کا صاف انکار ہےاور اگر ان میں تاویل کی راہ چلتا ہے تو آیات استوا وحدیث مکان میں کیوں حد سے نکلتا ہےاب یہ تیرا بکنا صریح جھوٹ اور تحکم ٹھہرا کہ تیرا معبود مکان رکھتا اور عرش پر بیٹھتا ہےاور مومن سنی کو ان سے بحمداﷲ یوں روشن راستہ ہدایت کا ملتا ہے کہ جب آیات واحادیث عرش و کعبہ و آسمان و زمین و ہر موضع و مقام کے لیے وارد ہیں تو اب تین حال سے خالی نہیںیا تو ان میں بعض کو ظاہر پر محمول کریں اور بعض میں تفویض و تاویلیا سب ظاہر پر ہوں یا سب میں تفویض و تاویلاول تحکم بیجا و ترجیح بلامرجح اور اﷲ عزوجل پر بے دلیل حکم لگادینا ہےاور شق دوم قطع نظر ان قاطعہ قاہرہ دلائل زاہرہ تنزیہ الہی کے یوں بھی عقلا ونقلا ہر طرح باطل کہ مکین واحد وقت واحد میں امکنہ متعددہ میں نہیں ہوسکتا تو ہر جگہ ہونا اسی صورت پر بنے گا کہ ہوا کی طرح ہر جگہ بھرا ہو اور اس سے زائد شنیع و ناپاك اور بداہۃ باطل کیا بات ہوگی کہ ہر نجاست کی جگہہر پاؤں کے تلے ہر شخض کے منہہر مادہ کے رحم میں ہونا لازم آتا ہے۔اور پھر جتنی جگہ مکانوں پہاڑوں وغیرہ اجسام سے بھری ہوئی ہے بعینہ اس میں بھی ہو تو تداخل ہے اور نہ ہو تو اس میں کروڑوں ٹکڑے پرزے جوف سوراخ لازم آئیں گےاور جو نیا پیڑ اگے نئی دیوار اٹھے تیرے معبود کو سمٹنا پڑے ایك نیا جوف اس میں اور بڑھے اور اب استوا کے لیے عرش اور دار کے لیے
عــــــہ:لفظ فیصلہ کے بھی ۲۱۵ عدد ہیں منہ۔
حوالہ / References
جامع الترمذی ابواب التفسیر سورۃ الحدید حدیث ۳۳۰۹ دارالفکربیروت ۵/ ۱۹۵،مسند احمد بن حنبل عن ابی ھریرہ المکتب الاسلامی بیروت ۲/ ۳۷۰
القرآن الکریم ۲ /۸۵
القرآن الکریم ۲ /۸۵
جنت بیت کے لیے کعبے کی کیا خصوصیت رہے گی۔لاجرم شق سوم ہی حق ہے اور آیات استوا سے لے کر یہاں تك کوئی آیت و حدیث ان محال و بے ہودہ معنی پر محمول نہیں جو ناقص افہام میں ظاہر الفاظ سے مفہوم ہوتے ہیں بلکہ تفہیم عوام کے لیے ان کے پاکیزہ معانی ہیںاﷲ عزوجل کے جلال کے لائق جنہیں ائمہ کرام اور خصوصا امام بیہقی نے کتاب الاسماء میں مشرحا بیان فرمایا اور ان کی حقیقی مراد کا علم اﷲ عزوجل کو سپرد ہے۔
امنا بہ کل من عند ربنا وما یذکر الااولو الالباب o والحمد اﷲ رب العلمین والصلوۃ والسلام علی سید المرسلین محمد والہ و صحبہ اجمعین امین ! ہم اس پر ایمان لائے سب ہمارے رب کے پاس سے ہےاور نصیحت نہیں مانتے مگر عقل والےاور تمام تعریفیں اﷲ رب العالمین کے لیے ہیں۔اور درود و سلام نازل ہو سید المرسلین محمد مصطفی پر اور آپ کی آل پر اور آپ کے تمام صحابہ پر۔آمین(ت)
ساتواں تپانچہ
الحمد ﷲ مسئلہ عرش ورد مکان سے فراغ پایا کہ یہی رسالے کا موضوع اصلی تھا اب تحریر وہابیت تخمیر کے دو۲ حرف اخیر دو مسئلہ دیگر کے متعلق باقی ہیں ان کی نسبت بھی سرسری دو چار ہاتھ لیجئے کہ شکایت نہ رہے۔
قولہ مسئلہ: فرضوں کے بعد ہاتھ اٹھا کر دعا مانگنا۔
الجواب:
کسی صحیح حدیث قولی وفعلی وتقریری سے فرضوں کے بعد دعا کے لیے ہاتھ اٹھانا ثابت نہیں۔
اقول:ضرب ۲۱۶:کسی صحیح حدیث قولی و فعلی و تقریری سے اﷲ تعالی کا عرش کے سوا اور کہیں نہ ہونا ثابت نہیں دعا کے لیے ہاتھ اٹھانا بے حدیث صحیح بدعت مگر خدا پر حکم لگادینے کو صرف تیرے زبان ادعا کی حاجت ع
نجدی بے شرم شرم ہم بدار
(بے شرم نجدی! کچھ شرم کر)
ضرب ۲۱۷:کسی صحیح حدیث قولی وفعلی و تقریری سے عرش کا امکان الہی ہونا ثابت نہیںاپنے رب کے حضور التجا کے لیے ہاتھ پھیلانے کو حدیث صحیح کی ضرورتمگر اﷲ عزوجل کو گالی دینے اس کی مخلوقات سے مشابہ بنادینے کو فقط تیری بدلگام زبان حجت ع
مکن خود رامکان درقعر نار
(اپنا مکان مت بنا آگ کی گہرائی میں۔ت)
امنا بہ کل من عند ربنا وما یذکر الااولو الالباب o والحمد اﷲ رب العلمین والصلوۃ والسلام علی سید المرسلین محمد والہ و صحبہ اجمعین امین ! ہم اس پر ایمان لائے سب ہمارے رب کے پاس سے ہےاور نصیحت نہیں مانتے مگر عقل والےاور تمام تعریفیں اﷲ رب العالمین کے لیے ہیں۔اور درود و سلام نازل ہو سید المرسلین محمد مصطفی پر اور آپ کی آل پر اور آپ کے تمام صحابہ پر۔آمین(ت)
ساتواں تپانچہ
الحمد ﷲ مسئلہ عرش ورد مکان سے فراغ پایا کہ یہی رسالے کا موضوع اصلی تھا اب تحریر وہابیت تخمیر کے دو۲ حرف اخیر دو مسئلہ دیگر کے متعلق باقی ہیں ان کی نسبت بھی سرسری دو چار ہاتھ لیجئے کہ شکایت نہ رہے۔
قولہ مسئلہ: فرضوں کے بعد ہاتھ اٹھا کر دعا مانگنا۔
الجواب:
کسی صحیح حدیث قولی وفعلی وتقریری سے فرضوں کے بعد دعا کے لیے ہاتھ اٹھانا ثابت نہیں۔
اقول:ضرب ۲۱۶:کسی صحیح حدیث قولی و فعلی و تقریری سے اﷲ تعالی کا عرش کے سوا اور کہیں نہ ہونا ثابت نہیں دعا کے لیے ہاتھ اٹھانا بے حدیث صحیح بدعت مگر خدا پر حکم لگادینے کو صرف تیرے زبان ادعا کی حاجت ع
نجدی بے شرم شرم ہم بدار
(بے شرم نجدی! کچھ شرم کر)
ضرب ۲۱۷:کسی صحیح حدیث قولی وفعلی و تقریری سے عرش کا امکان الہی ہونا ثابت نہیںاپنے رب کے حضور التجا کے لیے ہاتھ پھیلانے کو حدیث صحیح کی ضرورتمگر اﷲ عزوجل کو گالی دینے اس کی مخلوقات سے مشابہ بنادینے کو فقط تیری بدلگام زبان حجت ع
مکن خود رامکان درقعر نار
(اپنا مکان مت بنا آگ کی گہرائی میں۔ت)
ضرب ۲۱۸:کسی صحیح حدیث قولی و فعلی و تقریری سے فرضوں کے بعد دعا کے لیے ہاتھ اٹھانے کی ممانعت ثابت نہیں۔پھر تم لوگ کس منہ سے منع کرتے ہوکیا منع کی شریعت تمہارے اپنے گھر کی ہے یا جواز کے لیے حاجت دلیل ہے ممانعت دلیل سے مستغنی ہے۔
ضرب ۲۱۹:اگرصحیح سے مقابل حسن مراد تو ہر گز حجت اس میں منحصر نہیںصحیح لذاتہ و صحیح لغیرہ و حسن لذاتہ وحسن لغیرہ سب حجت اور خود مثبت احکام ہیںاور اگر حسن کو بھی شامل تو انکار صرف بنظر خصوص محل ہےیابمعنی عدم ثبوت مطلق ثانی قطعا باطلبکثرت صحیح و معتمد احادیث قولی وفعلی و تقریری سے نماز کے بعد دعا مانگنا نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے ثابت۔یونہی ہاتھ اٹھا نا دعا کے آداب سے ہونا بکثرت احادیث صحیحہ و معتبرہ قولی و فعلی و تقریری سے ثابتیہ سب حدیثیں صحاح و مشکوۃ و اذکار و حصن حصین وغیرہا میں مروی و مذکوراور بعد ثبوت اطلاق بے اثبات تخصیص ممانعت خاص قاعدہ علم سے دور و مہجور۔
ضرب ۲۲۰:مقام مقام فضائل ہے اور اس میں ضعاف بالاجماع مقبولدیکھو حضرت عالم اہلسنت مدظلہ العالی کا رسالہ الہادالکاف فی حکم الضعاف تو مطالبہ صحت سراسر جہل و اعتساف۔
اقول:مصنف ابن ابی شیبہ کی حدیث جو بطریق اسود عامری بعض اہل بریلی کے فتوے میں منقول ہے۔وہ باتفاق محدثین ضعیف و پایہ اعتبار سے ساقط ہے کیونکہ اسود عامری مجہول العین و الحال ہے۔
اقول:ضرب ۲۲۱:ادعائے اتفاق محض کذب وا ختلاقمجہول العین بہت ائمہ محققین کے نزدیك مقبول ہے اور مجہول الحال میں بھی بعض اکابر کا مذہب قبول ہےامام نووی مقدمہ منہاج میں فرماتے ہیں:
المجہول اقسام مجہول العدالۃ ظاھرا وباطنا و مجہولہا باطنا مع وجود ھا ظاھرا وھوالمستور و المجہول العین فاما الاول فالجمہور علی انہ لایحتج بہ و اما الاخران فاحتج بہما کثیرون من المحققین ۔ مجہول کی کئی اقسام ہیںمجہول العدالۃ ظاہرا وباطنامجہول العدالۃ باطنا مع وجود العدالۃ ظاہرایہ مستور ہے اور مجہول العین صرف پہلی قسم کو جمہور دلیل نہیں بناتے لیکن آخری دو قسموں کو محققین میں سے کثیر نے دلیل بنایا ہے۔(ت)
ضرب ۲۱۹:اگرصحیح سے مقابل حسن مراد تو ہر گز حجت اس میں منحصر نہیںصحیح لذاتہ و صحیح لغیرہ و حسن لذاتہ وحسن لغیرہ سب حجت اور خود مثبت احکام ہیںاور اگر حسن کو بھی شامل تو انکار صرف بنظر خصوص محل ہےیابمعنی عدم ثبوت مطلق ثانی قطعا باطلبکثرت صحیح و معتمد احادیث قولی وفعلی و تقریری سے نماز کے بعد دعا مانگنا نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے ثابت۔یونہی ہاتھ اٹھا نا دعا کے آداب سے ہونا بکثرت احادیث صحیحہ و معتبرہ قولی و فعلی و تقریری سے ثابتیہ سب حدیثیں صحاح و مشکوۃ و اذکار و حصن حصین وغیرہا میں مروی و مذکوراور بعد ثبوت اطلاق بے اثبات تخصیص ممانعت خاص قاعدہ علم سے دور و مہجور۔
ضرب ۲۲۰:مقام مقام فضائل ہے اور اس میں ضعاف بالاجماع مقبولدیکھو حضرت عالم اہلسنت مدظلہ العالی کا رسالہ الہادالکاف فی حکم الضعاف تو مطالبہ صحت سراسر جہل و اعتساف۔
اقول:مصنف ابن ابی شیبہ کی حدیث جو بطریق اسود عامری بعض اہل بریلی کے فتوے میں منقول ہے۔وہ باتفاق محدثین ضعیف و پایہ اعتبار سے ساقط ہے کیونکہ اسود عامری مجہول العین و الحال ہے۔
اقول:ضرب ۲۲۱:ادعائے اتفاق محض کذب وا ختلاقمجہول العین بہت ائمہ محققین کے نزدیك مقبول ہے اور مجہول الحال میں بھی بعض اکابر کا مذہب قبول ہےامام نووی مقدمہ منہاج میں فرماتے ہیں:
المجہول اقسام مجہول العدالۃ ظاھرا وباطنا و مجہولہا باطنا مع وجود ھا ظاھرا وھوالمستور و المجہول العین فاما الاول فالجمہور علی انہ لایحتج بہ و اما الاخران فاحتج بہما کثیرون من المحققین ۔ مجہول کی کئی اقسام ہیںمجہول العدالۃ ظاہرا وباطنامجہول العدالۃ باطنا مع وجود العدالۃ ظاہرایہ مستور ہے اور مجہول العین صرف پہلی قسم کو جمہور دلیل نہیں بناتے لیکن آخری دو قسموں کو محققین میں سے کثیر نے دلیل بنایا ہے۔(ت)
حوالہ / References
مقدمہ منہاج للنووی مع صحیح مسلم،قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۷
(زیادہ تفصیل درکار ہو تو حضرت عالم اہلسنت مدظلہ العالی کی کتاب مستطاب منیر العین فی حکم تقبیل الابہامین افادہ دوم صدر کتاب و فائدہ چہارم آخر کتاب کے مطالعے سے مشرف ہو)
ضرب ۲۲۲:اسود کی نسبت میزان الاعتدال میں صرف اس قدر ہے:
ماروی عنہ سوی ولدہ دلھم لہ حدیث واحد۔ اس کے بیٹے دلھم کے بغیر اس سے کسی نے روایت نہیں کی اور محدثین کے ہاں اس کی ایك حدیث ہے۔(ت)
اس سے فقط جہالت عین ظاہر ہوتی ہے وہ جہالت حالی کو مستلزم نہیں کہ مجہول العین بہت محققین کے نزدیك مقبول اور مجہول الحال مجروح تو جہالت حال کا حکم آپ کی اپنی جہالت ہے یا ائمہ معتمدین سے روایت علی الثانی ثبوت دیجئے علی الاول آپ کیا اور آپ کی جہالت کیاآپ کا علم تو جہل ہے جہل کیا ہوگاآپ اﷲ عزوجل ہی کو نہیں جانتے ہیں کہ اس کے لیے مکان مانتے ہیں۔
ضرب ۲۲۳:ذہبی نے بھی یہ قول اپنی طرف سے لکھا اور ان کی نفی نفی ائمہ کے مثل نہیں ہوسکتیاب یہیں دیکھئے کہ وہ کہتے ہیں کہ اسود کے لیے ایك حدیث ہےمیں کہتا ہوں ان کی ایك حدیث تو یہی ہے کہ ابوبکر بن ابی شیبہ نے روایت کیدوسری حدیث ان سے سنن ابی داؤد میں ہے جس میں وفادت لقیط بن عامر کا ذکر فرما کر حدیث کے دو لفظ مختصر بطریق عبد الرحمن بن عیاش سمعی عن دلھم بن الاسود عن ابیہ عن عمہ ذکر کیے اور تمام و کمال ایك ورق طویل میں متضمن بیانات علم غیب و حشر و نشر و حوض کوثر وغیرہا بطریق مذکور عبداﷲ بن الامام کے زوائد مسند میں ہے۔
ضرب ۲۲۴:محدث صاحب ! آپ نے حافظ الشان کا قول منقح بھی دیکھا وہ تصریح فرماتے ہیں کہ اسود عامری مقبول ہیں جاہل مجہول اگر جہل سے معذور تو زبان کھولنی کیا ضرور۔
ضرب ۲۲۵:حافظ الشان سے سو ا وجہ اجل وا عظم لیجئے امام اجل ابوداؤد نے سنن میں حدیث مذکور اسود عامری سے روایت کی اور اس پر اصلا جرح نہ فرمائی تو حسب تصریحات ائمہ حدیث صحیح یا حسن یا لا اقل صالح تو ہوئی خود امام ممدوح اپنے رسالہ مکیہ میں فرماتے ہیں:
مالم اذکرہ فیہ شیئا فہو صالح و جس میں کوئی علت بیان نہ کروں وہ حدیث
ضرب ۲۲۲:اسود کی نسبت میزان الاعتدال میں صرف اس قدر ہے:
ماروی عنہ سوی ولدہ دلھم لہ حدیث واحد۔ اس کے بیٹے دلھم کے بغیر اس سے کسی نے روایت نہیں کی اور محدثین کے ہاں اس کی ایك حدیث ہے۔(ت)
اس سے فقط جہالت عین ظاہر ہوتی ہے وہ جہالت حالی کو مستلزم نہیں کہ مجہول العین بہت محققین کے نزدیك مقبول اور مجہول الحال مجروح تو جہالت حال کا حکم آپ کی اپنی جہالت ہے یا ائمہ معتمدین سے روایت علی الثانی ثبوت دیجئے علی الاول آپ کیا اور آپ کی جہالت کیاآپ کا علم تو جہل ہے جہل کیا ہوگاآپ اﷲ عزوجل ہی کو نہیں جانتے ہیں کہ اس کے لیے مکان مانتے ہیں۔
ضرب ۲۲۳:ذہبی نے بھی یہ قول اپنی طرف سے لکھا اور ان کی نفی نفی ائمہ کے مثل نہیں ہوسکتیاب یہیں دیکھئے کہ وہ کہتے ہیں کہ اسود کے لیے ایك حدیث ہےمیں کہتا ہوں ان کی ایك حدیث تو یہی ہے کہ ابوبکر بن ابی شیبہ نے روایت کیدوسری حدیث ان سے سنن ابی داؤد میں ہے جس میں وفادت لقیط بن عامر کا ذکر فرما کر حدیث کے دو لفظ مختصر بطریق عبد الرحمن بن عیاش سمعی عن دلھم بن الاسود عن ابیہ عن عمہ ذکر کیے اور تمام و کمال ایك ورق طویل میں متضمن بیانات علم غیب و حشر و نشر و حوض کوثر وغیرہا بطریق مذکور عبداﷲ بن الامام کے زوائد مسند میں ہے۔
ضرب ۲۲۴:محدث صاحب ! آپ نے حافظ الشان کا قول منقح بھی دیکھا وہ تصریح فرماتے ہیں کہ اسود عامری مقبول ہیں جاہل مجہول اگر جہل سے معذور تو زبان کھولنی کیا ضرور۔
ضرب ۲۲۵:حافظ الشان سے سو ا وجہ اجل وا عظم لیجئے امام اجل ابوداؤد نے سنن میں حدیث مذکور اسود عامری سے روایت کی اور اس پر اصلا جرح نہ فرمائی تو حسب تصریحات ائمہ حدیث صحیح یا حسن یا لا اقل صالح تو ہوئی خود امام ممدوح اپنے رسالہ مکیہ میں فرماتے ہیں:
مالم اذکرہ فیہ شیئا فہو صالح و جس میں کوئی علت بیان نہ کروں وہ حدیث
حوالہ / References
میزان الاعتدال ترجمہ ۹۸۲ اسود بن عبداﷲ دارالمعرفۃ بیروت،۱/ ۲۵۶
مسند احمد بن حنبل حدیث ابی رزین العقیل لقیط بن عامر الخ المکتب الاسلامی بیروت ۴/ ۱۳
مسند احمد بن حنبل حدیث ابی رزین العقیل لقیط بن عامر الخ المکتب الاسلامی بیروت ۴/ ۱۳
بعضہا اصح من بعض۔ درست ہوگی اور ان میں بعض سے بعض اصح ہوں گی۔ت
اب اپنی جہالت کبری دیکھ کہ ائمہ کرام تو اسود کو مقبول اور ان کی حدیث کو صالح فرمائیں اور تجھ جیسا بے تمیز بے ادراك پایہ اعتبار سے ساقط بتائے۔
ضرب ۲۲۶:بالفرض اگر آپ کی جہالت مان بھی لیں اور بفرض غلط یہ بھی تسلیم کرلیں کہ مجہول الحال بالاتفاق نامقبولپھر بھی بالاتفاق پایہ اعتبار سے ساقط بتانا مردود و مخذولمحدث مسکین ابھی احتجاج و اعتبار ہی کا فرق نہیں جانتے اور چلے حدیثوں پر جرح کرنےمحدث صاحب ! مجہول اگر ساقط ہے تو پایہ احتجاج سے نہ کہ پایہ اعتبار سےدیکھو رسالہ الہاد الکافاور یہاں پایہ اعتبار تك ہونا کافی ووافی ہے بلا خلاف۔
ضرب ۲۲۷:یہ سب کام اس تسلیم پر ہے کہ اسود مذکور فی المیزان ہوں مگر حاشا اس کا تمہارے پاس کیا ثبوتبلکہ دلیل اس کے خلاف کی طرف ناظر کہ ا ن اسود کے باپ صحابی نہیں مجہول ہیں کما نص علیہ الحافظ(جیسا کہ حافظ نے اس پر نص کی ہے۔ ت)اور اس اسود کے باپ صحابی کما ذکر فی نفس الحدیث صلیت مع رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم الفجر (جیسا کہ اسی حدیث میں ذکر ہے کہ میں نے حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ فجر کی نماز پڑھی(ت)
قولہ:اور ابن السنی کے عمل الیوم واللیلہ کی حدیث جو بروایت انس فتوی مذکور میں منقول ہے۔موضوع ہے کیونکہ اس میں عیسی راوی کذاب ہےیہ دونوں حدیثیں میزان الاعتدال کے اخیر میں موجود ہیں۔
اقول ضرب ۲۲۸:عیسی تو کذاب نہیں مگر تم ضرور کذاب ہو اس کی سند میں عیسی کوئی راوی ہی نہیں
ولے از مفتری نتواں برآمد کہ اواز خود سخن می آفریند
(افترا پر داز سے چھٹکارا نہیں ہوسکتا کیونکہ وہ خود بات بنالیتا ہے)
اب اپنی جہالت کبری دیکھ کہ ائمہ کرام تو اسود کو مقبول اور ان کی حدیث کو صالح فرمائیں اور تجھ جیسا بے تمیز بے ادراك پایہ اعتبار سے ساقط بتائے۔
ضرب ۲۲۶:بالفرض اگر آپ کی جہالت مان بھی لیں اور بفرض غلط یہ بھی تسلیم کرلیں کہ مجہول الحال بالاتفاق نامقبولپھر بھی بالاتفاق پایہ اعتبار سے ساقط بتانا مردود و مخذولمحدث مسکین ابھی احتجاج و اعتبار ہی کا فرق نہیں جانتے اور چلے حدیثوں پر جرح کرنےمحدث صاحب ! مجہول اگر ساقط ہے تو پایہ احتجاج سے نہ کہ پایہ اعتبار سےدیکھو رسالہ الہاد الکافاور یہاں پایہ اعتبار تك ہونا کافی ووافی ہے بلا خلاف۔
ضرب ۲۲۷:یہ سب کام اس تسلیم پر ہے کہ اسود مذکور فی المیزان ہوں مگر حاشا اس کا تمہارے پاس کیا ثبوتبلکہ دلیل اس کے خلاف کی طرف ناظر کہ ا ن اسود کے باپ صحابی نہیں مجہول ہیں کما نص علیہ الحافظ(جیسا کہ حافظ نے اس پر نص کی ہے۔ ت)اور اس اسود کے باپ صحابی کما ذکر فی نفس الحدیث صلیت مع رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم الفجر (جیسا کہ اسی حدیث میں ذکر ہے کہ میں نے حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ فجر کی نماز پڑھی(ت)
قولہ:اور ابن السنی کے عمل الیوم واللیلہ کی حدیث جو بروایت انس فتوی مذکور میں منقول ہے۔موضوع ہے کیونکہ اس میں عیسی راوی کذاب ہےیہ دونوں حدیثیں میزان الاعتدال کے اخیر میں موجود ہیں۔
اقول ضرب ۲۲۸:عیسی تو کذاب نہیں مگر تم ضرور کذاب ہو اس کی سند میں عیسی کوئی راوی ہی نہیں
ولے از مفتری نتواں برآمد کہ اواز خود سخن می آفریند
(افترا پر داز سے چھٹکارا نہیں ہوسکتا کیونکہ وہ خود بات بنالیتا ہے)
حوالہ / References
مقدمہ سنن ابی داؤد الفصل الثانی آفتاب عالم پریس لاہو ر ۱/ ۴
ضرب ۲۲۹:حکم بالوضع بے دلیل و مردود ہے۔
ضرب ۲۳۰:میزان الاعتدال میں ان احادیث کا ذکر نہیںکیا بلاوجہ بھی جھوٹ کی عادت ہے اور فاصبر کیا موقع پر ہے۔
قولہ مسئلہ:غیر مقلدوں کے پیچھے نماز نہ پڑھنا۔
الجواب:جو شخص کسی مسلمان کو بلاثبوت شرعی فاسق یامبتدع یا کافر کہے خود اسی کا مصداق ہے۔
اقول:ضرب ۲۳۱:بھلا کسی مسلمان کو بلاثبوت برا کہنایہ جرم ہوا اور جو ناپاك بے باك اپنی گمراہی کی ترنگ میں مسلمانوں کے رب کے لیے نہ صرف بلا ثبوت بلکہ قطعا بر خلاف ثبوت شرعی مکان بتائے اسے اس کی مخلوق محتاج کے مانند بنائے وہ مردود کس لفظ کا مصداق ہے اسے کس سزا کا استحقاق ہے۔
ضرب ۲۳۲:اپنے پیر مغان اسمعیل دہلوی علیہ ما علیہ کی خوب خبر لی وہ اور اس کی تمام ذریت اہل توہب و نجدیت اسی مرض مہلك میں گرفتار ہیں کہ مسلمانوں کو بلا ثبوت شرعی محض بزور زبان وزور بہتان مشرك بدعتی بنانے کو تیار ہیں " قتلہم اللہ ۫ انی یؤفکون ﴿۴﴾" ۔ (اﷲ انہیں مارے کہاں اوندھے جاتے ہیں۔ت)مردك نے خود ہی شرك کی تعریف کی کہ جو باتیں خدا نے اپنی تعظیم کے لیے خاص کی ہیں وہ دوسروں کے لیے بجالانا اور پھر شرك کی مثالوں میں گنا دیاکسی کی قبر پر شامیانہ کھڑا کرناکسی کی قبر کو مورچھل جھلناالحمدﷲ کہ تم جیسے سپوتوں نے اس مردك کے خود مشرك ہونے کا اقرار کردیا۔
ضرب ۲۳۳:یونہی تم نئی پود والے جن پرانوں سیانوں کے گر گے ہو یعنی یہی دہلوی اور اس کے اذناب غوی تم سب کا مسلك ناپاك ہے کہ تقلید ائمہ کو بلا ثبوت شرعی شرك اور مقلدین کو مشرك ك کہتے ہوالحمدﷲ کہ تم خود اپنے منہ آپ مشرك بنے کہ کرد کہ نیافت۔
ضرب ۲۳۴:تمہارے طائفہ غیر مقلدین کا فساق مبتدعین ہونا بے ثبوت شرعی نہیں بلکہ علمائے عرب و عجم بکثرت دلائل قاہرہ سے ثابت فرماچکے سینہ زوری سے نہ ہاروتو اس کا کیا علاج۔
ضرب ۲۳۵:جناب شیخ مجدد الف ثانی رسالہ مبدو معاد میں فرماتے ہیں:
مدتے آرزوئے آں داشت کہ وجہے پیدا شود وجیہ در مذہب حنفی تادر خلف امام قراء ت فاتحہ نمودہ آید امابواسطہ رعایت مذہب بے اختیار مدت تك یہ آرزو رہی کہ حنفی مذہب میں قرات خلف الامام کی کوئی صورت بن جائے تاہم غیر اختیاری طور پر مذہب کی رعایت میں امام کی
ضرب ۲۳۰:میزان الاعتدال میں ان احادیث کا ذکر نہیںکیا بلاوجہ بھی جھوٹ کی عادت ہے اور فاصبر کیا موقع پر ہے۔
قولہ مسئلہ:غیر مقلدوں کے پیچھے نماز نہ پڑھنا۔
الجواب:جو شخص کسی مسلمان کو بلاثبوت شرعی فاسق یامبتدع یا کافر کہے خود اسی کا مصداق ہے۔
اقول:ضرب ۲۳۱:بھلا کسی مسلمان کو بلاثبوت برا کہنایہ جرم ہوا اور جو ناپاك بے باك اپنی گمراہی کی ترنگ میں مسلمانوں کے رب کے لیے نہ صرف بلا ثبوت بلکہ قطعا بر خلاف ثبوت شرعی مکان بتائے اسے اس کی مخلوق محتاج کے مانند بنائے وہ مردود کس لفظ کا مصداق ہے اسے کس سزا کا استحقاق ہے۔
ضرب ۲۳۲:اپنے پیر مغان اسمعیل دہلوی علیہ ما علیہ کی خوب خبر لی وہ اور اس کی تمام ذریت اہل توہب و نجدیت اسی مرض مہلك میں گرفتار ہیں کہ مسلمانوں کو بلا ثبوت شرعی محض بزور زبان وزور بہتان مشرك بدعتی بنانے کو تیار ہیں " قتلہم اللہ ۫ انی یؤفکون ﴿۴﴾" ۔ (اﷲ انہیں مارے کہاں اوندھے جاتے ہیں۔ت)مردك نے خود ہی شرك کی تعریف کی کہ جو باتیں خدا نے اپنی تعظیم کے لیے خاص کی ہیں وہ دوسروں کے لیے بجالانا اور پھر شرك کی مثالوں میں گنا دیاکسی کی قبر پر شامیانہ کھڑا کرناکسی کی قبر کو مورچھل جھلناالحمدﷲ کہ تم جیسے سپوتوں نے اس مردك کے خود مشرك ہونے کا اقرار کردیا۔
ضرب ۲۳۳:یونہی تم نئی پود والے جن پرانوں سیانوں کے گر گے ہو یعنی یہی دہلوی اور اس کے اذناب غوی تم سب کا مسلك ناپاك ہے کہ تقلید ائمہ کو بلا ثبوت شرعی شرك اور مقلدین کو مشرك ك کہتے ہوالحمدﷲ کہ تم خود اپنے منہ آپ مشرك بنے کہ کرد کہ نیافت۔
ضرب ۲۳۴:تمہارے طائفہ غیر مقلدین کا فساق مبتدعین ہونا بے ثبوت شرعی نہیں بلکہ علمائے عرب و عجم بکثرت دلائل قاہرہ سے ثابت فرماچکے سینہ زوری سے نہ ہاروتو اس کا کیا علاج۔
ضرب ۲۳۵:جناب شیخ مجدد الف ثانی رسالہ مبدو معاد میں فرماتے ہیں:
مدتے آرزوئے آں داشت کہ وجہے پیدا شود وجیہ در مذہب حنفی تادر خلف امام قراء ت فاتحہ نمودہ آید امابواسطہ رعایت مذہب بے اختیار مدت تك یہ آرزو رہی کہ حنفی مذہب میں قرات خلف الامام کی کوئی صورت بن جائے تاہم غیر اختیاری طور پر مذہب کی رعایت میں امام کی
حوالہ / References
القرآن الکریم ۶۳ /۴
ترك قراء ت میکردوایں ترك رااز قبیل ریاضت مجاہدہ می شمردآخر الامرسبحانہ تعالی بہ برکت رعایت مذہب کہ نقل از مذہب الحادستحقیقت مذہب حنفی در ترك قراء ت ماموم ظاہر ساخت و قراء ت حکمی ازقراء ت حقیقی در نظر بصیرت زیبا تر نمود۔ اقتداء میں قراء ت نہ کیاس ترك قراء ت کو تکلف محسوس کرتا رہابالاخر مذہب کی رعایت کی برکت سے مقتدی کے لیے ترك قراء ت کی حقیقت ظاہر ہوگئی جب کہ اپنے مذہب سے دوسرے مذہب میں منتقل ہونا الحاد ہےچنانچہ حقیقی قرء ات سے حکمی قراءت نظر بصیرت میں خوب تر معلوم ہوئی۔(ت)
یہاں حضرت ممدوح غیر مقلدوں کو صاف صاف ملحد فرمارہے ہیںآپ کے نزدیك یہ فرمانا مطابق ثبوت شرعی ہے جب تو اپ اور آپ کے سارے طائفے کو الحاد و بے دینی کا خلعت مبارکپھر آپ فاسق و مبتدع کہنے پر کیوں بگڑیں۔ہاں شاید یوں بگڑے ہو کہ مرتبہ گھٹا دیا ملحد زندیق سے نرا فاسق مبتدع رکھااور اگر یہ فرمانا بے ثبوت شرعی ہے تو آپ کے طور پر حضرت شیخ مجدد معاذ اﷲ ملحد قرار پائیں گے جلد بتاؤ کہ دونوں شقوں سے کون سی شق تمہیں پسند ہےہنوز بس نہیںجب جناب شیخ ایسے ٹھہریں گے تو شاہ ولی اﷲ و شاہ عبدالعزیز صاحب کہاں بچیں گے کہ یہ ان کے مرید ان کے معتقدہیں انہیں اکابر اولیاء سے جانتے ہیں اور جو کسی ملحد کو مسلم کہے خود ملحد ہے نہ کہ امام اسلام وولی والا مقام کہنے والااور ابھی انتہا کہاںجب یہ سب حضرات ایسے ہوئے تو وہابیہ مخذولین کا شیخ مقتول اسمعیل مخذول علیہ ماعلیہ کدھر بھاگے گایہ تینوں کا مداح تینوں کا غلام تینوں کو ولی کہے تینوں کو امامتو یہ خود ملحددر ملحد ملحدوں کا ملحد ہوااور اب تم کہاں جاتے ہو تم اس ایك کے ویسے ہی ہو جیسا وہ ان تین کا تو دیگ الحاد کی پچھلی کھرچن الحادی بوتل کی نیچے کی تلچھٹ تم ہوئے اب کہو کون سی شق پسند رہیہر شق پر الحاد کی آفت تمہارے ہی ماتھے گئی۔
قولہ:ائمہ دین و مسلمانان قرون ثلثہ سب غیر مقلد تھے۔
اقول:ضرب ۲۳۶:محض جھوٹ ہےتابعین و تبع تابعین میں تو لکھو کھا مقلدین تھے ہیصحابہ کرام رضی اﷲ تعالی عنہم میں بھی ہزاروں حضرات خصوصا اعراب و اکثر طلقاء مقلد تھے۔قرون ثلثہ کے کروڑوں مسلمانوں میں ہر شخص کو مجتہد جاننا آپ ہی جیسے فاضل اجہل کا کام ہے ایمان
یہاں حضرت ممدوح غیر مقلدوں کو صاف صاف ملحد فرمارہے ہیںآپ کے نزدیك یہ فرمانا مطابق ثبوت شرعی ہے جب تو اپ اور آپ کے سارے طائفے کو الحاد و بے دینی کا خلعت مبارکپھر آپ فاسق و مبتدع کہنے پر کیوں بگڑیں۔ہاں شاید یوں بگڑے ہو کہ مرتبہ گھٹا دیا ملحد زندیق سے نرا فاسق مبتدع رکھااور اگر یہ فرمانا بے ثبوت شرعی ہے تو آپ کے طور پر حضرت شیخ مجدد معاذ اﷲ ملحد قرار پائیں گے جلد بتاؤ کہ دونوں شقوں سے کون سی شق تمہیں پسند ہےہنوز بس نہیںجب جناب شیخ ایسے ٹھہریں گے تو شاہ ولی اﷲ و شاہ عبدالعزیز صاحب کہاں بچیں گے کہ یہ ان کے مرید ان کے معتقدہیں انہیں اکابر اولیاء سے جانتے ہیں اور جو کسی ملحد کو مسلم کہے خود ملحد ہے نہ کہ امام اسلام وولی والا مقام کہنے والااور ابھی انتہا کہاںجب یہ سب حضرات ایسے ہوئے تو وہابیہ مخذولین کا شیخ مقتول اسمعیل مخذول علیہ ماعلیہ کدھر بھاگے گایہ تینوں کا مداح تینوں کا غلام تینوں کو ولی کہے تینوں کو امامتو یہ خود ملحددر ملحد ملحدوں کا ملحد ہوااور اب تم کہاں جاتے ہو تم اس ایك کے ویسے ہی ہو جیسا وہ ان تین کا تو دیگ الحاد کی پچھلی کھرچن الحادی بوتل کی نیچے کی تلچھٹ تم ہوئے اب کہو کون سی شق پسند رہیہر شق پر الحاد کی آفت تمہارے ہی ماتھے گئی۔
قولہ:ائمہ دین و مسلمانان قرون ثلثہ سب غیر مقلد تھے۔
اقول:ضرب ۲۳۶:محض جھوٹ ہےتابعین و تبع تابعین میں تو لکھو کھا مقلدین تھے ہیصحابہ کرام رضی اﷲ تعالی عنہم میں بھی ہزاروں حضرات خصوصا اعراب و اکثر طلقاء مقلد تھے۔قرون ثلثہ کے کروڑوں مسلمانوں میں ہر شخص کو مجتہد جاننا آپ ہی جیسے فاضل اجہل کا کام ہے ایمان
حوالہ / References
مبدء ومعاد مجدد الف ثانی مطبع مجددی امرتسر انڈیا ص ۳۷
سے کہنا قرون ثلثہ میں کبھی کسی کا کسی عالم سے مسئلہ پوچھنا اور وہ جو فرمائے اس پر عمل کرنا ہوا یا نہیںبے شك ہوا اور ہر قرن میں ہوا اور شب و روز ہوتا رہااور تقلید کس چیز کا نام ہےاگر کبھی خواب میں بھی کتب حدیث کی ہوا لگی ہوتی تو معلوم ہوتا کہ عوام و علماء کا یہ استفتاء وافتاء نہ صرف زمانہ صحابہ بلکہ زمانہ رسالت سے ہمیشہ رائج رہا۔
ضرب ۲۳۷:اہل زمانہ غیر مقلد ین کے بارے میں سوال کریں کہ ان کے پیچھے نماز کیسی ہے علمائے سنت جواب فرمائیں کہ ممنوع و مکروہ ہےاس سوال و جواب کو ائمہ مجتہدین پر حمل کرناجہالت نہیں بلکہ دیدہ و دانستہ حرامزدگی ہےغیر مقلد اس طائفہ تالفہ ضالہ حائفہ کا نام ہے جو بتقلید شیطان لعین تقلید ائمہ دین سے انکار رکھتا ہےمقلدین ائمہ کو مشرك کہتا ہے اپنے ہر خرنا مشخص کو بے اتباع ارشادات ائمہ اپنی عقل ناقص پر چلنے کا حکم دیتا ہے ناموں کے معانی لغوی لے کر غیر مسمی پر حمل کرنا کیسی حماریت کبری ہےیہ وہی مثل ہوئی کہ قارور ے کو قارورہ کیوں کہتے ہیں اس لیے کہ اس میں پانی کا قرار ہے تو تمہارا پیٹ بھی قارورہ ہوا کہ اس میں بھی پانی کا قرار ہوتا ہے۔جرجیر کو جرجیر کیوں کہتے ہیں اس لیے کہ وہ تجرجر یعنی حرکت کرتا ہے تو تمہاری داڑھی بھی جرجیر ہوئی کہ اسے بھی جنبش ہوتی ہے۔
ضرب ۲۳۸:اگر بفرض باطل لفظ غیر مقلدین ائمہ مجتہدین کو بھی شامل مانیے تو لفظ کے مصداق جب دو قسم ہوں ایك محمود دوسری مذموماور محمود زمانہ سلف میں تھے اب تنہا مذموم باقی ہیں تو اب حکم مذمت میں قید و تخصیص کی ضرورت نہیں ہر عاقل کے نزدیك حکم انہیں موجودین کے لیے ہوگا اسے عام سمجھنے والا یا مکابر سرکش ہے یا مسکین بارکشمثلا ہر مسلمان کہتا ہے کہ یہود و نصاری کافر ہیں اس پر شخص جو اعتراض کرے کہ زمانہ موسوی کے یہودعصر عیسوی کے نصاری کہ دین حق پر قائم تھے مومنین تھے تم نے سب کو کافر کہہ دیاتو یہ معترض انہیں دو حال سے خالی نہیں یا حرامزادہ وہ شریر ہے یا خر مسکین۔
قولہ:تقلید ایك امر مستحدث ہے اور چوتھی صدی میں ایجاد ہوئی۔
اقول:ضرب ۲۳۹:سخت جھوٹے ہو بلکہ تقلید واجب واجب شرعی ہےقرآن و حدیث نے لازم کیزمانہ رسالت سے رائج ہوئیقال اﷲ تعالی:
" فسـلوا اہل الذکر ان کنتم لا تعلمون ﴿۴۳﴾" ۔ اہل ذکر سے پوچھو اگر تم خود نہیں جانتے۔(ت)
وقال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم:
ضرب ۲۳۷:اہل زمانہ غیر مقلد ین کے بارے میں سوال کریں کہ ان کے پیچھے نماز کیسی ہے علمائے سنت جواب فرمائیں کہ ممنوع و مکروہ ہےاس سوال و جواب کو ائمہ مجتہدین پر حمل کرناجہالت نہیں بلکہ دیدہ و دانستہ حرامزدگی ہےغیر مقلد اس طائفہ تالفہ ضالہ حائفہ کا نام ہے جو بتقلید شیطان لعین تقلید ائمہ دین سے انکار رکھتا ہےمقلدین ائمہ کو مشرك کہتا ہے اپنے ہر خرنا مشخص کو بے اتباع ارشادات ائمہ اپنی عقل ناقص پر چلنے کا حکم دیتا ہے ناموں کے معانی لغوی لے کر غیر مسمی پر حمل کرنا کیسی حماریت کبری ہےیہ وہی مثل ہوئی کہ قارور ے کو قارورہ کیوں کہتے ہیں اس لیے کہ اس میں پانی کا قرار ہے تو تمہارا پیٹ بھی قارورہ ہوا کہ اس میں بھی پانی کا قرار ہوتا ہے۔جرجیر کو جرجیر کیوں کہتے ہیں اس لیے کہ وہ تجرجر یعنی حرکت کرتا ہے تو تمہاری داڑھی بھی جرجیر ہوئی کہ اسے بھی جنبش ہوتی ہے۔
ضرب ۲۳۸:اگر بفرض باطل لفظ غیر مقلدین ائمہ مجتہدین کو بھی شامل مانیے تو لفظ کے مصداق جب دو قسم ہوں ایك محمود دوسری مذموماور محمود زمانہ سلف میں تھے اب تنہا مذموم باقی ہیں تو اب حکم مذمت میں قید و تخصیص کی ضرورت نہیں ہر عاقل کے نزدیك حکم انہیں موجودین کے لیے ہوگا اسے عام سمجھنے والا یا مکابر سرکش ہے یا مسکین بارکشمثلا ہر مسلمان کہتا ہے کہ یہود و نصاری کافر ہیں اس پر شخص جو اعتراض کرے کہ زمانہ موسوی کے یہودعصر عیسوی کے نصاری کہ دین حق پر قائم تھے مومنین تھے تم نے سب کو کافر کہہ دیاتو یہ معترض انہیں دو حال سے خالی نہیں یا حرامزادہ وہ شریر ہے یا خر مسکین۔
قولہ:تقلید ایك امر مستحدث ہے اور چوتھی صدی میں ایجاد ہوئی۔
اقول:ضرب ۲۳۹:سخت جھوٹے ہو بلکہ تقلید واجب واجب شرعی ہےقرآن و حدیث نے لازم کیزمانہ رسالت سے رائج ہوئیقال اﷲ تعالی:
" فسـلوا اہل الذکر ان کنتم لا تعلمون ﴿۴۳﴾" ۔ اہل ذکر سے پوچھو اگر تم خود نہیں جانتے۔(ت)
وقال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم:
حوالہ / References
القرآن الکریم ۱۶ /۴۳ و ۲۱/ ۷
الاسألوااذلم یعلموا فانما شفاء العی السؤال ۔ انہوں نے خود نہ جاننے پر پوچھا کیوں نہیں کیوں کہ عاجز کا علاج پوچھنا ہے۔(ت)
ہاں تمہارے طائفہ گمراہ کی غیر مقلدی بہت نوپیدا حدث ہے کہ ابن عبدالوہاب نجدی نے بارھویں صدی میں نکالیدیکھو سردار علمائے مکہ معظمہ شیخ العلما حضرت سیدنا احمد زین قدس سرہ کا رسالہ الدررالسنیہ فی الردعلی الوھابیہ۔
ضرب ۲۴۰:ہم اہلسنت کو ان گمراہوں سے نزاع اولا تقلید کو شرك بتانےثانیا اس کے حرام ٹھہرانےثالثا بے لیاقت اجتہاد اس کا ترك جائز بتانے میں ہےیہ چالاك عیار تینوں کو چھوڑ کر تقلید شخصی میں الجھنے لگتے ہیںیہ ان مکاروں کا قدیم طریقہ جان بچانے کا ہےیہ نئی پرواز کے پٹھے بھی یہی چال چلے پھر بھی چوتھی صدی جھوٹ بنالیان کے شیخ مقتول اسمعیل مخذول کے دادا اور دادا استاد اور پردادا پیر شاہ ولی اﷲ صاحب رسالہ انصاف میں انصاف کر گئے کہ:
بعد المائتین ظہر بینھم التمذھب للمجتہدین باعیانھم وقل من کان لایعتمد علی مذھب مجتہد بعینہ و کان ھذا ھوالو اجب فی ذلك الزمان ۔ یعنی دو صدی کے بعد خاص ایك مجتہد کے مذہب کا پابند بننا اہل اسلام میں ظاہر ہوا کہ کم ہی کوئی شخص تھا جو ایك امام معین پر اعتماد نہ کرتا ہو اور یہی واجب تھا اس زمانے میں۔
قولہ:اور جوبات امور دین میں بعد قرون ثلثہ کے ایجاد ہوئی بالاتفاق بدعت ہے وکل بدعۃ ضلالۃ۔
ضرب ۲۴۱:جیسی تمہاری غیر مقلدی کہ تین چھوڑ بارھویں قرن میں قرن الشیطان کے پیٹ سے نکلی
ضرب ۲۴۲:شیر کے بن میں ڈکرا نے والا بیل اپنی موت اپنے منہ مانگتا ہےاﷲ تعالی کے لیے مکان ثابت کرنا بتا تو دے کہ قرون ثلثہ میں کس نے ماناتو تیرا قول بدتر از بول تیرے ہی منہ سے بدعت و ضلالت و فی النار اور تو بدعتی گمراہ مستحق نار ہے۔
ضرب ۲۴۳:اﷲ عزوجل کے احاطہ ذاتیہ کا انکار قرون ثلثہ میں کس نے کیایہ بھی تیری بدعت و
ہاں تمہارے طائفہ گمراہ کی غیر مقلدی بہت نوپیدا حدث ہے کہ ابن عبدالوہاب نجدی نے بارھویں صدی میں نکالیدیکھو سردار علمائے مکہ معظمہ شیخ العلما حضرت سیدنا احمد زین قدس سرہ کا رسالہ الدررالسنیہ فی الردعلی الوھابیہ۔
ضرب ۲۴۰:ہم اہلسنت کو ان گمراہوں سے نزاع اولا تقلید کو شرك بتانےثانیا اس کے حرام ٹھہرانےثالثا بے لیاقت اجتہاد اس کا ترك جائز بتانے میں ہےیہ چالاك عیار تینوں کو چھوڑ کر تقلید شخصی میں الجھنے لگتے ہیںیہ ان مکاروں کا قدیم طریقہ جان بچانے کا ہےیہ نئی پرواز کے پٹھے بھی یہی چال چلے پھر بھی چوتھی صدی جھوٹ بنالیان کے شیخ مقتول اسمعیل مخذول کے دادا اور دادا استاد اور پردادا پیر شاہ ولی اﷲ صاحب رسالہ انصاف میں انصاف کر گئے کہ:
بعد المائتین ظہر بینھم التمذھب للمجتہدین باعیانھم وقل من کان لایعتمد علی مذھب مجتہد بعینہ و کان ھذا ھوالو اجب فی ذلك الزمان ۔ یعنی دو صدی کے بعد خاص ایك مجتہد کے مذہب کا پابند بننا اہل اسلام میں ظاہر ہوا کہ کم ہی کوئی شخص تھا جو ایك امام معین پر اعتماد نہ کرتا ہو اور یہی واجب تھا اس زمانے میں۔
قولہ:اور جوبات امور دین میں بعد قرون ثلثہ کے ایجاد ہوئی بالاتفاق بدعت ہے وکل بدعۃ ضلالۃ۔
ضرب ۲۴۱:جیسی تمہاری غیر مقلدی کہ تین چھوڑ بارھویں قرن میں قرن الشیطان کے پیٹ سے نکلی
ضرب ۲۴۲:شیر کے بن میں ڈکرا نے والا بیل اپنی موت اپنے منہ مانگتا ہےاﷲ تعالی کے لیے مکان ثابت کرنا بتا تو دے کہ قرون ثلثہ میں کس نے ماناتو تیرا قول بدتر از بول تیرے ہی منہ سے بدعت و ضلالت و فی النار اور تو بدعتی گمراہ مستحق نار ہے۔
ضرب ۲۴۳:اﷲ عزوجل کے احاطہ ذاتیہ کا انکار قرون ثلثہ میں کس نے کیایہ بھی تیری بدعت و
حوالہ / References
سنن ابی داؤد کتاب الطہارۃ باب المجذور یتیمم آفتاب عالم پریس لاہو ر ۱/ ۴۹
رسالہ انصاف شاہ ولی اﷲ باب حکایۃ حال الناس قبل المائۃ الرابعۃ الخ مکتبہ دارالشفقت استنبول ترکی ص ۱۹
رسالہ انصاف شاہ ولی اﷲ باب حکایۃ حال الناس قبل المائۃ الرابعۃ الخ مکتبہ دارالشفقت استنبول ترکی ص ۱۹
ضلالت ہے۔
ضرب ۲۴۴:صفات الہیہ میں صرف علم کو محیط ماننا جس سے اس کی قدرتاس کے سمع اس کی بصراس کی مالکیتاس کی خالقیت کے احاطے کا انکار ثابت ہوتا ہےقرون ثلثہ میں کون اس کا قائل تھایہ بھی تیری گمراہی و بدمذہبی ہے۔
ضرب ۲۴۵:استواء کے وہ تین معنی کہنا اور ان کے سوا چوتھے کو بدعت بتانا قرون ثلثہ میں کس کا قول تھا۔یہ بھی تیری ضلالت و بددینی ہے۔
ضرب ۲۴۶:فضائل اعمال کے ثبوت کو حدیث صحیح میں منحصر کردینا قرون ثلثہ میں کس کا مذہب تھایہ بھی تیری بدعت جسارت و بدزبانی ہے۔
ضرب ۲۴۷:بدعت کے یہ معنی لینا کہ جو بات امور دین میں بعد قرون ثلثہ کے حادث ہوئی اور اسے بالاتفاق بدعت ضلالت کہنا امت مرحومہ پر افتراء ہےاس کی تحقیق علماء اہلسنت اپنی تصانیف کثیرہ میں فرماچکےوہ بحث لکھئے تو دفتر طویل ہواور پھر مخاطب ناقص العقل کیا قابل خطابمگر مدعی اپنے اس دعوی اطلاق پر امت کا اتفاق مسند معتمد سے دکھائے ورنہ اپنی جہالت و ضلالت کا آپ سر کھائے۔
قولہ:مفتی بریلی جو تقلید کو امر دینی سمجھتا ہے یقینی مبتدع ہوا اور اس کے فتوے کے مطابق اس کے پیچھے نماز پڑھنا مکروہ تحریمی ہوا کما ھو ظاہر افسوس کہ اس نادان دوست نے اپنے ائمہ رحمہم اﷲ تعالی کے پیچھے بھی نماز پڑھنے کو ناجائز کردیا
شادم کہ ازرقیباں دامن کشاں گز شتی
گو مشت خاك ماہم برباد رفتہ باشد
نعوذ باﷲ من ھفواتہ۔
مجھے خوشی ہے کہ تم رقیبوں سے دامن بچا کر گزر گئے اگرچہ میری مشت خاك بھی برباد ہوگئیاﷲ تعالی اس کی بے ہودہ باتوں سے بچائے۔(ت)
ضرب ۲۴۹:
چوں خدا خواہد کہ پردہ کس درد میلش اندر طعنہ پاکاں زند
(جب اﷲ تعالی کسی کا پردہ چاك کرنا چاہتا ہے تو پاك لوگوں پر طعنہ میں اسے مشغول کردیتا ہے۔ت)
مسلمانوں نے دیکھ لیا کہ لفظ مبتدع کے مستحق معاذ اﷲ علمائے اہلسنت میں یا یہ بددین گمراہ کہ اﷲ کو مکانی مانتا
ضرب ۲۴۴:صفات الہیہ میں صرف علم کو محیط ماننا جس سے اس کی قدرتاس کے سمع اس کی بصراس کی مالکیتاس کی خالقیت کے احاطے کا انکار ثابت ہوتا ہےقرون ثلثہ میں کون اس کا قائل تھایہ بھی تیری گمراہی و بدمذہبی ہے۔
ضرب ۲۴۵:استواء کے وہ تین معنی کہنا اور ان کے سوا چوتھے کو بدعت بتانا قرون ثلثہ میں کس کا قول تھا۔یہ بھی تیری ضلالت و بددینی ہے۔
ضرب ۲۴۶:فضائل اعمال کے ثبوت کو حدیث صحیح میں منحصر کردینا قرون ثلثہ میں کس کا مذہب تھایہ بھی تیری بدعت جسارت و بدزبانی ہے۔
ضرب ۲۴۷:بدعت کے یہ معنی لینا کہ جو بات امور دین میں بعد قرون ثلثہ کے حادث ہوئی اور اسے بالاتفاق بدعت ضلالت کہنا امت مرحومہ پر افتراء ہےاس کی تحقیق علماء اہلسنت اپنی تصانیف کثیرہ میں فرماچکےوہ بحث لکھئے تو دفتر طویل ہواور پھر مخاطب ناقص العقل کیا قابل خطابمگر مدعی اپنے اس دعوی اطلاق پر امت کا اتفاق مسند معتمد سے دکھائے ورنہ اپنی جہالت و ضلالت کا آپ سر کھائے۔
قولہ:مفتی بریلی جو تقلید کو امر دینی سمجھتا ہے یقینی مبتدع ہوا اور اس کے فتوے کے مطابق اس کے پیچھے نماز پڑھنا مکروہ تحریمی ہوا کما ھو ظاہر افسوس کہ اس نادان دوست نے اپنے ائمہ رحمہم اﷲ تعالی کے پیچھے بھی نماز پڑھنے کو ناجائز کردیا
شادم کہ ازرقیباں دامن کشاں گز شتی
گو مشت خاك ماہم برباد رفتہ باشد
نعوذ باﷲ من ھفواتہ۔
مجھے خوشی ہے کہ تم رقیبوں سے دامن بچا کر گزر گئے اگرچہ میری مشت خاك بھی برباد ہوگئیاﷲ تعالی اس کی بے ہودہ باتوں سے بچائے۔(ت)
ضرب ۲۴۹:
چوں خدا خواہد کہ پردہ کس درد میلش اندر طعنہ پاکاں زند
(جب اﷲ تعالی کسی کا پردہ چاك کرنا چاہتا ہے تو پاك لوگوں پر طعنہ میں اسے مشغول کردیتا ہے۔ت)
مسلمانوں نے دیکھ لیا کہ لفظ مبتدع کے مستحق معاذ اﷲ علمائے اہلسنت میں یا یہ بددین گمراہ کہ اﷲ کو مکانی مانتا
جسمانی جانتا اس کی قدرت و سمع و بصرو خالقیت و مالکیت وغیرہا کو محیط نہیں سمجھتا ائمہ دین سے باقرار خود رقابت رکھتا ہے عیاذا باﷲ وہ مبتدع ہیں یا اس وہابیہ کے نئے پٹھے کا پرانا گرو گھنٹال شیخ مقتول اسمعیل مخذول جس کے کفریات میں رسالہ مبارکہ الکوکبۃ الشہابیۃ علی کفریات ابی الوھابیۃتصنیف ہوا اور علمائے عرب و عجم نے اس کے ضلال بلکہ علمائے حرمین طیبین نے اس کے کفر پر فتوی دیایہاں اسے یہ دکھانا ہے کہ جب تقلید کو امر دینی سمجھنے والا معاذ اﷲ مبتدع ہوا تو اب شاہ ولی اﷲ کی خبریں کہیے جو نہ مطلق تقلید بلکہ دو صدی کے بعد خاص تقلید شخصی کو واجب کہتے ہیں جس کی عبارت ابھی گزری۔
ضرب ۲۵۰:اور جناب مجددیت مآب کی نسبت کیا حکم ہوگا جو تقلید نہ مطلق تقلید بلکہ خاص تقلید شخصی کو ایسا سخت ضروری و مہم ترامر عظیم دینی مانتے ہیں کہ اس کے ترك کو الحادو بے دینی جانتے ہیںعبارت اوپر گزریاور سنئے کہ وہ صحیح و مستفیض حدیثوں کو فقہی روایت کے مقابل نہیں سنتے اور روایت بھی کیسی کہ خود مختلف آئی اور اختلاف بھی کیسا کہ اپنے ہی ائمہ کا فتوی تك مختلف امام محمد کی کتاب میں خود اس کے خلافاور حدیثوں کے مطابق اپنا ا ور حضرت امام اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ کا مذہب مذکور کہ التحیات میں اشارہ کیا جائے اور اس پر بھی ائمہ فتوی نے دیا مگر صرف اس بنا پر کہ یہ روایت ہمارے امام سے مشہور نہیں احادیث پر عمل کرنا جائز نہیں بتاتےاس سے بڑھ کر تقلید اور وہ بھی خاص شخصی کو دینی ضروری سمجھنا اور کیا ہو سکتا ہےمکتوبات جلد اول مکتوب ۳۱۲ میں فرماتے ہیں:
مخدوما احادیث نبوی علی مصدرہا الصلوۃ والسلام درباب جو از اشارت سبابہ بسیار واردشدہ اندوبعضے ازروایات فقہیہ حنفیہ نیز دریں باب آمدہ وانچہ امام محمد گفتہ کان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یشیر ونصنع کما یصنع النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ثم قال ھذا قولی و قول ابی حنیفۃ رضی اﷲ تعالی عنہما از روایات نوادرست مامقلدان رانمی رسد کہ بمقتضائے احادیث عمل نمودہ جرأت دراشارت نمائیم اے ہمارے مخدوم! تشہد میں شہادت کی انگلی سے اشارہ کی کثیر احادیث وارد ہیں اور بعض حنفی حضرات کی اس بارے میں روایات فقہیہ بھی آئی ہیںاور امام محمد رحمۃ اﷲ تعالی علیہ نے جو فرمایا کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اشارہ فرماتے تھے اور ہم وہ کریں گے جو نبی پاك صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کرتے تھے۔پھر انہوں نے فرمایا میرا اور امام ابوحنیفہ رضی اﷲ تعالی عنہ کا یہی قول ہےتو یہ نادر روایات میں سے ہےتو ہم مقلد لوگوں کو براہ راست حدیث پر عمل نہیں کرنا چاہیےکہ اشارہ کرنے کی جرات کریں
ضرب ۲۵۰:اور جناب مجددیت مآب کی نسبت کیا حکم ہوگا جو تقلید نہ مطلق تقلید بلکہ خاص تقلید شخصی کو ایسا سخت ضروری و مہم ترامر عظیم دینی مانتے ہیں کہ اس کے ترك کو الحادو بے دینی جانتے ہیںعبارت اوپر گزریاور سنئے کہ وہ صحیح و مستفیض حدیثوں کو فقہی روایت کے مقابل نہیں سنتے اور روایت بھی کیسی کہ خود مختلف آئی اور اختلاف بھی کیسا کہ اپنے ہی ائمہ کا فتوی تك مختلف امام محمد کی کتاب میں خود اس کے خلافاور حدیثوں کے مطابق اپنا ا ور حضرت امام اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ کا مذہب مذکور کہ التحیات میں اشارہ کیا جائے اور اس پر بھی ائمہ فتوی نے دیا مگر صرف اس بنا پر کہ یہ روایت ہمارے امام سے مشہور نہیں احادیث پر عمل کرنا جائز نہیں بتاتےاس سے بڑھ کر تقلید اور وہ بھی خاص شخصی کو دینی ضروری سمجھنا اور کیا ہو سکتا ہےمکتوبات جلد اول مکتوب ۳۱۲ میں فرماتے ہیں:
مخدوما احادیث نبوی علی مصدرہا الصلوۃ والسلام درباب جو از اشارت سبابہ بسیار واردشدہ اندوبعضے ازروایات فقہیہ حنفیہ نیز دریں باب آمدہ وانچہ امام محمد گفتہ کان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یشیر ونصنع کما یصنع النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ثم قال ھذا قولی و قول ابی حنیفۃ رضی اﷲ تعالی عنہما از روایات نوادرست مامقلدان رانمی رسد کہ بمقتضائے احادیث عمل نمودہ جرأت دراشارت نمائیم اے ہمارے مخدوم! تشہد میں شہادت کی انگلی سے اشارہ کی کثیر احادیث وارد ہیں اور بعض حنفی حضرات کی اس بارے میں روایات فقہیہ بھی آئی ہیںاور امام محمد رحمۃ اﷲ تعالی علیہ نے جو فرمایا کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اشارہ فرماتے تھے اور ہم وہ کریں گے جو نبی پاك صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کرتے تھے۔پھر انہوں نے فرمایا میرا اور امام ابوحنیفہ رضی اﷲ تعالی عنہ کا یہی قول ہےتو یہ نادر روایات میں سے ہےتو ہم مقلد لوگوں کو براہ راست حدیث پر عمل نہیں کرنا چاہیےکہ اشارہ کرنے کی جرات کریں
اگر گویند کہ علمائے حنفیہ برجواز اشارت نیز فتوی دادہ اندگویم ترجیح عدم جواز راست اھ ملتقطا۔ اگر کہا جائے کہ حنفی علماء نے اشارہ کے جواز پر فتوے دیا ہے تو میں کہوں گا کہ ترجیح عدم جواز کو ہے اھ ملتقطا(ت)
اب مبتدعی کہ خبریں کہیے اور تقریر سابق بھی یاد رکھیے کہ ان کی شان میں کوئی کلمہ کہا اور ساتھ لگے شاہ ولی اﷲ شاہ عبدالعزیز صاحب بھی گئے اور بلا پس ہو تینوں کو جانے دو وہ سب میں چہیتے اسمعیل جوگئے اور ان کے صدقے گیہوں کے گھناور تمہارے سب طائفے والے جہنم بدعت و ضلالت کے قعر میں پہنچےافسوس کہ اس نامرد ہاتھی نے اپنی ہی فوج کا زیاں کیا اس کچی پیندی نے اپنے سفرہ و دستار خوان کا نقصان کیااسمعیل اور سارے طائفہ مردود و ذلیل کو بدعتی گمراہ جہنمی مان لیا ان کے پیچھے نماز پڑھنے کو جائز کردیا
شآدم کہ از رقیباں دامن کشاں گز شتی گو جائے ذکر ماہم آں تنگ دل ندارد
مجھے خوشی ہے کہ تم رقیبوں سے دامن بچا کر گزر گئےاگرچہ ہمارے ذکرپر بھی وہ تنگ دل نہیں ہوتے۔ت)
نعوذ باﷲ من ھفواتہ وھمزات اسمعیل وہناتہ رب انی اعوذبك من ھمزات الشیطینواعوذبك ان یحضرون o واخردعونا ان الحمد ﷲ رب العلمین و الصلوۃ والسلام علی سید المرسلین سیدنا محمد وا لہ واصحابہ اجمعین امین! ہم اﷲ تعالی کی پناہ چاہتے ہیں اس کے لغویات اور اسمعیل کی وسوسہ انگیزیوں اور باعث شرم باتوں سے۔اے میرے رب میں تیری پناہ چاہتاہوں شیطان کی وسوسہ انگیزیوں سےاور تیری پناہ چاہتا ہوں شیطانوں کی حاضری سےاور ہماری آخری بات یہ ہے تمام حمدیں اﷲ تعالی رب العالمین کے لیے ہیںاور صلوۃ وسلام ہورسولوں کے سردار ہمارے آقا محمد اور انکی آل و اصحاب سب پرآمین(ت)
الحمد ﷲ کہ یہ مختصر اجمالی جواب پانزدہم شہر النور و السرور ماہ مبارك ربیع الاول ۱۳۱۸ھ ہجریہ قدسیہ علی صاحبہا الصلوۃ و التحیہ کو باوصف کثرت کار وہجوم اشغال تعلیم و تدریس و مجالس مبارکہ میلاد سراپا تقدیس وقت فرصت کے قلیل جلسوں میں تمام اور بلحاظ تاریخ قوارع القہار علی المجسمۃ الفجار ۱۳۱۸ھ
اب مبتدعی کہ خبریں کہیے اور تقریر سابق بھی یاد رکھیے کہ ان کی شان میں کوئی کلمہ کہا اور ساتھ لگے شاہ ولی اﷲ شاہ عبدالعزیز صاحب بھی گئے اور بلا پس ہو تینوں کو جانے دو وہ سب میں چہیتے اسمعیل جوگئے اور ان کے صدقے گیہوں کے گھناور تمہارے سب طائفے والے جہنم بدعت و ضلالت کے قعر میں پہنچےافسوس کہ اس نامرد ہاتھی نے اپنی ہی فوج کا زیاں کیا اس کچی پیندی نے اپنے سفرہ و دستار خوان کا نقصان کیااسمعیل اور سارے طائفہ مردود و ذلیل کو بدعتی گمراہ جہنمی مان لیا ان کے پیچھے نماز پڑھنے کو جائز کردیا
شآدم کہ از رقیباں دامن کشاں گز شتی گو جائے ذکر ماہم آں تنگ دل ندارد
مجھے خوشی ہے کہ تم رقیبوں سے دامن بچا کر گزر گئےاگرچہ ہمارے ذکرپر بھی وہ تنگ دل نہیں ہوتے۔ت)
نعوذ باﷲ من ھفواتہ وھمزات اسمعیل وہناتہ رب انی اعوذبك من ھمزات الشیطینواعوذبك ان یحضرون o واخردعونا ان الحمد ﷲ رب العلمین و الصلوۃ والسلام علی سید المرسلین سیدنا محمد وا لہ واصحابہ اجمعین امین! ہم اﷲ تعالی کی پناہ چاہتے ہیں اس کے لغویات اور اسمعیل کی وسوسہ انگیزیوں اور باعث شرم باتوں سے۔اے میرے رب میں تیری پناہ چاہتاہوں شیطان کی وسوسہ انگیزیوں سےاور تیری پناہ چاہتا ہوں شیطانوں کی حاضری سےاور ہماری آخری بات یہ ہے تمام حمدیں اﷲ تعالی رب العالمین کے لیے ہیںاور صلوۃ وسلام ہورسولوں کے سردار ہمارے آقا محمد اور انکی آل و اصحاب سب پرآمین(ت)
الحمد ﷲ کہ یہ مختصر اجمالی جواب پانزدہم شہر النور و السرور ماہ مبارك ربیع الاول ۱۳۱۸ھ ہجریہ قدسیہ علی صاحبہا الصلوۃ و التحیہ کو باوصف کثرت کار وہجوم اشغال تعلیم و تدریس و مجالس مبارکہ میلاد سراپا تقدیس وقت فرصت کے قلیل جلسوں میں تمام اور بلحاظ تاریخ قوارع القہار علی المجسمۃ الفجار ۱۳۱۸ھ
حوالہ / References
مکتوبات امام ربانی مجدد الف ثانی مکتوب ۳۱۲ مطبوعہ نولکشور لکھنو ۱/۴۴۸ تا ۴۵۱
نام ہوا اس التزام کے ساتھ کہ مسئلہ مکان میں صرف اسی شخص کی سندا گنائی ہوئی کتابوں کی عبارتیں پیش کروں گاعدد ڈھائی سو ضرب تك پہنچا اور اس کی مستند کتابوں میں بھی تفسیر ابن کثیر موجود نہ تھی ورنہ ممکن تھا کہ عدد اور بڑھتایونہی کتاب العلو مضطرب منہافت اور اس کے علاوہ پاس بھی نہ تھی اور اگر قلم کو اس مخالف کی اس قدر جائے تنگ میں محصور نہ کیا جاتا تو ضربوں کی کثرت لطف دکھاتیپھر بھی ان معدود سطور پر ڈھائی سو کیا کم ہیں۔وباﷲ التوفیقواﷲ سبحنہ وتعالی الہادی الی سواء الطریق وصلی اﷲ تعالی علی النبی الکریم محمد والہ وبارك وسلم امین۔
مسئلہ ۵۲:از شہر مدرسہ اہلسنت و جماعت منظر اسلام مسئولہ مولوی اکبر حسن خان رامپوری طالب علم مدرسہ مذکور ۱۶ جمادی الاولی ۱۳۳۶ھ
کمترین خدمت خدامان حضرت میں عارض ہے انگریزوں کے یہاں بدلائل عقلیہ ثابت ہے کہ آسمان کوئی چیز نہیں اور یہ جو نیلگوں شے محسوس ہوتی ہے وہ فضا ہےاور اختلاف لیل و نہار سب حرکت ارض ہے۔اور نہ ستاروں کی حرکت ہےہر ستارہ کی کشش دوسرے کو روکے ہوئے ہے جس طرح مقناطیس امید کہ کوئی قوی دلیل عقلی و نقلی وجود آشمان پر افادہ فرمائی جائے۔
الجواب :
وجود آسمان پر آسمانی کتابوں سے زیادہ کیا دلیل درکار ہے تمام آسمانی کتابیں اثبات وجود آسمان سے مالا مال ہیںقرآن عظیم میں تو صدہا آیتیں ہیں جن میں آسمان کا ابتداء میں دھواں ہونا بستہ چیز پھر رب العزت کا اسے جدا جدا کرنا پھیلاناسات پر بنانااس کا چھت ہونا اس کا نہایت مضبوط بنائے مستحکم ہونااس کا بے ستون قائم ہونااﷲ تعالی کا اسے اور زمین کو چھ دن میں بناناروز قیامت اس کا شق ہونااٹھا کر زمین کے ساتھ ایك بار ٹکرا دیا جاناپھر اس کا اور زمین کا دوبارہ پیدا ہونا وغیرہ وغیرہ صاف روشن ارشاد ہیں کہ ان کا انکار نہیں کرسکتا مگر وہ جو اﷲ ہی کا منکر ہےنیز قرآن عظیم میں جا بجا یہ بھی تصریح ہے کہ جو ہم کو نظر آرہا ہے یہی آسمان ہے تو اس میں گمراہ فلسفیوں کا رد ہے جو آسمانوں کا وجود تو مانتے ہیں مگر کہتے ہیں کہ وہ نظر نہیں آسکتے یہ جو ہمیں دکھائی دیتا ہے کہ کرہ بخار ہے۔ان نصرانیوں اور ان یونانیوں سب بطلانیوں کے رد میں ایك آیہ کریمہ کافی ہے کہ:
" الا یعلم من خلق و ہو اللطیف کیا وہ نہ جانے جس نے بنایا اور وہی ہے پاك
مسئلہ ۵۲:از شہر مدرسہ اہلسنت و جماعت منظر اسلام مسئولہ مولوی اکبر حسن خان رامپوری طالب علم مدرسہ مذکور ۱۶ جمادی الاولی ۱۳۳۶ھ
کمترین خدمت خدامان حضرت میں عارض ہے انگریزوں کے یہاں بدلائل عقلیہ ثابت ہے کہ آسمان کوئی چیز نہیں اور یہ جو نیلگوں شے محسوس ہوتی ہے وہ فضا ہےاور اختلاف لیل و نہار سب حرکت ارض ہے۔اور نہ ستاروں کی حرکت ہےہر ستارہ کی کشش دوسرے کو روکے ہوئے ہے جس طرح مقناطیس امید کہ کوئی قوی دلیل عقلی و نقلی وجود آشمان پر افادہ فرمائی جائے۔
الجواب :
وجود آسمان پر آسمانی کتابوں سے زیادہ کیا دلیل درکار ہے تمام آسمانی کتابیں اثبات وجود آسمان سے مالا مال ہیںقرآن عظیم میں تو صدہا آیتیں ہیں جن میں آسمان کا ابتداء میں دھواں ہونا بستہ چیز پھر رب العزت کا اسے جدا جدا کرنا پھیلاناسات پر بنانااس کا چھت ہونا اس کا نہایت مضبوط بنائے مستحکم ہونااس کا بے ستون قائم ہونااﷲ تعالی کا اسے اور زمین کو چھ دن میں بناناروز قیامت اس کا شق ہونااٹھا کر زمین کے ساتھ ایك بار ٹکرا دیا جاناپھر اس کا اور زمین کا دوبارہ پیدا ہونا وغیرہ وغیرہ صاف روشن ارشاد ہیں کہ ان کا انکار نہیں کرسکتا مگر وہ جو اﷲ ہی کا منکر ہےنیز قرآن عظیم میں جا بجا یہ بھی تصریح ہے کہ جو ہم کو نظر آرہا ہے یہی آسمان ہے تو اس میں گمراہ فلسفیوں کا رد ہے جو آسمانوں کا وجود تو مانتے ہیں مگر کہتے ہیں کہ وہ نظر نہیں آسکتے یہ جو ہمیں دکھائی دیتا ہے کہ کرہ بخار ہے۔ان نصرانیوں اور ان یونانیوں سب بطلانیوں کے رد میں ایك آیہ کریمہ کافی ہے کہ:
" الا یعلم من خلق و ہو اللطیف کیا وہ نہ جانے جس نے بنایا اور وہی ہے پاك
الخبیر ﴿۱۴﴾" ۔ خبردار۔
بنانے والا جو فرمارہا ہے وہ تو نہ مانا جائے اور دل کے اندھے سمجھ کے اوندھے جو اٹکلیں دوڑاتے ہیں وہ سنی جائیںاس سے بڑھ کر گدھا پن کیا ہوسکتا ہےیہ بائیبل جو اب نصاری کے پاس ہے اس کی پہلی کتاب کا پہلا باب آسمان و زمین کے بیان پیدائش ہی سے شروع ہے رہی دلیل عقلیذرا انصاف درکاراتنا بڑا جسم جسے کروڑوں آنکھیں دیکھ رہی ہیں اس کا وجود محتاج دلیل ہے یا جو کہے یہ معدوم محض یہ سب آنکھوں کی غلطی ہے یہ نری دھوکا کی ٹٹی ہے اس کے ذمے ہے کہ دلیل قطعی سے اس کا عدم ثابت کرے یوں تو ہر چیز پر دلیل عقلی قائم کرنی ہوگی آفتاب جسے نصاری بھی مانتے ہیں کیا دلیل ہے کہ یہ فی نفسہ کوئی وجود رکھتا ہے اور نگاہ کی غلطی نہیں غرض محسوسات سے بھی امان اٹھ کر دین و دنیا کچھ قائم نہ رہیں گے عنادیہ کا مذہب آجائے گا۔ولاحول ولا قوۃ الا باﷲ العلی العظیم واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۵۳: از لاہور حویلی میاں خان نزد مکان حکیم محمد انور صاحب مرسلہ اﷲ دیا شاعر ۱۶ جمادی الاو لی ۱۳۳۶ھ
میں ایك حنفی المذہب شخص ہوں میں نے ایك مجمع میں جس میں غیر مقلد و مرزائی وغیرہ شامل تھے یہ کہا کہ رسول اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی ذات ستودہ صفات لایزال ہے اور اس کو زوال نہیں جس پر انہوں نے مجھے کافر مشرك اور بے دین کہا یہ بھی کہا کہ کسی عالم نے آج تك اس مسئلہ پر کچھ نہیں لکھا اس واسطے تم جھوٹے ہوآپ کی خدمت اقدس میں عرض ہے کہ اس کے متعلق فتوی عنایت فرمائیں میں نے لاہور کے چند علماؤں سے اس کے متعلق استفسار کیا تو انہوں نے فرمایا کہ تم راستی پر ہو اور انہوں نے مجھے فتوی بھی دیئے۔اب میری یہ آرزو ہے کہ میں ان فتوؤں کو جمع کرکے چھپوادوںچونکہ آپ ہماری جماعت حقہ کے حکیم حاذق ہیں اور ہمیں آپ کی ذات بابرکت پر بڑا فخر و ناز ہے۔
الجواب:
بے شك حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی ذات و صفات و فضائل و کمالات کبھی زوال پذیر نہیں بلکہ ہمیشہ مترقی ہیں قال اﷲ تعالی۔
" و للاخرۃ خیر لک من الاولی ﴿۴﴾" ۔ اور بے شك پچھلی تمہارے لیے پہلی سے بہتر ہے۔(ت)
یہاں کسی عاقل مسلم کی یہ مراد نہیں ہوسکتی کہ حرکت و انتقال منتفی ہےنہ کوئی مسلمان اس کی نفی کرے گا۔
بنانے والا جو فرمارہا ہے وہ تو نہ مانا جائے اور دل کے اندھے سمجھ کے اوندھے جو اٹکلیں دوڑاتے ہیں وہ سنی جائیںاس سے بڑھ کر گدھا پن کیا ہوسکتا ہےیہ بائیبل جو اب نصاری کے پاس ہے اس کی پہلی کتاب کا پہلا باب آسمان و زمین کے بیان پیدائش ہی سے شروع ہے رہی دلیل عقلیذرا انصاف درکاراتنا بڑا جسم جسے کروڑوں آنکھیں دیکھ رہی ہیں اس کا وجود محتاج دلیل ہے یا جو کہے یہ معدوم محض یہ سب آنکھوں کی غلطی ہے یہ نری دھوکا کی ٹٹی ہے اس کے ذمے ہے کہ دلیل قطعی سے اس کا عدم ثابت کرے یوں تو ہر چیز پر دلیل عقلی قائم کرنی ہوگی آفتاب جسے نصاری بھی مانتے ہیں کیا دلیل ہے کہ یہ فی نفسہ کوئی وجود رکھتا ہے اور نگاہ کی غلطی نہیں غرض محسوسات سے بھی امان اٹھ کر دین و دنیا کچھ قائم نہ رہیں گے عنادیہ کا مذہب آجائے گا۔ولاحول ولا قوۃ الا باﷲ العلی العظیم واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۵۳: از لاہور حویلی میاں خان نزد مکان حکیم محمد انور صاحب مرسلہ اﷲ دیا شاعر ۱۶ جمادی الاو لی ۱۳۳۶ھ
میں ایك حنفی المذہب شخص ہوں میں نے ایك مجمع میں جس میں غیر مقلد و مرزائی وغیرہ شامل تھے یہ کہا کہ رسول اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی ذات ستودہ صفات لایزال ہے اور اس کو زوال نہیں جس پر انہوں نے مجھے کافر مشرك اور بے دین کہا یہ بھی کہا کہ کسی عالم نے آج تك اس مسئلہ پر کچھ نہیں لکھا اس واسطے تم جھوٹے ہوآپ کی خدمت اقدس میں عرض ہے کہ اس کے متعلق فتوی عنایت فرمائیں میں نے لاہور کے چند علماؤں سے اس کے متعلق استفسار کیا تو انہوں نے فرمایا کہ تم راستی پر ہو اور انہوں نے مجھے فتوی بھی دیئے۔اب میری یہ آرزو ہے کہ میں ان فتوؤں کو جمع کرکے چھپوادوںچونکہ آپ ہماری جماعت حقہ کے حکیم حاذق ہیں اور ہمیں آپ کی ذات بابرکت پر بڑا فخر و ناز ہے۔
الجواب:
بے شك حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی ذات و صفات و فضائل و کمالات کبھی زوال پذیر نہیں بلکہ ہمیشہ مترقی ہیں قال اﷲ تعالی۔
" و للاخرۃ خیر لک من الاولی ﴿۴﴾" ۔ اور بے شك پچھلی تمہارے لیے پہلی سے بہتر ہے۔(ت)
یہاں کسی عاقل مسلم کی یہ مراد نہیں ہوسکتی کہ حرکت و انتقال منتفی ہےنہ کوئی مسلمان اس کی نفی کرے گا۔
تصدیق وعدہ الہیہ کے لیے جو ایك آن کے لیے انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کو طریان موت ہو کر معا حیات حقیقی ابدی روحانی جسمانی بخشی جاتی ہےیہ حضور کے لیے نہ ہوئی بلکہ اس سے حضور کی برزخ میں حیات ابدی اور فضائل اقدس میں ترقی دوامی مراد ہوگی بلاشبہہ اس تصدیق وعدہ کے بعد سب انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کے لیے ابدیت ذات حاصل ہے۔نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
الانبیاء احیاء فی قبورھم یصلون۔ انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام اپنی قبروں میں زندہ ہیں اور نماز پڑھتے ہیں۔(ت)
اور فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
ان اﷲ حرم علی الارض ان تاکل اجساد الانبیاء فنبی اﷲ حی یرزق۔ بے شك اﷲ تعالی نے زمین پر حرام کردیا ہے کہ وہ نبیوں کے جسموں کو کھائے چنانچہ اﷲ تعالی کا نبی زندہ ہوتا ہے اس کو رزق دیا جاتا ہے۔(ت)
باوصف قرب معنی صحیح مسلمان کے کلام کو معنی قبیح بلکہ کفر صریح پر حمل کرنا مسلمان کا کام نہیں۔واﷲ اعلم۔
مسئلہ ۵۴: ازرادھن پور گجرات قریب احمد آباد مرسلہ حکیم محمد میاں صاحب ۶ جمادی الاولی ۱۳۳۶ھ
گیارھویں کے لیے آپ کیا فرماتے ہیںگیارھویں کے روز فاتحہ دلانے سے ثواب زیادہ ہوتا ہے یا آڑے دن فاتحہ دلانے سے بزرگوں کے دن کی یادگاری کے لیے دن مقرر کرنا کیسا ہے
الجواب:
محبوبان خدا کی یادگاری کے لیے دن مقرر کرنا بے شك جائز ہے۔حدیث میں ہے:
کان النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یا تی قبور شہداء احد علی راس کل حول ۔ نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ہر سال کے اختتام پر شہدائے احد کی قبروں پر تشریف لاتے تھے۔(ت)
شاہ عبدالعزیز صاحب نے اسی حدیث کو اعراس اولیاء کرام کے لیے مستند مانااور شاہ ولی اﷲ صاحب نے کہا:
الانبیاء احیاء فی قبورھم یصلون۔ انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام اپنی قبروں میں زندہ ہیں اور نماز پڑھتے ہیں۔(ت)
اور فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
ان اﷲ حرم علی الارض ان تاکل اجساد الانبیاء فنبی اﷲ حی یرزق۔ بے شك اﷲ تعالی نے زمین پر حرام کردیا ہے کہ وہ نبیوں کے جسموں کو کھائے چنانچہ اﷲ تعالی کا نبی زندہ ہوتا ہے اس کو رزق دیا جاتا ہے۔(ت)
باوصف قرب معنی صحیح مسلمان کے کلام کو معنی قبیح بلکہ کفر صریح پر حمل کرنا مسلمان کا کام نہیں۔واﷲ اعلم۔
مسئلہ ۵۴: ازرادھن پور گجرات قریب احمد آباد مرسلہ حکیم محمد میاں صاحب ۶ جمادی الاولی ۱۳۳۶ھ
گیارھویں کے لیے آپ کیا فرماتے ہیںگیارھویں کے روز فاتحہ دلانے سے ثواب زیادہ ہوتا ہے یا آڑے دن فاتحہ دلانے سے بزرگوں کے دن کی یادگاری کے لیے دن مقرر کرنا کیسا ہے
الجواب:
محبوبان خدا کی یادگاری کے لیے دن مقرر کرنا بے شك جائز ہے۔حدیث میں ہے:
کان النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یا تی قبور شہداء احد علی راس کل حول ۔ نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ہر سال کے اختتام پر شہدائے احد کی قبروں پر تشریف لاتے تھے۔(ت)
شاہ عبدالعزیز صاحب نے اسی حدیث کو اعراس اولیاء کرام کے لیے مستند مانااور شاہ ولی اﷲ صاحب نے کہا:
حوالہ / References
شرح الصدور باب احوال الموتٰی فی قبورھم الخ خلافت اکیڈمی منگورہ سوات ص۷۸،مسند ابی یعلٰی حدیث ۳۴۱۲ مؤسسۃ علوم القرآن بیروت ۳/ ۳۷۹
سنن ابن ماجہ ابواب ماجاء فی الجنائز باب ذکروفاتہ الخ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص ۱۱۹
جامع البیان(تفسیر ابن جریر)تحت آیۃ ۱۳/ ۲۴ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱۳/ ۱۷۰
سنن ابن ماجہ ابواب ماجاء فی الجنائز باب ذکروفاتہ الخ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص ۱۱۹
جامع البیان(تفسیر ابن جریر)تحت آیۃ ۱۳/ ۲۴ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱۳/ ۱۷۰
ازینجاست حفظ اعراس مشائخ۔ مشائخ کے عرس منانا اس حدیث سے ثابت ہے(ت)
گیارھویں شریف کی تعیین بھی اسی باب سے ہی مگر ثواب کی کمی بیشی اس پر نہیں جب کریں ویسا ہی ثواب ہوگا۔ہاں اوقات فاضلہ میں اعمال فاضلہ زیادہ نورانیت رکھتے ہیںواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۵۵:از بریسال ڈاکخانہ مہر گنج محلہ چڑ لکھی مکان منشی عبدالکریم۔مرسلہ محمد حسن صاحب ۱۶ جمادی الاولی ۱۳۳۶ھ
آناں بملك مابرائے چند کلام نزع برفع اند اولا مابین علمائے چند فریق شدہ اند یك دیگرے راوہابی گویند و درپیش آں صلوۃ خوانی مکروہ تحریمی و عقائد قوم و جماعت وہابیہ اینکہ مولود خوانی و زیارت قبور و فاتحہ و تسبیح و تہلیل وعرس کردن ایں سب امور راحرام گویندو انجا افعال کنندہ را بدعتی گویند درپیش ایں جماعت رانمازنمی خواند وایں ہر دو جماعت ہمیچال فساد می کنند لکن کیفیت وہابی و سنی چیست نہ معلوم اند۔ ہمارے ملك میں چند اختلافی باتیں اٹھ کھڑی ہوئی ہیں جن میں سے پہلی یہ کہ علماء کے درمیان کچھ گروہ ہیں جو ایك دوسرے کو وہابی کہتے ہیں اور ان کے پیچھے نماز پڑھنے کو مکروہ تحریمی قرار دیتے ہیں۔وہابی قوم کے عقائد یہ ہیں کہ وہ میلاد خوانی زیارت قبورفاتحہتسبیح و تہلیل اور عرس کرنے کو حرام کہتے ہیںاور ایسے افعال کرنے والے کو بدعتی کہتے ہیںاور انکی جماعت میں نماز نہیں پڑھتے۔یہ دونوں جماعتیں اس طرح فساد کرتی ہیں لیکن وہابی اور سنی کی کیفیت کیا ہے یہ معلوم نہیں(ت)
الجواب:
دریں دیار منکراں میلاد خوانی و زیارت قبور و فاتحہ و تسبیح و تہلیل جزو ہابیہ نہ باشند وہمچناں منکران نفس عرساما عرسیکہ مشتمل بر رقص باشد خود نارواست نماز پس وہابیہ جائز نیست درفتح قدر است روی محمد عن ابی حنیفۃ وابی یوسف رضی اﷲ تعالی عنہم ان الصلوۃ خلف اھل الاھواء لاتجوز۔ اس ملك میں میلاد خوانیزیارت قبورفاتحہ اور تسبیح و تہلیل کا منکر وہابیوں کے سوا کوئی نہیںیونہی نفس عرس کا منکر بھی ان کے علاوہ کوئی نہیںرہا قص پر مشتمل عرس تو وہ خود ناجائز ہےوہابیوں کے پیچھے نماز جائز نہیںفتح القدیر میں ہے:امام محمد نے امام ابوحنیفہ اور امام ابویوسف رضی اﷲ تعالی عنہم سے روایت کی کہ بے شك بدمذہبوں کے پیچھے نماز جائز نہیں۔
گیارھویں شریف کی تعیین بھی اسی باب سے ہی مگر ثواب کی کمی بیشی اس پر نہیں جب کریں ویسا ہی ثواب ہوگا۔ہاں اوقات فاضلہ میں اعمال فاضلہ زیادہ نورانیت رکھتے ہیںواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۵۵:از بریسال ڈاکخانہ مہر گنج محلہ چڑ لکھی مکان منشی عبدالکریم۔مرسلہ محمد حسن صاحب ۱۶ جمادی الاولی ۱۳۳۶ھ
آناں بملك مابرائے چند کلام نزع برفع اند اولا مابین علمائے چند فریق شدہ اند یك دیگرے راوہابی گویند و درپیش آں صلوۃ خوانی مکروہ تحریمی و عقائد قوم و جماعت وہابیہ اینکہ مولود خوانی و زیارت قبور و فاتحہ و تسبیح و تہلیل وعرس کردن ایں سب امور راحرام گویندو انجا افعال کنندہ را بدعتی گویند درپیش ایں جماعت رانمازنمی خواند وایں ہر دو جماعت ہمیچال فساد می کنند لکن کیفیت وہابی و سنی چیست نہ معلوم اند۔ ہمارے ملك میں چند اختلافی باتیں اٹھ کھڑی ہوئی ہیں جن میں سے پہلی یہ کہ علماء کے درمیان کچھ گروہ ہیں جو ایك دوسرے کو وہابی کہتے ہیں اور ان کے پیچھے نماز پڑھنے کو مکروہ تحریمی قرار دیتے ہیں۔وہابی قوم کے عقائد یہ ہیں کہ وہ میلاد خوانی زیارت قبورفاتحہتسبیح و تہلیل اور عرس کرنے کو حرام کہتے ہیںاور ایسے افعال کرنے والے کو بدعتی کہتے ہیںاور انکی جماعت میں نماز نہیں پڑھتے۔یہ دونوں جماعتیں اس طرح فساد کرتی ہیں لیکن وہابی اور سنی کی کیفیت کیا ہے یہ معلوم نہیں(ت)
الجواب:
دریں دیار منکراں میلاد خوانی و زیارت قبور و فاتحہ و تسبیح و تہلیل جزو ہابیہ نہ باشند وہمچناں منکران نفس عرساما عرسیکہ مشتمل بر رقص باشد خود نارواست نماز پس وہابیہ جائز نیست درفتح قدر است روی محمد عن ابی حنیفۃ وابی یوسف رضی اﷲ تعالی عنہم ان الصلوۃ خلف اھل الاھواء لاتجوز۔ اس ملك میں میلاد خوانیزیارت قبورفاتحہ اور تسبیح و تہلیل کا منکر وہابیوں کے سوا کوئی نہیںیونہی نفس عرس کا منکر بھی ان کے علاوہ کوئی نہیںرہا قص پر مشتمل عرس تو وہ خود ناجائز ہےوہابیوں کے پیچھے نماز جائز نہیںفتح القدیر میں ہے:امام محمد نے امام ابوحنیفہ اور امام ابویوسف رضی اﷲ تعالی عنہم سے روایت کی کہ بے شك بدمذہبوں کے پیچھے نماز جائز نہیں۔
حوالہ / References
ہمعات ہمعہ ۱۱ شاہ ولی اﷲ اکیڈمی حیدر آباد پاکستان ص ۵۸
فتح القدیر کتاب الصلوۃ باب الامامۃ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱/ ۳۰۴
فتح القدیر کتاب الصلوۃ باب الامامۃ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱/ ۳۰۴
انکار امور مذکورہ شعار وہابیہ است ہمچناں استمداد از انبیاء و اولیاء علیہم الصلوۃ والسلام و یارسول اﷲ ویا علی گفتن راشرك می گویند وخلاصہ مذہب ایشاں آنست کہ امام آنہا در تقویۃ الایمان گفت کہ جز خدا ہچ کس را قائل مباش و مصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم را خود ہمیں بزرگی داشت چنانکہ برادر کلاں رابر برادر خورد و ازیں قسم بسیار سخنہائے گستاخی بانبیاء و اولیاء خود حضور سیدالانبیاء علیہم الصلوۃ والثناء چادیدہ است حاصل مذہب ایں خبثا آنست کہ حضرت مولوی قدس سرہ در منثوی شریف فرمود
ہمسری با انبیاء برداشتند
اولیاء راہمچو خود پندا شند
واﷲ تعالی اعلم۔ امور مذکور کا انکار وہابیوں شعار ہےاسی طرح اولیاء اﷲ اور انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام سے مدد مانگنے اور یارسول اﷲ اور یا علی کہنے کو شرك قرار دیتے ہیںان کے مذہب کا خلاصہ وہ ہے جو ان کے امام نے تقویۃ الایمان میں کہا کہ اﷲ تعالی کے سوا کسی کا قائل مت ہواور محمد مصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو خود پر صرف اتنی بڑائی دیتے ہیں جتنی بڑے بھائی کو چھوٹے بھائی پر۔اس قسم کی بہت سی گستاخانہ باتیں نبیوں ولیوں اور خود حضور سید الانبیاء صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ پر چسپاں کرتے ہیں۔ان خبیثوں کے مذہب کاحاصل وہ ہے جو حضرت مولوی(مولانا روم)قدس سرہ نے مثنوی شریف میں فرمایا ہے انہوں نے نبیوں کے ساتھ برابری کا دعوی کھڑا کردیا اور اولیاء اﷲ کو اپنے جیسا سمجھ لیا ہے۔(ت)
مسئلہ ۵۶ تا ۶۲:از فورٹ سنڈیمن بلوچستان رسالہ زوپ ملیشیہ مرسلہ مستری احمد الدین ۳۰ جمادی الاولی ۱۳۳۶ھ
(۱)مولود شریف کرنا کیسا ہے اور بوقت بیان ولادت شریف قیام کرنا کیسا ہے
(۲)گیارھویں حضرت پیران پیر رحمۃ اﷲ تعالی علیہ کی کرنی کیسی ہے
(۳)کھانا آگے رکھ کر ہاتھ اٹھا کر ختم دینا جائز ہے یا ناجائز
(۴)اٹھتے بیٹھتے یارسول اﷲ کہناآپ کو حاضر ناظر جاننا اور عالم الغیب ماننا کیسا ہے
ہمسری با انبیاء برداشتند
اولیاء راہمچو خود پندا شند
واﷲ تعالی اعلم۔ امور مذکور کا انکار وہابیوں شعار ہےاسی طرح اولیاء اﷲ اور انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام سے مدد مانگنے اور یارسول اﷲ اور یا علی کہنے کو شرك قرار دیتے ہیںان کے مذہب کا خلاصہ وہ ہے جو ان کے امام نے تقویۃ الایمان میں کہا کہ اﷲ تعالی کے سوا کسی کا قائل مت ہواور محمد مصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو خود پر صرف اتنی بڑائی دیتے ہیں جتنی بڑے بھائی کو چھوٹے بھائی پر۔اس قسم کی بہت سی گستاخانہ باتیں نبیوں ولیوں اور خود حضور سید الانبیاء صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ پر چسپاں کرتے ہیں۔ان خبیثوں کے مذہب کاحاصل وہ ہے جو حضرت مولوی(مولانا روم)قدس سرہ نے مثنوی شریف میں فرمایا ہے انہوں نے نبیوں کے ساتھ برابری کا دعوی کھڑا کردیا اور اولیاء اﷲ کو اپنے جیسا سمجھ لیا ہے۔(ت)
مسئلہ ۵۶ تا ۶۲:از فورٹ سنڈیمن بلوچستان رسالہ زوپ ملیشیہ مرسلہ مستری احمد الدین ۳۰ جمادی الاولی ۱۳۳۶ھ
(۱)مولود شریف کرنا کیسا ہے اور بوقت بیان ولادت شریف قیام کرنا کیسا ہے
(۲)گیارھویں حضرت پیران پیر رحمۃ اﷲ تعالی علیہ کی کرنی کیسی ہے
(۳)کھانا آگے رکھ کر ہاتھ اٹھا کر ختم دینا جائز ہے یا ناجائز
(۴)اٹھتے بیٹھتے یارسول اﷲ کہناآپ کو حاضر ناظر جاننا اور عالم الغیب ماننا کیسا ہے
حوالہ / References
تقویۃ الایمان الفصل الخامس مطبع علیمی اندرون لوہاری دروازہ لاہور ص ۴۱
مثنوی معنوی حکایت مردبقال الخ موسسۃ انتشارات اسلامی لاہور دفتراول ص ۵۸
مثنوی معنوی حکایت مردبقال الخ موسسۃ انتشارات اسلامی لاہور دفتراول ص ۵۸
(۵)بزرگوں کی قبروں کی زیارت کے لیے دور دراز سے سفر کرنا عرس اور قبروں کا طواف اور بوسہ دینا جائز ہے یا نہیں
(۶)ہر دو طریق پر میت کا اسقاط کرنا جائز ہے یا نہیں
(۷)جمعہ کی نماز کے بعد احتیاط الظہر ۱۲ رکعت پڑھنا ضروری ہے یا نہیں
جواب ہمر شتہ سوال
(۱)مولود شریف یعنی خاص بیان ولادت آنحضرت صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی خالی از منکرات شرعیہ می باشد جائز ہست مگر قیام کر دن و دست برناف بستن بریں اعتقاد کہ جناب رسالت مآب صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم حاضر میشوذ مجلس مولود راغیر صحیح و خلاف عقیدہ ہست۔
(۲)نذردادن برروح غوث اعظم علیہ الرحمہ اگر خالصا لوجہ اﷲ ازبرائے ایصال الثواب بروح مقدس شان مے باشد جائز بلکہ حسن ست لکن اگر دروقت نذر کردن خاص نام پیران پیر علیہ الرحمۃ ذکر کندو نام خداوند تعالی ترك کند چنانچہ عادت جہال ست پس ناجائز بلکہ خوف کفر ہست۔
(۳)و دعا کردن دروقت حضور طعام جائز ہست لیکن بہترآن ہست کہ بعد فراغ از تناول طعام کردہ شود زیرا کہ حق طعام سابق ہست لکن آنکہ دربعضے شہر ہامعروف ہست کہ طلبہ و ملایان راجمع می کنند و برایشاں ختم (۱)مولود شریف یعنی خاص بیان ولادت سرکار دو عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم جو کہ منکرات شرعیہ سے خالی ہو جائز ہے مگر اس کے لیے قیام کرنا اور اس اعتقاد کے ساتھ ناف پر ہاتھ باندھنا کہ جناب رسالمتآب صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم محفل میلاد میں حاضر ہوتے ہیں صحیح نہیں اور عقیدہ کے خلاف ہے۔
(۲)غوث اعظم علیہ الرحمہ کی روح پاك کی نذر دینی اگر خالصا اﷲ تعالی کی ذات کے لیے ہو اور سرکارغوث پاك کی روح مقدس کو ثواب پہنچانا مقصود ہو تو جائز بلکہ مستحسن کو ثواب پہنچانا مقصود ہو تو جائز بلکہ مستحسن ہےلیکن اگر نذر کرتے وقت خاص پیران پیر علیہ الرحمہ کا نام ذکر کرے اور اﷲ تبارك و تعالی کا ذکر چھوڑ دے تو جیسا کہ جاہلوں کی عادت ہے ناجائز ہے بلکہ کفر کا خوف ہے۔
(۳)کھانا سامنے رکھ کر دعا کرنا جائز ہے لیکن بہتر یہ ہے کہ کھانا کھا کر فارغ ہونے کے بعد دعا کی جائے کیونکہ کھانے کا حق مقدم ہے لیکن جو بعض شہروں میں مروج ہے کہ طلباء اور ملاؤں کو جمع کرتے ہیں وہ قرآن مجید ختم کرتے ہیں اور تسبیح و
(۶)ہر دو طریق پر میت کا اسقاط کرنا جائز ہے یا نہیں
(۷)جمعہ کی نماز کے بعد احتیاط الظہر ۱۲ رکعت پڑھنا ضروری ہے یا نہیں
جواب ہمر شتہ سوال
(۱)مولود شریف یعنی خاص بیان ولادت آنحضرت صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی خالی از منکرات شرعیہ می باشد جائز ہست مگر قیام کر دن و دست برناف بستن بریں اعتقاد کہ جناب رسالت مآب صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم حاضر میشوذ مجلس مولود راغیر صحیح و خلاف عقیدہ ہست۔
(۲)نذردادن برروح غوث اعظم علیہ الرحمہ اگر خالصا لوجہ اﷲ ازبرائے ایصال الثواب بروح مقدس شان مے باشد جائز بلکہ حسن ست لکن اگر دروقت نذر کردن خاص نام پیران پیر علیہ الرحمۃ ذکر کندو نام خداوند تعالی ترك کند چنانچہ عادت جہال ست پس ناجائز بلکہ خوف کفر ہست۔
(۳)و دعا کردن دروقت حضور طعام جائز ہست لیکن بہترآن ہست کہ بعد فراغ از تناول طعام کردہ شود زیرا کہ حق طعام سابق ہست لکن آنکہ دربعضے شہر ہامعروف ہست کہ طلبہ و ملایان راجمع می کنند و برایشاں ختم (۱)مولود شریف یعنی خاص بیان ولادت سرکار دو عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم جو کہ منکرات شرعیہ سے خالی ہو جائز ہے مگر اس کے لیے قیام کرنا اور اس اعتقاد کے ساتھ ناف پر ہاتھ باندھنا کہ جناب رسالمتآب صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم محفل میلاد میں حاضر ہوتے ہیں صحیح نہیں اور عقیدہ کے خلاف ہے۔
(۲)غوث اعظم علیہ الرحمہ کی روح پاك کی نذر دینی اگر خالصا اﷲ تعالی کی ذات کے لیے ہو اور سرکارغوث پاك کی روح مقدس کو ثواب پہنچانا مقصود ہو تو جائز بلکہ مستحسن کو ثواب پہنچانا مقصود ہو تو جائز بلکہ مستحسن ہےلیکن اگر نذر کرتے وقت خاص پیران پیر علیہ الرحمہ کا نام ذکر کرے اور اﷲ تبارك و تعالی کا ذکر چھوڑ دے تو جیسا کہ جاہلوں کی عادت ہے ناجائز ہے بلکہ کفر کا خوف ہے۔
(۳)کھانا سامنے رکھ کر دعا کرنا جائز ہے لیکن بہتر یہ ہے کہ کھانا کھا کر فارغ ہونے کے بعد دعا کی جائے کیونکہ کھانے کا حق مقدم ہے لیکن جو بعض شہروں میں مروج ہے کہ طلباء اور ملاؤں کو جمع کرتے ہیں وہ قرآن مجید ختم کرتے ہیں اور تسبیح و
قرآن شریف و تسبیح و تہلیل می کنند و بعوض آں ایشاں رانان و پیر ہامی د ہند ناجائز ہست ختم کنندگان را گر فتن فلوس و خوردن طعام حرام ہست و صاحب طعام را ثواب خیرات نمی شود چنانچہ در طریقہ محمدیہ در فصل آخرو دربحرالرائق و در شامی مذکور ہست۔
(۴)یارسول اﷲ گفتن ماسوائے از مواضع بے ادبی در ہر وقت جائز ہست مگر حاضر دانستن جناب سرور کائنات صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم مخالف عقیدہ اہلسنت و جماعت ہست صحیح نیست بلکہ درود شریف یا سلام بخود پیش کردہ مے شود برروح پاك آنجناب علیہ السلام در مدینہ منورہ نہ آنکہ سیدالانبیاء از برائے او حاضر مے شودچنانچہ در حدیث نسائی شریففــــــ وارد شدہ ہست قال علیہ السلام ان صلوتکم تبلغنی حیث کنتم ۔نیز جناب رسول اﷲ صلی اﷲ تہلیل کرتے ہیں جس کے بدلے میں انہیں روٹی اور پیسے دیئے جاتے ہیں یہ ناجائز ہے ختم کرنے والوں کو پیسے لینا اور کھانا کھانا حرام ہے اور کھانا کھلانے والے کو خیرات کا ثواب حاصل نہیں ہوتاجیسا کہ طریقہ محمد یہ کی فصل آخر بحرالرائق اور شامی میں مذکور ہے۔
(۴)یارسول اﷲ کہنا بے ادبی کی جگہوں کے سوا ہر وقت جائز ہے مگر سرور کائنات صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو حاضر جاننا عقیدہ اہلسنت و جماعت کے خلاف ہے اور صحیح نہیں ہے بلکہ درود شریف یا سلام نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی روح پاك کو خود مدینہ منورہ میں پیش کیا جاتا ہےیوں نہیں کہ سیدالانبیاء صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم اس کے لیے خود حاضر ہوتے ہیں جیسا کہ نسائی شریف کی حدیث میں وارد ہوا ہے نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا کہ بے شك تمہارا درود مجھ تك پہنچتا ہے تم جہاں کہیں بھی ہو۔
ف:انتہائی کوشش کے بعد بھی نسائی شریف میں ان الفاظ کے ساتھ حدیث نہیں مل سکی البتہ ان الفاظ کے قریب قریب معجم کبیرو مسند احمد بن حنبل میں ان الفاظ کے ساتھ حدیث ملی ہے۔ حیثما کنتم فصلوا علی فان صلوتکم تبلغنی۔ نذیر احمد سعیدی
(۴)یارسول اﷲ گفتن ماسوائے از مواضع بے ادبی در ہر وقت جائز ہست مگر حاضر دانستن جناب سرور کائنات صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم مخالف عقیدہ اہلسنت و جماعت ہست صحیح نیست بلکہ درود شریف یا سلام بخود پیش کردہ مے شود برروح پاك آنجناب علیہ السلام در مدینہ منورہ نہ آنکہ سیدالانبیاء از برائے او حاضر مے شودچنانچہ در حدیث نسائی شریففــــــ وارد شدہ ہست قال علیہ السلام ان صلوتکم تبلغنی حیث کنتم ۔نیز جناب رسول اﷲ صلی اﷲ تہلیل کرتے ہیں جس کے بدلے میں انہیں روٹی اور پیسے دیئے جاتے ہیں یہ ناجائز ہے ختم کرنے والوں کو پیسے لینا اور کھانا کھانا حرام ہے اور کھانا کھلانے والے کو خیرات کا ثواب حاصل نہیں ہوتاجیسا کہ طریقہ محمد یہ کی فصل آخر بحرالرائق اور شامی میں مذکور ہے۔
(۴)یارسول اﷲ کہنا بے ادبی کی جگہوں کے سوا ہر وقت جائز ہے مگر سرور کائنات صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو حاضر جاننا عقیدہ اہلسنت و جماعت کے خلاف ہے اور صحیح نہیں ہے بلکہ درود شریف یا سلام نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی روح پاك کو خود مدینہ منورہ میں پیش کیا جاتا ہےیوں نہیں کہ سیدالانبیاء صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم اس کے لیے خود حاضر ہوتے ہیں جیسا کہ نسائی شریف کی حدیث میں وارد ہوا ہے نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا کہ بے شك تمہارا درود مجھ تك پہنچتا ہے تم جہاں کہیں بھی ہو۔
ف:انتہائی کوشش کے بعد بھی نسائی شریف میں ان الفاظ کے ساتھ حدیث نہیں مل سکی البتہ ان الفاظ کے قریب قریب معجم کبیرو مسند احمد بن حنبل میں ان الفاظ کے ساتھ حدیث ملی ہے۔ حیثما کنتم فصلوا علی فان صلوتکم تبلغنی۔ نذیر احمد سعیدی
حوالہ / References
المعجم الکبیر حدیث ۲۷۲۹ المکتبۃ الفیصلیہ بیروت ۳/ ۸۲،مسند احمد بن حنبل عن ابی ھریرہ المکتب الاسلامی ۲/ ۳۶۷
تعالی علیہ وسلم را عالم الغیب گفتن ناجائز ہستچنانچہ ملا علی قاری در شرح فقہ اکبر تصریح میکند ثم اعلم ان الانبیاء علیہم السلام لم یعلمواالمغیبات من الاشیاء الاما علمھم اﷲ احیانا وذکر الحنفیۃ صریحا بالتکفیر باعتقادہ ان النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یعلم الغیب لمعارضۃ قولہ تعالی قل لا یعلم من فی السموت والارض الغیب الا اﷲ ۔
(۵)سفر کردن از برائے زیارت قبور جائز ہست از جہت اطلاق قولہ علیہ السلام کنت نھیتکم عن زیارۃ القبور فزوروھا ۔و انچہ بعض علماء مثل ابن تیمیہ وغیرہ استدلال بر منع سفر کردہ اند بایں حدیث لا تشدوا الرحال الا الی ثلثۃ مساجد الخ۔غلط ہستچنانچہ امام غزالی علیہ الرحمہ دراحیاء نیز رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو عالم الغیب کہنا نا جائز ہےچنانچہ ملا علی قاری علیہ الرحمہ شرح فقہ اکبر میں تصریح کرتے ہیں پھر تو جان لے کہ بے شك انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام غیب اشیاء کو نہیں جانتے سوائے ان چیزوں کے جن کا علم انہیں اﷲ تعالی کبھی کبھار عطا فرماتا ہےاور حنفیہ نے اس کی تکفیر کا ذکر اس وجہ سے کیا ہے کہ وہ یہ عقیدہ رکھتا ہے نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم غیب جانتے ہیں اس لیے کہ ان کایہ اعتقاد اﷲ تعالی کے اس ارشاد کے مخالف ہے: اے محبوب صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم آپ فرمادیں کہ جو کوئی آسمانوں اور زمین میں ہے۔وہ غیب نہیں جانتا سوائے اﷲ تعالی کے۔
(۵)زیارت قبور کے لیے سفر کرنا جائز ہے اس واسطے کہ نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا یہ ارشاد مطلق ہے میں تمہیں قبروں کی زیارت سے منع کیا کرتا تھا تو اب ان کی زیارت کیا کرو۔ابن تیمیہ وغیرہ بعض علماء کا منع سفر پر اس حدیث سے استدلال کرنا غلط ہے کجاوے مت باندھو مگر صرف تین مسجدوں کی طرف چنانچہ امام غزالی علیہ الرحمہ احیاء العلوم
(۵)سفر کردن از برائے زیارت قبور جائز ہست از جہت اطلاق قولہ علیہ السلام کنت نھیتکم عن زیارۃ القبور فزوروھا ۔و انچہ بعض علماء مثل ابن تیمیہ وغیرہ استدلال بر منع سفر کردہ اند بایں حدیث لا تشدوا الرحال الا الی ثلثۃ مساجد الخ۔غلط ہستچنانچہ امام غزالی علیہ الرحمہ دراحیاء نیز رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو عالم الغیب کہنا نا جائز ہےچنانچہ ملا علی قاری علیہ الرحمہ شرح فقہ اکبر میں تصریح کرتے ہیں پھر تو جان لے کہ بے شك انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام غیب اشیاء کو نہیں جانتے سوائے ان چیزوں کے جن کا علم انہیں اﷲ تعالی کبھی کبھار عطا فرماتا ہےاور حنفیہ نے اس کی تکفیر کا ذکر اس وجہ سے کیا ہے کہ وہ یہ عقیدہ رکھتا ہے نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم غیب جانتے ہیں اس لیے کہ ان کایہ اعتقاد اﷲ تعالی کے اس ارشاد کے مخالف ہے: اے محبوب صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم آپ فرمادیں کہ جو کوئی آسمانوں اور زمین میں ہے۔وہ غیب نہیں جانتا سوائے اﷲ تعالی کے۔
(۵)زیارت قبور کے لیے سفر کرنا جائز ہے اس واسطے کہ نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا یہ ارشاد مطلق ہے میں تمہیں قبروں کی زیارت سے منع کیا کرتا تھا تو اب ان کی زیارت کیا کرو۔ابن تیمیہ وغیرہ بعض علماء کا منع سفر پر اس حدیث سے استدلال کرنا غلط ہے کجاوے مت باندھو مگر صرف تین مسجدوں کی طرف چنانچہ امام غزالی علیہ الرحمہ احیاء العلوم
حوالہ / References
منح الروض الازھر شرح الفقہ الاکبر حکم تصدیق الکاہن بما یخبر بہ من الغیب مصطفٰی البابی مصر ص ۱۵۱
صحیح مسلم کتاب الجنائز فصل فی الذھاب الٰی زیارۃ القبور قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۳۱۴
صحیح مسلم کتاب المساجد باب فضل المساجد الثلاثہ قدیمی کتب خانہ کراچی ا/۴۴۷
صحیح مسلم کتاب الجنائز فصل فی الذھاب الٰی زیارۃ القبور قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۳۱۴
صحیح مسلم کتاب المساجد باب فضل المساجد الثلاثہ قدیمی کتب خانہ کراچی ا/۴۴۷
می فرماید وذہب بعض العلماء الی الاستدلال بھذا الحدیث فی المنع من الرحلۃ لزیارۃ المشاہد وقبور العلماء والصلحاء و ماتبین لی ان الامر لیس کذلك بل الزیارۃ مامور ۃ بھا قال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کنت نھیتکم عن زیارۃ القبور الخ ۔لکن بوسہ دادن وطواف کردن قبر و عرس وغیرہ ہمہ ناجائز و حرام ہست و نیز مخالف ہست از آداب وطریقہ زیارت کردنچنانچہ امام غزالی رحمۃ اﷲ علیہ دراحیا می فرمودند وآداب الزیارۃ ان لایقوم مستقبل القبر مستدبر القبلۃ و لایقبلہ ولا ینحنی لہ الخ بلکہ در انحناء و سجدہ کردن خوف کفر ست۔
(۶)اسقاط کردن برطریق معروف اگرچہ در قرون ثلثہ بریں طریق جاری نبود لیکن علماء فقہ در کتب ہائے خود نقل کردہ ہست واز نصوص و آثار صحابہ ایں حکم رامستنبط کردہ اندچنا نچہ علامہ ابن العابدین شامی دریں مسئلہ رسالہ مستقبل چاپ کردہ ہست میں فرماتے ہیں:بعض علماء نے اس حدیث سے اس بات پر استدلال کیا ہے کہ علماء و صلحاء کی قبور اور مقامات مقدسہ کی زیارت کے لیے سفر کرنا منع ہے اور میرے لیے جو کچھ ظاہر ہوا ہے وہ یہ ہے کہ معاملہ اس طرح نہیں بلکہ زیارت قبور کا حکم دیا گیا ہے۔رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا: میں تمہیں قبروں کی زیارت سے منع کرتا تھا تو اب ان کی زیارت کیا کرو لیکن قبر کو بوسہ دینا طواف کرنا اور عرس وغیرہ سب ناجائز و حرام ہے اور ایسا کرنا زیارت کرنے کے طریقہ اور آداب کے خلاف ہےچنانچہ امام غزالی علیہ الرحمہ احیاء العلوم میں فرماتے ہیں:زیارت کے آداب یہ ہیں کہ قبر کی طرف منہ کرکے اور قبلہ کی طرف پیٹھ کرکے مت کھڑا ہو اور نہ قبر کو چومے اور نہ ہی اس کے لیے جھکے الخ بلکہ قبر کے لیے جھکنے اور سجدہ کرنے میں کفر کا خوف ہے۔
(۶)مروج طریقے پر حیلہ اسقاط کرنا اگرچہ قرون ثلثہ میں اس طو ر پر جاری نہ تھا مگر علماء فقہ نے اپنی کتابوں میں اس کو نقل کیا ہے اور نصوص و آثار صحابہ سے اس حکم کو مستنبط کیا ہے چنانچہ علامہ ابن العابدین صاحب شامی نے اس مسئلہ میں ایك مستقل رسالہ شائع
(۶)اسقاط کردن برطریق معروف اگرچہ در قرون ثلثہ بریں طریق جاری نبود لیکن علماء فقہ در کتب ہائے خود نقل کردہ ہست واز نصوص و آثار صحابہ ایں حکم رامستنبط کردہ اندچنا نچہ علامہ ابن العابدین شامی دریں مسئلہ رسالہ مستقبل چاپ کردہ ہست میں فرماتے ہیں:بعض علماء نے اس حدیث سے اس بات پر استدلال کیا ہے کہ علماء و صلحاء کی قبور اور مقامات مقدسہ کی زیارت کے لیے سفر کرنا منع ہے اور میرے لیے جو کچھ ظاہر ہوا ہے وہ یہ ہے کہ معاملہ اس طرح نہیں بلکہ زیارت قبور کا حکم دیا گیا ہے۔رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا: میں تمہیں قبروں کی زیارت سے منع کرتا تھا تو اب ان کی زیارت کیا کرو لیکن قبر کو بوسہ دینا طواف کرنا اور عرس وغیرہ سب ناجائز و حرام ہے اور ایسا کرنا زیارت کرنے کے طریقہ اور آداب کے خلاف ہےچنانچہ امام غزالی علیہ الرحمہ احیاء العلوم میں فرماتے ہیں:زیارت کے آداب یہ ہیں کہ قبر کی طرف منہ کرکے اور قبلہ کی طرف پیٹھ کرکے مت کھڑا ہو اور نہ قبر کو چومے اور نہ ہی اس کے لیے جھکے الخ بلکہ قبر کے لیے جھکنے اور سجدہ کرنے میں کفر کا خوف ہے۔
(۶)مروج طریقے پر حیلہ اسقاط کرنا اگرچہ قرون ثلثہ میں اس طو ر پر جاری نہ تھا مگر علماء فقہ نے اپنی کتابوں میں اس کو نقل کیا ہے اور نصوص و آثار صحابہ سے اس حکم کو مستنبط کیا ہے چنانچہ علامہ ابن العابدین صاحب شامی نے اس مسئلہ میں ایك مستقل رسالہ شائع
حوالہ / References
احیاء العلوم کتاب ذکر اسرارالحج فضیلۃ المدینۃ الشریفہ الخ مطبعۃ المشہد الحسینی القاھرہ ۱/ ۲۴۴
احیاء العلوم کتاب ذکرالموت الباب السادس مطبعۃ المشہد الحسینی القاھرہ ۴/ ۴۹۱
احیاء العلوم کتاب ذکرالموت الباب السادس مطبعۃ المشہد الحسینی القاھرہ ۴/ ۴۹۱
وثابت کردہ ہست کہ اسقاط میت جائز ہست ودرنقل عبارت آں رسالہ بسیار طول لازم می شود ازیں وجہ ترك کردم۔
(۷)در عدد رکعات نماز جمعہ اختلاف علماء ہست بعضے میگویند کہ بعد از فرض جمعہ شش رکعات سنت ہست و چہار رکعت فرض احتیاطی رامنع می کند چنانچہ صاحب بحرالرائق درکتاب خود تصریح کردہ ہست بر منع و میگوید و منشاء جھلھم صلوۃ الاربع بعد الجمعۃ بنیۃ الظھروانما وضعہا بعض المتاخرین عند الشك فی صحۃ الجمعۃ بسبب روایۃ عدم تعددھا فی مصرواحد ولیست ھذہ الروایۃ بالمختارۃ ولیس ھذا القول اعنی اختیار صلوۃ الاربع بعدھا مرویاعن ابی حنیفۃ و صاحبیہ حتی وقع لی انی افتیت مرارا بعدم صلوتھا خوفا علی اعتقاد الجھلۃ بانہا الفرض وان الجمعۃ لیست بفرض۔ الخپس از قول صاحب بحرالرائق مطلقا منع کر دن معلوم میشود و بعض علماء کیا ہے ا ور ثابت کیا ہے کہ میت کے لیے حیلہ اسقاط جائز ہے چونکہ اس رسالہ کی عبارات کو نقل کرنے میں بہت زیادہ طوالت لازم آتی ہے۔اس لیے میں نے ان عبارات کو ترك کردیا ہے۔
(۷)نماز جمعہ کی رکعتوں کی تعداد میں علماء کا اختلاف ہے بعض کہتے ہیں کہ فرض جمعہ کے بعد چھ رکعتیں سنت ہیں اور چار رکعت فرض احتیاطی(احتیاط الظہر)سے منع کرتے ہیں۔ چنانچہ صاحب بحرالرائق اپنی کتاب میں ممانعت پر تصریح فرماتے ہوئے کہتے ہیں کہ فرضیت جمعہ کے منکرین کی جہالت کا منشاء جمعہ کے بعد ظہر کی نیت سے چار رکعتیں نماز پڑھنا ہے جس کو بعض متاخرین نے صحت جمعہ میں شك کی بنیاد پر وضع کیا ہے اور اس شك کا سبب ایك شہر میں تعدد جمعات کے عدم جواز والی روایت ہے حالانکہ یہ روایت مختار نہیں اور نہ ہی یہ قول یعنی جمعہ کے بعد چار رکعتیں احتیاط الظہر پڑھنے کا مختار ہونا امام ابوحنیفہ اور ان کے صاحبین سے مروی ہے۔حتی کہ میرے لیے ایسے واقع ہوا کہ میں نے بارہا ان چار رکعتوں کے عدم جواز کا فتوی دیا اس بات کا خوف کرتے ہوئے کہ جاہل لوگ ان چار رکعتوں کو فرض سمجھ لیں گے اور جمعہ کو فرض نہیں سمجھیں گے۔الخ صاحب بحرالرائق کے قول سے تو مطلقا ممانعت
(۷)در عدد رکعات نماز جمعہ اختلاف علماء ہست بعضے میگویند کہ بعد از فرض جمعہ شش رکعات سنت ہست و چہار رکعت فرض احتیاطی رامنع می کند چنانچہ صاحب بحرالرائق درکتاب خود تصریح کردہ ہست بر منع و میگوید و منشاء جھلھم صلوۃ الاربع بعد الجمعۃ بنیۃ الظھروانما وضعہا بعض المتاخرین عند الشك فی صحۃ الجمعۃ بسبب روایۃ عدم تعددھا فی مصرواحد ولیست ھذہ الروایۃ بالمختارۃ ولیس ھذا القول اعنی اختیار صلوۃ الاربع بعدھا مرویاعن ابی حنیفۃ و صاحبیہ حتی وقع لی انی افتیت مرارا بعدم صلوتھا خوفا علی اعتقاد الجھلۃ بانہا الفرض وان الجمعۃ لیست بفرض۔ الخپس از قول صاحب بحرالرائق مطلقا منع کر دن معلوم میشود و بعض علماء کیا ہے ا ور ثابت کیا ہے کہ میت کے لیے حیلہ اسقاط جائز ہے چونکہ اس رسالہ کی عبارات کو نقل کرنے میں بہت زیادہ طوالت لازم آتی ہے۔اس لیے میں نے ان عبارات کو ترك کردیا ہے۔
(۷)نماز جمعہ کی رکعتوں کی تعداد میں علماء کا اختلاف ہے بعض کہتے ہیں کہ فرض جمعہ کے بعد چھ رکعتیں سنت ہیں اور چار رکعت فرض احتیاطی(احتیاط الظہر)سے منع کرتے ہیں۔ چنانچہ صاحب بحرالرائق اپنی کتاب میں ممانعت پر تصریح فرماتے ہوئے کہتے ہیں کہ فرضیت جمعہ کے منکرین کی جہالت کا منشاء جمعہ کے بعد ظہر کی نیت سے چار رکعتیں نماز پڑھنا ہے جس کو بعض متاخرین نے صحت جمعہ میں شك کی بنیاد پر وضع کیا ہے اور اس شك کا سبب ایك شہر میں تعدد جمعات کے عدم جواز والی روایت ہے حالانکہ یہ روایت مختار نہیں اور نہ ہی یہ قول یعنی جمعہ کے بعد چار رکعتیں احتیاط الظہر پڑھنے کا مختار ہونا امام ابوحنیفہ اور ان کے صاحبین سے مروی ہے۔حتی کہ میرے لیے ایسے واقع ہوا کہ میں نے بارہا ان چار رکعتوں کے عدم جواز کا فتوی دیا اس بات کا خوف کرتے ہوئے کہ جاہل لوگ ان چار رکعتوں کو فرض سمجھ لیں گے اور جمعہ کو فرض نہیں سمجھیں گے۔الخ صاحب بحرالرائق کے قول سے تو مطلقا ممانعت
حوالہ / References
بحرالرائق کتاب الصلوۃ باب الجمعۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲/ ۱۳۹
میگوید کہ بہتر ایں ہست کہ بعد از جمعہ دوازدہ رکعات گزاردہ شود چہار رکعت احتیاطی چنانچہ معروف ہست چنانچہ صاحب شامی نوشتہ ہست ونقل المقدسی عن المحیط کل موضع وقع الشك فی کونہ مصرا ینبغی لھم ان یصلوا بعد الجمعۃ اربعا بنیۃ الظھر احتیاطا۔ الخلکن نزدبندہ مختارایں ہست کہ قول صاحب بحرالرائق حمل کردہ شود بر عوام الناس و عوام الناس رافتوی دادہ نہ شود برگزاردن فرض احتیاطی زیرا کہ ایشاں راضرور تردد واقع میشود ودر فرضیت جمعہ و قول صاحب شامی محمول ہست بر خواص ازیں وجہ کہ ایشاں واقف ہست از احوال نیت واصل خلاف پس واقع نمی شود ایشاں راتردد در فرضیت جمعہ و و دلیل گرفتہ ام بقول مقدسی حیث قال نحن لا نامربذلك المثال ھذہ العوام بل ندل علیہ الخواص ۔الخ حاصل آنکہ فرض احتیاطی در حق عوام الناس امر نکردہ شود بلکہ خواص رابہتر ہست فقط السلام علیکم وعلی من لد یکم ھذا ما وضع لی واﷲ تعالی اعلم بالصواب۔ معلوم ہوتی ہےبعض علماء کہتے ہیں بہتر یہ ہے کہ جمعہ کے بعد بارہ رکعتیں ادا کی جائیں چار رکعتیں احتیاطی فرض ہیں جیسا کہ معروف ہےچنانچہ صاحب شامی نے لکھا ہے کہ مقدسی نے محیط سے نقل کیا جس جگہ کے شہر ہونے میں شك ہو وہاں لوگوں کو چاہیے کہ جمعہ کے بعد چار رکعتیں فرض احتیاطی بنیت ظہر پڑھیں الخ لیکن بندہ کے نزدیك مختاریہ ہے کہ صاحب بحرالرائق کے قول کو عوام الناس پر محمول کیا جائے گا چنانچہ عوام الناس کو فرض احتیاطی پڑھنے کا فتوی نہیں دیا جائے گا کیونکہ ان کو ضرور جمعہ کی فرضیت میں تردد واقع ہوگا اور صاحب شامی کے قول کو خواص پر محمول کیا جائے گا۔اس لیے کہ وہ نیت کے احوال اور اصل خلاف سے واقف ہیں لہذا ان کی فرضیت جمعہ میں کوئی تردد نہ ہوگا۔میں نے مقدسی کے قول سے دلیل پکڑی ہے جہاں انہوں نے فرمایا کہ ہم ایسے احکام کا عوام کو حکم نہیں دیتے بلکہ ان پر خواص کی رہنمائی کرتے ہیں الخ۔خلاصہ یہ کہ فرض احتیاطی کا عوام کو حکم نہیں دیا جائے گا بلکہ یہ خواص کے لیے بہتر ہےفقط تم پر اور ان پر جو تمہارے پاس ہیں سلام ہو۔یہ وہ ہے جو مجھے مہیا ہوااور اﷲ تعالی درست بات کو خوب جانتا ہے۔(ت)
محررہ فقیر مولوی سید بادشاہ ابن مولوی سید محمد صدیق احسن زادہ ساکن ریوزی مورخہ ۳ رمضان
محررہ فقیر مولوی سید بادشاہ ابن مولوی سید محمد صدیق احسن زادہ ساکن ریوزی مورخہ ۳ رمضان
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الصلوۃ باب الجمعۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۵۴۲
ردالمحتار کتاب الصلوۃ باب الجمعۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۵۴۲
ردالمحتار کتاب الصلوۃ باب الجمعۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۵۴۲
بخدمت اقدس حضرت مولانا صاحب دامت برکاتہم السلام علیکم ورحمۃ اللہاستفتاء ہذا ارسال خدمت ہے ملاحظہ فرمائیںیہ مولوی صاحب جنہوں نے جواب استفتاء ہذا تحریر فرمایا ہے تعلیم یافتہ مدرسہ دیوبند ہیں لیکن ان کے خیالات یہ ہیں جو انہوں نے ارقام فرمائے ہیں اب یہ تحریر فرمائیں کہ ان مولوی صاحب کو امام مسجد مقرر کرنا اور ان کے پیچھے نماز پڑھنا کیسا ہےآیا اس شخص کے پیچھے نماز ہوجاتی ہے۔
الجواب:
بعد مراسم سنتوہ سوال جواب جوابات میں بہت چالاکی برتی گئی ہے پھر بھی ان سے تو ہب کی جھلك پیدا ہے آپ نے مجیب کا دیوبند میں تعلیم پانا لکھا ہے وہاں یہ سوالات کرنے نہ تھے کہ انمیں غلط جواب دے جب بھی کافر تو نہ ہوگا دیوبندیوں کے عقائد تو وہ ہیں جن کی نسبت علمائے حرمین شریفین نے بالاتفاق تحریر فرمایا ہے کہ۔
من شك فی عذابہ و کفرہ فقد کفر ۔ جو ان کے اقوال پر مطلع ہو کر ان کے عذاب اور کفر میں شك کرے وہ بھی کافر ہے۔
ایسی جگہ تو یہ سوال کرنا چاہیے کہ رشید احمد گنگوہی و اشرف علی تھانوی و قاسم نانوتوی اور محمود حسن دیوبندی و خلیل احمد انبیٹھی اور ان سب سے گھٹ کر ان کے امام اسمعیل دہلوی اور ان کی کتابوں براہین قاطعہ وتحذیر الناس وحفظ الایمان و تقویۃ الایمان و ایضاح الحق کو کیسا جانتے ہو اور ان لوگوں کی نسبت علمائے حرمین شریف نے جو فتوے دیئے ہیں انہیں باطل سمجھتے ہو یا حق مانتے ہو اور اگر وہ ان فتوؤں سے اپنی ناواقفی ظاہر کرے تو بریلی مطبع اہلسنت سے حسام الحرمین منگالیجئے اور دکھائیے اگر بکشادہ پیشانی تسلیم کرے کہ بیشك علمائے حرمین شریفین کے یہ فتوے حق ہیں تو ثابت ہوگا کہ دیوبندیت کا اس پر کچھ اثر نہیں ورنہ علمائے حرمین شریفین کا وہی فتوی ہے کہ:
من شك فی عذابہ وکفرہ فقد کفر ۔ جو اس کے عذاب اور کفر میں شك کرے وہ بھی کافر ہے۔(ت)
الجواب:
بعد مراسم سنتوہ سوال جواب جوابات میں بہت چالاکی برتی گئی ہے پھر بھی ان سے تو ہب کی جھلك پیدا ہے آپ نے مجیب کا دیوبند میں تعلیم پانا لکھا ہے وہاں یہ سوالات کرنے نہ تھے کہ انمیں غلط جواب دے جب بھی کافر تو نہ ہوگا دیوبندیوں کے عقائد تو وہ ہیں جن کی نسبت علمائے حرمین شریفین نے بالاتفاق تحریر فرمایا ہے کہ۔
من شك فی عذابہ و کفرہ فقد کفر ۔ جو ان کے اقوال پر مطلع ہو کر ان کے عذاب اور کفر میں شك کرے وہ بھی کافر ہے۔
ایسی جگہ تو یہ سوال کرنا چاہیے کہ رشید احمد گنگوہی و اشرف علی تھانوی و قاسم نانوتوی اور محمود حسن دیوبندی و خلیل احمد انبیٹھی اور ان سب سے گھٹ کر ان کے امام اسمعیل دہلوی اور ان کی کتابوں براہین قاطعہ وتحذیر الناس وحفظ الایمان و تقویۃ الایمان و ایضاح الحق کو کیسا جانتے ہو اور ان لوگوں کی نسبت علمائے حرمین شریف نے جو فتوے دیئے ہیں انہیں باطل سمجھتے ہو یا حق مانتے ہو اور اگر وہ ان فتوؤں سے اپنی ناواقفی ظاہر کرے تو بریلی مطبع اہلسنت سے حسام الحرمین منگالیجئے اور دکھائیے اگر بکشادہ پیشانی تسلیم کرے کہ بیشك علمائے حرمین شریفین کے یہ فتوے حق ہیں تو ثابت ہوگا کہ دیوبندیت کا اس پر کچھ اثر نہیں ورنہ علمائے حرمین شریفین کا وہی فتوی ہے کہ:
من شك فی عذابہ وکفرہ فقد کفر ۔ جو اس کے عذاب اور کفر میں شك کرے وہ بھی کافر ہے۔(ت)
حوالہ / References
حسام الحرمین مکتبہ نبویہ لاہور ص ۱۳
حسام الحرمین مکتبہ نبویہ لاہور ص ۱۳
حسام الحرمین مکتبہ نبویہ لاہور ص ۱۳
اس وقت آ پ کو ظاہر ہوجائے گا کہ جو شخص اﷲ و رسول کو گالیاں دینے والوں کو کافر نہ جاننا درکنار علمائے دین واکابر مسلمین جانے وہ کیونکر مسلمانپھر مسئلہ عرس وفاتحہ و فرعی مسائل کا اس کے سامنے ذکر کیا ہےفقط۔
مسئلہ ۶۳: ۳ جمادی الاولی ۱۳۳۶ھ برادر دینی ویقینی مولوی محمد فاروق صاحب سلمہ
الجواب:
بعد تحیۃ مسنونہاس وقت آپ کا خط تلاش کیانہ ملا معلوم نہیں اور کیا لکھا تھا ایك سوال دربارہ عرس یاد ہے عرش شریف کا ثبوت شاہ عبدالعزیز صاحب نے اپنے رسالہ ذبیحہ میں حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وصدیق اکبر و فاروق اعظم رضی اﷲ تعالی عنہما سے دیا ہےشاہ صاحب موصوف اور ان کے اب وجد عرس کرتے ہیںایك پنجابی نے اس پر اعتراض کیا جس کا جواب شاہ صاحب نے حدیث سے دیاکلام اس عرس شریف میں ہے جو منکرات شرعیہ سے خالی ہواس میں خیر کے سوا کیا ہےاور خیر کا بعینہ منقول ہونا کچھ ضرور نہیںیہ مسئلہ صدیق و فاروق و صحابہ رضی اﷲ تعالی عنہم میں طے ہولیا کہ اگرچہ حضرت اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے نہ کیا مگر کام خیر ہے لہذا کیا جائے اور اس پر صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم کا اجماع ہوا۔ سوال کا جواب تو اتنا ہے مگر مدارس کی تعمیر اور ان میں مدرسین کا تنخواہوں کے ساتھ تقرر اور اس میں درس نظامی یا اور کسی مقرر کردہ نصاب کا تعین اور ان میں ماہانہ و سالانہ امتحان اور اس میں کامیابیوں کے نمبر اور ان پر انعام اور کتابیں چھاپناکمیشن مقرر کرنا وغیرہ ہزاروں باتیں منکرین میں رائج ہیں وہ سب بھی اپنے آپ کو حنفی کہتے ہیںمجھے تعجب ہے کہ ان باتوں کی تصریح امام اعظم سے کہاں انہیں ہاتھ لگی یونہی اپنے اور اپنے اہل و عیال کے فرض و واجب واجب نفقہ کا کوٹ انسپکٹری سے ادا کرنا بھی امام اعظم کے ارشاد سے کیوں نہ محتاج تصریح ہوابچوں کو دعافقط
مسئلہ ۶۴:از مدرسہ اہلسنت و جماعت بریلی مسئولہ مولوی محمد افضل صاحب کا بلی طالب علم مدرسہ مذکور ۱۳ جمادی الاخری ۱۳۳۶ھ
سزایم برگنا ہم لازم آمد پس آنگہ رحمتش نہ باہم آمد
بگو گفتی خطائے یاصوابم بسا اسرار اینجا باہم آمد
(میرے گناہ پر مجھے سزا ملنا لازم ہے تو اس وقت اس(اﷲ تعالی)کی رحمت مہیا نہ ہوئی)
مسئلہ ۶۳: ۳ جمادی الاولی ۱۳۳۶ھ برادر دینی ویقینی مولوی محمد فاروق صاحب سلمہ
الجواب:
بعد تحیۃ مسنونہاس وقت آپ کا خط تلاش کیانہ ملا معلوم نہیں اور کیا لکھا تھا ایك سوال دربارہ عرس یاد ہے عرش شریف کا ثبوت شاہ عبدالعزیز صاحب نے اپنے رسالہ ذبیحہ میں حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وصدیق اکبر و فاروق اعظم رضی اﷲ تعالی عنہما سے دیا ہےشاہ صاحب موصوف اور ان کے اب وجد عرس کرتے ہیںایك پنجابی نے اس پر اعتراض کیا جس کا جواب شاہ صاحب نے حدیث سے دیاکلام اس عرس شریف میں ہے جو منکرات شرعیہ سے خالی ہواس میں خیر کے سوا کیا ہےاور خیر کا بعینہ منقول ہونا کچھ ضرور نہیںیہ مسئلہ صدیق و فاروق و صحابہ رضی اﷲ تعالی عنہم میں طے ہولیا کہ اگرچہ حضرت اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے نہ کیا مگر کام خیر ہے لہذا کیا جائے اور اس پر صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم کا اجماع ہوا۔ سوال کا جواب تو اتنا ہے مگر مدارس کی تعمیر اور ان میں مدرسین کا تنخواہوں کے ساتھ تقرر اور اس میں درس نظامی یا اور کسی مقرر کردہ نصاب کا تعین اور ان میں ماہانہ و سالانہ امتحان اور اس میں کامیابیوں کے نمبر اور ان پر انعام اور کتابیں چھاپناکمیشن مقرر کرنا وغیرہ ہزاروں باتیں منکرین میں رائج ہیں وہ سب بھی اپنے آپ کو حنفی کہتے ہیںمجھے تعجب ہے کہ ان باتوں کی تصریح امام اعظم سے کہاں انہیں ہاتھ لگی یونہی اپنے اور اپنے اہل و عیال کے فرض و واجب واجب نفقہ کا کوٹ انسپکٹری سے ادا کرنا بھی امام اعظم کے ارشاد سے کیوں نہ محتاج تصریح ہوابچوں کو دعافقط
مسئلہ ۶۴:از مدرسہ اہلسنت و جماعت بریلی مسئولہ مولوی محمد افضل صاحب کا بلی طالب علم مدرسہ مذکور ۱۳ جمادی الاخری ۱۳۳۶ھ
سزایم برگنا ہم لازم آمد پس آنگہ رحمتش نہ باہم آمد
بگو گفتی خطائے یاصوابم بسا اسرار اینجا باہم آمد
(میرے گناہ پر مجھے سزا ملنا لازم ہے تو اس وقت اس(اﷲ تعالی)کی رحمت مہیا نہ ہوئی)
اے مفتی ! بتا میں نے غلط کہا یا درست کہابہت سے راز اس جگہ حاصل ہوئے ہیں ت)
الجواب:
۱ مسلماں راسزالازم کہ کردست کہ قول اعتزالی ظالم آمد
۲ وگریابد سزا کامل نیابد کہ عفوش بہر مومن لازم آمد
۳ وگر بالفرض ازوچیزے نہ بخشد زنقصان رحمتش خود سالم آمد
۴ کہ یرحم من یشاء لاکل فرد یعذب من یشاء ہم قائم آمد
۵ بدنیا رحمتش برجملہ عام ست بعقبے خاص حظ مسلم آمد
۶ ثوابش بہر مومن منتہی نیست عذابش بہر کافر دائم آمد
۷ برائے ہر صفت مظہر بکارست کہ اوذو انتقام وراحم آمد
واﷲ تعالی اعلم
(۱)مسلمان کے لیے سزا کس نے لازم کی ہے کہ یہ تو ظالم معتزلی کا قول ہے۔
(۲)اور اگر اس نے سزا پائی تو بھی کامل سزا نہ پائے گا۔کیونکہ مومن کے لیے عفو اﷲ تعالی کے ذمہ کرم پر لازم ہے۔
(۳)اگر بالفرض اﷲ تعالی مومن کی خطا معاف نہ فرمائے تو بھی اس کی رحمت نقصان سے مبرا ہے۔
(۴)کیونکہ وہ جس پر چاہے رحم فرماتا ہے نہ کہ ہر فرد پرجس کو چاہے عذاب دیتا ہے۔(یہ حکم)بھی قائم ہے۔
(۵)دنیا میں اس کی رحمت سب کو عام ہےآخرت میں خاص مسلمان کا حصہ ہے۔
(۶)مومن کے لیے اس کے ثواب کی انتہا نہیں ہےکافر کے لیے اس کا عذاب دائمی ہے۔
(۷)اس کی ہر صفت کا کوئی مظہر ہےکیونکہ وہ انتقام لینے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔
مسئلہ ۶۵: از کانپور مرسلہ مولوی سلیمان صاحب مورخہ ۱۷ جمادی الاخری ۱۳۳۱ھ
میلاد شریف کا رواج کب سے ہے اور خاص ذکر پیدائش کے وقت تعظیما قیام کرنا کہاں سے ثابت ہے
الجواب:
۱ مسلماں راسزالازم کہ کردست کہ قول اعتزالی ظالم آمد
۲ وگریابد سزا کامل نیابد کہ عفوش بہر مومن لازم آمد
۳ وگر بالفرض ازوچیزے نہ بخشد زنقصان رحمتش خود سالم آمد
۴ کہ یرحم من یشاء لاکل فرد یعذب من یشاء ہم قائم آمد
۵ بدنیا رحمتش برجملہ عام ست بعقبے خاص حظ مسلم آمد
۶ ثوابش بہر مومن منتہی نیست عذابش بہر کافر دائم آمد
۷ برائے ہر صفت مظہر بکارست کہ اوذو انتقام وراحم آمد
واﷲ تعالی اعلم
(۱)مسلمان کے لیے سزا کس نے لازم کی ہے کہ یہ تو ظالم معتزلی کا قول ہے۔
(۲)اور اگر اس نے سزا پائی تو بھی کامل سزا نہ پائے گا۔کیونکہ مومن کے لیے عفو اﷲ تعالی کے ذمہ کرم پر لازم ہے۔
(۳)اگر بالفرض اﷲ تعالی مومن کی خطا معاف نہ فرمائے تو بھی اس کی رحمت نقصان سے مبرا ہے۔
(۴)کیونکہ وہ جس پر چاہے رحم فرماتا ہے نہ کہ ہر فرد پرجس کو چاہے عذاب دیتا ہے۔(یہ حکم)بھی قائم ہے۔
(۵)دنیا میں اس کی رحمت سب کو عام ہےآخرت میں خاص مسلمان کا حصہ ہے۔
(۶)مومن کے لیے اس کے ثواب کی انتہا نہیں ہےکافر کے لیے اس کا عذاب دائمی ہے۔
(۷)اس کی ہر صفت کا کوئی مظہر ہےکیونکہ وہ انتقام لینے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔
مسئلہ ۶۵: از کانپور مرسلہ مولوی سلیمان صاحب مورخہ ۱۷ جمادی الاخری ۱۳۳۱ھ
میلاد شریف کا رواج کب سے ہے اور خاص ذکر پیدائش کے وقت تعظیما قیام کرنا کہاں سے ثابت ہے
الجواب:
مجلس میلاد مبارك و قیام کا ثبوت ہزاروں بار دے دیااور اب اجمالا یہ ہے کہ ان کا ثبوت وہاں سے ہے جہاں سے وہابیہ کے کفر کا ثبوت آیا ہےواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۶۶: مسئولہ شفیع احمد فقیر قادری رضوی طالب علم مدرسہ منظر اسلام ۲۱ جمادی الاخری ۱۳۳۶ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ شرح عقائد عضدیہ للمحقق الدوانی رحمۃ اﷲ علیہ کے خطبہ میں ہے۔
یا من وفقنا لتحقیق العقائد الاسلامیۃ وعصمنا عن التقلید فی الاصول والفروع الکلامیۃ۔ اے وہ ذات جس نے ہمیں عقائد اسلامیہ کی تحقیق کی توفیق عطا فرمائی اور ہمیں اصول کلامیہ اور فروع کلامیہ میں تقلید سے بچایا۔
اور یہ بھی مشہور ہے:
لا تقلید فی الاعتقادیات۔ اعتقادیات میں تقلید نہیں۔(ت)
حضور اگر ایسا ہے تو جاہل کے لیے یہ کیوں ہے کہ جب اس کے سامنے کوئی عقیدہ پیش کیا جائے اور یہ نہ جانتا ہو تو کہے میرا وہ عقیدہ ہے جو اہل سنت کا ہے بلکہ کوئی جاہل بلکہ اکثر معمولی عالم اکثر عقائد کے استدلال نہیں جانتے اور ہم اکثر ثبوت عقائد میں اقوال ائمہ پیش کرتے ہیں اور یہ طریق اثبات تصانیف علمائے عظام میں موجود یا اس کے معنی یہ ہیں کہ عقائد کا علم یقینی مثل علم امر محقق ہونہ علم ظنی مثل علم مرد مقلد۔
الجواب:
جس طرح فقہ میں چار اصول ہیںکتاب سنتاجماعقیاسعقائد میں چار اصول ہیںکتابسنتسواد اعظم عقل صحیح تو جو ان میں ایك کے ذریعہ سے کسی مسئلہ عقائد کو جانتا ہے دلیل سے جانتا ہے نہ کہ بے دلیل محض تقلیدا اہل سنت ہی سواد اعظم اسلام ہیںتو ان پر حوالہ دلیل پر حوالہ ہے نہ کہ تقلید۔یوں ہی اقوال ائمہ سے استناد اسی معنی پر ہے کہ یہ اہلسنت کا مذہب ہے ولہذا ایك دو دس بیس علماء کبا ر ہی سہی اگر جمہور و سواد اعظم کے خلاف لکھیں گے اس
مجلس میلاد مبارك و قیام کا ثبوت ہزاروں بار دے دیااور اب اجمالا یہ ہے کہ ان کا ثبوت وہاں سے ہے جہاں سے وہابیہ کے کفر کا ثبوت آیا ہےواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۶۶: مسئولہ شفیع احمد فقیر قادری رضوی طالب علم مدرسہ منظر اسلام ۲۱ جمادی الاخری ۱۳۳۶ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ شرح عقائد عضدیہ للمحقق الدوانی رحمۃ اﷲ علیہ کے خطبہ میں ہے۔
یا من وفقنا لتحقیق العقائد الاسلامیۃ وعصمنا عن التقلید فی الاصول والفروع الکلامیۃ۔ اے وہ ذات جس نے ہمیں عقائد اسلامیہ کی تحقیق کی توفیق عطا فرمائی اور ہمیں اصول کلامیہ اور فروع کلامیہ میں تقلید سے بچایا۔
اور یہ بھی مشہور ہے:
لا تقلید فی الاعتقادیات۔ اعتقادیات میں تقلید نہیں۔(ت)
حضور اگر ایسا ہے تو جاہل کے لیے یہ کیوں ہے کہ جب اس کے سامنے کوئی عقیدہ پیش کیا جائے اور یہ نہ جانتا ہو تو کہے میرا وہ عقیدہ ہے جو اہل سنت کا ہے بلکہ کوئی جاہل بلکہ اکثر معمولی عالم اکثر عقائد کے استدلال نہیں جانتے اور ہم اکثر ثبوت عقائد میں اقوال ائمہ پیش کرتے ہیں اور یہ طریق اثبات تصانیف علمائے عظام میں موجود یا اس کے معنی یہ ہیں کہ عقائد کا علم یقینی مثل علم امر محقق ہونہ علم ظنی مثل علم مرد مقلد۔
الجواب:
جس طرح فقہ میں چار اصول ہیںکتاب سنتاجماعقیاسعقائد میں چار اصول ہیںکتابسنتسواد اعظم عقل صحیح تو جو ان میں ایك کے ذریعہ سے کسی مسئلہ عقائد کو جانتا ہے دلیل سے جانتا ہے نہ کہ بے دلیل محض تقلیدا اہل سنت ہی سواد اعظم اسلام ہیںتو ان پر حوالہ دلیل پر حوالہ ہے نہ کہ تقلید۔یوں ہی اقوال ائمہ سے استناد اسی معنی پر ہے کہ یہ اہلسنت کا مذہب ہے ولہذا ایك دو دس بیس علماء کبا ر ہی سہی اگر جمہور و سواد اعظم کے خلاف لکھیں گے اس
حوالہ / References
الدوانی علی العقائد العضدیہ خطبۃ الکتاب مطبع مجتبائی دہلی ص ۲
وقت ان کے اقوال پر نہ اعتماد جائز نہ استناد کہ اب یہ تقلید ہوگی اور وہ عقائد میں جائز نہیںاس دلیل اعنی سواد اعظم کی طرف ہدایت اﷲ و رسول جل و علا وصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی کمال رحمت ہےہر شخص کہاں قادر تھا کہ عقیدہ کتاب و سنت سے ثابت کرےعقل تو خود ہی سمعیات میں کافی نہیں ناچار عوام کو عقائد میں تقلید کرنی ہوتیلہذا یہ واضح روشن دلیل عطا فرمائی کہ سواد اعظم مسلمین جس عقیدہ پر ہو وہ حق ہے اس کی پہچان کچھ دشوار نہیںصحابہ کرام رضی اﷲ تعالی عنہم کے وقت میں تو کوئی بدمذہب تھا ہی نہیں اور بعد کو اگرچہ پیدا ہوئے مگر دنیا بھر کے سب بدمذہب ملا کر کبھی اہلسنت کی گنتی کو نہیں پہنچ سکےﷲ الحمد فقہ میں جس طرح اجماع اقوی الادلہ ہے کہ اجماع کے خلاف کا مجتہد کو بھی اختیار نہیں اگرچہ وہ اپنی رائے میں کتاب و سنت سے اس کا خلاف پاتا ہو یقینا سمجھا جائے گا کہ یا فہم کی خطا ہے یا یہ حکم منسوخ ہوچکا ہے اگرچہ مجتہد کو اس کا ناسخ نہ معلوم ہویونہی اجماع امت تو شے عظیم ہے سواد اعظم یعنی اہلسنت کا کسی مسئلہ عقائد پر اتفاق یہاں اقوی الادلہ ہے کتاب و سنت سے اس کا خلاف سمجھ میں آئے تو فہم کی غلطی ہےحق سواد اعظم کے ساتھ ہےاور ایك معنی پر یہاں اقوی الادلہ عقل ہے کہ اور دلائل کی حجیت بھی اسی سے ظاہر ہوئی ہے مگر محال ہے کہ سواد اعظم کا اتفاق کسی برہان صحیح عقلی کے خلاف ہویہ گنتی کے جملے ہیں مگر بحمدہ تعالی بہت نافع و سود مند فعضوا علیہابالنوا جذ(پس ان کو مضبوطی سے داڑھوں کے ساتھ پکڑلو۔ت)واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۶۷ تا ۷۱: از شہرمحلہ کنبوہ کوٹھی حامد حسین خاں صاحب رئیس مسئولہ شمشاد علی خان صاحب ۲۶ رجب ۱۳۳۶ھ
(۱)صحیح مسلم و دیگر صحاح میں بہ الفاظ مختلفہ و اتحاد مطلب یہ حدیث وارد ہے کہ آنحضرت صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا کہ امر اسلام ہمیشہ غالب رہے گا اور اس میں بارہ خلیفہ ہوں گے۔دریافت طلب یہ ہے کہ ان بارہ کے اسماء مبارك کیا ہیں
(۲)وہ خلفائے دوازدہ گانہ کل کے کل اخیار ہوں گے یا کہ بعض اچھے اور بعض برےاوراگر کہا جائے کہ سب ان میں اچھے نہ تھے بلکہ کچھ ایسے بھی تھے جو کہ خیر الناس نہیں کہے جاسکتےیہ تفصیل حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمائی ہے یا دیگرے علماء نے
(۳)وہ بارہ۱۲ خلفاء زیب دہ مسند خلافت ہوچکے یا یہ کہ ابھی کچھ باقی ہیں
(۴)چونکہ احادیث متعلقہ خلفاء اثنی عشر میں یہ مسئلہ وارد ہوا ہے کہ اسلام ختم نہ ہوگا تاوقتیکہ بارہ خلفاء پورے نہ ہو لیں اگر خلفاء دنیا میں رونق افزائے عالم ہو کر اپنی تعداد پوری کرچکے ہیں تو اب
مسئلہ ۶۷ تا ۷۱: از شہرمحلہ کنبوہ کوٹھی حامد حسین خاں صاحب رئیس مسئولہ شمشاد علی خان صاحب ۲۶ رجب ۱۳۳۶ھ
(۱)صحیح مسلم و دیگر صحاح میں بہ الفاظ مختلفہ و اتحاد مطلب یہ حدیث وارد ہے کہ آنحضرت صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا کہ امر اسلام ہمیشہ غالب رہے گا اور اس میں بارہ خلیفہ ہوں گے۔دریافت طلب یہ ہے کہ ان بارہ کے اسماء مبارك کیا ہیں
(۲)وہ خلفائے دوازدہ گانہ کل کے کل اخیار ہوں گے یا کہ بعض اچھے اور بعض برےاوراگر کہا جائے کہ سب ان میں اچھے نہ تھے بلکہ کچھ ایسے بھی تھے جو کہ خیر الناس نہیں کہے جاسکتےیہ تفصیل حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمائی ہے یا دیگرے علماء نے
(۳)وہ بارہ۱۲ خلفاء زیب دہ مسند خلافت ہوچکے یا یہ کہ ابھی کچھ باقی ہیں
(۴)چونکہ احادیث متعلقہ خلفاء اثنی عشر میں یہ مسئلہ وارد ہوا ہے کہ اسلام ختم نہ ہوگا تاوقتیکہ بارہ خلفاء پورے نہ ہو لیں اگر خلفاء دنیا میں رونق افزائے عالم ہو کر اپنی تعداد پوری کرچکے ہیں تو اب
حسب مفاد حدیث اسلام و اسلامیان دنیا میں باقی ہیں یا کیا
(۵)شرح فقہ اکبر ملا علی قاری کہ صفحہ ۸۲ یا کسی دوسرے صفحہ پربارہ خلفاء کے جو نام ظاہر کیے گئے ہیں وہ صحیح ہیں یا غلط
الجواب:
اصل یہ ہے کہ امور غیب میں اﷲ و رسول جل و علا و صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم جتنی بات بیان فرمائیں اتنی یقینا حق ہے اور جس قدر ذکر نہ فرمائیں اس کی طرف یقین کی راہ نہیں کہ غیب بے خدا و رسول کے بتائے معلوم نہیں ہوسکتا لہذا اس حدیث کے معنی میں زمانہ تابعین سے اشتباہ رہا۔مہلب نے فرمایا:
لم الق احدایقطع فی ھذاالحدیث بمعنی ۔ میں نے کوئی ایسا نہ پایا کہ اس حدیث کی کوئی مراد قطعی بتاتا۔
امام قاضی عیاض مالکی نے شرح صحیح مسلم میں بہت احتمالات بتا کر فرمایا:
وقد یحتمل وجوھا اخرواﷲ اعلم بمراد نبیہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ۔ یعنی اس کے سوا حدیث میں اور احتمال بھی نکل سکتے ہیں اور اﷲ اپنے نبی کی مراد خوب جانےجل و علا وصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔
امام ابن جوزی کشف المشکل میں لکھتے ہیں:
قد اطلت البحث عن معنی ھذاالحدیث وطلبتہ فی مظانہ وسألت عنہ فمارأیت احدا وقع علی المقصود بہ۔ میں نے مدتوں اس حدیث کے معنی کی تفتیش کی اور جہاں جہاں گمان تھا وہ کتابیں دیکھیں اپنے زمانے کے ائمہ سے سوال کئے مگر مراد متعین نہ ہوئی۔
اور ہو کیونکر کہ جس غیب کی اﷲ و رسول تفصیل نہ فرمائیں اس کی تفصیل قطعا کیونکر معلوم ہوہاں لوگ لگتے لگاتے ہیں جن میں سے کسی پر یقین نہیںالبتہ یہ معیار صحیح ہے کہ حدیث میں جو جو نشان ان بارہ خلفاء کے ارشاد ہوئے جس معنی میں نہ پائے جائیں باطل ہیں اور جس میں پائے جائیں وہ احتمالی
(۵)شرح فقہ اکبر ملا علی قاری کہ صفحہ ۸۲ یا کسی دوسرے صفحہ پربارہ خلفاء کے جو نام ظاہر کیے گئے ہیں وہ صحیح ہیں یا غلط
الجواب:
اصل یہ ہے کہ امور غیب میں اﷲ و رسول جل و علا و صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم جتنی بات بیان فرمائیں اتنی یقینا حق ہے اور جس قدر ذکر نہ فرمائیں اس کی طرف یقین کی راہ نہیں کہ غیب بے خدا و رسول کے بتائے معلوم نہیں ہوسکتا لہذا اس حدیث کے معنی میں زمانہ تابعین سے اشتباہ رہا۔مہلب نے فرمایا:
لم الق احدایقطع فی ھذاالحدیث بمعنی ۔ میں نے کوئی ایسا نہ پایا کہ اس حدیث کی کوئی مراد قطعی بتاتا۔
امام قاضی عیاض مالکی نے شرح صحیح مسلم میں بہت احتمالات بتا کر فرمایا:
وقد یحتمل وجوھا اخرواﷲ اعلم بمراد نبیہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ۔ یعنی اس کے سوا حدیث میں اور احتمال بھی نکل سکتے ہیں اور اﷲ اپنے نبی کی مراد خوب جانےجل و علا وصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔
امام ابن جوزی کشف المشکل میں لکھتے ہیں:
قد اطلت البحث عن معنی ھذاالحدیث وطلبتہ فی مظانہ وسألت عنہ فمارأیت احدا وقع علی المقصود بہ۔ میں نے مدتوں اس حدیث کے معنی کی تفتیش کی اور جہاں جہاں گمان تھا وہ کتابیں دیکھیں اپنے زمانے کے ائمہ سے سوال کئے مگر مراد متعین نہ ہوئی۔
اور ہو کیونکر کہ جس غیب کی اﷲ و رسول تفصیل نہ فرمائیں اس کی تفصیل قطعا کیونکر معلوم ہوہاں لوگ لگتے لگاتے ہیں جن میں سے کسی پر یقین نہیںالبتہ یہ معیار صحیح ہے کہ حدیث میں جو جو نشان ان بارہ خلفاء کے ارشاد ہوئے جس معنی میں نہ پائے جائیں باطل ہیں اور جس میں پائے جائیں وہ احتمالی
حوالہ / References
فتح الباری بحوالہ المھلب کتاب الاحکام تحت الحدیث ۷۲۲۲ و ۷۲۲۳ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۱۴/ ۱۸۱
شرح صحیح مسلم کتاب الامارۃ باب الناس تبع لقریش قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۱۱۹
کشف المشکل کتاب الاحکام باب الاستخلاف تحت الحدیث ۷۲۲۳ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۸/ ۲۹۵
شرح صحیح مسلم کتاب الامارۃ باب الناس تبع لقریش قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۱۱۹
کشف المشکل کتاب الاحکام باب الاستخلاف تحت الحدیث ۷۲۲۳ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۸/ ۲۹۵
طور پر مسلم ہوگا نہ کہ یقینیاحادیث باب میں ان کے نشان یہ ہیں۔
(۱)کلھم من قریش سب قریشی ہوں گے رواہ الشیخان۔
(۲)وہ سب بادشاہ ووالیان ملك ہوں گےصحیح مسلم میں ہے:
لایزال امرالناس ماضیا ماولھم اثنا عشر رجلا کلھم من قریش۔ خلافت اس وقت تك جاری رہے گی جب تك بارہ مرد (خلفاء)حکمران رہیں گے جو سب قریش میں سے ہوں گے۔(ت)
مسند احمد وبزار و صحیح مستدرك میں عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ سے بسند حسن ہے:
انہ سئل کم تملك ھذہ الامۃ من خلیفۃ فقال سألنا عنہا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فقال اثنا عشرۃ کعدۃ نقباء بنی اسرائیل۔ عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ سے سوال کیا گیا کہ کتنے خلفاء اس امت کے حکمران بنیں گے تو انہوں نے کہا کہ ہم نے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے پوچھا تھا۔آپ نے ارشاد فرمایا وہ بنی اسرائیل کے نقیبوں کی تعداد کے مطابق بارہ۱۲ ہوں گے۔(ت)
(۳)ان کے زمانے میں اسلام قوی ہوگا صحیح مسلم میں ہے:
لایزال الاسلام عزیزا الی اثنی عشر خلیفۃ کلھم من قریش ۔ بارہ خلفاء کی حکومت پوری ہونے تك اسلام غالب رہے گاوہ سب قریشی ہوں گے۔(ت)
(۴)ان کا زمانہ زمانہ صلاح ہوگابزارو طبرانی وابوجحیفہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے راوی:
لایزال امرامتی صالحا ۔ (بارہ۱۲ خلفاء کی خلافت تک)میری امت کا معاملہ درست رہے گا۔(ت)
(۱)کلھم من قریش سب قریشی ہوں گے رواہ الشیخان۔
(۲)وہ سب بادشاہ ووالیان ملك ہوں گےصحیح مسلم میں ہے:
لایزال امرالناس ماضیا ماولھم اثنا عشر رجلا کلھم من قریش۔ خلافت اس وقت تك جاری رہے گی جب تك بارہ مرد (خلفاء)حکمران رہیں گے جو سب قریش میں سے ہوں گے۔(ت)
مسند احمد وبزار و صحیح مستدرك میں عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ سے بسند حسن ہے:
انہ سئل کم تملك ھذہ الامۃ من خلیفۃ فقال سألنا عنہا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فقال اثنا عشرۃ کعدۃ نقباء بنی اسرائیل۔ عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ سے سوال کیا گیا کہ کتنے خلفاء اس امت کے حکمران بنیں گے تو انہوں نے کہا کہ ہم نے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے پوچھا تھا۔آپ نے ارشاد فرمایا وہ بنی اسرائیل کے نقیبوں کی تعداد کے مطابق بارہ۱۲ ہوں گے۔(ت)
(۳)ان کے زمانے میں اسلام قوی ہوگا صحیح مسلم میں ہے:
لایزال الاسلام عزیزا الی اثنی عشر خلیفۃ کلھم من قریش ۔ بارہ خلفاء کی حکومت پوری ہونے تك اسلام غالب رہے گاوہ سب قریشی ہوں گے۔(ت)
(۴)ان کا زمانہ زمانہ صلاح ہوگابزارو طبرانی وابوجحیفہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے راوی:
لایزال امرامتی صالحا ۔ (بارہ۱۲ خلفاء کی خلافت تک)میری امت کا معاملہ درست رہے گا۔(ت)
حوالہ / References
صحیح مسلم کتاب الامارۃ باب الناس تبع لقریش قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۱۱۹
صحیح مسلم کتاب الامارۃ باب الناس تبع لقریش قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۱۱۹
مسند احمد بن حنبل عن عبداﷲ بن مسعود المکتب الاسلامی بیروت ۱/ ۳۹۸،مجمع الزوائد بحوالہ بزار وغیرہ باب الخلفاء الاثنا عشر دارالکتاب بیروت ۵/ ۱۹۰
صحیح مسلم کتاب الامارۃ باب الناس تبع لقریش قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۱۱۹
؎ کنزالعمال بزمرطب وابن عساکر عون الخ حدیث ۳۳۸۴۹ موسسۃ الرسالۃ بیروت ۱۲/ ۳۲
صحیح مسلم کتاب الامارۃ باب الناس تبع لقریش قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۱۱۹
مسند احمد بن حنبل عن عبداﷲ بن مسعود المکتب الاسلامی بیروت ۱/ ۳۹۸،مجمع الزوائد بحوالہ بزار وغیرہ باب الخلفاء الاثنا عشر دارالکتاب بیروت ۵/ ۱۹۰
صحیح مسلم کتاب الامارۃ باب الناس تبع لقریش قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۱۱۹
؎ کنزالعمال بزمرطب وابن عساکر عون الخ حدیث ۳۳۸۴۹ موسسۃ الرسالۃ بیروت ۱۲/ ۳۲
(۵)ان پر اجتماع امت ہوگا یعنی اہل حل وعقد انہیں والیئ ملك و خلیفہ صدق مانیں گےسنن ابی داؤد میں ہے:
لایزال ھذاالدین قائماحتی یکون علیکم اثنا عشر خلیفۃ کلھم تجتمع علیہ الامۃ۔ یہ دین اس وقت تك قائم رہے گا جب تك تم پر بارہ خلفاء حاکم ہوںجن پر تمام امت متفق ہوگی۔(ت)
(۶ و ۷)وہ سب ہدایت و دین حق پر عمل کریں گے ان میں سے دو۲ اہلبیت رسالت سے ہوں گے۔استاذ امام بخاری و مسلم مسدد کی مسند کبیر میں ابوالجلد سے ہے:
انہ لاتھلك ھذہ الامۃ حتی یکون منہا اثنا عشر خلیفۃ کلھم یعمل بالھدی و دین الحقمنھم رجلان من اھل بیت محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ۔ بے شك یہ امت اس وقت تك ہلاك نہ ہوگی جب تك ان میں بارہ خلفاء حکمران ہوں گےوہ سب ہدایت و دین حق پر عمل کریں گے ان میں سے دو۲ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے اہلبیت میں سے ہوں گے۔(ت)
لگتے لگانے والوں میں جس نے سب طرق حدیث نہ دیکھے ایك آدھ طریق کو دیکھ کر کوئی احتمال نکال دیا جیسے ابوالحسین بن مناوی نے یہ معنی لیے کہ ایك وقت میں بارہ خلیفہ ہوں گے یعنی اس قدر اختلاف یہ فقط اس لفظ مجمل بخاری پر بن سکتا تھا اور الفاظ دیکھئے تو کہاں اس درجہ افتراق اور کہاں اجتماع اور ایسی حالت میں اسلام کے قوی و غالب و قائم اور امرامت کے صالح ہونے کے کیا معنی اس قبیل سے علی قاری کا یہ زعم باتباع ابن حجر شافعی ہے کہ صدیق اکبر رضی اﷲ تعالی عنہ سے آخرولاۃ بنی امیہ تك ۱۲ ہوئے اور ان میں یزید پلید علیہ ماعلیہ کو بھی گنادیا حالانکہ اس خبیث کے زمانہ کو قوت دین و صلاح سے کیا تعلقیہ احادیث دیکھ کر اس قول کی گنجائش نہ ہوتیمگر صرف ۱۲ سلطنتیں نگاہ میں تھا اور حق یہ کہ اس خبیث پر اجتماع اہل حل و عقد کب ہواریحانہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سیدنا امام حسین رضی اﷲ تعالی عنہ اس کے دست ناپاك پربیعت نہ کرنے ہی کے باعث شہید ہوئےاہل مدینہ نے اس پر خروج کیا۔عبدا ﷲ بن حنظلہ غسیل الملائکہ رضی اﷲ تعالی عنہ
لایزال ھذاالدین قائماحتی یکون علیکم اثنا عشر خلیفۃ کلھم تجتمع علیہ الامۃ۔ یہ دین اس وقت تك قائم رہے گا جب تك تم پر بارہ خلفاء حاکم ہوںجن پر تمام امت متفق ہوگی۔(ت)
(۶ و ۷)وہ سب ہدایت و دین حق پر عمل کریں گے ان میں سے دو۲ اہلبیت رسالت سے ہوں گے۔استاذ امام بخاری و مسلم مسدد کی مسند کبیر میں ابوالجلد سے ہے:
انہ لاتھلك ھذہ الامۃ حتی یکون منہا اثنا عشر خلیفۃ کلھم یعمل بالھدی و دین الحقمنھم رجلان من اھل بیت محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ۔ بے شك یہ امت اس وقت تك ہلاك نہ ہوگی جب تك ان میں بارہ خلفاء حکمران ہوں گےوہ سب ہدایت و دین حق پر عمل کریں گے ان میں سے دو۲ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے اہلبیت میں سے ہوں گے۔(ت)
لگتے لگانے والوں میں جس نے سب طرق حدیث نہ دیکھے ایك آدھ طریق کو دیکھ کر کوئی احتمال نکال دیا جیسے ابوالحسین بن مناوی نے یہ معنی لیے کہ ایك وقت میں بارہ خلیفہ ہوں گے یعنی اس قدر اختلاف یہ فقط اس لفظ مجمل بخاری پر بن سکتا تھا اور الفاظ دیکھئے تو کہاں اس درجہ افتراق اور کہاں اجتماع اور ایسی حالت میں اسلام کے قوی و غالب و قائم اور امرامت کے صالح ہونے کے کیا معنی اس قبیل سے علی قاری کا یہ زعم باتباع ابن حجر شافعی ہے کہ صدیق اکبر رضی اﷲ تعالی عنہ سے آخرولاۃ بنی امیہ تك ۱۲ ہوئے اور ان میں یزید پلید علیہ ماعلیہ کو بھی گنادیا حالانکہ اس خبیث کے زمانہ کو قوت دین و صلاح سے کیا تعلقیہ احادیث دیکھ کر اس قول کی گنجائش نہ ہوتیمگر صرف ۱۲ سلطنتیں نگاہ میں تھا اور حق یہ کہ اس خبیث پر اجتماع اہل حل و عقد کب ہواریحانہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سیدنا امام حسین رضی اﷲ تعالی عنہ اس کے دست ناپاك پربیعت نہ کرنے ہی کے باعث شہید ہوئےاہل مدینہ نے اس پر خروج کیا۔عبدا ﷲ بن حنظلہ غسیل الملائکہ رضی اﷲ تعالی عنہ
حوالہ / References
سنن ابی داود کتاب المھدی آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۲۳۲
فتح الباری بحوالہ مسدد فی مسندہ الکبیر تحت الحدیث ۷۲۲۲و ۷۲۲۳ دارالکتب العلمیہ بیروت ۴/ ۱۸۳
فتح الباری بحوالہ مسدد فی مسندہ الکبیر تحت الحدیث ۷۲۲۲و ۷۲۲۳ دارالکتب العلمیہ بیروت ۴/ ۱۸۳
نے فرمایا:
واﷲ ماخرجنا علی یزید حتی خفنا ان نرمی بالحجارۃ من السماء ان رجلا ینکح امھات الاولاد والبنات والاخوات ویشرب الخمر ویدع الصلوۃ ۔ خدا کی قسم ہم نے یزید پر خروج نہ کیا جب تك یہ خوف نہ ہوا کہ آسمان سے پتھر آئیںایسا شخص کہ بہن بیٹی کی آبروریزی کرے اور شراب پئے اور تارك الصلوۃ ہو۔(ت)
غرض جمیع طرق حدیث سے یہ قول باطل ہےحدیث میں کہیں نہیں کہ وہ سب بلافصل یکے بعد دیگرے ہوں گے۔ان میں سے آٹھ گزرگئے صدیق اکبرفاروق اعظمعثمان غنیعلی مرتضیحسن مجتبیامیر معویہعبداﷲ بن زبیرعمر بن عبدالعزیز اور ایك یقینا آنے والے ہیںحضرت امام مہدی رضی اﷲ تعالی عنہم اجمعین باقی تین کی تعیین اﷲ و رسول کے علم میں ہے عجب عجب ہزار عجب کہ ان میں عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ تعالی عنہما کہ صحابی ابن صحابی ہیںامام عادل ہیںرسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے بھتیجے ہیںصدیق اکبر رضی اﷲ تعالی عنہ کے نواسہ ہیںاحد العشرۃ المبشرہ کے صاحبزادے ہیں شمار نہ کیے جائیںاور وہ خبیث ناپاك معدود ہو جسے امیر المومنین کہنے پر امیر المومنین عمر بن عبدالعزیز رضی اﷲ تعالی عنہ نے ایك شخص کو بیس تازیانے لگائے۔نسأل اﷲ العفوو العافیۃ(ہم اﷲ تعالی سے معافی و عافیت طلب کرتے ہیں۔ت)عبداﷲ بن زبیر بھی درکنارخود امام مجتبی کو نہ گنا کہ ان کی خلافت کا زمانہ قلیل تھا اور ولید کو گنا جس نے قرآن عظیم کو دیوار میں لٹکا کر تیروں سے چھیدا۔ایسے بے سروپا بے معنی اقوال کی سند نہیں ہوتی بلکہ وہ ایك متاخر عالم کی خطائے رائے ہے عصمت انبیاء و ملائکہ علیہم الصلوۃ والسلام کے سوا کسی کے لیے نہیںنسأل اﷲ العفوو العافیۃ واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۷۲: مرسلہ موضع بہوبت پور ڈاکخانہ اتراؤں ضلع الہ آباد سائل امیر اﷲ قصاب
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك عالم صاحب قیام محفل میلاد شریف کو منع کرتے ہیں جو ہر وقت ذکر ولادت سیدالمرسلین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کیا جاتا ہے اور کہتے ہیں کہ اس کا ثبوت کہیں نہیں ہے ونیز یہ بھی کہتے ہیں کہ نام جب آتا ہے تو لوگ انگوٹھا چومتے ہیں اس کا بھی کہیں ثبوت نہیں یہ سب بیجا ہے اور گناہ ہےایسے عالم کے لیے کیا حکم ہے اور ان سے مرید ہونا اور انکے پیچھے نماز پڑھنا کیسا ہے اور یہ امور مذکورہ یعنی قیام اور بوسہ دینا انگوٹھے کا بروقت نام پاك آنے
واﷲ ماخرجنا علی یزید حتی خفنا ان نرمی بالحجارۃ من السماء ان رجلا ینکح امھات الاولاد والبنات والاخوات ویشرب الخمر ویدع الصلوۃ ۔ خدا کی قسم ہم نے یزید پر خروج نہ کیا جب تك یہ خوف نہ ہوا کہ آسمان سے پتھر آئیںایسا شخص کہ بہن بیٹی کی آبروریزی کرے اور شراب پئے اور تارك الصلوۃ ہو۔(ت)
غرض جمیع طرق حدیث سے یہ قول باطل ہےحدیث میں کہیں نہیں کہ وہ سب بلافصل یکے بعد دیگرے ہوں گے۔ان میں سے آٹھ گزرگئے صدیق اکبرفاروق اعظمعثمان غنیعلی مرتضیحسن مجتبیامیر معویہعبداﷲ بن زبیرعمر بن عبدالعزیز اور ایك یقینا آنے والے ہیںحضرت امام مہدی رضی اﷲ تعالی عنہم اجمعین باقی تین کی تعیین اﷲ و رسول کے علم میں ہے عجب عجب ہزار عجب کہ ان میں عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ تعالی عنہما کہ صحابی ابن صحابی ہیںامام عادل ہیںرسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے بھتیجے ہیںصدیق اکبر رضی اﷲ تعالی عنہ کے نواسہ ہیںاحد العشرۃ المبشرہ کے صاحبزادے ہیں شمار نہ کیے جائیںاور وہ خبیث ناپاك معدود ہو جسے امیر المومنین کہنے پر امیر المومنین عمر بن عبدالعزیز رضی اﷲ تعالی عنہ نے ایك شخص کو بیس تازیانے لگائے۔نسأل اﷲ العفوو العافیۃ(ہم اﷲ تعالی سے معافی و عافیت طلب کرتے ہیں۔ت)عبداﷲ بن زبیر بھی درکنارخود امام مجتبی کو نہ گنا کہ ان کی خلافت کا زمانہ قلیل تھا اور ولید کو گنا جس نے قرآن عظیم کو دیوار میں لٹکا کر تیروں سے چھیدا۔ایسے بے سروپا بے معنی اقوال کی سند نہیں ہوتی بلکہ وہ ایك متاخر عالم کی خطائے رائے ہے عصمت انبیاء و ملائکہ علیہم الصلوۃ والسلام کے سوا کسی کے لیے نہیںنسأل اﷲ العفوو العافیۃ واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۷۲: مرسلہ موضع بہوبت پور ڈاکخانہ اتراؤں ضلع الہ آباد سائل امیر اﷲ قصاب
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك عالم صاحب قیام محفل میلاد شریف کو منع کرتے ہیں جو ہر وقت ذکر ولادت سیدالمرسلین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کیا جاتا ہے اور کہتے ہیں کہ اس کا ثبوت کہیں نہیں ہے ونیز یہ بھی کہتے ہیں کہ نام جب آتا ہے تو لوگ انگوٹھا چومتے ہیں اس کا بھی کہیں ثبوت نہیں یہ سب بیجا ہے اور گناہ ہےایسے عالم کے لیے کیا حکم ہے اور ان سے مرید ہونا اور انکے پیچھے نماز پڑھنا کیسا ہے اور یہ امور مذکورہ یعنی قیام اور بوسہ دینا انگوٹھے کا بروقت نام پاك آنے
حوالہ / References
الصواعق المحرقۃ الخاتمہ فی بیان اعتقاد اہل السنۃ مکتبہ مجیدیہ ملتان ص ۲۲۱
صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کےکیا اس کا کہیں ثبوت ہے امید کہ قرآن وحدیث سے اس کا ثبوت دیا جائےیہاں پر سخت جھگڑا اس کی بابت ہےلہذا جواب جلد مرحمت ہو۔
الجواب:
ایسا شخص عالم نہیں ہوسکتا جسے اتنی تمیز نہ ہو کہ منع کرنے اور گناہ کہنے کو ثبوت منع درکار ہے جس چیز سے اﷲ تعالی اور رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے منع نہ فرمایا یہ منع کرنے والا کون اس کے لیے عدم ثبوت کافی جاننا سخت جہل شدید ہے ثبوت تو منع کا بھی نہیںتو اسی کے منہ ثابت ہوا کہ وہ اس ممانعت کے سبب گنہگار ہےآج کل ان چیزوں کے مانعین اکثر وہابی ہوتے ہیںاور وہابی بے دین ہیں ان کی بات سننا حرام ہےاور ایسے شخص کا مرید ہونا سخت اشد گناہ کبیرہ ہے اور اس کے پیچھے نماز باطل محض۔کما حققناہ فی النھی الاکید(جیسا کہ ہم نے(رسالہ) النہی الاکید میں اسکی تحقیق کی ہے۔ت)قیام کا ثبوت ہمارے رسالہ اقامۃ القیامہ میں ہےاور بوسہ انگشت میں ہماری مبسوط کتاب منیرالعین ہے جسے طبع ہوئے ۲۳ برس ہوئے واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۷۳: از شہر بانس منڈی دکان عزیز اﷲ مرسلہ کریم بخش چمڑہ فروش ۱۹ رمضان ۱۳۳۶ھ
زید نے کہا کہ جو شخص روزہ رکھے گا نماز پڑھے گا اور جتنے ارکان شرعی ہیں وہ سب ادا کرے گا وہ رسول مقبول صلی ﷲ تعالی علیہ وسلم کی امت میں ہے اور وہ بہشت میں جائے گا اور جو رسول مقبول صلی ﷲ تعالی علیہ وسلم کے برخلاف ہوگا وہ دوزخ میں جائے گا اور نہ اس کی بخشش ہے او ر نہ وہ امت میں ہے۔بکر نے کہا جو روزہ نہ رکھے نماز نہ پڑھے جتنے ارکان شرعی ہیں وہ سب نہ ادا کرے مگر کلمہ گوہو وہ بخشا جائے گا۔
الجواب:
دونوں قول گمراہی وضلالت ہیںپہلا قول خارجیوں کا ہے کہ مرتکب کبیرہ کو کافر کہتے ہیںدوسرا نیچریوں کا ہے کہ نری کلمہ گوئی کافی جانتے ہیںمسلمانان اہلسنت کا مذہب یہ ہے کہ جو ضروریات دین میں سے کسی شے کا منکر ہو یا عزوجل یا قرآن عظیم یا نبی صلی ﷲ تعالی علیہ وسلم یا کسی نبی یا ملك کی توہین کرے غرض کوئی قول یا فعل نافی و منافی ایمان وقطعا قاطع اسلام کرے وہ کافر ہے اگرچہ لاکھ کلمہ گو نمازی روزہ دار ہواور جو عقیدہ و دین میں مسلم سالم ہےاگر ایك
الجواب:
ایسا شخص عالم نہیں ہوسکتا جسے اتنی تمیز نہ ہو کہ منع کرنے اور گناہ کہنے کو ثبوت منع درکار ہے جس چیز سے اﷲ تعالی اور رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے منع نہ فرمایا یہ منع کرنے والا کون اس کے لیے عدم ثبوت کافی جاننا سخت جہل شدید ہے ثبوت تو منع کا بھی نہیںتو اسی کے منہ ثابت ہوا کہ وہ اس ممانعت کے سبب گنہگار ہےآج کل ان چیزوں کے مانعین اکثر وہابی ہوتے ہیںاور وہابی بے دین ہیں ان کی بات سننا حرام ہےاور ایسے شخص کا مرید ہونا سخت اشد گناہ کبیرہ ہے اور اس کے پیچھے نماز باطل محض۔کما حققناہ فی النھی الاکید(جیسا کہ ہم نے(رسالہ) النہی الاکید میں اسکی تحقیق کی ہے۔ت)قیام کا ثبوت ہمارے رسالہ اقامۃ القیامہ میں ہےاور بوسہ انگشت میں ہماری مبسوط کتاب منیرالعین ہے جسے طبع ہوئے ۲۳ برس ہوئے واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۷۳: از شہر بانس منڈی دکان عزیز اﷲ مرسلہ کریم بخش چمڑہ فروش ۱۹ رمضان ۱۳۳۶ھ
زید نے کہا کہ جو شخص روزہ رکھے گا نماز پڑھے گا اور جتنے ارکان شرعی ہیں وہ سب ادا کرے گا وہ رسول مقبول صلی ﷲ تعالی علیہ وسلم کی امت میں ہے اور وہ بہشت میں جائے گا اور جو رسول مقبول صلی ﷲ تعالی علیہ وسلم کے برخلاف ہوگا وہ دوزخ میں جائے گا اور نہ اس کی بخشش ہے او ر نہ وہ امت میں ہے۔بکر نے کہا جو روزہ نہ رکھے نماز نہ پڑھے جتنے ارکان شرعی ہیں وہ سب نہ ادا کرے مگر کلمہ گوہو وہ بخشا جائے گا۔
الجواب:
دونوں قول گمراہی وضلالت ہیںپہلا قول خارجیوں کا ہے کہ مرتکب کبیرہ کو کافر کہتے ہیںدوسرا نیچریوں کا ہے کہ نری کلمہ گوئی کافی جانتے ہیںمسلمانان اہلسنت کا مذہب یہ ہے کہ جو ضروریات دین میں سے کسی شے کا منکر ہو یا عزوجل یا قرآن عظیم یا نبی صلی ﷲ تعالی علیہ وسلم یا کسی نبی یا ملك کی توہین کرے غرض کوئی قول یا فعل نافی و منافی ایمان وقطعا قاطع اسلام کرے وہ کافر ہے اگرچہ لاکھ کلمہ گو نمازی روزہ دار ہواور جو عقیدہ و دین میں مسلم سالم ہےاگر ایك
وقت کی نماز قصدا یا ایك فرض روزہ عمدا ترك کرے یا کسی گناہ کا مرتکب ہو اﷲ عزوجل چاہے تو اس پر عذاب کرے اور یہ اس کا عدل ہے چاہے بخش دے اور یہ اس کا فضل ہے۔
" ان اللہ لا یغفر ان یشرک بہ ویغفر ما دون ذلک لمن یشاء " ۔ بے شك اﷲ تعالی اسے نہیں بخشتا کہ اس کا کوئی شریك ٹھہرایا جائے اور اس سے نیچے جو کچھ ہے جسے چاہے معاف فرمادیتا ہے۔(ت)واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۷۴: ازاردہ نگلہ ڈاك خانہ اچھنیرہ ضلع آگرہ مرسلہ صادق علی خان صاحب ۲۸ شوال ۱۳۳۶ھ
زید کا یہ عقیدہ ہے کہ اﷲ تعالی ذات پاك رسول مقبول صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کی برابر پیدا کرسکتا ہے مگر بموجب اپنے وعدہ کے پیدا نہیں کرے گا۔زید کا امام نماز ہونا محققین علماء کے نزدیك درست ہے یا نہیں
الجواب:
حضور اقدس صلی ﷲ تعالی علیہ وسلم کے بہت فضائل جلیلہ وخصائص کریمہ ناقابل اشتراك ہیں جیسے افضل الانبیاء خاتم النبیینسید المرسلیناول خلق اﷲافضل خلق اﷲاول شافعاول مشفعنبی الانبیاء صلی ﷲ تعالی علیہ وسلم۔اگر اس وقت اس طرف قائل کا ذہن نہ گیا محض عموم قدرت پیش نظر تھا اسے تفہیم کی جائےاگر تابع حق وطالب حق ہوگا ضرور سمجھ جائے گا۔اور اپنی غلطی سے باز آئے گا۔اور اگر باوصف تفیہم عناد و استکبار و لداد و اصرار کرے تو ضرور بذمذہب ہےاسے امام بنانا ہر گز جائز نہیں اور اس کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی کہ پڑھنی گناہ اور پھیرنی واجبیہ بھی اس وقت ہے کہ قول مذکور بعلت وہابیت نہ ہوورنہ اب دیوبندیوں نے وہابیہ میں اسلام کا نام نہ رکھا جو ان کے مثل اﷲ ورسول کی شدید واضح و قابل تاویل توہینیں کرتے ہیں خود کافر ہیںورنہ اتنا ضرور ہے کہ ان توہینوں کے کرنے والوں کو کافر نہیں کہتے یہ ان کے صدقے میں کافر ہوئے علمائے حرمین شریفین دیوبندیوں کی نسبت تحریر فرماچکے کہ من شك فی کفرہ فقد کفر۔ جو ان کے کفر
" ان اللہ لا یغفر ان یشرک بہ ویغفر ما دون ذلک لمن یشاء " ۔ بے شك اﷲ تعالی اسے نہیں بخشتا کہ اس کا کوئی شریك ٹھہرایا جائے اور اس سے نیچے جو کچھ ہے جسے چاہے معاف فرمادیتا ہے۔(ت)واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۷۴: ازاردہ نگلہ ڈاك خانہ اچھنیرہ ضلع آگرہ مرسلہ صادق علی خان صاحب ۲۸ شوال ۱۳۳۶ھ
زید کا یہ عقیدہ ہے کہ اﷲ تعالی ذات پاك رسول مقبول صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کی برابر پیدا کرسکتا ہے مگر بموجب اپنے وعدہ کے پیدا نہیں کرے گا۔زید کا امام نماز ہونا محققین علماء کے نزدیك درست ہے یا نہیں
الجواب:
حضور اقدس صلی ﷲ تعالی علیہ وسلم کے بہت فضائل جلیلہ وخصائص کریمہ ناقابل اشتراك ہیں جیسے افضل الانبیاء خاتم النبیینسید المرسلیناول خلق اﷲافضل خلق اﷲاول شافعاول مشفعنبی الانبیاء صلی ﷲ تعالی علیہ وسلم۔اگر اس وقت اس طرف قائل کا ذہن نہ گیا محض عموم قدرت پیش نظر تھا اسے تفہیم کی جائےاگر تابع حق وطالب حق ہوگا ضرور سمجھ جائے گا۔اور اپنی غلطی سے باز آئے گا۔اور اگر باوصف تفیہم عناد و استکبار و لداد و اصرار کرے تو ضرور بذمذہب ہےاسے امام بنانا ہر گز جائز نہیں اور اس کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی کہ پڑھنی گناہ اور پھیرنی واجبیہ بھی اس وقت ہے کہ قول مذکور بعلت وہابیت نہ ہوورنہ اب دیوبندیوں نے وہابیہ میں اسلام کا نام نہ رکھا جو ان کے مثل اﷲ ورسول کی شدید واضح و قابل تاویل توہینیں کرتے ہیں خود کافر ہیںورنہ اتنا ضرور ہے کہ ان توہینوں کے کرنے والوں کو کافر نہیں کہتے یہ ان کے صدقے میں کافر ہوئے علمائے حرمین شریفین دیوبندیوں کی نسبت تحریر فرماچکے کہ من شك فی کفرہ فقد کفر۔ جو ان کے کفر
حوالہ / References
القرآن الکریم ۴ /۴۸ و ۴ / ۱۱۶
میں شك کرے وہ خود کافر ہے۔والعیاذ باﷲ تعالی(اﷲ بچائے۔ت)واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۷۵: از کلکتہ ڈاك خانہ بالی گنج کڑایاوڈ نمبر۱۰۱ مسؤلہ فیض محمد تاجر دربازار مستری ہادی مرحوم۔
حضور قطب الاقطاب سیدنا ومولانا محبوب سبحانی غوث الصمدانی رحمۃ اﷲ علیہ نے جو اپنے رسالہ غنیۃ الطالبین میں مذہب حنفیہ کو گمراہ فرقہ میں مندرج فرمایا ہے اس کو اچھی طرح سے حضور واضح فرما کر تسکین و تشفی بخشیں کہ وسوسہ و خطرات نفسانی و شیطانی رفع ہوجائیںعبدالعظیم نامی ضلع غازیپور کے باشندے نے ایك رسالہ تصنیف کیا ہے جس میں رسالہ تقویۃ الایمان عرف تفویۃ الایمان کے مضمون کو مکتوبات مخدوم الملك رحمۃ اﷲ علیہ و مجدد الف ثانی رحمۃ اﷲ علیہ اور بھی بزرگان دین کے مکتوبات سے دکھلایا ہے وثابت کیا ہے کہ ان بزرگوں نے اپنے مکتوبات میں تقویۃ الایمان سے بھی سخت سخت الفاظ نام بنام لکھاہے کہ اﷲ چاہے تو فلاں کو مردود کردے و فرعون و نمرود کو چاہے مقبول کرےسینکڑوں کعبہ تیار کردے وغیرہ وغیرہ۔
اب خاکسار عرض کرتا ہے کہ یا تو کوئی رسالہ ان کے جواب میں شائع فرمایا ہو تو بذریعہ ریلوے ڈاك پارسل ارسال ہو یا واضح خلاصہ جواب ارقام ہو والسلام مع الاکرام۔
غنیۃ الطالبین کے مضامین سے زیادہ اس لیے انتشار ہے کہ دونوں حضرات سے تعلق و رشتہ و ایمان و ایقان کا سلسلہ ملحق ہےحنفی اگر مذہب ہے تو قادری مشرب ہےاب ذرا بھی ان دونوں پیشوا کی طرف سے ریب و شك دامنگیر ہوا کہ بہت بڑا حملہ ایمان پر ہونے کا خوف و ڈر ہےﷲ میرے حال زار پر رحم فرمائیں اس وقت میرے لیے بہت بڑا امتحان مدنظر ہے۔زیادہ حد ادب۔
الجواب:
بسم اﷲ الرحمن الرحیم ط
نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم ط
مکرم کرم فرما اکرمکم اﷲ تعالی وعلیکم السلام ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ
اولا: کتاب غنیۃ الطالبین شریف کی نسبت حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اﷲ علیہ کا تو یہ خیال ہے کہ وہ سرے سے حضور پرنور سیدنا غوث اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ کی تصنیف ہی نہیں مگر یہ نفی مجرد ہے۔اور امام حجر مکی رحمۃ اﷲ علیہ نے تصریح فرمائی کہ اس کتاب میں بعض مستحقین عذاب نے الحاق کردیا ہےفتاوی حدیثیہ میں فرماتے ہیں:
وایاك ان تغتربما وقع یعنی خبردار دھوکا نہ کھاناا اس سے جو امام الاولیاء
مسئلہ ۷۵: از کلکتہ ڈاك خانہ بالی گنج کڑایاوڈ نمبر۱۰۱ مسؤلہ فیض محمد تاجر دربازار مستری ہادی مرحوم۔
حضور قطب الاقطاب سیدنا ومولانا محبوب سبحانی غوث الصمدانی رحمۃ اﷲ علیہ نے جو اپنے رسالہ غنیۃ الطالبین میں مذہب حنفیہ کو گمراہ فرقہ میں مندرج فرمایا ہے اس کو اچھی طرح سے حضور واضح فرما کر تسکین و تشفی بخشیں کہ وسوسہ و خطرات نفسانی و شیطانی رفع ہوجائیںعبدالعظیم نامی ضلع غازیپور کے باشندے نے ایك رسالہ تصنیف کیا ہے جس میں رسالہ تقویۃ الایمان عرف تفویۃ الایمان کے مضمون کو مکتوبات مخدوم الملك رحمۃ اﷲ علیہ و مجدد الف ثانی رحمۃ اﷲ علیہ اور بھی بزرگان دین کے مکتوبات سے دکھلایا ہے وثابت کیا ہے کہ ان بزرگوں نے اپنے مکتوبات میں تقویۃ الایمان سے بھی سخت سخت الفاظ نام بنام لکھاہے کہ اﷲ چاہے تو فلاں کو مردود کردے و فرعون و نمرود کو چاہے مقبول کرےسینکڑوں کعبہ تیار کردے وغیرہ وغیرہ۔
اب خاکسار عرض کرتا ہے کہ یا تو کوئی رسالہ ان کے جواب میں شائع فرمایا ہو تو بذریعہ ریلوے ڈاك پارسل ارسال ہو یا واضح خلاصہ جواب ارقام ہو والسلام مع الاکرام۔
غنیۃ الطالبین کے مضامین سے زیادہ اس لیے انتشار ہے کہ دونوں حضرات سے تعلق و رشتہ و ایمان و ایقان کا سلسلہ ملحق ہےحنفی اگر مذہب ہے تو قادری مشرب ہےاب ذرا بھی ان دونوں پیشوا کی طرف سے ریب و شك دامنگیر ہوا کہ بہت بڑا حملہ ایمان پر ہونے کا خوف و ڈر ہےﷲ میرے حال زار پر رحم فرمائیں اس وقت میرے لیے بہت بڑا امتحان مدنظر ہے۔زیادہ حد ادب۔
الجواب:
بسم اﷲ الرحمن الرحیم ط
نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم ط
مکرم کرم فرما اکرمکم اﷲ تعالی وعلیکم السلام ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ
اولا: کتاب غنیۃ الطالبین شریف کی نسبت حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اﷲ علیہ کا تو یہ خیال ہے کہ وہ سرے سے حضور پرنور سیدنا غوث اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ کی تصنیف ہی نہیں مگر یہ نفی مجرد ہے۔اور امام حجر مکی رحمۃ اﷲ علیہ نے تصریح فرمائی کہ اس کتاب میں بعض مستحقین عذاب نے الحاق کردیا ہےفتاوی حدیثیہ میں فرماتے ہیں:
وایاك ان تغتربما وقع یعنی خبردار دھوکا نہ کھاناا اس سے جو امام الاولیاء
فی الغنیۃ لامام العارفین و قطب الاسلام والمسلمین الاستاذ عبدالقادر الجیلانی رضی اﷲ تعالی عنہ فانہ دسہ علیہ فیہا من سینتقم اﷲ منہ والا فہو برئ من ذلك ۔ سردار اسلام و مسلمین حضور سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اﷲ تعالی عنہ کی غنیہ میں واقع ہوا کہ اس کتاب میں اسے حضور پر افتراء کرکے ایسے شخص نے بڑھا دیا ہے کہ عنقریب اﷲ عزوجل اس سے بدلہ لے گاحضرت شیخ رضی اﷲ تعالی عنہ اس سے بری ہیں۔
ثانیا اسی کتاب میں تمام اشعریہ یعنی اہلسنت و جماعت کو بدعتیگمراہگمراہ گر لکھا ہے کہ:
خلاف ماقالت الاشعریۃ من ان کلام اﷲ معنی قائم بنفسہ واﷲ حسیب کل مبتدع ضال مضل۔ بخلاف اس کے جو اشاعرہ نے کہا کہ اﷲ تعالی کا کلام ایسا معنی ہے جو اس کی ذات کے ساتھ قائم ہے اور اﷲ تعالی ہر بدعتیگمراہ و گمراہ گر کے لیے کافی ہے۔(ت)
کیا کوئی ذی انصاف کہہ سکتا ہے کہ معاذ اﷲ یہ سرکار غوثیت کا ارشاد ہے جس کتاب میں تمام اہلسنت کو بدعتیگمراہ گمراہ گر لکھا ہے اس میں حنفیہ کی نسبت کچھ ہو تو کیا جائے شکایت ہے۔لہذا کوئی محل تشویش نہیں۔
ثالثا: پھر یہ خود صریح غلط اور افترا بر افترا ہے کہ تمام حنفیہ کو ایسا لکھا ہے غنیۃ الطالبین کے یہاں صریح لفظ یہ ہیں کہ:
ھم بعض اصحاب ابی حنیفۃ ۔ وہ بعض حنفی ہیں۔
اس نے نہ حنفیہ پر الزام آسکتا ہے نہ معا ذا ﷲ حنفیت پرآخر یہ تو قطعا معلوم ہے اور سب جانتے ہیں کہ حنفیہ میں بعض معتزلی تھےجیسے زمخشری صاحب کشاف و عبدالجبار و مطرزی صاحب مغرب و زاہدی صاحب قینہ و حاوی و مجتبےپھر اس سے حنفیت و حنفیہ پر کیا الزام آیا۔بعض شافعیہ زیدی رافضی ہیں اس سے شافعیہ و شافعیت پر کیا الزام آیا۔نجد کے وہابی سب حنبلی ہیں پھر
ثانیا اسی کتاب میں تمام اشعریہ یعنی اہلسنت و جماعت کو بدعتیگمراہگمراہ گر لکھا ہے کہ:
خلاف ماقالت الاشعریۃ من ان کلام اﷲ معنی قائم بنفسہ واﷲ حسیب کل مبتدع ضال مضل۔ بخلاف اس کے جو اشاعرہ نے کہا کہ اﷲ تعالی کا کلام ایسا معنی ہے جو اس کی ذات کے ساتھ قائم ہے اور اﷲ تعالی ہر بدعتیگمراہ و گمراہ گر کے لیے کافی ہے۔(ت)
کیا کوئی ذی انصاف کہہ سکتا ہے کہ معاذ اﷲ یہ سرکار غوثیت کا ارشاد ہے جس کتاب میں تمام اہلسنت کو بدعتیگمراہ گمراہ گر لکھا ہے اس میں حنفیہ کی نسبت کچھ ہو تو کیا جائے شکایت ہے۔لہذا کوئی محل تشویش نہیں۔
ثالثا: پھر یہ خود صریح غلط اور افترا بر افترا ہے کہ تمام حنفیہ کو ایسا لکھا ہے غنیۃ الطالبین کے یہاں صریح لفظ یہ ہیں کہ:
ھم بعض اصحاب ابی حنیفۃ ۔ وہ بعض حنفی ہیں۔
اس نے نہ حنفیہ پر الزام آسکتا ہے نہ معا ذا ﷲ حنفیت پرآخر یہ تو قطعا معلوم ہے اور سب جانتے ہیں کہ حنفیہ میں بعض معتزلی تھےجیسے زمخشری صاحب کشاف و عبدالجبار و مطرزی صاحب مغرب و زاہدی صاحب قینہ و حاوی و مجتبےپھر اس سے حنفیت و حنفیہ پر کیا الزام آیا۔بعض شافعیہ زیدی رافضی ہیں اس سے شافعیہ و شافعیت پر کیا الزام آیا۔نجد کے وہابی سب حنبلی ہیں پھر
حوالہ / References
الفتاوی الحدیثیۃ مطلب ان مافی الغنیۃ للشیخ عبدالقادر مطبعۃ الجمالیہ مصر ص ۱۴۸
الغنیۃ لطالبی طریق الحق فصل فی اعتقاد ان القرآن حروف مفہومۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۹۱
الغنیۃ لطالبی طریق الحق فصل واما الجہمیۃ الخ ادارہ نشرو اشاعت علوم اسلامیہ پشاور ۱/ ۹۱
الغنیۃ لطالبی طریق الحق فصل فی اعتقاد ان القرآن حروف مفہومۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۹۱
الغنیۃ لطالبی طریق الحق فصل واما الجہمیۃ الخ ادارہ نشرو اشاعت علوم اسلامیہ پشاور ۱/ ۹۱
اس سے حنبلیہ و حنبلیت پر کیا الزام آیاجانے دو رافضی خارجی معتزلی وہابی سب اسلام ہی میں نکلے اور اسلام کے مدعی ہوئے پھر معاذ اﷲ اس سے اسلام و مسلمین پر کیا الزام آیا۔
رابعا: کتاب مستطاب بھجۃ الاسرار میں بسند صحیح حضرت ابوالتقی محمد بن ازہرصریفینی سے ہے مجھے رجال الغیب کے دیکھنے کی تمنا بھی مزار پاك امام احمد رضی اﷲ تعالی عنہ کے حضور ایك مرد کو دیکھا دل میں آیا کہ مردان غیب سے ہیں وہ زیارت سے فارغ ہو کر چلے یہ پیچھے ہوئے ان کے لیے دریائے دجلہ کا پاٹ سمٹ کر ایك قدم بھر کا رہ گیا کہ وہ پاؤں رکھ کر اس پار ہوگئے انہوں نے قسم دے کر روکا اور ان کا مذہب پوچھافرمایا:
حنفی مسلم وما انا من المشرکین۔ ہر باطل سے الگ مسلماناور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں(ت)
یہ سمجھے کہ حنفی ہیںحضور سیدنا غوث اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ کی بارگاہ میں عرض کے لیے حاضر ہوئے حضور اندر ہیں دروازہ بند ہے ان کے پہنچتے ہی حضور نے اندر سے ارشاد فرمایا:اے محمد ! آج روئے زمین پر اس شان کا کوئی ولی حنفی المذہب نہیں ۔
کیا معاذ اﷲ گمراہ بدمذہب لوگ اولیاء اﷲ ہوتے ہیں جن کی ولایت کی خود سرکار غوثیت نے شہادت دیوہ وہابی رسالہ نظر سے نہ گزرایہاں چند امور واجب اللحاظ ہیں۔
اولا وہ کلمات جو ان کتب سے مخالف نے نقل کیے اسمعیل دہلوی کے کلمات ملعونہ کے مثل ہوں ورنہ استشہاد مردودیہاں یہ نکتہ بھی یاد رہے کہ بعض متحمل لفظ جب کسی مقبول سے صادر ہوں بحکم قرآن انہیں معنی حسن پر حمل کریں گےاور جب کسی مردود سے صادر ہوں جو صریح تو ہینیں کرچکا ہو تو اس کی خبیث عادت کی بنا پر معنی خبیث ہی مفہوم ہوں گے کہ:
کل اناء یترشح بما فیہ صرح بہ الامام ابن حجر المکی رحمۃ اﷲ تعالی۔ ہر برتن سے وہی کچھ باہر آتا ہے جوا س کے اندر ہوتا ہےامام حجر مکی رحمۃ اﷲ علیہ نے اس کی تصریح فرمائی ہے۔(ت)
ثانیا:وہ کتاب محفوظ مصؤن ہونا ثابت ہو جس میں کسی دشمن دین کے الحاق کا احتمال نہ ہو جیسے ابھی غنیۃ الطالبین شریف میں الحاق ہونا بیان ہوایونہی امام حجۃ الاسلام غزالی کے کلام
رابعا: کتاب مستطاب بھجۃ الاسرار میں بسند صحیح حضرت ابوالتقی محمد بن ازہرصریفینی سے ہے مجھے رجال الغیب کے دیکھنے کی تمنا بھی مزار پاك امام احمد رضی اﷲ تعالی عنہ کے حضور ایك مرد کو دیکھا دل میں آیا کہ مردان غیب سے ہیں وہ زیارت سے فارغ ہو کر چلے یہ پیچھے ہوئے ان کے لیے دریائے دجلہ کا پاٹ سمٹ کر ایك قدم بھر کا رہ گیا کہ وہ پاؤں رکھ کر اس پار ہوگئے انہوں نے قسم دے کر روکا اور ان کا مذہب پوچھافرمایا:
حنفی مسلم وما انا من المشرکین۔ ہر باطل سے الگ مسلماناور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں(ت)
یہ سمجھے کہ حنفی ہیںحضور سیدنا غوث اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ کی بارگاہ میں عرض کے لیے حاضر ہوئے حضور اندر ہیں دروازہ بند ہے ان کے پہنچتے ہی حضور نے اندر سے ارشاد فرمایا:اے محمد ! آج روئے زمین پر اس شان کا کوئی ولی حنفی المذہب نہیں ۔
کیا معاذ اﷲ گمراہ بدمذہب لوگ اولیاء اﷲ ہوتے ہیں جن کی ولایت کی خود سرکار غوثیت نے شہادت دیوہ وہابی رسالہ نظر سے نہ گزرایہاں چند امور واجب اللحاظ ہیں۔
اولا وہ کلمات جو ان کتب سے مخالف نے نقل کیے اسمعیل دہلوی کے کلمات ملعونہ کے مثل ہوں ورنہ استشہاد مردودیہاں یہ نکتہ بھی یاد رہے کہ بعض متحمل لفظ جب کسی مقبول سے صادر ہوں بحکم قرآن انہیں معنی حسن پر حمل کریں گےاور جب کسی مردود سے صادر ہوں جو صریح تو ہینیں کرچکا ہو تو اس کی خبیث عادت کی بنا پر معنی خبیث ہی مفہوم ہوں گے کہ:
کل اناء یترشح بما فیہ صرح بہ الامام ابن حجر المکی رحمۃ اﷲ تعالی۔ ہر برتن سے وہی کچھ باہر آتا ہے جوا س کے اندر ہوتا ہےامام حجر مکی رحمۃ اﷲ علیہ نے اس کی تصریح فرمائی ہے۔(ت)
ثانیا:وہ کتاب محفوظ مصؤن ہونا ثابت ہو جس میں کسی دشمن دین کے الحاق کا احتمال نہ ہو جیسے ابھی غنیۃ الطالبین شریف میں الحاق ہونا بیان ہوایونہی امام حجۃ الاسلام غزالی کے کلام
حوالہ / References
بہجۃ الاسرار ذکر فصول من کلامہ مرصعا بشیئ من عجائب احوالہ مختصرا دارالکتب العلمیہ بیروت ص ۱۵۲
میں الحاق ہوئے اور حضرت شیخ اکبر کے کلام میں تو الحاقات کا شمار نہیں جن کا شافی بیان امام عبدالوہاب شعرانی نے کتاب الیواقیت والجواہر میں فرمایا او ر فرمایا کہ خود میری زندگی میں میری کتاب میں حاسدوں نے الحاقات کیےاسی طرح حضرت حکیم سنائی و حضرت خواجہ حافظ و غیرہما اکابر کے کلام میں الحاقات ہونا شاہ عبدالعزیز صاحب نے تحفہ اثناء عشریہ میں بیان فرمایاکسی الماری میں کوئی قلمی کتاب ملے اس میں کچھ عبارت ملنی دلیل شرعی نہیں کہ بے کم و بیش مصنف کی ہے پھر اس قلمی نسخہ سے چھاپا کریں تو مطبوعہ نسخوں کی کثرت کثرت نہ ہوگی اور ان کی اصل وہی مجہول قلمی ہے جیسے فتوحات مکیہ کے مطبوعہ نسخے۔
ثالثا:اگر بہ سند ہی ثابت ہو تو تو اترو تحقیق درکار امام حجۃ الاسلام غزالی وغیرہ اکابر فرماتے ہیں:
لاتجوز نسبۃ مسلم الی کبیرۃ من غیر تحقیقنعم یجوز ان یقال قتل ابن ملجم علیا فان ذلك ثبت متواترا۔ بلا تحقیق مسلمان کی طرف گنا ہ کبیرہ کی نسبت کرنا جائز نہیں ہاں یوں کہنا جائز ہے کہ ابن ملجم نے حضرت علی رضی اﷲ تعالی عنہ کو قتل کیاکیونکہ یہ خبر متواتر سے ثابت ہے۔(ت)
جب بے تحقیق تام عام مسلمان کلمہ گو کی طرف گناہ کی نسبت ناجائز ہے تو اولیاء کرام کی طرف معاذ اﷲ کلمہ کفر کی نسبت بلا ثبوت قطعی کیسے حلال ہوسکتی ہے۔
رابعا:سب فرض کرلیں تو اب وہابی کے جواب کا حاصل یہ ہوگا کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی توہین بری نہیں کہ فلاں فلاں نے بھی کی ہے کیا یہ جواب کوئی مسلمان دے سکتا ہےبفرض غلط توہین جس سے ثابت ہو وہ ہی مقبول نہ ہوگا نہ یہ کہ معاذ اﷲ اس کے سب توہین مقبول ہوجائے۔
ولا حول ولاقوۃ الا باﷲ العلی العظیم واﷲ تعالی اعلم۔ نہ گناہ سے بچنے کی طاقت ہے اور نہ ہی نیکی کرنے کی قوت مگر بلند وعظمت والے اﷲ کی توفیق سےواﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۷۶ تا ۷۸: مرسلہ محمد عبدالواحد خان صاحب بمبئی اسلامپورہ ۱۴ ربیع الاول شریف ۱۳۳۵ھ
(۱)لامھدی الاعیسی(حضرت عیسی علیہ السلام کے سوا کوئی مہدی نہیں۔ت)کے متعلق کیا رائے ہے
ثالثا:اگر بہ سند ہی ثابت ہو تو تو اترو تحقیق درکار امام حجۃ الاسلام غزالی وغیرہ اکابر فرماتے ہیں:
لاتجوز نسبۃ مسلم الی کبیرۃ من غیر تحقیقنعم یجوز ان یقال قتل ابن ملجم علیا فان ذلك ثبت متواترا۔ بلا تحقیق مسلمان کی طرف گنا ہ کبیرہ کی نسبت کرنا جائز نہیں ہاں یوں کہنا جائز ہے کہ ابن ملجم نے حضرت علی رضی اﷲ تعالی عنہ کو قتل کیاکیونکہ یہ خبر متواتر سے ثابت ہے۔(ت)
جب بے تحقیق تام عام مسلمان کلمہ گو کی طرف گناہ کی نسبت ناجائز ہے تو اولیاء کرام کی طرف معاذ اﷲ کلمہ کفر کی نسبت بلا ثبوت قطعی کیسے حلال ہوسکتی ہے۔
رابعا:سب فرض کرلیں تو اب وہابی کے جواب کا حاصل یہ ہوگا کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی توہین بری نہیں کہ فلاں فلاں نے بھی کی ہے کیا یہ جواب کوئی مسلمان دے سکتا ہےبفرض غلط توہین جس سے ثابت ہو وہ ہی مقبول نہ ہوگا نہ یہ کہ معاذ اﷲ اس کے سب توہین مقبول ہوجائے۔
ولا حول ولاقوۃ الا باﷲ العلی العظیم واﷲ تعالی اعلم۔ نہ گناہ سے بچنے کی طاقت ہے اور نہ ہی نیکی کرنے کی قوت مگر بلند وعظمت والے اﷲ کی توفیق سےواﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۷۶ تا ۷۸: مرسلہ محمد عبدالواحد خان صاحب بمبئی اسلامپورہ ۱۴ ربیع الاول شریف ۱۳۳۵ھ
(۱)لامھدی الاعیسی(حضرت عیسی علیہ السلام کے سوا کوئی مہدی نہیں۔ت)کے متعلق کیا رائے ہے
حوالہ / References
احیاء العلوم کتاب آفات اللسان الافۃ الثامنۃ اللعن مطبعۃ المشہد الحسینی القاھرہ ۳/ ۱۲۵
(۲)حضرت مہدی و عیسی کے متعلق کس قدر حدیثیں وارد ہیں
(۳)قرآن شریف کی کن کن آیتوں سے ان کا رد ہوسکتا ہے
الجواب:
(۱) یہ حدیث صحیح نہیںاور بفرض صحت از قبیل:
لاوجع الاوجع العین ولاھم الا ھم الدین ولا فتی الاعلی ولا سیف الاذوالفقار۔ آنکھ کے درد کے سوا کوئی درد نہیںدین کے غم کے سوا کوئی غم نہیںحضرت علی المرتضی کرم اﷲ وجہہ کے سوا کوئی سخی نہیں اور ذو الفقار کے سوا کوئی تلوار نہیں(ت)
کے قبیل سے ہے۔
(۲)حضرت مہدی و عیسی کے بارے میں احادیث حد تواتر کو پہنچی ہیں یہاں تك کہ ائمہ دین نے ان کا نزول اور انکا ظہور عقائد میں داخل فرمایا۔
(۳)قرآن عظیم کی جتنی آیتیں تعظیم انبیاء علیہم السلام کا حکم دیتی ہیں ان کی تکذیب پر تکفیر فرماتی ہیںمعجزات سیدنا عیسی علیہ الصلوۃ والسلام گناتی ہیںانکی نبوت و رسالت کی شہادت دیتی ہیںنبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو خاتم النبین بتاتی ہیں جھوٹے مدعی نبوت پر لعنت فرماتی ہیںوہ سب قادیانی کے رد ہیںواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۷۹: مرسلہ عبدالجبار خاں طیب دھام پور ضلع بجنور ۲۷ ربیع الاول شریف ۱۳۳۵ھ
(۱)جو شخص کہ خلیفہ برحق سے برسر بغاوت و برسر پیکار ہو کیا وہ شخص قابل عزت و لائق احترام ہے اور اس کے نام کو لفظ حصرت و رحمۃ اﷲ علیہ یا رضی اﷲ تعالی عنہ کے ساتھ یاد کرنا لازم ہے خواہ صحابی ہوں یا غیر صحابی
(۲)کیا حضرت امیر معاویہ بمقابلہ حضرت علی کرم اﷲ وجہہباغی اور خطا کار تھے یا بطور اجتہاد ان کی رائے مختلف تھی جس میں ان پر بدنیتی اور عصیان کا الزام عائد نہ ہوگا۔تفصیل واضح مطلوب۔
(۳)کیا حضرت رسول مقبول صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے بعد کوئی انسان کسی نبی کے مرتبہ کے برابر ہوسکتا ہے یا زیادہ یا حضرت علی کرم اﷲ وجہہ کا مرتبہ انبیاء بنی اسرائیل کے برابر یا ان سے بالاتر ماننا واجب ہے ایك شخص یہ دلیل بیان کرتے ہیں کہ حضرت علی کرم اﷲ وجہہ نے ایسے ہی سوال کے جواب میں یہ فرمایا کہ تم یہ سمجھ لو کہ حضرت آدم ایك بار گندم کھانے سے مورد عقاب ہوئے
(۳)قرآن شریف کی کن کن آیتوں سے ان کا رد ہوسکتا ہے
الجواب:
(۱) یہ حدیث صحیح نہیںاور بفرض صحت از قبیل:
لاوجع الاوجع العین ولاھم الا ھم الدین ولا فتی الاعلی ولا سیف الاذوالفقار۔ آنکھ کے درد کے سوا کوئی درد نہیںدین کے غم کے سوا کوئی غم نہیںحضرت علی المرتضی کرم اﷲ وجہہ کے سوا کوئی سخی نہیں اور ذو الفقار کے سوا کوئی تلوار نہیں(ت)
کے قبیل سے ہے۔
(۲)حضرت مہدی و عیسی کے بارے میں احادیث حد تواتر کو پہنچی ہیں یہاں تك کہ ائمہ دین نے ان کا نزول اور انکا ظہور عقائد میں داخل فرمایا۔
(۳)قرآن عظیم کی جتنی آیتیں تعظیم انبیاء علیہم السلام کا حکم دیتی ہیں ان کی تکذیب پر تکفیر فرماتی ہیںمعجزات سیدنا عیسی علیہ الصلوۃ والسلام گناتی ہیںانکی نبوت و رسالت کی شہادت دیتی ہیںنبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو خاتم النبین بتاتی ہیں جھوٹے مدعی نبوت پر لعنت فرماتی ہیںوہ سب قادیانی کے رد ہیںواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۷۹: مرسلہ عبدالجبار خاں طیب دھام پور ضلع بجنور ۲۷ ربیع الاول شریف ۱۳۳۵ھ
(۱)جو شخص کہ خلیفہ برحق سے برسر بغاوت و برسر پیکار ہو کیا وہ شخص قابل عزت و لائق احترام ہے اور اس کے نام کو لفظ حصرت و رحمۃ اﷲ علیہ یا رضی اﷲ تعالی عنہ کے ساتھ یاد کرنا لازم ہے خواہ صحابی ہوں یا غیر صحابی
(۲)کیا حضرت امیر معاویہ بمقابلہ حضرت علی کرم اﷲ وجہہباغی اور خطا کار تھے یا بطور اجتہاد ان کی رائے مختلف تھی جس میں ان پر بدنیتی اور عصیان کا الزام عائد نہ ہوگا۔تفصیل واضح مطلوب۔
(۳)کیا حضرت رسول مقبول صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے بعد کوئی انسان کسی نبی کے مرتبہ کے برابر ہوسکتا ہے یا زیادہ یا حضرت علی کرم اﷲ وجہہ کا مرتبہ انبیاء بنی اسرائیل کے برابر یا ان سے بالاتر ماننا واجب ہے ایك شخص یہ دلیل بیان کرتے ہیں کہ حضرت علی کرم اﷲ وجہہ نے ایسے ہی سوال کے جواب میں یہ فرمایا کہ تم یہ سمجھ لو کہ حضرت آدم ایك بار گندم کھانے سے مورد عقاب ہوئے
اور میں نے اس قدر کھایا ہے و غیرہکیا یہ حدیث صحیح اور متواتر ہے اور کیا اس سے یہی نتیجہ نکلتا ہے جو شخص مذکور نکلتا ہے
(۴)کیا ہم کو اس بحث میں پڑنا زیبا ہے کہ حضرت علی کرم اﷲ وجہہ کا رتبہ خلفائے ثلثہ سے بالاتر اور ان کا کمتر ہے اور کیا یہ حنفیوں کے عقائد ضروریہ میں سے ہے فقط۔
الجواب:
(۱)اہلسنت کے عقیدہ میں تمام صحابہ کرام رضی اﷲ تعالی عنہم کی تعظیم فرض ہے اور ان میں سے کسی پر طعن حرام اور انکے مشاجر ت میں خوض ممنوعحدیث میں ارشاد:
اذا ذکر اصحابی فامسکوا ۔ جب میرے صحابہ کا ذکر کیا جائے(بحث و خوض سے)رك جاؤ۔(ت)
رب عزوجل کہ عالم الغیب والشہادہ ہے اس نے صحابہ سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی دو قسمیں فرمائیںمومنین قبل الفتح جنہوں نے فتح مکہ سے پہلے راہ خدا میں خرچ و جہاد کیا اور مومنین بعد الفتح جنہوں نے بعد کوفریق اول کو دوم پر تفضیل عطا فرمائی کہ:
لا یستوی منکم من انفق من قبل الفتح و قتل اولئک اعظم درجۃ من الذین انفقوا من بعد و قتلوا "" ۔ تم میں برابر نہیں وہ جنہوں نے فتح مکہ سے قبل خرچ اور جہاد کیاوہ مرتبہ میں ان سے بڑے ہیں جنہوں نے بعد فتح کے خرچ اور جہاد کیا۔(ت)
اورساتھ ہی فرمادیا۔" وکلا وعد اللہ الحسنی " ۔دونوں فریق سے اﷲ نے بھلائی کا وعدہ فرمالیا۔اور ان کے افعال پر جاہلانہ نکتہ چینی کا دروازہ بھی بند فرمادیا کہ ساتھ ہی ارشادہوا۔" و اللہ بما تعملون خبیر ﴿۱۰﴾" ۔اﷲ کو تمہارے اعمال کی خوب خبر ہے یعنی جو کچھ تم کرنے والے ہو وہ سب جانتا ہے بااینہہ تم سب سے بھلائی کا وعدہ فرماچکا خواہ سابقین ہوں یا لاحقیناور یہ بھی قرآن عظیم سے ہی پوچھ دیکھئے کہ مولی عزوجل جس سے بھلائی کا وعدہ فرماچکا اس کے لیے کیا فرماتا ہے:
(۴)کیا ہم کو اس بحث میں پڑنا زیبا ہے کہ حضرت علی کرم اﷲ وجہہ کا رتبہ خلفائے ثلثہ سے بالاتر اور ان کا کمتر ہے اور کیا یہ حنفیوں کے عقائد ضروریہ میں سے ہے فقط۔
الجواب:
(۱)اہلسنت کے عقیدہ میں تمام صحابہ کرام رضی اﷲ تعالی عنہم کی تعظیم فرض ہے اور ان میں سے کسی پر طعن حرام اور انکے مشاجر ت میں خوض ممنوعحدیث میں ارشاد:
اذا ذکر اصحابی فامسکوا ۔ جب میرے صحابہ کا ذکر کیا جائے(بحث و خوض سے)رك جاؤ۔(ت)
رب عزوجل کہ عالم الغیب والشہادہ ہے اس نے صحابہ سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی دو قسمیں فرمائیںمومنین قبل الفتح جنہوں نے فتح مکہ سے پہلے راہ خدا میں خرچ و جہاد کیا اور مومنین بعد الفتح جنہوں نے بعد کوفریق اول کو دوم پر تفضیل عطا فرمائی کہ:
لا یستوی منکم من انفق من قبل الفتح و قتل اولئک اعظم درجۃ من الذین انفقوا من بعد و قتلوا "" ۔ تم میں برابر نہیں وہ جنہوں نے فتح مکہ سے قبل خرچ اور جہاد کیاوہ مرتبہ میں ان سے بڑے ہیں جنہوں نے بعد فتح کے خرچ اور جہاد کیا۔(ت)
اورساتھ ہی فرمادیا۔" وکلا وعد اللہ الحسنی " ۔دونوں فریق سے اﷲ نے بھلائی کا وعدہ فرمالیا۔اور ان کے افعال پر جاہلانہ نکتہ چینی کا دروازہ بھی بند فرمادیا کہ ساتھ ہی ارشادہوا۔" و اللہ بما تعملون خبیر ﴿۱۰﴾" ۔اﷲ کو تمہارے اعمال کی خوب خبر ہے یعنی جو کچھ تم کرنے والے ہو وہ سب جانتا ہے بااینہہ تم سب سے بھلائی کا وعدہ فرماچکا خواہ سابقین ہوں یا لاحقیناور یہ بھی قرآن عظیم سے ہی پوچھ دیکھئے کہ مولی عزوجل جس سے بھلائی کا وعدہ فرماچکا اس کے لیے کیا فرماتا ہے:
حوالہ / References
المعجم الکبیر حدیث ۱۴۲۷ المکتبۃ الفیصیلہ بیروت ۲/ ۹۶
القرآن الکریم ۵۷ /۱۰
القرآن الکریم ۵۷ /۱۰
القرآن الکریم ۵۷ /۱۰
القرآن الکریم ۵۷ /۱۰
القرآن الکریم ۵۷ /۱۰
القرآن الکریم ۵۷ /۱۰
" ان الذین سبقت لہم منا الحسنی اولئک عنہا مبعدون ﴿۱۰۱﴾لا یسمعون حسیسہا و ہم فی ما اشتہت انفسہم خلدون ﴿۱۰۲﴾ لا یحزنہم الفزع الاکبر و تتلقىہم الملئکۃ ہذا یومکم الذی کنتم توعدون ﴿۱۰۳﴾ " ۔ بے شك جن سے ہمارا وعدہ بھلائی کا ہوچکا وہ جہنم سے دور رکھے گئے ہیں اس کی بھنك تك نہ سنیں گے اور وہ اپنی من مانتی مرادوں میں ہمیشہ رہیں گےانہیں غم میں نہ ڈالے گی بڑی گھبراہٹفرشتے ان کی پیشوائی کوآئیں گے یہ کہتے ہوئے کہ یہ ہے تمہارا وہ دن جس کا تم سے وعدہ تھا۔
سچا اسلامی دل اپنے رب عزوجل کا یہ ارشاد عام سن کر کبھی کسی صحابی پر نہ سوء ظن کرسکتا ہے نہ اس کے اعمال کی تفتیشبفرض غلط کچھ بھی کیا تم حاکم ہو یا اللہتم زیادہ جانو یا اﷲ" ءانتم اعلم ام اللہ" ۔ (کیا تمہیں علم زیادہ ہے یا اﷲ تعالے کوت) دلوں کی جاننے والا سچا حاکم یہ فیصلہ فرماچکا کہ مجھے تمہارے سب اعمال کی خبر ہے میں تم سے بھلائی کا وعدہ فرماچکا۔اس کے بعد مسلمان کو اس کے خلاف کی گنجائش کیا ہےضرور ہر صحابی کے ساتھ حضرت کہا جائے گاضرور رضی اﷲ تعالی عنہ کہا جائے گاضرور اس کا اعزاز و احترام فرض ہے۔" ولوکرہ المجرمون ﴿۸﴾" (اگرچہ مجرم برا مانیں۔ت)
(۲)اس کا جواب بھی جواب اول سے واضح ہوچکابلاشبہہ ان کی خطا خطائے اجتہادی تھی اور اس پر الزام معصیت عائد کرنا اس ارشاد الہی کے صریح خلاف ہے۔
(۳)مسلمانوں کا اجماع ہے کہ کوئی غیر نبی کسی نبی کے برابر نہیں ہوسکتاجو کسی غیر نبی کو کسی نبی کے ہمسر یا افضل جانے وہ بالاجماع کافر مرتد ہے۔مولی علی کرم اﷲ تعالی وجہہ کا مرتبہ انبیائے بنی اسرائیل یا کسی نبی سے بالا یا برابر ماننا واجب درکنار کفر خالص ہے اور ملعون افترائی حکایت عجب مضحکہ خیز ہےگیہوں کھانا ہی اگر دلیل افضلیت ہو تو مولی علی کرم اﷲ وجہہ نے اتنے گیہوں ہر گز نہیں کھائے جتنے زید و عمر و آج کل کھارہے ہیںاس بادشاہ ملك ولایت کی اکثر غذا باتباع سیدعالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم جو تھیاور وہ بھی اکثر ایك وقتاور وہ بھی پیٹ بھر کر نہیں۔اور زید و عمر و رات دن میں دو دو وقت گیہوں کھاتے ہیں تو یہ معاذ اﷲ آدم علیہ السلام سے
سچا اسلامی دل اپنے رب عزوجل کا یہ ارشاد عام سن کر کبھی کسی صحابی پر نہ سوء ظن کرسکتا ہے نہ اس کے اعمال کی تفتیشبفرض غلط کچھ بھی کیا تم حاکم ہو یا اللہتم زیادہ جانو یا اﷲ" ءانتم اعلم ام اللہ" ۔ (کیا تمہیں علم زیادہ ہے یا اﷲ تعالے کوت) دلوں کی جاننے والا سچا حاکم یہ فیصلہ فرماچکا کہ مجھے تمہارے سب اعمال کی خبر ہے میں تم سے بھلائی کا وعدہ فرماچکا۔اس کے بعد مسلمان کو اس کے خلاف کی گنجائش کیا ہےضرور ہر صحابی کے ساتھ حضرت کہا جائے گاضرور رضی اﷲ تعالی عنہ کہا جائے گاضرور اس کا اعزاز و احترام فرض ہے۔" ولوکرہ المجرمون ﴿۸﴾" (اگرچہ مجرم برا مانیں۔ت)
(۲)اس کا جواب بھی جواب اول سے واضح ہوچکابلاشبہہ ان کی خطا خطائے اجتہادی تھی اور اس پر الزام معصیت عائد کرنا اس ارشاد الہی کے صریح خلاف ہے۔
(۳)مسلمانوں کا اجماع ہے کہ کوئی غیر نبی کسی نبی کے برابر نہیں ہوسکتاجو کسی غیر نبی کو کسی نبی کے ہمسر یا افضل جانے وہ بالاجماع کافر مرتد ہے۔مولی علی کرم اﷲ تعالی وجہہ کا مرتبہ انبیائے بنی اسرائیل یا کسی نبی سے بالا یا برابر ماننا واجب درکنار کفر خالص ہے اور ملعون افترائی حکایت عجب مضحکہ خیز ہےگیہوں کھانا ہی اگر دلیل افضلیت ہو تو مولی علی کرم اﷲ وجہہ نے اتنے گیہوں ہر گز نہیں کھائے جتنے زید و عمر و آج کل کھارہے ہیںاس بادشاہ ملك ولایت کی اکثر غذا باتباع سیدعالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم جو تھیاور وہ بھی اکثر ایك وقتاور وہ بھی پیٹ بھر کر نہیں۔اور زید و عمر و رات دن میں دو دو وقت گیہوں کھاتے ہیں تو یہ معاذ اﷲ آدم علیہ السلام سے
بھی اور مولی علی کرم اﷲ تعالی وجہہ سے بھی افضل ہوئےایں فساد خوردن گندم بود(یہ گندم کھانے کا فساد ہے۔ت)
(۴)یہ نہ فقط حنفیہ بلکہ تمام اہلسنت کے عقائد کے خلاف ہے۔اہلسنت کے نزدیك بعد انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام تمام اولین و آخرین سے افضل امیر المومنین سیدنا صدیق اکبر رضی اﷲ تعالی عنہ پھر امیر المومنین سیدنا فاروق اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ ہیںواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۸۳: از فراشی ٹولہ بریلی مرسلہ مقصود علی خان صاحب ۲۶شعبان ۱۳۳۵ھ
زید کو لوگ عام طور پر کہتے ہیں کہ وہ وہابی ہے اور اس کے یہاں میلاد شریف اور تیجہ وغیرہ نہیں ہوتا اور قیام کے وقت بھی کھڑا نہیں ہوتا۔زید نے میلاد شریف کرائی اور قیام کے وقت کھڑا ہوا اور دریافت کرنے پر وہ کہتاہے کہ قرآن عظیم اور کلمہ شریف پڑھ کر ثواب میت کو پہنچاناجائز ہے لیکن تعین کے ساتھ تیجہ و برسی و چھماہی یہ نہ کرنا چاہیے بلکہ خواہ میت کے دوسرے روز خواہ تیسرے روز خواہ چوتھے روز مکتے پر یا خرمے پر یا کسی شے پر کلمہ شریف پڑھ کر ثواب میت کی ارواح کو پہنچانا جائز ہے اور اسی طرح ہر برسی و چھماہی کے لفظ سے اور گنتی دنوں سے نہ کرے بلکہ جس وقت چاہے کھانا پکوا کر فاتحہ دلوا دےاور زید یہ بھی کہتا ہے کہ رسول مقبول صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی تعریف میں یہ میرا عقیدہ ہے کہ خدا سے کم زیادہ سب سے کہے یہی کلمہ ہے شایان محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلماور حضور کی تعظیم میں ذرا بھی فرق دل میں لائے تو وہ خارج از اسلام ہےاور حضور پرنور کو شفیع المذنبین رحمۃ للعالمین سمجھے اور یہ سمجھے کہ مثل حضور کے نہ کوئی ہے نہ ہوا اور نہ ہواور اگر خداوند کریم حضور کو پیدا نہ کرتا تو تمام مخلوق کو پیدا نہ کرتا۔ایسے عقیدے والے کو وہابی خیال کرنا چاہیے اس پر اگر یہ خیال کیا جائے کہ اس نے کسی مصلحت سے ایسا کیا ہے لیکن اس کے دل میں ممکن ہے کہ اس کے خلاف ہو تو ایسی صورت میں کیا سمجھنا چاہیے اس کے زبانی اقرار کا اعتبار ہوسکتا ہے یا نہیں بینوا توجروا(بیان فرماؤ اجردیئے جاؤ گے۔ت)
الجواب:
تعین یوم کا انکار آج کل وہابیہ کا شعار ہےاور جتنی باتیں اس نے کہیں بڑے بڑے پکے وہابی کہہ لیتے ہیں اور بڑے بڑے اشد موقع پر مجلس و قیام بھی کرلیتے ہیں ان باتوں سے پہچان نہیں ہوسکتی۔بلکہ زید سے مفصل عقائد وہابیہ دریافت کیے جائیں نیز اسمعیل دہلوی و تقویہ الایمان وبراہین قاطعہ وتحذیر الناس و حفظ الایمان اور ان کے مصنفوں کی نسبت دریافت کیا جائے اگر سب باتوں کے جواب میں وہی کہے جو علمائے حرمین شریفین نے تحریر فرمایا تو ضرور اسے سنی سمجھا جائے گا جب تك اس کا
(۴)یہ نہ فقط حنفیہ بلکہ تمام اہلسنت کے عقائد کے خلاف ہے۔اہلسنت کے نزدیك بعد انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام تمام اولین و آخرین سے افضل امیر المومنین سیدنا صدیق اکبر رضی اﷲ تعالی عنہ پھر امیر المومنین سیدنا فاروق اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ ہیںواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۸۳: از فراشی ٹولہ بریلی مرسلہ مقصود علی خان صاحب ۲۶شعبان ۱۳۳۵ھ
زید کو لوگ عام طور پر کہتے ہیں کہ وہ وہابی ہے اور اس کے یہاں میلاد شریف اور تیجہ وغیرہ نہیں ہوتا اور قیام کے وقت بھی کھڑا نہیں ہوتا۔زید نے میلاد شریف کرائی اور قیام کے وقت کھڑا ہوا اور دریافت کرنے پر وہ کہتاہے کہ قرآن عظیم اور کلمہ شریف پڑھ کر ثواب میت کو پہنچاناجائز ہے لیکن تعین کے ساتھ تیجہ و برسی و چھماہی یہ نہ کرنا چاہیے بلکہ خواہ میت کے دوسرے روز خواہ تیسرے روز خواہ چوتھے روز مکتے پر یا خرمے پر یا کسی شے پر کلمہ شریف پڑھ کر ثواب میت کی ارواح کو پہنچانا جائز ہے اور اسی طرح ہر برسی و چھماہی کے لفظ سے اور گنتی دنوں سے نہ کرے بلکہ جس وقت چاہے کھانا پکوا کر فاتحہ دلوا دےاور زید یہ بھی کہتا ہے کہ رسول مقبول صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی تعریف میں یہ میرا عقیدہ ہے کہ خدا سے کم زیادہ سب سے کہے یہی کلمہ ہے شایان محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلماور حضور کی تعظیم میں ذرا بھی فرق دل میں لائے تو وہ خارج از اسلام ہےاور حضور پرنور کو شفیع المذنبین رحمۃ للعالمین سمجھے اور یہ سمجھے کہ مثل حضور کے نہ کوئی ہے نہ ہوا اور نہ ہواور اگر خداوند کریم حضور کو پیدا نہ کرتا تو تمام مخلوق کو پیدا نہ کرتا۔ایسے عقیدے والے کو وہابی خیال کرنا چاہیے اس پر اگر یہ خیال کیا جائے کہ اس نے کسی مصلحت سے ایسا کیا ہے لیکن اس کے دل میں ممکن ہے کہ اس کے خلاف ہو تو ایسی صورت میں کیا سمجھنا چاہیے اس کے زبانی اقرار کا اعتبار ہوسکتا ہے یا نہیں بینوا توجروا(بیان فرماؤ اجردیئے جاؤ گے۔ت)
الجواب:
تعین یوم کا انکار آج کل وہابیہ کا شعار ہےاور جتنی باتیں اس نے کہیں بڑے بڑے پکے وہابی کہہ لیتے ہیں اور بڑے بڑے اشد موقع پر مجلس و قیام بھی کرلیتے ہیں ان باتوں سے پہچان نہیں ہوسکتی۔بلکہ زید سے مفصل عقائد وہابیہ دریافت کیے جائیں نیز اسمعیل دہلوی و تقویہ الایمان وبراہین قاطعہ وتحذیر الناس و حفظ الایمان اور ان کے مصنفوں کی نسبت دریافت کیا جائے اگر سب باتوں کے جواب میں وہی کہے جو علمائے حرمین شریفین نے تحریر فرمایا تو ضرور اسے سنی سمجھا جائے گا جب تك اس کا
خلاف ظاہر نہ ہو اور اگر اس میں کسی بات کا جواب خلاف دے یا جو کچھ علمائے حرمین شریفین ان کتابوں اور ان کے مصنفوں کی نسبت حکم ضلالت و کفر وارتداد لگاچکے اس کے ماننے میں ہچر مچر کرے تو وہ بلاشبہہ سنی نہیں ضرور منہم(انہی میں سے)ہے واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۸۴: مولوی افضل صاحب بخاری طالب علم مدرسہ منظر الاسلام بریلی ۲۱ صفر ۱۳۳۶ھ
(۱)عرض اینست کہ وردخواندن شرائط بسیار مذکور ست عقل بعیدمی پندارد تاکہ در وقت خواندن درنفس خطرات پیدا می شود یعنی کہ حضرت مآب آیا می بیند ومی شنود۔
(۲)جناب سید کائنات خود رحمت وبروح اقدس او رحمت فرستادن چہ فائدہ
(۳)پروردگار عالم چرا برانبیاء علیہم السلام فرمود کہ اگر محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم برزمان ہریك اگر مبعوث شد تو بروے ایمان آورد وغیرہ چرا کہ بروے معلوم بود کہ زمانہ خاص جلوہ افروز میشود۔
(۴)عرض اینست کہ اگر شخصے ایں عقیدہ داشتہ باشدبایں طور کہ براﷲ تعالی چیزے واجب نیست ازجانب غیر لکن از طرف رحمت وفضل اگر خود برخود واجب کردہ باشد جائز ست چگونہ۔ (۱)عرض یہ ہے کہ ورد پڑھنے میں شرائط بہت زیادہ مذکور ہیں جن کو عقل بعید سمجھتی ہے یہاں تك کہ ورد پڑھتے وقت دل میں خیالات پیدا ہونے لگتے ہیںیعنی کیا رسالتماب صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم دیکھتے اور سنتے ہیں
(۲)سیدکائنات صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم جب خود رحمت ہیں تو ان پر رحمت(درود)بھیجنے کا کیا فائدہ ہے
(۳)پروردگار عالم نے انبیاء علیہم الصلوات والتسلیمات کو کیوں ارشاد فرمایا کہ محمد مصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اگر ان کے زمانہ میں مبعوث ہوئے تو وہ آپ پر ایمان لائیں حالانکہ اﷲ تعالی کو معلوم تھا کہ آپ ایك خاص زمانے میں جلوہ افروز ہوں گے۔
(۴)عرض یہ ہے کہ اگر کوئی شخص یہ عقیدہ رکھے کہ کسی غیر کی جانب سے اﷲ تعالی پر کوئی شیئ واجب نہیں لیکن وہ خود اگر اپنی رحمت و فضل سے اپنے ذمہ کرم پر کچھ واجب کرلے تو جائز ہےیہ کیسا ہے
الجواب:
(۱)بلاشبہہ حضور اقدس علیہ الصلوۃ والسلام (۱)بلاشبہہ حضو ر اقدس علیہ الصلوۃ والسلام
مسئلہ۸۴: مولوی افضل صاحب بخاری طالب علم مدرسہ منظر الاسلام بریلی ۲۱ صفر ۱۳۳۶ھ
(۱)عرض اینست کہ وردخواندن شرائط بسیار مذکور ست عقل بعیدمی پندارد تاکہ در وقت خواندن درنفس خطرات پیدا می شود یعنی کہ حضرت مآب آیا می بیند ومی شنود۔
(۲)جناب سید کائنات خود رحمت وبروح اقدس او رحمت فرستادن چہ فائدہ
(۳)پروردگار عالم چرا برانبیاء علیہم السلام فرمود کہ اگر محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم برزمان ہریك اگر مبعوث شد تو بروے ایمان آورد وغیرہ چرا کہ بروے معلوم بود کہ زمانہ خاص جلوہ افروز میشود۔
(۴)عرض اینست کہ اگر شخصے ایں عقیدہ داشتہ باشدبایں طور کہ براﷲ تعالی چیزے واجب نیست ازجانب غیر لکن از طرف رحمت وفضل اگر خود برخود واجب کردہ باشد جائز ست چگونہ۔ (۱)عرض یہ ہے کہ ورد پڑھنے میں شرائط بہت زیادہ مذکور ہیں جن کو عقل بعید سمجھتی ہے یہاں تك کہ ورد پڑھتے وقت دل میں خیالات پیدا ہونے لگتے ہیںیعنی کیا رسالتماب صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم دیکھتے اور سنتے ہیں
(۲)سیدکائنات صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم جب خود رحمت ہیں تو ان پر رحمت(درود)بھیجنے کا کیا فائدہ ہے
(۳)پروردگار عالم نے انبیاء علیہم الصلوات والتسلیمات کو کیوں ارشاد فرمایا کہ محمد مصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اگر ان کے زمانہ میں مبعوث ہوئے تو وہ آپ پر ایمان لائیں حالانکہ اﷲ تعالی کو معلوم تھا کہ آپ ایك خاص زمانے میں جلوہ افروز ہوں گے۔
(۴)عرض یہ ہے کہ اگر کوئی شخص یہ عقیدہ رکھے کہ کسی غیر کی جانب سے اﷲ تعالی پر کوئی شیئ واجب نہیں لیکن وہ خود اگر اپنی رحمت و فضل سے اپنے ذمہ کرم پر کچھ واجب کرلے تو جائز ہےیہ کیسا ہے
الجواب:
(۱)بلاشبہہ حضور اقدس علیہ الصلوۃ والسلام (۱)بلاشبہہ حضو ر اقدس علیہ الصلوۃ والسلام
می بیند و می شنود انی اری ما لاترون واسمع مالاتسمعون اطت السماء وحق لہا ان تئط آواز اطیط آسمان از پانصد سالہ راہ می شنود ازراہ دویك ماہ چنان نشنود ان اﷲ تعالی قدر فع لی الدنیا فانا انظر الیھاو الی ماھو کائن فیہا الی یوم القیمۃ کانی انظر الی کفی ھذہ انچہ تا قیامت آمدنی ست ہمہ را ہمچو کف دست مبارکش می بیند آنچہ از حالا موجود ست چرانہ بیند علیہ من الصلوات افضلہا ومن التحیات اکملہا۔اینہارا عقل بعید نمی پندارد بلکہ وہم و ظن اکذب الحدیث ست چہ جائے وہمواﷲ تعالی اعلم۔
(۲)حق سبحنہ وتعالے خود پاك وسبوح ست برائے او تسبیح گفتن چہ فائدہ فائدہ خود ماراست
من نگردم پاك ازتسبیح شاں
پاك ہم ایشاں شوندو درنشاں دیکھتے اور سنتے ہیں(فرمان رسول ہے)بے شك میں وہ کچھ دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے اور میں وہ کچھ سنتا ہوں جو تم نہیں سنتےآسمان نے چیخ ماری ہے اور اس کو چیخ مارنی چاہیے۔جب وہ پانچ سوسال کی راہ سے آسمان کی چیخ کی آواز سنتے ہیں تو ایك دو ماہ کی راہ سے کیوں نہیں سنتے۔(فرمان ر سول ہے)بے شك اﷲ تعالی نے دنیا کو میری طرف بلند کردیا تو میں اس کی طرف اور جو کچھ اس میں قیامت تك ہونے والا ہے اس کی طرف دیکھ رہا ہوں گویا کہ میں اپنی اس ہتھیلی کو دیکھ رہا ہوں۔ جب وہ قیامت تك ہونے والی چیزوں کو اپنے دست مبارك کی ہتھیلی کی طرح دیکھتے ہیں تو جو کچھ اب موجود ہے اس کو کیوں نہیں دیکھ سکتےان پر افضل و اکمل درود و سلام ہوں۔عقل اس کو بعید شمار نہیں کرتی بلکہ وہاور جب ظن اکذب الحدیث ہے تو وہم کس گنتی میں ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
(۲)حق سبحنہ وتعالی جب خود پاك اور منزہ ہے تو پھر اس کی تسبیح(پاکی)بیان کرنے کا کیا فائدہ فائدہ درحقیقت خود ہمارا ہے۔میں ان کی تسبیح سے پاك نہیں ہوتا۔(بلکہ تسبیح سے)وہ خود پاك اور ممتاز ہوتے ہیں۔
(۲)حق سبحنہ وتعالے خود پاك وسبوح ست برائے او تسبیح گفتن چہ فائدہ فائدہ خود ماراست
من نگردم پاك ازتسبیح شاں
پاك ہم ایشاں شوندو درنشاں دیکھتے اور سنتے ہیں(فرمان رسول ہے)بے شك میں وہ کچھ دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے اور میں وہ کچھ سنتا ہوں جو تم نہیں سنتےآسمان نے چیخ ماری ہے اور اس کو چیخ مارنی چاہیے۔جب وہ پانچ سوسال کی راہ سے آسمان کی چیخ کی آواز سنتے ہیں تو ایك دو ماہ کی راہ سے کیوں نہیں سنتے۔(فرمان ر سول ہے)بے شك اﷲ تعالی نے دنیا کو میری طرف بلند کردیا تو میں اس کی طرف اور جو کچھ اس میں قیامت تك ہونے والا ہے اس کی طرف دیکھ رہا ہوں گویا کہ میں اپنی اس ہتھیلی کو دیکھ رہا ہوں۔ جب وہ قیامت تك ہونے والی چیزوں کو اپنے دست مبارك کی ہتھیلی کی طرح دیکھتے ہیں تو جو کچھ اب موجود ہے اس کو کیوں نہیں دیکھ سکتےان پر افضل و اکمل درود و سلام ہوں۔عقل اس کو بعید شمار نہیں کرتی بلکہ وہاور جب ظن اکذب الحدیث ہے تو وہم کس گنتی میں ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
(۲)حق سبحنہ وتعالی جب خود پاك اور منزہ ہے تو پھر اس کی تسبیح(پاکی)بیان کرنے کا کیا فائدہ فائدہ درحقیقت خود ہمارا ہے۔میں ان کی تسبیح سے پاك نہیں ہوتا۔(بلکہ تسبیح سے)وہ خود پاك اور ممتاز ہوتے ہیں۔
حوالہ / References
جامع الترمذی کتاب الزھد باب ماجاء فی قول النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لو تعلمون ما اعلم امین کمپنی دہلی ۲/ ۵۵
کنزالعمال حدیث ۳۱۹۷۱ موسسۃ الرسالہ بیروت ۱۱/۴۲۰
کنزالعمال حدیث ۳۱۹۷۱ موسسۃ الرسالہ بیروت ۱۱/۴۲۰
ہمچناں اینجا فائدہ ماراست کہ من صلی علی واحدۃ صلی اﷲ علیہ عشرا ۔ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلموھو اعلم۔
(۳)مقصود اظہار عزت و عظمت و سیادت مطلقہ واصالت کلیہ حضور پرنور علیہ افضل الصلوۃ والسلام بود تاہمہ انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام
رادر دائرہ نبوت مطلقہ اش فراگیرد وامتی اوگرداندصلی اﷲ تعالی علیہم اجمعین و وبارك وسلم۔
(۴)صحیح است وآں وجوب نیست تفضل ست" کتب ربکم علی نفسہ الرحمۃ " " وکان حقا علینا نصر المؤمنین ﴿۴۷﴾"۔ واﷲ تعالی اعلم۔ اسی طرح یہاں(درود بھیجنے میں)بھی ہمارا اپنا فائدہ ہے (فرمان رسول ہے)کہ جس نے مجھ پر ایك بار درود بھیجا اﷲ تعالی اس پر دس رحمتیں نازل فرماتا ہے۔اﷲ تعالی آپ پر درود و سلام بھیجےاور وہ خوب جانتا ہے۔
(۳)حضور پر نور علیہ افضل الصلوۃ والسلام کی عزت عظمت سیادت مطلقہ اور اصالت کلیہ کو ظاہر کرنا مقصود تھا تاکہ انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کو آپ کی نبوت مطلقہ کے دائرہ میں لے کر آپ کا امتی بنادے۔ان سب پر اﷲ تعالی درود وسلام وبرکت نازل فرمائے۔
(۴)یہ صحیح ہےاور وہ وجوب نہیں بلکہ اس کا فضل ہے۔ (فرمان الہی ہے)تمہارے رب نے اپنے ذمہ کرم پر رحمت لازم کرلی ہے۔(مزید فرمایا)اور ہمارے ذمہ کرم پر ہے مسلمانوں کی مدد فرمانا(ت)(واﷲ تعالی اعلم)
مسئلہ ۸۸:ازشہر محلہ قلعہ متصل جامع مسجد مرسلہ حامد حسین خان صاحب ۷ ربیع الاخر شریف۱۳۳۶ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ آیا ولایت مطلقہ افضل ہے نبوت خاص سے یا نبوت خاص افضل ہے ولایت سے اور صحابہ کرام رسول ﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے کون صحابی دارائے ولایت تھے اور تمام صحابہ کرام مرتبہ ولایت پر فائز تھے یا بعض ان
(۳)مقصود اظہار عزت و عظمت و سیادت مطلقہ واصالت کلیہ حضور پرنور علیہ افضل الصلوۃ والسلام بود تاہمہ انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام
رادر دائرہ نبوت مطلقہ اش فراگیرد وامتی اوگرداندصلی اﷲ تعالی علیہم اجمعین و وبارك وسلم۔
(۴)صحیح است وآں وجوب نیست تفضل ست" کتب ربکم علی نفسہ الرحمۃ " " وکان حقا علینا نصر المؤمنین ﴿۴۷﴾"۔ واﷲ تعالی اعلم۔ اسی طرح یہاں(درود بھیجنے میں)بھی ہمارا اپنا فائدہ ہے (فرمان رسول ہے)کہ جس نے مجھ پر ایك بار درود بھیجا اﷲ تعالی اس پر دس رحمتیں نازل فرماتا ہے۔اﷲ تعالی آپ پر درود و سلام بھیجےاور وہ خوب جانتا ہے۔
(۳)حضور پر نور علیہ افضل الصلوۃ والسلام کی عزت عظمت سیادت مطلقہ اور اصالت کلیہ کو ظاہر کرنا مقصود تھا تاکہ انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کو آپ کی نبوت مطلقہ کے دائرہ میں لے کر آپ کا امتی بنادے۔ان سب پر اﷲ تعالی درود وسلام وبرکت نازل فرمائے۔
(۴)یہ صحیح ہےاور وہ وجوب نہیں بلکہ اس کا فضل ہے۔ (فرمان الہی ہے)تمہارے رب نے اپنے ذمہ کرم پر رحمت لازم کرلی ہے۔(مزید فرمایا)اور ہمارے ذمہ کرم پر ہے مسلمانوں کی مدد فرمانا(ت)(واﷲ تعالی اعلم)
مسئلہ ۸۸:ازشہر محلہ قلعہ متصل جامع مسجد مرسلہ حامد حسین خان صاحب ۷ ربیع الاخر شریف۱۳۳۶ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ آیا ولایت مطلقہ افضل ہے نبوت خاص سے یا نبوت خاص افضل ہے ولایت سے اور صحابہ کرام رسول ﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے کون صحابی دارائے ولایت تھے اور تمام صحابہ کرام مرتبہ ولایت پر فائز تھے یا بعض ان
حوالہ / References
صحیح مسلم کتاب الصلوۃ باب الصلوۃ علی النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم بعد التشہد قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۷۵
ا لقرآن الکریم ۶/۵۴
القرآن الکریم ۳۰ /۴۷
ا لقرآن الکریم ۶/۵۴
القرآن الکریم ۳۰ /۴۷
میں سے مفصل اور مشرح ارشاد ہو۔
الجواب:
نبوت مطلقا ہر ولی غیر نبی کی ولایت سے ہزاروں درجے افضل ہے کیسے ہی اعظم مرتبہ کاولی ہوہاں اس میں اختلاف ہے کہ نبی کی نبوت خود اس کی اپنی ولایت سے افضل ہے یا اس کی اپنی ولایت اس کی نبوت سےاور اس اختلاف میں خوض کی کوئی حاجت نہیںپہلی بات ضروریات دین سے ہے اس کا اعتقاد مدار ایمان ہے جو کسی ولی غیر نبی حتی کہ صدیق کو کسی نبی سے افضل یا ہمسر ہی کہے کافر ہے کما قدنص علیہ الاکابر الائمۃ فی غیرماکتاب۔(جیسا کہ اکابر امت نے متعدد کتابوں میں اس پر نص فرمائی ہے۔ت)صحابہ کرام رضی اﷲ تعالی عنہم سب اولیائے کرام تھے۔قال اﷲ تعالی:
"لا یستوی منکم من انفق من قبل الفتح و قتل اولئک اعظم درجۃ من الذین انفقوا من بعد و قتلوا " ۔ تم میں برابر نہیں وہ جنہوں نے فتح مکہ سے قبل خرچ کیا اور جہاد کیاوہ مرتبہ میں ان سے بڑے ہیں جنہوں نے بعد فتح کے خرچ اور جہاد کیااور ان سب سے اﷲ تعالی جنت کا وعدہ فرما چکا ہےاور اﷲ تعالی کو تمہارے کاموں کی خبر ہے۔ (ت)
وقال اﷲ تعالی:
"ان الذین سبقت لہم منا الحسنی اولئک عنہا مبعدون ﴿۱۰۱﴾لا یسمعون حسیسہا و ہم فی ما اشتہت انفسہم خلدون ﴿۱۰۲﴾ لا یحزنہم الفزع الاکبر و تتلقىہم الملئکۃ ہذا یومکم الذی کنتم توعدون ﴿۱۰۳﴾ " ۔ بے شك جن کے لیے ہماری طرف سے نیکی کا وعدہ پہلے ہوچکا وہ اس(جہنم)سے دور رکھے گئے ہیں و ہ اس کی ہلکی سی آواز بھی نہ سنیں گے اور جو کچھ وہ چاہیں گے ہمیشہ اسی میں رہیں گے۔انہیں غم میں نہ ڈالے گی وہ سب سے بڑی گھبراہٹاور فرشتے ان کی پیشوائی کو آئیں گے کہ یہ ہے تمہارا وہ دن جس کا تم سے وعدہ تھا۔(ت)
الجواب:
نبوت مطلقا ہر ولی غیر نبی کی ولایت سے ہزاروں درجے افضل ہے کیسے ہی اعظم مرتبہ کاولی ہوہاں اس میں اختلاف ہے کہ نبی کی نبوت خود اس کی اپنی ولایت سے افضل ہے یا اس کی اپنی ولایت اس کی نبوت سےاور اس اختلاف میں خوض کی کوئی حاجت نہیںپہلی بات ضروریات دین سے ہے اس کا اعتقاد مدار ایمان ہے جو کسی ولی غیر نبی حتی کہ صدیق کو کسی نبی سے افضل یا ہمسر ہی کہے کافر ہے کما قدنص علیہ الاکابر الائمۃ فی غیرماکتاب۔(جیسا کہ اکابر امت نے متعدد کتابوں میں اس پر نص فرمائی ہے۔ت)صحابہ کرام رضی اﷲ تعالی عنہم سب اولیائے کرام تھے۔قال اﷲ تعالی:
"لا یستوی منکم من انفق من قبل الفتح و قتل اولئک اعظم درجۃ من الذین انفقوا من بعد و قتلوا " ۔ تم میں برابر نہیں وہ جنہوں نے فتح مکہ سے قبل خرچ کیا اور جہاد کیاوہ مرتبہ میں ان سے بڑے ہیں جنہوں نے بعد فتح کے خرچ اور جہاد کیااور ان سب سے اﷲ تعالی جنت کا وعدہ فرما چکا ہےاور اﷲ تعالی کو تمہارے کاموں کی خبر ہے۔ (ت)
وقال اﷲ تعالی:
"ان الذین سبقت لہم منا الحسنی اولئک عنہا مبعدون ﴿۱۰۱﴾لا یسمعون حسیسہا و ہم فی ما اشتہت انفسہم خلدون ﴿۱۰۲﴾ لا یحزنہم الفزع الاکبر و تتلقىہم الملئکۃ ہذا یومکم الذی کنتم توعدون ﴿۱۰۳﴾ " ۔ بے شك جن کے لیے ہماری طرف سے نیکی کا وعدہ پہلے ہوچکا وہ اس(جہنم)سے دور رکھے گئے ہیں و ہ اس کی ہلکی سی آواز بھی نہ سنیں گے اور جو کچھ وہ چاہیں گے ہمیشہ اسی میں رہیں گے۔انہیں غم میں نہ ڈالے گی وہ سب سے بڑی گھبراہٹاور فرشتے ان کی پیشوائی کو آئیں گے کہ یہ ہے تمہارا وہ دن جس کا تم سے وعدہ تھا۔(ت)
وقال اﷲ تعالی:
" و الذین امنوا باللہ و رسلہ اولئک ہم الصدیقون ٭ و الشہداء عند ربہم لہم اجرہم و نورہم " ۔ اور وہ جو اﷲ اور اس کے سب رسولوں پر ایمان لائیں وہی ہیں کامل سچے اور اوروں پر گواہ اپنے رب کے یہاں ان کے لیے ان کا ثواب اور ان کا نور ہے۔(ت)
وقال اﷲ تعالی:
" یوم لا یخزی اللہ النبی و الذین امنوا معہ نورہم یسعی بین ایدیہم و بایمنہم" ۔ جس دن اﷲ تعالی رسوا نہ کرے گا نبی اور ان کے ساتھ کے ایمان والوں کوان کا نور دوڑتا ہوگا ان کے آگے اور ان کے دائیں۔(ت)
صحابہ کرام میں سب سے افضل و اکمل و اعلی واقرب الی اﷲ خلفائے اربعہ رضی اﷲ تعالی عنہم تھے اور انکی افضلیت ولایت بترتیب خلافتیہ چاروں حضرات سب سے اعلی درجے کے کامل مکمل ہیں اور دارائے نیابت نبوت ہونے میں شیخین رضی اﷲ تعالی عنہما کا پایہ ارفع ہے اور دارائے تکمیل ہونے میں حضرت مولا علی مرتضی شیر خدا مشکل کشا کارضی اﷲ تعالی عنہم اجمعینواﷲ اعلم۔
مسئلہ ۸۹: قصبہ بشارت گنج ضلع بریلی فتح محمد ۱۲ جمادی الاخر ۱۳۳۶ھ یوم ہفتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ پارہ ۹ سورہ اعراف میں یہ آیہ کریمہ آتی ہے۔
" ولو کنت اعلم الغیب لاستکثرت من الخیر وما مسنی السوء ان انا الا نذیر و بشیر لقوم یؤمنون ﴿۱۸۸﴾ "۔ اور اگر میں غیب جان لیا کرتا تو یوں ہوتا کہ میں نے بہت بھلائی جمع کرلی اور مجھے کوئی برائی نہ پہنچیمیں تو یہی ڈر اور خوشی سنانے والا ہوں انہیں جو ایمان رکھتے ہیں۔(ت)
اس کے کیا معنی ہیں اور اس کا شان نزول کیا ہے اور اس سے علم غیب کی نفی ہوتی ہے یا نہیں
الجواب:
اگر میں اپنی ذات سے بے خدا کے بتائے غیب جانتا تو بہت سی خیر جمع کرلیتا اور مجھے کوئی برائی تکلیف نہ پہنچتیمیں تو ایمان والوں کو ڈر اور خوشخبری ہی سنانے والا ہوں کافروں کے مہمل سوالات پر اتری تھی۔اس سے علم غیب ذاتی کی نفی ہوتی ہے کہ بے خدا کے بتائے مجھے علم نہیں ہوتا اور خدا کے بتائے سے نہ ہونا مراد لیں تو صراحۃ قرآن مجید کا انکار اور کھلا کفر ہے۔اس کی تفصیل ہمارے رسائل علم غیب میں دیکھوواﷲ اعلم۔
" و الذین امنوا باللہ و رسلہ اولئک ہم الصدیقون ٭ و الشہداء عند ربہم لہم اجرہم و نورہم " ۔ اور وہ جو اﷲ اور اس کے سب رسولوں پر ایمان لائیں وہی ہیں کامل سچے اور اوروں پر گواہ اپنے رب کے یہاں ان کے لیے ان کا ثواب اور ان کا نور ہے۔(ت)
وقال اﷲ تعالی:
" یوم لا یخزی اللہ النبی و الذین امنوا معہ نورہم یسعی بین ایدیہم و بایمنہم" ۔ جس دن اﷲ تعالی رسوا نہ کرے گا نبی اور ان کے ساتھ کے ایمان والوں کوان کا نور دوڑتا ہوگا ان کے آگے اور ان کے دائیں۔(ت)
صحابہ کرام میں سب سے افضل و اکمل و اعلی واقرب الی اﷲ خلفائے اربعہ رضی اﷲ تعالی عنہم تھے اور انکی افضلیت ولایت بترتیب خلافتیہ چاروں حضرات سب سے اعلی درجے کے کامل مکمل ہیں اور دارائے نیابت نبوت ہونے میں شیخین رضی اﷲ تعالی عنہما کا پایہ ارفع ہے اور دارائے تکمیل ہونے میں حضرت مولا علی مرتضی شیر خدا مشکل کشا کارضی اﷲ تعالی عنہم اجمعینواﷲ اعلم۔
مسئلہ ۸۹: قصبہ بشارت گنج ضلع بریلی فتح محمد ۱۲ جمادی الاخر ۱۳۳۶ھ یوم ہفتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ پارہ ۹ سورہ اعراف میں یہ آیہ کریمہ آتی ہے۔
" ولو کنت اعلم الغیب لاستکثرت من الخیر وما مسنی السوء ان انا الا نذیر و بشیر لقوم یؤمنون ﴿۱۸۸﴾ "۔ اور اگر میں غیب جان لیا کرتا تو یوں ہوتا کہ میں نے بہت بھلائی جمع کرلی اور مجھے کوئی برائی نہ پہنچیمیں تو یہی ڈر اور خوشی سنانے والا ہوں انہیں جو ایمان رکھتے ہیں۔(ت)
اس کے کیا معنی ہیں اور اس کا شان نزول کیا ہے اور اس سے علم غیب کی نفی ہوتی ہے یا نہیں
الجواب:
اگر میں اپنی ذات سے بے خدا کے بتائے غیب جانتا تو بہت سی خیر جمع کرلیتا اور مجھے کوئی برائی تکلیف نہ پہنچتیمیں تو ایمان والوں کو ڈر اور خوشخبری ہی سنانے والا ہوں کافروں کے مہمل سوالات پر اتری تھی۔اس سے علم غیب ذاتی کی نفی ہوتی ہے کہ بے خدا کے بتائے مجھے علم نہیں ہوتا اور خدا کے بتائے سے نہ ہونا مراد لیں تو صراحۃ قرآن مجید کا انکار اور کھلا کفر ہے۔اس کی تفصیل ہمارے رسائل علم غیب میں دیکھوواﷲ اعلم۔
مسئلہ ۹۰: از قصبہ شیش گڑھ ڈاك خانہ خاص بریلی مسؤلہ سید محمد سجاد حسین صاحب ۲۹ محرم الحرام ۱۳۳۷ھ
(۱)زید باوجود ادعائے صدیق الوارثی کے اسمعیل دہلوی کو حضرت مولانا مولوی محمد اسمعیل صاحب شہید رحمۃ اﷲ علیہ لکھتا ہے۔
(۲)بکر اپنے آپ کو چشتی حیدری بتاتا ہے اور مندرجہ ذیل امور پر اعتقاد رکھتا ہے یعنی مسلمان جو حضرات پیران پیر جناب شیخ سید محی الدین عبدالقادر جیلانی رضی اﷲ تعالی عنہ کی گیارہویں شریف مقرر کرکے ان کی روح پر فتوح کو ثواب پہنچاتے ہیں اس کی بابت کہتا ہے کہ گیارھویں تاریخ مقرر کرنا مذموم ہے۔ماہ رجب کی بابت لکھتا ہے کہ اس ماہ کے نوافلصلوۃ وصوم وعبادت کے متعلق بڑے بڑے ثوابوں کی بہت سی روایتیں ہیں ان میں صحیح کوئی بھی نہیں۔اور یہ بات بالکل غلط اور بے سند ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام کو کشتی بنانے کا حکم ماہ رجب میں ہوا تھا۔ماہ شعبان میں حلوا پکانا یا تیرھویں کو عرفہ کرناعید کے دن کھانا تقسیم کرنا ممنوع ہے۔ماہ محرم میں کھچڑا یا شربت خاص کرکے پکاناپلانا اور اماموں کے نام کی نیاز دلانا اور سبیل لگانا بہت بری بدعتیں ہیںماہ صفر میں کسی خاص ثواب یا برکت کا خیال رکھنا جہل ہےسید احمد رائے بریلوی کو نیکبزرگ بلکہ ولی جانتا ہے۔پس کیا فرماتے ہیں علمائے دین ایسے اشخاص کے حق میں کہ ان کا اصلی مذہب کیا ہے اور امور مذکورہ بالا کی اصلیت مفصل طور سے تحریر فرمائی جائے۔
الجواب:
(۱)صورت مذکورہ میں زید گمراہ بددین نجدی اسمعیلی ہے اور بحکم فقہائے کرام اس پر حکم کفر لازمجس کی تفصیل کتاب الکوکبۃ الشہابیۃ فی کفریات ابی الوھابیہ سے ظاہرواﷲ تعالی اعلم۔
(۲)بکر ہو شیار وہابی معلوم ہوتا ہےگیارھویں شریف کو مذمومشعبان کے حلوےتیرھویں کے عرفےعید کے کھانے کو مطلقا بلا ممانعت شرعی ممنوعمحرم شریف کے کھچڑےشربت ائمہ اطہار کی سبیل کو مطلقا بدعت شنیعہ کہنا شعار وہابیہ ہے۔ اور وہابیہ گمراہبددیناحادیث اعمال رجب کو صحیح نہ کہنا بڑی چالاکی ہےاصطلاح محدثین کی صحت یہاں درکار نہیںفضائل اعمال میں ضعاف بالاجماع مقبول ہیں۔رجب میں کشتی بنانے کا حکم نہ ہوا تھا بلکہ رجب میں کشتی چلی اور اعداء پر قہر اور محبوبوں پر " و حملنہ علی ذات الوح و دسر ﴿۱۳﴾ تجری
(۱)زید باوجود ادعائے صدیق الوارثی کے اسمعیل دہلوی کو حضرت مولانا مولوی محمد اسمعیل صاحب شہید رحمۃ اﷲ علیہ لکھتا ہے۔
(۲)بکر اپنے آپ کو چشتی حیدری بتاتا ہے اور مندرجہ ذیل امور پر اعتقاد رکھتا ہے یعنی مسلمان جو حضرات پیران پیر جناب شیخ سید محی الدین عبدالقادر جیلانی رضی اﷲ تعالی عنہ کی گیارہویں شریف مقرر کرکے ان کی روح پر فتوح کو ثواب پہنچاتے ہیں اس کی بابت کہتا ہے کہ گیارھویں تاریخ مقرر کرنا مذموم ہے۔ماہ رجب کی بابت لکھتا ہے کہ اس ماہ کے نوافلصلوۃ وصوم وعبادت کے متعلق بڑے بڑے ثوابوں کی بہت سی روایتیں ہیں ان میں صحیح کوئی بھی نہیں۔اور یہ بات بالکل غلط اور بے سند ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام کو کشتی بنانے کا حکم ماہ رجب میں ہوا تھا۔ماہ شعبان میں حلوا پکانا یا تیرھویں کو عرفہ کرناعید کے دن کھانا تقسیم کرنا ممنوع ہے۔ماہ محرم میں کھچڑا یا شربت خاص کرکے پکاناپلانا اور اماموں کے نام کی نیاز دلانا اور سبیل لگانا بہت بری بدعتیں ہیںماہ صفر میں کسی خاص ثواب یا برکت کا خیال رکھنا جہل ہےسید احمد رائے بریلوی کو نیکبزرگ بلکہ ولی جانتا ہے۔پس کیا فرماتے ہیں علمائے دین ایسے اشخاص کے حق میں کہ ان کا اصلی مذہب کیا ہے اور امور مذکورہ بالا کی اصلیت مفصل طور سے تحریر فرمائی جائے۔
الجواب:
(۱)صورت مذکورہ میں زید گمراہ بددین نجدی اسمعیلی ہے اور بحکم فقہائے کرام اس پر حکم کفر لازمجس کی تفصیل کتاب الکوکبۃ الشہابیۃ فی کفریات ابی الوھابیہ سے ظاہرواﷲ تعالی اعلم۔
(۲)بکر ہو شیار وہابی معلوم ہوتا ہےگیارھویں شریف کو مذمومشعبان کے حلوےتیرھویں کے عرفےعید کے کھانے کو مطلقا بلا ممانعت شرعی ممنوعمحرم شریف کے کھچڑےشربت ائمہ اطہار کی سبیل کو مطلقا بدعت شنیعہ کہنا شعار وہابیہ ہے۔ اور وہابیہ گمراہبددیناحادیث اعمال رجب کو صحیح نہ کہنا بڑی چالاکی ہےاصطلاح محدثین کی صحت یہاں درکار نہیںفضائل اعمال میں ضعاف بالاجماع مقبول ہیں۔رجب میں کشتی بنانے کا حکم نہ ہوا تھا بلکہ رجب میں کشتی چلی اور اعداء پر قہر اور محبوبوں پر " و حملنہ علی ذات الوح و دسر ﴿۱۳﴾ تجری
باعیننا جزاء لمن کان کفر ﴿۱۴﴾ " ۔ (ہم نے نوح کو سوار کیا تختوں اور کیلوں والی پر کہ ہماری نگاہ کے روبرو بہتیاس کے صلہ میں جس کے ساتھ کفر کیا گیا تھا۔ت) کا فضل اسی مہینہ میں ظاہر ہوا۔یہ عبداﷲ بن عباس و غیرہ رضی اﷲ تعالی عنہم کی حدیثوں سے ثابت ہے۔صفر و سرمہ عاشورہ کی نسبت اس کا قول رد نہ کیا جائے اگرچہ ثانی میں اختلاف کثیر ہے۔اگر صراط مستقیم کے کلمات باطلہ کو باطلہ کفر یہ کو کفریہاسمعیل دہلوی کو گمراہ بددین جانتا ہے وہابیت سے جدا ہے تو سید احمد کو صرف بزرگ جاننے سے وہابی نہ ہوگا۔ورنہ وقدبینا الایات لقومہ یعقلون کما ھدا نا ربنا تبارك وتعالی عما یصفون(تحقیق ہم نے عقلمند قوم کے لیے نشانیاں ظاہر کردی ہیںجیسا کہ ہمارے رب نے ہمیں ہدایت دی ہمار اپروردگار ان کی باتوں سے بلند و بالا ہے۔ت)واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۹۲:از بہار شریعت محلہ خانقاہ حضرت مخدوم الملك بہاری رحمۃ اﷲ تعالی علیہ مسؤلہ نجم الدین احمد صاحب فردوسی نبیرہ جناب حضرت سید شاہ امین احمد فردوسی رحمۃ اﷲ تعالی علیہ ۲۳ صفر ۱۳۳۷ھ
بسم اﷲ الرحمن الرحیم نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم
کیا فرماتے ہیں علما و مفتیان شرع متین ان مسائل مفصلہ ذیل میں۔
(۱)جوتعزیہ بنانے والے کو کافر اور اس کی اولاد کو حرامی اور قیام مولود کو بدعت سیئہ اور حاضری عرائس بزرگان دین کو فعل لغو سمجھتا ہے وہ شخص کیسا ہےسنی حنفی ہے یا نہیں
(۲)دیوبندی مدعی تقلید وغیر مقلد مدعی اہل حدیث میں زیادہ کون ضلالت پر ہے اور دونوں فرقوں کے پیچھے نماز درست ہے یا نہیں اور ان دونوں گروہوں پر علمائے حرمین شریفین کا کیا فتوی ہے
(۳)جو شخص کہ اکابر اولیاء اﷲ کے مزار اقدس کو تودہ خاك کہے اور استمداد و استفاضہ کا اولیاء اﷲ کے قبور سے منکر ہواور یا رسول اﷲ کہنا شرك و ناجائز بتائے اور طعام فاتحہ ونیازکا کھانا حرام سمجھے اور جناب رسالتمآب صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے غیب کا منکر ہو وہ شخص مسلمان ہے یا نہیں
مسئلہ ۹۲:از بہار شریعت محلہ خانقاہ حضرت مخدوم الملك بہاری رحمۃ اﷲ تعالی علیہ مسؤلہ نجم الدین احمد صاحب فردوسی نبیرہ جناب حضرت سید شاہ امین احمد فردوسی رحمۃ اﷲ تعالی علیہ ۲۳ صفر ۱۳۳۷ھ
بسم اﷲ الرحمن الرحیم نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم
کیا فرماتے ہیں علما و مفتیان شرع متین ان مسائل مفصلہ ذیل میں۔
(۱)جوتعزیہ بنانے والے کو کافر اور اس کی اولاد کو حرامی اور قیام مولود کو بدعت سیئہ اور حاضری عرائس بزرگان دین کو فعل لغو سمجھتا ہے وہ شخص کیسا ہےسنی حنفی ہے یا نہیں
(۲)دیوبندی مدعی تقلید وغیر مقلد مدعی اہل حدیث میں زیادہ کون ضلالت پر ہے اور دونوں فرقوں کے پیچھے نماز درست ہے یا نہیں اور ان دونوں گروہوں پر علمائے حرمین شریفین کا کیا فتوی ہے
(۳)جو شخص کہ اکابر اولیاء اﷲ کے مزار اقدس کو تودہ خاك کہے اور استمداد و استفاضہ کا اولیاء اﷲ کے قبور سے منکر ہواور یا رسول اﷲ کہنا شرك و ناجائز بتائے اور طعام فاتحہ ونیازکا کھانا حرام سمجھے اور جناب رسالتمآب صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے غیب کا منکر ہو وہ شخص مسلمان ہے یا نہیں
حوالہ / References
القرآن الکریم ۵۴ /۱۳ و ۱۴
(۴)مولوی قاسم دیوبندی و مولوی رشید احمد گنگوہی و مولوی اشرف علی تھانوی و مولوی محمود حسن دیوبندی کس مذہب کے لوگ ہیں ان کے ساتھ کیسا خیال رکھنا چاہیے ارشاد فرمایا جائے کہ ہم سنیوں کو تقویت حاصل ہو۔بینوا توجروا(بیان کرو اجردیئے جاؤ گے ت)
الجواب:
تعزیہ بنانا گناہ ہے کفر نہیںکافر کہنے والا مسلمان کو کافر کہتا ہے اور اس حدیث میں داخل ہوتا ہے کہ بخاری اور مسلم نے عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما سے روایت کی ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:
من قال لاخیہ یا کافر فقد باء بھا احدھما فان کان کما قال و الا رجعت علیہ ۔ یعنی جو بظاہر کسی مسلم کو کافر کہے دونوں میں سے ایك پر یہ بلا ضرور پڑےاگر واقع میں کافر ہے تو خیر ورنہ یہ کہنا اس کہنے والے ہی پر پلٹ آئے گا۔
اور اس کی اولاد کو حرامی کہنا اس آیہ کریمہ میں داخل ہے:
" ان الذین یرمون المحصنت الغفلت المؤمنت لعنوا فی الدنیا و الاخرۃ ۪ و لہم عذاب عظیم ﴿۲۳﴾ " ۔ وہ جو پارسا بے خبر ایمان والیوں کو زنا کی تہمت لگاتے ہیں ان پر دنیا اور آخرت میں لعنت ہے اور ان کے لیے بڑا عذاب ہے۔
قیام مجلس مبارك کو بدعت سیئہ اور حاضری اعراس طیبہ کو لغو سمجھنا شعار وہابیہ ہےاور وہابیہ سنی کیا مسلمان بھی نہیں کہ اﷲ و رسول کی علانیہ توہین کرتے ہیںاور اﷲ عزوجل فرماتا ہے:
" قل اباللہ وایتہ ورسولہ کنتم تستہزءون ﴿۶۵﴾ لاتعتذروا قدکفرتم بعد ایمنکم " ۔ ان سے فرمادو کیا اﷲ اور اس کی آیتوں اور اس کے رسول سے ٹھٹھا کرتے تھے بہانے نہ بناؤ تم کافر ہوچکے اپنے ایمان کے بعد۔
الجواب:
تعزیہ بنانا گناہ ہے کفر نہیںکافر کہنے والا مسلمان کو کافر کہتا ہے اور اس حدیث میں داخل ہوتا ہے کہ بخاری اور مسلم نے عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما سے روایت کی ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:
من قال لاخیہ یا کافر فقد باء بھا احدھما فان کان کما قال و الا رجعت علیہ ۔ یعنی جو بظاہر کسی مسلم کو کافر کہے دونوں میں سے ایك پر یہ بلا ضرور پڑےاگر واقع میں کافر ہے تو خیر ورنہ یہ کہنا اس کہنے والے ہی پر پلٹ آئے گا۔
اور اس کی اولاد کو حرامی کہنا اس آیہ کریمہ میں داخل ہے:
" ان الذین یرمون المحصنت الغفلت المؤمنت لعنوا فی الدنیا و الاخرۃ ۪ و لہم عذاب عظیم ﴿۲۳﴾ " ۔ وہ جو پارسا بے خبر ایمان والیوں کو زنا کی تہمت لگاتے ہیں ان پر دنیا اور آخرت میں لعنت ہے اور ان کے لیے بڑا عذاب ہے۔
قیام مجلس مبارك کو بدعت سیئہ اور حاضری اعراس طیبہ کو لغو سمجھنا شعار وہابیہ ہےاور وہابیہ سنی کیا مسلمان بھی نہیں کہ اﷲ و رسول کی علانیہ توہین کرتے ہیںاور اﷲ عزوجل فرماتا ہے:
" قل اباللہ وایتہ ورسولہ کنتم تستہزءون ﴿۶۵﴾ لاتعتذروا قدکفرتم بعد ایمنکم " ۔ ان سے فرمادو کیا اﷲ اور اس کی آیتوں اور اس کے رسول سے ٹھٹھا کرتے تھے بہانے نہ بناؤ تم کافر ہوچکے اپنے ایمان کے بعد۔
حوالہ / References
صحیح مسلم کتاب الایمان باب بیان حال ایمان من قال لاخیہ المسلم یا کافر قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۵۷،صحیح البخاری کتاب الادب باب من اکفرا خاہ بغیر تاویل فہو کما قال قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۹۰۱
القرآن الکریم ۲۴ /۲۳
القرآن الکریم ۹ /۶۵و ۶۶
القرآن الکریم ۲۴ /۲۳
القرآن الکریم ۹ /۶۵و ۶۶
ہاں بالفرض اگر کوئی شخص ایسا ہو کہ وہابیت و وہابیہ سے جدا ہو وہابیہ کو گمراہ و بددیندیوبندیہ کو کفار مرتدین جانتا مانتا ہو صرف قیام و عرس میں کلام رکھتا ہو تو محض اس وجہ پر اسے سنیت و حنیفت سے خارج نہ کہا جائے گا مگر آج کل یہ فرض از قبیل فرض باطل ہےآج وہ کون ہے کہ ان میں کلام کرے اور ہو سنیاللھم مگر بہ تقیہ کہ وہابیہ میں روافض سے کچھ کم نہیں
(۲)دونوں میدان کفر میں کفرسی عــــــہ رہان ہیںدونوں کے پیچھے نماز باطل محض جیسے مسیح چرن یا گنگا دین کے پیچھے۔
کما حققناہ فی النھی الاکیدعن الصلوۃ وراء عدی التقلید وغیرہ من کتبنا وفتاونا۔ جیسا کہ ہم نے اس کی تحقیق اپنے رسالہ النہی الاکید عن الصلوۃ وراء عدی التقلید اور دیگر کتب و فتاوی میں کردی ہے۔(ت)
فتح القدیر شرح ہدایہ میں ہے:
روی محمد عن ابی حنیفۃ و ابی یوسف رضی اﷲ تعالی عنہم ان الصلوۃ خلف اھل الہواء لایجوز ۔ امام محمد علیہ الرحمہ نے امام ابوحنیفہ اور امام ابویوسف رحمۃ اﷲ تعالی علیہما سے روایت فرمایا کہ بدمذہب کے پیچھے نماز جائز نہیں(ت)
بظاہر غیر مقلد دیوبندیہ سے بدتر ہیں کہ عقائد کفر و ضلال میں دونوں متحد اور ان میں انکار تقلید و بدگوئی ائمہ زائد خود امام الدیابنہ رشید گنگوہی کے فتاوی حصہ دوم صحفہ ۲۱ میں ۴ گروہ غیر مقلد میں نذیر حسین دہلوی کی نسبت ہے۔
ان کو مردود اور خارج اہل سنت سے کہنا بھی سخت بے جا ہے ۔
عقائد میں سب متحد مقلداور غیر مقلد ہیں۔اور مفتی سے اگر غیر مقلدین اور دیوبندیہ کے بارے میں سوال ہوگا تو دیوبندیوں پر حکم سخت تردے گا کہ اس کا مطمع نظر وصف عنوانی ہے ترك تقلید و بدگوئی ائمہ کو دیوبندیہ کے ان اقوال سے کیا نسبت ہے جو سرگروہان دیابنہ گنگوہینانوتوی و تھانوی کے ہیں کہ ابلیس کو علم غیب ہے اور رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے لیے مانے تو صریح مشرک۔
عــــــہ:دونوں ریس کے گھوڑوں کی مانند ہیں جو ایك دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کرتے ہیں۔
(۲)دونوں میدان کفر میں کفرسی عــــــہ رہان ہیںدونوں کے پیچھے نماز باطل محض جیسے مسیح چرن یا گنگا دین کے پیچھے۔
کما حققناہ فی النھی الاکیدعن الصلوۃ وراء عدی التقلید وغیرہ من کتبنا وفتاونا۔ جیسا کہ ہم نے اس کی تحقیق اپنے رسالہ النہی الاکید عن الصلوۃ وراء عدی التقلید اور دیگر کتب و فتاوی میں کردی ہے۔(ت)
فتح القدیر شرح ہدایہ میں ہے:
روی محمد عن ابی حنیفۃ و ابی یوسف رضی اﷲ تعالی عنہم ان الصلوۃ خلف اھل الہواء لایجوز ۔ امام محمد علیہ الرحمہ نے امام ابوحنیفہ اور امام ابویوسف رحمۃ اﷲ تعالی علیہما سے روایت فرمایا کہ بدمذہب کے پیچھے نماز جائز نہیں(ت)
بظاہر غیر مقلد دیوبندیہ سے بدتر ہیں کہ عقائد کفر و ضلال میں دونوں متحد اور ان میں انکار تقلید و بدگوئی ائمہ زائد خود امام الدیابنہ رشید گنگوہی کے فتاوی حصہ دوم صحفہ ۲۱ میں ۴ گروہ غیر مقلد میں نذیر حسین دہلوی کی نسبت ہے۔
ان کو مردود اور خارج اہل سنت سے کہنا بھی سخت بے جا ہے ۔
عقائد میں سب متحد مقلداور غیر مقلد ہیں۔اور مفتی سے اگر غیر مقلدین اور دیوبندیہ کے بارے میں سوال ہوگا تو دیوبندیوں پر حکم سخت تردے گا کہ اس کا مطمع نظر وصف عنوانی ہے ترك تقلید و بدگوئی ائمہ کو دیوبندیہ کے ان اقوال سے کیا نسبت ہے جو سرگروہان دیابنہ گنگوہینانوتوی و تھانوی کے ہیں کہ ابلیس کو علم غیب ہے اور رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے لیے مانے تو صریح مشرک۔
عــــــہ:دونوں ریس کے گھوڑوں کی مانند ہیں جو ایك دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کرتے ہیں۔
حوالہ / References
فتح القدیر کتاب الصلوۃ باب الامامۃ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱/ ۳۰۴
فتاوٰی رشیدیہ مولوی نذیرحسین اہلحدیث کو بُرا کہنے کا حکم محمد سعید اینڈ سنز تاجران کتب کراچی ص ۱۸۵
فتاوٰی رشیدیہ مولوی نذیرحسین اہلحدیث کو بُرا کہنے کا حکم محمد سعید اینڈ سنز تاجران کتب کراچی ص ۱۸۵
(۲) شیطان کو یہ وسعت نص سے ثابت ہوئی فخر عالم کی وسعت علم کی کون سی نص قطعی ہے جس سے تمام نصوص کو رد کرکے ایك شرك ثابت کرتا ہے شرك نہیں تو کون سا ایمان کا حصہ ہے۔
(۳)شیطان خدا کی صفت خاصہ میں اس کا شریك ہے۔
(۴)شیطان اس عظیم فضیلت میں رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے زیادہ ہے نہ بایں معنی کہ حضور میں کم ہو اور اس میں زائدبلکہ بایں معنی کہ یہ فضل جلیل ابلیس ہی کے لیے ہے حضور کے لیے ماننے والا مشرك بلکہ شیطان خود خدا ہے کہ اس کے لیے علم غیب ثابت ہے کوئی عوام میں بسبب افضلیت کے شیطان سے زیادہ نہیں تو اس کے برابر تو علم غیب بزعم خود ثابت کردے۔
براہین والے نے بزعم خود مخالف کا یہ زعم تراشا ہے کہ افضلیت موجب اعلمیت ہے اس بنا پر کہتا ہے کہ اپنے اس زعم پر بربنائے افضلیت شیطان کے برابر تو علم غیب ثابت کرلے علم غیب کا لفظ کلام مخالف میں نہ تھا اور جو مخالف نے ثابت کیا اسے براہین والا خود نصوص سے ثابت مانتا ہے اور اسی کو علم غیب کہتا ہے اور واقعی وہ وہابیہ کے نزدیك علم غیب ہے بلکہ سب علوم غیب سے کروڑوں درجے زائد کہ ان کے یہاں ایك پیڑ کے پتوں کی گنتی جان لینا علم غیب ہےایك جلسہ نکاح پر مطلع ہوجانا علم غیب ہے براہین قاطعہ ص ۴۹ فقط مجلس نکاح کے اعتقاد علم میں کافر لکھا ہے۔ تو علم محیط زمین تو لاکھوں کروڑوں علم غیب کا مجموعہ ہوا جسے شیطان کے لیے ثابت مانا اور اثبات علم غیب غیر حق تعالی کو شرك صریح ہے۔ (فتاوی گنگوہی حصہ تین ص ۷)تو ضرور شیطان ان کے یہاں غیر حق تعالی نہیں ورنہ اس کے لیے علم غیب مان کر شرك صریح میں نہ پڑتے۔جو وقوع کذب باری کا قائل ہو یعنی صراحۃ کہے کہ اللہ(معاذ اﷲ)جھوٹا ہے تو اس کو کافر یا بدعتی ضال کہنا نہ چاہیے اس کو کوئی سخت کلمہ نہ کہنا چاہیے اس میں تکفیر علمائے سلف کی لازم آتی ہے حنفی شافعی پر طعن وتضلیل نہیں کرسکتاایسے کو تفسیق سے مامون کرنا چاہیے۔ (فتوی گنگوہی صاحب)
(۳)شیطان خدا کی صفت خاصہ میں اس کا شریك ہے۔
(۴)شیطان اس عظیم فضیلت میں رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے زیادہ ہے نہ بایں معنی کہ حضور میں کم ہو اور اس میں زائدبلکہ بایں معنی کہ یہ فضل جلیل ابلیس ہی کے لیے ہے حضور کے لیے ماننے والا مشرك بلکہ شیطان خود خدا ہے کہ اس کے لیے علم غیب ثابت ہے کوئی عوام میں بسبب افضلیت کے شیطان سے زیادہ نہیں تو اس کے برابر تو علم غیب بزعم خود ثابت کردے۔
براہین والے نے بزعم خود مخالف کا یہ زعم تراشا ہے کہ افضلیت موجب اعلمیت ہے اس بنا پر کہتا ہے کہ اپنے اس زعم پر بربنائے افضلیت شیطان کے برابر تو علم غیب ثابت کرلے علم غیب کا لفظ کلام مخالف میں نہ تھا اور جو مخالف نے ثابت کیا اسے براہین والا خود نصوص سے ثابت مانتا ہے اور اسی کو علم غیب کہتا ہے اور واقعی وہ وہابیہ کے نزدیك علم غیب ہے بلکہ سب علوم غیب سے کروڑوں درجے زائد کہ ان کے یہاں ایك پیڑ کے پتوں کی گنتی جان لینا علم غیب ہےایك جلسہ نکاح پر مطلع ہوجانا علم غیب ہے براہین قاطعہ ص ۴۹ فقط مجلس نکاح کے اعتقاد علم میں کافر لکھا ہے۔ تو علم محیط زمین تو لاکھوں کروڑوں علم غیب کا مجموعہ ہوا جسے شیطان کے لیے ثابت مانا اور اثبات علم غیب غیر حق تعالی کو شرك صریح ہے۔ (فتاوی گنگوہی حصہ تین ص ۷)تو ضرور شیطان ان کے یہاں غیر حق تعالی نہیں ورنہ اس کے لیے علم غیب مان کر شرك صریح میں نہ پڑتے۔جو وقوع کذب باری کا قائل ہو یعنی صراحۃ کہے کہ اللہ(معاذ اﷲ)جھوٹا ہے تو اس کو کافر یا بدعتی ضال کہنا نہ چاہیے اس کو کوئی سخت کلمہ نہ کہنا چاہیے اس میں تکفیر علمائے سلف کی لازم آتی ہے حنفی شافعی پر طعن وتضلیل نہیں کرسکتاایسے کو تفسیق سے مامون کرنا چاہیے۔ (فتوی گنگوہی صاحب)
حوالہ / References
البراہین القاطعۃ بحث علم غیب مطبع لے بلاساڈھورانڈیا ص ۵۱
البراہین القاطعۃ بحث علم غیب مطبع لے بلاساڈھورانڈیا ص ۵۱ و ۵۲
البراہین القاطعۃ بحث علم غیب مطبع لے بلاساڈھورانڈیا ص ۵۱
البراہین القاطعۃ بحث علم غیب مطبع لے بلاساڈھورانڈیا ص ۵۱
فتاوٰی رشیدیہ علم غیب شرك ہے محمد سعید اینڈ سنز تاجران کتب کراچی ص ۶۵
البراہین القاطعۃ بحث علم غیب مطبع لے بلاساڈھورانڈیا ص ۵۱ و ۵۲
البراہین القاطعۃ بحث علم غیب مطبع لے بلاساڈھورانڈیا ص ۵۱
البراہین القاطعۃ بحث علم غیب مطبع لے بلاساڈھورانڈیا ص ۵۱
فتاوٰی رشیدیہ علم غیب شرك ہے محمد سعید اینڈ سنز تاجران کتب کراچی ص ۶۵
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا خاتم النبین بمعنی نبی آخر الزماں ہونا(جیسے خود رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے آج تك سب مسلمان سمجھ رہے)جاہلوں کا خیال ہے نافہمی ہے یہ وصف کریم نہ کوئی کمال ہے نہ اسے فضیلت میں دخل نہ وہ مدح میں ذکر کرکے قابل آیت کے یہ معنی ہوں تو خدا پر زیادہ گوئی کا وہم قرآن کی عبارت بے ربط(تحذیر الناس نانوتوی صاحب ص ۲ و ۳)بلکہ اگر بالفرض بعد زمانہ نبی صلعم عــــــہ۱ بھی کوئی نبی پیدا ہو تو پھر بھی خاتمیت محمدی میں کچھ فرق نہ آئے گا۔ (تحذیر الناس ص ۳۳)بڑوں(علماء و ائمہ و صحابہ خود حضور سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم)کا فہم نہ پہنچا۔طفل ناداں یعنی نانوتوی صاحب)نے ٹھکانے کی بات کہہ دی۔ (تحذیر الناس ص ۳۴)یعنی یہ کہ خاتم النبین کہنا محض جھوٹی ہوا بندی ہے اس لیے کہ ختم زمانی جو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم سے آج تك تمام صحابہ و ائمہ و علماء و مسلمین(ان کے زعم میں)براہ نا فہمی سمجھے ہوئے تھے اور ص ۱۱ تحذیر الناس پر خود برائے تصنع کہا تھا کہ اس کا منکر بھی کافر ہوگا۔ وہ تو اس صورت میں کہ بعد زمانہ نبوی صلعم۔ عــــــہ۲ بھی کوئی نبی پیدا ہو بداہۃ زائل ہو ہی گیا کہ وہ تو خود بہ اقرار تحذیر الناس ص ۲ یہی تھا کہ آپ سب میں آخری نبی ہیں۔ جب حضور کے بعد اور نبی پیدا ہوا تو سب میں آخری کب رہیں گے یہ توگیا ہی اور اس کے جاتے ہی نانوتوی صاحب کا ساختہ ختم ذاتی بھی ختم شد کہ اسے ختم زمانی لازم تھا تحذیر ص ۹ ختم نبوت بمعنی معروض کوتأخر زمانی لازم ہے۔ لازم گیا تو ملزوم کہاں غرض نہ ختم زمانی رہا نہ ذاتیسب فنا اور خاتمیت بجا اس میں کچھ فرق نہ آئے گا " کذلک یطبع اللہ علی کل قلب متکبر جبار ﴿۳۵﴾ " ۔ (اﷲ تعالی یونہی مہر کردیتا ہے متکبر سرکش کے سارے دل پر (ت) یہ ہے وہ ٹھکانہ کی بات
عــــــہ۱و عــــــہ ۲:ہم کہتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم ۱۲ منہ غفرلہ
عــــــہ۱و عــــــہ ۲:ہم کہتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم ۱۲ منہ غفرلہ
حوالہ / References
تحذیر الناس کتب خانہ رحیمیہ دیوبند سہارن پور ص ۲۱
تحذیر الناس کتب خانہ رحیمیہ دیوبند سہارن پور ص ۲۵
تحذیر الناس کتب خانہ رحیمیہ دیوبند سہارن پور ص ۲۶
تحذیر الناس کتب خانہ رحیمیہ دیوبند سہارن پور ص ۱۰
تحذیر الناس کتب خانہ رحیمیہ دیوبند سہارن پور ص ۳
تحذیر الناس کتب خانہ رحیمیہ دیوبند سہارن پور ص ۸
القرآن الکریم ۴۰ /۴۵
تحذیر الناس کتب خانہ رحیمیہ دیوبند سہارن پور ص ۲۵
تحذیر الناس کتب خانہ رحیمیہ دیوبند سہارن پور ص ۲۶
تحذیر الناس کتب خانہ رحیمیہ دیوبند سہارن پور ص ۱۰
تحذیر الناس کتب خانہ رحیمیہ دیوبند سہارن پور ص ۳
تحذیر الناس کتب خانہ رحیمیہ دیوبند سہارن پور ص ۸
القرآن الکریم ۴۰ /۴۵
جو آج تك رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بھی نہ سمجھے تھے نانوتوی صاحب نے سمجھی بعض علوم غیبیہ مراد ہیں تو اس میں حضور(یعنی نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم)کی کیا تخصیص ہے ایسا علم غیب تو زید و عمرو بلکہ ہر صبی و مجنون بلکہ جمیع حیوانات و بہائم کے لیے بھی حاصل ہے۔ حفظ الایمان تھانوی ص ۷ نبی اور غیر نبی میں وجہ فرق بیان کرنا ضرور ہے اور اگر تمام علوم غیب مراد ہیں ا س طرح کہ اس کلی کا ایك فرد بھی خارج نہ رہے تو اس کا بطلان دلیل نقلی و عقلی سے ثابت۔ حفظ الایمان ص ۸۔ ولہذا علمائے کرام حرمین شریفین نے فتاوی الحرمین میں غیر مقلد پر یہ حکم فرمایا:
ھو من اھل البدعۃ والنار وہ بدعتی جہنمی ہے۔
اور حسام الحرمین شریف میں دیوبندیوں کی نسبت یوں ارشاد فرمایا:
ھؤلاء الطوائف کلھم کفار مرتدون خارجون عن الاسلام ۔ یہ طائفہ سب کے سب کافر مرتد ہیں باجماع امت اسلام سے خارج ہیں۔
اور تحقیق یہ ہے کہ ان صریح جلی ملعون کفروں کے ایجاد میں دیوبندی پیش قدم ہیں اور ان کے تسلیم میں وہ اور غیر مقلد سب یکساں وہمدم ہیں کوئی وہابی ان لعین کفروں اور اﷲ و رسول کو شدید غلیظ گالیوں پر دیوبندیوں کی تکفیر نہ کرے گا بلکہ اپنی چلتی ساتھ ہی دے گا اور علمائے کرام دیوبندیوں کو فرماچکے۔
من شك فی کفرہ وعذابہ فقد کفر ۔ جو ان کے کفر و عذاب میں شك کرے خود کافر ہے۔
تو ملعون کفروں میں سب برابر ہوئے اور اﷲ و رسول جل و علا وصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو ان
ھو من اھل البدعۃ والنار وہ بدعتی جہنمی ہے۔
اور حسام الحرمین شریف میں دیوبندیوں کی نسبت یوں ارشاد فرمایا:
ھؤلاء الطوائف کلھم کفار مرتدون خارجون عن الاسلام ۔ یہ طائفہ سب کے سب کافر مرتد ہیں باجماع امت اسلام سے خارج ہیں۔
اور تحقیق یہ ہے کہ ان صریح جلی ملعون کفروں کے ایجاد میں دیوبندی پیش قدم ہیں اور ان کے تسلیم میں وہ اور غیر مقلد سب یکساں وہمدم ہیں کوئی وہابی ان لعین کفروں اور اﷲ و رسول کو شدید غلیظ گالیوں پر دیوبندیوں کی تکفیر نہ کرے گا بلکہ اپنی چلتی ساتھ ہی دے گا اور علمائے کرام دیوبندیوں کو فرماچکے۔
من شك فی کفرہ وعذابہ فقد کفر ۔ جو ان کے کفر و عذاب میں شك کرے خود کافر ہے۔
تو ملعون کفروں میں سب برابر ہوئے اور اﷲ و رسول جل و علا وصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو ان
حوالہ / References
حفظ الایمان تھانوی محمد عثمان خاں تاجر کتب مالك کتب خانہ اشرفیہ دہلی ص ۸
حفظ الایمان تھانوی محمد عثمان خاں تاجر کتب مالك کتب خانہ اشرفیہ دہلی ص ۹
فتاوٰی الحرمین
فتاوٰی الحرمین
حسام الحرمین مکتبہ نبویہ لاہور ص ۳۱
حسام الحرمین مکتبہ نبویہ لاہور ص ۳۲
حسام الحرمین مکتبہ نبویہ لاہور ص ۱۳
حسام الحرمین مکتبہ نبویہ لاہور ص ۱۴
حفظ الایمان تھانوی محمد عثمان خاں تاجر کتب مالك کتب خانہ اشرفیہ دہلی ص ۹
فتاوٰی الحرمین
فتاوٰی الحرمین
حسام الحرمین مکتبہ نبویہ لاہور ص ۳۱
حسام الحرمین مکتبہ نبویہ لاہور ص ۳۲
حسام الحرمین مکتبہ نبویہ لاہور ص ۱۳
حسام الحرمین مکتبہ نبویہ لاہور ص ۱۴
سخت گندی دشناموں کے بعد اس پر کیا نظر کہ انہوں نے ائمہ کو بھی برا اور تقلید کو ناجائز کہا ان عظیم ملعون کفروں کے آگے یہ کیا قابل ذکر ہے لہذا دونوں گروہ کفر میں برابر اور سگ زرد و شغال و سگ سیاہ و خوك سے زیادہ باہم حقیقی برادر ہیں۔
(۳)یہ سب مسائل وہابیت ہیں اور ہم واضح کرچکے کہ وہابیہ مسلمان نہیں اگرچہ نفس مسائل فی انفسہا کفر نہ ہوں سوائے انکار علم غیب کہ اگر نہ صرف لفظ بلکہ معنی کا انکار ہواور علی الاطلاق ہو کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو اصلا غیب پر اطلاع نہ دی گئی تو یہ انکار بذات خود کفر ہے کہ آیات قرآنیہ و نصوص قاطعہ کے علاوہ خود نفس نبوت حضور کا انکار کیا ہےامام قسطلانی مواہب اللدنیہ شریف میں فرماتے ہیں:
النبوۃ ھی الاطلاع علی الغیب یعنی نبوت کے معنی ہی یہ ہیں کہ غیب پر مطلع ہونا۔
(۴)یہ چاروں حضرات عناصر اربعہ دیوبندیت ائمۃ الکفر انھم لاایمان لھم(یہ وہ ہیں جن کے پاس ایمان نہیں۔ت)یکسر ہمزہ میں چہ جائے فتحہجواب دوم میں دیوبندیوں کی نسبت علمائے حرمین طیبین کا فتوی سن چکے کہ یہ سب بہ اجماع امت کافر مرتد ہیں جو ان کے کافر ہونے میں شك کرے وہ بھی کافراور انہیں اکابر نے تقریظات حسام الحرمین شریف میں جابجا نام بنام بھی ثلثہ سابقہ پر حکم کفر فرمائے۔صفحہ ۴۲:
ان غلام احمد القادیانی ورشید احمد ومن تبعہ کخلیل الانبیتھی واشرفعلی وغیرھم لاشبھۃ فی کفر ھم بلامجال بل لاشبہۃ فی من شك بل فیمن توقف فی کفرھم بحال من الاحوال ۔ غلام احمد قادیانی و رشید احمد اور جو اس کے پیروہوں جیسے خلیل احمد انبیٹھی اور اشرفعلی وغیرہ ان کے کفر میں کوئی شبہہ نہیں نہ شك کی مجالبلکہ جو ان کے کفر میں شك کرے بلکہ کسی طرح کسی حال میں انہیں کافر کہنے میں توقف کرے اس کے کفر میں شبہہ نہیں
ص ۵۸:
غلام احمد القادیانی و غلام احمد قادیانی و رشید احمد و
(۳)یہ سب مسائل وہابیت ہیں اور ہم واضح کرچکے کہ وہابیہ مسلمان نہیں اگرچہ نفس مسائل فی انفسہا کفر نہ ہوں سوائے انکار علم غیب کہ اگر نہ صرف لفظ بلکہ معنی کا انکار ہواور علی الاطلاق ہو کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو اصلا غیب پر اطلاع نہ دی گئی تو یہ انکار بذات خود کفر ہے کہ آیات قرآنیہ و نصوص قاطعہ کے علاوہ خود نفس نبوت حضور کا انکار کیا ہےامام قسطلانی مواہب اللدنیہ شریف میں فرماتے ہیں:
النبوۃ ھی الاطلاع علی الغیب یعنی نبوت کے معنی ہی یہ ہیں کہ غیب پر مطلع ہونا۔
(۴)یہ چاروں حضرات عناصر اربعہ دیوبندیت ائمۃ الکفر انھم لاایمان لھم(یہ وہ ہیں جن کے پاس ایمان نہیں۔ت)یکسر ہمزہ میں چہ جائے فتحہجواب دوم میں دیوبندیوں کی نسبت علمائے حرمین طیبین کا فتوی سن چکے کہ یہ سب بہ اجماع امت کافر مرتد ہیں جو ان کے کافر ہونے میں شك کرے وہ بھی کافراور انہیں اکابر نے تقریظات حسام الحرمین شریف میں جابجا نام بنام بھی ثلثہ سابقہ پر حکم کفر فرمائے۔صفحہ ۴۲:
ان غلام احمد القادیانی ورشید احمد ومن تبعہ کخلیل الانبیتھی واشرفعلی وغیرھم لاشبھۃ فی کفر ھم بلامجال بل لاشبہۃ فی من شك بل فیمن توقف فی کفرھم بحال من الاحوال ۔ غلام احمد قادیانی و رشید احمد اور جو اس کے پیروہوں جیسے خلیل احمد انبیٹھی اور اشرفعلی وغیرہ ان کے کفر میں کوئی شبہہ نہیں نہ شك کی مجالبلکہ جو ان کے کفر میں شك کرے بلکہ کسی طرح کسی حال میں انہیں کافر کہنے میں توقف کرے اس کے کفر میں شبہہ نہیں
ص ۵۸:
غلام احمد القادیانی و غلام احمد قادیانی و رشید احمد و
حوالہ / References
المواھب اللدنیۃ المقصد الثانی الفصل الاول المکتب الاسلامی بیروت ۲/ ۴۷
حسام الحرمین مکتبہ نبویہ لاہور ص ۴۹
حسام الحرمین مکتبہ نبویہ لاہور ص ۵۰
حسام الحرمین مکتبہ نبویہ لاہور ص ۴۹
حسام الحرمین مکتبہ نبویہ لاہور ص ۵۰
رشید احمد و خلیل احمد واشرف علی من اھل الکفر الجلی۔ خلیل احمد و اشرف علی کھلے کافر ہیں۔
ص ۶۰:
رشید احمد واشرف علی و خلیل احمد من ذوی الکفرالجلی ۔ رشید احمد و اشرف علی و خلیل احمد کھلے کفر والے ہیں۔
ص ۶۸ و ۷۰:
اطلعت علی کلام المضلین فوجدتہ موجبا لر دتھم و ھم اخزا ھم اﷲ تعالی رشید احمد و اشرف علی وخلیل احمد من ذوی الکفر الجلی۔ میں ان گمراہ گروہ کے اقوال پر مطلع ہوا تو میں نے پایا کہ ان کے اقوال ان کے مرتد ہوجانے کے موجب ہیںاور وہ(انہیں اﷲ رسوا کرے)رشید احمد و اشرف علی و خلیل احمد ہیں جو کھلے کفر والے ہیں۔
ص ۱۰۰:
الفرقۃ المارقۃ التی تدعی بالوھابیۃ منہم المارق المنقص لشان الالوھیۃ والرسالۃ قاسم النانوتوی و رشید احمد گنگوہی و خلیل احمد انبیٹھی و اشرف علی تھانوی ۔ گر وہ خارج از دین جسے وہابیہ کہا جاتا ہے ان میں سے ہے دین سے نکلنے والا شان الوہیت ورسالت کا گھٹانے والا قاسم نانوتوی رشید احمد گنگوہیخلیل احمد انبیٹھیاشرف علی تھانوی۔
ص ۶۰:
رشید احمد واشرف علی و خلیل احمد من ذوی الکفرالجلی ۔ رشید احمد و اشرف علی و خلیل احمد کھلے کفر والے ہیں۔
ص ۶۸ و ۷۰:
اطلعت علی کلام المضلین فوجدتہ موجبا لر دتھم و ھم اخزا ھم اﷲ تعالی رشید احمد و اشرف علی وخلیل احمد من ذوی الکفر الجلی۔ میں ان گمراہ گروہ کے اقوال پر مطلع ہوا تو میں نے پایا کہ ان کے اقوال ان کے مرتد ہوجانے کے موجب ہیںاور وہ(انہیں اﷲ رسوا کرے)رشید احمد و اشرف علی و خلیل احمد ہیں جو کھلے کفر والے ہیں۔
ص ۱۰۰:
الفرقۃ المارقۃ التی تدعی بالوھابیۃ منہم المارق المنقص لشان الالوھیۃ والرسالۃ قاسم النانوتوی و رشید احمد گنگوہی و خلیل احمد انبیٹھی و اشرف علی تھانوی ۔ گر وہ خارج از دین جسے وہابیہ کہا جاتا ہے ان میں سے ہے دین سے نکلنے والا شان الوہیت ورسالت کا گھٹانے والا قاسم نانوتوی رشید احمد گنگوہیخلیل احمد انبیٹھیاشرف علی تھانوی۔
حوالہ / References
حسام الحرمین مکتبہ نبویہ لاہور ص ۶۵
حسام الحرمین مکتبہ نبویہ لاہور ص ۶۶
حسام الحرمین مکتبہ نبویہ لاہور ص ۶۷
حسام الحرمین مکتبہ نبویہ لاہور ص ۶۸
حسام الحرمین مکتبہ نبویہ لاہور ص ۷۵ و ۷۷
حسام الحرمین مکتبہ نبویہ لاہور ص ۷۶ و ۷۸
حسام الحرمین مکتبہ نبویہ لاہور ص ۱۰۷
حسام الحرمین مکتبہ نبویہ لاہور ص ۱۰۸
حسام الحرمین مکتبہ نبویہ لاہور ص ۶۶
حسام الحرمین مکتبہ نبویہ لاہور ص ۶۷
حسام الحرمین مکتبہ نبویہ لاہور ص ۶۸
حسام الحرمین مکتبہ نبویہ لاہور ص ۷۵ و ۷۷
حسام الحرمین مکتبہ نبویہ لاہور ص ۷۶ و ۷۸
حسام الحرمین مکتبہ نبویہ لاہور ص ۱۰۷
حسام الحرمین مکتبہ نبویہ لاہور ص ۱۰۸
ص ۱۲۸ و ص ۱۳۰:
والقاسمیۃ قولھم صریح فی تجویز نبوۃ جدیدۃ لاحد بعدہ ولا شك ان من جوزذلك فھو کافر باجماع المسلمین وعلیھم وعلی من رضی بمقالتھم تلك ان لم یتوبوا غضب اﷲ ولعنتہ الی یوم الدین ۔ قاسم نانوتوی کے قول سے صاف ظاہر ہے کہ یہ لوگ نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے بعد کسی کو نبوت جدیدہ ملنی جائز مان رہے ہیں اور کچھ شك نہیں کہ جو اسے جائز مانے وہ باجماع علمائے امت کافر ہے ان لوگوں پر اور جو ان کی اس بات پر راضی ہو اس پر اﷲ کا غضب اور اﷲ کی لعنت ہے قیامت تك اگر تائب نہ ہوں۔
ص ۳۲ا و ۱۳۴:
قول رشید احمد الگنگوھی فی البراھین القاطعۃ کفر واستخفاف صریح برسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وقد نص ائمۃ المذاھب الاربعۃ ان من استخف برسول اﷲ کافر ۔ وہ جو رشید احمد گنگوہی نے براہین قاطعہ میں لکھا کفر ہے اور صاف صاف حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی شان گھٹانا ہے چاروں مذہب کے اماموں نے تصریحات فرمائی ہیں کہ شان اقدس گھٹانے والا کافر ہے۔
ص ۱۳۴:
قول اشرفعلی تھانوی کفر صریح بالاجماع اشد استخفافا برسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم من مقالۃ رشید احمد فیکون کفرابطریق الاولی موجبا لغضب اﷲ وہ جو اشرف علی تھانوی نے کہا وہ کھلا ہوا کفر ہے بالاتفاق اس میں رشید احمد کے قول سے بھی زیادہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی تنقیص شان ہے تو بدرجہ اولی کفر ہوگا اور قیامت تك اﷲ تعالی کے غضب و لعنت کا
والقاسمیۃ قولھم صریح فی تجویز نبوۃ جدیدۃ لاحد بعدہ ولا شك ان من جوزذلك فھو کافر باجماع المسلمین وعلیھم وعلی من رضی بمقالتھم تلك ان لم یتوبوا غضب اﷲ ولعنتہ الی یوم الدین ۔ قاسم نانوتوی کے قول سے صاف ظاہر ہے کہ یہ لوگ نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے بعد کسی کو نبوت جدیدہ ملنی جائز مان رہے ہیں اور کچھ شك نہیں کہ جو اسے جائز مانے وہ باجماع علمائے امت کافر ہے ان لوگوں پر اور جو ان کی اس بات پر راضی ہو اس پر اﷲ کا غضب اور اﷲ کی لعنت ہے قیامت تك اگر تائب نہ ہوں۔
ص ۳۲ا و ۱۳۴:
قول رشید احمد الگنگوھی فی البراھین القاطعۃ کفر واستخفاف صریح برسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وقد نص ائمۃ المذاھب الاربعۃ ان من استخف برسول اﷲ کافر ۔ وہ جو رشید احمد گنگوہی نے براہین قاطعہ میں لکھا کفر ہے اور صاف صاف حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی شان گھٹانا ہے چاروں مذہب کے اماموں نے تصریحات فرمائی ہیں کہ شان اقدس گھٹانے والا کافر ہے۔
ص ۱۳۴:
قول اشرفعلی تھانوی کفر صریح بالاجماع اشد استخفافا برسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم من مقالۃ رشید احمد فیکون کفرابطریق الاولی موجبا لغضب اﷲ وہ جو اشرف علی تھانوی نے کہا وہ کھلا ہوا کفر ہے بالاتفاق اس میں رشید احمد کے قول سے بھی زیادہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی تنقیص شان ہے تو بدرجہ اولی کفر ہوگا اور قیامت تك اﷲ تعالی کے غضب و لعنت کا
حوالہ / References
حسام الحرمین مکتبہ نبویہ لاہور ص ۱۳۵ و ۱۳۷
حسام الحرمین مکتبہ نبویہ لاہور ص ۱۳۶ و۱۳۸
حسام الحرمین مکتبہ نبویہ لاہور ص ۱۳۹ و ۱۴۱
حسام الحرمین مکتبہ نبویہ لاہور ص ۱۴۰ و ۱۴۲
حسام الحرمین مکتبہ نبویہ لاہور ص ۱۳۶ و۱۳۸
حسام الحرمین مکتبہ نبویہ لاہور ص ۱۳۹ و ۱۴۱
حسام الحرمین مکتبہ نبویہ لاہور ص ۱۴۰ و ۱۴۲
لعنتہ الی یوم الدین ۔ موجب ۔
رہے چوتھے دیوبندی صاحب یہ انہیں اگلے تین کے پیچھے ہیں مگر کروڑوں خداؤں کے پوچنے میں آگے ہیں انہوں نے ضمیمہ اخبار نظام الملك ۲۵ اگست ۱۸۸۹ء میں بے تکان چھاپ دیا کہ ان کا خدا چوری کرسکتا ہے کیونکہ آدمی چرا سکتا ہے تو خدا کیسے چور نہ ہوسکے گااب ملاحظہ ہو کوئی عاقل اپنی ملك لینے کو چوری نہیں کہہ سکتا تو ضرور ہے کہ بعض چیزیں ان کے خدا کی ملك سے باہر اور دوسرے کی ملك مستقل ہوں اور مالك مستقل نہ ہوگا مگر خدا کہ بندہ کا سب کچھ اس کے مولی کا ہے تو ضرور ہے کہ دوسرا خدا ہو جس کی ملك کو ان کا خدا چرا سکے پھر آدمی لاکھوں کروڑوں کی چوری کرسکتا ہے ان کا خدا اگر ایك ہی کی کرسکے تو پھر انسان سے قدرت میں گھٹ رہے تو ضرور ہے کہ دیوبندی کے لاکھوں کروڑوں خدا میں جن کی چوری ان کا یہ خدا کرسکتا ہے یہ ظاہر تو کی محمود حسن نے مگر اصل دلیل ان کے امام الطائفہ اسمعیل دہلوی کی ہے کہ یکروزی میں لکھی کہ آدمی جھوٹ بول سکتا ہے خدا نہ بول سکے تو آدمی سے قدرت میں کم رہے اس دلیل ذلیل کے بکثرت رد ہمارے رسائل مثل سبحن السبوح وغیرہ میں ہیں مگر وہابیہ پر اس کا ماننا لازم اور سب وہابی خود اس کے قائل ہیں۔اب ہے دم تھانوی صاحب یا محمود حسن یا کسی دیوبندی یا کسی وہابی میں کہ اس کا جواب لاسکے اور اپنے کروڑوں خدا سے ایك ہی گھٹا سکے۔کذلک العذاب و لعذاب الاخرۃ اکبر لو کانوا یعلمون ﴿۳۳﴾"۔ (مار ایسی ہوتی ہے اور بے شك آخرت کی مار سب سے بڑی ہے کیا اچھا تھا اگر وہ جانتے (ت) واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۹۶: از نصیر آباد راجپوتانہ مرسلہ شیخ عمر ۵ ربیع الاول شریف ۱۳۳۷ھ
اگر کسی کتاب میں امام اعظم رحمۃ اﷲ علیہ کے قول یا فعل سے کھانے پر فاتحہ ہاتھ اٹھا کر پڑھنے کا ثبوت ہو تو برائے مہربانی اس کتاب کا نام اور صفحہ سے بہت جلد اطلاع دیں کیونکہ ایسا دعوی مولوی عبدالحکیم غیر مقلد کرتا ہے جس کے پرچہ کی نقل جو میرے پاس آیا ہوا ہے کرکے خدمت میں روانہ کرتا ہوں ملاحظہ
رہے چوتھے دیوبندی صاحب یہ انہیں اگلے تین کے پیچھے ہیں مگر کروڑوں خداؤں کے پوچنے میں آگے ہیں انہوں نے ضمیمہ اخبار نظام الملك ۲۵ اگست ۱۸۸۹ء میں بے تکان چھاپ دیا کہ ان کا خدا چوری کرسکتا ہے کیونکہ آدمی چرا سکتا ہے تو خدا کیسے چور نہ ہوسکے گااب ملاحظہ ہو کوئی عاقل اپنی ملك لینے کو چوری نہیں کہہ سکتا تو ضرور ہے کہ بعض چیزیں ان کے خدا کی ملك سے باہر اور دوسرے کی ملك مستقل ہوں اور مالك مستقل نہ ہوگا مگر خدا کہ بندہ کا سب کچھ اس کے مولی کا ہے تو ضرور ہے کہ دوسرا خدا ہو جس کی ملك کو ان کا خدا چرا سکے پھر آدمی لاکھوں کروڑوں کی چوری کرسکتا ہے ان کا خدا اگر ایك ہی کی کرسکے تو پھر انسان سے قدرت میں گھٹ رہے تو ضرور ہے کہ دیوبندی کے لاکھوں کروڑوں خدا میں جن کی چوری ان کا یہ خدا کرسکتا ہے یہ ظاہر تو کی محمود حسن نے مگر اصل دلیل ان کے امام الطائفہ اسمعیل دہلوی کی ہے کہ یکروزی میں لکھی کہ آدمی جھوٹ بول سکتا ہے خدا نہ بول سکے تو آدمی سے قدرت میں کم رہے اس دلیل ذلیل کے بکثرت رد ہمارے رسائل مثل سبحن السبوح وغیرہ میں ہیں مگر وہابیہ پر اس کا ماننا لازم اور سب وہابی خود اس کے قائل ہیں۔اب ہے دم تھانوی صاحب یا محمود حسن یا کسی دیوبندی یا کسی وہابی میں کہ اس کا جواب لاسکے اور اپنے کروڑوں خدا سے ایك ہی گھٹا سکے۔کذلک العذاب و لعذاب الاخرۃ اکبر لو کانوا یعلمون ﴿۳۳﴾"۔ (مار ایسی ہوتی ہے اور بے شك آخرت کی مار سب سے بڑی ہے کیا اچھا تھا اگر وہ جانتے (ت) واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۹۶: از نصیر آباد راجپوتانہ مرسلہ شیخ عمر ۵ ربیع الاول شریف ۱۳۳۷ھ
اگر کسی کتاب میں امام اعظم رحمۃ اﷲ علیہ کے قول یا فعل سے کھانے پر فاتحہ ہاتھ اٹھا کر پڑھنے کا ثبوت ہو تو برائے مہربانی اس کتاب کا نام اور صفحہ سے بہت جلد اطلاع دیں کیونکہ ایسا دعوی مولوی عبدالحکیم غیر مقلد کرتا ہے جس کے پرچہ کی نقل جو میرے پاس آیا ہوا ہے کرکے خدمت میں روانہ کرتا ہوں ملاحظہ
حوالہ / References
حسام الحرمین مکتبہ نبویہ لاہور ص ۱۴۱
حسام الحرمین مکتبہ نبویہ لاہور ص ۱۴۲
یك روزہ فارسی فاروقی کتب خانہ ملتان ص ۱۷
القرآن الکریم ۶۸ /۳۳
حسام الحرمین مکتبہ نبویہ لاہور ص ۱۴۲
یك روزہ فارسی فاروقی کتب خانہ ملتان ص ۱۷
القرآن الکریم ۶۸ /۳۳
فرمائیں۔(نقل رقعہ یہ ہے)میں عبدالحکیم اس بات کا اقرار کرتا ہوں کہ اگر کوئی عالم امام اعظم رحمۃ اﷲ تعالی علیہ سے یہ ثابت کردے کہ انہوں نے کھانا آگے رکھ کر ہاتھ اٹھا کر فاتحہ پڑھنے کا حکم دیا ہے تو میں اس کام کو کروں گااور علانیہ لوگوں میں توبہ کروں گا اور سو روپیہ کی مٹھائی اس کے شکریہ میں تقسیم کروں گا۔
الجواب:امام اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ کا مذہب وہ ہے جو ان کی کتاب عقائد فقہ اکبر کی شرح میں ہے کہ:
ان دعاء الاحیاء للاموات و صدقتھم عنھم نفع لھم خلافا للمعتزلۃالاصل فی ذلك عنداھل السنۃ ان للانسان ان یجعل ثواب عملہ لغیرہ صلاۃ اوصوما او حجا اوصدقۃ اوغیرھاوعندابی حنیفۃ رحمۃ اﷲ و اصحابہ یجوز ذلك و ثوابہ الی المیت ملخصا ۔ بے شك زندوں کا مردوں کے لیے دعا کرنا اور ان کی طرف سے صدقہ دینا مردوں کو نفع دیتا ہےمعتزلہ گمراہ فرقہ اس میں مخالف ہےاور اصل اس میں یہ ہے کہ اہل سنت کے نزدیك آدمی اپنے ہر عمل کا ثواب دوسرے کو پہنچا سکتا ہے نماز ہو یا روزہ یا حج یا صدقہ یا کچھامام ابوحنیفہ اور ان کے اصحاب کے نزدیك یہ سب جائز ہے اور میت کو اس کا ثواب پہنچتا ہے۔(ت)
یہ مذہب ہے امام اعظم کااگر اس میں کوئی ثبوت دے دے کہ امام نے قرآن مجید اور کھانے کا ثواب پہنچانا جائز تو فرمایا لیکن کھانا آگے رکھنے کو منع فرمایا ہےمیت کے لیے دعا تو جائز فرمائی ہے لیکن اس میں ہاتھ اٹھانا منع فرمایا ہےتو اسے دوسو روپے انعام دیئے جائیں گےنیز دیوبند وغیرہ وہابی مدارس میں جو انصاف تعلیم ہے اور سالانہ جلسےطرز معلوم کے لیے امتحان اور ان کے نمبر اور رودادیں چھاپنا اور کتابیں چھاپ کر بیچنا اور ان پر کمیشن کا ٹنااگر کوئی عالم اس کا ثبوت دے کہ امام اعظم نے ان باتوں کا حکم دیا ہے تو سو روپیہ انعام پائے گا۔
مسئلہ ۹۷: از امرتسرکٹرہ پرچہ مرسلہ غلام محمد دکاندار ۲۷ ربیع الاول شریف ۱۳۳۷ھ
ثبوت مولود شریف پر سو روپیہ انعامآج کل جس رسم مولود کا رواج ہے ہمارے علم میں یہ بے ثبوت بات ہے اس کے ثبوت دینے پر انجمن ہذا کی طرف سے یکم ربیع الاول کو ایك اشتہار انعامی دس روپیہ شائع ہوچکا ہے مگر میاں فیروز الدین صاحب سودا گر آنریری مجسٹریٹ فرماتے ہیں کہ یہ انعام کم ہے اس مسئلہ
الجواب:امام اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ کا مذہب وہ ہے جو ان کی کتاب عقائد فقہ اکبر کی شرح میں ہے کہ:
ان دعاء الاحیاء للاموات و صدقتھم عنھم نفع لھم خلافا للمعتزلۃالاصل فی ذلك عنداھل السنۃ ان للانسان ان یجعل ثواب عملہ لغیرہ صلاۃ اوصوما او حجا اوصدقۃ اوغیرھاوعندابی حنیفۃ رحمۃ اﷲ و اصحابہ یجوز ذلك و ثوابہ الی المیت ملخصا ۔ بے شك زندوں کا مردوں کے لیے دعا کرنا اور ان کی طرف سے صدقہ دینا مردوں کو نفع دیتا ہےمعتزلہ گمراہ فرقہ اس میں مخالف ہےاور اصل اس میں یہ ہے کہ اہل سنت کے نزدیك آدمی اپنے ہر عمل کا ثواب دوسرے کو پہنچا سکتا ہے نماز ہو یا روزہ یا حج یا صدقہ یا کچھامام ابوحنیفہ اور ان کے اصحاب کے نزدیك یہ سب جائز ہے اور میت کو اس کا ثواب پہنچتا ہے۔(ت)
یہ مذہب ہے امام اعظم کااگر اس میں کوئی ثبوت دے دے کہ امام نے قرآن مجید اور کھانے کا ثواب پہنچانا جائز تو فرمایا لیکن کھانا آگے رکھنے کو منع فرمایا ہےمیت کے لیے دعا تو جائز فرمائی ہے لیکن اس میں ہاتھ اٹھانا منع فرمایا ہےتو اسے دوسو روپے انعام دیئے جائیں گےنیز دیوبند وغیرہ وہابی مدارس میں جو انصاف تعلیم ہے اور سالانہ جلسےطرز معلوم کے لیے امتحان اور ان کے نمبر اور رودادیں چھاپنا اور کتابیں چھاپ کر بیچنا اور ان پر کمیشن کا ٹنااگر کوئی عالم اس کا ثبوت دے کہ امام اعظم نے ان باتوں کا حکم دیا ہے تو سو روپیہ انعام پائے گا۔
مسئلہ ۹۷: از امرتسرکٹرہ پرچہ مرسلہ غلام محمد دکاندار ۲۷ ربیع الاول شریف ۱۳۳۷ھ
ثبوت مولود شریف پر سو روپیہ انعامآج کل جس رسم مولود کا رواج ہے ہمارے علم میں یہ بے ثبوت بات ہے اس کے ثبوت دینے پر انجمن ہذا کی طرف سے یکم ربیع الاول کو ایك اشتہار انعامی دس روپیہ شائع ہوچکا ہے مگر میاں فیروز الدین صاحب سودا گر آنریری مجسٹریٹ فرماتے ہیں کہ یہ انعام کم ہے اس مسئلہ
حوالہ / References
منح الروض الازہر شرح الفقہ الاکبر الدعاء للمیت ینفع خلافاللمعتزلۃ مصطفی البابی مصر ص ۱۳۰۔۱۲۹
کا فیصلہ ہونا ضروری ہے اس لیے میاں صاحب موصوف مروجہ مولود کا ثبوت قرآن یا حدیث یا فقہ میں سے دینے والے کو ایك صد ۱۰۰ روپیہ انعام دینے کا اعلان کرنے کی ہم کو اجازت دیتے ہیں۔امید ہے حامیان مولود شریف ضرور توجہ کرکے انعام مرقومہ کے علاوہ ثواب دارین بھی حاصل کریں گے۔
نوٹ:واضح رہے کہ ایچ پیچ کا کام نہیںصرف حوالہ کتاب مع عبارت شائع کردینا کافی ہے جس میں لکھا ہو کہ ربیع الاول کے مہینہ میں مجلس مولود کیا کرو مجلس مولود کرنا ثواب ہےہماری طرف سے اجازت ہے کہ امامان دین میں سے کسی ایك امام کا قول دکھادیں جو کسی مستند کتاب میں ہواگر اتنا بھی ثبوت نہیں تو پھر ایسی بے ثبوت بات کو چھوڑ نے میں ذرا دیر نہ کریں ورنہ خدا کے سامنے جواب دہی ہوگی۔والسلام خاکسار محمد ابراہیم شال مرچنٹ نائب سیکریٹری انجمن اہل حدیث امرتسر ۱۳ دسمبر
الجواب:
وہابیہ کو دوسو ۲۰۰ روپے انعام۔حامدا ومصلیا ومسلما۔(۱)اﷲ تعالی فرماتا ہے:
" و اما بنعمۃ ربک فحدث ﴿۱۱﴾" ۔ اپنے رب کی نعمت کا خوب چرچا کرو۔
اگر وہابیہ ثبوت دے دیں کہ رسول صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی ولادت نعمت نہیں یا مجلس میلاد مبارك اس نعمت کا چرچا نہیں تو ۴۰ روپے انعام۔
(۲)اﷲ تعالی فرماتا ہے:
" وذکرہم بایىم اللہ " ۔ انہیں اﷲ کے دن یاد دلاؤ۔
اگر وہابیہ ثبوت دے دیں کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی ولادت کا دن اﷲ کے عظمت والے دنوں میں نہیں یا مجلس میلاد اس دن کا یاد دلانا نہیں تو ۴۰ روپے انعام۔
(۳)اﷲ تعالی فرماتا ہے:
" قل بفضل اللہ وبرحمتہ فبذلک فلیفرحوا " ۔ تم فرمادو کہ اﷲ کے فضل اور اس کی رحمت ہی پر لازم ہے کہ خوشیاں مناؤ۔
نوٹ:واضح رہے کہ ایچ پیچ کا کام نہیںصرف حوالہ کتاب مع عبارت شائع کردینا کافی ہے جس میں لکھا ہو کہ ربیع الاول کے مہینہ میں مجلس مولود کیا کرو مجلس مولود کرنا ثواب ہےہماری طرف سے اجازت ہے کہ امامان دین میں سے کسی ایك امام کا قول دکھادیں جو کسی مستند کتاب میں ہواگر اتنا بھی ثبوت نہیں تو پھر ایسی بے ثبوت بات کو چھوڑ نے میں ذرا دیر نہ کریں ورنہ خدا کے سامنے جواب دہی ہوگی۔والسلام خاکسار محمد ابراہیم شال مرچنٹ نائب سیکریٹری انجمن اہل حدیث امرتسر ۱۳ دسمبر
الجواب:
وہابیہ کو دوسو ۲۰۰ روپے انعام۔حامدا ومصلیا ومسلما۔(۱)اﷲ تعالی فرماتا ہے:
" و اما بنعمۃ ربک فحدث ﴿۱۱﴾" ۔ اپنے رب کی نعمت کا خوب چرچا کرو۔
اگر وہابیہ ثبوت دے دیں کہ رسول صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی ولادت نعمت نہیں یا مجلس میلاد مبارك اس نعمت کا چرچا نہیں تو ۴۰ روپے انعام۔
(۲)اﷲ تعالی فرماتا ہے:
" وذکرہم بایىم اللہ " ۔ انہیں اﷲ کے دن یاد دلاؤ۔
اگر وہابیہ ثبوت دے دیں کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی ولادت کا دن اﷲ کے عظمت والے دنوں میں نہیں یا مجلس میلاد اس دن کا یاد دلانا نہیں تو ۴۰ روپے انعام۔
(۳)اﷲ تعالی فرماتا ہے:
" قل بفضل اللہ وبرحمتہ فبذلک فلیفرحوا " ۔ تم فرمادو کہ اﷲ کے فضل اور اس کی رحمت ہی پر لازم ہے کہ خوشیاں مناؤ۔
اگر وہابیہ ثبوت دیں کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی ولادت اﷲ کا فضل اور اس کی رحمت نہیں یا مجلس میلاد اس فضل و رحمت کی خوشی نہیں تو۴۰ روپے انعام۔
(۴)اﷲ تعالی فرماتا ہے:
" وما اتىکم الرسول فخذوہ وما نہىکم عنہ فانتہوا " ۔ جو رسول تمہیں دے وہ لو اور جس سے وہ منع کریں اس سے باز رہو
اگر وہابیہ ثبوت دیں کہ قرآن مجید یا حدیث شریف میں کہیں مجلس میلاد مبارك کو منع فرماتا ہے تو ۴۰ روپے انعام۔
ضروری اطلاع:واضح رہے کہ ایچ پیچ کا کام نہیں صرف وہ آیت یا مع حوالہ کتاب وصحیح اسناد وہ حدیث شائع کردینا کافی ہے جس میں لکھا ہے کہ ربیع الاول کے مہینے میں مجلس میلاد نہ کیا کرو مجلس میلاد کرنا عذاب ہے بلکہ ہماری طرف سے اجازت ہے کہ چاروں اماموں یا صحاح ستہ کے چھ مصنفوں میں سے کسی ایك امام ہی کا قول مذکوردکھا دیں جو کسی مستند کتاب میں ہواگر منع کا اتنا ثبوت بھی نہیں تو پھر ایسے بے ثبوت منع کو چھوڑنے میں ذرا دیر نہ کریں ورنہ خدا کے سامنے جواب دہی ہوگی۔
(۵)اہلحدیث کی کانفرنس اور اس میں سیکریٹری وغیرہ مقرر کرنا اور بننا اور اس کے بڑے سالانہ جلسے اور ان کی ہیئت کذائی اور اہلحدیث کا اخبار چھاپنا اور اس کی پیشگی قیمت لینا اور ردائمہ میں کتابیں چھاپنا اور ہیئت مروجہ پر مدرسے بنانا اور ان میں تنخواہ دار مدرسین رکھناسہ ماہیششماہیسالانہ امتحان ہوناان میں پاس کے نمبر ٹھہراناکسی مسئلہ کا ثبوت مانگنے پر اشتہار چھاپنااس پر درس کا نصاب معین کرناانعام ٹھہراناان سب باتوں کا اگر وہابیہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یا صحابہتابعین یا چار امام یاچھ مصنف صحاح سے ثبوت دے دیں تو ۴۰ روپیہ انعاماور ثبوت نہ دے سکیںتو پھر ایسی بے ثبوت باتوں کے چھوڑنے میں ذرا دیر نہ کریں ورنہ خدا کے سامنے جواب دہی ہوگی۔والسلام علی من اتبع الہدی(اور سلامتی اسے جو ہدایت کی پیروی کرے۔ت)
تحریر رسالہ شمس السالکین دربارہ مجلس مبارك و قیام
بسم اﷲ الرحمن الرحیمالحمدﷲ وکفی وسلام علی عبادہ الذین اصطفی لاسیما الحبیب المصطفی والہ وصحبہ اولی الصدق والصفافقیر غفرلہ المولی القدیر نے مولینا مولوی
(۴)اﷲ تعالی فرماتا ہے:
" وما اتىکم الرسول فخذوہ وما نہىکم عنہ فانتہوا " ۔ جو رسول تمہیں دے وہ لو اور جس سے وہ منع کریں اس سے باز رہو
اگر وہابیہ ثبوت دیں کہ قرآن مجید یا حدیث شریف میں کہیں مجلس میلاد مبارك کو منع فرماتا ہے تو ۴۰ روپے انعام۔
ضروری اطلاع:واضح رہے کہ ایچ پیچ کا کام نہیں صرف وہ آیت یا مع حوالہ کتاب وصحیح اسناد وہ حدیث شائع کردینا کافی ہے جس میں لکھا ہے کہ ربیع الاول کے مہینے میں مجلس میلاد نہ کیا کرو مجلس میلاد کرنا عذاب ہے بلکہ ہماری طرف سے اجازت ہے کہ چاروں اماموں یا صحاح ستہ کے چھ مصنفوں میں سے کسی ایك امام ہی کا قول مذکوردکھا دیں جو کسی مستند کتاب میں ہواگر منع کا اتنا ثبوت بھی نہیں تو پھر ایسے بے ثبوت منع کو چھوڑنے میں ذرا دیر نہ کریں ورنہ خدا کے سامنے جواب دہی ہوگی۔
(۵)اہلحدیث کی کانفرنس اور اس میں سیکریٹری وغیرہ مقرر کرنا اور بننا اور اس کے بڑے سالانہ جلسے اور ان کی ہیئت کذائی اور اہلحدیث کا اخبار چھاپنا اور اس کی پیشگی قیمت لینا اور ردائمہ میں کتابیں چھاپنا اور ہیئت مروجہ پر مدرسے بنانا اور ان میں تنخواہ دار مدرسین رکھناسہ ماہیششماہیسالانہ امتحان ہوناان میں پاس کے نمبر ٹھہراناکسی مسئلہ کا ثبوت مانگنے پر اشتہار چھاپنااس پر درس کا نصاب معین کرناانعام ٹھہراناان سب باتوں کا اگر وہابیہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یا صحابہتابعین یا چار امام یاچھ مصنف صحاح سے ثبوت دے دیں تو ۴۰ روپیہ انعاماور ثبوت نہ دے سکیںتو پھر ایسی بے ثبوت باتوں کے چھوڑنے میں ذرا دیر نہ کریں ورنہ خدا کے سامنے جواب دہی ہوگی۔والسلام علی من اتبع الہدی(اور سلامتی اسے جو ہدایت کی پیروی کرے۔ت)
تحریر رسالہ شمس السالکین دربارہ مجلس مبارك و قیام
بسم اﷲ الرحمن الرحیمالحمدﷲ وکفی وسلام علی عبادہ الذین اصطفی لاسیما الحبیب المصطفی والہ وصحبہ اولی الصدق والصفافقیر غفرلہ المولی القدیر نے مولینا مولوی
حوالہ / References
القرآن الکریم ۵۹ /۷
ابونصر حکیم محمد یعقوب صاحب حنفی قادری رامپوری کا یہ مختصر وکافی فتوی مسمی بہ شمس السالکین مطالعہ کیامولی عزوجل مولینا کی سعی جمیل قبول فرمائے اور اس فتوی کو حقیقۃ سالکین راہ ہدی کے لیے آفتاب نورانی بنائے۔مجلس مبارك و قیام اہل محبت کے نزدیك تو اصلا محتاج دلیل نہیں۔اہل حجت میں جو انصاف پر آئیں قرآن عظیم قول فیصل و حاکم عدل ہے اﷲ عزوجل فرماتا ہے:
" قل بفضل اللہ وبرحمتہ فبذلک فلیفرحوا " ۔ تم فرمادو کہ اﷲ کے فضل اور اس کی رحمت ہی پر لازم ہے کہ خوشیاں مناؤ۔(ت)
اور فرماتا ہے:
" وذکرہم بایىم اللہ " ۔ انہیں اﷲ کے دن یاد دلاؤ۔(ت)
اور فرماتا ہے:
و اما بنعمۃ ربک فحدث ﴿۱۱﴾
" ۔ اپنے رب کی نعمت کا خوب چرچا کرو۔(ت)
اور فرماتا ہے:
" انا ارسلنک شہدا و مبشرا و نذیرا ﴿۸﴾ لتؤمنوا باللہ و رسولہ و تعزروہ و توقروہ " ۔ اے نبی بے شك ہم نے تمہیں بھیجا حاضر و ناظر اور خوشخبری دیتا اور ڈر سناتاتاکہ اے لوگو! تم اﷲ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور رسول کی تعظیم و توقیر کرو۔(ت)
اور فرماتا ہے:
" فالذین امنوا بہ وعزروہ ونصروہ واتبعوا النور الذی انزل معہ اولئک ہم المفلحون ﴿۱۵۷﴾" ۔ تو وہ جو اس پر ایمان لائیں اور اس کی تعظیم کریں اور اسے مدد دیں اور اس نور کی پیروی کریں جو اس کے ساتھ اتراوہی بامراد ہوئے۔(ت)
اور فرماتا ہے:
" لئن اقمتم الصلوۃ واتیتم الزکوۃ وامنتم اگر تم نماز قائم رکھو اور زکوۃ دو اور میرے رسولوں
" قل بفضل اللہ وبرحمتہ فبذلک فلیفرحوا " ۔ تم فرمادو کہ اﷲ کے فضل اور اس کی رحمت ہی پر لازم ہے کہ خوشیاں مناؤ۔(ت)
اور فرماتا ہے:
" وذکرہم بایىم اللہ " ۔ انہیں اﷲ کے دن یاد دلاؤ۔(ت)
اور فرماتا ہے:
و اما بنعمۃ ربک فحدث ﴿۱۱﴾
" ۔ اپنے رب کی نعمت کا خوب چرچا کرو۔(ت)
اور فرماتا ہے:
" انا ارسلنک شہدا و مبشرا و نذیرا ﴿۸﴾ لتؤمنوا باللہ و رسولہ و تعزروہ و توقروہ " ۔ اے نبی بے شك ہم نے تمہیں بھیجا حاضر و ناظر اور خوشخبری دیتا اور ڈر سناتاتاکہ اے لوگو! تم اﷲ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور رسول کی تعظیم و توقیر کرو۔(ت)
اور فرماتا ہے:
" فالذین امنوا بہ وعزروہ ونصروہ واتبعوا النور الذی انزل معہ اولئک ہم المفلحون ﴿۱۵۷﴾" ۔ تو وہ جو اس پر ایمان لائیں اور اس کی تعظیم کریں اور اسے مدد دیں اور اس نور کی پیروی کریں جو اس کے ساتھ اتراوہی بامراد ہوئے۔(ت)
اور فرماتا ہے:
" لئن اقمتم الصلوۃ واتیتم الزکوۃ وامنتم اگر تم نماز قائم رکھو اور زکوۃ دو اور میرے رسولوں
حوالہ / References
القرآن الکریم ۱۰ /۵۸
القرآن الکریم ۱۴ /۵
القرآن الکریم ۹۳ /۱۱
القرآن الکریم ۴۸ /۸و ۹
القرآن الکریم ۷ /۱۵۷
القرآن الکریم ۱۴ /۵
القرآن الکریم ۹۳ /۱۱
القرآن الکریم ۴۸ /۸و ۹
القرآن الکریم ۷ /۱۵۷
برسلی وعزرتموہم و اقرضتم اللہ قرضا حسنا لاکفرن عنکم سیاتکم ولادخلنکم جنت تجری من تحتہا الانہر فمن کفر بعد ذلک منکم فقد ضل سواء السبیل ﴿۱۲﴾"" ۔ پر ایمان لاؤ اور ان کی تعظیم کرو اور اﷲ کو قرض حسن دو بےشك میں تمہارے گناہ اتاردوں گا اورضرور تمہیں باغوں میں لے جاؤں گا جن کے نیچے نہریں رواں پھر اس کے بعد جو تم میں سے کفر کرے وہ ضرور سیدھی راہ سے بہکا(ت)
پہلی تینوں آیتوں میں حکم فرماتا ہے کہ اﷲ کے فضل اور اس کی رحمت پرشادیاں مناؤلوگوں کو اﷲ کے دن یاد دلاؤاﷲ کی نعمت کا خوب چرچا کرو۔اﷲ کا کون سا فضل و رحمتکون سی نعمت اس حبیب کریم علیہ وعلی آلہ افضل الصلوۃ والتسلیم کی ولادت سے زائد ہے کہ تمام نعمتیں تمام رحمتیں تمام برکتیں اسی کے صدقے میں عطا ہوئیں۔اﷲ کا کون سا دن اس نبی اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے ظہور پر نور کے دن سے بڑا ہےتو بلاشبہہ قرآن کریم ہمیں حکم دیتا ہے کہ ولادت اقدس پر خوشی کرو۔ مسلمانوں کے سامنے اسی کا چرچا خوب زور شور سے کرواسی کا نام مجلس میلاد ہےبعد کی تین آیتوں میں اپنے رسولوں خصوصا سیدا لرسل صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی تعظیم کا حکم مطلق فرماتا ہےاور قاعدہ شرعیہ المطلق یجری علی اطلاقہ ۔ (مطلق اپنے اطلاق پر جاری ہوتا ہے۔ت)جو بات اﷲ عزوجل نے مطلق ارشاد فرمائی وہ مطلق حکم عطا کرے گی جو جو کچھ اس مطلق کے تحت میں داخل ہے سب کو وہ حکم شامل ہے بلاتخصیص شرع جو اپنی طرف سے کتاب اﷲ تعالی کے مطلق کو مقید کرے گا تو وہ کتاب اﷲ کو منسوخ کرتا ہے جب ہمیں تعظیم حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا حکم مطلق فرمایا تو جمیع طرق تعظیم کی اجازت ہوئی جب تك کسی خاص طریقے سے شریعت منع نہ فرمائے۔یونہی رحمت پر فرحت ایام الہی کا تذکرہنعمت ربانی کا چرچا یہ بھی مطلق ہیں جس طریقہ سے کیے جائیں سب امتثال امرالہی ہیں جب تك شرع مطہر کسی خاص طریقہ پر انکار نہ فرمائے۔ تو روشن ہوا کہ مجلس و قیام پر خاص دلیل نام لے کر چاہنا یا بعینہ ان کا قرون ثلثہ میں وجود تلاش کرنا نری اوندھی مت ہی نہیں بلکہ قرآن مجید کو اپنی رائے سے منسوخ کرنا ہے۔اﷲ عزوجل تو مطلق حکم فرمائے اور منکرین کہیں کہ وہ مطلق کہا کرے ہم تو خاص وہ صورت جائز مانیں گے جسے بالتخصیص نام لے کر جائز کیا ہو یا جس کا بہیئت کذائی قرون ثلثہ میں
پہلی تینوں آیتوں میں حکم فرماتا ہے کہ اﷲ کے فضل اور اس کی رحمت پرشادیاں مناؤلوگوں کو اﷲ کے دن یاد دلاؤاﷲ کی نعمت کا خوب چرچا کرو۔اﷲ کا کون سا فضل و رحمتکون سی نعمت اس حبیب کریم علیہ وعلی آلہ افضل الصلوۃ والتسلیم کی ولادت سے زائد ہے کہ تمام نعمتیں تمام رحمتیں تمام برکتیں اسی کے صدقے میں عطا ہوئیں۔اﷲ کا کون سا دن اس نبی اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے ظہور پر نور کے دن سے بڑا ہےتو بلاشبہہ قرآن کریم ہمیں حکم دیتا ہے کہ ولادت اقدس پر خوشی کرو۔ مسلمانوں کے سامنے اسی کا چرچا خوب زور شور سے کرواسی کا نام مجلس میلاد ہےبعد کی تین آیتوں میں اپنے رسولوں خصوصا سیدا لرسل صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی تعظیم کا حکم مطلق فرماتا ہےاور قاعدہ شرعیہ المطلق یجری علی اطلاقہ ۔ (مطلق اپنے اطلاق پر جاری ہوتا ہے۔ت)جو بات اﷲ عزوجل نے مطلق ارشاد فرمائی وہ مطلق حکم عطا کرے گی جو جو کچھ اس مطلق کے تحت میں داخل ہے سب کو وہ حکم شامل ہے بلاتخصیص شرع جو اپنی طرف سے کتاب اﷲ تعالی کے مطلق کو مقید کرے گا تو وہ کتاب اﷲ کو منسوخ کرتا ہے جب ہمیں تعظیم حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا حکم مطلق فرمایا تو جمیع طرق تعظیم کی اجازت ہوئی جب تك کسی خاص طریقے سے شریعت منع نہ فرمائے۔یونہی رحمت پر فرحت ایام الہی کا تذکرہنعمت ربانی کا چرچا یہ بھی مطلق ہیں جس طریقہ سے کیے جائیں سب امتثال امرالہی ہیں جب تك شرع مطہر کسی خاص طریقہ پر انکار نہ فرمائے۔ تو روشن ہوا کہ مجلس و قیام پر خاص دلیل نام لے کر چاہنا یا بعینہ ان کا قرون ثلثہ میں وجود تلاش کرنا نری اوندھی مت ہی نہیں بلکہ قرآن مجید کو اپنی رائے سے منسوخ کرنا ہے۔اﷲ عزوجل تو مطلق حکم فرمائے اور منکرین کہیں کہ وہ مطلق کہا کرے ہم تو خاص وہ صورت جائز مانیں گے جسے بالتخصیص نام لے کر جائز کیا ہو یا جس کا بہیئت کذائی قرون ثلثہ میں
وجود ہوا ہو " انا للہ و انا الیہ رجعون﴿۱۵۶﴾" ۔ (ہم اﷲ کے مال ہیں اور ہم کو اسی کی طرف پھرنا ہے۔ت)عقل و دین رکھتے تو جو طریقہ اظہار فرحت و تذکرہ نعمت و تعظیم سرکار رسالت دیکھتے اس میں یہ تلاش کرتے کہ کہیں خاص اس صورت کو اﷲ و رسول نے منع تو نہیں فرمایااگر اس کی خاص ممانعت نہ پاتے یقین جانتے کہ یہ انہیں احکام کی بجا آوری ہے جو ان آیات کریمہ میں گزرےمگر آدمی دل سے مجبور ہےمحبوب کا چرچا محب کا چیناور اس کی تعظیم آنکھوں کی ٹھنڈکاور جس دل میں غیظ بھرا ہے وہ آپ ہی ذکر سے بھی جلے گا تعظیم سے بھی بگڑے گا۔دوست دشمن کی یہ بڑی پہچان ہےآخر نہ دیکھا کہ دل کی دبی نے بھڑك کر کہاں تك پھونکاجانتے ہو کہ اب یہ منکران مجلس و قیام کون ہیںہاں ہاں وہی ہیں جو اول تو اتنا کہتے تھے کہ وہ بڑے بھائی ہم چھوٹے بھائیان کی سروری ایسی ہی ہے جیسے گاؤں کا پدھان یا قوم کا چودھریان کی تعریف ایسی ہی کرو جیسے آپس میں ایك دوسرے کی کرتے ہو بلکہ اس سے بھی کمباتوں مثالوں میں چوڑھے چمار سے تشبیہ بھی دے بھاگتے تھے کہ یہ سب اوروں سے بہت زائد ان کی دھرم پوتھی تقویۃ الایمان میں مصرح ہیں اور اب تو اور بھی کھیل کھیلے کہ ان کے علم سے شیطان کا علم زیادہ ہے۔ جیسا علم غیب ان کو ہے ایسا تو ہر پاگل ہر چوپائے کو ہوتا ہے وغیرہ وغیرہ کلمات ملعونہ۔ مسلمانو! یہ ہیں جو آج تمہارے سامنے مجلس مبارك و قیام سے منکر ہیں اب تو سمجھو کہ علت انکار کیا ہے واﷲ واﷲ بغض محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلمدیکھو خبردار ہوشیار یہ ہیں وہ جن کی خبر حدیث میں دی تھی کہ ذیاب فی ثیاب۔ بھیڑیئے ہوں گے کپڑے پہنےیعنی ظاہر میں انسانی لباس اور باطن میں گرگ خناس۔اے مصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی بھولی بھیڑو! اپنے دشمن کو پہچانونہیں نہیں تمہارے دشمن نہیں تمہارے پیارے مالك صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے دشمن جنہوں نے وہ ملعون گالیاں محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی شان اقدس میں لکھیںچھاپیں اور آج تك ان پر مصر ہیں۔
قد بدت البغضاء من افوہہم وما تخفی صدورہم ان کی عداوت شدیدہ تو ان کی باتوں سے ظاہر ہوگئی اور وہ جو ان کے دلوں میں چھپی ہے بہت
قد بدت البغضاء من افوہہم وما تخفی صدورہم ان کی عداوت شدیدہ تو ان کی باتوں سے ظاہر ہوگئی اور وہ جو ان کے دلوں میں چھپی ہے بہت
حوالہ / References
القرآن الکریم ۲ /۱۵۷
البراہین القاطعۃ بحث علم غیب مطبع لے بلاسا واقع ڈھور ص۵۱
حفظ الایمان قدیمی کتب خانہ کراچی ص ۱۳ و دعوتِ فکر مکتبہ اعلٰیحضرت لاہور ص۷۲
البراہین القاطعۃ بحث علم غیب مطبع لے بلاسا واقع ڈھور ص۵۱
حفظ الایمان قدیمی کتب خانہ کراچی ص ۱۳ و دعوتِ فکر مکتبہ اعلٰیحضرت لاہور ص۷۲
اکبر" ۔ زائد ہے۔
جو بظاہر ان خبیث گالیوں کے خود مرتکب نہیں ان سے پوچھ دیکھئے کہ جن خبثاء نے مصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو یوں منہ بھر کر گالیاں دیں وہ مسلمان رہے یا کافر ہوگئےدیکھو ہر گز ہر گز انہیں کافر نہ کہیں گے بلکہ محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے مقابل الٹی ان کی حمایت کو تیار ہوجائیں گےتاویلیں گھڑیں گے بات بنائیں گےحالانکہ علمائے کرام حرمین شریفین بالاتفاق ان تمام دشنامیوں کو ایك ایك کا نام لے کر فرماچکے کہ۔
من شك فی عذابہ وکفرہ فقد کفر جو ان کے عذاب اور کافر ہونے میں شك کرے وہ بھی کافر ہے
مسلمانو! جب نوبت یہاں تك پہنچ چکی پھر اسے مجلس یا قیام یا کسی مسئلہ اسلام میں بحث کا کیا موقع رہا۔کافروں مرتدوں کو اسلامی مسائل میں دخل دینے کا کیا حق۔مگر یہ ساری دقت اس کی ہے کہ بھائیو تم نے محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے دشمنوں کو ابھی نہ پہچاناان کے پاس بیٹھتے ہوان کی بات سنتے ہوان کی تحریریں دیکھتے ہودیکھو یہ تمہارے حق میں زہر ہےدیکھو تمہارے پیارے مولی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کہ واﷲ تم سے بڑھ کر تم پر مہربان ہیںتمہیں ارشاد فرمارہے ہیں کہ:
فایاکم وایا ھم لایضلونکم ولایفتنونکم ان سے دور بھاگو انہیں اپنے سے دور کردو کہیں وہ تمہیں گمراہ نہ کردیں کہیں وہ تمہیں فتنہ میں نہ ڈال دیں۔والعیاذ باﷲ تعالی۔
بھائیو ! مصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے دامن سے لپٹا رہنا اچھا ہے یا معاذ اﷲ ان کے دشمن کے پھندے میں پڑنا۔اﷲ تعالی ان کا دامن نہ چھڑائے دنیا میں نہ آخرت میںآمین وصلی اﷲ تعالی علی سیدنا ومولینا محمد والہ وصحبہ اجمعین آمین۔
مسئلہ ۹۸ تا ۹۹: ازجالندھر چوك امام ناصر الدین صاحبدکان ملك محمد امینمرسلہ ملك محمد امین ۲۵ ربیع الاخر۱۳۳۷
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ۔
جو بظاہر ان خبیث گالیوں کے خود مرتکب نہیں ان سے پوچھ دیکھئے کہ جن خبثاء نے مصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو یوں منہ بھر کر گالیاں دیں وہ مسلمان رہے یا کافر ہوگئےدیکھو ہر گز ہر گز انہیں کافر نہ کہیں گے بلکہ محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے مقابل الٹی ان کی حمایت کو تیار ہوجائیں گےتاویلیں گھڑیں گے بات بنائیں گےحالانکہ علمائے کرام حرمین شریفین بالاتفاق ان تمام دشنامیوں کو ایك ایك کا نام لے کر فرماچکے کہ۔
من شك فی عذابہ وکفرہ فقد کفر جو ان کے عذاب اور کافر ہونے میں شك کرے وہ بھی کافر ہے
مسلمانو! جب نوبت یہاں تك پہنچ چکی پھر اسے مجلس یا قیام یا کسی مسئلہ اسلام میں بحث کا کیا موقع رہا۔کافروں مرتدوں کو اسلامی مسائل میں دخل دینے کا کیا حق۔مگر یہ ساری دقت اس کی ہے کہ بھائیو تم نے محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے دشمنوں کو ابھی نہ پہچاناان کے پاس بیٹھتے ہوان کی بات سنتے ہوان کی تحریریں دیکھتے ہودیکھو یہ تمہارے حق میں زہر ہےدیکھو تمہارے پیارے مولی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کہ واﷲ تم سے بڑھ کر تم پر مہربان ہیںتمہیں ارشاد فرمارہے ہیں کہ:
فایاکم وایا ھم لایضلونکم ولایفتنونکم ان سے دور بھاگو انہیں اپنے سے دور کردو کہیں وہ تمہیں گمراہ نہ کردیں کہیں وہ تمہیں فتنہ میں نہ ڈال دیں۔والعیاذ باﷲ تعالی۔
بھائیو ! مصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے دامن سے لپٹا رہنا اچھا ہے یا معاذ اﷲ ان کے دشمن کے پھندے میں پڑنا۔اﷲ تعالی ان کا دامن نہ چھڑائے دنیا میں نہ آخرت میںآمین وصلی اﷲ تعالی علی سیدنا ومولینا محمد والہ وصحبہ اجمعین آمین۔
مسئلہ ۹۸ تا ۹۹: ازجالندھر چوك امام ناصر الدین صاحبدکان ملك محمد امینمرسلہ ملك محمد امین ۲۵ ربیع الاخر۱۳۳۷
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ۔
حوالہ / References
القران الکریم ۳/ ۱۱۸
حسام الحرمین مکتبۃ نبویہ لاہور ص۱۳ مکتبہ اہل سنت بریلی ص ۹۴
صحیح مسلم باب النہی عن الروایۃ عن الضعفاء قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۰
حسام الحرمین مکتبۃ نبویہ لاہور ص۱۳ مکتبہ اہل سنت بریلی ص ۹۴
صحیح مسلم باب النہی عن الروایۃ عن الضعفاء قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۰
(۱)خواب میں شیطان کسی اچھی صورت میں ہو کر فریب دے سکتا ہے یا نہیں کہ میں محمد رسول اﷲ ہوں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم
(۲)اٹھارہ ہزار عالم سے کیا مراد ہے کل اشیاء درخت وغیرہ بھی اس میں شامل ہیں یا نہیں
الجواب:
(۱)حضور اقدس علیہ افضل الصلوات والتسلیمات کے ساتھ شیطان تمثل نہیں کرسکتا۔حدیث میں فرمایا۔
من رانی فی المنام فقد رای الحق ان الشیطان لایتمثل بی ۔ جس نے مجھے خواب میں دیکھا بے شك اس نے مجھے ہی دیکھا کیونکہ شیطان میری صورت اختیار نہیں کرسکتا۔(ت)
ہاں نیك لوگوں کی شکل بن کر دھوکا دے سکتا ہے بلکہ اپنے آ پ کو الہ ظاہر کرسکتا ہے۔
(۲)عالم اٹھارہ ہیں اور ہر ایك میں کثرت مخلوقات کے سبب اسے ہزار سے تعبیر کیا۔تینوں موالید جماداتنباتاتحیوانات اور چاروں عناصراور سات آسماناور فلك ثوابتفلك اطلسکرسیعرشافادہ الشیخ الاکبر محی الدین ابن عربی قدس سرہواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۰۰: از شہر بریلی محلہ سوداگراں مسؤلہ شفیع احمد بیسلپوری ۵جمادی الاولی ۱۳۳۷ھ
حضور پرنوربعدمیثاق الست بربکم کیا ارواح معدوم کردی گئی تھیں اور بعدہ خلق انسان کے وقت پھر خلق روح ہوتا ہےاس میں اہل سنت کا کیا عقیدہ ہے اور کیا دلیل اور یہ عقیدہ کس مرتبہ میں ہے ایقانی اجماعی یا ضروریات اہلسنت سے اس مسئلہ میں علماء کو تردد ہےابھی ضرورت ہے۔
الجواب:
حاشاﷲروح بعد ایجاد کبھی فنا نہ ہوگیانما خلقتم للابد (تم ہمیشہ کے لیے پیدا کیے گئے ہو۔ت)بدن کے ساتھ حدوث نفس خیال باطل فلاسفہ ہےقال اﷲ عزوجل:
" وکنتم اموتا فاحیکم ثم یمیتکم ثم یحییکم " ۔ حالانکہ تم مردہ تھے اس نے تمہیں جلایا پھر تمہیں مارے گا پھر تمہیں جلائے گا۔(ت)
(۲)اٹھارہ ہزار عالم سے کیا مراد ہے کل اشیاء درخت وغیرہ بھی اس میں شامل ہیں یا نہیں
الجواب:
(۱)حضور اقدس علیہ افضل الصلوات والتسلیمات کے ساتھ شیطان تمثل نہیں کرسکتا۔حدیث میں فرمایا۔
من رانی فی المنام فقد رای الحق ان الشیطان لایتمثل بی ۔ جس نے مجھے خواب میں دیکھا بے شك اس نے مجھے ہی دیکھا کیونکہ شیطان میری صورت اختیار نہیں کرسکتا۔(ت)
ہاں نیك لوگوں کی شکل بن کر دھوکا دے سکتا ہے بلکہ اپنے آ پ کو الہ ظاہر کرسکتا ہے۔
(۲)عالم اٹھارہ ہیں اور ہر ایك میں کثرت مخلوقات کے سبب اسے ہزار سے تعبیر کیا۔تینوں موالید جماداتنباتاتحیوانات اور چاروں عناصراور سات آسماناور فلك ثوابتفلك اطلسکرسیعرشافادہ الشیخ الاکبر محی الدین ابن عربی قدس سرہواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۰۰: از شہر بریلی محلہ سوداگراں مسؤلہ شفیع احمد بیسلپوری ۵جمادی الاولی ۱۳۳۷ھ
حضور پرنوربعدمیثاق الست بربکم کیا ارواح معدوم کردی گئی تھیں اور بعدہ خلق انسان کے وقت پھر خلق روح ہوتا ہےاس میں اہل سنت کا کیا عقیدہ ہے اور کیا دلیل اور یہ عقیدہ کس مرتبہ میں ہے ایقانی اجماعی یا ضروریات اہلسنت سے اس مسئلہ میں علماء کو تردد ہےابھی ضرورت ہے۔
الجواب:
حاشاﷲروح بعد ایجاد کبھی فنا نہ ہوگیانما خلقتم للابد (تم ہمیشہ کے لیے پیدا کیے گئے ہو۔ت)بدن کے ساتھ حدوث نفس خیال باطل فلاسفہ ہےقال اﷲ عزوجل:
" وکنتم اموتا فاحیکم ثم یمیتکم ثم یحییکم " ۔ حالانکہ تم مردہ تھے اس نے تمہیں جلایا پھر تمہیں مارے گا پھر تمہیں جلائے گا۔(ت)
حوالہ / References
کنزالعمال حدیث ۴۱۴۸۹ موسسۃ الرسالہ بیروت ۱۵/ ۳۸۴
شرح الصدور باب فضل الموت خلافت اکیڈمی منگورہ سوات ص۵
القرآن الکریم ۲ /۲۸
شرح الصدور باب فضل الموت خلافت اکیڈمی منگورہ سوات ص۵
القرآن الکریم ۲ /۲۸
اگر بعد میثاق روحیں معدوم کردی گئی ہوتیں تو تین موتیں ہوتیں اور یوں فرمایا جاتا۔
کنتم امواتا فاحیا کم ثم اماتکم ثم احیا کم ثم یمیتکم ثم یحییکم۔ تم مردہ تھے اس نے تمہیں زندہ کیاپھر ماراپھر زندہ کیاپھر مارے گاپھر زندہ کرے گا۔(ت)
یہ عقیدہ اجماعی ہے مگر نہ اس درجہ پر واضح کہ جو شخص بحال ناواقفی اس کا خلاف کرے اسے اہل سنت سے خارج کیا جائے بلکہ غلط کارخاطی ہے وبساور اس پر یہ الزام ہے کہ بے جانے لب کشائی کی جرات کی۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۰۱: ۱۱ جمادی الاولی ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایمان کی تعریف کیا ہے اور ایمان کامل کیسے ہوتا ہے بینوا توجروا۔(بیان فرماؤ اجردیئے جاؤ گے۔ت)
الجواب:
محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو ہر بات میں سچا جانےحضور کی حقانیت کوصدق دل سے ماننا ایمان ہے جو اس کا مقرر ہو اسے مسلمان جانیں گے جب کہ اس کے کسی قول یا فعل یا حال میں اﷲ ورسول کا انکار یا تکذیب یا توہین نہ پائی جائے اور جس کے دل میں اﷲ ورسول جل و علا وصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا علاقہ تمام علاقوں پر غالب ہوا ﷲ ورسول کے محبوں سے محبت رکھے اگرچہ اپنے دشمن ہوںاور اﷲ ورسول کے مخالفوں بدگویوں سے عداوت رکھے اگرچہ اپنے جگر کے ٹکڑے ہوں جو کچھ دے اﷲ کے لیے دے جو کچھ روکےسو اس کا ایمان کامل ہے
رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من احب ﷲ وابغض ﷲ واعطی ﷲ ومنع ﷲ فقدا ستکمل الایمان واﷲ تعالی اعلم ۔ جس نے اﷲ تعالی کے لیے محبت کی اور اﷲ تعالی کے لیے عداوت کیاور اﷲ تعالی کے لیے دیا اور اﷲ تعالی کے لیے روکااس کا ایمان کامل ہے۔(ت)واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۰۲و ۱۰۳:ازکھنڈل پوسٹ آفس کیوکٹو ضلع اکیاب مرسلہ محمد عبدالسلام مدرس چہارم گورنمنٹ اسلامیہ اردو اسکول ۱۴جمادی الاولی ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ بعض وہابی عالم کہتے ہیں کہ درود تاج پڑھنا حرام ہے
کنتم امواتا فاحیا کم ثم اماتکم ثم احیا کم ثم یمیتکم ثم یحییکم۔ تم مردہ تھے اس نے تمہیں زندہ کیاپھر ماراپھر زندہ کیاپھر مارے گاپھر زندہ کرے گا۔(ت)
یہ عقیدہ اجماعی ہے مگر نہ اس درجہ پر واضح کہ جو شخص بحال ناواقفی اس کا خلاف کرے اسے اہل سنت سے خارج کیا جائے بلکہ غلط کارخاطی ہے وبساور اس پر یہ الزام ہے کہ بے جانے لب کشائی کی جرات کی۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۰۱: ۱۱ جمادی الاولی ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایمان کی تعریف کیا ہے اور ایمان کامل کیسے ہوتا ہے بینوا توجروا۔(بیان فرماؤ اجردیئے جاؤ گے۔ت)
الجواب:
محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو ہر بات میں سچا جانےحضور کی حقانیت کوصدق دل سے ماننا ایمان ہے جو اس کا مقرر ہو اسے مسلمان جانیں گے جب کہ اس کے کسی قول یا فعل یا حال میں اﷲ ورسول کا انکار یا تکذیب یا توہین نہ پائی جائے اور جس کے دل میں اﷲ ورسول جل و علا وصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا علاقہ تمام علاقوں پر غالب ہوا ﷲ ورسول کے محبوں سے محبت رکھے اگرچہ اپنے دشمن ہوںاور اﷲ ورسول کے مخالفوں بدگویوں سے عداوت رکھے اگرچہ اپنے جگر کے ٹکڑے ہوں جو کچھ دے اﷲ کے لیے دے جو کچھ روکےسو اس کا ایمان کامل ہے
رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من احب ﷲ وابغض ﷲ واعطی ﷲ ومنع ﷲ فقدا ستکمل الایمان واﷲ تعالی اعلم ۔ جس نے اﷲ تعالی کے لیے محبت کی اور اﷲ تعالی کے لیے عداوت کیاور اﷲ تعالی کے لیے دیا اور اﷲ تعالی کے لیے روکااس کا ایمان کامل ہے۔(ت)واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۰۲و ۱۰۳:ازکھنڈل پوسٹ آفس کیوکٹو ضلع اکیاب مرسلہ محمد عبدالسلام مدرس چہارم گورنمنٹ اسلامیہ اردو اسکول ۱۴جمادی الاولی ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ بعض وہابی عالم کہتے ہیں کہ درود تاج پڑھنا حرام ہے
حوالہ / References
سنن ابی داؤد کتاب السنۃ باب فی رد الارجاء آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۲۸۷
تاریخ دمشق الکبیر باب معرفۃ اسمائہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۳/ ۲۱
تاریخ دمشق الکبیر باب معرفۃ اسمائہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۳/ ۲۱
اور رسول اﷲصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے حق میں دافع البلاء والوباء والقحط والمرض والالم(مصیبتوباء قحط سالی بیماری اور دکھ کو دور کرنے والا۔ت)کا استعمال نازیبا بلکہ شرعا ممنوع اور ایمان جانے کا خوف ہے۔نعوذ باﷲ من ذلکیہ قول حق ہے یا باطل اگر حق ہو تو منکرین پر شرعا کیا حکم
الجواب:
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بے شك دافع ہر بلا ہیںان کی شان عظیم توارفع واعلی ہےان کے غلام دفع بلا فرماتے ہیں
ابن عدی وابن عساکر عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالی عنہا سے راویرسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
انماسمیت احید لانی احید عن امتی نارجھنم ۔ میرا نام احید اس لیے ہوا کہ میں اپنی امت سے آتش دوزخ کو دفع فرماتا ہوں۔
دوزخ سے بدتر اور کیا بلاہوگی جس کے دافع رسول ا ﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ہیں۔
بیہقی دلائل النبوۃ اور ابوسعد شرف المصطفی میں راویخفاف بن نضلہ رضی اﷲ تعالی عنہ حاضر بارگاہ ہو کر عرض کی
حتی وردت الی المدینۃ جاھدا
کیما اراك فتفرج الکربات ۔ میں کوشش کرتا ہوا مدینہ میں حاضر ہوا کہ زیارت اقدس سے مشرف ہوں تو حضور میری سب مشکلیں کھول دیں۔
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ان کی عرض پسند کی اور تعریف فرمائی۔
منح المدح امام ابن سید الناس میں ہے حرب بن ریطہ صحابی رضی اﷲ تعالی عنہ نے عرض کی:
لقد بعث اﷲ النبی محمدا بحق وبرھان الہدی یکشف الکربا۔
(خدا کی قسم اﷲ عزوجل نے اپنے نبی محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو حق اور قطعی دلیل ہدایت کے ساتھ ایسا بھیجا کہ حضور دافع بلا فرماتے ہیں)
الجواب:
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بے شك دافع ہر بلا ہیںان کی شان عظیم توارفع واعلی ہےان کے غلام دفع بلا فرماتے ہیں
ابن عدی وابن عساکر عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالی عنہا سے راویرسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
انماسمیت احید لانی احید عن امتی نارجھنم ۔ میرا نام احید اس لیے ہوا کہ میں اپنی امت سے آتش دوزخ کو دفع فرماتا ہوں۔
دوزخ سے بدتر اور کیا بلاہوگی جس کے دافع رسول ا ﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ہیں۔
بیہقی دلائل النبوۃ اور ابوسعد شرف المصطفی میں راویخفاف بن نضلہ رضی اﷲ تعالی عنہ حاضر بارگاہ ہو کر عرض کی
حتی وردت الی المدینۃ جاھدا
کیما اراك فتفرج الکربات ۔ میں کوشش کرتا ہوا مدینہ میں حاضر ہوا کہ زیارت اقدس سے مشرف ہوں تو حضور میری سب مشکلیں کھول دیں۔
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ان کی عرض پسند کی اور تعریف فرمائی۔
منح المدح امام ابن سید الناس میں ہے حرب بن ریطہ صحابی رضی اﷲ تعالی عنہ نے عرض کی:
لقد بعث اﷲ النبی محمدا بحق وبرھان الہدی یکشف الکربا۔
(خدا کی قسم اﷲ عزوجل نے اپنے نبی محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو حق اور قطعی دلیل ہدایت کے ساتھ ایسا بھیجا کہ حضور دافع بلا فرماتے ہیں)
حوالہ / References
تاریخ دمشق الکبیر باب معرفۃ اسمائہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۳/ ۲۱
دلائل النبوۃ للبیہقی جماع ابواب المبعث سبب اسلام خفاف بن نضلہ دارالکتب العلمیہ بیروت ۲/ ۲۶۱،شرف المصطفی ذکر اسلام خفاف بن نضلہ حدیث ۵۳ دارالبشائر الاسلامیہ ۱/ ۲۳۴
الاصابۃ فی تمیز الصحابۃ بحوالہ ابن سیدالناس ترجمہ ۱۶۵۹ حرب بن ریطہ دارصا در بیروت ۱/ ۳۲۰
دلائل النبوۃ للبیہقی جماع ابواب المبعث سبب اسلام خفاف بن نضلہ دارالکتب العلمیہ بیروت ۲/ ۲۶۱،شرف المصطفی ذکر اسلام خفاف بن نضلہ حدیث ۵۳ دارالبشائر الاسلامیہ ۱/ ۲۳۴
الاصابۃ فی تمیز الصحابۃ بحوالہ ابن سیدالناس ترجمہ ۱۶۵۹ حرب بن ریطہ دارصا در بیروت ۱/ ۳۲۰
عمر بن شبہ بطریق عامر شعبی راویاسود بن مسعودثقفی رضی اﷲ تعالی عنہ نے عرض کی۔
انت الرسول الذی یرجی فواضلہ عندالقحوط اذاما أخطاالمطر ۔ یارسول اﷲ ! حضور وہ رسول ہیں جن کے فضل کی امید کی جاتی ہے قحط کے وقت جب مینہ خطاکرے۔
ابن شاذان عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ سے راویرسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے حضرت حمزہ رضی اﷲ تعالی عنہ کے جنازے پر فرمایا۔
یا حمزہ یا کاشف الکربات یا حمزۃ یا ذاب عن وجہ رسول اﷲ ۔ اے حمزہ اے دافع البلا اے حمزہ اے چہرہ رسول صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے دشمنوں کے دفع کرنے والے۔
کتب سابقہ میں حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے ذکر شریف میں ہے ان کے دو نائب ہوں گے ایك سن رسیدہ یعنی صدیق اکبر رضی اﷲ تعالی عنہ اور دوسرے جوان یعنی فاروق اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ اما الفتی فخواض غمرات و دفاع معضلات ۔وہ جو جوان ہیں وہ سختیوں میں گھس پڑنے والے اور بڑے دافع البلا بڑے مشکل کشا ہوں گے۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ولیہ فعلی ولیہ قال المناوی فی شرحہ یدفع عنہ مایکرہ ۔ یعنی میں جس کا مددگار ہوں علی المرتضی اس کے مددگار ہیں کہ ہر مکروہ کو اس سے دفع کرتے ہیں
شاہ ولی اﷲ دہلوی ہمعات میں لکھتے ہیں:
ازثمرات ایں نسبت است درمہالك و مضایق صورت آں جماعت پدید آمدن وحل مشکلات وے بآں صورت منسوب شدن۔ ہلاکتوں اور تنگیوں میں اس جماعت(اولیاء اللہ)کی صورت کا ظاہر ہونا اور حل مشکلات کا اس کی طرف منسوب ہونا اس نسبت کے ثمرات میں ہے۔ت)
انت الرسول الذی یرجی فواضلہ عندالقحوط اذاما أخطاالمطر ۔ یارسول اﷲ ! حضور وہ رسول ہیں جن کے فضل کی امید کی جاتی ہے قحط کے وقت جب مینہ خطاکرے۔
ابن شاذان عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ سے راویرسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے حضرت حمزہ رضی اﷲ تعالی عنہ کے جنازے پر فرمایا۔
یا حمزہ یا کاشف الکربات یا حمزۃ یا ذاب عن وجہ رسول اﷲ ۔ اے حمزہ اے دافع البلا اے حمزہ اے چہرہ رسول صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے دشمنوں کے دفع کرنے والے۔
کتب سابقہ میں حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے ذکر شریف میں ہے ان کے دو نائب ہوں گے ایك سن رسیدہ یعنی صدیق اکبر رضی اﷲ تعالی عنہ اور دوسرے جوان یعنی فاروق اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ اما الفتی فخواض غمرات و دفاع معضلات ۔وہ جو جوان ہیں وہ سختیوں میں گھس پڑنے والے اور بڑے دافع البلا بڑے مشکل کشا ہوں گے۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ولیہ فعلی ولیہ قال المناوی فی شرحہ یدفع عنہ مایکرہ ۔ یعنی میں جس کا مددگار ہوں علی المرتضی اس کے مددگار ہیں کہ ہر مکروہ کو اس سے دفع کرتے ہیں
شاہ ولی اﷲ دہلوی ہمعات میں لکھتے ہیں:
ازثمرات ایں نسبت است درمہالك و مضایق صورت آں جماعت پدید آمدن وحل مشکلات وے بآں صورت منسوب شدن۔ ہلاکتوں اور تنگیوں میں اس جماعت(اولیاء اللہ)کی صورت کا ظاہر ہونا اور حل مشکلات کا اس کی طرف منسوب ہونا اس نسبت کے ثمرات میں ہے۔ت)
حوالہ / References
الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ ترجمہ ۱۶۹ اسود بن مسعود ثقفی دارصادر بیروت ۱/ ۴۶
انسان العیون المعروف بالسیرۃ الحلبیۃ ذکرغزوہ احد المکتبۃ الاسلامیۃ بیروت ۲/ ۲۴۷
الجامع الصغیر حدیث ۹۰۰۱ دارالکتب العلمیہ بیروت ۲/۵۴۲
التیسیرشرح الجامع الصغیر تحت حدیث من کنت ولیہ الخ مکتبۃ الامام الشافعی ریاض ۲/ ۴۴۲
ہمعات ہمہ ۱۱ شاہ ولی اﷲ اکیڈمی حیدر آباد ص ۵۹
انسان العیون المعروف بالسیرۃ الحلبیۃ ذکرغزوہ احد المکتبۃ الاسلامیۃ بیروت ۲/ ۲۴۷
الجامع الصغیر حدیث ۹۰۰۱ دارالکتب العلمیہ بیروت ۲/۵۴۲
التیسیرشرح الجامع الصغیر تحت حدیث من کنت ولیہ الخ مکتبۃ الامام الشافعی ریاض ۲/ ۴۴۲
ہمعات ہمہ ۱۱ شاہ ولی اﷲ اکیڈمی حیدر آباد ص ۵۹
قاضی ثناء اﷲ تذکرۃ الموتی میں لکھتے ہیں:
ارواح ایشاں یعنی اولیادر زمین وآسمان و بہشت ہر جا کہ خواہندمی روند و دوستان و معتقدان رادردنیا و آخرت مددگاری مے فرمایندو دشمناں را ہلاك می نمایند ۔ اولیاء اﷲ کی روحیں زمینآسمان اور جنت میں جہاں چاہتی ہیں جاتی ہیں اور دنیا وآخرت میں اپنے دوستوں اور عقید تمندوں کی مدد کرتی ہیں اور دشمنوں کو ہلاك کرتی ہیں(ت)
اس مسئلہ کی کافی تفصیل ہماری کتاب الامن والعلی لناعتی المصطفی بدافع البلا میں ہے۔درود تاج پڑھنے کو حرام کی طرف نسبت وہی کرے گا جو خود منسوب بحرام ہو۔وہابیہ مرتدین ہیں ان کی بات سننی جائز نہیں۔وا ﷲ تعالی اعلم۔
سوال ثانی:ازیں مقام وازیں سائل(سوال دوم اسی جگہ سے اسی سائل کی طرف سے۔ت)
باادب داخل ہو اے دل محفل میلاد میں
خود بدولت خود میں شامل محفل میلاد ہیں
ہمارے رسول اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا محفل مولود میں جلوہ افروز ہونا اس شعر سے صادق آتا ہے لیکن وہابی کہتا ہی کہ نہیں ہوسکتا۔جلوہ افروز نہ ہونے کی کیا دلیل
الجواب:
وہابی کذاب جھوٹا ہےامام خاتم الحفاظ جلال الملۃ والدین سیوطی رحمۃ اﷲ تعالی علیہ تنویر میں فرماتے ہیں۔
قد اخبرنی الثقات من اھل الصلاح انھم شاھدوہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم مرارا عند قراء ۃ المولود الشریف وعندختم القرآن وبعض الاحادیث ۔ مجھے ثقہ صالحین نے خبر دی کہ انہوں نے بارہا حضور پرنور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو مجلس میلاد شریف و جلسہ ختم قرآن عظیم و بعض احادیث میں مشاہدہ کیا۔
نیز امام ممدوح تنویر پھر امام محمدث جلیل زرقانی شرح المواہب شریفہ میں فرماتے ہیں:
انہ وسائر الانبیاء صلی اﷲ تعالی بے شك رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم
ارواح ایشاں یعنی اولیادر زمین وآسمان و بہشت ہر جا کہ خواہندمی روند و دوستان و معتقدان رادردنیا و آخرت مددگاری مے فرمایندو دشمناں را ہلاك می نمایند ۔ اولیاء اﷲ کی روحیں زمینآسمان اور جنت میں جہاں چاہتی ہیں جاتی ہیں اور دنیا وآخرت میں اپنے دوستوں اور عقید تمندوں کی مدد کرتی ہیں اور دشمنوں کو ہلاك کرتی ہیں(ت)
اس مسئلہ کی کافی تفصیل ہماری کتاب الامن والعلی لناعتی المصطفی بدافع البلا میں ہے۔درود تاج پڑھنے کو حرام کی طرف نسبت وہی کرے گا جو خود منسوب بحرام ہو۔وہابیہ مرتدین ہیں ان کی بات سننی جائز نہیں۔وا ﷲ تعالی اعلم۔
سوال ثانی:ازیں مقام وازیں سائل(سوال دوم اسی جگہ سے اسی سائل کی طرف سے۔ت)
باادب داخل ہو اے دل محفل میلاد میں
خود بدولت خود میں شامل محفل میلاد ہیں
ہمارے رسول اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا محفل مولود میں جلوہ افروز ہونا اس شعر سے صادق آتا ہے لیکن وہابی کہتا ہی کہ نہیں ہوسکتا۔جلوہ افروز نہ ہونے کی کیا دلیل
الجواب:
وہابی کذاب جھوٹا ہےامام خاتم الحفاظ جلال الملۃ والدین سیوطی رحمۃ اﷲ تعالی علیہ تنویر میں فرماتے ہیں۔
قد اخبرنی الثقات من اھل الصلاح انھم شاھدوہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم مرارا عند قراء ۃ المولود الشریف وعندختم القرآن وبعض الاحادیث ۔ مجھے ثقہ صالحین نے خبر دی کہ انہوں نے بارہا حضور پرنور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو مجلس میلاد شریف و جلسہ ختم قرآن عظیم و بعض احادیث میں مشاہدہ کیا۔
نیز امام ممدوح تنویر پھر امام محمدث جلیل زرقانی شرح المواہب شریفہ میں فرماتے ہیں:
انہ وسائر الانبیاء صلی اﷲ تعالی بے شك رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم
حوالہ / References
تذکرۃ الموتی باب در مقر ارواح مطبع محمدی لاہور ص ۳۰
تنویر الحوالک
تنویر الحوالک
علیھم وسلم اذن لھم فی الخروج من قبورھم للتصرف فی الملکوت العلوی والسفلی۔ اور تمام انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کو اجازت ہے کہ آسمان و زمین کی سلطنت الہی میں تصرف فرمانے کے لیے اپنے مزارات طیبہ سے باہر تشریف لے جائیں۔
علامہ زرقانی فرماتے ہیں:
ونحوہ یاتی للمصنف فی غیر موضع من ھذا الکتاب۔ یعنی اس کے مثل امام احمد قسطلانی نے مواہب شریفہ میں جا بجا تصریح فرمائی ہے۔
امام ابن حجر مکی فتاوی کبری باب الجنائز میں فرماتے ہیں:
روح نبینا صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ربما تظہرفی سبعین الف صورۃ ۔ ہمارے نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی روح اقدس ستر ہزار صورتوں میں جلوہ گر ہوتی ہے۔
حضور عین نور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی شان اقدس تو بلند و بالا ہےامام اجل عبداﷲ بن مبارك و ابوبکر بن ابی شیبہ استاد بخاری ومسلم حضرت عبداﷲ بن عمرو رضی اﷲ عنھما سے وقفا اور امام احمد مسند اور حاکم صحیح مستدرك اور ابونعیم حلیہ میں بسند صحیح حضور سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے رفعا راویوھذاحدیث ابی بکر:
اذا مات المؤمن یخلی سربہ یسرح حیث شاء ۔ جب مسلمان کا انتقال ہوتا ہے اس کی راہ کھول دی جاتی ہے جہاں چاہے جاتا ہے۔
ہم نے اپنے رسالہ اتیان الارواح لدیار ھم بعد الرواح میں اس پر بہت روایات ذکر کیں بلکہ حضور انور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا مجالس طیبہ میں تشریف لانا بایں معنی نہیں کہ نہ تھے اور تشریف لائے کہ وہ تو ہر وقت مسلمانوں کے گھروں میں تشریف فرماہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔
علامہ زرقانی فرماتے ہیں:
ونحوہ یاتی للمصنف فی غیر موضع من ھذا الکتاب۔ یعنی اس کے مثل امام احمد قسطلانی نے مواہب شریفہ میں جا بجا تصریح فرمائی ہے۔
امام ابن حجر مکی فتاوی کبری باب الجنائز میں فرماتے ہیں:
روح نبینا صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ربما تظہرفی سبعین الف صورۃ ۔ ہمارے نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی روح اقدس ستر ہزار صورتوں میں جلوہ گر ہوتی ہے۔
حضور عین نور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی شان اقدس تو بلند و بالا ہےامام اجل عبداﷲ بن مبارك و ابوبکر بن ابی شیبہ استاد بخاری ومسلم حضرت عبداﷲ بن عمرو رضی اﷲ عنھما سے وقفا اور امام احمد مسند اور حاکم صحیح مستدرك اور ابونعیم حلیہ میں بسند صحیح حضور سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے رفعا راویوھذاحدیث ابی بکر:
اذا مات المؤمن یخلی سربہ یسرح حیث شاء ۔ جب مسلمان کا انتقال ہوتا ہے اس کی راہ کھول دی جاتی ہے جہاں چاہے جاتا ہے۔
ہم نے اپنے رسالہ اتیان الارواح لدیار ھم بعد الرواح میں اس پر بہت روایات ذکر کیں بلکہ حضور انور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا مجالس طیبہ میں تشریف لانا بایں معنی نہیں کہ نہ تھے اور تشریف لائے کہ وہ تو ہر وقت مسلمانوں کے گھروں میں تشریف فرماہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔
حوالہ / References
الحاوی للفتاوی تنویر الحوالك فی امکان رؤیۃ النبی والملك دارالکتب العلمیۃ بیروت ۲/۲۶۳
الفتاوٰی الکبرٰی کتاب الصلوۃ باب الجنائز دارالکتب العلمیہ بیروت ۲/ ۹
اتحاف السادۃ المتقین بحوالہ المصنف لابن ابی شیبہ کتاب ذکر الموت دارالفکربیروت ۱۰/ ۲۲۷
الفتاوٰی الکبرٰی کتاب الصلوۃ باب الجنائز دارالکتب العلمیہ بیروت ۲/ ۹
اتحاف السادۃ المتقین بحوالہ المصنف لابن ابی شیبہ کتاب ذکر الموت دارالفکربیروت ۱۰/ ۲۲۷
ملا علی قاری شرح شفا شریف میں فرماتے ہیں:
لان روح النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم حاضرۃ فی بیوت اھل الاسلام ۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی روح اقدس ہر مسلمان کے گھر میں تشریف فرما ہے۔
بلکہ یہ معنی کہ مجلس مبارك میں تجلی خاص فرماتے ہیںیہ ان کے کرم پر ہے ہر جگہ ضرور نہیں اورجس ذلیل سے ذلیل بندے کو نوازیں کچھ دور نہیں۔
اگر بادشہ بردر پیر زن بیاید تو اے خواجہ سلبت مکن
(اگر بادشاہ بوڑھی عورت کے دروازے پر تشریف لائے تو اے سردار ! مونچھ مت اکھاڑت)
وہابی کہ اسے محال مانتا ہے کیا دلیل رکھتا ہے اﷲ عزوجل فرماتا ہے: " قل ہاتوا برہنکم ان کنتم صدقین﴿۱۱۱﴾ " ۔
اپنی برہان لاؤ اگر سچے ہو۔
دلیل کچھ نہیں سوا اس کے کہ ع
انبیارا ہمچوخود پنداشتند
(نبیوں کو وہ اپنے جیسا سمجھتے ہیں۔ت)
" و سیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون ﴿۲۲۷﴾"۔ واﷲ تعالی اعلم عنقریب ظالم جان جائیں گے کہ کس کروٹ پر پلٹتے ہیں۔ (ت)واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۰۴: از کانپور مرسلہ مولانا محمد آصف صاحب ۱۵ جمادی الاولی ۱۳۳۷ھ
بسم اﷲ الرحمن الرحیمنحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم
یا حبیب محبوب اﷲ روحی فداکقبلہ کونین و کعبہ دارین دامت فیوضہم بعد تسلیمات فدویانہ و تمنائے حصول سعادت آستانہ بوسیالتماس اینکہ بفضلہ تعالی کمترین بخیریت ہے صحتوری حضور کی مدام بارگاہ احدیث سے مطلوب۔گرامی نامہ صادر ہو کر موجب عزت
لان روح النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم حاضرۃ فی بیوت اھل الاسلام ۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی روح اقدس ہر مسلمان کے گھر میں تشریف فرما ہے۔
بلکہ یہ معنی کہ مجلس مبارك میں تجلی خاص فرماتے ہیںیہ ان کے کرم پر ہے ہر جگہ ضرور نہیں اورجس ذلیل سے ذلیل بندے کو نوازیں کچھ دور نہیں۔
اگر بادشہ بردر پیر زن بیاید تو اے خواجہ سلبت مکن
(اگر بادشاہ بوڑھی عورت کے دروازے پر تشریف لائے تو اے سردار ! مونچھ مت اکھاڑت)
وہابی کہ اسے محال مانتا ہے کیا دلیل رکھتا ہے اﷲ عزوجل فرماتا ہے: " قل ہاتوا برہنکم ان کنتم صدقین﴿۱۱۱﴾ " ۔
اپنی برہان لاؤ اگر سچے ہو۔
دلیل کچھ نہیں سوا اس کے کہ ع
انبیارا ہمچوخود پنداشتند
(نبیوں کو وہ اپنے جیسا سمجھتے ہیں۔ت)
" و سیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون ﴿۲۲۷﴾"۔ واﷲ تعالی اعلم عنقریب ظالم جان جائیں گے کہ کس کروٹ پر پلٹتے ہیں۔ (ت)واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۰۴: از کانپور مرسلہ مولانا محمد آصف صاحب ۱۵ جمادی الاولی ۱۳۳۷ھ
بسم اﷲ الرحمن الرحیمنحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم
یا حبیب محبوب اﷲ روحی فداکقبلہ کونین و کعبہ دارین دامت فیوضہم بعد تسلیمات فدویانہ و تمنائے حصول سعادت آستانہ بوسیالتماس اینکہ بفضلہ تعالی کمترین بخیریت ہے صحتوری حضور کی مدام بارگاہ احدیث سے مطلوب۔گرامی نامہ صادر ہو کر موجب عزت
حوالہ / References
شرح الشفاء لملاّ علی القاری علی ہامش نسیم الریاض فصل فی المواطن الخ مرکز اہلسنت برکات رضا گجرات ہند ۳ /۴۶۴
القرآن الکریم ۲ /۱۱۱ و ۲۷/ ۶۴
القرآن الکریم ۲۶ /۲۲۷
القرآن الکریم ۲ /۱۱۱ و ۲۷/ ۶۴
القرآن الکریم ۲۶ /۲۲۷
تفسیر کبیر میں دیکھی۔
" و اما الذین سعدوا ففی الجنۃ خلدین فیہا ما دامت السموت والارض الا ما شاء ربک عطاء غیر مجذوذ ﴿۱۰۸﴾" ۔ اور جو خوش نصیب ہوئے وہ جنت میں ہمیشہ رہیں گے جب تك آسمان و زمین رہیں مگر جتنا تمہارے رب نے چاہا یہ بخشش ہی کبھی ختم نہ ہوگی۔(ت)
کے متعلق لکھا ہے:
الاستثناء فی باب السعداء یجب حملہ علی احد الوجوہ المذکورۃ فیما تقدم وھناوجہ اخروھوانہ ربما اتفق لبعضھم ان یرفع من الجنۃ الی العرش و الی المنازل الرفیعۃ التی لایعلمھا الا اﷲ تعالی ۔ خوش نصیبوں کے بارے میں استثناء کو ماقبل میں مذکور وجوہ میں سے کسی ایك پر محمول کرنا لازم ہے اور یہاں پر ایك دوسری وجہ ہے وہ یہ کہ بسا اوقات بعض کے لیے یہ اتفاق ہوتا ہے کہ اسے جنت سے عرش اور ان بلند منزلوں کی طرف رفعت بخشی جاتی ہے جن کو اﷲ تعالی کے سوا کوئی نہیں جانتا۔(ت)
اگر کوئی کہے کہ الفاظ غیر مجذوذ سے معلوم ہوا کہ عطا غیر منقطع ہوگی مگر استثناء ماشاء ربك ہے قدرت منقطع کرنے پر معلوم ہوتی ہے اگرچہ ہر گز ہر گز مشیئت منقطع کرنے کے لیے متعلق نہ فرمائے گا تو اس کا کیا جواب ہے حضور کا رسالہ جلد اول سبحن السبوح فدوی کے پاس ہے۔مولانا مولوی امجد علی صاحب سے چند کتابیں مثل ظفر الطیب وغیرہ ونیز جلد ثانی سبحن السبوح کی کمترین نے بذریعہ ویلوطلب کی ہیں کتاب صیانۃ الناس عن وساوس الخناس تصنیف مولانا نذیراحمد خاں صاحب مرحوم رامپوری میں لکھا ہے۔اخبار وعدہ ثواب کا قطعی ہونا اور مشیت پر مبنی نہ ہونا واجب ہے کہ اس کے خلاف میں لوم ہے جس سے خدائے تعالی پاك ومنزہ ہے۔
قال عبدالحکیم فی الحاشیۃ علی الخیالی لعل مراد ذلك البعض بقولھم ان الخلف فی الوعید کرم ان الکریم اذا زجر بالوعید فاللائق بحالہ و ملا عبدالحکیم نے خیالی کے حاشیہ مین کہاشاید اس بعض کی مراد اپنے اس قول سے کہ وعید میں خلف کرم ہے یہ ہو کہ کریم جب وعید کے ساتھ زجر فرمائے تو اس کے حال کے لائق اور
" و اما الذین سعدوا ففی الجنۃ خلدین فیہا ما دامت السموت والارض الا ما شاء ربک عطاء غیر مجذوذ ﴿۱۰۸﴾" ۔ اور جو خوش نصیب ہوئے وہ جنت میں ہمیشہ رہیں گے جب تك آسمان و زمین رہیں مگر جتنا تمہارے رب نے چاہا یہ بخشش ہی کبھی ختم نہ ہوگی۔(ت)
کے متعلق لکھا ہے:
الاستثناء فی باب السعداء یجب حملہ علی احد الوجوہ المذکورۃ فیما تقدم وھناوجہ اخروھوانہ ربما اتفق لبعضھم ان یرفع من الجنۃ الی العرش و الی المنازل الرفیعۃ التی لایعلمھا الا اﷲ تعالی ۔ خوش نصیبوں کے بارے میں استثناء کو ماقبل میں مذکور وجوہ میں سے کسی ایك پر محمول کرنا لازم ہے اور یہاں پر ایك دوسری وجہ ہے وہ یہ کہ بسا اوقات بعض کے لیے یہ اتفاق ہوتا ہے کہ اسے جنت سے عرش اور ان بلند منزلوں کی طرف رفعت بخشی جاتی ہے جن کو اﷲ تعالی کے سوا کوئی نہیں جانتا۔(ت)
اگر کوئی کہے کہ الفاظ غیر مجذوذ سے معلوم ہوا کہ عطا غیر منقطع ہوگی مگر استثناء ماشاء ربك ہے قدرت منقطع کرنے پر معلوم ہوتی ہے اگرچہ ہر گز ہر گز مشیئت منقطع کرنے کے لیے متعلق نہ فرمائے گا تو اس کا کیا جواب ہے حضور کا رسالہ جلد اول سبحن السبوح فدوی کے پاس ہے۔مولانا مولوی امجد علی صاحب سے چند کتابیں مثل ظفر الطیب وغیرہ ونیز جلد ثانی سبحن السبوح کی کمترین نے بذریعہ ویلوطلب کی ہیں کتاب صیانۃ الناس عن وساوس الخناس تصنیف مولانا نذیراحمد خاں صاحب مرحوم رامپوری میں لکھا ہے۔اخبار وعدہ ثواب کا قطعی ہونا اور مشیت پر مبنی نہ ہونا واجب ہے کہ اس کے خلاف میں لوم ہے جس سے خدائے تعالی پاك ومنزہ ہے۔
قال عبدالحکیم فی الحاشیۃ علی الخیالی لعل مراد ذلك البعض بقولھم ان الخلف فی الوعید کرم ان الکریم اذا زجر بالوعید فاللائق بحالہ و ملا عبدالحکیم نے خیالی کے حاشیہ مین کہاشاید اس بعض کی مراد اپنے اس قول سے کہ وعید میں خلف کرم ہے یہ ہو کہ کریم جب وعید کے ساتھ زجر فرمائے تو اس کے حال کے لائق اور
حوالہ / References
القرآن الکریم ۱۱ /۱۰۸
مفاتیح الغیب(التفسیر الکبیر)تحت آیت ۱۱/ ۱۰۸ المطبعۃ البہیۃ المصریۃ مصر ۱۸/ ۶۷
مفاتیح الغیب(التفسیر الکبیر)تحت آیت ۱۱/ ۱۰۸ المطبعۃ البہیۃ المصریۃ مصر ۱۸/ ۶۷
مقتضی کرمہ ان یبتنی اخبارہ علی المشیۃ فجمیع ا لعمومات الواردفی الوعید متعلقۃ بالمشیۃ وان لم یصرح بھا زجر اللعاصین ومنعا لھم فلا یلزم الکذب والتبدیل بخلاف وعدالکریم فانہ یجب ان یکون قطعیا لان الخلف فیہ لوم فلا یجوز تعلیقہ بالمشیۃ ۔ اس کے کرم کا تقاضا یہ ہوتا ہے کہ وعید کے بارے میں اس کی خبر مشیت پر مبنی ہو۔چنانچہ وعید کے سلسلے میں وارد تمام عمومات مشیت کے ساتھ منسلك ہیں اگرچہ نافرمانوں کی زجرو توبیخ اور انہیں گناہ سے باز رکھنے کی خاطر کریم نے اس کی تصریح نہ کی ہو لہذا اس میں جھوٹ اور تبدیلی لازم نہیں آتی بخلاف کریم کے وعدے کے اس کا قطعی ہونا واجب ہے اس لیے کہ اس میں خلف لوم ہے چنانچہ اس کو مشیت پر معلق کرنا جائز نہیں(ت)
دوسرا خط عریضہ ملفوف تخمینا بارہ۱۲ روز ہوئے ہوں گےفدوی روانہ خدمت فیضد رجت کرچکا ہے ہنوز جواب سے محروم ہے اس عریضہ میں متعلق آیت " فمنہم شقی وسعید ﴿۱۰۵﴾"دریافت کیا تھا کہ اہل جنت کی بابت بعد ما دامت السموت والارض (جب تك آسمان و زمین رہیں گے۔ت)کے " الا ما شاء ربک "(مگر جتنا تمہارے رب نے چاہا۔ت)سے اگر کوئی شبہہ کرے کہ قدرت خلود ابدی کے خلاف کرنے پر معلوم ہوتی ہے اگرچہ ہر گز خلاف وعدہ نہ فرمائے گا چنانچہ صراحۃ بھی عطاء غیر مجذوذ کے فرمادیا ہے تو کیا شبہہ ہے۔تفسیر ابن جریرو عرائس البیان میں ہے:
قال ابن مسعود لیاتین علی جہنم زمان تخفق ابوابھا لیس فیھا احد ۔ ابن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ نے فرمایا کہ جہنم پر ضرور ایك ایسا زمانہ آئے گا جب اس کے تمام دروازے خالی ہوجائیں گے اور اس میں کوئی ایك شخص بھی نہیں رہے گا۔(ت)
اس کا کیا مطلب ہے
الجواب:
بسم اﷲ الرحمن الرحیم نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم مولانا المکرم
دوسرا خط عریضہ ملفوف تخمینا بارہ۱۲ روز ہوئے ہوں گےفدوی روانہ خدمت فیضد رجت کرچکا ہے ہنوز جواب سے محروم ہے اس عریضہ میں متعلق آیت " فمنہم شقی وسعید ﴿۱۰۵﴾"دریافت کیا تھا کہ اہل جنت کی بابت بعد ما دامت السموت والارض (جب تك آسمان و زمین رہیں گے۔ت)کے " الا ما شاء ربک "(مگر جتنا تمہارے رب نے چاہا۔ت)سے اگر کوئی شبہہ کرے کہ قدرت خلود ابدی کے خلاف کرنے پر معلوم ہوتی ہے اگرچہ ہر گز خلاف وعدہ نہ فرمائے گا چنانچہ صراحۃ بھی عطاء غیر مجذوذ کے فرمادیا ہے تو کیا شبہہ ہے۔تفسیر ابن جریرو عرائس البیان میں ہے:
قال ابن مسعود لیاتین علی جہنم زمان تخفق ابوابھا لیس فیھا احد ۔ ابن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ نے فرمایا کہ جہنم پر ضرور ایك ایسا زمانہ آئے گا جب اس کے تمام دروازے خالی ہوجائیں گے اور اس میں کوئی ایك شخص بھی نہیں رہے گا۔(ت)
اس کا کیا مطلب ہے
الجواب:
بسم اﷲ الرحمن الرحیم نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم مولانا المکرم
حوالہ / References
حاشیہ عبدالحکیم علی الحکیم الخیالی مطبع یوسفی لکھنؤ ص ۱۲۶
جامع البیان(تفسیر ابن جریر)تحت آیت ۱۱/۱۰۷ داراحیاء التراث العرابی بیروت ۱۲/۱۴۲
جامع البیان(تفسیر ابن جریر)تحت آیت ۱۱/۱۰۷ داراحیاء التراث العرابی بیروت ۱۲/۱۴۲
اکرمکم میں آج کل متعدد رسائل ردوہابیہ خذلہم اﷲ تعالی میں مشغول تھا۔خبر الہی مثل علم الہی ہے ان میں سے کسی کا خلاف ممکن نہیںمگر یہ استحالہ بالغیر ہےنفی قدرت نہیں کرتا علم الہی ازلی میں تھا کہ یہ زید کو فلاں وقت پیدا کرے گا اب واجب ہوا کہ زید اس وقت پیدا ہواگر نہ پیدا ہو تو معاذ اﷲ جہل لازم آئے لیکن اس سے یہ لازم نہ آیا کہ مولا تعالی اس کو پیدا کرنے پر مجبور ہوگیانہ پیدا کرنے پر قادر نہ رہا ورنہ پھر جہل لازم آئے کہ علم میں تو یہ تھا کہ اپنی قدرت سے اسے پیدا کرے گا اور یہ نہ ہوا بلکہ معاذ اﷲ مجبور ہوگیا۔حاشا بلکہ زید کا وجود وفنا ازلا ابدا تحت قدرت ہے اور تعلق علم کے سبب جس وقت اس کا وجود علم الہی میں تھا وجود واجب ہے اور جس وقت فنا فنا واجب ہے کہ خلاف ہو تو جہل ہو اور جہل محال بالذات ہے اس محال بالذات نے ان ممکنات کو اپنے اپنے وقت میں واجب بالغیر کردیا اس سے معاذ اﷲ نہ قدرت مسلوب ہوئی نہ جہل ممکنبعینہ یہی بات خبر الہی میں ہے اس نے خبر دی کہ اہل جنت کو جنت میں ہمیشہ رکھے گا ان کا خلود واجب ہوگیا۔اگر نہ ہو تو معاذ اﷲ کذب لازم آئے۔مگر اس سے انقطاع پر قدرت مسلوب نہ ہوئی خلودو انقطاع دونوں ازلا ابدا زیر قدرت ہیں مگر تعلق خبر نے خلود کو واجب بالغیر کردیا اس سے نہ قدرت مسلوب ہوئی نہ معاذ اﷲ کذب ممکن۔کذب کے محال بالذات ہونے ہی نے تو اس ممکن کو واجب بالغیر کردیا اگر اس سے کذب ممکن ہوجائے تو اسے واجب کون کرےمولا عزوجل کے وعدو وعید کسی میں تخلف ممکن نہیں خود وعید ہی کے لیے ارشاد ہوا ہے۔ " ما یبدل القول لدی" ۔میرے یہاں بات بدلتی نہیں۔ت)جیسے وعدہ کوفرمایا: " ولن یخلف اللہ وعدہ " ۔ (اور اﷲ تعالی ہر گز اپنا وعدہ جھوٹا نہ کرے گا۔ت)بعض کے کلام میں کہ خلف وعید کا لفظ واقع ہوا تصریحات ہیں کہ اس سے مراد عفو ہےیہ اگر معاذ اﷲ امکان کذب ہو تو امکان کیسا وقوع ہوا کہ عفو یقینا واقع ہوگااس کی مفصل بحث سبحن السبوح میں ہے آیہ کریمہ " الا ما شاء ربک " ۔(مگر جتنا تمہارے رب نے چاہا۔ت)کے وہ معنی بعونہ تعالی ذہن فقیر میں ہیں جن کے بعد ہر گز ہر گز کسی تاویل کی حاجت نہیںمعنی ظاہر پر بلا تکلف مستقیم ہیں خلود اہل دارین کو عمر آسمان و زمین سے مقدر فرمایا ہے " ما دامت السموت والارض"۔ (جب تك آسمان و زمین رہیں گے۔ت)ظاہر ہے کہ اس سے یہ بقائے آسمان وز مین مراد نہیں جو نفخ صور پر منقطع ہے بلکہ سماء و ارض کہ روز قیامت اعادہ کیے جائیں گے ان کی عمر مراد ہے جو ابدی ہے اور کچھ شك نہیں کہ اس کی مقدار جنتیوں کے
حوالہ / References
القرآن الکریم ۵ /۲۹
القرآن الکریم ۲۲ /۴۷
القرآن الکریم ۱۱ /۱۰۷ و ۱۰۸
القرآن الکریم ۱۱ /۱۰۷ و ۱۰۸
القرآن الکریم ۲۲ /۴۷
القرآن الکریم ۱۱ /۱۰۷ و ۱۰۸
القرآن الکریم ۱۱ /۱۰۷ و ۱۰۸
جنت دوزخیوں کے دوزخ میں رہنے کی مقدار سے صدہا سال زائد ہے کہ انتہا نہ ان کو نہ اس کومگر اس کی ابتداء ان کی ابتداء سے سینکڑوں برس پہلے ہے شروع روز قیامت میں آسمان و زمین پیدا ہوجائیں گے لیکن جنتی جنت اور دوزخی دوزخ میں بعد حساب جائیں گے اور باہم بھی مقدار میں مختلف ہوں گے فقراء اغنیاء سے پانچسوبرس پہلے جنت میں جائیں گے تو جانب ابتدا میں ان کا خلود ان سموات وارض کے دوام سے کم ہوا کسی کا مثلا ہزار برس کم جیسی جس کے لیے مشیت ہوگی کسی کا دو ہزار برس کمالی غیر ذلك اس کو فرماتا ہے۔" الا ما شاء ربک " (مگر جتنا تمہارے رب نے چاہا۔ت)روایت لیاتین علی جہنم الخ دوزخ کے طبقہ اولی کے لیے ہے جس کا نام جہنم ہے اگرچہ مجموعہ کو بھی جہنم کہتے ہیں یہ طبقہ عصاۃ موحدین کے لیے ہے یہ بیشك ایك روز بالکل خالی ہوجائے گا جب لا الہ اﷲ کہنے والا کوئی اس میں نہ رکھا جائے گا۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۰۵: ۱۷ جمادی الاولی ۱۳۳۷ھ
علمائے اہلسنت و جماعت کی خدمت میں گزارش ہے کہ آج کل اکثر سنت و الجماعت فرقہ باطلہ کی صحبت میں رہ کر چند مسائل سے بدعقیدہ ہوگئے ہیں اگرچہ حضور کی تصانیف کثیرہ میں ہر قسم کے مسائل موجود ہیں لیکن احقر کی نگاہ سے یہ مسئلہ نہیں گزرا اسی واسطے اس مسئلے کی ضرورت ہوئیاور نیز عوام کا ایمان تازہ ہوگا اور بدعقیدہ لوگ گمراہی سے باز آئیں گےمنجملہ ان کے ایك مسئلہ ذیل میں تحریر ہے۔
امیر معاویہ رضی اﷲ تعالی عنہ کی نسبت زید کہتا ہے کہ وہ لالچی شخص تھےحضرت علی کرم اﷲ تعالی وجہہ اور آل رسول صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یعنی امام حسن رضی اﷲ تعالی عنہ سے لڑ کر انکی خلافت لے لی اور ہزار ہا صحابہ کو شہید کیا۔بکر کہتا ہے کہ میں ان کو خطا پر جانتا ہوں ان کو امیر نہ کہنا چاہیے۔عمرو کا یہ قول ہے کہ وہ اجلہ صحابہ میں سے ہیں ان کی توہین کرنا گمراہی ہے ایك اور شخص کو اپنے آپ کو سنی المذہب کہتا ہے اور کچھ علم بھی رکھتا ہے(حق یہ ہے کہ وہ نرا جاہل ہے)وہ کہتا ہے کہ سب صحابہ اور خصوصا حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالی عنہ اور حضرت عمر فاروق اعظم اور حضرت عثمان ذوالنورین رضی اﷲ تعالی عنہما لالچی تھے(نعوذ باﷲ منھا)کیونکہ رسول اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی نعش مبارك رکھی تھی اور وہ اپنے اپنے خلیفہ ہونے کی فکر میں لگے ہوئے تھے۔ان چاروں شخصوں کی نسبت کیا حکم ہے ان شخصوں کو سنت وا لجماعت کہہ سکتے ہیں یا نہیں اور حضور کا اس مسئلہ میں کیامذہب ہے
مسئلہ ۱۰۵: ۱۷ جمادی الاولی ۱۳۳۷ھ
علمائے اہلسنت و جماعت کی خدمت میں گزارش ہے کہ آج کل اکثر سنت و الجماعت فرقہ باطلہ کی صحبت میں رہ کر چند مسائل سے بدعقیدہ ہوگئے ہیں اگرچہ حضور کی تصانیف کثیرہ میں ہر قسم کے مسائل موجود ہیں لیکن احقر کی نگاہ سے یہ مسئلہ نہیں گزرا اسی واسطے اس مسئلے کی ضرورت ہوئیاور نیز عوام کا ایمان تازہ ہوگا اور بدعقیدہ لوگ گمراہی سے باز آئیں گےمنجملہ ان کے ایك مسئلہ ذیل میں تحریر ہے۔
امیر معاویہ رضی اﷲ تعالی عنہ کی نسبت زید کہتا ہے کہ وہ لالچی شخص تھےحضرت علی کرم اﷲ تعالی وجہہ اور آل رسول صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یعنی امام حسن رضی اﷲ تعالی عنہ سے لڑ کر انکی خلافت لے لی اور ہزار ہا صحابہ کو شہید کیا۔بکر کہتا ہے کہ میں ان کو خطا پر جانتا ہوں ان کو امیر نہ کہنا چاہیے۔عمرو کا یہ قول ہے کہ وہ اجلہ صحابہ میں سے ہیں ان کی توہین کرنا گمراہی ہے ایك اور شخص کو اپنے آپ کو سنی المذہب کہتا ہے اور کچھ علم بھی رکھتا ہے(حق یہ ہے کہ وہ نرا جاہل ہے)وہ کہتا ہے کہ سب صحابہ اور خصوصا حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالی عنہ اور حضرت عمر فاروق اعظم اور حضرت عثمان ذوالنورین رضی اﷲ تعالی عنہما لالچی تھے(نعوذ باﷲ منھا)کیونکہ رسول اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی نعش مبارك رکھی تھی اور وہ اپنے اپنے خلیفہ ہونے کی فکر میں لگے ہوئے تھے۔ان چاروں شخصوں کی نسبت کیا حکم ہے ان شخصوں کو سنت وا لجماعت کہہ سکتے ہیں یا نہیں اور حضور کا اس مسئلہ میں کیامذہب ہے
حوالہ / References
القرآن الکریم ۱۱ /۱۰۷ و ۱۰۸
جامع القرآن(تفسیر ابن جریر)تحت آیت ۱۱/ ۱۰۷ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱۲/ ۱۴۲
جامع القرآن(تفسیر ابن جریر)تحت آیت ۱۱/ ۱۰۷ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱۲/ ۱۴۲
جواب مدلل عام ارقام فرمائیے۔
الجواب:
اﷲ عزوجل نے سورہ حدید میں صحابہ سیدالمرسلین صلی اﷲ تعالی علیہ وعلیہم وسلم کی دوقسمیں فرمائیںایك وہ کہ قبل فتح مکہ شریف مشرف بایمان ہوئے اور راہ خدا میں مال خرچ کیا جہاد کیا۔دوسرے وہ کہ بعد پھر فرمایا۔" وکلا وعد اللہ الحسنی " ۔ دونوں فریق سے اﷲ تعالی نے بھلائی کا وعدہ فرمایااور جن سے بھلائی کا وعدہ کیا ہے ان کو فرماتا ہے " اولئک عنہا مبعدون ﴿۱۰۱﴾ "وہ جہنم سے دور رکھے گئے لا یسمعون حسیسہا اس کی بھنك تك نہ سنیں گے۔ " و ہم فی ما اشتہت انفسہم خلدون ﴿۱۰۲﴾ لا یحزنہم الفزع الاکبر "اور وہ اپنی من مانتی خواہشوں میں ہمیشہ رہیں گے قیامت کی سب سے بڑی گھبراہٹ انہیں غمگین نہ کرے گی۔ " و تتلقىہم الملئکۃ "فرشتے ان کا استقبال کریں گے۔" ہذا یومکم الذی کنتم توعدون ﴿۱۰۳﴾ " یہ کہتے ہوئے کہ یہ تمہارا وہ دن جس کا تم سے وعدہ تھا۔
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے ہر صحابی کی یہ شان اﷲ عزوجل بتاتا ہےتو جو کسی صحابی پر طعن کرے اﷲ واحد قہار کو جھٹلاتا ہےاور ان کے بعض معاملات جن میں اکثر حکایات کا ذبہ ہیں ارشاد الہی کے مقابل پیش کرنا اہل اسلام کا کام نہیںرب عزوجل نے اسی آیت میں اس کا منہ بھی بند فرمادیا کہ دونوں فریق صحابہ رضی اﷲ تعالی عنہم سے بھلائی کا وعدہ کرکے ساتھ ہی ارشاد فرمایا " و اللہ بما تعملون خبیر ﴿۱۰﴾" ۔اور اﷲ تعالی کو خوب خبر ہے جو کچھ تم کرو گے۔بااینہیہ میں تم سب سے بھلائی کا وعدہ فرماچکا۔اس کے بعد کوئی بکے اپنا سر کھائے خود جہنم جائے۔علامہ شہاب الدین خفا جی نسیم الریاض شرح شفاء امام قاضی عیاض میں فرماتے ہیں:
ومن یکون یطعن فی معاویۃ فذالك کلب من کلاب الھاویۃ ۔ جو حضرت معاویہ رضی اﷲ تعالی عنہ پر طعن کرے وہ جہنم کے کتوں میں سے ایك کتا ہے۔
ان چار شخصوں میں عمر کا قول سچا ہےزید و بکر جھوٹے ہیںاور چوتھا شخص سب سے بدتر خبیث رافضی تبرائی ہے۔امام کا مقرر کرنا ہر مہم سے زیادہ ہے تمام انتظام دین و دنیا اسی سے متعلق ہے۔
الجواب:
اﷲ عزوجل نے سورہ حدید میں صحابہ سیدالمرسلین صلی اﷲ تعالی علیہ وعلیہم وسلم کی دوقسمیں فرمائیںایك وہ کہ قبل فتح مکہ شریف مشرف بایمان ہوئے اور راہ خدا میں مال خرچ کیا جہاد کیا۔دوسرے وہ کہ بعد پھر فرمایا۔" وکلا وعد اللہ الحسنی " ۔ دونوں فریق سے اﷲ تعالی نے بھلائی کا وعدہ فرمایااور جن سے بھلائی کا وعدہ کیا ہے ان کو فرماتا ہے " اولئک عنہا مبعدون ﴿۱۰۱﴾ "وہ جہنم سے دور رکھے گئے لا یسمعون حسیسہا اس کی بھنك تك نہ سنیں گے۔ " و ہم فی ما اشتہت انفسہم خلدون ﴿۱۰۲﴾ لا یحزنہم الفزع الاکبر "اور وہ اپنی من مانتی خواہشوں میں ہمیشہ رہیں گے قیامت کی سب سے بڑی گھبراہٹ انہیں غمگین نہ کرے گی۔ " و تتلقىہم الملئکۃ "فرشتے ان کا استقبال کریں گے۔" ہذا یومکم الذی کنتم توعدون ﴿۱۰۳﴾ " یہ کہتے ہوئے کہ یہ تمہارا وہ دن جس کا تم سے وعدہ تھا۔
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے ہر صحابی کی یہ شان اﷲ عزوجل بتاتا ہےتو جو کسی صحابی پر طعن کرے اﷲ واحد قہار کو جھٹلاتا ہےاور ان کے بعض معاملات جن میں اکثر حکایات کا ذبہ ہیں ارشاد الہی کے مقابل پیش کرنا اہل اسلام کا کام نہیںرب عزوجل نے اسی آیت میں اس کا منہ بھی بند فرمادیا کہ دونوں فریق صحابہ رضی اﷲ تعالی عنہم سے بھلائی کا وعدہ کرکے ساتھ ہی ارشاد فرمایا " و اللہ بما تعملون خبیر ﴿۱۰﴾" ۔اور اﷲ تعالی کو خوب خبر ہے جو کچھ تم کرو گے۔بااینہیہ میں تم سب سے بھلائی کا وعدہ فرماچکا۔اس کے بعد کوئی بکے اپنا سر کھائے خود جہنم جائے۔علامہ شہاب الدین خفا جی نسیم الریاض شرح شفاء امام قاضی عیاض میں فرماتے ہیں:
ومن یکون یطعن فی معاویۃ فذالك کلب من کلاب الھاویۃ ۔ جو حضرت معاویہ رضی اﷲ تعالی عنہ پر طعن کرے وہ جہنم کے کتوں میں سے ایك کتا ہے۔
ان چار شخصوں میں عمر کا قول سچا ہےزید و بکر جھوٹے ہیںاور چوتھا شخص سب سے بدتر خبیث رافضی تبرائی ہے۔امام کا مقرر کرنا ہر مہم سے زیادہ ہے تمام انتظام دین و دنیا اسی سے متعلق ہے۔
حوالہ / References
القرآن الکریم ۵۷ /۱۰
القرآن الکریم ۲۱ /۱۰۱ تا ۱۰۳
القرآن الکریم ۵۷ /۱۰
نسیم الریاض الباب الثالث مرکز اہلسنت برکات رضا گجرات الہند ۳/ ۴۳۰
القرآن الکریم ۲۱ /۱۰۱ تا ۱۰۳
القرآن الکریم ۵۷ /۱۰
نسیم الریاض الباب الثالث مرکز اہلسنت برکات رضا گجرات الہند ۳/ ۴۳۰
حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا جنازہ انور اگر قیامت تك رکھا رہتا اصلا کوئی خلل متحمل نہ تھاانبیاء علیہم السلام کے اجسام طاہرہ بگڑتے نہیںسیدنا سلیمن علیہ الصلوۃ والسلام بعد انتقال ایك سال کھڑے رہے سال بھر بعد دفن ہوئےجنازہ مبارکہ حجرہ ام المومنین صدیقہ میں تھا جہاں اب مزار انور ہے اس سے باہر لے جانا نہ تھاچھوٹا سا حجرہ اور تمام صحابہ کو اس نماز اقدس سے مشرف ہونا ایك ایك جماعت آتی اور پڑھتی اور باہر جاتی دوسری آتییوں یہ سلسلہ تیسرے دن ختم ہوا۔اور اگر تین برس میں ختم ہوتا تو جنازہ اقدس تین برس یوں ہی رکھا رہنا تھا کہ اس وجہ سے تاخیر دفن اقدس ضروری تھی۔ابلیس کے نزدیك یہ اگر لالچ کے سبب تھا سب سے سخت تر الزام امیر المومنین علی کرم اﷲ تعالی وجھہ پر ہے یہ تو لالچی نہ تھے اور کفن دفن کا کام گھر والوں سے ہی متعلق ہوتا ہے یہ کیوں تین دن ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہے۔انہیں نے رسول کا یہ کام کیا ہوتا یہ پچھلی خدمت بجالائے ہوتے۔تو معلوم ہوا کہ اعتراض ملعون ہے اور جنازہ انور کا جلد دفن نہ کرنا ہی مصلحت دینی تھی جس پر علی مرتضی اور سب صحابہ نے اجماع کیا مگر
چشم بد اندیش کہ برکندہ باد عیب نماید بہ نگاہش ہنر
(بدخواہ کی آنکھ برباد ہوجائے اس کی نگاہ میں ہنر بھی عیب نظر آتا ہے۔ت)
یہ خبثاء خذلہم اﷲ تعالی صحابہ کرام کو ایذا نہیں دیتے۔حدیث شریف میں ہے۔
من اذاھم فقد اذانی ومن اذانی فقد اذی اﷲ ومن اذی اﷲ یوشك ان یاخذہ ۔ جس نے میرے صحابہ کو ایذا دی اس نے مجھے ایذا دی اور جس نے مجھے ایذا دی اس نے اﷲ کو ایذا دی اور جس نے اﷲ کو ایذا دی تو قریب ہے کہ اﷲ اسے گرفتار کرےوالعیاذ باﷲ واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۰۶: از کو چین ضلع ملیبار محلہ مٹانیچری مرسلہ مولانا حاجی طاہر محمد صاحب ۲۰ جمادی الاولی ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ ایك مذہب پر قائم رہنا فرض ہے یا واجب ہے یا سنت جو ایك مذہب پر قائم نہیں وہ کون ہے اس کا نام کیا ہے
چشم بد اندیش کہ برکندہ باد عیب نماید بہ نگاہش ہنر
(بدخواہ کی آنکھ برباد ہوجائے اس کی نگاہ میں ہنر بھی عیب نظر آتا ہے۔ت)
یہ خبثاء خذلہم اﷲ تعالی صحابہ کرام کو ایذا نہیں دیتے۔حدیث شریف میں ہے۔
من اذاھم فقد اذانی ومن اذانی فقد اذی اﷲ ومن اذی اﷲ یوشك ان یاخذہ ۔ جس نے میرے صحابہ کو ایذا دی اس نے مجھے ایذا دی اور جس نے مجھے ایذا دی اس نے اﷲ کو ایذا دی اور جس نے اﷲ کو ایذا دی تو قریب ہے کہ اﷲ اسے گرفتار کرےوالعیاذ باﷲ واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۰۶: از کو چین ضلع ملیبار محلہ مٹانیچری مرسلہ مولانا حاجی طاہر محمد صاحب ۲۰ جمادی الاولی ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ ایك مذہب پر قائم رہنا فرض ہے یا واجب ہے یا سنت جو ایك مذہب پر قائم نہیں وہ کون ہے اس کا نام کیا ہے
حوالہ / References
جامع الترمذی ابواب المناقب باب من سب اصحابہ صلی اﷲ علیہ وسلم،امین کمپنی دہلی ۲/ ۲۲۶
الجواب:
مذہب اہلسنت پر قائم رہنا فرض اعظم ہے اور فقہ میں ایك مذہب مثلا حنفی مذہب پر قائم رہنااور جو کسی مذہب پر قائم نہیں پہلی صورت میں دہریہ اور دوسری صورت میں غیر مقلد ہے اور یہ فرقہ بھی بدعتی ناری ہے۔طحطاوی علی الدرالمختار میں ہے:
فمن کان خارجا عن ھذا الاربعۃ فہومن اھل البدعۃ و النار۔ واﷲ تعالی اعلم تو جو کوئی چاروں سے خارج ہے وہ بدعتیوں اور جہنمیوں میں سے ہے۔(ت)واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۰۷: از شہر بریلی مدرسہ منظر الاسلام مسؤلہ امام بخش طالب علم مدرسہ مذکور ۱۵ جمادی الاخرہ ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کا یہ قول ہے کہ قیام ناجائز ہے اور اس کی دلیل امام اعظم صاحب کا قول پیش کرتا ہے بطور ا فتراء کہ ہمارے امام صاحب خود کبھی کبھی قیامت نہیں فرماتے تھے جب ہم ان کی تقلید کرتے ہیں تو ہر ایك بات میں تقلید کرنا چاہیے تو اس صورت میں کہ ہم قیام نہیں کرتے الزام نہیں ہوسکتا اور زید کا یہ قول کہ امام اعظم رحمۃ اﷲ تعالی کبھی کبھی قیام نہیں فرماتے تھے یہ صحیح ہے یا نہیںاگر زید امام اعظم رحمۃ اﷲ تعالی علیہ پر افتراء کرتا ہے تو ایسے شخص کے واسطے کیا حکم ہے زید کہتا ہے کہ صاحب مرقات کا قول یہ ہے کہ جو امر مندوب ہے اس پر تاکید کرنے سے مکروہ ہوجاتا ہےقیام مستحب ہے پھر اس پر اس قدر تاکید کیوں ہے یہاں تك کہ رسالہ بازیوں تك نوبت پہنچ گئیقبل نماز عصر چار رکعت سنت مستحب ہےاس پر تاکید کیوں نہیں کرتےقیام پر کیا خصوصیت ہے اور قیام کرنے والوں کو کیا ثواب ملے گا اور منکر قیام کو کیا عذاب ہوگا میلاد شریف میں کچھ لوگوں نے قیام کیا اور کچھ لوگوں نے نہیں کیا ان کے واسطے کیا حکم ہے جو لوگ صرف قیام کے منکر ہیں یا پورے دیوبندی خیال کے ہیں ان کے پیچھے نماز جائز ہے یا نہیں۔
الجواب:
اس نے امام پر افترا کیا اور قیام مندوب ہے اگر بعض اوقات اس لحاظ سے کہ واجب نہیں ساری مجلس قیام نہ کرتی اور اس کے ساتھ یہ خیال وہابیت نہ ہوتا تو حرج نہ تھا اوراب یہ قیام شعار اہلسنت ہوگیا ہے اور اس سے ان کا اشعار وہابیت اور شعار سنیت کا لحاظ ضرور موکدہ ہے۔
مذہب اہلسنت پر قائم رہنا فرض اعظم ہے اور فقہ میں ایك مذہب مثلا حنفی مذہب پر قائم رہنااور جو کسی مذہب پر قائم نہیں پہلی صورت میں دہریہ اور دوسری صورت میں غیر مقلد ہے اور یہ فرقہ بھی بدعتی ناری ہے۔طحطاوی علی الدرالمختار میں ہے:
فمن کان خارجا عن ھذا الاربعۃ فہومن اھل البدعۃ و النار۔ واﷲ تعالی اعلم تو جو کوئی چاروں سے خارج ہے وہ بدعتیوں اور جہنمیوں میں سے ہے۔(ت)واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۰۷: از شہر بریلی مدرسہ منظر الاسلام مسؤلہ امام بخش طالب علم مدرسہ مذکور ۱۵ جمادی الاخرہ ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کا یہ قول ہے کہ قیام ناجائز ہے اور اس کی دلیل امام اعظم صاحب کا قول پیش کرتا ہے بطور ا فتراء کہ ہمارے امام صاحب خود کبھی کبھی قیامت نہیں فرماتے تھے جب ہم ان کی تقلید کرتے ہیں تو ہر ایك بات میں تقلید کرنا چاہیے تو اس صورت میں کہ ہم قیام نہیں کرتے الزام نہیں ہوسکتا اور زید کا یہ قول کہ امام اعظم رحمۃ اﷲ تعالی کبھی کبھی قیام نہیں فرماتے تھے یہ صحیح ہے یا نہیںاگر زید امام اعظم رحمۃ اﷲ تعالی علیہ پر افتراء کرتا ہے تو ایسے شخص کے واسطے کیا حکم ہے زید کہتا ہے کہ صاحب مرقات کا قول یہ ہے کہ جو امر مندوب ہے اس پر تاکید کرنے سے مکروہ ہوجاتا ہےقیام مستحب ہے پھر اس پر اس قدر تاکید کیوں ہے یہاں تك کہ رسالہ بازیوں تك نوبت پہنچ گئیقبل نماز عصر چار رکعت سنت مستحب ہےاس پر تاکید کیوں نہیں کرتےقیام پر کیا خصوصیت ہے اور قیام کرنے والوں کو کیا ثواب ملے گا اور منکر قیام کو کیا عذاب ہوگا میلاد شریف میں کچھ لوگوں نے قیام کیا اور کچھ لوگوں نے نہیں کیا ان کے واسطے کیا حکم ہے جو لوگ صرف قیام کے منکر ہیں یا پورے دیوبندی خیال کے ہیں ان کے پیچھے نماز جائز ہے یا نہیں۔
الجواب:
اس نے امام پر افترا کیا اور قیام مندوب ہے اگر بعض اوقات اس لحاظ سے کہ واجب نہیں ساری مجلس قیام نہ کرتی اور اس کے ساتھ یہ خیال وہابیت نہ ہوتا تو حرج نہ تھا اوراب یہ قیام شعار اہلسنت ہوگیا ہے اور اس سے ان کا اشعار وہابیت اور شعار سنیت کا لحاظ ضرور موکدہ ہے۔
حوالہ / References
حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الذبائح المکتبہ الاسلامیہ کوئٹہ ۴/ ۱۵۳
عصر سے پہلے کے نوافل نہ شعار سنیت ہیں نہ ان کے ترك میں کوئی تہمت و گمراہیخصوصا اس حالت میں کہ مجلس قیام کرے اور بعض بالقصد مخالفت مسلمین کرکے بیٹھے رہیںمنکر قیام اگر بالفرض ایسا پایا جائے کہ صرف اسی مسئلہ میں اس کو شبہہ ہے نہ بہ علت وہابیت نہ بربنائے اصول وہابیت او رتمام مسائل میں موافق اہلسنت ہےوہابیہ کو گمراہ بے دین جانتا ہے تو اس کے پیچھے نماز میں حرج نہ ہوگامگر ہندوستان میں شاید ایسا شخص معدوم ہو۔رہے دیوبندی اور ان کے ہم خیال وہ مرتدین ہیں مرتد کے پیچھے نماز کیسی!
مسئلہ ۱۰۸: بمعرفت سید ضمیر الحسن صاحب ۱۲ جمادی الاولی ۱۳۳۷ھ
جناب بھائی صاحب دام اقبالہمؤدبانہ گزارش ہے کہ جس رسالہ کے بارے میں تذکرہ کیا تھا وہ اس وقت موصول ہوااس کا ایك اعتراض تحریر کرتا ہوں کیونکہ دوسرے لمبے چوڑے ہیں وہ بعد کو لکھوں گا آپ اس کو اعلیحضرت قبلہ و کعبہ کی خدمت عالی میں پیش کریں اور جواب خاکسار کے پاس روانہ فرمائیںوہ اعتراض یہ ہے کہ ہم جو کہ ایمانی حالت نہایت کمزور رکھتے ہیں ہمارے واسطے حکم ہوتا ہے۔" یؤمنون بالغیب" ۔بغیر دیکھے ایمان لاتے ہیں۔ " من یخافہ بالغیب " ۔کون ہے جو بے دیکھے ڈرتا ہے۔" الذین یخشون ربہم بالغیب و ہم من الساعۃ مشفقون ﴿۴۹﴾" ۔یہ نصیحت نامہ ان لوگوں کے واسطے ہے جو بے دیکھے خدا سے ڈرتے ہیں اور قیامت سے ڈرتے ہیں" انما تنذر من اتبع الذکر و خشی الرحمن بالغیب " ۔تم انہیں کو ڈراؤ جو سمجھانے پر چلے اور بغیر دیکھے رحمن سے ڈرے" من خشی الرحمن بالغیب و جاء بقلب منیب ﴿۳۳﴾ ادخلوہا بسلم " ۔ جو شخص بے دیکھے خدا سے ڈرتا رہا اور دل گرویدہ لے کر حاضر ہوا ہم ایسے لوگوں سے فرمائیں گے سلامتی کے ساتھ اس بہشت میں داخل ہو جاؤ۔ من ینصرہ و رسلہ بالغیب "" ۔جو لوگ بغیر دیکھے خدا اور اس کے رسول کی مدد کرتے ہیں۔" ان الذین یخشون ربہم بالغیب لہم مغفرۃ و اجر کبیر ﴿۱۲﴾ " ۔جو لوگ خدا سے بغیر دیکھے ڈرتے ہیں ان کے واسطے بڑا اجر ہے۔غرضکہ متعدد آیات جن میں
مسئلہ ۱۰۸: بمعرفت سید ضمیر الحسن صاحب ۱۲ جمادی الاولی ۱۳۳۷ھ
جناب بھائی صاحب دام اقبالہمؤدبانہ گزارش ہے کہ جس رسالہ کے بارے میں تذکرہ کیا تھا وہ اس وقت موصول ہوااس کا ایك اعتراض تحریر کرتا ہوں کیونکہ دوسرے لمبے چوڑے ہیں وہ بعد کو لکھوں گا آپ اس کو اعلیحضرت قبلہ و کعبہ کی خدمت عالی میں پیش کریں اور جواب خاکسار کے پاس روانہ فرمائیںوہ اعتراض یہ ہے کہ ہم جو کہ ایمانی حالت نہایت کمزور رکھتے ہیں ہمارے واسطے حکم ہوتا ہے۔" یؤمنون بالغیب" ۔بغیر دیکھے ایمان لاتے ہیں۔ " من یخافہ بالغیب " ۔کون ہے جو بے دیکھے ڈرتا ہے۔" الذین یخشون ربہم بالغیب و ہم من الساعۃ مشفقون ﴿۴۹﴾" ۔یہ نصیحت نامہ ان لوگوں کے واسطے ہے جو بے دیکھے خدا سے ڈرتے ہیں اور قیامت سے ڈرتے ہیں" انما تنذر من اتبع الذکر و خشی الرحمن بالغیب " ۔تم انہیں کو ڈراؤ جو سمجھانے پر چلے اور بغیر دیکھے رحمن سے ڈرے" من خشی الرحمن بالغیب و جاء بقلب منیب ﴿۳۳﴾ ادخلوہا بسلم " ۔ جو شخص بے دیکھے خدا سے ڈرتا رہا اور دل گرویدہ لے کر حاضر ہوا ہم ایسے لوگوں سے فرمائیں گے سلامتی کے ساتھ اس بہشت میں داخل ہو جاؤ۔ من ینصرہ و رسلہ بالغیب "" ۔جو لوگ بغیر دیکھے خدا اور اس کے رسول کی مدد کرتے ہیں۔" ان الذین یخشون ربہم بالغیب لہم مغفرۃ و اجر کبیر ﴿۱۲﴾ " ۔جو لوگ خدا سے بغیر دیکھے ڈرتے ہیں ان کے واسطے بڑا اجر ہے۔غرضکہ متعدد آیات جن میں
اﷲ تعالی نے فرمایا ہے کہ بغیر دیکھے ایمان لاؤآج کل فلسفہسائنس اور کیمسٹری نے وہ کچھ زور باندھا ہے کہ معمولی سے معمولی سمجھ والا بھی بغیر دیکھے ایمان لانے کو تیار نہیں۔جنبھوتپریچڑیل کے قصے چند روز ہوئے کہ ہمارے دلوں پر بڑا بھاری اثر کیے ہوئے تھے مگر اب جوں جوں سائنس کی ہوا لگتی جاتی ہے ان باتوں سے انکار ہوتا چلا جاتا ہے اور مشاہدے کے بغیر کسی بات کے ماننے کے واسطے ہم تیار ہی نہیں ہوتےاس لیے آجکل یہ بڑی مشکل بات ہے کہ بلا مشاہدہ کے کوئی شخص کسی بات کو تسلیم کرلے جب کہ آج سے چند ہزار سال پہلے ایك اولو العزم بلکہ ابوالانبیاء حضرت ابراہیم علیہ السلام کا واقعہ قرآن شریف میں موجود ہے۔
" و اذ قال ابرہم رب ارنی کیف تحی الموتی قال اولم تؤمن قال بلی ولکن لیطمئن قلبی" ۔ اور جب ابراہیم علیہ السلام نے اپنے رب سے کہا تھا کہ میرے رب مجھے دکھا کہ تو کس طرح مردوں کو زندہ کرے گاخدا نے پوچھا کیا تو ہماری اس بات پر ایمان نہیں لاتاحضرت ابراہیم علیہ السلام نے جواب دیا کہ ہاں ایمان تو لایا ہوں مگر اطمینان قلب کی خاطر دیکھنا چاہتا ہوں۔
ہر شخص جانتا ہے کہ ایمان لانا دل کے ساتھ ہوتا ہے زبانی جمع خرچ کا نام ایمان نہیںاگر فی الحقیقت حضرت ابراہیم علیہ السلام اس بات پر ایمان لائے ہوتے تو اطمینان قلب ضرور ہوتا اب اعتراض یہ ہے کہ اس زمانہ میں جب کہ سائنس اور فلسفہ نے انسان کو اس قدر ہوشیار نہیں کیا تھا اس وقت کے لوگ تو یہ حق رکھتے تھے کہ وہ دیکھ بھال کر کھوٹا کھرا جانچ کر ایمان لائیں تو بھلا یہ کس قدر انصاف پر مبنی ہے کہ اس روشنی کے زمانے میں یہ نادر شاہی حکم ہو کہ تم پوچھو گچھو دیکھو بھالو نہیں بغیر دیکھے ہی ایمان لے آؤ۔اول تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نبی تھے اور نبی بھی ایسے نبی جن کی اولاد سے کئی ہزار نبی پیدا ہوئے اور خاتم النبین حضرت محمد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ان پر فخر کیا کہ: " قل بل ملۃ ابرہم حنیفا " ۔ (تم فرماؤ بلکہ ہم تو ابراہیم علیہ السلام کا دین لیتے ہیں۔ت)دوسرے نبی نبا سے نکلا ہے نبا خبر کو کہتے ہیںنبی کے معنی غیب کی خبریں پانے والا۔اور غیب کی خبر ایك ایسی نعمت غیر مترقبہ ہے کہ جو ہر مرتبہ ایمانی ترقی کا ذریعہ ہوئی ہے کائنات عالم کی خبریں اﷲ تعالی انہیں
" و اذ قال ابرہم رب ارنی کیف تحی الموتی قال اولم تؤمن قال بلی ولکن لیطمئن قلبی" ۔ اور جب ابراہیم علیہ السلام نے اپنے رب سے کہا تھا کہ میرے رب مجھے دکھا کہ تو کس طرح مردوں کو زندہ کرے گاخدا نے پوچھا کیا تو ہماری اس بات پر ایمان نہیں لاتاحضرت ابراہیم علیہ السلام نے جواب دیا کہ ہاں ایمان تو لایا ہوں مگر اطمینان قلب کی خاطر دیکھنا چاہتا ہوں۔
ہر شخص جانتا ہے کہ ایمان لانا دل کے ساتھ ہوتا ہے زبانی جمع خرچ کا نام ایمان نہیںاگر فی الحقیقت حضرت ابراہیم علیہ السلام اس بات پر ایمان لائے ہوتے تو اطمینان قلب ضرور ہوتا اب اعتراض یہ ہے کہ اس زمانہ میں جب کہ سائنس اور فلسفہ نے انسان کو اس قدر ہوشیار نہیں کیا تھا اس وقت کے لوگ تو یہ حق رکھتے تھے کہ وہ دیکھ بھال کر کھوٹا کھرا جانچ کر ایمان لائیں تو بھلا یہ کس قدر انصاف پر مبنی ہے کہ اس روشنی کے زمانے میں یہ نادر شاہی حکم ہو کہ تم پوچھو گچھو دیکھو بھالو نہیں بغیر دیکھے ہی ایمان لے آؤ۔اول تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نبی تھے اور نبی بھی ایسے نبی جن کی اولاد سے کئی ہزار نبی پیدا ہوئے اور خاتم النبین حضرت محمد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ان پر فخر کیا کہ: " قل بل ملۃ ابرہم حنیفا " ۔ (تم فرماؤ بلکہ ہم تو ابراہیم علیہ السلام کا دین لیتے ہیں۔ت)دوسرے نبی نبا سے نکلا ہے نبا خبر کو کہتے ہیںنبی کے معنی غیب کی خبریں پانے والا۔اور غیب کی خبر ایك ایسی نعمت غیر مترقبہ ہے کہ جو ہر مرتبہ ایمانی ترقی کا ذریعہ ہوئی ہے کائنات عالم کی خبریں اﷲ تعالی انہیں
دیتا رہتا ہےجس کی وجہ سے وہ نہایت مسرور رہتے ہیں ان باتوں کو مدنظر رکھ کر اب غور کیجئے کہ جو رات دن خارق عادت خبریں پارہے ہیں وہ تو یہ حق رکھیں کہ مجھے یہ دکھادے کہ تو کس طرح مردوں کو زندہ کرے گااور ہم جو کہ اس موجودہ سائنس اور فلسفہ کے روز افزوں سیلاب میں ڈوبے جارہے ہیں ہمیں یہ نادر شاہی حکم ہو کہ بغیر دیکھے ایمان لے آؤ۔کیا یہ انصاف ہے لوگو! خدا کے لیے جواب دو۔اس نئی روشنی نے جو غضب ڈھایا ہے وہ حسب ذیل نوٹ سے آپ اندازہ کرسکتے ہیں کہ جب تك یہ سائنسدان پیدا نہیں ہوئے تھے دنیا اس قدر نرم دل واقع ہوئی تھی کہ خدا کی ہستی سے انکار کسی کو بھی نہ تھا بلکہ معمولی سے معمولی چیزوں کو بھی وہ خدا تسلیم کرلیا کرتے تھے۔چنانچہ تاریخ عالم آپ کو یہ بتادے گی کہ کوئی مذہب ایسا نہیں تھا کہ جن کو ہستی باری تعالی سے انکار ہو۔اس کے برعکس ایسے لوگ موجود تھے کہ آگپتھردرختآفتابستارہچاند دریا جانور تك کو خدا مانتے تھےایك چھوڑ کئی کئی خدا کے ماننے والے موجود تھے انکار کسی کو بھی نہ تھا مگر ڈارون جیسوں کی تھیور یز نے پیدا ہو کر سرے سے خدا ہی کو اڑا دیا اور کہنے لگے یہ سب کچھ خود بخود سے ہے کوئی خدا نہیں یہ جاہلوں کی باتیں ہیں۔اب ذرا غور کریں کہ یہاں تو سرے سے خدا کا ہی انکار ہے اس حالت میں یہ کس طرح ممکن ہے کہ کوئی بلا دلیل خدا کے احکامات پر بلا دیکھے ایمان لاسکے تعجب ہے کب جب حضرت انسان اپنی حقیقت سے بھی ناواقف تھا اور ایك وحشی کی طرح زندگی بسر کررہا تھا اس وقت تو اس کو یہ حق حاصل تھا کہ یہ دیکھ بھال کر ٹھونك بجا کر ایمان لائے اور جب کہ انسان آگپانیہوابجلی پر حکمرانی کرتے کرتے ترقی کے آسمان پر پرواز کرکے تاروں سے گفت و شنید کی فکر میں منہمك ہو اس وقت کے واسطے یہ قانون پاس ہوجائے کہ جی بغیر دیکھے ایمان لے آؤ کس قدر انصاف ہےاور پھر جب کہ نبی تو دیکھ بھال کر ایمان لائیں اور ہم کمزور انسانوں کے واسطے یہ حکم ہو کہ بغیر دیکھے ایمان لے آؤ تمہیں بتاؤ کہ ہم ان سے زیادہ حقدار ہیں یا نہیں ہر شخص اس کا یہی جواب دے گا کہ ہاں بے شك ہم انبیاء سے زیادہ دیکھ بھال کر ایمان لانے کے مستحق ہیں کیونکہ ہم نے تجلیات اﷲ کا ایك پر تو بھی نہیں دیکھااور نہ ہم دیکھ سکتے ہیں وحی الہی نبوت حضرت رسول کریم خاتم النبیین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پر ختم ہوگئیاور بقول احمدیوں کے یہ بھی مان لیا جائے کہ نبوت کا راستہ بند نہیں ہوا تو یہ بھی غیر ممکن ہے کہ تمام دنیا نبی بن جائے۔
الجواب:
اﷲ عزوجل اپنی لعنت سے بچائےجب لعنت الہی اترتی ہے دل کی آنکھیں پھوٹ جاتی ہیں اچھا خاصا ہوش و حواس والا پکا پاگل ہو جاتا ہے اسے اپنی ہی ہستی سجھائی نہیں دیتی اپنے افعال
الجواب:
اﷲ عزوجل اپنی لعنت سے بچائےجب لعنت الہی اترتی ہے دل کی آنکھیں پھوٹ جاتی ہیں اچھا خاصا ہوش و حواس والا پکا پاگل ہو جاتا ہے اسے اپنی ہی ہستی سجھائی نہیں دیتی اپنے افعال
والی آنکھ بند ہوجاتی ہے اور مہملات بکنے والا منہ کھل جاتا ہے۔
(۱)علم کے اسباب تین ہیں:عقلحواسخبر صادق۔حواس پانچ ہیں جن میں دیکھنا صرف ایك سے متعلق ہے تو علم کے ساتھ ذریعہ ہوئےجو اندھا کہے کہ بے دیکھے نہ مانیں گے وہ سات میں سے چھ ذریعہ علم کو باطل کرچکا اور اگر ظاہر کا بھی اندھا ہے تو وہ ساتواں بھی گیا۔
(۲)یہ تو گدھے سے بھی بدتر ہواوہ بھی جانتا ہے کہ دیکھنے کے سوا اور بھی ذرائع علم ہیں دور سے شیر کی آواز سنے گا یا بو سونگھے گا تو جان توڑ کر سرپٹ بھاگے گا مگر یہ گدھے سے بھی احمق تر وہیں کھڑا رہے گا کہ شیر کو دیکھا تو ہے ہی نہیں بے دیکھے ماننا کیا معنی۔
(۳)سائنس والے ہوا کے معتقد ہیں یا نہیں ہیںتو بے دیکھے کیونکر۔
(۴)سائنس والے صدہا باتوں میں خود مختلف ہیںدیکھی ہوئی بات میں اختلاف کیاکیا سب اندھے ہیں یا ان میں سے ایك انکھیارا ضرور بے دیکھی باتوں میں اٹکلیں دوڑاتے اور ہر ایك اپنی مانتا ہے۔
(۵)اقلیدس کا مسئلہ ہے کہ کرہ کی نسبت کرہ کی طرفقطر کی نسبت قطر کی طرف ہےمثلثہ بالتکریر مثلا ایك کرہ کا قطر دوسرے کا ۲/۱ ہے تو یہ کرہ اس کا ۸/۱ ہوگایا ۳/۱ ہے تو ۲۷/۱ یہ کن آنکھوں سے دیکھ کر مانا۔
(۶)ارثماطیقی کا مسئلہ ہے کہ نسبت مجذورین مجذور نسبت جذرین ہےیہ کن آنکھوں سے دیکھی۔
(۷)جبرو مقابلہ کا مسئلہ ہے کہ نصف سرلا کا مجذور طرفین میں شامل کرنے سے یعنی جو مساوات اس صورت کی ہو:لا۲ + ص لا = ط اس میں(۲/ص)۲ یا ۴/ص۲ ملانے سے مجذور کامل ہوجاتا ہے۔اگرچہ پہلے بھی کامل ہویہ کن آنکھوں سے دیکھ کر مانا۔اسی طرح ان فنون اور ان کے سوا دیگر علوم کے لاکھوں مسائل ہیں کہ بے دیکھے مان لیتے ہیں۔
(۸)یہ معترض اور ہر(شخص)اپنی ماں کویقینا اپنی ماں جانتا ہے ان میں سے کس نے اپنے آپ کو اس کے پیٹ سے پیدا ہوتے دیکھا ہے۔
(۹)ماں تو ماں ان میں سے جو کوئی باپ رکھتا ہے اسے کبھی شبہہ نہیں ہوتا کہ اس نے اپنے آپ کو اس کی پیٹھ سے اترتے اور ماں کے پیٹ میں داخل ہوتے نہ دیکھا پھر کیونکر اس کے باپ ہونے پر اعتقاد رکھتا ہے۔
(۱۰)ان میں لاکھوں ہوں گے جنہوں نے لندن آنکھوں سے نہ دیکھا پھر کیسا اندھا پن ہے کہ بے دیکھے
(۱)علم کے اسباب تین ہیں:عقلحواسخبر صادق۔حواس پانچ ہیں جن میں دیکھنا صرف ایك سے متعلق ہے تو علم کے ساتھ ذریعہ ہوئےجو اندھا کہے کہ بے دیکھے نہ مانیں گے وہ سات میں سے چھ ذریعہ علم کو باطل کرچکا اور اگر ظاہر کا بھی اندھا ہے تو وہ ساتواں بھی گیا۔
(۲)یہ تو گدھے سے بھی بدتر ہواوہ بھی جانتا ہے کہ دیکھنے کے سوا اور بھی ذرائع علم ہیں دور سے شیر کی آواز سنے گا یا بو سونگھے گا تو جان توڑ کر سرپٹ بھاگے گا مگر یہ گدھے سے بھی احمق تر وہیں کھڑا رہے گا کہ شیر کو دیکھا تو ہے ہی نہیں بے دیکھے ماننا کیا معنی۔
(۳)سائنس والے ہوا کے معتقد ہیں یا نہیں ہیںتو بے دیکھے کیونکر۔
(۴)سائنس والے صدہا باتوں میں خود مختلف ہیںدیکھی ہوئی بات میں اختلاف کیاکیا سب اندھے ہیں یا ان میں سے ایك انکھیارا ضرور بے دیکھی باتوں میں اٹکلیں دوڑاتے اور ہر ایك اپنی مانتا ہے۔
(۵)اقلیدس کا مسئلہ ہے کہ کرہ کی نسبت کرہ کی طرفقطر کی نسبت قطر کی طرف ہےمثلثہ بالتکریر مثلا ایك کرہ کا قطر دوسرے کا ۲/۱ ہے تو یہ کرہ اس کا ۸/۱ ہوگایا ۳/۱ ہے تو ۲۷/۱ یہ کن آنکھوں سے دیکھ کر مانا۔
(۶)ارثماطیقی کا مسئلہ ہے کہ نسبت مجذورین مجذور نسبت جذرین ہےیہ کن آنکھوں سے دیکھی۔
(۷)جبرو مقابلہ کا مسئلہ ہے کہ نصف سرلا کا مجذور طرفین میں شامل کرنے سے یعنی جو مساوات اس صورت کی ہو:لا۲ + ص لا = ط اس میں(۲/ص)۲ یا ۴/ص۲ ملانے سے مجذور کامل ہوجاتا ہے۔اگرچہ پہلے بھی کامل ہویہ کن آنکھوں سے دیکھ کر مانا۔اسی طرح ان فنون اور ان کے سوا دیگر علوم کے لاکھوں مسائل ہیں کہ بے دیکھے مان لیتے ہیں۔
(۸)یہ معترض اور ہر(شخص)اپنی ماں کویقینا اپنی ماں جانتا ہے ان میں سے کس نے اپنے آپ کو اس کے پیٹ سے پیدا ہوتے دیکھا ہے۔
(۹)ماں تو ماں ان میں سے جو کوئی باپ رکھتا ہے اسے کبھی شبہہ نہیں ہوتا کہ اس نے اپنے آپ کو اس کی پیٹھ سے اترتے اور ماں کے پیٹ میں داخل ہوتے نہ دیکھا پھر کیونکر اس کے باپ ہونے پر اعتقاد رکھتا ہے۔
(۱۰)ان میں لاکھوں ہوں گے جنہوں نے لندن آنکھوں سے نہ دیکھا پھر کیسا اندھا پن ہے کہ بے دیکھے
اقوال رات دن کے مسلمات ایسا بھول جاتا ہے گویا نہ یہ انسان ہے نہ انسان کے نطفے سے بنانہ کبھی انسان کی اسے ہو الگی۔ واقعات دیکھنے
اس کا یقین رکھتے ہیں۔
(۱۱)ایسے پاگل پن کا اعتراض کرنے والوں کو نہ صرف قانون الہی بلکہ قانون گورنمنٹ پر بھی کھلا انکار ہوگا کہ ہم نے واضعان قانون کو یہ قانون بناتے نہ دیکھا ہم کیونکر مان لیں۔
(۱۲)قانون بالائے طاق و ہ قیصر ہند کی سلطنت سے بھی انکار کریں گے کہ ہم نے نہ قیصر ہند کو دیکھا نہ ہمارے سامنی تاجپوشی ہوئی ہم کیوں تسلیم کریں۔
بالجملہ اس کی لاکھوں مثالیں ہیں جو اشقیاء خود روزمرہ برت رہے ہیںمگر اﷲ واحد قہار پر اعتراض کرنے کے لیے ان کو بھلاتے اور ناپاکی کا منہ پھیلاتے ہیںرب عزوجل نے غیب پر بے دلیل ایمان لانے پر مجبور نہیں فرمایا بلکہ براہین قاطعہ و دلائل ساطعہ قائم فرمائے انبیاء بھیجے انہیں معجزات دیئے آفاق و انفس میں اپنی نشانیاں ظاہر فرمائیں ان کے ماننے کیطرف بلایا ہےکافر سے اس کی کیا شکایت کہ اس نے ابراہیم علیہ السلام کو دیکھنے سے پہلے ایمان سے خالی بتایا مگر یہ کہے کہ اس واقعہ سے اس کا استدلال تحقیقا ہے یا الزامااگرتحقیقا ہے تو خود اپنے سارے جھوٹ کو جہنم میں ڈال دیاجہنم سے مراد دوزخ نہیںاس پر تو ایمان ہی نہیں رکھتااس دن ایمان لائے گا۔ "یوم یدعون الی نار جہنم دعا ﴿۱۳﴾ ہذہ النار التی کنتم بہا تکذبون ﴿۱۴﴾ افسحر ہذا ام انتم لا تبصرون ﴿۱۵﴾" ۔جس دن دھکے دے کر جہنم کی آگ میں ڈالے جائیں گےیہ ہے وہ آگ جسے تم جھٹلاتے تھےکیا یہ جادو ہے یا تمہیں سوجھتا نہیںبلکہ میری مراد یہ ہے کہ اس نے اپنی تمام جھوٹی خباثتوں کو بھڑکتی آگ میں ڈال کر بھسم کردیابے دیکھے کیونکر اعتقاد لایا کہ ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ واقعہ ہوا۔اور اگر الزاما ہے تو خود اس گفتگو میں تصریح ہے کہ بیشك مجھے ایمان ہے اس کی کیفیت کی قلب کو تلاش ہے کہ اس کے وقوع کا کیا طریقہ ہوگا دیکھنے سے اس کا اطمینان چاہتا ہوں اندھا سوال ہی کو دیکھے یہ عرض نہ کی کہ ر ب اتحی الموت اے میرے رب ! کیا تو مردے جلائے گا کہ معاذ اﷲ جلانے میں شك سمجھاجائے بلکہ یہ عرض کی کہ " رب ارنی کیف تحی الموتی" ۔اے میرے رب ! جس طرح تو مردے جلائے گا وہ صورت مجھے آنکھوں سے دکھادے۔ " ولکن الظلمین بایت اللہ یجحدون ﴿۳۳﴾" ۔ولاحول ولاقوۃ
اس کا یقین رکھتے ہیں۔
(۱۱)ایسے پاگل پن کا اعتراض کرنے والوں کو نہ صرف قانون الہی بلکہ قانون گورنمنٹ پر بھی کھلا انکار ہوگا کہ ہم نے واضعان قانون کو یہ قانون بناتے نہ دیکھا ہم کیونکر مان لیں۔
(۱۲)قانون بالائے طاق و ہ قیصر ہند کی سلطنت سے بھی انکار کریں گے کہ ہم نے نہ قیصر ہند کو دیکھا نہ ہمارے سامنی تاجپوشی ہوئی ہم کیوں تسلیم کریں۔
بالجملہ اس کی لاکھوں مثالیں ہیں جو اشقیاء خود روزمرہ برت رہے ہیںمگر اﷲ واحد قہار پر اعتراض کرنے کے لیے ان کو بھلاتے اور ناپاکی کا منہ پھیلاتے ہیںرب عزوجل نے غیب پر بے دلیل ایمان لانے پر مجبور نہیں فرمایا بلکہ براہین قاطعہ و دلائل ساطعہ قائم فرمائے انبیاء بھیجے انہیں معجزات دیئے آفاق و انفس میں اپنی نشانیاں ظاہر فرمائیں ان کے ماننے کیطرف بلایا ہےکافر سے اس کی کیا شکایت کہ اس نے ابراہیم علیہ السلام کو دیکھنے سے پہلے ایمان سے خالی بتایا مگر یہ کہے کہ اس واقعہ سے اس کا استدلال تحقیقا ہے یا الزامااگرتحقیقا ہے تو خود اپنے سارے جھوٹ کو جہنم میں ڈال دیاجہنم سے مراد دوزخ نہیںاس پر تو ایمان ہی نہیں رکھتااس دن ایمان لائے گا۔ "یوم یدعون الی نار جہنم دعا ﴿۱۳﴾ ہذہ النار التی کنتم بہا تکذبون ﴿۱۴﴾ افسحر ہذا ام انتم لا تبصرون ﴿۱۵﴾" ۔جس دن دھکے دے کر جہنم کی آگ میں ڈالے جائیں گےیہ ہے وہ آگ جسے تم جھٹلاتے تھےکیا یہ جادو ہے یا تمہیں سوجھتا نہیںبلکہ میری مراد یہ ہے کہ اس نے اپنی تمام جھوٹی خباثتوں کو بھڑکتی آگ میں ڈال کر بھسم کردیابے دیکھے کیونکر اعتقاد لایا کہ ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ واقعہ ہوا۔اور اگر الزاما ہے تو خود اس گفتگو میں تصریح ہے کہ بیشك مجھے ایمان ہے اس کی کیفیت کی قلب کو تلاش ہے کہ اس کے وقوع کا کیا طریقہ ہوگا دیکھنے سے اس کا اطمینان چاہتا ہوں اندھا سوال ہی کو دیکھے یہ عرض نہ کی کہ ر ب اتحی الموت اے میرے رب ! کیا تو مردے جلائے گا کہ معاذ اﷲ جلانے میں شك سمجھاجائے بلکہ یہ عرض کی کہ " رب ارنی کیف تحی الموتی" ۔اے میرے رب ! جس طرح تو مردے جلائے گا وہ صورت مجھے آنکھوں سے دکھادے۔ " ولکن الظلمین بایت اللہ یجحدون ﴿۳۳﴾" ۔ولاحول ولاقوۃ
الا باﷲ العلی العظیمواﷲ تعالی اعلم(مگر ظالم اﷲ تعالی کی آیتوں کا انکار کرتے ہیںنہ گناہ سے بچنے کی طاقت ہے اور نہ ہی نیکی کرنے کی قوت مگر بلندی و عظمت والے خدا کی طرف سے۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۱۰۹:قیام میلاد شریف کے بارے میں چند مستند حدیثوں کی ضرورت ہےمخالف وہابی کہتے ہیں رسول مقبول صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے قیام کے واسطے کوئی حکم نہیں دیا ہے اور کسی کتاب سے ثابت بھی نہیں ہےمنع ہے۔
الجواب:
وہابی جھوٹے ہیں اور ان کا منع کہنا شریعت پر افترا ہےان سے پوچھو کہ اﷲ ورسول نے منع فرمایا ہے یا تم منع کرتے ہو۔اگر کہیں اﷲ و رسول نے منع فرمایا ہےتو دکھائیں کس آیت کس حدیث صحیح میں ہے کہ قیام مجلس مبارك منع ہےاور اگر کہیں کہ ہم خود منع کرتے ہیںتو بکا کریںحکم ان کا نہیں بلکہ اﷲ و رسول کا ہے جل جلالہو صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اﷲ عزوجل نے قرآن عظیم میں جا بجا نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی تعظیم کا حکم فرمایا ا ور یہ قیام بھی اقسام تعظیم سے ہے تو جب تك اس خاص تعظیم کی ممانعت اﷲ ورسول اﷲ کے حکم سے ثابت نہ ہو یہ حکم قرآنی کے مطابق ہے۔قرآن عظیم سے بڑھ کر اور کیا دلیل درکار ہےزیادہ تفصیل ہمارے رسالہ اقامۃ القیامہ میں ہےخود حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم تکریم حضرت بتول زہرا کے لیے قیام فرماتے اور حضرت بتول زہرا رضی اﷲ تعالی عنہا تعظیم حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے لیے قیام کرتیں سعد بن معاذ رضی اﷲ تعالی عنہ جس وقت حاضر ہوئے حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے انصار کرام کو ان کے لیے قیام کا حکم فرمایا۔انس رضی اﷲ تعالی عنہ فرماتے ہیں۔جب حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم مجلس انور سے اٹھتے قمنا قیاما حتی نراہ قددخل بعض بیوت ازواجہ ۔ہم سب کھڑے ہوجاتے اور کھڑے رہتے جب تك کہ حضور حجرات شریفہ میں سے کسی میں تشریف نہ لے جاتےممانعت قیام اعاجم سے ہے کہ ان کا بادشاہ تخت پر بیٹھا ہوتا اور درباری تصویر بنے ہوئے سامنے کھڑے رہتے۔بعض وقت اس کی ناپسندی بطور تواضع و رفع تکلف ہے جیسے اب بھی کوئی معظم دینی آئے اور حاضرین اس کے لیے قیام کریں تو وہ کہتا ہے کہ تکلیف نہ فرمائیے تشریف رکھئےاس کے یہ معنی نہیں کہ قیام سے شرعا کرتا ہے بلکہ تواضعا مانعین کے یہاں بھی قیام تعظیمی برابر رائج ہے اپنے ملوں کے لیے قیام کریں گے اور لوگ ان کے لیے قیام کریں بعض بیٹھے رہیں تو ناراض ہوں گے بے ادب
مسئلہ ۱۰۹:قیام میلاد شریف کے بارے میں چند مستند حدیثوں کی ضرورت ہےمخالف وہابی کہتے ہیں رسول مقبول صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے قیام کے واسطے کوئی حکم نہیں دیا ہے اور کسی کتاب سے ثابت بھی نہیں ہےمنع ہے۔
الجواب:
وہابی جھوٹے ہیں اور ان کا منع کہنا شریعت پر افترا ہےان سے پوچھو کہ اﷲ ورسول نے منع فرمایا ہے یا تم منع کرتے ہو۔اگر کہیں اﷲ و رسول نے منع فرمایا ہےتو دکھائیں کس آیت کس حدیث صحیح میں ہے کہ قیام مجلس مبارك منع ہےاور اگر کہیں کہ ہم خود منع کرتے ہیںتو بکا کریںحکم ان کا نہیں بلکہ اﷲ و رسول کا ہے جل جلالہو صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اﷲ عزوجل نے قرآن عظیم میں جا بجا نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی تعظیم کا حکم فرمایا ا ور یہ قیام بھی اقسام تعظیم سے ہے تو جب تك اس خاص تعظیم کی ممانعت اﷲ ورسول اﷲ کے حکم سے ثابت نہ ہو یہ حکم قرآنی کے مطابق ہے۔قرآن عظیم سے بڑھ کر اور کیا دلیل درکار ہےزیادہ تفصیل ہمارے رسالہ اقامۃ القیامہ میں ہےخود حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم تکریم حضرت بتول زہرا کے لیے قیام فرماتے اور حضرت بتول زہرا رضی اﷲ تعالی عنہا تعظیم حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے لیے قیام کرتیں سعد بن معاذ رضی اﷲ تعالی عنہ جس وقت حاضر ہوئے حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے انصار کرام کو ان کے لیے قیام کا حکم فرمایا۔انس رضی اﷲ تعالی عنہ فرماتے ہیں۔جب حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم مجلس انور سے اٹھتے قمنا قیاما حتی نراہ قددخل بعض بیوت ازواجہ ۔ہم سب کھڑے ہوجاتے اور کھڑے رہتے جب تك کہ حضور حجرات شریفہ میں سے کسی میں تشریف نہ لے جاتےممانعت قیام اعاجم سے ہے کہ ان کا بادشاہ تخت پر بیٹھا ہوتا اور درباری تصویر بنے ہوئے سامنے کھڑے رہتے۔بعض وقت اس کی ناپسندی بطور تواضع و رفع تکلف ہے جیسے اب بھی کوئی معظم دینی آئے اور حاضرین اس کے لیے قیام کریں تو وہ کہتا ہے کہ تکلیف نہ فرمائیے تشریف رکھئےاس کے یہ معنی نہیں کہ قیام سے شرعا کرتا ہے بلکہ تواضعا مانعین کے یہاں بھی قیام تعظیمی برابر رائج ہے اپنے ملوں کے لیے قیام کریں گے اور لوگ ان کے لیے قیام کریں بعض بیٹھے رہیں تو ناراض ہوں گے بے ادب
حوالہ / References
سنن ابی داؤد کتاب الادب باب فی الحلم واخلاق النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۲۰۲
جانیں گے مگر یہ تو اپنے ملوں کی تعظیم ہے جن کی باطل عظمت سے دل بھرے ہوئے ہیںحضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ و سلم کی عظمت ان کے یہاں کہاںاس میں یہ شاخسانے سوجھتے ہیںشفاء شریف وغیرہا میں ائمہ دین تصریح فرماتے ہیں کہ حضور کے ذکر اقدس کی تعظیم ذات انور کی طرح ہے وقت تشریف آوری تعظیم ذات انور کی طرح ہےوقت تشریف آوری تعظیم ذات کریم قیام سے ہے تو ذکر شریف کی یہ ہی تعظیم مسلمانوں نے صدہا سال سے مقرر کی کما فی عقدالجوھر وغیرہ (جیسا کہ عقد الجوہر وغیرہ میں ہے۔ت)واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۱۰:از رمضان پور ڈاك خانہ خاص ضلع بدایوں مرسلہ عبدالصمد عرف صوفی قادری برکاتی نوری ابوالحسینی ۱۴ رجب ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ میت کو جس وقت دفن کرکے واپس آتے ہیں کتبہائے سابقہ سے یہ بات ثابت ہے کہ ملائکہ قبر میں آتے ہیں پھر میت کو زندہ کرکے حساب لیتے ہیں اس بات کا ثبوت کس نص صریح میں ہے یعنی اشارۃ النص یا دلالۃ النصایك فرقہ جدید پیدا ہوا ہے جو اپنے آپ کو اہل قرآن ظاہر کرتے ہیں وہ ا س بات کے منکر ہیں اور کہتے ہیں کہ زندہ کرنے کا ایك وقت معینہ مقرر ہے جس کو قیامت کہتے ہیں باقی سب لغویات ہیں سائل بڑے فکر و تردد میں ہے کہ کس طرح سے جواب اس فرقہ بد کو دیا جائے۔
الجواب:
سوال روح سے ہوتا ہے اور روح کبھی نہیں مرتیرہا یہ کہ روح بدن میں اعادہ کی جاتی ہے یا نصف بدن میں آتی ہے یا بدن و کفن کے درمیان رکھی جاتی ہے اس کی تفصیل قطعیات سے نہیں نہ تفتیش کی حاجت اور یہ جدید فرقہ جو بنام قرآنی نکلا ہےاسلام سے خارج ہے اس کی بات سننی نہ چاہیےواﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۱۱۱: از شہر بریلی بی بی جی کی مسجد مسؤلہ حشمت علی صاحب طالب علم مدرسہ منظرالاسلام ۷ شعبان ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے حقانیین اہل سنت و جماعت کثر ہم اﷲ نصر ہم و امداد ہم مسئلہ ذیل میں کہ زید بحمد اﷲ تعالی کسی ضروری دینی کا انکار بلکہ اس میں شك بھی نہیں کرتا بلکہ ایسے شخص کو بھی کافر و مرتد جانتا ہے۔باوجود اس کے اس کا یہ عقیدہ ہے کہ سیدنا صدیق اکبر رضی اﷲ تعالی عنہ اگرچہ افضل الناس بعد الانبیاء ہیں لیکن بحکم مامن عام الاوقد خص منہ البعض ۔ (کوئی عام نہیں مگر اس میں سے بعض افراد کو
مسئلہ ۱۱۰:از رمضان پور ڈاك خانہ خاص ضلع بدایوں مرسلہ عبدالصمد عرف صوفی قادری برکاتی نوری ابوالحسینی ۱۴ رجب ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ میت کو جس وقت دفن کرکے واپس آتے ہیں کتبہائے سابقہ سے یہ بات ثابت ہے کہ ملائکہ قبر میں آتے ہیں پھر میت کو زندہ کرکے حساب لیتے ہیں اس بات کا ثبوت کس نص صریح میں ہے یعنی اشارۃ النص یا دلالۃ النصایك فرقہ جدید پیدا ہوا ہے جو اپنے آپ کو اہل قرآن ظاہر کرتے ہیں وہ ا س بات کے منکر ہیں اور کہتے ہیں کہ زندہ کرنے کا ایك وقت معینہ مقرر ہے جس کو قیامت کہتے ہیں باقی سب لغویات ہیں سائل بڑے فکر و تردد میں ہے کہ کس طرح سے جواب اس فرقہ بد کو دیا جائے۔
الجواب:
سوال روح سے ہوتا ہے اور روح کبھی نہیں مرتیرہا یہ کہ روح بدن میں اعادہ کی جاتی ہے یا نصف بدن میں آتی ہے یا بدن و کفن کے درمیان رکھی جاتی ہے اس کی تفصیل قطعیات سے نہیں نہ تفتیش کی حاجت اور یہ جدید فرقہ جو بنام قرآنی نکلا ہےاسلام سے خارج ہے اس کی بات سننی نہ چاہیےواﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۱۱۱: از شہر بریلی بی بی جی کی مسجد مسؤلہ حشمت علی صاحب طالب علم مدرسہ منظرالاسلام ۷ شعبان ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے حقانیین اہل سنت و جماعت کثر ہم اﷲ نصر ہم و امداد ہم مسئلہ ذیل میں کہ زید بحمد اﷲ تعالی کسی ضروری دینی کا انکار بلکہ اس میں شك بھی نہیں کرتا بلکہ ایسے شخص کو بھی کافر و مرتد جانتا ہے۔باوجود اس کے اس کا یہ عقیدہ ہے کہ سیدنا صدیق اکبر رضی اﷲ تعالی عنہ اگرچہ افضل الناس بعد الانبیاء ہیں لیکن بحکم مامن عام الاوقد خص منہ البعض ۔ (کوئی عام نہیں مگر اس میں سے بعض افراد کو
حوالہ / References
التوضیح علی التلویح فصل فی حکم العام میر محمد کتب خانہ کراچی ص ۲۰۹
خاص کیا گیا ہے۔ت)اس ناس سے حسنین رضی اﷲ تعالی عنہما مستثنی ہیںکیونکہ حسنین کریمین رضی اﷲ تعالی عنہما شاہزادگان دورمان نبوت ہیں اور حضرات خلفائے اربعہ وزرائے شہ سریر رسالت صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ہیں اور وزراء سے شاہزادوں کا مرتبہ بڑا ہوتا ہے تو معلوم ہوا کہ حسنین رضی اﷲ تعالی عنہما خلفائے اربعہ رضوان اﷲ تعالی علیہم سے افضل ہیں۔اس پر عمر کہتا ہے کہ سیدنا مولی علی کرم اﷲ تعالی وجہہ الکریم تو سیدنا صدیق اکبر رضی اﷲ تعالی عنہ بلکہ سیدنا عثمان غنی رضی اﷲ تعالی عنہ کے مرتبہ کے بعد ہیںتو کیا حسنین رضی اﷲ تعالی عنہما اپنے والد ماجد رضی اﷲ تعالی عنہ سے بھی افضل ہوجائیں گےزید جوابا کہتا ہے کہ یہ محال نہیں بلکہ ممکن بلکہ واقع ہےدریافت طلب یہ امر ہے کہ زید کا استدلال کیسا ہے اور اس عقیدہ سے اس کی سنیت میں تو کوئی نقص نہ آیا۔
الجواب:
اگر وہ یہ کہتا کہ حضرات حسنین کریمین رضی اﷲ تعالی عنہما بوجہ جزئیت کریمہ ایك فضل جزئی حضرات عالیہ خلفائے اربعہ رضی اﷲ تعالی عنہم پر رکھتے ہیں اور مرتبہ حضرات خلفاء کا اعظم و اعلی ہے تو حق تھا مگر اس نے اپنی جہالت سے فضل کلی سبطین کو دیا اور افضل البشر بعد الانبیاء ابوبکر الصدیق کو عام مخصوص منہ البعض ٹھہرایا اور انہیں امیر ا لمومنین مولی علی سے افضل کہا یہ سب باطل اور خلاف اہلسنت ہے اس عقیدہ باطلہ سے توبہ فرض ہے ورنہ وہ سنی نہیں اور اس کی دلیل محض مردود و ذلیلاگر جزئیت موجب افضلیت مرتبہ عند اﷲ ہو تو لازم کہ آج کل کے بھی سارے میر صاحب اگرچہ کیسے ہی فسق و فجور میں مبتلا ہوں اﷲ عزوجل کے نزدیك امیر المومنین مولی علی سے افضل واعلی ہوں اور یہ نہ کہے گا مگر جاہل اجہل مجنون یا ضال مضل مفتون قال اﷲ عزوجل:
" قل ہل یستوی الذین یعلمون و الذین لا یعلمون " ۔ تم فرمادو کیا برابر ہوجائیں گے عالم اور بے علم۔
اور فرماتا ہے:
" یرفع اللہ الذین امنوا منکم و الذین اوتوا العلم درجت " ۔ اﷲ بلند فرمائے گا تم میں سے مومنوں اور بالخصوص عالموں کے درجے۔
الجواب:
اگر وہ یہ کہتا کہ حضرات حسنین کریمین رضی اﷲ تعالی عنہما بوجہ جزئیت کریمہ ایك فضل جزئی حضرات عالیہ خلفائے اربعہ رضی اﷲ تعالی عنہم پر رکھتے ہیں اور مرتبہ حضرات خلفاء کا اعظم و اعلی ہے تو حق تھا مگر اس نے اپنی جہالت سے فضل کلی سبطین کو دیا اور افضل البشر بعد الانبیاء ابوبکر الصدیق کو عام مخصوص منہ البعض ٹھہرایا اور انہیں امیر ا لمومنین مولی علی سے افضل کہا یہ سب باطل اور خلاف اہلسنت ہے اس عقیدہ باطلہ سے توبہ فرض ہے ورنہ وہ سنی نہیں اور اس کی دلیل محض مردود و ذلیلاگر جزئیت موجب افضلیت مرتبہ عند اﷲ ہو تو لازم کہ آج کل کے بھی سارے میر صاحب اگرچہ کیسے ہی فسق و فجور میں مبتلا ہوں اﷲ عزوجل کے نزدیك امیر المومنین مولی علی سے افضل واعلی ہوں اور یہ نہ کہے گا مگر جاہل اجہل مجنون یا ضال مضل مفتون قال اﷲ عزوجل:
" قل ہل یستوی الذین یعلمون و الذین لا یعلمون " ۔ تم فرمادو کیا برابر ہوجائیں گے عالم اور بے علم۔
اور فرماتا ہے:
" یرفع اللہ الذین امنوا منکم و الذین اوتوا العلم درجت " ۔ اﷲ بلند فرمائے گا تم میں سے مومنوں اور بالخصوص عالموں کے درجے۔
تو عنداﷲ فضل علم فضل نسب سے اشرف و اعظم ہےیہ میر صاحب کہ عالم نہ ہوں اگرچہ صالح ہوں آج کل کے عالم سنی صحیح العقیدہ کے مرتبہ کو شرعا نہیں پہنچتے نہ کہ ائمہ نہ کہ صحابہ نہ کہ مولی علی نہ کہ صدیق و فاروق رضی اﷲ تعالی عنہم اجمعینتنویر الابصار و درمختار میں ہے:
للشاب العالم ان یتقدم علی الشیخ الجاھل ولو قریشاقال تعالی والذین اوتواالعلم درجت فالرافع ھو اﷲ فمن یضعہ یضعہ اﷲ فی جہنم ۔ نوجوان عالم کو بوڑھے جاہل پر تقدم کا حق حاصل ہے اگرچہ وہ (جاہل)قرشی ہواﷲ تعالی نے فرمایا:اﷲ تعالی عالموں کے درجے بلند فرمائے گا۔چونکہ بلندی عطا فرمانے والا اﷲ تعالی ہے لہذا جو اس کو گھٹائے گا اﷲ تعالی اس کو جہنم میں ڈالے گا۔(ت)
فتاوی خیر یہ امام خیر الدین رملی میں ہے:
کونہ قرشیا لایبیح لہ التقدم علی ذی العلم مع جھلہ اذکتب العلم طافحۃ بتقدم العالم علی القرشی ولم یفرق سبحنہ وتعالی بین القرشی وغیرہ فی قولہ تعالی ھل یستوی الذین یعلمون والذین لا یعلمون ۔ جاہل کا قرشی ہونا عالم پر اس کے تقدم کو مباح نہیں کرتا کیونکہ علم کی کتابیں عالم کے قرشی پر تقدم کے حق سے بھری پڑی ہیں اور اﷲ سبحنہ و تعالی نے قرشی و غیر قرشی کے درمیان اپنے اس ارشاد میں کوئی فرق نہیںفرمایا کہ کیا جاننے والے اور نہ جاننے والے برابر ہوسکتے ہیں۔(ت)
اسی میں ہے:
والعالم یقدم علی القرشی الغیر العالم والدلیل علی ذلك تقدم الصھرین علی الختنین و قرشی غیر عالم پر عالم کو تقدم حاصل ہےاس کی دلیل یہ ہے کہ نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے سسر آپ کے دامادوں پر مقدم ہیں
للشاب العالم ان یتقدم علی الشیخ الجاھل ولو قریشاقال تعالی والذین اوتواالعلم درجت فالرافع ھو اﷲ فمن یضعہ یضعہ اﷲ فی جہنم ۔ نوجوان عالم کو بوڑھے جاہل پر تقدم کا حق حاصل ہے اگرچہ وہ (جاہل)قرشی ہواﷲ تعالی نے فرمایا:اﷲ تعالی عالموں کے درجے بلند فرمائے گا۔چونکہ بلندی عطا فرمانے والا اﷲ تعالی ہے لہذا جو اس کو گھٹائے گا اﷲ تعالی اس کو جہنم میں ڈالے گا۔(ت)
فتاوی خیر یہ امام خیر الدین رملی میں ہے:
کونہ قرشیا لایبیح لہ التقدم علی ذی العلم مع جھلہ اذکتب العلم طافحۃ بتقدم العالم علی القرشی ولم یفرق سبحنہ وتعالی بین القرشی وغیرہ فی قولہ تعالی ھل یستوی الذین یعلمون والذین لا یعلمون ۔ جاہل کا قرشی ہونا عالم پر اس کے تقدم کو مباح نہیں کرتا کیونکہ علم کی کتابیں عالم کے قرشی پر تقدم کے حق سے بھری پڑی ہیں اور اﷲ سبحنہ و تعالی نے قرشی و غیر قرشی کے درمیان اپنے اس ارشاد میں کوئی فرق نہیںفرمایا کہ کیا جاننے والے اور نہ جاننے والے برابر ہوسکتے ہیں۔(ت)
اسی میں ہے:
والعالم یقدم علی القرشی الغیر العالم والدلیل علی ذلك تقدم الصھرین علی الختنین و قرشی غیر عالم پر عالم کو تقدم حاصل ہےاس کی دلیل یہ ہے کہ نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے سسر آپ کے دامادوں پر مقدم ہیں
حوالہ / References
الدرالمختار مسائل شتّٰی مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۳۵۱
الفتاوی الخیر یۃ مسائل شتّٰی دارالمعرفۃ بیروت ۲/ ۲۳۴
الفتاوی الخیر یۃ مسائل شتّٰی دارالمعرفۃ بیروت ۲/ ۲۳۴
ان کان الختن اقرب نسبا منھم ۔ حالانکہ نسب کے اعتبار سے داماد بنسبت سسر کے اقرب ہوتا ہے۔(ت)
ولہذا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے سرداری حضرات سبطین کریمین کو حفظ تعمیم کے لیے جوانان اہل جنت سے خاص فرمایا۔
الحسن والحسین سید ا شباب اھل الجنۃ۔ حسین و حسین رضی اﷲ تعالے عنہما جنتی جوانوں کے سردار ہیں۔(ت)
کہ خلفائے اربعہ رضی اﷲ تعالی عنہم کو شامل نہ ہواور متعدد صحیح حدیثوں میں اسی کے تتمہ میں فرمادیا۔وابوھما خیر منھما حسن و حسین جوانان اہل جنت کے سردار ہیں اور ان کا باپ ان سے افضل ہے۔
رواہ ابن ماجۃ والحاکم عن ابن عمر والطبرانی فی الکبیر عن قرۃ بن ایاس بسندحسن وعن مالك بن الحویرث والحاکم وصحہ عن ابن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہم۔ اس کو ابن ماجہ اور حاکم نے ابن عمر سے اور طبرانی نے معجم کبیر میں قرہ بن ایاس سے سند حسن کے ساتھ مالك بن حویرث و حاکم سے روایت کیا ہے اور ابن مسعود نے اس کی تصحیح کی ہے رضی اﷲ عنہم(ت)
اور ارشاد ہوا:
ابوبکر و عمر خیر الاولین والاخرین و خیر اھل السموت وخیر اھل الارضین الاالنبیین والمرسلین ۔ ابوبکر و عمر سب اگلوں پچھلوں سے افضل ہیں اور سب آسمان والوں اور سب زمین والوں سے افضل ہیں سوا انبیاء مرسلین کے علیہم الصلوۃ والتسلیم(ت)
ولہذا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے سرداری حضرات سبطین کریمین کو حفظ تعمیم کے لیے جوانان اہل جنت سے خاص فرمایا۔
الحسن والحسین سید ا شباب اھل الجنۃ۔ حسین و حسین رضی اﷲ تعالے عنہما جنتی جوانوں کے سردار ہیں۔(ت)
کہ خلفائے اربعہ رضی اﷲ تعالی عنہم کو شامل نہ ہواور متعدد صحیح حدیثوں میں اسی کے تتمہ میں فرمادیا۔وابوھما خیر منھما حسن و حسین جوانان اہل جنت کے سردار ہیں اور ان کا باپ ان سے افضل ہے۔
رواہ ابن ماجۃ والحاکم عن ابن عمر والطبرانی فی الکبیر عن قرۃ بن ایاس بسندحسن وعن مالك بن الحویرث والحاکم وصحہ عن ابن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہم۔ اس کو ابن ماجہ اور حاکم نے ابن عمر سے اور طبرانی نے معجم کبیر میں قرہ بن ایاس سے سند حسن کے ساتھ مالك بن حویرث و حاکم سے روایت کیا ہے اور ابن مسعود نے اس کی تصحیح کی ہے رضی اﷲ عنہم(ت)
اور ارشاد ہوا:
ابوبکر و عمر خیر الاولین والاخرین و خیر اھل السموت وخیر اھل الارضین الاالنبیین والمرسلین ۔ ابوبکر و عمر سب اگلوں پچھلوں سے افضل ہیں اور سب آسمان والوں اور سب زمین والوں سے افضل ہیں سوا انبیاء مرسلین کے علیہم الصلوۃ والتسلیم(ت)
حوالہ / References
الفتاوی الخیریۃ مسائل شتّٰی دارالمعرفۃ بیروت ۲/ ۲۳۵
سنن ابن ماجہ فضل علی ابن ابی طالب رضی اﷲ عنہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص ۲،المستدرك للحاکم کتاب معرفۃ الصحابۃ دارالفکر بیروت ۳/ ۱۶۷،المعجم الکبیر حدیث ۶۵۰ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۱۹ /۲۹۲
کنزالعمال حدیث ۳۲۶۴۵ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۱/ ۵۶۰
سنن ابن ماجہ فضل علی ابن ابی طالب رضی اﷲ عنہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص ۲،المستدرك للحاکم کتاب معرفۃ الصحابۃ دارالفکر بیروت ۳/ ۱۶۷،المعجم الکبیر حدیث ۶۵۰ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۱۹ /۲۹۲
کنزالعمال حدیث ۳۲۶۴۵ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۱/ ۵۶۰
مسئلہ ۱۱۲: از سیتاپور محلہ تامین گنج مرسلہ مرسلہ حکیم غلام حیدر صاحب ۱۰ شعبان ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جناب خواجہ حسن نظامی صاحب دہلوی نے اپنے مؤلفہ کتاب یزید نامہ میں اپنے عقائد کا اظہار ان الفاظ میں فرمایا ہے کہ میں حضرت علی رضی اﷲ تعالی عنہ کو افضل ترین امت بعد رسول خدا صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے سمجھتا ہوں اور دعوی کیا ہے کہ یہی عقیدہ حقہ تمامی اہلسنت کا ہے جن کی چشم بصیرت بینانہیں ان سے قطع نظر تمام صوفیہ کرام واولیائے عظام وبزرگان دین کا یہی عقیدہ و مسلك ہے۔بحوالہ فتوحات مکیہ حضرت ابن عربی رضی اﷲ تعالی عنہ کا بھی یہی عقیدہ ظاہر کیا ہے۔حضرت امیر معویہ رضی اﷲ تعالی عنہ کے حالات میں بہت کچھ لکھا ہے کل نقل باعث طوالت ہےآخری فیصلہ یہ لکھا ہے کہ ہم کو ان کے کفر و بے دینی کے ثبوت تلاش کرنے میں وقت ضائع نہ کرنا چاہیے لہذا اس معاملہ کو خدا کے حوالہ کرتے ہیںمولانا شاہ ولی اﷲ صاحب محدث دہلوی طاب ثراہ اپنی کتاب ازالۃ الخفا میں اس عقیدہ والے کو فرقہ تفضیلی و بدعتی و مستحق تعزیر قرار دیتے ہیں اور حضرت علی رضی اﷲ تعالی عنہ کا قول متعدد طرق سے نقل فرماتے ہیں کہ فرمایا حضرت علی نے کوئی شخص مجھے حضرت ابوبکر و حضرت عمر رضی اﷲ تعالی عنہما پر فضیلت نہ دے ورنہ تہمت و افتراء پر دازی کے جرم میں اسی درے لگاؤں گا ۔
اس نازك زمانہ میں اس استفتاء کی ضرورت اس وجہ سے ہوئی کہ یزید نامہ کو دیکھ کر عقائد سے ناواقف سنی جن میں اعلی درجے کے تعلیم یافتہ و گریجوایٹ حضرات بھی شامل ہیں اسی عقیدہ کو عقیدہ حقہ اہلسنت سمجھیں گے ان کو واضح ہونا چاہیے کہ یہ عقائد فرقہ تفضیلیہ کے ہیں عقائد اہلسنت کو اس سے واسطہ نہیں امید کہ علمائے اہلسنت اس پر کافی توجہ فرمائیں گے۔
الجواب :
حاشا یہ ہر گز اہلسنت کا مذہب نہیں روافض کا مذہب ہے ا سے اہلسنت کا مذہب کہنا بعینہ ایسا ہے کہ کوئی کہے رافضیوں کا مذہب تفضیل شیخین ہے یعنی صدیق اکبر و فاروق اعظم رضی اﷲ تعالی عنہاکو رافضی تمام امت سے افضل و اعلی مانتے ہیں جیسا اس کا قائل صریح جھوٹا مفتری ہے یونہی یہ کہنے والا کہ تمام اہلسنت کا عقیدہ مولا علی کو سب سے افضل جاننا ہے بلاشبہہ سخت کذاب جری ہےامام اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ نے پہلا شعار اہلسنت کا یہ بتایا ہے ان تفضل الشیخین ۔یہ کہ تو صدیق اکبر و فاروق اعظم رضی اﷲ تعالی عنہما کو تمام امت سے افضل مانےیہ عقیدہ حمید ہ خود امیر المومنین مولا علی
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جناب خواجہ حسن نظامی صاحب دہلوی نے اپنے مؤلفہ کتاب یزید نامہ میں اپنے عقائد کا اظہار ان الفاظ میں فرمایا ہے کہ میں حضرت علی رضی اﷲ تعالی عنہ کو افضل ترین امت بعد رسول خدا صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے سمجھتا ہوں اور دعوی کیا ہے کہ یہی عقیدہ حقہ تمامی اہلسنت کا ہے جن کی چشم بصیرت بینانہیں ان سے قطع نظر تمام صوفیہ کرام واولیائے عظام وبزرگان دین کا یہی عقیدہ و مسلك ہے۔بحوالہ فتوحات مکیہ حضرت ابن عربی رضی اﷲ تعالی عنہ کا بھی یہی عقیدہ ظاہر کیا ہے۔حضرت امیر معویہ رضی اﷲ تعالی عنہ کے حالات میں بہت کچھ لکھا ہے کل نقل باعث طوالت ہےآخری فیصلہ یہ لکھا ہے کہ ہم کو ان کے کفر و بے دینی کے ثبوت تلاش کرنے میں وقت ضائع نہ کرنا چاہیے لہذا اس معاملہ کو خدا کے حوالہ کرتے ہیںمولانا شاہ ولی اﷲ صاحب محدث دہلوی طاب ثراہ اپنی کتاب ازالۃ الخفا میں اس عقیدہ والے کو فرقہ تفضیلی و بدعتی و مستحق تعزیر قرار دیتے ہیں اور حضرت علی رضی اﷲ تعالی عنہ کا قول متعدد طرق سے نقل فرماتے ہیں کہ فرمایا حضرت علی نے کوئی شخص مجھے حضرت ابوبکر و حضرت عمر رضی اﷲ تعالی عنہما پر فضیلت نہ دے ورنہ تہمت و افتراء پر دازی کے جرم میں اسی درے لگاؤں گا ۔
اس نازك زمانہ میں اس استفتاء کی ضرورت اس وجہ سے ہوئی کہ یزید نامہ کو دیکھ کر عقائد سے ناواقف سنی جن میں اعلی درجے کے تعلیم یافتہ و گریجوایٹ حضرات بھی شامل ہیں اسی عقیدہ کو عقیدہ حقہ اہلسنت سمجھیں گے ان کو واضح ہونا چاہیے کہ یہ عقائد فرقہ تفضیلیہ کے ہیں عقائد اہلسنت کو اس سے واسطہ نہیں امید کہ علمائے اہلسنت اس پر کافی توجہ فرمائیں گے۔
الجواب :
حاشا یہ ہر گز اہلسنت کا مذہب نہیں روافض کا مذہب ہے ا سے اہلسنت کا مذہب کہنا بعینہ ایسا ہے کہ کوئی کہے رافضیوں کا مذہب تفضیل شیخین ہے یعنی صدیق اکبر و فاروق اعظم رضی اﷲ تعالی عنہاکو رافضی تمام امت سے افضل و اعلی مانتے ہیں جیسا اس کا قائل صریح جھوٹا مفتری ہے یونہی یہ کہنے والا کہ تمام اہلسنت کا عقیدہ مولا علی کو سب سے افضل جاننا ہے بلاشبہہ سخت کذاب جری ہےامام اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ نے پہلا شعار اہلسنت کا یہ بتایا ہے ان تفضل الشیخین ۔یہ کہ تو صدیق اکبر و فاروق اعظم رضی اﷲ تعالی عنہما کو تمام امت سے افضل مانےیہ عقیدہ حمید ہ خود امیر المومنین مولا علی
حوالہ / References
ازالۃ الخفاء مقصد اول فصل چہارم مسند علی رضی اﷲ تعالٰی عنہ،سہیل اکیڈمی لاہور ۱/ ۶۷ و ۶۸
منح الروض الازھر شرح الفقہ الاکبر افضل الناس بعدہ علیہ الصلوۃ والسلام الخ مصطفی البابی مصر ص ۶۳
منح الروض الازھر شرح الفقہ الاکبر افضل الناس بعدہ علیہ الصلوۃ والسلام الخ مصطفی البابی مصر ص ۶۳
کرم اﷲ وجہہ الکریم سے اسی۸۰ صحابہ تابعین نے روایت کیا اس میں ہماری حافل کافل کتاب مطلع القمرین فی ابانۃ سبقۃ العمرین ہے جس میں اس مطلب شریف پر قرآن عظیم و احادیث سید المرسلین صلی اﷲ تعالی علیہ وعلیہم اجمعین وآثار اہلبیت کرام و صحابہ عظام و ارشادات امیرالمومنین حیدر رضی اﷲ عنہم و نصوص ائمہ و علماء و اولیاء و عرفا قدست اسرار ھم سے دریا لہرا رہے ہیں۔ہر بچہ جانتا ہے کہ اہل سنت کی تمام کتب عقائد میں افضل البشربعد الانبیاء ابوبکر الصدیق ۔(انبیاء کے بعد سب سے افضل انسان ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالی عنہ ہیں۔اگر نہایت صاف دن میں کف دست میدان میں منہ پر آنکھیں ہوتے ہوئے ٹھیك دوپہر کو انکار آفتاب روا ہے تو اس کا انکار عــــــہ بھی اسی منکر کا سا مجنون کرسکتا ہے یونہی حضرات اولیائے کرام قدسنا اﷲ تعالی باسرار ہم کی طرف اس عقیدہ باطلہ کی نسبت کھلا افترا ہے۔دلیل الیقین من کلمات العارفین میں افضلیت مطلقہ حضرات شیخین رضی اﷲ تعالی عنہما کو صرف ارشادات اولیائے کرام سے ثابت کیا ہے اور خود ظاہر کہ جب یہ عقیدہ اہلسنت ہے اور عقیدہ میں اہلسنت کا مخالف مبتدع اور مبتدع کا ولی ہونا محالتو اس کے خلاف اعتقاد اولیاء کیونکر ہوسکتا ہے۔ ولکن الظلمین یفترون وفی الحق بعد ماتبین یمترون(لیکن ظالم جھوٹ گھڑتے اور حق ظاہر ہوجانے کے بعد اس میں شك کرتے ہیں۔ت)اسی زمرہ میں فتوحات مکیہ پر بھی افترا جڑافتوحات کے صریح لفظ یہ ہیں:
اعلم انہ لیس فی امۃ محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم من ھو افضل من ابی بکر غیر عیسی علیہ الصلوۃ والسلام ۔ یعنی یقین جان کہ محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی امت میں کوئی ایسا نہیں جو حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالی عنہ سے افضل ہو سوا سیدنا عیسی علیہ الصلوۃ والسلام کے کہ وہ حضور کے امتی ہیں اور صدیق سے افضل ہیں کہ نبی ہیں۔
عــــــہ: بددینی و گمراہی دوسری چیز ہے مگر ذی عقل مشہور کی طرف ایسے انکار آفتاب کی نسبت سے یہ سہل معلوم ہوتا ہے کہ کسی یزیدی نےیزید نامہ لکھ کر اس کے نام کردیا یا کم از کم ایسی وقاحتیں اس میں ملادیں۱۲ منہ
اعلم انہ لیس فی امۃ محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم من ھو افضل من ابی بکر غیر عیسی علیہ الصلوۃ والسلام ۔ یعنی یقین جان کہ محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی امت میں کوئی ایسا نہیں جو حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالی عنہ سے افضل ہو سوا سیدنا عیسی علیہ الصلوۃ والسلام کے کہ وہ حضور کے امتی ہیں اور صدیق سے افضل ہیں کہ نبی ہیں۔
عــــــہ: بددینی و گمراہی دوسری چیز ہے مگر ذی عقل مشہور کی طرف ایسے انکار آفتاب کی نسبت سے یہ سہل معلوم ہوتا ہے کہ کسی یزیدی نےیزید نامہ لکھ کر اس کے نام کردیا یا کم از کم ایسی وقاحتیں اس میں ملادیں۱۲ منہ
حوالہ / References
شرح العقائد النسفیہ دارالاشاعۃ العربیۃ قندھار افغانستان ص۱۰۷
الفتوحات المکیۃ
الفتوحات المکیۃ
حدیث امیر معاویہ رضی اﷲ تعالی عنہ اجلہ صحابہ کرام رضوان اﷲ تعالی علیہم سے ہیںصحیح ترمذی شریف میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ان کے لیے دعا فرمائی۔
اللھم اجعلہ ھادیا مھدیا واھد بہ ۔ الہی ! اسے راہ نما راہ یاب کر اور اس کے ذریعہ سے لوگوں کو ہدایت دے۔
صحابہ کرام میں کسی کو کافر بے دین نہ کہے گا مگر کافر بے دین یا گمراہ بددینعزیز جبار واحد قہار جل وعلا نے صحابہ کرام کو دو قسم کیاایك وہ کہ قبل فتح مکہ جنہوں نے راہ خدا میں خرچ وقتال کیا دوسرے وہ جنہوں نے بعد فتح پھر فرمادیا کہ دونوں فریق سے اﷲ عزوجل نے بھلائی کا وعدہ فرمایا اور ساتھ ہی فرمادیا کہ اﷲ کو تمہارے کاموں کی خوب خبر ہے کہ تم کیا کیا کرنے والے ہو باینہمہ اس نے تم سب سے حسنی کا وعدہ فرمایا۔یہاں قرآن عظیم نے ان دریدہ دہنوںبیباکوںبے ادبناپاکوں کے منہ میں پتھر دے دیا جو صحابہ کرام کے افعال سے ان پر طعن چاہتے ہیں وہ بشرط صحت اﷲ عزوجل کو معلوم تھے پھر بھی ان سب سے حسنی کا وعدہ فرمایاتو اب جومعترض ہے اﷲ واحدقہار پر معترض ہے جنت ومدارج عالیہ اس معترض کے ہاتھ میں نہیں اﷲ عزوجل کے ہاتھ ہیں معترض اپنا سرکھاتار ہے گا اور اﷲ نے جو حسنی کا وعدہ ان سے فرمایا ہے ضرور پورا فرمائے گا اور معترض جہنم میں سزاپائے گا وہ آیہ کریمہ یہ ہے:
لا یستوی منکم من انفق من قبل الفتح و قتل اولئک اعظم درجۃ من الذین انفقوا من بعد و قتلوا وکلا وعد اللہ الحسنی و اللہ بما تعملون خبیر ﴿۱۰﴾ ۔ اے محبوب کے صحابیو! تم میں برابر نہیں وہ جنہوں نے فتح سے پہلے خرچ وقتال کیا وہ رتبے میں بعد والوں سے بڑے ہیںاور دونوں فریق سے اﷲ نے حسنی کا وعدہ کرلیااور اﷲ خوب جانتا ہے جو کچھ تم کرنے والے ہو۔
اب جن کے لیے اﷲ کا وعدہ حسنی کا ہولیا ان کا حال بھی قرآن عظیم سے سنئے:
" ان الذین سبقت لہم منا الحسنی اولئک عنہا مبعدون ﴿۱۰۱﴾لا یسمعون حسیسہا و ہم فی ما اشتہت انفسہم بے شك جن کے لیے ہمارا وعدہ حسنی کا ہوچکا وہ جہنم سے دور رکھے گئے ہیں اس کی بھنك تك نہ سنیں گے اور ہمیشہ اپنی من مانتی مرادوں میں رہیں گے۔
اللھم اجعلہ ھادیا مھدیا واھد بہ ۔ الہی ! اسے راہ نما راہ یاب کر اور اس کے ذریعہ سے لوگوں کو ہدایت دے۔
صحابہ کرام میں کسی کو کافر بے دین نہ کہے گا مگر کافر بے دین یا گمراہ بددینعزیز جبار واحد قہار جل وعلا نے صحابہ کرام کو دو قسم کیاایك وہ کہ قبل فتح مکہ جنہوں نے راہ خدا میں خرچ وقتال کیا دوسرے وہ جنہوں نے بعد فتح پھر فرمادیا کہ دونوں فریق سے اﷲ عزوجل نے بھلائی کا وعدہ فرمایا اور ساتھ ہی فرمادیا کہ اﷲ کو تمہارے کاموں کی خوب خبر ہے کہ تم کیا کیا کرنے والے ہو باینہمہ اس نے تم سب سے حسنی کا وعدہ فرمایا۔یہاں قرآن عظیم نے ان دریدہ دہنوںبیباکوںبے ادبناپاکوں کے منہ میں پتھر دے دیا جو صحابہ کرام کے افعال سے ان پر طعن چاہتے ہیں وہ بشرط صحت اﷲ عزوجل کو معلوم تھے پھر بھی ان سب سے حسنی کا وعدہ فرمایاتو اب جومعترض ہے اﷲ واحدقہار پر معترض ہے جنت ومدارج عالیہ اس معترض کے ہاتھ میں نہیں اﷲ عزوجل کے ہاتھ ہیں معترض اپنا سرکھاتار ہے گا اور اﷲ نے جو حسنی کا وعدہ ان سے فرمایا ہے ضرور پورا فرمائے گا اور معترض جہنم میں سزاپائے گا وہ آیہ کریمہ یہ ہے:
لا یستوی منکم من انفق من قبل الفتح و قتل اولئک اعظم درجۃ من الذین انفقوا من بعد و قتلوا وکلا وعد اللہ الحسنی و اللہ بما تعملون خبیر ﴿۱۰﴾ ۔ اے محبوب کے صحابیو! تم میں برابر نہیں وہ جنہوں نے فتح سے پہلے خرچ وقتال کیا وہ رتبے میں بعد والوں سے بڑے ہیںاور دونوں فریق سے اﷲ نے حسنی کا وعدہ کرلیااور اﷲ خوب جانتا ہے جو کچھ تم کرنے والے ہو۔
اب جن کے لیے اﷲ کا وعدہ حسنی کا ہولیا ان کا حال بھی قرآن عظیم سے سنئے:
" ان الذین سبقت لہم منا الحسنی اولئک عنہا مبعدون ﴿۱۰۱﴾لا یسمعون حسیسہا و ہم فی ما اشتہت انفسہم بے شك جن کے لیے ہمارا وعدہ حسنی کا ہوچکا وہ جہنم سے دور رکھے گئے ہیں اس کی بھنك تك نہ سنیں گے اور ہمیشہ اپنی من مانتی مرادوں میں رہیں گے۔
حوالہ / References
جامع الترمذی ابواب المناقب مناقب معاویہ بن ابی سفیان امین کمپنی دہلی ۲/ ۲۲۵
القرآن الکریم ۵۷ /۱۰
القرآن الکریم ۵۷ /۱۰
خلدون ﴿۱۰۲﴾ لا یحزنہم الفزع الاکبر و تتلقىہم الملئکۃ ہذا یومکم الذی کنتم توعدون ﴿۱۰۳﴾
" وہ بڑی گھبراہٹ قیامت کی ہلچل انہیں غم نہ دے گی اور فرشتے ان کا استقبال کریں گے یہ کہتے ہوئے کہ یہ ہے تمہارا وہ دن جس کا تمہیں وعدہ دیا جاتا تھا۔
یہ ہے جمیع صحابہ کرام سیدالانام علیہ وعلیہم الصلوۃ والسلام کے لیے قرآن کریم کی شہادت امیرالمومنین مولی المسلمین علی مرتضی مشکلکشا کرم اﷲ تعالی وجہہ الکریم قسم اول میں ہیں جن کو فرمایا:" اولئک اعظم درجۃ" ۔ان کے مرتبے قسم دوم والوں سے بڑے ہیںاور امیر معاویہ رضی اﷲ تعالی عنہم قسم دوم میں ہیںاور حسنی کا وعدہ اور یہ تمام بشارتیں سب کوشامل۔ ولہذا امیر المومنین مولی علی رضی اﷲ تعالی عنہ سے ابن عساکر کی حدیث ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:
تکون لاصحابی زلۃ یغفرھا اﷲ لھم لسابقتھم معی ثم یأتی قوم بعد ھم یکبھم اﷲ علی مناخرھم فی النار میرے اصحاب سے لغزش ہوگی جسے اﷲ عزوجل معاف فرمائے گا اس سابقہ کے سبب جو ا ن کو میری بارگاہ میں ہے پھر ان کے بعد کچھ لوگ آئیں گی کہ انہیں اﷲ تعالی ان کے منہ کے بل جہنم میں اوندھا کرے گا۔
یہ ہیں وہ کہ صحابہ کی لغزشوں پر گرفت کریں گے۔ ولہذا علامہ شہاب خفا جی رحمہ اﷲ تعالی نے نسیم الریاض شرح شفاء امام قاضی عیاض میں فرمایا:
ومن یکون یطعن فی معویۃ فذالك کلب من کلاب الہاویۃ ۔ جو امیر معاویہ پر طعن کرے وہ جہنم کے کتوں سے ایك کتا ہے۔
واﷲ یقول الحق ویہدی السبیل(اور اﷲ تعالی سچ فرماتا ہے اور سیدھے راستے کی طرف ہدایت دیتا ہے۔ت)واﷲ تعالی اعلم۔
" وہ بڑی گھبراہٹ قیامت کی ہلچل انہیں غم نہ دے گی اور فرشتے ان کا استقبال کریں گے یہ کہتے ہوئے کہ یہ ہے تمہارا وہ دن جس کا تمہیں وعدہ دیا جاتا تھا۔
یہ ہے جمیع صحابہ کرام سیدالانام علیہ وعلیہم الصلوۃ والسلام کے لیے قرآن کریم کی شہادت امیرالمومنین مولی المسلمین علی مرتضی مشکلکشا کرم اﷲ تعالی وجہہ الکریم قسم اول میں ہیں جن کو فرمایا:" اولئک اعظم درجۃ" ۔ان کے مرتبے قسم دوم والوں سے بڑے ہیںاور امیر معاویہ رضی اﷲ تعالی عنہم قسم دوم میں ہیںاور حسنی کا وعدہ اور یہ تمام بشارتیں سب کوشامل۔ ولہذا امیر المومنین مولی علی رضی اﷲ تعالی عنہ سے ابن عساکر کی حدیث ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:
تکون لاصحابی زلۃ یغفرھا اﷲ لھم لسابقتھم معی ثم یأتی قوم بعد ھم یکبھم اﷲ علی مناخرھم فی النار میرے اصحاب سے لغزش ہوگی جسے اﷲ عزوجل معاف فرمائے گا اس سابقہ کے سبب جو ا ن کو میری بارگاہ میں ہے پھر ان کے بعد کچھ لوگ آئیں گی کہ انہیں اﷲ تعالی ان کے منہ کے بل جہنم میں اوندھا کرے گا۔
یہ ہیں وہ کہ صحابہ کی لغزشوں پر گرفت کریں گے۔ ولہذا علامہ شہاب خفا جی رحمہ اﷲ تعالی نے نسیم الریاض شرح شفاء امام قاضی عیاض میں فرمایا:
ومن یکون یطعن فی معویۃ فذالك کلب من کلاب الہاویۃ ۔ جو امیر معاویہ پر طعن کرے وہ جہنم کے کتوں سے ایك کتا ہے۔
واﷲ یقول الحق ویہدی السبیل(اور اﷲ تعالی سچ فرماتا ہے اور سیدھے راستے کی طرف ہدایت دیتا ہے۔ت)واﷲ تعالی اعلم۔
حوالہ / References
القرآن الکریم ۲۱ /۱۰۱ و۱۰۲و۱۰۳
القرآن الکریم ۵۷ /۱۰
المعجم الاوسط حدیث ۳۲۴۳ مکتبۃ المعارف ریاض ۴/ ۱۴۲ ومجمع الزوائد ۷/ ۲۳۴
نسیم الریاض الباب الثالث مرکز اہلسنت گجرات الہند ۳/ ۴۳۰
القرآن الکریم ۵۷ /۱۰
المعجم الاوسط حدیث ۳۲۴۳ مکتبۃ المعارف ریاض ۴/ ۱۴۲ ومجمع الزوائد ۷/ ۲۳۴
نسیم الریاض الباب الثالث مرکز اہلسنت گجرات الہند ۳/ ۴۳۰
مسئلہ ۱۱۳:ازدھولقہ ضلع احمد آباد ملك گجرات فتح حسن کا پول مولوی نور نبی ابن حاجی ولی محمد صاحب ۱۶رمضان المبارك ۱۳۳۷ھ
بسم اﷲ الرحمن الرحیمنحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم صلی اﷲ تعالی علیہ و علی ا لہ وسلمامابعد کیا فرماتے ہیں علمائے دین مندرجہ ذیل مسائل میں:
(۱)روح بعد خروج جسم کے دنیا میں آتی ہے یا نہیں خصوصا جب کہ حیات انبیاء واولیاء و شہداء ثابت ہے اور نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی روح پاك دنیا میں میلادو مجلس شریف میں آسکتی ہے یا نہیں اور کوئی ان کی پاك روح کی تشریف آوری کو بعیداز امکان سمجھے وہ شخص دائرہ اسلام میں کیسا سمجھا جائے گا
(۲)کوئی شخص قبور اہل اﷲ کی زیارت اوران پر پھول چڑھانے کو بدعت بتلائے تواس کی نسبت اہل اسلام کا کیسا خیال ہوگا
(۳)حضور پر نور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو علم غیب تھا یا نہیں اور کوئی شخص کہے جناب رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو مطلق غیب نہ تھا بلکہ تمام انسان کو جتنا علم ہوتا ہےاتنا ہی آپ کو علم تھا غرض علم حضور کا انکار کرے وہ کیسا سمجھاجائے گا
(۴)وقت اذان کے اشہدان محمدا رسول اﷲ کہا جائے اس وقت ہاتھ کے انگوٹھے چومنا کیسا ہے کوئی شخص انکار کرے وہ کیسا سمجھا جائے گا
(۵)جو شخص عمدا ترك جماعت کرے اس کی نسبت اہل اسلام کا کیا خیال ہوگا
الجواب:
(۱)مسلمان کی روح بعد انتقال جہاں چاہے جاتی ہےحدیث میں ہے:
اذا مات المؤمن یخلی سربہ یسرح حیث یشاء ۔ جب مسلمان مرتا ہے اس کی راہ کھول دی جاتی ہے کہ جہاں چاہے جائے۔
اس کا مفصل بیان ہماری کتاب حیات الموات فی بیان سماع الاموات میں ہے حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی شان اقدس تمام جہاں سے ارفع و اعلی ہے وہاں یہ سوال کرنا بھی بے جا ہےامام ابن حجر مکی رحمۃ اﷲ فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ایك وقت میں ستر ہزار جگہ تشریف فرما
بسم اﷲ الرحمن الرحیمنحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم صلی اﷲ تعالی علیہ و علی ا لہ وسلمامابعد کیا فرماتے ہیں علمائے دین مندرجہ ذیل مسائل میں:
(۱)روح بعد خروج جسم کے دنیا میں آتی ہے یا نہیں خصوصا جب کہ حیات انبیاء واولیاء و شہداء ثابت ہے اور نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی روح پاك دنیا میں میلادو مجلس شریف میں آسکتی ہے یا نہیں اور کوئی ان کی پاك روح کی تشریف آوری کو بعیداز امکان سمجھے وہ شخص دائرہ اسلام میں کیسا سمجھا جائے گا
(۲)کوئی شخص قبور اہل اﷲ کی زیارت اوران پر پھول چڑھانے کو بدعت بتلائے تواس کی نسبت اہل اسلام کا کیسا خیال ہوگا
(۳)حضور پر نور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو علم غیب تھا یا نہیں اور کوئی شخص کہے جناب رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو مطلق غیب نہ تھا بلکہ تمام انسان کو جتنا علم ہوتا ہےاتنا ہی آپ کو علم تھا غرض علم حضور کا انکار کرے وہ کیسا سمجھاجائے گا
(۴)وقت اذان کے اشہدان محمدا رسول اﷲ کہا جائے اس وقت ہاتھ کے انگوٹھے چومنا کیسا ہے کوئی شخص انکار کرے وہ کیسا سمجھا جائے گا
(۵)جو شخص عمدا ترك جماعت کرے اس کی نسبت اہل اسلام کا کیا خیال ہوگا
الجواب:
(۱)مسلمان کی روح بعد انتقال جہاں چاہے جاتی ہےحدیث میں ہے:
اذا مات المؤمن یخلی سربہ یسرح حیث یشاء ۔ جب مسلمان مرتا ہے اس کی راہ کھول دی جاتی ہے کہ جہاں چاہے جائے۔
اس کا مفصل بیان ہماری کتاب حیات الموات فی بیان سماع الاموات میں ہے حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی شان اقدس تمام جہاں سے ارفع و اعلی ہے وہاں یہ سوال کرنا بھی بے جا ہےامام ابن حجر مکی رحمۃ اﷲ فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ایك وقت میں ستر ہزار جگہ تشریف فرما
حوالہ / References
اتحاف السادۃ المتقین بحوالہ المصنف لابن ابی شیبہ کتاب ذکر الموت فضیلۃ ذکر الموت دارالفکر بیروت ۱۰/ ۲۲۷
ہوسکتے ہیں ۔
امام جلال الدین سیوطی خاتم حفاظ الحدیث فرماتے ہیں:
اذن للانبیاء ان یخرجوا من قبورھم ویتصرفوا فی العالم العلوی و السفلی ۔ تمام انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کو اختیار ملا ہے کہ اپنے مزارات طیبہ سے باہر تشریف لائیں اور جملہ عالم آسمان و زمین میں جہاں جو چاہیں تصرف فرمائیں۔
روح اقدس کی تشریف آوری کوبعید از امکان جاننا اگر براہ جہل و بے علمی ہے تو جرات و بے ادبی ہےاوربربنائے وہابیت ہے تو وہابیت خود کفر جلی ہے۔واﷲ تعالی اعلم
(۲)زیارت قبور سنت ہےرسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
الا فزوروھا فانہا تزھدکم فی الدنیا وتذکرکم الاخرۃ۔ سن لوقبور کی زیارت کرو کہ وہ تمہیں دنیا میں بے رغبت کرے گی اور آخرت یاددلائے گی۔
خصوصا زیارت مزارات اولیاء کرام کہ موجب ہزاروں ہزار برکت وسعادت ہےاسے بدعت نہ کہے گا مگر وہابی نابکارابن تیمیہ کا فضلہ خوار۔وہاں جاہلوں نے جوبدعات مثل رقص ومزامیر ایجاد کرلیے ہیں وہ ضرور ناجائز ہیںمگر ان سے زیارت کہ سنت ہے بدعت نہ ہوجائے گی۔جیسے نماز میں قرآن شریف غلط پڑھنارکوع وسجود صحیح نہ کرناطہارت ٹھیك نہ ہونا عام عوام میں جاری و ساری ہے اس سے نماز بری نہ ہوجائے گی۔
قبرمسلمان پر پھول رکھنا مستحب ہےائمہ دین فرماتے ہینوہ جب تك تر ہے تسبیح الہی کرے گا اس سے مردے کا دل بہلے گا۔ کما فی فتاوی الامام فقیہ النفس وغیرھا(جیسا کہ امام فقیہ النفس کے فتاوی وغیرہ میں ہے۔ت)فتاوی عالمگیر یہ وغیرہا میں ہے:
وضع الورد والریاحین علی قبروں پر گلاب وغیرہ خوشبو دار پھول رکھنا
امام جلال الدین سیوطی خاتم حفاظ الحدیث فرماتے ہیں:
اذن للانبیاء ان یخرجوا من قبورھم ویتصرفوا فی العالم العلوی و السفلی ۔ تمام انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کو اختیار ملا ہے کہ اپنے مزارات طیبہ سے باہر تشریف لائیں اور جملہ عالم آسمان و زمین میں جہاں جو چاہیں تصرف فرمائیں۔
روح اقدس کی تشریف آوری کوبعید از امکان جاننا اگر براہ جہل و بے علمی ہے تو جرات و بے ادبی ہےاوربربنائے وہابیت ہے تو وہابیت خود کفر جلی ہے۔واﷲ تعالی اعلم
(۲)زیارت قبور سنت ہےرسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
الا فزوروھا فانہا تزھدکم فی الدنیا وتذکرکم الاخرۃ۔ سن لوقبور کی زیارت کرو کہ وہ تمہیں دنیا میں بے رغبت کرے گی اور آخرت یاددلائے گی۔
خصوصا زیارت مزارات اولیاء کرام کہ موجب ہزاروں ہزار برکت وسعادت ہےاسے بدعت نہ کہے گا مگر وہابی نابکارابن تیمیہ کا فضلہ خوار۔وہاں جاہلوں نے جوبدعات مثل رقص ومزامیر ایجاد کرلیے ہیں وہ ضرور ناجائز ہیںمگر ان سے زیارت کہ سنت ہے بدعت نہ ہوجائے گی۔جیسے نماز میں قرآن شریف غلط پڑھنارکوع وسجود صحیح نہ کرناطہارت ٹھیك نہ ہونا عام عوام میں جاری و ساری ہے اس سے نماز بری نہ ہوجائے گی۔
قبرمسلمان پر پھول رکھنا مستحب ہےائمہ دین فرماتے ہینوہ جب تك تر ہے تسبیح الہی کرے گا اس سے مردے کا دل بہلے گا۔ کما فی فتاوی الامام فقیہ النفس وغیرھا(جیسا کہ امام فقیہ النفس کے فتاوی وغیرہ میں ہے۔ت)فتاوی عالمگیر یہ وغیرہا میں ہے:
وضع الورد والریاحین علی قبروں پر گلاب وغیرہ خوشبو دار پھول رکھنا
حوالہ / References
الفتاوٰی الکبرٰی لابن الحجرالہیتمی باب الجنائز دارالکتب العلمیۃ بیروت ۲/ ۹
الحاوی للفتاوٰی تنویر الحوالك فی امکان رؤیۃ النبی والملك دارالکتب العلمیۃ بیروت ۲/ ۲۶۳
سنن ابن ماجہ ابواب الجنائز باب ماجاء فی زیارۃ القبور ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۱۴
الحاوی للفتاوٰی تنویر الحوالك فی امکان رؤیۃ النبی والملك دارالکتب العلمیۃ بیروت ۲/ ۲۶۳
سنن ابن ماجہ ابواب الجنائز باب ماجاء فی زیارۃ القبور ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۱۴
القبور حسن ۔ اچھا ہے۔ت)
اسے بدعت کہنا بھی آج کل وہابیہ ہی کی ضلالت ہےواﷲ تعالی اعلم
(۳)اﷲ عزوجل نے اپنے حبیب صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو تمام اولین و آخرین و شرق وغرب وعرش وفرش وماتحت الثری و جملہ ماکان ومایکون الی آخر الایام کے ذرے ذرے کا علم تفصیلی عطا فرمایا اس کا بیان ہمارے رسالہ انباء المصطفی و خالص الاعتقاد والدولۃ المکیہ وغیرہا میں ہے۔جو کہے حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کوعلم غیب مطلقا نہ تھا یا حضور کا علم اور سب آدمیوں کے برابر ہے وہ کافر ہےامام حجۃ الاسلام غزالی وغیرہ اکابرفرماتے ہیں:
النبوۃ ھی الاطلاع علی الغیب ۔ نبوت کا معنی غیب پر مطلع ہونا ہے۔ت)
اﷲ عزوجل فرماتا ہے:
" علم الغیب فلا یظہر علی غیبہ احدا ﴿۲۶﴾ الا من ارتضی من رسول" ۔ واﷲ تعالی اعلم۔ غیب کا جاننے والا تو اپنے غیب پر کسی کو مسلط نہیں کرتا سوائے اپنے پسندیدہ رسولوں کے۔(ت)
(۴)اذان میں نام اقدس سن کر انگوٹھے چومنا حسب تصریح کتب فقہ ردالمحتار حاشیہ درمختار و جامع الرموزشرح نقایہ وفتاوی صوفیہ وکنزالعباد مستحب ہے۔اس کا مبسوط بیان ہماری کتاب منیر العین فی حکم تقبیل الا بھا مین میں ہے اس پر انکار بھی آج کل شعار وہابیہ ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
(۵)بلاوجہ شرعی عمدا ترك جماعت گناہ ہے اور اس کا عادی فاسق گمراہ ہے صحیح مسلم شریف میں عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ سے ہے:
ولوانکم صلیتم فی بیوتکم کما یصلی ھذاالمتخلف فی بیتہ لترکتم سنۃ نبیکم ولو ترکتم سنۃ نبیکم ولو ترکتم اور اگر تم نے گھروں میں نماز پڑھی جیسا کہ یہ تارك جماعت اپنے گھر میں پڑھتا ہے تو تم اپنے نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی سنت چھوڑو گے اور اگر تم نے اپنے
اسے بدعت کہنا بھی آج کل وہابیہ ہی کی ضلالت ہےواﷲ تعالی اعلم
(۳)اﷲ عزوجل نے اپنے حبیب صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو تمام اولین و آخرین و شرق وغرب وعرش وفرش وماتحت الثری و جملہ ماکان ومایکون الی آخر الایام کے ذرے ذرے کا علم تفصیلی عطا فرمایا اس کا بیان ہمارے رسالہ انباء المصطفی و خالص الاعتقاد والدولۃ المکیہ وغیرہا میں ہے۔جو کہے حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کوعلم غیب مطلقا نہ تھا یا حضور کا علم اور سب آدمیوں کے برابر ہے وہ کافر ہےامام حجۃ الاسلام غزالی وغیرہ اکابرفرماتے ہیں:
النبوۃ ھی الاطلاع علی الغیب ۔ نبوت کا معنی غیب پر مطلع ہونا ہے۔ت)
اﷲ عزوجل فرماتا ہے:
" علم الغیب فلا یظہر علی غیبہ احدا ﴿۲۶﴾ الا من ارتضی من رسول" ۔ واﷲ تعالی اعلم۔ غیب کا جاننے والا تو اپنے غیب پر کسی کو مسلط نہیں کرتا سوائے اپنے پسندیدہ رسولوں کے۔(ت)
(۴)اذان میں نام اقدس سن کر انگوٹھے چومنا حسب تصریح کتب فقہ ردالمحتار حاشیہ درمختار و جامع الرموزشرح نقایہ وفتاوی صوفیہ وکنزالعباد مستحب ہے۔اس کا مبسوط بیان ہماری کتاب منیر العین فی حکم تقبیل الا بھا مین میں ہے اس پر انکار بھی آج کل شعار وہابیہ ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
(۵)بلاوجہ شرعی عمدا ترك جماعت گناہ ہے اور اس کا عادی فاسق گمراہ ہے صحیح مسلم شریف میں عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ سے ہے:
ولوانکم صلیتم فی بیوتکم کما یصلی ھذاالمتخلف فی بیتہ لترکتم سنۃ نبیکم ولو ترکتم سنۃ نبیکم ولو ترکتم اور اگر تم نے گھروں میں نماز پڑھی جیسا کہ یہ تارك جماعت اپنے گھر میں پڑھتا ہے تو تم اپنے نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی سنت چھوڑو گے اور اگر تم نے اپنے
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ کتاب الکراھیۃ الباب السادس عشر نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۳۵۱
المواہب اللدنیہ المقصدالثانی الفصل الاول المکتب الاسلامی بیروت ۲/ ۴۷
القرآن الکریم ۷۲ /۲۶ و ۲۷
المواہب اللدنیہ المقصدالثانی الفصل الاول المکتب الاسلامی بیروت ۲/ ۴۷
القرآن الکریم ۷۲ /۲۶ و ۲۷
سنۃ نبیکم لضللتم ا ھ ای ضلال عن سبیل المتقین وان استحلہ او استخفہ فضلال فی الدینوالعیاذ باﷲ رب العالمین۔ نبی کی سنت چھوڑ دی تو گمراہ ہوجاؤ گے ا ھ یعنی متقی لوگوں کے راستے سے ہٹ جاؤ گے اور اگر کسی نے ترك جماعت کو حلال جانا یا ہلکا سمجھا تو یہ دین سے گمراہ ہونا ہے۔اﷲ رب العالمین کی پناہ(ت)
ایك یہ بات نہایت ضروری و بکار آمد ہے کہ دیوبندیوں سے کوئی مسئلہ پوچھنا یا کسی مسئلہ میں ان کی بات پر کان رکھنا ہر گز ہرگز جائز نہیںتمام علمائے حرمین طیبین بالاتفاق دیوبندیوں کو مرتد لکھ چکے اور فرمادیا۔ من شك فی کفرہ وعذابہ فقد کفر ۔ (جس نے اس کے کفرو عذاب میں شك کیا وہ بھی کافر ہوگیا۔ت)جو ان کے اقوال ملعونہ پر مطلع ہو کر انہیں مسلمان جاننا درکنار ان کے کفر میں شك بھی کرے وہ بھی کافر ہے۔دیکھو حسام الحرمین شریف۔واﷲ الہادی۔
مسئلہ ۱۱۸تا ۱۲۰: ازمیونڈی ڈاکخانہ شاہی ضلع بریلی مرسلہ سیدامیر عالم حسن صاحب ۱۲ شوال ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں کہ:
(۱)زید کہتا ہے جو ہوا اور ہوگا سب خدا کے حکم سے ہی ہوا اور ہوگا پھر بندہ سے کیوں گرفت ہے اور اس کو کیوں سزا کا مرتکب ٹھہرایا گیا اس نے کون سا کام کیا جو مستحق عذاب کا ہوا جو کچھ اس نے تقدیر میں لکھ دیا ہے وہی ہوتا ہے کیونکہ قرآن پاك سے ثابت ہورہا ہے کہ بلاحکم اس کے ایك ذرہ نہیں ہلتا۔پھر بندے نے کون سا اپنے اختیار سے وہ کام کیا جو دوزخی ہوا یا کافر یا فاسق جو برے کام تقدیر میں لکھے ہوں گے تو برے کام کرے گا اور بھلے لکھے ہوں گے تو بھلےبہرحال تقدیر کا تابع ہے پھر کیوں اس کو مجرم بنایا جاتا ہے چوری کرنازنا کرناقتل کرناوغیرہ وغیرہ جو بندہ کی تقدیر میں لکھ دیئے ہیں وہی کرنا ہے ایسے ہی نیك کام کرنا ہے۔
(۲)جب کسی عورت نے کسی شخص سے قربت کی اور اس کو حمل رہ گیاتو اس حمل کو حمل حرام کیوں کہا گیا اور اس کے اس فعل قربت کو زنا کیوں کہا گیا اور جب اس حمل سے بچہ پیدا ہوا تو اس بچہ کو
ایك یہ بات نہایت ضروری و بکار آمد ہے کہ دیوبندیوں سے کوئی مسئلہ پوچھنا یا کسی مسئلہ میں ان کی بات پر کان رکھنا ہر گز ہرگز جائز نہیںتمام علمائے حرمین طیبین بالاتفاق دیوبندیوں کو مرتد لکھ چکے اور فرمادیا۔ من شك فی کفرہ وعذابہ فقد کفر ۔ (جس نے اس کے کفرو عذاب میں شك کیا وہ بھی کافر ہوگیا۔ت)جو ان کے اقوال ملعونہ پر مطلع ہو کر انہیں مسلمان جاننا درکنار ان کے کفر میں شك بھی کرے وہ بھی کافر ہے۔دیکھو حسام الحرمین شریف۔واﷲ الہادی۔
مسئلہ ۱۱۸تا ۱۲۰: ازمیونڈی ڈاکخانہ شاہی ضلع بریلی مرسلہ سیدامیر عالم حسن صاحب ۱۲ شوال ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں کہ:
(۱)زید کہتا ہے جو ہوا اور ہوگا سب خدا کے حکم سے ہی ہوا اور ہوگا پھر بندہ سے کیوں گرفت ہے اور اس کو کیوں سزا کا مرتکب ٹھہرایا گیا اس نے کون سا کام کیا جو مستحق عذاب کا ہوا جو کچھ اس نے تقدیر میں لکھ دیا ہے وہی ہوتا ہے کیونکہ قرآن پاك سے ثابت ہورہا ہے کہ بلاحکم اس کے ایك ذرہ نہیں ہلتا۔پھر بندے نے کون سا اپنے اختیار سے وہ کام کیا جو دوزخی ہوا یا کافر یا فاسق جو برے کام تقدیر میں لکھے ہوں گے تو برے کام کرے گا اور بھلے لکھے ہوں گے تو بھلےبہرحال تقدیر کا تابع ہے پھر کیوں اس کو مجرم بنایا جاتا ہے چوری کرنازنا کرناقتل کرناوغیرہ وغیرہ جو بندہ کی تقدیر میں لکھ دیئے ہیں وہی کرنا ہے ایسے ہی نیك کام کرنا ہے۔
(۲)جب کسی عورت نے کسی شخص سے قربت کی اور اس کو حمل رہ گیاتو اس حمل کو حمل حرام کیوں کہا گیا اور اس کے اس فعل قربت کو زنا کیوں کہا گیا اور جب اس حمل سے بچہ پیدا ہوا تو اس بچہ کو
حوالہ / References
صحیح مسلم کتاب المساجد باب بیان فضل الجماعۃالخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۲۳۲
حسام الحرمین مکتبہ نبویہ لاہور ص ۱۳ مکتبہ اہل سنت بریلی ص ۹۴
حسام الحرمین مکتبہ نبویہ لاہور ص ۱۳ مکتبہ اہل سنت بریلی ص ۹۴
حرامی کیوں کہا جائے کیونکہ جتنے افعال بندہ کرتا ہے وہ سب تقدیر سے اور حکم خدا سے ہوتے ہیں تو اب اس عورت نے کیا اپنی قدرت اور حکم سے ان فعلوں کو کرلیانہیں وہی کیا جو تقدیر میں لکھ دیا تھا پھر اس کو زنا یا حرام کہنا کیونکر ہے
(۳)اس بچے کی روح پاك تھی یا ناپاک یا ان روحوں میں کی روح تھی جو روز ازل میں پیدا ہوئی تھیں یا کوئی اوراور اس کا کیا سبب جو بچہ حرامی ہوگیا اور روح پاك رہے نہیں روح بھی ایسی ہے جیسا بچہ حرامی کیونکر ہوسکتا ہےفقط
الجواب:
(۱)زید گمراہ بے دین ہےاسے کوئی جوتا مارے تو کیوں ناراض ہوتا ہےیہ بھی تو تقدیر میں تھا۔اس کا کوئی مال دبالے تو کیوں بگڑتا ہےیہ بھی تقدیر میں تھا۔یہ شیطانی فعلوں کا دھوکا ہے کہ جیسا لکھ دیا ایسا ہمیں کرنا پڑتاہے بلکہ جیسا ہم کرنے والے تھے اس نے اپنے علم سے جان کر وہی لکھا ہے۔
(۲)یہ وہی ابلیس ملعون کا دھوکا ہے جو بددینوں کو دیا کرتا ہے علم کسی کو مجبور نہیں کرتا۔عورت زنا کرنے والی تھی اس لیے اس کایہ آئندہ حال اس نے اپنے علم غیب سے جان کر لکھ لیا۔اگر وہ حلال کرنے والی ہوتی تو اسے حلال والی ہی لکھا جاتا۔
(۳)روحیں ازل میں پیدا نہ ہوئیںہاں جسم سے دو ہزار برس پہلے بنیںولدالحرام کا اپنا قصور نہیں مگر جبکہ وہ حرام سے پیدا ہوا ولد الحرام ہونے میں کیا شك ہےنہ اس سے اس کی روح کی ناپاکی لازم۔روح کفر و ضلالت سے پاك ہوتی ہےبددین کی روح ناپاك ہے اگرچہ ولدالحلال ہو۔اور دیندار کی روح پاك ہے اگرچہ اس کی ولادت حرام سے ہوروح کے پاك ہونے سے جسم کا نطفہ حرام سے بننا کیونکر مٹ گیا۔بے علم کو ایسی جہالتوں اور ایسی باتوں میں خوض سے فائدہ نہیں ہوتا سوا اس کے کہ شیطان کسی گھاٹی میں راہ مار کر ہلاك کردے۔واﷲ تعالی اعلم ۔
_____________________
(۳)اس بچے کی روح پاك تھی یا ناپاک یا ان روحوں میں کی روح تھی جو روز ازل میں پیدا ہوئی تھیں یا کوئی اوراور اس کا کیا سبب جو بچہ حرامی ہوگیا اور روح پاك رہے نہیں روح بھی ایسی ہے جیسا بچہ حرامی کیونکر ہوسکتا ہےفقط
الجواب:
(۱)زید گمراہ بے دین ہےاسے کوئی جوتا مارے تو کیوں ناراض ہوتا ہےیہ بھی تو تقدیر میں تھا۔اس کا کوئی مال دبالے تو کیوں بگڑتا ہےیہ بھی تقدیر میں تھا۔یہ شیطانی فعلوں کا دھوکا ہے کہ جیسا لکھ دیا ایسا ہمیں کرنا پڑتاہے بلکہ جیسا ہم کرنے والے تھے اس نے اپنے علم سے جان کر وہی لکھا ہے۔
(۲)یہ وہی ابلیس ملعون کا دھوکا ہے جو بددینوں کو دیا کرتا ہے علم کسی کو مجبور نہیں کرتا۔عورت زنا کرنے والی تھی اس لیے اس کایہ آئندہ حال اس نے اپنے علم غیب سے جان کر لکھ لیا۔اگر وہ حلال کرنے والی ہوتی تو اسے حلال والی ہی لکھا جاتا۔
(۳)روحیں ازل میں پیدا نہ ہوئیںہاں جسم سے دو ہزار برس پہلے بنیںولدالحرام کا اپنا قصور نہیں مگر جبکہ وہ حرام سے پیدا ہوا ولد الحرام ہونے میں کیا شك ہےنہ اس سے اس کی روح کی ناپاکی لازم۔روح کفر و ضلالت سے پاك ہوتی ہےبددین کی روح ناپاك ہے اگرچہ ولدالحلال ہو۔اور دیندار کی روح پاك ہے اگرچہ اس کی ولادت حرام سے ہوروح کے پاك ہونے سے جسم کا نطفہ حرام سے بننا کیونکر مٹ گیا۔بے علم کو ایسی جہالتوں اور ایسی باتوں میں خوض سے فائدہ نہیں ہوتا سوا اس کے کہ شیطان کسی گھاٹی میں راہ مار کر ہلاك کردے۔واﷲ تعالی اعلم ۔
_____________________
رسالہ
ثلج الصدر لایمان القدر۱۳۲۵ھ
(سینے کی ٹھنڈکایمان تقدیر کے سبب)
بسم اﷲ الرحمن الرحیم ط
مسئلہ ۱۲۱:از ضلع کھیری ملك اودھ موضع کٹوارہ مرسلہ سید محمد مظفر حسین صاحب خلف سید رضا حسین صاحبتعلقدار کٹوارہ ۲۸محرم الحرام ۱۳۲۵ھ
چہ می فرمایند علمائے دین دریں مسئلہ(کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ کے بارے میںت)قرآن میں جس آیت کے معنی یہ ہیں کہ "اے محمد !ان اشخاص کو زیادہ ہدایت مت کروان کےلئے اسلام کے واسطے مشیت ازلی نہیں ہےیہ مسلمان نہ ہوں گے "۔اور ہر امر کے ثبوت میں اکثر آیات قرآنی موجود ہیںتو پس کیونکر خلاف مشیت پروردگار کوئی امر ظہور پذیر ہوسکتا ہےکیونکہ مشیت کے معنی ارادہ پروردگار عالم کے ہیںتو جب کسی کام کا ارادہ اﷲ تعالی نے کیا تو بندہ اس کے خلاف کیونکر کرسکتا تھا۔اور اﷲ نے جب قبل پیدائش کسی بشر کے ارادہ اس کے کافر رکھنے کا کرلیا تھا توا ب وہ مسلمان کیونکر ہوسکتا ہے " یہدی من یشاء" ۔
ثلج الصدر لایمان القدر۱۳۲۵ھ
(سینے کی ٹھنڈکایمان تقدیر کے سبب)
بسم اﷲ الرحمن الرحیم ط
مسئلہ ۱۲۱:از ضلع کھیری ملك اودھ موضع کٹوارہ مرسلہ سید محمد مظفر حسین صاحب خلف سید رضا حسین صاحبتعلقدار کٹوارہ ۲۸محرم الحرام ۱۳۲۵ھ
چہ می فرمایند علمائے دین دریں مسئلہ(کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ کے بارے میںت)قرآن میں جس آیت کے معنی یہ ہیں کہ "اے محمد !ان اشخاص کو زیادہ ہدایت مت کروان کےلئے اسلام کے واسطے مشیت ازلی نہیں ہےیہ مسلمان نہ ہوں گے "۔اور ہر امر کے ثبوت میں اکثر آیات قرآنی موجود ہیںتو پس کیونکر خلاف مشیت پروردگار کوئی امر ظہور پذیر ہوسکتا ہےکیونکہ مشیت کے معنی ارادہ پروردگار عالم کے ہیںتو جب کسی کام کا ارادہ اﷲ تعالی نے کیا تو بندہ اس کے خلاف کیونکر کرسکتا تھا۔اور اﷲ نے جب قبل پیدائش کسی بشر کے ارادہ اس کے کافر رکھنے کا کرلیا تھا توا ب وہ مسلمان کیونکر ہوسکتا ہے " یہدی من یشاء" ۔
حوالہ / References
القرآن الکریم ۲ /۲۷۲
کے صاف معنی یہ ہیں کہ جس امر کی طرف اس کی خواہش ہوگی وہ ہوگا۔پس انسان مجبور ہے اس سے باز پرس کیونکر ہوسکتی ہےکہ اس نے فلاں کام کیوں کیاکیونکہ اس وقت اس کو ہدایت ازجانب باری عزاسمہ ہوگی وہ اختیار کرے گا۔علم اور ارادہ میں بین فرق ہےیہاں من یشاء سے اس کی خواہش ظاہر ہوتی ہے۔پھر انسان باز پرس میں کیوں لایاجائےپس معلوم ہوا کہ جب اﷲ پاك کسی بشر کو اہل جنان سے کرنا چاہتا ہے تو اس کو ایسی ہی ہدایت ہوتی ہے۔
الجواب:
اللھم ھدایۃ الحق والصوابربنا لا تزغ قلوبنا بعد اذھدیتنا وھب لنا من لدنك رحمۃ انك انت الوھاب رب انی اعوذبك من ھمزات الشیطین واعوذ بك رب ان یحضرو ن۔ اے اﷲ ! میں تجھ سے حق اور درستگی کا طلبگار ہوںاے ہمارے رب ! ہمارے دل ٹیڑھے نہ کر بعد اس کے کہ تو نے ہمیں ہدایت دیاور ہمیں اپنے پاس سے رحمت عطا کربیشك تو ہے بڑا دینے والااے میرے رب! تیری پناہ شیاطین کے وسوسوں سےاور اے میرے رب ! تیری پناہ اس سے کہ وہ میرے پاس آئیں ۱۲(ت)
اﷲ عزوجل نے بندے بنائےاور انھیں کانآنکھہاتھپاؤںزبان وغیرہا آلات و جوارح عطافرمائے اور انھیں کا م میں لانے کا طریقہ الہام کیا۔اور ان کے ارادے کا تابع وفرماں بردار کردیا کہ اپنے منافع حاصل کریں اور مضرتوں سے بچیں۔
پھر اعلی درجہ کے شریف جوہر یعنی عقل سے ممتاز فرمایا جس نے تمام حیوانات پر انسان کا مرتبہ بڑھایا۔عقل کو ان امور کے ادراك کی طاقت بخشی۔خیر وشرنفع وضرر یہ حواس ظاہری نہ پہچان سکتے تھے۔پھر اسے بھی فقط اپنی سمجھ پر بے کس وبے یاور نہ چھوڑاہنوز لاکھوں باتیں جن کو عقل خودادراك نہ کرسکتی تھیاور جن کا ادراك ممکن تھا ان میں لغزش کرنےٹھوکر کھانے سے پناہ کے لئے کوئی زبردست دامن ہاتھ میں نہ رکھتی تھی۔لہذا انبیاء بھیج کرکتابیں اتار کر ذراذرا بات کا حسن و قبح خوب جتاکر اپنی نعمت تمام وکمال فرمادی کسی عذر کی جگہ باقی نہ چھوڑی" لئلا یکون للناس علی اللہ حجۃ بـعد الرسل " (کہ رسولوں کے بعداﷲ کے یہاں لوگوں کو کوئی عذر نہ رہے ت)حق کا راستہ آفتاب سے زیادہ واضح ہوگیا۔ہدایت وگمراہی پر کوئی پردہ نہ رہا " لا اکراہ فی
الجواب:
اللھم ھدایۃ الحق والصوابربنا لا تزغ قلوبنا بعد اذھدیتنا وھب لنا من لدنك رحمۃ انك انت الوھاب رب انی اعوذبك من ھمزات الشیطین واعوذ بك رب ان یحضرو ن۔ اے اﷲ ! میں تجھ سے حق اور درستگی کا طلبگار ہوںاے ہمارے رب ! ہمارے دل ٹیڑھے نہ کر بعد اس کے کہ تو نے ہمیں ہدایت دیاور ہمیں اپنے پاس سے رحمت عطا کربیشك تو ہے بڑا دینے والااے میرے رب! تیری پناہ شیاطین کے وسوسوں سےاور اے میرے رب ! تیری پناہ اس سے کہ وہ میرے پاس آئیں ۱۲(ت)
اﷲ عزوجل نے بندے بنائےاور انھیں کانآنکھہاتھپاؤںزبان وغیرہا آلات و جوارح عطافرمائے اور انھیں کا م میں لانے کا طریقہ الہام کیا۔اور ان کے ارادے کا تابع وفرماں بردار کردیا کہ اپنے منافع حاصل کریں اور مضرتوں سے بچیں۔
پھر اعلی درجہ کے شریف جوہر یعنی عقل سے ممتاز فرمایا جس نے تمام حیوانات پر انسان کا مرتبہ بڑھایا۔عقل کو ان امور کے ادراك کی طاقت بخشی۔خیر وشرنفع وضرر یہ حواس ظاہری نہ پہچان سکتے تھے۔پھر اسے بھی فقط اپنی سمجھ پر بے کس وبے یاور نہ چھوڑاہنوز لاکھوں باتیں جن کو عقل خودادراك نہ کرسکتی تھیاور جن کا ادراك ممکن تھا ان میں لغزش کرنےٹھوکر کھانے سے پناہ کے لئے کوئی زبردست دامن ہاتھ میں نہ رکھتی تھی۔لہذا انبیاء بھیج کرکتابیں اتار کر ذراذرا بات کا حسن و قبح خوب جتاکر اپنی نعمت تمام وکمال فرمادی کسی عذر کی جگہ باقی نہ چھوڑی" لئلا یکون للناس علی اللہ حجۃ بـعد الرسل " (کہ رسولوں کے بعداﷲ کے یہاں لوگوں کو کوئی عذر نہ رہے ت)حق کا راستہ آفتاب سے زیادہ واضح ہوگیا۔ہدایت وگمراہی پر کوئی پردہ نہ رہا " لا اکراہ فی
حوالہ / References
القرآن الکریم ۴ /۱۶۵
الدین قد تبین الرشد من الغی " کچھ زبردستی نہیں دین میں بے شك خوب جدا ہوگئی ہے نیك راہ گمراہی سے(ت)
باایں ہمہ کسی کا خالق ہونایعنی ذات ہو یا صفتفعل ہو یاحالتکسی معدوم چیز کو عدم سے نکال کر لباس وجود پہنا دینایہ اسی کاکام ہے یہ نہ اس نے کسی کے اختیار میں دیا نہ کوئی اس کا اختیار پاسکتا تھاکہ تمام مخلوقات خود اپنی حد ذات میں نیست ہیںایك نیست دوسرے نیست کو کیا ہست بناسکےہست بنانا اسی کی شان ہےجو آپ اپنی ذات سے ہست حقیقی وہست مطلق ہےہاں یہ اس نے اپنی رحمت اور غنائے مطلق سے عادات اجراء فرمائے کہ بندہ جس امر کی طر ف قصد کرے اپنے جوارح ادھر پھیرے مولا تعالی اپنے ارادہ سے اسے پیدا فرمادیتا ہے مثلا اس نے ہاتھ دئےان میں پھیلنےسمٹنےاٹھنےجھکنے کی قوت رکھیتلوار بنائیاس میں دھاراور دھار میں کاٹ کی قوت رکھی۔اس کا اٹھانالگاناوار کرنا بنایاد وست دشمن کی پہچان کو عقل بخشی اسے نیك وبد میں تمیز کی طاقت عطا کیشریعت بھیج کر قتل حق و ناحق کی بھلائی برائی صاف جتادی۔زید نے وہی خدا کی بتائی ہوئی تلوارخدا کے بنائے ہوئے ہاتھخداکی دی ہوئی قوت سے اٹھانے کا قصد کیا۔وہ خدا کے حکم سے اٹھ گئی اور جھکاکر ولید کے جسم پر ضرب پہنچانے کا ارادہ کیاوہ خدا کے حکم سے جھکی او رولید کے جسم پر لگی۔تو یہ ضرب جن امور پر موقوف تھی سب عطائے حق تھےاور خود جو ضرب واقع ہوئی بارادہ خدا واقع ہوئی۔اور اب جو اس ضرب سے ولید کی گردن کٹ جانا پیدا ہوگا یہ بھی اﷲ کے پیدا کرنے سے ہوگا۔وہ نہ چاہتا تو ایك زید کیا تمام انس وجن وملك جمع ہو کرزور کرتے تو اٹھنا درکنارہرگز جنبش نہ کرتی اور اس کے حکم سے اٹھنے کے بعد اگر وہ نہ چاہتا تو زمینآسمانپہاڑ سب ایك لنگر بنا کر تلوار کے پیپلے(نوک) پر ڈال دیے جاتےنام کو بال برابر نہ جھکتی۔اور اس کے حکم سے پہنچنے کے بعد اگر وہ نہ چاہتا گردن کٹنا تو بڑی چیز ہے ممکن نہ تھا کہ خط بھی آتا۔لڑائیوں میں ہزاروں بار تجربہ ہوچکا کہ تلواریں پڑیں اور خراش تك نہ آئیگولیاں لگیں اور جسم تك آتے آتے ٹھنڈی ہو گئیںشام کو معرکہ سے پلٹنے کے بعد سپاہیوں کے سر کے بالوں میں سے گولیاں نکلی ہیں۔تو زید سے جو کچھ واقع ہوا سب خلق خدا و بارادہ خدا تھا۔زید کا بیچ میں صرف اتنا کام رہا کہ اس نے قتل ولید کا ارادہ کیا اور اس طرف اپنے جوارح کو پھیرا اب اگر ولید شرعا مستحق قتل ہے تو زید پر کچھ الزام نہیں رہا بلکہ بارہا ثواب عظیم کا مستحق ہوگا کہ اس نے اس چیز کا قصد کیا اور اس طرف جوارح کو پھیرا جسے اﷲ عزوجل نے اپنے رسولوں کے ذریعہ سے اپنی مرضیاپنا پسندیدہ کام ارشاد فرمایا تھا۔اور اگر قتل ناحق ہے تو یقینا زید پر الزام ہے اور عذاب الیم کامستحق ہوگا کہ
باایں ہمہ کسی کا خالق ہونایعنی ذات ہو یا صفتفعل ہو یاحالتکسی معدوم چیز کو عدم سے نکال کر لباس وجود پہنا دینایہ اسی کاکام ہے یہ نہ اس نے کسی کے اختیار میں دیا نہ کوئی اس کا اختیار پاسکتا تھاکہ تمام مخلوقات خود اپنی حد ذات میں نیست ہیںایك نیست دوسرے نیست کو کیا ہست بناسکےہست بنانا اسی کی شان ہےجو آپ اپنی ذات سے ہست حقیقی وہست مطلق ہےہاں یہ اس نے اپنی رحمت اور غنائے مطلق سے عادات اجراء فرمائے کہ بندہ جس امر کی طر ف قصد کرے اپنے جوارح ادھر پھیرے مولا تعالی اپنے ارادہ سے اسے پیدا فرمادیتا ہے مثلا اس نے ہاتھ دئےان میں پھیلنےسمٹنےاٹھنےجھکنے کی قوت رکھیتلوار بنائیاس میں دھاراور دھار میں کاٹ کی قوت رکھی۔اس کا اٹھانالگاناوار کرنا بنایاد وست دشمن کی پہچان کو عقل بخشی اسے نیك وبد میں تمیز کی طاقت عطا کیشریعت بھیج کر قتل حق و ناحق کی بھلائی برائی صاف جتادی۔زید نے وہی خدا کی بتائی ہوئی تلوارخدا کے بنائے ہوئے ہاتھخداکی دی ہوئی قوت سے اٹھانے کا قصد کیا۔وہ خدا کے حکم سے اٹھ گئی اور جھکاکر ولید کے جسم پر ضرب پہنچانے کا ارادہ کیاوہ خدا کے حکم سے جھکی او رولید کے جسم پر لگی۔تو یہ ضرب جن امور پر موقوف تھی سب عطائے حق تھےاور خود جو ضرب واقع ہوئی بارادہ خدا واقع ہوئی۔اور اب جو اس ضرب سے ولید کی گردن کٹ جانا پیدا ہوگا یہ بھی اﷲ کے پیدا کرنے سے ہوگا۔وہ نہ چاہتا تو ایك زید کیا تمام انس وجن وملك جمع ہو کرزور کرتے تو اٹھنا درکنارہرگز جنبش نہ کرتی اور اس کے حکم سے اٹھنے کے بعد اگر وہ نہ چاہتا تو زمینآسمانپہاڑ سب ایك لنگر بنا کر تلوار کے پیپلے(نوک) پر ڈال دیے جاتےنام کو بال برابر نہ جھکتی۔اور اس کے حکم سے پہنچنے کے بعد اگر وہ نہ چاہتا گردن کٹنا تو بڑی چیز ہے ممکن نہ تھا کہ خط بھی آتا۔لڑائیوں میں ہزاروں بار تجربہ ہوچکا کہ تلواریں پڑیں اور خراش تك نہ آئیگولیاں لگیں اور جسم تك آتے آتے ٹھنڈی ہو گئیںشام کو معرکہ سے پلٹنے کے بعد سپاہیوں کے سر کے بالوں میں سے گولیاں نکلی ہیں۔تو زید سے جو کچھ واقع ہوا سب خلق خدا و بارادہ خدا تھا۔زید کا بیچ میں صرف اتنا کام رہا کہ اس نے قتل ولید کا ارادہ کیا اور اس طرف اپنے جوارح کو پھیرا اب اگر ولید شرعا مستحق قتل ہے تو زید پر کچھ الزام نہیں رہا بلکہ بارہا ثواب عظیم کا مستحق ہوگا کہ اس نے اس چیز کا قصد کیا اور اس طرف جوارح کو پھیرا جسے اﷲ عزوجل نے اپنے رسولوں کے ذریعہ سے اپنی مرضیاپنا پسندیدہ کام ارشاد فرمایا تھا۔اور اگر قتل ناحق ہے تو یقینا زید پر الزام ہے اور عذاب الیم کامستحق ہوگا کہ
حوالہ / References
القرآن الکریم ۲ /۲۵۶
بمخالفت حکم شرع اس شےکا عزم کیااور اس طرف جوارح کو متوجہ کیا جسے مولی تعالی نے اپنی کتابوں کے واسطے سے اپنے غضب اپنی ناراضی کاحکم بتایا تھاغرض فعل انسان کے ارادہ سے نہیں ہوتا بلکہ انسان کے ارادہ پر اﷲ کے ارادہ سے ہوتا ہے یہ نیکی کا ارادہ کرے اور اپنے جوارح کوپھیرے اﷲ تعالی اپنی رحمت سے نیکی پیدا کردے گا اور یہ برے کا ارادہ کرے اور جوارح کو اس طرف پھیرے اﷲ تعالی اپنی بے نیازی سے بدی کو موجود فرما دے گا۔دو پیالیوں میں شہد اور زہر ہیں اور دونوں خود بھی خدا ہی کے بنائے ہوئے ہیںشہد میں شفاء ہے اور زہر میں ہلاك کرنے کا اثر بھی اسی نے رکھا ہے۔روشن دماغ حکیموں کو بھیج کر بتا بھی دیا ہےکہ دیکھو یہ شہد ہے اس کے یہ منافع ہیں اور خبردار ! یہ زہر ہے اس کے پینے سے ہلاك ہوجاتا ہے۔ان ناصح اور خیر خواہ حکمائے کرام کی یہ مبارك آوازیں تمام جہان میں گونجیں اور ایك ایك شخص کے کان میں پہنچیں۔اس پر کچھ نے شہد کی پیالی اٹھاکر پی اور کچھ نے زہر کی۔ان اٹھانے والوں کے ہاتھ بھی خدا ہی کے بنائے ہوئے تھےاور ان میں پیالی اٹھا نےمنہ تك لے جانے کی قوت بھی اسی کی رکھی ہوئی تھی۔منہ اور حلق میں کسی چیز کو جذب کرکے اندر لینے کی قوت۔اور خود منہ اور حلق اور معدہ وغیرہ سب اس کےمخلوق تھےاب شہد پینے والوں کے جوف میں شہد پہنچاکیا وہ آپ اس کا نفع پیدا کرلیں گے یا شہد بذات خود خالق نفع ہوجائے گا حاشا ہر گز نہیںبلکہ اس کا اثر پیدا ہونا یہ بھی اسی کے دست قدرت میں ہے اور ہوگا تو اسی کے ارادہ سے ہوگا۔وہ نہ چاہے تومنوں شہد پی جائے کچھ فائدہ نہیں ہوسکتابلکہ وہ چاہے تو شہد زہر کا اثردےیونہی زہر والوں کے پیٹ میں زہر جاکرکیا وہ آپ ضرر کی تخلیق کرلیں گے یا زہر خود بخود خالق ضرر ہوجائیگاحاشا ہر گز نہیں بلکہ اس کا اثر پیدا ہونا یہ بھی اسی کے قبضہ اقتدار میں ہے اور ہوگا تو اسی کے ارادے سے ہوگابلکہ وہ چاہے تو زہر شہد ہوکر لگےباایں ہمہ شہد پینے والے ضرور قابل تحسین وآفرین ہیںہر عاقل یہی کہے گا کہ انھوں نے اچھا کیاایسا ہی کرنا چاہے اور زہر پینے والے ضرور لائق سزا و نفریں ہیںہر ذی ہوش یہی کہے گا کہ یہ بد بخت خودکشی کے مجرم ہیں۔
دیکھو اول سے آخر تك جو کچھ ہو اسب اﷲ ہی کے ارادے سے ہوا۔اور جتنے آلات اس کام میں لئے گئے سب اﷲ ہی کے مخلوق تھے اور اسی کے حکم سے انھوں نے کام دیےجو تمام عقلاء کے نزدیك ایك فریق کی تعریف ہے اور دوسرے کی مذمتتمام کچہریاں جو عقل سے حصہ رکھتی ہوں ان زہر نوشوں کو مجرم بنائیں گیپھر کیوں بناتی ہیںنہ زہر ان کا پیدا کیا ہوا نہ زہر میں قوت اہلاك ان کی رکھی ہوئینہ ہاتھ ان کا پیداکیا ہوا نہ اس کے بڑھانے اٹھانے کی قوت ان کی رکھی ہوئینہ دہن وحلق ان کے پیدا کئے ہوئے نہ ان میں جذب و کشش کی قوت ان کی رکھی ہوئینہ حلق سے اتر جانا ان کے ارادے سے ممکن تھاآدمی
دیکھو اول سے آخر تك جو کچھ ہو اسب اﷲ ہی کے ارادے سے ہوا۔اور جتنے آلات اس کام میں لئے گئے سب اﷲ ہی کے مخلوق تھے اور اسی کے حکم سے انھوں نے کام دیےجو تمام عقلاء کے نزدیك ایك فریق کی تعریف ہے اور دوسرے کی مذمتتمام کچہریاں جو عقل سے حصہ رکھتی ہوں ان زہر نوشوں کو مجرم بنائیں گیپھر کیوں بناتی ہیںنہ زہر ان کا پیدا کیا ہوا نہ زہر میں قوت اہلاك ان کی رکھی ہوئینہ ہاتھ ان کا پیداکیا ہوا نہ اس کے بڑھانے اٹھانے کی قوت ان کی رکھی ہوئینہ دہن وحلق ان کے پیدا کئے ہوئے نہ ان میں جذب و کشش کی قوت ان کی رکھی ہوئینہ حلق سے اتر جانا ان کے ارادے سے ممکن تھاآدمی
پانی پیتا ہے اور چاہتا ہے کہ حلق سے اترے مگر اچھو ہو کر نکل جاتا ہے اس کا چاہانہیں چلتا۔جب تك وہی نہ چاہے جو صاحب سارے جہاں کا ہے۔
اب حلق سے اترنے کے بعد تو ظاہر ی نگاہوں میں بھی پینے والے کا اپنا کوئی کام نہیںخون میں اس کا ملنا اور خون کا اسے لے کر دورہ کرنا اور دورہ میں قلب تك پہنچنا اور وہاں جاکر اسے فاسد کردینا یہ کوئی فعل نہ اس کے ارادے سے ہے نہ اس کی طاقت سے بہتیرے زہر پی کر نادم ہوتے ہیںپھر ہزار کوشش کرتے ہیں جو ہونی ہے ہوکر رہتی ہے۔اگر اس کے ارادہ سے ضرر ہوتا تو اس ارادہ سے باز آتے ہی زہر باطل ہوجانا لازم تھامگر نہیں ہوتا تو معلوم ہوا کہ اس کا ارادہ بے اثر ہے پھر اس سے کیوں باز پرس ہوتی ہے ہاںباز پرس کی وہی وجہ ہے کہ شہد اور زہر اسے بتادیے تھےعالی قدر حکمائے عظام کی معرفت سے نفع نقصان جتادیے تھےدست ودہاں وحلق اس کے قابو میں کردیے تھےدیکھنے کو آنکھسمجھنے کو عقل اسے دے دی تھییہی ہاتھ جس سے اس نے زہر کی پیالی اٹھا کر پیجام شہد کی طرف بڑھاتا اﷲ تعالی اسی کا اٹھنا پیداکردیتایہاں تك کہ سب کام اول تا آخر اسی کی خلق و مشیت سے واقع ہو کر اس کے نفع کے موجب ہوتے مگرا س نے ایسا نہ کیا بلکہ کاسہ زہر کی طرف ہاتھ بڑھایا ور اس کے پینے کا عزم لایا وہ غنی بے نیاز دونوں جہان سے بے پروا ہے وہاں تو عادت جاری ہورہی ہے کہ یہ قصد کرے اور وہ خلق فرما دےاس نے اسی کا سہ کا اٹھنا اور حلق سے اترنا دل تك پہنچنا وغیرہ وغیرہ پیدا فرمادیا پھر یہ کیونکر بے جرم قرار پا سکتا ہے۔ انسان میں یہ قصد و ارادہ واختیار ہونا ایسا واضح و روشن وبدیہی امر ہے جس سے انکار نہیں کرسکتامگر مجنونہر شخص سمجھتا ہے کہ مجھ میں اور پتھر میں ضرور فرق ہے ہر شخص جانتا ہے کہ انسان کےچلنے پھرنےکھانے پینےاٹھنے بیٹھنے وغیرہ وغیرہ افعال کے حرکات ارادی ہیں ہر شخص آگاہ ہےکہ انسان کا کام کرنے کے لئے ہاتھ کو حرکت دینا اور وہ جنبش جو ہاتھ کو رعشہ سے ہوان میں صریح فرق ہے ہر شخص واقف ہےکہ جب وہ اوپر کی جانب جست کرتا اوراس کی طاقت ختم ہونےپر زمیں پر گرتا ہے ان دونوں حرکتوں میں تفرقہ ہے اوپر کودنا اپنے اختیار و ارادہ سے تھا اگر نہ چاہتا نہ کودتا اور یہ حرکت تما م ہوکر اب زمیں پر آنا اپنے ارادے واختیار سے نہیں۔
ولہذا اگر رکنا چاہے تو نہیں رك سکتابس یہی ارادہیہی اختیار جو ہر شخص اپنے نفس میں دیکھ رہا ہے عقل کے ساتھ اس کا پایا جانایہی مدار امر و نہی وجزا وسزا وعقاب وپرسش وحساب ہےاگرچہ بلاشبہہ بلا ریب قطعا یقینا یہ ارادہ واختیار بھی اﷲ عزوجل ہی کا پیدا کیا ہو ا ہے جیسے انسان خود بھی اسی کا بنایا ہوا ہے آدمی جس طرح نہ آپ سے آپ بن سکتا تھا نہ اپنے لئے آنکھکان ہاتھپاؤںزبان
اب حلق سے اترنے کے بعد تو ظاہر ی نگاہوں میں بھی پینے والے کا اپنا کوئی کام نہیںخون میں اس کا ملنا اور خون کا اسے لے کر دورہ کرنا اور دورہ میں قلب تك پہنچنا اور وہاں جاکر اسے فاسد کردینا یہ کوئی فعل نہ اس کے ارادے سے ہے نہ اس کی طاقت سے بہتیرے زہر پی کر نادم ہوتے ہیںپھر ہزار کوشش کرتے ہیں جو ہونی ہے ہوکر رہتی ہے۔اگر اس کے ارادہ سے ضرر ہوتا تو اس ارادہ سے باز آتے ہی زہر باطل ہوجانا لازم تھامگر نہیں ہوتا تو معلوم ہوا کہ اس کا ارادہ بے اثر ہے پھر اس سے کیوں باز پرس ہوتی ہے ہاںباز پرس کی وہی وجہ ہے کہ شہد اور زہر اسے بتادیے تھےعالی قدر حکمائے عظام کی معرفت سے نفع نقصان جتادیے تھےدست ودہاں وحلق اس کے قابو میں کردیے تھےدیکھنے کو آنکھسمجھنے کو عقل اسے دے دی تھییہی ہاتھ جس سے اس نے زہر کی پیالی اٹھا کر پیجام شہد کی طرف بڑھاتا اﷲ تعالی اسی کا اٹھنا پیداکردیتایہاں تك کہ سب کام اول تا آخر اسی کی خلق و مشیت سے واقع ہو کر اس کے نفع کے موجب ہوتے مگرا س نے ایسا نہ کیا بلکہ کاسہ زہر کی طرف ہاتھ بڑھایا ور اس کے پینے کا عزم لایا وہ غنی بے نیاز دونوں جہان سے بے پروا ہے وہاں تو عادت جاری ہورہی ہے کہ یہ قصد کرے اور وہ خلق فرما دےاس نے اسی کا سہ کا اٹھنا اور حلق سے اترنا دل تك پہنچنا وغیرہ وغیرہ پیدا فرمادیا پھر یہ کیونکر بے جرم قرار پا سکتا ہے۔ انسان میں یہ قصد و ارادہ واختیار ہونا ایسا واضح و روشن وبدیہی امر ہے جس سے انکار نہیں کرسکتامگر مجنونہر شخص سمجھتا ہے کہ مجھ میں اور پتھر میں ضرور فرق ہے ہر شخص جانتا ہے کہ انسان کےچلنے پھرنےکھانے پینےاٹھنے بیٹھنے وغیرہ وغیرہ افعال کے حرکات ارادی ہیں ہر شخص آگاہ ہےکہ انسان کا کام کرنے کے لئے ہاتھ کو حرکت دینا اور وہ جنبش جو ہاتھ کو رعشہ سے ہوان میں صریح فرق ہے ہر شخص واقف ہےکہ جب وہ اوپر کی جانب جست کرتا اوراس کی طاقت ختم ہونےپر زمیں پر گرتا ہے ان دونوں حرکتوں میں تفرقہ ہے اوپر کودنا اپنے اختیار و ارادہ سے تھا اگر نہ چاہتا نہ کودتا اور یہ حرکت تما م ہوکر اب زمیں پر آنا اپنے ارادے واختیار سے نہیں۔
ولہذا اگر رکنا چاہے تو نہیں رك سکتابس یہی ارادہیہی اختیار جو ہر شخص اپنے نفس میں دیکھ رہا ہے عقل کے ساتھ اس کا پایا جانایہی مدار امر و نہی وجزا وسزا وعقاب وپرسش وحساب ہےاگرچہ بلاشبہہ بلا ریب قطعا یقینا یہ ارادہ واختیار بھی اﷲ عزوجل ہی کا پیدا کیا ہو ا ہے جیسے انسان خود بھی اسی کا بنایا ہوا ہے آدمی جس طرح نہ آپ سے آپ بن سکتا تھا نہ اپنے لئے آنکھکان ہاتھپاؤںزبان
وغیرہا بنا سکتا تھایو نہی اپنے لئے طاقتقوتارادہاختیار بھی نہیں بنا سکتاسب کچھ اس نے دیا اور اسی نے بنایامگر اس سے یہ سمجھ لینا کہ جب ہمارا ارادہ و اختیار بھی خدا ہی کا مخلوق ہے تو پھر ہم پتھر ہوگئے قابل سزاوجزاوباز پرس نہ رہےکیسی سخت جہالت ہےصاحبو ! تم میں خدا نے کیا پیدا کیا ارادہ و اختیارتو ان کے پیدا ہونے سے تم صاحب ارادہ۔صاحب اختیار ہوئے یا مضطرمجبورناچارصاحبو ! تمھاری اور پتھر کی حرکت میں فرق کیا تھایہ کہ وہ ارادہ واختیار نہیں رکھتا اور تم میں اﷲ تعالی نے یہ صفت پیدا کی عجب عجب کہ وہی صفت جس کے پیدا ہونے نے تمھاری حرکات کو پتھر کی حرکات سے ممتاز کردیااسی کی پیدائش کو اپنے پتھر ہوجانے کا سبب سمجھو یہ کیسی الٹی مت ہے اﷲ تعالی نے ہماری آنکھیں پیدا کیں ان میں نور خلق کیا اس سے ہم انکھیارے ہوئے نہ کہ معاذاﷲ اندھے یونہی اس نے ہم میں ارادہ و اختیار پیدا کیا اس سے ہم اس کی عطاکے لائق مختار ہوئےنہ کہ الٹے مجبور۔
ہاں یہ ضرور ہے کہ جب وقتا فوقتا ہر فرد اختیار بھی اسی کی خلق اسی کی عطا ہے ہماری اپنی ذات سے نہیں تو مختار کردہ ہوئے خود مختار نہ ہوئے پھر اس میں کیا حرج ہے بندے کی شان ہی نہیں کہ خودمختار ہوسکے نہ جزا وسزا کے لئے خود مختار ہونا ہی ضرور۔ایك نوع اختیار چاہیےکس طرح ہووہ بداہۃ حاصل ہے۔
آدمی انصاف سے کام لے تو اسی قدر تقریر ومثال کافی ہے شہد کی پیالی اطاعت الہی ہے اور زہر کا کاسہ اس کی نافرمانی اور وہ عالی شان حکماء انبیائے کرام علیہم الصلوۃ والسلام۔اور ہدایت اس شہد سے نفع پانا ہے کہ اﷲ ہی کے ارادے سے ہوگا اور ضلالت اس زہر کا ضرور پہنچنا کہ یہ بھی اسی کے ارادے سے ہوگا مگر اطاعت والے تعریف کئے جا ئیں گے اور تمرد(سرکشی)والے مذموم و ملزم ہو کر سزا پائیں گے۔ پھر بھی جب تك ایمان باقی ہے " فیغفر لمن یشاء" (جسے چاہے بخش دے۔ت)باقی ہے۔
والحمد ﷲ رب العلمینلہ الحکم و الیہ ترجعون۔ اور سب تعریفیں اﷲ کے لئے ہیں جو پروردگار ہے تمام جہانوں کاحکم اسی کا ہے اور اسی کی طرف تمھیں لوٹنا ہے۔(ت)
قرآن عظیم میں یہ کہیں نہیں فرمایا کہ ان اشخاص کو زیادہ ہدایت نہ کرو۔۔۔۔ہاں یہ ضرور فرمایا ہے کہ ہدایت ضلالت سب اس کے ارادہ سے ہےاس کا بیان بھی ہوچکا اور آئندہ ان شاء اﷲ تعالی اور زیادہ واضح ہوگا۔نیز فرمایا:
ہاں یہ ضرور ہے کہ جب وقتا فوقتا ہر فرد اختیار بھی اسی کی خلق اسی کی عطا ہے ہماری اپنی ذات سے نہیں تو مختار کردہ ہوئے خود مختار نہ ہوئے پھر اس میں کیا حرج ہے بندے کی شان ہی نہیں کہ خودمختار ہوسکے نہ جزا وسزا کے لئے خود مختار ہونا ہی ضرور۔ایك نوع اختیار چاہیےکس طرح ہووہ بداہۃ حاصل ہے۔
آدمی انصاف سے کام لے تو اسی قدر تقریر ومثال کافی ہے شہد کی پیالی اطاعت الہی ہے اور زہر کا کاسہ اس کی نافرمانی اور وہ عالی شان حکماء انبیائے کرام علیہم الصلوۃ والسلام۔اور ہدایت اس شہد سے نفع پانا ہے کہ اﷲ ہی کے ارادے سے ہوگا اور ضلالت اس زہر کا ضرور پہنچنا کہ یہ بھی اسی کے ارادے سے ہوگا مگر اطاعت والے تعریف کئے جا ئیں گے اور تمرد(سرکشی)والے مذموم و ملزم ہو کر سزا پائیں گے۔ پھر بھی جب تك ایمان باقی ہے " فیغفر لمن یشاء" (جسے چاہے بخش دے۔ت)باقی ہے۔
والحمد ﷲ رب العلمینلہ الحکم و الیہ ترجعون۔ اور سب تعریفیں اﷲ کے لئے ہیں جو پروردگار ہے تمام جہانوں کاحکم اسی کا ہے اور اسی کی طرف تمھیں لوٹنا ہے۔(ت)
قرآن عظیم میں یہ کہیں نہیں فرمایا کہ ان اشخاص کو زیادہ ہدایت نہ کرو۔۔۔۔ہاں یہ ضرور فرمایا ہے کہ ہدایت ضلالت سب اس کے ارادہ سے ہےاس کا بیان بھی ہوچکا اور آئندہ ان شاء اﷲ تعالی اور زیادہ واضح ہوگا۔نیز فرمایا:
حوالہ / References
القرآن الکریم ۲ /۲۸۴
" ان الذین کفروا سوا ء علیہم ءانذرتہم ام لم تنذرہم لا یؤمنون﴿۶﴾" ۔ وہ علم الہی میں کافر ہیں انھیں ایك سا ہے چاہے تم ان کو ڈراؤ یا نہ ڈراؤ وہ ایمان نہ لائیں گے۔
ہمارے نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم تمام جہان کے لئے رحمت بھیجے گئے جو کافر ایمان نہ لاتے ان کا نہایت غم حضورصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو ہوتایہاں تك کہ اﷲ عزوجل نے فرمایا:
" فلعلک بخع نفسک علی اثرہم ان لم یؤمنوا بہذا الحدیث اسفا ﴿۶﴾ " ۔ شاید تم ان کے پیچھے اپنی جان پر کھیل جاؤگئے اس غم میں کہ وہ اس کلام پر ایمان نہ لائیں ۔
لہذا حضور کی تسکین خاطر اقدس کو یہ ارشاد ہوا ہےکہ جو ہمارے علم میں کفر پر مرنے والے ہیں والعیاذ باﷲ تعالی وہ کس طرح ایمان نہ لائیں گےتم اس کا غم نہ کرو۔لہذا یہ فرمایا کہ تمھارا "سمجھانا نہ سمجھانا "ان کو " یکساں ہے۔یہ نہیں فرمایا کہ " تمھارے حق میں " یکساں ہےکہ ہدایت معاذاﷲ امر فضول ٹھرے۔ہادی کا اجر اﷲ پر ہےچاہے کوئی مانے نہ مانے۔
" وما علی الرسول الا البلغ المبین ﴿۵۴﴾" ۔
" وما اسـلکم علیہ من اجر ان اجری الا علی رب العلمین ﴿۱۰۹﴾" ۔ اور رسول کےذمہ نہیں مگر صاف پہنچادینا(ت)
اور میں تم سے اس پر کچھ اجرت نہیں مانگتامیرا اجر تو اسی پر ہے جو سارے جہاں کا رب ہے۔
اﷲ خوب جانتا ہے اور آج سے نہیں ازل الآزال سے کہ اتنے بندے ہدایت پائیں گے اور اتنے چاہ ضلالت میں ڈوبیں گئےمگر کبھی اپنے رسولوں کو ہدایت سےمنع نہیں فرمایا کہ جو ہدایت پانے والے ہیں ان کے لئے سبب ہدایت ہوں اور جو نہ پائیں ان پر حجت الہیہ قائم ہو۔وﷲ الحجۃ البالغۃ(اور اﷲ ہی کی حجت پوری ہے۔ت)
ابن جریر عن انس رضی اﷲ تعالی عنہ قال لما بعث اﷲ تعالی موسی علیہ الصلاۃ والسلام الی فرعون نودی لن یفعلفلم افعل فقال فناداہ اثنا عشر ملکا ابن جریر نے حضرت انس رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کی کہ جب سیدنا موسی علیہ الصلاۃ والسلام کو مو لی عزوجل نے رسول کرکے فرعون کی طرف بھیجا موسی علیہ السلام چلے تو ندا ہوئی مگر اے موسی فرعون ایمان نہ لائے گاموسی نے دل
ہمارے نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم تمام جہان کے لئے رحمت بھیجے گئے جو کافر ایمان نہ لاتے ان کا نہایت غم حضورصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو ہوتایہاں تك کہ اﷲ عزوجل نے فرمایا:
" فلعلک بخع نفسک علی اثرہم ان لم یؤمنوا بہذا الحدیث اسفا ﴿۶﴾ " ۔ شاید تم ان کے پیچھے اپنی جان پر کھیل جاؤگئے اس غم میں کہ وہ اس کلام پر ایمان نہ لائیں ۔
لہذا حضور کی تسکین خاطر اقدس کو یہ ارشاد ہوا ہےکہ جو ہمارے علم میں کفر پر مرنے والے ہیں والعیاذ باﷲ تعالی وہ کس طرح ایمان نہ لائیں گےتم اس کا غم نہ کرو۔لہذا یہ فرمایا کہ تمھارا "سمجھانا نہ سمجھانا "ان کو " یکساں ہے۔یہ نہیں فرمایا کہ " تمھارے حق میں " یکساں ہےکہ ہدایت معاذاﷲ امر فضول ٹھرے۔ہادی کا اجر اﷲ پر ہےچاہے کوئی مانے نہ مانے۔
" وما علی الرسول الا البلغ المبین ﴿۵۴﴾" ۔
" وما اسـلکم علیہ من اجر ان اجری الا علی رب العلمین ﴿۱۰۹﴾" ۔ اور رسول کےذمہ نہیں مگر صاف پہنچادینا(ت)
اور میں تم سے اس پر کچھ اجرت نہیں مانگتامیرا اجر تو اسی پر ہے جو سارے جہاں کا رب ہے۔
اﷲ خوب جانتا ہے اور آج سے نہیں ازل الآزال سے کہ اتنے بندے ہدایت پائیں گے اور اتنے چاہ ضلالت میں ڈوبیں گئےمگر کبھی اپنے رسولوں کو ہدایت سےمنع نہیں فرمایا کہ جو ہدایت پانے والے ہیں ان کے لئے سبب ہدایت ہوں اور جو نہ پائیں ان پر حجت الہیہ قائم ہو۔وﷲ الحجۃ البالغۃ(اور اﷲ ہی کی حجت پوری ہے۔ت)
ابن جریر عن انس رضی اﷲ تعالی عنہ قال لما بعث اﷲ تعالی موسی علیہ الصلاۃ والسلام الی فرعون نودی لن یفعلفلم افعل فقال فناداہ اثنا عشر ملکا ابن جریر نے حضرت انس رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کی کہ جب سیدنا موسی علیہ الصلاۃ والسلام کو مو لی عزوجل نے رسول کرکے فرعون کی طرف بھیجا موسی علیہ السلام چلے تو ندا ہوئی مگر اے موسی فرعون ایمان نہ لائے گاموسی نے دل
حوالہ / References
القرآن الکریم ۲ /۶
القرآن الکریم ۱۸ /۶
القرآن الکریم ۲۴ /۵۴
القرآن الکریم ۲۶ /۱۰۹
القرآن الکریم ۱۸ /۶
القرآن الکریم ۲۴ /۵۴
القرآن الکریم ۲۶ /۱۰۹
من علماء الملئکۃ:امض لما امرت بہفانا جھدنا ان نعلم ھذا فلم نعلمہ۔ میں کہا پھر میرے جانے سے کیا فائدہ ہے اس پر بارہ علماء ملائکہ عظام علیہم السلام نےکہا اے موسی آپ کو جہاں کا حکم ہے جائیے یہ وہ راز ہے کہ باوصف کوشش آج تك ہم پر بھی نہ کھلا۔
اور آخر نفع بعثت سب نے دیکھ لیا کہ دشمنان خدا ہلاك ہوئےدوستان خدا نے ان کی غلامیان کے عذاب سے نجات پا ئی ایك جلسے میں ستر ہزار ساحر سجدہ میں گرگئے اور ایك زبان بولے:
" امنا برب العلمین ﴿۱۲۱﴾ رب موسی وہرون ﴿۱۲۲﴾" ۔ ہم اس پر ایمان لائے جو رب ہے سارے جہاں کارب ہے موسی وہارون کا۔
مولی عزوجل قادر تھا اور ہے کہ بے کسی نبی وکتاب کے تمام جہان کو ایك آن میں ہدایت فرمادے۔
" و لو شاء اللہ لجمعہم علی الہدی فلا تکونن من الجہلین ﴿۳۵﴾"
۔ اور اﷲ چاہتا تو انہیں ہدایت پر اکٹھا کردیتا تو اے سننے والے ! تو ہرگز نادان نہ بن۔
مگر اس نے دنیا کو عالم اسباب بنایا ہے اور ہر نعمت میں اپنی حکمت بالغہ کے مطابق مختلف حصہ رکھا ہے وہ چاہتا تو انسان وغیرہ جانداروں کو بھوك ہی نہ لگتییا بھوکے ہوتے تو کسی کا صرف نام پاك لینے سےکسی کا ہوا سونگھنے سے پیٹ بھرتازمین جوتنے سے روٹی پکانے تك جو سخت مشقتیں پڑتی ہیں کسی کو نہ ہوتیںمگر اس نے یونہی چاہا اور اس میں بھی بے شمار اختلاف رکھا کسی کو اتنا دیا کہ لاکھوں پیٹ اس کے در سے پلتے ہیںاورکسی پر اس کے اہل وعیال کے ساتھ تین تین فاقےگزرتے ہیں۔
غرض ہر چیز میں" اہم یقسمون رحمۃ ربک نحن قسمنا بینہم" (کیا تمھارے رب کی رحمت وہ بانٹتے ہیںہم نے ان میں ان کی زیست کا سامان دنیا کی زندگی میں بانٹا۔ت) کی نیرنگیاں ہیں۔احمقبد عقلیا اجہل بددین وہ اس کے ناموس میں چون و چرا کرےکہ یوں کیوں کیا یوں کیوں نہ کیا سنتا ہے اس کی شان ہے " و یفعل اللہ ما یشاء ﴿۲۷﴾" اﷲ جو چاہے کرتا ہے اس کی شان ہے " ان اللہ یحکم ما یرید ﴿۱﴾"
اور آخر نفع بعثت سب نے دیکھ لیا کہ دشمنان خدا ہلاك ہوئےدوستان خدا نے ان کی غلامیان کے عذاب سے نجات پا ئی ایك جلسے میں ستر ہزار ساحر سجدہ میں گرگئے اور ایك زبان بولے:
" امنا برب العلمین ﴿۱۲۱﴾ رب موسی وہرون ﴿۱۲۲﴾" ۔ ہم اس پر ایمان لائے جو رب ہے سارے جہاں کارب ہے موسی وہارون کا۔
مولی عزوجل قادر تھا اور ہے کہ بے کسی نبی وکتاب کے تمام جہان کو ایك آن میں ہدایت فرمادے۔
" و لو شاء اللہ لجمعہم علی الہدی فلا تکونن من الجہلین ﴿۳۵﴾"
۔ اور اﷲ چاہتا تو انہیں ہدایت پر اکٹھا کردیتا تو اے سننے والے ! تو ہرگز نادان نہ بن۔
مگر اس نے دنیا کو عالم اسباب بنایا ہے اور ہر نعمت میں اپنی حکمت بالغہ کے مطابق مختلف حصہ رکھا ہے وہ چاہتا تو انسان وغیرہ جانداروں کو بھوك ہی نہ لگتییا بھوکے ہوتے تو کسی کا صرف نام پاك لینے سےکسی کا ہوا سونگھنے سے پیٹ بھرتازمین جوتنے سے روٹی پکانے تك جو سخت مشقتیں پڑتی ہیں کسی کو نہ ہوتیںمگر اس نے یونہی چاہا اور اس میں بھی بے شمار اختلاف رکھا کسی کو اتنا دیا کہ لاکھوں پیٹ اس کے در سے پلتے ہیںاورکسی پر اس کے اہل وعیال کے ساتھ تین تین فاقےگزرتے ہیں۔
غرض ہر چیز میں" اہم یقسمون رحمۃ ربک نحن قسمنا بینہم" (کیا تمھارے رب کی رحمت وہ بانٹتے ہیںہم نے ان میں ان کی زیست کا سامان دنیا کی زندگی میں بانٹا۔ت) کی نیرنگیاں ہیں۔احمقبد عقلیا اجہل بددین وہ اس کے ناموس میں چون و چرا کرےکہ یوں کیوں کیا یوں کیوں نہ کیا سنتا ہے اس کی شان ہے " و یفعل اللہ ما یشاء ﴿۲۷﴾" اﷲ جو چاہے کرتا ہے اس کی شان ہے " ان اللہ یحکم ما یرید ﴿۱﴾"
حوالہ / References
القرآن الکریم ۷ /۱۲۱و۱۲۲
القرآن الکریم ۶ /۳۵
القرآن الکریم ۴۳ /۳۲
القرآن الکریم ۱۴ /۲۷
القرآن الکریم ۵ /۱
القرآن الکریم ۶ /۳۵
القرآن الکریم ۴۳ /۳۲
القرآن الکریم ۱۴ /۲۷
القرآن الکریم ۵ /۱
اﷲ جو چاہے حکم فرماتا ہے۔اس کی شان ہے " لایسـل عما یفعل وہم یسـلون ﴿۲۳﴾" وہ جو کچھ کرے اس سے کوئی پوچھنے والا نہیں اور سب سے سوال ہوگا زید نے روپے کی ہزار اینٹیں خریدیںپانچسو۵۰۰ مسجد مں لگائیںپانسو۵۰۰ پاخانہ کی زمین اور قد مچوں میں کیا اس سے کوئی الجھ سکتا ہے کہ ایك ہاتھ کی بنائی ہوئیایك مٹی سے بنی ہوئیایك آوے سے پکی ہوئی ایك روپے کی مول لی ہوئی ہزار اینٹیں تھیںان پانسو میں کیا خوبی تھی کہ مسجد میں صرف کیںاور ان میں کیا عیب تھا کہ جائے نجاست میں رکھیں اگر احمق اس سے پوچھے بھی تو وہ یہی کہے گا کہ میری ملك تھیں میں نے جو چاہا کیا۔
جب مجازی جھوٹی ملك کا یہ حال تو حقیقی سچی ملك کا کیا پوچھنا۔ہمارا اور ہماری جان ومال اور تمام جھان کا وہ ایك اکیلا پاك نرالا سچا مالك ہے۔اس کے کاماس کے احکام میں کسی کو مجال دم زدن کیا معنی ! کیا کوئی اسکا ہمسر یا اس پر افسر ہے جو اس سے کیوں اور کیا کہے۔مالك علی الاطلاق ہےبے اشتراك ہےجو چاہا کیا اور جو چاہے کرے گاذلیل فقیر بے حیثیت حقیر اگر بادشاہ جبار سے الجھے تو اسکا سر کھجایا ہےشامت نے گھیرا ہے اس ہر عاقل یہی کہے گا کہ او بد عقلبے ادب !اپنی حد پر رہجب یقینا معلوم ہے کہ بادشاہ کمال عادل اور جمیع کمال صفات میں یکتا وکامل ہے تو تجھے اس کے احکام میں دخل دینے کی کیا مجال!
گدائے خاك نشینی تو حافظا مخروش نظام مملکت خویش خسرواں دانند
(تو خاك نشینی گداگر ہے اے حافظ ! شور مت کراپنی سلطنت کے نظام کو بادشاہ جانتے ہیں ت)
افسوس کہ دنیویمجازیجھوٹے بادشاہوں کی نسبت تو آدمی کو یہ خیال ہو اور ملك الملوك بادشاہ حقیقی جل جلالہ کے احکام میں رائے زنی کرےسلاطین تو سلاطین اپنا برابر زئی بلکہ اپنے سے بھی کم رتبہ شخص بلکہ اپنا نوکر یا غلام جب کسی صفت کا استاد ماہر ہو اور خود یہ شخص اس سے آگاہ نہیں تو اس کے اکثر کاموں کو ہر گز نہ سمجھ سکے گایہ اتنا ادراك ہی نہیں رکھتامگر عقل سے حصہ ہے تو اس پر معترض بھی نہ ہوگا۔جان لے گا کہ یہ اس کام کا استاد وحکیم ہےمیرا خیال وہاں تك نہیں پہنچ سکتا۔
جب مجازی جھوٹی ملك کا یہ حال تو حقیقی سچی ملك کا کیا پوچھنا۔ہمارا اور ہماری جان ومال اور تمام جھان کا وہ ایك اکیلا پاك نرالا سچا مالك ہے۔اس کے کاماس کے احکام میں کسی کو مجال دم زدن کیا معنی ! کیا کوئی اسکا ہمسر یا اس پر افسر ہے جو اس سے کیوں اور کیا کہے۔مالك علی الاطلاق ہےبے اشتراك ہےجو چاہا کیا اور جو چاہے کرے گاذلیل فقیر بے حیثیت حقیر اگر بادشاہ جبار سے الجھے تو اسکا سر کھجایا ہےشامت نے گھیرا ہے اس ہر عاقل یہی کہے گا کہ او بد عقلبے ادب !اپنی حد پر رہجب یقینا معلوم ہے کہ بادشاہ کمال عادل اور جمیع کمال صفات میں یکتا وکامل ہے تو تجھے اس کے احکام میں دخل دینے کی کیا مجال!
گدائے خاك نشینی تو حافظا مخروش نظام مملکت خویش خسرواں دانند
(تو خاك نشینی گداگر ہے اے حافظ ! شور مت کراپنی سلطنت کے نظام کو بادشاہ جانتے ہیں ت)
افسوس کہ دنیویمجازیجھوٹے بادشاہوں کی نسبت تو آدمی کو یہ خیال ہو اور ملك الملوك بادشاہ حقیقی جل جلالہ کے احکام میں رائے زنی کرےسلاطین تو سلاطین اپنا برابر زئی بلکہ اپنے سے بھی کم رتبہ شخص بلکہ اپنا نوکر یا غلام جب کسی صفت کا استاد ماہر ہو اور خود یہ شخص اس سے آگاہ نہیں تو اس کے اکثر کاموں کو ہر گز نہ سمجھ سکے گایہ اتنا ادراك ہی نہیں رکھتامگر عقل سے حصہ ہے تو اس پر معترض بھی نہ ہوگا۔جان لے گا کہ یہ اس کام کا استاد وحکیم ہےمیرا خیال وہاں تك نہیں پہنچ سکتا۔
غرض اپنی فہم کو قاصر جانے گانہ کہ اس کی حکمت کو۔پھر رب الاربابحکیم حقیقیعالم السر والخفی عزجلالہ کے اسرار میں خوض کرنا اور جو سمجھ میں نہ آئے اس پر معترض ہونا اگر بے دینی نہیں جنون ہے۔اگر جنون نہیں بے دینی ہےوالعیاذ باﷲ رب العالمین۔
اے عزیز ! کسی بات کو حق جاننے کےلئے اس کی حقیقت جاننی لازم نہیں ہوتیدنیا جانتی ہے کہ مقناطیس لوہے کو کھینچتا ہے اور مقناطیسی قوت دیا ہوا لوہاستارہ قطب کی طرف توجہ کرتا ہے۔مگر اس کی حقیقت و کنہ کوئی نہیں بتا سکتا کہ اس خا کی لوہے اور اس افلاکی ستارے میں کہ یہاں سے کروڑوں میل دور ہے باہم کیاالفت اور کیونکر اسے اس کی جہت کا شعور ہے اور ایك یہی نہیں عالم میں ہزاروں ایسے عجائب ہیں کہ بڑے بڑے فلاسفہ خاك چھان کر مرگئے اور ان کی کنہ نہ پائی۔پھر اس سے ان باتوں کا انکار نہیں ہوسکتاآدمی اپنی جان ہی کو بتائے وہ کیا شیئ ہے جسے یہ " میں " کہتا ہےاور کیا چیز جب نکل جاتی ہے تو یہ مٹی کا ڈھیر بے حس وحرکت رہ جاتاہے۔اﷲ جل جلالہ فرقان حکیم میں فرماتا ہے:
" و ما تشاءون الا ان یشاء اللہ رب العلمین ﴿۲۹﴾" ۔ تم کیا چاہومگر یہ کہ چاہے اﷲ رب سارے جہان کا۔
اور فرماتا ہے:
" ہل من خلق غیر اللہ" ۔ کیا کوئی اور بھی کسی چیز کا خالق ہے سوا اﷲ کے۔
اور فرماتا ہے:
" لہم الخیرۃ " ۔ اختیا ر خاص اسی کو ہے۔
اور فرماتا ہے:
" الا لہ الخلق والامر تبرک اللہ رب العلمین ﴿۵۴﴾" ۔ سنتےہو پیداکرنا اور حکم دینا اسی کے لیے ہے بڑی برکت والا ہے اﷲ مالك سارے جہان کا۔
یہ آیات کریمہ صاف ارشاد فرمارہی ہیں کہ پید ا کرناعدم سے وجود میں لانا خاص اسی کا کام ہےدوسرے کو اس میں اصلا (بالکل)شرکت نہیںنیز اصل اختیار اسی کا ہےنیز بے اس کی مشیت کے
اے عزیز ! کسی بات کو حق جاننے کےلئے اس کی حقیقت جاننی لازم نہیں ہوتیدنیا جانتی ہے کہ مقناطیس لوہے کو کھینچتا ہے اور مقناطیسی قوت دیا ہوا لوہاستارہ قطب کی طرف توجہ کرتا ہے۔مگر اس کی حقیقت و کنہ کوئی نہیں بتا سکتا کہ اس خا کی لوہے اور اس افلاکی ستارے میں کہ یہاں سے کروڑوں میل دور ہے باہم کیاالفت اور کیونکر اسے اس کی جہت کا شعور ہے اور ایك یہی نہیں عالم میں ہزاروں ایسے عجائب ہیں کہ بڑے بڑے فلاسفہ خاك چھان کر مرگئے اور ان کی کنہ نہ پائی۔پھر اس سے ان باتوں کا انکار نہیں ہوسکتاآدمی اپنی جان ہی کو بتائے وہ کیا شیئ ہے جسے یہ " میں " کہتا ہےاور کیا چیز جب نکل جاتی ہے تو یہ مٹی کا ڈھیر بے حس وحرکت رہ جاتاہے۔اﷲ جل جلالہ فرقان حکیم میں فرماتا ہے:
" و ما تشاءون الا ان یشاء اللہ رب العلمین ﴿۲۹﴾" ۔ تم کیا چاہومگر یہ کہ چاہے اﷲ رب سارے جہان کا۔
اور فرماتا ہے:
" ہل من خلق غیر اللہ" ۔ کیا کوئی اور بھی کسی چیز کا خالق ہے سوا اﷲ کے۔
اور فرماتا ہے:
" لہم الخیرۃ " ۔ اختیا ر خاص اسی کو ہے۔
اور فرماتا ہے:
" الا لہ الخلق والامر تبرک اللہ رب العلمین ﴿۵۴﴾" ۔ سنتےہو پیداکرنا اور حکم دینا اسی کے لیے ہے بڑی برکت والا ہے اﷲ مالك سارے جہان کا۔
یہ آیات کریمہ صاف ارشاد فرمارہی ہیں کہ پید ا کرناعدم سے وجود میں لانا خاص اسی کا کام ہےدوسرے کو اس میں اصلا (بالکل)شرکت نہیںنیز اصل اختیار اسی کا ہےنیز بے اس کی مشیت کے
حوالہ / References
القرآن الکریم ۸۱ /۲۹
القرآن الکریم ۳۵ /۳
القرآن الکریم ۲۸ /۶۸ و۳۳ / ۳۶
القرآن الکریم ۷ /۵۴
القرآن الکریم ۳۵ /۳
القرآن الکریم ۲۸ /۶۸ و۳۳ / ۳۶
القرآن الکریم ۷ /۵۴
کسی کی مشیت نہیں ہوسکتی۔
اور وہی مالك ومولی جل وعلا اسی قرآن کریم میں فرماتا ہے:
" ذلک جزینہم ببغیہم ۫ و انا لصدقون ﴿۱۴۶﴾" ۔ یہ ہم نے ان کی سرکشی کا بدلہ انھیں دیااور بیشك بالیقین ہم سچے ہیں۔
اور فرماتا ہے:
" و ما ظلمنہم و لکن کانوا انفسہم یظلمون ﴿۱۱۸﴾" ۔ ہم نے ان پر کچھ ظلم نہ کیا بلکہ وہ خود اپنی جانوں پر ظلم کرتے تھے
اور فرماتا ہے:
" اعملوا ما شئتم انہ بما تعملون بصیر ﴿۴۰﴾" ۔ جو تمھارا جی چاہے کئے جاؤ اﷲ تمھارے کاموں کو دیکھ رہا ہے۔
اورفرماتا ہے:
" وقل الحق من ربکم فمن شاء فلیؤمن و من شاء فلیکفر انا اعتدنا للظلمین نارا احاط بہم سرادقہا " ۔ اے نبی ! تم فرمادو کہ حق تمھارے رب کے پاس سے ہے تو جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے کفر کرے بیشك ہم نے ظالموں کے لئے وہ آگ تیار کررکھی ہے جس کے سراپردے انھیں گھیریں گے ہر طرف آگ ہی آگ ہوگی۔
اور فرماتا ہے:
" قال قرینہ ربنا ما اطغیتہ و لکن کان فی ضللۭ بعید ﴿۲۷﴾ قال لا تختصموا لدی و قد قدمت الیکم بالوعید ﴿۲۸﴾ ما یبدل القول لدی و ما انا کافر کا ساتھی شیطان بولا اے رب ہمارے! میں نے انھیں سرکش نہ کردیا تھا یہ آپ ہی دور کی گمراہی میں تھارب عزوجل نے فرمایا میرے حضور فضول جھگڑا نہ کرومیں تو تمھیں پہلے ہی سزا کا ڈر سنا چکا تھامیرے یہاں بات بدلی نہیں جاتیاور نہ میں
اور وہی مالك ومولی جل وعلا اسی قرآن کریم میں فرماتا ہے:
" ذلک جزینہم ببغیہم ۫ و انا لصدقون ﴿۱۴۶﴾" ۔ یہ ہم نے ان کی سرکشی کا بدلہ انھیں دیااور بیشك بالیقین ہم سچے ہیں۔
اور فرماتا ہے:
" و ما ظلمنہم و لکن کانوا انفسہم یظلمون ﴿۱۱۸﴾" ۔ ہم نے ان پر کچھ ظلم نہ کیا بلکہ وہ خود اپنی جانوں پر ظلم کرتے تھے
اور فرماتا ہے:
" اعملوا ما شئتم انہ بما تعملون بصیر ﴿۴۰﴾" ۔ جو تمھارا جی چاہے کئے جاؤ اﷲ تمھارے کاموں کو دیکھ رہا ہے۔
اورفرماتا ہے:
" وقل الحق من ربکم فمن شاء فلیؤمن و من شاء فلیکفر انا اعتدنا للظلمین نارا احاط بہم سرادقہا " ۔ اے نبی ! تم فرمادو کہ حق تمھارے رب کے پاس سے ہے تو جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے کفر کرے بیشك ہم نے ظالموں کے لئے وہ آگ تیار کررکھی ہے جس کے سراپردے انھیں گھیریں گے ہر طرف آگ ہی آگ ہوگی۔
اور فرماتا ہے:
" قال قرینہ ربنا ما اطغیتہ و لکن کان فی ضللۭ بعید ﴿۲۷﴾ قال لا تختصموا لدی و قد قدمت الیکم بالوعید ﴿۲۸﴾ ما یبدل القول لدی و ما انا کافر کا ساتھی شیطان بولا اے رب ہمارے! میں نے انھیں سرکش نہ کردیا تھا یہ آپ ہی دور کی گمراہی میں تھارب عزوجل نے فرمایا میرے حضور فضول جھگڑا نہ کرومیں تو تمھیں پہلے ہی سزا کا ڈر سنا چکا تھامیرے یہاں بات بدلی نہیں جاتیاور نہ میں
حوالہ / References
القرآن الکریم ۶ /۱۴۶
القرآن الکریم ۱۶ /۱۱۸
القرآن الکریم ۴۱ /۴۰
القرآن الکریم ۱۸ /۲۹
القرآن الکریم ۱۶ /۱۱۸
القرآن الکریم ۴۱ /۴۰
القرآن الکریم ۱۸ /۲۹
" بظلم للعبید ﴿۲۹﴾" ۔
بندوں پر ظلم کروں۔
یہ آیتیں صاف ارشاد فرمارہی ہیں کہ بندہ خود ہی اپنی جان پرظلم کرتا ہے وہ اپنی ہی کرنی بھرتا ہے وہ ایك حرام کا اختیار وارادہ ضرور رکھتا ہےاب دونوں قسم کی سب آیتیں قطعا مسلمان کا ایمان ہیں۔بے شك بے شبہ بندہ کے افعال کاخالق بھی خدا ہی ہے۔بے شك بندہ بے ارادہ الہیہ کچھ نہیں کرسکتااور بے شك بندہ اپنی جان پر ظلم کرتا ہےبے شك وہ اپنی ہی بداعمالیوں کے سبب مستحق سزا ہے۔
یہ دونوں باتیں جمع نہیں ہوسکتیں مگر یونہی کہ عقیدہ اہل سنت وجماعت پرایمان لایاجائےوہ کیا بات ہے وہ جو اہل سنت کے سردار ومولی امیر المؤمنین علی مرتضی کرم اﷲ تعالی وجہہ الکریم نے انہیں تعلیم فرمایا۔
ابو نعیم حلیۃ الاولیاء میں بطریق امام شافعی عن یحیی بن سلیم امام جعفر صادق سےوہ حضرت امام باقروہ حضرت عبداﷲ بن جعفر طیاروہ امیر المؤمنین مولی علی رضی اﷲ تعالی عنھم سے راوی:
انہ خطب الناس یوما(فذکر خطبتہ ثم قال)فقام الیہ رجل ممن کان شھد معہ الجملفقال یاامیر المؤمنین اخبرنا عن القدرفقال بحر عمیق فلا تلجہقال یا امیر المؤمنین اخبرنا عن القدرقال سر اﷲ فلا تتکلفہقال یا امیر المؤمنین اخبرنا عن القدرقال اما اذا ابیت فانہ امر بین امرین لا جبر و لا تفویضقال یا امیر المؤمنین ان فلانا یقول بالاستطاعۃوھو حاضرکفقال علی بہ فاقاموہفلما راہ سل سیفہ قدر اربع اصابعفقال الاستطاعۃ تملکھا یعنی ایك دن امیر المؤمنین خطبہ فرمارہے تھےایك شخص نے کہ واقعہ جمل میں امیر المؤمنین کے ساتھ تھے کھڑے ہوکر عرض کی:یا امیر المؤمنین ! ہمیں مسئلہ تقدیر سے خبر دیجئے فرمایا:گہرا دریا ہے اس میں قدم نہ رکھعرض کی:یا امیر المؤمنین ! ہمیں خبر دیجئےفرمایا:اﷲ کا راز ہے زبردستی اس کابوجھ نہ اٹھا۔عرض کی:یا امیرا لمؤمنین ہمیں خبر دیجئے فرمایا:اگر نہیں مانتا تو ایك امر ہے دو امروں کے درمیاننہ آدمی مجبور محض ہے نہ اختیار اسے سپرد ہے۔عرض کی:یا امیر المؤمنین فلاں شخص کہتا ہے کہ آدمی اپنی قدرت سےکام کرتا ہےاور وہ حضور میں حاضر ہےمولی علی فرمایا:میرے سامنے لاؤلوگوں نے اسے کھڑا کیا۔جب امیر المؤمنین نے اسے دیکھا تیغ مبارك چار انگل کے قدر نیام سے
بندوں پر ظلم کروں۔
یہ آیتیں صاف ارشاد فرمارہی ہیں کہ بندہ خود ہی اپنی جان پرظلم کرتا ہے وہ اپنی ہی کرنی بھرتا ہے وہ ایك حرام کا اختیار وارادہ ضرور رکھتا ہےاب دونوں قسم کی سب آیتیں قطعا مسلمان کا ایمان ہیں۔بے شك بے شبہ بندہ کے افعال کاخالق بھی خدا ہی ہے۔بے شك بندہ بے ارادہ الہیہ کچھ نہیں کرسکتااور بے شك بندہ اپنی جان پر ظلم کرتا ہےبے شك وہ اپنی ہی بداعمالیوں کے سبب مستحق سزا ہے۔
یہ دونوں باتیں جمع نہیں ہوسکتیں مگر یونہی کہ عقیدہ اہل سنت وجماعت پرایمان لایاجائےوہ کیا بات ہے وہ جو اہل سنت کے سردار ومولی امیر المؤمنین علی مرتضی کرم اﷲ تعالی وجہہ الکریم نے انہیں تعلیم فرمایا۔
ابو نعیم حلیۃ الاولیاء میں بطریق امام شافعی عن یحیی بن سلیم امام جعفر صادق سےوہ حضرت امام باقروہ حضرت عبداﷲ بن جعفر طیاروہ امیر المؤمنین مولی علی رضی اﷲ تعالی عنھم سے راوی:
انہ خطب الناس یوما(فذکر خطبتہ ثم قال)فقام الیہ رجل ممن کان شھد معہ الجملفقال یاامیر المؤمنین اخبرنا عن القدرفقال بحر عمیق فلا تلجہقال یا امیر المؤمنین اخبرنا عن القدرقال سر اﷲ فلا تتکلفہقال یا امیر المؤمنین اخبرنا عن القدرقال اما اذا ابیت فانہ امر بین امرین لا جبر و لا تفویضقال یا امیر المؤمنین ان فلانا یقول بالاستطاعۃوھو حاضرکفقال علی بہ فاقاموہفلما راہ سل سیفہ قدر اربع اصابعفقال الاستطاعۃ تملکھا یعنی ایك دن امیر المؤمنین خطبہ فرمارہے تھےایك شخص نے کہ واقعہ جمل میں امیر المؤمنین کے ساتھ تھے کھڑے ہوکر عرض کی:یا امیر المؤمنین ! ہمیں مسئلہ تقدیر سے خبر دیجئے فرمایا:گہرا دریا ہے اس میں قدم نہ رکھعرض کی:یا امیر المؤمنین ! ہمیں خبر دیجئےفرمایا:اﷲ کا راز ہے زبردستی اس کابوجھ نہ اٹھا۔عرض کی:یا امیرا لمؤمنین ہمیں خبر دیجئے فرمایا:اگر نہیں مانتا تو ایك امر ہے دو امروں کے درمیاننہ آدمی مجبور محض ہے نہ اختیار اسے سپرد ہے۔عرض کی:یا امیر المؤمنین فلاں شخص کہتا ہے کہ آدمی اپنی قدرت سےکام کرتا ہےاور وہ حضور میں حاضر ہےمولی علی فرمایا:میرے سامنے لاؤلوگوں نے اسے کھڑا کیا۔جب امیر المؤمنین نے اسے دیکھا تیغ مبارك چار انگل کے قدر نیام سے
حوالہ / References
القرآن الکریم ۵۰ /۲۷و۲۹
مع اﷲ او من دون اﷲ وایاك ان تقول احدھما فترتد فاضرب عنقکقال فما اقول یا امیر المؤمنین قال قل املکھا باﷲ الذی ان شاء ملکنیھا ۔ نکال لی اور فرمایا:کام کی قدرت کا توخدا کے ساتھ مالك ہے یا خدا سےجدا مالك ہے اور سنتا ہے خبردار ان دونوں میں سے کوئی بات نہ کہنا کہ کافر ہوجائیگا اور میں تیری گردن مار دوں گا۔ اس نے کہا:یا ا میر المؤمنین ! پھر میں کیا کہوں فرمایا:یوں کہہ کہ اس خدا کے دیے سے اختیار رکھتا ہوں کہ اگر وہ چاہے تو مجھے اختیار دے بے اس کی مشیت کے مجھے کچھ اختیار نہیں۔
بس یہی عقیدہ اہلسنت ہے کہ انسان پتھر کی طرح مجبور محض ہے نہ خود مختاربلکہ ان دونوں کے بیچ میں ایك حالت ہےجس کی کنہ راز خدا اور ایك نہایت عمیق دریا ہے۔اﷲ عزوجل کی بے شمار رضا ئیں امیر المؤمنین علی پر نازل ہوں کہ ان دونوں الجھنوں کو دوفقروں میں صاف فرمادیاایك صاحب نے اسی بارےمیں سوال کیا کہ کیا معاصی بھی بے ارادہ الہیہ واقع نہیں ہوتے فرمایا تو کیا کو ئی زبردستی اس کی معصیت کرلے گا افیعصی قھرا یعنی وہ نہ چاہتا تھا کہ اس سے گناہ ہو مگر اس نے کرہی لیا تو اس کا ارادہ زبردست پڑا معاذاﷲ خدا بھی دنیا کےمجازی بادشاہوں کی طرح ہوا کہ وہ ڈاکوؤںچوروں کابہتیرا بندوبست کریں پھر بھی ڈاکو اور چور اپنا کام کر ہی گزرتے ہیں۔حاشا وہ ملك الملوك بادشاہ حقیقی قادر مطلق ہر گز ایسا نہیں کہ اس کےملك میں بے اس کےحکم کےایك ذرہ جنبش کرسکےوہ صاحب کہتے ہیں فکانما القمنی حجرا مولی علی نے یہ جواب دے کر گویا میرے منہ میں پتھر رکھ دیا کہ آگے کچھ کہتے بن ہی نہ پڑا۔عمرو بن عبید معتزلی کہ بندے کے افعال خداکے ارادہ سےنہ جانتا تھا کہ خود کہتا ہے کہ مجھے کسی نے ایسا الزام نہ دیا جیسا ایك مجوسی نےدیا جو میرے ساتھ جہاز میں تھامیں نے کہا تو مسلمان کیوں نہیں ہوتا کہا خدا نہیں چاہتامیں نے کہا خدا تو چاہتا ہے مگر شیطان تجھے نہیں چھوڑتےکہا تو میں شریك غالب کے ساتھ ہوںاسی ناپاك شناعت کے رد کی طرف مولی علی نے اشارہ فرمایا کہ وہ نہ چاہے تو کیا کوئی زبردستی اس کی معصیت کرلے گا۔باقی رہا اس مجوسی کا عذروہ بعینہ ایسا ہے کہ کوئی بھوکا ہے بھوك سے دم نکالا جاتا ہےکھاناسامنے رکھا ہے اور نہیں کھاتا کہ خدا کا ارادہ نہیںاس کا ارادہ ہوتا
بس یہی عقیدہ اہلسنت ہے کہ انسان پتھر کی طرح مجبور محض ہے نہ خود مختاربلکہ ان دونوں کے بیچ میں ایك حالت ہےجس کی کنہ راز خدا اور ایك نہایت عمیق دریا ہے۔اﷲ عزوجل کی بے شمار رضا ئیں امیر المؤمنین علی پر نازل ہوں کہ ان دونوں الجھنوں کو دوفقروں میں صاف فرمادیاایك صاحب نے اسی بارےمیں سوال کیا کہ کیا معاصی بھی بے ارادہ الہیہ واقع نہیں ہوتے فرمایا تو کیا کو ئی زبردستی اس کی معصیت کرلے گا افیعصی قھرا یعنی وہ نہ چاہتا تھا کہ اس سے گناہ ہو مگر اس نے کرہی لیا تو اس کا ارادہ زبردست پڑا معاذاﷲ خدا بھی دنیا کےمجازی بادشاہوں کی طرح ہوا کہ وہ ڈاکوؤںچوروں کابہتیرا بندوبست کریں پھر بھی ڈاکو اور چور اپنا کام کر ہی گزرتے ہیں۔حاشا وہ ملك الملوك بادشاہ حقیقی قادر مطلق ہر گز ایسا نہیں کہ اس کےملك میں بے اس کےحکم کےایك ذرہ جنبش کرسکےوہ صاحب کہتے ہیں فکانما القمنی حجرا مولی علی نے یہ جواب دے کر گویا میرے منہ میں پتھر رکھ دیا کہ آگے کچھ کہتے بن ہی نہ پڑا۔عمرو بن عبید معتزلی کہ بندے کے افعال خداکے ارادہ سےنہ جانتا تھا کہ خود کہتا ہے کہ مجھے کسی نے ایسا الزام نہ دیا جیسا ایك مجوسی نےدیا جو میرے ساتھ جہاز میں تھامیں نے کہا تو مسلمان کیوں نہیں ہوتا کہا خدا نہیں چاہتامیں نے کہا خدا تو چاہتا ہے مگر شیطان تجھے نہیں چھوڑتےکہا تو میں شریك غالب کے ساتھ ہوںاسی ناپاك شناعت کے رد کی طرف مولی علی نے اشارہ فرمایا کہ وہ نہ چاہے تو کیا کوئی زبردستی اس کی معصیت کرلے گا۔باقی رہا اس مجوسی کا عذروہ بعینہ ایسا ہے کہ کوئی بھوکا ہے بھوك سے دم نکالا جاتا ہےکھاناسامنے رکھا ہے اور نہیں کھاتا کہ خدا کا ارادہ نہیںاس کا ارادہ ہوتا
حوالہ / References
حلیۃ الاولیاء
قول مولی علی
قول مولی علی
تو میں ضرور کھالیتااس احمق سے یہی کہا جائے گا کہ خدا کا ارادہ نہ ہونا تونے کاہے سے جانا اسی سے کہ تو نہیں کھاتاتو کھانے کا قصد توکردیکھ تو ارادہ الہیہ سے کھانا ہوجائے گا۔ایسی اوندھی مت اسی کوآنی ہے جس پر موت سوار ہے۔غرض مولی علی نے یہ تو اس کا فیصلہ فرمایا کہ جو کچھ ہوتا ہے بے ارادہ الہیہ نہیں ہوسکتا۔
دوسر ی بات کہ جزاوسزا کیوں ہے !۔اس کا یوں فیصلہ ارشاد ہواابن ابی حاتم و اصبہانی و لالکائی وخلعی حضرت امام جعفر صادق وہ اپنے والد ماجد حضرت امام باقر رضی اﷲ تعالی عنھما سےروایت کرتے ہیں
قال قیل لعلی بن ابی طالب ان ھھنا رجلا یتکلم فی المشیئۃ فقال لہ علی یا عبداﷲ خلقك اﷲ لما یشاء او لما شئت قال بل لمایشاء قال فیمرضك اذا شاء أو اذا شئت قال بل اذا شاءقال فیمیتك اذا شاء او اذا شئت قال اذا شاءقال فیدخلك حیث شاء او حیث شئت قسال بل حیث یشاءقال واﷲ لو قلت غیر ذلك لضربت الذی فیہ عیناك بالسیف۔ثم تلا علی:وماتشاؤون الا ان یشاء اﷲ ھو اھل التقوی و اھل المغفرۃ
مولی علی سے عرض کی گئی کہ یہاں ایك شخص مشیت میں گفتگو کرتا ہےمولی علی نے اس سے فرمایااےخدا کےبندے ! خدا نے تجھے اس لئے پیدا کیا جس لئے اس نے چاہا یا اس لئے جس لئے تو نے چاہا کہا:جس لئے اس نے چاہا فرمایا: تجھے جب وہ چاہے بیمارکرتا ہے یا جب تو چاہے کہا:بلکہ جب وہ چاہے۔فرمایا:تجھے اس وقت وفات دے گا جب وہ چاہے یا جب تو چاہے کہا جب وہ چاہے۔فرمایا:توتجھے وہاں بھیجے گاجہاں وہ چاہے یا جہاں تو چاہے کہا:جہاں وہ چاہےفرمایا: خدا کی قسم تو اس کے سوا کچھ اور کہتا تو یہ جس میں تیری آنکھیں ہیں(یعنی تیراسر)تلوار سےمار دیتا۔پھر مولی علی نے یہ آیت کریمہ تلاوت فرمائی:" اور تم کیا چاہو مگر یہ کہ اﷲ چاہے وہ تقوی کا مستحق اور گناہ عفو فرمانے والا ہے۔"
خلاصہ یہ کہ جو چاہا کیا اور جو چاہے گا کرےبناتے وقت تجھ سے مشورہ نہ لیا تھا بھیجتے وقت بھی
دوسر ی بات کہ جزاوسزا کیوں ہے !۔اس کا یوں فیصلہ ارشاد ہواابن ابی حاتم و اصبہانی و لالکائی وخلعی حضرت امام جعفر صادق وہ اپنے والد ماجد حضرت امام باقر رضی اﷲ تعالی عنھما سےروایت کرتے ہیں
قال قیل لعلی بن ابی طالب ان ھھنا رجلا یتکلم فی المشیئۃ فقال لہ علی یا عبداﷲ خلقك اﷲ لما یشاء او لما شئت قال بل لمایشاء قال فیمرضك اذا شاء أو اذا شئت قال بل اذا شاءقال فیمیتك اذا شاء او اذا شئت قال اذا شاءقال فیدخلك حیث شاء او حیث شئت قسال بل حیث یشاءقال واﷲ لو قلت غیر ذلك لضربت الذی فیہ عیناك بالسیف۔ثم تلا علی:وماتشاؤون الا ان یشاء اﷲ ھو اھل التقوی و اھل المغفرۃ
مولی علی سے عرض کی گئی کہ یہاں ایك شخص مشیت میں گفتگو کرتا ہےمولی علی نے اس سے فرمایااےخدا کےبندے ! خدا نے تجھے اس لئے پیدا کیا جس لئے اس نے چاہا یا اس لئے جس لئے تو نے چاہا کہا:جس لئے اس نے چاہا فرمایا: تجھے جب وہ چاہے بیمارکرتا ہے یا جب تو چاہے کہا:بلکہ جب وہ چاہے۔فرمایا:تجھے اس وقت وفات دے گا جب وہ چاہے یا جب تو چاہے کہا جب وہ چاہے۔فرمایا:توتجھے وہاں بھیجے گاجہاں وہ چاہے یا جہاں تو چاہے کہا:جہاں وہ چاہےفرمایا: خدا کی قسم تو اس کے سوا کچھ اور کہتا تو یہ جس میں تیری آنکھیں ہیں(یعنی تیراسر)تلوار سےمار دیتا۔پھر مولی علی نے یہ آیت کریمہ تلاوت فرمائی:" اور تم کیا چاہو مگر یہ کہ اﷲ چاہے وہ تقوی کا مستحق اور گناہ عفو فرمانے والا ہے۔"
خلاصہ یہ کہ جو چاہا کیا اور جو چاہے گا کرےبناتے وقت تجھ سے مشورہ نہ لیا تھا بھیجتے وقت بھی
حوالہ / References
الدر المنثور بحوالہ ابن ابی حاتم واللالکائی فی السنۃ الخلفی فی فوائدہ عن علی تحت الآیۃ ۲۲ /۲۳ دار احیاء التراث العربی بیروت ۶ /۱۸و۱۹
نہ لے گاتمام عالم اس کی ملك ہےاورمالك سے دربارہ ملك سوال نہیں ہوسکتا۔
ابن عساکر نے حارث ہمدانی سےروایت کی ایك شخص نے آکر امیر المؤمنین مولی علی سے عرض کی:یاامیرالمؤمنین !مجھے مسئلہ تقدیر سے خبر دیجئے۔فرمایا:تاریك راستہ ہے اس میں نہ چل۔عرض کی:یا امیرالمؤمنین !مجھے خبر دیجئے۔فرمایا:گہرا سمندر ہے اور اس میں قدم نہ رکھعرض کی:یا امیرالمؤمنین ! فرمایا اﷲ کا راز ہے تجھ پر پوشیدہ ہے اسے نہ کھولعرض کی:یا امیرالمؤمنین !مجھے خبر دیجئے۔فرمایا:" ان اﷲ خالقك کما شاء او کما شئت " اﷲ نے تجھے جیسا اس نے چاہا بنایا یا جیسا تو نے چاہا عرض کی:جیسا اس نے چاہا:فرمایا:" فیستعملك کما شاء او کما شئت " توتجھ سےکام ویسا لے گا جیسا وہ چاہے یا جیسا تو چاہے عرض کی:جیساوہ چاہے۔فرمایا:" فیبعثك یوم القیمۃ کما شاء او کما شئت " تجھے قیامت کے دن جس طرح وہ چاہے گا اٹھائے گا یا جس طرح تو چاہے ۔کہا:جس طرح وہ چاہے۔فرمایا:"ایھا السائل تقول لا حول ولا قوۃ الا بمن " اے سائل! تو کہتا ہے کہ نہ طاقت ہے نہ قوت ہے مگر کس کی ذات سے ۔ کہا:اﷲ علی عظیم کی ذات سے۔فرمایا تو اس کی تفسیر جانتا ہے ۔عرض کی " امیرالمؤمنین کو جو علم اﷲ نے دیا ہے اس سے مجھے تعلیم فرمائیں۔فرمایا:"ان تفسیرھا لا یقدر علی طاعۃ اﷲ ولا یکون قوۃ فی معصیۃ اﷲ فی الامرین جمیعا الا باﷲ " اس کی تفسیر یہ ہے کہ نہ طاعت کی طاقتنہ معصیت کی قوت دونوں اﷲ ہی کے دیے سے ہیں۔پھر فرمایا:" ایھا السائل الك مع اﷲ مشیۃ او دون اﷲ مشیۃفان قلت ان لك دون اﷲ مشیۃفقد اکتفیت بھا عن مشیۃ اﷲ وان زعمت ان لك فوق اﷲ مشیۃ فقد ادعیت مع اﷲ شرکا فی مشیتہ "اے سائل:تجھے خدا کے ساتھ اپنے کام کا اختیار ہے یا بے خدا کے اگر تو کہے کہ بے خدا کے تجھے اختیار حاصل ہے تو تونے ارادہ الہیہ کی کچھ حاجت نہ رکھیجو چاہے خود اپنے ارادے سےکرلے گاخدا چاہے یا نہ چاہےاور یہ سمجھے کہ خدا سےاوپر تجھے اختیار حاصل ہے تو تونے اﷲ کے ارادے میں اپنے شریك ہونے کا دعوی کیا۔پھر فرمایا:ایھا السائل اﷲ یشج ویداوی فمنہ الداء ومنہ الدواء اعقلت عن اﷲ امرہ "۔اے سائل:بیشك اﷲ زخم پہنچاتا ہے اور اﷲ ہی دوادیتاہے تو اسی سےمرض ہے اور اسی سے دواکیوں تو نے اب تو اﷲ کا حکم سمجھ لیا ۔ا س نے عرض کی:ہاں۔حاضرین سے فرمایا:الان اسلم اخوکم فقوموا فصافحوا " اب تمھارا یہ بھائی مسلمان ہواکھڑے ہو اس سے مصافحہ کرو۔پھر فرمایا:لو ان عندی رجلا من القدریۃ لاخذت برقبتہ ثم لا ازال اجرھا حتی اقطعھافانھم یھود ھذہ الامۃ ونصاراھا ومجوسھا" اگر میرے پاس کوئی شخص ہو جو انسان کو اپنے افعال کا خالق
ابن عساکر نے حارث ہمدانی سےروایت کی ایك شخص نے آکر امیر المؤمنین مولی علی سے عرض کی:یاامیرالمؤمنین !مجھے مسئلہ تقدیر سے خبر دیجئے۔فرمایا:تاریك راستہ ہے اس میں نہ چل۔عرض کی:یا امیرالمؤمنین !مجھے خبر دیجئے۔فرمایا:گہرا سمندر ہے اور اس میں قدم نہ رکھعرض کی:یا امیرالمؤمنین ! فرمایا اﷲ کا راز ہے تجھ پر پوشیدہ ہے اسے نہ کھولعرض کی:یا امیرالمؤمنین !مجھے خبر دیجئے۔فرمایا:" ان اﷲ خالقك کما شاء او کما شئت " اﷲ نے تجھے جیسا اس نے چاہا بنایا یا جیسا تو نے چاہا عرض کی:جیسا اس نے چاہا:فرمایا:" فیستعملك کما شاء او کما شئت " توتجھ سےکام ویسا لے گا جیسا وہ چاہے یا جیسا تو چاہے عرض کی:جیساوہ چاہے۔فرمایا:" فیبعثك یوم القیمۃ کما شاء او کما شئت " تجھے قیامت کے دن جس طرح وہ چاہے گا اٹھائے گا یا جس طرح تو چاہے ۔کہا:جس طرح وہ چاہے۔فرمایا:"ایھا السائل تقول لا حول ولا قوۃ الا بمن " اے سائل! تو کہتا ہے کہ نہ طاقت ہے نہ قوت ہے مگر کس کی ذات سے ۔ کہا:اﷲ علی عظیم کی ذات سے۔فرمایا تو اس کی تفسیر جانتا ہے ۔عرض کی " امیرالمؤمنین کو جو علم اﷲ نے دیا ہے اس سے مجھے تعلیم فرمائیں۔فرمایا:"ان تفسیرھا لا یقدر علی طاعۃ اﷲ ولا یکون قوۃ فی معصیۃ اﷲ فی الامرین جمیعا الا باﷲ " اس کی تفسیر یہ ہے کہ نہ طاعت کی طاقتنہ معصیت کی قوت دونوں اﷲ ہی کے دیے سے ہیں۔پھر فرمایا:" ایھا السائل الك مع اﷲ مشیۃ او دون اﷲ مشیۃفان قلت ان لك دون اﷲ مشیۃفقد اکتفیت بھا عن مشیۃ اﷲ وان زعمت ان لك فوق اﷲ مشیۃ فقد ادعیت مع اﷲ شرکا فی مشیتہ "اے سائل:تجھے خدا کے ساتھ اپنے کام کا اختیار ہے یا بے خدا کے اگر تو کہے کہ بے خدا کے تجھے اختیار حاصل ہے تو تونے ارادہ الہیہ کی کچھ حاجت نہ رکھیجو چاہے خود اپنے ارادے سےکرلے گاخدا چاہے یا نہ چاہےاور یہ سمجھے کہ خدا سےاوپر تجھے اختیار حاصل ہے تو تونے اﷲ کے ارادے میں اپنے شریك ہونے کا دعوی کیا۔پھر فرمایا:ایھا السائل اﷲ یشج ویداوی فمنہ الداء ومنہ الدواء اعقلت عن اﷲ امرہ "۔اے سائل:بیشك اﷲ زخم پہنچاتا ہے اور اﷲ ہی دوادیتاہے تو اسی سےمرض ہے اور اسی سے دواکیوں تو نے اب تو اﷲ کا حکم سمجھ لیا ۔ا س نے عرض کی:ہاں۔حاضرین سے فرمایا:الان اسلم اخوکم فقوموا فصافحوا " اب تمھارا یہ بھائی مسلمان ہواکھڑے ہو اس سے مصافحہ کرو۔پھر فرمایا:لو ان عندی رجلا من القدریۃ لاخذت برقبتہ ثم لا ازال اجرھا حتی اقطعھافانھم یھود ھذہ الامۃ ونصاراھا ومجوسھا" اگر میرے پاس کوئی شخص ہو جو انسان کو اپنے افعال کا خالق
جانتااور تقدیر الہی سے وقوع طاقت ومعصیت کا انکا رکرتاہو تو میں اس کی گردن پکڑ کردبوچتا رہوں گا یہاں تك کہ الگ کاٹ دوںاس لئے کہ وہ اس امت کےیہودی اور نصرانی ومجوسی ہیں۔
یہودی اس لئے فرمایا کہ ان پر خدا کا غضب ہے اور یہود مغضوب علیہم ہیںاور نصرانی ومجوسی اس لئے فرمایا کہ نصاری تین خدا مانتے ہیںمجوسی یزدان واہرمن دو خالق مانتے ہیںیہ بے شمار خالقوں پر ایمان لارہے ہیں کہ ہر جن و انس کو اپنے افعال خالق گارہے ہیںو العیاذباﷲ رب العالمین۔
یہ اس مسئلہ میں اجمالی کلا م ہےمگر ان شاء اﷲ تعالی کافی و وافی وشافی جس سے ہدایت والے ہدایت پائیں گے اور ہدایت اﷲ ہی کےہاتھ ہےوﷲ الحمد و اﷲ سبحنہ و تعالی اعلم
____________
رسالہ
ثلج الصدر لایمان القدر
ختم ہوا
یہودی اس لئے فرمایا کہ ان پر خدا کا غضب ہے اور یہود مغضوب علیہم ہیںاور نصرانی ومجوسی اس لئے فرمایا کہ نصاری تین خدا مانتے ہیںمجوسی یزدان واہرمن دو خالق مانتے ہیںیہ بے شمار خالقوں پر ایمان لارہے ہیں کہ ہر جن و انس کو اپنے افعال خالق گارہے ہیںو العیاذباﷲ رب العالمین۔
یہ اس مسئلہ میں اجمالی کلا م ہےمگر ان شاء اﷲ تعالی کافی و وافی وشافی جس سے ہدایت والے ہدایت پائیں گے اور ہدایت اﷲ ہی کےہاتھ ہےوﷲ الحمد و اﷲ سبحنہ و تعالی اعلم
____________
رسالہ
ثلج الصدر لایمان القدر
ختم ہوا
رسالہ
التحبیر بباب التدبیر ۱۳۰۵ھ
(آرائش کلام مسئلہ تدبیر کے بارے میں)
بسم اﷲ الرحمن الرحیم ط
نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم ط
مسئلہ ۱۲۲: مسئولہ مولوی الہ یار خان صاحب ۲۰ ذی الحجہ ۱۳۰۵ھ
کیا فرماتے ہیں علماء دین اس مسئلہ میں کہ خالد یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ جو کچھ کام بھلایا برا ہوتا ہے سب خدا کی تقدیر سے ہوتا ہے۔اور تدبیرات کو کار دنیوی و اخروی میں امر مستحسن اور بہتر جانتا ہے۔
ولید خالد کو بوجہ مستحسن جاننے تدبیرات کے کافر کہتا ہےبلکہ اسے کافر سمجھ کر سلام و جواب سلام بھی ترك کردیا اور کہتا ہے کہ تدبیر کوئی چیز نہیںبالکل واہیات ہےاور جو اشخاص اپنے اطفال کو پڑھاتے لکھاتے ہیں۔(خواہ عربی خواہ انگریزی)وہ جھك مارتے ہیںگوہ کھاتے ہیںکیونکہ پڑھنا لکھنا تدبیر میں داخل ہے۔
التحبیر بباب التدبیر ۱۳۰۵ھ
(آرائش کلام مسئلہ تدبیر کے بارے میں)
بسم اﷲ الرحمن الرحیم ط
نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم ط
مسئلہ ۱۲۲: مسئولہ مولوی الہ یار خان صاحب ۲۰ ذی الحجہ ۱۳۰۵ھ
کیا فرماتے ہیں علماء دین اس مسئلہ میں کہ خالد یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ جو کچھ کام بھلایا برا ہوتا ہے سب خدا کی تقدیر سے ہوتا ہے۔اور تدبیرات کو کار دنیوی و اخروی میں امر مستحسن اور بہتر جانتا ہے۔
ولید خالد کو بوجہ مستحسن جاننے تدبیرات کے کافر کہتا ہےبلکہ اسے کافر سمجھ کر سلام و جواب سلام بھی ترك کردیا اور کہتا ہے کہ تدبیر کوئی چیز نہیںبالکل واہیات ہےاور جو اشخاص اپنے اطفال کو پڑھاتے لکھاتے ہیں۔(خواہ عربی خواہ انگریزی)وہ جھك مارتے ہیںگوہ کھاتے ہیںکیونکہ پڑھنا لکھنا تدبیر میں داخل ہے۔
پس ولید نے خالد کو جو کافر کہا تو وہ کافر ہے یا نہیں اور نہیں ہے تو کہنے والے کے لیے کیا گناہ و تعزیر ہے۔بینوا توجروا(بیان فرماؤ اجر دیئے جاؤ گے ت)
الجواب:
بسم اﷲ الرحمن الرحیم
الحمدﷲ الذی قدر الکائنات وربط بالاسباب المسببات والصلوۃ و السلام علی سید المتوکلین سرا و جھراوامام العالمین والمدبرات امرا وعلی الہ و صحبہ الذین باطنھم توکلوظاھر ھم فی الکدوالعمل۔ تمام تعریف اﷲ کے لیے جس نے تمام ہونے والی چیزیں مقدر فرمائیں اور مسببات کا اسباب سے ربط رکھا اور درود و سلام خفیہ اور علانیہ توکل کرنے والوں کے سردار اور تمام عالموں کے امام پر اور ان پر جو کام کی تدبیر کرنے والے ہیں اور ان کی آل و اصحاب پر جن کا باطن متوکل ہے اور ان کا ظاہر محنت و عمل میں لگا ہوا ہے۔(ت)
بے شك خالد سچااور اس کا یہ عقیدہ خاص اہل حق کا عقیدہ ہے۔فی الواقع عالم میں جو کچھ ہوتا ہے سب اﷲ جل جلالہ کی تقدیر سے ہے۔قال تعالی(اﷲ تعالی نے فرمایا):
"وکل صغیر وکبیر مستطر ﴿۵۳﴾ "۔ ہر چھوٹی بڑی چیز لکھی ہوئی ہے۔ت)
وقال تعالی(اﷲ تعالی نے فرمایا):
"وکل شیء احصینہ فی امام مبین ﴿۱۲﴾ "۔ اور ہر چیز ہم نے گن رکھی ہے ایك بتانے والی کتاب میں (ت)
وقال تعالی(اور اﷲ تعالی نے فرمایا):
" ولا رطب و لا یابس الا فی کتب مبین ﴿۵۹﴾" ۔ او رنہ کوئی تر اور نہ کوئی خشك جو ایك روشن کتاب میں لکھا نہ ہو۔(ت)
الی غیر ذ لك من الایات والاحادیث(اس کے علاوہ اور بھی آیات و احادیث ہیں۔ت)
الجواب:
بسم اﷲ الرحمن الرحیم
الحمدﷲ الذی قدر الکائنات وربط بالاسباب المسببات والصلوۃ و السلام علی سید المتوکلین سرا و جھراوامام العالمین والمدبرات امرا وعلی الہ و صحبہ الذین باطنھم توکلوظاھر ھم فی الکدوالعمل۔ تمام تعریف اﷲ کے لیے جس نے تمام ہونے والی چیزیں مقدر فرمائیں اور مسببات کا اسباب سے ربط رکھا اور درود و سلام خفیہ اور علانیہ توکل کرنے والوں کے سردار اور تمام عالموں کے امام پر اور ان پر جو کام کی تدبیر کرنے والے ہیں اور ان کی آل و اصحاب پر جن کا باطن متوکل ہے اور ان کا ظاہر محنت و عمل میں لگا ہوا ہے۔(ت)
بے شك خالد سچااور اس کا یہ عقیدہ خاص اہل حق کا عقیدہ ہے۔فی الواقع عالم میں جو کچھ ہوتا ہے سب اﷲ جل جلالہ کی تقدیر سے ہے۔قال تعالی(اﷲ تعالی نے فرمایا):
"وکل صغیر وکبیر مستطر ﴿۵۳﴾ "۔ ہر چھوٹی بڑی چیز لکھی ہوئی ہے۔ت)
وقال تعالی(اﷲ تعالی نے فرمایا):
"وکل شیء احصینہ فی امام مبین ﴿۱۲﴾ "۔ اور ہر چیز ہم نے گن رکھی ہے ایك بتانے والی کتاب میں (ت)
وقال تعالی(اور اﷲ تعالی نے فرمایا):
" ولا رطب و لا یابس الا فی کتب مبین ﴿۵۹﴾" ۔ او رنہ کوئی تر اور نہ کوئی خشك جو ایك روشن کتاب میں لکھا نہ ہو۔(ت)
الی غیر ذ لك من الایات والاحادیث(اس کے علاوہ اور بھی آیات و احادیث ہیں۔ت)
مگر تدبیر زنہار معطل نہیں۔دنیا عالم اسباب ہے۔رب جل مجدہ نے اپنی حکمت بالغہ کے مطابق اس میں مسببات کو اسباب سے ربط دیا۔اور سنت الہیہ جاری ہوئی کہ سبب کے بعد مسبب پیدا ہو۔
جس طرح تقدیر کو بھول کر تدبیر پرپھولنا کفار کی خصلت ہے یونہی تدبیر کو محض عبث و مطر ود وفضول و مردود بتانا کسی کھلے گمراہ یا سچے مجنون کا کام ہے جس کی رو سے صدہا آیات و احادیث سے اعراض اور انبیاء و صحابہ وائمہ و اولیاء سب پر طعن و اعتراض لازم آتا ہے۔حضرات مرسلین صلوات اﷲ تعالی و سلامہ علیہم اجمعین(اﷲ کے درود و سلام ہوں ان سب پر)سے زیادہ کس کا توکل اور ان سے بڑھ کر تقدیر الہی پر کس کا ایمان۔پھر وہ بھی ہمیشہ تدبیر فرماتے اوراس کی راہیں بتاتے اور خود کسب حلال میں سعی کرکے رزق طیب کھاتے۔
(۱)داؤد علیہ السلام زر ہیں بناتے۔قال اﷲ تعالی(اﷲ تعالی نے فرمایا۔ت)
"و علمنہ صنعۃ لبوس لکم لتحصنکم من باسکم فہل انتم شکرون ﴿۸۰﴾ " ۔ اور ہم نے اسے تمہارا ایك پہناوا بنانا سکھایا کہ تمہیں تمہاری آنچ سے بچائےتو کیا تم شکر کرو گے۔ت)
(۲)وقال تعالی(اور اﷲ تعالی نے فرمایا۔ت)
"و النا لہ الحدید ﴿۱۰﴾ ان اعمل سبغت و قدر فی السرد و اعملوا صلحا انی بما تعملون بصیر ﴿۱۱﴾ " ۔ اور ہم نے اس کے لیے لوہا نرم کیا کہ وسیع زرہیں بنا اور بنانے میں اندازے کا لحاظ رکھ اور تم سب نیکی کرو بے شك میں تمہارے کام دیکھ رہا ہوں(ت)
(۳)موسی علیہ السلام نے دس برس شعیب علیہ الصلوۃ والسلام کی بکریاں اجرت پر چرائیں۔قال تعالی(اﷲ تعالی نے فرمایا۔ت)
"قال انی ارید ان انکحک احدی ابنتی ہتین علی ان تاجرنی ثمنی حجج فان اتممت عشرا فمن عندک وما ارید ان اشق علیک ستجدنی کہا میں چاہتا ہوں کہ اپنی دونوں بیٹیوں میں سے ایك تمہیں بیاہ دوں اس مہر پر کہ تم آٹھ برس میری ملازمت کروپھر اگر پورے دس برس کرلو تو تمہاری طرف سے ہے اور تمہیں مشقت میں ڈالنا
جس طرح تقدیر کو بھول کر تدبیر پرپھولنا کفار کی خصلت ہے یونہی تدبیر کو محض عبث و مطر ود وفضول و مردود بتانا کسی کھلے گمراہ یا سچے مجنون کا کام ہے جس کی رو سے صدہا آیات و احادیث سے اعراض اور انبیاء و صحابہ وائمہ و اولیاء سب پر طعن و اعتراض لازم آتا ہے۔حضرات مرسلین صلوات اﷲ تعالی و سلامہ علیہم اجمعین(اﷲ کے درود و سلام ہوں ان سب پر)سے زیادہ کس کا توکل اور ان سے بڑھ کر تقدیر الہی پر کس کا ایمان۔پھر وہ بھی ہمیشہ تدبیر فرماتے اوراس کی راہیں بتاتے اور خود کسب حلال میں سعی کرکے رزق طیب کھاتے۔
(۱)داؤد علیہ السلام زر ہیں بناتے۔قال اﷲ تعالی(اﷲ تعالی نے فرمایا۔ت)
"و علمنہ صنعۃ لبوس لکم لتحصنکم من باسکم فہل انتم شکرون ﴿۸۰﴾ " ۔ اور ہم نے اسے تمہارا ایك پہناوا بنانا سکھایا کہ تمہیں تمہاری آنچ سے بچائےتو کیا تم شکر کرو گے۔ت)
(۲)وقال تعالی(اور اﷲ تعالی نے فرمایا۔ت)
"و النا لہ الحدید ﴿۱۰﴾ ان اعمل سبغت و قدر فی السرد و اعملوا صلحا انی بما تعملون بصیر ﴿۱۱﴾ " ۔ اور ہم نے اس کے لیے لوہا نرم کیا کہ وسیع زرہیں بنا اور بنانے میں اندازے کا لحاظ رکھ اور تم سب نیکی کرو بے شك میں تمہارے کام دیکھ رہا ہوں(ت)
(۳)موسی علیہ السلام نے دس برس شعیب علیہ الصلوۃ والسلام کی بکریاں اجرت پر چرائیں۔قال تعالی(اﷲ تعالی نے فرمایا۔ت)
"قال انی ارید ان انکحک احدی ابنتی ہتین علی ان تاجرنی ثمنی حجج فان اتممت عشرا فمن عندک وما ارید ان اشق علیک ستجدنی کہا میں چاہتا ہوں کہ اپنی دونوں بیٹیوں میں سے ایك تمہیں بیاہ دوں اس مہر پر کہ تم آٹھ برس میری ملازمت کروپھر اگر پورے دس برس کرلو تو تمہاری طرف سے ہے اور تمہیں مشقت میں ڈالنا
ان شاء اللہ من الصلحین ﴿۲۷﴾ قال ذلک بینی و بینک ایما الاجلین قضیت فلا عدون علی واللہ علی ما نقول وکیل ﴿۲۸﴾ فلما قضی موسی الاجل وسار باہلہ"الایۃ ۔ نہیں چاہتا قریب ہے ان شاء اﷲ تم مجھے نیکوں میں پاؤ گے۔ موسی نے کہا یہ میرے اور آپ کے درمیان اقرار ہوچکا میں ان دونوں میں جو میعاد پوری کردوں تو مجھ پر کوئی مطالبہ نہیں اور ہمارے اس کہے پر اﷲ کا ذمہ ہے پھر جب موسی نے اپنی میعاد پوری کردی اور اپنی بیوی کو لے کر چلا۔(ت)
خود حضور پرنور سید المرسلین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم حضرت ام المومنین خدیجہ رضی اﷲ تعالی عنہ کا مال بطور مضاربت لے کر شام کو تشریف فرماہوئے۔حضر ت امیر المومنین عثمان غنی و حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اﷲ تعالی عنہما بڑے نامی گرامی تاجر تھے۔حضرت امام اعظم قدس سرہ الاکرم بزاری کرتےبلکہ ولید منکر تدبیر خود کیا تدبیر سے خالی ہوگا ہم نے فرض کیا کہ وہ زراعت تجارتنوکری حرفت کچھ نہ کرتا ہو آخر اپنے لیے کھانا پکاتا یا پکواتا ہوگا۔آٹا پیسناگوندھناپکانا یہ کیا تدبیر نہیں یہ بھی جانے دیجئے اگر بغیر اس کے سوال یا اشارہ و ایما کے خود بخود پکی پکائی اسے مل جاتی ہوتاہم نوالہ بنانامنہ تك لاناچبانا نگلنا یہ بھی تدبیرتدبیر کو معطل کرے تو اس سے بھی باز آئے کہ تقدیرالہی میں زندگی لکھی ہے بے کھائے جئے گا یا قدرت الہی سے پیٹ بھر جائے گا یا خود بخود کھانا معدے میں چلا جائے گا۔ورنہ ان باتوں سے بھی کچھ حاصل نہ ہوگا۔کہ مذہب اہلسنت میں نہ پانی پیاس بجھاتا ہے۔نہ کھانا بھوك کھوتا ہے۔بلکہ یہ سب اسباب عادیہ میں ہیں جن سے اﷲ تعالی نے مسببات کو مربوط فرمایا اور اپنی عادت جاریہ ك مطابق ان کے بعد سیری و سیرابی فرماتا ہے۔وہ نہ چاہے تو گھڑے چڑھائےدھڑیوں کھا جائے۔ عـــــہ۱ کچھ مفید نہ ہوگا۔آخر مرض استسقاء وجوع البقر عــــــہ۲ میں کیا ہوتا ہے۔وہی کھاناپانی جو پہلے سیر و سیراب کرتا تھا اب کیوں محض بے کار ہوجاتا ہے۔اوراگر وہ چاہے تو بے کھائے پئے بھوك پیاس پاس نہ آئےجیسے زمانہ دجال میں اہل ایمان کی پرورش فرمائے گا۔اور ملائکہ کا بے آب و غذا زندگی کرنا کسے نہیں معلوم۔مگر یہ انسان میں خرق عادت ہے جس پر
عــــــہ۱:دھڑی:دس سیر یا پانچ سیر کا وزن ۱۲ مصباحی ۔
عــــــہ۲:جوع البقر:اس بیماری میں کتنا بھی کھائے بھوك نہیں جاتی جس طرح استسقاء میں جس قدر بھی پئے پیاس نہیں جاتی۔ م
خود حضور پرنور سید المرسلین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم حضرت ام المومنین خدیجہ رضی اﷲ تعالی عنہ کا مال بطور مضاربت لے کر شام کو تشریف فرماہوئے۔حضر ت امیر المومنین عثمان غنی و حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اﷲ تعالی عنہما بڑے نامی گرامی تاجر تھے۔حضرت امام اعظم قدس سرہ الاکرم بزاری کرتےبلکہ ولید منکر تدبیر خود کیا تدبیر سے خالی ہوگا ہم نے فرض کیا کہ وہ زراعت تجارتنوکری حرفت کچھ نہ کرتا ہو آخر اپنے لیے کھانا پکاتا یا پکواتا ہوگا۔آٹا پیسناگوندھناپکانا یہ کیا تدبیر نہیں یہ بھی جانے دیجئے اگر بغیر اس کے سوال یا اشارہ و ایما کے خود بخود پکی پکائی اسے مل جاتی ہوتاہم نوالہ بنانامنہ تك لاناچبانا نگلنا یہ بھی تدبیرتدبیر کو معطل کرے تو اس سے بھی باز آئے کہ تقدیرالہی میں زندگی لکھی ہے بے کھائے جئے گا یا قدرت الہی سے پیٹ بھر جائے گا یا خود بخود کھانا معدے میں چلا جائے گا۔ورنہ ان باتوں سے بھی کچھ حاصل نہ ہوگا۔کہ مذہب اہلسنت میں نہ پانی پیاس بجھاتا ہے۔نہ کھانا بھوك کھوتا ہے۔بلکہ یہ سب اسباب عادیہ میں ہیں جن سے اﷲ تعالی نے مسببات کو مربوط فرمایا اور اپنی عادت جاریہ ك مطابق ان کے بعد سیری و سیرابی فرماتا ہے۔وہ نہ چاہے تو گھڑے چڑھائےدھڑیوں کھا جائے۔ عـــــہ۱ کچھ مفید نہ ہوگا۔آخر مرض استسقاء وجوع البقر عــــــہ۲ میں کیا ہوتا ہے۔وہی کھاناپانی جو پہلے سیر و سیراب کرتا تھا اب کیوں محض بے کار ہوجاتا ہے۔اوراگر وہ چاہے تو بے کھائے پئے بھوك پیاس پاس نہ آئےجیسے زمانہ دجال میں اہل ایمان کی پرورش فرمائے گا۔اور ملائکہ کا بے آب و غذا زندگی کرنا کسے نہیں معلوم۔مگر یہ انسان میں خرق عادت ہے جس پر
عــــــہ۱:دھڑی:دس سیر یا پانچ سیر کا وزن ۱۲ مصباحی ۔
عــــــہ۲:جوع البقر:اس بیماری میں کتنا بھی کھائے بھوك نہیں جاتی جس طرح استسقاء میں جس قدر بھی پئے پیاس نہیں جاتی۔ م
حوالہ / References
القرآن الکریم ۲۸ /۲۷تا۲۹
ہاتھ پاؤں توڑ کر بیٹھنا جہل و حماقتیہاں تك کہ اگر تقدیر پر بھروسہ کا جھوٹا نام کرکے خوردو نوش کا عہد کرے اور بھوك پیاس سے مرجائےبے شك حرام موت مرے اور اﷲ تعالی کا گنہگار ٹھہرے۔مرگ بھی تو تقدیر سے ہےپھر اﷲ تعالی نے کیوں فرمایا۔
" ولا تلقوا بایدیکم الی التہلکۃ""۔ اپنے ہاتھوں اپنی جان ہلاکت میں نہ ڈالو۔
گرچہ مردن مقدر است ولے تو مرو در دہان اژدہا
(اگرچہ موت مقدر ہے لیکن از خود اژدہوں اور سانپوں کے منہ میں نہ جا۔ت)
ہم نے مانا کہ ولید اپنے دعوے پر ایسا مضبوط ہو کہ یك لخت ترك اسباب کرکے پیمان واثق(پکا عہد)کرلے کہ اصلا دست و پانہ ہلائے نہ اشارۃ نہ کنایۃ کسی تدبیر کے پاس جائے گا خدا کے حکم سے پیٹ بھرے تو بہتر ورنہ مرنا قبولتاہم اﷲ تعالی سے سوال کرے گا یہ کیا تدبیرنہیں کہ دعا خود موثر حقیقی کب ہے صرف حصول مراد کا ایك سبب ہےاور تدبیر کا ہے کانام ہے۔رب جل جلالہ فرماتا ہے:
(۵)"و قال ربکم ادعونی استجب لکم " ۔ تمہارے رب نے فرمایا مجھ سے دعا کرو میں قبول کروں گا۔
وہ قادر تھے کہ بے دعا مراد بخشےپھر اس تدبیر کی طرف کیوں ہدایت فرمائی اور وہ بھی اس تاکید کے ساتھ کہ حدیث میں حضور سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا۔
حدیث ۱:
من لم یدع اﷲ غضب علیہ ۔ جو اﷲ سے دعا نہ کرے گا اﷲ تعالی اس پر غضب
" ولا تلقوا بایدیکم الی التہلکۃ""۔ اپنے ہاتھوں اپنی جان ہلاکت میں نہ ڈالو۔
گرچہ مردن مقدر است ولے تو مرو در دہان اژدہا
(اگرچہ موت مقدر ہے لیکن از خود اژدہوں اور سانپوں کے منہ میں نہ جا۔ت)
ہم نے مانا کہ ولید اپنے دعوے پر ایسا مضبوط ہو کہ یك لخت ترك اسباب کرکے پیمان واثق(پکا عہد)کرلے کہ اصلا دست و پانہ ہلائے نہ اشارۃ نہ کنایۃ کسی تدبیر کے پاس جائے گا خدا کے حکم سے پیٹ بھرے تو بہتر ورنہ مرنا قبولتاہم اﷲ تعالی سے سوال کرے گا یہ کیا تدبیرنہیں کہ دعا خود موثر حقیقی کب ہے صرف حصول مراد کا ایك سبب ہےاور تدبیر کا ہے کانام ہے۔رب جل جلالہ فرماتا ہے:
(۵)"و قال ربکم ادعونی استجب لکم " ۔ تمہارے رب نے فرمایا مجھ سے دعا کرو میں قبول کروں گا۔
وہ قادر تھے کہ بے دعا مراد بخشےپھر اس تدبیر کی طرف کیوں ہدایت فرمائی اور وہ بھی اس تاکید کے ساتھ کہ حدیث میں حضور سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا۔
حدیث ۱:
من لم یدع اﷲ غضب علیہ ۔ جو اﷲ سے دعا نہ کرے گا اﷲ تعالی اس پر غضب
حوالہ / References
القرآن الکریم ۲ /۱۹۵
القرآن الکریم ۴۰ /۶۰
المصنف لابن ابی شیبہ کتاب الدعاء باب فی فضل الدعا حدیث ۹۲۱۸ ادارۃ القرآن کراچی ۱۰/ ۲۰۰،مسند احمد بن حنبل عن ابی ہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۲ /۴۴۳،جامع الترمذی ابواب الدعوات باب منہ امین کمپنی دہلی ۲/ ۱۷۳،سنن ابن ماجہ ابواب الدعاء باب فضل الدعاء ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص ۲۸۰،المستدرک للحاکم کتاب الدعاء باب من لم یدع اﷲ الخ دارالفکر بیروت ۱/ ۴۹۱
القرآن الکریم ۴۰ /۶۰
المصنف لابن ابی شیبہ کتاب الدعاء باب فی فضل الدعا حدیث ۹۲۱۸ ادارۃ القرآن کراچی ۱۰/ ۲۰۰،مسند احمد بن حنبل عن ابی ہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۲ /۴۴۳،جامع الترمذی ابواب الدعوات باب منہ امین کمپنی دہلی ۲/ ۱۷۳،سنن ابن ماجہ ابواب الدعاء باب فضل الدعاء ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص ۲۸۰،المستدرک للحاکم کتاب الدعاء باب من لم یدع اﷲ الخ دارالفکر بیروت ۱/ ۴۹۱
رواہ الائمۃ احمد فی المسند وابوبکر بن ابی شیبۃ و اللفظ لہ فی المصنف و البخاری فی الادب المفرد و الترمذی فی الجامع و ابن ماجۃ فی السنن والحاکم فی المستدرك عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ۔ فرمائے گا(اس کوائمہ نے روایت کیا احمد نے مسند میں ابو بکر بن ابی شیبہ نے مصنف میں اور لفظ اسی کے ہیں بخاری نے ادب المفرد میں ترمذی نے جامع میںابن ماجہ نے سنن میں اور حاکم نے مستدرك میں ابوہریرہ سے۔اﷲ تعالی ان پر راضی ہو۔ت)
بلکہ خلافت و سلطنت و قضاو جہاد وحدود قصاص وغیرہا یہ تمام امور شرعیہ عین تدبیر ہیں کہ انتظام عالم و ترویج دین و دفع مفسدین کے لیے اس عالم اسباب میں مقرر ہوئے۔
(۶)وقال تعالی(اﷲ تعالی نے فرمایا۔ت)
" اطیعوا اللہ واطیعوا الرسول و اولی الامر منکم " ۔ حکم مانو اﷲ کا اور حکم مانو رسول کا اور انکا جو تم میں حکومت والے ہیں۔ت)
(۷)وقال تعالی(اور اﷲ تعالی نے فرمایا۔(ت)
" وقتلوہم حتی لا تکون فتنۃ و یکون الدین کلہ للہ " ۔ اور ان سے لڑو یہاں تك کہ کوئی فساد باقی نہ رہی اور سارا دین اﷲ کا ہوجائے۔(ت)
(۸)و قال تعالی(اﷲ تعالی نے فرمایا۔ت)
" ولولا دفع اللہ الناس بعضہم ببعض لفسدت الارض ولکن اللہ ذو فضل علی العلمین﴿۲۵۱﴾" ۔ اور اگر اﷲ لوگوں میں بعض سے بعض کو دفع نہ کرے تو ضرور زمین تباہ ہوجائے مگر اﷲ سارے جہان پر فضل کرنے والا ہے۔(ت)
(۹)وقال تعالی(اﷲ تعالی نے فرمایا۔ت)
" ولولا دفع اللہ الناس بعضہم ببعض لہدمت صومع و بیع وصلوت و مسجد یذکر فیہا اور اﷲ اگر آدمیوں میں ایك کو دوسرے سے دفع نہ فرماتا تو ضرور ڈھادی جاتیں خانقا ہیں اور گرجے اور کلیسے اور مسجدیں جن میں اﷲ کا بکثرت نام
بلکہ خلافت و سلطنت و قضاو جہاد وحدود قصاص وغیرہا یہ تمام امور شرعیہ عین تدبیر ہیں کہ انتظام عالم و ترویج دین و دفع مفسدین کے لیے اس عالم اسباب میں مقرر ہوئے۔
(۶)وقال تعالی(اﷲ تعالی نے فرمایا۔ت)
" اطیعوا اللہ واطیعوا الرسول و اولی الامر منکم " ۔ حکم مانو اﷲ کا اور حکم مانو رسول کا اور انکا جو تم میں حکومت والے ہیں۔ت)
(۷)وقال تعالی(اور اﷲ تعالی نے فرمایا۔(ت)
" وقتلوہم حتی لا تکون فتنۃ و یکون الدین کلہ للہ " ۔ اور ان سے لڑو یہاں تك کہ کوئی فساد باقی نہ رہی اور سارا دین اﷲ کا ہوجائے۔(ت)
(۸)و قال تعالی(اﷲ تعالی نے فرمایا۔ت)
" ولولا دفع اللہ الناس بعضہم ببعض لفسدت الارض ولکن اللہ ذو فضل علی العلمین﴿۲۵۱﴾" ۔ اور اگر اﷲ لوگوں میں بعض سے بعض کو دفع نہ کرے تو ضرور زمین تباہ ہوجائے مگر اﷲ سارے جہان پر فضل کرنے والا ہے۔(ت)
(۹)وقال تعالی(اﷲ تعالی نے فرمایا۔ت)
" ولولا دفع اللہ الناس بعضہم ببعض لہدمت صومع و بیع وصلوت و مسجد یذکر فیہا اور اﷲ اگر آدمیوں میں ایك کو دوسرے سے دفع نہ فرماتا تو ضرور ڈھادی جاتیں خانقا ہیں اور گرجے اور کلیسے اور مسجدیں جن میں اﷲ کا بکثرت نام
اسم اللہ کثیرا " ۔ لیا جاتا ہے۔(ت)
دیکھو صاف ارشاد فرمایا جاتا ہے کہ جہاد اسی لیے مقرر ہوا کہ فتنے فرو ہوں اور دین حق پھیلے۔اگر یہ نہ ہوتا تو زمین تباہ ہوجاتی اور مسجدیں اور عبادت خانے ڈھائے جاتے۔(۱۰)وقال تعالی(اور اﷲ تعالی نے فرمایا۔ت)
" الا تفعلوہ تکن فتنۃ فی الارض وفسد کبیر ﴿۷۳﴾" ۔ ایسا نہ کرو گے تو زمین میں فتنہ اور بڑا فساد ہوگا۔(ت)
فتنہ کفر کی قوتاور فساد کبیر ضعف اسلام۔
(۱۱)وقال تعالی(اور اﷲ تعالی نے فرمایا۔ت)
" ولکم فی القصاص حیوۃ یاولی الالبب لعلکم تتقون﴿۱۷۹﴾ " ۔ اور خون کا بدلہ لینے میں تمہاری زندگی ہے اے عقلمند و کہ تم کہیں بچو۔ت)
یعنی خون کے بدلے خون لو گے تو مفسدوں کے ہاتھ رکیں گے اور بے گناہوں کی جانیں بچیں گیاور اسی لیے حد جاری کرتے وقت حکم ہوا کہ مسلمان جمع ہو کر دیکھیں تاکہ موجب عبرت ہو۔(۱۲)قال تعالی(اﷲ تعالی نے فرمایا ت)
" و لیشہد عذابہما طائفۃ من المؤمنین ﴿۲﴾" ۔ اور چاہیے کہ ان کی سزا کے وقت مسلمانوں کا ایك گروہ حاضر ہو۔(ت)
بلکہ اور ترقی کیجئے تو نمازروزہحجزکوۃ وغیرہا تمام اعمال دینیہ خود ایك تدبیراور رضائے الہی و ثواب نامتناہی ملنے اور عذاب و غضب سے نجات پانے کے اسباب ہیں۔(۱۳)قال تعالی(اﷲ تعالی نے فرمایا۔ت)
" و من اراد الاخرۃ وسعی لہا سعیہا و ہو مؤمن فاولئک کان سعیہم مشکورا ﴿۱۹﴾" ۔ اور جو آخرت چاہے اور اس کی سی کوشش کرے اور ہو ایمان والاتو انہیں کی کوشش ٹھکانے لگی۔(ت)
اگرچہ ازل میں ٹھہر چکا کہ:
" فریق فی الجنۃ و فریق فی السعیر ﴿۷﴾" ۔ ایك گروہ جنت میں ہے اور ایك گروہ دوزخ میں۔(ت)
دیکھو صاف ارشاد فرمایا جاتا ہے کہ جہاد اسی لیے مقرر ہوا کہ فتنے فرو ہوں اور دین حق پھیلے۔اگر یہ نہ ہوتا تو زمین تباہ ہوجاتی اور مسجدیں اور عبادت خانے ڈھائے جاتے۔(۱۰)وقال تعالی(اور اﷲ تعالی نے فرمایا۔ت)
" الا تفعلوہ تکن فتنۃ فی الارض وفسد کبیر ﴿۷۳﴾" ۔ ایسا نہ کرو گے تو زمین میں فتنہ اور بڑا فساد ہوگا۔(ت)
فتنہ کفر کی قوتاور فساد کبیر ضعف اسلام۔
(۱۱)وقال تعالی(اور اﷲ تعالی نے فرمایا۔ت)
" ولکم فی القصاص حیوۃ یاولی الالبب لعلکم تتقون﴿۱۷۹﴾ " ۔ اور خون کا بدلہ لینے میں تمہاری زندگی ہے اے عقلمند و کہ تم کہیں بچو۔ت)
یعنی خون کے بدلے خون لو گے تو مفسدوں کے ہاتھ رکیں گے اور بے گناہوں کی جانیں بچیں گیاور اسی لیے حد جاری کرتے وقت حکم ہوا کہ مسلمان جمع ہو کر دیکھیں تاکہ موجب عبرت ہو۔(۱۲)قال تعالی(اﷲ تعالی نے فرمایا ت)
" و لیشہد عذابہما طائفۃ من المؤمنین ﴿۲﴾" ۔ اور چاہیے کہ ان کی سزا کے وقت مسلمانوں کا ایك گروہ حاضر ہو۔(ت)
بلکہ اور ترقی کیجئے تو نمازروزہحجزکوۃ وغیرہا تمام اعمال دینیہ خود ایك تدبیراور رضائے الہی و ثواب نامتناہی ملنے اور عذاب و غضب سے نجات پانے کے اسباب ہیں۔(۱۳)قال تعالی(اﷲ تعالی نے فرمایا۔ت)
" و من اراد الاخرۃ وسعی لہا سعیہا و ہو مؤمن فاولئک کان سعیہم مشکورا ﴿۱۹﴾" ۔ اور جو آخرت چاہے اور اس کی سی کوشش کرے اور ہو ایمان والاتو انہیں کی کوشش ٹھکانے لگی۔(ت)
اگرچہ ازل میں ٹھہر چکا کہ:
" فریق فی الجنۃ و فریق فی السعیر ﴿۷﴾" ۔ ایك گروہ جنت میں ہے اور ایك گروہ دوزخ میں۔(ت)
" فریق فی الجنۃ و فریق فی السعیر ﴿۷﴾" ۔ ایك گروہ جنت میں ہے اور ایك گروہ دوزخ میں۔(ت)
پھر بھی اعمال فرض کیے کہ جس کے مقدر میں جو لکھا ہے اسے وہی راہ آساناور اسی کے اسباب مہیا ہوجائیں۔
قال تعالی(اﷲ تعالی نے فرمایا۔ت)
" فسنیسرہ للیسری ﴿۷﴾" ۔ تو بہت جلد ہم اسے آسانی مہیا کردیں گے۔(ت)
وقال تعالی(اﷲ تعالی نے ارشاد فرمایا۔ت)
" فسنیسرہ للعسری ﴿۱۰﴾" ۔ تو بہت جلد ہم اسے دشواری مہیا کردیں گے۔(ت)
حدیث ۲:اسی لیے جب حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:دوزخیجنتی سب لکھے ہوئے ہیںاور صحابہ نے عرض کی:یارسول اﷲ ! پھر ہم عمل کا ہے کوکریںہاتھ پاؤں چھوڑ بیٹھیں۔کہ جو سعید ہیں آپ ہی سعید ہوں گے اور جو شقی ہیں ناچار شقاوت پائیں گے۔فرمایا:نہیں بلکہ عمل کیے جاؤ کہ ہر ایك جس گھر کے لیے بنا ہے اسی کا راستہ اسے سہل کردیتے ہیں سعید کو اعمال سعادت کا اور شقی کو افعال شقاوت کا۔پھر حضور نے یہی دو آیتیں تلاوت فرمائیں۔
اخرجہ الائمۃ احمد والبخاری و مسلم وغیرہم عن امیر المومنین علی کرم اﷲ تعالی وجہہ قال:کان النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فی جنازۃ فاخذشیئا فجعل ینکت بہ الارض فقال مامنکم من احد الا وقد کتب مقعدہ من النار ومقعدہ من الجنۃ قالو ا یارسول اﷲ ! افلانتکل علی کتابنا وندع امام احمدبخاری اور مسلم وغیرہ نے امیر المومنین علی کرم اﷲ وجہہ الکریم سے روایت کی کہ نبی اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ایك جنازہ میں شریك تھےآپ نے کوئی چیز پکڑی اور زمین کو کریدنے لگے اور فرمایا تم میں ایساکوئی نہیں جس کا ایك ٹھکانہ دوزخ میں اور ایك ٹھکانہ جنت میں نہ لکھا جاچکا ہو۔صحابہ نے عرض کی:یارسول اﷲ! کیا ہم تحریر پر بھروسہ کرکے عمل کو چھوڑ نہ دیں۔
پھر بھی اعمال فرض کیے کہ جس کے مقدر میں جو لکھا ہے اسے وہی راہ آساناور اسی کے اسباب مہیا ہوجائیں۔
قال تعالی(اﷲ تعالی نے فرمایا۔ت)
" فسنیسرہ للیسری ﴿۷﴾" ۔ تو بہت جلد ہم اسے آسانی مہیا کردیں گے۔(ت)
وقال تعالی(اﷲ تعالی نے ارشاد فرمایا۔ت)
" فسنیسرہ للعسری ﴿۱۰﴾" ۔ تو بہت جلد ہم اسے دشواری مہیا کردیں گے۔(ت)
حدیث ۲:اسی لیے جب حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:دوزخیجنتی سب لکھے ہوئے ہیںاور صحابہ نے عرض کی:یارسول اﷲ ! پھر ہم عمل کا ہے کوکریںہاتھ پاؤں چھوڑ بیٹھیں۔کہ جو سعید ہیں آپ ہی سعید ہوں گے اور جو شقی ہیں ناچار شقاوت پائیں گے۔فرمایا:نہیں بلکہ عمل کیے جاؤ کہ ہر ایك جس گھر کے لیے بنا ہے اسی کا راستہ اسے سہل کردیتے ہیں سعید کو اعمال سعادت کا اور شقی کو افعال شقاوت کا۔پھر حضور نے یہی دو آیتیں تلاوت فرمائیں۔
اخرجہ الائمۃ احمد والبخاری و مسلم وغیرہم عن امیر المومنین علی کرم اﷲ تعالی وجہہ قال:کان النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فی جنازۃ فاخذشیئا فجعل ینکت بہ الارض فقال مامنکم من احد الا وقد کتب مقعدہ من النار ومقعدہ من الجنۃ قالو ا یارسول اﷲ ! افلانتکل علی کتابنا وندع امام احمدبخاری اور مسلم وغیرہ نے امیر المومنین علی کرم اﷲ وجہہ الکریم سے روایت کی کہ نبی اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ایك جنازہ میں شریك تھےآپ نے کوئی چیز پکڑی اور زمین کو کریدنے لگے اور فرمایا تم میں ایساکوئی نہیں جس کا ایك ٹھکانہ دوزخ میں اور ایك ٹھکانہ جنت میں نہ لکھا جاچکا ہو۔صحابہ نے عرض کی:یارسول اﷲ! کیا ہم تحریر پر بھروسہ کرکے عمل کو چھوڑ نہ دیں۔
العمل(زادفی روایۃ فمن کان من اھل السعادۃ فسیصیر الی عمل اھل السعادۃ ومن کان من اھل الشقاء فسیصیر الی عمل اھل الشقاوۃ)قال اعملوا فکل میسر لما خلق لہ اما من کان من اھل السعادۃ فییسر لعمل اھل السعادۃ واما من کان من اھل الشقاء فییسرلعمل الشقاوۃ ثم قراء فاما من اعطی واتقی وصدق بالحسنی الایۃ ۔ (ایك روایت میں یہ زائد ہے کہ جو اہل سعادت میں سے ہے وہ عنقریب اہل سعادت کے عمل کی طرف اور جو اہل شقاوت میں سے ہے وہ عنقریب اہل شقاوت کے عمل کی طرف راغب ہوگا)آپ نے فرمایا:عمل کرتے رہو ہر کسی کو وہی میسر ہوگا جس کے لیے وہ پیدا کیا گیاجو اہل سعادت میں سے ہوگا اس کو اہل سعادت کا عمل اور جو اہل شقاوت میں سے ہوگا اس کو اہل شقاوت کا عمل میسر ہوگا۔پھر آپ نے یہ آیت کریمہ تلاوت فرمائی تو وہ جس نے دیا اور پرہیزگاری کی اور سب سے اچھی چیز کو سچ مانا(ت)
یہاں سے ظاہر ہوا کہ اگر تدبیر مطلقا مہمل(بے کار)ہو تو دین و شرائع(قوانین شرع)وانزال کتب(کتابیں اتارنا)وارسال رسل(رسولوں کو بھیجنا)و اتیان فرائض(فرائض کا کرنا)و اجتناب محرمات(حرام کاموں سے بچنا)معاذ اﷲ ! سب لغو و فضول و عبث ٹھہریں۔آدمی کی رسی کاٹ کر بجار(آزاد چھوٹا ہوا سانڈ)کردیں۔دین و دنیا سب یکبارگی برہم ہوجائیں۔ولاحول ولا قوۃ الا باﷲ العلی العظیم(نہ گناہ سے بچنے کی طاقت ہے اور نہ ہی نیکی کرنے کی قوت مگر بلندی و عظمت والے خدا کی طرف سے ت)
نہیں نہیں بلکہ تدبیر بے شك مستحسن ہےاور اس کی بہت صورتیں مندوب و مسنون ہیںجیسے دعا و دوا۔
حدیث ۳:دعا کی حدیثیں تو خود متواتر ہیں اور سب سے بڑھ کر یہ ہے کہ حضور نے یہ ارشاد فرمایا صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم
یہاں سے ظاہر ہوا کہ اگر تدبیر مطلقا مہمل(بے کار)ہو تو دین و شرائع(قوانین شرع)وانزال کتب(کتابیں اتارنا)وارسال رسل(رسولوں کو بھیجنا)و اتیان فرائض(فرائض کا کرنا)و اجتناب محرمات(حرام کاموں سے بچنا)معاذ اﷲ ! سب لغو و فضول و عبث ٹھہریں۔آدمی کی رسی کاٹ کر بجار(آزاد چھوٹا ہوا سانڈ)کردیں۔دین و دنیا سب یکبارگی برہم ہوجائیں۔ولاحول ولا قوۃ الا باﷲ العلی العظیم(نہ گناہ سے بچنے کی طاقت ہے اور نہ ہی نیکی کرنے کی قوت مگر بلندی و عظمت والے خدا کی طرف سے ت)
نہیں نہیں بلکہ تدبیر بے شك مستحسن ہےاور اس کی بہت صورتیں مندوب و مسنون ہیںجیسے دعا و دوا۔
حدیث ۳:دعا کی حدیثیں تو خود متواتر ہیں اور سب سے بڑھ کر یہ ہے کہ حضور نے یہ ارشاد فرمایا صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم
حوالہ / References
صحیح البخاری کتاب القدر باب قولہ تعالٰی وکان امراﷲ قدراً مقدوراً قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۹۷۷،صحیح مسلم کتاب القدر باب کیفیۃ خلق الادمی فی بطن امہ الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۳۳۳،مسند احمد بن حنبل عن علی رضی اﷲ تعالٰی عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۱/ ۱۴۰،سنن ابن ماجہ باب فی القدر ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص ۹،مشکوۃ المصابیح باب الایمان بالقدر الفصل الاول اصح المطابع کراچی ص ۲۰
لایرد القضاء الا الدعاءرواہ الترمذی و ابن ماجہ ۔ والحاکم بسند حسن عن سلمان الفارسی رضی اﷲ تعالی عنہ۔ (تقدیر کسی چیز سے نہیں ٹلتی مگر دعا سے(یعنی قضا معلق) (اس کو ترمذی ابن ماجہ اور حاکم نے سند حسن کے ساتھ سلمان فارسی رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا۔ت)
(حدیث ۴):دوسری حدیث میں ہے سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لایغنی حذر من قدروالدعاء ینفع مما نزل ومما لم ینزل ان البلاء ینزل فیتلقاہ الدعاء فیعتلجان الی یوم القیمۃ رواہ الحاکم والبزار والطبرانی فی الاوسط عن ام المومنین الصدیقۃ رضی اﷲ تعالی عنہا قال الحاکم صحیح الاسناد وکذا قال ۔ تقدیر کے آگے احتیاط کی کچھ نہیں چلتیاور دعا اس بلا سے جو اتر آئی اور جو ابھی نہیں اتری دونوں سے نفع دیتی ہےاور بے شك بلا اترتی ہے دعا ا س سے جا ملتی ہے دونوں قیامت تك کشتی لڑتی رہتی ہیںیعنی بلا کتنا ہی اترنا چاہے دعا اسے اترنے نہیں دیتی۔(اس کو حاکمبزار اور طبرانی نے اوسط میں ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ تعالی عنہا سے روایت کیا۔حاکم نے کہا اس کا اسناد صحیح ہے اور یونہی ہے کہا۔(ت)
جسے دعا کے بارے میں احادیث مجملہ و مفصلہ و کلیہ و جزئیہ دیکھنا ہوں وہ کتاب الترغیب و حصن و عدہ و صلاح وغیرہا تصانیف علماء کی طرف رجوع کرے۔
(حدیث ۵)اور ارشاد فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
تداووا عباد اﷲ فان اﷲ خدا کے بندو ! دوا کرو کہ اﷲ تعالی نے کوئی بیماری
(حدیث ۴):دوسری حدیث میں ہے سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لایغنی حذر من قدروالدعاء ینفع مما نزل ومما لم ینزل ان البلاء ینزل فیتلقاہ الدعاء فیعتلجان الی یوم القیمۃ رواہ الحاکم والبزار والطبرانی فی الاوسط عن ام المومنین الصدیقۃ رضی اﷲ تعالی عنہا قال الحاکم صحیح الاسناد وکذا قال ۔ تقدیر کے آگے احتیاط کی کچھ نہیں چلتیاور دعا اس بلا سے جو اتر آئی اور جو ابھی نہیں اتری دونوں سے نفع دیتی ہےاور بے شك بلا اترتی ہے دعا ا س سے جا ملتی ہے دونوں قیامت تك کشتی لڑتی رہتی ہیںیعنی بلا کتنا ہی اترنا چاہے دعا اسے اترنے نہیں دیتی۔(اس کو حاکمبزار اور طبرانی نے اوسط میں ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ تعالی عنہا سے روایت کیا۔حاکم نے کہا اس کا اسناد صحیح ہے اور یونہی ہے کہا۔(ت)
جسے دعا کے بارے میں احادیث مجملہ و مفصلہ و کلیہ و جزئیہ دیکھنا ہوں وہ کتاب الترغیب و حصن و عدہ و صلاح وغیرہا تصانیف علماء کی طرف رجوع کرے۔
(حدیث ۵)اور ارشاد فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
تداووا عباد اﷲ فان اﷲ خدا کے بندو ! دوا کرو کہ اﷲ تعالی نے کوئی بیماری
حوالہ / References
جامع الترمذی ابواب القدر باب ماجاء لایرد القدر الاّ الدعاء امین کمپنی دہلی ۲/ ۳۶،سنن ابن ماجہ باب فی القدر ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص ۱۰،المستدرک للحاکم کتاب الدعا لایردالقدر الا الدعا دارالفکربیروت ۱/ ۴۹۳
المستدرک اللحاکم کتاب الدعاء ینفع الخ دارالفکر بیروت ۱/ ۴۹۲،المعجم الاوسط حدیث ۲۵۱۹ مکتبۃ المعارف ریاض ۳/ ۲۴۲
ا لمستدرک للحاکم کتاب الدعا الدعاء ینفع الخ دارالفکربیروت ۱/ ۴۹۲
المستدرک اللحاکم کتاب الدعاء ینفع الخ دارالفکر بیروت ۱/ ۴۹۲،المعجم الاوسط حدیث ۲۵۱۹ مکتبۃ المعارف ریاض ۳/ ۲۴۲
ا لمستدرک للحاکم کتاب الدعا الدعاء ینفع الخ دارالفکربیروت ۱/ ۴۹۲
لم یضع داء الا وضع لہ دواء غیر داء واحد الھرم اخرجہ احمد وابو داؤد والترمذی والنسائی وابن ماجۃ وابن حبان والحاکم عن اسامۃ بن شریك رضی اﷲ تعالی عنہ بسند صحیح۔ ایسی نہ رکھی جس کی دوا نہ بنائی ہو مگر ایك مرض یعنی بڑھاپا (ا س کو احمدابوداؤدترمذی نسائیابن ماجہابن حبان اور حاکم نے اسامہ بن شریك رضی اﷲ تعالی عنہ سے سند صحیح کے ساتھ روایت کیا۔ت)
اور خود حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا استعمال دوا فرمانا اور امت مرحومہ کو صدہا امراض کے علاج بتانا بکثرت احادیث میں مذکوراور طب نبوی و سیر وغیرہما فنون حدیثیہ میں مسطور(لکھاہوا)اور تدبیر کی بہت صورتیں فرض قطعی ہیںجیسے فرائض کا بجالانامحرمات سے بچنابقدر سدرمق(جان بچانے کی مقدار)کھانا کھاناپانی پینایہاں تك کہ اس کے لیے بحالت مخمصہ(جان لیوا بھوک)شراب و مردار کی اجازت دی گئی۔
(حدیث ۶):اسی طرح جان بچانے کی کل تدبیریں اور حلال معاش کی سعی و تلاش جس میں اپنے اور اپنے متعلقین کے تن پیٹ کی پرورش ہو۔حدیث میں ہے حضور سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
طلب کسب الحلال فریضۃ بعد الفریضۃ اخرجہ الطبرانی فی الکبیر والبیھقی فی شعب الایمان و الدیلمی فی مسند الفردوس عن ابن مسعود آدمی پر فرض کے بعد دوسرا فرض یہ ہے کہ کسب حلال کی تلاش کرے(طبرانی نے کبیر میںبیہقی نے شعب الایمان میں اور دیلمی نے مسند فردوس میں سیدنا ابن مسعود رضی اﷲ
اور خود حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا استعمال دوا فرمانا اور امت مرحومہ کو صدہا امراض کے علاج بتانا بکثرت احادیث میں مذکوراور طب نبوی و سیر وغیرہما فنون حدیثیہ میں مسطور(لکھاہوا)اور تدبیر کی بہت صورتیں فرض قطعی ہیںجیسے فرائض کا بجالانامحرمات سے بچنابقدر سدرمق(جان بچانے کی مقدار)کھانا کھاناپانی پینایہاں تك کہ اس کے لیے بحالت مخمصہ(جان لیوا بھوک)شراب و مردار کی اجازت دی گئی۔
(حدیث ۶):اسی طرح جان بچانے کی کل تدبیریں اور حلال معاش کی سعی و تلاش جس میں اپنے اور اپنے متعلقین کے تن پیٹ کی پرورش ہو۔حدیث میں ہے حضور سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
طلب کسب الحلال فریضۃ بعد الفریضۃ اخرجہ الطبرانی فی الکبیر والبیھقی فی شعب الایمان و الدیلمی فی مسند الفردوس عن ابن مسعود آدمی پر فرض کے بعد دوسرا فرض یہ ہے کہ کسب حلال کی تلاش کرے(طبرانی نے کبیر میںبیہقی نے شعب الایمان میں اور دیلمی نے مسند فردوس میں سیدنا ابن مسعود رضی اﷲ
حوالہ / References
جامع الترمذی ابواب الطب باب ماجاء فی الدداء والحث علیہ امین کمپنی دہلی ۲/ ۲۵،سنن ابی داؤد کتاب الطب باب الرجل یتداوی آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۱۸۳،سنن ابن ماجہ ابواب الطب باب ما انزل اﷲ داء الا انزل لہ شفاء ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۲۵۳،مسنداحمد بن حنبل حدیث اُسامۃ بن شریک المکتب الاسلامی بیروت ۴/ ۲۷۸،موارد الظمآن کتاب الطب حدیث ۱۳۹۵ المطبعۃ السلفیۃ ص ۳۳۹
شعب الایمان حدیث ۸۷۴۱ دارالمعرفۃ بیروت ۶/ ۴۲۰،الفردوس بماثور الخطاب حدیث ۳۹۱۸ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۲/ ۴۴۱، کنزالعمال برمزطب،ق حدیث ۹۲۳۱ مؤسسۃ الرسالۃبیروت ۴/ ۹
شعب الایمان حدیث ۸۷۴۱ دارالمعرفۃ بیروت ۶/ ۴۲۰،الفردوس بماثور الخطاب حدیث ۳۹۱۸ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۲/ ۴۴۱، کنزالعمال برمزطب،ق حدیث ۹۲۳۱ مؤسسۃ الرسالۃبیروت ۴/ ۹
رضی اﷲ تعالی عنہ۔ تعالی عنہ سے اس کی تخریج فرمائی(ت)۔
(حدیث ۷):اور فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
طلب الحلال واجب علی کل مسلم اخرجہ الدیلمی بسند حسن عن انس بن مالك رضی اﷲ تعالی عنہ۔ طلب حلال ہر مسلمان پر واجب ہے(دیلمی نے سند حسن کے ساتھ حضرت انس بن مالك رضی اﷲ تعالی عنہ سے اس کی تخریج کی۔ت)
حدیث ۸:اسی لیے احادیث میں حلال معاش کی طلب و تلاش کی بہت فضیلتیں وارد۔
مسند احمد وصحیح بخاری میں ہے حضور پرنور سید الکونین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
مااکل احد طعاما قط خیرا من ان یاکل من عمل یدہ و ان نبی اﷲ داؤد کان یا کل من عمل یدہو اخرجاہ عن مقدام بن معدیکرب رضی اﷲ تعالی عنہ۔ کبھی کسی شخص نے کوئی کھانا اپنے ہاتھ کی کمائی سے بہتر نہ کھایا اور بے شك نبی اﷲ داؤد علیہ الصلوۃ والسلام اپنی دستکاری کی اجرت سے کھاتے(ان دونوں نے مقدام بن معدیکرب رضی اﷲ تعالی عنہ سے اس کی تخریج کی۔ت)
حدیث ۹:اور فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
ان اطیب ما اکلتم من کسبکم اخرجہ البخاری فی التاریخ والدارمی وابوداؤد والترمذی والنسائی عن ام المؤمنین الصدیقۃ بسند صحیح۔ سب سے زیادہ پاکیزہ کھانا وہ ہے جو اپنی کمائی سے کھاؤ۔(امام بخاری نے تاریخدارمیترمذی اور نسائی نے سند صحیح کے ساتھ ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ تعالی عنہا سے اس کی تخریج کی۔ت)
(حدیث ۷):اور فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
طلب الحلال واجب علی کل مسلم اخرجہ الدیلمی بسند حسن عن انس بن مالك رضی اﷲ تعالی عنہ۔ طلب حلال ہر مسلمان پر واجب ہے(دیلمی نے سند حسن کے ساتھ حضرت انس بن مالك رضی اﷲ تعالی عنہ سے اس کی تخریج کی۔ت)
حدیث ۸:اسی لیے احادیث میں حلال معاش کی طلب و تلاش کی بہت فضیلتیں وارد۔
مسند احمد وصحیح بخاری میں ہے حضور پرنور سید الکونین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
مااکل احد طعاما قط خیرا من ان یاکل من عمل یدہ و ان نبی اﷲ داؤد کان یا کل من عمل یدہو اخرجاہ عن مقدام بن معدیکرب رضی اﷲ تعالی عنہ۔ کبھی کسی شخص نے کوئی کھانا اپنے ہاتھ کی کمائی سے بہتر نہ کھایا اور بے شك نبی اﷲ داؤد علیہ الصلوۃ والسلام اپنی دستکاری کی اجرت سے کھاتے(ان دونوں نے مقدام بن معدیکرب رضی اﷲ تعالی عنہ سے اس کی تخریج کی۔ت)
حدیث ۹:اور فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
ان اطیب ما اکلتم من کسبکم اخرجہ البخاری فی التاریخ والدارمی وابوداؤد والترمذی والنسائی عن ام المؤمنین الصدیقۃ بسند صحیح۔ سب سے زیادہ پاکیزہ کھانا وہ ہے جو اپنی کمائی سے کھاؤ۔(امام بخاری نے تاریخدارمیترمذی اور نسائی نے سند صحیح کے ساتھ ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ تعالی عنہا سے اس کی تخریج کی۔ت)
حوالہ / References
کنزالعمال برمز فرعن انس حدیث ۹۲۰۴ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۴/ ۵
صحیح البخاری کتاب البیوع باب کسب الرجل وعملہ بیدہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۲۷۸،مسند احمد بن حنبل حدیث المقدام بن معدیکرب المکتب الاسلامی بیروت ۴/ ۱۳۱ و ۱۳۲
جامع الترمذی ابواب الاحکام باب ماجاء ان الوالدیا خذ من مال ولدہ امین کمپنی دہلی ۱/ ۱۶۲،سُنن ابی داؤد کتاب البیوع باب الرجل یاکل من مال ولدہ آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۱۴۱،التاریخ الکبیر ترجمہ ۱۳۰۱ دارالبازمکۃ المکرمۃ ۱/ ۴۰۷،سُنن الدارمی کتاب البیوع حدیث ۲۵۴۰ نشرالسنۃ ملتان ۲/ ۱۶۲
صحیح البخاری کتاب البیوع باب کسب الرجل وعملہ بیدہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۲۷۸،مسند احمد بن حنبل حدیث المقدام بن معدیکرب المکتب الاسلامی بیروت ۴/ ۱۳۱ و ۱۳۲
جامع الترمذی ابواب الاحکام باب ماجاء ان الوالدیا خذ من مال ولدہ امین کمپنی دہلی ۱/ ۱۶۲،سُنن ابی داؤد کتاب البیوع باب الرجل یاکل من مال ولدہ آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۱۴۱،التاریخ الکبیر ترجمہ ۱۳۰۱ دارالبازمکۃ المکرمۃ ۱/ ۴۰۷،سُنن الدارمی کتاب البیوع حدیث ۲۵۴۰ نشرالسنۃ ملتان ۲/ ۱۶۲
حدیث ۱۰ تا ۱۳:کسی نے عرض کیا:یارسول اﷲ !ای الکسب افضل سب سے بہتر کسب کون سا ہے فرمایا:عمل الرجل بیدہ وکل بیع مبرور۔اپنے ہاتھ کی مزدوری اور ہر مقبول تجارت کہ مفاسد شرعیہ سے خالی ہو۔
اخرجہ الطبرانی ۔ فی الاوسط والکبیر بسند الثقات عن عبد اﷲ بن عمروھو فی الکبیر واحمد والبزار عن ابی بردۃ بن خیاروایضا ھذان عن رافع بن خدیجوالبیھقی عن سعید بن عمیر مرسلا والحاکم عن امیر المومنین عمر الفاروق رضی اﷲ تعالی عنہم اجمعین۔ اس کی تخریج کی سند ثقات کے ساتھ طبرانی نے اوسط وکبیر میں سیدنا عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما سےاور طبرانی نے ہی کبیر میں اور احمد و بزار نے ابوبردہ بن خیار سےنیز ان دونوں نے رافع بن خدیج سے اور بیہقی نے سعید بن عمیر سے مرسلا اور حاکم نے اسی سے بحوالہ امیرالمومنین عمر فاروق روایت کیا رضی اﷲ تعالی عنہم اجمعین(ت)
حدیث ۱۴:اور وارد کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
ان اﷲ یحب المومن المحترف۔اخرجہ الطبرانی فی الکبیر ۔ والبیہقی فی الشعب وسیدی محمد الترمذی فی النوادرعن ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما۔ بے شك اﷲ تعالی مسلمان پیشہ ور کو دوست رکھتا ہے۔ (طبرانی نے کبیربیہقی نے شعب اور سید محمد ترمذی نے نوادر میں ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما سے اس کی تخریج کی۔ت)
حدیث ۱۵۱۷:اور مروی کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
من امسی کالا من عمل یدہ امسی مغفورالہ اخرجہ الطبرانی۔ فی الاوسط عن ام المومنین الصدیقۃ جسے مزدوری سے تھك کر شام آئے اس کی وہ شام شام مغفرت ہو۔اس کی تخریج کی طبرانی نے اوسط میں ام المومنین سیدہ صدیقہ
اخرجہ الطبرانی ۔ فی الاوسط والکبیر بسند الثقات عن عبد اﷲ بن عمروھو فی الکبیر واحمد والبزار عن ابی بردۃ بن خیاروایضا ھذان عن رافع بن خدیجوالبیھقی عن سعید بن عمیر مرسلا والحاکم عن امیر المومنین عمر الفاروق رضی اﷲ تعالی عنہم اجمعین۔ اس کی تخریج کی سند ثقات کے ساتھ طبرانی نے اوسط وکبیر میں سیدنا عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما سےاور طبرانی نے ہی کبیر میں اور احمد و بزار نے ابوبردہ بن خیار سےنیز ان دونوں نے رافع بن خدیج سے اور بیہقی نے سعید بن عمیر سے مرسلا اور حاکم نے اسی سے بحوالہ امیرالمومنین عمر فاروق روایت کیا رضی اﷲ تعالی عنہم اجمعین(ت)
حدیث ۱۴:اور وارد کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
ان اﷲ یحب المومن المحترف۔اخرجہ الطبرانی فی الکبیر ۔ والبیہقی فی الشعب وسیدی محمد الترمذی فی النوادرعن ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما۔ بے شك اﷲ تعالی مسلمان پیشہ ور کو دوست رکھتا ہے۔ (طبرانی نے کبیربیہقی نے شعب اور سید محمد ترمذی نے نوادر میں ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما سے اس کی تخریج کی۔ت)
حدیث ۱۵۱۷:اور مروی کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
من امسی کالا من عمل یدہ امسی مغفورالہ اخرجہ الطبرانی۔ فی الاوسط عن ام المومنین الصدیقۃ جسے مزدوری سے تھك کر شام آئے اس کی وہ شام شام مغفرت ہو۔اس کی تخریج کی طبرانی نے اوسط میں ام المومنین سیدہ صدیقہ
حوالہ / References
الترغیب والترہیب کتاب البیوع الترغیب فی الاکتساب بالبیع مصطفٰی البابی مصر ۲/ ۵۲۳الدرالمنثور تحت آیۃ ۲/ ۲۶۸ منشورات مکتبہ آیۃ العظمی قم ایران ۱/۳۶۵،شعب الایمان حدیث ۱۲۲۵ دارالکتب العلمیہ بیروت ۲/ ۸۴
شعب الایمان حدیث ۱۲۳۷ دارالکتب العلمیہ بیروت ۲/ ۸۸
المعجم الاوسط حدیث ۷۵۱۶ مکتبۃ المعارف ریاض ۸/ ۲۵۷
شعب الایمان حدیث ۱۲۳۷ دارالکتب العلمیہ بیروت ۲/ ۸۸
المعجم الاوسط حدیث ۷۵۱۶ مکتبۃ المعارف ریاض ۸/ ۲۵۷
ومثل ابی القاسم الاصبہانی عن ابن عباس و ابن عساکر عنہ وعن انس رضی اﷲ تعالی عنہم۔ سے اور مثل ابوالقاسم اصبہانی نے ابن عباس سےاور ابن عساکر نے ابن عباس اور انس سےاﷲ تعالی ان سب پرراضی ہو۔ت)
حدیث ۱۸:اور فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
طوبی لمن طاب کسبہالحدیثاخرجہ البخاری فی التاریخ والطبرانی فی الکبیر والبیھقی فی السنن و البغوی و الباوردی وابناء قانع و شاہین ومندۃ کلھم عن رکب المصری رضی اﷲ تعالی عنہ فی حدیث طویل قال ابن عبدالبر حدیث حسن قلت ای لغیرہ۔ پاك کمائی والے کے لیے جنت ہے(اس کی تخریج کی بخاری نے تاریخ میںطبرانی نے کبیر میںبیہیقی نے سنن میں اور بغوی و باوردی اور قانعشاہین و مندہ کے بیٹوں نے رکب مصری رضی اﷲ تعالی عنہ سے ایك طویل حدیث میں اس کو روایت کیاابن عبدالبر نے کہا یہ حدیث حسن ہےمیں کہتا ہوں یعنی حسن لغیرہ ہے۔ت)
حدیث ۱۹و۲۰:ایك حدیث میں آیا حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:
الدنیا حلوۃ خضرۃمن اکتسب منہا مالا فی حلہ و انفقہ فی حقہ اثابہ اﷲ علیہ واوردہ جنتہ الحدیث اخرجہ البیہقی فی الشعب عن ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما قلت والمتن عندالترمذی عن خولۃ بنت قیس امراء ۃ سیدنا حمزۃ بن عبدالمطلب رضی اﷲ تعالی عنہم بلفظ ان ھذاالمال خضرۃ دنیا دیکھنے میں ہریچکھنے میں میٹھی ہے یعنی بظاہر بہت خوشنما و خوش ذائقہ معلوم ہوتی ہے جو اسے حلال وجہ سے کمائے اور حق جگہ پر اٹھائے اﷲ تعالی اسے ثواب دے اور اپنی جنت میں لے جائے(اس کی تخریج کی بیہقی نے شعب میں ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما سےمیں کہتا ہوں اور متن ترمذی کے نزدیك خولہ بنت قیس زوجہ سیدنا حمزہ بن عبدالمطلب رضی اﷲ تعالی عنہم سے ان لفظوں کے ساتھ ہے کہ یہ مال سبزو میٹھا
حدیث ۱۸:اور فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
طوبی لمن طاب کسبہالحدیثاخرجہ البخاری فی التاریخ والطبرانی فی الکبیر والبیھقی فی السنن و البغوی و الباوردی وابناء قانع و شاہین ومندۃ کلھم عن رکب المصری رضی اﷲ تعالی عنہ فی حدیث طویل قال ابن عبدالبر حدیث حسن قلت ای لغیرہ۔ پاك کمائی والے کے لیے جنت ہے(اس کی تخریج کی بخاری نے تاریخ میںطبرانی نے کبیر میںبیہیقی نے سنن میں اور بغوی و باوردی اور قانعشاہین و مندہ کے بیٹوں نے رکب مصری رضی اﷲ تعالی عنہ سے ایك طویل حدیث میں اس کو روایت کیاابن عبدالبر نے کہا یہ حدیث حسن ہےمیں کہتا ہوں یعنی حسن لغیرہ ہے۔ت)
حدیث ۱۹و۲۰:ایك حدیث میں آیا حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:
الدنیا حلوۃ خضرۃمن اکتسب منہا مالا فی حلہ و انفقہ فی حقہ اثابہ اﷲ علیہ واوردہ جنتہ الحدیث اخرجہ البیہقی فی الشعب عن ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما قلت والمتن عندالترمذی عن خولۃ بنت قیس امراء ۃ سیدنا حمزۃ بن عبدالمطلب رضی اﷲ تعالی عنہم بلفظ ان ھذاالمال خضرۃ دنیا دیکھنے میں ہریچکھنے میں میٹھی ہے یعنی بظاہر بہت خوشنما و خوش ذائقہ معلوم ہوتی ہے جو اسے حلال وجہ سے کمائے اور حق جگہ پر اٹھائے اﷲ تعالی اسے ثواب دے اور اپنی جنت میں لے جائے(اس کی تخریج کی بیہقی نے شعب میں ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما سےمیں کہتا ہوں اور متن ترمذی کے نزدیك خولہ بنت قیس زوجہ سیدنا حمزہ بن عبدالمطلب رضی اﷲ تعالی عنہم سے ان لفظوں کے ساتھ ہے کہ یہ مال سبزو میٹھا
حوالہ / References
الترغیب والترھیب کتاب البیوع الترغیب فی طلب الحلال مصطفٰی البابی مصر ۲/ ۵۴۷
شعب الایمان حدیث ۵۵۲۷ دارالکتب العلمیہ بیروت ۴/ ۳۹۶
شعب الایمان حدیث ۵۵۲۷ دارالکتب العلمیہ بیروت ۴/ ۳۹۶
حلوۃ فمن اصابہ بحقہ بورك لہ فیہالحدیث قال الترمذی حسن صحیح۔ قلت واصلہ عن خولۃ عند البخاری مختصرا۔ دکھائی دیتا ہےچنانچہ جو اسے حق جگہ پر پہنچائے اس کے لیے اس میں برکت دی جاتی ہےالحدیث۔ترمذی نے کہا یہ حسن صحیح ہےمیں کہتا ہوں اس کی اصل بخاری کے نزدیك خولہ سے ہے۔اختصار۔ت)
حدیث ۲۱:اور مذکور کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
ان من الذنوب ذنوبا لایکفر ھا الصلوۃ ولا الصیام ولا الحج ولا العمرۃیکفرھا الھموم فی طلب المعیشۃ رواہ ابن عساکر وابو نعیم۔ فی الحلیہ عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ۔ کچھ گناہ ایسے ہیں جن کا کفارہ نہ نماز ہو نہ روزے نہ حج نہ عمرہ ان کا کفارہ وہ پریشانیاں ہوتی ہیں جو آدمی کو تلاش معاش حلال میں پہنچتی ہیں۔(اس کو روایت کیا ابن عساکر نے اور ابونعیم نے حلیہ میں ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے۔ت)
حدیث ۲۲:صحابہ رضوان اﷲ تعالی علیہم نے ایك شخص کو دیکھا کہ تیز و چست کسی کام کو جارہا ہے عرض کی:یارسول اﷲ ! کیا خوب ہوتا اگر اس کی یہ تیزی و چستی خدا کی راہ میں ہوتیحضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:
ان کان خرج یسعی علی نفسہ یعفہافہو فی سبیل اﷲوان کان خرج یسعی علی ولدہ صغارا فہو فی سبیل اﷲ۔وان کان خرج یسعی علی ابوین شیخین کبیرین فھوفی سبیل اﷲوان کان خرج یسعی ریاء ومفاخرۃ فہوفی سبیل الشیطانرواہ الطبرانی عن کعب بن عجرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ و اگر یہ شخص اپنے لئے کمائی کو نکلا ہے کہ سوال وغیرہ کی ذلت سے بچے تو اس کی یہ کوشش اﷲ ہی کی راہ میں ہےاور اگر اپنے چھوٹے چھوٹے بچوں کے خیال سے نکلا ہے جب بھی خدا کی راہ میں ہے اور اگراپنے بوڑھے ماں باپ کے لیے نکلا ہے جب بھی خدا کی راہ میں ہےہاں اگر ریاء وتفاخر کے لیے نکلا ہے تو شیطان کی راہ میں ہے۔(اس کو طبرانی نے کعب بن عجرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا اور اس کے
حدیث ۲۱:اور مذکور کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
ان من الذنوب ذنوبا لایکفر ھا الصلوۃ ولا الصیام ولا الحج ولا العمرۃیکفرھا الھموم فی طلب المعیشۃ رواہ ابن عساکر وابو نعیم۔ فی الحلیہ عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ۔ کچھ گناہ ایسے ہیں جن کا کفارہ نہ نماز ہو نہ روزے نہ حج نہ عمرہ ان کا کفارہ وہ پریشانیاں ہوتی ہیں جو آدمی کو تلاش معاش حلال میں پہنچتی ہیں۔(اس کو روایت کیا ابن عساکر نے اور ابونعیم نے حلیہ میں ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے۔ت)
حدیث ۲۲:صحابہ رضوان اﷲ تعالی علیہم نے ایك شخص کو دیکھا کہ تیز و چست کسی کام کو جارہا ہے عرض کی:یارسول اﷲ ! کیا خوب ہوتا اگر اس کی یہ تیزی و چستی خدا کی راہ میں ہوتیحضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:
ان کان خرج یسعی علی نفسہ یعفہافہو فی سبیل اﷲوان کان خرج یسعی علی ولدہ صغارا فہو فی سبیل اﷲ۔وان کان خرج یسعی علی ابوین شیخین کبیرین فھوفی سبیل اﷲوان کان خرج یسعی ریاء ومفاخرۃ فہوفی سبیل الشیطانرواہ الطبرانی عن کعب بن عجرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ و اگر یہ شخص اپنے لئے کمائی کو نکلا ہے کہ سوال وغیرہ کی ذلت سے بچے تو اس کی یہ کوشش اﷲ ہی کی راہ میں ہےاور اگر اپنے چھوٹے چھوٹے بچوں کے خیال سے نکلا ہے جب بھی خدا کی راہ میں ہے اور اگراپنے بوڑھے ماں باپ کے لیے نکلا ہے جب بھی خدا کی راہ میں ہےہاں اگر ریاء وتفاخر کے لیے نکلا ہے تو شیطان کی راہ میں ہے۔(اس کو طبرانی نے کعب بن عجرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا اور اس کے
حوالہ / References
جامع الترمذی ابواب الزہد باب ماجاء فی اخذالمال امین کمپنی دہلی ۲/ ۶۰
حلیۃ الاولیاء ترجمہ ۳۸۶ مالک بن انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ دارالکتاب العربی بیروت ۶/۳۳۵
المعجم الکبیر حدیث ۲۸۲ المکتبہ الفیصلیہ بیروت ۱۹/ ۱۲۹
حلیۃ الاولیاء ترجمہ ۳۸۶ مالک بن انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ دارالکتاب العربی بیروت ۶/۳۳۵
المعجم الکبیر حدیث ۲۸۲ المکتبہ الفیصلیہ بیروت ۱۹/ ۱۲۹
رجالہ رجال الصحیح۔ رجال صحیح کے رجال ہیں۔ت)
حدیث ۲۳:اسی لیے ترك کسب سے صاف ممانعت آئی ہے حدیث میں ہے حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں:
لیس بخیرکم من ترك دنیاہ لاخرتہ ولا اخرتہ لدنیاہ حتی یصیب منھما جمیعا فان الدنیا بلاغ الی الاخرۃ ولاتکونوا کلا علی الناس رواہ ابن عساکر۔ عن ابن مالك رضی اﷲ تعالی عنہ۔ تمہارا بہتر وہ نہیں ہے جو اپنی دنیا آخرت کے لیے چھوڑ دے اور نہ وہ جو اپنی آخرت دنیا کے لیے ترك کرےبہتر وہ ہے جو دونوں سے حصہ لے کہ دنیا آخرت کا وسیلہ ہےاپنا بوجھ اوروں پر ڈال کر نہ بیٹھ رہو(اس کو ابن عساکر نے انس بن مالك رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا ہے۔ت)
انہیں احادیث سے ثابت ہوا کہ تلاش حلال و فکر معاش و تعاطی اسباب ہر گز منافی توکل نہیں بلکہ عین مرضی الہی ہے کہ آدمی تدبیر کرے اور بھروسہ تقدیر پر رکھے۔
حدیث ۲۴ و ۲۵:اسی لیے جب ایك صحابی نے حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے عرض کی اپنی اونٹنی یونہی چھوڑ دوں اور خدا پر بھروسہ رکھوں یا اسے باندھوں اور خدا پر توکل کروں ارشاد فرمایا قید و توکل باندھ دے اور تکیہ خدا پر رکھ۔
برتوکل زانوے اشتر ببند
(اﷲ پربھروسہ کرتے ہوئے اونٹنی کے گھٹنے باندھ(ت)
اخرجہ البیہقی۔ فی الشعب بسند جید عن عمر و بن امیۃ الضمری والترمذی فی الجامع عن انس رضی اﷲ تعالی عنھما واللفظ عندہ اعقلھا وتوکل ۔ اس کی تخریج کی بیہقی نے شعب میں سند جید کے ساتھ عمرو بن امیہ ضمری رضی اﷲ تعالی عنہ سے اور ترمذی نے جامع میں حضرت انس رضی اﷲ تعالی عنہ سےاس کے نزدیك لفظ یہ ہیںاعقلھا و توکل۔
حدیث ۲۳:اسی لیے ترك کسب سے صاف ممانعت آئی ہے حدیث میں ہے حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں:
لیس بخیرکم من ترك دنیاہ لاخرتہ ولا اخرتہ لدنیاہ حتی یصیب منھما جمیعا فان الدنیا بلاغ الی الاخرۃ ولاتکونوا کلا علی الناس رواہ ابن عساکر۔ عن ابن مالك رضی اﷲ تعالی عنہ۔ تمہارا بہتر وہ نہیں ہے جو اپنی دنیا آخرت کے لیے چھوڑ دے اور نہ وہ جو اپنی آخرت دنیا کے لیے ترك کرےبہتر وہ ہے جو دونوں سے حصہ لے کہ دنیا آخرت کا وسیلہ ہےاپنا بوجھ اوروں پر ڈال کر نہ بیٹھ رہو(اس کو ابن عساکر نے انس بن مالك رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا ہے۔ت)
انہیں احادیث سے ثابت ہوا کہ تلاش حلال و فکر معاش و تعاطی اسباب ہر گز منافی توکل نہیں بلکہ عین مرضی الہی ہے کہ آدمی تدبیر کرے اور بھروسہ تقدیر پر رکھے۔
حدیث ۲۴ و ۲۵:اسی لیے جب ایك صحابی نے حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے عرض کی اپنی اونٹنی یونہی چھوڑ دوں اور خدا پر بھروسہ رکھوں یا اسے باندھوں اور خدا پر توکل کروں ارشاد فرمایا قید و توکل باندھ دے اور تکیہ خدا پر رکھ۔
برتوکل زانوے اشتر ببند
(اﷲ پربھروسہ کرتے ہوئے اونٹنی کے گھٹنے باندھ(ت)
اخرجہ البیہقی۔ فی الشعب بسند جید عن عمر و بن امیۃ الضمری والترمذی فی الجامع عن انس رضی اﷲ تعالی عنھما واللفظ عندہ اعقلھا وتوکل ۔ اس کی تخریج کی بیہقی نے شعب میں سند جید کے ساتھ عمرو بن امیہ ضمری رضی اﷲ تعالی عنہ سے اور ترمذی نے جامع میں حضرت انس رضی اﷲ تعالی عنہ سےاس کے نزدیك لفظ یہ ہیںاعقلھا و توکل۔
حوالہ / References
کنزالعمال برمز ابن عساکر عن انس حدیث ۶۳۳۴ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۳/ ۲۴۰
کنزالعمال برمز ھب عن عمرو بن امیہ حدیث ۵۶۸۸۷ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۳/ ۱۰۳
جامع الترمذی ابواب صفۃ یوم القیمۃ باب منہ امین کمپنی دہلی ۲/ ۷۴
کنزالعمال برمز ھب عن عمرو بن امیہ حدیث ۵۶۸۸۷ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۳/ ۱۰۳
جامع الترمذی ابواب صفۃ یوم القیمۃ باب منہ امین کمپنی دہلی ۲/ ۷۴
دیکھو کیسا صاف ارشاد ہے کہ تدبیر کرو مگر اس پر اعتماد نہ کرلو۔دل کی نظر تقدیر پر رہے۔
مولانا قدس سرہ مثنوی شریف میں فرماتے ہیں:
توکل کن بجنباں پاودست رزق تو برتو ز تو عاشق تراست
(توکل کر اور ہاتھ پاؤں حرکت میں لا کہ تیرا رزق تجھ پر تجھ سے زیادہ عاشق ہے۔ت)
خود حضرت عزت جل مجدہ نے قرآن عظیم میں تلاش وتدبیر اور اﷲ کی طرف وسیلہ ڈھونڈنے کی ہدایت فرمائی۔(۱۴)قال تعالی(اﷲ تعالی نے فرمایا۔ت)
" وتزودوا فان خیر الزاد التقوی۫ واتقون یاولی الالبب﴿۱۹۷﴾ لیس علیکم جناح ان تبتغوا فضلا من ربکم" ۔ اور توشہ ساتھ لو کہ سب سے بہتر توشہ پرہیزگاری ہےاور مجھ سے ڈرتے رہو اے عقل والو۔تم پر کچھ گناہ نہیں کہ اپنے رب کا فضل تلاش کرو۔ت)
یمن کے کچھ لوگ بے زاد راہ لیے حج کو آتے اور کہتے ہم متوکل ہیںناچار بھیك مانگنی پڑتیحکم آیا توشہ ساتھ لیا کرو۔کچھ اصحاب کرام نے موسم حج میں تجارت سے اندیشہ کیا کہ کہیں اخلاص نیت میں فرق نہ آئے۔فرمان آیا کچھ گناہ نہیں کہ تم اپنے رب کا فضل ڈھونڈو۔اسی طرح تلاش فضل الہی کی آیتیں بکثرت ہیں۔(۱۵)وقال تعالی(اور اﷲ تعالی نے فرمایا۔ت)
" یایہا الذین امنوا اتقوا اللہ وابتغوا الیہ الوسیلۃ وجہدوا فی سبیلہ لعلکم تفلحون ﴿۳۵﴾" ۔ اے ایمان والو ! اﷲ سے ڈرو اور اس کی طر ف وسیلہ ڈھونڈو اور اس کی راہ میں جہاد کرو اس امید پر کہ فلاح پاؤ۔ت)
صاف حکم دیتے ہیں کہ رب کی طرف وسیلہ ڈھونڈو تاکہ مراد کو پہنچو۔اگر تدبیر واسباب معطل و مہمل ہوتے تو اس کی کیا حاجت تھی۔
بلکہ انصاف کیجئے توتدبیرکب تقدیر سے باہر ہےوہ خود ایك تقدیر ہےاور اس کا بجالانے والا
مولانا قدس سرہ مثنوی شریف میں فرماتے ہیں:
توکل کن بجنباں پاودست رزق تو برتو ز تو عاشق تراست
(توکل کر اور ہاتھ پاؤں حرکت میں لا کہ تیرا رزق تجھ پر تجھ سے زیادہ عاشق ہے۔ت)
خود حضرت عزت جل مجدہ نے قرآن عظیم میں تلاش وتدبیر اور اﷲ کی طرف وسیلہ ڈھونڈنے کی ہدایت فرمائی۔(۱۴)قال تعالی(اﷲ تعالی نے فرمایا۔ت)
" وتزودوا فان خیر الزاد التقوی۫ واتقون یاولی الالبب﴿۱۹۷﴾ لیس علیکم جناح ان تبتغوا فضلا من ربکم" ۔ اور توشہ ساتھ لو کہ سب سے بہتر توشہ پرہیزگاری ہےاور مجھ سے ڈرتے رہو اے عقل والو۔تم پر کچھ گناہ نہیں کہ اپنے رب کا فضل تلاش کرو۔ت)
یمن کے کچھ لوگ بے زاد راہ لیے حج کو آتے اور کہتے ہم متوکل ہیںناچار بھیك مانگنی پڑتیحکم آیا توشہ ساتھ لیا کرو۔کچھ اصحاب کرام نے موسم حج میں تجارت سے اندیشہ کیا کہ کہیں اخلاص نیت میں فرق نہ آئے۔فرمان آیا کچھ گناہ نہیں کہ تم اپنے رب کا فضل ڈھونڈو۔اسی طرح تلاش فضل الہی کی آیتیں بکثرت ہیں۔(۱۵)وقال تعالی(اور اﷲ تعالی نے فرمایا۔ت)
" یایہا الذین امنوا اتقوا اللہ وابتغوا الیہ الوسیلۃ وجہدوا فی سبیلہ لعلکم تفلحون ﴿۳۵﴾" ۔ اے ایمان والو ! اﷲ سے ڈرو اور اس کی طر ف وسیلہ ڈھونڈو اور اس کی راہ میں جہاد کرو اس امید پر کہ فلاح پاؤ۔ت)
صاف حکم دیتے ہیں کہ رب کی طرف وسیلہ ڈھونڈو تاکہ مراد کو پہنچو۔اگر تدبیر واسباب معطل و مہمل ہوتے تو اس کی کیا حاجت تھی۔
بلکہ انصاف کیجئے توتدبیرکب تقدیر سے باہر ہےوہ خود ایك تقدیر ہےاور اس کا بجالانے والا
ہرگز تقدیر سے روگرداں نہیں۔
حدیث ۲۶:حدیث میں حضور سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے عرض کی گئیدوا تقدیر سے کیا نافع ہوگی فرمایا:
الدوامن القدرینفع من یشاء بماشاء رواہ ابن السنی ۔فی الطب والدیلمی فی مسند الفردوس عن ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما وصدرہ عنہ عندابی نعیم والطبرانی فی المعجم الکبیر۔ دوا خود بھی تقدیر سے ہےاﷲ تعالی جسے چاہے جس دوا سے چاہے نفع پہنچادیتا ہے۔(اس کو روایت کیا ہے ابن سنی نے طب میں اور دیلمی نے مسند فردوس میں اور اس کی ابتداء ابن عباس سے ابو نعیم کے نزدیك ہے اور طبرانی نے معجم کبیر میں اس کو روایت کیا۔ت)
حدیث ۲۷:امیرالمومنین عمر فاروق اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ جب بقصد شام و ادی تبوك میں قریہ سرغ تك پہنچے سرداران لشکر ابوعبیدہ بن الجراح وخالد بن الولید و عمر و بن العاص وغیرہم رضوان اﷲ تعالی علیہم انہیں ملے اور خبر دی کہ شام میں وبا ہےامیر المومنین نے مہاجرین وانصار وغیرہم صحابہ کرام رضی اﷲ تعالی عنہم کو بلا کر مشورہ لیااکثر کی رائے رجوع پر قرار پائی امیر المومنین نے بازگشت کی منادی فرمائی۔حضرت ابوعبیدہ رضی اﷲ تعالی عنہ نے کہا:أفرارا من اﷲ کیا اﷲ تعالی کی تقدیر سے بھاگنا فرمایا:
لو غیرك قالہا یااباعبیدۃنعمنفرمن قدر اﷲ الی قدر اﷲ ارایت لوکان لك ابل ھبطت وادیالہ عدوتان احدھما خصبۃ والاخری جدبۃ الیس ان رعیت الخصبۃ رعیتہا بقدر اﷲ وان رعیت الجدبۃ رعیتہا بقدر اﷲ۔ کاش اے ابوعبیدہ ! یہ بات تمہارے سوا کسی اور نے کہی ہوتی (یعنی تمہارے علم و فضل سے بعید تھی)ہاں ہم اﷲ کی تقدیر سے اﷲ کی تقدیر ہی کی طرف بھاگتے ہیںبھلا بتاؤ تو اگر تمہارے کچھ اونٹ ہوں انہیں لے کر کسی وادی میں اترو جس کے دو کنارے ہوںایك سرسبزدوسرا خشکتو کیا یہ بات نہیں ہے کہ اگر تم شاداب میں چراؤ گے تو خدا کی تقدیر سے اور خشك میں چراؤ گے تو خدا کی تقدیر سے۔
حدیث ۲۶:حدیث میں حضور سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے عرض کی گئیدوا تقدیر سے کیا نافع ہوگی فرمایا:
الدوامن القدرینفع من یشاء بماشاء رواہ ابن السنی ۔فی الطب والدیلمی فی مسند الفردوس عن ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما وصدرہ عنہ عندابی نعیم والطبرانی فی المعجم الکبیر۔ دوا خود بھی تقدیر سے ہےاﷲ تعالی جسے چاہے جس دوا سے چاہے نفع پہنچادیتا ہے۔(اس کو روایت کیا ہے ابن سنی نے طب میں اور دیلمی نے مسند فردوس میں اور اس کی ابتداء ابن عباس سے ابو نعیم کے نزدیك ہے اور طبرانی نے معجم کبیر میں اس کو روایت کیا۔ت)
حدیث ۲۷:امیرالمومنین عمر فاروق اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ جب بقصد شام و ادی تبوك میں قریہ سرغ تك پہنچے سرداران لشکر ابوعبیدہ بن الجراح وخالد بن الولید و عمر و بن العاص وغیرہم رضوان اﷲ تعالی علیہم انہیں ملے اور خبر دی کہ شام میں وبا ہےامیر المومنین نے مہاجرین وانصار وغیرہم صحابہ کرام رضی اﷲ تعالی عنہم کو بلا کر مشورہ لیااکثر کی رائے رجوع پر قرار پائی امیر المومنین نے بازگشت کی منادی فرمائی۔حضرت ابوعبیدہ رضی اﷲ تعالی عنہ نے کہا:أفرارا من اﷲ کیا اﷲ تعالی کی تقدیر سے بھاگنا فرمایا:
لو غیرك قالہا یااباعبیدۃنعمنفرمن قدر اﷲ الی قدر اﷲ ارایت لوکان لك ابل ھبطت وادیالہ عدوتان احدھما خصبۃ والاخری جدبۃ الیس ان رعیت الخصبۃ رعیتہا بقدر اﷲ وان رعیت الجدبۃ رعیتہا بقدر اﷲ۔ کاش اے ابوعبیدہ ! یہ بات تمہارے سوا کسی اور نے کہی ہوتی (یعنی تمہارے علم و فضل سے بعید تھی)ہاں ہم اﷲ کی تقدیر سے اﷲ کی تقدیر ہی کی طرف بھاگتے ہیںبھلا بتاؤ تو اگر تمہارے کچھ اونٹ ہوں انہیں لے کر کسی وادی میں اترو جس کے دو کنارے ہوںایك سرسبزدوسرا خشکتو کیا یہ بات نہیں ہے کہ اگر تم شاداب میں چراؤ گے تو خدا کی تقدیر سے اور خشك میں چراؤ گے تو خدا کی تقدیر سے۔
حوالہ / References
کنزالعمال برمز ابن سنی عن ابن عباس حدیث ۲۸۰۸۲ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۰/ ۵
اخرجہ الائمۃ مالك واحمد والبخاری ومسلم وابو داؤد وا لنسائی عن ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما۔ اس کی تخریج کی ہےائمہ یعنی مالکاحمدبخاری مسلم ابوداؤد اور نسائی نے ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے(ت)
یعنی باآنکہ سب کچھ تقدیر سے ہے پھر آدمی خشك جنگل چھوڑ کر ہرا بھرا چرائی کے لیے اختیار کرتا ہےاس سے تقدیر الہی سے بچنا لازم نہیں آتایونہی ہمارا اس زمین میں نہ جانا جس میں وبا پھیلی ہے یہ بھی تقدیر سے فرار نہیں۔پس ثابت ہوا کہ تدبیر ہر گز منافی تو کل نہیںبلکہ اصلاح نیت کے ساتھ عین توکل ہے۔ہاں یہ بے شك ممنوع و مذموم ہے کہ آدم ہمہ تن تدبیر میں منہمك ہوجائے اور اس کی درستی میں جاوبیجا و نیك و بد و حلال و حرام کا خیال نہ رکھے۔یہ بات بیشك اسی سے صادر ہوگی جو تقدیر کو بھول کر تدبیر پر اعتماد کر بیٹھاشیطان اسے ابھارتا ہے کہ اگر یہ بن پڑی جب تو کار برآری ہے ورنہ مایوسی و ناکامیناچار سب این وآں سے غافل ہو کر اس کی تحصیل میں لہو پانی ایك کردیتا ہےاور ذلت و خواریخوشامد و چاپلوسیمکرو دغا بازی جس طرح بن پڑے اس کی راہ لیتا ہےحالانکہ اس حرص سے کچھ نہ ہوگا۔ہونا وہی ہے جو قسمت میں لکھا ہے۔اگر یہ علوہمت و صدق نیت و پاس عزت و لحاظ شریعت ہاتھ سے نہ دیتا رزق کہ اﷲ عزوجل نے اپنے ذمے لیا جب بھی پہنچتااس کی طمع نے آپ اس کے پاؤں میں تیشہ مارا اور حرص و گناہ کی شامت نے " خسر الدنیا والاخرۃ " ۔(دنیا و آخرت دونوں کے اندر گھاٹے میں رہا۔ ت)کا مصداق بنایااور اگر بالفرض آبروکھو کر گناہ گار ہو کر دوپیسہ پائے بھی تو ایسے مال پر ہزار تف
بئس المطاعم حین الذل تکسبہا القدر منتصب والقدر مخفوض
(بری خوراك وہ جسے ذلت کی حالت میں حاصل کرو قسمت بلند بھی ہے اور قسمت پست بھی۔(ت)
حدیث ۲۸:اسی لیے حضور سید المرسلین صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں:
یعنی باآنکہ سب کچھ تقدیر سے ہے پھر آدمی خشك جنگل چھوڑ کر ہرا بھرا چرائی کے لیے اختیار کرتا ہےاس سے تقدیر الہی سے بچنا لازم نہیں آتایونہی ہمارا اس زمین میں نہ جانا جس میں وبا پھیلی ہے یہ بھی تقدیر سے فرار نہیں۔پس ثابت ہوا کہ تدبیر ہر گز منافی تو کل نہیںبلکہ اصلاح نیت کے ساتھ عین توکل ہے۔ہاں یہ بے شك ممنوع و مذموم ہے کہ آدم ہمہ تن تدبیر میں منہمك ہوجائے اور اس کی درستی میں جاوبیجا و نیك و بد و حلال و حرام کا خیال نہ رکھے۔یہ بات بیشك اسی سے صادر ہوگی جو تقدیر کو بھول کر تدبیر پر اعتماد کر بیٹھاشیطان اسے ابھارتا ہے کہ اگر یہ بن پڑی جب تو کار برآری ہے ورنہ مایوسی و ناکامیناچار سب این وآں سے غافل ہو کر اس کی تحصیل میں لہو پانی ایك کردیتا ہےاور ذلت و خواریخوشامد و چاپلوسیمکرو دغا بازی جس طرح بن پڑے اس کی راہ لیتا ہےحالانکہ اس حرص سے کچھ نہ ہوگا۔ہونا وہی ہے جو قسمت میں لکھا ہے۔اگر یہ علوہمت و صدق نیت و پاس عزت و لحاظ شریعت ہاتھ سے نہ دیتا رزق کہ اﷲ عزوجل نے اپنے ذمے لیا جب بھی پہنچتااس کی طمع نے آپ اس کے پاؤں میں تیشہ مارا اور حرص و گناہ کی شامت نے " خسر الدنیا والاخرۃ " ۔(دنیا و آخرت دونوں کے اندر گھاٹے میں رہا۔ ت)کا مصداق بنایااور اگر بالفرض آبروکھو کر گناہ گار ہو کر دوپیسہ پائے بھی تو ایسے مال پر ہزار تف
بئس المطاعم حین الذل تکسبہا القدر منتصب والقدر مخفوض
(بری خوراك وہ جسے ذلت کی حالت میں حاصل کرو قسمت بلند بھی ہے اور قسمت پست بھی۔(ت)
حدیث ۲۸:اسی لیے حضور سید المرسلین صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں:
حوالہ / References
صحیح البخاری کتاب الطب باب مایذکر فی الطاعون قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۸۵۳،صحیح مسلم کتاب السلام باب الطاعون والطیرۃ الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۲۲۹،مؤطا الامام مالک کتاب الجامع باب ماجاء فی الطاعون میر محمد کتب خانہ کراچی ص ۶۹۹ و ۷۰۰
القرآن الکریم ۲۲ /۱۱
القرآن الکریم ۲۲ /۱۱
اجملوا فی طلب الدنیا فان کلا میسر لما کتب لہ منھا رواہ ابن ماجۃ ۔ والحاکم والطبرانی فی الکبیر و البیھقی فی السنن وابوالشیخ فی الثواب عن ابی حمید الساعدی رضی اﷲ تعالی عنہ باسناد صحیح واللفظ للحاکم۔ دنیا کی طلب میں اچھی روش سے عدول نہ کرو کہ جس کے مقدر میں جتنی لکھی ہے ضرور اس کے سامان مہیا پائے گا۔ (اس کو روایت کیا ابن ماجہحاکم)طبرانی نے کبیر میںبیہقی نے سنن میں اور ابوالشیخ نے ثواب میں صحیح اسناد کے ساتھ ابوحمید ساعدی رضی اﷲ تعالی عنہ سے اور لفظ حاکم کے ہیں۔ت)
حدیث ۲۹ و ۳۰:اور فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
یا ایھاالناس اتقوا واجملوا فی الطلب فان نفسا لن تموت حتی تستوفی رزقہا فان ابطأمنہا فاتقوا اﷲ و اجملوا فی الطلب خذوا ماحل ودعوا ماحرمرواہ ابن ماجۃ واللفظ لہ والحاکم وقال صحیح علی شرطھما وبسنداخر صحیح علی شرط مسلم وابن حبان فی صحیحہ کلھم عن جابربن عبداﷲ اے لوگو! اﷲ سے ڈرواور طلب رزق نیك طور پر کرو کہ کوئی جان دنیا سے نہ جائے گیجب تك اپنا رزق پورا نہ لے لےتو اگرروزی میں دیر دیکھو تو خدا سے ڈرو اور روش محمود پر تلاش کروحلال کرلو ا ور حرام کو چھوڑو۔(اس کو ابن ماجہ نے روایت کیا اور لفظ اسی کے ہیںاور حاکم نے روایت کرکے کہا کہ یہ شیخین کی شرط پر صحیح ہے اور ایك دوسری سند کے ساتھ کہا ز کہ مسلم کی شرط پر صحیح ہےاور ابن حبان نے اپنی صحیح میں روایت کیا۔سب نے
حدیث ۲۹ و ۳۰:اور فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
یا ایھاالناس اتقوا واجملوا فی الطلب فان نفسا لن تموت حتی تستوفی رزقہا فان ابطأمنہا فاتقوا اﷲ و اجملوا فی الطلب خذوا ماحل ودعوا ماحرمرواہ ابن ماجۃ واللفظ لہ والحاکم وقال صحیح علی شرطھما وبسنداخر صحیح علی شرط مسلم وابن حبان فی صحیحہ کلھم عن جابربن عبداﷲ اے لوگو! اﷲ سے ڈرواور طلب رزق نیك طور پر کرو کہ کوئی جان دنیا سے نہ جائے گیجب تك اپنا رزق پورا نہ لے لےتو اگرروزی میں دیر دیکھو تو خدا سے ڈرو اور روش محمود پر تلاش کروحلال کرلو ا ور حرام کو چھوڑو۔(اس کو ابن ماجہ نے روایت کیا اور لفظ اسی کے ہیںاور حاکم نے روایت کرکے کہا کہ یہ شیخین کی شرط پر صحیح ہے اور ایك دوسری سند کے ساتھ کہا ز کہ مسلم کی شرط پر صحیح ہےاور ابن حبان نے اپنی صحیح میں روایت کیا۔سب نے
حوالہ / References
المستدرک للحاکم کتاب البیوع لابأس بالغنی لمن اتقی دارالفکر بیروت ۲/ ۳،سنن ابن ماجہ ابواب التجارات باب الاقتصاد فی طلب المعیشۃ الخ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۵۶،السنن الکبرٰی کتاب البیوع باب الاجمال فی طلب الدنیا دارصادربیروت ۵/ ۲۶۴،کنزالعمال عن ابی حمید ساعدی حدیث ۹۲۹۱ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۴/ ۲۰،الترغیب والترہیب الترغیب فی الاقتصاد فی طلب الرزق الخ مصطفٰی البابی مصر ۲/ ۵۳۴
سنن ابن ماجہ ابواب التجارات باب الاقتصاد فی طلب المعیشہ الخ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص ۱۵۶،المستدرک للحاکم کتاب البیوع لابأس بالغنی لمن اتقی الخ دارالفکر بیروت ۲/ ۴
المستدرک للحاکم کتاب البیوع لابأس بالغنی لمن اتقی الخ دارالفکر بیروت ۲/ ۴
سنن ابن ماجہ ابواب التجارات باب الاقتصاد فی طلب المعیشہ الخ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص ۱۵۶،المستدرک للحاکم کتاب البیوع لابأس بالغنی لمن اتقی الخ دارالفکر بیروت ۲/ ۴
المستدرک للحاکم کتاب البیوع لابأس بالغنی لمن اتقی الخ دارالفکر بیروت ۲/ ۴
وبمعناہ عندابی یعلی بسند حسن ان شاء اﷲ تعالی عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہم۔ حضرت جابر رضی اﷲ تعالی عنہ سے اور اس کے ہم معنی ابویعلی کے نزدیك ان شاء اﷲ تعالی سند حسن کے ساتھ ابو ہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے مروی ہے۔ت)
حدیث ۳۱ تا ۳۴:اور فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
ان روح القدس نفث فی روعی ان نفسا لن تموت حتی تستکمل اجلہا وتستوعب رزقہا فاتقوااﷲ واجملوا فی الطلب ولا یحملن احدکم استبطاء الرزق ان یطلبہ بمعصیۃ اﷲفان اﷲ تعالی لاینال ماعندہ الا بطاعتہاخرجہ ابونعیم فی الحلیۃ ۔ واللفظ لہ عن ابی امامۃ الباھلیوالبغوی فی شرح السنۃ و البیھقی فی الشعب والحاکم فی المستدرك عن ابن مسعود و البزار عن حذیفۃ الیمان ونحوہ للطبرانی فی الکبیر عن الحسن بن علی امیر المؤمنین رضی اﷲ تعالی عنہم اجمعین غیر ان الطبرانی لم یذکر جبریل علیہ الصلوۃ السلام۔ بے شك روح القدس جبریل نے میرے دل میں ڈالا کہ کوئی جان نہ مرے گی جب تك اپنی عمر اور اپنا رزق پورا نہ کر لےتو خدا سے ڈرو اور نیك طریقے سے تلاش کروا ور خبردار رزق کی درنگی تم میں کسی کو اس پر نہ لائے کہ نافرمانی خدا سے اسے طلب کرے کہ اﷲ کا فضل تو اس کی طاعت ہی سے ملتا ہے۔(ابونعیم نے حلیہ میں اس کی تخریج کی اور لفظ اسی کے ہیںبغوی نے شرح السنہ میںبیہقی نے شعب میں اور حاکم نے مستدرك میں ابن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ سے نیز بزار نے حذیفہ بن الیمان سے اور اسی کی مثل طبرانی کی کبیر میں حسن بن امیر المومنین علی سے مروی ہے رضی اﷲ تعالی عنہم اجمعین مگر طبرانی نے جبریل علیہ الصلوۃ والسلام کا ذکر نہیں کیا۔ت)
حدیث ۳۵:اور مروی ہوافرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
اطلبواالحوائج بعزۃ الانفس فان الامور تجری بالمقادیر رواہ تمام حاجتیں عزت نفس کے ساتھ طلب کرو کہ سب کام تقدیر پر چلتے ہیں۔(ا س کو تمام نے
حدیث ۳۱ تا ۳۴:اور فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
ان روح القدس نفث فی روعی ان نفسا لن تموت حتی تستکمل اجلہا وتستوعب رزقہا فاتقوااﷲ واجملوا فی الطلب ولا یحملن احدکم استبطاء الرزق ان یطلبہ بمعصیۃ اﷲفان اﷲ تعالی لاینال ماعندہ الا بطاعتہاخرجہ ابونعیم فی الحلیۃ ۔ واللفظ لہ عن ابی امامۃ الباھلیوالبغوی فی شرح السنۃ و البیھقی فی الشعب والحاکم فی المستدرك عن ابن مسعود و البزار عن حذیفۃ الیمان ونحوہ للطبرانی فی الکبیر عن الحسن بن علی امیر المؤمنین رضی اﷲ تعالی عنہم اجمعین غیر ان الطبرانی لم یذکر جبریل علیہ الصلوۃ السلام۔ بے شك روح القدس جبریل نے میرے دل میں ڈالا کہ کوئی جان نہ مرے گی جب تك اپنی عمر اور اپنا رزق پورا نہ کر لےتو خدا سے ڈرو اور نیك طریقے سے تلاش کروا ور خبردار رزق کی درنگی تم میں کسی کو اس پر نہ لائے کہ نافرمانی خدا سے اسے طلب کرے کہ اﷲ کا فضل تو اس کی طاعت ہی سے ملتا ہے۔(ابونعیم نے حلیہ میں اس کی تخریج کی اور لفظ اسی کے ہیںبغوی نے شرح السنہ میںبیہقی نے شعب میں اور حاکم نے مستدرك میں ابن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ سے نیز بزار نے حذیفہ بن الیمان سے اور اسی کی مثل طبرانی کی کبیر میں حسن بن امیر المومنین علی سے مروی ہے رضی اﷲ تعالی عنہم اجمعین مگر طبرانی نے جبریل علیہ الصلوۃ والسلام کا ذکر نہیں کیا۔ت)
حدیث ۳۵:اور مروی ہوافرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
اطلبواالحوائج بعزۃ الانفس فان الامور تجری بالمقادیر رواہ تمام حاجتیں عزت نفس کے ساتھ طلب کرو کہ سب کام تقدیر پر چلتے ہیں۔(ا س کو تمام نے
حوالہ / References
حلیۃ الاولیاء ترجمہ ۴۵۷ احمد بن ابی الحواری دارالکتاب العربی بیروت ۱۰/۲۷،شرح السنۃ باب التوکل علی اﷲ حدیث ۴۱۱۱ المکتب الاسلامی بیروت ۱۴/ ۳۰۴
فی فوائدہ وابن عساکر فی تاریخہ عن عبداﷲ بن بسررضی اﷲ تعالی عنہ۔ فوائد میں اور ابن عساکر نے اپنی تاریخ میں عبداﷲ بن بسر رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا۔ت)
ان سب حدیثوں میں بھی تلاش و تدبیر کی طرف ہدایت فرمائی مگر حکم دیا کہ شریعت و عزت کا پاس رکھوتدبیر میں بے ہوش و مدہوش نہ ہوجاؤدست درکار و دل بایارتدبیر میں ہاتھدل تقدیر کے ساتھظاہر میں ادھر باطن میں ادھراسباب کا ناممسبب سے کامیوں بسر کرناچاہیےیہی روش ہدی ہےیہی مرضی خدایہی سنت انبیاءیہی سیرت اولیاء علیھم جمیعا الصلوۃ والثناء(ان سب کے لیے درود اور ثناء ہو۔ت)
بس اس بارے میں یہی قول فیصل و صراط مستقیم ہےاس کے سوا تقدیر کو بھولنا یا حق نہ ماننایا تدبیر کو اصلا مہمل جاننا دونوں معاذ اﷲ گمراہی ضلالت یا جنون و سفاہتوالعیاذ باﷲ رب العلمین۔
باب تدبیر میں آیات و احادیث اتنی نہیں جنہیں کوئی حصر کرسکے۔فقر غفراﷲ تعالی لہ دعوی کرتا ہے کہ ان شاء اﷲ تعالی اگر محنت کی جائے تو دس ہزار سے زائد آیات و احادیث اس پر ہوسکتی ہیں مگر کیا حاجت کہ۔ ع
آفتاب آمد دلیل آفتاب
(سورج کی دلیل خود سورج ہے۔ت)
جس مسئلہ کے تسلیم پر تمام جہان کے کاروبار کا دار ومداراس میں زیادہ تطویل عبث وبیکاراسی تحریر میں کہ فقیر نے پندرہ آیتیں اور پینتس حدیثیں جملہ پچاس ۵۰ نصوص ذکر کیے اور صدہا بلکہ ہزار ہا کے پتے دیئےیہ کیا تھوڑے ہیںانہیں سے ثابت کہ انکار تدبیر کس قدر اعلی درجہ کی حماقتاخبث الامراضاور قرآن و حدیث سے صریح اعراض اور خدا و رسول پر کھلا اعتراض ولاحول ولا قوۃ الا باﷲ العلی العظیم۔
ولید پر فرض ہے کہ تائب ہواور کتاب و سنت سے اپنا عقیدہ درست کرےورنہ بدمذہبی کی شامت سخت جانکاہ ہے والعیاذ باﷲ رب العلمینباقی رہا اس کا عربی پڑھانےعلم سکھانے کی نسبت وہ شنیع لفظ کہنااگر اس تاویل کا درمیان نہ ہوتا کہ شاید وہ ان لوگوں پر معترض ہے جو
ان سب حدیثوں میں بھی تلاش و تدبیر کی طرف ہدایت فرمائی مگر حکم دیا کہ شریعت و عزت کا پاس رکھوتدبیر میں بے ہوش و مدہوش نہ ہوجاؤدست درکار و دل بایارتدبیر میں ہاتھدل تقدیر کے ساتھظاہر میں ادھر باطن میں ادھراسباب کا ناممسبب سے کامیوں بسر کرناچاہیےیہی روش ہدی ہےیہی مرضی خدایہی سنت انبیاءیہی سیرت اولیاء علیھم جمیعا الصلوۃ والثناء(ان سب کے لیے درود اور ثناء ہو۔ت)
بس اس بارے میں یہی قول فیصل و صراط مستقیم ہےاس کے سوا تقدیر کو بھولنا یا حق نہ ماننایا تدبیر کو اصلا مہمل جاننا دونوں معاذ اﷲ گمراہی ضلالت یا جنون و سفاہتوالعیاذ باﷲ رب العلمین۔
باب تدبیر میں آیات و احادیث اتنی نہیں جنہیں کوئی حصر کرسکے۔فقر غفراﷲ تعالی لہ دعوی کرتا ہے کہ ان شاء اﷲ تعالی اگر محنت کی جائے تو دس ہزار سے زائد آیات و احادیث اس پر ہوسکتی ہیں مگر کیا حاجت کہ۔ ع
آفتاب آمد دلیل آفتاب
(سورج کی دلیل خود سورج ہے۔ت)
جس مسئلہ کے تسلیم پر تمام جہان کے کاروبار کا دار ومداراس میں زیادہ تطویل عبث وبیکاراسی تحریر میں کہ فقیر نے پندرہ آیتیں اور پینتس حدیثیں جملہ پچاس ۵۰ نصوص ذکر کیے اور صدہا بلکہ ہزار ہا کے پتے دیئےیہ کیا تھوڑے ہیںانہیں سے ثابت کہ انکار تدبیر کس قدر اعلی درجہ کی حماقتاخبث الامراضاور قرآن و حدیث سے صریح اعراض اور خدا و رسول پر کھلا اعتراض ولاحول ولا قوۃ الا باﷲ العلی العظیم۔
ولید پر فرض ہے کہ تائب ہواور کتاب و سنت سے اپنا عقیدہ درست کرےورنہ بدمذہبی کی شامت سخت جانکاہ ہے والعیاذ باﷲ رب العلمینباقی رہا اس کا عربی پڑھانےعلم سکھانے کی نسبت وہ شنیع لفظ کہنااگر اس تاویل کا درمیان نہ ہوتا کہ شاید وہ ان لوگوں پر معترض ہے جو
حوالہ / References
€ کنزالعمال برمز تمام وابن عساکر عن عبداﷲ بن بسر حدیث ۱۶۸۰۵ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۶/۵۱۸
دنیا کے لیے علم پڑھاتے ہیںاور ایسے لوگ بےشك لائق اعتراض ہیںتو صریح کلمہ کفر تھا کہ اس نے علم دین کی تحقیر و توہین کیاور اس سے سخت تر ہے اس کا خالد کو اس بنا پر کافر کہنا کہ وہ باوجود ایمان تقدیرتدبیر کو بہتر و مستحسن جانتا ہےحالانکہ جو اس کا عقیدہ ہے وہی حق وصحیح ہےاور ولید کا قول خود باطل و قبیحمسلمان کو کافر کہنا سہل بات نہیں۔
(حدیث ۳۶ تا ۳۹):صحیح حدیثوں میں فرمایا کہ جو دوسرے کو کافر کہے اگر وہ کافر نہ تھا یہ کافر ہوجائے۔
کما اخرجہ الائمۃ مالك واحمد والبخاری ومسلم وابوداؤد والترمذی عن عبداﷲ بن عمروالبخاری عن ابی ھریرۃ واحمد والشیخان عن ابی ذر وابن حبان بسند صحیح عن ابی سعید الخدری رضی اﷲ تعالی عنہم باسانید عدیدۃ والفاظ متبائنۃ ومعانی متقاربۃ۔ جیسا کہ اس کی تخریج کی ہےائمہ کرام یعنی امام مالکاحمد بخاریمسلمابوداؤداور ترمذی نے عبداﷲ بن عمر سے اور بخاری نے ابوہریرہ سے اور احمد اور شیخین نے ابوذر سے اور ابن حبان نے سند صحیح کے ساتھ ابوسعید خدری سے رضی اﷲ تعالی عنہم اجمعین متعدد سندوں کے ساتھ جن کے الفاظ مختلف مگر معانی قریب قریب ہیں۔(ت)
اور اگرچہ اہل سنت کا مذہب محقق و منقح یہی ہے کہ ہمیں تاہم احتیاط لازم اور اتنی بات پرحکم تکفیر ممنوع و ناملائماور احادیث مذکورہ میں تاویلات عدیدہ کا احتمال قائم۔مگر پھر بھی صدہا ائمہ مثل امام ابوبکر اعمش وجمہور فقہاء بلخ وغیرہم رحمۃ اﷲ تعالی علیہم ظاہر احادیث ہی پر عمل کرتےاور مسلمان کے مکفرکو مطلقا کافر کہتے ہیںکما فصلناہ کل ذلك فی رسالتناالنھی الاکید عن الصلوۃ وراء عدی التقلید(جیسا کہ ہم نے اس تمام کی تفصیل اپنے رسالہ النھی الاکیدعن الصلو ۃ وراء عدی التقلید میں کردی ہے۔ت)
تو ولید پر لازم کہ از سر نو کلمہ اسلام پڑھے اور اگر صاحب نکاح ہو تو اپنی زوجہ سے تجدید نکاح کرے۔
(حدیث ۳۶ تا ۳۹):صحیح حدیثوں میں فرمایا کہ جو دوسرے کو کافر کہے اگر وہ کافر نہ تھا یہ کافر ہوجائے۔
کما اخرجہ الائمۃ مالك واحمد والبخاری ومسلم وابوداؤد والترمذی عن عبداﷲ بن عمروالبخاری عن ابی ھریرۃ واحمد والشیخان عن ابی ذر وابن حبان بسند صحیح عن ابی سعید الخدری رضی اﷲ تعالی عنہم باسانید عدیدۃ والفاظ متبائنۃ ومعانی متقاربۃ۔ جیسا کہ اس کی تخریج کی ہےائمہ کرام یعنی امام مالکاحمد بخاریمسلمابوداؤداور ترمذی نے عبداﷲ بن عمر سے اور بخاری نے ابوہریرہ سے اور احمد اور شیخین نے ابوذر سے اور ابن حبان نے سند صحیح کے ساتھ ابوسعید خدری سے رضی اﷲ تعالی عنہم اجمعین متعدد سندوں کے ساتھ جن کے الفاظ مختلف مگر معانی قریب قریب ہیں۔(ت)
اور اگرچہ اہل سنت کا مذہب محقق و منقح یہی ہے کہ ہمیں تاہم احتیاط لازم اور اتنی بات پرحکم تکفیر ممنوع و ناملائماور احادیث مذکورہ میں تاویلات عدیدہ کا احتمال قائم۔مگر پھر بھی صدہا ائمہ مثل امام ابوبکر اعمش وجمہور فقہاء بلخ وغیرہم رحمۃ اﷲ تعالی علیہم ظاہر احادیث ہی پر عمل کرتےاور مسلمان کے مکفرکو مطلقا کافر کہتے ہیںکما فصلناہ کل ذلك فی رسالتناالنھی الاکید عن الصلوۃ وراء عدی التقلید(جیسا کہ ہم نے اس تمام کی تفصیل اپنے رسالہ النھی الاکیدعن الصلو ۃ وراء عدی التقلید میں کردی ہے۔ت)
تو ولید پر لازم کہ از سر نو کلمہ اسلام پڑھے اور اگر صاحب نکاح ہو تو اپنی زوجہ سے تجدید نکاح کرے۔
حوالہ / References
صحیح البخاری کتاب الادب باب من اکفرا خاہ بغیر تاویل قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۹۰۱،صحیح مسلم کتاب الایمان باب بیان حال ایمان من قال لاخیہ المسلم یا کفر قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۵۷،مسند احمد بن حنبل عن ابن عمر المکتب الاسلامی بیروت ۲/ ۱۱۳
فی الدر المختار عن شرح الوھبانیۃ للعلامۃ حسن الشرنبلالی مایکون کفرا اتفاقا یبطل العمل و النکاح واولادہ اولاد زنا و ما فیہ خلاف یؤمر بالاستغفار والتوبۃ وتجدید النکاح ۔ در مختار میں علامہ حسن شر نبلالی کی شرح وہبانیہ سے منقول ہے جو بالاتفاق کفر ہو اس سے عمل اور نکاح باطل ہوجائیں گے بلاتجدید ایمان و نکاح اس کی اولاد اولاد زنا ہوگیاور جس میں اختلاف ہے قائل کو استغفارتوبہتجدید نکاح کا حکم دیا جائے گا۔(ت)
حدیث ۴۰:اور جس طرح یہ کلمات شنیعہ علانیہ کہے یونہی توبہ و تجدید ایمان کا بھی اعلان چاہیے۔
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اذاعملت سیئۃ فاحدث عندھا توبۃ السر بالسرو العلانیۃ بالعلانیۃ رواہ الامام احمد فی کتاب الزھد والطبرانی فی المعجم الکبیرعن معاذ بن جبل رضی اﷲ تعالی عنہ بسند حسن۔ جب تو کوئی گناہ کرے تو فورا ازسر نو توبہ کرپوشیدہ کی پوشیدہاور آشکارا کی آشکارا(اس کو امام احمد نے کتاب الزہد میں اور طبرانی نے معجم کبیر میں سند حسن کے ساتھ حضرت معاذ بن جبل رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا ت۔) ۔
واﷲ تعالی اعلم
رسالہ التحبیربباب التدبیر ختم ہوا۔
مسئلہ ۱۲۳: ازقصبہ مؤناتھ بھنجن ضلع اعظم گڑھ مدرسہ دارالعلوم مرسلہ عبدالرحیم خان ۱۱ صفر ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ روح پاك ہے یا ناپاك اگرپاك ہے تو بعد مردن عذاب کیوں ہوتا ہے اور اگر ناپاك ہے تو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کے قلب اطہر میں کیوں داخل ہوا
حدیث ۴۰:اور جس طرح یہ کلمات شنیعہ علانیہ کہے یونہی توبہ و تجدید ایمان کا بھی اعلان چاہیے۔
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اذاعملت سیئۃ فاحدث عندھا توبۃ السر بالسرو العلانیۃ بالعلانیۃ رواہ الامام احمد فی کتاب الزھد والطبرانی فی المعجم الکبیرعن معاذ بن جبل رضی اﷲ تعالی عنہ بسند حسن۔ جب تو کوئی گناہ کرے تو فورا ازسر نو توبہ کرپوشیدہ کی پوشیدہاور آشکارا کی آشکارا(اس کو امام احمد نے کتاب الزہد میں اور طبرانی نے معجم کبیر میں سند حسن کے ساتھ حضرت معاذ بن جبل رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا ت۔) ۔
واﷲ تعالی اعلم
رسالہ التحبیربباب التدبیر ختم ہوا۔
مسئلہ ۱۲۳: ازقصبہ مؤناتھ بھنجن ضلع اعظم گڑھ مدرسہ دارالعلوم مرسلہ عبدالرحیم خان ۱۱ صفر ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ روح پاك ہے یا ناپاك اگرپاك ہے تو بعد مردن عذاب کیوں ہوتا ہے اور اگر ناپاك ہے تو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کے قلب اطہر میں کیوں داخل ہوا
حوالہ / References
الدرالمختار کتاب الجہاد باب المرتد مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۵۹
الزھد لاحمد بن حنبل حدیث ۱۴۱ دارالکتاب العربی بیروت ص ۴۹،المعجم الکبیر حدیث ۳۳۱ المکتبۃ الفیصیلۃ بیروت ۲۰/ ۱۵۹
الزھد لاحمد بن حنبل حدیث ۱۴۱ دارالکتاب العربی بیروت ص ۴۹،المعجم الکبیر حدیث ۳۳۱ المکتبۃ الفیصیلۃ بیروت ۲۰/ ۱۵۹
الجواب :
روح اصل خلقت میں پاك ہےپھر اگر بداعتقاد بداعمال اختیار کیے تو ان سے ناپاك ہوجاتی ہےجس کے سبب مستحق عذاب ہوتی ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۲۴: از سہاور ۲۴ صفر ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اندریں باب کہ ایك صاحب نے دو مضامین ذیل بحوالہ حدیث بیان فرمائے اور اول کو حدیث قدسی کہا مضمون اول یہ ہے کہ اگر تمام مخلوقات کے قلب مثل قلب حضور سرور کائنات علیہ افضل الصلوات والطیبات کے ہوجائیں یا مثل شیطان لعین کے ہوجائیں تو اﷲ تعالی فرماتا ہےکہ مجھ کو مطلق پروا نہیں۔
دوسرا مضمون یہ ہے کہ بروز قیامت جنت و دوزخ میں حجت ہوگی۔دوزخ کہے گی کہ میں محل جبابرہ وافاخرہ ہوں اور تو محل مساکین وغرباء ہے اس لیے میں افضل ہوں یا مستحق اس کی ہوں کہ تمام بنی آدم میرے حوالے ہوں۔جنت کچھ جواب نہ دے گیمکالمہ میں کمزور پڑے گیپس اﷲ تعالی فیصلہ فرمائے گا کہ تم دونوں کو استحقاق حجت کسی طرح نہیں ہے میں جس کو جہاں چاہوں گا بھیجوں گا۔پس سوال یہ ہے کہ آیا یہ دونوں مضمون ان صاحب کے صحیح موافق حدیث کے ہیں یا نہیںاور برتقدیر اول یہ کیونکر ہوسکتا ہے کہ کوئی دوسرا قلب مثل قلب مبارك حضرت صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے ہوجائےعلماء نے تو ایسی احادیث کو جو صاحب درمنثور وغیرہ نے حبر الامۃ حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے روایت کی ہے درجہ اعتبار سے گرایا ہےاور نیز دوسرے مضمون میں جبابرہ وافاخرہ کا ہونا دوزخ کے لیے کب موجب فضیلت وفوقیت ہوسکتا ہے کہ وہ مشرکین و کفار ہوں گےامید کہ جواب باصواب عنایت ہو کہ ایك جماعت مسلمین کا شك رفع ہوبینوا توجروا(بیان فرمائیے اجر دیئے جاؤ گے۔ت)
الجواب:
حدیث اول میں ہر گز نام اقدس حضور سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نہیں بلکہ یوں ہے کہ:
علی اتقی قلب رجل واحد منکم ۔ تم میں کا جو بڑا پرہیزگار شخص ہو اس کے دل پر ہوجائیں۔
روح اصل خلقت میں پاك ہےپھر اگر بداعتقاد بداعمال اختیار کیے تو ان سے ناپاك ہوجاتی ہےجس کے سبب مستحق عذاب ہوتی ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۲۴: از سہاور ۲۴ صفر ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اندریں باب کہ ایك صاحب نے دو مضامین ذیل بحوالہ حدیث بیان فرمائے اور اول کو حدیث قدسی کہا مضمون اول یہ ہے کہ اگر تمام مخلوقات کے قلب مثل قلب حضور سرور کائنات علیہ افضل الصلوات والطیبات کے ہوجائیں یا مثل شیطان لعین کے ہوجائیں تو اﷲ تعالی فرماتا ہےکہ مجھ کو مطلق پروا نہیں۔
دوسرا مضمون یہ ہے کہ بروز قیامت جنت و دوزخ میں حجت ہوگی۔دوزخ کہے گی کہ میں محل جبابرہ وافاخرہ ہوں اور تو محل مساکین وغرباء ہے اس لیے میں افضل ہوں یا مستحق اس کی ہوں کہ تمام بنی آدم میرے حوالے ہوں۔جنت کچھ جواب نہ دے گیمکالمہ میں کمزور پڑے گیپس اﷲ تعالی فیصلہ فرمائے گا کہ تم دونوں کو استحقاق حجت کسی طرح نہیں ہے میں جس کو جہاں چاہوں گا بھیجوں گا۔پس سوال یہ ہے کہ آیا یہ دونوں مضمون ان صاحب کے صحیح موافق حدیث کے ہیں یا نہیںاور برتقدیر اول یہ کیونکر ہوسکتا ہے کہ کوئی دوسرا قلب مثل قلب مبارك حضرت صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے ہوجائےعلماء نے تو ایسی احادیث کو جو صاحب درمنثور وغیرہ نے حبر الامۃ حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے روایت کی ہے درجہ اعتبار سے گرایا ہےاور نیز دوسرے مضمون میں جبابرہ وافاخرہ کا ہونا دوزخ کے لیے کب موجب فضیلت وفوقیت ہوسکتا ہے کہ وہ مشرکین و کفار ہوں گےامید کہ جواب باصواب عنایت ہو کہ ایك جماعت مسلمین کا شك رفع ہوبینوا توجروا(بیان فرمائیے اجر دیئے جاؤ گے۔ت)
الجواب:
حدیث اول میں ہر گز نام اقدس حضور سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نہیں بلکہ یوں ہے کہ:
علی اتقی قلب رجل واحد منکم ۔ تم میں کا جو بڑا پرہیزگار شخص ہو اس کے دل پر ہوجائیں۔
حوالہ / References
صحیح مسلم کتاب البر والصلۃ باب تحریم الظلم قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۳۱۹
اور فرض کے لیے امکان شرط نہیں۔قال اﷲ تعالی:
" قل ان کان للرحمن ولد ٭ فانا اول العبدین ﴿۸۱﴾" ۔ تم فرماؤ اگر بفرض محال رحمن کے کوئی بچہ ہوتا تو سب سے پہلے میں پوجتا(ت)
حدیث تو لفظ لو سے ہے کہ:
لو ان اولکم واخرکم وانسکم وجنکم کانوا علی اتقی ۔ اگر تمہارے پہلےپچھلے انساناور جن سب سے بڑے پرہیزگار کے دل پر ہوجائیں۔الخ(ت)
اور آیہ کریمہ میں تو لفظ ان ہےبیان حدیث دوم میں غلط ہے کہ حجت روز قیامت ہوگی اور یہ بھی غلط کہ تمام بنی آدم میرے حوالہ ہوں اور یہ بھی غلط کہ جنت کچھ جواب نہ دے گی یا کمزور پڑے گیاسی طرح بیان حدیث اول میں متعدد اغلاط تھے۔یہ حدیث یوں ہے:
تحاجت الجنۃ والنار فقالت النار اوثرت بالمتکبرین والمتجبرین وقالت الجنۃ فمالی لایدخلنی الا ضعفاء الناس ۔الحدیث۔ جنت اور دوزخ میں جھگڑا ہوا تو دوزخ نے کہا مجھے متکبروں اور جابروں کے سبب ترجیح دی گئی اور جنت نے کہا مجھے کیا ہے کہ میرے اندر صرف کمزور لوگ داخل ہوتے ہیںالحدیث (ت)
یہ گزشتہ کی حکایت ہے اس وقت نار کا علم اسے محیط ہونا کیا ضرور کہ اس کے لیے کفار و مشرکین ہیں جس طرح جنت کا یہ کہنا بتارہا ہے کہ اسے ان کمزوروں کا فضل و تقرب معلوم نہ تھا جب سے معلوم ہوا خود ان کی مشتاق ہے واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۲۵: از بلوچستان مرسلہ قادر بخش ۵ ربیع الاخر ۱۳۳۸ھ
اندرین حکایت علمائے کرام چہ می فرمایند کہ قولے معتبر است آیا واعظ ذکر بکند یا حقیقت است درکدام کتاب اس حکایت کے بارے میں علمائے کرام کیا فرماتے ہیں کہ کیا یہ کسی معتبر قول سے منقول ہے وعظ کرنے والا اس کو اپنے وعظ میں بیان کرسکتا ہے
" قل ان کان للرحمن ولد ٭ فانا اول العبدین ﴿۸۱﴾" ۔ تم فرماؤ اگر بفرض محال رحمن کے کوئی بچہ ہوتا تو سب سے پہلے میں پوجتا(ت)
حدیث تو لفظ لو سے ہے کہ:
لو ان اولکم واخرکم وانسکم وجنکم کانوا علی اتقی ۔ اگر تمہارے پہلےپچھلے انساناور جن سب سے بڑے پرہیزگار کے دل پر ہوجائیں۔الخ(ت)
اور آیہ کریمہ میں تو لفظ ان ہےبیان حدیث دوم میں غلط ہے کہ حجت روز قیامت ہوگی اور یہ بھی غلط کہ تمام بنی آدم میرے حوالہ ہوں اور یہ بھی غلط کہ جنت کچھ جواب نہ دے گی یا کمزور پڑے گیاسی طرح بیان حدیث اول میں متعدد اغلاط تھے۔یہ حدیث یوں ہے:
تحاجت الجنۃ والنار فقالت النار اوثرت بالمتکبرین والمتجبرین وقالت الجنۃ فمالی لایدخلنی الا ضعفاء الناس ۔الحدیث۔ جنت اور دوزخ میں جھگڑا ہوا تو دوزخ نے کہا مجھے متکبروں اور جابروں کے سبب ترجیح دی گئی اور جنت نے کہا مجھے کیا ہے کہ میرے اندر صرف کمزور لوگ داخل ہوتے ہیںالحدیث (ت)
یہ گزشتہ کی حکایت ہے اس وقت نار کا علم اسے محیط ہونا کیا ضرور کہ اس کے لیے کفار و مشرکین ہیں جس طرح جنت کا یہ کہنا بتارہا ہے کہ اسے ان کمزوروں کا فضل و تقرب معلوم نہ تھا جب سے معلوم ہوا خود ان کی مشتاق ہے واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۲۵: از بلوچستان مرسلہ قادر بخش ۵ ربیع الاخر ۱۳۳۸ھ
اندرین حکایت علمائے کرام چہ می فرمایند کہ قولے معتبر است آیا واعظ ذکر بکند یا حقیقت است درکدام کتاب اس حکایت کے بارے میں علمائے کرام کیا فرماتے ہیں کہ کیا یہ کسی معتبر قول سے منقول ہے وعظ کرنے والا اس کو اپنے وعظ میں بیان کرسکتا ہے
حوالہ / References
القرآن الکریم ۴۳ /۸۱
صحیح مسلم کتاب البر والصلۃ باب تحریم الظلم قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۳۱۹
صحیح بخاری کتاب التفسیر سورہ ق قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۷۱۹،صحیح مسلم کتاب الجنۃ باب جہنم اعاذنا اﷲ منھا قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۳۸۱
صحیح مسلم کتاب البر والصلۃ باب تحریم الظلم قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۳۱۹
صحیح بخاری کتاب التفسیر سورہ ق قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۷۱۹،صحیح مسلم کتاب الجنۃ باب جہنم اعاذنا اﷲ منھا قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۳۸۱
ایں نقل استآن حکایت این است۔ اس کی کوئی حقیقت ہے کون سی کتاب میں منقول ہے حکایت یہ ہے۔
(۱)یك حکایت یاد دارم از رسول باد مقبول ھمہ اہل قبول
(۲)تاکہ معلوم تو گردد ہمتش تاچہ حد است امتاں راشفقتش
(۳)بعدازاں آیم بمدح چار یار اے برادریك زمان گوش دار
(۴)جملہ شبہامصطفی بیدار بود اتفاقا یك شبے خوابش ربود
(۵)بود اندرخواب تاوقتے نماز ناگہاں آمدخطابش بے نیاز
(۶)آفریدم من ترا از بہرآں تاشدی پشت پنا ہے امتاں
(۷)اے محمد خواب تو زیبندہ نیست ہرکہ در خدمت نباشدبندہ نیست
(۸)چوں بہ پروازی بخواب نیم شب کردم اکنوں امتانت راغضب
(۹)دوزخ اندازم ہمہ ازعام و خاص یك تنے زیشان نگردانم خلاص
(۱۰)چوں شنید ایں آیۃ خیر البشر انت زانجا امتی گویا بدر
(۱۱)رفت زانجا اوندیدہ ہیچ کس دانداو راعالم الاسرار بس
(۱۲)چوں گزشت ازدو سہ روزایں قصہ را خون دل خوردند یاراں غصہ را
(۱۳)عاقبت روز سوئم بعد از نماز جملہ پیش عائشہ رفتند باز
(۱۴)چوں بپرسید ندزام مومنین داد ایشاں راجواب ایں چنیں
(۱۵)گفت اوشین شب رسیداز حق خطاب امتاں را آیہ ازبہرعذاب
(۱۶)چونکہ ایں آیۃ بگوش او رسید شدبرون ازحجرہ او راکس ندید
(۱۷)آنچناں برخاست ازیاراں غریو لرزہ افتادند اندر جن ودیو
(۱۸)ناگہاں دیدندیك چوبان زدور یافت زاں چوبان دل ایشاں سرور
(۱۹)پیش او رفتندوپرسید ندازو گرخبر داری زپیغمبربگو
(۲۰)گفت من کے مصطفی رادیدہ ام بلکہ او را از کسے نشنیدہ ام
(۲۱)لیك سہ روز است پیغام خروش ازمیان کوہ میآید بگوش
(۲۲)جانورازنالہ اودل خستہ اند ازچراگاہ دہاں رابستہ اند
(۲۳)ہر زماں ازدیدہ می رانند آب بستہ اندازہ راہ دیدہ راہ خواب
(۱)یك حکایت یاد دارم از رسول باد مقبول ھمہ اہل قبول
(۲)تاکہ معلوم تو گردد ہمتش تاچہ حد است امتاں راشفقتش
(۳)بعدازاں آیم بمدح چار یار اے برادریك زمان گوش دار
(۴)جملہ شبہامصطفی بیدار بود اتفاقا یك شبے خوابش ربود
(۵)بود اندرخواب تاوقتے نماز ناگہاں آمدخطابش بے نیاز
(۶)آفریدم من ترا از بہرآں تاشدی پشت پنا ہے امتاں
(۷)اے محمد خواب تو زیبندہ نیست ہرکہ در خدمت نباشدبندہ نیست
(۸)چوں بہ پروازی بخواب نیم شب کردم اکنوں امتانت راغضب
(۹)دوزخ اندازم ہمہ ازعام و خاص یك تنے زیشان نگردانم خلاص
(۱۰)چوں شنید ایں آیۃ خیر البشر انت زانجا امتی گویا بدر
(۱۱)رفت زانجا اوندیدہ ہیچ کس دانداو راعالم الاسرار بس
(۱۲)چوں گزشت ازدو سہ روزایں قصہ را خون دل خوردند یاراں غصہ را
(۱۳)عاقبت روز سوئم بعد از نماز جملہ پیش عائشہ رفتند باز
(۱۴)چوں بپرسید ندزام مومنین داد ایشاں راجواب ایں چنیں
(۱۵)گفت اوشین شب رسیداز حق خطاب امتاں را آیہ ازبہرعذاب
(۱۶)چونکہ ایں آیۃ بگوش او رسید شدبرون ازحجرہ او راکس ندید
(۱۷)آنچناں برخاست ازیاراں غریو لرزہ افتادند اندر جن ودیو
(۱۸)ناگہاں دیدندیك چوبان زدور یافت زاں چوبان دل ایشاں سرور
(۱۹)پیش او رفتندوپرسید ندازو گرخبر داری زپیغمبربگو
(۲۰)گفت من کے مصطفی رادیدہ ام بلکہ او را از کسے نشنیدہ ام
(۲۱)لیك سہ روز است پیغام خروش ازمیان کوہ میآید بگوش
(۲۲)جانورازنالہ اودل خستہ اند ازچراگاہ دہاں رابستہ اند
(۲۳)ہر زماں ازدیدہ می رانند آب بستہ اندازہ راہ دیدہ راہ خواب
(۲۴)چوں شنیدند ایں خبر را آں گروہ جملہ آوردند روئے سوئے کوہ
(۲۵)شدنمایاں درمیان کوہ غار دیدور آن غار آں صدرکبار
(۲۶)سر بسجدہ بروہ پیش بے نیاز باخدائے خویشتن میگفت راز
(۲۷)گریہ میکرد وہمی گفت اے الہ تانہ بخشی امتانم راگناہ
(۲۸)مانہ بردارم سرخود از زمیں تابرو حشر عالم ایں چنیں
(۲۹)ایں چنیں می گفت و می نالہ زار اشك میباریدچوں ابر بہار
(۳۰)چوں شنیدندایں خفاش رازور جملہ راازنالہ اش خون شد جگر
(۳۱)گفت صدیق شفیع المومنین ازکرم بردار سررا از زمین
(۳۲)آنچہ من درعمر طاعت کردہ ام انچہ دردنیا عبادۃ کردہ ام
(۳۳)آں ثواب ازبرائے امتاں دارم اے پیغمبرآخر زماں
الی اخرالحکایت(حکایت کے آخر تکت)یہ حکایت رسالہ میلاد غلام شہید میں ہے۔
(ترجمہ حکایت)
(۱)رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے بارے میں مجھے ایك حکایت یاد ہے جو تمام نیك لوگوں میں مقبول ہے۔
(۲)تاکہ تجھے آپ کی ہمت اقدس کا پتا چلے کہ امت پر آپ کی کس قدر شفقت ہے۔
(۳)اس کے بعد میں چاروں یاروں کی مدح کی طرف آؤں گااے بھائی ! تھوڑا سا وقت غور سے سن
(۴)مصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم تمام راتیں بیدار رہتےایك رات اتفاقا آپ پر نیند غالب آگئی۔
(۵)نماز کے وقت تك آپ نیند میں تھے۔اچانك آپ کو خدائے بے نیاز کا حکم پہنچا۔
(۶)کہ میں نے آپ کو اس لیے پیدا فرمایا ہے کہ آپ امت کے پشت پناہ بنیں۔
(۷)اے میرے محبوب(صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم)سونا آپ کو زیب نہیں دیتاجو خدمت میں مشغول نہ ہو وہ بندہ نہیں ہے۔
(۸)جب آدھی رات کو نیند میں مشغول ہیں تو میں آپ کی امت پر غضب نازل کروں گا۔
(۹)ہر خاص و عام کو دوزخ میں ڈالوں گا ان میں سے کسی ایك کو چھٹکارا نہیں دوں گا۔
(۱۰)جب خیر البشر(صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم)نے یہ آیت سنی تو فورا وہاں سے امتی کہتے ہوئے باہر نکل گئے۔
(۲۵)شدنمایاں درمیان کوہ غار دیدور آن غار آں صدرکبار
(۲۶)سر بسجدہ بروہ پیش بے نیاز باخدائے خویشتن میگفت راز
(۲۷)گریہ میکرد وہمی گفت اے الہ تانہ بخشی امتانم راگناہ
(۲۸)مانہ بردارم سرخود از زمیں تابرو حشر عالم ایں چنیں
(۲۹)ایں چنیں می گفت و می نالہ زار اشك میباریدچوں ابر بہار
(۳۰)چوں شنیدندایں خفاش رازور جملہ راازنالہ اش خون شد جگر
(۳۱)گفت صدیق شفیع المومنین ازکرم بردار سررا از زمین
(۳۲)آنچہ من درعمر طاعت کردہ ام انچہ دردنیا عبادۃ کردہ ام
(۳۳)آں ثواب ازبرائے امتاں دارم اے پیغمبرآخر زماں
الی اخرالحکایت(حکایت کے آخر تکت)یہ حکایت رسالہ میلاد غلام شہید میں ہے۔
(ترجمہ حکایت)
(۱)رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے بارے میں مجھے ایك حکایت یاد ہے جو تمام نیك لوگوں میں مقبول ہے۔
(۲)تاکہ تجھے آپ کی ہمت اقدس کا پتا چلے کہ امت پر آپ کی کس قدر شفقت ہے۔
(۳)اس کے بعد میں چاروں یاروں کی مدح کی طرف آؤں گااے بھائی ! تھوڑا سا وقت غور سے سن
(۴)مصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم تمام راتیں بیدار رہتےایك رات اتفاقا آپ پر نیند غالب آگئی۔
(۵)نماز کے وقت تك آپ نیند میں تھے۔اچانك آپ کو خدائے بے نیاز کا حکم پہنچا۔
(۶)کہ میں نے آپ کو اس لیے پیدا فرمایا ہے کہ آپ امت کے پشت پناہ بنیں۔
(۷)اے میرے محبوب(صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم)سونا آپ کو زیب نہیں دیتاجو خدمت میں مشغول نہ ہو وہ بندہ نہیں ہے۔
(۸)جب آدھی رات کو نیند میں مشغول ہیں تو میں آپ کی امت پر غضب نازل کروں گا۔
(۹)ہر خاص و عام کو دوزخ میں ڈالوں گا ان میں سے کسی ایك کو چھٹکارا نہیں دوں گا۔
(۱۰)جب خیر البشر(صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم)نے یہ آیت سنی تو فورا وہاں سے امتی کہتے ہوئے باہر نکل گئے۔
(۱۱)وہاں سے آپ تشریف لے گئےکسی نے آپ کو نہیں دیکھاآپ کے بارے میں فقط چھپی باتیں جاننے والے کو علم تھا۔
(۱۲)اس قصہ کو جب دو تین دن گزر گئے آپ کے دوست یعنی صحابہ کرام غم سے دل کا خون پیتے رہے۔
(۱۳)آخر کار تیسرے دن نماز کے بعد تمام صحابہ کرام سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ تعالی عنہا کے پاس گئے۔
(۱۴)جب انہوں نے ام المومنین سے پوچھا تو آپ نے انہیں یہ جواب دیا۔
(۱۵)آپ نے کہا کہ پچھلی رات رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو حق کی طرف سے خطاب ہواامت کے عذاب سے متعلق آیت نازل ہوئی۔
(۱۶)جب آپ کے کان مبارك تك یہ آیت پہنچی آپ حجرہ سے باہر چلے گئے کسی نے آپ کو نہیں دیکھا۔
(۱۷)نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے دوستوں سے اس قدر شور بلند ہوا کہ جنوں اور دیوؤں پر لرزہ طاری ہوگیا۔
(۱۸)صحابہ نے اچانك دور سے ایك چرواہے کو دیکھا اس چرواہے کو دیکھنے سے ان کے دلوں کو کچھ چین آیا۔
(۱۹)اس کے پاس پہنچے اور پوچھا اگر پیغمبر صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی تجھے کوئی خبر ہے تو بتا۔
(۲۰)اس نے کہا میں نے مصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم کو کب دیکھا ہے بلکہ میں نے ان کے بارے میں کسی سے سنا بھی نہیں ہے۔
(۲۱)لیکن تین دنوں سے پہاڑ کے درمیان سے شور کی آواز میرے کانوں میں آتی ہے۔
(۲۲)اس کے رونے سے جانوروں کے دل زخمی ہوگئے ہیںچراگاہ سے انہوں نے اپنے منہ بند کرلیے ہیں۔
(۲۳)ہر وقت آنکھوں سے آنسو بہاتے ہیںنیند سے انہوں نے آنکھیں باندھ رکھی ہیں۔
(۲۴)جماعت صحابہ نے جب یہ خبر سنی تو ان سب نے اپنا رخ پہاڑ کی طرف کرلیا۔
(۲۵)پہاڑ کے درمیان ایك غار ظاہر ہوئیاس غار کے اندر انہوں نے بڑوں کے سردارکو دیکھا۔
(۲۶)بے نیاز کی بارگاہ میں سر سجدہ میں رکھے ہوئے تھےاپنے خدا سے راز داری میں کہہ رہے تھے۔
(۲۷)فریاد کررہے تھے اور کہہ رہے تھے اے اﷲ ! جب تك تو میری امت کے گناہ نہیں بخشے گا
(۲۸)میں اپنا سر زمین سے نہیں اٹھاؤں گاروز حشر تك میں اسی طرح روتا رہوں گا۔
(۲۹)اس طرح کہہ رہے تھے اور زار و قطار رو رہے تھےموسم بہار کی طرح آنسو بہہ رہے تھے۔
(۳۰)جب غار کے چمگادڑوں اور صحابہ کرام نے گریہ وزاری کا یہ زور سنا تو سرکار کے رونے سے سب کے جگر خون ہوگئے۔
(۱۲)اس قصہ کو جب دو تین دن گزر گئے آپ کے دوست یعنی صحابہ کرام غم سے دل کا خون پیتے رہے۔
(۱۳)آخر کار تیسرے دن نماز کے بعد تمام صحابہ کرام سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ تعالی عنہا کے پاس گئے۔
(۱۴)جب انہوں نے ام المومنین سے پوچھا تو آپ نے انہیں یہ جواب دیا۔
(۱۵)آپ نے کہا کہ پچھلی رات رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو حق کی طرف سے خطاب ہواامت کے عذاب سے متعلق آیت نازل ہوئی۔
(۱۶)جب آپ کے کان مبارك تك یہ آیت پہنچی آپ حجرہ سے باہر چلے گئے کسی نے آپ کو نہیں دیکھا۔
(۱۷)نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے دوستوں سے اس قدر شور بلند ہوا کہ جنوں اور دیوؤں پر لرزہ طاری ہوگیا۔
(۱۸)صحابہ نے اچانك دور سے ایك چرواہے کو دیکھا اس چرواہے کو دیکھنے سے ان کے دلوں کو کچھ چین آیا۔
(۱۹)اس کے پاس پہنچے اور پوچھا اگر پیغمبر صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی تجھے کوئی خبر ہے تو بتا۔
(۲۰)اس نے کہا میں نے مصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم کو کب دیکھا ہے بلکہ میں نے ان کے بارے میں کسی سے سنا بھی نہیں ہے۔
(۲۱)لیکن تین دنوں سے پہاڑ کے درمیان سے شور کی آواز میرے کانوں میں آتی ہے۔
(۲۲)اس کے رونے سے جانوروں کے دل زخمی ہوگئے ہیںچراگاہ سے انہوں نے اپنے منہ بند کرلیے ہیں۔
(۲۳)ہر وقت آنکھوں سے آنسو بہاتے ہیںنیند سے انہوں نے آنکھیں باندھ رکھی ہیں۔
(۲۴)جماعت صحابہ نے جب یہ خبر سنی تو ان سب نے اپنا رخ پہاڑ کی طرف کرلیا۔
(۲۵)پہاڑ کے درمیان ایك غار ظاہر ہوئیاس غار کے اندر انہوں نے بڑوں کے سردارکو دیکھا۔
(۲۶)بے نیاز کی بارگاہ میں سر سجدہ میں رکھے ہوئے تھےاپنے خدا سے راز داری میں کہہ رہے تھے۔
(۲۷)فریاد کررہے تھے اور کہہ رہے تھے اے اﷲ ! جب تك تو میری امت کے گناہ نہیں بخشے گا
(۲۸)میں اپنا سر زمین سے نہیں اٹھاؤں گاروز حشر تك میں اسی طرح روتا رہوں گا۔
(۲۹)اس طرح کہہ رہے تھے اور زار و قطار رو رہے تھےموسم بہار کی طرح آنسو بہہ رہے تھے۔
(۳۰)جب غار کے چمگادڑوں اور صحابہ کرام نے گریہ وزاری کا یہ زور سنا تو سرکار کے رونے سے سب کے جگر خون ہوگئے۔
(۳۱)صدیق اکبر رضی اﷲ تعالی عنہ نے کہا اے مومنوں کی شفاعت فرمانے والے ! مہربانی فرمائیںزمین سے سر اٹھائیں۔
(۳۲)میں نے عمر بھر جو طاعت کی ہےاور دنیا میں جتنی عبادت کی ہے۔
(۳۳)اس کا ثواب آپ کی امت کے لیے دیتا ہوں میں اے نبی آخر الزماں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم)
الجواب:
ایں نقل باطل و بے اصل ست ودرہیچ کتاب معتبر ازونشانے نیستواﷲ تعالی اعلم
یہ نقل باطل اور بے اصل ہےکسی معتبر کتاب میں اس کا نام نشان نہیں ہےواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۲۶: بریلی محلہ بہاری پور مرسلہ بمعرفت سلطان احمد خاں سائل پیر محمد عبداﷲ ۸ ربیع الآخر شریف ۱۳۳۸ھ
حالت مندرجہ ذیل کب واقع ہوگیزہرہ برج حوت میں طالع ہواور قمر برج سرطان میں بنظر تثلیث زہرہ ہو لیکن بتربیع و مقابلہ مریخ ناظر بزحل نہ ہو۔امید کہ ماہران علم ہیئت جواب باصواب دیں۔
الجواب:
یہ سائل کی غلطی ہے کہ مریخ تربیع یا مقابلہ سے ناظر زحل نہ ہو بلکہ یہاں مقصود یہ ہے کہ ان دونوں میں سے کوئی زہرہ کو نظر دشمنی سے نہ دیکھتا ہو کہ تربیع یا مقابلہ ہے زہرہ سے اگر ساقط ہوں اور باہم نظر عداوت رکھتے ہوں کیا حرج ہےبالجملہ عرض یہ ہے کہ زہرہ برج شرف میں ہو اور قمر اپنے بیت میں اور زہرہ کو بنظر تمام دوستی دیکھتا ہو اور زہرہ مریخ وزحل کی نظر عداوت تربیع و مقابلہ سے محفوظ ہو یہ صورت نہ اس سال ہے نہ سال آئندہ ہےہاں وہ کہ سائل نے بیان کیا۔۲۷ مارچ ۱۹۲۰ء کو ہوگی زہرہ حوت کے ۱۱ درجہ میں ہوگی قمر سرطان کے ۱۱ درجہ میں کہ پورے ۱۲۰ درجے(ایك سو بیس درجہ)کا فاصلہ اور کامل نظر تثلیث ہےمریخ عقرب کے ۸ درجے ۶ دقیقے زحل سنبلہ کے ۶ درجے ۶ دقیقے کہ کامل نظر تسدیس نظر نیم دوستی ہے نہ تربیع ہے نہ مقابلہ لیکن زہرہ و زحل کا فاصلہ ۶ برج سے صرف ۵ درجے زائد ہوگازہرہ اگرچہ مقابلہ زحل سے منصرف ہوچکی ہے مگر دونوں کے مطرح شعاع ۷ و ۹ درجے کے مجموع کے نصف یعنی ۸ درجے سے فاصلہ کم ہے تو ہنوز حکم مقابلہ باقی ہے تیسرے دن زائل ہوگا جب تك ماہ سرطان سے بھی نکل جائے گا اور تثلیث سے بھی گزر جائے گاہاں مریخ اگرچہ زہرہ سے ساقط نہیں مگر تثلیث میں ہے کہ تمام دوستی ہے نہ تربیع و مقابلہ فقط۔
(۳۲)میں نے عمر بھر جو طاعت کی ہےاور دنیا میں جتنی عبادت کی ہے۔
(۳۳)اس کا ثواب آپ کی امت کے لیے دیتا ہوں میں اے نبی آخر الزماں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم)
الجواب:
ایں نقل باطل و بے اصل ست ودرہیچ کتاب معتبر ازونشانے نیستواﷲ تعالی اعلم
یہ نقل باطل اور بے اصل ہےکسی معتبر کتاب میں اس کا نام نشان نہیں ہےواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۲۶: بریلی محلہ بہاری پور مرسلہ بمعرفت سلطان احمد خاں سائل پیر محمد عبداﷲ ۸ ربیع الآخر شریف ۱۳۳۸ھ
حالت مندرجہ ذیل کب واقع ہوگیزہرہ برج حوت میں طالع ہواور قمر برج سرطان میں بنظر تثلیث زہرہ ہو لیکن بتربیع و مقابلہ مریخ ناظر بزحل نہ ہو۔امید کہ ماہران علم ہیئت جواب باصواب دیں۔
الجواب:
یہ سائل کی غلطی ہے کہ مریخ تربیع یا مقابلہ سے ناظر زحل نہ ہو بلکہ یہاں مقصود یہ ہے کہ ان دونوں میں سے کوئی زہرہ کو نظر دشمنی سے نہ دیکھتا ہو کہ تربیع یا مقابلہ ہے زہرہ سے اگر ساقط ہوں اور باہم نظر عداوت رکھتے ہوں کیا حرج ہےبالجملہ عرض یہ ہے کہ زہرہ برج شرف میں ہو اور قمر اپنے بیت میں اور زہرہ کو بنظر تمام دوستی دیکھتا ہو اور زہرہ مریخ وزحل کی نظر عداوت تربیع و مقابلہ سے محفوظ ہو یہ صورت نہ اس سال ہے نہ سال آئندہ ہےہاں وہ کہ سائل نے بیان کیا۔۲۷ مارچ ۱۹۲۰ء کو ہوگی زہرہ حوت کے ۱۱ درجہ میں ہوگی قمر سرطان کے ۱۱ درجہ میں کہ پورے ۱۲۰ درجے(ایك سو بیس درجہ)کا فاصلہ اور کامل نظر تثلیث ہےمریخ عقرب کے ۸ درجے ۶ دقیقے زحل سنبلہ کے ۶ درجے ۶ دقیقے کہ کامل نظر تسدیس نظر نیم دوستی ہے نہ تربیع ہے نہ مقابلہ لیکن زہرہ و زحل کا فاصلہ ۶ برج سے صرف ۵ درجے زائد ہوگازہرہ اگرچہ مقابلہ زحل سے منصرف ہوچکی ہے مگر دونوں کے مطرح شعاع ۷ و ۹ درجے کے مجموع کے نصف یعنی ۸ درجے سے فاصلہ کم ہے تو ہنوز حکم مقابلہ باقی ہے تیسرے دن زائل ہوگا جب تك ماہ سرطان سے بھی نکل جائے گا اور تثلیث سے بھی گزر جائے گاہاں مریخ اگرچہ زہرہ سے ساقط نہیں مگر تثلیث میں ہے کہ تمام دوستی ہے نہ تربیع و مقابلہ فقط۔
مسئلہ ۱۲۷: از شہر محلہ ملو کپور مسئولہ قدرت علی خان ۱۵ شوال ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص کہتا ہے کہ جملہ انبیاء و ملائکہ علیہم السلام معصوم ہیں دوسرا شخص کہتا ہے کہ سوائے پنجتن پاك کے کوئی معصوم نہیں۔اور تیسرا شخص کہتا ہے کہ پنجتن پاك کوئی چیز نہیں ہیں سوائے خلفائے راشدین کے۔
الجواب:
پہلے شخص کا قول حق و عقیدہ اہلسنت ہےاور دوسرے کا قول صریح گمراہی و رفض و کلمہ کفر ہےاور تیسرے شخص کا قول بدتراز بول میں بھی ایك کھلا پہلو کفر کا ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۲۸:ازنانگل لکڑی ضلع گورگانوہ ڈاکخانہ ڈھنبہ مسئولہ حافظ غلام کبریا صاحب پیش امام مسجد کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں کہ۔
(۱)زید کہتا ہے اولیاء سے مدد مانگنا دور سےا ور ہر وقت حاضر ناظر سمجھنا شرك ہےکیونکہ یہ خاص اﷲ تعالی کی صفت ہے دوسرے کی نہیںقرآن شریف کا ثبوت دیتا(نواں پارہ)کہہ دو میں نہیں مالك اپنی جان کا نہ نفع کا نہ ضرر کا۔
(۲)اولیاء اﷲ کی قبروں کی خاك ہاتھ میں لے کر منہ پر ملنا کیسا ہے طواف قبر اولیاء کا کرنا بعضے کہتے ہیں طواف صرف کعبہ شریف کے واسطے ہے۔
(۳)شیخ عبدالحق نے ترجمہ مشکوۃ میں فرمایا ہے پیغمبروں کی سب دعا مقبول نہیں ہوتی۔
(۴)خانقاہ اولیاء پر جمع نہ ہونا حدیث کاثبوت دیتا ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا ہے یا اﷲ ! میری قبر کو عیدگاہ نہ بنائیو۔
(۵)اگر نبی کو غیب داں سمجھے تو کافر ہے کیونکہ ان کو علم عطائیہ ہے وہ غیب نہیں ہوسکتا کیونکہ غیب کے معنی یہ ہیں کہ بے اطلاع کیے معلوم ہو وہ غیب ہے۔
الجواب:
(۱)جس نے کہا کہ دور سے سننا صرف اس کی شان ہے اس نے رب عزوجل کی شان گھٹائی وہ پاك ہے اس سے کہ دور سے سنےوہ ہر قریب سے قریب تر ہےدور سے سننا اس کی عطا سے اس کے محبوبوں ہی کی شان ہےاسے حاضر و ناظر بھی نہیں کہہ سکتےوہ شہید و بصیر ہےحاضر و ناظر اس کی عطا سے اس کے محبوب علیہ افضل الصلوۃ والسلام ہیںکما فی رسائل الشیخ عبدالحق محدث الدہلوی قدس سرہ اس آیۃ کریمہ سے اس کا کیا ثبوت
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص کہتا ہے کہ جملہ انبیاء و ملائکہ علیہم السلام معصوم ہیں دوسرا شخص کہتا ہے کہ سوائے پنجتن پاك کے کوئی معصوم نہیں۔اور تیسرا شخص کہتا ہے کہ پنجتن پاك کوئی چیز نہیں ہیں سوائے خلفائے راشدین کے۔
الجواب:
پہلے شخص کا قول حق و عقیدہ اہلسنت ہےاور دوسرے کا قول صریح گمراہی و رفض و کلمہ کفر ہےاور تیسرے شخص کا قول بدتراز بول میں بھی ایك کھلا پہلو کفر کا ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۲۸:ازنانگل لکڑی ضلع گورگانوہ ڈاکخانہ ڈھنبہ مسئولہ حافظ غلام کبریا صاحب پیش امام مسجد کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں کہ۔
(۱)زید کہتا ہے اولیاء سے مدد مانگنا دور سےا ور ہر وقت حاضر ناظر سمجھنا شرك ہےکیونکہ یہ خاص اﷲ تعالی کی صفت ہے دوسرے کی نہیںقرآن شریف کا ثبوت دیتا(نواں پارہ)کہہ دو میں نہیں مالك اپنی جان کا نہ نفع کا نہ ضرر کا۔
(۲)اولیاء اﷲ کی قبروں کی خاك ہاتھ میں لے کر منہ پر ملنا کیسا ہے طواف قبر اولیاء کا کرنا بعضے کہتے ہیں طواف صرف کعبہ شریف کے واسطے ہے۔
(۳)شیخ عبدالحق نے ترجمہ مشکوۃ میں فرمایا ہے پیغمبروں کی سب دعا مقبول نہیں ہوتی۔
(۴)خانقاہ اولیاء پر جمع نہ ہونا حدیث کاثبوت دیتا ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا ہے یا اﷲ ! میری قبر کو عیدگاہ نہ بنائیو۔
(۵)اگر نبی کو غیب داں سمجھے تو کافر ہے کیونکہ ان کو علم عطائیہ ہے وہ غیب نہیں ہوسکتا کیونکہ غیب کے معنی یہ ہیں کہ بے اطلاع کیے معلوم ہو وہ غیب ہے۔
الجواب:
(۱)جس نے کہا کہ دور سے سننا صرف اس کی شان ہے اس نے رب عزوجل کی شان گھٹائی وہ پاك ہے اس سے کہ دور سے سنےوہ ہر قریب سے قریب تر ہےدور سے سننا اس کی عطا سے اس کے محبوبوں ہی کی شان ہےاسے حاضر و ناظر بھی نہیں کہہ سکتےوہ شہید و بصیر ہےحاضر و ناظر اس کی عطا سے اس کے محبوب علیہ افضل الصلوۃ والسلام ہیںکما فی رسائل الشیخ عبدالحق محدث الدہلوی قدس سرہ اس آیۃ کریمہ سے اس کا کیا ثبوت
ہواجھوٹا دعوی کرنا اور قرآن مجید پر اس کی تہمت رکھنا مسلمان کا کام نہیںنفع وضرر کا مالك بالذات اس واحد حقیقی کے سوا کوئی نہیںآیت میں اسی کی نفی ہےورنہ شاہ عبدالعزیز صاحب نے تفسیر عزیزی میں تو فرعون کو مالك نفع و ضرر لکھا ہے۔پھر محبوبان بارگاہ کا کیا کہنا وہ بے شك اس کی تملیك سے ہمارے نفع و ضرر کے مالك ہیںجس کا بیان آیات و احادیث سے کتاب الامن والعلی میں ہے۔
(۲)مزارات کی مٹی منہ پر ملنا جائز ہےاور طواف تعظیمی صرف کعبہ معظمہ کا ہےواﷲ تعالی اعلم۔
(۳)انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کی سب دعائیں مستجاب ہیںمومنین سے حضرت عزت کا وعدہ ہے مجھ سے دعا کرو میں قبول فرماؤں گااور اس کا وعدہ خلاف نہیں ہوسکتاپھر انبیاء تو انبیاء بعض وقت وہ اس اظہار کے لیے کہ یہ امر خلاف مقدر ہے اسے صورت دعا میں ظاہر کرتے ہیں وہ اعلی وجہ پر قبول ہوتی ہیں مگر مطلوب ظاہری واقع نہیں ہوتا نظر ظاہر اسے عدم قبول سے تعبیر کرتی ہےشرح مشکوۃ میں اسی کا ذکر ہے۔
(۴)مزارات اولیاء پر تشریف لے جانا خود حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم و خلفائے راشدین سے ثابت ہے اور اس حدیث میں اس کی کہیں ممانعت نہیںاس کا یہ مطلب ہے کہ میرے مزار کریمہ کو مسلمان عید نہ بنائیں جو سال میں ایك ہی بار آتی ہے بلکہ بکثرت حاضری دیں کہ ان کے گناہ معاف ہوں اور انہیں برکات ملیںواﷲ تعالی اعلم۔
(۵)غیب وہ ہے کہ بے بتائے معلوم نہ ہوسکےجو کہے کہ انبیاء کو غیب کے علم نہ دیئے گئے وہ کافر ہے کہ نبوت کا منکر ہےائمہ دین فرماتے ہیں:
النبی ھو المطلع علی الغیب نبی وہی ہے جوغیب پر مطلع ہو۔
عطا سے غیب نہ رہنا آیات کثیرہ کی تکذیب ہے جوکارڈ پر نہیں لکھی جاسکتیں۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۳۳و ۱۳۴:از مقام رامہ تحصیل گوجر خان ضلع راولپنڈی مرسلہ تاج الدین امام مسجد
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں کہ۔
(۱)حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ تعالی عنہا نے فرمایا ہے کہ حضرت صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے معراج کی رات میں بچشم خود اﷲ تعالی کو نہیں دیکھا۔
(۲)مزارات کی مٹی منہ پر ملنا جائز ہےاور طواف تعظیمی صرف کعبہ معظمہ کا ہےواﷲ تعالی اعلم۔
(۳)انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کی سب دعائیں مستجاب ہیںمومنین سے حضرت عزت کا وعدہ ہے مجھ سے دعا کرو میں قبول فرماؤں گااور اس کا وعدہ خلاف نہیں ہوسکتاپھر انبیاء تو انبیاء بعض وقت وہ اس اظہار کے لیے کہ یہ امر خلاف مقدر ہے اسے صورت دعا میں ظاہر کرتے ہیں وہ اعلی وجہ پر قبول ہوتی ہیں مگر مطلوب ظاہری واقع نہیں ہوتا نظر ظاہر اسے عدم قبول سے تعبیر کرتی ہےشرح مشکوۃ میں اسی کا ذکر ہے۔
(۴)مزارات اولیاء پر تشریف لے جانا خود حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم و خلفائے راشدین سے ثابت ہے اور اس حدیث میں اس کی کہیں ممانعت نہیںاس کا یہ مطلب ہے کہ میرے مزار کریمہ کو مسلمان عید نہ بنائیں جو سال میں ایك ہی بار آتی ہے بلکہ بکثرت حاضری دیں کہ ان کے گناہ معاف ہوں اور انہیں برکات ملیںواﷲ تعالی اعلم۔
(۵)غیب وہ ہے کہ بے بتائے معلوم نہ ہوسکےجو کہے کہ انبیاء کو غیب کے علم نہ دیئے گئے وہ کافر ہے کہ نبوت کا منکر ہےائمہ دین فرماتے ہیں:
النبی ھو المطلع علی الغیب نبی وہی ہے جوغیب پر مطلع ہو۔
عطا سے غیب نہ رہنا آیات کثیرہ کی تکذیب ہے جوکارڈ پر نہیں لکھی جاسکتیں۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۳۳و ۱۳۴:از مقام رامہ تحصیل گوجر خان ضلع راولپنڈی مرسلہ تاج الدین امام مسجد
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں کہ۔
(۱)حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ تعالی عنہا نے فرمایا ہے کہ حضرت صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے معراج کی رات میں بچشم خود اﷲ تعالی کو نہیں دیکھا۔
حوالہ / References
المواھب اللدنیہ المقصد الثانی الفصل الاول المکتب الاسلامی بیروت ۲ /۴۷
(۲)حدیث اور آیت اس طور پر نہیں آئی کہ تم لوگ امام صاحب کے مذہب پر چلیں۔بینوا تو جروا(بیان فرمائیے اجر دیئے جاؤ گے۔ت)
الجواب:
(۱)ام المومنین صدیقہ رضی اﷲ تعالی عنہا رؤیت بمعنی احاطہ کا انکار فرماتی ہیں کہ " لا تدرکہ الابصر۫" ۔سے سند لاتی ہیں اور احادیث صحیحہ میں رؤیت کا اثبات بمعنی احاطہ نہیں کہ اﷲ عزوجل کو کوئی شے محیط نہیں ہو سکتی وہی ہر شے کو محیط ہے اور اثبات نفی پر مقدمواﷲ تعالی اعلم۔
(۲)حدیث اور آیت اس طور پر آئی ہے کہ تمہیں علم نہ ہو تو علماء سے پوچھو۔امام اعظم سرداران علماء میں داخل ہیں۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۳۵و ۱۳۶: از لاہور مسجد بیگم شاہی اندرون دروازہ مستی مرسلہ صوفی احمد الدین طالب علم ۲۶ صفر ۱۳۳۸ھ
حضرت ہادی و رہنمائے سالکاں قبلہ دوجہاں دام فیضہ السلام علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ مسائل ذیل میں حضرت کیا فرماتے ہیں۔
(۱)حضرت علی کرم اﷲ تعالی وجہہ الکریم حضرت امیر معاویہ رضی اﷲ تعالی عنہ پر ایك روز خفا ہوئےاور روافض کہتے ہیں یہی وجہ ہے باغی ہونے کیپھر ایك کتاب مولانا حاجی صاحب کی تصنیف اعتقاد نامہ ہے جو بچوں کو پڑھایا جاتا ہے اس میں یہ شعر بھی درج ہے:
حق در آنجا بدست حیدر بود جنگ بااوخطا ومنکربود
(حق وہاں حیدر کرار رضی اﷲ تعالی عنہ کے ہاتھ میں تھا ان کے ساتھ جنگ غلط اور ناپسندیدہ تھی)
(۲)امام حسن رضی اﷲ تعالی عنہ نے خلافت امیر معاویہ رضی اﷲ تعالی عنہ کے سپرد کی تھی واسطے دفع جنگ کے۔
الجواب:
(۱)روافض کا قول کذب محض ہےعقائد نامہ میں خطاو منکربود نہیں ہے بلکہ خطائے منکر بود۔اہل سنت کے نزدیك امیر معاویہ رضی اﷲ تعالی عنہ کی خطا خطاء اجتہادی تھیاجتہاد پر طعن جائز نہیںخطاء اجتہادی دو۲ قسم ہے۱مقرر و ۲منکرمقرروہ جس کے صاحب کو اس پر برقرار
الجواب:
(۱)ام المومنین صدیقہ رضی اﷲ تعالی عنہا رؤیت بمعنی احاطہ کا انکار فرماتی ہیں کہ " لا تدرکہ الابصر۫" ۔سے سند لاتی ہیں اور احادیث صحیحہ میں رؤیت کا اثبات بمعنی احاطہ نہیں کہ اﷲ عزوجل کو کوئی شے محیط نہیں ہو سکتی وہی ہر شے کو محیط ہے اور اثبات نفی پر مقدمواﷲ تعالی اعلم۔
(۲)حدیث اور آیت اس طور پر آئی ہے کہ تمہیں علم نہ ہو تو علماء سے پوچھو۔امام اعظم سرداران علماء میں داخل ہیں۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۳۵و ۱۳۶: از لاہور مسجد بیگم شاہی اندرون دروازہ مستی مرسلہ صوفی احمد الدین طالب علم ۲۶ صفر ۱۳۳۸ھ
حضرت ہادی و رہنمائے سالکاں قبلہ دوجہاں دام فیضہ السلام علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ مسائل ذیل میں حضرت کیا فرماتے ہیں۔
(۱)حضرت علی کرم اﷲ تعالی وجہہ الکریم حضرت امیر معاویہ رضی اﷲ تعالی عنہ پر ایك روز خفا ہوئےاور روافض کہتے ہیں یہی وجہ ہے باغی ہونے کیپھر ایك کتاب مولانا حاجی صاحب کی تصنیف اعتقاد نامہ ہے جو بچوں کو پڑھایا جاتا ہے اس میں یہ شعر بھی درج ہے:
حق در آنجا بدست حیدر بود جنگ بااوخطا ومنکربود
(حق وہاں حیدر کرار رضی اﷲ تعالی عنہ کے ہاتھ میں تھا ان کے ساتھ جنگ غلط اور ناپسندیدہ تھی)
(۲)امام حسن رضی اﷲ تعالی عنہ نے خلافت امیر معاویہ رضی اﷲ تعالی عنہ کے سپرد کی تھی واسطے دفع جنگ کے۔
الجواب:
(۱)روافض کا قول کذب محض ہےعقائد نامہ میں خطاو منکربود نہیں ہے بلکہ خطائے منکر بود۔اہل سنت کے نزدیك امیر معاویہ رضی اﷲ تعالی عنہ کی خطا خطاء اجتہادی تھیاجتہاد پر طعن جائز نہیںخطاء اجتہادی دو۲ قسم ہے۱مقرر و ۲منکرمقرروہ جس کے صاحب کو اس پر برقرار
حوالہ / References
القرآن الکریم ۶ /۱۰۳
رکھا جائے گا اور اس سے تعرض نہ کیا جائے گاجیسے حنفیہ کے نزدیك شافعی المذہب مقتدی کا امام کے پیچھے سورہ فاتحہ پڑھنااور منکر وہ جس پر انکار کیا جائے گا جب کہ اس کے سبب کوئی فتنہ پیدا ہوتا ہو جیسے اجلہ اصحاب جمل رضی اﷲ تعالی عنہم کہ قطعی جتنی ہیں اور ان کی خطاء یقینا اجتہادی جس میں کسی نام سنیت لینے والے کو محل لب کشائی نہیںیا اینہہ اس پر انکار لازم تھا جیسا امیر المومنین مولی علی کرم اﷲ تعالی وجہہ الکریم نے کیا باقی مشاجرات صحابہ رضی اﷲ تعالی عنہم میں مداخلت حرام ہے
حدیث میں ہے نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اذا ذکر اصحابی فامسکوا ۔ جب میرےصحابہ کا ذکر آئے تو زبان روکو۔
دوسری حدیث میں ہے فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
ستکون لاصحابی بعد زلۃ یغفرھا اﷲ لھم لسابقتھم ثم یاتی من بعد ھم قوم یکبھم اﷲ علی مناخرھم فی النار ۔ قریب ہے کہ میرے اصحاب سے کچھ لغزش ہوگی جسے اﷲ بخش دے گا اس سابقہ کے سبب جو ان کو میری سرکار میں ہے پھر ان کے بعد کچھ لوگ آئیں گے جن کو اﷲ تعالی ناك کے بل جہنم میں اوندھا کردے گا۔
یہ وہ ہیں جو ان لغزشوں کے سبب صحابہ پر طعن کریں گےاﷲ عزوجل نے تمام صحابہ سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو قرآن عظیم میں دو قسم کیا:
(۱)مومنین قبل فتح مکہ و مومنین بعد فتح۔اول کو دوم پر تفضیل دی اور صاف فرمادیا" وکلا وعد اللہ الحسنی " ۔ سب سے اﷲ نے بھلائی کا وعدہ فرمالیا۔اور ساتھ ہی ان کے افعال کی تفتیش کرنے والوں کا منہ بند فرمادیا " و اللہ بما تعملون خبیر ﴿۱۰﴾
" ۔اﷲ خوب جانتا ہے جو کچھ تم کرنے والے ہوبا ینہہ وہ تم سب سے بھلائی کا وعدہ فرماچکا پھر دوسرا کون ہے کہ ان میں سے کسی کی بات پر طعن کرےواﷲ الہادیواﷲ تعالی اعلم
(۲)بے شك امام مجتبی رضی اﷲ تعالی عنہ نے امیر معاویہ رضی اﷲ تعالی عنہ کو خلافت سپرد فرمائی۔
حدیث میں ہے نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اذا ذکر اصحابی فامسکوا ۔ جب میرےصحابہ کا ذکر آئے تو زبان روکو۔
دوسری حدیث میں ہے فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
ستکون لاصحابی بعد زلۃ یغفرھا اﷲ لھم لسابقتھم ثم یاتی من بعد ھم قوم یکبھم اﷲ علی مناخرھم فی النار ۔ قریب ہے کہ میرے اصحاب سے کچھ لغزش ہوگی جسے اﷲ بخش دے گا اس سابقہ کے سبب جو ان کو میری سرکار میں ہے پھر ان کے بعد کچھ لوگ آئیں گے جن کو اﷲ تعالی ناك کے بل جہنم میں اوندھا کردے گا۔
یہ وہ ہیں جو ان لغزشوں کے سبب صحابہ پر طعن کریں گےاﷲ عزوجل نے تمام صحابہ سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو قرآن عظیم میں دو قسم کیا:
(۱)مومنین قبل فتح مکہ و مومنین بعد فتح۔اول کو دوم پر تفضیل دی اور صاف فرمادیا" وکلا وعد اللہ الحسنی " ۔ سب سے اﷲ نے بھلائی کا وعدہ فرمالیا۔اور ساتھ ہی ان کے افعال کی تفتیش کرنے والوں کا منہ بند فرمادیا " و اللہ بما تعملون خبیر ﴿۱۰﴾
" ۔اﷲ خوب جانتا ہے جو کچھ تم کرنے والے ہوبا ینہہ وہ تم سب سے بھلائی کا وعدہ فرماچکا پھر دوسرا کون ہے کہ ان میں سے کسی کی بات پر طعن کرےواﷲ الہادیواﷲ تعالی اعلم
(۲)بے شك امام مجتبی رضی اﷲ تعالی عنہ نے امیر معاویہ رضی اﷲ تعالی عنہ کو خلافت سپرد فرمائی۔
حوالہ / References
المعجم الکبیر حدیث ۱۴۲۷ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۲/ ۹۶
المعجم الاوسط حدیث ۳۲۴۳ مکتبۃ المعارف ریاض ۴/ ۱۴۲ و مجمع الزوائد ۷/ ۲۳۴
القرآن الکریم ۵۷ /۱۰
القرآن الکریم ۵۷ /۱۰
المعجم الاوسط حدیث ۳۲۴۳ مکتبۃ المعارف ریاض ۴/ ۱۴۲ و مجمع الزوائد ۷/ ۲۳۴
القرآن الکریم ۵۷ /۱۰
القرآن الکریم ۵۷ /۱۰
اور اس سے صلح و بندش جنگ مقصود تھی اور یہ صلح و تفویض خلافت اﷲ و رسول کی پسند سے ہوئی۔رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے امام حسن کو گود میں لے کر فرمایا تھا:
ان ابنی ھذا سیدولعل اﷲ ان یصلح بہ بین فئتین عظمتین من المسلمین ۔ میرا یہ بیٹا سید ہے میں امید کرتا ہوں کہ اﷲ اس کے سبب سے مسلمانوں کے دوبڑے گروہوں میں صلح کرادے گا۔
امیر معاویہ رضی اﷲ تعالی عنہ اگر خلافت کے اہل نہ ہوتے تو امام مجتبی ہر گز انہیں تفویض نہ فرماتے نہ اﷲ ورسول اسے جائز رکھتے واﷲ تعالی اعلم۔
ان ابنی ھذا سیدولعل اﷲ ان یصلح بہ بین فئتین عظمتین من المسلمین ۔ میرا یہ بیٹا سید ہے میں امید کرتا ہوں کہ اﷲ اس کے سبب سے مسلمانوں کے دوبڑے گروہوں میں صلح کرادے گا۔
امیر معاویہ رضی اﷲ تعالی عنہ اگر خلافت کے اہل نہ ہوتے تو امام مجتبی ہر گز انہیں تفویض نہ فرماتے نہ اﷲ ورسول اسے جائز رکھتے واﷲ تعالی اعلم۔
حوالہ / References
صحیح البخاری کتاب المناقب مناقب الحسن والحسین قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۵۳۰،مشکوۃ المصابیح باب مناقب اھل بیت النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم مطبع مجتبائی دہلی ص۵۶۹
رسالہ
اعتقاد الاحباب فی الجمیل والمصطفی والال والاصحاب ۱۲۹۸ھ
(احباب کا اعتقاد جمیل(اﷲ تعالی)مصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلمآپ کی آل اور اصحاب کے بارے میں)
عقیدہ اولی۱________________ذات و صفات باری تعالی
حضرت حق سبحانہ و تبارك و تعالی شانہ واحد ہے۔(اپنی ربوبیت والوہیت میںکوئی اس کا شریك نہیںوہ یکتا ہے اپنے افعال میںمصنوعات کو تنہا اسی نے بنایا۔وہ اکیلا ہے اپنی ذات میں کوئی اس کا قسیم نہیں۔بیگانہ ہے اپنی صفات میں۔کوئی اس کا شبیہ نہیں۔ذات و صفات میں یکتا و واحد مگر) عــــــہ نہ عدد سے(کہ شمار و گنتی میں آسکے اور کوئی اس کا ہم ثانی و جنس کہلاسکے تو اﷲ کے ساتھاس کی
عــــــہ:عرض مرتب:امام اہلسنت امام احمد رضا خاں صاحب قادری برکاتی بریلوی قدس سرہ کے رسالہ مبارکہ اعتقادلاحباب کی زیارت و مطالعہ سے یہ فقیر جب پہلی بار حال ہی میں شرفیاب ہوا تو معا خیال آیا کہ بتوفیقہ تعالی اسے نئی ترتیب اور اجمالی تفصیل کے ساتھ عامۃ الناس تك پہنچایا جائے تو ان شاء اﷲ تعالی اس سے عوام بھی فیض پائیں۔نصرت الہی کے بھروسا پر قدم اٹھایا اور بفیضان اساتذہ کرام نہایت(باقی برصفحہ آئندہ)
اعتقاد الاحباب فی الجمیل والمصطفی والال والاصحاب ۱۲۹۸ھ
(احباب کا اعتقاد جمیل(اﷲ تعالی)مصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلمآپ کی آل اور اصحاب کے بارے میں)
عقیدہ اولی۱________________ذات و صفات باری تعالی
حضرت حق سبحانہ و تبارك و تعالی شانہ واحد ہے۔(اپنی ربوبیت والوہیت میںکوئی اس کا شریك نہیںوہ یکتا ہے اپنے افعال میںمصنوعات کو تنہا اسی نے بنایا۔وہ اکیلا ہے اپنی ذات میں کوئی اس کا قسیم نہیں۔بیگانہ ہے اپنی صفات میں۔کوئی اس کا شبیہ نہیں۔ذات و صفات میں یکتا و واحد مگر) عــــــہ نہ عدد سے(کہ شمار و گنتی میں آسکے اور کوئی اس کا ہم ثانی و جنس کہلاسکے تو اﷲ کے ساتھاس کی
عــــــہ:عرض مرتب:امام اہلسنت امام احمد رضا خاں صاحب قادری برکاتی بریلوی قدس سرہ کے رسالہ مبارکہ اعتقادلاحباب کی زیارت و مطالعہ سے یہ فقیر جب پہلی بار حال ہی میں شرفیاب ہوا تو معا خیال آیا کہ بتوفیقہ تعالی اسے نئی ترتیب اور اجمالی تفصیل کے ساتھ عامۃ الناس تك پہنچایا جائے تو ان شاء اﷲ تعالی اس سے عوام بھی فیض پائیں۔نصرت الہی کے بھروسا پر قدم اٹھایا اور بفیضان اساتذہ کرام نہایت(باقی برصفحہ آئندہ)
ذات و صفات میںشریك کا وجودمحض وہم انسانی کی ایك اختراع وایجاد ہے)خالق ہے۔(ہر شے کاذوات ہوں خواہ افعالسب اسی کے پیدا کئے ہوئے ہیں)نہ علت سے(اس کے افعال نہ علت و سبب کے محتاجنہ اس کے فعل کے لیے کوئی غرضکہ غرض اس فائدہ کو کہتے ہیں جو فاعل کی طرف رجوع کرے اور نہ اس کے افعال کے لیے غایتکہ غایت کا حاصل بھی وہی غرض ہے۔فعال ہے(ہمیشہ جو چاہے کرلینے والا)نہ جوارح(وآلات)سے(جب کہ انسان اپنے ہر کام میں اپنے جوارح یعنی اعضائے بدن کا محتاج ہے۔مثلا علم کے لیے دل و دماغ کا۔دیکھنے اور سننے کے لیے آنکھکان کالیکن خداوند قدوس کہ ہر پست سے پست آواز کو سنتا اور ہر باریك سے باریك کو کہ خوردبین سے محسوس نہ ہو دیکھتا ہےمگر کان آنکھ سے اس کا سننا دیکھنا اور زبان سے کلام کرنا نہیں کہ یہ سب اجسام ہیں۔اور جسم و جسمانیت سے وہ پاک)قریب ہے۔ (اپنے کمال قدرت و علم ورحمت سے)نہ(کہ)مسافت سے(کہ اس کا قرب ماپ و پیمائش میں سما سکے)ملک(وسلطان و شہنشاہ زمین و آسمان)ہے مگر بے وزیر(جیسا کہ سلاطین دنیا کے وزیر باتدبیر ہوتے ہیں کہ اس کے امور سلطنت میں اس کا بوجھ اٹھاتے اور ہاتھ بٹاتے ہیں۔)
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
قلیل مدت میں اپنی مصروفیات کے باوجود کامیابی سے سرفراز ہوا۔
میں اپنے مقصد میں کہاں تك کامیاب ہوااس کا فیصلہ آپ کریں گےاور میری کوتاہ فہمی و قصور علمی آپ کے خیال مبارك میں آئے تو اس سے اس ہمیچمداں کو مطلع فرمائیں گے۔
اور اس حقیقت کے اظہار میں یہ فقیر فخر محسوس کرتا ہے کہ اس رسالہ مبارکہ میں حاشیے بین السطور اور تشریح مطالب(جو اصل عبارت سے جداقوسین میں محدود ہےاور اصل عبارت خط کشیدہ)جو کچھ پائیں گے وہ اکثر و بیشتر مقامات پر اعلیحضرت قدس سرہ ہی کے کتب ورسائل اور حضرت استاذی و استاذ العلماء صدرالشریعۃ مولنا الشاہ امجد علی قادری برکاتی رضوی اعظمی رحمۃ اﷲ علیہ کی مشہور زمانہ کتاب بہار شریعت سے ماخوذ ملتقط ہے۔
امید ہے کہ ناظرین کرام اس فقیر کو اپنی دعائے خیر میں یاد فرماتے رہیں گے کہ سفر آخرت درپیش ہے اور یہ فقیر خالی ہاتھخالی دامنبس ایك انہیں کا سہارا ہے اور ان شاء اﷲ تعالی وہی بگڑی بنائیں گے ورنہ ہم نے تو کمائی سب عیبوں میں گنوائی ہے۔
والسلام
العبدمحمد خلیل خاں قادری البرکاتی المارہروی عفی عنہ۔
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
قلیل مدت میں اپنی مصروفیات کے باوجود کامیابی سے سرفراز ہوا۔
میں اپنے مقصد میں کہاں تك کامیاب ہوااس کا فیصلہ آپ کریں گےاور میری کوتاہ فہمی و قصور علمی آپ کے خیال مبارك میں آئے تو اس سے اس ہمیچمداں کو مطلع فرمائیں گے۔
اور اس حقیقت کے اظہار میں یہ فقیر فخر محسوس کرتا ہے کہ اس رسالہ مبارکہ میں حاشیے بین السطور اور تشریح مطالب(جو اصل عبارت سے جداقوسین میں محدود ہےاور اصل عبارت خط کشیدہ)جو کچھ پائیں گے وہ اکثر و بیشتر مقامات پر اعلیحضرت قدس سرہ ہی کے کتب ورسائل اور حضرت استاذی و استاذ العلماء صدرالشریعۃ مولنا الشاہ امجد علی قادری برکاتی رضوی اعظمی رحمۃ اﷲ علیہ کی مشہور زمانہ کتاب بہار شریعت سے ماخوذ ملتقط ہے۔
امید ہے کہ ناظرین کرام اس فقیر کو اپنی دعائے خیر میں یاد فرماتے رہیں گے کہ سفر آخرت درپیش ہے اور یہ فقیر خالی ہاتھخالی دامنبس ایك انہیں کا سہارا ہے اور ان شاء اﷲ تعالی وہی بگڑی بنائیں گے ورنہ ہم نے تو کمائی سب عیبوں میں گنوائی ہے۔
والسلام
العبدمحمد خلیل خاں قادری البرکاتی المارہروی عفی عنہ۔
والی(ہے۔مالك و حاکم علی الاطلاق ہے۔جو چاہے اور جیسا چاہے کرے مگر)بے مشیر(نہ کوئی اس کو مشورہ دینے والا۔نہ وہ کسی کے مشورہ کا محتاجنہ کوئی اس کے ارادے سے اسے باز رکھنے والا۔ولایتملکیتمالکیتحاکمیتکے سارے اختیارات اسی کو حاصلکسی کو کسی حیثیت سے بھی اس ذات پاك پر دسترس نہیںملك و حکومت کا حقیقی مالك کہ تمام موجودات اس کے تحت ملك و حکومت ہیںاور اس کی مالکیت و سلطنت دائمی ہے جسے زوال نہیں)حیات و کلام و سمع و بصر و ارادہ و قدرت و علم(کہ اس کے صفات ذاتیہ ہیں اور ان کے علاوہ تکوین و تخلیق و رزاقیت یعنی مارناجلاناصحت دنیابیمار کرناغنی کرنافقیر کرناساری کائنات کی ترتیب فرمانا اور ہر چیز کو بتدریج اس کی فطرت کے مطابق کمال مقدار تك پہنچاناانہیں ان کے مناسب احوال روزی رزق مہیا کرنا)وغیرہا(صفات جن کا تعلق مخلوق سے ہے اور جنہیں صفات اضافیہ اور صفات فعلیہ بھی کہتے ہیں اور جنہیں صفات تخلیق و تکوین کی تفصیل سمجھنا چاہیےاور صفات سلبیہ یعنی وہ صفات جن سے اﷲ تعالی کی ذات منزہ اور مبرا ہےمثلا وہ جاہل نہیں عاجز نہیںبے اختیار و بے بس نہیںکسی کے ساتھ متحد نہیں جیسا کہ برف پانی میں گھل کر ایك ہوجاتا ہے غرض وہ اپنی صفات ذاتیہصفات اضافیہ اور صفات سلبیہ)تمام صفات کمال سے ازلا ابدا موصوف(ہےاور جس طرح اس کی ذات قدیم ازلی ابدی ہے اس کی تمام صفات بھی قدیم ازلی ابدی ہیںاور ذات و صفات باری تعالی کے سوا سب چیزیں حادث و نوپیدیعنی پہلے نہ تھیں پھر موجود ہوئیںصفات الہی کو جو مخلوق کہے یا حادث بتائے گمراہ بے دین ہے۔اس کی ذات و صفات) تمام شیون(تمام نقائص تمام کوتاہیوں سے)وشین و عیب(ہر قسم کے نقص ونقصان)سے اولا و آخرا بری(کہ جب وہ مجتمع ہے تمام صفات کمال کا جامع ہے ہر کمال و خوبی کاتو کسی عیب کسی نقصکسی کوتاہی کا اس میں ہونا محالبلکہ جس بات میں نہ کمال ہو نہ نقصان وہ بھی اس کے لیے محال)
ذات پاك اس کی ندوضد(نظیر و مقابل)شبیہ و مثل(مشابہ و مماثل)کیف و کم(کیفیت و مقدار)شکل و جسم و جہت و مکان و امد (غایت وانتہا اور)زمان سے منزہ(جب عقیدہ یہ ہے کہ ذات باری تعالی قدیم ازلی ابدی ہے اور اس کی تمام صفات بھی قدیم ازلی ابدی ہیں تو یہ بھی ماننا پڑے گا کہ وہ ان تمام چیزوں سے جو حادث ہیں یا جن میں مکانیت ہے یعنی ایك جگہ سے دوسری طرف نقل و حرکتیا ان میں کسی قسم کا تغیر پایا جانایا اس کے اوصاف کا متغیر ہونایا اس کے اوصاف کا مخلوق کے اوصاف کے مانند ہونایہ تمام امور اس کے لیے
ذات پاك اس کی ندوضد(نظیر و مقابل)شبیہ و مثل(مشابہ و مماثل)کیف و کم(کیفیت و مقدار)شکل و جسم و جہت و مکان و امد (غایت وانتہا اور)زمان سے منزہ(جب عقیدہ یہ ہے کہ ذات باری تعالی قدیم ازلی ابدی ہے اور اس کی تمام صفات بھی قدیم ازلی ابدی ہیں تو یہ بھی ماننا پڑے گا کہ وہ ان تمام چیزوں سے جو حادث ہیں یا جن میں مکانیت ہے یعنی ایك جگہ سے دوسری طرف نقل و حرکتیا ان میں کسی قسم کا تغیر پایا جانایا اس کے اوصاف کا متغیر ہونایا اس کے اوصاف کا مخلوق کے اوصاف کے مانند ہونایہ تمام امور اس کے لیے
محال ہیںیا یوں کہئے کہ ذات باری تعالی ان تمام حوادث وحوائج سے پاك ہے جو خاصہ بشریت ہیں)نہ والد ہے نہ مولود(نہ وہ کسی کا باپ ہے نہ کسی کا بیٹاکیونکہ کوئی اس کا مجالس وہم جنس نہیںاور چونکہ وہ قدیم ہے اور پیدا ہونا حادث و مخلوق کی شان)نہ کوئی شے اس کے جوڑ کی(یعنی کوئی اس کا ہمتا کوئی اس کا عدیل نہیں۔مثل و نظیر و شبیہ سے پاك ہے اور اپنی ربوبیت والوہیت میں صفات عظمت و کمال کے ساتھ موصوف)اور جس طرح ذات کریم اس کیمناسبت ذوات سے مبرا اسی طرح صفات کمالیہ اس کیمشابہت صفات سے معرا(اس کا ہر کمال عظیم اور ہر صفت عالیکوئی مخلوق کیسی ہی اشرف و اعلی ہو اس کی شریك کسی حیثیت سےکسی درجہ میں نہیں ہوسکتی)مسلمان پر لا الہ الا اﷲ ماننااﷲ سبحانہ وتعالی کو احدصمدلاشریك لہ جاننا فرض اول و مدار ایمان ہے کہ اﷲ ایك ہے اس کا کوئی شریك نہیںنہ ذات میں کہ لا الہ الا اﷲ(اﷲ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں)نہ صفات میں کہ " لیس کمثلہ شیء " ۔اس جیسا کوئی نہیںنہ اسماء میں کہ " ہل تعلم لہ سمیا ﴿۶۵﴾" ۔کیا اس کے نام کا دوسرا جانتے ہو نہ احکام میں کہ " ولا یشرک فی حکمہ احدا ﴿۲۶﴾" ۔اور وہ اپنے حکم میں کسی کو شریك نہیں کرتانہ افعال میں کہ " ہل من خلق غیر اللہ" ۔کیا اﷲ کے سوا کوئی اور خالق ہےنہ سلطنت میں کہ" و لم یکن لہ شریک فی الملک" ۔اور بادشاہی میں کوئی اس کا شریك نہیںتو جس طرح اس کی ذات اور ذاتوں کے مشابہ نہیں یونہی اس کی صفات بھی صفات مخلوق کے مماثل نہیں۔
اور یہ جو ایك ہی نام کا اطلاق اس پر اور اس کی کسی مخلوق پر دیکھا جاتا ہے جیسے علیمحکیمکریمسمیعبصیر اور ان جیسے اورتو یہ محض لفظی موافقت ہے نہ کہ معنوی شرکتاس میں حقیقی معنی میں کوئی مشابہت نہیں ولہذا مثلا)اوروں کے علم وقدرت کو اس کے علم وقدرت سے(محض لفظی یعنی)فقط علمقدرت میں مشابہت ہے۔(نہ کہ شرکت معنوی)اس(صوری و لفظی موافقت)سے آگے(قدم بڑھے تو)اس کی تعالی وتکبر(برتری و کبریائی)کا سرا پردہ کسی کو
اور یہ جو ایك ہی نام کا اطلاق اس پر اور اس کی کسی مخلوق پر دیکھا جاتا ہے جیسے علیمحکیمکریمسمیعبصیر اور ان جیسے اورتو یہ محض لفظی موافقت ہے نہ کہ معنوی شرکتاس میں حقیقی معنی میں کوئی مشابہت نہیں ولہذا مثلا)اوروں کے علم وقدرت کو اس کے علم وقدرت سے(محض لفظی یعنی)فقط علمقدرت میں مشابہت ہے۔(نہ کہ شرکت معنوی)اس(صوری و لفظی موافقت)سے آگے(قدم بڑھے تو)اس کی تعالی وتکبر(برتری و کبریائی)کا سرا پردہ کسی کو
بار نہیں دیتا۔(اور کوئی اس شاہی بارگاہ کے اردگرد بھی نہیں پہنچ سکتا۔پرندہ وہاں پر نہیں مارسکتا کوئی اس میں دخل انداز نہیں) تمام عزتیں اس کے حضور پست(فرشتے ہوں یا جن یا انسان یا اور کوئی مخلوقکوئی بھی اس سے بے نیاز نہیںسب اس کے فضل کے محتاج ہیںاور زبان حال وقال سے اپنی پستیوںاپنی احتیاجوں کے معترف اور اس کے حضور سائلاس کی بارگاہ میں ہاتھ پھیلائے ہوئےاور ساری مخلوقات چاہےوہ زمینی ہوں یا آسمانی اپنی اپنی حاجتیں اور مرادیں اسی حق تعالی سے طلب کرتی ہیں) اور سب ہستیاں اس کے آگے نیست(نہ کوئی ہستی ہستینہ کوئی وجود وجود)" کل شیء ہالک الا وجہہ " ۔(بقا صرف اس کی وجہ کریم کے لیے ہے باقی سب کے لیے فناباقی باقیباقی فانی) وجود واحد(اسی حی وقیوم ازلی ابدی کا)موجود واحد(وہی ایك حی و قیوم ازلی ابدی)باقی سب اعتبارات ہیں(اعتبار کیجئے تو موجود ورنہ محض معدوم)ذرات اکوان(یعنی موجودات کے ذرہ ذرہ)کو اس کی ذات سے ایك نسبت مجہولۃ الکیف ہے۔(نامعلوم الکیفیت)جس کے لحاظ سے من و تو(ماوشماو ایں وآں)کو موجود و کائن کہا جاتا(اور ہست و بود سے تعبیر کیا جاتا)ہے۔(اگر اس نسبت کا قدم درمیان سے اٹھالیں۔ہستنیست اور بودنابود ہو جائےکسی ذرہ موجود کا وجود نہ رہے کہ اس پر ہستی کا اطلاق)روا ہو۔)اور اس کے آفتاب وجود کا ایك پر تو(ایك ظلایك عکس ایك شعاع ہے کہ کائنات کا ہر ذرہ نگاہ ظاہر میں جلوہ آرائیاں کررہا ہے۔(اور اس تماشا گاہ عالم کے ذرہ ذرہ سے اس کی قدرت کاملہ کے جلوے ہویدا ہیں)اگر اس نسبت و پرتو سے(کہ ہر ذرہ کون و مکان کو اس آفتاب و جود حقیقی سے حاصل ہے)قطع نظر کی جائے(اور ایك لحظہ کو اس سے نگاہ ہٹالی جائے)تو عالم ایك خواب پریشان کا نام رہ جائےہو کا میدان عدم بحت کی طرح سنسان (محض معدوم و یکسر و یرانتو مرتبہ وجود میں صرف ایك ذات حق ہے باقی سب اسی کے پر تو وجود سے موجود ہیںمرتبہ کون میں نور ابدی آفتاب ہےاور تمام عالم اس کے آئینے اس نسبت فیضان کا قدمدرمیان سے نکال لیں تو عالم دفعۃ فنائے محض ہو جائے کہ اسی نور کے متعدد پرتووں نے بے شمار نام پائے ہیںذات باری تعالی واحد حقیقی ہےتغیرو اختلاف کو اصلا اس کے سرا پر دہ عزت کے گرد بار نہیں۔پر مظاہر کے تعدد سے یہ مختلف صورتیںبے شمار نامبے حساب آثار پیداہیںنوراحدیت کی تابش غیر محدود ہے۔اور چشم جسم و چشم عقل دونوں وہاں نابینا ہیںاور اس سے زیادہ بیان
حوالہ / References
القرآن الکریم ۲۸ /۸۸
سے باہرعقل سے وراء ہے۔)
موجود واحد ہے نہ وہ واحد جو چند(ابعاض واجزاء)سے مل کر مرکب ہوا(اورشے واحد کا نام اس پر رواٹھہرا)نہ وہ واحد جو چند کی طرف تحلیل پائے(جیسا کہ انسان واحد یا شے واحد کہ گوشت پوست و خون واستخوان وغیرہا اجزاء وابعاض سے ترکیب پا کر مرکب ہوا اور ایك کہلایا اور اس کی تحلیل و تجزی اور تجزیہانہیں اعضاء واجزاء وابعاض کی طرف ہوگا جن سے اس نے ترکیب پائی اور مرکب کہلایا کہ یہی جسم کی شان ہےاور ذات باری تعالی عزشانہ جسم و جسمانیات سے پاك و منزہ ہے۔)نہ وہ واحد جو بہ تہمت حلول عینیت(کہ اس کی ذات قدسی صفات پر یہ تہمت لگائی جائے کہ وہ کسی چیز میں حلول کیے ہوئے یا اس میں سمائی ہوئی ہے یا کوئی چیز ا سکی ذات احدیت میں حلول کیے ہوئے اور اس میں پیوست ہے اور یوں معاذ اﷲ وہ)اوج وحدت (وحدانیت و یکتائی کی رفعتوں)سے حضیض اثنینیت(دوئی اور اشتراك کی پستیوں)میں اتر آئے۔ھوولاموجود الا ھو آیۃ کریمہ " سبحنہ وتعلی عما یشرکون ﴿۴۰﴾" ۔ (پاکی اور برتری ہے اسے ان شریکوں سے)جس طرح شرك فی الالوہیت کو رد کرتی ہے۔(اور بتاتی ہے کہ خداوند قدوس کی خدائی اور اس معبود برحق کی الوہیت وربوبیت میں کوئی شریك نہیں۔ "و ہو الذی فی السماء الہ و فی الارض الہ " ۔وہی آسمان والوں کا خدا اور وہی زمین والوں کا خداتو نفس الوہیت وربوبیت میں کوئی اس کا شریك کیا ہوتااس کی صفات کمال میں بھی کوئی اس کا شریك نہیں۔"لیس کمثلہ شیء " ۔اس جیسا کوئی نہیں)
یونہی(یہ آیۃ کریمہ)اشتراك فی الوجود کی نفی فرماتی ہے(تو اس کی ذات بھی منزہ اوراس کی تمام صفات کمال بھی مبرا ان تمام نالائق امور سے جو اہل شرك وجاہلیت اس کی جانب منسوب کرتے ہیں۔حق یہ ہے کہ وجود اسی ذات برحق کے لیے ہےباقی سب ظلال وپر تو
غیرتش غیر درجہاں نہ گزاشت لاجرم عین جملہ معنی شد
(اور وحدت الوجود کے جتنے معنی اور جس قدر مفاہیم عقل میں آسکتے ہیں وہ یہی ہیں کہ وجود واحدموجود واحدباقی سب اسی کے مظاہر اور آئینے کہ اپنی حد ذات میں اصلا وجود و ہستی سے بہرہ نہیں
موجود واحد ہے نہ وہ واحد جو چند(ابعاض واجزاء)سے مل کر مرکب ہوا(اورشے واحد کا نام اس پر رواٹھہرا)نہ وہ واحد جو چند کی طرف تحلیل پائے(جیسا کہ انسان واحد یا شے واحد کہ گوشت پوست و خون واستخوان وغیرہا اجزاء وابعاض سے ترکیب پا کر مرکب ہوا اور ایك کہلایا اور اس کی تحلیل و تجزی اور تجزیہانہیں اعضاء واجزاء وابعاض کی طرف ہوگا جن سے اس نے ترکیب پائی اور مرکب کہلایا کہ یہی جسم کی شان ہےاور ذات باری تعالی عزشانہ جسم و جسمانیات سے پاك و منزہ ہے۔)نہ وہ واحد جو بہ تہمت حلول عینیت(کہ اس کی ذات قدسی صفات پر یہ تہمت لگائی جائے کہ وہ کسی چیز میں حلول کیے ہوئے یا اس میں سمائی ہوئی ہے یا کوئی چیز ا سکی ذات احدیت میں حلول کیے ہوئے اور اس میں پیوست ہے اور یوں معاذ اﷲ وہ)اوج وحدت (وحدانیت و یکتائی کی رفعتوں)سے حضیض اثنینیت(دوئی اور اشتراك کی پستیوں)میں اتر آئے۔ھوولاموجود الا ھو آیۃ کریمہ " سبحنہ وتعلی عما یشرکون ﴿۴۰﴾" ۔ (پاکی اور برتری ہے اسے ان شریکوں سے)جس طرح شرك فی الالوہیت کو رد کرتی ہے۔(اور بتاتی ہے کہ خداوند قدوس کی خدائی اور اس معبود برحق کی الوہیت وربوبیت میں کوئی شریك نہیں۔ "و ہو الذی فی السماء الہ و فی الارض الہ " ۔وہی آسمان والوں کا خدا اور وہی زمین والوں کا خداتو نفس الوہیت وربوبیت میں کوئی اس کا شریك کیا ہوتااس کی صفات کمال میں بھی کوئی اس کا شریك نہیں۔"لیس کمثلہ شیء " ۔اس جیسا کوئی نہیں)
یونہی(یہ آیۃ کریمہ)اشتراك فی الوجود کی نفی فرماتی ہے(تو اس کی ذات بھی منزہ اوراس کی تمام صفات کمال بھی مبرا ان تمام نالائق امور سے جو اہل شرك وجاہلیت اس کی جانب منسوب کرتے ہیں۔حق یہ ہے کہ وجود اسی ذات برحق کے لیے ہےباقی سب ظلال وپر تو
غیرتش غیر درجہاں نہ گزاشت لاجرم عین جملہ معنی شد
(اور وحدت الوجود کے جتنے معنی اور جس قدر مفاہیم عقل میں آسکتے ہیں وہ یہی ہیں کہ وجود واحدموجود واحدباقی سب اسی کے مظاہر اور آئینے کہ اپنی حد ذات میں اصلا وجود و ہستی سے بہرہ نہیں
رکھتےاور حاش ثم حاش یہ معنی ہر گز نہیں کہ من و توماوشمااین وآںہر شے خدا ہےیہ اہل اتحاد کا قول ہے جو ایك فرقہ کافروں کا ہے۔اور پہلی بات مذہب ہے اہل توحید کاکہ اہل اسلام وہ صاحب ایمان حقیقی ہیں)
عقیدہ ثانیہ۲ ________________ سب سے اعلیسب سے اولی
بایں ہمہ(کہ اس کی ذات کریم دوسری ذوات کی مناسبت سے معرا ہے اور اس کی صفات عالیہ اوروں کی صفات کی مشابہت سے مبرا)اس نے اپنی حکمت کا ملہ(و رحمت شاملہ)کے مطابق عالم(یعنی ماسوی اﷲ)کو جس طرح وہ(اپنے علم قدیم ازلی سے)جانتا ہے۔ایجاد فرمایا(تمام کائنات کو خلعت وجود بخشا۔اپنے بندوں کو پیدا فرمایا انہیں کانآنکھہاتھپاؤں زبان وغیرہ عطا فرمائے اور انہیں کام میں لانے کا طریقہ الہام فرمایا۔پھر اعلی درجہ کے شریف جو ہر یعنی عقل سے ممتاز فرمایا جس نے تمام حیوانات پر انسان کا مرتبہ بڑھایا۔پھر لاکھوں باتیں ہیں جن کا عقل ادراك نہیں کرسکتی تھی۔لہذا انبیاء بھیج کر کتابیں اتار کرذراذرا سی بات بتادی۔اور کسی کو عذر کی کوئی جگہ باقی نہ چھوڑی)اور مکلفین کو(جو تکلیف شرعی کے اہلامرونہی کے خطاب کے قابلبالغ عاقل ہیں)اپنے فضل وعدل سے دو فرقے کردیا "فریق فی الجنۃ" ۔(ایك جنتی و ناجیجس نے حق قبول کیا) "و فریق فی السعیر ﴿۷﴾" ۔ (دوسرا جہنمی وہالکجس نے قبول حق سے جی چرایا۔)اور جس طرح پر تووجود(موجود حقیقی جل جلالہ)سے سب نے بہرہ پایا (اور اسی اعتبار سے وہ ہست و موجود کہلایا)اسی طرح فریق جنت کو اس کے صفات کمالیہ سے نصیبہ خاص ملا(دنیاو آخرت میں اس کے لیے فوزو فلاح کے دروازے کھلے اور علم و فضل خاص کی دولتوں سے اس کے دامن بھرے) دبستان(مدرسہ) " وعلمک ما لم تکن تعلم " ۔(اور دارالعلوم "علم الانسان ما لم یعلم ﴿۵﴾" (میں تعلیم فرمایا(کہ جو کچھ وہ نہ جانتا تھا اسے سکھایا پھر) " وکان فضل اللہ علیک عظیما﴿۱۱۳﴾" ۔نے اوررنگ آمیزیاں کیں(کہ اﷲ تعالی کا فضل عظیم اس پر جلوہ گستر رہا مولائے کریم نے گونا گوں نعمتوں سے اسے نوازا۔بے شمار فضائل و محاسن سے اسے سنوارا۔قلب وقالبجسم و جاںظاہر و باطن کو رذائل اور خصائل قبیحہ مذمومہ سے پاك صاف اور محامد و اخلاق حسنہ سے اسے آراستہ و
عقیدہ ثانیہ۲ ________________ سب سے اعلیسب سے اولی
بایں ہمہ(کہ اس کی ذات کریم دوسری ذوات کی مناسبت سے معرا ہے اور اس کی صفات عالیہ اوروں کی صفات کی مشابہت سے مبرا)اس نے اپنی حکمت کا ملہ(و رحمت شاملہ)کے مطابق عالم(یعنی ماسوی اﷲ)کو جس طرح وہ(اپنے علم قدیم ازلی سے)جانتا ہے۔ایجاد فرمایا(تمام کائنات کو خلعت وجود بخشا۔اپنے بندوں کو پیدا فرمایا انہیں کانآنکھہاتھپاؤں زبان وغیرہ عطا فرمائے اور انہیں کام میں لانے کا طریقہ الہام فرمایا۔پھر اعلی درجہ کے شریف جو ہر یعنی عقل سے ممتاز فرمایا جس نے تمام حیوانات پر انسان کا مرتبہ بڑھایا۔پھر لاکھوں باتیں ہیں جن کا عقل ادراك نہیں کرسکتی تھی۔لہذا انبیاء بھیج کر کتابیں اتار کرذراذرا سی بات بتادی۔اور کسی کو عذر کی کوئی جگہ باقی نہ چھوڑی)اور مکلفین کو(جو تکلیف شرعی کے اہلامرونہی کے خطاب کے قابلبالغ عاقل ہیں)اپنے فضل وعدل سے دو فرقے کردیا "فریق فی الجنۃ" ۔(ایك جنتی و ناجیجس نے حق قبول کیا) "و فریق فی السعیر ﴿۷﴾" ۔ (دوسرا جہنمی وہالکجس نے قبول حق سے جی چرایا۔)اور جس طرح پر تووجود(موجود حقیقی جل جلالہ)سے سب نے بہرہ پایا (اور اسی اعتبار سے وہ ہست و موجود کہلایا)اسی طرح فریق جنت کو اس کے صفات کمالیہ سے نصیبہ خاص ملا(دنیاو آخرت میں اس کے لیے فوزو فلاح کے دروازے کھلے اور علم و فضل خاص کی دولتوں سے اس کے دامن بھرے) دبستان(مدرسہ) " وعلمک ما لم تکن تعلم " ۔(اور دارالعلوم "علم الانسان ما لم یعلم ﴿۵﴾" (میں تعلیم فرمایا(کہ جو کچھ وہ نہ جانتا تھا اسے سکھایا پھر) " وکان فضل اللہ علیک عظیما﴿۱۱۳﴾" ۔نے اوررنگ آمیزیاں کیں(کہ اﷲ تعالی کا فضل عظیم اس پر جلوہ گستر رہا مولائے کریم نے گونا گوں نعمتوں سے اسے نوازا۔بے شمار فضائل و محاسن سے اسے سنوارا۔قلب وقالبجسم و جاںظاہر و باطن کو رذائل اور خصائل قبیحہ مذمومہ سے پاك صاف اور محامد و اخلاق حسنہ سے اسے آراستہ و
پیراستہ کیا۔اور قرب خداوندی کی راہوں پر اسے ڈال دیا)اور یہ سب تصدق(صدقہ و طفیل)ایك ذات جامع البرکات کا تھا جسے اپنا محبوب خاص فرمایا۔(مرتبہ محبوبیت کبری سے سرفراز فرمایا کہ تمام خلق حتی کہ نبی و مرسل و ملك مقرب جویائے رضائے الہی ہے اور وہ ان کی رضا کا طالب)
مرکز دائرہ(کن)و دائرہ مرکز کاف ونون بنایااپنی خلافت کا ملہ کا خلعت رفیع المنزلت اس کے قامت موزوں پر سجایا کہ تمام افراد کائنات اس کے ظل ظلیل(سایہ ممدورافت)اور ذیل جلیل(دامن معمور رحمت)میں آرام کرتے ہیں۔اعاظم مقربین(کہ اس کی بارگاہ عالی جاہ میں قرب خاص سے مشرف ہیں)(ان)کو(بھی)جب تك اس مامن جہاں(پناہ گاہ کون و مکان)سے توسل نہ کریں(انہیں اس کی جناب والا میں وسیلہ نہ بنائیں)بادشاہ(حقیقی عز اسمہ وجل مجدہ)تك پہنچناممکن نہیں کنجیاںخزائن علم و قدرتتدبر و تصرف کیاس کے ہاتھ میں رکھیںعظمت والوں کو مہ پارے(چاند کے ٹکڑےروشن تارے)اور اس کو اس نے آفتاب عالم تاب کیا کہ اس سے اقتباس انوار کریں(عرفان و معرفت کی روشنیوں سے اپنے دامن بھریں)اور اس کے حضور انا زبان پر(اور اپنے فضائل و محاسنان کے مقابلشمار میں)نہ لائیں اس(محبوب اجل و اعلی)کے سراپردہ عز ت و اجلال کو وہ عزت و رفعت بخشی کہ عرش عظیم جیسے ہزاراں ہزار اس میں یوں گم ہوجائیں جیسے بیدائے ناپیدا کنار(وسیع و عریض بیابان جس کا کنارہ نظر نہ آئے اس)میں ایك شلنگ ذرہ کم مقدار(کہ لق و دق صحرا میں اس کی اڑان کی کیا وقعت اور کیا قدرت و منزلت)
علم وہ وسیع و غزیر(کثیر درکثیر)عطا فرمایا کہ علوم اولین و آخرین اس کے بحر علوم کی نہریں یا جوشش فیوض کے چھینٹے قرار پائے (شرق تا غربعرش تا فرش انہیں دکھایاملکوت السموت والارض کا شاہد بنایا)روز اول سے روز آخر تك کاسب ماکان ومایکون انہیں بتایا)ازل سے ابد تك تمام غیب وشہادت(غائب و حاضر)پر اطلاع تام(وآگاہی تمام انہیں)حاصلالا ماشاء اﷲ(اور ہنوز ان کے احاطہ علم میں وہ ہزار در ہزاربے حدو بے کنار سمندر لہرا رہے ہیں جن کی حقیقت وہ جانیں یا ان کا عطا کرنے والا ان کا مالك و مولی جل و علا)بصر(و نظر)وہ محیط(اور اس کا احاطہ اتنا بسیط)کہ شش جہت مقابل(کہ بصارت کو ان پر اطلاع تام حاصل)دنیا اس کے سامنے اٹھالی کہ تمام کائنات تا بروز قیامتآن واحد میں پیش نظر(تو وہ دنیا کو اور جوکچھ دنیا میں قیامت تك ہونے والا ہے سب کو ایسے دیکھ رہے ہیں جیسے اپنی ہتھیلی کواور ایمانی نگاہوں میں نہ یہ قدرت الہی
مرکز دائرہ(کن)و دائرہ مرکز کاف ونون بنایااپنی خلافت کا ملہ کا خلعت رفیع المنزلت اس کے قامت موزوں پر سجایا کہ تمام افراد کائنات اس کے ظل ظلیل(سایہ ممدورافت)اور ذیل جلیل(دامن معمور رحمت)میں آرام کرتے ہیں۔اعاظم مقربین(کہ اس کی بارگاہ عالی جاہ میں قرب خاص سے مشرف ہیں)(ان)کو(بھی)جب تك اس مامن جہاں(پناہ گاہ کون و مکان)سے توسل نہ کریں(انہیں اس کی جناب والا میں وسیلہ نہ بنائیں)بادشاہ(حقیقی عز اسمہ وجل مجدہ)تك پہنچناممکن نہیں کنجیاںخزائن علم و قدرتتدبر و تصرف کیاس کے ہاتھ میں رکھیںعظمت والوں کو مہ پارے(چاند کے ٹکڑےروشن تارے)اور اس کو اس نے آفتاب عالم تاب کیا کہ اس سے اقتباس انوار کریں(عرفان و معرفت کی روشنیوں سے اپنے دامن بھریں)اور اس کے حضور انا زبان پر(اور اپنے فضائل و محاسنان کے مقابلشمار میں)نہ لائیں اس(محبوب اجل و اعلی)کے سراپردہ عز ت و اجلال کو وہ عزت و رفعت بخشی کہ عرش عظیم جیسے ہزاراں ہزار اس میں یوں گم ہوجائیں جیسے بیدائے ناپیدا کنار(وسیع و عریض بیابان جس کا کنارہ نظر نہ آئے اس)میں ایك شلنگ ذرہ کم مقدار(کہ لق و دق صحرا میں اس کی اڑان کی کیا وقعت اور کیا قدرت و منزلت)
علم وہ وسیع و غزیر(کثیر درکثیر)عطا فرمایا کہ علوم اولین و آخرین اس کے بحر علوم کی نہریں یا جوشش فیوض کے چھینٹے قرار پائے (شرق تا غربعرش تا فرش انہیں دکھایاملکوت السموت والارض کا شاہد بنایا)روز اول سے روز آخر تك کاسب ماکان ومایکون انہیں بتایا)ازل سے ابد تك تمام غیب وشہادت(غائب و حاضر)پر اطلاع تام(وآگاہی تمام انہیں)حاصلالا ماشاء اﷲ(اور ہنوز ان کے احاطہ علم میں وہ ہزار در ہزاربے حدو بے کنار سمندر لہرا رہے ہیں جن کی حقیقت وہ جانیں یا ان کا عطا کرنے والا ان کا مالك و مولی جل و علا)بصر(و نظر)وہ محیط(اور اس کا احاطہ اتنا بسیط)کہ شش جہت مقابل(کہ بصارت کو ان پر اطلاع تام حاصل)دنیا اس کے سامنے اٹھالی کہ تمام کائنات تا بروز قیامتآن واحد میں پیش نظر(تو وہ دنیا کو اور جوکچھ دنیا میں قیامت تك ہونے والا ہے سب کو ایسے دیکھ رہے ہیں جیسے اپنی ہتھیلی کواور ایمانی نگاہوں میں نہ یہ قدرت الہی
پر دشوار نہ عزت ووجاہت انبیاء کے مقابل بسیار)سمع والا کے نزدیك پانچ سو برس راہ کی صدا جیسے کان پڑی آواز ہے اور (بعطائے قادر مطلق)قدرت(و اختیارات)کا تو کیا پوچھناکہ قدرت قدیر علی الاطلاق جل جلالہ کی نمونہ و آئینہ ہیںعالم علوی و سفلی(اقطار و اطراف زمین و آسمان)میں اس کا حکم جاری۔فرمانروائی کن کو اس کی زباں کی پاسداریمردہ کو قم کہیں(کہ بحکم الہی کھڑا ہوجا تو وہ)زندہ اور چاند کو اشارہ کریں(تو)فورا دو پارہ ہو۔جو(یہ)چاہتے ہیں خدا وہی چاہتا ہے کہ یہ وہی چاہتے ہیں جو خدا چاہتا ہے۔منشور خلافت مطلقہ(تامہعامہشاملہکاملہ)و تفویض تام کا فرمان شاہی)ان کے نام نامی(اسم گرامی)پر پڑھا گیا اور سکہ و خطبہ ان کا ملاء ادنی سے عالم بالا تك جاری ہوا۔(تو وہ اﷲ عزوجل کے نائب مطلق ہیں اور تمام ماسوی اﷲ تمام عالم ان کے تحت تصرف ان کے زیر اختیاران کے سپرد کہ جو چاہیں کریں جسے جو چاہیں دیں اور جس سے جو چاہیں واپس لیں تمام جہان میں کوئی ان کا پھیرنے والا نہیں اور ہاں کوئی کیونکر ان کا حکم پھیر سکے کہ حکم الہی کسی کے پھیرے نہیں پھرتا۔تمام جہان ان کا محکوم اور تمام آدمیوں کے وہ مالکجو انہیں اپنا مالك نہ جانے حلاوت سنت سے محروم مل۔ملکوت السموات والارض ان کے زیر فرمانتمام زمین ان کی ملك اور تمام جنت ان کی جاگیر)دنیا ودیں میں جو جسے ملتا ہے ان کی بارگاہ عرش اشتباہ سے ملتا ہے۔(جنت و نار کی کنجیاں دست اقدس میں دے دی گئیں۔رزق و خیر اور ہر قسم کی عطائیں حضور ہی کے دربار سے تقسیم ہوتی ہیں۔دنیا و آخرت حضور ہی کی عطا کا ایك حصہ ہے
فان من جودك الدنیا و ضرتھا
(بے شك دنیا وآخرت آپ کے جودو سخا سے ہے)
تو تمام ماسوی اﷲ نے جو نعمتدنیاوی و اخرویجسمانی یا روحانیچھوٹی یا بڑی پائی انہیں کے دست عطا سے پائی۔انہیں کے کرمانہیں کے طفیلانہیں کے اسطے سے ملی۔اﷲ عطا فرماتا ہے اور ان کے ہاتھوں ملاملتا ہے اور ابدالاباد تك ملتا رہے گا جس طرح دین و ملتاسلام و سنتصلاح و عبادتزہد و طہارت اور علم و معرفت ساری دینی نعمتیں ان کی عطا فرمائی ہوئی ہیں۔ یونہی مال و دولتشفاء و صحتعزت و رفعت اور فرزند و عشرت یہ سب دنیاوی نعمتیں بھی انہیں کے دست اقدس سے ملی ہیں۔
فان من جودك الدنیا و ضرتھا
(بے شك دنیا وآخرت آپ کے جودو سخا سے ہے)
تو تمام ماسوی اﷲ نے جو نعمتدنیاوی و اخرویجسمانی یا روحانیچھوٹی یا بڑی پائی انہیں کے دست عطا سے پائی۔انہیں کے کرمانہیں کے طفیلانہیں کے اسطے سے ملی۔اﷲ عطا فرماتا ہے اور ان کے ہاتھوں ملاملتا ہے اور ابدالاباد تك ملتا رہے گا جس طرح دین و ملتاسلام و سنتصلاح و عبادتزہد و طہارت اور علم و معرفت ساری دینی نعمتیں ان کی عطا فرمائی ہوئی ہیں۔ یونہی مال و دولتشفاء و صحتعزت و رفعت اور فرزند و عشرت یہ سب دنیاوی نعمتیں بھی انہیں کے دست اقدس سے ملی ہیں۔
حوالہ / References
مجموع المتون قصیدۃ بردۃ فی مدحہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم الشئون الدینیہ دولۃ قطر ص ۱۰
قال الرضا:
بے ان کے واسطے کے خدا کچھ عطا کرے حاشا غلط غلطیہ ہوس بے بصر کی ہے
وقال الفقیر
بے ان کے توسل کےمانگے بھی نہیں ملتا بے ان کے توسط کےپرسش ہے نہ شنوائی
وہ بالا دست حاکم کہ تمام ماسوی اﷲ ان کا محکوم اور ان کے سوا عالم میں کوئی حاکم نہیں۔(ملکوت السموات والارض میں ان کا حکم جاری ہےتمام مخلوق الہی کو ان کے لیے حکم اطاعت و فرمانبرداری ہے وہ خدا کے ہیںاور جو کچھ خدا کا ہے سب ان کا ہے۔
میں تو مالك ہی کہوں گا کہ ہو مالك کے حبیب
یعنی محبوب و محب میں نہیں میراتیر
جو سر ہے ان کی طرف جھکا ہوااور جو ہاتھ ہے وہ ان کی طرف پھیلا ہوا۔)
سب ان کے محتاج اور وہ خدا کے محتاج(وہی بارگاہ الہی کے وارث ہیں اور تمام عالم کو انہیں کی وساطت سے ملتا ہے)قرآن عظیم ان کی مدح وستائش کا دفتر(اور)نام ان کا ہر جگہ نام الہی کے برابر
ورفعنالك ذکر کا ہے سایہ تجھ پر ذکر اونچا ہے ترابول ہے بالا تیرا
احکام تشریعیہشریعت کے فرامیناوامرو نواہی سب ان کے قبضہ میںسب ان کے سپردجس بات میں جو چاہیں اپنی طرف سے فرمادیںوہی شریعت ہےجس پر جو چاہیں حرام فرمادیںاور جس کے لیے جو چاہیں حلال کردیںاور جو فرض چاہیں معاف فرمادیں وہی شرع ہےغرض وہ کارخانہ الہی کے مختار کل ہیںاور خسر و ان عالم اس کے دست نگرو محتاج)
بے ان کے واسطے کے خدا کچھ عطا کرے حاشا غلط غلطیہ ہوس بے بصر کی ہے
وقال الفقیر
بے ان کے توسل کےمانگے بھی نہیں ملتا بے ان کے توسط کےپرسش ہے نہ شنوائی
وہ بالا دست حاکم کہ تمام ماسوی اﷲ ان کا محکوم اور ان کے سوا عالم میں کوئی حاکم نہیں۔(ملکوت السموات والارض میں ان کا حکم جاری ہےتمام مخلوق الہی کو ان کے لیے حکم اطاعت و فرمانبرداری ہے وہ خدا کے ہیںاور جو کچھ خدا کا ہے سب ان کا ہے۔
میں تو مالك ہی کہوں گا کہ ہو مالك کے حبیب
یعنی محبوب و محب میں نہیں میراتیر
جو سر ہے ان کی طرف جھکا ہوااور جو ہاتھ ہے وہ ان کی طرف پھیلا ہوا۔)
سب ان کے محتاج اور وہ خدا کے محتاج(وہی بارگاہ الہی کے وارث ہیں اور تمام عالم کو انہیں کی وساطت سے ملتا ہے)قرآن عظیم ان کی مدح وستائش کا دفتر(اور)نام ان کا ہر جگہ نام الہی کے برابر
ورفعنالك ذکر کا ہے سایہ تجھ پر ذکر اونچا ہے ترابول ہے بالا تیرا
احکام تشریعیہشریعت کے فرامیناوامرو نواہی سب ان کے قبضہ میںسب ان کے سپردجس بات میں جو چاہیں اپنی طرف سے فرمادیںوہی شریعت ہےجس پر جو چاہیں حرام فرمادیںاور جس کے لیے جو چاہیں حلال کردیںاور جو فرض چاہیں معاف فرمادیں وہی شرع ہےغرض وہ کارخانہ الہی کے مختار کل ہیںاور خسر و ان عالم اس کے دست نگرو محتاج)
حوالہ / References
حدائقِ بخشش حاضری بارگاہ بہیں جائے حصہ اول مکتبہ رضویہ کراچی ص ۹۴
حدائق بخشش وصل اول درنعت رسول اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم حصہ اول مکتبہ رضویہ کراچی ص ۲
حدائق بخشش وصل چہارم،درمنافحت اعداء الخ حصہ اول مکتبہ رضویہ کراچی ص ۹
حدائق بخشش وصل اول درنعت رسول اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم حصہ اول مکتبہ رضویہ کراچی ص ۲
حدائق بخشش وصل چہارم،درمنافحت اعداء الخ حصہ اول مکتبہ رضویہ کراچی ص ۹
(وہ کون)اعنی سیدالمرسلین(رہبر رہبراں)خاتم النبیین(خاتم پیغمبراں)رحمۃ للعلمین(رحمت ہر دو جہاں)شفیع المذنبین(شافع خطا کاراں)قائد الغر المحجلین(ہادی نوریاں و روشن جبیناں)سر اﷲ المکنون(رب العزت کا راز سربستہ)در اﷲ المخزون (خزانہ الہی کا موتیقیمتی و پوشیدہ)سرور القلب المحزون(ٹوٹے دلوں کا سہارا)عالم ماکان وما سیکون(ماضی و مستقبل کا واقف کار) تاج الاتقیاء(نیکو کاروں کے سر کا تاج)نبی الانبیاء(تمام نبیوں کا سرتاج) محمدن (المصطفی)رسول رب العالمین صلی اﷲ تعالی علیہ وعلی الہ وصحبہ وبارك وسلم الی یوم الدین۔
بایں ہمہ(فضائل جمیلہ و فواضل جلیلہ و محاسن حمیدہ و محامد محمودہ وہ)خدا کے بندہ و محتاج ہیں(اور یسئلہ من فی السموت والارض کے مصداق ۔حاش ﷲ کہ عینیت یا مثلیت کا گمان(تو گمان یہ وہم بھی ان کی ذات کریمہذات الہی عزشانہ کی عین یا اس کے مثل و مماثل یا شبیہ و نظیر ہے)کافر کے سوا مسلمان کو ہوسکے۔خزانہ قدرت میں ممکن۔(وحادث و مخلوق)کے لیے جو کمالات متصور تھے(تصور و گمان میں آسکتے تھے یا آسکتے ہیں)سب پائے کہ دوسری کو ہم عنانی(و ہمسری اور ان مراتب رفیعہ میں برابری)کی مجال نہیںمگر دائرہ عبدیت وافتقار(بندگی و احتیاج)سے قدم نہ بڑھانہ پڑھا سکے۔العظمۃ ﷲ خدائے تعالی سے ذات و صفات میں مشابہت(و مماثلت)کیسی۔(اس سے مشابہ و مماثل ہونے کا شبہ بھی اس قابل نہیں کہ مسلمان کے دل ایمان منزل میں اس کا خطرہ گزر سکےجب کہ اہل حق کا ایمان ہے کہ حضور اقدس سرور عالم عالم اعلم صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ واصحابہ وبارك وسلم ان احسانات الہی کا جو بارگاہ الہی سے ہر آنہر گھڑیہر لحظہہر لمحہ ان کی بارگاہ بیکس پناہ پر مبذول رہتے ہیں ان انعامات اور ان)نعمائے خداوندی کے لائق جو شکر و ثناء ہے اسی پورا پورا بجا نہ لاسکے نہ ممکن کہ بجالائیں کہ جو شکر کریں وہ بھی نعمت آخر موجب شکر دیگر الی مالا نھایۃ لہ نعم وافضال خداوندی(ربانی نعمتیں اور بخششیں خصوصا آپ پر)غیر متناہی ہیں۔ان کی کوئی حدو نہایت نہیںانہیں کوئی گنتی و شمار میں نہیں لاسکتا۔قال اﷲ تعالی " و للاخرۃ خیر لک من الاولی ﴿۴﴾" ۔(اے نبی بے شك ہر آنے والا لمحہ تمہارے لیے گزرے ہوئے لمحہ سے بہتر ہے اور ساعت بساعت آپ کے مراتب رفیعہ ترقیوں میں ہیں)مرتبہ قاب قوسین
بایں ہمہ(فضائل جمیلہ و فواضل جلیلہ و محاسن حمیدہ و محامد محمودہ وہ)خدا کے بندہ و محتاج ہیں(اور یسئلہ من فی السموت والارض کے مصداق ۔حاش ﷲ کہ عینیت یا مثلیت کا گمان(تو گمان یہ وہم بھی ان کی ذات کریمہذات الہی عزشانہ کی عین یا اس کے مثل و مماثل یا شبیہ و نظیر ہے)کافر کے سوا مسلمان کو ہوسکے۔خزانہ قدرت میں ممکن۔(وحادث و مخلوق)کے لیے جو کمالات متصور تھے(تصور و گمان میں آسکتے تھے یا آسکتے ہیں)سب پائے کہ دوسری کو ہم عنانی(و ہمسری اور ان مراتب رفیعہ میں برابری)کی مجال نہیںمگر دائرہ عبدیت وافتقار(بندگی و احتیاج)سے قدم نہ بڑھانہ پڑھا سکے۔العظمۃ ﷲ خدائے تعالی سے ذات و صفات میں مشابہت(و مماثلت)کیسی۔(اس سے مشابہ و مماثل ہونے کا شبہ بھی اس قابل نہیں کہ مسلمان کے دل ایمان منزل میں اس کا خطرہ گزر سکےجب کہ اہل حق کا ایمان ہے کہ حضور اقدس سرور عالم عالم اعلم صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ واصحابہ وبارك وسلم ان احسانات الہی کا جو بارگاہ الہی سے ہر آنہر گھڑیہر لحظہہر لمحہ ان کی بارگاہ بیکس پناہ پر مبذول رہتے ہیں ان انعامات اور ان)نعمائے خداوندی کے لائق جو شکر و ثناء ہے اسی پورا پورا بجا نہ لاسکے نہ ممکن کہ بجالائیں کہ جو شکر کریں وہ بھی نعمت آخر موجب شکر دیگر الی مالا نھایۃ لہ نعم وافضال خداوندی(ربانی نعمتیں اور بخششیں خصوصا آپ پر)غیر متناہی ہیں۔ان کی کوئی حدو نہایت نہیںانہیں کوئی گنتی و شمار میں نہیں لاسکتا۔قال اﷲ تعالی " و للاخرۃ خیر لک من الاولی ﴿۴﴾" ۔(اے نبی بے شك ہر آنے والا لمحہ تمہارے لیے گزرے ہوئے لمحہ سے بہتر ہے اور ساعت بساعت آپ کے مراتب رفیعہ ترقیوں میں ہیں)مرتبہ قاب قوسین
او ادنی کا پایا ۔ (اور یہ وہ منزل ہے کہ نہ کسی نے پائی اور نہ کسی کے لیے ممکن ہے اس تك رسائی وہ خود ارشاد فرماتے ہیں کہ شب اسری مجھے میرے رب نے اتنا نزدیك کیا کہ مجھ میں اور اس میں دو کمانوں بلکہ اس سے بھی کم کا فاصلہ رہ گیا۔) ۔قسم کھانے کو فرق کا نام رہ گیا۔
کمان امکاں کے جھوٹے نقطو! تم اول آکر کے پھیر میں ہو
محیط کی چال سے تو پوچھو کدھر سے آئےکدھر گئے تھے
دیدار الہی بچشم سر دیکھاکلام الہی بے واسطہ سنا(بدن ا قدس کے ساتھبیداری میںاوریہ وہ قرب خاص ہے کہ کسی نبی مرسل و ملك مقرب کو بھی نہ کبھی حاصل ہوا اور نہ کبھی حاصل ہو)
محمل لیلی(ادراك سے ماوراء)کروڑوں منزل سے کروڑوں منزل(دور)(اور)خرد خردہ میں(عقل نکتہ داندقیقہ شناس) دنگ ہے۔(کوئی جانے تو کیا جانے اور کوئی خبر دے تو کیا خبر دے)نیا سماں ہے نیا رنگ)(ہوش و حواس ان وسعتوں میں گم اور دامان نگاہ تنگ)قرب میں بعد(نزدیکی میں دوری)بعد میں قرب(دوری میں نزدیکی)وصل میں ہجر(فرقت میں وصال)ع
عجب گھڑی تھی کہ وصل و فرقت جنم کے بچھڑے گلے ملے تھے ۔
عقل و شعور کو خود اپنا شعور نہیںدست و پا بستہ خود گم کردہ حواس ہےہوش و خرد کو خود اپنے لالے پڑے ہیں وہم و گمان دوڑیں تو کہاں تك پہنچیںٹھوکر کھائی اور گرے
سراغ این و متی کہاں تھانشان کیف والی کہاں تھا
نہ کوئی راہینہ کوئی ساتھینہ سنگ منزلنہ مرحلے تھے
جس راز کو اﷲ جل شانہ ظاہر نہ فرمائے بے بتائے کس کی سمجھ میں آئے اور کسی بے وقار کی کیا مجال کہ درون خانہ خاص تك قدم بڑھائے)
گوہر شناور دریا(گویا موتی پانی میں تیر رہا ہے)مگر(یوں کہ)صدف(یعنی سیپی)نے وہ
کمان امکاں کے جھوٹے نقطو! تم اول آکر کے پھیر میں ہو
محیط کی چال سے تو پوچھو کدھر سے آئےکدھر گئے تھے
دیدار الہی بچشم سر دیکھاکلام الہی بے واسطہ سنا(بدن ا قدس کے ساتھبیداری میںاوریہ وہ قرب خاص ہے کہ کسی نبی مرسل و ملك مقرب کو بھی نہ کبھی حاصل ہوا اور نہ کبھی حاصل ہو)
محمل لیلی(ادراك سے ماوراء)کروڑوں منزل سے کروڑوں منزل(دور)(اور)خرد خردہ میں(عقل نکتہ داندقیقہ شناس) دنگ ہے۔(کوئی جانے تو کیا جانے اور کوئی خبر دے تو کیا خبر دے)نیا سماں ہے نیا رنگ)(ہوش و حواس ان وسعتوں میں گم اور دامان نگاہ تنگ)قرب میں بعد(نزدیکی میں دوری)بعد میں قرب(دوری میں نزدیکی)وصل میں ہجر(فرقت میں وصال)ع
عجب گھڑی تھی کہ وصل و فرقت جنم کے بچھڑے گلے ملے تھے ۔
عقل و شعور کو خود اپنا شعور نہیںدست و پا بستہ خود گم کردہ حواس ہےہوش و خرد کو خود اپنے لالے پڑے ہیں وہم و گمان دوڑیں تو کہاں تك پہنچیںٹھوکر کھائی اور گرے
سراغ این و متی کہاں تھانشان کیف والی کہاں تھا
نہ کوئی راہینہ کوئی ساتھینہ سنگ منزلنہ مرحلے تھے
جس راز کو اﷲ جل شانہ ظاہر نہ فرمائے بے بتائے کس کی سمجھ میں آئے اور کسی بے وقار کی کیا مجال کہ درون خانہ خاص تك قدم بڑھائے)
گوہر شناور دریا(گویا موتی پانی میں تیر رہا ہے)مگر(یوں کہ)صدف(یعنی سیپی)نے وہ
حوالہ / References
القرآن الکریم ۵۳ /۹
صحیح البخاری کتاب التوحید باب قول اﷲ تعالٰی و کلم اﷲ موسٰی تکلیما قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۱۱۲۰
حدائق بخشش معراج نظم نذر گدا بحضور سلطان الانبیاء الخ حصہ اول مکتبہ رضویہ کراچی ص۱۰۵
حدائق بخشش معراج نظم نذر گدابحضور سلطان الانبیاء الخ حصہ اول مکتبہ رضویہ کراچی ص۱۱۰
حدائق بخشش معراج نظم نذر گدابحضور سلطان الانبیاء الخ حصہ اول مکتبہ رضویہ کراچی ص۱۱۰
صحیح البخاری کتاب التوحید باب قول اﷲ تعالٰی و کلم اﷲ موسٰی تکلیما قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۱۱۲۰
حدائق بخشش معراج نظم نذر گدا بحضور سلطان الانبیاء الخ حصہ اول مکتبہ رضویہ کراچی ص۱۰۵
حدائق بخشش معراج نظم نذر گدابحضور سلطان الانبیاء الخ حصہ اول مکتبہ رضویہ کراچی ص۱۱۰
حدائق بخشش معراج نظم نذر گدابحضور سلطان الانبیاء الخ حصہ اول مکتبہ رضویہ کراچی ص۱۱۰
پردہ ڈال رکھا ہے کہ نم سے آشنا نہیں(قطرہ تو قطرہنمی سے بھی بہرہ ور نہیں)اے جاہل ناداںعلم(وکنہ حقیقت)کو علم والے پر چھوڑ اور اس میدان دشوار جو لان سے(جس سے سلامتی سے گزر جانا جوئے شیر لانا ہے اور سخت مشقتوں میں پڑنا)سمند بیان(کلام و خطاب کی تیز و طرار سواری)کی عنان(باگ دوڑ)موڑ(اس والا جناب کی رفعتوںمنزلتوں اور قربتوں کے اظہار کے لیے)زبان بند ہے پر اتنا کہتے ہیں کہ خلق کے آقا ہیںخالق کے بندےعبادت(و پرستش)ان کی کفر(اور ناقابل معافی جرم)اور بے ان کی تعظیم کے حبط(بربادناقابل اعتبارمنہ پر مار دیئے جانے کے قابل)ایمان ان کی محبت و عظمت کا نام(اور فعل تعظیمبعد ایمانہر فرض سے مقدم)اور مسلمان وہ جس کا کام ہے نام خدا کے ساتھان کے نام پر تمام والسلام علی خیر الانام والال والاصحاب علی الدوام۔
عقیدہ ثالثہ۳ ________________صدر نشینان بزم عز وجاہ
اس جناب عرش قباب کے بعد(جن کے قبہ اطہر اور گنبد انور کی رفعتیں عرش سے ملتی ہیں)مرتبہ اور انبیاء و مرسلین کا ہے۔ صلوات اﷲ وسلامہ علیہم اجمعین کہ باہم ان میں تفاضل(اور بعض کو بعض پر فضیلت)مگر ان کا غیرگو کسی مرتبہ ولایت تك پہنچےفرشتہ ہو(اگرچہ مقرب خواہ آدمی صحابی ہو خواہ اہلبیت(اگرچہ مکرم تر و معظم ترین)ان کے درجے تک(اس غیر کو) وصول محالجو قرب الہی انہیں حاصلکوئی اس تك فائز نہیںاور جیسے یہ خدا کے محبوبدوسرا ہر گز نہیںیہ وہ صدر (وبالا) نشینان بزم عزوجاہ ہیں(اور والا مقامان محفل عزت و وجاہت اور مقربان حضرت عزت)کہ رب العالمین تبارك و تعالی خود ان کے مولی و سردار(نبی مختار علیہ الصلوۃ والسلام الی یوم القرار)کو حکم فرماتا ہے: " اولئک الذین ہدی اللہ فبہدىہم اقتدہ " ۔ (اﷲ اﷲ ! کوئی کیا اندازہ کرسکتاہے اس مقدس ذات برگزیدہ صفات کا جسے اس کے رب تبارك و تعالی نے محامد جمیلہمحاسن جلیلہاخلاق حسنہخصائل محمودہ سے نوازاسر اقدس پر محبوبیت کبری کا تاج والا ابتہاج رکھاجسے خلافت عظمی کا خلعت والا مرتبت پہنایا جس کے طفیل ساری کائنات کو بنایاجس کے فیوض و برکات کا دروازہ تمام ماسوی اﷲ کو دکھایا۔انہیں سے
عقیدہ ثالثہ۳ ________________صدر نشینان بزم عز وجاہ
اس جناب عرش قباب کے بعد(جن کے قبہ اطہر اور گنبد انور کی رفعتیں عرش سے ملتی ہیں)مرتبہ اور انبیاء و مرسلین کا ہے۔ صلوات اﷲ وسلامہ علیہم اجمعین کہ باہم ان میں تفاضل(اور بعض کو بعض پر فضیلت)مگر ان کا غیرگو کسی مرتبہ ولایت تك پہنچےفرشتہ ہو(اگرچہ مقرب خواہ آدمی صحابی ہو خواہ اہلبیت(اگرچہ مکرم تر و معظم ترین)ان کے درجے تک(اس غیر کو) وصول محالجو قرب الہی انہیں حاصلکوئی اس تك فائز نہیںاور جیسے یہ خدا کے محبوبدوسرا ہر گز نہیںیہ وہ صدر (وبالا) نشینان بزم عزوجاہ ہیں(اور والا مقامان محفل عزت و وجاہت اور مقربان حضرت عزت)کہ رب العالمین تبارك و تعالی خود ان کے مولی و سردار(نبی مختار علیہ الصلوۃ والسلام الی یوم القرار)کو حکم فرماتا ہے: " اولئک الذین ہدی اللہ فبہدىہم اقتدہ " ۔ (اﷲ اﷲ ! کوئی کیا اندازہ کرسکتاہے اس مقدس ذات برگزیدہ صفات کا جسے اس کے رب تبارك و تعالی نے محامد جمیلہمحاسن جلیلہاخلاق حسنہخصائل محمودہ سے نوازاسر اقدس پر محبوبیت کبری کا تاج والا ابتہاج رکھاجسے خلافت عظمی کا خلعت والا مرتبت پہنایا جس کے طفیل ساری کائنات کو بنایاجس کے فیوض و برکات کا دروازہ تمام ماسوی اﷲ کو دکھایا۔انہیں سے
حوالہ / References
القرآن الکریم ۶ /۹۰
یہ خطاب فرمایا کہ)یہ وہ ہیں جنہیں خدا نے راہ دکھائی تو تو ان کی پیروی کر۔اور فرماتا ہے:" فاتبعوا ملۃ ابرہیم حنیفا " ۔تو پیروی کر شریعت ابراہیم کیجو سب ادیان باطلہ سے کنارہ کش ہو کر دین حق کی طرف جھك آیا۔
(غرض انبیاء و مرسلین علیہم الصلوۃ والسلام الی یوم الدین میں سےہر نبیہر رسول بارگاہ عزت جل مجدہ میں بڑی عزت و وجاہت والا ہےاور اس کی شان بہت رفیعولہذا ہر نبی کی تعظیم فرض عین بلکہ اصل جملہ فرائض ہے اور)ان کی ادنی توہین مثل سید المرسلین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلمکفر قطعی(ان میں سے کسی کی تکذیب و تنقیصکسی کی اہانتکسی کی بارگاہ میں ادنی گستاخی ایسے ہی قطعا کفر ہے جیسے خود حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی جناب پاك میں گستاخی و دریدہ دہنیوالعیاذ باﷲ تعالی)اور کسی کی نسبتصدیق ہوں خواہ مرتضی رضی اﷲ تعالی عنہما ان(حضرات قدسی صفات)کی خادمی و غاشیہ برادری(اطاعت و فرمانبرداری کہ یہ ان کے پیش خدمت و اطاعت گزار ہیںاس)سے بڑھا کر(افضلیت و برتری در کنار)دعوی ہم سری(کہ یہ بھی مراتب رفیعہ اور ا ن کے درجات علیہ میں ان کے ہمسر و برابر ہیں)محض بے دینی(الحاد و زندیقی ہے)جس نگاہ اجلال و توقیر(تکریم وتعظیم)سے انہیں دیکھنا فرض(ہے اور دائمی فرض)حاشا کہ اس کے سو حصے سے ایك حصہ(۱۰۰/ ۱) دوسرے کو دیکھیں آخر نہ دیکھاکہ صدیق و مرتضے رضی اﷲ تعالی عنہما جس سرکار ابدقرار(وسرہرکاز)کے غلام ہیںاسی کو حکم ہوتا ہے ان کی راہ پر چل اور ان کی اقتداء سے نہ نکل(تابہ دیگراں چہ رسد)
(اے عقل خبردار ! یہاں مجال دم زدن نہیں)
عقیدہ رابعہ۴ ________________ اعلی طبقہملائکہ مقربین
ان(انبیاء و مرسلین علیہم الصلوۃ والسلام)کے بعد اعلی طبقہ ملائکہ مقربین کا ہے مثل ساداتنا و موالینا(مثلا ہمارے سرداروں اور پیش رو مددگاروں میں سے حضرت)جبرائیل(جن کے ذمہ پیغمبروں کی خدمت میں وحی الہی لانا ہے)و(حضرت)میکائیل(جو پانی برسانے والے اور مخلوق خدا کو روزی پہنچانے پر مقرر ہیں)و(حضرت)اسرافیل(جو قیامت کو صور پھونکیں گے)و (حضرت)عزرائیل(جنہیں قبض ارواح کی خدمت سپرد کی گئی ہے)وحملہ(یعنی حاملان)عرش جلیلصلوات اﷲ و سلامہ علیہم
(غرض انبیاء و مرسلین علیہم الصلوۃ والسلام الی یوم الدین میں سےہر نبیہر رسول بارگاہ عزت جل مجدہ میں بڑی عزت و وجاہت والا ہےاور اس کی شان بہت رفیعولہذا ہر نبی کی تعظیم فرض عین بلکہ اصل جملہ فرائض ہے اور)ان کی ادنی توہین مثل سید المرسلین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلمکفر قطعی(ان میں سے کسی کی تکذیب و تنقیصکسی کی اہانتکسی کی بارگاہ میں ادنی گستاخی ایسے ہی قطعا کفر ہے جیسے خود حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی جناب پاك میں گستاخی و دریدہ دہنیوالعیاذ باﷲ تعالی)اور کسی کی نسبتصدیق ہوں خواہ مرتضی رضی اﷲ تعالی عنہما ان(حضرات قدسی صفات)کی خادمی و غاشیہ برادری(اطاعت و فرمانبرداری کہ یہ ان کے پیش خدمت و اطاعت گزار ہیںاس)سے بڑھا کر(افضلیت و برتری در کنار)دعوی ہم سری(کہ یہ بھی مراتب رفیعہ اور ا ن کے درجات علیہ میں ان کے ہمسر و برابر ہیں)محض بے دینی(الحاد و زندیقی ہے)جس نگاہ اجلال و توقیر(تکریم وتعظیم)سے انہیں دیکھنا فرض(ہے اور دائمی فرض)حاشا کہ اس کے سو حصے سے ایك حصہ(۱۰۰/ ۱) دوسرے کو دیکھیں آخر نہ دیکھاکہ صدیق و مرتضے رضی اﷲ تعالی عنہما جس سرکار ابدقرار(وسرہرکاز)کے غلام ہیںاسی کو حکم ہوتا ہے ان کی راہ پر چل اور ان کی اقتداء سے نہ نکل(تابہ دیگراں چہ رسد)
(اے عقل خبردار ! یہاں مجال دم زدن نہیں)
عقیدہ رابعہ۴ ________________ اعلی طبقہملائکہ مقربین
ان(انبیاء و مرسلین علیہم الصلوۃ والسلام)کے بعد اعلی طبقہ ملائکہ مقربین کا ہے مثل ساداتنا و موالینا(مثلا ہمارے سرداروں اور پیش رو مددگاروں میں سے حضرت)جبرائیل(جن کے ذمہ پیغمبروں کی خدمت میں وحی الہی لانا ہے)و(حضرت)میکائیل(جو پانی برسانے والے اور مخلوق خدا کو روزی پہنچانے پر مقرر ہیں)و(حضرت)اسرافیل(جو قیامت کو صور پھونکیں گے)و (حضرت)عزرائیل(جنہیں قبض ارواح کی خدمت سپرد کی گئی ہے)وحملہ(یعنی حاملان)عرش جلیلصلوات اﷲ و سلامہ علیہم
حوالہ / References
القرآن الکریم ۳ /۹۵
اجمعینان کے علو شان و رفعت مکان(شوکت و عظمت اور عالی مرتبت)کو بھی کوئی ولی نہیں پہنچتا)(خواہ کتنا ہی مقرب بارگاہ احدیت ہو)اور ان کی جناب میں گستاخی کا بھی بعینہ وہی حکم(جو انبیاء مرسلین کی رفعت پناہ بارگاہوں میں گستاخی کا ہے کہ کفر قطعی ہے ان ملائکہ مقربین میں بالخصوص)جبرئیل علیہ السلام من وجہ رسول ا ﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے استاذ عـــــہ ہیں قال تعالی " علمہ شدید القوی ﴿۵﴾" ۔ (سکھایا ان کو یعنی سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم کو سخت قوتوں والے طاقتور نےیعنی جبرائیل علیہ السلام نے جو قوت و اجلال خداوندی کے مظہر اتمقوت جسمانی وعقل و نظر کے اعتبار سے کامل وحی الہی کے بار کے متحملچشم زدن میں سدرۃ المنتہی تك پہنچ جانے والے جن کی دانشمندی اور فراست ایمانی کا یہ عالم کہ تمام انبیائے کرام علیہم الصلوۃ والسلام کی بارگاہوں میں وحی الہی لے کر نزول اجلال فرماتے اور پوری
عــــــہ:قال الامام الفخرالرازی وقولہ شدید القوی فیہ فوائد الاولی ان مدح المعلم مدح المتعلم فلو قال علمہ جبرائیل ولم یصفہ ماکان یحصل للنبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بہ فضیلۃ ظاھرۃالثانیۃ ھی ان فیہ ردا علیھم حیث قالوا اساطیر الاولین سمعھا وقت سفرہ الی الشام فقال لم یعلمہ احد من الناس بل معلمہ شدید القوی ۔الخ ولہذا قال الامام احمد رضا ماقال وھو حق ثابتواﷲ اعلم۔
العبد محمد خلیل عفی عنہ امام فخر الدین رازی علیہ الرحمہ نے فرمایا کہ اﷲ تعالی کے ارشاد شدید القوی میں کئی فائدے ہیںپہلا فائدہ یہ ہے کہ معلم کی مدح متعلم کی مدح ہوتی ہےاگر اﷲ تعالی یوں فرماتا کہ اس کو جبرائیل نے سکھایا ہےاور وصف شدید القوی سے اس کو متصف نہ فرماتا تو اس سے نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو فضیلت ظاہرہ حاصل نہ ہوتیدوسرا فائدہ یہ ہے کہ اس میں رد ہے ان لوگوں کا جنہوں نے کہا یہ پہلے لوگوں کے قصے ہیں جن کو انہوں نے شام کی طرف سفر کے دوران سن لیا ہےتو اﷲ تعالی نے فرمایا کہ انہیں لوگوں میں سے کسی نے نہیں سکھایا ان کا معلم تو شدید القوی ہے الخ
اسی لیے امام احمد رضا علیہ الرحمہ نے جو کہا ہے وہ حق ثابت ہے۔(ت)
عــــــہ:قال الامام الفخرالرازی وقولہ شدید القوی فیہ فوائد الاولی ان مدح المعلم مدح المتعلم فلو قال علمہ جبرائیل ولم یصفہ ماکان یحصل للنبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بہ فضیلۃ ظاھرۃالثانیۃ ھی ان فیہ ردا علیھم حیث قالوا اساطیر الاولین سمعھا وقت سفرہ الی الشام فقال لم یعلمہ احد من الناس بل معلمہ شدید القوی ۔الخ ولہذا قال الامام احمد رضا ماقال وھو حق ثابتواﷲ اعلم۔
العبد محمد خلیل عفی عنہ امام فخر الدین رازی علیہ الرحمہ نے فرمایا کہ اﷲ تعالی کے ارشاد شدید القوی میں کئی فائدے ہیںپہلا فائدہ یہ ہے کہ معلم کی مدح متعلم کی مدح ہوتی ہےاگر اﷲ تعالی یوں فرماتا کہ اس کو جبرائیل نے سکھایا ہےاور وصف شدید القوی سے اس کو متصف نہ فرماتا تو اس سے نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو فضیلت ظاہرہ حاصل نہ ہوتیدوسرا فائدہ یہ ہے کہ اس میں رد ہے ان لوگوں کا جنہوں نے کہا یہ پہلے لوگوں کے قصے ہیں جن کو انہوں نے شام کی طرف سفر کے دوران سن لیا ہےتو اﷲ تعالی نے فرمایا کہ انہیں لوگوں میں سے کسی نے نہیں سکھایا ان کا معلم تو شدید القوی ہے الخ
اسی لیے امام احمد رضا علیہ الرحمہ نے جو کہا ہے وہ حق ثابت ہے۔(ت)
حوالہ / References
القرآن الکریم ۵۳ /۵
مفاتیح الغیب(التفسیر الکبیر)تحت الآیۃ ۵۳/ ۵ دارالکتب العلمیہ بیروت ۲۸/ ۲۴۵
مفاتیح الغیب(التفسیر الکبیر)تحت الآیۃ ۵۳/ ۵ دارالکتب العلمیہ بیروت ۲۸/ ۲۴۵
دیانتداری سے اس امانت کو ادا کرتے رہے)پھر وہ کسی کے شاگرد کیا ہوں گے جسے ان کا استاذ بنائیے۔اسے سرور عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا استاذ الاستاذ ٹھہرائیے یہ وہی ہیں جنہیں حق تبارك و تعالی رسول کریم ۔مکین امین۔ فرماتا ہے(کہ وہ عزت والے مالك عرش کے حضور بڑی عزت والے ہیں ملاء اعلی کے مقتداء کہ تمام ملائکہ ان کے اطاعت گزار و فرماں برداروحی الہی کے امانت دارکہ انکی امانت میں کسی کو مجال حرف زدن نہیں پیام رسانی وحی میں امکان نہ سہو کا نہ کسی غلط فہمی و غلطی کا اور نہ کسی سہل پسندی اورغفلت کامنصب رسالت کے پوری طرح متحملاسرار و انوار کے ہر طرح محافظفرشتوں میں سب سے اونچا ان کا مرتبہ و مقام اور قرب قبول پر فائز المراموہ صاحب عزت و احترام کہ)نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے سوا دوسرے کے خادم نہیں۔(اور تمام مخلوقات میں حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے علاوہ کوئی اور ان کا محذوم و مطاع نہیں۔اور جنگ بدر میں فرشتوں کی ایك جمعیت کے ساتھ حضور کے لشکر کا ایك سپاہی بن کر شامل ہونا مشہورزبان زد خاص و عام)اکابر صحابہ و اعاظم اولیاء کو(کہ واسطہ نزول برکات ہیں)اگر ان کی خدمت(کی دولت)ملے دو جہاں کی فخر و سعادت جانیں پھر یہ کس کے خدمت گار یا غاشیہ بردار ہوں گے(اور سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم تو بادشاہ کون و مکاںمخدوم و مطاع ہر دو جہاں ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ و علیہم اجمعین و بارك وسلم۔
عقیدہ خامسہ۵ ________________ اصحاب سیدالمرسلین و اہل بیت کرام
ان(ملائکہ مرسلین و سادات فرشتگان مقربین)کے بعد(بڑی عزت و منزلت اور قرب قبول احدیت پر فائز)اصحاب سید المرسلین صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم ہیںاور انہیں میں حضرت بتولجگر پارہ رسولخاتون جہاںبانوے جہاںسیدۃ النساء فاطمہ زہرا(شامل)اور اس دو جہاں کی آقا زادی کے دونوں شہزادےعرش(اعظم)کی آنکھ کے دونوں تارےچرخ سیادت (آسمان کرامت)کے مہ پارےباغ تطہیر کے پیارے پھولدونوں قرۃ العین رسولامامین کریمین(ہادیان باکرامت وباصفا) سعید ین شہیدین(نیك بخت و شہیدان جفا)تقیین نقیین(پاك دامنپاك باطن)نیرین(قمرینآفتاب رخ و ماہتاب رو)طاہرین(پاك سیرتپاکیزہ خو)ابومحمد(حضرت
عقیدہ خامسہ۵ ________________ اصحاب سیدالمرسلین و اہل بیت کرام
ان(ملائکہ مرسلین و سادات فرشتگان مقربین)کے بعد(بڑی عزت و منزلت اور قرب قبول احدیت پر فائز)اصحاب سید المرسلین صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم ہیںاور انہیں میں حضرت بتولجگر پارہ رسولخاتون جہاںبانوے جہاںسیدۃ النساء فاطمہ زہرا(شامل)اور اس دو جہاں کی آقا زادی کے دونوں شہزادےعرش(اعظم)کی آنکھ کے دونوں تارےچرخ سیادت (آسمان کرامت)کے مہ پارےباغ تطہیر کے پیارے پھولدونوں قرۃ العین رسولامامین کریمین(ہادیان باکرامت وباصفا) سعید ین شہیدین(نیك بخت و شہیدان جفا)تقیین نقیین(پاك دامنپاك باطن)نیرین(قمرینآفتاب رخ و ماہتاب رو)طاہرین(پاك سیرتپاکیزہ خو)ابومحمد(حضرت
امام)حسن و ابوعبداﷲ(حضرت امام)حسیناور تمام مادران امتبانوان رسالت(امہات المومنین)ازواج مطہرات)علی المصطفی وعلیہم کلہم الصلوۃ والتحیۃ(ان صحابہ کرام کے زمرہ میں)داخل کہ صحابی ہر وہ مسلمان ہے جو حالت اسلام میں اس چہرہ خدا نما(اور اس ذات حق رسا)کی زیارت سے مشرف ہوا۔او راسلام ہی پر دنیا سے گیا۔(مرد ہو خواہ عورتبالغ ہو خواہ نابالغ)ان(اعلی درجات والا مقامات)کی قدر و منزلت وہی خوب جانتا ہے جو سید المرسلین صلی اﷲ تعالی علیہ کی عزت و رفعت سے آگاہ ہے۔(اس کا سینہ انوار عرفان سے منور اور آنکھیں جمال حق سے مشرف ہیںحق پر چلتاحق پر جیتا اور حق کے لیے مرتا ہے اور قبول حق اس کا وطیرہ ہے)آفتاب نیمروز(دوپہر کے چڑھتے سورج)سے روشن تر کہ محب(سچا چاہنے والا)جب قدرت پاتا ہے اپنے محبوب کو صحبت بد(برے ہم نشینوں اور بدکار رفیقوں)سے بچاتا ہے۔(اور مسلمانوں کا بچہ بچہ جانتا مانتا ہے کہ)حق تعالی قادر مطلق(اور ہر ممکن اس کے تحت قدرت ہے)اور(یہ کہ)رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اس کے محبوب و سید المحبوبین(تمام محبوبان بارگاہ کے سردار و سر کے تاج)کیا عقل سلیم(بشرطیکہ وہ سلیم ہو)تجویز کرتی(جائز وگوارہ رکھتی)ہے کہ ایسا قدیر(فعال لما یرید جو چاہے اور جیسا چاہے کرے)ایسے عظیم ذی و جاہتجان محبوبی وکان عزت(کہ جو ہوگیاجو ہوگااور جو ہورہا ہے انہیں کی مرضی پر ہوا۔انہیں کی مرضی پر ہوگا اور انہیں کی مرضی پر ہورہا ہے۔ایسے محبوب ایسے مقبول)کے لیے خیارخلق کو)(کہ انبیاء و مرسلین کے بعد تمام خلائق پر فائق ہوں۔حضور کا صحابی)جلیس و انیس(ہم نشین و غمخوار)و یارو مددگار مقرر نہ فرمائے(نہیں ہر گز نہیں تو جب کہ مولائے قادر و قدیر جل جلالہ نے انہیںان کی یاری و مددگاریرفاقت و صحبت کے لیے منتخب فرمالیا تو اب)جو ان میں سے کسی پر طعن کرتا ہے جناب باری تعالی کے کمال حکمت و تمام قدرت(پر الزام نقص و ناتمامی کا لگاتا ہے)یارسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی غایت محبوبیت(کمال شان محبوبی)و نہایت منزلت(وہ انتہائے عزت وجاہت اوران مراتب رفیعہ اور مناصب جلیلہ)پر حرف رکھتا ہے۔(جو انہیں بارگاہ صمدیت میں حاصل ہیں تو یہ مولائے قدوس تعالی شانہ کی بارگاہ میں یا اس کے محبوب صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی جناب پاك میں گستاخانہ زبان درازی و دریدہ دہنی ہے اور کھلی بغاوت)اسی لیے سرور عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں۔اﷲ اﷲ فی اصحابیلاتتخذوھم غرضا من بعدی فمن احبھم فبحبی احبھم ط ومن ابغضھم فببغضی ابغضھم ط ومن اذاھم فقداذانی ومن اذانی فقد اذی اﷲ ط ومن اذی اﷲ فیوشك ان یا خذہ ط۔خدا سے ڈروخدا سے ڈرو میرے اصحاب کے حق میں انہیں نشانہ نہ بنالینا میرے بعد جو انہیں دوست رکھتا ہے میری
محبت سے انہیں دوست رکھتا ہےاور جوان کا دشمن ہے میری عداوت سے ان کا دشمن ہےجس نے انہیں ایذا دی اس نے مجھے ایذا دیاور جس نے مجھے ایذا دی اس نے اﷲ کو ایذا دیاور جس نے ا ﷲ کو ایذا دی تو قریب ہے کہ اﷲ تعالی اس کو گرفتار کرلے۔(یعنی زندہ عذاب و بلا میں ڈال دے)رواہ الترمذی وغیرہ۔
اب اے خارجیوناصبیو!(حضرت ختنین و امامین جلیلین سے خصوصا اپنے سینوں میں بغض و کینہ رکھنے اور انہیں چنین و چناں کہنے والو!)کیا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے(مذکور ہ بالا)اس ارشاد عام اور جناب باری تعالی نے آیۃ کریمہ " رضی اللہ عنہم ورضوا عنہ" سے(کہ اﷲ تعالی ان سے یعنی ان کی اطاعت و اخلاص سے راضی اور وہ اس سے یعنی اس کے کرم و عطا سے راضی)جناب ذوالنورین(امیر المومنین حضرت عثمان غنی)و حضرت اسد اﷲ غالب(امیر المومنین علی بن ابی طالب)و حضرات سبطین کریمین(امام حسن و امام حسین)رضی اﷲ تعالی عنہم اجمعین(کو مستثنی کردیا اور اس استثناء کو تمہارے کان میں پھونك دیا ہے)یا اے شیعو! اے رافضیو! ان احکام شاملہ سے(کہ سب صحابہ کو شامل ہیں اور جملہ صحابہ کرام ان میں داخل ہیں۔)خدا ورسول(جل و علا وصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم)نے(امیر المومنین خلیفۃ المسلمین)جناب فاروق اکبر(وامیر المومنین کامل الحیاء والایمان)حضرت مجہز جیش العسرۃ(فی رضی الرحمن عثمان بن عفان)و جناب ام المومنینمحبوبہ سید العالمین(طیبہطاہرہ عفیفہ)عائشہ صدیقہ بنت صدیق وحضرات طلحہ و زبیر و معاویہ(کہ اول کے بارے میں ارشاد واردکہ اے طلحہ ! یہ جبریل ہیں تجھے سلام کہتے ہیں اور بیان کرتے ہیں کہ میں قیامت کے ہولوں میں تمہارے ساتھ رہوں گا ۔اور ثانی کے باب میں ارشاد فرمایا یہ جبریل ہیں تجھے سلام کہتے ہیں اور بیان کرتے ہیں کہ میں روز قیامت تمہارے ساتھ رہوں گا یہاں تك کہ تمہارے چہرہ سے جہنم کی اڑتی چنگاریاں دور کردوں گا ۔امام جلال الدین سیوطی جمع الجوامع میں فرماتے ہیں سندہ صحیح ۔اس حدیث کی سند صحیح ہے۔اور
اب اے خارجیوناصبیو!(حضرت ختنین و امامین جلیلین سے خصوصا اپنے سینوں میں بغض و کینہ رکھنے اور انہیں چنین و چناں کہنے والو!)کیا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے(مذکور ہ بالا)اس ارشاد عام اور جناب باری تعالی نے آیۃ کریمہ " رضی اللہ عنہم ورضوا عنہ" سے(کہ اﷲ تعالی ان سے یعنی ان کی اطاعت و اخلاص سے راضی اور وہ اس سے یعنی اس کے کرم و عطا سے راضی)جناب ذوالنورین(امیر المومنین حضرت عثمان غنی)و حضرت اسد اﷲ غالب(امیر المومنین علی بن ابی طالب)و حضرات سبطین کریمین(امام حسن و امام حسین)رضی اﷲ تعالی عنہم اجمعین(کو مستثنی کردیا اور اس استثناء کو تمہارے کان میں پھونك دیا ہے)یا اے شیعو! اے رافضیو! ان احکام شاملہ سے(کہ سب صحابہ کو شامل ہیں اور جملہ صحابہ کرام ان میں داخل ہیں۔)خدا ورسول(جل و علا وصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم)نے(امیر المومنین خلیفۃ المسلمین)جناب فاروق اکبر(وامیر المومنین کامل الحیاء والایمان)حضرت مجہز جیش العسرۃ(فی رضی الرحمن عثمان بن عفان)و جناب ام المومنینمحبوبہ سید العالمین(طیبہطاہرہ عفیفہ)عائشہ صدیقہ بنت صدیق وحضرات طلحہ و زبیر و معاویہ(کہ اول کے بارے میں ارشاد واردکہ اے طلحہ ! یہ جبریل ہیں تجھے سلام کہتے ہیں اور بیان کرتے ہیں کہ میں قیامت کے ہولوں میں تمہارے ساتھ رہوں گا ۔اور ثانی کے باب میں ارشاد فرمایا یہ جبریل ہیں تجھے سلام کہتے ہیں اور بیان کرتے ہیں کہ میں روز قیامت تمہارے ساتھ رہوں گا یہاں تك کہ تمہارے چہرہ سے جہنم کی اڑتی چنگاریاں دور کردوں گا ۔امام جلال الدین سیوطی جمع الجوامع میں فرماتے ہیں سندہ صحیح ۔اس حدیث کی سند صحیح ہے۔اور
حوالہ / References
جامع الترمذی کتاب المناقب باب فی من سبّ اصحاب النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم حدیث ۳۸۸۸دارالفکر بیروت ۵/ ۴۶۳،مسند احمد بن حنبل عن عبداﷲ بن مغفل المزنی المکتب الاسلامی بیروت ۵/ ۵۴ و ۵۷
القرآن الکریم ۹ /۱۰۰
کنزالعمال حدیث ۳۶۷۳۶ مؤسسۃ الرسالۃ بیروت ۱۳/ ۲۴۶ و ۲۴۷
کنزالعمال حدیث ۳۳۲۹۴ مؤسسۃ الرسالۃ بیروت ۱۱/ ۶۸۳
کنزالعمال حدیث ۳۶۷۳۶ مؤسسۃ الرسالۃ بیروت ۱۳/ ۲۴۷
القرآن الکریم ۹ /۱۰۰
کنزالعمال حدیث ۳۶۷۳۶ مؤسسۃ الرسالۃ بیروت ۱۳/ ۲۴۶ و ۲۴۷
کنزالعمال حدیث ۳۳۲۹۴ مؤسسۃ الرسالۃ بیروت ۱۱/ ۶۸۳
کنزالعمال حدیث ۳۶۷۳۶ مؤسسۃ الرسالۃ بیروت ۱۳/ ۲۴۷
حضرت امیر معاویہ تو اول ملوك اسلام اور سلطنت محمدیہ کے پہلے بادشاہ ہیں اسی کی طرف تو راۃ مقدس میں اشارہ ہے کہ:
مولدہ بمکۃ ومھاجرہ طیبۃ وملکہ بالشام۔
وہ نبی آخر الزماں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم مکہ میں پیدا ہوگا اور مدینہ کو ہجرت فرمائے گا اور اس کی سلطنت شام میں ہوگی۔
(تو امیر معاویہ کی بادشاہی اگرچہ سلطنت ہےمگر کس کی محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی)وغیرھم رضوان اﷲ تعالی علیہم الی یوم الدین کو خارج کردیا اور تمہارے کان میں(اﷲ کے رسول نے چپ چاپ)کہہ دیا کہ اصحابی سے ہماری مراد اور آیت میں ضمیر ھم کے مصداق ان لوگوں کے سوا(اور دوسرے صحابہ)ہیں جو تم ان کے اے خوارج(اور اے روافض) دشمن ہوگئے۔اور عیاذا باللہ(انہیں)لعن طعن سے یاد کرنے لگے(اور شومئی بخت سے)نہ یہ جانا کہ یہ دشمنیدرحقیقت رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے دشمنی ہے اور ان کی ایذاء حق تبارك و تعالی کی ایذا ء(اور جہنم کا دائمی عذاب جس کی سزا مگر اے اﷲ ! تیری برکت والی رحمت اور ہمیشگی والی عنایت اس پاك فرقہ اہل سنت و جماعت پرجس نے تیرے محبوب صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے سب ہم نشینوں اور گلستان صحبت کے گل چینوں کو(ہمیشہ ہمیش کسی استثناء کے بغیر)نگاہ تعظیم و اجلال (اور نظر تکریم و توقیر)سے دیکھنا اپنا شعار و دثار(اپنی علامت و نشان)کرلیا اور سب کو چرخ ہدایت کے ستارے اور فلك عزت کے سیارے جانناعقیدہ کرلیا کہ ہر ہر فرد بشر ان کا(بارونیکوکار)سرور عدول و اخیارو اتقیاء و ابرار کا سردار(اور امت کے تمام عدل گسترعدل پرورنیکو کارپرہیز گار اور صالح بندوں کے سرکا تاج ہے)تابعین سے لے کر تابقیامت امت کا کوئی ولی کیسے ہی پایہ عظیم کو پہنچے صاحب سلسلہ ہو خواہ غیر ان کاہر گز ہر گز ان میں سے ادنی سے ادنی کے رتبہ کو نہیں پہنچتااور ان میں ادنی کوئی نہیں رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے ارشاد صادق کے مطابق اوروں کا کوہ احد کے برابر سونا ان کے نیم صاع(تقریبا دو کلو)جو کے برابر نہیں ۔جو قرب خدا انہیں حاصل
مولدہ بمکۃ ومھاجرہ طیبۃ وملکہ بالشام۔
وہ نبی آخر الزماں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم مکہ میں پیدا ہوگا اور مدینہ کو ہجرت فرمائے گا اور اس کی سلطنت شام میں ہوگی۔
(تو امیر معاویہ کی بادشاہی اگرچہ سلطنت ہےمگر کس کی محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی)وغیرھم رضوان اﷲ تعالی علیہم الی یوم الدین کو خارج کردیا اور تمہارے کان میں(اﷲ کے رسول نے چپ چاپ)کہہ دیا کہ اصحابی سے ہماری مراد اور آیت میں ضمیر ھم کے مصداق ان لوگوں کے سوا(اور دوسرے صحابہ)ہیں جو تم ان کے اے خوارج(اور اے روافض) دشمن ہوگئے۔اور عیاذا باللہ(انہیں)لعن طعن سے یاد کرنے لگے(اور شومئی بخت سے)نہ یہ جانا کہ یہ دشمنیدرحقیقت رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے دشمنی ہے اور ان کی ایذاء حق تبارك و تعالی کی ایذا ء(اور جہنم کا دائمی عذاب جس کی سزا مگر اے اﷲ ! تیری برکت والی رحمت اور ہمیشگی والی عنایت اس پاك فرقہ اہل سنت و جماعت پرجس نے تیرے محبوب صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے سب ہم نشینوں اور گلستان صحبت کے گل چینوں کو(ہمیشہ ہمیش کسی استثناء کے بغیر)نگاہ تعظیم و اجلال (اور نظر تکریم و توقیر)سے دیکھنا اپنا شعار و دثار(اپنی علامت و نشان)کرلیا اور سب کو چرخ ہدایت کے ستارے اور فلك عزت کے سیارے جانناعقیدہ کرلیا کہ ہر ہر فرد بشر ان کا(بارونیکوکار)سرور عدول و اخیارو اتقیاء و ابرار کا سردار(اور امت کے تمام عدل گسترعدل پرورنیکو کارپرہیز گار اور صالح بندوں کے سرکا تاج ہے)تابعین سے لے کر تابقیامت امت کا کوئی ولی کیسے ہی پایہ عظیم کو پہنچے صاحب سلسلہ ہو خواہ غیر ان کاہر گز ہر گز ان میں سے ادنی سے ادنی کے رتبہ کو نہیں پہنچتااور ان میں ادنی کوئی نہیں رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے ارشاد صادق کے مطابق اوروں کا کوہ احد کے برابر سونا ان کے نیم صاع(تقریبا دو کلو)جو کے برابر نہیں ۔جو قرب خدا انہیں حاصل
حوالہ / References
صحیح البخاری مناقب اصحاب النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فضل ابی بکربعدالنبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۵۱۸،صحیح مسلم کتاب الفضائل باب تحریم سب الصحابۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۳۱۰،سنن ابن ماجۃ فضل اہلِ بدر ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص ۱۵،سنن ابی داود کتاب السنۃ باب فی النہی عن سب اصحاب رسول اﷲ آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۲۸۴
دوسرے کو میسر نہیں۔اور جو درجات عالیہ یہ پائیں گے غیر کو ہاتھ نہ آئیں گے۔(اہلسنت کے خواص تو خواصعوام تک)ان سب کو بالاجمال(کہ کوئی فرد ان کا شمول سے نہ رہ جائےاز اول تا آخر)پر لے درجے کا برو تقی(نیکو کار متقی)جانتے اور تفاصیل احوال(کہ کس نے کس کے ساتھ کیا کیا اور کیوں کیااس)پر نظر حرام مانتے(ہیں)جو فعل(ان حضرات صحابہ کرام میں سے) کسی کا اگر ایسا منقول بھی ہوا جو نظر قاصر(ونگاہ کوتاہ بیں)میں ان کی شان سے قدرے گرا ہوا ٹھہرے(اور کسی کو تاہ نظر کو اس میں حرف زنی کی گنجائش ملے)اسے محمل حسن پر اتارتے ہیں۔(اور اسے ان کے خلوص قلب و حسن نیت پر محمول کرتے ہیں)اور اﷲ کا سچا قول " رضی اللہ عنہم " ۔سن کر آئینہ دل میں زنگ تفتیش کو جگہ نہیں دیتے۔(اور تحقیق احوال واقعی کے نام کا میل کچیلدل کے آئینے پر چڑھنے نہیں دیتے)رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم علیہ وسلم حکم فرماچکے۔
اذا ذکراصحابی فامسکو ا ۔جب میرے اصحاب کا ذکر آئے تو باز رہو۔
(سوء عقیدت و بدگمانی کو قریب نہ پھٹکنے دوتحقیق حال و تفتیش مآل میں نہ پڑو)ناچار اپنے آقا کا فرمان عالی شاناوریہ سخت وعیدیںہولناك تہدیدیں(ڈراوے اور دھمکیاں)سن کر زبان بند کرلی اور دل کو سب کی طرف سے صاف کرلیا۔(اور بلاچون و چرا)جان لیا کہ ان کے رتبے ہماری عقل سے وراء ہیں پھر ہم ان کے معاملات میں کیا دخل دیں ان میں جو مشاجرات(صورۃ نزاعات و اختلافات)واقع ہوئے ہم ان کا فیصلہ کرنے والے کون
گدائے خاك نشینی تو حافظا مخروش
رموز مملکت خویش خسرواں دانند
(تو خاك نشین گدا گر ہے اے حافظ! شور مت کر کہ اپنی سلطنت کے بھید بادشاہ جانتے ہیں)
( ع تیرا منہ ہے کہ تو بولے یہ سرکاروں کی باتیں ہیں)
حاشا کہ ایك کی طرف داری میں دوسرے کو برا کہنے لگیںیا ان نزاعوں میں ایك فریق کو
اذا ذکراصحابی فامسکو ا ۔جب میرے اصحاب کا ذکر آئے تو باز رہو۔
(سوء عقیدت و بدگمانی کو قریب نہ پھٹکنے دوتحقیق حال و تفتیش مآل میں نہ پڑو)ناچار اپنے آقا کا فرمان عالی شاناوریہ سخت وعیدیںہولناك تہدیدیں(ڈراوے اور دھمکیاں)سن کر زبان بند کرلی اور دل کو سب کی طرف سے صاف کرلیا۔(اور بلاچون و چرا)جان لیا کہ ان کے رتبے ہماری عقل سے وراء ہیں پھر ہم ان کے معاملات میں کیا دخل دیں ان میں جو مشاجرات(صورۃ نزاعات و اختلافات)واقع ہوئے ہم ان کا فیصلہ کرنے والے کون
گدائے خاك نشینی تو حافظا مخروش
رموز مملکت خویش خسرواں دانند
(تو خاك نشین گدا گر ہے اے حافظ! شور مت کر کہ اپنی سلطنت کے بھید بادشاہ جانتے ہیں)
( ع تیرا منہ ہے کہ تو بولے یہ سرکاروں کی باتیں ہیں)
حاشا کہ ایك کی طرف داری میں دوسرے کو برا کہنے لگیںیا ان نزاعوں میں ایك فریق کو
حوالہ / References
القرآن الکریم ۹ /۱۰۰
المعجم الکبیر حدیث ۱۴۲۷ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۲/ ۹۶
دیوانِ حافظ ردیف شین معجمہ سب رنگ کتاب گھر دہلی ص ۲۵۸
المعجم الکبیر حدیث ۱۴۲۷ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۲/ ۹۶
دیوانِ حافظ ردیف شین معجمہ سب رنگ کتاب گھر دہلی ص ۲۵۸
دنیا طلب ٹھہرائیں بلکہ بالیقین جانتے ہیں کہ وہ سب مصالح دین کے خواستگار تھے(اسلام و مسلمین کی سربلندی ان کا نصب العین تھی پھر وہ مجتہد بھی تھےتو)جس کے اجتہاد میں جو بات دین الہی و شرع رسالت پناہی جل جلالہ و صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے لیے اصلح وانسب(زیادہ مصلحت آمیز اور احوال مسلمین سے مناسب تر)معلوم ہوئیاختیار کیگو اجتہاد میں خطا ہوئی اور ٹھیك بات ذہن میں نہ آئی۔لیکن وہ سب حق پر ہیں(اور سب واجب الاحترام)ان کا حال بعینہ ایسا ہے جیسا فروع مذہب میں (خود علمائے اہلسنت بلکہ ان کے مجتہدین مثلا امام اعظم)ابوحنیفہ(امام)شافعی(وغیرہما)کے اختلافات نہ ہر گز ان منازعات کے سببایك دوسرے کو گمراہ فاسق جاننا نہ ان کا دشمن ہوجانا(جس کی تائید مولی علی کے اس قول سے ہوتی ہے کہ:اخواننا بغوا علینا ۔
یہ سب ہمارے بھائی ہیں کہ ہمارے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے۔
مسلمانوں کو تو یہ دیکھنا چاہیے کہ سب حضرات آقائے دو عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے جاں نثار اور سچے غلام ہیںخدا و رسول کی بارگاہوں میں معظم و معزز اور آسمان ہدایت کے روشن ستارے ہیں اصحابی کا لنجوم ۔
بالجملہ ارشادات خدا و رسول عز مجدہ وصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے(اس پاك فرقہ اہل سنت و جماعت نے اپنا عقیدہ اور)اتنا یقین کرلیا کہ سب(صحابہ کرام)اچھے اور عدل و ثقہتقینقی ابرار(خاصان پروردگار)ہیں۔اوران(مشاجرات ونزاعات کی) تفاصیل پر نظر گمراہ کرنے والی ہےنظیر اس کی عصمت انبیاء علیہم الصلوۃ والثناء ہے کہ اہل حق(اہل اسلاماہلسنت وجماعت) شاہراہ عقیدت پر چل کر(منزل)مقصود کو پہنچے۔اور ارباب(غوایت واہل)باطل تفصیلوں میں خوض(و ناحق غور) کرکے مغاک(ضلالت اور)بددینی(کی گمراہیوں)میں جا پڑے کہیں دیکھا " وعصی ادم ربہ فغوی ﴿۱۲۱" ۔ (کہ اس میں عصیاں اور بظاہر تعمیل حکم ربانی سے رو گردانی کی نسبت حضرت آدم علیہ السلام کی جانب کی گئی ہے۔)
یہ سب ہمارے بھائی ہیں کہ ہمارے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے۔
مسلمانوں کو تو یہ دیکھنا چاہیے کہ سب حضرات آقائے دو عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے جاں نثار اور سچے غلام ہیںخدا و رسول کی بارگاہوں میں معظم و معزز اور آسمان ہدایت کے روشن ستارے ہیں اصحابی کا لنجوم ۔
بالجملہ ارشادات خدا و رسول عز مجدہ وصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے(اس پاك فرقہ اہل سنت و جماعت نے اپنا عقیدہ اور)اتنا یقین کرلیا کہ سب(صحابہ کرام)اچھے اور عدل و ثقہتقینقی ابرار(خاصان پروردگار)ہیں۔اوران(مشاجرات ونزاعات کی) تفاصیل پر نظر گمراہ کرنے والی ہےنظیر اس کی عصمت انبیاء علیہم الصلوۃ والثناء ہے کہ اہل حق(اہل اسلاماہلسنت وجماعت) شاہراہ عقیدت پر چل کر(منزل)مقصود کو پہنچے۔اور ارباب(غوایت واہل)باطل تفصیلوں میں خوض(و ناحق غور) کرکے مغاک(ضلالت اور)بددینی(کی گمراہیوں)میں جا پڑے کہیں دیکھا " وعصی ادم ربہ فغوی ﴿۱۲۱" ۔ (کہ اس میں عصیاں اور بظاہر تعمیل حکم ربانی سے رو گردانی کی نسبت حضرت آدم علیہ السلام کی جانب کی گئی ہے۔)
حوالہ / References
السنن الکبرٰی کتاب قتال اھل البغی دارصادر بیروت ۸/ ۱۷۳
کشف الخفاء حرف الہمزہ مع الصاد حدیث ۳۸۱ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۱/ ۱۱۸
القرآن الکریم ۲۰ /۱۲۱
کشف الخفاء حرف الہمزہ مع الصاد حدیث ۳۸۱ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۱/ ۱۱۸
القرآن الکریم ۲۰ /۱۲۱
کہیں سنا " لیغفر لک اللہ ما تقدم من ذنبک و ما تاخر" ۔ (جس سے ذنب یعنی گناہ و غفران ذنب یعنی بخشش گناہ کی نسبت کا حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی جناب والا کی جانب گمان ہوتا ہے)
کبھی موسی(علیہ السلام)و قطبی(قوم فرعون)کا قصہ یاد آیا(کہ آپ نے قطبی کو آمادہ ظلم پاکر ایك گھونسا مارا اور وہ قطبی قعرگور میں پہنچا۔
کبھی(حضرت)داؤد(علیہ الصلوۃ والسلام اوران کے ایك امتی)اور یاہ کا فسانہ سن پایا(حالانکہ یہ الزام تھا یہود کا حضرت داؤد علیہ السلام پرجسے انہوں نے خوب اچھالا اور زبان زد عوام الناس ہوگیا۔حتی کہ بربنائے شہرتبلا تحقیق و تفتیش احوال بعض مفسرین نے اس واقعہ کو من و عن بیان فرمادیاجب کہ امام رازی فرماتے ہیں کہ یہ واقعہ میری تحقیق میں سراسر باطل و لغو ہے۔
غرض بے عقل بے دینوں اور بے دین بدعقلوں نے یہ افسانہ سن پایا تو لگے چون و چرا کرنے تسلیم و گردن نہادوں کے زینہ سے اترنے پھر ناراضی خدا و رسول کے سوا اور بھی کچھ پھل پایا اور(الٹا)" وخضتم کالذی خاضوا " (اور تم بے ہودگی میں پڑے جیسے وہ پڑے تھے اور اتباع باطل میں ان کی راہ اختیار کی)نے " ولکن حقت کلمۃ العذاب علی الکفرین ﴿۷۱﴾" ۔ (مگر عذاب کا قول کافروں پر ٹھیك اترا)کا دن دکھایا " الا ان یشاء ربی شیـا " ۔" ان ربک فعال لما یرید ﴿۱۰۷﴾" ۔
(مسلمان ہمیشہ یہ بات ذہن نشین رکھیں کہ حضرات انبیائے کرام علیہم الصلوۃ والسلام کبیرہ گناہوں سے مطلقا اور گناہ صغیرہ کے عمدا ارتکاباور ہر ایسے امر سے جو خلق کے لیے باعث نفرت ہو اور مخلوق خدا ان کے باعث ان سے دور بھاگے نیز ایسے افعال سے جو وجاہت و مروت اور معززین کی شان و مرتبہ کے خلاف ہیں قبل نبوت اور بعد نبوت بالاجماع معصوم ہیں)
کبھی موسی(علیہ السلام)و قطبی(قوم فرعون)کا قصہ یاد آیا(کہ آپ نے قطبی کو آمادہ ظلم پاکر ایك گھونسا مارا اور وہ قطبی قعرگور میں پہنچا۔
کبھی(حضرت)داؤد(علیہ الصلوۃ والسلام اوران کے ایك امتی)اور یاہ کا فسانہ سن پایا(حالانکہ یہ الزام تھا یہود کا حضرت داؤد علیہ السلام پرجسے انہوں نے خوب اچھالا اور زبان زد عوام الناس ہوگیا۔حتی کہ بربنائے شہرتبلا تحقیق و تفتیش احوال بعض مفسرین نے اس واقعہ کو من و عن بیان فرمادیاجب کہ امام رازی فرماتے ہیں کہ یہ واقعہ میری تحقیق میں سراسر باطل و لغو ہے۔
غرض بے عقل بے دینوں اور بے دین بدعقلوں نے یہ افسانہ سن پایا تو لگے چون و چرا کرنے تسلیم و گردن نہادوں کے زینہ سے اترنے پھر ناراضی خدا و رسول کے سوا اور بھی کچھ پھل پایا اور(الٹا)" وخضتم کالذی خاضوا " (اور تم بے ہودگی میں پڑے جیسے وہ پڑے تھے اور اتباع باطل میں ان کی راہ اختیار کی)نے " ولکن حقت کلمۃ العذاب علی الکفرین ﴿۷۱﴾" ۔ (مگر عذاب کا قول کافروں پر ٹھیك اترا)کا دن دکھایا " الا ان یشاء ربی شیـا " ۔" ان ربک فعال لما یرید ﴿۱۰۷﴾" ۔
(مسلمان ہمیشہ یہ بات ذہن نشین رکھیں کہ حضرات انبیائے کرام علیہم الصلوۃ والسلام کبیرہ گناہوں سے مطلقا اور گناہ صغیرہ کے عمدا ارتکاباور ہر ایسے امر سے جو خلق کے لیے باعث نفرت ہو اور مخلوق خدا ان کے باعث ان سے دور بھاگے نیز ایسے افعال سے جو وجاہت و مروت اور معززین کی شان و مرتبہ کے خلاف ہیں قبل نبوت اور بعد نبوت بالاجماع معصوم ہیں)
حوالہ / References
القرآن الکریم ۴۸ /۲
القرآن الکریم ۲۸ /۱۵
مفاتیح الغیب(التفسیرالکبیر)تحت الآیۃ ۳۸/ ۲۳ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۲۶/ ۱۶۵
القرآن الکریم ۹ /۶۹
القرآن الکریم ۳۹ /۷۱
القرآن الکریم ۶ /۸۰
القرآن الکریم ۱۱ /۱۰۷
القرآن الکریم ۲۸ /۱۵
مفاتیح الغیب(التفسیرالکبیر)تحت الآیۃ ۳۸/ ۲۳ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۲۶/ ۱۶۵
القرآن الکریم ۹ /۶۹
القرآن الکریم ۳۹ /۷۱
القرآن الکریم ۶ /۸۰
القرآن الکریم ۱۱ /۱۰۷
اللھم اثبات علی الہدی انك انت العلی الاعلی۔
(اے اﷲ ! ہم تجھ سے ہدایت پر ثابت قدمی مانگتے ہیںبے شك تو ہی بلند و برتر ہے)
صحابہ کرام کے باب میں یاد رکھنا چاہیے کہ۔
(وہ حضرات رضی اﷲ تعالی عنہم انبیاء نہ تھےفرشتے نہ تھے کہ معصوم ہوںان میں سے بعض حضرات سے لغزشیں صادر ہوئیں مگر ان کی کسی بات پر گرفت اﷲ و رسول کے احکام کے خلاف ہے۔
اﷲ عزوجل نے سورہ حدید میں صحابہ سید المرسلین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی دو قسمیں فرمائیں۔
(۱)"من انفق من قبل الفتح و قتل "۔
(۲)"الذین انفقوا من بعد و قتلوا " ۔
یعنی ایك وہ کہ قبل فتح مکہ مشرف بایمان ہوئے راہ خدا میں مال خرچ کیا اور جہاد کیا جب کہ ان کی تعداد بھی بہت قلیل تھی۔اور وہ ہر طرح ضعیف و درماندہ بھی تھےانہوں نے اپنے اوپر جیسے جیسے شدید مجاہدے گوارا کرکے اور اپنی جانوں کو خطروں میں ڈال ڈال کربے دریغ اپنا سرمایہ اسلام کی خدمت کی نذر کردیا۔یہ حضرات مہاجرین و انصار میں سے سابقین اولین ہیںان کے مراتب کا کیا پوچھنا۔
دوسرے وہ کہ بعد فتح مکہ ایمان لائےراہ مولا میں خرچ کیا اور جہا دمیں حصہ لیا۔ان اہل ایمان نے اس اخلاص کا ثبوت جہاد مالی و قتالی سے دیاجب اسلامی سلطنت کی جڑ مضبوط ہوچکی تھی اور مسلمان کثرت تعداد اور جاہ و مال ہر لحاظ سے بڑھ چکے تھےاجر ان کا بھی عظیم ہے لیکن ظاہر ہے کہ ان سابقون اولون والوں کے درجہ کا نہیں۔
اسی لیے قرآن عظیم نے ان پہلوں کو ان پچھلوں پر تفضیل دی۔
اور پھر فرمایا: " وکلا وعد اللہ الحسنی " ۔
ان سب سے اﷲ تعالی نے بھلائی کا وعدہ فرمایا۔
کہ اپنے اپنے مرتبے کے لحاظ سے اجر ملے گا سب ہی کومحروم کوئی نہ رہے گا۔
اور جن سے بھلائی کا وعدہ کیا ان کے حق میں فرماتا ہے:
(اے اﷲ ! ہم تجھ سے ہدایت پر ثابت قدمی مانگتے ہیںبے شك تو ہی بلند و برتر ہے)
صحابہ کرام کے باب میں یاد رکھنا چاہیے کہ۔
(وہ حضرات رضی اﷲ تعالی عنہم انبیاء نہ تھےفرشتے نہ تھے کہ معصوم ہوںان میں سے بعض حضرات سے لغزشیں صادر ہوئیں مگر ان کی کسی بات پر گرفت اﷲ و رسول کے احکام کے خلاف ہے۔
اﷲ عزوجل نے سورہ حدید میں صحابہ سید المرسلین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی دو قسمیں فرمائیں۔
(۱)"من انفق من قبل الفتح و قتل "۔
(۲)"الذین انفقوا من بعد و قتلوا " ۔
یعنی ایك وہ کہ قبل فتح مکہ مشرف بایمان ہوئے راہ خدا میں مال خرچ کیا اور جہاد کیا جب کہ ان کی تعداد بھی بہت قلیل تھی۔اور وہ ہر طرح ضعیف و درماندہ بھی تھےانہوں نے اپنے اوپر جیسے جیسے شدید مجاہدے گوارا کرکے اور اپنی جانوں کو خطروں میں ڈال ڈال کربے دریغ اپنا سرمایہ اسلام کی خدمت کی نذر کردیا۔یہ حضرات مہاجرین و انصار میں سے سابقین اولین ہیںان کے مراتب کا کیا پوچھنا۔
دوسرے وہ کہ بعد فتح مکہ ایمان لائےراہ مولا میں خرچ کیا اور جہا دمیں حصہ لیا۔ان اہل ایمان نے اس اخلاص کا ثبوت جہاد مالی و قتالی سے دیاجب اسلامی سلطنت کی جڑ مضبوط ہوچکی تھی اور مسلمان کثرت تعداد اور جاہ و مال ہر لحاظ سے بڑھ چکے تھےاجر ان کا بھی عظیم ہے لیکن ظاہر ہے کہ ان سابقون اولون والوں کے درجہ کا نہیں۔
اسی لیے قرآن عظیم نے ان پہلوں کو ان پچھلوں پر تفضیل دی۔
اور پھر فرمایا: " وکلا وعد اللہ الحسنی " ۔
ان سب سے اﷲ تعالی نے بھلائی کا وعدہ فرمایا۔
کہ اپنے اپنے مرتبے کے لحاظ سے اجر ملے گا سب ہی کومحروم کوئی نہ رہے گا۔
اور جن سے بھلائی کا وعدہ کیا ان کے حق میں فرماتا ہے:
" اولئک عنہا مبعدون ﴿۱۰۱﴾" ۔
وہ جہنم سے دور رکھے گئے ہیں۔
" لا یسمعون حسیسہا " وہ جہنم کی بھنك تك نہ سنیں گے۔
" و ہم فی ما اشتہت انفسہم خلدون ﴿۱۰۲﴾ " ۔وہ ہمیشہ اپنی من مانتی جی بھاتی مرادوں میں رہیں گے۔
" لا یحزنہم الفزع الاکبر " ۔قیامت کی وہ سب سے بڑی گھبراہٹ انہیں غمگین نہ کرے گی۔
" تتلقىہم الملئکۃ "۔فرشتے ان کا استقبال کریں گے۔
" ہذا یومکم الذی کنتم توعدون ﴿۱۰۳﴾" ۔یہ کہتے ہوئے کہ یہ ہے تمہارا وہ دن جس کا تم سے وعدہ تھا۔
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے ہر صحابی کی یہ شان اﷲ عزوجل بتاتا ہے تو جو کسی صحابی پر طعن کرے اﷲ واحد قہار کو جھٹلاتا ہے۔
اور ان کے بعض معاملات جن میں اکثر حکایات کا ذبہ ہیں ارشاد الہی کے مقابل پیش کرنا اہل اسلام کا کام نہیں۔
رب عزوجل نے اسی آیت حدید میں اس کا منہ بھی بند کردیا کہ دونوں فریق صحابہ رضی اﷲ تعالی عنہم سے بھلائی کا وعدہ کرکے ساتھ ہی ارشاد فرمادیا۔
" و اللہ بما تعملون خبیر ﴿۱۰﴾" ۔اور اﷲ کو خوب خبر ہے جو تم کرو گے۔
بایں ہمہ اس نے تمہارے اعمال جان کر حکم فرمادیا کہ وہ تم سب سے جنت بے عذاب و کرامات و
وہ جہنم سے دور رکھے گئے ہیں۔
" لا یسمعون حسیسہا " وہ جہنم کی بھنك تك نہ سنیں گے۔
" و ہم فی ما اشتہت انفسہم خلدون ﴿۱۰۲﴾ " ۔وہ ہمیشہ اپنی من مانتی جی بھاتی مرادوں میں رہیں گے۔
" لا یحزنہم الفزع الاکبر " ۔قیامت کی وہ سب سے بڑی گھبراہٹ انہیں غمگین نہ کرے گی۔
" تتلقىہم الملئکۃ "۔فرشتے ان کا استقبال کریں گے۔
" ہذا یومکم الذی کنتم توعدون ﴿۱۰۳﴾" ۔یہ کہتے ہوئے کہ یہ ہے تمہارا وہ دن جس کا تم سے وعدہ تھا۔
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے ہر صحابی کی یہ شان اﷲ عزوجل بتاتا ہے تو جو کسی صحابی پر طعن کرے اﷲ واحد قہار کو جھٹلاتا ہے۔
اور ان کے بعض معاملات جن میں اکثر حکایات کا ذبہ ہیں ارشاد الہی کے مقابل پیش کرنا اہل اسلام کا کام نہیں۔
رب عزوجل نے اسی آیت حدید میں اس کا منہ بھی بند کردیا کہ دونوں فریق صحابہ رضی اﷲ تعالی عنہم سے بھلائی کا وعدہ کرکے ساتھ ہی ارشاد فرمادیا۔
" و اللہ بما تعملون خبیر ﴿۱۰﴾" ۔اور اﷲ کو خوب خبر ہے جو تم کرو گے۔
بایں ہمہ اس نے تمہارے اعمال جان کر حکم فرمادیا کہ وہ تم سب سے جنت بے عذاب و کرامات و
ثواب بے حساب کا وعدہ فرماچکا ہے۔
تو اب دوسرے کو کیا حق رہا کہ ان کی کسی بات پر طعن کرےکیا طعن کرنے والااﷲ تعالی سے جدا اپنی مستقل حکومت قائم کرنا چاہتا ہےاس کے بعد جو کوئی کچھ بکے وہ اپنا سر کھائے اور خود جہنم میں جائے۔
علامہ شہاب الدین خفا جینسیم الریاض شرح شفائے قاضی عیاض میں فرماتے ہیں:جو حضرت معاویہ رضی اﷲ تعالی عنہ پر طعن کرے وہ جہنم کے کتوں میں سے ایك کتا ہے ۔(احکام شریعت وغیرہ)
تنبیہ ضروری:اہل سنت کا یہ عقیدہ کہ ونکف عن ذکر الصحابۃ الابخیر ۔
یعنی صحابہ کرام کا جب بھی ذکر ہو تو خیر ہی کے ساتھ ہونا فرض ہےانہیں صحابہ کرام کے حق میں جو ایمان و سنت و اسلام حقیقی پر تادم مرگ ثابت قدم رہے اور صحابہ کرام جمہور کے خلافاسلامی تعلیمات کے مقابلاپنی خواہشات کے اتباع میں کوئی نئی راہ نہ نکالی اور وہ بدنصیب کہ اس سعادت سے محروم ہو کر اپنی دکان الگ جما بیٹھے اور اہل حق کے مقابلقتال پر آمادہ ہوگئے۔وہ ہرگز اس کا مصداق نہیں اس لیے علماء کرام فرماتے ہیں کہ جنگ جمل و صفین میں جو مسلمان ایك دوسرے کے مقابل آئے ان کا حکم خطائے اجتہادی کا ہےلیکن اہل نہروان جو مولا علی کرم اﷲ تعالی وجہہ الکریم کی تکفیر کرکے بغاوت پر آمادہ ہوئے وہ یقینا فساقفجارطاغی وباغی تھے اور ایك نئے فرقہ کے ساعی و ساتھی جو خوارج کے نام سے موسوم ہوا اور امت میں نئے فتنے اب تك اسی کے دم سے پھیل رہے ہیں۔(سراج العوارف وغیرہ)
عقیدہ سادسہ۶ ________________ عشرہ مبشرہ و خلفائے اربعہ
اب ان سب میں افضل وا علی و اکمل حضرات عشرہ مبشرہ ہیںوہ دس صحابی جن کے قطعی جنتی ہونے کی بشارت وخوشخبری رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ان کی زندگی ہی میں سنادی تھی وہ عشرہ مبشرہ کہلاتے ہیں۔یعنی حضرات خلفائے(۱تا۴) اربعہ راشدینحضرت طلحہ بن عبید اﷲحضرت زبیر بن العوام
تو اب دوسرے کو کیا حق رہا کہ ان کی کسی بات پر طعن کرےکیا طعن کرنے والااﷲ تعالی سے جدا اپنی مستقل حکومت قائم کرنا چاہتا ہےاس کے بعد جو کوئی کچھ بکے وہ اپنا سر کھائے اور خود جہنم میں جائے۔
علامہ شہاب الدین خفا جینسیم الریاض شرح شفائے قاضی عیاض میں فرماتے ہیں:جو حضرت معاویہ رضی اﷲ تعالی عنہ پر طعن کرے وہ جہنم کے کتوں میں سے ایك کتا ہے ۔(احکام شریعت وغیرہ)
تنبیہ ضروری:اہل سنت کا یہ عقیدہ کہ ونکف عن ذکر الصحابۃ الابخیر ۔
یعنی صحابہ کرام کا جب بھی ذکر ہو تو خیر ہی کے ساتھ ہونا فرض ہےانہیں صحابہ کرام کے حق میں جو ایمان و سنت و اسلام حقیقی پر تادم مرگ ثابت قدم رہے اور صحابہ کرام جمہور کے خلافاسلامی تعلیمات کے مقابلاپنی خواہشات کے اتباع میں کوئی نئی راہ نہ نکالی اور وہ بدنصیب کہ اس سعادت سے محروم ہو کر اپنی دکان الگ جما بیٹھے اور اہل حق کے مقابلقتال پر آمادہ ہوگئے۔وہ ہرگز اس کا مصداق نہیں اس لیے علماء کرام فرماتے ہیں کہ جنگ جمل و صفین میں جو مسلمان ایك دوسرے کے مقابل آئے ان کا حکم خطائے اجتہادی کا ہےلیکن اہل نہروان جو مولا علی کرم اﷲ تعالی وجہہ الکریم کی تکفیر کرکے بغاوت پر آمادہ ہوئے وہ یقینا فساقفجارطاغی وباغی تھے اور ایك نئے فرقہ کے ساعی و ساتھی جو خوارج کے نام سے موسوم ہوا اور امت میں نئے فتنے اب تك اسی کے دم سے پھیل رہے ہیں۔(سراج العوارف وغیرہ)
عقیدہ سادسہ۶ ________________ عشرہ مبشرہ و خلفائے اربعہ
اب ان سب میں افضل وا علی و اکمل حضرات عشرہ مبشرہ ہیںوہ دس صحابی جن کے قطعی جنتی ہونے کی بشارت وخوشخبری رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ان کی زندگی ہی میں سنادی تھی وہ عشرہ مبشرہ کہلاتے ہیں۔یعنی حضرات خلفائے(۱تا۴) اربعہ راشدینحضرت طلحہ بن عبید اﷲحضرت زبیر بن العوام
حوالہ / References
نسیم الریاض الباب الثالث مرکز اہلسنت برکات رضا گجرات الہند ۳/ ۴۳۰
شرح عقائد النسفی درالاشاعۃ العربیہ قندھار افغانستان ص ۱۱۶
شرح عقائد النسفی درالاشاعۃ العربیہ قندھار افغانستان ص ۱۱۶
حضرت عبدالرحمن بن عوفحضرت سعد بن ابی وقاصحضرت سعید بن زیدحضرت ابوعبیدہ بن الجراح۔
دہ یار بہشتی اند قطعی بوبکر و عمرعثمان وعلی
سعد ست سعید وبوعبیدہ طلحہ ست وزبیر وعبدالرحمن
اور ان میں خلفائے اربعہ رضی اﷲ تعالی عنہم اجمعین اور ان چار ارکان قصر ملت(ملت اسلامیہ کے عالی شان محل کے چار ستونوں)و چار انہار باغ شریعت(اور گلستان شریعت کی ان چار نہروں)کے خصائص وفضائلکچھ ایسے رنگ پر واقع ہیں کہ ان میں سے جس کسی کی فضلیت پر تنہا نظر کیجئے یہی معلوم(و متبادرو مفہوم)ہوتا ہے کہ جو کچھ ہیں یہی ہیں ان سے بڑھ کر کون ہوگا
بہر گلے کہ ازیں چار باغ می نگرم بہار دامن دل می کشد کہ جا اینجاست
(ان چار باغوں میں سے جس پھول کو میں دیکھتا ہوں تو بہار میرے دل کے دامن کو کھینچتی ہے کہ اصل جگہ تو یہی ہے۔)
علی الخصوص شمع شبستان ولایتبہار چمنستان معرفتامام الواصلینسید العارفین(واصلان حق کے اماماہل معرفت کے پیش رو)خاتم خلافت نبوتفاتح سلاسل طریقتمولی المسلمینامیر المومنین ابوالائمۃ الطاھرین(پاك طینتپاکیزہ خصلتاماموں کے جدامجد طاہر مطہرقاسم کوثراسد اﷲ الغالبمظہر العجائب والغرائبمطلوب کل طالبسیدنا و مولانا علی بن طالب کرم اﷲ تعالی وجہہ الکریم وحشرنا فی زمرتہ فی یوم عقیم کہ اس جناب گردوں قباب(جن کے قبہ کی کلس آسمان برابر ہے ان)کے مناقب جلیلہ(اوصاف حمیدہ)ومحامد جمیلہ(خصائل حسنہ)جس کثرت و شہرت کے ساتھ(کثیر و مشہور زبان زد عام و خواص)ہیں دوسرے کے نہیں۔
(پھر)حضرات شیخینصاحبین صہرین(کہ ان کی صاحبزادیاں حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے شرف زوجیت سے مشرف ہوئیں اور امہات المومنینمسلمانوں ایمان والوں کی مائیں کہلائیں)وزیرین(جیسا کہ حدیث شریف میں وارد کہ میرے دو وزیر آسمان پر ہیں جبرائیل و میکائیل اور دو وزیر زمین پر ہیں ابوبکر و عمر رضی اﷲ تعالی عنہما)امیرین(کہ ہر دو امیر المومنین ہیں)مشیرین(دونوں حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی مجلس شوری کے رکن اعظم(ضجیعین(ہم خواجہ اور دونوں اپنے آقا و مولی کے پہلو بہ پہلو آج بھی مصروف استراحت)رفیقین(ایك دوسرے کے یارو غمگسار)سیدنا و مولنا عبداﷲ العتیق
دہ یار بہشتی اند قطعی بوبکر و عمرعثمان وعلی
سعد ست سعید وبوعبیدہ طلحہ ست وزبیر وعبدالرحمن
اور ان میں خلفائے اربعہ رضی اﷲ تعالی عنہم اجمعین اور ان چار ارکان قصر ملت(ملت اسلامیہ کے عالی شان محل کے چار ستونوں)و چار انہار باغ شریعت(اور گلستان شریعت کی ان چار نہروں)کے خصائص وفضائلکچھ ایسے رنگ پر واقع ہیں کہ ان میں سے جس کسی کی فضلیت پر تنہا نظر کیجئے یہی معلوم(و متبادرو مفہوم)ہوتا ہے کہ جو کچھ ہیں یہی ہیں ان سے بڑھ کر کون ہوگا
بہر گلے کہ ازیں چار باغ می نگرم بہار دامن دل می کشد کہ جا اینجاست
(ان چار باغوں میں سے جس پھول کو میں دیکھتا ہوں تو بہار میرے دل کے دامن کو کھینچتی ہے کہ اصل جگہ تو یہی ہے۔)
علی الخصوص شمع شبستان ولایتبہار چمنستان معرفتامام الواصلینسید العارفین(واصلان حق کے اماماہل معرفت کے پیش رو)خاتم خلافت نبوتفاتح سلاسل طریقتمولی المسلمینامیر المومنین ابوالائمۃ الطاھرین(پاك طینتپاکیزہ خصلتاماموں کے جدامجد طاہر مطہرقاسم کوثراسد اﷲ الغالبمظہر العجائب والغرائبمطلوب کل طالبسیدنا و مولانا علی بن طالب کرم اﷲ تعالی وجہہ الکریم وحشرنا فی زمرتہ فی یوم عقیم کہ اس جناب گردوں قباب(جن کے قبہ کی کلس آسمان برابر ہے ان)کے مناقب جلیلہ(اوصاف حمیدہ)ومحامد جمیلہ(خصائل حسنہ)جس کثرت و شہرت کے ساتھ(کثیر و مشہور زبان زد عام و خواص)ہیں دوسرے کے نہیں۔
(پھر)حضرات شیخینصاحبین صہرین(کہ ان کی صاحبزادیاں حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے شرف زوجیت سے مشرف ہوئیں اور امہات المومنینمسلمانوں ایمان والوں کی مائیں کہلائیں)وزیرین(جیسا کہ حدیث شریف میں وارد کہ میرے دو وزیر آسمان پر ہیں جبرائیل و میکائیل اور دو وزیر زمین پر ہیں ابوبکر و عمر رضی اﷲ تعالی عنہما)امیرین(کہ ہر دو امیر المومنین ہیں)مشیرین(دونوں حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی مجلس شوری کے رکن اعظم(ضجیعین(ہم خواجہ اور دونوں اپنے آقا و مولی کے پہلو بہ پہلو آج بھی مصروف استراحت)رفیقین(ایك دوسرے کے یارو غمگسار)سیدنا و مولنا عبداﷲ العتیق
ابوبکر صدیق و جناب حق مآب ابوحفص عمر فاروق رضی اﷲ تعالی عنہما کی شان والا سب کی شانوں سے جدا ہے اور ان پر سب سے زیادہ عنایت خدا اور رسول خدا جل جلالہ و صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے بعد انبیاء و مرسلین و ملائکہ مقربین کے جو مرتبہ ان کا خدا کے نزدیك ہے دوسرے کا نہیں اور رب تبارك و تعالی سے جو قرب و نزدیکی اور بارگاہ عرش اشتباہ رسالت میں جو عزت و سر بلندی ان کا حصہ ہے اوروں کا نصیبا نہیںاور منازل جنت و مواہب۔بے منت(عہ)میں انہیں کے درجات سب پر عالی فضائل و فواضل(فضیلتوں اور خصوصی بخششوں)و حسنات طیبات(نیکیوں اور پاکیزگیوں)میں انہیں کو تقدم و پیشی(یہی سب پر مقدم۔یہی پیش پیش ہمارے علماء و ائمہ نے اس(باب)میں مستقل تصنیفیں فرما کر سعادت کونین و شرافت دارین حاصل کی(ان کے خصائل تحریر میں لائےان کے محاسن کا ذکر فرمایاان کے اولیات و خصوصیات گنائے)ورنہ غیر متناہی(جو ہماری فہم و فراست کی رسائی سے ماورا ہو۔اس)کا شمار کس کے اختیار واﷲ العظیم اگر ہزاروں دفتر ان کے شرح فضائل(اور بسط فواضل)میں لکھے جائیں یکے ازہزار تحریر میں نہ آئیں
وعلی تفنن واصفیہ بحسنہ یغنی الزمان وفیہ مالم یوصف
(اور اس کے حسن کی تعریف کرنے والوں کی عمدہ بیانی کی بنیاد پر زمانہ غنی ہوگیا اور اس میں ایسی خوبیاں ہیں جنہیں بیان نہیں کیا جاسکتا)
مگر کثرت فضائل و شہرت فواضل(کثیر در کثیر فضلیتوں کا موجود اور پاکیزہو برتر عزتوں مرحمتوں کا مشہور ہونا)چیزے دیگر(اور بات ہے)اور فضیلت و کرامات(سب سے افضل اور بارگاہ عزت میں سب سے زیادہ قریب ہونا۔)امرے آخر(ایك اور بات ہے اس سے جدا و ممتا ز)فضل اﷲ تعالی کے ہاتھ ہے جسے چاہے عطا فرمائے۔
" قل ان الفضل بید اللہ یؤتیہ من یشاء " ۔
اس کی کتاب کریم اور اس کا رسول عظیم علیہ و علی آلہ الصلوۃ والتسلیم علی الاعلان گواہی دے رہے ہیں۔حضرت امام حسن رضی اﷲ تعالی عنہ اپنے والد ماجد مولی علی کرم اﷲ وجہہ الکریم سے روایت کرتے ہیں:
عہ:مطبوعہ رسالہ میں وزاب بے منت مطبوع ہے اور حاشیہ پر تحریر کہ اصل میں ایسا ہےفقیر نے اسے مواہب لکھا جب کہ منازل کا ہم قافیہ ہے مناہل یعنی چشمے اور انسب یہی ہے ۱۲ محمد خلیل۔
وعلی تفنن واصفیہ بحسنہ یغنی الزمان وفیہ مالم یوصف
(اور اس کے حسن کی تعریف کرنے والوں کی عمدہ بیانی کی بنیاد پر زمانہ غنی ہوگیا اور اس میں ایسی خوبیاں ہیں جنہیں بیان نہیں کیا جاسکتا)
مگر کثرت فضائل و شہرت فواضل(کثیر در کثیر فضلیتوں کا موجود اور پاکیزہو برتر عزتوں مرحمتوں کا مشہور ہونا)چیزے دیگر(اور بات ہے)اور فضیلت و کرامات(سب سے افضل اور بارگاہ عزت میں سب سے زیادہ قریب ہونا۔)امرے آخر(ایك اور بات ہے اس سے جدا و ممتا ز)فضل اﷲ تعالی کے ہاتھ ہے جسے چاہے عطا فرمائے۔
" قل ان الفضل بید اللہ یؤتیہ من یشاء " ۔
اس کی کتاب کریم اور اس کا رسول عظیم علیہ و علی آلہ الصلوۃ والتسلیم علی الاعلان گواہی دے رہے ہیں۔حضرت امام حسن رضی اﷲ تعالی عنہ اپنے والد ماجد مولی علی کرم اﷲ وجہہ الکریم سے روایت کرتے ہیں:
عہ:مطبوعہ رسالہ میں وزاب بے منت مطبوع ہے اور حاشیہ پر تحریر کہ اصل میں ایسا ہےفقیر نے اسے مواہب لکھا جب کہ منازل کا ہم قافیہ ہے مناہل یعنی چشمے اور انسب یہی ہے ۱۲ محمد خلیل۔
حوالہ / References
القرآن الکریم ۳ /۷۳
کہ وہ فرماتے ہیں:کنت عندالنبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فاقبل ابوبکر وعمر فقال یا علی ھذا ن سیدا کہول اھل الجنۃ و شبابھا بعد النبیین والمرسلین ۔ (رواہ الترمذیو ابن ماجہ وعبداﷲ بن الامام احمد)
میں خدمت اقدس حضور افضل الانبیاء صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم میں حاضر تھا کہ ابوبکر و عمر سامنے آئے حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ علی! یہ دونوں سردار ہیں اہل جنت کے سب بوڑھوں اور جوانوں کےبعد انبیاء و مرسلین کے۔
حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سید المرسلین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے راویحضور کا ارشاد ہے:
ابوبکر و عمر خیر الاولین وا لاخرین وخیر اھل السموت وخیر اھل الارضین الاالنبیین والمرسلین ۔ (رواہ الحاکم فی الکنی و ابن عدی و خطیب)
ابوبکر و عمر بہتر ہیں سب اگلوں پچھلوں کےاور بہتر ہیں سب آسمان والوں سے اور بہتر ہیں سب زمین والوں سےسوا انبیاء و مرسلین علیہم الصلوۃ والسلام کے۔
خود حضرت مولی علی کرم اﷲ تعالی وجہہ نے بار بار اپنی کرسی مملکت و سطوت(و دبدبہ)خلافت میں افضلیت مطلقہ شیخین کی تصریح فرمائی(اور صاف صاف واشگاف الفاظ میں بیان فرمایا کہ یہ دونوں حضرات علی الاطلاق بلا قید جہت و حیثیت تمام صحابہ کرام سے افضل ہیں)اور یہ ارشاد ان سے بتواتر ثابت ہوا کہ اسی سے زیادہ صحابہ و تابعین نے اسے روایت کیا۔اور فی الواقع اس مسئلہ(افضلیت شیخ کریمین)کو جیسا حق مآب مرتضوی نے صاف صاف واشگاف بہ کرات و مرات(بار بار موقع بہ موقع اپنی) جلوات و خلوات(عمومی محفلوںخصوصی نشستوں)و مشاہد عامہ و مساجد جامعہ(عامۃ الناس کی
میں خدمت اقدس حضور افضل الانبیاء صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم میں حاضر تھا کہ ابوبکر و عمر سامنے آئے حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ علی! یہ دونوں سردار ہیں اہل جنت کے سب بوڑھوں اور جوانوں کےبعد انبیاء و مرسلین کے۔
حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سید المرسلین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے راویحضور کا ارشاد ہے:
ابوبکر و عمر خیر الاولین وا لاخرین وخیر اھل السموت وخیر اھل الارضین الاالنبیین والمرسلین ۔ (رواہ الحاکم فی الکنی و ابن عدی و خطیب)
ابوبکر و عمر بہتر ہیں سب اگلوں پچھلوں کےاور بہتر ہیں سب آسمان والوں سے اور بہتر ہیں سب زمین والوں سےسوا انبیاء و مرسلین علیہم الصلوۃ والسلام کے۔
خود حضرت مولی علی کرم اﷲ تعالی وجہہ نے بار بار اپنی کرسی مملکت و سطوت(و دبدبہ)خلافت میں افضلیت مطلقہ شیخین کی تصریح فرمائی(اور صاف صاف واشگاف الفاظ میں بیان فرمایا کہ یہ دونوں حضرات علی الاطلاق بلا قید جہت و حیثیت تمام صحابہ کرام سے افضل ہیں)اور یہ ارشاد ان سے بتواتر ثابت ہوا کہ اسی سے زیادہ صحابہ و تابعین نے اسے روایت کیا۔اور فی الواقع اس مسئلہ(افضلیت شیخ کریمین)کو جیسا حق مآب مرتضوی نے صاف صاف واشگاف بہ کرات و مرات(بار بار موقع بہ موقع اپنی) جلوات و خلوات(عمومی محفلوںخصوصی نشستوں)و مشاہد عامہ و مساجد جامعہ(عامۃ الناس کی
حوالہ / References
مسند احمد بن حنبل عن علی رضی اﷲ عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۱/ ۸۰،جامع الترمذی ابواب المناقب مناقب ابی بکر الصدیق حدیث ۳۶۸۵ دارالفکربیروت ۵/ ۳۷۶،سُنن ابن ماجہ فضل ابی بکر الصدیق ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص ۱۰
کنزالعمال بحوالہ الحاکم فی الکنٰی حدیث ۳۲۶۴۵ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۱ /۵۶۰،الصواعق المحرقہ بحوالہ الحاکم و ابن عد ی و الخطیب الباب الثالث الفصل الثالث دارالکتب العلمیۃ بیروت ص ۱۱۹
کنزالعمال بحوالہ الحاکم فی الکنٰی حدیث ۳۲۶۴۵ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۱ /۵۶۰،الصواعق المحرقہ بحوالہ الحاکم و ابن عد ی و الخطیب الباب الثالث الفصل الثالث دارالکتب العلمیۃ بیروت ص ۱۱۹
مجلسوں اور جامع مسجدوں)میں ارشاد فرمایا دوسروں سے واقع نہیں ہوا۔
(ازاں جملہ وہ ارشاد گرامی کہ)امام بخاری رحمۃ اﷲ تعالی علیہحضرت محمد بن حنفیہ صاحبزادہ جناب امیر المومنین علی رضی اﷲ تعالی عنہما سے راوی:
قال قلت لابی ای الناس خیر بعد النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم قال ابوبکر قال قلت ثم من قال عمر ۔
یعنی میں نے اپنے والد ماجد امیر المومنین مولی علی کرم اﷲ وجہہ سے عرض کیا کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے بعد سب آدمیوں سے بہتر کون ہیں ارشاد فرمایا:ابوبکر میں نے عرض کیا پھر کون فرمایا عمر۔
ابوعمر بن عبداﷲحکم بن حجل سے اور دار قطنی اپنی سنن میں راویجناب امیر المومنین علی کرم اﷲ وجہہ تعالی فرماتے ہیں: لااجد احدا فضلنی علی ابی بکر و عمر الا جلدتہ حدالمفتری ۔
جسے میں پاؤں گا کہ شیخین(حضرت ابوبکر و عمر رضی اﷲ تعالی عنہما)سے مجھے افضل بتاتا(اور مجھے ان میں سے کسی پر فضیلت دیتا)ہے اسے مفتری(افتراء و بہتان لگانے والے)کی حد ماروں گا کہ اسی۸۰کوڑے ہیں۔
ابوالقاسم طلحی کتاب السنۃ میں جناب علقمہ سے راوی:بلغ علیا ان اقواما یفضلونہ علی ابی بکر و عمر فصعد المنبر فحمداﷲ واثنی علیہ ثم قال ایہا الناس ! انہ بلغنی ان اقواما یفضلو نی علی ابی بکر و عمر ولو کنت تقدمت فیہ لعاقبت فیہ فمن سمعتہ بعد ھذا الیوم یقول ھذا فھو مفترعلیہ حد المفتریثم قال ان خیر ھذہ الامۃ بعد نبیہا صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ابوبکر ثم عمر ثم اﷲ اعلم بالخیر بعدہ قال وفی المجلس الحسن بن علی فقال واﷲ لوسمی الثالث لسمی عثمن ۔یعنی جناب مولی علی کو خبر پہنچی کہ لوگ انہیں حضرات شیخین رضی اﷲ تعالی عنہما پر تفضیل دیتے(اور حضرت مولی کو ان سے افضل بتاتے)ہیں۔پس منبر پر تشریف لے گئے اور اﷲ تعالی کی حمد و ثناء کیپھر فرمایا اے لوگو! مجھے خبر پہنچی کہ کچھ لوگ مجھے ابوبکر و عمر سے افضل بتاتے ہیں اور اگر میں نے پہلے سے
(ازاں جملہ وہ ارشاد گرامی کہ)امام بخاری رحمۃ اﷲ تعالی علیہحضرت محمد بن حنفیہ صاحبزادہ جناب امیر المومنین علی رضی اﷲ تعالی عنہما سے راوی:
قال قلت لابی ای الناس خیر بعد النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم قال ابوبکر قال قلت ثم من قال عمر ۔
یعنی میں نے اپنے والد ماجد امیر المومنین مولی علی کرم اﷲ وجہہ سے عرض کیا کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے بعد سب آدمیوں سے بہتر کون ہیں ارشاد فرمایا:ابوبکر میں نے عرض کیا پھر کون فرمایا عمر۔
ابوعمر بن عبداﷲحکم بن حجل سے اور دار قطنی اپنی سنن میں راویجناب امیر المومنین علی کرم اﷲ وجہہ تعالی فرماتے ہیں: لااجد احدا فضلنی علی ابی بکر و عمر الا جلدتہ حدالمفتری ۔
جسے میں پاؤں گا کہ شیخین(حضرت ابوبکر و عمر رضی اﷲ تعالی عنہما)سے مجھے افضل بتاتا(اور مجھے ان میں سے کسی پر فضیلت دیتا)ہے اسے مفتری(افتراء و بہتان لگانے والے)کی حد ماروں گا کہ اسی۸۰کوڑے ہیں۔
ابوالقاسم طلحی کتاب السنۃ میں جناب علقمہ سے راوی:بلغ علیا ان اقواما یفضلونہ علی ابی بکر و عمر فصعد المنبر فحمداﷲ واثنی علیہ ثم قال ایہا الناس ! انہ بلغنی ان اقواما یفضلو نی علی ابی بکر و عمر ولو کنت تقدمت فیہ لعاقبت فیہ فمن سمعتہ بعد ھذا الیوم یقول ھذا فھو مفترعلیہ حد المفتریثم قال ان خیر ھذہ الامۃ بعد نبیہا صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ابوبکر ثم عمر ثم اﷲ اعلم بالخیر بعدہ قال وفی المجلس الحسن بن علی فقال واﷲ لوسمی الثالث لسمی عثمن ۔یعنی جناب مولی علی کو خبر پہنچی کہ لوگ انہیں حضرات شیخین رضی اﷲ تعالی عنہما پر تفضیل دیتے(اور حضرت مولی کو ان سے افضل بتاتے)ہیں۔پس منبر پر تشریف لے گئے اور اﷲ تعالی کی حمد و ثناء کیپھر فرمایا اے لوگو! مجھے خبر پہنچی کہ کچھ لوگ مجھے ابوبکر و عمر سے افضل بتاتے ہیں اور اگر میں نے پہلے سے
حوالہ / References
صحیح البخاری مناقب اصحاب النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم باب فضل ابی بکر بعد النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۵۱۸
الصواعق المحرقۃ بحوالہ الدارقطنی الباب الثالث دارالکتب العلمیۃ بیروت ص۹۱
ازالۃ الخفاء عن خلافۃ الخلفاء بحوالہ ابی القاسم مسند علی بن ابی طالب سہیل اکیڈمی ۱/ ۶۸
الصواعق المحرقۃ بحوالہ الدارقطنی الباب الثالث دارالکتب العلمیۃ بیروت ص۹۱
ازالۃ الخفاء عن خلافۃ الخلفاء بحوالہ ابی القاسم مسند علی بن ابی طالب سہیل اکیڈمی ۱/ ۶۸
سنا ہوتا تو اس میں سزا دیتا یعنی پہلی بار تفہیم(وتنبیہ)پر قناعت فرماتا ہوں پس اس دن کے بعد جسے ایسا کہتے سنوں گا تو وہ مفتری (بہتان باندھنے والا)ہے اس پر مفتری کی حد لازم ہےپھر فرمایا بے شك بہتر اس امت کے بعد ان نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے ابوبکر ہیں پھر عمرپھر خداخوب جانتا ہے بہتر کو ان کے بعداور مجلس میں امام حسن(رضی اﷲ عنہ)بھی جلوہ فرما تھے انہوں نے ارشاد کیا خدا کی قسم اگر تیسرے کا نام لیتے تو عثمان کا نام لیتے۔
بالجملہ احادیث مرفوعہ و اقوال حضرت مرتضوی و اہلبیت نبوت اس بارے میں لا تعداد ولا تحصی(بے شمار ولا انتہا)ہیں کہ بعض کی تفسیر فقیر نے اپنے رسالہ تفضیل عــــــہ میں کی۔اب اہل سنت(کے علمائے ذوی الاحترام)نے ان احادیث و آثار میں جو نگاہ غور کو کام فرمایا تو تفضیل شیخین کی صدہا تصریحیں (سیکڑوں صراحتیں)علی الاطلاق پائیں کہیں جہت و حیثیت کی قید نہ دیکھی کہ یہ صرف فلاں حیثیت سے افضل ہیں اور دوسری حیثیت سے دوسروں کو افضیلت(حاصل ہے)لہذا انہوں نے عقیدہ کرلیا کہ گو فضائل خاصہ و خصائص فاضلہ(مخصوص فضیلتیں اور فضیلت میں خصوصیتیں)حضرت مولی(علی مشکل کشا کرم اﷲ تعالی وجہہ)اور ان کے غیر کو بھی ایسے حاصل(اور بعطائے الہی وہ ان خصوصیات کے تنہا حامل)جو حضرات شیخین(کریمین جلیلین)نے نہ پائے جیسے کہ اس کا عکس بھی صادق ہے(کہ امیرین وزیرین کو وہ خصائص غالیہ اور فضائل عالیہبارگاہ الہی سے مرحمت ہوئے کہ ان کے غیر نے اس سے کوئی حصہ نہ پایا)مگر فضل مطلق کلی(کسی جہت و حیثیت کا لحاظ کیے بغیر فضیلت مطلقہ کلیہ)جو کثرت ثواب و زیادت قرب رب الارباب سے عبارت ہے وہ انہیں کو عطا ہوا(اوروں کے نصیب میں نہ آیا)
(یعنی اﷲ عزوجل کے یہاں زیادہ عزت و منزلت جسے کثرت ثواب سے بھی تعبیر کرتے ہیں وہ صرف حضرات شیخین نے پائی۔اس سے مراد اجرو انعام کی کثرت و زیادت نہیں کہ بارہا مفضول کے لیے ہوتی ہے۔
حدیث میں ہمراہیان سیدنا امام مہدی رضی اﷲ تعالی عنہ کی نسبت آیا کہ ان میں سے ہر ایك کے لیے پچاس کا اجر ہے۔صحابہ نے عرض کیا ان میں کے پچاس کا یاہم میں کے فرمایا بلکہ تم میں کے تو اجر
عــــــہ:اعلیحضرت قدس سرہ العزیز نے مسئلہ تفضیل شیخین رضی اﷲ تعالی عنہما پر نوے۹۰ جز کے قریب ایك کتاب مسمی بہ منتہی التفصیل لمبحث التفضیل لکھی پھر مطلع القمر ین فی ابانۃ سبقۃ العمرین میں اس کی تلخیص کیغالبا اس ارشاد گرامی میں اشارہ اسی کی طرف ہےواﷲ تعالی اعلم۔محمد خلیل القادری عفی عنہ)
بالجملہ احادیث مرفوعہ و اقوال حضرت مرتضوی و اہلبیت نبوت اس بارے میں لا تعداد ولا تحصی(بے شمار ولا انتہا)ہیں کہ بعض کی تفسیر فقیر نے اپنے رسالہ تفضیل عــــــہ میں کی۔اب اہل سنت(کے علمائے ذوی الاحترام)نے ان احادیث و آثار میں جو نگاہ غور کو کام فرمایا تو تفضیل شیخین کی صدہا تصریحیں (سیکڑوں صراحتیں)علی الاطلاق پائیں کہیں جہت و حیثیت کی قید نہ دیکھی کہ یہ صرف فلاں حیثیت سے افضل ہیں اور دوسری حیثیت سے دوسروں کو افضیلت(حاصل ہے)لہذا انہوں نے عقیدہ کرلیا کہ گو فضائل خاصہ و خصائص فاضلہ(مخصوص فضیلتیں اور فضیلت میں خصوصیتیں)حضرت مولی(علی مشکل کشا کرم اﷲ تعالی وجہہ)اور ان کے غیر کو بھی ایسے حاصل(اور بعطائے الہی وہ ان خصوصیات کے تنہا حامل)جو حضرات شیخین(کریمین جلیلین)نے نہ پائے جیسے کہ اس کا عکس بھی صادق ہے(کہ امیرین وزیرین کو وہ خصائص غالیہ اور فضائل عالیہبارگاہ الہی سے مرحمت ہوئے کہ ان کے غیر نے اس سے کوئی حصہ نہ پایا)مگر فضل مطلق کلی(کسی جہت و حیثیت کا لحاظ کیے بغیر فضیلت مطلقہ کلیہ)جو کثرت ثواب و زیادت قرب رب الارباب سے عبارت ہے وہ انہیں کو عطا ہوا(اوروں کے نصیب میں نہ آیا)
(یعنی اﷲ عزوجل کے یہاں زیادہ عزت و منزلت جسے کثرت ثواب سے بھی تعبیر کرتے ہیں وہ صرف حضرات شیخین نے پائی۔اس سے مراد اجرو انعام کی کثرت و زیادت نہیں کہ بارہا مفضول کے لیے ہوتی ہے۔
حدیث میں ہمراہیان سیدنا امام مہدی رضی اﷲ تعالی عنہ کی نسبت آیا کہ ان میں سے ہر ایك کے لیے پچاس کا اجر ہے۔صحابہ نے عرض کیا ان میں کے پچاس کا یاہم میں کے فرمایا بلکہ تم میں کے تو اجر
عــــــہ:اعلیحضرت قدس سرہ العزیز نے مسئلہ تفضیل شیخین رضی اﷲ تعالی عنہما پر نوے۹۰ جز کے قریب ایك کتاب مسمی بہ منتہی التفصیل لمبحث التفضیل لکھی پھر مطلع القمر ین فی ابانۃ سبقۃ العمرین میں اس کی تلخیص کیغالبا اس ارشاد گرامی میں اشارہ اسی کی طرف ہےواﷲ تعالی اعلم۔محمد خلیل القادری عفی عنہ)
ان کا زائد ہوا۔انعام و معاوضہ محنت انہیں زیادہ ملا مگر افضلیت میں وہ صحابہ کے ہمسر بھی نہیں ہوسکتےزیادت درکنارکہاں امام مہدی کی رفاقت اور کہاں حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی صحابیتاس کی نظیر بلاتشبیہ یوں سمجھئے کہ سلطان نے کسی مہم پر وزیر اور بعض دیگر افسروں کو بھیجااس کی فتح پر ہر افسر کو لاکھ لاکھ روپے انعام دیئے اور وزیر کو خالی پروانہ خوشنودی مزاج دیا تو انعام انہیں افسروں کو زیادہ ملا اور اجر و معاوضہ انہوں نے زیادہ پایا مگر کہاں وہ اور کہاں وزیراعظم کا اعزاز(بہار شریعت)
اور(یہ اہل سنت و جماعت کا وہ عقیدہ ثابتہ محکمہ ہے کہ)اس عقیدہ کا خلاف اول تو کسی حدیث صحیح میں ہے ہی نہیں اور اگر بالفرض کہیں بوئے خلاف پائے بھی تو سمجھ لے کہ یہ ہماری فہم کا قصور ہے(اور ہماری کوتاہ فہمی)ورنہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اور خود حضرت مولی(علی)و اہلبیت کرام(صاحب البیت ادری بما فیہ کے مصداقاسرار خانہ سے مقابلۃ واقف تر)کیوں بلا تقیید(کسی جہت و حیثیت کی قید کے بغیر)انہیں افضل و خیر امت و سردار اولین و آخرین بتاتےکیا آیہ کریمہ فقل " فقل تعالوا ندع ابناء نا وابناءکم و نساء نا و نساءکم وانفسنا وانفسکم ثم نبتہل فنجعل لعنت اللہ علی الکذبین﴿۶۱﴾"
۔(تو ان سے فرمادو کہ آؤ ہم بلائیں اپنے بیٹے اور تمہارے بیٹے اور اپنی عورتیں اور تمہارے عورتیں اور اپنی جانیں اور تمہاری جانیں پھر مباہلہ کریں تو جھوٹوں پر اﷲ کی لعنت ڈالیں) و حدیث صحیح من کنت مولاہ فعلی مولاہ ۔(جس کا میں مولا ہوں تو علی بھی اس کا مولا ہے)اور خبر شدید الضعف وقوی الجرح(نہایت درجہ ضعیف و قابل شدید جرح و تعدیل) لحمك لحمی ودمك دمی۔ (تمہارا گوشت میرا گوشت اور تمہارا خون میرا خون ہے)
اور(یہ اہل سنت و جماعت کا وہ عقیدہ ثابتہ محکمہ ہے کہ)اس عقیدہ کا خلاف اول تو کسی حدیث صحیح میں ہے ہی نہیں اور اگر بالفرض کہیں بوئے خلاف پائے بھی تو سمجھ لے کہ یہ ہماری فہم کا قصور ہے(اور ہماری کوتاہ فہمی)ورنہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اور خود حضرت مولی(علی)و اہلبیت کرام(صاحب البیت ادری بما فیہ کے مصداقاسرار خانہ سے مقابلۃ واقف تر)کیوں بلا تقیید(کسی جہت و حیثیت کی قید کے بغیر)انہیں افضل و خیر امت و سردار اولین و آخرین بتاتےکیا آیہ کریمہ فقل " فقل تعالوا ندع ابناء نا وابناءکم و نساء نا و نساءکم وانفسنا وانفسکم ثم نبتہل فنجعل لعنت اللہ علی الکذبین﴿۶۱﴾"
۔(تو ان سے فرمادو کہ آؤ ہم بلائیں اپنے بیٹے اور تمہارے بیٹے اور اپنی عورتیں اور تمہارے عورتیں اور اپنی جانیں اور تمہاری جانیں پھر مباہلہ کریں تو جھوٹوں پر اﷲ کی لعنت ڈالیں) و حدیث صحیح من کنت مولاہ فعلی مولاہ ۔(جس کا میں مولا ہوں تو علی بھی اس کا مولا ہے)اور خبر شدید الضعف وقوی الجرح(نہایت درجہ ضعیف و قابل شدید جرح و تعدیل) لحمك لحمی ودمك دمی۔ (تمہارا گوشت میرا گوشت اور تمہارا خون میرا خون ہے)
حوالہ / References
القرآن الکریم ۳ /۶۱
جامع الترمذی ابواب المناقب باب مناقب علی رضی اﷲ عنہ امین کمپنی دہلی ۲/ ۲۱۳،مسند احمد بن حنبل عن علی رضی اﷲ عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۱/ ۸۴و ۱۱۸و ۱۱۹ و ۱۵۲،سنن ابن ماجہ فضل علی بن ابی طالب رضی اﷲ عنہ ایچ ایم سعید کمپنی کر اچی ص ۱۲،المستدرك للحاکم کتاب معرفۃ الصحابۃ من کنت مولاہ فعلیّ مولاہ دارالفکر بیروت ۳/ ۱۱۰،المعجم الکبیر حدیث ۳۰۳۹ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۳/ ۱۸۹،کنزالعمال حدیث ۳۲۹۰۴ و ۳۲۹۴۶ و ۳۲۹۵۰ و ۳۲۹۵۱ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۱/ ۶۰۲و ۶۰۹ و۶۱۰
کنزالعمال حدیث ۳۲۹۳۶ موسسۃ الرسالہ بیروت ۱۱/ ۶۰۷
جامع الترمذی ابواب المناقب باب مناقب علی رضی اﷲ عنہ امین کمپنی دہلی ۲/ ۲۱۳،مسند احمد بن حنبل عن علی رضی اﷲ عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۱/ ۸۴و ۱۱۸و ۱۱۹ و ۱۵۲،سنن ابن ماجہ فضل علی بن ابی طالب رضی اﷲ عنہ ایچ ایم سعید کمپنی کر اچی ص ۱۲،المستدرك للحاکم کتاب معرفۃ الصحابۃ من کنت مولاہ فعلیّ مولاہ دارالفکر بیروت ۳/ ۱۱۰،المعجم الکبیر حدیث ۳۰۳۹ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۳/ ۱۸۹،کنزالعمال حدیث ۳۲۹۰۴ و ۳۲۹۴۶ و ۳۲۹۵۰ و ۳۲۹۵۱ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۱/ ۶۰۲و ۶۰۹ و۶۱۰
کنزالعمال حدیث ۳۲۹۳۶ موسسۃ الرسالہ بیروت ۱۱/ ۶۰۷
برتقدیر ثبوت(بشرطیکہ ثابت وصحیح مان لی جائے)وغیر ذلک(احادیث و اخبار)سے انہیں آگاہی نہ تھی۔(ہوش و حواسعلم و شعور اور فہم و فراست میں یگانہ روزگار ہوتے ہوئے ان اسرار درون خانہ سے بیگانہ رہے اور اسی بیگانگی میں عمریں گزاردیں) یا (انہیں آگاہی اور ان اسرار پر اطلاع)تھی تو وہ(ان واضح الدلالۃ الفاظ)کا مطلب نہ سمجھے(اور غیرت و شرم کے باعث اور کسی سے پوچھ نہ سکے۔)یا سمجھے۔(حقیقت حال سے آگاہ ہوئے)اور اس میں تفضیل شیخین کا خلاف پایا(مگر خاموش رہے اور جمہور صحابہ کرام کے برخلاف عقیدہ رکھا زبان پر اس کا خلاف نہ آنے دیا اور حالانکہ یہ ان کی پاك جنابوں میں گستاخی اور ان پر تقیہ ملعونہ کی تہمت تراشی ہے)تو(اب ہم)کیونکر خلاف سمجھ لیں(کسے کہہ دیں کہ ان کے دل میں خلاف تھا زبان سے اقرار)اور تصریحات بینہ و قاطع الدلالۃ)(روشن صراحتوں قطعی دلالتوں)وغیر محتملۃ الخلاف کو(جن میں کسی خلاف کا احتمال نہیں کوئی ہیر پھیر نہیں)کیسے پس پشت ڈال دیں الحمد ﷲ رب العلمین کہ حق تبارك و تعالی نے فقیر حقیر کو یہ ایسا جواب شافی تعلیم فرمایا کہ منصف(انصاف پسندذی ہوش)کے لیے اس میں کفایت(اور یہ جواب اس کی صحیح رہنمائی و ہدایت کے لیے کافی)اور متعصب کو(کہ آتش غلو میں سلگتا اور ضد و نفسانیت کی راہ چلتا ہے)اس میں غیظ بے نہایت("قل موتوا بغیظکم " ۔انہیں آتش غضب میں جلنا مبارک)(ہم مسلمانان اہلسنت کے نزدیکحضرت مولی کی ماننا)یہی محبت علی مرتضی ہے اور اس کا بھی(یہی تقاضا)یہی مقتضی ہے کہ محبوب کی اطاعت کیجئے اور اس کے غضب اور اسی کروڑوں کے استحقاق سے بچئے(والعیاذ باﷲ)
اﷲ! اﷲ وہ امام الصدیقیناکمل اولیاء العارفین سیدنا صدیق اکبر رضی اﷲ تعالی عنہ جس نے حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی تعظیم و محبت کو حفظ جان پر مقدم رکھا حالانکہ جان کا رکھنا سب سے زیادہ اہم فرض ہے۔اگر بوجہ ظلم عدو مکابر وغیرہ نماز پڑھنے میں معاذ اﷲ ہلاك جان کا یقین ہو تو اس وقت ترك نماز کی اجازت ہوگی۔
یہی تعظیم و محبت و جاں نثاری و پروانہ واری شمع رسالت علیہ الصلوۃ والتحیۃ ہے جس نے صدیق اکبر کو بعد انبیاء و مرسلین صلی اﷲ تعالی علیہم اجمعین تمام جہان پر تفوق بخشا اور ان کے بعد تمام عالمتمام خلقتمام اولیاء تمام عرفاء سے افضل و اکرم و اکمل و اعظم کردیا۔
وہ صدیق جس کی نسبت حدیث میں آیا کہ ابوبکر کو کثرت صوم و صلوۃ کی وجہ سے تم پر فضیلت نہ ہوئی
اﷲ! اﷲ وہ امام الصدیقیناکمل اولیاء العارفین سیدنا صدیق اکبر رضی اﷲ تعالی عنہ جس نے حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی تعظیم و محبت کو حفظ جان پر مقدم رکھا حالانکہ جان کا رکھنا سب سے زیادہ اہم فرض ہے۔اگر بوجہ ظلم عدو مکابر وغیرہ نماز پڑھنے میں معاذ اﷲ ہلاك جان کا یقین ہو تو اس وقت ترك نماز کی اجازت ہوگی۔
یہی تعظیم و محبت و جاں نثاری و پروانہ واری شمع رسالت علیہ الصلوۃ والتحیۃ ہے جس نے صدیق اکبر کو بعد انبیاء و مرسلین صلی اﷲ تعالی علیہم اجمعین تمام جہان پر تفوق بخشا اور ان کے بعد تمام عالمتمام خلقتمام اولیاء تمام عرفاء سے افضل و اکرم و اکمل و اعظم کردیا۔
وہ صدیق جس کی نسبت حدیث میں آیا کہ ابوبکر کو کثرت صوم و صلوۃ کی وجہ سے تم پر فضیلت نہ ہوئی
حوالہ / References
القرآن الکریم ۳ /۱۱۹
بلکہ اس سر کے سبب جو اس کے دل میں راسخ و متمکن ہے ۔
وہ صدیق جس کی نسبت ارشا دہوا اگر ابوبکر کا ایمان میری تمام امت کے ایمان کے ساتھ وزن کیا جائے تو ابوبکر کا ایمان غالب آئے ۔
وہ صدیق کہ خود ان کے مولائے اکرم و آقائے اعظم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا کسی کا ہمارے ساتھ کوئی ایسا سلوك نہیں ہے جس کا ہم نے عوض نہ کردیا ہو سوا ابوبکر کےکہ ان کا ہمارے ساتھ وہ حسن سلوك ہے جس کا بدلہ اﷲ تعالی انہیں روز قیامت دے گا ۔
وہ صدیق جس کی افضلیت مطلقہ پر قرآن کریم کی شہادت ناطقہ ہے کہ فرمایا: " ان اکرمکم عند اللہ اتقىکم " ۔تم میں سب سے زیادہ عزت والا اﷲ کے حضور وہ ہے جو تم سب میں اتقی ہے۔
اور دوسری آیۃ کریمہ میں صاف فرمادیا۔"و سیجنبہا الاتقی ﴿۱۷﴾" ۔ قریب ہے کہ جہنم سے بچایا جائے گا وہ اتقی۔
بشہادت آیت اولی ان آیات کریمہ سے وہی مراد ہے جو افضل و اکرم امت مرحومہ ہےاور وہ نہیں مگر اہل سنت کے نزدیك صدیق اکبراور تفضیلیہ و روافض کے نزدیك یہاں امیر المومنین مولی علی رضی اﷲ تعالی عنہ۔
مگر اﷲ عزوجل کے لیے حمد کہ اس نے کسی کی تلبیس و تدلیس اور حق و باطل میں آمیزس و آویزش کو جگہ نہ چھوڑیآیۃ کریمہ نے ایسے وصف خاص سے اتقی کی تعیین فرمادی جو حضرت صدیق اکبر کے سوا کسی پر صادق آہی نہیں سکتا۔
فرماتا ہے:" و ما لاحد عندہ من نعمۃ تجزی ﴿۱۹﴾" ۔اس پر کسی کا ایسا احسان نہیں جس کا بدلہ دیا جائے۔
وہ صدیق جس کی نسبت ارشا دہوا اگر ابوبکر کا ایمان میری تمام امت کے ایمان کے ساتھ وزن کیا جائے تو ابوبکر کا ایمان غالب آئے ۔
وہ صدیق کہ خود ان کے مولائے اکرم و آقائے اعظم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا کسی کا ہمارے ساتھ کوئی ایسا سلوك نہیں ہے جس کا ہم نے عوض نہ کردیا ہو سوا ابوبکر کےکہ ان کا ہمارے ساتھ وہ حسن سلوك ہے جس کا بدلہ اﷲ تعالی انہیں روز قیامت دے گا ۔
وہ صدیق جس کی افضلیت مطلقہ پر قرآن کریم کی شہادت ناطقہ ہے کہ فرمایا: " ان اکرمکم عند اللہ اتقىکم " ۔تم میں سب سے زیادہ عزت والا اﷲ کے حضور وہ ہے جو تم سب میں اتقی ہے۔
اور دوسری آیۃ کریمہ میں صاف فرمادیا۔"و سیجنبہا الاتقی ﴿۱۷﴾" ۔ قریب ہے کہ جہنم سے بچایا جائے گا وہ اتقی۔
بشہادت آیت اولی ان آیات کریمہ سے وہی مراد ہے جو افضل و اکرم امت مرحومہ ہےاور وہ نہیں مگر اہل سنت کے نزدیك صدیق اکبراور تفضیلیہ و روافض کے نزدیك یہاں امیر المومنین مولی علی رضی اﷲ تعالی عنہ۔
مگر اﷲ عزوجل کے لیے حمد کہ اس نے کسی کی تلبیس و تدلیس اور حق و باطل میں آمیزس و آویزش کو جگہ نہ چھوڑیآیۃ کریمہ نے ایسے وصف خاص سے اتقی کی تعیین فرمادی جو حضرت صدیق اکبر کے سوا کسی پر صادق آہی نہیں سکتا۔
فرماتا ہے:" و ما لاحد عندہ من نعمۃ تجزی ﴿۱۹﴾" ۔اس پر کسی کا ایسا احسان نہیں جس کا بدلہ دیا جائے۔
حوالہ / References
کشف الخفا حدیث ۲۲۲۶ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۲/ ۱۷۰
تاریخ الخلفاء فصل فیما ورد من کلام الصحابۃ الخ دارصادربیروت ص ۷۸،شعب الایمان حدیث۳۶ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۱/ ۶۹
جامع الترمذی ابواب المناقب باب مناقب ابی بکر الصدیق رضی اﷲ عنہ امین کمپنی دہلی ۲/ ۲۰۷
القرآن الکریم ۴۹ /۱۳
القرآن الکریم ۹۲ /۱۷
القرآن الکریم ۹۲ /۱۹
تاریخ الخلفاء فصل فیما ورد من کلام الصحابۃ الخ دارصادربیروت ص ۷۸،شعب الایمان حدیث۳۶ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۱/ ۶۹
جامع الترمذی ابواب المناقب باب مناقب ابی بکر الصدیق رضی اﷲ عنہ امین کمپنی دہلی ۲/ ۲۰۷
القرآن الکریم ۴۹ /۱۳
القرآن الکریم ۹۲ /۱۷
القرآن الکریم ۹۲ /۱۹
اور دنیا جانتی مانتی ہے کہ وہ صرف صدیق اکبر ہی ہیں جن کی طرف سے ہمیشہ بندگی و غلامی و خدمت و نیاز مندی اور مصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی طرف سے براہ بندہ نوازی قبول و پذیرائی کا برتاؤ رہا یہاں تك کہ خودارشاد فرمایا کہ:بے شك تمام آدمیوں میں اپنی جان و مال سے کسی نے ایسا سلوك نہیں کیا جیسا ابوبکر نے کیا ۔
جب کہ مولی علی نے مولائے کلسید الرسل صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے کنار اقدس میں پرورش پائیحضور کی گود میں ہوش سنبھالااور جو کچھ پایا بظاہر حالات یہیں سے پایاتو آیۃ کریمہ " و ما لاحد عندہ من نعمۃ تجزی ﴿۱۹﴾" ۔
(اس پر کسی کا ایسا احسان نہیں جس کا بدلہ دیا جائے)سے مولا علی قطعا مراد نہیں ہوسکتے بلکہ بالیقین صدیق اکبر ہی مقصود ہیں اور اسی پر اجماع مفسرین موجود۔
وہ صدیق جنہیں حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرضیت حج کے بعد پہلے ہی سال میں امیر الحجاج مقرر فرمایا ا ور انہیں کو اپنے سامنے اپنے مرض المرت شریف میں اپنی جگہ امام مقرر فرمایا۔
حضرت مولی علی مرتضی کرم اﷲ تعالی وجہہ کا ارشاد ہے کہ نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے بعد جب ہم نے غور کیا(تو اس نتیجہ پر پہنچے)کہ نماز تو اسلام کا رکن ہے اور اسی پر دین کا قیام ہے اس لیے ہم نے امور خلافت کی انجام دہی کے لیے بھی اس پر رضا مندی ظاہر کردیجسے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ہمارے دین کے لیے پسند فرمایا تھااور اسی لیے ہم نے ابوبکر کی بیعت کرلی ۔
اور فاروق اعظم تو فاروق اعظم ہیں رضی اﷲ تعالی عنہوہ فاروق جن کے لیے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے دعا مانگی کہ:
اللھم اعز الاسلام بعمر بن خطاب خاصۃ ۔الہی! اسلام کی خاص عمر بن خطاب کے اسلام سے عزتیں بڑھا۔
اس دعا ئے کریم کے باعث عمر فاروق اعظم کے ذریعہ سے جو جو عزتیں اسلام کو ملیںجو جو بلائیں اسلام ومسلمین سے دفع ہوئیں مخالف موافق سب پر روشن و مبینولہذا سیدنا عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ
جب کہ مولی علی نے مولائے کلسید الرسل صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے کنار اقدس میں پرورش پائیحضور کی گود میں ہوش سنبھالااور جو کچھ پایا بظاہر حالات یہیں سے پایاتو آیۃ کریمہ " و ما لاحد عندہ من نعمۃ تجزی ﴿۱۹﴾" ۔
(اس پر کسی کا ایسا احسان نہیں جس کا بدلہ دیا جائے)سے مولا علی قطعا مراد نہیں ہوسکتے بلکہ بالیقین صدیق اکبر ہی مقصود ہیں اور اسی پر اجماع مفسرین موجود۔
وہ صدیق جنہیں حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرضیت حج کے بعد پہلے ہی سال میں امیر الحجاج مقرر فرمایا ا ور انہیں کو اپنے سامنے اپنے مرض المرت شریف میں اپنی جگہ امام مقرر فرمایا۔
حضرت مولی علی مرتضی کرم اﷲ تعالی وجہہ کا ارشاد ہے کہ نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے بعد جب ہم نے غور کیا(تو اس نتیجہ پر پہنچے)کہ نماز تو اسلام کا رکن ہے اور اسی پر دین کا قیام ہے اس لیے ہم نے امور خلافت کی انجام دہی کے لیے بھی اس پر رضا مندی ظاہر کردیجسے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ہمارے دین کے لیے پسند فرمایا تھااور اسی لیے ہم نے ابوبکر کی بیعت کرلی ۔
اور فاروق اعظم تو فاروق اعظم ہیں رضی اﷲ تعالی عنہوہ فاروق جن کے لیے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے دعا مانگی کہ:
اللھم اعز الاسلام بعمر بن خطاب خاصۃ ۔الہی! اسلام کی خاص عمر بن خطاب کے اسلام سے عزتیں بڑھا۔
اس دعا ئے کریم کے باعث عمر فاروق اعظم کے ذریعہ سے جو جو عزتیں اسلام کو ملیںجو جو بلائیں اسلام ومسلمین سے دفع ہوئیں مخالف موافق سب پر روشن و مبینولہذا سیدنا عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ
حوالہ / References
جامع الترمذی ابواب المناقب باب مناقب ابی بکر الصدیق رضی اﷲ عنہ امین کمپنی دہلی ۲/ ۲۰۷
القرآن الکریم ۹۲ /۱۹
الصواعق المحرقۃ الباب الاول الفضل الرابع دارالکتب العلمیۃ بیروت ص ۴۳
سنن ابن ماجہ فضل عمر رضی اﷲ عنہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۱،المستدرك للحاکم کتاب معرفۃ الصحابۃ دارالفکر بیروت ۳/ ۸۳
القرآن الکریم ۹۲ /۱۹
الصواعق المحرقۃ الباب الاول الفضل الرابع دارالکتب العلمیۃ بیروت ص ۴۳
سنن ابن ماجہ فضل عمر رضی اﷲ عنہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۱،المستدرك للحاکم کتاب معرفۃ الصحابۃ دارالفکر بیروت ۳/ ۸۳
فرماتے ہیں کہ:
مازلنا اعزۃ منذ اسلم ۔ (بخاری)ہم ہمیشہ معزز رہے جب سے عمر اسلام لائے۔
وہ فاروق جن کے حق میں خاتم النبین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ:اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر ہوتا ۔ (رضی اﷲ عنہ)
یعنی آپ کی فطرت اتنی کاملہ تھی کہ اگر دروازہ نبوت بند نہ ہوتا تو محض فضل الہی سے وہ نبی ہوسکتے تھے کہ اپنی ذات کے اعتبار سے نبوت کا کوئی مستحق نہیں)
وہ فاروق جن کے بارے میں ارشاد محبوب رب العالمین موجود کہ:عمر کہیں ہو حق اس کی رفاقت میں رہے گا ۔
وہ فاروق جن کے لیے صحابہ کرام کا اجماع کہ عمر علم کے نو حصے لے گئے ۔جب کہ ابوبکر صدیق صحابہ میں سب سے زیادہ علم والے تھے۔
وہ فاروق کہ جس راہ سے وہ گزر جائیں شیاطین کے دل دہل جائیں ۔
وہ فاروق کہ جب وہ اسلام لائے ملاء اعلی کے فرشتوں نے حضور صلی اﷲ تعالی علیہ والہ وسلم کی بارگاہ میں تہنیت و مبارکبادیوں کی ڈالیاں نذرانے میں پیش کیں ۔
وہ فاروق کہ ان کے روز اسلام سے اسلام ہمیشہ عزتیں اور سربلندیاں ہی پاتا گیا۔ان کا اسلام فتح تھا ان کی ہجرت نصرت اور ان کی خلافت رحمت(ر ضی اﷲ تعالی عنہ)
اور جب ثابت ہوگیا کہ قرب الہی(معرفت و کثرت ثواب میں)شیخین رضی اﷲ تعالی عنہما کو مزیت و
مازلنا اعزۃ منذ اسلم ۔ (بخاری)ہم ہمیشہ معزز رہے جب سے عمر اسلام لائے۔
وہ فاروق جن کے حق میں خاتم النبین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ:اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر ہوتا ۔ (رضی اﷲ عنہ)
یعنی آپ کی فطرت اتنی کاملہ تھی کہ اگر دروازہ نبوت بند نہ ہوتا تو محض فضل الہی سے وہ نبی ہوسکتے تھے کہ اپنی ذات کے اعتبار سے نبوت کا کوئی مستحق نہیں)
وہ فاروق جن کے بارے میں ارشاد محبوب رب العالمین موجود کہ:عمر کہیں ہو حق اس کی رفاقت میں رہے گا ۔
وہ فاروق جن کے لیے صحابہ کرام کا اجماع کہ عمر علم کے نو حصے لے گئے ۔جب کہ ابوبکر صدیق صحابہ میں سب سے زیادہ علم والے تھے۔
وہ فاروق کہ جس راہ سے وہ گزر جائیں شیاطین کے دل دہل جائیں ۔
وہ فاروق کہ جب وہ اسلام لائے ملاء اعلی کے فرشتوں نے حضور صلی اﷲ تعالی علیہ والہ وسلم کی بارگاہ میں تہنیت و مبارکبادیوں کی ڈالیاں نذرانے میں پیش کیں ۔
وہ فاروق کہ ان کے روز اسلام سے اسلام ہمیشہ عزتیں اور سربلندیاں ہی پاتا گیا۔ان کا اسلام فتح تھا ان کی ہجرت نصرت اور ان کی خلافت رحمت(ر ضی اﷲ تعالی عنہ)
اور جب ثابت ہوگیا کہ قرب الہی(معرفت و کثرت ثواب میں)شیخین رضی اﷲ تعالی عنہما کو مزیت و
حوالہ / References
صحیح البخاری کتاب مناقب اصحاب النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم مناقب عمر بن خطاب رضی اﷲ عنہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۵۲۰
جامع الترمذی ابواب المناقب مناقب عمر بن خطاب رضی اﷲ عنہ امین کمپنی دہلی ۲/۲۰۹،المستدرك للحاکم کتاب معرفۃ الصحابۃ دارالفکر بیروت ۳/ ۸۳
کنزالعمال حدیث ۳۲۷۱۵ و ۳۲۷۳۵ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۱/ ۵۷۳ و۵۷۷
تاریخ الخلفاء ذکر عمر بن الخطاب فصل فی اقوال الصحابۃ فیہ دار ابن حزم بیروت ص ۹۸
صحیح البخاری مناقب عمر فاروق رضی اﷲ عنہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۵۲۰
کنزالعمال حدیث ۳۲۷۳۸ موسسۃ الرسالہ بیروت ۱۱/ ۵۷۷
جامع الترمذی ابواب المناقب مناقب عمر بن خطاب رضی اﷲ عنہ امین کمپنی دہلی ۲/۲۰۹،المستدرك للحاکم کتاب معرفۃ الصحابۃ دارالفکر بیروت ۳/ ۸۳
کنزالعمال حدیث ۳۲۷۱۵ و ۳۲۷۳۵ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۱/ ۵۷۳ و۵۷۷
تاریخ الخلفاء ذکر عمر بن الخطاب فصل فی اقوال الصحابۃ فیہ دار ابن حزم بیروت ص ۹۸
صحیح البخاری مناقب عمر فاروق رضی اﷲ عنہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۵۲۰
کنزالعمال حدیث ۳۲۷۳۸ موسسۃ الرسالہ بیروت ۱۱/ ۵۷۷
تفوق(زیادت وفوقیت)ہے تو ولایت(خاصہ جو کہ ایك قرب خاص ہے کہ مولی عزوجل اپنے برگزیدہ بندوں کو محض اپنے فضل و کرم سے عطا فرماتا ہے یہ)بھی انہیں کی اعلی ہوئی(اور ولایت شیخینجملہ اکابر اولیاء کی ولایت سے بالا)
(ہاں)مگر ایك درجہ قرب الہی جل جلالہ و رزقنا اﷲ کا(ضروری اللحاظ اور خصوصا حضرات علماء و فضلاء امت کی توجہ کا مستحق ہے اور وہ یہ ہے کہ مرتبہ تکمیل پر حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے جانب کمالات نبوت حضرات شیخین کو قائم فرمایااور جانب کمالات ولایت حضرت مولا علی مشکل کشا کو تو جملہ اولیائے مابعد نے مولی علی ہی کے گھر سے نعمت پائیانہیں کے دست نگر تھےانہیں کے دست نگر ہیں اور انہیں کے دست نگر رہیں گے)
پر ظاہر ہے کہ سیرالی اﷲ میں تو سب اولیاء برابر ہوتے ہیں اوروہاں " لا نفرق بین احد من رسلہ" ۔(ہم اس کے کسی رسول پر ایمان لانے میں فرق نہیں کرتے)کی طرح لانفرق بین احد من اولیاءہ(ہم اس کے دوستوں میں کوئی تفریق نہیں کرتے)کہا جاتا ہے(یعنی تمام اولیاء اﷲ اصل طریق ولایت یعنی سیرالی اﷲ میں برابر ہوتے ہیں۔اور ایك دوسرے پر سبقت و فضیلت کا قول باعتبار سیر فی اﷲ کیا جاتا ہے کہ جب سالك عالم لاہوت پر پہنچا۔سیرو سلوك تمام ہوایعنی سیرالی اﷲ سے فراغت کے بعد سیر فی اﷲ ہوتی ہے اور اس کی نہایت وحد نہیں)جب(عالم لاہوت پر پہنچ کر)ماسوائے الہی آنکھوں سے گر گیا اور مرتبہ فنا تك پہنچ کر آگے قدم بڑھا تو وہ سیر فی اﷲ ہے اس کے لیے انتہا نہیں اور یہیں تفاوت قرب (بارگاہ الہی میں عزت و منزلت اور کثرت ثواب میں فرق)جلوہ گر ہوتا ہے جس کی سیرفی اﷲ زائد وہی خدا سے زیادہ نزدیک پھر بعضے بڑھتے چلے جاتے ہیں(اور جذب الہی انہیں اپنی جانب کھینچتا رہتا ہے ان کی یہ سیر کبھی ختم نہیں ہوتی)اور بعض کو دعوت خلق(و رہنمائی مخلوق الہی)کے لیے منزل ناسوتی عطا فرماتے ہیں(جسے عالم شہادت و عالم خلق و عالم جسمانی وغیرہ بھی کہتے ہیں۔اور اس منزل میں تعلق مع اﷲ کے ساتھ ان میں خلائق سے علاقہ پیدا کردیا جاتا ہے اور وہ خلق خدا کی ہدایت کی طرف بھی متوجہ رہتے ہیں)ان سے طریقہ خرقہ و بیعت کا رواج پاتا ہے اور سلسلہ طریقت جنبش میں آتا ہے مگر یہ معنی اسے مستلزم نہیں(اور اس سے یہ لازم نہیں آتا)ان کی سیر فی اﷲ اگلوں سے بڑھ جائے۔(اور یہ دعوت خلق ور ہنمائی مخلوق کے باعث
(ہاں)مگر ایك درجہ قرب الہی جل جلالہ و رزقنا اﷲ کا(ضروری اللحاظ اور خصوصا حضرات علماء و فضلاء امت کی توجہ کا مستحق ہے اور وہ یہ ہے کہ مرتبہ تکمیل پر حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے جانب کمالات نبوت حضرات شیخین کو قائم فرمایااور جانب کمالات ولایت حضرت مولا علی مشکل کشا کو تو جملہ اولیائے مابعد نے مولی علی ہی کے گھر سے نعمت پائیانہیں کے دست نگر تھےانہیں کے دست نگر ہیں اور انہیں کے دست نگر رہیں گے)
پر ظاہر ہے کہ سیرالی اﷲ میں تو سب اولیاء برابر ہوتے ہیں اوروہاں " لا نفرق بین احد من رسلہ" ۔(ہم اس کے کسی رسول پر ایمان لانے میں فرق نہیں کرتے)کی طرح لانفرق بین احد من اولیاءہ(ہم اس کے دوستوں میں کوئی تفریق نہیں کرتے)کہا جاتا ہے(یعنی تمام اولیاء اﷲ اصل طریق ولایت یعنی سیرالی اﷲ میں برابر ہوتے ہیں۔اور ایك دوسرے پر سبقت و فضیلت کا قول باعتبار سیر فی اﷲ کیا جاتا ہے کہ جب سالك عالم لاہوت پر پہنچا۔سیرو سلوك تمام ہوایعنی سیرالی اﷲ سے فراغت کے بعد سیر فی اﷲ ہوتی ہے اور اس کی نہایت وحد نہیں)جب(عالم لاہوت پر پہنچ کر)ماسوائے الہی آنکھوں سے گر گیا اور مرتبہ فنا تك پہنچ کر آگے قدم بڑھا تو وہ سیر فی اﷲ ہے اس کے لیے انتہا نہیں اور یہیں تفاوت قرب (بارگاہ الہی میں عزت و منزلت اور کثرت ثواب میں فرق)جلوہ گر ہوتا ہے جس کی سیرفی اﷲ زائد وہی خدا سے زیادہ نزدیک پھر بعضے بڑھتے چلے جاتے ہیں(اور جذب الہی انہیں اپنی جانب کھینچتا رہتا ہے ان کی یہ سیر کبھی ختم نہیں ہوتی)اور بعض کو دعوت خلق(و رہنمائی مخلوق الہی)کے لیے منزل ناسوتی عطا فرماتے ہیں(جسے عالم شہادت و عالم خلق و عالم جسمانی وغیرہ بھی کہتے ہیں۔اور اس منزل میں تعلق مع اﷲ کے ساتھ ان میں خلائق سے علاقہ پیدا کردیا جاتا ہے اور وہ خلق خدا کی ہدایت کی طرف بھی متوجہ رہتے ہیں)ان سے طریقہ خرقہ و بیعت کا رواج پاتا ہے اور سلسلہ طریقت جنبش میں آتا ہے مگر یہ معنی اسے مستلزم نہیں(اور اس سے یہ لازم نہیں آتا)ان کی سیر فی اﷲ اگلوں سے بڑھ جائے۔(اور یہ دعوت خلق ور ہنمائی مخلوق کے باعث
حوالہ / References
القرآن الکریم ۲ /۲۸۵
بارگاہ الہی میں ان سے سوا عزت و منزلت اور ثواب میں کثرت پاجائیں)
ہاں یہ ایك فضل جداگانہ ہے کہ انہیں ملا اور دوسروں کو عطا نہ ہوا تو یہ کیا (اوراسی کی تخصیص کیسی )اس کے سوا صدہا خصائص حضرت مولی کو ایسے ملے کہ شیخین کو نہ ملے۔مگر(بارگاہ الہی میں)قرب و رفعت درجات میں انہیں کو افزونی رہی(انہیں کو مزیت ملی اور انہیں کے قدم پیش پیش رہے)ورنہ کیا وجہ ہے کہ ارشادات مذکورہ بالا میں انہیں ان سے افضل و بہتر کہا جاتا ہے(اور وہ بھی علی الاطلاق کسی جہت و حیثیت کی قید کے بغیر)اور ان(یعنی حضرت مولی علی مرتضی کرم اﷲ وجہہ الاسنی)کی افضیلت(اور ان کی ان حضرات پر تفضیل)کا بہ تاکید اکید(مؤکد در مؤکد)انکار کیاجاتا ہے حالانکہ ادنی ولیاعلی ولی سے افضل نہیں ہوسکتا ہےآخر دیکھئے حضرت امیر(مولی علی کرم اﷲ وجہہ الکریم)کے خلفائے کرام میں حضرت سبط اصغر(سیدنا امام حسین)و جناب خواجہ حسن بصری کو تنزل ناسوتی ملا اور حضرت سبط اکبر(سیدنا امام حسن رضی اﷲ تعالی عنہ)سے کوئی سلسلہ جاری نہ ہوا حالانکہ قرب ولایت امام مجتبی(سیدنا امام حسن رضی اﷲ تعالی عنہ)ولایت و قرب خواجہ(حسن بصری)سے بالیقین اتم واعلی(برتر و بالا)اور ظاہر احادیث سے سبط اصغر شہزادہ گلگلوں قبا(شہید کرب وبلا)پر بھی ان کا فضل ثابت رضی اﷲ تعالی عنہم اجمعین۔
عقیدہ سابعہ ۷_________________ مشاجرات صحابہ کرام
حضرت مرتضوی(امیر المومنین سیدنا علی المرتضی رضی اﷲ تعالی عنہ سے جنہوں نے مشاجرات و منازعات کیے۔(اور اس حق مآب صائب الرائے کی رائے سے مختلف ہوئےاور ان اختلافات کے باعث ان میں جو واقعات رونما ہوئے کہ ایك دوسرے کے مد مقابل آئے مثلا جنگ جمل میں حضرت طلحہ وزبیر و صدیقہ عائشہ اور جنگ صفین میں حضرت امیر معاویہ بمقابلہ مولی علی مرتضی رضی اﷲ تعالی عنہم)
ہم اہلسنت ان میں حقجانب جناب مولی علی(مانتے)اور ان سب کو مورد لغزش)بر غلط و خطا اور حضرت اسد اللہی کو بدرجہا ان سے اکمل واعلی جانتے ہیں مگر بایں ہمہ بلحاظ احادیث مذکورہ(کہ ان حضرات کے مناقب و فضائل میں مروی ہیں)زبان طعن وشنیع ان دوسروں کے حق میں نہیں کھولتے اور انہیں ان کے مراتب پر جوان کے لیے شرع میں ثابت ہوئے رکھتے ہیںکسی کو کسی پر اپنی ہوائے نفس سے فضیلت نہیں دیتے۔اور ان کے مشاجرات میں دخل اندازی کو حرام جانتے ہیںاور ان کے اختلافات
ہاں یہ ایك فضل جداگانہ ہے کہ انہیں ملا اور دوسروں کو عطا نہ ہوا تو یہ کیا (اوراسی کی تخصیص کیسی )اس کے سوا صدہا خصائص حضرت مولی کو ایسے ملے کہ شیخین کو نہ ملے۔مگر(بارگاہ الہی میں)قرب و رفعت درجات میں انہیں کو افزونی رہی(انہیں کو مزیت ملی اور انہیں کے قدم پیش پیش رہے)ورنہ کیا وجہ ہے کہ ارشادات مذکورہ بالا میں انہیں ان سے افضل و بہتر کہا جاتا ہے(اور وہ بھی علی الاطلاق کسی جہت و حیثیت کی قید کے بغیر)اور ان(یعنی حضرت مولی علی مرتضی کرم اﷲ وجہہ الاسنی)کی افضیلت(اور ان کی ان حضرات پر تفضیل)کا بہ تاکید اکید(مؤکد در مؤکد)انکار کیاجاتا ہے حالانکہ ادنی ولیاعلی ولی سے افضل نہیں ہوسکتا ہےآخر دیکھئے حضرت امیر(مولی علی کرم اﷲ وجہہ الکریم)کے خلفائے کرام میں حضرت سبط اصغر(سیدنا امام حسین)و جناب خواجہ حسن بصری کو تنزل ناسوتی ملا اور حضرت سبط اکبر(سیدنا امام حسن رضی اﷲ تعالی عنہ)سے کوئی سلسلہ جاری نہ ہوا حالانکہ قرب ولایت امام مجتبی(سیدنا امام حسن رضی اﷲ تعالی عنہ)ولایت و قرب خواجہ(حسن بصری)سے بالیقین اتم واعلی(برتر و بالا)اور ظاہر احادیث سے سبط اصغر شہزادہ گلگلوں قبا(شہید کرب وبلا)پر بھی ان کا فضل ثابت رضی اﷲ تعالی عنہم اجمعین۔
عقیدہ سابعہ ۷_________________ مشاجرات صحابہ کرام
حضرت مرتضوی(امیر المومنین سیدنا علی المرتضی رضی اﷲ تعالی عنہ سے جنہوں نے مشاجرات و منازعات کیے۔(اور اس حق مآب صائب الرائے کی رائے سے مختلف ہوئےاور ان اختلافات کے باعث ان میں جو واقعات رونما ہوئے کہ ایك دوسرے کے مد مقابل آئے مثلا جنگ جمل میں حضرت طلحہ وزبیر و صدیقہ عائشہ اور جنگ صفین میں حضرت امیر معاویہ بمقابلہ مولی علی مرتضی رضی اﷲ تعالی عنہم)
ہم اہلسنت ان میں حقجانب جناب مولی علی(مانتے)اور ان سب کو مورد لغزش)بر غلط و خطا اور حضرت اسد اللہی کو بدرجہا ان سے اکمل واعلی جانتے ہیں مگر بایں ہمہ بلحاظ احادیث مذکورہ(کہ ان حضرات کے مناقب و فضائل میں مروی ہیں)زبان طعن وشنیع ان دوسروں کے حق میں نہیں کھولتے اور انہیں ان کے مراتب پر جوان کے لیے شرع میں ثابت ہوئے رکھتے ہیںکسی کو کسی پر اپنی ہوائے نفس سے فضیلت نہیں دیتے۔اور ان کے مشاجرات میں دخل اندازی کو حرام جانتے ہیںاور ان کے اختلافات
کو ابوحنیفہ و شافعی جیسا اختلاف سمجھتے ہیں۔تو ہم اہلسنت کے نزدیك ان میں سے کسی ادنی صحابی پر بھی طعن جائز نہیں چہ جائیکہ ام المومنین صدیقہ(عائشہ طیبہ طاہرہ)رضی اﷲ تعالی عنہا کی جناب رفیع اوربارگاہ وقیع)میں طعن کریںحاش ! یہ اﷲ و رسول کی جناب میں گستاخی ہے۔اﷲ تعالی ان کی تطہیر و بریت(پاکدامنی و عفت اور منافقین کی بہتان تراشی سے براء ت)میں آیات نازل فرمائے اور ان پر تہمت دھرنے والوں کو وعیدیں " عذاب الیم "کی سنائے ۔حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم انہیں اپنی سب ازواج مطہرات میں زیادہ چاہیںجہاں منہ رکھ کر عائشہ صدیقہ پانی پئیں حضور اسی جگہ اپنا لب اقدس رکھ کر وہیں سے پانی پئیںیوں تو حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی سب ازواج(مطہراتطیبات طاہرات)دنیاو آخرت میں حضور ہی کی بیبیاں ہیں مگر عائشہ سے محبت کا یہ عالم ہے کہ ان کے حق میں ارشاد ہوا کہ یہ حضور کی بی بی ہیں دنیا و آخرت میں حضرت خیر النساء یعنی فاطمہ زہرا رضی اﷲ تعالی عنہا کو حکم ہوا ہے کہ فاطمہ ! تو مجھ سے محبت رکھتی ہے تو عائشہ سے بھی محبت رکھ کہ میں اسے چاہتا ہوں۔(چنانچہ صحیح مسلم میں ہے کہ نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے سیدہ فاطمہ سے فرمایا)
ای بنیۃ ! الست تحبین ما احب فقالت بلی قال فاحبی ھذہ ۔
پیاری بیٹی ! جس سے میں محبت کرتا ہوں کیا تو اس سے محبت نہیں رکھتی عرض کیا:بالکل یہی درست ہے(جسے آپ چاہیں میں ضرور اسے چاہوں گی)فرمایا تب تو بھی عائشہ سے محبت رکھا کر)
سوال ہوا سب آدمیوں میں حضور کو کون محبوب ہیں جواب عطا ہوا:عائشہ ۔
نوٹ:بریلی شریف سے شائع ہونے والے رسالہ میں مذکور کہ یہاں اصل میں بہت بیاض ہےدرمیان میں کچھ ناتمام سطریں ہیں مناسبت مقام سے جو کچھ فہم قاصر میں آیا بنادیا ۱۲۔اس فقیر نے ان اضافوں کو اصل عبارت سے ملا کر قوسین میں محدود کردیا ہے تاکہ اصل و اضافہ میں امتیاز رہے اور ناظرین کو اس کا مطالعہ سہل ہو۔اس میں غلطی ہو تو فقیر کی جانب منسوب کیا جائے۔(محمد خلیل عفی عنہ)
ای بنیۃ ! الست تحبین ما احب فقالت بلی قال فاحبی ھذہ ۔
پیاری بیٹی ! جس سے میں محبت کرتا ہوں کیا تو اس سے محبت نہیں رکھتی عرض کیا:بالکل یہی درست ہے(جسے آپ چاہیں میں ضرور اسے چاہوں گی)فرمایا تب تو بھی عائشہ سے محبت رکھا کر)
سوال ہوا سب آدمیوں میں حضور کو کون محبوب ہیں جواب عطا ہوا:عائشہ ۔
نوٹ:بریلی شریف سے شائع ہونے والے رسالہ میں مذکور کہ یہاں اصل میں بہت بیاض ہےدرمیان میں کچھ ناتمام سطریں ہیں مناسبت مقام سے جو کچھ فہم قاصر میں آیا بنادیا ۱۲۔اس فقیر نے ان اضافوں کو اصل عبارت سے ملا کر قوسین میں محدود کردیا ہے تاکہ اصل و اضافہ میں امتیاز رہے اور ناظرین کو اس کا مطالعہ سہل ہو۔اس میں غلطی ہو تو فقیر کی جانب منسوب کیا جائے۔(محمد خلیل عفی عنہ)
حوالہ / References
القرآن الکریم ۲۴ /۱۹
صحیح مسلم کتاب الفضائل فضائل عائشہ رضی اﷲ عنہا قدیمی کتب خانہ ۲/ ۲۸۵
صحیح البخاری ابواب مناقب اصحاب النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم قدیمی کتب خانہ ۱/ ۵۱۷،صحیح مسلم باب فضائل ابی بکر الصدیق رضی اﷲ عنہ قدیمی کتب خانہ ۲/ ۲۷۳،مسند احمد بن حنبل عن عمروبن العاص المکتب الاسلامی بیروت ۴/ ۲۰۳
صحیح مسلم کتاب الفضائل فضائل عائشہ رضی اﷲ عنہا قدیمی کتب خانہ ۲/ ۲۸۵
صحیح البخاری ابواب مناقب اصحاب النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم قدیمی کتب خانہ ۱/ ۵۱۷،صحیح مسلم باب فضائل ابی بکر الصدیق رضی اﷲ عنہ قدیمی کتب خانہ ۲/ ۲۷۳،مسند احمد بن حنبل عن عمروبن العاص المکتب الاسلامی بیروت ۴/ ۲۰۳
(وہ عائشہ صدیقہ بنت الصدیقام المومنینجن کا محبوبہ رب العالمین ہونا آفتاب نیم روز سے روشن تروہ صدیقہ جن کی تصویر بہشتی حریر میں روح القدس خدمت اقدس سیدالمرسلین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم میں حاضر لائیں۔وہ ام المومنین کہ جبرئیل امین بآں فضل مبین انہیں سلام کریں اور ان کے کاشانہ عزت و طہارت میں بے اذن لیے حاضر نہ ہوسکیںوہ صدیقہ کہ اﷲ عزوجل وحی نہ بھیجے ان کے سوا کسی کے لحاف میں۔وہ ام المومنین کہ مصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اگر سفر میں بے ان کے تشریف لے جائیں ان کی یاد میں واعروساہ ۔فرمائیں۔
وہ صدیقہ کہ یوسف صدیق علیہ الصلوۃ والسلام کی براء ت و پاکدامنی کی شہادت اہل زلیخا سے ایك بچہ ادا کرے بتول مریم کی تطہیر و عفت مآبیروح اﷲ کلمۃ اﷲ فرمائیںمگر ان کی براء تپاك طینتیپاك دامنی و طہارت کی گواہی میں قرآن کریم کی آیات کریمہ نزول فرمائیں۔و ہ ام المومنین کہ محبوب رب العالمین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ان کے پانی پینے میں دیکھتے رہیں کہ کوزے میں کس جگہ لب مبارك رکھ کر پانی پیا ہے حضور پر نور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اپنے لب ہائے مبارك و خدا پسند و ہیں رکھ کر پانی نوش فرمائیں۔صلی اﷲ تعالی علیہ وعلیہا وعلی ابیہا وبارك وسلم۔
آدمی اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر دیکھے اگر کوئی اس کی ماں کی توہین کرے اس پر بہتان اٹھائے یا اسے برا بھلا کہے تو اس کا کیسا دشمن ہوجائے گا اس کی صورت دیکھ کر آنکھوں میں خون اتر آئے گااور مسلمانوں کی مائیں یوں بے قدر ہوں کہ کلمہ پڑھ کر ان پر طعن کریں تہمت دھریں اور مسلمان کے مسلمان بنے رہیں۔لاحول ولاقوۃ الا باﷲ العلی العظیم۔
اور زبیر وطلحہ ان سے بھی افضل کہ عشرہ مبشرہ سے ہیں۔وہ(یعنی زبیر بن العوام)رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے پھوپھی زاد بھائی اور حواری(جاں بازمعاون ومددگار)اور یہ(یعنی طلحہ)رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے چہرے انور کے لیے سپروقت جاں نثاری(جیسے ایك جاں نثار نڈر سپاہی و سرفروش محافظ)
رہے امیر معاویہ رضی اﷲ تعالی عنہ تو ان کا درجہ ا ن سب کے بعد ہے۔
اور حضرت مولی علی(مرتضی کرم اﷲ تعالی وجہہ الاسنی)کے مقام رفیع(مراتب بلند وبالا)و شان منیع(عظمت ومنزلت محکم واعلا)تك تو ان سے وہ دور دراز منزلیں ہیں جن ہزاروں ہزار رہوار برق کردار(ایسے کشادہ فراخ قدم گھوڑے جیسے بجلی کا کوندا) صبا رفتار(ہوا سے بات کرنے والےتیز رو
وہ صدیقہ کہ یوسف صدیق علیہ الصلوۃ والسلام کی براء ت و پاکدامنی کی شہادت اہل زلیخا سے ایك بچہ ادا کرے بتول مریم کی تطہیر و عفت مآبیروح اﷲ کلمۃ اﷲ فرمائیںمگر ان کی براء تپاك طینتیپاك دامنی و طہارت کی گواہی میں قرآن کریم کی آیات کریمہ نزول فرمائیں۔و ہ ام المومنین کہ محبوب رب العالمین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ان کے پانی پینے میں دیکھتے رہیں کہ کوزے میں کس جگہ لب مبارك رکھ کر پانی پیا ہے حضور پر نور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اپنے لب ہائے مبارك و خدا پسند و ہیں رکھ کر پانی نوش فرمائیں۔صلی اﷲ تعالی علیہ وعلیہا وعلی ابیہا وبارك وسلم۔
آدمی اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر دیکھے اگر کوئی اس کی ماں کی توہین کرے اس پر بہتان اٹھائے یا اسے برا بھلا کہے تو اس کا کیسا دشمن ہوجائے گا اس کی صورت دیکھ کر آنکھوں میں خون اتر آئے گااور مسلمانوں کی مائیں یوں بے قدر ہوں کہ کلمہ پڑھ کر ان پر طعن کریں تہمت دھریں اور مسلمان کے مسلمان بنے رہیں۔لاحول ولاقوۃ الا باﷲ العلی العظیم۔
اور زبیر وطلحہ ان سے بھی افضل کہ عشرہ مبشرہ سے ہیں۔وہ(یعنی زبیر بن العوام)رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے پھوپھی زاد بھائی اور حواری(جاں بازمعاون ومددگار)اور یہ(یعنی طلحہ)رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے چہرے انور کے لیے سپروقت جاں نثاری(جیسے ایك جاں نثار نڈر سپاہی و سرفروش محافظ)
رہے امیر معاویہ رضی اﷲ تعالی عنہ تو ان کا درجہ ا ن سب کے بعد ہے۔
اور حضرت مولی علی(مرتضی کرم اﷲ تعالی وجہہ الاسنی)کے مقام رفیع(مراتب بلند وبالا)و شان منیع(عظمت ومنزلت محکم واعلا)تك تو ان سے وہ دور دراز منزلیں ہیں جن ہزاروں ہزار رہوار برق کردار(ایسے کشادہ فراخ قدم گھوڑے جیسے بجلی کا کوندا) صبا رفتار(ہوا سے بات کرنے والےتیز رو
حوالہ / References
مسند احمد بن حنبل عن عائشہ رضی اﷲ تعالٰی عنھا المکتب الاسلامی بیروت ۶/۲۴۸
صحیح البخاری کتاب الصلح باب قول النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم للحسن الخ و مناقب الحسن و الحسین قدیمی کتب خانہ
صحیح البخاری کتاب الصلح باب قول النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم للحسن الخ و مناقب الحسن و الحسین قدیمی کتب خانہ
تیز گام)تھك رہیں اور قطع(مسافت)نہ کرسکیں۔
مگر فضل صحبت(و شرف صحابیت وفضل)وشرف سعادت خدائی دین ہے۔(جس سے مسلمان آنکھ بند نہیں کرسکتے تو ان پر لعن طعن یا ان کی توہین تنقیص کیسے گوارا رکھیں اور کیسے سمجھ لیں کہ مولی علی کے مقابلے میں انہوں نے جو کچھ کیا بربنائے نفسانیت تھا۔صاحب ایمان مسلمان کے خواب و خیال میں بھی یہ بات نہیں آسکتی۔
ہاں ایك بات کہتے ہیں اور ایمان لگتی کہتے ہیں کہ)ہم تو بحمداﷲ سرکار اہلبیت(کرام)کے غلامان خان زاد ہیں(اور موروثی خدمت گارخدمت گزار)ہمیں(امیر)معاویہ(رضی اﷲ تعالی عنہ)سے کیا رشتہ خدانخواستہ ان کی حمایت بے جا کریں مگر ہاں اپنی سرکار کی طرفداری(اور امر حق مین ان کی حمایت وپاسداری)اور ان(حضرت امیر معاویہ)کا(خصوصا)الزام بدگویاں(اور دریدہ دہنوںبدزبانوں کی تہمتوں سے بری رکھنا منظور ہے کہ ہمارے شہزادہ اکبر حضرت سبط(اکبرحسن)مجتبی رضی اﷲ تعالی عنہ نے حسب بشارت اپنے جدا مجد سیدالمرسلین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے بعد اختتام مدت(خلافت راشدہ کہ منہاج نبوت پر تیس سال رہی اور سیدنا امام حسن مجتبی رضی اﷲ تعالی عنہ کے چھ ماہ مدت خلافت پر ختم ہوئی)عین معرکہ جنگ میں ایك فوج جرار کی ہمراہی کے باوجود)ہتھیار رکھ دیے(بالقصدوالا ختیار)اور ملک(اور امور مسلمین کا انتظا م و انصرام)امیر معاویہ کو سپرد کردیا(اور ان کے ہاتھ پر بیعت اطاعت فرمالی)اگر امیر معاویہ رضی اﷲ تعالی عنہ العیاذ باﷲ کافر یا فاسق تھے یا ظالم جائر تھے یا غاصب جابر تھے-(ظلم وجور پر کمربستہ)تو الزام امام حسن پر آتا ہے کہ انہوں نے کاروبار مسلمین و انتظام شرع و دین باختیار خود (بلا جبروا کراہ بلا ضرورت شرعیہباوجود مقدرت)ایسے شخص کو تفویض فرمادیا(اور اس کی تحویل میں دے دیا)اور خیر خواہی اسلام کو معاذ اﷲ کام نہ فرمایا(اس سے ہاتھ اٹھالیا)اگر مدت خلافت ختم ہوچکی تھی اور آپ(خود)بادشاہت منظور نہیں فرماتے تھے)تو صحابہ حجاز میں کوئی اور قابلیت نظم و نسق دین نہ رکھتا تھا جو انہیں کو اختیار کیا۔اور انہیں کے ہاتھ پر بیعت اطاعت کرلی)حاش ﷲ بلکہ یہ بات خود رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم تك پہنچتی ہے کہ حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے اپنی پیش گوئی میں ان کے اس فعل کو پسند فرمایا اور ان کی سیادت کا نتیجہ ٹھہرایا کما فی صحیح البخاری(جیسا کہ صحیح بخاری میں ہے) صادق و مصدوق صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے امام حسن رضی اﷲ تعالی عنہ کی نسبت فرمایا۔ان ابنی ھذا سیدلعل اﷲ ان یصلح بہ بین فئتین عظمتین من المسلمین ۔
مگر فضل صحبت(و شرف صحابیت وفضل)وشرف سعادت خدائی دین ہے۔(جس سے مسلمان آنکھ بند نہیں کرسکتے تو ان پر لعن طعن یا ان کی توہین تنقیص کیسے گوارا رکھیں اور کیسے سمجھ لیں کہ مولی علی کے مقابلے میں انہوں نے جو کچھ کیا بربنائے نفسانیت تھا۔صاحب ایمان مسلمان کے خواب و خیال میں بھی یہ بات نہیں آسکتی۔
ہاں ایك بات کہتے ہیں اور ایمان لگتی کہتے ہیں کہ)ہم تو بحمداﷲ سرکار اہلبیت(کرام)کے غلامان خان زاد ہیں(اور موروثی خدمت گارخدمت گزار)ہمیں(امیر)معاویہ(رضی اﷲ تعالی عنہ)سے کیا رشتہ خدانخواستہ ان کی حمایت بے جا کریں مگر ہاں اپنی سرکار کی طرفداری(اور امر حق مین ان کی حمایت وپاسداری)اور ان(حضرت امیر معاویہ)کا(خصوصا)الزام بدگویاں(اور دریدہ دہنوںبدزبانوں کی تہمتوں سے بری رکھنا منظور ہے کہ ہمارے شہزادہ اکبر حضرت سبط(اکبرحسن)مجتبی رضی اﷲ تعالی عنہ نے حسب بشارت اپنے جدا مجد سیدالمرسلین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے بعد اختتام مدت(خلافت راشدہ کہ منہاج نبوت پر تیس سال رہی اور سیدنا امام حسن مجتبی رضی اﷲ تعالی عنہ کے چھ ماہ مدت خلافت پر ختم ہوئی)عین معرکہ جنگ میں ایك فوج جرار کی ہمراہی کے باوجود)ہتھیار رکھ دیے(بالقصدوالا ختیار)اور ملک(اور امور مسلمین کا انتظا م و انصرام)امیر معاویہ کو سپرد کردیا(اور ان کے ہاتھ پر بیعت اطاعت فرمالی)اگر امیر معاویہ رضی اﷲ تعالی عنہ العیاذ باﷲ کافر یا فاسق تھے یا ظالم جائر تھے یا غاصب جابر تھے-(ظلم وجور پر کمربستہ)تو الزام امام حسن پر آتا ہے کہ انہوں نے کاروبار مسلمین و انتظام شرع و دین باختیار خود (بلا جبروا کراہ بلا ضرورت شرعیہباوجود مقدرت)ایسے شخص کو تفویض فرمادیا(اور اس کی تحویل میں دے دیا)اور خیر خواہی اسلام کو معاذ اﷲ کام نہ فرمایا(اس سے ہاتھ اٹھالیا)اگر مدت خلافت ختم ہوچکی تھی اور آپ(خود)بادشاہت منظور نہیں فرماتے تھے)تو صحابہ حجاز میں کوئی اور قابلیت نظم و نسق دین نہ رکھتا تھا جو انہیں کو اختیار کیا۔اور انہیں کے ہاتھ پر بیعت اطاعت کرلی)حاش ﷲ بلکہ یہ بات خود رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم تك پہنچتی ہے کہ حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے اپنی پیش گوئی میں ان کے اس فعل کو پسند فرمایا اور ان کی سیادت کا نتیجہ ٹھہرایا کما فی صحیح البخاری(جیسا کہ صحیح بخاری میں ہے) صادق و مصدوق صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے امام حسن رضی اﷲ تعالی عنہ کی نسبت فرمایا۔ان ابنی ھذا سیدلعل اﷲ ان یصلح بہ بین فئتین عظمتین من المسلمین ۔
حوالہ / References
صحیح البخاری کتاب الصلح باب قول النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم للحسن الخ و مناقب الحسن و الحسین قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/۳۷۳ و ۵۳۰
(میرا یہ بیٹا سید ہےسیادت کا علمبردار)میں امید کرتا ہوں کہ اﷲ عزوجل اس کے باعث دو بڑے گروہ اسلام میں صلح کرادے۔
آیہ کریمہ کا ارشاد ہے: " و نزعنا ما فی صدورہم من غل" ۔
اور ہم نے ان کے سینوں میں سے کینے کھینچ لیے۔
جو دنیا میں ان کے درمیان تھے اور طبعیتوں میں جو کدورت و کشیدگی تھی اسے رفق والفت سے بدل دیا اور ان میں آپس میں نہ باقی رہی مگر مودت و محبت۔
اور حضرت علی مرتضی رضی اﷲ تعالی عنہ سے مروی کہ آپ نے فرمایا کہ ان شاء اﷲ تعالی میں اور عثمان اور طلحہ و زبیران میں سے ہیں جن کے حق میں اﷲ تعالی نے یہ ارشاد فرمایا کہ نزعنا الایۃ۔
حضرت مولی علی کے اس ارشاد کے بعد بھی ان پر الزام دینا عقل و خرد سے جنگ ہےمولی علی سے جنگ ہےاور خدا و رسول سے جنگ ہے۔والعیاذ باﷲ۔
جب کہ تاریخ کے اوراق شاہد عادل ہیں کہ حضرت زبیر کو جونہی اپنی غلطی کا احساس ہوا انہوں نے فورا جنگ سے کنارہ کشی کرلی۔
اور حضرت طلحہ کے متعلق بھی روایات میں آتا ہے کہ انہوں نے اپنے ایك مدد گار کے ذریعے حضرت مولی علی سے بیعت اطاعت کرلی تھی۔
اور تاریخ سے ان واقعات کو کون چھیل سکتا ہے کہ جنگ جمل ختم ہونے کے بعد حضرت مولی علی مرتضی نے حضرت عائشہ کے برادر معظم محمد بن ابی بکر کو حکم دیا کہ وہ جائیں اور دیکھیں کہ حضرت عائشہ کو خدا نخواستہ کوئی زخم وغیرہ تو نہیں پہنچا۔بلکہ بعجلت تمام خود بھی تشریف لے گئے اور پوچھا۔آپ کا مزاج کیسا ہے
انہوں نے جواب دیا الحمدﷲ اچھی ہوں۔
مولی علی رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:اﷲ تعالی آپ کی بخشش فرمائے۔
حضرت صدیقہ رضی اﷲ عنہا نے جواب دیا اور تمہاری بھی۔
پھر مقتولین کی تجہیز و تکفین سے فارغ ہو کر حضرت مولی علی نے حضرت صدیقہ رضی اﷲ عنہا کی واپسی کا انتظام کیا اور پورے اعزاز و اکرام کے ساتھ محمد بن ابی بکر کی نگرانی میں چالیس معزز عورتوں کے جھرمٹ میں ان کو
آیہ کریمہ کا ارشاد ہے: " و نزعنا ما فی صدورہم من غل" ۔
اور ہم نے ان کے سینوں میں سے کینے کھینچ لیے۔
جو دنیا میں ان کے درمیان تھے اور طبعیتوں میں جو کدورت و کشیدگی تھی اسے رفق والفت سے بدل دیا اور ان میں آپس میں نہ باقی رہی مگر مودت و محبت۔
اور حضرت علی مرتضی رضی اﷲ تعالی عنہ سے مروی کہ آپ نے فرمایا کہ ان شاء اﷲ تعالی میں اور عثمان اور طلحہ و زبیران میں سے ہیں جن کے حق میں اﷲ تعالی نے یہ ارشاد فرمایا کہ نزعنا الایۃ۔
حضرت مولی علی کے اس ارشاد کے بعد بھی ان پر الزام دینا عقل و خرد سے جنگ ہےمولی علی سے جنگ ہےاور خدا و رسول سے جنگ ہے۔والعیاذ باﷲ۔
جب کہ تاریخ کے اوراق شاہد عادل ہیں کہ حضرت زبیر کو جونہی اپنی غلطی کا احساس ہوا انہوں نے فورا جنگ سے کنارہ کشی کرلی۔
اور حضرت طلحہ کے متعلق بھی روایات میں آتا ہے کہ انہوں نے اپنے ایك مدد گار کے ذریعے حضرت مولی علی سے بیعت اطاعت کرلی تھی۔
اور تاریخ سے ان واقعات کو کون چھیل سکتا ہے کہ جنگ جمل ختم ہونے کے بعد حضرت مولی علی مرتضی نے حضرت عائشہ کے برادر معظم محمد بن ابی بکر کو حکم دیا کہ وہ جائیں اور دیکھیں کہ حضرت عائشہ کو خدا نخواستہ کوئی زخم وغیرہ تو نہیں پہنچا۔بلکہ بعجلت تمام خود بھی تشریف لے گئے اور پوچھا۔آپ کا مزاج کیسا ہے
انہوں نے جواب دیا الحمدﷲ اچھی ہوں۔
مولی علی رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:اﷲ تعالی آپ کی بخشش فرمائے۔
حضرت صدیقہ رضی اﷲ عنہا نے جواب دیا اور تمہاری بھی۔
پھر مقتولین کی تجہیز و تکفین سے فارغ ہو کر حضرت مولی علی نے حضرت صدیقہ رضی اﷲ عنہا کی واپسی کا انتظام کیا اور پورے اعزاز و اکرام کے ساتھ محمد بن ابی بکر کی نگرانی میں چالیس معزز عورتوں کے جھرمٹ میں ان کو
حوالہ / References
القرآن الکریم ۷ /۴۳
جانب حجاز رخصت کیا۔خود حضرت علی نے دور تك مشایعت کیہمراہ رہےامام حسن میلوں تك ساتھ گئے۔چلتے وقت حضرت صدیقہ نے مجمع میں اقرار فرمایا کہ مجھ کو علی سے نہ کسی قسم کی کدورت پہلے تھی اورنہ اب ہے۔ہاں ساسداماد(یا دیوربھاوج)میں کبھی کبھی جو بات ہوجایا کرتی ہے اس سے مجھے انکار نہیں۔
حضرت علی نے یہ سن کر ارشاد فرمایا لوگو ! حضرت عائشہ سچ کہہ رہی ہیں خدا کی قسم مجھ میں اور ان میں اس سے زیادہ اختلاف نہیں ہےبہرحال خواہ کچھ ہو یہ دنیا و آخرت میں تمہارے نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی زوجہ ہیں(اور ام المومنین)۔
اﷲ اﷲ ! ان یاران پیکر صدق و صفا میں باہمی یہ رفق و مودت اور عزت و اکرام اور ایك دوسرے کے ساتھ یہ معاملہ تعظیم و احتراماور ان عقل سے بیگانوں اور نادان دوستوں کی حمایت علی کا یہ عالم کہ ان پر لعن طعن کو اپنا مذہب اور اپنا شعار بنائیں اور ان سے کدورت و دشمنی کو مولی علی سے محبت و عقیدت ٹھہرائیں۔ولا حول ولا قوۃ الا باﷲ العلی العظیم۔
مسلمانان اہلسنت اپنا ایمان تازہ کرلیں اور سن رکھیں کہ اگر صحابہ کرام کے دلوں میں کھوٹنیتوں میں فتور اور معاملات میں فتنہ و فساد ہو تو رضی اﷲ عنھم کے کوئی معنی ہی نہیں ہوسکتے۔
صحابہ کرام کے عند اﷲ مرضی و پسندیدہ ہونے کے معنی یہی تو ہیں کہ وہ مولائے کریم ان کے ظاہر و باطن سے راضیان کی نیتوں اور مافی الضمیر سے خوش ہےاور ان کے اخلاق و اعمال بارگاہ عزت میں پسندیدہ ہیں۔اسی لیے ارشاد فرمایا ہے کہ:
" و لکن اللہ حبب الیکم الایمن و زینہ فی قلوبکم" الایۃ۔ یعنی اﷲ تعالی نے تمہیں ایمان پیارا کردیا ہے اور اسے تمہارے دلوں میں آراستہ کردیاہے اور کفر اور حکم عدولی اوار نافرمانی تمھیں ناگوار کردئیے اب جو کوئی اس کے خلاف کہے اپنا ایمان خراب کرے اور اپنی عاقبت برباد۔والعیاذ باﷲ۔
عقیدہ ثامنہ ۸_______________ امامت صدیق اکبر رضی اﷲ عنہ
نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی نیابت مطلقہ کو امامت کبری اور اس منصب عظیم پر فائز
حضرت علی نے یہ سن کر ارشاد فرمایا لوگو ! حضرت عائشہ سچ کہہ رہی ہیں خدا کی قسم مجھ میں اور ان میں اس سے زیادہ اختلاف نہیں ہےبہرحال خواہ کچھ ہو یہ دنیا و آخرت میں تمہارے نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی زوجہ ہیں(اور ام المومنین)۔
اﷲ اﷲ ! ان یاران پیکر صدق و صفا میں باہمی یہ رفق و مودت اور عزت و اکرام اور ایك دوسرے کے ساتھ یہ معاملہ تعظیم و احتراماور ان عقل سے بیگانوں اور نادان دوستوں کی حمایت علی کا یہ عالم کہ ان پر لعن طعن کو اپنا مذہب اور اپنا شعار بنائیں اور ان سے کدورت و دشمنی کو مولی علی سے محبت و عقیدت ٹھہرائیں۔ولا حول ولا قوۃ الا باﷲ العلی العظیم۔
مسلمانان اہلسنت اپنا ایمان تازہ کرلیں اور سن رکھیں کہ اگر صحابہ کرام کے دلوں میں کھوٹنیتوں میں فتور اور معاملات میں فتنہ و فساد ہو تو رضی اﷲ عنھم کے کوئی معنی ہی نہیں ہوسکتے۔
صحابہ کرام کے عند اﷲ مرضی و پسندیدہ ہونے کے معنی یہی تو ہیں کہ وہ مولائے کریم ان کے ظاہر و باطن سے راضیان کی نیتوں اور مافی الضمیر سے خوش ہےاور ان کے اخلاق و اعمال بارگاہ عزت میں پسندیدہ ہیں۔اسی لیے ارشاد فرمایا ہے کہ:
" و لکن اللہ حبب الیکم الایمن و زینہ فی قلوبکم" الایۃ۔ یعنی اﷲ تعالی نے تمہیں ایمان پیارا کردیا ہے اور اسے تمہارے دلوں میں آراستہ کردیاہے اور کفر اور حکم عدولی اوار نافرمانی تمھیں ناگوار کردئیے اب جو کوئی اس کے خلاف کہے اپنا ایمان خراب کرے اور اپنی عاقبت برباد۔والعیاذ باﷲ۔
عقیدہ ثامنہ ۸_______________ امامت صدیق اکبر رضی اﷲ عنہ
نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی نیابت مطلقہ کو امامت کبری اور اس منصب عظیم پر فائز
حوالہ / References
القرآن الکریم ۴۹ /۷
ہونے والے کو امام کہتے ہیں۔
امام المسلمین حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی نیابت سے مسلمانوں کے تمام امور دینی و دنیوی میں حسب شرع تصرف عام کا اختیار رکھتا ہے اور غیر معصیت میں اس کی اطاعت تمام جہان کے مسلمانوں پر فرض ہوتی ہے۔
اس امام کے لیے مسلمان آزادعاقلبالغقادرقرشی ہونا شرط ہےہاشمی علوی اور معصوم ہونا اس کی شرط نہیںان کا شرط کرنا روافض کا مذہب ہے جس سے ان کا مقصد یہ ہے کہ برحق امرائے مومنینخلفائے ثلثہ ابوبکر صدیق و عمر فاروق وعثمان غنی رضی اﷲ تعالی عنہم کو خلافت رسول سے جدا کردیں۔حالانکہ ان کی خلافتوں پر تمام صحابہ کرام رضی اﷲ تعالی عنہم کا اجماع ہے۔مولی علی کرم اﷲ وجہہ الکریم و حضرات حسنین رضی اﷲ تعالی عنہما نے ان کی خلافتیں تسلیم کیں۔اور علویت کی شرط نے تو مولی علی کو بھی خلیفہ ہونے سے خارج کردیا۔مولا علی کیسے علوی ہوسکتے ہیں۔رہی عصمت تو یہ انبیاء و ملائکہ کا خاصہ ہے امام کا معصوم ہونا روافض کا مذہب ہے۔(بہار شریعت)
ہم مسلمانان اہلسنت و جماعت کے نزدیك رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے بعد(خلافت و امامت صدیق اکبر(رضی اﷲ تعالی عنہ)بالقطع التحقیق(قطعایقیناتحقیقا)حقہ راشدہ ہے(ثابت و درسترشد و ہدایت پر مبنی)نہ غاصبہ جائرہ(کہ غصب یا جور و جبر سے حاصل کی گئی)رحمت و رافت(مہربانی و شفقت)حسن سیادت(بہتر ولائق تر امارت)ولحاظ مصلحت(تمام مصلحتوں سے ملحوظ)و حمایت ملت(شریعت کی حمایتوں سے معمور)و پناہ امت سے مزین(آراستہ و پیراستہ)اور عدل و داد (انصاف و برابری)و صدق و سداد(راستی و درستی)ورشد و ارشاد(راست روی و حق نمائی)و قطع فساد و قمع اہل ارتداد (مرتدین کی بیخ کنی)سے محلی(سنواری ہوئی)اول تلویحات و تصریحات روشن و صریح ارشادات)سید الکائنات علیہ وعلی آلہ افضل الصلوات والتحیات اس بارے میں بہ کثرت وارد۔
دوسرے خلافت اس جناب تقوی مآب کی باجماع صحابہ واقع ہوئی(اور آپ کا حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے بعد تخت خلافت پر جلوس فرمانا فرامین و احکام جاری کرناممالك اسلامیہ کا نظم و نسق سنبھالنااور تمام امور مملکت و رزم و بزم کی باگیں اپنے دست حق پرست میں لینا و ہ تاریخی واقعہ مشہور و متواتر اظہر من الشمس ہےجس سے دنیا میں موافق مخالف حتی کہ نصاری و یہود و مجوس و ہنود کسی کو انکار نہیں۔اور ان محبان خدا و نوابان مصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ابدا ابدا سے شیعان علی
امام المسلمین حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی نیابت سے مسلمانوں کے تمام امور دینی و دنیوی میں حسب شرع تصرف عام کا اختیار رکھتا ہے اور غیر معصیت میں اس کی اطاعت تمام جہان کے مسلمانوں پر فرض ہوتی ہے۔
اس امام کے لیے مسلمان آزادعاقلبالغقادرقرشی ہونا شرط ہےہاشمی علوی اور معصوم ہونا اس کی شرط نہیںان کا شرط کرنا روافض کا مذہب ہے جس سے ان کا مقصد یہ ہے کہ برحق امرائے مومنینخلفائے ثلثہ ابوبکر صدیق و عمر فاروق وعثمان غنی رضی اﷲ تعالی عنہم کو خلافت رسول سے جدا کردیں۔حالانکہ ان کی خلافتوں پر تمام صحابہ کرام رضی اﷲ تعالی عنہم کا اجماع ہے۔مولی علی کرم اﷲ وجہہ الکریم و حضرات حسنین رضی اﷲ تعالی عنہما نے ان کی خلافتیں تسلیم کیں۔اور علویت کی شرط نے تو مولی علی کو بھی خلیفہ ہونے سے خارج کردیا۔مولا علی کیسے علوی ہوسکتے ہیں۔رہی عصمت تو یہ انبیاء و ملائکہ کا خاصہ ہے امام کا معصوم ہونا روافض کا مذہب ہے۔(بہار شریعت)
ہم مسلمانان اہلسنت و جماعت کے نزدیك رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے بعد(خلافت و امامت صدیق اکبر(رضی اﷲ تعالی عنہ)بالقطع التحقیق(قطعایقیناتحقیقا)حقہ راشدہ ہے(ثابت و درسترشد و ہدایت پر مبنی)نہ غاصبہ جائرہ(کہ غصب یا جور و جبر سے حاصل کی گئی)رحمت و رافت(مہربانی و شفقت)حسن سیادت(بہتر ولائق تر امارت)ولحاظ مصلحت(تمام مصلحتوں سے ملحوظ)و حمایت ملت(شریعت کی حمایتوں سے معمور)و پناہ امت سے مزین(آراستہ و پیراستہ)اور عدل و داد (انصاف و برابری)و صدق و سداد(راستی و درستی)ورشد و ارشاد(راست روی و حق نمائی)و قطع فساد و قمع اہل ارتداد (مرتدین کی بیخ کنی)سے محلی(سنواری ہوئی)اول تلویحات و تصریحات روشن و صریح ارشادات)سید الکائنات علیہ وعلی آلہ افضل الصلوات والتحیات اس بارے میں بہ کثرت وارد۔
دوسرے خلافت اس جناب تقوی مآب کی باجماع صحابہ واقع ہوئی(اور آپ کا حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے بعد تخت خلافت پر جلوس فرمانا فرامین و احکام جاری کرناممالك اسلامیہ کا نظم و نسق سنبھالنااور تمام امور مملکت و رزم و بزم کی باگیں اپنے دست حق پرست میں لینا و ہ تاریخی واقعہ مشہور و متواتر اظہر من الشمس ہےجس سے دنیا میں موافق مخالف حتی کہ نصاری و یہود و مجوس و ہنود کسی کو انکار نہیں۔اور ان محبان خدا و نوابان مصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ابدا ابدا سے شیعان علی
کو زیادہ عداوت کا منبی یہی ہے کہ ان کے زعم باطل میں استحقاق خلافت حضرت مولی کرم اﷲ تعالی وجہہ الاسنی میں منحصر تھا۔
جب بحکم الہی خلافت راشدہاول ان تین سرداران مومنین کو پہنچی روافض نے انہیں معاذ اﷲ مولی علی کا حق چھیننے والا اور ان کی خلافت وامامت کو غاصبہ جائرہ ٹھہرایا۔
اتنا ہی نہیں بلکہ تقیہ شقیہ کی تہمت کی بدولت حضرت اسد اﷲ غالب کو عیاذا باﷲ سخت نامرد و بزدل و تارك حق و مطیع باطل ٹھہرایا۔ع
دوستی بے خرداں دشمنی ست
(بے عقلوں کی دوستی دشمنی ہوتی ہے)
(الغرض آپ کی امامت و خلافت پر تمام صحابہ کرام کا اجماع ہے)اور باطل پر اجماع امت(خصوصا اصحاب حضرت رسالت علیہ وعلیہم الصلوۃ والتحیۃ کا)ممکن نہیں۔(اور مان لیا جائے تو غصب و ظلم پر اتفاق سے عیاذا باﷲ سب فساق ہوئےاور یہی لوگ حاملان قرآن مبین و راویان دین متین ہیںجو انہیں فاسق بتائے اپنے لیے نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم تك دوسرا سلسلہ پیدا کرے یا ایمان سے ہاتھ دھو بیٹھےاسی طرح ان کے بعد خلافت فاروقپھر امامت ذی النورینپھر جلوہ فرمائی ابوالحسنین رضی اﷲ تعالی عنہم اجمعین۔
عقیدہ تاسعہ ۹ __________ضروریات دین
نصوص قرآنیہ(اپنی مراد پر واضح آیات فرقانیہ)و احادیث مشہورہ متواترہ(شہرت اور تواتر سے مؤید)و اجماع امت مرحومہ مبارکہ(کہ یہ قصر شریعت کے اساسی ستون ہیں اور شبہات و تاویلات سے پاکان میں سے ہر دلیل قطعییقینی واجب الاذعان والثبوتان)سے جو کچھ دربارہ الوہیت(ذات و صفات باری تعالی)ورسالت(و نبوت انبیاء و مرسلین وحی رب العلمین) (وکتب سماویو ملائکہ و جن وبعث و حشرو نشر و قیام قیامتقضاء و قدر)وماکان ومایکون(جملہ ضروریات دین)ثابت(اور ان دلائل قطعیہ سے مدلل ان براہین واضحہ سے مبرہن)سب حق ہیں اور ہم سب پر ایمان لائے جنت اور اسکے جانفزا احوال(کہ لاعین رأت ولا اذن سمعت ولا خطرببال احد ۔وہ عظیم نعمتیں
جب بحکم الہی خلافت راشدہاول ان تین سرداران مومنین کو پہنچی روافض نے انہیں معاذ اﷲ مولی علی کا حق چھیننے والا اور ان کی خلافت وامامت کو غاصبہ جائرہ ٹھہرایا۔
اتنا ہی نہیں بلکہ تقیہ شقیہ کی تہمت کی بدولت حضرت اسد اﷲ غالب کو عیاذا باﷲ سخت نامرد و بزدل و تارك حق و مطیع باطل ٹھہرایا۔ع
دوستی بے خرداں دشمنی ست
(بے عقلوں کی دوستی دشمنی ہوتی ہے)
(الغرض آپ کی امامت و خلافت پر تمام صحابہ کرام کا اجماع ہے)اور باطل پر اجماع امت(خصوصا اصحاب حضرت رسالت علیہ وعلیہم الصلوۃ والتحیۃ کا)ممکن نہیں۔(اور مان لیا جائے تو غصب و ظلم پر اتفاق سے عیاذا باﷲ سب فساق ہوئےاور یہی لوگ حاملان قرآن مبین و راویان دین متین ہیںجو انہیں فاسق بتائے اپنے لیے نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم تك دوسرا سلسلہ پیدا کرے یا ایمان سے ہاتھ دھو بیٹھےاسی طرح ان کے بعد خلافت فاروقپھر امامت ذی النورینپھر جلوہ فرمائی ابوالحسنین رضی اﷲ تعالی عنہم اجمعین۔
عقیدہ تاسعہ ۹ __________ضروریات دین
نصوص قرآنیہ(اپنی مراد پر واضح آیات فرقانیہ)و احادیث مشہورہ متواترہ(شہرت اور تواتر سے مؤید)و اجماع امت مرحومہ مبارکہ(کہ یہ قصر شریعت کے اساسی ستون ہیں اور شبہات و تاویلات سے پاکان میں سے ہر دلیل قطعییقینی واجب الاذعان والثبوتان)سے جو کچھ دربارہ الوہیت(ذات و صفات باری تعالی)ورسالت(و نبوت انبیاء و مرسلین وحی رب العلمین) (وکتب سماویو ملائکہ و جن وبعث و حشرو نشر و قیام قیامتقضاء و قدر)وماکان ومایکون(جملہ ضروریات دین)ثابت(اور ان دلائل قطعیہ سے مدلل ان براہین واضحہ سے مبرہن)سب حق ہیں اور ہم سب پر ایمان لائے جنت اور اسکے جانفزا احوال(کہ لاعین رأت ولا اذن سمعت ولا خطرببال احد ۔وہ عظیم نعمتیں
حوالہ / References
صحیح البخاری کتاب التفسیر تحت آیۃ ۳۲/ ۱۷ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۷۰۴،جامع الترمذی ابواب التفسیر سورۃ السجدۃ امین کمپنی دہلی ۲/ ۱۵۱سُنن ابن ماجہ ابواب الزھد باب صفۃ الجنۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۳۳۱
وہ نعیم عظمتیں اور جان و دل کو مرغوب و مطلوب و ہ لذتیں جن کو نہ آنکھوں نے دیکھا نہ کانوں نے سنااور نہ کسی کے دل پر ان کا خطرہ گزرا)دوزخ اور اس کے جاں گزاحالات(کہ وہ ہر تکلیف و اذیت جو ادراك کی جائے اور تصور میں لائی جائےایك ادنی حصہ ہے اس کے بے انتہا عذاب کاوالعیاذ باﷲ)قبر کے نعیم و عذاب(کہ وہ جنت کی کیاریوں میں سے ایك کیاری ہے یا جہنم کے گڑھوں میں سے ایك گڑھا)منکر نکیر سے سوال و جواب روز قیامت حساب و کتاب ووزن اعمال(جس کی حقیقت اﷲ جانے اور اس کا رسول)و کوثر(کہ میدان حشر کا ایك حوض ہے اور جنت کا طویل و عریض چشمہ)وصراط(بال سےزیادہ باریکتلوار سے زیادہ تیزپشت جہنم پر ایك پل)و شفاعۃ عصاۃ اہل کبائر(یعنی گناہگار ان امت مرحومہ کہ کبیرہ گناہوں میں ملوث رہے ان کے لیے سوال بخشش)اور اس کے سبب اہل کبائر کی نجات الی غیر ذالك من الواردات سب حق(ہے اور سب ضروری القبول)جبر و قدر باطل(اپنے آپ کو مجبور محض یا بالکل مختار سمجھنا دونوں گمراہی)۔
ولکن امر بین امرین(اختیار مطلق اور جبر محض کے بین بین راہ سلامتی اور اس میں زیادہ غور و فکر سبب ہلاکتصدیق و فاروق رضی اﷲ تعالی عنہما اس مسئلہ میں بحث کرنے سے منع فرمائے گئے۔ماو شما کس گنتی میں)جو بات ہماری عقل میں نہیں آتی(اس میں خواہ مخواہ نہیں الجھتے اور اپنی اندھی اوندھی عقل کے گھوڑے نہیں دوڑاتے بلکہ)اس کو موکول بخدا کرتے(اﷲ عزوجل کو سونپتے کہ واﷲ اعلم بالصواب)اور اپنا نصیبہ" امنا بہ کل من عند ربنا" ۔بناتے ہیں(کہ سب کچھ حق کی جانب سے ہے سب حق ہے اور سب پر ہمارا یمان)
مصطفی اندر میاں آنگہ کہ می گوید بعقل آفتاب اندر جہاں آنگہ کہ می جوید سہا
مصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم تشریف فرما ہوں تو اپنی عقل سے کون بات کرتا ہے سورج دنیا میں جلوہ گر ہو تو چھوٹے سے ستارے کو کون ڈھونڈتا ہے۔ت)
(قال الرضا)
عرش پہ جا کہ مرغ عقل تھك کے گراغش آگیا اور ابھی منزلوں پر ےپہلا ہی آستان ہے
یاد رکھنا چاہیے کہ وحی الہی کا نزولکتب آسمانی کی تنزیلجن و ملائکہقیامت و بعثحشر ونشر
ولکن امر بین امرین(اختیار مطلق اور جبر محض کے بین بین راہ سلامتی اور اس میں زیادہ غور و فکر سبب ہلاکتصدیق و فاروق رضی اﷲ تعالی عنہما اس مسئلہ میں بحث کرنے سے منع فرمائے گئے۔ماو شما کس گنتی میں)جو بات ہماری عقل میں نہیں آتی(اس میں خواہ مخواہ نہیں الجھتے اور اپنی اندھی اوندھی عقل کے گھوڑے نہیں دوڑاتے بلکہ)اس کو موکول بخدا کرتے(اﷲ عزوجل کو سونپتے کہ واﷲ اعلم بالصواب)اور اپنا نصیبہ" امنا بہ کل من عند ربنا" ۔بناتے ہیں(کہ سب کچھ حق کی جانب سے ہے سب حق ہے اور سب پر ہمارا یمان)
مصطفی اندر میاں آنگہ کہ می گوید بعقل آفتاب اندر جہاں آنگہ کہ می جوید سہا
مصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم تشریف فرما ہوں تو اپنی عقل سے کون بات کرتا ہے سورج دنیا میں جلوہ گر ہو تو چھوٹے سے ستارے کو کون ڈھونڈتا ہے۔ت)
(قال الرضا)
عرش پہ جا کہ مرغ عقل تھك کے گراغش آگیا اور ابھی منزلوں پر ےپہلا ہی آستان ہے
یاد رکھنا چاہیے کہ وحی الہی کا نزولکتب آسمانی کی تنزیلجن و ملائکہقیامت و بعثحشر ونشر
حساب و کتابثواب و عذاب اور جنت و دوزخ کے وہی معنی ہیں جو مسلمانوں میں مشہور ہیں اور جن پر صدر اسلام سے اب تك چودہ سو۱۴۰۰ سال کے کافہ مسلمین و مومنین دوسرے ضروریات دین کی طرح ایمان رکھتے چلے آرہے ہیں مسلمانوں میں مشہور ہیں۔
جو شخص ان چیزوں کو تو حق کہے اوران لفظوں کا تو اقرار کرے مگر ان کے نئے معنی گھڑے مثلا یوں کہے کہ جنت و دوزخ و حشر ونشر و ثواب و عذاب سے ایسے معنی مراد ہیں جو ان کے ظاہر الفاظ سے سمجھ میں نہیں آتے۔یعنی ثواب کے معنی اپنے حسنات کو دیکھ کر خوش ہونا۔اور عذاباپنے برے اعمال کو دیکھ کر غمگین ہونا ہیں۔یا یہ کہ وہ روحانی لذتیں اور باطنی معنی ہیں وہ کافر ہے کیونکہ ان امور پر قرآن پاك اور حدیث شریف میں کھلے ہوئے روشن ارشادات موجود ہیں۔
یونہی یہ کہنا بھی یقینا کفر ہے کہ پیغمبروں نے اپنی اپنی امتوں کے سامنے جو کلامکلام الہی بتا کر پیش کیا وہ ہر گز کلام الہی نہ تھا بلکہ وہ سب انہیں پیغمبروں کے دلوں کے خیالات تھے جو فوارے کے پانی کی طرح انہیں کے قلوب سے جوش مار کر نکلے اور پھر انہیں کے دلوں پر نازل ہوگئے۔
یونہی یہ کہنا کہ نہ دوزخ میں سانپبچھو اور زنجیریں ہیں اور نہ وہ عذاب جن کا ذکر مسلمانوں میں رائج ہےنہ دوزخ کا کوئی وجود خارجی ہے بلکہ دنیا میں اﷲ تعالی کی نافرمانی سے جو کلفت روح کو ہوئی تھی بس اسی روحانی اذیت کا اعلی درجہ پر محسوس ہونا اسی کا نام دوزخ اور جہنم ہےیہ سب کفرقطعی ہے۔
یونہی یہ سمجھنا کہ جنت میں میوے ہیں نہ باغنہ محل ہیں نہ نہریں ہیںنہ حوریں ہیںنہ غلمان ہیںنہ جنت کا کوئی وجود خارجی ہے بلکہ دنیا میں اﷲ تعالی کی فرمانبرداری کی جو راحت روح کو ہوئی تھی بس اسی روحانیت کا اعلی درجہ پر حاصل ہونا اسی کا نام جنت ہےیہ بھی قطعا یقینا کفر ہے۔
یونہی یہ کہنا کہ اﷲ عزوجل نے قرآن عظیم میں جن فرشتوں کا ذکر فرمایا ہے نہ ان کا کوئی اصل وجود ہے نہ ان کا موجود ہونا ممکن ہےبلکہ اﷲ تعالی نے اپنی ہر ہر مخلوق میں جو مختلف قسم کی قوتیں رکھی ہیں جیسے پہاڑوں کی سختیپانی کی روانینباتات کی فزونی بس انہیں قوتوں کا نام فرشتہ ہےیہ بھی بالقطع و الیقین کفر ہے۔
یونہی جن و شیاطین کے وجود کا انکار اور بدی کی قوت کا نام جن یا شیطان رکھنا کفر ہے اور ایسے اقوال کے قائل یقینا کافر اور اسلامی برادری سے خارج ہیں۔
جو شخص ان چیزوں کو تو حق کہے اوران لفظوں کا تو اقرار کرے مگر ان کے نئے معنی گھڑے مثلا یوں کہے کہ جنت و دوزخ و حشر ونشر و ثواب و عذاب سے ایسے معنی مراد ہیں جو ان کے ظاہر الفاظ سے سمجھ میں نہیں آتے۔یعنی ثواب کے معنی اپنے حسنات کو دیکھ کر خوش ہونا۔اور عذاباپنے برے اعمال کو دیکھ کر غمگین ہونا ہیں۔یا یہ کہ وہ روحانی لذتیں اور باطنی معنی ہیں وہ کافر ہے کیونکہ ان امور پر قرآن پاك اور حدیث شریف میں کھلے ہوئے روشن ارشادات موجود ہیں۔
یونہی یہ کہنا بھی یقینا کفر ہے کہ پیغمبروں نے اپنی اپنی امتوں کے سامنے جو کلامکلام الہی بتا کر پیش کیا وہ ہر گز کلام الہی نہ تھا بلکہ وہ سب انہیں پیغمبروں کے دلوں کے خیالات تھے جو فوارے کے پانی کی طرح انہیں کے قلوب سے جوش مار کر نکلے اور پھر انہیں کے دلوں پر نازل ہوگئے۔
یونہی یہ کہنا کہ نہ دوزخ میں سانپبچھو اور زنجیریں ہیں اور نہ وہ عذاب جن کا ذکر مسلمانوں میں رائج ہےنہ دوزخ کا کوئی وجود خارجی ہے بلکہ دنیا میں اﷲ تعالی کی نافرمانی سے جو کلفت روح کو ہوئی تھی بس اسی روحانی اذیت کا اعلی درجہ پر محسوس ہونا اسی کا نام دوزخ اور جہنم ہےیہ سب کفرقطعی ہے۔
یونہی یہ سمجھنا کہ جنت میں میوے ہیں نہ باغنہ محل ہیں نہ نہریں ہیںنہ حوریں ہیںنہ غلمان ہیںنہ جنت کا کوئی وجود خارجی ہے بلکہ دنیا میں اﷲ تعالی کی فرمانبرداری کی جو راحت روح کو ہوئی تھی بس اسی روحانیت کا اعلی درجہ پر حاصل ہونا اسی کا نام جنت ہےیہ بھی قطعا یقینا کفر ہے۔
یونہی یہ کہنا کہ اﷲ عزوجل نے قرآن عظیم میں جن فرشتوں کا ذکر فرمایا ہے نہ ان کا کوئی اصل وجود ہے نہ ان کا موجود ہونا ممکن ہےبلکہ اﷲ تعالی نے اپنی ہر ہر مخلوق میں جو مختلف قسم کی قوتیں رکھی ہیں جیسے پہاڑوں کی سختیپانی کی روانینباتات کی فزونی بس انہیں قوتوں کا نام فرشتہ ہےیہ بھی بالقطع و الیقین کفر ہے۔
یونہی جن و شیاطین کے وجود کا انکار اور بدی کی قوت کا نام جن یا شیطان رکھنا کفر ہے اور ایسے اقوال کے قائل یقینا کافر اور اسلامی برادری سے خارج ہیں۔
فائدہ جلیلہ
مانی ہوئی باتیں چار۴ قسم ہوتی ہیں۔
(۱)ضروریات دین:ان کا ثبوت قرآن عظیم یا حدیث متواتر یا اجماع قطعیات الدلالات واضحۃ الافادات سے ہوتا ہی جن میں نہ شبہے کی گنجائش نہ تاویل کو راہ۔اور ان کا منکر یا ان میں باطل تاویلات کا مرتکب کافر ہوتا ہے۔
(۲)ضروریات مذہب اہلسنت و جماعت:ان کا ثبوت بھی دلیل قطعی سے ہوتا ہے۔مگر ان کے قطعی الثبوت ہونے میں ایك نوع شبہہ اور تاویل کا احتمال ہوتا ہے اسی لیی ان کا منکر کافر نہیں بلکہ گمراہبذمذہببددین کہلاتا ہے۔
(۳)ثا بتات محکمہ:ان کے ثبوت کو دلیل ظنی کافیجب کہ اس کا مفاد اکبر رائے ہو کہ جانب خلاف کو مطروح و مضمحل اور التفات خاص کے ناقابل بنادے۔اس کے ثبوت کے لیے حدیث احادصحیح یا حسن کافیاور قول سواد اعظم و جمہور علماء کا سند وافیفان ید اﷲ علی الجماعۃ(اﷲ تعالی کا دست قدرت جماعت پر ہوتا ہے۔ت)
ان کا منکر وضوح امر کے بعد خاطی و آثم خطاکارو گناہگار قرار پاتا ہےنہ بددین و گمراہ نہ کافر و خارج از اسلام
(۴)ظنیات محتملہ:ان کے ثبوت کے لیے ایسی دلیل ظنی بھی کافیجس نے جانب خلاف کے لیے بھی گنجائش رکھی ہوان کے منکر کو صرف مخطی و قصور وارکہا جائے گا نہ گنہگارچہ جائیکہ گمراہچہ جائیکہ کافر۔
ان میں سے ہر بات اپنے ہی مرتبے کی دلیل چاہتی ہے جو فرق مراتب نہ کرے اور ایك مرتبے کی بات کو اس سے اعلی درجے کی دلیل مانگے وہ جاہل بے وقوف ہے یا مکار فیلسوف ع
ہر سخن و قتے ہر نکتہ مقامے دارد
(ہر بات کا کوئی وقت اور ہر نکتے کا کوئی خاص مقام ہوتا ہے۔ت)
اور ع
گرفرق مراتب نہ کنی زندیقی
(اگر تو مراتب کے فرق کو ملحوظ نہ رکھے تو زندیق ہے۔ت)
مانی ہوئی باتیں چار۴ قسم ہوتی ہیں۔
(۱)ضروریات دین:ان کا ثبوت قرآن عظیم یا حدیث متواتر یا اجماع قطعیات الدلالات واضحۃ الافادات سے ہوتا ہی جن میں نہ شبہے کی گنجائش نہ تاویل کو راہ۔اور ان کا منکر یا ان میں باطل تاویلات کا مرتکب کافر ہوتا ہے۔
(۲)ضروریات مذہب اہلسنت و جماعت:ان کا ثبوت بھی دلیل قطعی سے ہوتا ہے۔مگر ان کے قطعی الثبوت ہونے میں ایك نوع شبہہ اور تاویل کا احتمال ہوتا ہے اسی لیی ان کا منکر کافر نہیں بلکہ گمراہبذمذہببددین کہلاتا ہے۔
(۳)ثا بتات محکمہ:ان کے ثبوت کو دلیل ظنی کافیجب کہ اس کا مفاد اکبر رائے ہو کہ جانب خلاف کو مطروح و مضمحل اور التفات خاص کے ناقابل بنادے۔اس کے ثبوت کے لیے حدیث احادصحیح یا حسن کافیاور قول سواد اعظم و جمہور علماء کا سند وافیفان ید اﷲ علی الجماعۃ(اﷲ تعالی کا دست قدرت جماعت پر ہوتا ہے۔ت)
ان کا منکر وضوح امر کے بعد خاطی و آثم خطاکارو گناہگار قرار پاتا ہےنہ بددین و گمراہ نہ کافر و خارج از اسلام
(۴)ظنیات محتملہ:ان کے ثبوت کے لیے ایسی دلیل ظنی بھی کافیجس نے جانب خلاف کے لیے بھی گنجائش رکھی ہوان کے منکر کو صرف مخطی و قصور وارکہا جائے گا نہ گنہگارچہ جائیکہ گمراہچہ جائیکہ کافر۔
ان میں سے ہر بات اپنے ہی مرتبے کی دلیل چاہتی ہے جو فرق مراتب نہ کرے اور ایك مرتبے کی بات کو اس سے اعلی درجے کی دلیل مانگے وہ جاہل بے وقوف ہے یا مکار فیلسوف ع
ہر سخن و قتے ہر نکتہ مقامے دارد
(ہر بات کا کوئی وقت اور ہر نکتے کا کوئی خاص مقام ہوتا ہے۔ت)
اور ع
گرفرق مراتب نہ کنی زندیقی
(اگر تو مراتب کے فرق کو ملحوظ نہ رکھے تو زندیق ہے۔ت)
اور بالخصوص قرآن عظیم بلکہ حدیث ہی میں تصریح صریح ہونے کی تو اصلا ضرورت نہیں حتی کہ مرتبہ اعلی اعنی ضروریات دین میں بھی۔
بہت باتیں ضروریات دین سے ہیں جن کا منکر یقینا کافر مگر بالتصریح ان کا ذکر آیات و احادیث میں نہیںمثلا باری عزوجل کا جہل محال ہونا۔
قرآن عظیم میں اﷲ عزوجل کے علم و احاطہ کا لاکھ جگہ ذکر ہے مگر امتناع و امکان کی بحث کہیں نہیں پھر کیا جو شخص کہے کہ واقع میں تو بے شك اﷲ تعالی سب کچھ جانتا ہےعالم الغیب و الشہادۃ ہےکوئی ذرہ اس کے علم سے چھپا نہیں۔
مگر ممکن ہے کہ جاہل ہوجائے تو کیا وہ کافر نہ ہوگا کہ اس کے امکان کا سلب صریح قرآن میں مذکور نہیں۔حاش ﷲ ! ضرور کافر ہے اور جو اسے کافر نہ کہے خود کافرتو جب ضروریات دین ہی کے ہر جزئیہ کی تصریح صریحقرآن و حدیث میں ضرور نہیں تو ان سے اتر کر اور کسی درجے کی بات پر یہ مڑ چڑا پن کہ ہمیں تو قرآن ہی میں دکھاؤ ورنہ ہم نہ مانیں گےنری جہالت ہے یا صریح ضلالتمگر جنون و تعصب کا علاج کسی کے پاس نہیں۔
تو خوب کان کھول کر سن لو اور لوح دل پر نقش رکھو کہ جسے کہتا سنو ہم اماموں کا قول نہیں جانتے ہمیں تو قرآن و حدیث چاہیے۔جان لو کہ یہ گمراہ ہےاور جسے کہتا سنو کہ ہم حدیث نہیں جانتے ہمیں صرف قرآن درکار ہے سمجھ لو کہ یہ بددیندین خدا کا بدخواہ ہے۔
مسلمانو ! تم ان گمراہوں کی ایك نہ سنو۔اور جب تمہیں قرآن میں شبہہ ڈالیں تم حدیث کی پناہ لو۔اگر حدیث میں ایں و آں نکالیں تم ائمہ دین کا دامن پکڑو۔اس درجے پر آکر حق و باطل صاف کھل جائے گا اور ان گمراہوں کا اڑایا ہواسارا غبار حق کے برستے ہوئے بادلوں سے دھل جائے گا اور اس وقت یہ ضالمضل طائفے بھاگتے نطر آئیں گے۔
" کانہم حمر مستنفرۃ ﴿۵۰﴾ فرت من قسورۃ ﴿۵۱﴾" ۔ (گویا وہ بھڑکے ہوئے گدھے ہوں کہ شیر سے بھاگے ہوں)(الصارم الربانی ملخصا)
عقیدہ عاشرہ ۱۰ ____________ شریعت و طریقت
شریعت و طریقتدو راہیں متبائن نہیں(کہ ایك دوسرے سے جدا اور ایك دوسرے کے خلاف ہوں)بلکہ بے اتباع شریعتخدا تك وصول محالشریعت تمام احکام جسم و جان و روح قلب
بہت باتیں ضروریات دین سے ہیں جن کا منکر یقینا کافر مگر بالتصریح ان کا ذکر آیات و احادیث میں نہیںمثلا باری عزوجل کا جہل محال ہونا۔
قرآن عظیم میں اﷲ عزوجل کے علم و احاطہ کا لاکھ جگہ ذکر ہے مگر امتناع و امکان کی بحث کہیں نہیں پھر کیا جو شخص کہے کہ واقع میں تو بے شك اﷲ تعالی سب کچھ جانتا ہےعالم الغیب و الشہادۃ ہےکوئی ذرہ اس کے علم سے چھپا نہیں۔
مگر ممکن ہے کہ جاہل ہوجائے تو کیا وہ کافر نہ ہوگا کہ اس کے امکان کا سلب صریح قرآن میں مذکور نہیں۔حاش ﷲ ! ضرور کافر ہے اور جو اسے کافر نہ کہے خود کافرتو جب ضروریات دین ہی کے ہر جزئیہ کی تصریح صریحقرآن و حدیث میں ضرور نہیں تو ان سے اتر کر اور کسی درجے کی بات پر یہ مڑ چڑا پن کہ ہمیں تو قرآن ہی میں دکھاؤ ورنہ ہم نہ مانیں گےنری جہالت ہے یا صریح ضلالتمگر جنون و تعصب کا علاج کسی کے پاس نہیں۔
تو خوب کان کھول کر سن لو اور لوح دل پر نقش رکھو کہ جسے کہتا سنو ہم اماموں کا قول نہیں جانتے ہمیں تو قرآن و حدیث چاہیے۔جان لو کہ یہ گمراہ ہےاور جسے کہتا سنو کہ ہم حدیث نہیں جانتے ہمیں صرف قرآن درکار ہے سمجھ لو کہ یہ بددیندین خدا کا بدخواہ ہے۔
مسلمانو ! تم ان گمراہوں کی ایك نہ سنو۔اور جب تمہیں قرآن میں شبہہ ڈالیں تم حدیث کی پناہ لو۔اگر حدیث میں ایں و آں نکالیں تم ائمہ دین کا دامن پکڑو۔اس درجے پر آکر حق و باطل صاف کھل جائے گا اور ان گمراہوں کا اڑایا ہواسارا غبار حق کے برستے ہوئے بادلوں سے دھل جائے گا اور اس وقت یہ ضالمضل طائفے بھاگتے نطر آئیں گے۔
" کانہم حمر مستنفرۃ ﴿۵۰﴾ فرت من قسورۃ ﴿۵۱﴾" ۔ (گویا وہ بھڑکے ہوئے گدھے ہوں کہ شیر سے بھاگے ہوں)(الصارم الربانی ملخصا)
عقیدہ عاشرہ ۱۰ ____________ شریعت و طریقت
شریعت و طریقتدو راہیں متبائن نہیں(کہ ایك دوسرے سے جدا اور ایك دوسرے کے خلاف ہوں)بلکہ بے اتباع شریعتخدا تك وصول محالشریعت تمام احکام جسم و جان و روح قلب
حوالہ / References
القرآن الکریم ۷۴ /۵۰ و ۵۱
و جملہ علوم الہیہ و معارف نامتناہیہ کو جامع ہے جن میں سے ایك ایك ٹکڑے کا نام طریقت و معرفت ہے و لہذا باجماع قطعی جملہ اولیائے کرام کے تمام حقائق کو شریعت مطہرہ پر عرض کرنا فرض ہےاگر شریعت کے مطابق ہوں حق و قبول ہیں ورنہ مردود و مخذول(مطرود و نامقبول)
(تو یقینا قطعا شریعت ہی اصل کار ہےشریعت ہی مناط و مدار ہے شریعت ہی محك و معیار ہے اور حق و باطل کے پرکھنے کی کسوٹی)
شریعت راہ کو کہتے ہیں اور شریعت محمدیہ علی صاحبہا الصلوۃ والتحیۃ کا ترجمہ ہے محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی راہ۔اور یہ قطعا عام و مطلق ہے نہ کہ صرف چند احکام جسمانی سے خاص۔
یہی وہ راہ ہے کہ پانچوں وقتہر نماز ہر رکعت میں اس کا مانگنا اور اس پر صبر و استقامت کی دعا کرنا ہر مسلمان پر واجب فرمایا ہے کہ " اہد نا الصرط المستقیم﴿۵﴾ " ۔ (ہم کو سیدھا راستہ چلا)ہم کو محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی راہ پر چلاان کی شریعت پر ثابت قدم رکھ۔
یونہی طریقطریقہطریقت راہ کو کہتے ہیں نہ کہ پہنچ جانے کوتو یقینا طریقت بھی راہ ہی کا نام ہےاب اگر وہ شریعت سے جدا ہو تو بشہادت قرآن عظیم خدا تك نہ پہنچائے گی بلکہ شیطان تك جنت تك نہ لے جائے گی بلکہ جہنم میں کہ شریعت کے سوا سب راہوں کو قرآن عظیم باطل و مردود فرماچکا۔
لاجرم ضرور ہوا کہ طریقت یہی شریعت ہے اسی راہ روشن کا ٹکڑا ہے۔اس کا اس سے جدا ہونا محال و ناسزاہےجو اسے شریعت سے جدا مانتا ہے اسے راہ خدا سے توڑ کر راہ ابلیس مانتا ہے مگر حاشاطریقیت حقہ راہ ابلیس نہیں قطعا راہ خدا ہے)نہ بندہ کسی وقت کیسی ہی ریاضات و مجاہدات بجالائے۔(کیسی ہی ریاضتوںمجاہدوں اور چلہ کشیوں میں وقت گزارا جائے۔اس رتبہ تك پہنچے کہ تکالیف شرع(شریعت و مطہرہ کے فرامین و احکام امرونہی)اس سے ساقط ہوجائیں اور اسے اسپ بے لگام و شتر بے زمام کرکے چھوڑ دیا جائے۔
قرآن عظیم میں فرمایا:" ان ربی علی صرط مستقیم ﴿۵۶﴾" ۔بے شك اسی سیدھی راہ پر میرا رب ملتا ہے۔
(تو یقینا قطعا شریعت ہی اصل کار ہےشریعت ہی مناط و مدار ہے شریعت ہی محك و معیار ہے اور حق و باطل کے پرکھنے کی کسوٹی)
شریعت راہ کو کہتے ہیں اور شریعت محمدیہ علی صاحبہا الصلوۃ والتحیۃ کا ترجمہ ہے محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی راہ۔اور یہ قطعا عام و مطلق ہے نہ کہ صرف چند احکام جسمانی سے خاص۔
یہی وہ راہ ہے کہ پانچوں وقتہر نماز ہر رکعت میں اس کا مانگنا اور اس پر صبر و استقامت کی دعا کرنا ہر مسلمان پر واجب فرمایا ہے کہ " اہد نا الصرط المستقیم﴿۵﴾ " ۔ (ہم کو سیدھا راستہ چلا)ہم کو محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی راہ پر چلاان کی شریعت پر ثابت قدم رکھ۔
یونہی طریقطریقہطریقت راہ کو کہتے ہیں نہ کہ پہنچ جانے کوتو یقینا طریقت بھی راہ ہی کا نام ہےاب اگر وہ شریعت سے جدا ہو تو بشہادت قرآن عظیم خدا تك نہ پہنچائے گی بلکہ شیطان تك جنت تك نہ لے جائے گی بلکہ جہنم میں کہ شریعت کے سوا سب راہوں کو قرآن عظیم باطل و مردود فرماچکا۔
لاجرم ضرور ہوا کہ طریقت یہی شریعت ہے اسی راہ روشن کا ٹکڑا ہے۔اس کا اس سے جدا ہونا محال و ناسزاہےجو اسے شریعت سے جدا مانتا ہے اسے راہ خدا سے توڑ کر راہ ابلیس مانتا ہے مگر حاشاطریقیت حقہ راہ ابلیس نہیں قطعا راہ خدا ہے)نہ بندہ کسی وقت کیسی ہی ریاضات و مجاہدات بجالائے۔(کیسی ہی ریاضتوںمجاہدوں اور چلہ کشیوں میں وقت گزارا جائے۔اس رتبہ تك پہنچے کہ تکالیف شرع(شریعت و مطہرہ کے فرامین و احکام امرونہی)اس سے ساقط ہوجائیں اور اسے اسپ بے لگام و شتر بے زمام کرکے چھوڑ دیا جائے۔
قرآن عظیم میں فرمایا:" ان ربی علی صرط مستقیم ﴿۵۶﴾" ۔بے شك اسی سیدھی راہ پر میرا رب ملتا ہے۔
اور فرمایا: " و ان ہذا صرطی مستقیما فاتبعوہ ولا تتبعوا السبل"الایۃ ۔
شروع رکوع سے احکام شریعت بیان کرکے فرماتا ہے۔اور اے محبوب ! تم فرمادو کہ یہ شریعت میری سیدھی راہ ہے تو اس کی پیروی کرو اور اس کے سوا اور راستوں کے پیچھے نہ لگ جاؤ کہ وہ تمہیں خدا کی راہ سے جدا کردیں گے۔دیکھو قرآن عظیم نے صاف فرمادیا کہ شریعت ہی صرف وہ راہ ہے جس کا منتہا اﷲ ہے اور جس سے وصول الی اﷲ ہےاس کے سوا آدمی جو راہ چلے گا اﷲ کی راہ سے دور پڑے گا
طریقت میں جو کچھ منکشف ہوتا ہے شریعت ہی کے اتباع کا صدقہ ہے ورنہ بے اتباع شرع بڑے بڑی کشف راہبوں جوگیوں سنیا سیوں کو دیئے جاتے ہیںپھر وہ کہاں تك لے جاتے ہیںاسی نار جحیم وعذاب الیم تك پہنچاتے ہیں۔(مقال العرفاء)
صوفی وہ ہے کہ اپنے ہوا(اپنی خواہشوںاپنی مرادوں)کو تابع شرع کرے(بے اتباع شرع کسی خواہش پر نہ لگے)نہ وہ کہ ہوا(وہوس اور نفسانی خواہشوں)کی خاطر شرع سے دستبردار ہو(اوراتباع شریعت سے آزاد)شریعت غذا ہے اور طریقت قوتجب غذا ترك کی جائے گی قوت آپ زوال پائے گیشریعت آنکھ ہے اور طریقت نظر(اور)آنکھ پھوٹ کر نظر(کا باقی رہنا)غیر متصور(عقل سلیم قبول نہیں کرتی تو شریعت مطہرہ میں کب مقبول ومعتبر)بعد از وصول(منزل)اگر اتباع شریعت سے بے پروائی ہوتی(اور احکام شرع کا اتباع لازم و ضرور نہ رہتا یا بندہ اس میں مختار ہوتا)تو سیدالعالمین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اور امام الواصلین علی کرم اﷲ تعالی وجہہ اس کے ساتھ احق ہوتے(اور ترك بندگی و اتباع شرع کے باب میں سب سے مقدم و پیش رفت)نہیں(یہ بات نہیں اور ہر گز نہیں)بلکہ جس قدر قرب(حق)زیادہ ہوتا ہے شرع کی باگیں او ر زیادہ سخت ہوتی جاتی ہیں(کہ)حسنات الابرار سیئات المقربین ۔ (ابرار کی نیکیاں بھی مقربین کے لیے عیب ہوتی ہیں)
ع نزدیکاں رابیش بود حیرانی
(قریب والوں کو حیرت زیادہ ہوتی ہے)
شروع رکوع سے احکام شریعت بیان کرکے فرماتا ہے۔اور اے محبوب ! تم فرمادو کہ یہ شریعت میری سیدھی راہ ہے تو اس کی پیروی کرو اور اس کے سوا اور راستوں کے پیچھے نہ لگ جاؤ کہ وہ تمہیں خدا کی راہ سے جدا کردیں گے۔دیکھو قرآن عظیم نے صاف فرمادیا کہ شریعت ہی صرف وہ راہ ہے جس کا منتہا اﷲ ہے اور جس سے وصول الی اﷲ ہےاس کے سوا آدمی جو راہ چلے گا اﷲ کی راہ سے دور پڑے گا
طریقت میں جو کچھ منکشف ہوتا ہے شریعت ہی کے اتباع کا صدقہ ہے ورنہ بے اتباع شرع بڑے بڑی کشف راہبوں جوگیوں سنیا سیوں کو دیئے جاتے ہیںپھر وہ کہاں تك لے جاتے ہیںاسی نار جحیم وعذاب الیم تك پہنچاتے ہیں۔(مقال العرفاء)
صوفی وہ ہے کہ اپنے ہوا(اپنی خواہشوںاپنی مرادوں)کو تابع شرع کرے(بے اتباع شرع کسی خواہش پر نہ لگے)نہ وہ کہ ہوا(وہوس اور نفسانی خواہشوں)کی خاطر شرع سے دستبردار ہو(اوراتباع شریعت سے آزاد)شریعت غذا ہے اور طریقت قوتجب غذا ترك کی جائے گی قوت آپ زوال پائے گیشریعت آنکھ ہے اور طریقت نظر(اور)آنکھ پھوٹ کر نظر(کا باقی رہنا)غیر متصور(عقل سلیم قبول نہیں کرتی تو شریعت مطہرہ میں کب مقبول ومعتبر)بعد از وصول(منزل)اگر اتباع شریعت سے بے پروائی ہوتی(اور احکام شرع کا اتباع لازم و ضرور نہ رہتا یا بندہ اس میں مختار ہوتا)تو سیدالعالمین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اور امام الواصلین علی کرم اﷲ تعالی وجہہ اس کے ساتھ احق ہوتے(اور ترك بندگی و اتباع شرع کے باب میں سب سے مقدم و پیش رفت)نہیں(یہ بات نہیں اور ہر گز نہیں)بلکہ جس قدر قرب(حق)زیادہ ہوتا ہے شرع کی باگیں او ر زیادہ سخت ہوتی جاتی ہیں(کہ)حسنات الابرار سیئات المقربین ۔ (ابرار کی نیکیاں بھی مقربین کے لیے عیب ہوتی ہیں)
ع نزدیکاں رابیش بود حیرانی
(قریب والوں کو حیرت زیادہ ہوتی ہے)
اور ع
جن کے رتبے ہیں سواان کو سوا مشکل ہے
آخر نہ دیکھا کہ سید المعصومین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم راترات بھر عبادات و نوافل میں مشغول اور کار امت کے لیے گریاں و ملول رہتےنماز پنجگانہ تو حضور پر فرض تھی ہی نماز تہجد کا ادا کرنا بھی حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پر لازم بلکہ فرض قرار دیا گیا جب کہ امت کے لیے وہی سنت کی سنت ہے۔
حضرت سید الطائفہ جنید بغدادی رضی اﷲ تعالی عنہ سے عرض کیا گیا کہ کچھ لوگ زعم کرتے ہیں کہ احکام شریعت تو وصول کا ذریعہ تھے اور ہم واصل ہوگئے یعنی اب ہمیں شریعت کی کیا حاجت۔فرمایا وہ سچ کہتے ہیںواصل ضرور ہوئے مگر کہاں تك جہنم تک۔
چور اور زانی ایسے عقیدے والوں سے بہتر ہیں اگر ہزار برس جیوں تو فرائض وواجبات تو بڑی چیز ہیںجو نوافل و مستحبات مقرر کردیئے ہیں بے عذر شرعی ان میں کچھ کم نہ کروں۔
تو خلق پر تمام راستے بند ہیں مگر وہ جو رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی نشان قدم کی پیروی کرے۔
خلاف پیغمبر کسے راہ گزید کہ ہر گز بہ منزل نہ خواہد رسید
(جس کسی نے پیغمبر صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے خلاف راستہ اختیار کیا ہر گز منزل مقصود پر نہ پہنچے گا)
توہین شریعت کفر(اور علمائے دین کو سب وشتمآخرت میں فضیحت و رسوائی کا موجب)
اور اس کے دائرہ سے خروج فسق(و نافرمانی)صوفی(تقوی شعار)صادق(العمل)عالم سنی صحیح العقیدہ پر خدا و رسول کے فرمان (واجب الاذعان کے مطابق)ہمیشہ یہ عقیدت رکھتا ہے کہ(یہاں اصل میں بیاض ہے)(علمائے شرع مبین و ارثان خاتم النبیین ہیں اور علوم شریعت کے نگہبان و علمبردارتو ان کی تعظیم و تکریم صاحب شریعت صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی تعظیم و تکریم ہے اور اس پر دین کا مدار)اور عالم متدین خدا طلب(خدا پرستخدا ترسخدا آگاہ)ہمیشہ صوفی سے(یہاں اصل میں بیاض ہے)(بتواضع و انکسار پیش آئے گا کہ وہ حق آگاہ اور حق کی پناہ میں ہے)اور اسے اپنے سے افضل و اکمل جانے گا(کہ وہ دنیاوی آلائشوں سے پاك ہے)جو اعمال اس(صوفی صاف حق پرست و حق آگاہ)کے اس کی نظر میں قانون تقوی سے باہر نظر آئیں گے(ان سے صرف نظر کرکے معاملہ عالم الغیب
جن کے رتبے ہیں سواان کو سوا مشکل ہے
آخر نہ دیکھا کہ سید المعصومین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم راترات بھر عبادات و نوافل میں مشغول اور کار امت کے لیے گریاں و ملول رہتےنماز پنجگانہ تو حضور پر فرض تھی ہی نماز تہجد کا ادا کرنا بھی حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پر لازم بلکہ فرض قرار دیا گیا جب کہ امت کے لیے وہی سنت کی سنت ہے۔
حضرت سید الطائفہ جنید بغدادی رضی اﷲ تعالی عنہ سے عرض کیا گیا کہ کچھ لوگ زعم کرتے ہیں کہ احکام شریعت تو وصول کا ذریعہ تھے اور ہم واصل ہوگئے یعنی اب ہمیں شریعت کی کیا حاجت۔فرمایا وہ سچ کہتے ہیںواصل ضرور ہوئے مگر کہاں تك جہنم تک۔
چور اور زانی ایسے عقیدے والوں سے بہتر ہیں اگر ہزار برس جیوں تو فرائض وواجبات تو بڑی چیز ہیںجو نوافل و مستحبات مقرر کردیئے ہیں بے عذر شرعی ان میں کچھ کم نہ کروں۔
تو خلق پر تمام راستے بند ہیں مگر وہ جو رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی نشان قدم کی پیروی کرے۔
خلاف پیغمبر کسے راہ گزید کہ ہر گز بہ منزل نہ خواہد رسید
(جس کسی نے پیغمبر صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے خلاف راستہ اختیار کیا ہر گز منزل مقصود پر نہ پہنچے گا)
توہین شریعت کفر(اور علمائے دین کو سب وشتمآخرت میں فضیحت و رسوائی کا موجب)
اور اس کے دائرہ سے خروج فسق(و نافرمانی)صوفی(تقوی شعار)صادق(العمل)عالم سنی صحیح العقیدہ پر خدا و رسول کے فرمان (واجب الاذعان کے مطابق)ہمیشہ یہ عقیدت رکھتا ہے کہ(یہاں اصل میں بیاض ہے)(علمائے شرع مبین و ارثان خاتم النبیین ہیں اور علوم شریعت کے نگہبان و علمبردارتو ان کی تعظیم و تکریم صاحب شریعت صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی تعظیم و تکریم ہے اور اس پر دین کا مدار)اور عالم متدین خدا طلب(خدا پرستخدا ترسخدا آگاہ)ہمیشہ صوفی سے(یہاں اصل میں بیاض ہے)(بتواضع و انکسار پیش آئے گا کہ وہ حق آگاہ اور حق کی پناہ میں ہے)اور اسے اپنے سے افضل و اکمل جانے گا(کہ وہ دنیاوی آلائشوں سے پاك ہے)جو اعمال اس(صوفی صاف حق پرست و حق آگاہ)کے اس کی نظر میں قانون تقوی سے باہر نظر آئیں گے(ان سے صرف نظر کرکے معاملہ عالم الغیب
حوالہ / References
بوستان سعدی دیباچہ کتاب مکتبہ شرکتِ علمیہ ملتان ص ۸
والشہادۃ پر چھوڑے گا بمصداق۔
ایکہ حمال عیب خویشتید طعنہ برعیب دیگراں مکنید
(اے اپنے عیبوں کو اٹھانے والو! دوسروں کے عیب پر طعنہ زنی مت کرو)
اے اﷲ ! سب کو ہدایت اور اس پر ثبات و استقامت(ثابت قدمی)اور اپنے محبوبوں اور سچے پکے عقیدوں پر جہان گزران سے اٹھاآمین یا ارحم الراحمین۔
اللھم لك الحمد والیك المشتکی وانت المستعان ط ولاحول ولا قوۃ الا باﷲ العلی العظیم وصلی اﷲ تعالی علی الحبیب المصطفی وعلی الہ الطیبین وصحبہ الطاہرین اجمعین
رسالہ اعتقاد الاحباب فی الجمیل والمصطفی والال والاصحاب ختم ہوا۔
مسئلہ ۱۳۷: از بریلی مدرسہ منظر الاسلام مسئولہ مولوی محمد افضل صاحب ۱۵ ربیع الاول شریف ۳۸ ۱۳ھ
موسی علیہ الصلوۃ والسلام خواہش امتی بودن سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم چرا کرد حالانکہ از مرتبہ نبوت دیگر مرتبہ نیست فوق آںو مرتبہ امت اسفل ازاں دیگر اینکہ ایں طور حدیث رابر عقائد چکار زیرا کہ انبیاء علیہم السلام درعلوئیں تمام عالم احتیاج ایشاں اندایشاں احتیاج کسے نیستندبینوا توجروا حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام نے سید عالم صلی اﷲ علیہ وسلم کا امتی ہونے کی خواہش کیوں کی حالانکہ مرتبہ نبوت سے کوئی اور مرتبہ بلند نہیں ہے اور امت کا مرتبہ نبوت کے مرتبہ سے نیچے ہےپھر اس طرح کی حدیث عقائد میں کیسے کار آمد ہوسکتی ہے اس لیے انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام بلندی کے اس مقام پر فائز ہیں کہ تمام جہا ن ان کا محتاج ہے وہ کسی کے محتاج نہیںبیان فرماؤ اجردیئے جاؤ گے۔(ت)
الجواب:
افضل غنی از فضل نیست سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم را مرتبہ از محبوبیت کبری و جملہ فضائل عالیہ چناں بخشیدند کہ مرکب کسے بغباراونر سدتیرہ دروناں برفضل دیگراں حسد برند و اہل کمال چوں بینند کہ مارا بآں دسترس نیست انتساب بآں محبوب خواہند افضل فضیلت سے مستغنی نہیں ہوتا۔سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو محبوبیت کبری کا بلند مرتبہ اور تمام فضائل عالیہ اس طور پر حاصل ہوئے کہ کسی کا مرکب ان کے غبار تك نہیں پہنچ سکتا۔تاریك دل والے دوسروں کی فضیلت پر حسد کرتے ہیں اور اہل کمال جب دیکھتے ہیں کہ ہمیں اس عظیم
ایکہ حمال عیب خویشتید طعنہ برعیب دیگراں مکنید
(اے اپنے عیبوں کو اٹھانے والو! دوسروں کے عیب پر طعنہ زنی مت کرو)
اے اﷲ ! سب کو ہدایت اور اس پر ثبات و استقامت(ثابت قدمی)اور اپنے محبوبوں اور سچے پکے عقیدوں پر جہان گزران سے اٹھاآمین یا ارحم الراحمین۔
اللھم لك الحمد والیك المشتکی وانت المستعان ط ولاحول ولا قوۃ الا باﷲ العلی العظیم وصلی اﷲ تعالی علی الحبیب المصطفی وعلی الہ الطیبین وصحبہ الطاہرین اجمعین
رسالہ اعتقاد الاحباب فی الجمیل والمصطفی والال والاصحاب ختم ہوا۔
مسئلہ ۱۳۷: از بریلی مدرسہ منظر الاسلام مسئولہ مولوی محمد افضل صاحب ۱۵ ربیع الاول شریف ۳۸ ۱۳ھ
موسی علیہ الصلوۃ والسلام خواہش امتی بودن سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم چرا کرد حالانکہ از مرتبہ نبوت دیگر مرتبہ نیست فوق آںو مرتبہ امت اسفل ازاں دیگر اینکہ ایں طور حدیث رابر عقائد چکار زیرا کہ انبیاء علیہم السلام درعلوئیں تمام عالم احتیاج ایشاں اندایشاں احتیاج کسے نیستندبینوا توجروا حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام نے سید عالم صلی اﷲ علیہ وسلم کا امتی ہونے کی خواہش کیوں کی حالانکہ مرتبہ نبوت سے کوئی اور مرتبہ بلند نہیں ہے اور امت کا مرتبہ نبوت کے مرتبہ سے نیچے ہےپھر اس طرح کی حدیث عقائد میں کیسے کار آمد ہوسکتی ہے اس لیے انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام بلندی کے اس مقام پر فائز ہیں کہ تمام جہا ن ان کا محتاج ہے وہ کسی کے محتاج نہیںبیان فرماؤ اجردیئے جاؤ گے۔(ت)
الجواب:
افضل غنی از فضل نیست سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم را مرتبہ از محبوبیت کبری و جملہ فضائل عالیہ چناں بخشیدند کہ مرکب کسے بغباراونر سدتیرہ دروناں برفضل دیگراں حسد برند و اہل کمال چوں بینند کہ مارا بآں دسترس نیست انتساب بآں محبوب خواہند افضل فضیلت سے مستغنی نہیں ہوتا۔سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو محبوبیت کبری کا بلند مرتبہ اور تمام فضائل عالیہ اس طور پر حاصل ہوئے کہ کسی کا مرکب ان کے غبار تك نہیں پہنچ سکتا۔تاریك دل والے دوسروں کی فضیلت پر حسد کرتے ہیں اور اہل کمال جب دیکھتے ہیں کہ ہمیں اس عظیم
کہ در زیر عنایتش بروجہے خاص باشند انبیاء رابدیگراں احتیاج نبودن مسلم فاما بہ سیدا نبیاء صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ہمہ رانیاز ست چنانکہ کریمہ اخذ میثاق ازانبیاء و حدیث صحیح مسلم یرغب الی الخلق کلھم حتی خلیل اﷲ ابراھیم ۔راں شاہد عدل ست ایں چنیں احادیث رابا ہیچ عقیدہ خلاف نیستواﷲ تعالی اعلم۔ مقام تك رسائی حاصل نہیں تو وہ اس عظیم محبوب کی طرف اپنی نسبت کرنے کی پسند کرتے ہیں تاکہ بطور خاص اس کی نظر عنایت میں ہوجائیںیہ بات مسلم ہے کہ انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام دوسروں کے محتاج نہیں لیکن سیدانبیاء صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی سب کو محتاجی ہےجیسا کہ انبیاء سے اخذ میثاق والی آیت کریمہ اور صحیح مسلم کی یہ حدیث اس پر شاہد عادل ہے کہ تمام مخلوق میری طرف راغب ہے حتی کہ جناب ابراہیم خلیل اﷲ علیہ الصلوۃ والسلام بھی۔اس قسم کی حدیثیں کسی عقیدہ کے مخالف نہیں۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۱۳۸: از گونڈل مرسلہ قاضی قاسم میاں صاحب ۲۶ ربیع الاخر شریف ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ عوام مومنین سے عوام ملائکہ کا مرتبہ زیادہ ہے یا نہیں عوام مومنین کی تشریح فرمائیں۔
الجواب:
حدیث میں ہے رب العزۃ جل و علا فرماتا ہے:عبدی المؤمن احب الی من بعض ملئکتی ۔میرا مسلمان بندہ مجھے میرے بعض فرشتوں سے زیادہ پیارا ہے۔
ہمارے رسول ملائکہ کے رسولوں سے افضل ہیںاور ملائکہ کے رسول ہمارے اولیاء سے افضل ہیںاور ہمارے اولیاء عوام ملائکہ یعنی غیر رسل سے افضل ہیں اور یہاں عوام مومنین سے یہی مراد ہے۔نہ فساق و فجار کہ ملائکہ سے کسی طرح افضل نہیں ہوسکتے۔انسان صفت ملکوتی و بہیمی وسبعی وشیطانی سب کا جامع ہے جو صفت اس پر غلبہ کرے گی اس کے منسوب الیہ سے زائد ہوجائے گا کہ اگر ملکوتی صفت غالب ہوئی کروڑوں ملائکہ سے افضل ہوگا۔اور بہیمی غالب ہوئی تو بہائم سے بدتر اولئک کالانعم بل ہم
مسئلہ ۱۳۸: از گونڈل مرسلہ قاضی قاسم میاں صاحب ۲۶ ربیع الاخر شریف ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ عوام مومنین سے عوام ملائکہ کا مرتبہ زیادہ ہے یا نہیں عوام مومنین کی تشریح فرمائیں۔
الجواب:
حدیث میں ہے رب العزۃ جل و علا فرماتا ہے:عبدی المؤمن احب الی من بعض ملئکتی ۔میرا مسلمان بندہ مجھے میرے بعض فرشتوں سے زیادہ پیارا ہے۔
ہمارے رسول ملائکہ کے رسولوں سے افضل ہیںاور ملائکہ کے رسول ہمارے اولیاء سے افضل ہیںاور ہمارے اولیاء عوام ملائکہ یعنی غیر رسل سے افضل ہیں اور یہاں عوام مومنین سے یہی مراد ہے۔نہ فساق و فجار کہ ملائکہ سے کسی طرح افضل نہیں ہوسکتے۔انسان صفت ملکوتی و بہیمی وسبعی وشیطانی سب کا جامع ہے جو صفت اس پر غلبہ کرے گی اس کے منسوب الیہ سے زائد ہوجائے گا کہ اگر ملکوتی صفت غالب ہوئی کروڑوں ملائکہ سے افضل ہوگا۔اور بہیمی غالب ہوئی تو بہائم سے بدتر اولئک کالانعم بل ہم
حوالہ / References
صحیح مسلم کتاب فضائل القرآن باب بیان القرآن انزل علی سبعۃ احرف قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۲۷۳
اتحاف السادۃ المتقین کتاب اسرار الصوم دارالفکر بیروت ۴ /۱۹۳
اتحاف السادۃ المتقین کتاب اسرار الصوم دارالفکر بیروت ۴ /۱۹۳
اضل " (جو چوپایوں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بڑھ کر گمراہ ہیں۔ت)یونہی سبعی و شیطانی وہابیہ کو دیکھوشیطان کہ ان سے سبق لیتا ہے ابلیس کو ہزاروں برس کی عمر میں نہ سوجھی تھیں جو انہیں سوجھتی ہیں۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۳۹: ازدارالطلبہ مدرسہ سبحانیہ الہ آباد مرسلہ مولوی ابراہیم صاحب ۱۷ رمضان ۱۳۳۸ھ
(۱)زید کہتا ہے کہ تقلید شخصی واجب نہیں کہ قرآن و حدیث سے ثابت نہیں اگر واجب ہوتی تو احادیث میں کہیں نہ کہیں ذکر ہوتا۔عمرو کہتا ہے واجب ہے بالخصوص امام اعظم رحمۃ اﷲ تعالی علیہ کیزید کا قول صحیح ہے یا عمر وکا
(۲)زید کہتا ہے قراء ت خلف الامام کرنی چاہیے نہ کی جائے گی تو نماز صحیح نہ ہوگیاور اس کے ثبوت میں احادیث پیش کرتا ہے عمرو کہتا ہے نہ کرنا چاہیےزید احادیث و تفاسیر کے علاوہ اور کسی دلیل کو نہیں مانتاکہتا ہے کہ فقہ قیاسی ہے احادیث وتفاسیر کے مقابل قابل عمل نہیں۔
(۳)زید کہتا ہے آمین بالجہر کرنا چاہیے کہ احادیث سے ثابت ہے۔عمرو مانع ہےکس کا قول ٹھیك ہے
الجواب:
(۱)تقلید فرض قطعی ہےقال اﷲ تعالی:
" فسـلوا اہل الذکر ان کنتم لا تعلمون ﴿۴۳﴾
" ۔ تو اے لوگو! علم والوں سے پوچھو اگر تمہیں علم نہیں ہے۔(ت)
وقال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
الاسئلوا ان لم یعلموافانما شفاء العی السؤال ۔ اگر وہ نہیں جانتے تو پوچھتے کیوں نہیں کیونکہ جہالت کی شفاء سوال کرنا ہے۔(ت)
اگر ایك مذہب کی پابندی نہ کی جائے تو یا وقت واحد میں شیئ واحد کو حرام بھی جانے گا اور حلال بھی جیسے قراءت مقتدی شافعیہ کے یہاں واجب اور حنفیہ کے یہاں حرام اور وقت واحد میں شے کا
مسئلہ ۱۳۹: ازدارالطلبہ مدرسہ سبحانیہ الہ آباد مرسلہ مولوی ابراہیم صاحب ۱۷ رمضان ۱۳۳۸ھ
(۱)زید کہتا ہے کہ تقلید شخصی واجب نہیں کہ قرآن و حدیث سے ثابت نہیں اگر واجب ہوتی تو احادیث میں کہیں نہ کہیں ذکر ہوتا۔عمرو کہتا ہے واجب ہے بالخصوص امام اعظم رحمۃ اﷲ تعالی علیہ کیزید کا قول صحیح ہے یا عمر وکا
(۲)زید کہتا ہے قراء ت خلف الامام کرنی چاہیے نہ کی جائے گی تو نماز صحیح نہ ہوگیاور اس کے ثبوت میں احادیث پیش کرتا ہے عمرو کہتا ہے نہ کرنا چاہیےزید احادیث و تفاسیر کے علاوہ اور کسی دلیل کو نہیں مانتاکہتا ہے کہ فقہ قیاسی ہے احادیث وتفاسیر کے مقابل قابل عمل نہیں۔
(۳)زید کہتا ہے آمین بالجہر کرنا چاہیے کہ احادیث سے ثابت ہے۔عمرو مانع ہےکس کا قول ٹھیك ہے
الجواب:
(۱)تقلید فرض قطعی ہےقال اﷲ تعالی:
" فسـلوا اہل الذکر ان کنتم لا تعلمون ﴿۴۳﴾
" ۔ تو اے لوگو! علم والوں سے پوچھو اگر تمہیں علم نہیں ہے۔(ت)
وقال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
الاسئلوا ان لم یعلموافانما شفاء العی السؤال ۔ اگر وہ نہیں جانتے تو پوچھتے کیوں نہیں کیونکہ جہالت کی شفاء سوال کرنا ہے۔(ت)
اگر ایك مذہب کی پابندی نہ کی جائے تو یا وقت واحد میں شیئ واحد کو حرام بھی جانے گا اور حلال بھی جیسے قراءت مقتدی شافعیہ کے یہاں واجب اور حنفیہ کے یہاں حرام اور وقت واحد میں شے کا
حوالہ / References
القرآن الکریم ۷ /۱۷۹
القرآن الکریم ۱۶ /۴۳
سنن ابی داؤد کتاب الطہارۃ باب المجدور یتیمم آفتاب عالم پریس لاہور ۱/۴۹
القرآن الکریم ۱۶ /۴۳
سنن ابی داؤد کتاب الطہارۃ باب المجدور یتیمم آفتاب عالم پریس لاہور ۱/۴۹
حرام و حلال دونوں ہونا محالیا یہ کرے گا کہ ایك وقت حلال سمجھے گا دوسرے وقت حرامتو یہ اس آیت میں داخل ہونا ہوگاکہ " یحلونہ عاما و یحرمونہ عاما" ۔(ایك سال اسے حلال ٹھہراتے ہیں اور ایك سال اسے حرام ٹھہراتے ہیں۔ت)لاجرم پابندی مذہب لازماور اس کی تفصیل ہمارے فتاوی میں ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
(۲)فقہ کا نہ ماننے والاشیطان ہےائمہ کا دامن جو نہ تھامے وہ قیامت تك کوئی اختلافی مسئلہ حدیث سے ثابت نہیں کرسکتاجسے دعوی ہو سامنے آئے اور زیادہ نہیں اسی کا ثبوت دے کہکتا کھانا حلال ہے یا حرام آیت نے تو کھانے کی حرام چیزوں کو صرف چار۴ میں حصر فرمایا ہے۔مردار اور رگوں کا خوناور خنزیر کا گوشت اور وہ جو غیر خدا کے نام پر ذبح کیا جائے تو کتا درکنار سوئر کی چربی اور گردے اور اوجڑی کہاں سے حرام ہوگی کسی حدیث میں ان کی تحریم نہیں اور آیت میں لحم فرمایا ہے جو ان کو شامل نہیںغرض یہ لوگ شیاطین ہیںان کی بات سننا جائز نہیںواﷲ تعالی اعلم۔
(۳)عمرو کا قول ٹھیك ہےآمین دعا ہے اور دعا کے اخفاء کا قرآن عظیم میں حکم ہے اور حدیث مرفوع بھی اسی کا افادہ فرماتی ہے کہ:
واذاقال ولا الضالین قولوا امین فان الامام یقولہا ۔ جب امام ولاالضالین کہے تم آمین کہو کہ امام بھی کہے گا۔
معلوم ہوا کہ آہستہ کہے گااصل یہ ہے کہ امام کے فعل کے ساتھ اس کا فعل ہو اگر وہ آمین بالجہر کہتا مقتدیوں کو معلوم ہوتا تو یہ فرمایا جاتا کہ جب وہ آمین کہے تم بھی کہو۔یہاں یہ نہ فرمایا بلکہ اس کا فعل بتایا کہ جب وہ ولا الضالین کہے تم امین کہو اور اس کی موافقت کہ خفی تھی ظاہر فرمادی کہ وہ بھی کہے گا۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۴۲: از شہر محلہ سوداگراں مسئولہ احسان علی طالب علم مدرسہ منظر الاسلام ۱۸ صفر ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کہتا ہے کہ قیام میلاد شریف اگر مطلقا ذکر خیر کی
(۲)فقہ کا نہ ماننے والاشیطان ہےائمہ کا دامن جو نہ تھامے وہ قیامت تك کوئی اختلافی مسئلہ حدیث سے ثابت نہیں کرسکتاجسے دعوی ہو سامنے آئے اور زیادہ نہیں اسی کا ثبوت دے کہکتا کھانا حلال ہے یا حرام آیت نے تو کھانے کی حرام چیزوں کو صرف چار۴ میں حصر فرمایا ہے۔مردار اور رگوں کا خوناور خنزیر کا گوشت اور وہ جو غیر خدا کے نام پر ذبح کیا جائے تو کتا درکنار سوئر کی چربی اور گردے اور اوجڑی کہاں سے حرام ہوگی کسی حدیث میں ان کی تحریم نہیں اور آیت میں لحم فرمایا ہے جو ان کو شامل نہیںغرض یہ لوگ شیاطین ہیںان کی بات سننا جائز نہیںواﷲ تعالی اعلم۔
(۳)عمرو کا قول ٹھیك ہےآمین دعا ہے اور دعا کے اخفاء کا قرآن عظیم میں حکم ہے اور حدیث مرفوع بھی اسی کا افادہ فرماتی ہے کہ:
واذاقال ولا الضالین قولوا امین فان الامام یقولہا ۔ جب امام ولاالضالین کہے تم آمین کہو کہ امام بھی کہے گا۔
معلوم ہوا کہ آہستہ کہے گااصل یہ ہے کہ امام کے فعل کے ساتھ اس کا فعل ہو اگر وہ آمین بالجہر کہتا مقتدیوں کو معلوم ہوتا تو یہ فرمایا جاتا کہ جب وہ آمین کہے تم بھی کہو۔یہاں یہ نہ فرمایا بلکہ اس کا فعل بتایا کہ جب وہ ولا الضالین کہے تم امین کہو اور اس کی موافقت کہ خفی تھی ظاہر فرمادی کہ وہ بھی کہے گا۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۴۲: از شہر محلہ سوداگراں مسئولہ احسان علی طالب علم مدرسہ منظر الاسلام ۱۸ صفر ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کہتا ہے کہ قیام میلاد شریف اگر مطلقا ذکر خیر کی
حوالہ / References
القرآن الکریم ۹ /۳۷
سنن النسائی کتاب الافتتاح باب جہر الامام آمین نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ۱/ ۱۴۷،مسند احمد بن حنبل عن ابی ھریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۲/ ۲۷۰
سنن النسائی کتاب الافتتاح باب جہر الامام آمین نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ۱/ ۱۴۷،مسند احمد بن حنبل عن ابی ھریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۲/ ۲۷۰
وجہ سے کیا جاتا ہے تو اول وقت سے کیوں نہیں کیا جاتا اس لیے کہ اول سے ذکر خیر ہی ہوتا ہےاور اگر اس خیال سے کیا جاتا ہے کہ حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم رونق افروز ہوتے ہیں تو کیا حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اول وقت سے رونق افروز نہیں ہوتے اگر ہوتے تو ابتداء مجلس مبارك قیام ہی سے کیوں نہیں ہوتا اور اگر نہیں تو کیا فظھرفولد(صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم)ہی کے وقت جلوہ افروز ہوتے اور تا قیام تشریف فرمارہتے اور فورا لوگوں کے بیٹھتے ہی تشریف لے جاتے ہیں تو اس سے معلوم ہوتا ہےکہ حضور کا آنا لوگوں کے قیام ونیز میلادخواں کے فظھر فولد کہنے پر موقوف ہےکیا یہ زید کا کہنا لغو ہے یا نہیں اور اس کا کافی جواب کیا ہے بینوا توجروا(بیان فرماؤ اجر دیئے جاؤ گے۔ت)
الجواب:
زید کی یہ سب حماقتیں جہالتیں سفاہتیں ہیں مہمل ولا یعنی شقوق اپنی طرف سے ایجاد کیے اور جو وجہ حقیقی ہے اس کی طرف اسے ہدایت نہ ہوئیتعظیم ذکر اقدس مثل تعظیم ذات انور ہے صلی اﷲ تعالی علیہ وسلمتعظیم ذات باختلاف حالات مختلف ہوتی ہےمعظم کے قدوم کے وقت قیام کیا جاتا ہے اور اس کے حضور کے وقت بادب اس کے سامنے بیٹھنا تعظیم ہے۔ذکر شریف میں بھی ذکر قدوم کی تعظیم قیام سے ہے اور باقی وقت کی تعظیم بادب قعود سے۔ولکن الوھابیۃ قوم لایعقلون(لیکن وہابی بے عقل قوم ہے۔ت)واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۴۳:مسئولہ مولینا مولوی سید غلام قطب الدین صاحب پر دیسی جی برہمچاری از شہر محلہ باسمنڈی ۳ربیع الاول شریف ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ اب کی دس جنوری کی اشاعت میں راما سنگھم نے قرآن عظیم کی تین آیات کا حوالہ دے کر محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو(معاذ اﷲ)گنہگار قرار دیا ہے ان میں سے پہلی دو میں رسول مقبول(صلی اﷲ تعالی علیہ و سلم)کو یوں مخاطب کیا ہے۔تو اپنے گناہوں کی معافی مانگ۔تیسری آیت کا مطلب یہ ہےفی الواقعی ہم نے تیرے واسطے بلا شبہہ کا میابی حاصل کی ہے کہ خدا تیرے اگلے پچھلے گناہ معاف کرتا ہے مسٹر حسن ہم کو اس بات کا یقین دلاتے ہیں کہ ان آیات میں تو سے مراد تو ہر گز نہیں ہے بلکہ اس کا اشارہ اسلام کے نبی کے پیروؤں کے گناہوں اور غلطیوں کی طرف ہے یہ بات مشکل ہے کہ اس مباحثہ کو قابل یقین سمجھا جائے کیونکہ اگر عربی زبان ایسی ہی پیچیدہ ہے کہ ہر ایك پڑھنے والا اپنی خواہش کے مطابق مطلب لے سکتا ہے تب قرآن عظیم سے جو چاہیں مطلب لے سکتے ہیںتاہم مسٹر حسن کا یہ بیان ہے کہ وہ آیات زیر مباحثہ کے ان معنوں پر اعتقاد
الجواب:
زید کی یہ سب حماقتیں جہالتیں سفاہتیں ہیں مہمل ولا یعنی شقوق اپنی طرف سے ایجاد کیے اور جو وجہ حقیقی ہے اس کی طرف اسے ہدایت نہ ہوئیتعظیم ذکر اقدس مثل تعظیم ذات انور ہے صلی اﷲ تعالی علیہ وسلمتعظیم ذات باختلاف حالات مختلف ہوتی ہےمعظم کے قدوم کے وقت قیام کیا جاتا ہے اور اس کے حضور کے وقت بادب اس کے سامنے بیٹھنا تعظیم ہے۔ذکر شریف میں بھی ذکر قدوم کی تعظیم قیام سے ہے اور باقی وقت کی تعظیم بادب قعود سے۔ولکن الوھابیۃ قوم لایعقلون(لیکن وہابی بے عقل قوم ہے۔ت)واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۴۳:مسئولہ مولینا مولوی سید غلام قطب الدین صاحب پر دیسی جی برہمچاری از شہر محلہ باسمنڈی ۳ربیع الاول شریف ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ اب کی دس جنوری کی اشاعت میں راما سنگھم نے قرآن عظیم کی تین آیات کا حوالہ دے کر محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو(معاذ اﷲ)گنہگار قرار دیا ہے ان میں سے پہلی دو میں رسول مقبول(صلی اﷲ تعالی علیہ و سلم)کو یوں مخاطب کیا ہے۔تو اپنے گناہوں کی معافی مانگ۔تیسری آیت کا مطلب یہ ہےفی الواقعی ہم نے تیرے واسطے بلا شبہہ کا میابی حاصل کی ہے کہ خدا تیرے اگلے پچھلے گناہ معاف کرتا ہے مسٹر حسن ہم کو اس بات کا یقین دلاتے ہیں کہ ان آیات میں تو سے مراد تو ہر گز نہیں ہے بلکہ اس کا اشارہ اسلام کے نبی کے پیروؤں کے گناہوں اور غلطیوں کی طرف ہے یہ بات مشکل ہے کہ اس مباحثہ کو قابل یقین سمجھا جائے کیونکہ اگر عربی زبان ایسی ہی پیچیدہ ہے کہ ہر ایك پڑھنے والا اپنی خواہش کے مطابق مطلب لے سکتا ہے تب قرآن عظیم سے جو چاہیں مطلب لے سکتے ہیںتاہم مسٹر حسن کا یہ بیان ہے کہ وہ آیات زیر مباحثہ کے ان معنوں پر اعتقاد
رکھتے اور قرآن عظیم کے مفسرین کی صنعت کو مانتے ہیں مجھ کو خوف ہے کہ مسٹر حسن نے تفسیروں کو غور سے نہیں پڑھا ہے۔کیونکہ میں ذیل میں یہ دکھاؤں گا کہ قرآن عظیم کے مسلم مفسرین محمد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے گنہگار ہونے کو (معاذ اﷲ)صاف طور سے مانتے ہیں اور بعض موقعوں پر ان خاص گناہوں کو بتاتے ہیں جن کی بابت رسول مقبول(صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم)سے معافی مانگنے کو کہا گیا ہم وہ تین آیات لیتے ہیں جو راماسنگھم نے نقل کی ہیںاول سورہ محمد(صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم)کی انتیسویں آیت ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ تو معافی مانگ اپنے گناہوں اور اپنے معتقدین کی خواہ مرد ہوں خواہ عورتیہاں پر کسی حالت میں بھی تو کے معنی پیروؤں کے نہیں ہوسکتے چونکہ ان لوگوں کا ذکر خود بھی آچکا ہے۔اور حرف عطف سب پیچیدگیوں کو صاف کردیتا ہے نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے پہلے اپنی اور بعد کو اپنے پیروؤں کی معافی مانگنے کو کہا گیا ہے۔دوسری سورہ مومن کی پچیسیویں آیت ہے اور اس کا مطلب یہ ہے تو اپنے گناہوں کی معافی مانگ اس بات کو یقین کرنا دشوار ہے کہ آپ کے مسٹر حسن نے درحقیقت مفسرین سے دریافت کیا ہوگا اگر وہ دریافت کرلیتے تو کبھی نہ کہتے کہ وے لوگ اس بات کو راما سنگھم پر صاف عیاں کردیں گے کہ مسلمانوں کے پیغمبر(صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم)ہر گناہ سے معصوم ہیں اس سے کہیں دور وہ صاف طور سے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی گنہگاری کو مانتے ہیںابن عباس بڑے بھاری مفسرین میں سے ہیں اور اپنی تفسیر میں اس طرح سے کہتے ہیں: واستغفر عــــــہ لذنبك لتقصیروالشکر علی ما انعم اﷲ علیك وعلی اصحابك اس کے معنی یہ ہیں کہ تو معافی مانگ اپنے گناہوں کی وہ یہ کہ تو نے خدا کی اس مہربانی کے شکر گزار ہونے میں غفلت کی جو کہ خدا نے تیرے پیروؤں پر کی۔
زمخشری ایك بڑے بھاری مفسر اپنی تفسیر الکشاف میں یوں لکھتے ہیں:لکن یغفر اﷲ لك ماتقدم من ذنبك قبل الوحی وما تا خرو ما یکون بعد الوحی الی الموت اس کے معنی یہ ہیں کہ خدا تیرے گناہ جو کہ وحی آنے کے قبل ہوئے ہیں اور اس کے بعد میں یعنی مرتے وقت تك معاف کردے۔بینوا توجروا۔
الجواب:
اس سوال میں آریہ نے افتراء وجہالت و نافہمی و بے ایمانی سے کامل لیا۔
عــــــہ:ھکذا بخطہ۔۱۲منہ
زمخشری ایك بڑے بھاری مفسر اپنی تفسیر الکشاف میں یوں لکھتے ہیں:لکن یغفر اﷲ لك ماتقدم من ذنبك قبل الوحی وما تا خرو ما یکون بعد الوحی الی الموت اس کے معنی یہ ہیں کہ خدا تیرے گناہ جو کہ وحی آنے کے قبل ہوئے ہیں اور اس کے بعد میں یعنی مرتے وقت تك معاف کردے۔بینوا توجروا۔
الجواب:
اس سوال میں آریہ نے افتراء وجہالت و نافہمی و بے ایمانی سے کامل لیا۔
عــــــہ:ھکذا بخطہ۔۱۲منہ
عبارت کہ کشاف کی طرف نسبت کی محض بہتان ہےکشاف میں اس کا پتہ نہیں
(۲)بالفرض اگر کشاف میں ہوتی تو وہ ایك معتزلی بدمذہب بے ادب کی تصنیف ہے اس کا کیا اعتبار۔
(۳)یہ تفسیر کہ منسوب بسید نا ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما ہے نہ ان کی کتاب ہے نہ ان سے ثابت یہ بسند محمد بن مروان عن الکلبی عن ابی صالح مروی ہے اور ائمہ دین اس سند کو فرماتے ہیں کہ یہ سلسلہ کذب ہے تفسیر اتقان شریف میں ہے:
واوھی طرقہ طریق الکلبی عن ابی صالح عن ابن عباس فان انضم الی ذلك روایۃ محمد بن مروان اسدی الصغیر فھی سلسلۃ الکذب ۔ اس کے طرق میں سے کمزور ترین طریق کلبی کا ابوصالح سے اور اس کا ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے روایت کرنا اگر اس کے ساتھ محمد بن مروان اسدی کی روایت مل جائے تو کذب کا سلسلہ ہے۔(ت)
(۴)اس کے ترجمے میں بھی آریہ نے تحریف کی ہےعبارت یہ ہے:لتقصیر الشکر علی ما انعم اﷲ علیك وعلی اصحابک۔
یعنی اﷲ عزوجل نے آپ پر اور آپ کے اصحاب پر جو نعمتیں فرمائیں ان کے شکر میں جس قدر کمی واقع ہوئی اس کے اس لیے استغفار فرمائیے۔
کہاں کمی اور کہاں غفلتنعمائے الہیہ ہر فرد پر بے شمار حقیقۃ غیر متناہی بالفعل ہیں کما حققہ المفتی ابوالسعود فی ارشاد العقل السلیم(جیسا کہ مفتی ابوالسعود نے ارشاد العقل السلیم میں اس کی تحقیق کی ہے۔ت)قال اﷲ عزوجل " و ان تعدوا نعمۃ اللہ لا تحصوہا " ۔اگر اﷲ کی نعمتیں گننا چاہو تو نہ گن سکو گےجب اس کی نعمتوں کو کوئی گن نہیں سکتا تو ہر نعمت کا پورا شکر کون ادا کرسکتا ہے۔
ازدست و زباں کہ برآید کزعہدہ شکرش بدر آید
(کس کے ہاتھ اور زبان سے ممکن ہے کہ اس کے شکر سے عہدہ برآ ہوسکے۔ت)
(۲)بالفرض اگر کشاف میں ہوتی تو وہ ایك معتزلی بدمذہب بے ادب کی تصنیف ہے اس کا کیا اعتبار۔
(۳)یہ تفسیر کہ منسوب بسید نا ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما ہے نہ ان کی کتاب ہے نہ ان سے ثابت یہ بسند محمد بن مروان عن الکلبی عن ابی صالح مروی ہے اور ائمہ دین اس سند کو فرماتے ہیں کہ یہ سلسلہ کذب ہے تفسیر اتقان شریف میں ہے:
واوھی طرقہ طریق الکلبی عن ابی صالح عن ابن عباس فان انضم الی ذلك روایۃ محمد بن مروان اسدی الصغیر فھی سلسلۃ الکذب ۔ اس کے طرق میں سے کمزور ترین طریق کلبی کا ابوصالح سے اور اس کا ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے روایت کرنا اگر اس کے ساتھ محمد بن مروان اسدی کی روایت مل جائے تو کذب کا سلسلہ ہے۔(ت)
(۴)اس کے ترجمے میں بھی آریہ نے تحریف کی ہےعبارت یہ ہے:لتقصیر الشکر علی ما انعم اﷲ علیك وعلی اصحابک۔
یعنی اﷲ عزوجل نے آپ پر اور آپ کے اصحاب پر جو نعمتیں فرمائیں ان کے شکر میں جس قدر کمی واقع ہوئی اس کے اس لیے استغفار فرمائیے۔
کہاں کمی اور کہاں غفلتنعمائے الہیہ ہر فرد پر بے شمار حقیقۃ غیر متناہی بالفعل ہیں کما حققہ المفتی ابوالسعود فی ارشاد العقل السلیم(جیسا کہ مفتی ابوالسعود نے ارشاد العقل السلیم میں اس کی تحقیق کی ہے۔ت)قال اﷲ عزوجل " و ان تعدوا نعمۃ اللہ لا تحصوہا " ۔اگر اﷲ کی نعمتیں گننا چاہو تو نہ گن سکو گےجب اس کی نعمتوں کو کوئی گن نہیں سکتا تو ہر نعمت کا پورا شکر کون ادا کرسکتا ہے۔
ازدست و زباں کہ برآید کزعہدہ شکرش بدر آید
(کس کے ہاتھ اور زبان سے ممکن ہے کہ اس کے شکر سے عہدہ برآ ہوسکے۔ت)
حوالہ / References
الاتقان فی علوم القرآن النوع التاسع والسبعون فی غرائب التفسیر مصطفی البابی مصر ۲/ ۱۸۹
القرآن الکریم ۱۴ /۳۴
القرآن الکریم ۱۴ /۳۴
شکر میں ایسی کمی ہر گز گناہ بمعنی معروف نہیں بلکہ لازمہ بشریت ہے نعمائے الہیہ ہر وقت ہر لمحہ ہر آن ہر حال میں متزائد ہیں خصوصا خاصوں پر خصوصا ان پر جو سب خاصوں کے سردار ہیں اور بشر کو کسی وقت کھانے پینے سونے میں مشغولی ضروراگرچہ خاصوں کے یہ افعال بھی عبادت ہی ہیں مگر اصل عبادت سے تو ایك درجہ کم ہیں اس کمی کو تقصیر اور اس تقصیر کو ذنب سے تعبیر فرمایا گیا۔
(۵)بلکہ خود نفس عبارت گواہ ہے کہ یہ جسے ذنب فرمایا گیا ہر گز حقیقۃ ذنب بمعنی گناہ نہیں۔
ما تقدم سے کیا مراد لیاوحی اترنے سے پیشتر کےاور گناہ کسے کہتے ہیںمخالفت فرمان کواور فرمان کا ہے سے معلوم ہوگاوحی سے۔تو جب تك وحی نہ اتری تھی فرمان کہاں تھا جب فرمان نہ تھا مخالفت فرمان کے کیا معنیاور جب مخالفت فرمان نہیں تو گناہ کیا۔
(۶)جس طرح ماتقدم میں ثابت ہولیا کہ حقیقۃ ذنب نہیں۔یوں ہی ماتاخر میں نقد و قت ہے قبل ابتدائے نزول فرمان جو افعال جائز ہوئے کہ بعد کو فرمان ان کے منع پر اترا اور انہیں یوں تعبیر فرمایا گیا حالانکہ ان کا حقیقہ گناہ ہونا کوئی معنی ہی نہ رکھتا تھا۔یونہی بعدنزول وحی و ظہور رسالت بھی جو افعال جائز فرمائے اور بعد کو ان کی ممانعت اتری اسی طریقے سے ان کو ما تاخر فرمایا کہ وحی بتدریج نازل ہوئی نہ کہ دفعۃ۔
(۷)نہ ہر تفسیر معتبر نہ ہر مفسر مصیبمشرك کا ظلم ہے کہ نام لے آیات کا اور دامن پکڑے نا معتبر تفسیرات کا۔ایسا ہی ہے تو وہ لغویات و ہزلیات و فحشیات کہ ایك مہذب آدمی کو انہیں بکتے بلکہ دوسرے آدمی سے نقل کرتے عار آئے جو آریہ کے ویدوں میں اہلی گہلی پھررہی ہیں اور خود بندگان وید نے اس کے ترجموں میں وہی حد بھر کے گندے گھناؤنے فحش لکھے ان سے آریہ کی جان کیونکر چھوٹے گی مثلا یجروید میں ایشور کی بیماری کا حال لکھا کہ بستر بیماری پر پڑے پکار رہے ہیں کہ اوسیکڑوں کی طرح کی عقل و علم رکھنے والو ! تمہاری سیکڑوں ہزاروں طرح کی بوٹیاں ہیں ان میں سے میرے شریر کو نروگ کرواے اماں جان ! تو بھی ایسا ہی کر نیز یہ بھی فرمارہے ہیں کہ اے بوٹیوں کے مانند فائدہ دینے والی دیوی ماتا ! میں فرزند تجھ کو بہت نصیحت کرتا ہوں ماما جی کہتی اے لائق بیٹے! میں والدہ تیرے گھوڑے گائیںزمینکپڑےجان کی حفاظت و پرورش کرتی تو مجھے نصیحت مت کرو اسی یجروید کے ادھیائے ۳۱ منتر اول میں ایشور کے متعلق ہے اس کے ہزار سر ہیں ہزار آنکھیں ہیں ہزار پاؤں ہیں زمین پر وہ سب جگہ ہے الٹا سیدھا تب بھی دس انگلی کے فاصلے پر ہر آدمی کے آگے بیٹھا ہے۔نیز ویدوں میں اس کا نام سروبیاپك ہے یعنی وہ ہر جگہ سمایا ہواہر چیز میں رما ہواہر خلا میں گھسا ہوا ہےہر جانور کی مقعد ہر مادہ کی فرج ہر پاخانہ کی ڈھیری میں ایشور
(۵)بلکہ خود نفس عبارت گواہ ہے کہ یہ جسے ذنب فرمایا گیا ہر گز حقیقۃ ذنب بمعنی گناہ نہیں۔
ما تقدم سے کیا مراد لیاوحی اترنے سے پیشتر کےاور گناہ کسے کہتے ہیںمخالفت فرمان کواور فرمان کا ہے سے معلوم ہوگاوحی سے۔تو جب تك وحی نہ اتری تھی فرمان کہاں تھا جب فرمان نہ تھا مخالفت فرمان کے کیا معنیاور جب مخالفت فرمان نہیں تو گناہ کیا۔
(۶)جس طرح ماتقدم میں ثابت ہولیا کہ حقیقۃ ذنب نہیں۔یوں ہی ماتاخر میں نقد و قت ہے قبل ابتدائے نزول فرمان جو افعال جائز ہوئے کہ بعد کو فرمان ان کے منع پر اترا اور انہیں یوں تعبیر فرمایا گیا حالانکہ ان کا حقیقہ گناہ ہونا کوئی معنی ہی نہ رکھتا تھا۔یونہی بعدنزول وحی و ظہور رسالت بھی جو افعال جائز فرمائے اور بعد کو ان کی ممانعت اتری اسی طریقے سے ان کو ما تاخر فرمایا کہ وحی بتدریج نازل ہوئی نہ کہ دفعۃ۔
(۷)نہ ہر تفسیر معتبر نہ ہر مفسر مصیبمشرك کا ظلم ہے کہ نام لے آیات کا اور دامن پکڑے نا معتبر تفسیرات کا۔ایسا ہی ہے تو وہ لغویات و ہزلیات و فحشیات کہ ایك مہذب آدمی کو انہیں بکتے بلکہ دوسرے آدمی سے نقل کرتے عار آئے جو آریہ کے ویدوں میں اہلی گہلی پھررہی ہیں اور خود بندگان وید نے اس کے ترجموں میں وہی حد بھر کے گندے گھناؤنے فحش لکھے ان سے آریہ کی جان کیونکر چھوٹے گی مثلا یجروید میں ایشور کی بیماری کا حال لکھا کہ بستر بیماری پر پڑے پکار رہے ہیں کہ اوسیکڑوں کی طرح کی عقل و علم رکھنے والو ! تمہاری سیکڑوں ہزاروں طرح کی بوٹیاں ہیں ان میں سے میرے شریر کو نروگ کرواے اماں جان ! تو بھی ایسا ہی کر نیز یہ بھی فرمارہے ہیں کہ اے بوٹیوں کے مانند فائدہ دینے والی دیوی ماتا ! میں فرزند تجھ کو بہت نصیحت کرتا ہوں ماما جی کہتی اے لائق بیٹے! میں والدہ تیرے گھوڑے گائیںزمینکپڑےجان کی حفاظت و پرورش کرتی تو مجھے نصیحت مت کرو اسی یجروید کے ادھیائے ۳۱ منتر اول میں ایشور کے متعلق ہے اس کے ہزار سر ہیں ہزار آنکھیں ہیں ہزار پاؤں ہیں زمین پر وہ سب جگہ ہے الٹا سیدھا تب بھی دس انگلی کے فاصلے پر ہر آدمی کے آگے بیٹھا ہے۔نیز ویدوں میں اس کا نام سروبیاپك ہے یعنی وہ ہر جگہ سمایا ہواہر چیز میں رما ہواہر خلا میں گھسا ہوا ہےہر جانور کی مقعد ہر مادہ کی فرج ہر پاخانہ کی ڈھیری میں ایشور
ہی ایشور ہے۔دیانند نے محض زبردستی ان کی کایا پلٹ کی اور انہیں فحش سے نکالا مگر اور مترجموں کا ترجمہ کہاں مٹ جائے گا مفسر تو اپنی طرف سے مطلب کہتا ہے اور مترجم خود اصل کلام کو دوسری زبان میں بیان کرتا ہے ترجمے کی غلطی اگر ہوتی ہے تو دو ایك لفظ کے معنی میں نہ کہ سارے کا سارا کلام محض فحش سے حکمت کی طرف پلٹ دیا جائے اور اگر سنسکرت ایسی ہی پیچیدہ زبان ہے جس کی سطروں کی سطریں چاہے فحش سے ترجمہ کردو خواہ حکمت سے تو وہ کلام کیا ہوا بھان متی کا گورکھ دھندا ہوا اور اس کے کس حرف پر اعتماد ہوسکتا ہےنہیں معلوم کہ مالا جپی ہے یا گالی بکی ہے۔
(۸)استدلال بڑی ذمہ داری کا کام ہے آریہ بیچارہ کیا کھا کر اس سے عہدہ برآمدہوسکتا ہے۔
نباشد بہ آئین تحقیق دال کچوری و پوری و بھجیا و دال
شرط تمامی استدلال قطع ہر احتمال ہے علم کا قاعدہ مسلمہ ہے۔
اذا جاء الاحتمال بطل الاستدلال ۔ جب احتمال آجائے تو استدلال باطل ہوجاتا ہے۔(ت)
سورہ مومن و سورہ محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی آیات کریمہ میں کون سی دلیل قطعی ہے۔کہ خطاب حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے ہےمومن میں تو اتنا ہے۔:" و استغفر لذنبک" ۔اے شخص اپنی خطا کی معافی چاہ کسی کا خاص نام نہیں کوئی دلیل تخصیص کلام نہیںقرآن عظیم تمام جہاں کی ہدایت کے لیے اترا نہ صرف اس وقت کے موجودین بلکہ قیامت تك کے آنے والوں سے وہ خطاب فرماتا ہے" واقیموا الصلوۃ" ۔نماز برپا رکھو۔یہ خطاب جیسا صحابہ کرام رضی اﷲ تعالی عنہم سے تھا ویسا ہی ہم سے بھی ہے اور تا قیام قیامت ہمارے بعد آنے والی نسلوں سے بھی۔اسی قرآن عظیم میں ہے:
" لانذرکم بہ ومن بلغ " ۔ تاکہ میں اس سے تمہیں ڈراؤں اور جن جن کو پہنچے(ت)
کتب کا عام قاعدہ ہے کہ خطاب ہر سامع سے ہوتا ہے بداں اسعدك اﷲ تعالی(تو جان لے اﷲ تعالی
(۸)استدلال بڑی ذمہ داری کا کام ہے آریہ بیچارہ کیا کھا کر اس سے عہدہ برآمدہوسکتا ہے۔
نباشد بہ آئین تحقیق دال کچوری و پوری و بھجیا و دال
شرط تمامی استدلال قطع ہر احتمال ہے علم کا قاعدہ مسلمہ ہے۔
اذا جاء الاحتمال بطل الاستدلال ۔ جب احتمال آجائے تو استدلال باطل ہوجاتا ہے۔(ت)
سورہ مومن و سورہ محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی آیات کریمہ میں کون سی دلیل قطعی ہے۔کہ خطاب حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے ہےمومن میں تو اتنا ہے۔:" و استغفر لذنبک" ۔اے شخص اپنی خطا کی معافی چاہ کسی کا خاص نام نہیں کوئی دلیل تخصیص کلام نہیںقرآن عظیم تمام جہاں کی ہدایت کے لیے اترا نہ صرف اس وقت کے موجودین بلکہ قیامت تك کے آنے والوں سے وہ خطاب فرماتا ہے" واقیموا الصلوۃ" ۔نماز برپا رکھو۔یہ خطاب جیسا صحابہ کرام رضی اﷲ تعالی عنہم سے تھا ویسا ہی ہم سے بھی ہے اور تا قیام قیامت ہمارے بعد آنے والی نسلوں سے بھی۔اسی قرآن عظیم میں ہے:
" لانذرکم بہ ومن بلغ " ۔ تاکہ میں اس سے تمہیں ڈراؤں اور جن جن کو پہنچے(ت)
کتب کا عام قاعدہ ہے کہ خطاب ہر سامع سے ہوتا ہے بداں اسعدك اﷲ تعالی(تو جان لے اﷲ تعالی
تجھے سعادت مند بنائے۔ت)میں کوئی خاص شخص مراد نہیں۔خود قرآن عظیم میں فرمایا:
" ارءیت الذی ینہی ﴿۹﴾ عبدا اذا صلی ﴿۱۰﴾ ارءیت ان کان علی الہدی ﴿۱۱﴾ او امر بالتقوی ﴿۱۲﴾" ۔ (ابوجہل لعین نے حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو نماز سے روکنا چاہا اس پر یہ آیت کریمہ اتریں)کہ کیا تو نے دیکھا اسے جو روکتا ہے بندے کو جب وہ نماز پڑھےبھلا دیکھو تو اگر وہ بندہ ہدایت پر ہو یا پرہیزگاری کا حکم فرمائے۔
یہاں بندے سے مراد حضور اقدس ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلماور غائب کی ضمیریں حضور کی طرف ہیں اور مخاطب کی ہر سامع کی طرفبلکہ فرماتا ہے:
" فما یکذبک بعد بالدین ﴿۷﴾" ۔ (ان روشن دلیلوں کے بعد)کیا چیز تجھے روز قیامت کے جھٹلانے پر باعث ہورہی ہے۔
یہ خطاب خاص کفارسے ہے بلکہ ان میں بھی خاص منکران قیامت مثل مشرکین آریہ و ہنود سےیونہی دونوں سورہ کریمہ میں کاف خطاب ہر سامع کے لیے ہے کہ اے سننے والے اپنے اور اپنے سب مسلمان بھائیوں کے گناہ کی معافی مانگ۔
(۹)بلکہ آیت محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم میں تو صاف قرینہ موجود ہے کہ خطاب حضور سے نہیںاس کی ابتداء یوں ہے:
" فاعلم انہ لا الہ الا اللہ و استغفر لذنبک و للمؤمنین و المؤمنت"۔ جان لے کہ اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں اور اپنی اور مسلمان مردوں اور عورتوں کی معافی چاہ۔
تو یہ خطاب اس سے ہے جو ابھی لا الہ الا اﷲ نہیں جانتا ورنہ جاننے والے کو جاننے کا حکم دینا تحصیل حاصل ہےتو معنی یہ ہوئے کہ اے سننے والے جسے ابھی تو حید پر یقین نہیں کسے باشد تو حید پر یقین لا اور اپنے اور اپنے بھائی مسلمانوں کے گناہ کی معافی مانگتتمہ آیت میں اس عموم کو واضح فرمادیا کہ:
" و اللہ یعلم متقلبکم و مثوىکم ﴿۱۹﴾" ۔ اﷲ جانتا ہے جہاں تم سب لوگ کروٹیں لے رہے ہواور جہاں تم سب کا ٹھکانا ہے۔
اگر فاعلم میں تاویل کرے تو ذنبك میں تاویل سے کون مانع ہے اور اگر ذنبك میں تاویل نہیں
" ارءیت الذی ینہی ﴿۹﴾ عبدا اذا صلی ﴿۱۰﴾ ارءیت ان کان علی الہدی ﴿۱۱﴾ او امر بالتقوی ﴿۱۲﴾" ۔ (ابوجہل لعین نے حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو نماز سے روکنا چاہا اس پر یہ آیت کریمہ اتریں)کہ کیا تو نے دیکھا اسے جو روکتا ہے بندے کو جب وہ نماز پڑھےبھلا دیکھو تو اگر وہ بندہ ہدایت پر ہو یا پرہیزگاری کا حکم فرمائے۔
یہاں بندے سے مراد حضور اقدس ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلماور غائب کی ضمیریں حضور کی طرف ہیں اور مخاطب کی ہر سامع کی طرفبلکہ فرماتا ہے:
" فما یکذبک بعد بالدین ﴿۷﴾" ۔ (ان روشن دلیلوں کے بعد)کیا چیز تجھے روز قیامت کے جھٹلانے پر باعث ہورہی ہے۔
یہ خطاب خاص کفارسے ہے بلکہ ان میں بھی خاص منکران قیامت مثل مشرکین آریہ و ہنود سےیونہی دونوں سورہ کریمہ میں کاف خطاب ہر سامع کے لیے ہے کہ اے سننے والے اپنے اور اپنے سب مسلمان بھائیوں کے گناہ کی معافی مانگ۔
(۹)بلکہ آیت محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم میں تو صاف قرینہ موجود ہے کہ خطاب حضور سے نہیںاس کی ابتداء یوں ہے:
" فاعلم انہ لا الہ الا اللہ و استغفر لذنبک و للمؤمنین و المؤمنت"۔ جان لے کہ اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں اور اپنی اور مسلمان مردوں اور عورتوں کی معافی چاہ۔
تو یہ خطاب اس سے ہے جو ابھی لا الہ الا اﷲ نہیں جانتا ورنہ جاننے والے کو جاننے کا حکم دینا تحصیل حاصل ہےتو معنی یہ ہوئے کہ اے سننے والے جسے ابھی تو حید پر یقین نہیں کسے باشد تو حید پر یقین لا اور اپنے اور اپنے بھائی مسلمانوں کے گناہ کی معافی مانگتتمہ آیت میں اس عموم کو واضح فرمادیا کہ:
" و اللہ یعلم متقلبکم و مثوىکم ﴿۱۹﴾" ۔ اﷲ جانتا ہے جہاں تم سب لوگ کروٹیں لے رہے ہواور جہاں تم سب کا ٹھکانا ہے۔
اگر فاعلم میں تاویل کرے تو ذنبك میں تاویل سے کون مانع ہے اور اگر ذنبك میں تاویل نہیں
حوالہ / References
القرآن الکریم ۹۶ /۹ تا ۱۲
القرآن الکریم ۹۵ /۷
القرآن الکریم ۴۷ /۱۹
القرآن الکریم ۴۷ /۱۹
القرآن الکریم ۹۵ /۷
القرآن الکریم ۴۷ /۱۹
القرآن الکریم ۴۷ /۱۹
کرتا تو فاعلم میں تاویل کیسے کرسکتا ہےدونوں پر ہمارا مطلب حاصلاور مدعی معاند کا استدلال زائل۔
(۱۰)دونوں آیۃ کریمہ میں صیغہ امر ہے اور امر انشا ہے اور انشاوقوع پر دال نہیں تو حاصل اس قدر کہ بفرض وقوع استغفار واجب نہ یہ کہ معاذ اﷲ واقع ہواجیسے کسی سے کہنا اکرم ضیفك اپنے مہمان کی عزت کرنااس سے یہ مراد نہیں کہ اس وقت کوئی مہمان موجود ہے نہ یہ خبر ہے کہ خواہی نخواہی کوئی مہمان آئے گا ہی بلکہ صرف اتنا مطلب ہے کہ اگر ایسا ہو تو یوں کرنا۔
(۱۱)ذنب معصیت کو کہتے ہیں اور قرآن عظیم کے عرف میں اطلاق معصیت عمد ہی سے خاص نہیںقال اﷲ تعالی " وعصی ادم ربہ فغوی ﴿۱۲۱﴾۪" ۔آدم نے اپنے رب کی معصیت کیحالانکہ خود فرماتا ہے: " فنسی و لم نجد لہ عزما ﴿۱۱۵﴾ " ۔ آدم بھول گیا ہم نے اس کا قصد نہ پایالیکن سہو نہ گناہ ہے نہ اس پر مؤاخذہخود قرآن کریم نے بندوں کو یہ دعا تعلیم فرمائی:
" ربنا لا تؤاخذنا ان نسینا او اخطانا" ۔ اے ہمارے رب ! ہمیں نہ پکڑ اگر ہم بھولیں یا چوکیں۔
(۱۲)جتنا قرب زائد اسی قدر احکام کی شدت زیادہ ع
جن کے رتبے ہیں سوا ان کو سوا مشکل ہے۔
بادشاہ جبار جلیل القدر ایك جنگلی گنوار کی جو بات سن لے گا جو برتاؤ گوارا کرے گا ہر گز شہریوں سے پسند نہ کرے گاشہریوں میں بازاریوں سے معاملہ آسان ہوگا اور خاص لوگوں سے سخت اور خاصوں میں درباریوں اور درباریوں میں وزراء ہر ایك پربار دوسرے سے زائد ہے اس لیے وارد ہوا۔
حسنات الابرار سیئات المقربین ۔نیکوں کے جو نیك کام ہیں مقربوں کے حق میں گناہ ہیں۔وہاں ترك اولی کو بھی گناہ سے تعبیر کیا جاتا ہے حالانکہ ترك اولی ہر گز گناہ نہیں۔
(۱۳)آریہ بے چارے جن کے باپ دادا نے بھی کبھی عربی کا نام نہ سنااگر نہ جانے تو ہر ادنی
(۱۰)دونوں آیۃ کریمہ میں صیغہ امر ہے اور امر انشا ہے اور انشاوقوع پر دال نہیں تو حاصل اس قدر کہ بفرض وقوع استغفار واجب نہ یہ کہ معاذ اﷲ واقع ہواجیسے کسی سے کہنا اکرم ضیفك اپنے مہمان کی عزت کرنااس سے یہ مراد نہیں کہ اس وقت کوئی مہمان موجود ہے نہ یہ خبر ہے کہ خواہی نخواہی کوئی مہمان آئے گا ہی بلکہ صرف اتنا مطلب ہے کہ اگر ایسا ہو تو یوں کرنا۔
(۱۱)ذنب معصیت کو کہتے ہیں اور قرآن عظیم کے عرف میں اطلاق معصیت عمد ہی سے خاص نہیںقال اﷲ تعالی " وعصی ادم ربہ فغوی ﴿۱۲۱﴾۪" ۔آدم نے اپنے رب کی معصیت کیحالانکہ خود فرماتا ہے: " فنسی و لم نجد لہ عزما ﴿۱۱۵﴾ " ۔ آدم بھول گیا ہم نے اس کا قصد نہ پایالیکن سہو نہ گناہ ہے نہ اس پر مؤاخذہخود قرآن کریم نے بندوں کو یہ دعا تعلیم فرمائی:
" ربنا لا تؤاخذنا ان نسینا او اخطانا" ۔ اے ہمارے رب ! ہمیں نہ پکڑ اگر ہم بھولیں یا چوکیں۔
(۱۲)جتنا قرب زائد اسی قدر احکام کی شدت زیادہ ع
جن کے رتبے ہیں سوا ان کو سوا مشکل ہے۔
بادشاہ جبار جلیل القدر ایك جنگلی گنوار کی جو بات سن لے گا جو برتاؤ گوارا کرے گا ہر گز شہریوں سے پسند نہ کرے گاشہریوں میں بازاریوں سے معاملہ آسان ہوگا اور خاص لوگوں سے سخت اور خاصوں میں درباریوں اور درباریوں میں وزراء ہر ایك پربار دوسرے سے زائد ہے اس لیے وارد ہوا۔
حسنات الابرار سیئات المقربین ۔نیکوں کے جو نیك کام ہیں مقربوں کے حق میں گناہ ہیں۔وہاں ترك اولی کو بھی گناہ سے تعبیر کیا جاتا ہے حالانکہ ترك اولی ہر گز گناہ نہیں۔
(۱۳)آریہ بے چارے جن کے باپ دادا نے بھی کبھی عربی کا نام نہ سنااگر نہ جانے تو ہر ادنی
حوالہ / References
القرآن الکریم ۲۰ /۱۲۱
القرآن الکریم ۲۰ /۱۱۵
القرآن الکریم ۲ /۲۸۶
لباب التاویل(تفسیر الخازن)تحت آیۃ ۴۷/۱۹ مصطفٰی البابی مصر ۶/ ۱۸۰،ارشاد العقل السلیم تحت آیۃ ۴۷/ ۱۹ داراحیاء التراث العربی بیروت ۸/ ۹۷
القرآن الکریم ۲۰ /۱۱۵
القرآن الکریم ۲ /۲۸۶
لباب التاویل(تفسیر الخازن)تحت آیۃ ۴۷/۱۹ مصطفٰی البابی مصر ۶/ ۱۸۰،ارشاد العقل السلیم تحت آیۃ ۴۷/ ۱۹ داراحیاء التراث العربی بیروت ۸/ ۹۷
طالب علم جانتا ہے کہ اضافت کے لیے ادنی ملا بست بس ہے بلکہ یہ عام طور پر فارسیاردوہندی سب زبانوں میں رائج ہے مکان کو جس طرح اس کے مالك کی طرف نسبت کریں گے یونہی کرایہ دار کی طرفیونہی جو عاریت لے کر بس رہا ہے اس کے پاس جو ملنے آئے گا یہی کہے گا کہ ہم فلانے کے گھر گئے تھے بلکہ پیمائش کرنے والے جن کھیتوں کو ناپ رہے ہوں ایك دوسرے سے پوچھے گا تمہارا کھیت کے جریب ہوایہاں نہ ملك نہ اجارہ نہ عاریتاور اضافت موجود یونہی بیٹے کے گھر سے جو چیز آئے گی باپ سے کہہ سکتے ہیں کہ آپ کے یہاں سے یہ عطا ہوا تھاتو ذنبك سے مراد اہلبیت کرام کی لغزشیں ہیں اور اس کے بعد وللمؤمنین وللمؤمنت تعمیم بعد تخصیص ہے یعنی شفاعت فرمائیے اپنے اہلبیت کرام اور سب مردوں عورتوں کے لیے۔اب آریہ کے اس جنون کا بھی علاج ہوگیا کہ پیروؤں کا ذکر تو بعد کو موجود ہے۔تعمیم بعد تخصیص کی مثال خود قرآن عظیم میں ہے:
" رب اغفر لی و لولدی و لمن دخل بیتی مؤمنا و للمؤمنین و المؤمنت " ۔ اے میرے رب ! مجھے بخش دے اور میرے ماں باپ کو اور جو میرے گھر میں ایمان کے ساتھ آیا اور سب مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں کو۔
(۱۴)اسی وجہ پر آیۃ کریم سورہ فتح میں لام لك تعلیل کا ہے اور ماتقدم من ذنبك تمہارے اگلوں کے گناہ اعنی سیدنا عبداﷲ و سیدتنا آمنہ رضی اﷲ تعالی عنہما سے منتہائے نسب کریم تك تمام آبائے کرام و امہات طیبات باستثناء انبیاء کرام مثل آدم و شیث ونوح وخلیل واسمعیل علیہم الصلوۃ والسلاماور ما تاخر تمہارے پچھلے یعنی قیامت تك تمہارے اہلبیت و امت مرحومہ تو حاصل آیۃ کریمہ یہ ہو ا کہ ہم نے تمہارے لیے فتح مبین فرمائی تاکہ اﷲ تمہارے سبب سے بخش دے تمہارے علاقہ کے سب اگلوں پچھلوں کے گناہ۔والحمدﷲ رب العالمین۔
(۱۵)ماتقدم وما تأخر سے قبل و بعد نزول وحی کا ارادہ جس طرح عبارت تفسیر میں مصرح تھا آیت میں قطعا محتملاور ہم ثابت کرچکے کہ اب حقیقت ذنب خود مندفع وﷲ الحمد و صلی اﷲ تعالی علی شفیع المذنبین وبارك وسلم الی یوم الدین وعلی الہ وصحبہ اجمعینواﷲ تعالی اعلم۔
" رب اغفر لی و لولدی و لمن دخل بیتی مؤمنا و للمؤمنین و المؤمنت " ۔ اے میرے رب ! مجھے بخش دے اور میرے ماں باپ کو اور جو میرے گھر میں ایمان کے ساتھ آیا اور سب مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں کو۔
(۱۴)اسی وجہ پر آیۃ کریم سورہ فتح میں لام لك تعلیل کا ہے اور ماتقدم من ذنبك تمہارے اگلوں کے گناہ اعنی سیدنا عبداﷲ و سیدتنا آمنہ رضی اﷲ تعالی عنہما سے منتہائے نسب کریم تك تمام آبائے کرام و امہات طیبات باستثناء انبیاء کرام مثل آدم و شیث ونوح وخلیل واسمعیل علیہم الصلوۃ والسلاماور ما تاخر تمہارے پچھلے یعنی قیامت تك تمہارے اہلبیت و امت مرحومہ تو حاصل آیۃ کریمہ یہ ہو ا کہ ہم نے تمہارے لیے فتح مبین فرمائی تاکہ اﷲ تمہارے سبب سے بخش دے تمہارے علاقہ کے سب اگلوں پچھلوں کے گناہ۔والحمدﷲ رب العالمین۔
(۱۵)ماتقدم وما تأخر سے قبل و بعد نزول وحی کا ارادہ جس طرح عبارت تفسیر میں مصرح تھا آیت میں قطعا محتملاور ہم ثابت کرچکے کہ اب حقیقت ذنب خود مندفع وﷲ الحمد و صلی اﷲ تعالی علی شفیع المذنبین وبارك وسلم الی یوم الدین وعلی الہ وصحبہ اجمعینواﷲ تعالی اعلم۔
حوالہ / References
القرآن الکریم ۷۱ /۲۸
مسئلہ ۱۴۴: ازشہر مسئولہ مولوی غلام قطب الدین صاحب ۴ربیع الاول ۱۳۳۹ھ
راماسنگھم اب آریہ نہیں نصرانی ہےروئے جواب جانب نصاری ہونا چاہیے۔
الجواب:
بحمد اﷲ وہ جواب کافی ووافی ہے صدر کلام اور ۴ و ۸ میں آریہ کی جگہ نصرانی لکھ لیجئے اور۸ کا شعر کاٹ دیجئے اور ۱۳ میں آریہ کی جگہ کرسچنہاں ۷ بالکل تبدیل ہوگا اسے یوں لکھئے۔
(۷)نہ ہر تفسیر معتبر نہ ہر مفسر مصیبنصرانی کا ظلم ہے کہ نام لے آیات کا اور دامن پکڑے نامعتبر تفسیر ات کاعربی زبان تو لسان مبین ہےنہ ہر محل قابل تاویلنہ ہر تاویل لائق تحویل کہ ہر شخص جہاں چاہے اپنی خواہش کے مطابق مطلب بنالےاور محل محتمل میں تاویل صحیح کا باب بے شك واسع اور ہر زبان اور ہر قوم میں شائع و ذائع اس کا انکار نہ کرے گا مگر مکابر مفتوناور اس کا اقرار نہ کرے گا مگر دیوانہ مجنونہاں بائبل کی زبان ایسی پیچیدہ ہے کہ اور تو اور خود مصنف محرف کی سمجھ میں نہیں آتی۔تواریخ کی دوسری کتاب باب ۲۱ درس ۲۰ اور باب ۲۲ درس ۱ و ۲ میں لکھا وہ بتیس برس کی عمر میں بادشاہ ہوا ۸ برس بادشاہت کی اور جاتا رہا داؤد کے شہر میں گاڑاگیا یروشلم کے باشندوں نے اس کے چھوٹے بیٹے اخزیاہ کو اس کی جگہ بادشاہ کیا اخزیاہ ۴۲ برس کی عمر میں بادشاہ ہوا۔یعنی باپ ۴۰ برس کی عمر میں مرا اس وقت بیٹا ۴۲ برس کا تھا۔باپ سے دو برس پہلے پیدا ہولیا تھا۔متی کی انجیل میں مسیح و داؤد علیہما الصلوۃ والسلام کے بیچ میں ۲۶ پشتیں ہیں اوراس میں عدد بھی گنادیا ہے کہ مسیح تاداؤد ۲۸ شخص ہیں۔لیکن لوقا کی انجیل میں مسیح سے داؤد تك ۴۳ آدمی ہیں۱۵ پشتیں زائد اور اسماء بھی بالکل نامطابقایضا انجیل متی باب ۵ درس ۱۷:یہ خیال مت کرو کہ میں توریت یا نبیوں کی کتابیں منسوخ کرنے نہیں بلکہ پوری کرنے آیا ہوں۔در س۱۸ کیونکہ میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ جب تك آسمان و زمین ٹل نہ جائیں ایك نقطہ یا ایك شوشہ توریت کا ہرگز نہ مٹے گا۔یہاں تو نسخ کا اس شدت سے انکار ہے اور جا بجا انجیل ہی میں نسخ احکام توریت کا اظہار ہے۔اسی انجیل کے اسی باب درس ۳۱۳۲ میں ہے یہ بھی لکھا گیا کہ جو کوئی اپنی جورو کو چھوڑ دے اسے طلاق نامہ لکھ دے پر میں تمہیں کہتا ہوں کہ جوکوئی اپنی جورو کو زنا کے سوا کسی اور سبب سے چھوڑدیوے اس سے زنا کرواتا ہے اور جو کوئی اس چھوڑی ہوئی سے بیا ہ کرے زنا کرتا ہے ایضا درس ۳۳ و ۳۴ تم سن چکے ہو کہ اگلوں سے کہا گیا کہ اپنی قسمیں خداوند کے لیے پوری کرپر میں تمہیں کہتا ہوں کہ ہر گز قسم نے کھانا ایضا درس ۳۸ و۳۹ تم سن چکے ہو کہ کہا گیا آنکھ کے بدلے آنکھ اور دانت کے بدلے دانتپر میں تمہیں کہتا ہوں کہ ظالم کا مقابلہ نہ کرنا بلکہ جو تیرے
راماسنگھم اب آریہ نہیں نصرانی ہےروئے جواب جانب نصاری ہونا چاہیے۔
الجواب:
بحمد اﷲ وہ جواب کافی ووافی ہے صدر کلام اور ۴ و ۸ میں آریہ کی جگہ نصرانی لکھ لیجئے اور۸ کا شعر کاٹ دیجئے اور ۱۳ میں آریہ کی جگہ کرسچنہاں ۷ بالکل تبدیل ہوگا اسے یوں لکھئے۔
(۷)نہ ہر تفسیر معتبر نہ ہر مفسر مصیبنصرانی کا ظلم ہے کہ نام لے آیات کا اور دامن پکڑے نامعتبر تفسیر ات کاعربی زبان تو لسان مبین ہےنہ ہر محل قابل تاویلنہ ہر تاویل لائق تحویل کہ ہر شخص جہاں چاہے اپنی خواہش کے مطابق مطلب بنالےاور محل محتمل میں تاویل صحیح کا باب بے شك واسع اور ہر زبان اور ہر قوم میں شائع و ذائع اس کا انکار نہ کرے گا مگر مکابر مفتوناور اس کا اقرار نہ کرے گا مگر دیوانہ مجنونہاں بائبل کی زبان ایسی پیچیدہ ہے کہ اور تو اور خود مصنف محرف کی سمجھ میں نہیں آتی۔تواریخ کی دوسری کتاب باب ۲۱ درس ۲۰ اور باب ۲۲ درس ۱ و ۲ میں لکھا وہ بتیس برس کی عمر میں بادشاہ ہوا ۸ برس بادشاہت کی اور جاتا رہا داؤد کے شہر میں گاڑاگیا یروشلم کے باشندوں نے اس کے چھوٹے بیٹے اخزیاہ کو اس کی جگہ بادشاہ کیا اخزیاہ ۴۲ برس کی عمر میں بادشاہ ہوا۔یعنی باپ ۴۰ برس کی عمر میں مرا اس وقت بیٹا ۴۲ برس کا تھا۔باپ سے دو برس پہلے پیدا ہولیا تھا۔متی کی انجیل میں مسیح و داؤد علیہما الصلوۃ والسلام کے بیچ میں ۲۶ پشتیں ہیں اوراس میں عدد بھی گنادیا ہے کہ مسیح تاداؤد ۲۸ شخص ہیں۔لیکن لوقا کی انجیل میں مسیح سے داؤد تك ۴۳ آدمی ہیں۱۵ پشتیں زائد اور اسماء بھی بالکل نامطابقایضا انجیل متی باب ۵ درس ۱۷:یہ خیال مت کرو کہ میں توریت یا نبیوں کی کتابیں منسوخ کرنے نہیں بلکہ پوری کرنے آیا ہوں۔در س۱۸ کیونکہ میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ جب تك آسمان و زمین ٹل نہ جائیں ایك نقطہ یا ایك شوشہ توریت کا ہرگز نہ مٹے گا۔یہاں تو نسخ کا اس شدت سے انکار ہے اور جا بجا انجیل ہی میں نسخ احکام توریت کا اظہار ہے۔اسی انجیل کے اسی باب درس ۳۱۳۲ میں ہے یہ بھی لکھا گیا کہ جو کوئی اپنی جورو کو چھوڑ دے اسے طلاق نامہ لکھ دے پر میں تمہیں کہتا ہوں کہ جوکوئی اپنی جورو کو زنا کے سوا کسی اور سبب سے چھوڑدیوے اس سے زنا کرواتا ہے اور جو کوئی اس چھوڑی ہوئی سے بیا ہ کرے زنا کرتا ہے ایضا درس ۳۳ و ۳۴ تم سن چکے ہو کہ اگلوں سے کہا گیا کہ اپنی قسمیں خداوند کے لیے پوری کرپر میں تمہیں کہتا ہوں کہ ہر گز قسم نے کھانا ایضا درس ۳۸ و۳۹ تم سن چکے ہو کہ کہا گیا آنکھ کے بدلے آنکھ اور دانت کے بدلے دانتپر میں تمہیں کہتا ہوں کہ ظالم کا مقابلہ نہ کرنا بلکہ جو تیرے
دہنے گال پر طمانچہ مارے دوسرا بھی اس کی طرف پھیر دے ایضا باب ۱۹ درس ۸ و۹ موسی نے جو روؤں کو چھوڑ دینے کی اجازت دی پر میں تم سے کہتا ہوں جو کوئی اپنی جوروکو سوا زنا کے اور سبب سے چھوڑ دے اور دوسری سے بیا ہ کرے زنا کرتا ہے اور جو کوئی اس چھوڑی ہوئی عورت کو بیاہے زنا کرتا ہے۔یہی مضمون انجیل مرقس باب:۱۰ درس ۲ تا ۱۲ میں ہے ان کے سوا بہت نظائر تناقض و نافہی کے ہیں تو ثابت ہوا کہ عبری زبان ہی ایسی پیچیدہ ہے کہ اس میں کتاب تصنیف کرنے والا خود اپنی نہیں سمجھتااور(۱۵)کے بعد یہ نمبر اور اضافہ کیجئے۔
(۱۶)ہر صغیرہ سے صغیرہ کو گناہ کہہ سکتے ہیں اگرچہ قبل ظہور رسالت ہو اور توسعا خلاف اولی کو بھی جو ہر گز منافی نبوت نہیں لیکن نیك ہونا تو نبی کے لیے لازم ہے نہ وہ کہ جو خدا کا بیٹا ٹھہرے مگر یہ انجیلیں کہتی ہیں کہ مسیح ہر گز نیك نہیںدیکھو متی باب ۱۹ درس ۱۶ و ۱۷ ایك نے اس سے کہا اے نیك استاداس نے کہا تو کیوں مجھے نیك کہتا ہےنیك تو کوئی نہیں مگر ایك یعنی خدایہی مضمون انجیل مرقس باب ۱۰ ادرس ۱۷ و ۱۸ وانجیل لوقا باب ۱۸ درس ۸ ۱ اور ۱۹ میں ہے۔وہاں اگر بعض مفسرین نے معاذ اﷲ گناہگار ہونا مانا تھا تو یہاں تو خود انجیلیں مسیح کو معاذ اﷲ صاف طور سے بدبتا رہی ہیں۔
(۱۷)گناہ نہیں مگر شریعت کی مخالفت لیکن بائیبل تو شریعت کو راسا باطل کررہی ہے گلیتوں کو پولس کا خط با ب ۳ درس وے سب جو شریعت ہی کے اعمال پر تکیہ کرتے ہیں سو لعنت کے تحت ہیں درس ۱۱:کوئی خدا کے نزدیك شریعت سے راستباز نہیں ٹھہرتا۔درس ۱۲:شریعت کو ایمان سے کچھ نسبت نہیں اور مسیح علیہ الصلوۃ والسلام پکے راستبازوکامل الایمان ہیں تو ضرور شریعت سے جدا ہیں تو گناہگار ہیں کتاب یر میاہ باب ۹ درس ۱۲ و ۱۳ میں ہے۔سرزمین کس لیے ویران ہوئی اور بیابان کے مانند جل گئی خداوند کہتا ہے اسی لیے کہ انہوں نے میری شریعت کو ترك کردیا اور اس کے موافق نہ چلے۔
(۱۸)بلکہ ترك اولے یا کسی صغیرہ کا صدور یا بد ہونا بھی درکنار بائیبل تو مسیح علیہ الصلوۃ والسلام کو معاذ اﷲ صاف ملعون بتاتی ہےخط مذکور باب ۳ درس ۳ ۱ مسیح نے ہمیں مول لے کر شریعت کی لعنت سے چھڑایا کہ وہ ہمارے بدلے میں لعنت ہوا کیونکہ لکھا ہے جو کوئی کاٹھ پرلٹکایا گیا ہو سو لعنتی ہے۔والعیاذ باﷲ تعالیایسے پوچ ولچر مذہب کے پابند کیوں دین حق اسلام کے خدام سے الجھتے ہیں اپنے گریبان میں منہ ڈالیں اور اپنی پگڑی کہ کبھی نہ سنبھلے گی سنبھالیں۔واﷲ یہدی من یشاء الی صراط مستقیم(اﷲ جسے چاہتا ہے سیدھے راستے کی طرف ہدایت دیتا ہے۔ت)واﷲ تعالی اعلم۔
(۱۶)ہر صغیرہ سے صغیرہ کو گناہ کہہ سکتے ہیں اگرچہ قبل ظہور رسالت ہو اور توسعا خلاف اولی کو بھی جو ہر گز منافی نبوت نہیں لیکن نیك ہونا تو نبی کے لیے لازم ہے نہ وہ کہ جو خدا کا بیٹا ٹھہرے مگر یہ انجیلیں کہتی ہیں کہ مسیح ہر گز نیك نہیںدیکھو متی باب ۱۹ درس ۱۶ و ۱۷ ایك نے اس سے کہا اے نیك استاداس نے کہا تو کیوں مجھے نیك کہتا ہےنیك تو کوئی نہیں مگر ایك یعنی خدایہی مضمون انجیل مرقس باب ۱۰ ادرس ۱۷ و ۱۸ وانجیل لوقا باب ۱۸ درس ۸ ۱ اور ۱۹ میں ہے۔وہاں اگر بعض مفسرین نے معاذ اﷲ گناہگار ہونا مانا تھا تو یہاں تو خود انجیلیں مسیح کو معاذ اﷲ صاف طور سے بدبتا رہی ہیں۔
(۱۷)گناہ نہیں مگر شریعت کی مخالفت لیکن بائیبل تو شریعت کو راسا باطل کررہی ہے گلیتوں کو پولس کا خط با ب ۳ درس وے سب جو شریعت ہی کے اعمال پر تکیہ کرتے ہیں سو لعنت کے تحت ہیں درس ۱۱:کوئی خدا کے نزدیك شریعت سے راستباز نہیں ٹھہرتا۔درس ۱۲:شریعت کو ایمان سے کچھ نسبت نہیں اور مسیح علیہ الصلوۃ والسلام پکے راستبازوکامل الایمان ہیں تو ضرور شریعت سے جدا ہیں تو گناہگار ہیں کتاب یر میاہ باب ۹ درس ۱۲ و ۱۳ میں ہے۔سرزمین کس لیے ویران ہوئی اور بیابان کے مانند جل گئی خداوند کہتا ہے اسی لیے کہ انہوں نے میری شریعت کو ترك کردیا اور اس کے موافق نہ چلے۔
(۱۸)بلکہ ترك اولے یا کسی صغیرہ کا صدور یا بد ہونا بھی درکنار بائیبل تو مسیح علیہ الصلوۃ والسلام کو معاذ اﷲ صاف ملعون بتاتی ہےخط مذکور باب ۳ درس ۳ ۱ مسیح نے ہمیں مول لے کر شریعت کی لعنت سے چھڑایا کہ وہ ہمارے بدلے میں لعنت ہوا کیونکہ لکھا ہے جو کوئی کاٹھ پرلٹکایا گیا ہو سو لعنتی ہے۔والعیاذ باﷲ تعالیایسے پوچ ولچر مذہب کے پابند کیوں دین حق اسلام کے خدام سے الجھتے ہیں اپنے گریبان میں منہ ڈالیں اور اپنی پگڑی کہ کبھی نہ سنبھلے گی سنبھالیں۔واﷲ یہدی من یشاء الی صراط مستقیم(اﷲ جسے چاہتا ہے سیدھے راستے کی طرف ہدایت دیتا ہے۔ت)واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۴۵: از موضع پارہ پرگنہ مورانواں ضلع اناؤ مسئولہ محمد عبدالرؤف صاحب ۳ ربیع الاول ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید کا عقیدہ ہے کہ چونکہ عالم الغیب صفت مختصہ باری تعالی ہے لہذا آنحضرت صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی نسبت لفظ عالم الغیب بالواسطہ یا بالعطایا کہنا بھی جائز نہیں اور نہ حضور پر نور کو کل علم غیب یعنی از روز ازل تا ابد شب معراج میں عطا فرمایا گیا تھا۔البتہ بعض بعض علوم غیبیہ کا قائل ہے اور اپنے عقیدہ کی دلیل میں چند واقعات بطور اثبات نوشتہ علمائے دیوبند پیش کرتا ہےمثلا سورہ کہف کہ آنحضرت صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے بجواب اس سوال کے کہ اصحاب کہف کس مدت تك سوئے تھےفرمایا کل بتلاؤں گااور لفظ ان شاء اﷲ تعالی نہ کہنے کی وجہ سے اٹھارہ روز تك وحی کا نزول نہ ہوااگر علم غیب ہوتا تو توقف نہ فرماتے۔
دوئم۲ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ تعالی عنہا کا حادثہ کہ کفار مکہ نے آپ کو متہم کیا اور آنحضرت صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم طلاق دینے پر آمادہ ہوگئے۔اور اگر آپ کو علم ہوتا تو تذبذب کیوں ہوتاوحی کے نزول پر آپ مطمئن ہوئے اور کہتا ہے کہ اگر کل علم غیب عطا فرمایا جاتا تو پھر وحی آنے کی کیا ضرورت تھی
(عقیدہ عمرو)برعکس اس کے عمرو کا عقیدہ یہ ہے کہ حضور پر نور سید یوم النشور حضرت محمد مصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پر شب معراج میں اﷲ رب العزت نے جملہ اولین و آخرین مانند آفتاب درخشاں روشن کردیئے تھے اور تمام علم ماکان ومایکون سے صدر مبارك حضور پرنور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو جلوہ افروز کردیا تھا اور جن باتوں سے آپ نے جواب نہیں دیا بلکہ سکوت اختیار فرمایا ان کو خدا اور حبیب خدا کے درمیانی اسرار مخفی کی جانب مبذول کرتا ہےاور روز اول سے لے کر یوم الحشر کے تمامی علوم کو حضور سرور کائنات و مفخر موجودات صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے علوم کے سمندر کی ایك لہر کی برابر تصور کرتا ہے۔
الجواب:
اس مسئلہ میں بفضلہ تعالی یہاں سے متعدد کتابیں تصنیف ہوئیں۔الدولۃ المکیۃ بالمادۃ الغیبیۃ پر اکابر علمائے مکہ معظمہ و مدینہ طیبہ وغیرہ ہا بلاد اسلامیہ نے مہریں کیںگرانقدر تقریظیں لکھیں خالص الاعتقاد دس سال سے شائع ہوا انباء المصطفی بیس سال سے ہزار کی تعداد میں بمبئی و بریلی و مراد آباد میں چھپ کر تمام ملك میں شائع ہوا اور بحمدہ تعالی سب کتابیں آج تك لاجواب ہیں مگر وہابیہ اپنی بے حیائی سے باز نہیں آتے۔علم غیب عطا ہونا اور لفظ عالم الغیب کا اطلاق اور بعض اجلہ اکابر کے کلام میں اگرچہ بندہ مومن کی نسبت صریح لفظ یعلم الغیب وارد ہے کما فی مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوۃ المصابیح
کیافرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید کا عقیدہ ہے کہ چونکہ عالم الغیب صفت مختصہ باری تعالی ہے لہذا آنحضرت صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی نسبت لفظ عالم الغیب بالواسطہ یا بالعطایا کہنا بھی جائز نہیں اور نہ حضور پر نور کو کل علم غیب یعنی از روز ازل تا ابد شب معراج میں عطا فرمایا گیا تھا۔البتہ بعض بعض علوم غیبیہ کا قائل ہے اور اپنے عقیدہ کی دلیل میں چند واقعات بطور اثبات نوشتہ علمائے دیوبند پیش کرتا ہےمثلا سورہ کہف کہ آنحضرت صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے بجواب اس سوال کے کہ اصحاب کہف کس مدت تك سوئے تھےفرمایا کل بتلاؤں گااور لفظ ان شاء اﷲ تعالی نہ کہنے کی وجہ سے اٹھارہ روز تك وحی کا نزول نہ ہوااگر علم غیب ہوتا تو توقف نہ فرماتے۔
دوئم۲ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ تعالی عنہا کا حادثہ کہ کفار مکہ نے آپ کو متہم کیا اور آنحضرت صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم طلاق دینے پر آمادہ ہوگئے۔اور اگر آپ کو علم ہوتا تو تذبذب کیوں ہوتاوحی کے نزول پر آپ مطمئن ہوئے اور کہتا ہے کہ اگر کل علم غیب عطا فرمایا جاتا تو پھر وحی آنے کی کیا ضرورت تھی
(عقیدہ عمرو)برعکس اس کے عمرو کا عقیدہ یہ ہے کہ حضور پر نور سید یوم النشور حضرت محمد مصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پر شب معراج میں اﷲ رب العزت نے جملہ اولین و آخرین مانند آفتاب درخشاں روشن کردیئے تھے اور تمام علم ماکان ومایکون سے صدر مبارك حضور پرنور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو جلوہ افروز کردیا تھا اور جن باتوں سے آپ نے جواب نہیں دیا بلکہ سکوت اختیار فرمایا ان کو خدا اور حبیب خدا کے درمیانی اسرار مخفی کی جانب مبذول کرتا ہےاور روز اول سے لے کر یوم الحشر کے تمامی علوم کو حضور سرور کائنات و مفخر موجودات صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے علوم کے سمندر کی ایك لہر کی برابر تصور کرتا ہے۔
الجواب:
اس مسئلہ میں بفضلہ تعالی یہاں سے متعدد کتابیں تصنیف ہوئیں۔الدولۃ المکیۃ بالمادۃ الغیبیۃ پر اکابر علمائے مکہ معظمہ و مدینہ طیبہ وغیرہ ہا بلاد اسلامیہ نے مہریں کیںگرانقدر تقریظیں لکھیں خالص الاعتقاد دس سال سے شائع ہوا انباء المصطفی بیس سال سے ہزار کی تعداد میں بمبئی و بریلی و مراد آباد میں چھپ کر تمام ملك میں شائع ہوا اور بحمدہ تعالی سب کتابیں آج تك لاجواب ہیں مگر وہابیہ اپنی بے حیائی سے باز نہیں آتے۔علم غیب عطا ہونا اور لفظ عالم الغیب کا اطلاق اور بعض اجلہ اکابر کے کلام میں اگرچہ بندہ مومن کی نسبت صریح لفظ یعلم الغیب وارد ہے کما فی مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوۃ المصابیح
لملا علی القاری(جیسا کہ ملا علی قاری کی مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوۃ المصابیح میں ہے۔ت)بلکہ خود حدیث سیدنا عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما میں سیدنا خضر علیہ الصلوۃ والسلام کی نسبت ارشاد ہے:
کان رجلا یعلم علم الغیب ۔ وہ مرد کامل ہیں جو علم غیب جانتے ہیں۔ت)
مگر ہماری تحقیق میں لفظ عالم الغیب کا اطلاق حضرت عزت عزجلالہ کے ساتھ خاص ہے کہ اس سے عرفا علم بالذات متبادر ہے۔کشاف میں ہے:
المراد بہ الخفی الذی لاینفذ فیہ ابتداء الا علم اللطیف الخبیر ولہذا لایجوزان یطلق فیقال فلان یعلم الغیب ۔ اس سے مراد پوشیدہ شے ہے جس تك ابتداء (بالذات) سوائے باریکی جاننے والے یا خبیر(اﷲ تعالی)کے کسی کے علم کی رسائی نہیں۔یہی وجہ ہے کہ علی الاطلاق یوں کہنا کہ فلاں غیب جانتا ہے جائز نہیں(ت)
اور اس سے انکار معنی لازم نہیں آتا۔حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم قطعا بے شمار غیوب و ماکان مایکون کے عالم ہیں مگر عالم الغیب صرف اﷲ عزوجل کو کہا جائے گا جس طرح حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم قطعا عزت جلالت والے ہیں تمام عالم میں ان کے برابر کوئی عزیز و جلیل ہے نہ ہوسکتا ہے مگر محمد عزوجل کہنا جائز نہیں بلکہ اﷲ عزوجل و محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔غرض صدق وصورت معنی کو جواز اطلاق لفظ لازم نہیں نہ منع اطلاق لفظ کو نفی صحت معنی۔امام ابن المنیر اسکندری کتاب الانتصاف میں فرماتے ہیں:
کم من معتقدلایطلق القول بہ خشیۃ ایہام غیرہ مما لا یجوز اعتقادہ فلا ربط بین الاعتقاد والاطلاق۔ بہت سے معتقدات ہیں کہ جن کے ساتھ قول کا اطلاق اس ڈر سے نہیں کیا جاتا کہ ان میں ایسے غیر کا ایہام ہوتا ہے جس کا اعتقاد جائز نہیںلہذا اعتقاد اور اطلاق کے درمیان کوئی لزوم نہیں۔(ت)
یہ سب اس صورت میں ہے کہ مقید بقید اطلاق اطلاق کیا جائے یا بلا قید علی الاطلاق مثلا عالم الغیب یا عالم الغیب علی الاطلاق اوراگر ایسا نہ ہو بلکہ بالواسطہ یا بالعطاء کی تصریح کردی جائے تو وہ محذور نہیں کہ ایہام زائل اور مراد حاصل۔علامہ سید شریف قدس سرہ حواشی کشاف میں فرماتے ہیں:
وانما لم یجزالاطلاق فی غیرہ علم غیب کا اطلاق غیر اﷲ پر اس لیے ناجائز ہے
کان رجلا یعلم علم الغیب ۔ وہ مرد کامل ہیں جو علم غیب جانتے ہیں۔ت)
مگر ہماری تحقیق میں لفظ عالم الغیب کا اطلاق حضرت عزت عزجلالہ کے ساتھ خاص ہے کہ اس سے عرفا علم بالذات متبادر ہے۔کشاف میں ہے:
المراد بہ الخفی الذی لاینفذ فیہ ابتداء الا علم اللطیف الخبیر ولہذا لایجوزان یطلق فیقال فلان یعلم الغیب ۔ اس سے مراد پوشیدہ شے ہے جس تك ابتداء (بالذات) سوائے باریکی جاننے والے یا خبیر(اﷲ تعالی)کے کسی کے علم کی رسائی نہیں۔یہی وجہ ہے کہ علی الاطلاق یوں کہنا کہ فلاں غیب جانتا ہے جائز نہیں(ت)
اور اس سے انکار معنی لازم نہیں آتا۔حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم قطعا بے شمار غیوب و ماکان مایکون کے عالم ہیں مگر عالم الغیب صرف اﷲ عزوجل کو کہا جائے گا جس طرح حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم قطعا عزت جلالت والے ہیں تمام عالم میں ان کے برابر کوئی عزیز و جلیل ہے نہ ہوسکتا ہے مگر محمد عزوجل کہنا جائز نہیں بلکہ اﷲ عزوجل و محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔غرض صدق وصورت معنی کو جواز اطلاق لفظ لازم نہیں نہ منع اطلاق لفظ کو نفی صحت معنی۔امام ابن المنیر اسکندری کتاب الانتصاف میں فرماتے ہیں:
کم من معتقدلایطلق القول بہ خشیۃ ایہام غیرہ مما لا یجوز اعتقادہ فلا ربط بین الاعتقاد والاطلاق۔ بہت سے معتقدات ہیں کہ جن کے ساتھ قول کا اطلاق اس ڈر سے نہیں کیا جاتا کہ ان میں ایسے غیر کا ایہام ہوتا ہے جس کا اعتقاد جائز نہیںلہذا اعتقاد اور اطلاق کے درمیان کوئی لزوم نہیں۔(ت)
یہ سب اس صورت میں ہے کہ مقید بقید اطلاق اطلاق کیا جائے یا بلا قید علی الاطلاق مثلا عالم الغیب یا عالم الغیب علی الاطلاق اوراگر ایسا نہ ہو بلکہ بالواسطہ یا بالعطاء کی تصریح کردی جائے تو وہ محذور نہیں کہ ایہام زائل اور مراد حاصل۔علامہ سید شریف قدس سرہ حواشی کشاف میں فرماتے ہیں:
وانما لم یجزالاطلاق فی غیرہ علم غیب کا اطلاق غیر اﷲ پر اس لیے ناجائز ہے
حوالہ / References
جامع البیان(تفسیر الطبری)تحت آیۃ وعلمنٰہ من لدنا علما داراحیاء التراث العربی بیروت ۱۵/ ۳۲۳
الکشاف تحت آیۃ ۲/ ۳ انتشارات آفتاب تہران ۱/ ۱۲۱
الانتصاف
الکشاف تحت آیۃ ۲/ ۳ انتشارات آفتاب تہران ۱/ ۱۲۱
الانتصاف
تعالی لانہ یتبادر منہ تعلق علمہ بہ ابتداء فیکون تنا قضا واما اذا قید وقیل اعلمہ اﷲ تعالی الغیب او اطلعہ علیہ فلا محذور فیہ ۔ کہ اس سے غیر اﷲ کے علم کاغیب کے ساتھ ابتداء(بالذات) متعلق ہونا متبادر ہوتا ہے تو اس طرح تناقض لازم آتا ہے لیکن اگر علم غیب کے ساتھ کوئی قید لگادی جائے اور یوں کہا جائے کہ اﷲ تعالی نے اس کو غیب کا علم عطا فرمادیا ہے یا اس کو غیب پر مطلع فرمادیا ہے تو اس صورت میں کوئی ممانعت نہیں۔(ت)
زید کا قول کذب صریح و جہل قبیح ہےکذب تو ظاہر کہ بے ممانعت شرعی اپنی طرف سے عدم جواز کا حکم لگا کر شریعت و شارع علیہ الصلوۃ والسلام اور رب العزۃ جل و علا پر افتراء کررہا ہے۔
قال اﷲ تعالی" و لا تقولوا لما تصف السنتکم الکذب ہذا حلل و ہذا حرام لتفتروا علی اللہ الکذب ان الذین یفترون علی اللہ الکذب لا یفلحون ﴿۱۱۶﴾متع قلیل ۪ ولہم عذاب الیم ﴿۱۱۷﴾" ۔ اﷲ تعالی نے ارشاد فرمایا:اور نہ کہو اسے جو تمہاری زبانیں جھوٹ بیان کرتی ہیںیہ حلال ہے اور یہ حرام ہے کہ اﷲ تعالی پر جھوٹ باندھوبے شك جو اﷲ تعالی پر جھوٹ باندھتے ہیں ان کا بھلا نہ ہوگاتھوڑا برتنا ہے اور انکے لیے دردناك عذاب ہے۔ت)
اور جہل فاضح یہ کہ عالم الغیب صفت مختصہ باری تعالی ہونے پر بالواسطہ و بالعطا کہنے کے عدم جواز کو متفرع کررہا ہے شاید اس کے نزدیك علم غیب بالواسطہوبالعطا خاصہ باری تعالی ہے یعنی دوسرے کے دیئے سے علم غیب خاص اﷲ تعالی کو ہوتا ہے اس کے غیر کو علم غیب بالذات بلاواسطہ ہے ایسا ہے تو اس سے بڑھ کر اور کفر اشد کیا ہے۔گنگوہی صاحب نے تو نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو علم غیب بالذات بے عطائے الہی ملنے کے اعتقاد کو کفر نہ مانا تھا صرف اندیشہ کفر کہا تھا ان کے فتاوی حصہ اول صفحہ ۸۳ میں ہے:
جو یہ عقیدہ رکھے کہ خود بخود آپ کو علم تھا بدون اطلاق حق تعالی کے تو اندیشہ کفر کا ہے
زید کا قول کذب صریح و جہل قبیح ہےکذب تو ظاہر کہ بے ممانعت شرعی اپنی طرف سے عدم جواز کا حکم لگا کر شریعت و شارع علیہ الصلوۃ والسلام اور رب العزۃ جل و علا پر افتراء کررہا ہے۔
قال اﷲ تعالی" و لا تقولوا لما تصف السنتکم الکذب ہذا حلل و ہذا حرام لتفتروا علی اللہ الکذب ان الذین یفترون علی اللہ الکذب لا یفلحون ﴿۱۱۶﴾متع قلیل ۪ ولہم عذاب الیم ﴿۱۱۷﴾" ۔ اﷲ تعالی نے ارشاد فرمایا:اور نہ کہو اسے جو تمہاری زبانیں جھوٹ بیان کرتی ہیںیہ حلال ہے اور یہ حرام ہے کہ اﷲ تعالی پر جھوٹ باندھوبے شك جو اﷲ تعالی پر جھوٹ باندھتے ہیں ان کا بھلا نہ ہوگاتھوڑا برتنا ہے اور انکے لیے دردناك عذاب ہے۔ت)
اور جہل فاضح یہ کہ عالم الغیب صفت مختصہ باری تعالی ہونے پر بالواسطہ و بالعطا کہنے کے عدم جواز کو متفرع کررہا ہے شاید اس کے نزدیك علم غیب بالواسطہوبالعطا خاصہ باری تعالی ہے یعنی دوسرے کے دیئے سے علم غیب خاص اﷲ تعالی کو ہوتا ہے اس کے غیر کو علم غیب بالذات بلاواسطہ ہے ایسا ہے تو اس سے بڑھ کر اور کفر اشد کیا ہے۔گنگوہی صاحب نے تو نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو علم غیب بالذات بے عطائے الہی ملنے کے اعتقاد کو کفر نہ مانا تھا صرف اندیشہ کفر کہا تھا ان کے فتاوی حصہ اول صفحہ ۸۳ میں ہے:
جو یہ عقیدہ رکھے کہ خود بخود آپ کو علم تھا بدون اطلاق حق تعالی کے تو اندیشہ کفر کا ہے
حوالہ / References
حاشیہ سید الشریف علی الکشاف تحت آیۃ ۲/۳ انتشارات آفتاب تہران ۱/ ۲۸
القرآن الکریم ۱۶ /۱۱۶و ۱۱۷
القرآن الکریم ۱۶ /۱۱۶و ۱۱۷
لہذا امام نہ بنانا چاہیے اگر چہ کافر کہنے سے بھی زبان کو روکے ۔
حالانکہ گنگوہی صاحب کا یہ قول خود ہی صریح کفر ہے بلاشبہہ جو غیر خدا کو بے عطا ئے الہی خود بخود علم مانے قطعا کافر ہے اور جو اس کے کفر میں تردد کرے وہ بھی کافر۔اسمعیل دہلوی صاحب نے دوسری شق لی تھی کہ اﷲ عزوجل کے علم غیب کو حادث و اختیاری مانا۔
تقویت الایمان میں ہے:غیب کا دریافت کرنا اپنے اختیار میں ہو کہ جب چاہے کرلیجئے یہ اﷲ صاحب کی ہی شان ہے ۔
یہ بھی صریح کلمہ کفر ہے مگر دونوں شقیں جمع کرنا کہ اﷲ تعالی کا علم عطائی اور دوسرے کا ذاتی یہ اسی نتیجہ قول زید کا خاصہ ہے۔
دو واقعے کہ زید نے پیش کیے اگرچہ ان پر ابحاث اور بھی ہیں مگر کیا انباء المصطفی میں صاف نہ کہہ دیا گیا تھا کہ بحمد اﷲ تعالی نص قطعی سے روشن ہوا کہ ہمارے حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو اﷲ عزوجل نے تمام موجودات جملہ ماکان ومایکون(جو ہوچکا اور جو ہوگا۔ت)کا علم دیا اور جب یہ علم قرآن عظیم کے تبیانا لکل شیئ ہونے نے دیا اور پر ظاہر کہ یہ وصف تمام کلام مجید کا ہے نہ ہر آیت یا سورت کا تو نزول جمیع قرآن عظیم سے پہلے اگر بعض کی نسبت ارشاد ہو لم نقصص علیک(ہم نے آپ پر بیان نہیں کیا۔ت)ہر گز احاطہ علم مصطفوی کا کانافی نہیںمخالفین جو کچھ پیش کرتے ہیں سب انہیں اقسام کے ہیں۔ہاں ہاں تمام نجدیہ دہلوی گنگوہی جنگلی کو ہی سب کو دعوت عام ہے سب اکٹھے ہو کر ایك آیت یا ایك حدیث متواتر یقینی الافادۃ لائیں جس سے صریح ثابت ہو کہ تمام نزول قرآن کے بعد بھی ماکان و مایکون سے فلاں امر حضور پر مخفی رہا اگر ایسا نص نہ لاسکو اور ہم کہے دیتے ہیں کہ ہر گز نہ لاسکو گے تو جان لو کہ اﷲ راہ نہیں دیتا دغا بازوں کے مکر کو اھ ملخص ۔
اس کے بعد بھی ایسے وقائع پیش کرنا کیسی شدید بے حیائی ہےبلاشبہہ عمرو کا قول صحیح ہے جمیع ماکان وما یکون جملہ مندرجات لوح محفوظ کا علم محیط حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے علم کریم کے سمندروں سے ایك لہر ہے جیسا کہ علامہ قاری کی زبدہ شرح بردہ میں مصرح ہے۔واﷲ تعالی اعلم
حالانکہ گنگوہی صاحب کا یہ قول خود ہی صریح کفر ہے بلاشبہہ جو غیر خدا کو بے عطا ئے الہی خود بخود علم مانے قطعا کافر ہے اور جو اس کے کفر میں تردد کرے وہ بھی کافر۔اسمعیل دہلوی صاحب نے دوسری شق لی تھی کہ اﷲ عزوجل کے علم غیب کو حادث و اختیاری مانا۔
تقویت الایمان میں ہے:غیب کا دریافت کرنا اپنے اختیار میں ہو کہ جب چاہے کرلیجئے یہ اﷲ صاحب کی ہی شان ہے ۔
یہ بھی صریح کلمہ کفر ہے مگر دونوں شقیں جمع کرنا کہ اﷲ تعالی کا علم عطائی اور دوسرے کا ذاتی یہ اسی نتیجہ قول زید کا خاصہ ہے۔
دو واقعے کہ زید نے پیش کیے اگرچہ ان پر ابحاث اور بھی ہیں مگر کیا انباء المصطفی میں صاف نہ کہہ دیا گیا تھا کہ بحمد اﷲ تعالی نص قطعی سے روشن ہوا کہ ہمارے حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو اﷲ عزوجل نے تمام موجودات جملہ ماکان ومایکون(جو ہوچکا اور جو ہوگا۔ت)کا علم دیا اور جب یہ علم قرآن عظیم کے تبیانا لکل شیئ ہونے نے دیا اور پر ظاہر کہ یہ وصف تمام کلام مجید کا ہے نہ ہر آیت یا سورت کا تو نزول جمیع قرآن عظیم سے پہلے اگر بعض کی نسبت ارشاد ہو لم نقصص علیک(ہم نے آپ پر بیان نہیں کیا۔ت)ہر گز احاطہ علم مصطفوی کا کانافی نہیںمخالفین جو کچھ پیش کرتے ہیں سب انہیں اقسام کے ہیں۔ہاں ہاں تمام نجدیہ دہلوی گنگوہی جنگلی کو ہی سب کو دعوت عام ہے سب اکٹھے ہو کر ایك آیت یا ایك حدیث متواتر یقینی الافادۃ لائیں جس سے صریح ثابت ہو کہ تمام نزول قرآن کے بعد بھی ماکان و مایکون سے فلاں امر حضور پر مخفی رہا اگر ایسا نص نہ لاسکو اور ہم کہے دیتے ہیں کہ ہر گز نہ لاسکو گے تو جان لو کہ اﷲ راہ نہیں دیتا دغا بازوں کے مکر کو اھ ملخص ۔
اس کے بعد بھی ایسے وقائع پیش کرنا کیسی شدید بے حیائی ہےبلاشبہہ عمرو کا قول صحیح ہے جمیع ماکان وما یکون جملہ مندرجات لوح محفوظ کا علم محیط حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے علم کریم کے سمندروں سے ایك لہر ہے جیسا کہ علامہ قاری کی زبدہ شرح بردہ میں مصرح ہے۔واﷲ تعالی اعلم
حوالہ / References
فتاوٰی رشیدیہ
تقویۃ الایمان الفصل الثانی مطبع علمیی اندرون لوہاری دروازہ لاہور ص ۱۴
انباء المصطفٰی رضا اکیڈمی بمبئی ص ۷ تا ۱۰
تقویۃ الایمان الفصل الثانی مطبع علمیی اندرون لوہاری دروازہ لاہور ص ۱۴
انباء المصطفٰی رضا اکیڈمی بمبئی ص ۷ تا ۱۰
مسئلہ ۱۴۶: از سیتا پور محلہ نرائن پور مکان مولوی الہی بخش صاحب مسئولہ علی حسین خان ۲۹ رمضان ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگر کوئی شخص کہے کہ غیب کا حال سوائے خدا تعالی کے کوئی نہیں جانتا ہے حتی کہ حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو بھی نہیں معلوم تھا بہ ثبوت اس روایت کے کہ ایك بار ابوجہل نے کنواں راستے میں کھو د کر خس پوش کردیا تھا اور خود بیماری کا حیلہ کرکے پڑرہا تھا جس وقت حضور عیادت کو گئے تو چاہ مذکور عین ر ہگزر میں تھا اس وقت جبرئیل علیہ السلام نے بذریعہ وحی معلوم کیا لہذا اولیاء اﷲ بھی نہیں جان سکتے بجز کشف والہام کے۔بینوا توجروا(بیان فرمایئے اجر دیئے جاؤ گے۔ت)
الجواب:
یہ حق ہے کہ غیب کا حال سوارب عزوجل کے کوئی نہیں جانتا یعنی اپنی ذات سے بے اس کے بتائے اور یہ باطل ہے کہ حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو بھی نہیں معلوم تھا قران کریم واحادیث صحیحہ سے یہ ثابت ہے کہ ما کان وما یکون الی اخر الایام (جو ہوچکا اور قیامت تك ہوگا۔ت)کے تمام غیب حضور اقدس علیہ افضل الصلوۃ والسلام پر منکشف فرمادیئے گئے اور حضور کے بتائے سے حضور کے غلام اولیائے کرام جانتے ہیں کشف والہام دونوں ان کے جاننے کے ذریعہ ہیں اور ان پر کوئی حد بندی نہیں۔ان تمام مضامین کی تفصیل ہماری کتاب انباء المصطفی وخالص الاعتقاد وغیرہما میں ہے اور وہ ابوجہل کے کنویں والی حکایت محض ساختہ و بے اصل ہے۔وھو تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۴۷: از ڈاکخانہ مولوی گنج ضلع گیامسئولہ عبدالمجید ۲۹ رمضان ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جناب رسول خدا صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو غیب کی باتیں معلوم تھیں یا نہیںمائۃ مسائل کے چوبیسویں سوال کے جواب میں روایت فقہی ملا علی قاری کی شرح فقہ اکبر ہے جاننا چاہیے کہ کوئی بات غیب کی انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام نہیں جانتے تھے مگر جس قدر کہ اﷲ تعالی ان کو کسی وقت کوئی چیز معلوم کرادیتا تھا تو جانتے تھے جو کوئی اس بات کا اعتقاد کرے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم غیب کی باتیں معلوم کرلیتے تھے حنفیہ نے اس شخص پر صریح تکفیر کا حکم دیا ہے۔ لمعارضۃ قولہ تعالی" قل لا یعلم من فی السموت و الارض الغیب الا اللہ وما یشعرون ایان یبعثون ﴿۶۵﴾ " ۔
(اﷲ تعالی کے اس فرمان کے معارضہ کی وجہ سےتم فرماؤ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگر کوئی شخص کہے کہ غیب کا حال سوائے خدا تعالی کے کوئی نہیں جانتا ہے حتی کہ حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو بھی نہیں معلوم تھا بہ ثبوت اس روایت کے کہ ایك بار ابوجہل نے کنواں راستے میں کھو د کر خس پوش کردیا تھا اور خود بیماری کا حیلہ کرکے پڑرہا تھا جس وقت حضور عیادت کو گئے تو چاہ مذکور عین ر ہگزر میں تھا اس وقت جبرئیل علیہ السلام نے بذریعہ وحی معلوم کیا لہذا اولیاء اﷲ بھی نہیں جان سکتے بجز کشف والہام کے۔بینوا توجروا(بیان فرمایئے اجر دیئے جاؤ گے۔ت)
الجواب:
یہ حق ہے کہ غیب کا حال سوارب عزوجل کے کوئی نہیں جانتا یعنی اپنی ذات سے بے اس کے بتائے اور یہ باطل ہے کہ حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو بھی نہیں معلوم تھا قران کریم واحادیث صحیحہ سے یہ ثابت ہے کہ ما کان وما یکون الی اخر الایام (جو ہوچکا اور قیامت تك ہوگا۔ت)کے تمام غیب حضور اقدس علیہ افضل الصلوۃ والسلام پر منکشف فرمادیئے گئے اور حضور کے بتائے سے حضور کے غلام اولیائے کرام جانتے ہیں کشف والہام دونوں ان کے جاننے کے ذریعہ ہیں اور ان پر کوئی حد بندی نہیں۔ان تمام مضامین کی تفصیل ہماری کتاب انباء المصطفی وخالص الاعتقاد وغیرہما میں ہے اور وہ ابوجہل کے کنویں والی حکایت محض ساختہ و بے اصل ہے۔وھو تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۴۷: از ڈاکخانہ مولوی گنج ضلع گیامسئولہ عبدالمجید ۲۹ رمضان ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جناب رسول خدا صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو غیب کی باتیں معلوم تھیں یا نہیںمائۃ مسائل کے چوبیسویں سوال کے جواب میں روایت فقہی ملا علی قاری کی شرح فقہ اکبر ہے جاننا چاہیے کہ کوئی بات غیب کی انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام نہیں جانتے تھے مگر جس قدر کہ اﷲ تعالی ان کو کسی وقت کوئی چیز معلوم کرادیتا تھا تو جانتے تھے جو کوئی اس بات کا اعتقاد کرے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم غیب کی باتیں معلوم کرلیتے تھے حنفیہ نے اس شخص پر صریح تکفیر کا حکم دیا ہے۔ لمعارضۃ قولہ تعالی" قل لا یعلم من فی السموت و الارض الغیب الا اللہ وما یشعرون ایان یبعثون ﴿۶۵﴾ " ۔
(اﷲ تعالی کے اس فرمان کے معارضہ کی وجہ سےتم فرماؤ
حوالہ / References
القرآن الکریم ۲۷ /۶۵
غیب نہیں جانتے جو کوئی آسمانوں اور زمین میں ہیں مگر اﷲ اور انہیں خبر نہیں کہ کب اٹھائے جائیں گے۔ت)بینوا توجروا (بیان فرمائیے اجر دیئے جاؤ گے۔ت)
الجواب:
زید عمرو کچھ کہیں مگر قرآن مجید وا حادیث صحیحہ کا ارشاد یہ ہے کہ حضور اقدس علیہ افضل الصلوۃ والسلام کو روز ازل سے روز آخر تك کے تمام غیوب کا علم عطا فرمایا گیا یہ بے شك حق ہے کہ انبیاء غیب اسی قدر جانتے ہیں جتنا ان کو ان کے رب نے بتایا بلاشبہہ بے اس کے بتائے کوئی نہیں جان سکتا اور یہ بھی حق ہے کہ احیانا بتایا گیا کہ وحی حینا بعد حین ہی اترتی نہ کہ وقت بعثت سے وقت وفات تك ہر آن علی الاتصالمگر اس سے یہ سمجھ لینا کہ گنتی کی چیزیں معلوم ہوئیں اور ان کے علم کو قلیل و ذلیل قرار دینا مسلمان کا کام نہیںاسی احیانا تعلیم میں شرق و غرب وعرش و فرش کے ذرہ ذرہ کا حال روز ازل سے روز آخر تك تمام منکشف کردیاآیہ کریمہ میں علم ذاتی کی نفی ہے کہ کوئی شخص بے خدا کے بتائے غیب نہیں جانتایہ بے شك حق ہے اور اسی کے معارضہ کو حنفیہ نے کفر کہا ہے ورنہ یہ کہ خدا کے بتائے سے بھی کوئی نہیں جانتا اس کا انکار صریح کفر اور بکثرت آیات کی تکذیب ہے۔اس مسئلہ کی تفصیل انباء المصطفی و خالص الاعتقاد میں دیکھا چاہیے کہ ایمان درست ہووھوتعالی اعلم۔
الجواب:
زید عمرو کچھ کہیں مگر قرآن مجید وا حادیث صحیحہ کا ارشاد یہ ہے کہ حضور اقدس علیہ افضل الصلوۃ والسلام کو روز ازل سے روز آخر تك کے تمام غیوب کا علم عطا فرمایا گیا یہ بے شك حق ہے کہ انبیاء غیب اسی قدر جانتے ہیں جتنا ان کو ان کے رب نے بتایا بلاشبہہ بے اس کے بتائے کوئی نہیں جان سکتا اور یہ بھی حق ہے کہ احیانا بتایا گیا کہ وحی حینا بعد حین ہی اترتی نہ کہ وقت بعثت سے وقت وفات تك ہر آن علی الاتصالمگر اس سے یہ سمجھ لینا کہ گنتی کی چیزیں معلوم ہوئیں اور ان کے علم کو قلیل و ذلیل قرار دینا مسلمان کا کام نہیںاسی احیانا تعلیم میں شرق و غرب وعرش و فرش کے ذرہ ذرہ کا حال روز ازل سے روز آخر تك تمام منکشف کردیاآیہ کریمہ میں علم ذاتی کی نفی ہے کہ کوئی شخص بے خدا کے بتائے غیب نہیں جانتایہ بے شك حق ہے اور اسی کے معارضہ کو حنفیہ نے کفر کہا ہے ورنہ یہ کہ خدا کے بتائے سے بھی کوئی نہیں جانتا اس کا انکار صریح کفر اور بکثرت آیات کی تکذیب ہے۔اس مسئلہ کی تفصیل انباء المصطفی و خالص الاعتقاد میں دیکھا چاہیے کہ ایمان درست ہووھوتعالی اعلم۔
رسالہ
رماح القھار علی کفر الکفار ۱۳۲۸ھ
(قہار کا نیزہ مارنا کافروں کےکفر پر)
(تمہید "خالص الاعتقاد")
بسم اﷲ الرحمن الرحیم ط
الحمد ﷲ ھادی القلوب وافضل الصلوۃ والسلام علی النبی المطلع علی الغیوب المنزہ من جمیع النقائص والعیوب وعلی الہ و صحبہ المطھرین من الذنوب القاھرین علی کل شقی مفترکذوب صلوۃ وسلاما یتجدان بکل طلوع وغروب ۔ تمام تعریفیں اﷲ تعالی کے لیے جو دلوں کو ہدایت دینے والا ہےاور افضل درود و سلام اس نبی کریم پر جو تمام غیبوں پر آگاہ اور تمام عیوب و نقائص سے پاك ہے اور آپ کی آل پر اور صحابہ پر جو گناہوں سے محفوظ اور ہر بدبخت افتراء پرداز (جھوٹے)پر غالب ہیں ایسا درود و سلام جو ہر طلوع و غروب کے ساتھ متجدد ہوتا رہتا ہے۔)(ت)
اﷲ عزوجل جن قلوب کو ہدایت فرماتا ہے ان کا قدم ثبات جادہ حق سے لغزش نہیں کرتا اگر ذریت شیطان اپنے وسوسے شوشے کچھ ڈالتی بھی ہے تو ہر گز اس پر اعتماد نہیں کرتے کہ ان کے
رماح القھار علی کفر الکفار ۱۳۲۸ھ
(قہار کا نیزہ مارنا کافروں کےکفر پر)
(تمہید "خالص الاعتقاد")
بسم اﷲ الرحمن الرحیم ط
الحمد ﷲ ھادی القلوب وافضل الصلوۃ والسلام علی النبی المطلع علی الغیوب المنزہ من جمیع النقائص والعیوب وعلی الہ و صحبہ المطھرین من الذنوب القاھرین علی کل شقی مفترکذوب صلوۃ وسلاما یتجدان بکل طلوع وغروب ۔ تمام تعریفیں اﷲ تعالی کے لیے جو دلوں کو ہدایت دینے والا ہےاور افضل درود و سلام اس نبی کریم پر جو تمام غیبوں پر آگاہ اور تمام عیوب و نقائص سے پاك ہے اور آپ کی آل پر اور صحابہ پر جو گناہوں سے محفوظ اور ہر بدبخت افتراء پرداز (جھوٹے)پر غالب ہیں ایسا درود و سلام جو ہر طلوع و غروب کے ساتھ متجدد ہوتا رہتا ہے۔)(ت)
اﷲ عزوجل جن قلوب کو ہدایت فرماتا ہے ان کا قدم ثبات جادہ حق سے لغزش نہیں کرتا اگر ذریت شیطان اپنے وسوسے شوشے کچھ ڈالتی بھی ہے تو ہر گز اس پر اعتماد نہیں کرتے کہ ان کے
رب نے فرمادیا ہے:
" ان جاءکم فاسق بنبا فتبینوا" ۔ اگر کوئی فاسق تمہارے پاس خبر لائے تو فورا تحقیق کرلو بے تحقیق اعتبار نہ کر بیٹھو۔
پھر جب امر حق اپنی جھلك انہیں دکھاتا ہے فورا ان کا وہ حال ہوتا ہے جو ا ن کے رب نے فرمایا:
" ان الذین اتقوا اذا مسہم طئف من الشیطن تذکروا فاذا ہم مبصرون ﴿۲۰۱﴾" ۔ بے شك وہ جو ڈر والے ہیں جب انہیں کسی شیطانی خیال کی ٹھیس لگتی ہےہوشیار ہوجاتے ہیں اسی وقت ان کی آنکھیں کھل جاتی ہیں۔(ت)
معا ہوشیار ہوجاتے اور ان کی آنکھیں کھل جاتی ہیں ابلیس لعین کی ذریت نے جو پردہ ڈالنا چاہا تھا دھواں بن کر اڑجاتا اور آفتاب حق اپنی نورانی کرنوں سے شعاعیں ڈالنا چمك آتا ہے۔وہابیہ خذلہم اﷲ تعالی نے جب اﷲ واحد قہار اور اس کے حبیب سیدابرار صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی توہین و تکذیب اس حد تك پہنچائی کہ ابلیس لعین کی ہزارہا سال کی کمائی پر فوق لے گئی ادھر اﷲ تبارك و تعالی نے اپنے بندہ عالم اہلسنت مجدد و دین و ملت د ام ظلہم الاقدس کو ان خبثا کی سرکوبی پر مقرار فرمایاالحمدﷲ سرکوبی بھی وہ فرمائی جس سے عرب و عجم گونج اٹھےاکابر علمائے کرام حرمین شریفین نے ان شیاطین کے اقوال تکذیب و توہین پر ان کو کافر مرتد زندیق ملحد لکھا اور صاف فرمادیا کہ "من شك فی کفرہ وعذابہ فقد کفر " ۔جو ایسوں کے ان اقوال پر مطلع ہو کر ان کے کفر و عذاب میں شك کرے وہ بھی انہیں طرح کافر ہے کہ اس نے اﷲ عزوجل کی عزت محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی عظمت کو ہلکا جانا ان کے بدگویوں کو کافر نہ ماناالحمد ﷲ یہ مبارك فتوی مسمی بہ حسام الحرمین علی منحرالکفر والمین(۱۳۲۴ھ)ایسا بے نظیر مرتب ہوا جس نے وہابیت کے دلوں میں رعبقلعوں میں زلزلے ڈال دئے۔پھر نفیس و بے مثال تمھید ایمان بآیات قرآن(۱۳۲۶ھ)اس محمدی خنجر پر اور الہی صیقل ہوئی جس نے خدا و رسول کے دشنام دہندوں کے سب حیلے مٹادیئے اور صاف صاف صرف قرآن عظیم کی آیتوں نے ان پر حکم کفر لگادیئے۔کافروں کے پاس اس کے
" ان جاءکم فاسق بنبا فتبینوا" ۔ اگر کوئی فاسق تمہارے پاس خبر لائے تو فورا تحقیق کرلو بے تحقیق اعتبار نہ کر بیٹھو۔
پھر جب امر حق اپنی جھلك انہیں دکھاتا ہے فورا ان کا وہ حال ہوتا ہے جو ا ن کے رب نے فرمایا:
" ان الذین اتقوا اذا مسہم طئف من الشیطن تذکروا فاذا ہم مبصرون ﴿۲۰۱﴾" ۔ بے شك وہ جو ڈر والے ہیں جب انہیں کسی شیطانی خیال کی ٹھیس لگتی ہےہوشیار ہوجاتے ہیں اسی وقت ان کی آنکھیں کھل جاتی ہیں۔(ت)
معا ہوشیار ہوجاتے اور ان کی آنکھیں کھل جاتی ہیں ابلیس لعین کی ذریت نے جو پردہ ڈالنا چاہا تھا دھواں بن کر اڑجاتا اور آفتاب حق اپنی نورانی کرنوں سے شعاعیں ڈالنا چمك آتا ہے۔وہابیہ خذلہم اﷲ تعالی نے جب اﷲ واحد قہار اور اس کے حبیب سیدابرار صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی توہین و تکذیب اس حد تك پہنچائی کہ ابلیس لعین کی ہزارہا سال کی کمائی پر فوق لے گئی ادھر اﷲ تبارك و تعالی نے اپنے بندہ عالم اہلسنت مجدد و دین و ملت د ام ظلہم الاقدس کو ان خبثا کی سرکوبی پر مقرار فرمایاالحمدﷲ سرکوبی بھی وہ فرمائی جس سے عرب و عجم گونج اٹھےاکابر علمائے کرام حرمین شریفین نے ان شیاطین کے اقوال تکذیب و توہین پر ان کو کافر مرتد زندیق ملحد لکھا اور صاف فرمادیا کہ "من شك فی کفرہ وعذابہ فقد کفر " ۔جو ایسوں کے ان اقوال پر مطلع ہو کر ان کے کفر و عذاب میں شك کرے وہ بھی انہیں طرح کافر ہے کہ اس نے اﷲ عزوجل کی عزت محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی عظمت کو ہلکا جانا ان کے بدگویوں کو کافر نہ ماناالحمد ﷲ یہ مبارك فتوی مسمی بہ حسام الحرمین علی منحرالکفر والمین(۱۳۲۴ھ)ایسا بے نظیر مرتب ہوا جس نے وہابیت کے دلوں میں رعبقلعوں میں زلزلے ڈال دئے۔پھر نفیس و بے مثال تمھید ایمان بآیات قرآن(۱۳۲۶ھ)اس محمدی خنجر پر اور الہی صیقل ہوئی جس نے خدا و رسول کے دشنام دہندوں کے سب حیلے مٹادیئے اور صاف صاف صرف قرآن عظیم کی آیتوں نے ان پر حکم کفر لگادیئے۔کافروں کے پاس اس کے
حوالہ / References
القرآن الکریم ۴۹ /۶
القرآن الکریم ۷ /۲۰۱
حسام الحرمین علی منح الکفروالمین مطبع اہلسنت وجماعت بریلی ص ۹۴
القرآن الکریم ۷ /۲۰۱
حسام الحرمین علی منح الکفروالمین مطبع اہلسنت وجماعت بریلی ص ۹۴
جواب کیا ہوتے اور بے توفیق الہی توبہ کیونکر کرتے ناچار مکرو فریبجھوٹکذبتہمت افترابہتان گالیوںہذیانوں پر اترے جو عاجزوں کی پچھلی تدبیر ہے خادمان سنت نے گالیوں سے اعراض اور اپنی ذات سے متعلق تہمتوں افتراؤں سے بھی اغماض ہی کیاباقی دھوکے بازیوں کے جواب ظفر الدین الجید و کین کش پنجہ پیچ و بارش سنگی و پیکان جانگداز و ضروری نوٹس ونیا زمانہ و کشف راز وغیرہارسائل و اعلانات سے دیتے رہے ان رسالوں اشتہاروں کے جواب سے کفر پارٹی نے پھر ایك کان گونگا ایك بہرا رکھا اصلا کسی بات کا جواب نہ دیا اور اپنی ٹائیں ٹائیں سے باز بھی نہ آئی جب دیکھا کہ یوں کام نہیں چلتا بالاخر مرتا کیا نہ کرتا پارٹی نے دو تدبیریں وہ بے مثال سوچیں کہ ابلیس العین بھی عش عش کر گیا کان ٹیك دیئے ان کے حسن پر غش کر گیا۔
تدبیر اول:معاوضہ بالمثل یعنی علمائے اسلام نے کفر پارٹی کے کفر پر حرمین طیبین کا فتوی شائع فرمایا تمام اسلامی دنیا میں کفر پارٹی ملعونہ پر تھو تھو ہورہی ہےپارٹی کے رنگ فق ہوئےجگر شق ہوئےدم الٹ گئےکلیجے پھٹ گئے مگر قہر قہار کا کیا جواب۔اچھا اس کا جواب نہیں ہوسکتا تو لاؤ جاہلوں کے پھسلانے احمقوں کے بہکانے کو انوکھے افتراء کے پاپڑ بیلیںمعارضہ بالمثل کا جل کھیلیں یعنی پارٹی نے تو ضروریات دین کا انکار کیا ہے اﷲ عزوجل کو جھوٹا کہا ہےختم نبوت کا بکھیڑا اکھیڑا ہےنئی نبوتوں کا راگ چھیڑا ہےرسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے علم سے کہیں اپنے بزرگ ابلیس لعین کے علم کو بڑھایا ہےکہیں پاگلوں چوپایوں کے علم کو علم اقدس کے مثل بنایا ہے۔شیطا ن لعین کو خدا کی صفت میں شریك ٹھہرایا ہےان باتوں پر علمائے اسلام سے کفر و ارتداد کا حکم پایا ہےدیکھو کسی نزعی اختلافی مسئلے میں عرب کے کسی مفتی کو ان علمائے کرام سے خلاف ہو تو اس کے متعلق کچھ لکھوائیں۔اور اس میں گھناؤنی تہمتیں گندے افتراء اپنی طرف سے ملائیںاور بایں ہمہ حکم من مانتا نہ ملے تو حکم بھی جی سے نکال لیں افتراء کی مشین تو گھر میں چل رہی ہے خانگی سانچے میں ڈھال لیں۔بس نام کو کہیں بوئے خلاف ملنی چاہیےپھر کیا ہے ابلیس دے اور ذریت لےسوچتے سوچتے ایك مسئلہ علم خمس کا ملا جس میں مدینہ طیبہ کے شافعی المذہب مفتی برزنجی صاحب کو شبہ تھا اور ایك انہیں کو کیا یہ مسئلہ پہلے سے علمائے امت میں مختلف رہا ہے اکثر ظاہرین جانب انکار رہے اور اولیائے عظام اور ان کے غلام غلمائے کرام جانب اثبات واقرار رہےایسے مسئلے میں کسی طرف تکفیر چہ معنی تضلیل کیسی تفسیق بھی نہیں ہوسکتی۔مسلمانو ! مسائل تین قسم کے ہوتے ہیں۔
ایك ضروریات دین ان کا منکر بلکہ ان میں ادنی شك کرنے والا بالیقین کافر ہوتا ہے ایسا کہ
تدبیر اول:معاوضہ بالمثل یعنی علمائے اسلام نے کفر پارٹی کے کفر پر حرمین طیبین کا فتوی شائع فرمایا تمام اسلامی دنیا میں کفر پارٹی ملعونہ پر تھو تھو ہورہی ہےپارٹی کے رنگ فق ہوئےجگر شق ہوئےدم الٹ گئےکلیجے پھٹ گئے مگر قہر قہار کا کیا جواب۔اچھا اس کا جواب نہیں ہوسکتا تو لاؤ جاہلوں کے پھسلانے احمقوں کے بہکانے کو انوکھے افتراء کے پاپڑ بیلیںمعارضہ بالمثل کا جل کھیلیں یعنی پارٹی نے تو ضروریات دین کا انکار کیا ہے اﷲ عزوجل کو جھوٹا کہا ہےختم نبوت کا بکھیڑا اکھیڑا ہےنئی نبوتوں کا راگ چھیڑا ہےرسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے علم سے کہیں اپنے بزرگ ابلیس لعین کے علم کو بڑھایا ہےکہیں پاگلوں چوپایوں کے علم کو علم اقدس کے مثل بنایا ہے۔شیطا ن لعین کو خدا کی صفت میں شریك ٹھہرایا ہےان باتوں پر علمائے اسلام سے کفر و ارتداد کا حکم پایا ہےدیکھو کسی نزعی اختلافی مسئلے میں عرب کے کسی مفتی کو ان علمائے کرام سے خلاف ہو تو اس کے متعلق کچھ لکھوائیں۔اور اس میں گھناؤنی تہمتیں گندے افتراء اپنی طرف سے ملائیںاور بایں ہمہ حکم من مانتا نہ ملے تو حکم بھی جی سے نکال لیں افتراء کی مشین تو گھر میں چل رہی ہے خانگی سانچے میں ڈھال لیں۔بس نام کو کہیں بوئے خلاف ملنی چاہیےپھر کیا ہے ابلیس دے اور ذریت لےسوچتے سوچتے ایك مسئلہ علم خمس کا ملا جس میں مدینہ طیبہ کے شافعی المذہب مفتی برزنجی صاحب کو شبہ تھا اور ایك انہیں کو کیا یہ مسئلہ پہلے سے علمائے امت میں مختلف رہا ہے اکثر ظاہرین جانب انکار رہے اور اولیائے عظام اور ان کے غلام غلمائے کرام جانب اثبات واقرار رہےایسے مسئلے میں کسی طرف تکفیر چہ معنی تضلیل کیسی تفسیق بھی نہیں ہوسکتی۔مسلمانو ! مسائل تین قسم کے ہوتے ہیں۔
ایك ضروریات دین ان کا منکر بلکہ ان میں ادنی شك کرنے والا بالیقین کافر ہوتا ہے ایسا کہ
جو اس کے کفر میں شك کرے وہ بھی کافر۔
دوم ضروریات عقائد اہلسنتان کا منکر بدمذہب گمراہ ہوتا ہے۔
سوم وہ مسائل کہ علمائے اہلسنت میں مختلف فیہ ہوں ان میں کسی طرف تکفیر و تضلیل ممکن نہیں۔
یہ دوسری بات ہے کہ کوئی شخص اپنے خیال میں کسی قول کو راحج جانے خواہ تحقیقا یعنی دلیل سے اسے وہی مرجح نظر آیا خواہ تقلید کہ اسے اپنے نزدیك اکثر علماء یا اپنے معتمد علیہم کا قول پایا۔کبھی ایك ہی مسئلہ کی صورتوں میں یہ تینوں قسمیں موجود ہوجاتی ہیں۔مثلا اﷲ عزوجل کے لیے ید وعین کا مسئلہ:قال اﷲ تعالی" ید اللہ فوق ایدیہم " ۔(اﷲ تعالی نے فرمایا:ان کے ہاتھوں پر اﷲ کا ہاتھ ہے۔ت)وقال تعالی: " ولتصنع علی عینی ﴿۳۹﴾" ۔اور اﷲ تعالی نے فرمایا:اور اس لیے کہ تو میری نگاہ کے سامنے تیار ہو۔ت)ید ہاتھ کو کہتے ہیںعین آنکھ کو۔اب جو یہ کہے کہ جیسے ہمارے ہاتھ آنکھ ہیں ایسے ہی جسم کے ٹکڑے اﷲ عزوجل کے لیے ہیں وہ قطعا کافر ہے اﷲ عزوجل کا ایسے یدو عین سے پاك ہونا ضروریات دین سے ہےاور جو کہے کہ اس کے یدو عین بھی ہیں تو جسم ہی مگر نہ مثل اجسامبلکہ مشابہت اجسام سے پاك و منزہ ہیں وہ گمراہ بددین کہ اﷲ عزوجل کا جسم و جسمانیات سے مطلقا پاك ومنزہ ہونا ضروریات عقائد اہلسنت و جماعت سے ہےاور جو کہے کہ اﷲ عزوجل کے لیے یدوعین ہیں کہ مطلقا جسمیت سے بری و مبرا ہیں وہ اس کی صفات قدیمہ ہیں جن کی حقیقت ہم نہیں جانتے نہ ان میں تاویل کریں وہ قطعا مسلم سنی صحیح العقیدہ ہے اگر چہ یہ عدم تاویل کا مسئلہ اہلسنت کا خلافیہ ہے متاخرین نے تاویل اختیار کی پھر اس سے نہ یہ گمراہ ہوئے کہ وہ کہ اجر اعلی المظاہر بمعنی مذکور کرتے ہیں جس کا حاصل صرف اتنا کہ" امنا بہ کل من عند ربنا" ۔(ہم اس پر ایمان لائےسب ہمارے رب کے پاس سے ہے۔ت)
بعینہ یہی حالت مسئلہ علم غیب کی ہے۔اس میں بھی تینوں قسم کے مسائل موجود ہیں۔
(۱)اﷲ عزوجل ہی عالم بالذات ہے اس کے بتائے ایك حرف کوئی نہیں جان سکتا۔
(۲)رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اور دیگر انبیائے کرام علیہم الصلوۃ والسلام کو اﷲ عزوجل نے اپنے بعض غیوب کا علم دیا۔
(۳)رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا علم اوروں سے زائد ہے ابلیس کا علم معاذ اﷲ
دوم ضروریات عقائد اہلسنتان کا منکر بدمذہب گمراہ ہوتا ہے۔
سوم وہ مسائل کہ علمائے اہلسنت میں مختلف فیہ ہوں ان میں کسی طرف تکفیر و تضلیل ممکن نہیں۔
یہ دوسری بات ہے کہ کوئی شخص اپنے خیال میں کسی قول کو راحج جانے خواہ تحقیقا یعنی دلیل سے اسے وہی مرجح نظر آیا خواہ تقلید کہ اسے اپنے نزدیك اکثر علماء یا اپنے معتمد علیہم کا قول پایا۔کبھی ایك ہی مسئلہ کی صورتوں میں یہ تینوں قسمیں موجود ہوجاتی ہیں۔مثلا اﷲ عزوجل کے لیے ید وعین کا مسئلہ:قال اﷲ تعالی" ید اللہ فوق ایدیہم " ۔(اﷲ تعالی نے فرمایا:ان کے ہاتھوں پر اﷲ کا ہاتھ ہے۔ت)وقال تعالی: " ولتصنع علی عینی ﴿۳۹﴾" ۔اور اﷲ تعالی نے فرمایا:اور اس لیے کہ تو میری نگاہ کے سامنے تیار ہو۔ت)ید ہاتھ کو کہتے ہیںعین آنکھ کو۔اب جو یہ کہے کہ جیسے ہمارے ہاتھ آنکھ ہیں ایسے ہی جسم کے ٹکڑے اﷲ عزوجل کے لیے ہیں وہ قطعا کافر ہے اﷲ عزوجل کا ایسے یدو عین سے پاك ہونا ضروریات دین سے ہےاور جو کہے کہ اس کے یدو عین بھی ہیں تو جسم ہی مگر نہ مثل اجسامبلکہ مشابہت اجسام سے پاك و منزہ ہیں وہ گمراہ بددین کہ اﷲ عزوجل کا جسم و جسمانیات سے مطلقا پاك ومنزہ ہونا ضروریات عقائد اہلسنت و جماعت سے ہےاور جو کہے کہ اﷲ عزوجل کے لیے یدوعین ہیں کہ مطلقا جسمیت سے بری و مبرا ہیں وہ اس کی صفات قدیمہ ہیں جن کی حقیقت ہم نہیں جانتے نہ ان میں تاویل کریں وہ قطعا مسلم سنی صحیح العقیدہ ہے اگر چہ یہ عدم تاویل کا مسئلہ اہلسنت کا خلافیہ ہے متاخرین نے تاویل اختیار کی پھر اس سے نہ یہ گمراہ ہوئے کہ وہ کہ اجر اعلی المظاہر بمعنی مذکور کرتے ہیں جس کا حاصل صرف اتنا کہ" امنا بہ کل من عند ربنا" ۔(ہم اس پر ایمان لائےسب ہمارے رب کے پاس سے ہے۔ت)
بعینہ یہی حالت مسئلہ علم غیب کی ہے۔اس میں بھی تینوں قسم کے مسائل موجود ہیں۔
(۱)اﷲ عزوجل ہی عالم بالذات ہے اس کے بتائے ایك حرف کوئی نہیں جان سکتا۔
(۲)رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اور دیگر انبیائے کرام علیہم الصلوۃ والسلام کو اﷲ عزوجل نے اپنے بعض غیوب کا علم دیا۔
(۳)رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا علم اوروں سے زائد ہے ابلیس کا علم معاذ اﷲ
علم اقدس سے ہر گز وسیع تر نہیں۔
(۴)جو علم اﷲ عزوجل کی صفت خاصہ ہے جس میں اس کے حبیب محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو شریك کرنا بھی شرك ہو وہ ہرگز ابلیس کے لیے نہیں ہوسکتا جو ایسا مانے قطعا مشرك کافر ملعون بندہ ابلیس ہے۔
(۵)زید و عمرو ہر بچے پاگلچوپائے کو علم غیب میں محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے مماثل کہنا حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی صریح توہین اور کھلا کفر ہےیہ سب مسائل ضروریات دین سے ہیں اور ان کا منکر ان میں ادنی شك لانے والا قطعا کافریہ قسم اول ہوئی۔
(۶)اولیاء کرام نفعنا اﷲ تعالی ببرکاتھم فی الدارین کو بھی کچھ علوم غیب ملتے ہیں مگر بوساطت رسل علیھم الصلوۃ والسلام۔معتزلہ خذلھم اﷲ تعالی کہ صرف رسولوں کے لیے اطلاع غیب مانتے اور اولیاء کرم رضی اﷲ تعالی عنھم کا علوم غیب کا اصلاحصہ نہیں مانتے گمراہ ومبتدع ہیں۔
(۷)اﷲ عزوجل نے اپنے محبوبوں خصوصا سید المحبوبین صلی اﷲ تعالی علیہ وعلیہم وسلم کو غیوب خمسہ سے بہت جزئیات کا علم بخشا جو یہ کہے کہ خمس میں سے کسی فرد کا علم کسی کو نہ دیا گیا ہزار ہا احادیث متواترۃ المعنی کا منکر اور بدمذہب خاسر ہےیہ قسم دوم ہوئی۔
(۸)رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو تعیین وقت قیامت کا بھی علم ملا۔
(۹)حضور کو بلا استثناء جمیع جزئیات خمس کا علم ہے۔
(۱۰)جملہ مکنونات قلم و مکتوبات لوح بالجملہ روز اول سے روز آخر تك تمام ماکان ومایکون مندرجہ لوح محفوظ اور اس سے بہت زائد کا عالم ہے جس میں ماورائے قیامت تو جملہ افراد خمس داخل اور دربارہ قیامت اگر ثابت ہو کہ اس کی تعیین وقت بھی درج لوح ہے تو اسے بھی شاملورنہ دونوں احتمال حاصل۔
(۱۱)حضور پرنور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو حقیقت روح کا بھی علم ہے۔
(۱۲)جملہ متشابہات قرآنیہ کا بھی علم ہےیہ پانچوں مسائل قسم سوم سے ہیں کہ ان میں خود علماء و آئمہ اہل سنت مختلف رہے ہیں جس کا بیان بعونہ تعالی عنقریب واضح ہوگا ان میں مثبت و نافی کسی پر معاذ اﷲ کفر کیا معنی ضلال یا فسق کا بھی حکم نہیں ہوسکتا جب کہ پہلے سات مسئلوں پر ایمان
(۴)جو علم اﷲ عزوجل کی صفت خاصہ ہے جس میں اس کے حبیب محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو شریك کرنا بھی شرك ہو وہ ہرگز ابلیس کے لیے نہیں ہوسکتا جو ایسا مانے قطعا مشرك کافر ملعون بندہ ابلیس ہے۔
(۵)زید و عمرو ہر بچے پاگلچوپائے کو علم غیب میں محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے مماثل کہنا حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی صریح توہین اور کھلا کفر ہےیہ سب مسائل ضروریات دین سے ہیں اور ان کا منکر ان میں ادنی شك لانے والا قطعا کافریہ قسم اول ہوئی۔
(۶)اولیاء کرام نفعنا اﷲ تعالی ببرکاتھم فی الدارین کو بھی کچھ علوم غیب ملتے ہیں مگر بوساطت رسل علیھم الصلوۃ والسلام۔معتزلہ خذلھم اﷲ تعالی کہ صرف رسولوں کے لیے اطلاع غیب مانتے اور اولیاء کرم رضی اﷲ تعالی عنھم کا علوم غیب کا اصلاحصہ نہیں مانتے گمراہ ومبتدع ہیں۔
(۷)اﷲ عزوجل نے اپنے محبوبوں خصوصا سید المحبوبین صلی اﷲ تعالی علیہ وعلیہم وسلم کو غیوب خمسہ سے بہت جزئیات کا علم بخشا جو یہ کہے کہ خمس میں سے کسی فرد کا علم کسی کو نہ دیا گیا ہزار ہا احادیث متواترۃ المعنی کا منکر اور بدمذہب خاسر ہےیہ قسم دوم ہوئی۔
(۸)رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو تعیین وقت قیامت کا بھی علم ملا۔
(۹)حضور کو بلا استثناء جمیع جزئیات خمس کا علم ہے۔
(۱۰)جملہ مکنونات قلم و مکتوبات لوح بالجملہ روز اول سے روز آخر تك تمام ماکان ومایکون مندرجہ لوح محفوظ اور اس سے بہت زائد کا عالم ہے جس میں ماورائے قیامت تو جملہ افراد خمس داخل اور دربارہ قیامت اگر ثابت ہو کہ اس کی تعیین وقت بھی درج لوح ہے تو اسے بھی شاملورنہ دونوں احتمال حاصل۔
(۱۱)حضور پرنور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو حقیقت روح کا بھی علم ہے۔
(۱۲)جملہ متشابہات قرآنیہ کا بھی علم ہےیہ پانچوں مسائل قسم سوم سے ہیں کہ ان میں خود علماء و آئمہ اہل سنت مختلف رہے ہیں جس کا بیان بعونہ تعالی عنقریب واضح ہوگا ان میں مثبت و نافی کسی پر معاذ اﷲ کفر کیا معنی ضلال یا فسق کا بھی حکم نہیں ہوسکتا جب کہ پہلے سات مسئلوں پر ایمان
رکھتا ہو اور ان پانچ کا انکار اس مرض قلب کی بنا پر نہ ہو جو وہابیہ قاتلہم اﷲ تعالی کے نجس دلوں کو ہے کہ محمد رسول ا ﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے فضائل سے جلتے اور جہاں تك بنے تنقیص و کمی کی راہ چلتے ہیںفی قلوبھم مرض فزادھم اﷲ مرضا ولا ھل السنۃ من اﷲ احمد رضا امین۔(ان کے دلوں میں بیماری ہے ان کی بیماری اور بڑھ گئی اور اہل سنت کے لیے اﷲ عزوجل کی طرف سے بہترین رضا ہوآمین ! ت)
وہابیہ کی مکاریاں
اب وہابیہ کی مکاریاں دیکھیے۔
اولا:انہیں معلوم ہوا کہ سرکار اعظم مدینہ طیبہ میں مفتی شافعیہ کو باتباع اہل ظاہر بعض مسائل قسم سوم میں خلاف ہےخبثاء کا اپنا خلاف تو مسائل قسم اول میں تھا انکار ضروریات دیں و توہین حضور پر نور سیدالمرسلین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کرکے خود انہیں مفتی شافعیہ و جملہ مفتیان کرام ہر دو حرم محترم کے روشن فتوؤں سے کافر مرتد مستحق لعنت ابد ٹھہر چکے تھےجھٹ سب سے ہلکی قسم سوم میں خلاف لاڈالا۔دو فائدے سوچ کر ایك یہ کہ جب مسئلہ خود اہلسنت کا خلافیہ ہے تو ادھر بھی عبارات علماء مل جائیں گی۔ناواقفوں کے سامنے غل مچانے کی گنجائش تو ہوگیدوسرے سب سے بڑا جل یہ کہ مفتی صاحب سے کوئی تحریر ہاتھ آسکے گی جسے بزور زبان و زور بہتان حسام الحرمین کا معاوضہ ٹھہرا سکین اور گلے پھاڑ کر چیخننا شروع کیا کہ علم غیب میں مناظرہ کرلو۔ہیے کی پھوٹوں سے کہیے کہ مسائل قسم اول تو اصل الاصول مسائل علم غیب ہیں۔خبیثو! تم ان کے منکر ہو کر باجماع علمائے حرمین شریفین کافرٹھہرچکے ہو۔انہیں چھوڑ کر سب سے ہلکے مسائل قسم سوم کی طرف کہاں رہے جاتے ہو جو خود ہم اہلسنت کے خلافیہ ہیں۔پہلے مسلمان تو ہو لو پھر کسی فرعی مسئلہ کو چھیڑو۔اس کی نظیر یہی ہوسکتی ہے کہ کوئی ملعون معاذ اﷲ اﷲ عزوجل کے لیے ہمارے ہی سے ہاتھپاؤںآنکھکانگوشتپوستاستخواں سے مرکب مانےاور جب اہل اسلام اس کی تکفیر کریں تو ید و عین میں مسئلہ خلافیہ تاویل و تفویض میں بحث کی آڑلےاس سے یہی کہا جائے گا کہ ابلیس کے مسخرے تو توصراحۃ اس قدوس متعالی عزجلالہ کو اپنا سا جسم مان کر کافر ہوچکا ہے تجھ سے اور اس مسئلہ خلافیہ اہلسنت سے کیا علاقہ۔دجال کے گدھے پہلے آدمی تو بن مسلمان تو ہو۔پھر تفویض و تاویل پوچھیومسلمانو! ان خبثاء کے علم غیب رٹنے کا یہ حاصل ہے۔ تعسالھم واضل
وہابیہ کی مکاریاں
اب وہابیہ کی مکاریاں دیکھیے۔
اولا:انہیں معلوم ہوا کہ سرکار اعظم مدینہ طیبہ میں مفتی شافعیہ کو باتباع اہل ظاہر بعض مسائل قسم سوم میں خلاف ہےخبثاء کا اپنا خلاف تو مسائل قسم اول میں تھا انکار ضروریات دیں و توہین حضور پر نور سیدالمرسلین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کرکے خود انہیں مفتی شافعیہ و جملہ مفتیان کرام ہر دو حرم محترم کے روشن فتوؤں سے کافر مرتد مستحق لعنت ابد ٹھہر چکے تھےجھٹ سب سے ہلکی قسم سوم میں خلاف لاڈالا۔دو فائدے سوچ کر ایك یہ کہ جب مسئلہ خود اہلسنت کا خلافیہ ہے تو ادھر بھی عبارات علماء مل جائیں گی۔ناواقفوں کے سامنے غل مچانے کی گنجائش تو ہوگیدوسرے سب سے بڑا جل یہ کہ مفتی صاحب سے کوئی تحریر ہاتھ آسکے گی جسے بزور زبان و زور بہتان حسام الحرمین کا معاوضہ ٹھہرا سکین اور گلے پھاڑ کر چیخننا شروع کیا کہ علم غیب میں مناظرہ کرلو۔ہیے کی پھوٹوں سے کہیے کہ مسائل قسم اول تو اصل الاصول مسائل علم غیب ہیں۔خبیثو! تم ان کے منکر ہو کر باجماع علمائے حرمین شریفین کافرٹھہرچکے ہو۔انہیں چھوڑ کر سب سے ہلکے مسائل قسم سوم کی طرف کہاں رہے جاتے ہو جو خود ہم اہلسنت کے خلافیہ ہیں۔پہلے مسلمان تو ہو لو پھر کسی فرعی مسئلہ کو چھیڑو۔اس کی نظیر یہی ہوسکتی ہے کہ کوئی ملعون معاذ اﷲ اﷲ عزوجل کے لیے ہمارے ہی سے ہاتھپاؤںآنکھکانگوشتپوستاستخواں سے مرکب مانےاور جب اہل اسلام اس کی تکفیر کریں تو ید و عین میں مسئلہ خلافیہ تاویل و تفویض میں بحث کی آڑلےاس سے یہی کہا جائے گا کہ ابلیس کے مسخرے تو توصراحۃ اس قدوس متعالی عزجلالہ کو اپنا سا جسم مان کر کافر ہوچکا ہے تجھ سے اور اس مسئلہ خلافیہ اہلسنت سے کیا علاقہ۔دجال کے گدھے پہلے آدمی تو بن مسلمان تو ہو۔پھر تفویض و تاویل پوچھیومسلمانو! ان خبثاء کے علم غیب رٹنے کا یہ حاصل ہے۔ تعسالھم واضل
اعمالہم(ان پر تباہی پڑے اور اﷲ انکے اعمال برباد کرے۔ت)
ثانیا:پیش خویش یہ منصوبےگانٹھ کر ایك مقہور مخصوم آثم ماثوم عــــــہ زنگی کافور موسوم کو(کہ مکہ معظمہ میں بعون اﷲ تعالی خائب و خاسر و ذلیل و مخصوم ہوچکا تھا یہاں تك کہ علمائے کرام حرم شریف نے اس کا نام ہی بدل کر مخصوم رکھ دیا تھا۔)متعین کیا کہ مکہ معظمہ میں تو چھل پیچ نہ چلا مجدد دین و ملت کے انوار علم نے حرم شریف کے کوچے کو جگمگادیا ہے یہاں کے علمائے کرام بعون الملك العلام فریب میں نہ آئیں گے سرکار اعظم مدینہ طیبہ میں ہنوز"الدولۃ المکیۃ بالمادۃ الغیبیۃ(۱۳۲۳ھ)" کا آفتاب طالع نہیں ہوا اور مفتی شافعیہ کو خمس میں اشتباہ ہے ہی وہاں جل کھیلیںمخصوم ماثوم ہےذی ہوش سمجھا کہ اس قدر سے اپنی جگری چہیتوں کفر و ارتداد کی مصیبت بیتون کے اندرونی گہرے زخم جانکاہ کا کیا مرہم ہوگا کہ مسئلہ خود اہلسنت کا خلافیہ ہے بڑھ سے بڑھ اتنا ہوگا کہ مفتی صاحب اپنا قول مختار لکھ دیں اور دوسرے قول کو خلاف تحقیق بتائیںیہ تو آئمہ و علماء میں صحابہ کرام کے وقت سے آج تك برابر ہوتا آیا ہے اور ہوتا رہے گا اس سے کیا کام چلے گالہذا اس میں یہ نمك مرچ ملائے گئے کہ اعلیحضرت مجدد دین و ملت نے اپنے رسالہ میں علم رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو سوا علوم ذات و صفات الہی کے جملہ معلومات الہیہ غیر متناہیہ بالفعل کو بتفصیل تام محیط ٹھہرایا اور اس احاطہ میں علم الہی و علم نبوی میں صرف قدم و حدوث کا فرق بتایا ہے۔
مفتریوں پر کمال قہر الہی کا ثمر یہ کہ یہ من گھڑت باتیں رسالہ اعلیحضرت کی طرف نسبت کیں جس میں صراحۃ ان اباطیل کا روشن رد ہے جس کا ذکر بعونہ تعالی عنقریب آتا ہے رسالے میں اگر ان باتوں کی نسبت ہاں ونہکچھ نہ ہوتا تو ان کا اس کی طرف منسوب کرنا سخت خبیث افتراء تھا نہ کہ رسالے میں بتصریح نام روشن و و اضح طور پر جن باتوں کا رد ہوا انہیں کو اس کی طرف نسبت کریا جائے اس کی نظیر یہی ہوسکتی ہے کہ کوئی معلون کہے قرآن عظیم میں عیسی مسیح کو خدا لکھا ہے " ان اللہ ہو المسیح ابن مریم [[" ۔(بے شك اﷲ مسیح ابن مریم ہی ہے۔ت) اس سے یہی کہا جائے گا کہ اوملعون مجنون ابلیس کے مفتون سوجھ کر قرآن عظیم میں ایسا فرمایا ہے یا اس کا رد ارشا د ہوا ہے کہ:
عــــــہ:ماثوم مجرم سزایافتہ کہ خدائے کیفر کردارش بکنارش نہاد ۱۲۔
ثانیا:پیش خویش یہ منصوبےگانٹھ کر ایك مقہور مخصوم آثم ماثوم عــــــہ زنگی کافور موسوم کو(کہ مکہ معظمہ میں بعون اﷲ تعالی خائب و خاسر و ذلیل و مخصوم ہوچکا تھا یہاں تك کہ علمائے کرام حرم شریف نے اس کا نام ہی بدل کر مخصوم رکھ دیا تھا۔)متعین کیا کہ مکہ معظمہ میں تو چھل پیچ نہ چلا مجدد دین و ملت کے انوار علم نے حرم شریف کے کوچے کو جگمگادیا ہے یہاں کے علمائے کرام بعون الملك العلام فریب میں نہ آئیں گے سرکار اعظم مدینہ طیبہ میں ہنوز"الدولۃ المکیۃ بالمادۃ الغیبیۃ(۱۳۲۳ھ)" کا آفتاب طالع نہیں ہوا اور مفتی شافعیہ کو خمس میں اشتباہ ہے ہی وہاں جل کھیلیںمخصوم ماثوم ہےذی ہوش سمجھا کہ اس قدر سے اپنی جگری چہیتوں کفر و ارتداد کی مصیبت بیتون کے اندرونی گہرے زخم جانکاہ کا کیا مرہم ہوگا کہ مسئلہ خود اہلسنت کا خلافیہ ہے بڑھ سے بڑھ اتنا ہوگا کہ مفتی صاحب اپنا قول مختار لکھ دیں اور دوسرے قول کو خلاف تحقیق بتائیںیہ تو آئمہ و علماء میں صحابہ کرام کے وقت سے آج تك برابر ہوتا آیا ہے اور ہوتا رہے گا اس سے کیا کام چلے گالہذا اس میں یہ نمك مرچ ملائے گئے کہ اعلیحضرت مجدد دین و ملت نے اپنے رسالہ میں علم رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو سوا علوم ذات و صفات الہی کے جملہ معلومات الہیہ غیر متناہیہ بالفعل کو بتفصیل تام محیط ٹھہرایا اور اس احاطہ میں علم الہی و علم نبوی میں صرف قدم و حدوث کا فرق بتایا ہے۔
مفتریوں پر کمال قہر الہی کا ثمر یہ کہ یہ من گھڑت باتیں رسالہ اعلیحضرت کی طرف نسبت کیں جس میں صراحۃ ان اباطیل کا روشن رد ہے جس کا ذکر بعونہ تعالی عنقریب آتا ہے رسالے میں اگر ان باتوں کی نسبت ہاں ونہکچھ نہ ہوتا تو ان کا اس کی طرف منسوب کرنا سخت خبیث افتراء تھا نہ کہ رسالے میں بتصریح نام روشن و و اضح طور پر جن باتوں کا رد ہوا انہیں کو اس کی طرف نسبت کریا جائے اس کی نظیر یہی ہوسکتی ہے کہ کوئی معلون کہے قرآن عظیم میں عیسی مسیح کو خدا لکھا ہے " ان اللہ ہو المسیح ابن مریم [[" ۔(بے شك اﷲ مسیح ابن مریم ہی ہے۔ت) اس سے یہی کہا جائے گا کہ اوملعون مجنون ابلیس کے مفتون سوجھ کر قرآن عظیم میں ایسا فرمایا ہے یا اس کا رد ارشا د ہوا ہے کہ:
عــــــہ:ماثوم مجرم سزایافتہ کہ خدائے کیفر کردارش بکنارش نہاد ۱۲۔
حوالہ / References
القرآن الکریم ۵ /۱۷
" لقد کفر الذین قالوا ان اللہ ہو المسیح ابن مریم قل فمن یملک من اللہ شیـا ان اراد ان یہلک المسیح ابن مریم وامہ ومن فی الارض جمیعا " ۔ بے شك کافر ہیں وہ جو مسیح ابن مریم کو خدا کہتے ہیں تم فرمادو کہ کسی کو اﷲ پر کچھ اختیار ہے اگر وہ مسیح ابن مریم اور انکی ماں اور تمام اہل زمین کو فنا کردینا چاہیے۔
اعلیحضرت نے یہ مبارك رسالہ مکہ معظمہ میں تصنیف فرمایا اکابر علمائے مکہ نے خواہش کرکے اس کی نقلیں لیں اس رسالہ کی قسم اول جناب مفتی برزنجی صاحب نے پڑھوا کر سنی حاش ﷲ ہزار ہزار بار حاش ﷲ زنہار معقول و مقبول نہیں کہ معاذ اﷲ خود حضرت ممدوح ایسے اخبث انجس افترائے ملعون تراشیں یا ان کا تراشنا روا رکھیں بلکہ ضرور ضرور ان دل کے اندھوں نے اس مقدس مفتی کی ظاہری نابینائی سے فائدہ اٹھایا اور کوئی نہ کوئی کارروائی دھوکے فریب یا تحریف تصحیف کی عمل میں لائی گئی۔
" انما یفتری الکذب الذین لا یؤمنون" ۔(افتراء وہی باندھتے ہیں جو ایمان نہیں رکھتے۔ت) اپنے پرانوں
" المرجفون فی المدینۃ " ۔(مدینہ میں جھوٹ اڑانے والوں۔ت)کا ترکہ پایا
"و سیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون ﴿۲۲۷﴾
" ۔(اور اب جانا چاہتے ہیں ظالم کہ کس کروٹ پر پلٹا کھائیں گے۔ت)
ثالثا:خبثاء نے کھایا بھی اور کال بھی نہ کٹا:مفتی صاحب نے ان افترائی اقوال پر بھی اتنا ہی حکم دیا کہ غلط اور تفسیرقرآن پر بے دلیل جرأت ہے اشقیاء کے طائفہ بھر کی چھاتیاں پھٹ گئیں کہ ہائے ہائے رسول کے شہر میں خدا کا قہر سر پر اوڑھا اور کچھ کام نہ چلا۔اب رامپوربریلیدیوبندتھانہ بھونانبیٹھ گنگوہدہلیپنجاب وغیرہا کے سب پنج غیب جڑجڑا کر کمیٹیاں ہوئیں اور رائے پاس ہولی کہ ابلیسی مسخرو! تم اور غم کرو۔ارے افترا کی مشین تو تمہارے گھر چل رہی ہے۔مجدد ملت پر افترا جوڑے تھے حضرت مفی صاحب پر جوڑتے ہوئے کیوں مرے جاتے ہوبنا برآں پہلے افتراء میں وہ جو علوم ذات و صفات الہی کا استثناء رکھا تھا اپنے ہی چھپے ہوئے رسالے غایۃ المامول سے اسے بھی اڑادیا جناب منور علی رامپوری اینڈ کو جو اس رسالہ غایۃ المامول کے لانے والے چھانپے والے ہیں مسلمان سب سے پہلے انہیں کی دن دہاڑے چوری اور سر زوری ملاحظہ فرمائیں۔رسالے کے صفحہ ۳ پر مفتی صاحب
اعلیحضرت نے یہ مبارك رسالہ مکہ معظمہ میں تصنیف فرمایا اکابر علمائے مکہ نے خواہش کرکے اس کی نقلیں لیں اس رسالہ کی قسم اول جناب مفتی برزنجی صاحب نے پڑھوا کر سنی حاش ﷲ ہزار ہزار بار حاش ﷲ زنہار معقول و مقبول نہیں کہ معاذ اﷲ خود حضرت ممدوح ایسے اخبث انجس افترائے ملعون تراشیں یا ان کا تراشنا روا رکھیں بلکہ ضرور ضرور ان دل کے اندھوں نے اس مقدس مفتی کی ظاہری نابینائی سے فائدہ اٹھایا اور کوئی نہ کوئی کارروائی دھوکے فریب یا تحریف تصحیف کی عمل میں لائی گئی۔
" انما یفتری الکذب الذین لا یؤمنون" ۔(افتراء وہی باندھتے ہیں جو ایمان نہیں رکھتے۔ت) اپنے پرانوں
" المرجفون فی المدینۃ " ۔(مدینہ میں جھوٹ اڑانے والوں۔ت)کا ترکہ پایا
"و سیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون ﴿۲۲۷﴾
" ۔(اور اب جانا چاہتے ہیں ظالم کہ کس کروٹ پر پلٹا کھائیں گے۔ت)
ثالثا:خبثاء نے کھایا بھی اور کال بھی نہ کٹا:مفتی صاحب نے ان افترائی اقوال پر بھی اتنا ہی حکم دیا کہ غلط اور تفسیرقرآن پر بے دلیل جرأت ہے اشقیاء کے طائفہ بھر کی چھاتیاں پھٹ گئیں کہ ہائے ہائے رسول کے شہر میں خدا کا قہر سر پر اوڑھا اور کچھ کام نہ چلا۔اب رامپوربریلیدیوبندتھانہ بھونانبیٹھ گنگوہدہلیپنجاب وغیرہا کے سب پنج غیب جڑجڑا کر کمیٹیاں ہوئیں اور رائے پاس ہولی کہ ابلیسی مسخرو! تم اور غم کرو۔ارے افترا کی مشین تو تمہارے گھر چل رہی ہے۔مجدد ملت پر افترا جوڑے تھے حضرت مفی صاحب پر جوڑتے ہوئے کیوں مرے جاتے ہوبنا برآں پہلے افتراء میں وہ جو علوم ذات و صفات الہی کا استثناء رکھا تھا اپنے ہی چھپے ہوئے رسالے غایۃ المامول سے اسے بھی اڑادیا جناب منور علی رامپوری اینڈ کو جو اس رسالہ غایۃ المامول کے لانے والے چھانپے والے ہیں مسلمان سب سے پہلے انہیں کی دن دہاڑے چوری اور سر زوری ملاحظہ فرمائیں۔رسالے کے صفحہ ۳ پر مفتی صاحب
حوالہ / References
القرآن الکریم ۵ /۱۷
القرآن الکریم ۱۶ /۱۰۵
القرآن الکریم ۳۳ /۶۰
القرآن الکریم ۲۶ /۲۲۷
القرآن الکریم ۱۶ /۱۰۵
القرآن الکریم ۳۳ /۶۰
القرآن الکریم ۲۶ /۲۲۷
کی طرف منسوب عبارت تویہ چھاپی:
ذھب فیہا ای صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم علمہ محیط بکل شیئ حتی المغیبات الخمس وانہ لا یستثنی من ذلك الا العلم المتعلق بذات اﷲ تعالی وصفاتہ۔ اس کا عقیدہ یہ ہے کہ نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا علم ہر شے کو محیط ہے حتی کہ مغیبات خمسہ کو بھیاور وہ اﷲ تعالی کی ذات و صفات سے متعلق علم کے سوا کسی علم کو اس سے مستثنی نہیں کرتا۔(ت)
جس میں علم متعلق بذات الہی و صفات الہی کا صریح استثناء موجود ہے اور اس عبارت کے منگھڑت خلاصہ کا ترجمہ آخر کتاب میں یوں چھاپا کہ"رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا علم بھی ایسا ہی محیط ہے جیسے اﷲ تعالی کا اور آپ کے علم اور اﷲ تعالی کے علم میں کوئی فرق نہیں سوائے حدو ث و قدم کے"۔
ملاحظہ ہو کہ وہ علم ذات و صفات کا استثناء یك لخت اڑ گیا۔اور بلا استثناء جمیع معلومات الہیہ کو علم نبوی محیط ماننے کا بہتان جڑ گیا۔بیجا بددین لوگ اکثر افتراء گانٹھا کرتے ہیں اس کا کچھ گلہ نہیں مگر۔ ع
چہ دلاور است دزدے کہ بکف چراغ دارد
(چور کتنا دلیر ہے کہ ہاتھ میں چراغ رکھتاہے۔ت)
کاسماں اور ہی مزہ رکھتا ہےجس کتاب میں تحریف کریں اسی کے ساتھ اسی کی پشت پر چھاپ دیں اور پھر سر بازار مسلمانوں کو آنکھیں دکھائیں۔تف تف تف تف سے کیا ہوتا ہے جب خدا کی لعنت ہی کا خوف نہیں پھراپھر اس چالبازی کی کیا شکایت کہ مفتی صاحب کی طرف عبارت تو یہ منسوب کی"العلنی علی رسالۃ ذھب فیھا"جس کا صاف مفادیہ کہ یہ مضمون اس رسالہ کا ہےحالانکہ رسالہ میں اس کا صاف رد لکھا ہےاور باطنی طائفہ نجدیت کے امام عــــــہ معصوم سفلی آسمان کذب و افتراء کے بدر منور اس کا ترجمہ یوں گانٹھتے ہیں”اپنے دوسرے رسالہ علم غیب کی مجھ کو خبر دی اور اس کا یہ مدعا بیان کیا۔"یعنی یہ مدعا زبانی بیان میں تھا نہ کہ رسالہ میں۔
تاکہ کوئی رسالہ کا تپانچہ دے کر جھوٹ بکنے والا لوٹ دے کر مفتریو رسالہ میں یہ قول لکھا ہے یا اس کا رد کیا ہے۔پھر اس ننھی سی کتر بیونت کا کیا گلہ کہ مفتی صاحب کی طرف عبارت تو یہ منسوب کی "فلم ال جھدا فی بیان ان الآیۃ المذکورۃ لا تدل علی مدعاہ دلالۃ قطعیۃ"
عــــــہ: اسماعیل دہلوی کی صراط مستقیم میں۔
ذھب فیہا ای صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم علمہ محیط بکل شیئ حتی المغیبات الخمس وانہ لا یستثنی من ذلك الا العلم المتعلق بذات اﷲ تعالی وصفاتہ۔ اس کا عقیدہ یہ ہے کہ نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا علم ہر شے کو محیط ہے حتی کہ مغیبات خمسہ کو بھیاور وہ اﷲ تعالی کی ذات و صفات سے متعلق علم کے سوا کسی علم کو اس سے مستثنی نہیں کرتا۔(ت)
جس میں علم متعلق بذات الہی و صفات الہی کا صریح استثناء موجود ہے اور اس عبارت کے منگھڑت خلاصہ کا ترجمہ آخر کتاب میں یوں چھاپا کہ"رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا علم بھی ایسا ہی محیط ہے جیسے اﷲ تعالی کا اور آپ کے علم اور اﷲ تعالی کے علم میں کوئی فرق نہیں سوائے حدو ث و قدم کے"۔
ملاحظہ ہو کہ وہ علم ذات و صفات کا استثناء یك لخت اڑ گیا۔اور بلا استثناء جمیع معلومات الہیہ کو علم نبوی محیط ماننے کا بہتان جڑ گیا۔بیجا بددین لوگ اکثر افتراء گانٹھا کرتے ہیں اس کا کچھ گلہ نہیں مگر۔ ع
چہ دلاور است دزدے کہ بکف چراغ دارد
(چور کتنا دلیر ہے کہ ہاتھ میں چراغ رکھتاہے۔ت)
کاسماں اور ہی مزہ رکھتا ہےجس کتاب میں تحریف کریں اسی کے ساتھ اسی کی پشت پر چھاپ دیں اور پھر سر بازار مسلمانوں کو آنکھیں دکھائیں۔تف تف تف تف سے کیا ہوتا ہے جب خدا کی لعنت ہی کا خوف نہیں پھراپھر اس چالبازی کی کیا شکایت کہ مفتی صاحب کی طرف عبارت تو یہ منسوب کی"العلنی علی رسالۃ ذھب فیھا"جس کا صاف مفادیہ کہ یہ مضمون اس رسالہ کا ہےحالانکہ رسالہ میں اس کا صاف رد لکھا ہےاور باطنی طائفہ نجدیت کے امام عــــــہ معصوم سفلی آسمان کذب و افتراء کے بدر منور اس کا ترجمہ یوں گانٹھتے ہیں”اپنے دوسرے رسالہ علم غیب کی مجھ کو خبر دی اور اس کا یہ مدعا بیان کیا۔"یعنی یہ مدعا زبانی بیان میں تھا نہ کہ رسالہ میں۔
تاکہ کوئی رسالہ کا تپانچہ دے کر جھوٹ بکنے والا لوٹ دے کر مفتریو رسالہ میں یہ قول لکھا ہے یا اس کا رد کیا ہے۔پھر اس ننھی سی کتر بیونت کا کیا گلہ کہ مفتی صاحب کی طرف عبارت تو یہ منسوب کی "فلم ال جھدا فی بیان ان الآیۃ المذکورۃ لا تدل علی مدعاہ دلالۃ قطعیۃ"
عــــــہ: اسماعیل دہلوی کی صراط مستقیم میں۔
جس کا صاف ترجمہ یہ ہے کہ میں نے اپنے چلتی اس بیان میں کمی نہ کی کہ آیت ان کے دعوی پر ایسی دلالت نہیں کرتی جو یقینی قطعی ہو۔اب قصروہابیت کے منور محل کا چمکتا ترجمہ سنئے۔آیت مذکور ہ تمہارے دعوی کی دلیل نہیں ہوسکتی۔کہاں نفی تیقن کہ یقینی طور پر اثبات نہیں اور کہاں استحالہ کی دلیل ہو ہی نہیں سکتی دو سطر کے ترجمہ میں یہ ڈھٹائیاں اور واں گھائیاں یہ دلربائیاں اور پھر دین و دیانت کا دعوی پر قرار۔ع
چوں وضوئے محکم بی بی تمیز (بی بی تمیز کے محکم مضبوط وضو کی طرح۔ت)
پھر یہ شرمیلی جھانولی تو خاص انعام دینے کے قابل کہ اسی صفحہ ۳ عبارت مفتی صاحب میں قادیانیپھر طائفہ امیریہ امیر حسن سہسوانیپھر طائفہ نذیریہ نذیر حسین دہلویپھر طائفہ قاسمیہ قاسم نانوتویپھر رشید احمد گنگوہیپھر اشرف علی تھانوییہ سارے کے سارے نام بنام مذکور تھے اور ان سب پر جب کہ وہ اقوال ان کے ہوں احکام کفر و ضلال مسطور تھےتن وہابیت کی منور جان جو سرمائی نظروں سے اس کے ترجمہ پر آئیں تو یوں جھلك دے کر الوپ ہوجائیں کہ ہندوستان میں کچھ لوگ گمراہ اور اہل کفر ہیں جو ایسا ایسا کہتے ہیں منجملہ ان کے غلام احمد قادیانی وغیرہ وغیرہ ملاحظہ ہو اپنے پانچوں کو کیا وغیرہ وغیرہ کے پردے میں بٹھایاوغیرہ کی خاك ڈال کر بلی کی طرح چھپایا ہے غرض
عیار ہو مکار ہو جو آج ہو تم ہو
بندے ہو مگر خوف خدا نہیں رکھتے
________________
ارے بیباک! کیا کہنا ہے تیری اس وغیرہ کا
یہی پردہ ہے سارے ایر غیر ا نتھو خیرا کا
بریلی کے وہابیہ بھی انہیں حضرت کی چال پر پھول کر اپنی بتیاں والی تحریر سر بازار تشہیر کر ابیٹھے۔مسلمانوں نے پانسو روپے انعام کا اشتہار دیا اگر ایك ہفتہ میں اپنے افتراؤں کا ثبوت دے دیں۔معیاد گزری اور اس سے دو چند زمانہ گزرااور پھر سہ چند تك نوبت پہنچی مگر کسی مفتری کذب کے لب نہ کھلے "فبہت الذی کفر واللہ لا یہدی القوم الظلمین﴿۲۵۸﴾" ۔تو ہوش اڑ گئے کافر کے اور اﷲ راہ نہیں دکھاتاظالموں کو۔ت)بیس۲۰روز بعد بعض بے حیا پردہ نشینوں نے کسی اپنے سعید کی فرضی آڑ سے دیوبندی کمیٹیوں کا نتیجہ چھاپا۔پہلے دو اندھیر تھے تو اس میں افترابرافتراافترا برافترا کے ڈھیر تھے اور واقعی کوئی
چوں وضوئے محکم بی بی تمیز (بی بی تمیز کے محکم مضبوط وضو کی طرح۔ت)
پھر یہ شرمیلی جھانولی تو خاص انعام دینے کے قابل کہ اسی صفحہ ۳ عبارت مفتی صاحب میں قادیانیپھر طائفہ امیریہ امیر حسن سہسوانیپھر طائفہ نذیریہ نذیر حسین دہلویپھر طائفہ قاسمیہ قاسم نانوتویپھر رشید احمد گنگوہیپھر اشرف علی تھانوییہ سارے کے سارے نام بنام مذکور تھے اور ان سب پر جب کہ وہ اقوال ان کے ہوں احکام کفر و ضلال مسطور تھےتن وہابیت کی منور جان جو سرمائی نظروں سے اس کے ترجمہ پر آئیں تو یوں جھلك دے کر الوپ ہوجائیں کہ ہندوستان میں کچھ لوگ گمراہ اور اہل کفر ہیں جو ایسا ایسا کہتے ہیں منجملہ ان کے غلام احمد قادیانی وغیرہ وغیرہ ملاحظہ ہو اپنے پانچوں کو کیا وغیرہ وغیرہ کے پردے میں بٹھایاوغیرہ کی خاك ڈال کر بلی کی طرح چھپایا ہے غرض
عیار ہو مکار ہو جو آج ہو تم ہو
بندے ہو مگر خوف خدا نہیں رکھتے
________________
ارے بیباک! کیا کہنا ہے تیری اس وغیرہ کا
یہی پردہ ہے سارے ایر غیر ا نتھو خیرا کا
بریلی کے وہابیہ بھی انہیں حضرت کی چال پر پھول کر اپنی بتیاں والی تحریر سر بازار تشہیر کر ابیٹھے۔مسلمانوں نے پانسو روپے انعام کا اشتہار دیا اگر ایك ہفتہ میں اپنے افتراؤں کا ثبوت دے دیں۔معیاد گزری اور اس سے دو چند زمانہ گزرااور پھر سہ چند تك نوبت پہنچی مگر کسی مفتری کذب کے لب نہ کھلے "فبہت الذی کفر واللہ لا یہدی القوم الظلمین﴿۲۵۸﴾" ۔تو ہوش اڑ گئے کافر کے اور اﷲ راہ نہیں دکھاتاظالموں کو۔ت)بیس۲۰روز بعد بعض بے حیا پردہ نشینوں نے کسی اپنے سعید کی فرضی آڑ سے دیوبندی کمیٹیوں کا نتیجہ چھاپا۔پہلے دو اندھیر تھے تو اس میں افترابرافتراافترا برافترا کے ڈھیر تھے اور واقعی کوئی
حوالہ / References
القرآن الکریم ۲ /۲۵۸
ملعون طائفہ اپنے لعنتی افتراؤں کا ثبوت کہاں سے لائے سوا اس کے کہ لعنتوں پر لعنتغضبوں پر غضب اوڑھےاس پر مسلمانوں نے العذاب البئیس علی انجس حلائل ابلیس ان پر نازل کیا اور تین ہزار روپے کا اعلان دیا اور ان کی مہلت تین ہفتے کر دی اور برسم شہادت ان کے الفاظ کی ٹوکری در بھنگی وغیرہ سب کے ظاہر پیر تھانوی صاحب کے سردھردیاگرچہ برسوں کا تجربہ شاہد ہے کہ وہ تین توڑے دیکھ کر بھی لب نہ عــــــہ کھولیں گے۔ان کی مہر دہن جب ٹوٹے کہ کچھ گنجائش سوجھےخیر ایك تدبیر تو کفر پارٹی کی یہ تھی۔دوسری تدبیر لعنت تحمیر اشد ملعونی کی بولتی تصویر فلك شیطنت کی بدر منیر ابلیس لعین کی بڑی ہمشیر اﷲ و رسول پر حملہ کے لیے کفر پارٹی کی ننگی شمشیریعنی رسالہ ملعون و شقی ظلما مسمی سیف النقی۔اس خبیثہ ملعونہ رسالہ نے وہ طرز اختیار کی کہ وہابیہ خذلہم اﷲ تعالی پر سے ۳۵ برس کا قرضہ ایك دم میں اتروادے
آستانہ علویہ رضویہ سے پینتس سال کامل ہوئے کہ وہابیہ کا رداشاعت پارہا ہے اور آج تك بفضل وھاب جل و علا لاجواب رہا ہے۔کسی گنگوہینانوتویانبٹھیتھانویدیوبندیدہلویامرتسری کو تاب نہ ہوئی کہ ایك حرف کا جواب لکھیں اور جب مطالبہ جواب کتب کا نام آیا ہےمتکلمین طائفہ نے جو مناظرہ رٹ رہے ہیں وہ وہ چك پھیریاں لیںوہ وہ اڑان گھاٹیاں دکھائیں جن کا بیان رسالہ الاستمتاع بذوات القناع سے ظاہر شریفہ ظریفہ رشیدہ رسیدہ نے اپنے اقبال وسیع سے ان کے ادبار پر وضیق کو ایسی فراخی حوصلہ کی لے سکھائی ہے کہ چاہیں تو ایك ایك منٹ میں اپنے خصموں کی ایك ایك کتاب کا جواب لکھ دیں۔اور وہ بھی بے مثل و لاجواب لکھ دیں یعنی خصم کا جو قول چاہیں نقل کریں اور اس کے مخالف جتنی عبارات چاہیں خصم کے آباء واجداد و مشائخ کی طرف سے گھڑلیں اور ان کی تصانیف کے نا م بھی تراش لیںان کے مطبع بھی اپنے افترائی سانچے میں ڈھال لیں اور سر بازار بکمال حیا آنکھیں دکھانے کو ہوجائیں کہ تم تو کہتے ہو اور تمہارے والد ماجد اس کے خلاف فلاں کتاب میں یوں فرماتے ہیںتمہارے جدامجد کا فلاں کتاب میں یہ ارشاد ہے۔فلاں مشائخ کرام فلاں فلاں کتاب میں یوں فرماگئے ہیں ان کتابوں کے یہ یہ نام ہیںفلاں فلاں مطبع میں چھپیان کے فلاں فلاں صفحہ پر یہ عبارات ہیںکہیے اس سے بڑھ کر پکا اور کامل ثبوت اور کیا ہوگا۔اور بعنایت الہی حقیقت دیکھئے تو ان کتابوں کا اصلا کہیں روئے زمین پر نام و نشان نہیںنری من گھڑت خیالی تراشیدہ خوابہائے پریشان جن کی تعبیر فقط اتنی کہ" لعنت اللہ علی
عــــــہ: یہی واقع ہوا دس۱۰ برس سے زیادہ گزرے تھانوی صاحب خاموش باختہ ہوش۔
آستانہ علویہ رضویہ سے پینتس سال کامل ہوئے کہ وہابیہ کا رداشاعت پارہا ہے اور آج تك بفضل وھاب جل و علا لاجواب رہا ہے۔کسی گنگوہینانوتویانبٹھیتھانویدیوبندیدہلویامرتسری کو تاب نہ ہوئی کہ ایك حرف کا جواب لکھیں اور جب مطالبہ جواب کتب کا نام آیا ہےمتکلمین طائفہ نے جو مناظرہ رٹ رہے ہیں وہ وہ چك پھیریاں لیںوہ وہ اڑان گھاٹیاں دکھائیں جن کا بیان رسالہ الاستمتاع بذوات القناع سے ظاہر شریفہ ظریفہ رشیدہ رسیدہ نے اپنے اقبال وسیع سے ان کے ادبار پر وضیق کو ایسی فراخی حوصلہ کی لے سکھائی ہے کہ چاہیں تو ایك ایك منٹ میں اپنے خصموں کی ایك ایك کتاب کا جواب لکھ دیں۔اور وہ بھی بے مثل و لاجواب لکھ دیں یعنی خصم کا جو قول چاہیں نقل کریں اور اس کے مخالف جتنی عبارات چاہیں خصم کے آباء واجداد و مشائخ کی طرف سے گھڑلیں اور ان کی تصانیف کے نا م بھی تراش لیںان کے مطبع بھی اپنے افترائی سانچے میں ڈھال لیں اور سر بازار بکمال حیا آنکھیں دکھانے کو ہوجائیں کہ تم تو کہتے ہو اور تمہارے والد ماجد اس کے خلاف فلاں کتاب میں یوں فرماتے ہیںتمہارے جدامجد کا فلاں کتاب میں یہ ارشاد ہے۔فلاں مشائخ کرام فلاں فلاں کتاب میں یوں فرماگئے ہیں ان کتابوں کے یہ یہ نام ہیںفلاں فلاں مطبع میں چھپیان کے فلاں فلاں صفحہ پر یہ عبارات ہیںکہیے اس سے بڑھ کر پکا اور کامل ثبوت اور کیا ہوگا۔اور بعنایت الہی حقیقت دیکھئے تو ان کتابوں کا اصلا کہیں روئے زمین پر نام و نشان نہیںنری من گھڑت خیالی تراشیدہ خوابہائے پریشان جن کی تعبیر فقط اتنی کہ" لعنت اللہ علی
عــــــہ: یہی واقع ہوا دس۱۰ برس سے زیادہ گزرے تھانوی صاحب خاموش باختہ ہوش۔
الکذبین﴿۶۱﴾ " ۔ (جھوٹوں پر اﷲ کی لعنتت)
مثلا(۱)صفحہ ۳ پر ایك کتاب بنام تحفۃ المقلدین اعلیحضرت کے والد ماجد اقدس حضرت مولانا مولوی محمد نقی علی خاں قدس سرہ العزیز کے نام سے گھڑی اور بکمال بے حیائی کہہ دیا کہ مطبوعہ صبح صادق سیتا پور صفحہ ۱۵۔
(۲)صفحہ ۱۱ پر ایك کتاب بنام بدایۃ الاسلام اعلیحضرت اعلیحضرت کے جدا امجد حضور پر نور سیدنا مولوی محمد رضا علی خاں صاحب رضی اﷲ تعالی عنہ کے نام سے تراشی اور بکمال ملعونی کہہ دیا کہ مطبوعہ صبح صادق سیتا پور صفحہ ۳۰۔
(۳)صفحہ ۱ اور صفحہ ۲۰ پر ہدایۃ البریہ مطبوعہ صبح صادق کے علاوہ ایك ہدایۃ البریہ مطبوعہ لاہور اعلیحضرت کے والد روح اﷲ روحہ کے نام سے گھڑی اوراپنی تراشیدہ عبارتیں اس کی طرف منسوب کردیں کہ صفحہ ۱۳ میں فرماتے ہیںصفحہ ۴۱ میں فرماتے ہیں اور سب محض بناوٹ۔
(۴)صفحہ ۱۱ پر ایك کتاب بنام خزینۃ الاولیاء حضور اقدس انور حضرت سیدنا شاہ حمزہ مارہروی رضی اﷲ تعالی عنہ کے نام اقدس سے گھڑی اور بکمال شقاوت کہہ دیا کہ مطبوعہ کانپور صفحہ ۱۵۔
(۵)صفحہ ۲۰ پر ایك کتاب بنام تحفۃ المقلدین اعلیحضرت کے جدا امجد نور اﷲ تعالی مرقدہ کے نام سے گھڑی اور بکمال شیطنت کہہ دیا مطبوعہ لکھنؤصفحہ ۱۲۔
(۶)صفحہ ۲۱ پر حضرت اقدس حضور سیدنا شاہ حمزہ رضی اﷲ تعالی عنہ کے ملفوظات دل سے گھڑے اور بکمال اہلبیت کہہ دیا کہ مطبوعہ مصطفائی صفحہ ۱۷ اور خبیثہ شقیہ نے جو عبارت جی سے گھڑی وہ ہوتی تو مکتوب ہوتی نہ کہ ملفوظ اور اس کے اخیر میں دستخط بھی گھڑلیے کتبہ شاہ حمزہ مارہروی عفی عنہ اﷲ کی مہر کا اثر کہ اندھی خبیثہ کو ملفوظ ومکتوب کا فرق تك معلوم نہیں اور دل سے گھڑنت کو آندھی۔ ع
عیب بھی کرنے کو ہنر چاہیے
ع قدم فسق پیشتر بہتر
(۷)خبیثہ ملعونہ نے صفحہ ۱۴ پر ایك کتاب بنام مراۃ الحقیقۃ حضور انور واکرم غوث دوعالم
مثلا(۱)صفحہ ۳ پر ایك کتاب بنام تحفۃ المقلدین اعلیحضرت کے والد ماجد اقدس حضرت مولانا مولوی محمد نقی علی خاں قدس سرہ العزیز کے نام سے گھڑی اور بکمال بے حیائی کہہ دیا کہ مطبوعہ صبح صادق سیتا پور صفحہ ۱۵۔
(۲)صفحہ ۱۱ پر ایك کتاب بنام بدایۃ الاسلام اعلیحضرت اعلیحضرت کے جدا امجد حضور پر نور سیدنا مولوی محمد رضا علی خاں صاحب رضی اﷲ تعالی عنہ کے نام سے تراشی اور بکمال ملعونی کہہ دیا کہ مطبوعہ صبح صادق سیتا پور صفحہ ۳۰۔
(۳)صفحہ ۱ اور صفحہ ۲۰ پر ہدایۃ البریہ مطبوعہ صبح صادق کے علاوہ ایك ہدایۃ البریہ مطبوعہ لاہور اعلیحضرت کے والد روح اﷲ روحہ کے نام سے گھڑی اوراپنی تراشیدہ عبارتیں اس کی طرف منسوب کردیں کہ صفحہ ۱۳ میں فرماتے ہیںصفحہ ۴۱ میں فرماتے ہیں اور سب محض بناوٹ۔
(۴)صفحہ ۱۱ پر ایك کتاب بنام خزینۃ الاولیاء حضور اقدس انور حضرت سیدنا شاہ حمزہ مارہروی رضی اﷲ تعالی عنہ کے نام اقدس سے گھڑی اور بکمال شقاوت کہہ دیا کہ مطبوعہ کانپور صفحہ ۱۵۔
(۵)صفحہ ۲۰ پر ایك کتاب بنام تحفۃ المقلدین اعلیحضرت کے جدا امجد نور اﷲ تعالی مرقدہ کے نام سے گھڑی اور بکمال شیطنت کہہ دیا مطبوعہ لکھنؤصفحہ ۱۲۔
(۶)صفحہ ۲۱ پر حضرت اقدس حضور سیدنا شاہ حمزہ رضی اﷲ تعالی عنہ کے ملفوظات دل سے گھڑے اور بکمال اہلبیت کہہ دیا کہ مطبوعہ مصطفائی صفحہ ۱۷ اور خبیثہ شقیہ نے جو عبارت جی سے گھڑی وہ ہوتی تو مکتوب ہوتی نہ کہ ملفوظ اور اس کے اخیر میں دستخط بھی گھڑلیے کتبہ شاہ حمزہ مارہروی عفی عنہ اﷲ کی مہر کا اثر کہ اندھی خبیثہ کو ملفوظ ومکتوب کا فرق تك معلوم نہیں اور دل سے گھڑنت کو آندھی۔ ع
عیب بھی کرنے کو ہنر چاہیے
ع قدم فسق پیشتر بہتر
(۷)خبیثہ ملعونہ نے صفحہ ۱۴ پر ایك کتاب بنام مراۃ الحقیقۃ حضور انور واکرم غوث دوعالم
حوالہ / References
القرآن الکریم ۳ /۶۱
سیدناغوث اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ کے اسم مہر انور سے گھڑی اور بکمال بے ایمانی کہہ دیا کہ مطبوعہ مصر صفحہ ۱۸۔
(۸)صفحہ ۲۰ پر اعلیحضرت کے والد ماجد عطر اﷲ مرقدہکی مہر مبارك بھی دل سے گھڑلیاور اس کی یہ صورت بنائی۔
حالانکہ حضرت والا کی مہر اقدس یہ تھی جو بکثرت کتب پر طبع ہوئی ہے۔
(۹)حضرت اعلی قدس سرہکی وفات شریف ۱۲۹۷ ھ میں واقع ہوئی خبیثہ نے مہر کا سن ۱۳۰۱ لکھا یعنی وصال شریف کے چار برس بعد مہر کندہ ہوئی۔سچ ہے جب لعنت الہی کا استحقاق آتا ہےآنکھکاندل سب پٹ ہوجاتے ہیں۔
(۱۰)تقویت الایمان پر سے اعتراصات بزور زبان اٹھانے کو صفحہ ۲۸ پر ایك تقویت الایمان مطبوعہ مصطفائی گڑھیاور اس سے وہ عبارتیں نقل کردی جس کا دنیا بھر کی کسی تقویت الایمان میں نشان نہیں۔
جب حالت یہ ہے تو اپنی طرف کی فرضی خیالی تصانیف گھڑ دینے کی کیا شکایت۔محمد نقی اجمیری جو کوئی شخص اس کا مصنف ٹھہرایا ہےغالبا یہ بھی خیالی گھڑا یا کم از کم اسی فرضی ہے۔ایك بزرگوار نے پہلے ایك اسی رنگ کا رسالہ حمایت اعلیحضرت میں لکھ کر یہاں چھاپنے کو بھیجا تھا جس میں مخالفان حضرت والا کے کلام ایسے ہی فرضی نقل کیے تھے۔الحمد ﷲ ا ہل سنت ایسی ملعون باتیں کب پسند کریں یہاں سے دھتکار دیا تو مخالف ہو کر دامن وہابیوں کا پکڑا اور ان کو یہ رسالہ سیف النقی بھیجاجھوٹے معبود کے پجاری تو ایسوں کے بھوکے ہی تھے۔"باسم المعبود الکذاب اللئیم"کہہ کر قبول کرلیا اور اعلان چھاپاکہ بندہ کی معرفت یہ رسالہ اشرف علی وغیرہ بزرگان کی جملہ تصانیف مل سکتی ہیں۔راقم اصغر حسین مدرسہ دیوبند۔
مسلمان اپنی ہی عادت پر قیاس کرتا ہےگمان تھا کہ وہ حضرات بیحیا سے بے حیا ہوں
image yahan hai.
(۸)صفحہ ۲۰ پر اعلیحضرت کے والد ماجد عطر اﷲ مرقدہکی مہر مبارك بھی دل سے گھڑلیاور اس کی یہ صورت بنائی۔
حالانکہ حضرت والا کی مہر اقدس یہ تھی جو بکثرت کتب پر طبع ہوئی ہے۔
(۹)حضرت اعلی قدس سرہکی وفات شریف ۱۲۹۷ ھ میں واقع ہوئی خبیثہ نے مہر کا سن ۱۳۰۱ لکھا یعنی وصال شریف کے چار برس بعد مہر کندہ ہوئی۔سچ ہے جب لعنت الہی کا استحقاق آتا ہےآنکھکاندل سب پٹ ہوجاتے ہیں۔
(۱۰)تقویت الایمان پر سے اعتراصات بزور زبان اٹھانے کو صفحہ ۲۸ پر ایك تقویت الایمان مطبوعہ مصطفائی گڑھیاور اس سے وہ عبارتیں نقل کردی جس کا دنیا بھر کی کسی تقویت الایمان میں نشان نہیں۔
جب حالت یہ ہے تو اپنی طرف کی فرضی خیالی تصانیف گھڑ دینے کی کیا شکایت۔محمد نقی اجمیری جو کوئی شخص اس کا مصنف ٹھہرایا ہےغالبا یہ بھی خیالی گھڑا یا کم از کم اسی فرضی ہے۔ایك بزرگوار نے پہلے ایك اسی رنگ کا رسالہ حمایت اعلیحضرت میں لکھ کر یہاں چھاپنے کو بھیجا تھا جس میں مخالفان حضرت والا کے کلام ایسے ہی فرضی نقل کیے تھے۔الحمد ﷲ ا ہل سنت ایسی ملعون باتیں کب پسند کریں یہاں سے دھتکار دیا تو مخالف ہو کر دامن وہابیوں کا پکڑا اور ان کو یہ رسالہ سیف النقی بھیجاجھوٹے معبود کے پجاری تو ایسوں کے بھوکے ہی تھے۔"باسم المعبود الکذاب اللئیم"کہہ کر قبول کرلیا اور اعلان چھاپاکہ بندہ کی معرفت یہ رسالہ اشرف علی وغیرہ بزرگان کی جملہ تصانیف مل سکتی ہیں۔راقم اصغر حسین مدرسہ دیوبند۔
مسلمان اپنی ہی عادت پر قیاس کرتا ہےگمان تھا کہ وہ حضرات بیحیا سے بے حیا ہوں
image yahan hai.
پھر بھی ایسی ہی سخت سے سخت ناپاك ترخبیث گندی گھناؤنی ابلیسی ملعون تحریر کا نام لیتے کچھ تو شرمائیں گے جس کی کمال بے حیائیوں ڈھٹائیوں کی نظیر جہان بھر میں کہیں نہ پائیں گے۔مگر واضح ہوا کہ وہاں بغضب الہی ایك حمام میں سب ننگے ہیں مدرسہ دیوبند سے اس کی اشاعت تو دیکھ ہی چکےاب در بھنگی صاحب کی حیاء ملاحظہ ہو۱۴ ربیع الاخر شریف کو جناب تھانوی صاحب سے رجسٹری شدہ نوٹس میں استفسار فرمایا تھا کہ کیا آپ مناظرہ کو آمادہ ہوئے ہیں۔کیا آپ نےد ربھنگی صاحب کو اپنا وکیل مطلق کیا ہے۔آج سوا مہینہ گزرا تھانوی صاحب کو تو حسب عادت جو سونگھ جاتا تھا سونگھ گیا یا دماغ شریف سونٹھ کی ناس سے اونگھتا ہی رہتا ہے اور بھی اونگھ گیا۔مگر ۳۰ ربیع الاخر شریف کو در بھنگی جی اچھلےاور اپنی ہی خصلت و نسبت کے موافق بہت کچھ کلمات ناپاك اور غلیظ اپنے دہن شریف سے اگلے اور ایك دو ورقہ اپنے نصیبوں کی طرح سیاہ فرمایا جس کا حاصل صرف اس قدر کہ ہاں ہم تھانوی صاحب کے وکیل ہیںکیا ہم نہیں کہتے کہ ہم تھانوی کے وکیل ہیں ہم نے معززوں کے سامنے کہہ دیا ہے کہ ہم تھانوی کے وکیل ہیں۔ہاں ہاں اے لوخدا کی قسم ہم تھانوی کے وکیل ہیں تھانوی جی سے کیوں پوچھو کہ تم نے وکیل کیا یا نہیںہم جو کہہ رہے ہیں کہ ہم تھانوی کے وکیل ہیں۔اچھا تھانوی جی نہیں بولتے کہ ہم ان کے وکیل ہیں تو ان کے نہ بولنے سے کیا یہ مٹ جائے گا کہ ہم تھانوی کے بول ہیںہم خود تو بول رہے ہیں کہ ہم تھانوی کے وکیل ہیں تو گنگوہی کی آنکھوں کی قسم ہم تھانوی کے وکیل ہیں۔مسلمانو! خدارا انصاف یہ صورتیں مناظرہ کرنے کی ہیں۔اﷲ و رسول(جل و علاوصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم)کی جیسی عزت ان کی نگاہوں مین ہے طشت ازبام ہے اسی پر تو عرب و عجم میں حل و حرم میں ان پر لعنتوں کا لام ہے۔ہاں بعض دنیاوی عزتوں کا بھاری بوجھ پڑا کہ دفع الوقعتی کو دربھنگی صاحب مغالطہ دہی کے لیے اپنے منہ آپ جناب تھانوی صاحب کے وکیل بن بیٹھے۔اول روز سے تھانوی صاحب پر تمام رسائل و اعلانات میں یہی تقاضا سوار تھا کہ خودمناظر ہ میں آتے ہول کھاتے ہوکھاؤ اپنے مہر ودستخط سے کسی کو وکیل بناؤبارے اب خدا خدا کرکے وکالت کی بھنك سنی تو اس کی تحقیقات حرام ہے۔خود ساختہ وکیل صاحب کا جبروتی حکم ہے کہ جناب تھانوی صاحب کی مہر کیسیدستخط کہاں کے۔ان سے پوچھنا ہی بے ضابطہ ہے۔ہم خود ہی جو کہہ رہے ہیں کہ ہم تھانوی کے وکیل ہیں۔اس سے بڑھ کر اور کیا ثبوت ہے۔تھانوی کو رجسڑی شدہ نوٹس پہنچا جس میں وکیل کرنے نہ کرنے کو ان سے پوچھا وہ نہ بولےلاکھ نہ بولیںان کے نہ بولنے سے کیا ہوابس اتنا ہینہ کہ یہ سمجھا گیا کہ انہوں نے ہم دربھنگی صاحب کو وکیل ہر گز نہ کیا۔پھر اس سے کیا ہوتا ہے ہم خود جو فرمارہے ہیں کہ ہاں ہم کو تھانوی جی نے وکیل کیا ہے۔اس میں ہماری
ہاں کے آگے تھانوی جی کے نائے نوئے یا ہائے ہوئے یا ٹال مٹول یا اول فول یا قول فعل کسی حرکت کا اصلا اعتبار ہی کیا ہےآپ نے نہیں سنا کہ ع
گھر سے آیا ہے معتبر نائی
مسلمانو! نہ فقط مسلمانوںجہان بھر کے ذرا سی بھی عقل و تمیز رکھنے والو! کبھی اس مزہ کی وکالت کہیں سنی ہےگویا اس پیرانہ سالہ میں دیو بندیوں نے گھیر گھار کر دوگز اٹیا کیا سر پر لپیٹ دی۔گورنمنٹ گنگوہیت نے در بھنگی صاحب کے بیرسڑی کا بلا لگا دیا کہ موکل کے انکار اقرار کی کچھ حاجت نہیں فقط ان کا فرمانا کافی ہےیا وہ تمام دیوبندیوں خواہ خواص تھانوی صاحب کے گھر کی عام مختاری کا ڈپلومہ ان کے پرودینا تھا جس کے بعد تو وکیل کی نسبت دریافت کرنا ہی بے ضابطگی ہے۔
مسلمانو! کیا وکالت یونہی ثابت ہوتی ہےکیا اس سے دربھنگی صاحب کی محض جھوٹی وکالت کا ہوائی ببولا نہ پھوٹ گیا۔جناب تھانوی صاحب نے دبی زبان بھی اتنی ہانك نہ دی کہ میں نے وکیل تو کیا ہےکیا ایسے ہی منہ مناظرہ کرنے کے ہوتے ہیں۔اﷲ اﷲ جناب تھانوی صاحب کی یہ گریزیہ فراریہ ہولیہ خوفیہ صموت اور اس پر اذناب کی یہ حالتیںاور پھر مناظرہ کا نام بدنامارے نامردی تو خدا نے دی ہےمار مار تو کیے جاؤ ازلی نصیبو انہیں حالتوں پر عظمائے اسلام کو لکھتے ہو کہ خدا نے جو ذلت اور رسوائی آخری عمر میں آپ کی گردن کا طوق بنادیا ہے کیا ان ناپاك چالوں اور بے شرمی کے حیلوں سے ٹال سکتے ہیں۔
" ضربت علیہم الذلۃ والمسکنۃ"(ان پر مقررکردی گئی خواری اور ناداری۔ت)کے مصداق ہو کر عزت کی طلب فضول اور عبث ہے۔
ارے منافقو! تمہارے اگلے تو اس سے بھی بڑھ کر کہہ گئے تھے کہ:
" لئن رجعنا الی المدینۃ لیخرجن الاعز منہا الاذل " ۔ اگر ہم مدینہ پھر کر گئے تو ضرور جو بڑی عزت والا ہے وہ اس میں سے نکال دے گا اسے جو نہایت ذلت والا ہے۔(ت)
اس پر قرآن عظیم نے کیا جواب دیا:
" و للہ العزۃ و لرسولہ و للمؤمنین و لکن المنفقین لا یعلمون ﴿۸﴾" ۔ عزت تو اﷲ و رسول اور مسلمانوں کے لیے ہے مگر منافقین کو خبر نہیں۔
گھر سے آیا ہے معتبر نائی
مسلمانو! نہ فقط مسلمانوںجہان بھر کے ذرا سی بھی عقل و تمیز رکھنے والو! کبھی اس مزہ کی وکالت کہیں سنی ہےگویا اس پیرانہ سالہ میں دیو بندیوں نے گھیر گھار کر دوگز اٹیا کیا سر پر لپیٹ دی۔گورنمنٹ گنگوہیت نے در بھنگی صاحب کے بیرسڑی کا بلا لگا دیا کہ موکل کے انکار اقرار کی کچھ حاجت نہیں فقط ان کا فرمانا کافی ہےیا وہ تمام دیوبندیوں خواہ خواص تھانوی صاحب کے گھر کی عام مختاری کا ڈپلومہ ان کے پرودینا تھا جس کے بعد تو وکیل کی نسبت دریافت کرنا ہی بے ضابطگی ہے۔
مسلمانو! کیا وکالت یونہی ثابت ہوتی ہےکیا اس سے دربھنگی صاحب کی محض جھوٹی وکالت کا ہوائی ببولا نہ پھوٹ گیا۔جناب تھانوی صاحب نے دبی زبان بھی اتنی ہانك نہ دی کہ میں نے وکیل تو کیا ہےکیا ایسے ہی منہ مناظرہ کرنے کے ہوتے ہیں۔اﷲ اﷲ جناب تھانوی صاحب کی یہ گریزیہ فراریہ ہولیہ خوفیہ صموت اور اس پر اذناب کی یہ حالتیںاور پھر مناظرہ کا نام بدنامارے نامردی تو خدا نے دی ہےمار مار تو کیے جاؤ ازلی نصیبو انہیں حالتوں پر عظمائے اسلام کو لکھتے ہو کہ خدا نے جو ذلت اور رسوائی آخری عمر میں آپ کی گردن کا طوق بنادیا ہے کیا ان ناپاك چالوں اور بے شرمی کے حیلوں سے ٹال سکتے ہیں۔
" ضربت علیہم الذلۃ والمسکنۃ"(ان پر مقررکردی گئی خواری اور ناداری۔ت)کے مصداق ہو کر عزت کی طلب فضول اور عبث ہے۔
ارے منافقو! تمہارے اگلے تو اس سے بھی بڑھ کر کہہ گئے تھے کہ:
" لئن رجعنا الی المدینۃ لیخرجن الاعز منہا الاذل " ۔ اگر ہم مدینہ پھر کر گئے تو ضرور جو بڑی عزت والا ہے وہ اس میں سے نکال دے گا اسے جو نہایت ذلت والا ہے۔(ت)
اس پر قرآن عظیم نے کیا جواب دیا:
" و للہ العزۃ و لرسولہ و للمؤمنین و لکن المنفقین لا یعلمون ﴿۸﴾" ۔ عزت تو اﷲ و رسول اور مسلمانوں کے لیے ہے مگر منافقین کو خبر نہیں۔
وہ ملا عنہ ہمیشہ الہی عزت کو ذلت ہی تعبیر کرتے یا اندھے ابلیس کی اندھی نسلوں کو عزت کی ذلت نہیں سوجھتیاسی پر تو قرآن عظیم نے فرمایا:
" قتلہم اللہ انی یؤفکون ﴿۳۰﴾" ۔ خدا انہیں مارے کہاں اوندھے جاتے ہیں۔
یہی ترکہ اگر آ پ نے پایا کیا جائے شکایت ہےواقعی جن کو اﷲ تعالی اوندھا کہے ان کی اوندھی اوندھی مت میں اس سے بڑھ کر ناپاك چال اور بے شرمی کا حیلہ کیا ہے کہ زید سے پوچھا جائے عمرو جو اپنے آپ کو تیرا وکیل بتاتا ہے کیا تو نے اسے وکیل کیا ہے اور کمال پاك چال اور بڑی شرمیلی حیلہ گری کیا ہے یہ کہ ۳۵ سال ضربیں کھا کر بعض دنیاوی رئیسوں کے دباؤ سے جب دم پر بنے تو ایك بے معنی خود وکیل بنےجب فرضی موکل صاحب سے تصدیق طلب ہو کہ کیا آپ نے اسے وکیل کیا تو پھر یا مظہر العجائب جواب مع مجیب غائببس اور تو کیا کہوں اور اس سے بہتر کہہ بھی کیا سکوں جو قرآن عظیم فرما چکا کہ:
" قتلہم اللہ انی یؤفکون ﴿۳۰﴾" ۔ خدا انہیں مارے کہاں اوندھے جاتے ہیں۔
خیر یہ تو مناظرہ دہلی کا خاتمہ تھا جو تھانوی صاحب کی کمال دہشت خواری بے تکان فراری یا در بھنگی بولوں میں ان کی آخری عمر کی سخت ذلت وخواری پر ہوا۔اور ہونا ہی چاہیے تھا کہ قرآن پاك فرماچکا تھا:
" ان اللہ لا یہدی القوم الفسقین ﴿۶﴾" ۔ بے شك اﷲ تعالی فاسقوں کو راہ نہیں دیتا(ت)
اورصاف ارشاد فرمایا
" قتلہم اللہ انی یؤفکون ﴿۳۰﴾" ۔ خدا انہیں مارے کہاں اوندھے جاتے ہیں۔
یہاں کہنا یہ ہے کہ رسالہ ملعونہ خبیثہ مذکورہ کے کوتك آپ ملاحظہ فرماچکے اور حاشا وہ اس کے چہارم کو تك بھی نہیں۔خیال تھا کہ دیوبندی مدرسہ سے اگرچہ اس کی اشاعت کا اعلان ہے مگر کوئی دیوبندی ملانا ایسی ناپاك ملعونہ کو اپنی کہتے کچھ تو لے جائے گا۔لیکن یہ خیال غلط نکلا۔اب یہی در بھنگی صاحبنہیں نہیں بلکہ کچھ دنوں کے لیے ان کے منہ یہی تھانوی صاحبہاں ہاں یہی سارے کے سارے دیوبندیوں کے مشکل کشامناظربیرسٹرپلیڈرحاویئ جملہ اصول و نظائر اپنے اسی خواری نامہ ۳۰ ربیع الاخر میں فرماتے ہیںتحریر میں بھی اب آپ کی حقیقت دیکھنی ہےسیف النقی اور
" قتلہم اللہ انی یؤفکون ﴿۳۰﴾" ۔ خدا انہیں مارے کہاں اوندھے جاتے ہیں۔
یہی ترکہ اگر آ پ نے پایا کیا جائے شکایت ہےواقعی جن کو اﷲ تعالی اوندھا کہے ان کی اوندھی اوندھی مت میں اس سے بڑھ کر ناپاك چال اور بے شرمی کا حیلہ کیا ہے کہ زید سے پوچھا جائے عمرو جو اپنے آپ کو تیرا وکیل بتاتا ہے کیا تو نے اسے وکیل کیا ہے اور کمال پاك چال اور بڑی شرمیلی حیلہ گری کیا ہے یہ کہ ۳۵ سال ضربیں کھا کر بعض دنیاوی رئیسوں کے دباؤ سے جب دم پر بنے تو ایك بے معنی خود وکیل بنےجب فرضی موکل صاحب سے تصدیق طلب ہو کہ کیا آپ نے اسے وکیل کیا تو پھر یا مظہر العجائب جواب مع مجیب غائببس اور تو کیا کہوں اور اس سے بہتر کہہ بھی کیا سکوں جو قرآن عظیم فرما چکا کہ:
" قتلہم اللہ انی یؤفکون ﴿۳۰﴾" ۔ خدا انہیں مارے کہاں اوندھے جاتے ہیں۔
خیر یہ تو مناظرہ دہلی کا خاتمہ تھا جو تھانوی صاحب کی کمال دہشت خواری بے تکان فراری یا در بھنگی بولوں میں ان کی آخری عمر کی سخت ذلت وخواری پر ہوا۔اور ہونا ہی چاہیے تھا کہ قرآن پاك فرماچکا تھا:
" ان اللہ لا یہدی القوم الفسقین ﴿۶﴾" ۔ بے شك اﷲ تعالی فاسقوں کو راہ نہیں دیتا(ت)
اورصاف ارشاد فرمایا
" قتلہم اللہ انی یؤفکون ﴿۳۰﴾" ۔ خدا انہیں مارے کہاں اوندھے جاتے ہیں۔
یہاں کہنا یہ ہے کہ رسالہ ملعونہ خبیثہ مذکورہ کے کوتك آپ ملاحظہ فرماچکے اور حاشا وہ اس کے چہارم کو تك بھی نہیں۔خیال تھا کہ دیوبندی مدرسہ سے اگرچہ اس کی اشاعت کا اعلان ہے مگر کوئی دیوبندی ملانا ایسی ناپاك ملعونہ کو اپنی کہتے کچھ تو لے جائے گا۔لیکن یہ خیال غلط نکلا۔اب یہی در بھنگی صاحبنہیں نہیں بلکہ کچھ دنوں کے لیے ان کے منہ یہی تھانوی صاحبہاں ہاں یہی سارے کے سارے دیوبندیوں کے مشکل کشامناظربیرسٹرپلیڈرحاویئ جملہ اصول و نظائر اپنے اسی خواری نامہ ۳۰ ربیع الاخر میں فرماتے ہیںتحریر میں بھی اب آپ کی حقیقت دیکھنی ہےسیف النقی اور
دین کا ڈنکا تو طبع ہوچکا ہے۔ملاحظہ سے گزرا ہوگاالشہاب الثاقب اور رجوم بھی طبع ہونے والا ہےوہ دیکھئے کس فخر کے ساتھ اس ملعونہ کا نام لیا ہے۔اﷲ اﷲ مسلمانوںنہ صرف مسلمانوںدنیا بھر کے عاقلوں سے پوچھ دیکھو کہ کبھی کسی بیحیا سے بیحیا ناپاکگھناؤنی سے گھناؤنیبے باك سے بے باکپاجیکمینیگندی قوم نے اپنے خصم کے مقابل بے دھڑك ایسی حرکات کیں۔آنکھیں میچ کر گندا منہ پھاڑ کر ان پر فخر کیے۔انہیں سر بازار شائع کیا اور ان پر افتخار ہی نہیں۔بلکہ سنتے ہیں کہ ان میں کوئی نئی نویلیحیادارشرمیلیبانکینکیلیمیٹھیرسیلیاچیلالبیلیچنچلانیلیاجودھیا باشی آنکھ یہ تان لیتی اپجی ہے۔ ع
ناچنے ہی کو جو نکلے تو کہاں کی گھونگھٹ
اس فاحشہ آنکھ نے کوئی نیا غمزہ تراشا اور اس کا نام شہاب ثاقب رکھا ہے کہ خود اسی کے شیطانی بے حیائی پر شہاب ثاقب ہے اس میں وہ حیا پریدہ گیسو بریدہ افتخار سے استناداستنادسے اعتماد تك بڑھی ہےکہیں تو اسی ملعونہ بظلم مسمات سیف النقی کا آنچل پکڑ کے سندلائی ا ور اس کا بھی سہارا چھوڑ خود اپنی طرف سے وہی بے سری گائی وہ تازہ غمزہ پاروں تك پہنچا تو ان شاء اﷲ العزیز اس کی جدا خبر لی جائے گی۔
مسلمانو ! بلکہ ہر مذہب کے عاقلوکیا ایسوں سے کسی مخاطبہ کا محل رہ گیا کیا ان کا عجز لاکھوں آفتاب سے زیادہ روشن نہ ہوگیا۔بدنصیبوں میں کچھ بھی سکت ہوتی تو ایسی ناپاك حرکت جس کی نظیر آریوںپادریوں ہندوؤںبت پرستوں کسی میں نہ ملے ہر گز اختیار نہ کی جاتی۔
ارے دم ہے کسی تھانویدربھنگیسرہنگیسربھنگیانبٹھیدیوبندینانوتویگنگوہیامرتسریدہلویجنگلی کو ہی میں کہ ان من گھڑت کتابوںان کے صفحہان کی عبارتوں کا ثبوت دے اور نہ دے سکے تو کسی علمی بحث یا انسانی بات میں کسی عاقل کے لگنے کے قابل اپنا منہ بناسکے
اسی کو تك پہ یہ لپکا کہ کوئی منہ لگے تیرے
جو تجھ سے بڑھ کے گندا ہو وہ پاجی منہ لگے تیرے
بھلا یہ تو اصغر حسین جی دیوبندی ومرتضی حسن جی دربھنگی وحسین احمد جی اجودھیا باشی کے تانگے تھے خود پر انے جہان دیدہ گرم وسردچشیدہ عالیجناب تھانوی صاحب کا چرچہ ملاحظہ ہو۔
ارے بے دم ہے کسی وہابی بے دم میں
اسی ذی العقدہ ۲۸ھ کی ۲۰ تاریخ کو اعلیحضرت مجدد دین و ملت نے"تھانوی صاحب کا چرخہ"کے نام ایك مفاوضہ عالیہ مسمی بنام تاریخی ابحاث اخیرہ(۱۳۲۸ھ)امضا فرمایا جس کے تذکارات نمبر۹میں ارشاد ہو!"یہ مانا کہ جب جواب بن ہی نہ پڑے تو کیا کیجئے کس گھر سے دیجئے مگر والا جنابا! ایسی ایسی صورتوں
ناچنے ہی کو جو نکلے تو کہاں کی گھونگھٹ
اس فاحشہ آنکھ نے کوئی نیا غمزہ تراشا اور اس کا نام شہاب ثاقب رکھا ہے کہ خود اسی کے شیطانی بے حیائی پر شہاب ثاقب ہے اس میں وہ حیا پریدہ گیسو بریدہ افتخار سے استناداستنادسے اعتماد تك بڑھی ہےکہیں تو اسی ملعونہ بظلم مسمات سیف النقی کا آنچل پکڑ کے سندلائی ا ور اس کا بھی سہارا چھوڑ خود اپنی طرف سے وہی بے سری گائی وہ تازہ غمزہ پاروں تك پہنچا تو ان شاء اﷲ العزیز اس کی جدا خبر لی جائے گی۔
مسلمانو ! بلکہ ہر مذہب کے عاقلوکیا ایسوں سے کسی مخاطبہ کا محل رہ گیا کیا ان کا عجز لاکھوں آفتاب سے زیادہ روشن نہ ہوگیا۔بدنصیبوں میں کچھ بھی سکت ہوتی تو ایسی ناپاك حرکت جس کی نظیر آریوںپادریوں ہندوؤںبت پرستوں کسی میں نہ ملے ہر گز اختیار نہ کی جاتی۔
ارے دم ہے کسی تھانویدربھنگیسرہنگیسربھنگیانبٹھیدیوبندینانوتویگنگوہیامرتسریدہلویجنگلی کو ہی میں کہ ان من گھڑت کتابوںان کے صفحہان کی عبارتوں کا ثبوت دے اور نہ دے سکے تو کسی علمی بحث یا انسانی بات میں کسی عاقل کے لگنے کے قابل اپنا منہ بناسکے
اسی کو تك پہ یہ لپکا کہ کوئی منہ لگے تیرے
جو تجھ سے بڑھ کے گندا ہو وہ پاجی منہ لگے تیرے
بھلا یہ تو اصغر حسین جی دیوبندی ومرتضی حسن جی دربھنگی وحسین احمد جی اجودھیا باشی کے تانگے تھے خود پر انے جہان دیدہ گرم وسردچشیدہ عالیجناب تھانوی صاحب کا چرچہ ملاحظہ ہو۔
ارے بے دم ہے کسی وہابی بے دم میں
اسی ذی العقدہ ۲۸ھ کی ۲۰ تاریخ کو اعلیحضرت مجدد دین و ملت نے"تھانوی صاحب کا چرخہ"کے نام ایك مفاوضہ عالیہ مسمی بنام تاریخی ابحاث اخیرہ(۱۳۲۸ھ)امضا فرمایا جس کے تذکارات نمبر۹میں ارشاد ہو!"یہ مانا کہ جب جواب بن ہی نہ پڑے تو کیا کیجئے کس گھر سے دیجئے مگر والا جنابا! ایسی ایسی صورتوں
میں انصاف یہ تھا کہ اپنے اتباع کا منہ بند کرتے معاملہ دین میں ایسی ناگفتنی حرکات پر انہیں لجاتے شرماتےاگر جناب کی سے ترغیب نہ تھی تو کم از کم آپ کے سکوت نے انہیں شہ دی یہاں تك کہ انہوں نے سیف النقی جیسی تحریر شائع کی جس کی نظیر آج تك کسی آریہ یا پادری سے بھی بن نہ پڑی"۔
پھر استفسارات میں فرمایا:
(۷)آخر آپ بھی اﷲ واحد قہار جل و علا کا نام تو لیتے ہیں اسی واحد قہار جبار کی شہادت سے بتائیے کہ یہ حرکات جو آپ کے یہاں کے علمائے مناظرین کررہے ہیں صاف صریح ان کے عجز کامل اور نہایت گندے جملہ بزدل کی دلیل روشن ہیں یا نہیں۔
(۸)جو حصرات ایسی حرکات اور اتنی بے تکلفی اختیار کریںچھپوائیںبیچیںبانٹیںشائع و آشکار کریںپیش کریںحوالہ دیںافتخار کریںامور مذکورہ کو رواہ رکھیںترك انسداد و انکار کریں کسی غافل کے نزدیك لائق خطاب ٹھہراسکتے ہیں یا صاف ظاہر ہوگیا کہ مناظرہ آخر ہوگیا۔
(۹)اسی واحد قہار جل جلالہ کی شہادت سے یہ بھی بتادیجئے کہ وہ رسالہ ملعونہ جو خاص جناب کے مدرسہ دیوبند سے اشاعت ہورہا ہے اس اشاعت کی آپ کو اطلاع تو ظاہر مگر اس میں آپ کے مشورے آپ کی شرکت ہے یا نہیں نہیں تو آپ کی رضا ورغبت ہے یا نہیںنہیں تو آپ کو سکوت اور اس سکوت کا محصل اجازت ہے یا نہیں۔الخ۔
تھانوی صاحب حسب عادت خاموش و خود فراموشغرض بات وہی ہے کہ ایك حمام میں سب ننگے۔ع
بے حیا باش آنچہ خواہی کن
(بے حیا ہوجا پھر جو چاہے کر۔ت)
خیر ایسوں کے منہ کہاں تك لگیں اصل بات جس پر اس تمہید کا آغاز تھا عرض کریں کہ اﷲ عزوجل جن قلوب کو ہدایت فرماتا ہے ان کا قدم ثبات جادہ حق سے لغزش نہیں کرتا اگر ذریت شیطان وسوسے ڈالے تو اس پر اعتماد نہیں کرتے پھر جب امر حق جھلك دکھاتا ہے معا ہوشیار ہوجاتے اور ان کی آنکھیں کھل جاتی ہیں اس کی تصدیق والا حضرت بالا در جت معلی برکت حضرت سید حسین حیدر میاں صاحب قبلہ حسینی زیدی واسطی مارہری دامت برکاتہم کا واقعہ نفیسہ ہے حضرت والا اجلہ سادات عظام و صاحبزادگان سرکار مارہرہ مطہرہ و تلامذہ اعلیحضرت تاج الفحول محب الرسول مولینا مولوی حافظ حاجی شاہ محمد عبدالقادر صاحب قادری عثمانی بدایونی قدس سرہ الشریف سے ہیں لکھنؤ ا پنے بعض اعزہ کے
پھر استفسارات میں فرمایا:
(۷)آخر آپ بھی اﷲ واحد قہار جل و علا کا نام تو لیتے ہیں اسی واحد قہار جبار کی شہادت سے بتائیے کہ یہ حرکات جو آپ کے یہاں کے علمائے مناظرین کررہے ہیں صاف صریح ان کے عجز کامل اور نہایت گندے جملہ بزدل کی دلیل روشن ہیں یا نہیں۔
(۸)جو حصرات ایسی حرکات اور اتنی بے تکلفی اختیار کریںچھپوائیںبیچیںبانٹیںشائع و آشکار کریںپیش کریںحوالہ دیںافتخار کریںامور مذکورہ کو رواہ رکھیںترك انسداد و انکار کریں کسی غافل کے نزدیك لائق خطاب ٹھہراسکتے ہیں یا صاف ظاہر ہوگیا کہ مناظرہ آخر ہوگیا۔
(۹)اسی واحد قہار جل جلالہ کی شہادت سے یہ بھی بتادیجئے کہ وہ رسالہ ملعونہ جو خاص جناب کے مدرسہ دیوبند سے اشاعت ہورہا ہے اس اشاعت کی آپ کو اطلاع تو ظاہر مگر اس میں آپ کے مشورے آپ کی شرکت ہے یا نہیں نہیں تو آپ کی رضا ورغبت ہے یا نہیںنہیں تو آپ کو سکوت اور اس سکوت کا محصل اجازت ہے یا نہیں۔الخ۔
تھانوی صاحب حسب عادت خاموش و خود فراموشغرض بات وہی ہے کہ ایك حمام میں سب ننگے۔ع
بے حیا باش آنچہ خواہی کن
(بے حیا ہوجا پھر جو چاہے کر۔ت)
خیر ایسوں کے منہ کہاں تك لگیں اصل بات جس پر اس تمہید کا آغاز تھا عرض کریں کہ اﷲ عزوجل جن قلوب کو ہدایت فرماتا ہے ان کا قدم ثبات جادہ حق سے لغزش نہیں کرتا اگر ذریت شیطان وسوسے ڈالے تو اس پر اعتماد نہیں کرتے پھر جب امر حق جھلك دکھاتا ہے معا ہوشیار ہوجاتے اور ان کی آنکھیں کھل جاتی ہیں اس کی تصدیق والا حضرت بالا در جت معلی برکت حضرت سید حسین حیدر میاں صاحب قبلہ حسینی زیدی واسطی مارہری دامت برکاتہم کا واقعہ نفیسہ ہے حضرت والا اجلہ سادات عظام و صاحبزادگان سرکار مارہرہ مطہرہ و تلامذہ اعلیحضرت تاج الفحول محب الرسول مولینا مولوی حافظ حاجی شاہ محمد عبدالقادر صاحب قادری عثمانی بدایونی قدس سرہ الشریف سے ہیں لکھنؤ ا پنے بعض اعزہ کے
معالجہ کو تشریف لائے تھےشیاطین غراب خوار دیوبندیہ کی غرابیں تو ہندوستان میں برساتی حشرات الارض کی طرح پھیلی ہیں حضرت جھوائی ٹولہ میں فرو کش تھے دروازہ کے قریب ایك شب کچھ دیوبندی غرابوں کا آپس میں یہ ذکر کرتے سناکہ مولوی احمد رضا خاں صاحب رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے غلم غیب کے قائل ہوگئے ہیں اور یہ عقیدہ کفر کاہےاور حسب عادت افتراء و تہمت بك رہے تھے حضرت کو بہت ناگوار گزرا۔مگر اﷲ اکبر ادھر رب عزوجل کا ارشاد کہ:
" ان جاءکم فاسق بنبا فتبینوا" ۔ جب کوئی فاسق تمہارے پاس کچھ خبر لے کر آئے تو خوب تحقیق کرلو۔
ادھر حضرت میں دین متین کی حرارتصبح ہی اعلیحضرت مجدد المائۃ الحاضرہ کے نام والا نامہ تحریر فرمایا جس کے ہاشمی تیور یہاں تك تھے کہ بہر نوع مجھ کو اپنی تسکین کی ضرورت ہے اگر آپ سے ممکن ہو تو فرمادیجئے۔ حتی کہ ارشاد فرمایا تھا۔ اگر اس میرے عریضہ کا جواب شافی آپ نہ دیں گے تو یہ عقیدہ علم غیب کا مجھ کو اپنا تبدیل کرنا پڑے گا۔
اعلیحضرت مجدد دین و ملت نے فورا یہ خط جو اس وقت بنام خالص الاعتقاد آپ کے پیش نظر ہے حضرت والا کورجسٹری بھیجا اور اس سے کے ساتھ انباء المصطفی و حسام الحرمین و تمھید ایمان و بطش غیب و ظفر الدین الطیب وغیرہا بھی ارسال کیے۔
الحمدﷲ کہ اسی آیۃ کریمہ کا ظہور ہوا کہ "تذکروا فاذا ہم مبصرون ﴿۲۰۱﴾" ۔
تقوی والوں پر شیطان کچھ وسوسہ ڈالے تو وہ معا ہوشیار ہوجاتے اور ان کی آنکھیں کھل جاتی ہیں۔
اس خط و رسائل کو تمام و کمال تین ہفتہ میں ملاحظہ فرما کر حضرت والا نے یہ دو گرامی نامے اعلیحضرت کو ارسال فرمائے۔
نامہ اول:
بسم اﷲ الرحمن الرحیم ط وبہ نستعین ونصلی ونسلم علی نبیہ الکریم ط
حضرت مولینا وبالفضل اولنا دام ظلہم وبرکاتہم وعمر ہم۔
از حقر سید حسین حیدر بعد تسلیم نیاز عرض خدمت عالی اینکہ نوازش نامہ عالی عرض دار لایا۔
عـــــہ:مراد آباد کی طبع دوم کا بہت ناقص چھپا تھا کہ پڑھنے میں دقت تھی۱۲۔
" ان جاءکم فاسق بنبا فتبینوا" ۔ جب کوئی فاسق تمہارے پاس کچھ خبر لے کر آئے تو خوب تحقیق کرلو۔
ادھر حضرت میں دین متین کی حرارتصبح ہی اعلیحضرت مجدد المائۃ الحاضرہ کے نام والا نامہ تحریر فرمایا جس کے ہاشمی تیور یہاں تك تھے کہ بہر نوع مجھ کو اپنی تسکین کی ضرورت ہے اگر آپ سے ممکن ہو تو فرمادیجئے۔ حتی کہ ارشاد فرمایا تھا۔ اگر اس میرے عریضہ کا جواب شافی آپ نہ دیں گے تو یہ عقیدہ علم غیب کا مجھ کو اپنا تبدیل کرنا پڑے گا۔
اعلیحضرت مجدد دین و ملت نے فورا یہ خط جو اس وقت بنام خالص الاعتقاد آپ کے پیش نظر ہے حضرت والا کورجسٹری بھیجا اور اس سے کے ساتھ انباء المصطفی و حسام الحرمین و تمھید ایمان و بطش غیب و ظفر الدین الطیب وغیرہا بھی ارسال کیے۔
الحمدﷲ کہ اسی آیۃ کریمہ کا ظہور ہوا کہ "تذکروا فاذا ہم مبصرون ﴿۲۰۱﴾" ۔
تقوی والوں پر شیطان کچھ وسوسہ ڈالے تو وہ معا ہوشیار ہوجاتے اور ان کی آنکھیں کھل جاتی ہیں۔
اس خط و رسائل کو تمام و کمال تین ہفتہ میں ملاحظہ فرما کر حضرت والا نے یہ دو گرامی نامے اعلیحضرت کو ارسال فرمائے۔
نامہ اول:
بسم اﷲ الرحمن الرحیم ط وبہ نستعین ونصلی ونسلم علی نبیہ الکریم ط
حضرت مولینا وبالفضل اولنا دام ظلہم وبرکاتہم وعمر ہم۔
از حقر سید حسین حیدر بعد تسلیم نیاز عرض خدمت عالی اینکہ نوازش نامہ عالی عرض دار لایا۔
عـــــہ:مراد آباد کی طبع دوم کا بہت ناقص چھپا تھا کہ پڑھنے میں دقت تھی۱۲۔
معزز فرمایا اوتعالی ذات والا کو بایں تجدید و تاسیس دین متین سلامت رکھے اس صدی کے مجدد اﷲ تعالی نے ہمارے سب کے واسطے ذات عالی کو بھیجاہے رسائل عنایت فرمودہ جناب میں نے حرف بحرف پڑھے اور تمام دن انہیں کے مطالعہ میں گزرتا ہے اگرچہ اس مسئلہ میں جو کچھ میں نے وقتا فوقتا آپ کی زبان سے سنا تھا اسی حبل متین کو مضبوط پکڑے ہوئے تھا اب اس تقریر والا نے تو میرے اس عقیدہ کو ایسا فولاد کردیا ہے کہ جس کا بیان نہیںفتوی انباء المصطفی نے بوجہ اپنی طبع عـــــہ کے مجھ کو کوئی فائدہ نہیں دیا اور نہ اس تحریر کے بعد مجھ کو حاجت رہینسخہ”تمہید ایمان”کو دیکھ کر میں اپنی مسرت کا حال کیا عرض کروں علمائے حرمین شریفین نے جو کچھ تحریر فرمایا وہ مشتے نمونہ خروار ہے اور میرا یہی عقیدہ ہے اخوت اسلامی ورشتہ خاندانی سے قطع نظر کرکے ابتداء سے میرا یہی عقیدہ ہے کہ اب ہندوستان و عرب میں آپ کا مثل نہیں ہے اور یہ امر بلا مبالغہ میرے دل میں راسخ ہوگیا ہے وہ لوگ جن سے اس بات میں مجھ سے گفتگو ہوئی تھی ابھی تك مجھ کو نہیں ملے ہیں اب وہ ملیں تو رسالہ حرمین طیبین دکھاؤں اور جواب لوں میں ے دیوان نعمت برادرم حسن رضا خان صاحب مرحوم کو لکھا مرحوم مجھ سے وعدہ فرماگئے تھے کہ بعد طبع تجھ کو ضرور بھیجوں گا اﷲ تعالی ان کو اپنی آغوش رحمت میں رکھے مورخہ ۷ ربیع الثانی یوم دوشنبہ رسائل مطبوعہ جدید مجھ کو ضرور مع دیوان بھیج دیں آج کل انہیں سے دل بہلتا ہے مکرر وہی مطالعہ میں رہتے ہیں اﷲ تعالی آ پ کو زندہ و سلامت رکھے زیادہ نیاز فقطاحقر سید حسین حیدر از لکھنؤ جھوائی ٹولہمکان حکیم حسن رضا مرحوم۔
اس مدت میں رسائل کین کشن پنجہ پیچ و بارش سنگی و پیکان جانگداز بھی بفضلہ تعالی تیار ہوگئے کہ حسب الحاکم مع دیوان نعت شریف مصنف حضرت مولنا مولوی حاجی حسن رضا خان صاحب رحمۃ اﷲ تعالی علیہ روانہ خدمت حضرت والا کیے گئے ادھر اس مدت میں حضرت والا کو وہ مخالفین بھی مل گئے جن کو یہ الہی تلواریں دکھا کر حضرت نے پسپا کیااور یہ دوسرا نامہ نامی احضا فرمایا:
نامہ دوم
حضرت مولنا و بالفضل والمجد اولنا مدظلہم وبرکاتہم علی سائر المسلمینبعد تسلیم نیاز آنکہ پولندہ دیوان نعت شریف مع رسائل عطیہ حضور پہنچے اﷲ آپکو زندہ رکھے جن لوگوں سے میری گفتگو ہوئی تھی وہ انہیں مرضی حسن در بھنگی کے اتباع میں ہیں بارش سنگی و اشتہارات میں نے سب سنائے۔
عـــــہ: مراد آباد کی طبع دوم کا بہت ناقص چھپا تھا کہ پڑھنے میں دقت تھی ۱۲
اس مدت میں رسائل کین کشن پنجہ پیچ و بارش سنگی و پیکان جانگداز بھی بفضلہ تعالی تیار ہوگئے کہ حسب الحاکم مع دیوان نعت شریف مصنف حضرت مولنا مولوی حاجی حسن رضا خان صاحب رحمۃ اﷲ تعالی علیہ روانہ خدمت حضرت والا کیے گئے ادھر اس مدت میں حضرت والا کو وہ مخالفین بھی مل گئے جن کو یہ الہی تلواریں دکھا کر حضرت نے پسپا کیااور یہ دوسرا نامہ نامی احضا فرمایا:
نامہ دوم
حضرت مولنا و بالفضل والمجد اولنا مدظلہم وبرکاتہم علی سائر المسلمینبعد تسلیم نیاز آنکہ پولندہ دیوان نعت شریف مع رسائل عطیہ حضور پہنچے اﷲ آپکو زندہ رکھے جن لوگوں سے میری گفتگو ہوئی تھی وہ انہیں مرضی حسن در بھنگی کے اتباع میں ہیں بارش سنگی و اشتہارات میں نے سب سنائے۔
عـــــہ: مراد آباد کی طبع دوم کا بہت ناقص چھپا تھا کہ پڑھنے میں دقت تھی ۱۲
اس پر بڑا تعجب ظاہر کیامیں نے کہا کہ مولنا صاحب نے مناظرہ سے انکار نہ فرمایابلکہ ان شرائط پر مباحثہ و مناظرہ تمام طائفہ سے فرمایااشتہارات وغیرہ دیکھ کر کہا کہ یہ ان تك پہنچے نہیں ورنہ وہ ایسے نہ تھے کہ رسالہ کا جواب فوری نہ دیتے۔میں نے عرض کیا کہ یہ تو پرانا منجھا ہوا سچ ہے کہ ڈاك لٹ گئی۔اس پر کہا کہ اب ہم تحریر کرتے ہیں رسائل کا نام وغیرہ جو جواب آئے گا۔آپ عـــــہ کو مطلع کریں گے۔پھر کہا کہ مولوی صاحب کو لازم نہ تھا کہ علمائے دین کی تکفیر کرتے قلم ان کا بہت تیز ہے۔ میں نے کہا کہ یہ قوم اعداء اﷲ پر جہاد کے لیے پیدا ہوئی ہے۔اب تلوار نہیں رہی تو خدائے تعالی نے وہی کاٹ چھانٹ ان کے قلم کو عطا فرمادی ہے۔اثنائے ذکر میں یہ بھی کہا کہ مولوی رشید احمد صاحب کے ایك شآگرد کے مقابلہ میں مولوی صاحب کا سارا عرب دشمن ہوگیا اگر وہاں سے چلے نہ آتے تو بڑی مشکل پڑتی۔میں نے کہا یہ ہی ایك فقرہ آ پ نے سچ فرمایا ہے آپ کے مضمون کی شہادت جو علماء حرمین نے دی ہے وہ میرے پاس ہے اسے دیکھ لیجئے کیسا بڑا لکھا مگر اس طرح کا کوئی فقرہ آپ نکال لائیں تو میں مانوںعبارات میں نے پڑھنا شروع کیں۔اور ان حیا دارون کا رنگ متغیر ہونا شروع ہوا میں لاحول پڑھ کر اٹھ کھڑا ہوا فقط ۲۹۔۴۔۱
مسلمانو ! حضرات کی عیاریاں مکاریاں حیا داریاں ملاحظہ کیں حضرت والا سید صاحب قبلہ دامت برکاتہم کی طرح جس بندہ کو خدا عقل و ایمان و انصاف دے گا وہ ان مکاروں ابلیس شعاروں پر لاحول ہی پڑھ کر اٹھے گا۔
اب بعونہ تعالی خالص الاعتقاد مطالعہ کیجئے اور اپنے ایمان و یقین و محبت و غلامی حضور سید المرسلین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو تازگی دیجئے۔
والحمدﷲ رب العلمین وافضل الصلوۃ واکمل السلام علی سیدنا و مولنا والہ وصحبہ وابنہ وحزبہ اجمعین امین
سید عبدالرحمن غفرلہ
___________________
عـــــہ:اب تك ان صاحبوں نے بھی کروٹ نہ لی تو وہ سب کو ایك ہی مرض الموت لاحق ہے۱۲۔
مسلمانو ! حضرات کی عیاریاں مکاریاں حیا داریاں ملاحظہ کیں حضرت والا سید صاحب قبلہ دامت برکاتہم کی طرح جس بندہ کو خدا عقل و ایمان و انصاف دے گا وہ ان مکاروں ابلیس شعاروں پر لاحول ہی پڑھ کر اٹھے گا۔
اب بعونہ تعالی خالص الاعتقاد مطالعہ کیجئے اور اپنے ایمان و یقین و محبت و غلامی حضور سید المرسلین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو تازگی دیجئے۔
والحمدﷲ رب العلمین وافضل الصلوۃ واکمل السلام علی سیدنا و مولنا والہ وصحبہ وابنہ وحزبہ اجمعین امین
سید عبدالرحمن غفرلہ
___________________
عـــــہ:اب تك ان صاحبوں نے بھی کروٹ نہ لی تو وہ سب کو ایك ہی مرض الموت لاحق ہے۱۲۔
رسالہ
خالص الاعتقاد ۱۳۲۸ھ
(اعتقاد خالص)
بسم اﷲ الرحمن الرحیم ط
نحمدہ ونصل علی رسولہ الکریم ط
بشرف ملاحظہ عالیہ حضرت والا درجیتبالا منزلتعظیم البرکتہ حضرت مولنا مولوی سید حسین حیدر میاں صاحب قبلہ دامت برکاتہم العلمیہبعد تسلیم وآداب خادمانہ عارض۔
(۱)حضرت والا کو معلوم ہوگا کہ وہابیئہ گنگوہ دیوبند و نانوتہ و تھا نہ بھون و دہلی و سہسوان خذلہم اﷲ تعالی نے اﷲ عزو علا و حضور پرنور سید الانبیاء وعلیہم افضل ا لصلوۃ والثناء کی شان میں کیا کیا کلمات ملعونہ
نوٹ:یہ کتاب حضرت گرامی مرتبت سید حسین حیدر میاں صاحب مارہروی علیہ الرحمہ کے ان خطوط کے جواب میں بطور مراسلہ لکھی گئی جو موصوف نے بعض دیانبہ کی الزام تراشیوں سے پیدا شدہ صورت حال پر پریشان ہو کر تحقیق کے لیے مصنف علیہ الرحمۃ کو تحریر فرمائے تھے اور وہ خطوط چند صفحات قبل رسالہ کی تمہید میں مذکور ہیں۔
خالص الاعتقاد ۱۳۲۸ھ
(اعتقاد خالص)
بسم اﷲ الرحمن الرحیم ط
نحمدہ ونصل علی رسولہ الکریم ط
بشرف ملاحظہ عالیہ حضرت والا درجیتبالا منزلتعظیم البرکتہ حضرت مولنا مولوی سید حسین حیدر میاں صاحب قبلہ دامت برکاتہم العلمیہبعد تسلیم وآداب خادمانہ عارض۔
(۱)حضرت والا کو معلوم ہوگا کہ وہابیئہ گنگوہ دیوبند و نانوتہ و تھا نہ بھون و دہلی و سہسوان خذلہم اﷲ تعالی نے اﷲ عزو علا و حضور پرنور سید الانبیاء وعلیہم افضل ا لصلوۃ والثناء کی شان میں کیا کیا کلمات ملعونہ
نوٹ:یہ کتاب حضرت گرامی مرتبت سید حسین حیدر میاں صاحب مارہروی علیہ الرحمہ کے ان خطوط کے جواب میں بطور مراسلہ لکھی گئی جو موصوف نے بعض دیانبہ کی الزام تراشیوں سے پیدا شدہ صورت حال پر پریشان ہو کر تحقیق کے لیے مصنف علیہ الرحمۃ کو تحریر فرمائے تھے اور وہ خطوط چند صفحات قبل رسالہ کی تمہید میں مذکور ہیں۔
بکےلکھے اور چھاپےجن پر عامہ علماء عرب و ہند نے ان کی تکفیر کیکتاب حسام الحرمین مع تمہید ایمان و خلاصہ فوائد فتاوی حاضر خدمت ہیں۔زیادہ نہ ہو تو صرف دو رسالے اولین تمہید ایمان و خلاصہ فوائد کو حرفا حرفا ملاحظہ فرمالیں کہ حق آفتاب سے زیادہ واضح ہے۔
(۲)اس کتاب مستطاب کی اشاعت پر خدا اور رسول(جل وعلا وصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم)کے بدگویوں کی جو حالت اضطراب و پیچ و تاب ہےبیان سے باہرہے۔دو سال سے اسی کتاب کی طبع کے بعد چیختے چلاتے اور طرح طرح کے غل مچاتے پرچوں اخباروں میں گالیوں کے انبار لگاتےسوسو پہلو بدلتےادھر ادھر پلٹے کھاتے ہیں مگر اصل مبحث کا جواب دینا درکنار اس کانا لیے ہول کھاتے ہیںبدگویوں میں مرتضی حسن چاند پوری دیوبندی اور ان کے یار غار ثناءاﷲ امرتسری غیر مقلد صرف اسی لیے غلم چانےبحثیں بدلنےگالیاں چھاپنے کے لیے منتخب کیے گئے ہیں جن کے غل پر پانچ پانچ رسالے میرے احباب کے ان کو پہنچے ہوئے ہیں ان سب کو بھی جواب غائب اور چیخ بدستوریہ تمام حال حضرت والا کو ملاحظہ رسالہ ظفر الدین الجید وظفر الدین الطیب و اشتہار ضروری نوٹس و اشتہار نیا زمانہ کے ملاحظہ سے واضح ہوگا۔سب مرسل خدمت ہیںاور زیادہ تفصیل احباب فقیر کے رسالہ کین کش پنجہ پیچ و رسالہ بارش سنگی و رسالہ پیکان جانگداز کے ملاحظہ سے ظاہر ہوگی۔یہ سب زیر طبع ہیںبعد طبع بعونہ تعالی ان سے کہہ دوں گا کہ ارسال خدمت اقدس کریں۔
(۳)اب چند امور ضروری مختصرا عرض کروں کہ بعونہ تعالی اظہار حق و ابطال باطل کو بس ہوں۔
امراول
وہابیہ کی افترا پر دازیاں
ان چالوں کے علاوہ خدا ورسول جل و علا وصلی الہ تعالی علیہ وسلم کے بدگویوں نے ادھر یہ مکر گانٹھا کہ کسی طرح معارضہ بالقلب کیجئے یعنی ادھر بھی کوئی بات ایسی نسبت کریں جس پر معاذ اﷲ حکم کفریا ضلال لگاسکیں۔
اس کے لیے مسئلہ غیب میں افترا چھانٹنے شروع کیے۔
(۱)کبھی یہ کہ وہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا علمذاتیبے اعطائے الہی مانتاہے۔
(۲)کبھی یہ کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا علمعلم الہی سے مساوی جانتا ہے صرف قدم و
(۲)اس کتاب مستطاب کی اشاعت پر خدا اور رسول(جل وعلا وصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم)کے بدگویوں کی جو حالت اضطراب و پیچ و تاب ہےبیان سے باہرہے۔دو سال سے اسی کتاب کی طبع کے بعد چیختے چلاتے اور طرح طرح کے غل مچاتے پرچوں اخباروں میں گالیوں کے انبار لگاتےسوسو پہلو بدلتےادھر ادھر پلٹے کھاتے ہیں مگر اصل مبحث کا جواب دینا درکنار اس کانا لیے ہول کھاتے ہیںبدگویوں میں مرتضی حسن چاند پوری دیوبندی اور ان کے یار غار ثناءاﷲ امرتسری غیر مقلد صرف اسی لیے غلم چانےبحثیں بدلنےگالیاں چھاپنے کے لیے منتخب کیے گئے ہیں جن کے غل پر پانچ پانچ رسالے میرے احباب کے ان کو پہنچے ہوئے ہیں ان سب کو بھی جواب غائب اور چیخ بدستوریہ تمام حال حضرت والا کو ملاحظہ رسالہ ظفر الدین الجید وظفر الدین الطیب و اشتہار ضروری نوٹس و اشتہار نیا زمانہ کے ملاحظہ سے واضح ہوگا۔سب مرسل خدمت ہیںاور زیادہ تفصیل احباب فقیر کے رسالہ کین کش پنجہ پیچ و رسالہ بارش سنگی و رسالہ پیکان جانگداز کے ملاحظہ سے ظاہر ہوگی۔یہ سب زیر طبع ہیںبعد طبع بعونہ تعالی ان سے کہہ دوں گا کہ ارسال خدمت اقدس کریں۔
(۳)اب چند امور ضروری مختصرا عرض کروں کہ بعونہ تعالی اظہار حق و ابطال باطل کو بس ہوں۔
امراول
وہابیہ کی افترا پر دازیاں
ان چالوں کے علاوہ خدا ورسول جل و علا وصلی الہ تعالی علیہ وسلم کے بدگویوں نے ادھر یہ مکر گانٹھا کہ کسی طرح معارضہ بالقلب کیجئے یعنی ادھر بھی کوئی بات ایسی نسبت کریں جس پر معاذ اﷲ حکم کفریا ضلال لگاسکیں۔
اس کے لیے مسئلہ غیب میں افترا چھانٹنے شروع کیے۔
(۱)کبھی یہ کہ وہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا علمذاتیبے اعطائے الہی مانتاہے۔
(۲)کبھی یہ کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا علمعلم الہی سے مساوی جانتا ہے صرف قدم و
حدوث کا فرق کرتا ہے۔
(۳)کبھی یہ کہ باستثناء ذات و صفات الہی باقی تمام معلومات الہیہ کو حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا علم محیط بتاتا ہے۔
(۴)کبھی یہ کہ امور غیر متناہیہ بالفعل کو حضور پر نور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا علم بتفصیل تمام حاوی ٹھہراتا ہے۔
حالانکہ واحد قہار یہ دیکھ رہا ہے کہ یہ سب ان اشقیاء کا افترا ہے۔
سچے ہیں تو بتائیں کہ ان میں سے کون سا جملہ فقیر کے کس رسالےکس فتوےکس تحریر میں ہے
" قل ہاتوا برہنکم ان کنتم صدقین﴿۱۱۱﴾"
" فاذ لم یاتوا بالشہداء فاولئک عند اللہ ہم الکذبون ﴿۱۳﴾"
" انما یفتری الکذب الذین لا یؤمنون بایت اللہ و اولئک ہم الکذبون ﴿۱۰۵﴾" ۔ تم فرماؤ لاؤ اپنی دلیل اگر سچے ہو۔(ت)
تو جب گواہ نہ لائے تو وہی اﷲ کے نزدیك جھوٹے ہیں۔(ت)
جھوٹ بہتان وہی باندھتے ہیں جو اﷲ کی آیتوں پر ایمان نہیں رکھتے اور وہی لوگ جھوٹے ہیں۔(ت)
یہی بیانات لوگوں کے سامنے بیان کرکے ان کو پریشان کرتے ہیں ان کا پریشان ہونا حق بجانب ہے اس پر اگر کوئی عالم مخالفت کرے تو ضرور اسے لائق و مناسب ہے۔مفتریان کذاب اگر ان کلمات کا خود مجھ سے استفتاء کرتے تو سب سے پہلے ان باطل باتوں کا ردو ابطال میں کرتا۔
فقیر نے مکہ معظمہ میں جو رسالہ الدولۃ المکیۃ بالمادۃ الغیبیۃ اس باب میں تصنیف کیا جس کی متعدد نقول علماء کرام مکہ نے لیں اس میں ان تمام خرافات کا رد صریح موجود ہے۔ان اباطیل کل یا بعض پر جو عالم مخالفت کرے یا ر د لکھے وہ رد لکھے وہ ردو خلافت حقیقۃ انہیں ملعون افتراؤں پر عائد ہوگا۔نہ اس پر جو ان اکاذیب سے بحمداﷲ ایسا بری ہے جیسے وہ مفتریان کذاب دین و حیا سے۔
" و سیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون ﴿۲۲۷﴾" ۔ اور اب جاننا چاہتے ہیں ظالم کہ کس کروٹ پر پلٹا کھائیں گے۔(ت)
(۳)کبھی یہ کہ باستثناء ذات و صفات الہی باقی تمام معلومات الہیہ کو حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا علم محیط بتاتا ہے۔
(۴)کبھی یہ کہ امور غیر متناہیہ بالفعل کو حضور پر نور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا علم بتفصیل تمام حاوی ٹھہراتا ہے۔
حالانکہ واحد قہار یہ دیکھ رہا ہے کہ یہ سب ان اشقیاء کا افترا ہے۔
سچے ہیں تو بتائیں کہ ان میں سے کون سا جملہ فقیر کے کس رسالےکس فتوےکس تحریر میں ہے
" قل ہاتوا برہنکم ان کنتم صدقین﴿۱۱۱﴾"
" فاذ لم یاتوا بالشہداء فاولئک عند اللہ ہم الکذبون ﴿۱۳﴾"
" انما یفتری الکذب الذین لا یؤمنون بایت اللہ و اولئک ہم الکذبون ﴿۱۰۵﴾" ۔ تم فرماؤ لاؤ اپنی دلیل اگر سچے ہو۔(ت)
تو جب گواہ نہ لائے تو وہی اﷲ کے نزدیك جھوٹے ہیں۔(ت)
جھوٹ بہتان وہی باندھتے ہیں جو اﷲ کی آیتوں پر ایمان نہیں رکھتے اور وہی لوگ جھوٹے ہیں۔(ت)
یہی بیانات لوگوں کے سامنے بیان کرکے ان کو پریشان کرتے ہیں ان کا پریشان ہونا حق بجانب ہے اس پر اگر کوئی عالم مخالفت کرے تو ضرور اسے لائق و مناسب ہے۔مفتریان کذاب اگر ان کلمات کا خود مجھ سے استفتاء کرتے تو سب سے پہلے ان باطل باتوں کا ردو ابطال میں کرتا۔
فقیر نے مکہ معظمہ میں جو رسالہ الدولۃ المکیۃ بالمادۃ الغیبیۃ اس باب میں تصنیف کیا جس کی متعدد نقول علماء کرام مکہ نے لیں اس میں ان تمام خرافات کا رد صریح موجود ہے۔ان اباطیل کل یا بعض پر جو عالم مخالفت کرے یا ر د لکھے وہ رد لکھے وہ ردو خلافت حقیقۃ انہیں ملعون افتراؤں پر عائد ہوگا۔نہ اس پر جو ان اکاذیب سے بحمداﷲ ایسا بری ہے جیسے وہ مفتریان کذاب دین و حیا سے۔
" و سیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون ﴿۲۲۷﴾" ۔ اور اب جاننا چاہتے ہیں ظالم کہ کس کروٹ پر پلٹا کھائیں گے۔(ت)
حوالہ / References
القرآن الکریم ۲ /۱۱۱
القرآن الکریم ۲۴ /۱۳
القرآن الکریم ۱۶ /۱۰۵
القرآن الکریم ۲۶ /۲۲۷
القرآن الکریم ۲۴ /۱۳
القرآن الکریم ۱۶ /۱۰۵
القرآن الکریم ۲۶ /۲۲۷
حضرت والا کو حق سبحانہوتعالی شفائے کامل و عاجل عطا فرمائے۔اگر براہ کرم قدیم و لطف عمیم یہاں تشریف فرما ہو کر خادم نوازی کریں تو اصل رسالہ جس پر مولانا تاج الدین الیاس و مولانا عثمان بن عبدالسلام مفتیان مدینہ منورہ کی اصل تقریظات ان کی مہری دستخطی موجود ہیںنظر انور سے گزاروں گا۔
فی الحال اس کی دو چار عبارات عرض کرتا ہوں جن سے روشن ہوجائے گا کہ مفتریوں کے افتراء کس درجہ باطل و پادر ہوا ہیں جس کی نظیر یہی ہوسکتی ہے کہ کوئی ید باطن کہے اہلسنت کا مذہب صدیق اکبر رضی اﷲ تعالی عنہ پر تبرا اور صدیقہ طاہرہ(رضی اﷲ تعالی عنہا)پر بہتان اٹھانا ہے۔ والعیاذ باﷲ رب العالمینمیرے رسالہ کی نظر اول میں ہے۔
(۱)العلم ذاتی مختص بالمولی سبحنہ وتعالی لایمکن لغیرہ ومن اثبت شیئامنہ ولوادنی من ادنی من ادنی من ذرۃ لاحد من العلمین فقد کفر واشرك ۔ علم ذاتی اﷲ عزوجل سے خاص ہے اس کے غیر کے لیے محال ہےجو اس میں سے کوئی چیز اگرچہ ایك ذرہ سے کمتر سے کمتر غیر خدا کے لیے مانے وہ یقینا کافرو مشرك ہے۔
(۲)اسی میں ہے:
اللاتنا ھی الکمی مخصوص بعلوم اﷲ تعالی ۔ غیر متناہی بالفعل کو شامل ہوناصرف علم الہی کے لیے ہے۔
(۳)اسی میں ہے:
احاطۃ احد من الخلق بمعلومات اﷲ تعالی علی جھۃ التفصیل التام محال شرعا وعقلا بل لوجمع علوم جمیعا العلمین اولا واخرا لما کانت لہ نسبۃ ما اصلا الی علوم اﷲ سبحنہ وتعالی حتی کنسبۃ حصۃ من الف الف حصص قطرۃ الی الف الف بحر ۔ کسی مخلوق کا معلومات الہیہ کو بتفصیل تام محیط ہوجانا شرع سے بھی محال ہےاور عقل سے بھیبلکہ اگر تمام اہل عالم اگلے پچھلوں سب کے جملہ علوم جمع کیے جائیں تو ان کو علوم الہیہ سے وہ نسبت نہ ہوگی جو ایك بوند کے دس لاکھ حصوں سے ایك حصے کو دس لاکھ سمندروں سے۔
فی الحال اس کی دو چار عبارات عرض کرتا ہوں جن سے روشن ہوجائے گا کہ مفتریوں کے افتراء کس درجہ باطل و پادر ہوا ہیں جس کی نظیر یہی ہوسکتی ہے کہ کوئی ید باطن کہے اہلسنت کا مذہب صدیق اکبر رضی اﷲ تعالی عنہ پر تبرا اور صدیقہ طاہرہ(رضی اﷲ تعالی عنہا)پر بہتان اٹھانا ہے۔ والعیاذ باﷲ رب العالمینمیرے رسالہ کی نظر اول میں ہے۔
(۱)العلم ذاتی مختص بالمولی سبحنہ وتعالی لایمکن لغیرہ ومن اثبت شیئامنہ ولوادنی من ادنی من ادنی من ذرۃ لاحد من العلمین فقد کفر واشرك ۔ علم ذاتی اﷲ عزوجل سے خاص ہے اس کے غیر کے لیے محال ہےجو اس میں سے کوئی چیز اگرچہ ایك ذرہ سے کمتر سے کمتر غیر خدا کے لیے مانے وہ یقینا کافرو مشرك ہے۔
(۲)اسی میں ہے:
اللاتنا ھی الکمی مخصوص بعلوم اﷲ تعالی ۔ غیر متناہی بالفعل کو شامل ہوناصرف علم الہی کے لیے ہے۔
(۳)اسی میں ہے:
احاطۃ احد من الخلق بمعلومات اﷲ تعالی علی جھۃ التفصیل التام محال شرعا وعقلا بل لوجمع علوم جمیعا العلمین اولا واخرا لما کانت لہ نسبۃ ما اصلا الی علوم اﷲ سبحنہ وتعالی حتی کنسبۃ حصۃ من الف الف حصص قطرۃ الی الف الف بحر ۔ کسی مخلوق کا معلومات الہیہ کو بتفصیل تام محیط ہوجانا شرع سے بھی محال ہےاور عقل سے بھیبلکہ اگر تمام اہل عالم اگلے پچھلوں سب کے جملہ علوم جمع کیے جائیں تو ان کو علوم الہیہ سے وہ نسبت نہ ہوگی جو ایك بوند کے دس لاکھ حصوں سے ایك حصے کو دس لاکھ سمندروں سے۔
حوالہ / References
الدولۃ المکیۃ النظر الاول مطبعہ اہلسنت بریلی ص۶
الدولۃ المکیۃ النظر الاول مطبعہ اہلسنت بریلی ص۶
الدولۃ المکیۃ النظر الاول مطبعہ اہلسنت بریلی ص۶
الدولۃ المکیۃ النظر الاول مطبعہ اہلسنت بریلی ص۶
الدولۃ المکیۃ النظر الاول مطبعہ اہلسنت بریلی ص۶
(۴)اسی کی نظر ثانی میں ہے:
زھر وبھر مما تقرر ان شبہۃ مساواۃ علوم المخلوقین طرا اجمعین بعلم ربنا الہ العلمین ما کانت لتخطر ببال المسلمین ۔ ہماری تقریر سے روشن و تاباں ہوگیا کہ تمام مخلوق کے جملہ علوم مل کر بھی علم الہی سے مساوی ہونے کا شبہہ اس قابل نہیں کہ مسلمان کے دل میں اس کا خطرہ گزرے۔
(۵)اسی میں ہے:
قداقمنا الدلائل القاھرۃ علی ان احاطۃ علم المخلوق بجمیع المعلومات ا لالیہۃ محال قطعاعقلا وسمعا ۔ ہم قاہر دلیلیں قائم کرچکے کہ علم مخلوق کا جمیع معلومات الہیہ کو محیط ہونا ہونا عقل و شرع دونوں کی رو سے یقینامحال ہے۔
(۶)اسی کی نظر ثالث میں ہے:
العلم الذاتی والمطلق والمحیط التفصیلی مختص باﷲ تعالی وماللعباد الامطلق العلم العطائی ۔ علم ذاتی اور بالاستیعاب محیط تفصیلی یہ اﷲ عزوجل کے ساتھ خاص ہیں بندوں کے لیے صرف ایك گونہ علم بعطائے الہی ہے۔
(۷)اسی کی نظر خامس میں ہے:
لانقول بمساواۃ علم اﷲ تعالی ولا بحصولہ بالاستقلال ولا نثبت بعطاء اﷲ تعالی ایضا الا البعض ۔ ہم نے علم الہی سے مساوات مانیں نہ غیر کے لیے علم بالذات جانیںاور عطائے الہی سے بھی بعض علم ہی ملنا مانتے ہیں نہ کہ جمیع۔
میرا مختصر فتوی ابناء المصطفی بمبئی مراد آباد میں تین بار ۱۳۱۸ھ سے ہزاروں کی تعداد میں طبع ہو کر شائع ہواایك نسخہ اسی کا کہ رسالہ الکلمۃ العلیا فـــــــ کے ساتھ مطبوع ہوا مرسل خدمت ہےاس سے بڑھ کر جس امر کا اعتقاد میری طرف کوئی نسبت کرے مفتری کذاب ہے اوراﷲ کے یہاں اس کا حساب۔
زھر وبھر مما تقرر ان شبہۃ مساواۃ علوم المخلوقین طرا اجمعین بعلم ربنا الہ العلمین ما کانت لتخطر ببال المسلمین ۔ ہماری تقریر سے روشن و تاباں ہوگیا کہ تمام مخلوق کے جملہ علوم مل کر بھی علم الہی سے مساوی ہونے کا شبہہ اس قابل نہیں کہ مسلمان کے دل میں اس کا خطرہ گزرے۔
(۵)اسی میں ہے:
قداقمنا الدلائل القاھرۃ علی ان احاطۃ علم المخلوق بجمیع المعلومات ا لالیہۃ محال قطعاعقلا وسمعا ۔ ہم قاہر دلیلیں قائم کرچکے کہ علم مخلوق کا جمیع معلومات الہیہ کو محیط ہونا ہونا عقل و شرع دونوں کی رو سے یقینامحال ہے۔
(۶)اسی کی نظر ثالث میں ہے:
العلم الذاتی والمطلق والمحیط التفصیلی مختص باﷲ تعالی وماللعباد الامطلق العلم العطائی ۔ علم ذاتی اور بالاستیعاب محیط تفصیلی یہ اﷲ عزوجل کے ساتھ خاص ہیں بندوں کے لیے صرف ایك گونہ علم بعطائے الہی ہے۔
(۷)اسی کی نظر خامس میں ہے:
لانقول بمساواۃ علم اﷲ تعالی ولا بحصولہ بالاستقلال ولا نثبت بعطاء اﷲ تعالی ایضا الا البعض ۔ ہم نے علم الہی سے مساوات مانیں نہ غیر کے لیے علم بالذات جانیںاور عطائے الہی سے بھی بعض علم ہی ملنا مانتے ہیں نہ کہ جمیع۔
میرا مختصر فتوی ابناء المصطفی بمبئی مراد آباد میں تین بار ۱۳۱۸ھ سے ہزاروں کی تعداد میں طبع ہو کر شائع ہواایك نسخہ اسی کا کہ رسالہ الکلمۃ العلیا فـــــــ کے ساتھ مطبوع ہوا مرسل خدمت ہےاس سے بڑھ کر جس امر کا اعتقاد میری طرف کوئی نسبت کرے مفتری کذاب ہے اوراﷲ کے یہاں اس کا حساب۔
حوالہ / References
الدولۃ المکیہ النظرالثانی مطبعہ اہلِ سنت بریلی ص ۱۵
الدولۃ المکیہ النظرالثانی مطبعہ اہلِ سنت بریلی ص ۱۶
الدولۃ المکیہ النظرالثالث مطبعہ اہلِ سنت بریلی ص ۱۹
الدولۃ المکیہ النظرالخامس مطبعہ اہلِ سنت بریلی ص ۲۸
ف:الکلمۃ العلیا مصنفہ صدرالافاضل مولانا نعیم الدین مراد آبادی علیہ الرحمۃ
الدولۃ المکیہ النظرالثانی مطبعہ اہلِ سنت بریلی ص ۱۶
الدولۃ المکیہ النظرالثالث مطبعہ اہلِ سنت بریلی ص ۱۹
الدولۃ المکیہ النظرالخامس مطبعہ اہلِ سنت بریلی ص ۲۸
ف:الکلمۃ العلیا مصنفہ صدرالافاضل مولانا نعیم الدین مراد آبادی علیہ الرحمۃ
امر دوم
بندوں کو علم غیب عطا ہونے کی سندیں اور آیات نفی کی مراد
انہیں عبارات سے یہ بھی واضح ہوگیا کہ علم غیب کا خاصہ حضرت عزت ہونا بے شك حق ہےاور کیوں نہ ہو کہ رب عزوجل فرماتا ہے:
" قل لا یعلم من فی السموت و الارض الغیب الا اللہ " ۔ تم فرمادو کہ آسمانوں اور زمین میں اﷲ کے سوا کوئی عالم الغیب نہیں۔
اور اس سے مراد وہی علم ذاتی و علم محیط ہے کہ وہی باری عزوجل کے لیے ثابت اور اس سے مخصوص ہیں۔علم عطائی کہ دوسرے کا دیا ہوا ہو۔علم غیر محیط کہ بعض اشیاء سے مطلع بعض سے ناواقف ہواﷲ عزوجل کے لیے ہو ہی نہیں سکتااس سے مخصوص ہونا تو دوسرا درجہ ہےاوراﷲ عزوجل کی عطا سے علوم غیب غیر محیط کا انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کوملنا بھی قطعا حق ہےاور کیوں نہ ہو کہ رب عزوجل فرماتاہے۔
(۱)"وما کان اللہ لیطلعکم علی الغیب ولکن اللہ یجتبی من رسلہ من یشاء ۪" ۔ اﷲ اس لیے نہیں کہ تم لوگوں کو غیب پر مطلع کرے ہاں اﷲ اپنے رسولوں سے جسے چاہتا ہے چن لیتا ہے۔
(۲)اور فرماتا ہے:
" علم الغیب فلا یظہر علی غیبہ احدا ﴿۲۶﴾ الا من ارتضی من رسول" ۔ اﷲ عالم الغیب ہے تو اپنے غیب پر کسی کو مسلط نہیں کرتاسوا اپنے پسندیدہ رسولوں کے۔
(۳)اور فرماتا ہے:
" و ما ہو علی الغیب بضنین ﴿۲۴﴾" ۔ یہ نبی غیب کے بتانے میں بخیل نہیں۔
(۴)اور فرماتا ہے:
" ذلک من انـباء الغیب نوحیہ الیک" ۔ اے نبی ! یہ غیب کی باتیں ہم تم کو مخفی طور پر بتاتے ہیں۔
بندوں کو علم غیب عطا ہونے کی سندیں اور آیات نفی کی مراد
انہیں عبارات سے یہ بھی واضح ہوگیا کہ علم غیب کا خاصہ حضرت عزت ہونا بے شك حق ہےاور کیوں نہ ہو کہ رب عزوجل فرماتا ہے:
" قل لا یعلم من فی السموت و الارض الغیب الا اللہ " ۔ تم فرمادو کہ آسمانوں اور زمین میں اﷲ کے سوا کوئی عالم الغیب نہیں۔
اور اس سے مراد وہی علم ذاتی و علم محیط ہے کہ وہی باری عزوجل کے لیے ثابت اور اس سے مخصوص ہیں۔علم عطائی کہ دوسرے کا دیا ہوا ہو۔علم غیر محیط کہ بعض اشیاء سے مطلع بعض سے ناواقف ہواﷲ عزوجل کے لیے ہو ہی نہیں سکتااس سے مخصوص ہونا تو دوسرا درجہ ہےاوراﷲ عزوجل کی عطا سے علوم غیب غیر محیط کا انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کوملنا بھی قطعا حق ہےاور کیوں نہ ہو کہ رب عزوجل فرماتاہے۔
(۱)"وما کان اللہ لیطلعکم علی الغیب ولکن اللہ یجتبی من رسلہ من یشاء ۪" ۔ اﷲ اس لیے نہیں کہ تم لوگوں کو غیب پر مطلع کرے ہاں اﷲ اپنے رسولوں سے جسے چاہتا ہے چن لیتا ہے۔
(۲)اور فرماتا ہے:
" علم الغیب فلا یظہر علی غیبہ احدا ﴿۲۶﴾ الا من ارتضی من رسول" ۔ اﷲ عالم الغیب ہے تو اپنے غیب پر کسی کو مسلط نہیں کرتاسوا اپنے پسندیدہ رسولوں کے۔
(۳)اور فرماتا ہے:
" و ما ہو علی الغیب بضنین ﴿۲۴﴾" ۔ یہ نبی غیب کے بتانے میں بخیل نہیں۔
(۴)اور فرماتا ہے:
" ذلک من انـباء الغیب نوحیہ الیک" ۔ اے نبی ! یہ غیب کی باتیں ہم تم کو مخفی طور پر بتاتے ہیں۔
حوالہ / References
القرآن الکریم ۲۷ /۶۵
القرآن الکریم ۳ /۱۷۹
القرآن الکریم ۷۳ /۲۶و۲۷
القرآن الکریم ۸۱ /۲۴
القرآن الکریم ۱۲ /۱۰۲
القرآن الکریم ۳ /۱۷۹
القرآن الکریم ۷۳ /۲۶و۲۷
القرآن الکریم ۸۱ /۲۴
القرآن الکریم ۱۲ /۱۰۲
(۵)حتی کہ مسلمانوں کو فرماتا ہے:
" یؤمنون بالغیب" ۔ غیب پر ایمان لاتے ہیں۔
ایمان تصدیق ہے اور تصدیق علم ہے جس شیئ کا اصلا علم ہی نہ ہو اس پر ایمان لانا کیونکر ممکنلاجرم تفسیر کبیر میں ہے۔
(۶)لایمتنع ان تقول نعلم من الغیب مالنا علیہ دلیل ۔ یہ کہنا کچھ منع نہیں کہ ہم کو اس غیب کا علم ہے جس میں ہمارے لیے دلیل ہے۔
(۷)نسیم الریاض میں ہے:
لم یکلفنا اﷲ الایمان بالغیب الاوقد فتح لنا باب غیبہ ۔ ہمیں اﷲ تعالی نے ایمان بالغیب کا جبھی حکم دیا ہے کہ اپنے غیب کا دروازہ ہمارے لیے کھول دیا ہے۔
فقیر نے تو رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے لیے کہا تھا یہ ائمہعلماء جو اپنے لیے مان رہے ہیں معلوم نہیں کہ مخالفین ان پر کون سا حکم جڑیں۔
(۸ و ۹)امام شعرانی کتاب الیواقیت والجواہر میں حضرت شیخ اکبر سے نقل فرماتے ہیں:
للمجتہدین القدم الراسخ فی علوم الغیب ۔ علم غیب میں ائمہ مجتہدین کے لیے مضبوط قدم ہے۔
(۱۰ و ۱۱)مولنا علی قاری(کہ مخالفین براہ نافہمی اس مسئلہ میں ان سے سند لاتے ہیں)مرقاۃ شرح مشکوۃ شریف میں کتاب عقائد تالیف حضرت شیخ ابوعبداﷲ شیرازی سے نقل فرماتے ہیں:
نعتقدان العبدینقل فی الاحوال حتی یصیر الی نعت الروحانیۃ فیعلم الغیب ۔ ہمارا عقیدہ ہے کہ بندہ ترقی مقامات پا کر صفت روحانی تك پہنچتا ہے اس وقت اسے علم غیب حاصل ہوتا ہے۔
(۱۲)یہی علی قاری مرقاۃ میں اسی کتاب سے ناقل:
" یؤمنون بالغیب" ۔ غیب پر ایمان لاتے ہیں۔
ایمان تصدیق ہے اور تصدیق علم ہے جس شیئ کا اصلا علم ہی نہ ہو اس پر ایمان لانا کیونکر ممکنلاجرم تفسیر کبیر میں ہے۔
(۶)لایمتنع ان تقول نعلم من الغیب مالنا علیہ دلیل ۔ یہ کہنا کچھ منع نہیں کہ ہم کو اس غیب کا علم ہے جس میں ہمارے لیے دلیل ہے۔
(۷)نسیم الریاض میں ہے:
لم یکلفنا اﷲ الایمان بالغیب الاوقد فتح لنا باب غیبہ ۔ ہمیں اﷲ تعالی نے ایمان بالغیب کا جبھی حکم دیا ہے کہ اپنے غیب کا دروازہ ہمارے لیے کھول دیا ہے۔
فقیر نے تو رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے لیے کہا تھا یہ ائمہعلماء جو اپنے لیے مان رہے ہیں معلوم نہیں کہ مخالفین ان پر کون سا حکم جڑیں۔
(۸ و ۹)امام شعرانی کتاب الیواقیت والجواہر میں حضرت شیخ اکبر سے نقل فرماتے ہیں:
للمجتہدین القدم الراسخ فی علوم الغیب ۔ علم غیب میں ائمہ مجتہدین کے لیے مضبوط قدم ہے۔
(۱۰ و ۱۱)مولنا علی قاری(کہ مخالفین براہ نافہمی اس مسئلہ میں ان سے سند لاتے ہیں)مرقاۃ شرح مشکوۃ شریف میں کتاب عقائد تالیف حضرت شیخ ابوعبداﷲ شیرازی سے نقل فرماتے ہیں:
نعتقدان العبدینقل فی الاحوال حتی یصیر الی نعت الروحانیۃ فیعلم الغیب ۔ ہمارا عقیدہ ہے کہ بندہ ترقی مقامات پا کر صفت روحانی تك پہنچتا ہے اس وقت اسے علم غیب حاصل ہوتا ہے۔
(۱۲)یہی علی قاری مرقاۃ میں اسی کتاب سے ناقل:
حوالہ / References
القرآن الکریم ۲ /۳
مفاتیح الغیب(التفسیر الکبیر)تحت آیۃ ۲ /۳ المطبعۃ البہیۃ المصریہ مصر ۲ /۲۸
نسیم الریاض فصل ومن ذلك ما اطلع علیہ من الغیوب مرکز اہلسنت برکات رضا گجرات ہند ۳ /۱۵۱
الیواقیت والجواھر البحث التاسع والاربعون داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۴۸۰
مرقاۃ المفاتیح کتاب الایمان الفصل الاول تحت حدیث ۲ المکتبۃ الحبیبیہ کوئٹہ ۱ /۱۲۸
مفاتیح الغیب(التفسیر الکبیر)تحت آیۃ ۲ /۳ المطبعۃ البہیۃ المصریہ مصر ۲ /۲۸
نسیم الریاض فصل ومن ذلك ما اطلع علیہ من الغیوب مرکز اہلسنت برکات رضا گجرات ہند ۳ /۱۵۱
الیواقیت والجواھر البحث التاسع والاربعون داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۴۸۰
مرقاۃ المفاتیح کتاب الایمان الفصل الاول تحت حدیث ۲ المکتبۃ الحبیبیہ کوئٹہ ۱ /۱۲۸
یطلع العبدعلی حقائق الاشیاء ویتجلی لہ الغیب و غیب الغیب ۔ نور ایمان کی قوت بڑھ کر بندہ حقائق اشیاء پر مطلع ہوتا ہے اور اس پر غیب نہ صرف غیب بلکہ غیب کا غیب روشن ہوجاتا ہے۔
(۱۳)یہی علی قاری اسی مرقاۃ میں فرماتے ہیں:
الناس ینقسم الی فطن یدرك الغائب کالمشاھد وھم الانبیاء والی من الغالب علیھم متابعۃ الحس و متابعۃ الوھم فقط وھم اکثر الخلائق فلا بدلھم من معلم یکشف لھم المغیبات وما ھو الاالنبی المبعوث لھذا الامر ۔ آدمی دو قسم کے ہوتی ہیںایك وہ زیرك کہ غیب کہ مشاہد کی طرح جانتے ہیں اور یہ انبیاء ہیںدوسرے وہ جن پر صرف حس و وہم کی پیروی غالب ہے اکثر مخلوق اسی قسم کی ہے۔تو ان کو ایك بتانے والے کی ضرورت ہے جو ان پر غیبوں کو کھول دے اور وہ بتانے والا نہیں مگر نبی کہ خود اس کام کے لیے بھیجا جاتا ہے۔
(۱۴ و ۱۵)یہی علی قاری شرح فقہ اکبر میں حضرت ابو سلیمان دارانی رضی اﷲ تعالی عنہ سے ناقل:
الفراسۃ مکاشفۃ النفس ومعاینۃ الغیب وھی من مقامات الایمان ۔ فراست مومن(جس کا ذکر حدیث میں ارشاد ہوا ہے)وہ روح کا کشف اورغیب کا معائینہ ہے۔اور یہ ایمان کے مقاموں میں سے ایك مقام ہے۔
(۱۶ و ۱۷)امام ابن حجر مکی کتاب الاعلامپھر علامہ شامی سل الحسام میں فرماتے ہیں:
الخواص یجوزان ان یعلموا الغیب فی قضیۃ او قضایاکما وقع لکثیر منھم و اشتھر ۔ جائز ہے کہ اولیاء کو کسی واقعے یا وقائع میں علم غیب ملے جیسا کہ ان میں بہت کے لیے واقع ہو کر مشتہر ہوا۔
(۱۸ و ۱۹)تفسیر معالم وتفسیر خازن میں زیر قولہ تعالی: " و ما ہو علی الغیب بضنین ﴿۲۴﴾" ۔ہے۔
یقول انہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یعنی اﷲ عزوجل فرماتا ہے:میرے نبی صلی اﷲ تعالی
(۱۳)یہی علی قاری اسی مرقاۃ میں فرماتے ہیں:
الناس ینقسم الی فطن یدرك الغائب کالمشاھد وھم الانبیاء والی من الغالب علیھم متابعۃ الحس و متابعۃ الوھم فقط وھم اکثر الخلائق فلا بدلھم من معلم یکشف لھم المغیبات وما ھو الاالنبی المبعوث لھذا الامر ۔ آدمی دو قسم کے ہوتی ہیںایك وہ زیرك کہ غیب کہ مشاہد کی طرح جانتے ہیں اور یہ انبیاء ہیںدوسرے وہ جن پر صرف حس و وہم کی پیروی غالب ہے اکثر مخلوق اسی قسم کی ہے۔تو ان کو ایك بتانے والے کی ضرورت ہے جو ان پر غیبوں کو کھول دے اور وہ بتانے والا نہیں مگر نبی کہ خود اس کام کے لیے بھیجا جاتا ہے۔
(۱۴ و ۱۵)یہی علی قاری شرح فقہ اکبر میں حضرت ابو سلیمان دارانی رضی اﷲ تعالی عنہ سے ناقل:
الفراسۃ مکاشفۃ النفس ومعاینۃ الغیب وھی من مقامات الایمان ۔ فراست مومن(جس کا ذکر حدیث میں ارشاد ہوا ہے)وہ روح کا کشف اورغیب کا معائینہ ہے۔اور یہ ایمان کے مقاموں میں سے ایك مقام ہے۔
(۱۶ و ۱۷)امام ابن حجر مکی کتاب الاعلامپھر علامہ شامی سل الحسام میں فرماتے ہیں:
الخواص یجوزان ان یعلموا الغیب فی قضیۃ او قضایاکما وقع لکثیر منھم و اشتھر ۔ جائز ہے کہ اولیاء کو کسی واقعے یا وقائع میں علم غیب ملے جیسا کہ ان میں بہت کے لیے واقع ہو کر مشتہر ہوا۔
(۱۸ و ۱۹)تفسیر معالم وتفسیر خازن میں زیر قولہ تعالی: " و ما ہو علی الغیب بضنین ﴿۲۴﴾" ۔ہے۔
یقول انہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یعنی اﷲ عزوجل فرماتا ہے:میرے نبی صلی اﷲ تعالی
حوالہ / References
مرقاۃ المفاتیح کتاب الایمان الفصل الاول تحت حدیث ۲ المکتبۃ الحبیبیہ کوئٹہ ۱ /۱۱۹
مرقاۃ المفاتیح کتاب الایمان الفصل الاول تحت حدیث ۲ المکتبۃ الحبیبیہ کوئٹہ ۱ /۱۲۰
منح الروض الازھر شرح الفقہ الاکبر خوارق العادات الخ مصطفٰی البابی مصر ص ۸۰
الاعلام بقواطع الاسلام مکتبۃ الحقیقۃ بشارع دارالشفقۃ استنبول ترکی ص۳۵۹،سل الحسام رسالہ من رسائل ابن عابدین سہیل اکیڈیمی لاہور ۲ /۳۱۱
القرآن الکریم ۸۱ /۲۴
مرقاۃ المفاتیح کتاب الایمان الفصل الاول تحت حدیث ۲ المکتبۃ الحبیبیہ کوئٹہ ۱ /۱۲۰
منح الروض الازھر شرح الفقہ الاکبر خوارق العادات الخ مصطفٰی البابی مصر ص ۸۰
الاعلام بقواطع الاسلام مکتبۃ الحقیقۃ بشارع دارالشفقۃ استنبول ترکی ص۳۵۹،سل الحسام رسالہ من رسائل ابن عابدین سہیل اکیڈیمی لاہور ۲ /۳۱۱
القرآن الکریم ۸۱ /۲۴
یاتیہ علم الغیب فلا یبخل بہ علیکم بل یعلمکم ۔ علیہ وسلم کو غیب کا علم آتا ہے وہ تمہیں بتانے میں بخل نہیں فرماتے بلکہ تم کو بھی اس کا علم دیتے ہیں۔
(۲۰)تفسیر بیضاوی زیر قولہ تعالی: " وعلمنہ من لدنا علما ﴿۶۵﴾" ہے۔
ای مما یختص بنا ولا یعلم الابتوفیقنا وھو علم الغیوب ۔ یعنی اﷲ عزوجل فرماتا ہے وہ علم کہ ہمارے ساتھ خاص ہے اور بے ہمارے بتائے ہوئے معلوم نہیں ہوتا وہ علم غیب ہم نے خضر کو عطا فرمایا ہے۔
(۲۱)تفسیر ابن جریر میں حضرت سیدنا عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے روایت ہے۔
قال انك لن تستطیع معی صبراوکان رجلا یعلم علم الغیب قد علم ذلك ۔ حضرت خضر علیہ الصلوۃ والسلام نے موسی علیہ السلام سے کہا:آپ میرے ساتھ نہ ٹھہر سکیں گے۔خضر علم غیب جانتے تھے انہیں علم غیب دیا گیا تھا۔
(۲۲)اسی میں ہے عبداﷲ ابن عباس نے فرمایا:خضر علیہ الصلوۃ والسلام نے کہا:
لم تحط من علم الغیب بما اعلم ۔ جو علم غیب میں جانتا ہوں آپ کا علم اسے محیط نہیں۔
(۲۳)امام قسطلانی مواہب لدنیہ شریف میں فرماتے ہیں:
النبوۃ التی ھی الاطلاع علی الغیب ۔ نبوت کے معنی ہی یہ ہیں کہ علم غیب جاننا۔
(۲۴)اسی میں نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے اسم مبارك نبی کے بیان میں فرمایا:
النبوأۃ ماخوذۃ من النباء وھوالخبر ای ان اﷲ تعالی اطلعہ علی غیبہ ۔ حضور کو نبی اس لیے کہا جاتا ہے کہ اﷲ تعالی نے حضور کو اپنے غیب کا علم دیا۔
(۲۰)تفسیر بیضاوی زیر قولہ تعالی: " وعلمنہ من لدنا علما ﴿۶۵﴾" ہے۔
ای مما یختص بنا ولا یعلم الابتوفیقنا وھو علم الغیوب ۔ یعنی اﷲ عزوجل فرماتا ہے وہ علم کہ ہمارے ساتھ خاص ہے اور بے ہمارے بتائے ہوئے معلوم نہیں ہوتا وہ علم غیب ہم نے خضر کو عطا فرمایا ہے۔
(۲۱)تفسیر ابن جریر میں حضرت سیدنا عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے روایت ہے۔
قال انك لن تستطیع معی صبراوکان رجلا یعلم علم الغیب قد علم ذلك ۔ حضرت خضر علیہ الصلوۃ والسلام نے موسی علیہ السلام سے کہا:آپ میرے ساتھ نہ ٹھہر سکیں گے۔خضر علم غیب جانتے تھے انہیں علم غیب دیا گیا تھا۔
(۲۲)اسی میں ہے عبداﷲ ابن عباس نے فرمایا:خضر علیہ الصلوۃ والسلام نے کہا:
لم تحط من علم الغیب بما اعلم ۔ جو علم غیب میں جانتا ہوں آپ کا علم اسے محیط نہیں۔
(۲۳)امام قسطلانی مواہب لدنیہ شریف میں فرماتے ہیں:
النبوۃ التی ھی الاطلاع علی الغیب ۔ نبوت کے معنی ہی یہ ہیں کہ علم غیب جاننا۔
(۲۴)اسی میں نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے اسم مبارك نبی کے بیان میں فرمایا:
النبوأۃ ماخوذۃ من النباء وھوالخبر ای ان اﷲ تعالی اطلعہ علی غیبہ ۔ حضور کو نبی اس لیے کہا جاتا ہے کہ اﷲ تعالی نے حضور کو اپنے غیب کا علم دیا۔
حوالہ / References
معالم التنزیل تحت آیۃ ۸۱ /۲۴ دارالکتب العلمیہ بیروت ۴ /۴۲۲،لباب التاویل فی معانی التنزیل(تفسیر الخازن)۴ /۳۹۹
القرآن لکریم ۱۸ /۶۵
انوارالتنزیل(تفسیرالبیضاوی)تحت آیۃ ۱۸/۶۵ دارالفکربیروت ۳ /۵۱۰
جامع البیان(تفسیر الطبری)تحت آیۃ ۱۸/ ۶۷ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱۵ /۳۲۳
جامع البیان(تفسیر الطبری)تحت آیۃ ۱۸ /۶۸ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱۵ /۳۲۳
المواھب اللدنیہ المقصد الثانی الفصل الاول المکتب الاسلامی بیروت ۲ /۴۷
المواھب اللدنیہ المقصد الثانی الفصل الاول المکتب الاسلامی بیروت ۲ /۴۵ و ۴۶
القرآن لکریم ۱۸ /۶۵
انوارالتنزیل(تفسیرالبیضاوی)تحت آیۃ ۱۸/۶۵ دارالفکربیروت ۳ /۵۱۰
جامع البیان(تفسیر الطبری)تحت آیۃ ۱۸/ ۶۷ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱۵ /۳۲۳
جامع البیان(تفسیر الطبری)تحت آیۃ ۱۸ /۶۸ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱۵ /۳۲۳
المواھب اللدنیہ المقصد الثانی الفصل الاول المکتب الاسلامی بیروت ۲ /۴۷
المواھب اللدنیہ المقصد الثانی الفصل الاول المکتب الاسلامی بیروت ۲ /۴۵ و ۴۶
(۲۵)اسی میں ہے:
قداشتھروانتشر امرہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بین اصحابہ بالاطلاع علی الغیوب ۔ بے شك صحابہ کرام میں مشہورو معروف تھا کہ نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو غیبوں کا علم ہے۔
(۲۶)اسی کی شرح زرقانی میں ہے:
اصحابہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم جازمون باطلاعہ علی الغیب ۔ صحابہ کرام یقین کے ساتھ حکم لگاتے تھے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو غیب کا علم ہے۔
(۲۷)علی قاری شرہ بردہ شریف میں فرماتے ہیں:
علمہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم حاو لفنون العلم(الی ان قال)ومنہا علمہ بالامور الغیبیۃ ۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا علم اقسام علم کو حاوی ہے غیبوں کا علم بھی علم حضور کی شاخوں سے ایك شاخ ہے۔
(۲۸)تفسیر امام طبری اور تفسیر درمنثور میں بروایت ابوبکر بن ابی شیبہ استاذ امام بخاری و مسلم وغیرہائمہ محدثین سیدنا امام مجاہد تلمیذ خاص حضرت سیدنا عبداﷲ ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہم سے ہے:
انہ قال فی قولہ تعالی ولئن سألتھم لیقولن انما کنا نخوض ونلعب قال رجل من المنافقین یحدثنا محمد ان ناقۃ فلان بوادی کذا وکذا وما یدریہ بالغیب ۔ انہوں نے فرمایا اﷲ کے قول ولئن سالتھم الخ کی تفسیر میں کہ منافقین میں سے ایك شخص نے کہا کہ محمد(صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم)ہم سے بیان کرتے ہیں کہ فلاں کی اونٹنی فلاں فلاں وادی میں ہے بھلا وہ غیب کی باتیں کیا جانیں۔(ت)
یعنی کسی کا ناقہ گم ہوگیا تھا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ فلاں جنگل میں ہے ایك منافق
قداشتھروانتشر امرہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بین اصحابہ بالاطلاع علی الغیوب ۔ بے شك صحابہ کرام میں مشہورو معروف تھا کہ نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو غیبوں کا علم ہے۔
(۲۶)اسی کی شرح زرقانی میں ہے:
اصحابہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم جازمون باطلاعہ علی الغیب ۔ صحابہ کرام یقین کے ساتھ حکم لگاتے تھے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو غیب کا علم ہے۔
(۲۷)علی قاری شرہ بردہ شریف میں فرماتے ہیں:
علمہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم حاو لفنون العلم(الی ان قال)ومنہا علمہ بالامور الغیبیۃ ۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا علم اقسام علم کو حاوی ہے غیبوں کا علم بھی علم حضور کی شاخوں سے ایك شاخ ہے۔
(۲۸)تفسیر امام طبری اور تفسیر درمنثور میں بروایت ابوبکر بن ابی شیبہ استاذ امام بخاری و مسلم وغیرہائمہ محدثین سیدنا امام مجاہد تلمیذ خاص حضرت سیدنا عبداﷲ ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہم سے ہے:
انہ قال فی قولہ تعالی ولئن سألتھم لیقولن انما کنا نخوض ونلعب قال رجل من المنافقین یحدثنا محمد ان ناقۃ فلان بوادی کذا وکذا وما یدریہ بالغیب ۔ انہوں نے فرمایا اﷲ کے قول ولئن سالتھم الخ کی تفسیر میں کہ منافقین میں سے ایك شخص نے کہا کہ محمد(صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم)ہم سے بیان کرتے ہیں کہ فلاں کی اونٹنی فلاں فلاں وادی میں ہے بھلا وہ غیب کی باتیں کیا جانیں۔(ت)
یعنی کسی کا ناقہ گم ہوگیا تھا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ فلاں جنگل میں ہے ایك منافق
حوالہ / References
المواہب اللدنیۃ المقصد الثامن الفصل الثالث المکتب الاسلامی بیروت ۳ /۵۵۴
شرح الزرقانی علی المواھب الدنیۃ الفصل الثالث دارالمعرفۃ بیروت ۷ /۲۰۰
الزبدۃ العمدۃ شرح البردۃ تحت شعرو واقفون لدیہ عندحدّھم جمعیۃ علماء سکندریہ خیر پور سندھ ص ۵۷
جامع البیان(تفسیر الطبری)تحت آیۃ ۹ /۶۵ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱۰ /۱۹۶،الدرالمنثور بحوالہ ابن ابی شیبہ وغیرہ تحت آیۃ ۹/ ۶۵ داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ /۲۱۰
شرح الزرقانی علی المواھب الدنیۃ الفصل الثالث دارالمعرفۃ بیروت ۷ /۲۰۰
الزبدۃ العمدۃ شرح البردۃ تحت شعرو واقفون لدیہ عندحدّھم جمعیۃ علماء سکندریہ خیر پور سندھ ص ۵۷
جامع البیان(تفسیر الطبری)تحت آیۃ ۹ /۶۵ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱۰ /۱۹۶،الدرالمنثور بحوالہ ابن ابی شیبہ وغیرہ تحت آیۃ ۹/ ۶۵ داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ /۲۱۰
بولا محمد غیب کیا جانیں اسی پر اﷲ عزوجل نے یہ آیت کریمہ اتاری کہ ان سے فرمادیجئے کہ اﷲ اور اس کے رسول اور اس کی آیتوں سے ٹھٹھاکرتے ہوبہانے نہ بناؤ تم کافر ہوچکے ایمان کے بعد۔
حضرت ملاحظہ فرمائیں کہ یہ آیت مخالفین پر کیسی آفت ہے۔
وہابیہ پر غضبوں کی ترقیاں
۱پہلا غضب:ان پرائمہ کے اقوال تھے کہ دریا سے قطرہ عرض کیے ان پر تو یہیں تك تھا کہ یہ سبائمہ دین ان مخالفین دین کے مذہب پر معاذاﷲ کافر و مشرك ٹھہرتے ہیں۔
۲دوسرا غضب:اس سے زیادہ آفت اس حدیث ابن عباس میں تھی کہ معاذ اﷲ عبداﷲ ابن عباس خضر علیہ الصلوۃ والسلام کے لیے علم غیب بتا کر کافر قرار پاتے ہیں۔
۳تیسرا غضب:اس سے عظیم تر اشد آفت مواہب شریف اور زرقانی کی عبارات میں تھی کہ نہ صرف عبداﷲ ابن عباس بلکہ عام صحابہ کرام رضی اﷲ تعالی عنہم رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے علم غیب پر ایمان لا کر وہابیہ کے دھرم میں کافر ہوئے جاتے ہیں۔
۴چوتھا غضب:اس سے سخت تر ہولناك آفت ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما کی دوسری حدیث میں تھی کہ سیدنا خضر علیہ الصلوۃ والسلام نبی ہیں خود اپنے لیے علم غیب بتا کر معاذ اﷲ(حاکم بدہن وہابیہ)کا فر ٹھہرتے ہیں۔
۵پانچواں غضب:اس سے بھی انتہا درجہ کی حد سے گزری ہوئی آفت کہ سیدنا موسی کلیم اﷲ علیہ الصلوۃ والسلام کہ اجماعا قطعا یقیناایمانا اﷲ کے رسول و نبی اور اولواالعزم من الرسل سے ہیں وہابیہ کی تکفیر سے کہاں بچتے ہیں۔
خضر علیہ الصلوۃ والسلام نے خود ان سے کہا کہ مجھے علم غیب ہے جو آپ کو نہیںاور موسی علیہ الصلوۃ والسلام نے اس پر کچھ انکار نہ فرمایا۔کیا اس پر ایك وہابی نہ کہے گا کہ افسوس ایك ناؤ کا تختہ توڑ دینے یا گرتی دیوار بے اجرت سیدھی کردینے پر وہ اعتراض کہ باوصف وعدہ صبر نہ ہوسکا اور وہابی شریعت کی رو سے منہ بھر کلمہ کفر سنا اور شربت کا گھونٹ پی کر چپ رہے۔
خیران سب آفتوں کا وہابیہ کے پاس تین کہاوتوں سے علاج تھا۔
موسی علیہ الصلوۃوالسلام نے حضرت خضر کے لیے علم غیب تسلیم کیا تو وہابیہ کہہ سکتے تھے کہ موسی بددین خود مایاں بددین خود حضرت خضر علیہ الصلوۃو السلام نے اپنے لیے علم غیب بتایا تو وہ اس شیطانی مثل کی آڑ لے سکتے تھے
حضرت ملاحظہ فرمائیں کہ یہ آیت مخالفین پر کیسی آفت ہے۔
وہابیہ پر غضبوں کی ترقیاں
۱پہلا غضب:ان پرائمہ کے اقوال تھے کہ دریا سے قطرہ عرض کیے ان پر تو یہیں تك تھا کہ یہ سبائمہ دین ان مخالفین دین کے مذہب پر معاذاﷲ کافر و مشرك ٹھہرتے ہیں۔
۲دوسرا غضب:اس سے زیادہ آفت اس حدیث ابن عباس میں تھی کہ معاذ اﷲ عبداﷲ ابن عباس خضر علیہ الصلوۃ والسلام کے لیے علم غیب بتا کر کافر قرار پاتے ہیں۔
۳تیسرا غضب:اس سے عظیم تر اشد آفت مواہب شریف اور زرقانی کی عبارات میں تھی کہ نہ صرف عبداﷲ ابن عباس بلکہ عام صحابہ کرام رضی اﷲ تعالی عنہم رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے علم غیب پر ایمان لا کر وہابیہ کے دھرم میں کافر ہوئے جاتے ہیں۔
۴چوتھا غضب:اس سے سخت تر ہولناك آفت ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما کی دوسری حدیث میں تھی کہ سیدنا خضر علیہ الصلوۃ والسلام نبی ہیں خود اپنے لیے علم غیب بتا کر معاذ اﷲ(حاکم بدہن وہابیہ)کا فر ٹھہرتے ہیں۔
۵پانچواں غضب:اس سے بھی انتہا درجہ کی حد سے گزری ہوئی آفت کہ سیدنا موسی کلیم اﷲ علیہ الصلوۃ والسلام کہ اجماعا قطعا یقیناایمانا اﷲ کے رسول و نبی اور اولواالعزم من الرسل سے ہیں وہابیہ کی تکفیر سے کہاں بچتے ہیں۔
خضر علیہ الصلوۃ والسلام نے خود ان سے کہا کہ مجھے علم غیب ہے جو آپ کو نہیںاور موسی علیہ الصلوۃ والسلام نے اس پر کچھ انکار نہ فرمایا۔کیا اس پر ایك وہابی نہ کہے گا کہ افسوس ایك ناؤ کا تختہ توڑ دینے یا گرتی دیوار بے اجرت سیدھی کردینے پر وہ اعتراض کہ باوصف وعدہ صبر نہ ہوسکا اور وہابی شریعت کی رو سے منہ بھر کلمہ کفر سنا اور شربت کا گھونٹ پی کر چپ رہے۔
خیران سب آفتوں کا وہابیہ کے پاس تین کہاوتوں سے علاج تھا۔
موسی علیہ الصلوۃوالسلام نے حضرت خضر کے لیے علم غیب تسلیم کیا تو وہابیہ کہہ سکتے تھے کہ موسی بددین خود مایاں بددین خود حضرت خضر علیہ الصلوۃو السلام نے اپنے لیے علم غیب بتایا تو وہ اس شیطانی مثل کی آڑ لے سکتے تھے
کہ ناؤ کس نے ڈبوئیخواجہ خصر نے۔
ابن عباس وصحابہ کرام رضی اﷲ تعالی عنہم نے نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے لیے علم غیب جانا تو کسی دہن دریدہ وہابی کو کہتے کیا لگتا کہ:
پیراں نمی پرند مریداں مے پرانند
(پیر نہیں اڑتے بلکہ مرید انہیں اڑاتے ہیں۔ت)
لعنۃ اﷲ علی الظلمین(ظالموں پر اﷲ تعالی کی لعنتت)
مگر چھٹا غضب:دھر کی قیامت تو خود اﷲ واحد قہار نے ڈھادیپورا قہر اس آیۃ کریمہ اور اس کی شان نزول نے توڑا۔یہاں اﷲ عزوجل یہ حکم لگارہا ہے کہ جو شخص رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی غیب دانی سے منکر ہو وہ کافر ہےوہ اﷲ و رسول سے ٹھٹھا کرتا ہےوہ کلمہ گوئی کرکے مرتد ہوتا ہےافسوس کہ یہاں اس چوتھی مثل کے سوا کچھ گنجائش نہیں کہ
مازیاران چشم یاری داشتیم خود غلط بود آنچہ ماپندا شتیم
(ہم نے دوستوں سے دوستی کی امید رکھی تھی جو کچھ ہم نے گمان کیا وہ خود غلط تھا۔ت)
بھلا جس خدا کی توحید بنی رکھنے کے لیے نبی سے بگاڑیرسولوں سے بگاڑیسب کے علم پر دولتی جھاڑیغضب ہے وہی خدا وہابیہ کو چھوڑ کر رسول کا ہوجائےالٹا وہابیہ پر حکم کفر لگائےسچ ہے اب کسی سے دوستی کا دھرم نہ رہامعلوم نہیں کہ اب مخالفین اپنے سرگروہوں کا فتوی مانتے ہیں یا اﷲ واحد قہار کاولا حول ولاقوۃ الا باﷲ(نہ گناہ سے بچنے کی طاقت ہے نہ ہی نیکی کرنے کی قوت مگر بلندی و عظمت والے خدا کی طرف سےت)
امر سوم
ذاتی و عطائی کی جانب علم کا انقسام اور علماء کی تصریحات
مخالفین کو تو محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے فضائل کریمہ کی دشمنی نے اندھا بہرا کردیاانہیں حق نہیں سوجھتا مگر تھوڑی سی عقل والا سمجھ سکتا ہے کہ یہاں کچھ بھی دشواری نہیں۔
علم یقینا ان صفات میں سے ہے کہ غیر خدا کو بعطائے خدا مل سکتا ہےتوذاتی وعطائی کی طرف اس کا انقسام یقینییونہی محیط وغیر محیط کی تقسیم بدیہیان میں اﷲ عزوجل کے ساتھ خاص ہونے کے
ابن عباس وصحابہ کرام رضی اﷲ تعالی عنہم نے نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے لیے علم غیب جانا تو کسی دہن دریدہ وہابی کو کہتے کیا لگتا کہ:
پیراں نمی پرند مریداں مے پرانند
(پیر نہیں اڑتے بلکہ مرید انہیں اڑاتے ہیں۔ت)
لعنۃ اﷲ علی الظلمین(ظالموں پر اﷲ تعالی کی لعنتت)
مگر چھٹا غضب:دھر کی قیامت تو خود اﷲ واحد قہار نے ڈھادیپورا قہر اس آیۃ کریمہ اور اس کی شان نزول نے توڑا۔یہاں اﷲ عزوجل یہ حکم لگارہا ہے کہ جو شخص رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی غیب دانی سے منکر ہو وہ کافر ہےوہ اﷲ و رسول سے ٹھٹھا کرتا ہےوہ کلمہ گوئی کرکے مرتد ہوتا ہےافسوس کہ یہاں اس چوتھی مثل کے سوا کچھ گنجائش نہیں کہ
مازیاران چشم یاری داشتیم خود غلط بود آنچہ ماپندا شتیم
(ہم نے دوستوں سے دوستی کی امید رکھی تھی جو کچھ ہم نے گمان کیا وہ خود غلط تھا۔ت)
بھلا جس خدا کی توحید بنی رکھنے کے لیے نبی سے بگاڑیرسولوں سے بگاڑیسب کے علم پر دولتی جھاڑیغضب ہے وہی خدا وہابیہ کو چھوڑ کر رسول کا ہوجائےالٹا وہابیہ پر حکم کفر لگائےسچ ہے اب کسی سے دوستی کا دھرم نہ رہامعلوم نہیں کہ اب مخالفین اپنے سرگروہوں کا فتوی مانتے ہیں یا اﷲ واحد قہار کاولا حول ولاقوۃ الا باﷲ(نہ گناہ سے بچنے کی طاقت ہے نہ ہی نیکی کرنے کی قوت مگر بلندی و عظمت والے خدا کی طرف سےت)
امر سوم
ذاتی و عطائی کی جانب علم کا انقسام اور علماء کی تصریحات
مخالفین کو تو محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے فضائل کریمہ کی دشمنی نے اندھا بہرا کردیاانہیں حق نہیں سوجھتا مگر تھوڑی سی عقل والا سمجھ سکتا ہے کہ یہاں کچھ بھی دشواری نہیں۔
علم یقینا ان صفات میں سے ہے کہ غیر خدا کو بعطائے خدا مل سکتا ہےتوذاتی وعطائی کی طرف اس کا انقسام یقینییونہی محیط وغیر محیط کی تقسیم بدیہیان میں اﷲ عزوجل کے ساتھ خاص ہونے کے
قابل صرف ہر تقسیم کی قسم اول ہے یعنی علم ذاتی وعلم محیط حقیقی۔
تو آیات واحادیث واقوال علماء جن میں دوسرے کے لیے اثبات علم غیب سے انکارہے ان میں قطعا یہی قسمیں مراد ہیں۔فقہا کہ حکم تکفیر کرتے ہیں انہیں قسموں پر حکم لگاتے ہیں کہ آخر مبنائے تکفیر یہی تو ہے کہ خدا کی صفت خاصہ دوسرے کے لیے ثابت کی۔اب یہ دیکھ لیجئے کہ خدا کے لیے علم ذاتی خاص ہے یا عطائیحاشا ﷲ علم عطائی خدا کے ساتھ ہونا درکنار خدا کے لیے محال قطعی ہے کہ دوسرے کے دیئے سے اسے علم حاصل ہو پھر خدا کے لیے علم محیط حقیقی خاص ہے یا غیر محیطحاشاﷲ علم محیط خدا کے لیے محال قطعی ہے جس میں بعض معلومات مجہول رہیںتو علم عطائی غیر محیط حقیقی غیر خدا کے لیے ثابت کرنا خدا کی صفت خاصہ ثابت کرنا کیونکر ہوا۔تکفیر فقہاء اگر اس طرف ناظر ہو تو معنی یہ ٹھہریں گے کہ دیکھو تم غیر خدا کے لیے وہ صفت ثابت کرتے ہو جو زنہار خدا کی صفت نہیں ہوسکتی لہذا کافر ہو یعنی وہ صفت غیر کے لیے ثابت کرنی چاہیے تھی جو خاص خدا کی صفت ہےکیا کوئی احمق ایسا اخبث جنون گوارا کرسکتا ہے۔ ولکن النجدیۃ قوم لایعقلون(لیکن نجدی بے عقل قوم ہے۔ت)
(۲۹ و ۳۰)امام ابن حجر مکی فتاوی حدیثیہ میں فرماتے ہیں:
وما ذکرناہ فی الایۃ صرح بہ النووی رحمۃ اﷲ تعالی فی فتاواہ فقال معناھا لایعلم ذلك استقلا لا وعلم احاطۃ بکل المعلومات الا اﷲ تعالی ۔ یعنی ہم نے جو آیات کی تفسیر کی امام نووی رحمۃ اﷲ تعالی نے اپنے فتاوی میں اس کی تصریح کیفرماتے ہیں آیت کے معنی یہ ہیں کہ غیب کا ایسا علم صرف خدا کو ہے جو بذات خود ہو اور جمیع معلومات کو محیط ہو۔
(۳۱)نیز شرح ہمزیہ میں فرماتے ہیں:
انہ تعالی اختص بہ لکن من حیث الاحاطۃ فلا ینافی ذلك اطلاع اﷲ تعالی لبعض خواصہ علی کثیر من المغیبات حتی من الخمس التی قال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فیھن خمس لا یعلمھن الا اﷲ ۔ غیب اﷲ کے لیے خاص ہے مگر بمعنی احاطہ تو اس کے منافی نہیں کہ اﷲ تعالی نے اپنے بعض خاصوں کو بہت سے غیبوں کا علم دیا یہاں تك کہ ان پانچ میں سے جن کو نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان کو اﷲ کے سوا کوئی نہیں جانتا ہے۔
تو آیات واحادیث واقوال علماء جن میں دوسرے کے لیے اثبات علم غیب سے انکارہے ان میں قطعا یہی قسمیں مراد ہیں۔فقہا کہ حکم تکفیر کرتے ہیں انہیں قسموں پر حکم لگاتے ہیں کہ آخر مبنائے تکفیر یہی تو ہے کہ خدا کی صفت خاصہ دوسرے کے لیے ثابت کی۔اب یہ دیکھ لیجئے کہ خدا کے لیے علم ذاتی خاص ہے یا عطائیحاشا ﷲ علم عطائی خدا کے ساتھ ہونا درکنار خدا کے لیے محال قطعی ہے کہ دوسرے کے دیئے سے اسے علم حاصل ہو پھر خدا کے لیے علم محیط حقیقی خاص ہے یا غیر محیطحاشاﷲ علم محیط خدا کے لیے محال قطعی ہے جس میں بعض معلومات مجہول رہیںتو علم عطائی غیر محیط حقیقی غیر خدا کے لیے ثابت کرنا خدا کی صفت خاصہ ثابت کرنا کیونکر ہوا۔تکفیر فقہاء اگر اس طرف ناظر ہو تو معنی یہ ٹھہریں گے کہ دیکھو تم غیر خدا کے لیے وہ صفت ثابت کرتے ہو جو زنہار خدا کی صفت نہیں ہوسکتی لہذا کافر ہو یعنی وہ صفت غیر کے لیے ثابت کرنی چاہیے تھی جو خاص خدا کی صفت ہےکیا کوئی احمق ایسا اخبث جنون گوارا کرسکتا ہے۔ ولکن النجدیۃ قوم لایعقلون(لیکن نجدی بے عقل قوم ہے۔ت)
(۲۹ و ۳۰)امام ابن حجر مکی فتاوی حدیثیہ میں فرماتے ہیں:
وما ذکرناہ فی الایۃ صرح بہ النووی رحمۃ اﷲ تعالی فی فتاواہ فقال معناھا لایعلم ذلك استقلا لا وعلم احاطۃ بکل المعلومات الا اﷲ تعالی ۔ یعنی ہم نے جو آیات کی تفسیر کی امام نووی رحمۃ اﷲ تعالی نے اپنے فتاوی میں اس کی تصریح کیفرماتے ہیں آیت کے معنی یہ ہیں کہ غیب کا ایسا علم صرف خدا کو ہے جو بذات خود ہو اور جمیع معلومات کو محیط ہو۔
(۳۱)نیز شرح ہمزیہ میں فرماتے ہیں:
انہ تعالی اختص بہ لکن من حیث الاحاطۃ فلا ینافی ذلك اطلاع اﷲ تعالی لبعض خواصہ علی کثیر من المغیبات حتی من الخمس التی قال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فیھن خمس لا یعلمھن الا اﷲ ۔ غیب اﷲ کے لیے خاص ہے مگر بمعنی احاطہ تو اس کے منافی نہیں کہ اﷲ تعالی نے اپنے بعض خاصوں کو بہت سے غیبوں کا علم دیا یہاں تك کہ ان پانچ میں سے جن کو نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان کو اﷲ کے سوا کوئی نہیں جانتا ہے۔
حوالہ / References
فتاوٰی حدیثیہ مطلب فی حکم مااذا قال فلان یعلم الغیب مصطفٰی البابی مصر ص ۲۲۸
افضل القراء القراء ام القرٰی تحت شعرلك ذات العلوم الخ مجمع الثقافی ابوظبی ۴۴۔۱۴۳
افضل القراء القراء ام القرٰی تحت شعرلك ذات العلوم الخ مجمع الثقافی ابوظبی ۴۴۔۱۴۳
(۳۲)تفسیر کبیر میں ہے:
قولہ ولا اعلم الغیب یدل علی اعترافہ بانہ غیر عالم بکل المعلومات ۔ یعنی آیت میں جو نبی صلی اﷲ تعالی علیہ کو ارشاد ہوا تم فرمادو میں غیب نہیں جانتااس کے یہ معنی ہیں کہ میرا علم جمیع معلومات الہیہ کو حاوی نہیں۔
(۳۳ و۳۴)امام قاضی عیاض شفا شریف اور علامہ شہاب الدین خفا جی اس کی شرح نسیم الریاض میں فرماتے ہیں۔
(ھذہ المعجزۃ)فی اطلاعہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم علی الغیب(المعلومۃ علی القطع)بحیث لایمکن انکارھا اوالتردد فیہا لا حد من العقلاء(لکثرۃ رواتھا واتفاق معانیھا علی الاطلاع علی الغیب) و ھذا لاینافی الایات الدالۃ علی انہ لایعلم الغیب الا اﷲ و قولہ ولوکنت اعلم الغیب لاستکثرت من الخیر فان المنفی علمہ من غیرواسطۃ واما اطلاعہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم علیہ با علام اﷲ تعالی لہ فامر متحقق بقولہ تعالی فلایظھر علی غیبہ احدا الا من ارتضی من رسول ۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا معجزہ علم غیب یقینا ثابت ہے جس میں کسی عاقل کو انکار یا تردد کی گنجائش نہیں کہ اس میں احادیث بکثرت آئیں اور ان سب سے بالاتفاق حضور کا علم غیب ثابت ہے اور یہ ان آیتوں کے کچھ منافی نہیں جو بتاتی ہیں کہ اﷲ کے سوا کوئی غیب نہیں جانتا اور یہ کہ نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو اس کہنے کا حکم ہوا کہ میں غیب جانتا تو اپنے لیے بہت خیر جمع کرلیتااس لیے کہ آیتوں میں نفی اس علم کی ہے جو بغیر خدا کے بتائے ہو اور اﷲ تعالی کے بتائے سے نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو علم غیب ملنا تو قرآن عظیم سے ثابت ہےکہ اﷲ اپنے غیب پر کسی کو مسلط نہیں کرتا سوا اپنے پسندیدہ رسول کے۔
(۳۵)تفسیر نیشا پوری میں ہے:
لا اعلم الغیب فیہ دلالۃ علی ان الغیب بالاستقلال لا یعلمہ الا اﷲ ۔ آیت کے یہ معنی ہیں کہ علم غیب جو بذات خود ہو وہ خدا کے ساتھ خاص ہے۔
قولہ ولا اعلم الغیب یدل علی اعترافہ بانہ غیر عالم بکل المعلومات ۔ یعنی آیت میں جو نبی صلی اﷲ تعالی علیہ کو ارشاد ہوا تم فرمادو میں غیب نہیں جانتااس کے یہ معنی ہیں کہ میرا علم جمیع معلومات الہیہ کو حاوی نہیں۔
(۳۳ و۳۴)امام قاضی عیاض شفا شریف اور علامہ شہاب الدین خفا جی اس کی شرح نسیم الریاض میں فرماتے ہیں۔
(ھذہ المعجزۃ)فی اطلاعہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم علی الغیب(المعلومۃ علی القطع)بحیث لایمکن انکارھا اوالتردد فیہا لا حد من العقلاء(لکثرۃ رواتھا واتفاق معانیھا علی الاطلاع علی الغیب) و ھذا لاینافی الایات الدالۃ علی انہ لایعلم الغیب الا اﷲ و قولہ ولوکنت اعلم الغیب لاستکثرت من الخیر فان المنفی علمہ من غیرواسطۃ واما اطلاعہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم علیہ با علام اﷲ تعالی لہ فامر متحقق بقولہ تعالی فلایظھر علی غیبہ احدا الا من ارتضی من رسول ۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا معجزہ علم غیب یقینا ثابت ہے جس میں کسی عاقل کو انکار یا تردد کی گنجائش نہیں کہ اس میں احادیث بکثرت آئیں اور ان سب سے بالاتفاق حضور کا علم غیب ثابت ہے اور یہ ان آیتوں کے کچھ منافی نہیں جو بتاتی ہیں کہ اﷲ کے سوا کوئی غیب نہیں جانتا اور یہ کہ نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو اس کہنے کا حکم ہوا کہ میں غیب جانتا تو اپنے لیے بہت خیر جمع کرلیتااس لیے کہ آیتوں میں نفی اس علم کی ہے جو بغیر خدا کے بتائے ہو اور اﷲ تعالی کے بتائے سے نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو علم غیب ملنا تو قرآن عظیم سے ثابت ہےکہ اﷲ اپنے غیب پر کسی کو مسلط نہیں کرتا سوا اپنے پسندیدہ رسول کے۔
(۳۵)تفسیر نیشا پوری میں ہے:
لا اعلم الغیب فیہ دلالۃ علی ان الغیب بالاستقلال لا یعلمہ الا اﷲ ۔ آیت کے یہ معنی ہیں کہ علم غیب جو بذات خود ہو وہ خدا کے ساتھ خاص ہے۔
حوالہ / References
مفاتیح الغیب
نسیم الریاض شرح الشفا للقاضی عیاض ومن ذٰلك ما اطلع علیہ من الغیوب مرکز اہلسنت برکات رضا ۳ /۱۵۰
غرائب القرآن(تفسیرالنیسابوری)تحت آیۃ ۶ /۵۰ مصطفٰی البابی مصر ۶ /۱۱۰
نسیم الریاض شرح الشفا للقاضی عیاض ومن ذٰلك ما اطلع علیہ من الغیوب مرکز اہلسنت برکات رضا ۳ /۱۵۰
غرائب القرآن(تفسیرالنیسابوری)تحت آیۃ ۶ /۵۰ مصطفٰی البابی مصر ۶ /۱۱۰
(۳۶)تفسیر انموذج جلیل میں ہے:
معناہ لایعلم الغیب بلادلیل الا اﷲ اوبلا تعلیم الا اﷲ اوجمیع الغیب الااﷲ ۔ آیت کے یہ معنی ہیں کہ غیب کو بلادلیل و بلا تعلیم جاننا یا جمیع غیب کو محیط ہونا یہ اﷲ تعالی کے ساتھ خاص ہے۔
(۳۷)جامع الفصولین میں ہے:
یجاب بانہ یمکن التوفیق بان المنفی ھو العلم بالاستقلال لا العلم بالاعلام اوالمنفی ھو المجزوم بہ لا المظنون ویؤیدہقولہ تعالی اتجعل فیہا من یفسد فیھا الایۃ لانہ غیب اخبر بہ الملئکۃ ظنا منھم اوبا علام الحق فینبغی ان یکفر لوادعاہ مستقلا لا لو اخبربہ باعلام فی نومہ اویقظتہ بنوع من الکشف اذلامنافاۃ بینہ وبین الایۃ لما مرمن التوفیق ۔ (یعنی فقہانے دعوی علم غیب پر حکم کفر کیا اور حدیثوں اور آئمہ ثقات کی کتابوں میں بہت غیب کی خبریں موجود ہیں جن کا انکار نہیں ہوسکتا)اس کا جواب یہ ہے کہ ان میں تطبیق یوں ہوسکتی ہے کہ فقہاء نے اس کی نفی کی ہے کہ کسی کے لیے بذات خود علم غیب مانا جائےخدا کے بتائے سے علم غیب کی نفی نہ کییا نفی قطعی کی ہے نہ ظنی کیاور اس کی تائید یہ آیت کریمہ کرتی ہےفرشتوں نے عرض کیا تو زمین میں ایسوں کو خلیفہ کرے گا جو اس میں فساد و خونریزی کریں گے۔ ملائکہ غیب کی خبر بولے مگر ظنا یا خدا کے بتائے سےتو تکفیر اس پر چاہیے کہ کوئی بےخدا کے بتائے سےتو تکفیر اس پر چاہیے کہ کوئی بے خدا کے بتائے علم غیب ملنے کا دعوی کرے نہ یوں کہ براہ کشف جاگتے یا سوتے میں خدا کے بتائے سےایسا علم غیب آیت کے کچھ منافی نہیں۔
(۳۸ و ۳۹)ردالمحتار میں امام صاحب ہدایہ کی مختارات النوازل سے ہے:
لوادعی علم الغیب بنفسہ اگر بذات خود علم غیب حاصل کرلینے کا دعوی
معناہ لایعلم الغیب بلادلیل الا اﷲ اوبلا تعلیم الا اﷲ اوجمیع الغیب الااﷲ ۔ آیت کے یہ معنی ہیں کہ غیب کو بلادلیل و بلا تعلیم جاننا یا جمیع غیب کو محیط ہونا یہ اﷲ تعالی کے ساتھ خاص ہے۔
(۳۷)جامع الفصولین میں ہے:
یجاب بانہ یمکن التوفیق بان المنفی ھو العلم بالاستقلال لا العلم بالاعلام اوالمنفی ھو المجزوم بہ لا المظنون ویؤیدہقولہ تعالی اتجعل فیہا من یفسد فیھا الایۃ لانہ غیب اخبر بہ الملئکۃ ظنا منھم اوبا علام الحق فینبغی ان یکفر لوادعاہ مستقلا لا لو اخبربہ باعلام فی نومہ اویقظتہ بنوع من الکشف اذلامنافاۃ بینہ وبین الایۃ لما مرمن التوفیق ۔ (یعنی فقہانے دعوی علم غیب پر حکم کفر کیا اور حدیثوں اور آئمہ ثقات کی کتابوں میں بہت غیب کی خبریں موجود ہیں جن کا انکار نہیں ہوسکتا)اس کا جواب یہ ہے کہ ان میں تطبیق یوں ہوسکتی ہے کہ فقہاء نے اس کی نفی کی ہے کہ کسی کے لیے بذات خود علم غیب مانا جائےخدا کے بتائے سے علم غیب کی نفی نہ کییا نفی قطعی کی ہے نہ ظنی کیاور اس کی تائید یہ آیت کریمہ کرتی ہےفرشتوں نے عرض کیا تو زمین میں ایسوں کو خلیفہ کرے گا جو اس میں فساد و خونریزی کریں گے۔ ملائکہ غیب کی خبر بولے مگر ظنا یا خدا کے بتائے سےتو تکفیر اس پر چاہیے کہ کوئی بےخدا کے بتائے سےتو تکفیر اس پر چاہیے کہ کوئی بے خدا کے بتائے علم غیب ملنے کا دعوی کرے نہ یوں کہ براہ کشف جاگتے یا سوتے میں خدا کے بتائے سےایسا علم غیب آیت کے کچھ منافی نہیں۔
(۳۸ و ۳۹)ردالمحتار میں امام صاحب ہدایہ کی مختارات النوازل سے ہے:
لوادعی علم الغیب بنفسہ اگر بذات خود علم غیب حاصل کرلینے کا دعوی
حوالہ / References
جامع الفصولین الفصل الثامن والثلاثون اسلامی کتب خانہ کراچی ۲ /۳۰۲
یکفر ۔ کرے تو کافر ہے۔
(۴۰ تا ۴۴)اسی میں ہے:
قال فی التتار خانیۃ وفی الحجۃ ذکر فی الملتقط انہ لا یکفر لان الاشیاء تعرض علی روح النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وان الرسل یعرفون بعض الغیب قال اﷲ تعالی عالم الغیب فلا یظہر علی غیبہ احد ا الامن ارتضی من رسول اھ قلت بل ذکروا فی کتب العقائد ان من جملۃ کرامات الاولیاء الاطلاع علی بعض المغیبات و ردوا علی المعتزلۃ المستدلین بھذہ الایۃ علی نفیھا ۔ تاتارخانیہ میں ہےکہ فتاوی حجہ میں ہےملتقط میں فرمایا:کہ جس نے اﷲ ورسول کو گواہ کرکے نکاح کیا کافر نہ ہوگا۔اس لیے کہ اشیاء نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی روح مبارك پر عرض کی جاتی ہیں اور بے شك رسولوں کو بعض علم غیب ہےاﷲ تعالی فرماتا ہے غیب کا جاننے والا تو اپنے غیب پر کسی کو مسلط نہیں کرتا۔مگر اپنے پسندیدہ رسولوں کو علامہ شامی نے فرمایا کہ بلکہ ائمہ اہلسنت نے کتب عقائد میں فرمایا کہ بعض غیبوں کا علم ہونا اولیاء کی کرامت سے ہے اور معتزلہ نے اس آیت کو اولیاء کرام سے اس کی نفی پر دلیل قرار دیا۔ ہمارےائمہ نے اس کا رد کیا یعنی ثابت فرمایا کہ آیہ کریمہ اولیاء سے بھی مطلقا علم غیب کی نفی نہیں فرماتی۔
(۴۵)تفسیر غرائب القرآن و رغائب الفرقان میں ہے:
لم ینف الاالدرایۃ من قبل نفسہ وما نفی الدرایۃ من جھۃ الوحی ۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے اپنی ذات سے جاننے کی نفی فرمائی ہے خدا کے بتائے سے جاننے کی نفی نہیں فرمائی۔
(۴۶ و ۴۷)تفسیر جمل شرح جلالین و تفسیر خازن میں ہے:
المعنی لا اعلم الغیب الا ان آیت میں جو ارشاد ہوا کہ میں غیب نہیں جانتا۔
(۴۰ تا ۴۴)اسی میں ہے:
قال فی التتار خانیۃ وفی الحجۃ ذکر فی الملتقط انہ لا یکفر لان الاشیاء تعرض علی روح النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وان الرسل یعرفون بعض الغیب قال اﷲ تعالی عالم الغیب فلا یظہر علی غیبہ احد ا الامن ارتضی من رسول اھ قلت بل ذکروا فی کتب العقائد ان من جملۃ کرامات الاولیاء الاطلاع علی بعض المغیبات و ردوا علی المعتزلۃ المستدلین بھذہ الایۃ علی نفیھا ۔ تاتارخانیہ میں ہےکہ فتاوی حجہ میں ہےملتقط میں فرمایا:کہ جس نے اﷲ ورسول کو گواہ کرکے نکاح کیا کافر نہ ہوگا۔اس لیے کہ اشیاء نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی روح مبارك پر عرض کی جاتی ہیں اور بے شك رسولوں کو بعض علم غیب ہےاﷲ تعالی فرماتا ہے غیب کا جاننے والا تو اپنے غیب پر کسی کو مسلط نہیں کرتا۔مگر اپنے پسندیدہ رسولوں کو علامہ شامی نے فرمایا کہ بلکہ ائمہ اہلسنت نے کتب عقائد میں فرمایا کہ بعض غیبوں کا علم ہونا اولیاء کی کرامت سے ہے اور معتزلہ نے اس آیت کو اولیاء کرام سے اس کی نفی پر دلیل قرار دیا۔ ہمارےائمہ نے اس کا رد کیا یعنی ثابت فرمایا کہ آیہ کریمہ اولیاء سے بھی مطلقا علم غیب کی نفی نہیں فرماتی۔
(۴۵)تفسیر غرائب القرآن و رغائب الفرقان میں ہے:
لم ینف الاالدرایۃ من قبل نفسہ وما نفی الدرایۃ من جھۃ الوحی ۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے اپنی ذات سے جاننے کی نفی فرمائی ہے خدا کے بتائے سے جاننے کی نفی نہیں فرمائی۔
(۴۶ و ۴۷)تفسیر جمل شرح جلالین و تفسیر خازن میں ہے:
المعنی لا اعلم الغیب الا ان آیت میں جو ارشاد ہوا کہ میں غیب نہیں جانتا۔
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الجہاد باب المرتد داراحیاء التراث العربی بیروت ۳ /۲۹۷
ردالمحتار کتاب النکاح قبیل فصل فی المحرمات داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۲۷۶
غرائب القرآن(تفسیر النیساپوری)تحت آیۃ ۴۶ /۹ مصطفٰی البابی مصر ۸/۲۶
ردالمحتار کتاب النکاح قبیل فصل فی المحرمات داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۲۷۶
غرائب القرآن(تفسیر النیساپوری)تحت آیۃ ۴۶ /۹ مصطفٰی البابی مصر ۸/۲۶
یطلعنی اﷲ تعالی علیہ ۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ میں بے خدا کے بتائے نہیں جانتا۔
(۴۸)تفسیر البیضاوی میں ہے:
لااعلم الغیب مالم یوح الی ولم ینصب علیہ دلیل ۔ آیت کے یہ معنی ہیں کہ جب تك کوئی وحی یا کوئی دلیل قائم نہ ہو مجھے بذات خود غیب کا علم نہیں ہوتا۔
(۴۹)تفسیر عنایۃ القاضی میں ہے:
وعندہ مفاتیح الغیب وجہ اختصا صھا بہ تعالی انہ لا یعلمھا کما ھی ابتداء الا ھو ۔ یہ جو آیت میں فرمایا کہ غیب کی کنجیاں اﷲ ہی کے پاس ہیں اس کے سوا انہیں کوئی نہیں جانتا اس خصوصیت کے یہ معنی ہیں کہ ابتداء بغیر بتائے ان کی حقیقت دوسرے پر نہیں کھلتی۔
(۵۰)تفسیر علامہ نیشاپوری میں ہے:
(قل لا اقول لکم)لم یقل لیس عندی خزائن ا ﷲ لیعلم ان خزائن اﷲ وھی العلم بحقائق الاشیاء وما ھیاتھا عندہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم باستجابۃ دعاء ہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فی قولہ ارنا الا شیاء کما ھی ولکنہ یکلم الناس علی قدر عقولھم(ولا اعلم الغیب)ای لا اقول لکم ھذا مع انہ قال صلی اﷲ تعالی علیہ یعنی ارشاد ہوا کہ اے نبی ! فرمادو کہ میں تم سے نہیں کہتا کہ میرے پاس اﷲ تعالی کے خزانے ہیںیہ نہیں فرمایا کہ اﷲ کے خزانے میرے پاس نہیں۔بلکہ یہ فرمایا کہ میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ میرے پاس ہیںتاکہ معلوم ہوجائے کہ اﷲ کے خزانے حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے پاس ہیں مگر حضور لوگوں سے انکی سمجھ کے قابل باتیں فرماتے ہیں اور وہ خزانے کیا ہیںتمام اشیاء کی حقیقت و ماہیت کا علم حضور نے اسی کے ملنے کی دعا کی اور اﷲ عزوجل نے قبول فرمائی پھر فرمایا:
(۴۸)تفسیر البیضاوی میں ہے:
لااعلم الغیب مالم یوح الی ولم ینصب علیہ دلیل ۔ آیت کے یہ معنی ہیں کہ جب تك کوئی وحی یا کوئی دلیل قائم نہ ہو مجھے بذات خود غیب کا علم نہیں ہوتا۔
(۴۹)تفسیر عنایۃ القاضی میں ہے:
وعندہ مفاتیح الغیب وجہ اختصا صھا بہ تعالی انہ لا یعلمھا کما ھی ابتداء الا ھو ۔ یہ جو آیت میں فرمایا کہ غیب کی کنجیاں اﷲ ہی کے پاس ہیں اس کے سوا انہیں کوئی نہیں جانتا اس خصوصیت کے یہ معنی ہیں کہ ابتداء بغیر بتائے ان کی حقیقت دوسرے پر نہیں کھلتی۔
(۵۰)تفسیر علامہ نیشاپوری میں ہے:
(قل لا اقول لکم)لم یقل لیس عندی خزائن ا ﷲ لیعلم ان خزائن اﷲ وھی العلم بحقائق الاشیاء وما ھیاتھا عندہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم باستجابۃ دعاء ہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فی قولہ ارنا الا شیاء کما ھی ولکنہ یکلم الناس علی قدر عقولھم(ولا اعلم الغیب)ای لا اقول لکم ھذا مع انہ قال صلی اﷲ تعالی علیہ یعنی ارشاد ہوا کہ اے نبی ! فرمادو کہ میں تم سے نہیں کہتا کہ میرے پاس اﷲ تعالی کے خزانے ہیںیہ نہیں فرمایا کہ اﷲ کے خزانے میرے پاس نہیں۔بلکہ یہ فرمایا کہ میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ میرے پاس ہیںتاکہ معلوم ہوجائے کہ اﷲ کے خزانے حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے پاس ہیں مگر حضور لوگوں سے انکی سمجھ کے قابل باتیں فرماتے ہیں اور وہ خزانے کیا ہیںتمام اشیاء کی حقیقت و ماہیت کا علم حضور نے اسی کے ملنے کی دعا کی اور اﷲ عزوجل نے قبول فرمائی پھر فرمایا:
حوالہ / References
لباب التاویل(تفسیر الخازن)تحت الآیۃ ۷ /۱۸۸،۲ /۲۸۰ والفتوحات(تفسیرالجمل)۳ /۱۵۸
انوارالتنزیل(تفسیر البیضاوی)تحت آیۃ ۶ /۵۰ دارالفکر بیروت ۲ /۴۱۰
عنایۃ القاضی علٰی تفسیر البیضاوی تحت آیتہ ۶ /۵۸ داراصادر بیروت ۴ /۷۳
انوارالتنزیل(تفسیر البیضاوی)تحت آیۃ ۶ /۵۰ دارالفکر بیروت ۲ /۴۱۰
عنایۃ القاضی علٰی تفسیر البیضاوی تحت آیتہ ۶ /۵۸ داراصادر بیروت ۴ /۷۳
وسلم علمت ماکان وما سیکون ا ھ مختصرا ۔ میں نہیں جانتا یعنی تم سے نہیں کہتا کہ مجھے غیب کا علم ہے ورنہ حضور تو خود فرماتےہیں مجھے ماکان و مایکون کا علم ملا یعنی جو کچھ ہو گزرا اور جو کچھ قیامت تك ہونے والا ہے انتہی۔
الحمدﷲ اس آیہ ئکریمہ کی فرمادو میں غیب نہیں جانتا ایك تفسیر وہ تھی جو تفسیر کبیر سے گزری کہ احاطہ جمیع غیوب کی نفی ہےنہ کہ غیب کا علم ہی نہیں۔
دوسری وہ تھی جو بہت کتب سے گزری کہ بے خدا کے بتائے جاننے کی نفی ہے نہ یہ کہ بتائے سے بھی مجھے علم غیب نہیں۔
اب بحمدﷲ تعالی سب سے لطیف تر یہ تیسری تفسیر ہے کہ میں تم سے نہیں کہتا کہ مجھے علم غیب ہےاس لیے کہ اے کافرو ! تم ان باتوں کے اہل نہیں ہو ورنہ واقع میں مجھے ماکان ومایکون کا علم ملا ہے۔والحمدﷲ رب العلمین۔
امر چہارم
علم غیب سے متعلق اجماعی مسائل
یہاں تك جو کچھ معروض ہوا جمہورائمہ دین کا متفق علیہ ہے۔
(۱)بلاشبہ غیر خدا کے لیے ایك ذرہ کا علم ذاتی نہیں اس قدر خود ضروریات دین سے اور منکر کافر۔
(۲)بلاشبہ غیر خدا کا علم معلومات الہیہ کو حاوی نہیں ہوسکتامساوی درکنار تمام اولین و آخرین و انبیاء و مرسلین و ملائکہ و مقربین سب کے علوم مل کر علوم الہیہ سے وہ نسبت نہیں رکھ سکتے جو کروڑ ہا کروڑ سمندروں سے ایك ذرا سی بوند کے کروڑویں حصے کو کہ وہ تمام سمندر اور یہ بوند کا کروڑواں حصہ دونوں متناہی ہیںاور متناہی کو متناہی سے نسبت ضرور ہے بخلاف علوم الہیہ کو غیر متناہی در غیر متناہی در غیر متناہی ہیں۔اور مخلوق کے علوم اگر چہ عرش و فرش شرق و غرب و جملہ کائنات از روز اول تا روزآخر کو محیط ہوجائیں آخر متناہی ہیں کہ عرش و فرش دو۲ حدیں
الحمدﷲ اس آیہ ئکریمہ کی فرمادو میں غیب نہیں جانتا ایك تفسیر وہ تھی جو تفسیر کبیر سے گزری کہ احاطہ جمیع غیوب کی نفی ہےنہ کہ غیب کا علم ہی نہیں۔
دوسری وہ تھی جو بہت کتب سے گزری کہ بے خدا کے بتائے جاننے کی نفی ہے نہ یہ کہ بتائے سے بھی مجھے علم غیب نہیں۔
اب بحمدﷲ تعالی سب سے لطیف تر یہ تیسری تفسیر ہے کہ میں تم سے نہیں کہتا کہ مجھے علم غیب ہےاس لیے کہ اے کافرو ! تم ان باتوں کے اہل نہیں ہو ورنہ واقع میں مجھے ماکان ومایکون کا علم ملا ہے۔والحمدﷲ رب العلمین۔
امر چہارم
علم غیب سے متعلق اجماعی مسائل
یہاں تك جو کچھ معروض ہوا جمہورائمہ دین کا متفق علیہ ہے۔
(۱)بلاشبہ غیر خدا کے لیے ایك ذرہ کا علم ذاتی نہیں اس قدر خود ضروریات دین سے اور منکر کافر۔
(۲)بلاشبہ غیر خدا کا علم معلومات الہیہ کو حاوی نہیں ہوسکتامساوی درکنار تمام اولین و آخرین و انبیاء و مرسلین و ملائکہ و مقربین سب کے علوم مل کر علوم الہیہ سے وہ نسبت نہیں رکھ سکتے جو کروڑ ہا کروڑ سمندروں سے ایك ذرا سی بوند کے کروڑویں حصے کو کہ وہ تمام سمندر اور یہ بوند کا کروڑواں حصہ دونوں متناہی ہیںاور متناہی کو متناہی سے نسبت ضرور ہے بخلاف علوم الہیہ کو غیر متناہی در غیر متناہی در غیر متناہی ہیں۔اور مخلوق کے علوم اگر چہ عرش و فرش شرق و غرب و جملہ کائنات از روز اول تا روزآخر کو محیط ہوجائیں آخر متناہی ہیں کہ عرش و فرش دو۲ حدیں
حوالہ / References
غرائب القرآن(تفسیر النیسابوری)تحت آلایۃ ۶ /۵۰ مصطفٰی البابی مصر ۷ /۱۱۲
ہیں۔روز اول و روز آخر دو۲ حدیں ہیں۔اور جو کچھ دو۲ حدوں کے اندر ہو سب متناہی ہے۔
بالفعل غیر متناہی کا علم تفصیلی مخلوق کو مل ہی نہیں سکتا تو جملہ علوم خلق کو علم الہی سے اصلا نسبت ہونیہی محال قطعی ہے نہ کہ معاذ اﷲ تو ہم مساوات۔
(۳)یوں ہی اس پر اجماع ہے کہ اﷲ عزوجل کے دیئے سے انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلا م کو کثیر و وافر غیبوں کا علم ہے یہ بھی ضروریات دین سے ہے جو اس کا منکر ہوکافر ہے کہ سرے سے نبوت ہی کا منکر ہے۔
(۴)اس پر بھی اجماع ہے کہ اس فضل جلیل میں محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا حصہ تمام انبیاء و تمام جہان سے اتم و اعظم ہےاﷲ عزوجل کی عطا سے حبیب اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو اتنے غیبوں کا علم ہے جن کا شمار اﷲ عزوجل ہی جانتا ہےمسلمانوں کایہاں تك اجماع تھا مگر وہابیہ کو محمد رسول اﷲ صلی علیہ وسلم کی عظمت کس دل سے گوارا ہو۔انہوں نے صاف کہہ دیا کہ۔
(۱)حضور کو دیوار کے پیچھے کی بھی خبر نہیں ۔
(۲)وہ اور تو اور اپنے خاتمے کا بھی نہ جانتے تھے ۔ساتھ ہی یہ بھی کہہ دیا کہ:
(۳)خدا کے بتائے سے بھی اگر بعض مغیبات کا علم ان کے لیے مانے جب بھی شرك ہے ۔
(۴)اس پر قہر یہ کہ محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو تو دیوار کے پیچھے کی بھی خبر نہ مانیں اور ابلیس لعین کے لیے تمام زمین کا
علم محیط حاصل جانیں ۔
(۵)اس پر عذر کہ ابلیس کی وسعت علم نص سے ثابت ہےفخر عالم کی وسعت علم کی کون سی نص قطعی ہے ۔
(۶)پھر ستمقہر یہ کہ جو کچھ ابلیس کے لیے خود ثابت مانا محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم
بالفعل غیر متناہی کا علم تفصیلی مخلوق کو مل ہی نہیں سکتا تو جملہ علوم خلق کو علم الہی سے اصلا نسبت ہونیہی محال قطعی ہے نہ کہ معاذ اﷲ تو ہم مساوات۔
(۳)یوں ہی اس پر اجماع ہے کہ اﷲ عزوجل کے دیئے سے انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلا م کو کثیر و وافر غیبوں کا علم ہے یہ بھی ضروریات دین سے ہے جو اس کا منکر ہوکافر ہے کہ سرے سے نبوت ہی کا منکر ہے۔
(۴)اس پر بھی اجماع ہے کہ اس فضل جلیل میں محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا حصہ تمام انبیاء و تمام جہان سے اتم و اعظم ہےاﷲ عزوجل کی عطا سے حبیب اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو اتنے غیبوں کا علم ہے جن کا شمار اﷲ عزوجل ہی جانتا ہےمسلمانوں کایہاں تك اجماع تھا مگر وہابیہ کو محمد رسول اﷲ صلی علیہ وسلم کی عظمت کس دل سے گوارا ہو۔انہوں نے صاف کہہ دیا کہ۔
(۱)حضور کو دیوار کے پیچھے کی بھی خبر نہیں ۔
(۲)وہ اور تو اور اپنے خاتمے کا بھی نہ جانتے تھے ۔ساتھ ہی یہ بھی کہہ دیا کہ:
(۳)خدا کے بتائے سے بھی اگر بعض مغیبات کا علم ان کے لیے مانے جب بھی شرك ہے ۔
(۴)اس پر قہر یہ کہ محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو تو دیوار کے پیچھے کی بھی خبر نہ مانیں اور ابلیس لعین کے لیے تمام زمین کا
علم محیط حاصل جانیں ۔
(۵)اس پر عذر کہ ابلیس کی وسعت علم نص سے ثابت ہےفخر عالم کی وسعت علم کی کون سی نص قطعی ہے ۔
(۶)پھر ستمقہر یہ کہ جو کچھ ابلیس کے لیے خود ثابت مانا محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم
حوالہ / References
البراھین القاطعۃ بحث علم غیب مطبع بلاساواقع ڈھور ص ۵۱
البراھین القاطعۃ بحث علم غیب مطبع بلاساواقع ڈھور ص ۵۱
البراھین القاطعۃ بحث علم غیب مطبع بلاساواقع ڈھور ص ۵۱
البراھین القاطعۃ بحث علم غیب مطبع بلاساواقع ڈھور ص ۵۱
البراھین القاطعۃ بحث علم غیب مطبع بلاساواقع ڈھور ص ۵۱
البراھین القاطعۃ بحث علم غیب مطبع بلاساواقع ڈھور ص ۵۱
البراھین القاطعۃ بحث علم غیب مطبع بلاساواقع ڈھور ص ۵۱
البراھین القاطعۃ بحث علم غیب مطبع بلاساواقع ڈھور ص ۵۱
البراھین القاطعۃ بحث علم غیب مطبع بلاساواقع ڈھور ص ۵۱
کے لیے اس کے ماننے پر جھٹ حکم شرك جڑ دیا یعنی خاص صفت ابلیس کے لیے تو ثابت ہے وہ تو خدا کا شریك ہےمگر حضور کے لیے ثابت کرو تو مشرك ہو۔
(۷)اس پر بعض غالی اور بڑھے اور صاف کہہ دیا کہ جیسا علم غیب محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو ہے ایسا تو ہر پاگل ہر چوپائے کو ہوتا ہے ۔ انا ﷲ وانا الیہ راجعون (بے شك ہم اﷲ کے مال ہیں اور ہم کو اسی کی طرف پھرنا ہے۔ت)
اصل بحث ان کلمات ملعونہ کی ہےخبثاء کا واکاٹ کہ(پینترا بدل کر)اس سے بچتے اور علم کے خاص وغیرخاص ہونے کی بحث بے علاقہ لے دوڑتے ہیں کہ علم غیب کو آیات و احادیث نے خاص بخدا بتایا۔فقہاء نے دوسرے کے لیے اس کے اثبات کو کفر کہا ہےاس کا جواب تو اوپر معروض ہوچکا کہ خدا کے ساتھ خاص وہی علم ذاتی و محیط حقیقی ہے غیر کے لیے اسی کے اثبات کو فقہاء کفر کہتے ہیں۔
علم عطائی غیر محیط حقیقی خدا کے لیے ہو ہی نہیں سکتا نہ کہ معاذ اﷲ اس کی صفت خاصہ ہو یہ علم ہم نے نہ غیر خدا کے لیے مانانہ وہ نصوص وا قوال ہم پر وارد۔مگر ان حضرات سے پوچھیے کہ آیات و احادیث حصر و اقوال فقہاء علم عطائی غیر محیط حقیقی کو بھی شامل ہیں یا نہیں۔اگر نہیں تو تمہارا کتنا جنون ہے کہ انہیں ہم پر پیش کرتے ہو ان کو ہمارے دعوے سے کیا منافات ہوئی اور اگر اسے بھی شامل ہیں تو اب بتائیے کہ گنگوہی صاحب آپ ابلیس کے لیے جو علم محیط زمین او ر تھانوی صاحب آپ ہر پاگل ہر چوپائے کے لیے جو علم غیب کے قائل ہیں آیا ان کے لیے علم ذاتی حقیقی مانتے ہیں یا اس کاغیربرتقدیر اول قطعا کافر ہوبرتقدیر ثانی بھی خود تمہارے ہی منہ سے وہ آیات وہ احادیث و اقوال فقہاء تم پر وارد۔اور تم اپنے ہی پیش کردہ دلائل سے خود کافر و مرتد۔
اب کہیےمفر کدھر
ہاں مفرو ہی ہے کہ ابلیس اور پاگل اور چوپائے سب توعلم غیب رکھتے ہیںآیات و احادیث و اقوال فقہاء ان کے لیے نہیںوہ تو صرف محمد رسول کی نفی علم کے لیے ہیں۔الالعنۃ اﷲ علی الظلمین(خبردار ! ظالموں پر اﷲ تعالی کی لعنت ہے۔ت)
(۷)اس پر بعض غالی اور بڑھے اور صاف کہہ دیا کہ جیسا علم غیب محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو ہے ایسا تو ہر پاگل ہر چوپائے کو ہوتا ہے ۔ انا ﷲ وانا الیہ راجعون (بے شك ہم اﷲ کے مال ہیں اور ہم کو اسی کی طرف پھرنا ہے۔ت)
اصل بحث ان کلمات ملعونہ کی ہےخبثاء کا واکاٹ کہ(پینترا بدل کر)اس سے بچتے اور علم کے خاص وغیرخاص ہونے کی بحث بے علاقہ لے دوڑتے ہیں کہ علم غیب کو آیات و احادیث نے خاص بخدا بتایا۔فقہاء نے دوسرے کے لیے اس کے اثبات کو کفر کہا ہےاس کا جواب تو اوپر معروض ہوچکا کہ خدا کے ساتھ خاص وہی علم ذاتی و محیط حقیقی ہے غیر کے لیے اسی کے اثبات کو فقہاء کفر کہتے ہیں۔
علم عطائی غیر محیط حقیقی خدا کے لیے ہو ہی نہیں سکتا نہ کہ معاذ اﷲ اس کی صفت خاصہ ہو یہ علم ہم نے نہ غیر خدا کے لیے مانانہ وہ نصوص وا قوال ہم پر وارد۔مگر ان حضرات سے پوچھیے کہ آیات و احادیث حصر و اقوال فقہاء علم عطائی غیر محیط حقیقی کو بھی شامل ہیں یا نہیں۔اگر نہیں تو تمہارا کتنا جنون ہے کہ انہیں ہم پر پیش کرتے ہو ان کو ہمارے دعوے سے کیا منافات ہوئی اور اگر اسے بھی شامل ہیں تو اب بتائیے کہ گنگوہی صاحب آپ ابلیس کے لیے جو علم محیط زمین او ر تھانوی صاحب آپ ہر پاگل ہر چوپائے کے لیے جو علم غیب کے قائل ہیں آیا ان کے لیے علم ذاتی حقیقی مانتے ہیں یا اس کاغیربرتقدیر اول قطعا کافر ہوبرتقدیر ثانی بھی خود تمہارے ہی منہ سے وہ آیات وہ احادیث و اقوال فقہاء تم پر وارد۔اور تم اپنے ہی پیش کردہ دلائل سے خود کافر و مرتد۔
اب کہیےمفر کدھر
ہاں مفرو ہی ہے کہ ابلیس اور پاگل اور چوپائے سب توعلم غیب رکھتے ہیںآیات و احادیث و اقوال فقہاء ان کے لیے نہیںوہ تو صرف محمد رسول کی نفی علم کے لیے ہیں۔الالعنۃ اﷲ علی الظلمین(خبردار ! ظالموں پر اﷲ تعالی کی لعنت ہے۔ت)
حوالہ / References
تغییر العنوان مع حفظ الایمان دریپہ کلاں دہلی بھارت،ص ۱۷
امر پنجم
علم غیب کی اختلافی حدود اور مسلك عرفاء
فضل محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے منکروں کو جہنم جانے دیجئے۔تتمہ کلام استماع فرمائیےان تمام اجماعات کے بعد ہمارے علماء میں اختلاف ہوا کہ بے شمار علوم غیب جو مولی عزوجل نے اپنے محبوب اعظم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو عطا فرمائے آیا وہ روز اول سے یوم آخر تك تمام کائنات کو شامل ہیں جیسا کہ عموم آیات و احادیث کا مفاد ہے یا ان میں تخصیص ہے۔
بہت اہل ظاہر جناب خصوص گئے ہیںکسی نے کہا متشابہات کاکسی نے کہا خمس کاکسی نے کہا ساعت کااور عام علماء باطن اور ان کے اتباع سے بکثرت علماء ظاہر نے آیات و احادیث کو ان کے عموم پر رکھا ماکان ومایکون بمعنی مذکور میں ازانجا کہ غایت میں دخول و خروج دونوں محتمل ہیںساعت داخل ہو یا نہیں بہرحال یہ مجموعہ بھی علوم الہیہ سے ایك بعض خفیف بلکہ انباء المصطفی حاضر ہے۔
میں نے قصیدہ بردہ شریف اور اس کی شرح ملا علی قاری سے ثابت کیا ہے کہ علم الہی تو علم الہی جو غیر متناہی در غیر متناہی در غیر متناہی ہےیہ مجموعہ ماکان کا علم علوم محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے سمندر سے ایك لہر ہےپھر علم الہی غیر متناہی کے آگے اس کی کیا گنتیاﷲ کی قدر نہ جاننے والے اسی کو معاذ اﷲ علم الہی سے مساوات ٹھہراتے ہیں" وما قدروا اللہ حق قدرہ" ۔(اﷲ کی ویسی قدر نہ کی جیسی قدر کرنے کا حق ہے۔ت)اور واقعی جب ان کے امام الطائفہ کے نزدیك ایك پیڑ کے پتے گن دینے پر خدائی آگئی تو ماکان ومایکون تو بڑی چیز ہے۔خیر انہیں جانے دیجئے یہ خاص مسئلہ جس طرح ہمارے علماء اہلسنت میں دائر ہے مسائل خلافیہ اشاعرہ وماتریدیہ کے مثل ہے کہ اصلا محل لوم نہیں۔
ہاں ہمارا مختار قول اخیر ہے جو عام عرفائے کرام و بکثرت اعلام کا مسلك ہےاس بارے میں بعض آیات و احادیث وا قوالائمہ حضرات کو فقیر کے رسالہ انباء المصطفی میں ملیں گے۔اور اللؤلؤالمکنون فی علم البشیر وماکان ومایکون وغیرہ رسائل فقیر میں بحمد اﷲ تعالی کثیر ووافر ہیں۔
علم غیب کی اختلافی حدود اور مسلك عرفاء
فضل محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے منکروں کو جہنم جانے دیجئے۔تتمہ کلام استماع فرمائیےان تمام اجماعات کے بعد ہمارے علماء میں اختلاف ہوا کہ بے شمار علوم غیب جو مولی عزوجل نے اپنے محبوب اعظم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو عطا فرمائے آیا وہ روز اول سے یوم آخر تك تمام کائنات کو شامل ہیں جیسا کہ عموم آیات و احادیث کا مفاد ہے یا ان میں تخصیص ہے۔
بہت اہل ظاہر جناب خصوص گئے ہیںکسی نے کہا متشابہات کاکسی نے کہا خمس کاکسی نے کہا ساعت کااور عام علماء باطن اور ان کے اتباع سے بکثرت علماء ظاہر نے آیات و احادیث کو ان کے عموم پر رکھا ماکان ومایکون بمعنی مذکور میں ازانجا کہ غایت میں دخول و خروج دونوں محتمل ہیںساعت داخل ہو یا نہیں بہرحال یہ مجموعہ بھی علوم الہیہ سے ایك بعض خفیف بلکہ انباء المصطفی حاضر ہے۔
میں نے قصیدہ بردہ شریف اور اس کی شرح ملا علی قاری سے ثابت کیا ہے کہ علم الہی تو علم الہی جو غیر متناہی در غیر متناہی در غیر متناہی ہےیہ مجموعہ ماکان کا علم علوم محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے سمندر سے ایك لہر ہےپھر علم الہی غیر متناہی کے آگے اس کی کیا گنتیاﷲ کی قدر نہ جاننے والے اسی کو معاذ اﷲ علم الہی سے مساوات ٹھہراتے ہیں" وما قدروا اللہ حق قدرہ" ۔(اﷲ کی ویسی قدر نہ کی جیسی قدر کرنے کا حق ہے۔ت)اور واقعی جب ان کے امام الطائفہ کے نزدیك ایك پیڑ کے پتے گن دینے پر خدائی آگئی تو ماکان ومایکون تو بڑی چیز ہے۔خیر انہیں جانے دیجئے یہ خاص مسئلہ جس طرح ہمارے علماء اہلسنت میں دائر ہے مسائل خلافیہ اشاعرہ وماتریدیہ کے مثل ہے کہ اصلا محل لوم نہیں۔
ہاں ہمارا مختار قول اخیر ہے جو عام عرفائے کرام و بکثرت اعلام کا مسلك ہےاس بارے میں بعض آیات و احادیث وا قوالائمہ حضرات کو فقیر کے رسالہ انباء المصطفی میں ملیں گے۔اور اللؤلؤالمکنون فی علم البشیر وماکان ومایکون وغیرہ رسائل فقیر میں بحمد اﷲ تعالی کثیر ووافر ہیں۔
حوالہ / References
القرآن الکریم ۶ /۹۱
اور اقوال اولیائے کرام و علمائے عظام کی کثرت تو اس درجہ ہے کہ ان کے شمار کو ایك دفتر عظیم درکاریہاں بطور نمونہ صرف بعض اشاراتائمہ پر اقتصاروما توفیقی الا با ﷲ العزیز الغفارحدیث صحیح جامع ترمذی جس میں نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:
تجلی کل شیئ وعرفت ۔ ہر چیز مجھ پر روشن ہوگئی اور میں نے پہچان لی۔
اور فرمایا:
علمت ما فی السموات وما فی الارض ۔ میں نے جان لیا جو کچھ آسمانوں اور جو کچھ زمین میں ہے۔
(۵۱)شیخ محقق مولانا عبدالحق محدث دہلوی اشعۃ اللمعات شرح مشکوۃ میں اسی حدیث کے نیچے فرماتے ہیں:
دانستم ہر چہ در آسما نہا و ہر چہ در زمینہا بود عبارت ست از حصول تمامہ علوم جزئی و کلی واحاطہ آں ۔ "میں نے جان لیا جو کچھ آسمانوں اور زمینوں میں تھا اس حدیث میں تمام علوم جزی و کلی کے حاصل ہونے اور ان کے احاطہ کرنے کا بیان ہے۔(ت)
(۵۲)امام محمد بوصیری قصیدہ بردہ شریف میں عرض کرتے ہیں۔
فان من جودك الدنیا وضرتھا
ومن علومك علم اللوح والقلم ۔ یارسول اﷲ ! دنیا و آخرت دونوں حضور کی بخشش سے ایك حصہ ہیں اور لوح و قلم کا علم(جس میں تمام ماکان و مایکون ہے) حضور کے علوم سے ایك ٹکڑا ہے۔
(۵۳)علامہ علی قاری اس کی شرح میں فرماتے ہیں:
کون علمھما من علومہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ان علومہ تتنوع الی الکلیات والجزئیات و حقائق و لوح و قلم کا علم علوم نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے ایك ٹکڑا اس لیے ہے کہ حضور کے علم متعدد انواع ہیں کلیات جزئیاتحقائق
تجلی کل شیئ وعرفت ۔ ہر چیز مجھ پر روشن ہوگئی اور میں نے پہچان لی۔
اور فرمایا:
علمت ما فی السموات وما فی الارض ۔ میں نے جان لیا جو کچھ آسمانوں اور جو کچھ زمین میں ہے۔
(۵۱)شیخ محقق مولانا عبدالحق محدث دہلوی اشعۃ اللمعات شرح مشکوۃ میں اسی حدیث کے نیچے فرماتے ہیں:
دانستم ہر چہ در آسما نہا و ہر چہ در زمینہا بود عبارت ست از حصول تمامہ علوم جزئی و کلی واحاطہ آں ۔ "میں نے جان لیا جو کچھ آسمانوں اور زمینوں میں تھا اس حدیث میں تمام علوم جزی و کلی کے حاصل ہونے اور ان کے احاطہ کرنے کا بیان ہے۔(ت)
(۵۲)امام محمد بوصیری قصیدہ بردہ شریف میں عرض کرتے ہیں۔
فان من جودك الدنیا وضرتھا
ومن علومك علم اللوح والقلم ۔ یارسول اﷲ ! دنیا و آخرت دونوں حضور کی بخشش سے ایك حصہ ہیں اور لوح و قلم کا علم(جس میں تمام ماکان و مایکون ہے) حضور کے علوم سے ایك ٹکڑا ہے۔
(۵۳)علامہ علی قاری اس کی شرح میں فرماتے ہیں:
کون علمھما من علومہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ان علومہ تتنوع الی الکلیات والجزئیات و حقائق و لوح و قلم کا علم علوم نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے ایك ٹکڑا اس لیے ہے کہ حضور کے علم متعدد انواع ہیں کلیات جزئیاتحقائق
حوالہ / References
جامع سنن الترمذی کتاب التفسیر من سورۃ ص حدیث ۳۲۴۶ دارالفکر بیروت ۵ /۱۶۰
جامع سنن الترمذی کتاب التفسیر من سورۃ ص حدیث ۳۲۴۴ دارالفکر بیروت ۵ /۱۵۹
اشعۃ اللمعات کتاب الصلوۃ باب المساجد مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ /۳۳۳
مجموع المتون متن قصیدۃ البردۃ الشئون الدینیۃ دولۃ قطر ص ۱۰
جامع سنن الترمذی کتاب التفسیر من سورۃ ص حدیث ۳۲۴۴ دارالفکر بیروت ۵ /۱۵۹
اشعۃ اللمعات کتاب الصلوۃ باب المساجد مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ /۳۳۳
مجموع المتون متن قصیدۃ البردۃ الشئون الدینیۃ دولۃ قطر ص ۱۰
دقائق وعوارف ومعارف تتعلق بالذات والصفات و علمھما یکون سطرامن سطور علمہ ونھرا من بحور علمہ ثم مع ھذا ھو من برکۃ وجودہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ۔ دقائقعوارف اور معارف کہ ذات و صفات الہی سے متعلق ہیں اور لوح و قلم کا علم تو حضور کے مکتوب علم سے ایك سطر اور اس کے سمندروں سے ایك نہر ہے پھر بایں ہمہ وہ حضور ہی کی برکت و جود سے تو ہے صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔
(۵۴)ام القری شریف میں ہے:
وسع العلمین علما و حلما ۔ حضور کا علم و حلم تمام جہان کو محیط ہے۔
(۵۵)امام ابن حجر مکی اس کی شرح میں فرماتے ہیں:
لان اﷲ تعالی اطلعہ علی العالم فعلم علم الاولین والاخرین ماکان ومایکون ۔ اس لیے کہ اﷲ تعالی نے حضور کو تمام عالم پر اطلاع دیتو سب اولین وآخرین کا علم حضور کو ملا جو ہو گزرا اور جو ہونے والا ہے سب جان لیا۔
(۵۶ و ۵۷)نسیم الریاض میں ہے:
ذکر العراقی فی شرح المھذب انہ صلی اﷲ تعالی علیہ و سلم عرضت علیہ الخلائق من لدن ادم علیہ الصلوۃ والسلام الی قیام الساعۃ فعرفھم کلھم کما علم ادم الاسماء ۔ امام عراقی شرح مہذب میں فرماتی ہیں کہ آدم علیہ الصلوۃ و السلام سے لے کر قیامت تك کی تمام مخلوقات الہی حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پر عرض کی گئیں تو حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے ان سب کو پہچان لیا جس طرح آدم علیہ الصلوۃ والسلام کو تمام نام تعلیم ہوئے تھے۔
(۵۸)اسی لیے امام بوصیری مدحیہ ہمزیہ میں عرض کرتے ہیں:
(۵۴)ام القری شریف میں ہے:
وسع العلمین علما و حلما ۔ حضور کا علم و حلم تمام جہان کو محیط ہے۔
(۵۵)امام ابن حجر مکی اس کی شرح میں فرماتے ہیں:
لان اﷲ تعالی اطلعہ علی العالم فعلم علم الاولین والاخرین ماکان ومایکون ۔ اس لیے کہ اﷲ تعالی نے حضور کو تمام عالم پر اطلاع دیتو سب اولین وآخرین کا علم حضور کو ملا جو ہو گزرا اور جو ہونے والا ہے سب جان لیا۔
(۵۶ و ۵۷)نسیم الریاض میں ہے:
ذکر العراقی فی شرح المھذب انہ صلی اﷲ تعالی علیہ و سلم عرضت علیہ الخلائق من لدن ادم علیہ الصلوۃ والسلام الی قیام الساعۃ فعرفھم کلھم کما علم ادم الاسماء ۔ امام عراقی شرح مہذب میں فرماتی ہیں کہ آدم علیہ الصلوۃ و السلام سے لے کر قیامت تك کی تمام مخلوقات الہی حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پر عرض کی گئیں تو حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے ان سب کو پہچان لیا جس طرح آدم علیہ الصلوۃ والسلام کو تمام نام تعلیم ہوئے تھے۔
(۵۸)اسی لیے امام بوصیری مدحیہ ہمزیہ میں عرض کرتے ہیں:
حوالہ / References
الزبدۃ العمدۃ فی شرح البردۃ ناشر جمعیۃ علماء سکندریہ خیر پور سندھ ص ۱۱۷
مجموع المتون متن قصیدۃ الہمزیہ فی مدح خیر البریۃ الشؤن الدینیۃ دولتہ قطر ص۱۸
افضل القرا لقراء ام القرٰی
نسیم الریاض الباب الثالث فصل فیما وردمن ذکر مکانتہ مرکز اہلسنت برکاتِ رضا گجرات الہند ۲ /۲۰۸
مجموع المتون متن قصیدۃ الہمزیہ فی مدح خیر البریۃ الشؤن الدینیۃ دولتہ قطر ص۱۸
افضل القرا لقراء ام القرٰی
نسیم الریاض الباب الثالث فصل فیما وردمن ذکر مکانتہ مرکز اہلسنت برکاتِ رضا گجرات الہند ۲ /۲۰۸
لك ذات العلوم من عالم الغیب ومنہا لادم الاسماء
عالم غیب سے حضور کے لیے علوم کی ذات ہے اور آدم علیہ الصلوۃ والسلام کے لیے نام۔
(۵۹ و ۶۰)امام ابن حاج مکی مدخل اور امام احمد قسطلانی مواہب لدنیہ شریف میں فرماتے ہیں:
قد قال علماؤ نار حمھم اﷲ تعالی ان الزائر یشعر نفسہ بانہ واقف بین یدیہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کما ھو فی حیاتہ اذلافرق بین موتہ وحیاتہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اعنی فی مشاھد تہ لا متہ و معرفتہ باحوالھم ونیا تھم وعزائمھم وخواطر ھم وذلك عندہجلی لا خفاء فیہ ۔ بے شك ہمارے علماء رحمہم اﷲ تعالی نے فرمایا کہ زائر اپنے نفس کو آگاہ کردے کہ وہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے سامنے حاضر ہے جیسا کہ حضور کی حیات ظاہر میںاس لیے کہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی حیات و وفات میں اس بات میں کچھ فرق نہیں کہ وہ اپنی امت کو دیکھ رہے ہیں اور ان کی حالتوںنیتوںارادوں اور دل کے خطروں کو پہچانتے ہیںاور یہ سب حضور پر روشن ہے جس میں اصلا پوشیدگی نہیں۔
(۶۱)نیز مواہب شریف میں ہے:
لاشك ان اﷲ تعالی قد اطلعہ علی ازید من ذلك والقی علیہ علوم الاولین والاخرین ۔ کچھ شك نہیں کہ بلاشبہ اﷲ تعالی نے اس سے بھی زائد حضور کو علم دیا اور تمام اگلے پچھلوں کا علم حضور پر القا فرمایا۔
(۶۲ تا ۶۴)امام قاضی پھر علامہ قاری پھر علامہ مناوی تیسیر شرح جامع صغیر امام سیوطی ہیں لکھتے ہیں:
النفوس القدسیۃ اذا تجردت پاك جانیں جب بدن کے علاقوں سے جدا
عالم غیب سے حضور کے لیے علوم کی ذات ہے اور آدم علیہ الصلوۃ والسلام کے لیے نام۔
(۵۹ و ۶۰)امام ابن حاج مکی مدخل اور امام احمد قسطلانی مواہب لدنیہ شریف میں فرماتے ہیں:
قد قال علماؤ نار حمھم اﷲ تعالی ان الزائر یشعر نفسہ بانہ واقف بین یدیہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کما ھو فی حیاتہ اذلافرق بین موتہ وحیاتہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اعنی فی مشاھد تہ لا متہ و معرفتہ باحوالھم ونیا تھم وعزائمھم وخواطر ھم وذلك عندہجلی لا خفاء فیہ ۔ بے شك ہمارے علماء رحمہم اﷲ تعالی نے فرمایا کہ زائر اپنے نفس کو آگاہ کردے کہ وہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے سامنے حاضر ہے جیسا کہ حضور کی حیات ظاہر میںاس لیے کہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی حیات و وفات میں اس بات میں کچھ فرق نہیں کہ وہ اپنی امت کو دیکھ رہے ہیں اور ان کی حالتوںنیتوںارادوں اور دل کے خطروں کو پہچانتے ہیںاور یہ سب حضور پر روشن ہے جس میں اصلا پوشیدگی نہیں۔
(۶۱)نیز مواہب شریف میں ہے:
لاشك ان اﷲ تعالی قد اطلعہ علی ازید من ذلك والقی علیہ علوم الاولین والاخرین ۔ کچھ شك نہیں کہ بلاشبہ اﷲ تعالی نے اس سے بھی زائد حضور کو علم دیا اور تمام اگلے پچھلوں کا علم حضور پر القا فرمایا۔
(۶۲ تا ۶۴)امام قاضی پھر علامہ قاری پھر علامہ مناوی تیسیر شرح جامع صغیر امام سیوطی ہیں لکھتے ہیں:
النفوس القدسیۃ اذا تجردت پاك جانیں جب بدن کے علاقوں سے جدا
حوالہ / References
مجموع المتون متن قصیدۃ الہمزیہ الشئون الدینیۃ دولۃ قطر ص۱۱
المدخل لابن الحاج فصل فی الکلام علی زیارۃ سید المرسلین دار الکتاب العربی بیروت ۱/ ۲۵۲،المواھب اللدنیۃ ا لمقصد العاشر الفصل الثانی المکتب الاسلامی بیروت ۴/ ۵۸۰
المواھب اللدنیۃ ا لمقصد الثامن الفصل الثالث المکتب الاسلامی بیروت ۳/ ۵۶۰
المدخل لابن الحاج فصل فی الکلام علی زیارۃ سید المرسلین دار الکتاب العربی بیروت ۱/ ۲۵۲،المواھب اللدنیۃ ا لمقصد العاشر الفصل الثانی المکتب الاسلامی بیروت ۴/ ۵۸۰
المواھب اللدنیۃ ا لمقصد الثامن الفصل الثالث المکتب الاسلامی بیروت ۳/ ۵۶۰
عن العلائق البدنیۃ اتصلت بالملاء الاعلی ولم یبق لھا حجاب فتری و تسمع الکل کالمشاھد ۔ ہوتی ہیںملاء اعلی سے مل جاتی ہیں اور ان کے لیے کچھ پردہ نہیں رہتا تو سب کچھ ایسا دیکھتی سنتی ہیں جیسے یہاں موجود ہیں۔
(۶۵)ملا علی قاری شریف شفاء شریف میں فرماتے ہیں:
ان روح النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم حاضرۃ فی بیوت اھل الاسلام ۔ نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی روح کریم تمام جہان میں ہر مسلمان کے گھر میں تشریف فرما ہے۔
(۶۶)مدارج النبوۃ شریف میں ہے:
ہر چہ در دنیا است از زمان آدم تا اوان نفخہ اولی بروے صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم منکشف ساختند تاہمہ احوال او را از اول تا آخر معلوم کرد ویاران خود رانیز از بعضے ازاں احوال خبر داد ۔ جو کچھ دنیا میں ہے آدمی علیہ السلام کے زمانے سے نفخہ اولی تك حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پر منکشف کردیا ہے یہاں تك کہ تمام احوال آپ کو اول سے آخر تك معلوم ہوگئے ان میں سے کچھ اپنے دوستوں کوبھی بتادیئے۔
(۶۷)نیز فرماتے ہیں قدس سرہ:
وھو بالکل شیئ علیم و وے صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم دانا ست برہمہ چیز از شیونات ذات الہی و احکام صفات حق واسماء و افعال وآثار بجمیع علوم ظاہر و باطن اول و آخر احاطہ نمودہ و مصداق فوق کل ذی علم علیم شدہعلیہ من الصلوات افضلہا و من التحیات اتمہا و اکملہا ۔ وہ ہر چیز کا جاننے والا ہے اور حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم تمام چیزوں کو جانتے ہیںا ﷲ کی شانوں اور اس کے احکام اور صفات کے احکام اور اسماء و افعال و آثار ہیںاور تمام علوم ظاہر و باطناول و آخر کا احاطہ کرلیا اور فوق کل ذی علم علیم کا مصداق ہوگئےان پر اﷲ کی بہترین رحمتیں ہوں اور اتم و اکمل تحیات ہوں۔
(۶۵)ملا علی قاری شریف شفاء شریف میں فرماتے ہیں:
ان روح النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم حاضرۃ فی بیوت اھل الاسلام ۔ نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی روح کریم تمام جہان میں ہر مسلمان کے گھر میں تشریف فرما ہے۔
(۶۶)مدارج النبوۃ شریف میں ہے:
ہر چہ در دنیا است از زمان آدم تا اوان نفخہ اولی بروے صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم منکشف ساختند تاہمہ احوال او را از اول تا آخر معلوم کرد ویاران خود رانیز از بعضے ازاں احوال خبر داد ۔ جو کچھ دنیا میں ہے آدمی علیہ السلام کے زمانے سے نفخہ اولی تك حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پر منکشف کردیا ہے یہاں تك کہ تمام احوال آپ کو اول سے آخر تك معلوم ہوگئے ان میں سے کچھ اپنے دوستوں کوبھی بتادیئے۔
(۶۷)نیز فرماتے ہیں قدس سرہ:
وھو بالکل شیئ علیم و وے صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم دانا ست برہمہ چیز از شیونات ذات الہی و احکام صفات حق واسماء و افعال وآثار بجمیع علوم ظاہر و باطن اول و آخر احاطہ نمودہ و مصداق فوق کل ذی علم علیم شدہعلیہ من الصلوات افضلہا و من التحیات اتمہا و اکملہا ۔ وہ ہر چیز کا جاننے والا ہے اور حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم تمام چیزوں کو جانتے ہیںا ﷲ کی شانوں اور اس کے احکام اور صفات کے احکام اور اسماء و افعال و آثار ہیںاور تمام علوم ظاہر و باطناول و آخر کا احاطہ کرلیا اور فوق کل ذی علم علیم کا مصداق ہوگئےان پر اﷲ کی بہترین رحمتیں ہوں اور اتم و اکمل تحیات ہوں۔
حوالہ / References
التیسیر شرح الجامع الصغیر تحت حدیث حیثما کنتم فصلوا علٰی الخ مکتبۃ الامام الشافعی ریاض ۱ /۵۰۲
شرح الشفاء للملاّ علی قاری فصل فی المواطن التی تستحب فیہا الصلوۃ والسلام دارالکتب العلمیہ بیروت ۲ /۱۱۸
مدارج النبوۃ باب پنجم،وصل خصائص آنحضرت صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ /۱۴۴
مدارج النبوۃ مقدمۃ الکتاب مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ /۲و۳
شرح الشفاء للملاّ علی قاری فصل فی المواطن التی تستحب فیہا الصلوۃ والسلام دارالکتب العلمیہ بیروت ۲ /۱۱۸
مدارج النبوۃ باب پنجم،وصل خصائص آنحضرت صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ /۱۴۴
مدارج النبوۃ مقدمۃ الکتاب مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ /۲و۳
(۶۸)شاہ ولی اﷲ صاحب فیوض الحرمین میں لکھتے ہیں:
افاض علی من جنابہ المقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کیفیۃ ترقی العبد من حیزہ الی حیز القدس فیتجلی لہ جینئذ کل شیئ کما اخبرعن ھذاا لمشھد فی قصۃ المعراج المنامی ۔ مجھ پر رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی بارگاہ سے فائض ہوا کہ بندہ کیونکر اپنی جگہ سے مقام مقدس تك ترقی کرتا ہے کہ ہر شے اس پر روشن ہوجاتی ہے جیسا کہ قصہ معراج کے واقعہ میں رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے اس مقام سے خبر دی۔
(۶۹)نیز اسی میں ہے:
العارف ینجذب الی حیز الحق فیصی عبداﷲ فتجلی لہ کل شیئ ۔ عارف مقام حق تك کھنچ کر بارگاہ قرب میں ہوتا ہے تو ہر چیز اس پر روشن ہوجاتی ہے۔
(۷۰)اسی میں ولی فرد کے خصائص سے لکھا ہے کہ وہ تمام نشأۃ عنصری جسمانی پر مستولی ہوتا ہےپھر لکھا کہ یہ استیلاء انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام میں تو ظاہر ہے۔
واما فی غیر ھم فمنا صب وراثۃ الانبیاء کالمجددیۃ و القطبیعۃ وظہور اثار ھا واحکامہا والبلوغ الی حقیقۃ کل علم وحال ۔ رہے غیر انبیاءان میں وراثت کے منصب ہیں جیسے مجدد و قطب ہونا۔ان کے آثار و احکام کا ظاہر ہونا اور علم و حال کی حقیقت کو پہنچ جانا۔
(۷۱)اسی میں تقریر مذکور و تفصیل دقائق فرد کے بعد ہے:
بعد ذلك کلہ جبلت نفسہ نفسا قدسیۃ لایشغلہا شان عن شان ولایاتی علیہ حال من الاحوال الی التجرد الی النطقۃ الکلیۃ الا وھو خبیر اور اس سب کے بعد بات یہ ہے کہ مرد کا نفس اصل خلقت میں نفس قدسی بنایا جاتا ہے اسے ایك بات دوسری سے مشغول نہیں کرتی(یعنی یہ نہیں ہوتا کہ ایك دھیان میں اور طرف کا خیال نہ رہے بلکہ ہر جانب اس کی نگاہ ایك سی رہتی ہے)
افاض علی من جنابہ المقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کیفیۃ ترقی العبد من حیزہ الی حیز القدس فیتجلی لہ جینئذ کل شیئ کما اخبرعن ھذاا لمشھد فی قصۃ المعراج المنامی ۔ مجھ پر رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی بارگاہ سے فائض ہوا کہ بندہ کیونکر اپنی جگہ سے مقام مقدس تك ترقی کرتا ہے کہ ہر شے اس پر روشن ہوجاتی ہے جیسا کہ قصہ معراج کے واقعہ میں رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے اس مقام سے خبر دی۔
(۶۹)نیز اسی میں ہے:
العارف ینجذب الی حیز الحق فیصی عبداﷲ فتجلی لہ کل شیئ ۔ عارف مقام حق تك کھنچ کر بارگاہ قرب میں ہوتا ہے تو ہر چیز اس پر روشن ہوجاتی ہے۔
(۷۰)اسی میں ولی فرد کے خصائص سے لکھا ہے کہ وہ تمام نشأۃ عنصری جسمانی پر مستولی ہوتا ہےپھر لکھا کہ یہ استیلاء انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام میں تو ظاہر ہے۔
واما فی غیر ھم فمنا صب وراثۃ الانبیاء کالمجددیۃ و القطبیعۃ وظہور اثار ھا واحکامہا والبلوغ الی حقیقۃ کل علم وحال ۔ رہے غیر انبیاءان میں وراثت کے منصب ہیں جیسے مجدد و قطب ہونا۔ان کے آثار و احکام کا ظاہر ہونا اور علم و حال کی حقیقت کو پہنچ جانا۔
(۷۱)اسی میں تقریر مذکور و تفصیل دقائق فرد کے بعد ہے:
بعد ذلك کلہ جبلت نفسہ نفسا قدسیۃ لایشغلہا شان عن شان ولایاتی علیہ حال من الاحوال الی التجرد الی النطقۃ الکلیۃ الا وھو خبیر اور اس سب کے بعد بات یہ ہے کہ مرد کا نفس اصل خلقت میں نفس قدسی بنایا جاتا ہے اسے ایك بات دوسری سے مشغول نہیں کرتی(یعنی یہ نہیں ہوتا کہ ایك دھیان میں اور طرف کا خیال نہ رہے بلکہ ہر جانب اس کی نگاہ ایك سی رہتی ہے)
حوالہ / References
فیوض الحرمین مشہد اﷲ تعالٰی مخلوق کی طرف کتاب نازل کرنے کے وقت کہا کرتا ہے،محمد سعید اینڈ سز کراچی ص۱۶۹
فیوض الحرمین مشہد قَدَم صدقِ عندربہم کی تفسیر محمد سعید اینڈ سنز کراچی ص ۱۷۵
فیوض الحرمین مشہد مشہد آخر یعنی دقائق اور ان کے اثرات محمد سعید اینڈ سنز کراچی ص ۲۸۰ و ۲۸۱
فیوض الحرمین مشہد قَدَم صدقِ عندربہم کی تفسیر محمد سعید اینڈ سنز کراچی ص ۱۷۵
فیوض الحرمین مشہد مشہد آخر یعنی دقائق اور ان کے اثرات محمد سعید اینڈ سنز کراچی ص ۲۸۰ و ۲۸۱
بھا الان وانما الاتی تفصیل لاجمال ۔ اور اب سے لے کر اس وقت تك کہ وہ سب سے جدا ہو کر مرکز عالم سے جا ملے یعنی وقت وفات تك جو کچھ حال اس پر آنے والا ہے اس سب کی اس وقت اسے خبر ہےوہ جو آئے گا اجمال کی تفصیل ہی ہوگا۔
(۷۲)امام قاضی عیاض شفا شریف میں فرماتے ہیں:
ھذا مع انہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کان لایکتب ولکنہ اوتی علم کل شیئ حتی قدوردت اثار بمعرفتہ حروف الخط وحسن تصویرھا کقولہ لا تمدوا بسم اﷲ الرحمن الرحیم رواہ ابن شعبان من طریق ابن عباس وقولہ الحدیث الاخر الذی روی عن معویۃ رضی اﷲ تعالی عنہ انہ کان یکتب بین یدیہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فقال لہ الق الدواۃ و حرف القلم واقم الباء وفرق السین ولا تعور المیم و حسن اﷲ و مد الرحمن وجود الرحیم ۔ یعنی حالانکہ نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لکھتے نہ تھے مگر حضور کو ہر چیز کا علم عطا ہوا تھا یہاں تك کہ بے شك حدیثیں آتی ہیں کہ حضور کتابت کے حروف پہچانتے تھے اور یہ کہ کس طرح لکھے جائیں تو خوبصورت ہوں گےجیسے ایك حدیث ابن شعبان نے عبداﷲ ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے روایت کی کہ نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا بسم اﷲ کشش سے نہ لکھو(سین میں دندانے ہوں نری کشش نہ ہو) دوسری حدیث(مسند الفردوس)میں امیر معاویہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے مروی ہوئی کہ یہ حضور کے سامنے لکھ رہے تھے نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ دوات میں صوف ڈالو اور قلم پر ترچھا قط دو اور بسم اﷲ کی ب کھڑی لکھو اور اس کے دندانے جدا رکھو اور میم اندھا نہ کردو(اس کے چشمہ کی سفیدی کھلی رہے)اور لفظ اﷲ خوبصورت لکھو اور لفظ رحمن میں کشش ہو(رحمن یا رحمن یا رحمن یا رحمن) اور لفظ رحیم اچھا لکھو۔
(۷۳ و ۷۴)امام شعرانی قدس سرہ کتاب الجواہر والدرر نیز کتاب درۃ الغواص میں سید علی خواص
(۷۲)امام قاضی عیاض شفا شریف میں فرماتے ہیں:
ھذا مع انہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کان لایکتب ولکنہ اوتی علم کل شیئ حتی قدوردت اثار بمعرفتہ حروف الخط وحسن تصویرھا کقولہ لا تمدوا بسم اﷲ الرحمن الرحیم رواہ ابن شعبان من طریق ابن عباس وقولہ الحدیث الاخر الذی روی عن معویۃ رضی اﷲ تعالی عنہ انہ کان یکتب بین یدیہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فقال لہ الق الدواۃ و حرف القلم واقم الباء وفرق السین ولا تعور المیم و حسن اﷲ و مد الرحمن وجود الرحیم ۔ یعنی حالانکہ نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لکھتے نہ تھے مگر حضور کو ہر چیز کا علم عطا ہوا تھا یہاں تك کہ بے شك حدیثیں آتی ہیں کہ حضور کتابت کے حروف پہچانتے تھے اور یہ کہ کس طرح لکھے جائیں تو خوبصورت ہوں گےجیسے ایك حدیث ابن شعبان نے عبداﷲ ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے روایت کی کہ نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا بسم اﷲ کشش سے نہ لکھو(سین میں دندانے ہوں نری کشش نہ ہو) دوسری حدیث(مسند الفردوس)میں امیر معاویہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے مروی ہوئی کہ یہ حضور کے سامنے لکھ رہے تھے نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ دوات میں صوف ڈالو اور قلم پر ترچھا قط دو اور بسم اﷲ کی ب کھڑی لکھو اور اس کے دندانے جدا رکھو اور میم اندھا نہ کردو(اس کے چشمہ کی سفیدی کھلی رہے)اور لفظ اﷲ خوبصورت لکھو اور لفظ رحمن میں کشش ہو(رحمن یا رحمن یا رحمن یا رحمن) اور لفظ رحیم اچھا لکھو۔
(۷۳ و ۷۴)امام شعرانی قدس سرہ کتاب الجواہر والدرر نیز کتاب درۃ الغواص میں سید علی خواص
حوالہ / References
فیوض الحرمین مشہد آخر ا یعنی دقائق اور ان کے اثرات محمد سعید اینڈ سنز کراچی ۸۶۔۲۸۵
الشفاء بحقوق المصطفٰی فصل ومن معجزاتہ الباہرۃ المطبعۃ الشرکۃ الصحافیۃ ۱ /۲۹۸ و ۲۹۹
الشفاء بحقوق المصطفٰی فصل ومن معجزاتہ الباہرۃ المطبعۃ الشرکۃ الصحافیۃ ۱ /۲۹۸ و ۲۹۹
رضی اﷲ تعالی عنہ سے ناقل:
محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فھو الاول والاخر و الظاھر والباطن و قدولج حین اسری بہ عالم الاسماء الذی اولھا مرکز الارض واخرھا السماء الدنیا بجمیع احکامھا و تعلقا تھا ثم ولج البرزخ الی انتہائہ وھو السماء السابعۃ ثم ولج علم العرش الی مالا نہایۃ الیہ وانفتح فی برزخیتہ تصور العوالم الالھیۃ والکونیۃ اھ ملتقطا۔ محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ہی اول و آخر و ظاہر و باطن ہیں وہ شب معراج مرکز زمین سے آسمان تك تشریف لے گئے اور اس عالم کے جملہ احکام اور تعلقات جان لیے پھر آسمان سے عرش اور عرش سے لاانتہا تك اور حضور کے برزخ میں تمام عالم علوی و سفلی کی صورتیں منکشف ہوگئیں۔
(۷۵)تفسیر کبیر میں زیر آیہ کریمہ:" وکذلک نری ابرہیم ملکوت السموت و الارض " ۔(اور اسی طرح ہم ابراہیم کو دکھاتے ہیں ساری بادشاہی آسمانوں اور زمین کی۔ت)فرمایا:
الاطلاع علی اثار حکمۃ اﷲ تعالی فی کل واحد من مخلوقات ھذا العالم بحسب اجناسہا وانواعہا و اصنافہا واشخاصھا و احوالھا ممالا یحصل الاللا کابرمن الانبیاء علیہم الصلوۃ والسلام ولہذا المعنی کان رسولنا صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یقول فی دعاء اللھم ارنا الاشیاء کما ھی ۔ اس عالم کی تمام جنسوں اور نوعوں اور صنفوں اور شخصوں اور جرموں ہر ہر مخلوق میں حکمت الہیہ کے آثار پر انہیں اکابر کو اطلاع ہوتی ہے جو انبیاء ہیں علیہم الصلوۃ والسلام اسی لیے حضور سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے دعا فرمائی کہ الہی! ہم کو تمام چیزیں جیسی وہ ہیں دکھادے ا ھ۔
اقول:یہاں مقصود اس قدر ہے کہ ان امام اہلسنت کے نزدیك انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام اس عالم کی تمام مخلوقات کے ایك ایك ذرہ کی جنسنوعصنفشخص۔جسم اور ان سب میں اﷲ کی حکمتیں بالتفصیل
محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فھو الاول والاخر و الظاھر والباطن و قدولج حین اسری بہ عالم الاسماء الذی اولھا مرکز الارض واخرھا السماء الدنیا بجمیع احکامھا و تعلقا تھا ثم ولج البرزخ الی انتہائہ وھو السماء السابعۃ ثم ولج علم العرش الی مالا نہایۃ الیہ وانفتح فی برزخیتہ تصور العوالم الالھیۃ والکونیۃ اھ ملتقطا۔ محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ہی اول و آخر و ظاہر و باطن ہیں وہ شب معراج مرکز زمین سے آسمان تك تشریف لے گئے اور اس عالم کے جملہ احکام اور تعلقات جان لیے پھر آسمان سے عرش اور عرش سے لاانتہا تك اور حضور کے برزخ میں تمام عالم علوی و سفلی کی صورتیں منکشف ہوگئیں۔
(۷۵)تفسیر کبیر میں زیر آیہ کریمہ:" وکذلک نری ابرہیم ملکوت السموت و الارض " ۔(اور اسی طرح ہم ابراہیم کو دکھاتے ہیں ساری بادشاہی آسمانوں اور زمین کی۔ت)فرمایا:
الاطلاع علی اثار حکمۃ اﷲ تعالی فی کل واحد من مخلوقات ھذا العالم بحسب اجناسہا وانواعہا و اصنافہا واشخاصھا و احوالھا ممالا یحصل الاللا کابرمن الانبیاء علیہم الصلوۃ والسلام ولہذا المعنی کان رسولنا صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یقول فی دعاء اللھم ارنا الاشیاء کما ھی ۔ اس عالم کی تمام جنسوں اور نوعوں اور صنفوں اور شخصوں اور جرموں ہر ہر مخلوق میں حکمت الہیہ کے آثار پر انہیں اکابر کو اطلاع ہوتی ہے جو انبیاء ہیں علیہم الصلوۃ والسلام اسی لیے حضور سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے دعا فرمائی کہ الہی! ہم کو تمام چیزیں جیسی وہ ہیں دکھادے ا ھ۔
اقول:یہاں مقصود اس قدر ہے کہ ان امام اہلسنت کے نزدیك انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام اس عالم کی تمام مخلوقات کے ایك ایك ذرہ کی جنسنوعصنفشخص۔جسم اور ان سب میں اﷲ کی حکمتیں بالتفصیل
حوالہ / References
الجواہر والدرر علی ھامش الابریز مصطفٰی البابی مصر ص ۲۱۱ تا ۲۱۳
القرآن الکریم ۶ /۷۵
مفاتیح الغیب(التفسیر الکبیر)تحت آیۃ ۶ /۷۵ المطبعۃ البہیتہ المصریۃ مصر ۱۳ /۴۵
القرآن الکریم ۶ /۷۵
مفاتیح الغیب(التفسیر الکبیر)تحت آیۃ ۶ /۷۵ المطبعۃ البہیتہ المصریۃ مصر ۱۳ /۴۵
جانتے ہیںوہابیہ کے نزدیك کافر و مشرك ہونے کو یہی بہت ہےبلکہ ان کے نزدیك امام ممدوح کو کافر و مشرك سے بہت بڑھ کر کہنا چاہیے۔
گنگوہی صاحب نے صرف اتنی بات کو کہ دنیا میں جہاں کہیں مجلس میلاد ہو حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو اطلاع ہو جائےزمین کا علم محیط مانا اور صاف حکم شرك جڑ دیا کہ شرك نہیں تو کون سا حصہ ایمان کا ہے ۔
تو امام کہ صرف زمین درکنارزمین و آسمان و فرش و عرش و تمام عالم کے جملہ اجناس و انواع و اصناف و اشخاص و اجرام کو نہ صرف حضور سید المرسلین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بلکہ وہ انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کا بھی علم محیط مانتے ہیں گنگوہی دھرم میں ان کو تو کئی لاکھ درجے ڈبل کافر ہونا چاہیے والعیاذ باﷲ تعالی ورنہ اصل بات یہ ہے کہ اصالۃ علوم غیب اور ان کے عطاو نیابت سے ان کے خدام اکابر اولیائے کرام رضی اﷲ تعالی عنہم کو بھی ایك ایك ذرہ عالم کا تفصیلی علم عطا ہونا ہر گز ممنوع نہیں بلکہ بتصریح اولیاء واقع ہےجیسا کہ عنقریب آتا ہے وﷲ الحمد۔
(۷۶)یہی مضمون شریف تفسیر نیشا پوری میں بایں عبارت ہے:
الاطلاع علی تفاصیل اثار حکمۃ اﷲ تعالی فی کل احد من مخلوقات ھذہ العوالم بحسب اجناسہا وانواعہا واصنافہا واشخاصہا واعوارضہا ولواحقہاکما ھی لا تحصل الا لاکابر الانبیاء و لہذا قال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فی دعائہ ارنی الاشیاء کما ھی ۔ ان عالموں کی مخلوقات میں سے ہر ایك کے تمام آثار حکمت الہیہ پر انکی جنسوںنوعوںقسموں اور فردوںنیز عوارض و لواحق حقیقہ پر مطلع ہونا اکابر انبیاء کے علاوہ کسی کو حاصل نہیں ہوتا۔اسی وجہ سے نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے دعا میں عرض کیا کہ مجھے اشیاء کی حقیقتیں دکھا۔(ت)
اس میں اثار حکمۃ اﷲ کے ساتھ تفاصیل زائد ہے۔ھذاالعالم کی جگہ ھذہ العوالم ہے کہ نظر تفصیلی پر زیادہ دلالت کرتا ہے اور اجناس وانواع و اصناف و اشخاص کے ساتھ عوارض ولواحق بھی مذکور ہے کہ احاطہ جملہ جواہر و اعراض میں تصریح تر ہو اگرچہ اجناس عالم
گنگوہی صاحب نے صرف اتنی بات کو کہ دنیا میں جہاں کہیں مجلس میلاد ہو حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو اطلاع ہو جائےزمین کا علم محیط مانا اور صاف حکم شرك جڑ دیا کہ شرك نہیں تو کون سا حصہ ایمان کا ہے ۔
تو امام کہ صرف زمین درکنارزمین و آسمان و فرش و عرش و تمام عالم کے جملہ اجناس و انواع و اصناف و اشخاص و اجرام کو نہ صرف حضور سید المرسلین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بلکہ وہ انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کا بھی علم محیط مانتے ہیں گنگوہی دھرم میں ان کو تو کئی لاکھ درجے ڈبل کافر ہونا چاہیے والعیاذ باﷲ تعالی ورنہ اصل بات یہ ہے کہ اصالۃ علوم غیب اور ان کے عطاو نیابت سے ان کے خدام اکابر اولیائے کرام رضی اﷲ تعالی عنہم کو بھی ایك ایك ذرہ عالم کا تفصیلی علم عطا ہونا ہر گز ممنوع نہیں بلکہ بتصریح اولیاء واقع ہےجیسا کہ عنقریب آتا ہے وﷲ الحمد۔
(۷۶)یہی مضمون شریف تفسیر نیشا پوری میں بایں عبارت ہے:
الاطلاع علی تفاصیل اثار حکمۃ اﷲ تعالی فی کل احد من مخلوقات ھذہ العوالم بحسب اجناسہا وانواعہا واصنافہا واشخاصہا واعوارضہا ولواحقہاکما ھی لا تحصل الا لاکابر الانبیاء و لہذا قال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فی دعائہ ارنی الاشیاء کما ھی ۔ ان عالموں کی مخلوقات میں سے ہر ایك کے تمام آثار حکمت الہیہ پر انکی جنسوںنوعوںقسموں اور فردوںنیز عوارض و لواحق حقیقہ پر مطلع ہونا اکابر انبیاء کے علاوہ کسی کو حاصل نہیں ہوتا۔اسی وجہ سے نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے دعا میں عرض کیا کہ مجھے اشیاء کی حقیقتیں دکھا۔(ت)
اس میں اثار حکمۃ اﷲ کے ساتھ تفاصیل زائد ہے۔ھذاالعالم کی جگہ ھذہ العوالم ہے کہ نظر تفصیلی پر زیادہ دلالت کرتا ہے اور اجناس وانواع و اصناف و اشخاص کے ساتھ عوارض ولواحق بھی مذکور ہے کہ احاطہ جملہ جواہر و اعراض میں تصریح تر ہو اگرچہ اجناس عالم
حوالہ / References
البراہین القاطعۃ بحث علم غیب مطبع بلا سا واقع ڈھور ص ۵۱
غرائب القرآن(تفسیر النیسابوری)آیۃ ۶ /۷۵ مصطفٰی البابی مصر ۷ /۱۴۱
غرائب القرآن(تفسیر النیسابوری)آیۃ ۶ /۷۵ مصطفٰی البابی مصر ۷ /۱۴۱
میں عوارض بھی داخل تھے پھر ان کے ساتھ کما ھی کا لفظ اور زیادہ ہے کہ صحت علم غیر مشوب بالخطاء والو ھم(غلطی اور وہم کی آلائش سے پاک۔ت)کی تاکید ہو۔فجزاھم اﷲ تعالی خیر جزا آمین۔
(۷۷)نیشا پوری میں زیر آیۃ کریمہ" وجئنا بک علی ہؤلاء شہیدا﴿۴۱﴾" (اور ا ے محبوب تمہیں ان سب پر گواہ اور نگہبان بنا کر لائیں گے۔ت)فرمایا:
لان روحہصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم شاہد علی جمیع الارواح والقلوب و النفوس لقولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اول ما خلق اﷲ روحی ۔ یہ جور ب عزوجل نے اپنے حبیب صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے فرمایا کہ ہم تمہیں ان سب پر گواہ بنا کر لائیں گے اس کی وجہ یہ ہے کہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی روح انور تمام جہان میں ہر ایك کی روحہر ایك کے دلہر ایك کے دلہر ایك کے نفس کا مشاہدہ فرماتی ہے۔(کوئی روح کوئی دلکوئی نفس ان کی نظر کرم سے اوجھل نہیں جب تو سب پر گواہ بنا کر لائے جائیں گے کہ شاہد کو مشاہدہ ضرور ہے) اس لیے کہ حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا سب سے پہلے اﷲ تعالی نے میری روح کریم کو پیدا کیا(تو عالم میں جو کچھ ہوا حضور کے سامنے ہی ہوا)
(۸۷)حافظ الحدیث سیدی احمد سلجماسی قدس سرہاپنے شیخ کریم حضرت سیدی عبدالعزیز بن مسعود دباغ رضی اﷲ تعالی عنہ سے کتاب مستطاب ابریز میں روایت فرماتے ہیں کہ انہوں نے آیہ کریمہ" وعلم ادم الاسماء کلہا" ۔(اور اﷲ تعالی نےآدم علیہ السلام کو تمام اشیاء کے نام سکھائے۔ت)کے متعلق فرمایا:
المراد بالاسماء الاسماء العالیۃ لا الاسماء النازلۃ فان کل مخلوق لہ اسم عال واسم نازلفالاسم النازل ھو الذی یشعر بالمسمی فی الجملۃ والاسم العالی ھوالذی اس کلام نورانی و اعلام ربانی ایمان افروزکفران سوز کا خلاصہ یہ ہے کہ ہر چیز کے دو نام ہیں علوی و سفلیسفلی نام تو صرف مسمی سے ایك گونہ آگاہی دیتا ہے۔اور علوی نام سنتے ہی یہ معلوم ہوجاتا ہے
(۷۷)نیشا پوری میں زیر آیۃ کریمہ" وجئنا بک علی ہؤلاء شہیدا﴿۴۱﴾" (اور ا ے محبوب تمہیں ان سب پر گواہ اور نگہبان بنا کر لائیں گے۔ت)فرمایا:
لان روحہصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم شاہد علی جمیع الارواح والقلوب و النفوس لقولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اول ما خلق اﷲ روحی ۔ یہ جور ب عزوجل نے اپنے حبیب صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے فرمایا کہ ہم تمہیں ان سب پر گواہ بنا کر لائیں گے اس کی وجہ یہ ہے کہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی روح انور تمام جہان میں ہر ایك کی روحہر ایك کے دلہر ایك کے دلہر ایك کے نفس کا مشاہدہ فرماتی ہے۔(کوئی روح کوئی دلکوئی نفس ان کی نظر کرم سے اوجھل نہیں جب تو سب پر گواہ بنا کر لائے جائیں گے کہ شاہد کو مشاہدہ ضرور ہے) اس لیے کہ حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا سب سے پہلے اﷲ تعالی نے میری روح کریم کو پیدا کیا(تو عالم میں جو کچھ ہوا حضور کے سامنے ہی ہوا)
(۸۷)حافظ الحدیث سیدی احمد سلجماسی قدس سرہاپنے شیخ کریم حضرت سیدی عبدالعزیز بن مسعود دباغ رضی اﷲ تعالی عنہ سے کتاب مستطاب ابریز میں روایت فرماتے ہیں کہ انہوں نے آیہ کریمہ" وعلم ادم الاسماء کلہا" ۔(اور اﷲ تعالی نےآدم علیہ السلام کو تمام اشیاء کے نام سکھائے۔ت)کے متعلق فرمایا:
المراد بالاسماء الاسماء العالیۃ لا الاسماء النازلۃ فان کل مخلوق لہ اسم عال واسم نازلفالاسم النازل ھو الذی یشعر بالمسمی فی الجملۃ والاسم العالی ھوالذی اس کلام نورانی و اعلام ربانی ایمان افروزکفران سوز کا خلاصہ یہ ہے کہ ہر چیز کے دو نام ہیں علوی و سفلیسفلی نام تو صرف مسمی سے ایك گونہ آگاہی دیتا ہے۔اور علوی نام سنتے ہی یہ معلوم ہوجاتا ہے
یشعر باصل المسمی ومن ای شیئ ھو و بفائدۃ المسمی ولای شیئ یصلح الفاس من سائر ما یستعمل فیہ وکیفیۃ صنعۃ الحداد لہ فیعلم من مجرد سماع لفظہ وھذہ العلوم والمعارف المتعلقۃ بالفاس وھکذا کل مخلوقوالمراد بقولہ تعالی الاسماء کلہا الاسماء التی یطیقہا ادم ویحتاج الیہا سائر البشر اولھم بھا تعلق وھی من کل مخلوق تحت العرش الی ماتحت الارض فیدخل فی ذلك الجنۃ والنار والسموت السبع وما فیھن وما بینھن وما بین السماء والارض و ما فی الارض من البراری والقفار والا ودیۃ والبحار و الاشجار فکل مخلوق فی ذلك ناطق اوجامد الا و آدم یعرف من اسمہ تلك الامور الثلثۃ اصلہ وفائدتہ و کیفیۃ ترتیبہ ووضع شکلہ فیعلم من اسم الجنۃ من این خلقت ولای شیئ خلقت و ترتیب مراتبہاد وجمیع ما فیہا من الحور وعدد من یسکنہا بعد البعث ویعلم من لفظ النار مثل ذلك ویعلم من لفظ السماء مثل ذلك ولای شیئ کانت الاولی فی محلہا و الثانیۃ وھکذا فی کل سماء ویعلم من لفظ الملئکۃ من ای شیئ خلقوا ولا ی شیئ خلقوا وکیفیۃ خلقھم وترتیب مراتبھم وبای شیئ استحق کہ مسمی کی حقیقت و ماہیت کیا ہے اور کیونکر پیدا ہوا اور کاہے سے بنا اور کس لیے بناآدم علیہ الصلوۃ والسلام کو تمام اشیاء کے یہ علوی نام تعلیم فرمائے گئے جس سے انہوں نے حسب طاقت و حاجت بشری تمام اشیاء جان لیں اور یہ زیر عرش سے زیر فرش تك کی تمام چیزیں ہیں جس میں جنت و دوزخ و ہفت آسمان اور جو کچھ ان میں ہے اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اور جو کچھ آسمان و زمین کے درمیان ہے اور جنگل اور صحرا اور نالے اور دریا اور درخت وغیرہ جو کچھ زمین میں ہے غرض یہ تمام مخلوقات ناطق و غیر ناطلق ان کے صرف نام سننے سے آدم علیہ الصلوۃ والسلام کو معلوم ہوگیا کہ عرش سے فرش تك ہر شے کی حقیقت یہ ہے اور فائدہ یہ ہے اور اس ترتیب سے اس شکل پر ہے۔جنت کا نام سنتے ہی انہوں نے جان لیا کہ کہاں سے بنی اور کس لیے بنی اور اس کے مربتوں کی ترتیب کیا ہے اور جس قدر اس میں حوریں ہیں اور قیامت کے بعد اتنے لوگ اس میں آجائیں گے اسی طرح نار(دوزخ)یوں ہی آسماناور یہ کہ پہلا آسمان وہاں کیوں ہوا اور دوسرا دوسری جگہ کیوں ہوااسی طرح ملائکہ کا لفظ سننے سے انہوں نے جان لیا کہ کاہے سے بنے اور کیونکر بنے اور ان کے مرتبوں کی ترتیب کیا ہے اور کس لیے یہ فرشتہ اس مقام کا مستحق ہوا اور دسرا دوسرے کا۔اسی طرح عرش سے زیر زمین تك ہر فرشتے کا حالاوریہ
ھذا الملك ھذا المقام واستحق غیرہ مقاما اخر وھکذا فی کل ملك فی العرش الی ماتحت العرض فھذہ علوم ادم واولادہ من الانبیاء علیہم الصلوۃ و السلام والاولیاء الکمل رضی اﷲ تعالی عنہم اجمعین و انما خص ادم بالذکر لانہ اول من علم ھذہ العلوم و من علمہا من اولادہ فانما علمہا بعدہ ولیس المراد انہ لایعلمہا الا ادم و انما خصصنا ھا بما یحتاج الیہ و ذریتہ و بما یحتاج الیہ و ذریتہ و بما یطیقونہ لئلا یلزم من عدم التخصیص الا حاطۃ بمعلومات اﷲ تعالی وانما قال تنزلت اشارۃ الی الفرق بین علم النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بھذہ العلوم و بین علم ادم وغیرہ من الانبیاء علیہم الصلوۃ بہا فانھم اذا توجھوا الیہا یحصل لھم شبہ مقام عن مشاھدۃ الحق سبحانہ وتعالی واذاتوجھوا نحو مشاھدۃ الحق سبحانہ وتعالی حصل لھم شبہ النوم عن ھذہ العلومونبینا صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لقوتہ لا یشغلہ ھذا عن ھذا فھواذا توجہ نحوالحق سبحانہ و تعالی حصلت لہ المشاھدۃ التامۃ وحصل لہ مع ذلك مشاھدۃ ھذہ العلوم وغیرھما مما لایطلق واذاتوجہ نحوھذہ العلوم حصلت لہ مع حصول ھذہ المشاھدۃ فی الحق تمام علوم صرف آدم علیہ الصلوۃ والسلام ہی کو نہیں بلکہ ہر نبی اور ہر ولی کامل کو عطا ہوئے ہیںعلیہم الصلوۃ والسلامآدم کا نام خاص اس لیے لیا کہ انکو یہ علوم پہلے ملےپھر فرمایا کہ ہم نے بقدر طاقت وحاجت کی قید لگا کر صرف عرش تا فرش کی تمام اشیاء کا احاطہ اس لیے رکھا کہ جملہ معلومات الہیہ کا احاطہ نہ لازم آئے اور ان علوم میں ہمارے نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم و دیگر انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام میں یہ فرق ہے کہ اور جب ان علوم کی طرف متوجہ ہوتے ہیں تو ان کو مشائدہ حضرت عزت جلالہسے ایك گونہ غفلت سی ہوجاتی ہے اور جب مشاہدہ حق کی طرف توجہ فرمائیں تو ان علوم کی طرف سے ایك نیند سی آجاتی ہے مگر ہمارے نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو ان کی کمال قوت کے سبب ایك علم دوسرے علم سے مشغول نہیں کرتاوہ عین مشاہدہ حق کے وقت ان تمام علوم اور ان کے سوا اور علموں کو جانتے ہیں جن کی طاقت کسی میں نہیں اور ان علوم کی طرف عین توجہ میں مشاہدہ حق فرماتے ہیں اور ان کو نہ مشاہدہ حقمشاہدہ خلق سے پردہ ہو نہ مشاہدہ خلق مشاہدہ حق سےپاکی و بلندی اسے جس نے ان کو یہ علوم اور یہ قوتیں بخشیں صلی اﷲ
سبحنہ و تعالی فلا تحجبہ مشاھدۃ الحق عن مشاھدۃ الخلق ولا مشاھدۃ الخلق عن مشاھدۃ الحق سبحنہ وتعالی ۔ تعالی علیہ وسلم۔
کیوں وہابیو! ہے کچھ دم ہاں ہاں تقویۃ الایمان و براہین قاطعہ کی شرك دانی لے کر دوڑیومشرك مشرك کی تسبیح بھانیوکل قیامت کو کھل جائے گا کہ مشرککافرمرتد خاسر کون تھا" سیعلمون غدا من الکذاب الاشر ﴿۲۶﴾ " ۔(بہت جلد کل جان جائیں گے کون تھا بڑھا جھوٹا اترونا۔ت)
اشر بھی دوقسم کے ہوتے ہیں:
(۱)اشر قولی کہ زبان سے بك بك کرے۔
(۲)اشرفعلی کہ زبان سے چپ اور خباثت سے باز آئے۔
وہابیہ اشرقولی و اشرفعلی دونوں ہیں۔" قتلہم اللہ انی یؤفکون ﴿۳۰﴾" ۔(اﷲ انہیں مارے کیا اوندھے جاتے ہیں)
حضرت سیدی شاہ عبدالعزیز قد سنا اﷲ بسرہ العزیزاجلہ اکابراولیاء عظام و اعاظم سادات کرام سے ہیںبدلگام وہابیہ سے کچھ تعجب نہیں کہ ان کی شان کریم میں حسب عادت لئیم گستاخی و زبان درازی کریںلہذا مناسب کہ اس پاکمباركلاڈلے بیٹے کی تائیدمیں اس کے مہربان باپمسلمانوں کے مولیاﷲ واحد قہار کے غالب شیرسیدنا امیرا لمومنین مولی علی مشکل کشا حاجت رواکافرکشمومن پناہ کرم کرم اﷲ تعالی وجہہ الکریم کے بعض ارشادات ذکر کروں کہ سگان زرد کے برادر شغال اس اسد ذوالجلال کی بو سونگھ کر بھاگیںاور شرك شرك بکنے والے منہ میں قہر کے پتھر ہوںاورپتھروں سے آگیں۔
(۷۹)ابن النجار ابوالمعتمر مسلم بن اوس وجاریہ بن قدامہ سعدی سے راوی کہ امیر المومنین ابوالائمۃ الطاہرین سیدنا علی کرم اﷲ وجہہ نے فرمایا:
سلونی قبل ان تفقدونی فانی لا اسأل عن شیئ دون العرش الا مجھ سے سوال کرو قبل اس کے کہ مجھے نہ پاؤ کہ عرش کے نیچی جس کسی چیز کو مجھ سے پوچھا جائے میں
کیوں وہابیو! ہے کچھ دم ہاں ہاں تقویۃ الایمان و براہین قاطعہ کی شرك دانی لے کر دوڑیومشرك مشرك کی تسبیح بھانیوکل قیامت کو کھل جائے گا کہ مشرککافرمرتد خاسر کون تھا" سیعلمون غدا من الکذاب الاشر ﴿۲۶﴾ " ۔(بہت جلد کل جان جائیں گے کون تھا بڑھا جھوٹا اترونا۔ت)
اشر بھی دوقسم کے ہوتے ہیں:
(۱)اشر قولی کہ زبان سے بك بك کرے۔
(۲)اشرفعلی کہ زبان سے چپ اور خباثت سے باز آئے۔
وہابیہ اشرقولی و اشرفعلی دونوں ہیں۔" قتلہم اللہ انی یؤفکون ﴿۳۰﴾" ۔(اﷲ انہیں مارے کیا اوندھے جاتے ہیں)
حضرت سیدی شاہ عبدالعزیز قد سنا اﷲ بسرہ العزیزاجلہ اکابراولیاء عظام و اعاظم سادات کرام سے ہیںبدلگام وہابیہ سے کچھ تعجب نہیں کہ ان کی شان کریم میں حسب عادت لئیم گستاخی و زبان درازی کریںلہذا مناسب کہ اس پاکمباركلاڈلے بیٹے کی تائیدمیں اس کے مہربان باپمسلمانوں کے مولیاﷲ واحد قہار کے غالب شیرسیدنا امیرا لمومنین مولی علی مشکل کشا حاجت رواکافرکشمومن پناہ کرم کرم اﷲ تعالی وجہہ الکریم کے بعض ارشادات ذکر کروں کہ سگان زرد کے برادر شغال اس اسد ذوالجلال کی بو سونگھ کر بھاگیںاور شرك شرك بکنے والے منہ میں قہر کے پتھر ہوںاورپتھروں سے آگیں۔
(۷۹)ابن النجار ابوالمعتمر مسلم بن اوس وجاریہ بن قدامہ سعدی سے راوی کہ امیر المومنین ابوالائمۃ الطاہرین سیدنا علی کرم اﷲ وجہہ نے فرمایا:
سلونی قبل ان تفقدونی فانی لا اسأل عن شیئ دون العرش الا مجھ سے سوال کرو قبل اس کے کہ مجھے نہ پاؤ کہ عرش کے نیچی جس کسی چیز کو مجھ سے پوچھا جائے میں
حوالہ / References
الابریز الباب السابع دار الکتب العلمیہ بیروت ص ۳۸۲ و ۳۸۳
القرآن الکریم ۵۴ /۲۶
القرآن الکریم ۹ /۳۰
القرآن الکریم ۵۴ /۲۶
القرآن الکریم ۹ /۳۰
اخبرت عنہ ۔ بتادوں گا۔
عرش کے نیچے کرسیہفت آسمانہفت زمین اور آسمانوں اور زمینوں کے درمیان جو کچھ ہے تحت الثری تك سب داخل ہےمولی علی فرماتے ہیں کہ اس سب کو میرا علم محیط ہے ان میں جو شے مجھ سے پوچھو میں بتادوں گارضی اﷲ تعالی عنہ ۔
(۸۰)امام ابن الانباری کتاب المصاحف میں اور امام ابو عمر بن عبدالبرکتاب العلم میں ابوالطفیل عامر بن واثلہ رضی اﷲ تعالی عنہما سے راوی:
قال شھدت علی بن ابی طالب یخطب فقال فی خطبتہ سلونی فواﷲ لاتسألونی عن شیئ الی یوم القیمۃ الا حد تثکم بہ ۔ میں مولی علی کرم اﷲ تعالی وجہہکے خطبہ میں حاضر تھا امیر المومنین نے خطبہ میں ارشاد فرمایا مجھ سے دریافت کرو خدا کی قسم قیامت تك جو چیز ہونے والی ہے مجھ سے پوچھو میں بتادوں گا۔
امیر المومنین فرماتے ہیں:کہ میرا علم قیامت تك کی تمام کائنات کو حاوی ہےیہ دونوں حدیثیں امام جلیلجلال الملۃ والدین سیوطی نے جامع کبیر میں ذکر فرمائیں۔
(۸۱ تا ۸۴)ابن قتیبہ پھر ابن خلکان پھر امام دمیری پھر علامہ زرقانی شرح مواہب اللدنیا میں فرماتے ہیں:
الجفر جلد کتبہ جعفر الصادق کتب فیہ لاھل البیت کل ما یحتاجون الی علمہ و کل مایکون الی یوم القیمۃ ۔ جفر ایك جلد ہے کہ امام جعفر صادق رضی اﷲ تعالی عنہ نے لکھی اور اس میں اہل بیت کرام کے لیے جس چیز کے علم کی انہیں حاجت پڑے اور جو کچھ قیامت تك ہونے والا ہے سب تحریر فرمادے۔
(۸۵)علامہ سید شریف رحمۃ اﷲ تعالی علیہ شرح مواقف میں فرماتے ہیں:
الجفر والجامعۃ کتابان لعلی رضی اﷲ تعالی یعنی جفر و جامعہ امیر المومنین علی کرم اﷲ تعالی وجہہ الکریم
عرش کے نیچے کرسیہفت آسمانہفت زمین اور آسمانوں اور زمینوں کے درمیان جو کچھ ہے تحت الثری تك سب داخل ہےمولی علی فرماتے ہیں کہ اس سب کو میرا علم محیط ہے ان میں جو شے مجھ سے پوچھو میں بتادوں گارضی اﷲ تعالی عنہ ۔
(۸۰)امام ابن الانباری کتاب المصاحف میں اور امام ابو عمر بن عبدالبرکتاب العلم میں ابوالطفیل عامر بن واثلہ رضی اﷲ تعالی عنہما سے راوی:
قال شھدت علی بن ابی طالب یخطب فقال فی خطبتہ سلونی فواﷲ لاتسألونی عن شیئ الی یوم القیمۃ الا حد تثکم بہ ۔ میں مولی علی کرم اﷲ تعالی وجہہکے خطبہ میں حاضر تھا امیر المومنین نے خطبہ میں ارشاد فرمایا مجھ سے دریافت کرو خدا کی قسم قیامت تك جو چیز ہونے والی ہے مجھ سے پوچھو میں بتادوں گا۔
امیر المومنین فرماتے ہیں:کہ میرا علم قیامت تك کی تمام کائنات کو حاوی ہےیہ دونوں حدیثیں امام جلیلجلال الملۃ والدین سیوطی نے جامع کبیر میں ذکر فرمائیں۔
(۸۱ تا ۸۴)ابن قتیبہ پھر ابن خلکان پھر امام دمیری پھر علامہ زرقانی شرح مواہب اللدنیا میں فرماتے ہیں:
الجفر جلد کتبہ جعفر الصادق کتب فیہ لاھل البیت کل ما یحتاجون الی علمہ و کل مایکون الی یوم القیمۃ ۔ جفر ایك جلد ہے کہ امام جعفر صادق رضی اﷲ تعالی عنہ نے لکھی اور اس میں اہل بیت کرام کے لیے جس چیز کے علم کی انہیں حاجت پڑے اور جو کچھ قیامت تك ہونے والا ہے سب تحریر فرمادے۔
(۸۵)علامہ سید شریف رحمۃ اﷲ تعالی علیہ شرح مواقف میں فرماتے ہیں:
الجفر والجامعۃ کتابان لعلی رضی اﷲ تعالی یعنی جفر و جامعہ امیر المومنین علی کرم اﷲ تعالی وجہہ الکریم
حوالہ / References
جامع بیان العلم وفضلہ باب فی ابتداء العالم جلساء بالفائدۃ و قولہ سلونی دارالفکر بیروت ۱ /۱۳۸
حیوۃ الحیوان الکبرٰی تحت لفظ الجفرۃ مصطفٰی البابی مصر ۱ /۲۷۹،وفیات الاعیان ترجمہ عبدالمومن صاحب المغرب ۴۰۸ دارالثقافت بیروت ۳ /۲۴۰
حیوۃ الحیوان الکبرٰی تحت لفظ الجفرۃ مصطفٰی البابی مصر ۱ /۲۷۹،وفیات الاعیان ترجمہ عبدالمومن صاحب المغرب ۴۰۸ دارالثقافت بیروت ۳ /۲۴۰
عنہ قد ذکر فیہما علی طریقۃ علم الحرو ف الحوادث التی تحدث الی انقراض العالم وکانت الائمۃ المعروفون من اولادہ یعر فونہما ویحکمون بھما وفی کتاب قبول العھدالذی کتبہ علی بن موسی رضی اﷲ تعالی عنہما الی المامون انك قد عرفت من حقوقنا ما لم یعرفہ اباؤك فقلبت منك عھدك الا ان الجفروالجامعۃ یدلان علی انہ لایتم ولمشائخ المغاربۃ نصیب من علم الحروف ینتسبون فیہ الی اھل البیت ورأ یت انا بالشام نظما اشیرفیہ بالرموز الی احوال ملوك مصرو سمعت انہ مستخرج من ذینك الکتابین اھ ۔ کی دو۲ کتابیں ہیں بے شك امیر المومنین نے ان دونوں میں علم الحروف کی روش پر ختم دنیا تك جتنے وقائع ہونے والے ہیں سب ذکر فرمادیئے ہیں اور ان کی اولاد امجاد سےائمہ مشہورین رضی اﷲ تعالی عنہم ان کتابوں کے رموز پہچانتے اور ان سے احکام لگاتے تھے۔اور مامون رشید نے جب حضرت امام علی رضا ابن امام موسی کاظم رضی اﷲ تعالی عنہما کو اپنے بعد و لیعہد کیا اور خلافت نامہ لکھ دیا امام رضی اﷲ تعالی عنہ نے اس کے قبول میں فرمان بنام مامون رشید تحریر فرمایا اس میں ارشاد فرماتے ہیں کہ تم نے ہمارے حق پہنچانے جو تمہارے باپ دادا نے نہ پہچانے اس لیے میں تمہاری ولی عہدی قبول کرتا ہوں۔مگر جفر وجامعہ بتارہی ہیں کہ یہ کام پورا نہ ہوگا۔(چنانچہ ایسا ہی ہوا اور امام رضی اﷲ تعالی عنہ نے مامون رشید کی زندگی ہی میں شہادت پائی) اور مشائخ مغرب اس علم سے حضہ اور اس میں اہل بیت کرام رضی اﷲ تعالی عنہم سے اپنے انتساب کا سلسلہ رکھتے ہیںا ور میں نے ملك شام میں ایك نظر دیکھی جس میں شاہان مصر کے احوال کی طرف رمزوں میں اشارہ کیا ہے میں نے سنا کہ وہ احکام انہی دونوں کتابوں سے نکالے ہیں۔انتہی
اس علم علوی شریف مبارك کی بحث اور اس کے حکم شرعی کی جلیل تحقیق بحمد ﷲ تعالی فقیر کے رسالہ مجتلی العروس و مراد النفوس۱۳۲۸ھ میں ہے جو اس کے غیر میں نہ ملے گی۔
(۸۶)حضور پرنور سیدنا غوث الاعظم رضی اﷲ تعالی عنہ فرماتے ہیں:
وعزۃ ربی ان السعداء والاشقیاء لیعرضون علی عینی فی اللوح عزت الہی کی قسم بے شك سب سعید و شقی میرے سامنے پیش کیے جاتے ہیں میری آنکھ لوح محفوظ
اس علم علوی شریف مبارك کی بحث اور اس کے حکم شرعی کی جلیل تحقیق بحمد ﷲ تعالی فقیر کے رسالہ مجتلی العروس و مراد النفوس۱۳۲۸ھ میں ہے جو اس کے غیر میں نہ ملے گی۔
(۸۶)حضور پرنور سیدنا غوث الاعظم رضی اﷲ تعالی عنہ فرماتے ہیں:
وعزۃ ربی ان السعداء والاشقیاء لیعرضون علی عینی فی اللوح عزت الہی کی قسم بے شك سب سعید و شقی میرے سامنے پیش کیے جاتے ہیں میری آنکھ لوح محفوظ
حوالہ / References
شرح مواقف النوع الثانی المقصد الثانی منشورات شریف الرضی قم ایران ۶ /۲۲
المحفوظ ۔ میں ہے۔
(۸۷)اور فرماتے ہیں رضی اﷲ تعالی عنہ:
لولالجام الشریعۃ علی لسانی لا خبرتکم بما تاکلون و ماتدخرون فی بیوتکم انتم بین یدی کا لقواریر یری مافی بواطنکم وظواھر کم ۔ اگر میری زبان پر شریعت کی روك نہ ہوتی تو میں تمہیں خبر دیتا جو کچھ تم کھاتے اور جو کچھ اپنے گھروں میں اندوختہ کرکے رکھتے ہو تم میرے سامنے شیشہ کی مانند ہومیں تمہارا ظاہر و باطن سب دیکھ رہا ہوں۔
(۸۸)اور فرماتے ہیں رضی اﷲ تعالی عنہ:
قلبی مطلع علی اسرارالخلیفۃ ناظرا لی وجوہ القلوب قد صفاہ الحق عن دنس رویۃسواہ حتی صارلوحا ینقل الیہ مافی اللوح المحفوظ وسلم علیہ ازمۃ امور اھل زمانہ وصرفہ فی عطائھم ومنعھم ۔ میرا دل اسرار مخلوقات پر مطلع ہے سب دلوں کو دیکھ رہا ہے اﷲ تعالی نے اسے روایت ماسوا کے میل سے صاف کردیا کہ ایك لوح ہوگیا جس کی طرف وہ منتقل ہوتا ہےجو لوح محفوظ میں لکھا ہے۔(اﷲ تعالی نے)تمام اہل زمانہ کے کاموں کی باگیں اسے سپرد فرمائیں اور اجازت فرمائی کہ جسے چاہیں عطا کریںجسے چاہیں منع فرمادیں۔
(۸۹ و ۹۰ و ۹۱)والحمدﷲ رب العالمین یہ اور ان کے مثل اور کلمات قدسیہ اجلہ اکابرائمہ مثل امام اوحد سیدی نور الحق والدین ابوالحسن علی شطنوفی صاحب کتاب بہجۃ الاسرار وامام اجل سیدی عبداﷲ بن اسعد یا فعی شافعی صاحب خلاصۃ المفاخر وغیرہما نے حضور سے بہ اسانید صحیحہ روایت فرمائےاور علی قاری وغیرہ علماء نے نزہتہ الخاطر وغیرہا کتب مناقب شریفہ میں ذکر کیے۔
(۹۲)عارف کبیر احد الاقطاب الاربعہ سیدنا حضرت سید احمد رفاعی رضی اﷲ تعالی عنہ ترقیات کامل کے بارے میں فرماتے ہیں:
(۸۷)اور فرماتے ہیں رضی اﷲ تعالی عنہ:
لولالجام الشریعۃ علی لسانی لا خبرتکم بما تاکلون و ماتدخرون فی بیوتکم انتم بین یدی کا لقواریر یری مافی بواطنکم وظواھر کم ۔ اگر میری زبان پر شریعت کی روك نہ ہوتی تو میں تمہیں خبر دیتا جو کچھ تم کھاتے اور جو کچھ اپنے گھروں میں اندوختہ کرکے رکھتے ہو تم میرے سامنے شیشہ کی مانند ہومیں تمہارا ظاہر و باطن سب دیکھ رہا ہوں۔
(۸۸)اور فرماتے ہیں رضی اﷲ تعالی عنہ:
قلبی مطلع علی اسرارالخلیفۃ ناظرا لی وجوہ القلوب قد صفاہ الحق عن دنس رویۃسواہ حتی صارلوحا ینقل الیہ مافی اللوح المحفوظ وسلم علیہ ازمۃ امور اھل زمانہ وصرفہ فی عطائھم ومنعھم ۔ میرا دل اسرار مخلوقات پر مطلع ہے سب دلوں کو دیکھ رہا ہے اﷲ تعالی نے اسے روایت ماسوا کے میل سے صاف کردیا کہ ایك لوح ہوگیا جس کی طرف وہ منتقل ہوتا ہےجو لوح محفوظ میں لکھا ہے۔(اﷲ تعالی نے)تمام اہل زمانہ کے کاموں کی باگیں اسے سپرد فرمائیں اور اجازت فرمائی کہ جسے چاہیں عطا کریںجسے چاہیں منع فرمادیں۔
(۸۹ و ۹۰ و ۹۱)والحمدﷲ رب العالمین یہ اور ان کے مثل اور کلمات قدسیہ اجلہ اکابرائمہ مثل امام اوحد سیدی نور الحق والدین ابوالحسن علی شطنوفی صاحب کتاب بہجۃ الاسرار وامام اجل سیدی عبداﷲ بن اسعد یا فعی شافعی صاحب خلاصۃ المفاخر وغیرہما نے حضور سے بہ اسانید صحیحہ روایت فرمائےاور علی قاری وغیرہ علماء نے نزہتہ الخاطر وغیرہا کتب مناقب شریفہ میں ذکر کیے۔
(۹۲)عارف کبیر احد الاقطاب الاربعہ سیدنا حضرت سید احمد رفاعی رضی اﷲ تعالی عنہ ترقیات کامل کے بارے میں فرماتے ہیں:
حوالہ / References
بہجۃ الاسرار ذکر کلمات اخبر بہا عن نفسہ محدثابنعمۃ ربہ دارالکتب العلمیہ بیروت ص ۵۰
بہجۃ الاسرار ذکر کلمات اخبر بہا عن نفسہ محدثابنعمۃ ربہ دارالکتب العلمیہ بیروت ص ۵۵
بہجۃ الاسرار ذکر کلمات اخبر بہا عن نفسہ محدثابنعمۃ ربہ دارالکتب العلمیہ بیروت ص ۵۰
بہجۃ الاسرار ذکر کلمات اخبر بہا عن نفسہ محدثابنعمۃ ربہ دارالکتب العلمیہ بیروت ص ۵۵
بہجۃ الاسرار ذکر کلمات اخبر بہا عن نفسہ محدثابنعمۃ ربہ دارالکتب العلمیہ بیروت ص ۵۰
اطلعہ علی غیبہ حتی لا تنبت شجرۃ ولا تخضرورقۃ الابنظرہ ۔ اﷲ تعالی اسے اپنے غیب پر مطلع کرتا ہے یہاں تك کہ کوئی پیڑ نہیں اگتا اور کوئی پتہ نہیں ہریاتا مگر اس کی نظر کے سامنے۔
(۹۳)عارف باﷲ حضرت سیدی رسلان دمشقی رضی ا ﷲ تعالی عنہ فرماتے ہیں:
العارف من جعل اﷲ تعالی فی قلبہ لوحا منقوشا باسرار الموجودات و بامدادہ بانوار حق الیقین یدرك حقائق تلك السطور علی اختلاف اطوار ھا و یدرك اسرار الافعال فلا تتحرك حرکۃ ظاھرۃ ولا باطنۃ فی الملك والملکوت الا ویکشف اﷲ تعالی عن بصیرۃ ایمانہ و عین عیانہ فیشھدھا علما وکشفا ۔ عارف وہ ہے جس کے دل میں اﷲ تعالی نے ایك لوح رکھی ہے کہ جملہ اسرار موجودات اس میں منقوش ہیں اور حق الیقین کے نوروں سے اسے مدد دی کہ وہ ان لکھی ہوئی چیزوں کی حقیقتیں خوب جانتا ہے باآنکہ انکے طور کس قدر مختلف ہیں اور افعال کے راز جانتا ہے تو ظاہری یا باطنی کوئی جنبش ملك یا ملکوت میں واقع نہیں ہوتیمگر یہ کہ اﷲ تعالی اس کے ایمان کی نگاہ اور اس کے معاینہ کی آنکھ کھول دیتا ہے تو عارف اسے دیکھتا ہے اور اپنے علم وکشف سے جانتا ہے۔
(۹۴)(مذکور ہ بالا)یہ دونوں کلام کریم سیدی امام عبدالوہاب شعرانی قدس سرہ الربانی نے طبقات کبری میں نقل کیے۔
(۹۵)سلسلہ عالیہ نقشبندیہ کے امام حضرت عزیزان رضی اﷲ تعالی عنہ فرمایا کرتے:
زمین در نظر ایں طائفہ چو سفرہ ایست ۔ اس گروہ کی نظر میں زمین دستر خوان کی طرح ہے۔(ت)
(۹۶)حضرت خواجہ بہاؤ الحق والدین نقشبندی رضی اﷲ تعالی عنہ یہ کلام پاك نقل کرکے فرماتے:
ومامی گوئیم چوں روئے ناخنے ست ہیچ چیز از نظر ایشاں غائب نیست ۔ ہم کہتے ہیں کہ ناخن کی سطح کی طرح ہےکوئی چیز ان کی نظر سے غائب نہیں۔
(۹۳)عارف باﷲ حضرت سیدی رسلان دمشقی رضی ا ﷲ تعالی عنہ فرماتے ہیں:
العارف من جعل اﷲ تعالی فی قلبہ لوحا منقوشا باسرار الموجودات و بامدادہ بانوار حق الیقین یدرك حقائق تلك السطور علی اختلاف اطوار ھا و یدرك اسرار الافعال فلا تتحرك حرکۃ ظاھرۃ ولا باطنۃ فی الملك والملکوت الا ویکشف اﷲ تعالی عن بصیرۃ ایمانہ و عین عیانہ فیشھدھا علما وکشفا ۔ عارف وہ ہے جس کے دل میں اﷲ تعالی نے ایك لوح رکھی ہے کہ جملہ اسرار موجودات اس میں منقوش ہیں اور حق الیقین کے نوروں سے اسے مدد دی کہ وہ ان لکھی ہوئی چیزوں کی حقیقتیں خوب جانتا ہے باآنکہ انکے طور کس قدر مختلف ہیں اور افعال کے راز جانتا ہے تو ظاہری یا باطنی کوئی جنبش ملك یا ملکوت میں واقع نہیں ہوتیمگر یہ کہ اﷲ تعالی اس کے ایمان کی نگاہ اور اس کے معاینہ کی آنکھ کھول دیتا ہے تو عارف اسے دیکھتا ہے اور اپنے علم وکشف سے جانتا ہے۔
(۹۴)(مذکور ہ بالا)یہ دونوں کلام کریم سیدی امام عبدالوہاب شعرانی قدس سرہ الربانی نے طبقات کبری میں نقل کیے۔
(۹۵)سلسلہ عالیہ نقشبندیہ کے امام حضرت عزیزان رضی اﷲ تعالی عنہ فرمایا کرتے:
زمین در نظر ایں طائفہ چو سفرہ ایست ۔ اس گروہ کی نظر میں زمین دستر خوان کی طرح ہے۔(ت)
(۹۶)حضرت خواجہ بہاؤ الحق والدین نقشبندی رضی اﷲ تعالی عنہ یہ کلام پاك نقل کرکے فرماتے:
ومامی گوئیم چوں روئے ناخنے ست ہیچ چیز از نظر ایشاں غائب نیست ۔ ہم کہتے ہیں کہ ناخن کی سطح کی طرح ہےکوئی چیز ان کی نظر سے غائب نہیں۔
حوالہ / References
قول سیّداحمد رفاعی
الطبقات الکبرٰی ترجمہ ۲۷۴ رسلان الدمشقی دارالفکر بیروت ص ۲۱۴
نفحات الانس ترجمہ خواجہ بہاءُ الحق والدّین النقشبندی انتشارات کتاب فروشی ص ۳۸۷
نفحات الانس ترجمہ خواجہ بہاءُ الحق والدّین النقشبندی انتشارات کتا ب فروشی ص ۸۸۔۳۸۷
الطبقات الکبرٰی ترجمہ ۲۷۴ رسلان الدمشقی دارالفکر بیروت ص ۲۱۴
نفحات الانس ترجمہ خواجہ بہاءُ الحق والدّین النقشبندی انتشارات کتاب فروشی ص ۳۸۷
نفحات الانس ترجمہ خواجہ بہاءُ الحق والدّین النقشبندی انتشارات کتا ب فروشی ص ۸۸۔۳۸۷
گنگوہی صاحب ! اب اپنے شیطانی شرك براہین کی خبر لیجئے۔
(۹۷)یہ دونوں ارشاد مبارك حضرت مولینا جامی قدس سرہ السامی نے نفحات الانس میں ذکر کیے۔
(۹۸)امام اجل سیدی علی وفارضی اﷲ تعالی عنہ فرماتے ہیں:
لیس الرجل من یقیدہ العرش وما حواہ من الا فلاك والجنۃ والناروانما الرجل من نقذ بصرہ الی خارج ھذاالوجود کلہ وھناك یعرف قدر عظمۃ موجوہ سبحنہ و تعالی ۔ مرد وہ نہیں جسے عرش اور جو کچھ اس کے احاطہ میں ہے آسمان و جنت و ناریہی چیزیں محدود مقید کرلیںمرد وہ ہے جس کی نگاہ اس تمام عالم کے پار گزر جائے وہاں اسے موجد عالم سبحنہ و تعالی کی عظمت کی قدر کھلے گی۔
(۹۹)یہ پاکیزہ کلام کتاب الیواقیت والجواھر فی عقائد الاکابر میں نقل فرمایا۔
(۱۰۰)ابریز شریف میں ہے:
سمعتہ رضی اﷲ تعالی عنہ احیانا یقول ما السموت السبع والارضون السبع فی نظر العبدالمؤمن الا کحلقۃ ملقاۃ فی فلاۃ من الارض ۔ یعنی میں نے حضرت سید رضی اﷲ تعالی عنہ سے بارہا سنا کہ فرماتے ساتویں آسمان اور ساتویں زمینیں مومن کامل کی وسعت نگاہ میں ایسے ہیں جیسے ایك میدان لق و دق میں ایك چھلا پڑا ہوا۔
(۱۰۱)امام شعرانی کتاب الجواہر میں حضرت سیدی علی خواص رضی اﷲ تعالی عنہ سے راوی:
الکامل قلبہ مراۃ للوجودالعلوی و السفلی کلہ علی التفصیل ۔ کامل کا دل تمام عالم علوی و سفلی کا بروجہ تفصیل آئینہ ہے۔
(۱۰۲)امام رازی تفسیر کبیر میں رد معتزلہ کے لیے حقیقت کرامات اولیاء پر دلائل قائم کرنے میں فرماتے ہیں:
الحجۃ السادسۃ لا شك ان المتولی للافعال ھوالروح لاالبدن ولہذا نری ان کل من کان اکثر علما باحوال عالم الغیب یعنی اہل سنت کی چھٹی دلیل یہ ہے کہ بلاشبہہ افعال کی متولی تو روح ہے نہ کہ بدناسی لیے ہم دیکھتے ہیں کہ جسے احوال عالم غیب کا علم زیادہ ہے اس کا
(۹۷)یہ دونوں ارشاد مبارك حضرت مولینا جامی قدس سرہ السامی نے نفحات الانس میں ذکر کیے۔
(۹۸)امام اجل سیدی علی وفارضی اﷲ تعالی عنہ فرماتے ہیں:
لیس الرجل من یقیدہ العرش وما حواہ من الا فلاك والجنۃ والناروانما الرجل من نقذ بصرہ الی خارج ھذاالوجود کلہ وھناك یعرف قدر عظمۃ موجوہ سبحنہ و تعالی ۔ مرد وہ نہیں جسے عرش اور جو کچھ اس کے احاطہ میں ہے آسمان و جنت و ناریہی چیزیں محدود مقید کرلیںمرد وہ ہے جس کی نگاہ اس تمام عالم کے پار گزر جائے وہاں اسے موجد عالم سبحنہ و تعالی کی عظمت کی قدر کھلے گی۔
(۹۹)یہ پاکیزہ کلام کتاب الیواقیت والجواھر فی عقائد الاکابر میں نقل فرمایا۔
(۱۰۰)ابریز شریف میں ہے:
سمعتہ رضی اﷲ تعالی عنہ احیانا یقول ما السموت السبع والارضون السبع فی نظر العبدالمؤمن الا کحلقۃ ملقاۃ فی فلاۃ من الارض ۔ یعنی میں نے حضرت سید رضی اﷲ تعالی عنہ سے بارہا سنا کہ فرماتے ساتویں آسمان اور ساتویں زمینیں مومن کامل کی وسعت نگاہ میں ایسے ہیں جیسے ایك میدان لق و دق میں ایك چھلا پڑا ہوا۔
(۱۰۱)امام شعرانی کتاب الجواہر میں حضرت سیدی علی خواص رضی اﷲ تعالی عنہ سے راوی:
الکامل قلبہ مراۃ للوجودالعلوی و السفلی کلہ علی التفصیل ۔ کامل کا دل تمام عالم علوی و سفلی کا بروجہ تفصیل آئینہ ہے۔
(۱۰۲)امام رازی تفسیر کبیر میں رد معتزلہ کے لیے حقیقت کرامات اولیاء پر دلائل قائم کرنے میں فرماتے ہیں:
الحجۃ السادسۃ لا شك ان المتولی للافعال ھوالروح لاالبدن ولہذا نری ان کل من کان اکثر علما باحوال عالم الغیب یعنی اہل سنت کی چھٹی دلیل یہ ہے کہ بلاشبہہ افعال کی متولی تو روح ہے نہ کہ بدناسی لیے ہم دیکھتے ہیں کہ جسے احوال عالم غیب کا علم زیادہ ہے اس کا
حوالہ / References
الیواقیت والجواھر البحث الرابع والثلاثون دار احیاء التراث العربی بیروت ۲/ ۳۷۰
الابریز الباب السادس مصطفی البابی مصر ص۲۴۲
الجواھر والدرر علی ھامش الابریز الباب السادس مصطفی البابی مصر ص۲۲۳
الابریز الباب السادس مصطفی البابی مصر ص۲۴۲
الجواھر والدرر علی ھامش الابریز الباب السادس مصطفی البابی مصر ص۲۲۳
کان اقوی قلبا ولہذا قال علی کرم اﷲ تعالی وجہہ و اﷲ ماقلعت باب خیبر بقوۃ جسدانیۃ ولکن بقوۃ ربانیۃ وکذلك العبداذا واظب علی الطاعات بلغ الی المقام الذی یقول اﷲ تعالی کنت لہ سمعا وبصرافاذا صار نور اجلال اﷲ تعالی سمعا لہ سمع القریب و البعید واذاصارذلك النور بصرا لہ رای القریب و البعید واذا صارذلك النوریدا لہ قدر علی التصرف فی الصعب و السہل والبعید والقریب ۔ دل زیادہ زبردست ہوتا ہےولہذا مولی علی نے فرمایا:خدا کی قسم میں نے خیبر کا دروازہ جسم کی قوت سے نہ اکھیڑا بلکہ ربانی طاقت سےاسی طرح بندہ جب ہمیشہ طاعت میں لگا رہتا ہے تو اس مقام تك پہنچتا ہے جس کی نسبت رب عزوجل فرماتا ہے کہ وہاں میں خود اس کے کان آنکھ ہوجاتا ہوں تو جب اجلال الہی کا نور اس کا کان ہوجاتا ہے بندہ نزدیكدور سب سنتا ہے اور جب وہ نور اس کی آنکھ ہوجاتا ہے بندہ نزدیك و دورسب دیکھتا ہے اور جب وہ نور اس کا ہاتھ ہوجاتا ہے بندہ سہل و دشوار و نزدیك و دور میں تصرفات کرتا ہے۔
(۱۰۳)حضرت مولوی معنوی قدس سرہ العلوی دفتر ثالث مثنوی شریف میں موزہ و عقاب کی حدیث مستطاب میں فرماتے ہیں حضور پر نور سید المرسلین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:
گرچہ ہر غیبے خدا مارا نمود دل دراں لحظہ بخود مشغول بود
(اگرچہ ہر غیب خدا نے ہم کو دکھایا ہے لیکن دل اس وقت اپنی ذات میں مشغول تھا۔ت)
(۱۰۴)مولانا بحرالعلوم ملك العلماء قدس سرہشرح میں فرماتے ہیں:
محمد رضا گفتہ اے فکر تن نداشت و از جہت استغراق بعضی مغیبات برانبیاء مستور شوند انتہیمعنی بیت ایں چنیں ست کہ دل بخود مشغول بود کہ دل نفس دل رامشاہدہ می کرد و ذات باحدیث جمیع اسماء دردل ست پس بسبب یعنی محمد رضا کہتا ہے دل کو بدن کی فکر نہ تھی اور استغراق کی وجہ سے بعض غیوب انبیاء سے چھپ جاتے ہیں انتہیشعر کے معنی یہ ہیں کہ دل ذات دل کا مشاہدہ کررہا تھا اور ذات احدیث تمام اسماء کے ساتھ دل میں ہےپس اس
(۱۰۳)حضرت مولوی معنوی قدس سرہ العلوی دفتر ثالث مثنوی شریف میں موزہ و عقاب کی حدیث مستطاب میں فرماتے ہیں حضور پر نور سید المرسلین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:
گرچہ ہر غیبے خدا مارا نمود دل دراں لحظہ بخود مشغول بود
(اگرچہ ہر غیب خدا نے ہم کو دکھایا ہے لیکن دل اس وقت اپنی ذات میں مشغول تھا۔ت)
(۱۰۴)مولانا بحرالعلوم ملك العلماء قدس سرہشرح میں فرماتے ہیں:
محمد رضا گفتہ اے فکر تن نداشت و از جہت استغراق بعضی مغیبات برانبیاء مستور شوند انتہیمعنی بیت ایں چنیں ست کہ دل بخود مشغول بود کہ دل نفس دل رامشاہدہ می کرد و ذات باحدیث جمیع اسماء دردل ست پس بسبب یعنی محمد رضا کہتا ہے دل کو بدن کی فکر نہ تھی اور استغراق کی وجہ سے بعض غیوب انبیاء سے چھپ جاتے ہیں انتہیشعر کے معنی یہ ہیں کہ دل ذات دل کا مشاہدہ کررہا تھا اور ذات احدیث تمام اسماء کے ساتھ دل میں ہےپس اس
حوالہ / References
مفاتیح الغیب(تفسیر کبیر)تحت آیۃ ۱۸/ ۹ دار الکتب العلمیہ بیروت ۲۱/ ۷۷
مثنوی معنوی ربودن عقب موزہ رسول خدا صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نورانی کتب خانہ پشاور دفتر سوم ص ۸۱
مثنوی معنوی ربودن عقب موزہ رسول خدا صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نورانی کتب خانہ پشاور دفتر سوم ص ۸۱
استغراق دریں مشاہدات توجہ بسوئے اکوان نبود پس بعض اکوان مغفول عنہ ماند وایں وجہ وجیہ است ۔ مشاہدہ میں مشغول ہونے کی وجہ سے توجہ عالم کی طرف نہ تھی اس لیے بعض حالات پوشیدہ رہے یہ بہترین توجیہ ہے۔(ت)
(۱۰۵ و ۱۰۶ و ۱۰۷ و ۱۰۸)امام قرطبی شارح صحیح مسلمپھر امام عینی بدر محمودپھر امام احمد قسطلانی شارح صحیح بخاریپھر علامہ علی قاری مرقاۃ شرح مشکوۃ حدیث وخمس لایعلمھن الا اﷲ کی شرح میں فرماتے ہیں۔
فمن ادعی علم شیئ منہا غیر مسند الی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کان کاذبا دعواہ ۔ یعنی جو کوئی قیامت و غیرہ خمس سے کسی شے کے علم کا ادعا کرے اور اسے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی طرف نسبت نہ کرے کہ حضور کے بتائے سے مجھے یہ علم آیاوہ اپنے دعوے میں جھوٹا ہے۔
صاف معلوم ہوا کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ان پانچوں غیبوں کو جانتے ہیں اور اس میں سے جو چاہیں اپنے جس غلام کو چاہیں بتاسکتے ہیںاور جو حضور کی تعلیم سے ان کے علم کا دعوی کرے اس کی تکذیب نہ ہوگی۔
(۱۰۹)روض النضیر شرح جامع صغیر امام کبیر جلال الملتہ والدین سیوطی سے اس حدیث کے متعلق ہے۔
اما قولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم الا ھو ففسر بانہ لا یعلمہا احد بذاتہ و من ذاتہ الا ھو لکن قد تعلم باعلام اﷲ تعالی فان ثمہ من یعلمھا وقد وجدنا ذلك لغیر واحد کما راینا جماعتہ نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے یہ جو فرمایا کہ ان پانچویں غیبوں کو اﷲ کے سوا کوئی نہیں جانتا اس کے یہ معنی ہیں کہ بذات خود اپنی ذات سے انہیں اﷲ ہی جانتا ہے مگر خدا کے بتائے سے کبھی ان کو بھی ان کا علم ملتا ہے بے شك یہاں ایسے موجود ہیں جو ان غیبوں کو جانتے ہیں اور ہم نے متعدد اشخاص
(۱۰۵ و ۱۰۶ و ۱۰۷ و ۱۰۸)امام قرطبی شارح صحیح مسلمپھر امام عینی بدر محمودپھر امام احمد قسطلانی شارح صحیح بخاریپھر علامہ علی قاری مرقاۃ شرح مشکوۃ حدیث وخمس لایعلمھن الا اﷲ کی شرح میں فرماتے ہیں۔
فمن ادعی علم شیئ منہا غیر مسند الی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کان کاذبا دعواہ ۔ یعنی جو کوئی قیامت و غیرہ خمس سے کسی شے کے علم کا ادعا کرے اور اسے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی طرف نسبت نہ کرے کہ حضور کے بتائے سے مجھے یہ علم آیاوہ اپنے دعوے میں جھوٹا ہے۔
صاف معلوم ہوا کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ان پانچوں غیبوں کو جانتے ہیں اور اس میں سے جو چاہیں اپنے جس غلام کو چاہیں بتاسکتے ہیںاور جو حضور کی تعلیم سے ان کے علم کا دعوی کرے اس کی تکذیب نہ ہوگی۔
(۱۰۹)روض النضیر شرح جامع صغیر امام کبیر جلال الملتہ والدین سیوطی سے اس حدیث کے متعلق ہے۔
اما قولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم الا ھو ففسر بانہ لا یعلمہا احد بذاتہ و من ذاتہ الا ھو لکن قد تعلم باعلام اﷲ تعالی فان ثمہ من یعلمھا وقد وجدنا ذلك لغیر واحد کما راینا جماعتہ نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے یہ جو فرمایا کہ ان پانچویں غیبوں کو اﷲ کے سوا کوئی نہیں جانتا اس کے یہ معنی ہیں کہ بذات خود اپنی ذات سے انہیں اﷲ ہی جانتا ہے مگر خدا کے بتائے سے کبھی ان کو بھی ان کا علم ملتا ہے بے شك یہاں ایسے موجود ہیں جو ان غیبوں کو جانتے ہیں اور ہم نے متعدد اشخاص
حوالہ / References
عمدۃ القاری شرح البخاری کتاب الایمان باب سوال جبریل النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ادرۃ طباعۃ المنیریۃ بیروت ۱/ ۲۹۰،ارشاد الساری شرح البخاری کتاب الایمان باب سوال جبریل النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم دارالکتاب العربی بیروت ۱/ ۱۴۱
علمو امتی یموتون و علموا مافی الارحام حال حمل المرأۃ وقبلہ ۔ ان کے جاننے والے پائے ایك جماعت کو ہم نے دیکھا کہ ان کو معلوم تھا کب مریں گے اور انہوں نے عورت کے حمل کے زمانے میں بلکہ حمل سے بھی پہلے جان لیا کہ پیٹ میں کیا ہے۔
(۱۱۰)شیخ محقق قدس سرہلمعات شرح مشکوۃ میں اسی حدیث کے ماتحت فرماتے ہیں:
المراد لا تعلم بدون تعلیم اﷲ تعالی منہ ۔ مراد یہ ہے کہ قیامت وغیرہ غیب بے خدا کے بتائے معلوم نہیں ہوتے۔
(۱۱۱)علامہ ہیجوری شرح بردہ شریف میں فرماتے ہیں:
لم یخرج صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم من الدنیا الابعد ان اعلمہ اﷲ تعالی بھذہ الامور ای الخمسہ ۔ نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم دنیا سے تشریف نہ لے گئے مگر بعد اس کے کہ اﷲ تعالی نے حضور کو ان پانچ غیبوں کا علم دے دیا۔
(۱۱۲)علامہ شنوانی نے جمع النہایۃ میں اسے بطور حدیث بیان کیا کہ:
قدورد ان اﷲ تعالی لم یخرج النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم حتی اطلعہ علی کل شیئ ۔ بے شك وارد ہوا کہ اﷲ تعالی نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو دنیا سے نہ لے گیا جب تك کہ حضور کو تمام اشیاء کا علم عطا نہ فرمایا۔
(۱۱۳)حافظ الحدیث سیدی احمد مالکی غوث الزمان سید شریف عبدالعزیز مسعود حسنی رضی اﷲ تعالی عنہ سے راوی:
ھو صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لا یخفی علیہ شیئ من الخمس المذکورۃ فی الایۃ لشریفۃ وکیف یخفی علیہ ذلك والاقطاب السبعۃ من امتہ یعنی قیامت کب آئے گیمینہ کب اور کہاں اور کتنا برسے گا مادہ کے پیٹ میں کیا ہےکل کیا ہوگافلاں کہاں مرے گایہ پانچوں غیب جو آیہ کریمہ میں مذکور ہیں ان میں سے کوئی چیز رسول اﷲ صلی اﷲ
(۱۱۰)شیخ محقق قدس سرہلمعات شرح مشکوۃ میں اسی حدیث کے ماتحت فرماتے ہیں:
المراد لا تعلم بدون تعلیم اﷲ تعالی منہ ۔ مراد یہ ہے کہ قیامت وغیرہ غیب بے خدا کے بتائے معلوم نہیں ہوتے۔
(۱۱۱)علامہ ہیجوری شرح بردہ شریف میں فرماتے ہیں:
لم یخرج صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم من الدنیا الابعد ان اعلمہ اﷲ تعالی بھذہ الامور ای الخمسہ ۔ نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم دنیا سے تشریف نہ لے گئے مگر بعد اس کے کہ اﷲ تعالی نے حضور کو ان پانچ غیبوں کا علم دے دیا۔
(۱۱۲)علامہ شنوانی نے جمع النہایۃ میں اسے بطور حدیث بیان کیا کہ:
قدورد ان اﷲ تعالی لم یخرج النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم حتی اطلعہ علی کل شیئ ۔ بے شك وارد ہوا کہ اﷲ تعالی نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو دنیا سے نہ لے گیا جب تك کہ حضور کو تمام اشیاء کا علم عطا نہ فرمایا۔
(۱۱۳)حافظ الحدیث سیدی احمد مالکی غوث الزمان سید شریف عبدالعزیز مسعود حسنی رضی اﷲ تعالی عنہ سے راوی:
ھو صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لا یخفی علیہ شیئ من الخمس المذکورۃ فی الایۃ لشریفۃ وکیف یخفی علیہ ذلك والاقطاب السبعۃ من امتہ یعنی قیامت کب آئے گیمینہ کب اور کہاں اور کتنا برسے گا مادہ کے پیٹ میں کیا ہےکل کیا ہوگافلاں کہاں مرے گایہ پانچوں غیب جو آیہ کریمہ میں مذکور ہیں ان میں سے کوئی چیز رسول اﷲ صلی اﷲ
حوالہ / References
روض النضیر شرح الجامع الصغیر
لمعات التنقیح شرح مشکٰوۃ المصابیح تحت حدیث ۳ مکتبۃ المعارف العلمیۃ لاھور ۱/ ۷۳
حاشیۃ الباجوری علی البردۃ تحت البیت فان من جودك الدنیا الخ مصطفی البابی مصر ص۹۲
لمعات التنقیح شرح مشکٰوۃ المصابیح تحت حدیث ۳ مکتبۃ المعارف العلمیۃ لاھور ۱/ ۷۳
حاشیۃ الباجوری علی البردۃ تحت البیت فان من جودك الدنیا الخ مصطفی البابی مصر ص۹۲
الشریفۃ یعلمونہا وھم دون الغوث فکیف بسید الاولین والآخرین الذی ھو سبب کل شیئ و منہ کل شیئ ۔ تعالی علیہ وسلم پر مخفی نہیںاور کیونکر یہ چیزیں حضور سے پوشیدہ ہیںحالانکہ حضور کی امت سے ساتوں قطب ان کو جانتے ہیں اور ان کا مرتبہ غوث کے نیچے ہےغوث کا کیا کہنا پھران کا کیا پوچھنا۔جو سب اگلوں پچھلوں سارے جہان کے سردار اور ہر چیز کے سبب ہیں اور ہر شے انہیں سے ہے صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔
(۱۱۴)نیز ابریز عزیز میں فرمایا:
قلت للشیخ رضی اﷲ تعالی عنہ فان علماء الظاھر من المحدیثین وغیرھم اختلفوا فی النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ھل کان یعلم الخمس فقال رضی اﷲ تعالی عنہ کیف یخفی امرالخمس علیہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم والواحد من اھل التصرف من امتہ الشریفۃ لایمکنہ التصرف الا بمعرفۃ ھذہ الخمس ۔ یعنی میں نے حضرت شیخ رضی اﷲ تعالی عنہ س ے عرض کی کہ علماء ظاہر محدثین مسئلہ خمس میں باہم اختلاف رکھتے ہیں علماء کا ایك گروہ کہتا ہے نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو ان کا علم تھادوسرا ان کار کرتا ہےا س میں حق کیا ہے فرمایا(جو نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو پانچویں غیبوں کا علم مانتے ہیں وہ حق پر ہیں)حضور سے یہ غیب کیونکر چھپے رہیں گے حالانکہ حضور کی امت شریفہ میں جو اولیائے کرام اہل تصرف ہیں(کہ عالم میں تصرف فرماتے ہیں)وہ جب تك ان پانچوں غیبوں کا علم مانتے ہیں وہ حق پر ہیں)حضور سے یہ غیب کیونکر چھپے رہیں گے حالانکہ حضور کی امت شریفہ میں جو اولیائے کرام اہل تصرف ہیں(کہ عالم میں تصرف فرماتے ہیں)وہ جب تك ان پانچوں غیبوں کو جان نہ لیں تصرف نہیں کرسکتے۔
(۱۱۵)تفسیر کبیر میں زیر آیہ کریمہ" علم الغیب فلا یظہر علی غیبہ احدا ﴿۲۶﴾ الا من ارتضی من رسول" فرمایا:
ای وقت وقوع القیمۃ من غیب یعنی قیامت کے واقع ہونے کا وقت اس غیب
(۱۱۴)نیز ابریز عزیز میں فرمایا:
قلت للشیخ رضی اﷲ تعالی عنہ فان علماء الظاھر من المحدیثین وغیرھم اختلفوا فی النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ھل کان یعلم الخمس فقال رضی اﷲ تعالی عنہ کیف یخفی امرالخمس علیہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم والواحد من اھل التصرف من امتہ الشریفۃ لایمکنہ التصرف الا بمعرفۃ ھذہ الخمس ۔ یعنی میں نے حضرت شیخ رضی اﷲ تعالی عنہ س ے عرض کی کہ علماء ظاہر محدثین مسئلہ خمس میں باہم اختلاف رکھتے ہیں علماء کا ایك گروہ کہتا ہے نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو ان کا علم تھادوسرا ان کار کرتا ہےا س میں حق کیا ہے فرمایا(جو نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو پانچویں غیبوں کا علم مانتے ہیں وہ حق پر ہیں)حضور سے یہ غیب کیونکر چھپے رہیں گے حالانکہ حضور کی امت شریفہ میں جو اولیائے کرام اہل تصرف ہیں(کہ عالم میں تصرف فرماتے ہیں)وہ جب تك ان پانچوں غیبوں کا علم مانتے ہیں وہ حق پر ہیں)حضور سے یہ غیب کیونکر چھپے رہیں گے حالانکہ حضور کی امت شریفہ میں جو اولیائے کرام اہل تصرف ہیں(کہ عالم میں تصرف فرماتے ہیں)وہ جب تك ان پانچوں غیبوں کو جان نہ لیں تصرف نہیں کرسکتے۔
(۱۱۵)تفسیر کبیر میں زیر آیہ کریمہ" علم الغیب فلا یظہر علی غیبہ احدا ﴿۲۶﴾ الا من ارتضی من رسول" فرمایا:
ای وقت وقوع القیمۃ من غیب یعنی قیامت کے واقع ہونے کا وقت اس غیب
الذی لایظھرہ اﷲ لا حد فان قیل فاذا حملتم ذلك علی القیمۃ فکیف قال الا من ارتضی من رسول مع انہ لا یظھر ھذا الغیب لا حد قلنا بل یظھرہعند قرب القیمۃ" (ملخصا) میں سے ہے جس کو اﷲ تعالی کسی پر ظاہر نہیں کرتا اگر کہا جائے کہ جب تم نے آیت کو علم قیامت پر محمول کیا تو کیسے اﷲ نے فرمایا:الا من ارتضی من رسول باوجود یہ کہ یہ غیب اﷲ کسی پر ظاہر نہیں کرے گاہم جواب دیں گے کہ قیامت کے قریب ظاہر کرے گا۔(ت)
اس نفیس تفسیر نے صاف معنی آیت یہ ٹھہرائے کہ اﷲ عالم الغیب ہےوہ وقت قیامت کا علم کسی کو نہیں دیتا سوائے اپنے پسندیدہ رسولوں کے۔
(۱۱۶)علامہ سعد الدین تفتازانی شرح مقاصد میں فرقہ باطلہ معتزلہ خذلہم اﷲ تعالی کے کرامات اولیاء سے انکار اور ان کے شبہات فاسدہ کے ذکرو ابطال میں فرماتے ہیں:
الخامس وھو فی الاخبار عن المغیبات قولہ تعالی عالم الغیب فلا یظھر علی غیبہ احدا الا من ارتضی من رسول خص الرسل من بین المرتضین بالا طلاع علی الغیب فلا یطلع غیر ھم وان کانوا اولیاء مرتضینالجواب ان الغیب ھہنا لیس للعموم بل مطلق اومعین ھووقت وقوع القیمۃ بقرینۃ السباق ولا یبعدان یطلع یعنی معتزلہ کی پانچویں دلیل خاص علم غیب کے بارے میں ہے وہ گمراہ کہتے ہیں کہ اولیاء کو غیب کا علم نہیں ہوسکتا کہ اﷲ عزوجل فرماتا ہے غیب کا جاننے والا تو اپنے غیب پر مسلط نہیں کرتا۔مگر اپنے پسندیدہ رسولوں کوجب غیب پر اطلاع رسولوں کے ساتھ خاص ہے تو اولیاء کیونکر غیب جان سکتے ہیں۔ائمہ اہلسنت عــــــہ نے جواب دیا کہ یہاں غیب عام نہیں جس کے یہ معنے ہوں کہ کوئی غیب رسولوں کے سوا کسی کو نہیں بتاتا جس سے مطلقا اولیاء کے علوم غیب کی نفی
عــــــہ:فائدہ:اس نفیس عبارت کتاب العقائد اہلسنت سے ثابت ہوا کہ وہابیہ معتزلہ سے بھی بہت خبیث تر ہیںمعتزلہ کو صرف اولیائے کرام کے علوم غیب میں کلام تھا انبیاء کے لیے مانتے تھےیہ خبیث خود انبیاء سے منکر ہوگئےاور یہ بھی ثابت ہوا کہائمہ اہلسنت انبیاء واولیاء سب کے لیے مانتے ہیں وﷲ الحمد ۱۲ منہ۔
اس نفیس تفسیر نے صاف معنی آیت یہ ٹھہرائے کہ اﷲ عالم الغیب ہےوہ وقت قیامت کا علم کسی کو نہیں دیتا سوائے اپنے پسندیدہ رسولوں کے۔
(۱۱۶)علامہ سعد الدین تفتازانی شرح مقاصد میں فرقہ باطلہ معتزلہ خذلہم اﷲ تعالی کے کرامات اولیاء سے انکار اور ان کے شبہات فاسدہ کے ذکرو ابطال میں فرماتے ہیں:
الخامس وھو فی الاخبار عن المغیبات قولہ تعالی عالم الغیب فلا یظھر علی غیبہ احدا الا من ارتضی من رسول خص الرسل من بین المرتضین بالا طلاع علی الغیب فلا یطلع غیر ھم وان کانوا اولیاء مرتضینالجواب ان الغیب ھہنا لیس للعموم بل مطلق اومعین ھووقت وقوع القیمۃ بقرینۃ السباق ولا یبعدان یطلع یعنی معتزلہ کی پانچویں دلیل خاص علم غیب کے بارے میں ہے وہ گمراہ کہتے ہیں کہ اولیاء کو غیب کا علم نہیں ہوسکتا کہ اﷲ عزوجل فرماتا ہے غیب کا جاننے والا تو اپنے غیب پر مسلط نہیں کرتا۔مگر اپنے پسندیدہ رسولوں کوجب غیب پر اطلاع رسولوں کے ساتھ خاص ہے تو اولیاء کیونکر غیب جان سکتے ہیں۔ائمہ اہلسنت عــــــہ نے جواب دیا کہ یہاں غیب عام نہیں جس کے یہ معنے ہوں کہ کوئی غیب رسولوں کے سوا کسی کو نہیں بتاتا جس سے مطلقا اولیاء کے علوم غیب کی نفی
عــــــہ:فائدہ:اس نفیس عبارت کتاب العقائد اہلسنت سے ثابت ہوا کہ وہابیہ معتزلہ سے بھی بہت خبیث تر ہیںمعتزلہ کو صرف اولیائے کرام کے علوم غیب میں کلام تھا انبیاء کے لیے مانتے تھےیہ خبیث خود انبیاء سے منکر ہوگئےاور یہ بھی ثابت ہوا کہائمہ اہلسنت انبیاء واولیاء سب کے لیے مانتے ہیں وﷲ الحمد ۱۲ منہ۔
حوالہ / References
مفاتیح الغیب(التفسیر الکبیر)تحت آیۃ ۷۲/ ۲۶ المطبعۃ البہیۃ المصریۃ مصر ۳۰/ ۱۶۸
علیہ بعض الرسل من الملئکۃ او البشرفیصح الاستثناء ۔ ہوسکےبلکہ یہ تو مطلق ہے(یعنی کچھ غیب ایسے ہیں کہ غیر رسول کو نہیں معلوم ہوتے)یا خاص وقت وقوع قیامت مراد ہے(کہ خاص اس غیب کی اطلاع رسولوں کے سوا اوروں کو نہیں دیتے)اور اس پر قرینہ یہ ہے کہ اوپر کی آیت میں غیب قیامت ہی کا ذکر ہے۔ (تو آیت سے صرف اتنا نکلا کہ بعض غیبوں یا خاص وقت قیامت کی تعیین پر اولیاء کو اطلاع نہیں ہوتی نہ یہ کہ اولیاء کوئی غیب نہیں جانتےاس پر اگر شبہہ کیجئے کہ اﷲ تو رسولوں کا استثناء فرمارہا ہے کہ وہ ان غیبوں پر مطلع ہوتے ہیں جن کو اور لوگ نہیں جانتے اب اگر اس سے تعین وقت قیامت لیجئے تو رسولوں کا بھی استثناء نہ رہے گا کہ یہ تو ان کو بھی نہیں بتایا جاتا۔اس کا جواب یہ فرمایا کہ) ملائکہ یا بشر سے بعض رسولوں کو تعیین وقت قیامت کا علم ملنا کچھ بعید نہیں تو استثناء کہ اﷲ عزوجل نے فرمایا ضرور صحیح ہے۔
(۱۱۷)امام قسطلانی شرح بخاری تفسیر سورہ رعد میں فرماتے ہیں:
لایعلم متی تقوم الساعۃ الا اﷲ الا من ارتضی من رسول فانہ یطلعہ من یشاء من غیبہ و الولی التابع لہ یا خذ عنہ ۔ کوئی غیر خدا نہیں جانتا کہ قیامت کب آئے گی سوااس کے پسندیدہ رسولوں کے کہ انہیں اپنے جس غیب پر چاہے اطلاع دیتا ہے۔(یعنی وقت قیامت کا علم بھی ان پر بند نہیں۔)رہے اولیاء وہ رسولوں کے تابع ہیں ان سے علم حاصل کرتے ہیں۔
یہاں اس خاص غیب کے علم میں بھی اولیاء کے لیے راہ رکھیمگر یوں کہ اصالۃ انبیاء کو ہے اور ان کو ان سے ملتا ہےاور حق یہی ہے کہ آیہ کریمہ غیر رسل سے علم غیوب میں اصالت کی نفی فرماتی ہے نہ کہ مطلق علم کی۔
(۱۱۸ و۱۱۹)علامہ حسن بن علی مدابغی حاشیہ فتح المبین امام ابن حجر مکی اور فاضل ابن عطیہ فتوحات وہبیہ شرح اربعین امام نووی میں نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو علم قیامت عطا ہونے کے باب میں فرماتے ہیں:
الحق کما قال جمع ان اﷲ سبحنہ یعنی حق مذہب وہ ہے جو ایك جماعت علماء نے
(۱۱۷)امام قسطلانی شرح بخاری تفسیر سورہ رعد میں فرماتے ہیں:
لایعلم متی تقوم الساعۃ الا اﷲ الا من ارتضی من رسول فانہ یطلعہ من یشاء من غیبہ و الولی التابع لہ یا خذ عنہ ۔ کوئی غیر خدا نہیں جانتا کہ قیامت کب آئے گی سوااس کے پسندیدہ رسولوں کے کہ انہیں اپنے جس غیب پر چاہے اطلاع دیتا ہے۔(یعنی وقت قیامت کا علم بھی ان پر بند نہیں۔)رہے اولیاء وہ رسولوں کے تابع ہیں ان سے علم حاصل کرتے ہیں۔
یہاں اس خاص غیب کے علم میں بھی اولیاء کے لیے راہ رکھیمگر یوں کہ اصالۃ انبیاء کو ہے اور ان کو ان سے ملتا ہےاور حق یہی ہے کہ آیہ کریمہ غیر رسل سے علم غیوب میں اصالت کی نفی فرماتی ہے نہ کہ مطلق علم کی۔
(۱۱۸ و۱۱۹)علامہ حسن بن علی مدابغی حاشیہ فتح المبین امام ابن حجر مکی اور فاضل ابن عطیہ فتوحات وہبیہ شرح اربعین امام نووی میں نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو علم قیامت عطا ہونے کے باب میں فرماتے ہیں:
الحق کما قال جمع ان اﷲ سبحنہ یعنی حق مذہب وہ ہے جو ایك جماعت علماء نے
حوالہ / References
شرح المقاصد المبحث الثامن اولی ھوالعارف باﷲ تعالٰی دارالمعارف النعمانیۃ لاہور ۲ /۲۰۴ و۲۰۵
ارشاد الساری شرح صحیح البخاری کتاب التفسیر سورۃ الرعد دارالکتاب العربی بیروت ۷ /۱۸۶
ارشاد الساری شرح صحیح البخاری کتاب التفسیر سورۃ الرعد دارالکتاب العربی بیروت ۷ /۱۸۶
وتعالی لم یقبض نبینا صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم حتی اطلعہ علی کل ما ابھمہ عنہ الا انہ امر بکتم بعض و الا علام ببعض ۔ فرمایا کہ اﷲ عزوجل ہمارے نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو دنیا سے نہ لے گیا یہاں تك کہ جو کچھ حضور سے مخفی رہا تھا اس سب کا علم حضور کو عطا فرمادیاہاں بعض علوم کی بنسبت حضور(صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم)کو حکم دیا کہ کسی کو نہ بتائے اور بعض کے بتانے کا حکم کیا۔
(۱۲۰)علامہ عشماوی کتاب مستطاب عجب العجاب شرح صلاۃ سیدی احمد بدوی کبیر صلی اﷲ تعالی عنہ میں فرماتے ہیں:
قیل انہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اوتی علمہا(ای الخمس) فی اخرالامرلکنہ امر فیہا بالکتمان وھذا القیل ھو الصحیح ۔ یعنی کہا گیا کہ نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو آخر میں ان پانچوں غیبوں کا بھی علم عطا ہوگیا مکر ان کے چھپانے کا حکم تھااور یہی قول صحیح ہے۔
تنبیہ جلیل
الحمد ﷲ یہ بطور نمونہ ایك سوبیس۱۲۰ عبارات قاہرہ میں جن سے وہابیت کی پوچ ذلیل عمارت نہ صرف منہدم ہوئی بلکہ قارون اور اس کے گھر کی طرح بفضلہ تعالی تحت الثری پہنچتی ہےاور بحمدہ تعالی یہ کل سے جز ہیںایسے ہی صدہا نصوص جلیلہ و عظیمہ دیکھنا ہوں تو فقیر کی کتاب مالیئ الجیب بعلوم الغیب ۱۳۱۸ ھ و رسالہ اللؤلؤ المکنون فی علم البشیر ما کان وما یکون ۱۳۱۸ھ"ملاحظہ ہوں کہ نصوص کے دریا ہیں چھلکتےاور حب مصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے چاند چمکتے اور تعظیم حضور کے سورج دمکتےاور نور آیمان کے تارے جھلکتےا ور حق کے باغ مہکتے اور ہدایت کے پھول چہکتے اور نجدیت کے کوے سسکتے اور وہابیت کے بوم بلکتےاور بد بوح گستاخ پھڑکتے۔والحمد ﷲ رب العلمین۔
وہابیہ خذلہم اﷲ تعالی ان نصوص قاہرہ کے مقابل ادھر ادھر سے کچھ عبارات دربارہ تخصیص
عــــــہ: صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم
(۱۲۰)علامہ عشماوی کتاب مستطاب عجب العجاب شرح صلاۃ سیدی احمد بدوی کبیر صلی اﷲ تعالی عنہ میں فرماتے ہیں:
قیل انہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اوتی علمہا(ای الخمس) فی اخرالامرلکنہ امر فیہا بالکتمان وھذا القیل ھو الصحیح ۔ یعنی کہا گیا کہ نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو آخر میں ان پانچوں غیبوں کا بھی علم عطا ہوگیا مکر ان کے چھپانے کا حکم تھااور یہی قول صحیح ہے۔
تنبیہ جلیل
الحمد ﷲ یہ بطور نمونہ ایك سوبیس۱۲۰ عبارات قاہرہ میں جن سے وہابیت کی پوچ ذلیل عمارت نہ صرف منہدم ہوئی بلکہ قارون اور اس کے گھر کی طرح بفضلہ تعالی تحت الثری پہنچتی ہےاور بحمدہ تعالی یہ کل سے جز ہیںایسے ہی صدہا نصوص جلیلہ و عظیمہ دیکھنا ہوں تو فقیر کی کتاب مالیئ الجیب بعلوم الغیب ۱۳۱۸ ھ و رسالہ اللؤلؤ المکنون فی علم البشیر ما کان وما یکون ۱۳۱۸ھ"ملاحظہ ہوں کہ نصوص کے دریا ہیں چھلکتےاور حب مصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے چاند چمکتے اور تعظیم حضور کے سورج دمکتےاور نور آیمان کے تارے جھلکتےا ور حق کے باغ مہکتے اور ہدایت کے پھول چہکتے اور نجدیت کے کوے سسکتے اور وہابیت کے بوم بلکتےاور بد بوح گستاخ پھڑکتے۔والحمد ﷲ رب العلمین۔
وہابیہ خذلہم اﷲ تعالی ان نصوص قاہرہ کے مقابل ادھر ادھر سے کچھ عبارات دربارہ تخصیص
عــــــہ: صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم
حوالہ / References
عجب العجاب شرح صلٰوۃ سید احمد کبیر بدوی
غیوب نقل کر لاتے اور بغلیں بجاتے ہیں حالانکہ یہ محض جہالتکج فہمی بلکہ صریح مکاری اور ہٹ دھرمی ہے انصافا وہ ہمارے ہی بیان کا دوسرا پہلو دکھاتے ہیں۔
فقیر گزارش کرچکا کہ مسئلہ عموم و خصوص ان اجماعات بعد کہ امر چہارم میں معروض ہوئے علمائے اہلسنت کا خلافیہ(اختلافی) ہے۔عامہ اولیاء کرام و بکثرت علمائے عظام جانب تعمیم ہیں اور یہی ظاہر نصوص قرآن عظیم و مفادات احادیث حضور پرنور علیہ افضل الصلوۃ والتسلیم ہے۔
اور بہت اہل رسوم جانب خصوص گئےان میں بھی شاید نرے متقشفوں کا یہ خیال ہو ورنہ ان کے لیے اس پر ایك باعث ہے جس کا بیان مع چند نظائر نفسیہ فقیر کے رسالے انباء الحی ان کلامہ المصون تبیان لکل شیئ(۱۳۲۰ھ)میں مشرح ہے تو ایسی عبارات سے ہمیں کیا ضررہم نے کیا دعوی اجماع کیا تھا کہ خلاف دکھاؤ۔
وہاں تم اپنی جہالت سے مدعی اجماع تھے یہاں تك کہ مخالف کی تکفیر کر بیٹھے۔تو ہر طرح تم پر قہر کی مار ہے ایجاب جزئی سے موجبہ کلیہ کا ثبوت چاہنا مجنون کا شعار ہے۔
تم دس عبارتیں خصوص میں لاؤ ہم سو نصوص عموم میں دکھائیں گے پھر ظواہر قرآن و حدیث و عامہ اولیائے قدیم و حدیث ہمارے ساتھ ہیںاور اسی میں ہمارے محبوب صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی فضیلت کی ترقی اور خود اسی بارے میں ان کا رب فرما چکا کہ" وعلمک ما لم تکن تعلم وکان فضل اللہ علیک عظیما﴿۱۱۳﴾ " سکھادیا تمہیں جو کچھ تم نہ جانتے تھے اور اﷲ کا فضل تم پر بڑا ہے۔ جسے ا ﷲ بڑا کہے اسے گھٹائے کیونکر بنےمعہذا اگر بفرض باطل خدا کا فضل عظیم چھوٹا اور مختصر ہی ہو۔مگر ہم نے ظواہر قرآن و حدیث وتصریحات صدہاائمہ ظاہر و باطن کے اتباع سے محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی زیادہ رقعت شان چاہ کر اسے بڑا مانا تو بحمداﷲ تعالی اﷲ کے فضل اور اس کے حبیب کی تعظیم ہی کی۔
اور اگر واقع میں وہ فضل الہی ویسا ہی بڑا ہے اور تم نے برخلاف ظواہر نصوص قرآن و حدیث اسے ہلکا اور چھوٹا جانا تو تمہارا معاملا معکوس ہوا۔ " فای الفریقین احق بالامن" ۔خیال کرلو کہ کون سا فریق زیادہ مستحق امن ہے۔
غرض یہاں چند پریشان عبارات خصوص کا سنانا محض جہل ہے یا سخت مکرکلام تو اس میں ہے
فقیر گزارش کرچکا کہ مسئلہ عموم و خصوص ان اجماعات بعد کہ امر چہارم میں معروض ہوئے علمائے اہلسنت کا خلافیہ(اختلافی) ہے۔عامہ اولیاء کرام و بکثرت علمائے عظام جانب تعمیم ہیں اور یہی ظاہر نصوص قرآن عظیم و مفادات احادیث حضور پرنور علیہ افضل الصلوۃ والتسلیم ہے۔
اور بہت اہل رسوم جانب خصوص گئےان میں بھی شاید نرے متقشفوں کا یہ خیال ہو ورنہ ان کے لیے اس پر ایك باعث ہے جس کا بیان مع چند نظائر نفسیہ فقیر کے رسالے انباء الحی ان کلامہ المصون تبیان لکل شیئ(۱۳۲۰ھ)میں مشرح ہے تو ایسی عبارات سے ہمیں کیا ضررہم نے کیا دعوی اجماع کیا تھا کہ خلاف دکھاؤ۔
وہاں تم اپنی جہالت سے مدعی اجماع تھے یہاں تك کہ مخالف کی تکفیر کر بیٹھے۔تو ہر طرح تم پر قہر کی مار ہے ایجاب جزئی سے موجبہ کلیہ کا ثبوت چاہنا مجنون کا شعار ہے۔
تم دس عبارتیں خصوص میں لاؤ ہم سو نصوص عموم میں دکھائیں گے پھر ظواہر قرآن و حدیث و عامہ اولیائے قدیم و حدیث ہمارے ساتھ ہیںاور اسی میں ہمارے محبوب صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی فضیلت کی ترقی اور خود اسی بارے میں ان کا رب فرما چکا کہ" وعلمک ما لم تکن تعلم وکان فضل اللہ علیک عظیما﴿۱۱۳﴾ " سکھادیا تمہیں جو کچھ تم نہ جانتے تھے اور اﷲ کا فضل تم پر بڑا ہے۔ جسے ا ﷲ بڑا کہے اسے گھٹائے کیونکر بنےمعہذا اگر بفرض باطل خدا کا فضل عظیم چھوٹا اور مختصر ہی ہو۔مگر ہم نے ظواہر قرآن و حدیث وتصریحات صدہاائمہ ظاہر و باطن کے اتباع سے محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی زیادہ رقعت شان چاہ کر اسے بڑا مانا تو بحمداﷲ تعالی اﷲ کے فضل اور اس کے حبیب کی تعظیم ہی کی۔
اور اگر واقع میں وہ فضل الہی ویسا ہی بڑا ہے اور تم نے برخلاف ظواہر نصوص قرآن و حدیث اسے ہلکا اور چھوٹا جانا تو تمہارا معاملا معکوس ہوا۔ " فای الفریقین احق بالامن" ۔خیال کرلو کہ کون سا فریق زیادہ مستحق امن ہے۔
غرض یہاں چند پریشان عبارات خصوص کا سنانا محض جہل ہے یا سخت مکرکلام تو اس میں ہے
کہ تم اقوال عموم بمعنی مرقوم بلکہ اس سے بھی لاکھوں درجے ہلکے پر حکم شرك و کفر جڑرہے ہو۔گنگوہی جی کی قاطعہ براہین دیکھو۔صرف اتنی بات کہ جہاں مجلس میلاد مبارك ہو حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو اطلاع ہوجائےعلم محیط زمین ٹھہرادیا۔پھر اسے خدا کا خاصہ اور ساتھ ہی اپنے معبود و ابلیس کی صفت بتا کر صاف حکم شرك پھٹادیا اور شرك بھی کیسا جس میں کوئی حصہ ایمان کا نہیں پھر عرش تا فرش کا علم تو زمین کے علم محیط سے کروڑ ہا کروڑ درجے بڑا ہے پھر ماکان وما یکون کا تو کیا ہی کہنا ہے۔
اسی طرح اور تعمیمات کہ کلامائمہ دین و علمائے معتمدین میں گزریں۔اس کا ماننے والا اگر معاذ اﷲ ایك حصہ کافر تھا تو ان کا ماننے والا تو پدموں سنکھوں کافروں کے برابر ایك کافر ہوگا۔
یونہی تمہارا امام علیہ ماعلیہ تقویۃ الایمان میں بعطائے الہی بھی غیب کی بات کا علم ماننے کو شرك کہہ چکا پھر گنگوہی جی کا شرك تو میلاد مبارك کی اطلاع پر اچھلا تھا۔ان امام جی نے ایك پیڑ کے پتے ہی جاننے پر شرك اگل دیا۔
تمام علماءاولیاءصحابہانبیاء وہابیوں کی تکفیر کا نشانہ
اب دیکھئے کہ گنگوہی و اسمعیل و وہابیہ نے معاذ اﷲ کن کن آئمہعلماء و محدثین وفقہاء و مفسرین ومتکلمین و اولیاء وصحابہ و انبیاء علیہم الصلوۃ والثناکو کافر بنادیا۔
انہیں کو گنئے جن کے اقوال و ارشادات اس مختصر میں گزرے۔
(۱)شاہ ولی اﷲ صاحب دہلوی (۲)مولنا ملك العلماء بحرالعلوم
(۳)علامہ شامی صاحب ردالمحتار (۴)آئمہ اہلسنت و مصنفان عقائد
(۵)شیخ محقق مولنا عبدالحق محدث دہلوی (۶)علامہ شہاب الدین خفا جی
(۷)امام فخر الدین رازی (۸)علامہ سید شریف جرجانی
(۹)علامہ سعد الدین تفتازانی (۱۰)علی قاری مکی
(۱۱)امام ابن حجر مکی (۱۲)علامہ محمد زرقانی
(۱۳)علامہ عبدالرؤف مناوی (۱۴)علامہ احمد قسطلانی
(۱۵)امام قرطبی (۱۶)امام بدر الدین عینی
(۱۷)امام بغوی(صاحب تفسیر معالم) (۱۸)شیخ علاؤ الدین علی بغدادی(صاحب تفسیر خازن)
(۱۹)علامہ بیضاوی (۲۰)علامہ نظام الدین نیشا پوری(صاحب تفسیر غرائب القرآن)
اسی طرح اور تعمیمات کہ کلامائمہ دین و علمائے معتمدین میں گزریں۔اس کا ماننے والا اگر معاذ اﷲ ایك حصہ کافر تھا تو ان کا ماننے والا تو پدموں سنکھوں کافروں کے برابر ایك کافر ہوگا۔
یونہی تمہارا امام علیہ ماعلیہ تقویۃ الایمان میں بعطائے الہی بھی غیب کی بات کا علم ماننے کو شرك کہہ چکا پھر گنگوہی جی کا شرك تو میلاد مبارك کی اطلاع پر اچھلا تھا۔ان امام جی نے ایك پیڑ کے پتے ہی جاننے پر شرك اگل دیا۔
تمام علماءاولیاءصحابہانبیاء وہابیوں کی تکفیر کا نشانہ
اب دیکھئے کہ گنگوہی و اسمعیل و وہابیہ نے معاذ اﷲ کن کن آئمہعلماء و محدثین وفقہاء و مفسرین ومتکلمین و اولیاء وصحابہ و انبیاء علیہم الصلوۃ والثناکو کافر بنادیا۔
انہیں کو گنئے جن کے اقوال و ارشادات اس مختصر میں گزرے۔
(۱)شاہ ولی اﷲ صاحب دہلوی (۲)مولنا ملك العلماء بحرالعلوم
(۳)علامہ شامی صاحب ردالمحتار (۴)آئمہ اہلسنت و مصنفان عقائد
(۵)شیخ محقق مولنا عبدالحق محدث دہلوی (۶)علامہ شہاب الدین خفا جی
(۷)امام فخر الدین رازی (۸)علامہ سید شریف جرجانی
(۹)علامہ سعد الدین تفتازانی (۱۰)علی قاری مکی
(۱۱)امام ابن حجر مکی (۱۲)علامہ محمد زرقانی
(۱۳)علامہ عبدالرؤف مناوی (۱۴)علامہ احمد قسطلانی
(۱۵)امام قرطبی (۱۶)امام بدر الدین عینی
(۱۷)امام بغوی(صاحب تفسیر معالم) (۱۸)شیخ علاؤ الدین علی بغدادی(صاحب تفسیر خازن)
(۱۹)علامہ بیضاوی (۲۰)علامہ نظام الدین نیشا پوری(صاحب تفسیر غرائب القرآن)
(۲۱)علامہ جمل(شارح جلالین) (۲۲)امام ابوبکر رازی(صاحب تفسیر انموذج جلیل)
(۲۳)امام قاضی عیاض (۲۴)امام زین الدین عراقی(استاد امام ابن حجر عسقلانی)
(۲۵)حافظ الحدیث احمد سلجماسی (۲۶)ابن قتیبہ
(۲۷)ابن خلکان (۲۸)امام کمال الدین دمیری
(۲۹)علامہ ابراہیم بیجوری (۲۰)علامہ شنوانی
(۳۱)علامہ مدابغی (۳۲)علامہ ابن عطیہ
(۳۳)علامہ عشماوی (۳۴)امام ناصر الدین سمرقندی(صاحب ملتقط)
(۳۵)علامہ بدر الدین محمود بن اسرائیل(صاحب جامع الفصولین) (۳۶)شیخ عالم بن صاحب تاتارخانیہ
(۳۷)امام فقییہہ صاحب فتاوی حجہ (۳۸)امام عبدالوہاب شعرانی
(۳۹)امام یافعی (۴۰)امام اوحد ابوالحسن شطنوفی
(۴۱)امام ابن حجر مکی (۴۲)امام محمد صاحب مدحیہ بردہ شریف
(۴۳)حضرت مولانا جامی (۴۴)حضرت مولوی معنوی
(۴۵)حضرت سید عبدالعزیز دباغ (۴۶)حضرت سیدی علی خواص
(۴۷)حضرت خواجہ بہاؤ الحق والدین (۴۸)حضرت خواجہ عزیز ان رامتینی
(۴۹)حضرت شیخ اکبر (۵۰)حضرت سیدی علی وفا
(۵۱)حضرت سیدی رسلان دمشقی (۵۲)حضرت سیدی ابوعبداﷲ شیرازی
(۵۳)حضرت سیدی ابوسلیمان درانی (۵۴)حضرت قطب کبیر سید احمد رفاعی
(۵۵)حضور قطب الاقطاب سیدنا غوث اعظم(۵۶)حضرت امام علی رضا
(۵۷)حضرت امام جعفر صادق (۵۸)حضرت عالیہ دیگر آئمہ اطہار
(۵۹)امام مجاہد (۶۰)حضرت سیدنا عبداﷲ ابن عباس
(۶۱)حضور سیدنا امیر المومنین علی مرتضی (۶۲)عامہ صحابہ کرام
(۶۳)حضرت خضر بلکہ (۶۴)حضرت موسی بلکہ
(۶۵)(خاك بہ دہن دشمنان)خود حضور سیدالانبیاء(صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم)بلکہ
(۶۶)(لعنۃ اﷲ علی الظالمین)خود اﷲ رب العالمین
(۲۳)امام قاضی عیاض (۲۴)امام زین الدین عراقی(استاد امام ابن حجر عسقلانی)
(۲۵)حافظ الحدیث احمد سلجماسی (۲۶)ابن قتیبہ
(۲۷)ابن خلکان (۲۸)امام کمال الدین دمیری
(۲۹)علامہ ابراہیم بیجوری (۲۰)علامہ شنوانی
(۳۱)علامہ مدابغی (۳۲)علامہ ابن عطیہ
(۳۳)علامہ عشماوی (۳۴)امام ناصر الدین سمرقندی(صاحب ملتقط)
(۳۵)علامہ بدر الدین محمود بن اسرائیل(صاحب جامع الفصولین) (۳۶)شیخ عالم بن صاحب تاتارخانیہ
(۳۷)امام فقییہہ صاحب فتاوی حجہ (۳۸)امام عبدالوہاب شعرانی
(۳۹)امام یافعی (۴۰)امام اوحد ابوالحسن شطنوفی
(۴۱)امام ابن حجر مکی (۴۲)امام محمد صاحب مدحیہ بردہ شریف
(۴۳)حضرت مولانا جامی (۴۴)حضرت مولوی معنوی
(۴۵)حضرت سید عبدالعزیز دباغ (۴۶)حضرت سیدی علی خواص
(۴۷)حضرت خواجہ بہاؤ الحق والدین (۴۸)حضرت خواجہ عزیز ان رامتینی
(۴۹)حضرت شیخ اکبر (۵۰)حضرت سیدی علی وفا
(۵۱)حضرت سیدی رسلان دمشقی (۵۲)حضرت سیدی ابوعبداﷲ شیرازی
(۵۳)حضرت سیدی ابوسلیمان درانی (۵۴)حضرت قطب کبیر سید احمد رفاعی
(۵۵)حضور قطب الاقطاب سیدنا غوث اعظم(۵۶)حضرت امام علی رضا
(۵۷)حضرت امام جعفر صادق (۵۸)حضرت عالیہ دیگر آئمہ اطہار
(۵۹)امام مجاہد (۶۰)حضرت سیدنا عبداﷲ ابن عباس
(۶۱)حضور سیدنا امیر المومنین علی مرتضی (۶۲)عامہ صحابہ کرام
(۶۳)حضرت خضر بلکہ (۶۴)حضرت موسی بلکہ
(۶۵)(خاك بہ دہن دشمنان)خود حضور سیدالانبیاء(صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم)بلکہ
(۶۶)(لعنۃ اﷲ علی الظالمین)خود اﷲ رب العالمین
ولاحول ولا قوۃ الا باﷲ العلی العظیم" و سیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون ﴿۲۲۷﴾" ۔ نہ گناہ سے بچنے کی طاقت ہے اور نہ ہی نیکی کرنے کی قوت مگر بلندی و عظمت والے خدا کی طرف سے۔عنقریب ظالم جانیں گے کس لوٹنے کی جگہ لوٹتے ہیں۔(ت)
یہ گنتی میں تو چھیاسٹھ ہیں اور ان میں آئمہ اہلسنتمصنفان عقائد جن کا حوالہ علامہ شامی نے دیااور آئمہ اطہار جن کا حوالہ علامہ سید شریف نے اور تمام صحابہ کرام جن کا حوالہ امام قسطلانی و علامہ زرقانی نے دیا سب خود جماعتیں ہیں۔
اور ہے یہ کہ جب اﷲ و رسول تك نوبت ہے تو اگلے پچھلے جن و انس و مالك تمام مومنین سب ہی وہابیہ کی تکفیر میں آگئے۔
ان بے دینوں کا تماشا دیکھو محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے بدگویوں کی تکفیر ہوئی اس پر کیا کیا روئے ہیں کہ ہائے سارے جہان کو کافر کہہ دیا۔(گویا جہان انہیں ڈھائی نفروں سے عبارت ہے)ہائے اسلام کا دائرہ تنگ کردیا(گویا اسلام ان بے دینوں کے قافیہ کا نام ہے ان کا قافیہ تنگ ہوا تو اسلام ہی کا دائرہ تنگ ہوگیا۔
اور خود یہ حالت کہ اشقیاء نہ علماء کو چھوڑیںنہ اولیاء کو نہ صحابہ کو نہ مصطفی(صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم)کو نہ جناب کبریا (عزوجلالہ)کو سب پر حکم کفر لگائیں اور خود ہٹے کٹے مسلمانوں کے بچے بنے رہیں " الا لعنۃ اللہ علی الظلمین ﴿۱۸﴾
" (خبردار ! ظالموں پر اﷲ کی لعنت ہے۔ت)ہاں ہاں وہابیو! گنگوہیو! دیوبندیو! تھانویو دہلویو! امرتسریو ! بات کے پکے اور قول کے سچے ہو تو آنکھیں بند کرکے منہ کھول کر صاف کہہ ڈالو کہ ہاں ہاں شاہ ولی اﷲ سے لے کر فقہاء محدثین مفسرینمتکلمین اکابر علماء اکابر علماءسے لے کر اولیاء اولیاء سے لے کر آئمہ اطہارآئمہ اطہار سے لے کر انبیاء عظامانبیاء عظام سے لے کر سید الانبیاء سید الانبیاء(صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم)سے لے کر واحد قہار تك تمہارے دھرم میں سب کافر ہیںاس کی بحث ہے اس میں کلام ہے۔دو چاردس بیس عبارات تخصیص دکھانےکروٹیں بدلنےکہنےمکرنےاڑے اڑے پھرنے سے کام نہیں چلتا۔
یہ گنتی میں تو چھیاسٹھ ہیں اور ان میں آئمہ اہلسنتمصنفان عقائد جن کا حوالہ علامہ شامی نے دیااور آئمہ اطہار جن کا حوالہ علامہ سید شریف نے اور تمام صحابہ کرام جن کا حوالہ امام قسطلانی و علامہ زرقانی نے دیا سب خود جماعتیں ہیں۔
اور ہے یہ کہ جب اﷲ و رسول تك نوبت ہے تو اگلے پچھلے جن و انس و مالك تمام مومنین سب ہی وہابیہ کی تکفیر میں آگئے۔
ان بے دینوں کا تماشا دیکھو محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے بدگویوں کی تکفیر ہوئی اس پر کیا کیا روئے ہیں کہ ہائے سارے جہان کو کافر کہہ دیا۔(گویا جہان انہیں ڈھائی نفروں سے عبارت ہے)ہائے اسلام کا دائرہ تنگ کردیا(گویا اسلام ان بے دینوں کے قافیہ کا نام ہے ان کا قافیہ تنگ ہوا تو اسلام ہی کا دائرہ تنگ ہوگیا۔
اور خود یہ حالت کہ اشقیاء نہ علماء کو چھوڑیںنہ اولیاء کو نہ صحابہ کو نہ مصطفی(صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم)کو نہ جناب کبریا (عزوجلالہ)کو سب پر حکم کفر لگائیں اور خود ہٹے کٹے مسلمانوں کے بچے بنے رہیں " الا لعنۃ اللہ علی الظلمین ﴿۱۸﴾
" (خبردار ! ظالموں پر اﷲ کی لعنت ہے۔ت)ہاں ہاں وہابیو! گنگوہیو! دیوبندیو! تھانویو دہلویو! امرتسریو ! بات کے پکے اور قول کے سچے ہو تو آنکھیں بند کرکے منہ کھول کر صاف کہہ ڈالو کہ ہاں ہاں شاہ ولی اﷲ سے لے کر فقہاء محدثین مفسرینمتکلمین اکابر علماء اکابر علماءسے لے کر اولیاء اولیاء سے لے کر آئمہ اطہارآئمہ اطہار سے لے کر انبیاء عظامانبیاء عظام سے لے کر سید الانبیاء سید الانبیاء(صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم)سے لے کر واحد قہار تك تمہارے دھرم میں سب کافر ہیںاس کی بحث ہے اس میں کلام ہے۔دو چاردس بیس عبارات تخصیص دکھانےکروٹیں بدلنےکہنےمکرنےاڑے اڑے پھرنے سے کام نہیں چلتا۔
یہ کہنا آسان تھا کہ احمد رضا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے علم غیب کا قائل ہوگیا اور یہ عقیدہ کفر کا ہےمگر نہ دیکھا کہ احمد رضا کی جان کن کن پاك دامنوں سے وابستہ ہےاحمد رضا کا سلسلہ اعتقاد علماءاولیاء آئمہ صحابہ سے محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم اور محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم سے اﷲ رب العالمین تك مسلسل ملا ہوا ہے۔والحمد ﷲ رب العالمین ع
گرچہ خوردیم نسبتے سست بزرگ
(اگرچہ ہم چھوٹے ہیں مگر نسبت بلند ہے۔ت)
حضرت مولوی معنوی قدس سرہپر اﷲ عزوجل کی بے شمار رحمتیںکیا خوب فرمایا ہے:
رومی سخن کفر نگفتست و نگویدمنکر مشویدش
کافر شودآنکس کہ بانکار برآمد مردود جہاں شد
(رومی نے کفر کی بات نہیں کہی ہے اور نہ کہے گا۔اس کے منکر مت ہو۔کافر وہ شخص ہوتا ہے جس نے انکار ظاہر کیا مردود جہاں ہوگیا۔ت)
اب اپنا ہی حال سوجھو کہ تمہاری آگ کا لوکا کہاں تك پہنچا جس نے علماءاولیاء و ائمہ و صحابہ و انبیاء و مصطفی(صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم)و حضرت کبریا(جل وعلا)سب پر معاذ اﷲ وہی معلون حکم لگادیا اور کافر شود مردود جہاں شد کا تمغہ لیا۔
پھر کیا تمہاری یہ آگ اﷲ و روسول(جل و علا صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم)کو ضرر پہنچائے گی حاش ﷲ بلکہ تمہیں کو جلائے گی اور بے توبہ مرے تو ان شاء اﷲ القہار ابد الاباد تك "ذق انك انت الاشرف الرشید"(اس کا مزہ چکھ بےشك تو اشرف رشید ہے۔ ت)کا مزہ چکھائے گی۔
پھر بھی ہم کہیں گے انصاف ہی کی۔تمام آئمہ واولیاء و محبوبان خدا کو تم کافر کہو تو جائے شکایت نہیںانہوں نے قصور ہی ایسا یکا ہےابلیس کی وسعت علم ماننی تمہارے کلیجے کا سکھ آنکھوں کی ٹھنڈك ہوئیبراہین قاطعہ میں جس کا گیت گایا ہےانہوں نے یہ تو کہا نہیںلے کر چلے وسعت علم تمہارے دشمن محمد رسول اﷲ اور ان کے غلاموں کیصلی اﷲ تعالی علیہ وعلیہ وسلم پھر ان پر کیوں نہ یہ حکم جڑو کہ کون سا ایمان کا حصہ ہے۔
یہاں تك تو تم پر آسانی تھی مگر ذرا خدا کی تکفیر ٹیڑھی کھیر ہوگیکاذب تو کہہ دیا کافر کہتے کچھ تو آنکھ جھپکے گیاور سب سے بڑھ کر پتھر کے تلے دامن جناب شاہ ولی اﷲ صاحب کا معاملہ ہے جسے وہابیہ کے لیے سانپ کے منہ کی چھچھوندر کہیے تو بجا ہےنہ اگلتی بنتی ہے نہ نگلتےوہ کہہ کر چل بسے کہ
گرچہ خوردیم نسبتے سست بزرگ
(اگرچہ ہم چھوٹے ہیں مگر نسبت بلند ہے۔ت)
حضرت مولوی معنوی قدس سرہپر اﷲ عزوجل کی بے شمار رحمتیںکیا خوب فرمایا ہے:
رومی سخن کفر نگفتست و نگویدمنکر مشویدش
کافر شودآنکس کہ بانکار برآمد مردود جہاں شد
(رومی نے کفر کی بات نہیں کہی ہے اور نہ کہے گا۔اس کے منکر مت ہو۔کافر وہ شخص ہوتا ہے جس نے انکار ظاہر کیا مردود جہاں ہوگیا۔ت)
اب اپنا ہی حال سوجھو کہ تمہاری آگ کا لوکا کہاں تك پہنچا جس نے علماءاولیاء و ائمہ و صحابہ و انبیاء و مصطفی(صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم)و حضرت کبریا(جل وعلا)سب پر معاذ اﷲ وہی معلون حکم لگادیا اور کافر شود مردود جہاں شد کا تمغہ لیا۔
پھر کیا تمہاری یہ آگ اﷲ و روسول(جل و علا صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم)کو ضرر پہنچائے گی حاش ﷲ بلکہ تمہیں کو جلائے گی اور بے توبہ مرے تو ان شاء اﷲ القہار ابد الاباد تك "ذق انك انت الاشرف الرشید"(اس کا مزہ چکھ بےشك تو اشرف رشید ہے۔ ت)کا مزہ چکھائے گی۔
پھر بھی ہم کہیں گے انصاف ہی کی۔تمام آئمہ واولیاء و محبوبان خدا کو تم کافر کہو تو جائے شکایت نہیںانہوں نے قصور ہی ایسا یکا ہےابلیس کی وسعت علم ماننی تمہارے کلیجے کا سکھ آنکھوں کی ٹھنڈك ہوئیبراہین قاطعہ میں جس کا گیت گایا ہےانہوں نے یہ تو کہا نہیںلے کر چلے وسعت علم تمہارے دشمن محمد رسول اﷲ اور ان کے غلاموں کیصلی اﷲ تعالی علیہ وعلیہ وسلم پھر ان پر کیوں نہ یہ حکم جڑو کہ کون سا ایمان کا حصہ ہے۔
یہاں تك تو تم پر آسانی تھی مگر ذرا خدا کی تکفیر ٹیڑھی کھیر ہوگیکاذب تو کہہ دیا کافر کہتے کچھ تو آنکھ جھپکے گیاور سب سے بڑھ کر پتھر کے تلے دامن جناب شاہ ولی اﷲ صاحب کا معاملہ ہے جسے وہابیہ کے لیے سانپ کے منہ کی چھچھوندر کہیے تو بجا ہےنہ اگلتی بنتی ہے نہ نگلتےوہ کہہ کر چل بسے کہ
محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم ان کے غلاموں عارفوں پر ہر چیز روشن ہوتی ہےوہ ہرعلم ہر حال کی حقیقت کو پہنچے ہوتے ہیںوفات تك جو کچھ آنے والا ہے ہر حال کی اس وقت خبر رکھتے ہیں کہاں تو وہ مجالس میلاد پر اطلاع ماننے سے گنگوہی بہادر کا نکھنڈ شرك بلکہ اوندھی سمجھ میں ایك ہی نکاح کی خبر ماننے سے وہ فتاوی حنفیہ کی تکفیریں اور کہاں یہ ولی الہی بڑے بول جو کھال لگی رکھیں نہ ڈھول۔اب انہیں کافر نہیں کہے تو غریب سنیوں کی تکفیر کیسے بن پڑے اور وہابیت کی مٹی پلید ہو وہ الگاور اگر دل کڑا کرکے ان پر بھی کفر کی جڑ دی تو وہابیت بیچاری کا کٹھم ناٹھ ہوگیا۔ان کے کافر ہوتے ہی اسمعیل جی کہ انہیں کے گیت گائیںانہیں کو امام و مقتد و پیز و پیشوا و حکیم امت و صاحب وحی و عصمت مانیںکافر در کافرکافروں کے بچےکافروں کے چیلے ہوئے اور تم سب کہ اسمعیل جی کے شاہ صاحب کے معتقد و مداح بنتے تھے۔تو ساتھ لگے گیہوں کے گھن تم سب کے سب کافران کہن اﷲ اﷲ کفر کو بھی تم سے کیا محبت ہے کہ کسی پہلو چلوکوئی روپ بدلو وہ ہر پھر کر تمہارے ہی گلے کا ہار ہوتا ہے
گر براند نر ود و ر برود باز آید مگس کفر بود خال رخ وہابی
(اگر بھگائے تو نہیں جاتی اور اگر جائے تو لوٹ آتی ہی کفر کی مکھی وہابی کے چہرے کا تل ہے۔ت)
" کذلک العذاب و لعذاب الاخرۃ اکبر لو کانوا یعلمون ﴿۳۳﴾" وصلی اﷲ تعالی علیہ سیدنا ومولینا محمد والہ وصحبہ اجمعینوالحمد ﷲ رب العلمین۔ مار ایسی ہوتی ہے اور بےشك آخرت کی مار سب سے بڑی ہےکیا اچھا تھا اگر وہ جانتے اور درود نازل فرمائے اﷲ تعالی ہمارے آقا و مولی محمد مصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم پر اور آپ کی آل پر اور آپ کے تمام اصحاب پراور سب تعریفیں اﷲ تعالی کے لیے ہیں جو پروردگار ہے سب جہانوں کا۔(ت)
فقیر احمد رضا خان قادری عفی عنہ از بریلی ۱۴ ربیع الاول شریف روز شنبہ ۱۳۲۸ھ
رسالہ خالص الاعتقاد ختم ہوا۔
__________________
گر براند نر ود و ر برود باز آید مگس کفر بود خال رخ وہابی
(اگر بھگائے تو نہیں جاتی اور اگر جائے تو لوٹ آتی ہی کفر کی مکھی وہابی کے چہرے کا تل ہے۔ت)
" کذلک العذاب و لعذاب الاخرۃ اکبر لو کانوا یعلمون ﴿۳۳﴾" وصلی اﷲ تعالی علیہ سیدنا ومولینا محمد والہ وصحبہ اجمعینوالحمد ﷲ رب العلمین۔ مار ایسی ہوتی ہے اور بےشك آخرت کی مار سب سے بڑی ہےکیا اچھا تھا اگر وہ جانتے اور درود نازل فرمائے اﷲ تعالی ہمارے آقا و مولی محمد مصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم پر اور آپ کی آل پر اور آپ کے تمام اصحاب پراور سب تعریفیں اﷲ تعالی کے لیے ہیں جو پروردگار ہے سب جہانوں کا۔(ت)
فقیر احمد رضا خان قادری عفی عنہ از بریلی ۱۴ ربیع الاول شریف روز شنبہ ۱۳۲۸ھ
رسالہ خالص الاعتقاد ختم ہوا۔
__________________
حوالہ / References
القرآن الکریم ۶۸ /۳۳
رسالہ
انبآء المصطفی بحال سر و اخفی ۱۳۱۸ھ
(مصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو خبر دینا پوشیدہ کی اور پوشیدہ ترین کی)
بسم اﷲ الرحمن الرحیم ط
مسئلہ ۱۴۸: از دہلی چاندنی چوك موتی بازارمرسلہ بعض علماء اہلسنت ۲۱ ربیع الاخر شریف ۱۳۱۸ھ
حضرت علمائے کرام اہلسنت کیا فرماتے ہیں اس مسئلہ میں کہ زید عــــــــہ دعوی کرتا ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم کو حق تعالی نے علم غیب عطا فرمایا ہےدنیا میں جو کچھ ہوا اور ہوگا حتی کہ بدء الخلق سے لے کر دوزخ و جنت میں داخل ہونے تك کا تمام حال اور اپنی امت کا خیر و شر تفصیل سے جانتے ہیں۔اور جمیع اولین و آخرین کو اس طرح ملاحظہ فرماتے ہیں جس طرح اپنے کف دست مبارك کواور اس دعوے کے ثبوت میں آیات و احادیث و اقوال علماء پیش کرتا ہے۔
بکر اس عقیدے کو کفر و شرك کہتا ہے اور بکمال درشتی دعوی کرتا ہے کہ حضور سرور عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کچھ نہیں جانتےحتی کہ آپ کو اپنے خاتمے کا حال بھی معلوم نہ تھااو ر اپنے اس دعوے کے
عــــــــہ:زید سے مراد جناب مولانا ہدایت رسول صاحب لکھنوی مرحوم ہیں۔
انبآء المصطفی بحال سر و اخفی ۱۳۱۸ھ
(مصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو خبر دینا پوشیدہ کی اور پوشیدہ ترین کی)
بسم اﷲ الرحمن الرحیم ط
مسئلہ ۱۴۸: از دہلی چاندنی چوك موتی بازارمرسلہ بعض علماء اہلسنت ۲۱ ربیع الاخر شریف ۱۳۱۸ھ
حضرت علمائے کرام اہلسنت کیا فرماتے ہیں اس مسئلہ میں کہ زید عــــــــہ دعوی کرتا ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم کو حق تعالی نے علم غیب عطا فرمایا ہےدنیا میں جو کچھ ہوا اور ہوگا حتی کہ بدء الخلق سے لے کر دوزخ و جنت میں داخل ہونے تك کا تمام حال اور اپنی امت کا خیر و شر تفصیل سے جانتے ہیں۔اور جمیع اولین و آخرین کو اس طرح ملاحظہ فرماتے ہیں جس طرح اپنے کف دست مبارك کواور اس دعوے کے ثبوت میں آیات و احادیث و اقوال علماء پیش کرتا ہے۔
بکر اس عقیدے کو کفر و شرك کہتا ہے اور بکمال درشتی دعوی کرتا ہے کہ حضور سرور عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کچھ نہیں جانتےحتی کہ آپ کو اپنے خاتمے کا حال بھی معلوم نہ تھااو ر اپنے اس دعوے کے
عــــــــہ:زید سے مراد جناب مولانا ہدایت رسول صاحب لکھنوی مرحوم ہیں۔
اثبات میں کتاب تقویۃ الایمان کی عبارتیں پیش کرتا ہے اور کہتا ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی نسبت یہ عقیدہ کہ آپ کو علم ذاتی تھا خواہ یہ کہ خدا نے عطا فرمادیا تھا۔دونوں طرح شرك ہے۔
اب علمائے ربانی کی جناب میں التماس ہے کہ ان دونوں سے کون برسر حق موافق عقیدہ سلف صالح ہے اور کون بدمذہب جہنمی ہےنیز عمرو کا دعوی ہے کہ شیطان کا علم معاذ اﷲ حضور سرور کائنات صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے علم سے زیادہ ہے۔اس کا گنگوہی مرشد اپنی کتاب براھین قاطعہ کے صفحہ ۴۷ پر یوں لکھتا ہے کہ شیطان کو وسعت علم نص سے ثابت ہوئی فخر عالم کی وسعت علم کی کون سی نصف قطعی ہے ۔
الجواب :
بسم اﷲ الرحمن الرحیم ط
اللھم لك الحمد سرمدا صل وسلم وبارك علی من علمتہ الغیب و نزھتہ من کل عیب وعلی الہ وصحبہ ابدا رب انی اعوذ بك من ھمزات الشیاطین واعوذبك رب ان یحضرون۔ اے اﷲ تمام تعریفیں ہمیشہ ہمیشہ تیرے لیے ہیںدرود و سلام اور برکت نازل فرما اس پر جس کو تو نے غیب کا علم عطا فرمایا ہے اور اس کو ہر عیب سے پاك بنایا ہے اور اس کی آل و اصحاب پر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے۔اے میرے پرورگار ! تیری پناہ شاطین کے وسوسوں سےاور اے میرے پروردگار ! تیری پناہ کہ وہ میرے پاس آئیں۔(ت)
زید کا قول حق و صحیح اور بکر کا زعم مردود و قبیح ہے۔بے شك حضرت عزت عزت عظمۃ نے اپنے حبیب اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم کو تمامی اولین و آخرین کا علم عطا فرمایا۔شرق تا غربعرش تا فرش سب انہیں دکھایا۔ملکوت السموت والارض کا شاہد بنایاروز اول سے روز آخر تك سب ماکان ومایکون انہیں بتایااشیائے مذکورہ سے کوئی ذرہ حضور کے علم سے باہر نہ رہا۔علم عظیم حبیب کریم علیہ افضل الصلوۃ والتسلیم ان سب کو محیط ہوا۔نہ صرف اجمالا بلکہ صغیر و کبیرہر رطب و یابسجو پتہ گرتا ہےزمین کی اندھیریوں میں جو دانہ کہی پڑا ہے سب کو جدا جدا تفصیلا جان لیاﷲ الحمد کثیرا۔بلکہ یہ جو کچھ بیان ہوا ہرگز ہرگز محمد رسول اﷲ کا پورا علم نہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وصحبہ اجمعین و کرمبلکہ علم حضور سے ایك چھوٹا حصہ ہےہنوز احاطہ علم محمدی میں وہ ہزار دو ہزار بے حد و کنار سمندر
اب علمائے ربانی کی جناب میں التماس ہے کہ ان دونوں سے کون برسر حق موافق عقیدہ سلف صالح ہے اور کون بدمذہب جہنمی ہےنیز عمرو کا دعوی ہے کہ شیطان کا علم معاذ اﷲ حضور سرور کائنات صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے علم سے زیادہ ہے۔اس کا گنگوہی مرشد اپنی کتاب براھین قاطعہ کے صفحہ ۴۷ پر یوں لکھتا ہے کہ شیطان کو وسعت علم نص سے ثابت ہوئی فخر عالم کی وسعت علم کی کون سی نصف قطعی ہے ۔
الجواب :
بسم اﷲ الرحمن الرحیم ط
اللھم لك الحمد سرمدا صل وسلم وبارك علی من علمتہ الغیب و نزھتہ من کل عیب وعلی الہ وصحبہ ابدا رب انی اعوذ بك من ھمزات الشیاطین واعوذبك رب ان یحضرون۔ اے اﷲ تمام تعریفیں ہمیشہ ہمیشہ تیرے لیے ہیںدرود و سلام اور برکت نازل فرما اس پر جس کو تو نے غیب کا علم عطا فرمایا ہے اور اس کو ہر عیب سے پاك بنایا ہے اور اس کی آل و اصحاب پر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے۔اے میرے پرورگار ! تیری پناہ شاطین کے وسوسوں سےاور اے میرے پروردگار ! تیری پناہ کہ وہ میرے پاس آئیں۔(ت)
زید کا قول حق و صحیح اور بکر کا زعم مردود و قبیح ہے۔بے شك حضرت عزت عزت عظمۃ نے اپنے حبیب اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم کو تمامی اولین و آخرین کا علم عطا فرمایا۔شرق تا غربعرش تا فرش سب انہیں دکھایا۔ملکوت السموت والارض کا شاہد بنایاروز اول سے روز آخر تك سب ماکان ومایکون انہیں بتایااشیائے مذکورہ سے کوئی ذرہ حضور کے علم سے باہر نہ رہا۔علم عظیم حبیب کریم علیہ افضل الصلوۃ والتسلیم ان سب کو محیط ہوا۔نہ صرف اجمالا بلکہ صغیر و کبیرہر رطب و یابسجو پتہ گرتا ہےزمین کی اندھیریوں میں جو دانہ کہی پڑا ہے سب کو جدا جدا تفصیلا جان لیاﷲ الحمد کثیرا۔بلکہ یہ جو کچھ بیان ہوا ہرگز ہرگز محمد رسول اﷲ کا پورا علم نہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وصحبہ اجمعین و کرمبلکہ علم حضور سے ایك چھوٹا حصہ ہےہنوز احاطہ علم محمدی میں وہ ہزار دو ہزار بے حد و کنار سمندر
حوالہ / References
البراہین القاطعہ بحث علمِ غیب مطبع لے بلاسا واقع ڈھور ص ۵۱
لہرا رہے ہیں جن کی حقیقت کو وہ خود جانیں یا ان کا عطا کرنے والا ان کا مالك و مولی جل و علا الحمد ﷲ العلی الاعلی۔
کتب حدیث و تصانیف علمائے قدیم و حدیث میں اس کے دلائل کا بسط شافی اور بیان وافی ہے اور اگر کچھ نہ ہو تو بحمداﷲ قرآن عظیم خود شاہد عدل و حکم فصل ہے۔
آیات قرآنی:قال اﷲ تعالی(اﷲ تعالی نے فرمایا۔ت):
" و نزلنا علیک الکتب تبینا لکل شیء و ہدی و رحمۃ و بشری للمسلمین ﴿۸۹﴾" ۔ اتاری ہم نے تم پر کتاب جو ہر چیز کا روشن بیان ہے اور مسلمانوں کے لیے ہدایت و رحمت و بشارت۔
قال اﷲ تعالی(اﷲ تعالی نے فرمایا۔ت):
" ما کان حدیثا یفتری ولکن تصدیق الذی بین یدیہ وتفصیل کل شیء" ۔ قرآن وہ بات نہیں جو بنائی جائے بلکہ اگلی کتابوں کی تصدیق ہے اور ہر شے کا صاف جدا جدا بیان ہے۔
وقال اﷲ تعالی(اﷲ تعالی نے فرمایا۔ت):
" ما فرطنا فی الکتب من شیء " ۔ ہم نے کتاب میں کوئی شے اٹھا نہیں رکھی۔
اقول:وباﷲ التوفیق(میں کہتا ہوں اﷲ تعالی کی توفیق کے ساتھ۔ت)جب فرقان مجید میں ہر شے کا بیان ہے اور بیان بھی کیساروشن اور روشن بھی کس درجہ کامفصلاور اہلسنت کے مذہب میں شے ہر موجود کو کہتے ہیںتو عرش تا فرش تمام کائنات جملہ موجودات اس بیان کے احاطے میں داخل ہوئے اور منجملہ موجودات کتابت لوح محفوظ بھی ہے تابالضرورت یہ بیانات محیطاس کے مکتوب بھی بالتفصیل شامل ہوئے۔اب یہ بھی قرآن عظیم سے ہی پوچھ دیکھئے کہ لوح محفوظ میں کیا لکھا ہے۔ قال اﷲ تعالی(اﷲ تعالی نے فرمایا۔ت):
" وکل صغیر وکبیر مستطر ﴿۵۳﴾ " ۔ ہرچھوٹی بڑی چیز لکھی ہوئی ہے۔
کتب حدیث و تصانیف علمائے قدیم و حدیث میں اس کے دلائل کا بسط شافی اور بیان وافی ہے اور اگر کچھ نہ ہو تو بحمداﷲ قرآن عظیم خود شاہد عدل و حکم فصل ہے۔
آیات قرآنی:قال اﷲ تعالی(اﷲ تعالی نے فرمایا۔ت):
" و نزلنا علیک الکتب تبینا لکل شیء و ہدی و رحمۃ و بشری للمسلمین ﴿۸۹﴾" ۔ اتاری ہم نے تم پر کتاب جو ہر چیز کا روشن بیان ہے اور مسلمانوں کے لیے ہدایت و رحمت و بشارت۔
قال اﷲ تعالی(اﷲ تعالی نے فرمایا۔ت):
" ما کان حدیثا یفتری ولکن تصدیق الذی بین یدیہ وتفصیل کل شیء" ۔ قرآن وہ بات نہیں جو بنائی جائے بلکہ اگلی کتابوں کی تصدیق ہے اور ہر شے کا صاف جدا جدا بیان ہے۔
وقال اﷲ تعالی(اﷲ تعالی نے فرمایا۔ت):
" ما فرطنا فی الکتب من شیء " ۔ ہم نے کتاب میں کوئی شے اٹھا نہیں رکھی۔
اقول:وباﷲ التوفیق(میں کہتا ہوں اﷲ تعالی کی توفیق کے ساتھ۔ت)جب فرقان مجید میں ہر شے کا بیان ہے اور بیان بھی کیساروشن اور روشن بھی کس درجہ کامفصلاور اہلسنت کے مذہب میں شے ہر موجود کو کہتے ہیںتو عرش تا فرش تمام کائنات جملہ موجودات اس بیان کے احاطے میں داخل ہوئے اور منجملہ موجودات کتابت لوح محفوظ بھی ہے تابالضرورت یہ بیانات محیطاس کے مکتوب بھی بالتفصیل شامل ہوئے۔اب یہ بھی قرآن عظیم سے ہی پوچھ دیکھئے کہ لوح محفوظ میں کیا لکھا ہے۔ قال اﷲ تعالی(اﷲ تعالی نے فرمایا۔ت):
" وکل صغیر وکبیر مستطر ﴿۵۳﴾ " ۔ ہرچھوٹی بڑی چیز لکھی ہوئی ہے۔
حوالہ / References
القرآن الکریم ۱۶ /۸۹
القرآن الکریم ۱۲ /۱۱۱
القرآن الکریم ۶ /۳۸
القرآن الکریم ۵۴ /۵۳
القرآن الکریم ۱۲ /۱۱۱
القرآن الکریم ۶ /۳۸
القرآن الکریم ۵۴ /۵۳
وقال اﷲ تعالی (اور اﷲ تعالی نے فرمایا۔ت):
" وکل شیء احصینہ فی امام مبین ﴿۱۲﴾
" ۔ ہر شے ہم نے ایك روشن پیشوا میں جمع فرمادی ہے۔
وقال اﷲ تعالی اور اﷲ تعالی نے فرمایا۔ت):
" ولا حبۃ فی ظلمت الارض ولا رطب و لا یابس الا فی کتب مبین ﴿۵۹﴾" ۔ کوئی دانہ نہیں زمین کی اندھیریوں میں اور نہ کوئی تر اور نہ کوئی خشك مگر یہ کہ سب ایك روشن کتاب میں لکھا ہے۔
اور اصول میں مبرہن ہوچکا کہ نکرہ حیز نفی میں مفید عموم ہے اور لفظ کل تو ایسا عام ہے کہ کبھی خاص ہو کر مستعمل ہی نہیں ہوتا اور عام افادہ استغراق میں قطعی ہےاور نصوص ہمیشہ ظاہر پر محمول رہیں گی۔بے دلیل شرعی تخصیص و تاویل کی اجازت نہیں۔ورنہ شریعت سے امان اٹھ جائےنہ احادیث احاد اگرچہ کیسے ہی اعلی درجے کی ہوںعموم قرآن کی تخصیص کرسکیں بلکہ اس کے حضور مضمحل ہوجائیں گی بلکہ تخصیص متراخی نسخ ہے اور اخبار کا نسخ ناممکن اور تخصیص عقلی عام کو قطعیت سے نازل نہیں کرتی نہ اس کے اعتماد پر کسی ظنی سے تخصیص ہوسکے تو بحمد اﷲ تعالی کیسے نص صحیح قطعی سے روشن ہوا کہ ہمارے حضور صاحب قرآن صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم کو اﷲ عزوجل نے تمام موجودات جملہ ماکان ومایکون الی یوم القیمۃ جمیع مندرجات لوح محفوظ کا علم دیا اور شرق و غرب و سماء و ارض و عرش فرش میں کوئی ذرہ حضور کے علم سے باہر نہ رہا۔وﷲ الحجۃ الساطعۃ اور جب کہ یہ علم قران عظیم کے " تبینا لکل شیء" ۔(ہر چیز کا روشن بیان۔ت)ہونے نے دیا
اور پر ظاہر کہ یہ وصف تمام کلام مجید کا ہےنہ ہر آیت یا سورت کاتو نزول جمیع قرآن شریف سے پہلے اگر بعض انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کی نسبت ارشاد ہو " لم نقصص علیک " ۔(ان کا قصہ ہم نے آ پ پر بیان نہیں کیا۔ت)یا منافقین کے با ب میں فرمایا جائے:" لا تعلمہم " ۔(آپ ان کو نہیں جانتے۔ت)ہر گز ان آیات کے منافی اور علم مصطفوی کا نافی نہیں۔
الحمد ﷲ جس قدر قصص و روایات و اخبار و حکایات علم عظیم محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم
" وکل شیء احصینہ فی امام مبین ﴿۱۲﴾
" ۔ ہر شے ہم نے ایك روشن پیشوا میں جمع فرمادی ہے۔
وقال اﷲ تعالی اور اﷲ تعالی نے فرمایا۔ت):
" ولا حبۃ فی ظلمت الارض ولا رطب و لا یابس الا فی کتب مبین ﴿۵۹﴾" ۔ کوئی دانہ نہیں زمین کی اندھیریوں میں اور نہ کوئی تر اور نہ کوئی خشك مگر یہ کہ سب ایك روشن کتاب میں لکھا ہے۔
اور اصول میں مبرہن ہوچکا کہ نکرہ حیز نفی میں مفید عموم ہے اور لفظ کل تو ایسا عام ہے کہ کبھی خاص ہو کر مستعمل ہی نہیں ہوتا اور عام افادہ استغراق میں قطعی ہےاور نصوص ہمیشہ ظاہر پر محمول رہیں گی۔بے دلیل شرعی تخصیص و تاویل کی اجازت نہیں۔ورنہ شریعت سے امان اٹھ جائےنہ احادیث احاد اگرچہ کیسے ہی اعلی درجے کی ہوںعموم قرآن کی تخصیص کرسکیں بلکہ اس کے حضور مضمحل ہوجائیں گی بلکہ تخصیص متراخی نسخ ہے اور اخبار کا نسخ ناممکن اور تخصیص عقلی عام کو قطعیت سے نازل نہیں کرتی نہ اس کے اعتماد پر کسی ظنی سے تخصیص ہوسکے تو بحمد اﷲ تعالی کیسے نص صحیح قطعی سے روشن ہوا کہ ہمارے حضور صاحب قرآن صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم کو اﷲ عزوجل نے تمام موجودات جملہ ماکان ومایکون الی یوم القیمۃ جمیع مندرجات لوح محفوظ کا علم دیا اور شرق و غرب و سماء و ارض و عرش فرش میں کوئی ذرہ حضور کے علم سے باہر نہ رہا۔وﷲ الحجۃ الساطعۃ اور جب کہ یہ علم قران عظیم کے " تبینا لکل شیء" ۔(ہر چیز کا روشن بیان۔ت)ہونے نے دیا
اور پر ظاہر کہ یہ وصف تمام کلام مجید کا ہےنہ ہر آیت یا سورت کاتو نزول جمیع قرآن شریف سے پہلے اگر بعض انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کی نسبت ارشاد ہو " لم نقصص علیک " ۔(ان کا قصہ ہم نے آ پ پر بیان نہیں کیا۔ت)یا منافقین کے با ب میں فرمایا جائے:" لا تعلمہم " ۔(آپ ان کو نہیں جانتے۔ت)ہر گز ان آیات کے منافی اور علم مصطفوی کا نافی نہیں۔
الحمد ﷲ جس قدر قصص و روایات و اخبار و حکایات علم عظیم محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم
کے گھٹانے کو آیات قطعیہ قرآنیہ میں پیش کی جاتی ہیں ان سب کا جواب انہیں دو فقروں میں ہوگیا ہے دو حال سے خالی نہیںیا تو ان قصص سے تاریخ معلوم ہوگی یا نہیںاگر نہیں تو ان سے استدلال درست نہیں کہ جب تاریخ مجہول تو ان کا تمامی نزول قرآن سے پہلے ہونا صاف معقول اور اگر ہاں تو دو حال سے خالی نہیں یا وہ تاریخ تمامی نزول سے پہلے کی ہوگی یا بعد کی
پہلی صورت میں استدلال کرنا درست نہیںبرتقدیر ثانی اگر مدعائے مخالف میں نص صریح نہ ہو تو استناد محض خرط القتاد مخالفین جو پیش کرتے ہیں سب انہیں اقسام کی ہیں۔ان آیات کے خلاف پر اصلا ایك دلیل صحیح صریح قطعی الافادہ نہیں دکھا سکتےاور اگر بفرض غلط تسلیم ہی کرلیں تو ایك یہی جواب جامع و نافع و نافی و قامع سب کے لیے شافی و کافیکہ عموم آیات قطعیہ قرآنیہ کی مخالفت میں اخبار احاد سے استناد محض غلط ہے۔اس مطلب پر تصریحات آئمہ اصول سے احتجاج کروں اس سے یہی بہتر ہے کہ خود مخالفین کے بزرگوں کی شہادت پیش کروں۔ ع
مدعی لاکھ پرہ بھاری ہے گواہی تیری
نصوص قطعیہ قرآن عظیم کے خلاف پر احادیث احاد کا سنا جانا بالائے طاقیہ بزرگوار صاف تصریح کرتے ہیں کہ یہاں خبر واحد سے استدلال ہی جائز نہیںنہ اصلا اس پر التفات ہوسکےاسی براہن قاطعہ ما امر اﷲ بہ ان یوصل میں اسی مسئلہ علم غیب کی تقریریوں لکھتے ہیں:عقائد مسائل قیاسی نہیں کہ قیاس سے ثابت ہوجائیںبلکہ قطعی ہیںقطعیات نصوص سے ثابت ہوتے ہیں کہ خبر واحد یہاں بھی مفید نہیںلہذا اس کا اثبات اس وقت قابل التفات ہو کہ قطعیات سے اس کو ثابت کرے ۔
نیز صفحہ ۸۱ پر لکھا:اعتقادات میں قطعیات کا اعتبار ہوتا ہےنہ ظنیات صحاح کا ۔
صفحہ ۸۷ پر ہے:احاد صحاح بھی معتبرنہیںچنانچہ فن اصول میں مبرہن ہے ۔
الحمد ﷲ تمام مخالفین کو دعوت عام ہے فاجمعوا شرکاء کم(اپنے شرکاء کو جمع کرلو۔ت)
پہلی صورت میں استدلال کرنا درست نہیںبرتقدیر ثانی اگر مدعائے مخالف میں نص صریح نہ ہو تو استناد محض خرط القتاد مخالفین جو پیش کرتے ہیں سب انہیں اقسام کی ہیں۔ان آیات کے خلاف پر اصلا ایك دلیل صحیح صریح قطعی الافادہ نہیں دکھا سکتےاور اگر بفرض غلط تسلیم ہی کرلیں تو ایك یہی جواب جامع و نافع و نافی و قامع سب کے لیے شافی و کافیکہ عموم آیات قطعیہ قرآنیہ کی مخالفت میں اخبار احاد سے استناد محض غلط ہے۔اس مطلب پر تصریحات آئمہ اصول سے احتجاج کروں اس سے یہی بہتر ہے کہ خود مخالفین کے بزرگوں کی شہادت پیش کروں۔ ع
مدعی لاکھ پرہ بھاری ہے گواہی تیری
نصوص قطعیہ قرآن عظیم کے خلاف پر احادیث احاد کا سنا جانا بالائے طاقیہ بزرگوار صاف تصریح کرتے ہیں کہ یہاں خبر واحد سے استدلال ہی جائز نہیںنہ اصلا اس پر التفات ہوسکےاسی براہن قاطعہ ما امر اﷲ بہ ان یوصل میں اسی مسئلہ علم غیب کی تقریریوں لکھتے ہیں:عقائد مسائل قیاسی نہیں کہ قیاس سے ثابت ہوجائیںبلکہ قطعی ہیںقطعیات نصوص سے ثابت ہوتے ہیں کہ خبر واحد یہاں بھی مفید نہیںلہذا اس کا اثبات اس وقت قابل التفات ہو کہ قطعیات سے اس کو ثابت کرے ۔
نیز صفحہ ۸۱ پر لکھا:اعتقادات میں قطعیات کا اعتبار ہوتا ہےنہ ظنیات صحاح کا ۔
صفحہ ۸۷ پر ہے:احاد صحاح بھی معتبرنہیںچنانچہ فن اصول میں مبرہن ہے ۔
الحمد ﷲ تمام مخالفین کو دعوت عام ہے فاجمعوا شرکاء کم(اپنے شرکاء کو جمع کرلو۔ت)
حوالہ / References
البراھین القاطعہ بحث علم غیب مطبع لے بلاسا واقع ڈھور ص۵۱
البراھین القاطعہ شب جمعہ میں ارواح کے اپنے گھر آنے کے اثبات میں روایات سب مخدوش ہیں ص۸۹
البراھین القاطعہ مسئلہ فاتحہ اعتقادیہ ہے اس میں ضعاف کیا احادِ صحاح بھی قابلِ اعتماد نہیں ص ۹۶
البراھین القاطعہ شب جمعہ میں ارواح کے اپنے گھر آنے کے اثبات میں روایات سب مخدوش ہیں ص۸۹
البراھین القاطعہ مسئلہ فاتحہ اعتقادیہ ہے اس میں ضعاف کیا احادِ صحاح بھی قابلِ اعتماد نہیں ص ۹۶
چھوٹے بڑے سب اکٹھے ہو کر ایك آیت قطعی الدلالۃ یا ایك حدیث متواتر یقینی الافادہ چھانٹ لائیں جس سے صاف صریح طور پر ثابت ہو کہ تمام نزول قرآن عظیم کے بعد بھی اشیائے مذکورہ ماکان ومایکون سے فلاں امر حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم پر مخفی رہا جس کا علم حضور کو دیا ہی نہ گیا۔
" فان لم تفعلوا ولن تفعلوا" ۔
فاعلموا " ان اللہ لا یہدی کید الخائنین ﴿۵۲﴾" ۔ اگر ایسی نص نہ لاسکو اور ہم کہے دیتے ہیں کہ ہر گز نہ کرسکو گےتو خوب جان لو کہ اﷲ راہ نہیں دیتا دغا بازوں کے مکر کو۔
والحمدﷲ رب العالمین(اور سب تعریفیں اﷲ کے لیے ہیں جو پروردگار ہے تمام جہانوں کا۔ت)یہی مولوی رشید احمد صاحب پھر لکھتے ہیں:خود فخر عالم علیہ ا لسلام فرماتے ہیں واﷲ لاادری مایفعل بی ولا بکم(الحدیث)
(اور بخدا میں نہیں جانتا کہ میرے ساتھ کیا ہوگا اور تمہارے ساتھ کیا ہوگا۔ت)
اورشیخ عبدالحق روایت کرتے ہیں کہ مجھ کو دیوار کے پیچھے کا بھی علم نہیں ۔
قطع نظر اس سے کہ اس آیت و حدیث کے کیا معنی ہیں اور قطع نظر اس سے کہ یہ کس وقت کے ارشاد ہیں اور قطع نظر اس سے کہ خود قرآن عظیم و احادیث صحیحہ صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں اس کا ناسخ موجود کہ جب آیۃ کریمہ:
" لیغفر لک اللہ ما تقدم من ذنبک و ما تاخر" ۔ (تاکہ اﷲ بخش دے تمہارے واسطے سے سب اگلے پچھلے گناہ)
نازل ہوئی تو صحابہ نے عرض کی:
ھنیأ لك یارسول اﷲ لقدبین اﷲ لك ماذا یفعل بك یارسول اﷲ ! آپ کو مبارك ہوخدا کی قسم ! اﷲ عزوجل نے یہ تو صاف بیان فرمادیا کہ حضور کے
" فان لم تفعلوا ولن تفعلوا" ۔
فاعلموا " ان اللہ لا یہدی کید الخائنین ﴿۵۲﴾" ۔ اگر ایسی نص نہ لاسکو اور ہم کہے دیتے ہیں کہ ہر گز نہ کرسکو گےتو خوب جان لو کہ اﷲ راہ نہیں دیتا دغا بازوں کے مکر کو۔
والحمدﷲ رب العالمین(اور سب تعریفیں اﷲ کے لیے ہیں جو پروردگار ہے تمام جہانوں کا۔ت)یہی مولوی رشید احمد صاحب پھر لکھتے ہیں:خود فخر عالم علیہ ا لسلام فرماتے ہیں واﷲ لاادری مایفعل بی ولا بکم(الحدیث)
(اور بخدا میں نہیں جانتا کہ میرے ساتھ کیا ہوگا اور تمہارے ساتھ کیا ہوگا۔ت)
اورشیخ عبدالحق روایت کرتے ہیں کہ مجھ کو دیوار کے پیچھے کا بھی علم نہیں ۔
قطع نظر اس سے کہ اس آیت و حدیث کے کیا معنی ہیں اور قطع نظر اس سے کہ یہ کس وقت کے ارشاد ہیں اور قطع نظر اس سے کہ خود قرآن عظیم و احادیث صحیحہ صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں اس کا ناسخ موجود کہ جب آیۃ کریمہ:
" لیغفر لک اللہ ما تقدم من ذنبک و ما تاخر" ۔ (تاکہ اﷲ بخش دے تمہارے واسطے سے سب اگلے پچھلے گناہ)
نازل ہوئی تو صحابہ نے عرض کی:
ھنیأ لك یارسول اﷲ لقدبین اﷲ لك ماذا یفعل بك یارسول اﷲ ! آپ کو مبارك ہوخدا کی قسم ! اﷲ عزوجل نے یہ تو صاف بیان فرمادیا کہ حضور کے
حوالہ / References
القرآن الکریم ۲ /۲۴
القرآن الکریم ۱۲ /۵۲
البراہین القاطعہ بحث علمِ غیب مطبع لے بلاسا واقع ڈھور ص ۵۱
القرآن الکریم ۴۸ /۲
القرآن الکریم ۱۲ /۵۲
البراہین القاطعہ بحث علمِ غیب مطبع لے بلاسا واقع ڈھور ص ۵۱
القرآن الکریم ۴۸ /۲
فماذا ایفعل بنا ۔ ساتھ کیا کرے گااب رہا یہ کہ ہمارے ساتھ کیاکرے گا۔
اس پر یہ آیت اتری:
" لیدخل المؤمنین و المؤمنت جنت تجری من تحتہا الانہر خلدین فیہا و یکفر عنہم سیاتہم و کان ذلک عند اللہ فوزا عظیما ﴿۵﴾ " ۔ تاکہ داخل کرے اﷲ ایمان والے مردوں اور ایمان والی عورتوں کو باغوں میں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں ہمیشہ رہیں گے ان میں اور مٹا دے ان سے ان کے گناہاور یہ اﷲ کے یہاں بڑی مراد پانا ہے۔
یہ آیت اور ان کے امثال بے نظیر اور یہ حدیث جلیل و شہیر۔
رہا شیخ عبدالحق کا حوالہقطع نظر اس سے کہ روایت و حکایت میں فرق ہےاس بے اصل حکایت سے استناد اور شیخ محقق قدس سرہ العزیز کی طرف اسناد کیسی جرات و وقاحت ہےشیخ رحمۃ اﷲ علیہ نے مدارج شریف میں یوں فرمایا ہے:
اینجا اشکال می آرند کہ در بعض روایات آمدہ است کہ گفت آں حضرت صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم من بندہ ام نمی دانم آں چہ درپس ایں دیوارستجوابش آنست کہ ایں سخن اصلے نہ داردوروایت بداں صحیح نشدہ است ۔ اس موقعہ پر ایك اعتراض کیا جاتا ہے کہ بعض روایات میں ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ میں بندہ ہوں مجھے معلوم نہیں کہ اس دیوار کے پیچھے کیا ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اسکی کوئی اصل نہیں اور یہ روایت صحیح نہیں۔
ایسا ہی لاتقربوا الصلوۃ (نماز کے قریب مت جاؤ۔ت)پر عمل کرو گے تو خوب چین سے رہو گےع
اس آنکھ سے ڈرئیے جو خدا سے نہ ڈرے آنکھ
امام ابن حجر عسقلانی(رحمۃ اﷲ تعالی علیہ)فرماتے ہیں۔لا اصل لہ ۔یہ حکایت محض
اس پر یہ آیت اتری:
" لیدخل المؤمنین و المؤمنت جنت تجری من تحتہا الانہر خلدین فیہا و یکفر عنہم سیاتہم و کان ذلک عند اللہ فوزا عظیما ﴿۵﴾ " ۔ تاکہ داخل کرے اﷲ ایمان والے مردوں اور ایمان والی عورتوں کو باغوں میں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں ہمیشہ رہیں گے ان میں اور مٹا دے ان سے ان کے گناہاور یہ اﷲ کے یہاں بڑی مراد پانا ہے۔
یہ آیت اور ان کے امثال بے نظیر اور یہ حدیث جلیل و شہیر۔
رہا شیخ عبدالحق کا حوالہقطع نظر اس سے کہ روایت و حکایت میں فرق ہےاس بے اصل حکایت سے استناد اور شیخ محقق قدس سرہ العزیز کی طرف اسناد کیسی جرات و وقاحت ہےشیخ رحمۃ اﷲ علیہ نے مدارج شریف میں یوں فرمایا ہے:
اینجا اشکال می آرند کہ در بعض روایات آمدہ است کہ گفت آں حضرت صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم من بندہ ام نمی دانم آں چہ درپس ایں دیوارستجوابش آنست کہ ایں سخن اصلے نہ داردوروایت بداں صحیح نشدہ است ۔ اس موقعہ پر ایك اعتراض کیا جاتا ہے کہ بعض روایات میں ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ میں بندہ ہوں مجھے معلوم نہیں کہ اس دیوار کے پیچھے کیا ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اسکی کوئی اصل نہیں اور یہ روایت صحیح نہیں۔
ایسا ہی لاتقربوا الصلوۃ (نماز کے قریب مت جاؤ۔ت)پر عمل کرو گے تو خوب چین سے رہو گےع
اس آنکھ سے ڈرئیے جو خدا سے نہ ڈرے آنکھ
امام ابن حجر عسقلانی(رحمۃ اﷲ تعالی علیہ)فرماتے ہیں۔لا اصل لہ ۔یہ حکایت محض
حوالہ / References
صحیح البخاری کتاب المغازی ۲ /۶۰۰ و سنن الترمذی کتاب التفسیر حدیث۳۲۷۴ ۵ /۱۷۶
القرآن الکریم ۴۸ /۵
مدارج النبوت لاعلم ماورای جداری ایں سخنے اصل ندارد مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ /۷
المواہب الدنیۃ المقصد الثالث الفصل الاول المکتب الاسلامی بیروت ۲ /۲۲۸
القرآن الکریم ۴۸ /۵
مدارج النبوت لاعلم ماورای جداری ایں سخنے اصل ندارد مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ /۷
المواہب الدنیۃ المقصد الثالث الفصل الاول المکتب الاسلامی بیروت ۲ /۲۲۸
بے اصل ہے۔
امام ابن حجر مکی نے افضل القری میں فرمایا:لم یعرف سند ۔اس کے لیے کوئی سند نہ پہنچانی گئی۔
افسوس اسی منہ سے مقام اعتقادیات بتانااحادیث صحیحہ بھی نامقبول ٹھہرنااسی منہ سے نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم کا علم عظیم گھٹا کر ایسی بے اصل حکایت سے سند لانا اور ملمع کاری کے لیے شیخ محقق کا نام لکھ جانا جو صراحۃ فرمارہے ہیں کہ اس حکایت کی جڑ نہ بنیادآپ اس کے سوا کیا کہیے کہ ایسوں کی داد نہ فریاد۔اﷲ اﷲ نبی صل اﷲ تعالی علیہ وسلم کے مناقب عظیمہ اور باب فضائل سے نکلوا کر اس تنگنائے میں داخل کرائیں تاکہ صحیحیں بخاری و مسلم کی حدیثیں بھی مردود بنائیں اور حضور کی تنقیص شان میں یہ فراخی دکھائیں کہ بے اصل بے سند مقولے سب سما جائیں۔ع
حال ایمان کا معلوم ہے بس جانے دو
بالجملہ بحمداﷲ تعالی زید سنی حفظہ اﷲ تعالی کا دعوی آیات قطعیہ قرآنیہ سے ایسے جلیل و جمیل طور سے ثابت جس میں اصلا مجال دم زدن نہیںاگر یہاں کوئی دلیل ظنی تخصیص سے قائم بھی ہوتی تو عموم قطعی قرآن عظیم کے حضور مضمحل ہوجاتی۔نہ کہ صحیح مسلم و صحیح بخاری وغیرہا سنن وصحاح و مسانید و معاجیم کی احادیث صریحہصحیحہکثیرہشہیرہ اس عموم و اطلاق کی اور تاکید وتائید فرمارہی ہیں۔
احادیث مبارکہ:
صحیحین بخاری و مسلم میں حضرت حذیفہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے ہے:
قام فینا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم مقاما ماترك شیئا یکون فی مقامہ ذلك الی قیام الساعۃ الاحدث بہ حفظہ من حفظہ ونسیہ من نسیہ ۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے ایك بار ہم میں کھڑے ہو کر ابتدائے آفرنیش سے قیامت تك جو کچھ ہونے والا تھا سب بیان فرمادیاکوئی چیز نہ چھوڑیجسے یاد رہا یاد رہاجو بھول گیا بھول گیا۔
امام ابن حجر مکی نے افضل القری میں فرمایا:لم یعرف سند ۔اس کے لیے کوئی سند نہ پہنچانی گئی۔
افسوس اسی منہ سے مقام اعتقادیات بتانااحادیث صحیحہ بھی نامقبول ٹھہرنااسی منہ سے نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم کا علم عظیم گھٹا کر ایسی بے اصل حکایت سے سند لانا اور ملمع کاری کے لیے شیخ محقق کا نام لکھ جانا جو صراحۃ فرمارہے ہیں کہ اس حکایت کی جڑ نہ بنیادآپ اس کے سوا کیا کہیے کہ ایسوں کی داد نہ فریاد۔اﷲ اﷲ نبی صل اﷲ تعالی علیہ وسلم کے مناقب عظیمہ اور باب فضائل سے نکلوا کر اس تنگنائے میں داخل کرائیں تاکہ صحیحیں بخاری و مسلم کی حدیثیں بھی مردود بنائیں اور حضور کی تنقیص شان میں یہ فراخی دکھائیں کہ بے اصل بے سند مقولے سب سما جائیں۔ع
حال ایمان کا معلوم ہے بس جانے دو
بالجملہ بحمداﷲ تعالی زید سنی حفظہ اﷲ تعالی کا دعوی آیات قطعیہ قرآنیہ سے ایسے جلیل و جمیل طور سے ثابت جس میں اصلا مجال دم زدن نہیںاگر یہاں کوئی دلیل ظنی تخصیص سے قائم بھی ہوتی تو عموم قطعی قرآن عظیم کے حضور مضمحل ہوجاتی۔نہ کہ صحیح مسلم و صحیح بخاری وغیرہا سنن وصحاح و مسانید و معاجیم کی احادیث صریحہصحیحہکثیرہشہیرہ اس عموم و اطلاق کی اور تاکید وتائید فرمارہی ہیں۔
احادیث مبارکہ:
صحیحین بخاری و مسلم میں حضرت حذیفہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے ہے:
قام فینا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم مقاما ماترك شیئا یکون فی مقامہ ذلك الی قیام الساعۃ الاحدث بہ حفظہ من حفظہ ونسیہ من نسیہ ۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے ایك بار ہم میں کھڑے ہو کر ابتدائے آفرنیش سے قیامت تك جو کچھ ہونے والا تھا سب بیان فرمادیاکوئی چیز نہ چھوڑیجسے یاد رہا یاد رہاجو بھول گیا بھول گیا۔
حوالہ / References
افضل القرا لقراء ام القرٰی
مشکوۃ المصابیح برمز متفق علیہ کتاب الفتن الفصل الاول مطبع مجتبائی دہلی ص ۴۶۱،صحیح مسلم کتاب الفتن قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۳۹۰،مسند احمد بن حنبل عن حذیفہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۵ /۳۸۵ و ۳۸۹
مشکوۃ المصابیح برمز متفق علیہ کتاب الفتن الفصل الاول مطبع مجتبائی دہلی ص ۴۶۱،صحیح مسلم کتاب الفتن قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۳۹۰،مسند احمد بن حنبل عن حذیفہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۵ /۳۸۵ و ۳۸۹
یہی مضمون احمد نے مسندبخاری نے تاریخطبرانی نے معجم کبیر میں حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا۔
صحیح بخاری شریف میں حضرت امیر المومنین عمر فاروق رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت ہے:
"قام فینا النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم مقاما فاخبرنا عن بدء الخلق حتی دخل اھل الجنۃ منازلھم و اھل النار منازلھم حفظ ذلك من حفظہ ونسیہ من نسیہ ۔ ایك بار سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے ہم میں کھڑے ہو کر ابتدائے آفرنیش سے لے کر جنتیوں کے جنت اور دوزخیوں کے دوزخ جانے تك کا حال ہم سے بیان فرمادیا۔یاد رکھا جس نے یاد رکھا اور بھول گیا جو بھول گیا۔
صحیح مسلم شریف میں حضرت عمر و بن اخطب انصاری رضی اﷲ تعالی عنہ سے ہے:ایك دن رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے نماز فجر سے غروب آفتاب تك خطبہ فرمایابیچ میں ظہر و عصر کی نمازوں کے علاوہ کچھ کام نہ کیا فاخبرنا بما ھو کائن الی یوم القیمۃ فاعلمنا احفظہ ۔اس میں سب کچھ ہم سے بیان فرمادیا جو کچھ قیامت تك ہونے والا تھا ہم میں زیادہ علم والا وہ ہے جسے زیادہ یاد رہا۔جامع ترمذی شریف وغیرہ کتب کثیرئہ آئمہ حدیث میں باسانید عدیدہ و طرق متنوعہ دس صحابہ کرام رضی اﷲ تعالی عنہم سے ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
فرأیتہ عزوجل وضع کفہ بین کتفی فوجدت برد انا ملہ بین ثدی فتجلی لی کل شیئ وعرفت ۔ میں نے اپنے رب عزوجل کو دیکھا اس نے اپنا دست قدرت میر ی پشت پر رکھا کہ میرے سینے میں اس کی ٹھنڈك محسوس ہوئی اسی وقت ہر چیز مجھ پر روشن ہوگئی اور میں نے سب کچھ پہچان لیا۔
امام ترمذی فرماتے ہیں:
ھذا حدیث حسن سألت محمد بن اسمعیل یہ حدیث حسن صحیح ہےمیں نے امام بخاری سے
صحیح بخاری شریف میں حضرت امیر المومنین عمر فاروق رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت ہے:
"قام فینا النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم مقاما فاخبرنا عن بدء الخلق حتی دخل اھل الجنۃ منازلھم و اھل النار منازلھم حفظ ذلك من حفظہ ونسیہ من نسیہ ۔ ایك بار سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے ہم میں کھڑے ہو کر ابتدائے آفرنیش سے لے کر جنتیوں کے جنت اور دوزخیوں کے دوزخ جانے تك کا حال ہم سے بیان فرمادیا۔یاد رکھا جس نے یاد رکھا اور بھول گیا جو بھول گیا۔
صحیح مسلم شریف میں حضرت عمر و بن اخطب انصاری رضی اﷲ تعالی عنہ سے ہے:ایك دن رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے نماز فجر سے غروب آفتاب تك خطبہ فرمایابیچ میں ظہر و عصر کی نمازوں کے علاوہ کچھ کام نہ کیا فاخبرنا بما ھو کائن الی یوم القیمۃ فاعلمنا احفظہ ۔اس میں سب کچھ ہم سے بیان فرمادیا جو کچھ قیامت تك ہونے والا تھا ہم میں زیادہ علم والا وہ ہے جسے زیادہ یاد رہا۔جامع ترمذی شریف وغیرہ کتب کثیرئہ آئمہ حدیث میں باسانید عدیدہ و طرق متنوعہ دس صحابہ کرام رضی اﷲ تعالی عنہم سے ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
فرأیتہ عزوجل وضع کفہ بین کتفی فوجدت برد انا ملہ بین ثدی فتجلی لی کل شیئ وعرفت ۔ میں نے اپنے رب عزوجل کو دیکھا اس نے اپنا دست قدرت میر ی پشت پر رکھا کہ میرے سینے میں اس کی ٹھنڈك محسوس ہوئی اسی وقت ہر چیز مجھ پر روشن ہوگئی اور میں نے سب کچھ پہچان لیا۔
امام ترمذی فرماتے ہیں:
ھذا حدیث حسن سألت محمد بن اسمعیل یہ حدیث حسن صحیح ہےمیں نے امام بخاری سے
حوالہ / References
صحیح البخاری کتاب بدء الخلق باب ماجاء فی قول اﷲ وھو الذی یبدء الخلق الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۴۵۳
صحیح مسلم کتاب الفتن قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۳۹۰
سنن الترمذی کتاب التفسیر حدیث ۳۲۴۶ دارالفکر بیروت ۵ /۱۶۰
صحیح مسلم کتاب الفتن قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۳۹۰
سنن الترمذی کتاب التفسیر حدیث ۳۲۴۶ دارالفکر بیروت ۵ /۱۶۰
عن ھذا الحدیث فقال صحیح ۔ اس کا حال پوچھافرمایا صحیح ہے۔
اسی میں حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے اسی معراج منامی کے بیان میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:
فعلمت مافی السموت وما فی الارض ۔ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب میرے علم میں آگیا۔
شیخ محقق رحمۃ اﷲ علیہ شرح مشکوۃ میں اس حدیث کے نیچے فرماتے ہیں:
پس دانستم ہر چہ در آسمانہا وہرچہ در زمین ہا بود عبارت است از حصول تمامہ علوم جزوی و کلی واحاطہ آں ۔ چنانچہ میں نے جان لیا جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمینوں میں ہے یہ تعبیر ہے تمام علوم کے حصول اور ان کے احاطہ سے چاہے وہ علوم جزوی ہوں یا کلی۔(ت)
امام احمد مسند اور ابن سعد طبقات اور طبرانی معجم میں بسند صحیح حضرت ابوذر غفاری رضی اﷲ تعالی عنہ اور ابویعلی وابن منیع و طبرانی حضرت ابودرداء رضی اﷲ تعالی عنہ سے راوی:
لقد ترکنارسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وما یحرك طائر جناحیہ فی السماء الا ذکر لنا منہ علما ۔ نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں اس حال پر چھوڑا کہ ہوا میں کوئی پرندہ پر مارنے والا ایسا نہیں جس کا علم حضور نے ہمارے سامنے بیان نہ فرمادیا ہو۔
نسیم الریاض شرح شفاء قاضی عیاض و شرح زرقانی للمواہب میں ہے:
ھذا تمثیل لبیان کل شیئ تفصیلا یہ ایك مثال دی ہے اس کی کہ نبی کریم صلی اﷲ
اسی میں حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے اسی معراج منامی کے بیان میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:
فعلمت مافی السموت وما فی الارض ۔ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب میرے علم میں آگیا۔
شیخ محقق رحمۃ اﷲ علیہ شرح مشکوۃ میں اس حدیث کے نیچے فرماتے ہیں:
پس دانستم ہر چہ در آسمانہا وہرچہ در زمین ہا بود عبارت است از حصول تمامہ علوم جزوی و کلی واحاطہ آں ۔ چنانچہ میں نے جان لیا جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمینوں میں ہے یہ تعبیر ہے تمام علوم کے حصول اور ان کے احاطہ سے چاہے وہ علوم جزوی ہوں یا کلی۔(ت)
امام احمد مسند اور ابن سعد طبقات اور طبرانی معجم میں بسند صحیح حضرت ابوذر غفاری رضی اﷲ تعالی عنہ اور ابویعلی وابن منیع و طبرانی حضرت ابودرداء رضی اﷲ تعالی عنہ سے راوی:
لقد ترکنارسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وما یحرك طائر جناحیہ فی السماء الا ذکر لنا منہ علما ۔ نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں اس حال پر چھوڑا کہ ہوا میں کوئی پرندہ پر مارنے والا ایسا نہیں جس کا علم حضور نے ہمارے سامنے بیان نہ فرمادیا ہو۔
نسیم الریاض شرح شفاء قاضی عیاض و شرح زرقانی للمواہب میں ہے:
ھذا تمثیل لبیان کل شیئ تفصیلا یہ ایك مثال دی ہے اس کی کہ نبی کریم صلی اﷲ
حوالہ / References
سنن الترمذی کتاب التفسیر حدیث ۳۲۴۶ دارالفکر بیروت ۵ /۱۶۱
سنن الترمذی کتاب التفسیر حدیث ۳۲۴۴ دارالفکر بیروت ۵ /۱۵۹
اشعۃ اللمعات کتاب الصلوۃ باب المساجد و مواضع الصلوۃ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ /۳۳۳
مسند احمد بن حنبل عن ابی ذر غفار ی رضی اﷲ عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۵/۱۵۳،مجمع الزوائد عن ابی الدرداء کتاب علامات النبوۃ باب فیما اوقی من العلم،الخ دارالکتاب ۸ /۲۶۴
سنن الترمذی کتاب التفسیر حدیث ۳۲۴۴ دارالفکر بیروت ۵ /۱۵۹
اشعۃ اللمعات کتاب الصلوۃ باب المساجد و مواضع الصلوۃ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ /۳۳۳
مسند احمد بن حنبل عن ابی ذر غفار ی رضی اﷲ عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۵/۱۵۳،مجمع الزوائد عن ابی الدرداء کتاب علامات النبوۃ باب فیما اوقی من العلم،الخ دارالکتاب ۸ /۲۶۴
تارۃ واجمالا اخری ۔ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے ہر چیز بیان فرمادیکبھی تفصیلا کبھی اجمالا۔
مواہب امام قسطلانی میں ہے:
ولا شك ان اﷲ تعالی قد اطلعہ علی ازیدمن ذلك والقی علیہ علم الاولین والاخرین ۔ اور کچھ شك نہیں کہ اﷲ تعالی نے حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو اس سے زیادہ علم دیا اور تمام اگلے پچھلوں کا علم حضور پر القاء کیاصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔
طبرانی معجم کبیر اور نصیم بن حماد کتاب الفتن اور ابونعیم حلیہ میں حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالی عنہ سے راویرسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں:
ان اﷲ قدرفع لی الدنیا فانا انظر الیہا والی ما ھوکائن فیہا الی یوم القیامۃ کانما انظر الی کفی ھذہ جلیان من اﷲ جلاہ لنبیہ کما جلاہ لنبین من قبلہ ۔ بے شك میرے سامنے اﷲ عزوجل نے دنیا اٹھالی ہے اور میں اسے اور جو کچھ اس میں قیامت تك ہونے والا ہے سب کچھ ایسا دیکھ رہا ہوں جیسے اپنی ہتھیلی کو دیکھ رہا ہوںاس روشنی کے سبب جو اﷲ تعالی نے اپنے نبی کے لیے روشن فرمائی جیسے محمد سے پہلے انبیاء کے لیے روشن کی تھی۔صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔
اس حدیث ہے کہ جو کچھ سماوات وارض میں ہے اور جو قیامت تك ہوگا اس سب کا علم اگلے انبیاء کرام علیہم السلام کو بھی عطا ہوا تھا اور حضرت عزت عزوجلالہ نے اس تمام ماکان ومایکون کو اپنے ان محبوبو ں کے پیش نظر فرمادیامثلا مشرق سے مغرب تك سماك سے سمك تكارض سے فلك
مواہب امام قسطلانی میں ہے:
ولا شك ان اﷲ تعالی قد اطلعہ علی ازیدمن ذلك والقی علیہ علم الاولین والاخرین ۔ اور کچھ شك نہیں کہ اﷲ تعالی نے حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو اس سے زیادہ علم دیا اور تمام اگلے پچھلوں کا علم حضور پر القاء کیاصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔
طبرانی معجم کبیر اور نصیم بن حماد کتاب الفتن اور ابونعیم حلیہ میں حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالی عنہ سے راویرسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں:
ان اﷲ قدرفع لی الدنیا فانا انظر الیہا والی ما ھوکائن فیہا الی یوم القیامۃ کانما انظر الی کفی ھذہ جلیان من اﷲ جلاہ لنبیہ کما جلاہ لنبین من قبلہ ۔ بے شك میرے سامنے اﷲ عزوجل نے دنیا اٹھالی ہے اور میں اسے اور جو کچھ اس میں قیامت تك ہونے والا ہے سب کچھ ایسا دیکھ رہا ہوں جیسے اپنی ہتھیلی کو دیکھ رہا ہوںاس روشنی کے سبب جو اﷲ تعالی نے اپنے نبی کے لیے روشن فرمائی جیسے محمد سے پہلے انبیاء کے لیے روشن کی تھی۔صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔
اس حدیث ہے کہ جو کچھ سماوات وارض میں ہے اور جو قیامت تك ہوگا اس سب کا علم اگلے انبیاء کرام علیہم السلام کو بھی عطا ہوا تھا اور حضرت عزت عزوجلالہ نے اس تمام ماکان ومایکون کو اپنے ان محبوبو ں کے پیش نظر فرمادیامثلا مشرق سے مغرب تك سماك سے سمك تكارض سے فلك
حوالہ / References
نسیم الریاض فی شرح شفاء القاضی عیاض فصل و من ذٰلك مااطلع الخ مرکز اہلسنت برکایت رضا گجرات ۳ /۱۵۳،شرح الزرقانی علی المواہب اللدنیہ المقصدالثامن الفصل الثالث القسم الثانی دارالمعرفۃ بیروت ۷ /۲۰۶
المواہب اللدنیہ المقصدالثامن الفصل مااخبربہ صلی اﷲ علیہ وسلم من الغیب المکتب الاسلامی بیروت ۳ /۵۶۰
حلیۃ الاولیاء ترجمہ ۳۳۸ حدید بن کریب دارلکتاب العربی بیروت ۶ /۱۰۱،کنزالعمال حدیث ۳۱۸۱۰ و ۳۱۹۷۱ موسستہ الرسالہ بیروت ۱۱ /۳۷۸ و ۴۲۰
المواہب اللدنیہ المقصدالثامن الفصل مااخبربہ صلی اﷲ علیہ وسلم من الغیب المکتب الاسلامی بیروت ۳ /۵۶۰
حلیۃ الاولیاء ترجمہ ۳۳۸ حدید بن کریب دارلکتاب العربی بیروت ۶ /۱۰۱،کنزالعمال حدیث ۳۱۸۱۰ و ۳۱۹۷۱ موسستہ الرسالہ بیروت ۱۱ /۳۷۸ و ۴۲۰
تك اس وقت جو کچھ ہورہا ہےسیدنا ابراہیم خلیل علیہ الصلوۃ والسلام والتسلیم ہزار ہا برس پہلے اس سب کو ایسا دیکھ رہے تھے گویا اس وقت ہر جگہ موجود ہیںایمانی نگاہ میں یہ نہ قدرت الہی پر دشوار اور نہ عزت و وجاہت انبیاء کے مقابل بسیارمگر معترض بیچارے جن کے یہاں خدائی کی حقیقت اتنی ہو کہ ایك پیڑ کے پتے گن دیئے وہ آپ ہی ان حدیثوں کو شرك اکبر کہنا چاہیں اور جو آئمہ کرام و علمائے اعلان ان سے سند لائےانہیں مقبول مسلم رکھتے آئےجیسے امام خاتم الحفاظ جلال الملۃ والدین سیوطی مصنف خصائص کبری و امام شہاب احمد محمد خطیب قسطلانی صاحب مواہب لدنیہ وامام ابوالفضل شہاب ابن حجر مکی ہیثمی شارح ہمزیہ و علامہ شہاب احمد مصری خفا جی صاحب نسیم الریاض شرح شفاء قاضی عیاض و علامہ محمد عبدالباقی زرقانی شارح مواہب وغیرہم رحمہم اﷲ تعالی انہیں مشرك کہیں۔والعیاذ باﷲ رب العالمین۔
صحیح مسلم و مسند امام احمد و سنن ابن ماجہ میں ابوذر رضی اﷲ تعالی عنہ سے ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں:
عرضت علی امتی باعمالہا حسنہا وقبیحھا ۔ میری ساری امت اپن سب اعمال نیك و بد کے ساتھ میرے حضور پیش کی گئی۔
طبرانی اور ضیاء مختارہ میں حذیفہ بن اسید رضی اﷲ تعالی عنہا سے راویرسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں:
"عرضت علی امتی البارحۃ لدی ھذہ الحجرۃ حتی لانا اعرف بالرجل منھم من احد کم بصاحبہ ۔ گزشتہ رات مجھ پر میری امت اس حجرے کے پاس میرے سامنے پیش کی گئی بے شك میں ان کے ہر شخص کو اس سے زیادہ پہچانتا ہوں جیسا تم میں کوئی اپنے ساتھی کو پہچانے۔
والحمدﷲ رب العالمین(سب تعریفیں اﷲ کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔ت)
صحیح مسلم و مسند امام احمد و سنن ابن ماجہ میں ابوذر رضی اﷲ تعالی عنہ سے ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں:
عرضت علی امتی باعمالہا حسنہا وقبیحھا ۔ میری ساری امت اپن سب اعمال نیك و بد کے ساتھ میرے حضور پیش کی گئی۔
طبرانی اور ضیاء مختارہ میں حذیفہ بن اسید رضی اﷲ تعالی عنہا سے راویرسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں:
"عرضت علی امتی البارحۃ لدی ھذہ الحجرۃ حتی لانا اعرف بالرجل منھم من احد کم بصاحبہ ۔ گزشتہ رات مجھ پر میری امت اس حجرے کے پاس میرے سامنے پیش کی گئی بے شك میں ان کے ہر شخص کو اس سے زیادہ پہچانتا ہوں جیسا تم میں کوئی اپنے ساتھی کو پہچانے۔
والحمدﷲ رب العالمین(سب تعریفیں اﷲ کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔ت)
حوالہ / References
صحیح مسلم کتاب المساجد باب النہی عن البصاق فی المسجد قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۲۰۷،مسند احمد بن حنبل عن ابی ذر رضی اﷲ عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۵ /۱۸۰
المعجم الکبیر حدیث ۳۰۵۴ المکتبۃ الفیصلیۃبیروت ۳ /۱۸۱،کنزالعمال حدیث ۳۱۹۱۱ موسستہ الرسال بیروت ۱۱ /۴۰۸
المعجم الکبیر حدیث ۳۰۵۴ المکتبۃ الفیصلیۃبیروت ۳ /۱۸۱،کنزالعمال حدیث ۳۱۹۱۱ موسستہ الرسال بیروت ۱۱ /۴۰۸
اقوال ائمہ کرام:
امام اجل سیدی بوصیری قدس سرہام القری میں فرماتے ہیں:
وسع العالمین علما وحکما ۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا علم و حکمت تمام جہان کو محیط ہوا۔
امام ابن حجر مکی اس کی شرح افضل القری میں فرماتے ہیں:
لان اﷲ تعالی اطلعہ علی العالم فعلم علم الاولین والاخرین وماکان ومایکون ۔ یہ اس لیے کہ بے شك عزوجل نے حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم کو تمام جہان پر اطلاع بخشی تو سب اگلے پچھلوں اور ماکان ومایکون کا علم حضور پر نور صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم کو حاصل ہوگیا۔
امام جلیل قدوۃ المحد ثین سیدی زین الدین عراقی استاذ امام حافظ الشان ابن حجر عسقلانی شرح مہذب میں پھر علامہ خفا جی نسیم الریاض میں فرماتے ہیں:
ان صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم عرضت علیہ الخلائق من لدن ادم علیہ الصلوۃ والسلام الی قیام الساعۃ فعرفھم کلھم کما علم ادم الاسماء ۔ حضرت آدم علیہ الصلوۃ والسلام سے لے کر قیام قیامت تك کی تمام مخلوقات الہی حضور سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم کو پیش کی گئی حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے جمیع مخلوقات گزشتہ اور آئندہ سب کو پہچان لیا۔جس طرح آدم علیہ الصلوۃ والسلام کو تمام نام سکھائے گئے تھے۔
علامہ عبدالرؤف مناوی تیسیر میں فرماتے ہیں:
النفوس القدسیۃ اذا تجردت عن العلائق البدنیۃ اتصلت بالملاء الاعلی ولم یبق لہا حجاب پاکیزہ جانیں جب بدن کے علاقوں سے جدا ہو کر عالم بالا سے ملتی ہیں ان کے لیے کوئی پردہ نہیں رہتا ہے وہ ہر چیز کو ایسا دیکھتی اور
امام اجل سیدی بوصیری قدس سرہام القری میں فرماتے ہیں:
وسع العالمین علما وحکما ۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا علم و حکمت تمام جہان کو محیط ہوا۔
امام ابن حجر مکی اس کی شرح افضل القری میں فرماتے ہیں:
لان اﷲ تعالی اطلعہ علی العالم فعلم علم الاولین والاخرین وماکان ومایکون ۔ یہ اس لیے کہ بے شك عزوجل نے حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم کو تمام جہان پر اطلاع بخشی تو سب اگلے پچھلوں اور ماکان ومایکون کا علم حضور پر نور صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم کو حاصل ہوگیا۔
امام جلیل قدوۃ المحد ثین سیدی زین الدین عراقی استاذ امام حافظ الشان ابن حجر عسقلانی شرح مہذب میں پھر علامہ خفا جی نسیم الریاض میں فرماتے ہیں:
ان صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم عرضت علیہ الخلائق من لدن ادم علیہ الصلوۃ والسلام الی قیام الساعۃ فعرفھم کلھم کما علم ادم الاسماء ۔ حضرت آدم علیہ الصلوۃ والسلام سے لے کر قیام قیامت تك کی تمام مخلوقات الہی حضور سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم کو پیش کی گئی حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے جمیع مخلوقات گزشتہ اور آئندہ سب کو پہچان لیا۔جس طرح آدم علیہ الصلوۃ والسلام کو تمام نام سکھائے گئے تھے۔
علامہ عبدالرؤف مناوی تیسیر میں فرماتے ہیں:
النفوس القدسیۃ اذا تجردت عن العلائق البدنیۃ اتصلت بالملاء الاعلی ولم یبق لہا حجاب پاکیزہ جانیں جب بدن کے علاقوں سے جدا ہو کر عالم بالا سے ملتی ہیں ان کے لیے کوئی پردہ نہیں رہتا ہے وہ ہر چیز کو ایسا دیکھتی اور
حوالہ / References
مجموع المتون متن قصیدۃ الہمزیۃ فی مدح خیر البریۃ الشؤن الدینیہ دولتہ قطر ص ۱۸
افضل القراء لقراء ام القرٰی
نسیم الریاض الباب الثالث الفصل الاول فیما ورومن ذکر مکانتہ مرکز اہلسنت برکات رضا گجرات الہند۲ /۲۰۸
افضل القراء لقراء ام القرٰی
نسیم الریاض الباب الثالث الفصل الاول فیما ورومن ذکر مکانتہ مرکز اہلسنت برکات رضا گجرات الہند۲ /۲۰۸
فتری وتسمع الکل کالمشاھد ۔ سنتی ہیں جیسے پاس حاضر ہیں۔
امام ابن الحاج مکی مدخل امام قسطلانی مواہب میں فرماتے ہیں:
قد قال علماء نار حمھم اﷲ تعالی لا فرق بین موتہ وحیاتہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فی مشاھدتہ لامتہ و معرفتہ باحوالھم و نیاتھم وعزائمھم وخواطر ھم وذلك جلی عندہلاخفاء بہ ۔ بے شك ہمارے علمائے کرام رحمہم اﷲ تعالی نے فرمایا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی حالت دنیوی اور اس وقت کی حالت میں کچھ فرق نہیں ہے اس بات میں کہ حضور اپنی امت کو دیکھ رہے ہیں ان کے ہر حالان کی ہر نیت ان کے ہر ارادےان کے دلوں کے ہر خطرے کو پہچانتے ہیں اور یہ سب چیزیں حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم پر ایسی روشن ہیں جن میں اصلا کسی طرح کی پوشیدگی نہیں۔
یہ عقیدے ہیں علمائے ربانیین کے محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی جناب ارفع میںجل جلالہوصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔
شیخ شیوخ علمائے ہند مولانا شیخ محقق نور اﷲ تعالی مرقدہ المکرم مدارج شریف میں فرماتے ہیں:
ذکر کن او را ودرود بفرست بروے صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وباش در حال ذکر گویا حاضر ست پیش او در حالت حیات و می بینی تو او رامتادب باجلال و تعظیم و ہیبت و امید بداں کہ وے صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم می بیند ومی شنود کلام ترا زیرا کہ وے صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ان کی یاد کر اور ان پر درود بھیجاور ذکر کے وقت ایسے ہوجاؤ گویا تم ان کی زندگی میں ان کے سامنے حاضر ہو اور ان کو دیکھ رہے ہوپورے ادب اور تعظیم سے رہوہیبت بھی ہو اور امید بھیاور جان لو کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم تمہیں دیکھ رہے ہیں اور تمہارا کلام سن رہے ہیں۔ کیونکہ وہ صفات الہیہ سے متصف ہیں اور
امام ابن الحاج مکی مدخل امام قسطلانی مواہب میں فرماتے ہیں:
قد قال علماء نار حمھم اﷲ تعالی لا فرق بین موتہ وحیاتہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فی مشاھدتہ لامتہ و معرفتہ باحوالھم و نیاتھم وعزائمھم وخواطر ھم وذلك جلی عندہلاخفاء بہ ۔ بے شك ہمارے علمائے کرام رحمہم اﷲ تعالی نے فرمایا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی حالت دنیوی اور اس وقت کی حالت میں کچھ فرق نہیں ہے اس بات میں کہ حضور اپنی امت کو دیکھ رہے ہیں ان کے ہر حالان کی ہر نیت ان کے ہر ارادےان کے دلوں کے ہر خطرے کو پہچانتے ہیں اور یہ سب چیزیں حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم پر ایسی روشن ہیں جن میں اصلا کسی طرح کی پوشیدگی نہیں۔
یہ عقیدے ہیں علمائے ربانیین کے محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی جناب ارفع میںجل جلالہوصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔
شیخ شیوخ علمائے ہند مولانا شیخ محقق نور اﷲ تعالی مرقدہ المکرم مدارج شریف میں فرماتے ہیں:
ذکر کن او را ودرود بفرست بروے صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وباش در حال ذکر گویا حاضر ست پیش او در حالت حیات و می بینی تو او رامتادب باجلال و تعظیم و ہیبت و امید بداں کہ وے صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم می بیند ومی شنود کلام ترا زیرا کہ وے صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ان کی یاد کر اور ان پر درود بھیجاور ذکر کے وقت ایسے ہوجاؤ گویا تم ان کی زندگی میں ان کے سامنے حاضر ہو اور ان کو دیکھ رہے ہوپورے ادب اور تعظیم سے رہوہیبت بھی ہو اور امید بھیاور جان لو کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم تمہیں دیکھ رہے ہیں اور تمہارا کلام سن رہے ہیں۔ کیونکہ وہ صفات الہیہ سے متصف ہیں اور
حوالہ / References
التیسیر شرح الجامع الصغیر تحت حدیث حیثما کنتم فصلوا علیّ الخ مکتبۃ الامام الشافعی ریاض ۱ /۵۰۲
المدخل لابن الحاج فصل فی الکلام علٰی زیارۃ سیدالمرسلین دارالکتاب العربی بیروت ۱ /۲۵۲،المواہب اللدنیۃ المقصد العاشر الفصل الثانی المکتب الاسلامی العربی بیروت ۴ /۵۸۰
المدخل لابن الحاج فصل فی الکلام علٰی زیارۃ سیدالمرسلین دارالکتاب العربی بیروت ۱ /۲۵۲،المواہب اللدنیۃ المقصد العاشر الفصل الثانی المکتب الاسلامی العربی بیروت ۴ /۵۸۰
متصف است بصفات اﷲ ویکے از صفات الہی آنست کہ انا جلیس من ذکرنی ۔ اﷲ کی ایك صفت یہ ہے کہ جو مجھے یاد کرتا ہے میں اس کے پاس ہوتا ہوں۔
اﷲ تعالی کی بے شمار رحمتیں شیخ محقق پرجب نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم کا دیکھنا ہمیں بیان کیا بدانکہ بڑھایا تاکہ اسے کوئی گویاکے نیچے داخل نہ سمجھےغرض ایمانی نگاہوں کے سامنے اس حدیث پاك کی تصویر کھینچ دی کہ:
اعبد اﷲ کانك تراہ فان لم تکن تراہ فانہ یراک ۔ اﷲ تعالی کی عبادت کرگویا تو اسے دیکھ رہا ہے اور اگر تو اسے نہ دیکھے تو وہ تو یقینا تجھے دیکھتا ہے۔
نیز فرماتے ہیں:
ہر چہ درد نیا است زمان آدم تانفحہ اولی بروے صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم منکشف ساختند تاہمہ احوال رااز اول تاآخر معلوم کرد و یاران خود رانیز بعضے از اں احوال خبر داد ۔ جو کچھ دنیا میں زمانہ آدم سے پہلے صور پھونکے جانے تك ہے ان(صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم)پر منکشف کردیا یہاں تك کہ انہیں اول سے آخر تك تمام احوال معلوم ہوگئے۔انہوں نے بعض اصحاب کو ان احوال میں سے بعض کی اطلاع دی۔
نیز فرماتے ہیں:
وھو بکل شیئ علیم o ووے صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم دانا است ہمہ چیز از شیونات ذات الہی و احکام صفات حق و اسماء وافعال و آثار و جمیع علوم ظاہر و باطن اول و آخر احاطہ نمودہ و مصداق فوق کل ذی علم علیم oعلیہ من الصلوت افضلہا وھو بکل شیئ علیماور وہ(صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم)سب چیزوں کو جاننے والے ہیںاحوال احکام الہی احکام صفات حقاسماء افعال آثارتمام علوم ظاہر و باطناول و آخر کا احاطہ کیے ہوئے ہیں۔اور فوق کل ذی علم علیم کے مصداق ہیںآ پ پر افضل درود اور اتم
اﷲ تعالی کی بے شمار رحمتیں شیخ محقق پرجب نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم کا دیکھنا ہمیں بیان کیا بدانکہ بڑھایا تاکہ اسے کوئی گویاکے نیچے داخل نہ سمجھےغرض ایمانی نگاہوں کے سامنے اس حدیث پاك کی تصویر کھینچ دی کہ:
اعبد اﷲ کانك تراہ فان لم تکن تراہ فانہ یراک ۔ اﷲ تعالی کی عبادت کرگویا تو اسے دیکھ رہا ہے اور اگر تو اسے نہ دیکھے تو وہ تو یقینا تجھے دیکھتا ہے۔
نیز فرماتے ہیں:
ہر چہ درد نیا است زمان آدم تانفحہ اولی بروے صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم منکشف ساختند تاہمہ احوال رااز اول تاآخر معلوم کرد و یاران خود رانیز بعضے از اں احوال خبر داد ۔ جو کچھ دنیا میں زمانہ آدم سے پہلے صور پھونکے جانے تك ہے ان(صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم)پر منکشف کردیا یہاں تك کہ انہیں اول سے آخر تك تمام احوال معلوم ہوگئے۔انہوں نے بعض اصحاب کو ان احوال میں سے بعض کی اطلاع دی۔
نیز فرماتے ہیں:
وھو بکل شیئ علیم o ووے صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم دانا است ہمہ چیز از شیونات ذات الہی و احکام صفات حق و اسماء وافعال و آثار و جمیع علوم ظاہر و باطن اول و آخر احاطہ نمودہ و مصداق فوق کل ذی علم علیم oعلیہ من الصلوت افضلہا وھو بکل شیئ علیماور وہ(صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم)سب چیزوں کو جاننے والے ہیںاحوال احکام الہی احکام صفات حقاسماء افعال آثارتمام علوم ظاہر و باطناول و آخر کا احاطہ کیے ہوئے ہیں۔اور فوق کل ذی علم علیم کے مصداق ہیںآ پ پر افضل درود اور اتم
حوالہ / References
مدارج النبوۃ باب یاز دہم وصل نوع ثانی کہ تعلق معنوی است الخ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۲ /۲۶۱
صحیح بخاری کتاب الایمان باب سوال جبریل النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم عن الایمان قدیمی کتب خانہ ۱ /۱۲،صحیح مسلم کتاب الایمان باب سوال جبریل النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۲۹
مدارج النبوۃ کتاب الایمان باب پنجم وصل خصائص آنحضرت صلی اﷲ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ /۱۴۴
صحیح بخاری کتاب الایمان باب سوال جبریل النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم عن الایمان قدیمی کتب خانہ ۱ /۱۲،صحیح مسلم کتاب الایمان باب سوال جبریل النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۲۹
مدارج النبوۃ کتاب الایمان باب پنجم وصل خصائص آنحضرت صلی اﷲ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ /۱۴۴
من التحیات اتمہاواکملہا ۔ وواکمل سلام ہو۔ت)
شاہ ولی اﷲ دہلویفیوض الحرمین میں لکھتے ہیں:
فاض علی من جنابہ المقدس صلی اﷲ تعالی علیہ والہ وسلم کیفیۃ ترقی العبد من حیزہ الی حیزا لقدس فیتجلی لہ حینئذ کل شیئ کما اخبرعن ھذاا المشھد فی قصۃ المعراج المنامی ۔ حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ اقدس سے مجھ پر اس حالت کا علم فائض ہوا کہ بندہ اپنے مقام سے مقام قدس تك کیونکر ترقی کرتا ہے کہ اس پر ہر چیز روشن ہوجاتی ہے جس طرح حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے اپنے اس مقام سے معراج خواب کے قصے میں خبر دی۔
قرآن وحدیث و اقوال آئمہ حدیث سے اس مطلب پر دلائل بے شمار ہیں اور خدا انصاف دے تو یہی اقل قلیل کہ مذکور ہوئے بسیار ہوئےغرض شمس وامس کی طرح روشن ہوا کہ عقیدہ مذکورئہ زید کو معاذ اﷲ کفر و شرك کہنا خود قرآن عظیم پر تہمت رکھنا اور احادیث صحیحہ صریحہ شہیرہ کثیرہ کو رد کرنا اور بہ کثرت آئمہئ دین و اکابر علمائے عاملین واعظم علمائے کاملین رضی اﷲ تعالی عنہم اجمعینیہاں تك کہ شاہ ولی اﷲشاہ عبدالعزیز صاحب کو بھی عیاذا باﷲ کافر و مشرك بنانا اور بحکم ظواہر احادیث صحیحہ و روایات معتمدہ فقیہہ خود کافر و مشرك بننا ہے اس کے متعلق احادیث و روایات و اقوال آئمہ و ترجیحات و تصریحات فقیر کے رسالہ النھی الاکید عن الصلوۃ وراء عدی التقلید و رسالہ الکوکبۃ الشہابیۃ علی کفریات ابی الوھابیۃ وغیرھا میں ملاحظہ کیجئے۔
افسوس کہ ان شرك فروش اندھوں کو اتنا نہیں سوجھتا کہ علم الہی ذاتی ہے اور علم خلق عطائیوہ واجب یہ ممکنوہ قدیم یہ حادثوہ نامخلوق یہ مخلوق وہ نامقدور یہ مقدوروہ ضروری البقا یہ جائز الفناوہ ممتنع التغیر یہ ممکن التبدل۔ان عظیم تفرقوں کے بعد احتمال شرك نہ ہوگا مگر کسی مجنون کوبصیرت کے اندھے اس علم ماکان ومایکون بمعنی مذکور ثابت جاننے کو معاذ اﷲ علم الہی سے مساوات مان لینا سمجھتے ہیں حالانکہ العظمۃ ﷲ علم الہی تو علم الہی جس میں غیر متناہی علوم
شاہ ولی اﷲ دہلویفیوض الحرمین میں لکھتے ہیں:
فاض علی من جنابہ المقدس صلی اﷲ تعالی علیہ والہ وسلم کیفیۃ ترقی العبد من حیزہ الی حیزا لقدس فیتجلی لہ حینئذ کل شیئ کما اخبرعن ھذاا المشھد فی قصۃ المعراج المنامی ۔ حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ اقدس سے مجھ پر اس حالت کا علم فائض ہوا کہ بندہ اپنے مقام سے مقام قدس تك کیونکر ترقی کرتا ہے کہ اس پر ہر چیز روشن ہوجاتی ہے جس طرح حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے اپنے اس مقام سے معراج خواب کے قصے میں خبر دی۔
قرآن وحدیث و اقوال آئمہ حدیث سے اس مطلب پر دلائل بے شمار ہیں اور خدا انصاف دے تو یہی اقل قلیل کہ مذکور ہوئے بسیار ہوئےغرض شمس وامس کی طرح روشن ہوا کہ عقیدہ مذکورئہ زید کو معاذ اﷲ کفر و شرك کہنا خود قرآن عظیم پر تہمت رکھنا اور احادیث صحیحہ صریحہ شہیرہ کثیرہ کو رد کرنا اور بہ کثرت آئمہئ دین و اکابر علمائے عاملین واعظم علمائے کاملین رضی اﷲ تعالی عنہم اجمعینیہاں تك کہ شاہ ولی اﷲشاہ عبدالعزیز صاحب کو بھی عیاذا باﷲ کافر و مشرك بنانا اور بحکم ظواہر احادیث صحیحہ و روایات معتمدہ فقیہہ خود کافر و مشرك بننا ہے اس کے متعلق احادیث و روایات و اقوال آئمہ و ترجیحات و تصریحات فقیر کے رسالہ النھی الاکید عن الصلوۃ وراء عدی التقلید و رسالہ الکوکبۃ الشہابیۃ علی کفریات ابی الوھابیۃ وغیرھا میں ملاحظہ کیجئے۔
افسوس کہ ان شرك فروش اندھوں کو اتنا نہیں سوجھتا کہ علم الہی ذاتی ہے اور علم خلق عطائیوہ واجب یہ ممکنوہ قدیم یہ حادثوہ نامخلوق یہ مخلوق وہ نامقدور یہ مقدوروہ ضروری البقا یہ جائز الفناوہ ممتنع التغیر یہ ممکن التبدل۔ان عظیم تفرقوں کے بعد احتمال شرك نہ ہوگا مگر کسی مجنون کوبصیرت کے اندھے اس علم ماکان ومایکون بمعنی مذکور ثابت جاننے کو معاذ اﷲ علم الہی سے مساوات مان لینا سمجھتے ہیں حالانکہ العظمۃ ﷲ علم الہی تو علم الہی جس میں غیر متناہی علوم
حوالہ / References
مدارج النبوۃ مقدمۃ الکتاب مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ /۲ و ۳
فیوض الحرمین مشہد اﷲ تعالٰی مخلوق کی طرف کتاب نازل کرنے کے لیے وقت کیا کرتا ہے محمد سعید اینڈ سنز کراچی ۱۶۹
فیوض الحرمین مشہد اﷲ تعالٰی مخلوق کی طرف کتاب نازل کرنے کے لیے وقت کیا کرتا ہے محمد سعید اینڈ سنز کراچی ۱۶۹
تفصیلی فراوانی بالفعل کے غیر متناہی سلسلے غیر متناہی یا وہ جسے گویا مصطلح حساب کے طور پر غیر متناہی کا مکعب کہئے بالفعل وبالدوام ازلا ابدا موجود ہیں۔یہ شرق تا غرب و سماوات وارض وعرش تا فرش وماکان ومایکون من اول یوم الی اخر الایام سب کے ذرے ذرے کا حال تفصیل سے جاننا وہ بالجملہ جملہ مکتوبات لوح و مکنونات قلم کو تفصیلا محیط ہونا علوم محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم سے ایك چھوٹا سا ٹکڑا ہےیہ تو ان کے طفیل سے ان کے بھائیوں حضرات مرسلینکرام علیہ وعلیہم افضل الصلوۃ واکمل السلام بلکہ ان کی عطا سے ان کے غلاموں فـــــــ بعض اعاظم اولیائے عظام قدست اسرار ہم کو ملااور ملتا ہے ہنوز علوم محمدیہ میں وہ بجارذخارنا پیدا کنار ہیں جن پر ان کی افضلیت کلیہ اور افضلیت مطلقہ کی بناء ہے۔
اﷲ عزوجل کے بے شمار رحمتیں امام اجل محمد بوصیری شرف الحق والدین رحمۃ اﷲ علیہ پر قصیدہ بردہ شریف میں فرماتے ہیں۔
فان من جودك الدنیا وضرتھا ومن علومك علم اللوح والقلم
یعنی یارسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم دنیا و آخرت دونوں حضور کے خوان جودو کرم سے ایك ٹکڑا ہیں اور لوح و قلم کا تمام علم جن میں ماکان و مایکون مندرج ہے حضور کے علوم سے ایك حصہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وعلی الك وصحبك وبارك وسلم
مولانا علی قاری علیہ الرحمۃ الباری زبدہ شرح بردہ میں فرماتے ہیں:
توضیحہ ان المراد بعلم اللوح ما اثبت فیہ من النقوش القدسیۃ و الصور الغیبیۃ وبعلم القلم ما اثبت فیہ کما شاء والا ضافۃ لادنی ملابسۃ وکون علمھما من علومہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یعنی توضیح اس کی یہ ہے کہ علم لوح سے مراد نقوش قدس وصور غیب ہیں جو اس میں منقوش ہوئےاور قلم کے علم سے مراد وہ ہیں جو اﷲ عزوجل نے جس طرح چاہا اس میں ودیعت رکھےان دونوں کی طرف علم کی اضافت ادنی علاقے یعنی محلیت نقش و اثبات کے باعث ہے اور ان
ف:تمام ماکان ومایکون کا علم علوم حضور سے ایك علم ہےیہ تو ان کی عطا سے ان کے غلاموں اکابر اولیاء کو بھی ملتا ہے ۱۲ منہ۔
اﷲ عزوجل کے بے شمار رحمتیں امام اجل محمد بوصیری شرف الحق والدین رحمۃ اﷲ علیہ پر قصیدہ بردہ شریف میں فرماتے ہیں۔
فان من جودك الدنیا وضرتھا ومن علومك علم اللوح والقلم
یعنی یارسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم دنیا و آخرت دونوں حضور کے خوان جودو کرم سے ایك ٹکڑا ہیں اور لوح و قلم کا تمام علم جن میں ماکان و مایکون مندرج ہے حضور کے علوم سے ایك حصہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وعلی الك وصحبك وبارك وسلم
مولانا علی قاری علیہ الرحمۃ الباری زبدہ شرح بردہ میں فرماتے ہیں:
توضیحہ ان المراد بعلم اللوح ما اثبت فیہ من النقوش القدسیۃ و الصور الغیبیۃ وبعلم القلم ما اثبت فیہ کما شاء والا ضافۃ لادنی ملابسۃ وکون علمھما من علومہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یعنی توضیح اس کی یہ ہے کہ علم لوح سے مراد نقوش قدس وصور غیب ہیں جو اس میں منقوش ہوئےاور قلم کے علم سے مراد وہ ہیں جو اﷲ عزوجل نے جس طرح چاہا اس میں ودیعت رکھےان دونوں کی طرف علم کی اضافت ادنی علاقے یعنی محلیت نقش و اثبات کے باعث ہے اور ان
ف:تمام ماکان ومایکون کا علم علوم حضور سے ایك علم ہےیہ تو ان کی عطا سے ان کے غلاموں اکابر اولیاء کو بھی ملتا ہے ۱۲ منہ۔
حوالہ / References
مجموع المتون متن قصیدۃ البردۃ الشئون الدینیۃ دولۃ قطر ص ۱۰
ان علومہ تتنوع الی الکلیات والجزئیات وحقائق ومعارف وعوارف تتعلق بالذات والصفات وعلمھما انما یکون سطرا من سطور علمہ ونہرا من بحور علمہ ثم مع ھذا ھو من برکۃ وجودہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ۔ دونوں میں جس قدر علوم ثبت ہیں ان کا علم علوم محمدیہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے ایك پارہ ہونااس لیے کہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے علوم بہت اقسام کے ہیںعلوم کلیہعلوم جزئیہعلوم حقائق اشیاء و علوم اسرار خفیہ اور وہ علوم اور معرفتیں کہ ذات و صفات حضرت عزت جل جلالہسے متعلق ہیں اور لوح و قلم کے جملہ علوم علوم محمدیہ کی سطروں سے ایك سطراور ان کے دریاؤں سے ایك نہر ہیںپھر بہ ایں ہمہ وہ حضور ہی کی برکت وجود سے توہیں۔کہ اگر حضور نہ ہوتے تو نہ لوح و قلم ہوتے نہ ان کے علومصلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وصحبہ وبارك وسلم۔
منکرین کو صدمہ ہے کہ محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے لیے روز اول سے قیامت تك کے تمام ماکان ومایکون کا علم تفصیلی ماناجاتا ہے لیکن بحمدﷲ تعالی وہ جمیع علم ماکان ومایکون علوم محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے عظیم سمندر وں سے ایك نہر بلکہ بے پایاں موجوں سے ایك لہر قرار پاتا ہے۔
والحمد ﷲ رب العلمین o وخسر ھنالك المبطلون o فی قلوبھم مرض فزادھم اﷲ مرضاوقیل بعدا للقوم الظلمین o اور تمام تعریفیں اﷲ کے لیے ہیں جو پروردگار ہے تمام جہانوں کا اور باطل والوں کا وہاں خسارہ ہےان کے دلوں میں بیماری ہے تو اﷲ نے ان کی بیماری اور بڑھائی اور فرمایا گیا کہ دور ہوں ے انصاف لوگ(ت)
نصوص حصر:
یعنی جن آیات واحادیث میں ارشاد ہوا ہے کہ علم غیب خاصہ خدا تعالی ہےمولی عزوجل کے سوا کوئی نہیں جانتاقطعا حق اور بحمداﷲ تعالی مسلمان کے ایمان ہیں مگر منکر متکبر کا اپنے دعوائے باطلہ پر ان سے استدلال اور ا س کی بنا پر حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے علم ما کان ومایکون بمعنی۔
منکرین کو صدمہ ہے کہ محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے لیے روز اول سے قیامت تك کے تمام ماکان ومایکون کا علم تفصیلی ماناجاتا ہے لیکن بحمدﷲ تعالی وہ جمیع علم ماکان ومایکون علوم محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے عظیم سمندر وں سے ایك نہر بلکہ بے پایاں موجوں سے ایك لہر قرار پاتا ہے۔
والحمد ﷲ رب العلمین o وخسر ھنالك المبطلون o فی قلوبھم مرض فزادھم اﷲ مرضاوقیل بعدا للقوم الظلمین o اور تمام تعریفیں اﷲ کے لیے ہیں جو پروردگار ہے تمام جہانوں کا اور باطل والوں کا وہاں خسارہ ہےان کے دلوں میں بیماری ہے تو اﷲ نے ان کی بیماری اور بڑھائی اور فرمایا گیا کہ دور ہوں ے انصاف لوگ(ت)
نصوص حصر:
یعنی جن آیات واحادیث میں ارشاد ہوا ہے کہ علم غیب خاصہ خدا تعالی ہےمولی عزوجل کے سوا کوئی نہیں جانتاقطعا حق اور بحمداﷲ تعالی مسلمان کے ایمان ہیں مگر منکر متکبر کا اپنے دعوائے باطلہ پر ان سے استدلال اور ا س کی بنا پر حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے علم ما کان ومایکون بمعنی۔
حوالہ / References
الذبدۃ العمدۃ فی شرح البردۃ ناشر جمعیت علماء سکندریہ خیرپور سندھ ص ۱۱۷
مذکور ماننے والے پر حکم کفر و ضلالنص جنون و خام خیال بلکہ خود مستلزم کفر و ضلال ہے۔
علم بہ اعتبار منشا دو۲ قسم ہے:۱ذاتی کہ اپنی ذا ت سے بے عطائے غیر ہواور عطائی کہ اﷲ عزوجل کا عطیہ ہواور بہ اعتبارمتعلق بھی دو۲ قسم ہے۱علم مطلق یعنی محیط حقیقیتفصیلی فعلی فروانی کہ جمیع معلومات الہیہ عزوعلاء کو جن میں غیر متناہی معلومات کے سلاسل وہ بھی غیر متناہیہ وہ بھی غیر متناہی بار داخل اور خود کنہ ذات الہی و احاطہ تام صفات الہیہ نامتناہی سب کو شامل فردا فردا تفصیلا مستغرق ہو اور مطلق علم یعنی جاننااگر محیط باحاطہ حقیقیہ نہ ہوان تقسیمات میں علم ذاتی و علم مطلق یعنی مذکور بلاشبہ اﷲ عزوجل کے لیے خاص ہیں اور ہر گز کسی غیر خدا کے لیے ان کے حصول کا کوئی بھی قائل نہیں ہے۔
ہم ابھی بیان کر آئے کہ علم ماکان و مایکون بمعنی مسطور اگرچہ کیسا ہی تفصیلی بروجہ اتم واکمل ہو علوم محمدیہ کی وسعت عظیمہ کو نہیں پہنچتاپھر علوم محمدیہ تو علوم الہیہ ہیںجل و علا وصلی اﷲ تعالی علیہ وسلممطلق علم ہرگز حضرت حق عزوعلا سے خاص نہیں بلکہ قسم عطائی تو مخلوق ہی کے ساتھ خاص ہے۔
مولی عزوجل کا علم عطائی ہونے سے پاك ہےتو نصوص حصر میں یقینا قطعا وہی قسم اول مراد ہوسکتی ہے۔نہ کہ قسم اخیراور بداہۃ ظاہر کہ علم تفصیل جملہ ذرات ماکان ومایکون بمعنی مزبور بلکہ اس سے ہزار در ہزار ازید وافزوں علم بھی کہ بہ عطائے الہی مانا جائے اسی قسم اخیر سے ہوگا۔تو نصوص حصر کو مدعائے مخالف سے اصلا مس نہیں بلکہ وہ اس کی صریح جہالت پر نص ہیںوﷲ الحمدیہ معنی بآنکہ خودبدیہی وواضح ہےآئمہ دین نے اس کی تصریح بھی فرمائی۔
امام اجل ابوزکریا نووی رحمۃ اﷲ علیہ اپنے فتاوی پھر امام ابن حجر مکی رحمۃ اﷲ تعالی علیہ اپنے فتاوی حدیثیہ میں فرماتے ہیں:
لایعلم ذلك استقلالا وعلم احاطۃ بکل المعلومات الا اﷲ تعالی اما المعجزات والکرامات فباعلام اﷲ تعالی اما المعجزات والکرامات فبا علام اﷲ تعالی لھم علمت و کذا ماعلم باجراء العادۃ ۔ یعنی آیت میں غیر خدا سے نفی علم غیب کے یہ معنی ہیں کہ غیب اپنی ذات سے بے کسی کے بتائے جاننا اور ایسا علم کہ جمیع معلومات الہیہ کو محیط ہوجائے یہ اﷲ تعالی کے سوا کسی کو نہیں رہے انبیاء کے معجزات اور اولیاء یہ تو اﷲ عزوجل کے بتانے سے انہیں علم ہوا ہے یونہی وہ باتیں کہ عادت کی مطابقت سے جن کا علم ہوتا ہے۔
علم بہ اعتبار منشا دو۲ قسم ہے:۱ذاتی کہ اپنی ذا ت سے بے عطائے غیر ہواور عطائی کہ اﷲ عزوجل کا عطیہ ہواور بہ اعتبارمتعلق بھی دو۲ قسم ہے۱علم مطلق یعنی محیط حقیقیتفصیلی فعلی فروانی کہ جمیع معلومات الہیہ عزوعلاء کو جن میں غیر متناہی معلومات کے سلاسل وہ بھی غیر متناہیہ وہ بھی غیر متناہی بار داخل اور خود کنہ ذات الہی و احاطہ تام صفات الہیہ نامتناہی سب کو شامل فردا فردا تفصیلا مستغرق ہو اور مطلق علم یعنی جاننااگر محیط باحاطہ حقیقیہ نہ ہوان تقسیمات میں علم ذاتی و علم مطلق یعنی مذکور بلاشبہ اﷲ عزوجل کے لیے خاص ہیں اور ہر گز کسی غیر خدا کے لیے ان کے حصول کا کوئی بھی قائل نہیں ہے۔
ہم ابھی بیان کر آئے کہ علم ماکان و مایکون بمعنی مسطور اگرچہ کیسا ہی تفصیلی بروجہ اتم واکمل ہو علوم محمدیہ کی وسعت عظیمہ کو نہیں پہنچتاپھر علوم محمدیہ تو علوم الہیہ ہیںجل و علا وصلی اﷲ تعالی علیہ وسلممطلق علم ہرگز حضرت حق عزوعلا سے خاص نہیں بلکہ قسم عطائی تو مخلوق ہی کے ساتھ خاص ہے۔
مولی عزوجل کا علم عطائی ہونے سے پاك ہےتو نصوص حصر میں یقینا قطعا وہی قسم اول مراد ہوسکتی ہے۔نہ کہ قسم اخیراور بداہۃ ظاہر کہ علم تفصیل جملہ ذرات ماکان ومایکون بمعنی مزبور بلکہ اس سے ہزار در ہزار ازید وافزوں علم بھی کہ بہ عطائے الہی مانا جائے اسی قسم اخیر سے ہوگا۔تو نصوص حصر کو مدعائے مخالف سے اصلا مس نہیں بلکہ وہ اس کی صریح جہالت پر نص ہیںوﷲ الحمدیہ معنی بآنکہ خودبدیہی وواضح ہےآئمہ دین نے اس کی تصریح بھی فرمائی۔
امام اجل ابوزکریا نووی رحمۃ اﷲ علیہ اپنے فتاوی پھر امام ابن حجر مکی رحمۃ اﷲ تعالی علیہ اپنے فتاوی حدیثیہ میں فرماتے ہیں:
لایعلم ذلك استقلالا وعلم احاطۃ بکل المعلومات الا اﷲ تعالی اما المعجزات والکرامات فباعلام اﷲ تعالی اما المعجزات والکرامات فبا علام اﷲ تعالی لھم علمت و کذا ماعلم باجراء العادۃ ۔ یعنی آیت میں غیر خدا سے نفی علم غیب کے یہ معنی ہیں کہ غیب اپنی ذات سے بے کسی کے بتائے جاننا اور ایسا علم کہ جمیع معلومات الہیہ کو محیط ہوجائے یہ اﷲ تعالی کے سوا کسی کو نہیں رہے انبیاء کے معجزات اور اولیاء یہ تو اﷲ عزوجل کے بتانے سے انہیں علم ہوا ہے یونہی وہ باتیں کہ عادت کی مطابقت سے جن کا علم ہوتا ہے۔
حوالہ / References
فتاویٰ حدیثیہ مطلب فی حکم ما اذا قال قائل فلان یعلم الغیب مصطفی البابی مصر ص ۲۲۸
مخالفین کا استدلال محض باطل و خےال محال ہونا تو یہیں سے ظاہر ہوگیامگر فقیر نے اپنے رسائل میں ثابت کیا ہے کہ یہ استدلال ان ضلال کے خود اقراری کفر و ضلال کا تمغہ ہےنیز انہیں میں روشن کیا کہ خلق کے لیے ادعائے علم غیب پر فقہا کا حکم کفر بھی درجہ اولائے حقیقت حق میں اسی صورت علم ذاتی اور درجہ اخرائے طرز فقہاء میں علم مطلق بمعنی مرقوم کے ساتھ مخصوص ہےجیسا کہ محققین کے کلام میں منصوص ہے۔
بکر پر مکر کا وہ زعم مردود جس میں حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی نسبت کچھ نہیں جانتے فـــــــ کا لفظ ناپاك ہے وہ بھی کلمہ کفر و ضلال بیباك ہے بکر نے جس عقیدے کو کفر و شرك کہا اور اس کے رد میں یہ کلما بدفر جام بکاخود اس میں تصریح ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو حضرت حق جل شانہ نے یہ علم عطا فرمایا ہےلاجرم بکر کی یہ نفی مطلق شامل علم عطائی بھی ہے اور خود بعض شیاطین الانس کے قول سے استناد بھی اس تعلیم پر دلیل جلی ہے کہ اس قول میں خواہ یوں اور خواہ یوںدونوں صورت پر حکم شرك دیا ہےاب اس لفظ قبیح کے کلمہ کفر صریح ہونے میں کیا تامل ہوسکتا ہے۔قرآن عظیم کی روشن آیتوں کی تکذیب بلکہ سارے قرآن کی تکذیب رسالت نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا انکار بلکہ نبوت تمام انبیاء کا انکار سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی تنقیص مکان بلکہ رب العزۃ جلالہ کی توہین شانایك دو کفر ہوں توگنے جائیں۔ والعیاذ باﷲ رب العالمین۔
یوں ہی اس کا قول کہ اپنے خاتمے کا بھی حال معلوم نہ تھا صریح کلمہ ئ کفر و خسار اور بیشمار آیات قرآنیہ و احادیث متواتر ہ کا انکار ہے۔آیہ کریمہ لیغفرلك اﷲ مع حدیث صحیحین بخاری و مسلمبعض اور سنئےقال اﷲ تعالی(اﷲ تعالی نے فرمایا۔ت):
" و لسوف یعطیک ربک فترضی ﴿۵﴾" ۔ بے شك نزدیك ہے کہ تمہارا رب تمہیں اتنا عطا فرمائے گا کہ تم راضی ہوجاؤ گے۔
وقال اﷲ تعالی(اﷲ تعالی نے فرمایا۔ت):
" و للاخرۃ خیر لک من الاولی ﴿۴﴾" ۔ اے نبی ! بے شك آخرت تمہارے لیے دنیا سے بہتر ہے۔
ف:اپنے خاتمے کا حال حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم کو معلوم نہ ماننا صریح کفر ہے۔
بکر پر مکر کا وہ زعم مردود جس میں حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی نسبت کچھ نہیں جانتے فـــــــ کا لفظ ناپاك ہے وہ بھی کلمہ کفر و ضلال بیباك ہے بکر نے جس عقیدے کو کفر و شرك کہا اور اس کے رد میں یہ کلما بدفر جام بکاخود اس میں تصریح ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو حضرت حق جل شانہ نے یہ علم عطا فرمایا ہےلاجرم بکر کی یہ نفی مطلق شامل علم عطائی بھی ہے اور خود بعض شیاطین الانس کے قول سے استناد بھی اس تعلیم پر دلیل جلی ہے کہ اس قول میں خواہ یوں اور خواہ یوںدونوں صورت پر حکم شرك دیا ہےاب اس لفظ قبیح کے کلمہ کفر صریح ہونے میں کیا تامل ہوسکتا ہے۔قرآن عظیم کی روشن آیتوں کی تکذیب بلکہ سارے قرآن کی تکذیب رسالت نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا انکار بلکہ نبوت تمام انبیاء کا انکار سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی تنقیص مکان بلکہ رب العزۃ جلالہ کی توہین شانایك دو کفر ہوں توگنے جائیں۔ والعیاذ باﷲ رب العالمین۔
یوں ہی اس کا قول کہ اپنے خاتمے کا بھی حال معلوم نہ تھا صریح کلمہ ئ کفر و خسار اور بیشمار آیات قرآنیہ و احادیث متواتر ہ کا انکار ہے۔آیہ کریمہ لیغفرلك اﷲ مع حدیث صحیحین بخاری و مسلمبعض اور سنئےقال اﷲ تعالی(اﷲ تعالی نے فرمایا۔ت):
" و لسوف یعطیک ربک فترضی ﴿۵﴾" ۔ بے شك نزدیك ہے کہ تمہارا رب تمہیں اتنا عطا فرمائے گا کہ تم راضی ہوجاؤ گے۔
وقال اﷲ تعالی(اﷲ تعالی نے فرمایا۔ت):
" و للاخرۃ خیر لک من الاولی ﴿۴﴾" ۔ اے نبی ! بے شك آخرت تمہارے لیے دنیا سے بہتر ہے۔
ف:اپنے خاتمے کا حال حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم کو معلوم نہ ماننا صریح کفر ہے۔
وقال اﷲ تعالی(اﷲ تعالی نے فرمایا۔ت):
" یوم لا یخزی اللہ النبی و الذین امنوا معہ نورہم یسعی بین ایدیہم و بایمنہم" ۔ جس دن اﷲ رسوانہ کرے گا نبی اور ان کے صحابہ کو ان کا نور ان کے آگے اور داہنے جوالان عــــــہ کرے گا۔
وقال اﷲ تعالی(اﷲ تعالی نے فرمایا۔ت):
" عسی ان یبعثک ربک مقاما محمودا ﴿۷۹﴾" ۔ قریب ہے کہ تمہارا رب تمہیں تعریف کے مکان میں بھیجے گا جہاں اولین و آخرین سب تمہاری حمد کریں گے۔
وقال اﷲ تعالی(اور اﷲ تعالی نے فرمایا۔ت):
" تبارک الذی ان شاء جعل لک خیرا من ذلک جنت تجری من تحتہا الانہر ویجعل لک قصورا ﴿۱۰﴾ " ۔
علی قراء ۃ الرفع قراۃ بن کثیر وابن عامر وروایۃ ابی بکر عن عاصمالی غیر ذلك من الایات۔ بڑی برکت والا ہے وہ جس نے اپنی مشیت سے تمہارے لیے اس خزانہ و باغ سے(جس کی طلب یہ کافر کررہے ہیں)بہتر چیزیں کردیں جنتیں جن کے نیچے نہریں رواں اور وہ تمہیں بہشت بریں کے اونچے اونچے محل بخشے گا۔
یجعل کو مرفوع پڑھنے کی تقدیر پر جو کہ ابن کثیر اور ابن عامر کی قراء ۃ ہے اور ابوبکر کی عاصم سے یہ روایت ہے اس کے علاوہ اور بھی متعدد آیات ہیں۔(ت)
اور احادیث کریمہ میں تو جس تفصیل جلیل سے حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے فضائل و خصائص وقت وفات مبارك و برزخ مطہر و حشر منور و شفاعت و کوثر و خلافت عظمی و سیادت کبری ودخول جنت و رویت وغیرہا وارد ہیںانہیں جمع کیجئے تو ایك دفتر طویل ہوتا ہے۔یہاں صرف
عــــــہ:دوڑے گا۔۱۲
" یوم لا یخزی اللہ النبی و الذین امنوا معہ نورہم یسعی بین ایدیہم و بایمنہم" ۔ جس دن اﷲ رسوانہ کرے گا نبی اور ان کے صحابہ کو ان کا نور ان کے آگے اور داہنے جوالان عــــــہ کرے گا۔
وقال اﷲ تعالی(اﷲ تعالی نے فرمایا۔ت):
" عسی ان یبعثک ربک مقاما محمودا ﴿۷۹﴾" ۔ قریب ہے کہ تمہارا رب تمہیں تعریف کے مکان میں بھیجے گا جہاں اولین و آخرین سب تمہاری حمد کریں گے۔
وقال اﷲ تعالی(اور اﷲ تعالی نے فرمایا۔ت):
" تبارک الذی ان شاء جعل لک خیرا من ذلک جنت تجری من تحتہا الانہر ویجعل لک قصورا ﴿۱۰﴾ " ۔
علی قراء ۃ الرفع قراۃ بن کثیر وابن عامر وروایۃ ابی بکر عن عاصمالی غیر ذلك من الایات۔ بڑی برکت والا ہے وہ جس نے اپنی مشیت سے تمہارے لیے اس خزانہ و باغ سے(جس کی طلب یہ کافر کررہے ہیں)بہتر چیزیں کردیں جنتیں جن کے نیچے نہریں رواں اور وہ تمہیں بہشت بریں کے اونچے اونچے محل بخشے گا۔
یجعل کو مرفوع پڑھنے کی تقدیر پر جو کہ ابن کثیر اور ابن عامر کی قراء ۃ ہے اور ابوبکر کی عاصم سے یہ روایت ہے اس کے علاوہ اور بھی متعدد آیات ہیں۔(ت)
اور احادیث کریمہ میں تو جس تفصیل جلیل سے حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے فضائل و خصائص وقت وفات مبارك و برزخ مطہر و حشر منور و شفاعت و کوثر و خلافت عظمی و سیادت کبری ودخول جنت و رویت وغیرہا وارد ہیںانہیں جمع کیجئے تو ایك دفتر طویل ہوتا ہے۔یہاں صرف
عــــــہ:دوڑے گا۔۱۲
ایك حدیث تبرکا سن لیجئے۔
جامع ترمذی وغیرہ میں انس بن مالك رضی اﷲ تعالی عنہ سے ہےرسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتےہیں:
انا اول الناس خروجا اذا بعثوا و انا خطیبھم اذا وفدواوانا خطیبھم اذا انصتواوانا مستشفعھم اذا حبسواوانا مبشرھم اذا یئسوا لکرامۃ و المفاتیح یومئذ بیدیوانا اکرم ولد ادم علی ربی یطوف علی الف خادم کانھم بیض مکنون اولؤلؤ منثور ۔ جب لوگوں کا حشر ہوگا تو سب سے پہلے میں مزار اطہر سے باہر تشریف لاؤں گااور جب وہ سب دم بخود رہیں گے تو ان کا خطبہ خواں میں ہوں گااور جب وہ رو کے جائیں گے تو ان کا شفاعت خواہ میں ہوں گا۔اور جب وہ نا امید ہوجائیں گے تو ان کا بشارت دینے والا میں ہوں گاعزت کے لیے اور تمام کنجیاں اس دن میرے ہاتھ ہوں گیلواء الحمد اس دن میرے ہاتھ میں ہوگابارگاہ عزت میں میری عزت تمام اولاد آدم سے زائد ہےہزار خدمتگار میرے اردگرد گھومیں گے گویا وہ گردو غبار سے پاکیزہ انڈے ہیں محفوظ رکھے ہوئے یاجگمگاتے موتی ہیں بکھیرے ہوئے۔
بالجملہ بکر پر مکر کے گمراہ و بددین ہونے میں اصلا شبہہ نہیںاور اگر کچھ نہ ہوتا تو صرف اتنا ہی کہ تقویۃ الایمان پر جو حقیقتا تفویۃ الایمان ہے اس کا ایمان ہےیہی اس کا ایمان سلامت نہ رکھنے کو بس تھاجیسا کہ فقیر کے رسالہ الکوکبۃ الشھابیۃ وغیرہا کے مطالعے سے ظاہر ہے
اذاکان الغراب دلیل قوم سیھدیھم طریق الہا لکینا
(جب کوا کسی قوم کا رہبر ہو تو وہ اس کو ہلاکت کی راہ پر ڈال دے گا۔ت)
والعیاذ باﷲ تعالی۔
جامع ترمذی وغیرہ میں انس بن مالك رضی اﷲ تعالی عنہ سے ہےرسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتےہیں:
انا اول الناس خروجا اذا بعثوا و انا خطیبھم اذا وفدواوانا خطیبھم اذا انصتواوانا مستشفعھم اذا حبسواوانا مبشرھم اذا یئسوا لکرامۃ و المفاتیح یومئذ بیدیوانا اکرم ولد ادم علی ربی یطوف علی الف خادم کانھم بیض مکنون اولؤلؤ منثور ۔ جب لوگوں کا حشر ہوگا تو سب سے پہلے میں مزار اطہر سے باہر تشریف لاؤں گااور جب وہ سب دم بخود رہیں گے تو ان کا خطبہ خواں میں ہوں گااور جب وہ رو کے جائیں گے تو ان کا شفاعت خواہ میں ہوں گا۔اور جب وہ نا امید ہوجائیں گے تو ان کا بشارت دینے والا میں ہوں گاعزت کے لیے اور تمام کنجیاں اس دن میرے ہاتھ ہوں گیلواء الحمد اس دن میرے ہاتھ میں ہوگابارگاہ عزت میں میری عزت تمام اولاد آدم سے زائد ہےہزار خدمتگار میرے اردگرد گھومیں گے گویا وہ گردو غبار سے پاکیزہ انڈے ہیں محفوظ رکھے ہوئے یاجگمگاتے موتی ہیں بکھیرے ہوئے۔
بالجملہ بکر پر مکر کے گمراہ و بددین ہونے میں اصلا شبہہ نہیںاور اگر کچھ نہ ہوتا تو صرف اتنا ہی کہ تقویۃ الایمان پر جو حقیقتا تفویۃ الایمان ہے اس کا ایمان ہےیہی اس کا ایمان سلامت نہ رکھنے کو بس تھاجیسا کہ فقیر کے رسالہ الکوکبۃ الشھابیۃ وغیرہا کے مطالعے سے ظاہر ہے
اذاکان الغراب دلیل قوم سیھدیھم طریق الہا لکینا
(جب کوا کسی قوم کا رہبر ہو تو وہ اس کو ہلاکت کی راہ پر ڈال دے گا۔ت)
والعیاذ باﷲ تعالی۔
حوالہ / References
جامع الترمذی ابواب المناقب باب منہ امین کمپنی دہلی ۲ /۲۰۱،دلائل النبوۃ ذکر الفضیلۃ الرابعۃ باقسام اﷲ بحیاتہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم عالم الکتب بیروت ص ۱۳،سنن الدارمی باب مااعطی النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم حدیث ۴۹ دارالمحاسن للطباعۃ ۱ /۳۰، الدرالمنثور بحوالہ ابن مردویۃ عن انس رضی اﷲ عنہ مکتبہ آیۃ العظمی قم ایران ۶ /۳۰۱
وہ شخص جو شیطان کے علم ملعون کو علم اقدس حضور پر نور عالم ماکان ومایکون صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے زائد ہے اس کا جواب اس کفرستان ہند میں کیا ہوسکتا ہےان شاء اﷲ القہار(اگر بہت قہر فرمانے والا خدا نے چاہا۔ت)روز جزا وہ ناپاك ناہنجار اپنے کیفر کفری گفتار کو پہنچے گا۔" و سیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون ﴿۲۲۷﴾" (اب جانا چاہتے ہیں ظالم کہ کون سی کروٹ پر پلٹا کھائیں گے۔ت) یہاں اسی قدر کافی ہے کہ یہ ناپاك کلمہ صراحتا محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو عیب لگانا ہےاور حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم کو عیب لگانا کلمہ کفر نہ ہوا تو اور کیا کلمہ کفر ہوگا۔
" والذین یؤذون رسول اللہ لہم عذاب الیم ﴿۶۱﴾" ۔
" ان الذین یؤذون اللہ و رسولہ لعنہم اللہ فی الدنیا و الاخرۃ و اعد لہم عذابا مہینا ﴿۵۷﴾" ۔ اور جو لوگ رسول اﷲ کو ایذا دیتے ہیں ان کے لیے دکھ کی مار ہے۔
جو لوگ ایذا دیتے ہیں اﷲ تعالی اور اس کے رسول کواﷲ نے ان پر لعنت فرمائی ہے دنیا اور آخرت میںاور ان کے لیے تیار کررکھی ہے ذلت والی مار۔
شفائے امام اجل قاضی عیاض اور شرح علامہ شہاب خفا جی مسمی بہ نسیم الریاض میں ہے:
جمیع من سب النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بشتمۃ اوعابہ ھو اعم من السب فان من قال فلان اعلم منہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فقد عابد و نقصہ وان لم یسبہ(فھو ساب والحکم فیہ حکم الساب) من غیر فوق بینھما(لانستثنی منہ)(فصلا) ای صورۃ (ولا نمتری)فیہ تصریحا کان یعنی جو شخص نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم کو گالی دے یا حضور کو عیب لگائے اور یہ گالی دینے سے علم تر ہے کہ جس نے کسی کی نسبت کہا کہ فلاں کا علم نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے علم سے زیادہ ہے اس نے ضرور حضور کو عیب لگایاحضور کی توہین کیاگرچہ گالی نہ دییہ سب گالی دینے والے کے حکم میں ہےان کے اور گالی دینے والے کے حکم میں کوئی فرق نہیںنہ ہم اس سے کسی صورت کا استثناء کریں نہ اس میں شك وتردد کو
" والذین یؤذون رسول اللہ لہم عذاب الیم ﴿۶۱﴾" ۔
" ان الذین یؤذون اللہ و رسولہ لعنہم اللہ فی الدنیا و الاخرۃ و اعد لہم عذابا مہینا ﴿۵۷﴾" ۔ اور جو لوگ رسول اﷲ کو ایذا دیتے ہیں ان کے لیے دکھ کی مار ہے۔
جو لوگ ایذا دیتے ہیں اﷲ تعالی اور اس کے رسول کواﷲ نے ان پر لعنت فرمائی ہے دنیا اور آخرت میںاور ان کے لیے تیار کررکھی ہے ذلت والی مار۔
شفائے امام اجل قاضی عیاض اور شرح علامہ شہاب خفا جی مسمی بہ نسیم الریاض میں ہے:
جمیع من سب النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بشتمۃ اوعابہ ھو اعم من السب فان من قال فلان اعلم منہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فقد عابد و نقصہ وان لم یسبہ(فھو ساب والحکم فیہ حکم الساب) من غیر فوق بینھما(لانستثنی منہ)(فصلا) ای صورۃ (ولا نمتری)فیہ تصریحا کان یعنی جو شخص نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم کو گالی دے یا حضور کو عیب لگائے اور یہ گالی دینے سے علم تر ہے کہ جس نے کسی کی نسبت کہا کہ فلاں کا علم نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے علم سے زیادہ ہے اس نے ضرور حضور کو عیب لگایاحضور کی توہین کیاگرچہ گالی نہ دییہ سب گالی دینے والے کے حکم میں ہےان کے اور گالی دینے والے کے حکم میں کوئی فرق نہیںنہ ہم اس سے کسی صورت کا استثناء کریں نہ اس میں شك وتردد کو
اوتلویحا وھذا کلہ اجماع من العلماء وائمۃ الفتوی من لدن الصحابۃ رضی اﷲ تعالی علی عنھم الی ھلم جرا ا ھ مختصرا۔
نسأل اﷲ العفووالعافیۃ فی الدنیا والاخرۃ ونعوذ بہ من الحور بعد الکور ولاحول ولاقوۃ الا باﷲ العلی العظیم وصلی اﷲ تعالی علیہ سید المرسلین واﷲ سبحانہ تعالی اعلم۔ راہ دیںصاف صاف کہا ہو یا کنایہ سےان سب احکام پر تمام علماء اور آئمہ فتوی کا اجماع ہے کہ زمانہ صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم سے آج تك برابر چلا آیا ہے۔اھ مختصرا
ہم اﷲ تعالی سے دنیاو آخرت میں معافی اور عافیت چاہتے ہیں اور کثرت کے بعد قلت سے اس کی پناہ چاہتے ہیں نہ گناہ سے بچنے کی طاقت ہے اور نہ ہی نیکی کرنے کی قوت مگر بلندی و عظمت والے خدا کی توفیق سے اور درود نازل فرمائے اﷲ تعالی رسولوں کے سردار پراور اﷲ سبحنہ و تعالی خوب جانتا ہے۔(ت)
فقیر غفرلہ المولی القدیر نے اس سوال کے ورود پر ایك مسبوط کتاب بحرعباب منقسم بہ چار باب مسمی بہ نام تاریخی مائی الحبیب بعلوم الغیب(۱۳۱۸ھ)کی طرح ڈالی۔
باب اول:فصوص یعنی فوائد جلیلہ و نفائس جزیلہ کہ ترصیف دلائل اہلسنت کے مقدمات ہوں۔
باب دوم:نصوص یعنی اپنے مدعا پر دلائل جلائل قرآن وحدیث و اقوال آئمہ قدیم و حدیث۔
باب سوم:عموم و خصوص کہ احاطہ علوم محمدیہ میں تحریر محل نزاع کرے۔
باب چہارم:قطع اللصوص یعنی اس مسئلے میں تمام مہملات نجدیہئ نو وکہن کی سرفگنی و تکبر شکنیمگر فصوص ونصوص کے ہجوم و وفور نے ظاہر کردیا کہ اطالت تاحد ملالت متوقع
لہذا باذن اﷲ تعالی نفع عامہ کے لیے اس بحرذخار سے ایك گوہرشہوار لامع الانوار گویا خزائن الاسرار سے درمختار مسمی بہ نام تاریخی اللؤلؤ المکنون فی علم البشیر ما کان ومایکون"(۱۳۱۸ھ)(پوشیدہ موتی بشیر صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے علم ماکان ومایکون کے بارے میں۔ت)چن لیا جس نے جمع و تلفیق کے عوض نفع و تحقیق کی طرف بحمداﷲ زیادہ رخ کیا۔اس کے ایك ایك نور نے نورالسموت والارض جل جلالہ کے عون سے وہ تابشیں دکھائیں کہ ظلمات باطلہ کا فور ہوتی نظر آئیں۔
نسأل اﷲ العفووالعافیۃ فی الدنیا والاخرۃ ونعوذ بہ من الحور بعد الکور ولاحول ولاقوۃ الا باﷲ العلی العظیم وصلی اﷲ تعالی علیہ سید المرسلین واﷲ سبحانہ تعالی اعلم۔ راہ دیںصاف صاف کہا ہو یا کنایہ سےان سب احکام پر تمام علماء اور آئمہ فتوی کا اجماع ہے کہ زمانہ صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم سے آج تك برابر چلا آیا ہے۔اھ مختصرا
ہم اﷲ تعالی سے دنیاو آخرت میں معافی اور عافیت چاہتے ہیں اور کثرت کے بعد قلت سے اس کی پناہ چاہتے ہیں نہ گناہ سے بچنے کی طاقت ہے اور نہ ہی نیکی کرنے کی قوت مگر بلندی و عظمت والے خدا کی توفیق سے اور درود نازل فرمائے اﷲ تعالی رسولوں کے سردار پراور اﷲ سبحنہ و تعالی خوب جانتا ہے۔(ت)
فقیر غفرلہ المولی القدیر نے اس سوال کے ورود پر ایك مسبوط کتاب بحرعباب منقسم بہ چار باب مسمی بہ نام تاریخی مائی الحبیب بعلوم الغیب(۱۳۱۸ھ)کی طرح ڈالی۔
باب اول:فصوص یعنی فوائد جلیلہ و نفائس جزیلہ کہ ترصیف دلائل اہلسنت کے مقدمات ہوں۔
باب دوم:نصوص یعنی اپنے مدعا پر دلائل جلائل قرآن وحدیث و اقوال آئمہ قدیم و حدیث۔
باب سوم:عموم و خصوص کہ احاطہ علوم محمدیہ میں تحریر محل نزاع کرے۔
باب چہارم:قطع اللصوص یعنی اس مسئلے میں تمام مہملات نجدیہئ نو وکہن کی سرفگنی و تکبر شکنیمگر فصوص ونصوص کے ہجوم و وفور نے ظاہر کردیا کہ اطالت تاحد ملالت متوقع
لہذا باذن اﷲ تعالی نفع عامہ کے لیے اس بحرذخار سے ایك گوہرشہوار لامع الانوار گویا خزائن الاسرار سے درمختار مسمی بہ نام تاریخی اللؤلؤ المکنون فی علم البشیر ما کان ومایکون"(۱۳۱۸ھ)(پوشیدہ موتی بشیر صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے علم ماکان ومایکون کے بارے میں۔ت)چن لیا جس نے جمع و تلفیق کے عوض نفع و تحقیق کی طرف بحمداﷲ زیادہ رخ کیا۔اس کے ایك ایك نور نے نورالسموت والارض جل جلالہ کے عون سے وہ تابشیں دکھائیں کہ ظلمات باطلہ کا فور ہوتی نظر آئیں۔
حوالہ / References
نسیم الریاض القسم الرابع الباب الاول مرکز اھل سنت برکاتِ رضا گجرات ہند ۴ /۳۳۵ و ۳۳۶
یہ چند حرفی فتوی کہ اس کے لمعات سے ایك شعشہ اور بلحاظ تاریخ بنام ابناء المصطفی بحال سرواخفی(مصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو پوشیدہ اور پوشیدہ ترین کے حال کی خبر دینا۔ت)مسمی ہے۔اس کے تمام اشارات خفیہ کا بیان مفصل اسی پر محول ذی علم ماہر تو ان ہی چند حروف سے ان شاء اﷲ تعالی سب خرافات و جزافات مخالفین کو کیفر چشانی کرسکتا ہے مگر جو صاحب تفصیل کے ساتھ دست نگر ہوں بعونہ تعالی رسائل مذکور ہ کے لآلی متلالی سے بہرہ ور ہوںحضرات مخالفین سے بھی گزارش ہے کہ اگر توفیق الہی مساعدت کرے یہی حرف مختصر ہدایت کرے تو ازیں چہ بہترورنہ اگر بوجہ کوتاہی فہم و غلبہئ وہم و قلت تدرب و شدت تعصب اپنی تمام جہالات فاحشہ کی پردہ دری ان مختصر سطور میں نہ دیکھ سکیں۔تو اسی مہر جہاں تاب کا انتظار کریں۔جو بہ عنایت الہی و اعانت رسالت پناہی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ان کی تمام ظلمتوں کی صبح کردے گا۔ان کا ہر کاسہ سوال آب زلال ردو ابطال سے بھردے گا۔
الا ان موعد ھم الصبح الیس الصبح بقریب ط وما توفیقی الا باﷲ علیہ توکلت والیہ انیب ط۔ خبردار ! بے شك ان کا وعدہ صبح کے وقت ہے کیا صبح قریب نہیںاور میری توفیق اﷲ ہی کی طرف سے ہےمیں نے اسی پر بھروسہ کیا اور اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں۔(ت)
کیا فائدہ کہ اس وقت آپ کا خواب غفلت کچھ ہذیات عــــــہ کا رنگ دکھائےاور جب صبح ہدایت افق سعادت سے طالع ہو تو کھل جائے کہ ع
خواب تھا جو کچھ کہ دیکھا جو کہا افسانہ تھا
معہذا طائفہ ارانب وثعالب کو یہی مناسب کہ جب شیر ژیاں کو چہل قدمی کرتا دیکھ لیں سامنے سے ٹل جائیں اپنے اپنے سوراخوں میں جان چھپائیںنہ یہ کہ اس وقت اس کے خرام نرم پر غرہ ہو کر آئیں اس کی آتش غضب کو بھڑکائیں اپنی موت اپنے منہ بلائیں ع
نصیحت گوش کن جاناں کہ از جاں دور تر خواہند شغالان ہزیمت مند خشم شیر ہیجارا
(اے دوست ! نصیحت سن کہ اپنی جان سے دور چاہتے ہیںشکست پسند گیدڑ بپھرے ہوئے شیر کے غصےکو۔ت)
عــــــہ:بے ہودہ گوئی۔
الا ان موعد ھم الصبح الیس الصبح بقریب ط وما توفیقی الا باﷲ علیہ توکلت والیہ انیب ط۔ خبردار ! بے شك ان کا وعدہ صبح کے وقت ہے کیا صبح قریب نہیںاور میری توفیق اﷲ ہی کی طرف سے ہےمیں نے اسی پر بھروسہ کیا اور اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں۔(ت)
کیا فائدہ کہ اس وقت آپ کا خواب غفلت کچھ ہذیات عــــــہ کا رنگ دکھائےاور جب صبح ہدایت افق سعادت سے طالع ہو تو کھل جائے کہ ع
خواب تھا جو کچھ کہ دیکھا جو کہا افسانہ تھا
معہذا طائفہ ارانب وثعالب کو یہی مناسب کہ جب شیر ژیاں کو چہل قدمی کرتا دیکھ لیں سامنے سے ٹل جائیں اپنے اپنے سوراخوں میں جان چھپائیںنہ یہ کہ اس وقت اس کے خرام نرم پر غرہ ہو کر آئیں اس کی آتش غضب کو بھڑکائیں اپنی موت اپنے منہ بلائیں ع
نصیحت گوش کن جاناں کہ از جاں دور تر خواہند شغالان ہزیمت مند خشم شیر ہیجارا
(اے دوست ! نصیحت سن کہ اپنی جان سے دور چاہتے ہیںشکست پسند گیدڑ بپھرے ہوئے شیر کے غصےکو۔ت)
عــــــہ:بے ہودہ گوئی۔
اقول:قولی ھذا واستغفراﷲ لی ولسائر المؤمنین والمؤمنات و الصلوۃ الزاکیات والتحیات النامیات علی سید نا محمد نبی المغیبات مظھر الخفیات وعلی الہ وصحبہ الاکارم السادات واﷲ سبحنہ تعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم میں کہتا ہوں یہ میرا قول ہےاور میں اﷲ تعالی سے اپنے لیے اور تمام مومن مردوں اور عورتوں کے لیے مغفرت طلب کرتا ہوںپاکیزہ درود اور بڑھنے والے سلام ہوں ہمارے سردار محمد پر جو غیب کی خبریں دینے والے اور پوشیدہ باتوں کو ظاہر فرمانے والے ہیں اور آپ کی آل و اصحاب پر جو بزرگی والے سردار ہیںاور اﷲ سبحانہ و تعالی خوب جانتا ہے اور اﷲ جل مجدہکا کلام اتم اور مستحکم ہے۔(ت)
عبدہ المذنب احمد رضا البریلوی
کتـــبـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ
عفی عنہ بمحمدن المصطفی النبی الامی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم
رسالہ
انباء المصطفی بحال سرواخفی
ختم ہوا۔
____________________
عبدہ المذنب احمد رضا البریلوی
کتـــبـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ
عفی عنہ بمحمدن المصطفی النبی الامی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم
رسالہ
انباء المصطفی بحال سرواخفی
ختم ہوا۔
____________________
رسالہ
ازاحۃ العیب بسیف الغیب
(عیب کو دور کرنا غیب کی تلوار سے)
بسم اﷲ الرحمن الرحیم ط
نحمدہونصلی علی رسولہ الکریم ط
مسئلہ ۱۴۹:از مدرسہ دیوبند ضلع سہارن پور مرسلہ یکے از اہلسنت نصر ہم اﷲ تعالی بوساطت جناب مولوی وصی احمد صاحب محدث سورتی سلمہ اﷲ تعالی۔
تسلیمات دست بستہ کے بعد گزارش ہے بندہ اس وقت وہاب گڑھ مدرسہ دیوبند میں مقیم ہے۔
جناب عالی(یعنی جناب مولانا وصی احمد صاحب محدث سورتی)جو جو باتیں آپ نے ان لوگوں کے حق میں فرمائی تھیں وہ سب سچ ہیں سر موفرق نہیں۔عید کے دن بعد نماز جمیع اکابر علماءو طلباء و روسانے مل کر عید گاہ میں بقدر ایك گھنٹہ یہ دعا مانگی کہ اﷲ تعالی جارج پنجم بادشاہ لندن کو ہمیشہ ہمارے سروں پر قائم رکھے اور اس کے والد کی خدا مغفرت کرے۔ اور جس وقت جارج پنجم ولایت سے بمبئی کو آیا اور مبلغ چوبیس روپیہ کانا برائے خیر مقدم یعنی سلامی روانہ کردیا اور بتاریخ ۱۳ ذی الحجہ ایك بڑا جلسہ کردیا کہ جو چار گھنٹے مختلف علماء نے بادشاہ انگریز کی تعریف اور دعا بیان کیا اور خوشی کے واسطے مٹھائی تقسیم کیا اور عین خطبہ میں بیان کیا کہ امام احمد بن حنبل نے خواب میں دیکھا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی
ازاحۃ العیب بسیف الغیب
(عیب کو دور کرنا غیب کی تلوار سے)
بسم اﷲ الرحمن الرحیم ط
نحمدہونصلی علی رسولہ الکریم ط
مسئلہ ۱۴۹:از مدرسہ دیوبند ضلع سہارن پور مرسلہ یکے از اہلسنت نصر ہم اﷲ تعالی بوساطت جناب مولوی وصی احمد صاحب محدث سورتی سلمہ اﷲ تعالی۔
تسلیمات دست بستہ کے بعد گزارش ہے بندہ اس وقت وہاب گڑھ مدرسہ دیوبند میں مقیم ہے۔
جناب عالی(یعنی جناب مولانا وصی احمد صاحب محدث سورتی)جو جو باتیں آپ نے ان لوگوں کے حق میں فرمائی تھیں وہ سب سچ ہیں سر موفرق نہیں۔عید کے دن بعد نماز جمیع اکابر علماءو طلباء و روسانے مل کر عید گاہ میں بقدر ایك گھنٹہ یہ دعا مانگی کہ اﷲ تعالی جارج پنجم بادشاہ لندن کو ہمیشہ ہمارے سروں پر قائم رکھے اور اس کے والد کی خدا مغفرت کرے۔ اور جس وقت جارج پنجم ولایت سے بمبئی کو آیا اور مبلغ چوبیس روپیہ کانا برائے خیر مقدم یعنی سلامی روانہ کردیا اور بتاریخ ۱۳ ذی الحجہ ایك بڑا جلسہ کردیا کہ جو چار گھنٹے مختلف علماء نے بادشاہ انگریز کی تعریف اور دعا بیان کیا اور خوشی کے واسطے مٹھائی تقسیم کیا اور عین خطبہ میں بیان کیا کہ امام احمد بن حنبل نے خواب میں دیکھا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی
علیہ وآلہ وسلم کوامام احمد نے پوچھا کہ یارسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلممیری کتنی عمر باقی ہے آپ نے پانچ انگشت اٹھائیںپھر برائے تعبیر محمد بن سیرین کے پاس آئے انہوں نے فرمایا:خمس لایعلمہا الاھو ۔(پانچ اشیاء ہیں جن کو اﷲ تعالی کے بغیر کوئی نہیں جانتا۔ت)تو معلوم ہوا کہ آپ مطلع علی الغیب نہیںدوسرا والیدین کی حدیث کو بیان کیا کہ آپ کو نماز میں سہو ہوگیا جب ذوالیدین نے بار بار استفسار کیا اور آپ نے صحابہ سے دریافت کیا تو پھر نماز کو پورا کیا۔ا س حدیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ کے علم مشاہدہ میں نقصان ثابت ہوگیاعلم غیب پر اطلاع تو ابھی دور ہے انتہییہاں کے لوگ اس قدر بدمعاش ہیں کہ مولوی محمود حسن مدرس اول درجہ حدیث نے مسلم شریف کے سبق میں باب شفاعت اس حدیث میں کہ آپ نے جب تمام مسلمین کی شفاعت کی اور سب کو نجات دے دیا مگر کچھ لوگ رہ گئے یعنی منافقین وغیرہ تو آپ نے انکے واسطے شفاعت کی تو فرشتوں نے منع کردیا کہ تم نہیں جانتے ہو کہ ان لوگوں نے کیا کچھ نکالا بعد آپ کےتو اس سے ظاہر ہوگیا کہ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ ہر جمعہ میں رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم پر امت کے اعمال پیش ہوتے ہیں۔ یہ غلط ہےمحض افتراء ہےعلم غیب کا کیا ذکراﷲ اکبرترمذی شریف کے سبق ۱۷۲ صفحہ آخر میں ہےایك عورت کے ساتھ زنا ہوگیا اکراہ کے ساتھ تو اس عورت نے ایك شخص پر ہاتھ رکھاآپ نے اس شخص کو رجم کا حکم فرمایا۔پس دوسرا شخص اٹھااس نے اقرار زنا کا کرلیاپہلے شخص کو چھوڑا اور دورا مرجوم ہوگیا۔آپ نے فرمایا تاب توبۃ الخ(اس نے پکی توبہ کی الخ ت)اگر شخص ثانی اقرار نہ کرتا تو پہلے شخص کی گردن اڑا دیتےیہ اچھی غیب دانی ہے۔ھذا کلہ قولہ(یہ سب اس کا قول ہے۔ت)اور بھی وقتا فوقتا احادیث میں کچھ نہ کچھ کہے بغیر نہیں چھوڑتے۔اﷲ اکبرمعاذ اﷲ من شرہ(اﷲ تعالی بہت بڑا ہےاﷲ کی پناہ اس کے شر سےت)
الجواب :
اﷲ عزوجل گمراہی و بے حیائی سے پناہ دےفقیر نے انباء المصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے مختصر جملوں میں ان شبہات اور ان جیسے ہزاروں ہوں تو سب کا جواب شافی دے دیا مگر وہابیہ اپنی خرافات سے باز نہیں آتے اور الدولۃ المکیہ اور اس کی تعلیق الفیوض المکیہ میں بیان امین ہےمیں پھر تذکیر کردوں کہ ان شاء اﷲ بار بار سوال کی حاجت نہ ہو اور ذی فہم سنی ایسے لاکھ شبہے ہوں تو سب کا جواب خود دےفقیر نے قرآن عظیم کی آیات قطعیہ سے ثابت کیا کہ قرآن عظیم نے ۲۳برس میں بتدریج نزول اجلال فرما کر اپنے حبیب صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم کو جمیع ما کان ومایکون
الجواب :
اﷲ عزوجل گمراہی و بے حیائی سے پناہ دےفقیر نے انباء المصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے مختصر جملوں میں ان شبہات اور ان جیسے ہزاروں ہوں تو سب کا جواب شافی دے دیا مگر وہابیہ اپنی خرافات سے باز نہیں آتے اور الدولۃ المکیہ اور اس کی تعلیق الفیوض المکیہ میں بیان امین ہےمیں پھر تذکیر کردوں کہ ان شاء اﷲ بار بار سوال کی حاجت نہ ہو اور ذی فہم سنی ایسے لاکھ شبہے ہوں تو سب کا جواب خود دےفقیر نے قرآن عظیم کی آیات قطعیہ سے ثابت کیا کہ قرآن عظیم نے ۲۳برس میں بتدریج نزول اجلال فرما کر اپنے حبیب صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم کو جمیع ما کان ومایکون
حوالہ / References
مسند احمد بن حنبل حدیث ابی عامر الاشعری المکتب الاسلامی بیروت ۴/ ۱۲۹ و ۱۶۴
یعنی روز اول سے روز آخر تك کی ہر شے ہر بات کا علم عطا فرمایااور اصول میں مبرہن ہوچکا کہآیات قطعیہ کے خلاف کوئی حدیث احاد بھی مسلم نہیں ہوسکتیاگرچہ سندا صحیح ہو تو مخالف قرآن عظیم کے خلاف پر جو دلیل پیش کرے اس پر چار باتوں کا لحاظ لازم:
اول:وہ آیت قطعی الدلالۃ یا ایسی ہی حدیث متواتر ہو۔
دوم:واقعہ تمامی نزول قرآن کے بعد کا ہو۔
سوم:اس دلیل سے راسا عدم حصول علم ثابت ہو کہ مخالف مستدل ہے اور محل ذہول میں اس پر جزم محالاور وہ منافی حصول علم نہیں بلکہ اس کا مثبت و مقتضی ہے۔
چہارم:صراحۃ نفی علم کرے ورنہ بہت علوم کا اظہار مصلحت نہیں ہوتا اور اﷲ اعلم یا خدا ہی جانے یا اﷲ کے سوا کوئی نہیں جانتا ایسی جگہ قطع طمع جواب کے لیے بھی ہوتا ہے اور نفی حقیقت ذاتیہنفی عطائیہ کو مستلزم نہیں۔اﷲ عزوجل روز قیامت رسولوں کو جمع کرکے فرمائے گا " ماذا اجبتم "تم جو کفار کے پاس ہدایت لے کر گئے انہوں نے کیا جواب دیاعرض کریں گے " لا علم لنا" ۔ہمیں کچھ علم نہیں۔
ان شبہات اور انکے امثال کے رد کو بھی چار جملے بس ہیںاور یہاں امر پنجم اور ہے کہ وہ واقعہ روز اول سے قیام قیامت تك یعنی ان حوادث سے ہو جو لوح محفوظ میں ثبت ہیں کہ انہیں کے احاطہ کا دعوی ہے۔امور متعلقہ ذات و صفات و ابد وغیرہ نامتناہیات سے ہو تو بحث سے خروج اور دائرہ جنون و سفاہت میں صریح ولوج ہے۔ان جملوں کے لحاظ کے بعد وہابیہ کے تمام شبہات برباد ہوجاتے ہیں" کشجرۃ خبیثۃ جتثت من فوق الارض ما لہا من قرار ﴿۲۶﴾ " ۔(جیسے ایك گندہ پیڑ کہ زمین کے اوپر سے کاٹ دیا گیا ہے اب اسے قیام نہیں۔ت)
اب یہیں ملاحظہ کیجئے:
اولا:چاروں شبہے امر اول سے مردود ہیں ان میں کون سی آیت یا حدیث قطعی الدلالۃ ہے۔
ثانیا:دوسرا اور چوتھا شبہہ امردوم سے دوبارہ مردود ہیں کہ یہ ایام نزول کے وقائع ہیں یا کم از کم ان کا بعد تمامی نزول ہونا ثابت نہیں۔
ثالثا:دوسرا شبہہ امرسوم سے سہ بارہ اور تیسرا دوبارہ مردود ہےشبہہ دوم میں تو صریح بدیہی یقینی ذہول تھانماز فعل اختیاری ہے اور فعل اختیاریہ بے علم و شعور ناممکن مگر وہابیہ
اول:وہ آیت قطعی الدلالۃ یا ایسی ہی حدیث متواتر ہو۔
دوم:واقعہ تمامی نزول قرآن کے بعد کا ہو۔
سوم:اس دلیل سے راسا عدم حصول علم ثابت ہو کہ مخالف مستدل ہے اور محل ذہول میں اس پر جزم محالاور وہ منافی حصول علم نہیں بلکہ اس کا مثبت و مقتضی ہے۔
چہارم:صراحۃ نفی علم کرے ورنہ بہت علوم کا اظہار مصلحت نہیں ہوتا اور اﷲ اعلم یا خدا ہی جانے یا اﷲ کے سوا کوئی نہیں جانتا ایسی جگہ قطع طمع جواب کے لیے بھی ہوتا ہے اور نفی حقیقت ذاتیہنفی عطائیہ کو مستلزم نہیں۔اﷲ عزوجل روز قیامت رسولوں کو جمع کرکے فرمائے گا " ماذا اجبتم "تم جو کفار کے پاس ہدایت لے کر گئے انہوں نے کیا جواب دیاعرض کریں گے " لا علم لنا" ۔ہمیں کچھ علم نہیں۔
ان شبہات اور انکے امثال کے رد کو بھی چار جملے بس ہیںاور یہاں امر پنجم اور ہے کہ وہ واقعہ روز اول سے قیام قیامت تك یعنی ان حوادث سے ہو جو لوح محفوظ میں ثبت ہیں کہ انہیں کے احاطہ کا دعوی ہے۔امور متعلقہ ذات و صفات و ابد وغیرہ نامتناہیات سے ہو تو بحث سے خروج اور دائرہ جنون و سفاہت میں صریح ولوج ہے۔ان جملوں کے لحاظ کے بعد وہابیہ کے تمام شبہات برباد ہوجاتے ہیں" کشجرۃ خبیثۃ جتثت من فوق الارض ما لہا من قرار ﴿۲۶﴾ " ۔(جیسے ایك گندہ پیڑ کہ زمین کے اوپر سے کاٹ دیا گیا ہے اب اسے قیام نہیں۔ت)
اب یہیں ملاحظہ کیجئے:
اولا:چاروں شبہے امر اول سے مردود ہیں ان میں کون سی آیت یا حدیث قطعی الدلالۃ ہے۔
ثانیا:دوسرا اور چوتھا شبہہ امردوم سے دوبارہ مردود ہیں کہ یہ ایام نزول کے وقائع ہیں یا کم از کم ان کا بعد تمامی نزول ہونا ثابت نہیں۔
ثالثا:دوسرا شبہہ امرسوم سے سہ بارہ اور تیسرا دوبارہ مردود ہےشبہہ دوم میں تو صریح بدیہی یقینی ذہول تھانماز فعل اختیاری ہے اور فعل اختیاریہ بے علم و شعور ناممکن مگر وہابیہ
بدیہیات میں بھی انکار رکھتے ہیں۔ذلك بانھم قوم یکابرون(یہ اس لیے ہے کہ وہ حق کا انکار کرنے والی قومی ہے۔ت)اور شبہ سوم کا حال بھی ظاہرروز قیامت کا عظیم ہجومتمام اولین وآخرین وانس و جن کا ازدحاملاکھوں منزل کے دور میں مقام اور حوض و صراط و میزان پر گنتی شمار کی حد سے باہرمختلف کام اور ہر جگہ خبر گیراں صرف ایك محمد رسول اﷲ سید الانام علیہ وعلی آلہ افضل الصلوۃ والسلام اس سے کروڑویں حصے کا کروڑواں حصہ ہجومکارہائے عظیمہ مہمہ اگر ایسے دس ہزار پر ہو جن کی عقل نہایت کامل اور حواس کمال مجتمع اور قلب اعلی درجہ کا ثابت تو ان کے ہوش پراں ہوجائیںآئے حواس گم ہوں یہ تو محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا سینہ پاك ہے جس کی وسعت کے حضور عرش اعظم مع جملہ عوالم صحرائے لق و دق میں بھنگے کے مانند ہیں جسے ان کا رب فرماتا ہے:" الم نشرح لک صدرک ﴿۱﴾ " ۔(کیا ہم نے تمہارا سینہ کشادہ نہ کیا۔ت)پھر ان عظیم و خارج از حد کاموں کے علاوہ وقت وہ سہمناك کہ اکابر انبیاء و مرسلین نفسی نفسی پکاریںرب عزوجل اس غضب شدید کے ساتھ تجلی فرمائے ہو کہ نہ اس سے پہلے کبھی ہوئی نہ اس کے بعد کبھی ہوپھر ایك مسلمان انہیں اس سے زیادہ پیارا جیسے مہربان ماں کو اکلوتا بچہوہ جوش ہیبتوہ کام کی کثرتوہ وفور رحمتوہ لاکھوں منزل کا دورہوہ کروڑوں طرف نظرسنکھوں طرف خیالایسی حالت میں اگر بعض باتیں ذہن اقدس سے اتر جائیں تو عین اعجاز ہےجس سے بالا صرف علم الہی ہے وبس۔"ولکن الوھابیۃ قوم لایعقلون"(لیکن وہابی وہ قوم ہیں جنہیں عقل نہیں۔ت)اوراس پر صریح دلیل حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم کو تمام امت کا دکھایا جانا حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے تمام امت کے اعمال برابر عرض ہوتے رہنا تو ہے ہیجس پر احادیث کثیرہ ناطقاگرچہ وہابیہ اپنی ڈھٹائی سے انکار کریں مگر سب سے زیادہ صاف صریح دلیل قطعی یہ ہے کہ آخر روز قیامت کچھ لوگوں کی نسبت یہ واقعہ پیش آنے کی حدیث بیان کون فرمارہا ہےخود حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم ہی تو ارشاد فرمارہے ہیں اگر اس ہجوم عظیمکارہائے خطیر میں ذہول نہ ہوتا تو یہ واقعہ ہی نہ ہوتا تو اس وقت اتنے ذہول سے چارہ نہیں۔" لیقضی اللہ امرا کان مفعولا ۬" ۔(تاکہ اﷲ پورا کرے جو کام ہوناہے۔ت)ولکن الوھابیہ قوم یفرقون(لیکن وہابی تفریق پیدا کرنے والی قوم ہے۔ت)
رابعا:پہلا شبہہ امر چہارم سے دو بارہ مردود ہے کسی کی مقدار عمر وقت موت اسے بتادینا
رابعا:پہلا شبہہ امر چہارم سے دو بارہ مردود ہے کسی کی مقدار عمر وقت موت اسے بتادینا
غالب اوقات اکثر ناس کے لیے مصلحت دینیہ کے خلاف ہے تو ایسے مہمل سوال کے جواب سے اگر اعراض فرمایا اور حوالہ بخدا فرمادیاکیا مستبعد ہے۔
فائدہ:
یہ انہیں جملوں سے ان چاروں شبہوں کے متعدد رد ہوگئےاب بتو فیقہ تعالی بعض افادیت ذکر نہ کریں کہ وہابیہ کی کمال حالت آفتاب سے زیادہ روشن ہواور چاروں شبہوں میں ہی ایك پر چار چاررد ہوجائیں۔
فاقول:وباﷲ التوفیق(چنا نچہ میں کہتا ہوں اور توفیق اﷲ ہی کی طرف سے ہے۔ت)
شبہہ اولی:کے دو۲ ردگزرے امرا دل و چہارم سےثالثا حضرات علمائے وہابیہ کی جہالت تماشا کردنی۔امام احمد بن حنبل نے خواب دیکھا اور امام ابن سیرین سے تعبیر پوچھی۔اے سبحان اﷲ! جھوٹ گھڑے تو ایسا گھڑےامام ابن سیرین کی وفات سے ساڑھے تریپن(۲/۱۔۵۳)برس بعد امام احمد کی ولادت ہوئی ہے۔ابن سیرین کی وفات نہم شوال ایك سودس(۱۱۰ھ)کو ہے اور امام احمد کی ولادت ربیع الاول ایك سو چونسٹھ(۱۶۴ھ)میں۔ تقریب میں ہے:
محمد بن سیرین ثقۃ ثبت عابد کبیر القدرمات سنۃ عشرو مائۃ ۔ محمد بن سیرین ثقہثبتعبادت گزار اور بڑی قدروو منزلت والے ہیںان کا وصال ۱۱۰ھ میں ہوا۔ت)
وفیات الاعیان میں ہے:
محمد بن سیرین لہ الیدالطولی فی تعبیر الرؤیا توفی تاسع شوال یوم الجمعۃ سنۃ عشرومائۃ بالبصرۃ ۔ محمد بن سیرین جو کہ خوابوں کی تعبیر میں کامل مہارت رکھتے تھےنے ۹ شوال ۱۱۰ھ بروز جمعہ میں بصرہ میں وفات پائی۔ت)
تقریب میں ہے:
احمد بن محمد بن حنبل مات احدی واربعین ولہ سبع وسبعون سنۃ ۔ امام احمد بن محمد بن حنبل نے ۲۴۱ھ میں وصال فرمایا جب کہ آپ کی عمر مبارك ۷۷ برس تھی۔(ت)
فائدہ:
یہ انہیں جملوں سے ان چاروں شبہوں کے متعدد رد ہوگئےاب بتو فیقہ تعالی بعض افادیت ذکر نہ کریں کہ وہابیہ کی کمال حالت آفتاب سے زیادہ روشن ہواور چاروں شبہوں میں ہی ایك پر چار چاررد ہوجائیں۔
فاقول:وباﷲ التوفیق(چنا نچہ میں کہتا ہوں اور توفیق اﷲ ہی کی طرف سے ہے۔ت)
شبہہ اولی:کے دو۲ ردگزرے امرا دل و چہارم سےثالثا حضرات علمائے وہابیہ کی جہالت تماشا کردنی۔امام احمد بن حنبل نے خواب دیکھا اور امام ابن سیرین سے تعبیر پوچھی۔اے سبحان اﷲ! جھوٹ گھڑے تو ایسا گھڑےامام ابن سیرین کی وفات سے ساڑھے تریپن(۲/۱۔۵۳)برس بعد امام احمد کی ولادت ہوئی ہے۔ابن سیرین کی وفات نہم شوال ایك سودس(۱۱۰ھ)کو ہے اور امام احمد کی ولادت ربیع الاول ایك سو چونسٹھ(۱۶۴ھ)میں۔ تقریب میں ہے:
محمد بن سیرین ثقۃ ثبت عابد کبیر القدرمات سنۃ عشرو مائۃ ۔ محمد بن سیرین ثقہثبتعبادت گزار اور بڑی قدروو منزلت والے ہیںان کا وصال ۱۱۰ھ میں ہوا۔ت)
وفیات الاعیان میں ہے:
محمد بن سیرین لہ الیدالطولی فی تعبیر الرؤیا توفی تاسع شوال یوم الجمعۃ سنۃ عشرومائۃ بالبصرۃ ۔ محمد بن سیرین جو کہ خوابوں کی تعبیر میں کامل مہارت رکھتے تھےنے ۹ شوال ۱۱۰ھ بروز جمعہ میں بصرہ میں وفات پائی۔ت)
تقریب میں ہے:
احمد بن محمد بن حنبل مات احدی واربعین ولہ سبع وسبعون سنۃ ۔ امام احمد بن محمد بن حنبل نے ۲۴۱ھ میں وصال فرمایا جب کہ آپ کی عمر مبارك ۷۷ برس تھی۔(ت)
حوالہ / References
تقریب التہذیب ترجمہ ۵۹۶۶ محمد بن سیرین دارالکتب العلمیۃ بیروت ۲ /۸۵
وفیات الاعیان ترجمہ ۵۶۵ محمد بن سیرین دارالثقافۃ بیروت ۴ /۱۸۲
تقریب التہذیب ترجمہ ۹۶ احمد بن محمد بن حنبل دارالکتب العلمیۃ بیروت ۱ /۴۴
وفیات الاعیان ترجمہ ۵۶۵ محمد بن سیرین دارالثقافۃ بیروت ۴ /۱۸۲
تقریب التہذیب ترجمہ ۹۶ احمد بن محمد بن حنبل دارالکتب العلمیۃ بیروت ۱ /۴۴
وفیات الاعیان میں ہے:
الامام احمد بن حنبل خرجت امہ من مرو و ھی حامل بہ فولدتہ فی بغداد فی شہر ربیع الاول سنۃ اربع وستین ومائۃ ۔ امام احمد بن حنبل کی والدہ ماجدہ مرو سے نکلیں جبکہ امام احمد ان کے شکم میں تھےچنانچہ آپ کی والدہ نے آپ کو شہر بغداد میں ربیع الاول شریف ۱۶۴ھ میں جنا۔(ت)
مگر یہ کہئے کہ امام احمد علیہ الرحمہ نے جب کہ اپنے جدا مجد کی پشت میں نطفے تھے یہ خواب دیکھا اور امام ابن سیرین نے ما فی الارحام(جو رحموں میں ہے۔ت)سے بھی خفی ترغیب ما فی الاصلاب(جو پشتوں میں سے۔ت)کو جانا اور تعبیر بیان کی۔
یوں آپ کے طور پر رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی غیب دانی نہ ہوئی تو ابن سیرین کو علم غیب ہوا۔یہ شاید حضرات وہابیہ پر آسان ہو کہ ان کو اوروں کو فضائل سے اتنی عداوت نہیں جتنی اصل اصول جملہ فضائل یعنی حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم سے ہے۔
لطیفہ جلیلہ:دیوبندی علماء کی جہالت اپنے قابل ہےان کے اکابر کی ان سے بھی بڑھ کر ان کے قابل تھیعالیجناب امام الوہابیہ مولوی گنگوہی صاحب آنجہانی اپنے ایك فتوے میں اپنی داد قابلیت دیتے ہوئے فرماتے ہیںحسین بن منصور کے قتل پر امام ابویوسف شاگرد امام ابوحنیفہ جو کہ سید العلماء تھے اور سید الطائفہ جنید بغدادی رحمۃ اﷲ تعالی علیہ جو تمام سلاسل کے مرجع ہیں دونوں نے فتوی قتل کا دیابجا ہے۔(حاشیہ:قتل پر قتل کا فتوی بھی قابل تماشا ہےیعنی قتل کو قتل کیا جائے یا قاتل کو۔۱۲)درفن تاریخ ہم کمالے دارند(فن تاریخ میں بھی کمال رکھتے ہیں۔ت)
سیدنا امام ابویوسف رضی اﷲ تعالی عنہ کی وفات پنجم ربیع الاول یا ربیع الاخر ایك سو بیاسی ہجری(۱۸۲ھ)کو ہے اور حضرت حسین بن منصور حلاج قدس سرہکا یہ واقع ۲۳ ذی القعدہ(۳۰۹ھ)تین سو نو ہجری میںدونوں میں قریب ایك سو اٹھائیس (۱۲۸)برس کے فاصلہ ہے مگر امام ابویوسف رضی اﷲ تعالی عنہ کو غیب داں کہیے کہ اپنی وفات سے سوا سو برس بعد کے واقعہ کو جان کر حلاج کے قتل کا پیشگی فتوی دے گئے۔تذکرۃ الحفاظ علامہ ذہبی میں ہے:
القاضی ابویوسف الامام العلامۃ الفقیہ العراقین صاحب ابی حنیفۃ اجتمع قاضی ابویوسف امامعلامہاہل کوفہ و بصرہ کے فقیہ اور امام ابوحنیفہ کے شاگرد ہیںتمام مسلمان
الامام احمد بن حنبل خرجت امہ من مرو و ھی حامل بہ فولدتہ فی بغداد فی شہر ربیع الاول سنۃ اربع وستین ومائۃ ۔ امام احمد بن حنبل کی والدہ ماجدہ مرو سے نکلیں جبکہ امام احمد ان کے شکم میں تھےچنانچہ آپ کی والدہ نے آپ کو شہر بغداد میں ربیع الاول شریف ۱۶۴ھ میں جنا۔(ت)
مگر یہ کہئے کہ امام احمد علیہ الرحمہ نے جب کہ اپنے جدا مجد کی پشت میں نطفے تھے یہ خواب دیکھا اور امام ابن سیرین نے ما فی الارحام(جو رحموں میں ہے۔ت)سے بھی خفی ترغیب ما فی الاصلاب(جو پشتوں میں سے۔ت)کو جانا اور تعبیر بیان کی۔
یوں آپ کے طور پر رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی غیب دانی نہ ہوئی تو ابن سیرین کو علم غیب ہوا۔یہ شاید حضرات وہابیہ پر آسان ہو کہ ان کو اوروں کو فضائل سے اتنی عداوت نہیں جتنی اصل اصول جملہ فضائل یعنی حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم سے ہے۔
لطیفہ جلیلہ:دیوبندی علماء کی جہالت اپنے قابل ہےان کے اکابر کی ان سے بھی بڑھ کر ان کے قابل تھیعالیجناب امام الوہابیہ مولوی گنگوہی صاحب آنجہانی اپنے ایك فتوے میں اپنی داد قابلیت دیتے ہوئے فرماتے ہیںحسین بن منصور کے قتل پر امام ابویوسف شاگرد امام ابوحنیفہ جو کہ سید العلماء تھے اور سید الطائفہ جنید بغدادی رحمۃ اﷲ تعالی علیہ جو تمام سلاسل کے مرجع ہیں دونوں نے فتوی قتل کا دیابجا ہے۔(حاشیہ:قتل پر قتل کا فتوی بھی قابل تماشا ہےیعنی قتل کو قتل کیا جائے یا قاتل کو۔۱۲)درفن تاریخ ہم کمالے دارند(فن تاریخ میں بھی کمال رکھتے ہیں۔ت)
سیدنا امام ابویوسف رضی اﷲ تعالی عنہ کی وفات پنجم ربیع الاول یا ربیع الاخر ایك سو بیاسی ہجری(۱۸۲ھ)کو ہے اور حضرت حسین بن منصور حلاج قدس سرہکا یہ واقع ۲۳ ذی القعدہ(۳۰۹ھ)تین سو نو ہجری میںدونوں میں قریب ایك سو اٹھائیس (۱۲۸)برس کے فاصلہ ہے مگر امام ابویوسف رضی اﷲ تعالی عنہ کو غیب داں کہیے کہ اپنی وفات سے سوا سو برس بعد کے واقعہ کو جان کر حلاج کے قتل کا پیشگی فتوی دے گئے۔تذکرۃ الحفاظ علامہ ذہبی میں ہے:
القاضی ابویوسف الامام العلامۃ الفقیہ العراقین صاحب ابی حنیفۃ اجتمع قاضی ابویوسف امامعلامہاہل کوفہ و بصرہ کے فقیہ اور امام ابوحنیفہ کے شاگرد ہیںتمام مسلمان
حوالہ / References
وفیات الاعیان ترجمہ۲۰ احمد بن حنبل دارالثقافۃ بیروت ۱ /۶۴
علیہ المسلمون مات فی ربیع الاخرسنۃ ثنتین و ثمانین ومائۃ عن سبعین سنۃ الاسنۃ ولہ اخبار فی العلم والسیادۃ ۔ آپ پر متفق ہیں۔آپ نے ماہ ربیع الثانی ۱۸۲ہجری کو ۶۹ برس کی عمر میں وصال فرمایا۔علم و سیادت میں ان کی متعدد خبریں ہیں۔(ت)
وفیات الاعیان میں ہے:
کانت ولادۃ القاضی ابی یوسف سنۃ ثلث عشرۃ ومائۃ وتوفی یوم الخمیس اول وقت الظھر لخمس خلون من شہر ربیع الاول سنۃ اثنتین وثمانین و مائۃ ببغداد ۔ قاضی ابو یوسف کی ولادت ۱۱۳ھ کو اور وفات ۵ ربیع الاول ۱۸۲ھ بروز جمعرات بوقت اول ظہر بغداد میں ہوئی۔ت)
اسی میں تاریخ شہادت حضرت حلاج میں لکھا:
"یوم الثلثاء لسبع بقین وقیل لست بقین من ذی القعدۃ سنۃ تسع وثلثمائۃ ۔ ۲۳ یا ۲۴ ذوالقعدہ ۳۰۹ھ بروز منگل(ت)
سلطان اورنگزیب محی الدین عالمگیر انار ا ﷲ تعالی برہانہ کی حکایت مشہور ہے کہ کسی مدعی ولایت کا شہرہ سن کر اس کے پاس تشریف لے گئےاس کی عمر طویل بتائی جاتی تھی۔سلطان نے پوچھا۔جناب کی عمر شریف کس قدر ہے کہا مجھے تحقیق تو یاد نہیں مگر جس زمانے مین سکندر ذوالقرنین امیر تیمور سے لڑرہا تھا میں جوان تھا سلطان نے فرمایا:علاوہ کشف و کرامات درفن تاریخ ہم کمالے دارند(کشف و کرامات کے علاوہ فن تاریخ میں بھی کمال رکھتے ہیں۔ت)
دیوبندی صاحبوں نے تو ترپن چون ہی برس کا بل رکھا تھاجناب گنگوہی صاحب سوا سو برس سے بھی اونچے اڑ گئے یعنی شملہ بمقدار علماس سنت پر قائم ہو کر اگر کوئی دیوبندی یا تھانوی حضرت گنگوہی صاحب کے تذکرہ میں لکھ دیتا کہ عالیجاب گنگوہیت مآب کو ابن ملجم نے غسل دیا اور یزید نے نماز پڑھائی اور شمر نے قبر میں اتاراتو کیا مستعبد تھا بلکہ وہ اس سے قریب تر ہوتا دو وجہ سے۔
وفیات الاعیان میں ہے:
کانت ولادۃ القاضی ابی یوسف سنۃ ثلث عشرۃ ومائۃ وتوفی یوم الخمیس اول وقت الظھر لخمس خلون من شہر ربیع الاول سنۃ اثنتین وثمانین و مائۃ ببغداد ۔ قاضی ابو یوسف کی ولادت ۱۱۳ھ کو اور وفات ۵ ربیع الاول ۱۸۲ھ بروز جمعرات بوقت اول ظہر بغداد میں ہوئی۔ت)
اسی میں تاریخ شہادت حضرت حلاج میں لکھا:
"یوم الثلثاء لسبع بقین وقیل لست بقین من ذی القعدۃ سنۃ تسع وثلثمائۃ ۔ ۲۳ یا ۲۴ ذوالقعدہ ۳۰۹ھ بروز منگل(ت)
سلطان اورنگزیب محی الدین عالمگیر انار ا ﷲ تعالی برہانہ کی حکایت مشہور ہے کہ کسی مدعی ولایت کا شہرہ سن کر اس کے پاس تشریف لے گئےاس کی عمر طویل بتائی جاتی تھی۔سلطان نے پوچھا۔جناب کی عمر شریف کس قدر ہے کہا مجھے تحقیق تو یاد نہیں مگر جس زمانے مین سکندر ذوالقرنین امیر تیمور سے لڑرہا تھا میں جوان تھا سلطان نے فرمایا:علاوہ کشف و کرامات درفن تاریخ ہم کمالے دارند(کشف و کرامات کے علاوہ فن تاریخ میں بھی کمال رکھتے ہیں۔ت)
دیوبندی صاحبوں نے تو ترپن چون ہی برس کا بل رکھا تھاجناب گنگوہی صاحب سوا سو برس سے بھی اونچے اڑ گئے یعنی شملہ بمقدار علماس سنت پر قائم ہو کر اگر کوئی دیوبندی یا تھانوی حضرت گنگوہی صاحب کے تذکرہ میں لکھ دیتا کہ عالیجاب گنگوہیت مآب کو ابن ملجم نے غسل دیا اور یزید نے نماز پڑھائی اور شمر نے قبر میں اتاراتو کیا مستعبد تھا بلکہ وہ اس سے قریب تر ہوتا دو وجہ سے۔
حوالہ / References
تذکرۃ الحفاظ ترجمہ ۲۷۳ ۶/ ۴۲ ابویوسف یعقوب بن ابراھیم دارالکتب العلمیہ بیروت ۱ /۲۱۴
وفیات الاعیان ترجمہ ۸۲۴ قاضی ابویوسف یعقوب بن ابراھیم دارالثقافۃ بیروت ۶ /۳۸۸
وفیات الاعیان ترجمہ ۱۸۹ الحاج حسین بن منصور دارالثقافۃ بیروت ۲ /۱۴۵
وفیات الاعیان ترجمہ ۸۲۴ قاضی ابویوسف یعقوب بن ابراھیم دارالثقافۃ بیروت ۶ /۳۸۸
وفیات الاعیان ترجمہ ۱۸۹ الحاج حسین بن منصور دارالثقافۃ بیروت ۲ /۱۴۵
اولا:ممکن کہ اشتراك اسماء ہووفات گنگوہی صاحب کے وقت جو لوگ ان کاموں میں ہوں انکے یہ نام ہوں۔
ثانیا:باب تشبیہ واسع ہے جیسے لکل فرعون موسی(ہر فرعون کے مقابلے میں موسی ہوتا ہے۔ت)مگر جناب گنگوہی صاحب کے کلام میں کہ امام ابویوسف شاگرد امام ابوحنیفہ جو سید العلماء تھے کوئی تاویل بنتی نظر نہیں آتی سوا اس کے اتنا عظیم جہل شدید یا حضرت امام پر اتنا بیباکانہ افترائے بعید ولاحول ولا قوۃ الا باﷲ العزیز المجید۔
رابعا:بفرض صحت حکایت یہ معبر کی اپنی مقدار علم ہے ممکن کہ نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے عمر ہی بتائی ہو خواہ مجموع خواہ باقی۔پانچ انگلیوں سے اشارے میں پانچ یا چھ دن یا ہفتے یا مہینے یا برس یا ساٹھ بہتر برس یا تیس سال دس مہینے گیارہ دن یا اکتیس سال چار مہینے چند دنبارہ احتمال ہیںکیا دلیل ہے کہ خواب دیکھنے والے کی عمر اگرچہ بفرض غلط امام احمد ہی ہوں روز خواب سے آخر تك ان میں سے کسی مقدار پر نہ ہوئی امام احمد کی عمر شریف ستتر(۷۷)سال ہوئیاگر پانچ برس کی عمر میں خواب دیکھا ہو تو سب میں بڑا احتمال بہتر سال ممکن ہے ا ور باقی زیادہ واضح ہیںیا اصل دیکھئے تو امام احمد و امام ابن سیرین کا نام تو دیوبندیوں نے بنالیا۔کیا دلیل کہ واقعی خواب دیکھنے والے کی ساری عمر چار احتمال اخیر سے کسی شمار پر نہ ہوئی خواب دیکھنے والے کی تاریخ اور دیکھنے والے کی تاریخ ولادت وفات یہ سب صحیح طور پر معلوم ہوئیں اور ثابت ہو کہ اس کی مجموع عمرو باقی عمر کوئی ان میں سے کسی احتمال پر ٹھیك نہیں آتیاس وقت اس کہنے کی گنجائش ہو کہ نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے اس سے مقدار عمر کی طرف اشارہ نہ فرمایااور جب کہ ان میں سے کچھ ثابت نہیں تو ممکن کہ حضور حضور نے عمر ہی بتائی ہو معبر کو اس کے جاننے کی طرف راہ نہ تھی لہذا اپنی سمجھ کے قابل اسے غیوب خمسہ کی طرف پھیر دیادیوبندیوں کو تو شاید اس اشارے میں یہ بارہ احتمال سمجھنے بھی دشوار ہوں حالانکہ وہ نہایت واضح ہیں اور ان کے سوا اور دقیق احتمام بھی تھے کہ ہم نے ترك کردیئے۔
شبہہ ثانیہ:کے تین ردگزری امر اول و دوم و سوم سے۔رابعا دیوبندیوں کی عبارت کہ آپ کے علم مشاہدہ میں نقصان ثابت ہو گیا علم غیب پر اطلاع تو ابھی دور ہے جس ناپاك و بیباك طرزپر واقع ہوئی اس کا جواب تو ان شاء اﷲ تعالی روز قیامت ملے گا مگر ان سفیہوں کو دین کی طرح عقل سے بھی مس نہیںامراہم و اعظم و اجل و اعلی میں اشتعال بارہا امرسہل سے ذہول کا باعث ہوتا ہےایسی جگہ اس کے ثبوت سے ہی اس کا انتفا ہوتا ہے نہ کہ اس کی نفی سے اس کی نفی پر استدلال کیا جائے۔ ولکن الوھابیۃ قوم یجہلون (لیکن وہابی جاہل قوم ہے۔ت)
ثانیا:باب تشبیہ واسع ہے جیسے لکل فرعون موسی(ہر فرعون کے مقابلے میں موسی ہوتا ہے۔ت)مگر جناب گنگوہی صاحب کے کلام میں کہ امام ابویوسف شاگرد امام ابوحنیفہ جو سید العلماء تھے کوئی تاویل بنتی نظر نہیں آتی سوا اس کے اتنا عظیم جہل شدید یا حضرت امام پر اتنا بیباکانہ افترائے بعید ولاحول ولا قوۃ الا باﷲ العزیز المجید۔
رابعا:بفرض صحت حکایت یہ معبر کی اپنی مقدار علم ہے ممکن کہ نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے عمر ہی بتائی ہو خواہ مجموع خواہ باقی۔پانچ انگلیوں سے اشارے میں پانچ یا چھ دن یا ہفتے یا مہینے یا برس یا ساٹھ بہتر برس یا تیس سال دس مہینے گیارہ دن یا اکتیس سال چار مہینے چند دنبارہ احتمال ہیںکیا دلیل ہے کہ خواب دیکھنے والے کی عمر اگرچہ بفرض غلط امام احمد ہی ہوں روز خواب سے آخر تك ان میں سے کسی مقدار پر نہ ہوئی امام احمد کی عمر شریف ستتر(۷۷)سال ہوئیاگر پانچ برس کی عمر میں خواب دیکھا ہو تو سب میں بڑا احتمال بہتر سال ممکن ہے ا ور باقی زیادہ واضح ہیںیا اصل دیکھئے تو امام احمد و امام ابن سیرین کا نام تو دیوبندیوں نے بنالیا۔کیا دلیل کہ واقعی خواب دیکھنے والے کی ساری عمر چار احتمال اخیر سے کسی شمار پر نہ ہوئی خواب دیکھنے والے کی تاریخ اور دیکھنے والے کی تاریخ ولادت وفات یہ سب صحیح طور پر معلوم ہوئیں اور ثابت ہو کہ اس کی مجموع عمرو باقی عمر کوئی ان میں سے کسی احتمال پر ٹھیك نہیں آتیاس وقت اس کہنے کی گنجائش ہو کہ نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے اس سے مقدار عمر کی طرف اشارہ نہ فرمایااور جب کہ ان میں سے کچھ ثابت نہیں تو ممکن کہ حضور حضور نے عمر ہی بتائی ہو معبر کو اس کے جاننے کی طرف راہ نہ تھی لہذا اپنی سمجھ کے قابل اسے غیوب خمسہ کی طرف پھیر دیادیوبندیوں کو تو شاید اس اشارے میں یہ بارہ احتمال سمجھنے بھی دشوار ہوں حالانکہ وہ نہایت واضح ہیں اور ان کے سوا اور دقیق احتمام بھی تھے کہ ہم نے ترك کردیئے۔
شبہہ ثانیہ:کے تین ردگزری امر اول و دوم و سوم سے۔رابعا دیوبندیوں کی عبارت کہ آپ کے علم مشاہدہ میں نقصان ثابت ہو گیا علم غیب پر اطلاع تو ابھی دور ہے جس ناپاك و بیباك طرزپر واقع ہوئی اس کا جواب تو ان شاء اﷲ تعالی روز قیامت ملے گا مگر ان سفیہوں کو دین کی طرح عقل سے بھی مس نہیںامراہم و اعظم و اجل و اعلی میں اشتعال بارہا امرسہل سے ذہول کا باعث ہوتا ہےایسی جگہ اس کے ثبوت سے ہی اس کا انتفا ہوتا ہے نہ کہ اس کی نفی سے اس کی نفی پر استدلال کیا جائے۔ ولکن الوھابیۃ قوم یجہلون (لیکن وہابی جاہل قوم ہے۔ت)
شبہہ ثالثہ:کے دو۲ر دگزرے امراول وسوم سے۔
ثالثا:یہ حدیث جس طرح دیوبندی نے بتائی صریح افترا ہےنہ صحیح مسلم میں کہیں اس کا پتا ہے۔
رابعا:حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم پر اعمال امت پیش کیے جانے کو غلط و محض افترا کہنا غلط و محض افترا ہے۔بزار اپنی مسند میں بسند صحیح جید حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کرتے ہیںرسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں:
حیاتی خیرلکم تحدثون ونحدث لکمووفاتی خیر لکم تعرض علی اعمالکم فمارأیت من خیر حمدت اﷲ علیہ وما رأیت من شراستغفرت اﷲ لکم ۔
اللھم صل وسلم وبارك علیہ صلوۃ تکون لك ولہ رضاء ولحقہ العظیم اداء امین۔ میری زندگی تمہارے لیے بہتر ہے مجھ سے باتیں کرتے ہو اور ہم تم سے باتیں کرتے ہیںاور میری وفات بھی تمہارے لیے بہترتمہارے اعمال مجھ پر پیش کیے جائیں گے جب بھلائی دیکھوں گا حمد الہی بجالاؤں گا اور جب برائی دیکھوں گا تمہاری بخشش چاہوں گا۔(ت)
اے اﷲ ! درود و سلام اور برکت عطا فرما آپ پر ایسا درود جو تیری اور ان کا رضا کا ذریعہ ہو اور اس سے انکے عظیم حق کی ادائیگی ہو۔آمین۔(ت)
مسند حارث میں انس رضی اﷲ تعالی عنہ سے ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں:
حیاتی خیر لکم تحدثون وتحدث لکم فاذا انامت کانت وفاتی خیرالکم تعرض علی اعمالکم فان رأیت خیرا حمدت اﷲ وان رأیت شرا ذلك استغفرت اﷲ لکم ۔ میری جینا تمہارے لیے بہتر ہی مجھ سے باتیں کرتے ہو اور ہم تمہارے نفع کی باتیں تم سے فرماتے ہیںجب میں انتقال فرماؤں گا تو میری وفات تمہارے لیے خیر ہوگیتمہارے اعمال مجھ پر پیش کیے جائیں گے اگر نیکی دیکھوں گا حمد الہی کروں گا اور دوسری بات پاؤں گا تو تمہاری مغفرت طلب کروں گا۔
ثالثا:یہ حدیث جس طرح دیوبندی نے بتائی صریح افترا ہےنہ صحیح مسلم میں کہیں اس کا پتا ہے۔
رابعا:حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم پر اعمال امت پیش کیے جانے کو غلط و محض افترا کہنا غلط و محض افترا ہے۔بزار اپنی مسند میں بسند صحیح جید حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کرتے ہیںرسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں:
حیاتی خیرلکم تحدثون ونحدث لکمووفاتی خیر لکم تعرض علی اعمالکم فمارأیت من خیر حمدت اﷲ علیہ وما رأیت من شراستغفرت اﷲ لکم ۔
اللھم صل وسلم وبارك علیہ صلوۃ تکون لك ولہ رضاء ولحقہ العظیم اداء امین۔ میری زندگی تمہارے لیے بہتر ہے مجھ سے باتیں کرتے ہو اور ہم تم سے باتیں کرتے ہیںاور میری وفات بھی تمہارے لیے بہترتمہارے اعمال مجھ پر پیش کیے جائیں گے جب بھلائی دیکھوں گا حمد الہی بجالاؤں گا اور جب برائی دیکھوں گا تمہاری بخشش چاہوں گا۔(ت)
اے اﷲ ! درود و سلام اور برکت عطا فرما آپ پر ایسا درود جو تیری اور ان کا رضا کا ذریعہ ہو اور اس سے انکے عظیم حق کی ادائیگی ہو۔آمین۔(ت)
مسند حارث میں انس رضی اﷲ تعالی عنہ سے ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں:
حیاتی خیر لکم تحدثون وتحدث لکم فاذا انامت کانت وفاتی خیرالکم تعرض علی اعمالکم فان رأیت خیرا حمدت اﷲ وان رأیت شرا ذلك استغفرت اﷲ لکم ۔ میری جینا تمہارے لیے بہتر ہی مجھ سے باتیں کرتے ہو اور ہم تمہارے نفع کی باتیں تم سے فرماتے ہیںجب میں انتقال فرماؤں گا تو میری وفات تمہارے لیے خیر ہوگیتمہارے اعمال مجھ پر پیش کیے جائیں گے اگر نیکی دیکھوں گا حمد الہی کروں گا اور دوسری بات پاؤں گا تو تمہاری مغفرت طلب کروں گا۔
حوالہ / References
البحرالزخار المعروف بمسند البزار حدیث ۱۹۲۵ مکتبہ العلوم والحکم مدینۃ المنورۃ ۵ /۳۰۸ و۳۰۹
الطبقات الکبرٰی لابن سعد ذکر ما قرب الرسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم من اجلہ دارصادر بیروت ۲ /۱۰۴
ف:حدیث کے مذکورہ بالا الفاظ طبقات ابن سعد میں بکر بن عبداﷲ مزنی سے منقول ہے۔
الطبقات الکبرٰی لابن سعد ذکر ما قرب الرسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم من اجلہ دارصادر بیروت ۲ /۱۰۴
ف:حدیث کے مذکورہ بالا الفاظ طبقات ابن سعد میں بکر بن عبداﷲ مزنی سے منقول ہے۔
اللھم صل وسلم وبارك علیہ قدر رأفتہ ورحمۃ بامتہ ابدا امین ۔ اے اﷲ! آپ پر ہمیشہ اس قدر درود وسلام اور برکت نازل فرما جس قدر آپ اپنی امت پر مہربان ہیںآمین(ت)
ابن سعد طبقات اور حارث مسند میں اور قاضی اسمعیل بہ سند ثقات بکر بن عبدالبرمزنی سے مرسلا راویرسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں:
حیاتی خیر لکم تحدثونی ونحدث لکم فاذاانامت کانت وفاتی خیرالکم تعرض علی اعمالکم فان رأیت خیر احمدت اﷲ وان رأیت شرا استغفرت لکم ۔
اللھم صل وسلم وبارك علی ھذا الحبیب الذی ارسلتہ رحمۃ وبعثتہ نعمۃ وعلی الہ وصحبہ عدد کل عمل وکلمۃ امین۔ میری حیات تمہارے لیے بہتر ہےجو نئی بات تم سے واقع ہوتی ہے ہم اس کا تازہ علاج فرماتے ہیں جب میں انتقال کروں گا میری وفات تمہارے لیے بہتر ہوگی تمہارے اعمال میرے حضور معروض ہوں گے میں نیکیوں پر شکر اور بدی پر تمہارے لیے استغفار فرماؤں گا۔
اے اﷲ تعالی ! تمام اعمال اور تمام کلمات کی تعداد کے مطابق درود و سلام اور برکت نازل فرما اس حبیب پر جسے تو نے رحمت اور نعمت بنا کر بھیجا ہےآمین۔(ت)
امام ترمذی محمد بن علی والد عبدالعزیز سے راویرسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں:
تعرض الاعمال یوم الاثنین و یوم الخمیس علی اﷲ تعالی و تعرض علی الانبیاء وعلی الاباء والامہات یوم الجمعۃ فیفرحون بحسناتھم وتزداد وجوھھم بیضا ونزھۃ فاتقوا ہر دوشنبہ و پنچشنبہ کو اعمال اﷲ کے حضور پیش ہوتے ہیں اور ہر جمعہ کو انبیاء اور ماں باپ کے سامنےوہ نیکیوں پر خوش ہوتے ہیں اور انکے چہروں کی نورانیت اور چمك بڑھ جاتی ہے تو اﷲ سے ڈرو اور اپنے مردوں کو اپنی بداعمالیوں
ابن سعد طبقات اور حارث مسند میں اور قاضی اسمعیل بہ سند ثقات بکر بن عبدالبرمزنی سے مرسلا راویرسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں:
حیاتی خیر لکم تحدثونی ونحدث لکم فاذاانامت کانت وفاتی خیرالکم تعرض علی اعمالکم فان رأیت خیر احمدت اﷲ وان رأیت شرا استغفرت لکم ۔
اللھم صل وسلم وبارك علی ھذا الحبیب الذی ارسلتہ رحمۃ وبعثتہ نعمۃ وعلی الہ وصحبہ عدد کل عمل وکلمۃ امین۔ میری حیات تمہارے لیے بہتر ہےجو نئی بات تم سے واقع ہوتی ہے ہم اس کا تازہ علاج فرماتے ہیں جب میں انتقال کروں گا میری وفات تمہارے لیے بہتر ہوگی تمہارے اعمال میرے حضور معروض ہوں گے میں نیکیوں پر شکر اور بدی پر تمہارے لیے استغفار فرماؤں گا۔
اے اﷲ تعالی ! تمام اعمال اور تمام کلمات کی تعداد کے مطابق درود و سلام اور برکت نازل فرما اس حبیب پر جسے تو نے رحمت اور نعمت بنا کر بھیجا ہےآمین۔(ت)
امام ترمذی محمد بن علی والد عبدالعزیز سے راویرسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں:
تعرض الاعمال یوم الاثنین و یوم الخمیس علی اﷲ تعالی و تعرض علی الانبیاء وعلی الاباء والامہات یوم الجمعۃ فیفرحون بحسناتھم وتزداد وجوھھم بیضا ونزھۃ فاتقوا ہر دوشنبہ و پنچشنبہ کو اعمال اﷲ کے حضور پیش ہوتے ہیں اور ہر جمعہ کو انبیاء اور ماں باپ کے سامنےوہ نیکیوں پر خوش ہوتے ہیں اور انکے چہروں کی نورانیت اور چمك بڑھ جاتی ہے تو اﷲ سے ڈرو اور اپنے مردوں کو اپنی بداعمالیوں
حوالہ / References
کنزالعمال بحوالہ ابن سعد عن بکر بن عبداﷲ مرسلًا حدیث ۳۱۹۰۳ موسستہ الرسالہ بیروت ۱۱ /۴۰۷،الجامع الصغیربحوالہ ابن سعد عن بکر حدیث ۳۷۷۱ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۱ /۲۲۹
اﷲ تعالی ولا تؤذوا موتاکم ۔
اللھم وفقنا لما ترضاہ ویرضاہ نبیناصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم و تزداد وجوہ ابائنا وامھاتنا بیاضا واشراقا امین۔ سے ایذا نہ دو۔
اے اﷲ ! ہمیں ایسے اعمال کی توفیق عطا فرما جن پر تو اور ہمارا نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم خوش ہوں اور ان سے ہمارے ماں باپ کے چہروں کی نورانیت اور چمك میں اضافہ ہوآمین۔ (ت)
ابونعیم حلیۃ الاولیاء میں انس رضی اﷲ تعالی عنہ سے راویرسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں:
ان اعمال امتی تعرض علی فی کل یوم جمعۃواشتد غضب اﷲ علی الزناۃ ۔ بے شك ہر جمعہ کے دن میری امت کے اعمال مجھ پر ہوتے ہیں اور زانیوں پر خدا کا سخت غضب ہے۔والعیاذ باﷲ تعالی۔
امام اجل عبداﷲ بن مبارك سعید بن مسیب بن حزن رضی اﷲ تعالی عنہم سے راوی:
لیس من یوم الاتعرض فیہ علی النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اعمال امتہ غدوۃ وعشیۃ فیعرفھم بسیماھم واعمالھم ۔ کوئی دن ایسا نہیں جس میں نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم وآلہ وسلم پر ان کی امت کے اعمال صبح و شام دو دفعہ پیش نہ ہوتے ہوں تو حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم انہیں ان کی نشانی صورت سے بھی پہچانتے ہیں اور ان کے اعمال سے بھیصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔
تیسیر شرح جامع صغیر میں ہے:
وذلك کل یوم کما ذکرہ المؤلف وعدہ من خصوصیاتہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم و تعرض علیہ ایضا مع الانبیاء رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے حضور میں پیشی تو ہر روز ہے جیسا کہ امام جلا ل الدین سیوطی نے ذکر فرمایا اور اسے حضور کے خصائص سے گنا اور ہر دو شنبہ و پنجشنبہ کو بھی حضور صلی اﷲ تعالی
اللھم وفقنا لما ترضاہ ویرضاہ نبیناصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم و تزداد وجوہ ابائنا وامھاتنا بیاضا واشراقا امین۔ سے ایذا نہ دو۔
اے اﷲ ! ہمیں ایسے اعمال کی توفیق عطا فرما جن پر تو اور ہمارا نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم خوش ہوں اور ان سے ہمارے ماں باپ کے چہروں کی نورانیت اور چمك میں اضافہ ہوآمین۔ (ت)
ابونعیم حلیۃ الاولیاء میں انس رضی اﷲ تعالی عنہ سے راویرسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں:
ان اعمال امتی تعرض علی فی کل یوم جمعۃواشتد غضب اﷲ علی الزناۃ ۔ بے شك ہر جمعہ کے دن میری امت کے اعمال مجھ پر ہوتے ہیں اور زانیوں پر خدا کا سخت غضب ہے۔والعیاذ باﷲ تعالی۔
امام اجل عبداﷲ بن مبارك سعید بن مسیب بن حزن رضی اﷲ تعالی عنہم سے راوی:
لیس من یوم الاتعرض فیہ علی النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اعمال امتہ غدوۃ وعشیۃ فیعرفھم بسیماھم واعمالھم ۔ کوئی دن ایسا نہیں جس میں نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم وآلہ وسلم پر ان کی امت کے اعمال صبح و شام دو دفعہ پیش نہ ہوتے ہوں تو حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم انہیں ان کی نشانی صورت سے بھی پہچانتے ہیں اور ان کے اعمال سے بھیصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔
تیسیر شرح جامع صغیر میں ہے:
وذلك کل یوم کما ذکرہ المؤلف وعدہ من خصوصیاتہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم و تعرض علیہ ایضا مع الانبیاء رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے حضور میں پیشی تو ہر روز ہے جیسا کہ امام جلا ل الدین سیوطی نے ذکر فرمایا اور اسے حضور کے خصائص سے گنا اور ہر دو شنبہ و پنجشنبہ کو بھی حضور صلی اﷲ تعالی
حوالہ / References
نوادر الاصول الاصل السابع واستون والمائۃ الخ دار صادر بیروت ص ۲۱۳
حلیۃ الاولیاء ترجمہ ۳۵۸ عمران القصیر دار الکتاب العربی بیروت ۶/ ۱۷۹
کتاب الزھد باب فی عرض عمل الاحیاء علی الاموات حدیث دار الکتب العلمیہ بیروت الجزء الرابع ص ۴۲
حلیۃ الاولیاء ترجمہ ۳۵۸ عمران القصیر دار الکتاب العربی بیروت ۶/ ۱۷۹
کتاب الزھد باب فی عرض عمل الاحیاء علی الاموات حدیث دار الکتب العلمیہ بیروت الجزء الرابع ص ۴۲
والاباء یوم الاثنین والخمیس قالہ تحت حدیث ابن سعد المذکورواﷲ تعالی اعلم۔ علیہ وآلہ وسلم پر اعمال امت انبیاء اور آباء کے ساتھ پیش ہوتے ہیں۔(یہ بات امام مناوی نے حدیث ابن سعد مذکور کے تحت فرمائی ہےاور اﷲ تعالی خوب جانتا ہے۔ت)
اس طرح بارگاہ حضور میں اعمال امت کی پیشی روزانہ ہر صبح و شام کو الگ ہوتی ہے پھر ہر دو شنبہ اور پنچشنبہ کو جداپھر ہر جمعہ کو ہفتہ بھر کے اعمال کی پیشی جدا۔بالجملہ دیوبندیوں کا اسے غلط و افترائے محض کہنا محض اسی بنا پر ہے کہ فضائل محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم سے جلتے ہیںصحیح حدیثوں کو کیا مانیں جب قرآن عظیم ہی سے بچ کر نکلتے ہیںاوندھے چلتی ہیں
" فبای حدیثۭ بعد اللہ و ایتہ یؤمنون ﴿۶﴾" ۔(پھر ا ﷲ اور اس کی آیتوں کو چھوڑ کر کون سی بات پر ایمان لائیں گے۔ت)
شبہہ رابعہ:کے دو۲ رد گزرے امرا ول و دوم سے۔
ثالثا:حدیث ترمذیجس سے محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم پر شدید اعتراض جمانا چاہا
" و سیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون ﴿۲۲۷﴾" ۔(اور اب جانا چاہتے ہیں ظالم کہ کس کروٹ پر پلٹا کھائیں گے۔ت)اصول محدثین پر محل کلام اور اصول دین پر قطعا حجیت سے ساقط ہےترمذی کے یہاں اس کے لفظ یہ ہیں۔
حدثنا محمد بن یحیی ثنا محمد بن یوسف عن اسرائیل ثنا سماك بن حرب عن علقمۃ بن وائل الکندی عن ابیہ ان امرأۃ خرجت علی عہد النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ترید الصلوۃ فتلقا ھار جل فتجللہا فقضی حاجتہ منہا فصاحت فانطلق ومر علیہا رجل فقالت ان ذلك الرجل فعل بی کذاو کذاو مرت بعصابۃ علقمہ بن وائل کندی اپنے باپ(وائل)سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے عہد اقدس میں ایك عورت نماز پڑھنے کے لیے نکلی تو اسے ایك مرد ملا جس نے اسے ڈھانپ لیا اور اس سے اپنی حاجت پوری کی وہ عورت چیخی تو وہ شخص چلا گیاایك اور شخص اس عورت کے پاس سے گزرا تو اس عورت نے کہا کہ اس مرد نے میرے ساتھ ایسا ایسا کیا ہے۔اور وہ خاتون مہاجرین کی
اس طرح بارگاہ حضور میں اعمال امت کی پیشی روزانہ ہر صبح و شام کو الگ ہوتی ہے پھر ہر دو شنبہ اور پنچشنبہ کو جداپھر ہر جمعہ کو ہفتہ بھر کے اعمال کی پیشی جدا۔بالجملہ دیوبندیوں کا اسے غلط و افترائے محض کہنا محض اسی بنا پر ہے کہ فضائل محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم سے جلتے ہیںصحیح حدیثوں کو کیا مانیں جب قرآن عظیم ہی سے بچ کر نکلتے ہیںاوندھے چلتی ہیں
" فبای حدیثۭ بعد اللہ و ایتہ یؤمنون ﴿۶﴾" ۔(پھر ا ﷲ اور اس کی آیتوں کو چھوڑ کر کون سی بات پر ایمان لائیں گے۔ت)
شبہہ رابعہ:کے دو۲ رد گزرے امرا ول و دوم سے۔
ثالثا:حدیث ترمذیجس سے محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم پر شدید اعتراض جمانا چاہا
" و سیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون ﴿۲۲۷﴾" ۔(اور اب جانا چاہتے ہیں ظالم کہ کس کروٹ پر پلٹا کھائیں گے۔ت)اصول محدثین پر محل کلام اور اصول دین پر قطعا حجیت سے ساقط ہےترمذی کے یہاں اس کے لفظ یہ ہیں۔
حدثنا محمد بن یحیی ثنا محمد بن یوسف عن اسرائیل ثنا سماك بن حرب عن علقمۃ بن وائل الکندی عن ابیہ ان امرأۃ خرجت علی عہد النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ترید الصلوۃ فتلقا ھار جل فتجللہا فقضی حاجتہ منہا فصاحت فانطلق ومر علیہا رجل فقالت ان ذلك الرجل فعل بی کذاو کذاو مرت بعصابۃ علقمہ بن وائل کندی اپنے باپ(وائل)سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے عہد اقدس میں ایك عورت نماز پڑھنے کے لیے نکلی تو اسے ایك مرد ملا جس نے اسے ڈھانپ لیا اور اس سے اپنی حاجت پوری کی وہ عورت چیخی تو وہ شخص چلا گیاایك اور شخص اس عورت کے پاس سے گزرا تو اس عورت نے کہا کہ اس مرد نے میرے ساتھ ایسا ایسا کیا ہے۔اور وہ خاتون مہاجرین کی
حوالہ / References
التیسیر شرح الجامع الصغیر تحت الحدیث حیاتی خیرلکم مکتبۃ الامام الشافعی ریاض ۱ /۵۰۲
القرآن الکریم ۴۵ /۶
القرآن الکریم ۲۶ /۲۲۷
القرآن الکریم ۴۵ /۶
القرآن الکریم ۲۶ /۲۲۷
من المھاجرین فقالت ان ذالك الرجل فعل بی کذاکذا فانطلقوا فاخذوا الرجل الذی ظنت انہ وقع علیہا واتوھا فقالت نعم ھو ھذا فاتوابہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فلما امر بہ لرجم قام صاحبہا الذی وقع علیھا فقال یارسول اﷲ انا صاحبہا فقال لھا اذھبی فقد غفر اﷲ لكوقال للرجل قولا حسناوقال للرجل الذی وقع علیہا ارجمعوہ وقال لقد تاب توبۃ لوتابہا اھل المدینۃ لقبل منھمھذا حدیث حسن غریب صحیحو علقمۃ بن وائل بن حجر سمع من ابیہ وھواکبر من عبد الجبار بن وائل وعبدالجبار بن وائل لم یسمع من ابیہ ۔ ایك جماعت کے پاس سے گزری اور کہا اس مرد نے میرے ساتھ ایسا ایسا کیا ہے۔وہ لوگ گئے اور اس مرد کو پکڑ لائے جس کے بارے میں اس خاتون نے گمان کیا تھا کہ ا س نے اس کے ساتھ زنا کیا ہےجب وہ اسے خاتون کے پاس لائے تو اس نے کہا ہاں یہ وہی ہےچنانچہ وہ اسے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے پاس لے آئے پھر جب آپ نے اس کو سنگسار کرنے کا حکم دیا تو وہ شخص اٹھ کر کھڑا ہوگیا جس نے فی الواقع اس عورت سے زنا کیا تھا اور عرض کی کہ یارسول اﷲ ! میں نے اس کے ساتھ زنا کیا ہےچنانچہ آپ نے اس عورت سے فرمایا:جا اﷲ تعالی نے تیری مغفرت کردیاور پہلے مرد سے اچھا کلام فرمایا اور دوسرے مرد جس نے حقیقۃ زنا کیا تھا کہ بارے میں فرمایا کہ اس کو سنگسار کردو پھر فرمایا اس نے ایسی توبہ کی کہ اگر تمام اہل مدینہ یہ توبہ کرتے تو ان سے قبول کرلی جاتی۔یہ حدیث حسن صحیح غریب ہےعلقمہ بن وائل بن حجر نے اپنے باپ سے سماعت کی ہے اور وہ عبدالجبار بن وائل سے بڑے ہیں عبدالجبار نے اپنے باپ سے کچھ نہیں سنا۔ت)
(۱)وائل رضی اﷲ تعالی عنہ سے علقمہ کے سماع میں کلام ہےامام یحیی بن معین ان کی روایت کو منقطع بتاتی ہیں اور اسی پر حافظ نے تقریب میں جزم کیا میزان میں ہے:
علقمۃ بن وائل بن حجر صدوق الا ان علقمہ بن وائل بن حجر صدوق ہے مگر یحیی بن معین
(۱)وائل رضی اﷲ تعالی عنہ سے علقمہ کے سماع میں کلام ہےامام یحیی بن معین ان کی روایت کو منقطع بتاتی ہیں اور اسی پر حافظ نے تقریب میں جزم کیا میزان میں ہے:
علقمۃ بن وائل بن حجر صدوق الا ان علقمہ بن وائل بن حجر صدوق ہے مگر یحیی بن معین
حوالہ / References
جامع الترمذی ابواب الحدود باب ماجاء فی المراۃ اذا استکرھت علی الزنا امین کمپنی دہلی ۱/ ۱۷۵
یحیی بن معین یقول فیہ روایۃ عن ابیہ مرسلۃ ۔ کہتے ہیں کہ اس کی روایت اپنے باپ سے مرسل ہے۔(ت)
تقریب میں ہے:
علقمۃ بن وائل صدوق الاانہ لم یسمع من ابیہ ۔ علقمہ بن وائل صدوق ہے مگر اپنے باپ سے اس نے کچھ نہ سنا۔(ت)
(۲)پھر سماك بن حرب میں کلام ہے تقریب میں ہے:
قدتغیرباخبرہ فکان ربما یلقن ۔ آخر عمر میں وہ متغیر ہوگئے تھے چنانچہ بسا اوقات انہیں تلقین کی جاتی تھی۔(ت)
امام نسائی نے اس کے باب میں یہ فیصلہ کیا کہ جس حدیث کے تنہا وہی راوی ہوں حجت نہیں۔میزان میں ہے:
قال النسائی اذا انفرد باصل لم یکن بحجۃ لانہ کان یلقن فیتلقن اھ وقد انقدالحافظ علی الترمذی تصحیحاتہ بل وتحسیناتہ کما بیناہ فی مدارج طبقات الحدیث وغیرھا من تصانیفنا۔ نسائی نے کہا جس حدیث میں علقمہ منفرد ہو وہ حجت نہیں کیونکہ انہیں بات سمجھائی جاتی تب وہ سمجھتے اور حافظ نے ترمذی پر اس کی تصیححات بلکہ اس کی تحسینات پر تنقید کی جیسا کہ ہم نے اپنی تصانیف مدارج طبقات الحدیث وغیرہ میں اس کو بیان کیا ہے۔(ت)
اور اس پر ظاہر کہ اس حدیث کا مدار سماك پر ہے۔
(۳)ابوداؤد نے یہ حدیث بعینہ اسی سند سے روایت کی اور اسی میں یہ لفظ لیرجم(کہ اسے رجم کیا جائے۔(ت)جو منشاء اعتراض وہابی ہےاصلا نہیںاس کی سند یہ ہے:
حدثنا محمد بن یحیی بن فارس ہمیں حدیث بیان کی محمد بن یحیی بن فارس نے وہ
تقریب میں ہے:
علقمۃ بن وائل صدوق الاانہ لم یسمع من ابیہ ۔ علقمہ بن وائل صدوق ہے مگر اپنے باپ سے اس نے کچھ نہ سنا۔(ت)
(۲)پھر سماك بن حرب میں کلام ہے تقریب میں ہے:
قدتغیرباخبرہ فکان ربما یلقن ۔ آخر عمر میں وہ متغیر ہوگئے تھے چنانچہ بسا اوقات انہیں تلقین کی جاتی تھی۔(ت)
امام نسائی نے اس کے باب میں یہ فیصلہ کیا کہ جس حدیث کے تنہا وہی راوی ہوں حجت نہیں۔میزان میں ہے:
قال النسائی اذا انفرد باصل لم یکن بحجۃ لانہ کان یلقن فیتلقن اھ وقد انقدالحافظ علی الترمذی تصحیحاتہ بل وتحسیناتہ کما بیناہ فی مدارج طبقات الحدیث وغیرھا من تصانیفنا۔ نسائی نے کہا جس حدیث میں علقمہ منفرد ہو وہ حجت نہیں کیونکہ انہیں بات سمجھائی جاتی تب وہ سمجھتے اور حافظ نے ترمذی پر اس کی تصیححات بلکہ اس کی تحسینات پر تنقید کی جیسا کہ ہم نے اپنی تصانیف مدارج طبقات الحدیث وغیرہ میں اس کو بیان کیا ہے۔(ت)
اور اس پر ظاہر کہ اس حدیث کا مدار سماك پر ہے۔
(۳)ابوداؤد نے یہ حدیث بعینہ اسی سند سے روایت کی اور اسی میں یہ لفظ لیرجم(کہ اسے رجم کیا جائے۔(ت)جو منشاء اعتراض وہابی ہےاصلا نہیںاس کی سند یہ ہے:
حدثنا محمد بن یحیی بن فارس ہمیں حدیث بیان کی محمد بن یحیی بن فارس نے وہ
حوالہ / References
میزان الاعتدال ترجمہ ۵۷۶۱ علقمہ بن وائل دارالمعرفۃ بیروت ۳ /۱۰۸
تقریب التہذیب ترجمہ۴۷۰۰ علقمہ بن وائل دارالکتب العلمیہ بیروت ۱ /۶۸۷
تقریب التہذیب ترجمہ۲۶۳۲ علقمہ بن وائل دارالکتب العلمیہ بیروت ۱ /۳۹۴
میزان الاعتدال ترجمہ۳۵۴۸ سماك بن حرب دارالمعرفۃ بیروت ۲ /۲۳۳
تقریب التہذیب ترجمہ۴۷۰۰ علقمہ بن وائل دارالکتب العلمیہ بیروت ۱ /۶۸۷
تقریب التہذیب ترجمہ۲۶۳۲ علقمہ بن وائل دارالکتب العلمیہ بیروت ۱ /۳۹۴
میزان الاعتدال ترجمہ۳۵۴۸ سماك بن حرب دارالمعرفۃ بیروت ۲ /۲۳۳
نافریابی نا اسرائیل نا سماك بن حرب عن علقمۃ بن وائل عن ابیہ ۔ کہتے ہیں ہمیں فریابی نے وہ کہتے ہیں ہمیں اسرائیل نے وہ کہتے ہیں ہمیں سماك بن حرب نے علقمہ بن وائل سے انہوں نے اپنے باپ سے حدیث بیان کی۔(ت)
اور محل احتجاج میں لفظ صرف یہ ہیں:
فقالت نعم ھو ھذا فاتوابہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فلما امربہ قام صاحبہا الذی وقع علیہا فقال رسول اﷲ انا صاحبہا ۔ اس عورت نے کہا ہاں یہ وہی ہے چنانچہ وہ لوگ اس کو رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے پاس لے آئے۔جب آپ نے اس کے بارے میں حکم دیا تو وہ شخص کھڑا ہوگیا جس نے فی الواقع اس عورت سے زناء کیا تھا اور عرض کی کہ یارسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم میں نے اس کے ساتھ زناء کیا ہے۔(ت)
آخر میں:
قال ابوداؤد رواہ اسباط بن نصرایضا عن سماك ۔ ابوداؤد نے کہا اس کو اسباط بن نصر نے بھی سماك سے روایت کیا ہے۔(ت)
یہاں امربہ مطلق ہے ممکن کہ تحقیقات کے لیے حکم فرمایا یہ بھی سہی کہ بقدر حاجت کچھ سخت گیری کرو قید کرو کہ اگر گناہ کیا ہو ا قرار کرے کہ شرعا متہم کی تعزیر جائز ہے۔جامع ترمذی میں حسن بن معاویہ بن خیدہ قشیری رضی اﷲ تعالی عنہ سے ہے:
حدثنا علی بن سعید الکندی ثنا ابن المبارك عن معمرعن بھزین حکیم عن ابیہ عن جدہ ان النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم حبس ہمیں حدیث بیان کی علی بن سعید کندی نے انہوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ابن مبارك نے انہوں نے معمر سے انہوں نے بہز بن حکیم سے انہوں نے بواسطہ اپنے باپ اپنے دادا سے روایت کیا کہ نبی اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے ایك شخص کو
اور محل احتجاج میں لفظ صرف یہ ہیں:
فقالت نعم ھو ھذا فاتوابہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فلما امربہ قام صاحبہا الذی وقع علیہا فقال رسول اﷲ انا صاحبہا ۔ اس عورت نے کہا ہاں یہ وہی ہے چنانچہ وہ لوگ اس کو رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے پاس لے آئے۔جب آپ نے اس کے بارے میں حکم دیا تو وہ شخص کھڑا ہوگیا جس نے فی الواقع اس عورت سے زناء کیا تھا اور عرض کی کہ یارسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم میں نے اس کے ساتھ زناء کیا ہے۔(ت)
آخر میں:
قال ابوداؤد رواہ اسباط بن نصرایضا عن سماك ۔ ابوداؤد نے کہا اس کو اسباط بن نصر نے بھی سماك سے روایت کیا ہے۔(ت)
یہاں امربہ مطلق ہے ممکن کہ تحقیقات کے لیے حکم فرمایا یہ بھی سہی کہ بقدر حاجت کچھ سخت گیری کرو قید کرو کہ اگر گناہ کیا ہو ا قرار کرے کہ شرعا متہم کی تعزیر جائز ہے۔جامع ترمذی میں حسن بن معاویہ بن خیدہ قشیری رضی اﷲ تعالی عنہ سے ہے:
حدثنا علی بن سعید الکندی ثنا ابن المبارك عن معمرعن بھزین حکیم عن ابیہ عن جدہ ان النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم حبس ہمیں حدیث بیان کی علی بن سعید کندی نے انہوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ابن مبارك نے انہوں نے معمر سے انہوں نے بہز بن حکیم سے انہوں نے بواسطہ اپنے باپ اپنے دادا سے روایت کیا کہ نبی اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے ایك شخص کو
حوالہ / References
سنن ابی داؤد کتاب الحدود باب فی صاحب الحد یجیئ فیقر آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۲۴۵
سنن ابی داؤد کتاب الحدود باب فی صاحب الحد یجیئ فیقر آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۲۴۵
سنن ابی داؤد کتاب الحدود باب فی صاحب الحد یجیئ فیقر آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۲۴۶
سنن ابی داؤد کتاب الحدود باب فی صاحب الحد یجیئ فیقر آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۲۴۵
سنن ابی داؤد کتاب الحدود باب فی صاحب الحد یجیئ فیقر آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۲۴۶
رجلافی تھمۃ ثم خلی عند"قال الترمذی وفی الباب عن ابی ھریرۃ حدیث بھز عن ابیہ عن جدہ حدیث حسنوقدروی اسمعیل بن ابراہیم عن بھزبن حکیم ھذا الحدیث اتم من ھذا واطول اھ قلت سندالترمذی حسنعلی وبہزوحکیم کلھم صدوق ما اشارالیہ من روایۃ اسمعیل بن ابراھیم فقد رواھا ابن ابی عاصم فی کتاب العفوقال حدثنا ابوبکر بن ابی شیبۃ ثناء ابن علیۃ عن بھزعن ابیہ عن جدہ ان اخاہ اتی النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فقال جیرانی علی ما اخذوا فاعرض عنہ فاعاد قولہ فاعرض عنہ وساق القصۃ قال فی اخرھا خلوالہ عن جیرانہ ۔ کسی تہمت میں محبوس فرمایا پھر چھوڑ دیا۔اس باب میں حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے بھی روایت ہے۔بہز کی حدیث بواسطہ اپنے باپ اپنے دادا سے حسن ہے۔تحقیق اسمعیل بن ابراہیم نے بہز بن حکیم سے اس حدیث کو اتم واطول روایت کیا ہے۔اھ میں کہتا ہوں ترمذی کی سند حسن ہےعلیبہز اور حکیم تمام صدوق ہیں۔اسمعیل بن ابراہیم کی روایت سے جس حدیث کی طرف ترمذی نے اشارہ کیا ہے۔ اس کو ابن ابی عاصم نے کتاب العفو میں روایت کیاکہا کہ ہمیں حدیث بیان کی ابوبکر بن ابی شیبہ نے انہوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ابن علیہ نے انہوں نے بہز سے انہوں نے بہز سے انہوں نے بواسطہ اپنے آپ کے اپنے دادا سے روایت کی کہ ان کے بھائی نے نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کی کہ میری پڑوسی کس بنیاد پر پکڑے گئےآپ صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے ان سے اعراض فرمایا۔انہوں نے بات دہرائیآپ نے پھر اعراض فرمایاا ور پورا قصہ بیان کیااس کے آخر میں ہے کہ آپ نے فرمایا اس کی خاطر اس کے پڑوسیوں کو چھوڑ دو۔(ت)
(۴)امام بغوی نے مصابیح میں یہ حدیث ذکر کی اور اس میں سرے سے دوسرے شخص کا جس پر غلطی سے تہمت ہوئی تھی قصہ ہی نہ رکھامصابیح کے لفظ یہ ہیں:
عن علقمۃ بن وائل عن ابیہ علقمہ بن وائل اپنے باپ وائل سے راوی ہیں کہ
(۴)امام بغوی نے مصابیح میں یہ حدیث ذکر کی اور اس میں سرے سے دوسرے شخص کا جس پر غلطی سے تہمت ہوئی تھی قصہ ہی نہ رکھامصابیح کے لفظ یہ ہیں:
عن علقمۃ بن وائل عن ابیہ علقمہ بن وائل اپنے باپ وائل سے راوی ہیں کہ
حوالہ / References
جامع الترمذی ابواب الدیات باب ماجاء فی الحبس فی التہمۃ امین کمپنی دہلی ۱ /۱۷۰
حدیث بالمفہوم سنن ابی داؤد کتاب القضاء ۲/ ۱۵۵ ومسند احمد بن حنبل ۵ /۴
حدیث بالمفہوم سنن ابی داؤد کتاب القضاء ۲/ ۱۵۵ ومسند احمد بن حنبل ۵ /۴
ان امرأۃ خرجت علی عہد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ترید الصلوۃ فتلقا ھارجل فتجللھا فقضی حاجتہ منہا فصاحت صحیۃ وانطلق ومرت بعصابۃ من المھا جرین فقالت ان ذلك فعل بی کذاو کذا فاخذوا الرجل فاتوابہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فقال لہا اذھبی فقد غفر اﷲ لك وقال للرجل الذی وقع علیھا ارجموہ و قال لقد تاب توبۃ لوتابھا اھل المدینۃ لقبل منھم ۔ ایك عورت نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ اقدس میں نماز کے ارادہ سے نکلی تو ایك مردا سے ملاجو اس پر چھا گیا۔اس نے عورت سے اپنی حاجت پوری کرلی۔وہ چیخی تو وہ مرد چلا گیامہاجرین کی ایك جماعت وہاں سے گزری تو وہ عورت بولی کہ اس شخص نے مجھ سے ایسا ایسا کیا ہے۔لوگوں سے اس شخص کو پکڑ لیا پھر اسے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں لائے تو حضور علیہ الصلوۃ و السلام نے اس عورت سے فرمایا تو جا تجھے اﷲ تعالی نے بخش دیا ہے۔اس شخص کے بارے میں فرمایا جو اس پر چھا گیا تھا کہ اسے رجم کردواور فرمایا یقینا اس نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر یہ توبہ سارے مدینہ والے کرتے تو ان کی توبہ قبول ہوجاتی۔
یہ بالکل وبے دغدغہ ہےمشکوۃ میں اسے ذکر کرکے کہا رواہ الترمذی وابوداؤد (اس کو ترمذی اور ابوداؤد نے روایت کیا۔ت)۔
(۵)اس لفظ ترمذی میں اصل علت یہ ہے کہ اگر کوئی عورت دھوکے سے کسی مرد پر زنا کی تہمت رکھ دے اور حاکم کے حضور نہ وہ مرد اقرار کرے نہ اصلا کوئی شہادت معائنہ گزرے تو چار درکنار ایك گواہ بھی نہ ہو تو کیا ایسی صورت میں حاکم کو روا ہے کہ صرف عورت کے نام لے دینے سے اس کے رجم وقتل کا حکم دے دےحاشا ہر گز نہیںایسا حکم قطعایقینااجماعا قرآن عظیم و شریعت مطہرہ کے بالکل خلاف اور صریح باطل و ظلم و خون انصاف ہےاس سے کوئی شخص انکار
یہ بالکل وبے دغدغہ ہےمشکوۃ میں اسے ذکر کرکے کہا رواہ الترمذی وابوداؤد (اس کو ترمذی اور ابوداؤد نے روایت کیا۔ت)۔
(۵)اس لفظ ترمذی میں اصل علت یہ ہے کہ اگر کوئی عورت دھوکے سے کسی مرد پر زنا کی تہمت رکھ دے اور حاکم کے حضور نہ وہ مرد اقرار کرے نہ اصلا کوئی شہادت معائنہ گزرے تو چار درکنار ایك گواہ بھی نہ ہو تو کیا ایسی صورت میں حاکم کو روا ہے کہ صرف عورت کے نام لے دینے سے اس کے رجم وقتل کا حکم دے دےحاشا ہر گز نہیںایسا حکم قطعایقینااجماعا قرآن عظیم و شریعت مطہرہ کے بالکل خلاف اور صریح باطل و ظلم و خون انصاف ہےاس سے کوئی شخص انکار
حوالہ / References
مصباح السنۃ کتاب الحدود حدیث ۶۵۵ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۲ /۱۱۲
مشکوۃ المصابیح کتاب الحددو،الفصل الثانی قدیمی کتب خانہ کراچی ص۳۱۲
مشکوۃ المصابیح کتاب الحددو،الفصل الثانی قدیمی کتب خانہ کراچی ص۳۱۲
نہیں کرسکتااور یہاں اسی قدر واقعہ تھا ہمارےائمہ کے یہاں مقبول ہے مگر انقطاع باطن باجماع علماء مردود و باطل و مخذول ہے اگرچہ کیسی ہے سند لطیف و صحیح سے آئے نہ کہ یہ سند کہ بوجوہ محل نظر ہےسماك کے سوا اسرائیل میں بھی اختلاف ہے اگرچہ راجح توثیق ہے۔امام علی مدینی نے فرمایا:اسرائیل ضعیف ۔(اسرائیل ضعیف ہے۔ت) ابن سعد نے کہا:منھم من یستضعفہ ۔(ان میں سے بعض اسی ضعیف قرار دیتے ہیں۔ت)یعقوب بن شیبہ نے کہا:صالح الحدیث وفی حدیثہ لین (صالح الحدیث ہے اس کی حدیث میں کمزوری ہے۔ت)میزان میں ہے:کان یحیی القطان لایرضاہ ۔(یحیی قطان اسے پسند نہ کرتے تھے۔ت)
ابن حزم نے کہا:ضعیفاور ان کی متابعت کہ اسباط بن نصر نے کیان کا حال تو بہت گرا ہوا ہے۔تقریب میں کہا:
صدوق کثیر ا الخطا یغرب اھ ۔
اما ماحاول بہ التفصی عنہ فی حامش نسخۃ الطبع اذ قال لعل المراد فلما قارب ان یامربہ وذلك قالہ الراوی نظر الی ظاھرا لا مرحیث انھم احضروہ فی المحکم عند الامام والامام اشتغل بالتفتیش عن حالہ اھ ۔
فاقول:لایجدی نفعا صدوق ہے بہت خطا کرتا ہے نوادرات بیان کرتا ہے۔اھ(ت)
مطبوعہ نسخے کے حاشیے میں محشی نے یوں کہہ کر اشکال سے بچنے کا ارادہ کیا ہے کہ شاید مراد اس سے یہ ہو کہ جب اپ رجم کا حکم دینے کے قریب ہوئے اور راوی نے ظاہر امر کو دیکھتی ہوئے یہ کہہ دیا کہ آپ نے رجم کا حکم دیا۔اس لیے کہ لوگوں نے اس شخص کو امام کے پاس کچہری میں پیش کیا اور امام اس کے حال کی تفتیش میں مشغول ہوئے۔اھ(ت)
فاقول:(تو میں کہتا ہوں)یہ کچھ نفع نہیں
ابن حزم نے کہا:ضعیفاور ان کی متابعت کہ اسباط بن نصر نے کیان کا حال تو بہت گرا ہوا ہے۔تقریب میں کہا:
صدوق کثیر ا الخطا یغرب اھ ۔
اما ماحاول بہ التفصی عنہ فی حامش نسخۃ الطبع اذ قال لعل المراد فلما قارب ان یامربہ وذلك قالہ الراوی نظر الی ظاھرا لا مرحیث انھم احضروہ فی المحکم عند الامام والامام اشتغل بالتفتیش عن حالہ اھ ۔
فاقول:لایجدی نفعا صدوق ہے بہت خطا کرتا ہے نوادرات بیان کرتا ہے۔اھ(ت)
مطبوعہ نسخے کے حاشیے میں محشی نے یوں کہہ کر اشکال سے بچنے کا ارادہ کیا ہے کہ شاید مراد اس سے یہ ہو کہ جب اپ رجم کا حکم دینے کے قریب ہوئے اور راوی نے ظاہر امر کو دیکھتی ہوئے یہ کہہ دیا کہ آپ نے رجم کا حکم دیا۔اس لیے کہ لوگوں نے اس شخص کو امام کے پاس کچہری میں پیش کیا اور امام اس کے حال کی تفتیش میں مشغول ہوئے۔اھ(ت)
فاقول:(تو میں کہتا ہوں)یہ کچھ نفع نہیں
حوالہ / References
میزان الاعتدال ترجمہ ۸۲۰ اسرائیل بن یونس دارالمعرفۃ بیروت ۱ /۲۰۹
میزان الاعتدال ترجمہ ۸۲۰ اسرائیل بن یونس دارالمعرفۃ بیروت ۱ /۲۰۹
میزان الاعتدال ترجمہ ۸۲۰ اسرائیل بن یونس دارالمعرفۃ بیروت ۱ /۲۰۹
میزان الاعتدال ترجمہ ۸۲۰ اسرائیل بن یونس دارالمعرفۃ بیروت ۱ /۲۰۹
تقریب التہذیب ترجمہ ۳۲۱ اسباط بن نصر دارالکتب العلمیہ بیروت ۱ /۷۶
جامع الترمذی باب الحدود باب ماجاء فی المراۃ اذا استکرھت علی الزناء(حاشیہ)امین کمپنی دہلی ۱ /۱۷۵
میزان الاعتدال ترجمہ ۸۲۰ اسرائیل بن یونس دارالمعرفۃ بیروت ۱ /۲۰۹
میزان الاعتدال ترجمہ ۸۲۰ اسرائیل بن یونس دارالمعرفۃ بیروت ۱ /۲۰۹
میزان الاعتدال ترجمہ ۸۲۰ اسرائیل بن یونس دارالمعرفۃ بیروت ۱ /۲۰۹
تقریب التہذیب ترجمہ ۳۲۱ اسباط بن نصر دارالکتب العلمیہ بیروت ۱ /۷۶
جامع الترمذی باب الحدود باب ماجاء فی المراۃ اذا استکرھت علی الزناء(حاشیہ)امین کمپنی دہلی ۱ /۱۷۵
فان الاشتغال بالتفتیش لایفہم قرب الامر بالرجم مالم یکن ھناك شیئ یثبتہ وماکان ھناك شہود ولااقرار وما کان النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لیا مربقتل مسلم من دون ثبت فکیف یظہر للناظر قرب الامر بالرجم رجما بالغیب بل نسبۃ مثل ھذا ا الفہم الرکیك الباطل الذی یترفع عنہ احاد الناس الی الصحابۃ رضی اﷲ تعالی عنہم ثم ادعاء انھم اعتمدوا علیہ کل الاعتماد حتی نسبوا الامر بالرجم الی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ازراء بالصحابۃ وھو یرفع الامان عن روایاتہمو لاحول ولاقوۃ الا باﷲ العلی العظیم۔ دیتا کیونکہ تفتیش میں مشغول ہونے سے رجم کا حکم دینے کے قریب ہونا نہیں سمجھا جاتا جب تك وہاں اس کو ثابت کرنے والی کوئی شے نہ پائی جائےجب کہ وہاں نہ گواہ ہیں نہ اقرار اور نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم بغیر ثبو ت کے کسی مسلمان کے قتل کا حکم نہیں دیتے تو ناطر پر محض تخمینے سے امر رجم کیسے ظاہر ہوگیابلکہ ایسے باطل و رکیك فہم جس سے عام لو گ بھی منزہ ہوں کی نسبت صحابہ کرام کی طرف کرنا پھر یہ دعوت کرنا کہ انہوں نے اس پر مکمل اعتماد کرلیااور امر رجم کو انہوں نے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی طرف منسوب کردیا صحابہ کرام پر جسارت ہے اور یہ ان کی روایت سے امان کو اٹھا دے گا۔بلندی و عظمت والے معبود کی توفیق کے بغیر نہ گناہ سے بچنے کی طاقت ہے نہ نیکی کرنے کی قوت ہے۔(ت)
رابعا:یہ سب علم ظاہر کے طور پر تھا اور علم حقیقت لیجئے تو وہابیہ کا عجب اوندھا پن قابل تماشا ہے وہ حدیث کہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے علوم غیب پر روشن دلیل ہے اس کو کوالٹی دلیل نفی ٹھہراتے ہیںاﷲ عزوجل نے ہمارے حبیب صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم کو شریعت و حقیقت دونوں کا حکم بنایا حضور کے احکام شریعت ظاہرہ پر ہوتے اور کبھی حقیقت باطنہ پر حکم فرماتے مگر اس پر زور نہ دیا جاتا۔ابن ابی شیبہ وابویعلی وبزار و بیہقی انس رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کرتے ہیں:
قال ذکروارجلا عند النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فذکروا قوتہ فی الجھاد واجتہادہ فی العبادۃ فاذا ھم بالرجل مقبل فقال النبی صلی اﷲ تعالی علیہ و الہ وسلم انی لاجدفی وجہہ سفعۃ من الشیطان فلمادنی فسلم فقال لہ صحابہ رضی اﷲ تعالی عنہم نے ایك شخص کی تعریف کی کہ جہاد میں ایسی قوت رکھتا ہے اور عبادت میں ایسی کوشش کرتا ہےاتنے میں وہ سامنے سے گزرا حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:میں اس کے چہرے پر شیطان کا داغ پاتا ہوں۔اس نے پاس آکر سلام کیارسول اﷲ صلی اﷲ تعالی
رابعا:یہ سب علم ظاہر کے طور پر تھا اور علم حقیقت لیجئے تو وہابیہ کا عجب اوندھا پن قابل تماشا ہے وہ حدیث کہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے علوم غیب پر روشن دلیل ہے اس کو کوالٹی دلیل نفی ٹھہراتے ہیںاﷲ عزوجل نے ہمارے حبیب صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم کو شریعت و حقیقت دونوں کا حکم بنایا حضور کے احکام شریعت ظاہرہ پر ہوتے اور کبھی حقیقت باطنہ پر حکم فرماتے مگر اس پر زور نہ دیا جاتا۔ابن ابی شیبہ وابویعلی وبزار و بیہقی انس رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کرتے ہیں:
قال ذکروارجلا عند النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فذکروا قوتہ فی الجھاد واجتہادہ فی العبادۃ فاذا ھم بالرجل مقبل فقال النبی صلی اﷲ تعالی علیہ و الہ وسلم انی لاجدفی وجہہ سفعۃ من الشیطان فلمادنی فسلم فقال لہ صحابہ رضی اﷲ تعالی عنہم نے ایك شخص کی تعریف کی کہ جہاد میں ایسی قوت رکھتا ہے اور عبادت میں ایسی کوشش کرتا ہےاتنے میں وہ سامنے سے گزرا حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:میں اس کے چہرے پر شیطان کا داغ پاتا ہوں۔اس نے پاس آکر سلام کیارسول اﷲ صلی اﷲ تعالی
رسول صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ھل حدثت نفسك بانہ لیس فی القوم احد خیرمنک قال نعمثم ذھب فاختط مسجدا و وقف یصلیفقال رسول اﷲ ایکم یقوم فیقتلہ فقام ابوبکر فانطلقفوجدہ یصلیفرجعفقال وجدتہ قائما یصلینھبت ان اقتلہ فقال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم ایکم یقوم فیقتلہ فقال عمر فصنع کما صنع ابوبکرفقال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم ایکم یقوم فیقتلہ فقال علی انا قال انت ان ادرکتہ فذھب فوجدہ قد انصرف فرجعفقال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ھذا اول قرن خرج فی امتی لوقتلتہ مااختلف اثنان بعدہ من امتی ۔ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے دل کی بات بتائی کہ کیوں تو نے اپنے دل میں کہا کہ اس قوم میں تجھ سے بہتر کوئی نہیں۔کہا ہاں پھر چلا گیا اور ایك مسجد مقرر کرکے نماز پڑھنے کھڑا ہواحضور انور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا کہ کون ایسا ہے جو اٹھ کر جائے اور اسے قتل کردے صدیق اکبر رضی اﷲ تعالی عنہ گئےدیکھا وہ نماز پڑھتا ہے واپس آئے اور عرض کیا کہ میں نے اسے نماز میں دیکھا مجھے قتل کرتے خوف آیا۔حضور نے پھر فرمایا تم میں کون ایسا ہے کہ اٹھ کر جائے اور اسے قتل کردے فاروق اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ گئے اور نماز پڑھتا دیکھ کر چھوڑ آئے اور وہی عذر کیا۔حضور نے پھر فرمایا۔تم میں کون ایسا ہے جو اٹھ کر جائے اور اسے قتل کردے مولی علی کرم اﷲ وجہہ نے عرض کی میں حضور نے فرمایا:ہاں تم اگر اسے پاؤ۔یہ گئے وہ جاچکا تھا۔حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:یہ میری امت سے پہلی سینگ نکلا تھا اگر یہ قتل ہوجاتا تو آئندہ امت میں کچھ اختلاف نہ پڑتا۔
خدمت اقدس میں ایك شخص حاضر کیا گیا جس نے چوری کی تھیارشاد ہوا اسے قتل کردوعرض کی گئی اس نے چوری ہی توکی ہے۔فرمایا:خیر ہاتھ کاٹ دو۔پھر اس نے دوبارہ چوری کی اور قطع کیا گیاسہ بارہ زمانہ صدیق اکبر میں پھر چرایا اور قطع کیا گیا۔ چوتھی بار پھر چوری کی اور قطع کیا گیا۔پانچویں بار پھر چرایا۔
خدمت اقدس میں ایك شخص حاضر کیا گیا جس نے چوری کی تھیارشاد ہوا اسے قتل کردوعرض کی گئی اس نے چوری ہی توکی ہے۔فرمایا:خیر ہاتھ کاٹ دو۔پھر اس نے دوبارہ چوری کی اور قطع کیا گیاسہ بارہ زمانہ صدیق اکبر میں پھر چرایا اور قطع کیا گیا۔ چوتھی بار پھر چوری کی اور قطع کیا گیا۔پانچویں بار پھر چرایا۔
حوالہ / References
دلائل النبوۃ للبیہقی باب ماروی فی اخبارہ صلی اﷲ علیہ وسلم الرجل الذی و صف الخ دارالکتب العلمیہ بیروت ۶/ ۲۸۷و۲۸۸،مسند ابویعلٰی عن انس حدیث ۳۶۵۶ و ۴۱۱۳ و ۴۱۲۸ مؤسسۃ علوم القرآن بیروت ۴/۸ تا ۱۰ و ۱۵۴ و ۱۵۵ و۱۶۲،کشف الاستار عن زوائد البزار کتاب اہل البغی باب علامتہم وعبادتہم مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۲ /۳۶۰
صدیق اکبر رضی اﷲ تعالی عنہ نے فرمایا:رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم تیری حقیقت خوب جانتے تھے جب کہ اول ہی بار تیرے قتل کا حکم فرمایا تھا تیرا وہی علاج ہے جو حضور کاارشاد تھا۔لے جاؤ اسے قتل کردو۔ا ب قتل کیا گیا۔
ابویعلی اور شاشی اور طبرانی معجم کبیر اور حاکم صحیح مستدرك میںضیائے مقدسی صحیح مختارہ میں محمد بن حاطب اور حاکم مستدرك میں بافادہ تصحیح ان کے بھائی حارث بن حاطب رضی اﷲ تعالی عنہما سے راوی:
قال اتی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بلص فامر بقتلہ فقیل انہ سرق فقال اقطعوہ ثم جیئ بہ بعد ذلك الی ابی بکر وقد قطعت قوائمہ فقال ابوبکر مااجدلك شیئا الاماقضی فیك رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یوم امر بقتلك فانہ کان اعلم بك فامر بقتلہ ۔ کہا کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایك چور لایا گیا آپ نے فرمایا اس کو قتل کردوعرض کی گئی کہ اس نے چوری ہی تو کی ہےفرمایا اس کا ہاتھ کاٹ دو پھر اسے صدیق اکبر رضی اﷲ تعالی عنہ کے پاس اس حال میں لایا گیا کہ اس کے تمام ہاتھ پاؤں کاٹے جاچکے تھے۔تو آپ نے فرمایا میں اس کے بغیر تیرا علاج نہیں جانتا جو رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے تیرے بارے میں فیصلہ فرمایا تھا کہ اس کو قتل کردو وہ تیرا حال خوب جانتے تھے۔چنانچہ صدیق اکبر رضی اﷲ تعالی عنہ نے اس کے قتل کا حکم دیا۔(ت)
صحیح مستدرك کے لفظ حارث بن حاطب سے یہ ہیں:
ان رجلا سرق علی عہد رسول ا ﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فاتی بہ فقال اقتلوہ فقالوا انما سرققال فاقطعوہ ثم سرق ایضا فقطع ایك شخص نے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں چوری کی اسے آپ کی بارگاہ میں لایا گیا آپ نے فرمایا۔اس کو قتل کردوعرض کی گئی اس نے چوری ہی تو کی ہےفرمایا اس کا ہاتھ کاٹ دو۔اس
ابویعلی اور شاشی اور طبرانی معجم کبیر اور حاکم صحیح مستدرك میںضیائے مقدسی صحیح مختارہ میں محمد بن حاطب اور حاکم مستدرك میں بافادہ تصحیح ان کے بھائی حارث بن حاطب رضی اﷲ تعالی عنہما سے راوی:
قال اتی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بلص فامر بقتلہ فقیل انہ سرق فقال اقطعوہ ثم جیئ بہ بعد ذلك الی ابی بکر وقد قطعت قوائمہ فقال ابوبکر مااجدلك شیئا الاماقضی فیك رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یوم امر بقتلك فانہ کان اعلم بك فامر بقتلہ ۔ کہا کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایك چور لایا گیا آپ نے فرمایا اس کو قتل کردوعرض کی گئی کہ اس نے چوری ہی تو کی ہےفرمایا اس کا ہاتھ کاٹ دو پھر اسے صدیق اکبر رضی اﷲ تعالی عنہ کے پاس اس حال میں لایا گیا کہ اس کے تمام ہاتھ پاؤں کاٹے جاچکے تھے۔تو آپ نے فرمایا میں اس کے بغیر تیرا علاج نہیں جانتا جو رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے تیرے بارے میں فیصلہ فرمایا تھا کہ اس کو قتل کردو وہ تیرا حال خوب جانتے تھے۔چنانچہ صدیق اکبر رضی اﷲ تعالی عنہ نے اس کے قتل کا حکم دیا۔(ت)
صحیح مستدرك کے لفظ حارث بن حاطب سے یہ ہیں:
ان رجلا سرق علی عہد رسول ا ﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فاتی بہ فقال اقتلوہ فقالوا انما سرققال فاقطعوہ ثم سرق ایضا فقطع ایك شخص نے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں چوری کی اسے آپ کی بارگاہ میں لایا گیا آپ نے فرمایا۔اس کو قتل کردوعرض کی گئی اس نے چوری ہی تو کی ہےفرمایا اس کا ہاتھ کاٹ دو۔اس
حوالہ / References
کنز العمال بحوالہ ع والشاشی طب ك ص حدیث ۱۳۸۶۱ مؤسسۃ الرسالۃ بیروت ۵/ ۵۳۸
ثم سرق علی عہدابی بکر فقطعثم سرق فقطعحتی قطعت قوائمہثم سرق الخامسۃ فقال ابوبکر رضی اﷲ تعالی عنہ کان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اعلم بھذا حیث امر بقتلہ اذھبوا بہ فاقتلواہ ۔ نے پھر چوری کی پھر قطع کیا گیا۔زمانہ صدیقی میں پھر چوری کی پھر قطع کیا گیاپھر چوری کی پھر قطع کیا گیا۔یہاں تك کہ اس کے تمام ہاتھ پاؤں کاٹ دیئے گئے پانچویں مرتبہ اس نے پھر چوری کرلی۔ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالی عنہ نے فرمایا: رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم اس کا حال خوب جانتے تھے جب کہ آپ نے پہلی مرتبہ ہی اس کے قتل کا حکم صادر فرمایا تھا۔اس کو لے جاؤ اور قتل کردو۔(ت)
ظاہر ہے کہ ان دونوں کے قتل کا حکم حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے علوم غیب ہی کی بنا پر فرمایا تھا ورنہ ظاہر شریعت میں وہ مستحق قتل نہ تھے۔امام جلیل جلال الملۃ والدین سیوطی سلمہ اﷲ تعالی خصائص کبری شریف میں فرماتے ہیں:
باب ومن خصائصہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم انہ جمع بین القبلتین والھجرتین وانہ جمعت لہ الشریعۃ والحقیقۃ ولم یکن للانبیاء الا احدھما بدلیل قصۃ موسی مع الخضر علیھما الصلوۃ و السلام وقولہ انی علی علم من علم اﷲ لاینبغی لك ان تعلمہ وانت علی علم من علم اﷲ تعالی لاینبغی لی ان اعلمہ باب اور حضور پر نور صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے خصائص میں سے یہ ہے کہ آپ دو قبلوں اور دو ہجرتوں کے جامع ہیں۔اور یہ کہ آپ کے لیے شریعت وحقیقت کو جمع کر دیا گیا۔دیگر انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام میں سے کسی میں یہ دونوں وصف جمع نہ ہوئے بلکہ وہ صرف ایك وصف کے ساتھ متصف ہوئے۔اس کی دلیل سیدنا موسی علیہ السلام اور حضرت خضر علیہ السلام کا قصہ ہے۔اور حضرت خضر علیہ السلام کا وہ قول کہ آپ نے حضرت موسی علیہ السلام سے کہا:میں اﷲ تعالی کی طرف سے ایسے علم کا حامل
ظاہر ہے کہ ان دونوں کے قتل کا حکم حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے علوم غیب ہی کی بنا پر فرمایا تھا ورنہ ظاہر شریعت میں وہ مستحق قتل نہ تھے۔امام جلیل جلال الملۃ والدین سیوطی سلمہ اﷲ تعالی خصائص کبری شریف میں فرماتے ہیں:
باب ومن خصائصہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم انہ جمع بین القبلتین والھجرتین وانہ جمعت لہ الشریعۃ والحقیقۃ ولم یکن للانبیاء الا احدھما بدلیل قصۃ موسی مع الخضر علیھما الصلوۃ و السلام وقولہ انی علی علم من علم اﷲ لاینبغی لك ان تعلمہ وانت علی علم من علم اﷲ تعالی لاینبغی لی ان اعلمہ باب اور حضور پر نور صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے خصائص میں سے یہ ہے کہ آپ دو قبلوں اور دو ہجرتوں کے جامع ہیں۔اور یہ کہ آپ کے لیے شریعت وحقیقت کو جمع کر دیا گیا۔دیگر انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام میں سے کسی میں یہ دونوں وصف جمع نہ ہوئے بلکہ وہ صرف ایك وصف کے ساتھ متصف ہوئے۔اس کی دلیل سیدنا موسی علیہ السلام اور حضرت خضر علیہ السلام کا قصہ ہے۔اور حضرت خضر علیہ السلام کا وہ قول کہ آپ نے حضرت موسی علیہ السلام سے کہا:میں اﷲ تعالی کی طرف سے ایسے علم کا حامل
حوالہ / References
المستدرك للحاکم کتاب الحدود حکایۃ سارق قتل فی الخامسۃ دارالفکر بیروت ۴/ ۳۸۲
وقد کنت قلت ھذا الکلام اولا استنباطامن ھذا الحدیث من غیر ان اقف علیہ فی کلام احد من العلماء ثم رأیت البدربن المصاحب اشارالیہ فی تذکرتہ ووجدت من شواھدہ حدیث السارق الذی امربقتلہ والمصلی الذی امر بقتلہ و قد تقدم فی باب الاخبار بالمغیبات۔
زیادۃ ایضاح لہذاالباب:فقد اشکل فھمہ علی قوم ولو تأملوا لاتضع لھم المراد بالشریعۃ الحکم بالظاھر وبالحقیقۃالحکم بالباطن وقدنص العلماء علی ان غالب الانبیاء علیہم الصلوۃ والسلام انما بعثوا لیحکموا بالظاھر دون ما اطلعوا علیہ من بواطن الامورو حقائقہا وبعث الخضر علیہ السلام لیحکم بما اطلع علیہ من بواطن الامور وحقائقہاولکون الانبیاء لم یبعثوابذلك ہوں جسے جاننا آپ کو مناسب نہیں اور آپ کو منجانب اﷲ ایسا علم عطا ہوا جس کو جاننا مجھے مناسب نہیں۔(امام سیوطی فرماتے ہیں)میں پہلے یہ بات حدیث سے استنباط کرکے کہا کرتا تھا بغیر اس کے کہ میں اس بارے میں کسی عالم کے کلام پر مطلع ہوتا۔اس کے بعد میں نے دیکھا کہ بدربن المصاحب نے اپنے تذکرہ میں اس کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔اور میں نے اس کے شؤاہد میں وہ حدیث پائی جس میں رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ایك چور کو قتل کرنے کا حکم دیا اور وہ حدیث کہ جس میں آپ نے ایك نمازی کو قتل کرنے کا حکم صادر فرمایادونوں مذکورہ حدیثیں اس سے قبل الاخبار بالمغیبات کے باب میں گزرچکی ہیں۔
اس باب کی مزید وضاحت:تحقیق لوگوں کو اس کے سمجھنے میں مشکل پیش آئی اور اگر وہ غور و فکر کرتے تو مطلب واضح ہوجاتا کہ شریعت سے مراد ظاہری حکم اور حقیقت سے مراد باطنی حکم ہےبے شك علمائے کرام نے اس بات کی تصریح فرمائی کہ اکثر انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام اس لیے مبعوث ہوئے کہ وہ ظاہر پر حکم کریں نہ کہ امور باطنیہ اور ان کے حقائق پر جن سے وہ مطلع ہوئے۔اور حضرت خضر علیہ السلام کی بعثت اس پر ہے کہ وہ اس پر حکم دیں اور جوامور باطنیہ اور اس کے حقائق سے متعلق ہیں اور جس پر ان کو اطلاع و
زیادۃ ایضاح لہذاالباب:فقد اشکل فھمہ علی قوم ولو تأملوا لاتضع لھم المراد بالشریعۃ الحکم بالظاھر وبالحقیقۃالحکم بالباطن وقدنص العلماء علی ان غالب الانبیاء علیہم الصلوۃ والسلام انما بعثوا لیحکموا بالظاھر دون ما اطلعوا علیہ من بواطن الامورو حقائقہا وبعث الخضر علیہ السلام لیحکم بما اطلع علیہ من بواطن الامور وحقائقہاولکون الانبیاء لم یبعثوابذلك ہوں جسے جاننا آپ کو مناسب نہیں اور آپ کو منجانب اﷲ ایسا علم عطا ہوا جس کو جاننا مجھے مناسب نہیں۔(امام سیوطی فرماتے ہیں)میں پہلے یہ بات حدیث سے استنباط کرکے کہا کرتا تھا بغیر اس کے کہ میں اس بارے میں کسی عالم کے کلام پر مطلع ہوتا۔اس کے بعد میں نے دیکھا کہ بدربن المصاحب نے اپنے تذکرہ میں اس کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔اور میں نے اس کے شؤاہد میں وہ حدیث پائی جس میں رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ایك چور کو قتل کرنے کا حکم دیا اور وہ حدیث کہ جس میں آپ نے ایك نمازی کو قتل کرنے کا حکم صادر فرمایادونوں مذکورہ حدیثیں اس سے قبل الاخبار بالمغیبات کے باب میں گزرچکی ہیں۔
اس باب کی مزید وضاحت:تحقیق لوگوں کو اس کے سمجھنے میں مشکل پیش آئی اور اگر وہ غور و فکر کرتے تو مطلب واضح ہوجاتا کہ شریعت سے مراد ظاہری حکم اور حقیقت سے مراد باطنی حکم ہےبے شك علمائے کرام نے اس بات کی تصریح فرمائی کہ اکثر انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام اس لیے مبعوث ہوئے کہ وہ ظاہر پر حکم کریں نہ کہ امور باطنیہ اور ان کے حقائق پر جن سے وہ مطلع ہوئے۔اور حضرت خضر علیہ السلام کی بعثت اس پر ہے کہ وہ اس پر حکم دیں اور جوامور باطنیہ اور اس کے حقائق سے متعلق ہیں اور جس پر ان کو اطلاع و
انکر موسی علیہ قتلہ الغلام وقال لہ لقد جئت شیئا نکرا لان ذلك خلاف الشرع فاجابہ بانہ امربذالك وبعث بہ فقال وما فعلتہ عن امری"(ذلك تاویل) و ھذا معنی قولہ لہ انك علی علم الی اخرہ۔
قال الشیخ سراج الدین البلقینی فی شرح البخاری المراد بالعلم التنفیذ والمعنی لاینبغی لك ان تعلمہ لتعمل بہ لان العمل بہ مناف لمقتضی الشرع ولا ینبغی ان اعلمہ فاعمل بمقتضاہ لانہ مناف لمقتضی الحقیقۃ قال فعلی ھذا لایجوز لولی التابع للنبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم خبر ہے چونکہ انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کی اس کے ساتھ بعثت نہیں ہوئی یہی وجہ ہے کہ حضرت موسی علیہ السلام نے اس بچہ کے قتل پر اعتراض کیا جس کو حضرت خضر علیہ السلام نے قتل کیا تھا اور ا ن سے کہا بے شك تم نے بہت بری بات کی اس لیے کہ قتل نفس شریعت کے خلاف ہےلہذا اس کا جواب حضرت خضر علیہ السلام نے دیا کہ انہیں اسی کا حکم دیا گیا ہے اور اسی کے ساتھ بھیجا گیا ہے اور کہا کہ یہ قتل میں نے اپنے ارادے سے نہیں کیا ہے اور یہی مطلب ان کے اس کہنے کا ہے جو کہ انہوں نے کہا تھا میں اﷲ تعالی کی طرف سے ایسے علم کا حامل ہوں جسے جانناآپ کو مناسب نہیں۔الخ۔
شیخ سراج الدین بلقینی رحمۃ تعالی علیہ نے شرح بخاری میں فرمایا کہ علم سے مراد حکم کا نافذ کرنا ہے اور ان کے اس کہنے کا مطلب یہ تھا کہ مناسب نہیں ہے کہ آپ اس کا علم حاصل کریں تاکہ آپ اس پر حکم نافذ کریںکیونکہ اس پر عمل کرنا تقاضائے شریعت کے خلاف ہےاور نہ یہ مناسب ہے کہ میں اسے حاصل کروں اور اس کے مقتضاء پر عمل کروں کیونکہ یہ بھی مقتضائے حقیقت کے منافی ہے۔شیخ سراج الدین رحمۃ اﷲ تعالی عنہ نے فرمایا اس قاعدے کے بموجب اس ولی کے لیے جائز نہیں ہے جو نبی کریم صلی اﷲ
قال الشیخ سراج الدین البلقینی فی شرح البخاری المراد بالعلم التنفیذ والمعنی لاینبغی لك ان تعلمہ لتعمل بہ لان العمل بہ مناف لمقتضی الشرع ولا ینبغی ان اعلمہ فاعمل بمقتضاہ لانہ مناف لمقتضی الحقیقۃ قال فعلی ھذا لایجوز لولی التابع للنبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم خبر ہے چونکہ انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کی اس کے ساتھ بعثت نہیں ہوئی یہی وجہ ہے کہ حضرت موسی علیہ السلام نے اس بچہ کے قتل پر اعتراض کیا جس کو حضرت خضر علیہ السلام نے قتل کیا تھا اور ا ن سے کہا بے شك تم نے بہت بری بات کی اس لیے کہ قتل نفس شریعت کے خلاف ہےلہذا اس کا جواب حضرت خضر علیہ السلام نے دیا کہ انہیں اسی کا حکم دیا گیا ہے اور اسی کے ساتھ بھیجا گیا ہے اور کہا کہ یہ قتل میں نے اپنے ارادے سے نہیں کیا ہے اور یہی مطلب ان کے اس کہنے کا ہے جو کہ انہوں نے کہا تھا میں اﷲ تعالی کی طرف سے ایسے علم کا حامل ہوں جسے جانناآپ کو مناسب نہیں۔الخ۔
شیخ سراج الدین بلقینی رحمۃ تعالی علیہ نے شرح بخاری میں فرمایا کہ علم سے مراد حکم کا نافذ کرنا ہے اور ان کے اس کہنے کا مطلب یہ تھا کہ مناسب نہیں ہے کہ آپ اس کا علم حاصل کریں تاکہ آپ اس پر حکم نافذ کریںکیونکہ اس پر عمل کرنا تقاضائے شریعت کے خلاف ہےاور نہ یہ مناسب ہے کہ میں اسے حاصل کروں اور اس کے مقتضاء پر عمل کروں کیونکہ یہ بھی مقتضائے حقیقت کے منافی ہے۔شیخ سراج الدین رحمۃ اﷲ تعالی عنہ نے فرمایا اس قاعدے کے بموجب اس ولی کے لیے جائز نہیں ہے جو نبی کریم صلی اﷲ
اذااطلع حقیقۃ ان ینفذ ذلك بمقتضی الحقیقۃ وانما علیہ ان ینفذ الحکم الظاھر انتہی۔
وقال الحافظ ابن حجر فی الاصابۃ قال ابوحبان فی تفسیرہ الجمہور علی ان الخضر نبی وکان علمہ معرفۃ بواطن اوحیت الیہ وعلم موسی الحکم بالظاھر فاشار الی ان المراد فی الحدیث بالعلمین الحکم بالباطن والحکم بالظاھر لاامر اخر۔
وقد قال الشیخ تقی الدین السبکی ان الذی بعث بہ الخضر شریعۃ لہ فالکل شریعۃ واما نبینا صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فانہ امر اولا ان یحکم بالظاھردون ما اطلع علیہ من الباطن والحقیقۃ کغالب الانبیاء علیہم الصلوۃ والسلامولہذا قال نحن نحکم بالظاھروفی لفظ انما اقضی بالظاھر تعالی علیہ وآلہ وسلم کا تابع ہے کہ جب وہ حقیقت پر مطلع ہو تو وہ بہ مقتضائے حقیقت اس کا نفاذ کرے بے شك اس پر یہی لازم ہے کہ حکم ظاہر کو نافذ کرے۔انتہی۔
حافظ ابن حجر رحمۃ اﷲ تعالی علیہ نے الاصابہ میں فرمایا کہ ابوحبان رحمۃ اﷲ تعالی علیہ نے اپنی تفسیر میں بیان کیا کہ جمہور اس بات پر متفق ہیں کہ حضرت خضر علیہ السلام نبی ہیں اور انکا علم ان امور باطنیہ کی معرفت تھی جس کی انہیں وحی کی گئی جب کہ حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام کا علم ظاہر پر حکم لگاناتھا حدیث میں دو علوم جن کی طرف اشارہ فرمایا ہے اس سے مراد ظاہر وباطن پر حکم لگانا ہےاس کے علاوہ کوئی دوسرا مطلب مراد نہیں ہے۔
شیخ تقی الدین سبکی رحمۃ اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا وہ حکم جس کے ساتھ حضرت خضر علیہ الصلوۃ والسلام مبعوث ہوئے وہ ان کی شریعت تھی لہذا یہ سب شریعت ہےاور ہمارے نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم کو ابتداء میں یہ حکم فرمایا گیا کہ ظاہر پر حکم فرمائیں اور اس باطن و حقیقت پر حکم نہ دیں جس کی آپ صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم کو خبر ہے جس طرح کہ اکثر انبیاء علیہم السلام کا معمول تھا۔اسی بناء پر حضور نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے ارشا دفرمایا ہم تو ظاہر پر حکم دیتے ہیں"۔
وقال الحافظ ابن حجر فی الاصابۃ قال ابوحبان فی تفسیرہ الجمہور علی ان الخضر نبی وکان علمہ معرفۃ بواطن اوحیت الیہ وعلم موسی الحکم بالظاھر فاشار الی ان المراد فی الحدیث بالعلمین الحکم بالباطن والحکم بالظاھر لاامر اخر۔
وقد قال الشیخ تقی الدین السبکی ان الذی بعث بہ الخضر شریعۃ لہ فالکل شریعۃ واما نبینا صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فانہ امر اولا ان یحکم بالظاھردون ما اطلع علیہ من الباطن والحقیقۃ کغالب الانبیاء علیہم الصلوۃ والسلامولہذا قال نحن نحکم بالظاھروفی لفظ انما اقضی بالظاھر تعالی علیہ وآلہ وسلم کا تابع ہے کہ جب وہ حقیقت پر مطلع ہو تو وہ بہ مقتضائے حقیقت اس کا نفاذ کرے بے شك اس پر یہی لازم ہے کہ حکم ظاہر کو نافذ کرے۔انتہی۔
حافظ ابن حجر رحمۃ اﷲ تعالی علیہ نے الاصابہ میں فرمایا کہ ابوحبان رحمۃ اﷲ تعالی علیہ نے اپنی تفسیر میں بیان کیا کہ جمہور اس بات پر متفق ہیں کہ حضرت خضر علیہ السلام نبی ہیں اور انکا علم ان امور باطنیہ کی معرفت تھی جس کی انہیں وحی کی گئی جب کہ حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام کا علم ظاہر پر حکم لگاناتھا حدیث میں دو علوم جن کی طرف اشارہ فرمایا ہے اس سے مراد ظاہر وباطن پر حکم لگانا ہےاس کے علاوہ کوئی دوسرا مطلب مراد نہیں ہے۔
شیخ تقی الدین سبکی رحمۃ اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا وہ حکم جس کے ساتھ حضرت خضر علیہ الصلوۃ والسلام مبعوث ہوئے وہ ان کی شریعت تھی لہذا یہ سب شریعت ہےاور ہمارے نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم کو ابتداء میں یہ حکم فرمایا گیا کہ ظاہر پر حکم فرمائیں اور اس باطن و حقیقت پر حکم نہ دیں جس کی آپ صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم کو خبر ہے جس طرح کہ اکثر انبیاء علیہم السلام کا معمول تھا۔اسی بناء پر حضور نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے ارشا دفرمایا ہم تو ظاہر پر حکم دیتے ہیں"۔
واﷲ یتولی السرائر وقال انما اقضی بنحو ما اسمع فمن قضیت لہ بحق اخرفا نما ھی قطعۃ من النار وقال للعباس اما ظا ھرك فکان علینا واما سریرتك فالی اﷲ وکان یقبل عذر المتخلفین عن غزوۃ تبوك ویکل سرائرھم الی اﷲ وقال فی تلك المرأۃ لو کنت راجما احدا من غیر بینۃ لرجمتھا وقال ایضا لولا القرآن لکان لی ولہا شان فہذا کلہ صریح فی انہ انما یحکم بظاہر الشمرع بالبینۃ اوالاعتراف دون ما اطلعہ اﷲ علیہ من بواطن الامور وحقائقہا ثم ان اﷲ زادہ شرفا واذن لہ ان یحکم بالباطن وما اطلع ایك روایت میں اس طرح ہے میں تو ظاہر پر فیصلہ د یتا ہوں باطن حالات کا خدا عزوجل مالك ہے۔ اور یہ کہ حضور نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ میں تو اسی پر فیصلہ دیتا ہوں جیسا کہ میں سنتا ہوںلہذا میں نے جس کے لیے د وسرے کے حق کا فیصلہ کردیا ہے تو وہ یہ جان لے کہ وہ آگ کا ٹکڑا ہے۔ اور یہ کہ حضور پر نور صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عباس رضی اﷲ تعالی عنہ سے فرمایا جہاں تك تمہارے ظاہر کا تعلق ہے تو وہ ہمارے ذمہ ہے لیکن جو تمہاری باطنی حالت ہے وہ اﷲ عزوجل کے ذمہ ہے اور یہ کہ حضور نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم غزوہ تبوك سے رہ جانے والوں کی معذرت قبول فرماتے تھے اور ان کے باطنی حالات کو اﷲ تعالی کے سپرد فرماتے تھے۔اور یہ کہ حضور نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے ایك عورت کے بارے میں فرمایا۔اگر میں بغیر دلیل و شہادت کے کسی کو سنگسار کرتا تو ضرور اس عورت کو سنگسار کرتا اور یہ بھی فرمایا کہ اگر قرآن نہ ہوتا تو یقینا میرے لیے اور اس عورت کے لیے کچھ اور ہی معاملہ ہوتا۔ یہ تمام نظائر اور شواہد اس بات کے مظہر ہیں کہ آپ کو دلیل و شہادت یا اعتراف و اقرار کے ساتھ ظاہر شریعت پر فیصلہ دینے کا حکم ہوا نہ کہ اس پر جو باطنی امور پر اﷲ عزوجل نے آپ کو مطلع فرمایا
علیہ من حقائق الامور فجمع لہ بین ماکان للانبیاء و ماکان للخضر خصوصیۃ خصہ اﷲ بہا ولم یجمع الامر ان لغیرہوقد قال القرطبی فی تفسیرہ اجمع العلماء عن بکرۃ ابیھم ان لیس لاحد ان یقتل بعلمہ الا النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وشاھد ذلك حدیث المصلی والسارق الذین امربقتلھما فانہ اطلع علی باطن امرھما وعلم منھما مایوجب القتل۔
ولوتفطن الذین لم یفھموا الی استشہادی بھذین الحدیثین فی اخر الباب اور اس کے حقائق آپ پر واضح فرمائے۔اس کے بعد اﷲ عزوجل نے آپ کے شرف کو اور زیادہ فرمایا اور آپ کو اجازت فرمائی کہ آپ باطن پر حکم لگائیں اور جن امور کی حقیقتوں کی آپ کو اطلاع دی گئی ہے اس پر فیصلہ فرمائیں تو اس طرح آپ ان تمام معمولات کے جوا نبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کے لیے تھے ا ور اس خصوصیت کے ساتھ جو حضرت خضر علیہ السلام کے لیے اﷲ عزوجل نے خاص فرمائے جامع تھے اور یہ امر آپ صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے علاوہ کسی اور نبی میں جمع نہیں کیا گیا۔اور امام قرطبی علیہ الرحمۃ نے اپنی تفسیر میں فرمایا علماء کا اس بات پر اجماع ہے کہ کسی کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ اپنے علم کے ساتھ کسی کے قتل کا حکم دے سوائے نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے۔اس کی شاہد اس نمازی اور چور والی حدیث ہے جن کے قتل کرنے کا حکم حضور پر نور صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے دیا تھا کیونکہ اﷲ تعالی نے ان دونوں کے باطنی حالات پر آپ صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم کو مطلع فرمادیا تھا اور ان دونوں کے بارے میں آپ کو علم ہوگیا تھا کہ واجب القتل ہیں۔ا گرچہ ان کا قتل کچھ عرصہ بعد واقع ہوا۔)
(امام سیوطی رحمۃ اﷲ علیہ فرماتے ہیں)کاش کہ یہ علماء اعلام اس بات کو سمجھ سکتے جس کو انہوں نے نہیں سمجھا جس کی طرف میں نے آخر باب میں ان
ولوتفطن الذین لم یفھموا الی استشہادی بھذین الحدیثین فی اخر الباب اور اس کے حقائق آپ پر واضح فرمائے۔اس کے بعد اﷲ عزوجل نے آپ کے شرف کو اور زیادہ فرمایا اور آپ کو اجازت فرمائی کہ آپ باطن پر حکم لگائیں اور جن امور کی حقیقتوں کی آپ کو اطلاع دی گئی ہے اس پر فیصلہ فرمائیں تو اس طرح آپ ان تمام معمولات کے جوا نبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کے لیے تھے ا ور اس خصوصیت کے ساتھ جو حضرت خضر علیہ السلام کے لیے اﷲ عزوجل نے خاص فرمائے جامع تھے اور یہ امر آپ صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے علاوہ کسی اور نبی میں جمع نہیں کیا گیا۔اور امام قرطبی علیہ الرحمۃ نے اپنی تفسیر میں فرمایا علماء کا اس بات پر اجماع ہے کہ کسی کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ اپنے علم کے ساتھ کسی کے قتل کا حکم دے سوائے نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے۔اس کی شاہد اس نمازی اور چور والی حدیث ہے جن کے قتل کرنے کا حکم حضور پر نور صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے دیا تھا کیونکہ اﷲ تعالی نے ان دونوں کے باطنی حالات پر آپ صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم کو مطلع فرمادیا تھا اور ان دونوں کے بارے میں آپ کو علم ہوگیا تھا کہ واجب القتل ہیں۔ا گرچہ ان کا قتل کچھ عرصہ بعد واقع ہوا۔)
(امام سیوطی رحمۃ اﷲ علیہ فرماتے ہیں)کاش کہ یہ علماء اعلام اس بات کو سمجھ سکتے جس کو انہوں نے نہیں سمجھا جس کی طرف میں نے آخر باب میں ان
لعرفو اان المراد الحکم بالظاھر والباطن فقط لاشیئ اخر لایقولہ مسلم ولا کافر ولا مجانین المارستان وقد ذکر بعض السلف ان الخضر الی الان ینفذ الحقیقۃ وان الذین یموتون فجأ ۃ ھوالذین یقتلھم فان صح ذلك فہو فی ھذہ الامۃ بطریق النیا بۃ عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فانہ صارمن اتباعہ کما ان عیسی علیہ السلام لما ینزل یحکم بشریعۃ النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نیابۃ عنہ ویصیر من اتباعہ وامتہ ۔ دونوں حدیثوں کے ساتھ استشہاد کیا ہے۔اگر وہ یہ بات سمجھ جاتے تو یقینا جان لیتے کہ مراد فقط ظاہر اور باطن کے ساتھ حکم فرمانا ہے اس کے علاوہ کچھ نہیںاس کے سوا اور کوئی بات نہ مسلمان کہہ سکتا ہے اور نہ کافر اور نہ مجنون و پاگل بعض اسلاف رحمہم اﷲ تعالی نےذکر فرمایا ہے کہ حضرت خضر علیہ الصلوۃ و السلام اب تك حقیقت کو نافذ کرتی ہیںاور وہ لوگ جو اچانك مرجاتے ہیں وہ وہی ہوتے ہیں جن کو انہوں نے قتل کیا ہوتا ہے۔اگر یہ بات صحیح ہے تو ان کا یہ عمل اس امت میں نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم کیطرف سے بطور نیابت ہوگا اور وہ حضور پرنور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے متعبین میں سے ہوں گے جس طرح کہ حضرت عیسی علیہ السلام جب نازل ہوں گے تو وہ نبی اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی شریعت کے ساتھ آپ کی نیابت میں حکم دیں گے وہ آپ صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے متبعین اور آپ صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی امت میں سے ہوں گے۔اھ(ت)
اس کلام نفیس سے ثابت کہ عامہ انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کو صرف ظاہر شرع پر عمل کا اذن ہوتا ہےاور سیدنا خضر علیہ الصلوۃ والسلام کو اپنے علم مغیبات پر عمل کا حکم ہےولہذا انہوں نے ناسمجھ بچہ کو بے کسی جرم ظاہر کے قتل کردیا اور یہ کہ اب جو ناگہانی موت سے مرجاتے ہیں انہیں بھی وہی قتل فرماتے ہیںاور ہمارے حضور اقد س صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم کو ظاہر شرع
اس کلام نفیس سے ثابت کہ عامہ انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کو صرف ظاہر شرع پر عمل کا اذن ہوتا ہےاور سیدنا خضر علیہ الصلوۃ والسلام کو اپنے علم مغیبات پر عمل کا حکم ہےولہذا انہوں نے ناسمجھ بچہ کو بے کسی جرم ظاہر کے قتل کردیا اور یہ کہ اب جو ناگہانی موت سے مرجاتے ہیں انہیں بھی وہی قتل فرماتے ہیںاور ہمارے حضور اقد س صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم کو ظاہر شرع
حوالہ / References
الخصائص الکبرٰی باب ومن خصائصہ انہ جمع بین القبلتین الخ مرکز اہلسنت برکا رضا گجرات ہند ۲/ ۱۹۱،۱۹۲
اور اپنے علوم غیب دونوں پر عمل و حکم کا رب عزوجل نے اختیار دیا ہے۔اور امام قرطبی نے اجماع علماء نقل فرمایا کہ نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم کو اختیار ہے کہ محض اپنے علم کی بناء پر قتل کا حکم فرمادیں اگرچہ گواہ شاید کچھ نہ ہواور حضور کے سوا دوسرے کو یہ اختیار نہیںتو اگر اس نماز والے یا اس چور یا اس شخص کو جس پر عورت نے دھوکے سے تہمت رکھی تھی قتل کا حکم فرمائیں تو یقینا وہ حضور کے علوم غیب ہی پر مبنی ہے نہ کہ ان کا نافی۔کیوں وہابیو! اب تو اپنی اوندھی مت پر مطلع ہوئے۔ فانی تؤفکون(تو کہا اوندھے جاتے ہو۔ت)
مسلمانو! وہابیہ کے مطلب پر بھی غور کیاحکم کے دو ہی منبے ہوئےیا ظاہر شرع یا باطنی علوم غیبظاہر ہے کہ یہاں ظاہر کی رو سے تو اصلا حکم رجم کی گنجائش نہ تھینہ ملزم کا اقرار نہ اصلا کوئی گناہصرف مدعی کا غلط دعوی سن کر قتل کا حکم فرمادیں۔نبی کی شان تو ارفع و اعلی ہے۔آج کل کا کوئی عالم نہ عالم کوئی جاہل حاکم ہی ایسا کر بیٹھے تو ہر عاقل اسے یا سخت جاہل یا پکا ظالم کہے تو حدیث صحیح مان کر راہ نہ تھی مگر اسی طرف کہ حضور نے بربنائے تہمت ہر گز یہ حکم نہ دیا بلکہ بزعم خود اسی کے ابطال کو یہ حدیث لائے ہیںتو اب سمجھ لیجئے کہ ان کا مطلب کیا ہوا اور انہوں نے تمہارے پیارے نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم پر کیسا بھاری الزام قائم کیا۔کیوں نہ ہو عداوت کایہی مقتضی ہے۔
" قد بدت البغضاء من افوہہم وما تخفی صدورہم اکبر قد بینا لکم الایت ان کنتم تعقلون﴿۱۱۸﴾"
" والذین یؤذون رسول اللہ لہم عذاب الیم ﴿۶۱﴾"
" رب اعوذ بک من ہمزت الشیطین ﴿۹۷﴾ و اعوذ بک رب ان یحضرون ﴿۹۸﴾ " وصلی اﷲ تعالی علیہ سیدنا و مولانا بیران کی باتوں سے جھلك اٹھا اور وہ جو سینے میں چھپائے ہیں بڑا ہے ہم نے نشانیاں تمہیں کھول کر سنا دیں اگر تمہیں عقل ہو۔اور جو رسول اﷲ کو ایذا دیتے ہیں ان کے لیے دردناك عذاب ہے۔اے میرے رب تیری پناہ شیطانوں کے وسوسوں سے اور اے میرے رب تیری پناہ کہ وہ میرے پا س آئیں۔اور اﷲ درود نازل فرمائے ہمارے آقا و مولی
مسلمانو! وہابیہ کے مطلب پر بھی غور کیاحکم کے دو ہی منبے ہوئےیا ظاہر شرع یا باطنی علوم غیبظاہر ہے کہ یہاں ظاہر کی رو سے تو اصلا حکم رجم کی گنجائش نہ تھینہ ملزم کا اقرار نہ اصلا کوئی گناہصرف مدعی کا غلط دعوی سن کر قتل کا حکم فرمادیں۔نبی کی شان تو ارفع و اعلی ہے۔آج کل کا کوئی عالم نہ عالم کوئی جاہل حاکم ہی ایسا کر بیٹھے تو ہر عاقل اسے یا سخت جاہل یا پکا ظالم کہے تو حدیث صحیح مان کر راہ نہ تھی مگر اسی طرف کہ حضور نے بربنائے تہمت ہر گز یہ حکم نہ دیا بلکہ بزعم خود اسی کے ابطال کو یہ حدیث لائے ہیںتو اب سمجھ لیجئے کہ ان کا مطلب کیا ہوا اور انہوں نے تمہارے پیارے نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم پر کیسا بھاری الزام قائم کیا۔کیوں نہ ہو عداوت کایہی مقتضی ہے۔
" قد بدت البغضاء من افوہہم وما تخفی صدورہم اکبر قد بینا لکم الایت ان کنتم تعقلون﴿۱۱۸﴾"
" والذین یؤذون رسول اللہ لہم عذاب الیم ﴿۶۱﴾"
" رب اعوذ بک من ہمزت الشیطین ﴿۹۷﴾ و اعوذ بک رب ان یحضرون ﴿۹۸﴾ " وصلی اﷲ تعالی علیہ سیدنا و مولانا بیران کی باتوں سے جھلك اٹھا اور وہ جو سینے میں چھپائے ہیں بڑا ہے ہم نے نشانیاں تمہیں کھول کر سنا دیں اگر تمہیں عقل ہو۔اور جو رسول اﷲ کو ایذا دیتے ہیں ان کے لیے دردناك عذاب ہے۔اے میرے رب تیری پناہ شیطانوں کے وسوسوں سے اور اے میرے رب تیری پناہ کہ وہ میرے پا س آئیں۔اور اﷲ درود نازل فرمائے ہمارے آقا و مولی
محمد والہ وصحبہ اجمعین و اخر دعونا ان الحمدﷲ رب العالمین واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم وعلم مجدہ اتم و احکم محمد مصطفی پرآپ کی آل اور آپ کے تمام صحابہ پر۔اور ہماری دعا کا خاتمہ یہ ہے کہ سب خوبیوں سراہا اﷲ جو رب ہے سارے جہان کاا ور اﷲ سبحنہ و تعالی خوب جانتا ہےاور اس کا علم اتم و احاکم ہے۔(ت)
رسالہ ازاحۃ العیب بسیف الغیب ختم ہوا۔
مسئلہ ۱۵۰: از موضع پارہ پر گنہ مورانواں ضلع اناؤ مسئولہ محمد عبدالرؤف صاحب ۳ ربیع الاول ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کا عقیدہ ہے کہ قیام کرنا بوقت ذکر ولادت شریف بدعت سیئہ ہے کیونکہ اس کا ثبوت قرآن و حدیث سے مطلق پایا نہیں جاتا اور نہ وہ بات جو بعد قرون ثلثہ قائم کی گئی قابل ماننے کے ہے۔اور کہتا ہے کہ کیا اسی وقت حضور پر نور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی پیدائش ہوتی ہے جو یہ تعظیمی قیام کیا جاتا ہےیا یہ کہ اسی وقت آپ کی تشریف آوری ہوتی ہے۔اگر یہ صحیح ہے تو کس مقام مجلس میں آپ متجلی ہوتے ہیںاگر حضار محفل میں آپ رونق افروز ہوتے ہیںتو یہ اور بے ادبی ہے کہ میلاد خوان منبر پر اور آپ فرش زمین پراور اگر آپ منبر پر جلوہ فگن ہوتے ہیں تو یہ بھی بے ادبی ہوئی کہ برابری کا مرتبہ ظاہر ہوتا ہےلہذا بہر نوع قیام بدعت سیئہ ہےاس کے برعکس عمرو محفل میلاد شریف اور قیام تعظیمی و تقسیم شیرینی وغیرہ کو اپنا فرض منصبی اور نہایت درجہ مستحسن اور وسیلہ نجات اور ذریعہ فلاحت دینی و دنیوی سمجھتا ہے فقط۔
الجواب:
قیام وقت ذکر ولادت سیدالانام علیہ وعلی ذویہ افضل الصلوۃ والسلام بلاشبہ مستحب و مستحسن علمائے اعلام وعادت محبین کرام وغیظ وہابیہ لئام ہے ہم نے اپنے رسالہ اقامۃ القیامۃ علی طاعن القیامہ لنبی تہامۃ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وغیرہا میں اسے متعدد آیات قرآن مجید سے ثابت کیامگر وہابیہ کو کیا سوجھے۔" ولہم اعین لایبصرون بہا ۫" ۔(وہ آنکھیں رکھتے ہیں
رسالہ ازاحۃ العیب بسیف الغیب ختم ہوا۔
مسئلہ ۱۵۰: از موضع پارہ پر گنہ مورانواں ضلع اناؤ مسئولہ محمد عبدالرؤف صاحب ۳ ربیع الاول ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کا عقیدہ ہے کہ قیام کرنا بوقت ذکر ولادت شریف بدعت سیئہ ہے کیونکہ اس کا ثبوت قرآن و حدیث سے مطلق پایا نہیں جاتا اور نہ وہ بات جو بعد قرون ثلثہ قائم کی گئی قابل ماننے کے ہے۔اور کہتا ہے کہ کیا اسی وقت حضور پر نور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی پیدائش ہوتی ہے جو یہ تعظیمی قیام کیا جاتا ہےیا یہ کہ اسی وقت آپ کی تشریف آوری ہوتی ہے۔اگر یہ صحیح ہے تو کس مقام مجلس میں آپ متجلی ہوتے ہیںاگر حضار محفل میں آپ رونق افروز ہوتے ہیںتو یہ اور بے ادبی ہے کہ میلاد خوان منبر پر اور آپ فرش زمین پراور اگر آپ منبر پر جلوہ فگن ہوتے ہیں تو یہ بھی بے ادبی ہوئی کہ برابری کا مرتبہ ظاہر ہوتا ہےلہذا بہر نوع قیام بدعت سیئہ ہےاس کے برعکس عمرو محفل میلاد شریف اور قیام تعظیمی و تقسیم شیرینی وغیرہ کو اپنا فرض منصبی اور نہایت درجہ مستحسن اور وسیلہ نجات اور ذریعہ فلاحت دینی و دنیوی سمجھتا ہے فقط۔
الجواب:
قیام وقت ذکر ولادت سیدالانام علیہ وعلی ذویہ افضل الصلوۃ والسلام بلاشبہ مستحب و مستحسن علمائے اعلام وعادت محبین کرام وغیظ وہابیہ لئام ہے ہم نے اپنے رسالہ اقامۃ القیامۃ علی طاعن القیامہ لنبی تہامۃ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وغیرہا میں اسے متعدد آیات قرآن مجید سے ثابت کیامگر وہابیہ کو کیا سوجھے۔" ولہم اعین لایبصرون بہا ۫" ۔(وہ آنکھیں رکھتے ہیں
حوالہ / References
القرآن ۷/ ۱۷۹
جن سے دیکھتے نہیں۔ت)خصوصا قرآن عظیم تك ان کی فہم کیا پہنچےقال اﷲ تعالی:
" وجعلنا علی قلوبہم اکنۃ ان یفقہوہ" ۔ ہم نے ان کے دلوں پر غلاف کردیئے کہ اسے نہ سمجھیں۔(ت)
ہم جو آیات تلاوت کریں ان کا کان کیونکر سنے " و فی اذانہم وقرا " ۔(اور ان کے کانوں میں گرانی۔ت)راہ حق کی دعوت انہیں کیا نفع دے۔
" و ان تدعہم الی الہدی فلن یہتدوا اذا ابدا ﴿۵۷﴾" ۔ اور اگر انہیں تم ہدایت کی طرف بلاؤ تو جب بھی ہر گز کبھی راہ نہ پائیں گے۔(ت)
قرون ثلثہ کی بحث میں وہابیہ کو ہزاروں بار ان کے گھر پہنچا دیا گیا جس کا روشن بیان اصول الرشاد تصنیف لطیف امام العلماء حضرت سیدنا الوالدقدس سرہ الماجد میں ہے۔مدرسہ دیوبند بایں قوانین مخترعہ تو قرون اثناء عشر کے بعد قائم ہوا پہلے اس کی بنا ڈھائیں اینٹ سے اینٹ بجائیںیا یہ مسئلہ صرف انہیں چیزوں کے حرام کرنے کو ہے جن میں تعظیم و محبت حضور سرور عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم والیاء کرام علیہم الرضوان الاتم ہے یہ قیام ذکر تشریف آوری کی تعظیم ہے دل میں عظمت ہو تو جانیں کہ تعظیم ذکر شریف مانندتعظیم ذات اقدس ہے۔کما بینہ الامام القاضی عیاض رحمۃ اﷲ تعالی فی کتاب الشفاء والامام احمد القسطلانی فی المواھب الشریفۃ جیسا کہ امام قاضی عیاض رحمہ اﷲ تعالی نے کتاب الشفاء میں اور امام احمد قسطلانی نے مواہب شریفہ میں اسے بیان کیا۔ت) دل کے اندھے اسے بھلا کر خود ذات کریم کی تشریف آوری ڈھونڈتے ہیں اور بے ادبی گستاخ یہاں تك بڑھتے ہیں کہ کیا اسی وقت حضور کی پیدائش ہوتی ہے ہم مدعی نہیں کہ ہر مجلس مبارك میں تشریف آوری ضرور ہے۔ہاں ہوتی ہےاکابر اولیاء نے بارہا مشاہدہ کی ہے جیسا بہجتد الاسرار امام اوحد ابوالحسن لخمی شطنوفی و تنویر الحوالك امام جلال الدین سیوطی و تصانیف شاہ ولی اﷲ دہلوی وغیرہا میں مذکور ہے اور اس پر بے ہود ہ تشقیق کہ فرش پر تشریف رکھتے ہیں یا منبر پر جہل سحیق ہےایسا جاہلانہ سوال ان تمام تشریف آوریوں پر ہوگا جن کا ذکرائمہ و
" وجعلنا علی قلوبہم اکنۃ ان یفقہوہ" ۔ ہم نے ان کے دلوں پر غلاف کردیئے کہ اسے نہ سمجھیں۔(ت)
ہم جو آیات تلاوت کریں ان کا کان کیونکر سنے " و فی اذانہم وقرا " ۔(اور ان کے کانوں میں گرانی۔ت)راہ حق کی دعوت انہیں کیا نفع دے۔
" و ان تدعہم الی الہدی فلن یہتدوا اذا ابدا ﴿۵۷﴾" ۔ اور اگر انہیں تم ہدایت کی طرف بلاؤ تو جب بھی ہر گز کبھی راہ نہ پائیں گے۔(ت)
قرون ثلثہ کی بحث میں وہابیہ کو ہزاروں بار ان کے گھر پہنچا دیا گیا جس کا روشن بیان اصول الرشاد تصنیف لطیف امام العلماء حضرت سیدنا الوالدقدس سرہ الماجد میں ہے۔مدرسہ دیوبند بایں قوانین مخترعہ تو قرون اثناء عشر کے بعد قائم ہوا پہلے اس کی بنا ڈھائیں اینٹ سے اینٹ بجائیںیا یہ مسئلہ صرف انہیں چیزوں کے حرام کرنے کو ہے جن میں تعظیم و محبت حضور سرور عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم والیاء کرام علیہم الرضوان الاتم ہے یہ قیام ذکر تشریف آوری کی تعظیم ہے دل میں عظمت ہو تو جانیں کہ تعظیم ذکر شریف مانندتعظیم ذات اقدس ہے۔کما بینہ الامام القاضی عیاض رحمۃ اﷲ تعالی فی کتاب الشفاء والامام احمد القسطلانی فی المواھب الشریفۃ جیسا کہ امام قاضی عیاض رحمہ اﷲ تعالی نے کتاب الشفاء میں اور امام احمد قسطلانی نے مواہب شریفہ میں اسے بیان کیا۔ت) دل کے اندھے اسے بھلا کر خود ذات کریم کی تشریف آوری ڈھونڈتے ہیں اور بے ادبی گستاخ یہاں تك بڑھتے ہیں کہ کیا اسی وقت حضور کی پیدائش ہوتی ہے ہم مدعی نہیں کہ ہر مجلس مبارك میں تشریف آوری ضرور ہے۔ہاں ہوتی ہےاکابر اولیاء نے بارہا مشاہدہ کی ہے جیسا بہجتد الاسرار امام اوحد ابوالحسن لخمی شطنوفی و تنویر الحوالك امام جلال الدین سیوطی و تصانیف شاہ ولی اﷲ دہلوی وغیرہا میں مذکور ہے اور اس پر بے ہود ہ تشقیق کہ فرش پر تشریف رکھتے ہیں یا منبر پر جہل سحیق ہےایسا جاہلانہ سوال ان تمام تشریف آوریوں پر ہوگا جن کا ذکرائمہ و
حوالہ / References
القرآن ۶/ ۲۵
القرآن ۶/ ۲۵
القرآن ۱۸/ ۵۷
القرآن ۶/ ۲۵
القرآن ۱۸/ ۵۷
اکابر نے فرمایا اور خود ظاہری حیات اقدس میں تشریف آوری اور تشریف فرمائی کس طرح ہوتی تھیاورصحیح بخاری شریف کی اس حدیث کو تو بالکل چھیل کر پھینك دیا کہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم مسجد کریم میں حسان بن ثابت انصاری رضی اﷲ تعالی عنہ کے لیے منبر بچھاتے اور وہ اس پر قیام کرکے نعت اقدس سناتے اس وقت حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کہاں تشریف رکھتے تھےفرش پر حسان سے نیچے یا منبر پر حسان کے برابر جو وہاں جواب دے ویسا بلکہ اس سے اعلی یہاں موجود ہے کہ جلوہ فرمائی چشم ظاہر سے غیر مشہود ہے اور نور کی جلوہ افروزی فرش وغیرہ سے جدا متعالی از معہود ہے۔علامہ علی قاری شرح شریف میں فرماتے ہیں:
ان روح النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم حاضرۃ فی بیوت اھل الاسلام ۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی روح پاك تمام مسلمانوں کے گھروںمیں تشریف فرما ہے
یہ تشریف فرمائی زمین پر ہے کہ چھت والے اونچے ہوں یا چھت پر کہ دو منزلہ والے بلنداور جن کے چھت نہیں ایك نیچا چھپر ہے اور اس کے گرد مکان اس گھر میں تشریف فرمائی کس طرح ہےبلکہ رب عزوجل فرماتا ہے:
" و نحن اقرب الیہ من حبل الورید ﴿۱۶﴾" ۔ ہم آدمی سے اس کی رگ گردن سے بھی زیادہ قریب ہیں۔
اب ایك شخص لیٹادوسرا بیٹھاتیسرا کھڑاچوتھا سامنے کی چھت پر چڑھا ہےرب عزوجل کہ اس لیٹے کی شہ رگ سے قریب ہے کیا یہ تینوں اس سے اونچے ہیںکیسی سخت بے ادبی و گستاخی ہےیونہی حدیث قدسی میں ہےرب عزوجل فرماتا ہے:
انا جلیس من ذکرنی ۔ میں اپنے یاد کرنے والے کا ہمنشین ہوں۔
یاد وہ بھی کررہے ہیں جو فرش پر ہیں اور وہ بھی جو منبر پرتو کیا ان سب کے برابر ہوا اور منبر والے سے نیچا
و لکن الوھابیۃ قوم لا یعقلون ولا حول ولا قوۃ الا باﷲ العلی العظیم لیکن وہابی بے عقل قوم ہےاﷲ تعالی کی توفیق کے بغیر نہ گناہ سے بچا جاسکتا ہے اور نہ ہی کوئی
ان روح النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم حاضرۃ فی بیوت اھل الاسلام ۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی روح پاك تمام مسلمانوں کے گھروںمیں تشریف فرما ہے
یہ تشریف فرمائی زمین پر ہے کہ چھت والے اونچے ہوں یا چھت پر کہ دو منزلہ والے بلنداور جن کے چھت نہیں ایك نیچا چھپر ہے اور اس کے گرد مکان اس گھر میں تشریف فرمائی کس طرح ہےبلکہ رب عزوجل فرماتا ہے:
" و نحن اقرب الیہ من حبل الورید ﴿۱۶﴾" ۔ ہم آدمی سے اس کی رگ گردن سے بھی زیادہ قریب ہیں۔
اب ایك شخص لیٹادوسرا بیٹھاتیسرا کھڑاچوتھا سامنے کی چھت پر چڑھا ہےرب عزوجل کہ اس لیٹے کی شہ رگ سے قریب ہے کیا یہ تینوں اس سے اونچے ہیںکیسی سخت بے ادبی و گستاخی ہےیونہی حدیث قدسی میں ہےرب عزوجل فرماتا ہے:
انا جلیس من ذکرنی ۔ میں اپنے یاد کرنے والے کا ہمنشین ہوں۔
یاد وہ بھی کررہے ہیں جو فرش پر ہیں اور وہ بھی جو منبر پرتو کیا ان سب کے برابر ہوا اور منبر والے سے نیچا
و لکن الوھابیۃ قوم لا یعقلون ولا حول ولا قوۃ الا باﷲ العلی العظیم لیکن وہابی بے عقل قوم ہےاﷲ تعالی کی توفیق کے بغیر نہ گناہ سے بچا جاسکتا ہے اور نہ ہی کوئی
حوالہ / References
شرح الشفاء لمنلا علی القاری علی ھامش نسیم الریاض فصل فی المواطن التی یستحب فیھا الصلٰوۃ الخ ۳/ ۴۶۴
القرآن ۵۰/ ۱۶
کشف الخفا حدیث ۶۱۱ دارالکتب العلمیہ بیروت ۱/ ۱۸۳
القرآن ۵۰/ ۱۶
کشف الخفا حدیث ۶۱۱ دارالکتب العلمیہ بیروت ۱/ ۱۸۳
وصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم علی سیدنا ومولانا وذویہ اجمعینواﷲ تعالی اعلموانما زدنا الوجھین الآخرین لابانۃ جھلہ فی قیاس الشاھد علی الغائب فاعلم وربك اعلم۔ نیکی کرنے کی طاقت ہوتی ہے۔ہمارے سردار و مالك اور ان کے تمام اصحاب پر اﷲ تعالی درود و سلام بھیجےاور اﷲ تعالی خوب جانتا ہے۔آخری دونوں وجہیں ہم نے صرف اس لیے زیادہ کردی ہیں تاکہ شاہد کو غائب پر قیاس کرنے کے سلسلہ میں اس کی جہالت ظاہر ہوجائےتو جان لے اور تیرا پروردگار خوب جانتا ہے۔(ت)
مسئلہ ۱۵۱: از شہر محلہ بانخانہ مسئولہ محمد بخش صاحب ۲۳ جمادی الاولی ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص میلاد شریف بھی کراتا ہے اور تمام اولیاء اﷲ کی نیاز نذر بھی کرتا ہے اور سب کو مانتا ہےاور وہ شخص یہ بات کہتا ہے کہ تمام کام کرو لیکن وہ شخص ان باتوں کو منع کرتا ہے کہ مزار شریف پر جا کر مرادیں مت مانگو بلکہ ا ﷲ سے مراد مانگو اور مزار پر جا کر نیاز نذر سب کچھ کرو۔اور کہتا ہے کہ مرادیں اس طریقہ پر مت مانگو کہ فلاں فلاں میری حاجت رفع ہو۔مزار پر جا کر مت مانگومزار پر جا کر فاتحہ پڑھوثواب پہنچاؤزیارت کرو کہ کیسے کیسے بزرگ آدمی گزرے ہیںکچھ کرو لیکن مراد مت مانگو خدا سے عرض کرو۔
الجواب:
اگر وہ شخص اور کوئی بات وہابیت کی نہیں رکھتا اور وہابیوں اور دیوبندیوں کو کافر جانتاہے تو اتنا کہنے سے وہابی نہیں ہوسکتا۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۵۲ تا ۱۵۶: از قصبہ نظام آباد ضلع اعظم گڈھ مسئولہ سید علی اصغر ۹ شعبان چہار شنبہ ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسائل ذیل میں کہ:
(۱)حنفی کس کو کہتے ہیںپوری پوری تعریف کیا ہے
(۲)زید ایك فارغ التحصیل علوم عربیہ کا ہے اور اپنے کو حنفی مذہب کا مقلد کہتا ہےآمین بالجہررفع یدینقراء ت فاتحہ خلف الامام کا قائل نہیںتراویح بیس۲۰ رکعت پڑھتا ہے اور وتر تین رکعتکتب فقہیہ پر عمل کرتا ہے۔مسلمانوں کو زید کے پیچھے نماز پڑنا چاہیے یا نہیںاور ایسی صورت میں زید کو حنفی کہیں گے یا نہیں
(۳)محفل میلاد شریف میں قیام کرنا کیسا ہے
مسئلہ ۱۵۱: از شہر محلہ بانخانہ مسئولہ محمد بخش صاحب ۲۳ جمادی الاولی ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص میلاد شریف بھی کراتا ہے اور تمام اولیاء اﷲ کی نیاز نذر بھی کرتا ہے اور سب کو مانتا ہےاور وہ شخص یہ بات کہتا ہے کہ تمام کام کرو لیکن وہ شخص ان باتوں کو منع کرتا ہے کہ مزار شریف پر جا کر مرادیں مت مانگو بلکہ ا ﷲ سے مراد مانگو اور مزار پر جا کر نیاز نذر سب کچھ کرو۔اور کہتا ہے کہ مرادیں اس طریقہ پر مت مانگو کہ فلاں فلاں میری حاجت رفع ہو۔مزار پر جا کر مت مانگومزار پر جا کر فاتحہ پڑھوثواب پہنچاؤزیارت کرو کہ کیسے کیسے بزرگ آدمی گزرے ہیںکچھ کرو لیکن مراد مت مانگو خدا سے عرض کرو۔
الجواب:
اگر وہ شخص اور کوئی بات وہابیت کی نہیں رکھتا اور وہابیوں اور دیوبندیوں کو کافر جانتاہے تو اتنا کہنے سے وہابی نہیں ہوسکتا۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۵۲ تا ۱۵۶: از قصبہ نظام آباد ضلع اعظم گڈھ مسئولہ سید علی اصغر ۹ شعبان چہار شنبہ ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسائل ذیل میں کہ:
(۱)حنفی کس کو کہتے ہیںپوری پوری تعریف کیا ہے
(۲)زید ایك فارغ التحصیل علوم عربیہ کا ہے اور اپنے کو حنفی مذہب کا مقلد کہتا ہےآمین بالجہررفع یدینقراء ت فاتحہ خلف الامام کا قائل نہیںتراویح بیس۲۰ رکعت پڑھتا ہے اور وتر تین رکعتکتب فقہیہ پر عمل کرتا ہے۔مسلمانوں کو زید کے پیچھے نماز پڑنا چاہیے یا نہیںاور ایسی صورت میں زید کو حنفی کہیں گے یا نہیں
(۳)محفل میلاد شریف میں قیام کرنا کیسا ہے
(۴)زید محفل میلاد شریف میں شریك ہوتا ہے اور قیام کو مستحب کہتا ہے اور خود کرتا ہے اس کو حنفی کہیں گے یا وہابی
(۵)وہابی یا غیر مقلد کس کو کہتے ہیں اور اس کی پہچان کیا ہے بینوا توجروا(بیان فرمائیے اجر دیئے جاؤ گے۔ت)
الجواب :
(۱)علماء کی اصطلاح میں حنفی وہ کہ فروع میں مذہب حنفی کا پیرو ہوپھر اگر اصول میں بھی حق کا متبع ہے تو سنی حنفی ہے ورنہ گمراہ جیسے معتزلہواﷲ تعالی اعلم۔
(۲)ان باتوں سےاگر ثابت ہوا تو اتنا کہ زید فروعا حنفی ہے اور اس قدر سے اس کے پیچھے صحت نماز لازم نہیںپہلے تو معتزلہ تھے اب قطعی مرتد فرقے ایسے ہیں کہ اپنے آپ کو حنفی کہتے اور فروع میں فقہ حنفی پر چلنے کا دعوی رکھتے ہیں ان کی حنفیت انہیں کیا مفید ہوسکتی ہےامامت کے لیے سنی صحیح العقیدہ صحیح الطہارۃ صحیح القراء ۃ جامع شرائط صحت وحلت ہونا چاہیےواﷲ تعالی اعلم۔
(۳)مستحسن علمائے کرام ہے واﷲ تعالی اعلم۔
(۴)مجلس میلاد و مبارك و قیام چاروں مذہب کے علماء و عام اہل اسلام کرتے ہیں یہ کچھ حنفیہ سے خاص نہیں اور بعض وہابیہ بھی براہ تقیہ ان کے عامل ہوتے ہیں جیسا کہ بارہا کا مشاہدہ ہے تقویۃ الایمان کو گمراہی وضلالت اور دیوبندیت کو کفر وردت صراحۃ بلا غرض بکشادہ پیشانی مانے تو اسے وہابی نہ کہا جائے گا اور قلب کا علم عالم الغیب کو۔واﷲ تعالی اعلم
(۵)اسمعیل دہلوی وتقویۃ الایمان کو ماننے والا یا اس کے مطابق عقائد رکھنے والا اگرچہ زبان سے اس کا ماننا نہ کہے وہابی ہےاور یہ ہی اس کی پہچان کو بس ہےپھر اگر فقہ پر چلنے کا ادعا کرے تو مقلد وہابی ہےاور اگر اس کے ساتھ فقہ کو بھی نہ مانے تو غیر مقلد وہابی ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۵۷:از شفا خانہ فرید پور ڈاك خانہ خاص اسٹیشن پتنبر پور ضلع بریلی مسئولہ عظیم اﷲ کمپونڈر ۸ رمضان ۱۳۳۹ھ
اولیاء کرام بعد وفات کے حیات رہتے ہیں یا نہیں جیسے کہ رسول ا ﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم حیا ۃ النبی ہیںاور اولیاء کرام کے مزار پر جان کر ان کے توسط سے التجاء کرنا اور ان سے دعا کرانا جائز ہے یا نہیں بینوا تو جروا۔(بیان فرمائیے اجردیئے جاؤ گے۔ ت)
(۵)وہابی یا غیر مقلد کس کو کہتے ہیں اور اس کی پہچان کیا ہے بینوا توجروا(بیان فرمائیے اجر دیئے جاؤ گے۔ت)
الجواب :
(۱)علماء کی اصطلاح میں حنفی وہ کہ فروع میں مذہب حنفی کا پیرو ہوپھر اگر اصول میں بھی حق کا متبع ہے تو سنی حنفی ہے ورنہ گمراہ جیسے معتزلہواﷲ تعالی اعلم۔
(۲)ان باتوں سےاگر ثابت ہوا تو اتنا کہ زید فروعا حنفی ہے اور اس قدر سے اس کے پیچھے صحت نماز لازم نہیںپہلے تو معتزلہ تھے اب قطعی مرتد فرقے ایسے ہیں کہ اپنے آپ کو حنفی کہتے اور فروع میں فقہ حنفی پر چلنے کا دعوی رکھتے ہیں ان کی حنفیت انہیں کیا مفید ہوسکتی ہےامامت کے لیے سنی صحیح العقیدہ صحیح الطہارۃ صحیح القراء ۃ جامع شرائط صحت وحلت ہونا چاہیےواﷲ تعالی اعلم۔
(۳)مستحسن علمائے کرام ہے واﷲ تعالی اعلم۔
(۴)مجلس میلاد و مبارك و قیام چاروں مذہب کے علماء و عام اہل اسلام کرتے ہیں یہ کچھ حنفیہ سے خاص نہیں اور بعض وہابیہ بھی براہ تقیہ ان کے عامل ہوتے ہیں جیسا کہ بارہا کا مشاہدہ ہے تقویۃ الایمان کو گمراہی وضلالت اور دیوبندیت کو کفر وردت صراحۃ بلا غرض بکشادہ پیشانی مانے تو اسے وہابی نہ کہا جائے گا اور قلب کا علم عالم الغیب کو۔واﷲ تعالی اعلم
(۵)اسمعیل دہلوی وتقویۃ الایمان کو ماننے والا یا اس کے مطابق عقائد رکھنے والا اگرچہ زبان سے اس کا ماننا نہ کہے وہابی ہےاور یہ ہی اس کی پہچان کو بس ہےپھر اگر فقہ پر چلنے کا ادعا کرے تو مقلد وہابی ہےاور اگر اس کے ساتھ فقہ کو بھی نہ مانے تو غیر مقلد وہابی ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۵۷:از شفا خانہ فرید پور ڈاك خانہ خاص اسٹیشن پتنبر پور ضلع بریلی مسئولہ عظیم اﷲ کمپونڈر ۸ رمضان ۱۳۳۹ھ
اولیاء کرام بعد وفات کے حیات رہتے ہیں یا نہیں جیسے کہ رسول ا ﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم حیا ۃ النبی ہیںاور اولیاء کرام کے مزار پر جان کر ان کے توسط سے التجاء کرنا اور ان سے دعا کرانا جائز ہے یا نہیں بینوا تو جروا۔(بیان فرمائیے اجردیئے جاؤ گے۔ ت)
الجواب:
اولیائے کرام بعد وفات زندہ ہیں مگر نہ مثل حضرات انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام انبیاء کی حیات روحانی جسمانی دنیاوی ہے بعینہ اسی طرح جسم کے ساتھ زندہ ہوتے ہیں جس طرح دنیا میں تھے اور اولیاء کی حیات ان سے کم اور شہداء سے زائدجن کے لیے قرآن عظیم میں دو جگہ ارشاد ہوا کہ ان کو مردہ نہ کہو وہ زندہ ہیں۔ یہ حیات حیات روحانی و جسمانی برزخ ہے۔حیات روح سب کو حاصل ہے کہ روح بعد موت فنا نہیں ہوتیاس کا مفصل بیان ہماری کتاب حیاۃ الموات میں ہے۔
اولیائے کرام سے توسل اوران سے طلب دعا بلاشبہ محمود ہے اور علماء وصلحاء میں معمول و معہود واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۵۸: از بنگالہ ڈاکخانہ تالشہر موضع ایضا مسئولہ عبدالصمد ۲۲ رمضان ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیںعلمائے دین کہ حشر کے دن سب مسلمان قبر سے کفن لے کر اٹھیں گے یا برہنہ بینوا توجروا(بیان فرمایئے اجر دیئے جاؤ گے۔ت)
الجواب:
کفن میں اٹھیں گے پھر وہ کفن طول مدت کی وجہ سے گل کر گر جائیں گے۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۱۶۹ و۱۶۰: از ناگل لکڑی ضلع گوڑگانوہ پوسٹ ڈھینا ریاست مسئولہ حافظ غلام کبریا ۳ رمضان ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ:
(۱)اولیاء اﷲ کو دور سے مشکل کے واسطے پکارنا کیسا ہے اولیاء اﷲ دور سے بعض وقت سنتی ہیں یا سب وقت سنتے ہیں
(۲)اگر کوئی یارسول اﷲ پکارے اور یہ اعتقاد رکھے کہ آپ بذات خود سنتے ہیںبعض کہتے ہیں کہ یہ اعتقاد کہتے ہیں کہ یہ اعتقاد ٹھیك نہیں۔بینواتوجروا۔
الجواب:
شاہ عبدالعزیز صاحب فرماتے ہیں:
روح را قرب و بعد مکانی یکسانی ست ۔ روح کے مکانی قرب و بعد برابر ہیں(ت)
اولیائے کرام بعد وفات زندہ ہیں مگر نہ مثل حضرات انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام انبیاء کی حیات روحانی جسمانی دنیاوی ہے بعینہ اسی طرح جسم کے ساتھ زندہ ہوتے ہیں جس طرح دنیا میں تھے اور اولیاء کی حیات ان سے کم اور شہداء سے زائدجن کے لیے قرآن عظیم میں دو جگہ ارشاد ہوا کہ ان کو مردہ نہ کہو وہ زندہ ہیں۔ یہ حیات حیات روحانی و جسمانی برزخ ہے۔حیات روح سب کو حاصل ہے کہ روح بعد موت فنا نہیں ہوتیاس کا مفصل بیان ہماری کتاب حیاۃ الموات میں ہے۔
اولیائے کرام سے توسل اوران سے طلب دعا بلاشبہ محمود ہے اور علماء وصلحاء میں معمول و معہود واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۵۸: از بنگالہ ڈاکخانہ تالشہر موضع ایضا مسئولہ عبدالصمد ۲۲ رمضان ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیںعلمائے دین کہ حشر کے دن سب مسلمان قبر سے کفن لے کر اٹھیں گے یا برہنہ بینوا توجروا(بیان فرمایئے اجر دیئے جاؤ گے۔ت)
الجواب:
کفن میں اٹھیں گے پھر وہ کفن طول مدت کی وجہ سے گل کر گر جائیں گے۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۱۶۹ و۱۶۰: از ناگل لکڑی ضلع گوڑگانوہ پوسٹ ڈھینا ریاست مسئولہ حافظ غلام کبریا ۳ رمضان ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ:
(۱)اولیاء اﷲ کو دور سے مشکل کے واسطے پکارنا کیسا ہے اولیاء اﷲ دور سے بعض وقت سنتی ہیں یا سب وقت سنتے ہیں
(۲)اگر کوئی یارسول اﷲ پکارے اور یہ اعتقاد رکھے کہ آپ بذات خود سنتے ہیںبعض کہتے ہیں کہ یہ اعتقاد کہتے ہیں کہ یہ اعتقاد ٹھیك نہیں۔بینواتوجروا۔
الجواب:
شاہ عبدالعزیز صاحب فرماتے ہیں:
روح را قرب و بعد مکانی یکسانی ست ۔ روح کے مکانی قرب و بعد برابر ہیں(ت)
تو وہ سب وقت سن سکتے ہیں مگر ملاء اعلی کی طرف توجہ اور اس میں استغراق اکثر کو ہر وقت سننے سے مانع ہوسکتا ہے مگر اکابر جن کو شاہ عبدالعزیز صاحب نے تفسیر عزیزی میں لکھا۔
استغراق آنہا بجہت کمال وسعت مدارك آنہا مانع توجہ بایں سمت نمی گرددوارباب حاجات ومطالب حل مشکلات خود راازانہامی طلبند ومی یابند ۔ کامل وسعت مدارك کی وجہ سے ان کا استغراق اس طرف متوجہ ہونے سے مانع نہیں ہوتا اور غرض مند محتاج لوگ اپنی مشکلات کا حل ان سے طلب کرتے اور پاتے ہیں۔(ت)
یہ ہر وقت سنتے اور حاجت روائی فرماتے ہیں کہ باذنہ تعالی اسم قاضی الحاجات کے مظہر ہیں۔
(۲)بذات خود کے اگر یہ معنی کہ بے عطائے الہی خود اپنی ذاتی قدرت سے سنتے ہیں تو یہ بے شك باطل بلکہ کفر ہے اور یہ ہر گز کسی مسلمان کا خیال بھی نہیں۔اور اگر بذات خود کے یہ معنی کہ بعطائے الہی حضور کی قوت سامعہ تمام شرق و غرب کو محیط ہے سب کی عرضیں آوازیں خود سنتے ہیں اگرچہ آداب دربار شاہی ہر ذرہ ان کے پیش نظر ہے اور ارض و سما کی ہر آواز ان کے گوش مبارك میں ہے۔شاہ ولی اﷲ کی فیوض الحرمین میں ہے:
لایشغلہ شأن عن شان ۔
وھوتعالی اعلم اس کی ایك حالت اس کو دوسری حالت سے غافل نہیں کرتی۔(ت)
مسئلہ ۱۶۱: از دہلی بازار چتلی قبر چھتا موم گراں مسئولہ محمد صاحب داد خاں ۶ شوال ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ قادیانی کہتے ہیں حضرت عیسی علیہ الصلو ۃ والسلام زندہ آسمان پر نہیں گئے بلکہ اپنی موت مرےزندہ آسمان پر جانا نہ قرآن سے ثابت ہے نہ حدیث شریف سےکیونکہ اس میں حضرت رسول مقبول محمد مصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی شان پاك گھٹتی ہے کہ حضور دونوں عالم سے افضل و اعلی ہو کر وفات پائیں اور زمین کے نیچے رہیں اور حضرت عیسی
استغراق آنہا بجہت کمال وسعت مدارك آنہا مانع توجہ بایں سمت نمی گرددوارباب حاجات ومطالب حل مشکلات خود راازانہامی طلبند ومی یابند ۔ کامل وسعت مدارك کی وجہ سے ان کا استغراق اس طرف متوجہ ہونے سے مانع نہیں ہوتا اور غرض مند محتاج لوگ اپنی مشکلات کا حل ان سے طلب کرتے اور پاتے ہیں۔(ت)
یہ ہر وقت سنتے اور حاجت روائی فرماتے ہیں کہ باذنہ تعالی اسم قاضی الحاجات کے مظہر ہیں۔
(۲)بذات خود کے اگر یہ معنی کہ بے عطائے الہی خود اپنی ذاتی قدرت سے سنتے ہیں تو یہ بے شك باطل بلکہ کفر ہے اور یہ ہر گز کسی مسلمان کا خیال بھی نہیں۔اور اگر بذات خود کے یہ معنی کہ بعطائے الہی حضور کی قوت سامعہ تمام شرق و غرب کو محیط ہے سب کی عرضیں آوازیں خود سنتے ہیں اگرچہ آداب دربار شاہی ہر ذرہ ان کے پیش نظر ہے اور ارض و سما کی ہر آواز ان کے گوش مبارك میں ہے۔شاہ ولی اﷲ کی فیوض الحرمین میں ہے:
لایشغلہ شأن عن شان ۔
وھوتعالی اعلم اس کی ایك حالت اس کو دوسری حالت سے غافل نہیں کرتی۔(ت)
مسئلہ ۱۶۱: از دہلی بازار چتلی قبر چھتا موم گراں مسئولہ محمد صاحب داد خاں ۶ شوال ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ قادیانی کہتے ہیں حضرت عیسی علیہ الصلو ۃ والسلام زندہ آسمان پر نہیں گئے بلکہ اپنی موت مرےزندہ آسمان پر جانا نہ قرآن سے ثابت ہے نہ حدیث شریف سےکیونکہ اس میں حضرت رسول مقبول محمد مصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی شان پاك گھٹتی ہے کہ حضور دونوں عالم سے افضل و اعلی ہو کر وفات پائیں اور زمین کے نیچے رہیں اور حضرت عیسی
حوالہ / References
فتح العزیز(تفسیر عزیزی)پارہ عم سورۃ الانشفاق مسلم بکڈپو لال کنواں دہلی ص ۲۰۶
فیوض الحرمین مشہد آخر ا یعنی دقائق اور ان کے اثرات کے بیان میں محمد سعید اینڈ سنز قرآن محل کراچی ص ۲۷۱
فیوض الحرمین مشہد آخر ا یعنی دقائق اور ان کے اثرات کے بیان میں محمد سعید اینڈ سنز قرآن محل کراچی ص ۲۷۱
آسمان پر چلے جائیں یہ ممکن نہیںاس خرافات کا کیا جواب ہے بینوا توجروا۔
الجواب:
قادیانی مکاروں کا فریب ہے کہ مرزا کے صریح کفر اور انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام خصوصا سیدنا عیسی علیہ الصلوۃ والسلام کو جو اس نے سڑی سڑی گالیاں دی ہیں چھپاتے اور مسئلہ حیات و موت سیدنا عیسی علیہ الصلوۃ والسلام میں بحث کرتے ہیں جس کے ماننے نہ ماننے پر کچھ اسلام و کفر کا مدار نہیں۔
جمہورائمہ کرام کا مذہب یہی ہے کہ سیدنا عیسی علیہ الصلوۃ والسلام نے ابھی انتقال نہ فرمایاقریب قیامت نزول فرمائیں گےدجال کو قتل کریں گےبرسوں رہ کر انتقال فرمائیں گےروضہ پاك حضور سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم میں ایك مزار کی جگہ خالی ہے وہاں دفن ہوں گے۔اس کا وہ جاہلانہ احمقانہ خیال تو یہیں سے دفع ہوگیا۔اوفقط آسمان پر ہونا اگر موجب فضل ہو تو فرشتوں کو توآسمان پر مانے گا۔قال تعالی" وکم من ملک فی السموت" آسمانوں میں بہتیرے فرشتے ہیں۔خود حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم کو دونوں عالم سے افضل کہہ رہا ہے کیا ملائکہ سے افضل نہ مانے گا یا حضور کے وفات پا کر زمین پر رہنے اور ملائکہ کے آسمان پر ہونے سے معاذ اﷲ شان اقدس کا گھٹ ناجانے گااور فرشتے بھی نہ سہی چاند سورج ستارے تو آسمان پر سے افضل ہے خصوصا محل تربت اقدس کہ عرش اعظم سے بھی اعلی وافضل ہے اندھوں نے جہت میں اوپر نیچے دیکھ لیا اور یہ نہ جانا کہ دل تمام اعضاء کا سلطان اور سب سے افضل ہے اگرچہ بہت اعضاء اس سے اوپر ہیں۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۶۲:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ میلاد شریف کب سے نکلا اور کس نے نکالااپنے امام اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ کے زمانے میں تھا یا نہیں اپنے امام صاحب نے اس کو کیا ہے یا نہیں صحابہ کے زمانے میں تھا یا نہیں کسی نے محفل کی تھی یا نہیں بینوا تو جروا۔
الجواب:
بیان میلاد شریف قرآن مجید نے نکالا اور اس نے متعدد آیتوں میں اس کا حکم دیاکارڈ
الجواب:
قادیانی مکاروں کا فریب ہے کہ مرزا کے صریح کفر اور انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام خصوصا سیدنا عیسی علیہ الصلوۃ والسلام کو جو اس نے سڑی سڑی گالیاں دی ہیں چھپاتے اور مسئلہ حیات و موت سیدنا عیسی علیہ الصلوۃ والسلام میں بحث کرتے ہیں جس کے ماننے نہ ماننے پر کچھ اسلام و کفر کا مدار نہیں۔
جمہورائمہ کرام کا مذہب یہی ہے کہ سیدنا عیسی علیہ الصلوۃ والسلام نے ابھی انتقال نہ فرمایاقریب قیامت نزول فرمائیں گےدجال کو قتل کریں گےبرسوں رہ کر انتقال فرمائیں گےروضہ پاك حضور سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم میں ایك مزار کی جگہ خالی ہے وہاں دفن ہوں گے۔اس کا وہ جاہلانہ احمقانہ خیال تو یہیں سے دفع ہوگیا۔اوفقط آسمان پر ہونا اگر موجب فضل ہو تو فرشتوں کو توآسمان پر مانے گا۔قال تعالی" وکم من ملک فی السموت" آسمانوں میں بہتیرے فرشتے ہیں۔خود حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم کو دونوں عالم سے افضل کہہ رہا ہے کیا ملائکہ سے افضل نہ مانے گا یا حضور کے وفات پا کر زمین پر رہنے اور ملائکہ کے آسمان پر ہونے سے معاذ اﷲ شان اقدس کا گھٹ ناجانے گااور فرشتے بھی نہ سہی چاند سورج ستارے تو آسمان پر سے افضل ہے خصوصا محل تربت اقدس کہ عرش اعظم سے بھی اعلی وافضل ہے اندھوں نے جہت میں اوپر نیچے دیکھ لیا اور یہ نہ جانا کہ دل تمام اعضاء کا سلطان اور سب سے افضل ہے اگرچہ بہت اعضاء اس سے اوپر ہیں۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۶۲:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ میلاد شریف کب سے نکلا اور کس نے نکالااپنے امام اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ کے زمانے میں تھا یا نہیں اپنے امام صاحب نے اس کو کیا ہے یا نہیں صحابہ کے زمانے میں تھا یا نہیں کسی نے محفل کی تھی یا نہیں بینوا تو جروا۔
الجواب:
بیان میلاد شریف قرآن مجید نے نکالا اور اس نے متعدد آیتوں میں اس کا حکم دیاکارڈ
حوالہ / References
القرآن الکریم ۵۳ /۲۶
میں آیتیں نہیں لکھی جاسکتیں غرض مقصود سے ہےنام نیا ہونے سے شی نئی نہیں ہوسکتیجو اس سے مقصود ہے وہ خود حضور اقدس علیہ افضل الصلوۃ والسلام نے کیا۔ صحیح بخاری شریف میں ہے خود حضور اقدس علیہ افضل الصلوۃ والسلام مسجد مدینہ طیبہ میں حضرت حسان بن ثابت انصاری علیہ الرضوان کے لیے منبر بچھاتے اور وہ اس پر قیام کرکے نعت اقدس سناتیحضور اور صحابہ کرام سنتےوھو تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۶۳: از ضلع ہوشنگ آباد مقام و ڈاکخانہ و اسٹیشن ۵۱ رموسارے مسئولہ دولت الدین ۱۲ شوال ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ بعض عالم و مولوی اعتراض کرتے ہیں کہ یا شیخ عبدالقادر جیلانی شیئا ﷲ کا وظیفہ کرنا ناجائز ہےمہربانی فرما کر خلاصہ مسئلہ تحریر فرمائیں۔بینوا توجروا۔
الجواب:
یہ مبارك وظیفہ بے شك جائز ہے۔فتاوی خیر یہ علامہ خیر الدین رملی استاذ صاحب درمختار میں ہے:
اما قولھم یاشیخ عبد القادر فنداء فما الموجب لحرمتہ ۔ ان کا یا شیخ عبدالقادر کہنا نداء ہے تو اس کی حرمت کا موجب کیا ہے۔(ت)
یہاں اس کو ناجائز کہنے والے وہابی ہیں اور وہابیہ بے دین ہیں ان کی بات سننی جائز نہیں۔وھوتعالی اعلم۔
____________________
مسئلہ ۱۶۳: از ضلع ہوشنگ آباد مقام و ڈاکخانہ و اسٹیشن ۵۱ رموسارے مسئولہ دولت الدین ۱۲ شوال ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ بعض عالم و مولوی اعتراض کرتے ہیں کہ یا شیخ عبدالقادر جیلانی شیئا ﷲ کا وظیفہ کرنا ناجائز ہےمہربانی فرما کر خلاصہ مسئلہ تحریر فرمائیں۔بینوا توجروا۔
الجواب:
یہ مبارك وظیفہ بے شك جائز ہے۔فتاوی خیر یہ علامہ خیر الدین رملی استاذ صاحب درمختار میں ہے:
اما قولھم یاشیخ عبد القادر فنداء فما الموجب لحرمتہ ۔ ان کا یا شیخ عبدالقادر کہنا نداء ہے تو اس کی حرمت کا موجب کیا ہے۔(ت)
یہاں اس کو ناجائز کہنے والے وہابی ہیں اور وہابیہ بے دین ہیں ان کی بات سننی جائز نہیں۔وھوتعالی اعلم۔
____________________
حوالہ / References
جامع الترمذی ابواب الادب باب ماجاء ان من الشعرحکمۃ امین کمپنی دہلی ۲ /۱۰۷واحیاء العلوم بحوالہ الصحیحین کتاب آداب السماع والوجد مطبعۃ مشہد الحسینی قاہرہ ۲ /۲۷۴
الفتاوٰی الخیریۃ کتاب الکراھیۃ والاحسان دارالمعرفۃ بیروت ۲ /۱۸۲
الفتاوٰی الخیریۃ کتاب الکراھیۃ والاحسان دارالمعرفۃ بیروت ۲ /۱۸۲
رسالہ
انوارالانتباہ فی حل نداء یارسول ﷲ
(یارسول اﷲ کہنے کے جواز کے بارے میں نورانی تنبیہیں)
مسئلہ۱۶۴:کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید موحد مسلمان جو خدا کو خدا اور رسول کو رسول جانتا ہے۔ نماز کے بعد اور دیگر اوقات میں رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو بکلمہ یا ندا کرتا اور الصلوۃ والسلام علیك یارسول اﷲ یا اسئلك الشفاعۃ یارسول اﷲ کہا کرتا ہے یہ کہنا جائز ہے یا نہیں اور جو لوگ اسے اس کلمہ کی وجہ سے کافر و مشرك کہیں ان کا کیا حکم ہے بینوا بالکتاب توجروا یوم الحساب ( کتاب سے بیان فرمائیے روز حساب اجر دیئے جاؤ گے۔ت)
انوارالانتباہ فی حل نداء یارسول ﷲ
(یارسول اﷲ کہنے کے جواز کے بارے میں نورانی تنبیہیں)
مسئلہ۱۶۴:کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید موحد مسلمان جو خدا کو خدا اور رسول کو رسول جانتا ہے۔ نماز کے بعد اور دیگر اوقات میں رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو بکلمہ یا ندا کرتا اور الصلوۃ والسلام علیك یارسول اﷲ یا اسئلك الشفاعۃ یارسول اﷲ کہا کرتا ہے یہ کہنا جائز ہے یا نہیں اور جو لوگ اسے اس کلمہ کی وجہ سے کافر و مشرك کہیں ان کا کیا حکم ہے بینوا بالکتاب توجروا یوم الحساب ( کتاب سے بیان فرمائیے روز حساب اجر دیئے جاؤ گے۔ت)
الجواب:
بسم اﷲ الرحمن الرحیم ط
الحمد ﷲ وکفی والصلوۃ والسلام علی حبیبہ المصطفی والہ واصحابہ اولی الصدق والصفا۔
کلمات مذکورہ بے شك جائز ہیںجن کے جواز میں کلام نہ کرے گا مگر سفیہ جاہل یا ضال مضلجسے اس مسئلہ کے متعلق قدرے تفصیل دیکھنی ہو شفاء السقام امام علام بقیۃ المجتہدین الکرام تقی الملۃ والدین علامہ زرقانی و مطالع المسرات علامہ فاسی ومرقاۃ شرح مشکوۃ علامہ علی قاری ولمعات و اشعۃ اللمعات شروح مشکوۃ و جذب القلوب الی دیار المحبوب و مدارج النبوۃ تصانیف شیخ عبدالحق محدث دہلوی و افضل القری شرح ام القری امام ابن حجر مکی وغیرہا کتب وکلام علمائے کرام وضلائے عظام علیہم رحمۃ اﷲ العلام کی طرف رجوع لائے یا فقیر کا رسالہ الاھلال بفیض الاولیاء بعد الوصال مطالعہ کرے۔
یہاں فقیر بعدر ضرورت چند کلمات اجمالی لکھتا ہےحدیث صحیح مذیل بطراز گرانہائے تصحیح جسے امام نسائی و امام ترمذی وابن ماجہ وحاکم و بیہقی و امام الائمہ ابن خزیمہ و امام ابوالقاسم طبرانی نے حضرت عثمان بن حنیف رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا اور ترمذی نے حسن غریب صحیح اور طبرانی و بیہقی نے صحیح اور حاکم نے بر شرط بخاری و مسلم جس میں حضور اقدس سیدعالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ایك نابینا کو دعا تعلیم فرمائی کہ بعد نمازیوں کہے:
اللھم انی اسئلك واتوجہ الیك بنبیك محمد نبی الرحمۃ یا محمد انی اتوجہ بك الی ربی فی حاجتی ھذہ لتقضی لی اللھم فشفعہ فی ۔ اے اﷲ ! میں تجھ سے مانگتا ہوں اور تیری طرف توجہ کرتا ہوں بوسیلہ تیرے نبی محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے کہ مہربانی کے نبی ہیںیارسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ! میں حضور کے وسیلے سے اپنے رب کی طرف اس حاجت میں توجہ کرتا ہو کہ میری حاجت روا ہو۔الہی ان کے شفاعت میرے حق میں قبول فرما۔
بسم اﷲ الرحمن الرحیم ط
الحمد ﷲ وکفی والصلوۃ والسلام علی حبیبہ المصطفی والہ واصحابہ اولی الصدق والصفا۔
کلمات مذکورہ بے شك جائز ہیںجن کے جواز میں کلام نہ کرے گا مگر سفیہ جاہل یا ضال مضلجسے اس مسئلہ کے متعلق قدرے تفصیل دیکھنی ہو شفاء السقام امام علام بقیۃ المجتہدین الکرام تقی الملۃ والدین علامہ زرقانی و مطالع المسرات علامہ فاسی ومرقاۃ شرح مشکوۃ علامہ علی قاری ولمعات و اشعۃ اللمعات شروح مشکوۃ و جذب القلوب الی دیار المحبوب و مدارج النبوۃ تصانیف شیخ عبدالحق محدث دہلوی و افضل القری شرح ام القری امام ابن حجر مکی وغیرہا کتب وکلام علمائے کرام وضلائے عظام علیہم رحمۃ اﷲ العلام کی طرف رجوع لائے یا فقیر کا رسالہ الاھلال بفیض الاولیاء بعد الوصال مطالعہ کرے۔
یہاں فقیر بعدر ضرورت چند کلمات اجمالی لکھتا ہےحدیث صحیح مذیل بطراز گرانہائے تصحیح جسے امام نسائی و امام ترمذی وابن ماجہ وحاکم و بیہقی و امام الائمہ ابن خزیمہ و امام ابوالقاسم طبرانی نے حضرت عثمان بن حنیف رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا اور ترمذی نے حسن غریب صحیح اور طبرانی و بیہقی نے صحیح اور حاکم نے بر شرط بخاری و مسلم جس میں حضور اقدس سیدعالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ایك نابینا کو دعا تعلیم فرمائی کہ بعد نمازیوں کہے:
اللھم انی اسئلك واتوجہ الیك بنبیك محمد نبی الرحمۃ یا محمد انی اتوجہ بك الی ربی فی حاجتی ھذہ لتقضی لی اللھم فشفعہ فی ۔ اے اﷲ ! میں تجھ سے مانگتا ہوں اور تیری طرف توجہ کرتا ہوں بوسیلہ تیرے نبی محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے کہ مہربانی کے نبی ہیںیارسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ! میں حضور کے وسیلے سے اپنے رب کی طرف اس حاجت میں توجہ کرتا ہو کہ میری حاجت روا ہو۔الہی ان کے شفاعت میرے حق میں قبول فرما۔
حوالہ / References
جامع ترمذی ابواب الدعوات باب فی انتظار الفرج وغیر ذلك امین کمپنی دہلی ۲/ ۱۹۷،سنن ابن ماجہ باب ماجاء فی صلوۃ الحاجۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۰۰،المستدرك للحاکم کتاب الدعا مکتبہ اسلامیہ بیروت ۱ /۵۱۹ وصحیح ابن خزیمۃ باب صلوۃ الترغیب ۲ /۲۲۶
امام طبرانی کی معجم میں یوں ہے:
ان رجلا کان یختلف الی عثمان بن عفان رضی اﷲ تعالی عنہ فی حاجۃ لہ وکان عثمان لایلتفت الیہ ولا ینظر فی حاجتہ فلقی عثمان بن حنیف رضی اﷲ تعالی عنہ فشکی ذلك الیہ فقال لہ عثمان بن حنیف رضی اﷲ تعالی عنہ ائت المیضاء ۃ فتوضأ ثم ائت المسجد فصل فیہ رکعتین ثم قل اللھم انی اسئلك و اتوجہالیك بنبینا نبی الرحمۃ یا محمد انی اتوجہ بك الی ربی فیقضی حاجتیوتذکر حاجتك ورح الی حتی اروح معك فانطلق الرجل فصنع ماقال لہ ثم اتی باب عثمان رضی اﷲ تعالی عنہ فجاء البواب حتی اخذہ بیدہ فادخلہ علی عثمان بن عفان رضی اﷲ تعالی عنہ فاجلسہ معہعلی الطنفسۃ وقال حاجتك فذکر حاجتہ فقضا ھالہ ثم قال ماذکرت حاجتك حتی کانت ھذہ الساعۃ وقال ماکان لك من حاجۃ فاتناثم ان الرجل خرج من عندہ فلقی عثمان بن حنیف رضی اﷲ تعالی عنہ فقال لہجزاك اﷲ خیرا ماکان ینظر فی حاجتی ولا یلتفت الی حتی یعنی ایك حاجتمند اپنی حاجت کے لیے امیر المومنین عثمان غنی رضی اﷲ تعالی عنہ کی خدمت میں آتا جاتاامیر المومنین نہ اس کی طرف التفات فرماتے نہ اس کی حاجت پر نظر فرماتے اس نے عثمان بن حنیف رضی اﷲ تعالی عنہ سے اس امر کی شکایت کیانہوں نے فرمایا وضو کرکے مسجد میں دو رکعت نماز پڑھ پھر دعا مانگ " الہی میں تجھ سے سوال کرتا ہوں اور تیری طرف اپنے نبی محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے وسیلے سے توجہ کرتا ہوںیارسول اﷲ ! میں حضور کے توسل سے اپنے رب کی طرف متوجہ ہوتا ہوں کہ میری حاجت روا فرمائے۔" اور اپنی حاجت ذکر کرپھر شام کو میرے پاس آنا کہ میں بھی تیرے ساتھ چلوں۔حاجتمند نے (کہ وہ بھی صحابی یا لاقل کبار تابعین میں سے تھے۔)یوں ہی کیاپھر آستان خلافت پر حاضر ہوئےدربان آیا اور ہاتھ پکڑ کر امیر المومنین کے حضور لے گیاامیر المومنین نے اپنے ساتھ مسند پر بٹھالیامطلب پوچھاعرض کیافورا روا فرمایا اور ارشاد کیا اتنے دنوں میں اس وقت اپنا مطلب بیان کیاپھر فرمایا:جو حاجت تمہیں پیش آیا کرے ہمارے پاس چلے آیا کرو۔یہ صاحب وہاں سے نکل کر عثمان بن حنیف سے ملے اور کہا اﷲ تعالی تمہیں جزائے خیر دے امیر المومنین میری حاجت پر نظر اور میری طرف توجہ نہ فرماتے تھے یہاں تك کہ
ان رجلا کان یختلف الی عثمان بن عفان رضی اﷲ تعالی عنہ فی حاجۃ لہ وکان عثمان لایلتفت الیہ ولا ینظر فی حاجتہ فلقی عثمان بن حنیف رضی اﷲ تعالی عنہ فشکی ذلك الیہ فقال لہ عثمان بن حنیف رضی اﷲ تعالی عنہ ائت المیضاء ۃ فتوضأ ثم ائت المسجد فصل فیہ رکعتین ثم قل اللھم انی اسئلك و اتوجہالیك بنبینا نبی الرحمۃ یا محمد انی اتوجہ بك الی ربی فیقضی حاجتیوتذکر حاجتك ورح الی حتی اروح معك فانطلق الرجل فصنع ماقال لہ ثم اتی باب عثمان رضی اﷲ تعالی عنہ فجاء البواب حتی اخذہ بیدہ فادخلہ علی عثمان بن عفان رضی اﷲ تعالی عنہ فاجلسہ معہعلی الطنفسۃ وقال حاجتك فذکر حاجتہ فقضا ھالہ ثم قال ماذکرت حاجتك حتی کانت ھذہ الساعۃ وقال ماکان لك من حاجۃ فاتناثم ان الرجل خرج من عندہ فلقی عثمان بن حنیف رضی اﷲ تعالی عنہ فقال لہجزاك اﷲ خیرا ماکان ینظر فی حاجتی ولا یلتفت الی حتی یعنی ایك حاجتمند اپنی حاجت کے لیے امیر المومنین عثمان غنی رضی اﷲ تعالی عنہ کی خدمت میں آتا جاتاامیر المومنین نہ اس کی طرف التفات فرماتے نہ اس کی حاجت پر نظر فرماتے اس نے عثمان بن حنیف رضی اﷲ تعالی عنہ سے اس امر کی شکایت کیانہوں نے فرمایا وضو کرکے مسجد میں دو رکعت نماز پڑھ پھر دعا مانگ " الہی میں تجھ سے سوال کرتا ہوں اور تیری طرف اپنے نبی محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے وسیلے سے توجہ کرتا ہوںیارسول اﷲ ! میں حضور کے توسل سے اپنے رب کی طرف متوجہ ہوتا ہوں کہ میری حاجت روا فرمائے۔" اور اپنی حاجت ذکر کرپھر شام کو میرے پاس آنا کہ میں بھی تیرے ساتھ چلوں۔حاجتمند نے (کہ وہ بھی صحابی یا لاقل کبار تابعین میں سے تھے۔)یوں ہی کیاپھر آستان خلافت پر حاضر ہوئےدربان آیا اور ہاتھ پکڑ کر امیر المومنین کے حضور لے گیاامیر المومنین نے اپنے ساتھ مسند پر بٹھالیامطلب پوچھاعرض کیافورا روا فرمایا اور ارشاد کیا اتنے دنوں میں اس وقت اپنا مطلب بیان کیاپھر فرمایا:جو حاجت تمہیں پیش آیا کرے ہمارے پاس چلے آیا کرو۔یہ صاحب وہاں سے نکل کر عثمان بن حنیف سے ملے اور کہا اﷲ تعالی تمہیں جزائے خیر دے امیر المومنین میری حاجت پر نظر اور میری طرف توجہ نہ فرماتے تھے یہاں تك کہ
کلمتہ فی فقال عثمن بن حنیف رضی اﷲ تعالی عنہ واﷲ ماکلمتہولکن شھدت رسول اﷲ لی اﷲ تعالی علیہ وسلم واتاہ رجل ضریر فشکا الیہ ذھاب بصرہ فقال لہ النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ائت المیضأۃ فتوضأ ثم صل رکعتین ثم ادع بھذہ الدعوات فقال عثمان بن حنیف رضی اﷲ تعالی عنہ فواﷲ ماتفرقنا وطال بنا الحدیث حتی دخل علینا الرجل کانہ لم یکن بہ ضر قط ۔ آپ نے ان سے میری سفارش کیعثمان بن حنیف رضی اﷲ تعالی عنہ نے فرمایا:خدا کی قسم ! میں نے تو تمہارے معاملے میں امیر المومنین سے کچھ بھی نہ کہا مگر ہوا یہ کہ میں نے سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو دیکھا حضور کی خدمت اقدس میں ایك نابینا حاضر ہوا اور نابینائی کی شکایت کی حضور نے یونہی اس سے ارشاد فرمایا کہ وضو کرکے دو رکعت نماز پڑھے پھر یہ دعا کرے۔خدا کی قسم ہم اٹھنے بھی نہ پائے تھے باتیں ہی کررہے تھے کہ وہ ہمارے پاس آیا گویا کبھی وہ اندھا نہ تھا۔
امام طبرانی پھر امام منذری فرماتے ہیں والحدیث صحیح ۔(یہ حدیث صحیح ہے)۔امام بخاری کتاب الادب المفردعــــــہ میں اور امام ابن السنی وامام ابن بشکوال روایت کرتے ہیں:
ان ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنھما خدرت رجلہ فقیل لہاذکراحب الناس الیك فصاح یا محمداہ فانتشرت ۔ یعنی حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالی عنہماکا پاؤں سوگیا کسی نے کہا انہیں یاد کیجئے جو آپ کو سب سے زیادہ محبوب ہیں۔حضرت نے باآواز بلند کہا۔یا محمداہ ! فورا پاؤں کھل گیا۔
عــــــہ:ولفظ البخاری فی الادب المفرد خدرت رجل ابن عمر فقال لہ رجل اذکراحب الناس الیك فقال یا محمد اھ ۱۲ منہ۔
امام طبرانی پھر امام منذری فرماتے ہیں والحدیث صحیح ۔(یہ حدیث صحیح ہے)۔امام بخاری کتاب الادب المفردعــــــہ میں اور امام ابن السنی وامام ابن بشکوال روایت کرتے ہیں:
ان ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنھما خدرت رجلہ فقیل لہاذکراحب الناس الیك فصاح یا محمداہ فانتشرت ۔ یعنی حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالی عنہماکا پاؤں سوگیا کسی نے کہا انہیں یاد کیجئے جو آپ کو سب سے زیادہ محبوب ہیں۔حضرت نے باآواز بلند کہا۔یا محمداہ ! فورا پاؤں کھل گیا۔
عــــــہ:ولفظ البخاری فی الادب المفرد خدرت رجل ابن عمر فقال لہ رجل اذکراحب الناس الیك فقال یا محمد اھ ۱۲ منہ۔
حوالہ / References
الترغیب والترھیب بحوالہ الطبرانی الترغیب فی صلوۃ الحاجۃ حدیث ا مصطفٰی البابی مصر ۱ /۲۷۴ تا ۲۷۶،مجمع الزوائد بحوالہ الطبرانی باب صلوۃ الحاجۃ دارالکتاب بیروت ۲ /۲۷۹
الترغیب والترھیب بحوالہ الطبرانی الترغیب فی صلوۃ الحاجۃ حدیث ا مصطفٰی البابی مصر ۱ /۲۷۴ تا ۲۷۶،مجمع الزوائد بحوالہ الطبرانی باب صلوۃ الحاجۃ دارالکتاب بیروت ۲ /۲۷۹
عمل الیوم واللیلۃ حدیث ۱۶۸ دائرۃ المعارف النعمانیہ ص ۴۷
الادب المفرد حدیث ۹۶۴ مکتبۃ الاثریۃ سانگلہ ص ۲۵۰
الترغیب والترھیب بحوالہ الطبرانی الترغیب فی صلوۃ الحاجۃ حدیث ا مصطفٰی البابی مصر ۱ /۲۷۴ تا ۲۷۶،مجمع الزوائد بحوالہ الطبرانی باب صلوۃ الحاجۃ دارالکتاب بیروت ۲ /۲۷۹
عمل الیوم واللیلۃ حدیث ۱۶۸ دائرۃ المعارف النعمانیہ ص ۴۷
الادب المفرد حدیث ۹۶۴ مکتبۃ الاثریۃ سانگلہ ص ۲۵۰
امام نووی شارح صحیح مسلم رحمۃ اﷲ تعالی نے کتاب الزکار میں اس کی مثل حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے نقل فرمایا کہ حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما کے پاس کسی آدمی کا پاؤں سوگیا تو عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما نے فرمایا:تو اس شخص کو یاد کر جو تمہیں سب سے زیادہ محبوب ہےتو اس نے یا محمداہ کہااچھا ہوگیا ۔اور یہ امر ان دو صحابیوں کے سوا اوروں سے بھی مروی ہوا۔اہل مدینہ میں قدیم سے اس یا محمداہ کہنے کی عادت چلی آتی ہے۔علامہ شہاب خفا جی مصری نسیم الریاض شرح شفاء امام قاضی عیاض میں فرماتے ہیں۔
ھذا مما تعاھدہاھل المدینۃ ۔ یہ اہل مدینہ کے معمولات میں سے ہے۔(ت)
حضرت بلال بن الحارث مزنی سے قحط عام الرمادہ میں کہ بعد خلافت فاروقی ۱۸ ھ میں واقع ہواان کی قوم بنی مزینہ نے درخواست کی کہ ہم مرے جاتے ہیں کوئی بکری ذبح کیجئے فرمایا بکریوں میں کچھ نہیں رہا ہےانہوں نے اصرا ر کیاآخر ذبح کیکھال کھینچی تو نری سرخ ہڈی نکلییہ دیکھ کر بلال رضی اﷲ تعالی عنہ نے ندا کی۔یا محمداہ پھر حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے خواب میں تشریف لا کر بشارت دی۔ذکرہ فی الکامل ۔(اس کو کامل میں ذکر کیا گیا۔ت)امام مجتہد فقیہ اجل عبد الرحمن ہذلی کو فی مسعودی کہ حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ کے پوتی اور اجلہ تبع تابعین و اکابر ائمہ مجتہدین سے ہیں سرپر بلند ٹوپی رکھتے جس میں لکھا تھا:محمد یا منصور "اور ظاہر ہے کہ "القلم احد اللسانین(قلم دو زبانوں میں سے ایك ہے۔ت) ہثیم بن جمیل انطا کہ ثقات علمائے محدثین سے ہیںانہیں امام اجل کی نسبت فرماتے ہیں:
رأیتہ وعلی رأسہ قلنسوتہ اطول من ذراع مکتوب فیہا محمد یا منصور ذکرہ فی تہذیب التہذیب وغیرہ ۔ میں نے ان کو دیکھا ان کے سر پر ہاتھ بھر سے لمبی ٹوپی تھی جس میں لکھا ہوا تھا۔محمد یا منصور۔اس کو تہذیب التہذیب وغیرہ میں ذکر کیا ہے۔ت)
امام شیخ الاسلام شہاب رملی انصاری کے فتاوی میں ہے:
سئل عما یقع من العامۃ من قولھم یعنی ان سے استفتاء ہوا کہ عام لوگ جو سختیوں
ھذا مما تعاھدہاھل المدینۃ ۔ یہ اہل مدینہ کے معمولات میں سے ہے۔(ت)
حضرت بلال بن الحارث مزنی سے قحط عام الرمادہ میں کہ بعد خلافت فاروقی ۱۸ ھ میں واقع ہواان کی قوم بنی مزینہ نے درخواست کی کہ ہم مرے جاتے ہیں کوئی بکری ذبح کیجئے فرمایا بکریوں میں کچھ نہیں رہا ہےانہوں نے اصرا ر کیاآخر ذبح کیکھال کھینچی تو نری سرخ ہڈی نکلییہ دیکھ کر بلال رضی اﷲ تعالی عنہ نے ندا کی۔یا محمداہ پھر حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے خواب میں تشریف لا کر بشارت دی۔ذکرہ فی الکامل ۔(اس کو کامل میں ذکر کیا گیا۔ت)امام مجتہد فقیہ اجل عبد الرحمن ہذلی کو فی مسعودی کہ حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ کے پوتی اور اجلہ تبع تابعین و اکابر ائمہ مجتہدین سے ہیں سرپر بلند ٹوپی رکھتے جس میں لکھا تھا:محمد یا منصور "اور ظاہر ہے کہ "القلم احد اللسانین(قلم دو زبانوں میں سے ایك ہے۔ت) ہثیم بن جمیل انطا کہ ثقات علمائے محدثین سے ہیںانہیں امام اجل کی نسبت فرماتے ہیں:
رأیتہ وعلی رأسہ قلنسوتہ اطول من ذراع مکتوب فیہا محمد یا منصور ذکرہ فی تہذیب التہذیب وغیرہ ۔ میں نے ان کو دیکھا ان کے سر پر ہاتھ بھر سے لمبی ٹوپی تھی جس میں لکھا ہوا تھا۔محمد یا منصور۔اس کو تہذیب التہذیب وغیرہ میں ذکر کیا ہے۔ت)
امام شیخ الاسلام شہاب رملی انصاری کے فتاوی میں ہے:
سئل عما یقع من العامۃ من قولھم یعنی ان سے استفتاء ہوا کہ عام لوگ جو سختیوں
حوالہ / References
الاذکار باب مایقولہ اذاخدرت رجلہ دارالکتاب العربی بیروت ص۲۷۱
نسیم الریاض شرح الشفاء فصل فیماروی عن السلف مرکز اہلسنت برکاتِ رضا گجرات ۳ /۳۵۵
الکامل فی التاریخ لابن الاثیر ذکر القحط وعام الرمادہ دارصادر بیروت ۲ /۵۵۶
میزان الاعتدال فی نقدالرجل ترجمہ ۴۹۰۷ دارالمعرفۃ للطباعۃ ۲ /۵۷۴
نسیم الریاض شرح الشفاء فصل فیماروی عن السلف مرکز اہلسنت برکاتِ رضا گجرات ۳ /۳۵۵
الکامل فی التاریخ لابن الاثیر ذکر القحط وعام الرمادہ دارصادر بیروت ۲ /۵۵۶
میزان الاعتدال فی نقدالرجل ترجمہ ۴۹۰۷ دارالمعرفۃ للطباعۃ ۲ /۵۷۴
عند الشدائد یا شیخ فلان ونحوذلك من الاستغاثۃ بالانبیاء والمرسلین والصالحین وھل للمشائخ اغاثۃ بعد موتھم ام لا فاجاب بما نصہان الاستغاثۃ بالانبیاء والمرسلین والاولیاء والعلماء الصالحین جائزۃ وللانبیا ء و للرسل والاولیاء والصالحین اغاثۃ بعد موتھم الخ ۔ کے وقت انبیاء و مرسلین واولیاء وصالحین سے فریاد کرتے اور یا شیخ فلاں(یارسول اﷲیا علییا شیخ عبدالقادر جیلانی)اور ان کی مثل کلمات کہتے ہیں یہ جائز ہے یا نہیں اور اولیاء بعد انتقال کے بھی مدد فرماتے ہیں یا نہیں انہوں نے جواب دیا کہ بے شك انبیاء و مرسلین واولیاء و علماء سے مدد مانگنی جائز ہے اور وہ بعد انتقال بھی امداد فرماتے ہیں۔الخ۔
علامہ خیر الدین رملی استاذ صاحب درمختارفتاوی خیر یہ میں فرماتے ہیں:
قولھم یا شیخ عبد القادر فہونداء فما الموجب الحرمتہ ۔ لوگوں کا کہنا کہ:یا شیخ عبدالقادر " یہ ایك ندا ہے پھر اس کی حرمت کا سبب کیا ہے۔
سیدی جمال بن عبداﷲ بن عمر مکی اپنے فتاوی میں فرماتے ہیں:
سئلت ممن یقول فی حال الشدائد یارسول اﷲ اویا علی اویا شیخ عبدالقادر مثلا ھل ھو جائز شرعا ام لا اجبت نعم الاستغاثۃ بالاولیاء ونداؤھم و التوسل بھم امر مشروع وشیئ مرغوب لاینکرہ الا مکابر اومعاند وقد حرم برکۃ الاولیاء الکرام الخ۔ یعنی مجھ سے سوال ہوا اس شخص کے بارے میں جو مصیبت کے وقت میں کہتا ہو یارسول اﷲ یا علی یا شیخ عبدالقادرمثلا آیا یہ شرعا جائز ہے یا نہیں میں نے جواب دیا:ہاں اولیاء سے مدد مانگنی اور انہیں پکارنا اور ان کے ساتھ توسل کرنا شروع میں جائز اور پسندیدہ چیز ہے جس کا انکار نہ کرے گا مگر ہٹ دھرم یا صاحب عناداور بےشك وہ اولیاء کرام کی برکت سے محروم ہے۔
امام ابن جوزی نے کتاب عیون الحکایات میں تین اولیائے عظام کا عظیم الشان واقعہ بسند مسلسل
علامہ خیر الدین رملی استاذ صاحب درمختارفتاوی خیر یہ میں فرماتے ہیں:
قولھم یا شیخ عبد القادر فہونداء فما الموجب الحرمتہ ۔ لوگوں کا کہنا کہ:یا شیخ عبدالقادر " یہ ایك ندا ہے پھر اس کی حرمت کا سبب کیا ہے۔
سیدی جمال بن عبداﷲ بن عمر مکی اپنے فتاوی میں فرماتے ہیں:
سئلت ممن یقول فی حال الشدائد یارسول اﷲ اویا علی اویا شیخ عبدالقادر مثلا ھل ھو جائز شرعا ام لا اجبت نعم الاستغاثۃ بالاولیاء ونداؤھم و التوسل بھم امر مشروع وشیئ مرغوب لاینکرہ الا مکابر اومعاند وقد حرم برکۃ الاولیاء الکرام الخ۔ یعنی مجھ سے سوال ہوا اس شخص کے بارے میں جو مصیبت کے وقت میں کہتا ہو یارسول اﷲ یا علی یا شیخ عبدالقادرمثلا آیا یہ شرعا جائز ہے یا نہیں میں نے جواب دیا:ہاں اولیاء سے مدد مانگنی اور انہیں پکارنا اور ان کے ساتھ توسل کرنا شروع میں جائز اور پسندیدہ چیز ہے جس کا انکار نہ کرے گا مگر ہٹ دھرم یا صاحب عناداور بےشك وہ اولیاء کرام کی برکت سے محروم ہے۔
امام ابن جوزی نے کتاب عیون الحکایات میں تین اولیائے عظام کا عظیم الشان واقعہ بسند مسلسل
حوالہ / References
فتاوٰی الرملی فی فروع الفقہ الشافعی مسائل شتّٰی دارالکتب العلمیہ بیروت۴ /۷۳۳
فتاوٰی خیریہ کتاب الکراھیۃ والاستحسان دارالمعرفۃ للطباعۃ بیروت۲ /۱۸۲
فتاوٰی جمال بن عبداﷲ بن عمر مکی
فتاوٰی خیریہ کتاب الکراھیۃ والاستحسان دارالمعرفۃ للطباعۃ بیروت۲ /۱۸۲
فتاوٰی جمال بن عبداﷲ بن عمر مکی
روایت کیا کہ وہ تین بھائی سوار ان دلاور ساکنان شام تھے کہ ہمیشہ راہ خدا میں جہاد کرتے:
فاسرہ الروم مرۃ قال لھم الملك انی اجعل فیکم الملك وازوجکم بناتی و تدخلون فی النصرانیۃ فابوا وقالوا یا محمداہ ۔ یعنی ایك بار نصاری روم انہیں قید کرکے لے گئے بادشاہ نے کہا میں تمہیں سلطنت دوں گا اور اپنی بیٹیاں تمہیں بیاہ دوں گا تم نصرانی ہوجاؤ۔انہوں نے نہ مانا اور ندا کی یا محمداہ۔
بادشاہ نے دیگوں میں تیل گرم کرا کر دو صاحبوں کو اس میں ڈال دیاتیسرے کو اﷲ تعالی نے ایك سبب پیدا فرما کر بچالیا۔وہ دونوں چھ مہینے کے بعد مع ایك جماعت ملائکہ کے بیداری میں ان کے پاس آئے اور فرمایا:اﷲ تعالی نے تمہاری شادی میں شریك ہونے کو بھیجا ہے انہوں نے حال پوچھا فرمایا:
ماکانت الا الغطسۃ التی رأیت حتی خرجنا فی الفردوس۔ بس وہی تیل کا ایك غوطہ تھا جو تم نے دیکھا اس کے بعد ہم جنت اعلی میں تھے۔
امام فرماتے ہیں:
کانا مشہورین بذلك معروفین بالشام فی الزمن الاول۔ یہ حضرات زمانہ سلف میں مشہور تھے اوران کا یہ واقعہ معروف۔
پھر فرمایا:شعراء نے ان کی منقبت میں قصیدے لکھےازانجملہ یہ بیت ہے
سیعطی الصادقین بفضل صدق نجاۃ فی الحیاۃ وفی الممات
قریب ہے کہ ا ﷲ تعالی سچے ایمان والوں کو ان کے سچ کی برکت سے حیات و موت میں نجات بخشے گا۔
یہ واقعہ عجیبنفس و روح پرور ہےمیں بخیال تطویل اسے مختصر کر گیاتمام و کمال امام جلال الدین سیوطی کی شرح الصدور میں ہے من شاء فلیرجع الیہ(جو تفصیل چاہتا ہے اس کی طرف رجوع کرے۔ت)یہاں مقصود اس قدر ہے کہ مصیبت میں "یارسول اﷲ " کہنا اگر شرك ہے تو مشرك کی مغفرت و شہادت کیسیاور جنت الفردوس میں جگہ پائی کیا معنےاور ان کی شادی میں
فاسرہ الروم مرۃ قال لھم الملك انی اجعل فیکم الملك وازوجکم بناتی و تدخلون فی النصرانیۃ فابوا وقالوا یا محمداہ ۔ یعنی ایك بار نصاری روم انہیں قید کرکے لے گئے بادشاہ نے کہا میں تمہیں سلطنت دوں گا اور اپنی بیٹیاں تمہیں بیاہ دوں گا تم نصرانی ہوجاؤ۔انہوں نے نہ مانا اور ندا کی یا محمداہ۔
بادشاہ نے دیگوں میں تیل گرم کرا کر دو صاحبوں کو اس میں ڈال دیاتیسرے کو اﷲ تعالی نے ایك سبب پیدا فرما کر بچالیا۔وہ دونوں چھ مہینے کے بعد مع ایك جماعت ملائکہ کے بیداری میں ان کے پاس آئے اور فرمایا:اﷲ تعالی نے تمہاری شادی میں شریك ہونے کو بھیجا ہے انہوں نے حال پوچھا فرمایا:
ماکانت الا الغطسۃ التی رأیت حتی خرجنا فی الفردوس۔ بس وہی تیل کا ایك غوطہ تھا جو تم نے دیکھا اس کے بعد ہم جنت اعلی میں تھے۔
امام فرماتے ہیں:
کانا مشہورین بذلك معروفین بالشام فی الزمن الاول۔ یہ حضرات زمانہ سلف میں مشہور تھے اوران کا یہ واقعہ معروف۔
پھر فرمایا:شعراء نے ان کی منقبت میں قصیدے لکھےازانجملہ یہ بیت ہے
سیعطی الصادقین بفضل صدق نجاۃ فی الحیاۃ وفی الممات
قریب ہے کہ ا ﷲ تعالی سچے ایمان والوں کو ان کے سچ کی برکت سے حیات و موت میں نجات بخشے گا۔
یہ واقعہ عجیبنفس و روح پرور ہےمیں بخیال تطویل اسے مختصر کر گیاتمام و کمال امام جلال الدین سیوطی کی شرح الصدور میں ہے من شاء فلیرجع الیہ(جو تفصیل چاہتا ہے اس کی طرف رجوع کرے۔ت)یہاں مقصود اس قدر ہے کہ مصیبت میں "یارسول اﷲ " کہنا اگر شرك ہے تو مشرك کی مغفرت و شہادت کیسیاور جنت الفردوس میں جگہ پائی کیا معنےاور ان کی شادی میں
حوالہ / References
شرح الصدور بحوالہ عیون الحکایات باب زیادۃ القبور و علم الموتی الخ خلافت اکیڈمی منگورہ سوات ص ۸۹
شرح الصدور بحوالہ عیون الحکایات باب زیادۃ القبور و علم الموتی الخ خلافت اکیڈمی منگورہ سوات ص ۹۰
شرح الصدور بحوالہ عیون الحکایات باب زیادۃ القبور و علم الموتی الخ خلافت اکیڈمی منگورہ سوات ص ۹۰
فرشتوں کو بھیجنا کیونکر معقول اور ان ائمہ دین نے یہ روایت کیونکر مقبول اور ان کی شہادت و ولایت کس وجہ سے مسلم رکھی۔اور وہ مردان خدا خود بھی سلف صالح میں تھے کہ واقعہ شہر طرطوس کی آبادی سے پہلے کا ہے "کما ذکرہ فی الروایۃ نفسہا"(جیسا کہ خود روایت میں ذکر کیا ہے۔ت)اور طرطوس ایك ثغر ہے یعنی دارالاسلام کی سرحد کا شہر جسے خلیفہ ہارون رشید نے آباد کیا "کما ذکرہ الامام السیوطی فی تاریخ الخلفاء"جیسا کہ امام جلال الدین سیوطی علیہ الرحمۃ نے تاریخ الخلفاء میں اس کاذکر کیا ہے۔ت)
ہارون رشید کا زمانہ زمانہ تابعین و تبع تابعین تھا تو یہ تینوں شہدائے کرام اگر تابعی نہ تھے لا اقل تبع تابعین سے تھے واﷲ الہادی (اور اﷲ ہی ہدایت دینے والا ہے۔ت)
حضور پرنور سیدنا غوث اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ ارشاد فرماتے ہیں:
من استغاث بی فی کربۃ کشفت عنہ و من نادی باسمی فی شدۃ فرجت عنہ من توسل بی الی اﷲ عزوجل فی حاجۃ قضیت لہ ومن صلی رکعتین یقرأفی کل رکعۃ بعد الفاتحۃ سورۃ اخلاص احدی عشرۃ مرۃ ثم یصلی علی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بعد السلام ویسلم علیہ ویذکر نی ثم یخطوالی جہۃ العراق احدی عشرۃ خطوۃ یذکرھا اسمی ویذکر حاجتہ فانہا تقضی باذن اﷲ ۔ یعنی جو کسی تکلیف میں مجھ سے فریاد کرے وہ تکلیف دفع ہواور جو کسی سختی میں میرا نام لے کر ندا کرے وہ سختی دور ہو اور جو کسی حاجت میں اﷲ تعالی کی طرف مجھ سے توسل کرے وہ حاجت بر آئے۔اور جو دو رکعت نماز ادا کرے ہر رکعت میں فاتحہ کے بعد سورہ اخلاص گیارہ بار پڑھے پھر سلام بھیجے اور مجھے یاد کرےپھر عراق شریف کی طرف گیارہ قدم چلے ان میں میرا نام لیتا جائے اور اپنی حاجت یاد کرے اس کی وہ حاجت روا ہو اﷲ کے اذن سے۔
ہارون رشید کا زمانہ زمانہ تابعین و تبع تابعین تھا تو یہ تینوں شہدائے کرام اگر تابعی نہ تھے لا اقل تبع تابعین سے تھے واﷲ الہادی (اور اﷲ ہی ہدایت دینے والا ہے۔ت)
حضور پرنور سیدنا غوث اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ ارشاد فرماتے ہیں:
من استغاث بی فی کربۃ کشفت عنہ و من نادی باسمی فی شدۃ فرجت عنہ من توسل بی الی اﷲ عزوجل فی حاجۃ قضیت لہ ومن صلی رکعتین یقرأفی کل رکعۃ بعد الفاتحۃ سورۃ اخلاص احدی عشرۃ مرۃ ثم یصلی علی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بعد السلام ویسلم علیہ ویذکر نی ثم یخطوالی جہۃ العراق احدی عشرۃ خطوۃ یذکرھا اسمی ویذکر حاجتہ فانہا تقضی باذن اﷲ ۔ یعنی جو کسی تکلیف میں مجھ سے فریاد کرے وہ تکلیف دفع ہواور جو کسی سختی میں میرا نام لے کر ندا کرے وہ سختی دور ہو اور جو کسی حاجت میں اﷲ تعالی کی طرف مجھ سے توسل کرے وہ حاجت بر آئے۔اور جو دو رکعت نماز ادا کرے ہر رکعت میں فاتحہ کے بعد سورہ اخلاص گیارہ بار پڑھے پھر سلام بھیجے اور مجھے یاد کرےپھر عراق شریف کی طرف گیارہ قدم چلے ان میں میرا نام لیتا جائے اور اپنی حاجت یاد کرے اس کی وہ حاجت روا ہو اﷲ کے اذن سے۔
حوالہ / References
شرح الصدور باب زیارۃ القبور مصطفٰی البابی مصر ص ۸۹
بہجۃ الاسرار ذکر فضل اصحابہ وبشراھم مصطفٰی البابی مصر ص ۱۰۲،زبدۃ الاسرار ذکر فضل اصحابہ ومریدیہ ومحبیہ بکسلنگ کمپنی بمبئی ص ۱۰۱
بہجۃ الاسرار ذکر فضل اصحابہ وبشراھم مصطفٰی البابی مصر ص ۱۰۲،زبدۃ الاسرار ذکر فضل اصحابہ ومریدیہ ومحبیہ بکسلنگ کمپنی بمبئی ص ۱۰۱
اکابر علمائے کرام و اولیائے عظام مثل امام ابوالحسن نور الدین علی بن جریر لخمی شطنوفی وامام عبداﷲ بن اسد یافعی مکیمولانا علی قاری مکی صاحب مرقاۃ شرح مشکوۃمولینا ابوالمعالی محمد سلمی قادری و شیخ محقق مولانا عبدالحق محدث دہلوی وغیرہم رحمۃ اﷲ علیہم اپنی تصانیف جلیلہ بہجۃ الاسرار و خلاصۃ المفاخر و نزہۃ الخاطر وتحفہ قادریہ وزبدۃ الآثار وغیرہا میں یہ کلمات رحمت آیات حضور غوث اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ سے نقل و روایت فرماتے ہیں۔
یہ امام ابوالحسن نور الدین علی مصنف بہجۃ الاسرار شریف اعاظم علماء وآئمۃ قراء ت و اکابر اولیاء وسادات طریقت سے ہیںحضور غوث الثقلین رضی اﷲ تعالی عنہ تك صرف دو واسطے رکھتے ہیںامام اجل حضرت ابوصالح نصر قدس سرہسے فیض حاصل کیا انہوں نے اپنے والد ماجد حضرت ابوبکر تاج الدین عبدالرزاق نور اﷲ مرقدہسے انہوں نے اپنے والد ماجد حضور پر نور سیدالسادات غوث اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ سے
شیخ محقق رحمۃ اﷲ تعالی علیہ زبدۃ الآثار شریف میں فرماتے ہیں:یہ کتاب بجۃ الاسرار کتاب عظیم و شریف و مشہور ہے اور اس کے مصنف علمائے قراء ت سے عالم معروف و مشہور اور ا ن کے احوال شریفہ عــــــہ کتابوں میں مذکور و مسطور ۔
امام شمس الدین ذہبی کہ علم حدیث و اسماء الرجال میں جن کی جلالت شان عالم آشکار اس جنا ب کی مجلس درس میں حاضر ہوئے اور اپنی کتاب طبقات المقرئین میں ان کے مدائح لکھے۔
امام محدث محمد بن محمد بن الجزری مصنف حصن حصین اس جناب کے سلسلہ تلامذہ میں ہیں انہوں نے یہ کتاب مسطاب بہجۃ الاسرار شریف اپنے شیخ سے پڑھی اور اس کی سند و اجازت حاصل کی ۔
ان سب باتوں کی تفصیل اور اس نماز مبارك کا دلائل شرعیہ و اقوال وافعال علماء وا ولیاء سے ثبوت جلیل فقیر غفر اﷲ تعالی لہکے رسالہ انہار الانوار من یم صلوۃ الاسرار میں ہے۔
فعلیك بما تجدفیہا مایشفی الصدور اس رسالہ کا مطالعہ تجھ پر لازم ہے اس میں تو
عــــــہ:اما م جلال الدین سیوطی نے ان جناب کو الامام الاوحد لکھا یعنی امام یکتا بے نظیر ۱۲ منہ۔
یہ امام ابوالحسن نور الدین علی مصنف بہجۃ الاسرار شریف اعاظم علماء وآئمۃ قراء ت و اکابر اولیاء وسادات طریقت سے ہیںحضور غوث الثقلین رضی اﷲ تعالی عنہ تك صرف دو واسطے رکھتے ہیںامام اجل حضرت ابوصالح نصر قدس سرہسے فیض حاصل کیا انہوں نے اپنے والد ماجد حضرت ابوبکر تاج الدین عبدالرزاق نور اﷲ مرقدہسے انہوں نے اپنے والد ماجد حضور پر نور سیدالسادات غوث اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ سے
شیخ محقق رحمۃ اﷲ تعالی علیہ زبدۃ الآثار شریف میں فرماتے ہیں:یہ کتاب بجۃ الاسرار کتاب عظیم و شریف و مشہور ہے اور اس کے مصنف علمائے قراء ت سے عالم معروف و مشہور اور ا ن کے احوال شریفہ عــــــہ کتابوں میں مذکور و مسطور ۔
امام شمس الدین ذہبی کہ علم حدیث و اسماء الرجال میں جن کی جلالت شان عالم آشکار اس جنا ب کی مجلس درس میں حاضر ہوئے اور اپنی کتاب طبقات المقرئین میں ان کے مدائح لکھے۔
امام محدث محمد بن محمد بن الجزری مصنف حصن حصین اس جناب کے سلسلہ تلامذہ میں ہیں انہوں نے یہ کتاب مسطاب بہجۃ الاسرار شریف اپنے شیخ سے پڑھی اور اس کی سند و اجازت حاصل کی ۔
ان سب باتوں کی تفصیل اور اس نماز مبارك کا دلائل شرعیہ و اقوال وافعال علماء وا ولیاء سے ثبوت جلیل فقیر غفر اﷲ تعالی لہکے رسالہ انہار الانوار من یم صلوۃ الاسرار میں ہے۔
فعلیك بما تجدفیہا مایشفی الصدور اس رسالہ کا مطالعہ تجھ پر لازم ہے اس میں تو
عــــــہ:اما م جلال الدین سیوطی نے ان جناب کو الامام الاوحد لکھا یعنی امام یکتا بے نظیر ۱۲ منہ۔
حوالہ / References
زبدۃ الاثار بکسلنگ کمپنی بمبئی ص ۲
زبدۃ الاثار بکسلنگ کمپنی بمبئی ص ۲
زبدۃ الاثار بکسلنگ کمپنی بمبئی ص ۲
ویکشف العمی والحمدﷲ رب العلمین۔ وہ کچھ پائے گا جو دلوں کو شفا دیتا ہے اور اندھا پن کو دور کرتا ہی اور سب تعریفیں اﷲ تعالی کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔(ت)
امام عارف باﷲ سیدی عبدالوہاب شعرانی قدس سرہ ربانی کتاب مستطاب"لوا قح الانوار فی طبقات الاخیار" میں فرماتے ہیں:سیدی محمد غمری رضی اﷲ تعالی عنہ کے ایك مرید بازار میں تشریف لیے جاتے تھے ان کے جانور کا پاؤں پھسلاباآواز پکارا یا سیدی محمد یا غمریادھر ابن عمر حاکم صعید کو بحکم سلطان چقمق قید کیے لیے جاتے تھےابن عمر نے فقیر کا نداء کرنا سناپوچھا یہ سیدی محمد کون ہیں کہا میرے شیخ کہا میں ذلیل بھی کہتا ہوںیا سیدی یا غمری لاحظنی اے میرے سردار اے محمد غمری ! مجھ پر نظر عنایت کروان کا یہ کہنا کہ حضرت سیدی محمد غمری رضی اﷲ تعالی عنہ تشریف لائے اور مدد فرمائی کہ بادشاہ اور اس کے لشکریوں کی جان پر بن گئیمجبورانہ ابن عمر کو خلعت دے کر رخصت کیا ۔
اسی میں ہے:سیدی شمس الدین محمد حنفی رضی اﷲ تعالی عنہ اپنے حجرہ خلوت میں وضو فرمارہے تھے ناگاہ ایك کھڑاؤں ہوا پر پھینکی کے غائب ہوگئی حالانکہ حجرے میں کوئی راہ اس کے ہوا پر جانے کی نہ تھی۔دوسری کھڑاؤں اپنے خادم کو عطا فرمائی کہ اسے اپنے پاس رہنے دے جب تك وہ پہلی واپس آئےایك مدت کے بعد ملك شام سے ایك شخص وہ کھڑاؤں مع اور ہدایا کے حاضر لایا اور عرض کی کہ اﷲ تعالی حضرت کو جزائے خیر دی جب چور میرے سینہ پر مجھے ذبح کرنے بیٹھا میں نے اپنے دل میں کہا۔"یاسیدی محمد یا حنفی"اسی وقت یہ کھڑاؤں غیب سے آکر اس کے سینہ پر لگی کہ غش کھا کر الٹا ہوگیا اور مجھے یہ برکت حضرت اﷲ عزوجل نے نجات بخشی ۔
امام عارف باﷲ سیدی عبدالوہاب شعرانی قدس سرہ ربانی کتاب مستطاب"لوا قح الانوار فی طبقات الاخیار" میں فرماتے ہیں:سیدی محمد غمری رضی اﷲ تعالی عنہ کے ایك مرید بازار میں تشریف لیے جاتے تھے ان کے جانور کا پاؤں پھسلاباآواز پکارا یا سیدی محمد یا غمریادھر ابن عمر حاکم صعید کو بحکم سلطان چقمق قید کیے لیے جاتے تھےابن عمر نے فقیر کا نداء کرنا سناپوچھا یہ سیدی محمد کون ہیں کہا میرے شیخ کہا میں ذلیل بھی کہتا ہوںیا سیدی یا غمری لاحظنی اے میرے سردار اے محمد غمری ! مجھ پر نظر عنایت کروان کا یہ کہنا کہ حضرت سیدی محمد غمری رضی اﷲ تعالی عنہ تشریف لائے اور مدد فرمائی کہ بادشاہ اور اس کے لشکریوں کی جان پر بن گئیمجبورانہ ابن عمر کو خلعت دے کر رخصت کیا ۔
اسی میں ہے:سیدی شمس الدین محمد حنفی رضی اﷲ تعالی عنہ اپنے حجرہ خلوت میں وضو فرمارہے تھے ناگاہ ایك کھڑاؤں ہوا پر پھینکی کے غائب ہوگئی حالانکہ حجرے میں کوئی راہ اس کے ہوا پر جانے کی نہ تھی۔دوسری کھڑاؤں اپنے خادم کو عطا فرمائی کہ اسے اپنے پاس رہنے دے جب تك وہ پہلی واپس آئےایك مدت کے بعد ملك شام سے ایك شخص وہ کھڑاؤں مع اور ہدایا کے حاضر لایا اور عرض کی کہ اﷲ تعالی حضرت کو جزائے خیر دی جب چور میرے سینہ پر مجھے ذبح کرنے بیٹھا میں نے اپنے دل میں کہا۔"یاسیدی محمد یا حنفی"اسی وقت یہ کھڑاؤں غیب سے آکر اس کے سینہ پر لگی کہ غش کھا کر الٹا ہوگیا اور مجھے یہ برکت حضرت اﷲ عزوجل نے نجات بخشی ۔
حوالہ / References
لوا قح الانوار فی طبقات الاخیار ترجمہ ۳۲۴ الشیخ محمد الغمری مصطفٰی البابی مصر ۲ /۸۸
لواقح الانوار فی طبقات الاخیار ترجمہ ۳۲۵ سیدنا و مولانا شمس الدین حنفی مصطفٰی البابی مصر ۲ /۹۵
لواقح الانوار فی طبقات الاخیار ترجمہ ۳۲۵ سیدنا و مولانا شمس الدین حنفی مصطفٰی البابی مصر ۲ /۹۵
اسی میں ہے:
ولی ممدوح قدس سرہ کی زوجہ مقدسہ بیماری سے قریب مرگ ہوئیں تو وہ یوں نداکرتی تھیں:"یاسیدی احمد یا بدوی خاطرك معی"اے میرے سردار اے احمد بدوی ! حضرت کی توجہ میرے ساتھ ہے۔ایك دن حضرت سیدی احمد کبیر بدوی رضی اﷲ تعالی عنہ کو خواب میں دیکھا کہ فرماتے ہیںکب تك مجھے پکارے گی اور مجھ سے فریاد کرے گی تو جانتی نہیں کہ تو ایك بڑے صاحب تمکین(یعنی اپنے شوہر)کی حمایت میں ہےاور جو کسی ولی کبیر کی درگاہ میں ہوتا ہے ہم اس کی نداء پر اجابت نہیں کرتےیوں کہہ یا سیدی محمد یا حنفی کہ یہ کہے گی تو اﷲ تعالی تجھے عافیت بخشے گا۔ان بی بی نے یونہی کہاصبح کو خاصی تندرست اٹھیںگویا کبھی مرض نہ تھا ۔اسی میں ہے حضرت ممدوح رضی اﷲ تعالی عنہ اپنے مرض موت میں فرماتے تھے۔
من کانت حاجۃ فلیأت الی قبری و یطلب حاجتہ اقضہالہ فان مابینی وبینکم غیر ذراع من تراب وکل رجل یحجبہ عن اصحبہ ذراع من تراب فلیس برجل ۔ جسے کوئی حاجت ہو وہ میری قبر پر حاضر ہو کر حاجت مانگے میں روا فرمادوں گا کہ مجھ میں تم میں یہی ہاتھ بھر مٹی ہی تو حائل ہے اور جس مرد کو اتنی مٹی اپنے اصحاب سے حجاب میں کردے وہ مرد کا ہے کا۔
اسی طرح حضرت سیدی محمد بن احمد فرغل رضی اﷲ تعالی عنہ کے احوال شریفہ میں لکھا:
کان رضی اﷲ تعالی عنہ یقول انا من المتصرفین فی قبورھم فمن کانت لہ حاجۃ فلیأت الی قبالۃ وجھی ویذکرھا لی اقضہالہ ۔ فرمایا کرتے تھے میں ان میں ہوں جو اپنی قبور میں تصرف فرماتے ہیں جسے کوئی حاجت ہو میرے پاس میرے چہرہ مبارك کے سامنے حاضر ہو کر مجھ سے اپنی حاجت کہے میں روا فرمادوں گا۔
اسی میں ہے:
مروی ہوا ایك بار حضرت سیدی مدین بن احمد اشمونی رضی اﷲ تعالی عنہ نے وضو
ولی ممدوح قدس سرہ کی زوجہ مقدسہ بیماری سے قریب مرگ ہوئیں تو وہ یوں نداکرتی تھیں:"یاسیدی احمد یا بدوی خاطرك معی"اے میرے سردار اے احمد بدوی ! حضرت کی توجہ میرے ساتھ ہے۔ایك دن حضرت سیدی احمد کبیر بدوی رضی اﷲ تعالی عنہ کو خواب میں دیکھا کہ فرماتے ہیںکب تك مجھے پکارے گی اور مجھ سے فریاد کرے گی تو جانتی نہیں کہ تو ایك بڑے صاحب تمکین(یعنی اپنے شوہر)کی حمایت میں ہےاور جو کسی ولی کبیر کی درگاہ میں ہوتا ہے ہم اس کی نداء پر اجابت نہیں کرتےیوں کہہ یا سیدی محمد یا حنفی کہ یہ کہے گی تو اﷲ تعالی تجھے عافیت بخشے گا۔ان بی بی نے یونہی کہاصبح کو خاصی تندرست اٹھیںگویا کبھی مرض نہ تھا ۔اسی میں ہے حضرت ممدوح رضی اﷲ تعالی عنہ اپنے مرض موت میں فرماتے تھے۔
من کانت حاجۃ فلیأت الی قبری و یطلب حاجتہ اقضہالہ فان مابینی وبینکم غیر ذراع من تراب وکل رجل یحجبہ عن اصحبہ ذراع من تراب فلیس برجل ۔ جسے کوئی حاجت ہو وہ میری قبر پر حاضر ہو کر حاجت مانگے میں روا فرمادوں گا کہ مجھ میں تم میں یہی ہاتھ بھر مٹی ہی تو حائل ہے اور جس مرد کو اتنی مٹی اپنے اصحاب سے حجاب میں کردے وہ مرد کا ہے کا۔
اسی طرح حضرت سیدی محمد بن احمد فرغل رضی اﷲ تعالی عنہ کے احوال شریفہ میں لکھا:
کان رضی اﷲ تعالی عنہ یقول انا من المتصرفین فی قبورھم فمن کانت لہ حاجۃ فلیأت الی قبالۃ وجھی ویذکرھا لی اقضہالہ ۔ فرمایا کرتے تھے میں ان میں ہوں جو اپنی قبور میں تصرف فرماتے ہیں جسے کوئی حاجت ہو میرے پاس میرے چہرہ مبارك کے سامنے حاضر ہو کر مجھ سے اپنی حاجت کہے میں روا فرمادوں گا۔
اسی میں ہے:
مروی ہوا ایك بار حضرت سیدی مدین بن احمد اشمونی رضی اﷲ تعالی عنہ نے وضو
حوالہ / References
لواقح الانوار فی طبقات الاخیار ترجمہ ۳۲۵ سیدنا ومولٰنا شمس الدین الحنفی مصطفٰی البابی مصر ۲ /۹۶
لواقح الانوار فی طبقات الاخیار ترجمہ ۳۲۵ سیدنا ومولٰنا شمس الدین الحنفی مصطفٰی البابی مصر ۲ /۹۶
الو قح الانوار فی طبقا ت الاخیار ترجمہ ۳۲۹ الشیخ محمد بن احمد الفرغل مصطفٰی البابی مصر ۲ /۱۰۵
لواقح الانوار فی طبقات الاخیار ترجمہ ۳۲۵ سیدنا ومولٰنا شمس الدین الحنفی مصطفٰی البابی مصر ۲ /۹۶
الو قح الانوار فی طبقا ت الاخیار ترجمہ ۳۲۹ الشیخ محمد بن احمد الفرغل مصطفٰی البابی مصر ۲ /۱۰۵
فر ماتے ہیں ایك کھڑاؤں بلاد مشرق کی طرف پھینکیسال بھر کے بعد ایك شخص حاضر ہوئے اور وہ کھڑاؤں ان کے پاس تھی انہوں نے حال عرض کیا کہ جنگل میں ایك بدوضع نے ان کی صاحبزادی پر دست درازی چاہیلڑکی کو اس وقت اپنے باپ کے پیرو مرشد حضرت سیدی مدین کا نام معلوم نہ تھا یوں ندا کی " یا شیخ ابی لاحظنی " اے میرے باپ کے پیر مجھے بچائیےیہ ندا کرتے ہی وہ کھڑاؤں آئی لڑکی نے نجات پائی وہ کھڑاؤں ان کی اولاد میں اب تك موجود ہے ۔ اسی میں سیدی موسی ابو عمران رحمہ اﷲ تعالی کے ذکر میں لکھتے ہیں:
کان اذا ناداہ مریدہاجابہ من مسیرۃ سنۃ اواکثر ۔ جب ان کا مرید جہاں کہیں سے انہیں نداء کرتا جواب دیتے اگرچہ سال بھر کی راہ پر ہوتا یا اس سے بھی زائد۔
حضرت شیخ محقق مولانا عبدالحق محدث دہلوی اخبار الاخیار شریف میں ذکر مبارك حضرت سید اجل شیخ بہاء الحق والدین بن ابراہیم عطا ء اﷲ الانصاری القادری الشطاری الحسینی رضی اﷲ تعالی عنہ میں حضرت ممدوح کے رسالہ مبارکہ شطاریہ سے نقل فرماتے ہیں:
ذکر کشف ارواح یا احمد یا محمد در دو طریق ستیك طریق آنست یا احمد را در راستابگوید و یا محمد را درچپا بگوید و دردل ضرب کند یا رسول اﷲ طریق دوم آنست کہ یا احمد را در راستا گوید وچپا یا محمد و در دل و ہم کندیا مصطفی دیگر ذکر یا احمد یا محمد یا علی یا حسن یا حسین یا فاطمہ شش طرفی ذکر کندکشف جمیع ارواح شود دیگر اسمائے کشف ارواح کے ذکریا احمد و یا محمد میں دو طریقے ہیں پہلا طریقہ یہ ہے کہ یا احمد دائیں طرف اور یا محمد بائیں طرف سے کہتے ہوئے دل پر یارسول اﷲ کی ضرب لگائے دوسرا طریقہ یہ ہے کہ یا احمد دائیں طرف اور یا محمد بائیں طرف سے کہتے ہوئے دل میں یا مصطفی کا خیال جمائے۔اس کے علاوہ دیگر اذکار یا محمدیا احمدیا علییا حسنیا حسینیا فاطمہ کا چھ طرفی ذکر کرنے سے
کان اذا ناداہ مریدہاجابہ من مسیرۃ سنۃ اواکثر ۔ جب ان کا مرید جہاں کہیں سے انہیں نداء کرتا جواب دیتے اگرچہ سال بھر کی راہ پر ہوتا یا اس سے بھی زائد۔
حضرت شیخ محقق مولانا عبدالحق محدث دہلوی اخبار الاخیار شریف میں ذکر مبارك حضرت سید اجل شیخ بہاء الحق والدین بن ابراہیم عطا ء اﷲ الانصاری القادری الشطاری الحسینی رضی اﷲ تعالی عنہ میں حضرت ممدوح کے رسالہ مبارکہ شطاریہ سے نقل فرماتے ہیں:
ذکر کشف ارواح یا احمد یا محمد در دو طریق ستیك طریق آنست یا احمد را در راستابگوید و یا محمد را درچپا بگوید و دردل ضرب کند یا رسول اﷲ طریق دوم آنست کہ یا احمد را در راستا گوید وچپا یا محمد و در دل و ہم کندیا مصطفی دیگر ذکر یا احمد یا محمد یا علی یا حسن یا حسین یا فاطمہ شش طرفی ذکر کندکشف جمیع ارواح شود دیگر اسمائے کشف ارواح کے ذکریا احمد و یا محمد میں دو طریقے ہیں پہلا طریقہ یہ ہے کہ یا احمد دائیں طرف اور یا محمد بائیں طرف سے کہتے ہوئے دل پر یارسول اﷲ کی ضرب لگائے دوسرا طریقہ یہ ہے کہ یا احمد دائیں طرف اور یا محمد بائیں طرف سے کہتے ہوئے دل میں یا مصطفی کا خیال جمائے۔اس کے علاوہ دیگر اذکار یا محمدیا احمدیا علییا حسنیا حسینیا فاطمہ کا چھ طرفی ذکر کرنے سے
حوالہ / References
الو قح الانوار فی طبقا ت الاخیار ترجمہ ۳۲۶ الشیخ محمد بن احمد الفرغل مصطفٰی البابی مصر ۲ /۱۰۲
الو قح الانوار فی طبقا ت الاخیار ترجمہ ۳۱۳ الشیخ محمد بن احمد الفرغل مصطفٰی البابی مصر ۲ /۲۱
الو قح الانوار فی طبقا ت الاخیار ترجمہ ۳۱۳ الشیخ محمد بن احمد الفرغل مصطفٰی البابی مصر ۲ /۲۱
ملائکہ مقرب ہمیں تاثیر دارند یا جبریلیا میکائیل یا اسرافیل یا عزرائیل چہار ضربیدیگر ذکر اسم شیخ یعنی بگوید یا شیخ یا شیخ ہزار بار بگوید کہ حرف نداء را ازدل بکشدطرف راستابرد و لفظ شیخ را در دل ضرب کند ۔ تمام ارواح کا کشف حاصل ہوجاتا ہے۔مقرب فرشتوں کے ناموں کا ذکر بھی تاثیر رکھتا ہےیا جبرائیلیا میکائیلیا اسرافیلیا عزرائیل کا چار ضربی ذکر کرےنیز اسم شیخ کا ذکر کرتے ہوئے یا شیخ یا شیخ ہزار بار اس طرح کرے کہ حرف ندا کو دل سے کھینچتے ہوئے دائیں طرف لے جائے اور لفظ شیخ سے دل پر ضرب لگائے۔(ت)
حضرت سیدی نور الدین عبدالرحمن مولانا جامی قدس سرہ السامی نفحات الانس شریف میں حضرت مولوی معنوی قدس سرہ العلی کے حالات میں لکھتے ہیں کہ مولانا روح اﷲ روحہنے قریب انتقال ارشاد فرمایا:
ازرفتین من غمناك مشوید کہ نور منصور رحمۃ اﷲ تعالی بعد ازصدو پنجاہ سال برروح شیخ فرید الدین عطار رحمہ اﷲ تعالی تجلی کردو مرشد او شد ۔ ہمارے جانے سے غمگین مت ہوں کہ حضرت منصور علیہ الرحمہ کا نور ایك سو پچاس سال بعد شیخ فرید الدین عطار کی روح پر تجلی کرتے ہوئے ان کا مرشد ہوگیا۔(ت)
اور فرمایا:
درہرحالتے کہ باشید مرا یاد کنید تامن شمارا ممدباشم درہرلبا سے کہ باشم ۔ تم جس حالت میں رہو مجھے یاد کرو تاکہ میں تمہارا مددگار بنوں میں چاہے جس لباس میں ہوں۔(ت)
اور فرمایا:
در عالم مارا دو تعلق ستیکے بہ بدن و یکے بشماو چوں بہ عنایت حق سبحانہ و تعالی فردومجرد شوم و دنیا میں ہمارےدو تعلق ہیں ایك بدن کے ساتھ اور دوسرا تمہارے ساتھجب حق تعالی کی عنایت سے میں فرد و مجرد ہوجاؤں گا اور عالم
حضرت سیدی نور الدین عبدالرحمن مولانا جامی قدس سرہ السامی نفحات الانس شریف میں حضرت مولوی معنوی قدس سرہ العلی کے حالات میں لکھتے ہیں کہ مولانا روح اﷲ روحہنے قریب انتقال ارشاد فرمایا:
ازرفتین من غمناك مشوید کہ نور منصور رحمۃ اﷲ تعالی بعد ازصدو پنجاہ سال برروح شیخ فرید الدین عطار رحمہ اﷲ تعالی تجلی کردو مرشد او شد ۔ ہمارے جانے سے غمگین مت ہوں کہ حضرت منصور علیہ الرحمہ کا نور ایك سو پچاس سال بعد شیخ فرید الدین عطار کی روح پر تجلی کرتے ہوئے ان کا مرشد ہوگیا۔(ت)
اور فرمایا:
درہرحالتے کہ باشید مرا یاد کنید تامن شمارا ممدباشم درہرلبا سے کہ باشم ۔ تم جس حالت میں رہو مجھے یاد کرو تاکہ میں تمہارا مددگار بنوں میں چاہے جس لباس میں ہوں۔(ت)
اور فرمایا:
در عالم مارا دو تعلق ستیکے بہ بدن و یکے بشماو چوں بہ عنایت حق سبحانہ و تعالی فردومجرد شوم و دنیا میں ہمارےدو تعلق ہیں ایك بدن کے ساتھ اور دوسرا تمہارے ساتھجب حق تعالی کی عنایت سے میں فرد و مجرد ہوجاؤں گا اور عالم
حوالہ / References
اخبار الاخبار ترجمہ شیخ بہاؤ الدین ابراہیم عطاء اﷲ انصاری مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ص۱۹۹،نفحات الانس ترجمہ مولانا جلال الدین رومی،کتاب فروشی محمودی ص ۴۶۲ و ۴۶۳
نفحات الانس ترجمہ مولانا جلال الدین رومی،کتاب فروشی محمودی ص ۴۶۲ و ۴۶۳
نفحات الانس ترجمہ مولانا جلال الدین رومی،کتاب فروشی محمودی ص ۴۶۲ و ۴۶۳
نفحات الانس ترجمہ مولانا جلال الدین رومی،کتاب فروشی محمودی ص ۴۶۲ و ۴۶۳
نفحات الانس ترجمہ مولانا جلال الدین رومی،کتاب فروشی محمودی ص ۴۶۲ و ۴۶۳
عالم تجرید و تفرید روئے نماید آں تعلق نیز ازآں شما خواہد بود ۔ تفرید و تجرید ظاہر ہوجائے گا تو یہ تعلق بھی تمہارے لیے ہوگا۔(ت)
شا ہ ولی اﷲ صاحب دہلوی اطیب النغم فی مدح سیدالعرب والعجم میں لکھتے ہیں۔
وصلی علیك اﷲ یا خیر خلقہ ویاخیرمامول ویاخیر واھب
ویاخیرمن یرجی لکشف رزیۃ ومن جودہقد فاق جودالسحائب
وانت مجیری من ھجوم ملمۃ اذا انشبت فی القلب شر المخالب
اور خود اس کی شرح وترجمہ میں کہتے ہیں:
(فصل یازدہم در ابتہال بجناب آنحضرت صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم)رحمت فرستد برتو خدائے تعالی اے بہترین خلق خدا واے بہترین کسیکہ امید داشتہ شوداے بہترین عطا کنندہ وائے بہترین کسیکہ امیدداشتہ باشد برائے ازالہ مصیبتے واے بہترین کسیکہ سخاوت او زیادہ است از باراںبارہا گواہی میدہم کہ تو پناہ دہندہ منی از ہجوم کردن مصیبتے وقتے کہ بخلاند در دل بدترین چنگالہارا اھ ملخصا (گیارھویں فصل حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی بارگاہ میں عاجزانہ فریاد کے بارے میں)اے خلق خدا سے بہتر! آپ پر اﷲ تعالی درود بھیجےاے بہترین شخص جس سے امید کی جاتی ہے اور اے بہترین عطا کرنے والے اے بہترین شخص کہ مصیبت کو دور کرنے میں جس سے امید رکھی جاتی ہےاور جس کی سخاوت بارش پر فوقیت رکھتی ہے۔آپ ہی مجھے مصیبتوں کے ہجوم سے پناہ دینے والے ہیں جب وہ میرے دل میں بدترین پنجے گاڑتی ہیں۔(ت)
اسی کے شروع میں لکھتے ہیں:
ذکر بعد حوادث زماں کہ دراں حوادث لابدست ازاستمدا د بروح آنحضرت صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ۔ بعض حوادث زمانہ کا ذکرجن حوادث میں حضور انور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی روح اقدس سے مدد طلب کرنا ضروری ہے۔ت)
شا ہ ولی اﷲ صاحب دہلوی اطیب النغم فی مدح سیدالعرب والعجم میں لکھتے ہیں۔
وصلی علیك اﷲ یا خیر خلقہ ویاخیرمامول ویاخیر واھب
ویاخیرمن یرجی لکشف رزیۃ ومن جودہقد فاق جودالسحائب
وانت مجیری من ھجوم ملمۃ اذا انشبت فی القلب شر المخالب
اور خود اس کی شرح وترجمہ میں کہتے ہیں:
(فصل یازدہم در ابتہال بجناب آنحضرت صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم)رحمت فرستد برتو خدائے تعالی اے بہترین خلق خدا واے بہترین کسیکہ امید داشتہ شوداے بہترین عطا کنندہ وائے بہترین کسیکہ امیدداشتہ باشد برائے ازالہ مصیبتے واے بہترین کسیکہ سخاوت او زیادہ است از باراںبارہا گواہی میدہم کہ تو پناہ دہندہ منی از ہجوم کردن مصیبتے وقتے کہ بخلاند در دل بدترین چنگالہارا اھ ملخصا (گیارھویں فصل حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی بارگاہ میں عاجزانہ فریاد کے بارے میں)اے خلق خدا سے بہتر! آپ پر اﷲ تعالی درود بھیجےاے بہترین شخص جس سے امید کی جاتی ہے اور اے بہترین عطا کرنے والے اے بہترین شخص کہ مصیبت کو دور کرنے میں جس سے امید رکھی جاتی ہےاور جس کی سخاوت بارش پر فوقیت رکھتی ہے۔آپ ہی مجھے مصیبتوں کے ہجوم سے پناہ دینے والے ہیں جب وہ میرے دل میں بدترین پنجے گاڑتی ہیں۔(ت)
اسی کے شروع میں لکھتے ہیں:
ذکر بعد حوادث زماں کہ دراں حوادث لابدست ازاستمدا د بروح آنحضرت صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ۔ بعض حوادث زمانہ کا ذکرجن حوادث میں حضور انور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی روح اقدس سے مدد طلب کرنا ضروری ہے۔ت)
حوالہ / References
نفحات الانس ترجمہ مولانا جلال الدین الرومی کتاب فروشی محمودی ص ۴۶۲و ۴۶۳
اطیب النغم فی مدح سید العرب والعجم فصل یازدہم مجتبائی دہلی ص ۲۲
اطیب النغم فی مدح سید العرب والعجم فصل یازدہم مجتبائی دہلی ص ۲۲
اطیب النغم فی مدح سید العرب والعجم فصل اول مجتبائی دہلی ص ۲
اطیب النغم فی مدح سید العرب والعجم فصل یازدہم مجتبائی دہلی ص ۲۲
اطیب النغم فی مدح سید العرب والعجم فصل یازدہم مجتبائی دہلی ص ۲۲
اطیب النغم فی مدح سید العرب والعجم فصل اول مجتبائی دہلی ص ۲
اسی کی فصل اول میں لکھتے ہیں:
بہ نظرنمی آیدمرامگر آنحضرت صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کہ جائے دست زدن اندوہگین ست در ہرشد تے ۔ مجھے حضور انور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے سوا کوئی نظر نہیں آتا کیونکہ ہر سختی میں غمزدوں کی پناہ گاہ آپ ہی ہیں۔(ت)
یہی شاہ صاحب قصیدہ " مدحیہ حمزیہ" میں لکھتے ہیں:
ینادی ضارعا لخضوع قلب وذل وابتھال والتجاء
رسول اﷲ یا خیرالبرایا نوالك ابتغی یوم القضاء
اذا ما حل خطب مدلھم فانت الحصن من کل البلاء
الیك توجھی وبك استنادی وفیك مطامعی وبك ارتجائی
اور خود ہی اس کی شرح و ترجمہ میں لکھتے ہیں:
فصل شمشم درمخاطبہ جناب عالی علیہ افضل الصلوات واکمل التحیات والتسلیمات ندا کند زادوخوارشدہ بشکستگی دل و اظہار بے قدری خود بہ اخلاص درمناجات و بہ پناہ گرفتن بایں طریق کہ اے رسول خدا اے بہترین مخلوقات عطائے مے خواہم روز فیصل کردنوقتے کہ فرود آید کار عظیم درغایت تاریکی پس توئی پناہ ازہر بلا بسوئے تست رو آوردن من و بہ تست پناہ گرفتن من و درتست امید داشتن من اھ ملخصا " چھٹی فصل عالی مرتبت سرور عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو پکارنے کے بیان میں۔آپ پر بہترین درود اور کامل ترین سلام ہو۔ذلیل و خوار شخص شکستہ دلذلت و رسوائی عجزو انکسار کے ساتھ پناہ طلب کرتے ہوئے یوں پکارتا ہےاے اﷲ تعالی کے رسولاے بہترین خلق ! میں فیصلے کے دن آپ کی عطا کا طلبگار ہوںجب انتہائی اندھیرے میں بہت بڑی مصیبت نازل ہو تو ہر بلائیں پناہ گاہ تو ہی ہے۔میری توجہ تیری طرف ہےتجھ ہی سے میں پناہ لیتا ہوںتجھ ہی سے طمع و امید رکھتا ہوں اھ ملخصا(ت)
بہ نظرنمی آیدمرامگر آنحضرت صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کہ جائے دست زدن اندوہگین ست در ہرشد تے ۔ مجھے حضور انور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے سوا کوئی نظر نہیں آتا کیونکہ ہر سختی میں غمزدوں کی پناہ گاہ آپ ہی ہیں۔(ت)
یہی شاہ صاحب قصیدہ " مدحیہ حمزیہ" میں لکھتے ہیں:
ینادی ضارعا لخضوع قلب وذل وابتھال والتجاء
رسول اﷲ یا خیرالبرایا نوالك ابتغی یوم القضاء
اذا ما حل خطب مدلھم فانت الحصن من کل البلاء
الیك توجھی وبك استنادی وفیك مطامعی وبك ارتجائی
اور خود ہی اس کی شرح و ترجمہ میں لکھتے ہیں:
فصل شمشم درمخاطبہ جناب عالی علیہ افضل الصلوات واکمل التحیات والتسلیمات ندا کند زادوخوارشدہ بشکستگی دل و اظہار بے قدری خود بہ اخلاص درمناجات و بہ پناہ گرفتن بایں طریق کہ اے رسول خدا اے بہترین مخلوقات عطائے مے خواہم روز فیصل کردنوقتے کہ فرود آید کار عظیم درغایت تاریکی پس توئی پناہ ازہر بلا بسوئے تست رو آوردن من و بہ تست پناہ گرفتن من و درتست امید داشتن من اھ ملخصا " چھٹی فصل عالی مرتبت سرور عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو پکارنے کے بیان میں۔آپ پر بہترین درود اور کامل ترین سلام ہو۔ذلیل و خوار شخص شکستہ دلذلت و رسوائی عجزو انکسار کے ساتھ پناہ طلب کرتے ہوئے یوں پکارتا ہےاے اﷲ تعالی کے رسولاے بہترین خلق ! میں فیصلے کے دن آپ کی عطا کا طلبگار ہوںجب انتہائی اندھیرے میں بہت بڑی مصیبت نازل ہو تو ہر بلائیں پناہ گاہ تو ہی ہے۔میری توجہ تیری طرف ہےتجھ ہی سے میں پناہ لیتا ہوںتجھ ہی سے طمع و امید رکھتا ہوں اھ ملخصا(ت)
حوالہ / References
اطیب النغم فی مدح سیدالعرب والعجم فصل اول مجتبائی دہلی ص۴
اطیب النغم فی مدح سیدالعرب والعجم فصل ششم مطبع مجتبائی دہلی ص۳۳
اطیب النغم فی مدح سیدالعرب والعجم فصل ششم مطبع مجتبائی دہلی ص۳۳ و ۳۴
اطیب النغم فی مدح سیدالعرب والعجم فصل ششم مطبع مجتبائی دہلی ص۳۳
اطیب النغم فی مدح سیدالعرب والعجم فصل ششم مطبع مجتبائی دہلی ص۳۳ و ۳۴
یہی شاہ صاحب " انتباہ فی سلاسل اولیاء اﷲ" میں قضائے حاجت کے لیے ایك ختم کی ترکیب یوں نقل کرتے ہیں۔
اول دورکعت نفلبعد ازاں یك صدو یازدہ بار درود و بعدازاں یك صدو یازدہ بار کلمہ تمجید ویك صدو یازدہ بار شیئا ﷲ یا شیخ عبدالقادر جیلانی ۔ پہلے دو رکعت پڑھے پھر ایك سو گیارہ بار درود شریفایك سو گیارہ بار کلمہ تمجیدپھر ایك سو گیارہ بار یہ پڑھےاے شیخ عبدالقادر جیلانی خدارا کچھ عطا فرمائیں۔(ت)
اسی انتباہ سے ثابت کہ یہی شاہ صاحب اور ان کے شیخ و استاذ حدیث مولانا طاہر مدنی جن کی خدمت میں مدتوں رہ کر شاہ صاحب نے حدیث پڑھی اور ان کے شیخ وا ستاذ و والد مولینا ابراہیم کردی اوران کے استاذ الاستاذ مولینا احمد نخلی کہ یہ چاروں حضرات بھی شاہ صاحب کے اکثر سلاسل حدیث میں داخل اور شاہ صاحب کے پیرو مرشد شیخ محمد سعید لاہوری جنہیں انتباہ میں "شیخ معمر تقہ کہا اور اعیان مشائخ طریقت سے گنا اور ان کے پیرشیخ محمد اشرف لاہوری اور ان کے شیخ مولینا عبد المالك اور ان کے مرشد شیخ بایزید ثانی اور شیخ شناوی کے پیر حضرت سید صبغۃ اﷲ بروجی اور ان دو صاحبوں کے پیرو مرشد مولانا وجیہ الدین علوی شارح ہدایہ و شرح وقایہ اور ان کے شیخ حصرت شاہ محمد غوث گوالیاری علیہم رحمۃ الملك البارییہ سب اکابر ناد علی کی سندیں لیتے اور اپنے تلامذہ و مستفیدین کو اجازتیں دیتے اور یا علی یا علی کا وظیفہ کرتے وﷲ الحجۃ السامیہجسے اس کی تفصیل دیکھنی ہو فقیرکے رسالہ "انھارالانوار وحیات الموات فی بیان سماع الاموات " کی طرف رجوع کرے۔
شاہ عبدالعزیز صاحب نے بستان المحدثین میں حضرت ارفع واعلی امام العلما نظام الاولیا
نوٹ:الانتباہ دو حصوں پر مشتمل ہےپہلے حصہ میں سلاسل طریقت بیان کیے گیے ہیں اور دوسرے حصہ میں فقہ و حدیث کی سندیں بیان کی گئی ہیں دوسرا حصہ مکتبہ سلفیہ لاہور نے "وصاف النبیہ " کے نام سے شائع کیا تھاناشر نے مقدمہ میں تصریح کی ہے کہ اس حصہ کا ایك باب نہیں مل سکا اور وہ کچھ ضروری بھی نہ تھاغالبا یہ حوالہ اسی "غیر ضروری " حصہ میں قلم زد ہوگیا ہے ۱۲ شرف قادری
اول دورکعت نفلبعد ازاں یك صدو یازدہ بار درود و بعدازاں یك صدو یازدہ بار کلمہ تمجید ویك صدو یازدہ بار شیئا ﷲ یا شیخ عبدالقادر جیلانی ۔ پہلے دو رکعت پڑھے پھر ایك سو گیارہ بار درود شریفایك سو گیارہ بار کلمہ تمجیدپھر ایك سو گیارہ بار یہ پڑھےاے شیخ عبدالقادر جیلانی خدارا کچھ عطا فرمائیں۔(ت)
اسی انتباہ سے ثابت کہ یہی شاہ صاحب اور ان کے شیخ و استاذ حدیث مولانا طاہر مدنی جن کی خدمت میں مدتوں رہ کر شاہ صاحب نے حدیث پڑھی اور ان کے شیخ وا ستاذ و والد مولینا ابراہیم کردی اوران کے استاذ الاستاذ مولینا احمد نخلی کہ یہ چاروں حضرات بھی شاہ صاحب کے اکثر سلاسل حدیث میں داخل اور شاہ صاحب کے پیرو مرشد شیخ محمد سعید لاہوری جنہیں انتباہ میں "شیخ معمر تقہ کہا اور اعیان مشائخ طریقت سے گنا اور ان کے پیرشیخ محمد اشرف لاہوری اور ان کے شیخ مولینا عبد المالك اور ان کے مرشد شیخ بایزید ثانی اور شیخ شناوی کے پیر حضرت سید صبغۃ اﷲ بروجی اور ان دو صاحبوں کے پیرو مرشد مولانا وجیہ الدین علوی شارح ہدایہ و شرح وقایہ اور ان کے شیخ حصرت شاہ محمد غوث گوالیاری علیہم رحمۃ الملك البارییہ سب اکابر ناد علی کی سندیں لیتے اور اپنے تلامذہ و مستفیدین کو اجازتیں دیتے اور یا علی یا علی کا وظیفہ کرتے وﷲ الحجۃ السامیہجسے اس کی تفصیل دیکھنی ہو فقیرکے رسالہ "انھارالانوار وحیات الموات فی بیان سماع الاموات " کی طرف رجوع کرے۔
شاہ عبدالعزیز صاحب نے بستان المحدثین میں حضرت ارفع واعلی امام العلما نظام الاولیا
نوٹ:الانتباہ دو حصوں پر مشتمل ہےپہلے حصہ میں سلاسل طریقت بیان کیے گیے ہیں اور دوسرے حصہ میں فقہ و حدیث کی سندیں بیان کی گئی ہیں دوسرا حصہ مکتبہ سلفیہ لاہور نے "وصاف النبیہ " کے نام سے شائع کیا تھاناشر نے مقدمہ میں تصریح کی ہے کہ اس حصہ کا ایك باب نہیں مل سکا اور وہ کچھ ضروری بھی نہ تھاغالبا یہ حوالہ اسی "غیر ضروری " حصہ میں قلم زد ہوگیا ہے ۱۲ شرف قادری
حوالہ / References
الانتباہ فی سلاسل اولیاء اﷲ
حضرت سیدی احمد زروق مغربی قدس سرہ استاذ شمس الدین لقانی و امام شہاب الدین قسطلانی شارح صحیح بخاری کی مدح عظیم لکھی کہ وہ جناب ابدال سبعہ ومحققین صوفیہ سے ہیںشریعت و حقیقت کے جامعباوصف علوباطنان کی تصانیف علوم ظاہری میں بھی نافع و مفید وبکثرت ہیںاکابر علماء فخر کرتے ہیں کہ ہم ایسے جلیل القدر عالم و عارف کے شاگرد ہیںیہاں تك کہ لکھا: "بالجملہ مردے جلیل القدر ے ست کہ مرتبہ کمال اوفوق الذکراست "۔
خلاصہ یہ کہ وہ بڑی قدرو منزلت والے بزرگ ہیں کہ ان کا مقام و مرتبہ ذکر سے ماوراء ہے۔(ت)
پھر اس جناب جلالت مآب کے کلام سے دو بیتیں نقل کیں کہ فرماتے ہیں
انا لمریدی جامع لشتات اذا ماسطاجور الزمان بنکبتہ
وان کنت فی ضیق وکرب ووحشۃ فنادبیازروق ات بسرعتہ
یعنی میں اپنے مرید کی پریشانیوں میں جمعیت بخشنے والا ہوں جب ستم زمانہ اپنی نحوست سے اس پر تعدی کرے اور توتنگی و تکلیف و وحشت میں ہو تو یوں نداء کر:یازروق میں فورا آ موجود ہوں گا۔
علامہ زیادیپھر علامہ اجہوری صاحب تصانیف کثیرہ مشہورہ پھر علامہ داؤدی محشی شرح منہجپھر علامہ شامی صاحب ردالمحتار حاشیہ درمختار گم شدہ چیز ملنے کے لیے فرماتے ہیں کہ:بلندی پر جا کر حضرت سیدی احمد بن علوان یمنی قدس سرہکے لیے فاتحہ پڑھے پھر انہیں نداء کرے کہ یا سیدی احمد یا ابن علوان ۔
شامی مشہور و معروف کتاب ہےفقیر نے اس کے حاشیہ کی یہ عبارت اپنے رسالہ حیاۃ الموات کے ہامش تکملہ پر ذکر کی۔
غرض یہ صحابہ کرام سے اس وقت تك کے اس قدر ائمہ اولیاء و علماء ہیں جن کے اقول فقیر نے ایك ساعت قلیلہ میں جمع کیے۔اب مشرك کہنے والوں سے صاف صاف پوچھنا چاہیے کہ
خلاصہ یہ کہ وہ بڑی قدرو منزلت والے بزرگ ہیں کہ ان کا مقام و مرتبہ ذکر سے ماوراء ہے۔(ت)
پھر اس جناب جلالت مآب کے کلام سے دو بیتیں نقل کیں کہ فرماتے ہیں
انا لمریدی جامع لشتات اذا ماسطاجور الزمان بنکبتہ
وان کنت فی ضیق وکرب ووحشۃ فنادبیازروق ات بسرعتہ
یعنی میں اپنے مرید کی پریشانیوں میں جمعیت بخشنے والا ہوں جب ستم زمانہ اپنی نحوست سے اس پر تعدی کرے اور توتنگی و تکلیف و وحشت میں ہو تو یوں نداء کر:یازروق میں فورا آ موجود ہوں گا۔
علامہ زیادیپھر علامہ اجہوری صاحب تصانیف کثیرہ مشہورہ پھر علامہ داؤدی محشی شرح منہجپھر علامہ شامی صاحب ردالمحتار حاشیہ درمختار گم شدہ چیز ملنے کے لیے فرماتے ہیں کہ:بلندی پر جا کر حضرت سیدی احمد بن علوان یمنی قدس سرہکے لیے فاتحہ پڑھے پھر انہیں نداء کرے کہ یا سیدی احمد یا ابن علوان ۔
شامی مشہور و معروف کتاب ہےفقیر نے اس کے حاشیہ کی یہ عبارت اپنے رسالہ حیاۃ الموات کے ہامش تکملہ پر ذکر کی۔
غرض یہ صحابہ کرام سے اس وقت تك کے اس قدر ائمہ اولیاء و علماء ہیں جن کے اقول فقیر نے ایك ساعت قلیلہ میں جمع کیے۔اب مشرك کہنے والوں سے صاف صاف پوچھنا چاہیے کہ
حوالہ / References
بستان المحدثین حاشیہ سید زروق فاسی علیالنجاری ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۳۲۲
حواشی الشامی علی ردالمحتار کتاب اللقطہ دار احیاء التراث العربی بیروت ۳/ ۳۲۴
حواشی الشامی علی ردالمحتار کتاب اللقطہ دار احیاء التراث العربی بیروت ۳/ ۳۲۴
عثمان بن حنیف و عبداﷲ بن عباس و عبداﷲ بن صحابہ کرام رضیا ﷲ تعالی عنہم سے لے کر شاہ ولی اﷲ و شاہ عبدالعزیز صاحب اور ان کے اساتذہ و مشائخ تك سب کو کافر و مشرك کہتے ہو یا نہیں اگر انکار کریں تو الحمدﷲ ہدایت پائی اور حق واضح ہوگیا اور بے دھڑك ان سب پر کفر و شرك کا فتوی جاری کریں تو ان سے اتنا کہئے کہ اﷲ تمہیں ہدایت کرے۔ذرا آنکھیں کھول کر دیکھو تو کسے کہا اور کیا کچھ کہا "انا ﷲ وانا الیہ راجعون" اور جان لیجئے کہ مذہب کی بنا پر صحابہ سے لے کر اب تك کے اکابر سب معاذ اﷲ مشرك و کافر ٹھہریں۔وہ مذہب خدا و رسول کو کس قدر دشمن ہوگا۔
صحیح حدیثوں میں آیا کہ " جو مسلمان کو کافر کہے خود کافر ہے ۔
اور بہت ائمہ دین نے مطلقا اس پر فتوی دیا جس کی تفصیل فقیر نے اپنے رسالہ "النھی الاکیدعن الصلوۃ وراء عدی التقلید" میں ذکر کی۔ہم اگرچہ بحکم احتیاط تکفیر نہ کریں تاہم اس قدر میں کلام نہیں کہ ایك گروہ ائمہ کے نزدیك یہ حضرات کہ یارسول اﷲ و یاعلی و یا حسین و یا غوث الثقلین کہنے والے مسلمانوں کو کافر و مشرکین کہتے ہیں خود کافر ہیں تو ان پر لازم کہ نئے سرے سے کلمہ اسلام پڑھیں اور اپنی عورتوں سے نکاح جدید کریں۔درمختار میں ہے:
مافیہ خلاف یؤمر بالاستغفار و التوبۃ وتجدید النکاح ۔ اور جس چیز کے کفر میں اختلاف ہو اس کے مرتکب کو استغفار و توبہ اور تجدید نکاح کا حکم دیا جائے گا۔(ت)
فائدہ:حضور سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو نداء کرنے کے عمدہ دلائل سے"التحیات"ہے جسے ہر نمازی ہر نماز کی دو رکعت پر پڑھتا ہے اوراپنے نبی کریم علیہ افضل الصلوۃ والتسلیم سے عرض کرتا ہے السلام علیك ایہاالنبی و رحمۃ اﷲ و برکاتہ سلام حضور پر اے نبی اور اﷲ کی رحمت اور اس کی برکتیں۔
اگر ندا معاذ اﷲ شرك ہےتو یہ عجب شرك ہے کہ عین نماز میں شریك و داخل ہے۔ولاحول ولا قوۃ الا باﷲ العلی العظیم۔ اور یہ جاہلانہ خیال محض باطل کہ التحیات زمانہ اقدس سے ویسے ہی چلی آتی ہے تو مقصود ان لفظوں کی ادا ہے نہ کہ نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ
صحیح حدیثوں میں آیا کہ " جو مسلمان کو کافر کہے خود کافر ہے ۔
اور بہت ائمہ دین نے مطلقا اس پر فتوی دیا جس کی تفصیل فقیر نے اپنے رسالہ "النھی الاکیدعن الصلوۃ وراء عدی التقلید" میں ذکر کی۔ہم اگرچہ بحکم احتیاط تکفیر نہ کریں تاہم اس قدر میں کلام نہیں کہ ایك گروہ ائمہ کے نزدیك یہ حضرات کہ یارسول اﷲ و یاعلی و یا حسین و یا غوث الثقلین کہنے والے مسلمانوں کو کافر و مشرکین کہتے ہیں خود کافر ہیں تو ان پر لازم کہ نئے سرے سے کلمہ اسلام پڑھیں اور اپنی عورتوں سے نکاح جدید کریں۔درمختار میں ہے:
مافیہ خلاف یؤمر بالاستغفار و التوبۃ وتجدید النکاح ۔ اور جس چیز کے کفر میں اختلاف ہو اس کے مرتکب کو استغفار و توبہ اور تجدید نکاح کا حکم دیا جائے گا۔(ت)
فائدہ:حضور سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو نداء کرنے کے عمدہ دلائل سے"التحیات"ہے جسے ہر نمازی ہر نماز کی دو رکعت پر پڑھتا ہے اوراپنے نبی کریم علیہ افضل الصلوۃ والتسلیم سے عرض کرتا ہے السلام علیك ایہاالنبی و رحمۃ اﷲ و برکاتہ سلام حضور پر اے نبی اور اﷲ کی رحمت اور اس کی برکتیں۔
اگر ندا معاذ اﷲ شرك ہےتو یہ عجب شرك ہے کہ عین نماز میں شریك و داخل ہے۔ولاحول ولا قوۃ الا باﷲ العلی العظیم۔ اور یہ جاہلانہ خیال محض باطل کہ التحیات زمانہ اقدس سے ویسے ہی چلی آتی ہے تو مقصود ان لفظوں کی ادا ہے نہ کہ نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ
حوالہ / References
صحیح البخاری کتاب الادب باب من اکفر اخاہ بغیر تاویل قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۹۰۱،صحیح مسلم کتاب الایمان باب بیان حال الایمان من قال الخیہ المسلم یا کافر قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۵۷
الدرالمختار کتاب الجھاد باب المرتد مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۵۹
الدرالمختار کتاب الجھاد باب المرتد مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۵۹
وسلم کی نداء حاشا وکلا شریعت مطہرہ نے نماز میں کوئی ایسا ذکر نیں رکھا ہے جس میں صرف زبان سے لفظ نکالے جائیں اور معنی مراد نہ ہوںنہیں نہیں بلکہ قطعا یہی درکار ہے۔التحیات ﷲ والصلوات سے حمد الہی کا قصد رکھے اور السلام علیك ایھاالنبی و رحمۃ اﷲ وبرکاتہسے یہ ارادہ کرے کہ اس وقت میں اپنے نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو سلام کرتا اور حضور سے بالقصد عرض کر رہا ہوں کہ سلام حضور اے نبی اور اﷲ کی رحمت اور اس کی برکتیں۔فتاوائے عالمگیری میں شرح قدوری سے ہے:
لاید من ان یقصد بالفاظ التشہد معا نیہا التی وضعت لہا من عندہ کانہ یحی اﷲ تعالی ویسلم علی النبی صلی اﷲ تعالی علی وسلم وعلی نفسہ وعلی اولیاء اﷲ تعالی ۔ تشہد کے الفاظ سے ان معانی کا قصد کرنا ضروری ہے جن کے لیے ان الفاظ کو وضع کیا گیا ہے اور جو نمازی کی طرف سے مقصود ہوں ہوں۔گویا کہ نماز ی اﷲ تعالی کی بارگاہ میں نذرانہ عبادت پیش کررہا ہےاور نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ و سلم پرخود اپنی ذات پر اور اولیاء اﷲ پر سلام بھیج رہا ہے۔(ت)
تنویر الابصار اور اس کی شرح درمختار میں ہے:
(ویقصدبالفاظ التشہد)معانیہا مرادۃ لہ علی وجہ (الانشاء)کانہ یحی اﷲ تعالی ویسلم علی نبیہ و علی نفسہ واولیائہ(لاالاخبار)عن ذلك ذکرہفی المجتبی ۔ الفاظ تشہد سے ان کے معانی مقصودہ کابطور انشآء قصد کرے گویا کہ وہ اﷲ تعالی کی بارگاہ میں اظہار بندگی کررہا ہے اور اس کے نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلمخود اپنی ذات اور اولیاء اﷲ پر سلام بھیج رہا ہےان الفاظ سے حکایت و خبر کا قصد نہ کرے اس کو مجتبی میں ذکر کیا ہے۔(ت)
علامہ حسن شرنبلالی مراقی الفلاح شرح نور الایضاح میں فرماتے ہیں:
یقصد معانیہمرادۃ لہعلی قصد کرے معنی مقصودہ کا بایں طور کہ نمازی
لاید من ان یقصد بالفاظ التشہد معا نیہا التی وضعت لہا من عندہ کانہ یحی اﷲ تعالی ویسلم علی النبی صلی اﷲ تعالی علی وسلم وعلی نفسہ وعلی اولیاء اﷲ تعالی ۔ تشہد کے الفاظ سے ان معانی کا قصد کرنا ضروری ہے جن کے لیے ان الفاظ کو وضع کیا گیا ہے اور جو نمازی کی طرف سے مقصود ہوں ہوں۔گویا کہ نماز ی اﷲ تعالی کی بارگاہ میں نذرانہ عبادت پیش کررہا ہےاور نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ و سلم پرخود اپنی ذات پر اور اولیاء اﷲ پر سلام بھیج رہا ہے۔(ت)
تنویر الابصار اور اس کی شرح درمختار میں ہے:
(ویقصدبالفاظ التشہد)معانیہا مرادۃ لہ علی وجہ (الانشاء)کانہ یحی اﷲ تعالی ویسلم علی نبیہ و علی نفسہ واولیائہ(لاالاخبار)عن ذلك ذکرہفی المجتبی ۔ الفاظ تشہد سے ان کے معانی مقصودہ کابطور انشآء قصد کرے گویا کہ وہ اﷲ تعالی کی بارگاہ میں اظہار بندگی کررہا ہے اور اس کے نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلمخود اپنی ذات اور اولیاء اﷲ پر سلام بھیج رہا ہےان الفاظ سے حکایت و خبر کا قصد نہ کرے اس کو مجتبی میں ذکر کیا ہے۔(ت)
علامہ حسن شرنبلالی مراقی الفلاح شرح نور الایضاح میں فرماتے ہیں:
یقصد معانیہمرادۃ لہعلی قصد کرے معنی مقصودہ کا بایں طور کہ نمازی
حوالہ / References
الفتاوٰی الھندیۃ کتاب الصلوۃ الفصل الثانی نورانی کتب خانہ پشاور ۱ /۷۲
الدرالمختار شرح تنویر الابصار کتاب الصلوۃ باب صفۃ الصلوۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۷۷
الدرالمختار شرح تنویر الابصار کتاب الصلوۃ باب صفۃ الصلوۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۷۷
انہینشئھا تحیۃ وسلاما منہ ۔ اپنی طرف سے تحیہ اور سلام پیش کررہا ہے۔ت)
اسی طرح بہت علماء نے تصریح فرمائی۔اس پر بعض سفہائے منکرین یہ عذر گھڑتے ہیں کہ صلوۃ وسلام پہنچانے پر ملائکہ مقرر ہیں تو ان میں ندا ء جائز اور ان کے ماوراء میں ناجائزحالانکہ یہ سخت جہالت بے مزہ ہے قطع نظر بہت اعتراضوں سے جو اس پر وارد ہوتے ہیں ان ہوشمندوں نے اتنا بھی نہ دیکھا کہ صرف درود و سلام ہی نہیں بلکہ امت کے تمام اقوال و افعال و اعمال روزانہ دو قت سرکار عرش وقار حضور سیدالابرار صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم میں عرض کیے جاتے ہیں۔احادیث کثیرہ میں تصریح ہے کہ مطلقا اعمال حسنہ و سیہ سب حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی بارگاہ میں پیش ہوتے ہیںاور یونہی تمام انبیائے کرام علیہم الصلوۃ والسلام اور والدین و اعزاء و اقارب سب پر عرض اعمال ہوتی ہے۔فقیر نے اپنے رسالہ "سلطنۃ المصطفی فی ملکوت کل الوری " میں وہ سب حدیثیں جمع کیںیہاں اسی قدر بس ہے کہ امام اجل عبداﷲ بن مبارك رحمۃ اﷲ تعالی علیہ حضرت سعید بن المسیب رضی اﷲ تعالی عنہما سے راوی:
لیس من یوم الاوتعرض علی النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اعمال امتہ غدوۃ وعشیا فیعرفھم بسیماھم و اعمالھم ۔ یعنی کوئی دن ایسا نہیں جس میں سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پر اعمال امت ہر صبح و شام پیش نہ کیے جاتے ہوںتو حضور کا اپنے امتیوں کو پہچاننا ان کی علامت اور ان کے اعمال دونوں وجہ سے ہے۔(صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وعلی آلہ وصحبہ وشرف وکرم)۔
فقیر غفراﷲ تعالی لہبتوفیق اﷲ عزوجل اس مسئلے میں ایك کتاب مبسوط لکھ سکتا ہے مگر منصف کے لیے اسی قدر دانیاور خدا ہدایت دے تو ایك حرف کافی۔
اکفنا شرالمضلین یا کافی وصل علی سیدنا ومولینا محمدن الشافی والہ وصحبہ حماۃ الدین اے کفایت فرمانے والے ! ہماری طرف سے گمراہ کرنے والوں کے شرکا دفاع فرما۔ہمارے آقا و مولی محمد مصطفی پر درود نازل فرما
اسی طرح بہت علماء نے تصریح فرمائی۔اس پر بعض سفہائے منکرین یہ عذر گھڑتے ہیں کہ صلوۃ وسلام پہنچانے پر ملائکہ مقرر ہیں تو ان میں ندا ء جائز اور ان کے ماوراء میں ناجائزحالانکہ یہ سخت جہالت بے مزہ ہے قطع نظر بہت اعتراضوں سے جو اس پر وارد ہوتے ہیں ان ہوشمندوں نے اتنا بھی نہ دیکھا کہ صرف درود و سلام ہی نہیں بلکہ امت کے تمام اقوال و افعال و اعمال روزانہ دو قت سرکار عرش وقار حضور سیدالابرار صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم میں عرض کیے جاتے ہیں۔احادیث کثیرہ میں تصریح ہے کہ مطلقا اعمال حسنہ و سیہ سب حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی بارگاہ میں پیش ہوتے ہیںاور یونہی تمام انبیائے کرام علیہم الصلوۃ والسلام اور والدین و اعزاء و اقارب سب پر عرض اعمال ہوتی ہے۔فقیر نے اپنے رسالہ "سلطنۃ المصطفی فی ملکوت کل الوری " میں وہ سب حدیثیں جمع کیںیہاں اسی قدر بس ہے کہ امام اجل عبداﷲ بن مبارك رحمۃ اﷲ تعالی علیہ حضرت سعید بن المسیب رضی اﷲ تعالی عنہما سے راوی:
لیس من یوم الاوتعرض علی النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اعمال امتہ غدوۃ وعشیا فیعرفھم بسیماھم و اعمالھم ۔ یعنی کوئی دن ایسا نہیں جس میں سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پر اعمال امت ہر صبح و شام پیش نہ کیے جاتے ہوںتو حضور کا اپنے امتیوں کو پہچاننا ان کی علامت اور ان کے اعمال دونوں وجہ سے ہے۔(صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وعلی آلہ وصحبہ وشرف وکرم)۔
فقیر غفراﷲ تعالی لہبتوفیق اﷲ عزوجل اس مسئلے میں ایك کتاب مبسوط لکھ سکتا ہے مگر منصف کے لیے اسی قدر دانیاور خدا ہدایت دے تو ایك حرف کافی۔
اکفنا شرالمضلین یا کافی وصل علی سیدنا ومولینا محمدن الشافی والہ وصحبہ حماۃ الدین اے کفایت فرمانے والے ! ہماری طرف سے گمراہ کرنے والوں کے شرکا دفاع فرما۔ہمارے آقا و مولی محمد مصطفی پر درود نازل فرما
حوالہ / References
مراقی الفلاح علی ھامش حاشیۃ الطحطاوی کتاب الصلوۃ نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص۱۵۵
المواھب اللدنیہ بحوالہ ابن المبارك عن سعید ابن مسیب المقصد الرابع الفصل الثانی بیروت ۲ /۶۹۷
المواھب اللدنیہ بحوالہ ابن المبارك عن سعید ابن مسیب المقصد الرابع الفصل الثانی بیروت ۲ /۶۹۷
الصافی امین والحمد ﷲ رب العالمین۔ جو شفاء عطا فرمانے والے ہیں اور آپ کے آل و اصحاب پر جو دین صافی کے حمایتی ہیں آمین والحمدﷲ رب العالمین۔
رسالہ
انوار الانتباہ فی حل نداء یا رسول اﷲ
ختم ہوا۔
_________________
yahan aik image hai.
رسالہ
انوار الانتباہ فی حل نداء یا رسول اﷲ
ختم ہوا۔
_________________
yahan aik image hai.
رسالہ
اسماع الاربعین فی شفاعۃ سیدالمحبوبین
(محبوبوں کے سردار کی شفاعت کے بارے میں چالیس۴۰ حدیثیں سنانا)
بسم اﷲ الرحمن الرحیم ط
مسئلہ ۱۶۵:کیا فرماتے ہیں علماء دین اس مسئلہ میں کہ نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا شفیع ہونا کس حدیث سے ثابت ہے بینوا توجروا(بیان فرمائیے اجردیئے جاؤ گے۔ت)
الجوا ب:
الحمدﷲ البصیر السمیع والصلوۃ والسلام علی البشیر الشفیع وعلی الہ وصحبہ کل مساء وسطیع سب تعریفیں اﷲ تعالی کے لیے جو دیکھنے والا سننے والا ہےاور درود و سلام نازل ہو بشارت دینے والے شفاعت کرنے والے پر اور اس کے آل و اصحاب پر ہر شام کو اور ہر صبح کو۔(ت)
سبحان اﷲ ! ایسے سوال سن کر تعجب آتا ہے کہ مسلمان و مدعیان سنیت اور ایسے واضح
اسماع الاربعین فی شفاعۃ سیدالمحبوبین
(محبوبوں کے سردار کی شفاعت کے بارے میں چالیس۴۰ حدیثیں سنانا)
بسم اﷲ الرحمن الرحیم ط
مسئلہ ۱۶۵:کیا فرماتے ہیں علماء دین اس مسئلہ میں کہ نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا شفیع ہونا کس حدیث سے ثابت ہے بینوا توجروا(بیان فرمائیے اجردیئے جاؤ گے۔ت)
الجوا ب:
الحمدﷲ البصیر السمیع والصلوۃ والسلام علی البشیر الشفیع وعلی الہ وصحبہ کل مساء وسطیع سب تعریفیں اﷲ تعالی کے لیے جو دیکھنے والا سننے والا ہےاور درود و سلام نازل ہو بشارت دینے والے شفاعت کرنے والے پر اور اس کے آل و اصحاب پر ہر شام کو اور ہر صبح کو۔(ت)
سبحان اﷲ ! ایسے سوال سن کر تعجب آتا ہے کہ مسلمان و مدعیان سنیت اور ایسے واضح
عقائد میں تشکیك کی آفتیہ بھی قرب قیامت کی ایك علامت ہے۔"انا ﷲ وانا الیہ راجعون "
احادیث شفاعت بھی ایسی چیز ہیں جو کسی طرح چھپ سکیںبیسیوں صحابہصدہا تابعینہزار ہا محدثین ان کے راویحدیث کی ہر گو نہ کتابیں صحاحسننمسانیدمعاجیمجوامعمصنفات ان سے مالا مال۔اہل سنت کا ہر متنفس یہاں تك کہ زنان و اطفال بلکہ دہقانی جہال بھی اس عقیدے سے آگاہخدا کا دیدار محمد کی شفاعت ایك ایك بچے کی زبان پر جاریصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم و بارك و شرف ومجدوکرم۔
فقیر غفرلہ اﷲ تعالی لہ نے رسالہ"سمع وطاعۃ الاحادیث الشفاعۃ"میں بہت کثرت سے ان احادیث کی جمع و تلخیص کی (یہاں) بہ نہایت اجمال صرف چالیس حدیثوں کی طرف اشارتاور ان سے پہلے چند آیات قرآنیہ کی تلاوت کرتا ہوں۔
الآیات :
آیت اولی ۲:قال اﷲ تعالی(اﷲ تعالی نے فرمایا):
" عسی ان یبعثک ربک مقاما محمودا ﴿۷۹﴾ " ۔ قریب ہے کہ تیر ارب تجھے مقام محمود میں بھیجے۔
حدیث شریف میں ہے حضور شفیع المذنبین صلی ا ﷲ تعالی علیہ وسلم سے عرض کی گئیمقام محمود کیا چیز ہے:فرمایا:ھو الشفاعۃ ۔وہ شفاعت ہے۔
آیت ثانیہ۳:قال اﷲ تعالی(اﷲ تعالی نے فرمایا):
" و لسوف یعطیک ربک فترضی ﴿۵﴾ " ۔ اور قریب تر ہے تجھے تیرا رب اتنا دے گا کہ تو راضی ہوجائے گا۔
دیلمی مسند الفردوس میں امیر المومنین مولی علی کرم اﷲ تعالی وجہہسے راویجب یہ آیت اتری حضور شفیع المذنبین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:
اذا لاارضی وواحد من امتی فی النار ۔ یعنی جب اﷲ تعالی مجھ سے راضی کردینے کا وعدہ فرماتا ہے تو میں راضی نہ ہوں گا اگر میرا ایك امتی بھی دوزخ میں رہا۔
احادیث شفاعت بھی ایسی چیز ہیں جو کسی طرح چھپ سکیںبیسیوں صحابہصدہا تابعینہزار ہا محدثین ان کے راویحدیث کی ہر گو نہ کتابیں صحاحسننمسانیدمعاجیمجوامعمصنفات ان سے مالا مال۔اہل سنت کا ہر متنفس یہاں تك کہ زنان و اطفال بلکہ دہقانی جہال بھی اس عقیدے سے آگاہخدا کا دیدار محمد کی شفاعت ایك ایك بچے کی زبان پر جاریصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم و بارك و شرف ومجدوکرم۔
فقیر غفرلہ اﷲ تعالی لہ نے رسالہ"سمع وطاعۃ الاحادیث الشفاعۃ"میں بہت کثرت سے ان احادیث کی جمع و تلخیص کی (یہاں) بہ نہایت اجمال صرف چالیس حدیثوں کی طرف اشارتاور ان سے پہلے چند آیات قرآنیہ کی تلاوت کرتا ہوں۔
الآیات :
آیت اولی ۲:قال اﷲ تعالی(اﷲ تعالی نے فرمایا):
" عسی ان یبعثک ربک مقاما محمودا ﴿۷۹﴾ " ۔ قریب ہے کہ تیر ارب تجھے مقام محمود میں بھیجے۔
حدیث شریف میں ہے حضور شفیع المذنبین صلی ا ﷲ تعالی علیہ وسلم سے عرض کی گئیمقام محمود کیا چیز ہے:فرمایا:ھو الشفاعۃ ۔وہ شفاعت ہے۔
آیت ثانیہ۳:قال اﷲ تعالی(اﷲ تعالی نے فرمایا):
" و لسوف یعطیک ربک فترضی ﴿۵﴾ " ۔ اور قریب تر ہے تجھے تیرا رب اتنا دے گا کہ تو راضی ہوجائے گا۔
دیلمی مسند الفردوس میں امیر المومنین مولی علی کرم اﷲ تعالی وجہہسے راویجب یہ آیت اتری حضور شفیع المذنبین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:
اذا لاارضی وواحد من امتی فی النار ۔ یعنی جب اﷲ تعالی مجھ سے راضی کردینے کا وعدہ فرماتا ہے تو میں راضی نہ ہوں گا اگر میرا ایك امتی بھی دوزخ میں رہا۔
حوالہ / References
القرآن الکریم ۱۷ /۷۹
جامع الترمذی ابواب التفسیر سورۃ بنی اسرائیل امین کمپنی دہلی ۲/۱۴۲
القرآن الکریم ۹۳ /۵
مفاتیح الغیب(التفسیر الکبیر)تحت آیۃ ۹۳ /۵ المطبعۃ البہیۃ المصریۃ مصر ۳۱ /۲۱۳
جامع الترمذی ابواب التفسیر سورۃ بنی اسرائیل امین کمپنی دہلی ۲/۱۴۲
القرآن الکریم ۹۳ /۵
مفاتیح الغیب(التفسیر الکبیر)تحت آیۃ ۹۳ /۵ المطبعۃ البہیۃ المصریۃ مصر ۳۱ /۲۱۳
اللھم صل وسلم وبار ك علیہ۔
طبرانی معجم اوسط اور بزار مسند میں جناب مولی المسلمین رضی اﷲ تعالی عنہ سے راوی حضور شفیع المذنبین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اشفع الامتی حتی ینادینی ربی قدارضیت یا محمد فاقول ای رب قد رضیت میں اپنی امت کی شفاعت کروں گا یہاں تك کہ میرا رب پکارے گا اے محمد! تو راضی ہوا میں عرض کروں گا:اے رب میرے ! میں راضی ہوا۔
آیت ثالثہ۳:قال اﷲ تعالی(اﷲ تعالی نے فرمایا):
" و استغفر لذنبک و للمؤمنین و المؤمنت" ۔ اے محبوب ! اپنے خاصوں اور عام مسلمان مردوں اور عورتوں کے گناہوں کی معافی مانگی۔
اس آیت میں اﷲ تعالی اپنے حبیب کریم علیہ افضل الصلوۃ والتسلیم کو حکم دیتا ہے کہ مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں کے گناہ مجھ سے بخشواؤاور شفاعت کا ہے کا نام ہے۔
آیت رابعہ۴:قال اﷲ تعالی(اﷲ تعالی نے فرمایا):
" ولو انہم اذ ظلموا انفسہم جاءوک فاستغفروا اللہ واستغفر لہم الرسول لوجدوا اللہ توابا رحیما ﴿۶۴﴾" ۔ اور اگر وہ اپنی جانوں پر ظلم کریںتیرے پاس حاضر ہوںپھر خدا سے استغفار کریںاور رسول ان کی بخشش مانگے تو بیشك اﷲ تعالی کو توبہ قبول کرنے والا مہربان پائیں۔
اس آیت میں مسلمانوں کو ارشاد فرماتا ہے کہ گناہ کرکے اس نبی کی سرکار میں حاضر ہو اور اس سے درخواست شفاعت کرومحبوب تمہاری شفاعت فرمائے گا۔تو ہم یقینا تمہارے گناہ بخش دیں گے۔
آیت خمسہ۵:قال اﷲ تعالی(اﷲ تعالی نے فرمایا):
طبرانی معجم اوسط اور بزار مسند میں جناب مولی المسلمین رضی اﷲ تعالی عنہ سے راوی حضور شفیع المذنبین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اشفع الامتی حتی ینادینی ربی قدارضیت یا محمد فاقول ای رب قد رضیت میں اپنی امت کی شفاعت کروں گا یہاں تك کہ میرا رب پکارے گا اے محمد! تو راضی ہوا میں عرض کروں گا:اے رب میرے ! میں راضی ہوا۔
آیت ثالثہ۳:قال اﷲ تعالی(اﷲ تعالی نے فرمایا):
" و استغفر لذنبک و للمؤمنین و المؤمنت" ۔ اے محبوب ! اپنے خاصوں اور عام مسلمان مردوں اور عورتوں کے گناہوں کی معافی مانگی۔
اس آیت میں اﷲ تعالی اپنے حبیب کریم علیہ افضل الصلوۃ والتسلیم کو حکم دیتا ہے کہ مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں کے گناہ مجھ سے بخشواؤاور شفاعت کا ہے کا نام ہے۔
آیت رابعہ۴:قال اﷲ تعالی(اﷲ تعالی نے فرمایا):
" ولو انہم اذ ظلموا انفسہم جاءوک فاستغفروا اللہ واستغفر لہم الرسول لوجدوا اللہ توابا رحیما ﴿۶۴﴾" ۔ اور اگر وہ اپنی جانوں پر ظلم کریںتیرے پاس حاضر ہوںپھر خدا سے استغفار کریںاور رسول ان کی بخشش مانگے تو بیشك اﷲ تعالی کو توبہ قبول کرنے والا مہربان پائیں۔
اس آیت میں مسلمانوں کو ارشاد فرماتا ہے کہ گناہ کرکے اس نبی کی سرکار میں حاضر ہو اور اس سے درخواست شفاعت کرومحبوب تمہاری شفاعت فرمائے گا۔تو ہم یقینا تمہارے گناہ بخش دیں گے۔
آیت خمسہ۵:قال اﷲ تعالی(اﷲ تعالی نے فرمایا):
حوالہ / References
المعجم الاوسط حدیث ۲۰۸۳مکتبۃ المعارف ریاض ۳ /۴۴،الترغیب الترھیب کتاب البعث فصل فی الشفاعۃ مصطفٰی البابی مصر ۴ /۴۴۶،الدرالمنثور تحت الآیۃ ۹۳/ ۵ مکتبۃ آیۃ اﷲ العظمٰی قسم ایران ۶ /۳۶۱
القرآن الکریم ۴۷ /۱۹
القرآن الکریم ۴ /۶۴
القرآن الکریم ۴۷ /۱۹
القرآن الکریم ۴ /۶۴
" و اذا قیل لہم تعالوا یستغفر لکم رسول اللہ لووا رءوسہم" ۔ جب ان منافقوں سے کہا جائے کہ آؤ رسول اﷲ تمہاری مغفرت مانگیں تو اپنے سر پھیر لیتے ہیں۔
اس آیت میں منافقوں کا حال بد مآل ارشاد ہوا کہ وہ حضور شفیع المذنبین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے شفاعت نہیں چاہتےپھر جو آج نہیں چاہتے وہ کل نہ پائیں گے۔اﷲ دنیا و آخرت میں ان کی شفاعت سے بہرہ مند فرمائے
حشر میں ہم بھی سیر دیکھیں گے منکر آج ان سے التجا نہ کرے
وصلی اﷲ تعالی علی شفیع المذنبین والہ وصحبہ وحزبہ اجمعین۔
اﷲ تعالی درودنازل فرمائے گنہگاروں کی شفاعت فرمانے والے پر اور ان کی آلاصحاب اور تمام امت پر۔(ت)
الاحادیث
شفاعت کبری کی حدیثیں جن میں صاف صریح ارشاد ہوا کہ عرصات محشر میں وہ طویل دن ہوگا کہ کاٹے نہ کٹے اور سروں پر آفتاب اور دوزخ نزدیکاس دن سورج میں دس برس کامل کی گرمی جمع کریں گے اور سروں سے کچھ ہی فاصلہ پر لارکھیں گے پیاس کی وہ شدت کہ خدا نہ دکھائےگرمی وہ قیامت کہ اﷲ بچائےبانسوں پسینہ زمین میں جذب ہو کر اوپر چڑھے گایہاں تك کہ گلے گلے سے بھی اونچے ہوگاجہاز چھوڑیں تو بہنے لگیںلوگ اس میں غوطے کھائیں گےگھبرا گھبرا کر دل حلق تك آجائیں گے۔
لوگ ان عظیم آفتوں میں جان سے تنگ آکر شفیع کی تلاش میں جا بجا پھریں گےآدم و نوحخلیل وکلیم و مسیح علیہم الصلوۃ والتسلیم کے پاس حاضر ہو کر جواب صاف سنیں گےسب انبیاء فرمائیں گے ہمارا یہ مرتبہ نہیں ہم اس لائق نہیں ہم سے یہ کام نہ نکلے گانفسی نفسیتم اور کسی کے پاس جاؤیہاں تك کہ سب کے بعد حضور پرنور خاتم النبیینسیدالاولین والآخرینشفیع المذنبینرحمۃ للعالمین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوں گے۔حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم "انالہا انالہا"
اس آیت میں منافقوں کا حال بد مآل ارشاد ہوا کہ وہ حضور شفیع المذنبین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے شفاعت نہیں چاہتےپھر جو آج نہیں چاہتے وہ کل نہ پائیں گے۔اﷲ دنیا و آخرت میں ان کی شفاعت سے بہرہ مند فرمائے
حشر میں ہم بھی سیر دیکھیں گے منکر آج ان سے التجا نہ کرے
وصلی اﷲ تعالی علی شفیع المذنبین والہ وصحبہ وحزبہ اجمعین۔
اﷲ تعالی درودنازل فرمائے گنہگاروں کی شفاعت فرمانے والے پر اور ان کی آلاصحاب اور تمام امت پر۔(ت)
الاحادیث
شفاعت کبری کی حدیثیں جن میں صاف صریح ارشاد ہوا کہ عرصات محشر میں وہ طویل دن ہوگا کہ کاٹے نہ کٹے اور سروں پر آفتاب اور دوزخ نزدیکاس دن سورج میں دس برس کامل کی گرمی جمع کریں گے اور سروں سے کچھ ہی فاصلہ پر لارکھیں گے پیاس کی وہ شدت کہ خدا نہ دکھائےگرمی وہ قیامت کہ اﷲ بچائےبانسوں پسینہ زمین میں جذب ہو کر اوپر چڑھے گایہاں تك کہ گلے گلے سے بھی اونچے ہوگاجہاز چھوڑیں تو بہنے لگیںلوگ اس میں غوطے کھائیں گےگھبرا گھبرا کر دل حلق تك آجائیں گے۔
لوگ ان عظیم آفتوں میں جان سے تنگ آکر شفیع کی تلاش میں جا بجا پھریں گےآدم و نوحخلیل وکلیم و مسیح علیہم الصلوۃ والتسلیم کے پاس حاضر ہو کر جواب صاف سنیں گےسب انبیاء فرمائیں گے ہمارا یہ مرتبہ نہیں ہم اس لائق نہیں ہم سے یہ کام نہ نکلے گانفسی نفسیتم اور کسی کے پاس جاؤیہاں تك کہ سب کے بعد حضور پرنور خاتم النبیینسیدالاولین والآخرینشفیع المذنبینرحمۃ للعالمین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوں گے۔حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم "انالہا انالہا"
حوالہ / References
القرآن الکریم ۶۳ /۵
البدایۃ والنہایۃ ذکر ثناء اﷲ و رسولہ الکریم علی عبدوخلیلہ ابراھیم مکتبہ المعارف بیروت ۱ /۱۷۱،صحیح مسلم کتاب الایمان باب اثبات الشفاعۃ الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۱۰
البدایۃ والنہایۃ ذکر ثناء اﷲ و رسولہ الکریم علی عبدوخلیلہ ابراھیم مکتبہ المعارف بیروت ۱ /۱۷۱،صحیح مسلم کتاب الایمان باب اثبات الشفاعۃ الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۱۰
فرمائیں گے یعنی میں ہوں شفاعت کے لیےمیں ہوں شفاعت کے لیے۔
پھر اپنے رب کریم جلالہکی بارگاہ میں حاضر ہو کر سجدہ کریں گے ان کا رب تبارك و تعالی ارشاد فرمائے گا:
یامحمد ارفع رأسك وقل تسمع وسل تعطہ واشفع تشفع ۔ اے محمد !اپنا سر اٹھاؤ اور عرض کرو تمہاری بات سنی جائے گی اور مانگو کہ تمہیں عطا ہوگا اورشفاعت کرو کہ تمہاری شفاعت قبول ہے۔
یہی مقام محمود ہوگا جہاں تمام اولین و آخرین میں حضور کی تعریف و حمد و ثنا کا غل پڑ جائے گا اور موافق و مخالف سب پر کھل جائے گا۔بارگاہ الہی میں جو وجاہت ہمارے آقا کی ہے کسی کی نہیں اور مالك عظیم جل جلالہ کے یہاں جو عظمت ہمارے مولے کے لیے ہے کسی کے لیے نہیں والحمدﷲ رب العلمین۔(اور تمام تعریفیں اﷲ تعالی کے لیے ہیں جو سب جہانوں کا پروردگار ہے۔ت)اسی لیے اﷲ تعالی اپنی حکمت کاملہ کے مطابق لوگوں کے دلوں میں ڈالے گا کہ پہلے اور انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کے پاس جائیں اور وہاں سے محروم پھر کر ان کی خدمت میں حاضر آئیں تاکہ سب جان لیں کہ منصب شفاعت اسی سرکار کا خاصہ ہے دوسرے کی مجال نہیں کہ اس کا دروازہ کھول سکےوالحمدﷲ رب العلمین(اور تمام تعریفیں اﷲ تعالی کے لیے ہیں جو سب جہانوں کا پروردگار ہے۔ت)
یہ حدیثیں صحیح بخاری و صحیح مسلم تمام کتابوں میں مذکور اور اہل اسلام میں معروف و مشہور ہیںذکر کی حاجت نہیں کہ بہت طویل ہیں۔شك لانے والا اگر دو حرف بھی پڑھا ہو تو مشکوۃ شریف کا اردو میں ترجمہ منگاکر دیکھ لے یا کسی مسلمان سے کہے کہ پڑھ کر سنا دے۔اور انہیں حدیثوں کے آخر میں یہ بھی ارشاد ہوا ہے کہ شفاعت کرنے کے بعد حضور شفیع المذنبین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بخشش گنہگاران کے لیے
پھر اپنے رب کریم جلالہکی بارگاہ میں حاضر ہو کر سجدہ کریں گے ان کا رب تبارك و تعالی ارشاد فرمائے گا:
یامحمد ارفع رأسك وقل تسمع وسل تعطہ واشفع تشفع ۔ اے محمد !اپنا سر اٹھاؤ اور عرض کرو تمہاری بات سنی جائے گی اور مانگو کہ تمہیں عطا ہوگا اورشفاعت کرو کہ تمہاری شفاعت قبول ہے۔
یہی مقام محمود ہوگا جہاں تمام اولین و آخرین میں حضور کی تعریف و حمد و ثنا کا غل پڑ جائے گا اور موافق و مخالف سب پر کھل جائے گا۔بارگاہ الہی میں جو وجاہت ہمارے آقا کی ہے کسی کی نہیں اور مالك عظیم جل جلالہ کے یہاں جو عظمت ہمارے مولے کے لیے ہے کسی کے لیے نہیں والحمدﷲ رب العلمین۔(اور تمام تعریفیں اﷲ تعالی کے لیے ہیں جو سب جہانوں کا پروردگار ہے۔ت)اسی لیے اﷲ تعالی اپنی حکمت کاملہ کے مطابق لوگوں کے دلوں میں ڈالے گا کہ پہلے اور انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کے پاس جائیں اور وہاں سے محروم پھر کر ان کی خدمت میں حاضر آئیں تاکہ سب جان لیں کہ منصب شفاعت اسی سرکار کا خاصہ ہے دوسرے کی مجال نہیں کہ اس کا دروازہ کھول سکےوالحمدﷲ رب العلمین(اور تمام تعریفیں اﷲ تعالی کے لیے ہیں جو سب جہانوں کا پروردگار ہے۔ت)
یہ حدیثیں صحیح بخاری و صحیح مسلم تمام کتابوں میں مذکور اور اہل اسلام میں معروف و مشہور ہیںذکر کی حاجت نہیں کہ بہت طویل ہیں۔شك لانے والا اگر دو حرف بھی پڑھا ہو تو مشکوۃ شریف کا اردو میں ترجمہ منگاکر دیکھ لے یا کسی مسلمان سے کہے کہ پڑھ کر سنا دے۔اور انہیں حدیثوں کے آخر میں یہ بھی ارشاد ہوا ہے کہ شفاعت کرنے کے بعد حضور شفیع المذنبین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بخشش گنہگاران کے لیے
حوالہ / References
صحیح البخاری کتاب الانبیاء باب قول اﷲ تعالٰی ولقدارسلنا نوحًا الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۴۷۰،صحیح البخاری کتاب الرقاق باب صفۃ الجنۃ والنار قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۹۷۱،صحیح البخاری کتاب التوحید باب قول اﷲ تعالٰی لما خلقت بیدی قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۱۱۰۲،صحیح البخاری کتاب التوحید باب قول اﷲ تعالٰی وجوہ یومئذ ناضرۃ الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۱۱۰۸،صحیح البخاری کتاب التوحید باب قول الرب یوم القیمۃ الانبیاء وغیرھم قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۱۱۱۸،صحیح مسلم کتاب الایمان باب اثبات الشفاعۃ الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۰۸ تا ۱۱۱
بار بار شفاعت فرمائیں گے اور ہر دفعہ اﷲ تعالی وہی کلمات فرمائے گا اور حضور ہر مرتبہ بے شمار بندگان خدا کو نجات بخشیں گے۔
میں ان مشہور حدیثون کے سوا ایك اربعین یعنی چالیس۴۰ حدیثیں اور لکھتا ہوں جو گوش عوام تك کم پہنچی ہوںجن سے مسلمانوں کا ایمان ترقی پائےمنکر کا دل آتش غیظ میں جل جائےبالخصوص جن سے اس ناپاك تحریف کا رد شریف ہو جو بعض بددینوںخدا ناترسوںناحق کوشوںباطل کیشوں نے معنی شفاعت میں کیں اور انکار شفاعت کے چہرہ نجس چھپانے کو ایك جھوٹی صورت نام کی شفاعت دل سے گھڑی۔
ان حدیثوں سے واضح ہوگا یہ حدیثیں ظاہر کریں گی کہ ہمیں خدا اور رسول نے کان کھول کر شفیع کا پیارا نام بتادیا اور صاف فرمایا کہ وہ محمد رسول اﷲ ہیں(صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم)نہ یہ کہ بات گول رکھی ہو جیسے ایك بدبخت کہتا ہے کہ اسی کے اختیار پر چھوڑ دیجئے جس کو وہ چاہے ہمارا شفیع کردے۔
یہ حدیثیں مژدہ جانفزا دیں گی کہ حضور کی شفاعت نہ اس کے لیے ہے جس سے اتفاقا گناہ ہوگیا ہو اور وہ اس پر ہر وقت نادم و پریشان و ترساں ولرزاں ہے جس طرح ایك دزد باطن کہتا ہے کہ چور پر تو چوری ثابت ہوگئی مگر وہ ہمیشہ کا چور نہیں اور چوری کو اس نے کچھ اپنا پیشہ نہیں ٹھہرایا مگر نفس کی شامت سے قصور ہوگیا سو اس پر شرمندہ ہے اور رات دن ڈرتا ہے۔نہیں نہیں ان کے رب کی قسم جس نے انہیں شفیع المذنبین کیا۔ان کی شفاعت ہم جیسے روسیاہوںپرگناہوںسیاہ کاروں ستم گاروں کے لیے ہے جن کا بال بال گناہ میں بندھا ہے جن کے نام سے گناہ بھی تنگ وعار رکھتا ہے۔ع
ترسم آلودہ شود دامن عصیاں از من
(میں ڈرتا ہوں کہ گناہوں کا دامن میری وجہ سے آلودہ ہوجائے گا۔ت)
وحسبنا اﷲ تعالی و نعم الوکیل و الصلوۃ والسلام علی الشفیع الجمیل وعلی الہ وصحبہ بالوف التبجیل والحمد ﷲ اور اﷲ تعالی ہمارے لیے کافی ہے اور کیا ہی خوب کار ساز ہے اور درود و سلام نازل ہوجمال والے شفیع پر اور ان کے آل و اصحاب پر ہزاروں تعظیم و تکریم کے ساتھاور تمام تعریفیں اﷲ کے لیے ہیں
میں ان مشہور حدیثون کے سوا ایك اربعین یعنی چالیس۴۰ حدیثیں اور لکھتا ہوں جو گوش عوام تك کم پہنچی ہوںجن سے مسلمانوں کا ایمان ترقی پائےمنکر کا دل آتش غیظ میں جل جائےبالخصوص جن سے اس ناپاك تحریف کا رد شریف ہو جو بعض بددینوںخدا ناترسوںناحق کوشوںباطل کیشوں نے معنی شفاعت میں کیں اور انکار شفاعت کے چہرہ نجس چھپانے کو ایك جھوٹی صورت نام کی شفاعت دل سے گھڑی۔
ان حدیثوں سے واضح ہوگا یہ حدیثیں ظاہر کریں گی کہ ہمیں خدا اور رسول نے کان کھول کر شفیع کا پیارا نام بتادیا اور صاف فرمایا کہ وہ محمد رسول اﷲ ہیں(صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم)نہ یہ کہ بات گول رکھی ہو جیسے ایك بدبخت کہتا ہے کہ اسی کے اختیار پر چھوڑ دیجئے جس کو وہ چاہے ہمارا شفیع کردے۔
یہ حدیثیں مژدہ جانفزا دیں گی کہ حضور کی شفاعت نہ اس کے لیے ہے جس سے اتفاقا گناہ ہوگیا ہو اور وہ اس پر ہر وقت نادم و پریشان و ترساں ولرزاں ہے جس طرح ایك دزد باطن کہتا ہے کہ چور پر تو چوری ثابت ہوگئی مگر وہ ہمیشہ کا چور نہیں اور چوری کو اس نے کچھ اپنا پیشہ نہیں ٹھہرایا مگر نفس کی شامت سے قصور ہوگیا سو اس پر شرمندہ ہے اور رات دن ڈرتا ہے۔نہیں نہیں ان کے رب کی قسم جس نے انہیں شفیع المذنبین کیا۔ان کی شفاعت ہم جیسے روسیاہوںپرگناہوںسیاہ کاروں ستم گاروں کے لیے ہے جن کا بال بال گناہ میں بندھا ہے جن کے نام سے گناہ بھی تنگ وعار رکھتا ہے۔ع
ترسم آلودہ شود دامن عصیاں از من
(میں ڈرتا ہوں کہ گناہوں کا دامن میری وجہ سے آلودہ ہوجائے گا۔ت)
وحسبنا اﷲ تعالی و نعم الوکیل و الصلوۃ والسلام علی الشفیع الجمیل وعلی الہ وصحبہ بالوف التبجیل والحمد ﷲ اور اﷲ تعالی ہمارے لیے کافی ہے اور کیا ہی خوب کار ساز ہے اور درود و سلام نازل ہوجمال والے شفیع پر اور ان کے آل و اصحاب پر ہزاروں تعظیم و تکریم کے ساتھاور تمام تعریفیں اﷲ کے لیے ہیں
رب العلمین۔ جو سب جہانوں کا پروردگار ہے۔(ت)
حدیث ۱ و۲:امام احمد بسند صحیح اپنی مسند میں حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما سے اور ابن ماجہ حضرت ابوموسی اشعری رضی اﷲ تعالی عنہ سے راوی حضور شفیع المذنبین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
خیرت بین الشفاعۃ وبین ان یدخل نصف امتی الجنۃ فاخترت الشفاعۃ لانھا اعم واکفی ترونھا للمتقین لا ولکنھا للمذنبین الخطائین المتلوثین ۔
اللھم صل وسلم وبارك علیہ والحمد ﷲ رب العلمین۔ اﷲ تعالی نے مجھے اختیار دیا کہ یا تو شفاعت لو یا یہ کہ تمہاری آدھی امت جنت میں جائے میں نے شفاعت لی کہ وہ زیادہ تمام اور زیادہ کام آنے والی ہےکیا تم یہ سمجھ لیے ہو کہ میری شفاعت پاکیزہ مسلمانوں کے لیے ہے نہیں بلکہ وہ ان گنہگاروں کے واسطے ہے جو گناہوں میں آلودہ اور سخت خطا کار ہیں۔
اے اﷲ ! درود و سلام اور برکت نازل فرما ان پراور تمام تعریفیں اﷲ کے لیے ہیں جو سب جہانوں کاپروردگار ہے۔(ت)
حدیث ۳:ابن عدی حضرت ام المومنین ام سلمہ رضی اﷲ تعالی عنہا سے راوی حضور شفیع المذنبین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
شفاعتی للہالکین من امتی ۔ میری شفاعت میرے ان امتیوں کے لیے ہے جنہیں گناہوں نے ہلاك کر ڈالا۔
حق ہے اے شفیع میرےمیں قربان تیرےصلی اﷲ علیک۔
حدیث ۴تا ۸:حضرت ابوداؤد و ترمذی و ابن حبان و حاکم و بیہقی بافادہ صحیح حضرت انس بن مالك اور ترمذیابن ماجہابن حبانو حاکم حضرت جابر بن عبداﷲ اور طبرانی معجم کبیر میں حضرت عبداﷲ بن عباس
حدیث ۱ و۲:امام احمد بسند صحیح اپنی مسند میں حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما سے اور ابن ماجہ حضرت ابوموسی اشعری رضی اﷲ تعالی عنہ سے راوی حضور شفیع المذنبین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
خیرت بین الشفاعۃ وبین ان یدخل نصف امتی الجنۃ فاخترت الشفاعۃ لانھا اعم واکفی ترونھا للمتقین لا ولکنھا للمذنبین الخطائین المتلوثین ۔
اللھم صل وسلم وبارك علیہ والحمد ﷲ رب العلمین۔ اﷲ تعالی نے مجھے اختیار دیا کہ یا تو شفاعت لو یا یہ کہ تمہاری آدھی امت جنت میں جائے میں نے شفاعت لی کہ وہ زیادہ تمام اور زیادہ کام آنے والی ہےکیا تم یہ سمجھ لیے ہو کہ میری شفاعت پاکیزہ مسلمانوں کے لیے ہے نہیں بلکہ وہ ان گنہگاروں کے واسطے ہے جو گناہوں میں آلودہ اور سخت خطا کار ہیں۔
اے اﷲ ! درود و سلام اور برکت نازل فرما ان پراور تمام تعریفیں اﷲ کے لیے ہیں جو سب جہانوں کاپروردگار ہے۔(ت)
حدیث ۳:ابن عدی حضرت ام المومنین ام سلمہ رضی اﷲ تعالی عنہا سے راوی حضور شفیع المذنبین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
شفاعتی للہالکین من امتی ۔ میری شفاعت میرے ان امتیوں کے لیے ہے جنہیں گناہوں نے ہلاك کر ڈالا۔
حق ہے اے شفیع میرےمیں قربان تیرےصلی اﷲ علیک۔
حدیث ۴تا ۸:حضرت ابوداؤد و ترمذی و ابن حبان و حاکم و بیہقی بافادہ صحیح حضرت انس بن مالك اور ترمذیابن ماجہابن حبانو حاکم حضرت جابر بن عبداﷲ اور طبرانی معجم کبیر میں حضرت عبداﷲ بن عباس
حوالہ / References
سنن ابن ماجہ ابواب الزھد باب ذکر الشفاعۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۳۲۹،مسند احمد بن حنبل عن عبداﷲ بن عمرالمکتب الاسلامی بیروت ۲ /۷۵
الکامل لابن عدی ترجمہ عمرو بن المحرم دارالفکر بیروت ۵ /۱۸۰۱،کنزالعمال حدیث ۳۹۰۷۳ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۴ /۴۰۱
الکامل لابن عدی ترجمہ عمرو بن المحرم دارالفکر بیروت ۵ /۱۸۰۱،کنزالعمال حدیث ۳۹۰۷۳ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۴ /۴۰۱
اور خطیب بغدادی حضرت عبداﷲ ابن عمر فاروق و حضرت کعب بن عجرہ رضی اﷲ تعالی عنہم سے راوی حضور شفیع المذنبین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
شفاعتی یوم القیمۃ لاھل الکبائر من امتی ۔ میری شفاعت میری امت میں ان کے لیے ہے جو کبیرہ گناہ والے ہیں۔
صلی اﷲ علیك وسلموالحمد ﷲ رب العلمین۔اﷲ تعالی آپ پر درود و سلام نازل فرمائے اور تمام تعریفیں اﷲ تعالی کے لیے ہیں جو سب جہانوں کا رپروردگار ہے۔(ت)
حدیث ۹:ابوبکر احمد بن بغدادی حضرت ابودرداء رضی اﷲ تعالی عنہ سے راوی حضور شفیع المذنبین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:شفاعتی لاھل الذنوب من امتی۔میری شفاعت میرے گنہگار امتیوں کے لیے ہے۔
ابودرداء رضی اﷲ تعالی عنہ نے عرض کی:وان زنی وان سرق اگرچہ زانی ہواگرچہ چور ہو)فرمایا:وان زنی وان سرق علی رغم انف ابی الدرداء ۔(اگرچہ زانی ہو اگرچہ چور ہو برخلاف خواہش ابودرداء کے)
حدیث ۱۰ و ۱۱:طبرانی و بیہقی حضرت بریدہ اور طبرانی معجم اوسط میں حضرت انس رضی اﷲ تعالی عنہ سے راوی حضور شفیع المذنبین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
شفاعتی یوم القیمۃ لاھل الکبائر من امتی ۔ میری شفاعت میری امت میں ان کے لیے ہے جو کبیرہ گناہ والے ہیں۔
صلی اﷲ علیك وسلموالحمد ﷲ رب العلمین۔اﷲ تعالی آپ پر درود و سلام نازل فرمائے اور تمام تعریفیں اﷲ تعالی کے لیے ہیں جو سب جہانوں کا رپروردگار ہے۔(ت)
حدیث ۹:ابوبکر احمد بن بغدادی حضرت ابودرداء رضی اﷲ تعالی عنہ سے راوی حضور شفیع المذنبین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:شفاعتی لاھل الذنوب من امتی۔میری شفاعت میرے گنہگار امتیوں کے لیے ہے۔
ابودرداء رضی اﷲ تعالی عنہ نے عرض کی:وان زنی وان سرق اگرچہ زانی ہواگرچہ چور ہو)فرمایا:وان زنی وان سرق علی رغم انف ابی الدرداء ۔(اگرچہ زانی ہو اگرچہ چور ہو برخلاف خواہش ابودرداء کے)
حدیث ۱۰ و ۱۱:طبرانی و بیہقی حضرت بریدہ اور طبرانی معجم اوسط میں حضرت انس رضی اﷲ تعالی عنہ سے راوی حضور شفیع المذنبین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
حوالہ / References
سُنن ابنِ ماجہ ابواب الزہد باب ذکر الشفاعۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۳۲۹،سُنن ابی داؤد کتاب السنۃ باب فی الشفاعۃ آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۲۹۶،جامع الترمذی ابواب صفۃ القیمۃ باب ماجاء فی الشفاعۃ امین کمپنی دہلی۲ /۶۶،المستدرك للحاکم کتاب الایمان شفاعتی لاھل الکبائر من امتی دارالفکر بیروت ۱/۶۹،السنن الکبرٰی کتاب الجنایات۸ /۱۷ وکتاب الشہادات دارصادر بیروت ۱۰/۱۹۰، المعجم الکبیر حدیث ۱۱۴۵۴ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۱۱ /۱۸۹،موارد الظمٰان الٰی زوائد ابن حبان حدیث ۲۵۹۶ المطبعۃ السلفیہ ص۳۴۵،کنز العمال حدیث ۳۹۰۵۵ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۴/ ۳۹۸
تاریخ بغداد ترجمہ محمد بن ابراھیم الغازی ابن البصری دارالکتاب العربی بیروت ۱ /۴۱۶
تاریخ بغداد ترجمہ محمد بن ابراھیم الغازی ابن البصری دارالکتاب العربی بیروت ۱ /۴۱۶
ان اشفع یوم القیمۃ لاکثرمما علی وجہ الارض من شجروحجر ومدر ۔ یعنی روئے زمین پر جتنے پیڑپتھرڈھیلے ہیں میں قیامت یں ان سب سے زیادہ آدمیوں کی شفاعت فرماؤں گا۔
حدیث ۱۲:بخاریمسلمحاکمبیہقی حضرت ابوہریرہ رضی ا ﷲ تعالی عنہ سے راویواللفظ لھذین(اور لفظ حاکم و بیہقی کے ہیں۔ت)حضور شفیع المذنبین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
شفاعتی لمن شہدان لا الہ الا اﷲ مخلصا یصدق قلبہ لسانہ ۲ ۔ میری شفاعت ہر کلمہ گو کے لیے ہے جو سچے دل سے کلمہ پڑھے کہ زبان کی تصدیق دل کرتا ہو۔
حدیث ۱۳:احمدطبرانی وبزار حضرت معاذ بن جبل و حضرت ابو موسی اشعری رضی اﷲ تعالی عنہ سے راوی حضور شفیع المذنبین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
انہا اوسع لھم وھی لمن مات ولایشرك باﷲ شیئا ۔ شفاعت میں امت کے لیے زیادہ وسعت ہے کہ وہ ہر شخص کے واسطے ہے جو اﷲ تعالی کے ساتھ کسی کو شریك نہ ٹھہرائے یعنی جس کا خاتمہ ایمان پر ہو۔
حدیث ۱۴:طبرانی معجم اوسط میں حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے راوی حضور شفیع المذنبین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اتی جہنم فاضرب بابہا فیفتح لی فادخلھا فاحمداﷲ محامد ما حمدہ احد قبلی مثلہا ولا یحمداحد بعدی میں جہنم کا دروازہ کھلوا کر تشریف لے جاؤں گا وہاں خدا کی تعریف کروں گاایسی نہ مجھ سے پہلے کسی نے کیں نہ میرے بعد کوئی کرےپھر دوزخ سے ہر اس شخص کو نکال
حدیث ۱۲:بخاریمسلمحاکمبیہقی حضرت ابوہریرہ رضی ا ﷲ تعالی عنہ سے راویواللفظ لھذین(اور لفظ حاکم و بیہقی کے ہیں۔ت)حضور شفیع المذنبین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
شفاعتی لمن شہدان لا الہ الا اﷲ مخلصا یصدق قلبہ لسانہ ۲ ۔ میری شفاعت ہر کلمہ گو کے لیے ہے جو سچے دل سے کلمہ پڑھے کہ زبان کی تصدیق دل کرتا ہو۔
حدیث ۱۳:احمدطبرانی وبزار حضرت معاذ بن جبل و حضرت ابو موسی اشعری رضی اﷲ تعالی عنہ سے راوی حضور شفیع المذنبین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
انہا اوسع لھم وھی لمن مات ولایشرك باﷲ شیئا ۔ شفاعت میں امت کے لیے زیادہ وسعت ہے کہ وہ ہر شخص کے واسطے ہے جو اﷲ تعالی کے ساتھ کسی کو شریك نہ ٹھہرائے یعنی جس کا خاتمہ ایمان پر ہو۔
حدیث ۱۴:طبرانی معجم اوسط میں حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے راوی حضور شفیع المذنبین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اتی جہنم فاضرب بابہا فیفتح لی فادخلھا فاحمداﷲ محامد ما حمدہ احد قبلی مثلہا ولا یحمداحد بعدی میں جہنم کا دروازہ کھلوا کر تشریف لے جاؤں گا وہاں خدا کی تعریف کروں گاایسی نہ مجھ سے پہلے کسی نے کیں نہ میرے بعد کوئی کرےپھر دوزخ سے ہر اس شخص کو نکال
حوالہ / References
مسند احمد بن حنبل عن بریدہ الاسلمی المکتب الاسلامی بیروت ۵ /۳۴۷،المعجم الاوسط حدیث ۵۳۵۶ مکتبۃ المعارف ریاض ۶ /۱۷۲،کنزالعمال حدیث ۳۹۰۶۲ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۴ /۳۹۹
المستدرك للحاکم کتاب الایمان باب شفاعتی لمن یشھد الخ دارالفکر بیروت ۱ /۷۰،مسند احمد بن حنبل عن ابی موسی الاشعری المکتب الاسلامی بیروت ۴/۴۰۴ و ۴۱۵،کنزالعمال حدیث ۳۹۰۷۹ و ۳۹۰۸۰ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۰/ ۳۶۸ و ۳۶۹،مجمع الزوائد کتاب البعث باب ما جآء فی الشفاعۃ دارالکتاب بیروت ۱۰/ ۳۶۸ و۳۶۹
المستدرك للحاکم کتاب الایمان باب شفاعتی لمن یشھد الخ دارالفکر بیروت ۱ /۷۰،مسند احمد بن حنبل عن ابی موسی الاشعری المکتب الاسلامی بیروت ۴/۴۰۴ و ۴۱۵،کنزالعمال حدیث ۳۹۰۷۹ و ۳۹۰۸۰ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۰/ ۳۶۸ و ۳۶۹،مجمع الزوائد کتاب البعث باب ما جآء فی الشفاعۃ دارالکتاب بیروت ۱۰/ ۳۶۸ و۳۶۹
ثم اخرج منھا من قال لا الہ الا اﷲ ملخصا۔ لوں گا جس نے خالص دل سے لا الہ الا اﷲ کہا۔
حدیث ۱۵:حاکم بافادہ تصحیح اور طبرانی و بیہقی حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالی عنہ سے راوی حضور شفیع المذنبین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
یوضع للانبیاء منابر من ذھب فیجلسون علیھا ویبقی منبری لا اجلس علیہ او لا اقعد علیہ قائما بین یدی ربی مخافۃ ان یبعث بی الی الجنۃ ویبقی امتی بعدی فاقول یارب امتی امتی فیقول اﷲ عزوجل یا محمد ما ترید ان اصنع بامتك فاقول یا رب عجل حسابھم فما ازال اشفع حتی اعطی صکاکا برجال قد بعث بھم الی النار حتی ان مالکا خازن النار فیقول یا محمد ما ترکت لغضب ربك فی امتك من نقمۃ ۔
اللھم صلی وبارك علیہ والحمد اﷲ رب العلمین۔ انبیا کے لیے سونے کے منبر بچھائیں گے وہ ان پر بیٹھیں گےاور میرا منبر باقی رہے گا کہ میں اس پر جلوس نہ فرماؤں گا بلکہ اپنے رب کے حضور سر وقد کھڑا رہون گا اس ڈر سے کہ کہیں ایسا نہ ہو مجھے جنت میں بھیج دے اور میری امت میرے بعد رہ جائے پھر عرض کروں گا اے رب میرے ! میری امتمیری امتاﷲ تعالی فرمائے گا اے محمدتیری کیا مرضی ہے میں تیری امت کے ساتھ کیا کروں عرض کروں گا اے رب میرے ان کا حساب جلد فرمادےپس میں شفاعت کرتا رہوں گا۔یہاں تك کہ مجھے ان کی رہائی کی چھٹیاں ملیں گی جنہیں دوزخ بھیج چکے تھے یہاں تك کہ مالك داروغہ دوزخ عرض کرے گا اے محمد ! آپ نے اپنی امت میں رب کا غضب نام کو نہ چھوڑا۔
اے اﷲ ! درود و برکت نازل فرما ان پراور تمام تعریفیں اﷲ تعالی کے لیے ہیں جو سب جہانوں کا پروردگار ہے۔(ت)
حدیث ۱۵:حاکم بافادہ تصحیح اور طبرانی و بیہقی حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالی عنہ سے راوی حضور شفیع المذنبین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
یوضع للانبیاء منابر من ذھب فیجلسون علیھا ویبقی منبری لا اجلس علیہ او لا اقعد علیہ قائما بین یدی ربی مخافۃ ان یبعث بی الی الجنۃ ویبقی امتی بعدی فاقول یارب امتی امتی فیقول اﷲ عزوجل یا محمد ما ترید ان اصنع بامتك فاقول یا رب عجل حسابھم فما ازال اشفع حتی اعطی صکاکا برجال قد بعث بھم الی النار حتی ان مالکا خازن النار فیقول یا محمد ما ترکت لغضب ربك فی امتك من نقمۃ ۔
اللھم صلی وبارك علیہ والحمد اﷲ رب العلمین۔ انبیا کے لیے سونے کے منبر بچھائیں گے وہ ان پر بیٹھیں گےاور میرا منبر باقی رہے گا کہ میں اس پر جلوس نہ فرماؤں گا بلکہ اپنے رب کے حضور سر وقد کھڑا رہون گا اس ڈر سے کہ کہیں ایسا نہ ہو مجھے جنت میں بھیج دے اور میری امت میرے بعد رہ جائے پھر عرض کروں گا اے رب میرے ! میری امتمیری امتاﷲ تعالی فرمائے گا اے محمدتیری کیا مرضی ہے میں تیری امت کے ساتھ کیا کروں عرض کروں گا اے رب میرے ان کا حساب جلد فرمادےپس میں شفاعت کرتا رہوں گا۔یہاں تك کہ مجھے ان کی رہائی کی چھٹیاں ملیں گی جنہیں دوزخ بھیج چکے تھے یہاں تك کہ مالك داروغہ دوزخ عرض کرے گا اے محمد ! آپ نے اپنی امت میں رب کا غضب نام کو نہ چھوڑا۔
اے اﷲ ! درود و برکت نازل فرما ان پراور تمام تعریفیں اﷲ تعالی کے لیے ہیں جو سب جہانوں کا پروردگار ہے۔(ت)
حوالہ / References
المعجم الاوسط حدیث ۳۸۵۷ مکتبہ المعارف ریاض ۴ /۵۰۳
المستدرك للحاکم کتاب الایمان باب الانبیاء منابرمن ذھب دارالفکر بیروت ۱ /۶۵و ۶۶،المعجم الاوسط حدیث ۲۹۵۸ مکتبۃ المعارف ریاض ۳ /۴۴۶ و ۴۴۷،الترغیب والترہیب کتاب البعث فصل فی الشفاعۃ مصطفٰی البابی مصر ۴ /۴۴۶
المستدرك للحاکم کتاب الایمان باب الانبیاء منابرمن ذھب دارالفکر بیروت ۱ /۶۵و ۶۶،المعجم الاوسط حدیث ۲۹۵۸ مکتبۃ المعارف ریاض ۳ /۴۴۶ و ۴۴۷،الترغیب والترہیب کتاب البعث فصل فی الشفاعۃ مصطفٰی البابی مصر ۴ /۴۴۶
حدیث ۱۶ تا ۲۱:بخاری و مسلم و نسائی حضرت جابر بن عبداﷲ اور احمد بسند حسن اور بخاری تاریخ میں اور بزار اور طبرانی و بیہقی و ابونعیم حضرت عبداﷲ بن عباساور احمد بسند حسن و بزار بسند جید و دارمی و ابن ابی شیبہ و ابویعلی وابونعیم وبیہقی حضرت ابوذر اور طبرانی معجم اوسط میں بسند حضرت ابوسعید خدریاور کبیر میں حضرت سائب بن زیداور احمد باسناد حسن اور ابن ابی شیبہ و طبرانی حضرت ابوموسی اشعری رضی اﷲ تعالی عنہم سے راوی:
واللفظ لجابر قال قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اوعطیت ما لم یعط احد قبلی الی قولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم واعطیت الشفاعۃ ۔ اور لفظ حضرت جابر رضی اﷲ تعالی عنہ کے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:" مجھے وہ کچھ عطا ہوا جو مجھ سے پہلے کسی کو نہیں دیا گیا"۔
ان چھیوں حدیثوں میں یہ بیان ہوا ہے کہ حضور شفیع المذنبین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں میں شفیع مقرر کردیا گیا اور شفاعت خاص مجھی کو عطا ہوگی میرے سوا کسی نبی کو یہ منصب نہ ملا۔
حدیث ۲۲ و ۲۳:ابن عباس وابوسعید وا بو موسی سے انہیں حدیثوں میں وہ مضمون بھی ہے جو احمد و بخاری و مسلم نے انس اور شیخین نے ابوہریرہ(رضی اﷲ تعالی عنہم اجمعین)سے روایت کیا کہ حضور شفیع المذنبین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
واللفظ لجابر قال قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اوعطیت ما لم یعط احد قبلی الی قولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم واعطیت الشفاعۃ ۔ اور لفظ حضرت جابر رضی اﷲ تعالی عنہ کے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:" مجھے وہ کچھ عطا ہوا جو مجھ سے پہلے کسی کو نہیں دیا گیا"۔
ان چھیوں حدیثوں میں یہ بیان ہوا ہے کہ حضور شفیع المذنبین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں میں شفیع مقرر کردیا گیا اور شفاعت خاص مجھی کو عطا ہوگی میرے سوا کسی نبی کو یہ منصب نہ ملا۔
حدیث ۲۲ و ۲۳:ابن عباس وابوسعید وا بو موسی سے انہیں حدیثوں میں وہ مضمون بھی ہے جو احمد و بخاری و مسلم نے انس اور شیخین نے ابوہریرہ(رضی اﷲ تعالی عنہم اجمعین)سے روایت کیا کہ حضور شفیع المذنبین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
حوالہ / References
صحیح بخاری کتاب التیم وقولہ تعالٰی فلم تجدواماءً قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۴۸،صحیح بخاری کتاب الصلوۃ باب قولہ النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم جعلت لی الارض مسجدًا کراچی ۱ /۶۲،صحیح مسلم کتاب المساجد ومواضع الصلوۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۹۹،سنن النسائی کتاب الغسل والتمیم باب التمیم بالصعید نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ۱ /۷۴،مسند احمد بن حنبل عن ابن عباس رضی اﷲ عنہالمکتب الاسلامی بیروت ۱ /۳۰۱،المعجم الکبیرعن ابن عباس رضی اﷲ عنہالمکتب الاسلامی بیروت ۱ /۳۰۱،المعجم الکبیر عن ابن عباس رضی اﷲ عنہ حدیث ۱۱۰۸۵ المکتب الاسلامی بیروت ۱۱ /۷۳،مسند احمد بن حنبل عن ابی ذر المکتب الاسلامی بیروت ۵ /۱۶۲،الترغیب و الترھیب بحوالہ البزار فصل فی الشفاعۃ مصطفٰے البابی مصر۴ /۴۳۳،المعجم الاوسط حدیث ۷۴۳۵ مکتبۃ المعارف ریاض۸ /۲۱۲،المعجم الکبیر عن سائب بن زید حدیث ۶۶۷۳ المکتبۃ الفیصلیہ بیروت ۷ /۱۵۵،مسند احمد بن حنبل عن ابی موسٰی المکتب الاسلامی بیروت ۴ /۴۰۴
ان لکل نبی دعوۃ قددعا بہا فی امتہ واستجیب لہ ۔ وھذااللفظ الانس ولفظ ابی سعید لیس من نبی الا وقد اعطی دعوۃ فتعجلہا ۔(ولفظ ابن عباس)لم یبق نبی الا اعطی سؤلہ ۔رجعنا الی لفظ انس والفاظ الباقین کمثلہ معنی قال وانی اختبات دعوتی شفاعۃ لامتی یوم القیمۃ ۔(زاد موسی)جعلتہا لمن مات من امتی لایشرك باﷲ شیئا ۔ ہر نبی کے لیے ایك خاص دعا ہے جو وہ اپنی امت کے بارے میں کرچکا ہے اور وہ قبول ہوئی ہےیہ حضرت انس رضی اﷲ تعالی عنہ کے لفظ ہیںاور حضرت ابوسعید رضی اﷲ تعالی عنہ کے لفظ یوں ہیں کہ نہیں ہے کوئی نبی مگر یہ کہ اسے ایك خاص دعا عطا ہوئی جسے اس نے دنیا میں مانگ لیا۔ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما کے لفظ ہیں کہ کوئی نبی نہ بچا جس کو خاص دعا عطا نہ ہوئی ہوہم حضرت انس رضی اﷲ تعالی عنہ کے الفاظ کی طرف رجوع کرتے ہیںباقی راویوں کے الفاظ معنی کے اعتبار سے ان ہی کی مثل ہیں۔سرکار دوعالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا۔میں نے اپنی دعا کو قیامت کے دن اپنی امت کی شفاعت کے لیے بچا رکھا ہے۔" ابو موسی نے اضافہ کیا کہ میں ہر اس امتی کے لیے شفاعت کروں گا جو اس حال پر مرا کہ اﷲ تعالی کے ساتھ کسی کو شریك نہیں ٹھہراتا تھا۔(ت)
یعنی انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کی اگرچہ ہزاروں دعائیں قبول ہوتی ہیں مگر ایك دعا انہیں خاص جناب باری تبارك و تعالی سے ملتی ہے کہ جو چاہے مانگ لو بے شك دیا جائے گا تمام انبیاء آدم سے عیسی تك(علیہم الصلوۃ والسلام)سب اپنی اپنی وہ دعا دنیا میں کرچکے اور میں نے آخرت کے لیے اٹھا رکھی
یعنی انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کی اگرچہ ہزاروں دعائیں قبول ہوتی ہیں مگر ایك دعا انہیں خاص جناب باری تبارك و تعالی سے ملتی ہے کہ جو چاہے مانگ لو بے شك دیا جائے گا تمام انبیاء آدم سے عیسی تك(علیہم الصلوۃ والسلام)سب اپنی اپنی وہ دعا دنیا میں کرچکے اور میں نے آخرت کے لیے اٹھا رکھی
حوالہ / References
صحیح بخاری کتاب الدعوات باب قول اﷲ تعالٰی ادعونی استجب لکم قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۹۳۲،صحیح مسلم کتاب الایمان باب اثبات الشفاعۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۱۳،مسند احمد بن حنبل عن انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۳ /۲۰۸
مسند احمد بن حنبل عن ابی سعید الخذری رضی اﷲ عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۳ /۲۰
السنن الکبری کتاب الصلوۃ باب اینما ادرکتك الصلوۃ فصل الخ دارصادر بیروت ۲ /۴۳۳
صحیح مسلم کتاب الایمان باب اثبات الشفاعۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۱۳،مسند احمد بن حنبل عن انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۳ /۲۰۸
مسند احمد بن حنبل عن ابی موسٰی الاشعری رضی اﷲ عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۴ /۴۱۶
مسند احمد بن حنبل عن ابی سعید الخذری رضی اﷲ عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۳ /۲۰
السنن الکبری کتاب الصلوۃ باب اینما ادرکتك الصلوۃ فصل الخ دارصادر بیروت ۲ /۴۳۳
صحیح مسلم کتاب الایمان باب اثبات الشفاعۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۱۳،مسند احمد بن حنبل عن انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۳ /۲۰۸
مسند احمد بن حنبل عن ابی موسٰی الاشعری رضی اﷲ عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۴ /۴۱۶
وہ میری شفاعت ہے میری امت کے لیے قیامت کے دنمیں نے اسے اپنی ساری امت کے لیے رکھا ہے جو ایمان پر دنیا سے اٹھی۔
اللھم ارزقنا بجاھہ عندك امین ! اے اﷲ ! ہمیں ان کی اس وجاہت کے صدقے میں عطا فرما جو ان کو تیری بارگاہ میں حاصل ہے۔(ت)
اﷲ اکبر ! اے گنہگار ان امت! کیا تم نے اپنے مالك و مولی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی یہ کمال رأفت و رحمت اپنے حال پر نہ دیکھی کہ بارگاہ الہی عزوجلالہ سے تین سوال حضور کو ملے کہ جو چاہو مانگ لو عطا ہوگا۔حضور نے ان میں کوئی سوال اپنی ذات پاك کے لیے نہ رکھاسب تمہارے ہی کام میں صرف فرمادیئے دو سوال دنیا میں کیے وہ بھی تمہارے ہی واسطےتیسرا آخرت کو اٹھا رکھاوہ تمہاری اس عظیم حاجت کے واسطے جب اس مہربان مولی رؤف و رحیم آقا صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے سوا کوئی کام آنے والابگڑی بنانے والا نہ ہوگا۔(صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم)حق فرما یا حضرت حق عزوجل نے:
" عزیز علیہ ماعنتم حریص علیکم بالمؤمنین رءوف رحیم ﴿۱۲۸﴾" ۔ ان پر تمہارا مشقت میں پڑنا گراں ہےتمہاری بھلائی کے نہایت چاہنے والےمسلمانوں پر کمال مہربان۔(ت)
واﷲ العظیم ! قسم اس کی جس نے انہیں آپ پر مہربان کیا ہر گز ہر گز کوئی ماں اپنے عزیز پیارے اکلوتے بیٹے پر زنہار اتنی مہربان نہیں جس قدر وہ اپنے ایك امتی پر مہربان ہیں۔(صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم)الہی ! تو ہمارا عجزو ضعف اور ان کے حقوق عظیمہ کی عظمت جانتا ہے۔اے قادر ! اے واجد!ہماری طرف سے ان پر اور ان کی آل پر وہ برکت والی درودیں نازل فرما جو ان کے حقوق کو وافی ہوں اور ان کی رحمتوں کو مکافی۔
اللھم صل وسلم وبارك علیہ وعلی الہ وصحبہ قدر رأفتہ و رحمۃ بامتہ وقدرأفتك ورحمتك بہ امین امین الہ الحق امین۔ اے اﷲ ! درود و سلام اور برکت نازل فرما آپ پرآپ کی آل پر اور آپ کے اصحاب پر جتنا کہ وہ اپنی امت پر مہربان ہیں اور جس قدر تو ان پر مہربان ہے۔اے معبود برحق ! ہماری دعا قبول فرما۔(ت)
سبحن اﷲ ! امتیوں نے ان کی رحمتوں کا یہ معاوضہ رکھا کہ کوئی افضلیت میں تشکیلیں نکالتا ہے۔کوئی ان کی تعریف اپنی سی جانتا ہےکوئی ان کی تعظیم پر بگڑ کر کراتاہے۔افعال محبت کا بدعت نام اجلال وادب
اللھم ارزقنا بجاھہ عندك امین ! اے اﷲ ! ہمیں ان کی اس وجاہت کے صدقے میں عطا فرما جو ان کو تیری بارگاہ میں حاصل ہے۔(ت)
اﷲ اکبر ! اے گنہگار ان امت! کیا تم نے اپنے مالك و مولی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی یہ کمال رأفت و رحمت اپنے حال پر نہ دیکھی کہ بارگاہ الہی عزوجلالہ سے تین سوال حضور کو ملے کہ جو چاہو مانگ لو عطا ہوگا۔حضور نے ان میں کوئی سوال اپنی ذات پاك کے لیے نہ رکھاسب تمہارے ہی کام میں صرف فرمادیئے دو سوال دنیا میں کیے وہ بھی تمہارے ہی واسطےتیسرا آخرت کو اٹھا رکھاوہ تمہاری اس عظیم حاجت کے واسطے جب اس مہربان مولی رؤف و رحیم آقا صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے سوا کوئی کام آنے والابگڑی بنانے والا نہ ہوگا۔(صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم)حق فرما یا حضرت حق عزوجل نے:
" عزیز علیہ ماعنتم حریص علیکم بالمؤمنین رءوف رحیم ﴿۱۲۸﴾" ۔ ان پر تمہارا مشقت میں پڑنا گراں ہےتمہاری بھلائی کے نہایت چاہنے والےمسلمانوں پر کمال مہربان۔(ت)
واﷲ العظیم ! قسم اس کی جس نے انہیں آپ پر مہربان کیا ہر گز ہر گز کوئی ماں اپنے عزیز پیارے اکلوتے بیٹے پر زنہار اتنی مہربان نہیں جس قدر وہ اپنے ایك امتی پر مہربان ہیں۔(صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم)الہی ! تو ہمارا عجزو ضعف اور ان کے حقوق عظیمہ کی عظمت جانتا ہے۔اے قادر ! اے واجد!ہماری طرف سے ان پر اور ان کی آل پر وہ برکت والی درودیں نازل فرما جو ان کے حقوق کو وافی ہوں اور ان کی رحمتوں کو مکافی۔
اللھم صل وسلم وبارك علیہ وعلی الہ وصحبہ قدر رأفتہ و رحمۃ بامتہ وقدرأفتك ورحمتك بہ امین امین الہ الحق امین۔ اے اﷲ ! درود و سلام اور برکت نازل فرما آپ پرآپ کی آل پر اور آپ کے اصحاب پر جتنا کہ وہ اپنی امت پر مہربان ہیں اور جس قدر تو ان پر مہربان ہے۔اے معبود برحق ! ہماری دعا قبول فرما۔(ت)
سبحن اﷲ ! امتیوں نے ان کی رحمتوں کا یہ معاوضہ رکھا کہ کوئی افضلیت میں تشکیلیں نکالتا ہے۔کوئی ان کی تعریف اپنی سی جانتا ہےکوئی ان کی تعظیم پر بگڑ کر کراتاہے۔افعال محبت کا بدعت نام اجلال وادب
حوالہ / References
القرآن الکریم ۹ /۱۲۸
پر شرك کے احکام
انا ﷲ وانا الیہ راجعونوسیعلم الذین ظلمواای منقلب ینقلبونولا حول ولاقوۃ الا باﷲ العلی العظیم۔ بے شك ہم اﷲ تعالی کے لیے ہیں اور ہم کو اسی کی طرف لوٹنا ہےعنقریب ظالم جان لیں گے کہ کس کروٹ پر پلٹتے ہیںاور اﷲ بلند و عظیم کی توفیق کے بغیر نہ تو گناہ سے بچنے کی طاقت ہے اور نہ ہی نیکی کرنے کی قوت۔(ت)
حدیث ۲۴:صحیح مسلم میں حضرت ابی بن کعب رضی اﷲ تعالی عنہ سے مروی حضور شفیع المذنبین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اﷲ تعالی نے مجھے تین سوال عطا فرمائےمیں نے دو بار تو دنیامیں عرض کرلی:اللھم اغفرلامتی اللھم اغفرلامتی الہی!میری امت کی مغفرت فرماالہی میری امت کی مغفرت فرما۔الہی ! میری امت کی مغفرت فرما۔" واخرت الثالثۃ لیوم یرغب الی فیہ الخلق حتی ابراھیم ۔اور تیسری عرض اس دن کے لیے اٹھا رکھی جس میں مخلوق الہی میری طرف نیاز مند ہوگی یہاں تك کہ ابراہیم خلیل اﷲ علیہ الصلوۃ والسلام۔
وصل وسلم بارك علیہ والحمد ﷲ رب العلمین۔ اور درود و سلام و برکت نازل فرما ان پراور تمام تعریفیں اﷲ تعالی کے لیے ہیں جو سب جہانوں کا پروردگار ہے۔(ت)
حدیث ۲۵:بیہقی حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے راوی حضور شفیع المذنبین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے شب اسری اپنے رب سے عرض کی۔تو نے انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کو یہ یہ فضائل بخشےرب عزمجدہنے فرمایا:اعطیتك خیرا من ذلك(الی قولہ)خبأت شفاعتك و لم اخبأھالنبی غیرك ۔
میں نے تجھے جو عطا فرمایا وہ ان سب سے بہتر ہےمیں نے تیرے لیے شفاعت چھپا رکھی اور تیرے سوا دوسرے کو نہ دی۔
حدیث ۲۶:ابن ابی شیبہ و ترمذی بافادہ تحسین وتصحیح اور ابن ماجہ و حاکم بحکم تصحیح حضرت ابی بن کعب رضی اﷲ تعالی عنہ سے راوی حضور شفیع المذنبین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
انا ﷲ وانا الیہ راجعونوسیعلم الذین ظلمواای منقلب ینقلبونولا حول ولاقوۃ الا باﷲ العلی العظیم۔ بے شك ہم اﷲ تعالی کے لیے ہیں اور ہم کو اسی کی طرف لوٹنا ہےعنقریب ظالم جان لیں گے کہ کس کروٹ پر پلٹتے ہیںاور اﷲ بلند و عظیم کی توفیق کے بغیر نہ تو گناہ سے بچنے کی طاقت ہے اور نہ ہی نیکی کرنے کی قوت۔(ت)
حدیث ۲۴:صحیح مسلم میں حضرت ابی بن کعب رضی اﷲ تعالی عنہ سے مروی حضور شفیع المذنبین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اﷲ تعالی نے مجھے تین سوال عطا فرمائےمیں نے دو بار تو دنیامیں عرض کرلی:اللھم اغفرلامتی اللھم اغفرلامتی الہی!میری امت کی مغفرت فرماالہی میری امت کی مغفرت فرما۔الہی ! میری امت کی مغفرت فرما۔" واخرت الثالثۃ لیوم یرغب الی فیہ الخلق حتی ابراھیم ۔اور تیسری عرض اس دن کے لیے اٹھا رکھی جس میں مخلوق الہی میری طرف نیاز مند ہوگی یہاں تك کہ ابراہیم خلیل اﷲ علیہ الصلوۃ والسلام۔
وصل وسلم بارك علیہ والحمد ﷲ رب العلمین۔ اور درود و سلام و برکت نازل فرما ان پراور تمام تعریفیں اﷲ تعالی کے لیے ہیں جو سب جہانوں کا پروردگار ہے۔(ت)
حدیث ۲۵:بیہقی حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے راوی حضور شفیع المذنبین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے شب اسری اپنے رب سے عرض کی۔تو نے انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کو یہ یہ فضائل بخشےرب عزمجدہنے فرمایا:اعطیتك خیرا من ذلك(الی قولہ)خبأت شفاعتك و لم اخبأھالنبی غیرك ۔
میں نے تجھے جو عطا فرمایا وہ ان سب سے بہتر ہےمیں نے تیرے لیے شفاعت چھپا رکھی اور تیرے سوا دوسرے کو نہ دی۔
حدیث ۲۶:ابن ابی شیبہ و ترمذی بافادہ تحسین وتصحیح اور ابن ماجہ و حاکم بحکم تصحیح حضرت ابی بن کعب رضی اﷲ تعالی عنہ سے راوی حضور شفیع المذنبین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
حوالہ / References
مسند احمد بن حنبل عن ابی بن کعب المکتب الاسلامی بیروت ۵ /۱۲۷،صحیح مسلم کتاب فضائل القرآن باب بیان ان القرآن انزل علٰی سبعۃ حرف قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۲۷۳
الشفاء بتعریف حقوق المصطفٰی الباب الثالث الفصل الاول المطبعۃ الشرکۃ الصحافیۃ ۱ /۱۳۴
الشفاء بتعریف حقوق المصطفٰی الباب الثالث الفصل الاول المطبعۃ الشرکۃ الصحافیۃ ۱ /۱۳۴
اذاکان یوم القیمۃ کنت امام النبیین وخطیبھم و صاحب شفاعتھم غیر فخر ۔ قیامت کے دن میں انبیاء کا پیشوا اور ان کا خطیب اور ان کا شفاعت والا ہوں اور یہ کچھ فخر کی راہ سے نہیں فرماتا۔
حدیث ۲۷ تا ۴۰:ابن منیعحضرت زید بن ارقم وغیرہ چودہ۱۴ صحابہ کرام رضی اﷲ تعالی عنہم سے راویحضرت شفیع المذنبین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
شفاعتی یوم القیمۃ حق فمن لم یؤمن بہا لم یکن من اھلہا ۔ میری شفاعت روز قیامت حق ہے جو اس پر ایمان نہ لائے گا اس کے قابل نہ ہوگا۔
منکرمسکین اس حدیث متواتر کو دیکھے اور اپنی جان پر رحم کرکے شفاعت مصطفے صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پر ایمان لائے۔
"اللھم انك تعلم ھدیت فامنا بشفاعۃ حبیبك محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فاجعلنا من اھلہا فی الدنیا والاخرۃ یا اھل التقوی واھل المغفرۃ واجعل اشرف صلواتك وانمی برکاتك وازکی تحیاتك علی ھذا الحبیب المجتبی والشفیع المرتضی وعلی الہ و صحبہ دائما ابدا امین یا ارحم الرحمینوالحمد ﷲ رب العلمین۔ اے اﷲ ! تو جانتا ہےبے شك تو نے ہدایت عطا فرمائی ہےتو ہم تیرے حبیب محمد مصطفے صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی شفاعت پر ایمان لائے ہیں۔اے اﷲ! تو میں دنیا وآخرت میں لائق شفاعت بنادے۔اے تقوی ومغفرت والے ! اپنا افضل دروداکثر برکات اور پاکیزہ تحیات بھیج اس منتخب محبوب پر جس کی شفاعت کی امید کی جاتی ہے اور آپ کی آل پر اور آپ کے صحابہ پر ہمیشہ ہمیشہ کے لیےاے بہترین رحم فرمانے والے ! ہماری دعا کو قبول فرما۔اور تمام تعریفیں اﷲ تعالی کے لیے ہیں جو سب جہانوں کا پروردگار ہے۔(ت)
حدیث ۲۷ تا ۴۰:ابن منیعحضرت زید بن ارقم وغیرہ چودہ۱۴ صحابہ کرام رضی اﷲ تعالی عنہم سے راویحضرت شفیع المذنبین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
شفاعتی یوم القیمۃ حق فمن لم یؤمن بہا لم یکن من اھلہا ۔ میری شفاعت روز قیامت حق ہے جو اس پر ایمان نہ لائے گا اس کے قابل نہ ہوگا۔
منکرمسکین اس حدیث متواتر کو دیکھے اور اپنی جان پر رحم کرکے شفاعت مصطفے صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پر ایمان لائے۔
"اللھم انك تعلم ھدیت فامنا بشفاعۃ حبیبك محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فاجعلنا من اھلہا فی الدنیا والاخرۃ یا اھل التقوی واھل المغفرۃ واجعل اشرف صلواتك وانمی برکاتك وازکی تحیاتك علی ھذا الحبیب المجتبی والشفیع المرتضی وعلی الہ و صحبہ دائما ابدا امین یا ارحم الرحمینوالحمد ﷲ رب العلمین۔ اے اﷲ ! تو جانتا ہےبے شك تو نے ہدایت عطا فرمائی ہےتو ہم تیرے حبیب محمد مصطفے صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی شفاعت پر ایمان لائے ہیں۔اے اﷲ! تو میں دنیا وآخرت میں لائق شفاعت بنادے۔اے تقوی ومغفرت والے ! اپنا افضل دروداکثر برکات اور پاکیزہ تحیات بھیج اس منتخب محبوب پر جس کی شفاعت کی امید کی جاتی ہے اور آپ کی آل پر اور آپ کے صحابہ پر ہمیشہ ہمیشہ کے لیےاے بہترین رحم فرمانے والے ! ہماری دعا کو قبول فرما۔اور تمام تعریفیں اﷲ تعالی کے لیے ہیں جو سب جہانوں کا پروردگار ہے۔(ت)
حوالہ / References
جامع الترمذی ابواب المناقب باب منہ امین کمپنی دہلی ۲ /۲۰۱،سنن ابن ماجہ ابواب الزہد باب ذکرالشفاعۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۳۳۰،المستدرك للحاکم کتاب الایمان باب اذاکان یوم القیمۃ الخ دارالفکربیروت ۱/ ۷۱
کنزالعمال بحوالہ ابن منیع عن زید بن ارقم الخ حدیث ۳۹۰۵۹ مؤستہ الرسالہ بیروت ۱۴ /۳۹۹
کنزالعمال بحوالہ ابن منیع عن زید بن ارقم الخ حدیث ۳۹۰۵۹ مؤستہ الرسالہ بیروت ۱۴ /۳۹۹
مسئلہ ۱۶۶:مسئولہ مولوی احمد شاہ ساکن موضع سادات
شب قدر میں تمام چیزیں مثل درخت و پتھر وغیرہ کے سجدہ کرتی ہیں یا نہیں
الجواب:
ہاں ہر چیز سجدہ کرتی ہےاولیاء نے اسے مشاہدہ کیا ہےواﷲ تعالی علم۔
مسئلہ ۱۶۷: ازاودے پور میواڑ راجپوتانہ مدرسہ اسلامیہمسئولہ مولانا مولوی سید احمد صاحب مہتم مدرسہ اسلامیہ ۱۵ ذوالقعدہ ۱۳۲۹ھ
قدوۃ العلماء زبدۃ الفقہاء حضرت مولانا صاحب دام فیوضہمبعد سلام مسنون نیاز مشحونمعروض خدمت بندگان والا ہوںآپ کا مکرمت نامہ جس روز پہچا اسی روز مولوی ظہیر حسن صاحب بھی پہنچے اور بخیریت ہیںکار درس و تدریس انجام دے رہے ہیںحضور نے یاد آوری بزرگانہ سی مشکور فرمایا۔کار خدمت سے یاد فرمائیں۔
دیگر مکلف ہوں کہ مولوی عبدالرحیم صاحب احمد آبادی مع مولوی علاؤ الدین صاحب سندھی سادات عظام وفقراء ذوی الاحترام کے پیچھے بلاوجہ پڑرہے ہیں اور طرح طرح کے الزام ان کے ذمہ لگا کر تکفیر کے فتوے منگالیے ہیں۔
اسی طرح سے فقراء سے غرضیکہ ایسی فضول باتیں کرکے بزرگان دین کا دل دکھاتے ہیں وجہ خاص اس کی یہ ہے کہ ان کو احمد آباد کے لوگ پہلے نہیں مانتے تھے۔سادات اور فقراء کی حقارت کرنے میں اب پہنچ گئے۔اس بارہ میں حضور کو اشارہ کافی ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ ایسے معاملہ میں جب تك فریقین کی جانب سے تحقیق نہ ہو تکفیر وغیرہ کا حکم نہ بخشا جائےاور بلاوجہ سادات و فقراء کے پیچھے پڑنا اور جڑبنیاد حقار ت کے واسطے اکھیڑنا شرعا ناجائز ہےچنانچہ حضرت فرید میاں صاحب سجادہ نشین حضرت خواجہ محمد حسین چشتی رحمۃ اﷲ تعالی علیہ کی اولاد میں ہیں۔اور اسی طرف سے قاضی احمد میاں قادر میاں صاحب قادری کی نسبت سادات نہ ہونے کی وعظ وغیرہ کہہ کر دل دکھا جاتے ہیں۔سو اب بطور فتوی ارقام فرمادیں کہ حضرت شاہ فرید میاں صاحب اور قادر میاں صاحب اور احمد میاں صاحب سادات کا دکھانا اور کسر شان سادات و فقیراء کی کرنا اور ان سے سند طلب کرنا اور نہ ملنے پر برا کہنا کہاں تك جائز ہے۔اور ایسا کہنے والے کی نسبت شرع شریف میں کیا حکم ہےسوبرائے کرم اس کا فتوی صاف تحریر فرمائیں زیادہ حد ادبفقیر کو بھی بوجہ غامان سادات ہونے کے سخت رنج ہے۔
شب قدر میں تمام چیزیں مثل درخت و پتھر وغیرہ کے سجدہ کرتی ہیں یا نہیں
الجواب:
ہاں ہر چیز سجدہ کرتی ہےاولیاء نے اسے مشاہدہ کیا ہےواﷲ تعالی علم۔
مسئلہ ۱۶۷: ازاودے پور میواڑ راجپوتانہ مدرسہ اسلامیہمسئولہ مولانا مولوی سید احمد صاحب مہتم مدرسہ اسلامیہ ۱۵ ذوالقعدہ ۱۳۲۹ھ
قدوۃ العلماء زبدۃ الفقہاء حضرت مولانا صاحب دام فیوضہمبعد سلام مسنون نیاز مشحونمعروض خدمت بندگان والا ہوںآپ کا مکرمت نامہ جس روز پہچا اسی روز مولوی ظہیر حسن صاحب بھی پہنچے اور بخیریت ہیںکار درس و تدریس انجام دے رہے ہیںحضور نے یاد آوری بزرگانہ سی مشکور فرمایا۔کار خدمت سے یاد فرمائیں۔
دیگر مکلف ہوں کہ مولوی عبدالرحیم صاحب احمد آبادی مع مولوی علاؤ الدین صاحب سندھی سادات عظام وفقراء ذوی الاحترام کے پیچھے بلاوجہ پڑرہے ہیں اور طرح طرح کے الزام ان کے ذمہ لگا کر تکفیر کے فتوے منگالیے ہیں۔
اسی طرح سے فقراء سے غرضیکہ ایسی فضول باتیں کرکے بزرگان دین کا دل دکھاتے ہیں وجہ خاص اس کی یہ ہے کہ ان کو احمد آباد کے لوگ پہلے نہیں مانتے تھے۔سادات اور فقراء کی حقارت کرنے میں اب پہنچ گئے۔اس بارہ میں حضور کو اشارہ کافی ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ ایسے معاملہ میں جب تك فریقین کی جانب سے تحقیق نہ ہو تکفیر وغیرہ کا حکم نہ بخشا جائےاور بلاوجہ سادات و فقراء کے پیچھے پڑنا اور جڑبنیاد حقار ت کے واسطے اکھیڑنا شرعا ناجائز ہےچنانچہ حضرت فرید میاں صاحب سجادہ نشین حضرت خواجہ محمد حسین چشتی رحمۃ اﷲ تعالی علیہ کی اولاد میں ہیں۔اور اسی طرف سے قاضی احمد میاں قادر میاں صاحب قادری کی نسبت سادات نہ ہونے کی وعظ وغیرہ کہہ کر دل دکھا جاتے ہیں۔سو اب بطور فتوی ارقام فرمادیں کہ حضرت شاہ فرید میاں صاحب اور قادر میاں صاحب اور احمد میاں صاحب سادات کا دکھانا اور کسر شان سادات و فقیراء کی کرنا اور ان سے سند طلب کرنا اور نہ ملنے پر برا کہنا کہاں تك جائز ہے۔اور ایسا کہنے والے کی نسبت شرع شریف میں کیا حکم ہےسوبرائے کرم اس کا فتوی صاف تحریر فرمائیں زیادہ حد ادبفقیر کو بھی بوجہ غامان سادات ہونے کے سخت رنج ہے۔
الجواب:
بگرامی ملاحظہ مکرم ذی المجدوالکرم جناب مولانا مولوی سید قاضی احمد علی صاحب مدنی دام مجد ہم۔بعد ادائے ہدیہ سنت ملتمسنوازش نامہ تشریف لایاممنون یاد آوری فرمایامولوی عبدالرحیم صاحب نے صرف ایك شخص کی نسبت مجھ سے دوبار فتوی لیاایك اس بارہ میں کہ اس نے حضرات ائمہ اطہار کو نبی و رسول بتایااس کے بارے میں میں نے "جزاء اﷲ عدوہ" لکھی جس کو طبع ہوئے بارہ۱۲ برس گزرے۔دوسرا اس بارے میں کہ وہ معوذتین کو قرآن نہیں مانتا اس پر میرا فتوی نذیر المنافقین میں چھپا جسے سال ہوئے۔ان کے سوا میں نے ان کوکوئی فتوی کسی کے کفر پر لکھ کر نہ بھیجا۔ہاں ایك شخص کے کچھ اشعار کی نسبت سوال تھا جس میں اس نے اپنے پیر کی تعریف میں بہت غلو وافراط کیا۔اس پر میں نے صریح کفر ہونے کا فتوی نہ دیا بلکہ اس میں تاویلات کی طرف اشارہ کیا۔اور یہ دو نام جو آپ نے تحریر فرمائے ان کی بابت مجھے اصلا یاد نہیں کہ کسی امر کا کوئی فتوی کیسا ہی لکھا گیا ہو۔ہاں زید و عمر کرکے کوئی سوال انہوں نے بھیجا اور میں نے جواب لکھا ہو تو معلوم نہیںمگر کفر کا فتوی صرف انہیں باتوں پر لکھا نہیں بلکہ چھاپ کر بھیجا ہے جسے ۲ اور ۷ برس ہوئےاور اشعار والا فتوی بھی غالبا وہیں طبع ہوگیا ہے۔
یہ فقیر ذلیل بحمدہ تعالی حضرات سادات کرام کا ادنی غلام وخاکپاہے۔ان کی محبت و عظمت ذریعہ نجات وشفاعت جانتا ہےاپنی کتابوں میں چھاپ چکا ہے کہ سید اگر بدمذہب بھی ہوجائے تو اس کی تعظیم نہیں جاتی جب تك بدمذہب حد کفر تك نہ پہنچےہاں بعدکفر سیادت ہی نہیں رہتیپھر اس کی تعظیم حرام ہوجاتی ہے۔اور یہ بھی فقیر بار ہا فتوی دے چکا ہے کہ کسی کو سید سمجھنے اور اس کی تعظیم کرنے کے لیے ہمیں اپنے ذاتی علم سے اسے سید جاننا ضروری نہیںجو لوگ سید کہلائے جاتے ہیں ہم ان کی تعظیم کریں گےہمیں تحقیقات کی حاجت نہیںنہ سیادت کی سند مانگنے کا ہم کو حکم دیا گیا ہے۔اور خوا ہی نخواہی سند دکھانے پر مجبور کرنا اور نہ دکھائیں تو برا کہنا مطعون کرنا ہرگز جائے نہیں۔" الناس امنأ علی انسابھم(لوگ اپنے نسب پرامین ہیں)ہاں جس کی نسبت ہمیں خوب تحقیق معلوم ہوکہ یہ سید نہیں اور وہ سید بنے اس کی ہم تعظیم نہ کریں گے نہ اسے سید کہیں گے اور مناسب ہوگا کہ ناواقفوں کو اس کے فریب سے مطلع کردیا جائے۔میرے خیال میں ایك حکایت ہے جس پر میرا عمل ہے کہ ایك شخص کسی سید سے الجھاانہوں نے فرمایا میں سید ہوں کہا۔
بگرامی ملاحظہ مکرم ذی المجدوالکرم جناب مولانا مولوی سید قاضی احمد علی صاحب مدنی دام مجد ہم۔بعد ادائے ہدیہ سنت ملتمسنوازش نامہ تشریف لایاممنون یاد آوری فرمایامولوی عبدالرحیم صاحب نے صرف ایك شخص کی نسبت مجھ سے دوبار فتوی لیاایك اس بارہ میں کہ اس نے حضرات ائمہ اطہار کو نبی و رسول بتایااس کے بارے میں میں نے "جزاء اﷲ عدوہ" لکھی جس کو طبع ہوئے بارہ۱۲ برس گزرے۔دوسرا اس بارے میں کہ وہ معوذتین کو قرآن نہیں مانتا اس پر میرا فتوی نذیر المنافقین میں چھپا جسے سال ہوئے۔ان کے سوا میں نے ان کوکوئی فتوی کسی کے کفر پر لکھ کر نہ بھیجا۔ہاں ایك شخص کے کچھ اشعار کی نسبت سوال تھا جس میں اس نے اپنے پیر کی تعریف میں بہت غلو وافراط کیا۔اس پر میں نے صریح کفر ہونے کا فتوی نہ دیا بلکہ اس میں تاویلات کی طرف اشارہ کیا۔اور یہ دو نام جو آپ نے تحریر فرمائے ان کی بابت مجھے اصلا یاد نہیں کہ کسی امر کا کوئی فتوی کیسا ہی لکھا گیا ہو۔ہاں زید و عمر کرکے کوئی سوال انہوں نے بھیجا اور میں نے جواب لکھا ہو تو معلوم نہیںمگر کفر کا فتوی صرف انہیں باتوں پر لکھا نہیں بلکہ چھاپ کر بھیجا ہے جسے ۲ اور ۷ برس ہوئےاور اشعار والا فتوی بھی غالبا وہیں طبع ہوگیا ہے۔
یہ فقیر ذلیل بحمدہ تعالی حضرات سادات کرام کا ادنی غلام وخاکپاہے۔ان کی محبت و عظمت ذریعہ نجات وشفاعت جانتا ہےاپنی کتابوں میں چھاپ چکا ہے کہ سید اگر بدمذہب بھی ہوجائے تو اس کی تعظیم نہیں جاتی جب تك بدمذہب حد کفر تك نہ پہنچےہاں بعدکفر سیادت ہی نہیں رہتیپھر اس کی تعظیم حرام ہوجاتی ہے۔اور یہ بھی فقیر بار ہا فتوی دے چکا ہے کہ کسی کو سید سمجھنے اور اس کی تعظیم کرنے کے لیے ہمیں اپنے ذاتی علم سے اسے سید جاننا ضروری نہیںجو لوگ سید کہلائے جاتے ہیں ہم ان کی تعظیم کریں گےہمیں تحقیقات کی حاجت نہیںنہ سیادت کی سند مانگنے کا ہم کو حکم دیا گیا ہے۔اور خوا ہی نخواہی سند دکھانے پر مجبور کرنا اور نہ دکھائیں تو برا کہنا مطعون کرنا ہرگز جائے نہیں۔" الناس امنأ علی انسابھم(لوگ اپنے نسب پرامین ہیں)ہاں جس کی نسبت ہمیں خوب تحقیق معلوم ہوکہ یہ سید نہیں اور وہ سید بنے اس کی ہم تعظیم نہ کریں گے نہ اسے سید کہیں گے اور مناسب ہوگا کہ ناواقفوں کو اس کے فریب سے مطلع کردیا جائے۔میرے خیال میں ایك حکایت ہے جس پر میرا عمل ہے کہ ایك شخص کسی سید سے الجھاانہوں نے فرمایا میں سید ہوں کہا۔
کیا سند ہے تمہارے سید ہونے کی۔رات کو زیارت اقدس سے مشرف ہوا کہ معرکہ حشر ہے یہ شفاعت خواہ ہوااعراض فرمایا:اس نے عرض کی:میں بھی حضور کا امتی ہوں۔فرمایا:کیاسند ہے تیرے امتی ہونے کیمیں مولوی عبدالرحیم صاحب کو اس بارے میں لکھوں گا۔اور اگر وہ ایسا کرتے ہیں تو منع کروں گاامید ہے کہ وہ میری گزارش قبول کریں گے۔آپ فقیر کی اسی تحریر کو فتوی تصور فرمائیں۔ فقیراحمد رضا غفرلہ از بریلی ۲۵ ذوالحجہ ۱۳۲۹ھ
مسئلہ ۱۶۸:
بسم اﷲ الرحمن الرحیم ط
نحمدہونصلی علی رسول الرؤف الرحیم ط
امابعد !سوال ازفاضل اجل عالم بے بدل حضرت مولانا مولوی محمد احمد رضا خان صاحب ساکن بریلی عم فیضہ الصوری والمعنوی۔
محذومی مکرمی معظمی مفخمی حضرت حامی دین متین مولانا مولوی محمد احمد رضا خان صاحب دام محبتکمبعد السلام علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ واضح رائے عالی ہو کہ ہمارے یہاں شہر احمد آباد میں ایك رسالہ آٹھ صفحہ کا مطبع حمیدی پریس واقع احمد آباد بازار کا لوپور میں چھپ کر شائع ہوا ہے۔اس کے مشتہر مولوی شیر محمد بن شاہ محمد ساکن احمد آباد محلہ مرزا پور متصل قصابان گاؤ ہیں۔اور اس میں رسالہ کی اشاعت کی تاریخ یہ لکھی ہے" مورخہ ۲ جمادی الاخری ۱۳۳۰ ھ روز وشنبہ" اور اس رسالہ کے صفحہ ۵ سے صفحہ ۷ تك ایك فتوی ہے اور وہ فتوی تاریخ ۱۱ جمادی الاولی یوم الاربعا ۱۳۲۴ھ کو لکھا گیا ہے۔
جناب مولانا صاحب ! دست بستہ خدمت میں عرض یہ ہے کہ چھپا ہوا فتوی آپ کی خدمت میں رجسٹرڈ حاضر کیا جاتا ہے۔یہ فتوی آپ نے تحریر فرمایا ہے یا نہیں یہاں بعض حضرات یہ فرماتے ہیں کہ مولانا احمد رضا خان صاحب نے یہ فتوی نہیں لکھا۔ یہ فتوی مولانا صاحب کی طرف منسوب کردیا ہے۔مولانا اس فتوی کے لکھنے سے انکار فرماتے ہیں۔یہ فرمانا ان حضرات کا صحیح ہے یا غلط ہے اور یہ فتوی آپ نے چھ سال پہلے لکھا ہے یا نہیںاور ہم نے آپ کا قلمی مہر کیا ہوا فتوی بھی مولوی شیر محمد صاحب کے پاس دیکھا ہے اس کو ہم سچا سمجھیں یا نہیںآپ ہم کو سمجھا دیجئے رب العالمین آپ کو اجر عظیم و ثواب جزیل عطا فرمائے گا۔
رقیمہ آپ کا خادم مہرباز خاں بن محمد خاں ساکن احمد آباد محلہ جمال پور کھاڑیہ متصل مسجد
مسئلہ ۱۶۸:
بسم اﷲ الرحمن الرحیم ط
نحمدہونصلی علی رسول الرؤف الرحیم ط
امابعد !سوال ازفاضل اجل عالم بے بدل حضرت مولانا مولوی محمد احمد رضا خان صاحب ساکن بریلی عم فیضہ الصوری والمعنوی۔
محذومی مکرمی معظمی مفخمی حضرت حامی دین متین مولانا مولوی محمد احمد رضا خان صاحب دام محبتکمبعد السلام علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ واضح رائے عالی ہو کہ ہمارے یہاں شہر احمد آباد میں ایك رسالہ آٹھ صفحہ کا مطبع حمیدی پریس واقع احمد آباد بازار کا لوپور میں چھپ کر شائع ہوا ہے۔اس کے مشتہر مولوی شیر محمد بن شاہ محمد ساکن احمد آباد محلہ مرزا پور متصل قصابان گاؤ ہیں۔اور اس میں رسالہ کی اشاعت کی تاریخ یہ لکھی ہے" مورخہ ۲ جمادی الاخری ۱۳۳۰ ھ روز وشنبہ" اور اس رسالہ کے صفحہ ۵ سے صفحہ ۷ تك ایك فتوی ہے اور وہ فتوی تاریخ ۱۱ جمادی الاولی یوم الاربعا ۱۳۲۴ھ کو لکھا گیا ہے۔
جناب مولانا صاحب ! دست بستہ خدمت میں عرض یہ ہے کہ چھپا ہوا فتوی آپ کی خدمت میں رجسٹرڈ حاضر کیا جاتا ہے۔یہ فتوی آپ نے تحریر فرمایا ہے یا نہیں یہاں بعض حضرات یہ فرماتے ہیں کہ مولانا احمد رضا خان صاحب نے یہ فتوی نہیں لکھا۔ یہ فتوی مولانا صاحب کی طرف منسوب کردیا ہے۔مولانا اس فتوی کے لکھنے سے انکار فرماتے ہیں۔یہ فرمانا ان حضرات کا صحیح ہے یا غلط ہے اور یہ فتوی آپ نے چھ سال پہلے لکھا ہے یا نہیںاور ہم نے آپ کا قلمی مہر کیا ہوا فتوی بھی مولوی شیر محمد صاحب کے پاس دیکھا ہے اس کو ہم سچا سمجھیں یا نہیںآپ ہم کو سمجھا دیجئے رب العالمین آپ کو اجر عظیم و ثواب جزیل عطا فرمائے گا۔
رقیمہ آپ کا خادم مہرباز خاں بن محمد خاں ساکن احمد آباد محلہ جمال پور کھاڑیہ متصل مسجد
دادی بی مورخہ ۲۵جمادی الثانی ۱۳۳۰ھ چہار شنبہ۔
الجواب:
فقیر غفرلہ المولی القدیرجب جمادی الاولی ۱۳۲۴ھ میں بعد سفر مدینہ طیبہ کراچی آیا اور وہاں سے احباب احمد آباد لانے پر مصر ہوئے۔یہاں میرے معظم دوست حامی سنت ماحی بدعت مولانا مولوی نذیر احمد صاحب مرحوم و مغفور کے دو معزز شاگردوں مولوی عبدالرحیم صاحب و مولوی علاؤ الدین صاحب سلہما اﷲ تعالی میں نزاع تھیدو فریق ہورہے تھے۔اور اس سے پہلے مولوی علاؤ الدین صاحب غریب خانہ پر تشریف لائے تھے اور ایك رسالہ پیش کیا جس میں مولوی عبدالرحیم صاحب پر سخت الزام قائم کرنے چاہے حتی کہ نوبت بہ تکفیر پہنچائی تھیفقیر نے انہیں سمجھایا اور اس رسالہ کی اشاعت سے باز رکھا اور ان الزامات کی غلطی پر دوستانہ متنبہ کیا۔الحمدﷲ مولوی علاؤ الدین صاحب نے گزارش فقیر کو قبول کیا مگر باہم فریق بندی اس وقت تك تھی کہ فقیر حج سے واپس آیا اس وقت مولوی عبدالرحیم صاحب نے یہ سوال پیش کیا جس کا میں نے وہ جواب لکھاوہ جواب میرا ہی ہے مگر اس وقت کی حالت سے متعلق تھا۔میں نے اس جواب ہی میں بتادیا تھا کہ مولوی علاؤ الدین صاحب نے مولوی عبدالرحیم صاحب کی تکفیر عنادا نہ کی تھی بلکہ مسئلہ ان کی سمجھ میں یوں ہی آیا تھا جس سے انہوں نے بعد تفہیم فقیر رجوع کی تو ان پر کوئی حکم سخت نہیںہاں اگر وہ بعد اس کے کہ حق سمجھ لیے پھر بلاوجہ شرعی تکفیر کی طرف رجوع کریں تو اس وقت حکم سخت ہونا لازم ہے۔اس کے بعد وہیں ایام اقامت فقیر میں فریقین فیصلہ فقیر پر راضی ہوئے اور بحمداﷲ تعالی باہم صلح کرادی گئیمیں نے اس وقت تك صلح شکن نہ پایا بلکہ قریب زمانہ میں جب کہ بعض فساد پسندوں نے تکفیر مولوی عبدالرحیم صاحب کا باطل و بے معنی غلغلہ پھر اٹھایا اور پرانا مہمل اشتہار مولوی قندھاری نے دوبارہ کسی شخص وزیر الدین کے نام سے چھاپا زاور مولوی عبدالرحیم صاحب کو دفع فتنہ کے لیے یہاں کے فتوی کی ضرورت ہوئی ہے اور اس پر ان سے واقعات پوچھے گئے جس کا مفصل جواب انہوں نے ہفتم ذی الحجۃ ۱۳۲۹ھ کو بھیجااس خط میں بھی یہ لفظ موجود ہیں "احمد آباد میں آپ کے قدم مبارك کراچی سے رونق افروز ہوئے تھے اور آپ نے صلح بندی کی اور مولوی علاؤ الدین صاحب کی کرائی تھیجب سے اب تك بحمداﷲ تعالی صلح ہے وہ میرے موافق ہیں انتہی بلفظہ"۔اس کے بعد میرا یہی فتوی جواب شیر محمد صاحب نے چھاپا مولوی عبدالرحیم نے اس کی نقل مجھے بھیجی تھی اور اس میں سے ان تمام سطروں پر کہ مولوی علاوہ الدین صاحب کے متعلق تھیں سرخی سے قلم پھیر دیا کہ اب ان کی ضرورت نہیں۔مولوی علاؤ الدین صاحب
الجواب:
فقیر غفرلہ المولی القدیرجب جمادی الاولی ۱۳۲۴ھ میں بعد سفر مدینہ طیبہ کراچی آیا اور وہاں سے احباب احمد آباد لانے پر مصر ہوئے۔یہاں میرے معظم دوست حامی سنت ماحی بدعت مولانا مولوی نذیر احمد صاحب مرحوم و مغفور کے دو معزز شاگردوں مولوی عبدالرحیم صاحب و مولوی علاؤ الدین صاحب سلہما اﷲ تعالی میں نزاع تھیدو فریق ہورہے تھے۔اور اس سے پہلے مولوی علاؤ الدین صاحب غریب خانہ پر تشریف لائے تھے اور ایك رسالہ پیش کیا جس میں مولوی عبدالرحیم صاحب پر سخت الزام قائم کرنے چاہے حتی کہ نوبت بہ تکفیر پہنچائی تھیفقیر نے انہیں سمجھایا اور اس رسالہ کی اشاعت سے باز رکھا اور ان الزامات کی غلطی پر دوستانہ متنبہ کیا۔الحمدﷲ مولوی علاؤ الدین صاحب نے گزارش فقیر کو قبول کیا مگر باہم فریق بندی اس وقت تك تھی کہ فقیر حج سے واپس آیا اس وقت مولوی عبدالرحیم صاحب نے یہ سوال پیش کیا جس کا میں نے وہ جواب لکھاوہ جواب میرا ہی ہے مگر اس وقت کی حالت سے متعلق تھا۔میں نے اس جواب ہی میں بتادیا تھا کہ مولوی علاؤ الدین صاحب نے مولوی عبدالرحیم صاحب کی تکفیر عنادا نہ کی تھی بلکہ مسئلہ ان کی سمجھ میں یوں ہی آیا تھا جس سے انہوں نے بعد تفہیم فقیر رجوع کی تو ان پر کوئی حکم سخت نہیںہاں اگر وہ بعد اس کے کہ حق سمجھ لیے پھر بلاوجہ شرعی تکفیر کی طرف رجوع کریں تو اس وقت حکم سخت ہونا لازم ہے۔اس کے بعد وہیں ایام اقامت فقیر میں فریقین فیصلہ فقیر پر راضی ہوئے اور بحمداﷲ تعالی باہم صلح کرادی گئیمیں نے اس وقت تك صلح شکن نہ پایا بلکہ قریب زمانہ میں جب کہ بعض فساد پسندوں نے تکفیر مولوی عبدالرحیم صاحب کا باطل و بے معنی غلغلہ پھر اٹھایا اور پرانا مہمل اشتہار مولوی قندھاری نے دوبارہ کسی شخص وزیر الدین کے نام سے چھاپا زاور مولوی عبدالرحیم صاحب کو دفع فتنہ کے لیے یہاں کے فتوی کی ضرورت ہوئی ہے اور اس پر ان سے واقعات پوچھے گئے جس کا مفصل جواب انہوں نے ہفتم ذی الحجۃ ۱۳۲۹ھ کو بھیجااس خط میں بھی یہ لفظ موجود ہیں "احمد آباد میں آپ کے قدم مبارك کراچی سے رونق افروز ہوئے تھے اور آپ نے صلح بندی کی اور مولوی علاؤ الدین صاحب کی کرائی تھیجب سے اب تك بحمداﷲ تعالی صلح ہے وہ میرے موافق ہیں انتہی بلفظہ"۔اس کے بعد میرا یہی فتوی جواب شیر محمد صاحب نے چھاپا مولوی عبدالرحیم نے اس کی نقل مجھے بھیجی تھی اور اس میں سے ان تمام سطروں پر کہ مولوی علاوہ الدین صاحب کے متعلق تھیں سرخی سے قلم پھیر دیا کہ اب ان کی ضرورت نہیں۔مولوی علاؤ الدین صاحب
کا جو خط فقیر کے نام آیا اس میں وہ بھی تصریح کرتے ہیں کہ ہم اس وقت تك بدستور صلح پر قائم ہیں۔یوں ہی اس سے بھی تازہ تر عنایت نامہ جناب شاہ صاحب وجیہی علوی میں ہےپھر فقیر نہیں کہہ سکتا کہ اس فتوے کے چھاپنے کی کیا ضرورت ہوئی اور اس سے کیا نفع ہوسکتا ہےاس میں تو مولوی علاؤ الدین صاحب پر حکم سخت ہونا اس شرط سے مشروط تھا کہ وہ بعد کشف شبہہ تکفیر مسلم کی طرف معاذ اﷲ پھر عود کریںجب یہ شرط نہیں تو ہر گز اس فتوے سے نہ مولوی علاؤ الدین صاحب کو ضرر نہ چھانپے والے کو نفعاور خدانخواستہ شرط متحقق ہوئی تو اس کا حال اﷲ جانتا ہے۔بالجملہ یہ امر دین ہے اور دین میں کسی کی رعایت نہیں۔دونوں صاحب میرے دوست ہیں اور دونوں صاحب ذی علم اور ایك استاد کے شاگرد ہیںمیں امید کرتا ہوں کہ بدستور صلح پر قائم ہوں گے جیسا کہ دونوں صاحبوں کی تحریر سے مجھے معلوم ہواورنہ جس طرف سے نقض عہد واقع ہو وہ ضرور اپنے حکم شرعی کا مستحق ہوگا کائنا من کان(جو کوئی بھیت)فریقین اس آیہ کریم کو پیش نظر رکھیں۔
" و قل لعبادی یقولوا التی ہی احسن ان الشیطن ینزغ بینہم ان الشیطن کان للانسن عدوا مبینا ﴿۵۳﴾" ۔واﷲ تعالی اعلم ۔ اور میرے بندوں سے فرمادو وہ بات کہیں جو سب سے اچھی ہوبے شك شیطان ان کے درمیان فساد ڈال دیتا ہےبے شك شیطان آدمی کا کھلا دشمن ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۱۶۹:کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید بیان کرتا ہے کہ فخر عالم سلطان الانبیاء صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے نو ر مبارك کو اﷲ تعالی نے اپنے نور ذاتی سے پیدا کیااور وہ نور مقدس قدیم ہے۔اوربکر بیان کرتا ہے اپنے نور مبارك سے مراد نور قدرت اس کی کا ہے اور وہ نور حادث ہے۔
اور مسئلہ دیگر یہ کہ زید بیان کرتا ہے کہ " ثم دنا فتدلی ﴿۸﴾ فکان قاب قوسین او ادنی ﴿۹﴾" ۔(پھر وہ جلوہ نزدیك ہوا پھر خوب اتر آیا اور اس جلوے اور محبوب میں دو ہاتھ کا فاصلہ رہا بلکہ اس سے بھی کم۔ت)سے مراد قرب اﷲ تعالی کا ہے کہ معراج شریف میں سرور عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اتنے قریب ہوئے اﷲ سے کہ درمیان فرق دو کمان کا رہ گیا۔اور اکثر یہ بیان مولود شریف میں ذکر ہوتا ہے۔
" و قل لعبادی یقولوا التی ہی احسن ان الشیطن ینزغ بینہم ان الشیطن کان للانسن عدوا مبینا ﴿۵۳﴾" ۔واﷲ تعالی اعلم ۔ اور میرے بندوں سے فرمادو وہ بات کہیں جو سب سے اچھی ہوبے شك شیطان ان کے درمیان فساد ڈال دیتا ہےبے شك شیطان آدمی کا کھلا دشمن ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۱۶۹:کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید بیان کرتا ہے کہ فخر عالم سلطان الانبیاء صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے نو ر مبارك کو اﷲ تعالی نے اپنے نور ذاتی سے پیدا کیااور وہ نور مقدس قدیم ہے۔اوربکر بیان کرتا ہے اپنے نور مبارك سے مراد نور قدرت اس کی کا ہے اور وہ نور حادث ہے۔
اور مسئلہ دیگر یہ کہ زید بیان کرتا ہے کہ " ثم دنا فتدلی ﴿۸﴾ فکان قاب قوسین او ادنی ﴿۹﴾" ۔(پھر وہ جلوہ نزدیك ہوا پھر خوب اتر آیا اور اس جلوے اور محبوب میں دو ہاتھ کا فاصلہ رہا بلکہ اس سے بھی کم۔ت)سے مراد قرب اﷲ تعالی کا ہے کہ معراج شریف میں سرور عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اتنے قریب ہوئے اﷲ سے کہ درمیان فرق دو کمان کا رہ گیا۔اور اکثر یہ بیان مولود شریف میں ذکر ہوتا ہے۔
اور بکر بیان کرتا ہے کہ یہ قریب ہونا رسول مقبول صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا اس مقام پر مراد جبرئیل علیہ السلام سے ہے نہ خدائے تعالی سےبینوا توجروا۔(بیان فرمایئے اجر دیئے جاؤ گے)
الجواب:
عوام مسلمین کو نمازروزےوضوغسلقراء ت کی تصحیح فرض ہے جس سے روز قیامت ان پر مطالبہ و مواخذہ ہوگااپنے مرتبہ سے اونچی باتوں میں کچہریاں جمانا اور کھچڑیاں پکانا اور رائیں لگانا گمراہی کا پھاٹك ہے۔والعیاذ باﷲ تعالی واﷲ تعالی ا علم۔
مسئلہ ۱۷۰ تا ۱۷۹: ازلاہورانجمن نغمانیہ مرسلہ مولانا شاہ محرم علی صاحب چشتی صدر ثانی انجمن ۱۵ جمادی الاخری ۱۳۳۰ھ
جناب مخدوم معظم من حضرت مولانا صاحب ادام اﷲ فیوضکمبعد ہدیہ سلام سنت الاسلام گزارشوالانامہ رجسٹری شدہ پہنچا مولانا مولوی حاجی خلیفہ تاج الدین احمد صاحب وہ افتخار نامہ لے کر غریب خانہ پر تشریف لائے باوجودیکہ حضرت مولانا محمد اکرام الدین صاحب بخاری کی طبیعت پندرہ بیس روز سے سخت ناساز ہے اسی وقت ان کو تکلیف دی گئیاور وہ بھی تشریف لائےعریضہ ہذا لکھنے کے وقت پر دو صاحبان غریب خانہ پر موجود ہیںجناب نے جس روشن ضمیری اور امداد باطنی سے قلم برداشتہ اس قدر عجلت میں ایسا بے نظیر و مستند فتوی عــــــہ بنصوص صریحہ رقم فرمایا ہے اس کو دیکھ کر میرے دونوں ہم جلیس حاضر وقت تاحال حالت وجد میں ہیں اور بار بار اللھم بارك فی عمر ھم و واقبالھم و مجد ھم وایمانھم وعلوشانھم فی الدارین(اے اﷲ ! ان کی عمربختبزرگیبلند شان اور ایمان میں دونوں جہانوں میں برکت عطا فرما۔ت)کا وظیفہ کررہے ہیں۔مجھے تا حال بغور مطالعہ کا موقع نہ ملا کیونکہ دونوں حضرات اس کو حرز جاں بنائے ہوئے ہیں اور دو دن تك اپنے پاس رکھنے کا اصرار کر رہے ہیں۔اب آنجناب براہ عنایت میرے سوالات کا جواب بھی ارشاد فرمائیں۔
(۱)کیا اس مسئلہ میں جو غلطی فتوی دینے والوں کو ہوئی وہ بہت کھلی اور فاش ہے یا بہت باریك قسم کی غلطی ہے جہاں اعلی درجہ کے علماء بھی مغالطہ میں پڑھ سکتے ہیں
(۲)بریلیبدایوں اور پیلی بھیت وغیرہ کے مستند علماء اور ان کے فیض یافتوں پر کس حد تك آنکھیں بند کرکے اعتماد کرنا چاہیے۔یہ سوال ان بیچارے حنفی مسلمانوں کی طرف سے ہے۔
عــــــہ:یعنی فتوی مسمی بہ "الجلی الحسن فی حرمۃ ولد اخی اللبن"کہ کتاب النکاح میں ہے۔یہ رسالہ فتاوی رضویہ مطبوعہ رضا فاونڈیشن لاہور کی جلد اا صفحہ ۴۸۷ پر ہے۔
الجواب:
عوام مسلمین کو نمازروزےوضوغسلقراء ت کی تصحیح فرض ہے جس سے روز قیامت ان پر مطالبہ و مواخذہ ہوگااپنے مرتبہ سے اونچی باتوں میں کچہریاں جمانا اور کھچڑیاں پکانا اور رائیں لگانا گمراہی کا پھاٹك ہے۔والعیاذ باﷲ تعالی واﷲ تعالی ا علم۔
مسئلہ ۱۷۰ تا ۱۷۹: ازلاہورانجمن نغمانیہ مرسلہ مولانا شاہ محرم علی صاحب چشتی صدر ثانی انجمن ۱۵ جمادی الاخری ۱۳۳۰ھ
جناب مخدوم معظم من حضرت مولانا صاحب ادام اﷲ فیوضکمبعد ہدیہ سلام سنت الاسلام گزارشوالانامہ رجسٹری شدہ پہنچا مولانا مولوی حاجی خلیفہ تاج الدین احمد صاحب وہ افتخار نامہ لے کر غریب خانہ پر تشریف لائے باوجودیکہ حضرت مولانا محمد اکرام الدین صاحب بخاری کی طبیعت پندرہ بیس روز سے سخت ناساز ہے اسی وقت ان کو تکلیف دی گئیاور وہ بھی تشریف لائےعریضہ ہذا لکھنے کے وقت پر دو صاحبان غریب خانہ پر موجود ہیںجناب نے جس روشن ضمیری اور امداد باطنی سے قلم برداشتہ اس قدر عجلت میں ایسا بے نظیر و مستند فتوی عــــــہ بنصوص صریحہ رقم فرمایا ہے اس کو دیکھ کر میرے دونوں ہم جلیس حاضر وقت تاحال حالت وجد میں ہیں اور بار بار اللھم بارك فی عمر ھم و واقبالھم و مجد ھم وایمانھم وعلوشانھم فی الدارین(اے اﷲ ! ان کی عمربختبزرگیبلند شان اور ایمان میں دونوں جہانوں میں برکت عطا فرما۔ت)کا وظیفہ کررہے ہیں۔مجھے تا حال بغور مطالعہ کا موقع نہ ملا کیونکہ دونوں حضرات اس کو حرز جاں بنائے ہوئے ہیں اور دو دن تك اپنے پاس رکھنے کا اصرار کر رہے ہیں۔اب آنجناب براہ عنایت میرے سوالات کا جواب بھی ارشاد فرمائیں۔
(۱)کیا اس مسئلہ میں جو غلطی فتوی دینے والوں کو ہوئی وہ بہت کھلی اور فاش ہے یا بہت باریك قسم کی غلطی ہے جہاں اعلی درجہ کے علماء بھی مغالطہ میں پڑھ سکتے ہیں
(۲)بریلیبدایوں اور پیلی بھیت وغیرہ کے مستند علماء اور ان کے فیض یافتوں پر کس حد تك آنکھیں بند کرکے اعتماد کرنا چاہیے۔یہ سوال ان بیچارے حنفی مسلمانوں کی طرف سے ہے۔
عــــــہ:یعنی فتوی مسمی بہ "الجلی الحسن فی حرمۃ ولد اخی اللبن"کہ کتاب النکاح میں ہے۔یہ رسالہ فتاوی رضویہ مطبوعہ رضا فاونڈیشن لاہور کی جلد اا صفحہ ۴۸۷ پر ہے۔
جو میری طرف علم کی آنکھیں نہیں رکھتے اور جن کی تعداد کثیر ہے۔
(۳)ہمارے ہم اعتقاد حنیف حنفیوں کے مدرسہ کے علماء و مدرسین کا مصالحہ ہمیں کہاں سے فراہم کرنا چاہیے۔
(۴)یہ کہ انجمن نعمانیہ کو تاحال جناب کی خدمت میں اس قدر خصوصیت حاصل نہیں ہوئی کہ کم از کم آنجناب کی تصانیف مبارکہ طبع شدہ انجمن کے کتب خانے کے لیے باوجود متواتر تحریری تقاضوں اور خود جناب خلیفہ تاج الدین احد صاحب کی زبانی تقاضوں کے بھی ارسال کی جائیں حالانکہ انجمن ان کا ہدیہ ادا کرنے پر بھی ہمیشہ تیار رہی ہے۔اگر اس فتوی کے وقت "سیف المصطفی علی ادیان الافتراء" و "نقد البیان لحرمۃ ابنۃ اخی اللبان" اور "کاسرالسفیہ الواھم"کتب خانہ میں موجود ہوتیں تو یہی خاکسار ان کو نکال کے۔۔۔۔۔۔کی خدمت میں پیش کردیتا۔
(۵)کیا جناب کی رائے میں حنیف حنفیوں کا مجموعی مرکز بنانے اور ان کو تقویت دینے کی ضرورت ہے یا نہیںاگر ہے تو اس کی کیا تدبیر اور سامان جناب کے خیال میں ہیں
(۶)لامذہبوں کے پنجاب میں بالخصوص اور بدمذہبوں کے بالعموم حملوں کی مدافعت کی کیا تدابیر جناب کے خیال مبارك میں ہیں
(۷)عقائد حنفیہ کے متعلق جناب مولانا مولوی محمد حامد رضا خاں صاحب کی خدمت میں بالمشافہ گفتگو ہوکر قرار داد ہونے کے بعد بھی مسودہ عقائد حنفیہ آنجناب کی طرف سے نہ بھیجااور اس کے نہ پہنچنے پر مجبورا یہاں سے مسودہ تیار کرکے آنجناب کی خدمت میں بھیجا گیا جس کی کوئی ترمیم و اصلاح یا تصدیق تو درکنار اس کی رسید بھی مرحمت نہ ہوئی۔اس کم توجہی کی اصل وجہ کیا ہے اب عقائد حنفیہ جو حسب مشورہ علماء ہم لوگوں نے شائع کیے ہیں ارسال خدمت ہیں وہ بھی اس عریضہ کے ساتھ منسلك ہیںاگر وہ صحیح ہیں تو اس پر دستخط تصدیق فرما کر واپس فرمائیںدوسری زائد کاپی اپنے پاس رکھیںورنہ اصلاح فرما کر واپس فرمائیں۔
(۸)لامذہبوں یا بدمذہبوں کے ساتھ اگر زبانی مباحثہ کی ضرورت پڑے تو آنجناب کون کون سے علماء کو اس قابل سمجھتے ہیں جو علاوہ قابلیت کے تکلیف سفر وغیرہ بھی خالصا ﷲ اٹھانے کے لیے امادہ ہوں۔
(۳)ہمارے ہم اعتقاد حنیف حنفیوں کے مدرسہ کے علماء و مدرسین کا مصالحہ ہمیں کہاں سے فراہم کرنا چاہیے۔
(۴)یہ کہ انجمن نعمانیہ کو تاحال جناب کی خدمت میں اس قدر خصوصیت حاصل نہیں ہوئی کہ کم از کم آنجناب کی تصانیف مبارکہ طبع شدہ انجمن کے کتب خانے کے لیے باوجود متواتر تحریری تقاضوں اور خود جناب خلیفہ تاج الدین احد صاحب کی زبانی تقاضوں کے بھی ارسال کی جائیں حالانکہ انجمن ان کا ہدیہ ادا کرنے پر بھی ہمیشہ تیار رہی ہے۔اگر اس فتوی کے وقت "سیف المصطفی علی ادیان الافتراء" و "نقد البیان لحرمۃ ابنۃ اخی اللبان" اور "کاسرالسفیہ الواھم"کتب خانہ میں موجود ہوتیں تو یہی خاکسار ان کو نکال کے۔۔۔۔۔۔کی خدمت میں پیش کردیتا۔
(۵)کیا جناب کی رائے میں حنیف حنفیوں کا مجموعی مرکز بنانے اور ان کو تقویت دینے کی ضرورت ہے یا نہیںاگر ہے تو اس کی کیا تدبیر اور سامان جناب کے خیال میں ہیں
(۶)لامذہبوں کے پنجاب میں بالخصوص اور بدمذہبوں کے بالعموم حملوں کی مدافعت کی کیا تدابیر جناب کے خیال مبارك میں ہیں
(۷)عقائد حنفیہ کے متعلق جناب مولانا مولوی محمد حامد رضا خاں صاحب کی خدمت میں بالمشافہ گفتگو ہوکر قرار داد ہونے کے بعد بھی مسودہ عقائد حنفیہ آنجناب کی طرف سے نہ بھیجااور اس کے نہ پہنچنے پر مجبورا یہاں سے مسودہ تیار کرکے آنجناب کی خدمت میں بھیجا گیا جس کی کوئی ترمیم و اصلاح یا تصدیق تو درکنار اس کی رسید بھی مرحمت نہ ہوئی۔اس کم توجہی کی اصل وجہ کیا ہے اب عقائد حنفیہ جو حسب مشورہ علماء ہم لوگوں نے شائع کیے ہیں ارسال خدمت ہیں وہ بھی اس عریضہ کے ساتھ منسلك ہیںاگر وہ صحیح ہیں تو اس پر دستخط تصدیق فرما کر واپس فرمائیںدوسری زائد کاپی اپنے پاس رکھیںورنہ اصلاح فرما کر واپس فرمائیں۔
(۸)لامذہبوں یا بدمذہبوں کے ساتھ اگر زبانی مباحثہ کی ضرورت پڑے تو آنجناب کون کون سے علماء کو اس قابل سمجھتے ہیں جو علاوہ قابلیت کے تکلیف سفر وغیرہ بھی خالصا ﷲ اٹھانے کے لیے امادہ ہوں۔
(۹)ایك فہرست ایسے علماء اسلام کی جو بالکل آپ کے ہم خیال اور مستند ہوںمع ان کے پورے پتہ کے کس لیے تاحال باوجود جناب مولانا مولوی محمد حامد رضا خان صاحب کی خدمت میں گزارش کرنے کے نہیں پہنچیاور کب تك وہ بہم پہنچ سکتی ہے
(۱۰)باوجود انجمن نعمانیہ کی آنجناب کے ساتھ تمام ہندوستان میں خصوصیات مشہور ہوجانے اور اراکین انجمن کو آنجناب کے ساتھ ایسا دلی خلوص اور نیاز ہونے کے احباب کی طرف سے کسی خاص التفات کا اس کی نسبت ظاہر نہ ہونا کون سی وجوہات پر مبنی ہےاگر انجمن میں کوئی امور قابل اصلاح ہیں تو وہ کیا ہیں۔
الجواب:
(۱)نظر بحال زمانہ تو یہ غلطی نہایت دقیق و عمیق بات میں خطاء فی الکفر کے قبیل سے ہونی چاہیے کہ مولوی اسحق صاحب دہلوی کے شاگرد رشید مولوی عالم صاحب مراد آبادی نے کھائی۔پھر غیر مقلدوں کے شیخ الکل فی الکل مجتہد العصر نذیر حسین صاحب نے کھائیپھر ایك مدعیانا ولا غیر مولوی بردوانی صاحب نے کھائی اور ایك طویل تحریر بزعم خود اس کے اثبات میں لکھیپھر زمانہ حال میں ان حصرات کے آڑے آئی۔مگر نظر بواقع وہ بہت کھلی فاحش جبیں میں ہمارے سنی ذی علم حضرات کا وقوع صرف وہی جواب رکھتا ہے جو حضرت سید الطائفہ جنید بغدادی رضی اﷲ تعالی عنہ نے فرمایا جب کہ اس جناب سے سوال ہوا: ایزنی العارف(کیا عارف زناء کرسکتا ہےت)دیر تك سربگر بیاں رہےپھر سر اٹھا کر فرمایا: " وکان امر اللہ قدرا مقدورۨا ﴿۳۸﴾۫ " ۔ (اﷲ تعالی کا حکم تو ہو کر رہے گا)چونکہ قضا آید طبیب ابلہ شود اذا جاء القدر عمی البصر واذا جاء القضاء ضاق الفضاء (حکم تقدیر آتا ہے تو آنکھ اندھی ہوجاتی ہے اور حکم ربانی کے وقت فضا تنگ ہوجاتی ہے)
نسأل اﷲ العفووالعافیۃانا اﷲ وانا الیہ راجعون لا عاصم الیوم الامن رحم ربی۔ہم اﷲ تعالی سے در گزر اور سلامتی طلب کرتے ہیںبے شك ہم اﷲ تعالی کا مال ہیں اور اس کی طرف لوٹنے والے ہیں آج وہی بچے گا جس پر اﷲ تعالی رحم فرمائے۔ت)لاحول ولاقوۃ الا باﷲ العلی العظیم(نہ گناہ سے بچنے کی طاقت ہے اور نہ نیکی کرنے کی قوت مگر بلندی اور عظمت والے معبود کی توفیق سے۔ت)مولانا اس فتوی باطلہ کا ابقاء ہر گز ٹھیك نہیں
(۱۰)باوجود انجمن نعمانیہ کی آنجناب کے ساتھ تمام ہندوستان میں خصوصیات مشہور ہوجانے اور اراکین انجمن کو آنجناب کے ساتھ ایسا دلی خلوص اور نیاز ہونے کے احباب کی طرف سے کسی خاص التفات کا اس کی نسبت ظاہر نہ ہونا کون سی وجوہات پر مبنی ہےاگر انجمن میں کوئی امور قابل اصلاح ہیں تو وہ کیا ہیں۔
الجواب:
(۱)نظر بحال زمانہ تو یہ غلطی نہایت دقیق و عمیق بات میں خطاء فی الکفر کے قبیل سے ہونی چاہیے کہ مولوی اسحق صاحب دہلوی کے شاگرد رشید مولوی عالم صاحب مراد آبادی نے کھائی۔پھر غیر مقلدوں کے شیخ الکل فی الکل مجتہد العصر نذیر حسین صاحب نے کھائیپھر ایك مدعیانا ولا غیر مولوی بردوانی صاحب نے کھائی اور ایك طویل تحریر بزعم خود اس کے اثبات میں لکھیپھر زمانہ حال میں ان حصرات کے آڑے آئی۔مگر نظر بواقع وہ بہت کھلی فاحش جبیں میں ہمارے سنی ذی علم حضرات کا وقوع صرف وہی جواب رکھتا ہے جو حضرت سید الطائفہ جنید بغدادی رضی اﷲ تعالی عنہ نے فرمایا جب کہ اس جناب سے سوال ہوا: ایزنی العارف(کیا عارف زناء کرسکتا ہےت)دیر تك سربگر بیاں رہےپھر سر اٹھا کر فرمایا: " وکان امر اللہ قدرا مقدورۨا ﴿۳۸﴾۫ " ۔ (اﷲ تعالی کا حکم تو ہو کر رہے گا)چونکہ قضا آید طبیب ابلہ شود اذا جاء القدر عمی البصر واذا جاء القضاء ضاق الفضاء (حکم تقدیر آتا ہے تو آنکھ اندھی ہوجاتی ہے اور حکم ربانی کے وقت فضا تنگ ہوجاتی ہے)
نسأل اﷲ العفووالعافیۃانا اﷲ وانا الیہ راجعون لا عاصم الیوم الامن رحم ربی۔ہم اﷲ تعالی سے در گزر اور سلامتی طلب کرتے ہیںبے شك ہم اﷲ تعالی کا مال ہیں اور اس کی طرف لوٹنے والے ہیں آج وہی بچے گا جس پر اﷲ تعالی رحم فرمائے۔ت)لاحول ولاقوۃ الا باﷲ العلی العظیم(نہ گناہ سے بچنے کی طاقت ہے اور نہ نیکی کرنے کی قوت مگر بلندی اور عظمت والے معبود کی توفیق سے۔ت)مولانا اس فتوی باطلہ کا ابقاء ہر گز ٹھیك نہیں
حوالہ / References
القرآن الکریم ۳۳ /۳۸
باطل کا اعدام و افناء چاہیے نہ کہ تحفظ وا بقاء بدمذہبوں گمراہوں سے جو اباطیل خارج از مسائل مذہب واقع ہوں ان کی اشاعت مصلحت شرعی ہے کہ مسلمانوں کا ان پر سے اعتبار اٹھے۔ان کی ضلالات میں بھی اتباع نہ کریں۔حدیث شریف میں ہے:
اترغبون عن ذکر الفاجر متی یعرفہ الناس اذکروا للفاجر بما فیہ یحذرہ الناس ۔ کیا فاجر کی برائیاں بیان کرنے سے پرہیز کرتے ہولوگ اسے کب پہچانیں گیںفاجر میں جو برائیوں ہیں بیان کرو کہ لوگ اس سے حذر کریں۔
اور اہلسنت سے بتقدیر الہی جو ایسی لغزش فاحش واقع ہو اس کا اخفاء واجب ہے کہ معاذ اﷲ لوگ ان سے بداعتقاد ہوں گے تو جو نفع ان کی تقریر اور تحریر سے اسلام و سنت کو پہنچتا تھا اس میں خلل واقع ہوگا۔اس کی اشاعت اشاعت فاحشہ ہے۔اور اشاعت فاحشہ بنص قرآن عظیم حرامقال اﷲ تعالی:
" ان الذین یحبون ان تشیع الفحشۃ فی الذین امنوا لہم عذاب الیم فی الدنیا و الاخرۃ
" ۔ جو لوگ یہ پسند کرتے ہیں کہ مومنوں میں فاحشہ کی اشاعت ہو ان کے لیے دنیا اور آخرت میں دردناك عذاب ہے۔
خصوصا جب کہ وہ بندگان خدا حق کی طرف بے کسی عذرو تامل کے رجوع فرماچکے۔رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من عیراخاہ بذنب لم یمت حتی یعملہ ۔
قال ابن المنیع وغیرہ المرادذنب تاب عنہقلت وقد جاء کذا مقید فی الروایۃ کما فی الشرعۃ ثم فی الحدیقۃ الندیۃ۔ جس نے اپنے بھائی کو کسی گناہ کی وجہ سے عار دلایا وہ مرنے سے قبل اسی گناہ میں ضرور مبتلا ہوگا۔
ابن منیع وغیرہ کہتے ہیں کہ گناہ سے مراد وہ ہے کہ اس سے توبہ کرلی گئی ہو۔میں کہتا ہوں شرعہ اور حدیقہ میں روایت میں توبہ کی قید لگی ہوئی ہے۔ت)
اترغبون عن ذکر الفاجر متی یعرفہ الناس اذکروا للفاجر بما فیہ یحذرہ الناس ۔ کیا فاجر کی برائیاں بیان کرنے سے پرہیز کرتے ہولوگ اسے کب پہچانیں گیںفاجر میں جو برائیوں ہیں بیان کرو کہ لوگ اس سے حذر کریں۔
اور اہلسنت سے بتقدیر الہی جو ایسی لغزش فاحش واقع ہو اس کا اخفاء واجب ہے کہ معاذ اﷲ لوگ ان سے بداعتقاد ہوں گے تو جو نفع ان کی تقریر اور تحریر سے اسلام و سنت کو پہنچتا تھا اس میں خلل واقع ہوگا۔اس کی اشاعت اشاعت فاحشہ ہے۔اور اشاعت فاحشہ بنص قرآن عظیم حرامقال اﷲ تعالی:
" ان الذین یحبون ان تشیع الفحشۃ فی الذین امنوا لہم عذاب الیم فی الدنیا و الاخرۃ
" ۔ جو لوگ یہ پسند کرتے ہیں کہ مومنوں میں فاحشہ کی اشاعت ہو ان کے لیے دنیا اور آخرت میں دردناك عذاب ہے۔
خصوصا جب کہ وہ بندگان خدا حق کی طرف بے کسی عذرو تامل کے رجوع فرماچکے۔رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من عیراخاہ بذنب لم یمت حتی یعملہ ۔
قال ابن المنیع وغیرہ المرادذنب تاب عنہقلت وقد جاء کذا مقید فی الروایۃ کما فی الشرعۃ ثم فی الحدیقۃ الندیۃ۔ جس نے اپنے بھائی کو کسی گناہ کی وجہ سے عار دلایا وہ مرنے سے قبل اسی گناہ میں ضرور مبتلا ہوگا۔
ابن منیع وغیرہ کہتے ہیں کہ گناہ سے مراد وہ ہے کہ اس سے توبہ کرلی گئی ہو۔میں کہتا ہوں شرعہ اور حدیقہ میں روایت میں توبہ کی قید لگی ہوئی ہے۔ت)
حوالہ / References
نوادرالاصول الاصل فی ذکرالفاجر بما فیہ للتحذیرمنہ دارصادر بیروت ص ۲۱۳
القرآن الکریم ۲۴ /۱۹
جامع الترمذی ابواب صفۃ القیمٰۃ باب منہ امین کمپنی دہلی ۲ /۷۳
شرح شرعۃ الاسلام فصل فی سنن الکلام وآدابہ مکتبہ الاسلامیہ کوئٹہ ص ۳۳۳
القرآن الکریم ۲۴ /۱۹
جامع الترمذی ابواب صفۃ القیمٰۃ باب منہ امین کمپنی دہلی ۲ /۷۳
شرح شرعۃ الاسلام فصل فی سنن الکلام وآدابہ مکتبہ الاسلامیہ کوئٹہ ص ۳۳۳
ولہذا ابتاکید اکیدگزا عمائد و مشاہیر علمائے اہلسنت و جماعت جس امر میں متفق ہیں یعنی عقائد مشہورہ متداولہ ان میں ہمارے عام بھائی بلادغدغہ ان کے ارشادات پر عامل ہوں۔یوں ہی وہ فرعیات جو اہل سنت اور ان کے مخالفین میں مابہ الامتیاز ہو رہے ہیں جیسے مجلس مبارك و فاتحہ و عرس واستمداد و نداء وامثالہا باقی رہیں فرعیات فقہیہ جن میں وہ مختلف ہوسکتے ہیں خواہ بسبب اختلاف روایاتخواہ بوجہ خطاء فی الفکر یا بسبب عجلت وقلت تدبر یا بوجہ کمی ممارست ومزاولت فقہان میں فقیر کیا عرض کرے
مرا سوزیست اندر دل اگر گویم زباں سوزد وگردم درکشم ترسم کہ مغز استخواں سوزد
(میرے دل میں جلن ہے اگر کہتا ہوں تو زبان جلتی ہے اور اگر چپ رہوں تو ڈر ہے کہ ہڈیوں کا مغز جل جائے گات)
آہ آہ آہ آہ! ہندوستان میں میرے زمانہ ہوش میں دو بندہ خدا تھے جن پر اصول و فروع و عقائد و فقہ سب میں اعتماد کلی کی اجازت تھی۔اول اقدس حضرت خاتم المحققین سیدنا الوالدقدس سرہ الماجد حاش ﷲ نہ اس لیے کہ وہ میرے والد و والی ولی نعمت تھے بلکہ اس لیے کہ الحق و الحق اقولالصدق واﷲ یحب الصدق(یہ حق ہے او ر میں حق کہتا ہوںیہ صدق ہے اور اﷲ تعالی صدق کو محبوب رکھتا ہے۔ت)میں نے اس طبیب صادق کا برسوں مطب پایا اور وہ دیکھا کہ عرب و عجم میں جس کا نظیر نظر نہ آیا اس جناب رفیع قدس سرہ البدیع کو اصول حنفی سے استباط فروع کا ملکہ حاصل تھا۔اگرچہ کبھی اس پر حکم نہ فرماتےمگر یوں ظاہر ہوتا تھا کہ نادرو دقیق و معضل مسئلہ پیش نہ ہوا کہ کتب متداولہ میں جس کا پتہ نہیںخادم کمینہ کو مراجعت کتب و استخراج جزئیہ کا حکم ہوتا اور ارشاد فرماتے " ظاہرا حکم یوں ہونا چاہیے "جو وہ فرماتے وہی نکلتایا بعض کتب میں اس کا خلاف نکلتا تو زیادت مطالعہ نے واضح کردیا کہ دیگر کتب میں ترجیح اسی کو دی جو حضرت نے ارشاد فرمایا تھا۔عجم کی حالت تو آپ ملاحظہ ہی فرماتے ہیں۔عرب کا حال یہ ہے کہ ا س جناب قدس سرہ کا یہ ادنی خوشہ چیں و زلہ رہاجو مکہ معظمہ میں اس بار حاضر ہواوہاں کے اعلم العلماء وافقہ الفقہاء سے چھ چھ گھنٹے مذاکرہ علمیہ کی مجلس گرم رہتیجب انہوں نے ملاحظہ فرمایا کہ یہ فقہ حنفی کے دو حرف جانتا ہے اپنے زمانہ کے عہد افتاء کے مسائل کثیرہ جن میں وہاں کے علماء سے اختلاف پڑا یا اشتباہ رہااس ہیچ میر ز پر پیش فرمانا شروع کیے جس مسئلہ و حکم میں اس احقر نے انکی موافقت عرض کی آثار بشاشت ان کے چہرہ نورانی پر ظاہر ہوئے اور جس میں عرض کردیا کہ فقیہ کی رائے میں حکم اس کے خلاف ہےسماع دلیل سے پہلے آثار حزن نمایاں ہوئے اور
مرا سوزیست اندر دل اگر گویم زباں سوزد وگردم درکشم ترسم کہ مغز استخواں سوزد
(میرے دل میں جلن ہے اگر کہتا ہوں تو زبان جلتی ہے اور اگر چپ رہوں تو ڈر ہے کہ ہڈیوں کا مغز جل جائے گات)
آہ آہ آہ آہ! ہندوستان میں میرے زمانہ ہوش میں دو بندہ خدا تھے جن پر اصول و فروع و عقائد و فقہ سب میں اعتماد کلی کی اجازت تھی۔اول اقدس حضرت خاتم المحققین سیدنا الوالدقدس سرہ الماجد حاش ﷲ نہ اس لیے کہ وہ میرے والد و والی ولی نعمت تھے بلکہ اس لیے کہ الحق و الحق اقولالصدق واﷲ یحب الصدق(یہ حق ہے او ر میں حق کہتا ہوںیہ صدق ہے اور اﷲ تعالی صدق کو محبوب رکھتا ہے۔ت)میں نے اس طبیب صادق کا برسوں مطب پایا اور وہ دیکھا کہ عرب و عجم میں جس کا نظیر نظر نہ آیا اس جناب رفیع قدس سرہ البدیع کو اصول حنفی سے استباط فروع کا ملکہ حاصل تھا۔اگرچہ کبھی اس پر حکم نہ فرماتےمگر یوں ظاہر ہوتا تھا کہ نادرو دقیق و معضل مسئلہ پیش نہ ہوا کہ کتب متداولہ میں جس کا پتہ نہیںخادم کمینہ کو مراجعت کتب و استخراج جزئیہ کا حکم ہوتا اور ارشاد فرماتے " ظاہرا حکم یوں ہونا چاہیے "جو وہ فرماتے وہی نکلتایا بعض کتب میں اس کا خلاف نکلتا تو زیادت مطالعہ نے واضح کردیا کہ دیگر کتب میں ترجیح اسی کو دی جو حضرت نے ارشاد فرمایا تھا۔عجم کی حالت تو آپ ملاحظہ ہی فرماتے ہیں۔عرب کا حال یہ ہے کہ ا س جناب قدس سرہ کا یہ ادنی خوشہ چیں و زلہ رہاجو مکہ معظمہ میں اس بار حاضر ہواوہاں کے اعلم العلماء وافقہ الفقہاء سے چھ چھ گھنٹے مذاکرہ علمیہ کی مجلس گرم رہتیجب انہوں نے ملاحظہ فرمایا کہ یہ فقہ حنفی کے دو حرف جانتا ہے اپنے زمانہ کے عہد افتاء کے مسائل کثیرہ جن میں وہاں کے علماء سے اختلاف پڑا یا اشتباہ رہااس ہیچ میر ز پر پیش فرمانا شروع کیے جس مسئلہ و حکم میں اس احقر نے انکی موافقت عرض کی آثار بشاشت ان کے چہرہ نورانی پر ظاہر ہوئے اور جس میں عرض کردیا کہ فقیہ کی رائے میں حکم اس کے خلاف ہےسماع دلیل سے پہلے آثار حزن نمایاں ہوئے اور
خیال فرمالیتے کہ ہم سے اس حکم میں لغزش واقع ہوئی یہ اسی طبیب حاذق کی کفش برادری کا صدقہ ہے۔
(۲)دوم والا حضرت تاج الفحول محب رسول مولانا مولوی عبدالقادر صاحب قادری بدایونی قدس سرہ الشریفپچیس برس فقیر کو اس جناب سے بھی صحبت رہی ان کی سی وسعت نظر وقوت حفظ وتحقیق انیق ان کے بعد کسی میں نظر نہ آئی۔ان دونوں آفتاب و ماہتاب کے غروب کے بعد ہندوستان میں کوئی ایسا نظر نہیں آتا جس کی نسبت عرض کروں کہ آنکھیں بند کرکے اس کے فتوے پر عمل ہو۔
فقیر نے جواب میں عمائد و مشاہیر علمائے اہلسنت کی تخصیص کی اور جناب نے فیض یافتوں سے بھی سوال فرمایا ہے فیض کے لیے عرض عریض ہے۔میں یہاں مطلقا اتنا بھی عرض نہیں کرسکتا جو حضرات عمائد کی نسبت گزارش کیا۔
مولانا ! اس تقریر فقیر کو اصول کے ایك اختلافی مسئلہ میں اس قول پر محمول نہ فرمائیں کہ متکلم اپنے عمومی کلام میں داخل نہیں ہوتا۔حاشا فقیر تو ایك ناقصقاصرادنی طالب علم ہےکبھی خواب میں بھی اپنے لیے کوئی مرتبہ علم قائم نہ کیا۔اور بحمدہ تعالی بظاہر اسباب یہی ایك وجہ ہے کہ رحمت ا لہی میری دستگیری فرماتی ہےمیں اپنی بے بضاعتی جانتا ہوںاس لیے پھونك پھونك کر قدم رکھتا ہوںمصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اپنے کرم سے میری مدد فرماتے ہیں اور مجھ پر علم حق کا افاضہ فرماتے ہیںاور انہیں کے رب کریم کے لیے حمد ہےاور ان پر ابدی صلوۃ والسلام۔
(۳)مدرس کے لیے ذی علمذی فہمسنی صحیح العقیدہ ہونا کافی ہے صحت عقیدہ کی جانچ کی نسبت جواب نمبر ہفتم میں گزارش ہوگی۔اور یہ لوگ خود معروف نہ ہوں تو اہالی نمبر نہم کی معرفت لیے جائیں اور ان سے عرض کی جائے کہ حضرات کسی سفارشخوشامدرعایت پر کاربندی نہ فرمائیں المستشار موتمن پر۔
(۴)نیاز مند کی چار سو تصانیف سے صرف کچھ اوپر سو اب تك مطبوع ہوئیں اور ہزاروں کی تعداد میں بلامعاوضہ تقسیم ہوا کیں جس کے سبب جو رسالہ چھپا جلد ختم ہوگیا۔بعض تین تین چار بار چھپے۔انجمن نعمانیہ میں غالبا رمضان المبارك ۱۳۲۰ ھ میں اس وقت تك کے تمام موجودہ رسائل میں نے خود حاضر کیے ہیں اور انجمن سے رسید بھی آگئی۔ان کی فہرست اب فقیر کو یاد نہیںغالبا دفتر انجمن میں ہو۔اگر وہ معلوم ہوجائے تو بقیہ رسائل جو ادھر چھپے اور مطبع میں ان کے نسخے رہےبالراس والعین نذر انجمن بلا معاوضہ ہوں گے۔دو برس سے عنان مطبع ایك انجمن نے اپنے ہاتھ میں لی ہے جس نے طریقہ فقیر تقسیم کثیر بلا عوض کو منسوخ کردیا پھر بھی انجمن نعمانیہ کے لیے
(۲)دوم والا حضرت تاج الفحول محب رسول مولانا مولوی عبدالقادر صاحب قادری بدایونی قدس سرہ الشریفپچیس برس فقیر کو اس جناب سے بھی صحبت رہی ان کی سی وسعت نظر وقوت حفظ وتحقیق انیق ان کے بعد کسی میں نظر نہ آئی۔ان دونوں آفتاب و ماہتاب کے غروب کے بعد ہندوستان میں کوئی ایسا نظر نہیں آتا جس کی نسبت عرض کروں کہ آنکھیں بند کرکے اس کے فتوے پر عمل ہو۔
فقیر نے جواب میں عمائد و مشاہیر علمائے اہلسنت کی تخصیص کی اور جناب نے فیض یافتوں سے بھی سوال فرمایا ہے فیض کے لیے عرض عریض ہے۔میں یہاں مطلقا اتنا بھی عرض نہیں کرسکتا جو حضرات عمائد کی نسبت گزارش کیا۔
مولانا ! اس تقریر فقیر کو اصول کے ایك اختلافی مسئلہ میں اس قول پر محمول نہ فرمائیں کہ متکلم اپنے عمومی کلام میں داخل نہیں ہوتا۔حاشا فقیر تو ایك ناقصقاصرادنی طالب علم ہےکبھی خواب میں بھی اپنے لیے کوئی مرتبہ علم قائم نہ کیا۔اور بحمدہ تعالی بظاہر اسباب یہی ایك وجہ ہے کہ رحمت ا لہی میری دستگیری فرماتی ہےمیں اپنی بے بضاعتی جانتا ہوںاس لیے پھونك پھونك کر قدم رکھتا ہوںمصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اپنے کرم سے میری مدد فرماتے ہیں اور مجھ پر علم حق کا افاضہ فرماتے ہیںاور انہیں کے رب کریم کے لیے حمد ہےاور ان پر ابدی صلوۃ والسلام۔
(۳)مدرس کے لیے ذی علمذی فہمسنی صحیح العقیدہ ہونا کافی ہے صحت عقیدہ کی جانچ کی نسبت جواب نمبر ہفتم میں گزارش ہوگی۔اور یہ لوگ خود معروف نہ ہوں تو اہالی نمبر نہم کی معرفت لیے جائیں اور ان سے عرض کی جائے کہ حضرات کسی سفارشخوشامدرعایت پر کاربندی نہ فرمائیں المستشار موتمن پر۔
(۴)نیاز مند کی چار سو تصانیف سے صرف کچھ اوپر سو اب تك مطبوع ہوئیں اور ہزاروں کی تعداد میں بلامعاوضہ تقسیم ہوا کیں جس کے سبب جو رسالہ چھپا جلد ختم ہوگیا۔بعض تین تین چار بار چھپے۔انجمن نعمانیہ میں غالبا رمضان المبارك ۱۳۲۰ ھ میں اس وقت تك کے تمام موجودہ رسائل میں نے خود حاضر کیے ہیں اور انجمن سے رسید بھی آگئی۔ان کی فہرست اب فقیر کو یاد نہیںغالبا دفتر انجمن میں ہو۔اگر وہ معلوم ہوجائے تو بقیہ رسائل جو ادھر چھپے اور مطبع میں ان کے نسخے رہےبالراس والعین نذر انجمن بلا معاوضہ ہوں گے۔دو برس سے عنان مطبع ایك انجمن نے اپنے ہاتھ میں لی ہے جس نے طریقہ فقیر تقسیم کثیر بلا عوض کو منسوخ کردیا پھر بھی انجمن نعمانیہ کے لیے
ہدیہ حاضر کرنے سے اس انجمن کو بھی انکار نہیں ہوسکتا۔
(۵)خالص اہل سنت کی ایك قوت اجتماعی کی ضرور ضرورت ہےمگر اس کے لیے تین چیزوں کی سخت حاجت ہے۔
(۱)علماء کا اتفاق(۲)تحمل ساق قدر بالطاق۔(۳)امراء کا اتفاق لوجہ الخلاق۔
یہاں یہ سب باتیں مفقود ہیںفانا ﷲ وانا الیہ راجعونہمارے اغنیاء نام چاہتے ہیںمعصیت بلکہ صریح ضلالت میں ہزاروں اڑادیںخزانوں کے منہ کھول دیںیونیورسٹی کے لیے کتنی جلد تیس لاکھ جمع ہوگیا۔مدرسہ دیوبند کو ایك عورت نے پچاس ہزار دے دیامگر کسی سنی مدرسہ کو بھی یہ دن نصیب ہوا اول تو تائید دین و مذہب جن کا نام لیے گھبرائیں گےمیاں ! یہ ان مولویوں کے جھگڑے ہیں اور شرما شرمی خفیف و ذلیل چندہ بھی مقرر کیا تو۔
" لا یؤدہ الیک الا ما دمت علیہ قائما " ۔ وہ تجھے پھیر کر نہ دے گا مگر جب تك سر پر سوار ہو۔(ت)
بلکہ تقاضا کیجئے تو بگڑیں اور ڈھیل دیجئے تو سورہیںادھر ہمارے کارکنوں کو وہ چال وہ جال معلوم نہیں جس سے وہابیہ خذلھم اﷲ تعالی۔(اﷲ تعالی ان کو رسوا کرےت)بندگان خدا کو چھل کر نہ صرف اپنے ہم مذہبوں بلکہ اپنے ہم مشربوں سے روپیہ اینٹھتے ہیںاس کے لیے ریا و نفاق ومکر و خداع و بے حیائی و بے عزتی لازم ہےوہ نہ آپ میں ہے نہ آپ کی شریعت اس کی اجازت دےپھر کہیے کام کیوں کر چلے۔ابھی ایك نمبری وہابی ایك با اثر صوفی کے یہاںچند لینے گیا انہوں نے فرمایا سنا ہے تم احمد رضا کے مخالف ہوکہا حاشا میں تو اسی درکا کتا ہوںکتا بن کر پانچ سو لے آیا۔
علماء کی یہ حالت ہے کہ رئیسوں سے بڑھ کر آرام طلب ہیںحمایت مذہب کے نام سے گھبراتے ہیںجو بندہ خدا اپنی جان اس پر وقف کرے اسے احمق بلکہ مفسد سمجھتے ہیں۔مداہنت ان کے دلوں میں پیری ہوئی ہے۔ایام ندوہ میں ہندوستان بھر کا تجربہ ہوا۔عبارات ندوہ سن کر ضلالت ضلالت کی رٹ لگادیں۔اور جب کہئے حضرت لکھ دیجئےبھائی لکھواؤ نہیںہمارے فلاں دوست برا مانیں گے۔
(۵)خالص اہل سنت کی ایك قوت اجتماعی کی ضرور ضرورت ہےمگر اس کے لیے تین چیزوں کی سخت حاجت ہے۔
(۱)علماء کا اتفاق(۲)تحمل ساق قدر بالطاق۔(۳)امراء کا اتفاق لوجہ الخلاق۔
یہاں یہ سب باتیں مفقود ہیںفانا ﷲ وانا الیہ راجعونہمارے اغنیاء نام چاہتے ہیںمعصیت بلکہ صریح ضلالت میں ہزاروں اڑادیںخزانوں کے منہ کھول دیںیونیورسٹی کے لیے کتنی جلد تیس لاکھ جمع ہوگیا۔مدرسہ دیوبند کو ایك عورت نے پچاس ہزار دے دیامگر کسی سنی مدرسہ کو بھی یہ دن نصیب ہوا اول تو تائید دین و مذہب جن کا نام لیے گھبرائیں گےمیاں ! یہ ان مولویوں کے جھگڑے ہیں اور شرما شرمی خفیف و ذلیل چندہ بھی مقرر کیا تو۔
" لا یؤدہ الیک الا ما دمت علیہ قائما " ۔ وہ تجھے پھیر کر نہ دے گا مگر جب تك سر پر سوار ہو۔(ت)
بلکہ تقاضا کیجئے تو بگڑیں اور ڈھیل دیجئے تو سورہیںادھر ہمارے کارکنوں کو وہ چال وہ جال معلوم نہیں جس سے وہابیہ خذلھم اﷲ تعالی۔(اﷲ تعالی ان کو رسوا کرےت)بندگان خدا کو چھل کر نہ صرف اپنے ہم مذہبوں بلکہ اپنے ہم مشربوں سے روپیہ اینٹھتے ہیںاس کے لیے ریا و نفاق ومکر و خداع و بے حیائی و بے عزتی لازم ہےوہ نہ آپ میں ہے نہ آپ کی شریعت اس کی اجازت دےپھر کہیے کام کیوں کر چلے۔ابھی ایك نمبری وہابی ایك با اثر صوفی کے یہاںچند لینے گیا انہوں نے فرمایا سنا ہے تم احمد رضا کے مخالف ہوکہا حاشا میں تو اسی درکا کتا ہوںکتا بن کر پانچ سو لے آیا۔
علماء کی یہ حالت ہے کہ رئیسوں سے بڑھ کر آرام طلب ہیںحمایت مذہب کے نام سے گھبراتے ہیںجو بندہ خدا اپنی جان اس پر وقف کرے اسے احمق بلکہ مفسد سمجھتے ہیں۔مداہنت ان کے دلوں میں پیری ہوئی ہے۔ایام ندوہ میں ہندوستان بھر کا تجربہ ہوا۔عبارات ندوہ سن کر ضلالت ضلالت کی رٹ لگادیں۔اور جب کہئے حضرت لکھ دیجئےبھائی لکھواؤ نہیںہمارے فلاں دوست برا مانیں گے۔
حوالہ / References
القرآن الکریم ۳ /۷۵
ہمارے فلاں استاد کو برا لگے گابہت کو یہ خیال کہ مفت میں اوکھلی میں سردے کر موسل کون کھائےبدمذہب دشمن ہوجائیں گےدانتوں پر رکھ لیں گے۔گالیاںپھبتیاں اخباروں اشتہاروں میں چھاپیں گےطرح طرح کے بہتانافتراء اچھالیں گے۔اچھی بچھی جان کو کون جنجال میں ڈالے۔بعض کو یہ کد کہ حمایت مذہب کی توصلح کھلی نہ رہے گی۔ہر دل عزیزی جا کر پلاؤقورمےنذرانہ میں فرق آئے گا۔یا کم از کم آؤ بھگت تو عام نہ رہے گی۔
اتفاق علماء کا یہ حال کہ حسد کا بازار گرمایك کا نام جھوٹوں بھی مشہور ہوا تو بہترے سچے اس کے مخالف ہوگئے اس کی توہین تشنیع میں گمراہوں کے ہم زبان بنے کہ " ہیں" لوگ اسے پوچھتے ہیں اور ہمیں نہیں پوچھتے۔اب فرمائیں کہ وہ قوم کواپنے میں کسی ذی فضل کو نہ دیکھ سکےاپنے ناقصوں کو کامل قاصروں کو ذی فضل بنانے کی کیا کوشش کرے گی۔حاشا یہ کلیہ نہیں مگر للاکثر حکم الکل(اکثر کا حکم وہی ہوتا ہے جو کل کا ہوتا ہے۔ت)
الحمدﷲ یہاں متکلم عموم کلام سے ضرور خارج ہے۔ولوجہ ربی الحمد ابدا(میرے پروردگار کی ذات کے لیے ہمیشہ حمد ہے۔ت) فقیر میں لاکھوں عیب ہیں مگر میرے رب نے مجھے حسد سے بالکل پاك رکھا ہےاپنے سے جسے زیادہ پایا اگر دنیا کے مال و منال میں زیادہ ہے قلب نے اندر سے اسے حقیر جاناپھر حسد کیا حقارت پر
اور اگر دینی شرف و افضال میں زیادہ ہے اس کی دست بوسی و قدم بوسی کو اپنا فخر جاناپھر حسد کیا اپنے معظم بابرکت پر اپنے میں جسے حمایت دین پر دیکھ ااس کے نشر فضائل اور خلق کو اس کی طرف مائل کرنے میں تحریرا و تقریرا ساعی رہا۔اس کے لیے عمدہ القاب وضع کرکے شائع کیے جس پر میری کتاب " المعتمدالمستند" وغیرہ شاہد ہیںحسد شہرت طلبی سے پیدا ہوتا ہے اور میرے رب کریم کے وجہ کریمہ کے لیے حمد ہے کہ میں نے کبھی اس کے لیے خواہش نہ کی بلکہ ہمیشہ اس سے نفور اور گوشہ نشینی کا دلدادہ رہا۔جلسوں انجمنوں کے دوروں سے دور رہنا انہیں دو وجہ پر تھا۔اول حب خمول دوم
زمانہ می نخروعیب و غیر از نیم نیست جا برم خر خود را بایں کساد متاع
(زمانہ عیب دار کو خریدتا نہیں اور میرے پاس اس کے علاوہ نہیں ہے۔اس کھوٹے سامان کے ساتھ اپنے گدھے کو کہاں لے کر جاؤں۔ت)
اور اب تو سالہا سال سے شدت ہجوم کا روانعدام کلی فرصت و غلبہ ضعف نقاہت نے بالکل ہی
اتفاق علماء کا یہ حال کہ حسد کا بازار گرمایك کا نام جھوٹوں بھی مشہور ہوا تو بہترے سچے اس کے مخالف ہوگئے اس کی توہین تشنیع میں گمراہوں کے ہم زبان بنے کہ " ہیں" لوگ اسے پوچھتے ہیں اور ہمیں نہیں پوچھتے۔اب فرمائیں کہ وہ قوم کواپنے میں کسی ذی فضل کو نہ دیکھ سکےاپنے ناقصوں کو کامل قاصروں کو ذی فضل بنانے کی کیا کوشش کرے گی۔حاشا یہ کلیہ نہیں مگر للاکثر حکم الکل(اکثر کا حکم وہی ہوتا ہے جو کل کا ہوتا ہے۔ت)
الحمدﷲ یہاں متکلم عموم کلام سے ضرور خارج ہے۔ولوجہ ربی الحمد ابدا(میرے پروردگار کی ذات کے لیے ہمیشہ حمد ہے۔ت) فقیر میں لاکھوں عیب ہیں مگر میرے رب نے مجھے حسد سے بالکل پاك رکھا ہےاپنے سے جسے زیادہ پایا اگر دنیا کے مال و منال میں زیادہ ہے قلب نے اندر سے اسے حقیر جاناپھر حسد کیا حقارت پر
اور اگر دینی شرف و افضال میں زیادہ ہے اس کی دست بوسی و قدم بوسی کو اپنا فخر جاناپھر حسد کیا اپنے معظم بابرکت پر اپنے میں جسے حمایت دین پر دیکھ ااس کے نشر فضائل اور خلق کو اس کی طرف مائل کرنے میں تحریرا و تقریرا ساعی رہا۔اس کے لیے عمدہ القاب وضع کرکے شائع کیے جس پر میری کتاب " المعتمدالمستند" وغیرہ شاہد ہیںحسد شہرت طلبی سے پیدا ہوتا ہے اور میرے رب کریم کے وجہ کریمہ کے لیے حمد ہے کہ میں نے کبھی اس کے لیے خواہش نہ کی بلکہ ہمیشہ اس سے نفور اور گوشہ نشینی کا دلدادہ رہا۔جلسوں انجمنوں کے دوروں سے دور رہنا انہیں دو وجہ پر تھا۔اول حب خمول دوم
زمانہ می نخروعیب و غیر از نیم نیست جا برم خر خود را بایں کساد متاع
(زمانہ عیب دار کو خریدتا نہیں اور میرے پاس اس کے علاوہ نہیں ہے۔اس کھوٹے سامان کے ساتھ اپنے گدھے کو کہاں لے کر جاؤں۔ت)
اور اب تو سالہا سال سے شدت ہجوم کا روانعدام کلی فرصت و غلبہ ضعف نقاہت نے بالکل ہی
بٹھا دیا ہےجسے میرے احباب نے نازك مزاجی بلکہ بعض حضرات نے غرور و تکبر پر حمل کیا۔اور اﷲ اپنے بندہ کی نیت جانتا ہےبالجملہ اہل سنت سے امور ثلثہ مفقود ہیں پھر فرمائیں صورت کیا ہو۔
دفع گمراہان میں جو کچھ اس حقیر ہیچ میرز سے بن پڑتا ہے بحمداﷲ تعالی ۱۴ برس کی عمر سے اس میں مشغول ہے۔اور میرے رب کریم کے وجہ کریم کو حمد کہ اس نے میری بساطمیرے حوصلےمیرے کاموں سے ہزاروں درجہ زائد اس سے نفع بخشا۔باقی جو آپ چاہتے ہیں اسی قوت متفقہ پر موقوف ہے جس کا حال اوپر گزارش ہوا۔بڑی کمی امراء کی بے توجہی اور روپے کی ناداری ہےحدیث کا ارشاد صادق آیا کہ:" وہ زمانہ آنے والا ہے کہ دین کا کام بھی بے روپیہ کے نہ چلے گا ۔
کوئی باقاعدہ عالی شان مدرسہ تو آپ کے ہاتھ میں نہیںکوئی اخبار پرچہ آپ کے یہاں نہیںمدرسینواعظینمناظرینمصنفین کی کثرت بقدر حاجت آپ کے پاس نہیں۔جو کچھ کرسکتے ہیں فارغ البال نہیں۔جو فارغ البال ہیں وہ اہل نہیں۔بعض نے خون جگر کھا کر تصانیف کیں تو چھپیں کہاں سے۔کسی طرح سے کچھ چھپا لو کی اشاعت کیونکر ہو۔دیوان نہیںناول نہیں کہ ہمارے بھائی دو آنے کی چیز کا ایك روپیہ دے کر شوق سے خریدیںیہاں تو سر چپیٹنا ہے روپیہ وافر ہو تو ممکن کہ یہ سب شکایت رفع ہوں۔
اول عظیم الشان مدارس کھولے جائیں باقاعدہ تعلمیں ہوں۔
ثانیا طلبہ کو وظائف ملیں کہ خواہی نخواہی گروید ہ ہوں۔
ثالثا مدرسوں کی بیش قرار تنخواہیں ان کی کارروائیوں پر دی جائیں کہ لالچ سے جان توڑ کر کوشش کریں۔
رابعا طبائع طلبہ کی جانچ ہو جو جس کام کے زیادہ مناسب دیکھا جائے معقول وظیفہ دے کر اس میں لگایا جائے۔یوں ان میں کچھ مدرسین بنائے جائیںکچھ واعظین کچھ مصنفینکچھ مناظرینپھر تصنیف و مناظرہ میں بھی توزیع ہوکوئی کسی فن پر کوئی کسی پر۔
خامسا ان میں جو تیار ہوتے جائیں تنخواہیں دے کر ملك میں پھیلائے جائیں کہ تحریرا وتقریرا وعظا و مناظرۃ اشاعت دین و مذہب کریں۔
مولانا ! اس گئی گزری حالت میں تو کوئی بفضلہ تعالی آپ کے سامنے آ نہیں سکتا۔دور سے غل مچاتے اور وقت پر دم دباتے ہیں۔جب آپ کے اہل علم یوں مل میں پھیلیں اس وقت کون
دفع گمراہان میں جو کچھ اس حقیر ہیچ میرز سے بن پڑتا ہے بحمداﷲ تعالی ۱۴ برس کی عمر سے اس میں مشغول ہے۔اور میرے رب کریم کے وجہ کریم کو حمد کہ اس نے میری بساطمیرے حوصلےمیرے کاموں سے ہزاروں درجہ زائد اس سے نفع بخشا۔باقی جو آپ چاہتے ہیں اسی قوت متفقہ پر موقوف ہے جس کا حال اوپر گزارش ہوا۔بڑی کمی امراء کی بے توجہی اور روپے کی ناداری ہےحدیث کا ارشاد صادق آیا کہ:" وہ زمانہ آنے والا ہے کہ دین کا کام بھی بے روپیہ کے نہ چلے گا ۔
کوئی باقاعدہ عالی شان مدرسہ تو آپ کے ہاتھ میں نہیںکوئی اخبار پرچہ آپ کے یہاں نہیںمدرسینواعظینمناظرینمصنفین کی کثرت بقدر حاجت آپ کے پاس نہیں۔جو کچھ کرسکتے ہیں فارغ البال نہیں۔جو فارغ البال ہیں وہ اہل نہیں۔بعض نے خون جگر کھا کر تصانیف کیں تو چھپیں کہاں سے۔کسی طرح سے کچھ چھپا لو کی اشاعت کیونکر ہو۔دیوان نہیںناول نہیں کہ ہمارے بھائی دو آنے کی چیز کا ایك روپیہ دے کر شوق سے خریدیںیہاں تو سر چپیٹنا ہے روپیہ وافر ہو تو ممکن کہ یہ سب شکایت رفع ہوں۔
اول عظیم الشان مدارس کھولے جائیں باقاعدہ تعلمیں ہوں۔
ثانیا طلبہ کو وظائف ملیں کہ خواہی نخواہی گروید ہ ہوں۔
ثالثا مدرسوں کی بیش قرار تنخواہیں ان کی کارروائیوں پر دی جائیں کہ لالچ سے جان توڑ کر کوشش کریں۔
رابعا طبائع طلبہ کی جانچ ہو جو جس کام کے زیادہ مناسب دیکھا جائے معقول وظیفہ دے کر اس میں لگایا جائے۔یوں ان میں کچھ مدرسین بنائے جائیںکچھ واعظین کچھ مصنفینکچھ مناظرینپھر تصنیف و مناظرہ میں بھی توزیع ہوکوئی کسی فن پر کوئی کسی پر۔
خامسا ان میں جو تیار ہوتے جائیں تنخواہیں دے کر ملك میں پھیلائے جائیں کہ تحریرا وتقریرا وعظا و مناظرۃ اشاعت دین و مذہب کریں۔
مولانا ! اس گئی گزری حالت میں تو کوئی بفضلہ تعالی آپ کے سامنے آ نہیں سکتا۔دور سے غل مچاتے اور وقت پر دم دباتے ہیں۔جب آپ کے اہل علم یوں مل میں پھیلیں اس وقت کون
حوالہ / References
کشف الخفاء حدیث ۳۲۶۹ دارلکتب العلمیہ بیروت ۲/ ۳۶۶
ان کی قوت کا سامنا کرسکتا ہے۔
سادسا حمایت(مذہب)وہ رد بد مذہباں میں مفید کتب و رسائل مصنفوں کو نذرانے دے کر تصنیف کرائے جائیں۔
سابعا تصنیف شدہ اور نو تصنیف رسائل عمدہ اور خوش خط چھاپ کر ملك میں مفت شائع کیے جائیں۔
ثامنا شہروں شہروں آپ کےسفیرنگران رہیں جہاں جس قسم کے واعظ یا مناظر یا تصنیف کی حاجت ہو آپ کو اطلاع دیں۔آپ سر کوبی اعداء کے لیے اپنی فوجیں میگزین رسالے بھیجتے رہیں۔
تاسعا جو ہم میں قابل کارموجود اور اپنی معاش میں مشغول ہیں وظائف مقرر کرکے فارغ البال بنائے جائیں اور جس کام میں انہیں مہارت ہو لگائے جوئیں۔
عاشرا آپ کے مذہبی اخبار شائع ہوں اور وقتا فوقتا ہر قسم کے حمایت مذہب ممیں مضامین تمام ملك میں بقمیت و بلا قیمت روزانہ یا کم از کم ہفتہ وار پہچاتے رہیں۔
میرے خیال میں تو یہ تدابیر ہیںآپ اور جو کچھ بہتر سمجھیں افادہ فرمائیںبلکہ مولانا ! رپیہ ہونے کی صورت میں اپنی قوت پھیلانے کے علاوہ گمراہوں کی طاقتیں توڑنا بھی ان شاء اﷲ العزیز آسان ہوگا۔میں دیکھ رہا ہوں کہ گمراہیوں کے بہت سے افراد صرف تنخواہوں کے لالچ سے زہر اگلتے پھرتے ہیں۔ان میں جسے دس کی جگہ بارہ دیجئے اب آپ کی سی کہے گایا کم از کم بہ لقمہ درختہ بہ تو ہوگا۔
دیکھئے حدیث کا ارشاد کیسا صادق ہے کہ:" آخر زمانہ میں دین کا کام بھی درہم و دینار سے چلے گا ۔
اور کیوں نہ صادق ہو کہ صادق و مصدوق صلے اﷲ تعالی علیہ وسلم کا کلام ہےعالم ما کان و مایکون صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی خبرہے۔
(۷)مسودہ عقائد حنفیہ کہ یہاں بنظر استصواب آیا تھا بعد بعض ترمیمات ضرور یہ گیا بھیاور انجمن کو پہنچا بھی۔اور انجمن نے اس میں اکثر ترمیمات کو قبول فرمایا بھیاس پر گواہ خود یہ مسودہ تازہ ہے کہ جناب نے اب ارسال فرمایا ہےیہ اکثر انہیں ترمیمات پر مشتمل ہے جو فقیر نے ایك نہایت سرسری نگاہ میں عرض کی تھیںمگر جناب کا یہ فرمانا بھی کہ ترمیم یا تصدیق درکنار تو نے رسید بھی نہ بھیجی بجائے خود ہے۔واقعی فقیر ترمیم کرکے بھیج چکا اور واقعی ترمیم کرکے فقیر نے نہ بھیجا۔اس معمہ کا حل یہ ہے کہ فقیر بے حد عدیم الفرصت ہے خاطر خواہ ترمیمیں(مگر دفترے دیگر
سادسا حمایت(مذہب)وہ رد بد مذہباں میں مفید کتب و رسائل مصنفوں کو نذرانے دے کر تصنیف کرائے جائیں۔
سابعا تصنیف شدہ اور نو تصنیف رسائل عمدہ اور خوش خط چھاپ کر ملك میں مفت شائع کیے جائیں۔
ثامنا شہروں شہروں آپ کےسفیرنگران رہیں جہاں جس قسم کے واعظ یا مناظر یا تصنیف کی حاجت ہو آپ کو اطلاع دیں۔آپ سر کوبی اعداء کے لیے اپنی فوجیں میگزین رسالے بھیجتے رہیں۔
تاسعا جو ہم میں قابل کارموجود اور اپنی معاش میں مشغول ہیں وظائف مقرر کرکے فارغ البال بنائے جائیں اور جس کام میں انہیں مہارت ہو لگائے جوئیں۔
عاشرا آپ کے مذہبی اخبار شائع ہوں اور وقتا فوقتا ہر قسم کے حمایت مذہب ممیں مضامین تمام ملك میں بقمیت و بلا قیمت روزانہ یا کم از کم ہفتہ وار پہچاتے رہیں۔
میرے خیال میں تو یہ تدابیر ہیںآپ اور جو کچھ بہتر سمجھیں افادہ فرمائیںبلکہ مولانا ! رپیہ ہونے کی صورت میں اپنی قوت پھیلانے کے علاوہ گمراہوں کی طاقتیں توڑنا بھی ان شاء اﷲ العزیز آسان ہوگا۔میں دیکھ رہا ہوں کہ گمراہیوں کے بہت سے افراد صرف تنخواہوں کے لالچ سے زہر اگلتے پھرتے ہیں۔ان میں جسے دس کی جگہ بارہ دیجئے اب آپ کی سی کہے گایا کم از کم بہ لقمہ درختہ بہ تو ہوگا۔
دیکھئے حدیث کا ارشاد کیسا صادق ہے کہ:" آخر زمانہ میں دین کا کام بھی درہم و دینار سے چلے گا ۔
اور کیوں نہ صادق ہو کہ صادق و مصدوق صلے اﷲ تعالی علیہ وسلم کا کلام ہےعالم ما کان و مایکون صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی خبرہے۔
(۷)مسودہ عقائد حنفیہ کہ یہاں بنظر استصواب آیا تھا بعد بعض ترمیمات ضرور یہ گیا بھیاور انجمن کو پہنچا بھی۔اور انجمن نے اس میں اکثر ترمیمات کو قبول فرمایا بھیاس پر گواہ خود یہ مسودہ تازہ ہے کہ جناب نے اب ارسال فرمایا ہےیہ اکثر انہیں ترمیمات پر مشتمل ہے جو فقیر نے ایك نہایت سرسری نگاہ میں عرض کی تھیںمگر جناب کا یہ فرمانا بھی کہ ترمیم یا تصدیق درکنار تو نے رسید بھی نہ بھیجی بجائے خود ہے۔واقعی فقیر ترمیم کرکے بھیج چکا اور واقعی ترمیم کرکے فقیر نے نہ بھیجا۔اس معمہ کا حل یہ ہے کہ فقیر بے حد عدیم الفرصت ہے خاطر خواہ ترمیمیں(مگر دفترے دیگر
حوالہ / References
کشف الخفاء حدیث ۳۲۶۹ دارلکتب العلمیہ بیروت ۲/ ۳۶۶
املاکند)کی مصداق ہوتیں۔اس کے لیے وقت نہ ملتا تھا ایك ضرور شدیدہ سے پیلی بھیت جانا ہوا۔حضرت مولانا محدث سورتی دامت برکاتہم نے اس کا ذکر فرمایا۔فقیر نے عرض کی وقت فرصت سن لوں گا۔نصف شب کے قریب وہاں کی ضروریات اور احباب کی ملاقات سے فارغ ہو اس وقت وہ مسودہ فقیر کو سنایا گیاجا بجا تبدیلات و نقص و زیادات و محو واثبات عرض کرتا گیا اور حصرت ممدوح تحریر فرماتے گئے۔۱۸ صفحہ تك اس وقت ہوا پھر صبح بعد فراغ وظائفجب کہ ریل کا وقت قریب تھا۔بقیہ بعجلت تام تمام کیا۔مولوی ابوالعلاء امجد علی صاحب سلمہ بھی ہمراہ تھے ان سے گزارش کی کہ آپ کے پاس بھی ایك مسودہ آیا ہوا ہے یہی ترمیمات آپ بھی لکھ بھیجنااور اتفاق رائے فقیر سے بھی انجمن مبارك کو اطلاع دیں۔مگر بریلی آکر مولوی صاحب کو کثرت کار میں یاد نہ رہا۔یوں وہ اصلاحات فقیر کی طرف سے پہنچیں بھی اور نہیں بھی۔
اب اولا اس مسودہ ثانیہ میں بعض تو اغلاط کاتب ہیں انہیں فقیر نے بنادیا ہے۔ان میں بعض بہت ضروری اللحاظ ہیں۔
ثانیا بعض نئی ترمیمات اور خیال میں آئی ہیںخواہ عبارت سابقہ پریا اب جو مسودہ ثانیہ میں خود انجمن نے محو واثبات کیا اس پر۔
ثالثا اصلاحات سابقہ میں سے اکثر تو قبول فرمائی گئیں مگر بعض وہ بھی ہیں کہ اس مسودہ ثانیہ میں بھی متروك ہوئیں یا نظر سے رہ گئیں خصوصا ان میں بعض کا نہ پانا زیادہ مشوش خیال ہوسکتا ہے کہ بحال عمرالاقل رعایت و مداہنت کا سخت پہلو نکلتا ہے۔ہاں سہوا ترك ہوا تو "رفع عن امتی الخطاء والنیسان" ۔(میری امت سے خطاء و نسیان کو معاف کردیا گیا ہے۔ت) ارشاد والا ہے۔
رابعا ان سب کے بعد بھی بحکم "المستشار مؤتمن" ۔(جس سے مشورہ لیا جائے وہ امین ہوتا ہے۔ت)
مجھے کچھ عرض کرنا ہے۔یہ سب مقاصد اجمالا یہاں گوش گزار کروں۔ (اگلا صفحہ ملاحظہ ہو)
اب اولا اس مسودہ ثانیہ میں بعض تو اغلاط کاتب ہیں انہیں فقیر نے بنادیا ہے۔ان میں بعض بہت ضروری اللحاظ ہیں۔
ثانیا بعض نئی ترمیمات اور خیال میں آئی ہیںخواہ عبارت سابقہ پریا اب جو مسودہ ثانیہ میں خود انجمن نے محو واثبات کیا اس پر۔
ثالثا اصلاحات سابقہ میں سے اکثر تو قبول فرمائی گئیں مگر بعض وہ بھی ہیں کہ اس مسودہ ثانیہ میں بھی متروك ہوئیں یا نظر سے رہ گئیں خصوصا ان میں بعض کا نہ پانا زیادہ مشوش خیال ہوسکتا ہے کہ بحال عمرالاقل رعایت و مداہنت کا سخت پہلو نکلتا ہے۔ہاں سہوا ترك ہوا تو "رفع عن امتی الخطاء والنیسان" ۔(میری امت سے خطاء و نسیان کو معاف کردیا گیا ہے۔ت) ارشاد والا ہے۔
رابعا ان سب کے بعد بھی بحکم "المستشار مؤتمن" ۔(جس سے مشورہ لیا جائے وہ امین ہوتا ہے۔ت)
مجھے کچھ عرض کرنا ہے۔یہ سب مقاصد اجمالا یہاں گوش گزار کروں۔ (اگلا صفحہ ملاحظہ ہو)
حوالہ / References
کشف الخفاء حدیث ۱۳۹۱ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۱ /۳۸۲
سنن ابی داؤد کتاب الادب باب فی المشورۃ آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۳۴۳،جامع الترمذی ابواب الادب باب ماجاء ان المستشارمؤتمن امین کمپنی دہلی ۲ /۱۰۵
سنن ابی داؤد کتاب الادب باب فی المشورۃ آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۳۴۳،جامع الترمذی ابواب الادب باب ماجاء ان المستشارمؤتمن امین کمپنی دہلی ۲ /۱۰۵
ترمیمات جدیدۃ یا ترمیمات جدیدہ مع بیان وجہ
صفحہ سطر مبدل بدل وجہ
۳ ۹ کوئی لطف جزئی یا اصلاح جزئی کوئی لطف یا اصلاح یا کوئی شے قیدجزئی احترازی نہ سمجھی جائے کہ وجوب کلی متوہم ہو حالانکہ لایجب علی اﷲ شیئ (اﷲ پر کچھ واجب نہیں۔ت)
۴ ۴ کئی بہت کئی ترجمہ چند کا ہے
۶ ۷ ختم نبوت ختم نبوت و افضلیت مطلقہ و خلافت کبری و اولویت فی الشفاعۃ وفی دخول الجنۃ واصالت فی کل فضل وساطۃ فی کل نعمۃ وغیرھا صفات کثیرۃ ناممکنۃ الاشتراک اعلا کے شان اقدس و تفریح خاطر مومنین و رغم انف عدو
۶ ۲۲ علم الہی غیر متناہی علم الہی غیر متناہی بالفعل بیان تمایز
۶ ۲۲ آپ کا علم متناہی حضور کا علم متناہی بالفعل وغیرمتناہی بالقوۃ عوام متناہی کو بمعنی منتہی و منقطع نہ سمجھ لیں
۷ ۲۰
زندہ بحیات خاصہ ہیں زندہ بحیات حقیقیہ دنیا و جسمانیہ ہیں حیات خاصہ حیات برزخیہ روحانیہ بھی ہے کہ ہر شخص کو حاصل۔
۸ ۱۱و۱۲ تمام روئے زمین کی مخلوقات عاجز ہے تمام مخلوقات عاجز ہے تحدی اگرچہ جن و انس سے ہوئی مگر عجز سب کو شامل ہے۔
ج۹ عــــــہ
۲۱ حضرت مہدی علیہ السلام
حضرت امام مہدی رضی اﷲ تعالی عنہ
صلوۃ والسلام بالاستقلال مخضوص بانبیاء و ملائکہ ہے
۱۱ ۹تا۱۱ مختلفہ اقوال امام میں ترجیح کےلیے مختلفہ اقوال امام بحضور امام خلاف قول مستقر امام کو ترجیح کےلیے مجتہدین فی الفتوی سے امتیاز
عــــــہ: ج علامت جدید ترمیم کی ہے ۱۲۔
صفحہ سطر مبدل بدل وجہ
۳ ۹ کوئی لطف جزئی یا اصلاح جزئی کوئی لطف یا اصلاح یا کوئی شے قیدجزئی احترازی نہ سمجھی جائے کہ وجوب کلی متوہم ہو حالانکہ لایجب علی اﷲ شیئ (اﷲ پر کچھ واجب نہیں۔ت)
۴ ۴ کئی بہت کئی ترجمہ چند کا ہے
۶ ۷ ختم نبوت ختم نبوت و افضلیت مطلقہ و خلافت کبری و اولویت فی الشفاعۃ وفی دخول الجنۃ واصالت فی کل فضل وساطۃ فی کل نعمۃ وغیرھا صفات کثیرۃ ناممکنۃ الاشتراک اعلا کے شان اقدس و تفریح خاطر مومنین و رغم انف عدو
۶ ۲۲ علم الہی غیر متناہی علم الہی غیر متناہی بالفعل بیان تمایز
۶ ۲۲ آپ کا علم متناہی حضور کا علم متناہی بالفعل وغیرمتناہی بالقوۃ عوام متناہی کو بمعنی منتہی و منقطع نہ سمجھ لیں
۷ ۲۰
زندہ بحیات خاصہ ہیں زندہ بحیات حقیقیہ دنیا و جسمانیہ ہیں حیات خاصہ حیات برزخیہ روحانیہ بھی ہے کہ ہر شخص کو حاصل۔
۸ ۱۱و۱۲ تمام روئے زمین کی مخلوقات عاجز ہے تمام مخلوقات عاجز ہے تحدی اگرچہ جن و انس سے ہوئی مگر عجز سب کو شامل ہے۔
ج۹ عــــــہ
۲۱ حضرت مہدی علیہ السلام
حضرت امام مہدی رضی اﷲ تعالی عنہ
صلوۃ والسلام بالاستقلال مخضوص بانبیاء و ملائکہ ہے
۱۱ ۹تا۱۱ مختلفہ اقوال امام میں ترجیح کےلیے مختلفہ اقوال امام بحضور امام خلاف قول مستقر امام کو ترجیح کےلیے مجتہدین فی الفتوی سے امتیاز
عــــــہ: ج علامت جدید ترمیم کی ہے ۱۲۔
۱۱ ۱۴ ان کا کام صرف بعض کو ترجیح دینا ان کا کام صرف بعض کو بحضور امام مستقر امام پر ترجیح دینا اور اصول امام کے موافق تازہ حصر کی تصحیح اور مجتہدین فی الفتوی و مجتہدین فی المسائل سے امتیاز
۱۱ ۱۵ ان کے بعد رحمت کا ظہور ہوا ان کے بعد رحمت کا اور ظہور ہوا یہ رحمت جدیدہے نہ کہ رحمت جدید ہے
ج۱۱ ۲۱ امام فخر الدین رازی امام ابوبکر احمد ابن علی رازی پہلے مسودہ میں صرف رازی تھااور وہ صحیح تھا اس مسودہ میں فخر الدین بڑھایا گیااور یہ بھی باری غلطی ہے امام فخر الدین رازی حنفی نہیں شفاعی ہیں۔
ترمیمات سابقہ متروکہ(یہ دوقسم ہیں)(قسم اول)
صفحہ سطر مبدل بدل وجہ
۱ ۱۱ باقی صفات فعلیہ میں ان سب سے ازلا متصف تھا ان سب سے ازلا متصف ہے باقی صفات وفعلیہ و نفسیہ و سلبیہ واضافیہ ہیں۔ باقی سب فعلیہ نہیں نہ باقیات ازلیہ
۳ ۱۵ عدل کی چھ صورتیں ہیں عدل و فضل کی الخ ان میں یہ بھی محدود ہوا کہ کسی کے اعمال حسنہ سے ذرہ بھر نقصان نہیں فرماتا۔یہ عدل ہو تو اس کا خلاف ظلم ہوا اور ظلم محال ہےتو اثابت واجب ہو حالانکہ لایجب علی اﷲ شیئ(اﷲ پر کچھ واجب نہیں۔ت) مسودہ سابقہ میں بغیر غرض صحیح کا لفظ تھاوہ تو بہت ہی بے جا تھااب ا سے مصلحت سے بدلا یہ مصلحت راجع الی العبد ہے یا الی اﷲثانی محال ہےبہر تقدیر
۳ ۱۹ اپنے بندوں میں سے کسی کو مصلحت یا اجر جزیل کوئی مصیبت نہیں دیتا اس کا فضل ہے کہ اپنے مسلمان بندوں پر جو مصیبت بھیجے اس میں بھی ان کے لیے اجر رکھتا ہے۔
(۱)
۱۱ ۱۵ ان کے بعد رحمت کا ظہور ہوا ان کے بعد رحمت کا اور ظہور ہوا یہ رحمت جدیدہے نہ کہ رحمت جدید ہے
ج۱۱ ۲۱ امام فخر الدین رازی امام ابوبکر احمد ابن علی رازی پہلے مسودہ میں صرف رازی تھااور وہ صحیح تھا اس مسودہ میں فخر الدین بڑھایا گیااور یہ بھی باری غلطی ہے امام فخر الدین رازی حنفی نہیں شفاعی ہیں۔
ترمیمات سابقہ متروکہ(یہ دوقسم ہیں)(قسم اول)
صفحہ سطر مبدل بدل وجہ
۱ ۱۱ باقی صفات فعلیہ میں ان سب سے ازلا متصف تھا ان سب سے ازلا متصف ہے باقی صفات وفعلیہ و نفسیہ و سلبیہ واضافیہ ہیں۔ باقی سب فعلیہ نہیں نہ باقیات ازلیہ
۳ ۱۵ عدل کی چھ صورتیں ہیں عدل و فضل کی الخ ان میں یہ بھی محدود ہوا کہ کسی کے اعمال حسنہ سے ذرہ بھر نقصان نہیں فرماتا۔یہ عدل ہو تو اس کا خلاف ظلم ہوا اور ظلم محال ہےتو اثابت واجب ہو حالانکہ لایجب علی اﷲ شیئ(اﷲ پر کچھ واجب نہیں۔ت) مسودہ سابقہ میں بغیر غرض صحیح کا لفظ تھاوہ تو بہت ہی بے جا تھااب ا سے مصلحت سے بدلا یہ مصلحت راجع الی العبد ہے یا الی اﷲثانی محال ہےبہر تقدیر
۳ ۱۹ اپنے بندوں میں سے کسی کو مصلحت یا اجر جزیل کوئی مصیبت نہیں دیتا اس کا فضل ہے کہ اپنے مسلمان بندوں پر جو مصیبت بھیجے اس میں بھی ان کے لیے اجر رکھتا ہے۔
(۱)
۸ ۲۲ ہر دو وحی سے جو اخبار و معارف قطعا مفہوم ہوتے ہیں حق ہیں کوئی شبہ نہیں۔ ہر دو وحی سے جو معنی قطعا ثابت ہیں حق ہیں کوئی شبہ نہیں اول کافر کہ شاہی جہل یا جزیرہ بعیدہ میں رہتا ہو جس سے مسلمانوں کو کوئی ضرر نہ ہو بلکہ ذمی مطیع خدمت گار اسلام جس سے مسلمانوں کو منافع ملتے ہوں اس پر مصائب ڈالنے میں کس کی مصلحت یا کوئی اجر ہے ایلام بلا عوض کو خلاف عدل ماننا معتزلہ کامسلك ہے اہل سنت کے نزدیك " یفعل اللہ ما یشاء ﴿۲۷﴾ " (اﷲ تعالی جو چاہے کرتا ہے۔ت)ہاں اس کا فضل ہے کہ مومن کو مصیبت پر بھی ماجور فرماتا ہے ولہ الحمدانتفائے شبہ قطعیت دلالت و ثبوت دونوں سے ہےمجرد قطعا ہونا کافی نہیں۔
۹ ۱۵ سوال منکر و نکیر ضرورہونے والا ہے۔ سوال منکر نکیر جس سے خدا چاہے ضرور ہونے والا ہے۔ روئے سخن سوئے عوام ہے اور اطلاق میں عموم کا ایہام تو تصریح اوضح و امکن فی الافہام
۱۲ ۱۳ ثقاہت ثقہ ہونا ثقۃ علۃ ہے نہ فعل
۱۳ ۱۰ حضرت امام حسن و امام حسین قطعی جنتی ہیں حضرت امام حسن و امام حسین و اصحاب بدر و بیعۃ الرضوان قطعی جنتی ہیں۔ ان کا قطعی جنتی ہونا بھی نصوص سے ثابت اور کتب میں مصرح ہے۔
۱۴ ۱۵ خوش آوازی سے سن کر محبت بھڑکانا مستحسن ہے۔ مستحسن ہے جب کہ مزامیر وغیرہا منکرات شرعیہ سے خالی ہو۔ علماء فرماتے ہیں الاطلاق فی محل التقیید غیر سدید (تقید کے محل میں اطلاق درست نہیں۔ت) خصوصا جہاں عوام و خواص کالعوام اطلاق سے عموم تك پہنچتے ہوںصر ف اتنا ہی رہتا کہ جب منکرات شرعیہ سے پاك ہو جب بھی سد اطلاق کرتا ورنہ خوش آوازی میں غنائے زناں بھی داخل۔اور بعض متصوفہ زمانہ اس پر عامل۔
۹ ۱۵ سوال منکر و نکیر ضرورہونے والا ہے۔ سوال منکر نکیر جس سے خدا چاہے ضرور ہونے والا ہے۔ روئے سخن سوئے عوام ہے اور اطلاق میں عموم کا ایہام تو تصریح اوضح و امکن فی الافہام
۱۲ ۱۳ ثقاہت ثقہ ہونا ثقۃ علۃ ہے نہ فعل
۱۳ ۱۰ حضرت امام حسن و امام حسین قطعی جنتی ہیں حضرت امام حسن و امام حسین و اصحاب بدر و بیعۃ الرضوان قطعی جنتی ہیں۔ ان کا قطعی جنتی ہونا بھی نصوص سے ثابت اور کتب میں مصرح ہے۔
۱۴ ۱۵ خوش آوازی سے سن کر محبت بھڑکانا مستحسن ہے۔ مستحسن ہے جب کہ مزامیر وغیرہا منکرات شرعیہ سے خالی ہو۔ علماء فرماتے ہیں الاطلاق فی محل التقیید غیر سدید (تقید کے محل میں اطلاق درست نہیں۔ت) خصوصا جہاں عوام و خواص کالعوام اطلاق سے عموم تك پہنچتے ہوںصر ف اتنا ہی رہتا کہ جب منکرات شرعیہ سے پاك ہو جب بھی سد اطلاق کرتا ورنہ خوش آوازی میں غنائے زناں بھی داخل۔اور بعض متصوفہ زمانہ اس پر عامل۔
حوالہ / References
القرآن الکریم ۱۴ /۲۷
۱۵ ۲۲ بصورت انکار صریح مطلقا کافر ہے فقہاء کے نزدیك مطلقا کفر ہے۔ متکلمین صرف انکار ضروریات دین کو کفر جانتے ہیں وھو الاحوط(اور اسی میں زیادہ احتیاط ہے۔ ت)اور انکار اجماع میں نزاع طویل ہے۔
" قسم دوم"
صفحہ سطر مبدل بدل وجہ
۱ ۸ تدبیر کائنات جزئی و کل اسی کی ذات سے مختص باختیار خود تدبیر کائنات الخ اس کے دو محمل تھے تبخیص تعیم و تعمیم و تخصیص۔
اول یہ کہ تدبیر کا ہر فرد کائنات کو عام و شامل ہوتامختص بحضرت الوہیت ہےدوم یہ کہ کسی فرد میں کیسی ہے تدبیر مطلقا مختص بذات احدیت ہے۔اول پر غیر خدا سے سلب عموم ہوگا اور ثانی پر عموم سلبثانی میں جب تك بالا ستقلال یا باختیار خود کی قید نہ لگائیں عین مسلك وہابیت و مخالف کریمہ"فالمدبرت امرا ﴿۵﴾" (پھر کام کی تدبیر کریں۔ت)وغیر ہا نصوص قاطعہ ہےبلکہ اہل حقیقت کے نزدیك اول بھی کہ حقیقت مجریہ علی صاحبہا افضل الصلوۃ والتحیۃ مدبرۃ الکل ہے بالخلافۃ المطلقۃ عن حضرۃ الاحدیۃ (بارگاہ احدیت سے خلافت مطلقہ کے سبب سے۔ت)تو اس قید کا ترك وہابیہ کو گنجائش دے گا۔
" قسم دوم"
صفحہ سطر مبدل بدل وجہ
۱ ۸ تدبیر کائنات جزئی و کل اسی کی ذات سے مختص باختیار خود تدبیر کائنات الخ اس کے دو محمل تھے تبخیص تعیم و تعمیم و تخصیص۔
اول یہ کہ تدبیر کا ہر فرد کائنات کو عام و شامل ہوتامختص بحضرت الوہیت ہےدوم یہ کہ کسی فرد میں کیسی ہے تدبیر مطلقا مختص بذات احدیت ہے۔اول پر غیر خدا سے سلب عموم ہوگا اور ثانی پر عموم سلبثانی میں جب تك بالا ستقلال یا باختیار خود کی قید نہ لگائیں عین مسلك وہابیت و مخالف کریمہ"فالمدبرت امرا ﴿۵﴾" (پھر کام کی تدبیر کریں۔ت)وغیر ہا نصوص قاطعہ ہےبلکہ اہل حقیقت کے نزدیك اول بھی کہ حقیقت مجریہ علی صاحبہا افضل الصلوۃ والتحیۃ مدبرۃ الکل ہے بالخلافۃ المطلقۃ عن حضرۃ الاحدیۃ (بارگاہ احدیت سے خلافت مطلقہ کے سبب سے۔ت)تو اس قید کا ترك وہابیہ کو گنجائش دے گا۔
حوالہ / References
القرآن الکریم ۷۹ /۵
۲ ۱۰ ذات حق ان سے منزہ ہے ذات جق پر سب محال بالذات ہیں۔ لفظ تنزیہہ استحالہ ذاتیہ کی تعیین نہیں کرتا۔اور بعد گزارش پھر وہی نگارش معلوم نہیں کس بنا پر ہے۔کیا جہل و کذب وغیرہ وغیرہ میں کوئی عیب باری عزوجل کے لیے ممکن ہے یا اس زمانہ فتن میں کہ امکان کذب پر مکذبین جان دیتے ہیں۔تصریح استحالہ سے پہلو تہی چاہیے۔
۵ ۲۱ ان میں باتباع سلف جو وجوہ مباح تعظیم مروجہ ہر ملك ہوں مسلمانوں میں جو الخ
کلام قابل تاویل ضرور تھا کہ غیر محل منع میں اطلاق تجویز ہی اتباع سلف ہے مگر وہابیہ کے لیے گنجائش تھی کہ فلاں فلاں امور سلف میں کب تھے تو ان میں اتباع سلف کہاں۔
۱۰ ۳ عامۃ الناس احکام غیر منصوصیہ میں تقلید پر مامور ہیں۔ عامۃ الناس احکام غیر منصوصہ قطعیہ میں الخ
غیر مقلد کہہ سکتے ہیں کہ رفع یدین وقراء ت خلف الامام وجہریہ آمین و امثالہا سب منصوصہ ہیں تو ائمہ مجتہدین کی تقلید نہیںیہ وہی بات تو ہے کہ حدیث کے ہوتے ہوئے قول امام کی کیا حاجت !
۱۶ ۱۴ قوائے انسانیہ کو ملائکہ قوت نظریہ کو جبرئیل ماننا خلاف نص و اجماع ہے خلاف نص و اجماع اور کفر قطعی ہے کہ ضروریات دین کا انکار ہے۔ اس اضافہ کے اسقاط میں مصلحت سمجھ میں نہ آئی کیا یہ کفر قطعی نہیں کیا یہ انکار ضروریات دین نہیں یا کافر کو کافر کہنا خلاف تہذیب ہے۔
۱۶ ۷ بعد بعثت اقدس بعثت نبی کا قائل ہونا کفر ہے بعد بعثت اقدس بعثت نبی کو جائز ماننا یا اس کو ختم نبوت میں مخل نہ جاننا کفر ہے اس سے عدول کی مصلحت بھی مفہوم نہ ہوئی کیا صرف قائل ہونا کفر ہے جائز ماننا کفر نہیں یا اسے ختم نبوت میں مخل نہ جاننا کفر نہیں یا کفار کی رعایت کرنی چاہیے۔ " واغلظ علیہم " اور
۵ ۲۱ ان میں باتباع سلف جو وجوہ مباح تعظیم مروجہ ہر ملك ہوں مسلمانوں میں جو الخ
کلام قابل تاویل ضرور تھا کہ غیر محل منع میں اطلاق تجویز ہی اتباع سلف ہے مگر وہابیہ کے لیے گنجائش تھی کہ فلاں فلاں امور سلف میں کب تھے تو ان میں اتباع سلف کہاں۔
۱۰ ۳ عامۃ الناس احکام غیر منصوصیہ میں تقلید پر مامور ہیں۔ عامۃ الناس احکام غیر منصوصہ قطعیہ میں الخ
غیر مقلد کہہ سکتے ہیں کہ رفع یدین وقراء ت خلف الامام وجہریہ آمین و امثالہا سب منصوصہ ہیں تو ائمہ مجتہدین کی تقلید نہیںیہ وہی بات تو ہے کہ حدیث کے ہوتے ہوئے قول امام کی کیا حاجت !
۱۶ ۱۴ قوائے انسانیہ کو ملائکہ قوت نظریہ کو جبرئیل ماننا خلاف نص و اجماع ہے خلاف نص و اجماع اور کفر قطعی ہے کہ ضروریات دین کا انکار ہے۔ اس اضافہ کے اسقاط میں مصلحت سمجھ میں نہ آئی کیا یہ کفر قطعی نہیں کیا یہ انکار ضروریات دین نہیں یا کافر کو کافر کہنا خلاف تہذیب ہے۔
۱۶ ۷ بعد بعثت اقدس بعثت نبی کا قائل ہونا کفر ہے بعد بعثت اقدس بعثت نبی کو جائز ماننا یا اس کو ختم نبوت میں مخل نہ جاننا کفر ہے اس سے عدول کی مصلحت بھی مفہوم نہ ہوئی کیا صرف قائل ہونا کفر ہے جائز ماننا کفر نہیں یا اسے ختم نبوت میں مخل نہ جاننا کفر نہیں یا کفار کی رعایت کرنی چاہیے۔ " واغلظ علیہم " اور
حوالہ / References
القرآن الکریم ۹ /۷۳ و ۶۶/ ۹
" ولیجدوا فیکم غلظۃ " اور
" لتبیننہ للناس ولا تکتمونہ ۫" اور " ولا یخافون لومۃ لائم " ۔اور " کونوا قومین بالقسط شہداء للہ ولو علی انفسکم" ۔اور " لا تاخذکم بہما رافۃ فی دین اللہ" وغیرہا آیات کا حکم اور اس پر عمل فرض قطعی ہے یا نہیں
عرض اخیر
خوں شدم زاندیشہ انجام ایں معیار حق کایں ہمہ اصلاحہا گرہست وحاصل شدچہ شد
ہر کہ چوں من آزمایدروشناسہ ہمچومن ورنہ گرابلیس آدم روئے شامل شدچہ شد
(اس معیار حق کے انجام کے اندیشہ سے میں خون ہوگیا ہوں۔یہ تمام اصلاحات اگر حاصل ہوگئیں تو کیا ہواجو میری طرح آزمائے وہ میری طرح آشنا ہوگا۔ورنہ اگر ابلیس انسانی شکل اختیار کرکے شامل ہوگیا تو کیا ہوا۔ت)
"من جرب بتجربتی عرف معرفتی "۔ جس نے میری طرح آزمایا وہ میری طرح جان لے گا۔
مولانا ! اس مسودہ سے بعض عقائد اہلسنت پر عوام کو صرف اطلاع دینا مقصود نہیںبلکہ ایك معیار سنیت قائم فرمانا ہے کہ اس پر تصدیق کردے ہمارا ہے۔ ع
چشم و دل را از دست نور سرور
(اس سے آنکھ اور دل کو خوشی کا نور حاصل ہوگا۔ت)
اور جو نہ مانے بیگانہ ہے۔ ع
" لتبیننہ للناس ولا تکتمونہ ۫" اور " ولا یخافون لومۃ لائم " ۔اور " کونوا قومین بالقسط شہداء للہ ولو علی انفسکم" ۔اور " لا تاخذکم بہما رافۃ فی دین اللہ" وغیرہا آیات کا حکم اور اس پر عمل فرض قطعی ہے یا نہیں
عرض اخیر
خوں شدم زاندیشہ انجام ایں معیار حق کایں ہمہ اصلاحہا گرہست وحاصل شدچہ شد
ہر کہ چوں من آزمایدروشناسہ ہمچومن ورنہ گرابلیس آدم روئے شامل شدچہ شد
(اس معیار حق کے انجام کے اندیشہ سے میں خون ہوگیا ہوں۔یہ تمام اصلاحات اگر حاصل ہوگئیں تو کیا ہواجو میری طرح آزمائے وہ میری طرح آشنا ہوگا۔ورنہ اگر ابلیس انسانی شکل اختیار کرکے شامل ہوگیا تو کیا ہوا۔ت)
"من جرب بتجربتی عرف معرفتی "۔ جس نے میری طرح آزمایا وہ میری طرح جان لے گا۔
مولانا ! اس مسودہ سے بعض عقائد اہلسنت پر عوام کو صرف اطلاع دینا مقصود نہیںبلکہ ایك معیار سنیت قائم فرمانا ہے کہ اس پر تصدیق کردے ہمارا ہے۔ ع
چشم و دل را از دست نور سرور
(اس سے آنکھ اور دل کو خوشی کا نور حاصل ہوگا۔ت)
اور جو نہ مانے بیگانہ ہے۔ ع
سایہ اش دور باد ازما دور
(اس کا سایہ ہم سے دور ہے۔ت)
مگر یہ ہزار افسوس یہ گزارش کہ یہ غرض اس مسودہ سے ہر گز حاصل نہیں ہوسکتی جب تك وہ ضلالتیں کہ آج کل مدعیان اسلام بلکہ مدعیان سنیت میں پھیلی ہوئی ہیں۔تصریحا ان کا ذکر اور ان سے تبریہ نہ ہو۔
مولانا ! مجھے تجربہ ہوا ہےایك دو نہیں صدہا ایسے ابلیس آدم روملیں گے کہ ان مسائل پر دستخط کردیں گے اور وہ نہ صرف سنیت بلکہ اسلام کے کٹر دشمن اور آپ کے جرگہ حق میں شامل ہو کر آپ کے مذہب کے بیخ کن ہوں گے۔اسی لیے تو ائمہ کرام نے ایسوں کے اسلام کو کلمہ شہادت ہر گز کافی نہ جاناجب تك اپنے مسلك خبیثہ سے صراحۃ براء ت نہ کریں۔جامع الفصولین و وجیز کردری و بحرالرائق و درمختار وغیرہا میں ہے:
ولواتی بہما(ای بالشہادتین)علی وجہ العادۃ لم ینفعہ ما لم یتبرأ ۔ عادۃ کلمہ شہادت کا پڑھنا گمراہ کو مفید نہیں جب تك وہ اپنی ضلالتوں سے براء ت نہ کرے۔
چند سال ہوئے ایك مولی صاحبشاہ صاحبواعظ صاحب نے فقیر سے اپنی سنیت کی سند تحریر مانگیفقیر نے انہیں لکھا۔ حضرت ! تصریح نفی فتن دائرہ چاہیے۔
" الـم ﴿۱﴾ احسب الناس ان یترکوا ان یقولوا امنا وہم لا یفتنون ﴿۲﴾ " ۔ کیا لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ امنا کہنے سے چھٹی مل جائے گی اور وہ آزمائے نہ جائیں گے۔
پھر امور عشرین لکھ کر بھیجےانہوں نے بے تکلف دستخط فرمادیئےفقیر نے سند سنیت انہیں بھیج دی۔وہ امور بعض اضافات جدیدہ(کہ ان برسوں میں ان کی حاجت ہوئی کہ فتن روزانہ متجدد ہیں۔)عرض کروں انہیں غور فرمائیں۔انجمن اگر ان کی اشاعت پسند فرمائے اور ان پر بلادغدغہ تصدیق کو معیار سنیت ٹھہرائے تو ان شاء اﷲ العزیز یہی کافی و وافی ہےزیادہ کی ضرورت نہیںاور یہ نہ ہوں تو شرح عقائد ومقاصد و مواقف کے ترجمے چھاپ کر اس پر دستخط لیجئے ہر گز کفایت نہیں۔مولانا ! بحمداﷲ میں نے
(اس کا سایہ ہم سے دور ہے۔ت)
مگر یہ ہزار افسوس یہ گزارش کہ یہ غرض اس مسودہ سے ہر گز حاصل نہیں ہوسکتی جب تك وہ ضلالتیں کہ آج کل مدعیان اسلام بلکہ مدعیان سنیت میں پھیلی ہوئی ہیں۔تصریحا ان کا ذکر اور ان سے تبریہ نہ ہو۔
مولانا ! مجھے تجربہ ہوا ہےایك دو نہیں صدہا ایسے ابلیس آدم روملیں گے کہ ان مسائل پر دستخط کردیں گے اور وہ نہ صرف سنیت بلکہ اسلام کے کٹر دشمن اور آپ کے جرگہ حق میں شامل ہو کر آپ کے مذہب کے بیخ کن ہوں گے۔اسی لیے تو ائمہ کرام نے ایسوں کے اسلام کو کلمہ شہادت ہر گز کافی نہ جاناجب تك اپنے مسلك خبیثہ سے صراحۃ براء ت نہ کریں۔جامع الفصولین و وجیز کردری و بحرالرائق و درمختار وغیرہا میں ہے:
ولواتی بہما(ای بالشہادتین)علی وجہ العادۃ لم ینفعہ ما لم یتبرأ ۔ عادۃ کلمہ شہادت کا پڑھنا گمراہ کو مفید نہیں جب تك وہ اپنی ضلالتوں سے براء ت نہ کرے۔
چند سال ہوئے ایك مولی صاحبشاہ صاحبواعظ صاحب نے فقیر سے اپنی سنیت کی سند تحریر مانگیفقیر نے انہیں لکھا۔ حضرت ! تصریح نفی فتن دائرہ چاہیے۔
" الـم ﴿۱﴾ احسب الناس ان یترکوا ان یقولوا امنا وہم لا یفتنون ﴿۲﴾ " ۔ کیا لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ امنا کہنے سے چھٹی مل جائے گی اور وہ آزمائے نہ جائیں گے۔
پھر امور عشرین لکھ کر بھیجےانہوں نے بے تکلف دستخط فرمادیئےفقیر نے سند سنیت انہیں بھیج دی۔وہ امور بعض اضافات جدیدہ(کہ ان برسوں میں ان کی حاجت ہوئی کہ فتن روزانہ متجدد ہیں۔)عرض کروں انہیں غور فرمائیں۔انجمن اگر ان کی اشاعت پسند فرمائے اور ان پر بلادغدغہ تصدیق کو معیار سنیت ٹھہرائے تو ان شاء اﷲ العزیز یہی کافی و وافی ہےزیادہ کی ضرورت نہیںاور یہ نہ ہوں تو شرح عقائد ومقاصد و مواقف کے ترجمے چھاپ کر اس پر دستخط لیجئے ہر گز کفایت نہیں۔مولانا ! بحمداﷲ میں نے
آپ کے رنگ تحریر سے سمجھا کہ آپ صاف گو ہیں اور امر حق میں اسی کو پسند فرماتے ہیں اور الحق کو یہی پسند حق ہے:
" فاصدع بما تؤمر واعرض عن المشرکین ﴿۹۴﴾" ۔
جس کا حکم دیا گیا وہ علی الاعلان فرمادیں اور مشرکین سے اعراض فرمائیں۔
بحمدہ سبحنہ یہی طریقہ فقیر کا ہے
فاش میگویم وازگفتہ خودرلشادم بندہ عشقم وازہر دو جہاں آزادم
(میں کھلی بات کرتا ہوں اور اپنے کیے ہوئے پر میرا دل خوش ہےمیں عشق کا غلام ہوں اور دونوںجہاں سے آزاد ہوں۔ت)
اب یہاں پانچ صورتیں ہیں۔
(۱)اقوال ضلال کے قائلین اور حاشیہ پر نام قائل و کتاب۔
(ب)صرف نام کتب
(ج)متن میں صرف اقوال اور حاشیہ پر نام قائل و کتاب۔(د)حاشیہ پر صرف نام کتاب
(ہ)مجرداقوال بے اشعار نام قائل و کتاب۔
حاش ﷲ ! طریقہ خامسہ میں کفایت نہیں۔میں نے اپنی آنکھوں سے متعدد بار متعدد شہروں میں وہ دیکھے ہیں کہ ان عبارات کی نسبت ان سے سوال ہواصاف صاف حکم کفر وضلال لکھ دیا۔جب کہا گیا کہ یہ قول فلاں شخص یا فلاں کتاب کا ہے۔فورا پلٹ گئے کہ ان کو تو ہر گز نہ کہوں گا۔
مولانا ! آج کل تو یہ حالت ایمان رہ گئی ہےاﷲ و رسول کو گالی دینا ضرور کفر ہے مگر زید گالی دے تو معاف ہے۔
"اناﷲ وانا الیہ راجعون " بہرحال میں یہاں طریق اوسط اختیار کرتا ہوں اور دیکھتا ہوں کہ مبارك انجمن کون سا پسند فرماتی ہے۔وحسبنا اﷲ ونعم الوکیل اور اﷲ تعالی ہمیں کافی ہے اور کیا ہی اچھا کارساز ہے۔ت)
میں نے قصد کیا تھا کہ امور عشرین سے وہ باتیں کہ مسودہ میں آگئی ہیں ساقط اور بعض جدید اضافہ کروں۔اب یہ مناسب سمجھتا ہوں کہ وہ تمام پہلے سے نفیس تر پیرایہ میں مع زیادات کثیرہ جلیلہ
" فاصدع بما تؤمر واعرض عن المشرکین ﴿۹۴﴾" ۔
جس کا حکم دیا گیا وہ علی الاعلان فرمادیں اور مشرکین سے اعراض فرمائیں۔
بحمدہ سبحنہ یہی طریقہ فقیر کا ہے
فاش میگویم وازگفتہ خودرلشادم بندہ عشقم وازہر دو جہاں آزادم
(میں کھلی بات کرتا ہوں اور اپنے کیے ہوئے پر میرا دل خوش ہےمیں عشق کا غلام ہوں اور دونوںجہاں سے آزاد ہوں۔ت)
اب یہاں پانچ صورتیں ہیں۔
(۱)اقوال ضلال کے قائلین اور حاشیہ پر نام قائل و کتاب۔
(ب)صرف نام کتب
(ج)متن میں صرف اقوال اور حاشیہ پر نام قائل و کتاب۔(د)حاشیہ پر صرف نام کتاب
(ہ)مجرداقوال بے اشعار نام قائل و کتاب۔
حاش ﷲ ! طریقہ خامسہ میں کفایت نہیں۔میں نے اپنی آنکھوں سے متعدد بار متعدد شہروں میں وہ دیکھے ہیں کہ ان عبارات کی نسبت ان سے سوال ہواصاف صاف حکم کفر وضلال لکھ دیا۔جب کہا گیا کہ یہ قول فلاں شخص یا فلاں کتاب کا ہے۔فورا پلٹ گئے کہ ان کو تو ہر گز نہ کہوں گا۔
مولانا ! آج کل تو یہ حالت ایمان رہ گئی ہےاﷲ و رسول کو گالی دینا ضرور کفر ہے مگر زید گالی دے تو معاف ہے۔
"اناﷲ وانا الیہ راجعون " بہرحال میں یہاں طریق اوسط اختیار کرتا ہوں اور دیکھتا ہوں کہ مبارك انجمن کون سا پسند فرماتی ہے۔وحسبنا اﷲ ونعم الوکیل اور اﷲ تعالی ہمیں کافی ہے اور کیا ہی اچھا کارساز ہے۔ت)
میں نے قصد کیا تھا کہ امور عشرین سے وہ باتیں کہ مسودہ میں آگئی ہیں ساقط اور بعض جدید اضافہ کروں۔اب یہ مناسب سمجھتا ہوں کہ وہ تمام پہلے سے نفیس تر پیرایہ میں مع زیادات کثیرہ جلیلہ
حوالہ / References
القرآن الکریم ۱۵ /۹۴
جزیلہ ذکر کروں کہ انجمن پسند فرمائے تو یہی بس ہےورنہ یادگار رہے گی۔اور حق سبحانہ و تعالی جس کے لیے چاہے گا کام دے گی وباﷲ التوفیق۔
یہاں اسے لکھنا چاہا تھا مگر یہ بفضلہ تعالی ایك کافی وافی نفیس مستقل رسالہ ہوگیا جس کا نام "نورالفرقان بین جندالالہ واحباب الشیطن" رکھا گیا۔بعد تبییض ان شاء اﷲ العزیز اگر انجمن مبارك کی خواہش ہوئی جداگانہ مرسل ہوگا۔وﷲ الحمد
(۸ و ۹)کے جوابات اس فہرست سے واضح ہوں گے جسے لکھنے کے لیے فقیر نے ابوالعلاء امجد علی صاحب سے گزارش کردی ہے اور ان شاء اﷲ تعالی اسی نیاز نامہ کے ساتھ مرسل ہوگیوہ امور کہ بعض جوابات سابقہ میں گزرے ضرور ملحوظ خاطر رہیں۔
(۱۰)"تلک عشرۃ کاملۃ " ۔(یہ پورے دس۱۰ ہوئے۔ت) اﷲ عزوجل انجمن کو مبارك ترکرے اور اہل سنت کو اس سے نفع عظیم پہنچائے۔کئی سال سے بحمد ہ تعالی فقیر اسے خالص انجمن اہل سنت و جماعت سمجھتا ہے۔اور بفضلہ تعالی کوئی امر قابل شکایت معلوم نہ ہوامگر مولانا اس فقیر حقیر کے ذمہ کاموں کی بے انتہا کثرت ہےاور اس پر نقاہت و ضعف قوت اور اس پر محض تنہائی ووحدتایسے امور ہیں کہ فقیر کو دوسرے کام کی طرف متوجہ ہونے سے مجبورا نہ باز رکھتے ہیں۔خود اپنے مدرسہ میں قدم رکھنے تك کی فرصت نہیں ملتی۔یہ خدمت کہ فقیر سراپا تقصیر سے میرے مولائے اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم محض اپنے کرم سے لے رہے ہیں۔ا ہل سنت و مذہب اہل سنت ہی کی خدمت ہے جو صاحب چاہیں جتنے دن چاہیں فقیر کے یہاں اقامت فرمائیں۔مہینہ دو مہینہ سال دو سال اور فقیر کا جو منٹ خالی دیکھیں یا جس وقت فقیر کو کوئی ذاتی کام کرتے دیکھیں اسی وقت مواخذہ فرمائیں کہ تو اتنی دیر میں دوسرا کام کرسکتا تھا۔اور جب بحمدہ تعالی سارا وقت آپ ہی کے مذہب کی خدمت گاری میں گزرتا ہے تو اب یہ کام اگر فضول یا دوسرا اس سے اہم ہو تو مجھے ہدایت فرمائی جائےورنہ فقیر کا عذر قابل قبول ہے۔
مولوی سید دیدار علی صاحب و مولوی ابوالفرح عبدالمحید صاحب نے فقیر سے ایك انجمن قائم کرکے اس کی خدمات انجام دینے کو فرمایا۔فقیر نے گزارش کی کہ جو کام اﷲ عزوجل یہاں سے لے رہا ہے۔ضروری ہے یا نہیں فرمایا:سخت ضروریفقیر نے عرض کی۔دوسرے کوئی صاحب
یہاں اسے لکھنا چاہا تھا مگر یہ بفضلہ تعالی ایك کافی وافی نفیس مستقل رسالہ ہوگیا جس کا نام "نورالفرقان بین جندالالہ واحباب الشیطن" رکھا گیا۔بعد تبییض ان شاء اﷲ العزیز اگر انجمن مبارك کی خواہش ہوئی جداگانہ مرسل ہوگا۔وﷲ الحمد
(۸ و ۹)کے جوابات اس فہرست سے واضح ہوں گے جسے لکھنے کے لیے فقیر نے ابوالعلاء امجد علی صاحب سے گزارش کردی ہے اور ان شاء اﷲ تعالی اسی نیاز نامہ کے ساتھ مرسل ہوگیوہ امور کہ بعض جوابات سابقہ میں گزرے ضرور ملحوظ خاطر رہیں۔
(۱۰)"تلک عشرۃ کاملۃ " ۔(یہ پورے دس۱۰ ہوئے۔ت) اﷲ عزوجل انجمن کو مبارك ترکرے اور اہل سنت کو اس سے نفع عظیم پہنچائے۔کئی سال سے بحمد ہ تعالی فقیر اسے خالص انجمن اہل سنت و جماعت سمجھتا ہے۔اور بفضلہ تعالی کوئی امر قابل شکایت معلوم نہ ہوامگر مولانا اس فقیر حقیر کے ذمہ کاموں کی بے انتہا کثرت ہےاور اس پر نقاہت و ضعف قوت اور اس پر محض تنہائی ووحدتایسے امور ہیں کہ فقیر کو دوسرے کام کی طرف متوجہ ہونے سے مجبورا نہ باز رکھتے ہیں۔خود اپنے مدرسہ میں قدم رکھنے تك کی فرصت نہیں ملتی۔یہ خدمت کہ فقیر سراپا تقصیر سے میرے مولائے اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم محض اپنے کرم سے لے رہے ہیں۔ا ہل سنت و مذہب اہل سنت ہی کی خدمت ہے جو صاحب چاہیں جتنے دن چاہیں فقیر کے یہاں اقامت فرمائیں۔مہینہ دو مہینہ سال دو سال اور فقیر کا جو منٹ خالی دیکھیں یا جس وقت فقیر کو کوئی ذاتی کام کرتے دیکھیں اسی وقت مواخذہ فرمائیں کہ تو اتنی دیر میں دوسرا کام کرسکتا تھا۔اور جب بحمدہ تعالی سارا وقت آپ ہی کے مذہب کی خدمت گاری میں گزرتا ہے تو اب یہ کام اگر فضول یا دوسرا اس سے اہم ہو تو مجھے ہدایت فرمائی جائےورنہ فقیر کا عذر قابل قبول ہے۔
مولوی سید دیدار علی صاحب و مولوی ابوالفرح عبدالمحید صاحب نے فقیر سے ایك انجمن قائم کرکے اس کی خدمات انجام دینے کو فرمایا۔فقیر نے گزارش کی کہ جو کام اﷲ عزوجل یہاں سے لے رہا ہے۔ضروری ہے یا نہیں فرمایا:سخت ضروریفقیر نے عرض کی۔دوسرے کوئی صاحب
حوالہ / References
القرآن الکریم ۲ /۱۹۶
اس پر مقرر فرمادیجئے اور مجھ سے کوئی اور خدمت اہل سنت لیجئےفرمایا نہ دوسرا کوئی اسے کرسکتا ہے۔نہ دس آدمی مل کر انجام دے سکتے ہیں۔فقیر نے گزارش کی پھر عذر واضح ہے۔
غرض انجمن اہل سنت جو اہم مقاصد چاہے ان میں سے ایك میرے مقدور بھر بالفعل موجود ہے تو اسی کو خدمت انجمن تصور فرمائیںمیں جہاں ہوں اور جس حال میں ہوں مذہب اہل سنت کا ادنی خدمت گار اور اپنے سنی بھائیوں کا خیر خواہ ہوں۔البتہ وجوہ مذکورہ بالا سے نہ کہیں آنے جانے کی فرصت نہ طاقتنہ اپنا کام چھوڑ کر دوسرا کام لینے کی لیاقت۔
"وحسبنا اﷲ و نعم الوکیلواﷲ یقول الحق و یہدی السبیل "۔ اﷲ تعالی ہمیں کافی ہے اور کیا ہی اچھا کارساز ہے۔اﷲ تعالی حق فرماتا ہے اور سیدھی راہ کی ہدایت عطا فرماتا ہے۔(ت)
اس نیاز نامہ میں جو امور معروض ہوئے ہیںجہاں کہیں مشورہ خیر ہو ضرور مطلع فرمائیں۔فقیر کی کیا حاجت ہے۔امیر المومنین عمرفاروق اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ اپنے زمانہ خلافت راشدہ میں فرماتےہیں:
لاخیرفیکم مالم تقولوا ولا خیر فی مالم اسمع ۔
وفقنا اﷲ تعالی وایاکم وسائراخوانہ لکل خیر وحفظنا وایاکم من کل شروصلی اﷲ تعالی علی سیدنا و مولانا محمد والہ وصحبہ و ابنہ وحزبہ اجمعین و بارك وسلم امین۔
۲۷ جمادی الاخری ۱۳۳۰ھ تم مشورہ خیر نہ دو تو تم میں بھلائی نہیں اور میں اس کو نہ سنوں تو مجھ میں بھلائی نہیں۔
اﷲ تعالی ہمیں تمہیں اور ہمارے تمام بھائیوں کو ہر خیر کی توفیق عطا فرمائے اور ہر شر سے محفوظ رکھے۔اﷲ تعالی ہمارے آقا و مولی محمد مصطفیآپ کی آلاصحاباولاد اور تمام امت پر درود و سلام اور برکت نازل فرمائے۔آمین(ت)
__________________
غرض انجمن اہل سنت جو اہم مقاصد چاہے ان میں سے ایك میرے مقدور بھر بالفعل موجود ہے تو اسی کو خدمت انجمن تصور فرمائیںمیں جہاں ہوں اور جس حال میں ہوں مذہب اہل سنت کا ادنی خدمت گار اور اپنے سنی بھائیوں کا خیر خواہ ہوں۔البتہ وجوہ مذکورہ بالا سے نہ کہیں آنے جانے کی فرصت نہ طاقتنہ اپنا کام چھوڑ کر دوسرا کام لینے کی لیاقت۔
"وحسبنا اﷲ و نعم الوکیلواﷲ یقول الحق و یہدی السبیل "۔ اﷲ تعالی ہمیں کافی ہے اور کیا ہی اچھا کارساز ہے۔اﷲ تعالی حق فرماتا ہے اور سیدھی راہ کی ہدایت عطا فرماتا ہے۔(ت)
اس نیاز نامہ میں جو امور معروض ہوئے ہیںجہاں کہیں مشورہ خیر ہو ضرور مطلع فرمائیں۔فقیر کی کیا حاجت ہے۔امیر المومنین عمرفاروق اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ اپنے زمانہ خلافت راشدہ میں فرماتےہیں:
لاخیرفیکم مالم تقولوا ولا خیر فی مالم اسمع ۔
وفقنا اﷲ تعالی وایاکم وسائراخوانہ لکل خیر وحفظنا وایاکم من کل شروصلی اﷲ تعالی علی سیدنا و مولانا محمد والہ وصحبہ و ابنہ وحزبہ اجمعین و بارك وسلم امین۔
۲۷ جمادی الاخری ۱۳۳۰ھ تم مشورہ خیر نہ دو تو تم میں بھلائی نہیں اور میں اس کو نہ سنوں تو مجھ میں بھلائی نہیں۔
اﷲ تعالی ہمیں تمہیں اور ہمارے تمام بھائیوں کو ہر خیر کی توفیق عطا فرمائے اور ہر شر سے محفوظ رکھے۔اﷲ تعالی ہمارے آقا و مولی محمد مصطفیآپ کی آلاصحاباولاد اور تمام امت پر درود و سلام اور برکت نازل فرمائے۔آمین(ت)
__________________
امور عشرین درامتیاز عقائد سنیین
(سنیوں کے عقائد کی پہچان میں بیس۲۰ امور)
بسم اﷲ الرحمن الرحیم
الحمدﷲ رب الانس والجنۃوالصلوۃ والسلام علی نبینا العظیم والمنۃالمنقذمن النار والمعطی الجنۃ الذی ذکرہ حرز وحبہ جنۃ وعلی الہ وصحبہ واھل السنۃ۔ تمام تعریفیں اﷲ تعالی کے لیے ہیں جو انسانوں اور جنوں کا رب ہےاور درود و سلام ہو ہمارے عظمت وا حسان والے نبی پر جو جہنم سے بچانے اور جنت عطا فرمانے والا ہےجس کا ذکر حفاظت اور اس کی محبت ڈھال ہےاورآپ کی آل پر اور صحابہ پر اور اہلسنت پر۔(ت)
ماہ رمضان المبارك ۳۱۸ ہجریہ قدسیہ علی صاحبہاالصلوۃ و التحیۃ میں فقیر کے پاس سانبھر علاقہ ریاست جے پور(راجستھان) سے ایك خط بایں تلخیص آیا۔
نقل نامہ حافظ محمد عثمان صاحب بنام فقیر(مصنف علیہ الرحمہ)
بخدمت فیض درجت مولانا مولوی احمد رضا خان صاحب بریلوی محدث و امام اہل سنت و جماعت بعد سلام سنت الاسلام کے عرض خدمت ہے کہ دریں ولا ہماری ملك مارواڑ(راجستھان)کی بڑی خوش قسمتی ہے کہ آج کل یہاں سانبھر میں جناب مولانا مولوی احمد علی شاہ صاحب حنفی نقشبندی اویسی
(سنیوں کے عقائد کی پہچان میں بیس۲۰ امور)
بسم اﷲ الرحمن الرحیم
الحمدﷲ رب الانس والجنۃوالصلوۃ والسلام علی نبینا العظیم والمنۃالمنقذمن النار والمعطی الجنۃ الذی ذکرہ حرز وحبہ جنۃ وعلی الہ وصحبہ واھل السنۃ۔ تمام تعریفیں اﷲ تعالی کے لیے ہیں جو انسانوں اور جنوں کا رب ہےاور درود و سلام ہو ہمارے عظمت وا حسان والے نبی پر جو جہنم سے بچانے اور جنت عطا فرمانے والا ہےجس کا ذکر حفاظت اور اس کی محبت ڈھال ہےاورآپ کی آل پر اور صحابہ پر اور اہلسنت پر۔(ت)
ماہ رمضان المبارك ۳۱۸ ہجریہ قدسیہ علی صاحبہاالصلوۃ و التحیۃ میں فقیر کے پاس سانبھر علاقہ ریاست جے پور(راجستھان) سے ایك خط بایں تلخیص آیا۔
نقل نامہ حافظ محمد عثمان صاحب بنام فقیر(مصنف علیہ الرحمہ)
بخدمت فیض درجت مولانا مولوی احمد رضا خان صاحب بریلوی محدث و امام اہل سنت و جماعت بعد سلام سنت الاسلام کے عرض خدمت ہے کہ دریں ولا ہماری ملك مارواڑ(راجستھان)کی بڑی خوش قسمتی ہے کہ آج کل یہاں سانبھر میں جناب مولانا مولوی احمد علی شاہ صاحب حنفی نقشبندی اویسی
تشریف لائے ہیںہم لوگ آپ کی تصنیفات گوناگو سے مستفیض ہوچکے تھے۔اب خوش بیانیاثر پنہانی وتوجہ قلبی سے فیض یاب ہورہے ہیںغیر مقلدین و دیگر عقائد باطلہ والے توبہ کرکے وعظ سے اٹھتے ہیں کوئی وعظ ایسا نہیں ہوتا جس میں آپ ندوہ (یعنی صلہ کلی الحاد)کی برائی بیان نہ کرتے ہوںیہاں کے لوگ ندوے کے بڑے ثنا خواں تھے اب ایسے متنفر ہوگئے جیسے کسی خبیث(جن)سے کوئی متنفر ہوتاہے۔ایك مولوی ندوی بھی یہاں آگیا ہے وہ کہتا ہے اگر مولوی احمد علی شاہ صاحب مخالف ہیں تو خود جاہل و بددین ہیں۔چند لوگ اس کے کہنے سے بہك گئےوہ کہتے ہیں اگر مولوی احمد رضا خان صاحب بریلوی دربارہ مولوی احمد علی شاہ صاحب لکھ دیں تو ہم ان کی باتیں سنیں گے اور اپنے خیالات سے توبہ کریں گےلہذا عرض خدمت ہے کہ مولوی احمد علی شاہ صاحب آپ کے علم میں جیسے ہوں تحریر فرمایئےآپ کی یہ تحریر سرکشوں کے لیے بہت مفید ہوگی۔العبد محمد عثمان۔
(سیدامام اہل سنت اعلحضرت رحمۃ اﷲ تعالی علیہ تحریر فرماتے ہیں)فقیر کو اس سے پہلے مولانا موصوف سے تعرف تفصیلی نہ تھا اور امر شہادت خصوصا دربارہ عقائد اہم واعظملہذا جواب میں یہ خط ارسال فرمایا۔(مکتوب اعلحضرت)
نامہ فقیر(مصنف علیہ الرحمہ)بنام حافظ(محمد عثمان)صاحب
بملاحظہ کرم فرما حافظ محمد عثمان صاحب زید لطفہمالسلام علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ
لطف نامہ آیاممنون یاد آوری فرمایامولوی احمد علی شاہ صاحب نے غریب خانہ پر کرم فرمایا تھاپہلی ملاقات تھیبعدہجلسہ عظیم آباد(پٹنہ بہار)میں نیاز حاصل ہوا۔و ہ اس سے بھی مجمل تھا کہ سوائے سلام و مصافحہ کے کسی مکالمہ کی نوبت نہ آئی۔امر شہادت عظیم ہےمیں معاذ اﷲ کوئی سوء ظن نہیں کرتا بلکہ مولانا موصوف کے جن فضائل کو اب اجمالا وسماعا(بذریعہ حافظ مذکور)جانتا ہوں تفصیلا وعیانا جان لوں۔مولانا کی حق پسندی سے امید ہے کہ فقیر کی اس عرض پر کمال خوش و مسرورآج کل غیر مقلدین یا ندوے ہی کا فتنہ ہندوستان میں ساری نہیں بلکہ معاذ اﷲ صدہا آفتیں ہیںفقیر بیس امور حاضر کرتا ہے مولانا موصوف ان پر اپنی تصدیق کافی و وافی جس سے بکشادہ پیشانی تسلیم کامل روشن طور پر ثابت ہو تحریر فرما کر اپنی مہر سے مزین فرما کر فقیر کے پاس روانہ کردیں۔
فقیر احمد رضا قادری عفی عنہ
از بریلی ۲۷ رمضان المبارك ۱۳۱۸ھ
(سیدامام اہل سنت اعلحضرت رحمۃ اﷲ تعالی علیہ تحریر فرماتے ہیں)فقیر کو اس سے پہلے مولانا موصوف سے تعرف تفصیلی نہ تھا اور امر شہادت خصوصا دربارہ عقائد اہم واعظملہذا جواب میں یہ خط ارسال فرمایا۔(مکتوب اعلحضرت)
نامہ فقیر(مصنف علیہ الرحمہ)بنام حافظ(محمد عثمان)صاحب
بملاحظہ کرم فرما حافظ محمد عثمان صاحب زید لطفہمالسلام علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ
لطف نامہ آیاممنون یاد آوری فرمایامولوی احمد علی شاہ صاحب نے غریب خانہ پر کرم فرمایا تھاپہلی ملاقات تھیبعدہجلسہ عظیم آباد(پٹنہ بہار)میں نیاز حاصل ہوا۔و ہ اس سے بھی مجمل تھا کہ سوائے سلام و مصافحہ کے کسی مکالمہ کی نوبت نہ آئی۔امر شہادت عظیم ہےمیں معاذ اﷲ کوئی سوء ظن نہیں کرتا بلکہ مولانا موصوف کے جن فضائل کو اب اجمالا وسماعا(بذریعہ حافظ مذکور)جانتا ہوں تفصیلا وعیانا جان لوں۔مولانا کی حق پسندی سے امید ہے کہ فقیر کی اس عرض پر کمال خوش و مسرورآج کل غیر مقلدین یا ندوے ہی کا فتنہ ہندوستان میں ساری نہیں بلکہ معاذ اﷲ صدہا آفتیں ہیںفقیر بیس امور حاضر کرتا ہے مولانا موصوف ان پر اپنی تصدیق کافی و وافی جس سے بکشادہ پیشانی تسلیم کامل روشن طور پر ثابت ہو تحریر فرما کر اپنی مہر سے مزین فرما کر فقیر کے پاس روانہ کردیں۔
فقیر احمد رضا قادری عفی عنہ
از بریلی ۲۷ رمضان المبارك ۱۳۱۸ھ
بسم اﷲ الرحمن الرحیم ط
امور عشرین تصدیق طلب از جناب مولانا مولوی احمد علی شاہ صاحب مرزا پوری
(۱)سید احمد خاں علی گڑھ اور اس کے متبعین سب کفار ہیں۔
(۲)رافضی کہ قرآن عظیم کو ناقص کہے یا مولی علی کرم اﷲ وجہہ یا کسی غیر نبی کو انبیاء سابقین علیہم السلام میں سے کسی سے افضل بتائے کافرو مرتد ہے۔
(۳)رافضی تبرائی فقہاء کے نزدیك کافر ہے اور اس کے گمراہبدعتیجہنمی ہونے پر اجماع ہے۔
(۴)جو مولی علی رضی اﷲ تعالی عنہ کو حضرات شیخین رضی اﷲ تعالی عنہما پر قرب الہی میں تفضیل دے وہ گمراہ مخالف سنت ہے۔
(۵)جنگ جمل و صفین میں حق بدست حق پرست امیر المومنین علی کرم اﷲ تعالی وجہہ تھا۔مگر حضرات صحابہ کرام مخالفین کی خطا خطائے اجتہادی تھی جس کی وجہ سے ان پر طعن سخت حرامان کی نسبت کوئی کلمہ اس سے زائد گستاخی کا نکالنا بے شك رفض ہے اور خروج از دائرہ اہلسنت جو کسی صحابی کی شان میں کلمہ طعن و توہین کہےانہیں برا جانےفاسق مانےان میں سے کسی سے بغض رکھے مطلقا رافضی ہے۔
(۶)صدہا سال سے درجہ اجتہاد مطلق تك کوئی واصل نہیں ہے بے وصول درجہ اجتہاد تقلید فرضغیر مقلدین گمراہ بددین ہیں۔
(۷)اہلسنت صدہا سال سے چارگروہ میں منحصر ہیں جو ان سے خارج ہے بدعتی ناری ہے۔
(۸)وہابیہ کا معلم اول ابن عبدالوہاب نجدی اور معلم ثانی اسمعیل دہلوی مصنف تقویۃ الایمان دونوں سخت گمراہ بددین تھے۔
(۹)تقویۃ الایمان و صراط مستقیم و رسالہ یکروزی و تنویر العینین تصانیف اسمعیل دہلوی صریح ضلالتوںگمراہیوں اور کلمات کفریہ پر مشتمل ہیں۔
(۱۰)مائۃ مسائل مولوی اسحق دہلوی غلط و مردود مسائل و مخالفات اہل سنت و مخالفات جمہور سے پر ہیں۔
(۱۱)انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام اور اولیاء قدست اسرار ہم سے استمدادو استعانت اور انہیں وقت حاجت توسل واستمداد کے لیے ندا کرنا یارسول اﷲیا علی
امور عشرین تصدیق طلب از جناب مولانا مولوی احمد علی شاہ صاحب مرزا پوری
(۱)سید احمد خاں علی گڑھ اور اس کے متبعین سب کفار ہیں۔
(۲)رافضی کہ قرآن عظیم کو ناقص کہے یا مولی علی کرم اﷲ وجہہ یا کسی غیر نبی کو انبیاء سابقین علیہم السلام میں سے کسی سے افضل بتائے کافرو مرتد ہے۔
(۳)رافضی تبرائی فقہاء کے نزدیك کافر ہے اور اس کے گمراہبدعتیجہنمی ہونے پر اجماع ہے۔
(۴)جو مولی علی رضی اﷲ تعالی عنہ کو حضرات شیخین رضی اﷲ تعالی عنہما پر قرب الہی میں تفضیل دے وہ گمراہ مخالف سنت ہے۔
(۵)جنگ جمل و صفین میں حق بدست حق پرست امیر المومنین علی کرم اﷲ تعالی وجہہ تھا۔مگر حضرات صحابہ کرام مخالفین کی خطا خطائے اجتہادی تھی جس کی وجہ سے ان پر طعن سخت حرامان کی نسبت کوئی کلمہ اس سے زائد گستاخی کا نکالنا بے شك رفض ہے اور خروج از دائرہ اہلسنت جو کسی صحابی کی شان میں کلمہ طعن و توہین کہےانہیں برا جانےفاسق مانےان میں سے کسی سے بغض رکھے مطلقا رافضی ہے۔
(۶)صدہا سال سے درجہ اجتہاد مطلق تك کوئی واصل نہیں ہے بے وصول درجہ اجتہاد تقلید فرضغیر مقلدین گمراہ بددین ہیں۔
(۷)اہلسنت صدہا سال سے چارگروہ میں منحصر ہیں جو ان سے خارج ہے بدعتی ناری ہے۔
(۸)وہابیہ کا معلم اول ابن عبدالوہاب نجدی اور معلم ثانی اسمعیل دہلوی مصنف تقویۃ الایمان دونوں سخت گمراہ بددین تھے۔
(۹)تقویۃ الایمان و صراط مستقیم و رسالہ یکروزی و تنویر العینین تصانیف اسمعیل دہلوی صریح ضلالتوںگمراہیوں اور کلمات کفریہ پر مشتمل ہیں۔
(۱۰)مائۃ مسائل مولوی اسحق دہلوی غلط و مردود مسائل و مخالفات اہل سنت و مخالفات جمہور سے پر ہیں۔
(۱۱)انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام اور اولیاء قدست اسرار ہم سے استمدادو استعانت اور انہیں وقت حاجت توسل واستمداد کے لیے ندا کرنا یارسول اﷲیا علی
یا شیخ عبدالقادر الجیلانی کہنا اور انہیں واسطہ فیض الہی جاننا ضرور حق و جائز ہے۔
(۱۲)عالم میں انبیاء علیہم السلام اور اولیاء قد ست اسرارھم کاتصرف حیات دنیوی میں اور بعد وصال بھی بعطاء الہی جاری اور قیامت تك ان کا دریائے فیض موجزن رہے گا۔
(۱۳)عام اموات احیاء کو دیکھتےان کا کلام سنتے سمجھتے ہیںسماع موتی حق ہےپھر اولیاء کی شان توارفع واعلی ہے۔
(۱۴)اﷲ عزوجل نے روز اول سے قیامت تك کے تمام ماکان ومایکون ایك ایك ذرے کا حال اپنے حبیب اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کو بتادیا حضور کا علم ان تمام غیبوں کومحیط ہے۔
(۱۵)امکان کذب الہی جیسا کہ اسمعیل دہلوی نے رسالہ یکروزی اور اب گنگوہی نے براہین قاطعہ میں مانا صریح ضلالت ہے۔اﷲ تعالی کا کذب قطعا اجماعا محال بالذات ہے۔مسئلہ خلف وعید کوان کے اس ناپاك خیال سے اصلا علاقہ نہیں۔
(۱۶)شیطان کے علم کو معاذ اﷲ حضور سیدعالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے علم سے زائد وسیع تر ماننا جیسا کہ براہین قاطعہ گنگوہی میں ہے صریح ضلالت و توہین حضرت رسالت علیہ افضل الصلوۃ والتحیۃ ہے۔
(۱۷)مجلس میں میلاد مبارك اور اس میں قیام تعظیمی جس طرح صدہا سال سے حرمین محترمین میں شائع وذائع ہے جائز ہے۔
(۱۸)گیارھویں شریف کی نیاز اوراموات کی فاتحہ اور عرس اولیاء کہ مزامیر وغیرہا منکرات سے خالی ہو سب جائز و مندوب ہے۔
(۱۹)شریعت وطریقت دو متبائن نہیں ہیںبے اتباع شرع وصول الی اﷲ ناممکنکوئی کیسے ہی مرتبہ عالیہ تك پہنچےجب تك عقل باقی ہے احکام الہیہ اس پر سے ساقط نہیں ہوسکتےجھوٹے متصوف کہ مخالف شرع میں اپناکمال سمجھتے ہیں سب گمراہ مسخرگان شیطان ہیںوحدت وجود حق ہے اور حلول واتحاد کہ آج کل کے بعض متصوفہ(بناوٹی صوفی)بکتے ہیں صریح کفر ہے۔
(۲۰)ندوہ سرمایہ ضلالت و مجموعہ بدعات ہےگمراہوں سے میل جول اتحاد حرام ہےان کی تعظیم موجب غضب الہی اور ان کے رد کا انسداد لعنت الہی کی طرف بلاناانہیں دینی مجلس کارکن بنانا دین کو ڈھانا ہے۔ندوہ کے لیکچروں اور روائیداد میں وہ باتیں بھری ہیں جن سے اﷲ و رسول بیزار و بری ہیں جل جلالہوصلی اﷲ تعالی علیہ وسلماﷲ تعالی سب بدمذہبوں و گمراہوں
(۱۲)عالم میں انبیاء علیہم السلام اور اولیاء قد ست اسرارھم کاتصرف حیات دنیوی میں اور بعد وصال بھی بعطاء الہی جاری اور قیامت تك ان کا دریائے فیض موجزن رہے گا۔
(۱۳)عام اموات احیاء کو دیکھتےان کا کلام سنتے سمجھتے ہیںسماع موتی حق ہےپھر اولیاء کی شان توارفع واعلی ہے۔
(۱۴)اﷲ عزوجل نے روز اول سے قیامت تك کے تمام ماکان ومایکون ایك ایك ذرے کا حال اپنے حبیب اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کو بتادیا حضور کا علم ان تمام غیبوں کومحیط ہے۔
(۱۵)امکان کذب الہی جیسا کہ اسمعیل دہلوی نے رسالہ یکروزی اور اب گنگوہی نے براہین قاطعہ میں مانا صریح ضلالت ہے۔اﷲ تعالی کا کذب قطعا اجماعا محال بالذات ہے۔مسئلہ خلف وعید کوان کے اس ناپاك خیال سے اصلا علاقہ نہیں۔
(۱۶)شیطان کے علم کو معاذ اﷲ حضور سیدعالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے علم سے زائد وسیع تر ماننا جیسا کہ براہین قاطعہ گنگوہی میں ہے صریح ضلالت و توہین حضرت رسالت علیہ افضل الصلوۃ والتحیۃ ہے۔
(۱۷)مجلس میں میلاد مبارك اور اس میں قیام تعظیمی جس طرح صدہا سال سے حرمین محترمین میں شائع وذائع ہے جائز ہے۔
(۱۸)گیارھویں شریف کی نیاز اوراموات کی فاتحہ اور عرس اولیاء کہ مزامیر وغیرہا منکرات سے خالی ہو سب جائز و مندوب ہے۔
(۱۹)شریعت وطریقت دو متبائن نہیں ہیںبے اتباع شرع وصول الی اﷲ ناممکنکوئی کیسے ہی مرتبہ عالیہ تك پہنچےجب تك عقل باقی ہے احکام الہیہ اس پر سے ساقط نہیں ہوسکتےجھوٹے متصوف کہ مخالف شرع میں اپناکمال سمجھتے ہیں سب گمراہ مسخرگان شیطان ہیںوحدت وجود حق ہے اور حلول واتحاد کہ آج کل کے بعض متصوفہ(بناوٹی صوفی)بکتے ہیں صریح کفر ہے۔
(۲۰)ندوہ سرمایہ ضلالت و مجموعہ بدعات ہےگمراہوں سے میل جول اتحاد حرام ہےان کی تعظیم موجب غضب الہی اور ان کے رد کا انسداد لعنت الہی کی طرف بلاناانہیں دینی مجلس کارکن بنانا دین کو ڈھانا ہے۔ندوہ کے لیکچروں اور روائیداد میں وہ باتیں بھری ہیں جن سے اﷲ و رسول بیزار و بری ہیں جل جلالہوصلی اﷲ تعالی علیہ وسلماﷲ تعالی سب بدمذہبوں و گمراہوں
سے پناہ دے اور سنت حقہ خالص پر ثابت قدم رکھے۔
o۔حضرت فاضل بریلوی مدظلہ العالی کے ان امور مقررئہ مذکورہ کی تصدیق جناب مولانا شاہ احمد علی صاحب مرزا پوری نے فرمائی اور یہ عبارت لکھی۔"امور عشرین مندرجہ بالا بہت درست و ٹھیك ہیں۔وحدت وجود حق ہے مگر اس میں بحث و مباحثہ فقیر کے نزدیك خوب نہیںیہ امور کشفیہ سے ہیں اور متعلق بکفییت ایسے امور کو اولیاء اﷲ ہی خوب سمجھے ہوئے ہیں چونکہ فقیر کے پاس مہر نہیں لہذا دستخط ہی پر اکتفاء کیا۔"
۲ شوال ۱۳۱۸ھ روز چہار شنبہ۔
o پھر امام اہلسنت فاضل بریلوی مدظلہم نے یہ تحریر فرما کر اپنے دستخط اور مہر ثبت فرمائی۔" آج کل بہت لوگ اعادئے سنیت کرتے اور عوام بیچارے دھوکے میں پڑتے ہیں۔بعض مصلحت وقت کے لیے زبان سے کچھ کہہ جاتے اور موقعہ پا کر پھر پلٹا کھاتے ہیںاکثر جگہ امتحان کے لیے ان شاء اﷲ العزیز یہ امور عشرین بطور نمونہ کافی ہیں جو بعونہ تعالی فراز سنیت پر سچا فائز ہے۔ بے تکلف دستخط کردے گاورنہ پانی مرنا آپ ہی نشیب ضلالت کی خبر دے گا۔
" فمن نکث فانما ینکث علی نفسہ " " ومن ینقلب علی عقبیہ فلن یضر اللہ شیـا" " و من یتول فان اللہ ہو الغنی الحمید ﴿۲۴﴾" ۔ والحمدﷲ رب العلمین۔ اور جس نے عہد توڑا اس عہد توڑنے کا وبال اسی پر پڑے گا۔اور جو الٹے پاؤں پھرے گا اﷲ کا کچھ نقصان نہ کرے گااور جو منہ پھیرے تو بے شك اﷲ ہی بے نیاز ہے سب خوبیوں سراہااور سب تعریفیں رب العالمین کے لیے ہیں۔(ت)
کتـــبــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ
عبدہ المذنب احمد رضا البریلوی عفی عنہ
بمحمدن المصطفی النبی الامی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم
o۔حضرت فاضل بریلوی مدظلہ العالی کے ان امور مقررئہ مذکورہ کی تصدیق جناب مولانا شاہ احمد علی صاحب مرزا پوری نے فرمائی اور یہ عبارت لکھی۔"امور عشرین مندرجہ بالا بہت درست و ٹھیك ہیں۔وحدت وجود حق ہے مگر اس میں بحث و مباحثہ فقیر کے نزدیك خوب نہیںیہ امور کشفیہ سے ہیں اور متعلق بکفییت ایسے امور کو اولیاء اﷲ ہی خوب سمجھے ہوئے ہیں چونکہ فقیر کے پاس مہر نہیں لہذا دستخط ہی پر اکتفاء کیا۔"
۲ شوال ۱۳۱۸ھ روز چہار شنبہ۔
o پھر امام اہلسنت فاضل بریلوی مدظلہم نے یہ تحریر فرما کر اپنے دستخط اور مہر ثبت فرمائی۔" آج کل بہت لوگ اعادئے سنیت کرتے اور عوام بیچارے دھوکے میں پڑتے ہیں۔بعض مصلحت وقت کے لیے زبان سے کچھ کہہ جاتے اور موقعہ پا کر پھر پلٹا کھاتے ہیںاکثر جگہ امتحان کے لیے ان شاء اﷲ العزیز یہ امور عشرین بطور نمونہ کافی ہیں جو بعونہ تعالی فراز سنیت پر سچا فائز ہے۔ بے تکلف دستخط کردے گاورنہ پانی مرنا آپ ہی نشیب ضلالت کی خبر دے گا۔
" فمن نکث فانما ینکث علی نفسہ " " ومن ینقلب علی عقبیہ فلن یضر اللہ شیـا" " و من یتول فان اللہ ہو الغنی الحمید ﴿۲۴﴾" ۔ والحمدﷲ رب العلمین۔ اور جس نے عہد توڑا اس عہد توڑنے کا وبال اسی پر پڑے گا۔اور جو الٹے پاؤں پھرے گا اﷲ کا کچھ نقصان نہ کرے گااور جو منہ پھیرے تو بے شك اﷲ ہی بے نیاز ہے سب خوبیوں سراہااور سب تعریفیں رب العالمین کے لیے ہیں۔(ت)
کتـــبــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ
عبدہ المذنب احمد رضا البریلوی عفی عنہ
بمحمدن المصطفی النبی الامی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم
مسئلہ ۱۸۰: از ضلع میرٹھ مسئولہ محمد فضل الرحمن صاحب ۲۴ ربیع الاول ۱۳۳۲ھ
ایك قطعہ اشتہار " پروانہ خداوندی " مجھے اس قصبہ میں دستیاب ہوا ہےلہذا ارسال بحضور ہےامید کہ مفصل مطلع فرمایا جائے کہ یہ اشتہار کہاں تك صحیح ہے۔
"پروانہ خداوندی"
بسم اﷲ الرحمن الرحیمصلی اﷲ علی سیدنا محمد وعلی الہ واصحابہ وسلم ۔یہ وصیت حضرت جناب محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی طرف سے شیخ احمد خادم روضۃ النبی علیہ الصلوۃ والسلام کی طرف ہے کہ جمعہ کی رات کو خواب میں قرآن شریف کی تلاوت فرماتے ہوئے دیکھا اور فرمایا:اے شیخ احمد ! یہ دوسری وصیت تیری طرف ہے علاوہ اس پہلی وصیت کےوہ یہ ہے کہ تم جملہ مسلمین کو رب العالمین کی طرف سے خبر کردو کہ میں ان کے بابت ان کے کثرت گناہ و معاصی کے سخت بیزار ہوںجس کا سبب یہ ہے کہ ایك جمعہ سے دوسرے جمعہ تك(کلمہ گو)نوے ہزار اموات ہوئی ہیں جن میں ستر ہزار اسلام باقی تمام غیر اسلام یعنی کفر پر مرے ہیں۔جس وقت ملائکہ نے یہ بات سنی تو انہوں نے کہا:یا محمد ! آپ کی امت گناہوں کی طرف بہت مائل ہوگئی ہے کہ انہوں نے اﷲ تعالی کی عبادت چھوڑدی ہے پس اﷲ تعالی نے ان کی صورتوں کی تبدیلی کاحکم فرمادیا۔پھر حضرت رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:اے رب ! ان پرتھوڑا صبرکر اور ان کومہلت دے جب تك یہ خبر میں ان کو پہنچادوںپس اگروہ تائب نہ ہوئے تو حکم تیرے ہاتھ میں ہےاور حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ دائمی گناہوںکبیرہ گناہوںزنا کاریکم تولنےکم میزان رکھنےسود کھانےشراب کے پینے کی طرف بہت مائل ہوگئے ہیںاور فقراء و مساکین کو خیرات نہیں د یتےاور دنیا کی محبت آخرت کی نسبت زیادہ کرتی ہیں اور نماز کو ترك کر بیٹھے ہیںاور زکوۃ نہیں دیتے پس اے شیخ احمد! تو ان کو اس بات کی خبر دےان کو کہو کہ قیامت قریب ہےاور وہ وقت قریب ہے کہ آفتاب مغرب سے طلوع کرے ان شاء اﷲ تعالی اور ہم نے اس سے پہلے بھی وصیت پہنچائی تھی لیکن یہ لوگ نافرمانی اور غرور میں زیادہ دلیر ہوگئے۔اوریہ آخر ی وصیت ہے۔شیخ احمد خادم حجرہ شریف نے کہا کہ فرمایا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے کہ جو کوئی اس کو پڑھے اور اس کی نقل کرکے ایك شہر سے دوسرے شہر تك پہنچائے وہ جنت میں میرا رفیق ہوگا اور اس کی میں شفاعت کروں گا دن قیامت کےاور جو اس کو پڑھے اور اس کی نقل نہ کرے وہ قیامت کو میرا دشمن ہوگا۔اور کہا شیخ احمدنے میں اﷲ سبحانہو تعالی کی تین مرتبہ قسم کھاتا ہوں کہ یہ بالکل سچی بات ہےاور
ایك قطعہ اشتہار " پروانہ خداوندی " مجھے اس قصبہ میں دستیاب ہوا ہےلہذا ارسال بحضور ہےامید کہ مفصل مطلع فرمایا جائے کہ یہ اشتہار کہاں تك صحیح ہے۔
"پروانہ خداوندی"
بسم اﷲ الرحمن الرحیمصلی اﷲ علی سیدنا محمد وعلی الہ واصحابہ وسلم ۔یہ وصیت حضرت جناب محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی طرف سے شیخ احمد خادم روضۃ النبی علیہ الصلوۃ والسلام کی طرف ہے کہ جمعہ کی رات کو خواب میں قرآن شریف کی تلاوت فرماتے ہوئے دیکھا اور فرمایا:اے شیخ احمد ! یہ دوسری وصیت تیری طرف ہے علاوہ اس پہلی وصیت کےوہ یہ ہے کہ تم جملہ مسلمین کو رب العالمین کی طرف سے خبر کردو کہ میں ان کے بابت ان کے کثرت گناہ و معاصی کے سخت بیزار ہوںجس کا سبب یہ ہے کہ ایك جمعہ سے دوسرے جمعہ تك(کلمہ گو)نوے ہزار اموات ہوئی ہیں جن میں ستر ہزار اسلام باقی تمام غیر اسلام یعنی کفر پر مرے ہیں۔جس وقت ملائکہ نے یہ بات سنی تو انہوں نے کہا:یا محمد ! آپ کی امت گناہوں کی طرف بہت مائل ہوگئی ہے کہ انہوں نے اﷲ تعالی کی عبادت چھوڑدی ہے پس اﷲ تعالی نے ان کی صورتوں کی تبدیلی کاحکم فرمادیا۔پھر حضرت رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:اے رب ! ان پرتھوڑا صبرکر اور ان کومہلت دے جب تك یہ خبر میں ان کو پہنچادوںپس اگروہ تائب نہ ہوئے تو حکم تیرے ہاتھ میں ہےاور حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ دائمی گناہوںکبیرہ گناہوںزنا کاریکم تولنےکم میزان رکھنےسود کھانےشراب کے پینے کی طرف بہت مائل ہوگئے ہیںاور فقراء و مساکین کو خیرات نہیں د یتےاور دنیا کی محبت آخرت کی نسبت زیادہ کرتی ہیں اور نماز کو ترك کر بیٹھے ہیںاور زکوۃ نہیں دیتے پس اے شیخ احمد! تو ان کو اس بات کی خبر دےان کو کہو کہ قیامت قریب ہےاور وہ وقت قریب ہے کہ آفتاب مغرب سے طلوع کرے ان شاء اﷲ تعالی اور ہم نے اس سے پہلے بھی وصیت پہنچائی تھی لیکن یہ لوگ نافرمانی اور غرور میں زیادہ دلیر ہوگئے۔اوریہ آخر ی وصیت ہے۔شیخ احمد خادم حجرہ شریف نے کہا کہ فرمایا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے کہ جو کوئی اس کو پڑھے اور اس کی نقل کرکے ایك شہر سے دوسرے شہر تك پہنچائے وہ جنت میں میرا رفیق ہوگا اور اس کی میں شفاعت کروں گا دن قیامت کےاور جو اس کو پڑھے اور اس کی نقل نہ کرے وہ قیامت کو میرا دشمن ہوگا۔اور کہا شیخ احمدنے میں اﷲ سبحانہو تعالی کی تین مرتبہ قسم کھاتا ہوں کہ یہ بالکل سچی بات ہےاور
میں اس میں جھوٹا ہوں تو خدا مجھ کو دنیا سے کافر کرکے نکالےاور جو اس کی تصدیق کرے گا وہ دوزخ کی آگ سے نجات پائے گا۔صلی اﷲ علی سیدنا محمد و علی آلہ واصحابہ وسلم۔
الجواب:
جن باتوں کی اس میں ہدایت ہے وہ باتیں اچھی ہیںانکے احکام قرآن و حدیث میں موجود ہیںان پر عمل ضرور ہے۔باقی یہ تمہید جو اشتہار میں لکھی گئی ہے بے اصل ہے۔بارہا اس قسم کے اشتہار شائع ہوئے ہیںکسی میں خادم روضہ انور کا نام صالح ہے کسی میں شیخ احمد ہے۔اور ایسے ہی بے باکی کے کلمات لکھے ہیں کہ اتنے مسلمان مرے ان مین سے صرف اتنے ایمان کے ساتھ گئے اور باقی معاذ اﷲ بے ایمان مرے۔اس اشتہار میں تو اتنی رعایت ہے کہ نوے ہزار اموات میں صرف بیس ہزار معاذ اﷲ کافر رکھے ہیں۔اور اشتہار وں میں تو گنتی کے مسلمان رکھے۔رب عزوجل سے جوحضور سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی عرض نسبت کی ہےکس قدر بے معنی ہے۔نسأل اﷲ العفووالعافیۃ ہم اﷲ تعالی سے معافی اور سلامتی کے طلبگار ہیںت) واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ: ۱۷ ربیع الثانی ۱۳۳۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك جاہل نے کوئی گناہ کیا جس کو قطعی نہ جانتا تھا کہ حلال ہے یا حرام۔اور اسی یا دوسرے گناہ کو عالم نے کیاتو ان دونوں کے لیے از جانب شریعت حکم مختلف ہےیا نہیں اور اگر مختلف ہے تو کیوں اور اگر مختلف نہیں ہے تو کیوں بینوا توجروا(بیان فرمائیے اجر دیئے جاؤ گے۔ت)
الجواب:
حدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ذنب العالم ذنب واحد وذنب الجاھل ذنبان ۔قیل ولم یارسول اﷲقال العالم یعذب علی رکوبہ الذنب و الجاھل یعذب علی رکوبہ الذنب وترك التعلم ۔ عالم کا گناہ ایك گناہ ہے اور جاہل کا گناہ دوہرا گناہعرض کی:یارسول اﷲ!یہ کس لیے فرمایا:عالم پر گناہ کرنے کا عذاب ہے اور جاہل پر ایك عذاب گناہ کرنے کا ہے اور ایك علم نہ سیکھنے کا۔
الجواب:
جن باتوں کی اس میں ہدایت ہے وہ باتیں اچھی ہیںانکے احکام قرآن و حدیث میں موجود ہیںان پر عمل ضرور ہے۔باقی یہ تمہید جو اشتہار میں لکھی گئی ہے بے اصل ہے۔بارہا اس قسم کے اشتہار شائع ہوئے ہیںکسی میں خادم روضہ انور کا نام صالح ہے کسی میں شیخ احمد ہے۔اور ایسے ہی بے باکی کے کلمات لکھے ہیں کہ اتنے مسلمان مرے ان مین سے صرف اتنے ایمان کے ساتھ گئے اور باقی معاذ اﷲ بے ایمان مرے۔اس اشتہار میں تو اتنی رعایت ہے کہ نوے ہزار اموات میں صرف بیس ہزار معاذ اﷲ کافر رکھے ہیں۔اور اشتہار وں میں تو گنتی کے مسلمان رکھے۔رب عزوجل سے جوحضور سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی عرض نسبت کی ہےکس قدر بے معنی ہے۔نسأل اﷲ العفووالعافیۃ ہم اﷲ تعالی سے معافی اور سلامتی کے طلبگار ہیںت) واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ: ۱۷ ربیع الثانی ۱۳۳۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك جاہل نے کوئی گناہ کیا جس کو قطعی نہ جانتا تھا کہ حلال ہے یا حرام۔اور اسی یا دوسرے گناہ کو عالم نے کیاتو ان دونوں کے لیے از جانب شریعت حکم مختلف ہےیا نہیں اور اگر مختلف ہے تو کیوں اور اگر مختلف نہیں ہے تو کیوں بینوا توجروا(بیان فرمائیے اجر دیئے جاؤ گے۔ت)
الجواب:
حدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ذنب العالم ذنب واحد وذنب الجاھل ذنبان ۔قیل ولم یارسول اﷲقال العالم یعذب علی رکوبہ الذنب و الجاھل یعذب علی رکوبہ الذنب وترك التعلم ۔ عالم کا گناہ ایك گناہ ہے اور جاہل کا گناہ دوہرا گناہعرض کی:یارسول اﷲ!یہ کس لیے فرمایا:عالم پر گناہ کرنے کا عذاب ہے اور جاہل پر ایك عذاب گناہ کرنے کا ہے اور ایك علم نہ سیکھنے کا۔
حوالہ / References
الجامع الصغیر حدیث ۴۳۳۵دارالکتب العلمیۃ بیروت۲ /۲۶۴
فیض القدیر تحت حدیث ۴۳۳۵دارالمعرفۃ بیروت ۳ /۵۶۵
فیض القدیر تحت حدیث ۴۳۳۵دارالمعرفۃ بیروت ۳ /۵۶۵
مسئلہ ۱۸۲: از مارہرہ مطہرہ ضلع ایٹہ سرکار کلاں مرسلہ سید محمد میاں صاحب دامت برکاتہم ۲۴ ذیقعدہ ۱۳۳۲ھ دوشنبہ
مولانا المعظم ذوالمجدو الکرم معظم ومکرم دام مجدھمپس از سلام مسنون عارض خدمت ہوں۔بفضلہ تعالی جناب کی صحت و عافیت کا مستدعی بخیر ہوں۔میں نے جناب سے سید ظہور حیدر صاحب مرحوم کے لیے جو ان کے نام سے ایك عدد کم کرکے تاریخ وفات ان کی کردینے کو کہہ آیا تھا اور جناب نے وعدہ فرمایا تھا۔اب اگر ہوگئی ہو تو روانہ فرمائیں۔تقریظات الحدوث والقدوم اور التناسخ بھی روانہ ہوں جو بدایونی رسائل ہیںاور اگر کوئی جدید رسالہ مبحث اذان میں شائع ہوا ہو تو روانہ ہوکنزالآخرۃ جو چودھری صاحب سہاروی کی ہے وہ جدید الطبع سنا ہے کہ جناب کی نظر و اصلاح سے بتما مہاگزری ہےآیا یہ درست ہے اور اس میں جو صفحہ ۷۲ پر امامت کے مسائل ہیںقبروں پر چادریں چڑھانے کو بدعت سیئہ کے قسم اعتقاد یہ اور باب زیادۃ القبور میں قبر وں پر کچھ چڑھانے یا چومنے کو جو حرام اور بدعت لکھ دیا ہے۔آیا یہ بھی جناب کے نزدیك صحیح ہے اس سے مطلع فرمائیے۔والسلام
الجواب:
بسم اﷲ الرحمن الرحیم
نحمدہونصلی علی رسولہ الکریم
بشرف ملاحظہ عالیہ حضرت صاحبزادہ والا قدر بالا فخر حضرت جناب مولانا مولوی سید محمد میاں صاحب دامت برکاتہم بعد تسلیم مع التکریم ملتمس والا حضرت سیدنا شاہ مہدی میاں صاحب قبلہ کے حکم سے ان عظیم بے فرصتیوں میں یہ کتاب فقیر نے بنائی۔اغلاط شدیدہ کثیرہ عظیمہ شرعیہ کا نکالنا تو لازم و واجب ہی تھا۔حکم یہ ہوا کہ اشعار کی بھی اصلاح کر۔جس سے بلا مبالغہ اتنی بڑی کتاب نظم اور اتنے کثیر حواشی از سر نو تصنیف کرنی ہوئیبلکہ تصنیف جدیدہ میں اس کی نصف محنت بھی نہ ہوتی جو اس کے بنانے میں ہوئیطبع اول صفحہ ۱۲۳ تك کہ طبع جدید کے صفحہ ۱۳۳ ہےتمام اصلاحات کی نقل میں نے اپنے پاس رکھیاور جناب چودھری صاحب کی خدمت میں گزارش کی کہ بعد تبیضیں یہاں پھر دیکھنے کو بھیج دیا کریں۔جناب موصوف نے کچھ اجزاء کافی شدہ دیکھنے کو بھیجے۔اس کے مطالعہ سے واضح ہوا کہ اصلاح میں شدید تبدیلیں فرمادیں ہیں۔اس کے بعد مجھے چاہیے تھا کہ باقی کتاب واپس کرتا۔مگر حکم حاکم
مولانا المعظم ذوالمجدو الکرم معظم ومکرم دام مجدھمپس از سلام مسنون عارض خدمت ہوں۔بفضلہ تعالی جناب کی صحت و عافیت کا مستدعی بخیر ہوں۔میں نے جناب سے سید ظہور حیدر صاحب مرحوم کے لیے جو ان کے نام سے ایك عدد کم کرکے تاریخ وفات ان کی کردینے کو کہہ آیا تھا اور جناب نے وعدہ فرمایا تھا۔اب اگر ہوگئی ہو تو روانہ فرمائیں۔تقریظات الحدوث والقدوم اور التناسخ بھی روانہ ہوں جو بدایونی رسائل ہیںاور اگر کوئی جدید رسالہ مبحث اذان میں شائع ہوا ہو تو روانہ ہوکنزالآخرۃ جو چودھری صاحب سہاروی کی ہے وہ جدید الطبع سنا ہے کہ جناب کی نظر و اصلاح سے بتما مہاگزری ہےآیا یہ درست ہے اور اس میں جو صفحہ ۷۲ پر امامت کے مسائل ہیںقبروں پر چادریں چڑھانے کو بدعت سیئہ کے قسم اعتقاد یہ اور باب زیادۃ القبور میں قبر وں پر کچھ چڑھانے یا چومنے کو جو حرام اور بدعت لکھ دیا ہے۔آیا یہ بھی جناب کے نزدیك صحیح ہے اس سے مطلع فرمائیے۔والسلام
الجواب:
بسم اﷲ الرحمن الرحیم
نحمدہونصلی علی رسولہ الکریم
بشرف ملاحظہ عالیہ حضرت صاحبزادہ والا قدر بالا فخر حضرت جناب مولانا مولوی سید محمد میاں صاحب دامت برکاتہم بعد تسلیم مع التکریم ملتمس والا حضرت سیدنا شاہ مہدی میاں صاحب قبلہ کے حکم سے ان عظیم بے فرصتیوں میں یہ کتاب فقیر نے بنائی۔اغلاط شدیدہ کثیرہ عظیمہ شرعیہ کا نکالنا تو لازم و واجب ہی تھا۔حکم یہ ہوا کہ اشعار کی بھی اصلاح کر۔جس سے بلا مبالغہ اتنی بڑی کتاب نظم اور اتنے کثیر حواشی از سر نو تصنیف کرنی ہوئیبلکہ تصنیف جدیدہ میں اس کی نصف محنت بھی نہ ہوتی جو اس کے بنانے میں ہوئیطبع اول صفحہ ۱۲۳ تك کہ طبع جدید کے صفحہ ۱۳۳ ہےتمام اصلاحات کی نقل میں نے اپنے پاس رکھیاور جناب چودھری صاحب کی خدمت میں گزارش کی کہ بعد تبیضیں یہاں پھر دیکھنے کو بھیج دیا کریں۔جناب موصوف نے کچھ اجزاء کافی شدہ دیکھنے کو بھیجے۔اس کے مطالعہ سے واضح ہوا کہ اصلاح میں شدید تبدیلیں فرمادیں ہیں۔اس کے بعد مجھے چاہیے تھا کہ باقی کتاب واپس کرتا۔مگر حکم حاکم
سے چارہ نہ تھا۔باقی کی بھی اسی محنت سے اصلاح کی اور چودھری صاحب سے عرض کر بھیجی کہ اب مبیضہ یہاں بھیجنے کی حاجت نہیں۔یہ مسئلہ چادر وغیرہ کا جو حضرت نے دریافت فرمایا ہے الحمد ﷲ کہ اسی صفحہ ۱۲۳ پر تھا جسے میں یہ دکھا سکتا ہوں کہ میری اصلاح یہ تھیاور یہ حضرت خود ملاحظہ فرمالیں گے کہ طبع جدید میں اس کی کیا گت ہوگئی ہے۔
طبع اول کے صفحہ ۸۵ و ۸۶ پر کہ اب صفحہ ۹۲ تا ۹۴ہےاس میں یہ شعر" کچھ چڑھانا قبر پر یا چومنا الخ
سجدہ قبر اور طواف باخضوع
ان کے آگے جھکناتاحد رکوع
طبع دوم میں وہی اپنا شعر رہا یہیں میں نے یہ اشعار اضافہ کیے تھے
اولیاء سے استعانت ہے روا وہ وسائل ہیں ترے پیش خدا
معطی و مالك فقط اﷲ ہے واسطہ اپنا ولی اﷲ ہے
ہے توسل کی طلب القرآن میں وابتغوا آیا ہے اس کی شان میں
دیکھ تفسیر عزیزی پارہ عم لکھتے ہیں یوں شاہ صاحب محترم
اولیاء کرتے ہیں امداد بشر جارحہ ہیں بہر امداد بشر
اہل حاجت ان سے حاجت مانگ کر اپنی مشکل کرتے ہیں حل سربسر
یہ بھی فرمایا کہ نذر اولیاء ہے تمام امت میں رائج بے خطا
ہے یہ مقصود شہ عبدالعزیز نذر عرفی ہےنہ شرعی اے عزیز
تحفہ جولے جائیں شاہوں کے حضور نذر کہتے ہیں اسے اہل شعور
فرق عرف و شرع سے غافل نہ ہو کہہ نہ مشرك اہل الااﷲ کو
امت احمد کوجو مشرك کہے خود ہے وہ نزدیك شرك و کفر سے
اور سماع و علم موتی مطلقا اہل سنت کا ہے اجماع اے فتی
مردے مومن ہوں کہ کافر لاکلام دیکھتے سنتے سمجھتے ہیں مدام
اس پہ ناطق ہے تواتر سے حدیث ہے فنائے روح تو قول خبیث
طبع اول کے صفحہ ۸۵ و ۸۶ پر کہ اب صفحہ ۹۲ تا ۹۴ہےاس میں یہ شعر" کچھ چڑھانا قبر پر یا چومنا الخ
سجدہ قبر اور طواف باخضوع
ان کے آگے جھکناتاحد رکوع
طبع دوم میں وہی اپنا شعر رہا یہیں میں نے یہ اشعار اضافہ کیے تھے
اولیاء سے استعانت ہے روا وہ وسائل ہیں ترے پیش خدا
معطی و مالك فقط اﷲ ہے واسطہ اپنا ولی اﷲ ہے
ہے توسل کی طلب القرآن میں وابتغوا آیا ہے اس کی شان میں
دیکھ تفسیر عزیزی پارہ عم لکھتے ہیں یوں شاہ صاحب محترم
اولیاء کرتے ہیں امداد بشر جارحہ ہیں بہر امداد بشر
اہل حاجت ان سے حاجت مانگ کر اپنی مشکل کرتے ہیں حل سربسر
یہ بھی فرمایا کہ نذر اولیاء ہے تمام امت میں رائج بے خطا
ہے یہ مقصود شہ عبدالعزیز نذر عرفی ہےنہ شرعی اے عزیز
تحفہ جولے جائیں شاہوں کے حضور نذر کہتے ہیں اسے اہل شعور
فرق عرف و شرع سے غافل نہ ہو کہہ نہ مشرك اہل الااﷲ کو
امت احمد کوجو مشرك کہے خود ہے وہ نزدیك شرك و کفر سے
اور سماع و علم موتی مطلقا اہل سنت کا ہے اجماع اے فتی
مردے مومن ہوں کہ کافر لاکلام دیکھتے سنتے سمجھتے ہیں مدام
اس پہ ناطق ہے تواتر سے حدیث ہے فنائے روح تو قول خبیث
حوالہ / References
کنزالاخرۃ
وہ نہیں سنتے تو کیوں ان پر سلام کیا شریعت چاہے پتھر سے کلام
عام کے یہ دھڑ نہیں سنتے ضرور ہیں یہی موتی یہی من فی القبور
یہ بھی جب حق چاہے سنتے ہیں ندا کیونکہ ان اﷲ یسمع من یشاء
ملاحظہ ہو طبع دوم میں ان کی کیا تبدیلی ہوئی ہےسب سے زیادہ سخت افسوس مجھے ان اشعار کا ہوا کہ نعت شریف میں میں نے اضافہ کیے تھے وہ یہ ہیں۔
حضرت علام کل بے شك و ریب بخشا ہے انبیاء کو علم غیب
ان کو کرتا ہے مسلط غیب پر اوروں کو ان کے توسط سے خبر
ان پہ کردیتا ہے روشن لاکلام ختم تك دنیا و مافیہا تمام
مصطفی کو جس سے بخشا ہے سوا مایکون ماکان جس کا جز ہوا
علم مانے شہ سے شیطاں کا وسیع کس سے جز شیطاں ہو یہ کفر شنیع
علم غیب ان کا سا جو ثابت کرے بچے پاگل جانور کے واسطے
وہ شقی مرتد عدو اﷲ ہے کافروں سے بھی سوا گمراہ ہے
جوکریں تنقیص شان شاہ دیں لعنۃ اﷲ علیہم اجمعین
مصطفی ہی ہیںقیامت میں شفیع ہے انہیں کا حصہ یہ شان رفیع
فاتح باب شفاعت ہیں وہی کہف ارباب شفاعت ہیں وہی
جو کبائر والے بے توبہ مریں وہ کریم ان کی شفاعت بھی کریں
جو کہے اس دن کے وہ شافع نہیں وہ ہے گمراہ و خبیث اے اہل دیں
فضلہ خو ران سگان اعتزال بکتے ہیں ایسے بداقوال ضلال
ان کی گمراہی سے تم منہ موڑنا اپنے مولا کا نہ دامن چھوڑنا
وہ نہ ہوں شافع ہمارے گر وہاں کہیے ہم سوں کا ٹھکانہ پھر کہاں
ملاحظہ ہو کہ اس میں کتنا اور کیا باقی رہاان تمام اضافات پر حواشی تھے جن میں ہر لفظ کا آفتاب سے
عام کے یہ دھڑ نہیں سنتے ضرور ہیں یہی موتی یہی من فی القبور
یہ بھی جب حق چاہے سنتے ہیں ندا کیونکہ ان اﷲ یسمع من یشاء
ملاحظہ ہو طبع دوم میں ان کی کیا تبدیلی ہوئی ہےسب سے زیادہ سخت افسوس مجھے ان اشعار کا ہوا کہ نعت شریف میں میں نے اضافہ کیے تھے وہ یہ ہیں۔
حضرت علام کل بے شك و ریب بخشا ہے انبیاء کو علم غیب
ان کو کرتا ہے مسلط غیب پر اوروں کو ان کے توسط سے خبر
ان پہ کردیتا ہے روشن لاکلام ختم تك دنیا و مافیہا تمام
مصطفی کو جس سے بخشا ہے سوا مایکون ماکان جس کا جز ہوا
علم مانے شہ سے شیطاں کا وسیع کس سے جز شیطاں ہو یہ کفر شنیع
علم غیب ان کا سا جو ثابت کرے بچے پاگل جانور کے واسطے
وہ شقی مرتد عدو اﷲ ہے کافروں سے بھی سوا گمراہ ہے
جوکریں تنقیص شان شاہ دیں لعنۃ اﷲ علیہم اجمعین
مصطفی ہی ہیںقیامت میں شفیع ہے انہیں کا حصہ یہ شان رفیع
فاتح باب شفاعت ہیں وہی کہف ارباب شفاعت ہیں وہی
جو کبائر والے بے توبہ مریں وہ کریم ان کی شفاعت بھی کریں
جو کہے اس دن کے وہ شافع نہیں وہ ہے گمراہ و خبیث اے اہل دیں
فضلہ خو ران سگان اعتزال بکتے ہیں ایسے بداقوال ضلال
ان کی گمراہی سے تم منہ موڑنا اپنے مولا کا نہ دامن چھوڑنا
وہ نہ ہوں شافع ہمارے گر وہاں کہیے ہم سوں کا ٹھکانہ پھر کہاں
ملاحظہ ہو کہ اس میں کتنا اور کیا باقی رہاان تمام اضافات پر حواشی تھے جن میں ہر لفظ کا آفتاب سے
حوالہ / References
کنزالاخرۃ
کنزالاخرۃ
کنزالاخرۃ
زیادہ ثبوت تھا وہ بھی اکثر حذف ہوگئےاب حضرت اپنی مسئول عبارت ملاحظہ فرمائیںاشاعت اولی میں اس حاشیہ کی عبارت یہ تھی۔
ص۵ ہوتی ہے مگر وہ الخ یعنی فاسق فاجر اور نابینا اور اہل بدعت اور جاہل کے پیچھے نماز مکروہ ہوتی ہے ولیکن بعض کے پیچھے مکروہ تحریمہ اور بعض کے پیچھے مکروہ تحریمہ اور بعض کے پیچھے مکروہ تنزیہی یعنی اہل بدعت اور وہ جاہل جو قراء ت توڑے اور ادھ کٹ حرفوں سے پڑھےان کے پیچھے نماز مکروہ تحریمہ ہوتی ہےاور نابینا و فاسق کے پیچھے اگر وہ اہل بدعت اور جاہل نہ ہو تو نماز مکروہ تنزیہی ہوتی ہےاہل بدعت کے پیچھے اس لیے کہ حضرت محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:
من احدث فی امرنا ھذا الیس منہ فہورد ۔ یعنی جس شخص نے نئی بات نکالی اپنی طرف سے بیچ دین میں ہمارے کے جو کہ کتاب و سنت سے ثابت نہیں ہے۔(مراد اس سے بدعت سیئہ ہے)پس وہ شخص یعنی بدعتی مردود ہے۔
اورایك جگہ فرمایا:
کل بدعۃ ضلالۃ ۔ یعنی ہر بدعت گمراہی کا راستہ ہے۔
پس جو شخص مرتکب ایسی بدعت کا ہو اس کے پیچھے نماز ہر گز نہ پڑھنا چاہیےاس کے پیچھے نماز مکروہ تحریمہ ہوگی۔
واضح ہو کہ قبروں کو سجدہ کرنے والے اور اہل قبور سے منت ماننے والے اور فرقہائے باطلہ مثل خوارج وجبریہ و قدریہ کےاور وہ ان پڑھ جاہل جو کہ کتاب و سنت سے بالکل ناواقف و بے بہرہ ہیں اور پھر ترك تقلید کرتے ہیںیہ لوگ اہل بدعت ہیں انکی صحبت سے بچنا چاہیےغرضیکہ جن باتوں پر صحابہ و تابعین و آئمہ مجتہدین رضی اﷲ تعالی عنہم اجمعین کا اجماع ہوچکا ہے انکے خلاف عقیدہ رکھنا یہی بدعت ہے۔
ص۵ ہوتی ہے مگر وہ الخ یعنی فاسق فاجر اور نابینا اور اہل بدعت اور جاہل کے پیچھے نماز مکروہ ہوتی ہے ولیکن بعض کے پیچھے مکروہ تحریمہ اور بعض کے پیچھے مکروہ تحریمہ اور بعض کے پیچھے مکروہ تنزیہی یعنی اہل بدعت اور وہ جاہل جو قراء ت توڑے اور ادھ کٹ حرفوں سے پڑھےان کے پیچھے نماز مکروہ تحریمہ ہوتی ہےاور نابینا و فاسق کے پیچھے اگر وہ اہل بدعت اور جاہل نہ ہو تو نماز مکروہ تنزیہی ہوتی ہےاہل بدعت کے پیچھے اس لیے کہ حضرت محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:
من احدث فی امرنا ھذا الیس منہ فہورد ۔ یعنی جس شخص نے نئی بات نکالی اپنی طرف سے بیچ دین میں ہمارے کے جو کہ کتاب و سنت سے ثابت نہیں ہے۔(مراد اس سے بدعت سیئہ ہے)پس وہ شخص یعنی بدعتی مردود ہے۔
اورایك جگہ فرمایا:
کل بدعۃ ضلالۃ ۔ یعنی ہر بدعت گمراہی کا راستہ ہے۔
پس جو شخص مرتکب ایسی بدعت کا ہو اس کے پیچھے نماز ہر گز نہ پڑھنا چاہیےاس کے پیچھے نماز مکروہ تحریمہ ہوگی۔
واضح ہو کہ قبروں کو سجدہ کرنے والے اور اہل قبور سے منت ماننے والے اور فرقہائے باطلہ مثل خوارج وجبریہ و قدریہ کےاور وہ ان پڑھ جاہل جو کہ کتاب و سنت سے بالکل ناواقف و بے بہرہ ہیں اور پھر ترك تقلید کرتے ہیںیہ لوگ اہل بدعت ہیں انکی صحبت سے بچنا چاہیےغرضیکہ جن باتوں پر صحابہ و تابعین و آئمہ مجتہدین رضی اﷲ تعالی عنہم اجمعین کا اجماع ہوچکا ہے انکے خلاف عقیدہ رکھنا یہی بدعت ہے۔
حوالہ / References
صحیح مسلم کتاب الاقضیۃ باب نقض الاحکام الباطلۃ الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۷۷
صحیح مسلم کتاب الجمعۃباب تخفیف الصلوۃ والخطبۃ قدیمی کتب خانہ کراچی۱ /۷۷،سُنن ابن ماجۃ باب اجتناب البدع والجدل ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۶
صحیح مسلم کتاب الجمعۃباب تخفیف الصلوۃ والخطبۃ قدیمی کتب خانہ کراچی۱ /۷۷،سُنن ابن ماجۃ باب اجتناب البدع والجدل ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۶
اس فقیر نے یوں بنایا تھا۔
نمبر ۵:پچھلے دور میں الخ یعنی جاہل اور نابینا اور ولدالزنا اور غلامفاسق اور اہل بدعت کے پیچھے نماز مکروہ ہوتی ہے لیکن اگلے چار کے پیچھے مکروہ تنزیہی او ر پچھلے دو کے پیچھے مکروہ تحریمی ہوتی ہےجب کہ وہ فاسق معلن ہویعنی اس کا فسق ظاہر اور مشہور ہوورنہ اس کے پیچھے بھی مکروہ تنزیہی ہوگی۔اور جب کہ اس مبتدع کی بدعت و بدمذہبی حد کفر تك نہ پہنچی ہوورنہ اس کے پیچھے باطل محض ہوگیجیسے آج کل کے روافض ووہابی ونیچری وقادیانی و چکڑالوی کہ اپنے آپ کو اہل قرآن کہتے ہیںاور غیر مقلدحدیث میں فرمایا:
کل بدعۃ ضلالۃ یعنی ہر بدعت گمراہی ہے۔
اور اس سے مراد بدعت سیئہ ہےپس جو شخص مرتکب ایسی بدعت کا ہو اس کے پیچھے نماز ہر گز نہ پڑھنا چاہیے اس کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی ادا ہوگی۔
واضح ہو کہ بدعت سیئہ دو قسم ہے:عملی اور اعتقادیعملی جیسے علمتعزیے اور قبروں کو سجدہاور اعتقادی جیسے تفضیلیہ و خوارج وجبریہ وقدریہ وغیرہیہ لوگ اہل بدعت ہیں ان کی صحبت سے بچنا چاہیےغرضیکہ جن باتوں پر صحابہ و تابعین و آئمہ مجتہدین رضی اﷲ تعالی عنہم اجمعین کا اجماع ہوچکا ہے ان کے خلاف عقیدہ رکھنا یہی بدعت ہے۔پھر ان میں جن کی بدعت حد کفر کو نہ پہنچی ہو جیسے تفضیلیہاس کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی ہے ورنہ باطل محض ۱۲ منہ۔
اب اشاعت ثانیہ میں جس طرح کرلیا گیا ہے وہ پیش نظر ہے۔اسی طرح بیشمار تبدیلات ہیںاشعار میں بھی پھر اسی قسم کی اغلاط نے عود کیا ہے۔صفحہ ۱۲۳ کے بعد کی اصلاحات یہاں نہ رہیں اگر وہ بھی ہوں اور یہ کتاب مطابق اصلاح فقیر کوئی صاحب چھاپیں تو کتاب ثالث ہوگی اور بفضلہ تعالی اغلاط شرعیہ و شعریہ سے پاک۔
حضرت سید ظہور حیدر میاں صاحب رحمۃ اﷲ تعالی علیہ کی تاریخ وصال جبھی خیال میں آگئی تھی معروض ہے:ع
نحو لقاء جدہ ام ظہور حیدر
حسن الی الجنان اذ ثم ظہور حیدر
نمبر ۵:پچھلے دور میں الخ یعنی جاہل اور نابینا اور ولدالزنا اور غلامفاسق اور اہل بدعت کے پیچھے نماز مکروہ ہوتی ہے لیکن اگلے چار کے پیچھے مکروہ تنزیہی او ر پچھلے دو کے پیچھے مکروہ تحریمی ہوتی ہےجب کہ وہ فاسق معلن ہویعنی اس کا فسق ظاہر اور مشہور ہوورنہ اس کے پیچھے بھی مکروہ تنزیہی ہوگی۔اور جب کہ اس مبتدع کی بدعت و بدمذہبی حد کفر تك نہ پہنچی ہوورنہ اس کے پیچھے باطل محض ہوگیجیسے آج کل کے روافض ووہابی ونیچری وقادیانی و چکڑالوی کہ اپنے آپ کو اہل قرآن کہتے ہیںاور غیر مقلدحدیث میں فرمایا:
کل بدعۃ ضلالۃ یعنی ہر بدعت گمراہی ہے۔
اور اس سے مراد بدعت سیئہ ہےپس جو شخص مرتکب ایسی بدعت کا ہو اس کے پیچھے نماز ہر گز نہ پڑھنا چاہیے اس کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی ادا ہوگی۔
واضح ہو کہ بدعت سیئہ دو قسم ہے:عملی اور اعتقادیعملی جیسے علمتعزیے اور قبروں کو سجدہاور اعتقادی جیسے تفضیلیہ و خوارج وجبریہ وقدریہ وغیرہیہ لوگ اہل بدعت ہیں ان کی صحبت سے بچنا چاہیےغرضیکہ جن باتوں پر صحابہ و تابعین و آئمہ مجتہدین رضی اﷲ تعالی عنہم اجمعین کا اجماع ہوچکا ہے ان کے خلاف عقیدہ رکھنا یہی بدعت ہے۔پھر ان میں جن کی بدعت حد کفر کو نہ پہنچی ہو جیسے تفضیلیہاس کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی ہے ورنہ باطل محض ۱۲ منہ۔
اب اشاعت ثانیہ میں جس طرح کرلیا گیا ہے وہ پیش نظر ہے۔اسی طرح بیشمار تبدیلات ہیںاشعار میں بھی پھر اسی قسم کی اغلاط نے عود کیا ہے۔صفحہ ۱۲۳ کے بعد کی اصلاحات یہاں نہ رہیں اگر وہ بھی ہوں اور یہ کتاب مطابق اصلاح فقیر کوئی صاحب چھاپیں تو کتاب ثالث ہوگی اور بفضلہ تعالی اغلاط شرعیہ و شعریہ سے پاک۔
حضرت سید ظہور حیدر میاں صاحب رحمۃ اﷲ تعالی علیہ کی تاریخ وصال جبھی خیال میں آگئی تھی معروض ہے:ع
نحو لقاء جدہ ام ظہور حیدر
حسن الی الجنان اذ ثم ظہور حیدر
قیل متی ھذا السفر ھم ظہور حیدر
قلت لان بقی السنۃ عــــــہ ثم ظہور حیدر
۱۳۳۲ ۱۳۳۳
بدایوں کے رسالہ تناسخ اور رسالہ حدوث و قدوم پر جو الفاظ نیاز مند نے لکھے تھے ان کی نقل حاضر ہےمولانا کے خط کی نقل گر بدایوں سے مل گئی ہو تو میں بھی دیکھتا۔
والا خدمت حضرت جناب سیدنا شاہ ابوالقاسم حاج سید اسمعیل حسن میاں صاحب قبلہ تسلیم معروض رسالہ ہزار ضرب اقوی جس میں مولوی عبدالغفار خاں صاحب کے چوتھے رسالہ آثار المتدعین پر کامل ایك ہزار رد ہیںتین چار روز میں ان شاء اﷲ تعالی طبع ہوجائے گا بعونہ تعالی حاضر کیا جائے گا۔کلکتہ والوں کا رد حاضر ہے حسب تحریر اسماء تقسیم فرمادیا جائے فقط۔
مسئلہ ۱۸۳: مسئولہ احمد علی معمار محلہ برہی روز پنچشنبہ تاریخ ۹ محرم ۱۳۳۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص امام مسجد شیرینی اور کھانے کی چیزوں پر فاتحہ پڑھنے سے انکار کرتا ہے۔اور عذر یہ پیش کرتا ہے کہ فاتحہ دی ہوئی چیز کا اگر کچھ حصہ زمین پر گر گیا یا اور کسی قسم کی بے ادبی ہوئی تو فاتحہ دینے والا گنہگار ہوگا۔ایسے شخص پر شرعا کوئی عذاب یا ثواب ہوسکتا ہے یا نہیں
الجواب:
اس کا یہ خیال باطل اور یہ عذر لاطائل ہےزمین پر بلاقصد گرجانے میں کچھ گناہ کسی کے ذمہ نہیںاور اگر کوئی وہابی یا رافضی معاذ اﷲ قصدا بے ادبی کرے تو اس کا گناہ اس کے سر کیوں باندھا جائے۔قال اﷲ تعالی:
" ولا تزر وازرۃ وزر اخری " ۔ اورکوئی بوجھ اٹھانے والی جان دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گی۔(ت)
ہاں اگر دینے الا جان کر وہابی یا رافضی اور کسی کافر کو دے تو وہ بے ادبی کہ یہ لوگ کریں اس دینے والے
عــــــہ:بقی یبقیسمع اور ضرب دونوں سے آتا ہےعلاوہ ازیں ضرب سے بمعنی انتظار لغت معروف ہے۔
قلت لان بقی السنۃ عــــــہ ثم ظہور حیدر
۱۳۳۲ ۱۳۳۳
بدایوں کے رسالہ تناسخ اور رسالہ حدوث و قدوم پر جو الفاظ نیاز مند نے لکھے تھے ان کی نقل حاضر ہےمولانا کے خط کی نقل گر بدایوں سے مل گئی ہو تو میں بھی دیکھتا۔
والا خدمت حضرت جناب سیدنا شاہ ابوالقاسم حاج سید اسمعیل حسن میاں صاحب قبلہ تسلیم معروض رسالہ ہزار ضرب اقوی جس میں مولوی عبدالغفار خاں صاحب کے چوتھے رسالہ آثار المتدعین پر کامل ایك ہزار رد ہیںتین چار روز میں ان شاء اﷲ تعالی طبع ہوجائے گا بعونہ تعالی حاضر کیا جائے گا۔کلکتہ والوں کا رد حاضر ہے حسب تحریر اسماء تقسیم فرمادیا جائے فقط۔
مسئلہ ۱۸۳: مسئولہ احمد علی معمار محلہ برہی روز پنچشنبہ تاریخ ۹ محرم ۱۳۳۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص امام مسجد شیرینی اور کھانے کی چیزوں پر فاتحہ پڑھنے سے انکار کرتا ہے۔اور عذر یہ پیش کرتا ہے کہ فاتحہ دی ہوئی چیز کا اگر کچھ حصہ زمین پر گر گیا یا اور کسی قسم کی بے ادبی ہوئی تو فاتحہ دینے والا گنہگار ہوگا۔ایسے شخص پر شرعا کوئی عذاب یا ثواب ہوسکتا ہے یا نہیں
الجواب:
اس کا یہ خیال باطل اور یہ عذر لاطائل ہےزمین پر بلاقصد گرجانے میں کچھ گناہ کسی کے ذمہ نہیںاور اگر کوئی وہابی یا رافضی معاذ اﷲ قصدا بے ادبی کرے تو اس کا گناہ اس کے سر کیوں باندھا جائے۔قال اﷲ تعالی:
" ولا تزر وازرۃ وزر اخری " ۔ اورکوئی بوجھ اٹھانے والی جان دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گی۔(ت)
ہاں اگر دینے الا جان کر وہابی یا رافضی اور کسی کافر کو دے تو وہ بے ادبی کہ یہ لوگ کریں اس دینے والے
عــــــہ:بقی یبقیسمع اور ضرب دونوں سے آتا ہےعلاوہ ازیں ضرب سے بمعنی انتظار لغت معروف ہے۔
حوالہ / References
القرآن الکریم ۶ /۱۶۴
کی طرف عائد ہوگی۔شخص مذکور اگر واقعی یہ عقیدہ رکھتا ہے جو زبان سے کہا تو قرآن مجید کا مخالف ہے کماتلونا۔ورنہ ظاہر یہ ہے کہ وہ باطن میں فاتحہ اولیاء کرام کا منکر ہے۔اور براہ تقیہ یہ عذر بے ہودہ گھڑتا ہے۔دونوں صورتوں میں یہ شخص مستحق عذاب ہے۔واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۸۴: مسئولہ جناب حکیم مقیم الدین صاحب بہیڑی ضلع بریلی ۱۱رجب المرجب ۱۳۳۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ جب نیکی بدی میزان میں تولینگی تو نیکی کا پلہ بھاری ہوگا یا بدیوں کاکیونکہ قاعدے سے جب نیکیاں زیادہ ہوں نیکیوں کا پلہ بھاری اور نیچا ہوگا اور بدیاں زیادہ ہوں تو بدی کا پلہ بھاری اور نیچا ہونا چاہیےاور کتابوں میں لکھا بھی ایسا ہی ہے کہ جب نیکیاں زیادہ ہوں گی تو نیکوں کاپلہ بھاری ہوگا اور جھکے گا تو کیا واقعی نیکیاں زیادہ ہوں گی تو نیکیوں کا پلہ بھاری ہوگا۔مفصل بیان ہو کیونکہ نیکیاں بمقابلہ گناہوں کے ہلکی ہونا چاہیں۔
الجواب:
وہ میزان یہاں کے ترازو کے خلاف ہے وہاں نییکوں کا پلہ اگر بھاری ہوگا تو اوپر اٹھے گا اور بدی کا پلہ نیچے بیٹھے گا۔قال اﷲ تعالی عزوجل:
" الیہ یصعد الکلم الطیب والعمل الصلح یرفعہ " ۔ اسی کی طرف چڑھنا ہے پاکیزہ کلام اور جو نیك کام ہے وہ اس کو بلند کرتا ہے۔(ت)
مسئلہ ۱۸۵: از گونڈل علاقہ کا ٹھیاروار مسئولہ عبدالستار بن اسمعیل بروز سہ شنبہ تاریخ ۱۳ رجب المرجب ۱۳۳۴ھ
بعض متصوفہ زندیقہ جو زیدعمربکر یہ وہ سب کا خدا ہی خدا کہتے ہیں وہ یہ دلیل لاتے ہیں کہ اس وجہ سے منصور نے دعوی انا الحق کا کیابایزید بسطامی رحمۃ اﷲ تعالی علیہ نے اسی لیے سبحانی ما اعظم شانی(میں پاك ہوں اورکتنی عظیم میری شان ہے۔ت) فرمایا۔اور شمس تبریزی نے اسی وجہ سے قم باذنی(اٹھ میرے حکم سے۔ت)کہہ کر مردہ زندہ کیا۔اب عرض یہ ہے کہ کیا واقعی یہ کلمات اوپر کے بزرگوں سے صادر ہوئے ہیں اور کیا اس صوفی زندیق کا یہ کہنا صحیح ہے اور اگر ہے تو کیا یہ کلمات عندالشرع مردود ہیں یا نہیں اور
مسئلہ ۱۸۴: مسئولہ جناب حکیم مقیم الدین صاحب بہیڑی ضلع بریلی ۱۱رجب المرجب ۱۳۳۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ جب نیکی بدی میزان میں تولینگی تو نیکی کا پلہ بھاری ہوگا یا بدیوں کاکیونکہ قاعدے سے جب نیکیاں زیادہ ہوں نیکیوں کا پلہ بھاری اور نیچا ہوگا اور بدیاں زیادہ ہوں تو بدی کا پلہ بھاری اور نیچا ہونا چاہیےاور کتابوں میں لکھا بھی ایسا ہی ہے کہ جب نیکیاں زیادہ ہوں گی تو نیکوں کاپلہ بھاری ہوگا اور جھکے گا تو کیا واقعی نیکیاں زیادہ ہوں گی تو نیکیوں کا پلہ بھاری ہوگا۔مفصل بیان ہو کیونکہ نیکیاں بمقابلہ گناہوں کے ہلکی ہونا چاہیں۔
الجواب:
وہ میزان یہاں کے ترازو کے خلاف ہے وہاں نییکوں کا پلہ اگر بھاری ہوگا تو اوپر اٹھے گا اور بدی کا پلہ نیچے بیٹھے گا۔قال اﷲ تعالی عزوجل:
" الیہ یصعد الکلم الطیب والعمل الصلح یرفعہ " ۔ اسی کی طرف چڑھنا ہے پاکیزہ کلام اور جو نیك کام ہے وہ اس کو بلند کرتا ہے۔(ت)
مسئلہ ۱۸۵: از گونڈل علاقہ کا ٹھیاروار مسئولہ عبدالستار بن اسمعیل بروز سہ شنبہ تاریخ ۱۳ رجب المرجب ۱۳۳۴ھ
بعض متصوفہ زندیقہ جو زیدعمربکر یہ وہ سب کا خدا ہی خدا کہتے ہیں وہ یہ دلیل لاتے ہیں کہ اس وجہ سے منصور نے دعوی انا الحق کا کیابایزید بسطامی رحمۃ اﷲ تعالی علیہ نے اسی لیے سبحانی ما اعظم شانی(میں پاك ہوں اورکتنی عظیم میری شان ہے۔ت) فرمایا۔اور شمس تبریزی نے اسی وجہ سے قم باذنی(اٹھ میرے حکم سے۔ت)کہہ کر مردہ زندہ کیا۔اب عرض یہ ہے کہ کیا واقعی یہ کلمات اوپر کے بزرگوں سے صادر ہوئے ہیں اور کیا اس صوفی زندیق کا یہ کہنا صحیح ہے اور اگر ہے تو کیا یہ کلمات عندالشرع مردود ہیں یا نہیں اور
حوالہ / References
القرآن الکریم ۳۵ /۱۰
اگر مردود ہیں تو اوپر کے تینوں بزرگوں کے ساتھ اہل سنت و جماعت کس طرح کا عقیدہ رکھیں
الجواب الملفوظ
ان زنادقہ کا یہ قول کفر صریح ہے اور ان کے قول کی صحت کا شك واقع ہونا سائل کے ایمان کا مضر ہے تجدید اسلام چاہیےوہ تینوں حضرات کرام اکابر اولیائے عظام سے ہیں۔قدسنا اﷲ باسرارھمحضرت شمس تبریزی قدس سرہسے یہ کلمہ ثابت نہیںاور ثابت ہو تو معاذ اﷲ اسے ادعائے الوہیت سے کیا علاقہ ! ایسی اضافات مجازیہ شائع ہیں۔
حضرت حسین منصور انا الحق نہیں کہتے تھے بلکہ انا الاحق(میں ہی احق ہوں۔ت)ابتلائے الہی کے لیے سامعین کی فہم کی غلطی تھی ان کی بہن اکابر اولیائے کرام سے تھیں۔ہر روز اخیر شب میں جنگل کو تشریف لے جاتیں اور عبادت الہی میں مشغول ہوجاتیںایك رو زحضرت حسین منصور کی آنکھ کھلی اور بہن کو نہ پایاشیطان نے شبہہ ڈالا۔دوسری رات قصدا جاگتے رہےجب وہ اپنے وقت معمول پر اٹھ کر باہر چلیں یہ آہستہ اٹھ کر پیچھے ہولیےوہ جنگل میں پہنچیں اور عبادت میں مشغول ہوئیں۔یہ پیڑوں کی آڑ میں چھپے دیکھتے تھےقریب صبح انہوں نے دیکھا کہ آسمان سے سونے کی زنجیر میں یاقوت کا جام اترا اور وہ ان کی بہن کے دہن مبارك کے پاس آگیا۔
انہوں نے پینا شروع کیایہ بے چین ہوئے اورچلا کر کہا۔بہن ! تمہیں خدا کی قسم تھوڑا میرے لیے بھی چھوڑ دو۔انہوں نے صرف ایك جرعہ ان کے لیے چھوڑا جس کے پیتے ہی ان کو ہر شجر و حجر و درو دیوار سے آواز آنے لگی کہ کون اس کا زیادہ احق ہے کہ ہماری راہ میں قتل کیاجائے یہ اس کا جواب دیتے انا الاحق بے شك میں احق ہوں۔لوگوں نے کچھ سنا اور جو منظور تھا واقع ہوا۔
حضرت سیدی بایزید بسطامی رضی اﷲ تعالی عنہ نے اس سوال کا خود جواب ارشاد فرمادیافرمایا:میں نہیں کہتا وہ فرماتا ہے جسے فرما نازیبا ہےسائلوں نے اس پر دلیل چاہی۔فرمایا:تم سب ایك ایك خنجر ہاتھ میں لے کر بیٹھ جاؤ اور جس وقت مجھے ایسا کہتے سنو بے تامل خنجر مارو کہ ایسے قائل کی سزا قتل ہے انہوں نے ایسا ہی کیا۔جب حضرت پر حالت وارد ہوئی اور وہی کلمہ نکلا ان سب نے بے مہابا خنجر مارے۔جس نے جس جگہ کے قصد پر خنجر مارا تھا خود اس کے اسی جگہ لگا۔جب حضرت کو افاقہ ہوا ملاحظہ فرمایا کہ وہ سب گھائل پڑے ہیں۔فرمایا:میں نہ کہتا تھا کہ میں نہیں کہتا وہ کہتا ہے جس کا کہنا بجا ہےسیدنا موسی کلیم علی نبینا وعلیہ الصلوۃ والتسلیم نے کوہ طور پر اس درخت میں سے ندا سنی کہ " یموسی انی انا اللہ
الجواب الملفوظ
ان زنادقہ کا یہ قول کفر صریح ہے اور ان کے قول کی صحت کا شك واقع ہونا سائل کے ایمان کا مضر ہے تجدید اسلام چاہیےوہ تینوں حضرات کرام اکابر اولیائے عظام سے ہیں۔قدسنا اﷲ باسرارھمحضرت شمس تبریزی قدس سرہسے یہ کلمہ ثابت نہیںاور ثابت ہو تو معاذ اﷲ اسے ادعائے الوہیت سے کیا علاقہ ! ایسی اضافات مجازیہ شائع ہیں۔
حضرت حسین منصور انا الحق نہیں کہتے تھے بلکہ انا الاحق(میں ہی احق ہوں۔ت)ابتلائے الہی کے لیے سامعین کی فہم کی غلطی تھی ان کی بہن اکابر اولیائے کرام سے تھیں۔ہر روز اخیر شب میں جنگل کو تشریف لے جاتیں اور عبادت الہی میں مشغول ہوجاتیںایك رو زحضرت حسین منصور کی آنکھ کھلی اور بہن کو نہ پایاشیطان نے شبہہ ڈالا۔دوسری رات قصدا جاگتے رہےجب وہ اپنے وقت معمول پر اٹھ کر باہر چلیں یہ آہستہ اٹھ کر پیچھے ہولیےوہ جنگل میں پہنچیں اور عبادت میں مشغول ہوئیں۔یہ پیڑوں کی آڑ میں چھپے دیکھتے تھےقریب صبح انہوں نے دیکھا کہ آسمان سے سونے کی زنجیر میں یاقوت کا جام اترا اور وہ ان کی بہن کے دہن مبارك کے پاس آگیا۔
انہوں نے پینا شروع کیایہ بے چین ہوئے اورچلا کر کہا۔بہن ! تمہیں خدا کی قسم تھوڑا میرے لیے بھی چھوڑ دو۔انہوں نے صرف ایك جرعہ ان کے لیے چھوڑا جس کے پیتے ہی ان کو ہر شجر و حجر و درو دیوار سے آواز آنے لگی کہ کون اس کا زیادہ احق ہے کہ ہماری راہ میں قتل کیاجائے یہ اس کا جواب دیتے انا الاحق بے شك میں احق ہوں۔لوگوں نے کچھ سنا اور جو منظور تھا واقع ہوا۔
حضرت سیدی بایزید بسطامی رضی اﷲ تعالی عنہ نے اس سوال کا خود جواب ارشاد فرمادیافرمایا:میں نہیں کہتا وہ فرماتا ہے جسے فرما نازیبا ہےسائلوں نے اس پر دلیل چاہی۔فرمایا:تم سب ایك ایك خنجر ہاتھ میں لے کر بیٹھ جاؤ اور جس وقت مجھے ایسا کہتے سنو بے تامل خنجر مارو کہ ایسے قائل کی سزا قتل ہے انہوں نے ایسا ہی کیا۔جب حضرت پر حالت وارد ہوئی اور وہی کلمہ نکلا ان سب نے بے مہابا خنجر مارے۔جس نے جس جگہ کے قصد پر خنجر مارا تھا خود اس کے اسی جگہ لگا۔جب حضرت کو افاقہ ہوا ملاحظہ فرمایا کہ وہ سب گھائل پڑے ہیں۔فرمایا:میں نہ کہتا تھا کہ میں نہیں کہتا وہ کہتا ہے جس کا کہنا بجا ہےسیدنا موسی کلیم علی نبینا وعلیہ الصلوۃ والتسلیم نے کوہ طور پر اس درخت میں سے ندا سنی کہ " یموسی انی انا اللہ
رب العلمین ﴿۳۰﴾ " ۔ (اے موسی میں ہوںاﷲ رب سارے جہانوں کات) کیا یہ درخت نے کہا تھاحاشا بلکہ رب العالمین نے درخت پر تجلی فرمائی اور حضرت کلیم کو اس میں سے ندا مسموع ہوئیکیا وہ ایك درخت پر تجلی فرماسکتا ہے۔اور بایزید پر نہیں کیا محال ہے کہ بایزید پر تجلی کرے اور سبحانی ما اعظم شانی ۔(میں پاك ہوں اور کتنی عظیم میری شان ہے۔ت)اور لوگوں کو ان میں سے ندا آئے۔
حضرت مولوی معنوی قدس اﷲ سرہ الشریف فرماتے ہیں۔ایك جن جس پر تسلط کرتا ہے اس کی زبان سے کلام کرتا ہے اس کے جوارح سے کام کرتا ہے ۔
کیا تمہارے نزدیك رب عزوجل ایسا نہیں کرسکتا۔کلام اس کا ہے اور زبان بایزید کیبایزید شجرہ موسی ہیں اور متکلم وہ جس نے فرمایا انی انا اﷲ رب العلمین۔فللہ الحجۃ البالغۃ۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۱۸۶:علمائے عظام و مشائخ کرام نے منصورکو کیوں سولی دی اگر بوجہ کفر سولی دی گئی ہے تو کیا منصور کو اب مسلمان اور کاملین میں سے شمار کریں یا ان کی نسبت کیا عقیدہ رکھیں
الجواب الملفوظ
ظاہر مسموع ان کا کلام سے وہ تھا جس پرشرعا تعزیر قتل ہے لہذا حکم شرع پورا کیا گیا
نہ برحکم شرع آب خوردن خطاست دگر خون بہ فتوے بریزی رواست
(کیا ایسا نہیں شرع کے حکم کے بغیر پانی پینا گناہ ہےاور اگر شرعی فتوی کے ساتھ توخون بہائے تو جائز ہے۔ت)
مسئلہ ۱۸۷: ازریاست رامپور کونچہ قاضی مرزا صابر حسین بروز شنبہ ۱۷ رجب ۱۳۳۴ھ
کیا ارشاد فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین ومشائخ کرام اور اولیائے عظام اس مسئلہ میں کہ حضرت بڑے پیر صاحب رحمۃ اﷲ علیہ کی چند مشہور کرامتیں جو کہ مولود شریف ووعظ وغیرہ میں بیان کی جاتی ہیں منجملہ ان کے ایك یہ ہے کہ ایك بڑھا لب دریا بیٹھی روتی تھیاتفاقا حضرت کا
حضرت مولوی معنوی قدس اﷲ سرہ الشریف فرماتے ہیں۔ایك جن جس پر تسلط کرتا ہے اس کی زبان سے کلام کرتا ہے اس کے جوارح سے کام کرتا ہے ۔
کیا تمہارے نزدیك رب عزوجل ایسا نہیں کرسکتا۔کلام اس کا ہے اور زبان بایزید کیبایزید شجرہ موسی ہیں اور متکلم وہ جس نے فرمایا انی انا اﷲ رب العلمین۔فللہ الحجۃ البالغۃ۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۱۸۶:علمائے عظام و مشائخ کرام نے منصورکو کیوں سولی دی اگر بوجہ کفر سولی دی گئی ہے تو کیا منصور کو اب مسلمان اور کاملین میں سے شمار کریں یا ان کی نسبت کیا عقیدہ رکھیں
الجواب الملفوظ
ظاہر مسموع ان کا کلام سے وہ تھا جس پرشرعا تعزیر قتل ہے لہذا حکم شرع پورا کیا گیا
نہ برحکم شرع آب خوردن خطاست دگر خون بہ فتوے بریزی رواست
(کیا ایسا نہیں شرع کے حکم کے بغیر پانی پینا گناہ ہےاور اگر شرعی فتوی کے ساتھ توخون بہائے تو جائز ہے۔ت)
مسئلہ ۱۸۷: ازریاست رامپور کونچہ قاضی مرزا صابر حسین بروز شنبہ ۱۷ رجب ۱۳۳۴ھ
کیا ارشاد فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین ومشائخ کرام اور اولیائے عظام اس مسئلہ میں کہ حضرت بڑے پیر صاحب رحمۃ اﷲ علیہ کی چند مشہور کرامتیں جو کہ مولود شریف ووعظ وغیرہ میں بیان کی جاتی ہیں منجملہ ان کے ایك یہ ہے کہ ایك بڑھا لب دریا بیٹھی روتی تھیاتفاقا حضرت کا
حوالہ / References
القرآن الکریم ۲۸ /۳۰
تذکرۃ الاولیاء(اردو)شیخ فریدالدین عطار ملك اینڈ کمپنی اردو بازار لاہور ص ۸۳
مثنوی معنوی دفتر چہارم قصہ سبحانی ما اعظم شانی مؤسسۃ انتشارات اسلامی لاہور ۴/ ۲۰۵
بوستانِ سعدی باب اول پہلی گفتار مکتبہ شرتت علمیہ ملتان ص ۲۹
تذکرۃ الاولیاء(اردو)شیخ فریدالدین عطار ملك اینڈ کمپنی اردو بازار لاہور ص ۸۳
مثنوی معنوی دفتر چہارم قصہ سبحانی ما اعظم شانی مؤسسۃ انتشارات اسلامی لاہور ۴/ ۲۰۵
بوستانِ سعدی باب اول پہلی گفتار مکتبہ شرتت علمیہ ملتان ص ۲۹
اس طرف سے گزرہوا۔حضرت نے فرمایا کہ اس قدر کیوں روتی ہو بڑھیا نے عرض کیا:حضرت ! میرے لڑکے کی بارہ برس ہوئے یہاں دریا میں مع سامان کے برات ڈوبی ہے میں یہاں آکر روزانہ روتی ہوںآپ نے دعا فرمائی آپ کی دعا کی برکت سے بارہ برس کی ڈوبی ہوئی برات مع کل سامان کے صحیح و سالم نکل آئی اور بڑھیا خوش و خرم اپنے مکان کو چلی گئی۔
دوسرے یہ کہ حضرت کے ایك مرید کا انتقال ہوگیاموتی کا لڑکا حضرت کی خدمت میں حاضر ہوا اور حضرت سے عرض کیا کہ میرے والد کا انتقال ہوگیا۔اس پر لڑکا زیادہ رویا پیٹا اور اڑ گیا۔تو آپ کو رحم آیا آپ نے وعدہ فرمایا اور لڑکے کی تسکین کی۔بعدہ حضرت عزرائیل علیہ السلام کو مراقب ہو کر روکاجب حضرت عزرائیل علیہ السلام رکے آپ نے دریافت کیا کہ ہمارے مرید کی روح تم نے قبض کی ہے جواب دیا کہ ہاں آپ نے فرمایا۔روح ہمارے مرید کی چھوڑ دو عزرائیل علیہ السلام نے کہا کہ میں نے بحکم رب العالمین روح قبض کی ہے۔بغیر حکم نہیں چھوڑ سکتا۔اس پر جھگڑا ہوا۔آپ نے تھپڑ ماراحضرت کے تھپڑ سے عزرائیل علیہ السلام کی ایك آنکھ نکل پڑی اورآپ نے ان سے زنبیل چھین کر اس روز کی تمام روحیں جو کہ قبض کی تھیں چھوڑ دیں۔اس پر حضرت عزرائیل علیہ السلام نے رب العالمین سے عرض کیا وہاں سے حکم ہوا کہ ہمارے محبوب نے ایك روح چھوڑنے کو کہاتھا تم نے کیوں نہیں چھوڑ ی ہم کو ان کی خاطر منظور ہے اگر انہوں نے تمام روحیں چھوڑدیں تو کچھ مضائقہ نہیں۔
شرعا ان روایتوں کا بیان کرنا مجلس مولود شریف یا وعظ وغیرہ میں درست ہےیا نہیں بحوالہ کتب معتبرتحریر فرمائیے۔بینوا توجروا۔(بیان فرمائیے اجر دیئے جاؤ گے۔ت)
الجواب الملفوظ:
پہلی روایت اگرچہ نظر سے کسی کتاب میں نہ گزری مگر زبان پر مشہور ہےاوراس میں کوئی امر خلاف شرع نہیںاس ا کا انکار نہ کیا جائے۔
اور دوسری روایت ابلیس کی گھڑی ہوئی ہے اور اس کا پڑھنا اور سننا دونوں حرام۔احمقجاہل بے ادب نے یہ جانا کہ وہ اس میں حضور سیدنا غوث اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ کی تعظیم کرتا ہے حالانکہ وہ حضور کی سخت توہین کررہا ہےکسی عالم مسلمان کی اس سے زیادہ توہین کیا ہوگی کہ معاذ اﷲ اسے کفر کی طرف نسبت کیا جائے نہ کہ محبوبان الہی سیدنا عزرائیل علیہ السلام مرسلین ملائکہ میں سے ہیں اور مرسلین ملائکہ بالاجماع تمام غیر انبیاء سے افضل ہیں کسی رسول کے ساتھ ایسی حرکت کرنا توہین رسول کے سبب معاذ اﷲ اس کے لیے باعث کفر ہےاﷲ تعالی جہالت و ضلالت
دوسرے یہ کہ حضرت کے ایك مرید کا انتقال ہوگیاموتی کا لڑکا حضرت کی خدمت میں حاضر ہوا اور حضرت سے عرض کیا کہ میرے والد کا انتقال ہوگیا۔اس پر لڑکا زیادہ رویا پیٹا اور اڑ گیا۔تو آپ کو رحم آیا آپ نے وعدہ فرمایا اور لڑکے کی تسکین کی۔بعدہ حضرت عزرائیل علیہ السلام کو مراقب ہو کر روکاجب حضرت عزرائیل علیہ السلام رکے آپ نے دریافت کیا کہ ہمارے مرید کی روح تم نے قبض کی ہے جواب دیا کہ ہاں آپ نے فرمایا۔روح ہمارے مرید کی چھوڑ دو عزرائیل علیہ السلام نے کہا کہ میں نے بحکم رب العالمین روح قبض کی ہے۔بغیر حکم نہیں چھوڑ سکتا۔اس پر جھگڑا ہوا۔آپ نے تھپڑ ماراحضرت کے تھپڑ سے عزرائیل علیہ السلام کی ایك آنکھ نکل پڑی اورآپ نے ان سے زنبیل چھین کر اس روز کی تمام روحیں جو کہ قبض کی تھیں چھوڑ دیں۔اس پر حضرت عزرائیل علیہ السلام نے رب العالمین سے عرض کیا وہاں سے حکم ہوا کہ ہمارے محبوب نے ایك روح چھوڑنے کو کہاتھا تم نے کیوں نہیں چھوڑ ی ہم کو ان کی خاطر منظور ہے اگر انہوں نے تمام روحیں چھوڑدیں تو کچھ مضائقہ نہیں۔
شرعا ان روایتوں کا بیان کرنا مجلس مولود شریف یا وعظ وغیرہ میں درست ہےیا نہیں بحوالہ کتب معتبرتحریر فرمائیے۔بینوا توجروا۔(بیان فرمائیے اجر دیئے جاؤ گے۔ت)
الجواب الملفوظ:
پہلی روایت اگرچہ نظر سے کسی کتاب میں نہ گزری مگر زبان پر مشہور ہےاوراس میں کوئی امر خلاف شرع نہیںاس ا کا انکار نہ کیا جائے۔
اور دوسری روایت ابلیس کی گھڑی ہوئی ہے اور اس کا پڑھنا اور سننا دونوں حرام۔احمقجاہل بے ادب نے یہ جانا کہ وہ اس میں حضور سیدنا غوث اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ کی تعظیم کرتا ہے حالانکہ وہ حضور کی سخت توہین کررہا ہےکسی عالم مسلمان کی اس سے زیادہ توہین کیا ہوگی کہ معاذ اﷲ اسے کفر کی طرف نسبت کیا جائے نہ کہ محبوبان الہی سیدنا عزرائیل علیہ السلام مرسلین ملائکہ میں سے ہیں اور مرسلین ملائکہ بالاجماع تمام غیر انبیاء سے افضل ہیں کسی رسول کے ساتھ ایسی حرکت کرنا توہین رسول کے سبب معاذ اﷲ اس کے لیے باعث کفر ہےاﷲ تعالی جہالت و ضلالت
سے پناہ دے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۸۸: مرسلہ عبدالستار بن اسمعیل شہر گونڈل علاقہ کاٹھیاوار یکشنبہ ۹ شعبان ۱۳۳۴ھ
ان دنوں اکثر احباب کو گمنام خطوط بدیں مضمون ملے ہیں۔بسم اﷲ الرحمن الرحیم۔قل ھواﷲ احد اﷲ الصمدایاك نعبدو ایاك نستعینانعمت علیھم عرصہ تین روز میں نو خط نوجگہ بھیجئے اس سے آپ کو بہت فائدہ ہوگا ورنہ نقصان۔
اب عرض یہ ہے کہ اس مضمون کا عندالشرع کیا اصل ہے اس پر عمل ضروری ہے یا نہیں اگر واجب العمل ہے تو بلا نام و نشان کے گمنام خط لکھنے کی کیا وجہ ہے
الجواب الملفوظ:
یہ بدعت شنیعہ ہے کہ کسی جاہل نے ایجاد کی جو مسلمانوں کا بدخواہ ہے اور قرآن عظیم کے ساتھ بے ادب کھلے ہوئے کارڈوں پر کلام الہی لکھ کر بھیجا جاتا ہے کہ چھٹی رساں جو اکثر ہنود اور عموما بے وضو ہوتے ہیں اسے مس کرتے ہیںڈاکخانوں میں مہریں لگانے والے بے وضو یا نجس ہاتھوں سے چھوتے ہیں زمین پر رکھ کر مہر لگاتے ہیں اور خصوصا زمین پر وہی رخ ہوتا ہے جس پر آیات ہیںیہ سب ناپاکیاں اس بدعت خبیثہ کے سبب ہیںاور پھر یہ اﷲ پر افترا ہے کہ ایسا کرو گے تو نو دن میں خوشی ہوگی ورنہ آفت میں مبتلا ہو گے۔
" ام تقولون علی اللہ ما لا تعلمون﴿۸۰﴾ " ۔ یا اﷲتعالی پر وہ بات کہتے ہو جس کا تمہیں علم نہیں۔(ت)
مسئلہ ۱۸۹: الف خان مہتمم مدرسہ انجمن اسلامیہ قصبہ سانگورریاست کوٹہ راجپوتانہ یکشنبہ ۱۳۳۴ھ
ارواح مومنین یا کافر کا کسی وقت اپنے اپنے مکان میں آنا احادیث صحیحہ سے ثابت ہے یا نہیں فقط۔
الجواب الملفوظ:
ارواح کفار کا آنا کیونکر ہوسکتا ہے وہ محبوس و مقید ہیںاور روح مومنین کی نسبت حدیث میں ارشاد ہوا:
مسئلہ ۱۸۸: مرسلہ عبدالستار بن اسمعیل شہر گونڈل علاقہ کاٹھیاوار یکشنبہ ۹ شعبان ۱۳۳۴ھ
ان دنوں اکثر احباب کو گمنام خطوط بدیں مضمون ملے ہیں۔بسم اﷲ الرحمن الرحیم۔قل ھواﷲ احد اﷲ الصمدایاك نعبدو ایاك نستعینانعمت علیھم عرصہ تین روز میں نو خط نوجگہ بھیجئے اس سے آپ کو بہت فائدہ ہوگا ورنہ نقصان۔
اب عرض یہ ہے کہ اس مضمون کا عندالشرع کیا اصل ہے اس پر عمل ضروری ہے یا نہیں اگر واجب العمل ہے تو بلا نام و نشان کے گمنام خط لکھنے کی کیا وجہ ہے
الجواب الملفوظ:
یہ بدعت شنیعہ ہے کہ کسی جاہل نے ایجاد کی جو مسلمانوں کا بدخواہ ہے اور قرآن عظیم کے ساتھ بے ادب کھلے ہوئے کارڈوں پر کلام الہی لکھ کر بھیجا جاتا ہے کہ چھٹی رساں جو اکثر ہنود اور عموما بے وضو ہوتے ہیں اسے مس کرتے ہیںڈاکخانوں میں مہریں لگانے والے بے وضو یا نجس ہاتھوں سے چھوتے ہیں زمین پر رکھ کر مہر لگاتے ہیں اور خصوصا زمین پر وہی رخ ہوتا ہے جس پر آیات ہیںیہ سب ناپاکیاں اس بدعت خبیثہ کے سبب ہیںاور پھر یہ اﷲ پر افترا ہے کہ ایسا کرو گے تو نو دن میں خوشی ہوگی ورنہ آفت میں مبتلا ہو گے۔
" ام تقولون علی اللہ ما لا تعلمون﴿۸۰﴾ " ۔ یا اﷲتعالی پر وہ بات کہتے ہو جس کا تمہیں علم نہیں۔(ت)
مسئلہ ۱۸۹: الف خان مہتمم مدرسہ انجمن اسلامیہ قصبہ سانگورریاست کوٹہ راجپوتانہ یکشنبہ ۱۳۳۴ھ
ارواح مومنین یا کافر کا کسی وقت اپنے اپنے مکان میں آنا احادیث صحیحہ سے ثابت ہے یا نہیں فقط۔
الجواب الملفوظ:
ارواح کفار کا آنا کیونکر ہوسکتا ہے وہ محبوس و مقید ہیںاور روح مومنین کی نسبت حدیث میں ارشاد ہوا:
حوالہ / References
القرآن الکریم ۲ /۸۰
اذا مات المؤمن یخلی سریہ حیث شاء ۔ اس کی راہ کھول دی جاتی ہےجاتی ہے جہاں چاہے۔
جہاں چاہے میں اپنا گھر بھی داخل ہےاور بارہا ارواح صالحین کا اپنے اور اپنے متعلقین کے گھر آنا اور مدد کرنا ثابت ہے۔
شاہ ولی اﷲ صاحب نے اپنے ایك مریض کا واقعہ لکھا ہے کہ وہ صاحب فراش تھےرات کو جب سورہے تھے انہیں پیاس لگی اور کپڑا اوڑھنے کی ضرورت ہوئیکوئی پاس نہ تھاان کے ایك بزرگ کی روح ظاہر ہوئی اس نے پانی پلایا اور کپڑا اڑھایا ۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۹۰:مرسلہ محمد عبدالواحد خاں مسلم کمیٹی اسلام پورہ معرفت عبداللطیف ہیڈ ماسٹر میونسپل اردو اسکول ۱۳ ربیع الاول شریف ۱۳۳۵ھ
واجب الاحترام و التعظیم اعلیحضرت مدظلہمقادیانی نے جس قدر تحریرات رسائل کتب اپنے دعوے کی تائید میں لکھے ہیں اگر آپ کے پاس ہوں اور ممکن ہو تو روانہ فرمادیجئے تاکہ اس کی تمام باتوں پر میں غور کرکے ایك رائے قائم کرلوں اور مباحثہ کے وقت سہولیت پیدا ہوجائے کیونکہ مخالف کتابیں دینے سے انکار کرتا ہے اگر یہ نہیں ہوسکتا ہے تو کم از کم ان کی کتابوں کے نام اور جگہ جہاں سے وہ دستیاب ہوسکتی ہیں تحریر فرمادیںیہ تکلیف آپ کو دینا جائز نہیں مگر کوئی اور شخص ایسا نظر نہیں آتا جو اس کام کو انجام دے سکے۔اب دوسری بات تردید یعنی جس قدر رسائل اشتہارات وغیرہ اس کے رد میں لکھے گئے ہوں روانہ فرمائے جائیںورنہ آخر درجہ ان کی فہرست ہی سہی۔اور مندرجہ ذیل شکوك رفع کردیجئے۔(قرآنصحاح ستہ ہی کے دلائل ہوں تو خوب ہے۔)
(۱)میں صحاح ستہ کو دیکھنا چاہتا ہوں مگر عربی نہیں جانتاکیا کوئی اردو ترجمہ تحت اللفظ اس کا فراہم ہوسکتا ہے اور کون سی کتاب زیادہ معتبر اور فائدہ رساں ہے
(۲)مشکوۃ شریف میں کیا بیان ہے اس سے کیا مدد مل سکتی ہے
(۳)ہمارے یہاں سب سے زیادہ کون کون سی کتابیں معتبر ہیں۔
(۴)حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہما کے مذہب پر آپ کی کیا رائے ہے
جہاں چاہے میں اپنا گھر بھی داخل ہےاور بارہا ارواح صالحین کا اپنے اور اپنے متعلقین کے گھر آنا اور مدد کرنا ثابت ہے۔
شاہ ولی اﷲ صاحب نے اپنے ایك مریض کا واقعہ لکھا ہے کہ وہ صاحب فراش تھےرات کو جب سورہے تھے انہیں پیاس لگی اور کپڑا اوڑھنے کی ضرورت ہوئیکوئی پاس نہ تھاان کے ایك بزرگ کی روح ظاہر ہوئی اس نے پانی پلایا اور کپڑا اڑھایا ۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۹۰:مرسلہ محمد عبدالواحد خاں مسلم کمیٹی اسلام پورہ معرفت عبداللطیف ہیڈ ماسٹر میونسپل اردو اسکول ۱۳ ربیع الاول شریف ۱۳۳۵ھ
واجب الاحترام و التعظیم اعلیحضرت مدظلہمقادیانی نے جس قدر تحریرات رسائل کتب اپنے دعوے کی تائید میں لکھے ہیں اگر آپ کے پاس ہوں اور ممکن ہو تو روانہ فرمادیجئے تاکہ اس کی تمام باتوں پر میں غور کرکے ایك رائے قائم کرلوں اور مباحثہ کے وقت سہولیت پیدا ہوجائے کیونکہ مخالف کتابیں دینے سے انکار کرتا ہے اگر یہ نہیں ہوسکتا ہے تو کم از کم ان کی کتابوں کے نام اور جگہ جہاں سے وہ دستیاب ہوسکتی ہیں تحریر فرمادیںیہ تکلیف آپ کو دینا جائز نہیں مگر کوئی اور شخص ایسا نظر نہیں آتا جو اس کام کو انجام دے سکے۔اب دوسری بات تردید یعنی جس قدر رسائل اشتہارات وغیرہ اس کے رد میں لکھے گئے ہوں روانہ فرمائے جائیںورنہ آخر درجہ ان کی فہرست ہی سہی۔اور مندرجہ ذیل شکوك رفع کردیجئے۔(قرآنصحاح ستہ ہی کے دلائل ہوں تو خوب ہے۔)
(۱)میں صحاح ستہ کو دیکھنا چاہتا ہوں مگر عربی نہیں جانتاکیا کوئی اردو ترجمہ تحت اللفظ اس کا فراہم ہوسکتا ہے اور کون سی کتاب زیادہ معتبر اور فائدہ رساں ہے
(۲)مشکوۃ شریف میں کیا بیان ہے اس سے کیا مدد مل سکتی ہے
(۳)ہمارے یہاں سب سے زیادہ کون کون سی کتابیں معتبر ہیں۔
(۴)حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہما کے مذہب پر آپ کی کیا رائے ہے
حوالہ / References
اتحاف السادۃ المتقین کتاب ذکر الموت فضیلۃ ذکر الموتدارالفکر بیروت ۱۰ /۲۲۷
انفاس العارفین مترجم اردو امداد اولیاءص ۳۶۹
انفاس العارفین مترجم اردو امداد اولیاءص ۳۶۹
(۵)حضرت مسیح(علیہ السلام)کے زندہ ہونے کی کن کن حدیثوں سے دلیل مل سکتی ہے
(۶)سبحان الذی الخ میں سبحان کے لفظ میں کیا خوصیت ہے
(۷)اور آپ کو رات کو کیوں معراج ہوادن کو کیوں نہ ہوا
(۸)ادریسخضرعزیزالیاس(علیہم السلام)ان کے قصص قدرے صراحت کے ساتھ بیان کیجئے۔
(۹)حضرت مہدی اور عیسی(علیہما السلام)دونوں جدا جدا اشخاص قدرے صراحت کے ساتھ بیان کیجئے۔
الجواب:
(۱)صحاح ستہ کے اردومیں ترجمے ہوئے ہیں مگر عموما وہابیہ نے کیے ہیںاور ترجمہ دیکھ کر کوئی شخص قرآن و حدیث نہیں سمجھ سکتا۔
(۲)مشکوۃ شریف ایك جامع کتاب ہےبہت باتوں میں مدد دیتی ہےمگر تنہا کوئی کتاب سوا قرآن عظیم کے کافی نہیں۔
(۳)ہمارے یہاں قرآن عظیم کے بعد حدیث میں صحیحیں اور سنن اربعہمسانید امام اعظمموطا و کتاب الآثار امام محرر کتاب الخراج امام ابویوسفکتاب الحج امام عیسی بن ابانشرع معانی الاثار امام طحطاویمشکلات الاثار امام طحطاوی _____ عقائد میں فقہ اکبروصایائے امام اعظمعقائد امام مفتی الانس والجن نجم الدین عمر نسفی_____فقہ میں ہدایہبدائع مبسوط۔جامع صغیرجامع کبیرخانیہخلاصہبزازیہغرردررتنویرالابصاردرمختارغنیہحلیہ اور ہزار ہا کتب بے شمار۔
(۴)ام المومنین صدیقہ رضی اﷲ تعالی عنہا شب معراج تك خدمت اقدس میں حاضر بھی نہ ہوئی تھیں بہت صغیر السن بچی تھیں۔وہ جو فرماتی ہیںان روحانی معراجوں کی نسبت فرماتی ہیں جو ان کے زمانے میں ہوئیں۔معراج جسمانی انکی حاضری سے کئی سال پیشتر ہوچکا تھا۔
(۵)اس کے لیے درمنثور و ابن جریر و تفاسیر دیکھنی چاہیئںابھی میں اوپر کہہ چکا ہوں کہ ان مسائل میں بحث یہ قادیانیوں کا دھوکا ہے بحث اس کے ان کفریات میں چاہیے جس کا نمونہ اوپر مذکور ہوا۔
(۶)حضرت عزت جل وعلا اپنے محبوبوں کی مدح سے اپنی حمد فرمایا کرتا ہے۔اس کی ابتداء
(۶)سبحان الذی الخ میں سبحان کے لفظ میں کیا خوصیت ہے
(۷)اور آپ کو رات کو کیوں معراج ہوادن کو کیوں نہ ہوا
(۸)ادریسخضرعزیزالیاس(علیہم السلام)ان کے قصص قدرے صراحت کے ساتھ بیان کیجئے۔
(۹)حضرت مہدی اور عیسی(علیہما السلام)دونوں جدا جدا اشخاص قدرے صراحت کے ساتھ بیان کیجئے۔
الجواب:
(۱)صحاح ستہ کے اردومیں ترجمے ہوئے ہیں مگر عموما وہابیہ نے کیے ہیںاور ترجمہ دیکھ کر کوئی شخص قرآن و حدیث نہیں سمجھ سکتا۔
(۲)مشکوۃ شریف ایك جامع کتاب ہےبہت باتوں میں مدد دیتی ہےمگر تنہا کوئی کتاب سوا قرآن عظیم کے کافی نہیں۔
(۳)ہمارے یہاں قرآن عظیم کے بعد حدیث میں صحیحیں اور سنن اربعہمسانید امام اعظمموطا و کتاب الآثار امام محرر کتاب الخراج امام ابویوسفکتاب الحج امام عیسی بن ابانشرع معانی الاثار امام طحطاویمشکلات الاثار امام طحطاوی _____ عقائد میں فقہ اکبروصایائے امام اعظمعقائد امام مفتی الانس والجن نجم الدین عمر نسفی_____فقہ میں ہدایہبدائع مبسوط۔جامع صغیرجامع کبیرخانیہخلاصہبزازیہغرردررتنویرالابصاردرمختارغنیہحلیہ اور ہزار ہا کتب بے شمار۔
(۴)ام المومنین صدیقہ رضی اﷲ تعالی عنہا شب معراج تك خدمت اقدس میں حاضر بھی نہ ہوئی تھیں بہت صغیر السن بچی تھیں۔وہ جو فرماتی ہیںان روحانی معراجوں کی نسبت فرماتی ہیں جو ان کے زمانے میں ہوئیں۔معراج جسمانی انکی حاضری سے کئی سال پیشتر ہوچکا تھا۔
(۵)اس کے لیے درمنثور و ابن جریر و تفاسیر دیکھنی چاہیئںابھی میں اوپر کہہ چکا ہوں کہ ان مسائل میں بحث یہ قادیانیوں کا دھوکا ہے بحث اس کے ان کفریات میں چاہیے جس کا نمونہ اوپر مذکور ہوا۔
(۶)حضرت عزت جل وعلا اپنے محبوبوں کی مدح سے اپنی حمد فرمایا کرتا ہے۔اس کی ابتداء
کہیں ھو الذی سے ہوئی ہے جیسے:
" ہو الذی بعث فی الامین رسولا" ۔
" ہو الذی ارسل رسولہ بالہدی و دین الحق " ۔ جس نے ان پڑھوں میں انہی میں سے ایك رسول بھیجا۔ (ت)
وہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور سچے دین کے ساتھ بھیجا۔(ت)
کہیں تبارك الذین سے:
" تبارک الذی نزل الفرقان علی عبدہ لیکون للعلمین نذیرۨا﴿۱﴾"
۔ بڑی برکت والا ہے وہ کہ جس نے اتارا قرآن اپنے بندے پر جو سارے جہان کو ڈر سنانے والا ہو۔(ت)
کہیں حمد سےجیسے:
" الحمد للہ الذی انزل علی عبدہ الکتب ولم یجعل لہ عوجا ﴿۱﴾"
۔ سب خوبیاں اﷲ کو جس نے اپنے بندے پر کتاب اتاری اور اس میں اصلا کجی نہ رکھی۔(ت)
یہاں تسبیح سے ابتداء فرمائی ہے کہ:
" سبحن الذی اسری بعبدہ لیلا من المسجد الحرام" ۔ پاکی ہے اسے جو اپنے بندے کو راتوں رات لے گیا مسجد حرام سے۔(ت)
اس میں ایك صریح نکتہ یہ ہے کہ جو بات نہایت عجیب ہوتی ہے اس پر تسبیح کی جاتی ہےسبحن اﷲ الذی کیسی عمدہ چیز ہے۔سبحن کیسی عجیب بات ہے جسم کے ساتھ آسمانوں پر تشریف لے جانا کوئی زمہر یر طے فرماناکرہ نار طے فرمانا کروڑوں برس کی راہ کو چند ساعت میں طے فرمانا۔تمام ملك و ملکوت کی سیر فرمانا۔یہ تو انتہائی عجیب آیات بینات ہی ہیں۔ اتنی بات کہ کفار مکہ پر حجت قائم فرمانے کے لیے ارشاد ہوئی کہ شب کو مکہ معظمہ میں آرام فرمائیں صبح بھی مکہ معظمہ میں تشریف فرما ہوںاور رات ہی رات بیت المقدس تشریف لے جائیں اور واپس تشریف لائیں۔
" ہو الذی بعث فی الامین رسولا" ۔
" ہو الذی ارسل رسولہ بالہدی و دین الحق " ۔ جس نے ان پڑھوں میں انہی میں سے ایك رسول بھیجا۔ (ت)
وہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور سچے دین کے ساتھ بھیجا۔(ت)
کہیں تبارك الذین سے:
" تبارک الذی نزل الفرقان علی عبدہ لیکون للعلمین نذیرۨا﴿۱﴾"
۔ بڑی برکت والا ہے وہ کہ جس نے اتارا قرآن اپنے بندے پر جو سارے جہان کو ڈر سنانے والا ہو۔(ت)
کہیں حمد سےجیسے:
" الحمد للہ الذی انزل علی عبدہ الکتب ولم یجعل لہ عوجا ﴿۱﴾"
۔ سب خوبیاں اﷲ کو جس نے اپنے بندے پر کتاب اتاری اور اس میں اصلا کجی نہ رکھی۔(ت)
یہاں تسبیح سے ابتداء فرمائی ہے کہ:
" سبحن الذی اسری بعبدہ لیلا من المسجد الحرام" ۔ پاکی ہے اسے جو اپنے بندے کو راتوں رات لے گیا مسجد حرام سے۔(ت)
اس میں ایك صریح نکتہ یہ ہے کہ جو بات نہایت عجیب ہوتی ہے اس پر تسبیح کی جاتی ہےسبحن اﷲ الذی کیسی عمدہ چیز ہے۔سبحن کیسی عجیب بات ہے جسم کے ساتھ آسمانوں پر تشریف لے جانا کوئی زمہر یر طے فرماناکرہ نار طے فرمانا کروڑوں برس کی راہ کو چند ساعت میں طے فرمانا۔تمام ملك و ملکوت کی سیر فرمانا۔یہ تو انتہائی عجیب آیات بینات ہی ہیں۔ اتنی بات کہ کفار مکہ پر حجت قائم فرمانے کے لیے ارشاد ہوئی کہ شب کو مکہ معظمہ میں آرام فرمائیں صبح بھی مکہ معظمہ میں تشریف فرما ہوںاور رات ہی رات بیت المقدس تشریف لے جائیں اور واپس تشریف لائیں۔
حوالہ / References
القرآن الکریم ۶۲ /۲
القرآن الکریم ۴۸ /۲۸ و ۶۱ /۹
القرآن الکریم ۲۵ /۱
القرآن الکریم ۱۸ /۱
القرآن الکریم ۱۷ /۱
القرآن الکریم ۴۸ /۲۸ و ۶۱ /۹
القرآن الکریم ۲۵ /۱
القرآن الکریم ۱۸ /۱
القرآن الکریم ۱۷ /۱
کیا کم عجیب ہےاس لیے سبحن الذی ارشاد ہواکفار نے آسمان کہاں دیکھےان پر تشریف لے جانے کا ان کے سامنے ذکر ایك ایسا دعوی ہوتا جس کی وہ جانچ نہ کرسکتےبخلاف بیت المقدس جس میں ہر سال ان کے دو۲ پھیرے ہوتے۔ " رحلۃ الشتاء و الصیف ﴿۲﴾" ۔(سردی اور گرمی میں کوچ کرنا۔ت) اور وہ خوب جانتے تھے کہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کبھی وہاں تشریف نہ لے گئے تو اس معجزے کی خوب جانچ کرسکتے تھے اور ان پر حجت الہی پوری قائم ہوسکتی تھی۔چنانچہ بحمداﷲ تعالی یہ ہی ہوا کہ جب حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا بیت المقدس تشریف لے جانا اور شب ہی شب میں واپس آنا بیان فرمایاابوجہل لعین اپنے دل میں بہت خوش ہوا کہ اب ایك صریح حجت معاذ اﷲ ان کے غلط فرمانے کی مل گئیولہذا ملعون نے تکذیب ظاہر نہ کی بلکہ یہ عرض کی کہ آج ہی رات تشریف لے گئے فرمایا:ہاں۔کہاں اور آج شب میں واپس آئے فرمایا:ہاں کہاں:ارووں کے سامنے بھی ایسا ہی فرمادیجئے گا فرمایا:ہاں اب اس نے قریش کو آؤاز دی اور وہ جمع ہوئے اور حضور سے پھر اس ارشاد کا اعادہ چاہاحضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے اعادہ فرمادیا۔کافر بغلیں بجاتی صدیق اکبر کے پاس حاضر ہوئے۔یہ گمان تھا کہ ایسی ناممکن بات سن کر وہ بھی معاذ اﷲ تصدیق سے پھر جائیں گے۔صدیق سے عرض کی۔آپ نے کچھ اور بھی سنا آپ کے یار فرماتے ہیں کہ میں آج کی رات بیت المقدس گیا اور شب ہی میں واپس ہوا۔صدیق اکبر نے فرمایا:کیا وہ ایسا فرماتے ہیں کہاں:ہاں وہ یہ حرم میں تشریف فرما ہیں۔صدیق نے فرمایا۔توواﷲ حق فرمایا یہ تو مکہ سے بیت المقدس تك کا فاصلہ ہے میں تو اس پر ان کی تصدیق کرتا ہوں کہ صبح شام آسمان کی خبر ان کے پاس آتی ہےپھر کافروں نے حضور اقدس صلی اﷲ علیہ وسلم سے بیت المقدس کے نشان پوچھےجانتے تھے کہ یہ تو کبھی تشریف لے گئے نہیں کیونکر بتائیں گے وہ جو کچھ پوچھتے گئے حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ارشاد فرماتے گئے۔کافروں نے کہا:واﷲ ! نشان تو پورے صحیح ہیں۔پھر اپنے ایك قافلہ کا حال پوچھا جو بیت المقدس کو گیا ہوا تھا کہ وہ بھی راستہ میں حضور کو ملا تھا اور کہاں ملا تھا اور کیا حالت تھی کب تك آئے گا حضور نے ارشاد فرمایا:فلاں منزل میں ہم کو ملا تھا اور یہ کہ اتر کر ہم نے اس میں ایك پیالہ سے پانی پیا تھا اور اس میں ایك اونٹ بھاگا اور ایك شخص کا پاؤں
حوالہ / References
القرآن الکریم ۱۰۶ /۲
ٹوٹ گیا اور قافلہ فلاں دن طلوع شمس کے وقت آئے گا۔یہ مدت جو ارشاد ہوئی منزلوں کے حساب سے قافلہ کے لیے بھی کسی طرح کافی نہ تھی۔جب وہ دن آیا کفار پہاڑ پر چڑھ گئے کہ کسی طرح آفتاب چمك آئے اور قافلہ نہ آئے اور قافلہ نہ آئے تو ہم کہہ دیں کہ دیکھو معاذ اﷲ وہ خبر غلط ہوئی۔کچھ جانب شرق طلوع آفتاب کو دیکھ رہے تھے کچھ جانب شام راہ قافلہ پر نظررکھتے تھے ان میں سے ایك نے کہا:وہ آفتاب چمکاکہ ان میں سے دوسر ابولا کہ وہ قافلہ آیا۔یہ ہوتی ہے سچی نبوت جس کی خبر میں سرموفرق آنا محال ہے۔
قادیانی سے زیادہ تو ان کفار مکہ ہی کی عقل تھی وہ جانتے تھے کہ ایك بات میں بھی کہیں فرق پڑ جائے تو دعوی نبوت معاذ اﷲ غلط ہوجائے گا۔مگر یہ جھوٹا نبی ہے کہ جھوٹ کے پھینکے اڑاتا ہے اور نہ وہ شرماتا ہے۔اور نہ اس کے ماننے والوں کو اس کا حس ہوتا ہے بلکہ دریکمال شوخ چشمی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہتا ہے کہ ہاں ہاں اگلے چار سو انبیاء کی بھی پیشگوئیاں غلط ہوئیں اور وہ جھوٹے یعنی پنجاب کا جھوٹا کذاب نبی اگر دروغ گو نکلا کیا پروا ہ ہے اس سے پہلے بھی چار سو نبی جھوٹے گزر چکے ہیں۔یہ کوئی نہیں پوچھتا کہ جب نبوت اور جھوٹ جمع ہوسکتے ہیں تو انبیاء کی تصدیق شرط ایمان کیوں ہوئی انکی تکذیب کفر کیوں ہوئی۔
ولکن لعنۃ اﷲ علی الظلمین الذین یکذبون المرسلین۔ لیکن اﷲ تعالی کی لعنت ہو ان ظالموں پر جو رسولوں کو جھٹلاتے ہیں۔(ت)
ان عظیم وقائع نے معراج مبارك کا جسمانی ہونا بھی آفتاب سے زیادہ واضح کردیا اگر وہ کوئی روحانی سیر یا خواب تھا تواس پر تعجب کیا۔زید و عمر و خواب میں حرمین شریفین تك ہو آتے ہیں اور پھر صبح اپنے بستر پر ہیں۔رؤیا کے لفظ سے استدلال کرنا اور الافتنۃ للناس نہ دیکھنا صریح خطا ہے۔رؤیا بمعنی رویت آتا ہے۔اور فتنہ و آزمائش بیداری ہی میں ہے نہ کہ خواب میں ولہذا ارشاد ہوا۔
" سبحن الذی اسری بعبدہ" ۔ پاکی ہے اسے جو اپنے بندے کو لے گیا۔(ت)واﷲ تعالی اعلم۔
(۷)رات تجلی لطفی ہے اور دن تجلی قہریاور معراج کمال لطف ہے جس سے مافوق متصور نہیںلہذا تجلی لطفی ہی کا وقت مناسب تھا۔معراج وصل محب و محبوب ہے اور وصال کے لیے
قادیانی سے زیادہ تو ان کفار مکہ ہی کی عقل تھی وہ جانتے تھے کہ ایك بات میں بھی کہیں فرق پڑ جائے تو دعوی نبوت معاذ اﷲ غلط ہوجائے گا۔مگر یہ جھوٹا نبی ہے کہ جھوٹ کے پھینکے اڑاتا ہے اور نہ وہ شرماتا ہے۔اور نہ اس کے ماننے والوں کو اس کا حس ہوتا ہے بلکہ دریکمال شوخ چشمی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہتا ہے کہ ہاں ہاں اگلے چار سو انبیاء کی بھی پیشگوئیاں غلط ہوئیں اور وہ جھوٹے یعنی پنجاب کا جھوٹا کذاب نبی اگر دروغ گو نکلا کیا پروا ہ ہے اس سے پہلے بھی چار سو نبی جھوٹے گزر چکے ہیں۔یہ کوئی نہیں پوچھتا کہ جب نبوت اور جھوٹ جمع ہوسکتے ہیں تو انبیاء کی تصدیق شرط ایمان کیوں ہوئی انکی تکذیب کفر کیوں ہوئی۔
ولکن لعنۃ اﷲ علی الظلمین الذین یکذبون المرسلین۔ لیکن اﷲ تعالی کی لعنت ہو ان ظالموں پر جو رسولوں کو جھٹلاتے ہیں۔(ت)
ان عظیم وقائع نے معراج مبارك کا جسمانی ہونا بھی آفتاب سے زیادہ واضح کردیا اگر وہ کوئی روحانی سیر یا خواب تھا تواس پر تعجب کیا۔زید و عمر و خواب میں حرمین شریفین تك ہو آتے ہیں اور پھر صبح اپنے بستر پر ہیں۔رؤیا کے لفظ سے استدلال کرنا اور الافتنۃ للناس نہ دیکھنا صریح خطا ہے۔رؤیا بمعنی رویت آتا ہے۔اور فتنہ و آزمائش بیداری ہی میں ہے نہ کہ خواب میں ولہذا ارشاد ہوا۔
" سبحن الذی اسری بعبدہ" ۔ پاکی ہے اسے جو اپنے بندے کو لے گیا۔(ت)واﷲ تعالی اعلم۔
(۷)رات تجلی لطفی ہے اور دن تجلی قہریاور معراج کمال لطف ہے جس سے مافوق متصور نہیںلہذا تجلی لطفی ہی کا وقت مناسب تھا۔معراج وصل محب و محبوب ہے اور وصال کے لیے
حوالہ / References
القرآن الکریم ۱۷ /۱
عادۃ شب ہی انسب مانی جاتی ہے معراج ایك معجزہ عظیم قاہرہ ظاہرہ تھا۔اور سنت الہیہ ہے کہ ایسے واضح معجزہ کو دیکھ کر جو قوم نہ مانے ہلاك کردی جاتی ہے ان پر عذاب عام بھیجا جاتا ہےجیسے اگلی امتوں میں بکثرت واقع ہوا۔معراج کو شریف لے جانا اگر دن میں ہوتا تو یا سب ایمان لے آتے یا سب ہلاك کیے جاتےایمان تو کفار کے مقدر میں تھا نہیں تو یہ ہی شق رہی کہ ان پر عذاب عام اترتا اور حضور بھیجے گئے سارے جہان کے لیے رحمتجنہیں ان کا رب فرماتا ہے:
" وما کان اللہ لیعذبہم وانت فیہم " ۔ اے رحمت عالم ! جب تك تم ان میں تشریف فرما ہو اﷲ انہیں عذاب کرنے والا نہیں۔
لہذا شب ہی مناسب ہوئی۔
(۸)تصانیف علماء میں قصص الانبیاء دیکھئے اگر کوئی خاص بات دریافت کرنی ہو تو پوچھیے۔
حضرت عزیز علیہ السلام کا قصہ قرآن عظیم ہی میں مذکور ہے کہ ان کی روح قبض فرمائی پھر سو برس بعد زندہ فرمایاکھانا پانی جو ساتھ تھا وہ اس سو برس میں نہ بگڑا۔اور سواری کے لیے جانور کی ہڈیاں بھی گل چکی تھیںان کی نظر کے سامنے اس کی ہڈیاں ابھاریں ان پر گوشت چڑھایا اسے زندہ فرمایا ۔
حضرت خضر علیہ السلام کا قصہ سیدنا موسی علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ بھی قرآن عظیم میں ہے ۔
حضرت ادریس علیہ الصلوۃ والسلام کو دنیا سے مع جسم بہشت بریں میں اٹھالیا
" واذکر فی الکتب ادریس ۫ انہ کان صدیقا نبیا ﴿٭۵۶﴾ ورفعنہ مکانا علیا ﴿۵۷﴾ " ۔ اورکتاب میں ادریس کو یاد کرو بے شك وہ صدیق تھاغیب کی خبریں دیتا اور ہم نے اسے بلند مقام کی طرف اٹھالیا۔(ت)
" وما کان اللہ لیعذبہم وانت فیہم " ۔ اے رحمت عالم ! جب تك تم ان میں تشریف فرما ہو اﷲ انہیں عذاب کرنے والا نہیں۔
لہذا شب ہی مناسب ہوئی۔
(۸)تصانیف علماء میں قصص الانبیاء دیکھئے اگر کوئی خاص بات دریافت کرنی ہو تو پوچھیے۔
حضرت عزیز علیہ السلام کا قصہ قرآن عظیم ہی میں مذکور ہے کہ ان کی روح قبض فرمائی پھر سو برس بعد زندہ فرمایاکھانا پانی جو ساتھ تھا وہ اس سو برس میں نہ بگڑا۔اور سواری کے لیے جانور کی ہڈیاں بھی گل چکی تھیںان کی نظر کے سامنے اس کی ہڈیاں ابھاریں ان پر گوشت چڑھایا اسے زندہ فرمایا ۔
حضرت خضر علیہ السلام کا قصہ سیدنا موسی علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ بھی قرآن عظیم میں ہے ۔
حضرت ادریس علیہ الصلوۃ والسلام کو دنیا سے مع جسم بہشت بریں میں اٹھالیا
" واذکر فی الکتب ادریس ۫ انہ کان صدیقا نبیا ﴿٭۵۶﴾ ورفعنہ مکانا علیا ﴿۵۷﴾ " ۔ اورکتاب میں ادریس کو یاد کرو بے شك وہ صدیق تھاغیب کی خبریں دیتا اور ہم نے اسے بلند مقام کی طرف اٹھالیا۔(ت)
حوالہ / References
القرآن لکریم ۸ /۳۳
القرآن لکریم ۲ /۲۵۹
القرآن لکریم ۱۸/ ۶۵ تا ۸۲
القرآن لکریم ۱۹/ ۵۶ و ۵۷
القرآن لکریم ۲ /۲۵۹
القرآن لکریم ۱۸/ ۶۵ تا ۸۲
القرآن لکریم ۱۹/ ۵۶ و ۵۷
الیاس علیہ الصلوۃ والسلام مرسلین کرام میں ہیںانبیاء علیہم الصلوۃ والسلام سب بحیات حقیقی روحانی جسمانی زندہ ہیںان کی موت صرف ایك آن کو تصدیق وعدہ الہیہ کے لیے ہوتی ہےجمہور علماء کے نزدیك چار نبی بے عروض موت اب تك زندہ ہیںدو آسمان پرسیدنا ادریس و سیدنا عیسی اور دو ز مین میںسیدنا الیاس و سیدنا خضر علیہم الصلوۃ والسلام اور یہ دونوں حضرات ہر سال حج کرتے ہیں اور ختم حج پر زمزم شریف کے پاس باہم ملتے ہیںاور آب زمزم شریف پیتے ہیں کہ آئندہ سال تك ان کے لیے کافی ہوتا ہے پھر کھانے پینے کی حاجت نہیں ہوتی۔ان کلمات پر باہم ملاقات ختم فرماتے ہیں:
سبحان اﷲ ماشاء اﷲ لایسوق الخیر الا اﷲ ماشاء اﷲ لایصلح السوء الا اﷲ ماشاء اﷲ ماکان من نعمۃ فمن اﷲ ماشاء اﷲ لاحول ولاقوۃ الا باﷲ ۔ اﷲ تعالی پاك ہے جو اﷲ چاہےبھلائی نہیں لاتامگر اﷲ جس قدر چاہے جو بھی نعمت ہے وہ اﷲ ہی کی طرف ہے جس قدر اﷲ چاہےنہ گناہ سے بچنے کی طاقت ہے اور نہ ہی نیکی کرنے کی قوت ہے مگر اﷲ تعالی کی توفیق سے۔(ت)
الیاس علیہ الصلوۃ والسلام لشکر اقدس حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو ایك غار میں یہ دعا کرتے ملتے۔
اللھم اجعلنی من امۃ احمد المرحومۃ المبارکۃ المستجاب لھا ۔ اے اﷲ ! مجھے احمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی امت سے بنا دے جس پر تیری رحمت و برکت نازل ہوتی ہے اور جس کی دعائیں قبول کی جاتی ہیں۔(ت)
خضر علیہ الصلوۃ والسلام بعد وصال اقدس حضور سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی تعزیت کے لیے صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم کے پاس تشریف لائےمسجد نبوی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے راستہ میں امیرا لمومنین عمر بن عبدالعزیز رضی اﷲ تعالی عنہ سے باتیں کرتے اور ان پر تکیہ لگاتے ہوئے راہ چلتے نظر آئےاکابر اولیاء کے پاس اکثر تشریف لاتےحضور سیدنا غوث اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ کی مجالس وعظ میں بکثرت کرم فرمایااور اب تك اولیاء سے ملتے ہیںجنگل میں بے بسی کے وقت
سبحان اﷲ ماشاء اﷲ لایسوق الخیر الا اﷲ ماشاء اﷲ لایصلح السوء الا اﷲ ماشاء اﷲ ماکان من نعمۃ فمن اﷲ ماشاء اﷲ لاحول ولاقوۃ الا باﷲ ۔ اﷲ تعالی پاك ہے جو اﷲ چاہےبھلائی نہیں لاتامگر اﷲ جس قدر چاہے جو بھی نعمت ہے وہ اﷲ ہی کی طرف ہے جس قدر اﷲ چاہےنہ گناہ سے بچنے کی طاقت ہے اور نہ ہی نیکی کرنے کی قوت ہے مگر اﷲ تعالی کی توفیق سے۔(ت)
الیاس علیہ الصلوۃ والسلام لشکر اقدس حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو ایك غار میں یہ دعا کرتے ملتے۔
اللھم اجعلنی من امۃ احمد المرحومۃ المبارکۃ المستجاب لھا ۔ اے اﷲ ! مجھے احمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی امت سے بنا دے جس پر تیری رحمت و برکت نازل ہوتی ہے اور جس کی دعائیں قبول کی جاتی ہیں۔(ت)
خضر علیہ الصلوۃ والسلام بعد وصال اقدس حضور سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی تعزیت کے لیے صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم کے پاس تشریف لائےمسجد نبوی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے راستہ میں امیرا لمومنین عمر بن عبدالعزیز رضی اﷲ تعالی عنہ سے باتیں کرتے اور ان پر تکیہ لگاتے ہوئے راہ چلتے نظر آئےاکابر اولیاء کے پاس اکثر تشریف لاتےحضور سیدنا غوث اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ کی مجالس وعظ میں بکثرت کرم فرمایااور اب تك اولیاء سے ملتے ہیںجنگل میں بے بسی کے وقت
حوالہ / References
تاریخ دمشق الکبیر ترجمہ ۱۰۰۴الیاس بن عیسٰی علیہ السلام داراحیاء التراث العربی بیروت ۹ /۱۵۵
تاریخ دمشق الکبیر ترجمہ ۱۰۰۴ الیاس بن عیسٰی علیہ السلام داراحیاء التراث العربی بیروت۹/ ۱۵۸
تاریخ دمشق الکبیر ترجمہ ۱۰۰۴ الیاس بن عیسٰی علیہ السلام داراحیاء التراث العربی بیروت ۹/ ۱۵۹
تاریخ دمشق الکبیر ترجمہ ۱۰۰۴ الیاس بن عیسٰی علیہ السلام داراحیاء التراث العربی بیروت۹/ ۱۵۸
تاریخ دمشق الکبیر ترجمہ ۱۰۰۴ الیاس بن عیسٰی علیہ السلام داراحیاء التراث العربی بیروت ۹/ ۱۵۹
مسلمانوں کی مدد فرماتے ہیں۔
(۹)ان احادیث کی تفصیل خصائص کبری امام جلال الدین سیوطی و کتاب الاشاعۃ فی اشراط الساعۃ سیدنا علامہ محمد ابن عبدالرسول برزنجی وغیرہما میں ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۹۹و۲۰۰: مرسلہ حکیم عبدالجبار خان دہام پور ضلع بجنور ۲۹ ربیع الاول شریف ۱۳۳۵ھ
(۱)کیا سید پر دوزخ کی آنچ قطع حرام ہےاور وہ کسی بداعمالی کی پاداش میں دوزخ میں جاہی نہ سکے گا
(۲)آل فاطمہ کا مخصوص اعزاز و امتیاز کیا حضرت فاطمہ خاتون جنت کے ذریعہ سے ہے کیونکہ جناب سیدہ موصوفہ سید کونین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی صاحبزادی ہیں یا حضرت علی کرم اﷲ تعالی وجہہ کی ذات خاص کی بدولت یہ رتبہ سادات ہے فقط۔
الجواب:
(۱)سادات کرام جوواقعی علم الہی میں سادات ہوں ان کے بارے میں رب عزوجل سے امید واثق یہی ہے کہ آخرت میں ان کو کسی گناہ پر عذاب نہ دیا جائے گا۔حدیث میں ہے:
انما سیت فاطمۃ لان اﷲ تعالی حرمھا وذریتہا علی النار ۔ ان کا فاطمہ نام اس لیے ہوا کہ اﷲ نے ان کو اور ان کی تمام ذریت کو نار پر حرام فرمادیا۔
دوسری حدیث میں ہے کہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے حضرت بتول زہرا رضی اﷲ تعالی عنہا سے فرمایا:
ان اﷲ غیر معذبك ولا ولدك اوکما قال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ۔ اے فاطمہ ! اﷲ نہ تجھے عذاب کرے گا نہ تیری اولاد میں کسی کومگر حکم قطعی بے نص قطعی ناممکن ہے۔
(۲)امیر المومنین مولی علی کرم اﷲ تعالی وجہہ کی اولاد امجاد اور بھی ہیں قریشی ہاشمی علوی ہونے سے ان کا دامان فضائل مالا مال ہے مگر یہ شرف اعظم حضرت سادات کرام کو ہےان
(۹)ان احادیث کی تفصیل خصائص کبری امام جلال الدین سیوطی و کتاب الاشاعۃ فی اشراط الساعۃ سیدنا علامہ محمد ابن عبدالرسول برزنجی وغیرہما میں ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۹۹و۲۰۰: مرسلہ حکیم عبدالجبار خان دہام پور ضلع بجنور ۲۹ ربیع الاول شریف ۱۳۳۵ھ
(۱)کیا سید پر دوزخ کی آنچ قطع حرام ہےاور وہ کسی بداعمالی کی پاداش میں دوزخ میں جاہی نہ سکے گا
(۲)آل فاطمہ کا مخصوص اعزاز و امتیاز کیا حضرت فاطمہ خاتون جنت کے ذریعہ سے ہے کیونکہ جناب سیدہ موصوفہ سید کونین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی صاحبزادی ہیں یا حضرت علی کرم اﷲ تعالی وجہہ کی ذات خاص کی بدولت یہ رتبہ سادات ہے فقط۔
الجواب:
(۱)سادات کرام جوواقعی علم الہی میں سادات ہوں ان کے بارے میں رب عزوجل سے امید واثق یہی ہے کہ آخرت میں ان کو کسی گناہ پر عذاب نہ دیا جائے گا۔حدیث میں ہے:
انما سیت فاطمۃ لان اﷲ تعالی حرمھا وذریتہا علی النار ۔ ان کا فاطمہ نام اس لیے ہوا کہ اﷲ نے ان کو اور ان کی تمام ذریت کو نار پر حرام فرمادیا۔
دوسری حدیث میں ہے کہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے حضرت بتول زہرا رضی اﷲ تعالی عنہا سے فرمایا:
ان اﷲ غیر معذبك ولا ولدك اوکما قال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ۔ اے فاطمہ ! اﷲ نہ تجھے عذاب کرے گا نہ تیری اولاد میں کسی کومگر حکم قطعی بے نص قطعی ناممکن ہے۔
(۲)امیر المومنین مولی علی کرم اﷲ تعالی وجہہ کی اولاد امجاد اور بھی ہیں قریشی ہاشمی علوی ہونے سے ان کا دامان فضائل مالا مال ہے مگر یہ شرف اعظم حضرت سادات کرام کو ہےان
حوالہ / References
الجامع الصغیرحدیث ۲۳۰۹دارالکتب العلمیۃ بیروت۱ /۱۳۹،المواھب الدنیۃ المقصد الثانیالفصل الثانی المکتب الاسلامی بیروت۲ /۶۴
المعجم الکبیر حدیث ۱۱۶۸۵المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۱۱ /۲۶۳
المعجم الکبیر حدیث ۱۱۶۸۵المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۱۱ /۲۶۳
کے لیے نہیں یہ شرف حضرت بتول زہرا کی طرف سے ہے کہ۔
فاطمۃ بضعۃ منی ۔
کل بنی ادم ینتمون الی عصبۃ ابیھم الابنی فاطمۃ فانا ابوھم ۔ فاطمہ میرا ٹکڑا ہے۔
سب کی اولادیں اپنے باپ کی طرف نسبت کی جاتی ہیں سوائے اولاد فاطمہ کے کہ میں ان کا باپ ہوں۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۲۰۱: ازا مروہہ مرسلہ رفیق احمد صاحب عباسی محلہ ۱۹ ربیع الاول شریف ۱۳۳۶ھ
مرشدی و مولائی مدفیوضکم العالی!
بعد آداب و نیاز غلامانہ گزارش ہے کہ یہاں بعض اشخاص اس امر کے مدعی ہیں کہ سادات بنی فاطمہ علیہا الصلوۃ والسلام میں سے کوئی متنفس خواہ وہ کوئی مشرب رکھتا ہو اور کیسے ہی اعمال کا ہونا ر دوزخ سے بری ہے اور ثبوت میں آیت تطہیر و حدیث اکرموااولادی ۔الخ(میری اولادکا احترام کرو۔ت)وغیرہ کے علاوہ شیخ اکبر محی الدین ابن عربی کی فتوحات مکیہ کا باب سلمان فارسی پیش کرتے ہیں اس کے متعلق آں قبلہ کی جو کچھ رائے اقدس ہو اس سے مطلع فرمائیےزیادہ آرزوئے قدمبوسی فقط۔
الجواب:
سید کوئی مشرب رکھتا ہو یہ لفظ بہت وسیع ہےآج کل بہت مشرب صریح کفر و ارتداد کے ہیں جیسے قادیانینیچری رافضی وہابیچکڑالویدیوبندی وغیرہمجو مشرب رکھتا ہو ہر گز سید نہیں۔
" انہ لیس من اہلک انہ عمل غیر صلح ۫٭" ۔ وہ تیرے گھر والوںمیں سے نہیںبے شك اس کے کام بہت نالائق ہیں۔(ت)
فاطمۃ بضعۃ منی ۔
کل بنی ادم ینتمون الی عصبۃ ابیھم الابنی فاطمۃ فانا ابوھم ۔ فاطمہ میرا ٹکڑا ہے۔
سب کی اولادیں اپنے باپ کی طرف نسبت کی جاتی ہیں سوائے اولاد فاطمہ کے کہ میں ان کا باپ ہوں۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۲۰۱: ازا مروہہ مرسلہ رفیق احمد صاحب عباسی محلہ ۱۹ ربیع الاول شریف ۱۳۳۶ھ
مرشدی و مولائی مدفیوضکم العالی!
بعد آداب و نیاز غلامانہ گزارش ہے کہ یہاں بعض اشخاص اس امر کے مدعی ہیں کہ سادات بنی فاطمہ علیہا الصلوۃ والسلام میں سے کوئی متنفس خواہ وہ کوئی مشرب رکھتا ہو اور کیسے ہی اعمال کا ہونا ر دوزخ سے بری ہے اور ثبوت میں آیت تطہیر و حدیث اکرموااولادی ۔الخ(میری اولادکا احترام کرو۔ت)وغیرہ کے علاوہ شیخ اکبر محی الدین ابن عربی کی فتوحات مکیہ کا باب سلمان فارسی پیش کرتے ہیں اس کے متعلق آں قبلہ کی جو کچھ رائے اقدس ہو اس سے مطلع فرمائیےزیادہ آرزوئے قدمبوسی فقط۔
الجواب:
سید کوئی مشرب رکھتا ہو یہ لفظ بہت وسیع ہےآج کل بہت مشرب صریح کفر و ارتداد کے ہیں جیسے قادیانینیچری رافضی وہابیچکڑالویدیوبندی وغیرہمجو مشرب رکھتا ہو ہر گز سید نہیں۔
" انہ لیس من اہلک انہ عمل غیر صلح ۫٭" ۔ وہ تیرے گھر والوںمیں سے نہیںبے شك اس کے کام بہت نالائق ہیں۔(ت)
حوالہ / References
صحیح البخاری کتاب المناقب مناقبِ فاطمۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۵۳۲،صحیح البخاری کتاب المناقب باب مناقب قرابت رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۵۲۶،صحیح مسلم کتاب الفضائل باب فضائل من فاطمہ رضی اﷲ عنہما قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۲۹۰
الاسرار المرفوعۃ فی اخبار الموضوعۃ حرف الکاف حدیث ۶۷۸ دارالکتب العلمیۃ بیروت ص ۱۷۶
القرآن الکریم ۱۱ /۴۶
الاسرار المرفوعۃ فی اخبار الموضوعۃ حرف الکاف حدیث ۶۷۸ دارالکتب العلمیۃ بیروت ص ۱۷۶
القرآن الکریم ۱۱ /۴۶
ہاں سلامت ایمان کے اعمال کیسے ہی ہوں اﷲ عزوجل کے کرم سے امید واثق یہ ہی ہے کہ جواس کے علم میں سید ہیں ان سے اصلا کسی گناہ پر کچھ مواخذہ نہ فرمائےحدیث ہے حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ان فاطمۃ احصنت فرجھا فحرمھا اﷲ وذریتہا علی النار رواہ البزار و ابویصلی والطبرانی فی الکبیر و الحاکم وصح وتمام فی فوائد ہ کلھم عن عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ۔ بے شك فاطمہ نے اپنی پارسائی کی حفاظت کی تو اﷲ تعالی نے اس پر اورا س کی اولاد پر دوزخ کی آگ حرام فرمادی۔اس کو بزارابویعلیطبرانی نے معجم کبیر میںاور حاکم نے روایت کیا اور اس کی تصیح کی۔یہ تمام اس کے فوائد میں ہےسب نے اس کو عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا۔ت)
اسی باب میں اور احادیث بھی وارد ہیں کہ ذریت بتول زہرا عذاب سے محفوظ ہے۔
و زعم المناوی اماھی وابناھا فالمراد فی حقھم التحریم المطلقواما من عداھم فالمحرم علیھم نار الخلود اھ ورأیتنی کتبت علیہ اقول:قد علم المحفوظون من اھل السنۃ والجماعۃ ان نارالخلو: محرمۃ علی کل من قال لا الہ الا اﷲ فما خصوصیۃ ذریۃ زھراء بل المعنی بحول العزیز المقتدر ھو التعمیم واﷲ ذوالفضل العظیم۔واﷲ تعالی اعلم مناوی نے کہا کہ خود خاتون جنت اور ا ن کے دونوں بیٹوں کے حق میں تو مطلقا دوزخ کا حرام ہونا مراد ہے۔لیکن ان کے غیر میں دائمی طور پر دوزخ میں رہنا حرام ہے اھ۔مجھے یاد ہے کہ میں نے اس پر یوں لکھا۔اقول:(میں کہتا ہوں)اہل سنت و جماعت جو کہ محفوظ ہیں جانتے ہیں کہ دوزخ میں دائمی طور پر رہنا تو ہر اس شخص پر حرام ہے جس نے لا الہ الا اﷲ کہا۔اس میں سیدہ زہرا رضی ا ﷲ تعالی عنہا کی اولاد کی کیا تخصیص ہوئی بلکہ عزت واقتدار والے معبود کی توفیق سے معنی میں تعمیم ہے یعنی مطلقا حرمت اﷲ تعالی فضل وعظمت والا ہے۔(ت)
ان فاطمۃ احصنت فرجھا فحرمھا اﷲ وذریتہا علی النار رواہ البزار و ابویصلی والطبرانی فی الکبیر و الحاکم وصح وتمام فی فوائد ہ کلھم عن عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ۔ بے شك فاطمہ نے اپنی پارسائی کی حفاظت کی تو اﷲ تعالی نے اس پر اورا س کی اولاد پر دوزخ کی آگ حرام فرمادی۔اس کو بزارابویعلیطبرانی نے معجم کبیر میںاور حاکم نے روایت کیا اور اس کی تصیح کی۔یہ تمام اس کے فوائد میں ہےسب نے اس کو عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا۔ت)
اسی باب میں اور احادیث بھی وارد ہیں کہ ذریت بتول زہرا عذاب سے محفوظ ہے۔
و زعم المناوی اماھی وابناھا فالمراد فی حقھم التحریم المطلقواما من عداھم فالمحرم علیھم نار الخلود اھ ورأیتنی کتبت علیہ اقول:قد علم المحفوظون من اھل السنۃ والجماعۃ ان نارالخلو: محرمۃ علی کل من قال لا الہ الا اﷲ فما خصوصیۃ ذریۃ زھراء بل المعنی بحول العزیز المقتدر ھو التعمیم واﷲ ذوالفضل العظیم۔واﷲ تعالی اعلم مناوی نے کہا کہ خود خاتون جنت اور ا ن کے دونوں بیٹوں کے حق میں تو مطلقا دوزخ کا حرام ہونا مراد ہے۔لیکن ان کے غیر میں دائمی طور پر دوزخ میں رہنا حرام ہے اھ۔مجھے یاد ہے کہ میں نے اس پر یوں لکھا۔اقول:(میں کہتا ہوں)اہل سنت و جماعت جو کہ محفوظ ہیں جانتے ہیں کہ دوزخ میں دائمی طور پر رہنا تو ہر اس شخص پر حرام ہے جس نے لا الہ الا اﷲ کہا۔اس میں سیدہ زہرا رضی ا ﷲ تعالی عنہا کی اولاد کی کیا تخصیص ہوئی بلکہ عزت واقتدار والے معبود کی توفیق سے معنی میں تعمیم ہے یعنی مطلقا حرمت اﷲ تعالی فضل وعظمت والا ہے۔(ت)
حوالہ / References
الجامع الصغیر بحوالہ البزاروع،طب،ک،حدیث ۲۳۰۹ دارالکتب العلمیہ بیروت ۱ /۱۳۹
فیض القدیر شرح الجامع الصغیر طب،ک،دارالمعرفۃ بیروت۲ /۴۶۲
فیض القدیر شرح الجامع الصغیر طب،ک،دارالمعرفۃ بیروت۲ /۴۶۲
مسئلہ ۲۰۲: مرسلہ از محمد ابراہیم موضع گردھر پور ڈاکخانہ رچھا ضلع بریلی
ایك شخص نجابت خاں جاہل اور بدعقیدہ ہے اور سود خوار بھی ہےنماز روز خیرات وغیرہ کرنا بے کار محض سمجھتا ہےاس شخص کی نسبت عام طور پر جملہ مسلمانان واہل ہنود میں یہ بات مشہور ہے کہ اگر صبح کو اس کی منحوس صورت دیکھ لی جائے یا کہیں کام کو جاتے ہوئے یہ سامنے آجائے تو ضرور کچھ نہ کچھ وقت اور پریشانی اٹھانی پڑے گی اور چاہے کیسا ہی یقینی طور پر کام ہوجانے کا وثوق ہو لیکن ان کا خیال ہے کہ کچھ نہ کچھ ضرور رکاوٹ اور پریشانی ہوگی چنانچہ ان لوگوں کو ان کے خیال کے مناسب بربار تجربہ ہوتا رہتا ہے اور وہ لوگ برابر اس امر کا خیال رکھتے ہیں کہ اگر کہیں جاتے ہوئے سامنی پڑگیا تو اپنے مکان کو واپس جاتے ہیں اور چندے توقف کرکے یہ معلوم کرکے وہ منحوس سامنے تو نہیں ہے جاتے ہیںاب سوال یہ ہے کہ ان لوگوں کا یہ عقیدہ اور طرز عمل کیسا ہے کوئی قباحت شرعیہ تو نہیں
الجواب:
شرع مطہر میں اس کی کچھ اصل نہیںلوگوں کا وہم سامنے آتا ہے۔شریعت میں حکم ہے:اذا تطیرتم فامضوا ۔جب کوئی شگون بدگمان میں آئے تو اس پر عمل نہ کرووہ طریقہ محض ہندوانہ ہے مسلمانوں کو ایسی جگہ چاہیے کہ:
اللھم لا طیر الا طیرك ولا خیرالا خیرك ولا الہ غیرک ۔ اے اﷲ ! نہیں ہے کوئی برائی مگر تیری طرف سے اور نہیں ہے کوئی بھلائی مگر تیری طرف سے اور تیرے بغیر کوئی معبود نہیں۔(ت)پڑھ لےاور اپنے رب پر بھروسا کرکے اپنے کام کو چلا جائےہر گز نہ رکے نہ واپس آئے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۰۳تا ۲۰۶:از اکبر آباد محلہ گھٹا اعظم کان مکان منشی مظفر حسین خاں مختار مرسلہ محمد رضی الدین چشتی نظامی ۲ جمادی الاولی ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں کہ:
(۱)مشرك داخل سلسلہ کسی مشائخ سلسلہ سے کس حیثیت سے اور کس طرح پر داخل سلسلہ ہوسکتا ہے
ایك شخص نجابت خاں جاہل اور بدعقیدہ ہے اور سود خوار بھی ہےنماز روز خیرات وغیرہ کرنا بے کار محض سمجھتا ہےاس شخص کی نسبت عام طور پر جملہ مسلمانان واہل ہنود میں یہ بات مشہور ہے کہ اگر صبح کو اس کی منحوس صورت دیکھ لی جائے یا کہیں کام کو جاتے ہوئے یہ سامنے آجائے تو ضرور کچھ نہ کچھ وقت اور پریشانی اٹھانی پڑے گی اور چاہے کیسا ہی یقینی طور پر کام ہوجانے کا وثوق ہو لیکن ان کا خیال ہے کہ کچھ نہ کچھ ضرور رکاوٹ اور پریشانی ہوگی چنانچہ ان لوگوں کو ان کے خیال کے مناسب بربار تجربہ ہوتا رہتا ہے اور وہ لوگ برابر اس امر کا خیال رکھتے ہیں کہ اگر کہیں جاتے ہوئے سامنی پڑگیا تو اپنے مکان کو واپس جاتے ہیں اور چندے توقف کرکے یہ معلوم کرکے وہ منحوس سامنے تو نہیں ہے جاتے ہیںاب سوال یہ ہے کہ ان لوگوں کا یہ عقیدہ اور طرز عمل کیسا ہے کوئی قباحت شرعیہ تو نہیں
الجواب:
شرع مطہر میں اس کی کچھ اصل نہیںلوگوں کا وہم سامنے آتا ہے۔شریعت میں حکم ہے:اذا تطیرتم فامضوا ۔جب کوئی شگون بدگمان میں آئے تو اس پر عمل نہ کرووہ طریقہ محض ہندوانہ ہے مسلمانوں کو ایسی جگہ چاہیے کہ:
اللھم لا طیر الا طیرك ولا خیرالا خیرك ولا الہ غیرک ۔ اے اﷲ ! نہیں ہے کوئی برائی مگر تیری طرف سے اور نہیں ہے کوئی بھلائی مگر تیری طرف سے اور تیرے بغیر کوئی معبود نہیں۔(ت)پڑھ لےاور اپنے رب پر بھروسا کرکے اپنے کام کو چلا جائےہر گز نہ رکے نہ واپس آئے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۰۳تا ۲۰۶:از اکبر آباد محلہ گھٹا اعظم کان مکان منشی مظفر حسین خاں مختار مرسلہ محمد رضی الدین چشتی نظامی ۲ جمادی الاولی ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں کہ:
(۱)مشرك داخل سلسلہ کسی مشائخ سلسلہ سے کس حیثیت سے اور کس طرح پر داخل سلسلہ ہوسکتا ہے
حوالہ / References
فتح الباری کتاب الطب باب الطیرۃ مصطفٰی البابی مصر۱۲ /۳۲۳
فتح الباری کتاب الطب باب الطیرۃ مصطفٰی البابی مصر ۱۲ /۳۲۳،کنزالعمال حدیث ۲۸۵۸۸ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۰ /۱۱۵
فتح الباری کتاب الطب باب الطیرۃ مصطفٰی البابی مصر ۱۲ /۳۲۳،کنزالعمال حدیث ۲۸۵۸۸ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۰ /۱۱۵
مشرك کی آلودگی ظاہر اس میں نمایاں ہو جیسے اہل ہنود میں سی۔
(۲)ایسے شخص کی بیعت کسی مشائخ سلسلہ سے کب معتبر اور کیسی ہوگی
(۳)ایسا مشرك کسی مشائخ سلسلہ کا خلیفہ اور صاحب اجازت یا صاحب مجاز ہوسکتا ہے جس کی نسبت یقینا بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ شریعت کا پابند نہیںنہ اس نے احکام شریعت کی بظاہر پابندی کی۔دائرہ اسلام میں بظاہر شامل نہیں ہوا۔نہ اس نے شرك و کفر و فسق و فجور سے کسی جلسہ عام مسلمانوں میں توبہ کینہ توبہ کا شاہد بنایا۔
(۴)عوام الناس اپنی اغراض نفسانی سے ایسے شخص کو جس کی نسبت عرض کیا جارہا ہے اس کو رشدو ہدایت کا اپنی ہادی بناسکتے ہیں یا نہیں۔
الجواب:
لا الہ الا اﷲ کوئی کافر خواہ مشرك ہو یا موحد ہر گز نہ داخل سلسلہ ہوسکتا ہے۔نہ بے اسلام اس کی بیعت معتبر ہوسکتی ہےنہ قبل اسلام اس کی بیعت معتبر ہواگرچہ بعد کو مسلمان ہوجائے کہ بیعت ہو یا کوئی عملسب کے لیے پہلی شرط اسلام ہے قال تعالی:
" و قدمنا الی ما عملوا من عمل فجعلنہ ہباء منثورا ﴿۲۳﴾"
۔ اور جو کچھ انہوں نے کام کیے تھے ہم نے قصد فرما کر انہیں باریك باریك غبار کے بکھرے ہوئے ذرے کردیا کہ روزن کی دھوپ میں نظر آتے ہیں(ت)
جو اس کے کفر پر رہتے ہوئے اسے مجاز و ماذون بعیت و خلیفہ طریقت کرے اور جو اسے پیررشد و ہدایت سمجھے یہ سب کافر ہوجائیں گے۔بزازیہمجمع الانہرو درمختار وغیرہ میں ہے:
من شك فی کفرہ فقدکفر ۔ جس نے اس کے کفر میں شك کیا وہ کافر ہوگیا۔(ت)
ہاں اگر وقت بیعت اس نے کلمہ طیبہ پڑھا اور دین اسلام کا مقر ہوا تو بیعت صحیح ہوئی اور اس کے بعد قبل اظہار کفر ماذون کیا تو پیر پر الزام نہیں مگر جب بعد کو اس نے کفر کیا مرتد ہوگیا بیعت فسخ ہوگئی اب جو اسے ہادی بنائے یہ کافر ہوگاوالعیاذ باﷲ تعالی واﷲ تعالی اعلم۔
(۲)ایسے شخص کی بیعت کسی مشائخ سلسلہ سے کب معتبر اور کیسی ہوگی
(۳)ایسا مشرك کسی مشائخ سلسلہ کا خلیفہ اور صاحب اجازت یا صاحب مجاز ہوسکتا ہے جس کی نسبت یقینا بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ شریعت کا پابند نہیںنہ اس نے احکام شریعت کی بظاہر پابندی کی۔دائرہ اسلام میں بظاہر شامل نہیں ہوا۔نہ اس نے شرك و کفر و فسق و فجور سے کسی جلسہ عام مسلمانوں میں توبہ کینہ توبہ کا شاہد بنایا۔
(۴)عوام الناس اپنی اغراض نفسانی سے ایسے شخص کو جس کی نسبت عرض کیا جارہا ہے اس کو رشدو ہدایت کا اپنی ہادی بناسکتے ہیں یا نہیں۔
الجواب:
لا الہ الا اﷲ کوئی کافر خواہ مشرك ہو یا موحد ہر گز نہ داخل سلسلہ ہوسکتا ہے۔نہ بے اسلام اس کی بیعت معتبر ہوسکتی ہےنہ قبل اسلام اس کی بیعت معتبر ہواگرچہ بعد کو مسلمان ہوجائے کہ بیعت ہو یا کوئی عملسب کے لیے پہلی شرط اسلام ہے قال تعالی:
" و قدمنا الی ما عملوا من عمل فجعلنہ ہباء منثورا ﴿۲۳﴾"
۔ اور جو کچھ انہوں نے کام کیے تھے ہم نے قصد فرما کر انہیں باریك باریك غبار کے بکھرے ہوئے ذرے کردیا کہ روزن کی دھوپ میں نظر آتے ہیں(ت)
جو اس کے کفر پر رہتے ہوئے اسے مجاز و ماذون بعیت و خلیفہ طریقت کرے اور جو اسے پیررشد و ہدایت سمجھے یہ سب کافر ہوجائیں گے۔بزازیہمجمع الانہرو درمختار وغیرہ میں ہے:
من شك فی کفرہ فقدکفر ۔ جس نے اس کے کفر میں شك کیا وہ کافر ہوگیا۔(ت)
ہاں اگر وقت بیعت اس نے کلمہ طیبہ پڑھا اور دین اسلام کا مقر ہوا تو بیعت صحیح ہوئی اور اس کے بعد قبل اظہار کفر ماذون کیا تو پیر پر الزام نہیں مگر جب بعد کو اس نے کفر کیا مرتد ہوگیا بیعت فسخ ہوگئی اب جو اسے ہادی بنائے یہ کافر ہوگاوالعیاذ باﷲ تعالی واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۰۷ تا ۲۱۱: از کلکۃ نمبر ۲۴۷ پوسٹ شملہ مانك تلہ مرسلہ منصور علی میاں بگاں قدم رسول ۱۷ شعبان ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں کہ
(۱)مومن اور ولی میں کون سی نسبت ہے
(۲)درود شریف کے اندر بجائے علی ابراہیم وعلی آل ابراہیم کے علی ال داؤد یا علی ا ل زکریا وغیرھما نہ آنے کی کیا وجہ
(۳)جو مضمون قران شریف کے ہے اس کو مدلول قرآنی کہہ سکتے ہیں یا نہیں اور اگر کہہ سکتے ہیں تو طھرا بیتی وطھر اقلبی میں کیا فرق ہے اور اگر مدلول نص نہیں تو کیوں
(۴)صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم میں اصحاب پر آل کو مقدم کیوں کیا
(۵)درجہ ولایت باقی رہنے اور نبوت کے ختم ہوجانے کی کیا وجہ ہے
الجواب :
(۱)اگر ولایت عامہ مراد ہے تو تساوی" اللہ ولی الذین امنوا " ۔(اﷲ تعالی ایمان والوں کا ولی ہے۔ت)
اور خاصہ تو عموم خصوص مطلق " ان اولیاؤہ الا المتقون" ۔(اس کے ولی تو پرہیزگار ہیں۔ت)
(۲)آل ابراہیم علیہ السلام میں آل داؤد و آل زکریا علیہما السلام سب داخل ولا عکس۔
(۳)جس مضمون پر قرآن عظیم دلالت فرمائے مدلول قرآنی ہے بیتی اور قلبی میں زمین و آسمان کا فرق ہے اور متشابہات میں قیاس جاری کرنا ضلالت" امنا بہ کل من عند ربنا" ۔(ہم اس پر ایمان لائے سب ہمارے رب کے پاس ہے۔ت)نہ کہ من عند نفسك(تیرے نفس کے پاس سے۔ت)
(۴)آل اصحاب کو بھی شامل ہے ولا عکس یہ تخصیص بعد تعمیم ہے۔
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں کہ
(۱)مومن اور ولی میں کون سی نسبت ہے
(۲)درود شریف کے اندر بجائے علی ابراہیم وعلی آل ابراہیم کے علی ال داؤد یا علی ا ل زکریا وغیرھما نہ آنے کی کیا وجہ
(۳)جو مضمون قران شریف کے ہے اس کو مدلول قرآنی کہہ سکتے ہیں یا نہیں اور اگر کہہ سکتے ہیں تو طھرا بیتی وطھر اقلبی میں کیا فرق ہے اور اگر مدلول نص نہیں تو کیوں
(۴)صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم میں اصحاب پر آل کو مقدم کیوں کیا
(۵)درجہ ولایت باقی رہنے اور نبوت کے ختم ہوجانے کی کیا وجہ ہے
الجواب :
(۱)اگر ولایت عامہ مراد ہے تو تساوی" اللہ ولی الذین امنوا " ۔(اﷲ تعالی ایمان والوں کا ولی ہے۔ت)
اور خاصہ تو عموم خصوص مطلق " ان اولیاؤہ الا المتقون" ۔(اس کے ولی تو پرہیزگار ہیں۔ت)
(۲)آل ابراہیم علیہ السلام میں آل داؤد و آل زکریا علیہما السلام سب داخل ولا عکس۔
(۳)جس مضمون پر قرآن عظیم دلالت فرمائے مدلول قرآنی ہے بیتی اور قلبی میں زمین و آسمان کا فرق ہے اور متشابہات میں قیاس جاری کرنا ضلالت" امنا بہ کل من عند ربنا" ۔(ہم اس پر ایمان لائے سب ہمارے رب کے پاس ہے۔ت)نہ کہ من عند نفسك(تیرے نفس کے پاس سے۔ت)
(۴)آل اصحاب کو بھی شامل ہے ولا عکس یہ تخصیص بعد تعمیم ہے۔
(۵)اﷲ عزوجل نے فرمایا:
" ولکن رسول اللہ و خاتم النبین " ۔ ہاں وہ اﷲ تعالی کے رسول ہیں اور سب نبیوں میں پچھلے۔(ت)
اور نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:
لاتزال طائفۃ من امتی ظاھرین علی الحق لایضرھم من خذلھم ولا خالفہم حتی یاتی امر اﷲ وھم علی ذلک ۔واﷲ تعالی اعلم۔ میری امت کا ایك گروہ ہمیشہ حق پر رہے گاان کی رسوائی کا ارادہ کرنے والا اور ان کا مخالف ان کو نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔یہاں تك کہ اﷲ تعالی کا امر(قیامت)آجائے در آنحالیکہ وہ حق پر قائم ہوں گے۔اور اﷲ تعالی خوب جانتا ہے۔(ت)
مسئلہ ۲۱۲: ازتھانہ فتح پور چوراسی ضلع اناؤ۔مرسلہ علی احمد خان صاحب ہیڈ محرر ۲۳ جمادی الاولی ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کے تیسری لڑکی ہوئیاس دن سے زید نہایت پریشان ہے۔اکثر لوگ کہتے ہیں کہ تیسری لڑکی اچھی نہیں ہوتی تیسرا لڑکا نصیب ور اور اچھا ہوتا ہے۔زید نے ایك صاحب سے دریافت کیا انہوں نے فرمایا یہ سب باتیں اہل ہنود اور عورتوں کی بنائی ہوئی ہیں اگر تم کو وہم ہو صدقات کردو ایك گائے یا سات بکریاں قربانی کردو اور توشہ شاہنشاہ بغداد رضی اﷲ تعالی عنہ کر دوحق تعالی بتصدق سرکار غوثیت رضی اﷲ تعالی عنہ ہر طرح کی بلاو نحوست سے محفوظ رکھے گا۔توشہ دو ہیں۔
ایك خشکہ گیلانی:برنج(۵ ما)روغن زرد(۵ ما)شکر(۵ ما)میوہ(۵ ما)شیر گاؤ(۵ ما)زعفران(۵ تولہ)گلاب(ایك بوتل) کیوڑا(ایك بوتل)الائچی خورد(۵ ما)لونگ(۳ تولہ)۔
" ولکن رسول اللہ و خاتم النبین " ۔ ہاں وہ اﷲ تعالی کے رسول ہیں اور سب نبیوں میں پچھلے۔(ت)
اور نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:
لاتزال طائفۃ من امتی ظاھرین علی الحق لایضرھم من خذلھم ولا خالفہم حتی یاتی امر اﷲ وھم علی ذلک ۔واﷲ تعالی اعلم۔ میری امت کا ایك گروہ ہمیشہ حق پر رہے گاان کی رسوائی کا ارادہ کرنے والا اور ان کا مخالف ان کو نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔یہاں تك کہ اﷲ تعالی کا امر(قیامت)آجائے در آنحالیکہ وہ حق پر قائم ہوں گے۔اور اﷲ تعالی خوب جانتا ہے۔(ت)
مسئلہ ۲۱۲: ازتھانہ فتح پور چوراسی ضلع اناؤ۔مرسلہ علی احمد خان صاحب ہیڈ محرر ۲۳ جمادی الاولی ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کے تیسری لڑکی ہوئیاس دن سے زید نہایت پریشان ہے۔اکثر لوگ کہتے ہیں کہ تیسری لڑکی اچھی نہیں ہوتی تیسرا لڑکا نصیب ور اور اچھا ہوتا ہے۔زید نے ایك صاحب سے دریافت کیا انہوں نے فرمایا یہ سب باتیں اہل ہنود اور عورتوں کی بنائی ہوئی ہیں اگر تم کو وہم ہو صدقات کردو ایك گائے یا سات بکریاں قربانی کردو اور توشہ شاہنشاہ بغداد رضی اﷲ تعالی عنہ کر دوحق تعالی بتصدق سرکار غوثیت رضی اﷲ تعالی عنہ ہر طرح کی بلاو نحوست سے محفوظ رکھے گا۔توشہ دو ہیں۔
ایك خشکہ گیلانی:برنج(۵ ما)روغن زرد(۵ ما)شکر(۵ ما)میوہ(۵ ما)شیر گاؤ(۵ ما)زعفران(۵ تولہ)گلاب(ایك بوتل) کیوڑا(ایك بوتل)الائچی خورد(۵ ما)لونگ(۳ تولہ)۔
حوالہ / References
القرآن الکریم ۳۳ /۴۰
الدرالمنثور بحوالہ مسلم والترمذی و ابن ماجہ تحت آیۃ ولولا دفع اﷲ الناس الخ مکتبہ آیۃ اﷲ العظمی قم ایران ۱ /۳۲۱،صحیح مسلم کتاب الامارۃ باب قولہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لاتزال طائفۃ من امتی قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۱۴۳
الدرالمنثور بحوالہ مسلم والترمذی و ابن ماجہ تحت آیۃ ولولا دفع اﷲ الناس الخ مکتبہ آیۃ اﷲ العظمی قم ایران ۱ /۳۲۱،صحیح مسلم کتاب الامارۃ باب قولہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لاتزال طائفۃ من امتی قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۱۴۳
اس کو پکا کر نیاز شہنشاہ بغداد رضی اﷲ تعالی عنہ کی کرکے مسلمانوں کو تقسیم کردیا جائے دوسرا حلوہ اس طرح کہ:
میدہ گندم(۵ ما)روغن زرد(۵ ما)شکر(۵ ما)میوہ(۵ مار)
حلوہ پکا کر کیوڑاگلابورق نقرہ لگا کر فاتحہ دے کر تقسیم کردیا جائے۔پانچ سیر سے کم ہونا اچھا نہیں زیادہ کا اختیار ہے۔چونکہ زید اور اس کی اہلیہ متبع حضور کے ہیں اس وجہ سے حضور کو تکلیف دی جاتی ہے کہ یہ باتیں صحیح ہیں یا غلط آپ کچھ صدقات تحریر فرمادیجئے تاکہ ان کی تعمیل زید کرسکے کیونکہ ان صدقات میں مبلغ ایك سو روپے صرف ہوں گے اور زید کی تنخواہ صرف عہ روپے ہے یا ان صدقات میں کمی فرمادیں۔
الجواب:
یہ محض باطل اور زنانے ادہام اور ہندوانہ خیالات شیطانیہ ہیں ان کی پیروی حرام ہے۔تصدیق اور توشہ سرکار ابدقرار رضی اﷲ تعالی عنہ بہت اچھی چیز ہے مگر اس نیت سے کہ اس کی نحوست دفع ہو جائز نہیں کہ اس میں اس کی نحوست مان لینا ہوا اور یہ شیطان کاڈالا ہوا وہم تسلیم کرلینا ہوا والعیاذ باﷲتعالیاس قسم کے خطرے وسوسے جب کبھی پیدا ہوں ان کے واسطے قرآن کریم و حدیث شریف سے چند مختصر و بیشمار نافع دعائیں لکھتا ہوں انہیں ایك ایك بار خواہ زائد آپ اور آپ کے گھر میں پڑھ لیں۔اگر دل پختہ ہوجائے اور وہ وہم جاتا رہے بہتر ورنہ جب وہ وسوسہ پیدا ہو ایك ایك دفعہ پڑھ لیجئے اور یقین کیجئے کہ اﷲ و رسول کے وعدے سچے ہیں اور شیطان ملعون کا ڈرانا جھوٹا۔چند بار میں بعونہ تعالی وہ وہم بالکل زائل ہوجائے گا اور اصلا کبھی کسی طرح اس سے کوئی نقصان نہ پہنچے گا۔وہ دعائیں یہ ہیں:
" قل لن یصیبنا الا ما کتب اللہ لنا ہو مولىنا وعلی اللہ فلیتوکل المؤمنون ﴿۵۱﴾" ۔" حسبنا اللہ ونعم الوکیل ﴿۱۷۳﴾" ۔ ہمیں نہ پہنچے گی مگر جو ہمارے لیے اﷲ نے لکھ دی وہ ہمارا مولیاور اﷲ ہی پر بھروسا کرنالازم۔
اﷲ ہمیں کافی ہے اور کیا اچھا بنانے والا۔
میدہ گندم(۵ ما)روغن زرد(۵ ما)شکر(۵ ما)میوہ(۵ مار)
حلوہ پکا کر کیوڑاگلابورق نقرہ لگا کر فاتحہ دے کر تقسیم کردیا جائے۔پانچ سیر سے کم ہونا اچھا نہیں زیادہ کا اختیار ہے۔چونکہ زید اور اس کی اہلیہ متبع حضور کے ہیں اس وجہ سے حضور کو تکلیف دی جاتی ہے کہ یہ باتیں صحیح ہیں یا غلط آپ کچھ صدقات تحریر فرمادیجئے تاکہ ان کی تعمیل زید کرسکے کیونکہ ان صدقات میں مبلغ ایك سو روپے صرف ہوں گے اور زید کی تنخواہ صرف عہ روپے ہے یا ان صدقات میں کمی فرمادیں۔
الجواب:
یہ محض باطل اور زنانے ادہام اور ہندوانہ خیالات شیطانیہ ہیں ان کی پیروی حرام ہے۔تصدیق اور توشہ سرکار ابدقرار رضی اﷲ تعالی عنہ بہت اچھی چیز ہے مگر اس نیت سے کہ اس کی نحوست دفع ہو جائز نہیں کہ اس میں اس کی نحوست مان لینا ہوا اور یہ شیطان کاڈالا ہوا وہم تسلیم کرلینا ہوا والعیاذ باﷲتعالیاس قسم کے خطرے وسوسے جب کبھی پیدا ہوں ان کے واسطے قرآن کریم و حدیث شریف سے چند مختصر و بیشمار نافع دعائیں لکھتا ہوں انہیں ایك ایك بار خواہ زائد آپ اور آپ کے گھر میں پڑھ لیں۔اگر دل پختہ ہوجائے اور وہ وہم جاتا رہے بہتر ورنہ جب وہ وسوسہ پیدا ہو ایك ایك دفعہ پڑھ لیجئے اور یقین کیجئے کہ اﷲ و رسول کے وعدے سچے ہیں اور شیطان ملعون کا ڈرانا جھوٹا۔چند بار میں بعونہ تعالی وہ وہم بالکل زائل ہوجائے گا اور اصلا کبھی کسی طرح اس سے کوئی نقصان نہ پہنچے گا۔وہ دعائیں یہ ہیں:
" قل لن یصیبنا الا ما کتب اللہ لنا ہو مولىنا وعلی اللہ فلیتوکل المؤمنون ﴿۵۱﴾" ۔" حسبنا اللہ ونعم الوکیل ﴿۱۷۳﴾" ۔ ہمیں نہ پہنچے گی مگر جو ہمارے لیے اﷲ نے لکھ دی وہ ہمارا مولیاور اﷲ ہی پر بھروسا کرنالازم۔
اﷲ ہمیں کافی ہے اور کیا اچھا بنانے والا۔
اللھم لایاتی بالحسنات الا انت ولا یذھب السیئات الا انت ولاحول ولاقوۃ الا بك ۔
اللھم لا طیرا لاطیرك ولا خیر الا خیرك ولا الہ غیرك ۔ الہی ! اچھی باتیں کوئی نہیں لاتا تیرے سوا اور بری باتیں کوئی دور نہیں کرتا تیرے سوا اور کوئی زور طاقت نہیں مگر تیری طرف سے۔
الہی تیری فال فال ہے اور تیری ہی خیرخیر اور تیری سوا کوئی معبود نہیں۔
یہ توشہ کہ انہوں نے بتایا نہایت مفید چیز ہے اور حاجتیں بر لانے کے لیے مجربہمارے خاندان کے مشائخ میں اس کی ترکیب یوں ہے۔
میدہ گندم(۵ ما)شکر(۵ ما)گھی(۵ ما)مغز بادام(۱ ما)پستہ(۱ ما)کشمکش(۱۔ما)ناریل(۱ ما)۔لوگدار چینیچھوٹی الائچی ہر ایك سوا چھٹانک۔
حضور کی نیاز دے کر صالحین کو کھلائے اور اپنے مطلب کی دعا کرائے۔اصل وزن یہ ہیںبقدر قدرت ان میں کمی بیشی کا اختیار ہے۔نصفچوتھائیآٹھواں حصہ یا جتنا مقدور ہو کرے وہی اثر دے گا۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۱۳: از مدرسہ نعمانیہ اسلامیہ محلہ فراشخانہ دہلیمسئولہ محمد ابراہیم احمد آبادی ۸ شعبان ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین متین اس مسئلہ میں کہ عبادت جس کے غیر خدا عزوجل کو کرنے سے آدمی مشرك ہوجاتا ہے اس کی کیا تعریف ہے جو جامع اور مانع ہو اور اپنی جنس وفصل یا عرض عام اور خاصہ پر مشتمل ہو۔
الجواب:
امام لامشی پھر ابوالسعود ازہری پھر سید احمد طحطاوی پھر سید محمد شامی فرماتے ہیں:
العبادۃ عبارۃ عن الخضوع و التذلل وحدھا فعل لایراد عبادت انتہائی عاجزی اور انکساری کا نام ہےاس کی تعریف یہ ہے وہ ایك ایسا فعل ہے
اللھم لا طیرا لاطیرك ولا خیر الا خیرك ولا الہ غیرك ۔ الہی ! اچھی باتیں کوئی نہیں لاتا تیرے سوا اور بری باتیں کوئی دور نہیں کرتا تیرے سوا اور کوئی زور طاقت نہیں مگر تیری طرف سے۔
الہی تیری فال فال ہے اور تیری ہی خیرخیر اور تیری سوا کوئی معبود نہیں۔
یہ توشہ کہ انہوں نے بتایا نہایت مفید چیز ہے اور حاجتیں بر لانے کے لیے مجربہمارے خاندان کے مشائخ میں اس کی ترکیب یوں ہے۔
میدہ گندم(۵ ما)شکر(۵ ما)گھی(۵ ما)مغز بادام(۱ ما)پستہ(۱ ما)کشمکش(۱۔ما)ناریل(۱ ما)۔لوگدار چینیچھوٹی الائچی ہر ایك سوا چھٹانک۔
حضور کی نیاز دے کر صالحین کو کھلائے اور اپنے مطلب کی دعا کرائے۔اصل وزن یہ ہیںبقدر قدرت ان میں کمی بیشی کا اختیار ہے۔نصفچوتھائیآٹھواں حصہ یا جتنا مقدور ہو کرے وہی اثر دے گا۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۱۳: از مدرسہ نعمانیہ اسلامیہ محلہ فراشخانہ دہلیمسئولہ محمد ابراہیم احمد آبادی ۸ شعبان ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین متین اس مسئلہ میں کہ عبادت جس کے غیر خدا عزوجل کو کرنے سے آدمی مشرك ہوجاتا ہے اس کی کیا تعریف ہے جو جامع اور مانع ہو اور اپنی جنس وفصل یا عرض عام اور خاصہ پر مشتمل ہو۔
الجواب:
امام لامشی پھر ابوالسعود ازہری پھر سید احمد طحطاوی پھر سید محمد شامی فرماتے ہیں:
العبادۃ عبارۃ عن الخضوع و التذلل وحدھا فعل لایراد عبادت انتہائی عاجزی اور انکساری کا نام ہےاس کی تعریف یہ ہے وہ ایك ایسا فعل ہے
حوالہ / References
کنزالعمال حدیث ۲۸۵۸۴ موسسۃ الرسالہ بیروت۱۰ /۱۱۶
کنزالعمال حدیث ۲۸۵۸۰موسسۃ الرسالہ بیروت۱۰ /۱۱۵
کنزالعمال حدیث ۲۸۵۸۰موسسۃ الرسالہ بیروت۱۰ /۱۱۵
بہ الا تعظیم اﷲ تعالی بامرہ ۔ جس سے اﷲ تعالی کے حکم سے اس کی تعظیم کے بغیر کچھ بھی مراد نہیں ہوتا۔(ت)
امام شیخ الاسلام زکریا انصاری پھر علامہ سید احمد حموی عمزالعیون نیز علامہ شامی ردالمحتار میں فرماتے ہیں:
العبادۃ مایثاب علی فعلہ ویتوقف علی نیتہ ۔ عبادت وہ ہے کہ جس کے کرنے پر ثواب دیا جاتا ہے اور وہ ثواب کی نیت پر موقوف ہوتی ہے۔(ت)
نیز شرح الاشباہ والنظائر میں ہے:
العبادۃ ما یعبد بہ بشرط النیۃ و معرفۃ المعبود ۔ عبادت وہ فعل ہے جس کے ذریعے بندگی کا اظہار کیا جاتا ہے بشرطیکہ ثواب کی نیت ہو اور معبود کی معرفت حاصل ہو۔(ت)
تعریفات علامہ سید شریف میں ہے:
العبادۃ ھو فعل الملکف علی خلاف ھوی نفسہ تعظیما لربہ ۔ عبادت مکلف کا وہ فعل ہے جو وہ اپنے رب کی تعظیم کے لیے اپنے نفس کی خواہش کے خلاف کرے۔(ت)
مفردات امام راغب میں ہے:
العبودیۃ اظھار التذلل والعبادۃ ابلغ منہا لانہا غایۃ التذلل ولا یستحقہا الا من لہ غایۃ الافضال وھواﷲ تعالی ولہذا قال لا تعبدوا الا یاہ ۔ عبودیتعجز و رسوائی کو ظاہر کرنا ہےاور عبادت اس سے زیادہ بلیغ ہےکیونکہ وہ انتہائی عاجز ی اور رسوائی کا نام ہے چنانچہ عبادت کا مستحق اس کے سوا کوئی نہیں ہوسکتا جو انتہائی فضل والا ہو اور وہ ا ﷲ تعالی ہے۔اسی لیے اس نے فرمایا ہے کہ مت عبادت کرو مگر صرف اسی کی۔(ت)
امام شیخ الاسلام زکریا انصاری پھر علامہ سید احمد حموی عمزالعیون نیز علامہ شامی ردالمحتار میں فرماتے ہیں:
العبادۃ مایثاب علی فعلہ ویتوقف علی نیتہ ۔ عبادت وہ ہے کہ جس کے کرنے پر ثواب دیا جاتا ہے اور وہ ثواب کی نیت پر موقوف ہوتی ہے۔(ت)
نیز شرح الاشباہ والنظائر میں ہے:
العبادۃ ما یعبد بہ بشرط النیۃ و معرفۃ المعبود ۔ عبادت وہ فعل ہے جس کے ذریعے بندگی کا اظہار کیا جاتا ہے بشرطیکہ ثواب کی نیت ہو اور معبود کی معرفت حاصل ہو۔(ت)
تعریفات علامہ سید شریف میں ہے:
العبادۃ ھو فعل الملکف علی خلاف ھوی نفسہ تعظیما لربہ ۔ عبادت مکلف کا وہ فعل ہے جو وہ اپنے رب کی تعظیم کے لیے اپنے نفس کی خواہش کے خلاف کرے۔(ت)
مفردات امام راغب میں ہے:
العبودیۃ اظھار التذلل والعبادۃ ابلغ منہا لانہا غایۃ التذلل ولا یستحقہا الا من لہ غایۃ الافضال وھواﷲ تعالی ولہذا قال لا تعبدوا الا یاہ ۔ عبودیتعجز و رسوائی کو ظاہر کرنا ہےاور عبادت اس سے زیادہ بلیغ ہےکیونکہ وہ انتہائی عاجز ی اور رسوائی کا نام ہے چنانچہ عبادت کا مستحق اس کے سوا کوئی نہیں ہوسکتا جو انتہائی فضل والا ہو اور وہ ا ﷲ تعالی ہے۔اسی لیے اس نے فرمایا ہے کہ مت عبادت کرو مگر صرف اسی کی۔(ت)
حوالہ / References
حاشیہ الطحطاوی علی الدرالمختار مقدمۃ الکتاب المکتبۃ العربیۃ کوئٹہ ۱ /۴۴
غمزعیون البصائر مع الاشباہ والنظائر الفن الاول القاعدۃ الاولٰی ادارۃ القرآن کراچی ۱ /۳۴
غمزعیون البصائر مع الاشباہ والنظائر الفن الاول القاعدۃ الاولٰی ادارۃ القرآن کراچی ۱ /۳۴
کتاب التعریفات باب العین مطبعۃ الخیریۃ المنشأۃ بجمالیۃ مصرص ۶۳
المفردات فی غرائب القرآن العین کارخانہ تجارت کتب کراچی ص ۳۲۱
غمزعیون البصائر مع الاشباہ والنظائر الفن الاول القاعدۃ الاولٰی ادارۃ القرآن کراچی ۱ /۳۴
غمزعیون البصائر مع الاشباہ والنظائر الفن الاول القاعدۃ الاولٰی ادارۃ القرآن کراچی ۱ /۳۴
کتاب التعریفات باب العین مطبعۃ الخیریۃ المنشأۃ بجمالیۃ مصرص ۶۳
المفردات فی غرائب القرآن العین کارخانہ تجارت کتب کراچی ص ۳۲۱
تاج العروس میں نقل کیا:
العبادۃ فعل مایرضی بہ الرب ۔ عبادت وہ فعل ہے جس کے کرنے پر رب راضی ہوتا ہے۔(ت)
یہ تعریفیں بجائے خود قابل تعریف ہیں وانا اقول:وباﷲ التوفیق(اور میں کہتا ہوں اﷲ تعالی کی توفیق سے۔ت)عبادت کسی کو اقصی غایات تعظیم کا مستحق جان کر اس کی تعظیم بجالانا ہے اور اسی سے باعتقادمذکور اس کے لیے تذلل نیز اس کے امر کا امتثال اس حیثیت سے کہ اس کا امر ہےاس تعریف کی تسجیل اور اور ان تحریفات کے مالہا وما علیہا کی تفصیل موجب تطویل یہاں بعض نکت کے طرف ایما کریں۔
فاقول: وبہ استعین(تو میں کہتا ہوں اور اسی سے مدد چاہتا ہوں۔ت)
(۱)عبادت حقہ کو مستحق عبادت عزجلالہکے لیے ہواس میں اس فعل کا واقعی تعظیم ہونا ضرورمجردزعم فاعل کافی نہیںاور عبادت باطلہ میں اس کا زعم بسمکاء وتصدیہ مشرکین عبادت الہی نہ تھا اور بتوں کے سامنے ان کا سنکھ اور گھنٹی بجانا عبادت اگرچہ یہ بیہودہ افعال حقیقۃ تعظیم نہ ہوںیونہی امتثال امر میں عبادت حقہ جب ہی ہے کہ واقعی وہ اس کا امر ہوکفار کا " واللہ امرنا بہا " ۔(اﷲ نے ہمیں اس کا حکم دینا۔ت)کہنا اگر واقعی ان کے زعم میں بھی ہو مراد وہی اور عبادت باطلہ میں صرف زعم کافی۔
(۲)عبادت کے لیے نیت شرط ہے اور معرفت معبود لازمجیسا کہ اس کی تعریف سے ظاہر ہےاور کوئی کافر اصلا رب عزوجل کو نہیں جانتا جس کی تحقیق ہمارے رسالہ باب العقائد والکلام میں ہے۔ اور امام رستغفنی نے تصریح فرمائی کہ:
الکفرھو الجہل باﷲ تعالی ۔ کفریہ ہے کہ اﷲ تعالی کو نہ جانے(ت)
ولہذا کافر نہ اہل نیت ہے نہ اہل عبادت حقہ"کما نصوا علیہ قاطبۃ جیسا کہ اس پر سب نے نص فرمائی۔(ت)اور مشرك عبادت باطلہ کرتا ہے کہ اپنے معبود باطل کا تصور کرکے اس کی
العبادۃ فعل مایرضی بہ الرب ۔ عبادت وہ فعل ہے جس کے کرنے پر رب راضی ہوتا ہے۔(ت)
یہ تعریفیں بجائے خود قابل تعریف ہیں وانا اقول:وباﷲ التوفیق(اور میں کہتا ہوں اﷲ تعالی کی توفیق سے۔ت)عبادت کسی کو اقصی غایات تعظیم کا مستحق جان کر اس کی تعظیم بجالانا ہے اور اسی سے باعتقادمذکور اس کے لیے تذلل نیز اس کے امر کا امتثال اس حیثیت سے کہ اس کا امر ہےاس تعریف کی تسجیل اور اور ان تحریفات کے مالہا وما علیہا کی تفصیل موجب تطویل یہاں بعض نکت کے طرف ایما کریں۔
فاقول: وبہ استعین(تو میں کہتا ہوں اور اسی سے مدد چاہتا ہوں۔ت)
(۱)عبادت حقہ کو مستحق عبادت عزجلالہکے لیے ہواس میں اس فعل کا واقعی تعظیم ہونا ضرورمجردزعم فاعل کافی نہیںاور عبادت باطلہ میں اس کا زعم بسمکاء وتصدیہ مشرکین عبادت الہی نہ تھا اور بتوں کے سامنے ان کا سنکھ اور گھنٹی بجانا عبادت اگرچہ یہ بیہودہ افعال حقیقۃ تعظیم نہ ہوںیونہی امتثال امر میں عبادت حقہ جب ہی ہے کہ واقعی وہ اس کا امر ہوکفار کا " واللہ امرنا بہا " ۔(اﷲ نے ہمیں اس کا حکم دینا۔ت)کہنا اگر واقعی ان کے زعم میں بھی ہو مراد وہی اور عبادت باطلہ میں صرف زعم کافی۔
(۲)عبادت کے لیے نیت شرط ہے اور معرفت معبود لازمجیسا کہ اس کی تعریف سے ظاہر ہےاور کوئی کافر اصلا رب عزوجل کو نہیں جانتا جس کی تحقیق ہمارے رسالہ باب العقائد والکلام میں ہے۔ اور امام رستغفنی نے تصریح فرمائی کہ:
الکفرھو الجہل باﷲ تعالی ۔ کفریہ ہے کہ اﷲ تعالی کو نہ جانے(ت)
ولہذا کافر نہ اہل نیت ہے نہ اہل عبادت حقہ"کما نصوا علیہ قاطبۃ جیسا کہ اس پر سب نے نص فرمائی۔(ت)اور مشرك عبادت باطلہ کرتا ہے کہ اپنے معبود باطل کا تصور کرکے اس کی
حوالہ / References
تاج العروس شرح القاموس فصل العین داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۴۱۰
القرآن الکریم ۷ /۲۸
القرآن الکریم ۷ /۲۸
تعظیم کا قصد رکھتا ہے۔
(۳)عبادت باطلہ میں التزام عبادت و قول بہ الوہیت غیر ہی اسے اقضی غایات تعظیم کا مستحق جاننے پر دلیل واضح ہے اگرچہ مرتکب عنادا منکر ہو کر" ما نعبدہم الا لیقربونا الی اللہ زلفی " (ہم تو انہیں صرف اتنی بات کے لیے پوجتے ہیں کہ یہ ہمیں اﷲ کے پاس نزدیك کردیں۔ت)کہے۔ رب عزوجل ان کی تکذیب فرماتا ہے کہ " ثم الذین کفروا بربہم یعدلون ﴿۱﴾" ۔ (پھر کافر لوگ اپنے رب کے برابر ٹھہراتے تھے۔ ت)خود مشرکین روز قیامت اعتراف کریں گے۔
" اذ نسویکم برب العلمین ﴿۹۸﴾" ۔ جب کہ ہم تمہیں رب العالمین کے برابر ٹھہراتے تھے۔ت)
(۴)بعض افعال کی وضع ہی عبادت کے لیے ہے تو ان سے تعظیم غیر کا قصد اور اس قصد باطل سے انہیں کرنا ہی مطلقا حکم شرك لائے گا جیسے صلوۃ وصوم ورنہ قصد عبادت پر موقوف رہے گاجیسے سجدہ کہ فی نفسہ عبادت نہیں ولہذا سجدات اربعہ صلوۃ وسہو وتلاوت وشکر کے سوا سجدہ بے سبب حنفیہ کے نزدیك صرف مباح ہے کما فی الدرالمختار(جیسا کہ در مختار میں ہے۔ت)اور شافعیہ کے نزدیك حرام کما فی الجوھر المنظم للامام ابن حجر المکی جیسا کہ جوہر المنظم للام ابن حجر مکی میں ہے۔ت) ولہذا غیر خدا کے لیے سجدہ عبادت کفر ہوا اور سجدئہ تحیت حرام و کبیرہ ہے کفر نہیں کمافی الہندیۃ والدروغیرھما من الاسفار الغر وقد حققناہ فی رسالتنا مستقلۃ فی الرد علی بعض المضلۃ۔جیسا کہ ہندیہ اور دروغیرہ روشن کتابوںمیں ہے اس کی تحقیق ہم نے بعض گمراہوں کے رد میں اپنے ایك مستقل رسالہ میں کردی ہے۔ت)
(۵)عبادت کہ لغۃ خضوع ہے عبادت شرعیہ کو لازم ہے وہ تذلل سے خالی نہیں اگرچہ بظاہر صورۃ تذلل نہ ہو جیسے زکوۃ وجہاد کہ اسے حاکم و آمرو قاہر اور اپنے آپ کو محکوم و مامور و مقہور جان کے امتثال امرعین تذلل ہے مگر اقصی غایات تذلل ہونا ضرور نہیں کہ نماز زکوۃ سے زائد تذلل ہے بلکہ نماز کا سجدہ اس کے رکوعرکوع قیامقیام قعود سے اگرچہ اجزائے نماز سب عبادت ہیں۔ہاں اسے اقصی غایات تعظیم کا مستحق جاننا ضرورہے۔
(۳)عبادت باطلہ میں التزام عبادت و قول بہ الوہیت غیر ہی اسے اقضی غایات تعظیم کا مستحق جاننے پر دلیل واضح ہے اگرچہ مرتکب عنادا منکر ہو کر" ما نعبدہم الا لیقربونا الی اللہ زلفی " (ہم تو انہیں صرف اتنی بات کے لیے پوجتے ہیں کہ یہ ہمیں اﷲ کے پاس نزدیك کردیں۔ت)کہے۔ رب عزوجل ان کی تکذیب فرماتا ہے کہ " ثم الذین کفروا بربہم یعدلون ﴿۱﴾" ۔ (پھر کافر لوگ اپنے رب کے برابر ٹھہراتے تھے۔ ت)خود مشرکین روز قیامت اعتراف کریں گے۔
" اذ نسویکم برب العلمین ﴿۹۸﴾" ۔ جب کہ ہم تمہیں رب العالمین کے برابر ٹھہراتے تھے۔ت)
(۴)بعض افعال کی وضع ہی عبادت کے لیے ہے تو ان سے تعظیم غیر کا قصد اور اس قصد باطل سے انہیں کرنا ہی مطلقا حکم شرك لائے گا جیسے صلوۃ وصوم ورنہ قصد عبادت پر موقوف رہے گاجیسے سجدہ کہ فی نفسہ عبادت نہیں ولہذا سجدات اربعہ صلوۃ وسہو وتلاوت وشکر کے سوا سجدہ بے سبب حنفیہ کے نزدیك صرف مباح ہے کما فی الدرالمختار(جیسا کہ در مختار میں ہے۔ت)اور شافعیہ کے نزدیك حرام کما فی الجوھر المنظم للامام ابن حجر المکی جیسا کہ جوہر المنظم للام ابن حجر مکی میں ہے۔ت) ولہذا غیر خدا کے لیے سجدہ عبادت کفر ہوا اور سجدئہ تحیت حرام و کبیرہ ہے کفر نہیں کمافی الہندیۃ والدروغیرھما من الاسفار الغر وقد حققناہ فی رسالتنا مستقلۃ فی الرد علی بعض المضلۃ۔جیسا کہ ہندیہ اور دروغیرہ روشن کتابوںمیں ہے اس کی تحقیق ہم نے بعض گمراہوں کے رد میں اپنے ایك مستقل رسالہ میں کردی ہے۔ت)
(۵)عبادت کہ لغۃ خضوع ہے عبادت شرعیہ کو لازم ہے وہ تذلل سے خالی نہیں اگرچہ بظاہر صورۃ تذلل نہ ہو جیسے زکوۃ وجہاد کہ اسے حاکم و آمرو قاہر اور اپنے آپ کو محکوم و مامور و مقہور جان کے امتثال امرعین تذلل ہے مگر اقصی غایات تذلل ہونا ضرور نہیں کہ نماز زکوۃ سے زائد تذلل ہے بلکہ نماز کا سجدہ اس کے رکوعرکوع قیامقیام قعود سے اگرچہ اجزائے نماز سب عبادت ہیں۔ہاں اسے اقصی غایات تعظیم کا مستحق جاننا ضرورہے۔
(۶)فقہاءکبھی نفس فعل پر نظر کرتے ہیں اگر وہ وضعا عبادت نہیں اسے عبادت نہیں کہتے جیسے عتق ووقف اور کبھی نیت مخصوصہ کے ساتھ دیکھتے اور عبادت کہتے ہیںجیسے قضاعنایہ میں اسے منجملہ اشرف عبادات بتایا ہی حتی کہ درمختار وغیرہ میں نکاح کو بھی عبادت فرمایا۔علامہ حموی نے اس سے مراد جماع حلیلہ ٹھہرایا۔ اشباہ میں ہے:
اماالعتق فعندنالیس بعبادۃ وضعا بدلیل صحتہ من الکافر و لاعبادۃ لہ فان نوی وجہ اﷲ تعالی کان عبادۃ مثابا علیہ وان اعتق بلانیۃ صح ولاثواب لہ ان کان صریحاواما الکنایات فلابد لھا من النیۃ فان اعتق للصنم اوللشیطان صح و اثم وان اعتق لاجل مخلوق صح و کان مباحا لاثواب ولا اثم وینبغی ان یخصص الاعتاق للصنم بما اذا کان المعتق کافرااما المسلم اذا اعتق لہ قاصد ا تعظیمہ کفر کما ینبغی ان یکون الاعتاق لمخلوق مکروھا والتدبیر والکتابۃ کا لعتقواما الجہاد فمن اعظم العبادات فلابہ لہ من خلوص النیۃواما الوصیۃ فکان لعتق لیکن عتق تو وہ ہمارے نزدیك وضع کے اعتبار سے عبادت نہیں اس دلیل کے ساتھ کہ عتق کافر سے بھی صحیح ہوجاتا ہے جب کہ کافر کا کوئی فعل عبادت نہیں ہوتا۔اگر آزاد کرنے والا اﷲ کی رضا کی نیت کرے تو یہ عتق عبادت بن جائے گا جس پر ثواب دیا جائے گا اور اگر اس نے نیت کے بغیر آزاد کیا تو صحیح ہے اور اس کے لیے کوئی ثواب نہیں ہوگا اگر یہ صریح ہےر ہے کنایات تو ان میں نیت ضروری ہے اگر کسی نے بت یا شیطان کے لیے غلام کوآزاد کیا تو صحیح ہے اور وہ گنہگار ہوگا۔اور اگر مخلوق کے لیے آزاد کیا تو صحیح اور مباح ہے اس پر نہ تو اسے ثواب ہوگا۔نہ ہی گناہاور بت کے لیے آزاد کرنے میں یہ تخصیص ہونی چاہیے کہ جب آزاد کرنے والا کافر ہو۔رہا مسلمان اگر وہ بت کے لیے آزاد کرے درانحالیکہ وہ بت کی تعظیم کا ارادہ کرنے والا ہو تو وہ کافر ہوجائے گا۔جیسا کہ مخلوق کے لیے آزاد کرنا مکروہ ہونا چاہیے۔مدبر بنانا اور مکاتب بنانا عتق کی طرح ہے لیکن جہاد تو وہ سب سے بڑی عبادتوں میں سے ہے۔چنانچہ اس کے لیے خلوص نیت ضروری ہےلیکن وصیت تو وہ عتق کی مثل ہے۔
اماالعتق فعندنالیس بعبادۃ وضعا بدلیل صحتہ من الکافر و لاعبادۃ لہ فان نوی وجہ اﷲ تعالی کان عبادۃ مثابا علیہ وان اعتق بلانیۃ صح ولاثواب لہ ان کان صریحاواما الکنایات فلابد لھا من النیۃ فان اعتق للصنم اوللشیطان صح و اثم وان اعتق لاجل مخلوق صح و کان مباحا لاثواب ولا اثم وینبغی ان یخصص الاعتاق للصنم بما اذا کان المعتق کافرااما المسلم اذا اعتق لہ قاصد ا تعظیمہ کفر کما ینبغی ان یکون الاعتاق لمخلوق مکروھا والتدبیر والکتابۃ کا لعتقواما الجہاد فمن اعظم العبادات فلابہ لہ من خلوص النیۃواما الوصیۃ فکان لعتق لیکن عتق تو وہ ہمارے نزدیك وضع کے اعتبار سے عبادت نہیں اس دلیل کے ساتھ کہ عتق کافر سے بھی صحیح ہوجاتا ہے جب کہ کافر کا کوئی فعل عبادت نہیں ہوتا۔اگر آزاد کرنے والا اﷲ کی رضا کی نیت کرے تو یہ عتق عبادت بن جائے گا جس پر ثواب دیا جائے گا اور اگر اس نے نیت کے بغیر آزاد کیا تو صحیح ہے اور اس کے لیے کوئی ثواب نہیں ہوگا اگر یہ صریح ہےر ہے کنایات تو ان میں نیت ضروری ہے اگر کسی نے بت یا شیطان کے لیے غلام کوآزاد کیا تو صحیح ہے اور وہ گنہگار ہوگا۔اور اگر مخلوق کے لیے آزاد کیا تو صحیح اور مباح ہے اس پر نہ تو اسے ثواب ہوگا۔نہ ہی گناہاور بت کے لیے آزاد کرنے میں یہ تخصیص ہونی چاہیے کہ جب آزاد کرنے والا کافر ہو۔رہا مسلمان اگر وہ بت کے لیے آزاد کرے درانحالیکہ وہ بت کی تعظیم کا ارادہ کرنے والا ہو تو وہ کافر ہوجائے گا۔جیسا کہ مخلوق کے لیے آزاد کرنا مکروہ ہونا چاہیے۔مدبر بنانا اور مکاتب بنانا عتق کی طرح ہے لیکن جہاد تو وہ سب سے بڑی عبادتوں میں سے ہے۔چنانچہ اس کے لیے خلوص نیت ضروری ہےلیکن وصیت تو وہ عتق کی مثل ہے۔
ان قصد التقرب فلہ الثواب والافھی صحیحۃ فقط واما الوقف فلیس بعبادۃ وضعا بدلیل صحتہ من الکافر فان نوی القربۃ فلہ الثواب والا فلاواما النکاح فقالوا انہ اقرب الی العبادات حتی الاشتغال بہ افصل من التخلی لمحض العبادۃ وھو عندالاعتدال سنۃ مؤکدۃ علی الصحیح فیحتاج الی النیۃ لتحصیل الثواب وھو ان یقصداعفاف نفسہ وتحصینہا و حصول ولد قدفسرنا الاعتدال فی الشرع الکبیر شرح الکنز ولما لم تکن النیۃ فیہ شرط صحتہ قالوا یصح النکاح مع الھزل وعلی ھذا سائر القرب لا بدفیھا من النیۃ بمعنی توقف حصول الثواب علی قصد التقرب بہا الی اﷲ تعالی من نشرالعلم تعلیما و افتاء وتصنیفا واما القضاء فقالوا انہ من العبادات فالثواب علیہ متوقف علیھا وکذلك اقامۃ الحدود و التعازیر وکل اگر تقرب کا ارادہ کرے گا تو اسے ثواب ملے گا ورنہ فقط وہ صحیح ہوجائے گی۔رہا وقفتو وضع کے اعتبار سے عادت نہیں ہے اس پر دلیل یہ ہے کہ وہ کافر کی طرف سے بھی صحیح ہوجاتا ہےچنانچہ اگر تقرب کی نیت کرے گا تو اسے ثواب ملے گا ورنہ نہیں۔لیکن نکاح اس کے بارے میں تو مشائخ نے کہا کہ وہ عبادات کے قریب ترین ہے یہاں تك کہ اس میں مشغول ہونا محض عبادت کے لیے خلوت سے افضل ہے۔اور صحیح قول کے مطابق اعتدال کے وقت نکاح سنت مؤکدہ ہے۔ چنانچہ ثواب حاصل کرنے کے لیے اس میں نیت کی حاجت ہے اور وہ یہ کہ نفس کی پاکدامنی اور اولاد حاصل کرنے کا قصد کرے۔اور اعتدال کی تفسیر ہم نے کنز کی شرح "شرح الکبیر میں کردی ہے۔اور جب نکاح کے صحیح ہو نے کےلیے نیت شرط نہیں ہے تو فقہاء نے کہا ہے کہ نکاح ہزل کے ساتھ بھی صحیح ہوجائے گا۔اسی پر باقی عبادات کو قیاس کیا جائے گا کہ ان میں نیت ضروری ہے بایں معنی کہ ثواب کا حصول اس بات پر موقوف ہے کہ ان میں اﷲ تعالی کے تقرب کا ارادہ کرے جیسے علم کو پھیلانا چاہیے کسی کو علم سکھا کر یافتوی دے کر یا کوئی کتاب لکھ کر۔رہا قاضی بننا تو مشائخ نے فرمایا کہ وہ عبادات میں سے ہے چنانچہ اس میں ثواب عبادت کی نیت پر موقوف ہوگا۔اسی طرح حدود و تعزیرات کا قائم کرنا اور
مایتعاطاہ الحکام والولاۃ وکذا تحمل الشہادۃ و اداؤھا ۔ ہر وہ کام جس کو حاکم اور ولی سر انجام دیتے ہیں اور یونہی گواہی کو اپنے ذمے لینا اور اسے ادا کرنا۔(ت)
شرح التنویر للعلائی بلکہ خود اشباہ والنظائر فن ثانی میں:
لیس لنا عبادۃ شرعت من عہد ادم الی الان ثم تستمر فی الجنۃ الا الایمان والنکاح ۔ ہمارے لیے کوئی عبادت ایسی نہیں جو آدم علیہ السلام کے زمانے سے اب تك مشروع رہی ہو پھر وہ جنت میں بھی جاری رہے گی سوائے ایمان اور نکاح کے۔(ت)
حموی میں ہے:
الظاھر ان المراد بالنکاح ھنا الوطئ لا العقدوان کان حقیقۃ فی العقدعندنا ۔ ظاہر یہ ہے کہ نکاح سے مراد یہاں پر وطی ہے نہ کہ عقد اگرچہ ہمارے نزدیك نکاح عقد میں حقیقت ہے۔ت)
بلکہ اس کے فن اول میں ہے:
المراد بالنکاح ھنا الوطی المترتب علی العقدالصحیح بقرینۃ قولہ حتی ا ن الاشتغال بہ افضل من التخلی لمحض للعبادۃ اھ اقول:لادلالۃ فربما یکون الاشتغال بتدبیرالعقد اطول مکثامن الوطی بل القرینۃ قولہ یہاں نکاح سے مراد وہ وطی ہے جو عقد صحیح پر مرتب ہوتی ہے اس پر قرینہ مصنف کا یہ قول ہےجہاں تك کہ نکاح میں مشغول ہونا محض عبادت کے خلوت سے افضل ہےالخ میں کہتا ہوں یہ کوئی دلالت وقرینہ نہیں بسا اوقات عقد کی تدبیر میں مشغول ہونا وطنی میں مشغول ہونے سے زیادہ طویل ہوتا ہےبلکہ قرینہ اس پر مصنف
شرح التنویر للعلائی بلکہ خود اشباہ والنظائر فن ثانی میں:
لیس لنا عبادۃ شرعت من عہد ادم الی الان ثم تستمر فی الجنۃ الا الایمان والنکاح ۔ ہمارے لیے کوئی عبادت ایسی نہیں جو آدم علیہ السلام کے زمانے سے اب تك مشروع رہی ہو پھر وہ جنت میں بھی جاری رہے گی سوائے ایمان اور نکاح کے۔(ت)
حموی میں ہے:
الظاھر ان المراد بالنکاح ھنا الوطئ لا العقدوان کان حقیقۃ فی العقدعندنا ۔ ظاہر یہ ہے کہ نکاح سے مراد یہاں پر وطی ہے نہ کہ عقد اگرچہ ہمارے نزدیك نکاح عقد میں حقیقت ہے۔ت)
بلکہ اس کے فن اول میں ہے:
المراد بالنکاح ھنا الوطی المترتب علی العقدالصحیح بقرینۃ قولہ حتی ا ن الاشتغال بہ افضل من التخلی لمحض للعبادۃ اھ اقول:لادلالۃ فربما یکون الاشتغال بتدبیرالعقد اطول مکثامن الوطی بل القرینۃ قولہ یہاں نکاح سے مراد وہ وطی ہے جو عقد صحیح پر مرتب ہوتی ہے اس پر قرینہ مصنف کا یہ قول ہےجہاں تك کہ نکاح میں مشغول ہونا محض عبادت کے خلوت سے افضل ہےالخ میں کہتا ہوں یہ کوئی دلالت وقرینہ نہیں بسا اوقات عقد کی تدبیر میں مشغول ہونا وطنی میں مشغول ہونے سے زیادہ طویل ہوتا ہےبلکہ قرینہ اس پر مصنف
حوالہ / References
الاشباہ والنظائر الفن الاول القاعدۃ الاولٰی ادارۃ القرآن کراچی ۱ /۳۳۔۳۴
الاشباہ والنظائر الفن الثانی کتاب النکاح ادارۃ القرآن کراچی ۱ /۲۴۶
غمزعیون البصائر مع الاشباہ والنظائر الفن الثانی کتاب النکاح ادارۃ القرآن کراچی ۱ /۲۴۶
غمزعیون البصائر مع الاشباہ والنظائر الفن الاول القاعدۃ الاولٰی ادارۃ القرآن کراچی ۱ /۳۳۔۳۴
الاشباہ والنظائر الفن الثانی کتاب النکاح ادارۃ القرآن کراچی ۱ /۲۴۶
غمزعیون البصائر مع الاشباہ والنظائر الفن الثانی کتاب النکاح ادارۃ القرآن کراچی ۱ /۲۴۶
غمزعیون البصائر مع الاشباہ والنظائر الفن الاول القاعدۃ الاولٰی ادارۃ القرآن کراچی ۱ /۳۳۔۳۴
یستمر فی الجنۃ فلم یثبت وقوع العقد فیہا کما نقلہ الحموی فی النکاح عن العلامۃ محمد بن ابی شریف اقول: وای حاجۃ الیہ بعد قولہ تعالی
" و زوجنہم بحور عین ﴿۵۴﴾" کما لم تحتج الیہ ام المؤمنین زینب رضی اﷲ تعالی عنہا بعد قولہ عزوجل " زوجنکہا" ۔ کا یہ قول ہے کہ پھر وہ جنت میں جاری رہے گی چنانچہ جنت میں وقوع عقد ثابت نہیں جیسا کہ اس کو علامہ حموی نے باب النکاح میں بحوالہ علامہ محمد بن ابوشریف نقل فرمایا ہے۔ میں کہتا ہوں ا ور اس کی کیا ضرورت ہے اﷲ تعالی کے اس ارشاد کے بعد اور ہم نے انہیں بیاہ دیا بڑی آنکھوں والی حوروں کے ساتھ جیسا کہ نہیں محتاج ہوئیں اس کی طرف ام المومنین سیدہ زینب رضی اﷲ تعالی عنہا اﷲ تعالی کے اس ارشاد کے بعد ہم نے وہ تمہیں نکاح میں دے دی۔ت)
اقول:تحقیق یہ ہے کہ یہ اختلاف حیثیت ہے ورنہ وضعا ان میں سے کچھ عبادات نہیں ولہذا قضا بھی کافر سے صحیح ہے جب کہ امام نے اسے ذمیوں کا قاضی بنایا ہو اور عتق بھی عبادت ہے جب کہ نیت مذکورہ کے ساتھ ہو اور ثواب نیت پر مطلقا موقوف اگرچہ فعل عبادت نہ ہو اور یہیں سے ظاہر کہ اخیر میں جو افعال ذکر کیے یعنی اقامت حدود وتعزیرات وافعال حکام و ولاۃ وادا و تحمل و شہادت سب کی تشبیہ قضا کے ساتھ بشرط عبادت ہوجانے میں بھی ممکن نہ صرف توقف ثواب علی النیتہ میں کہ مطلقا ہر فعل کو حاصل۔۔۔۔۔۔(جواب نامکمل دستیاب ہوا)
مسئلہ ۲۱۴: از بمبئی کلابا کافی شاپ سید وزیر علی صاحب مسئولہ محمد ابراہیم صاحب ۵جمادی الاخر ۱۳۳۹ھ
بحضور فیض گنجور پیر روشن ضمیر جناب مولانا مولوی احمد رضا خاں صاحب بریلویبعد آداب خادمانہ کے عرض پرداز ہوں کہ یہاں پر عیسائیوں کا(عیسائی)بہت زور شور ہے اور ہر وقت یہ لوگ پریشان کرتے ہیںفی الحال ان کے دو۲ سوال جن کے حل کرنے کے واسطے عرض کی جاتی ہی ہم لوگ حضور کے خادم اور نام لینے والے حضور کو ہی ہماری لاج ہے(۱)کلمہ شریف(لا الہ الا اﷲ محمد رسول اﷲ)یہ قرآن میں کس جگہ لکھا ہے اگر نہیں تو وہ اس کی تشریح مانگتے ہیں۔
(۲)حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو کہتے ہیں کہ وہ شافع محشر کس طرح سے اس کا ثبوت
" و زوجنہم بحور عین ﴿۵۴﴾" کما لم تحتج الیہ ام المؤمنین زینب رضی اﷲ تعالی عنہا بعد قولہ عزوجل " زوجنکہا" ۔ کا یہ قول ہے کہ پھر وہ جنت میں جاری رہے گی چنانچہ جنت میں وقوع عقد ثابت نہیں جیسا کہ اس کو علامہ حموی نے باب النکاح میں بحوالہ علامہ محمد بن ابوشریف نقل فرمایا ہے۔ میں کہتا ہوں ا ور اس کی کیا ضرورت ہے اﷲ تعالی کے اس ارشاد کے بعد اور ہم نے انہیں بیاہ دیا بڑی آنکھوں والی حوروں کے ساتھ جیسا کہ نہیں محتاج ہوئیں اس کی طرف ام المومنین سیدہ زینب رضی اﷲ تعالی عنہا اﷲ تعالی کے اس ارشاد کے بعد ہم نے وہ تمہیں نکاح میں دے دی۔ت)
اقول:تحقیق یہ ہے کہ یہ اختلاف حیثیت ہے ورنہ وضعا ان میں سے کچھ عبادات نہیں ولہذا قضا بھی کافر سے صحیح ہے جب کہ امام نے اسے ذمیوں کا قاضی بنایا ہو اور عتق بھی عبادت ہے جب کہ نیت مذکورہ کے ساتھ ہو اور ثواب نیت پر مطلقا موقوف اگرچہ فعل عبادت نہ ہو اور یہیں سے ظاہر کہ اخیر میں جو افعال ذکر کیے یعنی اقامت حدود وتعزیرات وافعال حکام و ولاۃ وادا و تحمل و شہادت سب کی تشبیہ قضا کے ساتھ بشرط عبادت ہوجانے میں بھی ممکن نہ صرف توقف ثواب علی النیتہ میں کہ مطلقا ہر فعل کو حاصل۔۔۔۔۔۔(جواب نامکمل دستیاب ہوا)
مسئلہ ۲۱۴: از بمبئی کلابا کافی شاپ سید وزیر علی صاحب مسئولہ محمد ابراہیم صاحب ۵جمادی الاخر ۱۳۳۹ھ
بحضور فیض گنجور پیر روشن ضمیر جناب مولانا مولوی احمد رضا خاں صاحب بریلویبعد آداب خادمانہ کے عرض پرداز ہوں کہ یہاں پر عیسائیوں کا(عیسائی)بہت زور شور ہے اور ہر وقت یہ لوگ پریشان کرتے ہیںفی الحال ان کے دو۲ سوال جن کے حل کرنے کے واسطے عرض کی جاتی ہی ہم لوگ حضور کے خادم اور نام لینے والے حضور کو ہی ہماری لاج ہے(۱)کلمہ شریف(لا الہ الا اﷲ محمد رسول اﷲ)یہ قرآن میں کس جگہ لکھا ہے اگر نہیں تو وہ اس کی تشریح مانگتے ہیں۔
(۲)حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو کہتے ہیں کہ وہ شافع محشر کس طرح سے اس کا ثبوت
دو کہ قرآن شریف میں کہاں لکھا ہے حضور اس کو نہایت ضروری تصور فرما کر جلدی جواب سے سرفراز فرمائیں۔
الجواب:
(۱)قرآن مجید سورہ محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم میں" لا الہ الا اللہ " ۔ہے اور اس کے متصل سورہ فتح میں " محمد رسول اللہ " ۔
(۲)سورہ بنی اسرائیل میں ہے:
" عسی ان یبعثک ربک مقاما محمودا ﴿۷۹" ۔ قریب ہے کہ تمہیں تمہارا رب ایسی جگہ کھڑا کردے جہاں سب تمہاری حمد کریں۔(ت)
مقام محمود مقام شفاعت کا نام ہے۔سورہ نساء پارہ ۵ رکوع ۶ میں ہے:
" ولو انہم اذ ظلموا انفسہم جاءوک فاستغفروا اللہ واستغفر لہم الرسول لوجدوا اللہ توابا رحیما ﴿۶۴﴾" ۔ اور اگر جب وہ اپنی جانوں پر ظلم کرلیں تو اے محبوب ! تمہارے حضور حاضر ہوں اور پھر اﷲ سے معافی چاہیں اور رسول ان کی شفاعت فرمائے تو ضرور اﷲ کو بہت توبہ قبول کرنے والا مہربان پائیں۔(ت)
رسول کا گناہگاروں کےلیے استغفار کرنا شفاعت ہی ہے۔بےعلم آدمی کوکافروں سےبدمذہبوں سےالجھنا بحث کر نا سخت حرام ہے انہیں رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا یہ حکم ہے ایاکم وایاھم لایضلونکم ولایفتنونکم ۔
ان سے دور رہوانہیں اپنے سے دور کرو وہ تمہیں گمراہ نہ کردیں کہیں وہ تمہیں فتنے میں نہ ڈال دیں۔والعیاذ باﷲ تعالی واﷲ تعالی ا علم(اور (اور اﷲ تعالی کی پناہاور اﷲ تعالی خوب جانتا ہے۔ت)
الجواب:
(۱)قرآن مجید سورہ محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم میں" لا الہ الا اللہ " ۔ہے اور اس کے متصل سورہ فتح میں " محمد رسول اللہ " ۔
(۲)سورہ بنی اسرائیل میں ہے:
" عسی ان یبعثک ربک مقاما محمودا ﴿۷۹" ۔ قریب ہے کہ تمہیں تمہارا رب ایسی جگہ کھڑا کردے جہاں سب تمہاری حمد کریں۔(ت)
مقام محمود مقام شفاعت کا نام ہے۔سورہ نساء پارہ ۵ رکوع ۶ میں ہے:
" ولو انہم اذ ظلموا انفسہم جاءوک فاستغفروا اللہ واستغفر لہم الرسول لوجدوا اللہ توابا رحیما ﴿۶۴﴾" ۔ اور اگر جب وہ اپنی جانوں پر ظلم کرلیں تو اے محبوب ! تمہارے حضور حاضر ہوں اور پھر اﷲ سے معافی چاہیں اور رسول ان کی شفاعت فرمائے تو ضرور اﷲ کو بہت توبہ قبول کرنے والا مہربان پائیں۔(ت)
رسول کا گناہگاروں کےلیے استغفار کرنا شفاعت ہی ہے۔بےعلم آدمی کوکافروں سےبدمذہبوں سےالجھنا بحث کر نا سخت حرام ہے انہیں رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا یہ حکم ہے ایاکم وایاھم لایضلونکم ولایفتنونکم ۔
ان سے دور رہوانہیں اپنے سے دور کرو وہ تمہیں گمراہ نہ کردیں کہیں وہ تمہیں فتنے میں نہ ڈال دیں۔والعیاذ باﷲ تعالی واﷲ تعالی ا علم(اور (اور اﷲ تعالی کی پناہاور اﷲ تعالی خوب جانتا ہے۔ت)
حوالہ / References
القرآن الکریم ۴۷ /۱۹
القرآن الکریم ۴۸ /۲۹
القرآن الکریم ۱۷ /۷۹
القرآن الکریم ۴ /۶۹
صحیح مسلم باب النہی عن الروایۃ عن الضعفاء الخ،قدیمی کتب خانہ آرام باغ کراچی ۱ /۱۰
القرآن الکریم ۴۸ /۲۹
القرآن الکریم ۱۷ /۷۹
القرآن الکریم ۴ /۶۹
صحیح مسلم باب النہی عن الروایۃ عن الضعفاء الخ،قدیمی کتب خانہ آرام باغ کراچی ۱ /۱۰
رسالہ
شرح المطالب فی مبحث ابی طالب ۱۳۱۶ھ
(مطالب کی وضاحت ابوطالب کی بحث میں)
مسئلہ ۲۱۵:ازبدایوں ۱۲۹۴ھ بعبارت سوال وثانیا بالاجمال از احمد آباد گجراتمحلہ جمال پور قریب مسجد کانچ مرسلہ جماعت اہل سنت ساکنان احمد آباد ۶ جمادی الاولی ۱۳۱۶ ہجری۔
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید ابوطالب کو کافر اور ابولہب و ابلیس کا مماثل کہتا ہے اور عمرو بدین دلائل اس سے انکار کرتا ہے کہ ا نہوں نے جناب سرور عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی کفالت و نصرت و حمایت و محبت بدرجہ غایت کی اور نعت شریف میں قصائد لکھے حضور نے انکے لیے استغفار فرمائی اور جامع الاصول میں ہے کہ:اہل بیت کے نزدیك وہ مسلمان مرے۔
شیخ محقق علیہ الرحمۃ نے شرح سفر السعادۃ میں فرمایا:
کم از ان نہ باشد کہ دریں مسئلہ توقف کنند و صرفہ نگہ دارند۔ کم از کم اس مسئلہ میں توقف کرتے ہیں اور احتیاط کو ملحوظ رکھتے ہیں۔(ت)
اور مواہب لدنیہ میں ایك وصیت نامہ ان کا بنام قریشی منقول جو حرفا حرفا ان کے اسلام پر شاہدان دونوں میں کون حق پر ہے اور ابوطالب کو مثل ابولہب و ابلیس سمجھنا کیسا اور ان کے کفر میں کوئی حدیث
شرح المطالب فی مبحث ابی طالب ۱۳۱۶ھ
(مطالب کی وضاحت ابوطالب کی بحث میں)
مسئلہ ۲۱۵:ازبدایوں ۱۲۹۴ھ بعبارت سوال وثانیا بالاجمال از احمد آباد گجراتمحلہ جمال پور قریب مسجد کانچ مرسلہ جماعت اہل سنت ساکنان احمد آباد ۶ جمادی الاولی ۱۳۱۶ ہجری۔
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید ابوطالب کو کافر اور ابولہب و ابلیس کا مماثل کہتا ہے اور عمرو بدین دلائل اس سے انکار کرتا ہے کہ ا نہوں نے جناب سرور عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی کفالت و نصرت و حمایت و محبت بدرجہ غایت کی اور نعت شریف میں قصائد لکھے حضور نے انکے لیے استغفار فرمائی اور جامع الاصول میں ہے کہ:اہل بیت کے نزدیك وہ مسلمان مرے۔
شیخ محقق علیہ الرحمۃ نے شرح سفر السعادۃ میں فرمایا:
کم از ان نہ باشد کہ دریں مسئلہ توقف کنند و صرفہ نگہ دارند۔ کم از کم اس مسئلہ میں توقف کرتے ہیں اور احتیاط کو ملحوظ رکھتے ہیں۔(ت)
اور مواہب لدنیہ میں ایك وصیت نامہ ان کا بنام قریشی منقول جو حرفا حرفا ان کے اسلام پر شاہدان دونوں میں کون حق پر ہے اور ابوطالب کو مثل ابولہب و ابلیس سمجھنا کیسا اور ان کے کفر میں کوئی حدیث
صحیح وارد ہوئی یا نہیںبرتقدیرثانی انہیں ضامن وکفیل رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا سمجھ کر رضی اﷲ تعالی عنہ کہیں یا مثل کفار سمجھیں بینوابسند الکتاب توجروا من الملك الوھاب بیوم القیمۃ والحساب۔(کتاب کی سند کے ساتھ بیان فرمائیے قیامت او ر حساب کے دن ملك الوہاب سے اجر دیئے جاؤ گے۔ت)
الجواب:
بسم اﷲ الرحمن الرحیم ط
اللھم ربناولوجھك الحمد احق ما قال العبدوکلنالك عبد لامانع لما اعطیت ولا معطی لما منعت ولارادلما قضیت ولا ینفع ذا الجد منك الجدلك الحمد علی ما ھدیت وعفوت وعافیت و منحت واولیت تبارکت و تعالیت سبحنك رب البیت مستجیرین بجمال وجہك الکریم من عذابك الالیم و شاہدین بان لا حول ولاقوۃ الا باﷲ العلی العظیم انت العزیز الغالب لایعجزك ھارب ولا یدرك مامنعت طالب ما علیك من واجب قدرت الاقدار ودو رت الادوارو کتبت فی الاسفار ما انت کاتبیعمل عامل بعمل الجنان فیظن الظان من الانس والجان ان سید خلہا و کأن قد کان فیغلبہ الکتاب فاذا ھو خائب ویفعل فاعل افعال النیران فیحسب الجیران ومن طلع علیہ النیران ان اے اﷲ ! ہمارے پروردگار! اور حمد تیری ذات کے زیادہ لائق ہے بنسبت اس کے جو بندے نے کہا۔اور ہم سب تیرے بندے ہیںجو تو نے عطا فرمایا اسے کوئی روکنے والے نہیں اور جسے تو نے روك دیا اسے کوئی دینے والا نہیںاور تیرے فی صلے کو کوئی رد کرنے والا نہیں اور تیرے سامنے کسی تونگر کی تونگری اس کے لیے نافع نہیںاور تیرے سامنے کسی تونگر کی تونگری اسکے لیے نافع نہیںتیرے لیے ہی حمد ہے اس پر جو تو نے ہدایت دیمعاف فرمایاعافیت دیعطا فرمایا اور والی بنایاتو برکت والا ہے اور برتر ہےاے رب کعبہ ! ہم تیری پاکی بیان کرتے ہیںتیرے درناك عذاب سے تیری ذات کی پناہ مانگتے ہوئے اور اس پر گواہی دیتے ہوئے کہ اﷲ برتر و عظیم کی توفیق کے بغیر نہ گناہ سے بچنے کی طاقت ہے نہ نیکی کرنے کی قوت تو عزت والا غالب ہےکوئی بھاگنے والا تیرے قابو سے باہر نہیں جاسکتا اور جو تو روك دے کوئی طالب اس کو پا نہیں سکتا تجھ پر کچھ بھی واجب نہیںتو نے تقدیریں مقدر فرمائیں اور ادوار کو گردش دی۔اور جو نے لکھنا تھا کتب تقدیر میں لکھ دیا۔کوئی آدمی جنتیوں جیسے کام کرتا ہے تو انسانوں اور جنوں میں سے کچھ گمان کرنے والے
الجواب:
بسم اﷲ الرحمن الرحیم ط
اللھم ربناولوجھك الحمد احق ما قال العبدوکلنالك عبد لامانع لما اعطیت ولا معطی لما منعت ولارادلما قضیت ولا ینفع ذا الجد منك الجدلك الحمد علی ما ھدیت وعفوت وعافیت و منحت واولیت تبارکت و تعالیت سبحنك رب البیت مستجیرین بجمال وجہك الکریم من عذابك الالیم و شاہدین بان لا حول ولاقوۃ الا باﷲ العلی العظیم انت العزیز الغالب لایعجزك ھارب ولا یدرك مامنعت طالب ما علیك من واجب قدرت الاقدار ودو رت الادوارو کتبت فی الاسفار ما انت کاتبیعمل عامل بعمل الجنان فیظن الظان من الانس والجان ان سید خلہا و کأن قد کان فیغلبہ الکتاب فاذا ھو خائب ویفعل فاعل افعال النیران فیحسب الجیران ومن طلع علیہ النیران ان اے اﷲ ! ہمارے پروردگار! اور حمد تیری ذات کے زیادہ لائق ہے بنسبت اس کے جو بندے نے کہا۔اور ہم سب تیرے بندے ہیںجو تو نے عطا فرمایا اسے کوئی روکنے والے نہیں اور جسے تو نے روك دیا اسے کوئی دینے والا نہیںاور تیرے فی صلے کو کوئی رد کرنے والا نہیں اور تیرے سامنے کسی تونگر کی تونگری اس کے لیے نافع نہیںاور تیرے سامنے کسی تونگر کی تونگری اسکے لیے نافع نہیںتیرے لیے ہی حمد ہے اس پر جو تو نے ہدایت دیمعاف فرمایاعافیت دیعطا فرمایا اور والی بنایاتو برکت والا ہے اور برتر ہےاے رب کعبہ ! ہم تیری پاکی بیان کرتے ہیںتیرے درناك عذاب سے تیری ذات کی پناہ مانگتے ہوئے اور اس پر گواہی دیتے ہوئے کہ اﷲ برتر و عظیم کی توفیق کے بغیر نہ گناہ سے بچنے کی طاقت ہے نہ نیکی کرنے کی قوت تو عزت والا غالب ہےکوئی بھاگنے والا تیرے قابو سے باہر نہیں جاسکتا اور جو تو روك دے کوئی طالب اس کو پا نہیں سکتا تجھ پر کچھ بھی واجب نہیںتو نے تقدیریں مقدر فرمائیں اور ادوار کو گردش دی۔اور جو نے لکھنا تھا کتب تقدیر میں لکھ دیا۔کوئی آدمی جنتیوں جیسے کام کرتا ہے تو انسانوں اور جنوں میں سے کچھ گمان کرنے والے
سیوردھا وکأن قد حان فیدرك القدرفاذاھوتائب ارسلت خیر خلقك وسراج افقك محمدا المبعوث بیسرك ورفقك بشیرا و نذیرا و سراجا منیرا ملأ ضؤوہ المشارق والمغارب وعم نورہ الاباعد والاقارب وحرم بقرب حضرتہ من حضرۃ قربہ ابوطالب فلك الحجۃ السامیۃ صل علی محمد صلاۃ نامیۃ وعلی الہ وصحبہ واھلہ وحزبہ صلاۃ ترضیك وترضیہ وتحفظ المصلی عما یردیہ وبارك وسلم ابدا ابدا والحمدﷲ دائما سرمدا امین امین یا ارحم الراحمین ! گمان کرنے لگتے ہیں کہ عنقریب یہ جنت میں داخل ہوجائے گا گویا کہ ایسا ہوگیا۔پھر اس پر لکھا ہوا غالب آجاتا ہے تو وہ ناکام ہوجاتا ہے اور کوئی عامل جنہمیوں جیسے کام کرتا رہتا ہے یہاں تك کہ اس کے پڑوسی اور دیگر لوگ سمجھنے لگتے کہ عنقریب یہ اس میں داخل ہوگا اور گویا کہ اس کا وقت قریب ہوچکا ہے پھر تقدیر اس کو پالیتی ہے تو وہ تائب ہوجاتا ہےتو نے اپنی مخلوق میں سے بہترین کو بھیجا جو تیرے افق کا سراج ہے یعنی محمد مصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم جو تیری طرف سے آسانی اور نرمی کے ساتھ مبعوث ہوئے خوشخبری سناتےڈر سناتے چمکادینے والے چراغ جس کی روشن نے مشرقوں اور مغربوں کو بھر دیااس کا نور دور و نزدیك والوں کو عام ہے۔اور ابو طالب اس کی بارگاہ کے قریب کے باوجود اس کی بارگاہ قرب سے محروم رہے۔چنانچہ تیری ہی حجت بلند ہے۔محمد مصطفی آپ کی آلآپ کے اصحابآپ کے اہل خانہ اور آپ کی جماعت پر ایسا پڑھنے والا درود نازل فرما جو تجھے بھی پسند ہو اور انہیں بھی پسند ہو جو درود پڑھنے والے کو ہلاکت سے بچائے اور برکت و سلام نازل فرما ہمیشہ کے لیے۔اور ہر حمد ہمیشہ ہمیشہ اﷲ ہی کے لیے ہے۔اے بہترین رحم فرمانے والے! ہماری دعا کو قبول فرما(ت)
اس میں شك نہیں کہ ابوطالب تمام عمر حضور سید المرسلین سیدالاولین و الاخرین سیدالابرار صلی اﷲ تعالی علیہ وعلی آل وسلم الی یوم القرار کی حفظ و حمایت و کفایت و نصرت میں مصروف رہے۔اپنی اولاد سے زیادہ حضور کو عزیز رکھااور اس وقت میں ساتھ دیا کہ ایك عالم حضور کا دشمن جاں ہوگیا تھااور حضور کی محبت میں اپنے تمام عزیزون قریبیوں سے مخالفت گوارا کیسب کو چھوڑ دینا قبول کیاکوئی دقیقہ غمگساری و جاں نثاری کا نامرعی نہ رکھااور یقینا جانتے تھے کہ حضور افضل المرسلین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اﷲ کے سچے رسول ہیںان پر ایمان لانے میں جنت ابدی اور تکذیب میں جہنم دائمی ہےبنوہاشم کو مرتے وقت وصیت کی کہ محمد صلی اﷲ
اس میں شك نہیں کہ ابوطالب تمام عمر حضور سید المرسلین سیدالاولین و الاخرین سیدالابرار صلی اﷲ تعالی علیہ وعلی آل وسلم الی یوم القرار کی حفظ و حمایت و کفایت و نصرت میں مصروف رہے۔اپنی اولاد سے زیادہ حضور کو عزیز رکھااور اس وقت میں ساتھ دیا کہ ایك عالم حضور کا دشمن جاں ہوگیا تھااور حضور کی محبت میں اپنے تمام عزیزون قریبیوں سے مخالفت گوارا کیسب کو چھوڑ دینا قبول کیاکوئی دقیقہ غمگساری و جاں نثاری کا نامرعی نہ رکھااور یقینا جانتے تھے کہ حضور افضل المرسلین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اﷲ کے سچے رسول ہیںان پر ایمان لانے میں جنت ابدی اور تکذیب میں جہنم دائمی ہےبنوہاشم کو مرتے وقت وصیت کی کہ محمد صلی اﷲ
تعالی علیہ وسلم کی تصدیق کرو فلاح پاؤ گےنعت شریف میں قصائدان سے منقولاور ان میں براہ فراست وہ امور ذکر کیے کہ اس وقت تك واقع نہ ہوئے تھے۔بعد بعثت شریف ان کا ظہور ہوایہ سب احوال مطالعہ احادیث و مراجعت کتب سیر سے ظاہرایك شعر ان کے قصیدے کا صحیح بخاری شریف میں بھی مروی:
وابیض یستسقی الغمام بوجھہ ثمال الیتامی عصمۃ للارامل
(وہ گورے رنگ والے جن کے روئے روشن کے توسل سے مینہ برستا ہےیتیموں کے جائے پناہ بیواؤں کے نگہبان صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔ت)
محمد بن اسحق تابعی صاحب سیر و مغازی نے یہ قصیدہ بتما مہما نقل کیا جس میں ایك سو ۱۱۰ دس بیتیں مدح جلیل و نعت منیع پر مشتمل ہیں۔شیخ محقق مولانا عبدالحق محدث دہلوی قدس سرہشرح صراط مستقیم میں اس قی صدہ کی نسبت فرماتے ہیں:
دلالت صریح داروبرکمال محبت ونہایت نبوت او انتہی ۔ یہ قصیدہ ابوطالب کی رسول ا ﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے ساتھ کمال محبت اور آپ کی نبوت کی انتہائی معرفت پر دلالت کرتا ہے۔(ت)
مگر مجردان امور سے ایمان ثابت نہیں ہوتا۔کاش یہ افعال واقوال ان سے حالت اسلام میں صادر ہوتے تو سیدنا عباس بلکہ ظاہرا سیدنا حمزہ رضی اﷲ تعالی عنہما سے بھی افضل قرار پاتے اور افضل الاعمام حضور افضل الانام علیہ وعلی آلہ وافضل الصلوۃ والسلام کہلائے جاتے۔تقدیر الہی نے بربنا اس حکمت کے جسے وہ جانے یا اس کا رسول صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم انہیں گروہ مسلمین و غلامان شفیع المذنبین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم میں شمار کیا جانا منظور نہ فرمایا " فاعتبروا یاولی الابصر ﴿۲﴾" ۔(تو عبر ت لو اے نگاہ والو! ت) صرف معرفت گو کیسی ہی کمال کے ساتھ ہوا یمان نہیںدانستن و شناختن اور چیز ہے اور اذعان و گرویدن اورکم کافر تھے جنہیں رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے سچے پیغمبر ہونے کا یقین نہ تھا" وجحدوا بہا و استیقنتہا انفسہم" (اور ان کے منکر ہوئے اور ان کے دلوں میں ان کا یقین تھا۔ت) اور علمائے اہل کتاب تو عموما جزم کلی رکھتے تھے حتی کہ یہ امران کے نزدیك کالعیان سے بھی زائد تھا معائنہ میں بصر غلطی
وابیض یستسقی الغمام بوجھہ ثمال الیتامی عصمۃ للارامل
(وہ گورے رنگ والے جن کے روئے روشن کے توسل سے مینہ برستا ہےیتیموں کے جائے پناہ بیواؤں کے نگہبان صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔ت)
محمد بن اسحق تابعی صاحب سیر و مغازی نے یہ قصیدہ بتما مہما نقل کیا جس میں ایك سو ۱۱۰ دس بیتیں مدح جلیل و نعت منیع پر مشتمل ہیں۔شیخ محقق مولانا عبدالحق محدث دہلوی قدس سرہشرح صراط مستقیم میں اس قی صدہ کی نسبت فرماتے ہیں:
دلالت صریح داروبرکمال محبت ونہایت نبوت او انتہی ۔ یہ قصیدہ ابوطالب کی رسول ا ﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے ساتھ کمال محبت اور آپ کی نبوت کی انتہائی معرفت پر دلالت کرتا ہے۔(ت)
مگر مجردان امور سے ایمان ثابت نہیں ہوتا۔کاش یہ افعال واقوال ان سے حالت اسلام میں صادر ہوتے تو سیدنا عباس بلکہ ظاہرا سیدنا حمزہ رضی اﷲ تعالی عنہما سے بھی افضل قرار پاتے اور افضل الاعمام حضور افضل الانام علیہ وعلی آلہ وافضل الصلوۃ والسلام کہلائے جاتے۔تقدیر الہی نے بربنا اس حکمت کے جسے وہ جانے یا اس کا رسول صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم انہیں گروہ مسلمین و غلامان شفیع المذنبین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم میں شمار کیا جانا منظور نہ فرمایا " فاعتبروا یاولی الابصر ﴿۲﴾" ۔(تو عبر ت لو اے نگاہ والو! ت) صرف معرفت گو کیسی ہی کمال کے ساتھ ہوا یمان نہیںدانستن و شناختن اور چیز ہے اور اذعان و گرویدن اورکم کافر تھے جنہیں رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے سچے پیغمبر ہونے کا یقین نہ تھا" وجحدوا بہا و استیقنتہا انفسہم" (اور ان کے منکر ہوئے اور ان کے دلوں میں ان کا یقین تھا۔ت) اور علمائے اہل کتاب تو عموما جزم کلی رکھتے تھے حتی کہ یہ امران کے نزدیك کالعیان سے بھی زائد تھا معائنہ میں بصر غلطی
حوالہ / References
صحیح البخاری ابواب الاستسقاء باب سوال الناس الامام الاستسقاء قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۳۷
شرح سفر السعادۃ فصل دربیان عیادت بیماراں مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ص ۲۴۹
القرآن الکریم ۵۹ /۲
القرآن الکریم ۲۷ /۱۴
شرح سفر السعادۃ فصل دربیان عیادت بیماراں مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ص ۲۴۹
القرآن الکریم ۵۹ /۲
القرآن الکریم ۲۷ /۱۴
بھی کرتی ہے اور یہاں کسی طرح کا شبہ و احتمال نہ تھا۔قال جل وعلا(اﷲ جل وعلا نے فرمایا): " یعرفونہ کما یعرفون ابناءہم" ۔وہ اس نبی کو ایسا پہچانتے ہیں جیسے آدمی اپنے بیٹوں کو پہچانتا ہے۔(ت)وقال عزمن قائل:
" فلما جاءہم ما عرفوا کفروا بہ ۫ فلعنۃ اللہ علی الکفرین﴿۸۹﴾ "
۔ تو جب تشریف لایا ان کے پاس وہ جانا پہچانا اس کے منکر ہو بیٹھے تو اﷲ کی لعنت منکروں پر۔(ت)
وقال جل ذکرہ:
" یجدونہ مکتوبا عندہم فی التورىۃ والانجیل ۫" ۔ لکھا ہوا پائیں گے اپنے پاس توریت اور انجیل میں۔(ت)
بعض کو رچشم بدباطن وہابیہ عصر کہ اس میں کلام کرتے اور کہتے ہیں اگر اہل کتاب کے یہاں حضور کا ذکر رسالت ہوتا تو ایمان کیوں نہ لاتے۔نصوص قاطعہ سے انکار اور خدا و رسول کی تکذیب اور یہودی و نصاری کی حمایت و تصدیق کرنے والے ہیں۔ اعوذ باﷲ من وسواس الشیطان(میں شیطان کے وسوسوں سے پناہ مانگتا ہوں۔ت) شرح عقائد نفسی میں ہے:
لیست حقیقۃ التصدیق ان تقع فی القلب نسبۃ الصدق الی الخبر والمخبر من غیراذعان وقبول بل ھو اذعان وقبول لذلك بحیث یقع علیہ اسم التسلیم علی ماصرح بہ الامام الغزالی ۔ حقیقت تصدیق یہ نہیں کہ دل میں خبر یا مخبر کی سچائی کی نسبت واقع ہوجائے بغیر اذعان وقبول کےبلکہ وہ تو اذعان اور اس طرح قبول کرنا ہے کہ اس پر اسم تسلیم واقع ہو۔جیسا کہ امام غزالی علیہ الرحمہ نے اس کی تصریح فرمائی ہے۔(ت)
اسی میں ہے:
" فلما جاءہم ما عرفوا کفروا بہ ۫ فلعنۃ اللہ علی الکفرین﴿۸۹﴾ "
۔ تو جب تشریف لایا ان کے پاس وہ جانا پہچانا اس کے منکر ہو بیٹھے تو اﷲ کی لعنت منکروں پر۔(ت)
وقال جل ذکرہ:
" یجدونہ مکتوبا عندہم فی التورىۃ والانجیل ۫" ۔ لکھا ہوا پائیں گے اپنے پاس توریت اور انجیل میں۔(ت)
بعض کو رچشم بدباطن وہابیہ عصر کہ اس میں کلام کرتے اور کہتے ہیں اگر اہل کتاب کے یہاں حضور کا ذکر رسالت ہوتا تو ایمان کیوں نہ لاتے۔نصوص قاطعہ سے انکار اور خدا و رسول کی تکذیب اور یہودی و نصاری کی حمایت و تصدیق کرنے والے ہیں۔ اعوذ باﷲ من وسواس الشیطان(میں شیطان کے وسوسوں سے پناہ مانگتا ہوں۔ت) شرح عقائد نفسی میں ہے:
لیست حقیقۃ التصدیق ان تقع فی القلب نسبۃ الصدق الی الخبر والمخبر من غیراذعان وقبول بل ھو اذعان وقبول لذلك بحیث یقع علیہ اسم التسلیم علی ماصرح بہ الامام الغزالی ۔ حقیقت تصدیق یہ نہیں کہ دل میں خبر یا مخبر کی سچائی کی نسبت واقع ہوجائے بغیر اذعان وقبول کےبلکہ وہ تو اذعان اور اس طرح قبول کرنا ہے کہ اس پر اسم تسلیم واقع ہو۔جیسا کہ امام غزالی علیہ الرحمہ نے اس کی تصریح فرمائی ہے۔(ت)
اسی میں ہے:
حوالہ / References
القرآن الکریم ۲ /۱۴۶
القرآن الکریم ۲ /۸۹
القرآن الکریم ۷ /۱۵۷
شرح عقائد النسفی والایمان فی اللغۃ التصدیق دارالاشاعۃ العربیہ قندھار افغانستان ص ۸۹
القرآن الکریم ۲ /۸۹
القرآن الکریم ۷ /۱۵۷
شرح عقائد النسفی والایمان فی اللغۃ التصدیق دارالاشاعۃ العربیہ قندھار افغانستان ص ۸۹
بعض القدریۃ ذھب الی ان الایمان ھوالمعرفۃ واطبق علماؤنا علی فسادہ لان اھل الکتاب کانوا یعرفون نبوۃ محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کما کانوا یعرفون ابناء ھم مع القطع بکفرھم لعدم التصدیق ولان من الکفار من کان یعرف الحق یقینا وانما کان ینکرعنادا اواستکبارا قال اﷲ تعالی وجحدوا بھا واستیقنتھا انفسھم ۔ بعض قدریہ اس طرف گئے ہیں کہ ایمان فقط معرفت کو کہتے ہیںاور ہمارے علماء کا اس قول کے فساد پر اجماع ہےکیونکہ اہل کتاب محمد مصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی نبوت کوایسے پہچانتے تھے جیسے اپنے بیٹوں کو پہچانتے تھےاس معرفت کے باوجود ان کا کفر قطعی ہے کیونکہ وہاں تصدیق نہیں پائی گیاور اس لئے بھی کہ بعض کافر یقینی طور پر حق کو پہچانتے تھے اور محض عنادوتکبر کی وجہ سے انکار کرتے تھے اﷲ تعالی نے فرمایا حالانکہ ان کےمنکر ہوئے اور ان کے دلوں میں ان کا یقین تھا(ت)
محقق دوانی شرح عقائد عضدی میں فرماتے ہیں:
التلفظ بکلمتی الشھادتین مع القدرۃ علیہ شرط فمن اخل بہ فھو کافر مخلد فی النار ولا تنفعہ المعرفۃ القلبیۃ من غیر اذعان وقبول فان من الکفار من کان یعرف الحق یقینا وکان انکارہ عنادا واستکبارا کما قال اﷲ تعالی " وجحدوا بہا و استیقنتہا انفسہم ظلما و علوا " ۔ شہادت(توحید و رسالت کی شہادت)کے دو کلموں کے ساتھ تلفظ کرنا جب کہ اس پر قادر ہو ایمان کی شرط ہےتو جس نے اس میں کوتاہی کی تو وہ کافر ہے اور دائمی طور پر جہنم میں رہنے والا ہےا ور اذعان و قبول کے بغیر معرفت قلبی اس کو نفع نہیں دے گی۔کیونکہ بعض کافر ایسے ہیں جو یقینی طور پر حق کو پہچانتے تھے۔ان کا انکار عناد و تکبر کی وجہ سے تھا۔جیسا کہ اﷲ تعالی نے فرمایا اور ان کے منکر ہوئے حالانکہ ان کے دلوں میں ان کا یقین تھا ظلم اور تکبر کی وجہ سے۔(ت)
محقق دوانی شرح عقائد عضدی میں فرماتے ہیں:
التلفظ بکلمتی الشھادتین مع القدرۃ علیہ شرط فمن اخل بہ فھو کافر مخلد فی النار ولا تنفعہ المعرفۃ القلبیۃ من غیر اذعان وقبول فان من الکفار من کان یعرف الحق یقینا وکان انکارہ عنادا واستکبارا کما قال اﷲ تعالی " وجحدوا بہا و استیقنتہا انفسہم ظلما و علوا " ۔ شہادت(توحید و رسالت کی شہادت)کے دو کلموں کے ساتھ تلفظ کرنا جب کہ اس پر قادر ہو ایمان کی شرط ہےتو جس نے اس میں کوتاہی کی تو وہ کافر ہے اور دائمی طور پر جہنم میں رہنے والا ہےا ور اذعان و قبول کے بغیر معرفت قلبی اس کو نفع نہیں دے گی۔کیونکہ بعض کافر ایسے ہیں جو یقینی طور پر حق کو پہچانتے تھے۔ان کا انکار عناد و تکبر کی وجہ سے تھا۔جیسا کہ اﷲ تعالی نے فرمایا اور ان کے منکر ہوئے حالانکہ ان کے دلوں میں ان کا یقین تھا ظلم اور تکبر کی وجہ سے۔(ت)
حوالہ / References
شرح عقائد النسفی والایمان لایزید ولا ینقص دارالاشاعت العربیہ قندھار افغانستان ص ۹۳ و ۹۴
الدوانی العقائد العضدیۃ والکفر عدم الایمان مطبع مجتبائی دہلی ص ۱۰۱
الدوانی العقائد العضدیۃ والکفر عدم الایمان مطبع مجتبائی دہلی ص ۱۰۱
آیات قرآنیہ و احادیث صحیحہ متوافرہ متظافرہ سے ابوطالب کا کفر پر مرنا اور دم واپسیں ایمان لانے سے انکار کرنا اور عاقبت کا ر اصحاب نار سے ہونا ایسے روشن ثبوت سے ثابت جس سے کسی سنی کو مجال دم زدن نہیںہم یہاں کلام کو سات فصل پر منقسم کریں۔
فصل اول_________آیات قرآنیہ
آیت اولی:قال اﷲ تبارك و تعالی(اﷲ تبارك و تعالی نے فرمایا۔ت):
" انک لا تہدی من احببت ولکن اللہ یہدی من یشاء و ہو اعلم بالمہتدین ﴿۵۶﴾ " ۔ اے نبی ! تم ہدایت نہیں دیتے جسے دوست رکھو ہاں خدا ہدایت دیتا ہے جسے چاہے وہ خوب جانتا ہے جو راہ پانے والے ہیں۔
مفسرین کا اجماع ہے کہ یہ آیہ کریمہ ابوطالب کے حق میں نازل ہوئی۔معالم التنزیل میں ہے:
نزلت فی ابی طالب ۔ ابو طالب کے حق میں نازل ہوئی۔(ت)
جلالین میں ہے:
نزل فی حرصہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم علی ایمان عمہ ا بی طالب ۔ یہ آیت حضور اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی آپ کے چچا ابو طالب کے ایمان لانے کی حر ص میں نازل ہوئی۔(ت)
مدارك التنزیل میں ہے:
قال الزجاج اجمع المفسرون انھا نزلت فی ابی طالب ۔ زجاج نے کہا کہ مفسرین کا اجماع ہے کہ یہ آیت کریمہ ابی طالب کے حق میں نازل ہوئی۔(ت)
کشاف زمحشری و تفسیر کبیر میں ہے:
فصل اول_________آیات قرآنیہ
آیت اولی:قال اﷲ تبارك و تعالی(اﷲ تبارك و تعالی نے فرمایا۔ت):
" انک لا تہدی من احببت ولکن اللہ یہدی من یشاء و ہو اعلم بالمہتدین ﴿۵۶﴾ " ۔ اے نبی ! تم ہدایت نہیں دیتے جسے دوست رکھو ہاں خدا ہدایت دیتا ہے جسے چاہے وہ خوب جانتا ہے جو راہ پانے والے ہیں۔
مفسرین کا اجماع ہے کہ یہ آیہ کریمہ ابوطالب کے حق میں نازل ہوئی۔معالم التنزیل میں ہے:
نزلت فی ابی طالب ۔ ابو طالب کے حق میں نازل ہوئی۔(ت)
جلالین میں ہے:
نزل فی حرصہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم علی ایمان عمہ ا بی طالب ۔ یہ آیت حضور اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی آپ کے چچا ابو طالب کے ایمان لانے کی حر ص میں نازل ہوئی۔(ت)
مدارك التنزیل میں ہے:
قال الزجاج اجمع المفسرون انھا نزلت فی ابی طالب ۔ زجاج نے کہا کہ مفسرین کا اجماع ہے کہ یہ آیت کریمہ ابی طالب کے حق میں نازل ہوئی۔(ت)
کشاف زمحشری و تفسیر کبیر میں ہے:
حوالہ / References
القرآن الکریم ۲۸ /۵۶
معالم التنزیل(تفسیر البغوی)تحت آیۃ ۲۸ /۵۶ دارالکتب العلمیہ بیروت ۳ /۳۸۷
تفسیر جلالین(تفسیرالبغوی)تحت آیۃ ۲۸/ ۵۶ اصح المطابع دہلی ص۳۳۲
مدارك التنزیل(تفسیرالنسفی)تحت آیۃ ۲۸ /۵۶ دارالکتاب العربی بیروت ۳ /۲۴۰
معالم التنزیل(تفسیر البغوی)تحت آیۃ ۲۸ /۵۶ دارالکتب العلمیہ بیروت ۳ /۳۸۷
تفسیر جلالین(تفسیرالبغوی)تحت آیۃ ۲۸/ ۵۶ اصح المطابع دہلی ص۳۳۲
مدارك التنزیل(تفسیرالنسفی)تحت آیۃ ۲۸ /۵۶ دارالکتاب العربی بیروت ۳ /۲۴۰
قال الزجاج اجمع المسلمون انھا نزلت فی ابی طالب ۔ زجاج نے کہا کہ مسلمانوں کا اجماع ہے کہ یہ آیت کریمہ ابی طالب کے حق میں نازل ہوئی۔(ت)
امام نووی شرح صحیح مسلم شریف کتاب الایمان میں فرماتے ہیں:
اجمع المفسرو ن علی انما نزلت فی ابی طالب و کذا نقل اجماعھم علی ھذا الزجاج وغیرہ ۔ مفسرین کا اجماع ہے کہ یہ آیت کریمہ ابو طالب کے حق میں نازل ہوئی اور جیساکہ زجاج وغیرہ نے اس پر ان کا اجماع نقل کیا ہے۔(ت)
مرقاۃ شرح مشکوۃ شریف میں ہے:
لقولہ تعالی فی حقہ باتفاق المفسرین انك لا تھدی من احببت ۔ اﷲ تعالی کے اس ارشاد کی وجہ سے جو باتفاق مفسرین اس (ابو طالب)کے بارے میں ہے:اے نبی ! تم ہدایت نہیں دیتے جسے دوست رکھو(ت)
حدیث اول:صحیح حدیث میں اس آیہ کریمہ کا سبب نزول یوں مذکور کہ جب حضور اقدس سید المر سلین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ابو طالب سے مرتے وقت کلمہ پڑھنے کو ارشاد فرمایاصاف انکار کیا اور کھا مجھے قریش عیب لگائیں گے کہ موت کی سختی سے گھبراکر مسلمان ہوگیا ورنہ حضور کی خوشی کردیتا۔اس پر رب العزت تبارك و تعالی نے یہ آیت کریمہ اتاری یعنی اے حبیب تم اس کا غم نہ کرو تم اپنا منصب تبلیغ ادا کرچکے ہدایت دینا اور دل میں نور ایمان پیدا کرنا یہ تمھارا فعل نہیں اﷲ عزوجل کے اختیار میں ہے اور اسے خوب معلوم ہے کہ کسے یہ دولت دے گا کسے محروم رکھے گا۔
صحیح مسلم شریف کتاب الایمان وجامع ترمذی کتاب التفسیر میں سیدنا ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ مروی:
قال قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لعمہ(زاد مسلم فی اخری ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہ نے کہا کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے اپنے چچا سے فرمایا(مسلم نے
امام نووی شرح صحیح مسلم شریف کتاب الایمان میں فرماتے ہیں:
اجمع المفسرو ن علی انما نزلت فی ابی طالب و کذا نقل اجماعھم علی ھذا الزجاج وغیرہ ۔ مفسرین کا اجماع ہے کہ یہ آیت کریمہ ابو طالب کے حق میں نازل ہوئی اور جیساکہ زجاج وغیرہ نے اس پر ان کا اجماع نقل کیا ہے۔(ت)
مرقاۃ شرح مشکوۃ شریف میں ہے:
لقولہ تعالی فی حقہ باتفاق المفسرین انك لا تھدی من احببت ۔ اﷲ تعالی کے اس ارشاد کی وجہ سے جو باتفاق مفسرین اس (ابو طالب)کے بارے میں ہے:اے نبی ! تم ہدایت نہیں دیتے جسے دوست رکھو(ت)
حدیث اول:صحیح حدیث میں اس آیہ کریمہ کا سبب نزول یوں مذکور کہ جب حضور اقدس سید المر سلین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ابو طالب سے مرتے وقت کلمہ پڑھنے کو ارشاد فرمایاصاف انکار کیا اور کھا مجھے قریش عیب لگائیں گے کہ موت کی سختی سے گھبراکر مسلمان ہوگیا ورنہ حضور کی خوشی کردیتا۔اس پر رب العزت تبارك و تعالی نے یہ آیت کریمہ اتاری یعنی اے حبیب تم اس کا غم نہ کرو تم اپنا منصب تبلیغ ادا کرچکے ہدایت دینا اور دل میں نور ایمان پیدا کرنا یہ تمھارا فعل نہیں اﷲ عزوجل کے اختیار میں ہے اور اسے خوب معلوم ہے کہ کسے یہ دولت دے گا کسے محروم رکھے گا۔
صحیح مسلم شریف کتاب الایمان وجامع ترمذی کتاب التفسیر میں سیدنا ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ مروی:
قال قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لعمہ(زاد مسلم فی اخری ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہ نے کہا کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے اپنے چچا سے فرمایا(مسلم نے
حوالہ / References
مفاتیح الغیب(التفسیر الکبیر)تحت آیۃ ۲۸ /۵۶ المطبعۃ البہیۃ مصر ۲۵/۲،تفسیر الکشاف تحت آیۃ ۲۸ /۵۶ دار الکتاب العربی بیروت ۳/ ۴۲۲
شرح صحیح مسلم للامام النووی کتاب الایمان باب الدلیل علی صحۃ الاسلام الخ قدیمی کتب خانہ کرچی ۱/ ۴۱
مرقاۃ المفاتیح کتاب الفتن باب صفۃ النار و اھلھا تحت حدیث ۵۶۶۸ مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۹/ ۶۴۰
شرح صحیح مسلم للامام النووی کتاب الایمان باب الدلیل علی صحۃ الاسلام الخ قدیمی کتب خانہ کرچی ۱/ ۴۱
مرقاۃ المفاتیح کتاب الفتن باب صفۃ النار و اھلھا تحت حدیث ۵۶۶۸ مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۹/ ۶۴۰
عند الموت)قل لا الہ الا اﷲ اشھد لك بھا یوم القیمۃ قال لولا ان تعیرنی قریش یقولون انما حملہ علی ذلك الجزع لاقررت بھا عینك فانزل اﷲ عزوجل " انک لا تہدی من احببت ولکن اللہ یہدی من یشاء " ۔ دوسری روایت میں یہ اضافہ کیا کہ بوقت موت فرمایا)لاالہ الا اﷲ کہہ دو میں تیرے لئے قیامت کے دن اس کی گواہی دوں گا۔اس نے جواب دیا:اگر یہ بات نہ ہوئی کہ قریش مجھے عار دلائیں گے کہ موت کی شدت کے باعث مسلمان ہوگیا تو میں آپ کی آنکھ ٹھنڈی کردیتا۔اس پر اﷲ تعالی نے یہ آیت نازل فرمائی کہ:اے نبی ! "تم ہدایت نہیں دیتے جسے دوست رکھوہاں خدا ہدایت دیتاہے جسے چاہے "۔(ت)
معالم ومدارك وبیضاوی وارشاد العقل السلیم وخازن و فتوحات الہیہ وغیرھا تفاسیر میں اسی حدیث کا حاصل اس آیت کے نیچے ذکر کیا۔
آیت ثانیہ:قال جل جلالہ(اﷲ جل جلالہ نے فرمایا):
" ما کان للنبی والذین امنوا ان یستغفروا للمشرکین ولوکانوا اولی قربی من بعد ما تبین لہم انہم اصحب الجحیم ﴿۱۱۳﴾ "
۔ روا نہیں نبی اور ایمان والوں کو کہ استغفار کریں مشرکوں کے لئے اگرچہ وہ اپنے قرا بت والے ہوں بعد اس کے کہ ان پر ظاہر ہوچکا کہ وہ بھڑکتی آگ میں جانیوالے ہیں۔
یہ آیت کریمہ بھی ابو طالب کے حق میں نازل ہوئی۔تفسیر امام نسفی میں ہے:
ھم علیہ الصلوۃ والسلام ان یستغفر لابی طالب فنزل ماکان للنبی ۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ارادہ فرمایا کہ ابو طالب کے لئے استغفار کریں تو یہ آیت کریمہ نازل ہوئی کہ " نبی کو یہ روا نہیں"۔(ت)
معالم ومدارك وبیضاوی وارشاد العقل السلیم وخازن و فتوحات الہیہ وغیرھا تفاسیر میں اسی حدیث کا حاصل اس آیت کے نیچے ذکر کیا۔
آیت ثانیہ:قال جل جلالہ(اﷲ جل جلالہ نے فرمایا):
" ما کان للنبی والذین امنوا ان یستغفروا للمشرکین ولوکانوا اولی قربی من بعد ما تبین لہم انہم اصحب الجحیم ﴿۱۱۳﴾ "
۔ روا نہیں نبی اور ایمان والوں کو کہ استغفار کریں مشرکوں کے لئے اگرچہ وہ اپنے قرا بت والے ہوں بعد اس کے کہ ان پر ظاہر ہوچکا کہ وہ بھڑکتی آگ میں جانیوالے ہیں۔
یہ آیت کریمہ بھی ابو طالب کے حق میں نازل ہوئی۔تفسیر امام نسفی میں ہے:
ھم علیہ الصلوۃ والسلام ان یستغفر لابی طالب فنزل ماکان للنبی ۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ارادہ فرمایا کہ ابو طالب کے لئے استغفار کریں تو یہ آیت کریمہ نازل ہوئی کہ " نبی کو یہ روا نہیں"۔(ت)
حوالہ / References
صحیح مسلم کتاب الایمان باب الدلیل علی صحۃ الاسلام الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۴۰،جامع الترمذی ابواب التفسیر سورۃ القصص امین کمپنی دہلی ۲/ ۱۵۰
القرآن الکریم ۹ /۱۱۳
مدارك التنزیل(تفسیرالنسفی)تحت آیۃ۹ /۱۱۳ دارالکتاب العربی بیروت ۲ /۱۴۸
القرآن الکریم ۹ /۱۱۳
مدارك التنزیل(تفسیرالنسفی)تحت آیۃ۹ /۱۱۳ دارالکتاب العربی بیروت ۲ /۱۴۸
جلالین میں ہے:
نزل فی استغفارہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لعمہ ابی طالب ۔ یہ آیت حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے اپنے چچا ابو طالب کے لیے استغفار کرنے کے بارے میں نازل ہوئی۔(ت)
امام عینی عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری میں فرماتے ہیں:قال الواحدی سمعت ابا عثمان الحیری سمعت ابا الحسن بن مقسم سمعت ابا اسحق الزجاج یقول فی ھذہ الایۃ اجمع المفسرون انھا نزلت فی ابی طالب ۔ یعنی واحدی نے اپنی تفسیر میں بسند خود ابواسحاق زجاج سے روایت کی کہ مفسرین کا اجماع ہے کہ یہ آیت ابوطالب کے حق میں اتری۔
اقول:ھکذااثرہ ھھنا والمعروف من الزجاج قولہ ھذا فی الایۃ الاولی کما سمعت والمذکور ھھنا فی المعالم وغیرھا فلیراجع تفسیر الواحدی فلعلہ اراد اتفاق الاکثر ین و لم یلق للخلاف بالالکونہ خلاف ماثبت فی الصحیح۔ میں کہتا ہوں یہاں تو وہ ایسا ہی منقول ہے حالانکہ زجاج کا یہ قول پہلی آیت کے بارے میں معروف ہے جیسا کہ تو سن چکا ہےاور معالم وغیرہ میں اس مقام پر مذکور ہے کہ آیت کے سبب نزول میں اختلاف ہے چنانچہ تفسیر واحدی کی طرف مراجعت کی جائے ہوسکتا ہے کہ اس کی مراد اکثر مفسرین کا اتفاق ہو اور اس نے مخالفت کی اس بنیاد پر کوئی پروانہ کی ہو کہ اس کے مخالف ہے جو صحیح میں ثابت ہوچکا ہے۔(ت)
بیضاوی میں پہلا قول اس آیت کا نزول دربارہ ابی طالب لکھا۔
علامہ شہاب خفا جی اس کی شرح عنایۃ القاضی وکفایۃ الراضی میں فرماتے ہیں:ھوالصحیح فی سبب النزول ۔یعنی یہی صحیح ہے۔
اسی طرح اس کی تصحیح فتوح الغیب و ارشاد الساری میں کی ہے اور فرمایا یہی حق ہے۔ کما سیأتی
نزل فی استغفارہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لعمہ ابی طالب ۔ یہ آیت حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے اپنے چچا ابو طالب کے لیے استغفار کرنے کے بارے میں نازل ہوئی۔(ت)
امام عینی عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری میں فرماتے ہیں:قال الواحدی سمعت ابا عثمان الحیری سمعت ابا الحسن بن مقسم سمعت ابا اسحق الزجاج یقول فی ھذہ الایۃ اجمع المفسرون انھا نزلت فی ابی طالب ۔ یعنی واحدی نے اپنی تفسیر میں بسند خود ابواسحاق زجاج سے روایت کی کہ مفسرین کا اجماع ہے کہ یہ آیت ابوطالب کے حق میں اتری۔
اقول:ھکذااثرہ ھھنا والمعروف من الزجاج قولہ ھذا فی الایۃ الاولی کما سمعت والمذکور ھھنا فی المعالم وغیرھا فلیراجع تفسیر الواحدی فلعلہ اراد اتفاق الاکثر ین و لم یلق للخلاف بالالکونہ خلاف ماثبت فی الصحیح۔ میں کہتا ہوں یہاں تو وہ ایسا ہی منقول ہے حالانکہ زجاج کا یہ قول پہلی آیت کے بارے میں معروف ہے جیسا کہ تو سن چکا ہےاور معالم وغیرہ میں اس مقام پر مذکور ہے کہ آیت کے سبب نزول میں اختلاف ہے چنانچہ تفسیر واحدی کی طرف مراجعت کی جائے ہوسکتا ہے کہ اس کی مراد اکثر مفسرین کا اتفاق ہو اور اس نے مخالفت کی اس بنیاد پر کوئی پروانہ کی ہو کہ اس کے مخالف ہے جو صحیح میں ثابت ہوچکا ہے۔(ت)
بیضاوی میں پہلا قول اس آیت کا نزول دربارہ ابی طالب لکھا۔
علامہ شہاب خفا جی اس کی شرح عنایۃ القاضی وکفایۃ الراضی میں فرماتے ہیں:ھوالصحیح فی سبب النزول ۔یعنی یہی صحیح ہے۔
اسی طرح اس کی تصحیح فتوح الغیب و ارشاد الساری میں کی ہے اور فرمایا یہی حق ہے۔ کما سیأتی
حوالہ / References
تفسیر جلالین تحت آیۃ ۹ /۱۱۳ اصح المطابع دہلی ص ۱۶۷
عمدۃ القاری کتاب الجنائز تحت حدیث ۱۳۶۰ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۷/ ۲۶۲
عنایۃ القاضی حاشیۃ الشہاب علٰی تفسیر البیضاوی تحت الایۃ ۹ /۱۱۳ دارالکتب العلمیہ بیروت ۴ /۶۴۸
عمدۃ القاری کتاب الجنائز تحت حدیث ۱۳۶۰ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۷/ ۲۶۲
عنایۃ القاضی حاشیۃ الشہاب علٰی تفسیر البیضاوی تحت الایۃ ۹ /۱۱۳ دارالکتب العلمیہ بیروت ۴ /۶۴۸
وھذہ التصحیحات ایضا ایۃ الخلاف کما لیس بخاف۔(جیسا کہ عنقریب آئے گا اور یہ تصحیحیں بھی مخالفت کی علامت میں جیسا کہ پوشیدہ نہیں۔ت)
حدیث دوم:صحیح بخاری و صحیح مسلم و سنن نسائی میں ہے:
واللفظ محمد قال حدثنا محمود فذکر بسندہ عن سعید بن المسیب عن ابیہ رضی اﷲ تعالی عنہما ان اباطالب لما حضرتہ الوفاۃ دخل علیہا النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم و عندہ ابوجہل فقال ای عم قال لا الہ الا اﷲ کلمۃ احاج لك بہا عند اﷲ فقال ابوجہل وعبداﷲ بن امیۃ یا اباطالب اترغب عن ملۃ عبدالمطلب فلم یزالا یکلمانہ حتی قال اخرشیئ کلمھم بہ علی ملۃ عبدالمطلب(زادالبخاری فی الجنائز و تفسیر سورۃ القص ص کمثل مسلم فی الایمان وابی ان یقول لا الہ الا اﷲ)فقال النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لا ستغفرن لك مالم انہ عنہ فنزلت" ما کان للنبی والذین امنوا ان یستغفروا للمشرکین ولوکانوا اولی قربی من بعد ما تبین لہم انہم اصحب اور لفظ محمد کے ہیںانہوں نے کہا ہم کو حدیث بیان کی محمود نےپھر اپنی سند کے ساتھ سعید بن مسیب سے اور انہوں نے اپنے باپ سے ذکر کیا۔رضی ا ﷲ تعالی عنہماکہ ابو طالب جب قریب الموت ہوئے تو رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے جب کہ ابوجہل اور عبداﷲ بن امیہ وہاں موجود تھے۔آپ نے فرمایا اے چچا کلمہ طیبہ لا الہ الا اﷲ پڑ ھ لو میں اس کے ذریعے تمہارے لیے جھگڑا کروں گا۔ابو جہل اور عبداﷲ بن امیہ نے کہا:اے ابوطالب ! کیا عبد المطلب کے دین سے اعراض کرلو گے وہ دونوں مسلسل ابو طالب سے یہی بات کہتے رہےیہاں تك کہ ابوطالب نے جو آخری بات انہیں کہی وہ یہ تھی کہ میں عبدالمطلب کے دین پر قائم ہوں۔(امام بخاری نے جنائز اور سورہ قص ص کی تفسیر میں یہ اضافہ کیا جیسا کہ امام مسلم نے کتاب الایمان میں کیا ہے کہ ابو طالب نے لا الہ اﷲ کہنے سے انکار کردیا)تو نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تك مجھے منع نہ کردیا گیا میں تیرے لیے ضرور استغفار کروں گا۔چنانچہ یہ آیت کریمہ نازل ہوئی روا نہیں نبی اور ایمان والوں کو کہ استغفار کریں مشرکوں کے لیے اگرچہ وہ اپنے قرابت والے ہوں بعد اس کے کہ ان پر ظاہر ہوچکا کہ وہ
حدیث دوم:صحیح بخاری و صحیح مسلم و سنن نسائی میں ہے:
واللفظ محمد قال حدثنا محمود فذکر بسندہ عن سعید بن المسیب عن ابیہ رضی اﷲ تعالی عنہما ان اباطالب لما حضرتہ الوفاۃ دخل علیہا النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم و عندہ ابوجہل فقال ای عم قال لا الہ الا اﷲ کلمۃ احاج لك بہا عند اﷲ فقال ابوجہل وعبداﷲ بن امیۃ یا اباطالب اترغب عن ملۃ عبدالمطلب فلم یزالا یکلمانہ حتی قال اخرشیئ کلمھم بہ علی ملۃ عبدالمطلب(زادالبخاری فی الجنائز و تفسیر سورۃ القص ص کمثل مسلم فی الایمان وابی ان یقول لا الہ الا اﷲ)فقال النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لا ستغفرن لك مالم انہ عنہ فنزلت" ما کان للنبی والذین امنوا ان یستغفروا للمشرکین ولوکانوا اولی قربی من بعد ما تبین لہم انہم اصحب اور لفظ محمد کے ہیںانہوں نے کہا ہم کو حدیث بیان کی محمود نےپھر اپنی سند کے ساتھ سعید بن مسیب سے اور انہوں نے اپنے باپ سے ذکر کیا۔رضی ا ﷲ تعالی عنہماکہ ابو طالب جب قریب الموت ہوئے تو رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے جب کہ ابوجہل اور عبداﷲ بن امیہ وہاں موجود تھے۔آپ نے فرمایا اے چچا کلمہ طیبہ لا الہ الا اﷲ پڑ ھ لو میں اس کے ذریعے تمہارے لیے جھگڑا کروں گا۔ابو جہل اور عبداﷲ بن امیہ نے کہا:اے ابوطالب ! کیا عبد المطلب کے دین سے اعراض کرلو گے وہ دونوں مسلسل ابو طالب سے یہی بات کہتے رہےیہاں تك کہ ابوطالب نے جو آخری بات انہیں کہی وہ یہ تھی کہ میں عبدالمطلب کے دین پر قائم ہوں۔(امام بخاری نے جنائز اور سورہ قص ص کی تفسیر میں یہ اضافہ کیا جیسا کہ امام مسلم نے کتاب الایمان میں کیا ہے کہ ابو طالب نے لا الہ اﷲ کہنے سے انکار کردیا)تو نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تك مجھے منع نہ کردیا گیا میں تیرے لیے ضرور استغفار کروں گا۔چنانچہ یہ آیت کریمہ نازل ہوئی روا نہیں نبی اور ایمان والوں کو کہ استغفار کریں مشرکوں کے لیے اگرچہ وہ اپنے قرابت والے ہوں بعد اس کے کہ ان پر ظاہر ہوچکا کہ وہ
الجحیم ﴿۱۱۳﴾ "ونزلت" انک لا تہدی من احببت " ۔ بھڑکتی آگ میں جائیں گے۔اور یہ آیت نازل ہوئی۔اے نبی! تم ہدایت نہیں دیتے جسے دوست رکھو۔(ت)
اس حدیث جلیل سے واضح کہ ابو طالب نے وقت مرگ کلمہ طیبہ سے صاف انکار کردیا اور ابوجہل لعین کے اغوا سے حضور اقدس سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا ارشاد قبول نہ کیا۔حضور رحمۃ اللعالمین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے اس پر بھی وعدہ فرمایا کہ جب تك اﷲ عزوجل مجھے منع نہ فرمائے گا میں تیرے لیے استغفار کروں گا۔مولی سبحنہ و تعالی نے یہ دونوں آیتیں اتاریں اور اپنے حبیب صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو ابوطالب کے لیے استغفار سے منع کیا اور صاف ارشاد فرمایا کہ مشرکوں دوزخیوں کے لیے استغفار جائز نہیں۔
نسأل اﷲالعفو والعافیۃاماتزییف الزمخشری نزول الایۃ فیہ بان موت ابی طالب کان قبل الھجرۃ و ھذا اخر مانزل بالمدینۃ اھ فمردود بما فی ارشاد الساری عن الطیبی عن التقریب انہ یجوزان النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کان یستغفر لا بی طالب الی حین نزولہا والتشدید مع الکفار انما ظہرفی ھذہ السورۃ اھقال اعنی القسطلانی ترجمہ ہم اﷲ تعالی سے معافی اور عافیت کا سوال کرتے ہیں رہا زمخشری کا ابو طالب کے بارے میں اس آیت کے نزول کو اس بنیاد پر ضعیف قراردینا کہ ابو طالب کی موت ہجرت سے پہلے ہوئیجبکہ یہ آیت کریمہ آخری مرحلہ پر مدینہ منورہ میں نازل ہوئیتو وہ مردود ہے اس دلیل کی وجہ سے جو ارشاد الساری میں طیبی سے بحوالہ تقریب مذکور ہے کہ ہوسکتا ہے نبی کریم صلی اﷲ تعالی وسلم اس آیت کےنزول تك ابو طالب کے لئے استغفار کرتے رہے ہوں۔کافروں کے ساتھ
اس حدیث جلیل سے واضح کہ ابو طالب نے وقت مرگ کلمہ طیبہ سے صاف انکار کردیا اور ابوجہل لعین کے اغوا سے حضور اقدس سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا ارشاد قبول نہ کیا۔حضور رحمۃ اللعالمین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے اس پر بھی وعدہ فرمایا کہ جب تك اﷲ عزوجل مجھے منع نہ فرمائے گا میں تیرے لیے استغفار کروں گا۔مولی سبحنہ و تعالی نے یہ دونوں آیتیں اتاریں اور اپنے حبیب صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو ابوطالب کے لیے استغفار سے منع کیا اور صاف ارشاد فرمایا کہ مشرکوں دوزخیوں کے لیے استغفار جائز نہیں۔
نسأل اﷲالعفو والعافیۃاماتزییف الزمخشری نزول الایۃ فیہ بان موت ابی طالب کان قبل الھجرۃ و ھذا اخر مانزل بالمدینۃ اھ فمردود بما فی ارشاد الساری عن الطیبی عن التقریب انہ یجوزان النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کان یستغفر لا بی طالب الی حین نزولہا والتشدید مع الکفار انما ظہرفی ھذہ السورۃ اھقال اعنی القسطلانی ترجمہ ہم اﷲ تعالی سے معافی اور عافیت کا سوال کرتے ہیں رہا زمخشری کا ابو طالب کے بارے میں اس آیت کے نزول کو اس بنیاد پر ضعیف قراردینا کہ ابو طالب کی موت ہجرت سے پہلے ہوئیجبکہ یہ آیت کریمہ آخری مرحلہ پر مدینہ منورہ میں نازل ہوئیتو وہ مردود ہے اس دلیل کی وجہ سے جو ارشاد الساری میں طیبی سے بحوالہ تقریب مذکور ہے کہ ہوسکتا ہے نبی کریم صلی اﷲ تعالی وسلم اس آیت کےنزول تك ابو طالب کے لئے استغفار کرتے رہے ہوں۔کافروں کے ساتھ
حوالہ / References
صحیح البخاری کتاب الجنائز باب اذاقال المشرك عندالموت لا الہٰ الا اﷲ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۸۱،صحیح البخاری کتاب المناقب باب قصہ ابی طالب قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۵۴۸،صحیح البخاری کتاب التفسیرسورۃ البراء ۃ باب ماکان للنبی والذین اٰمنوا لخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۶۷۵،صحیح البخاری کتاب التفسیرسورۃ القصص باب قولہ تعالٰی انك لاتہدی من احببت قدیمی کتب خانہ ۲ /۷۰۳، صحیح مسلم،کتاب الایمان باب الدلیل علی صحۃ الاسلام من حضر الموت قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۴۰،سنن النسائی کتاب الجنائز النہی عن الاستغفار للمشرکین نور محمد کارخانہ تجارت کراچی ۱ /۲۸۶
الکشاف عن حقائق غوامض التنزیل تحت آیۃ ۹ /۱۱۳ مکتبۃ الاعلام الاسلامی فی الحورۃ العلمیۃ قم ایران ۲ /۳۱۵
ارشاد الساری شرح صحیح البخاری کتاب التفسیر سورۃ توبہ دارالکتاب العربیۃ بیروت ۷ /۱۵۸
الکشاف عن حقائق غوامض التنزیل تحت آیۃ ۹ /۱۱۳ مکتبۃ الاعلام الاسلامی فی الحورۃ العلمیۃ قم ایران ۲ /۳۱۵
ارشاد الساری شرح صحیح البخاری کتاب التفسیر سورۃ توبہ دارالکتاب العربیۃ بیروت ۷ /۱۵۸
قال فی فتوح الغیب وھذاھوالحق وروایۃ نزولہا فی ابی طالب ھی الصحیحۃ اھ وکذاردہ الامام الرازی فی الکبیر وقال العلامۃ الخفاجی فی عنایۃ القاضی بعد نقل کلام التقریب اعتمدہ من بعدہمن الشراح ولاینا فیہ قولہ فی الحدیث فنزلت لامتداداستغفار ہ لہ الی نزدلھا اولان الفاء للسببیۃ بدون تعقیب اھ۔
اقول:والدلیل علی الاستمرار واستدامۃ الاستغفار قول سیدالابرار صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لا ستغفرن لك مالم انہ عنہ فھذا مقام الجزم دون التجویز و الاستظہارعلا ان الامام الجلیل الجلال السیوطی فی کتاب الاتقان عقد فصلالبیان شدت پسندی تو اس سورۃمیں ظاہر ہوئی ہے۔اھ امام قسطلانی نے فرمایا کہ فتوح الغیب میں ہے کہ یہی حق ہے اور اس کے ابوطالب کے بارے میں نزول والی روایت ہی صحیح ہے اھ امام رازی نے تفسیر کبیر میں یونہی زمخشری کا رد کیا ہےاور علامہ خفا جی نے عنایۃ القاضی میں تقریب کا کلام نقل کرنے کے بعد کہا کہ بعد والے تمام شارحین نے اس پر اعتماد کیا ہے اور یہ حدیث میں وارد راوی کے قول فنزلت کے منافی نہیں اس لیے کہ نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے نزول آیت تك ابوطالب کے لیے استغفار میں استمرار فرمایا یا اس لیے کہ فاء سببیت کے لیے ہے نہ کہ تعقیب کے لیے ا ھ(ت)
میں کہتا ہوں کہ استغفار کے استمرار و دوام پر دلیل سید الابرار صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا یہ ارشاد ہے کہ میں تیرے لیے ضرور استغفار کروں گا جب تك مجھے منع نہ کیا گیا۔لہذا یہ مقام جزم ہے نہ کہ مقام تجویز و تائیدعلاوہ ازیں امام جلال الدین سیوطی علیہ الرحمۃ نے کتاب الاتقان میں یہ بیان کرنے کے لیے ایك فصل قائم فرمائی ہے کہ مکی
اقول:والدلیل علی الاستمرار واستدامۃ الاستغفار قول سیدالابرار صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لا ستغفرن لك مالم انہ عنہ فھذا مقام الجزم دون التجویز و الاستظہارعلا ان الامام الجلیل الجلال السیوطی فی کتاب الاتقان عقد فصلالبیان شدت پسندی تو اس سورۃمیں ظاہر ہوئی ہے۔اھ امام قسطلانی نے فرمایا کہ فتوح الغیب میں ہے کہ یہی حق ہے اور اس کے ابوطالب کے بارے میں نزول والی روایت ہی صحیح ہے اھ امام رازی نے تفسیر کبیر میں یونہی زمخشری کا رد کیا ہےاور علامہ خفا جی نے عنایۃ القاضی میں تقریب کا کلام نقل کرنے کے بعد کہا کہ بعد والے تمام شارحین نے اس پر اعتماد کیا ہے اور یہ حدیث میں وارد راوی کے قول فنزلت کے منافی نہیں اس لیے کہ نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے نزول آیت تك ابوطالب کے لیے استغفار میں استمرار فرمایا یا اس لیے کہ فاء سببیت کے لیے ہے نہ کہ تعقیب کے لیے ا ھ(ت)
میں کہتا ہوں کہ استغفار کے استمرار و دوام پر دلیل سید الابرار صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا یہ ارشاد ہے کہ میں تیرے لیے ضرور استغفار کروں گا جب تك مجھے منع نہ کیا گیا۔لہذا یہ مقام جزم ہے نہ کہ مقام تجویز و تائیدعلاوہ ازیں امام جلال الدین سیوطی علیہ الرحمۃ نے کتاب الاتقان میں یہ بیان کرنے کے لیے ایك فصل قائم فرمائی ہے کہ مکی
حوالہ / References
ارشاد الساری شرح صحیح البخاری کتاب التفسیر سورۃ توبہ دارالکتاب العربیۃ بیروت ۷ /۱۵۸
عنایۃ القاضی حاشیۃ الشھاب علی تفسیر البیضاوی تحت آیۃ ۹/ ۱۱۳ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۴ /۶۴۸
صحیح البخاری کتاب المناقب باب قصہ ابی طالب ۱ /۵۴۸ و سورۃ التوبۃ ۲/ ۶۷۵ وسورۃ القصص ۲/ ۷۰۳،صحیح مسلم کتاب الایمان باب الدلیل علی صحۃ الاسلام من حضر الموت الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۴۰
الاتقان فی علوم القرآن فصل فی ذکر ما استثنی من المکی والمدنی دارالکتاب العربی بیروت ۱/ ۷۳
عنایۃ القاضی حاشیۃ الشھاب علی تفسیر البیضاوی تحت آیۃ ۹/ ۱۱۳ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۴ /۶۴۸
صحیح البخاری کتاب المناقب باب قصہ ابی طالب ۱ /۵۴۸ و سورۃ التوبۃ ۲/ ۶۷۵ وسورۃ القصص ۲/ ۷۰۳،صحیح مسلم کتاب الایمان باب الدلیل علی صحۃ الاسلام من حضر الموت الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۴۰
الاتقان فی علوم القرآن فصل فی ذکر ما استثنی من المکی والمدنی دارالکتاب العربی بیروت ۱/ ۷۳
مانزل من ایات السور المکیۃ بالمدینۃ وبالعکس وذکر فیہ عن بعضھم ان ایۃ ماکان للنبی ایۃ مکیۃ نزلت فی قولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لا بی طالب لا ستغفرن لك مالم انہ عنہ واقرہ علیہ فعلی ھذا یزھق الاشکال من راسہ ثم ان لفظ البخاری فی کتاب التفسیر فانزل اﷲ بعد ذلك قال الحافظ فی فتح الباری الظاھر نزولہا بعدہ بمدۃ الروایۃ التفسیر ا ھ وھذاایضا یطیع الشبھۃ من راسھا افاد ھذین العلامۃ الزرقانی فی شرح المواہب وبعد اللتیا والتی اذقدافصح الحدیث الصحیح بنزولہا فیہ فکیف ترد الصحاح بالھوسات۔ سورتوں کی کون سی آیات مدینہ میں نازل ہوئی ہیں اور اس کے برعکس(یعنی مدنی سورتوں کی کون سی آیات مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی ہیں)اور اس میں بعض مفسرین کے حوالے سے ذکر کیا ہے کہ آیت کریمہ ماکان للنبی مکی ہے اور نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے اس ارشاد کے بارے میں نازل ہوئی جو آپ نے ابو طالب سے فرمایا کہ جب تك مجھے منع نہ کیا گیا میں تیرے لیے استغفار کروں گا اور امام سیوطی نے اس کو برقرار رکھا اس بنیاد پر تو اشکال سرے سے ہی دفع ہوجائے گا۔پھر کتاب التفسیر میں بخاری کے لفظ یہ ہیں کہ اس کے بعد اﷲ تعالی نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائیحافظ نے فتح الباری میں کہا روایت تفسیر کی بنیاد پر ظاہر یہ ہے کہ اس کا نزول سرکار دوعالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے ارشاد مذکور سے کچھ مدت کے بعد ہوا ا ھ یہ بھی سرے سے شبہہ کا ازالہ کردیتا ہےعلامہ زرقانی نے شرح مواہب میں ان دونوں کا افادہ فرمایااس لمبی اور مختصر گفتگو کے بعد جب حدیث صحیح نے ابو طالب کے بارے میں نزول آیت کی تصریح کردی تو خواہشات کے ساتھ صحیح حدیثوں کو کیسے رد کیا جاسکتا ہے۔(ت)
آیت ثالثہ:قال عز مجدہ(اﷲ عزمجدہ نے فرمایا۔ت):
" و ہم ینہون عنہ و ینـون عنہ و ان یہلکون الا انفسہم و وہ اس نبی سے اوروں کو روکتے اور باز رکھتے ہیں اور خود اس پر ایمان لانے سے بچتے اور دور رہتے
آیت ثالثہ:قال عز مجدہ(اﷲ عزمجدہ نے فرمایا۔ت):
" و ہم ینہون عنہ و ینـون عنہ و ان یہلکون الا انفسہم و وہ اس نبی سے اوروں کو روکتے اور باز رکھتے ہیں اور خود اس پر ایمان لانے سے بچتے اور دور رہتے
حوالہ / References
شرح الزرقانی علی المواھب اللدنیۃ ذکر وفاۃ خدیجۃ وابی طالب دارالمعرفہ بیروت ۱/ ۲۹۳
شرح الزرقانی علی المواھب اللدنیۃ ذکر وفاۃ خدیجۃ وابی طالب دارالمعرفہ بیروت ۱/ ۲۹۳
شرح الزرقانی علی المواھب اللدنیۃ ذکر وفاۃ خدیجۃ وابی طالب دارالمعرفہ بیروت ۱/ ۲۹۳
ما یشعرون ﴿۲۶﴾" ۔ ہیں اور اس کے باعث وہ خود اپنی ہی جانوں کو ہلاك کرتے ہیں اور انہیں شعور نہیں۔
یعنی جان بوجھ کر جو بے شعوروں کے سے کام کرے اس سے بڑھ کر بے شعور کون۔سلطان المفسرین سیدنا عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما اور ان کے تلمیذ رشید سیدنا امام اعظم کے استاد مجید امام عطاء بن ابی رباح و مقاتل وغیرہم مفسرین فرماتے ہیںیہ آیت ابو طالب کے باب میں اتری۔تفسیر امام بغوی محی السنہ میں ہے:
قال ابن عباس و مقاتل نزلت فی ابی طالب کان ینہی الناس عن اذی النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ویمنعھم وینأی عن الایمان بہ ای یبعد ۔ ابن عباس و مقاتل نے فرمایا کہ یہ آیت ابو طالب کے بارے میں نازل ہوئیوہ لوگوں کو حضور اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو تکلفی دینے سے روکتا تھا اور انہیں منع کرتا تھااور خود حضور سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پر ایمان لانے سے دور رہتا۔(ت)
انوارالتنزیل میں ہے:
ینھون عن التعرض الرسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وینأون عنہ فلا یؤمنون بہ کابی طالب ۔ وہ لوگوں کو رسول پاك صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا تعاقب کرنے سے روکتے اور خود آپ سے دور رہتے چنانچہ آپ پر ایمان نہیں لاتے جیسے ابوطالب(ت)
حدیث سوم:فریابی اور عبدالرزاق اپنے مصنف اور سعید بن منصور سنن میں اور عبد بن حمید اور ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم و طبرانی وا بوا لشیخ وابن مردویہ اور حاکم مستدرك میں بافادہ تصحیح اور بیہقی دلائل النبوۃ میں حضرت عبداﷲ ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے اس کی تفسیر میں راوی:
قال نزلت فی ابی طالب کان ینھی عن المشرکین ان یؤذوا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یعنی یہ آیت ابوطالب کے بارے میں اتری کہ وہ کافروں خو حضور سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی
یعنی جان بوجھ کر جو بے شعوروں کے سے کام کرے اس سے بڑھ کر بے شعور کون۔سلطان المفسرین سیدنا عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما اور ان کے تلمیذ رشید سیدنا امام اعظم کے استاد مجید امام عطاء بن ابی رباح و مقاتل وغیرہم مفسرین فرماتے ہیںیہ آیت ابو طالب کے باب میں اتری۔تفسیر امام بغوی محی السنہ میں ہے:
قال ابن عباس و مقاتل نزلت فی ابی طالب کان ینہی الناس عن اذی النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ویمنعھم وینأی عن الایمان بہ ای یبعد ۔ ابن عباس و مقاتل نے فرمایا کہ یہ آیت ابو طالب کے بارے میں نازل ہوئیوہ لوگوں کو حضور اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو تکلفی دینے سے روکتا تھا اور انہیں منع کرتا تھااور خود حضور سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پر ایمان لانے سے دور رہتا۔(ت)
انوارالتنزیل میں ہے:
ینھون عن التعرض الرسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وینأون عنہ فلا یؤمنون بہ کابی طالب ۔ وہ لوگوں کو رسول پاك صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا تعاقب کرنے سے روکتے اور خود آپ سے دور رہتے چنانچہ آپ پر ایمان نہیں لاتے جیسے ابوطالب(ت)
حدیث سوم:فریابی اور عبدالرزاق اپنے مصنف اور سعید بن منصور سنن میں اور عبد بن حمید اور ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم و طبرانی وا بوا لشیخ وابن مردویہ اور حاکم مستدرك میں بافادہ تصحیح اور بیہقی دلائل النبوۃ میں حضرت عبداﷲ ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے اس کی تفسیر میں راوی:
قال نزلت فی ابی طالب کان ینھی عن المشرکین ان یؤذوا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یعنی یہ آیت ابوطالب کے بارے میں اتری کہ وہ کافروں خو حضور سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی
حوالہ / References
القرآن الکریم ۶ /۲۶
معالم النتزیل(تفسیر بغوی)تحت آیۃ ۶/ ۲۶ دارالکتب بیروت ۲ /۷۵
انوار التنزیل(تفسیر البیضاوی)تحت آیۃ ۶/ ۲۶ دارالفکر بیروت ۲ /۴۰۱
معالم النتزیل(تفسیر بغوی)تحت آیۃ ۶/ ۲۶ دارالکتب بیروت ۲ /۷۵
انوار التنزیل(تفسیر البیضاوی)تحت آیۃ ۶/ ۲۶ دارالفکر بیروت ۲ /۴۰۱
یتباعد عما جاء بہ ۔
قال فی مفاتیح الغیب فیہ قولان منھم من قال المراد انھم ینھون عن التصدیق نبوتہ والاقرار برسالتہ وقال عطاء ومقاتل نزلت فی ابی طالب کان ینھی قریشا عن ایذاء النبی علیہ الصلوۃ والسلام ثم یتباعد عنہ ولا یتبعہ علی دینہو القول الاول اشبہ لوجہین الاول ان جمیع الایات المتقدمۃ علی ھذہ الایۃ تقتضی ذم طریقتھم فلذلك قولہ وھم ینہون عنہ ینبغی ان یکون محمولا علی امر مذموم فلو حملناہ علی ان ابا طالب کان ینھی عن ایذاءہ لما ح صل ھذا النظموالثانی انہ تعالی قال بعد ذلك "وان یہلکون الا انفسھم" یعنی بہ ما تقدم ذکرہ ولا یلیق ذلك ان یکون المراد من قولہ "وھم ینہون عنہ" النھی ایذا سے منع کرتے باز رکھتے اور حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پر ایمان لانے سے دور رہتے۔
مفاتیح الغیب میں فرمایا اس میں دو قول ہیں ان میں سے بعض نے کہا مراد یہ ہے کہ وہ حضور پرنور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی نبوت کی تصدیق اور آپ کی رسالت کے اقرار سے روکتے ہیں جب کہ عطاء اور مقاتل نے کہا کہ وہ یہ آیت کریمہ ابو طالب کے بارے میں نازل ہوئی وہ قریش کو نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی ایذا رسانی سے روکتے تھے پھر خود آپ سے دور رہتے اور دین میں آپ کی اتباع نہیں کرتے تھے قول اول دو وجہ سےزیادہ مناسب ہے۔وجہ اول:یہ ہے کہ اس آیۃ کریمہ سے ماقبل والی تمام آیت قریش کے طریقہ کی مذمت کا تقاضا کرتی ہیں۔اسی طرح یہ اﷲ تعالی کا قول وھم ینہون عنہ(یعنی وہ اس سے روکتے ہیں)بھی امر مذموم پر محمول ہونا چاہیے اگر ہم اس کو اس معنی پر محمول کریں کہ ابو طالب نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی ایذا رسانی سے روکتے تھے تو یہ نظم مذکور حاصل نہ ہوگا۔وجہ ثانی یہ ہے کہ اﷲ تعالی نے اس کے بعد فرمایا ہے کہ وہ خود اپنی ہی جانوں کو ہلاك کرتے ہیں۔اس سے مراد وہی ہے جس کا پہلا ذکر ہوچکا ہے۔
قال فی مفاتیح الغیب فیہ قولان منھم من قال المراد انھم ینھون عن التصدیق نبوتہ والاقرار برسالتہ وقال عطاء ومقاتل نزلت فی ابی طالب کان ینھی قریشا عن ایذاء النبی علیہ الصلوۃ والسلام ثم یتباعد عنہ ولا یتبعہ علی دینہو القول الاول اشبہ لوجہین الاول ان جمیع الایات المتقدمۃ علی ھذہ الایۃ تقتضی ذم طریقتھم فلذلك قولہ وھم ینہون عنہ ینبغی ان یکون محمولا علی امر مذموم فلو حملناہ علی ان ابا طالب کان ینھی عن ایذاءہ لما ح صل ھذا النظموالثانی انہ تعالی قال بعد ذلك "وان یہلکون الا انفسھم" یعنی بہ ما تقدم ذکرہ ولا یلیق ذلك ان یکون المراد من قولہ "وھم ینہون عنہ" النھی ایذا سے منع کرتے باز رکھتے اور حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پر ایمان لانے سے دور رہتے۔
مفاتیح الغیب میں فرمایا اس میں دو قول ہیں ان میں سے بعض نے کہا مراد یہ ہے کہ وہ حضور پرنور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی نبوت کی تصدیق اور آپ کی رسالت کے اقرار سے روکتے ہیں جب کہ عطاء اور مقاتل نے کہا کہ وہ یہ آیت کریمہ ابو طالب کے بارے میں نازل ہوئی وہ قریش کو نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی ایذا رسانی سے روکتے تھے پھر خود آپ سے دور رہتے اور دین میں آپ کی اتباع نہیں کرتے تھے قول اول دو وجہ سےزیادہ مناسب ہے۔وجہ اول:یہ ہے کہ اس آیۃ کریمہ سے ماقبل والی تمام آیت قریش کے طریقہ کی مذمت کا تقاضا کرتی ہیں۔اسی طرح یہ اﷲ تعالی کا قول وھم ینہون عنہ(یعنی وہ اس سے روکتے ہیں)بھی امر مذموم پر محمول ہونا چاہیے اگر ہم اس کو اس معنی پر محمول کریں کہ ابو طالب نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی ایذا رسانی سے روکتے تھے تو یہ نظم مذکور حاصل نہ ہوگا۔وجہ ثانی یہ ہے کہ اﷲ تعالی نے اس کے بعد فرمایا ہے کہ وہ خود اپنی ہی جانوں کو ہلاك کرتے ہیں۔اس سے مراد وہی ہے جس کا پہلا ذکر ہوچکا ہے۔
حوالہ / References
الدرالمنثور بحوالہ الفریابی و عبدالرزاق وغیرہ تحت آلایۃ ۶ /۲۶ داراحیاء التراث العربی ۳ /۲۳۷،جامع البیان(تفسیر طبری)تحت آیۃ ۶ /۲۶ داراحیاء التراث العربی بیروت ۷ /۲۰۲،دلائل النبوۃ للبیھقی جماع ابواب المبعث باب وفاۃ ابی طالب،دارالکتب العلمیہ بیروت۲ /۳۴۰، تفسیر ابن ابی حاتم تحت آیہ ۶/ ۲۶ مکتبہ نزار مصطفٰی البازمکہ مکرمہ ریاض ۴ /۱۲۷۷
عن اذیتہ لان ذلك حسن لایوجب الھلاك ۱ھ۔
اقول:اصل الذم النسائی وقد تشدد بالنھی فان الذنب بعد العلم اشد منہ حین الجہل فذکر النھی لا بانۃ شدۃ ما یلحقہ من الذم فی ذلك و عظمۃ ما یعتریہ من الوزر فیما ھنالك فان العلم حجۃ اﷲ مالك وعلیك الا تری الی قولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فی ابی طالب ولو لا انا لکان فی الدرك الا سفل من النار کما سیأتی مع ما علم من حمایتہ وکفالتہ و نصرتہ ومحبتہ للنبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم طول عمرہ فانما کادیکون فی الدرك الاسفل لولا شفاعۃ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لما ابی الایمان مع کما العرفان فالایۃ اور یہ مناسب نہیں کہ اﷲ تعالی کے ارشاد "اور وہ اس سے روکتے ہیں " سے مراد نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی ایذاء رسانی سے روکنا ہو اس لیے کہ یہ تو حسن ہے جو موجب ہلاکت نہیں ہوتا اھ(ت)
میں کہتا ہوں اصل مذمت تو نأی یعنی دور رہنے کی وجہ سے ہے جونہی کے سبب سے شدید ہوگئیکیونکہ علم کے بعد گناہ اس گناہ سے زیادہ شدید ہوجاتا ہے جو زمانہ جہالت میں کیا گیا ہو۔چنانچہ نہی کا یہاں ذکر اس شدت و عظمت کے اظہار کے لیے جو اس سے ملحق گناہ اور بوجھ سے متعلق ہوتی ہے کیونکہ علم اﷲ۱ تعالی کی حجرت ہے تیرے حق میں اور تیرے خلاف کیا تو ابو طالب کے بارے میں رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے اس ارشاد کو نہیں دیکھا دیکھا کہ اگر میں نہ ہوتا تو وہ جہنم کے سب سے نچلے طبقے میں ہوتا۔جیسا کہ عنقریب آئے گا ابوطالب کی طرف سے تمام عمر نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی شفاعت نہ ہوتی تو ابوطالب جنہم کے سب سے نچلے طبقے میں ہوتے کیونکہ کمال معرفت کے باوجود نے انہوں سے انکار کیا۔
اقول:اصل الذم النسائی وقد تشدد بالنھی فان الذنب بعد العلم اشد منہ حین الجہل فذکر النھی لا بانۃ شدۃ ما یلحقہ من الذم فی ذلك و عظمۃ ما یعتریہ من الوزر فیما ھنالك فان العلم حجۃ اﷲ مالك وعلیك الا تری الی قولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فی ابی طالب ولو لا انا لکان فی الدرك الا سفل من النار کما سیأتی مع ما علم من حمایتہ وکفالتہ و نصرتہ ومحبتہ للنبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم طول عمرہ فانما کادیکون فی الدرك الاسفل لولا شفاعۃ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لما ابی الایمان مع کما العرفان فالایۃ اور یہ مناسب نہیں کہ اﷲ تعالی کے ارشاد "اور وہ اس سے روکتے ہیں " سے مراد نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی ایذاء رسانی سے روکنا ہو اس لیے کہ یہ تو حسن ہے جو موجب ہلاکت نہیں ہوتا اھ(ت)
میں کہتا ہوں اصل مذمت تو نأی یعنی دور رہنے کی وجہ سے ہے جونہی کے سبب سے شدید ہوگئیکیونکہ علم کے بعد گناہ اس گناہ سے زیادہ شدید ہوجاتا ہے جو زمانہ جہالت میں کیا گیا ہو۔چنانچہ نہی کا یہاں ذکر اس شدت و عظمت کے اظہار کے لیے جو اس سے ملحق گناہ اور بوجھ سے متعلق ہوتی ہے کیونکہ علم اﷲ۱ تعالی کی حجرت ہے تیرے حق میں اور تیرے خلاف کیا تو ابو طالب کے بارے میں رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے اس ارشاد کو نہیں دیکھا دیکھا کہ اگر میں نہ ہوتا تو وہ جہنم کے سب سے نچلے طبقے میں ہوتا۔جیسا کہ عنقریب آئے گا ابوطالب کی طرف سے تمام عمر نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی شفاعت نہ ہوتی تو ابوطالب جنہم کے سب سے نچلے طبقے میں ہوتے کیونکہ کمال معرفت کے باوجود نے انہوں سے انکار کیا۔
حوالہ / References
مفاتیح الغیب(تفسیر کبیر)تحت آلایۃ ۶ /۲۶ المطبعۃ البہیۃ مصر ۱۲/ ۱۷۹
صحیح البخاری مناقب الانصار باب قصہ ابی طالب قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۵۴۸،صحیح مسلم باب شفاعۃ النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لابی طالب قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۱۵
صحیح البخاری مناقب الانصار باب قصہ ابی طالب قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۵۴۸،صحیح مسلم باب شفاعۃ النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لابی طالب قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۱۵
علی وزان قولہ تعالی" اتامرون الناس بالبر وتنسون انفسکم وانتم تتلون الکتب افلا تعقلون﴿۴۴﴾ " ۔
فذکر فی سیاق الذم امرھم بالبر وتلاوتھم الکتاب وانما القصد الی وتلاوتھم الکتاب وانما القصد الی نسیانھم انفسھم وذکرھذین للتسجیل بل قال جل ذکرہ: " یایہا الذین امنوا لم تقولون ما لا تفعلون ﴿۲﴾ کبر مقتا عند اللہ ان تقولوا ما لا تفعلون ﴿۳﴾ " ۔فشدد النکیر علی القول من دون عمل وان کان القول خیرا فی نفسہ قال فی معالم التنزیل:قال المفسرون ان المؤمنین قالو ا لونعلم ای الاعمال احب الی اﷲ عزوجل لعملناہ ولبذلنافیہ اموالنا و انفسنا فانزل عزوجل ان اﷲ یحب الذین یقاتلون فی سبیلہ صفافابتلوا بذلك یوم احد فولوا مدبرین فانزل اﷲ تعالی: لم تقولون ما لا تفعلون ﴿۲﴾ ۔اھ وبہ ینحل الوجہان لمن انصف لاجرم ان قال الخفاجی چنانچہ آیت مذکورہ اﷲ تعالی کے اس ارشاد کی طرف پر ہے کہ کیا لوگوں کو بھلائی کا حکم دیتے ہو اور اپنے جان کوکو بھولتے ہو حالانکہ تم کتاب پڑھتے ہو تو کیا تمہیں عقل نہیں۔
ان کے نیکی کا حکم دینے اور کتاب پڑھنے کو مذمت کے سیاق میں ذکر کیا۔مقصود تو ان کا اپنی جانوں کو بھلانا ہے اور ان دونوں باتوں کا ذکر بطور تمہید ہے بلکہ اﷲ تعالی نے فرمایا: اے ایمان والو ! کیوں کہتے ہو وہ جو نہیں کرتے۔کیسی سخت ناپسند ہے اﷲ کو وہ بات کہ وہ کہو جو نہ کرو۔تو یہاں پر قول بلا عمل پر ستخ نفرت کا اظہار فرمایا اگرچہ فی نفسہ قول اچھا ہو۔ معالم التنزیل میں کہا کہ مفسرین نے فرمایا کہ مومنوں نے کہا اگر ہمیں معلوم ہوجائے کہ اﷲ تعالی کی بارگاہ میں محبوب ترین عمل کون سا ہے تو ہم اس کو ضرور کریں گے اور اس میں اپنے مال و جان قربان کردیں گے۔تو اﷲ تعالی نے یہ آیت نازل فرمائی کہ بے شك اﷲ دوست رکھتا ہے انہیں جو اس کی راہ میں لڑتے ہیں پراباندھ کر پھر غزوہ احد میں انہیں اس میں مبتلا کردیا گیا تو پیٹھ پھیر کر بھاگ گئے تو اﷲ تعالی نے یہ آیت نازل فرمائی کہ کیوں کہتے ہو وہ جو نہیں کرتے ہو۔اور اس سے منصف کے لیے دونوں وجہیں کھل گئیں۔علامہ خفاجی نے
فذکر فی سیاق الذم امرھم بالبر وتلاوتھم الکتاب وانما القصد الی وتلاوتھم الکتاب وانما القصد الی نسیانھم انفسھم وذکرھذین للتسجیل بل قال جل ذکرہ: " یایہا الذین امنوا لم تقولون ما لا تفعلون ﴿۲﴾ کبر مقتا عند اللہ ان تقولوا ما لا تفعلون ﴿۳﴾ " ۔فشدد النکیر علی القول من دون عمل وان کان القول خیرا فی نفسہ قال فی معالم التنزیل:قال المفسرون ان المؤمنین قالو ا لونعلم ای الاعمال احب الی اﷲ عزوجل لعملناہ ولبذلنافیہ اموالنا و انفسنا فانزل عزوجل ان اﷲ یحب الذین یقاتلون فی سبیلہ صفافابتلوا بذلك یوم احد فولوا مدبرین فانزل اﷲ تعالی: لم تقولون ما لا تفعلون ﴿۲﴾ ۔اھ وبہ ینحل الوجہان لمن انصف لاجرم ان قال الخفاجی چنانچہ آیت مذکورہ اﷲ تعالی کے اس ارشاد کی طرف پر ہے کہ کیا لوگوں کو بھلائی کا حکم دیتے ہو اور اپنے جان کوکو بھولتے ہو حالانکہ تم کتاب پڑھتے ہو تو کیا تمہیں عقل نہیں۔
ان کے نیکی کا حکم دینے اور کتاب پڑھنے کو مذمت کے سیاق میں ذکر کیا۔مقصود تو ان کا اپنی جانوں کو بھلانا ہے اور ان دونوں باتوں کا ذکر بطور تمہید ہے بلکہ اﷲ تعالی نے فرمایا: اے ایمان والو ! کیوں کہتے ہو وہ جو نہیں کرتے۔کیسی سخت ناپسند ہے اﷲ کو وہ بات کہ وہ کہو جو نہ کرو۔تو یہاں پر قول بلا عمل پر ستخ نفرت کا اظہار فرمایا اگرچہ فی نفسہ قول اچھا ہو۔ معالم التنزیل میں کہا کہ مفسرین نے فرمایا کہ مومنوں نے کہا اگر ہمیں معلوم ہوجائے کہ اﷲ تعالی کی بارگاہ میں محبوب ترین عمل کون سا ہے تو ہم اس کو ضرور کریں گے اور اس میں اپنے مال و جان قربان کردیں گے۔تو اﷲ تعالی نے یہ آیت نازل فرمائی کہ بے شك اﷲ دوست رکھتا ہے انہیں جو اس کی راہ میں لڑتے ہیں پراباندھ کر پھر غزوہ احد میں انہیں اس میں مبتلا کردیا گیا تو پیٹھ پھیر کر بھاگ گئے تو اﷲ تعالی نے یہ آیت نازل فرمائی کہ کیوں کہتے ہو وہ جو نہیں کرتے ہو۔اور اس سے منصف کے لیے دونوں وجہیں کھل گئیں۔علامہ خفاجی نے
حوالہ / References
القرآن الکریم ۲ /۴۴
القرآن الکریم ۶۱ /۲ و۳
معالم التنزیل(تفسیر بغوی)تحت آیۃ ۶۱/ ۲ دار الکتب العلمیۃ بیروت ۴/ ۳۰۷
القرآن الکریم ۶۱ /۲ و۳
معالم التنزیل(تفسیر بغوی)تحت آیۃ ۶۱/ ۲ دار الکتب العلمیۃ بیروت ۴/ ۳۰۷
فی العنایۃ بعد نقلہ کلام الامام فیہ نظر اھ ۔ بالجملۃ فعطاء اعلم منا ومنکم باسالیب القرآن ونظمہ فضلا عن ھذا الحبرالعظیم الذی قد فاق اکثر الامۃ فی علم القرآن وفھمہ واﷲ تعالی اعلم۔ عنایۃ میں امام کا کلام نقل کرنے کے بعد کہا۔اس میں نظر ہے۔اھ خلاصہ یہ کہ عطاء قرآن مجید کے اسالیب و نظم کو ہم سے اور تم سے زیادہ جاننے والا ہے۔چہ جائیکہ یہ عظیم عالم متجر جو قرآن مجید کے علم و فہم میں اکثر امت پر فوقیت رکھتا ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
فصل دوم________احادیث
حدیث چہارم:صحیحین و مسند امام احمد میں حضرت سیدنا عباس عم رسول صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے ہے۔
انہ قال للنبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ما اغنیت عن عمك فواﷲ کان یحوطك ویغضب لك قال ھو فی ضحضاح من نارولولا انا لکان فی الدرك الاسفل من النار ۔وفی روایۃ وجدتہ غمرات من النار فاخرجتہ الی ضحضاح ۔ یعنی انہوں نے خدمت اقدس حضور سید المرسلین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم میں عرض کی حضور نے اپنے چچا ابوطالب کو کیا نفع دیا خدا کی قسم وہ حضور کی حمایت کرتا اور حضور کے لیے لوگوں سے لڑتا جھگڑتا تھا۔فرمایا میں نے اسے سراپا آگ میں ڈوبا ہوا پایا تو اسے کھینچ کر پاؤں تك آگ میں کردیا اور اگر میں نہ ہوتا تو وہ جہنم کے سب سے نیچے طبقے میں ہوتا۔
امام ابن حجر فتح الباری شرح صحیح بخاری میں فرماتے ہیں:
یؤید الخصوصیۃ انہ بعد ان امتنع یعنی نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی خصوصیت سے
فصل دوم________احادیث
حدیث چہارم:صحیحین و مسند امام احمد میں حضرت سیدنا عباس عم رسول صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے ہے۔
انہ قال للنبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ما اغنیت عن عمك فواﷲ کان یحوطك ویغضب لك قال ھو فی ضحضاح من نارولولا انا لکان فی الدرك الاسفل من النار ۔وفی روایۃ وجدتہ غمرات من النار فاخرجتہ الی ضحضاح ۔ یعنی انہوں نے خدمت اقدس حضور سید المرسلین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم میں عرض کی حضور نے اپنے چچا ابوطالب کو کیا نفع دیا خدا کی قسم وہ حضور کی حمایت کرتا اور حضور کے لیے لوگوں سے لڑتا جھگڑتا تھا۔فرمایا میں نے اسے سراپا آگ میں ڈوبا ہوا پایا تو اسے کھینچ کر پاؤں تك آگ میں کردیا اور اگر میں نہ ہوتا تو وہ جہنم کے سب سے نیچے طبقے میں ہوتا۔
امام ابن حجر فتح الباری شرح صحیح بخاری میں فرماتے ہیں:
یؤید الخصوصیۃ انہ بعد ان امتنع یعنی نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی خصوصیت سے
حوالہ / References
عنایۃ القاضی حاشیۃ الشہاب علی تفسیر البیضاوی تحت الایۃ ۶ /۲۶ دارالکتب العلمیۃ بیروت۴ /۶۵
صحیح البخاری کتاب المناقب باب قصۃ ابی طالب قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۵۴۸وصحیح البخاری کتاب الادب باب کنیۃ المشرك قدیمی کتب خانہ کراچی۲ /۹۱۷،صحیح مسلم کتاب الایمان باب شفاعۃ النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لابی طالب قدیمی کتب خانہ کراچی۱ /۱۱۵، مسند احمد بن حنبل عن العباس المکتب الاسلامی بیروت ۱ /۲۰۷ و ۲۱۰
صحیح مسلم کتاب الایمان باب شفاعۃ النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لابی طالب ۱ /۱۱۵
صحیح البخاری کتاب المناقب باب قصۃ ابی طالب قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۵۴۸وصحیح البخاری کتاب الادب باب کنیۃ المشرك قدیمی کتب خانہ کراچی۲ /۹۱۷،صحیح مسلم کتاب الایمان باب شفاعۃ النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لابی طالب قدیمی کتب خانہ کراچی۱ /۱۱۵، مسند احمد بن حنبل عن العباس المکتب الاسلامی بیروت ۱ /۲۰۷ و ۲۱۰
صحیح مسلم کتاب الایمان باب شفاعۃ النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لابی طالب ۱ /۱۱۵
شفع لہ جتی خفف لہ العذاب بالنسبۃ لغیرہ ۔ ہوا کہ ابو طالب نے باآنکہ ایمان لانے سے انکار کیا پھر بھی حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی شفاعت نے اتنا کام دیا کہ بہ نسبت باقی کافروں کے عذاب ہلکا ہوگیا۔
حدیث پنجم:صحیحین و مسند امام احمد میں ابو سعید خدری رضی اﷲ تعالی عنہ سے ہے:
ان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ذکر عندہ عمہ ابوطالب فقال لعلہ تنفعہ شفاعتی یوم القیمۃ فیجعل فی ضحضاح من النار یبلغ کعبیہ یغلی منہ دماغہ ۔ یعنی حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے سامنے ابو طالب کا ذکر آیا فرمایا میں امید کرتا ہوں کہ روز قیامت میری شاعت اسے یہ نفع دے گی کہ جہنم میں پاؤں تك کی آگ میں کردیا جائے گا جو اس کے ٹخنوں تك ہوگی جس سے اس کا دماغ جوش مارے گا۔
یونس بکر بکیر نے حدیث محمد بن اسحق سے یوں روایت کیا:یعلی منہ دماغہ حتی یسیل علی قدمیہ ۔اس کا بھیجا ابل کر پاؤں پر گرے گا۔عمدۃ القاری وارشاد الساری شروح صحیح بخاری و مواہب الدنیا وغیرہا میں امام سہیلی سے منقول:
الحکمۃ فیہ ان اباطالب کان تابعا لرسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لجملتہ الا انہ استمرثابت القدم علی دین قومہ فسلط العذاب علی قدمیہ خاصۃ لتثبیتہ ایا ھما علی دین قومہ ۔ یعنی ابو طالب کے پاؤں تك آگ رہنے میں حکمت یہ ہے کہ اﷲ عزوجل جزا ہمشکل عمل دیتا ہے ابوطالب کا سارا بدن حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی حمایت میں صرف رہاملت کفر پر ثابت قدمی نے پاؤں پر عذاب مسلط کیا۔
حدیث پنجم:صحیحین و مسند امام احمد میں ابو سعید خدری رضی اﷲ تعالی عنہ سے ہے:
ان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ذکر عندہ عمہ ابوطالب فقال لعلہ تنفعہ شفاعتی یوم القیمۃ فیجعل فی ضحضاح من النار یبلغ کعبیہ یغلی منہ دماغہ ۔ یعنی حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے سامنے ابو طالب کا ذکر آیا فرمایا میں امید کرتا ہوں کہ روز قیامت میری شاعت اسے یہ نفع دے گی کہ جہنم میں پاؤں تك کی آگ میں کردیا جائے گا جو اس کے ٹخنوں تك ہوگی جس سے اس کا دماغ جوش مارے گا۔
یونس بکر بکیر نے حدیث محمد بن اسحق سے یوں روایت کیا:یعلی منہ دماغہ حتی یسیل علی قدمیہ ۔اس کا بھیجا ابل کر پاؤں پر گرے گا۔عمدۃ القاری وارشاد الساری شروح صحیح بخاری و مواہب الدنیا وغیرہا میں امام سہیلی سے منقول:
الحکمۃ فیہ ان اباطالب کان تابعا لرسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لجملتہ الا انہ استمرثابت القدم علی دین قومہ فسلط العذاب علی قدمیہ خاصۃ لتثبیتہ ایا ھما علی دین قومہ ۔ یعنی ابو طالب کے پاؤں تك آگ رہنے میں حکمت یہ ہے کہ اﷲ عزوجل جزا ہمشکل عمل دیتا ہے ابوطالب کا سارا بدن حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی حمایت میں صرف رہاملت کفر پر ثابت قدمی نے پاؤں پر عذاب مسلط کیا۔
حوالہ / References
فتح الباری شرح صحیح البخاری کتاب التفسیر سورۃ القصص باب قولہ انك لاتہدی مصطفٰی البابی مصر۱۰/ ۱۲۳
مسند احمد بن حنبل عن ابی سعید الخدر ی المکتب الاسلامی بیروت ۳/ ۵۰،صحیح البخاری کتاب مناقب الانصارباب قصہ ابی طالب قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۳۴۸
المواہب اللدنیۃ بحوالہ ابن اسحق ا/۲۶۴ وارشاد الساری بحوالہ ابن اسحق تحت الحدیث ۳۸۸۵ ۸/۳۵۱
عمدۃ القادری شرح صحیح البخاری مناقب الانصار باب قصہ ابی طالب حدیث ۳۸۸۵ دارالکتب العلمیہ بیروت ۱۷ /۲۴،ارشاد الساری بحوالہ السہیلی تحت الحدیث ۳۸۸۵،۸ /۳۵۱ والمواہب اللدنیہ بحوالہ السہیلی ۱ /۲۶۴
مسند احمد بن حنبل عن ابی سعید الخدر ی المکتب الاسلامی بیروت ۳/ ۵۰،صحیح البخاری کتاب مناقب الانصارباب قصہ ابی طالب قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۳۴۸
المواہب اللدنیۃ بحوالہ ابن اسحق ا/۲۶۴ وارشاد الساری بحوالہ ابن اسحق تحت الحدیث ۳۸۸۵ ۸/۳۵۱
عمدۃ القادری شرح صحیح البخاری مناقب الانصار باب قصہ ابی طالب حدیث ۳۸۸۵ دارالکتب العلمیہ بیروت ۱۷ /۲۴،ارشاد الساری بحوالہ السہیلی تحت الحدیث ۳۸۸۵،۸ /۳۵۱ والمواہب اللدنیہ بحوالہ السہیلی ۱ /۲۶۴
اسی طرح تسیرشرح جامع صغیر وغیرہ میں ہے۔
حدیث ششم:بزارو ابویعلی وابن عدی و تمام حضرت جابر بن عبداﷲ انصاری رضی اﷲ تعالی عنہما سے راوی:
قیل للنبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ھل نفعت ابا طالب قال اخرجتہ من غمرۃ جھنم الی ضحضاح منہا ۔ یعنی حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے عرض کی گئی حضور نے ابوطالب کو کچھ نفع دیا۔فرمایا میں نے اسے دوزخ کے غرق سے پاؤں کی آگ میں کھینچ لیا۔
امام عینی عمدہ میں فرماتے ہیں۔
فان قلت اعمال الکفرۃ ھباء منثورا لافائدۃ فیھا قلت ھذاالنفع من برکۃ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وخصائصہ ۔ اس کا بھی وہی مطلب ہے کہ ابو طالب کو یہ نفع ملنا صرف حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی برکت سے ہے ورنہ کافروں کے اعمال تو غبار ہیں ہوا پر اڑائے ہوئے۔
حدیث ہفتم:طبرانی حضرت ام المومنین ام سلمہ رضی اﷲ تعالی عنہما سے راوی:
ان الحارث بن ھشام اتی النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یوم حجۃ الوداع فقال یارسول اﷲ انی کنت علی صلۃ الرحم والاحسان الی الجاروایواء الیتیم واطعام الضیف واطعام المسکین وکل ھذا قدن کا یفعلہ ھشام بن المغیرۃ فماظنك بہ یارسول اﷲ فقال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کل قبر ای لایشہد صاحبہ ان لا الہ الا اﷲ فہوجذوۃ من النار و قدوجدت یعنی حارث بن ہشام رضی اﷲ تعالی نے روز حجۃ الوداع حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے عرض کی۔یارسول اﷲ ! میں ان باتوں پر عمل کرتا ہوں۔رشتہ داروں سے نیك سلوك ہمسایہ سے اچھا برتاؤیتیم کو جگہ دینامہمان کو مہمانی دینا محتاج کو کھانا کھلانا اور میر اباپ ہشام یہ سب کام کرتا تھا تو حضور کا اس کی نسبت کیا گمان ہے فرمایا جو قبر بنے جس کا مردہ لاالہ الا اﷲ نہ مانتا ہو وہ دوزخ کا انگارا ہے میں نے خود اپنے چچا ابوطالب کو
حدیث ششم:بزارو ابویعلی وابن عدی و تمام حضرت جابر بن عبداﷲ انصاری رضی اﷲ تعالی عنہما سے راوی:
قیل للنبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ھل نفعت ابا طالب قال اخرجتہ من غمرۃ جھنم الی ضحضاح منہا ۔ یعنی حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے عرض کی گئی حضور نے ابوطالب کو کچھ نفع دیا۔فرمایا میں نے اسے دوزخ کے غرق سے پاؤں کی آگ میں کھینچ لیا۔
امام عینی عمدہ میں فرماتے ہیں۔
فان قلت اعمال الکفرۃ ھباء منثورا لافائدۃ فیھا قلت ھذاالنفع من برکۃ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وخصائصہ ۔ اس کا بھی وہی مطلب ہے کہ ابو طالب کو یہ نفع ملنا صرف حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی برکت سے ہے ورنہ کافروں کے اعمال تو غبار ہیں ہوا پر اڑائے ہوئے۔
حدیث ہفتم:طبرانی حضرت ام المومنین ام سلمہ رضی اﷲ تعالی عنہما سے راوی:
ان الحارث بن ھشام اتی النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یوم حجۃ الوداع فقال یارسول اﷲ انی کنت علی صلۃ الرحم والاحسان الی الجاروایواء الیتیم واطعام الضیف واطعام المسکین وکل ھذا قدن کا یفعلہ ھشام بن المغیرۃ فماظنك بہ یارسول اﷲ فقال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کل قبر ای لایشہد صاحبہ ان لا الہ الا اﷲ فہوجذوۃ من النار و قدوجدت یعنی حارث بن ہشام رضی اﷲ تعالی نے روز حجۃ الوداع حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے عرض کی۔یارسول اﷲ ! میں ان باتوں پر عمل کرتا ہوں۔رشتہ داروں سے نیك سلوك ہمسایہ سے اچھا برتاؤیتیم کو جگہ دینامہمان کو مہمانی دینا محتاج کو کھانا کھلانا اور میر اباپ ہشام یہ سب کام کرتا تھا تو حضور کا اس کی نسبت کیا گمان ہے فرمایا جو قبر بنے جس کا مردہ لاالہ الا اﷲ نہ مانتا ہو وہ دوزخ کا انگارا ہے میں نے خود اپنے چچا ابوطالب کو
حوالہ / References
مسندابویعلی الموصلی عن مسند جابر بن عبداﷲ حدیث ۲۰۴۳ موسسۃ علوم القرآن بیروت ۲ /۳۹۹
عمدۃ القاری کتاب مناقبالانصار تحت الحدیث۳۸۸۳،دارالکتب العلمیہ ۱۷ /۲۳
عمدۃ القاری کتاب مناقبالانصار تحت الحدیث۳۸۸۳،دارالکتب العلمیہ ۱۷ /۲۳
عمی اباطالب فی طمطام من النار فاخرجہ اﷲ لمکانہ منی واحسانہ الی فجعلہ فی ضحضاح من النار ۔ سر سے اونچی آگ میں پایامیری قرابت و خدمت کے باعث اﷲ تعالی نے اسے وہاں سے نکال کر پاؤں تك آگ میں کردیا۔
مجمع نجار الانوار میں بعلامت کاف امام کرمانی شارح بخاری سے منقول:
نفع اباطالب اعمالہ ببرکتہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وان کان اعمال الکفرۃ ھباء منثورا ۔ یعنی نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی برکت سے ابوطالب کے اعمال نفع دے گئے ورنہ کافر وں کے کام تو نرے برباد ہوتے ہیں۔
حدیث ہشتم:امام احمد مسند اور امام بخاری و مسلم اپنی صحاح میں حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے راوی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اھون اھل النار عذابا ابوطالب وھو منتعل بنعلین من ناریغلی منھما دماغہ ۔ بے شك دوزخیوں میں سب سے کم عذاب ابوطالب پر ہے وہ آگ کے دو جوتے پہنے ہوئے ہے جس سے اس کا دماغ کھولتا ہے۔
نیز صحیحین میں نعمان بن بشیر رضی اﷲ تعالی عنہما کی روایت سے ہی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:
ان اھون اھل النار عذابا من لہ نعلان و شراکان من ناریغلی منھما دماغہ کما یغلی المرجل مایری ان احدااشد منہ عذابا وانہ لاھونھم عذابا ۔ دوزخ میں سب سے ہلکے عذاب والا وہ ہے جسے آگے کے دو جوتے اور دو تسمے پہنائے جائیں گے جن سے اس کا دماغ دیگ کی طرح جوش مارے گا وہ یہ سمجھے گا کہ سب سے زیادہ سخت عذاب اسی پر ہے حالانکہ اس پر سب سے ہلکا عذاب ہوگا۔
اسی حدیث میں امام احمد کی ر وایت یوں ہے:
مجمع نجار الانوار میں بعلامت کاف امام کرمانی شارح بخاری سے منقول:
نفع اباطالب اعمالہ ببرکتہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وان کان اعمال الکفرۃ ھباء منثورا ۔ یعنی نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی برکت سے ابوطالب کے اعمال نفع دے گئے ورنہ کافر وں کے کام تو نرے برباد ہوتے ہیں۔
حدیث ہشتم:امام احمد مسند اور امام بخاری و مسلم اپنی صحاح میں حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے راوی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اھون اھل النار عذابا ابوطالب وھو منتعل بنعلین من ناریغلی منھما دماغہ ۔ بے شك دوزخیوں میں سب سے کم عذاب ابوطالب پر ہے وہ آگ کے دو جوتے پہنے ہوئے ہے جس سے اس کا دماغ کھولتا ہے۔
نیز صحیحین میں نعمان بن بشیر رضی اﷲ تعالی عنہما کی روایت سے ہی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:
ان اھون اھل النار عذابا من لہ نعلان و شراکان من ناریغلی منھما دماغہ کما یغلی المرجل مایری ان احدااشد منہ عذابا وانہ لاھونھم عذابا ۔ دوزخ میں سب سے ہلکے عذاب والا وہ ہے جسے آگے کے دو جوتے اور دو تسمے پہنائے جائیں گے جن سے اس کا دماغ دیگ کی طرح جوش مارے گا وہ یہ سمجھے گا کہ سب سے زیادہ سخت عذاب اسی پر ہے حالانکہ اس پر سب سے ہلکا عذاب ہوگا۔
اسی حدیث میں امام احمد کی ر وایت یوں ہے:
حوالہ / References
المعجم الکبیر عن ام سلم حدیث ۹۷۲ المکتبۃ الفی صلیۃ بیروت ۲۳ /۴۰۵،المعجم الاوسط حدیث ۷۳۸۵ مکتبۃ المعارف ریاض ۸/ ۱۹۰
مجمع بحار الانوار
صحیح مسلم کتاب الایمان باب شفاعۃ النبی صلی اﷲ علیہ وسلم لابی طالب قدیمی کتب خانہ کراچی ص۱۱۵
صحیح مسلم کتاب الایمان باب شفاعۃ النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لابی طالب الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/۱۱۵
مجمع بحار الانوار
صحیح مسلم کتاب الایمان باب شفاعۃ النبی صلی اﷲ علیہ وسلم لابی طالب قدیمی کتب خانہ کراچی ص۱۱۵
صحیح مسلم کتاب الایمان باب شفاعۃ النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لابی طالب الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/۱۱۵
یوضع فی اخمص قدمیہ جمر تان یغلی منہما دماغہ ۔ اس کے تلوؤں میں انگارے رکھے جائیں گے جس سے بھیجا ابلے گا۔
اور صحیحین میں انس رضی اﷲ تعالی عنہ کی روایت سے ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی عنہ فرماتے ہیں:
یقول اﷲ لاھون اھل النار عذابا یوم القیمۃ لو ان لك مافی الارض من شیئ اکنت تفتدی بہ فیقول نعم فیقول اردت منك اھون من ھذا وانت فی صلب ادم ان لاتشرك لی شیئا فابیتہ ان لاتشرك بی ۔ دوزخیوں میں سب سے ہلکے عذاب والے سے اﷲ عزوجل فرمائے گا تمام زمین میں جو کچھ ہے اگر تیری ملك ہوتا تو کیا اسے اپنے فدیہ میں دے کر عذاب سے نجات مانگنے پر راضی ہوگا وہ عرض کرے گا ہاں فرمائے گا میں نے تو تجھ سے روز میثاق جب کہ تو پشت آدم میں تھا اس سے بھی ہلکی اور آسان بات چاہی تھی کہ کسی کو میرا شریك نہ کرنا مگر تو نے نہ مانا بغیر میرا شریك ٹھہرائے ہوئے۔
اس حدیث سے بھی ابو طالب کا شرك پر مرنا ثابت ہے۔کتا ب الخمیس فی احوال انفس نفیس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم میں ہے:
قبل ان النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم مسح ابا طالب بعد موتہ وانسی تحت قدمیہ ولذاینتعل بنعلین من النار ۔ یعنی کہا گیا کہ نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے بعد مرگ ابوطالب کے بدن پر دست اقدس پھیر دیا تھا مگر تلوؤں پر ہاتھ پھیرنا یاد نہ رہا اس لیے ابو طالب کو روز قیامت آگ کے دو جوتے پہنائے جائیں گے۔(باقی جسم بہ برکت دست اقدس محفوظ رہے گا۔)
حدیث نہم:امام شافعی و امام احمد و امام اسحق بن راہویہ و ابوداؤد و طیالسی اپنی مسانید اور ابن سعد
اور صحیحین میں انس رضی اﷲ تعالی عنہ کی روایت سے ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی عنہ فرماتے ہیں:
یقول اﷲ لاھون اھل النار عذابا یوم القیمۃ لو ان لك مافی الارض من شیئ اکنت تفتدی بہ فیقول نعم فیقول اردت منك اھون من ھذا وانت فی صلب ادم ان لاتشرك لی شیئا فابیتہ ان لاتشرك بی ۔ دوزخیوں میں سب سے ہلکے عذاب والے سے اﷲ عزوجل فرمائے گا تمام زمین میں جو کچھ ہے اگر تیری ملك ہوتا تو کیا اسے اپنے فدیہ میں دے کر عذاب سے نجات مانگنے پر راضی ہوگا وہ عرض کرے گا ہاں فرمائے گا میں نے تو تجھ سے روز میثاق جب کہ تو پشت آدم میں تھا اس سے بھی ہلکی اور آسان بات چاہی تھی کہ کسی کو میرا شریك نہ کرنا مگر تو نے نہ مانا بغیر میرا شریك ٹھہرائے ہوئے۔
اس حدیث سے بھی ابو طالب کا شرك پر مرنا ثابت ہے۔کتا ب الخمیس فی احوال انفس نفیس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم میں ہے:
قبل ان النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم مسح ابا طالب بعد موتہ وانسی تحت قدمیہ ولذاینتعل بنعلین من النار ۔ یعنی کہا گیا کہ نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے بعد مرگ ابوطالب کے بدن پر دست اقدس پھیر دیا تھا مگر تلوؤں پر ہاتھ پھیرنا یاد نہ رہا اس لیے ابو طالب کو روز قیامت آگ کے دو جوتے پہنائے جائیں گے۔(باقی جسم بہ برکت دست اقدس محفوظ رہے گا۔)
حدیث نہم:امام شافعی و امام احمد و امام اسحق بن راہویہ و ابوداؤد و طیالسی اپنی مسانید اور ابن سعد
حوالہ / References
مسندا حمد بن حنبل عن نعمان بن بشیر المکتب الاسلامی بیروت ۴ /۲۷۴
صحیح البخاری کتاب الرقاق باب صفۃ الجنۃ والنار قدیمی کتب خانہ کراچی۲ /۹۷۰،صحیح مسلم کتاب صفۃ المنافقین باب فی الکفار قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۳۷۴،مشکوۃ المصابیح باب صفۃ النار واھلھا الفصل الاول قدیمی کتب خانہ کراچی ص ۵۰۲
تاریخ الخمیس فی احوال انفس نفیس وفاۃ ابی طالب موسسۃ شعبان بیروت ۱ /۳۰۰
صحیح البخاری کتاب الرقاق باب صفۃ الجنۃ والنار قدیمی کتب خانہ کراچی۲ /۹۷۰،صحیح مسلم کتاب صفۃ المنافقین باب فی الکفار قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۳۷۴،مشکوۃ المصابیح باب صفۃ النار واھلھا الفصل الاول قدیمی کتب خانہ کراچی ص ۵۰۲
تاریخ الخمیس فی احوال انفس نفیس وفاۃ ابی طالب موسسۃ شعبان بیروت ۱ /۳۰۰
طبقات اور ابوبکر بن ابی شیبہ مصنف اور ابوداؤد و نسائی سنن اور ابن خزیمہ اپنی صحیح اور ابن الجارود منتقی اور مروزی کتاب الجنائز اور بزار و ابویعلی مسانید اور بیہقی سنن میں بطریق عدیدہ حضرت سیدنا امیر المومنین مولا علی کرم اﷲ تعالی وجہہ الکریم سے راوی:
قال قلت للنبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ان عمك الشیخ الضال قد مات قال اذھب فوار اباك ۔ یعنی میں نے حضور اقدس سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے عرض کی:یارسول اﷲ!حضور کا چچا وہ بڈھا گمراہ مرگیا جااسے دبا آ۔
ابن ابی شیبہ کی روایت میں ہے مولا علی نے عرض کی:
ان عمك الشیخ الکافرقدمات فما تری فیہقال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اری ان تغسلہ وامرہ بالغسل حضور کا چچا وہ بڈھا کافر مر گیا اس کے بارے میں حضور کی کیا رائے ہے یعنی غسل وغیرہ دیا جائے یا نہیں سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا نہلا کر دبا دو۔
امام شافعی کی روایت میں ہے:
فقلت یارسول اﷲ انہ مات مشرکا قال اذھب فوارہ ۔ میں نے عرض کیا:یارسول اﷲ!وہ تو مشرك مرافرمایا: جاؤدبا آؤ۔
امام الائمہ ابن خزیمہ نے فرمایا:حدیث صحیح ہے۔امام حافظ الشان اصابہ فی تیمیز الصحابہ میں فرماتے ہیں:صححہ ابن خزیمہ ۔(ابن خزیمہ نے اس کی تصحیح کی ہے۔ت)
قال قلت للنبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ان عمك الشیخ الضال قد مات قال اذھب فوار اباك ۔ یعنی میں نے حضور اقدس سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے عرض کی:یارسول اﷲ!حضور کا چچا وہ بڈھا گمراہ مرگیا جااسے دبا آ۔
ابن ابی شیبہ کی روایت میں ہے مولا علی نے عرض کی:
ان عمك الشیخ الکافرقدمات فما تری فیہقال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اری ان تغسلہ وامرہ بالغسل حضور کا چچا وہ بڈھا کافر مر گیا اس کے بارے میں حضور کی کیا رائے ہے یعنی غسل وغیرہ دیا جائے یا نہیں سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا نہلا کر دبا دو۔
امام شافعی کی روایت میں ہے:
فقلت یارسول اﷲ انہ مات مشرکا قال اذھب فوارہ ۔ میں نے عرض کیا:یارسول اﷲ!وہ تو مشرك مرافرمایا: جاؤدبا آؤ۔
امام الائمہ ابن خزیمہ نے فرمایا:حدیث صحیح ہے۔امام حافظ الشان اصابہ فی تیمیز الصحابہ میں فرماتے ہیں:صححہ ابن خزیمہ ۔(ابن خزیمہ نے اس کی تصحیح کی ہے۔ت)
حوالہ / References
نصب الرایۃ بحوالۃ الشافعی واسحق بن راہو یہ وابی داؤد الطیالسی وغیرھم کتاب الصلوۃفصل فی الصلوۃ علی المیت الحدیث الحادی العشرالنوریۃ الرضویۃ پبلشنگ کمپنی لاہور ۲ /۲۸۹ و ۲۹۰،سُنن ابی داؤدکتاب الجنائز باب الرجل یموت لہ قرابۃ مشرك آفتاب عالم پریس ۲/۱۰۲،مسند احمد بن حنبل عن علی رضی اﷲ عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۱ /۱۲۹ و۱۳۰،السنن الکبری کتاب الجنائزباب المسلم یغسل ذاقرابتہ دارصادر بیروت ۳ /۳۵۸
المصنف لابن ابی شیبہ کتاب الجنائزباب فی الرجل یموت لہ قرابۃ المشرك ادارۃ القرآن کراچی ۳ /۳۴۸
نصف الرایہ بحوالۃ الشافعی کتاب الصلوۃ فصل فی الصلوۃ علی ا لمیت النوریہ الرضویہ الخ ۳ /۲۹۰
الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ حرف الطاء ابوطالب دارصادر بیروت ۴ /۱۱۷
المصنف لابن ابی شیبہ کتاب الجنائزباب فی الرجل یموت لہ قرابۃ المشرك ادارۃ القرآن کراچی ۳ /۳۴۸
نصف الرایہ بحوالۃ الشافعی کتاب الصلوۃ فصل فی الصلوۃ علی ا لمیت النوریہ الرضویہ الخ ۳ /۲۹۰
الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ حرف الطاء ابوطالب دارصادر بیروت ۴ /۱۱۷
اس حدیث جلیل کو دیکھئے ابوطالب کے مرنے پر خود امیر المومنین علی کرم اﷲ وجہہ الکریم حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے عرض کرتے ہیں کہ حضور کا وہ گمراہ کافر چچا مر گیا۔حضور اس پر انکار نہیں فرماتے نہ خود جنازے میں تشریف لے جاتے ہیں۔ابو طالب کی بی بی امیر المومنین کی والدہ ماجدہ حضرت فاطمہ بنت اسد رضی اﷲ تعالی عنہما نے جب انتقال کیا ہے حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے اپنی چادر وقمیص مبارك میں انہیں کفن دیا۔اپنے دست مبارك سے لحد کھودیاپنے دست مبارك سے مٹی نکالیپھر ان کے دفن سے پہلے خود ان کی قبر مبارك میں لیٹے اور دعا کی:
اﷲ الذی یحیی ویمیت وھو حی لایموت اغفرلامی فاطمۃ بنت اسد و وسع علیہا مدخلہا بحق نبیك و الانبیاء الذین من قبلفانك ارحم الراحمین رواہ الطبرانی فی الکبیر والاوسط وابن حبان والحاکم وصححہ وابونعیم فی الحلیۃ عن انس ونحوہ ابن ابی شیبۃ عن جابروالشیرازی فی الالقاب وابن عبد البر وابونعیم فی المعرفۃوالدیلمی بسند حسن عن ابن عباس و ابن عساکر عن علی رضی اﷲ تعالی عنہم اجمعین۔ اﷲ جلاتا ہے اور مارتا ہے اور خود زندہ ہے کہ کبھی نہ مرے گا میری ماں فاطمہ بنت اسد کو بخش دے اور ان کی قبر وسیع کر صدقہ اپنے نبی کا اور مجھ سے پہلے انبیاء کاتو سب مہربانوں سے بڑھ کر مہربان ہے۔(روایت کیا اس کو طبرانی نے کبیرو اوسط میںابن حبان نے حاکم نے اور اس نے اس کی تصحیح کی ابونعیم نے حلیہ میں حضرت انس رضی اﷲ تعالی عنہ سےاور اس کی مثل ابن ابی شیبیہ نے حضرت جابر رضی اﷲ تعالی عنہ سےشیرازی نے القاب میںابن عبدالبر نےابونعیم نے معرفہ میںویلمی نے سند حسن کے ساتھ ابن عباس سے اور ابن عساکر نے حضرت علی سےرضی اﷲ تعالی عنہم اجمعین۔ت)
کاش ابوطالب مسلمان ہوتے تو کیا سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ان کے جنازہ میں تشریف نہ لے جاتے۔صرف اتنے ہی ارشاد پر قناعت فرماتے کہ جاؤ اسے دباء آو امیر المومنین کرم اﷲ تعالی وجہہ الکریم کی قوت ایمان دیکھئے کہ خاص اپنے باپ نے انتقال کیا ہے اور خود حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم غسل کا فتوی دے رہے ہیںاور یہ عرض کرتے ہیں کہ یارسول اﷲ! وہ تو مشرك مرا۔ایمان ان بندگان خدا کے تھے کہ اﷲ و رسول کے مقابلہ میں باپ بیٹے کسی سے کچھ علاقہ نہ تھااﷲ و رسول کے مخالفوں کے دشمن تھے اگرچہ وہ اپنا جگر ہودوستان خدا و
اﷲ الذی یحیی ویمیت وھو حی لایموت اغفرلامی فاطمۃ بنت اسد و وسع علیہا مدخلہا بحق نبیك و الانبیاء الذین من قبلفانك ارحم الراحمین رواہ الطبرانی فی الکبیر والاوسط وابن حبان والحاکم وصححہ وابونعیم فی الحلیۃ عن انس ونحوہ ابن ابی شیبۃ عن جابروالشیرازی فی الالقاب وابن عبد البر وابونعیم فی المعرفۃوالدیلمی بسند حسن عن ابن عباس و ابن عساکر عن علی رضی اﷲ تعالی عنہم اجمعین۔ اﷲ جلاتا ہے اور مارتا ہے اور خود زندہ ہے کہ کبھی نہ مرے گا میری ماں فاطمہ بنت اسد کو بخش دے اور ان کی قبر وسیع کر صدقہ اپنے نبی کا اور مجھ سے پہلے انبیاء کاتو سب مہربانوں سے بڑھ کر مہربان ہے۔(روایت کیا اس کو طبرانی نے کبیرو اوسط میںابن حبان نے حاکم نے اور اس نے اس کی تصحیح کی ابونعیم نے حلیہ میں حضرت انس رضی اﷲ تعالی عنہ سےاور اس کی مثل ابن ابی شیبیہ نے حضرت جابر رضی اﷲ تعالی عنہ سےشیرازی نے القاب میںابن عبدالبر نےابونعیم نے معرفہ میںویلمی نے سند حسن کے ساتھ ابن عباس سے اور ابن عساکر نے حضرت علی سےرضی اﷲ تعالی عنہم اجمعین۔ت)
کاش ابوطالب مسلمان ہوتے تو کیا سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ان کے جنازہ میں تشریف نہ لے جاتے۔صرف اتنے ہی ارشاد پر قناعت فرماتے کہ جاؤ اسے دباء آو امیر المومنین کرم اﷲ تعالی وجہہ الکریم کی قوت ایمان دیکھئے کہ خاص اپنے باپ نے انتقال کیا ہے اور خود حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم غسل کا فتوی دے رہے ہیںاور یہ عرض کرتے ہیں کہ یارسول اﷲ! وہ تو مشرك مرا۔ایمان ان بندگان خدا کے تھے کہ اﷲ و رسول کے مقابلہ میں باپ بیٹے کسی سے کچھ علاقہ نہ تھااﷲ و رسول کے مخالفوں کے دشمن تھے اگرچہ وہ اپنا جگر ہودوستان خدا و
حوالہ / References
مجمع الزوائد کتاب المناقب باب مناقب بنت اسد دارالکتاب بیروت ۹ /۲۵۷،کنزالعمال حدیث ۳۴۴۲۸ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۲ /۱۴۷
رسول کے دوست تھے اگرچہ ان سے دنیوی ضرر ہو۔
" اولئک کتب فی قلوبہم الایمن و ایدہم بروح منہ و یدخلہم جنت تجری من تحتہا الانہر خلدین فیہا رضی اللہ عنہم و رضوا عنہ اولئک حزب اللہ الا ان حزب اللہ ہم المفلحون ﴿۲۲﴾
" ۔جعلنا اﷲ منھم بھم ولھم بفضل رحمۃ بھم انہ ھو الغفور الرحیم و الحمدﷲ رب العلمین وصلی اﷲ تعالی علیہ سیدنا ومولینا محمد ولہ واصحابہ اجمعین امین۔ یہ ہیں جن کے دلوں میں اﷲ نے ایمان نقش فرمادیا اور اپنی طرف کی روح سے انکی مدد کی اور انہیں باغوں میں لے جائے گا جن کے نیچے نہریں بہیںان میں ہمیشہ رہیں۔اﷲ ان سے راضی اوروہ اﷲ سے راضی۔یہ اﷲ کی جماعت ہے سنتا ہے اﷲ کی جماعت ہی کامیاب ہے۔اﷲ تعالی ہمیں ان کے صدقے میں ان میں سے کردے۔بے شك وہ ہی بہت بخشنے والا مہربان ہےاور سب تعریفیں اﷲ تعالی کے لیے ہیں جو پروردگار ہے تمام جہانوں کااور درود نازل فرمائے اﷲ تعالی ہمارے آقا محمد مصطفی ! آپ کی آل اورآپ کے تمام صحابہ پراے اﷲ ! ہماری دعا قبول فرما !(ت)
حدیث دہم:بخاری و مسلم اپنی صحاح اور ابن ماجہ اپنی سنن اور طحاوی شرح معانی آلاثار اور اسماعیلی مستخرج علی صحیح البخاری میں بطریق امام علی بن حسین زین العابدین عن عمر و بن عثمان الغنی رضی اﷲ تعالی عنہم سیدنا اسامہ بن زید رضی اﷲ تعالی عنہما سے راوی:
انہ قال یارسول اﷲ این تنزل فی دارك بمکۃ فقال و ھل ترك عقیل من رباع او دور وکان عقیل ورث ابا طالب ھو وطالب ولم یرثہ جعفر ولا علی رضی اﷲ تعالی عنہما شیئا لانھما کان مسلمین وکان عقیل و طالب کافرین فکان عمرین الخطاب رضی اﷲ تعالی عنہ یقول لایرث یعنی انہوں نے خدمت حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم میں عرض کی کہ یارسول اﷲ ! حضور کل مکہ معظمہ میں اپنے محلے کے کون سے مکان میں نزول اجلال فرمائیں گے۔ فرمایاکیا ہمارے لیے عقیل نے کوئی محلہ یا مکان چھوڑ دیا ہے۔امام زین العابدین نے فرمایا:ہوا یہ تھا کہ ابوطالب کا ترکہ عقیل اور طالب نے پایااور جعفر و علی
" اولئک کتب فی قلوبہم الایمن و ایدہم بروح منہ و یدخلہم جنت تجری من تحتہا الانہر خلدین فیہا رضی اللہ عنہم و رضوا عنہ اولئک حزب اللہ الا ان حزب اللہ ہم المفلحون ﴿۲۲﴾
" ۔جعلنا اﷲ منھم بھم ولھم بفضل رحمۃ بھم انہ ھو الغفور الرحیم و الحمدﷲ رب العلمین وصلی اﷲ تعالی علیہ سیدنا ومولینا محمد ولہ واصحابہ اجمعین امین۔ یہ ہیں جن کے دلوں میں اﷲ نے ایمان نقش فرمادیا اور اپنی طرف کی روح سے انکی مدد کی اور انہیں باغوں میں لے جائے گا جن کے نیچے نہریں بہیںان میں ہمیشہ رہیں۔اﷲ ان سے راضی اوروہ اﷲ سے راضی۔یہ اﷲ کی جماعت ہے سنتا ہے اﷲ کی جماعت ہی کامیاب ہے۔اﷲ تعالی ہمیں ان کے صدقے میں ان میں سے کردے۔بے شك وہ ہی بہت بخشنے والا مہربان ہےاور سب تعریفیں اﷲ تعالی کے لیے ہیں جو پروردگار ہے تمام جہانوں کااور درود نازل فرمائے اﷲ تعالی ہمارے آقا محمد مصطفی ! آپ کی آل اورآپ کے تمام صحابہ پراے اﷲ ! ہماری دعا قبول فرما !(ت)
حدیث دہم:بخاری و مسلم اپنی صحاح اور ابن ماجہ اپنی سنن اور طحاوی شرح معانی آلاثار اور اسماعیلی مستخرج علی صحیح البخاری میں بطریق امام علی بن حسین زین العابدین عن عمر و بن عثمان الغنی رضی اﷲ تعالی عنہم سیدنا اسامہ بن زید رضی اﷲ تعالی عنہما سے راوی:
انہ قال یارسول اﷲ این تنزل فی دارك بمکۃ فقال و ھل ترك عقیل من رباع او دور وکان عقیل ورث ابا طالب ھو وطالب ولم یرثہ جعفر ولا علی رضی اﷲ تعالی عنہما شیئا لانھما کان مسلمین وکان عقیل و طالب کافرین فکان عمرین الخطاب رضی اﷲ تعالی عنہ یقول لایرث یعنی انہوں نے خدمت حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم میں عرض کی کہ یارسول اﷲ ! حضور کل مکہ معظمہ میں اپنے محلے کے کون سے مکان میں نزول اجلال فرمائیں گے۔ فرمایاکیا ہمارے لیے عقیل نے کوئی محلہ یا مکان چھوڑ دیا ہے۔امام زین العابدین نے فرمایا:ہوا یہ تھا کہ ابوطالب کا ترکہ عقیل اور طالب نے پایااور جعفر و علی
حوالہ / References
القرآن الکریم ۵۸ /۲۲
المؤمن الکافر ۔ولفظ ابن ماجۃ والطحاوی فکان عمر من اجل ذلك یقو ل ۔الخ ولفظ الاسماعیلی فمن اجل ذلك کان عمر یقول ۔
تنبیہ:لاشك ان قولہ وکان عقیل ورث اباطالب مدرج فی الحدیث ولم یبین قائلہ فی الکتب الذی ذکرنا واخترت انا انہ الامام زین العابدین رضی اﷲ تعالی عنہ و قال الامال العینی فی العمدۃ قولہ وکان عقیل ادراج من بعض الرواۃ ولعلہ من اسامۃ کذا قال الکرمانی اھ والصواب ما ذکرتہ وقد کتبت علی ھامش العمدۃ ما نصہ۔
اقول:بل ھو من علی بن حسین بن علی رضی اﷲ تعالی عنہمبینہ رضی اﷲ تعالی عنہما کوکچھ نہ ملا۔یہ دونوں حضرات وقت موت ابی طالب مسلمان تھے اور طالب کافر تھا اور عقیل رضی اﷲ تعالی عنہ بھی ا س وقت تك ایمان نہ لائے تھے۔اسی بناء پر امیر المومنین عمر فاروق اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ فرمایا کرتے کہ کافر کا ترکہ مسلمان کو نہیں پہنچتا۔
تنبیہ:اس میں شك نہیں کہ اس قول اور عقیل وارث ہوا ابو طالب کا حدیث میں داخل کیا گیا اس کا قائل ان کتابوں میں مذکور نہیں جن کا ہم نے ذکر کیا ہے اور میں نے اختیار کیا ہے کہ وہ امام زین العابدین رضی اﷲ تعالی عنہ ہیں۔امام عینی نے عمدۃ القاری میں کہا کہ اس کا قول وکان عقیل بعض راویوں کی طرف سے حدیث میں داخل کیا گیا ہےممکن ہے یہ ادراج و ادخال اسامہ کی طرف سے ہو۔کرمانی نے یوں ہی کہا ہے اھ اور درست وہی ہے جو میں نے ذکر کیااور میں نے عمدۃ القاری پر حاشیہ لکھا جس کی صراحت یہ ہے۔(ت)
میں کہتا ہوں بلکہ وہ علی بن حسین بن علی ہے رضی اﷲ تعالی عنہم اس کو امام مالك نے اپنی کتاب مؤطا میں
تنبیہ:لاشك ان قولہ وکان عقیل ورث اباطالب مدرج فی الحدیث ولم یبین قائلہ فی الکتب الذی ذکرنا واخترت انا انہ الامام زین العابدین رضی اﷲ تعالی عنہ و قال الامال العینی فی العمدۃ قولہ وکان عقیل ادراج من بعض الرواۃ ولعلہ من اسامۃ کذا قال الکرمانی اھ والصواب ما ذکرتہ وقد کتبت علی ھامش العمدۃ ما نصہ۔
اقول:بل ھو من علی بن حسین بن علی رضی اﷲ تعالی عنہمبینہ رضی اﷲ تعالی عنہما کوکچھ نہ ملا۔یہ دونوں حضرات وقت موت ابی طالب مسلمان تھے اور طالب کافر تھا اور عقیل رضی اﷲ تعالی عنہ بھی ا س وقت تك ایمان نہ لائے تھے۔اسی بناء پر امیر المومنین عمر فاروق اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ فرمایا کرتے کہ کافر کا ترکہ مسلمان کو نہیں پہنچتا۔
تنبیہ:اس میں شك نہیں کہ اس قول اور عقیل وارث ہوا ابو طالب کا حدیث میں داخل کیا گیا اس کا قائل ان کتابوں میں مذکور نہیں جن کا ہم نے ذکر کیا ہے اور میں نے اختیار کیا ہے کہ وہ امام زین العابدین رضی اﷲ تعالی عنہ ہیں۔امام عینی نے عمدۃ القاری میں کہا کہ اس کا قول وکان عقیل بعض راویوں کی طرف سے حدیث میں داخل کیا گیا ہےممکن ہے یہ ادراج و ادخال اسامہ کی طرف سے ہو۔کرمانی نے یوں ہی کہا ہے اھ اور درست وہی ہے جو میں نے ذکر کیااور میں نے عمدۃ القاری پر حاشیہ لکھا جس کی صراحت یہ ہے۔(ت)
میں کہتا ہوں بلکہ وہ علی بن حسین بن علی ہے رضی اﷲ تعالی عنہم اس کو امام مالك نے اپنی کتاب مؤطا میں
حوالہ / References
صحیح البخاری کتاب المناسك باب توریث دور مکۃ الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۲۱۶،صحیح مسلم کتاب الحج باب النزول بمکۃ وتوریث دورھا قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۴۳۶
سُنن ابن ماجہ ابو اب الفرائضباب میراث اھل الاسلام من اھل الشرك الخ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۲۰۰
عمدۃ القاری کتاب المناسك باب توریث دور مکہ الخ تحت الحدیث ۱۵۸۸ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۹ /۳۲۴
سُنن ابن ماجہ ابو اب الفرائضباب میراث اھل الاسلام من اھل الشرك الخ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۲۰۰
عمدۃ القاری کتاب المناسك باب توریث دور مکہ الخ تحت الحدیث ۱۵۸۸ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۹ /۳۲۴
مالك فی مؤطاہ فانہ اسند اولا عن ابن شہاب بالسند المذکور فی الکتاب اعنی صحیح البخاری ان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم قال لایرث المسلم الکافر اھ ۔ثم قال مالك عن ابن شہاب عن علی بن حسین بن علی بن ابی طالب انہ اخبرہ انما ورث اباطالب عقیل وطالب ولم یرثہ علی قال علی فلذلك ترکنا نصیبنا من الشعب اھ وھکذا رواہ محمد فی مؤطاہ عن مالك مفرقا مصرحا فقد بین واحسن احسن اﷲ الیہ والینا بہ امین۔ میں بیان فرمایا ہےپہلے اس کو امام مالك نے ابن شہاب سے ذکر یعنی صحیح بخاری میں مذکور سند کے ساتھ ذکر کیا کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا مسلمان کافر کا وارث نہیں بنتا ا ھ پھر کہا مالك نے ابن شہاب سے روایت کی اس نے علی بن حسین بن علی ابن ابی طالب سےاس نے خبر دی کہ عقیل اور طالب ابو طالب کے وارث بنے جب کہ حضرت علی رضی اﷲ تعالی عنہ اس کے وارث نہ بنے۔ حضرت علی رضی اﷲ تعالی عنہ نے فرمایا یہی وجہ ہے کہ ہم نے شعب ابی طالب سے اپنا حصہ ترك کردیا۔اسی طرح امام محمد نے اپنی کتاب مؤطا میں امام مالك سے صراحتا روایت کیا انہوں نے خوب ظاہر کیا اور احسان کیااﷲ تعالی ان پر اور ہم پر احسان فرمائے۔امین(ت)
حدیث یاز دہم:عمر بن شبہ کتاب مکہ میں اور ابویعلی وابوبشر اور سمویہ اپنے فوائد اور حاکم مستدرك میں بطریق محمد بن سلمہ بن ہشام بن حسان عن محمد بن سیرین قصہ اسلام ابی قحافہ والد امیر المومنین صدیق اکبر رضی اﷲ تعالی عنہما میں انس بن مالك رضی اﷲ تعالی عنہ سے راوی:
قال فلما مدیدہ یبایعہ بکی ابوبکر فقال النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ما یبکیك قال لان تکون ید عمك مکان یدہ ویسلم ویقر یعنی جب حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے اپنا دست انور ابوقحافہ سے بیعت اسلام لینے کے لیے بڑھایاصدیق اکبر رضی اﷲ تعالی عنہ روئےحضور پرنورصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:کیوں روتے ہو عرض کی:ان کے ہاتھ کی جگہ آج حضور کے
حدیث یاز دہم:عمر بن شبہ کتاب مکہ میں اور ابویعلی وابوبشر اور سمویہ اپنے فوائد اور حاکم مستدرك میں بطریق محمد بن سلمہ بن ہشام بن حسان عن محمد بن سیرین قصہ اسلام ابی قحافہ والد امیر المومنین صدیق اکبر رضی اﷲ تعالی عنہما میں انس بن مالك رضی اﷲ تعالی عنہ سے راوی:
قال فلما مدیدہ یبایعہ بکی ابوبکر فقال النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ما یبکیك قال لان تکون ید عمك مکان یدہ ویسلم ویقر یعنی جب حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے اپنا دست انور ابوقحافہ سے بیعت اسلام لینے کے لیے بڑھایاصدیق اکبر رضی اﷲ تعالی عنہ روئےحضور پرنورصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:کیوں روتے ہو عرض کی:ان کے ہاتھ کی جگہ آج حضور کے
حوالہ / References
مؤطا امام مالك کتاب ا لفرائض باب میراث اہل الملل میر محمد کتب خانہ کراچی ص ۶۶۶
مؤطا امام مالك کتاب ا لفرائض باب میراث اہل الملل میر محمد کتب خانہ کراچی ص ۶۶۶
مؤطا امام مالك کتاب ا لفرائض باب میراث اہل الملل میر محمد کتب خانہ کراچی ص ۶۶۶
اﷲ عینك احب الی من ان یکون ۔ چچاکا ہاتھ ہوتا اور ان کے اسلام لانے سے اﷲ تعالی حضور (صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم)کی آنکھ ٹھنڈی کرتا تو مجھی اپنے باپ کے مسلمان ہونے سے زیادہ یہ بات عزیز تھی۔
حاکم نے کہا:یہ حدیث برشرط شیخین صحیح ہے۔حافظ الشان نے اصابہ میں اسے مسلم رکھا اور فرمایا:سندہ صحیح ۔(اس کی سند صحیح ہے۔ت)
حدیث دوازدہم:ابوقرہ موسی بن طارق وہ موسی بن عبید ہ وہ عبداﷲ بن دینار وحضور عبدا ﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما سے راوی:
قال جاء ابوبکر یابی قحافۃ یقودہ یوم فتح مکۃ فقال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم الا ترك الشیخ حتی نأتیہ قال ابوبکر ادرت ان یأجرہ اﷲ والذی بعثك بالحق لانا کنت اشد فرحا باسلام ابی طالب لوکان اسلم منی بابی ۔ یعنی صدیق اکبر رضی اﷲ تعالی عنہ فتح مکہ کے دن ابو قحافہ کا ہاتھ پکڑے ہوئے خدمت اقدس حضور سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم میں حاضر لائے حضور اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا اس بوڑھے کو وہیں کیوں نہ رہنے دیا کہ ہم خود اس کے پاس تشریف فرما ہوتےصدیق نے عرض کی کہ میں نے چاہا کہ ان کو اجر دے قسم اس کی جس نے حضور کو حق کے ساتھ بھیجا ہے مجھے اپنے باپ کے مسلمان ہونے سے زیادہ ابوطالب کے مسلمان ہونے کی خوشی ہوتی اگر وہ ا سلام لے آتے۔(ت)
اﷲ اﷲ یہ محبوب میں فنائے مطلق کا مرتبہ ہےصدق اﷲ" والذین امنوا اشد حبا للہ" ۔(اﷲ تعالی نے سچ فرمایا اور ایمان والوں کو اﷲ کے برابر کسی کی محبت نہیں۔ت)اسی طرح
حاکم نے کہا:یہ حدیث برشرط شیخین صحیح ہے۔حافظ الشان نے اصابہ میں اسے مسلم رکھا اور فرمایا:سندہ صحیح ۔(اس کی سند صحیح ہے۔ت)
حدیث دوازدہم:ابوقرہ موسی بن طارق وہ موسی بن عبید ہ وہ عبداﷲ بن دینار وحضور عبدا ﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما سے راوی:
قال جاء ابوبکر یابی قحافۃ یقودہ یوم فتح مکۃ فقال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم الا ترك الشیخ حتی نأتیہ قال ابوبکر ادرت ان یأجرہ اﷲ والذی بعثك بالحق لانا کنت اشد فرحا باسلام ابی طالب لوکان اسلم منی بابی ۔ یعنی صدیق اکبر رضی اﷲ تعالی عنہ فتح مکہ کے دن ابو قحافہ کا ہاتھ پکڑے ہوئے خدمت اقدس حضور سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم میں حاضر لائے حضور اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا اس بوڑھے کو وہیں کیوں نہ رہنے دیا کہ ہم خود اس کے پاس تشریف فرما ہوتےصدیق نے عرض کی کہ میں نے چاہا کہ ان کو اجر دے قسم اس کی جس نے حضور کو حق کے ساتھ بھیجا ہے مجھے اپنے باپ کے مسلمان ہونے سے زیادہ ابوطالب کے مسلمان ہونے کی خوشی ہوتی اگر وہ ا سلام لے آتے۔(ت)
اﷲ اﷲ یہ محبوب میں فنائے مطلق کا مرتبہ ہےصدق اﷲ" والذین امنوا اشد حبا للہ" ۔(اﷲ تعالی نے سچ فرمایا اور ایمان والوں کو اﷲ کے برابر کسی کی محبت نہیں۔ت)اسی طرح
حوالہ / References
الاصابۃ فی تمییز الصحابۃبحوالہ عمر بن شیبہ وغیرہ ذکر ابی طالب دارصادر بیروت ۴ /۱۱۶
الاصابۃ فی تمییز الصحابۃبحوالہ عمر بن شیبہ وغیرہ ذکر ابی طالب دارصادر بیروت ۴ /۱۱۶
الاصابۃ فی تمییز الصحابۃبحوالہ ابی قرۃ وغیرہ ذکر ابی طالب دارصادر بیروت ۴ /۱۱۷
القرآن الکریم ۲ /۱۶۵
الاصابۃ فی تمییز الصحابۃبحوالہ عمر بن شیبہ وغیرہ ذکر ابی طالب دارصادر بیروت ۴ /۱۱۶
الاصابۃ فی تمییز الصحابۃبحوالہ ابی قرۃ وغیرہ ذکر ابی طالب دارصادر بیروت ۴ /۱۱۷
القرآن الکریم ۲ /۱۶۵
امیر المومنین فاروق اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ نے حضرت عباس رضی اﷲ تعالی عنہ عم رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے کہا:
انا باسلامك اذا اسلمت افرح منی باسلام الخطاب ذکرابن اسحق فی سیرتہ۔ مجھے آپ کے اسلام کی جتنی خوشی ہوئی اپنے باپ خطاب کے اسلام کی اتنی نہ ہوتی۔(اس کو ابواسحق اس کی سیرت میں ذکر کیا۔ت)
حدیث سیزدہم:یونس بن بکیر فی زیادات مغازی ابن اسحق عن یونس بن عمرو عن ابی السفر:
قال بعث ابوطالب الی النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فقال اطعمنی من عنب جنتك فقال ابوبکر ان اﷲ حرمھا علی الکافرین ۔ یعنی ابو طالب نے حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے عرض کر بھیجی کہ مجھے اپنی جنت کے انگور کھلائے۔اس پر صدیق اکبر رضی اﷲ تعالی عنہ نے فرمایا:بے شك اﷲ نے انہیں کافروں پر حرام کیا ہے۔
حدیث چہار دہم:الواحدی من حدیث موسی بن عبیدۃ قال اخبرنا محمد بن کعب القرظی
قال بلغنی انہ لما اشتکی ابوطالب شکواہ التی قبض فیہا قالت لہ قریش ارسل الی ابن اخیك یرسل الیك من ھذہ الجنۃ التی ذکرھا یکون لك شفاء فارسل الیہ فقال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ان اﷲ حرمھا علی الکافرین طعامھاوشرابہا ثم اتاہ فعرض علیہ الاسلامفقال لولاان تعیربھا یعنی ابو طالب کے مرض الموت میں کافران قریش نے صلاح دی کہ اپنے بھتیجے(صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم)سے عرض کرو کہ یہ جنت جو وہ بیان کرتے ہیں اس میں سے تمہارے لیے کچھ بھیج دیں کہ تم شفاء پاؤ۔ابوطالب نے عرض کر بھیجی حضور اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے جواب دیا کہ اﷲ تعالی نے جنت کا کھانا پانی کافروں پر حرام کیا ہے۔پھر تشریف لا کر ابو طالب پر اسلام پیش کیا۔ابو طالب نے کہا: لوگ حضور پر طعنہ کریں گے کہ
انا باسلامك اذا اسلمت افرح منی باسلام الخطاب ذکرابن اسحق فی سیرتہ۔ مجھے آپ کے اسلام کی جتنی خوشی ہوئی اپنے باپ خطاب کے اسلام کی اتنی نہ ہوتی۔(اس کو ابواسحق اس کی سیرت میں ذکر کیا۔ت)
حدیث سیزدہم:یونس بن بکیر فی زیادات مغازی ابن اسحق عن یونس بن عمرو عن ابی السفر:
قال بعث ابوطالب الی النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فقال اطعمنی من عنب جنتك فقال ابوبکر ان اﷲ حرمھا علی الکافرین ۔ یعنی ابو طالب نے حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے عرض کر بھیجی کہ مجھے اپنی جنت کے انگور کھلائے۔اس پر صدیق اکبر رضی اﷲ تعالی عنہ نے فرمایا:بے شك اﷲ نے انہیں کافروں پر حرام کیا ہے۔
حدیث چہار دہم:الواحدی من حدیث موسی بن عبیدۃ قال اخبرنا محمد بن کعب القرظی
قال بلغنی انہ لما اشتکی ابوطالب شکواہ التی قبض فیہا قالت لہ قریش ارسل الی ابن اخیك یرسل الیك من ھذہ الجنۃ التی ذکرھا یکون لك شفاء فارسل الیہ فقال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ان اﷲ حرمھا علی الکافرین طعامھاوشرابہا ثم اتاہ فعرض علیہ الاسلامفقال لولاان تعیربھا یعنی ابو طالب کے مرض الموت میں کافران قریش نے صلاح دی کہ اپنے بھتیجے(صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم)سے عرض کرو کہ یہ جنت جو وہ بیان کرتے ہیں اس میں سے تمہارے لیے کچھ بھیج دیں کہ تم شفاء پاؤ۔ابوطالب نے عرض کر بھیجی حضور اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے جواب دیا کہ اﷲ تعالی نے جنت کا کھانا پانی کافروں پر حرام کیا ہے۔پھر تشریف لا کر ابو طالب پر اسلام پیش کیا۔ابو طالب نے کہا: لوگ حضور پر طعنہ کریں گے کہ
حوالہ / References
الاصابۃ فی تمییز الصحابۃبحوالہ ابن اسحاق ذکر ابی طالب دارصادر بیروت ۴ /۱۱۷
الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ بحوالہ ابن اسحاق ذکر ابی طالب دارصادر بیروت ۴ /۱۱۶
الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ بحوالہ ابن اسحاق ذکر ابی طالب دارصادر بیروت ۴ /۱۱۶
فیقال جزع عمك من الموت لاقررت بہا عینك و استغفرلہ بعد مامات فقال المسلمون مایمنعنا ان نستغفر لابائنا ولذوی قرابتنا قداستغفر ابراھیم علیہ السلام لابیہ ومحمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لعمہ فاستغفر وا للمشرکین حتی نزلت ما کان للنبی والذین امنوا الایۃ۔ حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا چچا موت سے گھبرا گیا اس کا خیال نہ ہوتا تو میں حضور کی خوشی کردیتا۔جب وہ مر گئے حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے انکے لیے دعا ئے مغفرت کیمسلمانوں نے کہا ہمیں اپنے والدوں قریبوں کےلیےدعائے بخشش سے کون مانع ہےابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام نےاپنےباپ کے لیے استغفار کیمحمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اپنے چچا کے لیے استغفار کررہے ہیںیہ سمجھ کر مسلمانوں نے اپنے اقارب مشرکین کے واسطے دعائے مغفرت کیاﷲ عزوجل نے آیت اتاری کہ مشرکوں کے لیے یہ دعا نہ نبی کو روا نہ مسلمانوں کوجب کہ روشن ہولیا کہ وہ جہنمی ہیں۔والعیاذ باﷲ تعالی
حدیث پانزدہم:ابونعیم حلیہ میں امیر المومنین مولی علی کرم اﷲ تعالی وجہہ الکریم سے راویرسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:
کانت مشیۃ اﷲ عزوجل فی اسلام عمی العباس و مشیتی فی اسلام عمی ابی طالب فغلبت مشیۃ اﷲ مشیتی ۔ اﷲ تعالی نے میرے چچا عباس کا مسلمان ہونا چاہا اور میری خواہش یہ تھی کہ میرا چچا ابوطالب مسلمان ہواﷲ تعالی کا ارادہ میری خواہش پر غالب آیا کہ ابو طالب کا فر رہا اور عباس رضی اﷲ تعالی عنہ مشرف با سلام ہوئے۔فللہ الحجۃ البالغۃ
فصل سوم:
چون۵۴ اقوال ائمہ کرام و علمائے اعلام اوپر گزرے اور بعد کلام خدا و رسول جل جلالہوصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کیا حالت منتظرہ باقی ہے خاتمہ کا حال خدا و رسول سے زیادہ کون جانےعزمجدہ وصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم
حدیث پانزدہم:ابونعیم حلیہ میں امیر المومنین مولی علی کرم اﷲ تعالی وجہہ الکریم سے راویرسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:
کانت مشیۃ اﷲ عزوجل فی اسلام عمی العباس و مشیتی فی اسلام عمی ابی طالب فغلبت مشیۃ اﷲ مشیتی ۔ اﷲ تعالی نے میرے چچا عباس کا مسلمان ہونا چاہا اور میری خواہش یہ تھی کہ میرا چچا ابوطالب مسلمان ہواﷲ تعالی کا ارادہ میری خواہش پر غالب آیا کہ ابو طالب کا فر رہا اور عباس رضی اﷲ تعالی عنہ مشرف با سلام ہوئے۔فللہ الحجۃ البالغۃ
فصل سوم:
چون۵۴ اقوال ائمہ کرام و علمائے اعلام اوپر گزرے اور بعد کلام خدا و رسول جل جلالہوصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کیا حالت منتظرہ باقی ہے خاتمہ کا حال خدا و رسول سے زیادہ کون جانےعزمجدہ وصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم
حوالہ / References
کنزالعمال برمز ابی نعیم عن علی حدیث ۳۴۴۳۹ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۲ /۱۵۲
مگر تکثیر فوائد و تسکین زائد کے لیے بعض اور بھی کہ سردست پیش نظر ہیں اضافہ کیجئےکہ زیادت خیر زیادت خیر ہے۔وباﷲ التوفیق۔
امام الائمہمالك الازمہکاشف الغمہسراج الائمہسیدنا امام اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ فقہ اکبرمیں فرماتےہیں:
ابوطالب عمہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم مات کافرا ۔ نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے چچا ابو طالب کی موت کفر پر ہوئی۔ والعیاذباﷲ۔
امام برہان الدین علی بن ابی بکر فرغانی ہدایہ میں فرماتے ہیں:
اذا مات الکافر ولہ ولی مسلم فانہ یغسلہ ویکفنہ و یدفنہ بذلك امر علی رضی اﷲ تعالی عنہ فی حق ابیہ ابی طالب لکن یغسل غسل الثوب النجس ویلف فی خرقۃ و یحفر حفیرۃ من غیر مراعاۃ سنۃ التکفین و اللحد ولایوضع فیہ بل یلقی ۔ جب کافر مرجائے اور اس کا کوئی مسلمان رشتہ دار موجود ہو تو وہ اس کو غسل دےکفن پہنائے اور دفن کرےحضرت علی مرتضی رضی اﷲ تعالی عنہ کو ان کے باپ ابو طالب کے بارے میں ایسا ہی حکم دیا گیا۔لیکن اس کو غسل ایسے دیا جائے جیسے پلیڈ کپڑے کو دھویا جاتا ہے اور کسی کپڑے میں لپیٹ دیا جائے اور اس کے لیے گڑھا کھودا جائےکفن پہنانے اور لحد بنانے کی سنت ملحوظ نہ رکھی جائے اور نہ ہی اس کو گڑھے میں رکھا جائے بلکہ پھینکا جائے۔(ت)
امام ابوالبرکات عبداﷲ نسفی کافی شرح وافی میں فرماتے ہیں:
مات کافر یغسلہ ولیہ المسلم ویکفنہ ویدفنہ و الاصل فیہ انہ لما مات ابوطالب اتی علی رضی اﷲ تعالی عنہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وقال ان عمك الشیخ الضال کافر مرجائے تو اس کا مسلمان رشتہ دار اس کو غسل دےکفن پہنائے اور دفن کرےاس میں اصل یہ ہے کہ جب ابوطالب مرگئے تو حضرت علی رضی اﷲ تعالی عنہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا کہ آپ کا بوڑھا گمراہ چچا
امام الائمہمالك الازمہکاشف الغمہسراج الائمہسیدنا امام اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ فقہ اکبرمیں فرماتےہیں:
ابوطالب عمہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم مات کافرا ۔ نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے چچا ابو طالب کی موت کفر پر ہوئی۔ والعیاذباﷲ۔
امام برہان الدین علی بن ابی بکر فرغانی ہدایہ میں فرماتے ہیں:
اذا مات الکافر ولہ ولی مسلم فانہ یغسلہ ویکفنہ و یدفنہ بذلك امر علی رضی اﷲ تعالی عنہ فی حق ابیہ ابی طالب لکن یغسل غسل الثوب النجس ویلف فی خرقۃ و یحفر حفیرۃ من غیر مراعاۃ سنۃ التکفین و اللحد ولایوضع فیہ بل یلقی ۔ جب کافر مرجائے اور اس کا کوئی مسلمان رشتہ دار موجود ہو تو وہ اس کو غسل دےکفن پہنائے اور دفن کرےحضرت علی مرتضی رضی اﷲ تعالی عنہ کو ان کے باپ ابو طالب کے بارے میں ایسا ہی حکم دیا گیا۔لیکن اس کو غسل ایسے دیا جائے جیسے پلیڈ کپڑے کو دھویا جاتا ہے اور کسی کپڑے میں لپیٹ دیا جائے اور اس کے لیے گڑھا کھودا جائےکفن پہنانے اور لحد بنانے کی سنت ملحوظ نہ رکھی جائے اور نہ ہی اس کو گڑھے میں رکھا جائے بلکہ پھینکا جائے۔(ت)
امام ابوالبرکات عبداﷲ نسفی کافی شرح وافی میں فرماتے ہیں:
مات کافر یغسلہ ولیہ المسلم ویکفنہ ویدفنہ و الاصل فیہ انہ لما مات ابوطالب اتی علی رضی اﷲ تعالی عنہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وقال ان عمك الشیخ الضال کافر مرجائے تو اس کا مسلمان رشتہ دار اس کو غسل دےکفن پہنائے اور دفن کرےاس میں اصل یہ ہے کہ جب ابوطالب مرگئے تو حضرت علی رضی اﷲ تعالی عنہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا کہ آپ کا بوڑھا گمراہ چچا
حوالہ / References
الفقہ الاکبر مع وصیّت نامہ ملك سراج الدین اینڈ سنز پبلشرز کشمیری بازار لاہور ص ۲۱
الہدایہ باب الجنائز فصل فی الصلوۃ علی المیت المکتبۃ العربیۃ دستگیر کالونی کراچی ۱ /۶۲۔۱۶۱
الہدایہ باب الجنائز فصل فی الصلوۃ علی المیت المکتبۃ العربیۃ دستگیر کالونی کراچی ۱ /۶۲۔۱۶۱
قد مات فقال اغسلہ واکفنہ وادفنہ و لاتحدث حدثا حتی تلقانی ای لاتصل علیہ ۔ مرگیا ہےرسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا اس کو غسل دوکفن پہناؤ اور دفن کرو اور کوئی نئی چیز نہ کرنا یہاں تك کہ مجھے آملو یعنی اس کی نماز جنازہ مت پڑھنا الخ۔(ت)
علامہ ابراہیم حلبی غنیہ شرح منیہ میں فرماتے ہیں:
مات للمسلم قریب کافر لیس لہ ولی من الکفار یغسلہ غسل الثوب الجنس ویلفہ فی خرقۃ و یحفرلہ حفرۃ ویلفیہ فیہا من غیر مراعاۃ السنۃ فی ذلك لماروی ان اباطالب لما ھلك جاء علی فقال یا رسول ان عمك الضال قدمات ۔الخ مسلمان کا کوئی قریبی کافر رشتہ دار مر گیا۔اس کا کافروں میں کوئی وارث موجود نہیں ہے تو وہ مسلمان اسے غسل دے جیسے پلید کپڑے کو دھویا جاتا ہےایك کپڑے میں لپیٹے اور ایك گڑھا کھود کر اس میں پھینك دے اور اس سلسلے میں سنت کا لحاظ نہ کرے کیونکہ مروی ہے کہ جب ابوطالب کا انتقال ہوا تو حضرت علی مرتضی رضی اﷲ تعالی عنہ نے آکر کہا یارسول اﷲ ! آپ کا گمراہ چچا مرگیا ہے۔الخ
علامہ ابراہیم طرابلسی برہان شرح مواہب الرحمن پھر علامہ سید احمد طحطاوی حاشیہ مراقی الفلاح میں زیر قول نور الایضاح ان کان للکافر قریب مسلم غسلہ(اگر کسی کافر کا کوئی قریبی رشتہ دار مسلمان ہو تو وہ اس کو غسل دے۔ت)فرماتے ہیں:
الاصل فیہ ما رواہ ابوداؤد وغیرہ عن علی رضی اﷲ تعالی عنہ قال لما مات ابوطالب ۔الحدیث۔ اصل اس میں وہ حدیث ہے جس کو ابوداؤد وغیرہ نے حضرت علی مرتضی رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا کہ جب ابوطالب مرگیا تو انہوں نے کہا۔(الحدیث۔ت)
علامہ زین بن نجیم مصری بحرالرائق میں فرماتے ہیں:
یغسل ولی مسلم الکافر ویکفنہ و مسلمان رشتہ دار کا فر کو غسل دےکفن پہنائے اور
علامہ ابراہیم حلبی غنیہ شرح منیہ میں فرماتے ہیں:
مات للمسلم قریب کافر لیس لہ ولی من الکفار یغسلہ غسل الثوب الجنس ویلفہ فی خرقۃ و یحفرلہ حفرۃ ویلفیہ فیہا من غیر مراعاۃ السنۃ فی ذلك لماروی ان اباطالب لما ھلك جاء علی فقال یا رسول ان عمك الضال قدمات ۔الخ مسلمان کا کوئی قریبی کافر رشتہ دار مر گیا۔اس کا کافروں میں کوئی وارث موجود نہیں ہے تو وہ مسلمان اسے غسل دے جیسے پلید کپڑے کو دھویا جاتا ہےایك کپڑے میں لپیٹے اور ایك گڑھا کھود کر اس میں پھینك دے اور اس سلسلے میں سنت کا لحاظ نہ کرے کیونکہ مروی ہے کہ جب ابوطالب کا انتقال ہوا تو حضرت علی مرتضی رضی اﷲ تعالی عنہ نے آکر کہا یارسول اﷲ ! آپ کا گمراہ چچا مرگیا ہے۔الخ
علامہ ابراہیم طرابلسی برہان شرح مواہب الرحمن پھر علامہ سید احمد طحطاوی حاشیہ مراقی الفلاح میں زیر قول نور الایضاح ان کان للکافر قریب مسلم غسلہ(اگر کسی کافر کا کوئی قریبی رشتہ دار مسلمان ہو تو وہ اس کو غسل دے۔ت)فرماتے ہیں:
الاصل فیہ ما رواہ ابوداؤد وغیرہ عن علی رضی اﷲ تعالی عنہ قال لما مات ابوطالب ۔الحدیث۔ اصل اس میں وہ حدیث ہے جس کو ابوداؤد وغیرہ نے حضرت علی مرتضی رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا کہ جب ابوطالب مرگیا تو انہوں نے کہا۔(الحدیث۔ت)
علامہ زین بن نجیم مصری بحرالرائق میں فرماتے ہیں:
یغسل ولی مسلم الکافر ویکفنہ و مسلمان رشتہ دار کا فر کو غسل دےکفن پہنائے اور
حوالہ / References
الکافی شرح الوافی
غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی فصل فی الجنائز سہیل اکیڈمی لاہور ص ۶۰۳
حاشیۃ الطحطاوی علٰی مراقی الفلاح باب احکام الجنائز فصل السلطان احق بصلٰوتہ نور محمد کارخانہ کراچی ص ۳۲۹ و ۳۳۰
غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی فصل فی الجنائز سہیل اکیڈمی لاہور ص ۶۰۳
حاشیۃ الطحطاوی علٰی مراقی الفلاح باب احکام الجنائز فصل السلطان احق بصلٰوتہ نور محمد کارخانہ کراچی ص ۳۲۹ و ۳۳۰
یدفنہ بذلك امر علی رضی اﷲ تعالی عنہ ان یفعل بابیہ حین مات ۔ دفن کرےحضرت علی مرتضی رضی اﷲ تعالی عنہ کو ایسا کرنے کا حکم دیا گیا جب ان کا باپ مرگیا۔(ت)
ان سب عبارتوں کا حاصل یہ ہےکہ مسلمان اپنے قرابت دار کا فر مردہ کو نہلاسکتا ہے کہ مولی علی کرم اﷲ تعالی وجہہنے اپنے باپ ابوطالب کو نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی اجازت سے نہلایا۔
فتح القدیر وکفایہ وبنایہ وغیرہا تمام شروح ہدایہ میں اس مضمون کو مقبول و مقرر رکھا۔کتب فقہ میں اس کی عبارات بکثرت ملیں گی سب کی نقل سے اطالت کی حاجت نہیںواضح ہوا کہ سب علمائے کرام ابوطالب کو کافر جانتے ہیں۔یونہی امام ابوداؤد نے اپنی سنن میں "باب الرجل یموت لہ قرابۃ مشرک" وضع فرمایا یعنی "باب اس شخص کا جس کا کوئی قرابت دار مشرك مرے" اور امام نسائی نے "باب مواراۃ المشرک" یعنی "دفن مشرك کا باب"اور دونوں نے اس میں یہی حدیث موت ابی طالب ذکر کیانہیں نسائی کے اسی مجتبی میں ایك باب" النھی عن الاستغفار للمشرکین" ہے اس میں حدیث دوم روایت کی ابن ماجہ نے سنن میں باب میراث "اھل الاسلام من اھل الشرك" لکھا یعنی مشرك کا ترکہ مسلم کو ملے گا یا نہیں۔اس میں حدیث دوم وارد کی۔ امام اجل صاحب المذہب سیدنا امام مالك نے مؤطا شریف میں باب "التوارث بین اھل الملل" منعقد فرمایا یعنی مختلف دین والوں میں ایك کو دوسرے کا ترکہ ملنے کا حکماور اس میں حدیثیں مسلم و کافر کے عدم توارث کی روایت فرمائیں جن میں یہ حدیث امام زین العابدین دربارہ ترکہ ابوطالب مذکور حدیث دہم بھی ارشاد کی۔یونہی امام محرر المذہب سیدنا امام محمد نے مؤطا شریف میں باب "لایرث المسلم الکافر" منعقد فرما کر حدیث مذکور ایراد کی۔
ان سب عبارتوں کا حاصل یہ ہےکہ مسلمان اپنے قرابت دار کا فر مردہ کو نہلاسکتا ہے کہ مولی علی کرم اﷲ تعالی وجہہنے اپنے باپ ابوطالب کو نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی اجازت سے نہلایا۔
فتح القدیر وکفایہ وبنایہ وغیرہا تمام شروح ہدایہ میں اس مضمون کو مقبول و مقرر رکھا۔کتب فقہ میں اس کی عبارات بکثرت ملیں گی سب کی نقل سے اطالت کی حاجت نہیںواضح ہوا کہ سب علمائے کرام ابوطالب کو کافر جانتے ہیں۔یونہی امام ابوداؤد نے اپنی سنن میں "باب الرجل یموت لہ قرابۃ مشرک" وضع فرمایا یعنی "باب اس شخص کا جس کا کوئی قرابت دار مشرك مرے" اور امام نسائی نے "باب مواراۃ المشرک" یعنی "دفن مشرك کا باب"اور دونوں نے اس میں یہی حدیث موت ابی طالب ذکر کیانہیں نسائی کے اسی مجتبی میں ایك باب" النھی عن الاستغفار للمشرکین" ہے اس میں حدیث دوم روایت کی ابن ماجہ نے سنن میں باب میراث "اھل الاسلام من اھل الشرك" لکھا یعنی مشرك کا ترکہ مسلم کو ملے گا یا نہیں۔اس میں حدیث دوم وارد کی۔ امام اجل صاحب المذہب سیدنا امام مالك نے مؤطا شریف میں باب "التوارث بین اھل الملل" منعقد فرمایا یعنی مختلف دین والوں میں ایك کو دوسرے کا ترکہ ملنے کا حکماور اس میں حدیثیں مسلم و کافر کے عدم توارث کی روایت فرمائیں جن میں یہ حدیث امام زین العابدین دربارہ ترکہ ابوطالب مذکور حدیث دہم بھی ارشاد کی۔یونہی امام محرر المذہب سیدنا امام محمد نے مؤطا شریف میں باب "لایرث المسلم الکافر" منعقد فرما کر حدیث مذکور ایراد کی۔
حوالہ / References
بحرالرائق کتاب الجنائز فصل السلطان احق بصلٰوتہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ /۱۹۰
سُنن ابی داؤد کتاب الجنائز باب الرجل یموت لہ الخ آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۱۰۲
سُنن النسائی کتاب الجنائز باب مواراۃ المشرك نور محمد کارخانہ کراچی ۱ /۲۸۳
سنن النسائی کتاب الجنائز باب النہی عن الاستغفار للمشرکین نور محمد کارخانہ کراچی ۱ /۲۸۶
سنن ابن ماجہ ابواب الفرائض باب میراث اہل الاسلام من اھل الشرك ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص ۲۰۰
مؤطا الامام مالك کتاب الفرائض باب میراث اہل الملل میرمحمد کتب خانہ کراچی ص ۶۶۶
مؤطا الامام محمد کتاب الفرائض باب لایرث المسلم کافر نور محمد کارخانہ کراچی ص ۳۱۹ و۳۲۰
سُنن ابی داؤد کتاب الجنائز باب الرجل یموت لہ الخ آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۱۰۲
سُنن النسائی کتاب الجنائز باب مواراۃ المشرك نور محمد کارخانہ کراچی ۱ /۲۸۳
سنن النسائی کتاب الجنائز باب النہی عن الاستغفار للمشرکین نور محمد کارخانہ کراچی ۱ /۲۸۶
سنن ابن ماجہ ابواب الفرائض باب میراث اہل الاسلام من اھل الشرك ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص ۲۰۰
مؤطا الامام مالك کتاب الفرائض باب میراث اہل الملل میرمحمد کتب خانہ کراچی ص ۶۶۶
مؤطا الامام محمد کتاب الفرائض باب لایرث المسلم کافر نور محمد کارخانہ کراچی ص ۳۱۹ و۳۲۰
امام اجل محمد بن اسمعیل بخاری نے جامع صحیح کتاب الجنائز میں ایك باب وضع فرمایا:"باب اذاقال المشرك عندالموت لا الہ الا اﷲ" ۔یعنی باب اس کے بیان کا کہ مشرك مرتے وقت لا الہ الا اﷲ کہے تو کیا حکم ہے اور اس میں حدیث دوم روایت فرمائی۔اسی کی کتاب الادب میں لکھا "باب کنیۃ المشرک" ۔اس میں حدیث چہارم روایت اور حدیث مذکور:
سمعت النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یقول وھو علی المنبر ان بنی ھاشم بن المغیرۃ استاذنونی ان ینکحو ا ابنتھم علی بن ابی طالب ۔ میں نے نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا جب کہ آپ منبر پر تشریف فرما تھے کہ بنی ہاشم بن مغیرہ نے مجھ سے اجازت طلب کی ہے کہ وہ اپنی بیٹی کا نکاح علی بن ابی طالب کے ساتھ کردیں۔(ت)
ذکر کی______ امام قسطلانی نے تطبیق حدیث و ترجمہ میں لکھا "فذکرابا طالب المشرك بکنیۃ" نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ابو طالب مشرك کو کنیت سے یاد فرمایا۔ پھر لکھا:
قد جوزواذکر الکافر بکنیتہ اذا کان لایعرف الا بہا کما فی ابی طالب اوکان علی سبیل التالف رجاء اسلامھم او تحصیل منفعۃ منھم لا علی سبیل التکریم فانا ما مورون بالاغلاظ علیھم ۔ علماء نے کافر کو کنیت سے ذکر کرنا ناجائز رکھا جب کہ وہ اور نام سے نہ پہچانا جائے جیسے ابو طالب یا بامید اسلام تالیف مقصود یا کام نکالنا ہو مگر بطور تکریم جائز نہیں کہ ہمیں ان پر سختی کرنے کا حکم ہے۔
عمدۃ القاری میں ہے:
قال ابن بطال فیہ جواز تکنیۃ المشرک ۔ امام ابن بطال نے فرمایا:اس حدیث سے مشرك کو بلفظ کنیت یاد کرنے کا جواز معلوم ہوا۔
اسی میں ہے:
سمعت النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یقول وھو علی المنبر ان بنی ھاشم بن المغیرۃ استاذنونی ان ینکحو ا ابنتھم علی بن ابی طالب ۔ میں نے نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا جب کہ آپ منبر پر تشریف فرما تھے کہ بنی ہاشم بن مغیرہ نے مجھ سے اجازت طلب کی ہے کہ وہ اپنی بیٹی کا نکاح علی بن ابی طالب کے ساتھ کردیں۔(ت)
ذکر کی______ امام قسطلانی نے تطبیق حدیث و ترجمہ میں لکھا "فذکرابا طالب المشرك بکنیۃ" نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ابو طالب مشرك کو کنیت سے یاد فرمایا۔ پھر لکھا:
قد جوزواذکر الکافر بکنیتہ اذا کان لایعرف الا بہا کما فی ابی طالب اوکان علی سبیل التالف رجاء اسلامھم او تحصیل منفعۃ منھم لا علی سبیل التکریم فانا ما مورون بالاغلاظ علیھم ۔ علماء نے کافر کو کنیت سے ذکر کرنا ناجائز رکھا جب کہ وہ اور نام سے نہ پہچانا جائے جیسے ابو طالب یا بامید اسلام تالیف مقصود یا کام نکالنا ہو مگر بطور تکریم جائز نہیں کہ ہمیں ان پر سختی کرنے کا حکم ہے۔
عمدۃ القاری میں ہے:
قال ابن بطال فیہ جواز تکنیۃ المشرک ۔ امام ابن بطال نے فرمایا:اس حدیث سے مشرك کو بلفظ کنیت یاد کرنے کا جواز معلوم ہوا۔
اسی میں ہے:
حوالہ / References
صحیح البخاری کتاب الجنائز باب اذاقال المشرك عندالموت الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۸۱
صحیح البخاری کتاب الادب باب کنیۃ المشرك قدیمی کتب خانہ کراچی۲ /۹۱۶
صحیح البخاری کتاب النکاح باب ذب الرجل عن ابنتہ فی الغیرہ الخ قدیمی کتب خانہ کراچی۲ /۷۸۷
ارشاد الساری کتاب الادب باب کنیۃ المشرك تحت الحدیث ۶۲۰۸ بیروت ۲۳ /۲۰۷ و ۲۱۰
عمدۃ القاری شرح البخاری کتاب الادب تحت الحدیث ۶۲۰۸ دارالکتب العلمیہ بیروت ۲۲ /۳۳۹
صحیح البخاری کتاب الادب باب کنیۃ المشرك قدیمی کتب خانہ کراچی۲ /۹۱۶
صحیح البخاری کتاب النکاح باب ذب الرجل عن ابنتہ فی الغیرہ الخ قدیمی کتب خانہ کراچی۲ /۷۸۷
ارشاد الساری کتاب الادب باب کنیۃ المشرك تحت الحدیث ۶۲۰۸ بیروت ۲۳ /۲۰۷ و ۲۱۰
عمدۃ القاری شرح البخاری کتاب الادب تحت الحدیث ۶۲۰۸ دارالکتب العلمیہ بیروت ۲۲ /۳۳۹
فیہ دلالۃ ان اﷲ تعالی قد یعطی الکافر عوضا من اعمالہ التی مثلھا یکون قربۃ لا ھل الایمان باﷲ تعالی لانہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اخبر ان عمہ نفعتہ تربیتہ ایاہ وحیاطتہ لہ التخفیف ۔الخ اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اﷲ عزوجل کافر کو بھی اس کے اعمال کا کچھ عوض دیتا ہےجو اہل ایمان کریں تو قرب الہی پائیں۔دیکھو نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے خبر دی کہ حضور کے چچا کو حضور کی خدمت و حمایت نے تخفیف عذاب کا فائدہ دیا الخ۔
امام عارف باﷲ سیدی علی متقی مکی قدس سرہ الملکی نے اپنی کتب جلیلہ منہج العمال وکنزالعمال و منتخب کنزالعمال میں ایك باب منعقد فرمایا:
الباب السادس فی اشخاص لیسوا من الصحابۃ ۔ ان شخصوں کے ذکر میں جوصحابی نہیںاور اسی باب میں ابو طالب و ابوجہل وغیرہما ذکر کیا۔
اسی طرح علامہ عبدالرحمن بن شیبا نے تیسیرا الوصول الی جامع الاصول میں احادیث ذکر ابی طالب کو فصل غیر صحابہ میں وارد کیا اور اس میں صرف حدیث دوم و چہارم و پنجم کو جلوہ دیا۔اگر ابوطالب کو اسلام نصیب ہوتا تو کیا وہ شخص صحابہ سے خارج ہو سکتا جس نے بچپن سے حضور پر نور سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو گود میں پالا اور مرتے دم تك حضر و سفر کی ہمرکابی سے بہرہ یابی کا غلغلہ ڈالا۔
یونہی امام حافظ الحدیث ابوالفضل شہاب الدین ابن حجر عسقلانی نے کتاب اصابہ فی تمییز الصحابہ میں ابو طالب کو باب الکنی حرف الطاء المہملہ کی قسم رابع میں ذکر کیا۔یعنی وہ لوگ جنہیں صحابی کہنا مردود ؤغلط و باطل ہے۔اسی میں فرماتے ہیں:
ورد من عدۃ طرق فی حق من مات فی الفترۃ ومن ولد مجنونا ونحوذلك ان کلامنھم یدلی بحجۃ ویقول لوعقلت اوذکرت لآمنت فترفع لھم نار ویقال لھم ادخلوھا فمن دخلہا یعنی بہت اسانید سے حدیث آئی کہ جو زمانہ فترت میں اسلام آنے سے پہلے مرگیا یا مجنون پیدا ہوا اور جنون ہی میں گزر گیا اور اسی قسم کے لوگ جنہیں دعوت انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام نہ پہنچی ان میں ہر ایك روز قیامت ایك عزر پیش کرے گا کہ الہی ! میں عقل رکھتا یا مجھے دعوت پہنچتی تو میں ایمان لاتا ان کے امتحان کو ایك
امام عارف باﷲ سیدی علی متقی مکی قدس سرہ الملکی نے اپنی کتب جلیلہ منہج العمال وکنزالعمال و منتخب کنزالعمال میں ایك باب منعقد فرمایا:
الباب السادس فی اشخاص لیسوا من الصحابۃ ۔ ان شخصوں کے ذکر میں جوصحابی نہیںاور اسی باب میں ابو طالب و ابوجہل وغیرہما ذکر کیا۔
اسی طرح علامہ عبدالرحمن بن شیبا نے تیسیرا الوصول الی جامع الاصول میں احادیث ذکر ابی طالب کو فصل غیر صحابہ میں وارد کیا اور اس میں صرف حدیث دوم و چہارم و پنجم کو جلوہ دیا۔اگر ابوطالب کو اسلام نصیب ہوتا تو کیا وہ شخص صحابہ سے خارج ہو سکتا جس نے بچپن سے حضور پر نور سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو گود میں پالا اور مرتے دم تك حضر و سفر کی ہمرکابی سے بہرہ یابی کا غلغلہ ڈالا۔
یونہی امام حافظ الحدیث ابوالفضل شہاب الدین ابن حجر عسقلانی نے کتاب اصابہ فی تمییز الصحابہ میں ابو طالب کو باب الکنی حرف الطاء المہملہ کی قسم رابع میں ذکر کیا۔یعنی وہ لوگ جنہیں صحابی کہنا مردود ؤغلط و باطل ہے۔اسی میں فرماتے ہیں:
ورد من عدۃ طرق فی حق من مات فی الفترۃ ومن ولد مجنونا ونحوذلك ان کلامنھم یدلی بحجۃ ویقول لوعقلت اوذکرت لآمنت فترفع لھم نار ویقال لھم ادخلوھا فمن دخلہا یعنی بہت اسانید سے حدیث آئی کہ جو زمانہ فترت میں اسلام آنے سے پہلے مرگیا یا مجنون پیدا ہوا اور جنون ہی میں گزر گیا اور اسی قسم کے لوگ جنہیں دعوت انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام نہ پہنچی ان میں ہر ایك روز قیامت ایك عزر پیش کرے گا کہ الہی ! میں عقل رکھتا یا مجھے دعوت پہنچتی تو میں ایمان لاتا ان کے امتحان کو ایك
حوالہ / References
عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری کتاب الادب باب کنیۃ المشرك تحت الحدیث ۶۲۰۸ دارالکتب العلمیہ بیروت ۲۲ /۳۳۹
کنز العمال الباب السادس فی فضل اشخاص لیسوا من الصحابۃ موسسۃ الرسالہ بیروت ۱۲ /۱۵۰
کنز العمال الباب السادس فی فضل اشخاص لیسوا من الصحابۃ موسسۃ الرسالہ بیروت ۱۲ /۱۵۰
کانت علیھم بردا وسلاما ومن امتنع ادخلہا کرھا و نحن نرجو ان یدخل عبدالمطلب وال بیتہ فی جملۃ من یدخلہا طائعا فینجولکن وردفی ابی طالب ما یدفع ذلك وھو ما تقدم من ایۃ براء ۃ وما فی الصحیح انہ فی ضحضاح من النارفھذ شان من مات علی الکفرفلوکان مات علی التوحید لنجامن النار اصلاو الاحادیث الصحیۃ والاخبار المتکاثرۃ طافحۃ بذلك ۔اھ مختصرا۔ آگ بلند کی جائے گی اور ارشاد ہوگا اس میں جاؤ جو حکم مانے گا اور اس میں داخل ہوگا وہ اس پر ٹھنڈی اور سلامتی والی ہوجائے گیاور جو نہ مانے گا جبرا آگ میں ڈالا جائے گااور ہمیں امید ہے کہ عبدالمطلب اور انکے گھر والے کہ قبل ظہور نور اسلام انتقال کرگئے وہ سب انہیں لوگوں میں ہوں گے جو اپنی خوشی سے اس امتحانی آگ میں جا کر نا جی ہوجائیں گےمگر ابوطالب کے حق میں وہ وارد ہو لیا جو اسے دفع کرتا ہےسورہ توبہ شریف کی آیت اور حدیث صحیح کا ارشاد کہ وہ پاؤں تك کی آگ میں ہے۔یہ حال اس کا ہے جو کافر مرے اگر اخیر وقت اسلام لاکر مرنا ہوتا تو دوزخ سے نجات کلی چاہیے تھیصحیح وکثیر حدیثیں کفر ابی طالب ثابت کررہی ہیں۔ اھ مختصر۔
پھر فرمایا:
وقد فخر المنصور علی محمد بن عبداﷲ بن الحسن لما خرج بالمدینۃ وکاتبہ المکاتبات المشہورۃ ومنہا فی کتاب المنصور وقد بعث النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ولہ اربعۃ اعمام فامن بہ اثنان احدھما ابی وکفر بہ اثنان احدھما ابوک ۔ یعنی جب امام نفس زکیہ محمد بن عبداﷲ بن حسن مجتبی رضی اﷲ تعالی عنہم نےخلیفہ عباسی عبداﷲ بن محمد بن علی بن عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما مشہور بہ منصور و وانیقی پر خروج فرمایا اور مدینہ طیبہ پر تسلط کرکے خلیفہ و امیر المومنین لقب پایا ان میں اور خلیفہ مذکور منصور میں مکاتبات مشہورہ ہوئے ازاں جملہ منصور نے ایك نامہ میں لکھا جب حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی نبوت ظاہر ہوئی حضور کے چار چچا زندہ تھے حمزہ و عباس و ابوطالب وابولہب دو حضور پر ایمان لائے ایك ان میں میرے باپ
پھر فرمایا:
وقد فخر المنصور علی محمد بن عبداﷲ بن الحسن لما خرج بالمدینۃ وکاتبہ المکاتبات المشہورۃ ومنہا فی کتاب المنصور وقد بعث النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ولہ اربعۃ اعمام فامن بہ اثنان احدھما ابی وکفر بہ اثنان احدھما ابوک ۔ یعنی جب امام نفس زکیہ محمد بن عبداﷲ بن حسن مجتبی رضی اﷲ تعالی عنہم نےخلیفہ عباسی عبداﷲ بن محمد بن علی بن عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما مشہور بہ منصور و وانیقی پر خروج فرمایا اور مدینہ طیبہ پر تسلط کرکے خلیفہ و امیر المومنین لقب پایا ان میں اور خلیفہ مذکور منصور میں مکاتبات مشہورہ ہوئے ازاں جملہ منصور نے ایك نامہ میں لکھا جب حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی نبوت ظاہر ہوئی حضور کے چار چچا زندہ تھے حمزہ و عباس و ابوطالب وابولہب دو حضور پر ایمان لائے ایك ان میں میرے باپ
حوالہ / References
الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ حرف الطاء القسم الرابع ابوطالب دارصادر بیروت ۴ /۱۱۸
الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ حرف الطاء القسم الرابع ابوطالب دارصادر بیروت ۴ /۱۱۸
الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ حرف الطاء القسم الرابع ابوطالب دارصادر بیروت ۴ /۱۱۸
ہیں یعنی حضرت عباس رضی اﷲ تعالی عنہاور دو کافر رہے ایك ان میں آپ کے باپ ہیں یعنی ابو طالب۔
یہ منصور علاوہ خلیفہ و اہلبیت ہونے کے خود بھی علمائے تبع تابعین و فقہاء محدثین سے ہیں امام جلال الدین سیوطی علیہ الرحمۃ نے تاریخ الخلفاء میں انہیں فقیہ النفس و جید المشارکہ فی العلم لکھا اور فرمایا:
ولد سنۃ خمس وتسعین وادرك جدہ ولم یروعنہ و روی عن ابیہ و عن عطاء بن یسار و عنہ ولدہ المھدی ۔ وہ ۹۵ ھ میں پیدا ہوااپنے دادا کو پایا مگر ان سے روایت نہیں کیاپنے باپ اور عطا ء بن یسار سے روایت کی اور اس سے اس کے بیٹے مہدی نے روایت کی۔(ت)
اور امام اجل نفس زکیہ کو یوں بے تامل لکھ بھیجنا اور امام کا اس پر رد نہ فرمانا بھی بتارہا ہے کہ کفر ابی طالب واضح و مشہور بات تھیاصابہ میں اس کے بعد فرمایا:ومن شعر عبداﷲ بن المعتزیخاطب الفاطمین
وانتم بنوبنتہ دوننا
ونحن بنو عمہ المسلم
یعنی عبداﷲ بن محمد بن جعفر بن محمد بن ہارون بن محمد بن عبداﷲ بن محمد بن علی بن عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالی عنہمایا یوں کہیے کہ چھ خلفاء کے بیٹے عبداﷲ بن المعتزباﷲ ابن المتوکل ابن المعتصم ابن الرشید ابن المہدی ابن المنصور کا ایك شعر بعض سادات کرام کے خطاب میں ہے کہ:"تم حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے نواسے ہو ہم نہیںاور ہم حضور کے مسلمان چچا کے بیٹے ہیں"۔
اس میں بھی کفر ابی طالب پرصاف تعریض موجود ہے عبداﷲ اہل علم و فضل سے ہیںحدیث میں علی بن حرب معاصر امام بخاری و مسلم کے شاگرد نیز امام ممدوح کتاب الاحکام پھر امام قسطلانی مواہب میں فرماتے ہیں:
نحن نرجوان یدخل عبدالمطلب ہم امید کرتے ہیں کہ عبدالمطلب اور ان کے اہلبیت
یہ منصور علاوہ خلیفہ و اہلبیت ہونے کے خود بھی علمائے تبع تابعین و فقہاء محدثین سے ہیں امام جلال الدین سیوطی علیہ الرحمۃ نے تاریخ الخلفاء میں انہیں فقیہ النفس و جید المشارکہ فی العلم لکھا اور فرمایا:
ولد سنۃ خمس وتسعین وادرك جدہ ولم یروعنہ و روی عن ابیہ و عن عطاء بن یسار و عنہ ولدہ المھدی ۔ وہ ۹۵ ھ میں پیدا ہوااپنے دادا کو پایا مگر ان سے روایت نہیں کیاپنے باپ اور عطا ء بن یسار سے روایت کی اور اس سے اس کے بیٹے مہدی نے روایت کی۔(ت)
اور امام اجل نفس زکیہ کو یوں بے تامل لکھ بھیجنا اور امام کا اس پر رد نہ فرمانا بھی بتارہا ہے کہ کفر ابی طالب واضح و مشہور بات تھیاصابہ میں اس کے بعد فرمایا:ومن شعر عبداﷲ بن المعتزیخاطب الفاطمین
وانتم بنوبنتہ دوننا
ونحن بنو عمہ المسلم
یعنی عبداﷲ بن محمد بن جعفر بن محمد بن ہارون بن محمد بن عبداﷲ بن محمد بن علی بن عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالی عنہمایا یوں کہیے کہ چھ خلفاء کے بیٹے عبداﷲ بن المعتزباﷲ ابن المتوکل ابن المعتصم ابن الرشید ابن المہدی ابن المنصور کا ایك شعر بعض سادات کرام کے خطاب میں ہے کہ:"تم حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے نواسے ہو ہم نہیںاور ہم حضور کے مسلمان چچا کے بیٹے ہیں"۔
اس میں بھی کفر ابی طالب پرصاف تعریض موجود ہے عبداﷲ اہل علم و فضل سے ہیںحدیث میں علی بن حرب معاصر امام بخاری و مسلم کے شاگرد نیز امام ممدوح کتاب الاحکام پھر امام قسطلانی مواہب میں فرماتے ہیں:
نحن نرجوان یدخل عبدالمطلب ہم امید کرتے ہیں کہ عبدالمطلب اور ان کے اہلبیت
حوالہ / References
تاریخ الخلفاء احوال المنصور ابو جعفر عبداﷲ مطبع مجتبائی دہلی ص۱۸۰
الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ حرف الطاء ترجمہ ۶۸۵ ابوطالب دارصادر بیروت ۴ /۱۱۸
الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ حرف الطاء ترجمہ ۶۸۵ ابوطالب دارصادر بیروت ۴ /۱۱۸
وال بیتہ الجنۃ الاابا طالب فانہ ادرك البعثۃ ولم یؤمن اھ باختصار۔ سب جنت میں جائیں گے سوا ابوطالب کے کہ زمانہ اسلام پایا اور اسلام نہ لائے۔
نیز فتح الباری شرح صحیح بخاری میں فرماتے ہیں:
من عجائب الاتفاق ان الذین ادرکھم الاسلام من اعمام النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اربعۃ لم یسلم منھم اثنان واسلم اثنان وکان اسم من لم یسلم ینافی اسامی المسلمین وھما ابوطالب و اسمہ عبد مناف وابولھب و اسمہ عبدالعزی بخلاف من اسلم وھما حمزۃ والعباس ۔ عجائب اتفاق سے ہے کہ نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے چار چچا زمانہ ئ اسلام میں زندہ تھےدو اسلام نہ لائے اور دو مشرف باسلام ہوئےوہ دو کے اسلام نہ لائے ان کے نام بھی پہلے ہی سے مسلمانوں کے نام کے خلاف تھے۔ابو طالب کا نام عبدمناف تھا اور ابولہب کا عبدالعزیاور دو کہ مسلمان ہوئے انکے نام پاك وصاف تھے حمزہ و عباس رضی اﷲ تعالی عنہما۔
وکذا اثرہ الزرقانی فی شرح المواہب۔
امام احمد بن محمد خطیب قسطلانی مواہب الدنیہ و منح محمدیہ میں فرماتے ہیں:
کان العباس اصغر اعمامہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ولم یسلم منھم الا ھو وحمزۃ ۔ عباس رضی اﷲ تعالی عنہ سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے سب میں چھوٹے چچا تھےحضور کے اعمام میں صرف یہ اور حضرت حمزہ مسلمان ہوئے و بس۔
امام محمد محمد محمد ابن امیر الحاج حلیہ شرح منیہ اواخرصلوۃ اس مسئلہ کے بیان میں کہ کافر کے لیے دعائے مغفر ت ناجائز ہےآیت دوم تلاوت کرکے فرماتے ہیں:
ثبت فی الصحیحین ان سبب نزول صحیحین میں ثابت ہوچکا ہے کہ نبی صلی اﷲ تعالی
نیز فتح الباری شرح صحیح بخاری میں فرماتے ہیں:
من عجائب الاتفاق ان الذین ادرکھم الاسلام من اعمام النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اربعۃ لم یسلم منھم اثنان واسلم اثنان وکان اسم من لم یسلم ینافی اسامی المسلمین وھما ابوطالب و اسمہ عبد مناف وابولھب و اسمہ عبدالعزی بخلاف من اسلم وھما حمزۃ والعباس ۔ عجائب اتفاق سے ہے کہ نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے چار چچا زمانہ ئ اسلام میں زندہ تھےدو اسلام نہ لائے اور دو مشرف باسلام ہوئےوہ دو کے اسلام نہ لائے ان کے نام بھی پہلے ہی سے مسلمانوں کے نام کے خلاف تھے۔ابو طالب کا نام عبدمناف تھا اور ابولہب کا عبدالعزیاور دو کہ مسلمان ہوئے انکے نام پاك وصاف تھے حمزہ و عباس رضی اﷲ تعالی عنہما۔
وکذا اثرہ الزرقانی فی شرح المواہب۔
امام احمد بن محمد خطیب قسطلانی مواہب الدنیہ و منح محمدیہ میں فرماتے ہیں:
کان العباس اصغر اعمامہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ولم یسلم منھم الا ھو وحمزۃ ۔ عباس رضی اﷲ تعالی عنہ سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے سب میں چھوٹے چچا تھےحضور کے اعمام میں صرف یہ اور حضرت حمزہ مسلمان ہوئے و بس۔
امام محمد محمد محمد ابن امیر الحاج حلیہ شرح منیہ اواخرصلوۃ اس مسئلہ کے بیان میں کہ کافر کے لیے دعائے مغفر ت ناجائز ہےآیت دوم تلاوت کرکے فرماتے ہیں:
ثبت فی الصحیحین ان سبب نزول صحیحین میں ثابت ہوچکا ہے کہ نبی صلی اﷲ تعالی
حوالہ / References
المواھب اللدنیۃ قضیۃ نجاۃ والدیہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم رای المصنف فی المسئلۃ المکتب الاسلامی بیروت ۱ /۱۸۳،الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ حرف الطاء ترجمہ ۶۸۵ ابوطالب دارصادر بیروت ۴ /۱۱۸
فتح الباری شرح صحیح البخاری کتاب المناقب باب قصہ ابی طالب مصطفٰی البابی مصر ۸ /۲۹۶،شرح الزرقانی علی المواہب الدنیۃ عام الحزن وفاۃ خدیجہ وابی طالب دارالمعرفۃ بیروت ۱ /۲۹۶
المواھب اللدنیۃ المقصد الثانی الفصل الرابعالمکتب الاسلامی بیروت ۲ /۱۱۱
فتح الباری شرح صحیح البخاری کتاب المناقب باب قصہ ابی طالب مصطفٰی البابی مصر ۸ /۲۹۶،شرح الزرقانی علی المواہب الدنیۃ عام الحزن وفاۃ خدیجہ وابی طالب دارالمعرفۃ بیروت ۱ /۲۹۶
المواھب اللدنیۃ المقصد الثانی الفصل الرابعالمکتب الاسلامی بیروت ۲ /۱۱۱
الایۃ قولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ابی طالب لاستغفرن لك مالم انہ عنک ۔ علیہ وسلم نے ابوطالب کے لیے دعائے مغفرت کی تھی۔ (یعنی یہ کہا تھا کہ جب تك مجھے منع نہ کیا گیا میں تیرے لیے استغفار کروں گا)اس پر یہ آیت اتری۔
امام محی السنہ بغوی معالم شریف اول رکوع سورہ بقر میں زیر قولہ تعالی ان الذین کفروا سواء علیہمپھر قاضی حسین بن محمد دیار بکری مالکی مکی کتاب الخمیس میں فرماتے ہیںکفر چار قسم ہے کفر انکار و کفر حجود و کفر عناد و کفر نفاقکفر انکار یہ کہ اﷲ عزوجل کو نہ دل سے جانے اور نہ زبان سے مانے مگر دل میں نہ جانے۔وکفر العناد ان یعرف اﷲ بقلبہ ویعترف بلسانہ ولایدین بہ ککفر ابی طالب حیث یقول ۔
ولقدعلمت بان دین محمد
من خیرادیان البریۃ دینا
لولا الملامۃ اوحذار مسبۃ
لوجدتنی سمحابذاك مبینا
یعنی کفر عنادیہ کہ اﷲ تعالی کو دل سے بھی جانے اور زبان سے بھی کہے مگر تسلیم و گریدگی سے باز رہے جیسے ابو طالب کا کفر کہ یہ شعر کہے۔
واﷲ ! میں جانتا ہوں کہ محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا دین تمام جہان کے دین سے بہتر ہےاگر ملامت یا طعنے سے بچنانہ ہوتا تو تو مجھے دیکھتا کہ میں کیسی اہل دلی کے ساتھ صاف صاف اس دین کو قبول کرلیتا۔
امام ممدوح یہ چار وں قسمیں بیان کرکے فرماتے ہیں:جمیع ھذہ الاصناف سواء فی ان من لقی اﷲ تعالی بواحد منھا لایغفرلہ ۔یہ سب قسمیں اس حکم میں یکسا ں ہیں کہ جو ان میں سے کسی قسم کا
امام محی السنہ بغوی معالم شریف اول رکوع سورہ بقر میں زیر قولہ تعالی ان الذین کفروا سواء علیہمپھر قاضی حسین بن محمد دیار بکری مالکی مکی کتاب الخمیس میں فرماتے ہیںکفر چار قسم ہے کفر انکار و کفر حجود و کفر عناد و کفر نفاقکفر انکار یہ کہ اﷲ عزوجل کو نہ دل سے جانے اور نہ زبان سے مانے مگر دل میں نہ جانے۔وکفر العناد ان یعرف اﷲ بقلبہ ویعترف بلسانہ ولایدین بہ ککفر ابی طالب حیث یقول ۔
ولقدعلمت بان دین محمد
من خیرادیان البریۃ دینا
لولا الملامۃ اوحذار مسبۃ
لوجدتنی سمحابذاك مبینا
یعنی کفر عنادیہ کہ اﷲ تعالی کو دل سے بھی جانے اور زبان سے بھی کہے مگر تسلیم و گریدگی سے باز رہے جیسے ابو طالب کا کفر کہ یہ شعر کہے۔
واﷲ ! میں جانتا ہوں کہ محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا دین تمام جہان کے دین سے بہتر ہےاگر ملامت یا طعنے سے بچنانہ ہوتا تو تو مجھے دیکھتا کہ میں کیسی اہل دلی کے ساتھ صاف صاف اس دین کو قبول کرلیتا۔
امام ممدوح یہ چار وں قسمیں بیان کرکے فرماتے ہیں:جمیع ھذہ الاصناف سواء فی ان من لقی اﷲ تعالی بواحد منھا لایغفرلہ ۔یہ سب قسمیں اس حکم میں یکسا ں ہیں کہ جو ان میں سے کسی قسم کا
حوالہ / References
حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
تاریخ الخمیس وفاۃ ابی طالب موسسۃ شعبان بیروت ۱ /۳۰۱،معالم التنزیل تفسیر البغوی تحت الآیۃ ۲/ ۶ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۱/ ۲۱
معالم التنزیل تفسیر البغوی تحت الآیۃ ۲/ ۶ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۱/ ۲۱
تاریخ الخمیس وفاۃ ابی طالب موسسۃ شعبان بیروت ۱ /۳۰۱،معالم التنزیل تفسیر البغوی تحت الآیۃ ۲/ ۶ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۱/ ۲۱
معالم التنزیل تفسیر البغوی تحت الآیۃ ۲/ ۶ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۱/ ۲۱
کفر کرکے اﷲ عزوجل سے ملے گا وہ کبھی اسے نہ بخشے گا۔
امام شہاب الدین ابوالعباس احمد بن ادریس قرآنی نے شرح التنقیح پھر امام قسطلانی نے مواہب میں کفار کی ایك قسم یوں بیان فرمائی:
من امن بظاہرہ وباطنہ وکفر بعدم الاذعان للفروع کما حکی عن ابی طالب انہ کان یقول انی لاعلم ان مایقولہ ابن اخی لحق ولو لا انی اخاف ان تعیرنی نساء قریش لا تبعتہ وفی شعرہ یقول
لقد علموا ان ابننا لامکذب
یقینا ولا یعزی لقول الاباطل
فھذا تصریح باللسان و اعتقاد بالجنان غیرانہ لم یذعن یعنی ایك کافر وہ ہے جو قلب سے عارف زبان سے معترف ہو مگر اذعان نہ لائے جیسے ابو طالب سے مروی کہ بے شك میں یقینا جانتا ہوں کہ جو کچھ میرے بھتیجے(صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم)فرماتے ہیں ضرور حق ہے اگر اس کا اندیشہ نہ ہوتا کہ قریش کی عورتیں مجھے عیب لگائیں گی تو ضرور میں ان کا تابع ہوجاتااور اپنے ایك شعر میں کہا: خدا کی قسم کافران قریش خوب جانتے ہیں کہ ہمارے بیٹے(صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم) یقینا سچے ہیں اور معاذ اﷲ کوئی کلمہ خلاف حق کہناان کی طرف نسبت نہیں کیا جاتا۔تو یہ زبان سے تصریح اور دل سے اعتقاد سب کچھ ہے مگر اذعان نہ ہوا۔
امام ابن اثیر جزری نہایہپھر علامہ زرقانی شرح مواہب میں فرماتے ہیں:
کفر عناد ھو ان یعرفہ بقلبہ ویعترف بلسانہ ولا یدین بہ کابی طالب ۔ کفر عنادیہ ہے کہ دل سے پہچانے اور زبان سے اقرار کرے مگر تسلیم و انقیاد سے باز رہے جیسے ابو طالب۔
علامہ مجدد الدین فیروز آبادی سفر السعادۃ میں فرماتے ہیں:
چوں عم نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ابو طالب جب نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے چچا ابو طالب
امام شہاب الدین ابوالعباس احمد بن ادریس قرآنی نے شرح التنقیح پھر امام قسطلانی نے مواہب میں کفار کی ایك قسم یوں بیان فرمائی:
من امن بظاہرہ وباطنہ وکفر بعدم الاذعان للفروع کما حکی عن ابی طالب انہ کان یقول انی لاعلم ان مایقولہ ابن اخی لحق ولو لا انی اخاف ان تعیرنی نساء قریش لا تبعتہ وفی شعرہ یقول
لقد علموا ان ابننا لامکذب
یقینا ولا یعزی لقول الاباطل
فھذا تصریح باللسان و اعتقاد بالجنان غیرانہ لم یذعن یعنی ایك کافر وہ ہے جو قلب سے عارف زبان سے معترف ہو مگر اذعان نہ لائے جیسے ابو طالب سے مروی کہ بے شك میں یقینا جانتا ہوں کہ جو کچھ میرے بھتیجے(صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم)فرماتے ہیں ضرور حق ہے اگر اس کا اندیشہ نہ ہوتا کہ قریش کی عورتیں مجھے عیب لگائیں گی تو ضرور میں ان کا تابع ہوجاتااور اپنے ایك شعر میں کہا: خدا کی قسم کافران قریش خوب جانتے ہیں کہ ہمارے بیٹے(صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم) یقینا سچے ہیں اور معاذ اﷲ کوئی کلمہ خلاف حق کہناان کی طرف نسبت نہیں کیا جاتا۔تو یہ زبان سے تصریح اور دل سے اعتقاد سب کچھ ہے مگر اذعان نہ ہوا۔
امام ابن اثیر جزری نہایہپھر علامہ زرقانی شرح مواہب میں فرماتے ہیں:
کفر عناد ھو ان یعرفہ بقلبہ ویعترف بلسانہ ولا یدین بہ کابی طالب ۔ کفر عنادیہ ہے کہ دل سے پہچانے اور زبان سے اقرار کرے مگر تسلیم و انقیاد سے باز رہے جیسے ابو طالب۔
علامہ مجدد الدین فیروز آبادی سفر السعادۃ میں فرماتے ہیں:
چوں عم نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ابو طالب جب نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے چچا ابو طالب
حوالہ / References
المواہب اللدنیہ عالم الحزن وفاۃ ابی طالب المکتب الاسلامی بیروت ۱ /۲۶۵
شرح العلامۃالزرقانی علی المواھب اللدنیۃ وفاۃ خدیجہ و ابی طالب دارالمعرفۃ بیروت ۱ /۲۹۵
شرح العلامۃالزرقانی علی المواھب اللدنیۃ وفاۃ خدیجہ و ابی طالب دارالمعرفۃ بیروت ۱ /۲۹۵
بیمار شد باوجود آنکہ مشرك بود او راعیادت فرمود و دعوت اسلام کرو ابو طالب قبول نہ کرو اھ ملخصا ۔ بیمار ہوگئے تو ان کے کافر ہونے کے باوجود حضور علیہ الصلوۃ و السلام نے ان کی عیادت کی اور اسلام لانے کی دعوت دی جسے ابو طالب نے قبول نہ کیا۔(ت)
شیخ محقق مدارج النبوۃ میں فرماتے ہیں:
حدیث صحیح اثبات کردہ است برائے ابو طالب کفر را ۔ حدیث صحیح نے کفر ابوطالب کو ثابت کردیا ہے۔(ت)
پھر بعد ذکر احادیث فرمایا:
و در روضۃ الاحباب نیز اخبار موت ابوطالب برکفر آوردہ الخ ۔ روضۃ الاحباب میں بھی ابو طالب کے کفر پر مرنے کی احادیث لائی گئی ہیں۔الخ(ت)
بحرالعلوم ملك العلماء مولانا عبدالعلی فواتح الرحموت شرح مسلم الثبوت میں فرماتے ہیں:
احادیث کفرہ شھیرۃ وقد نزل فی حق رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فی شان عمہ ابی طالب "انك لاتھدی من احببت" کمافی صحیح مسلم وسنن الترمذی وقد ثبت فی الخبر الصحیح عن الامام محمد ن الباقر کرم اﷲ تعالی وجھہ الکریم ووجوہ ابائہ الکرام ان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ورث طالبا وعقیلا اباھما ولم یورث علیا وجعفر ا قال علی ولذا ترکنا نصیبنا فی الشعب کذا فی مؤطا الامام مالک ۔ حدیثیں اس کے کفر کی مشہور ہیںنبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پر ان کے چچا ابو طالب کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی اے نبی ! تم ہدایت نہیں دیتے جسے دوست رکھو جیسا کہ صحیح مسلم اور ترمذی میں ہے تحقیق امام محمد باقر"اﷲ تعالی نے ان کے اور ان کے آباء و اجداد کے چہرے کو مکرم بنایا"سے خبر صحیح میں ثابت ہوچکا ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے طالب و عقیل کو ان کے باپ کا وارث بنایا مگر علی و جعفر کو وارث نہیں بنایا حضرت علی کرم اﷲ وجہہ الکریم نے فرمایا:اسی وجہ سے ہم نے شعب ابی طالب سے اپنا حصہ ترك کردیا۔مؤطا امام مالك میں یونہی ہے۔(ت)
شیخ محقق مدارج النبوۃ میں فرماتے ہیں:
حدیث صحیح اثبات کردہ است برائے ابو طالب کفر را ۔ حدیث صحیح نے کفر ابوطالب کو ثابت کردیا ہے۔(ت)
پھر بعد ذکر احادیث فرمایا:
و در روضۃ الاحباب نیز اخبار موت ابوطالب برکفر آوردہ الخ ۔ روضۃ الاحباب میں بھی ابو طالب کے کفر پر مرنے کی احادیث لائی گئی ہیں۔الخ(ت)
بحرالعلوم ملك العلماء مولانا عبدالعلی فواتح الرحموت شرح مسلم الثبوت میں فرماتے ہیں:
احادیث کفرہ شھیرۃ وقد نزل فی حق رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فی شان عمہ ابی طالب "انك لاتھدی من احببت" کمافی صحیح مسلم وسنن الترمذی وقد ثبت فی الخبر الصحیح عن الامام محمد ن الباقر کرم اﷲ تعالی وجھہ الکریم ووجوہ ابائہ الکرام ان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ورث طالبا وعقیلا اباھما ولم یورث علیا وجعفر ا قال علی ولذا ترکنا نصیبنا فی الشعب کذا فی مؤطا الامام مالک ۔ حدیثیں اس کے کفر کی مشہور ہیںنبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پر ان کے چچا ابو طالب کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی اے نبی ! تم ہدایت نہیں دیتے جسے دوست رکھو جیسا کہ صحیح مسلم اور ترمذی میں ہے تحقیق امام محمد باقر"اﷲ تعالی نے ان کے اور ان کے آباء و اجداد کے چہرے کو مکرم بنایا"سے خبر صحیح میں ثابت ہوچکا ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے طالب و عقیل کو ان کے باپ کا وارث بنایا مگر علی و جعفر کو وارث نہیں بنایا حضرت علی کرم اﷲ وجہہ الکریم نے فرمایا:اسی وجہ سے ہم نے شعب ابی طالب سے اپنا حصہ ترك کردیا۔مؤطا امام مالك میں یونہی ہے۔(ت)
حوالہ / References
شرح سفر السعادت فصل در بیان عیادت بیماراں و نماز جنازہ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ص ۲۴۹
مدارج النبوۃ وفات یافتن ابو طالب مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ص ۲ /۴۸
مدارج النبوۃ وفات یافتن ابو طالب مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ص ۲ /۴۹
فواتح الرحموت شرح مسلم الثبوت بذیل المستصفٰی منشورات الشریف رضی قم ایران ۱/ ۱۵۳و۱۵۴
مدارج النبوۃ وفات یافتن ابو طالب مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ص ۲ /۴۸
مدارج النبوۃ وفات یافتن ابو طالب مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ص ۲ /۴۹
فواتح الرحموت شرح مسلم الثبوت بذیل المستصفٰی منشورات الشریف رضی قم ایران ۱/ ۱۵۳و۱۵۴
یعنی کفر ابوطالب کی حدیثیں مشہور ہیں پھر اس کے ثبوت میں آیت اولی کا اترنا اور حدیث دہم کفرا بی طالب کی وجہ سے نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا علی و جعفر کو ترکہ نہ دلانا بیان فرمایا۔
اقول:وذکرالا مام الباقر رضی اﷲ تعالی عنہ وقع زلۃ من القلم وانما ھو الامام زین العابدین رضی اﷲ تعالی عنہ کما اسمعناك من المؤطا والصحیحین وغیرھا۔ میں کہتا ہوں امام محمد باقر رضی اﷲ تعالی عنہ کا ذکر قلم کی لغزش سے واقع ہوا۔درحقیقت وہ امام زین العابدین ہیں رضی اﷲ تعالی عنہجیسا کہ ہم تجھے بحوالہئ مؤطاوصحیحین وغیرہ بتاچکے ہیں۔ت)
نسیم الریاض شرح شفائے امام قاضی عیاض فصل الوجہ الخامس من وجوہ السب امام ابن حجر مکی سے نقل فرمایا:
حدیث مسلم ان ابی وابا ك فی النار اراد بابیہ عمہ ابا طالب لان العرب تسمی العم ابا(ملخصا) ۔ حدیث مسلم میں کہ میرا اور تیرا باپ جہنم میں ہیںباپ سے مراد آپ کے چچا ابو طالب ہیں کیونکہ عرب چچا کو باپ کہہ دیتے ہیں۔(ملخصا)(ت)
یعنی عرب کی عادت ہے کہ باپ کو چچا کہتے ہیںحضور سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے بھی اسی عادت پر اس حدیث میں اپنے چچا ابوطالب کو باپ کہہ کر فرمایا کہ وہ دوزخ میں ہے۔
امام خاتم الحفاظ جلال الملۃ والدین سیوطی مسالك الحنفاء فی والدی المصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم میں اسی حدیث کی نسبت فرماتے ہیں:
ماالمانع ان یکون المرادبہ عمہ ابوطالب فکانت تسمیۃ ابی طالب ابا النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم شائعۃ عندھم لکونہ عمہ وکونہ رباہ وکفلہ من صغرہ اھ ملخصا ۔ کون مانع ہے کہ اس حدیث میں ابوطالب مراد ہو کہ وہ دوزخ میں ہےاس زمانہ میں شائع تھا کہ ابو طالب کو حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا باپ کہا جاتا۔چچا ہونے اور بچپن سے حضور اقدس کی خدمت و کفالت کرنے کے باعث۔
اقول:جس طرح ابھی ابو طالب کے شعر سے گزرا کہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ابو طالب کی بی بی حضرت فاطمہ بنت اسد رضی اﷲ تعالی عنہما کو اپنی ماں فرمایا۔
اقول:وذکرالا مام الباقر رضی اﷲ تعالی عنہ وقع زلۃ من القلم وانما ھو الامام زین العابدین رضی اﷲ تعالی عنہ کما اسمعناك من المؤطا والصحیحین وغیرھا۔ میں کہتا ہوں امام محمد باقر رضی اﷲ تعالی عنہ کا ذکر قلم کی لغزش سے واقع ہوا۔درحقیقت وہ امام زین العابدین ہیں رضی اﷲ تعالی عنہجیسا کہ ہم تجھے بحوالہئ مؤطاوصحیحین وغیرہ بتاچکے ہیں۔ت)
نسیم الریاض شرح شفائے امام قاضی عیاض فصل الوجہ الخامس من وجوہ السب امام ابن حجر مکی سے نقل فرمایا:
حدیث مسلم ان ابی وابا ك فی النار اراد بابیہ عمہ ابا طالب لان العرب تسمی العم ابا(ملخصا) ۔ حدیث مسلم میں کہ میرا اور تیرا باپ جہنم میں ہیںباپ سے مراد آپ کے چچا ابو طالب ہیں کیونکہ عرب چچا کو باپ کہہ دیتے ہیں۔(ملخصا)(ت)
یعنی عرب کی عادت ہے کہ باپ کو چچا کہتے ہیںحضور سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے بھی اسی عادت پر اس حدیث میں اپنے چچا ابوطالب کو باپ کہہ کر فرمایا کہ وہ دوزخ میں ہے۔
امام خاتم الحفاظ جلال الملۃ والدین سیوطی مسالك الحنفاء فی والدی المصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم میں اسی حدیث کی نسبت فرماتے ہیں:
ماالمانع ان یکون المرادبہ عمہ ابوطالب فکانت تسمیۃ ابی طالب ابا النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم شائعۃ عندھم لکونہ عمہ وکونہ رباہ وکفلہ من صغرہ اھ ملخصا ۔ کون مانع ہے کہ اس حدیث میں ابوطالب مراد ہو کہ وہ دوزخ میں ہےاس زمانہ میں شائع تھا کہ ابو طالب کو حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا باپ کہا جاتا۔چچا ہونے اور بچپن سے حضور اقدس کی خدمت و کفالت کرنے کے باعث۔
اقول:جس طرح ابھی ابو طالب کے شعر سے گزرا کہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ابو طالب کی بی بی حضرت فاطمہ بنت اسد رضی اﷲ تعالی عنہما کو اپنی ماں فرمایا۔
حوالہ / References
نسیم الریاض کی شرح شفاءالقاضی عیاض فصل الوجہ خامس مرکز اہلسنت برکات رضا گجرات الہند ۴ /۴۱۴
الحاوی للفتاوٰی مسالك الحنفاء فی والدالمصطفٰی دارالکتب العلمیۃ بیروت ۲ /۲۲۷ و ۲۲۸
الحاوی للفتاوٰی مسالك الحنفاء فی والدالمصطفٰی دارالکتب العلمیۃ بیروت ۲ /۲۲۷ و ۲۲۸
اسی میں فرماتے ہیں:
اخرج تمام الرازی فی فوائدہ بسند ضعیف عن ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما قال قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اذا کان یوم القیمۃ شفعت لا بی و امی وابی طالب واخ لی کان فی الجاھلیۃ اوردہ المحب الطبری وھو من الحفاظ والفقہاء فی کتابہ ذخائر العقبی فی مناقب ذوی القربی وقال ان ثبت فہو مؤول فی ابی طالب علی ماورد فی الصحیح من تخفیف العذاب عنہ بشفاعتہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم انتہی وانما احتاج الی تاویلہ فی ابی طالب دون الثلثۃ ابیہ وامہ و اخیہ یعنی من الرضاعۃ لان ابا طالب ادرك البعثۃ و لم یسلم والثلثۃ ماتوافی الفترۃ ۔ یعنی تمام الرازی نے بسند ضعیف ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما سے روایت کیا کہ حضور اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:میں روز قیامت اپنے والدین اور ابو طالب اورا پنے ایك رضاعی بھائی کہ زمانہ جاہلیت میں گزرا شفاعت فرماؤں گا۔امام محب طبرنی نے کہ حافظان حدیث و علمائے فقہ سے ہیں ذخائر العقبی میں فرمایا یہ حدیث اگر ثابت بھی ہو تو ابو طالب کے بارے میں اس کی تاویل وہ ہے جو صحیح حدیث میں آیا کہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی شفاعت سے عذاب ہلکا ہوجائے گا۔امام سیوطی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں۔ خاص ابوطالب کے باب میں تاویل کی حاجت یہ ہوئی کہ ابو طالب نے زمانہ اسلام پایا اور کفر پر اصرار رکھا بخلاف والدین کریمین وبرادر رضاعی کہ زمانہ فترت میں گزرے۔
یعنی ایك حدیث ضعیف میں آیا کہ میں روز قیامت اپنے والدین اور ابو طالب اور اپنے ایك رضاعی بھائی کہ زمانہ جاہلیت میں گزرا شفاعت فرماؤں گا۔
اقول:یہاں تاویل بمعنی بیان مراد و معنی ہے جس طرح شرح معانی قرآن کو تاویل کہتے ہیںکفار سے تخفیف عذاب بھی حضور سیدالشافعین صلی اﷲ تعالی کی اقساط شفاعت سے ہے شفاعت کبری کہ فتح باب حساب کے لیے ہے تمام جہان کو شامل وعام ہے۔امام نووی نے باآنکہ ابوطالب کو بالیقین کافر جانتے ہیں تبویب صحیح مسلم شریف میں حدیث چہارم و پنجم کا باب یوں لکھا۔
باب شفاعۃ النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لابی طالب والتخفیف عنہ بسببہ ۔ نبی اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی ابو طالب کے لیے شفاعت اور اس کے عذاب میں تخفیف کا باب۔
اخرج تمام الرازی فی فوائدہ بسند ضعیف عن ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما قال قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اذا کان یوم القیمۃ شفعت لا بی و امی وابی طالب واخ لی کان فی الجاھلیۃ اوردہ المحب الطبری وھو من الحفاظ والفقہاء فی کتابہ ذخائر العقبی فی مناقب ذوی القربی وقال ان ثبت فہو مؤول فی ابی طالب علی ماورد فی الصحیح من تخفیف العذاب عنہ بشفاعتہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم انتہی وانما احتاج الی تاویلہ فی ابی طالب دون الثلثۃ ابیہ وامہ و اخیہ یعنی من الرضاعۃ لان ابا طالب ادرك البعثۃ و لم یسلم والثلثۃ ماتوافی الفترۃ ۔ یعنی تمام الرازی نے بسند ضعیف ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما سے روایت کیا کہ حضور اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:میں روز قیامت اپنے والدین اور ابو طالب اورا پنے ایك رضاعی بھائی کہ زمانہ جاہلیت میں گزرا شفاعت فرماؤں گا۔امام محب طبرنی نے کہ حافظان حدیث و علمائے فقہ سے ہیں ذخائر العقبی میں فرمایا یہ حدیث اگر ثابت بھی ہو تو ابو طالب کے بارے میں اس کی تاویل وہ ہے جو صحیح حدیث میں آیا کہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی شفاعت سے عذاب ہلکا ہوجائے گا۔امام سیوطی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں۔ خاص ابوطالب کے باب میں تاویل کی حاجت یہ ہوئی کہ ابو طالب نے زمانہ اسلام پایا اور کفر پر اصرار رکھا بخلاف والدین کریمین وبرادر رضاعی کہ زمانہ فترت میں گزرے۔
یعنی ایك حدیث ضعیف میں آیا کہ میں روز قیامت اپنے والدین اور ابو طالب اور اپنے ایك رضاعی بھائی کہ زمانہ جاہلیت میں گزرا شفاعت فرماؤں گا۔
اقول:یہاں تاویل بمعنی بیان مراد و معنی ہے جس طرح شرح معانی قرآن کو تاویل کہتے ہیںکفار سے تخفیف عذاب بھی حضور سیدالشافعین صلی اﷲ تعالی کی اقساط شفاعت سے ہے شفاعت کبری کہ فتح باب حساب کے لیے ہے تمام جہان کو شامل وعام ہے۔امام نووی نے باآنکہ ابوطالب کو بالیقین کافر جانتے ہیں تبویب صحیح مسلم شریف میں حدیث چہارم و پنجم کا باب یوں لکھا۔
باب شفاعۃ النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لابی طالب والتخفیف عنہ بسببہ ۔ نبی اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی ابو طالب کے لیے شفاعت اور اس کے عذاب میں تخفیف کا باب۔
حوالہ / References
الحاوی للفتاوٰی مسالك الحنفاء فی والدالمصطفٰی دارالکتب العلمیۃ بیروت ۲ /۲۰۸
صحیح مسلم کتاب الایمان باب شفاعۃ النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۱۵
صحیح مسلم کتاب الایمان باب شفاعۃ النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۱۵
امام بدر الدین زرکشی نے خادم میں ابن دحیہ سے نقل کیا کہ حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی اقسام شفاعت سے وہ تخفیف عذاب ہے جو ابولہب کو بروز دو شنبہ ملتی ہے۔لسرورہ بولادۃ النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم واعتاقہ ثویبۃ حین بشربہ قال وانما ھی کرامۃ لہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔ اس لیے کہ اس نے حضور اقدس صلی اﷲ تعالی تعالی علیہ وسلم کے میلاد مبارك کی خوشی کی اور اس کا مژدہ سن کر ثویبہ کو آزاد کیا تھا۔یہ حضور ہی کا فضل ہے جس کے باعث اس نے تخفیف پائی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلمنقلہ فی المسالك ایضا ۔(اسے مسالك میں بھی نقل کیا گیا۔ت)نیز مسالك الحنفا پھر شرح مواہب علامہ زرقانی میں ہے:
قدثبت فی الصحیح واخبر الصادق المصدوق صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ان ابا طالب اھون اھل النار عذاب ا ھ ملتقطا۔
اللھم اجرنا من عذابك الالیم بجاہ نبیك الرؤف الرحیم علیہ وعلی الہ افضل الصلوۃ و ادوم التسلیم امین والحمد ﷲ رب العلمین۔ بے شك صحاح میں ثابت ہے اورصادق مصدوق صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے خبر دی کہ ابو طالب پر سب دوزخیوں سے کم عذاب ہے۔
اے اﷲ ! ہمیں اپنے درد ناك عذاب سے بچا رؤف و رحیم نبی کے صدقے میںآپ پر اور آپ کی آل پر بہترین درود اور دائمی سلام ہو۔اے اﷲ ہماری دعا قبول فرما۔اور سب تریفیں اﷲ کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔(ت)
فصل چہارم:
علامہ عبدالرؤف منادی تییسر پھر علامہ علی بن احمد عزیزی سراج المنیر شروح جامع صغیر میں زیر حدیث ہشتم فرماتے ہیں:
ھذا یؤذن بموتہ علی کفرہ وھو الحق ووھم البعض ۔ یعنی یہ حدیث بتاتی ہے کہ ابو طالب کی موت کفر پر ہوئی اور یہی حق ہے اور اس کا خلاف وہم ہے۔
امام عینی زیر حدیث دوم وچہارم فرماتے ہیں:
قدثبت فی الصحیح واخبر الصادق المصدوق صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ان ابا طالب اھون اھل النار عذاب ا ھ ملتقطا۔
اللھم اجرنا من عذابك الالیم بجاہ نبیك الرؤف الرحیم علیہ وعلی الہ افضل الصلوۃ و ادوم التسلیم امین والحمد ﷲ رب العلمین۔ بے شك صحاح میں ثابت ہے اورصادق مصدوق صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے خبر دی کہ ابو طالب پر سب دوزخیوں سے کم عذاب ہے۔
اے اﷲ ! ہمیں اپنے درد ناك عذاب سے بچا رؤف و رحیم نبی کے صدقے میںآپ پر اور آپ کی آل پر بہترین درود اور دائمی سلام ہو۔اے اﷲ ہماری دعا قبول فرما۔اور سب تریفیں اﷲ کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔(ت)
فصل چہارم:
علامہ عبدالرؤف منادی تییسر پھر علامہ علی بن احمد عزیزی سراج المنیر شروح جامع صغیر میں زیر حدیث ہشتم فرماتے ہیں:
ھذا یؤذن بموتہ علی کفرہ وھو الحق ووھم البعض ۔ یعنی یہ حدیث بتاتی ہے کہ ابو طالب کی موت کفر پر ہوئی اور یہی حق ہے اور اس کا خلاف وہم ہے۔
امام عینی زیر حدیث دوم وچہارم فرماتے ہیں:
حوالہ / References
الحاوی للفتاوٰی بحوالہ الزرکشی مسالك الحنفاء فی والدالمصطفٰی دارالکتب العلمیہ بیروت ۲ /۲۰۸
شرح الرزقانی علی المواہب اللدنیہ وفات خدیجہ و ابی طالب ۱ /۲۹۴ والحاوی للفتاوی ۲ /۲۲۸
التیسیر شرح الجامع الصغیر تحت الحدیث اھون اھل النار عذابا الخ مکتبۃ الامام الشافعی ریاض ۱ /۳۸۴
شرح الرزقانی علی المواہب اللدنیہ وفات خدیجہ و ابی طالب ۱ /۲۹۴ والحاوی للفتاوی ۲ /۲۲۸
التیسیر شرح الجامع الصغیر تحت الحدیث اھون اھل النار عذابا الخ مکتبۃ الامام الشافعی ریاض ۱ /۳۸۴
ھذا کلہ ظاھر انہ مات علی غیر الاسلام فان قلت ذکر السہیلی انہ رای فی بعض کتب المسعودی ا نہ اسلم قلت مثل ھذا لایعارض ما فی الصحیح ۔ ان سب حدیثوں سے ظاہر ہے کہ ابوطالب کی موت غیر اسلامی پر ہوئیاگر تو کہے کہ سہیلی نے ذکر کیا کہ انہوں نے مسعودی کی کسی کتاب میں دیکھا کہ ابو طالب اسلام لے آئے میں کہوں گا ایسی بے سروپا حکایت احادیث صحیح بخاری کی معارض نہیں ہوسکتی۔
اقول:علاوہ بریں اگر یہ مسعودی علی بن حسین صاحب مروج ہے تو خود رافضی ہے اس کی کتاب مروج الذھب خلفائے کرام و صحابہ عظام عشرہ مبشرہ وغیرھم رضی اﷲ تعالی عہنم پر صریح تبراسے جا بجا آلودہ و ملوث ہے ۔لوط بن یحیی ابو مخنف رافضی خبیث ہالك کے اقوال و نقول بکثرت لاتا ہے جس کے مردود و تالف ہونے پر آئمہ جرح و تعدیل کا اجماع ہے اسی طرح اور رفاض و فساق وہالکین کے اخبار پر اس کی کتاب کا مدار ہے جیسا کہ اس کے مطالعہ سے واضح و آشکار ہےفقیر غفر اﷲ تعالی نے اپنے نسخہ مروج الذھب کے ہامش پر اس کی تنبیہ لکھ دی ہے۔شاہ عبدالعزیز صاحب تحفہ اثنا عشریہ میں فرماتے ہیں:
ہشام کلبی مفسر کہ رافضی غالی ست وہمچنیں مسعودی صاحب مروج الذہب وابوالفرح اصبہانی صاحب کتاب الاغالی وعلی ہذا القیاس امثال اینہارا ایں فرقہ دراعداد اہلسنت داخل کنند و بمقولات ومنقولات ایشاں الزام اہلسنت خواہند ۔ ہشام کلبی مفسر جو کہ غالی رافضی ہےاسی طرح مروج الذھب کا مصنف مسعودی اور ابوالفرح اصبہانی صاحب کتاب الاغالی اور علی ہذا القیاس ان جیسے دیگر رافضیوں کو یہ فرقہاہل سنت میں داخل کرتا ہے اور ان کے اقوال و منعقولات سے اہل سنت کو الزام دینا چاہتا ہے۔ت)
علامہ زرقانی شرح مواہب میں فرماتے ہیں:
القول باسلام ابی طالب لایصح قالہ ابن عساکر وغیرہ ۔ ابو طالب کا اسلام ماننا غلط ہے امام ابن عساکر وغیرہ نے اس کی صریح کی۔
اقول:علاوہ بریں اگر یہ مسعودی علی بن حسین صاحب مروج ہے تو خود رافضی ہے اس کی کتاب مروج الذھب خلفائے کرام و صحابہ عظام عشرہ مبشرہ وغیرھم رضی اﷲ تعالی عہنم پر صریح تبراسے جا بجا آلودہ و ملوث ہے ۔لوط بن یحیی ابو مخنف رافضی خبیث ہالك کے اقوال و نقول بکثرت لاتا ہے جس کے مردود و تالف ہونے پر آئمہ جرح و تعدیل کا اجماع ہے اسی طرح اور رفاض و فساق وہالکین کے اخبار پر اس کی کتاب کا مدار ہے جیسا کہ اس کے مطالعہ سے واضح و آشکار ہےفقیر غفر اﷲ تعالی نے اپنے نسخہ مروج الذھب کے ہامش پر اس کی تنبیہ لکھ دی ہے۔شاہ عبدالعزیز صاحب تحفہ اثنا عشریہ میں فرماتے ہیں:
ہشام کلبی مفسر کہ رافضی غالی ست وہمچنیں مسعودی صاحب مروج الذہب وابوالفرح اصبہانی صاحب کتاب الاغالی وعلی ہذا القیاس امثال اینہارا ایں فرقہ دراعداد اہلسنت داخل کنند و بمقولات ومنقولات ایشاں الزام اہلسنت خواہند ۔ ہشام کلبی مفسر جو کہ غالی رافضی ہےاسی طرح مروج الذھب کا مصنف مسعودی اور ابوالفرح اصبہانی صاحب کتاب الاغالی اور علی ہذا القیاس ان جیسے دیگر رافضیوں کو یہ فرقہاہل سنت میں داخل کرتا ہے اور ان کے اقوال و منعقولات سے اہل سنت کو الزام دینا چاہتا ہے۔ت)
علامہ زرقانی شرح مواہب میں فرماتے ہیں:
القول باسلام ابی طالب لایصح قالہ ابن عساکر وغیرہ ۔ ابو طالب کا اسلام ماننا غلط ہے امام ابن عساکر وغیرہ نے اس کی صریح کی۔
حوالہ / References
عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری کتاب مناقب الانصار تحت حدیث ۳۸۸۴ دارالکتب العلمیہ بیروت ۱۷ /۲۴
تحفہ اثنا عشریہ باب دوم فصل دوم کیدبست وسوم سہیل اکیڈمی لاہور ص ۴۱
شرح الرزقانی علی المواہب اللدنیۃ المقصدالثانی الفصل الرابع دارالمعرفۃ بیروت۳ /۲۸۶
تحفہ اثنا عشریہ باب دوم فصل دوم کیدبست وسوم سہیل اکیڈمی لاہور ص ۴۱
شرح الرزقانی علی المواہب اللدنیۃ المقصدالثانی الفصل الرابع دارالمعرفۃ بیروت۳ /۲۸۶
اسی طرح اصابہ میں ہے کماسیأتی(جیسا کہ آگے آئے گا۔ت)علامہ شہاب نسیم الریاض میں فرماتے ہیں:
من الغریب مانقلہ بعضھم ان اﷲ تعالی احیاہ لہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فامن بہ کابویہ واظنہ من افتراء الشیعۃ ۔ غرائب سے ہے یہ جو بعض نے نقل کیا کہ اﷲ تعالی نے والدین رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی طرح ابو طالب کو بھی نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے لیے زندہ کیا کہ بعد مرگ جی کر مشرف باسلام ہوئے میرے گمان میں یہ رافضیوں کی گھڑت ہے۔
اقول:وضاع کذاب رافضیوں ہی میں منح صر نہیں مگر یہ ان کے مسلك کے موافق ہے لہذا اس کی وضع کا گمان انہیں کی طرف جاتا ہے پھر بھی بے تحقیق جزم کی کیا صورت ممکن کہ کسی اور نے وضع کی ہواس بنا پر لفظ ظن فرمایاورنہ اس کے موضوع و مفتری ہونے میں تو شبہ نہیںکما لایخفی(جیسا کہ پوشیدہ نہیں۔ت)علامہ صبان محمد بن علی مصری کتاب اسعاف الراغبین میں فرماتے ہیں:
اما اعمامہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فاثنا عشرۃ حمزۃ العباس وھما المسلمان وابوطالب والصحیح انہ مات کافرا ۔ حضور سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے بارہ چچا تھےحمزہ و عباس رضی اﷲ تعالی عنہما اور یہی دو مشرف با سلام ہوئے اور ابو طالب اور صحیح یہی ہے کہ یہ کافر مرے۔
فصل پنجم:
شرح مقاصد و شرح تحریر پھر ردالمحتار حاشیہ درمختار باب المرتدین میں ہے:
المصر علی عدم الاقرار مع المطالبۃ بہ کافر وفاقا لکون ذلك من امارات عدم التصدیق ولہذا اطبقوا جس سے اقرار اسلام کا مطالبہ کیا جائے اور وہ اقرار نہ کرنے پر اصرار رکھے بالاتفاق کافر ہے کہ یہ دل میں تصدیق نہ ہونے کی علامت ہے۔
من الغریب مانقلہ بعضھم ان اﷲ تعالی احیاہ لہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فامن بہ کابویہ واظنہ من افتراء الشیعۃ ۔ غرائب سے ہے یہ جو بعض نے نقل کیا کہ اﷲ تعالی نے والدین رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی طرح ابو طالب کو بھی نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے لیے زندہ کیا کہ بعد مرگ جی کر مشرف باسلام ہوئے میرے گمان میں یہ رافضیوں کی گھڑت ہے۔
اقول:وضاع کذاب رافضیوں ہی میں منح صر نہیں مگر یہ ان کے مسلك کے موافق ہے لہذا اس کی وضع کا گمان انہیں کی طرف جاتا ہے پھر بھی بے تحقیق جزم کی کیا صورت ممکن کہ کسی اور نے وضع کی ہواس بنا پر لفظ ظن فرمایاورنہ اس کے موضوع و مفتری ہونے میں تو شبہ نہیںکما لایخفی(جیسا کہ پوشیدہ نہیں۔ت)علامہ صبان محمد بن علی مصری کتاب اسعاف الراغبین میں فرماتے ہیں:
اما اعمامہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فاثنا عشرۃ حمزۃ العباس وھما المسلمان وابوطالب والصحیح انہ مات کافرا ۔ حضور سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے بارہ چچا تھےحمزہ و عباس رضی اﷲ تعالی عنہما اور یہی دو مشرف با سلام ہوئے اور ابو طالب اور صحیح یہی ہے کہ یہ کافر مرے۔
فصل پنجم:
شرح مقاصد و شرح تحریر پھر ردالمحتار حاشیہ درمختار باب المرتدین میں ہے:
المصر علی عدم الاقرار مع المطالبۃ بہ کافر وفاقا لکون ذلك من امارات عدم التصدیق ولہذا اطبقوا جس سے اقرار اسلام کا مطالبہ کیا جائے اور وہ اقرار نہ کرنے پر اصرار رکھے بالاتفاق کافر ہے کہ یہ دل میں تصدیق نہ ہونے کی علامت ہے۔
حوالہ / References
نسیم الریاض القسم الاول الباب الاول الفصل الخامس مرکز اہلسنت گجرات الہند ۱ /۲۱۰
اسعاف الراغبین فی سیرۃ المصطفٰی علٰی ھامش نور الابصار دارالفکر بیروت ص ۹۴
اسعاف الراغبین فی سیرۃ المصطفٰی علٰی ھامش نور الابصار دارالفکر بیروت ص ۹۴
علی کفر ابی طالب ۔ اسی واسطے تمام علماء نے کفر ابی طالب پر اجماع کیا ہے۔
مولانا علی قاری شرح شفا شریف میں فرماتے ہیں:
اذا امربھا وامتنع وابی عنہا کابی طالب فھو کافر بالاجماع ۔ جسے شہادت کلمہ اسلام کا حکم دیا جائے اور وہ باز رہے اور ادائے شہادت سے انکار کرے جیسے ابو طالبتو وہ بالا جماع کافر ہے۔
مرقاۃ شرح مشکوۃ میں اس شخص کے بارے میں جو قلب سے اعتقاد رکھتا تھا اور بغیر کسی عذر و مانع کے زبان سے اقرار کی نوبت نہ آئیعلماء کا اختلاف کہ یہ اعتقاد بے اقرار اسے آخرت میں نافع ہوگا یا نہیںنقل کرکے فرماتے ہیں۔
قلت لکن بشرط عدم طلب الاقرار منہ فان ابی بعد ذلك فکافراجماعا لقضیۃ ابی طالب ۔ یعنی یہ اختلاف اس صورت میں ہے کہ اس سے اقرار طلب نہ کیا گیا ہو اور اگر بعد طلب باز رہے جب تو بالا جماع کافر ہے۔ابو طالب کا واقعہ اس پر دلیل ہے۔
اسی کی فصل ثانی باب اشراط الساعۃ میں ہے:
ابوطالب لم یؤمن عنداھل السنۃ ۔ اہل سنت کے نزدیك ابوطالب مسلمان نہیں۔
شیخ محقق مولانا عبدالحق محدث دہلوی شرح سفر السعادۃ میں فرماتے ہیں:
مشائخ حدیث وعلمائے سنت بریں اند کہ ایمان ابو طالب ثبوت نہ پذیر فتہ و در صحاح احادیث ست کہ آنحضرت صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم در وقت وفات وے برسردے آمد و مشائخ حدیث اور علماء اہلسنت کا مؤقف یہ ہے کہ ابو طالب کا ایمان ثابت نہیں ہےصحیح حدیثوں میں آیا ہے کہ ابو طالب کی وفات کے وقت رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اسکے
مولانا علی قاری شرح شفا شریف میں فرماتے ہیں:
اذا امربھا وامتنع وابی عنہا کابی طالب فھو کافر بالاجماع ۔ جسے شہادت کلمہ اسلام کا حکم دیا جائے اور وہ باز رہے اور ادائے شہادت سے انکار کرے جیسے ابو طالبتو وہ بالا جماع کافر ہے۔
مرقاۃ شرح مشکوۃ میں اس شخص کے بارے میں جو قلب سے اعتقاد رکھتا تھا اور بغیر کسی عذر و مانع کے زبان سے اقرار کی نوبت نہ آئیعلماء کا اختلاف کہ یہ اعتقاد بے اقرار اسے آخرت میں نافع ہوگا یا نہیںنقل کرکے فرماتے ہیں۔
قلت لکن بشرط عدم طلب الاقرار منہ فان ابی بعد ذلك فکافراجماعا لقضیۃ ابی طالب ۔ یعنی یہ اختلاف اس صورت میں ہے کہ اس سے اقرار طلب نہ کیا گیا ہو اور اگر بعد طلب باز رہے جب تو بالا جماع کافر ہے۔ابو طالب کا واقعہ اس پر دلیل ہے۔
اسی کی فصل ثانی باب اشراط الساعۃ میں ہے:
ابوطالب لم یؤمن عنداھل السنۃ ۔ اہل سنت کے نزدیك ابوطالب مسلمان نہیں۔
شیخ محقق مولانا عبدالحق محدث دہلوی شرح سفر السعادۃ میں فرماتے ہیں:
مشائخ حدیث وعلمائے سنت بریں اند کہ ایمان ابو طالب ثبوت نہ پذیر فتہ و در صحاح احادیث ست کہ آنحضرت صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم در وقت وفات وے برسردے آمد و مشائخ حدیث اور علماء اہلسنت کا مؤقف یہ ہے کہ ابو طالب کا ایمان ثابت نہیں ہےصحیح حدیثوں میں آیا ہے کہ ابو طالب کی وفات کے وقت رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اسکے
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب السیر باب المرتد دار احیاء التراث العربی بیروت ۳/ ۲۸۳ و ۲۸۴
مرقات المفاتیح شرح مشکٰوۃ المصابیح کتاب الفتن حدیث ۵۴۵۸ المکتبۃ الحبیبیۃ کوئٹہ ۹/ ۳۶۰
مرقات المفاتیح شرح مشکٰوۃ المصابیح کتاب الفتن حدیث ۵۴۵۸ المکتبۃ الحبیبیۃ کوئٹہ ۹/ ۳۶۰
عرض اسلام کرد وے قبول نہ کرد ۔ پاس تشریف لائے اور سلام پیش فرمایا مگر اس نے قبول نہیں کیا۔ت)
فصل ششم:
امام ابن حجر مکی افضل القری القراء ام القری میں ابو طالب کی بیت مروی صحیح بخاری کہ ہم نے شروع جواب میں ذکر کی لکھ کر فرماتے ہیں:
ھذا البیت من جملۃ قصیدۃ لہ فیھا مدح عجیب لہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم حتی اخذا الشیعۃ منھا القول باسلامہ ۔ یہ بیت ابوطالب کے ایك قصیدہ کا ہے جس میں حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی عجب نعت ہےیہاں تك کہ رافضیوں نے اس سے ابوطالب کا مسلمان ہونا اخذ کرلیا۔
پھر فرماتے ہیں:
صرائح الاحادیث المتفق علی صحتہا ترد ذلک ۔ لیکن صاف اور روشن حدیثیں جن کی صحت پر اتفاق ہے اسلام ابوطالب کو رد کررہی ہیں۔
علامہ محمد بن عبدالباقی شرح مواہب میں روایت ضعیفہ ابن اسحق کہ ان شاء اﷲ تعالی عنقریب مع اپنے جوابوں کے آتی ہے ذکر کرکے فرماتے ہیں:
بھذا احتج الرفضۃ ومن تبعھم علی اسلامہ ۔ رافضی اور جو ان کے پیرو ہوئے وہ اسی روایت سے ابو طالب کے اسلام پر سند لاتے ہیں۔
انوار التنزیل وارشاد العقل میں زیر آیہ کریمہ "انك لاتھدی من احببت" فرمایا:
الجمھور علی انھا نزلت فی ابی طالب ۔ جمہور آئمہ کے نزدیك یہ آیت دربارہ ابوطالب اتری۔
فصل ششم:
امام ابن حجر مکی افضل القری القراء ام القری میں ابو طالب کی بیت مروی صحیح بخاری کہ ہم نے شروع جواب میں ذکر کی لکھ کر فرماتے ہیں:
ھذا البیت من جملۃ قصیدۃ لہ فیھا مدح عجیب لہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم حتی اخذا الشیعۃ منھا القول باسلامہ ۔ یہ بیت ابوطالب کے ایك قصیدہ کا ہے جس میں حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی عجب نعت ہےیہاں تك کہ رافضیوں نے اس سے ابوطالب کا مسلمان ہونا اخذ کرلیا۔
پھر فرماتے ہیں:
صرائح الاحادیث المتفق علی صحتہا ترد ذلک ۔ لیکن صاف اور روشن حدیثیں جن کی صحت پر اتفاق ہے اسلام ابوطالب کو رد کررہی ہیں۔
علامہ محمد بن عبدالباقی شرح مواہب میں روایت ضعیفہ ابن اسحق کہ ان شاء اﷲ تعالی عنقریب مع اپنے جوابوں کے آتی ہے ذکر کرکے فرماتے ہیں:
بھذا احتج الرفضۃ ومن تبعھم علی اسلامہ ۔ رافضی اور جو ان کے پیرو ہوئے وہ اسی روایت سے ابو طالب کے اسلام پر سند لاتے ہیں۔
انوار التنزیل وارشاد العقل میں زیر آیہ کریمہ "انك لاتھدی من احببت" فرمایا:
الجمھور علی انھا نزلت فی ابی طالب ۔ جمہور آئمہ کے نزدیك یہ آیت دربارہ ابوطالب اتری۔
حوالہ / References
شرح سفر السعادۃ فصل دربیان عیادت بیماراں و نماز جنازہ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ص ۲۴۹
افضل القرٰی القراء ام القرٰی تحت البیت ۴۵ المجمع الثقانی ابوظہبی ۱ /۲۸۶
افضل القرٰی القراء ام القرٰی تحت البیت ۴۵ المجمع الثقانی ابوظہبی ۱ /۲۸۶
شرح الزرقانی علی المواھب اللدنیۃ عام الحزن وفاۃ خدیجہ وابی طالب دارالمعرفۃ بیروت ۱ /۲۹۱
انوارالتنزیل(تفسیر البیضاوی)تحت آلایۃ ۲۸ /۵۶ دارالفکر بیروت ۴ /۲۹۸
افضل القرٰی القراء ام القرٰی تحت البیت ۴۵ المجمع الثقانی ابوظہبی ۱ /۲۸۶
افضل القرٰی القراء ام القرٰی تحت البیت ۴۵ المجمع الثقانی ابوظہبی ۱ /۲۸۶
شرح الزرقانی علی المواھب اللدنیۃ عام الحزن وفاۃ خدیجہ وابی طالب دارالمعرفۃ بیروت ۱ /۲۹۱
انوارالتنزیل(تفسیر البیضاوی)تحت آلایۃ ۲۸ /۵۶ دارالفکر بیروت ۴ /۲۹۸
علامہ خفا جی اس کے حاشیہ میں فرماتے ہیں:
اشارۃ الی الردعلی بعض الرفضۃ اذ ذھب الی اسلامہ ۔ یہ اشارہ ہے بعض رافضیوں کے رد کی طرف کہ وہ اسلام ابو طالب کے قائل ہیں۔
اصابہ میں ہے:
ذکر جمع من الرفضۃ انہ مات مسلما قال ابن عساکر فی صدر ترجمتہ قیل انہ اسلم ولایصح اسلامہ مختصر ۔ رافضیوں کا ایك گروہ کہتا ہے کہ ابو طالب مسلمان مرے۔ امام ابن عساکر نے اپنی تاریخ میں شروع تذکرئہ ابوطالب میں فرمایا بعض اسلام ابو طالب کے قائل ہوئے اور یہ صحیح نہیں مختصر۔
زرقانی میں ہے:
الصحیح ان ابا طالب لم یسلمو ذکر جمع من الرفضۃ انہ مات مسلما وتمسکواباشعار واخبار واھیۃ تکفل بردھافی الاصابۃ ۔ صحیح یہ ہے کہ ابوطالب مسلمان نہ ہوئےرافضیوں کی ایك جماعت نے ان کا اسلام پر مرنا مانا اور کچھ شعروں اور واہیات خبروں سے تمسك کیا جن کے رد کا امام حافظ الشان نے اصابہ میں ذمہ لیا۔
نسیم فصل کیفیۃ الصلوۃ علیہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم والتسلیم میں ہے:
ابو طالب توفی کافرا وادعاء بعض الشیعۃ انہ اسلم لا اصل لہ ۔ ابوطالب کی موت کفر پر ہوئی اور بعض رافضیوں کا دعوی باطلہ کہ وہ اسلام لائے محض بے اصل ہے۔
شیخ محقق شرح صراط مستقیم میں فرماتے ہیں:
اشارۃ الی الردعلی بعض الرفضۃ اذ ذھب الی اسلامہ ۔ یہ اشارہ ہے بعض رافضیوں کے رد کی طرف کہ وہ اسلام ابو طالب کے قائل ہیں۔
اصابہ میں ہے:
ذکر جمع من الرفضۃ انہ مات مسلما قال ابن عساکر فی صدر ترجمتہ قیل انہ اسلم ولایصح اسلامہ مختصر ۔ رافضیوں کا ایك گروہ کہتا ہے کہ ابو طالب مسلمان مرے۔ امام ابن عساکر نے اپنی تاریخ میں شروع تذکرئہ ابوطالب میں فرمایا بعض اسلام ابو طالب کے قائل ہوئے اور یہ صحیح نہیں مختصر۔
زرقانی میں ہے:
الصحیح ان ابا طالب لم یسلمو ذکر جمع من الرفضۃ انہ مات مسلما وتمسکواباشعار واخبار واھیۃ تکفل بردھافی الاصابۃ ۔ صحیح یہ ہے کہ ابوطالب مسلمان نہ ہوئےرافضیوں کی ایك جماعت نے ان کا اسلام پر مرنا مانا اور کچھ شعروں اور واہیات خبروں سے تمسك کیا جن کے رد کا امام حافظ الشان نے اصابہ میں ذمہ لیا۔
نسیم فصل کیفیۃ الصلوۃ علیہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم والتسلیم میں ہے:
ابو طالب توفی کافرا وادعاء بعض الشیعۃ انہ اسلم لا اصل لہ ۔ ابوطالب کی موت کفر پر ہوئی اور بعض رافضیوں کا دعوی باطلہ کہ وہ اسلام لائے محض بے اصل ہے۔
شیخ محقق شرح صراط مستقیم میں فرماتے ہیں:
حوالہ / References
عنایۃ القاضی حاشیۃ الشہاب علٰی تفسیر البیضاوی تحت آلایۃ۲۸ /۵۶ دارالکتب العلمیہ بیروت ۷ /۳۰۹
الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ حرف الطاءالقسم الرابع ابوطالب دار صادربیروت ۴ /۱۱۶
تاریخ دمشق الکبیر ترجمہ ۸۹۴۰ ابوطالب داراحیاء التراث العربی ۷۰ /۲۲۸
شرح الزرقانی علی المواھب اللدنیۃ المقصد الثانی الفصل الرابع دارالمعرفتہ بیروت ۳ /۲۷۴
نسیم الریاض فی شرح شفاء القاضی عیاض مرکز اہلسنت برکات رضا گجرات الہند ۳ /۴۸۴
الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ حرف الطاءالقسم الرابع ابوطالب دار صادربیروت ۴ /۱۱۶
تاریخ دمشق الکبیر ترجمہ ۸۹۴۰ ابوطالب داراحیاء التراث العربی ۷۰ /۲۲۸
شرح الزرقانی علی المواھب اللدنیۃ المقصد الثانی الفصل الرابع دارالمعرفتہ بیروت ۳ /۲۷۴
نسیم الریاض فی شرح شفاء القاضی عیاض مرکز اہلسنت برکات رضا گجرات الہند ۳ /۴۸۴
شیخ ابن حجر در فتح الباری میگوید معرفت ابوطالب بہ نبوت رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم د ربسیاری از اخبار آمدہ و تمسك کردہ بدان شیعہ بر اسلام وے و استدلال کردہ اند بردعوی خود بچیزے کہ دلالت ندارد برآں ۔ شیخ ابن حجر فتح الباری میں فرماتے ہیں ابو طالب کو رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی نبوت کی معرفت حاصل تھی۔اس بارے میں متعدد احادیث وارد ہیں جن کو شیعہ اسلام ابو طالب کی دلیل بتاتی ہیں اور انے دعوی پر جس چیز اسے استدلال کرتے ہیں وہ ان کے دعوی پر دلالت نہیں کرتی۔ت)
اسی میں ہے:
مخفی نماند کہ صحت اسلام ابوین بلکہ سائر آبائے دے صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم مشہورست و شیعہ اسلام ابو طالب رانیز ازیں قبیل دانند اھ مختصرا۔ پوشیدہ نہ رہے کہ نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے والدین بلکہ تمام آباء واجداد کے اسلام کا صحیح ہونا مشہور ہے اور شیعہ اسلام ابوطالب کو بھی اسی قبیل سے سمجھتے ہیں ا ھ اختصار(ت)
فصل ہفتم:
الحمد ﷲ کلام اپنی نہایت کو پہنچا بعد اس قدر نصوص علیہ وجلیہ قرآن و حدیث و ارشادات صحابہ و تابعین و تبع تابعین و آئمہ قدیم و حدیث کے منصف کو چارہ نہیں مگر تسلیم اور شبہات کا حصہ نہیں مگر فنائے عمیم پھر بھی تبیین مرام و تسکین اوہام مناسب مقامعمرو نے آٹھ شبہے ذکر کیے اور نواں کہ اگر شبہہ کہنے کے بھی کچھ قابل ہے تو وہی ہے اس سے متروك ہوا ہم ان سب کو ذکر کرکے بتوفیق اﷲ تعالی اظہار جواب وابانت صواب کریں۔
شبہہ اولی __کفالت__ اقول:(میں کہتا ہوں۔ت)ہاں بالیقین مگر کفالت نبی مستلزم اطاعت نبی نہیںقال اﷲ تعالی(اﷲ تعالی نے فرمایا۔ت):
" فالتقطہ ال فرعون لیکون لہم عدوا وحزنا "الایۃ ۔ تو اسے اٹھالیا فرعون کے گھر والوں نے کہ وہ ان کا دشمن اور ان پر غم ہو الآیۃ(ت)
اسی میں ہے:
مخفی نماند کہ صحت اسلام ابوین بلکہ سائر آبائے دے صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم مشہورست و شیعہ اسلام ابو طالب رانیز ازیں قبیل دانند اھ مختصرا۔ پوشیدہ نہ رہے کہ نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے والدین بلکہ تمام آباء واجداد کے اسلام کا صحیح ہونا مشہور ہے اور شیعہ اسلام ابوطالب کو بھی اسی قبیل سے سمجھتے ہیں ا ھ اختصار(ت)
فصل ہفتم:
الحمد ﷲ کلام اپنی نہایت کو پہنچا بعد اس قدر نصوص علیہ وجلیہ قرآن و حدیث و ارشادات صحابہ و تابعین و تبع تابعین و آئمہ قدیم و حدیث کے منصف کو چارہ نہیں مگر تسلیم اور شبہات کا حصہ نہیں مگر فنائے عمیم پھر بھی تبیین مرام و تسکین اوہام مناسب مقامعمرو نے آٹھ شبہے ذکر کیے اور نواں کہ اگر شبہہ کہنے کے بھی کچھ قابل ہے تو وہی ہے اس سے متروك ہوا ہم ان سب کو ذکر کرکے بتوفیق اﷲ تعالی اظہار جواب وابانت صواب کریں۔
شبہہ اولی __کفالت__ اقول:(میں کہتا ہوں۔ت)ہاں بالیقین مگر کفالت نبی مستلزم اطاعت نبی نہیںقال اﷲ تعالی(اﷲ تعالی نے فرمایا۔ت):
" فالتقطہ ال فرعون لیکون لہم عدوا وحزنا "الایۃ ۔ تو اسے اٹھالیا فرعون کے گھر والوں نے کہ وہ ان کا دشمن اور ان پر غم ہو الآیۃ(ت)
حوالہ / References
سفر السعادت فصل دربیان عیادت بیماراں الخ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ص ۲۴۹
سفر السعادت فصل دربیان عیادت بیماراں الخ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ص ۵۰۔۲۴۹
القرآن الکریم ۲۸ /۸
سفر السعادت فصل دربیان عیادت بیماراں الخ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ص ۵۰۔۲۴۹
القرآن الکریم ۲۸ /۸
قال تعالی(اور اﷲ تعالی نے فرمایا۔ت):
" قال الم نربک فینا ولیدا و لبثت فینا من عمرک سنین ﴿۱۸﴾ "
۔ بولا کیا ہم نے تمہیں اپنے یہاں بچپن میں نہ پالا اور تم نے ہمارے یہاں اپنی عمر کے کئی برس گزارے۔(ت)
شبہہ ثانیہ _____ نصرت وحمایت _____نقول:ضرور مگر مدعا سے دوررافضی اس سے دلیل لائے اور علمائے سنت جواب دے چکے۔اصابہ میں فرمایا:
استدل الرافضی بقول اﷲ تعالی "فالذین امنوا بہ و عزروہ و نصروہ واتبعواالنور الذی معہ اولئك ھم المفلحون" قال وقد عزرہ ابوطالب بما اشتھرو علم ونابذقریشا وعاداھم بسبلبہ مما لایدفعہ احد من نقلۃ الاخبار فیکون من المفلحین انتھی وھذا مبلغھم من العلم وانانسلم انہ نصرہ وبالغ فی ذلك لکنہ لم یتبع النور الذی معہ وھو الکتاب العزیز الداعی الی التوحید ولا یحصل الفلاح الا بحصول مارتب علیہ من الصفات کلہا ۔ یعنی اسلام ابی طالب پر رافضی اس آیت سے دلیل لایا کہ اﷲ عزوجل فرماتا ہے "جو لوگ اس نبی پر ایمان لائے اور اس کی نصرت و مدد کی اور جو نور اس نبی کے ساتھ اتارا گیا اس کے پیرو ہوئے وہی لوگ فلاح پانے والے ہیں"۔رافضی نے کہا:ابوطالب کی مدد و نصرت مشہور و معروف ہے نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے پیچھے قریش سے مخالفت کی عداوت باندھ لی جس کا کوئی راوی اخبار انکار نہ کرے گا تو وہ فلاح پانے والوں میں ٹھہرے۔رافضیوں کے علم کی رسائی یہاں تك ہے اور ہم تسلیم کرتے ہیں کہ ابوطالب نے ضرور نصرت کی اور بدرجہ غایت کی مگر اس نور کا اتباع نہ کیا جو حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے ساتھ اترا یعنی قرآن مجید داعی توحید اور فلاح تو جب ملے کہ جتنی صفات پر اسے مرتب فرمایا ہے سب حاصل ہوں۔
" قال الم نربک فینا ولیدا و لبثت فینا من عمرک سنین ﴿۱۸﴾ "
۔ بولا کیا ہم نے تمہیں اپنے یہاں بچپن میں نہ پالا اور تم نے ہمارے یہاں اپنی عمر کے کئی برس گزارے۔(ت)
شبہہ ثانیہ _____ نصرت وحمایت _____نقول:ضرور مگر مدعا سے دوررافضی اس سے دلیل لائے اور علمائے سنت جواب دے چکے۔اصابہ میں فرمایا:
استدل الرافضی بقول اﷲ تعالی "فالذین امنوا بہ و عزروہ و نصروہ واتبعواالنور الذی معہ اولئك ھم المفلحون" قال وقد عزرہ ابوطالب بما اشتھرو علم ونابذقریشا وعاداھم بسبلبہ مما لایدفعہ احد من نقلۃ الاخبار فیکون من المفلحین انتھی وھذا مبلغھم من العلم وانانسلم انہ نصرہ وبالغ فی ذلك لکنہ لم یتبع النور الذی معہ وھو الکتاب العزیز الداعی الی التوحید ولا یحصل الفلاح الا بحصول مارتب علیہ من الصفات کلہا ۔ یعنی اسلام ابی طالب پر رافضی اس آیت سے دلیل لایا کہ اﷲ عزوجل فرماتا ہے "جو لوگ اس نبی پر ایمان لائے اور اس کی نصرت و مدد کی اور جو نور اس نبی کے ساتھ اتارا گیا اس کے پیرو ہوئے وہی لوگ فلاح پانے والے ہیں"۔رافضی نے کہا:ابوطالب کی مدد و نصرت مشہور و معروف ہے نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے پیچھے قریش سے مخالفت کی عداوت باندھ لی جس کا کوئی راوی اخبار انکار نہ کرے گا تو وہ فلاح پانے والوں میں ٹھہرے۔رافضیوں کے علم کی رسائی یہاں تك ہے اور ہم تسلیم کرتے ہیں کہ ابوطالب نے ضرور نصرت کی اور بدرجہ غایت کی مگر اس نور کا اتباع نہ کیا جو حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے ساتھ اترا یعنی قرآن مجید داعی توحید اور فلاح تو جب ملے کہ جتنی صفات پر اسے مرتب فرمایا ہے سب حاصل ہوں۔
حوالہ / References
القرآن الکریم ۲۶ /۱۸
الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ حرف الطاء ترجمہ ۶۸۵ ابوطالب دارصادر بیروت ۴ /۱۱۸
الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ حرف الطاء ترجمہ ۶۸۵ ابوطالب دارصادر بیروت ۴ /۱۱۸
اقول:اولا یہ نصرت وحمایت کا قصہ بارگاہ رسالت میں پیش ہوچکاعباس رضی اﷲ تعالی عنہ نے عرض کی:یارسول اﷲ!ابو طالب چنیں و چنان کرتا اسے کیا نفع ملا جواب جو ارشآد ہوا۔حدیث چہارم میں گزرا۔
ثانیا:بلکہ تفسیر ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما پر خود رب العزت جواب دے چکا کہ اوروں کو نبی کی ایذا سے روکتے اور خود ایمان لانے سے بچتے ہیںدیکھو آیت وحدیث سوم۔
ثالثا:اعتبار خاتمہ کا ہے"انما الاعمال بالخواتیم" ۔(اعمال کا دارو مدار خاتموں پر ہے۔ت)جب ابوطالب کا کفر پر مرنا قرآن وحدیث سے ثابت تو اب اگلے قصے سنانا اور گزشتہ کفالت و نصرت سے دلیل لانا محض ساقط۔صحاح ستہ میں حضرت عبداﷲ بن مسعود سے ایك حدیث طویل میں ہےرسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
"فواﷲ الذی لا الہ غیرہ ان احدکم لیعمل بعمل اھل الجنۃ حتی مایکون بینہ وبینہا الاذراع فیسبق علیہ الکتاب فیعمل بعمل اھل النار فید خل النار " ۔ قسم اﷲ کی جس کے سوا کوئی خدا نہیں تم میں کوئی شخص جنتیوں کے کام کرتا رہتا ہے یہاں تك کہ اس میں اور جنت میں صرف ایك ہاتھ کا فرق رہ جاتا ہی اتنے میں تقدیر غالب آجاتی ہے کہ وہ دوزخیوں کے کام کرکے دوزخ میں جاتا ہے۔ (والعیاذ باﷲ رب العالمین)۔
رابعا:نہ صرف اسلام مستلزم اسلام نہ ثبوت خاص نہ ثبوت عامصحیحین میں ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے ہی غزوہ خیبر میں ایك مدعی اسلام نے ہمراہ رکاب اقدس سخت جہاد اور کافروں سے عظیم قتال کیاصحابہ اس کے مداح ہوئےحضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:وہ دوزخی ہے۔اس پر قریب تھا کہ بعض لوگ متزلزل ہوجاتے۔(یعنی ایسے عالی درجہ کے عمدہ کام ایسی جلیل وجمیل نصرت اسلام اور اس پر ناری ہونے کے احکام)بالاخر خبر پائی کہ وہ معرکہ میں زخمی ہوا درد کی تاب نہ لایا رات کو اپنا گلا کاٹ کر مر گیا۔حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم
ثانیا:بلکہ تفسیر ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما پر خود رب العزت جواب دے چکا کہ اوروں کو نبی کی ایذا سے روکتے اور خود ایمان لانے سے بچتے ہیںدیکھو آیت وحدیث سوم۔
ثالثا:اعتبار خاتمہ کا ہے"انما الاعمال بالخواتیم" ۔(اعمال کا دارو مدار خاتموں پر ہے۔ت)جب ابوطالب کا کفر پر مرنا قرآن وحدیث سے ثابت تو اب اگلے قصے سنانا اور گزشتہ کفالت و نصرت سے دلیل لانا محض ساقط۔صحاح ستہ میں حضرت عبداﷲ بن مسعود سے ایك حدیث طویل میں ہےرسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
"فواﷲ الذی لا الہ غیرہ ان احدکم لیعمل بعمل اھل الجنۃ حتی مایکون بینہ وبینہا الاذراع فیسبق علیہ الکتاب فیعمل بعمل اھل النار فید خل النار " ۔ قسم اﷲ کی جس کے سوا کوئی خدا نہیں تم میں کوئی شخص جنتیوں کے کام کرتا رہتا ہے یہاں تك کہ اس میں اور جنت میں صرف ایك ہاتھ کا فرق رہ جاتا ہی اتنے میں تقدیر غالب آجاتی ہے کہ وہ دوزخیوں کے کام کرکے دوزخ میں جاتا ہے۔ (والعیاذ باﷲ رب العالمین)۔
رابعا:نہ صرف اسلام مستلزم اسلام نہ ثبوت خاص نہ ثبوت عامصحیحین میں ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے ہی غزوہ خیبر میں ایك مدعی اسلام نے ہمراہ رکاب اقدس سخت جہاد اور کافروں سے عظیم قتال کیاصحابہ اس کے مداح ہوئےحضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:وہ دوزخی ہے۔اس پر قریب تھا کہ بعض لوگ متزلزل ہوجاتے۔(یعنی ایسے عالی درجہ کے عمدہ کام ایسی جلیل وجمیل نصرت اسلام اور اس پر ناری ہونے کے احکام)بالاخر خبر پائی کہ وہ معرکہ میں زخمی ہوا درد کی تاب نہ لایا رات کو اپنا گلا کاٹ کر مر گیا۔حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم
حوالہ / References
مسند احمد بن حنبل حدیث سہل بن سعد المکتب الاسلامی بیروت ۵/ ۳۳۵
صحیح البخاری کتاب التوحید باب قولہ تعالٰی ولقد سبقت کلمتنا الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۱۱۱۰،صحیح مسلم کتاب القدر باب کیفیۃ خلق الآدمی الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۳۳۲،سنن ابی داؤد کتاب السنۃ باب القدر آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۲۹۲
صحیح البخاری کتاب التوحید باب قولہ تعالٰی ولقد سبقت کلمتنا الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۱۱۱۰،صحیح مسلم کتاب القدر باب کیفیۃ خلق الآدمی الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۳۳۲،سنن ابی داؤد کتاب السنۃ باب القدر آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۲۹۲
" انہ لا یدخل الجنۃ الا نفس مسلمۃ وان اﷲ لیؤید ھذا الدین بالرجل الفاجر " ۔ بے شك جنت میں کوئی نہ جائے گا مگر مسلمان جاناور بے شك اﷲ اس دین کی مدد کرتا ہے فاسق کے ہاتھ پر۔
اسی کے قریب طبرانی نے کبیر میں عمرو بن نعمان بن مقرن رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کی۔نسائی و ابن حبان حضرت انس بن مالك اور احمد و طبرانی حضرت ابوبکر رضی اﷲ تعالی عنہا سے بسند جید راوی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ان اﷲ یؤید ھذاالدین باقوام لا خلاق لہم ۔ بے شك اﷲ عزوجل اس دین کی مد د ایسے لوگوں سے فرماتا ہے جن کا کوئی حصہ نہیں۔
طبرانی کبیر میں حضرت عبداﷲ بن عمرو بن عاص رضی اﷲ تعالی عنہما سے راوی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ان اﷲ تعالی لیؤید الاسلام برجال ماھم من اھلہ ۔ بے شك اﷲ تعالی اسلام کی تائید ایسے لوگوں سے کراتا ہے جو خود اہل اسلام سے نہیں۔
نسأل اﷲ العفوو العافیۃ(ہم اﷲ تعالی سے معافی اور عافیت مانگتے ہیں۔ت)
شبہہ ثالثہ _____ محبت _____ اقول:بے شك مگر حد طبعی تك جیسے چچا کو بھتیجے سے چاہیے اور بھتیجے بھی کیسے کہ حقیقی بھائی نوجوان گزرے ہوئے کی اکلوتی نشانیپھر اس پر جمال صورت و کمال سیرت وہ کہ اپنے تو اپنے غیر دیکھیں تو فدا ہوجائیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم خاندان ہاشمی ایك اسی چراغ محمود و شمع بے دود سے روشن تھا۔خاندانی حمیت ہر عاقل کو ہوتی ہے خصوصا عرب خصوصا قریش خصوصا بنی ہاشم میں اس کے عظیم مادہ و لہذا جب آیہ کریمہ " فاصدع
اسی کے قریب طبرانی نے کبیر میں عمرو بن نعمان بن مقرن رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کی۔نسائی و ابن حبان حضرت انس بن مالك اور احمد و طبرانی حضرت ابوبکر رضی اﷲ تعالی عنہا سے بسند جید راوی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ان اﷲ یؤید ھذاالدین باقوام لا خلاق لہم ۔ بے شك اﷲ عزوجل اس دین کی مد د ایسے لوگوں سے فرماتا ہے جن کا کوئی حصہ نہیں۔
طبرانی کبیر میں حضرت عبداﷲ بن عمرو بن عاص رضی اﷲ تعالی عنہما سے راوی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ان اﷲ تعالی لیؤید الاسلام برجال ماھم من اھلہ ۔ بے شك اﷲ تعالی اسلام کی تائید ایسے لوگوں سے کراتا ہے جو خود اہل اسلام سے نہیں۔
نسأل اﷲ العفوو العافیۃ(ہم اﷲ تعالی سے معافی اور عافیت مانگتے ہیں۔ت)
شبہہ ثالثہ _____ محبت _____ اقول:بے شك مگر حد طبعی تك جیسے چچا کو بھتیجے سے چاہیے اور بھتیجے بھی کیسے کہ حقیقی بھائی نوجوان گزرے ہوئے کی اکلوتی نشانیپھر اس پر جمال صورت و کمال سیرت وہ کہ اپنے تو اپنے غیر دیکھیں تو فدا ہوجائیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم خاندان ہاشمی ایك اسی چراغ محمود و شمع بے دود سے روشن تھا۔خاندانی حمیت ہر عاقل کو ہوتی ہے خصوصا عرب خصوصا قریش خصوصا بنی ہاشم میں اس کے عظیم مادہ و لہذا جب آیہ کریمہ " فاصدع
حوالہ / References
صحیح البخاری کتاب المغازی باب غزوۃ الخیبر قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۶۰۴،صحیح مسلم کتاب الایمان باب بیان غلظ تحریم قتل الانسان قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۷۲
کنزالعمال برمز ن حب و حم طب عن ابی بکرۃ حدیث ۲۸۹۵۶ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۰ /۱۸۴
کنزالعمال برمز طب عن ابن عمرو حدیث ۲۸۹۵۶ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۰ /۱۸۴
کنزالعمال برمز ن حب و حم طب عن ابی بکرۃ حدیث ۲۸۹۵۶ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۰ /۱۸۴
کنزالعمال برمز طب عن ابن عمرو حدیث ۲۸۹۵۶ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۰ /۱۸۴
بما تؤمر واعرض عن المشرکین ﴿۹۴﴾" ۔(تو اعلانیہ کہہ دو جس بات کا تمہیں حکم ہے اور مشرکوں سے منہ پھیرلو۔ت)نازل ہوئی اور سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے علانیہ دعوت اسلام شروع کی اشراف قریش جمع ہو کر ابو طالب کے پاس گئے اور کہا کہ تمام عرب میں سب سے زیادہ خوبصورت اور سب سے بڑھ کر اچھی اٹھان والا لڑکا ہم سے لے لو اسے بجائے محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پرورش کرو اور انہیں ہم کو دے دواور اسی ارادہ فاسد پر عمارہ بن ولید کو لے کر گئے تھے کہ ابوطالب نے مانا تو اسے انہیں دے دیں گےابو طالب نے کہا:
"واﷲ لبئس ماتسوموننی اتطوننی ابنکم اغذوہ لکم واعطیکم ابنی تقتلونہ ھذا واﷲ مالا یکون ابدا حین تروح الابل فانہ حنت ناقۃ الی غیر فصیلہا دفعتہ الیکم "۔
لخصناہ حدیث ابن اسحق ذکرناہ بلاغا ومن حدیث مقاتل ذکر ہ فی المواھب خدا کی قسم کیا بری گاہکی میرے ساتھ کررہے ہوکیا تم اپنا بیٹا مجھے دو کہ میں تمہارے لیے اسے کھلاؤں پرورش کروں اور میں اپنا بیٹا تمہیں دے دوں کہ تم اسے قتل کروخدا کی قسم یہ کبھی ہونی نہیںجب اونٹ شام کو نکلتے ہیں تو اگر کوئی ناقہ اپنے بچے کو چھوڑ کر دوسری کی طرف میل کرتی ہو تو میں بھی تم سے اپنا بیٹا بدل لوں۔
(ہم نے اس کو حدیث ابن اسحق سے ملحض کیا جسے انہوں نے مفصل بیان کیا اور ہم نے ملحض کیا اور حدیث مقاتل سے جس کو مواہب میں ذکر کیا گیا ہے۔ت)
ابوطالب نے صاف بتادیا کہ ان کی محبت وہی ہے جو انسان تو انسان حیوان کو بھی اپنے بچے سے ہوتی ہےایسی محبت ایمان نہیں ایمان حب شرعی ہےابوطالب میں اس کی شان نہیںمحبت شرعی وایمانی ہوتی تو نار کو عار پر اختیار اور دم مرگ کلمہ طیبہ سے انکار اور ملت جاہلیت پر اصرار کیوں ہوتا۔امام قسطلانی ارشاد الساری میں فرماتے ہیں:
"واﷲ لبئس ماتسوموننی اتطوننی ابنکم اغذوہ لکم واعطیکم ابنی تقتلونہ ھذا واﷲ مالا یکون ابدا حین تروح الابل فانہ حنت ناقۃ الی غیر فصیلہا دفعتہ الیکم "۔
لخصناہ حدیث ابن اسحق ذکرناہ بلاغا ومن حدیث مقاتل ذکر ہ فی المواھب خدا کی قسم کیا بری گاہکی میرے ساتھ کررہے ہوکیا تم اپنا بیٹا مجھے دو کہ میں تمہارے لیے اسے کھلاؤں پرورش کروں اور میں اپنا بیٹا تمہیں دے دوں کہ تم اسے قتل کروخدا کی قسم یہ کبھی ہونی نہیںجب اونٹ شام کو نکلتے ہیں تو اگر کوئی ناقہ اپنے بچے کو چھوڑ کر دوسری کی طرف میل کرتی ہو تو میں بھی تم سے اپنا بیٹا بدل لوں۔
(ہم نے اس کو حدیث ابن اسحق سے ملحض کیا جسے انہوں نے مفصل بیان کیا اور ہم نے ملحض کیا اور حدیث مقاتل سے جس کو مواہب میں ذکر کیا گیا ہے۔ت)
ابوطالب نے صاف بتادیا کہ ان کی محبت وہی ہے جو انسان تو انسان حیوان کو بھی اپنے بچے سے ہوتی ہےایسی محبت ایمان نہیں ایمان حب شرعی ہےابوطالب میں اس کی شان نہیںمحبت شرعی وایمانی ہوتی تو نار کو عار پر اختیار اور دم مرگ کلمہ طیبہ سے انکار اور ملت جاہلیت پر اصرار کیوں ہوتا۔امام قسطلانی ارشاد الساری میں فرماتے ہیں:
قد کان ابوطالب یحوطہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم و ینصرہ ویحبہ حبا طبعیا لاشرعیا فسبق القدرفیہ واستمر علی کفرہ وﷲ الحجۃ السامیۃ ۔ یعنی ابو طالب نے حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی نصرت و حمایت سب کچھ کیطبعی محبت بہت کچھ رکھی۔ مگر شرعی محبت نہ تھیآخر تقدیر الہی غالبآئی اور معاذ اﷲ کفر پر وفات پائی اور اﷲ ہی کے لیے ہے حجت بلند۔
نسیم الریاض میں ہے:
حنونہ علی النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم و محبتہ لہ امر مشہور فی السیروکان یعظمہ ویعرف نبوتہ ولکن لم یوفقہ اﷲ للاسلام و فی الامتناع ان فیہ حکمۃ خفیۃ من اﷲ تعالی لانہ عظیم قریش لایمکن احدامنھم ان یتعدی علی ما فی جوارہ فکان النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فی بدء امرہ فی کنف حمایتہ یذبھم عنہ کما قال:
واﷲ لن یصلواالیك بجمعہم
حتی اوسد فی التراب دفینا
فلواسلم لم یکن لہ ذمۃ عندھم ولذالم یکن لہ صلی اﷲ علیہ علیہ وسلم بعد موتہ بد من الھجرۃ نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے ساتھ ابوطالب کی مہرو محبت مشہور ہے اور تعظیم و معرفت نبوت معلوممگراﷲ تعالی نے مسلمان ہونے کی توفیق نہ دیاور کتاب الامتاع میں فرمایا: ابوطالب کے مسلمان نہ ہونے میں اﷲ تعالی کی ایك باریك حکمت ہے وہ سردار قریش تھے کوئی ان کی پناہ پر تعدی نہ کر سکتا تھا حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ابتدائے اسلام میں ان کی حمایت میں تھے وہ مخالفوں کو حضور سے دفع کرتے تھےخود ایك شعر میں کہا ہے۔
خدا کی قسم تمام قریش اکٹھے ہوجائیں تو حضور تك نہ پہنچ سکیں گے جب تك میں خاك میں دبا کر لٹا نہ دیا جاؤں۔
تو اگر وہ اسلام لے آتے قریش کے نزدیك ان کی پناہ کوئی چیز نہ رہتیآخر ان کے انتقال پر حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ و سلم کو ہجرت ہی فرمانی ہوئی۔
نسیم الریاض میں ہے:
حنونہ علی النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم و محبتہ لہ امر مشہور فی السیروکان یعظمہ ویعرف نبوتہ ولکن لم یوفقہ اﷲ للاسلام و فی الامتناع ان فیہ حکمۃ خفیۃ من اﷲ تعالی لانہ عظیم قریش لایمکن احدامنھم ان یتعدی علی ما فی جوارہ فکان النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فی بدء امرہ فی کنف حمایتہ یذبھم عنہ کما قال:
واﷲ لن یصلواالیك بجمعہم
حتی اوسد فی التراب دفینا
فلواسلم لم یکن لہ ذمۃ عندھم ولذالم یکن لہ صلی اﷲ علیہ علیہ وسلم بعد موتہ بد من الھجرۃ نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے ساتھ ابوطالب کی مہرو محبت مشہور ہے اور تعظیم و معرفت نبوت معلوممگراﷲ تعالی نے مسلمان ہونے کی توفیق نہ دیاور کتاب الامتاع میں فرمایا: ابوطالب کے مسلمان نہ ہونے میں اﷲ تعالی کی ایك باریك حکمت ہے وہ سردار قریش تھے کوئی ان کی پناہ پر تعدی نہ کر سکتا تھا حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ابتدائے اسلام میں ان کی حمایت میں تھے وہ مخالفوں کو حضور سے دفع کرتے تھےخود ایك شعر میں کہا ہے۔
خدا کی قسم تمام قریش اکٹھے ہوجائیں تو حضور تك نہ پہنچ سکیں گے جب تك میں خاك میں دبا کر لٹا نہ دیا جاؤں۔
تو اگر وہ اسلام لے آتے قریش کے نزدیك ان کی پناہ کوئی چیز نہ رہتیآخر ان کے انتقال پر حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ و سلم کو ہجرت ہی فرمانی ہوئی۔
حوالہ / References
ارشاد الساری شرح صحیح البخاری کتاب المناقب باب قصّہ ابی طالب دارالکتاب العربی بیروت ۶ /۲۰۱
نسیم الریاض القسم الاول الباب الاول الفصل الخامس مرکز اہلسنت برکات رضا گجرات الہند ۱ /۲۱۰
نسیم الریاض القسم الاول الباب الاول الفصل الخامس مرکز اہلسنت برکات رضا گجرات الہند ۱ /۲۱۰
اقول:قرب انتقال تك اسلام نہلانے کی یہ حکمت ہوسکتی ہےمرتے وقت کفر پر اصرار کی حکمت اﷲ جانے یا اس کا رسولشاید اس میں اولا:یہ نکتہ ہو کہ اگر اسلام لا کر مرتے مخالف گمان کرتے کہ اﷲ کے رسول نے ہمارے ساتھ معاذ اﷲ فریب برتااپنے چچا کو مسلمان تو کرلیا تھا مگر پناہ و ذمہ رکھنے کے لیے ظاہر نہ ہونے دیا جب اخیر وقت آیا کہ اب وہ کام نہ رہا ظاہرکروایا۔
ثانیا: ان مسلمانون کی تسکین بھی ہے جن کے بزرگ حالت کفر میں مرے جس کا پتا حدیث ان ابی و باك ۔دیتی ہے اول ناگوار ہوا جب اپنے چچا کو شامل فرمایا سکون پایا۔
ثالثا: مسلمانوں کے لیے اسوہ حسنہ قائم فرمانا کہ اپنے اقارب جب خدا کے خلاف ہوں ان سے براء ت کریں مرنے پر جنازہ میں شریك نہ ہوںنماز نہ پڑھیںدعائے مغفرت نہ کریں کہ جب خود اپنے حبیب کو منع فرمایا تو اوروں کی کیا گنتی۔
رابعا:عمل میں اخلاص ﷲ و خوف وانقیاد کی ترغیب اور محبوبان خدا سے نسبت پر بھول بیٹھنے سے ترہیبجب ابوطالب کو ایسی نسبت قریبہ بان کارہائے عجیبہ بوجہ نامنقادی کام نہ آئی تو اور کیا چیز ہے۔
"الی غیر ذلك مما اﷲ ورسولہ بہ اعلم جل جلالہ وصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم"(اس کے علاوہ دیگر وجوہ جنہیں اﷲ تعالی جل جلالہ اور سول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم خوب جانتے ہیں۔ت)
شبہہ رابعہ ____ نعت شریف____ اقول:یہ تو اور حجت الہیہ قائم ہونا ہے جب ایسا جانتے ہو پھر کیوں نہیں مانتے یہود عنود قبل طلوع شمس رسالت کیا کچھ نعت و مدحت نہ کرتے جب کوئی مشکل آتی مصیبت منہ دکھاتی حضور سے توسل کرتے جب دشمن کا مقابلہ ہوتا دعا مانگتے۔
اللھم انصرنا علیہم بالنبی المبعوث فی اخر الزمان الذی نجدصفتہ فی التورتہ ۔ الہی ہمیں ان پر مدد دے صدقہ نبی آخر الزمان کا جس کی نعت ہم تورات میں پاتے ہیں۔
پھر جان کر نہ ماننے کا کیا نتیجہ ہوا یہ جو قرآن عظیم نے فرمایا:
" وکانوا من قبل یستفتحون علی الذین کفروا فلما جاءہم ما عرفوا کفروا بہ ۫ فلعنۃ اللہ علی اور اس سے پہلے وہ اس نبی کے وسیلہ سے کافروں پر فتح مانگتے تھے تو جب تشریف لایا ان کے پاس وہ جانا پہچانا تو ا سے منکر ہو بیٹھےتو اﷲ کی
ثانیا: ان مسلمانون کی تسکین بھی ہے جن کے بزرگ حالت کفر میں مرے جس کا پتا حدیث ان ابی و باك ۔دیتی ہے اول ناگوار ہوا جب اپنے چچا کو شامل فرمایا سکون پایا۔
ثالثا: مسلمانوں کے لیے اسوہ حسنہ قائم فرمانا کہ اپنے اقارب جب خدا کے خلاف ہوں ان سے براء ت کریں مرنے پر جنازہ میں شریك نہ ہوںنماز نہ پڑھیںدعائے مغفرت نہ کریں کہ جب خود اپنے حبیب کو منع فرمایا تو اوروں کی کیا گنتی۔
رابعا:عمل میں اخلاص ﷲ و خوف وانقیاد کی ترغیب اور محبوبان خدا سے نسبت پر بھول بیٹھنے سے ترہیبجب ابوطالب کو ایسی نسبت قریبہ بان کارہائے عجیبہ بوجہ نامنقادی کام نہ آئی تو اور کیا چیز ہے۔
"الی غیر ذلك مما اﷲ ورسولہ بہ اعلم جل جلالہ وصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم"(اس کے علاوہ دیگر وجوہ جنہیں اﷲ تعالی جل جلالہ اور سول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم خوب جانتے ہیں۔ت)
شبہہ رابعہ ____ نعت شریف____ اقول:یہ تو اور حجت الہیہ قائم ہونا ہے جب ایسا جانتے ہو پھر کیوں نہیں مانتے یہود عنود قبل طلوع شمس رسالت کیا کچھ نعت و مدحت نہ کرتے جب کوئی مشکل آتی مصیبت منہ دکھاتی حضور سے توسل کرتے جب دشمن کا مقابلہ ہوتا دعا مانگتے۔
اللھم انصرنا علیہم بالنبی المبعوث فی اخر الزمان الذی نجدصفتہ فی التورتہ ۔ الہی ہمیں ان پر مدد دے صدقہ نبی آخر الزمان کا جس کی نعت ہم تورات میں پاتے ہیں۔
پھر جان کر نہ ماننے کا کیا نتیجہ ہوا یہ جو قرآن عظیم نے فرمایا:
" وکانوا من قبل یستفتحون علی الذین کفروا فلما جاءہم ما عرفوا کفروا بہ ۫ فلعنۃ اللہ علی اور اس سے پہلے وہ اس نبی کے وسیلہ سے کافروں پر فتح مانگتے تھے تو جب تشریف لایا ان کے پاس وہ جانا پہچانا تو ا سے منکر ہو بیٹھےتو اﷲ کی
حوالہ / References
صحیح مسلم کتاب الایمان باب بیان ان من مات علی الکفر الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۱۴
البحرالمحیط تحت الآیۃ ۲/ ۷۹ دار الفکر بیروت ۱/ ۳۰۳
البحرالمحیط تحت الآیۃ ۲/ ۷۹ دار الفکر بیروت ۱/ ۳۰۳
الکفرین﴿۸۹﴾" ۔ لعنت ہو منکروں پر۔(ت)
اصابہ میں فرماتے ہیں:
اماشھادۃ ابی طالب بتصدیق النبی صلی اﷲ تعالی علیہ سلم فالجواب عنہ وعما ورد من شعرابی طالب فی ذلك انہ نظیر ماحکی اﷲ تعالی عن کفار قریش "وجحدوا بہا واستیقنتہا انفسھم ظلما وعلوا فکان کفرھم عنادا ومنشؤہ من الانفۃ والکبر والی ذلك اشار ابوطالب بقولہ لولا ان تعیرنی قریش "۔ یعنی ابوطالب کے ان اشعار وغیرہا(جن میں تصدیق نبی کی شہادت ہے)کا جواب یہ ہے کہ وہ اسی قبیل سے ہے جو قرآن عظیم نے کفار کا حال بیان فرمایا کہ براہ ظلم و تکبر منکر ہوتے اور دل میں خوب یقین رکھتے ہیں تو یہ کفر عناد ہوا اور اس کا منشاء تکبر اور اپنے نزدیك بڑی ناك والا ہوناہے خود ابوطالب نے اس کی طرف اشارہ کیا کہ اگر قریش کی طعنہ زنی کا خیال نہ ہوتا تو اسلام لے آتا۔
شبہہ خامسہ____حضور کا استغفار فرمانا____اقول:اولا اس کا جواب خود رب الارباب جل جلالہدے چکاحضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے قید لگادی تھی مالم انہ عند تیرے لیے استغفار فرماؤں گا جب تك منع نہ کیا جاؤں گا۔رب العزۃ جل جلالہ نے منع فرمادیا اب اس سے استناد خرط القتاد۔
ثانیا: خود یہ وعدہ ہی کلمہ طیبہ سے انکار سن کر ارشاد ہوا تھا۔دیکھو حدیث دومپھر اسے دلیل اسلام ٹھہرانا عجب ہے۔
شبہہ سادسہ____حکایت جامع الاصول____ اقول:سید اہلبیت رضی اﷲ تعالی عنہم مولی کرم اﷲ وجہہ الکریم ابوطالب کو مشرك کہتے باوصف حکم اقدس غسل وکفن میں تامل عرض کرتے سیدالسادات سید الکائنات علیہ وآلہ افضل الصلوۃ واکمل التحیات اسے مقرر رکھتےجنازہ میں شرکت سے باز رہتےسیدنا جعفر بن ابی طالب وامیر المومنین علی رضی اﷲ تعالی عنہما بوجہ اسلام ترکہ کفارسے محرومی پاتےسیدامام زین العابدین رضی اﷲ تعالی عنہ اس کی وجہ کفر ابی طالب بیان فرماتے۔امیر المومنین عمر فاروق رضی اﷲ تعالی عنہ ختن اہل بیت اسے کافرکا ترکہ مومن کو نہ ملنے کی دلیل
اصابہ میں فرماتے ہیں:
اماشھادۃ ابی طالب بتصدیق النبی صلی اﷲ تعالی علیہ سلم فالجواب عنہ وعما ورد من شعرابی طالب فی ذلك انہ نظیر ماحکی اﷲ تعالی عن کفار قریش "وجحدوا بہا واستیقنتہا انفسھم ظلما وعلوا فکان کفرھم عنادا ومنشؤہ من الانفۃ والکبر والی ذلك اشار ابوطالب بقولہ لولا ان تعیرنی قریش "۔ یعنی ابوطالب کے ان اشعار وغیرہا(جن میں تصدیق نبی کی شہادت ہے)کا جواب یہ ہے کہ وہ اسی قبیل سے ہے جو قرآن عظیم نے کفار کا حال بیان فرمایا کہ براہ ظلم و تکبر منکر ہوتے اور دل میں خوب یقین رکھتے ہیں تو یہ کفر عناد ہوا اور اس کا منشاء تکبر اور اپنے نزدیك بڑی ناك والا ہوناہے خود ابوطالب نے اس کی طرف اشارہ کیا کہ اگر قریش کی طعنہ زنی کا خیال نہ ہوتا تو اسلام لے آتا۔
شبہہ خامسہ____حضور کا استغفار فرمانا____اقول:اولا اس کا جواب خود رب الارباب جل جلالہدے چکاحضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے قید لگادی تھی مالم انہ عند تیرے لیے استغفار فرماؤں گا جب تك منع نہ کیا جاؤں گا۔رب العزۃ جل جلالہ نے منع فرمادیا اب اس سے استناد خرط القتاد۔
ثانیا: خود یہ وعدہ ہی کلمہ طیبہ سے انکار سن کر ارشاد ہوا تھا۔دیکھو حدیث دومپھر اسے دلیل اسلام ٹھہرانا عجب ہے۔
شبہہ سادسہ____حکایت جامع الاصول____ اقول:سید اہلبیت رضی اﷲ تعالی عنہم مولی کرم اﷲ وجہہ الکریم ابوطالب کو مشرك کہتے باوصف حکم اقدس غسل وکفن میں تامل عرض کرتے سیدالسادات سید الکائنات علیہ وآلہ افضل الصلوۃ واکمل التحیات اسے مقرر رکھتےجنازہ میں شرکت سے باز رہتےسیدنا جعفر بن ابی طالب وامیر المومنین علی رضی اﷲ تعالی عنہما بوجہ اسلام ترکہ کفارسے محرومی پاتےسیدامام زین العابدین رضی اﷲ تعالی عنہ اس کی وجہ کفر ابی طالب بیان فرماتے۔امیر المومنین عمر فاروق رضی اﷲ تعالی عنہ ختن اہل بیت اسے کافرکا ترکہ مومن کو نہ ملنے کی دلیل
حوالہ / References
القرآن الکریم ۲ /۷۹
الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ حرف الطاء ترجمہ ۶۸۵ ابو طالب دارصادر بیروت ۴ /۱۱۷
الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ حرف الطاء ترجمہ ۶۸۵ ابو طالب دارصادر بیروت ۴ /۱۱۷
ٹھہراتے۔سیدنا عباس عم رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ورضی اﷲ تعالی عنہ ان کے حال سے سوال کرکے وہ جواب پاتے۔سیدنا عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما آیت "وان یھلکون الا انفسہم" کا ابو طالب کے حق میں نزول بتاتے اور سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے حدیث ہشتم اور ام المومنین ام سلمہ زوجہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم حدیث ہفتم امیرالمومنین علی برادر رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم حدیث پانز دہم روایت فرماتے ہیں:یہ سروران وسرداران اہل بیت کرام ہیں رضی اﷲ تعالی عنہم اجمعینان کے بعد وہ کون سے اہلبیت قائل اسلام ابوطالب ہوئےکیا قرآن و حدیث و اطباق ائمہ قدیم و حدیث کے مقابل ایسی حکایات بے زمام و خطام کچھ کام دے سکتی ہیںحاشالاجرم شیخ محقق مدارج النبوت میں فرماتے ہیں:
ازاعمام پیغمبر صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم غیر حمزہ و عباس مسلمان نہ شدہ اند وابوطالب و ابولہب زمان اسلام را دریافتہ اما توفیق اسلام نیافتہ جمہور علماء برین اند و صاحب جامع الاصول آوردہ کہ زعم اہلبیت آن ست کہ ابوطالب مسلمان از دنیا رفتہ واﷲ اعلم بصحتہ کذا فی روضۃ الاحباب ۔ پیغمبر صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے چچوں میں سے حضرت حمزہ و عباس رضی اﷲ تعالی عنہما کے سوا کوئی مسلمان نہ ہوا ابو طالب وا بولہب نے اسلام کا زمانہ پایا مگر اسلام لانے کی توفیق نہ پائی۔جمہور علماء کا موقف یہی ہےاور صاحب جامع الاصول نے ذکر کیا ہے کہ اہل بیت کا گمان یہ ہے کہ ابو طالب مسلمان ہو کر دنیا سے گئے ہیںاس کی صحت کا حال اﷲ تعالی خوب جانتا ہےیونہی روضۃ الاحباب میں ہے۔(ت)
اقول:علماء کا جا بجا کفر ابی طالب پر اجماع نقل فرمانا اور اسلام ابی طالب کا قول مزعوم روافض بتاناجس کے نقول اگلے فصول میں مذکور و منقولاس حکایت بے سرو پا کے رد کو بس ہےکیا باوصف خلافائمہ اہلبیت اجماع منعقد ہوسکتا یا معاذ اﷲ ان کا خلاف لا یعتد بہ ٹھہرا کر دعوی اتفاق فرمادیا جاتا اور جب خود اپنےائمہ کرام میں خلاف حاصل تو جانب اجانب اعنی روافض قصر نسبت پر کیا حاملپس عندالتحقیق یہ حکایت بے اصل اور محکی عنہ معدوم و باطلہاں اگر سادات زید یہ کہ ایك فرقہ روافض ہے مراد ہوں تو عجب نہیں اور شبہہ زائل۔
ازاعمام پیغمبر صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم غیر حمزہ و عباس مسلمان نہ شدہ اند وابوطالب و ابولہب زمان اسلام را دریافتہ اما توفیق اسلام نیافتہ جمہور علماء برین اند و صاحب جامع الاصول آوردہ کہ زعم اہلبیت آن ست کہ ابوطالب مسلمان از دنیا رفتہ واﷲ اعلم بصحتہ کذا فی روضۃ الاحباب ۔ پیغمبر صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے چچوں میں سے حضرت حمزہ و عباس رضی اﷲ تعالی عنہما کے سوا کوئی مسلمان نہ ہوا ابو طالب وا بولہب نے اسلام کا زمانہ پایا مگر اسلام لانے کی توفیق نہ پائی۔جمہور علماء کا موقف یہی ہےاور صاحب جامع الاصول نے ذکر کیا ہے کہ اہل بیت کا گمان یہ ہے کہ ابو طالب مسلمان ہو کر دنیا سے گئے ہیںاس کی صحت کا حال اﷲ تعالی خوب جانتا ہےیونہی روضۃ الاحباب میں ہے۔(ت)
اقول:علماء کا جا بجا کفر ابی طالب پر اجماع نقل فرمانا اور اسلام ابی طالب کا قول مزعوم روافض بتاناجس کے نقول اگلے فصول میں مذکور و منقولاس حکایت بے سرو پا کے رد کو بس ہےکیا باوصف خلافائمہ اہلبیت اجماع منعقد ہوسکتا یا معاذ اﷲ ان کا خلاف لا یعتد بہ ٹھہرا کر دعوی اتفاق فرمادیا جاتا اور جب خود اپنےائمہ کرام میں خلاف حاصل تو جانب اجانب اعنی روافض قصر نسبت پر کیا حاملپس عندالتحقیق یہ حکایت بے اصل اور محکی عنہ معدوم و باطلہاں اگر سادات زید یہ کہ ایك فرقہ روافض ہے مراد ہوں تو عجب نہیں اور شبہہ زائل۔
حوالہ / References
مدارج النبوۃ باب سوئم در ذکر اعمام النبی مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر پاکستان ۲ /۴۹۰
شبہہ سابعہ ____ عبارت شرح سفر السعادۃ ____ اقول:یہ تہمت محض ہے شیخ محقق رحمۃ اﷲ علیہ کی عبارتیں خود اسی شرح صراط المستقیم وغیرہ تصانیف سے اوپر گرچکیں جو اس کی تکذیب کو بس ہیں۔شیخ فرماتے ہیں:حدیث صحیح ابو طالب کا کفر ثابت کرتی ہے علمائے اہل سنت ابو طالب کا کفر مانتے ہیں شیعہ انہیں مسلمان جانتے ہیں انکے دلائل مردود و باطل ہیں۔ان سب تصریحات کے بعد توقف کا کیا محلہاں یہ عبارت مدارج شریف میں نسبت آباء و اجداد حضور سید انام علیہ افضل الصلوۃ والسلام تحریر فرمائی ہے۔
حیث قال متاخران ثابت کردہ اندکہ آباء واجداد آن حضرت صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پاك ومصفا بودند ازدنس شرك وکفر باری کم ازاں نہ باشد کہ دریں مسئلہ توقف کنندو صرفہ نگاہ دارند ۔ جہاں فرمایا کہ متاخرین نے ثابت کیا ہے کہ آنحضرت صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے آباء و اجداد شرك و کفر باری تعالی کی میل کچیل سے پاك و صاف ہیں کم از کم اس مسئلہ میں انہوں نے توقف کیا ہے اور احتیاط کو ملحوظ رکھا ہے۔(ت)
شبہہ ثامنہ ____ وصیت نامہ____ اقول:اولا:وہ ایك حکایت منقطعہ ہے جس کا منتہائے سند ایك رافضی غالیمواہب شریف میں جس سے عمرو ناقل یہ وصیت نامہ یوں منقول:
حکی عن ھشام بن السائب الکلبی اوابیہ انہ قال لما حضرت ابا طالب الوفاۃ جمع الیہ وجوہ قریش الخ یعنی ہشام بن سائب کلبی کو فی یا اس کے باپ کلبی سے حکایت کی گئی کہ ابوطالب نے مرتے وقت عمدگان قریش کو جمع کرکے وصیت کی۔
ہشام وکلبی دونوں رافضی مطعون ہیں۔میزان الاعتدال میں ہے:
قال البخاری ابوالنضر الکلبی ترکہ یحیی وابن مھدی قال علی ثناء یحیی عن سفین قال الکلبی کلما حدثتك عن ابی صالح فہو کذبو قال یزیدبن زریع ثناء الکلبی امام بخاری نے فرمایا ابو نضرکلبی کو امام یحیی ی بن معین و امام عبدالرحمن بن مہدی نے اسے متروك کیا۔امام سفین فرماتے ہیں۔مجھ سے کلبی نے کاہ جتنی حدیثیں میں نے آپ کے سامنے ابوصالح سے روایت کی ہیں وہ سب جھوٹ ہیںی زید بن زریع نے کہا:کلبی رافضی
حیث قال متاخران ثابت کردہ اندکہ آباء واجداد آن حضرت صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پاك ومصفا بودند ازدنس شرك وکفر باری کم ازاں نہ باشد کہ دریں مسئلہ توقف کنندو صرفہ نگاہ دارند ۔ جہاں فرمایا کہ متاخرین نے ثابت کیا ہے کہ آنحضرت صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے آباء و اجداد شرك و کفر باری تعالی کی میل کچیل سے پاك و صاف ہیں کم از کم اس مسئلہ میں انہوں نے توقف کیا ہے اور احتیاط کو ملحوظ رکھا ہے۔(ت)
شبہہ ثامنہ ____ وصیت نامہ____ اقول:اولا:وہ ایك حکایت منقطعہ ہے جس کا منتہائے سند ایك رافضی غالیمواہب شریف میں جس سے عمرو ناقل یہ وصیت نامہ یوں منقول:
حکی عن ھشام بن السائب الکلبی اوابیہ انہ قال لما حضرت ابا طالب الوفاۃ جمع الیہ وجوہ قریش الخ یعنی ہشام بن سائب کلبی کو فی یا اس کے باپ کلبی سے حکایت کی گئی کہ ابوطالب نے مرتے وقت عمدگان قریش کو جمع کرکے وصیت کی۔
ہشام وکلبی دونوں رافضی مطعون ہیں۔میزان الاعتدال میں ہے:
قال البخاری ابوالنضر الکلبی ترکہ یحیی وابن مھدی قال علی ثناء یحیی عن سفین قال الکلبی کلما حدثتك عن ابی صالح فہو کذبو قال یزیدبن زریع ثناء الکلبی امام بخاری نے فرمایا ابو نضرکلبی کو امام یحیی ی بن معین و امام عبدالرحمن بن مہدی نے اسے متروك کیا۔امام سفین فرماتے ہیں۔مجھ سے کلبی نے کاہ جتنی حدیثیں میں نے آپ کے سامنے ابوصالح سے روایت کی ہیں وہ سب جھوٹ ہیںی زید بن زریع نے کہا:کلبی رافضی
حوالہ / References
مدارج النبوۃ باب سوم وفات یافتن ابوطالب مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۲ /۴۹
المواہب اللدنیۃ عام الحزن وفاۃ ابی طالب المکتب الاسلامی بیروت ۱ /۲۶۵
المواہب اللدنیۃ عام الحزن وفاۃ ابی طالب المکتب الاسلامی بیروت ۱ /۲۶۵
وکان سبائیا قال الاعمش اتق ھذہ السبائیۃ فانی ادرکت الناس وانما یسمونھم الکذابینالتبوذکی سمعت ھما ما یقول سمعت الکلبی یقول انا سبائی عن ابی عوانۃ سمعت الکلبی یقول انا سبائی عن ابی عوانۃ سمعت الکلبی یقول کان جبرئیل یملی الوحی علی النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فلما دخل النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم الخلاء جعل یملی علی علی قال الجوز جانی وغیرہ کذاب وقال الدار قطنی و جماعۃ متروك وقال ابن حبان مذھبہ فی الدین و وضوع الکذب فیہ اظھر من ان یحتاج الی الاغراق فی وصفہ لایحل ذکرہ فی الکتاب فکیف الاحتجاج بہ اھ ملتقطا"۔ تھا۔امام سلیمن اعمش تابعی نے فرمایا کہ ان رافضیوں سے بچومیں نے علماء کو پایا کہ ان کا نام کذاب رکھتے تھے تبوذ کی کہتے ہیں میں نے ہمام سے سنا وہ کہتی ہیں میں نے خود کلبی کو کہتے سنا کہ میں رافضی ہوں۔ابوعوانہ کہتے ہیں کلبی نے میرے سامنے کہا کہ جبرئیل نبی کو وحی لکھاتے تھے جب حضور بیت الخلاء کو تشریف لے جاتے تو مولی علی(کرم اﷲ تعالی وجہہ الکریم)کو لکھانے لگتے۔جو زجانی وغیرہ نے کہا۔کلبی کذاب ہےدارقطنی اور ایك جماعت علماء نے کہا:متروك ہے۔ابن حبان نے کہا اس کا مذہب دین میں اور اس میں کذب کا وضوع ایسا روشن ہے کہ محتاج بیان نہیں کتابوں میں اس کا ذکر کرنا حلال نہیں اور نہ اس سے سند لانا اھ ملتقطا۔
اسی میں ہے:
ہشام بن محمد بن السائب الکلبی قال احمد بن حنبل انما کان صاحب سمر و نسب ما ظننت ان احدا یحدث عنہ وقال الدارقطنی وغیرہ متروك وقال ابن عساکر رافضی لیس بثقۃ ۔ امام احمد نے کلبی کے بیٹے ہشام کی نسبت فرمایا:وہ تو یہی کچھ کہانیاں کچھ نسبت نامے جانتا تھا مجھے گمان نہ تھا کہ کوئی اس سے حدیث روایت کرے گا۔امام دارقطنی وغیرہ نے فرمایا: متروك ہے۔امام ابن عساکر نے کہا:رافضی نامعتمدہے۔
ثانیا:خود اسی وصیت نامہ میں وہ لفظ منقول جن میں صاف اپنے حال کی طرف اشارہ ہےکہ ان حاضرین سے کہا:
اسی میں ہے:
ہشام بن محمد بن السائب الکلبی قال احمد بن حنبل انما کان صاحب سمر و نسب ما ظننت ان احدا یحدث عنہ وقال الدارقطنی وغیرہ متروك وقال ابن عساکر رافضی لیس بثقۃ ۔ امام احمد نے کلبی کے بیٹے ہشام کی نسبت فرمایا:وہ تو یہی کچھ کہانیاں کچھ نسبت نامے جانتا تھا مجھے گمان نہ تھا کہ کوئی اس سے حدیث روایت کرے گا۔امام دارقطنی وغیرہ نے فرمایا: متروك ہے۔امام ابن عساکر نے کہا:رافضی نامعتمدہے۔
ثانیا:خود اسی وصیت نامہ میں وہ لفظ منقول جن میں صاف اپنے حال کی طرف اشارہ ہےکہ ان حاضرین سے کہا:
حوالہ / References
میزان الاعتدال ترجمہ ۷۵۷۴ محمد بن سائب الکلبی دارالمعرفۃ بیروت ۳ /۵۵۷تا ۵۵۹
میزان الاعتدال ترجمہ ۹۲۳۷ ھشام بن محمد السائب دارالمعرفۃ بیروت ۴ /۳۰۴
میزان الاعتدال ترجمہ ۹۲۳۷ ھشام بن محمد السائب دارالمعرفۃ بیروت ۴ /۳۰۴
قدجاء بامرقبلہ الجنان وانکرہ اللسان مخافۃ الشنان ۔ محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ہمارے پاس وہ بات لے کر آئے جسے دل نے مانا اور زبان نے انکار کیا اس خوف سے کہ لوگ دشمن ہوجائیں گے۔
علامہ زرقانی اس کی شرح میں فرماتے ہیں:
لما تعیرونہ بہ من تبعیتہ لابن اخیہ ۔ یعنی وہ خوف یہ ہے کہ تم عیب لگاؤ گے کہ وہ اپنے بھیتجے کا تابع ہوگیا۔
یعنی بھتیجا تو بیٹے کی مثل ہے انہیں امام بناتے آپ غلام بنتے عار آتی ہےتم طعنہ کرو گے اس لیے اسلام سے انکار ہے اگرچہ دل پر ان کا صدق آشکار ہے۔
ثالثا: نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے باب میں ان سے بعض وصایا ضرور منقول مگر جب اوروں کو وصیت ہو خود جاہلی حمیت ہو تو اس سے کیا حصول۔قال اﷲ تعالی:
" کبر مقتا عند اللہ ان تقولوا ما لا تفعلون ﴿۳﴾" ۔ اﷲ کو سخت دشمن ہے یہ بات کہ کہو اور نہ کرو۔
تندرستی میں بھی یہی برتاؤ تھا کہ اوروں کو ترغیب دینا اور آپ بچنا وہی انداز وقت مرگ برتا۔اصابہ میں فرمایا:
وھوامرابی طالب ولدیہ باتباعہ فترکہ ذلك ھو من جملۃ العناد وھو ایضا من حسن نصرتہ لہ و ذبہ عنہ و معاداتہ قومہ بسببہ ۔ رہا یہ کہ ابو طالب کا اپنے بیٹوں حیدر کرار و جعفر طیار رضی اﷲ تعالی عنہما سے کہنا کہ سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی پیروی کرو تو خود اس کا ترك کرنا یہ عناد میں سے ہے اور یہ ترغیب پیروی بھی ان کی اسی خوبی مدد و حمایت اور حضور کے باعث اپنی قوم سے مخالفت ہی میں داخل ہے۔
علامہ زرقانی اس کی شرح میں فرماتے ہیں:
لما تعیرونہ بہ من تبعیتہ لابن اخیہ ۔ یعنی وہ خوف یہ ہے کہ تم عیب لگاؤ گے کہ وہ اپنے بھیتجے کا تابع ہوگیا۔
یعنی بھتیجا تو بیٹے کی مثل ہے انہیں امام بناتے آپ غلام بنتے عار آتی ہےتم طعنہ کرو گے اس لیے اسلام سے انکار ہے اگرچہ دل پر ان کا صدق آشکار ہے۔
ثالثا: نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے باب میں ان سے بعض وصایا ضرور منقول مگر جب اوروں کو وصیت ہو خود جاہلی حمیت ہو تو اس سے کیا حصول۔قال اﷲ تعالی:
" کبر مقتا عند اللہ ان تقولوا ما لا تفعلون ﴿۳﴾" ۔ اﷲ کو سخت دشمن ہے یہ بات کہ کہو اور نہ کرو۔
تندرستی میں بھی یہی برتاؤ تھا کہ اوروں کو ترغیب دینا اور آپ بچنا وہی انداز وقت مرگ برتا۔اصابہ میں فرمایا:
وھوامرابی طالب ولدیہ باتباعہ فترکہ ذلك ھو من جملۃ العناد وھو ایضا من حسن نصرتہ لہ و ذبہ عنہ و معاداتہ قومہ بسببہ ۔ رہا یہ کہ ابو طالب کا اپنے بیٹوں حیدر کرار و جعفر طیار رضی اﷲ تعالی عنہما سے کہنا کہ سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی پیروی کرو تو خود اس کا ترك کرنا یہ عناد میں سے ہے اور یہ ترغیب پیروی بھی ان کی اسی خوبی مدد و حمایت اور حضور کے باعث اپنی قوم سے مخالفت ہی میں داخل ہے۔
حوالہ / References
المواہب اللدنیہ عام الحزن وفاۃ ابی طالب المکتب الاسلامی بیروت ۱ /۲۶۵
شرح الزرقانی المواھب اللدنیۃ وفاۃ خدیجۃ و ابی طالب دارالمعرفۃ بیروت ۱ /۲۹۵
القرآن الکریم ۶۱ /۳
الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ حرف الطاء القسم الرابع ابوطالب دارصاد ر بیروت ۴ /۱۱۷
شرح الزرقانی المواھب اللدنیۃ وفاۃ خدیجۃ و ابی طالب دارالمعرفۃ بیروت ۱ /۲۹۵
القرآن الکریم ۶۱ /۳
الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ حرف الطاء القسم الرابع ابوطالب دارصاد ر بیروت ۴ /۱۱۷
یعنی جہاں وہ سب کچھ تھا این ہم برعلم ایمان بے اذعان ملنا کیا امکانولہذا علمائے کرام جہاں ابوطالب سے یہ امور نقل فرماتے ہیں وہیں موت علی الکفر کی بھی تصریح کر جاتے ہیں اسی مواہب اللدنیہ اور ان کی دوسری کتاب ارشاد الساری کے کتنے کلمات اوپر گزرے۔مجمع البحار میں ہے:
فی العاشرۃ دناموت ابی طالب فوصی بنی المطلب باعانتہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ومات فقال علی رضی اﷲ تعالی عنہ ان عمك الضال قدمات قال فاغسلہ وکفنہ و وارہ غفر اﷲ لہ فجعل یستغفرلہ ایاماحتی نزل " مکان للنبی" ۔ یعنی نبوت سے دسویں سال ابو طالب کو موت آئی بنی عبدالمطلب کو مددگاری نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی وصیت کرکے مرگئے۔اس پر مولا علی کرم اﷲ تعالی وجہہ الکریم نے عرض کی:حضور کا چچا مر گیا۔فرمایا:نہلا کفنا کر دبا دے اﷲ اسے بخشے۔دعائے مغفرت فرماتے رہے یہاں تك کہ آیت اتری نبی کو روا نہیں کہ مشرکوں جہنمیوں کی بخشش مانگے۔
علامہ حفنی حاشیہ شرح ہمزیہ میں لکھتے ہیں:
"قال القرطبی فی المفہم کان ابو طالب یعرف صدق رسول اﷲ تعالی علیہ وسلم فی کل مایقولہ ویقول لقریش تعلمون واﷲ ان محمدا لم یکذب قط و یقول لا بنہ علی اتبعہ فانہ علی الحق غیرانہ لم یدخل فی الاسلام ولم یزل علی ذلك حتی حضوتہ الوفاۃ فدخل علیہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم طامعا فی اسلامہ حریصا علیہ باذلافی ذلك یعنی امام قرطبی نے مفہم شرح صحیح مسلم میں فرمایا:ابو طالب خوب جانتے تھے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم جو کچھ فرماتے ہیں سب حق ہے قریش سے کہتے خدا کی قسم تمہیں معلوم ہے کہ محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے کبھی کوئی کلمہ خلاف واقع نہ فرمایا اپنے بیٹے علی کرم اﷲ وجہہ سے کہتے ان کے پیرو رہنا کہ یہ حق پر ہیں پر سب کچھ تھا مگر خود اسلام میں نہ آئے موت آنے تك اسی حال پر رہے اس وقت حضور اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ان کے پاس تشریف فرما ہوئے اس امید پر کہ شاید مسلمان ہوجائیںاس کی حضور کو سخت خواہش
فی العاشرۃ دناموت ابی طالب فوصی بنی المطلب باعانتہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ومات فقال علی رضی اﷲ تعالی عنہ ان عمك الضال قدمات قال فاغسلہ وکفنہ و وارہ غفر اﷲ لہ فجعل یستغفرلہ ایاماحتی نزل " مکان للنبی" ۔ یعنی نبوت سے دسویں سال ابو طالب کو موت آئی بنی عبدالمطلب کو مددگاری نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی وصیت کرکے مرگئے۔اس پر مولا علی کرم اﷲ تعالی وجہہ الکریم نے عرض کی:حضور کا چچا مر گیا۔فرمایا:نہلا کفنا کر دبا دے اﷲ اسے بخشے۔دعائے مغفرت فرماتے رہے یہاں تك کہ آیت اتری نبی کو روا نہیں کہ مشرکوں جہنمیوں کی بخشش مانگے۔
علامہ حفنی حاشیہ شرح ہمزیہ میں لکھتے ہیں:
"قال القرطبی فی المفہم کان ابو طالب یعرف صدق رسول اﷲ تعالی علیہ وسلم فی کل مایقولہ ویقول لقریش تعلمون واﷲ ان محمدا لم یکذب قط و یقول لا بنہ علی اتبعہ فانہ علی الحق غیرانہ لم یدخل فی الاسلام ولم یزل علی ذلك حتی حضوتہ الوفاۃ فدخل علیہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم طامعا فی اسلامہ حریصا علیہ باذلافی ذلك یعنی امام قرطبی نے مفہم شرح صحیح مسلم میں فرمایا:ابو طالب خوب جانتے تھے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم جو کچھ فرماتے ہیں سب حق ہے قریش سے کہتے خدا کی قسم تمہیں معلوم ہے کہ محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے کبھی کوئی کلمہ خلاف واقع نہ فرمایا اپنے بیٹے علی کرم اﷲ وجہہ سے کہتے ان کے پیرو رہنا کہ یہ حق پر ہیں پر سب کچھ تھا مگر خود اسلام میں نہ آئے موت آنے تك اسی حال پر رہے اس وقت حضور اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ان کے پاس تشریف فرما ہوئے اس امید پر کہ شاید مسلمان ہوجائیںاس کی حضور کو سخت خواہش
حوالہ / References
مجمع بحارالانوار فصل فی السیر بیان ارضاعہ مکتبہ دار الایمان مدینۃ المنورۃ ۵/ ۲۷۲
جہدہ مستفرغا ما عندہ ولکن عاقت عن ذلك عوائق الاقدار التی لاینفع معہا حرص ولا اعتذار ۔
وحسبنا اﷲ ونعم الوکیل ولاحول ولا قوۃ الا باﷲ العلی العظیم ۔ تھی جو کچھ کوشش ممکن تھی سب خرچ فرمادی مگر وہ تقدیریں آڑے آئیں جن کے آگے نہ خواہش چلتی ہے نہ عذر۔
اور اﷲ تعالی ہمیں کافی ہے کیا ہی اچھا کارساز ہےاور نہ گناہ سے بچنے کی طاقت ہے اور نہ نیکی کرنے کی قوت مگر بلندی و عظمت والے خدا کی توفیق سے۔(ت)
شبہہ تاسعہ:الحمدﷲ عمرو کے سب شبہات حل ہوگئے اور وہ شبہات ہی کیا تھے محض مہملات تھے اب ایك شبہہ باقی رہا جس سے زمانہ قدیم میں بعض روافض نے اپنے رسالہ "اسلام ابی طالب"میں استناد کیا اور اکابرائمہ علمائے اہل سنت مثل امام اجل بیھقی و امام جلیل سہیلی و امام حافظ الشان ابن حجر عسقلانی و امام بدر الدین محمود عینی و امام احمد قسطلانی و امام ابن حجر مکی و علامہ حسین دیار بکری وعلامہ محمد زرقانی و شیخ محقق دہلوی وغیرہم رحمہم اﷲ تعالی نے متعدد وجوہ سے جواب دیا۔سنی کے لیے تو اسی قدر سے جواب ظاہر ہوگیا کہ استدلال کرنے والا ایك رافضی اور جواب دینے والےائمہ و علمائے اہلسنت مگر تتمیم فائدہ کے لیے فقیر غفرلہ المولی القدیر وہ شبہہ اور علماء کے اجوبہ ذکر کرکے جو کچھ فیض قدیر سے قلب فقیر پر فائض ہوا تحریر کرے۔وباﷲ التوفیقابن اسحق نے سیرۃ میں ایك روایت شاذہ ذکر کی جس کا خلاصہ یہ ہے کہ ابو طالب کے مرض الموت میں اشراف قریش جمع ہو کر ان کے پاس گئے کہ محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو سمجھا دو کہ ہمارے دین سے غرض نہ رکھیںہم ان کے دین سے تعرض نہ کریں ابو طالب نے حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو بلا کر عرض کیحضور پر نور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:ہاں یہ ایك بات کہہ لیں جس سے تم تمام عرب کے مالك ہوجاؤ اور عجم تمہاری مطیع ابوجہل لعین نے عرض کی حضور ہی کے باپ کی قسم ایك بات نہیں دس۱۰ باتیں۔فرمایا:تو لا الہ الا اﷲ کہہ لو۔اس پر کافر تالیاں بجا کر بھاگ گئے۔ابوطالب کے منہ سے نکلاخدا کی قسم حضور نے کوئی بے جا بات تو ان سے نہ چاہی تھی اس کہنے سے سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو امید پڑی کہ شاید یہی مسلمان ہوجائے۔حضور نے بار بار فرمانا شروع کیا:اے چچا ! تو ہی کہہ لے جس کے سبب سے میں تیری شفاعت روز قیامت حلال کرلوں۔جب ابوطالب نے حضور کی شدت خواہش دیکھی تو کہا۔اے بھتیجے ! میرے خدا کی قسم اگر یہ خوف نہ ہوتا
وحسبنا اﷲ ونعم الوکیل ولاحول ولا قوۃ الا باﷲ العلی العظیم ۔ تھی جو کچھ کوشش ممکن تھی سب خرچ فرمادی مگر وہ تقدیریں آڑے آئیں جن کے آگے نہ خواہش چلتی ہے نہ عذر۔
اور اﷲ تعالی ہمیں کافی ہے کیا ہی اچھا کارساز ہےاور نہ گناہ سے بچنے کی طاقت ہے اور نہ نیکی کرنے کی قوت مگر بلندی و عظمت والے خدا کی توفیق سے۔(ت)
شبہہ تاسعہ:الحمدﷲ عمرو کے سب شبہات حل ہوگئے اور وہ شبہات ہی کیا تھے محض مہملات تھے اب ایك شبہہ باقی رہا جس سے زمانہ قدیم میں بعض روافض نے اپنے رسالہ "اسلام ابی طالب"میں استناد کیا اور اکابرائمہ علمائے اہل سنت مثل امام اجل بیھقی و امام جلیل سہیلی و امام حافظ الشان ابن حجر عسقلانی و امام بدر الدین محمود عینی و امام احمد قسطلانی و امام ابن حجر مکی و علامہ حسین دیار بکری وعلامہ محمد زرقانی و شیخ محقق دہلوی وغیرہم رحمہم اﷲ تعالی نے متعدد وجوہ سے جواب دیا۔سنی کے لیے تو اسی قدر سے جواب ظاہر ہوگیا کہ استدلال کرنے والا ایك رافضی اور جواب دینے والےائمہ و علمائے اہلسنت مگر تتمیم فائدہ کے لیے فقیر غفرلہ المولی القدیر وہ شبہہ اور علماء کے اجوبہ ذکر کرکے جو کچھ فیض قدیر سے قلب فقیر پر فائض ہوا تحریر کرے۔وباﷲ التوفیقابن اسحق نے سیرۃ میں ایك روایت شاذہ ذکر کی جس کا خلاصہ یہ ہے کہ ابو طالب کے مرض الموت میں اشراف قریش جمع ہو کر ان کے پاس گئے کہ محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو سمجھا دو کہ ہمارے دین سے غرض نہ رکھیںہم ان کے دین سے تعرض نہ کریں ابو طالب نے حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو بلا کر عرض کیحضور پر نور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:ہاں یہ ایك بات کہہ لیں جس سے تم تمام عرب کے مالك ہوجاؤ اور عجم تمہاری مطیع ابوجہل لعین نے عرض کی حضور ہی کے باپ کی قسم ایك بات نہیں دس۱۰ باتیں۔فرمایا:تو لا الہ الا اﷲ کہہ لو۔اس پر کافر تالیاں بجا کر بھاگ گئے۔ابوطالب کے منہ سے نکلاخدا کی قسم حضور نے کوئی بے جا بات تو ان سے نہ چاہی تھی اس کہنے سے سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو امید پڑی کہ شاید یہی مسلمان ہوجائے۔حضور نے بار بار فرمانا شروع کیا:اے چچا ! تو ہی کہہ لے جس کے سبب سے میں تیری شفاعت روز قیامت حلال کرلوں۔جب ابوطالب نے حضور کی شدت خواہش دیکھی تو کہا۔اے بھتیجے ! میرے خدا کی قسم اگر یہ خوف نہ ہوتا
کہ لوگ حضور کو اور حضورکے باپ(یعنی خود ابو طالب)کے بیٹو ں کو طعنہ دیں گے کہ نزع کی سختی پر صبر نہ ہوا کلمہ پڑھ لیا۔تو میں پڑھ لیتااور وہ بھی اس طرح پڑھتا "لا اقولھا الا لا سرك بہا"(میں نہ کہتا وہ کلمہ مگر اس لیے کہ آپ کو خوش کروں) صرف اس لیے کہ حضور کی خوشی کردوں۔یہ باتیں نزع میں تو ہو ہی رہی تھیں جب روح پرواز کرنے کا وقت نزدیك آیا عباس رضی اﷲ تعالی عنہ نے ان کے لبوں کی جنبش دیکھی کان لگا کر سنا حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے عرض کی:"یا ابن اخی واﷲ لقد قال اخی الکلمۃ التی امرتہ ان یقولہا"اے میرے بھتیجے ! خدا کی قسم میرے بھائی نے وہ بات کہہ لی جو حضور اقدس اس سے کہلواتے تھے:قال فقال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لم اسمع ۔سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا میں نے نہ سنی۔
یہ وہ روایت ہے علماء نے اس سے پانچ جواب دیئے۔
اول:یہ روایت ہے علماء نے اس سے پانچ جواب دیئے۔
اول:یہ روایت ضعیف و مردود ہےاس کی سند میں ایك راوی مبہم موجود ہےیہ جواب امام بیہقی پھر امام حافظ الشان ابن حجر عسقلانی و امام بدرالدین محمود عینی و امام ابن حجر مکی و علامہ حسین دیار بکری و علامہ زرقانی وغیرہم نے افادہ فرمایا۔خمیس میں ہے:
قال البیھقی انہ منقطع الخ وسیأتی تمامہ ۔ بیہقی نے کہا یہ منقطع ہے الخ اس کی پوری تفصیل عقنریب آرہی ہے۔(ت)
عمدۃ القاری میں ہے:
فی سندہ من لم یسم ۔ اس کی سند میں ایك ایسا راوی ہے جس کا نام نہیں لیا گیا۔(ت)
شرح مواہب میں ہے:
روایۃ ابن اسحق ضعیفہ ۔ ابن اسحاق کی روایت ضعیف ہے۔(ت)
اسی میں ہے:
یہ وہ روایت ہے علماء نے اس سے پانچ جواب دیئے۔
اول:یہ روایت ہے علماء نے اس سے پانچ جواب دیئے۔
اول:یہ روایت ضعیف و مردود ہےاس کی سند میں ایك راوی مبہم موجود ہےیہ جواب امام بیہقی پھر امام حافظ الشان ابن حجر عسقلانی و امام بدرالدین محمود عینی و امام ابن حجر مکی و علامہ حسین دیار بکری و علامہ زرقانی وغیرہم نے افادہ فرمایا۔خمیس میں ہے:
قال البیھقی انہ منقطع الخ وسیأتی تمامہ ۔ بیہقی نے کہا یہ منقطع ہے الخ اس کی پوری تفصیل عقنریب آرہی ہے۔(ت)
عمدۃ القاری میں ہے:
فی سندہ من لم یسم ۔ اس کی سند میں ایك ایسا راوی ہے جس کا نام نہیں لیا گیا۔(ت)
شرح مواہب میں ہے:
روایۃ ابن اسحق ضعیفہ ۔ ابن اسحاق کی روایت ضعیف ہے۔(ت)
اسی میں ہے:
حوالہ / References
السیرۃ النبویۃ لابن ہشام وفاۃ ابی طالب وخدیجہ دارابن کثیر والتوزیع للطباعۃ والنشیر القسم الاول ۱۸۔۴۱۷
تاریخ الخمیس وفاۃ ابی طالب مؤسستہ شعبان بیروت ۱ /۳۰۰
عمدۃ القاری کتاب المناقب الانصار باب قصۃ ابی طالب تحت حدیث ۳۸۸۳ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۱۷ /۲۳
شرح الزرقانی علی المواھب اللدنیۃ المقصد الاول وفاۃ خدیجۃ وابی طالب دارالمعرفۃ بیروت ۱ /۲۹۱
تاریخ الخمیس وفاۃ ابی طالب مؤسستہ شعبان بیروت ۱ /۳۰۰
عمدۃ القاری کتاب المناقب الانصار باب قصۃ ابی طالب تحت حدیث ۳۸۸۳ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۱۷ /۲۳
شرح الزرقانی علی المواھب اللدنیۃ المقصد الاول وفاۃ خدیجۃ وابی طالب دارالمعرفۃ بیروت ۱ /۲۹۱
فیہ من لم یسم ۔ اس کی سند میں ایك ایسا راوی ہے جس کا نام نہیں لیا گیا۔(ت)
شرح حمزیہ میں ہے:
روایۃ ضعیفۃ عن العباس انہ اسرالیہ الاسلام عند موتہ ۔ حضرت عباس رضی اﷲ تعالی عنہ سے ایك ضعیف روایت ہے کہ ابو طالب نے بوقت موت راز داری سے انہیں اسلام کی خبر دی۔ت)
اصابہ میں ہے:
لقدوقفت علی تصنیف لبعض الشیعۃ اثبت فیہ اسلام ابی طالب منہا مااخرجہ عن محمد بن اسحق الی ان قال بعد نقل متمسکات الرافضیاسانید ھذہ الاحادیث واھیۃ ۔
اقول:وباﷲ التوفیق ھھنا امور یجب التنبہ لھا:
اولہا:لیس المنقطع ھہنا فی کلام البیھقی بالاصطلاح المشہور عند الجمہور انہ الذی سقط من سندہ راو اما مطلقا اوبشرط ان لایسقط ازید من واحد علی التوالی وھو المرسل علی یعنی میں نے ایك رافضی کا رسالہ دیکھا جس میں اس نے بعض روایات سے اسلام ابی طالب ثابت کرنا چاہا ہےازاں جملہ یہ روایت ابن اسحق ہے۔ان سب کی سندیں واہی ہیں۔
اقول:(میں کہتا ہوں)اور توفیق اﷲ تعالی کی طرف سے ہے یہاں چند امور ایسے ہیں جن پر آگاہ ہونا ضروری ہے۔
پہلا امر:منقطع یہاں پر بیہقی کے کلام میں اس معنی میں استعمال نہیں ہوا جو جمہور کے نزدیك مشہور اصطلاح ہےیعنی وہ حدیث جس کی سند سے کوئی راوی ساقط ہوگیا ہو یا مطلقا یا اس شرط کے ساتھ کہ اس کی سند میں ایك سے زائد راوی پے درپے ساقط نہ ہوئے ہوںبصورت اول
شرح حمزیہ میں ہے:
روایۃ ضعیفۃ عن العباس انہ اسرالیہ الاسلام عند موتہ ۔ حضرت عباس رضی اﷲ تعالی عنہ سے ایك ضعیف روایت ہے کہ ابو طالب نے بوقت موت راز داری سے انہیں اسلام کی خبر دی۔ت)
اصابہ میں ہے:
لقدوقفت علی تصنیف لبعض الشیعۃ اثبت فیہ اسلام ابی طالب منہا مااخرجہ عن محمد بن اسحق الی ان قال بعد نقل متمسکات الرافضیاسانید ھذہ الاحادیث واھیۃ ۔
اقول:وباﷲ التوفیق ھھنا امور یجب التنبہ لھا:
اولہا:لیس المنقطع ھہنا فی کلام البیھقی بالاصطلاح المشہور عند الجمہور انہ الذی سقط من سندہ راو اما مطلقا اوبشرط ان لایسقط ازید من واحد علی التوالی وھو المرسل علی یعنی میں نے ایك رافضی کا رسالہ دیکھا جس میں اس نے بعض روایات سے اسلام ابی طالب ثابت کرنا چاہا ہےازاں جملہ یہ روایت ابن اسحق ہے۔ان سب کی سندیں واہی ہیں۔
اقول:(میں کہتا ہوں)اور توفیق اﷲ تعالی کی طرف سے ہے یہاں چند امور ایسے ہیں جن پر آگاہ ہونا ضروری ہے۔
پہلا امر:منقطع یہاں پر بیہقی کے کلام میں اس معنی میں استعمال نہیں ہوا جو جمہور کے نزدیك مشہور اصطلاح ہےیعنی وہ حدیث جس کی سند سے کوئی راوی ساقط ہوگیا ہو یا مطلقا یا اس شرط کے ساتھ کہ اس کی سند میں ایك سے زائد راوی پے درپے ساقط نہ ہوئے ہوںبصورت اول
حوالہ / References
شرح الزرقانی علی المواھب اللدنیۃ المقصد الاول وفاۃ خدیجۃ وابی طالب دارالمعرفۃ بیروت ۱ /۲۹۱
الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ حرف الطاء القسم الرابع ابوطالب دارصادر بیروت ۴ /۱۱۶
الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ حرف الطاء القسم الرابع ابوطالب دارصادر بیروت ۴ /۱۱۶
الاول اومنہ علی الثانی باصطلاح الفقہاء واھل الاصول واذا نظفت رجالہ فعندنا وعند الجمھور مقبول کیف و ذلك خلاف الواقع فی روایۃ ابن اسحق فان سندہ علی مارأیت فی سیرۃ ابن ہشام ونقلہ الحافظ وغیرہ فی الفتح وغیرہ ھکذا حدثنی العباس بن عبداﷲ بن معبد عن بعض اھلہ عن ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما وھذا لا انقطاع فید کما تری و لامساغ لا رادۃ الانقطاع من قبل ان ابن عباس لم یدرك الواقعۃ فانہ انما ولدعام مات ابوطالب ولد قبل الھجرۃ بثلث سنین کما فی التقریب وکذلك ارخ ابن الجزار موت ابی طالب قبل ھجرتہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بثلث سنین کما فی المواھب و ذلك لان مراسیل وہ مرسل ہےاور بصورت ثانی مرسل کی ایك نوع ہے فقہاء اور اہل اصول کی اصطلاح میںاور جب اس کے رجل عادل ہوں تو وہ ہمارے نزدیك اور جمہور کے نزدیك مقبول ہے اور جمہور کی اصطلاح میں یہ کیسے منقطع ہوسکتی ہے حالانکہ ابن اسحق کی روایت میں معنی مذکور کے خلاف واقع ہےکیونکہ اس کی سند جیسا کہ میں نے سیرت ابن ہشام میں دیکھی اور حافظ وغیرہ نے اس کو فتح الباری وغیرہ میں نقل کیا وہ یوں ہےمجھے حدیث بیان کی عباس بن عبداﷲ بن معبد نے اپنے بعض گھر والوں سے انہوں نے عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے اور اس مین جیسا کہ تو دیکھ رہا ہے کوئی انقطاع نہیں اور نہ ہی اس جہت سے انقطاع مراد لینے کی کوئی گنجائش ہے کہ ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہ نے یہ واقعہ نہیں پایا کیونکہ آپ اس سال پیدا ہوئے جس سال ابوطالب کا انتقال ہوا۔آپ کی ولادت ہجرت سے تین سال قبل ہوئی جیسا کہ تقریب میں ہے اور یونہی ابوطالب کی موت کی تاریخ ابن جزار نے بیان کی وہ نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی ہجرت سے تین سال پہلے فوت ہوئے جیسا کہ مواہب میں ہے۔اور یہ اس لیے کہ مراسیل
حوالہ / References
السیرۃ النبویۃ لابن ہشام وفاۃ ابی طالب و خدیجہ دارابن کثیر للطباعۃ القسم الاول ص۴۱۷
تقریب التہذیب ترجمہ ۳۴۲۰ دارلکتب العلمیۃ بیروت ۱ /۵۰۴
المواھب اللدنیۃ عام الحزن وفاۃ ابی طالب المکتب الاسلامی بیروت ۱ /۲۶۲
تقریب التہذیب ترجمہ ۳۴۲۰ دارلکتب العلمیۃ بیروت ۱ /۵۰۴
المواھب اللدنیۃ عام الحزن وفاۃ ابی طالب المکتب الاسلامی بیروت ۱ /۲۶۲
الصحابۃ مقبولۃ بالاجماع ولا عبرۃ بمن شذفی تقریب النووی ھذا کلہ فی غیر مرسل الصحابی اما مرسلہ فمحکوم بصحتہ علی المذھب الصحیح ۔ قال فی التدریب قطع بہ الجمھور من اصحابنا و غیرھم واطبق علیہ المحدثون ۔ وفی مسلم الثبوت ان کان من الصحابی یقبل مطلقا اتفا قا ولا اعتداد لمن خالف ۔اھ وانما سماہ البیقھی منقطعا علی اصطلاح لہ ولشیخہ الحاکم ان المبھم ایضامن المنقطع فی التقریب و التدریب(اذا قال)الراوی فی الاسناد(فلان عن رجل عن فلان فقال الحاکم) ھو (منقطع لیس مرسلا وقال غیرہ مرسل)قال العراقی کل من القولین خلاف ما علیہ الاکثرون فانھم ذھبوا الی انہ متصل فی سندہ مجھولوزاد البیہقی علی ھذا فی سننہ فجعل صحابہ کے مقبول ہونے پر اجماع ہے اور جو تنہا اس موقف کے خلاف ہے اس کا کوئی اعتبار نہیںتقریب نواوی میں ہے کہ یہ سب گفتگو مرسل صحابی کے غیر میں ہے۔رہا مرسل صحابی تو صحیح مذہب میں اس کے صحیح ہونے کا حکم دیا گیا ہے۔تدریب میں کہا کہ ہمارے اصحاب وغیرہ جمہور نے اس حکم کو قطعی قرار دیا اور محدثین نے اس پر اتفاق کیا ہے۔مسلم الثبوت میں ہے مرسل اگر صحابی سے ہے تو مطلقا قبول کی جائے گی اور جس نے مخالفت کی اس کا کوئی اعبتار نہیں اھ بیہقی کا اسے منقطع کہنا فقط ان کی اپنی اور ان کے شیخ امام حاکم کی اصطلاح ہے کہ ان کے نزدیك مبہم بھی منقطع ہے۔تقریب اور تدریب میں ہے راوی نے اسناد میں جب کہا کہ فلاں نے ایك مرد سے اور اس نے فلاں سے روایت کی تو امام حاکم نے فرمایا کہ یہ منقطع ہے مرسل نہیں ہے جب کہ اس کے غیر نے کہا یہ مرسل ہے۔عراقی نے کہا یہ دونوں قول اکثریت کے مؤقف کے خلاف ہیں کیونکہ اکثر کا مؤقف یہ ہےکہ یہ متصل ہے اس کی سند میں راوی مجہول ہےامام بہقی نے اپنی سنن میں اس پر اضافہ کیا اور اس حدیث کو مرسل
حوالہ / References
تقریب النواوی مع تدریب الراوی النوع التاسع المرسل قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۷۱
تدریب الراوی فی شرح تقریب النواوی النوع التاسع المرسل قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۷۱
مسلم البثوت الاصل الثانی السنۃ مسئلہ تعریف المرسل مطبع مجتبائی دہلی ص ۲۰۱
تدریب الراوی فی شرح تقریب النواوی النوع التاسع المرسل قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۷۱
مسلم البثوت الاصل الثانی السنۃ مسئلہ تعریف المرسل مطبع مجتبائی دہلی ص ۲۰۱
مارواہ التابعی عن رجل من الصحابۃ لم یسم مرسلا اھ مختصرا۔وفیھما(النوع العاشرالمنقطع الصحیح الذی ذھب الیہ الفقہاء والخطیب و ابن عبدالبروغیرھما من المحدثین ان المنطقع مالم یتصل اسناد ہ علی ای وجہ کان انقطاعہ)فھو و المرسل واحد(واکثرمایستعمل فی روایۃ من دون التابعی عن الصحابۃ کمالك عن ابن عمر و قیل ھو ما اختل منہ رجل قبل التابعی)الصواب قبل الصحابی (محذوفاکان)الرجل(اومبھما کرجل)ھذا بناء علی ماتقدم ان فلانا عن رجل یسمی منقطعا و تقدم ان فلانا عن رجل یسمی منقطعا وتقدم ان الاکثرین علی خلافہثم ان ھذا القول ھو المشہور بشرط ان یکون السا قط واحد افقط اواثنین لا علی التوالی کما جزم بہ العراقی وشیخ الاسلام اھ ملخصا۔ قرار دیا جس کو تابعی نے صحابہ میں سے ایك مرد سے روایت کیااس صحابی کے نام کی تصریح نہیں کی اھ اختصار۔اور ان دونوں(تقریب وتدریب)میں ہے دسویں قسم منقطعصحیح مؤقف جس کی طرف فقہاء کرام اور محدثین میں سے خطیب و ابن عبدالبروغیرہ گئے ہیں وہ یہ ہے کہ منقطع اس حدیث کو کہتے ہیں جس کی سند متصل نہ ہوچاہے کسی وجہ سے انقطاع ہووہ اور مرسل ایك ہی ہیںاور اس کا اکثر اطلاق ایسی حدیث پر ہوتا ہے جس میں تابعی سے نیچے درجے کا کوئی شخص صحابہ سے روایت کرے جیسے امام مالك علیہ الرحمہ حضرت ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کریں۔ایك قول کے مطابق منقطع وہ حدیث ہے جس میں تابعی سے قبل (صحیح یہ ہے کہ صحابی سے قبل)کوئی راوی مختل ہوچاہے تو وہ محذوف ہو یا مبہمجیسے کہا جائے "کوئی شخص" یہ اس پر مبنی ہے جس کا پہلے ذکر ہوچکا " یعنی فلاں نے ایك شخص سے روایت کی" یہ منقطع کہلاتی ہے۔اور ماقبل میں گزر چکا ہے کہ اکثریت اس کے خلاف ہےپھر یہ قول اس شرط کے ساتھ مشہور ہے کہ ساقط فقط ایك راوی ہو یا دوہوں مگرپے درپے نہ ہوں جیسا کہ اس پر عراقی اور شیخ الاسلام نے جزم کیا ہے اھ تلخیص۔
حوالہ / References
تقریب النووی مع تدریب الراوی النوع التاسع المرسل قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۶۱۔۱۶۲
تدریب الراوی فی شرح تقریب النواوی النوع العاشر المنقطع قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/۱۷۱ و ۱۷۲
تدریب الراوی فی شرح تقریب النواوی النوع العاشر المنقطع قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/۱۷۱ و ۱۷۲
ثانیہا:لیس المبھم من المجھول المقبول عندنا وعند کثیر من الفحول اواکثرھم فان الراوی اذا لم یروعنہ الاواحد ا فمجہول العین نمشیہ نحن وکثیرمن المحققین واذا ز کی ظاھرا لا باطنا فمستور نقبلہ نحن واکثر المحققین کما بینتہ فی "منیر العین فی حکم تقبیل الابہا مین" وظاھر ان شیئا من ھذا الایعرف الابالتسمیۃ فالمبھم لیس منھما فی شیئ بل ھو کمجھول الحال الذی لم تعرف عدالتہ باطن ولا ظاھرا وان خصصناہ ایضا بمن سمی فلیس من المجہول المصطلح علیہ اصلا وان کان یطلق علیہ اسم المجہول نظرا الی المعنی اللغویوتحقیق الحکم فیہ ان ابھام راوغیرالصابی بغیر لفظ التعدیل کحدثنا وثقۃ لیس کحذفہ عندنا فی القبول فان الجزم مع الاسقاط امارۃ الاعتماد بخلاف الاسناد قال فی مسلم الثبوت وشرحہ فواتح الرحموت(قال رجل لایقبل دوسرا امر:مبہم اس مجہول میں سے نہیں جو ہمارے نزدیك اور تمام علماء ماہرین یا اکثر کے نزدیك مقبول ہےاس لیے کہ اگر کسی راوی سے فقط ایك ہی شخص روایت کرے تو وہ مجہول العین ہےہم اور کثیر محققین اس کو قبول کرتے ہیں۔اور اگر اس کا ظاہری طور پر تزکیہ ہوجائے مگر باطنی طور پر نہ ہو تو وہ مستور ہےہمارے اور اکثر محققین کے نزدیك یہ مقبول ہے جیسا کہ میں نے اس کو رسالہ "منیر العین فی حکم تقبیل الابہامین"میں بیان کیا ہے۔ظاہر ہے کہ مجہول کی دونوں قسموں میں سے کوئی نہیں پہچاناجاتا مگر نام ذکر کرنے سے تو مبہم ان دونوں قسموں میں سے کوئی قسم بھی نہ ہوا بلکہ وہ مجہول الحال کی مثل ہے جس کی عدالت نہ ظاہری طور پر معلوم ہوتی ہے نہ باطنی طور پراگر ہم اس(مجہول الحال)کو بھی مختص کرلیں اس کے ساتھ جس کا نام ذکر کیا جاتا ہے تو اس صورت میں مبہم بالکل ہی مجہول اصطلاحی میں سے نہیں ہوگا۔اگرچہ معنی لغوی کے اعتبار سے اس پر مجہول کا اطلاق ہوگا۔اس میں حکم کی تحقیق یہ ہے کہ غیر صحابی کا ابہام بغیرلفظ تعدیل کے جیسے مجھے حدیث بیان کی ایك ثقہ نے۔ہمارے نزدیك قبولیت میں حذف راوی کی مثل نہیں۔کیونکہ اسقاط راوی کے باوجود اس پر جزماعتماد کی نشانی ہے بخلاف اسناد کے۔مسلم الثبوت اور اس کی شرح فواتح الرحموت میں ہے کسی شخص نے کہا مجھ سے حدیث بیان کی
فی)المذھب(الصحیح)ولیس ھذا کالارسال کما نقل عن شمس الائمۃ لان ھذا روایۃ عن مجہول والا رسال جزم بنسبۃ المتن الی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وھذا لایکون الا بالتوثیق فافترقا (بخلاف)قال ثقہ اورجل من الصحابۃ لان ھذا روایۃ عن ثقۃ لان الصحابۃ کلھم عدول(ولواصطلح علی معین)معلوم العدالۃ علی التعیین برجل(فلا اشکال)فی القبول اھ۔اقول:ویتراأی لی استثناء من ابھم وقدعلم من عادتہ انہ لایروی الا عن ثقۃ کامامنا الاعظم والا مام احمد وغیرھما ممن سمیناھم فی "منیرالعین " فان المبھم امام من مجھول الحال او کمثلہ وقدصرحوا فیہ بھذا التفصیل قال فی الکتابین(فی روایۃ العدل)عن المجہول(مذاھب) احدھا(التعدیل)فان شان العدل لایروی الاعن عدل (و)الثانی ایك مرد نےتو مذہب صحیح میں قبول نہیں کی جائے گی۔یہ ارسال کی مثل نہیں جیسا کہ شمس الائمہ سے منقول ہے کیونکہ یہ مجہول سے روایت ہے جبکہ ارسال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی طرف متن کی نسبت کا جزم ہے اور یہ بغیر توثیق کے نہیں ہوسکتاتو اس طرح دونوں میں فرق ہو گیا۔بخلاف اس کے کہ اگر کسی نے کہا مجھ سے حدیث بیان کی ایك ثقہ نے یا صحابہ کرام میں سے ایك مرد نے کیونکہ یہ ثقہ سے روایت ہےاس لیے کہ تمام صحابہ عادل ہیں۔اگر یہ اصطلاح بنالی جائے کہ فلاں معین شخص جس کی عدالت معلوم ہے کہ " ایك مرد" کے ساتھ تعبیر کیا جائے گا تو اس کے مقبول ہونے میں کوئی اشکال نہیں۔اھ اقول:(میں کہتا ہوں)میرے لیے اس شخص کا استثناء ظاہر ہوا جس نے ابہام کیا حالانکہ اس کی عادت معروف ہے کہ بغیر ثقہ کے کسی سے روایت نہیں کرتا جیسا کہ ہمارے امام اعظم اور امام احمد اور دیگرائمہ کرام جن کے نام ہم نے "منیر العین" میں ذکر کیے ہیں۔اس لیے کہ مبہم مجہول الحال سے ہوگا یا اس کی مثل سے تحقیق اس میں علماء نے اس تفصیل کے سات تصریح فرمائی ہےدونوں کتابوں میں کہا کہ مجہول سے عادل کی روایت کے بارے میں چند مذہب ہیںان میں سے ایك مذہب اس کی تعدیل ہےکیونکہ عادل کی شان یہ ہے کہ وہ فقط عادل سے روایت کرتا ہے۔دوسرا مذہب
حوالہ / References
فواتح الرحموت شرح مسلم الثبوت بذل المستصفٰی مسئلہ مجہول الحال الخ منشورات الشریف الرضی قم ایران ۲ /۱۷۷
(المنع)لجواز روایتہ تعویلا علی المجتھدانہ لایعمل الا بعد التعدیل(و)الثالث(التفصیل بین من علم) من عادتہ(انہ لایروی الاعن عدل)فیکون تعدیلا (اولا)فلا(وھو)ای الثالث(الاعدل)وھو ظاھر اھ باختصار۔
ثالثھا:لیس الحکم علی کافر معلوم الکفرلاسیما المدرك صحۃ لغویۃ بطریان الاسلام من باب الفضائل المقبول فیہ الضعاف باتفاق الاعلام کیف وانہ یبتنی علیہ کثیر من الاحکام کتحریم ذکرہ الا بخیر و وجوب تعظیمہ بطلب الترضی علیہ اذا ذکر بعد ماکان ذاك حراما بل ربما المنجرالی الکفر و العیاذ باﷲ تعالیوقبول قولہ فی الروایات ان وقعت الی غیر ذلك والیقین لایزول الشك والضعیف لا یرفع الثابت وانما السرفی قبول الضعاف حیث تقبل انہا ثمہ لم تثبت شیئا لم یثبت کما حققناہ بما لا مزید علیہ منع تعدیل ہے کیونکہ ہوسکتا ہے اس نے متجہد پر بھروسا کرتے ہوئے یہ روایت کرتی ہو کیونکہ مجتہدتعدیل کے بعد ہی عمل کرتا ہےاور تیسرا مذہب تفصیل یعنی اگر اس کی یہ عادت معلوم ہے کہ وہ فقط عادل سے روایت کرتا ہے غیر عادل سے نہیںتو تعدیل ہوگی ورنہ نہیںاور یہ تیسرا مذہب زیادہ عدل والا ہے اور وہ ظاہر ہے اھ اختصار۔
تیسرا امر:جس کافر کا کفر معلوم ہو خصوصا جب کہ وہ صحت لغویہ کو پانے والا ہو۔اس پر اسلام کے طاری ہونے کا حکم از قبیل فضائل نہیں ہے جس میں باتفاق علماء ضعیف حدیثیں بھی مقبول ہیںایسا کیونکر ہوسکتا ہے جب کہ اس پر بہت سے احکام کی بنیاد ہے مثلا بھلائی کے سوا اس کے ذکر کا حرام ہونا اس کی تعظیم کا واجب ہونا اور اس کے ذکرکے ساتھ رضی اﷲ تعالی عنہ کہنابعد اسکے یہ حرام بلکہ بسا اوقات کفر تك پہنچا دینے والی چیز ہےاور اﷲ تعالی کی پناہاور روایات میں اس کے قول کو قبول کرناجب کہ واقع ہوں وغیرہ ذلك حالانکہ یقین شك کے ساتھ زائل نہیں ہوتااور ضعیف حدیث ثابت کو رفع نہیں کرسکتیضعیف حدیثیں جہاں قبول کی جاتی ہیں وہاں ان کو قبول کرنے میں راز یہ ہے کہ وہاں ضعیف حدیثیں کسی غیر ثابت چیز کو ثابت نہیں کرتیں جیسا کہ ہم اپنے رسالہ
ثالثھا:لیس الحکم علی کافر معلوم الکفرلاسیما المدرك صحۃ لغویۃ بطریان الاسلام من باب الفضائل المقبول فیہ الضعاف باتفاق الاعلام کیف وانہ یبتنی علیہ کثیر من الاحکام کتحریم ذکرہ الا بخیر و وجوب تعظیمہ بطلب الترضی علیہ اذا ذکر بعد ماکان ذاك حراما بل ربما المنجرالی الکفر و العیاذ باﷲ تعالیوقبول قولہ فی الروایات ان وقعت الی غیر ذلك والیقین لایزول الشك والضعیف لا یرفع الثابت وانما السرفی قبول الضعاف حیث تقبل انہا ثمہ لم تثبت شیئا لم یثبت کما حققناہ بما لا مزید علیہ منع تعدیل ہے کیونکہ ہوسکتا ہے اس نے متجہد پر بھروسا کرتے ہوئے یہ روایت کرتی ہو کیونکہ مجتہدتعدیل کے بعد ہی عمل کرتا ہےاور تیسرا مذہب تفصیل یعنی اگر اس کی یہ عادت معلوم ہے کہ وہ فقط عادل سے روایت کرتا ہے غیر عادل سے نہیںتو تعدیل ہوگی ورنہ نہیںاور یہ تیسرا مذہب زیادہ عدل والا ہے اور وہ ظاہر ہے اھ اختصار۔
تیسرا امر:جس کافر کا کفر معلوم ہو خصوصا جب کہ وہ صحت لغویہ کو پانے والا ہو۔اس پر اسلام کے طاری ہونے کا حکم از قبیل فضائل نہیں ہے جس میں باتفاق علماء ضعیف حدیثیں بھی مقبول ہیںایسا کیونکر ہوسکتا ہے جب کہ اس پر بہت سے احکام کی بنیاد ہے مثلا بھلائی کے سوا اس کے ذکر کا حرام ہونا اس کی تعظیم کا واجب ہونا اور اس کے ذکرکے ساتھ رضی اﷲ تعالی عنہ کہنابعد اسکے یہ حرام بلکہ بسا اوقات کفر تك پہنچا دینے والی چیز ہےاور اﷲ تعالی کی پناہاور روایات میں اس کے قول کو قبول کرناجب کہ واقع ہوں وغیرہ ذلك حالانکہ یقین شك کے ساتھ زائل نہیں ہوتااور ضعیف حدیث ثابت کو رفع نہیں کرسکتیضعیف حدیثیں جہاں قبول کی جاتی ہیں وہاں ان کو قبول کرنے میں راز یہ ہے کہ وہاں ضعیف حدیثیں کسی غیر ثابت چیز کو ثابت نہیں کرتیں جیسا کہ ہم اپنے رسالہ
حوالہ / References
فواتح الرحموت شرح مسلم الثبوت بذل المستصفٰی مسئلہ مجہول الحال الخ منشورات الشریف الرضی قم ایران ۲ /۱۵۰
مادفع الاوھام المتطرقۃ الیہ فی رسالتنا "الھادا الکاف فی حکم الضعاف " فاذا لم تکن لتثبت مالم یثبت فکیف ترفع ماقدثبت ماھذا الاغلط وشطط وھذا واضح جدا فاتضح بحمد اﷲ ان الروایۃ ضعیفۃ واھیۃ وانہا فی اثبات ماریم منھا غیر مغنیۃ ولا کافیۃ ھکذا ینبغی التحقیق واﷲ تعالی ولی التوفیق۔ "الھاد الکاف فی حکم الضعاف"میں اس کی تحقیق کردی ہے جس پر زیادتی نہیں کی جاسکتی جس نے اس مسئلہ میں پیدا ہونے والے تمام وہموں کا ازالہ کردیا ہےچنانچہ جب وہ ضعیف حدیثیں غیر ثابت چیز کو ثابت نہیں کرسکتی ہیں تو ثابت شدہ چیز کو رفع کیسے کرسکیں گی۔یہ محض غلط اور حق سے دوری ہےیہ خوب واضح ہے۔بحمداﷲ واضح ہوگیا کہ روایت مذکورہ ضعیف اور بے ہودہ ہے اور اس سے جس مقصد کو ثابت کرنا مطلوب تھااسکے لیے یہ مفید و کافی نہیں ہے۔یونہی تحقیق چاہیے اور اﷲ تعالی توفیق کا مالك ہے۔(ت)
ثانیا:اگر بالفرض صحیح بھی ہوتی تو ان احادیث جلیلہ جزیلہ صحاح اصح کے مخالف تھی لہذا مردود ہوتی نہ کہ خود صحیح بھی نہیں اب ان کے مقابل کیا التفات کے قابل اقول جواب اول بنظر سند تھا یہ بلحاظ متن ہے یعنی اگر سندا صحیح بھی ہوتی تو متنا شاذ تھی اور ایسا شذوذ قاوح صحت یوں بھی ضعیف رہتی اب کہ سندا بھی صحیح نہیں خاص منکر ہے اور بہرحال مردود و نامعتبریہ جواب بھی علمائے ممدوحین نے دیا اور امام قسطلانی و شیخ محقق نے بھی اس کی طرف اشارہ کیا۔خمیس میں بعد عبارت مذکورہ امام بیہقی سے ہے:
والصحیح من الحدیث قد اثبت لابی طالب ابوفاۃ علی الکفر والشرك کما رویناہ فی صحیح البخاری ۔ یعنی حدیث صحیح ابو طالب کا کفر وشرك پر مرنا ثابت کررہی ہے جیسا کہ صحیح بخاری میں موجود۔
بعنیہ اسی طرح مواہب میں ہے۔عمدہ میں بعد عبارت مذکورہ اور زرقانی میں امام حافظ الشان سے ہے:
ولوکان صحیحا العارضہ حدیث اگر یہ صحیح بھی ہوتی تو اس باب میں وارد حدیث
ثانیا:اگر بالفرض صحیح بھی ہوتی تو ان احادیث جلیلہ جزیلہ صحاح اصح کے مخالف تھی لہذا مردود ہوتی نہ کہ خود صحیح بھی نہیں اب ان کے مقابل کیا التفات کے قابل اقول جواب اول بنظر سند تھا یہ بلحاظ متن ہے یعنی اگر سندا صحیح بھی ہوتی تو متنا شاذ تھی اور ایسا شذوذ قاوح صحت یوں بھی ضعیف رہتی اب کہ سندا بھی صحیح نہیں خاص منکر ہے اور بہرحال مردود و نامعتبریہ جواب بھی علمائے ممدوحین نے دیا اور امام قسطلانی و شیخ محقق نے بھی اس کی طرف اشارہ کیا۔خمیس میں بعد عبارت مذکورہ امام بیہقی سے ہے:
والصحیح من الحدیث قد اثبت لابی طالب ابوفاۃ علی الکفر والشرك کما رویناہ فی صحیح البخاری ۔ یعنی حدیث صحیح ابو طالب کا کفر وشرك پر مرنا ثابت کررہی ہے جیسا کہ صحیح بخاری میں موجود۔
بعنیہ اسی طرح مواہب میں ہے۔عمدہ میں بعد عبارت مذکورہ اور زرقانی میں امام حافظ الشان سے ہے:
ولوکان صحیحا العارضہ حدیث اگر یہ صحیح بھی ہوتی تو اس باب میں وارد حدیث
حوالہ / References
تاریخ الخمیس فی احوال انفس نفیس وصیت ابی طالب مؤسسۃ شعبان للنشربیروت ۱ /۳۰۰
الباب لانہ اصح منہ فضلا عن انہ لم یصح ۔ اس کے معارض ہوتی کیونکہ وہ اس سے اصح ہے چہ جائیکہ یہ صحیح ہی نہیں۔(ت)
اصابہ میں بعد کلام سابق ہے:
وعلی تقدیر ثبوتھا فقد عارضہا ماھواصح منہا ۔ اور اس کے ثبوت کی تقدیر پر وہ حدیث اس کے معارض ہے جو اس سے اصح ہے۔(ت)
پھر حدیث دوم لکھ کر فرمایا:
فھذا ھوالصحیح الذی یردالروایۃ التی ذکرھا ابن اسحق ۔ یہ حدیث صحیح روایت ابن اسحاق کو رد کررہی ہے۔
شرح ہمزیہ کی عبارت اوپر گزری:
صرائح الاحادیث المتفق علی صحتہا ترد ذلك ۔ صریح حدیثیں جن کی صحت پر اتفاق ہے اسے رد کررہی ہیں۔
مدارج النبوۃ میں ہے:
دراحادیث و اخبار اسلام دے ثبوت نیافتہ جزانچہ درروایت ابن اسحق آمدہ کہ وے اسلام آور د نزدیك بوقت مرگ و گفتہ کہ چوں قریب شد موت وے و عباس گفت یا ابن اخی ! واﷲ بتحقیق گفت برادر من کلمہ را کہ امرکردی تو او رابداں کلمہ و درروا تیے آمدہ کہ آنحضرت گفت من نشنیدم باآنکہ حدیث اخبار و احادیث میں ابوطالب کا اسلام ثابت نہیں ہوا سوائے اس روایت کے جو ابن اسحاق سے مروی ہے کہ وہ وقت موت کے قریب اسلام لے آئے تھے ابن اسحاق نے کہا کہ جب ابوطالب کا وقت موت قریب ہوا تو حضرت عباس رضی اﷲ تعالی عنہ نے کہا:اے میرے بھیتجے ! بخدا میرے بھائی نے وہ کلمہ کہہ دیا ہے جس کا
اصابہ میں بعد کلام سابق ہے:
وعلی تقدیر ثبوتھا فقد عارضہا ماھواصح منہا ۔ اور اس کے ثبوت کی تقدیر پر وہ حدیث اس کے معارض ہے جو اس سے اصح ہے۔(ت)
پھر حدیث دوم لکھ کر فرمایا:
فھذا ھوالصحیح الذی یردالروایۃ التی ذکرھا ابن اسحق ۔ یہ حدیث صحیح روایت ابن اسحاق کو رد کررہی ہے۔
شرح ہمزیہ کی عبارت اوپر گزری:
صرائح الاحادیث المتفق علی صحتہا ترد ذلك ۔ صریح حدیثیں جن کی صحت پر اتفاق ہے اسے رد کررہی ہیں۔
مدارج النبوۃ میں ہے:
دراحادیث و اخبار اسلام دے ثبوت نیافتہ جزانچہ درروایت ابن اسحق آمدہ کہ وے اسلام آور د نزدیك بوقت مرگ و گفتہ کہ چوں قریب شد موت وے و عباس گفت یا ابن اخی ! واﷲ بتحقیق گفت برادر من کلمہ را کہ امرکردی تو او رابداں کلمہ و درروا تیے آمدہ کہ آنحضرت گفت من نشنیدم باآنکہ حدیث اخبار و احادیث میں ابوطالب کا اسلام ثابت نہیں ہوا سوائے اس روایت کے جو ابن اسحاق سے مروی ہے کہ وہ وقت موت کے قریب اسلام لے آئے تھے ابن اسحاق نے کہا کہ جب ابوطالب کا وقت موت قریب ہوا تو حضرت عباس رضی اﷲ تعالی عنہ نے کہا:اے میرے بھیتجے ! بخدا میرے بھائی نے وہ کلمہ کہہ دیا ہے جس کا
حوالہ / References
عمدۃ القاری کتاب مناقب الانصار حدیث ۳۸۸۳ دارالکتب العلمیہ بیروت ۱۷ /۲۳،شرح الزرقانی علی المواھب اللدنیہ المقصد الاول دارالمعرفۃ بیروت ۱ /۲۹۳
الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ حرف الطاء القسم الرابع دارصادر بیروت ۴ /۱۱۶
الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ حرف الطاء القسم الرابع دارصادر بیروت ۴ /۱۱۷
شرح ھمزیۃ
الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ حرف الطاء القسم الرابع دارصادر بیروت ۴ /۱۱۶
الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ حرف الطاء القسم الرابع دارصادر بیروت ۴ /۱۱۷
شرح ھمزیۃ
صحیح اثبات کردہ است برائے ابوطالب کفر را ھ مختصرا ۔ آپ نے اس کو حکم دیا ہےایك روایت میں آیا ہے کہ آنحضرت صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا میں نے نہیں سنا باوجود یہ کہ حدیث صحیح نے کفر ابوطالب کو ثابت کردیا ہے اھ اختصار(ت)
یہ کلام حضرت شیخ رحمہ اﷲ تعالی کا ہے اور فقیر غفر اﷲ تعالی لہ نے یہاں ہامش مدارج پر اپنے دو حاشیے لکھے پائے جن کی نقل خالی از نفع نہیں۔
اول قول شیك جز آنچہ درروایت ابن اسحق آمدہ بربریں عبارت اقول ایں استثناء منقطع ست ائمہ فن ہمچوامام بیہقی وامام ابن حجر عسقلانی و امام عینی و امام ابن حجر مکی وغیرھم تصریح کردہ اند بضعف ایں روایت زیرا کہ درو راوی مبہم واقع شدہ باز بمخالف صحاح منکر ست وشیخ در آخر کلام خود ارشارہ بضعف او میکندکہ با آنکہ حدیث صحیح اثبات کردہ است الخ معلوم شد کہ ایں صحیح نیست۔
دوم قوم شیخ ودر روایتے آمدہ پر بایں الفاظ اقول:ایں لفظ ایہام میکندآں راکہ ایں جادو روایت ست وروایت مذکورہ ابن اسحق عاری ست از ذکر رد فرمودن نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بقول اول شیخ کے قول "جز آنچہ در روایت ابن اسحق آمدہ" پر اس عبارت کے ساتھ حاشیہ لکھا:میں کہتا ہوں یہ استثناء منقطع ہے۔ائمہ فن جیسے امام بیہقیامام ابن حجر عسقلانیامام عینی اور امام ابن حجر مکی وغیرہ نے اس روایت کے ضعیف ہونے کی تصریح کی ہے کیونکہ اس میں ایك راوی مبہم واقع ہوا ہے پھر صحیح حدیثوں کی مخالفت کی وجہ سے منکر ہےاور شیخ علیہ الرحمہ اپنے کلام کے آخر میں ان لفظوں کے ساتھ اس کے ضعف کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ " باوجود یہ کہ حدیث صحیح نے اس کے کفر کو ثابت کردیا ہے" معلوم ہوگیا کہ یہ حدیث صحیح نہیں ہے۔
دوم:شیخ کے قول " و درروایتے آمدہ" پر ان الفاظ کے ساتھ حاشیہ لکھا:میں کہتا ہوں یہ وہم میں ڈالتا ہے کہ یہاں دو روایتیں ہیںاور روایت ابن اسحق میں نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے یہ کلمات رد نہیں ہیں کہ " میں نے نہیں
یہ کلام حضرت شیخ رحمہ اﷲ تعالی کا ہے اور فقیر غفر اﷲ تعالی لہ نے یہاں ہامش مدارج پر اپنے دو حاشیے لکھے پائے جن کی نقل خالی از نفع نہیں۔
اول قول شیك جز آنچہ درروایت ابن اسحق آمدہ بربریں عبارت اقول ایں استثناء منقطع ست ائمہ فن ہمچوامام بیہقی وامام ابن حجر عسقلانی و امام عینی و امام ابن حجر مکی وغیرھم تصریح کردہ اند بضعف ایں روایت زیرا کہ درو راوی مبہم واقع شدہ باز بمخالف صحاح منکر ست وشیخ در آخر کلام خود ارشارہ بضعف او میکندکہ با آنکہ حدیث صحیح اثبات کردہ است الخ معلوم شد کہ ایں صحیح نیست۔
دوم قوم شیخ ودر روایتے آمدہ پر بایں الفاظ اقول:ایں لفظ ایہام میکندآں راکہ ایں جادو روایت ست وروایت مذکورہ ابن اسحق عاری ست از ذکر رد فرمودن نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بقول اول شیخ کے قول "جز آنچہ در روایت ابن اسحق آمدہ" پر اس عبارت کے ساتھ حاشیہ لکھا:میں کہتا ہوں یہ استثناء منقطع ہے۔ائمہ فن جیسے امام بیہقیامام ابن حجر عسقلانیامام عینی اور امام ابن حجر مکی وغیرہ نے اس روایت کے ضعیف ہونے کی تصریح کی ہے کیونکہ اس میں ایك راوی مبہم واقع ہوا ہے پھر صحیح حدیثوں کی مخالفت کی وجہ سے منکر ہےاور شیخ علیہ الرحمہ اپنے کلام کے آخر میں ان لفظوں کے ساتھ اس کے ضعف کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ " باوجود یہ کہ حدیث صحیح نے اس کے کفر کو ثابت کردیا ہے" معلوم ہوگیا کہ یہ حدیث صحیح نہیں ہے۔
دوم:شیخ کے قول " و درروایتے آمدہ" پر ان الفاظ کے ساتھ حاشیہ لکھا:میں کہتا ہوں یہ وہم میں ڈالتا ہے کہ یہاں دو روایتیں ہیںاور روایت ابن اسحق میں نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے یہ کلمات رد نہیں ہیں کہ " میں نے نہیں
حوالہ / References
مدارج النبوۃ باب دوئم وفات یافتن ابوطالب مکتبہ نوریہ رضویہ سکھرپاکستان ۲ /۴۸
مبارکش لم اسمع حالانکہ نہ چنان ست بلکہ ایں تتمہ ہماں روایت ابن اسحق ست بریں معنی آگاہ بایدبود ۔ سنا"حالانکہ ایسا نہیں ہے بلکہ یہ اسی روایت ابن اسحق کا تتمہ ہےاس معنی پر آگاہ ہونا چاہیے۔(ت)
ثالثا:خود قرآن عظیم اسے رد فرمارہا ہے اگر اسلام پر موت ہوتی سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو استغفار سے کیوں ممانعت آئی۔یہ جواب حافظ الشان کا ہے اور اسے خمیس میں بھی ذکر کیا۔اصابہ میں بعد عبارت مذکورہ قریبہ ہے:
"اذ لو کان قال کلمۃ التوحید مانھی اﷲ تعالی نبیہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم عن الاستغفار لہ ۔ اگر اس نے کلمہ توحید کہہ لیا ہوتا تو ا ﷲ تعالی اپنے نبی کو اس کے حق میں استغفار سے منع نہ فرماتا۔(ت)
اقول:استغفار سی نہی کفر میں صریح نہیں حضور سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ابتدائے اسلام میں میت مدیون کے جنازہ پر نماز پڑھنے سے ممنوع تھے۔علمائے متاخرین نے حدیث استاذنت ربی ان استغفرلا می فلم یا ذن لی ۔ (میں نے اپنے رب سے اذن طلب کیا کہ میں اپنی ماں کے لیے استغفار کروں تو اس نے مجھے اذن نہ دیا۔ت)
کا یہی جواب دیا ہے استدلال اسی آیت کریمہ کے لفظ للمشرکین و لفظ اصحب الجحیم سے اولی وانسب ہے اگر کلمہ اسلام پر موت ہوتی تو رب العزۃ ابو طالب کو مشرك کیوں بتاتااصحاب نار سے کیوں ٹھہراتا۔لاجرم یہ روایت بے اصل ہے۔
رابعا اقول:اس میں ایك علت اور ہےحدیث صحیح چہارم دیکھئے خود یہی عباس رضی اﷲ تعالی عنہ جن سے یہ حکایت ذکر کی جاتی ہے موت ابی طالب کے بعد حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے پوچھتے ہیں۔یارسول اﷲ ! حضور نے اپنے چچا ابوطالب کو بھی کچھ نفع دیا وہ حضور کا غمخوار طرفدار تھا ارشاد ہواہم نے اسے سراپا جہنم میں غرق پایا اتنی تخفیف فرمادی کہ ٹخنوں تك آگ ہے میں نہ ہوتا تو اسفل السافلین اس کا ٹھکانا تھا ۔
سبحن اﷲ! اگر عباس رضی اﷲ تعالی عنہ اپنے کانوں سے مرتے وقت کلمہ توحید پڑھنا سنتے تو
ثالثا:خود قرآن عظیم اسے رد فرمارہا ہے اگر اسلام پر موت ہوتی سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو استغفار سے کیوں ممانعت آئی۔یہ جواب حافظ الشان کا ہے اور اسے خمیس میں بھی ذکر کیا۔اصابہ میں بعد عبارت مذکورہ قریبہ ہے:
"اذ لو کان قال کلمۃ التوحید مانھی اﷲ تعالی نبیہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم عن الاستغفار لہ ۔ اگر اس نے کلمہ توحید کہہ لیا ہوتا تو ا ﷲ تعالی اپنے نبی کو اس کے حق میں استغفار سے منع نہ فرماتا۔(ت)
اقول:استغفار سی نہی کفر میں صریح نہیں حضور سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ابتدائے اسلام میں میت مدیون کے جنازہ پر نماز پڑھنے سے ممنوع تھے۔علمائے متاخرین نے حدیث استاذنت ربی ان استغفرلا می فلم یا ذن لی ۔ (میں نے اپنے رب سے اذن طلب کیا کہ میں اپنی ماں کے لیے استغفار کروں تو اس نے مجھے اذن نہ دیا۔ت)
کا یہی جواب دیا ہے استدلال اسی آیت کریمہ کے لفظ للمشرکین و لفظ اصحب الجحیم سے اولی وانسب ہے اگر کلمہ اسلام پر موت ہوتی تو رب العزۃ ابو طالب کو مشرك کیوں بتاتااصحاب نار سے کیوں ٹھہراتا۔لاجرم یہ روایت بے اصل ہے۔
رابعا اقول:اس میں ایك علت اور ہےحدیث صحیح چہارم دیکھئے خود یہی عباس رضی اﷲ تعالی عنہ جن سے یہ حکایت ذکر کی جاتی ہے موت ابی طالب کے بعد حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے پوچھتے ہیں۔یارسول اﷲ ! حضور نے اپنے چچا ابوطالب کو بھی کچھ نفع دیا وہ حضور کا غمخوار طرفدار تھا ارشاد ہواہم نے اسے سراپا جہنم میں غرق پایا اتنی تخفیف فرمادی کہ ٹخنوں تك آگ ہے میں نہ ہوتا تو اسفل السافلین اس کا ٹھکانا تھا ۔
سبحن اﷲ! اگر عباس رضی اﷲ تعالی عنہ اپنے کانوں سے مرتے وقت کلمہ توحید پڑھنا سنتے تو
حوالہ / References
الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ حرف الطاء القسم الرابع ابوطالب دارصادر بیروت ۴ /۱۱۷
صحیح مسلم کتاب الجنائز فصل فی جواز زیارۃقبور المشرکین الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۳۱۴
صحیح البخاری مناقب الانصار باب قصّہ ابی طالب قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۵۴۸،صحیح مسلم کتاب الایمان باب شفاعۃ النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لابی طالب قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۱۵،مسند احمد بن حنبل عن العباس المکتب الاسلامی بیروت ۱ /۲۰۷ و ۲۱۰
صحیح مسلم کتاب الجنائز فصل فی جواز زیارۃقبور المشرکین الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۳۱۴
صحیح البخاری مناقب الانصار باب قصّہ ابی طالب قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۵۴۸،صحیح مسلم کتاب الایمان باب شفاعۃ النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لابی طالب قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۱۵،مسند احمد بن حنبل عن العباس المکتب الاسلامی بیروت ۱ /۲۰۷ و ۲۱۰
اس سوال کا کیا محل تھاوہ نہ جانتے تھی کہ الاسلام یجب ماقبلہ مسلمان ہوجانا گزرے ہوئے سب اعمال بدکو ڈھادیتا ہےکیا وہ نہ جانتے تھے کہ اخیر وقت جو کافر مسلمان ہوکر مرے بے حساب جنت میں جائےمن قال لا الہ الا اﷲ دخل الجنۃ ۔(جس نے لا الہ الا اﷲ کہا جنت میں داخل ہوا۔ت)اور پھر سوال میں کیا عرض کرتے ہیں وہی پرانے قصے نصرت ویاری و حمایت و غمخواری یہ نہیں کہتے یارسول اﷲ ! وہ تو کلمہ اسلام پڑھ کر مرا ہےیہ پوچھتے ہیں کہ حضور نے اسے بھی کچھ نفع بخشایا نہیں کہتے یارسول اﷲ ! وہ تو کلمہ اسلام پڑھ کر مرا ہےیہ پوچھتے ہیں کہ حضور نے اسے بھی کچھ نفع بخشآ یہ نہیں عرض کرتے کہ کون سے اعلی درجات جنت عطا فرمائےوہ حالت صحیح میں ہوتے تو پرواز سوال یوں ہوتا کہ یارسول اﷲ! ابو طالب کا خاتمہ ایمان پر ہوا اور حضور کے ساتھ ان کی غایت محبت و کمال حمایت تو قدیم سے تھی اﷲ عزوجل نے فردوس اعلی کا کون سا محل انہیں کرامت فرمایا تو نظر انصاف میں یہ سوال ہی اس روایت کی بے اصلی پر قرینہ و انحہ ہے اور جواب تو جو ارشاد ہوا ظاہر ہے "والعیاذ با ﷲ تعالی ارحم الراحمین"یہ جواب فقیر غفر اﷲ تعالی لہ نے اپنے فتوائے سابقہ مختصرہ میں ذکر کیا تھا۔ اب شرح مواہب میں دیکھا کہ علامہ زرقانی نے بھی اس کی طرف ایما کیافرماتے ہیں:
فی سوال العباس عن حالہ دلیل علی ضعف روایۃ ابن اسحق لانہ لوکانت الشہادۃ عندہ لم یسأل لعلمہ بحالہ ۔ ابو طالب کے حال کے بارے میں حضرت عباس رضی اﷲ تعالی عنہ کے سوال میں روایت ابن اسحق کے ضعف پر دلیل ہےکیونکہ اگر ابوطالب نے حضرت عباس کے نزدیك کلمہ شہادت پڑھ لیا تھا تو وہ یہ سوال نہ کرتے اس لیے کہ ان کو اس کا حال معلوم ہوتا۔(ت)
اقول:یونہی ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہا جن کی طرف اس کی روایت کی نسبت جاتی ہے علاوہ اس تفسیر کے جو آیت ثالثہ میں ان سے مروی خود بسند صحیح معلوم کہ وہ حضور پرنور سید یوم النشور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے ابو طالب کے بارے میں وہ ارشاد پاك حدیث ہشتم میں سن چکے ہیں جس میں ناری ہونے کی صریح تصریح ہے یہ روایت اگر صحیح ہوتی تو اس کا مقتضی یہ تھا کہ ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما
فی سوال العباس عن حالہ دلیل علی ضعف روایۃ ابن اسحق لانہ لوکانت الشہادۃ عندہ لم یسأل لعلمہ بحالہ ۔ ابو طالب کے حال کے بارے میں حضرت عباس رضی اﷲ تعالی عنہ کے سوال میں روایت ابن اسحق کے ضعف پر دلیل ہےکیونکہ اگر ابوطالب نے حضرت عباس کے نزدیك کلمہ شہادت پڑھ لیا تھا تو وہ یہ سوال نہ کرتے اس لیے کہ ان کو اس کا حال معلوم ہوتا۔(ت)
اقول:یونہی ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہا جن کی طرف اس کی روایت کی نسبت جاتی ہے علاوہ اس تفسیر کے جو آیت ثالثہ میں ان سے مروی خود بسند صحیح معلوم کہ وہ حضور پرنور سید یوم النشور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے ابو طالب کے بارے میں وہ ارشاد پاك حدیث ہشتم میں سن چکے ہیں جس میں ناری ہونے کی صریح تصریح ہے یہ روایت اگر صحیح ہوتی تو اس کا مقتضی یہ تھا کہ ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما
حوالہ / References
الدرالمنثور تحت آلایۃ مکتبہ آیۃ اﷲ العظمی قم ایران ۶ /۶۳،المستدرك للحاکم کتاب التوبۃ من قال لا الہٰ الا اﷲ دارالفکر بیروت ۴ /۲۵۱،المعجم الکبیر حدیث ۶۳۴۷ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۷ /۴۸
شرح الزرقانی علی المواہب اللدنیہ المقصد الاول وفاۃ خدیجہ دارالمعرفۃ بیروت ۱ /۲۹۳
شرح الزرقانی علی المواہب اللدنیہ المقصد الاول وفاۃ خدیجہ دارالمعرفۃ بیروت ۱ /۲۹۳
ابو طالب کو ناجی جانیں کہ ان امور میں نسخ وتغیر کو راہ نہیں مگر لازم بحکم حدیث صحیح مسلم باطل تو ملزوم بھی حلیہ صحت سے عاطلفافہم۔
خامسا:یقینا معلوم کہ عباس رضی اﷲ تعالی عنہ اس وقت تك مشرف باسلام نہ ہوئے تھے کہیں گیارہ برس بعد فتح مکہ میں مسلمان ہوئے ہیںاوراسی روایت میں ہے کہ حضور سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ابو طالب کا کلمہ پڑھنا نہ سنا اور ان کی عرض پر بھی اطمینان نہ فرمایا:یہی ارشاد ہوا کہ ہم نے نہ سنااب نہ رہی مگر ایك شخص کی شہادت جو عدالت درکنار گواہی دیتے وقت مسلمان بھی نہیں وہ شرعا کس قاعدہ وقانون سے قابل قبول یا لائق التفات اصحاب عقول ہوسکتی ہے۔
اقول:پہلے جوابوں کا حاصل سندا یا متنا روایت کی تصنعیف تھی اس جواب میں اسے ہر طرح صحیح مان کر کلام ہے کہ اب بھی اثبات مدعی سے مس نہیں اس سے یہ ثابت ہوا کہ ابو طالب نے کلمہ پڑھا بلکہ اس اس قدر معلوم ہوا کہ عباس رضی اﷲ تعالی عنہ نے اپنی غیر اسلام کی حالت میں ایسا بیان کیا پھر اس سے کیا ہوتا ہےیہ جواب امام سہیلی نے روض الانف میں ارشاد فرمایا اور ان کے بعد امام عینی و امام قسطلانی نے ذکر کیا۔ عمدہ میں ہے:
قال السھیلی ان العباس قال ذلك فی حال کو نہ علی غیر الاسلام ولواداھا بعد الاسلام لقبلت منہ ۔ سہیلی نےکہا کہ حضرت عباس نے یہ بات حالت غیر اسلام میں کہی اگر بعد اسلام وہ اس کو ادا کرتے تو مقبول ہوتی۔(ت)
اقول:وباﷲ التوفیق خود اسی روایت کا بیان کہ سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ان کی عرض پر یہی فرمایا کہ ہمارے مسامع قدسیہ تك نہ آیا۔دلیل واضح ہے کہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ان کے بیان پر اطمینان نہ فرمایا اس گواہی کو مقبول و معتبر نہ ٹھہرایا ورنہ کیا عقل سلیم قبول کرتی ہے کہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو جس کے اسلام میں اس درجہ کوشش بلیغ ہونفس انفس نے اس حد شدت پر اس کی خواہش فرمائی جب وہ امر عظیم محبوب و قوع میں آئی ایسے سہل لفطوں میں جواب دے دیا جائےلاجرم اس ارشاد کا یہی مفاد کہ تمہارے کہنے پر کیا اعتماد ہم سنتے تو ٹھیك تھا یہ صریح رد شہادت ہے تو جو گواہی خدا و رسول رد فرماچکے دوسرا اس کا قبول کرنے والا کون۔
وبھذا التحقیق الانیق استنار واﷲ الحمد اور اس عمدہ تحقیق سے بحمداﷲ روشن ہوگیا کہ امام عینی نے
خامسا:یقینا معلوم کہ عباس رضی اﷲ تعالی عنہ اس وقت تك مشرف باسلام نہ ہوئے تھے کہیں گیارہ برس بعد فتح مکہ میں مسلمان ہوئے ہیںاوراسی روایت میں ہے کہ حضور سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ابو طالب کا کلمہ پڑھنا نہ سنا اور ان کی عرض پر بھی اطمینان نہ فرمایا:یہی ارشاد ہوا کہ ہم نے نہ سنااب نہ رہی مگر ایك شخص کی شہادت جو عدالت درکنار گواہی دیتے وقت مسلمان بھی نہیں وہ شرعا کس قاعدہ وقانون سے قابل قبول یا لائق التفات اصحاب عقول ہوسکتی ہے۔
اقول:پہلے جوابوں کا حاصل سندا یا متنا روایت کی تصنعیف تھی اس جواب میں اسے ہر طرح صحیح مان کر کلام ہے کہ اب بھی اثبات مدعی سے مس نہیں اس سے یہ ثابت ہوا کہ ابو طالب نے کلمہ پڑھا بلکہ اس اس قدر معلوم ہوا کہ عباس رضی اﷲ تعالی عنہ نے اپنی غیر اسلام کی حالت میں ایسا بیان کیا پھر اس سے کیا ہوتا ہےیہ جواب امام سہیلی نے روض الانف میں ارشاد فرمایا اور ان کے بعد امام عینی و امام قسطلانی نے ذکر کیا۔ عمدہ میں ہے:
قال السھیلی ان العباس قال ذلك فی حال کو نہ علی غیر الاسلام ولواداھا بعد الاسلام لقبلت منہ ۔ سہیلی نےکہا کہ حضرت عباس نے یہ بات حالت غیر اسلام میں کہی اگر بعد اسلام وہ اس کو ادا کرتے تو مقبول ہوتی۔(ت)
اقول:وباﷲ التوفیق خود اسی روایت کا بیان کہ سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ان کی عرض پر یہی فرمایا کہ ہمارے مسامع قدسیہ تك نہ آیا۔دلیل واضح ہے کہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ان کے بیان پر اطمینان نہ فرمایا اس گواہی کو مقبول و معتبر نہ ٹھہرایا ورنہ کیا عقل سلیم قبول کرتی ہے کہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو جس کے اسلام میں اس درجہ کوشش بلیغ ہونفس انفس نے اس حد شدت پر اس کی خواہش فرمائی جب وہ امر عظیم محبوب و قوع میں آئی ایسے سہل لفطوں میں جواب دے دیا جائےلاجرم اس ارشاد کا یہی مفاد کہ تمہارے کہنے پر کیا اعتماد ہم سنتے تو ٹھیك تھا یہ صریح رد شہادت ہے تو جو گواہی خدا و رسول رد فرماچکے دوسرا اس کا قبول کرنے والا کون۔
وبھذا التحقیق الانیق استنار واﷲ الحمد اور اس عمدہ تحقیق سے بحمداﷲ روشن ہوگیا کہ امام عینی نے
حوالہ / References
عمدۃ القاری کتاب الجنائز حدیث۱۳۶۰ دارالکتب العلمیہ بیروت ۸ /۲۶۴
ان الامام العینی لقد احسن اذاقتصرفی نقل کلام الامام السہیلی علی مامرونعمافعل اذلم یتعدالی ما تعدی الیہ الامام القسطلانی وتبعہ العلامۃ الزرقانی حیث اثراکلامہ برمتہ واقرا علیہ ھذالفظھما (اجیب) کما قال السہیلی فی الروض(بان شہادۃ العباس لابی طالب لواداھا بعد مااسلم کانت مقبولۃ و لم ترد) شہادتہ(یقول علیہ الصلوۃ والسلام لم اسمع لان الشاھد العدل اذا قال سمعت وقال من ھو اعدل منہ لم اسمع اخذ بقول من اثبت السماع)قال السھیلی لان عدم السماع یحتمل اسبابا منعت الشاھد من السمع(ولکن العباس شہدبذلك قبل ان یسلم)فلا تقبل شہادتہ ۔ اھ اقول:فلیس الکلام فی ان عباسا اثبت والنبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نفی امام سہیلی کے نقل کلام میں اقتصار کرکے بہت اچھا کیا اس کی بنیاد پر جو گزرا اور اس کی طرف تجاوز نہ کرکے بھی اچھا کیا جس کی طرف امام قسطلانی نے تجاوز کیا اور ان کی اتباع کی علامہ زرقانی نے کیونکہ ان دونوں نے اس کے کلام کو پورا نقل کیا اور اس پر قائم رہے اور یہ لفظ ان دونوں کے ہیں۔(جواب دیا گیا)جیسا کہ امام سہیلی نے روض میں فرمایا کہ اگر ابوطالب کے بارے میں حضرت عباس رضی اﷲ تعالی عنہ کی شہادت آپ کے اسلام لانے کے بعد ہوتی تو مقبول ہوتیاس کو حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے اس ارشاد کے ساتھ ردنہ کیا جاتا کہ " میں نے نہیں سنا" کیونکہ عادل گواہ جب کہے کہ میں " میں نے سنا ہے"اور اس سے زیادہ عدل والا کہے کہ " میں نے نہیں سنا" تو اس کے قول کو قبول کیا جائے گا جو سماع کو ثابت کرنے والا ہےسہیلی نے کہا:اس کی وجہ یہ ہے کہ عدم سماع کئی ایسے اسباب کا احتمال رکھتا ہے جو گواہ کو سننے سے روکتے ہوںلیکن چونکہ حضرت عباس رضی اﷲ تعالی عنہ نے اسلام لانے سے قبل اس کی شہادت دی لہذا ان کی شہادت قبول نہ ہوگی۔اھ میں کہتا ہوں اس میں کلام نہیں کہ حضرت عباس رضی اﷲ تعالی عنہ نے اثبات کیا اور نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے نفی فرمائی
حوالہ / References
شرح الزرقانی علی المواہب الدنیۃ المقصد الاول وفاۃ خدیجہ وابی طالب دارالمعرفۃ بیروت ۱ /۲۹۱ و ۲۹۲
فھما شہادتان جاء تاعندنا احدھما تثبت والاخری تنفی فتقدم التی تثبت لوکان صاحبہا عدلا ومعاذ اﷲ ان تقدم علی قولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لم یقبل شہادۃ العباس و لم یرکن الیھا فھو صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم قاض لاشاھد اخر وانما الشاھد العباس وحدہفاذا لم یقبلہا النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فمن یقبلہا بعدہ ھذا ماعندی وانافی عجب عاجب ھھنا من کلام ھؤلاء الاعلام الاکا برفامعن النظر لعل لہ معنی قصرت عنہ ید فھمی القاصر ۔ یہ دو شہادتیں ہمارے پیش نظر ہیںایك ثابت کرنے والی اور دوسری نفی کرنے والیلہذا مثبت گواہی نافی پر مقدم ہوگی جب کہ مثبت گواہی دینے والا عادل ہو اور معاذ اﷲ کہ وہ نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے قول پر مقدم ہو۔نبی اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے حضرت عباس رضی اﷲ تعالی عنہ کی شہادت کو قبول نہیں فرمایا اور نہ ہی اس کی طرف میلان فرمایاکیونکہ آپ تو قاضی تھے نہ کہ دوسرے گواہگواہ تو تنہا حضرت عباس رضی اﷲ تعالی عنہ تھے جب نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے اسے قبول نہیں فرمایا تو آپ کے بعد کون قبول کرسکتا ہے۔یہ وہ ہے جو میرے پاس ہے۔مجھے اس مقام پر ان اکابر علماء کے کلام پر سخت تعجب ہےمیں نے گہری نظر سے دیکھا کہ شاید اس کا کوئی معنی بن سکتا ہو مگر میرے فہم قاصر کا ہاتھ اس سے قاصر رہا۔(ت)
یہ اجوبہ علماء ہیں اور بحمد اﷲ کافی و وافی و صافی ہیںوانا اقول:وباﷲ التوفیق(میں اﷲ تعالی کی توفیق سے کہتا ہوں۔ت)
سادسا ہم تسلیم کرتے ہیں کہ روایت انہیں احادیث صحیحیں کی مثل سندا ومتنا ہر طرح اعلی درجہ کی صحیح اور شہادت عباس رضی اﷲ تعالی عنہ بھی بروجہ کمال مقبول ونجیحپھر بھی نہ مستدل کو نافع نہ کفر ابی طالب کی اصلا دافعآخر جب بحکم احادیث جلیلہ آیت قرآنیہ مشرك و ناری بتارہی ہے تو یہ کسی کے مٹائے مٹتا نہیںیہ دوسری حدیث کہ فرضا اسی پلہ کی صحیح و جلیل ہے صرف اتنا بتاتی ہے کہ ابو طالب نے اخیر وقت لا الہ الا اﷲ کہایہ نہیں بتاتیکہ وہ وقت کیا تھاآخر وقت کیا تھاآخر وقت دو ہیں ایك وہ کہ ہنوز پر دے باقی ہیں اور یہ وقت وقت قبول ایمان ہےدوسرا وہ حقیقی آکر جب حالت غر غرہ ہوپردے اٹھ جائیں جنت و نار پیش نظر ہوجائیں۔"یؤمنون بالغیب"کا محل نہ رہےکافر کا اس وقت اسلام لانا بالاجماع مردود و نامقبول ہے۔اﷲ عزوجل فرماتا ہے:
" فلم یک ینفعہم ایمنہم لما راوا باسنا سنت اللہ التی قد خلت تو ان کے ایمان نے انہیں کام نہ دیا جب انہوں نے ہمارا عذاب دیکھ لیااﷲ کا دستور جو اس کے
یہ اجوبہ علماء ہیں اور بحمد اﷲ کافی و وافی و صافی ہیںوانا اقول:وباﷲ التوفیق(میں اﷲ تعالی کی توفیق سے کہتا ہوں۔ت)
سادسا ہم تسلیم کرتے ہیں کہ روایت انہیں احادیث صحیحیں کی مثل سندا ومتنا ہر طرح اعلی درجہ کی صحیح اور شہادت عباس رضی اﷲ تعالی عنہ بھی بروجہ کمال مقبول ونجیحپھر بھی نہ مستدل کو نافع نہ کفر ابی طالب کی اصلا دافعآخر جب بحکم احادیث جلیلہ آیت قرآنیہ مشرك و ناری بتارہی ہے تو یہ کسی کے مٹائے مٹتا نہیںیہ دوسری حدیث کہ فرضا اسی پلہ کی صحیح و جلیل ہے صرف اتنا بتاتی ہے کہ ابو طالب نے اخیر وقت لا الہ الا اﷲ کہایہ نہیں بتاتیکہ وہ وقت کیا تھاآخر وقت کیا تھاآخر وقت دو ہیں ایك وہ کہ ہنوز پر دے باقی ہیں اور یہ وقت وقت قبول ایمان ہےدوسرا وہ حقیقی آکر جب حالت غر غرہ ہوپردے اٹھ جائیں جنت و نار پیش نظر ہوجائیں۔"یؤمنون بالغیب"کا محل نہ رہےکافر کا اس وقت اسلام لانا بالاجماع مردود و نامقبول ہے۔اﷲ عزوجل فرماتا ہے:
" فلم یک ینفعہم ایمنہم لما راوا باسنا سنت اللہ التی قد خلت تو ان کے ایمان نے انہیں کام نہ دیا جب انہوں نے ہمارا عذاب دیکھ لیااﷲ کا دستور جو اس کے
فی عبادہ و خسر ہنالک الکفرون ﴿۸۵﴾" ۔ بندوں میں گزر چکا اور وہاں کافر گھاٹے میں۔(ت)
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ان اﷲ یقبل توبۃ العبد ما لم یغرغررواہ الحمد والترمذی و حسنہ و ابن ماجۃ والحاکم و ابن حبان والبیھقی فی الشعب کلھم عن سیدنا عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما۔ اﷲ تعالی سکرات موت سے پہلے پہلے توبہ قبول فرماتا ہے اس کو روایت کیا احمد نےترمذی نے اور ترمذی نے اس کو حسن کہا۔نیز روایت کیا اس کو ابن ماجہحاکمابن حبان اورا مام بیہقی نے شعب میںان تمام نے سیدنا عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما سے روایت کیا۔(ت)
اب اگر وقت اول کہنا مانتے ہیں تو آیت قرآنیہ مع ان احادیث صحیحہ کے اس حدیث صحیح مفروض سے مناقض ہوگی اور کسی نہ کسی حدیث صحیح کو رد کے بغیر چارہ نہ ملے گا اور اگر وقت دوم پر مانتے ہیں تو آیت و احادیث سب حق و صحیح ٹھہرتے ہیں اور تناقض و تعارض بے تکلف دفع ہوا جاتا ہے کلمہ پڑھا اور ضرور پڑھا مگر کباس وقت جب کہ وقت نہ رہا تھالہذا حکم شرك و نار برقرار رہا۔قال اﷲ تعالی(اﷲ تعالی نے فرمایا۔ت):
" حتی اذا ادرکہ الغرق قال امنت انہ لا الہ الا الذی امنت بہ بنوا اسرءیل و انا من المسلمین ﴿۹۰﴾" ۔" الـن وقد عصیت قبل وکنت من المفسدین ﴿۹۱﴾" ۔ یہاں تك کہ جب اسے ڈوبنے نے آلیا تو بولا میں ایمان لایا کہ کوئی سچا معبود نہیں اس کے جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے اور میں مسلمان ہوں کیا اب اور پہلے سے نافرمان رہا اور تو فسادی تھا۔
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ان اﷲ یقبل توبۃ العبد ما لم یغرغررواہ الحمد والترمذی و حسنہ و ابن ماجۃ والحاکم و ابن حبان والبیھقی فی الشعب کلھم عن سیدنا عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما۔ اﷲ تعالی سکرات موت سے پہلے پہلے توبہ قبول فرماتا ہے اس کو روایت کیا احمد نےترمذی نے اور ترمذی نے اس کو حسن کہا۔نیز روایت کیا اس کو ابن ماجہحاکمابن حبان اورا مام بیہقی نے شعب میںان تمام نے سیدنا عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما سے روایت کیا۔(ت)
اب اگر وقت اول کہنا مانتے ہیں تو آیت قرآنیہ مع ان احادیث صحیحہ کے اس حدیث صحیح مفروض سے مناقض ہوگی اور کسی نہ کسی حدیث صحیح کو رد کے بغیر چارہ نہ ملے گا اور اگر وقت دوم پر مانتے ہیں تو آیت و احادیث سب حق و صحیح ٹھہرتے ہیں اور تناقض و تعارض بے تکلف دفع ہوا جاتا ہے کلمہ پڑھا اور ضرور پڑھا مگر کباس وقت جب کہ وقت نہ رہا تھالہذا حکم شرك و نار برقرار رہا۔قال اﷲ تعالی(اﷲ تعالی نے فرمایا۔ت):
" حتی اذا ادرکہ الغرق قال امنت انہ لا الہ الا الذی امنت بہ بنوا اسرءیل و انا من المسلمین ﴿۹۰﴾" ۔" الـن وقد عصیت قبل وکنت من المفسدین ﴿۹۱﴾" ۔ یہاں تك کہ جب اسے ڈوبنے نے آلیا تو بولا میں ایمان لایا کہ کوئی سچا معبود نہیں اس کے جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے اور میں مسلمان ہوں کیا اب اور پہلے سے نافرمان رہا اور تو فسادی تھا۔
حوالہ / References
القرآن الکریم ۴۰ /۸۵
جامع الترمذی ابواب الدعوات باب ماجاء فی فضل التوبۃالخ امین کمپنی دہلی ۲ /۱۹۲،مسند احمد بن حنبل عن عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ عنہما المکتب الاسلامی بیروت ۲ /۱۳۲،المستدرك للحاکم کتاب التوبۃ باب ان اﷲ یغفر لعبدہ دارالفکر بیروت ۴ /۲۵۷
القرآن الکریم ۱۰ /۹۰
القرآن الکریم ۱۰ /۹۰
جامع الترمذی ابواب الدعوات باب ماجاء فی فضل التوبۃالخ امین کمپنی دہلی ۲ /۱۹۲،مسند احمد بن حنبل عن عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ عنہما المکتب الاسلامی بیروت ۲ /۱۳۲،المستدرك للحاکم کتاب التوبۃ باب ان اﷲ یغفر لعبدہ دارالفکر بیروت ۴ /۲۵۷
القرآن الکریم ۱۰ /۹۰
القرآن الکریم ۱۰ /۹۰
صورت اولی ظاہر البطلانلہذا شق اخیر ہی لازم الاذعاناور فی الواقع اگر یہ روایت مطابق واقع تھی تو قطعا یہی صورت واقعی ہوئی اور وہ ضرور قرین قیاس بھی ہےحضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ان کے قریب مرگ ہی جلوہ افروز ہوئے ہیںاسی حالت میں کفار قریش سے وہ محاورات ہوئے سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے بار بار باصرار دعوت اسلام فرمائی کفار نے ملت کفر پر قائم رہنے میں جان لڑائیآخر پچھلا جواب وہ دیا کہ ابو طالب ملت جاہلیت پر جاتا ہےیہاں تك بات چیت کی طاقت تھی اب سینے پر دم آیا پر دے اٹھے غیب سامنے آیا اس نار نے جس پر عار کو اختیار کیا تھا اپنی مہیب صورت سے منہ دکھایا لیس الخبر کالمعاینۃ (خبر مشاہدہ کی مثل نہیں۔ت) اب کھلا کہ یہ بلا جھیلنے کی نہیںڈوبتا ہوا سوار پکڑتا ہےاب لا الہ الا اﷲ کی قدر آئیکہنا چاہا طاقت نہ پائیآہستہ لبوں کو جنبش ہوئی مگر بے سود کہ وقت نکل چکا تھا۔
انا اﷲ وانا الیہ راجعون ولا حول ولاقوۃ الا باﷲ العلی العظیم۔ ہم اﷲ تعالی کے لیے ہیں اور اسی کیطرف لوٹ کر جانے والے ہیںنہ گناہ سے بچنے کی طاقت ہے اور نی نیکی کرنے کی قوت ہے مگر بلندی و عظمت والے خدا کی توفیق سے۔(ت)
تو حضرت عباس رضی ا ﷲ تعالی عنہ بھی سچے کہ کلمہ پڑھااور قرآن و حدیث تو قطعا سچے ہیں کہ حکم کفر بدستور رہا۔والعیاذ باﷲ رب العالمین۔(اﷲ کی پناہ جو پروردگار ہے تمام جہانوں کا۔ت)
سابعا:اس سے بھی در گزر یےیہ بھی مانا کہ حالت غرغرہ سے پہلے ہی پڑھا ہے پھر حضرت عباس رضی اﷲ تعالی عنہ تو ظاہر ہی کی گواہی دیں گےدل کے حال کا عالم خدا ہےکیا اگر کوئی شخص روزانہ لاکھ بار کلمہ پڑھے اورا ﷲ عزوجل اسے کافر بتائے تو ہم اس کے کلمہ پڑھنے کو دیکھیں گے یا اپنے رب عزوجل کے ارشاد کوایمان زبان سے کلمہ خوانی کا نام نہیںجب دلوں کا مالك اس کے کفر پر حاکم تو قطعا ثابت کہ اس کے قلب میں اذعان و اسلام نہیںآخر نہ سنا کہ جیتے جاگتے تندرستوں کے بڑی سے بڑی قسم کھا کر " نشہد انک لرسول اللہ " (ہم گواہی دیتے ہیں کہ حضور بے شك یقینا اﷲ کے رسول ہیں۔ت)کہنے پر کیا ارشاد ہوا:
انا اﷲ وانا الیہ راجعون ولا حول ولاقوۃ الا باﷲ العلی العظیم۔ ہم اﷲ تعالی کے لیے ہیں اور اسی کیطرف لوٹ کر جانے والے ہیںنہ گناہ سے بچنے کی طاقت ہے اور نی نیکی کرنے کی قوت ہے مگر بلندی و عظمت والے خدا کی توفیق سے۔(ت)
تو حضرت عباس رضی ا ﷲ تعالی عنہ بھی سچے کہ کلمہ پڑھااور قرآن و حدیث تو قطعا سچے ہیں کہ حکم کفر بدستور رہا۔والعیاذ باﷲ رب العالمین۔(اﷲ کی پناہ جو پروردگار ہے تمام جہانوں کا۔ت)
سابعا:اس سے بھی در گزر یےیہ بھی مانا کہ حالت غرغرہ سے پہلے ہی پڑھا ہے پھر حضرت عباس رضی اﷲ تعالی عنہ تو ظاہر ہی کی گواہی دیں گےدل کے حال کا عالم خدا ہےکیا اگر کوئی شخص روزانہ لاکھ بار کلمہ پڑھے اورا ﷲ عزوجل اسے کافر بتائے تو ہم اس کے کلمہ پڑھنے کو دیکھیں گے یا اپنے رب عزوجل کے ارشاد کوایمان زبان سے کلمہ خوانی کا نام نہیںجب دلوں کا مالك اس کے کفر پر حاکم تو قطعا ثابت کہ اس کے قلب میں اذعان و اسلام نہیںآخر نہ سنا کہ جیتے جاگتے تندرستوں کے بڑی سے بڑی قسم کھا کر " نشہد انک لرسول اللہ " (ہم گواہی دیتے ہیں کہ حضور بے شك یقینا اﷲ کے رسول ہیں۔ت)کہنے پر کیا ارشاد ہوا:
حوالہ / References
مسند احمد بن حنبل عن ابن عباس رضی اﷲ عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۱ /۲۷۱
القرآن الکریم ۶۳ /۱
القرآن الکریم ۶۳ /۱
" و اللہ یعلم انک لرسولہ و اللہ یشہد ان المنفقین لکذبون ﴿۱﴾ " ۔ اور اﷲ جانتا ہے کہ تم اس کے رسول ہو اور اﷲ گواہی دیتا ہے کہ منافق ضرور جھوٹے ہیں۔(ت)
غرض لاکھ جتن کیجئے آیت براء ت سے براء ت ملے یہ شدنی نہیں رہے گی ہمان آش درکاسہ(وہی قسمت وہی نصیب۔ت)کہ:
" تبین لہم انہم اصحب الجحیم ﴿۱۱۳﴾ " ۔
والعیاذ باﷲ رب العلمین اللھم ارحم الرحمین صل وسلم وبارك علی السید الامین الاتی من عندك بالحق المبین اللھم بقدر تك علینا وفاقتنا الیك ارحم عجزنا یا ارحم الراحمین امین امین امین والحمدﷲ رب العلمین لا الہ الا اﷲ عدۃ للقاء اﷲ محمد رسول اﷲ ودیعۃ عند اﷲ ولاحول ولا قوۃ الا باﷲ وصلی اﷲ تعالی علی سیدنا محمد والہ اجمعین والحمدﷲ رب العلمین۔ کھل چکا کہ وہ دوزخی ہیں۔(ت)
اور اﷲ تعالی کی پناہ جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔اے اﷲ بہترین رحم کرنے والے۔درود سلام اور برکت نازل فرما اس امانت والے سردار پر جو تیری بارگاہ سے حق مبین لے کر آنے و الے ہے۔اے اﷲ ! اپنی قدرت کے ساتھ جو ہم پر ہے اور ہماری محتاجی تیری طرف ہےہمارے عجز پر رحم فرما اے بہترین رحم فرمانے والےہماری دعا قبول فرمااور تمام تعریفیں اس خدا کے لیے ہیں جو کل جہانوں کا پروردگار ہے۔ اﷲ کے بغیر کوئی سچا معبود نہیںمحمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے ساتھ اﷲ تعالی کی ملاقات کا وعدہ اﷲ تعالی کے پاس ودیعت ہےنہ گناہ سے بچنے کی طاقت ہے اور نہ ہی نیکی کرنے کی قوت مگر اﷲ کی توفیق سے۔اﷲ تعالی درود نازل فرمائے ہمارے آقا محمد مصطفی پرآپ کی آل اور سب صحابہ پراور سب تعریفیں اﷲ کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔(ت)
بحمد اﷲ از احت شبہات سے بھی بروجہ احسن فراغ پایا۔
وھناك شبھۃ اخر اوھن و اھون لم نوردھا اذلم تعرض یہاں ایك دوسرا شبہ ہے جو بہت کمزور اور بہت ہلکا ہے ہم اس کو اس لیے وارد نہیں کرتے۔
غرض لاکھ جتن کیجئے آیت براء ت سے براء ت ملے یہ شدنی نہیں رہے گی ہمان آش درکاسہ(وہی قسمت وہی نصیب۔ت)کہ:
" تبین لہم انہم اصحب الجحیم ﴿۱۱۳﴾ " ۔
والعیاذ باﷲ رب العلمین اللھم ارحم الرحمین صل وسلم وبارك علی السید الامین الاتی من عندك بالحق المبین اللھم بقدر تك علینا وفاقتنا الیك ارحم عجزنا یا ارحم الراحمین امین امین امین والحمدﷲ رب العلمین لا الہ الا اﷲ عدۃ للقاء اﷲ محمد رسول اﷲ ودیعۃ عند اﷲ ولاحول ولا قوۃ الا باﷲ وصلی اﷲ تعالی علی سیدنا محمد والہ اجمعین والحمدﷲ رب العلمین۔ کھل چکا کہ وہ دوزخی ہیں۔(ت)
اور اﷲ تعالی کی پناہ جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔اے اﷲ بہترین رحم کرنے والے۔درود سلام اور برکت نازل فرما اس امانت والے سردار پر جو تیری بارگاہ سے حق مبین لے کر آنے و الے ہے۔اے اﷲ ! اپنی قدرت کے ساتھ جو ہم پر ہے اور ہماری محتاجی تیری طرف ہےہمارے عجز پر رحم فرما اے بہترین رحم فرمانے والےہماری دعا قبول فرمااور تمام تعریفیں اس خدا کے لیے ہیں جو کل جہانوں کا پروردگار ہے۔ اﷲ کے بغیر کوئی سچا معبود نہیںمحمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے ساتھ اﷲ تعالی کی ملاقات کا وعدہ اﷲ تعالی کے پاس ودیعت ہےنہ گناہ سے بچنے کی طاقت ہے اور نہ ہی نیکی کرنے کی قوت مگر اﷲ کی توفیق سے۔اﷲ تعالی درود نازل فرمائے ہمارے آقا محمد مصطفی پرآپ کی آل اور سب صحابہ پراور سب تعریفیں اﷲ کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔(ت)
بحمد اﷲ از احت شبہات سے بھی بروجہ احسن فراغ پایا۔
وھناك شبھۃ اخر اوھن و اھون لم نوردھا اذلم تعرض یہاں ایك دوسرا شبہ ہے جو بہت کمزور اور بہت ہلکا ہے ہم اس کو اس لیے وارد نہیں کرتے۔
ولم تعرف فلا نطیل الکلام بایرادھا و لنطوھا علی غرھالمیعا دھا "۔ کہ نہ تو اس کا تعرض کیا گیا ہے اور نہ ہی وہ معروف ہےچنانچہ ہم اس کو وارد کرکے کلام کو لمبا نہیں کرتے۔لہذا چاہیے کہ ہم اس کے مقررہ وقت تك اس کو اس کے شکن پر لپیٹ دیں۔(ت)
اب بقیہ سوال کا جواب لیجئے اور اس رسالہ میں جن ائمہ و علماء و کتب سے یہ مسئلہ ثابت کیا آخر میں ان کے اسماء شمار کردیجئے کہ جسے رسالہ دیکھنے میں کاہلی آئے ان ناموں ہی کو دیکھ کر خلاف سے ہاتھ اٹھائے لہذا تین فصل کا وصل اور مناسب کہ تلك عشرۃ کاملۃ(یہ پورے دس ہوئے۔ت)جلوہ دکھائے۔
فصل ہشتم
جب ابوطالب کا کفرادلہ کالنہار سے آشکار تو رضی اﷲ تعالی عنہ کہنے کا کیونکراختیاراگر اخبار ہے تو اﷲ تعالی عزوجل پر افتراکفار کو رضائے الہی سے کیا بہرہاور اگر دعا ہے کما ھو الظاھر(جیسا کہ ظاہر ہے۔ت)تو دعا بالمحال حضرت ذی الجلال سے معاذ اﷲ استہزاءایسی دعا سے حضور سرور عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے نہی فرمائی۔
کما فی الصحیحین وقد بیناہ فی رسالتنا "ذیل المدعاء لاحسن الوعاء" التی ذیلنا بہار سالۃ "احسن الوعاء لاداب الدعاء" لخاتمۃ المحققین سیدنا الوالد قدس سرہ الماجد"۔ جیسا کہ صحیحین میں ہےاور ہم نے اس کو اپنے رسالہ "ذیل المدعاء لاحسن الوعاء" میں بیان کردیا۔اس رسالے کو ہم نے حاشیہ بنایا رسالہ "احسن الوعادء لآداب الدعاء"کا جو تصنیف ہے خاتمۃ المحققین ہمارے سردار والد گرامی قدس سرہ کی۔ت)
علماء نے کافر کے لیے دعائے مغفرت پر سخت اشد حکم صادر فرمایا اور اس کے حرام ہونے پر تو اجماع ہےپھر دعائے رضوان تو اس سے بھی ارفع و اعلی۔
فان السید قدیعفوعن عبدہ اس لیے کہ مالك بعض دفعہ اپنے غلام کو معاف
اب بقیہ سوال کا جواب لیجئے اور اس رسالہ میں جن ائمہ و علماء و کتب سے یہ مسئلہ ثابت کیا آخر میں ان کے اسماء شمار کردیجئے کہ جسے رسالہ دیکھنے میں کاہلی آئے ان ناموں ہی کو دیکھ کر خلاف سے ہاتھ اٹھائے لہذا تین فصل کا وصل اور مناسب کہ تلك عشرۃ کاملۃ(یہ پورے دس ہوئے۔ت)جلوہ دکھائے۔
فصل ہشتم
جب ابوطالب کا کفرادلہ کالنہار سے آشکار تو رضی اﷲ تعالی عنہ کہنے کا کیونکراختیاراگر اخبار ہے تو اﷲ تعالی عزوجل پر افتراکفار کو رضائے الہی سے کیا بہرہاور اگر دعا ہے کما ھو الظاھر(جیسا کہ ظاہر ہے۔ت)تو دعا بالمحال حضرت ذی الجلال سے معاذ اﷲ استہزاءایسی دعا سے حضور سرور عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے نہی فرمائی۔
کما فی الصحیحین وقد بیناہ فی رسالتنا "ذیل المدعاء لاحسن الوعاء" التی ذیلنا بہار سالۃ "احسن الوعاء لاداب الدعاء" لخاتمۃ المحققین سیدنا الوالد قدس سرہ الماجد"۔ جیسا کہ صحیحین میں ہےاور ہم نے اس کو اپنے رسالہ "ذیل المدعاء لاحسن الوعاء" میں بیان کردیا۔اس رسالے کو ہم نے حاشیہ بنایا رسالہ "احسن الوعادء لآداب الدعاء"کا جو تصنیف ہے خاتمۃ المحققین ہمارے سردار والد گرامی قدس سرہ کی۔ت)
علماء نے کافر کے لیے دعائے مغفرت پر سخت اشد حکم صادر فرمایا اور اس کے حرام ہونے پر تو اجماع ہےپھر دعائے رضوان تو اس سے بھی ارفع و اعلی۔
فان السید قدیعفوعن عبدہ اس لیے کہ مالك بعض دفعہ اپنے غلام کو معاف
حوالہ / References
صحیح البخاری کتاب التفسیر سورۃ البراء ۃ باب ماکان للنبی والذین اٰ منوا لخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۶۷۵،صحیح مسلم کتاب الایمان باب الدلیل علٰی صحۃ الاسلام من حضرہ الموت الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۴۰
وھوعند غیر ر اض کما ان العبدربما یحب سیدہ وھو علی امرہ غیر ماض وحسبنا اﷲ و نعم الوکیل کردیتا ہے حالانکہ وہ اس پر راضی نہیں ہوتاجیسا کہ غلام بسا اوقات اپنے مالك کو پسند کرتا ہے مگر اس کے حکم پر عمل پیرا نہیں ہوتا۔اﷲ ہمیں کافی ہے اور کیا ہی اچھا کارساز ہے۔(ت)
امام محمد محمد محمد حلبی حلیہ میں فرماتے ہیں:
"صرح الشیخ شہاب الدین القرافی المالکی بان الدعاء بالمغفرۃ للکافر کفر لطلبہ تکذب اﷲ تعالی فیما اخبر بہ ولہذا قال المصنف وغیرہ ان کان مؤمنین " ۔ یعنی امام شہاب قرآنی مالکی نے تصریح فرمائی کہ کفار کے لیے دعائے مغفرت کرنا کفر ہےکہ اﷲ عزوجل نے جو خبر دی اس کا جھوٹا کرنا چاہتا ہے اس لیے منیہ وغیرہ کتب فقہ میں قید لگادی کہ ماں با پ کے لیے دعائے مغفرت کرے بشرطیکہ وہ مسلمان ہوں۔
پھر ایك ورق کے بعد فرمایا کہ " تقدم ان کفر" ۔اوپر بیان ہوچکا ہے کہ یہ کفر ہے۔ردالمحتار میں ہے:
الدعاء بہ کفر لعدم جوازہ عقلا و لاشرعا ولتکذیب النصوص القطعیۃ بخلاف الدعاء للمؤمنین کما علمت فالحق ما فی الحلیۃ ۔ اس کی دعا کفر ہے کیونکہ یہ عقلا و شرعا ناجائز ہے اور اس میں نصوص قطعیہ کی تکذیب ہے بخلاف مومنوں کے لیے دعا کے۔ جیسا کہ تو جان چکا ہےاور حق وہ ہے جو حلیہ میں ہے۔(ت)
درمختار میں ہے:
الحق حرمۃ الدعاء بالمغفرۃ للکافر ۔ حق یہ ہے کہ کافر کے لیے دعائے مغفرت حرام ہے۔
اسی طرح بحرالرائق میں ہے:
امام محمد محمد محمد حلبی حلیہ میں فرماتے ہیں:
"صرح الشیخ شہاب الدین القرافی المالکی بان الدعاء بالمغفرۃ للکافر کفر لطلبہ تکذب اﷲ تعالی فیما اخبر بہ ولہذا قال المصنف وغیرہ ان کان مؤمنین " ۔ یعنی امام شہاب قرآنی مالکی نے تصریح فرمائی کہ کفار کے لیے دعائے مغفرت کرنا کفر ہےکہ اﷲ عزوجل نے جو خبر دی اس کا جھوٹا کرنا چاہتا ہے اس لیے منیہ وغیرہ کتب فقہ میں قید لگادی کہ ماں با پ کے لیے دعائے مغفرت کرے بشرطیکہ وہ مسلمان ہوں۔
پھر ایك ورق کے بعد فرمایا کہ " تقدم ان کفر" ۔اوپر بیان ہوچکا ہے کہ یہ کفر ہے۔ردالمحتار میں ہے:
الدعاء بہ کفر لعدم جوازہ عقلا و لاشرعا ولتکذیب النصوص القطعیۃ بخلاف الدعاء للمؤمنین کما علمت فالحق ما فی الحلیۃ ۔ اس کی دعا کفر ہے کیونکہ یہ عقلا و شرعا ناجائز ہے اور اس میں نصوص قطعیہ کی تکذیب ہے بخلاف مومنوں کے لیے دعا کے۔ جیسا کہ تو جان چکا ہےاور حق وہ ہے جو حلیہ میں ہے۔(ت)
درمختار میں ہے:
الحق حرمۃ الدعاء بالمغفرۃ للکافر ۔ حق یہ ہے کہ کافر کے لیے دعائے مغفرت حرام ہے۔
اسی طرح بحرالرائق میں ہے:
حوالہ / References
حلیۃ المحلی
حلیۃ المحلی
ردالمحتار کتاب الصلوۃ فصل واذاارادالشروع فی الصلوۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ /۳۵۱
الدرالمختار کتاب الصلوۃ فصل واذاارادالشروع فی الصلوۃ داراحیاء مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۷۸
حلیۃ المحلی
ردالمحتار کتاب الصلوۃ فصل واذاارادالشروع فی الصلوۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ /۳۵۱
الدرالمختار کتاب الصلوۃ فصل واذاارادالشروع فی الصلوۃ داراحیاء مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۷۸
اقول:ومانحاالیہ العلامۃ الشامی من عدم جواز عفوالکفرعقلافانما تبع فیہ الامام النسفی صاحب عمدۃ الکلام وشرذمۃ قلیلۃ من اھل السنۃ والجمھور علی امتناعہ شرعا وجوازہ عقلا کما فی شرح المقاصد و المسامرۃ وغیرھما وبہ تقضی الدلائل فہوالصحیح وعلیہ التعویل فاذن الحق ماذھب الیہ البحروتبعہ فی الدروتمام الکلام فی ھذاالمقام فیما علقنا ہ علی رد المحتار۔ اقول:(میں کہتاہوں)جس کا قصد علامہ شامی نے کیا یعنی کفر کی معافی کا عقلا عدم جواز تو اس میں انہوں نے عمدۃ الکلام کے مصنف امام نسفی اور اہلسنت کے گروہ قلیل کی پیروی کی ہےجب کہ جمہور کے نزدیك یہ شرعا ممتنع اور عقلا جائز ہے جیسا کہ شرح المقاصد اور مسامرہ وغیرہ میں ہے۔اور دلائل اسی کے مؤید ہیں لہذا یہی صحیح اور اسی پر بھروسا ہےتو اب حق وہ ہے جس کی طرف صاحب البحر گئے ہیں اور در میں اسی کی پیروی کی ہےاور مکمل کلام اس مقام پر ردالمحتار پر ہمارے حاشیہ میں ہے۔(ت)
ہاں ابولہب وابلیس لعنہمااﷲ کی مثل کہنا محض افراط اور خون انصاف کرنا ہےابوطالب کی عمر خدمت و کفالت و نصرت و حمایت حضرت رسالت علیہ وعلی آلہ الصلوۃ والتحیۃ میں کٹی اور یہ ملا عنہ درپردہ وعلانیہ درپے ایذاء واضرار رہے کہان وہ جس کا وظیفہ مدح وستائش ہواور کہاں وہ شقی جس کا ورد ذم ونکوہش ہو ایك اگرچہ خود محروم اور اسلام سے مصروف مگر بتسخیر تقدیر نفع اسلام میں مصروف اور دوسرا مردود و متمر دوعدو ومعاندہمہ تن کسر بیضہ اسلام میں مشغوف ع
ببیں تفاوت رہ ازکجا ست تابہ کجا
(ان میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ت)
آخرنہ دیکھا جو صحیح حدیث میں ارشاد ہوا کہ ابوطالب پر تمام کفار سے کم عقاب ہے اور یہ اشقیاء ان میں ہیں جن پر اشد العذاب ہےابوطالب کے صرف پاؤں آگ میں ہیں اور یہ ملا عنہ ان میں کہ:
" لہم من فوقہم ظلل من النار و من تحتہم ظلل " ۔" لہم من جہنم مہاد و من فوقہم غواش " ۔ ان کے اوپر آگ کی تہیں ہیں اور ان کے نیچے آگ کی تہیں۔
ان کے نیچے آگ کا بچھونا اور اوپر آگ کے لحاف۔
سراپا آگہر طرف سے آگوالعیاذ باﷲ رب العلمین(اور اﷲ رب العالمین کی پناہ۔ت)
ہاں ابولہب وابلیس لعنہمااﷲ کی مثل کہنا محض افراط اور خون انصاف کرنا ہےابوطالب کی عمر خدمت و کفالت و نصرت و حمایت حضرت رسالت علیہ وعلی آلہ الصلوۃ والتحیۃ میں کٹی اور یہ ملا عنہ درپردہ وعلانیہ درپے ایذاء واضرار رہے کہان وہ جس کا وظیفہ مدح وستائش ہواور کہاں وہ شقی جس کا ورد ذم ونکوہش ہو ایك اگرچہ خود محروم اور اسلام سے مصروف مگر بتسخیر تقدیر نفع اسلام میں مصروف اور دوسرا مردود و متمر دوعدو ومعاندہمہ تن کسر بیضہ اسلام میں مشغوف ع
ببیں تفاوت رہ ازکجا ست تابہ کجا
(ان میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ت)
آخرنہ دیکھا جو صحیح حدیث میں ارشاد ہوا کہ ابوطالب پر تمام کفار سے کم عقاب ہے اور یہ اشقیاء ان میں ہیں جن پر اشد العذاب ہےابوطالب کے صرف پاؤں آگ میں ہیں اور یہ ملا عنہ ان میں کہ:
" لہم من فوقہم ظلل من النار و من تحتہم ظلل " ۔" لہم من جہنم مہاد و من فوقہم غواش " ۔ ان کے اوپر آگ کی تہیں ہیں اور ان کے نیچے آگ کی تہیں۔
ان کے نیچے آگ کا بچھونا اور اوپر آگ کے لحاف۔
سراپا آگہر طرف سے آگوالعیاذ باﷲ رب العلمین(اور اﷲ رب العالمین کی پناہ۔ت)
بلکہ دونوں کا ثبوت کفر بھی ایك سا نہیںابوطالب کے باب میں اگرچہ قول حق و صواب وہی کفر و عذاباور اس کا خلاف شاذ ومردود باطل و مطرود پھر بھی اس حد کا نہیں کہ معاذاﷲ خلاف پر تکفیر کا احتمال ہو اور ان اعداء اﷲ کا کافر و ابدی جہنمی ہونا تو ضروریات دین سے ہے جس کا منکر خود جہنمی کا فرتوفریقین کا نہ کفر یکساں نہ ثبوت یکساںنہ عمل یکساں نہ سزا یکساںہر جگہ فرق زمین و آسمانپھر مماثلت کہاں۔
نسأل اﷲ سلوك سوی الصراط ونعوذ باﷲ من التفریظ والافراط۔ ہم اﷲ تعالی سے سیدھے راستے پر چلنے کا سوال کرتے ہیںاور افراط و تفریط سے اس کی پناہ مانگتے ہیں۔(ت)
فصل نہم
ان ائمہ دین و علمائے معتمدین کے ذکر اسمائے طیبہ میں جنہوں نے کفر ابی طالب کی تصریح و تصحیح فرمائی اور ان کے ارشادات کی نقل اس رسالہ میں گزری فمن الصحابۃ:
(۱)امیر المومنین صدیق اکبر (۲)امیر المومنین فاروق اعظم
(۳)امیر المومنین علی مرتضی (۴)حبر الامتہ سیدنا عبداﷲ بن عباس
(۴)حافظ الصحابہ سیدنا ابوہریرہ (۶)صحابی ابن الصحابی سیدنا مسیب بن حزن قریشی مخزومی
(۷)حضرت سیدنا عباس عم رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم (۸)سیدنا ابوسعید خدری
(۹)سیدنا جابر بن عبداﷲ انصاری (۱۰)حضرت سیدتنا ام المومنین ام سلمہ رضی اﷲ تعالی عنہم اجمعین
(۱۱)سیدنا انس بن مالك خادم رسول صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم
(۱۲)حضرت سیدتنا ام المومنین ام سلمہ رضی اﷲ تعالی عنہم اجمعین
پہلے چھ۶ حضرات سے تو خود ان کے اقوال گزرے اور انس و ابن عمررضی اﷲ تعالی عنہم کی تقریر اور باقی چار خود حضور پرنور سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے ارشاد بیان فرماتے ہیںاور پر ظاہر کہ یہاں اپنے کہنے سے نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا ارشاد بتانا اور بھی ابلغ ہے۔
ومن التابعین:
(۱۳)آدم آل عبازین العابدین علی بن حسین بن علی مرتضی رضی اﷲ تعالی عنہم و کرم وجوھہم۔
(۱۴)امام عطاء بن ابی رباح استاذ سیدنا الامام الاعظم رضی اﷲ تعالی عنہا۔
(۱۵)امام محمد بن کعب قرظی کہ اجلہ ائمہ محدثین و مفسرین تابعین سے ہیں۔
نسأل اﷲ سلوك سوی الصراط ونعوذ باﷲ من التفریظ والافراط۔ ہم اﷲ تعالی سے سیدھے راستے پر چلنے کا سوال کرتے ہیںاور افراط و تفریط سے اس کی پناہ مانگتے ہیں۔(ت)
فصل نہم
ان ائمہ دین و علمائے معتمدین کے ذکر اسمائے طیبہ میں جنہوں نے کفر ابی طالب کی تصریح و تصحیح فرمائی اور ان کے ارشادات کی نقل اس رسالہ میں گزری فمن الصحابۃ:
(۱)امیر المومنین صدیق اکبر (۲)امیر المومنین فاروق اعظم
(۳)امیر المومنین علی مرتضی (۴)حبر الامتہ سیدنا عبداﷲ بن عباس
(۴)حافظ الصحابہ سیدنا ابوہریرہ (۶)صحابی ابن الصحابی سیدنا مسیب بن حزن قریشی مخزومی
(۷)حضرت سیدنا عباس عم رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم (۸)سیدنا ابوسعید خدری
(۹)سیدنا جابر بن عبداﷲ انصاری (۱۰)حضرت سیدتنا ام المومنین ام سلمہ رضی اﷲ تعالی عنہم اجمعین
(۱۱)سیدنا انس بن مالك خادم رسول صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم
(۱۲)حضرت سیدتنا ام المومنین ام سلمہ رضی اﷲ تعالی عنہم اجمعین
پہلے چھ۶ حضرات سے تو خود ان کے اقوال گزرے اور انس و ابن عمررضی اﷲ تعالی عنہم کی تقریر اور باقی چار خود حضور پرنور سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے ارشاد بیان فرماتے ہیںاور پر ظاہر کہ یہاں اپنے کہنے سے نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا ارشاد بتانا اور بھی ابلغ ہے۔
ومن التابعین:
(۱۳)آدم آل عبازین العابدین علی بن حسین بن علی مرتضی رضی اﷲ تعالی عنہم و کرم وجوھہم۔
(۱۴)امام عطاء بن ابی رباح استاذ سیدنا الامام الاعظم رضی اﷲ تعالی عنہا۔
(۱۵)امام محمد بن کعب قرظی کہ اجلہ ائمہ محدثین و مفسرین تابعین سے ہیں۔
(۱۶)سعید بن محمد ابوالسفرتابعی ابن التابعی ابن الصحابی نبیرہ سیدنا جبیرین مطعم رضی اﷲ تعالی عنہ۔
(۱۷)امام الائمہ سراج الامہ سیدنا امام اعظم ابوحنیفہ رضی اﷲ تعالی عنہ۔
ومن تبع تابعین:
(۱۸)عالم المدینہ امام دارالہجرۃ سیدنا امام مالك رضی اﷲ تعالی عنہ۔
(۱۹)محررالمذہب مرجع الدنیا فی الفقہ والعلم سیدنا امام محمد رضی اﷲ تعالی عنہ
(۲۰)امام تفسیر مقاتل بلخی
(۲۱)سلطان اسلام خلیفۃ المسلمین جن کے آنے کی سیدنا عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما نے بشارت دی تھی کہ:
منا السفاح ومنا المنصور ومنا المھدی رواہ الخطیب و ابن عساکر وغیرھما بطریق سعید بن جبیرعنہ قال السیوطی قال الذھبی اسنادہ صالح ۔ ہمیں میں سے ہوگا سفاح اور ہمیں میں منصور اور ہمیں میں مہدی۔(اس کو خطیب و ابن عساکروغیرہ نے سعید بن جبیر کے طریق سے روایت کیا اور اسی کے طریق سے امام سیوطی نے کہا:ذہبی نے کہا اس کا اسناد صالح ہے۔ت)
بلکہ دو حدیثوں میں یہی الفاظ نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے آئے:
رواہ کذلك الخطیب من طریق الضحاك عن ابن عباس وابن عساکر فی ضمن حدیث عن ابی سعید الخدری رضی اﷲ تعالی عنہم رفعاہ الی النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اس کو اسی طرح خطیب نے بطریق ضحاك سیدنا ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہاسے روایت کیا جب کہ ابن عساکر نے ایك حدیث کے ضمن میں حضرت ابوسعید خدری رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا اور ان دونوں نے اس کا رفع نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم تك کیا۔(ت)
اعنی امام ابوجعفر منصور نبیرزادہ ابن عم رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔
ومن اتباع التبع ومن یلیھم:
(۲۲)امام الدنیا فی الحفظ والحدیث ابوعبداﷲ محمد بن اسمعیل بخاری۔
(۲۳)امام اجل ابوداؤد سلیمان بن اشعت سجستانی
(۲۴)امام عبدالرحمن احمد بن شعیب نسائی۔
(۱۷)امام الائمہ سراج الامہ سیدنا امام اعظم ابوحنیفہ رضی اﷲ تعالی عنہ۔
ومن تبع تابعین:
(۱۸)عالم المدینہ امام دارالہجرۃ سیدنا امام مالك رضی اﷲ تعالی عنہ۔
(۱۹)محررالمذہب مرجع الدنیا فی الفقہ والعلم سیدنا امام محمد رضی اﷲ تعالی عنہ
(۲۰)امام تفسیر مقاتل بلخی
(۲۱)سلطان اسلام خلیفۃ المسلمین جن کے آنے کی سیدنا عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما نے بشارت دی تھی کہ:
منا السفاح ومنا المنصور ومنا المھدی رواہ الخطیب و ابن عساکر وغیرھما بطریق سعید بن جبیرعنہ قال السیوطی قال الذھبی اسنادہ صالح ۔ ہمیں میں سے ہوگا سفاح اور ہمیں میں منصور اور ہمیں میں مہدی۔(اس کو خطیب و ابن عساکروغیرہ نے سعید بن جبیر کے طریق سے روایت کیا اور اسی کے طریق سے امام سیوطی نے کہا:ذہبی نے کہا اس کا اسناد صالح ہے۔ت)
بلکہ دو حدیثوں میں یہی الفاظ نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے آئے:
رواہ کذلك الخطیب من طریق الضحاك عن ابن عباس وابن عساکر فی ضمن حدیث عن ابی سعید الخدری رضی اﷲ تعالی عنہم رفعاہ الی النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اس کو اسی طرح خطیب نے بطریق ضحاك سیدنا ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہاسے روایت کیا جب کہ ابن عساکر نے ایك حدیث کے ضمن میں حضرت ابوسعید خدری رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا اور ان دونوں نے اس کا رفع نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم تك کیا۔(ت)
اعنی امام ابوجعفر منصور نبیرزادہ ابن عم رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔
ومن اتباع التبع ومن یلیھم:
(۲۲)امام الدنیا فی الحفظ والحدیث ابوعبداﷲ محمد بن اسمعیل بخاری۔
(۲۳)امام اجل ابوداؤد سلیمان بن اشعت سجستانی
(۲۴)امام عبدالرحمن احمد بن شعیب نسائی۔
(۲۵)امام ابو عبداﷲ بن یزید ابن ماجہ قزوینی۔
یہ چاروں ائمہ اصحاب صحاح مشہورہ ہیں اور یہی طبقہ اخیرہ عبداﷲ بن المعتز کا ہے۔
وممن بعد ھم من المفسرین:
(۲۶)امام محی السنہ ابومحمد حسین بن مسعود فراء بغوی
(۲۷)امام ابواسحق زجاج ابراہیم بن السری۔
(۲۸)جار اﷲ محمود بن عمر خوار زمی زمخشری
(۲۹)ابوالحسن علی بن احمد واحدی نیشاپوری صاحب بسیط ووسیط ووجیز۔
(۳۰)امام اجل محمد بن عمر فخر الدین رازی۔
(۳۱)قاضی القضاۃ شہاب الدین بن خلیل خوبی دمشقی مکمل الکبیر۔
(۳۲)علامہ قطب الدین محمد بن مسعود بن محمود بن ابن ابی الفتح سیرافی شفار صاحب تقریب۔
(۳۳)امام ناصر الدین ابوسعید عبداﷲ بن عمر بیضاوی۔
(۳۴)امام علامۃ الوجود مفتی ممالك رومیہ ابوالسعود بن محمد عمادی۔
(۳۵)علامہ علاء الدین علی بن محمد بن ابراہیم بغدادی صوفی صاحب تفسیر لباب شہیربہ خازن۔
(۳۶)امام جلال الدین محمد بن احمد محلی۔
(۳۷)علامہ سلیمان جمل وغیرہم ممن یاتی
ومن المحدثین والشارحین :
(۳۸)امام اجل احمد بن حسین بیہقی
(۳۹)حافظ الشام ابوالقاسم علی بن حسین بن ہبتہ اﷲ دمشقی شہیر بابن عساکر۔
(۴۰)امام ابوالحسن علی بن خلف معروف بابن بطال مغربی شارح صحیح بخاری۔
(۴۱)امام ابوالقاسم عبدالرحمن بن احمد سہیلی۔
(۴۲)امام حافظ الحدیث علامۃ الفقہ ابوزکریا یحیی بن شرف نووی۔
(۴۳)امام ابوالعباس احمد بن عمر بن ابراہیم قرطبی شارح صحیح مسلم۔
(۴۴)امام ابوالسعادات مبارك بن محمد ابی الکرم معروف بابن اثیر جزری صاحب نہایہ وجامع الاصول۔
(۴۵)امام جلیل محب الدین احمد بن عبداﷲ الطبری۔
(۴۶)امام شرف الدین حسن بن محمد طیبی شارح مشکوۃ۔
یہ چاروں ائمہ اصحاب صحاح مشہورہ ہیں اور یہی طبقہ اخیرہ عبداﷲ بن المعتز کا ہے۔
وممن بعد ھم من المفسرین:
(۲۶)امام محی السنہ ابومحمد حسین بن مسعود فراء بغوی
(۲۷)امام ابواسحق زجاج ابراہیم بن السری۔
(۲۸)جار اﷲ محمود بن عمر خوار زمی زمخشری
(۲۹)ابوالحسن علی بن احمد واحدی نیشاپوری صاحب بسیط ووسیط ووجیز۔
(۳۰)امام اجل محمد بن عمر فخر الدین رازی۔
(۳۱)قاضی القضاۃ شہاب الدین بن خلیل خوبی دمشقی مکمل الکبیر۔
(۳۲)علامہ قطب الدین محمد بن مسعود بن محمود بن ابن ابی الفتح سیرافی شفار صاحب تقریب۔
(۳۳)امام ناصر الدین ابوسعید عبداﷲ بن عمر بیضاوی۔
(۳۴)امام علامۃ الوجود مفتی ممالك رومیہ ابوالسعود بن محمد عمادی۔
(۳۵)علامہ علاء الدین علی بن محمد بن ابراہیم بغدادی صوفی صاحب تفسیر لباب شہیربہ خازن۔
(۳۶)امام جلال الدین محمد بن احمد محلی۔
(۳۷)علامہ سلیمان جمل وغیرہم ممن یاتی
ومن المحدثین والشارحین :
(۳۸)امام اجل احمد بن حسین بیہقی
(۳۹)حافظ الشام ابوالقاسم علی بن حسین بن ہبتہ اﷲ دمشقی شہیر بابن عساکر۔
(۴۰)امام ابوالحسن علی بن خلف معروف بابن بطال مغربی شارح صحیح بخاری۔
(۴۱)امام ابوالقاسم عبدالرحمن بن احمد سہیلی۔
(۴۲)امام حافظ الحدیث علامۃ الفقہ ابوزکریا یحیی بن شرف نووی۔
(۴۳)امام ابوالعباس احمد بن عمر بن ابراہیم قرطبی شارح صحیح مسلم۔
(۴۴)امام ابوالسعادات مبارك بن محمد ابی الکرم معروف بابن اثیر جزری صاحب نہایہ وجامع الاصول۔
(۴۵)امام جلیل محب الدین احمد بن عبداﷲ الطبری۔
(۴۶)امام شرف الدین حسن بن محمد طیبی شارح مشکوۃ۔
(۴۷)امام شمس الدین محمد بن یوسف بن علی کرمانی شارح صحیح بخاری۔
(۴۸)علامہ مجد الدین محمد بن یعقوب فیروز آبادی صاحب القاموس۔
(۴۹)امام حافظ الشان ابوالفضل شہاب الدین احمد بن حجر عسقلانی۔
(۵۰)امام جلیل بدر الدین ابو محمد محمود بن احمد عینی۔
(۵۱)امام شہاب الدین ابوالعباس احمد بن ادریس قرافی صاحب تنقیح الاصول۔
(۵۲)امام خاتم الحفاظ جلال الملتہ والدین ابوالفضل عبدالرحمن بن ابی بکر سیوطی۔
(۵۳)امام شہاب الدین ابوالعباس احمد بن خطیب قسطلانی شارح صحیح بخاری۔
(۵۴)علامہ عبدالرحمن بن علی شیبانی تلمیذ امام شمس الدین سخاوی۔
(۵۵)علامہ قاضی حسین بن محمد بن حسین دیار بکری مکی۔
(۵۶)مولانا الفاضل علی بن سلطان محمد قاری ہروی مکی۔
(۵۷)علامہ زین العابدین عبدالروف محمد شمس الدین مناوی۔
(۵۸)امام شہاب الدین احمد بن حجر مکی۔
(۵۹)شیخ تقی الدین احمد بن علی مقریزی اخباری۔
(۶۰)سید جمال الدین عطاء اﷲ بن فضل اﷲ شیرازی صاحب روضۃ الاحباب
(۶۱)امام عارف باﷲ سیدی علاء الملۃ والدین علی بن حسام الدین متقی مکی۔
(۶۲)علامہ شہاب الدین احمد خفا جی شارح شفاء
(۶۳)علامہ علی بن احمد بن محمد بن ابراہیم عزیزی۔
(۶۴)علامہ محمد حفنی محشی افضل القری
(۶۵)علامہ طاہر فتنی صاحب مجمع بحارالانوار
(۶۶)شیخ محقق مولانا عبدالحق بن سیف الدین بخاری
(۶۷)علامہ محمد بن عبدالباقی بن یوسف زرقانی مصری
(۶۸)فاضل محمد بن علی صبان مصری صاحبف اسعاف الراغبین وغیرہم ممن مضی ویجیئ۔
ومن الفقہاء والاصولیین:
(۶۹)امام اجل شیخ الاسلام والمسلمین علی بن ابی بکر برہان الدین فرغانی صاحب ہدایہ
(۷۰)امام ابوالبرکات عبداﷲ بن احمد حافظ الدین نسفی صاحب کنز۔
(۴۸)علامہ مجد الدین محمد بن یعقوب فیروز آبادی صاحب القاموس۔
(۴۹)امام حافظ الشان ابوالفضل شہاب الدین احمد بن حجر عسقلانی۔
(۵۰)امام جلیل بدر الدین ابو محمد محمود بن احمد عینی۔
(۵۱)امام شہاب الدین ابوالعباس احمد بن ادریس قرافی صاحب تنقیح الاصول۔
(۵۲)امام خاتم الحفاظ جلال الملتہ والدین ابوالفضل عبدالرحمن بن ابی بکر سیوطی۔
(۵۳)امام شہاب الدین ابوالعباس احمد بن خطیب قسطلانی شارح صحیح بخاری۔
(۵۴)علامہ عبدالرحمن بن علی شیبانی تلمیذ امام شمس الدین سخاوی۔
(۵۵)علامہ قاضی حسین بن محمد بن حسین دیار بکری مکی۔
(۵۶)مولانا الفاضل علی بن سلطان محمد قاری ہروی مکی۔
(۵۷)علامہ زین العابدین عبدالروف محمد شمس الدین مناوی۔
(۵۸)امام شہاب الدین احمد بن حجر مکی۔
(۵۹)شیخ تقی الدین احمد بن علی مقریزی اخباری۔
(۶۰)سید جمال الدین عطاء اﷲ بن فضل اﷲ شیرازی صاحب روضۃ الاحباب
(۶۱)امام عارف باﷲ سیدی علاء الملۃ والدین علی بن حسام الدین متقی مکی۔
(۶۲)علامہ شہاب الدین احمد خفا جی شارح شفاء
(۶۳)علامہ علی بن احمد بن محمد بن ابراہیم عزیزی۔
(۶۴)علامہ محمد حفنی محشی افضل القری
(۶۵)علامہ طاہر فتنی صاحب مجمع بحارالانوار
(۶۶)شیخ محقق مولانا عبدالحق بن سیف الدین بخاری
(۶۷)علامہ محمد بن عبدالباقی بن یوسف زرقانی مصری
(۶۸)فاضل محمد بن علی صبان مصری صاحبف اسعاف الراغبین وغیرہم ممن مضی ویجیئ۔
ومن الفقہاء والاصولیین:
(۶۹)امام اجل شیخ الاسلام والمسلمین علی بن ابی بکر برہان الدین فرغانی صاحب ہدایہ
(۷۰)امام ابوالبرکات عبداﷲ بن احمد حافظ الدین نسفی صاحب کنز۔
(۷۱)امام محقق علی الاطلاق کمال الدین محمد بن الہمام۔
(۷۲)امام جلال الدین کرلالی صاحب کفایہ۔
(۷۳)امام محقق محمد بن محمد بن محمد ابن امیر الحاج حلبی۔
(۷۴)امام ابراہیم بن موسی طرابلسی مصری صاحب مواہب الرحمن۔
(۷۵)علامہ ابراہیم بن محمد حلبی شارح منیہ
(۷۶)علامہ سعد الدین مسعود بن عمر تفتازانی۔
(۷۷)علامہ محقق زین بن نجیم مصری صاحب بحر۔
(۷۸)ملك العلماء بحر العلوم عبدالعلی محمد لکھنوی۔
(۷۹)علامہ سید احمد مصری طحطاوی۔
(۸۰)علامہ سید محمد افندی ابن عبابدین شامی وغیر ھم ممن تقدم رحم اﷲ تعالی علمائنا جمیعا من تاخر منھم ومن قدم امن(اس کے علاوہ دیگر علماء جن کا پہلے ذکر ہوچکا ہےاﷲ تعالی ہمارے تمام علماء متاخرین و تقدمین پر رحم فرمائے۔امین۔ت)
فصل دہم:
ان کتابوں کے نام جن کی نقول دربارہ ابوطالب اس رسالہ میں مذکور ہوئیں:
کتب تفسیر:
(۱)معالم التنزیل امام بغوی (۲)مدارك التنزیل امام نسفی
(۳)انوارالتنزیل امام بیضاوی (۴)ارشاد العقل السلیم الی مزایا الکتاب الکریم للمفتی العلامۃ العماوی
(۴)کشاف حقائق التنزیل للزمخشری (۶)مفاتیح الغیب للامام الرازی
(۷)تکملۃ المفاتیح للشمس الخوبی (۸)جلالین
(۹)فتوحات الہیہ للشیخ سلمین (۱۰)عنایۃ القاضی وکفایۃ الراضی للعلامۃ الشہاب
(۱۱)معانی القرآن للزجاج (۱۲)فتوح الغیب للطیبی
(۱۳)تقریب مختصر الکشاف للیسرافی (۱۴)بسیط للواحدی
(۱۵)لباب التاویل فی معانی التنزیل للعلامۃ الخازن (۱۶)الاحکام لبیان مافی القرآن من الابہام للعسقلانی۔
(۷۲)امام جلال الدین کرلالی صاحب کفایہ۔
(۷۳)امام محقق محمد بن محمد بن محمد ابن امیر الحاج حلبی۔
(۷۴)امام ابراہیم بن موسی طرابلسی مصری صاحب مواہب الرحمن۔
(۷۵)علامہ ابراہیم بن محمد حلبی شارح منیہ
(۷۶)علامہ سعد الدین مسعود بن عمر تفتازانی۔
(۷۷)علامہ محقق زین بن نجیم مصری صاحب بحر۔
(۷۸)ملك العلماء بحر العلوم عبدالعلی محمد لکھنوی۔
(۷۹)علامہ سید احمد مصری طحطاوی۔
(۸۰)علامہ سید محمد افندی ابن عبابدین شامی وغیر ھم ممن تقدم رحم اﷲ تعالی علمائنا جمیعا من تاخر منھم ومن قدم امن(اس کے علاوہ دیگر علماء جن کا پہلے ذکر ہوچکا ہےاﷲ تعالی ہمارے تمام علماء متاخرین و تقدمین پر رحم فرمائے۔امین۔ت)
فصل دہم:
ان کتابوں کے نام جن کی نقول دربارہ ابوطالب اس رسالہ میں مذکور ہوئیں:
کتب تفسیر:
(۱)معالم التنزیل امام بغوی (۲)مدارك التنزیل امام نسفی
(۳)انوارالتنزیل امام بیضاوی (۴)ارشاد العقل السلیم الی مزایا الکتاب الکریم للمفتی العلامۃ العماوی
(۴)کشاف حقائق التنزیل للزمخشری (۶)مفاتیح الغیب للامام الرازی
(۷)تکملۃ المفاتیح للشمس الخوبی (۸)جلالین
(۹)فتوحات الہیہ للشیخ سلمین (۱۰)عنایۃ القاضی وکفایۃ الراضی للعلامۃ الشہاب
(۱۱)معانی القرآن للزجاج (۱۲)فتوح الغیب للطیبی
(۱۳)تقریب مختصر الکشاف للیسرافی (۱۴)بسیط للواحدی
(۱۵)لباب التاویل فی معانی التنزیل للعلامۃ الخازن (۱۶)الاحکام لبیان مافی القرآن من الابہام للعسقلانی۔
کتب حدیث:
(۱۷)صحیح بخاری (۱۸)صحیح مسلم (۱۹)سنن ابی داؤد
(۲۰)جامع ترمذی (۲۱)مجتبی نسائی (۲۲)سنن ابن ماجہ
(۲۳)مؤطا امام مالك (۲۴)مؤطا امام محمد (۲۵)مسند امام شافعی
(۲۶)مسند امام احمد (۲۷)شرح معانی الآثار (۲۸)مشکوۃ المصابیح
(۲۹)تیسیر الوصول الی جامع الاصول(۳۰)جامع صغیر (۳۱)منہج العمال للامام المتقی
(۳۲)کنزالعمال لہ (۳۳)منتخب کنزالعمال لہ (۳۴)مصنف عبدالرزاق
(۳۵)مصنف ابی بکر بن ابی شیبہ(۳۶)مسند ابوداؤد طیالسی (۳۷)مسند اسحق بن راہویہ
(۳۸)طبقات ابن سعد (۳۹)کتاب موسی بن طارق ابوقرہ(۴۰)زیادات مغازی ابن اسحق لیونس بن بکیر
(۴۱)صحیح ابن خزیمہ (۴۲)منتفی ابن زود (۴۳)مسند بزار
(۴۴)مسند ابی یعلی (۴۵)معجم کبیر طبرانی (۴۶)معجم اوسط لہ
(۴۷)فوائد تمام رازی (۴۸)کامل ابن عدی (۴۹)کتاب الجنائز للمروزی
(۵۰)کتاب مکہ لعمر بن شبہ (۵۱)کتاب ابی بشر (۵۲)فوائد سمویہ
(۵۳)مستخرج اسمعیل (۵۴)مستدرك حاکم (۵۵)حلیۃ الاولیاء لابی نعیم
(۵۶)سنن بیہقی (۵۷)دلائل النبوۃ (۵۸)سنن سعید بن منصور
(۵۹)مسند فریانی (۶۰)مسند عبدبن حمید (۶۱)تفسیر ابن جریر
(۶۲)تفسیر ابن المنذر (۶۳)تفسیر ابن ابی حاتم (۶۴)تفسیر ابوالشیخ
(۶۵)تفسیر ابن مردودیہ (۶۶)مغازی ابن اسحق علی ماقررنا وحررنا۔
شروح حدیث:
(۶۷)منہاج شرح مسلم اللنووی (۶۸)عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری للعینی
(۶۹)ارشاد الساری شرح صحیح بخاری اللقسطلانی (۷۰)مرقاۃ شرح مشکوۃ للقاری
(۷۱)تیسیر شرح جامع صغیر للمناوی (۷۲)سراج المنیر شرح جامع صغیر للعزیزی
(۷۳)فتح الباری شرح صحیح بکاری للعسقلانی (۷۴)کواکب الدراری شرح صحیح بخاری للکرمانی
(۱۷)صحیح بخاری (۱۸)صحیح مسلم (۱۹)سنن ابی داؤد
(۲۰)جامع ترمذی (۲۱)مجتبی نسائی (۲۲)سنن ابن ماجہ
(۲۳)مؤطا امام مالك (۲۴)مؤطا امام محمد (۲۵)مسند امام شافعی
(۲۶)مسند امام احمد (۲۷)شرح معانی الآثار (۲۸)مشکوۃ المصابیح
(۲۹)تیسیر الوصول الی جامع الاصول(۳۰)جامع صغیر (۳۱)منہج العمال للامام المتقی
(۳۲)کنزالعمال لہ (۳۳)منتخب کنزالعمال لہ (۳۴)مصنف عبدالرزاق
(۳۵)مصنف ابی بکر بن ابی شیبہ(۳۶)مسند ابوداؤد طیالسی (۳۷)مسند اسحق بن راہویہ
(۳۸)طبقات ابن سعد (۳۹)کتاب موسی بن طارق ابوقرہ(۴۰)زیادات مغازی ابن اسحق لیونس بن بکیر
(۴۱)صحیح ابن خزیمہ (۴۲)منتفی ابن زود (۴۳)مسند بزار
(۴۴)مسند ابی یعلی (۴۵)معجم کبیر طبرانی (۴۶)معجم اوسط لہ
(۴۷)فوائد تمام رازی (۴۸)کامل ابن عدی (۴۹)کتاب الجنائز للمروزی
(۵۰)کتاب مکہ لعمر بن شبہ (۵۱)کتاب ابی بشر (۵۲)فوائد سمویہ
(۵۳)مستخرج اسمعیل (۵۴)مستدرك حاکم (۵۵)حلیۃ الاولیاء لابی نعیم
(۵۶)سنن بیہقی (۵۷)دلائل النبوۃ (۵۸)سنن سعید بن منصور
(۵۹)مسند فریانی (۶۰)مسند عبدبن حمید (۶۱)تفسیر ابن جریر
(۶۲)تفسیر ابن المنذر (۶۳)تفسیر ابن ابی حاتم (۶۴)تفسیر ابوالشیخ
(۶۵)تفسیر ابن مردودیہ (۶۶)مغازی ابن اسحق علی ماقررنا وحررنا۔
شروح حدیث:
(۶۷)منہاج شرح مسلم اللنووی (۶۸)عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری للعینی
(۶۹)ارشاد الساری شرح صحیح بخاری اللقسطلانی (۷۰)مرقاۃ شرح مشکوۃ للقاری
(۷۱)تیسیر شرح جامع صغیر للمناوی (۷۲)سراج المنیر شرح جامع صغیر للعزیزی
(۷۳)فتح الباری شرح صحیح بکاری للعسقلانی (۷۴)کواکب الدراری شرح صحیح بخاری للکرمانی
(۷۵)مفہم شرح صحیح مسلم للقرطبی
کتب فقہ
(۷۶)ھدایہ (۷۷)کافی شرح الوافی کلاہماللامام النفسی
(۷۸)فتح القدیر للمحقق (۷۹)کفایہ شرح ہدایہ
(۸۰)حلیہ شرح منیہ للامام الحلبی (۸۱)غنیہ شرح منیہ للمحقق الحلبی
(۸۲)بحرالرائق شرح کنزالدقائق (۸۳)طحطاوی علی مراقی الفلاح للشر نبلالی
(۸۴)ردالمحتار علی الدرالمختار (۸۵)بنایہ شرح ہدایہ للعینی
(۸۶)برہان شرح مواھب الرحمان کلاھما للطرابلسی
کتب سیر
(۸۷)مواہب للدینہ و منح محمدیہ (۸۸)شرح مواہب للزرقانی
(۸۹)صراط المستقیم للمجد (۹۰)شرح صراط المستقیم للشیخ
(۹۱)مدارج النبوۃ لہ (۹۲)خمیس للدیار بکری
(۹۳)اسعاف الراغبین للصبان (۹۴)روضۃ الاحباب
(۹۵)تاریخ ابن عساکر (۹۶)روض سہیلی
(۹۷)امتاع الاسماع للمقریزی
کتب عقائد واصول وعلوم شتی
(۹۸)فقہ اکبر للامام اعظم (۹۹)شرح المقاصد للعلامۃ الماتن
(۱۰۰)اصابہ تمیز الصحابۃ للامام ابن حجر
(۱۰۱)مسلك الحنفاء فی والدی المصطفی صلی اﷲ علیہ وسلم للامام سیوطی
(۱۰۲)افضل القراء ام القری للامام ابن حجر (۱۰۳)شرح شفاء لعلی القاری
(۱۰۴)نسیم الریاض للخفاجی (۱۰۵)حفنی شرح الہمزیہ
(۱۰۶)مجمع البحار للفتنی (۱۰۷)فواتح الرحموت لبحر العلوم
(۱۰۸)التقریر و التحریر فی الاصول للعلامۃ ابن امیر الحاج (۱۰۹)نہایہ فی غریب الحدیث لابن اثیر
کتب فقہ
(۷۶)ھدایہ (۷۷)کافی شرح الوافی کلاہماللامام النفسی
(۷۸)فتح القدیر للمحقق (۷۹)کفایہ شرح ہدایہ
(۸۰)حلیہ شرح منیہ للامام الحلبی (۸۱)غنیہ شرح منیہ للمحقق الحلبی
(۸۲)بحرالرائق شرح کنزالدقائق (۸۳)طحطاوی علی مراقی الفلاح للشر نبلالی
(۸۴)ردالمحتار علی الدرالمختار (۸۵)بنایہ شرح ہدایہ للعینی
(۸۶)برہان شرح مواھب الرحمان کلاھما للطرابلسی
کتب سیر
(۸۷)مواہب للدینہ و منح محمدیہ (۸۸)شرح مواہب للزرقانی
(۸۹)صراط المستقیم للمجد (۹۰)شرح صراط المستقیم للشیخ
(۹۱)مدارج النبوۃ لہ (۹۲)خمیس للدیار بکری
(۹۳)اسعاف الراغبین للصبان (۹۴)روضۃ الاحباب
(۹۵)تاریخ ابن عساکر (۹۶)روض سہیلی
(۹۷)امتاع الاسماع للمقریزی
کتب عقائد واصول وعلوم شتی
(۹۸)فقہ اکبر للامام اعظم (۹۹)شرح المقاصد للعلامۃ الماتن
(۱۰۰)اصابہ تمیز الصحابۃ للامام ابن حجر
(۱۰۱)مسلك الحنفاء فی والدی المصطفی صلی اﷲ علیہ وسلم للامام سیوطی
(۱۰۲)افضل القراء ام القری للامام ابن حجر (۱۰۳)شرح شفاء لعلی القاری
(۱۰۴)نسیم الریاض للخفاجی (۱۰۵)حفنی شرح الہمزیہ
(۱۰۶)مجمع البحار للفتنی (۱۰۷)فواتح الرحموت لبحر العلوم
(۱۰۸)التقریر و التحریر فی الاصول للعلامۃ ابن امیر الحاج (۱۰۹)نہایہ فی غریب الحدیث لابن اثیر
(۱۱۰)شرح تنقیح الفصول فی الاصول کلا ھما للقرانی (۱۱۱)ذخائر العقبی فی منا قب ذوی القر بی للحافظ المحب الطبری
تذییل
وہ کتابیں جن سے اس رسالہ میں مدد لی گئی:
(۱۱۲)شرح عقائد نسفی (۱۱۳)شرح عقائد عضدی (۱۱۴)سیرت ابن ہشام
(۱۱۵)اتقان فی علوم القرآن (۱۱۶)میزان الاعتدال (۱۱۷)تقریب التہذیب
(۱۱۸)تقریب امام نووی (۱۱۹)تدریب امام سیوطی (۱۲۰)مسلم الثبوت
(۱۲۱)درمختار (۱۲۲)تاریخ الخلفاء (۱۲۳)تحفہ اثناء عشریہ
(۱۲۴)صحیح ابن حبان (۱۲۵)القاب شیرازی (۱۲۶)استیعاب ابو عمر
(۱۲۷)معرفۃ الصحابہ لابی نعیم (۱۲۸)مسند الفردوس دیلمی
(۱۲۹)خادم الامام بدر الدین الزرکشی(۱۳۰)شعب الایمان للامام البیہقی
ختم اﷲ تعالی لنا بالایمان والآمان آمین آمین الحمد ﷲ علی الاختتام و نسألہ حسن الختام۔ اﷲ تعالی ایمان اور امان کے ساتھ ہمارا ختمہ کرے آمین۔حسن اختتام رسالہ پر تمام تعریفیں اﷲ تعالی کے لیے ہیںاور ہم اﷲ تعالی سے حسن کاتمہ کا سوال کرتے ہیں (ت)
پہلے یہ سوال بدایوں سے آیا تھا جواب میں ایك موجز رسالہ چند ورق کا لکھا اور اس کا نام معتبر الطالب فی شیون ابی طالب۱۲۹۲ھ رکھااب کہ دوبارہ احمد آباد سے سوال آیا اور بعض علمائے بمبئی نے بھی اس بارہ میں توجہ خاص کا تقاضا فرمایا حسب حالت راہنہ و فرصت حاضرہ شرح وبسط کا فی کو کام میں لایا اور اسے اس اجمال اول کی شرح بنایا نیز شرح مطالب وتسکین طالب میں بحمداﷲ تعالی حافل وکامل پایالہذا شرح المطالب فی مبحث ابی طالب ۱۳۱۶ھ اس کانام رکھا اور یہی اس کی تاریخ آغاز و انجام۔
والحمدﷲ ولی الانعام وافضل سب تعریفیں اﷲ تعالی کے لیے ہیں جو انعام کا
تذییل
وہ کتابیں جن سے اس رسالہ میں مدد لی گئی:
(۱۱۲)شرح عقائد نسفی (۱۱۳)شرح عقائد عضدی (۱۱۴)سیرت ابن ہشام
(۱۱۵)اتقان فی علوم القرآن (۱۱۶)میزان الاعتدال (۱۱۷)تقریب التہذیب
(۱۱۸)تقریب امام نووی (۱۱۹)تدریب امام سیوطی (۱۲۰)مسلم الثبوت
(۱۲۱)درمختار (۱۲۲)تاریخ الخلفاء (۱۲۳)تحفہ اثناء عشریہ
(۱۲۴)صحیح ابن حبان (۱۲۵)القاب شیرازی (۱۲۶)استیعاب ابو عمر
(۱۲۷)معرفۃ الصحابہ لابی نعیم (۱۲۸)مسند الفردوس دیلمی
(۱۲۹)خادم الامام بدر الدین الزرکشی(۱۳۰)شعب الایمان للامام البیہقی
ختم اﷲ تعالی لنا بالایمان والآمان آمین آمین الحمد ﷲ علی الاختتام و نسألہ حسن الختام۔ اﷲ تعالی ایمان اور امان کے ساتھ ہمارا ختمہ کرے آمین۔حسن اختتام رسالہ پر تمام تعریفیں اﷲ تعالی کے لیے ہیںاور ہم اﷲ تعالی سے حسن کاتمہ کا سوال کرتے ہیں (ت)
پہلے یہ سوال بدایوں سے آیا تھا جواب میں ایك موجز رسالہ چند ورق کا لکھا اور اس کا نام معتبر الطالب فی شیون ابی طالب۱۲۹۲ھ رکھااب کہ دوبارہ احمد آباد سے سوال آیا اور بعض علمائے بمبئی نے بھی اس بارہ میں توجہ خاص کا تقاضا فرمایا حسب حالت راہنہ و فرصت حاضرہ شرح وبسط کا فی کو کام میں لایا اور اسے اس اجمال اول کی شرح بنایا نیز شرح مطالب وتسکین طالب میں بحمداﷲ تعالی حافل وکامل پایالہذا شرح المطالب فی مبحث ابی طالب ۱۳۱۶ھ اس کانام رکھا اور یہی اس کی تاریخ آغاز و انجام۔
والحمدﷲ ولی الانعام وافضل سب تعریفیں اﷲ تعالی کے لیے ہیں جو انعام کا
الصلوۃ واکمل السلام علی سیدنا محمد ھادی الانام و علی الہ وصحبہ الغرالکرام وعلینا بھم و لھم الی یوم القیمۃ ائمین یاذا الجلال والاکرامواﷲ سبحنہ و تعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم و احکم۔ مالك ہےاور افضل درود و اکمل سلام ہو ہمارے آقا محمد مصطفی پر جو کل جہان کے ہادی ہیںاور آپ کے روشن پیشانیوں والے اہل کرم آل و اصحاب پر اور انکے صدقے میں ہم پر اور ان کے لیے یوم قیامت تك ہماری دعا قبول فرما اے بزرگی اور اکرام والے۔اﷲ سبحنہ وتعالی خوب جانتا ہےاور اس کا علم اتم اور مستحکم ہے۔(ت)
رسالہ
شرح المطالب فی مبحث ابی طالب
ختم ہوا
_________________
نوٹ
جلد ۲۹"عقائد و کلام و دینیات"کے عنوان پر اختتام پذیر ہوئی۔
فتاوی رصویہ کی آخری جلد ۳۰ ان شاء اﷲ تعالی سیرت اور
فضائل رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے عنوان پر مشتمل ہوگی۔
_____________________________________________
yahan image hai
رسالہ
شرح المطالب فی مبحث ابی طالب
ختم ہوا
_________________
نوٹ
جلد ۲۹"عقائد و کلام و دینیات"کے عنوان پر اختتام پذیر ہوئی۔
فتاوی رصویہ کی آخری جلد ۳۰ ان شاء اﷲ تعالی سیرت اور
فضائل رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے عنوان پر مشتمل ہوگی۔
_____________________________________________
yahan image hai
الامام شمس الائمۃ السرخسی صاحب المبسوط شرح کافی الامام الحاکم الشھید عن الامام شمس الائمۃ الحلوا نی عن القاضی ابی علی النسفی عن الامام الفضل عن ابی عبداﷲ السبذمونی عن ابی حفص الصغیر عن ابیہ الامام ابی حفص الکبیر عن الامام محمد عن سراج الامۃ الامام الاعظم وایضاعن محمد عن یعقوب عن ابی حنفیہ رضی الله تعالی عنہم۔ فضل سے وہ ابوعبداﷲ سبذ مونی سے وہ ابوحفص صغیر سے وہ اپنے والد امام ابوحفص کبیر سے وہ امام محمد سے وہ سراج الامہ امام اعظم ابوحنیفہ سے نیز امام محمد روایت کرتے ہیں امام یعقوب(ابویوسف)سے اور وہ امام ابوحنیفہ سے رضی الله تعالی عنھم(ت)
صاحب مذہب رضی الله تعالی عنہ تك فقیر کی سند صدر جلد اول فتاوی فقیر اور بفضلہ تعالی کتب ظاہر الروایہ بلکہ کتب نوادر بلکہ بکثرت کتب علماء و مشائخ تك باسانید متصلہ موجودواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۹: از احمد آباد گجراتمحلہ جمالپورمرسلہ مولوی حکیم عبدالرحیم صاحب ۹ صفر المظفر ۱۳۳۷ھ
مرقاۃ شرح مشکوۃ ملا علی قاری کی عبارت اگر آپ کے زیر نظر ہو تویہ پتا بتائیے کہ یہ مرقاۃ کی کون سے باب و فصل اور کون سے صحابی کی حدیث کی شرح میں ملا علی قاری نے یہ حدیث نقل کی ہے اس کی بندہ کو ضرورت ہے ممنون و مشکور ہوگا عبارت یہ ہے:
انہ بلغنی عن النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم ان من قال لا الہ الا اﷲ سبعین الفاغفر اﷲ تعالی لہ ومن قیل لہ غفرلہ ایضا۔ مجھ تك نبی کریم صلی الله تعالی علیہ والہ وسلم کی یہ حدیث پہنچی آپ نے فرمایا کہ بے شك جس شخص نے ستر ہزار مرتبہ کہا لا الہ الا اﷲاﷲ تعالی اس کی مغفرت فرمائے گا اور جس کے لیے یہ کہا گیا اس کی بھی مغفرت فرمائے گا۔(ت)
صاحب مذہب رضی الله تعالی عنہ تك فقیر کی سند صدر جلد اول فتاوی فقیر اور بفضلہ تعالی کتب ظاہر الروایہ بلکہ کتب نوادر بلکہ بکثرت کتب علماء و مشائخ تك باسانید متصلہ موجودواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۹: از احمد آباد گجراتمحلہ جمالپورمرسلہ مولوی حکیم عبدالرحیم صاحب ۹ صفر المظفر ۱۳۳۷ھ
مرقاۃ شرح مشکوۃ ملا علی قاری کی عبارت اگر آپ کے زیر نظر ہو تویہ پتا بتائیے کہ یہ مرقاۃ کی کون سے باب و فصل اور کون سے صحابی کی حدیث کی شرح میں ملا علی قاری نے یہ حدیث نقل کی ہے اس کی بندہ کو ضرورت ہے ممنون و مشکور ہوگا عبارت یہ ہے:
انہ بلغنی عن النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم ان من قال لا الہ الا اﷲ سبعین الفاغفر اﷲ تعالی لہ ومن قیل لہ غفرلہ ایضا۔ مجھ تك نبی کریم صلی الله تعالی علیہ والہ وسلم کی یہ حدیث پہنچی آپ نے فرمایا کہ بے شك جس شخص نے ستر ہزار مرتبہ کہا لا الہ الا اﷲاﷲ تعالی اس کی مغفرت فرمائے گا اور جس کے لیے یہ کہا گیا اس کی بھی مغفرت فرمائے گا۔(ت)
حوالہ / References
البحرالرائق







