Fatawa Razaviah Volume 30 in Typed Format

#17970 · پیش لفظ
بسم الله الرحمن الرحیم ط



پیش لفظ
الحمدلله ! اعلی حضرت امام المسلمین مولانا الشاہ احمد رضا خاں فاضل بریلوی رحمۃ الله تعالی علیہ کے خزائن علمیہ اورذخائر فقہیہ کو جدید انداز میں عصر حاضر کے تقاضوں کے عین مطابق منظر عام پر لانے کے لیے مفتی اعظم پاکستان شیخ الحدیثقدوۃ العلماء حضرت علامہ مولانا مفتی محمد عبدالقیوم قادری ہزاروی علیہ الرحمہ(المتوفی ۲۶اگست ۲۰۰۰۳)کی زیر پرستی دارالعلوم جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور میں رضا فاؤنڈیشن کے نام سے جو اداہ مارچ ۱۹۸۸ء میں قائم ہوا تھا وہ انتہائی کامیابی اوربرق رفتاری کے ساتھ مجوزہ منصوبہ کے ارتقائی مراحل کو طے کرتے ہوئے اپنے اہداف کی طرف بڑھ رہا ہے۔اب تك یہ ادارہ امام احمد رضا کی متعدد تصانیف شائع کر چکا ہے جن میں بین الاقوامی معیار کے مطابق شائع ہونے والی مندرجہ ذیل عربی تصانیف خاص اہمیت کی حامل ہیں۔
(۱)الدولۃ المکیۃ بالمادۃ الغیبیۃ (۱۳۲۳ھ)
(۲)انباء الحی ان کلامہ المصون تبیانا لکل شیئ (۱۳۲۶ھ)
مع التعلیقات حاسم المفتری علی السید البری (۱۳۲۸ھ)
(۳)کفل الفقیہ الفاھم فی احکام قرطاس الداراھم (۱۳۲۴ھ)
(۴)صیقل الرین عن احکام مجاورۃ الحرمین (۱۳۰۵ھ)
(۵)ھادی الاضحیۃ بالشاۃ الھندیۃ (۱۳۱۴ھ)
(۶)الصافیۃ الموحیۃ الموحیۃ لحکم جلود الاضحیۃ (۱۳۰۷ھ)
#17971 · پیش لفظ
(۷)الاجازات المتینۃ لعلماء بکۃ والمدینۃ (۱۳۲۴ھ)
مگر اس ادارے کا عظیم ترین کارنامہ العطایا النبویۃ فی الفتاوی الرضویہ المعروف بہ فتاوی رضویہ کی تخریج وترجمہ کے ساتھ عمدہ وخوبصورت انداز میں اشاعت ہے۔فتاوی مذکورہ کی اشاعت کاآغاز شعبا ن المعظم ۱۴۱۰ھ /مارچ ۱۹۹۰ء میں ہوا تھا اور بفضلہ تعالی جل مجدہ وبعنایت رسولہ الکریم تقریبا پندرہ سال کے مختصر عرصہ میں تیسویں جلد آپ کے ہاتھوں میں ہے۔اس سے قبل شائع ہونے والی انتیس جلدوں کی مشمولات کی تفصیل سنین اشاعتکتب وابوابمجموعی صفحاتتعداد سوالات وجوابات اوران میں شامل رسائل کی تعداد کے اعتبار سے حسب ذیل ہے:
جلد عنوان جوابات اسئلہ تعداد رسائل سنین اشاعت صفحات
۱ کتاب الطہارۃ ۲۲ ۱۱ شعبان المعظم ھ ______مارچ ء ۸۳۸
۲ کتاب الطہارۃ ۳۳ ۷ ربیع الثانی ___________نومبر ء ۷۱۰
۳ کتاب الطہارۃ ۵۹ ۶ شعبان المعظم _________فروری ۷۵۶
۴ کتاب الطہارۃ ۱۳۲ ۵ رجب المرجب ۱۱۳ ________جنوری ۷۶۰
۵ کتاب الصلوۃ ۱۴۰ ۶ ربیع الاول ___________ستمبر ۶۹۲
۶ کتاب الصلوۃ ۴۵۷ ۴ ربیع الاول ___________اگست ۷۳۶
۷ کتاب الصلوۃ ۲۶۹ ۷ رجب المرجب _________دسمبر ۷۲۰
۸ کتاب الصلوۃ ۳۳۷ ۶ محرم الحرام___________جون ۶۶۴
۹ کتاب الجنائز ۲۷۳ ۱۳ ذیقعدہ______________اپریل ۹۴۶
۱۰ کتاب زکوۃصومحج ۳۱۶ ۱۶ ربیع الاول___________اگست ۸۳۲
۱۱ کتاب النکاح ۴۵۹ ۶ محرم الحرام___________مئی ۷۳۶
۱۲ کتاب نکاحطلاق ۳۲۸ ۳ رجب المرجب_________نومبر ۶۸۸
۱۳ کتاب طلاقایمان اور حدود و تعزیر ۲۹۳ ۲ ذیقعدہ _____________مارچ ۶۸۸
۱۴ کتاب السیر ۳۳۹ ۷ جمادی الاخری ۱۴۱۹_________ستمبر ۱۹۹۸ ۷۱۲
۱۵
کتاب السیر ۸۱ ۱۵ محرم الحرام۱۴۲۰__________ اپریل ۱۹۹۹ ۷۴۴
#17972 · پیش لفظ
۱۶ کتاب الشرکۃکتاب الوقف ۴۳۲ ۳ جمادی الاولی ۱۴۰ __________ستمبر ۱۹۹۹ ۶۳۲
۱۷ کتاب البیوعکتاب الحوالہکتاب الکفالہ ۱۵۳ ۲ ذیقعد ۱۴۲۰ _____________فروری ۲۰۰۰ ۷۲۶
۱۸ کتاب الشھادۃکتاب القضاء و الدعاوی ۱۵۲ ۲ ربیع الثانی ۱۴۲۱___________جولائی ۲۰۰۰ ۷۴۰
۱۹ کتاب الوکالۃکتاب الاقرارکتاب الصلحکتاب المضاربۃکتاب الاماناتکتاب العاریۃکتاب الھبہکتاب الاجارۃکتاب الاکراہکتاب الحجرکتاب الغصب ۲۹۶ ۳ ذیقعدہ ۱۴۲۱ فروری ۲۰۰۱ ۶۹۲
۲۰ کتاب الشفعہکتاب القسمہکتاب المزارعہکتاب الصید و الذبائحکتاب الاضحیہ ۳۳۴ ۳ صفر المظفر______۱۴۲۲ ____مئی ۲۰۰۱ ۶۳۲
۲۱ کتاب الحظر و لاباحۃ(حصہ اول) ۲۹۱ ۹ ربیع الاول _____۱۴۲۳ _____مئی ۲۰۰۲ ۶۷۶
۲۲ کتاب الحظر و لاباحۃ(حصہ دوم) ۲۴۱ ۶ جمادی الاخری____۱۴۲۳___اگست ۲۰۰۲ ۶۹۲
۲۳ کتاب الحظر و لاباحۃ(حصہ سوم) ۴۰۹ ۷ ذو الحجہ_____۱۴۲۳______فروری ۲۰۰۳ ۷۶۸
۲۴ کتاب الحظر و لاباحۃ ۲۸۴ ۹ ذو الحجہ_____۱۴۲۳______فروری ۲۰۰۳ ۷۲۰
۲۵ کتاب المدایناتکتاب الاشربہکتاب الرھنباب القسمکتاب الوصایا ۱۸۳ ۳ رجب المرجب____۱۴۲۴ ___ستمبر ۲۰۰۳ ۶۵۸
۲۶ کتاب الفرائضکتاب الشتی حصہ اول ۳۲۵ ۸ محرم الحرام _____۱۴۲۵ مارچ _____۲۰۰۴ ۶۱۶
۲۷ کتاب الشتی حصہ دوم ۳۵ ۱۰ جمادی الاخری ____۱۴۲۵ ___اگست ۲۰۰۴ ۶۸۴
۲۸ کتاب الشتی حصہ سوم ۲۲ ۶ ذیقعدہ _____۱۴۲۵ ______جنوری ۲۰۰۵ ۶۸۴
۲۹ کتاب الشتی حصہ چہارم ۲۱۵ ۱۱ رجب المرجب ۱۴۲۶ ____اگست ____۲۰۰۵ ۷۵۲
فتاوی رضویہ قدیم کی پہلی آٹھ جلدوں کے ابواب کی ترتیب وہی ہے جو معروف ومتداول کتب فقہ و فتاوی میں مذکور ہے۔ رضافاؤنڈیشن کی طرف سے شائع ہونے والی بیس جلدوں میں اسی ترتیب کو
#17973 · پیش لفظ
ملحوظ رکھا گیا ہے۔مگر فتاوی رضویہ قدیم کی بقیہ چار مطبوعہ(جلد نہمدہمیازدہمدواز دہم)کی ترتیب ابواب فقہ سے عدم مطابقت کی وجہ سے محل نظر ہے۔چنانچہ ادارہ ہذا کے سرپرست اعلی محسن اہلسنت مفتی اعظم پاکستان حضرت علامہ مولانا مفتی محمد عبدالقیوم ہزاروی صاحب اور دیگر اکابر علماء ومشائخ سے استشارہ و استفسار کے بعد اراکین ادارہ نے فیصلہ کیا کہ بیسویں جلد کے بعد والی جلدوں میں فتاوی رضویہ کی قدیم جلدوں کی ترتیب کے بجائے ابواب فقہ کی معروف ترتیب کو بنیاد بنایا جائےنیز اس سلسلہ میں بحر العلوم حضرت مولانا مفتی عبدالمنان صاحب اعظمی دامت برکاتہم العالیہ کی گرانقدر تحقیق انیق کو بھی ہم نے پیش نظر رکھا اور اس سے بھرپور استفادہ اور راہنمائی حاصل کی۔عام طور پر فقہ وفتاوی کی کتب میں کتاب الاضحیہ کے بعد کتاب الحظروالاباحۃ کاعنوان ذکر کیاجاتاہے اور ہمارے ادارے سے شائع شدہ بیسویں جلد کا اختتام چونکہ کتاب الاضحیۃ پرہواتھا لہذا اکیسویں جلد سے مسائل حظرواباحۃ کی اشاعت کاآغاز کیاگیا۔کتاب الحظروالاباحۃ(جوچارجلدوں ۲۱۲۲۲۳۲۴ پرمشتمل ہے)کی تکمیل کے بعد ابواب مدایناتاشربہرہنقسم اور وصایا پرمشتمل پچیسویں۲۵ چھبیسویں۲۶جلد منصہ شہود پرآچکی ہے۔باقی رہے مسائل کلامیہ ودیگر متفرق عنوانات پرمشتمل مباحث وفتاوائے اعلیحضرت جوفتاوی رضویہ قدیم کی جلد نہم و دوازدہم میں غیرمبوب وغیرمترتب طورپرمندرج ہیںان کی ترتیب وتبویب اگرچہ آسان کام نہ تھا مگررب العالمین عزوجل کی توفیقرحمۃ العالمین صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ واصحابہ اجمعین کی نظرعنایتاعلیحضرت اور مفتی اعظم رحمۃ اﷲ علیہما کے روحانی تصرف وکرامت سے راقم نے یہ گھاٹی بھی عبورکرلی اور کتاب الحظروالاباحۃ کی طرح ان بکھرے ہوئے موتیوں کوابواب کی لڑی میں پروکرمرتبط ومنضبط کردیاہے وﷲ الحمد۔
اس سلسلہ میں ہم نے مندرجہ ذیل امورکوبطورخاص ملحوظ رکھا:
(ا)ان تمام مسائل کلامیہ ومتفرقہ کو کتاب الشتی کامرکزی عنوان دے کر مختلف ابواب پرتقسیم کردیاہے۔
(ب)تبویب میں سوال واستفتاء کااعتبارکیاگیاہے۔
(ج)ایك ہی استفتاء میں مختلف ابواب سے متعلق سوالات مذکور ہونے کی صورت میں ہرمسئلہ کومستفتی کے نام سمیت متعلقہ ابواب کے تحت داخل کردیاہے۔
(د)مذکورہ بالادونوں جلدوں(نہم ودوازدہم قدیم)میں شامل رسائل کو ان کے عنوانات کے مطابق متعلقہ ابواب کے تحت داخل کردیا ہے۔
(ھ)رسائل کی ابتداء وانتہاء کوممتاز کیاہے۔
(و)کتاب الشتی کے ابواب سے متعلق اعلیحضرت کے بعض رسائل جوفتاوی رضویہ قدیم میں شامل
#17974 · پیش لفظ
نہ ہوسکے تھے ان کوبھی موزوں ومناسب جگہ پر شامل کردیاہے۔
(ز)تبویب جدید کے بعد موجودہ ترتیب چونکہ سابق ترتیب سے بالکل مختلف ہوگئی ہے لہذامسائل کی مکمل فہرست موجودہ ابواب کے مطابق نئے سرے سے مرتب کرناپڑی۔
(ح)کتاب الشتی میں داخل تمام رسائل کے مندرجات کی مکمل ومفصل فہرستیں مرتب کی گئی ہیں۔
تیسویں۳۰ جلد
یہ جلد ۴۴ سوالوں کے جوابات اورمجموعی طور۷۷۲صفحات پرمشتمل ہے۔اس جلدکی عربی وفارسی عبارات کاترجمہ راقم الحروف نے کیا ہے البتہ نوروسایہ سے متعلق رسائل اربعہ کی بعض عبارات کا ترجمہ استاذی المکرم مفتی اعظم پاکستان حضرت علامہ مولانامفتی عبد القیوم ہزاروی علیہ الرحمہ نے فرمایا ہے۔
پیش نظرجلد(کتاب الشتی حصہ پنجم)کا زیادہ ترحصہ فضائل وخصائص سیدالمرسلین صلی الله تعالی علیہ وآلہ واصحابہ اجمعین پر مشتمل ہے۔علاوہ ازیں اس جلد میں شرح کلام علماء وصوفیاءتشریح افلاكعلم توقیترسم القرآن اورتجویدوقراء ۃکے بارے میں سوالوں کے جوابات بھی شامل ہیں۔مذکورہ بالاعنوانات کے علاوہ متعددعنوانات سے متعلق مسائل ضمنازیربحث ہیں۔انتہائی وقیع اورگرانقدرتحقیقات وتدقیقات پر مشتمل مندرجہ ذیل دس رسائل بھی اس جلد کی زینت ہیں۔
۱۔تجلی الیقین بان نبینا سید المرسلین (۱۳۰۵ھ)
حضور اقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم کے افضل الخلق وسید المرسلین ہونے کا قرآن وحدیث سے ثبوت۔
۲۔شمول الاسلام لاصول الرسول الکرام (۱۳۱۵ھ)
رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم کے والدین کریمین اورآباؤ اجدادکے مسلمان ہونے کا ثبوت۔
۳۔تمہید ایمان بآیات قرآن (۱۳۲۶ھ)
شان رسالت بزبان آیات قرآنیہ
۴۔الامن والعلی لنا عتی المصطفی بدافع البلاء (۱۳۱۱ھ)
حضور پر نور صلی الله تعالی علیہ وسلم کے مشکل کشاحاجت روا اور دافع البلاء ہونے کا مدلل ثبوت۔
#17975 · پیش لفظ
۵۔منیۃ اللبیب ان التشریع بید الحبیب(ضمنی)(۱۳۱۱ھ)
احکام تشریعیہ میں حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے مختار ہونے کا بیان۔
۶۔منبہ المنیہ بوصول الحبیب الی العرش والرؤیۃ(۱۳۲۰ھ)
حضور اکرم صلی الله تعالی علیہ وسلم کے عرش تك جانے اورالله تعالی کو دیکھنے کابیان۔
۷۔صلات الصفاء فی نور المصطفی(۱۳۲۹ھ)
نورانیت مصطفی صلی الله تعالی علیہ وسلم۔
۸۔نفی الفیئ عمن استنار بنورہ کل شیئ(۱۲۹۶ھ)
مسئلہ نوروسایہ کا روشن بیان۔
۹۔قمر التمام فی نفی الظل عن سید الانام(۱۲۹۶ھ)
سرکار دوعالم صلی الله تعالی علیہ وسلم کے سایہ کی نفی کا بیان۔
۱۰۔ھدی الحیران فی نفی الفیی عن سیدالاکوان(۱۲۹۹ھ)
سرورعالم صلی الله تعالی علیہ وسلم کے جسم اقدس کا سایہ نہ تھا۔
محترم قارئین عظام !
یہ خبر آپ کیلئے یقینا خوش کن ہوگی کہ الحمدلله رضا فاؤنڈیشن کے تحت فتاوی رضویہ شریف کی تخریج وترجمہ کے ساتھ جدید انداز میں اشاعت پایہ تکمیل کو پہنچ چکی ہے۔بلا مبالغہ ہم یہ دعوی کرسکتے ہیں کہ تیس جلدوں پر مشتمل یہ دنیا کا ضغیم ترین فتاوی ہے۔یہ بلند فقہی شاہکار مجموعی طور پر ۲۱۶۵۶صفحات ۶۸۴۷سوالوں کے جوابات اور۲۰۶رسائل پر مشتمل ہے جبکہ ہزاروں مسائل ضمنا زیر بحث آئے ہیں۔
اس عظیم کارنامے کی تکمیل پر رضا فاؤنڈیشن کے بانی اوراس بے مثال اشاعتی منصوبے کا آغاز فرمانے والے مرد کامل استاذنا الکریم مخدوم ملت شیخ الحدیث مفتی اعظم پاکستان حضرت علامہ مولانا مفتی محمد عبدالقیوم قادری ہزاروی نورالله مرقدہ کی روح پرفتوح انتہائی مسرورہو رہی ہوگی الله تعالی ان کے درجات بلند فرمائے اوراس عظیم فتاوی کی بین الاقوامی معیار کے مطابق اشاعت جدیدہ کو ان کے لئے قیامت تك صدقہ جاریہ بنائے۔
#17976 · پیش لفظ
رضا فاؤنڈیشن سے وابستہ تمام حضرات مبارکباد کے مستحق ہیں خصوصا ادارے کے سرپرست جانشین مفتی اعظم حضرت علامہ مولانا صاحبزادہ محمد عبدالمصطفی قادری ہزاروی ناظم اعلی جامعہ نظامیہ رضویہفتاوی رضویہ کے مترجمینمخرجینمصححین کاتب اور ناظم نشرواشاعت جگر گوشہ مفتی اعظم مولانا قاری نصیر احمد ہزاروی لائق صد تحسین وتبریك ہیں۔پروردگارعالم ان تمام حضرات کو اجر جزیل وثواب عظیم عطا فرمائے۔آمین بجاہ سید المرسلین
رجب المرجب ۱۴۲۶ھ حافظ محمد عبدالستار سعید ی
اگست ۲۰۰۵ء ناظم تعلیمات جامعہ نظامیہ رضویہ
لاہور وشیخوپورہ پاکستان
#17977 · تحدیثِ نعمت ازقلم حضرت علامہ مولاناالحاج محمدمنشاتابش قصوری سینئرمدرس جامعہ نظامیہ لاہور
تحدیث نعمت
ازقلم حضرت علامہ مولاناالحاج محمدمنشاتابش قصوری
سینئرمدرس جامعہ نظامیہ لاہور


بسم الله الرحمن الرحیم ط
نحمدہ ونصلی ونسلم علی رسولہ الکریم ط
مرکز علم وعرفان جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور پاکستان جس کی شہرت ومقبولیت چہار دانگ عالم میں بڑھتی ہی جارہی ہےاس کا سبب یہ ہے کہ اس کے بانی وناظم اعلی حضرت علامہ مولانا مفتی محمد عبدالقیوم ہزاروی علیہ الرحمہ(المتوفی ۲۶اگست ۲۰۰۳) جنہیں آج دنیائے اسلام کی نامور شخصیات مفتی اعظم پاکستان کے عظیم ترین علمی لقب سے یاد کرتی ہیںان کی ہرشعبہ علم سے گہری وابستگی اسے بام عروج تك پہنچانے میں عشق کی حد تك لگاؤ ہےان کی جہد مسلسل اور مساعی جمیلہ نے ایسے کارہائے نمایاں سر انجام دیئے ہیں کہ دنیائے سنیت بجا طور پر فخر کر سکتی ہے۔وہ اپنی ذات میں پاکیزہ انجمن اور ایك متحرك ادارہ تھے۔درس و تدریستعلیم و تعلمتصنیف و تالیف اور افتاء سے انتہائی شغف تھا۔ان کی بصیرت و فراست کے سامنے مستقبلحال کی طرح نمایاں اور ان کاماضی ان کے وجود باجود کی طرح خوبصورتحسن و جمال کا پیکر تھا۔
حضرت مفتی اعظم علیہ الرحمہ مسلك حق کے صحیح ترجمان اور اس کی ترویج و اشاعت کے سچے مبلغ تھے۔امانتدیانتتقوی ان کے فتوی کی طرح درست۔علماء و مشا ئخ عظام کے لئے دیدہ و دل فرش راہ کئے ہوتے۔طلباء کو اپنے فرزندوں سے بڑھ کر نوازتے۔جامعہ نظامیہ رضویہ کی تعمیر و ترقی کا تصور آپ پر
#17978 · تحدیثِ نعمت ازقلم حضرت علامہ مولاناالحاج محمدمنشاتابش قصوری سینئرمدرس جامعہ نظامیہ لاہور
ہر وقت غالب رہا۔بحمدہ تعالی اب ان کا مبارك تصور تصدیق بن کر جامعات کی تاریخ میں غالب ہے۔اس وقت جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور و شیخوپورہ میں تقریبا تین ہزار طلباء و طالبات علوم و فنون دینیہ حاصل کر رہے ہیں جن کی تعلیمی پیاس بجھانے کی لئے ساٹھ سے زائد قابلمحنتی اور مخلص اساتذہ کرام موجود ہیں۔
انما الاعمال بالنیات(اعمال کا دارو مدار نیات پر ہے)اس فرمان مخبر صادق نبی مکرم رسول اعظم جناب احمد مجتبی محمد مصطفی صلی الله تعالی علیہ وسلم کی عملی تشریح کا اگر اس دور میں کسی کو مصداق سمجھا جائے تو بلا تامل راقم السطور مفتی اعظم پاکستان مولانا مفتی محمد عبدالقیوم ہزاروی رحمہ الله تعالی کا نام نامی پیش کرنے میں عار محسوس نہیں کرے گا۔آپ نے جن ابتلاء و آزمائش اور مصائب و آلام سے گزر کر جامعہ کی آبیاری کی اس کی مثال مشکل سے ہی ملے گی۔آپ عزیمت کے گوہ گراں تھے۔ صبر واستقامت آپ پر ناز کناں رہا۔دکھدرد اور الم کو احباء و رفقاء سے ہمیشہ نہاں رکھا۔الله تعالی اور اسکے حبیب صلی تعالی علیہ وسلم کے احکام و ارشادات پر عمل پیرا رہے۔اہل سنت و جماعت کو نہ صرف جامعہ نظامیہ رضویہ ایسا علوم و فنون کا مرکز مرحمت فرمایا بلکہ تنظیم المدارس اور رضا فاونڈیشن ایسے مضبوط ترین ادارے بھی عنایت کئے جن کے قیام سے سنیت کا بھرم قائم ہے۔ان کا مطمح نظر ہر شعبہ علم و فضل کے لئے افراد کی تیاری رہااور اس میں بفضلہ و کرمہ تعالی دیگر شعبہ جات کی طرح خوب کامیاب رہے۔یہی وجہ ہے کہ آج جامعہ نظامیہ رضویہ کے فضلاء ملك بھر میں درس و تدریس کی مسندیں سجائے ہوئے ہیں۔تحریر و افتاءتصانیف و تالیفات اور تراجم میں نام پیدا کرچکے ہیں۔جامعہ کے تقریبا تمام مدرسین یہیں سے فراغت کی نسبت رکھتے ہیں۔
عظیم ترین کارنامہ
حضرت قبلہ مفتی اعظم پاکستان علیہ الرحمہ کا ہر کارنامہ عظیم تر ہے مگر رضا فاونڈیشن کا قیام ایسا کارنامہ ہے کہ بریلی شریف بھی اگر لاہور پر رشك کرے تو کوئی مضائقہ نہیں ہوگااس لئے کہ اعلیحضرت امام احمد رضا خان بریلوی رحمہ الله کی ذات ستودہ صفات کے ایمان افروزروح پرور اور تحقیق آشنا قلم سے جن ہزاروں فتووں کو دلائل و براہین سے مرصع کیاگیا تھاعومخواص کا انکی روح تك پہنچنا مشکل ترین امر تھا۔مفتی اعظم پاکستان جن کی زندگی کا ہر لمحہ علم و عمل سے عبارت رہا انھوں نے جب اس دقت پر گہرائی اور گیرائی سے سوچا تو اس کا حل یوں ڈھونڈ نکالا کہ اعلی حضرت
#17979 · تحدیثِ نعمت ازقلم حضرت علامہ مولاناالحاج محمدمنشاتابش قصوری سینئرمدرس جامعہ نظامیہ لاہور
مولانا الشاہ احمد رضا خان بریلوی علیہ الرحمہ کے فتاوی رضویہ کو جدید دور کے تقاضوں کے مطابق تخریج و ترجمہ کے ساتھ شائع کرنے کی طرح ڈالی جائے۔چناچہ آپ نے ۱۹۸۵ء میں عربی و فارسی عبارات کے ترجمہ اور حوالہ جات کی تخریج کے ساتھ کام کا آغاز فرمادیامگراس کے لئے ٹھوس بنیاد کافراہم کرنا از حد ضروری تھااس لئے ۱۹۸۸ء میں اہل علم و قلم سے مشاورت کے لئے ایك میٹنگ بلائی جس میں بالاتفاق طے پایا کہ اس عظیم ترین کام کے لئے رضا فاؤنڈیشن کے نام سے ایك ادارہ قائم کیا جائے۔ چناچہ ادارے کے بابرکت نام کے ظہور پذیر ہوتے ہی منصوبے کو رو بہ عمل لایا گیا اور باقاعدگی سے تخریج و ترجمہ کاکام شروع ہوگیا۔الحمدلله علی منہ وکرمہ واحسانہ کہ فتاوی رضویہ جو قدیم بارہ جلدوں پر مشتمل تھا آج اپنی وسعت وکشادگی کے باعث تیس ضخیم ترین جلدوں اور تقریبا بائیس ہزار صفحات پر پھیلا ہوا عالم اسلام میں اپنی انفرادی حیثیت سے نمایاں اورممتاز دکھائی دے رہا ہے۔ہم یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ تواریخ فتاوی میں اس سے عظیم اورجامع کوئی دوسرا فتاوی نہیں ہے۔یقینا حضرت مفتی اعظم علیہ الرحمۃ کی روح اپنے مزار مقدس میں شاداں وفرحاں ہوگی کہ جس کام کا آغاز کیا گیا تھا آج وہ پایہ تکمیل تك پہنچا اور وہ اس مہتم بالشان امر سے وابستہ ہر ایك کے لیے انعامی طور پر اپنی مستجابانہ دعاؤں سے نواز رہے ہوں گے۔ا س عظیم ترین مشن کو کامیابی وکامرانی تك پہنچانے کے لئے جن حضرات نے نمایاں خدمات سرانجام دیں ان کے اسمائے گرامی درج کرنے سے قبل میرا دل چاہتاہے کہ صاحب فتاوی اعلی حضرت مجدد مائۃ سابقہ وحاضرہ مولانا الشاہ احمد رضا خان فاضل بریلوی رحمہ الله تعالی کی ذات ستودہ صفات کی حیات مبارکہ کا مختصر ساخلاصہ درج کیا جائےگوفتاوی مبارکہ کی پہلی جلد سے لے کر آخری جلد تك کسی نہ کسی طرح بڑے احسن پیرائے میں تعارف لکھا جاچکاہےمگر بفحوائے ذکر الحبیب لبیبمحبوب کا ذکر میٹھا لگتاہے۔لہذا مزید مٹھاس حاصل کرنے کےلئے چند کلمات قلم بند کرنے کی سعادت حاصل کرتاہوں۔
مجدد دین وملت :ایك تعارفایك جائزہ
نکل کے صحن گلستاں سے دور دور گئی
یہ بوئے گل بھی کہیں قید رہنے والی ہے
غیر معمولی اشخاص اپنے بچپن ہی سے اپنی حرکات وسکناتنشو ونمامیں ممتاز ہوتے ہیں ان کے ایك ایك خال میں بے پناہ کشش ہوتی ہےان کے ناصیہ قبل سے مستقبل کا نور چمك چمك کر نتیجے کا پتہ دیتارہتاہےاور لوگ پکاراٹھتے ہیں :
#17980 · تحدیثِ نعمت ازقلم حضرت علامہ مولاناالحاج محمدمنشاتابش قصوری سینئرمدرس جامعہ نظامیہ لاہور
ہونہار بروا کے چکنے چکنے پات
اعلی حضرت عظیم البرکتامام اہلسنتمجدد دین وملت مولانا الشاہ احمد رضا خان فاضل بریلوی رحمہ الله تعالی بھی اسی قسم کی نادر روزگار ہستیوں میں سے ایك عظیم المرتبت ہستی تھےبچپن میں ان کے ہر انداز میں سعادت ونیك بختی کے آثار نمایاں تھے۔
عموماہر زمانے کےبچوں کا وہی حال ہوتا ہے جو آج کل کے بچوں کا ہے کہ سات آٹھ سال تك تو انہیں کسی بات کا ہوش نہیں ہوتا اورنہ ہی وہ کسی بات کی تہہ تك پہنچ سکتے ہیںمگر اعلی حضرت بریلوی کا بچپن بڑی اہمیت کا حامل تھا۔یکم سنیخورد سالی اورکم عمری میں ہوشمندی اورقوت حافظہ کا یہ عالم تھا کہ ساڑھے چار سال کی ننھی سی عمر میں قرآن مجید ناظرہ مکمل پڑھنے کی نعمت سے باریاب ہوگئے۔چھ سال کے تھے کہ ربیع الاول شریف کے مبارك مہینہ میں منبر پر جلوہ افروز ہوکر میلاد النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم کے موضوع پر ایك بہت بڑے اجتماع میں نہایت پر مغز تقریر فرماکر علماء کرام اورمشائخ عظام سے تحسین وآفرین کی داد وصول کی۔اسی عمر میں آپ نے بغداد شریف کے بارے میں سمت معلوم کر لی تھی تادم حیات بلدہ مبارکہ غوث اعظم رضی الله تعالی عنہ کی طرف پاؤں نہ پھیلائےنماز سے تو عشق کی حد تك لگاؤ تھا چنانچہ نماز پنجگانہ باجماعت تکبیر اولی کا تحفظ کرتے ہوئے مسجد میں جاکر ادا فرمایا کرتےجب کبھی کسی خاتون کا سامنا ہوتا تو فور انظریں نیچی کرتے ہوئے سرجھکالیا کرتےگویا کہ سنت مصطفی کریم علیہ التحیۃ والثناء کا آپ پر غلبہ تھا جس کا اظہار کرتے ہوئے حضور پر نورصلی الله تعالی علیہ وسلم کی خدمت عالیہ میں یوں سلام پیش کرتے ہیں
نیچی نظروں کی شرم وحیاپر درود
اونچی بینی کی رفعت پہ لاکھوں سلام
اعلی حضرت علیہ الرحمہ نے لڑکپن میں تقوی کو اس قدر اپنالیا تھا کہ چلتے وقت قدموں کی آہٹ تك سنائی نہ دیتی تھی۔سات سال کے تھے کہ ماہ رمضان المبارك میں روزے رکھنے شروع کردیےچنانچہ بیان کرتے ہیں کہ آپ کے والد ماجد حضرت مولانا علامہ حاجی محمد نقی علی خان بریلوی علیہ الرحمہ دوپہر کے وقت جبکہ شدت کی گرمی پڑ رہی تھی آپ کو لئے اس کمرہ میں پہنچے جس میں افطاری کے لیے قسم قسم کا سامان موجود تھافیرنی کے پیالے بھی تھےوالد صاحب نے کمرہ اندر سے بند کر کے ایك پیالہ آپ کو دیتے ہوئے کہا اسے کھا لوتوآپ نے عرض کیا میرا روزہ ہے کیسے کھاؤں آپ کے والد ماجد نے فرمایا بچوں کا روزہ ایسا ہی ہوتا ہےلو کھالومیں نے دروازہ بند کردیا ہے کسی کو
#17981 · تحدیثِ نعمت ازقلم حضرت علامہ مولاناالحاج محمدمنشاتابش قصوری سینئرمدرس جامعہ نظامیہ لاہور
خبر نہ ہوگی اورنہ ہی کوئی دیکھ رہا ہے۔آپ نے جوابا عرض کیا :ابا جان ! جس کے حکم سے روزہ رکھا ہے وہ تو دیکھ رہا ہے۔یہ جواب سنتے ہی آنکھوں سے آنسوؤں کا تار بند ھ گیا اور آپ کو سینے سے لگایاپیار کیااورکمرے سے باہر لے آئے۔سبحان الله !
آٹھویں سال میں قدم رکھا تو فن نحو کی شہرہ آفاق کتاب "ھدایۃ النحو "کی شرح لکھ ڈالیاور دسویں سال ''مسلم الثبوت'' کی تحقیقی شرح لکھنے کی سعادت پائی۔اعلی حضرت فاضل بریلوی علیہ الرحمۃ نے جملہ علوم دینیہ عقلیہ ونقلیہ کی تکمیل تیرہ سال دس ماہ کی عمر میں فرما کر ۱۴ شعبان المعظم ۱۲۸۶ھ/۱۹نومبر ۱۸۶۹ء بروز جمعرات فارغ التحصیل ہونے کا شرف حاصل کیا۔بعدہ اپنے والد ماجد کے ارشاد پر درس وتدریس اورمسند افتاء کو زینت بخشی۔بفضلہ تعالی آپ کو علم سے خصوصی لگاؤ رہا اورخداداد ذہانت سے علوم وفنون مروجہ کا سراپابن گئے۔آپ نے اپنے سال فراغت کے دو تاریخی مادے تخریج فرمائے ''تعویذ'' اور''غفور''ان دونوں سے ۱۲۸۶ھ کے اعداد نکلتے ہیں۔
قوت حافظہ کا یہ عالم تھا کہ حضرت مولانا سید ایوب علی رضوی علیہ الرحمہ سے مروی ہے کہ ایك بار اعلیحضرت فاضل بریلوی نے فرمایا:بعض ناواقف حضرات میرے نام کے ساتھ ''حافظ'' بھی لکھ دیا کرتے ہیں حالانکہ میں اس منصب کا اہل نہیں ہوںلیکن یہ ضروری ہے کہ اگر کوئی حافط صاحب کلام پا ك کا ایك پارہ پڑھ کر سنا دیا کرے تو وہ دو بارہ مجھ سے سن لے۔چناچہ طے پایا اور عشاء کے وضو فرمانے کے بعد جماعت سے قبل اس کیلئے نشست شروع کردی گئی اور آپ نے تیس دنوں میں تیسوں پارے زبانی سنادیئےنیز فرمایاالحمدلله! ہم نے کلام پاك ترتیب سے یاد کرلیا۔اور یہ اس لئے کہ بندگان خدا کا کہنا غلط نہ ہو۔ سبحان الله ! صداقت شعار بندوں کا کیا کہنا۔اور یہ مکمل حفظ القرآن کا وقت تخمینۃ سات گھنٹے بنتا ہے۔
بیان کرتے ہیں کہ امام محمد علیہ الرحمہ نے چھوٹی عمر میں سات دنوں میں قرآن کریم حفظ کرلیا تھا جبکہ امام شافعی اور حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی علیہما الرحمہ نے تین تین ماہ کی مدت میں قرآن مجید حفظ کیانیز حضرت مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندی نے بھی اتنی ہی مدت میں قرآن کریم کو یاد فرمالیاجب انہیں جہانگیر بادشاہ نے قلعہ گوالیار میں قید و بند کی صعوبتوں سے دو چار کر رکھا تھا۔
استاذ ی المکرم فقیہ اعظم علیہ الرحمہ مولانا الحاج ابو الخیر محمد نور الله نعیمی قادری اشرفی رحمہ الله تعالی بانی دارالعلوم حنفیہ فریدیہ بصیر پورفرمایا کرتے تھے کہ امام بخاری کے حافظہ کے بعد اعلیحضرت فاضل بریلوی کے حافطہ کی مثال نہیں ملتیآپ کی قوت حافظہ و اخذ لاجواب تھی۔سچ ہے ولی را ولی می شناسد و عالم را عالم می شناسدنیز فتاوی رضویہ آپ کی قوت حافظہ پر شاہد و عادل ہے۔
#17982 · تحدیثِ نعمت ازقلم حضرت علامہ مولاناالحاج محمدمنشاتابش قصوری سینئرمدرس جامعہ نظامیہ لاہور
فاضل بریلوی اساطین علم و فن اور اکابر فضل و کمال کا مرکز بنےبرصغیر پاك و ہند کے علمائے حقانی کے علاوہ عرب و عجم کے علماء و مشائخ ربانی کے نزدیك ان کی محبت اہل حق و سنت ہونے کی دلیل ٹھہریان سے انحراف بدعتی ہونے کی سب سے بڑی پہچان ہوئی۔اور انہی اکابر نے آپ کو مجدد اسلام کے لقب سے نوازا۔
الله تعالی نے فاضل بریلوی کو فنا فی السنہ ہونے کا وہ مرتبہ عطا فرمایا کہ کمال استغراق کی وجہ سے خود ان کی ذات یکسر سنت و اتباع سنت کا پیکر و مجسمہ بن گئیجو ان کے قدم قدم چلا اس نے سنت کو پالیا اور جس نے رو گردانی کی اس نے سنت رسول اور منہج اصحاب حضور پر نور سے انحراف کیا۔
آخریہ کیا تھا کہ بڑے بڑے علمائے اسلام و مفتیان عظام کو اعتراف کرنا پڑا:اذا رأیت الرجل احب احمد رضا فاعلم انہ صاحب السنۃ۔(اگر تم کسی کو دیکھو کہ وہ احمد رضا سے محبت کرتاہے تو سمجھ لو کہ وہ صاحب سنت ہے۔)یعرف بہ المسلم من الزندیق(اسی کسوٹی پر مسلم کو زندیق سے پرکھا جائے گا)اوریہ بالکل حق ہے آج ارباب شرکو فاضل بریلوی کا مسلك ومشرب پسند نہیں آئے گا ان کی محبت سے ایسے لوگوں کے دل کورے ہیں بلکہ کہیں گے ان کا طریقہ تو تامل ورائے کی عقلمندی سے خالی اور ظاہر پرستیبے دانشی وبے علمی کا مجموعہ تھاان کا مشن بدعت وشرك کا پرچار کرنےمخالف فلسفیانہ بحث میں الجھانے اورمرعوب کرنے کے سوا اور کچھ نہ تھا۔العیاذبالله !
جب دین کی قدریں کم ہوتی چلی گئیں دنیائے اسلام کے ذریں اصولوں سے انحراف شروع ہوگیاحضرت سیدنا محبوب سبحانی غوث صمدانی حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی ''محی الدین''بن کر تشریف لائے اور احیائے اسلام کے لیے اس شان سے خدمات انجام دیں کہ اپنےپرائے یگانےبیگانے سبھی ان کی تعریف میں رطب اللسان ہیں۔
جب اکبر نے ''دین الہی ''کے نام سے بے دینی ایجاد کرنے کے ''ہندو مسلم بھائی بھائی ''کی بڑہانکیاسلام وکفر کو ایك کرنا چاہا بدعات نے سرنکالنا شروع کیااسلام کی صورت مسخ ہونے لگی تو حضرت شیخ احمد سرہندی رحمہ الله تعالی مجدد الف ثانی کی صورت میں نمودار ہوئے اورایسے کارنامے سرانجام دیے کہ عالم اسلام خصوصا برصغیر پاك وہند کی مسلم اکثریت آج بھی ان کی معتقد نظر آتی ہے۔
مجددین وقت نے اپنے زمانے میں اسی کام کو اولیت دی جسے انہوں نے نہایت ضروری سمجھا مسائل کے اصول توسید عالم نبی مکرم صلی الله تعالی علیہ وسلم نے مقرر فرمادیے تھے انہی کے وضع کردہ اصول
#17983 · تحدیثِ نعمت ازقلم حضرت علامہ مولاناالحاج محمدمنشاتابش قصوری سینئرمدرس جامعہ نظامیہ لاہور
اوراحادیث مبارکہ سے استنباط اجتہاد کر کے ائمہ اربعہ نے فقہ کو مدون کیا جس کی امت محمدیہ علیہ التحیۃ والثناء کو سخت ضرورت تھی پھر یہی قواعد وضوابط مجددین اسلام کے تجدید ی کارناموں میں جاری وساری رہے۔
جب انبیاء واولیاء کی ذوات پربیباکانہ حملے شروع ہوئےگستاخیوں سے بھر پور کتابیں شائع ہونے لگیںناموس انبیاء ومرسلین علیہم السلام کو تار تار کیا جانے لگاانہیں مجبور محضبے علمعام سا معمولی انسانبلکہ اپنے جیسے بشر ہونے کے دعوے اگلنے لگےاولیائے کرام کے خلاف محاذ قائم ہونے لگےبتوں کےلیے نازل شدہ آیا ت اولیائے کرام پر چسپاں کی جانے لگیںحتی کہ سید عالممحسن اعظمنبی مکرم صلی الله تعالی علیہ وسلم کو مردہ اورروضہ اطہر کو صنم اکبرگنبد خضراء کی زیارت اورمدینہ طیبہ کی حاضری کو حرام قرار دیا جانے لگااکبر کے ''دین الہی ''کے نفاذ کے لیے "ہندومسلم بھائی بھائی"کی تحریکیں پھر سے پورے لاؤ لشکر اورمکمل سازو سامان ضالہ کے ساتھ دین اسلام کے ساتھ"ھل من مبارز"کے نعرے لگاتی ہوئیں برصغیرپاك وہنددندنانے لگیں تو مولانا الشاہ احمد رضا خاں بریلوی امت مصطفی علیہ التحیۃ و الثناء کے مونس و غمخوار اور محافظ و نگہبان بن کر تشریف فرما ہوئے۔چناچہ باطل قوتیں دم توڑنے لگیںحق کا بول بالا ہونے لگااور سر زمین بریلی سے آواز گونجی:
سب سے اولی و اعلی ہمارا نبی
سب سےبالا و والا ہمارا نبی
غمزدوں کو رضا مژدہ دیجے کہ ہے
بیکسوں کا سہارا ہمارا نبی(صلی الله علیہ وسلم)
مجدد دین و ملت اعلیحضرت فاضل بریلوی کی تبلیغ عشق و محبت کی تاثیر ہے کہ آپ کے مخالفین میں اب یہ جرأت نہیں ہے کہ وہ الفاظ بر سر عام کہہ سکیں جو ان کے اکابر نے اپنی تصانیف میں درج کئے ہیں۔یہ حقیقت ہے کہ آپ کی ذات ستودہ صفات کے خلاف بڑی بڑی سازشیں مرتب ہوئیں مگر الحق یعلو ولا یعلیآپ کو گالیاں دی گئیں مگر آپ کا اعلان آج بھی فضائے بسیط میں گونج رہا ہے کہ:
مجھے ہزار گالیں دومیرے باپ دادا کو رات دن گالیاں دوجو جی میں آئے کہتے رہومجھے بخوشی قبول ہےمیں تمھیں ایك لفظ تك بھی نہیں کہوں گا۔مگر
#17984 · تحدیثِ نعمت ازقلم حضرت علامہ مولاناالحاج محمدمنشاتابش قصوری سینئرمدرس جامعہ نظامیہ لاہور
خدارا میرے محبوبحبیب خدا صلی الله تعالی علیہ وسلم اور انبیاء و اولیاء کی شان میں بے ادبی چھوڑ دو''۔
بندہ عشق شدی ترك نسب کن جامی
کاندریں راہ فلاں ابن فلاں چیزے نیست
یہی وہ تجدید ی کارنامہ ہے جسے بزرگان سلف کے طریقہ پر مجدد دین و ملت مولاناالشاہ احمد رضا خان علیہ الرحمہ نے اپنی زبان وقلم اور علم و عمل سے سر انجام دیا۔آپ کے ترجمہ قرآن ''کنز الایمان '' کی شہرت و مقبولیت کا یہ عالم ہے کہ آج پاك و ہند میں سیکڑوں اشاعتی ادارے جن میں زیادہ تر آپ کے مسلك سے قطعا کوئی وابستگی نہیں رکھتے اس کی طباعت و اشاعت سے اپنا پیٹ پال رہے ہیں۔آپ کا یہ کتنا بڑا احسان ہے کہ مخالفین کے رزق کاسبب بنا ہواہے۔دراصل بات یہ ہے کہ کنز الایمان ایك ایسا ترجمہ قرآن ہے جس کی مثال نہیں ملتییہ واحد ترجمہ ہے جو عشق و محبت خدا و رسول کا شاہکار ہے۔یوں بھی خدائی کلام کی صحیح ترجمانی وہی کرسکتاہے جسے وہ اپنے کرم سے از خود بہرہ مند فرماتاہے ان الفضل بیدالله یؤتیہ من یشاء بیشك فضل الله کے قبضہ واختیار میں ہے جسے چاہتا ہے اسے اپنے فضل سے نوازتا ہے۔وہی بڑے فضائل کا مالك ہے۔
''العطایا النبویہ فی الفتاوی الرضویہ''جو قبل از یں بارہ قدیم مجلدات پر پھیلا ہوا تھا اورجو دنیائے اسلام میں سب سے ضخیم وعظیم فتاوی ہونے کا شرف حاصل کرچکا تھاجسے اب جدید دور کے تقاضا کے مطابق ترجمہ وتخریج کے ساتھ رضا فاؤنڈیشن جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور(پاکستان)کو تیس جلدوں میں پیش کرنے کی سعادت عظمی نصیب ہورہی ہےجس کی اشاعت کا آغاز شعبان المعظم ۱۴۱۰ھ /مارچ ۱۹۹۰ء میں ہوا اوربفضلہ وکرمہ تعالی رجب المرجب ۱۴۲۶ھ/اگست ۲۰۰۵ء کو اپنی اشاعتی و طباعتی عمر کے پندرہ سال پورے ہونے پر ہزارہا عاشقان فتاوی کی دیرینہ آرزوؤں کو تکمیل کا جامہ پہنا رہا ہے۔آپ کی یہ ایك تصنیف دنیائے اسلام کی ہزار ہا تصانیف پر بھاری ہے جس میں آپ نے اپنے سینے میں محفوظ پچاس علوم وفنون کو فتاوی رضویہ کی صورت میں ایك وسیع وعریض سدابہار گلشن بنادیا ہے
چمن میں پھول کا کھلنا تو کوئی بات نہیں
زہے وہ پھول جو گلشن بنائے صحرا کو
یوں تو اعلیحضرت امام احمد رضا کی تصانیف اہل تحقیق کے نزدیك ایك ہزار تك پہنچ چکی ہیںاور بعض
#17985 · تحدیثِ نعمت ازقلم حضرت علامہ مولاناالحاج محمدمنشاتابش قصوری سینئرمدرس جامعہ نظامیہ لاہور
اہل علم و قلم باقاعدہ ان کی فہرست مرتب کر کے شائع کر چکے ہیں۔اب حیات اعلیحضرت حصہ دوم از قلم ملك العلماء علامہ ظفر الدین بہاری تلمیذ و خلیفہ امام احمد رضامیں تفصیلی تعارف کے ساتھ شائع ہو چکی ہے مگر جس خوش نصیب کے پاس فتاوی رضویہ جو تیس۳۰ جلدوں پر محیط ہےہو گا وہ آپ کی سیکڑوں تصانیف سے بیك وقت مستفید ہو سکے گا۔بات دور چلی گئی آمدم سر مطلبفتاوی رضویہ جدید کے لیے جن علماء کراممفتیان اسلاممحققین عظام اور مخصوص اہل علم و فضل نے اس کی تیاری اور اشاعت میں کسی بھی طرح حصہ لیا ان کے اسماء گرامی درج کئے جاتے ہیںدل چاہتا ہے کہ ان کا جامع تعارف قلمبند کیا جائے مگر بعض وجوہ کی بناء پر ان عالی مرتبت علمی شخصیت کے نام اور فتاوی پر کام کی نوعیت کو پیش کیا جاتا ہے
حضرت علامہ مولانا الحاج مفتی سید شجاعت علی قادری علیہ الرحمۃ بانی دار العلوم نعیمیہ کراچی و جج وفاقی شرعی عدالتآپ نے فتاوی رضویہ جدید کی جلد نمبر ایك اور دو کا ترجمہ فرمایا۔
o حضرت مولانا علامہ مفتی محمد احمد مصباحی بھیروی مد ظلہ ناظم تعلیمات الجامعہ الاشرفیہ مبارك پور انڈیاآپ نے جلد نمبر ۳۹اور جلد چہارم نصف اول کا ترجمہ فرمایا۔
o حضرت علامہ مولانا الحاج مفتی صدیق ہزاروی مد ظلہ سینئر مدرس و شیخ الحدیث جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور آپ نے جلد نمبر ۴ نصف ثانی کا ترجمہ فرمایا۔
o حضرت علامہ مولانا الحاج مفتی عبد الدائم مد ظلہ ناظم اعلی دار العلوم ربانیہ صدریہ ہری پور ہزارہآپ نے جلد ۵ کا ترجمہ فرمایا۔
o حضرت مولانا علامہ مفتی خان قادری مد ظلہ بانی و مہتمم جامعہ اسلامیہ لاہور آپ نے جلد نمبر ۶۷۸۱۰۱۴۱۵کا ترجمہ فرمایا۔
o حضرت مولانا علامہ الحاج الحافظ محمد عبد الستار سعیدی مد ظلہ ناظم تعلیمات جامعہ نظامیہ رضویہ لاہورآپ نے جلد ۱۱۱۲۱۳۱۶۱۷۱۸۱۹۲۰۲۵۲۶۲۷۲۸۲۹۳۰ ان چودہ جلدوں کا ترجمہ کرنے کا شرف حاصل کیا۔
o حضرت علامہ مفتی قاضی محمد سیف الرحمن ہزاروی مد ظلہ آپ نے جلد نمبر ۲۱۲۲۲۳۲۴کا ترجمہ فرمایا۔
دیگر ذکر معاون شخصیات
o حضرت مولانا الحاج محمد نثار بیگ صاحب مد ظلہ برطانیہ۔
#17986 · تحدیثِ نعمت ازقلم حضرت علامہ مولاناالحاج محمدمنشاتابش قصوری سینئرمدرس جامعہ نظامیہ لاہور
o حضرت علامہ مولانا الحاج پیر معروف حسین عارف نوری قادری نوشاہی مد ظلہ بانی ورلڈ اسلامك مشن و سرپرست اعلی مرکزی جمعیت تبلیغ اسلام(یو۔کے)آپ اس عظیم الشان اشاعتی منصوبے کے آغاز سے اب تك ہر اعتبار سے مسلسل اور بھر پور تعاون فرما رہے ہیں۔
o حضرت علامہ مولانا الحاج محمد عبد الحکیم شرف قادری مد ظلہ بانی مکتبہ قادریہ رضویہ لاہور آپ کا شمارہ ادارہ ہذا کے محرکین اور بانیوں میں ہوتا ہے۔
o حضرت علامہ مولانا نذیر احمد سعیدی زید مجدہ تخریج و تصحیح کا زیادہ تر کام آپ ہی نے فرمایا آپ کے تخریجی کام کو دیکھ کر حضرت مفتی اعظم علیہ الرحمہ کے حسن انتخاب کا اعتراف کرنا پڑتا ہے۔آپ نہایت مخلصمحنتیمستعدخدمت دین کے جذبہ سے سر شارمتواضعمنکسر المزاج اور اپنے مشن سے والہانہ لگاؤ رکھنے والےدرویش منش عالم ہیں آپ نے اپنے شباب سے انتہائی قیمتی پندرہ سال فتاوی رضویہ کی تخریج کے لئے وقف کئے ہیں۔
o مکرم و معظم جناب صوفی مولوی محمد شریف گل صاحب خوش نویس وکاتب فتاوی رضویہ جدید بقول مفتی اعظم علیہ الرحمہ "اگر گل صاحب جیسا تجربہ کار کاتب ہمیں دستیاب نہ ہوتا شاید اتنی عمدگی کے ساتھ اس عظیم کام کو ہم جاری نہ رکھ سکتے۔یاد رہے کہ فتاوی رضویہ جدید کی کتابت کا آغاز کرنے سے قبل موصوف کلین شیو تھے مگر اب فیضان و برکات رضا کا کرشمہ ہے کہ وہ متشرع اور متبع سنت اور ایك مناظر بن چکے ہیں۔موصوف کو فتاوی رضویہ جدید کی تمام جلدوں کی کتابت کا شرف نصیب ہوا۔
o حضرت علامہ مولانا الحاج غلام فرید صاحب ہزاروی مد ظلہ ناظم امور تعلقات عامہ جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور۔
o حضرت علامہ مولانا صاحبزادہ محمد عبد المصطفی ہزاروی مد ظلہ ناظم اعلی جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور۔
o حضرت علامہ الحافظ القاری مولانا صاحبزادہ محمد نصیر احمد ہزاروی زید مجدہ ناظم نشر و اشاعت فتاوی رضویہ۔
راقم الحروف(محمد منشا تابش قصوری مدرس جامعہ نظامیہ لاہور)کو تقریبا ستائیس ۲۷جلدوں کی پیسٹنگ کا موقعہ نصیب ہوا۔
بر سبیل تذکرہ
یاد رہے کہ مفتی اعظم پاکستان علیہ الرحمۃ نے وصال سے دو روز قبل فتاوی رضویہ کی پچیسویں ۲۵ جلد کتابت شدہ راقم السطور کے سپرد کی تاکہ کاپیاں پیسٹ کر دوں۔میں نے عرض کیا :کتنے دن لگاؤں فرمایا :۶ستمبر ۲۰۰۳ء کو صاحبزادہ حافظ نصیر احمد ہزاروی زید مجدہ کی شادی ہے
#17987 · تحدیثِ نعمت ازقلم حضرت علامہ مولاناالحاج محمدمنشاتابش قصوری سینئرمدرس جامعہ نظامیہ لاہور
اس وقت تك تیار کر لیںالله تعالی کو منظور ہوا طباعت کے لیے پریس کے حوالے کر دی جائینگی مگر کسے معلوم تھا کہ ۲۷ جمادی الاخری ۱۴۲۴ھ/۲۶اگست ۲۰۰۳ء منگل کا سورج غروب ہوتے ہی آسمان فقاہت کا یہ آفتاب بھی اپنی تمامتر تابنیوں کو ساتھ لئے ہوئے عالم برزخ میں جا طلوع ہو گا تا ہم پچیسویں ۲۵ جلد انکے چہلم مبارك پر مارکیٹ میں آگئی۔
حضرت مفتی صاحب علیہ الرحمۃ اس منصوبے کو جلد از جلد تکمیل کے مراحل سے گزرنے کی تڑپ رکھتے تھے۔آپ کے ذوق و شوق اور دلچسپی کا یہ عالم تھا کہ اسباق سے قبل اور از فراغ کتابت فتاوی رضویہ جدید کی از خود تصحیح فرماتے رہتےمزید تسلی کے لئے حضرت علامہ الحاج الحافظ القاری محمد عبد الستار سعیدی مد ظلہ ناظم تعلیمات و شیخ الحدیث جامعہ کو پروف ریڈنگ کے لئے فرماتے حافظ صاحب قبلہ باوجود علالت کے اپنے مربی و محسن اور نہایت شفیق ومہربان استاذ کی خواہشات کے پیش نظر کسی قسم کے عذرکو سامنے لائے بغیر نہایت خنداں پیشانی سے ذمہ داری کو باحسن وجوہ نبھاتے۔۔۔۔۔نوبت بایں جارسید کہ اب تمام جلدوں کی تصحیح کے ساتھ ساتھ مجلدات کے ترجمے کابار بھی آپ ہی کے کاندھوں پر آپڑا۔
قارئین کرام ! آپ ملاحظہ فرماچکے ہیں کہ چودہ۱۴ جلدوں کا ترجمہ تمامتر آپ ہی کو کرنے کی سعادت حاصل ہوئی۔من وجہ مکمل فتاوی رضویہ جدید تیس۳۰ کی تیس۳۰ جلدوں کا ترجمہ کہیں نظر ثانی اور کہیں بالاستیعابآپ ہی کے قلم کا مرہون منت ہےیہ ایسا نادرعدیم المثال تاریخی کار نامہ ہے جو سوائے فضل ربی اور عطائے محبوب ایزدی صلی الله علیہ و سلم کے منصہ شہود پر جلوہ گر ہوناممکن نہیں تھا۔
آج اعلیحضرت امام احمد رضا خاں فاضل بریلوی علیہ الرحمہ کی ذات ستودہ صفات پر دنیا بھر کی یونیورسٹیوں میں جس تیزی سے کام ہو رہا ہے قابل صد تحسین و لائق صد افتخار ہے۔اس وقت جمادی الاخری ۱۴۲۶ ھ/اگست ۲۰۰۵ تك مندرجہ ذیل ممالك اور شہرو ں میں محققیناسکالرز اور مفکرین آپ کی بلند مرتبہ شخصیت پر کام کرکے ڈاکٹریٹ اور ایم فل کی ڈگریا ں حاصل کر چکے ہیں اور مزید اس نعمت کے حصول میں کوشاں ہیں ۔
پاکستان میں کراچیلاہورحیدر آبادجام شوروملتانبہاول پورپشاور اور اسلام آباد کی جامعات سے سات ۷ حضرات نے پی۔ایچ۔ڈی۔کی ڈگریاں لیں۔ہندوستان :علی گڑھپٹنہبریلیبنارسکانپورکلہاررانچیمظفر پورممبئیکلکتہآرہحیدر آباد(دکن)رندروپونادہلینیو دہلی سے اکیس ۲۱ حضرات نے پی۔ایچ۔ڈی کیا۔
#17988 · تحدیثِ نعمت ازقلم حضرت علامہ مولاناالحاج محمدمنشاتابش قصوری سینئرمدرس جامعہ نظامیہ لاہور
بنگلہ دیش :اسلامك یونیورسٹی کشتیا سے ایك صاحب نے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔
مصر :جامعہ الازہر قاہرہ یونیورسٹی سے دو صاحبان نے پی۔ایچ۔ڈی کیا۔
نیو یارك :کولمبو یونیورسٹی سے ایك صاحب کو اس اعزاز کا شرف حاصل ہو ا۔
عراق :بغداد شریف سے ایك خوش نصیب نے ڈگری حاصل کی۔
یو۔کے(برطانیہ)برمنگھم یونیورسٹی سے ایك صاحب کو یہ عزت نصیب ہوئی۔
دیگر ممالك میں اعلی حضرت کی گرانقدر خدمات دینیہعلمیہ پر تحقیقات کا دائرہ وسعت اختیار کرتا جا رہا ہے۔
گرامی قدر حضرات !آپ میری مذکورہ بالا تحریر پر ذراغور فرمائیےیہ تقریبا تینتیس ۳۳ وہ محققمفکر اور اسکالرز ہیں جنھوں نے امام احمد رضا کے کسی پہلو کو اپنے قلم کا مو ضوع بنایا ہے۔اس کے برعکس فتاوی رضویہ جدید جو ہزارہا موضوع اور عنوان اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے جسے حضرت مفتی صاحب علیہ الرحمہ کے تصرف خاص کے باعث حضرت علامہ مولانا الحافظ محمد عبد الستار سعیدی دامت برکاتہم العالیہ نے پایہ تکمیل تك پہنچانے میں جس محنتکاوشجدوجہدمحبت اور جذب درون سے کام لیا ہے یہ اتنا عظیم اور عدیم النظیر کارنامہ ہے کہ اگر میرے بس کی بات ہوتی تو انھیں کم از کم تیس پی۔ایچ۔ڈی۔کی ڈگریاں پیش کرتا۔مجھے اچھی طرح علم ہے کہ حافظ صاحب قبلہ جامعہ کے تمام تر دیگر امور کی باحسن وجوہ انجام دہی کے ساتھ ساتھ فتاوی رضویہ جدید کو جس نہج سے مکمل کرنے کی مساعی جمیلہ فرماتے رہے ہیں یہ الله تعالی کے کرم اور اس کے حبیب صلی الله تعالی علیہ و سلم کی نگاہ عنایت کے بغیر ممکن ہی نہیں تھا۔دعا ہے الله تعالی موصوف کا سایہ عاطفت صحت و تندرستی کے ساتھ اہل سنت پر ہمیشہ قائم رکھے۔
آخر میں حضرت علامہ صاحبزادہ محمد عبد المصطفی ہزاروی مد ظلہ کی خدمت عالیہ میں بھی خراج محبت پیش کیا جاتا ہے جنھوں نے حضرت مفتی اعظم علیہ الرحمہ کی نیابت کا حق ادا کرتے ہوئے نہ صرف جامعہ کے تمام شعبہ جات کو رواں دواں رکھا بلکہ انھیں مزید ترقی کی راہ پر گامزن بھی فرمایاخصوصا رضا فاؤنڈیشن کے تمام پروگرام جاری وساری رکھے۔الله تعالی جامعہ کے اساتذہ طلبامعاونین سبھی کو اپنی رحمتوں اور برکتوں سے نوازتا رہےآمین بجاہ طہ و یسصلی الله تعالی علیہ و الہ و بارك وسلم۔
رجب المرجب ۱۴۲۶ھ محتاج دعا
اگست ۲۰۰۵ء پاکستان محمد منشا تابش قصوری
مدرس جامعہ نظامیہ رضویہ لاہورخطیب مرید کے پاکستان
#17989 · کتاب الشتی(حصّۂ پنجم) شرح کلام علماء و صوفیاء
کتاب الشتی(حصہ پنجم)
شرح کلام علماء و صوفیاء

مسئلہ۱ تا ۴: از پٹنہ عظیم آباد لودھی کٹرہ مرسلہ قاضی عبدالوحید صاحب ۲۷ رمضان ۱۳۲۱ ھ
مخدومی و مولائی قبلہ مد ظلہ العالی!تسلیم!
امور مفصلہ ذیل کا ازراہ کرم مکمل جواب دیجئے کہ فقیر کو سخت تردد ہے ۔دوسرے بعض علماء سے بھی گفتگو آئی مگر تنقیح امور نہ ہو پائی ۔لہذا فقیر کو ابھی شك ہےلله دفع فرمائیےاور اجر عظیم پائیے:
(۱)زیارت قبورللنساء کو مولانا فضل رسول بدایونی رضی الله تعالی عنہ بضمن تردید الحق وہابی دہلوی جائز فرماتے ہیں نیز علامہ عینی بھی ۔جواب مکمل عطاہوکہ رفع شبہہ ہو۔
(۲)تحفہ رجب میں مختلط خطبہ کو آپ غیر مناسب بوجہ عدم توارث بتاتے ہیں حالانکہ تاج الفحول بدایونی رحمہ الله اسے درست وجائز بتاتے ہیں ۔یہ شبہ بھی رفع ہو۔
(۳)جزاء الله عدوہ کے آخر میں جناب حضرات سادات کرام کے متعلق فرماتے ہیں کہ ان پر طریان کفر ناممکننہ یہ نیچری وغیرہ ہوسکیںحالانکہ مشاہدہ اس کے خلاف ہے ۔دوسرے جملہ سادات کی سیادت پر تیقن اٹھ جائے گا ۔استدلال جناب بہ عموم آیت وحدیث شریف تحقیقات دیگر علما جو اسے مخصوص بحضرات طیبین رضی ا لله تعالی عنہما بتاتے ہیں ۔تیسرے پھر سادات کرام بھی قطعی جنتی ہوئے انہیں اندیشہ آخرت کیا باقی رہا!
(۴)اسمائے ذیل مثل ضیاء الدینمنیر الدین وغیرہ کو جناب قطعا ناجائز بتاتے ہیںجس شخص نے
#17990 · کتاب الشتی(حصّۂ پنجم) شرح کلام علماء و صوفیاء
براہ تفاؤل خیر رکھاکیا حرج ہے ورنہ کسی کا نام سعید وغیرہ بھی نہیں رکھ سکتےجواب مرحمت فرمائیے۔
الجواب :
حامی سننماحی فتنندوہ شکنندوی فگنمولانا وحید زمینصین عن الفتن وحوادث الزمن امین یا ذالمنن ! اسلام علیکم ورحمۃ الله وبرکاتہ۔
جواب مسائل اجمالا حاضرتفصیل کا وقت کہاں۔قرآن مجید سن کر اس وقت آیاہوںبارہ بجا چاہتے ہیںگیارہ بج کر ساڑھے باون منٹ آئے ہیں کہ یہ نیاز نامہ لکھ رہاہوں اوراگر کسی میں تفصیل طلب فرمائیں گے تو امتثال امر کے لیے ہوں اوربارگاہ عزت سے امید ایسی ہی ہے کہ آپ کا ذہن سلیم بحمدالله تعالی اسی اجمال سے ہی بہت کچھ تفصیل پیدا فرمائے گا۔
مسئلہ زیارۃ القبورللنساء:
حبیبی اکرمکم الله تعالی ! شے کے لیے حکم دو قسم ہے:ذاتی کہ اس کے نفس ذات کے لحاظ سے ہو ۔اور عرضی کہ بوجہ عروض عوارض خارجیہ ہو ۔تمام احکام کہ بنظر سد ذرائع دیے جاتے ہیں جو مذہب حنفی میں بالخصوص ایك اصل اصیل ہےاسی قسم دوم سے ہیں ۔یہ دونوں قسمیں باآنکہ نفی و اثبات میں مختلف ہوتی ہیں ہر گز متنافی نہیں کہ مناشی جدا جدا ہے ۔اس کی مثال حضور نساء فی المساجد ہے کہ نظر بذات ہر گز ممنوع نہیں کہ ان کا روکنا ممنوع ہے۔ صحیح حدیث میں ارشاد ہوا:
لاتمنعو ا اماء الله مساجد الله ۔ الله کی باندیوں کو الله تعالی کی مساجد سے نہ روکو ۔
اور نظر بحال زناں ممنوع کما صرح بہ الفقھا ء الکرام(جیسا کہ فقہا ء کرام اس کی تصریح فرمائی ہے ۔ت)
وقد قالت ام المومنین الصدیقۃ رضی الله تعالی عنہا لو رای رسول الله ام المومنین صدیقہ رضی الله تعالی عنھا فرماتی ہیں کہ عورتوں نے جو نئی باتیں پیداکر لی ہیں اگر
حوالہ / References & صحیح البخاری کتاب الجمعۃ باب ھل علی من لایشہد الجمعۃالخ €∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۲۳€
#17991 · کتاب الشتی(حصّۂ پنجم) شرح کلام علماء و صوفیاء
صلی الله تعالی علیہ و سلم ما احدث النساء لمنعھن المساجد کما منعت نساء بنی اسرائیل ۔ رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم انھیں دیکھتے تو ان کو ایساہی مسجدوں سے روك دیتے جیسے بنی اسرائیل کی عورتیں روکی گئیں۔
یونہی دخول نساء فی الحمام کہ پردہ و ستر و عدم فتنہ کے ساتھ ہو تو فی نفسہ اصلا وجہ ممانعت نہیں رکھتا ببلکہ طیب و نظافت میں داخل ہے:بنی الاسلام علی النظافۃ (اسلام کی بنیاد صفائی پر رکھی گئی ہے ۔ت)مگر نظر بر حال کہ باہم کشف عورات کے عادی ہیں ۔
امام ابن ہمام وغیرہ اعلام نے فرمایا کہ سبیل اطلاق منع ہےیہ حکم اسی قسم دوم کا ہے ۔بعینہ یہی لفظ آپ نے اس حکم میں پائے ہوں گے جو فقیر نے مسئلہ زیارت میں اختیار کیا ۔مجھے یاد نہیں کہ میں نے حرام لکھا ہو ببلکہ غالبا تعلیم ادب کے ساتھ حلت کی طرف اشارہ کیا اور نظر بحال سبیل اطلاق منع بتایا ہےآپ میرے فتوی کو ملاحظہ فرمائیںمجھے اس وقت بارہ۱۲ بج کر دس۱۰منٹ آگئے اپنے مجموعہ سے نکالنے اور دیکھنے کی فرصت نہیں ۔
فظھر ان لا تعارض و ان الحکمین کلاھما صواب علیحدۃ و الله تعالی اعلم ۔ ظاہر ہو گیا کہ کوئی تعارض نہیں اور دونوں حکم علیحدہ علیحدہ درست ہیں ۔والله تعالی اعلم(ت)
مسئلہ خطبہ مختلطہ
بوجہ عدم توارث نامناسب ہونے کی نہایت کراہیت تنزیہی ہے کما نص علیہ فی حاشیۃ الطحطاویۃ و رد المحتار(جیسا کہ اس پر حاشیہ طحطاویہ اور ردالمحتار میں نص کی گئی ہے ۔ت)اور کراہت تنزیہی قسم مباح سے ہے وہ منافی جواز درستی و اباحت نہیں ببلکہ اباحت کے ساتھ جمع ہوتی ہے۔
کما حققہ العلامۃ الشامی و لنا فی تحقیقہ مقالۃ سمیناھا "جمل محلیہ ان المکروھۃ تنزیھا لیس بمعصیۃ" اقمنا فیھا الطامۃ الکبری علی ما زعم اللکھنوی فی رسالتہ فی شرب الدخان ان المکروہ تنزیھا من الصغائر جیساکہ علامہ شامی نے اس کی تحقیق فرمائی ہےاس مسئلہ کی تحقیق میں ہمارا ایك مقالہ ہے جس کا نام ہم نے "جمل محلیہ ان المکروھہ تنزیہا لیس بمعصیۃ" رکھا ہے اس میں ہم نے لکھنوی کے اس قول پر بڑی مصیبت قائم کی ہے جو اس نے شرب دخان(تمباکو نوشی)سے متعلق اپنے رسالہ
حوالہ / References صحیح البخاری کتاب الاذان باب خروج النساء الی المساجد الخ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۲۰€
اتحاف السادۃ المتقین کتاب اسرارالطہارۃ دارالفکر بیروت∞۲ /۱۲۰،€کشف الخفاء ∞حدیث۹۲۰€ دارالکتب العلمیۃ بیروت ∞۱ /۲۵€۸
#17992 · کتاب الشتی(حصّۂ پنجم) شرح کلام علماء و صوفیاء
فاذا اعتید صار من الکبائرو ھذا جھل عظیم لا یساعد نقل و لا عقل نسأل الله العفو و العافیۃ ۔ میں ذکر کیا کہ مکروہ تنزیہی بھی گناہ صغیرہ ہے جو تکرار و اعادہ سے کبیرہ ہو جاتا ہے یہ بہت بڑی جہالت ہے جس کی موافقت نہ تو عقل کرتی ہے نہ ہی نقل ۔ہم الله تعالی سے معافی اور سلامتی کا سوال کرتے ہیں ۔(ت)
تو ان دونوں حکموں میں بھی اصلا تنافی نہیں ۔ہاں فتوی لکھنویہ نے کہ خلط کو مکروہ تحریمی ٹھہرایا وہ ضرور حکم تاج الفحول قدس سرہ الشریف کے خلاف اور غلط و باطل عند الانصاف ہے ۔والله تعالی اعلم
مسئلہ حضرات سادات کرام
فاش میگویم و از گفتہ خود دلشادم بندہ عشقم و از ھر دو جہاں آزادم
(میں کھل کر بات کرتاہوں اور اپنے کہے ہوئے پر میرا دل خوش ہےمیں عشق کا غلام ہوں اور دونوں جہانوں سے آزاد ہوں ۔ت)
سادات کرام(جعلنا الله تعالی فی الدنیا و الاخرۃ من موالیھم فان مولی القوم منہمالله تعالی ہمیں دنیا و آخرت میں ان کے غلاموں میں رکھے کیونکہ کسی قوم کا آزاد کردہ غلام اسی قوم سے شمار ہوتا ہے ۔ت)پر عدم طریان کفر(کہ اسی قدر کا فقیر مدعی)نہ عدم امکان جس سے حبیبی آپ نے تعبیر کیااور رفض و نیچریت کی میں نے نفی کی تصریح کر دی کہ اس سے وہی بد مذہبی مراد جس میں انکار بعض ضروریات دین ہو اس کا حاصل بھی وہی سلب کفر ہے نہ سلب بدعت غیر کفریہ جو آپ کی تعبیر میں عطف سے موہوم ہیں خصوصا وغیرہ کی زیادت کہ اور توسیع کی راہ دے کما عبرتم کہ ان پر طریان کفر ناممکن نہ یہ رافضی نیچری وغیرہ ہو سکیں فقیر بحمدہ تعالی اس مسئلہ میں مبتدع نہیں متبع ہےاس کا بیان جزا ء الله عدوہ میں ضمنا آیا لہذا اختصار سے کام لیا ص۱۰۱سے۱۱۶ تك جو کچھ کلمات مختصرہ معروض ہوئے ہیں ان پر دوبارہ نظر فرمائیں تو بعونہ تعالی ان تمام شبہات کا جواب ان میں پائیں۔آیت و احادیث کہ فقیر نے ذکر کیں اس میں شك نہیں کہ ضرور عام و مطلق ضرور اپنے عموم و اطلاق پر رہیں گے جب تك دلیل صحیح سے تخصیص و تقیید نہ ثابت ہو ۔اور شك نہیں کہ بلا دلیل محض اپنے خیال کی بناپر ادعائے تخصیص و تقیید ہر گز تحقیق نہ قرار پاسکے گا ببلکہ تفسیق ۔اور شك نہیں کہ مسئلہ باب مناقب سے ہے نہ باب فقہ سے جو افعال مکلفین من حیث الحل و الحرمۃ و الصحۃ والسقام عــــــہ سے باحث ہو۔اور جس میں بے معرفت دلیل
عــــــہ: وفی الاصل "الصہام"۔
#17993 · کتاب الشتی(حصّۂ پنجم) شرح کلام علماء و صوفیاء
اتباع لازم ہو ۔اور یہ بھی سہی تو اتباع ائمہ مذہب کا ہو گا نہ بعض متاخرین کابعض متاخرین کے کلام کو ان اکابر کے کلام پر کیا وجہ ترجیح ہے جن سے فقیر نے اسناد کیا سوا اس کے کہ یہ اطلاق آیت و احادیث سے متمسك ہیں جو یقینا دلیل شرعی ہے اور وہ بلا دلیل مدعی تخصیص و تقیید یہ اور اس کے امثال بہت نکات اس تحاور میں زیر نظر آئے مگر فقیر دیکھ رہا ہے کہ جہاں تك میں نے دعوی کیا ہے ان تجاذبات عــــــہ کے لیے مساغ ہی نہیں۔ جزاء الله پر نظر تازہ فرمائیے ص۱۰۲پر اشعار کر دیا ہے کہ آیت کریمہ و احادیث مذکورہ کے دو محمل ہیں ہیں:نفی خلود ونفی دخول ۔ثانی کو ظاہر لفظ سے متبادر اور اسی طرف کلمات اہل تحقیق کو ناظر بتایا ہے مگر اپنا دعوی یعنی نفی کفر دونوں تقدیر پر ثابت ٹھہرایا ہے کلمات بعض دیگر علماء میں تخصیص سبطین کریمین رضی الله تعالی عنہما اسی ظاہر متبادر اعنی نفی دخول کی نظر سے ہے وہ یہاں میرا دعوی نہ تھا ببلکہ دونوں احتمال گزارش کردئیے تھے اگرچہ ایك طرف تبادر و ظہور ہے اور اسی طرف میرا اور نہ صرف میرا ببلکہ ان اکابر کا میلان قلوب اور اس میں ہمارا انشراح صدور ہے ۔رہی نفی خلودکیا کہیں کلمات دیگر علماء میں اس کی تصریح کہیں ملاحظہ فرمائی ہے کہ مخلد فی النار نہ ہونے کی نفی حضرات ریحانتین کریمین رضی الله تعالی عنہما سے خاص ہے باقی سادات کرام کے لیے نہیں تو میرے دعوی کا رد اس تخصیص و تحقیق دیگراں میں بھی نہیں ۔غایت یہ کہ یہاں عدم ذکر ہے نہ کہ ذکر عدم ۔رہا وہ دوسرا پہلو جس کی طرف ہمارے قلوب ارکن و امیل ہیں اور ہمیں اپنے رب جل و علا سے اس کی امید ہے اس میں حق ناصح یہ ہے کہ نظر علماء ایسے مواقع میں دو وجہ پر منشعب ہو جاتی ہے اور دونوں کے لئے شرع میں اصل اصیل ہے:
" و لکل وجہۃ ہو مولیہا" ۔ ہر ایك کے لیے توجہ کی ایك سمت ہے کہ وہ اسی کی طرف منہ کرتا ہے(ت)۔
ایك حفظ عامہ وسدا کہ تکال نہ کر بیٹھیں جس طرح سیدنا امام رضارضی الله تعالی عنہ سے منقول ہوا اورعلامہ زرقانی رحمۃ الله تعالی علیہ نے اس کی یہی توجیہ فرمائی یہ تخصیص کرتے ہیں اوراس کا حاصل خصوص جزم ہے نہ جزم خصوص کہ معاذالله بلادلیل تخصیص عموم شرع لازم آئے ۔یہ نفیس تفرقہ محفوظ رکھنے کا ہے ۔جزم خصوص یہ کہ دعوی کردیا جائے کہ یہ حکم انہیں کے ساتھ خاص ہے ان کے ماوراء
عــــــہ: فی الاصل ھکذا۔
حوالہ / References القرآن الکریم ∞۲/ ۱۴۸€
#17994 · کتاب الشتی(حصّۂ پنجم) شرح کلام علماء و صوفیاء
کےلئے ہرگز ثابت نہیں۔اورخصوص جزم یہ کہ بالجزم والیقین اس کا حکم ماننا یہ انہیں کے ساتھ خاص ہے ان کے ماوراء میں اس کے ثبوت پر قطع ویقین نہیں اگرچہ ظن ورجاء ہے ۔
دوسرے بیان مفاد شرع واظہار ما یعطی الدلیل وکل ذی حق حقہ خصوصا جہاں محل وسعت ورجاء ہے کہ حدث عن البحر ولاجرم ۔خصوصا محل مناقب جہاں ضعاف بالاجماع مقبول خصوصا اپنے سرکار میں محبت وبندگی ونیاز وغلامی کا تقاضا کہ یہ سب پر بالاہے یہ ظاہر ومتبادر کا افادہ فرماتے ہیں اورجزم وقطع کو اس کے محل اورظن ورجاء کو اس کے محل پر رکھتے ہیں ۔یہ مسلك تحقیق ہے اوروہ مسلك تثقیف اوردونوں صواب ہیں۔حضرت امیر المومنین فاروق اعظم رضی الله تعالی عنہ نے عرض کیا یارسول الله !لوگوں کو چھوڑ دیجئے کہ عمل کریںفرمایا تو چھوڑدو۔امید کرتاہوں کہ اس بیان سے ظاہر ہوگیا ہوگا کہ اس طریق میں جو امام ابن حجر عسقلانی اورامام ابن حجر مکی وعلامہ محمد زرقانی وحضرت امان الطریقۃ شیخ اکبر وغیرہم محققین رضی الله عنہم کا مختار ہے اوراسے طریق تخصیص سے اصلا تنافی نہیں۔ہر ایك منشاء صحیح سے ناشی اور اپنے محل پر حق ہے وبالله التوفیق۔
مخالفت مشاہد کا جواب جزاء الله میں ص ۱۰۵ پر بالقصد مذکور تھا۔وہ ساراصفحہ اسی بیان میں ہےکیا مشاہدہ یہ ہوا کہ جو سید کہا جاتاتھا اس سے صدور ہوا تو ہمارے دعوی کے کب منافی ۔یا یہ مشاہدہ ہوا تھا کہ فلاں کہ فی الواقع سید ہے نہ انتساب میں کبھی ادعاء نہ ___________ اورپھر اس نے کفر کیا تو ایسا مشاہدہ روئے زمین پر نہ ملے گا۔پھر اس کے باعث جملہ سادات کی سیادت سے ارتفاع یقین میری فہم قاصر میں نہ آیایقین سے مراد یقین کلامی ہوتو وہ تویوں ہی حاصل ہوسکتاہے کہ الله ورسول بالتعیین کسی کا نام لے کر فرمائیں کہ یہ فلاں نسب کا ہے ایسا یقین آج کل کیونکر ممکن۔اوریقین فقہی مقصد ہوکہ نسب میں شہرت مانی جائے گی والناس امنا ء علی انسابھم(لوگ اپنی نسبوں پر امین ہوتے ہیں۔ت)تو جس خاص سے معاذ الله صدور منافی ہو اس سے ارتفاع یقینی ہوگا کہ دلیل اس کے خلاف پر پائی گئی باقیوں سے کیوں ارتفاع ہوجائے گا حالانکہ دلیل اعنی شہرت موجود اورمنافی اعنی صدورکفر مفقود۔
تیسرا شبہہ کہ سادات کرام جنتی ٹھہریں گےحبیبیی اس قضیے کے موضوع ومحمول دونوں میں دواحتمال ہیں۔سادات کرام یعنی وہ جو عندالله سادات کرام یا وہ جو بنام سیادت مشہور ہیں عام ازیں کہ نفس الامراورعلم الہی میں کچھ ہو اور قطعی جنتی یعنی بلا سبقت عذاب جس سے دخول نارکی نفی ہویا قطعی جنتی بعاقبت وانجام جس سے خلودنار کی نفی ہو۔اب یہ چار محمل ہیں اور فقیر کے دعوی سے ایك کو بھی مس نہیں ۔پہلے عرض کرچکا کہ غیر حسنین میں نفی دخول بطور رجانظر بظہور وتبادرہے پھر قطعیت کہاںببلکہ نفی خلود بھی مسئلہ ظنیہ ہے اگرچہ بحمدالله تعالی یہ ظن غالب ۔اکثر رائے ملتحق بسرحد یقین ہے جسے فقہاء یقین ہی کے پلے میں رکھتے ہیں
#17995 · کتاب الشتی(حصّۂ پنجم) شرح کلام علماء و صوفیاء
مگر نہ یقین کلامی کہ مسئلہ عقائد قطعیہ سے قرار پائے اوراس میں ادنی شك کو راہ دینے والا گمراہ وخارج از اہلسنت ٹھہر جائے ۔ جزاء الله صفحہ ۱۰۴ میں امام ابن حجر کے الفاظ ملاحظہ فرمائے ہوں گے۔
لاننی اکادان اجزم ان حقیقۃ الکفرلا تقع الخ۔ اس لئے کہ بے شك میں اس بات پر جزم کرتاہوں کہ صحیح النسب سید سے حقیقی کفر کا وقوع نہیں ہوتا۔الخ(ت)
اوربالفرض نفی خلود ببلکہ بفرض غلط نفی دخول ہی قطعی مان لی جائے تو کس کےلئےان کے لیے جو عند الله سادات کرام ہیںنہ ہر اس شخص کے لئے جو سید کہلاتاہو اگرچہ واقع میں نہ ہو اوراب کسی معین میں حصول وصف عنوانی پر قطع ویقین کی طرف راہ نہیں تو ثبوت وصف محمول کیونکر مقطوع بہ ہوجائے گا اورکسی معین کو اندیشہ آخرت کیوں اٹھ جائے گا کہ ہر ایك میں عدم علم نفس الامر کے سبب احتمال لگاہوا ہے ۔جزا ء الله ص۱۰۵میں عبارت اسعاف ملاحظہ ہوکہ:
من این تحقق ذلك لقیام احتمال الخ۔ جب احتمال قائم ہے تو یہ کیسے متحقق ہوگا الخ۔(ت)
اوراندیشہ آخرت تو انہیں بھی نہ اٹھ گیا جنہیں بتعیین نام لے کر ارشاد ہوگیا کہ تم جنتی ہو۔ اعنی عشرہ مبشرہ ونظرائہم رضی الله تعالی عنہم ۔ نہ انہیں اٹھ گیا جن سے بالتحقیق فرمایاگیا۔
اعملواماشئتم فقد غفرت لکم ۔ جو چاہو عمل کرو بے شك میں نے تمہیں بخش دیا ہے ۔(ت)
اعنی اصحاب بدر رضی ا لله تعالی عنہم ۔والله تعالی اعلم
مسئلہ تسمیہ منیر الدین
حبیبی اکرم الله تعالی ! ہاں یہ مسئلہ فقہیہ ہےاس میں خواہی نخواہی وہی حکم ہے کہ:
یجب اتباع المنقول وان لم یظھر للعقول کما فی اس میں منقول کا اتباع واجب ہے اگرچہ عقل پر اس کی وجہ ظاہر نہ ہوایسے ہی
حوالہ / References جزاء الله عدوہ بابائہٖ ختم النبوۃ ∞نوری کتب خانہ لاہور ص۱۲۲€
جزاء الله عدوہ بابائہٖ ختم النبوۃ ∞نوری کتب خانہ لاہور ص۱۲€۴
کنزالعمال ∞حدیث۳۷۹۵۷€ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ∞۱۴/ ۶۹€
#17996 · کتاب الشتی(حصّۂ پنجم) شرح کلام علماء و صوفیاء
ردالمحتار وغیرہ من کتب الفحول ۔ ردالمحتار وغیرہ فحول علماء کی کتابوں میں لکھا ہے ۔
فقیر نے اپنی رائے سے یہ حکم استنباط کیا ہوتا توضرور محل مواخذہ تھا۔اب کہ علمائے کرام فقہائے اعلام تصریح فرماچکے اوران کی عبارات فقیر نے فتوی میں نقل کردیں کہ اسی قدر عہدہ مفتی تھا تو اب سوائے اتباع چارہ کیا ہے ۔تفاول ضرور حسن ہے جب تك مخالفت شرعیہ نہ وہ اورنہی عذر تفاول اصلا مسموع نہیں حق سبحانہ تعالی نے ارشادفرمایا: " فلا تزکوا انفسکم " (آپ اپنی جانوں کو صاف ستھرا نہ بتاؤ۔ت)رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم جن کی شان کریم تھی کان یحب الفال الحسن ۔(اچھی فال کو پسند فرماتے تھے ۔ت)برہ نام سے منع فرمایا اوراسے بدل کر جمیلہ کردیا۔اوراس میں معذور شرعی وہی تزکیہ نفس ارشاد کیا کیا برہ کو تفاول پرحمل نہیں کرسکتے تھےضرور محمول ہوسکتا تھا مگر اس کا ظاہر تزکیہ نفس تھا اوروہ حرام ہے لہذا منع فرمایا اوربدل دیا۔پھر منیرالدین وامثالہ میں برہ سے کہیں زیادہ تزکیہ ہے نکو کاری ایك عام بات ہے کہ فساق کے سواسب کو حاصل ۔مگر اس مرتبہ عظیمہ پرپہنچنا کہ دین ان صاحب کے نور سے منورہوجائے سخت مشکل ۔تو ایسا شدید تزکیہ نفس کیونکر جائز ہوگا بخلاف سعید وامثالہ کہ ان کا حاصل صرف مسلم ہے ہر مسلمان سعید ہے اورہر سعید مسلمان ہےآیہ کریمہ فمنہم شقی وسعید ﴿۱۰۵﴾ ۔ (ان میں کوئی بدبخت اورکوئی نیك بخت ہے ۔ت)میں دو ہی قسمیں ارشاد ہوئیں اوران سے کافر مومن مراد ہوئے تو سعید نام رکھنا ایسا ہی ہے جیسے مسلم اوراس میں تزکیہ نہیں ۔نظر بحال بیان واقع ہے اورنظر بمآل تفاول ۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۵: از جزیرہ کلمبومرسلہ حاجی محمد رئیس بوساطت سید حسین ابن سید عبدالله بغدادی قادری ۔۱۲رمضان المبارك ۱۳۲۵ھ
فی حیاۃ الحیوان الکبری للعلامۃ الدمیری رحمہ الله تعالی الجزء الثانی ص۱۳۱باب العلقاذا ذکر العبدربہ او حمدہ فماذکر الله الا الله ولاحمدالله الا الله ۔ علامہ دمیری علیہ الرحمہ کی کتاب ''حیوۃ الحیوان الکبری ''کے جزء ثانی باب العلق میں ہے ۔ت)جب بندہ اپنے رب کا ذکر یا حمد کرتاہے تو الله کا ذکر نہیں کرتا مگر الله اوراس کی حمد نہیں کرتا مگر وہی ۔
حوالہ / References ردالمحتار باب التصرف فی الرہن والجنایۃ علیہ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۳۳۱€
القرآن الکریم ∞۵۳ /۳۲€
مسند احمد بن حنبل عن ابی ھریرہ المکتب الاسلامی بیروت ∞۲ /۳۳۲€
القرآن الکریم ∞۱۱ /۱۰۵€
حیٰوۃ الحیوان الکبرٰی تحت اللفظ ''العلق'' مصطفی البابی ∞مصر ۲ /۷۱€
#17997 · کتاب الشتی(حصّۂ پنجم) شرح کلام علماء و صوفیاء
الجواب:
اللھم لك الحمد لا یحصی احد ثناء علیك انت کما اثنیت نفسك فان حق الثناء بحق المعرفۃ ولا یحیط بکنہ الله وصفات الله وکمال الله وجمال الله و جلال الله الا الله و لذلك لما امرنا ان تصلی علی نبینا صلی الله تعالی علیہ وسلم رددنا الامر الیہ وکان امتثال امرہ بقولنا اللھم صل وسلم علیہ اذلا تضی بقدرہ العظیم الا صلوۃ ربہ الکریم۔اعلم ان لکل فعل یصدر من العبد و جہتین و جہتہ الی خالقہ عز وجل اذلا وجود لہ الا بہ و لیس للعبد من خلقہ شیئ ۔ووجہتہ الی کاسبہ اذمنہ ظہر باظھار المولی سبحانہ و تعالی وھذہ الاخری ھی مناط الاستناد العام لغۃ و عرفا و شرعا۔فلا یقال قام الا لمن قام بہ القیام لا لمن خلقہ لکن من الافعال مایصح صدورہ من الخالق عزوجل فیسوغ اسنادھا الیہ لارتفاع الایھام و الی العبد علی وجھہ العام اے الله :تیرے لئے تعریف ہے کوئی تیری تعریف کا احاطہ نہیں کرسکتا۔تو ایسا ہی ہے جیسا تو نے اپنی تعریف کی۔ تعریف کا حق معرفت کے بعد ادا ہوتا ہے اور الله تعالی کی ذات و صفات کی کنہ اور اس کے کمالجلال کے سوائے خدا کے اور کون جان سکتا ہے اسی لئے تو جب الله تعالی نے ہمیں رسول الله صلی الله تعالے علیہ وسلم پر درود بھیجنے کو کہا تو ہم نے بات اسی کی طرف لوٹا دی اورحکم کی بجا آوری یوں کی کہ یا الله ! تو ہی اپنے رسول پر درود بھیجاس لئے کہ ان کے شایان درود تو ان کا رب کریم ہی بھیج سکتاہے ۔جان لو کہ جو کام بھی بندے سے صادر ہوتاہے اس کی دو وجہیں ہیں:ایك رب تبارك وتعالی کی طرف کہ ہر شیئ کا خالق وہی ہے بندے کو خلق سے کوئی حصہ نہیں او رایك رخ کاسب کی طرف کیونکہ وہ فعل خدا کی قدرت سے اسی بندہ سے ظاہر ہوا۔عام طور پر افعال کی نسبت کی بنیاد شریعتنعت اورعرف عا م میں یہی آخری وجہ یعنی اکتساب کی ہے ۔توقیام کے خالق کے لیے قام نہیں کہا جائے گا اس کے مباشر کے لیے کہا جائے گا لیکن بعض افعال ایسے ہیں کہ ان کا صدور رب تبارك وتعالی سے بھی ہوتاہے تو اس کی نسبت رب اوربندے دونوں کی طرف ہو سکتی ہے جس کو ہم نے اسناد عام سے تعبیر کیاکیونکہ یہاں کسی قسم کا ایہام پیدا
#17998 · کتاب الشتی(حصّۂ پنجم) شرح کلام علماء و صوفیاء
و ذلك کحمد و شکر و وحد و ذکر لا کصلی و سجد و صام و عبد و قام وقعد لما تقدم و الاول الحقیقۃ والاخر الصورۃ فاذا صحت الحقیقۃ غلبت واضمحلت عندہ الصورۃ فصح نفیہ عن کاسبہ و قصر اسنادہ علی خالقہ و ذلك قولہ تعالی" فلم تقتلوہم ولکن اللہ قتلہم ۪" " وما رمیت اذ رمیت ولکن اللہ رمی " فاثبت و نفی صورۃ ومعنی و ما توفیقی الا بالله و ما تشاؤن الا ان یشاء الله ۔بل اذا نظرت بعین الحقیقۃ فلا وجود الا لہ عز جلا لہ کل شیئ ھالك الا وجھہ ھو الاول ھو الاخر و الظاھر و الباطن۔وھذا سیدنا سواد ابن قارب رضی الله تعالی عنہ قائلا فیما عرضہ علی النبی صلی الله علیہ وسلم
فاشھد ان الله لا رب غیرہ
وانت مامون علی کل غائب نہیں ہوتا اس کی مثال حمدشکرتوحید بیان کرناذکر کرنا ہدایت کرنا اوریاددلانا۔صلوۃسجدہروزہعبادتقیام وقعود ان افعال سے نہیں ۔جیسا کہ ہم اوپر بیان کر آئے ۔پہلی نسبت حقیقی اوردوسری صوری ہے ۔تو جب اسناد حقیقی صحیح ہو تو وہی غالب ہوجاتی ہے اوراسناد صوری مغلوب مضمحل ۔ایسی صورت میں کاسب سے اس فعل کی نفی کر کے خالق کی طرف نسبت کردیجاتی ہے ۔جیسا کہ قرآن عظیم میں الله تعالی نے فرمایا:''کافروں کو تم نے قتل نہیں کی اہم نے قتل کیا ۔''یا رسول الله !آپ نے کنکری نہیں پھینکی ہم نے پھینکی''پس نفی ازروئے صورت ہے اوراثبات ازروئے حقیقت ہے ۔اسی طرح ماتوفیقی الا بالله وماتشاؤون الا ان یشاء الله ہے ۔ ببلکہ نگاہ حقیقت بیں سے دیکھو گے تو الله کے علاوہ کسی کا وجود ہی نہیں ۔''الله کے سوا ہر چیز ہلاك ہونے والی ہے ۔''وہی اول وہی آخر وہی ظاہر وہی باطن ۔''ہمارے سردار سواد ابن قارب رضی الله تعالی عنہ سرکار(صلی الله تعالی علیہ وآلہ وسلم)کی بارگاہ میں عرض کرتے ہیں:الله کے علاوہ کوئی چیز نہیں اورآپ ہر غائب پر مامو ن ہیں۔
حوالہ / References القرآن الکریم ∞۸/ ۱۷€
القرآن الکریم ∞۸/ ۱۷€
الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب ترجمہ سواد بن قارب الدوسی ∞۱۱۱۴€ دارالکتب العلمیۃ بیروت ∞۲/ ۲۳۴€
#17999 · کتاب الشتی(حصّۂ پنجم) شرح کلام علماء و صوفیاء
وصار کلمۃ التوحید لا وجود فلا الہ الا الله للناسکین لا معبود الا الله وللسالکین لا مقصود الا الله و للواصلین لا مشھود الا الله و للکاملین لا موجود الا الله و الکل سدید و الکل توحید من دون اتحاد فانہ الحاد نسئل الله سبیل الرشاد فافھم۔والله تعالی اعلم۔ غورکیجئے کلمہ کا نام کلمہ توحید ہے نہ کلمہ وجودتو الله کے علاوہ کوئی معبود ہے ہی نہیں تو عبادت کرنے والے کہتے ہیں لا معبود الا الله اورسالکین کہتے ہیں لامشھود الا الله اور کاملین کہتے ہیں کہ لاموجود الا الله سب درست ہے اورسب توحید ہے اتحاد کے بغیر کیونکہ وہ توالحاد ہے ہم الله سے ہدایت کا راستہ چاہتے ہیںپس غور کرو ۔والله تعالی اعلم
مسئلہ ۶:ازجے پورمکان نواب واجدعلی خان صاحب مرسلہ جناب مولوی محمدرکن الدین صاحب الوری مورخہ۱۴صفر۱۳۳۶ھ
تاج العلماء مایہ ناز ماسنیان مخزن علوم حضرت مولانا الحاج مولوی احمد رضا خان صاحب مدالله ظلالکمالسلام علیکم ورحمۃ الله وبرکاتہ ۔ایك مدت سے گوذریعہ مراسلت دریافت خیریت مزاج وہاج سے قاصر ہوں مگر الحمدلله کہ مردمان آیندگان کی زبانی خیریت معلوم ہونے سے مسرت ہوتی رہتی ہےایك عرصہ کے بعد حضرت خواجہ غریب نوا زقد س سرہ کے دربار دربار میں حاضری کااتفاق ہواواپسی میں جے پور بھی نواب واجد علی خاں صاحب کے طلب کرنے پر قیام کرنا پڑا۔ایك مولوی وہابی سے گفتگو ہوئی اثنائے گفتگو میں مولوی عبدالسمیع صاحب مرحوم ومغفور کی اس عبارت پر کہ جو انہوں نے حدیث نبوی:
من احدث فی امرنا ھذا مالیس منہ فھو رد ۔ (جس نے ہمارے دین میں کوئی نئی بات ایجاد کی جو اس میں سے نہیں ہے تو وہ مردود ہے ۔ت)
کی نسبت لکھا ہے کہ شارحین نے مالیس منہ کی شرح میں یہ لکھا ہے:
فیہ اشارۃ الی ان احداث مالاینازع الکتاب والسنۃ لیس بمذموم اس میں اشارہ ہے کہ جو نئی بات کتاب وسنت کے مخالف نہ ہو اس کو ایجاد کرنا قابل مذمت نہیں ہے ۔(ت)
حوالہ / References صحیح مسلم کتاب الاقضیۃ باب نقض الاحکام الباطلہ الخ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۷۷€
انوار ساطعہ ∞دربیان مولود وفاتحہ بدعت کی اصل تحقیق مکتبہ حامدیہ گنج بخش روڈ لاہور ص۷۳€
#18000 · کتاب الشتی(حصّۂ پنجم) شرح کلام علماء و صوفیاء
یہ اعتراض کیا کہ یہ الفاظ کسی شرح میں نہیں ہیں اس وقت صحیحین کو جودیکھا گیاتو نہ مولوی احمد علی سہاری کی شرح میں اورنہ نووی میں اس کا پتہ لگا۔لہذا گزارش ہے کہ جناب اس عبارت کوتحریر فرمادیں کہ کون سی شرح میں ہے کیونکہ مولوی عبدالسمیع صاحب مرحوم نے بھی کسی شرح کا حوالہ نہیں دیادوسرے شاہ احمد سعید مجددی رحمۃ الله علیہ نے تحقیق حق المسائل کے اندر ثبوت سوم وچہلم میں بحوالہ حاشیہ یہ عبارت نقل فرمائی ہے :
ان المسلمین یجتمعون فی کل عصر وزمان یقرأون القران ویھدون ثوابہ لموتاھم وعلی ھذا اھل الصلاح والدیانۃ من کل مذہب من المالکیۃ و الشافعیۃ وغیرہم ولا ینکرذلك منکر فکان اجماعا عند اھل السنۃ والجماعۃ خلافا للمعتزلۃ۔ ہر دور اور ہر زمانے کے لوگ جمع ہوکر قرآن مجید پڑھتے ہیں اوراس کا ثواب اپنے مردوں کو بخش دیتے ہیںمالکیہ وشافعیہ وغیرہ ہر مذہب کے صالحین اوردیانتداروں کا یہی مؤقف ہے جس کا کوئی انکار نہیں کرتاتو اہلسنت وجماعت کے نزدیك اس پر اجماع ہے بخلاف معتزلہ کے۔(ت)
شاہ صاحب موصوف نے بھی کسی شرح کا حوالہ نہیں دیا اس کے بارے میں بھی عرض ہے کہ جناب تحریر فرمادیں کہ یہ عبارت کون سی شرح میں موجود ہے ۔وہابی صاحب کا یہ اعتراض ہے کہ سنی یونہی جھوٹے حوالے دیتے ہیں فقیرکی بھی نظرسے نہیں گزرا۔جو اب باصواب الور روانہ فرمایا جائےبفضل تعالی یہاں سے تو اس وہابی کو نکلوا دیا ہےمگرہم کو بھی تو ان عبارتوں کی اصلیت معلوم ہونا چاہیے ۔ زیادہ نیاز مسکین محمد رکن الدین نقشبندی قادری الوری
الجواب :
مولنا المکرم ذی المجد والکرم اکرمکم الاکرم تعالی وتکرموعلیکم والسلام ورحمۃ الله وبرکاتہ ۔پہلی عبارت مرقاۃ شرح مشکوۃ علی قاری طبع مصر جلد اول ص۱۷۷ سطر اخیر شروع باب الاعتصام بالکتاب والسنۃ میں ہے اوردوسری بنایہ شرح ہدایہ للامام محمود العینی طبع لکھنوء جزء ثانی از جلد اول اوائل ص۱۶۱۲ آغاز باب الحج عن الغیر میں ۔جناب مولانا ! اہلسنت آئینہ ہیںوہابی کو آئینے میں اپنا ہی منہ دکھادیایہ شیوہ وہابیہ کا ہے کتابیں دل سے گھڑ لیں علماء دل سے تراش لئےپھر عبارت گھڑنی کیا مشکل ہے ۔ والسلام۔
حوالہ / References مرقاۃ المفاتیح باب الاعتصام بالکتاب والسنۃ ∞حدیث۱۴۰€ المکتبۃ الحبیبیہ ∞کوئٹہ ۱/ ۳۶۶€
البنایۃ فی شرح الہدایۃ کتاب الحج باب الحج عن الغیر المکتبۃ الامدادیہ مکۃ المکرمۃ المجلد الاول الجزء الثانی ∞ص۱۶۱۲€
#18001 · کتاب الشتی(حصّۂ پنجم) شرح کلام علماء و صوفیاء
مسئلہ ۷: از شہر محلہ کٹرہ چاند خاں مسئولہ منظور حسن صاحب قادری رضوی ۱۲رمضان ۱۳۳۸ھ
اس وقت حضور کا دیوان پیش نظر ہے اس میں اس شعر کا مطلب سمجھ نہ آیا:
فرماتے ہیں یہ دونوں ہیں سردار دو جہاں اے مرتضی عتیق وعمر کو خبرنہ ہو
الجواب :
یہ شعر ایك حدیث کا ترجمہ ہے:
ابوبکر وعمر خیر الاولین وخیر الاخرین وخیر اہل السموت وخیر اھل الارضین الا الانبیاء والمرسلین لاتخبرھما یا علی ۔ ابوبکر وعمر سب اگلوں پچھلوں سے افضل ہیں اورتمام آسمان والوں اورسب زمین والوں سے بہتر ہیں سواانبیاء ومرسلین کےاے علی!تم ان دونوں کو اس کی خبر نہ دینا۔
علامہ مناوی نے تیسیر میں اس کے یہ معنی بتائے ہیں کہ ارشاد ہوتاہے اے علی(کرم الله تعالی وجہہ الکریم)تم ان سے نہ کہنا ببلکہ ہم خود فرمائیں گے تاکہ ان کی مسرت زیادہ ہو۔والله تعالی اعلم
مسئلہ ۸: از کانپور فیلخانہ قدیم مکان مولوی سید محمد اشرف صاحب وکیل مسئولہ مولوی سید محمد آصف صاحب ۴رمضان ۱۳۳۹ھ
بسم الله الرحمن الرحیم ط نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم ط
یا حبیب محبوب الله روحی فداك قبلہ کونین وکعبہ دارین محی الملۃ والدین دامت فیوضہم بعد تسلیمات فدویانہ وتمنا ء حصول سعادت آستانہ بوسی اینکہ بفضلہ تعالی فدوی بخیریت ہے ملازمان سامی کی صحتوری مدام بارگاہ احدیت مطلوب ۔حدائق بخشش کے صفحہ ۸۰ مصرع:
عشاق روضہ سجدہ میں سوئے حرم جھکے
کی شرح مطلب میں تحریرہے کہ:
حوالہ / References ∞ حدائق بخشش مکتبہ رضویہ آرام باغ کراچی ص۵€۹
کنزالعمال ∞حدیث ۳۲۶۴۵و ۳۲۶۵۲€ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ∞۱۱ /۶۱۔۵۶۰،تاریخ بغداد ترجمہ عبدالله بن ہارون ۵۳۳۱€ دارالکتاب العربی بیروت ∞۱۰ /۱۹۲€
التیسیرشرح الجامع الصغیر تحت الحدیث ابو بکر وعمر سیداکہول اہل الجنۃ مکتبۃ الامام الشافعی ریاض ۱ /۱۸
حدائق بخشش حاضری درگاہ ابدی پناہ وصل دوم رنگ عشقی مکتبہ رضویہ کراچی حصہ اول ص۱۰۰
#18002 · کتاب الشتی(حصّۂ پنجم) شرح کلام علماء و صوفیاء
''کعبہ بھی انہیں کے نور سے بناانہیں کے جلوے نے کعبہ کو کعبہ بنادیاتو حقیقت کعبہ وہ جلوہ محمدیہ ہے جو اس میں تجلی فرما ہےوہی روح قبلہ اوراسی کی طرف حقیقۃ سجدہ ہےاتنا یاد رہے کہ حقیقت محمدیہ ہماری شریعت میں مسجودالیہا ہے ۔''
اس عبارت سے معلوم ہوتا ہے کہ حقیقت کعبہ جلوہ محمدیہ ہے جس کی طرف حقیقۃ سجدہ ہے ۔آخر عبارت کے الفاظ کہ ''حقیقت محمدیہ ہماری شریعت میں مسجود الیہا ہے ۔''ان الفاظ سے اس ناقص الایمان والعلم والعقل کی ناقص فہم میں یہ آتا ہے کہ جلوہ محمدیہ ہی کو حقیقت محمدیہ کہا گیا ہے اور جب حقیقت کعبہ جلوہ محمدیہ بتائی گئی اوراسی کی طرف حقیقت سجدہ کہا گیا اورحقیقت محمدیہ کو مسجود الیہا کہا تو حقیقت کعبہ کا حقیقت محمدیہ ہونا لازم آتاہے۔والسلام مع الکرام۔
الجواب :
بسم الله الرحمن الرحیم ط نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم ط
بملاحظہ مولانا المکرم ذوالمجد والکرم مولی نا مولوی سید محمد آصف صاحب دامت فضائلہمالسلام علیکم ورحمۃ الله وبرکاتہ ۔اگر آپ آفتاب اوردھوپ کو دیکھیں تو فرق حقیقت وتجلی کی ایك ناقص مثال پیش نظرہو۔آفتاب گویا حقیقت شمس ہے اوردھوپ اس کا جلوہ۔حقیقت صفات کثیرہ رکھتی ہے اور اپنے مجالی میں متفرق صفات سے تجلی کرتی ہے ان صفات کے لحاظ سے جو آثار ان مجالی کے ہیں وہ حقیقۃحقیقت کے اور معاملات ان مجالی سے بحیثیت مجالی ہیں وہ حقیقۃ حقیقت سے جیسا صحابہ کرام رضی الله تعالی عنہم کی نسبت فرمایا:
من احبھم فبحبی احبھم ومن ابغضہم فببغضی ابغضھم ۔ جس نے میرے صحابہ سے محبت کی تو اس نے میری محبت کی وجہ سے ان سے محبت کی اورجس نے ان سے بغض رکھا اس نے میرے بغض کی وجہ سے ان سے بغض رکھا۔(ت)
حقیقت کعبہ مثل حقائق جملہ اکوان حقیقت محمدیہ علی صاحبہا افضل الصلوۃ والتحیۃ کی ایك تجلی ہے کعبہ کی حقیقت وہ جلوہ ہے مگر وہ جلوہ عین حقیقت محمدیہ نہیں ۔صلی الله تعالی علیہ وسلم
حوالہ / References جامع الترمذی ابواب المناقب سبّ اصحاب النبی صلی الله علیہ وسلم امین کمپنی دہلی ۲ /۲۲۶،مسند احمد بن حبنل حدیث عبدالله بن مغفل المکتب الاسلامی بیروت ۵ /۵۴، ۵۵، ۵۷
#18003 · کتاب الشتی(حصّۂ پنجم) شرح کلام علماء و صوفیاء
ببلکہ اس کے غیر متناہی ظلال سے ایك ظلجیسا کہ اسی قصیدہ میں ہے
کعبہ بھی ہے انہیں کی تجلی کا ایك ظل
روشن انہیں کے عکس سے پتلی حجر کی ہے
حقیقت کریمہ نے اپنی صفت مسجود یت الیہا سے اس ظل میں تجلی فرما ئی ہے لہذا کعبہ جس کی حقیقت یہی ظل وتجلی ہے مسجود الیہا ہوا اورحقیقت وہ حقیقت علیہ مسجود الیہا ہے کہ اسی کی اس صفت کے ساتھ اس پر تجلی نے اسے مسجود الیہا کیا ۔والسلام
مسئلہ ۹:(ماخوذ از ''مہر درخشاں ''تصنیف مولانا مظفر احمد قادری)
اعتراض:یہ کہ حضرت میر عبدالواحد بلگرامی قدس سرہ السامی نے اپنی کتاب''سبع سنابل''سنبلہ دوم ص۶۱ میں حکایت لکھی ہے کہ:
مردے بودازسلطان المشائخ منکر وازراہ وروش ایشاں متنفر واعتقاد بدرویتے دیگر داشت روزے ازاں درویش پر سید کہ مرا آرزوئے ملاقات خضر پیغامبر علیہ السلام بسیار است اگر بعنایت شما ملاقات میسر شودغایت بندہ نوازی وسرفرازی باشد آں درویش گفت روزے کہ درخا نقاہ سلطان المشائخ سرودوسماع درمیدہند آں روز خضر علیہ السلام آنجاحاضر می شود نگاہبانی نعلین وکفشہائے مردم می کند آں مردازانکار خودپشیماں گشت درروز سماع درخانقاہ ایشاں آمد وباخضر علیہ السلام ملاقات کردازوے فائد ہا گرفت ۔ ایك شخص حضرت سلطان المشائخ کے احوال کا منکر آپ کی راہ وروش سے متنفر اورایك دوسرے درویش کا معتقد تھاایك روز اس درویش سے کہنے لگا کہ میری یہ آرزو ہے کہ حضرت خضر علیہ السلام سے ملاقات کروں اگر سرکار کے کرم سے ملاقات ہوجائے توانتہائی بندہ نوازی اورسرفرازی ہو۔درویش نے جواب دیا کہ جس روز حضرت سلطان المشائخ کے یہاں مجلس سرود وسماع ہوتی ہے اس روز حضرت خضر علیہ السلام تشریف لاتے ہیں اورلوگوں کے جوتوں کی نگہبانی فرماتے ہیں۔وہ شخص اب اپنے انکار پر پریشان ہوا اورقوالی والے دن آپ کی خانقاہ میں حاضرہوگیاحضرت خضر علیہ السلام سے ملاقات کی اوران سے خوب فیض حاصل کیا۔(ت)
حوالہ / References حدائق بخشش حاضری بارگاہ بہیں جاہ وصل دوم رنگ علمی حصہ اول ص۹۲
سبع سنابل سنبلہ دوئم دربیان پیری مریدی مکتبہ قادریہ رضویہ اندرون لوہاری دروازہ لاہور ص۶۱
#18004 · کتاب الشتی(حصّۂ پنجم) شرح کلام علماء و صوفیاء
توحاصل اعتراض یہ کہ اس حکایت میں حضرت خضر کی(جو ایك قول پر نبی تك ہیں)توہین کی کہ انہیں حضرت سلطان المشائخ کا خدمت گار اوروہ بھی ایسا کہ ان کی مجلس سماع کے حاضرین کی نعلین(جوتیوں)کا نگہبان بتایا۔
اس اعتراض پر بحکم شریعت وبپاس حمایت جانب محبوبان خدا جو جوابات حضور سیدی اعلی حضرت امام اہلسنت علامہ الحاج مولانا الشاہ مفتی عبدالمصطفی احمد رضا خاں صاحب فاضل بریلوی قدس سرہ نے تحریر فرمائے ملاحظہ ہوں۔
جواب اول :
اولیائے کرام قدست اسرارہم کو اس میں اختلاف ہے کہ یہ حضرت خضر جو اکثر اکابر سے ملاقی ہوتے ہیں آیا وہ خضر موسی علیہما الصلوۃ والسلام ہیں جن کی نبوت میں اختلاف ہے اورصحابیت میں شبہہ نہیں یا ہر دورے میں ایك ولی بنام خضر ہوتاہے یعنی مناصب ولایت سے ایك عہدے کا نام''خضر ''ہے کہ جو اس عہدے پر قائم ہوگا اسی نام سے پکاراجائے گاجیسے غوث کا نام عبدالله وعبدالجامع اوراس کے دونوں ویزر دست چپ وراست کا نام عبدالملك وعبدالرب جن کو امامین کہتے ہیں اوراوتاد اربعہ کا نام عبدالرحیم وعبدالکریم وعبدالرشید وعبدالجلیلیونہی جو عہدہ نقابت پر ہو اسے ''خضر ''کہا جائے گااس کا اپنا نام کچھ ہو۔ایك جماعت عظیم صوفیہ کرام اسی قول پر ہے اوربہت حکایات سے اس کا پتہ ملتاہے ۔حافظ الحدیث امام ابن حجر عسقلانی رحمۃ الله علیہ نے اسی قول کی تائید کیاصابہ فی تمییز الصحابہ''میں فرماتے ہیں:
قول بعضھم ان لکل زمان خضرا وانہ نقیب الاولیاء وکلما مات نقیب اقیم نقیب بعدہ مکانہ ویسمی الخضر وھذا قول تداولتہ جماعۃ من الصوفیۃ من غیر نکیر بینھم ولا یقطع مع ھذا بان الذی ینقل عنہ انہ الخضر ھو صاحب موسی علیھما الصلوۃ والسلام بل ھو خضر ذلك الزمان ویؤیدہ اختلافھم فی صفتہ فمنھم من یراہ بعض اولیاء کا قول کہ ہرزمانے کے لیے ایك خضر ہوتاہے اوروہ نقیب اولیاء ہوتاہےجب ایك نقیب کا وصال ہوجائے تو اس کی جگہ کوئی اورنقیب مقررکردیا جاتاہے جس کو خضر کہا جاتاہے ۔میں نےیہ قول صوفیاء کی ایك جماعت سے حاصل کیا۔ا س کے بارے میں ان سے کوئی اختلاف نہیں اس قول کی موجودگی میں اس پر یقین نہیں کیا جاسکتا کہ اعتراض میں منقول خضر سے مراد وہی خضر ہیں جو حضرت موسی علیہ السلام کے ساتھی ہیں ببلکہ اس سے مراد اس زمانے کا خضر ہے اورصفت خضر کے بارے میں دیکھنے والوں کا
#18005 · کتاب الشتی(حصّۂ پنجم) شرح کلام علماء و صوفیاء
شیخا اوکھلااو شابا وھو محمول علی تغایر المرئی و زمانہ والله تعالی اعلم ۔ اختلاف بھی اس قول کا مؤید ہے ۔چنانچہ کسی نے انکو بوڑھا کسی نے ادھیڑ عمر والا اورکسی نے جوان دیکھا یہ دکھائی دینے والے اوراس کے زمانے کے تغایر پر محمول ہے ۔والله تعالی اعلم(ت)
اس ولی مسمی بخضر کا جمیع اولیاء درکنار اپنے دورے کے اولیاء سے بھی افضل ہونا ضرور نہیں ببلکہ افضل نہ ہونا ضرور ہے ۔غوث بالیقین اس سے افضل ہوتا ہے کہ وہ اپنے دورے میں سلطان کل اولیاء ہے ۔یونہی امامینیونہی افرادیونہی اوتادیونہی بدلایونہی ابدال کہ یہ سب یکے بعد دیگرے باقی اولیائے دورہ سے افضل ہوتے ہیں ۔امام عبدالوہاب شعرانی قدس سرہ الربانی کتاب الیواقیت والجواہر فی بیان عقائد الاکابر میں فرماتے ہیں:
ان اکبر الاولیاء بعد الصحابۃ رضی ا لله تعالی عنہم القطب ثم الافراد علی خلاف فی ذلك ثم الامامان ثم الاوتاد ثم الابدال اھ
اقول:والمراد بالابدال البدلاء السبعۃ لما ذکر بعدہ ان الابدال السبعۃ لایزیدون ولاینقصون وھؤلاء ھم البدلاء اما الابدال فاربعون بل سبعون کما فی الاحادیث۔ صحابہ کرام رضی الله تعالی عنہم کے بعد سب سے بڑا ولی قطب ہوتاہےپھر افراداس میں اختلاف ہےپھر امامانپھر اوتاد پھر ابدال اھ۔
میں کہتاہوں ابدال سے مراد سا ت بدلا ء ہیں اس دلیل کی وجہ سے جو اس کے بعد مذکورہے کہ بے شك ابدال سات ہیں نہ زیادہ ہوتے ہیں نہ کم اوریہی بدلاء ہیں۔رہے ابدال تو وہ چالیس۴۰ ببلکہ ستر ۷۰ہیں جیسا کہ احادیث میں ہے ۔(ت)
توکیا ضرورہے کہ عہد کرامت مہد حضرت سلطان الاولیاء محبوب الہی رضی الله تعالی عنہ کا خضر حضور سے افضل ہو ببلکہ ممکن ہے کہ حضورکا خادم ہو۔حضور کا لقب ساق عرش پر''قطب الدین''لکھا ہے اوریہ قطب اورغوث شیئ واحد ہے نہ وہ قطب کہ ہر شہر ہر قریہ ہر لشکر کا جدا ہوتا ہے ۔غالبا اس لئے حضور نام سلطان المشائخ ہوا کہ قطب سلطان اولیائے دورہ ہےوالله
حوالہ / References الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ ذکر خضر صاحب موسٰی علیہ السلام دارصادر بیروت ۱ /۴۳۳
الیواقیت والجواھر المبحث الخامس والاربعون داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۴۴۶
#18006 · کتاب الشتی(حصّۂ پنجم) شرح کلام علماء و صوفیاء
تعالی اعلم۔اورخادم کہ اپنے مخدوم کے مہمانوں کی خدمت کرے وہ درحقیقت مخدوم ہی کی خدمت ہے اوراس سے خادم کی کوئی اہانت نہیں ہوتی کہ ممکن ہے کہ اس دورے کا خضر خود حضرت سلطانی کا مرید ہو اورمرید توکوچہ شیخ عــــــہ کے کتوں کی بھی تعظیم کرتاہے اوراس کی اہانت نہیں ببلکہ اورترقی عزت وببلند ی مرتبت ہے ۔
من تواضع لله رفعہ الله ۔اللھم ارزقنا حسن الادب من اولیاءك بجاھھم عندك امین وانت محب السائلین ۔ جو الله تعالی کے لیے عاجزی کرے الله تعالی اس کو رفعت عطافرماتا ہے ۔اے الله ہم کو اپنے ولیوں سے حسن ادب عطافرمااس مرتبے کے صدقے جو ان کا تیرے ہاں ہے ۔ہ ماری دعا قبول فرما اورتومانگنے والوں سے محبت فرمانیوالا ہے ۔(ت)
جواب دوم :
حکایت مذکورہ میں صرف ذکر نگہبانی ہے یہ بیان نہیں کہ وہ حفاظت بطور خدمت تھی نہ حفاظت معنی خدمتگاری میں متعین باپ اپنے بچوں یا استاد اپنے شاگروں کو تعلیم شناوری کے لیے کہ سنت ہے اگر دریا میں بھیجے اورخود کنارے بیٹھا ان کے لباس ونعال کی حفاظت کرے کوئی عاقل اسے خدمتگار نہ کہے گاببلکہ رحمت وشفقت ونوازش پرورش ۔حکایت میں یہ صورت ہونا کس نے محال کیا فان واقعۃ عین یتطرق الیھاکل احتمال کما نص علیہ العلماء فی غیر مامقال(کیونکہ معین واقعہ میں ہر احتمال راہ پاتاہے جیسا کہ علماء نے اس پر نص فرمائی ہے ۔بغیر کسی قیل وقال کے ۔ت)
جواب سوم :
یہ دونوں جواب اہل ظاہر کے مدارك پر تھے ورنہ لسان حقائق کے طور پر معاملہ بالکل معکوس ہے ۔وہم کرنے والا اصطلاح قوم سے ناواقفی کے باعث کمال عظمت کو معاذ الله موجب اہانت گمان کرتاہے اوراہل ظاہر پر انکار کلمات اہل الله میں اکثر بلا اسی دروازے سے آتی ہے ان کی اصطلاح کو اپنے مفہوم پر حمل کرتے اور خطا میں گرتے ہیں اورنہیں جانتے کہ
ہندیاں رااصطلاح ہند مدح سندیاں رااصطلاح سند مدح
درحق اومدح درحق توذم درحق او شہد ودرحق توسم
درحق اودرد ودرحق توخار درحق اونورودرحق تونار
توچہ دانی زیاں مرغاں را کہ نہ دیدی گہ سلیماں را
عــــــہ:خودحضور سلطان المشائخ کی اس بارے میں حکایت ہے ۔(تاج العلماء محمد میاں علیہ الرحمہ)
#18007 · کتاب الشتی(حصّۂ پنجم) شرح کلام علماء و صوفیاء
(ہندیوں کے ہند کی اصطلاح مدح ہے سندھیوں کے لیے سندھ کی اصطلاح مدح ہے اس کے حق میں مدح اورتیرے حق میں مذمتاس کے حق میں شہد اور تیرے حق میں زہر اس کے حق میں گلاب کا پھول اور تیرے حق میں کانٹا۔اس کے حق میں نور اورتیرے حق میں نارتو کیا جانے پرندوں کے نقصان کوکہ تو نے سلیمان کے زمانے کو نہیں دیکھا۔(ت)
محمد شاہ بادشاہ دہلی کے حضور مجمع علماء تھا بعض کلمات منسوبہ باولیاء پر رائے زنی ہورہی تھیہر ایك اپنی سی کہتا اور اعتراض کرتا ایك صاحب کہ اس جماعت میں سب سے اعلم تھے خاموش تھےبادشاہ نے عرض کی:آپ کچھ نہیں فرماتےفرمایا:یہ سب صاحب میرے ایك سوال کا جواب دیں تو میں کچھ کہوں ۔سب ان عالم کی طرف متوجہ ہوئےانہوں نے فرمایا:آپ حضرات بولی کتے کی سمجھتے ہیں سب نے کہا:نہ کہا بلی کی کہا:نہ ۔کہا:سبحان الله تم مقرہو کہ ارذل خلق الله کی بولی تم نہیں سمجھتے اولیاء کہ افضل خلق ہیں ان کا کلام کیونکر سمجھ لو گے ۔
امام عبدالوہاب شعرانی رحمہ الله فرماتے ہیں:علمائے مصر جمع ہوکر ایك مجذوب کی زیارت کو گئے انہوں نے انہیں دیکھتے ہی فرمایا:
مرحبا بعبید عبدی ۔ مرحبا میرے بندے کے بندے کو۔
سب پریشان ہوکر لوٹ آئےایك صاحب جامع ظاہر وباطن سے ملے اور شکایت کیانہوں نے فرمایا:ٹھیك تو ہے تم سمجھتے نہیںتم خواہش نفس کے بندے ہو رہے ہو اورانہوں نے خواہش نفس کو اپنا بندہ کرلیا ہے تو انکے بندے کے بندے ہوئے ۔
اب سنئے اصطلاح قوم میں ''نعلین'' ''کونین''کو کہتے ہیںالله تعالی عزوجل نے اپنے بندے موسی علیہ السلام سے فرمایا:
" فاخلع نعلیک انک بالواد المقدس طوی ﴿۱۲﴾" ۔ اپنے دونوں جوتے اتار ڈالو کہ تم پاکیزہ جنگل طوی میں ہو۔
مفسر علام نظام الدین حسن بن محمد قمی غرائب القرآن ورغائب الفرقان معروف بتفسیر نیشاپوری میں اس آیہ کریمہ کی تاویل یعنی بطور اہل اشارات و حقائق میں فرماتے ہیں:
حوالہ / References القرآن الکریم ۲۰ /۱۲
#18008 · کتاب الشتی(حصّۂ پنجم) شرح کلام علماء و صوفیاء
اترك الالتفات الی الکونین انك واصل الی جناب القدس ۔ یعنی نعلین سے ''دونوں جہان ''مراد ہیں انہیں اتار ڈالو یعنی ان کی طر ف التفات نہ کرو کہ تم بارگاہ قدس میں پہنچ گئے ۔
اقول:نعل قطع راہ میں معین ہوتی ہے اورمقصد اولیاء وصول بحضرت کبریا ہے اوردنیا آخرت دونوں اس راہ کی قطع میں معین ۔دنیا یوں کہ اس میں اعمال سبب وصول جنت ہیںاور آخرت یوں کہ وہیں وعدہ دیدار ہے معہذا طالبان مولی لذات کونین کو زیر قدم رکھتے ہیںجو زیر قدم ہو اسے نعل کہنا مناسب ہے ۔حدیث میں ہے:
الدنیا حرام علی اھل الاخرۃ والاخرۃ حرام علی اھل الدنیاوالدنیا والاخرۃ حرام علی اھل الله ۔رواہ الدیلمی عن ابن عباس رضی ا لله تعالی عنہما۔ یعنی دنیا حرام ہے آخرت والوں پر اور آخرت حرام ہے دنیا والوں پراوردنیا وآخرت دونوں حرام ہیں الله والوں پر ۔ (اسے دیلمی نے ابن عباس رضی الله تعالی عنہما سے روایت کیا۔ت)
نیز نعل ''زوجہ ''کو کہتے ہیں کما فی القاموس وغیرہ (جیسا کہ قاموس وغیر ہ میں ہے ۔ت)اور دنیا وآخرت دونوں سوتیں ہیں۔
فان من جودك الدنیا وضرتھا ومن علومك علم اللوح والقلم
کیونکہ دنیااورآخرت آپ کی بخششوں میں سے ہے اورلوح وقلم آپ کے علموں میں سے ہیں ۔ت)
اسی طرف اشارہ ہے ۔حدیث نبی صلی الله تعالی علیہ وسلم میں ہے فرماتے ہیں:
من احب دنیاہ اضرباخرتہ ومن احب اخرتہ اضر بدنیاہ فأثروامایبقی علی مایفنی جو اپنی دنیا کو پیار کرے گا اس کی آخر ت کو نقصان ہوگا اور جو اپنی آخرت کو پیارا رکھے اس کی دنیا کو ضرر ہوگا تو باقی کو فانی پر ترجیح دو۔
حوالہ / References غرائب القرآن تحت آیۃ ۲۰ /۱۲ مصطفی البابی مصر۱۶ /۱۱۹
الفردوس بما ثور الخطاب حدیث ۳۱۱۰ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۲ /۲۳۰
القاموس المحیط باب اللام فصل النون مصطفی البابی مصر ۴ /۵۹
قصیدہ بردہ شریف مطبع انصار دہلی ص۷۹
#18009 · کتاب الشتی(حصّۂ پنجم) شرح کلام علماء و صوفیاء
رواہ احمد والحاکم عن ابی موسی الاشعری رضی الله تعالی عنہ بسند صحیح ۔ (اس کو امام احمد وحاکم نے ابو موسی اشعری رضی الله تعالی عنہ سے بسندصحیح روایت کیا ۔ت)
اورمداردنیا بنیہ بشری پر ہے اورمدار مثوبات آخرت عقل تکلیفی پراور وجد وسماع کے غلبے میں ان کے زوال کا اندیشہ خصوصاجب قوت ضعف ہو اوربرکت صاحب مجلس سے تجلی اشد واقوی واقع ہو تو بدن فنایا عقل زائل ہوجانا کچھ بعید نہیں ۔
حضور پرنور غوث اعظم رضی الله تعالی عنہ نماز پڑھا رہے تھے جب سجدے میں گئے مقتدیوں میں سے ایك مرید کا جسم گھلنا شروع ہوا یہاں تك کہ گوشتپوستاستخواں کسی کا نام ونشان نہ رہا صرف ایك قطرہ پانی رہ گیا ۔حضور نے بعد سلام روئی کے پھوئے میں اٹھا کر دفن فرمایا اورفرمایا:سبحان الله ! ایك تجلی میں اپنی اصل کی طرف پلٹ گیا۔
لہذا سیدنا خضر علیہ الصلوۃ والسلام اپنی قوت ومددسے انکی دنیا وآخرت کی یعنی بنیہ بشری وعقل تکلیفی کی حفاظت فرماتے تھےکہئے یہ کمال عظمت ہے یا معاذ الله اہانت ! الخمختصرا ۔
__________________
حوالہ / References مسند احمد بن حنبل حدیث ابو موسٰی اشعری رضی الله عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۴ /۴۱۲
#18010 · تجوید و قراءت
تجوید و قراءت

مسئلہ ۱۰: از بندہ درماندہ فدوی محمد عمر ۲۹ ربیع الآخر شریف ۱۳۳۱ھ
آیہ کریمہ:
" و من دونہما جنتان ﴿۶۲﴾ فبای الاء ربکما تکذبان ﴿۶۳﴾ مدہامتان ﴿۶۴﴾ فبای الاء ربکما تکذبان ﴿۶۵﴾ " ۔ اوران کے سوا دو جنتیں اورہیں ۔تو اپنے رب کی کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے ۔نہایت سبزی سے سیاہی کی جھلك دے رہی ہیں تو اپنے رب کی کون سے نعمت کو جھٹلاؤگے ۔(ت)
کیا فرماتے ہیں قراء شریعت اس میں کہ آیہ مذکورہ بالا میں جو آیت ''لا''ہے اس پر ٹھہرناجائز ہے یا نہیں اوراس کے متعلق کیا اختلافات ہیں
الجواب :
ہر آیت '' لا ''پر وقف جائز ہےیوں بھی سنت سے ثابت ہے ۔قراء میں بھی دونوں طریقے ہیں اور سب قراء تیں حق ہیں۔ والله تعالی اعلم ۔
حوالہ / References القرآن الحکیم ۵۵ / ۶۱تا۶۵
#18011 · تجوید و قراءت
مسئلہ ۱۱: مرسلہ سید اشرف علی صاحب محلہ ذخیرہ بریلی ۲۶ جمادی الثانی ۱۳۳۴ھ
بخدمت شریف جناب اعلی حضرت صاحب قبلہ سلامت ۔عرض یہ ہے کہ سورہ ناس میں خناسoالذی ہے یا خناسoالذیکس طرح پڑھنا چاہیے حضور دیگر عرض یہ ہے خناس الذی میں الف آگیا یا نہیں
الجواب :
دونوں طرح جائز ہےاور اصل وہی ہے کہ خناس کا سین الذی کے لام میں ملا کر پڑھیں اس میں الف گر جائے گااور بحالت وصل اس کے گرانے کاہی حکم ہے اور''س''پر وقف کر کے ''الذی''مع ''ا'' پڑھے جب بھی کچھ حرج نہیںدونوں طریقے سنت سے ثابت ہیں ۔والله تعالی اعلم ۔
مسئلہ ۱۲: از کانپور محلہ بانس منڈی مدرسۃ امداد العلوم مسئولہ ابوالہادی محمد عبدالکافی روزیك شنبہ ۲۱ ذی الحجہ ۱۳۳۳ھ
دربارہ اس مسئلہ میں کہ وقت ختم قرآن تراویح میں تین بار سورہ اخلاص شریف کا پڑھنا مکروہ ہے یا مستحسن بینوا توجروا (بیان فرمائیے اجر پائیے۔ت)
الجواب :
مستحسن ہےفتاو ی عالمگیری میں ہے:
قراءۃ قل ھو الله احد ثلاث مرات عقیب الختم یستحسنھا بعض المشائخ لجبر نقصان دخل فی قراءۃ البعض الا ان یکون ختم القران فی الصلوۃ المکتوبۃ فلایزیدعلی مرۃ واحدۃ ۔ ختم قرآن کے بعد تین مرتبہ قل ھو الله احد الخپڑھنے کو بعض مشائخ نے مستحسن قرار دیاہے تاکہ اس نقصان کا ازالہ ہوجائے جو بعض کے پڑھتے وقت پیدا ہوا ہےمگر جب ختم قرآن فرض نماز کے اندر ہوتو صرف ایك ہی بار سورہ اخلاص پڑھے زائد نہ پڑھے ۔(ت)
عقود الدریہ میں ہے:والعمل بما علیہ الاکثر ۔اس پرعمل کیاجائے جس پر اکثریت کاعمل ہو ۔ت)والله تعالی اعلم
___________________
حوالہ / References الفتاوی الھندیۃ کتاب الکراھیۃ الباب الرابع نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۳۱۷
العقود الدریۃ مسائل وفوائدشتی من الحظر والاباحۃ العمل بما علیہ الاکثر ارگ بازار افغانستان ۲/۳۵۶
#18012 · رسم القرآن
رسم القرآن

مسئلہ ۱۳ تا ۲۰: مسئولہ حافظ میر عبدالجلیل صاحب مارہروی ۲۵صفرمظفر ۱۳۲۲ھ
الفاظ جمع مذکر سالم مانند خاسئینقانتونکرھینخیر الفاتحین وامثالھا
(۱)جن کو منشی اشرف علی نے اپنے مصحف میں محذوف الالف لکھا ہے اوراکثر جگہ حوالہ شمع قراء ت اور خلاصۃ الرسوم وغیرہ کا دیا ہے ۔اورمولوی احمد علی سہارنپوری نے الفاظ موصوفہ کو باثبات الف اپنے مصحف میں لکھاہے ببلکہ ایسے الفاظ قلیل الدور کی ایك فہرست اپنے مصحف کے ابتداء میں لکھ دی ہے کہ وہ باثبات الف ہیں۔ا ن کی بابت آپ کا حکم کیاہے
(۲)لفظ ''کلام ''ملك العلام میں صرف چار جگہ ہےایك جگہ سورہ بقرہ میں" یسمعون کلم اللہ " (الله کا کلام سنتے ہیں۔ ت)دوم سورہ اعراف میں:
" قال یموسی انی اصطفیتک علی الناس برسلتی و بکلمی ۫ " ۔ فرمایا:اے موسی !میں نے تجھے لوگوں سے چن لیا اپنی رسالتوں اوراپنے کلام سے(ت)
سوم سورہ توبہ میں:" فاجرہ حتی یسمع کلم اللہ" ۔(تو اسے پناہ دو کہ الله کا کلام سنے ۔ت)
#18013 · رسم القرآن
چہارم سورۃ الفتح میں ہے:
"یریدون ان یبدلوا کلم اللہ " ۔ وہ چاہتے ہیں کہ الله کا کلام بد ل دیں۔(ت)
ان سب کو بعض مصاحف وکتب رسم الخط میں باثبات الف لکھا ہے اوربعض میں محذوف الالف اوربعض نے بعض کو مع الالف___________ اوربعض کو بغیر الف لکھا جاتاہے ۔آپ کی ان کے باب میں کیا رائے ہے
(۳)لفظ قیام دو مقام پر سورہ نساء میںاولا:
"ولا تؤتوا السفہاء امولکم التی جعل اللہ لکم قیما" ۔ بے عقلوں کو انکے مال نہ دو جو تمہارے پا س ہیں جن کو الله نے تمہاری بسر اوقات کیا ہے ۔(ت)
دوم:
"فاذکروا اللہ قیما وقعودا وعلی جنوبکم " ۔ الله کی یاد کرو کھڑے بیٹھے اورکروٹوں پر لیٹے ۔(ت)
سوم سورۃ المائدہ میں:
"جعل اللہ الکعبۃ البیت الحرام قیما للناس" ۔ الله نے ادب والے گھر کعبہ کو لوگوں کے قیام کا باعث کیا۔(ت)
چہارم سورہ فرقان:
"والذین یبیتون لربہم سجدا و قیما ﴿۶۴﴾ " ۔ اور وہ جورات کاٹتے ہیں اپنے رب کے لئے سجدے اورقیام میں۔(ت)
پنجم سورہ زمر میں:
"ثم نفخ فیہ اخری فاذا ہم قیام ینظرون ﴿۶۸﴾ " ۔ پھر وہ دوبارہ پھونکا جائے گاجبھی وہ دیکھتے ہوئے کھڑے ہو جائیں گے ۔(ت)
#18014 · رسم القرآن
ششم سورہ ذاریات میں:
"فما استطعوا من قیام و ما کانوا منتصرین ﴿۴۵﴾ " ۔ تووہ نہ کھڑے ہوسکے اورنہ وہ بدلہ لے سکتے تھے ۔(ت)
عام مصاحف میں یعنی مولوی احمد علی صاحب سہارنپوری اوران کے مقلدین نے سورہ نساء کے پہلے اور سورہ مائدہ والے کو بدوں الف لکھا ہے ۔اورباقی سب جگہ مع الف۔اوریہی رسالہ مرتع الغزلان سے ثابت ہے مگر منشی اشرف علی نے صرف آخر کے تینوں کو باثبات الف اوراول کے تینوں کو بدون الف لکھاہے ۔
(۴)"للرجال نصیب مما ترک الولدان والاقربون ۪ وللنساء نصیب مما ترک الولدان والاقربون مما قل منہ اوکثر " ۔ مردوں کےلئے حصہ ہے اس میں سے جو چھوڑگئے ماں باپ اور قرابت والے اورعورتوں کےلئے حصہ ہے اس میں سے جو چھوڑگئے ماں باپ اورقرابت والے ترکہ تھوڑا ہو یا بہت ۔ (ت)
اور
" ولکل جعلنا مولی مما ترک الولدان " الآیۃ۔ ہم نے سب کےلئے مال کے مستحق بنادیے ہیں جو کچھ چھوڑ جائیں ماں باپ۔(ت)
یہ سب مصاحف مروجہ ہندی میں الف اول موجود اورثانی مفقود ہے مگر مؤلف خلاصۃ الرسوم دونوں کا حذف فرماتے ہیں اوروالدین یا و نون سے سب جگہ مع الالف ہے ۔
(۵)"لا تقربوا الصلوۃ وانتم سکاری" ۔ نشہ کی حالت میں نماز کے پاس نہ جاؤ۔(ت)
سورہ حج میں:
"و تری الناس سکری وما ہم بسکری" ۔ اورتو لوگوں کو دیکھے گا جیسے نشہ میں ہیں اورنشہ میں نہ ہوں گے۔(ت)
#18015 · رسم القرآن
تینوں کو منشی اشرف علی اور مولوی ہادی علی صاحب نے اپنے مکتوب مصاحف میں محذوف الالف لکھا ہےاورعام مصاحف میں خاص سورہ نساء میں بدوں الف اورباقی دونوں کو مع الالفخلاصۃ الرسوم اوررسالہ نور سرمدی سے قول اول ثابت ہے مگر مرتع الغزلان میں لکھا ہے: ع
گیر از حج دوجا سکری یاد
یعنی محذوفات میں دو کا ذکر کیا تیسرے سے کچھ تعرض نہ کیا۔
(۶)علامہ ابو عمرو الدانی ارشادکرتے ہیں:
کذلك سؤۃ وسوءتکم وسیئ وسیئت وبریؤن وھنیئا مریئا وبریئا وشبھہ ۔ یعنی ان سب کا ہمزہ بدوں مرکز ہے لیکن کل مصاحف ہندی میں سواتکم وغیرہ الف سے مرقوم ہیں بالاتفاق کسی نے اس میں خلاف بھی بیان نہیں کیا۔
(۷)"و من خزی یومئذ " ۔سورہ ہود میں قراء ت مفتوح المیم کو کتاب تیسیر میں نافع اورابن عامر کے نام سے لکھاہے اورخلاصۃ الرسوم میں مرقوم ہے:
بکسر میم ست بقراء ت غیر سوسی سوسی کے غیر کی قراءۃ میں میم کے کسرہ کے ساتھ ہے ۔(ت)
(۸)اعوذبالله کے باب میں روایت کتاب تحفہ نذریہ مؤلفہ قاری عبدالرحمن پانی پتی یہ ہے کہ:
اعوذبالله من الشیطن الرجیم مختار جمیع قراء است ۔ اعوذبالله من الشیطن الرجیم تمام قراء کا مختارہے ۔(ت)
آگے بیان کرتے ہیں کہ:
اگرکسے لفظ دیگر درتعوذ کفت آنحضرت صلی الله تعالی علیہ وسلم ازاں لفظ منع فرمود ۔ اگرکسی نے کوئی دوسرا لفظ تعوذ میں کہا تو حضور انور صلی الله تعالی علیہ وسلم نے اس لفظ سے منع فرمایا ہے ۔(ت)
حوالہ / References مرتع الغزلان فی رسم الخط القرآن
التیسیر فی قواعد علم التفسیرللامام محمد بن سلمان
القرآن الکریم ۱۱ /۶۶
خلاصۃ الرسوم
تحفہ نذریہ
تحفہ نذریہ
#18016 · رسم القرآن
پھر لکھتے ہیں:
باوجود اس منع وتعلیم الفاظ دیگر ہم مروی شدہ اندپس تلفظ تعوذبآں الفاظ ہم جائز است اگرچہ مختار نیستانتہی عبارتہ بقدر ضرورت ۔ اس منع وتعلیم کے باوجود کچھ دوسرے الفاظ بھی مروی ہیں چنانچہ ان الفاظ کے ساتھ بھی تعوذجائز ہے اگرچہ مختار نہیں ہے۔تحفہ نذریہ کی عبارت ختم ہوئی جس قدر ضرورت تھی۔(ت)
اس کے باب میں آپ کا کیا حکم ہے
الجواب :
(۱)یہ علم سمع ہے نہ قیاس ۔کلمات علمائے کرام سے دو ضابطے ملتے ہیں:
اول:مطردہ کہ ہر جمع مذکر سالم کثیر الدورمحذوف الالف ہے جبکہ اس الف پر مد نہ ہو۔
دوم:اکثری یہ کہ الف پرمد ہویعنی اس کے بعد ہمزہ یا حرف مشدد آئے تو ثابت الالف ہے مگر ذوات الہمزہ میں حذف بھی بکثرت پایاگیا ہے ۔اورجمع مونث سالم تو مطلق محذوف الالف والالفین ہے اگرچہ قلیل الدور ہواگرچہ الف ممدود ہومگر گنتی کے حروف جیسے سورہ شوری میں روضت الجنتیونس میں ایاتنا بینتاسی میں مکر فی ایاتناحم سجدہ میں سموتفاطر میں علی بینات علی الخلاف الی غیر ذلك من حروف قلائل ۔امام عمرو دانی رحمۃ الله علیہ مقنع میں فرماتے ہیں:
اتفقوا علی حذف الالف من جمع السالم الکثیر الدور من المذکر والمونث جمیعا الصبرین و الصدقین و القنتین والشیطین والظلمون و السحرون والطیبت و الخیبثت والمتصدقت و الثیبت والغرفت وماکان مثلہ ۔فان جاء بعد الالف ھمزۃ او حرف مضعف نحو السائلین والقائمین تمام لوگوں نے جمع مذکر ومونث سالم کثیر الدور سے الف کے حذف کرنے پر اتفاق کیاجیسے صبرین صدقین قنتین شیطین ظالمون سحرون طیبت خبیثت متصدقت ثیبتتئبتغرفت اور جو اس کے مثل ہو اور الف کے بعد ہمزہ یا حرف مشدد آئے جیسے سائلین قائلین ظانین
حوالہ / References تحفہ نذریہ
#18017 · رسم القرآن
والظانین والعادین وحافین وشبھہ اثبت الالف علی انی تتبعت مصاحف اھل المدینۃ واھل العراق القدیمۃ فوجد ت فیھا مواضع کثیرۃ مما بعد الالف فیہ ھمزۃ قد حذف الالف منھا واکثر ماوجدتہ فی جمع المونث لثقلہ والاثبات فی المذکر اکثر قال ابوعمرو ما اجتمع فیہ الفان من جمع المونث السالم فان الرسم فی اکثر المصاحف بحذفھا جمیعا سواء کان بعد الالف حرف مضعف اوھمزۃ نحو الحفظت والصدقت والنزعت والصفت والعدیت والصئمت وغیبت وسئحت وشبھہ قد امعنت النظر فی ذلك فی مصاحف اھل العراق اھلیۃ اذ عدمت النص فی ذلك فلم ارھا مختلف فی حذف ذلك ۔
وقال محمد بن عیسی اصفھانی فی کتابہ ھجاء المصاحف قوم طاغون و والذاریت والطور وفی روضات الجنت فی عسق مرسومہ بالالف ۔
وقال ابو عمر وکذا رأیتھا انا فی مصاحف اھل العراق ورأیت فی بعضھا کراما کاتبین بالالف عادینحافین اوراس کے مشابہ ۔مگر میں نے اہل مدینہ اوراہل عراق کے قدیم مصاحف کا تتبع کیا تو بہت سے مقاما ت پر جہاں الف کے بعد ہمزہ تھا وہاں سے بھی الف حذف کردیا ہے اورایسا اکثر جمع مونث میں اس کے ثقل کی وجہ سے ہوا ہے ۔اورمذکر میں زیادہ طور پر الف کا اثبات ہے ۔امام ابو عمر وفرماتے ہیں جہاں جمع مونث سالم میں دوالف جمع ہوجائیں وہاں عام طور سے دونوں الف کو حذف کردیتے ہیں۔اس کے بعد ہمزہ اورحرف مشدد ہویا نہ ہوجیسے حفظتصدقت نزعتصفتعدیتصئمتغیبتسئحت اوراس کے اشباہ۔میں نے اہل عراق کے اصل مصاحف میں غور سے دیکھا جہاں مجھے کوئی تصریح نہ ملی تو ہرجگہ انہیں کو محذوف پایا۔


محمد بن عیسی اصفہانی اپنی کتاب''ہجاء المصاحف''میں فرماتے ہیں کچھ ذار یات اورطور میں طاغون کو اورروضات الجنت الف سے لکھتے ہیں ۔

ابو عمرو فرماتے ہیں مصاحف اہل عراق میں کراما کاتبین کو الف اور بغیر الف دونوں طرح تحریر
#18018 · رسم القرآن
فی بعضھا بغیر الالف ۔اھ مختصرا۔ پایا۔انتہی مختصرا۔
اس کے سوا جمع مذکر سالم قلیل الدور عدیم المد کے لئے کوئی ضابطہ نہیں اور خاص خاص الفاظ میں اختلاف مصاحف ثابت ۔
مقطع میں ہے:
فی بعضھا فارھین وفی بعضھا فرھین بغیر الف و کذلك حاذرون وحذرون ۔ بعض مصاحف میں فارھین باالف اوربعض بغیر الف ۔اسی طرح حاذرون بھی دونوں طرح تحریر پایاگیا۔
اسی طرح دخان وطور ومطففین فاکھین اورلیس کے فاکھون سب کو فرمایا کہ فی بعضھا بالف وفی بعضھا بغیر الف تو مطلقا ایك حکم کلی اثبات خواہ حذف کا لگا دینا ہرگز صحیح نہیںببلکہ ہر کلمہ میں رجوع بنقل پھر بحالت اتفاق اس کا اتباع لازماوربحالت اختلاف اکثرواشہر کی تقلید کی جائے اورتساوی ہوتو حذف واثبات میں اختیار ہے ۔اوراحسن یہ کہ جہاں اختلاف قراء ت بھی ہو جیسے فکھین اورفاکھین وہاں حذف معمول بہ رکھیں لیحتمل القراءتین ۔اوراگر نقل اصلا نہ ملے تو ناچار رجوع بہ اصل ضروراوروہ اثبات ہے کہ اصل کتابت میں اتباع ہجاء ہے ۔
علامہ علم الدین سخاوی شرح عقلیہ میں زیر قول مصنف قدس سرہ ع وبالذی غافر عن بعضہ الف فرماتے ہیں:
اصل ماجھل اصلہ ان یکتب بالالف علی ماینطق ۔ والله تعالی اعلم ۔ جس کی اصل نہ معلوم ہو تو قاعدہ یہ ہے کہ جس طرح باالف پڑھا جاتا ہے اسی طرح لکھا جائے ۔
(۲)امام الاقاصی والادانی فی الرسم القرآنی ابو عمرو دانی فرماتے ہیں:
قال الغازی بن قیس العذاب والعقاب والحساب و البیان والغفار والجبار والساعۃ والنھار بالالف یعنی فی المصاحف وذلك علی اللفظ قال ابو عمرو غازی بن قیس فرماتے ہیں کہ عذابعقابحساب بیانغفارجبارساعۃنہار مصاحف میں الف کے ساتھ مرقوم ہے ۔جیسا کہ لفظ ہے ۔ابو عمرو فرماتے ہیں یونہی
حوالہ / References المقنع فی رسم المصحف لعثمان بن سعید
المقطع فی رسم المصحف
(شرح عقلیہ)الوسیلۃ فی کشف العقیلہ
#18019 · رسم القرآن
کذلك رسمواکل ماکان علی وزن فعال وفعال بفتح الفاء وکسرھا وعلی وزن فاعل نحو ظالم وفعال نحو خوار وفعلان نحوبنیان وفعلان نحو رضوان و کذلك المیعاد والمیقات والمیزان وما اشبھہ مما الفہ زائد البناء وکذلك ان کانت منقلبۃ من یاء او واؤ حیث وقعت اھ باختصار الامثلۃ۔ تحریر کیا ہر وہ لحظہ جو فعال اور فعال کے وزن پر ہویا فاعل کے وزن پر ہو جیسے ظالم یا فعال کے وزن پر ہو جیسے خوار اورفعلان کے وزن پر ہو جیسے بنیان اور فعلان کے وزن پر ہوجیسے رضواناورایسے ہی میعادمیقاتمیزان اوراس کے مشابہ الفاظ جس میں الف زائد بناء کے لیے ہو۔ایسے ہی یا اورواو سے بدلاہوا بھی جہاں کہیں ہو مثالوں میں اختصار کردیاہے ۔
یہ مبارك کلام مفید عام کل سے ابتداء اورحیث وقعت پر انتہاہوکر تاکید الافادہ عموم لایااگرچہ بحکم:
ما من عام الاوقد خص منہ البعض حتی ھذہ القضیۃ لنفسھا بمثل قولہ سبحنہ "وہو بکل شیء علیم﴿۲۹﴾" ۔ کوئی عام نہیں کہ اس سے بعض کی تخصیص نہ ہو خاص اس قضیہ میں بھی الله تعالی کے قول ھو بکل شیئ علیم کی طرح جیسا کہ عقل سلیم پر ظاہر ہے ۔
بعض مستثنیات رکھتاہےجنہیں خود امام ممدوح نے مقنع میں مواضع متفرقہ پر افادہ فرمایا ہےمثل علم الغیب ولبلغ وبلغاوالضلل ومن خللہ وظللہ وغیرھا ۔
ولہذا''مرتع الغزلان فی رسم خط القرآن'' میں فرمایا:
حوالہ / References المقنع فی رسم المصحف
القرآن الکریم ۲ /۲۹
المقنع فی رسم المصحف
#18020 · رسم القرآن
وزن فعال وفاعل وفعلان
ھم فعال وفعال وھم فعلان
نیز فعلان ومفعل وفعال
ھم فعال ومفاعل وافعال
ھم مفاعیل ومفاعل وافعال
بافعالی فواعل وفعال
جملگی فعلہا ومصدرہا
الف منقلب ز واؤ و زیا
ہمہ گی ثابت است درہمہ جا
جزحروفے کہ گشتہ مستثنی فعال اورفاعل اورفعلان کا وزن
فعال اورفعال اورفعلان کا وزن
فعلان اورمفعل اورفعال بھی
فعال اور مفاعل اور افعال بھی
مفاعیل اور مفعل اور مفعال بھی
فعالی فواعل اور فعال
اورافعال اورتمام مصادر
جن کا الف واؤ سے بدلا ہو یا یا ء سے بدلاہوا
تمام مقامات میں ایسا الف باقی اورثابت رہے گا البتہ چند حروف اس قاعدہ سے مستثنی ہیں۔
مگرشك نہیں کہ وہ ہمیں ایك ضابطہ نافعہ بتاتا ہے کہ مستثنیات کے سوا ایسے سب کلمے ثابتات الالف ہیں ۔تو جب تك بالخصوص نقل معتمد سے خلاف ثابت نہ ہو ثابت ہی رکھیں گے کہ وہی اصل اور خود اصل رسم میں اصل ۔خلاصۃ الرسوم سے بکلمی اور یبدلوا کلم الله بالحذف مترشح ہے ۔اخیر کی وجہ ظاہر ہے کہ امام حمزہ وامام کسائی نے یہاں کلم بر وزن کنف پڑھا ہے مگر کلامی میں مثل دو باقی فقیر کے نزدیك اثبات ارجح ہے ۔والله تعالی اعلم۔
(۳)یہ کلمہ سات جگہ آیا ہےسب سے پہلے سورہ آل عمران میں :
"لایت لاولی الالبب ﴿۱۹۰﴾ الذین یذکرون اللہ قیما وقعودا وعلی جنوبہم" نشانیاں ہیں عقلمندوں کے لیے جو الله کی یاد کرتے ہیں کھڑے اوربیٹھے اورکروٹوں پر لیٹے ۔(ت)
عام مصاحف میں یہاں بھی مع الالف ہے ۔صاحب خلاصۃ الرسوم علامہ عثمان طالقانی رحمۃ الله علیہ نے صرف مائدہ کو ذکر کیا کہ:
قیما بحذف الف مرسوم است از جہت اشتمال برہردو قراء ت یا بنام اختصار ۔ قیما الف کے حذف کے ساتھ لکھا گیا ہےدونوں قراء ت پر مشتمل ہونے کی وجہ سے یا اختصار کیلئے ۔(ت)
حوالہ / References مرتع الغزلان فی رسم خط القرآن
القرآن الکریم ۳ /۱۹۰ و ۱۹۱
خلاصۃ الرسوم
#18022 · رسم القرآن
اورحرف اول نساء کو اگرچہ لفظانہ بتایا مگر رسما بحذف لکھا جس سے ظاہر باقی پانچ میں اثبات ہے اوریہی قول مرتع ع قیما و ز ابتداء نساء ع آخر مائدہ قیما داں کا مفاد ہے ۔اوراس کی وجہ واضح ہے کہ امام نافع اورامام اجل ابن عامر نے حرف نساء "جعل اللہ لکم قیما" اورابن عامر نے حرف مائدہ "قیما للناس" کو بے الف پڑھا فی التیسیرباقی سب میں اثبات الف ہے باتفاق قراء سبعہ والرسم یتبع اللفظ لاسیما وھو فعال کما مر ۔والله تعالی اعلم۔
(۴)مصحف کریم میں والدوالدینوالدیہوالدیکوالدیوالدۃوالدتیوالدتك سب بالف بعد واؤ مرسوم ہیں۔ اوریہی مقتضائے قاعدہ فاعل ہے حتی کہ والدات بآنکہ جمع مونث سالم ہےحذف الف میں مختلف فیہ ہے ۔والدان میں حذف الف تثنیہ توحسب قاعدہ مطردہ ضرور ہےحذف اول کی کوئی وجہ ظاہر نہیں اورعبارت خلاصۃ الرسوم اس نسخہ سقیمہ میں یوں مرسوم ''الولدان ہردو بحذف الف تثنیہ مکتوب است بعد از واو ودال ہمہ جا''عبارت نے تو یہ حذف الف تثنیہ بتایا ہے اورہر دو سے مراد دونوں لفظ الولدن کہ ا س آیۃ کریمہ میں واقع ہیں اوربعد از واو الف تثنیہ کے کوئی معنی نہیں ۔ظاہرا لفظ واؤ زیادت قلم ناسخ سے ہے ۔والله تعالی اعلم۔
(۵)فعالی کا قاعدہ مرتع سے گزرا اوربعینہ یہی تخصص موضعین حج مفاد مقنع ہے ۔محذوفات نافع بیان کر کے فرماتے ہیں:
فھذا جمیع ما فی روایۃ عبدالله بن عیسی عن قالون عن نافع مما حذفت منہ الالف الرسم وحدثنا ابو الحسن بن غلبون قرأہ منی علیہ حدثنا ابی حدثنا محمد ابن جعفرحدثنا اسمعیل ابن اسحق القاضی القالون عن نافع یہ سب عبدالله بن عیسی کی روایت قالون سے ہے ۔اور انہوں نے نافع سے روایت کی جہاں جہاں سے رسم میں الف محذوف ہوا ابوالحسن ابن غلبون نے مجھ سے بیان کیا کہ جب میں ان پر پڑھ رہا تھا انہوں نے کہا مجھ سے میرے والد نے ان سے محمد ابن جعفر نے ان سے اسمعیل بن اسحق قاضی نے انہوں نے قالون سے اورانہوں
حوالہ / References مرتع الغزلان فی رسم خط القرآن
القرآن الکریم ۴ /۵
القرآن الکریم ۵ /۹۷
#18023 · رسم القرآن
بعامۃ ھذہ الحروف وزادفی الکہف فلا تصحبنی وفی الحج سکری وما ھم بسکری الخ۔ نے امام نافع سے یہ سب روایت کی ۔اورسورہ کہف میں فلاتصحبنی اورحج میں سکری وما ھم بسکری کا اضافہ کیا۔
اوروہ واضح الوجہ ہے کہ حرفین حج کو امام حمزہ اورامام کسائی نے سکری بروزن سلمی پڑھا ہے بخلاف حرف نساء کہ قراء ت سبعہ میں بالاتفاق سکری بروزن فعالی ہے تو قول مرتع ہی اوضح اوراوجہ ہے ۔والله تعالی اعلم۔
(۶)مصاحف ہند نے اتباع ''خلاصۃ الرسوم''کیا مگر کلام الامام امام الکلام ولا اقل دونوں مجوز ہوں۔والله تعالی اعلم۔
(۷)تیسیر میں ھود ومعارج کے "خزی یومئذ" اور " عذاب یومئذۭ " میں فتح میم کو نافع اورکسائی کی طرف نسبت فرمایا اوراسی طرح دیگر ائمہ نے تصریح فرمائی ۔تیسیر میں ہے:
نافع والکسائی ومن خزی یومئذ وفی المعارج من عذاب یومئذ ببنیہ بفتح المیم والباقون بکسرھا ۔ نافع اورکسائی نے من خزی یومئذ اورسورہ معارج میں من عذاب یومئذ ببنیہ کو میم کے فتحہ کے ساتھ اورباقیوں نے کسرہ کے ساتھ پڑھا۔
شاطبیہ میں ہے:
ویومئذ مع سال فافتح(ا)تی(ر)ضا وفی النمل (حصن) قبلہ النون(ث)ملا ۔ یومئذکو اس سورۃ اورسورۃ معارج میں فتح میم سے پڑ ھ کہ وہ وہ پسندیدہ ہوکر آیا ہے اورسورۃ نمل میں فتح میم کوفیین اور نافع کیلئے ایك قلعہ ہے اوراس لفظ سے پہلے نون تنوین نے فتح کو سنواردیا۔
شرح میں ہے:
امر بفتح المیم فی قولہ تعالی ومن خزی الله تعالی کے قول من خزی یومئذ اور
حوالہ / References المقنع فی رسم المصحف
القرآن الکریم ۱۱ /۶۶
القرآن الکریم ۷۰ /۱۱
التیسیرفی قواعد علم التفسیرللامام محمد بن سلیمان
حرزالامانی ووجہ التہانی سورہ ہود مصطفی البابی الحلبی مصر ص۶۲
#18025 · رسم القرآن
یومئذ ومن عذاب یومئذ ببنیہ فی المعارج المشار الیھما بالھمزۃ والراء فی قولہ اتی رضا وھما نافع و الکسائی ۔ثم اخبر ان المشارالیھم بحصن وھم الکوفیون ونافع قرأوا بالنمل وھم من فزع یومئذ یومئذ فتعین لمن لم یذکرہ فی الترجمتین القراءۃ بکسر اما اصلہ وھو علی الحقیقۃ الخفض فی المواضع ۔ الخ من عذاب یومئذ ببینہ میں جو سورہ معارج میں ہے میم کے فتحہ کا حکم دیا اورہمزہ اور راء سے مصنف کے قول ''اتی رضا ''میں نافع اورکسائی کی طرف اشارہ ہے ۔پھر یہ بتایا کہ لفظ حصن سے کوفیوں اورنافع کی طرف اشارہ ہے ۔ان لوگوں نے سورہ نمل کے من فزع یومئذ کو یومئذ پڑھا۔تو یہ ثابت ہوگئی کہ دونوں ترجموں میں جن لوگوں کا ذکر نہیں ہے وہ اصل حقیقی پر تینوں جگہ مکسور پڑھتے ہیں ۔
غیث النفع میں ہے:
خزی یومئذ قرأنا فع وعلی بفتح المیم والباقون بالکسر ۔ خزی یومئذ کو نافع اور علی نے بفتح میم اورباقی قراء نے بالکسر پڑھا۔
بعینہ اسی طرح اس کی سورۃ سأل میں ہے ان اجلہ اکابر کی تصریحات جلیلہ پر اعتماد لازم ہے ۔والله تعالی اعلم۔
(۸)تعوذ میں یہ صیغہ مختار قراء کرام ہونا ضرور صحیح ہےامام ابو عمر ودانی تیسیر میں فرماتے ہیں:
المستعمل عند القراء الحذاق من اھل الاداء فی لفظھا اعوذ بالله من الشیطن الرجیم دون غیرہ و ذلك لموافقۃ الکتاب والسنۃ فاما الکتاب ماجاء فی تنزیل العظیم قولہ عزوجل لنبیہ الکریم صلی الله تعالی ادائے قرآن میں ماہر قاریوں میں استعاذہ کیلئے یہی الفاظ مستعمل ہیں اورنہیںوجہ یہ ہے کہ یہ الفاظ قرآن وحدیث نبوی کے موافق ہیںالله تعالی قرآن عظیم میں فرماتا ہے جب قرآن پڑھنا ہو تو اعوذبالله من الشیطان الرجیم پڑھو۔ اورحضرت نافع ابن جبیر ابن مطعم اپنے
حوالہ / References سراج القاری لعلی بن عثمان المعروف بابن القاصع
غیث النفع
#18027 · رسم القرآن
علیہ وسلم وھو اصدق القائلین ''فاذا قرأت القران فاستعذ بالله من الشیطن الرجیم ''واما السنۃ فما رواہ نافع ابن جبیر ابن مطعم عن ابیہ رضی الله تعالی عنہما عن النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم انہ استعاذ قبل قرأۃ القران بھذا اللفظ بعینہ وبذلك قرأت وبہ اخذ ۔ والد سے وہ رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ حضور صلی الله تعالی علیہ وسلم تلاوت قرآن پاك سے قبل خاص انہیں الفاظ میں اعوذبالله پڑھتے ۔یہ حدیث سے ثبوت ہوا۔امام ابو عمرو فرماتے ہیں میں ایسا ہی پڑھتاہوں اوریہی میرا مذہب ہے ۔
غیث النفع میں ہے:
اما صیغتھا فالمختار عند جمیع القراء اعوذ بالله من الشیطن الرجیم وکلھم یجیز غیر ھذہ الصیغۃ من الصیغ الوارد ۃ نحو اعوذبالله السمیع العلیم من الشیطن الرجیم واعوذبالله العظیم من الشیطن الرجیم واعوذ بالله من الشیطن الرجیم انہ ھو السمیع العلیم واعوذبالله السمیع العلیم من الشیطن الرجیم ۔ صیغہ استعاذہ کے لیے تمام قاریوں کا مختار اورپسندیدہ لفظ اعوذ بالله من الشیطان الرجیم ہےاس کے باوجود ان دوسروے صیغوں کو بھی سبھی جائز قرار دیتے ہیں جو اس باب میں وارد ہیں جیسے اعوذبالله السمیع العلیم من الشیطن الرجیم وغیرہ ۔الخ
حرز الامانی امام محمد قاسم شاطبی قدس سرہ میں ہے:
اذاماارادت الدھر تقرأفاستعذ
جھارا من الشیطن بالله مسجلا
علی مااتی فی النحل یسرا وان تزد
لربك تنزیھا فلست مجھلا زمانہ میں جب بھی قرآن شریف پڑھنا چاہو تو اعوذبالله علی الاعلان پڑھویہ سب قاریوں کا مسلك ہے ۔جیسا کہ سورہ نحل شریف میں وارد جو آسان ہے اور اگر الله تعالی کی کچھ تنزیہات بھی بڑھا دوتوتم جاہل نہ ہوگے ۔
حوالہ / References التیسیر فی قواعد علم التفسیر للامام محمد بن سلیمان
غیث النفع
حزرالامانی ووجہ التہانی باب الاستعاذہ مصطفی البابی مصر ص۱۰
#18029 · رسم القرآن
سراج القاری میں ہے:
قولہ مسجلا ای مطلقا لجمیع القراء فی جمیع القران (علی ما اتی فی النحل)ای استعذ علی اللفظ الذی نزل فی سورۃ النحل جاعلا مکان استعذ اعوذ بالله من الشیطن الرجیم ومعنی یسرا ای مسیرا وتیسرہ قلۃ کلماتہ وزیادۃ التنزیہ ان تقول اعوذبالله من الشیطن الرجیم انہ ھو السمیع العلیم و اعوذ بالله السمیع العلیم من الشیطن الرجیم و نحو ذلك وقولہ فلست مجھلا ای لست منسوبا الی الجھل لان ذلك کلہ صواب ومروی ۔ ماتن کا قول مسجلا کا مطلب یہ ہے کہ تمام قراء قرآن کی قراء ت میں ہرجگہ اسی کو راجح قرار دیتے ہیں ۔علی مااتی فی النحل کا مطلب یہ ہے کہ سورہ نحل شریف میں استعاذہ کے جو الفاظ وارد ہیں انہیں پڑھواوریسرا کے معنی یہ ہیں کہ چونکہ اس استعاذہ میں کلمات کم ہیں اس لئے ان کا پڑھنا آسان ہے اورتنزیہ کے اضافہ کا مطلب یہ ہے کہ اورروایتوں میں جوسمیع العلیم وغیرہ تعریف الہی کے کلمات وارد ہیں ان کا اضافہ کروفلست مجھلاکا مطلب یہ کہ ایسا کرنے پر تم جاہل نہ قرار نہ دیے جاؤگے کیونکہ وہ زائد کلمات بھی درست اورمروی ہیں۔
مگر دیگرالفاظ مرویہ سے بھی منع ہرگز نہیں ۔وہ سب بھی باجماع قراء جائز ہیں۔غیث وشاطبیہ وشروح کی عبارات ابھی گزریں۔امام جلال الدین سیوطی اتقان میں فرماتے ہیں:
قال الحلوا نی فی جامعہ لیس للاستعاذۃ حدینتھی الیہمن شاء زاد ومن شاء نقص ۔ حلوانی نے اپنی جامع میں لکھا کہ استعاذہ کی کوئی حد نہیں ہے کہ اسی پر بس ہے ۔تو جو چاہے اضافہ کرے اورجو چاہے کم کرے۔
حضور پرنور سید عالم صلی الله تعالی علیہ وسلم کا دیگر الفاظ سے منع فرمانا ہرگز ثابت نہ ہوااوراگر ثابت ہوجاتا تو کیا معنی تھے کہ بعد منع اقدس پھر بھی دیگر الفاظ جائز رہتے ۔قاری صاحب نے یہاں عجیب بین المتنافیین کیا ہے اورالفاظ سے منع فرمانا بالجزم
حوالہ / References سراج القاری لعلی بن عثمان المعروف بابن القاصع
الاتقان فی علوم القرآن النوع الخامس والثلاثون داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ /۳۴۱
#18031 · رسم القرآن
حضور صلی الله علیہ وسلم کی نسبت کہاحالانکہ وہ حدیث ضعیف ہے اورضعیف کی بہ صیغہ جزم نسبت روا نہیں ۔پھران الفاظ کو بھی جائز رکھا حالانکہ بعد ممانعت رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم جواز کی طرف راہ اصلا نہیںببلکہ جواز وہی ہے کہ منع ثابت نہ ہو ۔امام شاطبی بعد کلام مذکور فرماتے ہیں:
وقد ذکروا لفظ الرسول فلم یزد ولو صح ھذا النقل لم یبق مجملا ۔ حضور صلی الله تعالی علیہ وسلم کے الفاظ میں استعاذہ میں اضافہ نہیں ہےاگریہ روایت صحیح ہوتی تو حکم قرآنی مجمل نہ ہوتا۔
شرح علامہ ابن قاصع میں ہے:
اشارالی قول ابن مسعود رضی ا لله تعالی عنہ قرأت علی رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم فقلت اعوذ بالله السمیع العلیم من الشیطن الرجیم فقال لی قل یا ابن ام عبد اعوذبالله من الشیطن الرجیم و روی نافع عن ابن جبیر ابن مطعم عن ابیہ رضی الله تعالی عنہما عن النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم انہ کان یقول قبل القراءۃ اعوذبالله من الشیطن الرجیم وکلا الحدیثین ضعیف واشاربقولہ ولو صح ھذاالنقل الی عدم صحۃ الحدیثین وقولہ لم یبق مجملا ای لو صح نقل ترك الزیادۃ لذھب مصنف نے اپنے قول سے حضرت ابن مسعود رضی الله تعالی عنہ کی اسی حدیث کی طرف اشارہ کیا کہ میں نے رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم کے حضور تلاوت کی تو اعوذبالله السمیع العلیم من الشطن الرجیم کہا تو مجھ سے آپ نے فرمایا:اے ام عبد کے لڑکے !صرف اعوذبالله من الشیطن الرجیم کہواور نافع نے جبیر ابن مطعم سے انہوں نے اپنے باپ سے روایت کیاکہ رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم تلاوت سے قبل اعوذ بالله من الشیطن الرجیم پڑھتے تھے اوریہ دونوں حدیثیں ضعیف ہیں ۔اورمصنف نے اپنے قول ولو صح ھذا النقل سے دونوں ہی حدیثوں کے ضعف کی طرف اشارہ کیا ہے اور مصنف کے قول ''مجمل نہ رہتی'' کا مطلب یہ ہے
حوالہ / References حرزالامانی ووجہ التہانی باب الاستعاذہ مصطفی البابی مصر ص۱۰
#18032 · رسم القرآن
اجمال الایۃ واتضح معنا ھا وتعین لفظ النحل دون غیرہ ولکنہ لم یصح فبقی اللفظ مجملا ومع ذلك فالمختار ان یقال اعوذبالله من الشیطن الرجیم لموا فقۃ لفظ الایۃ وان کان مجملا لورودالحدیث بہ علی الجملۃ وان لم یصح لاحتمال الصحۃ ۔والله سبحنہ وتعالی اعلم کہ اگر یہ روایت صحیح ہوتی کہ زیادتی کو ترك کیا تو آیت قرآنی کا اجمال ختم ہوجاتااور اس کے معنی واضح ہوجاتے اور سورہ نحل میں وارد الفاظ ہی متعین ہوجاتے لیکن جب حدیث صحیح نہیں تو آیت مجمل ہی رہی ۔اس کے باوجود راجح اعوذبالله من الشیطن الرجیم ہی ہے کیونکہ یہ قرآنی الفاظ کے موافق بھی ہے اورحدیث بھی ان الفاظ کے ساتھ وارد ہےتو اگرروایت صحیح ثابت نہ ہو احتمال صحت تو ہے ۔
مسئلہ ۲۱: از دھرم پور ضلع ببلند شہر مرسلہ سید پرورش علی صاحب ۸شعبان ۱۳۲۳ھ
چہ می فرمایند عالمان کتاب مبین کہ الف ذاقاواستبقاالباب اوردعوا الله اور قالا الحمد خواندہ شود یانہ بینوا توجروا۔ کتا ب مبین کے علماء کیافرماتے ہیں کہ ذاقا واستبقا الباب دعوا الله اور قالا الحمد کا الف پڑھا جائے گا یا نہیں بیان فرمایئے اجر دئے جاؤگے ۔(ت)
الجواب:
درسجاوندی ایں چہار فتحہ رابقدر خفیف کہ تا الف تام نہ رسد اشباع فرمودہ استسجاوندی کتاب معتبر ست ودر دیگر کتب از تصریح بداں نیست خلافش نیز نیست وجہش مواجہ است کہ تمیز تثنیہ از مفرد است پس عمل بداں محذورے ندارد ونظیر ش فصل خفیف در قال الله تعالی" علی ما سجاوندی میں ان چار فتحوں میں ہلکا سا اشباع فرمایا گیا ہے تاکہ الف تام کی حد تك نہ پہنچےسجاوندی معتبر کتاب ہے ۔دوسری کتابوں میں اگرچہ اس کی تصریح نہیں ہے مگر مخالفت بھی نہیں ہے اوراس کی وجہ یہ ہے کہ اس سے تثنیہ مفرد سے ممتاز ہوجائے گا ۔لہذا اس پر عمل کرنے میں کوئی ممانعت نہیں ہے ۔اس
حوالہ / References شرح الشاطبیۃ سراج القاری للعلامۃ لعلی بن عثمان المعروف بابن القاصع
#18033 · رسم القرآن
" نقول وکیل ﴿۲۸﴾ " قال النار مثوىکم " وامثالھا است تا مبتداء بفاعل ملتبس نہ شود ۔والله تعالی اعلم کی نظیر الله تعالی کے ارشاد" علی ما نقول وکیل ﴿۲۸﴾
"" قال النار مثوىکم "اوراس جیسی دیگر مثالوں میں ہلکا سا فصل ہے تاکہ مبتداء کا فاعل کے ساتھ التباس لازم نہ آئے والله تعالی اعلم۔(ت)
____________________
#18036 · تشریح افلاك وعلم توقیت وتقویم
تشریح افلاك وعلم توقیت وتقویم

مسئلہ ۲۲: از ملك بنگالہ ضلع فرید پور موضع پٹوراکاندے مرسہ محمد شمس الدین صاحب
کواکب خود بالطبع آسمان میں گھومتے ہیں یا بحرکت قمری بالتبع چکر کھاتے ہیں
الجواب:
ہمارے نزدیك کواکب کی حرکت نہ طبعیہ ہے نہ تبعیہببلکہ خود کواکب بامرالہی وتحریك ملائکہ آسمانوں میں دریا میں مچھلی کی طرح تیرتے ہیں۔
قال الله تعالی " وکل فی فلک یسبحون ﴿۴۰﴾ " ۔
وقال الله تعالی" و الشمس تجری لمستقر لہا ذلک تقدیر العزیز العلیم ﴿۳۸﴾
" ۔وقال تعالی وسخرلکم الشمس والقمر دائبین " " ۔
وقال تعالی " کل یجری الی اجل مسمی " ۔ الله تعالی فرماتاہے ہر ستارہ ایك آسمان میں تیرتاہے
اورالله عزوجل فرماتاہے سورج اپنے مستقر کیلئے جاری ہے یہ غالب علم والے کا حساب ہے۔
اورالله تعالی فرماتاہے سورج اورچاند کو تمہارے لئے مسخر فرمایا جو مسلسل چل رہے ہیں۔
اورفرمایا ایك مقررہ وقت کیلئے سب حرکت میں ہیں۔
#18037 · تشریح افلاك وعلم توقیت وتقویم
ہمارے نزدیك نہ زمین متحرك نہ آسمان ۔
قال الله تعالی" ان اللہ یمسک السموت و الارض ان تزولا ۬ ولئن زالتا ان امسکہما من احد من بعدہ " ۔ (الله تعالی نے فرمایا)بے شك الله روکے ہوئے ہے آسمانوں اور زمینوں کو کہ ہٹ نہ جائیں اورجو وہ ہٹیں توخدا کے سوا انہیں کون روکے۔
سعید بن منصور اپنی سنناورعبدبن حمید اورابن جریر اورابن منذر اپنی تفاسیر میں شفیق سے راوی
قال قیل لابن مسعود رضی الله تعالی عنہما ان کعبا یقول ان السماء تدورفی قطبۃ مثل قطبۃ الرحا فی عمود علی منکب ملك قال کذب کعب
" ان اللہ یمسک السموت و الارض ان تزولا ۬"۔وکفی بھا زوالا ان تدور ۔ حضرت عبدالله بن مسعود رضی الله تعالی عنہ کو بتایا گیا کہ حضرت کعب کا کہنا ہے کہ آسمان چکی کے پاٹ کی طرح ایك کیل میں جو ایك فرشتے کے کندھے پر گھوم رہا ہےآ پ نے فرمایاکعب غلط کہتے ہیں الله تعالی فرماتاہے کہ اس نے آسمان وزمین کو ٹلنے سے روك رکھا ہے اورحرکت کے لیے ٹلنا ضروری ۔
عبدبن حمید قتادہ سے راوی:
ان کعبا کان یقول ان السماء تدورعلی نصب مثل نصب الرحافقال حذیفۃ بن الیمان رضی الله تعالی عنہما کذب کعب
" ان اللہ یمسک السموت و الارض ان تزولا ۬" ۔ حضرت کعب احبار فرماتے تھے کہ آسمان چکی کی طرح کیلے پر گھوم رہا ہے ۔حذیفہ ابن الیمان رضی الله تعالی عنہما نے فرمایا:الله تعالی کا ارشاد ہے کہ ہم نے آسمان وزمین کو ٹلنے سے روك رکھا ہے ۔
ان دونوں حدیثوں کا حاصل یہ ہے کہ حضرت افقہ الصحابہ بعد الخلفاء الاربعۃ سیدنا عبدالله بن مسعود حضرت صاحب سر رسول صلی الله تعالی علیہ وسلم سیدنا حذیفہ بن الیمان رضی الله عنہم سے عرض کی گئی:کعب کہتے ہیں کہ آسمان گھومتا ہے ۔دونوں صاحبوں نے کہا:کعب غلط کہتے ہیں ۔اوروہی آیۃ کریمہ اس کے رد میں تلاوت فرمائی ۔
حوالہ / References القرآن الکریم ۳۵ /۴۱
الدرالمنثور تحت آیۃ ۳۵/ ۴۱ داراحیاء التراث العربی بیروت ۷/ ۳۲
الدرالمنثور تحت آیۃ ۳۵/ ۴۱ داراحیاء التراث العربی بیروت ۷/ ۳۲
#18039 · تشریح افلاك وعلم توقیت وتقویم
اقول:وان کان الزاعم ان یزعم ان الزوال بمعنی الحرکۃ الاینیۃ ولکن کبراء الصحابۃ رضی الله تعالی عنہم اعرف منا بتفسیر القران فلا یجوز الاستدراك علیھم عند من نورالله بصیرتہ جعلنا الله منھم بحرمتھم عندہ امین۔ میں کہتاہوں کہ کوئی شخص یہ گمان کرسکتا ہے کہ زوال تو حرکت اینیہ کو کہتے ہیں لیکن بزرگ ترین صحابہ ہم سے زیادہ قرآن کی تفسیر کے جاننے والے تھے کہ انکے کہے ہوئے کو (رضی الله تعالی عنہم)وہ شخص رد نہیں کرے گا جسے خدا نے نوربصیرت دیا۔الله ان کے صدقے میں ہمیں بھی انہیں کے ساتھ کرے آمین ۔
مسئلہ ۲۳: ایضا
سبع سیارہ کا بیان کس آیت میں ہے:
الجواب:
قال الله تعالی" و الشمس و القمر والنجوم مسخرتۭ بامرہ " ۔ الله تعالی فرماتاہے:سورجچاند اورستارے سب اسی کے حکم کے فرمانبردارہیں۔
اور " وکل فی فلک" سے بھی اس طرف اشارہ ہے کہ اس میں سات حرف ہیں ۔اپنے نفس پر دائر اور یزین کا بیان تو بکثرت فرمایاخاص متحیرات خمسہ کا ذکر "فلا اقسم بالخنس ﴿۱۵﴾ الجوار الکنس ﴿۱۶﴾" ۔میں ہےمیں قسم یاد فرماتاہوں دبك جانے والوںچلنے والوں کی ۔یہ انکے وقوفاستقامت ورجعت کا بیان ہے کہ سیدھے چلتے ہیںپھر ٹھہر جاتے ہیںپھر پیچھے ہٹتے ہیں پھر ٹھہرتے ہیںپھر سیدھے ہوجاتے ہیں ۔اس لئے ان کو متحیرہ کہتے ہیں۔ابن ابی حاتم تفسیر امیر المومنین مولی علی کرم الله تعالی وجہہ الکریم سے فلااقسم بالخنس کی تفسیر میں راوی:
قال خمسۃ انجم زحل وعطارد والمشتریوبھرام و الزھرۃ لیس فی الکواکب شیئ یقطع المجرۃ غیرھا ۔ فرمایا:وہ پانچ ستارے ہیں:زحلعطاردمشتریمریخ زہرہ کوئی ستارہ ان کے سوا کہکشاں کو قطع نہیں کرتا۔
حوالہ / References القرآن الکریم ۱۶ /۱۲
القرآن الکریم ۳۶ /۴۰
القرآن الکریم ۸۱ /۱۵ و ۱۶
الدرالمنثوربحوالہ ابن ابی حاتم تحت آیۃ فلااقسم بالخنس داراحیاء التراث العربی بیروت ۸ /۳۹۵
#18040 · تشریح افلاك وعلم توقیت وتقویم
یعنی ثوابت میں جو کہکشاں پر ہیں وہ وہیں ہیں جو اس کے ادھر ادھرہیںوہ وہیں ہیں ان کی حرکت طبیعہ خفیفہ خفیہ ایسی نہیں کہ ابھی کہکشاں سے ادھر تھے چند ہی مدت میں اس پار چلے گئے ۔یہ شان انہیں پانچ نجوم کی ہے ۔والله اعلم
مسئلہ ۲۴: از میرٹھ لال کرتی بازار مرسلہ جناب حاجی شیخ علاء الدین صاحب ۲۸ ربیع الآخر شریف ۱۳۳۰ھ
قاعدہ استخراج تقویمات کواکب از المینک
کوکب مطلوب کے صفحات میں سےماہ مطلوبہ کے مقابل کے خانہ اپنرینٹ رایٹ اسینشن یعنی مطالع استواء سے رقم گھنٹہ منٹ سیکنڈ لے کر اس کی تحویل اجزائے محیط میں بموجب جدول پنجم کی دوسرے حصے کے کرلیں بعد تحویل کے جدول نمبردوم یعنی جدول مطالع البروج بخط الاستواء المبتدائن اول الحمل میں دے کر مطالع کی تحویل میں طوالع میں کرلیں جو حاصل ہوگا وہ درجہ تقویمی کوکب یعنی منطقۃ البروج ہوگا ۔اب اگراس تقویم بروج یونانیہ کو ہندی بروج کی تقویم میں تحویل کرنا ہوتو یونانی تقویم میں سے ۲۲درجہ ۱۰دقیقہ گھٹا دو حقیقی تقویم حاصل ہوجائیگی یعنی مشاہدہ جس برج پر اورجس درجہ میں وہ کوکب ہوگا وہ درجہ ان کا آئے گا اوریہ وہ فرق ہے جو نقطہ حمل کے اپنے مرکز اصلی کے ہٹ جانے سے پیدا ہوگیا ہے ۔
الجواب:
یہ قاعدہ محض باطل ہے ۔واضع نے جزء عاشر کو جزء تقویمی سمجھ لیا ۔اس عمل سے فلك البروج کا وہ جز حاصل ہوگا کہ ہنگام طلوع کوکب دائرہ نصف النہار پر ہویہ عاشر ہے نہ کہ تقویم۔فقیر غفرلہ نے المنك سے تقویمات کواکب نکالنے کے چار طریق رکھے ہیںنیز اس سے استخراج طالع وقت کے چار طریق اوران کے بیان میں رسالہ مسفر المطالع للتقویم والطالع لکھا اس کے طریق سوم کا سب میں پہلا ابتدائی خفیف عمل یہ ہے جس کا نام واضع نے ''قاعدہ استخراج تقویم''رکھاہم ا س مقام سے اپنے رسالہ کے چند سطور نقل کریں کہ حال واضح ہو۔
طریق سوم استعلام تقویم کوکب از مطالع ممرد میل او اقول:(۱)ساعات مطالع ممررادرنہ زدہ در جدول مطالع استوائیہ مقوس کنند تاعاشر بدست آید۔(واضع صاحب کا قاعدہ یہیں ختم ہوگیااس کے بعد ملاحظہ ہوکیا کیا درکار ہے کہ تقویم تیسرا طریقہ ستاروں کی گزرگارہ اوراس کے میل سے تقویم کوکب(ستارے کے حال)کے معلوم کرنے کا ہے ۔میں کہتا ہوں:(۱)گزرگاہ کے مطالع کی ساعتوں کو نو(۹)سے ضرب دے کر مطالع استوائیہ کے جدول(نقشے)میں تقویس (جیب کے
#18042 · تشریح افلاك وعلم توقیت وتقویم
حاصل ہو)(۲)میلش برآرند(۳)پس اگرموافق الجہۃ باشد یا میل کوکب آنگاہ میل عاشر را برتمام میل کوکب افزایند ورنہ کاہند راگردر فزودن ازصہ بیرون رودتمامش تاقف گیرند ارتفاع عاشر باشد(۴)ظل تمامش گرفتہ منحط گردہ محفوظ دارند(۵)یازیر مطالع ممر محلوم ربع در فزودہ مجموع رادرج سوا اعتبار کردہ جیب بعدش از اعتدال اقرب گیرند (۶)ایں جیب رادرجیب میلی کلی منحط زدہ حاصل رادر محفوظ زنندظل تعدیل طالع بدست آید(۷)درجدول ظل مقوس کنند کہ تعدیل است(۸)لیس ہماں درج سواز امر مطالع استوائیہ گیر ند(۹)باز نظر کنند کہ میل کوکب شمالی ست یا جنوبی بحال شمالیت اگرعاشر درنصف جدوی اعنی از اول جدی تا آخر جوزا باشد تعدیل رابریں مطالع استوائیہ افزایند مگر میل عاشر درربع اول منطقہ از یداز میل کوکب باشد واگردرنصف سرطانی اعنی از اول سرطانی تاآخر قوس بودتعدیل رااز مطالع مذکورہ کاہند مگر انکہ عاشر زائد المیل در ربع دو م منطقہ بود بحال جنوبیت اگرعاشردرنصف سرطانی است تعدیل افزایند مگرانکہ زائد المیل درربع سوم باشد واگردرمنطقہ بود بحال نصف جدوی ست ۔کاہند مگرآنکہ بازیادت میل درربع باشد (۱۰)عمل معلوم حسب حاجت کنند کہ تقویم است۔ مقابل آنے والی تقویس یعنی دائرے کے حصے کا معلوم)کریں تاکہ عاشر(دسواں حصہ)ہاتھ آئے(واضع صاحب کا قاعدہ یہیں ختم ہوا)اس کے بعد ملاحظہ ہوکیا درکار ہے کہ تقویم حاصل ہو(۲)اس کا میل نکالیں(دائرہ معدل النہار سے آفتاب کی دوری کو میل اوردوسرے ستاروں کی دوری کو بعد کہتے ہیںاس عبارت میں ستارے کی دوری کو بھی میل کہا گیا ہے)(۳)پھراگر میلجہت میں موافق ہو میل کواکب کے تو اس وقت میل عاشر کو تمام میل کوکب پر بڑھائیں گے اوراگرجہت میں موافق نہ ہوتوکم کردینگےاگر زیادہ کرنے کی صورت میں صہ(ساٹھ درجوں سے زائد ہوتو تمام میل قف(ایك سو اسی۱۸۰درجے)تك لیںیہ عاشر کا ارتفاع ہوگا۔ (۴)اس کا ظل تمام لے کر کم کریں اورباقی محفوظ کرلیں۔ (۵)پھرگزرگاہ کے مطلع پر چوتھائی حصے کو زائد کر کے مجموع کا اعتبار کر کے اس کے بعد کا جیب اعتدال سے قریب لیں ۔ (۶)اس جیب کو میل کل سے کم کرکے محفوظ میں ضرب دیں ظل تعدیل طالع حاصل ہوجائے گا ۔(۷)ظل کے جدول میں اس کی تقویس کریں کہ تعدیل ہے ۔(۸)پس اسی مجموع کو مطالع استوائیہ سے لیں(۹)پھردیکھیں کہ ستارے کا میل شمالی ہے یاجنوبیاگرشمالی ہے اورعاشر نصف جدوی یعنی برج جدی کی ابتداء سے جوزاء کے آخر تك ہے تو تعدیل کو ان مطالع استوائیہ پر زیادہ کریں گےمگر اس صورت میں کہ عاشر کا میل منطقہ کے ربع اول میں میل کوکب سے زیادہ ہو
#18044 · تشریح افلاك وعلم توقیت وتقویم
اوراگرنصف سرطانی یعنی برج سرطان کی ابتداء سے لے کر برج قوس کے آخر تك ہوتو تعدیل کو مطالع مذکورہ سے کم کردیں گے مگر اس صورت میں کہ عاشر کا میل منطقہ کے ربع دوم میں زیادہ ہو میل کو کب سے اوراگرستارے کا میل جنوبی ہے اگر عاشر نصف سرطانی میں ہے تو تعدیل کو زیادہ کریں گے مگر اس صورت میں کہ عاشر کا میل کوکب کے میل سے زیادہ ہو۔اوراگر نصف جدوی میں ہوتو تعدیل کو مطالع مذکورہ سے کم کردیں گےمگر اس صورت میں کہ عاشر کامیل کوکب کے میل سے زیادہ ہو۔اوراگر نصف جدوی میں ہو تو تعدیل کو مطالع مذکورہ سے کم کردیں گے مگر اس صورت میں کہ میل زیادہ ہواورربع میں ہو (۱۰)عمل معلوم حاجت کے مطابق کریں کہ یہی تقویم ہے ۔(ت)
زیج بہادر خانی سے مطالع استوائیہ کا ایك جدول بعینہ نقل کردیا ہے ۔ہم نے اپنے محاسبہ خاصہ سے اس کی تجدید کی ہےتاہم یہ بھی تقریب کو کافی ہے ۔بروج یونانیہ و ہندیہ میں ۱۰۲۲کا فرق بشدت غلط ہے ببلکہ اسی سال کے آغاز یعنی یکم محرم ۱۳۳۰ھ کو مالث م م لومہ فرق تھایعنی ۳۷ ۴۰۴۰ ۲۲سے کچھ زائد اورروزانہ ترقی پر ہے ۔یہاں تك دنیا باقی رہی تو رجب ۱۷۹۲ھ میں پورے ایك برج کا تفاوت ہوجائےگا اس الثور سے ہندی سیکھ کی شنکرانت ہوگی۔اس ہندی حساب کو حقیقی تقویم کہنا ٹھیك نہیں ۔حقیقی تقویم یہی ہے جو محل تقاطع سے ہےاسی سے حساب فصول ہےاسی سے حساب کمی بیشی روزوشب ہےاسی سے حساب مطالع ہےاسی سے حساب طلوع غروب وسائر اوقات ہےہندی تقویم تقویم صوری ہے کہ صورت پر ستوں نے صورت کواکب پر اس کی بنارکھی ہے ۔والله تعالی اعلم
مسئلہ ۲۵: از میرٹھ بازارلال کرتی مرسلہ شیخ علاؤ الدین صاحب ۱۱شوال مکرم ۱۳۳۰ھ
حامی سنتماحی بدعتمخدومی ومعظمی حضرت مولانا مولوی احمد رضا خان صاحب مدظلکم العالیبعد تقدیمہدیہ سلام ومراسم نیاز مندی عرض ہے کہ مولوی عبدالله صاحب جنہوں نے قاعدہ استخراج تقویم کواکب از مطالع استوائیہ مرقومہ المینك کمترین کو بتایاتھا ان سے جب کمترین نے ان کے قاعدہ کی غلطی کا اظہار کیا اورجناب والا کی تحریردکھائی اس سے اطمینان نہ ہوا اورجناب والا کی تحریری کا مفہوم ان کی سمجھ میں نہیں آیاببلکہ وہ کہتے ہیں کہ یہ قاعدہ بالکل ٹھیك ہے اورمیں اپنی ولایتی ستارہ بیں مشاہدہ کواکب کو دکھا کر آپ کا اطمینان کراسکتاہوںچنانچہ کمترین نے ان سے وعدہ لیا ہے کہ بعد رمضان المبارك چند روز کے واسطے مع ستارہ بیں کے یہاں تشریف لاکر میرا اطمینان کردیں۔لہذا امید
حوالہ / References مسفر المطالع للتقویم والطالع
#18047 · تشریح افلاك وعلم توقیت وتقویم
کہ اس وقت تك رسالہ مسفر المطالع کے طبع کرنے میں توقف کیا جائے ۔زیادہ حد ادب !
الجواب:
اس قاعدہ تقویم کی نسبت گزارش ہے کہ:
(۱)ستارہ بیں کے آنے پر کیوں محمول فرمائیے خود المینك ایك اعلی ستارہ بیں ہے ۔اس سے ملاحظہ کیجئے جس وقت اس نے دوکوکبوں کا قرآن لکھا ہے اگران میں ایك قمر ہے تو اس کی تقویم وقت قرآن کےلئے تعدیل مابین السطرین سے لیجئے اوردوسرے کی اس قاعدہ سے ملاحظہ ہوکر دونوں میں کتنافرق آتاہے
(۲)یہ بھی نہ سہی نہایت سہل امکان گزارش کروں قمر کی تقویم نصف النہار ونصف اللیل روزانہ مکتوب ہے اورہر گھنٹے کے مطالع ممر بھی ان مطالع کو تحویل وتقویس کر کے دیکھ لیجئے کس قدر تفاوت پڑتاہے مثلا ایك مثال گزارشاس سال اکتوبر ۱۲بجے کے مطالع لکھے ہیں۔/۵ء۶۵۴۵۵۵ث درجات ہیں اس کی تحویل ہوئی ۔تح تح نٹ بط جدول مطالع استوائی میں اس کے طوالع ہوئے ۳۸ ۰۲ ۱ حالانکہ اس وقت تقویم قمر ہے'۲۸ ۱۰ نصف درجہ کا فرق ہوا کہ ہرگز مخفی نہیں اور کہیں اس سے بھی زائد آئے گا کہیں کم کہیں قریب تطابق۔یہ عقم قاعدہ کی دلیل روشن ہے یہی حال ہر کوکب میں ہوگا مگرشمس اس میں حاجت نہیں کہ اس کی جس وقت کے مطالع ممرلکھے اسی وقت کی تقویم ضو بھی مکتوب ہے ۔
(۳)اہل ہیئات جدیدہ سہولت کے کمال حریض ہیں حتی کہ اس کے لیے مساہلت گوار اکرتے ہیں جیسا کہ ان کے اعمال وحقائق اعدائی کے مطالع پر مخفی نہیں یہاں بھی جو قواعد برہانیہ کے فقیر نے استنباط کئے ایسے نہ تھے ان کی فکر وہاں تك پہنچتی مگر طول امل وکثرت عمل کے باعث ان سہل انگاروں نے ان سے گریز کر کے یہ آسان قاعدہ رکھا جو میں نے آپ سے یہاں گزارش کیا تھا۔اسی کی خاطر روزانہ ہر کوکب کا طول بفرض مرکز یت شمس اور عرض بفرض مذکور اور لو گارثم بعد کے خانے دیے اور اتنے اعمال گوارا کئے اگر وہ سہل سی بات کافی ہوتی تو کیا انکا سر پھرا تھا کہ تحقیق وتدقیق چھوڑ کر تطویل میں پڑتے ۔
(۴)صرف دو خط افق ونصف النہار تو کیا کام دے سکتے ہیں ہاں ایسے آلات میں ارتفاع بنانے کو اورخطوط بھی ہوتے ہیں مگر مقنطرات دوائر عریضہ میں بون بعید ہے ہاں یہ کہ کوکب اول السموت پر ہوا اورعرض اقلیم رویت منتفی وہ نادرہ ہے اوریہ بریلی ومیرٹھ اوران سے شمال میں آخرتك اور جنوب میں تقریبا ساڑھے تین سو میل تك عادۃ ناممکن ہے اگرچہ قدرت میں سب کچھ ہے ۔
#18049 · تشریح افلاك وعلم توقیت وتقویم
(۵)ایك قول فیصل عرض کروںدوحال سے خالی نہیںستارہ بیں سے جو تقویم نظر آئی تقویم محسوب بقاعدہ مولوی صاحب سے مطابق ہوگی یا مخالفاگرمخالف ہو جب توصحت قاعدہ کا ثبوت ہی نہ ہوااورمطابق ہو تو اورالٹی غلطیقاعدہ کا ثبوت ہوگیا کہ انکسار کدھر جائے گااور اختلاف منظر کدھر جائے گا تقویم مرئی کبھی تقویم حقیقی کے مطابق نہیں ہوتی حتی کہ اس وقت بھی کہ کوکب دائرہ نصف النہار پر ہومگر صرف اس حالت نادرہ میں کہ عین سمت الراس پر ہو۔
جناب نے طبع رسالہ ابھی ملتوی رکھنے کا فرمایا ہے وہ خود ملتوی ہے ۔ردوہابیہ خذلہم الله تعالی کے دس رسالے زیر طبع ہیں:
(۱)سلی الثبوت(۲)ایجاب النکیر(۳)سبحن السبوح(۴)مزق تلبیس(۵)الھیۃ الجباریہ(۶)دامان باغ(۷)پیکان جانگداز(۸)القمع المبین(۹)تعالی السبوح(۱۰)تازہ عطیہ
پھر ان کے بعد ان شاء الله الکریم الدولۃ المکیہالفیوض الملکیہحاسم المفتریالقثم الخاصمالکاری فی العادی والغادیالجسم الثانویاشد الباسادخال السناناقامۃ الموانۃنور الفرقان کی باری ہے ۔وحسبناالله ونعم الوکیل ۔
وہابیہ کی خدمت گزاری سے فرصت ہوتو اورطرف توجہ ہو لیکن اگر یہ فرمان اس بناء پر ہے کہ شاید ستارہ بیں قواعد رسالہ کی غلطی ثابت کرے تو کس سے اطمینان فرمائیںسواس قاعدہ کے جو میں نے جناب سے گزارش کیا اورمعمول ہیأت جدیدہ ہے کہ تقریب قریب ہوتاہے مگر تحقیق سے دقیقہ تك تفاوت لاتاہے ۔قواعد کہ فقیر نے استنباط کئے مبرہن ببراہین ہندسیہ ہیںاگر ان کے خلاف بتائے تو یقینا آلہ غلط ہے نہ کہ براہین ۔بعض آلات خود ناقص ہوتے ہیں بعض کو بنانے والا غلط بناتاہےبعض وقت صحیح آلہ غلط لگایا جاتاہےبعض وقت مدلول آلہ کو لگانے والا غلط ادراك کرتاہےآلہ اپنے منتہائے کار کے بعد بھی حساب کا محتاج ہے اورحساب اکثرمحتاج آلہ نہیںآلہ کیساہی دقیق ہو دقیق حساب تك نہیں پہنچ سکتاحساب توالی ثوالث بناتاہے اورعام آلات صرف درجات یا غایت درجہ انصاف درجہ اگر دقائق بتائے تو اعجوبہ دہرہے مگر توالی ضرورنامتصور ۔آخریہ تو قاعدہ کے متعلق سمع خراشی تھی اتنا فقیر کو مامول کہ اس ستارہ بیں کی قیمت اورجائے وجہ ان سے مطلع کیا جاؤں ۔ جناب فرماتے ہیں بہت بیش قیمت ہے تو میں کہا پاسکوںمولوی صاحب نے کہاں سے حاصل فرمائیکس طرح ملیجب ایسی بیش قیمت ہے تو زحل کے حلقے مشتری کے چاروں قمر جو لودسلطا وغیرہما کواکب جدہدہ بھی دکھاتی ہوگی ۔والسلام مع الاکرام
#18051 · تشریح افلاك وعلم توقیت وتقویم
مسئلہ ۲۶: از میرٹھ محل مذکور ۱۲شوال ۱۳۳۰
حامی دین متینناصر شرع مبین مدظلکم العالی۔بعد تقویم ہدیہ سلام ومراسم نیاز مندی مطالع استوائیہ کواکب جو المنك میں مرقوم ہیں وہ صحیح اورحقیقی مطالع ہیں یا نہیںاورباعتبار مرکز زمین استخراج کئے گئے ہیں یا نہیںامید کہ جواب سے جلد سرفراز بخشی جائےنہایت مشکو رامر باعث ہوگا۔زیادہ نیاز۔عریضہ کمترین علاؤالدین۔
الجواب:
رئیس دین پرور دامت محالیہ السلام علیکم ورحمۃ الله وبرکاتہ ۔المنك میں جو مطالع ممرشمس وقمر وہرکوکب کے لے ہیں سب بلحاظ مرکز زمین حقیقی اور بقدر کافی تحقیق وصحیح ہیں مگران سے طوالع حاصل کرنا شمس میں ہمیشہ تقویم سے مطابقت لائے گااور دیگر کواکب میں نادراکثر اختلاف دے گاجس کی مقدار نصف درجہ سے بھی زائد تك ہوگی۔وجہ یہ ہے کہ یہ مطالع حقیقۃ مطالع اجزاء منطقۃ البروج ہیں کہ انہیں کے میل وبعد عن الاعتدال الاقرب سے اخذ کئے جاتے ہیں ۔شمس دائما ملازم منطقہ ہے تو اس کی تقویم ہمیشہ نفس منطقہ پر ہوتی ہے اوروہی طوالع مطالع ہیں ۔بخلاف دیگر کواکب کے کہ اپنے تمام دورہ میں صرف دوبار منطقہ پر آتے ہیں جب کہ اپنے راس وذنب پر ہوں یا متحیرات کے باعث دوچار بار اوراسی وقت تقویسی مطالع ان کی تقویم ٹھیك بتائے گی یا اس وقت کہ کوکب مارہ بالا قطاب الاربعہ پر ہوکہ اب میلیہ وعریضہ متحد ہوجائیں گے باقی اوقات اختلاف دے گی۔والسلام
مسئلہ ۲۷: از میرٹھ مرسلہ حاجی صاحب مذکور ۳۰شوال ۱۳۳۰ھ
کمترین کو فی الحال بعد ملاقات مولوی عبدالله صاحب کے بیشك یہ خیال پیداہوگیا تھا کہ اس ستارہ بیں کے مشاہدے سے مولوی صاحب ممدوح کے قاعدہ کی تصدیق ہوجائےگی تو اس صورت میں رسالہ معلومہ کے قاعدہ میں کچھ سہو سمجھنا پڑےگا مگر چونکہ حضور والا کی تحریر سے معلوم ہوگیا کہ رصدی آلہ کے مشاہدات سے براہین ہندسیہ کی تردیدنہیں ہوسکتی لہذا ایسی صورت میں ستارہ بیں کے مشاہدات سے استدلال ہی فضول ہے ۔قبل ازیں کمترین کو یہ گمان تھا کہ آلہ وصدر کے مشاہدات سے جو بات ثابت ہوئی اس میں غلطی کی گنجائش نہیں ہے ۔اس وجہ سے کمترین نے رسالہ مسفر المطالع کے متعلق التواکی درخواست کی تھی مگراب چونکہ حقیقت اس کے خلاف نکلی لہذا اس کے طبع کرانے میں التواکی ہرگز ضرورت نہیں ہے صرف ایك بات دریافت طلب رہ گئی ہے کہ تقویس مطالع کواکب سے جو تقدیم حاصل ہوتی ہے اس کا فرق تقویم اصلی سے زیادہ سے زیادہ کس قدر ہو سکتاہے ۔یعنی ایك درجہ سے زیادہ فرق ہوسکتا ہے یا
#18053 · تشریح افلاك وعلم توقیت وتقویم
نہیںامید کہ جواب سے سرفرازبخشی جائے ۔حضور کے دوسرے والانامہ سے یہ بالکل تحقیق ہوگئی کہ تقویس مطالع ممر سے دوسرے کواکب کی تقویم اصلی سوائے چند خاص نادر موقعوں کے نہیں نکل سکتی ۔اس قدر سمع خراشی اورتکلیف دہی کی جو ان تحریرات وغیرہ میں حضوروالا کو ہوئی نہایت اد ب سے معافی چاہتاہو ں ۔عریضہ کمترین علاء الدین عفی عنہ
الجواب:
ہاں ایك نہیں ڈیڑھ درجے سے بھی زائد غلطی دے گا ۔مثال حاضر ۸رمضان المبارك ۱۳۳۰ھ مطابق ۲۲ اگست ۱۹۱۲ ء عطارد کے مطالع استوائی عینی مطالع ممرتھی ط ت نرما قوس میں ایك کی تحویل نمط مالہ بہ جدول مطالع استوائی میں اس کی تقویس(ج ۔۔۔۔)یعنی برج اسد(۵۲ ۲ ۱ ۷ ۲)یہ تو وہ قاعدہ ہوا۔اب اصل قاعدہ سے چلئے تقویم عطارد بمرکز شمس(۹ ۳ ۹ ۱ ۲۹ ۳)تقویم شمس(۴۲ ۵۹ ۴۸ ۱)نظیرش(۴۲ ۵۹ = ۲۸ ۳)تقویم کب ۔نظیر تقویم شمس =(۷ ۵ ۹ ۱)زاویۃ الشمس نصفہا ۵۹ ۹ ٭ ۹ _ ۵۹ ۹ = ۱ ۵ ۹ ۸ محفوظ ظلہ ۵۳۶۲۷۲۷ء عرض عطارد بمرکز یت شمس ۱ ۵ ۶ نماز ۹ ۳ ۸جیبہ ۹۹۶۸۸۸۸ء۹+لو بعد عطارد ۵۹۵۷۵۵۵ ء ۹ = ۵۹۲۶۴۴۳ ء ۹مفروق از بعد شمس ۰۰۴۸۱۵۹ء ۱۰ =۴۱۲۱۷۱۶ء ۱۰ قوسہ فی جدول الظل ۵۔۶۸۔۴۵ =۵۰۔۲۳ ظلھا ۶۴۵۱۷۴۳ء ۹+ظل محفوظ ۱۸۱۴۴۷۰ء ۱۲ قوسہ فی الظل ۳۷۔۸۹: محفوظ۔۳۷۔۸۹=۱۳ زاویۃ الارض:تقویم شمس ۱۳ ۔۴۲۔۴۶۔۱۴۸ یعنی اسدکے۴۲۔۴۶۔۲۸ ملاحظہ ہو کہ واقع میں تقویم پونے انتیس درجہ میں بھی زائد تھی اوراس قاعدہ نے ستائیس درجے سے بھی کم بتائی ۔
والسلام مع الکرام فقیر غفرلہ ا زبریلی شوال المکرم ۱۳۳۰ہجریہ
مسئلہ ۲۸: از شہر بہاریپور مرسلہ نواب سلطان احمد خان صاحب ۷شوال ۱۳۲۶ھ
آج کل تیسرے درجہ کا سنبلہ کس وقت طالع ہوتاہے
الجواب:
آج کل درجہ سوم سنبلہ کا طلوع صبح کے آٹھ بجے کے بعد اس تفصیل سے ہے:
یوم تاریخ قمری تاریخ شمسی وقت طلوع انتہائے طلوع
پنجشنبہ ۸شوال ۱۳۳۶ھ ۱۸جولائی ۱۸۶۰ء گھنٹہ منٹ سکنڈ گھنٹہ منٹ سکنڈ
۸ ۲۸ ۴۷ ۸ ۲۳ ۲۳
جمعہ ۹ ۱۹ ۸ ۲۴ ۵۱ ۸ ۲۹ ۲۷
شنبہ ۱۰ ۲۰ ۸ ۲۰ ۵۵ ۸ ۲۵ ۳۱
#18055 · تشریح افلاك وعلم توقیت وتقویم
وقت ریلوے دیا ہے جو آجکل گھڑیوں میں رائج ہے ۔والله تعالی اعلم
مسئلہ ۲۹: مسئولہ نواب امیراحمد خان صاحب ۱۵ربیع الاول شریف ۱۳۳۶ھ
حضور عالی ! جدول تحویل تاریخ عیسوی بہ ہجری میں میرے پاس مقابل چھ سو سال کے اہانب لہ ہے ۔حضورنے اہانب ل لکھا ہے کیا اس جدول میں تبدیلی کی گئی ہے تو مجھ کو از سر نو نقل لینی ہوگی
الجواب:
اہانب ل ہی ہے صحیح وبجا۔یہ نب لہ کسی ابلہ نے لکھو ادیااس جدول میں ترمیم کا ضرور خیال ہے مگر ابھی ہوئی نہیںوہ ترمیم اسے بالکل کایا پلٹ کر دے گی حتی کہ مداخل شہور وسنین بھی بدل جائیں گے اوروہی صحیح واصح ہوں گےاس وقت نہ یہ اہانب ل ہوگا نہ نب لہ کچھ اورہی ہوگا۔غالبا اہانب الہ ہوفقط
مسئلہ ۳۰: از نسواہ قادریہ جونیر مدرسہ ضلع چاٹکام مرسلہ مولوی جمال الدین صاحب ۲۷رمضان ۱۳۳۸ھ
وقت نماز وصوم از گھری معین نمودن قطع نظر از آفتاب و ماہتا ب آیا جائز شود یا چنانچہ بعض دیوبندی قائل آنست برتقدیر عدم جائز چہ دلیل عقلا ونقلا باید وموجد گھڑی کیست و کدام وقت ایجادش گردید وچراائمہ ازوے وقت صوم وصلوۃ مقرر نہ نمودند۔ نماز وروزہ کا وقت گھڑی سے معین کرنا سورج اورچاند سے قطع نظر کرتے ہوئے جائز ہے یا نہیںبعض دیوبندی اس کے قائل ہیںناجائز ہونے کی صورت میں اس پر کون سی عقلی و نقلی دلیل ہوگیگھڑی کا موجد کون ہے اورکون سے زمانے میں ایجاد ہوئیاورائمہ کرام نے اس کے ساتھ نماز اور روزے کا وقت کیوں مقرر نہیں فرمایا۔(ت)
الجواب:
موجد آلہ سماعت مردے از منجمان زمانہ ہارون رشید راگفتہ اند والله اعلم بہ فاما تازمانہ ائمہ ببلکہ تاچند صد سال پیش از زمان مارواجش نبود واعتماد بروآنکس راکہ علم توقیت نداند حرام ست ہمچناں بریك آلہ سماعت اعتماد نشاید کہ گھڑی کا موجد ہارون الرشید کے زمانے کاایك نجومی مرد بتایا جاتا ہے ۔اورالله تعالی خوب جانتاہے ۔ائمہ کرام کے زمانے میں ببلکہ ہمارے زمانے سے چند سو سال پہلے تك اس کا رواج نہ تھا۔علم توقیت نہ جانے والے شخص کےلئے اس
#18057 · تشریح افلاك وعلم توقیت وتقویم
دفعۃ خود بخود پیش وپس می شود آرے ہرکہ علم توقیت داندہ آلہ سماعت رامحافظت تواند بروکارمیتواں کرد کما افادہ فی الدر المختار دیوبندیاں خود از توقیت ہمچناں بیگانہ اند کہ از دین و اعتماد برفتوائے آنہا حرام تراز آنست کہ برساعت بے تمکین۔ والله تعالی اعلم آلہ پر اعتماد کرنا حرام ہے ۔اسی طرح صرف ایك گھڑی پر اعتماد نہیں کرنا چاہیے کہ بعض اوقات خود بخود آگے پیچھے ہوجاتی ہے۔ہاں جو شخص علم توقیت جانتاہے اورگھڑی کی حفاظت کر سکتاہے وہ اس پر عمل کرسکتاہے جیسا کہ درمختارمیں اس کا افادہ فرمایاہے ۔دیوبندی تو خود علم توقیت سے اسی طرح ناآشنا ہیں جیسے دین سے ۔ان کے فتوے پر اعتماد کرنا گھڑی جیسے بے اعتبارآلہ پر اعتماد کرنے سے بڑھ کر حرام ہے ۔والله تعالی اعلم(ت)
__________________
#18058 · سیرت و فضائل و خصائص سیّد المرسلین صلی الله علیہ وسلم
سیرت و فضائل و خصائص سید المرسلین صلی الله علیہ وسلم

مسئلہ ۳۱: از مقام گنڈارہ تحصیل گنج ضلع بہرائچ مرسلہ عبدالله میاں جی صاحب معرفت سید سلطان احمد صاحب ۱۰رمضان المبارك ۱۳۳۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ آنحضرت صلی الله تعالی علیہ وسلم کی ولادت کی خبر جب ثویبہ جاریہ ابی لہب نے ابو لہب کو سنائی اس وقت ابولہب نے خوش ہوکر ثویبہ کو آزاد کردیا پھر کئی دن تك ثویبہ نے حضرت صلی الله تعالی علیہ وسلم کو دودھ پلایاپھر ابولہب کواس کے مرنے کے بعدخواہ حضرت عباس رضی الله تعالی عنہ نے یا اورکسی نے خواب میں دیکھا اور پوچھا:کیا حال ہے تیرا بولا:آگ میں ہوں لیکن تخفیف ہوتی ہے ۔ہر دوشنبہ کی رات اورچوستاہوں دو انگلیوں سے پانیجن کے اشارے سے آزاد کیا تھا ثویبہ کو۔یہ قصہ اکثر معتبرین سے سناگیا ہےاورعلامہ جزری علیہ الرحمہ نے بھی اپنے رسالہ میلاد شریف میں اس کو لکھا ہے اوراس کے بعد یہ لکھا ہے:
اذاکان ھذا ابولھب الکافرالذی نزل القران بذمہ جوزی فی النار بفرحہ لیلۃ مولد النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم بہ فما حال المسلم الموحد جب یہ حال ابو لہب جیسے کافر کا ہے جس کی مذمت میں قرآن نال ہوا کہ نبی کریم صلی الله تعالی علیہ وسلم کی ولادت کی شب خوشی منانے کی وجہ سے اس کو بھی قبر میں بدلہ دیا گیا توآپ کے موحد ومسلمان
#18060 · سیرت و فضائل و خصائص سیّد المرسلین صلی الله علیہ وسلم
من امتہ صلی الله تعالی علیہ وسلم الی آخرہ ۔ امتی کا کیا حال ہوگا الخ۔(ت)
اس پر ایك شخص کہتاہے کہ یہ کیونکر صحیح ہوسکتاہے جبکہ قرآن شریف میں الله جل شانہ خبردیتاہے ابولہب کی نسبت " ما اغنی عنہ مالہ و ما کسب ﴿۲﴾" کہ نہ نفع دیا اس کو ا س کے مال اوراس کے فعل نے ۔پس مال لونڈی اورفعل اس کا آزاد کرنا۔ورنہ خواب خیال کی باتیں آیات قرآنیہ کے مقابل میں کیونکر صحیح ہوں گیپس اس کی تطبیق کیونکر صحیح ہوگی ۔بیان فرمائیے ۔
الجواب:
یہ روایت صحیح بخاری شریف میں ہےائمہ نے اسے مقبول رکھا اور اس میں قرآن عظیم کی اصلا مخالفت نہیں ۔قطع نظر اس سے یہ اغنانہ ہوا اس کا سبب حضور پرنور رحمت عالم صلی الله تعالی علیہ وسلم سے علاقہ ۔حضور کی ولادت کریمہ پر خوشی کہ یہ نہ اس کا مال ہے نہ اس کا کسب وفعل اختیاری ۔یہ تو کیا ایسا فائدہ ہے حضور اقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم سے علاقہ ابو طالب کو ایسا کام آیا کہ سراپا آگ میں غرق تھے ۔حضور انورصلی الله تعالی علیہ وسلم نے پایاب آگ میں کھینچ لیا کہ اب صر ف تلووں میں آگ ہے حالانکہ کفار کے حق میں اصل حکم یہ ہے کہ:
" لا یخفف عنہم العذاب ولا ہم ینظرون﴿۱۶۲﴾" ۔ نہ ان سے عذاب ہلکا کیا جائے نہ کوئی ان کی مدد کرے ۔
صحیح بخاری وصحیح مسلم میں عباس رضی الله تعالی عنہ سے ہے رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:
نعم ھو فی ضحضاح من نار ولو لاانا لکان فی الدرك الاسفل من النار ۔ وفی روایۃ وجدتہ فی غمرات من النار ہاں وہ تھوڑی سے آگ میں ہےاگر میں نہ ہوتا تو وہ جہنم کے سب سے نچلے درجے میں ہوتا ۔ اورایك روایت میں ہے کہ میں نے اس کو جہنم کی
حوالہ / References المواہب اللدنیہ المقصد الاول المکتب الاسلامی بیروت ۱/۱۴۷
القرآن الکریم ۱۱۱ /۲
القرآن الکریم ۱۶۲ /۲
صحیح مسلم کتاب الایمان باب شفاعۃ النبی صلی الله علیہ وسلم لابی طالب الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۱۵،صحیح البخاری کتاب الادب باب کنیۃ المشرك قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۹۱
#18063 · سیرت و فضائل و خصائص سیّد المرسلین صلی الله علیہ وسلم
فاخرجتہ الی ضحضاح ۔ گہرائیوں میں پایا تو اس کو تھوڑی سے آگ کی طرف نکال لیا۔
اسی طرح صحیحین میں ابو سعید خدری اور مسند بزاروابویعلی وابن عدی وتمام میں حضرت جابر بن عبدالله اورمعجم کبیر طبرانی میں ام المومنین ام سلمہ سے ہےرضی الله تعالی عنہم اجمعین امام عینی شرح صحیح بخاری میں فرماتے ہیں:
فان قلت اعمال الکفرۃ ھباء منشور لافائدۃ فیھا قلت ھذ ا النفع من برکۃ رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم وخصائصہ ۔ اگر تو کہے کہ کافروں کے اعمال تو بکھر ے ہوئے غبار کے ذروں کی طرح ہوتے ہیں جس کا کوئی فائدہ نہیں ہوتاتو میں کہوں گا یہ نفع رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی برکت اورآ پ کے خصائص سے ہے ۔(ت)
امام ابن حجر کی فتح الباری شرح بخاری میں ہے:
یؤید الخصوصیۃ انہ بعد ان امتنع شفع لہ حتی خفف عنہ العذاب بالنسبۃ لغیرہ ۔ اس خصوصیت کی تائید اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ ایمان لانے سے انکار کے بعد بھی آپ نے اس کےلئے شفاعت کی یہاں تك کہ اس کے عذاب میں دوسروں کی بنسبت تخفیف کردی گئی ۔(ت)
اسی طرح مجمع بحار الانوار وغیرہ میں ہےان سب کا حاصل یہ ہے کہ یہ نفع کافر کے عمل سے نہ ہوا بلکہ حضوررحمۃ للعالمین کی برکت سےاوریہ خصائص علیہ حضوراکرم صلی الله تعالی علیہ وسلم سے ہے ۔والله تعالی اعلم ۔
مسئلہ ۳۲: از بارکپورمرغی محالمسجد حافظ محمد جعفر صاحب مرسلہ پیش امام صاحب ۱۰رمضان المبارك ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ قیام مولود شریف فرض ہے یا واجب ہے یا سنت
حوالہ / References صحیح مسلم کتاب الایمان باب شفاعۃ النبی صلی الله علیہ وسلم لابی طالب الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۱۵
عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری کتاب المناقب باب قصۃ ابی طالب ادارۃ الطباعۃ المنیریۃ بیروت ۱۷ / ۱۷
فتح الباری شرح صحیح البخاری کتاب التفسیر سورۃ القصص مصطفی البابی مصر۱۰ /۱۲۳
#18065 · سیرت و فضائل و خصائص سیّد المرسلین صلی الله علیہ وسلم
عمروکہتاہے کہ قیام مولود شریف ہاتھ باندھ کر ہوناچاہیے اورزید کہتا ہے کہ ہاتھ چھوڑ کر ہونا چاہیےتو بتلائیے کہ کس کی بات سچ ہے
الجواب:
ہاتھ باندھ کر کھڑے ہونا بہتر ہے جیسا کہ حاضری روضہ انور کے وقت حکم ہے۔فتاوی عالمگیری میں ہے: یقف کما یقف فی الصلاۃ ایسے کھڑا ہوجیسے نماز میں کھڑا ہوتاہے ۔(ت)اسی طرح لباب وشرح لباب واختیار شرح مختار وغیرہا کتب معتبرہ میں ہے _______________قیام مجلس مبارك مستحب ہے اورمجلس کھڑی ہوتوسنتاورترك میں فتنہ یا الزام وہابیت ہوتو واجب کما فی ردالمحتار فی قیام الناس بعضھم لبعض۔ (جیسا کہ ردالمحتار میں بعض لوگوں کے بعض کی خاطر کھڑے ہونے کے بارے میں ہے ۔ت)والله تعالی اعلم
_____________________
حوالہ / References الفتاوی الھندیۃ کتاب المناسك مطلب زیارۃ النبی صلی الله علیہ وسلم نورانی کتب خانہ پشاور ۱ /۲۶۵
#18066 · رسالہ تجلی الیقین بانّ نبیّنا سید المرسلین ۱۳۰۵ھ (یقین کا اظہار اس بات کے ساتھ کہ ہمارے نبی صلی الله علیہ وسلم تمام رسولوں کے سردار ہیں)
رسالہ
تجلی الیقین بان نبینا سید المرسلین ۱۳۰۵ھ
(یقین کا اظہار اس بات کے ساتھ کہ ہمارے نبی صلی الله علیہ وسلم تمام رسولوں کے سردار ہیں)

بسم الله الرحمن الرحیم ط
مسئلہ ۳۳: از مونگیر لعل دروازہ معرفت حضرت مرزا غلام قادر بیگ غرہ شوال ۱۳۰۵ھ
حضرت اقدس دام ظلہم ! یہاں وہابیہ نے ایك تازہ شگوفہ اظہار کیا کہ نبی صلی الله تعالی علیہ وسلم کے افضل المرسلین ہونے سے انکار کیا۔ہر چند کہا گیا کہ مسئلہ واضح ہےمسلمانوں کا ہر بچہ جانتاہےمگر کہتے ہیں کہ قرآن وحدیث سے دلیل لاؤ۔یہاں کوشش کیقرآن وحدیث میں دلیل نہ پائیلہذا مسئلہ حاضر خدمت والا ہےامید ہے کہ بہ ثبوت آیات واحادیث مسلمانوں کو ممنون فرمائیں گےفقط
الجواب:
بسم الله الرحمن الرحیم ط
الحمدلله الذی ارسل رسولہ بالھدی ودین الحق لیظھر ہ علی الدین کلہ ط ولو کرہ المشرکون سب خوبیاں اسے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اورسچے دین کے ساتھ بھیجا کہ اسے سب دینوں پر غالب کرے اورپڑے برا مانیں مشرکبڑی
#18068 · رسالہ تجلی الیقین بانّ نبیّنا سید المرسلین ۱۳۰۵ھ (یقین کا اظہار اس بات کے ساتھ کہ ہمارے نبی صلی الله علیہ وسلم تمام رسولوں کے سردار ہیں)
تبارك الذی نزل الفرقان علی عبدہ لیکون للعلمین نذیر ا والی اقوامھم خاصۃ ارسل المرسلون ھوالذی ارسل نبینا رحمۃ للعلمین فادخل تحت ذیل رحمۃ الانبیآء والمرسلینوالملئکۃ المقربین وخلق الله اجمعینوجعلہ خاتم النبیین فنسخ الادیان ولا ینسخ لہ دینوادخل فی امتہ جمیع المرسلین اذ اخذ الله میثاق النبیینسبحن الذی اسری بعبدہ لیلا من المسجد الحرام الی المسجد الاقصی الی السموت العلی الی العرش الاعلیثم دنا فتدلی فکان قاب قوسین او ادنیفاوحی الی عبدہ ما اوحی ماکذب الفؤاد مارای افتمرونہ علی مایری ولقد راہ نزلۃ اخریمازاغ البصروماطغی وان الی ربك المنتھی وان علیہ النشأۃ الاخری یوم لایجد ون شفیعا الا المصطفی فلہ الفضل فی الاولی والاخریوالغایۃ القصوی والوسیلۃ العظمی والشفاعۃ الکبری برکت والا ہے وہ جس نے اپنے بندے پر قرآن اتارا کہ وہ سارے جہان کو ڈرسنانے والا ہو۔اورسب رسول خاص اپنی ہی قوموں کی طرف بھیجے گئے ۔اس نے ہمارے نبی صلی الله تعالی علیہ وسلم کو سارے جہان کے لیے رحمت بھیجاتو ان کے دامن رحمت کے نیچے انبیاء ومرسلین وملائکہ مقربین اورتمام مخلوق الہی کو داخل فرمایااوران کو سب نبیوں کا خاتم کیاتو انہوں نے اوردین نسخ فرمائےاوران کے دین کا کوئی حرف منسوخ نہ ہوگا۔الله نے ا ن کی امت میں تمام رسولوں کو داخل کیاجبکہ خدا نے پیغمبروں سے عہد لیا ۔پاکی ہے اسے جو راتوں رات اپنے بندے کو مسجد حرام سے لے گیا مسجد اقصی تك بلند آسمانوں تك عرش اعلی تکپھر نزدیك ہوا تو تجلی فرمائیتو دوکمانوں بلکہ اس سے کم کا فاصلہ رہا۔پس اپنے بندے کو وحی کیدل نے جودیکھا اس میں شك نہ کیا تو کیاتم ان کے دیدار میں جھگڑتے ہو۔اورقسم ہے بے شك انہوں نے اسے دوبار ہ دیکھا۔آنکھ بیجا نہ چلی اورنہ حد سے بڑھی ۔ اوربے شك تیرے رب ہی کی طرف انتہا ہے ۔اوربے شك اسے سب کو دوبارہ پیدا کرنا ضرور ہے جس دن کوئی شفیع نہ پائیں گے سوائے مصطفی کےتو دنیا اورآخرت میں انہیں کیلئے فضیلت ہے اورسب سے پرلے سرے کی نہایت اورسب سے بڑا وسیلہ اورسب سے
#18070 · رسالہ تجلی الیقین بانّ نبیّنا سید المرسلین ۱۳۰۵ھ (یقین کا اظہار اس بات کے ساتھ کہ ہمارے نبی صلی الله علیہ وسلم تمام رسولوں کے سردار ہیں)
والمقام المحمود والحوض المورود ومال لایحصی من الصفات العلی والدرجات العلیاء فصلی الله تعالی و سلم وبارك علیہ وعلی الہ وصحبہ وکل منتم الیہ دآئما ابداکما یحب ویرضی ھو وربہ العلی الاعلی ۔ اعظم شفاعت اوروہ مقام جس میں سب اگلے پچھلے ان کی حمد کریں اوروہ حوض جس پر تشنگان امت آکر سیراب ہوں گے اوربے گنتی بلند صفتیں اورسب سے اونچے درجےتو الله تعالی درود وبرکت اتارے ان پر اور ان کے آل واصحاب اورہر ان کے نام لیوا پر ہمیشہ ہمیشہ جیسی انہیں اوران کے بلند وبالا تر رب کو پسند ومحبوب ہے ۔
حضور پرنور سید عالم صلی الله تعالی علیہ وسلم کا افضل المرسلین وسید الاولین والآخرین ہونا قطعی ایمانییقینیاذعانیاجماعیایقانی مسئلہ ہے جس میں خلاف نہ کرے گا مگر گمراہ بد دین بندہ شیاطین والعیاذبالله رب العلمین کلمہ پڑھ کر اس میں شك عجیب ہےآج نہ کھلا تو کل قریب ہےجس دن تمام مخلوق کو جمع فرمائیں گےسارے مجمع کا دولھا حضور کو بنائیں گےانبیائے جلیل تاحضرت خلیل سب حضور ہی کے نیاز مند ہوں گےموافق ومخالف کی حاجتوں کے ہاتھ انہیں کی جانب بلند ہوں گےانہیں کا کلمہ پڑھا جاتا ہوگاانہیں کی حمد کا ڈنکا بجتا ہوگاجو آج بیاں ہے کل عیاں ہےاس دن جو مومن ومقر ہیں نور بارعشرتوں سے شادیاں رچائیں گے" الحمد للہ الذی ہدىنا لہذا " (سب خوبیاں الله کوجس نے ہمیں اس کی راہ دکھائی ۔ت)اورجو مبطل ومنکر ہیں دلفگارحسرتوں سے ہاتھ چبائیں گے
" یلیتنا اطعنا اللہ و اطعنا الرسولا ﴿۶۶﴾" ۔

اللھم اجعلنا من المھتدین ولاتجعلنا فتنۃ للقوم الظلمین۔ ہائے کسی طرح ہم نے الله کا حکم مانا ہوتا اور رسول کا حکم ماناہوتا ۔
اے الله !ہم کو ہدایت پانے والوں میں سے بنادے اورہمیں ظالموں کے لئے آزمائش نہ بنا۔(ت)
گروہ معتزلہ کہ ملائکہ کرام کو حضرات انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام سے افضل مانتے ہیں وہ بھی حضور
حوالہ / References القرآن الکریم ۷ /۴۳
القران الکریم ۳۳ / ۶۶
#18072 · رسالہ تجلی الیقین بانّ نبیّنا سید المرسلین ۱۳۰۵ھ (یقین کا اظہار اس بات کے ساتھ کہ ہمارے نبی صلی الله علیہ وسلم تمام رسولوں کے سردار ہیں)
سید المرسلین صلی الله تعالی علیہ وسلم وعلیہم وعلی آلہ اجمعین کو بالیقن مخصوص ومستثنی جانتے ہیں ۔انکے نزدیك بھی حضور پرنور انبیاء ومرسلین وملائکہ مقربین وخلق الله اجمعین سب سے افضل واعلی وبلند وبالا علیہ صلوۃ المولی تعالی۔کلمات علمائے کرام میں اس کی تصریح اورفقیر کے رسالہ ''اجلال جبریل بجعلہ خادما للمحبوب الجمیل ''میں تحقیق وتوضیح ۔
اما الزمخشری فقد سفہ نفسہ وتبع ھواہ وجھل مذھبہ وتناھی فی الضلال حتی لم یعلم مشربہ کما نبہ علیہ اھل التحقیقوالله سبحانہ ولی التوفیق۔ رہا زمخشریتو وہ دل کا احمقاپنی نفسانی خواہش کا پیروکاراپنے مذہب سے جاہل اورگمراہی میں انتہاء کو پہنچا ہوا ہےیہاں تك کہ اس کے مشرب کا پتا نہیں جیسا کہ اہل تحقیق نے اس پر تنبیہ فرمائی ہے ۔اورالله سبحنہ وتعالی توفیق کا مالك ہے ۔(ت)
فقیر کو جہاں ایسے صریح مسئلے پر طلب دلیل نے تعجب دیا وہاں اس کے ساتھ ہی طرز سوال کو دیکھ کر یہ شکر بھی کیا کہ الحمدلله عقیدہ صحیح ہےصرف اطمینان خاطر کو خواہش توضیح ہےمگر اس لفظ نے بیشك حیرت بڑھائی کہ قرآن وحدیث میں دلیل نہ پائی۔سبحان الله مسئلہ ظاہردلیلیں وافرآیتیں متکاثرحدیثیں متواتر ۔پھرسائل ذی علم ہوتو تو اطلاع نہ ملنے کی کیا صورت۔ اور جاہل بے علم ہوتو اپنے نہ پانے کی بیجا شکایت ۔فقیر غفرالله تعالی لہ نے مسئلہ تفضیل حضرات شیخین رضی الله تعالی عنہما میں دلائل جلائل قرآن وحدیث سے جو اکثر بحمدالله استخراج فقیر ہیں نوے۹۰جز کے قریب ایك کتاب مسمی بہ ''منتھی التفصیل لمبحث التفضیل''لکھی جس کے طول کو ممل خواطر سمجھ کر ''مطلع القمر ین فی ابانۃ سبقۃ العمرین (۱۲۹۷ھ)میں اس کی تلخیص کیپھرکہاں وہ بحث متناہی المقدار اورکہاں یہ بحر ناپیداکنارالله الله العظمۃ لله ''
" ولو ان ما فی الارض من شجرۃ اقلم و البحر یمدہ من بعدہ سبعۃ ابحر ما نفدت کلمت اللہ " ۔ اوراگرزمین میں جتنے پیڑ ہیں سب قلمیں بن جائیں اورسمندر اس کی سیاہی ہواس کے پیچھے سات سمندر اورتوالله کی باتیں ختم نہ ہوں(ت)
بلامبالغہ اگرتوفیق مساعد ہو اس عقیدے کی تحقیق مجلدات سے زائد ہومگر بقدرحاجت و
حوالہ / References القرآن الکریم ۳۱ /۲۷
#18074 · رسالہ تجلی الیقین بانّ نبیّنا سید المرسلین ۱۳۰۵ھ (یقین کا اظہار اس بات کے ساتھ کہ ہمارے نبی صلی الله علیہ وسلم تمام رسولوں کے سردار ہیں)
وقت فرصتقلب مؤمن کی تسکین وتثبیت اورمنکر بدباطن کی تحزین وتبکیت کو صر ف دس آیتوں اورسوحدیثوں پر اقتصار مطلب اوراس معجز عجالہ مسمی بہ ''قلائد نحورالحورمن فرائد بحورالنور''کو بلحاظ تاریخ ''تجلی الیقین بان نبینا سید المرسلین'' سے ملقب کرتاہے ۔
وما توفیقی الا بالله علیہ توکلت والیہ انیبوصلی الله تعالی علی خیر خلقہ وسراج افقہ والہ وصحبہ و متبعیہ وحزبہ انہ سمیع قریب مجیب۔ الله تعالی کے بغیر میرے لیے کسی کی توفیق نہیںمیں نے اسی پر بھروسہ کیا اوراسی کی طرف رجوع لاتاہوں ۔الله تعالی درود نازل فرمائے اس پر جو اس کی تمام مخلوق سے بہتر اور اس کے افق کا سراج ہےاورآپ کی آل پر اورآپ کے اصحا ب پر اوراس کے تمام پیروکاروں پر اوراس کی جماعت پربے شك وہ سننے والاقریبدعاؤں کو قبو ل کرنے والا ہے ۔(ت)
یہ قلائد فرائد دوہیکل پر مشتمل:
ہیکل اول: میں آیات جلیلہ۔
ہیکل دوم:میں احادیث جمیلہ ۔ یہ ہیکل نور افگن چار تابشوں سے روشن:
تابش اول: چند وحی ربانی علاوہ آیات کریمہ قرآنی۔
تابش دوم :ارشادات عالیہ حضور سید المرسلین صلی الله تعالی علیہ وسلم وعلیہم اجمعین۔
اگربعض کلمات انبیاء وملائکہ دیکھئے متبوع کی رکاب میں تابع سمجھئے ۔
تابش سوم :محض وخالص طر ق وروایات حدیث خصائص ۔
تابش چہارم:صحابہ کرام کے آثار رائقہاقوال علمائے کتب سابقہبشرائے ہواتف رؤیائے صادقہ ۔والله سبحانہ ھو المعین و الحمدلله رب العالمین(اورالله سبحنہ وتعالی ہی مددگار ہے اورتمام خوبیاں الله کو جو تمام جہانوں کا پروردگارہے۔ت)ان کے سوا اقوال علماء پر توجہ نہ کی کہ غرض اختصار کے منافی تھی ۔جسے ان کے بعض پر اطلاع پسند آئے ۔فقیر کے رسائل ''سلطنۃ المصطفی فی ملکوت کل الوری ''و ''قمر التمام لنفی الظل عن سید الانام ''و''اجلال جبریل بجعلہ خادما للمحبوب الجمیل'' کی طرف رجوع لائے ۔والله الھادی وولی الایادی(اورالله تعالی ہی ہدایت دینے والا اورنعمتوں کا مالك ہے ۔ت)
#18077 · رسالہ تجلی الیقین بانّ نبیّنا سید المرسلین ۱۳۰۵ھ (یقین کا اظہار اس بات کے ساتھ کہ ہمارے نبی صلی الله علیہ وسلم تمام رسولوں کے سردار ہیں)
ہیکل اول میں جواہر زواہر آیات قرآنیہ
آیت اولی:قال تبارك وتعالی:" و اذ اخذ اللہ میثق النبین لما اتیتکم من کتب وحکمۃ ثم جاءکم رسول مصدق لما معکم لتؤمنن بہ ولتنصرنہ قال ءاقررتم واخذتم علی ذلکم اصری قالوا اقررنا قال فاشہدوا وانا معکم من الشہدین﴿۸۱﴾ فمن تولی بعد ذلک فاولئک ہم الفسقون﴿۸۲﴾ " ۔ پہلی آیت:الله تبارك وتعالی نے فرمایااوریاد کراے محبوب ! جب خد انے عہد لیا پیغمبروں سے کہ جو میں تم کو کتاب و حکمت دوںپھر تمہارے پاس آئے رسول تصدیق فرماتا اس کی جو تمہارے ساتھ ہے تو تم ضرور ہی اس پر ایمان لانا اور بہت ضروراس کی مدد کرنا ۔پھر فرمایا کیا تم نے اقرار کیا اور اس پر میرا بھاری ذمہ لیا ۔سب انبیاء نے عرض کی کہ ہم ایمان لائے ۔فرمایا تو ایك دوسرے پر گواہ ہوجاؤ اورمیں بھی تمہارے ساتھ گواہوں سے ہوں ۔اب جو اس کے بعد پھرے گا تووہی لوگ بے حکم ہیں۔
امام اجل ابو جعفر طبری وغیرہ محدثین اس آیت کی تفسیر میں حضرت مولی المسلمین امیر المومنین جناب مولی علی کرم الله تعالی وجہہ الکریم سے راوی:
لم یبعث الله نبیا من ادم فمن بعدہ الااخذ علیہ الھعد فی محمد صلی الله تعالی علیہ وسلم لئن بعث و ھو حی لیؤمنن بہ ولینصرنہ ویاخذ العھد بذلك علی قومہ ۔ یعنی الله تعالی نے آدم علیہ الصلوۃ والسلام سے لے کر آخر تك جتنے انبیاء بھیجے سب سے محمد رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم کے بارے میں عہد لیا گیا کہ اگریہ اس نبی کی زندگی میں مبعوث ہوتو وہ ان پرایمان لائے اور ان کی مددفرمائے اوراپنی امت سے اس مضمون کا عہد لے ۔
حوالہ / References القرآن الکریم ۳ /۸۱
المواھب اللدنیۃ عن علی المقصد الاول اخذ العہد علی الانبیاء المکتب الاسلامی بیروت ۱ /۶۶،جامع البیان(تفسیر الطبری)تحت آیۃ ۳ /۸۱ داراحیاء التراث العربی بیروت۳ /۳۸۷
#18079 · رسالہ تجلی الیقین بانّ نبیّنا سید المرسلین ۱۳۰۵ھ (یقین کا اظہار اس بات کے ساتھ کہ ہمارے نبی صلی الله علیہ وسلم تمام رسولوں کے سردار ہیں)
اسی طرح حبرالائمہ عالم القرآن حضرت عبدالله ابن عباس رضی الله تعالی عنہما سے مروی ہوارواہ ابن جریر وابن عساکر وغیرھما(اس کو ابن جریر اورابن عساکر وغیرہ نے روایت کیا۔ت) بلکہ امام بدرزرکشی وحافظ عماد بن کثیر وامام الحفاظ علامہ ابن حجر عسقلانی نے اسے صحیح بخاری عــــــہ کی طرف نسبت کیا ۔والله تعالی اعلم۔
ونحوہ اخرج الامام ابن ابی حاتم فی تفسیرہ عن السدی کما اوردہ الامام الاجل السیوطی فی الخصائص الکبری ۔ اوراس کی مثل امام ابن ابی حاتم نے اپنی تفسیر میں سدی سے روایت کیا جیسا کہ امام اجل سیوطی علیہ الرحمہ نے خصائص کبری میں وارد کیا ہے ۔(ت)
اس عہد ربانی کے مطابق ہمیشہ حضرات انبیاء علیہم الصلوۃ والثناء نشرمناقب وذکر مناصب حضور سید المرسلین صلوۃ الله وسلامہ علیہ وعلیہم اجمعین سے رطب اللسان رہتے اور اپنی پاك مبارك مجالس ومحافل ملائك منزل کو حضور کی یاد ومداح سے زینت دیتےاور اپنی امتوں سے حضورپرنورپر ایمان لانے اورمدد کرنے کا عہد لیتے یہاں تك کہ وہ پچھلا مژدہ رساں کنواری بتول کا ستھر ابیٹا مسیح کلمۃ الله علیہ صلوات الله " مبشرا برسول یاتی من بعدی اسمہ احمد " (اس رسول کی بشارت سناتا ہوا جو میرے بعدتشریف لائیں گے ان کا نام احمد ہے ۔ت)کہتا تشریف لایا۔اورجب سب ستارے روشن مہ پارے مکمن غیب میں گئے افتاب عالمتاب ختمیت مآب نے باہزاراں ہزار جاہ وجلال طلوع اجلال فرمایا صلی الله تعالی علیہ وعلیہم اجمعین وبارك وسلم دھر الداھرین(الله تعالی آپ پر اوردیگر تمام رسولوں پر ہمیشہ ہمیشہ درودوسلام اوربرکت نازل فرمائے ۔ت)
عــــــہ:قال الزرقانی قال الشامی ولم اظفربہ فیہ ۱۲ منہ۔ زرقانی نے کہا:شامی نے فرمایا ہے کہ میں اس کو صحیح بخاری میں نہیں پاسکا۔ت)
حوالہ / References جامع البیان(تفسیر الطبری)تحت آیۃ ۳ /۸۱ داراحیاء التراث العربی بیروت۳ /۳۸۷
الخصائص الکبرٰی باب خصوصیۃ باخذ المیثاق علی النبیین الخ مرکز اہل سنت برکات رضا گجرات ہند ۱ /۸
القرآن الکریم ۶۱ /۶
شرح الزرقانی علی المواھب اللدنیہ المقصد الاول دارالمعرفہ بیروت ۱ /۴۰
#18082 · رسالہ تجلی الیقین بانّ نبیّنا سید المرسلین ۱۳۰۵ھ (یقین کا اظہار اس بات کے ساتھ کہ ہمارے نبی صلی الله علیہ وسلم تمام رسولوں کے سردار ہیں)
ابن عساکرسیدنا عبدالله بن عباس رضی الله تعالی عنہما سے راوی:
لم یزل الله یتقدم فی النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم الی ادم فمن بعدہ ولم تزل الامم تتباشربہ وتستفتح بہ حتی اخرجہ الله فی خیر امۃوفی خیر قرن وفی خیر اصحاب وفی خیر بلد ۔ ہمیشہ الله تعالی نبی صلی الله تعالی علیہ وسلم کے بارے میں آدم اور ان کے بعد سب انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام سے پیشگوئی فرما تارہااورقدیم سے سب امتیں تشریف آوری حضور کی خوشیاں مناتیں اور حضور کے توسل سے اپنے اعداء پر فتح مانگتی آئیںیہاں تك کہ الله تعالی نے حضور کو بہترین امم و بہترین قرون وبہترین اصحاب وبہترین بلاد میں ظاہر فرمایا صلی الله تعالی علیہ وسلم ۔
اوراس کی تصدیق قرآن عظیم میں ہے :
" وکانوا من قبل یستفتحون علی الذین کفروا فلما جاءہم ما عرفوا کفروا بہ ۫ فلعنۃ اللہ علی الکفرین﴿۸۹﴾" ۔ یعنی اس نبی کے ظہور سے پہلے کافروں پر اس کے وسیلہ سے فتح چاہتےپھر جب وہ جانا پہچانا ان کے پاس تشریف لایا منکر ہوبیٹھے تو خدا کی پھٹکار منکروں پر۔
علماء فرماتے ہیں:جب یہود مشرکوں سےلڑتے دعاکرتے:
اللھم انصرنا علیہم بالنبی المبعوث فی اخرالزمان الذی نجد صفتہ فی التورۃ ۔ الہی ! مدددے ان پر صدقہ نبی آخر الزمان کا جس کی نعت ہم تورات میں پاتے ہیں۔
اس دعا کی برکت سے انہیں فتح دی جاتی ۔
اسی پیمان الہی کا سبب ہے کہ حدیث میں آیا حضور سید المرسلین صلی الله تعالی علیہ وسلم
حوالہ / References الخصائص الکبریٰ بحوالہ ابن عساکر باب خصوصیت باخذ المیثاق الخ مرکز اہلسنت گجرات ہند ۱/ ۸ و ۹
القرآن الکریم ۲ /۸۹
الدرالمنثور تحت الآیۃ ۲ /۸۹ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ /۱۹۶
#18084 · رسالہ تجلی الیقین بانّ نبیّنا سید المرسلین ۱۳۰۵ھ (یقین کا اظہار اس بات کے ساتھ کہ ہمارے نبی صلی الله علیہ وسلم تمام رسولوں کے سردار ہیں)
نے فرمایا:
والذی نفسی بیدہ لو ان موسی کان حیا الیوم ماوسعہ الا ان یتبعنی ۔اخرجہ الامام احمد والدارمی و البیھقی فی شعب الایمان عن جابر بن عبدالله رضی الله تعالی عنہماابو نعیم فی دلائل النبوۃ واللفظ لہ عن امیر المؤمنین ۔عمر الفاروق رضی الله تعالی عنہ ۔ قسم اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے آج اگر موسی دنیا میں ہوتے تو میری پیروی کے سوا ان کو گنجائش نہ ہوتی(اس کو امام احمددارمی اورشعب الایمان میں بیہقی نے جابر بن عبدالله رضی الله تعالی عنہما سے اورابو نعیم نے دلائل النبوۃ میں امیر المومنین عمر فاروق رضی الله تعالی عنہ سے روایت کیا ہے اورلفظ ابو نعیم کے ہیں ۔ت)
اوریہی باعث ہے کہ جب آخر الزمان میں حضرت سیدنا عیسی علیہ الصلوۃ والسلام نزول فرمائیں گے بآنکہ بدستور منسب رفیع نبوت ورسالت پر ہوں گےحضور پرنور سید المرسلین صلی الله تعالی علیہ وسلم کے امتی بن کر رہیں گےحضور ہی کی شریعت پر عمل کریں گےحضو رکے ایك امتی ونائب یعنی امام مہدی کے پیچھے نماز پڑھیں گے ۔حضورسیدالمرسلین صلی الله تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
کیف انتم اذا نزل ابن مریم فیکم وامامکم منکم ۔اخرجہ الشیخان عن ابی ھریرۃ رضی الله تعالی عنہ ۔ کیسا حال ہوگا تمہارا جب ابن مریم تم میں اتریں گے اورتمہارا امام تم میں سے ہوگا(اس کو شیخین نے حضرت ابو ہریرہ رضی الله تعالی عنہ سے روایت کیا۔ت)
اوراس عہد واثق کی پوری تائید وتوکید حق عزجلالہ نے توریت مقد س میں فرمائی جس کی بعض آیتیں ان شاء الله تابش اول ہیکل دوم میں مذکور ہوں گی ۔
امام علامہ تقی الملۃ والدین ابوالحسن علی بن عبدالکافی سبکی رحمۃ الله تعالی علیہ نے اس آیت کی
حوالہ / References مسند احمد بن حنبل عن جابر رضی الله عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۳ /۳۸۷
دلائل النبوۃ لابی نعیم الفصل الاول عالم الکتب بیروت الجزء الاول ص۸
صحیح البخاری کتاب الانبیاء باب نزول عیسٰی بن مریم قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۴۹۰،صحیح مسلم کتاب الایمان باب نزول عیسٰی بن مریم قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۸۷
#18086 · رسالہ تجلی الیقین بانّ نبیّنا سید المرسلین ۱۳۰۵ھ (یقین کا اظہار اس بات کے ساتھ کہ ہمارے نبی صلی الله علیہ وسلم تمام رسولوں کے سردار ہیں)
تفسیر میں ایك نفیس رسالہ ''التعظیم والمنہ فی لتؤمنن بہ ولتنصرنہ ''لکھا ۔اوراس میں آیت مذکورہ سے ثابت فرمایا کہ ہمارے حضور صلوات الله تعالی وسلامہ علیہ سب انبیاء کے نبی ہیںاورتمام انبیاء ومرسلین اوران کی امتیں سب حضور کے امتی ۔حضور کی نبوت ورسالت زمانہ سیدنا ابوالبشر علیہ الصلوۃ والسلام سے روز قیامت تك جمیع خلق الله کو شامل ہےاورحضور کا ارشاد ''وکنت نبیا وادم بین الروح والجسد'' (میں نبی تھا جبکہ آدم علیہ السلام روح وجسد کے درمیان تھے ۔ت)اپنے معنی حقیقی پر ہے ۔
اگرہمارے حضور حضرت آدم ونوح وابراہیم وموسی وعیسی صلی الله تعالی علیہم وسلم کے زمانہ میں ظہو رفرماتےان پر فرض ہوتا کہ حضور پر ایمان لاتے اور حضور کے مددگار ہوتے ۔اسی کا الله تعالی نے ان سے عہد لیا اورحضور کے نبی الانبیاء ہونے ہی کا باعث ہے کہ شب اسرا تمام انبیاء ومرسلین نے حضور کی اقتداء کیاوراس کا پورا ظہور اروز نشور ہوگا جب حضور کے زیر لو ا آدم ومن سوا کا فہ رسل وانبیاء ہوں گےصلوات الله وسلامہ علیہ وعلیہم اجمعین۔یہ رسالہ نہایت نفیس کلام پر مشتمل جسے امام جلال الدین نے خصائص کبری اور امام شہاب الدین قسطلانی نے مواہب لدنیہ اورائمہ مابعد نے اپنی تصانیف منیعہ میں نقل کیا اور اسے نعمت عظمی ومواہب کبری سمجھا من شاء التفصیل فلیرجع الی کلما تھم رحمۃ الله تعالی علیہم اجمعین(جو تفصیل چاہتا ہے وہ ان کے کلام کی طرف رجوع کرے ان سب پر الله تعالی کی رحمت ہو۔ت)
بالجملہ مسلمان بہ نگاہ ایمان اس آیہ کریمہ کے مفادات عظیمہ پر غور کرےصاف صریح ارشاد فرمارہی ہے کہ محمد صلی الله تعالی علیہ وسلم اصل الاصول ہیں محمد صلی الله تعالی علیہ وسلم رسولوں کے رسول ہیںامتیوں کو جونسبت انبیاء ورسل سے ہے وہ نسبت انبیاء ورسل کو اس سید الکل سے ہےامتیوں پرفرض کرتے ہیں رسولوں پر ایمان لاؤاوررسولوں سے عہد وپیمان لیتے ہیں محمد صلی الله تعالی علیہ وسلم سے گروید گی فرماؤ۔غرض صاف صاف جتارہے ہیں کہ مقصود اصلی ایك وہی ہیں باقی تم سب تابع وطفیلی ع
مقصودذات اوست دگرجملگی طفیل
(مقصود ان کی ذات ہے باقی سب طفیلی ہیں۔ت)
حوالہ / References المستدرك للحاکم کتاب الایمان دارالفکر بیروت ۲ /۶۰۹،کنزالعمال بحوالہ ابن سعد حدیث۳۱۹۱۷ ۳۲۱۱۸مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۱ /۴۰۹ و۴۵۰
#18088 · رسالہ تجلی الیقین بانّ نبیّنا سید المرسلین ۱۳۰۵ھ (یقین کا اظہار اس بات کے ساتھ کہ ہمارے نبی صلی الله علیہ وسلم تمام رسولوں کے سردار ہیں)
آیہ لتؤمنن بہ ولتنصرنہ کے بعض لطائف :
اقول:وبالله التوفیق(میں الله تعالی کی توفیق کے ساتھ کہتاہوں۔ت)پھر یہ بھی دیکھنا ہے کہ اس مضمون کو قرآن عظیم نے کس قدر مہتم بالشان ٹھہرایا اورطرح طرح سے مؤکد فرمایا۔
اولا: انبیاء علیہم الصلوۃ والثناء معصومین ہیں۔زنہار حکم الہی کاخلاف ان سے محتمل نہیں ۔کافی تھا کہ رب تبارك وتعالی بطریق امر انہیں ارشادفرماتا اگر وہ نبی تمہارے پاس آئے اس پر ایمان لانا اوراس کی مدد کرنامگر اس قدر پر اکتفاء نہ فرمایا بلکہ ان سے عہد وپیمان لیایہ عہد عہد " الست بربکم " (کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں۔ت)کے بعد دوسرا پیمان تھاجیسے کلمہ طیبہ میں لاالہ الا الله(الله کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ۔ت)کے ساتھ محمد رسول الله(محمد الله کے رسول ہیں۔ت)تاکہ ظاہر ہوکہ تمام ماسوائے الله پر پہلا فرض ربوبیت الہیہ کا اذعان ہے ۔ پھر اس کے برابر رسالت محمدیہ پر ایمانصلی الله تعالی علیہ وسلم و بارك وشرف وبجل وعظم۔
ثانیا: اس عہد کو لام قسم سے مؤکد فرمایا:
" لتؤمنن بہ ولتنصرنہ" ۔ تم ضرور اس کی مدد کرنا اورضروراس پر ایمان لانا۔(ت)
جس طرح نوابوں سے بیعت سلاطین پر قسمیں لی جاتی ہیں ۔امام سبکی فرماتے ہیں:شاید سوگند بیعت اسی آیت سے ماخوذ ہوئی ہے ۔
ثالثا: نون تاکید۔
رابعا: وہ بھی ثقیلہ لاکر ثقل تاکید کو اور دوبالا فرمایا۔
خامسا: یہ کمال اہتمام ملاحظہ کیجئے کہ حضرات انبیاء ابھی جواب نہ دینے پائے کہ خود ہی تقدیم فرما کر پوچھتے ہیں:ء اقررتم کیا اس امر پر اقرارلاتے ہو یعنی کمال تعجیل وتسجیل مقصود ہے ۔
سادسا: اس قدر پر بھی بس نہ فرمائی بلکہ ارشاد ہوا:
#18090 · رسالہ تجلی الیقین بانّ نبیّنا سید المرسلین ۱۳۰۵ھ (یقین کا اظہار اس بات کے ساتھ کہ ہمارے نبی صلی الله علیہ وسلم تمام رسولوں کے سردار ہیں)
" واخذتم علی ذلکم اصری" ۔خالی اقرار ہی نہیں بلکہ اس پر میرا بھاری ذمہ لو۔
سابعا: علیہ یا علی ھذا کی جگہ " علی ذلکم " فرمایاکہ بعد اشارت عظمت ہو۔
ثامنا: اورترقی ہوئی کہ " فاشہدوا " ۔ایك دوسرے پر گواہ ہوجاؤ ۔حالانکہ معاذ الله اقرار کر کے مکر جانا ان پاك مقدس جنابوںسے معقول نہ تھا۔تاسعا: کمال یہ ہے کہ فقط ان کی گواہیوں پر بھی اکتفا نہ ہوئی بلکہ ارشادفرمایا:
" وانا معکم من الشہدین﴿۸۱﴾ " ۔میں خود بھی تمہارے ساتھ گواہوں سے ہوں ۔عاشرا: سب سے زیادہ نہایت کاریہ ہے کہ اس قدر عظیم جلیل تاکیدوں کے بعد بآنکہ انبیاء کو عصمت عطافرمائییہ سخت شدیدتہدید بھی فرمادی گئی کہ
" فمن تولی بعد ذلک فاولئک ہم الفسقون﴿۸۲﴾ " ۔ اب و جو اس اقرار کے بعد پھرے گا فاسق ٹھہرے گا۔
الله الله ! یہ وہی اعتنائے تام واہتمام تمام ہے جو باری تعالی کو اپنی توحید کے بارے میں منظورہوا کہ ملائکہ معصومین کے حق میں ارشاد کرتاہے:
" ومن یقل منہم انی الہ من دونہ فذلک نجزیہ جہنم کذلک نجزی الظلمین ﴿۲۹﴾ " جو ان میں سے کہے گا میں الله کے سوا معبود ہوں اسے ہم جہنم کی سزادیں گےہم ایسی ہی سزادیتے ہیں ستمگاروں کو ۔
گویا اشارہ فرماتے ہیں کہ جس طرح ہمیں ایمان کے جز اول لا الہ الا الله کا اہتمام ہے یونہی جز دوم محمد رسول الله سے اعتنائے تام ہےمیں تمام جہان کا خدا کہ ملائکہ مقربین بھی میری بندگی سے سرنہیں پھیر سکتے اورمیرا محبوب سارے عالم کا رسول و مقتداکہ انبیاء ومرسلین بھی ا سکی بیعت وخدمت کے محیط دائرہ میں داخل ہوئے ۔
والحمد لله رب العلمینوصلی الله تعالی علی سید المرسلین محمد و سب تعریفیں الله تعالی کے لیے ہیں جو پروردگار ہے تمام جہانوں کا۔اورالله تعالی درودنازل فرمائے

الہ وصحبہ اجمعین oاشھد ان لا الہ الا الله وحدہ لا شریك لہ وان سیدنا محمدا عبدہ ورسولہ سید المرسلین وخاتم النبیین واکرم الاولین و الاخرین صلوات الله وسلامہ علیہ وعلی الہ واصحابہ اجمعین۔ رسولوں کے سردارمحمد مصطفی پرآ پ کی آل پر اورآپ کے تمام صحابہ پر ۔میں گواہی دیتاہوں کہ الله تعالی کے بغیر کوئی لائق عبادت نہیں وہ واحد ہے اس کا کوئی شریك نہیںاوریہ کہ ہمارے سردار محمد مصطفی اس کے خاص بندے اوراس کے رسول ہیں۔وہ تمام رسولوں کے سردارتمام نبیوں میں آخری نبی اوراگلوں اورپچھلوں سے افضل ہیں ۔الله تعالی کے درود وسلام ہوں ان پران کی آل پر اوران کے تمام صحابہ پر۔(ت)
#18091 · رسالہ تجلی الیقین بانّ نبیّنا سید المرسلین ۱۳۰۵ھ (یقین کا اظہار اس بات کے ساتھ کہ ہمارے نبی صلی الله علیہ وسلم تمام رسولوں کے سردار ہیں)
اس سے بڑھ کر حضور کی سیادت عامہ وفضیلت تامہ پر کون سے دلیل درکارہے ۔ولله الحجۃ البالغۃ(اورالله کی حجت پوری ہے ۔ت)
آیت ثانیہ:قال عز مجدہ:" وما ارسلنک الا رحمۃ للعلمین ﴿۱۰۷﴾ " ۔ دوسری آیت:الله تعالی نے فرمایا:اے محبوب ! ہم نے تجھے نہ بھیجا مگر رحمت سارے جہان کے لیے ۔
عالم ماسوائے الله کو کہتے ہیں جس میں انبیاء وملائکہ سب داخل ہیں ۔تولاجرم حضور پر نور سید المرسلین صلی الله تعالی علیہ وسلم ان سب پر رحمت ونعمت رب الارباب ہوئےاوروہ سب حضور کی سرکارعالی مدارسے بہر ہ مند وفیضیاب ۔اسی لئے اولیائے کامین وعلمائے عاملین تصریحیں فرماتے ہیں کہ ازل سے ابد تك ارض وسماء میں اولی وآخرت میں دین ودنیا میں روح وجسم میں چھوٹی یا بڑیبہت یا تھوڑیجو نعمت ودولت کسی کو ملی یا اب ملتی ہے یا آئندہ ملے گی سب حضور کی بارگاہ میں جہاں پناہ سے بٹی اوربٹتی ہے اورہمیشہ بٹے گی۔کما بیناہ بتوفیق الله تعالی فی رسالتنا سلطنۃ المصطفی فی ملکوت کل الوری ۔(جیسا کہ ہم نے اس کو الله تعالی کی توفیق سے اپنے رسالہ''سلطنت المصطفی فی ملکوت الوری ''میں بیان کیا ہے ۔ت)امام فخرالدین رازی علیہ الرحمہ نے اس آیہ کریمہ کے تحت لکھا:
لماکان رحمۃ للعالمین لزم ان جب حضور تمام عالم کے لیے رحمت ہیں واجب
حوالہ / References القرآن الکریم ۲۱ /۱۰۷
#18092 · رسالہ تجلی الیقین بانّ نبیّنا سید المرسلین ۱۳۰۵ھ (یقین کا اظہار اس بات کے ساتھ کہ ہمارے نبی صلی الله علیہ وسلم تمام رسولوں کے سردار ہیں)
یکون افضل من کل العلمین ۔قلت وادعاء التخصیص خروج عن الظاھر بلادلیل وھو لایجوز عند عاقل فضلا عن فاضل والله الھادی۔
آیت ثالثہ:قال جل ذکرہ:"ہوا کہ تمام ماسوائے الله سے افضل ہوں ۔میں کہتاہوں تخصیص کا دعوی کرنا ظاہر سے بلادلیل خروج ہے اوروہ کسی عاقل کے نزدیك جائز نہیں چہ جائیکہ کسی فاضل کے نزدیك ۔اورالله تعالی ہی ہدایت دینے والا ہے ۔(ت)
وما ارسلنا من رسول الا بلسان قومہ " ۔
تیسری آیت:الله تعالی نے فرمایا:نہ بھیجا ہم نے کوئی رسول مگر ساتھ زبان اس کی قوم کے ۔
علماء فرماتے ہیں:یہ آیہ کریمہ دلیل ہے کہ انبیائے سابقین سب خاص اپنی قوم پر رسول کر کے بھیجے جاتے ۔
اگلے انبیاء صرف اپنی قوم کے رسول ہوئے اورہمارے رسول ہر فرد مخلوق کے لئے
اقول:وقال الله تعالی " لقد ارسلنا نوحا الی قومہ " ۔وقال تعالی " و الی عاد اخاہم ہودا " ۔وقال تعالی " و الی ثمود اخاہم صلحا " ۔وقال تعالی" ولوطا اذ قال لقومہ " ۔وقال تعالی" و الی مدین اخاہم شعیبا " وقال تعالی" ثم بعثنا من بعدہم موسی بایتنا
اقول:(میں کہتاہوں)الله تعالی نے فرمایا:تحقیق ہم نے نوح کو بھیجا اس کی قوم کی طرف ۔اورفرمایا الله تعالی نے عاد کی طرف ان کی برادری سے ہود کو بھیجا۔اورفرمایا کہ ثمود کی طرف انکی برادری سے صالح کو بھیجا ۔اور فرمایا:اورلوط کو بھیجا جب اس نے اپنی قوم سے کہا ۔اورفرمایا: مدین کی طرف ان کی برادری سے شعیب کو بھیجا ۔ اور فرمایا:پھر ان کے بعد ہم نے موسی کو اپنی نشانیوں کے ساتھ
حوالہ / References مفاتیح الغیب(التفسیر الکبیر)تحت الآیۃ ۲ /۲۵۳ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۶ /۱۶۵
القرآن الکریم ۱ ۴/۴
القرآن الکریم ۷ /۵۹
القرآن الکریم ۷ /۶۵
القرآن الکریم ۷ /۷۳
القرآن الکریم ۷ /۸۰
القرآن الکریم ۷ /۷۵
#18093 · رسالہ تجلی الیقین بانّ نبیّنا سید المرسلین ۱۳۰۵ھ (یقین کا اظہار اس بات کے ساتھ کہ ہمارے نبی صلی الله علیہ وسلم تمام رسولوں کے سردار ہیں)
الی فرعون وملائہ " وقال تعالی " و تلک حجتنا اتینہا ابرہیم علی قومہ " وقال تعالی فی یونس علیہ السلام " و ارسلنہ الی مائۃ الف او یزیدون ﴿۱۴۷﴾ " ۔وقال تعالی فی عیسی علیہ السلام " ورسولا الی بنی اسرءیل ۬ " ۔ اورفرمایا:پھر ان کے بعد ہم نے موسی کو اپنی نشانیوں کے ساتھ فرعون اوراس کے درباریوں کی طرف بھیجا۔اور فرمایا:اوریہ ہماری دلیل ہے کہ ہم نے ابراہیم کو اس کی قوم پر عطا فرمائی ۔ اور یونس علیہ السلام کے بارے میں فرمایا:اور ہم نے اسے لاکھ آدمیوں کی طرف بھیجا بلکہ زیادہ ۔اورعیسی علیہ السلام کے بارے میں فرمایا:اوررسول ہوگا بنی اسرائیل کی طرف۔(ت)
اسی لئے صحیح حدیث میں فرمایا:
کان النبی یبعث الی قومہ خاصۃ۔رواہ الشیخان عن جابر رضی الله تعالی عنہ ۔ نبی خاص اپنی قوم کی طرف بھیجا جاتا۔(اس کو شیخین نے حضرت جابر رضی الله تعالی عنہ سے روایت کیا ہے ۔ت)
دوسری روایت میں آیا:
کان النبی یبعث الی قریتہ ولا یعدوھا ۔رواہ ابو یعلی عن عوف بن مالك رضی الله تعالی عنہ۔ نبی ایك بستی کی طرف مبعوث ہوتا جس کے آگے تجاوز نہ کرتا۔(اس کوابو یعلی نے حضرت عوف بن مالك رضی الله تعالی عنہ سے روایت کیا ہے ۔ت)
اورحضور سید المرسلین صلی الله تعالی علیہ وسلم کے لئے فرماتاہے:
" وما ارسلنک الا کافۃ للناس بشیرا و نذیرا و لکن اکثر الناس لا یعلمون ﴿۲۸﴾ " نہ بھیجا ہم نے تمہیں مگر سب لوگوں کیلئے خوشخبری دیتا اورڈر سناتاپر بہت لوگ بے خبر ہیں ۔
حوالہ / References القرآن الکریم ۷ /۱۰۳
القرآن الکریم ۶ /۸۳
القرآن الکریم ۳۷ /۱۴۷
القرآن الکریم ۳ /۴۹
صحیح البخاری کتاب التیمم ومواضع الصلٰوۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۴۸،صحیح مسلم کتاب المساجدومواضع الصلٰوۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۴۸
الاحسان بترتیب صحیح ابن حبان بحوالہ ابی یعلٰی حدیث ۶۳۶۵مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۹ /۱۰۴
القرآن الکریم ۳۴ /۲۸
#18094 · رسالہ تجلی الیقین بانّ نبیّنا سید المرسلین ۱۳۰۵ھ (یقین کا اظہار اس بات کے ساتھ کہ ہمارے نبی صلی الله علیہ وسلم تمام رسولوں کے سردار ہیں)
وقال تعالی:" قل یایہا الناس انی رسول اللہ الیکم جمیعۨا "
۔
وقال تعالی:" تبارک الذی نزل الفرقان علی عبدہ لیکون للعلمین نذیرۨا﴿۱﴾ " ۔ الله تعالی نے فرمایا:تو فرما اے لوگو!میں خدا کا رسول ہوں تم سب کی طرف ۔
الله تعالی نے فرمایا:بڑی برکت والا ہے وہ جس نے اتارا قرآن اپنے بندے پر کہ ڈرسنانے والا ہوسارے جہان کو ۔
اسی لئے خود حضور سید المرسلین صلی الله تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ارسلت الی الخلق کا فۃ ۔اخرجہ مسلم عن ابی ھریرۃ رضی الله تعالی عنہ ۔ میں تمام مخلوق الہی کی طرف بھیجاگیا(اس کو مسلم نےحضرت ابوہریرہ رضی الله تعالی عنہ سے روایت کیا ہے۔ت)
حضور کی افضلیت مطلقہ کی یہ دلیل حضرت عبدالله بن عباس رضی الله تعالی عنہما کے ارشادات سے ہے ۔دارمیابو یعلیطبرانی بیہقی روایت کرتے ہیں اس جناب نے فرمایا:
ان الله تعالی فضل محمداصلی الله تعالی علیہ وسلم علی الانبیاء وعلی اھل السماء ۔ بیشك الله تعالی نے محمد صلی الله تعالی علیہ وسلم کو تمام انبیاء وملائکہ سے افضل کیا۔
حاضرین نے وجہ تفضیل پوچھیفرمایا:
ان الله تعالی قال:" وما ارسلنا من رسول الا بلسان قومہ"و قال لمحمد صلی الله تعالی علیہ وسلم وماارسلنك الا کافۃ للناس فارسلہ الی الانس والجن ۔ یعنی الله تعالی نے اوررسولوں کے لیے فرمایا ہے ہم نے نہ بھیجا کوئی رسول مگر ساتھ زبان اس کی قوم کے ۔اورمحمدصلی الله تعالی علیہ وسلم سے فرمایا:ہم نے تمہیں نہیں بھیجا مگر رسول سب لوگوں کیلئے ۔تو حضور کو تمام انس وجن کا رسول بنایا۔
حوالہ / References القرآن الکریم ۷ /۱۵۸
القرآن الکریم ۲۵ /۱
صحیح مسلم کتاب المساجد ومواضع الصلٰوۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۹۹
الدرالمنثور تحت الآیۃ ۱۴ /۴ داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/۵ و ۶،شعب الایمان حدیث۱۵۱ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۱ /۱۷۳،سنن الدارمی باب ما اعطی النبی صلی الله علیہ وسلم من الفضل حدیث۴۷ دارالمحاسن للطباعۃ القاھرہ ۱/۲۹و۳۰
#18095 · رسالہ تجلی الیقین بانّ نبیّنا سید المرسلین ۱۳۰۵ھ (یقین کا اظہار اس بات کے ساتھ کہ ہمارے نبی صلی الله علیہ وسلم تمام رسولوں کے سردار ہیں)
علماء فرماتے ہیں:رسالت والاکا تمام جن وانس کو شامل ہونا اجماعی ہےاورمحققین کے نزدیك ملئکہ کو بھی شاملکما حققنا ہ بتوفیق الله تعالی فی رسالۃ''اجلال جبریل''۔بلکہ تحقیق یہ ہے کہ حجروشجر وارض وسماء وجبال وبحار تمام ماسوا الله اس کے احاطہ عامہ ودائرہ تامہ میں داخلاورخود قرآن عظیم لفظ علمیناور روایت صحیح مسلم میں لفظ خلق وہ بھی مؤکد بکلمہ کافۃ ۔اس مطلب پر احسن الدلائل طبرانی معجم کبیر میں یعلی بن مرہ رضی الله تعالی عنہ سے راویحضور سید المرسلین صلی الله تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
مامن شیئ الا یعلم انی رسول الله الا کفرۃ الجن و الانس ۔ کوئی چیز نہیں جو مجھے رسول الله نہ جانتی ہومگر بے ایمان جن وآدمی ۔
اب نظر کیجئے کہ یہ آیت کتنی وجہ عــــــہ سے افضلیت مطلقہ حضور سید المرسلین صلی الله تعالی علیہ وسلم پر حجت ہے :
اولا: اس موازنہ سے خود واضح ہے کہ انبیائے سابقین علیہم الصلوۃ والتسلیم ایك ایك شہر کے ناظم تھے ۔اورحضور پرنور سید المرسلین صلوات الله تعالی وسلامہ وعلیہم اجمعین سلطان ہفت کشوربلکہ بادشاہ زمین وآسمان ۔
ثانیا: اعبائے رسالت سخت گرانبارہیں۔اوران کا تحمل بغایت دشوار " انا سنلقی علیک قولا ثقیلا ﴿۵﴾ " (بے شك عنقریب ہم تم پرایك بھاری بات ڈالیں گے ۔ت)اسی لیے موسی وہارون سے عالی ہمتوں کو پہلے ہی تاکید ہوئی " لاتنیا فی ذکری ﴿۴۲﴾" دیکھو میرے ذکر سے سست نہ ہوجانا ۔ پھر جس کی رسالت ایك قوم خاص کی طرف اس کی مشقت تو اس قدر جس کی رسالت نے انس وجن وشرق و غرب کو گھیر لیا اس کی مؤنت کس قدر۔پھر جیسی مشقت ویسا ہی اجراورجتنی خدمت
عــــــہ:ان میں بعض وجوہ افادہ علماء ہیں اوراکثر بحمدالله تعالی استخراج فقیر ۱۲منہ
حوالہ / References المعجم الکبیر حدیث۶۷۲ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۲۲ /۲۶۲،کنزالعمال بحوالہ الطبرانی عن یعلٰی بن مرہ حدیث۳۱۹۲۳ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۱ /۴۱۱
القرآن الکریم ۷۳ /۵
القرآن الکریم ۲۰ /۴۲
#18096 · رسالہ تجلی الیقین بانّ نبیّنا سید المرسلین ۱۳۰۵ھ (یقین کا اظہار اس بات کے ساتھ کہ ہمارے نبی صلی الله علیہ وسلم تمام رسولوں کے سردار ہیں)
اتنی ہی قدر افضل العبادات احمزھا(سب سے افضل عبادت سب سے سخت ہوتی ہے ۔ت)
ثالثا:جیسا کام جلیل ہو ویسا ہی جلالت والا اس کےلئے درکار ہوتاہے ۔بادشاہ چھوٹی چھوٹی مہموں پر افسران ماتحت کو بھیجتا ہے اور سخت عظیم مہم پر امیر الامراء سردار اعظم کو لاجرم رسالت خاصہ وبعثت عامہ میں جو تفرقہ ہے وہی فرق مراتب ان خاص رسولوں اوراس رسول الکل میں ہے صلی الله تعالی علیہ وعلیہم اجمعین۔
رابعا: یونہی حکیم کی شان یہ ہے کہ جیسے علوشان کا آدمی ہو اسے ویسے ہی عالیشان کا م پر مقرر کریں کہ جس طرح بڑے کام پر چھوٹے سردار کا تعین اس کے سرانجام نہ ہونے کا موجبیونہی چھوٹے کام پر بڑے سردار کا تقرر نگاہوں میں اس کے ہلکے پن کا جالب۔
خامسا: جتنا کام زیادہ اتنا ہی اس کے لیے سامان زیادہ۔نواب کو اپنے انتظام ریاست میں فوج وخزانہ اسی کے لائق درکار۔اور بادشاہ عظیم خصوصا سلطان ہفت اقلیم کو اس کے رتق وفتق ونظم میں اسی کے موافق۔اوریہاں سامان وہ تائید الہی وتربیت ربانی ہے جو حضرات انبیاء علیہم الصلوۃ والثناء پر مبذول ہوتی ہے۔تو ضرور ہے کہ جو علوم ومعارف قلب اقدس پر القاء ہوئے معارف وعلوم جمیع انبیاء سے اکثر واوفی ہوں۔افادہ الامام الحکیم الترمذی ونقلہ عنہ فی الکبیر الرازی(امام حکیم ترمذی نے اس کا افادہ فرمایا ہے اوراس سے امام رازی نے کبیر میں نقل کیا ہے۔ت)
اقول:پھر یہ بھی دیکھنا کہ انبیاء کو ادائے امانت وابلاغ رسالت میں کن کن باتوں کی حاجت ہوتی ہے۔
(۱)حلمکہ گستاخی کفار پر تنگ دل نہ ہوں۔
"دع اذىہم و توکل علی اللہ " ۔ ان کی ایذاپر درگزر فرماؤ اورالله پر بھروسا رکھو۔(ت)
(۲)صبرکہ ان کی اذیتوں سے گھبرانہ جائیں۔
" فاصبر کما صبر اولوا العزم من الرسل " ۔ تو تم صبر کرو جیساہمت والے رسولوں نے صبر کیا۔(ت)
حوالہ / References القران الکریم ۳۳ /۴۸
القرآن الکریم ۴۶ /۳۵
#18097 · رسالہ تجلی الیقین بانّ نبیّنا سید المرسلین ۱۳۰۵ھ (یقین کا اظہار اس بات کے ساتھ کہ ہمارے نبی صلی الله علیہ وسلم تمام رسولوں کے سردار ہیں)
(۳)تواضعکہ ان کی صحبت سے نفورنہ ہوں۔
" واخفض جناحک لمن اتبعک من المؤمنین ﴿۲۱۵﴾" ۔ اپنی رحمت کا بازوبچھاؤ اپنے پیرو مسلمانوں کے لیے۔(ت)
(۴)رفق ولینتکہ قلوب ان کی طرف راغب ہوں۔
" فبما رحمۃ من اللہ لنت لہم " ۔ تو کیسی کچھ الله کی مہربانی کہ اے محبوب ! تم ان کے لیے نرم دل ہوئے۔(ت)
(۵)رحمتکہ واسطہ فاضہ خیرات ہوں۔
" ورحمۃ للذین امنوا منکم " ۔ اورجو تم میں مسلمان ہیں ان کے واسطے رحمت ہیں۔(ت)
(۶)شجاعتکہ کثرت اعداء کو خیال میں نہ لائیں۔
" انی لا یخاف لدی المرسلون ﴿٭۱۰﴾" ۔ بے شك میرے حضور رسولوں کو خوف نہیں ہوتا۔(ت)
(۷)جود وسخاوتکہ باعث تالیف قلوب ہوں۔
فان الانسان عبید الاحسان وجبلت القلوب علی حب من احسن الیہا" ولا تجعل یدک مغلولۃ الی عنقک " ۔ کیونکہ انسان احسان کا غلام ہے اوردلوں میں خلقی طور پر احسان کرنے والوں کی محبت ڈال دی گئی ہے اور اپنا ہاتھ اپنی گردن سے بندھا ہوا نہ رکھ۔(ت)
(۸)عفوومغفرتکہ نادان جاہل فیض پاسکیں۔
" فاعف عنہم واصفح ان اللہ یحب المحسنین ﴿۱۳﴾" ۔ توانہیں معاف کردو اوران سے درگزرکرو بے شك احسان کرنے والے الله کو محبوب ہیں۔(ت)
(۹)استغناء وقناعتکہ جہال اس دعوئ عظمی کو طلب دنیا پر محمودل نہ کریں۔
" لا تمدن عینیک الی ما متعنا بہ اپنی آنکھ اٹھا کر اس چیز کو نہ دیکھو جو ہم نے ان کے
" ازوجا منہم" ۔ کچھ جوڑوں کو برتنے دی۔(ت)
#18098 · رسالہ تجلی الیقین بانّ نبیّنا سید المرسلین ۱۳۰۵ھ (یقین کا اظہار اس بات کے ساتھ کہ ہمارے نبی صلی الله علیہ وسلم تمام رسولوں کے سردار ہیں)
(۱۰)جمال عدلکہ تثقیف وتادیب وتربیت امت میں جس کی رعایت کریں۔
" و ان حکمت فاحکم بینہم بالقسط " ۔ اوراگر ان میں فیصلہ فرماؤ تو انصاف سے فیصلہ کرو۔(ت)
(۱۱)کمال عقلکہ اصل فضائل ومنبع فواضل ہےولہذا عورت کبھی نبی ہوئی۔
" وما ارسلنا من قبلک الا رجالا" ۔ اورہم نے تم سے پہلے جتنے رسول بھیجے سب مرد ہی تھے۔(ت)
نہ کبھی اہل بادیہ وسکان دہ کو نبوت ملی کہ جفا وغلظت ان کی طینت ہوتی ہے:
" الا رجالا نوحی الیہم من اہل القری " ای اھل المصار۔ جنہیں ہم وحی کرتے اورسب شہر کے ساکن تھے(ت)
حدیث میں ہے:من بدأ جفا ۔(جس نے دیہات میں رہائش اختیار کی اس نے ظلم کیا۔ت)اسی نظافت نسب وحسن سیرت وصورت سب کی صفات جمیلہ کی حاجت ہے کہ ان کی کسی بات پر نکتہ چینی نہ ہو۔غرض یہ سب انہیں خزائن سے ہیں جو ان سلاطین حقیقت کو عطاہوئے ہیںپھر جس کی سلطنت عظیم اس کے خزائن عظیم۔حدیث میں ہے:
ان الله تعالی ینزل المعونۃ علی قدرالمؤنۃ وینزل الصبرعلی قدر البلاء ۔ بے شك الله تعالی ذمہ داری کے مطابق معاونت نازل فرماتا ہے اور آزمائش کے مطابق صبر نازل فرماتاہے۔(ت)
توضرور ہوا کہ ہمارے حضور ان سب اخلاق فاضلہ واوصاف کاملہ میں تمام انبیاء سے اتم واکمل واعلی واجل ہوں۔اسی لئے خود ارشاد فرماتے ہیں:
حوالہ / References القرآن الکریم ۵ /۴۲
القران الکریم ۱۲ /۱۰۹
القران الکریم ۱۲ /۱۰۹
مسند احمد بن حنبل عن البراء المکتب الاسلامی بیروت ۴ /۲۹۷،المعجم لکبیر حدیث۱۱۰۳۰ الکتمبۃ الفیصلیۃ بیروت ۱۱/ ۵۷
کنزالعمال بحوالہ عدوابن لال عن ابی ھریرۃ حدیث۱۵۹۹۲ مؤ سسۃ الرسالہ بیروت ۶ /۳۴۷
#18099 · رسالہ تجلی الیقین بانّ نبیّنا سید المرسلین ۱۳۰۵ھ (یقین کا اظہار اس بات کے ساتھ کہ ہمارے نبی صلی الله علیہ وسلم تمام رسولوں کے سردار ہیں)
انما بعثت لاتمم مکارم الاخلاق۔اخرجہ البخاری فی الادب وابن سعد والحاکم والبیہقی عن ابی ھریرۃ رضی الله تعالی عنہ بسند صحیح۔ میں اخلاق حسنہ کی تکمیل کے لیے مبعوث ہوا۔۔(اس کو بخاری نے ادب میں اورابن سعدحاکم اوربیہقی نے حضرت ابوہریرہ رضی الله تعالی عنہ سے صحیح سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ت)
وہب بن منبہ فرماتے ہیں:میں نے اکہتر کتب آسمانی میں لکھا دیکھا کہ روز آفرنیش دنیا سے قیام قیامت تك تمام جان کے لوگوں کو جنتی عقل عطاکی ہے وہ سب مل کر محمدصلی الله تعالی علیہ وسلم کے آگے ایسی ہے جیسے تمام ریگستان دنیا کے سامنے ریت کا ایك دانہ ۔
سادسا:ہم اوپر بیان کر آئے کہ حضور کی رسالت زمانہ بعثت سے مخصوص نہیں بلکہ سب کو حاوی۔ترمذی جامع میں فائدہ تحسین واللفظ لہاورحاکم وبیہقی وابو نعیم ۱ابوہریرہ رضی الله تعالی عنہ سے۔اور ۲احمد مسند اوربخاری تاریخ میںاورابن سعد وحاکم وبیہقی وابونعیم میسرۃ الفجر ۔رضی الله تعالی عنہ سے۔اور۳بزار وطبرانیابو نعیم عبدالله بن عباس رضی الله تعالی عنہما۔اور ۴ابونعیم بطریق صنالجی امیر المومنین عمر الفاروق لاعظم رضی الله تعالی عنہاور۵ابن سعد ابن ابی الجد عاء و۶مطرف بن عبدالله بن الشخیر و ۷عامر رضی الله تعالی عنہم سے باسانید متباینہ والفاظ متقاربہ راوی حضور پرنور سید المرسلین صلی الله تعالی علیہ وسلم سے عرض کی گئی:"متی وجببت لك النبوۃ " حضور کے لیے نبوت کس وقت ثابت ہوئی فرمایا:"وادم بین الروح والجسد" ۔جبکہ آدم درمیان روح اورجسد کے تھے۔جبل الحفظ امام عسقلانی نے کتاب الاصابہ
حوالہ / References الادب المفرد حدیث۲۷۳ المکتبۃ الاثریۃ سانگلہ ہل ص۷۸،السنن الکبرٰی کتاب الشہادات باب بیان مکارم الاخلاق دارصادر بیروت ۱۰/ ۱۹۲،الطبقات الکبرٰی لابن سعد ذکر مبعث رسول الله صلی الله علیہ وسلم الخ دارصادر بیروت ۱ /۱۹۲ ۱۹۳
سبل الہدٰی والرشاد الباب الثالث دارالکتب العلمیۃ بیروت ۱ /۴۲۷
التاریخ الکبیر ترجمہ ۱۶۰۶ میسرۃ الفجر دارالبازمکۃ المکرمۃ ۷ /۳۷۴،الجامع الصغیر حدیث۶۴۲۴ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۲ /۴۰۰
جامع الترمذی کتاب المناقب باب فضل النبی صلی الله علیہ وسلم امین کمپنی دہلی ۲ /۲۰۱،المستدرك للحاکم کتاب التاریخ دارالفکر بیروت ۲ /۶۰۹،کنزالعمال بحوالہ ابن سعد حدیث ۳۱۹۱۷و۳۲۱۱۷ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۱ /۴۰۹ و ۴۵۰
#18100 · رسالہ تجلی الیقین بانّ نبیّنا سید المرسلین ۱۳۰۵ھ (یقین کا اظہار اس بات کے ساتھ کہ ہمارے نبی صلی الله علیہ وسلم تمام رسولوں کے سردار ہیں)
میں حدیث میسرہ کی نسبت فرمایا:سندہقوی (اس کی سند قوی ہے۔ت)
آدم ستر وتن بآب وگل داشت کوحکم بملك جان جان ودل داشت
(آدم علیہ السلام ابھی گارے کا مجسمہ تھے کہ آنحضرت کی حکومت دل وجان کی مملکت میں تھی۔ت)
اسی لئے اکابر علماء تصریح فرماتے ہیں کہ جس کا خدا خالق ہے محمد صلی الله تعالی علیہ وسلم اس کے رسول ہیں۔شیخ محقق رحمۃ الله تعالی علیہ مدارج النبوۃ میں فرماتے ہیں:
چو بود خلق آنحضرت صلی الله تعالی علیہ وسلم اعظم الاخلاق بعث کر دخدائے تعالی اورابسوئے کافہ ناس ومقصور نہ گردانید رسالت اورابرناس بلکہ عام گردانید جن وانس رابلکہ برجن و انس نیز مقسور نہ گردانید تا آنکہ عام شد تمامہ عالمین راپس ہر کہ الله تعالی پروردگار اوست محمد صلی الله تعالی علیہ وسلم رسول اوست ۔ چونکہ آنحضرت صلی الله تعالی علیہ وسلم کی پیدائش تمام مخلوق سے اعظم ہے۔لہذا الله تعالی نے آپ کو تمام لوگوں کی طرف مبعوث فرمایا۔آپ کی رسالت کو انسانوں میں منحصر نہیں فرمایا بلکہ جن وانس کے لیے عام کردیا بلکہ جن و انس میں بھی انحصار نہیں فرمایا یہاں تك کہ آپ کی رسالت تمام جہانوں کے لئے عام ہے۔چنانچہ الله تعالی جس کا پروردگار ہے محمد صلی الله تعالی علیہ وسلم اس کے رسول ہیں۔(ت)
اب تو یہ دلیل اور بھی زیادہ عظیم وجلیل ہوگئی کہ ثابت ہوا جو نسبت انبیائے سابقین علیہم الصلوۃ والتسلیم سے خاص ایك بستی کے لوگوں کو ہوئی وہ نسبت اس سرکار عرش وقار سے ہرذرہ مخلوق وہرفردماسواالله یہاں تك کہ خود حضرات انبیاء ومرسلین کو ہےاوررسول کا اپنی امت سے افضل ہونابدیہیوالحمدلله رب العلمین(اورسب تعریفیں الله تعالی کے لیے ہیں جو پروردگار ہے تمام جہانوں کا۔ت) اب تو یہ دلیل اوربھی زیادہ عظیم وجلیل ہوگئی کہ ثابت ہوا جو نسبت انبیائے سابقین علیہم الصلوۃ والتسلیم سے خاص ایك بستی کے لوگوں کوہوتی ہے وہ نسبت اس سرکار عرش وقار سے ہر ذرئہ مخلوق وہر فرد ماسوا الله یہاں تك کہ خود حضرات انبیاء ومرسلین کو ہےاوررسول کا اپنی امت سے افضل ہونا بدیہیوالحمدلله رب العلمین(اورسب تعریفیں الله تعالی کے لیے ہیں جو پروردگار ہے تمام جہانوں کا۔ت)
آیت رابعہ:" تلک الرسل فضلنا بعضہم علی بعض منہم چوتھی آیت:الله تعالی نے فرمایا:یہ رسول ہیں کہ ہم نے ان میں بعض کو بعض پرفضیلت دی
حوالہ / References الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ حرف المیم ترجمہ میسرۃ الفجر ۸۲۸۲ دارالفکر بیروت ۵/۲۱۷
مداراج النبوۃ باب دوم دراخلاق عظیمہ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ /۳۴
#18101 · رسالہ تجلی الیقین بانّ نبیّنا سید المرسلین ۱۳۰۵ھ (یقین کا اظہار اس بات کے ساتھ کہ ہمارے نبی صلی الله علیہ وسلم تمام رسولوں کے سردار ہیں)
من کلم اللہ ورفع بعضہم درجت" ۔ کچھ ان میں وہ ہیں جن سے خد ا نے کلام کیااور ان میں بعض کو درجوں بلند فرمایا۔
ائمہ فرماتے ہیں یہاں اس بعض سے حضور سید المرسلین صلی الله تعالی علیہ وسلم مراد ہیں کہ انہیں سب انبیاء پر رفعت وعظمت بخشی۔
کما نص علیہ البغوی والبیضاوی والنسفی و السیوطی والقسطلانی والزرقانی والشامی والحلبی و غیرھم واقتصار الجلالین دلیل انہ اصح الاقوال لا لتزام ذلك فی الجلالین۔ جیسا کہ اس پر نص فرمائی ہے بغویبیضاوینسفیسیوطی قسطلانیزرقانیشامی اور حلبی وغیرہ نےاورجلالین میں اس پر اقتصار اس بات کی دلیل ہے کہ یہی اصح ہے کیونکہ جلالین میں اس کا التزام کیا گیا ہے(کہ اصح پر ہی اقتصار کیا جاتاہے۔) (ت)
اوریوں مبہم ذکر فرمانے میں حضور کے ظہور افضلیت وشہرت سیادت کی طرف اشارہ تامہ ہےیعنی یہ وہ ہیں کہ نام لو یا نہ لو انہی کی طرف ذہن جائے گااورکوئی دوسرا خیال نہ آئے گا۔صلی الله تعالی علیہ وآلہ وسلم۔فقیر کہتاہے اہل محبت جانتے ہیں کہ ابہام تام میں کیا لطف ومزہ ہے۔ ع
اے گل بتو خر سند تو بوئے کسے داری
(اے پھول۱ تجھ پر شادمانی ہے کہ تو کسی کی خوشبو رکھتاہے۔ت)
مژدہ اے دل کی مسیحا نفسے مے آید کہ زانفاسخوشش بوئے کسے می آید
(اے دل !خوشخبری ہو کہ مسیحا آتا ہےجس کے عمدہ سانسوں سے کسی کوخوشبوآتی ہے۔ت)
حوالہ / References القرآ ن الکریم ۲ /۲۵۳
معالم التنزیل(تفسیر البغوی)تحت الآیۃ ۲ /۲۵۳ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۱ /۱۷۷
انوارالتنزیل(تفسیر البیضاوی)تحت الآیۃ ۲ /۲۵۳ دارالفکر بیروت ۱ /۵۴۹ ۵۵۰
مدارك التنزیل(تفسیر النسفی)تحت الآیۃ ۲ /۲۵۳ دارالکتاب العربی بیروت ۱ /۱۲۷
تفسیر جلالین تحت الآیۃ ۲ /۲۵۳ اصح المطابع دہلی ص۳۹
#18102 · رسالہ تجلی الیقین بانّ نبیّنا سید المرسلین ۱۳۰۵ھ (یقین کا اظہار اس بات کے ساتھ کہ ہمارے نبی صلی الله علیہ وسلم تمام رسولوں کے سردار ہیں)
ع کسی کا دو قدم چلنا یہاں پامال ہوجانا
آیت خمسہ:قال تبارک عــــــہ۱ اسمہ" ہو الذی ارسل رسولہ بالہدی و دین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ و کفی باللہ شہیدا ﴿۲۸﴾" ۔ پانچویں آیت:الله تعالی نے فرمایا:وہی ہے جس نے بھیجا اپنا رسول ہدایت اورسچا دین دے کر کہ اسے غالب کرے سب دینوں پر۔اورخدا کافی ہے گواہ۔
اوراس امت مرحومہ سے فرماتاہے:
عــــــہ۲ کنتم خیر امۃ اخرجت للناس ۔ تم سب سے بہتر امت ہوکہ لوگوں کے لیے ظاہر کی گئی۔

عــــــہ ۱:حاشیہاستدل الامام ابن سبع بھذہ الایۃ علی ان شرعنا ناسخ الشرائع کما ذکرہ فی الخصائص الکبری فافاد ان الدین فی الایۃ علی عمومہ الحقیقی شامل الادیان الحقۃ السابقۃ غیر مختص بادیان الکفار الموجودۃ فی زمن الاسلام فتم لکلام ۱۲منہ۔
عــــــہ۲:استدل بھذہ الایۃ الرازی و التفتازانی و القسطلانی و ابن حجر المکی و غیرھم و العبد الضعیف ضم الیھا الایۃ الاولی فسلمت من الجدال کما یعرفہ المتأمل ۱۲ منہ۔ امام ابن سبع نے اس آیت کریمہ سے استدلال کیا کہ ہماری شریعت تمام شریعتوں کیلئے ناسخ ہے جیسا کہ امام سیوطی نے خصائص کبری میں اس کو ذکر فرمایا اوریہ افادہ کیا کہ اس آیت میں دین اپنے حقیقی عموم پرہے جو سابقہ تمام ادیان حقہ کو شامل ہے اورزمانہ اسلام میں پائے جانے والے ادیان کفار کے ساتھ مختص نہیں ہے۔کلام پورا ہوا منہ(ت)
اس آیت کریمہ سے امام الرازیتفتازانیقسطلانی اور ابن حجر مکی وغیرہ نے استدلال کیا اور عبد ضعیف نے اس کے ساتھ پہلی آیت کو ملایا تو یہ جدال سے سلامت ہوئی جیساکہ غور کرنے والا جانتا ہے۔منہ
حوالہ / References القرآن الکریم ۴۸ /۲۸
القرآن الکریم ۳ /۱۱۰
الخصائص الکبری باب اختصاصہ صلی الله تعالٰی علیہ وسلم الخ مرکز اہل سنت برکات رضا گجرات ہند ۲ /۱۸۷
#18103 · رسالہ تجلی الیقین بانّ نبیّنا سید المرسلین ۱۳۰۵ھ (یقین کا اظہار اس بات کے ساتھ کہ ہمارے نبی صلی الله علیہ وسلم تمام رسولوں کے سردار ہیں)
آیات کریمہ ناطق کہ حضور کا دین تمام ادیان سے اعلی و اکمل اور حضور کی امت سب امم سے بہتر و افضلتو لاجرم اس دین کا صاحب اور اس امت کا آقا سب دین و امت و الوں سے افضل و اعلی امام احمد وترمذی بافادہ تحسین وابن ماجہ وحاکم معاویہ بن حیدہ رضی الله تعالی عنہ سے راوی حضورسید المرسلین صلی الله تعالی علیہ و سلم اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں:
انکم تتمون سبعین امۃ انتم خیرھا و اکرمھا علی الله ۔
تم ستر امتوں کو پورا کرتے ہو کہ الله کے نزدیك ان سب سے بہتر و بزرگ تر تم ہو۔
آیت سادسہ:قال جلت عظمتہ:" ویادم اسکن انت و زوجک الجنۃ"
چھٹی آیت:الله تعالی نے فرمایا اے آدم !تو اور تیری بیوی جنت میں رہو۔(ت)
۔
وقال تعالی " قیل ینوح اہبط بسلم منا"
اور الله تعالی نے فرمایا اے نوح کشتی سے اتر ہماری طرف سے سلام۔
۔
وقال تعالی: " یابرہیم ﴿۱۰۴﴾ قد صدقت الرءیا " ۔وقال تعالی " یموسی انی انا اللہ " ۔
وقال تعالی " یعیسی انی متوفیک"
اور الله تعالی نے فرمایا اے ابراہیم بے شك تو نے خواب سچ کر دکھایا۔
اور الله تعالی نے فرمایا بے شك میں ہی ہوں اللہ(ت)۔
اور الله تعالی نے فرمایا اے عیسی میں تجھے پوری عمر تك پہنچاؤں گا۔(ت)
۔
وقال تعالی " یداود انا جعلنک خلیفۃ"
اور الله تعالی نے فرمایا اے داؤد بے شك ہم نے تجھے زمین میں نائب کیا۔(ت)
۔
حوالہ / References جامع الترمذی ابواب التفسیر تحت الایۃ ۳ /۱۱۰ آمین کمپنی دہلی ۲ /۱۲۵،مسند امام احمد حنبل عن ابی سعید الخدری المکتب الاسلامی بیروت ۳ /۶۱،کنزالعمال حدیث ۳۴۴۶۳ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۲ /۱۵۶ ۱۶۹
القرآن الکریم ۲ /۳۵
القرآن الکریم ۱۱ /۴۸
القرآن الکریم ۳۷ /۱۰۵
القرآن الکریم ۲۸ /۳۰
القرآن الکریم ۳ /۵۵
القرآن الکریم ۳۸ /۲۶
#18104 · رسالہ تجلی الیقین بانّ نبیّنا سید المرسلین ۱۳۰۵ھ (یقین کا اظہار اس بات کے ساتھ کہ ہمارے نبی صلی الله علیہ وسلم تمام رسولوں کے سردار ہیں)
وقال تعالی " یزکریا انا نبشرک"
اور الله تعالی نے فرمایا اے زکریا ہم تجھے خوشی سناتے ہیں۔ (ت)
وقال تعالی " ییحیی خذ الکتب بقوۃ " ۔
اور الله تعالی نے فرمایا اے یحیی کتاب مضبوط تھام۔(ت)
غرض قرآن عظیم کا عام محاورہ ہے کہ تمام انبیائے کرام کو نام لے کر پکارتا ہے مگر جہاں محمد رسول صلی الله تعالی علیہ وسلم سے خطاب فرمایا ہےحضور کے اوصاف جلیلہ و القاب حمیدہ ہی سے یادکیا ہے۔" یایہا النبی انا ارسلنک" ۔ اے نبی ہم نے تجھے رسول کیا۔" یایہا الرسول بلغ ما انزل الیک من ربک " ۔اے رسول پہنچا جو تیری طرف اترا۔" یایہا المزمل ﴿۱﴾ قم الیل الا قلیلا ﴿۲﴾" ۔اے کپڑا اوڑھے لیٹنے والے رات میں قیام فرما۔" یایہا المدثر ﴿۱﴾ قم فانذر ﴿۲﴾۪" ۔اے جھرمٹ مارنے والے کھڑا ہولوگوں کو ڈر سنا۔" یس ﴿۱﴾ و القران الحکیم ﴿۲﴾ انک لمن المرسلین ﴿۳﴾" ۔اے یس یا اے سردار مجھے قسم ہے حکمت والے قرآن کیبے شك تو مرسلوں سے ہے۔" طہ ﴿۱﴾ ما انزلنا علیک القران لتشقی ﴿۲﴾" ۔اے طہ!یا اے پاکیزہ رہنما ! ہم نے تجھ پر قرآن اس لیے نہیں اتارا کہ تو مشقت میں پڑے۔
ہر ذی عقل جانتا ہے کہ جو ان نداؤں اور ان خطابوں کو سنے گا بالبداہت حضور سید المرسلین و انبیائے سابقین کا فرق جان لے گا ع
یا دم ست با پدر انبیاء خطاب یایھا النبی خطاب محمد است
(''اے آدم!''نبیوں کے باپ کے لیے خطاب ہے۔اور محمد مصطفی صلی تعالی علیہ وسلم کے لیے خطاب ہے۔''اے نبی''۔ت)
امام عزالدین بن عبد السلام وغیرہ علمائے کرام فرماتے ہیں بادشاہ جب اپنے تمام امرا کو نام لےکر پکارے اور ان میں خاص ایك مقرب کو یوں ندا فرمایا کرے اے مقرب حضرت
#18105 · رسالہ تجلی الیقین بانّ نبیّنا سید المرسلین ۱۳۰۵ھ (یقین کا اظہار اس بات کے ساتھ کہ ہمارے نبی صلی الله علیہ وسلم تمام رسولوں کے سردار ہیں)
اے نائب سلطنتاے صاحب عزتاے سردار مملکت ___تو کیا کسی طرح محل ریب وشك باقی رہے گا کہ یہ بندہ بارگاہ سلطانی میں سب سے زیادہ عزت و وجاہت والا اور سرکار سلطانی کو تمام عمائد و ارکین سے بڑھ کر پیارا ہے ۔
فقیر کہتا ہے غفرالله تعالی لہخصوصا " یایہا المزمل ﴿۱﴾" اے کپڑا اوڑھے لیٹنے والے۔(ت) " یایہا المدثر ﴿۱﴾" ۔اے جھرمٹ مارنے والے۔(ت)تووہ پیارے خطاب ہیں جن کا مزہ اہل محبت جانتے ہیں ان آیتو ں کے نزول کے وقت سید عالم صلی تعالی علیہ وسلم بالا پوش اوڑھےجھرمٹ مارے لیٹے تھےاسی وضع و حالت سے حضور کو یاد فرما کر ندا کی گئیبلا تشبیہ جس طرح سچا چاہنے ولا اپنے پیارے محبوب کو پکارے:او بانکی ٹوپی والےاو دھانی دوپٹے والے ع
او دامن اٹھا کے جانے والے
فسبحان الله و الحمد و الصلواۃ الزھراء علی الحبیب ذی الجاہ۔الله تعالی کو پاکی ہے اور تمام تعریفیں الله تعالی کے لیے ہیں اور روشن درود وجاہت والے محبوب پر۔(ت)
ثم اقول:(پھر میں کہتا ہوں۔ت)نہایت یہ ہے کہ اشقیائے یہود مدینہ و مشرکین مکہ جو حضور سے جاہلانہ گفتگو میں کرتے۔ ان مقالات خبیثہ کو بغرض رد و ابطال و مژدہ رسانی عذاب و نکال بار ہا نقل فرمایا گیا مگر ان گستاخوں کی اس بے ادبانہ ندا کا کہ نام لے کر حضور کو پکارتے۔محل نقل میں ذکر نہ آیا۔ہاں جہاں انھوں نے وصف کریم سے ندا کی تھیاگرچہ ان کے زعم میں بطور استہزا تھیاسے قرآن مجید نقل کر لایا کہ:
" و قالوا یایہا الذی نزل علیہ الذکر" ۔ بولے اے وہ جس پر قرآن اترا۔صلی الله تعالی علیہ وسلم
بخلاف حضرات انبیائے سابقین علیہم الصلواۃ و التسلیم کہ ان کے کفار کے مخاطبے ویسے ہی منقول ہیں۔
" ینوح قد جدلتنا" ۔" ءانت فعلت اے نوح تم ہم سے جھگڑے کیا تم نے ہمارے
#18106 · رسالہ تجلی الیقین بانّ نبیّنا سید المرسلین ۱۳۰۵ھ (یقین کا اظہار اس بات کے ساتھ کہ ہمارے نبی صلی الله علیہ وسلم تمام رسولوں کے سردار ہیں)
ہذا بالہتنا یـابرہیم ﴿۶۲﴾" ۔ " یموسی ادع لنا ربک بما عہد عندک " ۔" یصلح ائتنا بما تعدنا" ۔" یشعیب ما نفقہ کثیرا مما تقول" ۔ خداؤں کے ساتھ یہ کام کیا اے ابراہیم!اے موسی ہمارے لیے اپنے رب سے دعا کرو اس عہد کے سبب جو اس کا تمہارے پاس ہے۔اے صالح ہم پر لے آو جس تم وعدہ دے رہے ہو۔ اے شعیب ہماری سمجھ میں نہیں آتیں تمہاری بہت سی باتیں (ت)
بلکہ اس زمانہ کے مطیعین بھی انبیاء علیہم الصلواۃ و التسلیم سے یونہی خطاب کرتے ہیں اور قرآن عظیم نے اسی طرح نقل فرمائی
اسباط نے کہا:
"یموسی لن نصبر علی طعام وحد" ۔ اے موسی !ہم سے تو ایك کھانے پر ہرگز صبر نہ ہوگا۔
حواریوں نے کہا:
" یعیسی ابن مریم ہل یستطیع ربک" ۔ اے عیسی بن مریم! کیا آپ کا رب ایسا کرے گا۔(ت)
یہاں اس کا یہ بندوبست فرمایاکہ اس امت مرحومہ پر اس نبی کریم علیہ افضل الصلوۃ والتسلیم کا نام پاك لے کر خطاب کرنا ہی حرام ٹھہرایا:
قال الله تعالی:" لا تجعلوا دعاء الرسول بینکم کدعاء بعضکم بعضا " ۔ الله تعالی نے فرمایا:رسول کا پکارنا آپس میں ایسا نہ ٹھہرالو جیسے ایك دوسرے کو پکارتے ہو۔
کہ اے زیداے عمرو۔بلکہ یوں عرض کرو:یارسول الله یانبی الله یا سدی المرسلینیا خاتم النبیینیاشفیع المذنبینصلی الله تعالی علیك وسلم وعلی الك اجمعین۔
#18107 · رسالہ تجلی الیقین بانّ نبیّنا سید المرسلین ۱۳۰۵ھ (یقین کا اظہار اس بات کے ساتھ کہ ہمارے نبی صلی الله علیہ وسلم تمام رسولوں کے سردار ہیں)
ابو نعیم حضرت عبدالله بن عباس رضی الله تعالی عنہما سے اس آیت کی تفسیر میں راوی:
قال کانوا یقولون یا محمد یا اباالقاسم فنھھم الله عن ذلك اعظاما لنبیہ صلی الله تعالی علیہ وسلم فقالوایا نبی الله یا رسول الله ۔ یعنی پہلے حضور کو یا محمد یا ابالقاسم کہا جاتا الله تعالی نے اپنے نبی کی تعظیم کو اس سے نہی فرمائیجب سے صحابہ کرام یا نبی الله یا رسول الله کہا کرتے۔
بیہقی امام علقمہ وامام اسود اورابو نعیم امام حسن بصری وامام سعید بن جبیر سے تفسیر کریمہ مذکورہ میں راوی:
لاتقولوا یا محمد ولکن قولوا یا رسول الله یا نبی الله ۔ یعنی الله تعالی فرماتاہے:یا محمد نہ کہو بلکہ یا نبی الله یارسول الله کہو۔
اسی طرح امام قتادہ تلمیذ انس بن مالك سے روایت کیرضی الله تعالی عنہم اجمعین۔ولہذا علماء تصریح فرماتے ہیں حضور اقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم کو نام لے کر نداکرنی حرام ہے۔
اورواقعی محل انصاف ہے جسے اس کا مالك ومولی تبارك وتعالی نام لے کر نہ پکارے غلام کی کیا مجال کہ راہ ادب سے تجاوز کرے بلکہ امام زین الدین مراغی وغیرہ محققین نے فرمایا:گریہ لفظ کسی دعاء میں وارد ہوجو خود نبی صلی الله تعالی علیہ وسلم نے تعلیم فرمائی جیسے دعائے یا محمد انی توجھت بك الی ربی ۔اے محمد!میں آپ کے توسل سے اپنے رب کی طرف متوجہ ہوا۔ (ت) تاہم اس کی جگہ یارسول الله یا نبی الله چاہیےحالانکہ الفاظ دعاء میں حتی الوسع تغییر نہیں کی جاتی۔کما یدل علیہ حدیث نبیك الذی ارسلت ورسولك
حوالہ / References دلائل النبوۃ لابی نعیم الفصل الاول عالم الکتب بیروت الجزء الاول ص۷،الدرالمنثور تحت الآیۃ ۲۴ /۶۳ داراحیاء التراث العربی بیروت ۶ /۲۱۱
تفسیر الحسن البصری تحت الآیۃ ۲۴ /۶۳ المکتبۃ التجاریۃ مکۃ المکرمۃ ۲ /۱۶۴،الدرالمنثوربحوالہ عبدبن حمید عن سعید بن جبیر والحسن تحت الآیۃ ۲۴ /۶۳ داراحیاء التراث العربی بیروت ۶ /۲۱۱
المستدرك للحاکم کتاب صلٰوۃ التطوع دعاء ردالبصر دارالفکر بیروت ۱ /۳۱۳ ۵۱۹ ۵۲۶،سنن ابن ماجۃ کتاب اقامۃ الصلٰوۃ باب ماجاء فی حاجۃ الصلٰوۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۰۰
#18108 · رسالہ تجلی الیقین بانّ نبیّنا سید المرسلین ۱۳۰۵ھ (یقین کا اظہار اس بات کے ساتھ کہ ہمارے نبی صلی الله علیہ وسلم تمام رسولوں کے سردار ہیں)
الذی ارسلت(جیسا کہ اس پر دلالت کرتی ہے حدیث مبارك ''تیرا نبی جس کو تو نے بھیجا اورتیرا رسول جس کو تو نے بھیجا'' ت)
یہ مسئلہ مہمہ جس سے اکثر اہل زمانہ غافل ہیں نہایت واجب الحفظ ہے۔فقیر غفرالله تعالی لہ نے اس کی تفصیل اپنے مجموعہ فتاوی مسمی بہ العطایاالنبویہ فی الفتاوی الرضویہ میں ذکر کی۔وبالله التوفیق۔خیر یہ تو خود حضور اقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم کا معاملہ تھا۔حضور کے صد قہ میں اس امت مرحومہ کا خطاب بھی خطاب امم سابقہ سے ممتازٹھہرا۔اگلی امتوں کو الله تعالی یا ایھا المساکین ۔فرمایا کرتا۔توریت مقدس میں جابجا یہی لفظ ارشاد ہوا ہےقالہ خیثمۃ رواہ ابن ابی حاتم اوردہ السیوطی فی الخصائص الکبری(یہ خیثمہ نے کہا جس کو ابن ابی حاتم نے روایت کیا اورامام سیوطی نے خصائص کبری مین وارد کیا ہے۔ت)(یہ خیثمہ نے کہا جس کو ابن ابی حاتم نے روایت کیا اورامام سیوطی نے خصائص کبری میں وارد کیا ہے۔ت) اوراس مت مرحومہ کو جب ندافرمائی ہے "یایہا الذین امنوا" فرمایاگیا ہےیعنی اے ایمان والو!امتی کے لیے اس سے زیادہ اورکیا فضیلت ہوگی۔سچ ہے پیارے کے علاقہ والے بھی پیارے۔آخر نہ سنا کہ فرماتاہے:
"فاتبعونی یحببکم اللہ"
آیت سابعہ:قال جل جلالہ"لعمرک انہم لفی سکرتہم یعمہون ﴿۷۲﴾" ۔
وقال تعالی: لا اقسم بہذا البلد ﴿۱﴾ و انت حل بہذا البلد ﴿۲﴾" ۔ میری پیروی کرو الله کے محبوب ہوجاؤ گے۔
ساتویں آیت:حق جل جلالہ اپنے حبیب کریم علیہ افضل الصلوۃ والتسلیم سے فرماتا ہے:تیری جان کی قسم وہ کافر اپنے نشے میں اندھے ہورہے ہیں۔
اورالله تعالی نے فرمایا:میں قسم یاد کرتاہوں اس شہر کی کہ تو اس میں جلوہ فرماہے۔
حوالہ / References نسیم الریاض الباب الاول الفصل الثالث مرکز اہلسنت برکات رضا گجرات ہند ۱ /۱۸۸
القرآن الکریم ۲ /۱۸۳
القرآن الکریم ۳ /۳۱
القرآن الکریم ۱۵ /۷۲
القرآن الکریم ۹۰ /۱ ۲
#18109 · رسالہ تجلی الیقین بانّ نبیّنا سید المرسلین ۱۳۰۵ھ (یقین کا اظہار اس بات کے ساتھ کہ ہمارے نبی صلی الله علیہ وسلم تمام رسولوں کے سردار ہیں)
وقال تعالی "و قیلہ یرب ان ہؤلاء قوم لا یؤمنون ﴿۸۸﴾"
اور الله تعالی نے فرمایا:مجھے قسم ہے رسول کے اس کہنے کی کہ اے رب میرے ! یہ لوگ ایمان نہیں لاتے
۔
قال تعالی: " والعصر ﴿۱﴾" ۔
اور الله تعالی نے فرمایا قسم زمان برکت نشان محمد صلی الله تعالی علیہ وسلم کی۔
اے مسلمان ! یہ مرتبہ جلیلہ اس جان محبوبیت کے سو ا کسے میسر ہوا کہ قرآن عظیم نے ان کے شہرکی قسم کھائیان کی باتوں کی قسم کھائیان کے زمانے کی قسم کھائیان کی جان کی قسم کھائیصلی الله تعالی علیہ وسلم ہاں اے مسلمان !محبوبیت کبری کے یہی معنی ہیں والحمد لله رب العالمین۔(اور سب تعریفیں الله تعالی کے لیے ہیں جو پروردگار ہے تمام جہانوں کا۔ت)
ابن مردویہ اپنی تفسیر میں حضرت ابوہریرہ رضی الله تعالی عنہ سے راوی حضور سید المرسلین صلی الله تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ما حلف الله بحیاۃ احد الا بحیاۃ محمد صلی الله تعالی علیہ وسلم قال تعالی:" لعمرک انہم لفی سکرتہم یعمہون ﴿۷۲﴾"و حیاتك یا محمد ۔ یعنی الله تعالی نے کبھی کسی کی زندگی کہ قسم یاد نہ فرمائی سوائے محمد صلی الله تعالی علیہ وسلم کے کہ آیہ:لعمرك میں فرمایا تیری جان کی قسم اے محمد عــــــہ۲ ۔

عــــــہ۱: قلت اغفل الامام القسطلانی ھذہ الآیۃ فی المواھب وقد سوغ فیھا ھذا المعنی الامام النسفی فی المدارك ۱۲ منہ۔
عــــــہ۲:ذکر ھذہ التاویل فی التفسیر الکبیر ثم القاضی البیضاوی فی تفسیرہ و تبعھما القسطلانی و اقرہ الزرقانی ۱۲ منہ۔ میں کہتاہوں امام قسطلانی نے مواہب میں اس کی طرف توجہ نہ فرمائی جبکہ تفسیر مدارك میں امام نسفی نے اس آیہ کریمہ میں اس معنی کو روا رکھا ۱۲منہ(ت)۔
اس تاویل کو(امام رازی نے)تفسیر کبیر میں پھر قاضی بیضاوی نے اپنی تفسیر میں ذکر کیا امام قسطلانی نے ان کی اتباع کی اور زرقانی نے اس کو برقرار رکھا۔ت)
حوالہ / References القرآن الکریم ۴۳ /۸۸
القرآن الکریم ۱۰۳ /۱
الدر المنثور بحوالہ ابن مردویہ تحت الایہ ۱۵ /۷۲ دار احیاء التراث العربی بیروت ۵ /۸۰
#18110 · رسالہ تجلی الیقین بانّ نبیّنا سید المرسلین ۱۳۰۵ھ (یقین کا اظہار اس بات کے ساتھ کہ ہمارے نبی صلی الله علیہ وسلم تمام رسولوں کے سردار ہیں)
ابو یعلیابن جریرابن مردویہابن بیہقیابو نعیمابن عساکربغوی حضرت عبد الله بن عباس رضی الله تعالی عنہما سے راوی:
ماخلق الله وما ذراء وما براء نفسا اکرم علیہ من محمد صلی الله تعالی علیہ و سلم وما حلف الله بحیاۃ احد الا بحیاۃ محمد صلی الله تعالی علیہ وسلم
" لعمرک انہم لفی سکرتہم یعمہون ﴿۷۲﴾" ۔ الله تعالی نے ایسا کوئی نہ بنایانہ پیدا کیانہ آفرینش فرمایا جو اسے محمد صلی الله تعالی علیہ وسلم سے زیادہ عزیز ہونہ کبھی ان کی جان کے سوا کسی کی جان کی قسم یاد فرمائی کہ ارشاد کرتا ہے مجھے تیری جان کی قسم وہ کافر اپنی مستی میں بہك رہے ہیں۔
امام حجۃ الاسلام عــــــہ محمد غزالی احیاء العلوم اور امام محمد بن الحاج عبدری مکی مدخل اور
عــــــہ:ذکرہ فی احیاء والمدخل بطولہ وفی المواھب و النسیم کلمات منہو کذا الامام القاضی عیاض فی الشفاء و عزاہ الامام الجلال السیوطی فی مناھل الصفا صاحب اقتباس الانوار ولابن الحاج فی مدخلہ قال وکفی بذلك سند المثلہ فانہ لیس مما یتعلق بہ الاحکام اھ و ذکرہ فی النسیم ۔ اس کو احیاء العلوم اور مدخل میں مفصل ذکر کیا ہے جبکہ مواہب و نسیم میں اس سے کلمات ذکر کیے گئے ہیں۔اور یونہی امام قاضی عیاض نے شفاء میں ذکر فرمایا۔امام سیوطی نے اس کو مناہل صفاء صاحب اقتباس الانوار کی طرف منسوب کیا۔ابن الحاج نے اپنی کتاب مدخل میں کہا کہ اس کی مثل کے لیے یہ سند کافی ہے کیونکہ اس کے ساتھ شرعی احکام متعلق نہیں ہوتے اھ اور اس کو نسیم میں ذکر کیا ہے۔(باقی اگلے صفحہ پر)
حوالہ / References الدر المنثور بحوالہ ابی یعلی و ابن جریر و ابن مردویہ و البیہقی تحت الآیہ ۱۵ /۷۲ بیروت ۵ /۸۰،جامع البیان تحت الآیہ ۱۵ /۷۲ دار احیاء التراث العربی بیروت ۱۴ /۵۴ ۵۵، دلائل النبوۃ لابی نعیم الفصل الرابع عالم الکتب بیروت الجز الاول ص۱۲
نسیم الریاض فی شرح ش فاء القاضی العیاض الفصل السابع مرکز اھل السنت گجرات ہند ۱ /۲۴۸
#18111 · رسالہ تجلی الیقین بانّ نبیّنا سید المرسلین ۱۳۰۵ھ (یقین کا اظہار اس بات کے ساتھ کہ ہمارے نبی صلی الله علیہ وسلم تمام رسولوں کے سردار ہیں)
امام احمد محمد خطیب قسطلانی مواہب لدنیہ اور علامہ شہاب الدین خفاجی نسیم الریاض میں ناقل حضرت امیر المومنین عمر فاروق اعظم رضی الله تعالی عنہ ایك حدیث طویل میں حضور سید المرسلین صلی الله تعالی علیہ وسلم سے عرض کرتے ہیں:
بابی انت وامی یا رسول الله لقد بلغ من فضیلتك عند الله تعالی ان اقسم بحیاتك دون سائر الانبیاء ولقد بلغ من فضیلتك عندہ ان اقسم بتراب قدمیك فقال: یارسول الله !میرے ماں باپ حضور پر قربان بیشك حضور کی بزرگی خدا تعالی کے نزدیك اس حد کو پہنچی کہ حضور کی زندگی کی قسم یاد فرمائینہ باقی انبیاء علیہ الصلواہ و السلام کی۔اور تحقیق حضور کی فضلیت خدا کے یہاں اس نہایت کی ٹھہری کہ حضور کی خاك پاك کی قسم یاد فرمائی

اقول:وھو کلام نفیس طویل جلیل رثی بہ امیر المومنین عمر رضی الله تعالی عنہ النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم حین تحقق لہ موتہ صلی الله تعالی علیہ وسلم بخطبۃ ابی بکر الصدیق رضی الله تعالی عنہ کما یظہر بمراجعۃ الحدیث بطولہ فماوقع فی شرح المواھب للعلامۃ الزرقانی فی المقصد السادس تحت آیۃ "لااقسم بھذا البلد" ان عمر رضی الله تعالی عنہ قال لنبی صلی الله تعالی علیہ وسلم واقرہ علیہ اھ سہو ینبغی التنبیہ لہ ۱۲ منہ۔ اقول:میں کہتا ہوں وہ طویل و نفیس کلام ہے جس کے ساتھ امیر المومنین عمر رضی الله تعالی عنہ نے رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم کا مرثیہ کہا جبکہ ان کے لیے صدیق اکبر رضی الله تعالی عنہ کے خطبہ سے آپ کی موت ثابت ہوگئی جیساکہ طویل حدیث کی طرف رجوع کرنے سے ظاہر ہوتا ہے۔چنانچہ علامہ زرقانی کی شرح مواہب کے مقصد سادس میں آیت کریمہ "لا اقسم بھذا البلد" کے تحت جو واقع ہے کہ حضرت عمر رضی الله تعالی عنہ نے یہ بات نبی کریم صلی الله تعالی علیہ وسلم کے لیے کہی اور آپ نے اس کو برقرار رکھا اھ سہو ہے جس پر متنبہ کرنا چاہیے ۱۲منہ)
حوالہ / References شرح الزرقانی علی المواھب اللدنیہ المقصد السادس النوع الخامس الفصل الخامس المکتبہ الاسلامی بیروت ۶ /۲۳۴
#18113 · رسالہ تجلی الیقین بانّ نبیّنا سید المرسلین ۱۳۰۵ھ (یقین کا اظہار اس بات کے ساتھ کہ ہمارے نبی صلی الله علیہ وسلم تمام رسولوں کے سردار ہیں)
" لا اقسم بہذا البلد ﴿۱﴾" ۔ کہ ارشاد کرتا ہے مجھے قسم اس شہر کی۔(ت)
شیخ محقق رحمہ الله تعالی مدارج میں فرماتے ہیں:
ایں لفظ در ظاہر نظر سخت مے در آید نسبت بجناب عزت چوں گویند کہ سو گندمے خورد بخاکپائے حضرت رسالت و نظر بحقیقت معنی صاف و پاك است کہ غبارے نیست برآں تحقیق ایں سخن آنست کہ سو گند خوردن حضرت رب العزت جل جلالہ بچیزے غیر ذات و صفات خود برائےاظہار شرف وفضیلت و تمیز آں چیز است نزد مردم و نسبت بایشاں تا بدانند کہ آں امر عظیم وشریف استنہ آنکہ اعظم است نسبت بوئے تعالی الخ ۔ یہ لفظ ظاہری نظر میں الله تعالی رب العزت کی طرف نسبت کرنے میں سخت ہیں۔جب یوں کہتے ہیں کہ الله رب العزت حضرت رسالت مآب کی خاك پا کی قسم ارشاد فرماتا ہے اور نظر حقیقت میں معنی بالکل پاك و صاف ہے کہ اس پر غبار نہیں اس کی تحقیق یہ ہے کہ الله رب العزت کا اپنی ذات و صفات کے علاوہ کسی چیز کی قسم یاد فرمانا اس لیے ہوتا ہے کہ لوگوں کے نزدیك لوگوں کہ بنسبت اس چیز کا شرففضلیت اور ممتاز ہونا ظاہر ہو جائے تاکہ وہ جان لیں کہ یہ چیز عظمت و شرف والی ہے۔یہ مطلب نہیں ہوتا کہ وہ چیز الله تعالی کی نسبت اعظم ہے الخ(ت)
آیت ثامنہ(آٹھویں آیت):قرآن عظیم میں جا بجا حضرات انبیاء علیہم الصلواۃ والثناء سے کفار کی جاہلانہ جدال مذکور جس کے مطالعہ ظاہر کہ وہ اشقیاء طرح طرح سے حضرات انبیاء میں سخت کلامی و بیہودہ گوئی کرتے اور حضرات رسل علیہ الصلواۃ و السلام اپنے حلم و عظیم و فضل کریم کے لائق جواب دیتے۔سیدنا نوح علیہ الصلواۃ والسلام سے ان کی قوم نے کہا:
" انا لنرىک فی ضلل مبین ﴿۶۰﴾ " ۔ بیشك ہم تمھیں کھلا گمراہ سمجھتے ہیں۔
فرمایا:
" یقوم لیس بی ضللۃ و اے میری قوم !مجھے گمراہی سے کچھ علاقہ نہیں
حوالہ / References المواھب اللدنیہ المقصد السادس النوع الاخامس الفصل الخامس المکتب الاسلامی بیروت ۳/ ۲۱۵،نسیم الریاض فی شرح شفاء القاضی عیاض الباب الاول الفصل الرابع مرکز اہلسنت ہند ۱/ ۱۹۶
مدارج النبوۃ باب سوم دربیان فضل وشرافت مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱/ ۶۵
القران الکریم ۷ /۶۰
#18114 · رسالہ تجلی الیقین بانّ نبیّنا سید المرسلین ۱۳۰۵ھ (یقین کا اظہار اس بات کے ساتھ کہ ہمارے نبی صلی الله علیہ وسلم تمام رسولوں کے سردار ہیں)
لکنی رسول من رب العلمین ﴿۶۱﴾ " ۔ میں تو رسول پروردگار عالم کی طرف سے۔
سیدنا ہود علیہ الصلواۃ و السلام سے عاد نے کہا:
" انا لنرىک فی سفاہۃ و انا لنظنک من الکذبین ﴿۶۶﴾" ۔ یقینا ہم تمھیں حماقت میں خیال کرتے ہیںاور ہمارے گمان میں تم بے شك جھوٹے ہو۔
فرمایا:
" قال یقوم لیس بی سفاہۃ ولکنی رسول من رب العلمین ﴿۶۷﴾" ۔ اے میری قوم !مجھ میں اصلا سفاہت نہیںمیں تو پیغمبر ہوں رب العلمین کا۔
سیدنا شعیب علیہ الصلواۃ والسلام سے مدین نے کہا:
" انا لنرىک فینا ضعیفا و لو لا رہطک لرجمنک ۫ و ما انت علینا بعزیز ﴿۹۱﴾" ۔ ہم تمھیں اپنے میں کمزور دیکھتے ہیں۔اور اگر تمھارے ساتھ کے یہ چند آدمی نہ ہوتے تو ہم تمھیں پتھروں سے مارتےاور کچھ تم ہماری نگاہ میں عزت والے نہیں۔
فرمایا:
" قال یقوم ارہطی اعز علیکم من اللہ واتخذتموہ وراءکم ظہریا " ۔ اے میری قوم !کیا میرے کنبے کے یہ معدود لوگ تمھارے نزدیك الله سے زیادہ زبردست ہیں اور اسے تم بالکل بھلائے بیٹھے ہو۔
سیدنا موسی علیہ الصلواۃ والسلام سے فرعون نے کہا:
" انی لاظنک یموسی مسحورا ﴿۱۰۱﴾" ۔ میرے گمان میں تو اے موسی !تم پر جادو ہوا۔
فرمایا:
" قال لقد علمت ما انزل ہؤلاء الا رب السموت والارض بصائر و انی لاظنک یفرعون تو خوب جانتا ہے کہ انھیں نہ اتارا مگر آسمان و زمین کے مالك نے دلوں کی آنکھیں کھولنے کواور میرے یقین میں تو اے فرعون ! تو ہلاك

مثبورا ﴿۱۰۲﴾ ۔
ہونے والا ہے۔
حوالہ / References القران الکریم ۷ /۶۱ا
القران الکریم ۷ /۶۶
القران الکریم ۷ /۶۷
القران الکریم ۱۱ /۹۱
القران الکریم ۱۱ /۹۲
القران الکریم ۱۷ /۱۰۱
#18129 · رسالہ تجلی الیقین بانّ نبیّنا سید المرسلین ۱۳۰۵ھ (یقین کا اظہار اس بات کے ساتھ کہ ہمارے نبی صلی الله علیہ وسلم تمام رسولوں کے سردار ہیں)
مگر حضور سید المرسلین افضل المحبوبین محمد رسول الله خاتم النبیین صلوات الله وسلامہ علیہ وعلی آلہ و اصحابہ اجمعین کی خدمت والا میں کفار نے جو زبان درازی کی ہے ملك السموات و الارض جل جلالہ خود متکفل جواب ہوا ہےاور محبوب اکرم مطلوب اعظم صلی الله تعالی علیہ وسلم کی طرف سے آپ مدافعہ فرمایا ہے۔طرح طرح حضور کی تنزیہ و تبریت ارشاد فرمائی۔جابجا رفع الزام اعدائے ایام پر قسم یاد فرمائییہاں تك کہ غنی مغنی عزمجدہ نے ہر جواب خطاب سے حضور کو غنی کر دیااور الله تعالی کا جواب دینا حضور کے خود جواب دینے سے بدرجہا حضور کے لیے بہتر ہوا۔اور یہ وہ مرتبہ عظمی ہے کہ نہایت نہیں رکھتا۔ " ذلک فضل اللہ یؤتیہ من یشاء و اللہ ذو الفضل العظیم ﴿۴﴾" (یہ الله کا فضل ہے جسے چاہے عطافرماتاہے اور الله بڑے فضل والا ہے۔ت)(۱)کفار نے کہا:
" یایہا الذی نزل علیہ الذکر انک لمجنون ﴿۶﴾" ۔ اے وہ جن پر قرآن اترابیشك تم مجنون ہو۔
حق جل وعلا نے فرمایا:
" ن والقلم و ما یسطرون ﴿۱﴾ ما انت بنعمۃ ربک بمجنون ﴿۲﴾"
"و ان لک لاجرا غیر ممنون ﴿۳﴾" ۔ قسم قلم اور نوشتہائے ملائك کی تو اپنے رب کے فضل سے ہر گز مجنون نہیں۔
اور بے شکتیرے لیے اجر بے پایا ہے۔
کہ تو ان دیوانوں کی بدزبانی پر صبر کرتا اور حلم وکرم سے پیش آتا ہے۔مجنون تو چلتی ہوا سے الجھا کرتے ہیںتیرا سا حلم وصبر کوئی تمام عالم کے عقلاء میں تو بتادے۔
" و انک لعلی خلق عظیم ﴿۴﴾ " ۔ اور بے شك تو بڑے عظمت والے ادب تہذیب پر ہے۔
کہ ایك حلم وصبر کیا تیری خصلت ہے اس درجہ عظیم وباشوکت ہے کہ اخلاق عاقلان جہان
حوالہ / References القران الکریم ۱۷ /۱۰۲
القرآن الکریم ۵۷ /۲۱
القران الکریم ۱۵ /۶
القرآن الکریم ۶۸ /۱ و۲
القرآن الکریم ۶۸ /۳
القرآن الکریم ۶۸ /۴
#18130 · رسالہ تجلی الیقین بانّ نبیّنا سید المرسلین ۱۳۰۵ھ (یقین کا اظہار اس بات کے ساتھ کہ ہمارے نبی صلی الله علیہ وسلم تمام رسولوں کے سردار ہیں)
مجتمع ہو کر اس کے ایك شمہ کو نہیں پہنچتے۔پھر اس سے بڑھ کراندھا کون جو تجھے ایسے لفظ سے یاد کرےمگر یہ ان کا اندھا پن بھی چند روز کا ہے۔
" فستبصر و یبصرون ﴿۵﴾ بایىکم المفتون ﴿۶﴾" ۔ عنقریب تو بھی دیکھے گا اور وہ بھی دیکھ لیں گے کہ تم میں سے کسے جنون ہے۔
آج اپنی بے خردی و دیوانگی وکور باطنی سے جو چاہیں کہہ لیںآنکھیں کھلنے کا دن قریب آتا ہےاور دوست ودشمن سب پر کھلا چاہتا ہے کہ مجنون کون تھا۔
(۲)وحی اترنے میں جو کچھ دنوں دیر لگی کافر بولے:
ان محمد ا ودعہ ربہ وقلاہ ۔ بیشك محمد صلی الله تعالی علیہ وسلم کو ان کے رب نے چھوڑدیا اور دشمن پکڑا۔
حق جل وعلا نے فرمایا:
" و الضحی ﴿۱﴾ و الیل اذا سجی ﴿۲﴾" ۔ قسم ہے دن چڑھے کیاور قسم رات کی جب اندھیری ڈالے۔
یاقسم اے محبوب تیرے روئے روشن کیاور قسم تیری زلف کی جب چمکتے رخساروں پر بکھر آئے۔
" ما ودعک ربک و ما قلی ﴿۳﴾" ۔ نہ تجھے تیرے رب نے چھوڑا اورنہ دشمن بنایا۔
اوریہ اشقیاء بھی دل میں خوب سمجھتے ہیں کہ خدا کی تجھ پر کیسی مہر ہےاس مہر ہی کو دیکھ دیکھ کر جلے جاتے ہیںاور حسد وعناد سے یہ طوفان جوڑتے ہیں اور اپنے جلے دل کے پھپھولے پھوڑتے ہیں مگر خبر نہیں کہ:
" و للاخرۃ خیر لک من الاولی ﴿۴﴾ " ۔ بے شك آخرت تیرے لیے دنیا سے بہتر ہے۔
وہاں جو نعمتیں تجھ کو ملیں گی نہ آنکھوں نے دیکھیںنہ کانوں نے سنیںنہ کسی بشر یا ملك کے خطرے میں آئیںجن کا اجمال یہ ہے:
حوالہ / References القران الکریم ۶۸/ ۵ ۶
معالم التنزیل(تفسیر البغوی)تحت الآیۃ ۹۳ /۴۶۵ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۴/ ۴۶۵
القرآن العظیم ۹۳ /۱ ۲
القرآن العظیم ۹۳ /۳
القرآن العظیم ۹۳ /۴
#18131 · رسالہ تجلی الیقین بانّ نبیّنا سید المرسلین ۱۳۰۵ھ (یقین کا اظہار اس بات کے ساتھ کہ ہمارے نبی صلی الله علیہ وسلم تمام رسولوں کے سردار ہیں)
"و لسوف یعطیک ربک فترضی ﴿۵﴾ " ۔ قریب ہے تجھے تیرا رب اتنا دے گا کہ تو راضی ہوجائے گا۔
اس دن دوست دشمن سب پرکھل جائے گا کہ تیرے برابر کوئی محبوب نہ تھا۔خیراگر آج یہ اندھے آخرت کا یقین نہیں رکھتے تو تجھ پر خدا کی عظیمجلیلکثیرجزیل نعمتیں رحمتیں آج کی تو نہیں قدیم ہی سے ہیں۔کیا تیرے پہلے احوال انھوں نے نہ دیکھے اور ان سے یقین حاصل نہ کیا کہ جو نظر عنایت تجھ پر ہے ایسی نہیں کہ کبھی بدل جائے" الم یجدک یتیما فاوی ۪﴿۶﴾ "الی اخر السورۃ کیا اس نے تمھیں یتیم نہ پایا پھر جگہ دی(سورت کے اخر تک۔ت)
(۳)کفار نے کہا: " لست مرسلا " ۔تم رسول نہیں ہو۔حق جل وعلا نے فرمایا:
" یس ﴿۱﴾ و القران الحکیم ﴿۲﴾ انک لمن المرسلین ﴿۳﴾" ۔ اے سردار !مجھے قسم ہے حکمت والے قرآن کی تو بیشك مرسل ہے۔
(۴)کفار نے حضور صلی الله تعالی علیہ وسلم کو شاعری کا عیب لگایا۔حق جل وعلانے فرمایا:
" وما علمنہ الشعر وما ینبغی لہ ان ہو الا ذکر و قران مبین ﴿۶۹﴾" ۔ نہ ہم نے انھیں شعر سکھایا اور نہ وہ ان کے لائق تھا۔وہ تو نہیں مگر نصیحت اور روشن بیان والا قرآن۔
(۵)منافقین حضور اقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم کی شان میں گستاخیاں کرتے اور ان میں کوئی کہتا ایسا نہ ہو کہیں ان تك خبر پہنچے۔کہتے:پہنچے گی تو کیا ہوگاہم سے پوچھیں گے ہم مکر جائیں گےقسمیں کھا لیں گےانھیں یقین آجائے گاکہ " ہو اذن " وہ تو کان ہیں جیسی ہم سے سنیں گے مان لیں گے۔حق جل وعلا نے فرمایا: " اذن خیر لکم" ۔وہ تمھارے بھلے کے لیے کان ہیں۔کہ جھوٹے
حوالہ / References القرآن العظیم ۹۳/ ۵
القرآن العظیم ۹۳ /۶
القرآن العظیم ۱۳ /۴۳
القرآن العظیم ۳۶ /۱تا ۳
القرآن العظیم ۳۶ /۶۹
القرآن العظیم ۳۶ /۶۹
القرآن العظیم ۹ /۶۱
#18132 · رسالہ تجلی الیقین بانّ نبیّنا سید المرسلین ۱۳۰۵ھ (یقین کا اظہار اس بات کے ساتھ کہ ہمارے نبی صلی الله علیہ وسلم تمام رسولوں کے سردار ہیں)
عذر بھی قبول کر لیتے ہیں۔اور بکمال حلم وکرم چشم پوشی فرماتے ہیں۔ورنہ کیا انھیں تمھارے بھیدوں اور خلوت کی چھپی باتوں پر آگاہی نہیں۔" یؤمن باللہ" خدا پر ایمان لاتے ہیں۔اور وہ تمھارے اسرار سے انھیں مطلع کرتاہےپھر تمھاری جھوٹی قسموں کا انھیں کیونکر یقین آئے۔ہاں " ویؤمن للمؤمنین" ۔ ایمان والوں کی بات واقعی مانتے ہیں۔کہ انھیں ان کے دل کی سچی حالتوں پر خبر ہے۔اس لیے " ورحمۃ للذین امنوا منکم " ۔مہربانی ان پر جو تم میں ایمان لائےکہ ان کے طفیل سے انھیں ہمیشگی کے گھر میں بڑے بڑے رتبے ملتے ہیں۔اور اگر چہ یہ بھی ان کی رحمت ہے کہ دنیا میں تم سے چشم پوشی ہوتی ہے۔مگر اس کا نتیجہ اچھا نہ سمجھوکہ تمھاری گستا خیوں سے انھیں ایذا پہنچی ہے۔" والذین یؤذون رسول اللہ لہم عذاب الیم ﴿۶۱﴾" ۔اور جو لوگ رسول الله کو ایذا دیں ان کیلئے دکھ کی مار ہے۔
(۶)ابن ابی شقی ملعون نے جب وہ کلمہ ملعونہ کہا:
" لئن رجعنا الی المدینۃ لیخرجن الاعز منہا الاذل " ۔ اگر ہم مدینہ لوٹ کر گئے تو ضرور نکال باہر کریگا عزت والا ذلیل کو۔
حق جل وعلا نے فرمایا:
" و للہ العزۃ و لرسولہ و للمؤمنین و لکن المنفقین لا یعلمون ﴿۸﴾ " ۔ عزت تو ساری خدا ورسول ومومنین ہی کے لیے ہےپر منافقین کو خبر نہیں۔
(۷)عاص بن وائل شقی نے جو صاحبزادہ سید المرسلین صلی الله تعالی علیہ وسلم کے انتقال پر ملال پر حضور کو ابتر یعنی نسل بریدہ کہا۔حق جل وعلا نے فرمایا: " انا اعطینک الکوثر ﴿۱﴾" ۔بیشك ہم نے تمھیں خیر کثیر عطا فرمائی۔کہ اولاد سے نام چلنے کو تمھاری رفعت ذکر سے کیا نسبتکروڑوں صاحب اولاد گزرے جن کا نام تك کوئی نہیں جانتااور تمھاری ثناء کا ڈنکا تو قیام قیامت تك اکناف عالم واطراف جہاں میں بجے گا اور تمھارے نام نامی کا خطبہ ہمیشہ ہمیشہ اطباق فلك آفاق
حوالہ / References القرآن العظیم ۹ /۶۱
القرآن العظیم ۹ /۶۱
القرآن العظیم ۹ /۶۱
القرآن العظیم ۹ /۶۱
القران الکریم ۶۳ /۸
القران الکریم ۶۳ /۸
القران الکریم ۱۰۸ /۱
#18133 · رسالہ تجلی الیقین بانّ نبیّنا سید المرسلین ۱۳۰۵ھ (یقین کا اظہار اس بات کے ساتھ کہ ہمارے نبی صلی الله علیہ وسلم تمام رسولوں کے سردار ہیں)
زمین میں پڑھا جائے گا۔پھر اولاد بھی تمھیں نفیس و طیب عطا ہوگی جن کی بقاء سے بقائے عالم مربوط رہیگی اس کے سوا تمام مسلمان تمھارے بال بچے ہیںاور تم سا مہربان ان کے لیے کوئی نہیںبلکہ حقیقت کار کو نظر کیجیے تو تمام عالم تمھاری اولاد معنوی ہے کہ تم نہ ہوتے تو کچھ بھی نہ ہوتااور تمھارے ہی نور سے سب کی آفرینش ہوئی۔اسی لیے جب ابو البشر آدم تمھیں یاد کرتے تو یوں کہتے یا ابنی صورۃ وابای معنی ۔اے میرے ظاہر بیٹے اور حقیقت میں میرے باپ۔پھر آخرت میں جو تمہیں ملنا ہے اس کا حال تو خدا ہی جانے۔جب اس کی یہ عنایت بیغایت تم پر مبذول ہو۔تو تم ان اشقیاء کی زبان درازی پر کیوں ملول ہوبلکہ " فصل لربک و انحر ﴿۲﴾" ۔ رب کے شکرانہ میں اس کے لیے نماز پڑھو اورقربانی کرو۔" ان شانئک ہو الابتر ﴿۳﴾
" ۔جو تمہارا دشمن ہے وہی نسل بریدہ ہے۔کہ اورتمہارے دین حق میں آکر بوجہ اختلاف دین اس کی نسل سے جدا ہوکرتمہارے دینی بیٹوں میں شمارکئے جائیں گے۔پھر آدمی بے نسل ہوتا۔تو یہی سہی کہ نام نہ چلتا۔اس سے نام بدکاباقی رہنا ہزار درجہ بدتر ہے۔ تمہارے دشمن کا ناپاك نا م ہمیشہ بدی ونفرین کے ساتھ لیا جائے گااورروز قیامت ان گستاخیوں کی پوری سزا پائے گا۔ والعیاذ بالله تعالی۔
(۸)جب حضور اقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم نے اپنے قریب رشتہ داروں کو جمع فرماکر وعظ ونصیحت اوراسلام واطاعت کی طرف دعوت کی۔ابولہب شقی نے کہا:
تبالك سائر الیوم لہذا جمعتنا ۔ ٹوٹنا اورہلاك ہونا تمہارے لیے ہمیشہ کوکیا ہمیں اسی لئے جمع کیا تھا۔
حق جل وعلا نے فرمایا:" تبت یدا ابی لہب و تب ﴿۱﴾" ٹوٹ گئے دونوں ہاتھ ابولہب کے۔
حوالہ / References المدخل لابن الحاج فصل فی مولد النبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم دار الکتب العربی بیروت ۲ /۳۴
القرآن الکریم ۱۰۸ /۲
القرآن الکریم ۱۰۸ /۳
صحیح البخاری کتاب التفسیر سورۃ تب یدا ابی لہب ۱۱۱ قدیمی کتب خانہ ۲ /۷۴۳،صحیح مسلم کتاب الایمان باب بیان من مات علی اکفرالخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۱۴،تفسیر المراغی تحت الآیۃ ۱۱۱ /۱ داراحیاء التراث العربی بیروت ۳۰ /۲۶۰
القرآن الکریم ۱۱۱ /۱ تا ۱
#18134 · رسالہ تجلی الیقین بانّ نبیّنا سید المرسلین ۱۳۰۵ھ (یقین کا اظہار اس بات کے ساتھ کہ ہمارے نبی صلی الله علیہ وسلم تمام رسولوں کے سردار ہیں)
اوروہ خودہلاك وبربادہوا"ما اغنی عنہ مالہ و ما کسب ﴿۲﴾" اس کے کچھ کام نہ آیا اس کا مال اورجو کمایا۔
" سیصلی نارا ذات لہب ﴿۳﴾" اب بیٹھاچاہتاہے بھڑکتی آگ میں۔"و امراتہ حمالۃ الحطب ﴿۴﴾ " اوراس کی جو رولکڑیوں کا گٹھا سر پر لئے۔" فی جیدہا حبل من مسد ﴿۵﴾
" اس کے گلے میں مونج کی رسی۔
بالجملہ اس روش کی آیتیں قرآن عظیم میں صدہا نکلیں گی۔اسی طرح حضرت یوسف وبتول مریم اورادھر ام المومنین صدیقہ علی سید ھم وعلیہم الصلوۃ والسلام کے قصے اس مضمون پر شاہد عدل ہیں۔حضرت والد ماجد ''سرورالقلوب فی ذکر المحبوب ''میں فرماتے ہیں:''حضر ت یوسف کودودھ پیتے بچےاور حضرت مریم کو حضرت عیسی کی گواہی سے لوگوں کی بدگمانی سے نجات بخشیاورجب حضرت عائشہ پر بہتان اٹھا خود ان کی پاك دامنی کی گواہی دیاورسترہ آیتیں نازل فرمائیںاگرچاہتا ایك ایك درخت اورپتھر سے گواہی دلواتامگر منظور یہ ہوا کہ محبوبہ محبوب کی طہارت وپاکی پر خود گواہی دیں اورعزت وامتیاز ان کا بڑھائیں ۔"انتہی۔
محل غور ہے کہ اراکین دولت ومقربان حضرت سے باغیان سرکش بگستاخی وبے ادبی پیش آئیں۔اوربادشاہ ان کے جوابوں کو انہیں پر چھوڑ دے۔مگر ایك سردار بلدن اوقار کے ساتھ یہ برتاؤ ہوکہ مخالفین جو زبان درازی اس کی جناب میں کریں۔ حضرت سطلان اس مقرب ذی شان کو کچھ نہ کہنے دےبلکہ بہ نفس نفیس اس کی طرف سے تکفل جواب کرے۔کیا ہر ذی عقل اس معاملہ کو دیکھ کر یقین قطعی نہ کرے گا کہ سرکار سلطانی میں جو اعزاز اس مقرب جلیل کا ہے دوسرے کا نہیںاورجو خاص نظر اس کے حال پر ہے اوروں کا حصہ اس میں نہیں۔والحمدلله رب العلمین۔
آیت تاسعہ:قال تعالی عظمتہ:" عسی ان یبعثک ربک نویں آیت:الله تعالی نے فرمایا:قریب ہے تجھے تیرا رب بھیجے گا تعریف کے
حوالہ / References القرآن الکریم ۱۱۱ /۱ تا۲
القرآن الکریم ۱۱۱ /۱ تا ۳
القرآن الکریم ۱۱۱ /۱ تا ۴
القرآن الکریم ۱۱۱ /۱ تا ۵
سرورالقلوب فی ذکر المحبوب
#18135 · رسالہ تجلی الیقین بانّ نبیّنا سید المرسلین ۱۳۰۵ھ (یقین کا اظہار اس بات کے ساتھ کہ ہمارے نبی صلی الله علیہ وسلم تمام رسولوں کے سردار ہیں)
مقاما محمودا ﴿۷۹﴾" ۔ مقام میں۔
صحیح بخاری وجامع ترمذی میں حضرت عبدالله بن عمر رضی الله تعالی عنہما سے مروی ہے فرمایا:
سئل رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم عن المقام المحمود فقال ھو الشفاعۃ ۔ حضرت سید المرسلین خاتم النبیین صلی الله تعالی علیہ وسلم سے سوال ہوا:مقام محمود کیا ہے ارشاد فرمایا:شفاعت۔
اسی طرح احمد وبیہقی ابوہریرہ رضی الله تعالی عنہ سے راوی:
سئل عنہا رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم یعنی قولہ عسی ان یبعثك ربك مقاما محمودا ط فقال ھی الشفاعۃ ۔ رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم سے الله تعالی کے قول ''قریب ہے کہ تمہارا رب تمہیں ایسی جگہ کھڑا کرے جہاں سب تمہاری حمد کریں''کے بارے میں سوال کیا گیا توآپ نے فرمایا وہ شفاعت ہے۔(ت)
اورشفاعت کی حدیثیں خود متواتر ومشہور اورصحاح وغیرہ میں مروی ومسطورجن کی بعض ان شاء الله تعالی ہیکل دوم میں مذکور ہوں گی۔
اس دن آدم صفی الله سے عیسی کلمۃ الله تك سب انبیاء الله علیہم الصلوۃ والسلام نفسی نفسی فرمائیں گے اورحضور اقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم انا لھا انا لھا ۔میں ہوں شفاعت کےلیےمیں ہوں شفاعت کے لیے۔انبیاء ومرسلین وملائکہ مقربین سب ساکت ہوں گے اوروہ متکلم۔سب سربگریبانوہ ساجد وقائم۔سب محل خوف میںوہ آمن وناہم۔
حوالہ / References القرآن الکریم ۱۷ /۱ تا۷۹
صحیح البخاری کتاب التفسیر سورۃ ۱۷ باب قولہ عسٰی ان یبعثك الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۶۸۶،جامع الترمذی ابواب التفسیر سورۃ بنی اسرائیل امین کمپنی دہلی ۲ /۱۴۲
مسند احمد بن حنبل عن ابی ھریرۃ المکتب الاسلامی بیروت ۲ /۴۴۴،نسیم الریاض شرح شفاء القاضی عیاض بحوالہ احمد و البیہقی فصل فی تفضیلہ بالشفاعۃ ۲ /۳۴۵
الشفاء بتعریف حقوق المصطفٰی فصل فی تفضیلہ بالشفاعۃ المطبعۃ الشرکۃ الصحافیۃ ۱ /۱۸۰
#18136 · رسالہ تجلی الیقین بانّ نبیّنا سید المرسلین ۱۳۰۵ھ (یقین کا اظہار اس بات کے ساتھ کہ ہمارے نبی صلی الله علیہ وسلم تمام رسولوں کے سردار ہیں)
سب اپنی فکر میںانہیں فکر عوالم۔سب زیر حکومتوہ مالك وحاکم۔بارگاہ الہی میں سجدہ کرینگے۔ان کا رب انہیں فرمائے گا:یا محمد ارفع رأسك وقل تسمع وسل تعطہ واشفع تشفع ۔اے محمد!اپنا سراٹھاؤ اورعرض کرو کہ تمہاری عرض سنی جائے گیاورمانگو کہ تمہیں عطاہوگااورشفاعت کرو تمہاری شفاعت قبول ہے۔اس وقت اولین وآخرین میں حضور(صلی الله تعالی علیہ وسلم)کی حمد وثناء کا غلغلہ پڑ جائے گااوردوستدشمنموافقمخالفہر شخص حضور(صلی الله تعالی علیہ وسلم)کی افضلیت کبری وسیادت عظمی پر ایمان لائے گا۔والحمدلله رب العلمین
مقام محمود ونامت محمد بہ نیساں مقامے ونامے کہ دارد
آپ کا مقام محمود اورنام محمد ہےایسا مقام اورنام کون رکھتاہے۔ت)
امام محی السنۃ بغوی معالم التنزیل میں فرماتے ہیں:
عن عبدالله رضی الله تعالی عنہ قال ان الله عزوجل اتخذ ابراھیم خلیلا وان صاحبکم صلی الله تعالی علیہ وسلم خلیل الله واکرم الخلق علی الله ثم قرأ " عسی ان یبعثک ربک مقاما محمودا ﴿۷۹﴾"قال یجلسہ علی العرش ۔ یعنی عبدالله بن مسعود رضی الله تعالی عنہ سے مروی بیشك الله عزوجل نے ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کو خلیل بنایا۔اور بیشك تمہارے آقام محمد صلی الله تعالی علیہ وسلم کے خلیل اور تمام خلق سے زیادہ اس کے نزدیك عزیز وجلیل ہیں۔پھر یہ آیت تلاوت کر کے فرمایا الله تعالی انہیں روز قیامت عرش پر بٹھائے گا۔
وعزا نحوہ فی المواھب للثعلبی۔(اس کی مثل مواہب میں ثعلبی کی طرف منسوب ہے۔ت)امام عبدبن حمید وغیرہ حضرت مجاہد تلمیذ رشید حضرت حبرالامہ عبدالله بن عباس رضی الله تعالی عنہم سے اس آیت کی تفسیر میں راوی:
حوالہ / References صحیح مسلم کتاب الایمان باب اثبات الشفاعۃ الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۰۹

معالم التنزیل(تفسیر بغوی)تحت الآیۃ ۱۷/ ۷۹ دارالکتب العلمیۃ بیروت۳ /۱۰۹
المواہب اللدنیۃ الفصل الثالث الشفاعۃ والمقام المحمود المکتب الاسلامی بیروت ۴ / ۶۴۲
#18137 · رسالہ تجلی الیقین بانّ نبیّنا سید المرسلین ۱۳۰۵ھ (یقین کا اظہار اس بات کے ساتھ کہ ہمارے نبی صلی الله علیہ وسلم تمام رسولوں کے سردار ہیں)
یجلسہ الله تعالی معہ علی العرش ۔ الله تعالی انہیں عرش پر اپنے ساتھ بٹھائے گا۔
یعنی معیت تشریف وتکریم کہ وہ جلوس ومجلس سے پاك ومتعالی ہے۔امام قسطلانی مواہب لدنیہ میں ناقل امام علامہ سید الحفاظ شیخ الاسلام ابن حجر عسقلانی رحمہ لله تعالی فرماتے ہیں مجاہد کا یہ قول نہ ازروئے نقل مدفوع نہ از جہت عــــــہ نظر ممنوعاورنقاش نے ابو داودصاحب سنن رحمہ الله تعالی
عــــــہ:رد علی الواحدی حیث بالغ فی الانکار علی ذلك وابلغ الجزاف منتھاہ کما قال الاول بلغ السیل رواہ حتی قال ''لایمیل الیہ الا قلیل العقل عدیم الدین ۔اھ'' والله تعالی یسامح المسلمین واحتج لزعمہ بمالاحجۃ لہ فیہ وقدردہ علیہ العلماء کما یظھر بالرجوع الی المواھب وشرحہ واعظم ماتشبث بہ فی ذلك انہ تعالی قال " مقاما محمودا ﴿۷۹﴾ " لم یقل مقعدا والمقام موضع القیام لاموضع القعود۔قال الزرقانی واجیب بانہ یصح علی انہ المقام مصدر یہ رد ہے واحدی پر کیونکہ اس نے اس قول کے انکار میں بہت مبالغہ کیا اوراپنے بے تکے کلام کو انتہا تك پہنچایا جیسا کہ قول اول میں کیا اورسیلاب اپنی سیرابی تك پہنچا۔اس نے کہا کہ اس کی طرف نہیں مائل ہوگا مگرکم عقل اوربے دین اھ۔الله تعالی مسلمانوں سے درگزر فرمائے۔اوراس نے اپنے گمان کے مطابق جس چیز سے استدلال کیا اس میں اس کے لے کوئی دلیل نہیں ہےبیشك اس پر علماء کرام نے رد فرمایا جیسا کہ مواہب اوراس کی شرح کی طرف رجوع کرنے سے ظاہر ہوتا ہے۔سب سے بڑی دلیل جس سے اس نے تمسك کیا وہ یہ ہے کہ الله تعالی نے " مقاما محمودا ﴿۷۹﴾ "فرمایا ہے"مقعدا محمودا"نہیں فرمایا اور مقام موضع قیام ہے نہ کہ موضع قعود۔زرقانی نے کہااس کا جواب یوں دیا گیا ہے کہ مقام مصدر (باقی بر صفحہ آئندہ)
حوالہ / References المواھب اللدنیۃ عن القسطلانی المقصد العاشر الفصل الثالث المکتب الاسلامی بیروت ۴ /۶۴۲،شرح الزرقانی علی المواہب اللدنیۃ بحوالہ عبد بن حمید وغیرہ المقصد العاشر الفصل الثالث ۸ /۳۶۸
المواھب اللدنیۃ عن القسطلانی المقصد العاشر الفصل الثالث المکتب الاسلامی بیروت ۴ /۶۴۳
القرآن الکریم ۱۷ /۷۹
#18138 · رسالہ تجلی الیقین بانّ نبیّنا سید المرسلین ۱۳۰۵ھ (یقین کا اظہار اس بات کے ساتھ کہ ہمارے نبی صلی الله علیہ وسلم تمام رسولوں کے سردار ہیں)
سے نقل کیا۔من انکر ھذا القول فھو متھم ۔جو اس قول سے انکار کرے وہ متہم ہے۔
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
میمی لاسم مکان اھ ای فیقوم مقام المفعول المطلق ای یبعثك بعثا محمودا۔
اقول:وبالله التوفیق علی ان الرافعۃ بعدالتواضع من تواضع لله رفعہ الله فالقعود انما یکون بعد مایقوم النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم بین یدی ربہ تبارك وتعالی علی قدم الخدمۃ قدلك المکان مقام محمود ومقعد محمود وکلام الله سبحنہ وتعالی بما یقتصر علی بعض الشیئ کما فی قولہ تعالی" سبحن الذی اسری بعبدہ لیلا من المسجد الحرام الی المسجد الاقصا" وقدثبت فی الاحادیث انہ صلی الله تعالی علیہ وسلم یسجد بین یدی ربہ تبارك وتعالی ایاما اسبوعا او اسبوعین ثم یرفع راسہ وانما میمی ہے نہ کہ ظرف مکان اھ۔یعنی یہ مفعول مطلق کے قائم مقام ہے اورمعنی یہ ہوگا کہ الله تعالی تجھے اٹھائے گا ایسا اٹھانا جو محمود ہوگا۔
اقول:(میں کہتاہوں)اور توفیق الله تعالی کی طرف سے۔ علاوہ ازیں رفعت تواضع کے بعد ہےجو الله تعالی کے لیے عاجزی کرتا ہے الله تعالی اس کورفعت عطافرماتاہے۔ چنانچہ قعود الله تعالی کی بارگاہ میں نبی کریم صلی الله تعالی علیہ وسلم کے قدم خدمت پر قیامت کے بعد ہوگا تووہی مکان مقام محمود اورمقعد محمود ہوگا اور الله کا کلام بعض شے پر مقتصر ہے جیسا کہ الله تعالی کا ارشاد ہے سبحن الله الذی الخ(پاکی ہے اسے جو اپنے بندے کو راتوں رات لے گیا مسجد حرام سے مسجد اقصی تک)اورتحقیق احادیث سے ثابت ہوچکا ہے کہ نبی اقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم الله تبارك و تعالی کی بارگاہ میں ایك ہفتہ یا دو ہفتے سجدہ ریز رہیں گے پھر سر اٹھائیں گے اس جگہ کا نام الله تعالی(باقی برصفحہ آئندہ)
حوالہ / References المواھب اللدنیۃ بحوالہ الواحدی المقصد العاشر الفصل الثالث المکتب الاسلامی بیروت ۴ /۶۴۳
شرح الزرقانی علی المواھب اللدنیہ المقصد العاشر الفصل الثالث دارالمعرفۃ بیروت ۸ /۳۶۸
القرآن الکریم ۱۷ /۱
#18139 · رسالہ تجلی الیقین بانّ نبیّنا سید المرسلین ۱۳۰۵ھ (یقین کا اظہار اس بات کے ساتھ کہ ہمارے نبی صلی الله علیہ وسلم تمام رسولوں کے سردار ہیں)
اسی طرح امام دارقطنی نے اس قول کی تصریح فرمائیاوراس کے بیان میں
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
سماہ الله تعالی مقاما محمودا لامسجدا فان لم ینف بہ امرالسجود فلم ذا ینفی امرالقعود قال الواحدی"واذا قیل السلطان بعث فلانافھم منہ انہ ارسلہ الی قوم لا صلح مھما تھم ولا یفھم منہ انہ اجلس مع نفسہ ۔ قال الزرقانی وھذا مردودبان ھذا عادۃ یجوز تخلفھا علی ان احوال الاخرۃ لایقاس علی احوال الدنیا یبعثھم الله تعالی فی جمعھم عندہ لیحکم بینھم لا لیرسلھم الی قوم فجاز ان یکون ھذا البعث بالاجلاس لا للرسال مع ان الارسال کما یغایر الجلوس فکذا القیام عندہ ولکن الھوس یأتی بالعجائب والحل ان البعث من عندہ ھو الذی ذکرھا الواحدی والبعث من محل للحضور عندہ لاینافی نے مقام محمود رکھا ہے مسجد نہیں رکھا۔تو جب امر سجود اس کے منافی کیسے ہوگا واحدی نے کہا جب کہا جائے کہ فلاں کو بادشاہ نے مبعوث کیا تو اس سے یہ سمجھا جاتا ہے کہ بادشاہ نے اس قوم کی طرف بھیجا ہے کہ ان کی مہمات کی اصلاح کرے یہ نہیں سمجھا جاتاکہ بادشاہ نے اسے اپنے ساتھ بٹھالیا۔ زرقانی نے کہا یہ مردودہے کیونکہ ایك امر عادی ہے جس کے خلاف ہونا بھی جائز ہے۔اس کے علاوہ یہ کہ احوال آخرت کو احوال دنیا پر قیاس نہیں کیا جاسکتا۔الله تعالی سب کو مبعوث فرما کر سب کو ایك میدان میں جمع کریگا تاکہ ان کے درمیان فیصلہ فرمائے نہ کہ ان کو اصلاح کے لیے کسی قوم کے پاس بھیجے گا۔تو جائز ہے کہ یہ بعث بٹھانے کے ساتھ ہونہ کہ بھیجنے کے ساتھ باوجودیکہ ارسال جس طرح بیٹھنے کے مغایرہے اسی طرح اس کے پاس کھڑے رہنے کے بھی مغایر ہے لیکن جنون عیب وغریب امور کو لاتا ہے اوراس کا حل یہ ہے کہ جس بعث کو واحدی نے ذکر کیا ہے وہ ہے ''بعث من عندہ '' اپنے (باقی برصفحہ آئندہ)
حوالہ / References المواھب اللدنیۃ بحوالہ الواحدی المقصد العاشر الفصل الثالث المکتب الاسلامی بیروت ۴ /۶۴۳
شرح الزرقانی علی المواھب اللدنیۃ المقصد العاشر الفصل الثالث دارالمعرفۃ بیروت ۸ /۲۶۸
#18140 · رسالہ تجلی الیقین بانّ نبیّنا سید المرسلین ۱۳۰۵ھ (یقین کا اظہار اس بات کے ساتھ کہ ہمارے نبی صلی الله علیہ وسلم تمام رسولوں کے سردار ہیں)
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
الجلوس عندہ کما لایخفی۔قال الزرقانی تحت قول الواحدی لایمیل الیہ الخ ھذا مجاز فۃ فی الکلام لاتلیق بطالب فضلاعن عالم بعد ثبوت القول عن تابعی جلیل ووجد مثلہ عن صحابیین ابن عباس وابن مسعود اھ۔ قلت بل عن ثلثۃ ثالثھم ابن سلام کما نقلنا فی المتن رضی الله تعالی عنہم اجمعین ثم بعد کتابتی ھذا المحل رأیت الحدیث عن رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم وھھنا تم الہنا والحمدلله الہنا۔قال الامام الجلیل الجلا ل فی الدر المنثور اخرج الدیلمی عن ابن عمر رضی الله تعالی عنہما قال قال رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم عسی ان یبعثك ربك مقام محمودا قال یجلسنی معہ علی پاس سے بھیجنا۔اوروہ بعث جو کسی محل سے اس کی بارگاہ میں حاضر ہونے کے لیے ہو وہ اس کے پاس بیٹھنے کے منافی نہیںجیسا کہ پوشیدہ نہیں۔واحدی کے قول"لا یمیل الیہ الخ"کے تحت زرقانی نے یہ کہا کہ یہ بے تکا کلام ہے جو کسی طالب کے لائق بھی نہیں چہ جائیکہ عالم کے لایق ہوجبکہ ایك جلیل القدر تابعی سے یہ قول ثابت ہوچکا ہے اوراسکی مثل دو صحابیوں یعنی ابن عباس اورابن مسعود سے۔میں کہتاہوں بلکہ تین صحابہ سے۔تیسرے ابن سلام ہیں جیسا کہ ہم نے متن میں نقل کیا ہے رضی الله تعالی عنہم اجمعین۔پھر اس محل کی کتابت کے بعد میں نے رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم کی حدیث دیکھییہاں ہماری بحث تام ہوگئی اورسب تعریفیں الله تعالی کے لیے ہیں جو ہمارا معبود ہے۔امام جلال الدین سیوطی علیہ الرحمہ نے در منثور میں فرمایا دیلمی نے ابن عمر ضی الله تعالی عنہما سے رایت کیا کہ رسول الله صلی الله تعلای علیہ وسلم نے آیت کریمہ" عسی ان یبعثک ربک مقاما محمودا ﴿۷۹﴾"(قریب ہے کہ تمہارا رب تمہیں ایسی جگہ کھڑا کرے جہاں سب تمہاری حمد کریں)کے بارے میں فرمایا کہ الله تعالی
(باقی برصفحہ آئندہ)
حوالہ / References شرح الزرقانی علی المواھب اللدنیہ المقصد العاشر الفصل الثالث دارالمعرفۃ بیروت۸ /۳۶۸
#18141 · رسالہ تجلی الیقین بانّ نبیّنا سید المرسلین ۱۳۰۵ھ (یقین کا اظہار اس بات کے ساتھ کہ ہمارے نبی صلی الله علیہ وسلم تمام رسولوں کے سردار ہیں)
چند اشعار عــــــہ نظم کیے۔کما فی نسیم الریاض(جیسا کہ نسیم الریاض میں ہے۔ت)
السریر ۔وقد عرفنا من ھھنا صدق ابن تیمیۃ فی قول فی الثعلبی ان الواحدی صاحبہ کان ابصر منہ بالعربیۃ لکنہ ابعد عن اتباع السف اھوان کان ابن تیمیۃ نفسہ ابعد وابعدوبالجملۃ فاسمع مااثرناہ عن الامام ابی داودوالامام الدار قطنی والامام العسقلانی فھم الائمۃ الاجلۃ الشان وایاك وان تلتفت الی زعمہ لیس بذالك فی ھذا الشان والحمدلله رب العلمین۔۱۲منہ مجھے اپنے ساتھ تخت پر بٹھائے گا۔تحقیق ہم نے یہاں سے ثعلبی کے بارے میں ابن تیمیہ کے اس قول کی صداقت جان لی کہ واحدی جو ثعلبی کا ساتھی ہے وہ ثعلبی سے بڑ ھ کر عربیت میں مہارت رکھتا ہے مگر اسلاف کی اتباع سے بہت ہی دور ہے اھ خلاصہ یہ کہ تو سن لے اس کو جو ہم نے نقل کیاہے امام ابو داود امام دار قطنی اورامام عسقلانی سےکیونکہ وہ انتہائی جلالت شان والے آئمہ ہیںاوراس شخص کے قول باطل کی طرف التفات سے بچ جو ان کے ہم پلہ نہیں ہےاور سب تعریفیں الله تعالی کیلئے ہیں جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔۱۲منہ(ت)
عــــــہ:وہ اشعار یہ ہیں:
حدیث الشفاعۃ عن احمد الی احمد المصطفی نسند ہ
وقد جاء الحدیث باقعادہ علی العرش ایضا ولا نجحدہ
امروا الحدیث علی وجھہ ولاتدخلوافیہ مایفسدہ
ولاتنکروا انہ قاعد ولاتنکروا انہ یقعدہ
اوردھا فی النسیم ۔کلاانہ أجاد فی ذلك رحمہ الله تعالی رحمۃ واسعۃ الخ ۱۲منہ۔
حوالہ / References الدرالمنثور تحت الآیۃ ۱۷ /۷۹ داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ /۲۸۷

نسیم الریاض فی شرح شفاء القاضی عیاض فصل فی تفضیلہ بالشفاعۃ مرکز اہلسنت گجرات ہند ۲/ ۳۴۳
#18142 · رسالہ تجلی الیقین بانّ نبیّنا سید المرسلین ۱۳۰۵ھ (یقین کا اظہار اس بات کے ساتھ کہ ہمارے نبی صلی الله علیہ وسلم تمام رسولوں کے سردار ہیں)
ابو الشیخ حضرت عبدالله بن عباس رضی الله تعالی عنہما سے راوی:
ان محمدا صلی الله تعالی علیہ وسلم یوم القیمۃ یجلس علی کرسی الرب بین یدی الرب ۔ بیشك محمد صلی الله تعالی علیہ وسلم روز قیامت رب کے حضور رب کی کرسی پر جلوس فرمائیں گے۔
معالم میں عبدالله بن سلام رضی الله تعالی عنہ سے ہے:یقعدہ علی الکرسی ۔الله تعالی انہیں کرسی پر بٹھائے گاصلی الله تعالی علیہ وسلم وعلی الہ واصحابہ اجمعینوالحمدلله رب العلمین(الله تعالی درود نازل فرمائے آپ پرآپ کی آل پر اورآپ کے تمام صحابہ پراورتمام تعریفیں الله تعالی کے لیے جو کل جہانوں کا پروردگار ہے۔ت)
آیت عاشرہ(دسویں آیت):قرآن شریف کے تفصیلی ارشادات ومحاورات ونقل اقوال وذکر احوال پر نظر کیجئےتو ہر جگہ اس نبی کریم علیہ افضل الصلوۃ والتسلیم کی شان سب انبیائے کرام علیہم الصلوۃ والسلام سے بلند وبالا نظر آتی ہےیہ وہ بحر ذخار ہے جس کی تفصیل کو دفتر درکار علمائے دین مثل امام ابو نعیم وابن فورك و قاضی عیاض وجلال سیوطی و شھاب قسطلانی وغیرہم رحمہم الله تعالی نے ان تفرقوں سے بعض کی طرف اشارہ فرمایا۔فقیر اول ان کے چند اخراجات ذکر کر کے پھر بعض امتیاز کہ باندك تامل اس وقت ذہن قاصر میں حاضرہوئے ظاہر کرے گا تطویل سے خوف اوراختصار کا قصد بیس پر اقتصارکا باعث ہوا:
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ:)
ترجمہ اشعار:بحوالہ امام احمد رحمۃ الله تعالی علیہ مروی ہے ہم احمد مصطفی صلی الله تعالی علیہ وسلم تك اس کا اسناد کرتے ہیں۔یہ حدیث بھی آئی ہے کہ الله تعالی آپ کو عرش پربٹھائے گااورہم اس کا انکار نہیں کرتے۔انہوں نے حدیث کو درست بیان کیا ہے تم اس میں کلام فاسد کو داخل مت کرونہ اس بات کا انکار کرو کہ آپ صلی الله تعالی علیہ وسلم عرش پر جلوہ گر ہوں گے اور نہ ہی اس بات کا انکار کرو کہ الله تعالی آپ کو عرش پر بٹھائے گا)۔اس کو نسیم الریاض میں مکمل بیان کیا گیا ہے اوراس سلسلہ میں انہوں نے خوب اشعار کہے ہیںالله تعالی ان پر وسیع رحمت نازل فرمائے۔(ت)
حوالہ / References المواہب اللدنیہ المقصد العاشر الفصل الثالث المکتب الاسلامی بیروت ۴ /۶۴۳و۶۴۴
معالم التنزیل(تفسیر بغوی)تحت الآیۃ ۱۷ /۷۹ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۳ /۱۰۹
#18143 · رسالہ تجلی الیقین بانّ نبیّنا سید المرسلین ۱۳۰۵ھ (یقین کا اظہار اس بات کے ساتھ کہ ہمارے نبی صلی الله علیہ وسلم تمام رسولوں کے سردار ہیں)
(۱)خلیل جلیل علیہ الصلوۃ والتجیل سے نقل فرمایا:
" ولا تخزنی یوم یبعثون ﴿۸۷﴾ " ۔ مجھے رسوا نہ کرنا جس دن لوگ اٹھائے جائیں۔
حبیب قریب صلی الله تعالی علیہ وسلم کے لیے خود ارشاد ہوا:
" یوم لا یخزی اللہ النبی و الذین امنوا معہ " ۔ جس دن خدارسوا نہ کرے گا نبی اور اسکے ساتھ والے مسلمانوں کو۔
حضور کے صدقے میں صحابہ بھی اس بشارت عظمی سے مشرف ہوئے۔
(۲)خلیل علیہ الصلوۃ والسلام سے تمنائے وصال نقل کی:" انی ذاہب الی ربی سیہدین ﴿۹۹﴾ " ۔(بیشك میں اپنے رب کی طرف جانے والا ہوں اور وہ مجھے راہ دے گا۔ت)حبیب صلی الله تعالی علیہ وسلم کو خود بلاکر عطائے دولت کی خبر دی: " سبحن الذی اسری بعبدہ" ۔(پاکی ہے اسے جو اپنے بندے کو راتوں رات لے گیا۔ت)(۳)خلیل علیہ الصلوۃ والسلام سے آرزوئے ہدایت نقل فرمائی:" سیہدین ﴿۹۹﴾ " (وہ مجھے راہ دے گا۔ت)حبیب صلی الله تعالی علیہ وسلم سے خود ارشادفرمایا: " و یہدیک صرطا مستقیما ﴿۲﴾ " (اورتمہیں سیدھی راہ دکھا دے۔ت)(۴)خلیل علیہ الصلوۃ والسلام کےلئے آیا فرشتے ان کے معزز مہمان ہوئے:
" ہل اتىک حدیث ضیف ابرہیم المکرمین ﴿۲۴﴾" ۔ اے محبوب !کیا تمہارے پاس ابراہیم کے معزز مہمانوں کی خبر آئی (ت)
حبیب صلی الله تعالی علیہ وسلم کےلئے فرمایا فرشتے ان کے لشکری وسپاہی بنے:
" وایدہ بجنود لم تروہا" " ربکم بخمسۃ الف من الملئکۃ مسومین﴿۱۲۵﴾" و الملئکۃ بعد ذلک ظہیر ﴿۴﴾" ۔ اوران فوجوں سے اس کی مدد کی جو تم نے نہ دیکھیںتمہارا رب تمہاری مددکو پانچ ہزار فرشتے نشان والے بھیجے گااوراس کے بعد فرشتے مدد پر ہیں۔(ت)
#18144 · رسالہ تجلی الیقین بانّ نبیّنا سید المرسلین ۱۳۰۵ھ (یقین کا اظہار اس بات کے ساتھ کہ ہمارے نبی صلی الله علیہ وسلم تمام رسولوں کے سردار ہیں)
(۵)کلیم علیہ الصلوۃ والتسلیم کو فرمایاانہوں نے خدا کی رضاچاہی:
" وعجلت الیک رب لترضی ﴿۸۴﴾" ۔ اورتیری طرف میں جلدی کر کے حاضرہوا کہ تو راضی ہو۔(ت)
حبیب صلی الله تعالی علیہ وسلم کے لیے بتایاخدا نے ان کی رضاچاہی:
" فلنو لینک قبلۃ ترضىہا۪" " و لسوف یعطیک ربک فترضی ﴿۵﴾ " ۔ توضرورہم تمہیں پھیر دیں گے اس قبلہ کی طرف جس میں تمہاری خوشی ہے۔اور بیشك قریب ہے کہ تمہارا رب تمہیں اتنا دے گا کہ تم راضی ہوجاؤگے۔(ت)
(۶)کلیم علیہ الصلوۃ والسلام کا بخوف فرعون مصر سے تشریف لے جانا بلفظ فرار نقل فرمایا:
" ففررت منکم لما خفتکم" ۔ تومیں تمہارے یہاں سے نکل گیا جبکہ تم سے ڈرا۔(ت)
حبیب صلی الله تعالی علیہ وسلم کا ہجرت فرمانا باحسن عبارات ادافرمایا:
" واذ یمکر بک الذین کفروا" ۔ اوراے محبوب !یاد کر جب کافر تمہارے ساتھ مکر کرتے تھے۔(ت)
(۷)کلیم الله علیہ الصلوۃ والتسلیم سے طور پر کلام کیا اور اسے سب پر ظاہر فرمادیا:
" و انا اخترتک فاستمع لما یوحی ﴿۱۳﴾ اننی انا اللہ لا الہ الا انا فاعبدنی و اقم الصلوۃ لذکری ﴿۱۴﴾ " ۔ الی اخر الایات۔ اورمیں نے تجھے پسند کیااب کان لگا کر سن جو تجھے وحی ہوتی ہےبیشك میں ہی ہوں الله کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں تو میری بندگی کر اورمیری یاد کے لیے نماز قائم رکھ۔آیات کے آخر تک۔(ت)
#18145 · رسالہ تجلی الیقین بانّ نبیّنا سید المرسلین ۱۳۰۵ھ (یقین کا اظہار اس بات کے ساتھ کہ ہمارے نبی صلی الله علیہ وسلم تمام رسولوں کے سردار ہیں)
حبیب صلی الله تعالی علیہ وسلم سے فوق السموت مکالمہ فرمایا اورسب سے چھپایا:
" فاوحی الی عبدہ ما اوحی ﴿۱۰﴾" ۔ اب وحی فرمائی اپنے بندے کو جو وحی فرمائی۔(ت)
(۸)داودعلیہ الصلوۃ والسلام کو ارشادہوا:
" ولا تتبع الہوی فیضلک عن سبیل اللہ " ۔ خواہش کی پیروی نہ کرنا کہ تجھے بہکادے خدا کی راہ سے۔
حبیب صلی الله تعالی علیہ وسلم کے بارے میں بقسم فرمایا:
" وما ینطق عن الہوی ﴿۳﴾ ان ہو الا وحی یوحی ﴿۴﴾ " ۔ کوئی بات اپنی خواہش سے نہیں کہتاوہ تو نہیں مگر وحی کہ القا ہوتی ہے۔
اب فقیر عرض کرتاہے وبالله التوفیق:(۹)نوح وہود علیہما الصلوۃ والسلام سے دعانقل فرمائی:
" رب انصرنی بما کذبون ﴿۲۶﴾" ۔ الہی !میری مدد فرما بدلا اس کا کہ انہوں نے مجھے جھٹلایا۔
محمدصلی الله تعالی علیہ وسلم سے خود ارشاد ہوا:
" و ینصرک اللہ نصرا عزیزا ﴿۳﴾" ۔ الله تیری مدد فرمائے گازبردست مدد۔
(۱۰)نوح وخلیل علیہما الصلوۃ والتسلیم سے نقل فرمایاانہوں نے اپنی امت کی دعائے مغفرت کی:
"عــــــہ ربنا اغفر لی ولولدی و اے ہمارے رب!مجھے بخش دے اورمیرے ماں باپ

عــــــہ:یہ لفظ دعائے خلیل علیہ الصلوۃ والسلام کے ہیںاوردعائے نوح علیہ الصلوۃ والسلام ان لفظوں سے ہے:
" رب اغفر لی و لولدی و لمن دخل بیتی مؤمنا و للمؤمنین و المؤمنت " ۔ اے میرے رب !مجھے بخش دے اورمیرے ماں باپ کو اوراسے جو ایمان کے ساتھ میرے گھرے میں ہے اورسب مسلمان مردوں اورسب مسلمان عورتوں کو۔(ت)
للمؤمنین یوم یقوم الحساب ﴿۴۱﴾" ۔ کو اورسب مسلمانوں کو جس دن حساب قائم ہوگا۔(ت)
#18146 · رسالہ تجلی الیقین بانّ نبیّنا سید المرسلین ۱۳۰۵ھ (یقین کا اظہار اس بات کے ساتھ کہ ہمارے نبی صلی الله علیہ وسلم تمام رسولوں کے سردار ہیں)
حبیب صلی الله تعالی علیہ وسلم کو خود حکم دیا اپنی امت کی مغفرت مانگو:
" و استغفر لذنبک و للمؤمنین و المؤمنت" ۔ اور اے محبوب!اپنے خاصوں اورعام مسلمان مردوں اور عورتوں کے گناہوں کی معافی مانگو۔(ت)
(۱۱)خلیل علیہ الصلوۃ والسلام کے لیے آیاانہوں نے پچھلوں میں اپنے ذکر جمیل باقی رہنے کی دعاکی:
" واجعل لی لسان صدق فی الاخرین ﴿۸۴﴾" ۔ اورمیرسچی ناموری رکھ پچھلوں میں۔(ت)
حبیب صلی الله تعالی علیہ وسلم سےخود فرمایا: " و رفعنا لک ذکرک ﴿۴﴾" (اورہم نے تمہارے لئے تمہارا ذکر بلند کردیا۔ت) اور اس سے اعلی وارفع مژدہ ملا:
" عسی ان یبعثک ربک مقاما محمودا ﴿۷۹﴾" ۔ قریب ہے کہ تمہارا رب تمہیں ایسی جگہ کھڑا کرے جہاں سب تمہاری حمدکریں۔(ت)
کہ جہاں اولین وآخرین جمع ہوں گے حضور کی حمد وثناء کا شورہر زبان سے جوش زن ہوگا۔(۱۲)خلیل علیہ الصلوۃ والسلام کے قصہ میں فرمایاانہوں نے قوم لوط علیہ الصلوۃ والسلام سے رفع عذاب میں بہت کوشش کی: "یجدلنا فی قوم لوط ﴿۷۴﴾" (ہم سے لوط کے بارے میں جھگڑنے لگا۔ت)" یـابرہیم اعرض عن ہذا " ۔اے ابراہیم !اس خیال میں نہ پڑ۔عرض کی:" ان فیہا لوطا " ۔اس بستی میں لوط جو ہے۔حکم ہوا:" قالوا نحن اعلم بمن فیہا ۫ " ۔ہمیں خوب معلوم ہیں جو وہاں ہیں۔حبیب صلی الله تعالی علیہ وسلم سے ارشاد ہوا:
" ما کان اللہ لیعذبہم وانت فیہم " ۔ الله ان کافروں پر بھی عذاب نہ کرے گا جب تك اے رحمت عالم! تو ان میں تشریف فرما ہے۔
(۱۳)خلیل علیہ الصلوۃ والسلام سے نقل فرمایا: " ربنا وتقبل دعاء ﴿۴۰﴾ " الہی !میری دعا قبول فرما۔حبیب صلی الله تعالی علیہ وسلم اوران کے طفیلیوں کو ارشاد ہوا:
#18147 · رسالہ تجلی الیقین بانّ نبیّنا سید المرسلین ۱۳۰۵ھ (یقین کا اظہار اس بات کے ساتھ کہ ہمارے نبی صلی الله علیہ وسلم تمام رسولوں کے سردار ہیں)
" قال ربکم ادعونی استجب لکم " ۔ تمہارارب فرماتاہے مجھے سے دعا مانگو میں قبول کروں گا۔
(۱۴)کلیم علیہ الصلوۃ والسلام کی معراج درخت دنیا پر ہوئی:
" نودی من شاطی الواد الایمن فی البقعۃ المبرکۃ من الشجرۃ " ۔ ندا کی گئی میدان کے دائیں کنارے سے برکت والے مقام میں پیڑ سے۔(ت)
حبیب صلی ا لله تعالی علیہ وسلم کی معراج سدرۃ المنتہی وفردوس اعلی تك بیان فرمائی:
" عند سدرۃ المنتہی ﴿۱۴﴾ عندہا جنۃ الماوی ﴿۱۵﴾" ۔ سدرۃ المنتہی کے پاساس کے پاس جنت الماوی ہے۔(ت)
(۱۵)کلیم علیہ الصلوۃ والتسلیم نے وقت ارسال اپنی دل تنگی کی شکایت کی:
" و یضیق صدری و لا ینطلق لسانی فارسل الی ہرون ﴿۱۳﴾" ۔ اورمیرا سینہ تنگی کرتاہے اورمیری زبان نہیں چلتی تو تو ہارون کو بھی رسول کر۔(ت)
حبیب صلی الله تعالی علیہ وسلم کو خود شرح صد ر کی دولت بخشیاوراس سے منت عظمی رکھی: " الم نشرح لک صدرک ﴿۱﴾"۔ (کیا ہم نے تمہارا سینہ کشادہ نہ کیا۔ت)(۱۶)کلیم علیہ الصلوۃ والتسلیم پر حجاب نار سے تجلی ہوئی:
" فلما جاءہا نودی ان بورک من فی النار ومن حولہا " ۔ پھر جب وہ آگ کے پاس آیاندا کی گئی کہ برکت دیا گیا وہ جو اس آگ کی جلوہ گاہ میں ہے(یعنی حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام)
حبیب صلی الله تعالی علیہ وسلم پر جلوہ نور سے تجلی ہوئی اوروہ بھی غایت تفخیم وتعظیم کےلئے بالفاظ ابہام بیان فرمائی گئی:
#18148 · رسالہ تجلی الیقین بانّ نبیّنا سید المرسلین ۱۳۰۵ھ (یقین کا اظہار اس بات کے ساتھ کہ ہمارے نبی صلی الله علیہ وسلم تمام رسولوں کے سردار ہیں)
" اذ یغشی السدرۃ ما یغشی ﴿۱۶﴾
" ۔ جب چھا گیا سدرہ پر جو کچھ چھایا۔
ابن ابی حاتمابن مردویہبزارابویعلیبیہقی حضرت ابو ہریرہ رضی الله تعالی عنہ سے حدیث طویل معراج میں راوی:
ثم انتھی الی السدرۃ فغشیھا نور الخلاق عزوجل فکلمہ تعالی عند ذلك فقال لہ سل ۔ پھر حضور اقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم سدرہ تك پہنچے۔ خالق عزوجل کا نور اس پر چھایا۔اس قت جل جلالہ نے حضور صلی الله تعالی علیہ وسلم سے کلام کیا اورفرمایا:مانگو اھ ملخصا۔
(۱۷)کلیم علیہ الصلوۃ والتسلیم سے اپنے اور اپنے بھائی کے سواسب سے براء ت وقطع تعلق نقل فرمایا۔جب انہوں نے اپنی قوم کو قتل عمالقہ کا حکم دیا اورانہوں نے نہ مانا۔عرض کی:
" قال رب انی لا املک الا نفسی واخی فافرق بیننا وبین القوم الفسقین ﴿۲۵﴾" ۔ الہی ! میں اختیار نہیں رکھتا مگر اپنا اور اپنے بھائی کاتو جدائی فرمادے ہم میں اور اس گنہگار قوم میں۔
حبیب صلی الله تعالی علیہ وسلم کے ظل وجاہت میں کفار تك کو داخل فرمایا:
"ما کان اللہ لیعذبہم وانت فیہم "
" عسی ان یبعثک ربک مقاما محمودا ﴿۷۹﴾" ۔ اورالله کا کام نہیں کہ انہیں عذاب کرے جب تك اے محبوب !تم ان میں تشریف فرماہو۔قریب ہے کہ تمہارا رب تمہیں اس جگہ کھڑا کرے جہاں سب تمہاری حمد کریں۔(ت)
حوالہ / References القرآن الکریم ۵۳ /۱۶
تفسیر ابن ابی حاتم تحت الآیۃ ۱۷ /۱ مکتبہ نزار مصطفی البابی مکۃ المکرمۃ ریاض ۷ /۲۳۱۳،جامع البیان(تفسیر طبری)تحت الآیۃ ۵۳ /۱۶ داراحیاء التراث العربی بیروت ۲۷/ ۶۸،الدرالمنثور بحوالہ البزار وابو یعلٰی وابن ابی حاتم وابن مردویۃ والبیہقی تحت الآیۃ ۱۷ /۱ ۵/ ۱۷۸
القرآن الکریم ۵ /۲۵
القرآن الکریم ۸ /۳۳
القرآن الکریم ۱۷ /۷۹
#18149 · رسالہ تجلی الیقین بانّ نبیّنا سید المرسلین ۱۳۰۵ھ (یقین کا اظہار اس بات کے ساتھ کہ ہمارے نبی صلی الله علیہ وسلم تمام رسولوں کے سردار ہیں)
یہ شفاعت کبری ہے کہ تمام اہل موقف موافق ومخالف سب کو شامل۔
(۱۸)ہارون وکلیم علیہم الصلوۃ والتسلیم کے لیے فرمایاانہوں نے فرعون کے پا س جاتے اپنا خوف عرض کیا:
" ربنا اننا نخاف ان یفرط علینا او ان یطغی ﴿۴۵﴾ " ۔ اے ہمارے رب!بے شك ہم ڈرتے ہیںکہ وہ ہم پر زیادتی کرے یا شرارت سے پیش آئے۔(ت)
اس پر حکم ہوا:
" لا تخافا اننی معکما اسمع واری ﴿۴۶﴾" ۔ ڈرو نہیںمیں تمہارے ساتھ ہوںسنتا اوردیکھتا۔
حبیب صلی الله تعالی علیہ وسلم کو خو د مژدہ نگہبانی دیا:" واللہ یعصمک من الناس " ۔(اورالله تمہاری نگہبانی کرنے گا لوگوں سے۔ت)
(۱۹)مسیح علیہ الصلوۃ والسلام کے حق میں فرمایا ان سے پرائی بات پر یوں سوال ہوگا:
" یعیسی ابن مریم ءانت قلت للناس اتخذونی و امی الہین من دون اللہ " ۔ اے مریم کے بیٹے عیسی !کیا تو نے لوگوں سے کہہ دیا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو الله کے سوا دوخداٹھیرالو۔
معالم میں ہے اس سوال پر خوف الہی سے حضرت روح الله صلوات الله وسلامہعلیہ کا بند بند کانپ اٹھے گااورہر بن موسی خون کا فوارہ بہے گا پھر جواب عرض کریں گے جس کی حق تعالی تصدیق فرماتاہے۔حبیب صلی الله تعالی علیہ وسلم نے جب غزوہ تبوك کا قصد فرمایا اور منافقوں نے جھوٹے بہانے بناکر نہ جانے کی اجازت لے لی۔اس پر سوال تو حضور صلی الله تعالی علیہ و سلم سے بھی ہوا مگر یہاں جو شان لطف ومحبت وکرم وعنایت ہے قابل غور ہے ارشاد فرمایا:
" عفا اللہ عنک لم اذنت لہم" ۔ الله تجھے معاف فرمائےتو نے انہیں اجازت کیوں دے دی۔
حوالہ / References القرآن الکریم ۲۰ /۴۵
القرآن الکریم ۲۰ /۴۶
القرآن الکریم ۵ /۶۷
القرآن الکریم ۵ /۱۱۶
معالم التنزیل(تفسیرالبغوی)تحت الآیۃ ۵ /۱۱۶ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۲ /۶۶
القرآن الکریم ۹ /۴۳
#18150 · رسالہ تجلی الیقین بانّ نبیّنا سید المرسلین ۱۳۰۵ھ (یقین کا اظہار اس بات کے ساتھ کہ ہمارے نبی صلی الله علیہ وسلم تمام رسولوں کے سردار ہیں)
سبحان الله !سوال پیچھے ہے اورمحبت کا کلمہ پہلے۔والحمدلله رب العالمین۔
(۲۰)مسیح علیہ الصلوۃ والسلام سے نقل فرمایاانہوں نے اپنے امتیوں سے مدد طلب کی:
" فلما احس عیسی منہم الکفر قال من انصاری الی اللہ" ۔
پھر جب عیسی نے ان سے کفرپایابولا کون میرے مددگار ہوتے ہیں الله کی طرف۔حواریوں نے کہا ہم دین خدا کے مدد گار ہیں۔
حبیب صلی الله تعالی علیہ وآلہ وسلم کی نسبت انبیاء ومرسلین کو حکم نصرت ہوا:" لتؤمنن بہ ولتنصرنہ" ۔(تم ضرور ضرور اس پر ایمان لانا اور ضرورضروراس کی مدد کرنا۔ت)
غرض جو کسی محبوب کوملا وہ سب اوراس سے افضل واعلی انہیں ملااورجو انہیں ملا وہ کسی کو نہ ملا
حسن یوسف دم عیسی ید بیضاداری آنچہ خوباں ہمہ دارند توتنہاداری
آپ یوسف(علیہ السلام)کا حسنعیسی(علیہ السلام)کی پھونك اورروشن ہاتھ رکھتے ہیں۔جو کمالات وہ سارے رکھتے ہیں آپ اکیلے رکھتے ہیں۔ت)
صلی الله تعالی علیہ وسلم وعلی الہ واصحابہ وبارك وکرموالحمدلله رب العلمین۔
_________________
ہیکل دوم میں لآلی متلالی احادیث جلیلہ
تابش اول چند وحی ربانی علاوہ آیات کریمہ قرآنی
وحی اول۱:حاکمبیہقی عــــــہ طبرانیآجریابو نعیمابن عساکر امیر المومنین عمر فاروق رضی الله تعالی عنہ
عــــــہ:وقال صحیح الاسناد واقرہ علیہ اورکہا کہ اس کا اسناد صحیح ہےعلامہ ابن امیر الحاج (باقی برصفحہ آئندہ)
#18151 · رسالہ تجلی الیقین بانّ نبیّنا سید المرسلین ۱۳۰۵ھ (یقین کا اظہار اس بات کے ساتھ کہ ہمارے نبی صلی الله علیہ وسلم تمام رسولوں کے سردار ہیں)
سے راوی حضور سید المرسلین صلی الله تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لما اقترف ادم الخطیئۃ قال رب اسئلك بحق محمد لما غفرت لیقال وکیف عرفت محمدا قال لانك لما خلقتنی بیدك ونفخت فی من روحك رفعت رأسی فرأیت علی قوائم العرش مکتوبا لا الہ الا الله محمد رسول الله فعلمت انك لم تضف الی اسمك الا احب الخلق الیك قال صدقت یادم ولو لامحمد ما خلقتك وفی روایۃ عند الحاکم فقال الله تعالی صدقت یادم انہ لاحب الخلق الی اما اذا سئلتنی بحقہ یعنی آدم علیہ الصلوۃ والسلام نے خطا کا ارتکاب کیاتو انہوں نے اپنے رب سے عرض کیاے رب میرے !صدقہ محمد صلی الله تعالی علیہ وسلم کا میری مغفرت فرما۔رب العلمین نے فرمایا:تو نے محمد(صلی الله تعالی علیہ وآلہ وسلم)کو کیونکر پہچانا عرض کی:جب تو نے مجھے اپنے دست قدرت سے بنایا اور مجھ میں اپنی روح ڈالی میں نے سراٹھایا تو عرش کے پایوں پر لاالہ الا الله محمد رسول الله لکھاپایاجانا کہ تو نے اپنے نام کے ساتھ اسی کا نام ملایا ہے جو تجھے تمام مخلوق سے زیادہ پیارا ہے۔ الله تعالی نے فرمایا:اے آدم !تو نے سچ کہا بے شك وہ مجھے تمام جہان سے زیادہ پیارا ہےاب کہ تو نے اس کے حق کا وسیلہ کر کے مجھ سے مانگا تو میں تیری مغفرت کرتاہوںاور اگر محمد(صلی الله تعالی علیہ وسلم)نہ ہوتا تو

(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
العلامۃ ابن امیر الحاج فی الحلیۃ والسبکی فی شفاء السقام اقول: والذی تحرر عندی انہ لاینزل عن درجۃ الحسنوالله تعالی اعلم ۱۲منہ۔ نے حلیۃ میں اورسبکی نے شفاء السقام میں اس کو برقرار رکھا۔ میں کہتا ہوں جو میرے ہاں ثابت ہے وہ یہ کہ وہ درجہ حسن سے کمتر نہیںاورالله تعالی بہتر جانتاہے۔۱۲منہ(ت)
حوالہ / References دلائل النبوۃ للبیہقی باب ماجاء فی تحدث رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم بنعمۃ ربہ الخ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۵ /۴۸۹،تاریخ دمشق الکبیر ترجمہ علیہ السلام ۷۷۷داراحیاء التراث العربی بیروت ۷ /۳۰۹
#18152 · رسالہ تجلی الیقین بانّ نبیّنا سید المرسلین ۱۳۰۵ھ (یقین کا اظہار اس بات کے ساتھ کہ ہمارے نبی صلی الله علیہ وسلم تمام رسولوں کے سردار ہیں)
فقد غفرت لك ولو لا محمد ما غفرت وما خلقتك ۔ میں تیری مغفرت نہ کرتانہ تجھے بناتا۔
بیہقی وطبرانی کی روایت میں ہے:آدم علیہ الصلوۃ والسلام نے عرض کی:
رأیت فی کل موضع من الجنۃ مکتوبا لاالہ الا الله محمد رسول الله فعلمت انہ اکرم خلقك علیك ۔ میں نے ہرجگہ جنت میں لاالہ الا الله محمد رسول الله لکھا دیکھا تو جانا کہ وہ تیری بارگاہ میں تمام مخلوق سے زیادہ عزت والا ہے۔
آجری کی روایت میں ہے:
فعلمت انہ لیس احمد اعظم قدرا عندك ممن جعلت امسہ مع اسمک ۔ مجھے یقین ہوا کہ کسی کا رتبہ تیرے نزدیك اس سے بڑا نہیں جس کا نام تو نے اپنے نام کے ساتھ رکھا ہے۔
وحی دوم۲:حاکم عــــــہ بافادہ تصحیح عبدالله بن عباس رضی الله تعالی عنہما سے راوی:
عــــــہ:واقرہ علیہ السبکی فی شفاء السقام والسراج البلقینی فی فتاوہ وکذا جزم بصحتہ العلامۃ ابن حجر فی افضل القری اقول قدر صرح المحقق ابن الھمام فی باب الاحرام من فتح القدیر ان الا قدام علی التحسین فرع معرفتہ حالاوعینا قلت فکیف بالتصحیح وانت تعلم ان من یعلم حجۃ علی من لایعلم ۱۲ منہ۔ امام سبکی نے شفاء السقام میں اورسراج بلقینی نے اپنے فتاوی میں اس کو برقرار رکھا۔اوریونہی اسکی صحت پر جزم فرمایا امام ابن حجر نے افضل القری میں۔میں کہتاہوں امام محقق ابن ہمام نے فتح القدیر کے باب الاحرام میں تصریح کی کسی کی تحسین فرع اسکے حال وعین کی معرفت ہے کی ہے۔میں کہتا ہوں پھر تصحیح کا حال کیسا ہے اورجانتے ہوکہ جاننے والا نہ جاننے والے پر حجت ہے۔ ۱۲منہ(ت)
حوالہ / References المستدرك للحاکم کتاب التاریخ استغفارآدم بحق محمد صلی الله علیہ وسلم دارالفکر بیروت ۲ /۶۱۵،کنزالعمال بحوالہ ك وغیرہ حدیث۳۲۱۳۸ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۱ /۴۱۵
الشفاء بتعریف حقوق المصطفٰی الباب الثالث الفصل الاول المطبعۃ الشرکۃ الصحافیۃ ۱ /۱۳۷ ۱۳۸،نسیم الریاض بحوالہ البیہقی و الطبرانی الباب الثالث الفصل الاول مرکز اہلسنت برکات رضا گجرات ہند ۲ /۲۲۴
الشفاء بتعریف حقوق المصطفٰی الباب الثالث الفصل الاول المطبعۃ الشرکۃ الصحافیۃ ۱ /۱۳۸
#18153 · رسالہ تجلی الیقین بانّ نبیّنا سید المرسلین ۱۳۰۵ھ (یقین کا اظہار اس بات کے ساتھ کہ ہمارے نبی صلی الله علیہ وسلم تمام رسولوں کے سردار ہیں)
اوحی الله تعالی الی عیسی یا عیسی امن بحمد وأمر من ادرك من امتك ان یؤمنوا بہ فلولا محمد ما خلقت آدم ولولا محمد ماخلقت الجنۃ ولا النار ولقدخلقت العرش علی الماء فاضطر ب فکتبت علیہ لاالہ الا الله محمدرسول الله فسکن ۔ الله تعالی نے عیسی علیہ الصلوۃ والسلام کو وحی بھیجی اے عیسی !ایمان لامحمدصلی الله تعالی علیہ وسلم پر اورتیری امت سے جو لوگ اس کا زمانہ پائیں انہیں حکم کر کہ اس پر ایمان لائیں کہ اگر محمد(صلی الله تعالی علیہ وسلم)نہ ہوتا میں آدم کو نہ پیدا کرتا نہ جنت دوزخ بناتاجب میں نے عرش کو پانی پر بنایا اسے جنبش تھی میں نے اس پر لاالہ الا الله محمد رسول الله لکھ دیاپس ٹھہر گیا۔
وحی سوم۳:ابن عساکر حضرت سلمان فارسی رضی الله تعالی عنہ سے راویحضور سید المرسلین صلی الله تعالی علیہ وسلم سے عرض کی گئی:الله تعالی نے موسی علیہ السلام سے کلام کیاعیسی علیہ السلام کو روح القدس سے بنایا۔ابراہیم علیہ السلام کو اپنا خلیل فرمایا۔آدم علیہ السلام کو برگزیدہ کیا۔حضور کوکیا فضل دیا۔فورا جبرائیل امین علیہ الصلوۃ والتسلیم نازل ہوئے اورعرض کی حضور کا رب ارشاد فرماتاہے:
ان کنت اتخذت ابراھیم خلیلا فقد اتخذتك من قبل حبیباوان کنت کلمت موسی فی الارض تکلیما۔ فقد کلمتك فی السماء۔وان کنت خلقت عیسی من روح القدس فقدر خلقت اسمك من قبل ان اخلق الخلق بالفی سنۃ ولقد وطئت فی السماء موطئا لم یطأہ احد قبلك ولایطأہ احد بعدك۔وان کنت اصطفیت ادم فقد ختمت بك الانبیاء وما خلقت اگر میں نے ابراہیم کو خلیل کیاتمہیں حبیب کیا۔اوراگر موسی سے زمین میں کلام فرمایاتم سے آسمان میں کلام کیا۔ اور اگرعیسی کو روح القدس سے بنایا تو تمہارا نام آفرینش خلق سے دوہزار برس پہلے پیدا کیا۔اوربیشك تمہارے قدم آسمان میں وہاں پہنچے جہاں نہ تم سے پہلے کوئی گیا نہ تمہارے بعد کسی کو رسائی ہو۔اوراگر میں نے آدم کوبرگزیدہ کیا تمہیں ختم الانبیاء کیا اور تم سے زیادہ عزت وکرامت والا کسی کو
حوالہ / References المستدرك للحاکم کتاب التاریخ کان رسول الله صلی الله علیہ وسلم اجودالناس بالخیر دارالفکربیروت۲ /۶۱۵
#18154 · رسالہ تجلی الیقین بانّ نبیّنا سید المرسلین ۱۳۰۵ھ (یقین کا اظہار اس بات کے ساتھ کہ ہمارے نبی صلی الله علیہ وسلم تمام رسولوں کے سردار ہیں)
خلقا اکرم علی منک(وساق الحدیث الی ان قال)ظل عرشی فی القیامۃ علیك ممدود تاج الحمد علی رأسك معقود وقرنت اسمك مع اسمی فلااذکر فی موضع حتی تذکر معی۔و لقد خلقت الدنیا و اھلھا لاعرفھم کرامتك ومنزلتك عندیولولاك ماخلقت الدنیا ۔ نہ بنایاقیامت میں میرے عرش کا سایہ تم پر گسترد ہاورحمد کا تاج تمہارے سر پرآراستہتمہارا نام میں نے اپنے نام سے ملایا کہ کہیں میری یاد نہ ہوجب تك تم میرے ساتھ یاد نہ کئے جاؤ اوربیشك میں نے دنیا واہل دنیا کو اس لئے بنایا کہ جو عزت ومنزلت تمہاری میرے نزدیك ہے ان پر ظاہر کروں اگر تم نہ ہوتے میں دنیا کو نہ بناتا۔
وحی چہارم۴:دیلمی حضرت عبدالله بن عباس رضی الله تعالی عنہما سے راویحضور سید المرسلین صلی الله تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اتانی جبریل فقال ان الله یقول لولا ك ماخلقت الجنۃ ولولاك ماخلقت النار ۔ میرے پاس جبریل نے حاضر ہوکر عرض کی الله تعالی فرماتا ہے اگر تم نہ ہوتے میں جنت کو نہ بناتااوراگر تم نہ ہوتے میں دوزخ کو نہ بناتا۔
یعنی آدم وعالم سب تمہارے طفیلی ہیںتم نہ ہوتے تو مطیع وعاصی کوئی نہ ہوتاجنت ونارکس کیلئے ہوتیںاورخود جنت ونار اجزائے عالم سے ہیںجن پر تمہارے وجود کا پر توپڑا۔صلی الله تعالی علیہ وآلہ وسلم
مقصود ذات اوست دگر جملگی طفیل منظور نور اوست وگرجملگی ظلام
(مقصود ان کی ذات ہے باقی تمام طفیلی ہےفقط انہی کانور دکھائی دیتاہے باقی سب تاریکیاں ہیں۔ت)
وحی پنجم۵:ابو نعیم حلیہ میں حضرت انس بن مالك رضی الله تعالی عنہ سے راویحضور سید المرسلین صلی الله تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
حوالہ / References تاریخ دمشق الکبیر باب ذکر عروجہ الی السماء الخ داراحیاء التراث العربی بیروت ۳ /۲۹۶ ۲۹۷
کنزالعمال بحوالہ الدیلمی عن ابن عباس حدیث ۳۲۰۲۵ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۱ /۴۳۱
#18155 · رسالہ تجلی الیقین بانّ نبیّنا سید المرسلین ۱۳۰۵ھ (یقین کا اظہار اس بات کے ساتھ کہ ہمارے نبی صلی الله علیہ وسلم تمام رسولوں کے سردار ہیں)
اوحی الله تعالی الی موسی نبئ بنی اسرائیل انہ من لقینی وھو جاحد باحمد ادخلتہ النبار قال یارب ومن احمد قال ماخلقتك خلقا اکرم علی منہ کتبت اسمہ مع اسمی فی العرش قبل ان خلق السموت والارض ان الجنۃ محرمۃ علی جمیع خلقی حتی یدخلہا ھو وامتہ قال ومن امتہ قال الحمادون(وذکرصفتھم ثم قال) قال اجعلنی نبی تلك الامۃقال نبیہا منہا قال اجعلنی من امۃ ذلك النبی قال استقدمت واستاخر و لکن ساجمع بینك وبینہ فی دار الخلد ۔ الله تعالی نے موسی علیہ الصلوۃ والسلام کو وحی بھیجی بنی اسرائیل کو خبر دے دے کہ جو احمد کو نہ مانے گا اسے دوزخ میں ڈالوں گا۔عرض کی:اے میرے رب ! احمد کون ہے فرمایا:میں نے کوئی مخلوق اس سے زیادہ اپنی بارگاہ میں عزت والی نہ بنائیمیں نے آسمان وزمین کی پیدائش سے پہلے اس کا نام اپنے نام کے ساتھ عرش پر لکھااورجب تك وہ اوراس کی امت داخل نہ ہولے جنت کو تمام مخلوق پر حرام کیا۔ عرض کی:الہی !اس کی مات کون ہے فرمایا:وہ بڑی حمد کرنے والی۔اوران کی اورصفات جلیلہ نے ارشاد فرمائیں۔ عرض کی الہی !مجھے اس امت کا نبی کر۔فرمایا:ان کا نبی انہیں میں سے ہوگا۔عرض کی:الہی مجھے اس نبی کی امت میں کر۔ فرمایا:تو زمانہ میں مقدم اور وہ متاخر ہےمگر ہمیشگی کے گھر میں تجھے اوراسے جمع کروں گا۔
وحی ششم۶:ابن عساکر وخطیب بغدادی انس رضی الله تعالی عنہ سے راویحضور سید المرسلین صلی الله تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لما اسری بی قربنی ربی حتی کان کان بینی وبینہ کقاب قوسین اوادنیوقال لی یا محمد!ھل غمك ان جعلتك اخر النبیین قلت شب اسراء مجھے میرے رب نے اتنا نزدیك کیا کہ مجھ میں اور اس میں دو کمانوں بلکہ اس سے کم کا فاصلہ رہا۔رب نے مجھے سے فرمایا:اے محمد(صلی الله تعالی علیہ وسلم !)کیا تجھے کچھ برا معلوم ہوا کہ میں نے تجھے سب انبیاء سے
حوالہ / References الخصائص الکبری بحوالہ ابی نعیم فی الحلیۃ باب ذکر ہ فی التوارۃ والانجیل الخ مرکز اہلسنت گجرات ہند ۱ /۱۲
#18156 · رسالہ تجلی الیقین بانّ نبیّنا سید المرسلین ۱۳۰۵ھ (یقین کا اظہار اس بات کے ساتھ کہ ہمارے نبی صلی الله علیہ وسلم تمام رسولوں کے سردار ہیں)
لا(یارب) عــــــہ۱ قال فھل غم امتك ان جعلتہم اخر الامم۔قلت لا(یارب)قال اخبر امتك انی جعلتھم اخر الامم لافضع الام عند ھم ولا افضحھم عند الامم ۔ متأخر کیا۔عرض کی:نہیں اے رب میرے !فرمایا:کیا تیری امت کو غم ہوا کہ میں نے انہیں سب امتوں سے پیچھے کیا۔ میں نے عرض کی نہیں اے رب میرے !فرمایا:اپنی امتوں سے اس لئے پیچھے کیا کہ اورامتوں کو ان کے سامنے رسواکروں اورانہیں کسی کے سامنے رسوا نہ کروں۔
وحی ہفتم۷:ابو نعیم انس بن مالك اوربیہقی حضرت ابو ہریرہ عــــــہ۲ رضی الله تعالی عنہما سے دلائل النبوۃ میں راویحضور سید المرسلین صلی الله تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لما فرغت مما امرنی الله بہ من امر السموت قلت یارب انہ لم یکن نبی قبلی الاوقد اکرمتہ جعلت ابراہیم خلیلا وموسی کلیما وسخرت لداؤد الجبال ولسلیمان الریاح والشیاطین واحییت لعیسی الموتی فما جعلت لی قال جب میں حسب ارشاد الہی سیر سموت سے فارغ ہوا الله تعالی سے عرض کی:اے رب میرے ! مجھ سے پہلے جتنے انبیاء تھے سب کو تو نے فضائل بخشے۔ابراہیم علیہ الصلواۃ والسلام کو خلیل کیاموسی علیہ السلام کو کلیم۔داؤد علیہ السلام کے لیے پہاڑ مسخر کیےسلیمان علیہ السلام کے لیے ہوا اور شیاطین۔ عیسیعلیہ السلام کے لیے مردے جلائےمیرے لیے کیا کیاارشاد

عــــــہ۱:اللفظ لابن عساکر ولیست عندہ لفظۃ یارب فی الموضعین انما زدتہ من عند الخطیب استحلاء ۱۲ منہ۔ لفظ ابن عساکر کے ہیں اوران کے نزدیك لفظ ''یارب'' دونوں جگہ نہیں ہےاس کو میں نے خطیب کے ہاں سے حلاوت حاصل کرنے کیلئے بڑھا دیا ہے۔۱۲منہ(ت)
عــــــہ۲:واضح ہوکہ محدثین کے نزدیك تعددصحابی سے حدیث متعدد ہوجاتی ہے۔۱۲منہ
حوالہ / References تاریخ دمشق الکبیر ذکر عروجہ الی السماء الخ داراحیاء التراث العربی بیروت ۳ /۹۶ ۲۹۵،تاریخ بغداد ترجمہ احمد بن محمد النزولی ۲۵۵۷ دارالکتاب بیروت ۵ /۱۳۰
#18157 · رسالہ تجلی الیقین بانّ نبیّنا سید المرسلین ۱۳۰۵ھ (یقین کا اظہار اس بات کے ساتھ کہ ہمارے نبی صلی الله علیہ وسلم تمام رسولوں کے سردار ہیں)
او لیس اعطیتك افضل من ذلك کلہ لا اذکر الا ذکرت معنی الحدیث۔ ہواکیا میں نے تجھے ان سب سے بزرگی عطا نہ کی کہ میری یاد نہ ہو جب تك تو میرے ساتھ یاد نہ کیا جائے۔
اور اس کے سوا اور فضائل ذکر فرمائے۔یہ لفظ حدیث انس رضی الله تعالی عنہ کے ہیں۔اور حدیث ابو ہریرہ رضی الله تعالی عنہ سے یوں ہے رب عزوجل نے فرمایا:
ما اعطیتك خیرا من ذلك اعطیت الکوثر وجعلت اسمك مع اسمی ینادی بہ فی جوف السماء(الی ان قال) وخبات شفاعتك ولم اخباھا النبی غیرك ۔ یعنی جو میں نے تجھے دیا وہ ان سب سے بہتر ہے میں نے تجھے کوثر عطا فرمایا اور میں نے تیرا نام اپنے نام کے ساتھ کیا جوف آسمان میں اس کی ندا ہوتی ہےاور میں نے تیری شفاعت ذخیرہ کر رکھی ہے اور تیرے سوا کسی نبی کو یہ دولت نہ دی۔
وحی ہشتم ۸:امام اجل حکیم ترمذی وبیہقی وابن عساکر ابو ہریرہ رضی الله تعالی عنہ سے راوی حضور سید المرسلین صلی الله تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اتخذ الله ابراھیم خلیلا وموسی نجیا واتخذنی حبیبا ثم قال وعزتی وجلالی لاوثرن حبیبی علی خلیلی ونجی ۔ الله تعالی نے ابراہیم اور موسی کو نجی کیا اور مجھے اپنا حبیب بنایا۔پھر فرمایا مجھے اپنی عزت وجلال کی قسم بیشك اپنے پیارے کو اپنے خلیل اورنجی پر تفضیل دوں گا۔
وحی نہم۹:ابن عساکر عبد الله بن مسعود رضی الله تعالی عنہ سے راوی حضور سید المرسلین صلی الله تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
حوالہ / References الدرالمنثور بحوالہ ابی نعیم فی الدلائل تحت الایۃ ۹۴ /۴دار احیاء التراث العربی بیروت ۸ /۵۰۴،دلائل النبوۃ للبہیقی باب الدلیل علی ان النبی صلی الله علیہ وسلم عرج بہ الی السماء الخ دار احیاء التراث العلمیہ بیروت ۲ /۴۰۲
الشفاء بتعریف حقوق المصطفی القسم الاول الباب الثالث الفصل الاول المطبعۃ الشرکۃ الصحافیۃ ۱ /۱۳۴
الدرالمنثور تحت الایۃ ۴ /۱۲۵دار احیاء التراث العربی بیروت ۲ /۶۵۶،کنز العما ل حدیث ۳۱۸۹۳ مؤسسۃ الرسالۃ بیروت ۱۱ /۴۰۶
#18158 · رسالہ تجلی الیقین بانّ نبیّنا سید المرسلین ۱۳۰۵ھ (یقین کا اظہار اس بات کے ساتھ کہ ہمارے نبی صلی الله علیہ وسلم تمام رسولوں کے سردار ہیں)
قال لی ربی عزوجل نحلت ابراھیم خلتی وکلمت موسی تکلیما واعطیت یا محمد کفاحا مجھ سے میرے رب عزوجل نے فرمایا:میں نے ابراہیم کو اپنی خلت بخشی اور موسی سے کلا م کیا اور تجھے اے محمد اپنا مواجہ عطا فرمایا(کہ پاس آکر بے پردہ وحجاب میرا وجہ کریم دیکھا)
وحی دہم۱۰:بیہقی وہب بن منبہ سے راوی:
اوحی فی الزبور یا داؤد انہ سیاتی بعدك من اسمہ احمد و محمد صادقا نبیا لا اغضب علیہ ابدا ولا یغضبنی ابدا(الی قولہ)امتہ مرحومۃ اعطیتہم من النوافل مثل ما اعطیت الانبیاء وافترضت علیھم الفرائض التی افتر ضت علی الانبیا ء والرسل حتی یاتونی یوم القیامۃ نور ھم مثل نور الانبیاء(الی ان قال)یا داؤد فانی فضلت محمدا وامتہ علی الامم کلہا الی اخرہ۔ الله تعالی نے زبور مقدس میں وحی بھیجی:اے داؤ د عنقریب تیرے بعد وہ سچا نبی آئے گا جس کا نام احمد و محمد ہےمیں کبھی اس سے ناراض نہ ہوں گا اور نہ وہ کبھی میری نا فرمانی کرےگا۔ اس کی امت امت مرحومہ ہےمیں نے انھیں وہ نوافل عطا کئے جو پیغمبروں کو دیےاور ان پر وہ احکام فرض ٹھہراے جو انبیاء اور رسل پر فرض تھےیہاں تك کہ وہ لوگ میرے پاس روز قیامت اس حال پر حاضر ہوں گے کہ ان کا نور مثل نور انبیاء کے ہو گا۔اے داؤد !میں نے محمد کو سب سے افضل کیا۔اور اس کی امت کو تمام امتوں پر فضلیت بخشی صلی الله تعالی علیہ وسلم۔
وحی یازدہم۱۱:ابو نعیم وبیہقی حضرت کعب احبار سے راویان کے سامنے ایك شخص نے خواب بیان کیاگویا لوگ حساب کے لیے جمع کئے گئے اور حضرات انبیاء بلائے گئےہر نبی کے ساتھ اس امت آئیہر نبی کے لیے دو نور ہیںاور ان کے ہر پیرو کے لیے ایك نو ر جس کی روشنی میں چلتا ہے۔پھر محمد صلی الله تعالی علیہ وسلم بلائے گئے ان کے سر انور عــــــہ وروئے منور کے ہر بال سے جدا جدا نور کے
عــــــہ:یہاں صرف اسی قدر بیان میں آیاورنہ حضور کے سر انور سے پائے تك نور ہی نور ہوگا جیسا کہ تابش ۲ جلوہ ۲ارشاد ۳۵ میں مذکور ہوگا ۱۲منہ۔
حوالہ / References تاریخ دمشق الکبیر ذکر عروجہ الی السماء واجتماعہ الی الانبیاء دار احیاء التراث العربی بیروت ۳ /۲۹۶
دلائل النبوۃ باب صفۃ الرسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم فی التوراۃ والانجیل الخ دار الکتب العلمیۃ بیروت ۱ /۳۸۰
#18159 · رسالہ تجلی الیقین بانّ نبیّنا سید المرسلین ۱۳۰۵ھ (یقین کا اظہار اس بات کے ساتھ کہ ہمارے نبی صلی الله علیہ وسلم تمام رسولوں کے سردار ہیں)
بکے بلند ہیں جنھیں دیکھنے والا تمیز کرےاور ان کے ہر پیرو کے لیے انبیاء کی طرح دو نور ہیں جس کی روشنی میں راہ چلتا ہے۔
کعب نے خواب سن کر فرمایا:بالله الذی لاالہ الا ھو رأیت ھذا فی منامك تجھے قسم الله کی جس کے سوا کوئی سچا معبود نہیںتو نے یہ واقعہ خواب میں دیکھا۔کہا ہاںوالذی نفسی بیدہ انھا الصفۃ محمدوامتہ وصفۃ الانبیاء واممھا فی کتاب الله تعالی فکانما قرأتہ فی التوراۃ ۔قسم اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے بیشك بعینہ کتاب الله میں یوں ہی صفت لکھی ہے محمد صلی الله تعالی علیہ وسلم اوران کی امت اور انبیائے سابقین اوران کی امتوں کیگویا تو نے توریت میں پڑھ کر بیان کیا۔
وحی دوازدہم۱۲:امام قسطلانی مواہب لدنیہ ومنح محمدیہ میں رسالہ میلاد وامام علامہ ابن طغربك سے ناقل مروی ہواآدم علیہ الصلوۃ والسلام نے عرض کی:الہی!تو نے میری کنیت ابو محمد کس لئے رکھی حکم ہوا:اے آدم !ابنا سراٹھا۔آدم علیہ الصلوۃ والسلام نے سراٹھایا سرا پردہ عرش میں محمدصلی الله تعالی علیہ وسلم کا نور نظر آیا۔عرض کی:الہی !یہ نور کیا ہے فرمایا:
ھذا نور نبی من ذریتك اسمہ فی السماء احمد وفی الارض محمد لولاہ ما خلقتك ولاخلقت سماء والارضا ۔ یہ نور ایك نبی کا ہے تیری ذریت یعنی اولاد سےاس کا نام آسمان میں احمد ہے اورزمین میں محمداگر وہ نہ ہوتا تو میں تجھے نہ بناتانہ آسمان و زمین کو پیدا کرتا۔
وحی سیزدہم۱۳:وفیہ اعنی فی المواھب مروی ہواجب آدم علیہ الصلوۃ والسلام جنت عــــــہ سے باہر آئےساق عرش اورہر مقام بہشت میں نام پاك محمد صلی الله تعالی علیہ وسلم کا نام الہی سے ملا ہوا
عــــــہ:اقول: بالله التوفیق(میں الله تعالی کی توفیق سے کہتاہوں۔ت)جنت سے باہر آنااورخوف الہی کے عظیم پہاڑوں کا دل مبارك پر دفعۃ ٹوٹ پڑناپھر اپنی لغزش کی یاد اوراس پر ندامتاورالله جل جلالہ سے حیاء وخجلت آدم علیہ الصلوۃ والسلام پر اس وقت کی حالت احاطہ تقریر وتحریر میں نہیں آسکتی۔ایسے حال میں اگرآدمی اگلی جانی پہچانی بات بھی ذہول کرے تو اصلا جائے تعجب نہیں فافہموالله تعالی اعلم۔
حوالہ / References الخصائص الکبرٰی باب ذکرہ فی التوراۃ والانجیل الخ مرکز اہلسنت برکاتِ رضا گجرات الہند ۱ /۱۶
المواھب اللدنیۃ طیبۃ صلی الله تعالٰی علیہ وسلم المکتب الاسلامی بیروت ۱ /۷۰
#18160 · رسالہ تجلی الیقین بانّ نبیّنا سید المرسلین ۱۳۰۵ھ (یقین کا اظہار اس بات کے ساتھ کہ ہمارے نبی صلی الله علیہ وسلم تمام رسولوں کے سردار ہیں)
لکھا دیکھا۔عرض کی:الہی ! یہ محمد کون ہے فرمایا:ھذا ولدك الذی لولاہ ما خلقتك یہ تیری بیٹاہےیہ اگر نہ ہوتا میں تجھے نہ بناتا۔عرض کی:الہی !اس بیٹے کی حرمت سے اس بات پر رحم فرما۔ارشاد ہوا:اے آدم !اگر تو محمد کے وسیلہ سے تمام اہل آسمان و زمین کی شفاعت کرتاھم قبول فرماتے ۔
وحی چہاردہم۱۴:امام ابن سبع وعلامہ غزنی سیدنامولا کرم الله تعالی وجہہ سے ناقل:
ان الله تعالی قال لنبیہ من اجلك اسطح البطحاء و اموج الموج وارفع السماء واجعل الثواب والعقاب۔ ذکرہ الزرقانی فی الشرح۔ یعنی الله تعالی نے اپنے نبی صلی الله تعالی علیہ وسلم سے فرمایا: میں تیرے لئے بچھاتا ہوں زمیناور موجزن کرتا ہوں دریا اور بلند کرتا ہوں آسماناور مقرر کرتا ہوں جزا وسزا۔(اس کو زرقانی نے شرح میں ذکر کیا ہے)
ان سب روایات کا حاصل وہی ہے کہ تمام کائنات نے خلعت وجود حضور سید الکائنات صلی الله تعالی علیہ وسلم کے صدقہ میں پایا
وہ جو نہ تھے تو کچھ نہ تھا وہ نہ ہوں تو کچھ نہ ہو
جان ہیں وہ جہان کی جان ہے تو جہان ہے
وحی پانزدہم۱۵:فی فتاوی الامام سراج الدین البلقینی(امام سراج الدین بلقینی کے فتاوی میں۔ت)الله تعالی نے حضور سید عالم صلی الله تعالی علیہ وسلم سے فرمایا:
قد مننت علیك بسبعۃ اشیاء اولھا انی لم اخلق فی السموات والارض اکرم علی منك ۔ میں نے تجھ پر سات احسان کئےان میں پہلا یہ ہے کہ آسمان وزمین میں کوئی تجھ سے زیادہ عزت والا نہ بنایا۔
وحی شانزدہم۱۶:امام اجل فقیہ محدث عارف بالله استاد ابو القاسم قشیری اور مفسر
حوالہ / References المواھب اللدنیۃ استشفاع آدم بہ صلی ا لله علیہ وسلم المکتب الاسلامی بیروت ۱ /۸۲
شرح الزرقانی علی المواھب اللدنیہ بحوالہ ابن سبع عن علی رضی الله عنہ المقصد الاول ۱ /۴۴
حدائق بخشش مکتبہ رضویہ کراچی ۱/ ۷۹
المنح المکیۃ فی شرح الہمزیۃ بحوالہ السراج البلقینی فی فتاویہ شعر ۱ المجمع الشقاء فی ابو ظہبی ص ۱۲۱
#18161 · رسالہ تجلی الیقین بانّ نبیّنا سید المرسلین ۱۳۰۵ھ (یقین کا اظہار اس بات کے ساتھ کہ ہمارے نبی صلی الله علیہ وسلم تمام رسولوں کے سردار ہیں)
ثعلبی پھر علامہ احمد قسطلانی رحمۃ الله علیہم اجمعین فرماتے ہیں حق عز جلالہ نے اپنے حبیب کریم علیہ الصلوۃ والتسلیم سے فرمایا:
الجنۃ حرام علی الانبیاء حتی تدخلہا وعلی الامم حتی تدخلہا امتك ۔ جنت انبیاء پر حرام ہے جب تك تم داخل نہ ہو اور امتوں پر حرام ہے جب تك تمھاری امت نہ جائے۔
وحی ہفدہم ۱۷:علامہ ابن ظفر کتاب خیر البشرپھر قسطلانی وشامی وحلبی و دلجی وغیرہم علماء اپنی تصانیف جلیلہ میں ناقلرب العزت تبارك وتعالی کتان شعیا علیہ الصلواۃ والسلام میں فرماتا ہے:
عبدی الذی سرت بہ نفسی انزل علیہ و حی فیظھر فی الامم عدل ویوصیہم الوصایا ولایضحك ولا یسمع صوتہ فی الاسواق یفتح العیون العور و الاذان الصم ویحیی القلوب الغلف وما اعطیہ لا اعطی احد ا مشفح یحمد الله حمدا جدیدا میرا بندہ جس سے میرا نفس شاد ہے اس پر اپنی وحی اتاروں گا وہ تمام امتوں میں میرا عدل ظاہر کرے گا اور انہیں نیك باتوں پر تاکید فرمائے گابے جا نہ ہنسے گااور بازاروں میں اس کی آواز نہ سنی جائے گیاندھی آنکھیں اور بہرے کان کھول دے گااور غافل دلوں کو زندہ کرے گامیں جو اسے عطا کروں گا وہ کسی کو نہ دوں گا۔مشفح الله کی نئی حمد کرے گا۔
مشفح ہمارے حضور اقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم کانام اور محمد سے ہموزن وہم معنی ہے یعنی بکثرت وباربار سراہا گیا۔
وحی ہیجدہم۱۸:علامہ فارسی رحمۃ الله تعالی علیہ نے مطالع المسرات شرح دلائل الخیرات میں چند آیات توریت نقل فرمائیں جن میں حق سبحانہ وتعالی ارشاد فرماتا ہے:
حوالہ / References المواھب اللدنیہ المقصد الخامس الاسراء والمعراج المکتب الاسلامی بیروت ۳ /۹۳،تفسیر القشیری تحت الایۃ ۵۳ /۱۰ دار الکتب العلمیۃ بیروت ۳ /۲۴۸،الکشف والبیان(تفسیر الثعلبی)تحت الایۃ ۵۳ /۱۰ دار احیاء التراث العربی بیروت ۹ /۱۳۹
سبل الہدی والرشاد دار الکتب العلمیۃ بیروت ۱ /۵۱۴ المواھب اللدنیہ المکتب الاسلامی بیروت ۲ /۵۴
#18162 · رسالہ تجلی الیقین بانّ نبیّنا سید المرسلین ۱۳۰۵ھ (یقین کا اظہار اس بات کے ساتھ کہ ہمارے نبی صلی الله علیہ وسلم تمام رسولوں کے سردار ہیں)
یاموسی احمد نی اذا مننت علیك مع کلامی ایاك بالایمان باحمد ولو لم تقبل الایمان باحمد ما جاورتنی فی داری ولا تنعمت فی جنتی یا موسی من لم یومن باحمد من جمیع المرسلین ولم یصدقہ ولم یشتق الیہ کانت حسناتہ مردودۃ علیہ و منعتہ حفظ الحکمۃ ولاادخل فی قلبہ نور الھدی وامحو اسمہ من النبوۃ یا موسی من امن باحمد وصدقتہ اولئك ھم الفائزون ومن کفر باحمد وکذبہ من جمیع خلقی اولئك ھم الخسرون اولئك ھم النادمون اولئك ھم الغافلون اے موسی !میری حمد بجا لا جبکہ میں نے تجھ پر احسان کیا کہ اپنی ہم کلامی کے ساتھ تجھے احمد پر ایمان عطا فرمایااور اگر تو احمد پر ایمان لانا نہ مانتا میرے گھر میں مجھ سے قرب نہ پاتانہ میری جنت میں چین کرتا۔اے موسی تمام مرسلین سے جو کوئی احمد پر ایمان نہ لائے اور اس کی تصدیق نہ کرے اور اس کا مشتاق نہ ہو اسکی نیکیاں مردود ہوں گیاور اسے حکمت کے حفظ سے روك دوں گااور اس کے دل میں ہدایت کا نور نہ ڈالوں گااور اس کا نام دفتر انبیاء سے مٹا دوں گا۔اے موسی !جو احمد پر ایمان لائے اور اس کی تصدیق کی وہی ہیں مراد کو پہنچنے والےاور میری مخلوق میں جس نے احمد سے انکار اور اس کی تکذیب کی وہی زیاں کاروہی ہیں پشمانوہی ہیں بے خبر۔
الحمد لله یہ آیتیں خوب ظاہر فرماتی ہیں اس عہد وپیمان کو جو آیۃ کریمہ " لتؤمنن بہ ولتنصرنہ" میں مذکور ہوا۔
تذییل:بعض روایات میں ہے حق عز جلالہ اپنے حبیب کریم افضل الصلواۃ والتسلیم سے ارشاد فرماتا ہے:
یا محمد انت نور نوری وسر سری وکنوز ھدایتی و خزائن معرفتی جعلت فداء لك ملکی من العرش اے محمد !تو میرے نور کا نور ہےاور میرے راز کا رازاور میری ہدایت کی کان۔اور میری معرفت کے خزانے !میں نے اپنا ملك عرش سے لے کر
حوالہ / References مطالع المسرات مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ص ۳۵۵
القران الکریم ۳ /۸۱
#18163 · رسالہ تجلی الیقین بانّ نبیّنا سید المرسلین ۱۳۰۵ھ (یقین کا اظہار اس بات کے ساتھ کہ ہمارے نبی صلی الله علیہ وسلم تمام رسولوں کے سردار ہیں)
الی ما تحت الارضین کلہم یطلبون رضائی وانا اطلب رضاك یا محمد ۔
اللهم رب محمد صل علی محمد و ال محمد اسالك برضاك عن محمد ورضا محمد عنك ان ترضی عنا محمد اوترضی عنا بمحمد امین الہ محمد وصل علی محمد وال محمد وبارك وسلم۔

تحت الثری تك سب تجھ پر قربان کردیا۔عالم میں جو کوئی ہے سب میری رضا چاہتے ہیں اور میں تیری رضا چاہتا ہوں یا محمد !۔
اے الله اے رب محمددرود نازل فرما محمد مصطفی اور ان کی آل پر۔میں تجھ سے سوال کرتا ہوں محمد مصطفی پر تیرے راضی ہونے اور تجھ پر محمد مصطفی کے راضی ہونے کے وسیلے سے کہ تو محمد مصطفی کو ہم پر راضی کر دے اور محمد مصطفی کے وسیلہ سے تو ہم پر راضی ہو جا۔اے محمد مصطفی کے معبود !ہماری دعا قبول فرما اور محمد مصطفی اور آپ کی آل پر درود بھیج اور برکت و سلامتی نازل فرما۔(ت)
تابش دوم ارشادت حضور سید المرسلین صلی الله تعالی علیہ وعلیہم اجمعین
یہ تابشیں تین۳ جلووں سے شعشہ افگن:
جلوہ اول نصوص جلیہ مسئلہ علیہ
ارشاد اول۱:احمدبخاریمسلمترمذیابو ہریرہ رضی الله تعالی عنہ سے راویحضور سید المرسلین صلی الله تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
انا سید الناس یوم القیامۃ وھل تدرون مما ذلك یجمع الله الاولین والاخرین فی صعید واحد الحدیث میں روز قیامت سب لوگوں کا سردار ہوںکچھ جانتے ہو یہ کس وجہ سے ہے الله تعالی سب اگلے پچھلوں کو ایك ہموار میدان وسیع میں جمع کریگا۔پھرحدیث طویل شفاعت
#18164 · رسالہ تجلی الیقین بانّ نبیّنا سید المرسلین ۱۳۰۵ھ (یقین کا اظہار اس بات کے ساتھ کہ ہمارے نبی صلی الله علیہ وسلم تمام رسولوں کے سردار ہیں)
بطولہ ۔ ارشاد فرمائی۔
صحیح مسلم کی ایك روایت میں ہے حضور صلی الله تعالی علیہ وسلم کے لئے ثرید وگوشت حاضر آیاحضور نے دست گوسفند کو ایك بار دندان اقدس سے مشرف کیا اور فرمایا:
انا سید الناس یوم القیامۃ۔ میں قیامت کے دن سردار مردم ہوں۔
پھر دوبارہ اس گوشت سے قدرے تناول کیا اور فرمایا:
انا سید الناس یوم القیامۃ۔ میں قیامت کے دن سردار جہانیاں ہوں۔
جب حضور نے دیکھا مکرر فرمانے پر بھی صحابہ عــــــہ وجہ نہیں پوچھتےفرمایا الا تقولون کیفہ پوچھتے نہیں کہ یہ کیونکر ہے صحابہ نے عرض کی:کیف ھو یار سول الله ہاں الله کے رسول یہ کیونکر ہے فرمایا:یقوم الناس لرب العلمین لوگ رب العلمین کے حضور کھڑے ہوں گے پھر حدیث شفاعت ذکر فرمائی ۔
ارشاد دوم۲:مسلمابوداؤد انہی سے راویحضور سید المرسلین صلی الله تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
انا سید ولد ادم یوم القیامۃ و میں روز قیامت تمام آدمیوں کا سرداراور

عــــــہ:۱صحابہ کو اجمالا حضور کی سیادت مطلقہ معلوم تھیمعہذا جو کچھ فرمائیں عین ایمان ہےچون وچرا کی کیا مجاللہذا وجہ نہ پوچھی مگر نہ جانا کہ حضور صلی الله تعالی علیہ وسلم اس وقت تفصیلا اپنی سیادت کبری کا بیان فرمانا چاہتے ہیں اور منتظر ہیں کہ بعد سوال ارشاد ہوتا کہ اوقع فی التفنن ہو۔جب صحابہ مقصود والا کو نہ سمجھے تو حضور صلی الله تعالی علیہ وسلم نے خود متنبہ فرما کر سوال کیا اور جواب ارشاد کیا صلی الله تعالی علیہ وسلم ۱۲ منہ
حوالہ / References صحیح البخاری کتاب التفسیر سورۃ بنی اسرائیل باب قول الله تعالٰی ذریۃ من حملنا مع نوح الخ ۲ /۲۸۴و۲۸۵،صحیح مسلم کتاب الایمان باب اثبات الشفاعۃ الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۱۱،سنن الترمذی کتاب صفۃ القیامۃ باب ما جاء فی الشفاعۃ حدیث ۲۴۴۲دار الفکر بیروت ۴ /۱۹۶،مسند امام احمد حنبل عن ابی ھریرۃ رضی الله تعالٰی عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۲ /۴۳۵
صحیح مسلم کتاب الایمان باب اثبات الشفاعۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۱۱
#18165 · رسالہ تجلی الیقین بانّ نبیّنا سید المرسلین ۱۳۰۵ھ (یقین کا اظہار اس بات کے ساتھ کہ ہمارے نبی صلی الله علیہ وسلم تمام رسولوں کے سردار ہیں)
اول ینشق عنہ القبر واول شافع و اول مشفع ۔ سب سے پہلے قبر سے باہر تشریف لانے والااور پہلا شفیع اور پہلا وہ جس کی شفاعت قبول ہو۔
ارشاد سوم۳:احمدترمذیابن ماجہ ابو سعید خدری رضی الله تعالی عنہ سے راویحضور سید المرسلین صلی الله تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
انا سید ولد ادم یوم القیامۃ ولا فخر وبیدی لواء الحمد ولا فخر وما من نبی یومئذادم فمن سواہ الا تحت لوائی الحدیث۔ میں روز قیامت تمام آدمیوں کا سردار ہوںاور یہ کچھ فخر سے نہیں فرماتا۔اور ہاتھ میں لوائے حمد ہوگا۔اور یہ فخر نہیں کہتا اس دن اور ان کے سوا جتنے ہیں سب میرے زیر لوا ہوں گے۔
ارشاد چہارم۴:دارمیبیہقیابو نعیم انس رضی الله تعالی عنہ سے راویحضور سید المرسلین صلی الله تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
انا سید االناس یوم القیامۃ ولا فخر وانا اول من یدخل الجنۃ والا فخر میں قیامت میں سردار مردماں ہوں اور کچھ تفاخر نہیں۔
ارشاد پنجم۵:حاکم وبیہقی کتاب الرؤیۃ میں عبادہ بن صامت انصاری رضی الله تعالی عنہ سے راویحضور سید المرسلین صلی الله تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
انا سید الناس یو م القیامۃ ولا فخر ما من احد الا وھو تحت میں روز قیامت سب لوگوں کا سردار ہوں اور کچھ افتخار نہیں ہر شخص قیامت میں میرے ہی
حوالہ / References صحیح مسلم کتاب الفضائل باب تفضیل نبینا صلی الله تعالٰی علیہ وسلم الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۲۴۵،سنن ابی داؤد کتاب السنۃ باب فی التخیر بین الانبیاء علیہم السلام آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۲۸۶
الترمذی ابواب التفسیر سورۃ بنی اسرائیل حدیث ۳۱۵۹ دار الفکر بیروت ۵/ ۹۹ و ۱۰۰،الترمذی ابواب المناقب باب ما جاء فی فضل النبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم حدیث ۳۶۳۵ دار الفکر بیروت ۵/۳۵۴،کنز العمال بحوالہ حم ت عن ابی سعید حدیث ۳۱۸۸۲ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۱/ ۴۰۴
دلائل النبوۃ للبیھقی باب ماجاء فی تحت رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم بنعمۃ ربہ دار الکتب العلمیۃ بیروت ۵/ ۴۷۹،سنن دارمی باب اعطی النبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم الخ حدیث ۵۳ دار المحسن للطباعۃ القاھرۃ ۱/ ۳۱
#18166 · رسالہ تجلی الیقین بانّ نبیّنا سید المرسلین ۱۳۰۵ھ (یقین کا اظہار اس بات کے ساتھ کہ ہمارے نبی صلی الله علیہ وسلم تمام رسولوں کے سردار ہیں)
لوائی یوم القیامۃ ینتظر الفرج وان معی لواء الحمد انا مشی ویمشی الناس معی حتی اتی باب الجنۃ فاستفتح فیقال من ھذا فاقول محمدفیقال مرحبا بمحمد فاذا رایت ربی خررت لہ ساجدا انظر الیہ ۔ نشان کے نیچے کشائش کا انتظارکرتا ہوگااور میرے ہی ساتھ لوائے حمد ہوگامیں جاؤں گا اور لوگ میرے ساتھ چلیں گے یہاں تك کہ درجنت پر تشریف لےجا کر کھلواؤں گا پوچھا جائے گا:کون ہے میں کہوں گا محمد کہا جائے گا:مرحبا محمد کو صلی الله تعالی علیہ وسلم۔پھر جب میں اپنے رب کو دیکھوں گا اس کے حضور سجدے میں گر پڑوں گا اس کے وجہ کریم کی طرف نظر کرتا۔
ارشاد ششم۶:ابو نعیم عبد الله بن عباس رضی الله تعالی عنہما سے راویحضور سید المرسلین صلی الله تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ارسلت الی الجن والانس والی کل احمر واسود واحلت لی الغنائم دون الانبیاء وجعلت لی الارض کلہا طہورا ومسجدا ونصرت بالرعب اما می شھرافاعطیت خواتیم سورۃ البقرۃ وکانت من کنوزالعرش و خصصت بھا دون الانبیاء فاعطیت المثانی مکان التورۃ والمئین مکان الانجیل والحوامیم مکان الزبور وفضلت بالمفصل وانا سید ولد ادم فی الدنیا و الاخرۃ ولا فخر وانا میں جن وانس اور ہر سرخ سیاہ کی طرف رسول بھیجا گیااور سب انبیاء سے الگ میرے ہی لئے غنیمتیں حلال کی گئیں اور میرے لئے ساری زمین پاك کرنے والی اور مسجد ٹھہری اور میرے آگے ایك مہینہ راہ تك رعب سے میری مدد کی گئیاور مجھے سورہ بقرہ کی پچھلی کہ خزانہ ہائے عرش سے تھیں عطا ہوئییہ خاص میرا حصہ تھا سب انبیاء سے جدااور مجھے تورات کے بدلے قرآن کی وہ سورتیں ملیں جن میں سو سے کم آیتیں ہیںاور انجیل کی جگہ سوسو آیت والیاں اور زبور کے عوض حم کی سورتیں اور مجھے مفصل سے تفضیل دی گئی کہ سورۃ حجرات سے آخر قران تك ہے
حوالہ / References کنز العمال بحوالہ ك وابن عساکر عن عبادہ الصامت حدیث ۳۲۰۳۸ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۱ /۴۳۴
#18167 · رسالہ تجلی الیقین بانّ نبیّنا سید المرسلین ۱۳۰۵ھ (یقین کا اظہار اس بات کے ساتھ کہ ہمارے نبی صلی الله علیہ وسلم تمام رسولوں کے سردار ہیں)
اول تنشق الارض عنی وعن امتی ولا فخر بیدی لواء الحمد یوم القیامۃ وجمیع الانبیاء تحتہ ولا فخر والی مفاتیح الجنۃ یوم القیامۃ ولا فخر وبی تفتح الشفاعۃ ولا فخر وانا سابق الخلق الی الجنۃ یوم القیامۃ والا فخر وانا امامھم وامتی بالاثر ۔ اور دنیا وآخرت میں میں تمام بنی ادم کا سردار ہوںاور کچھ فخر نہیں۔اور سب سے پہلے میں اور میری امت قبور سے نکلے گی اور کچھ فخر نہیںاور قیامت کے دن میرے ہی ہاتھ لوائے حمد ہوگا اورتمام انبیاء اس کے نیچےاور کچھ فخر۔اور میرے ہی اختیار میں جنت کی کنجیاں ہوں گیاور کچھ فخر نہیںاور مجھی سے شفاعت کی پہل ہوگیاور کچھ فخر نہیں اور میں تمام مخلوق سے پہلے روز قیامت جنت میں تشریف لے جاؤں گااور کچھ فخر نہیں۔میں ا ن سب کے آگے ہوں گا اور میری امت میرے پیچھے۔اللھم جعلنا منھم فیھم ومعھم بجاھہ عندك امین !اے الله !ہمیں کردے ان سےان میںاور ان کے ساتھاپنے محبوب کی وجاہت کے صدقے میں جو تیرے ہاں ہے۔یا الہی !قبول فرما۔ (ت)
فقیر کہتا ہے مسلمان پر لازم ہے کہ اس نفیس حدیث شریف کو حفظ کر لے تا کہ اپنے آقا ئے نامدار کے فضائل وخصائص پر مطلع رہے۔صلی الله تعالی علیہ وسلم۔
ارشاد ہفتم۷:احمدبزارابو یعلی اور ابن حبان اپنی صحیح میں حضرت جناب افضل الاولیا ء الاولین والاخرین سیدنا صدیق اکبر رضی الله تعالی عنہ سے حدیث شفاعت میں راویلوگ ادم ونوح و خلیل وکلیم علیہم الصلوۃ والتسلیم کے پاس ہوتے ہوئے حضرت مسیح کے پاس حاضر ہونگے حضرت مسیح علیہ الصلواۃ والسلام فرمائیں گے لیس ذاکم عندی ولکن انطلقو الی سید ولد آدم۔تمھار ا یہ کام مجھ سے نہ نکلے گا مگر تم اس کے پاس حاضر ہو جو تمام بنی آدم کا سردار ہے۔لوگ خدمت اقدس میں حاضر ہوں گے حضور ولا جبرائیل امین علیہ الصلوہ والتسلیم کو اپنے رب کے پاس اذن لینے کے لیے بھیجیں گے۔رب تبارك وتعالی اذن دے گا۔حضور حاضر ہو کر ایك ہفتہ ساجد رہیں گےرب عز مجدہ فرمائے گا سر اٹھاؤ اور عرض کرو کہ مسموع ہوگیاور شفاعت کرو
حوالہ / References دلائل النبوۃ لابی نعیم الفصل الرابع عالم الکتب بیروت ۱ /۱۳
#18168 · رسالہ تجلی الیقین بانّ نبیّنا سید المرسلین ۱۳۰۵ھ (یقین کا اظہار اس بات کے ساتھ کہ ہمارے نبی صلی الله علیہ وسلم تمام رسولوں کے سردار ہیں)
کہ قبول ہوگی۔حضور اقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم سر اٹھائیں گے تو رب عظیم کا وجہ کریم دیکھیں گے فورا پھر سجدے میں گریں گےایك ہفتہ اور ساجد رہیں گے۔رب جل وعلا پھر وہی کلمات لطف فرمائے گا۔حضور صلی الله تعالی علیہ وسلم سر مبارك اٹھائیں گے پھر سہ بارہ قصد سجدہ فرمائیں گےجبرائیل امین حضور کے بازو تھام کر روك لیں گے اس وقت حضور صلی الله تعالی علیہ وسلم اپنے رب کریم سبحانہ سے عرض کرینگے یا رب جعلتنی سید ولد ادم ولا فخر اے رب میرے !تو نے مجھے سردار بنی آدم کیا اور کچھ فخر نہیں الی اخر الحدیث ۔
ارشاد ہشتم ۸:حاکم وبیہقی عــــــہ۱ فضائل الصحابہ میں ام المومنین صدیقہ رضی الله تعالی عنہا سے راویحضور سید المرسلین صلی الله تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں: ۔میں تمام عالم کا سردار ہوں۔
ارشاد نہم۹:دارمیترمذیابو نعیم بسند حسن عــــــہ۲ عبدالله بن عباس رضی الله تعالی عنہما سے
عــــــہ۱:صححہ الحاکم قالہ ابن حجر المکی فی افضل القری واقرہ علیہ وفی الحدیث قصۃقلت واما انا فانما اوردتہ فی المتابعات ۱۲منہ۔
عــــــہ۲:تحسنیہ ھو الذی حققہ السراج البلقینی فی فتاوہ کما اثر عنہ فی ام القری وان خالف فیہ ابو عیسی رحمہ الله تعالی ۱۲منہ۔ اس کو امام حاکم نے صحیح قراردیا۔ابن حجر مکی نے افضل القری میں یہی کہا اور اس کو برقرار رکھااورحدیث میں قصہ ہےمیں کہتا ہوں کہ میں نے تو اس کو متابعات میں وارد کیاہے۔ ۱۲منہ(ت)
سراج بلقینی نے اپنے فتاوی میں اس کو حسن قرار دیتے ہوئے اس کی تحقیق فرمائی جیسا کہ افضل القری میں اس سے منقول ہے اگرچہ ابو عیسی علیہ الرحمۃ نے اس کی مخالفت کی۔۱۲منہ(ت)
حوالہ / References مسند احمد حنبل عن ابی بکر الصدیق رضی الله عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۱/ ۵،مسند ابی یعلی عن ابی بکر الصدیق رضی الله عنہ مؤسسۃ علوم القران بیروت ۱/ ۵۹،موارد الظمان حدیث۲۵۸۹ المطبعۃ السلفیہ ص۶۴۲ ۶۴۳،کنز العمال بحوالہ البزار حدیث ۳۹۷۵۰ مؤسسۃ الرسالۃ بیروت ۱۴ /۶۲۸ ۶۲۹
مفاتیح الغیب(التفسیر الکبیر)بحوالہ البیہقی تحت الآیۃ ۲ /۲۵۳دارالکتب العلمیۃ بیروت ۶ /۱۶۸
#18169 · رسالہ تجلی الیقین بانّ نبیّنا سید المرسلین ۱۳۰۵ھ (یقین کا اظہار اس بات کے ساتھ کہ ہمارے نبی صلی الله علیہ وسلم تمام رسولوں کے سردار ہیں)
راویدراقدس پر کچھ صحابہ بیٹھے حضور(صلی الله تعالی علیہ وسلم)کے انتظار میں باتیں کر رہے تھے حضور تشریف فرما ہوئے انہیں اس ذکر میں پایا کہ ایك کہتاہے الله تعالی نے ابراہیم کو خلیل بنایا۔دوسرابولا:حضرت موسی سے بے واسطہ کلام فرمایا۔ تیسرے نے کہا:اورعیسی کلمۃ الله ورح الله ہیں۔چوتھے نے کہا:آدم علیہ السلام صفی الله ہیں۔جب وہ سب کہہ چکے حضور پر نور صلوات الله سلامہعلیہ قریب آئے اور ارشاد فرمایا:میں نے تمہارا کلام اورتمہارا تعجب کرنا سنا کہ ابراہیم خلیل الله ہیں اور ہاں وہ ایسے ہی ہیںاورموسی نجی الله ہیں اوربیشك وہ ایسے ہی ہیںاورعیسی روح الله ہیں اور وہ واقعی ایسے ہی ہیں اورآدم صفی الله ہیں اور حقیقت میں وہ ایسے ہی ہیں۔
الا وانا حبیب الله ولا فخروانا حامل لواء الحمد یوم القیمۃ تحتہادم فمن دونہ ولا فخراونا اول شافع واول مشفع یوم القیمۃ ولا فخروانا اول من یحرك حلق الجنۃ فیفتح الله لی فید خلنیھا ومعی فقراء المؤمنین ولا فخروانا اکرم الاولین و الاخرین علی الله ولا فخر سن لوا ور میں الله تعالی کا پیارا ہوںاور کچھ فخر مقصود نہیں اور میں روز قیامت لواء محمد اٹھاؤں گا جس کے نیچے آدم اوران کے سواسب ہوں گےاورکچھ تفاخر ہیں۔اور میں پہلا شافع اورمقبول الشفاعۃ ہوںاورکچھ افتخار نہیں۔اورسب سے پہلے میں دروازہ جنت کی زنجیر ہلاؤں گا۔الله تعالی میرے لئے دروازہ کھول کر مجھے اندر داخل کرے گااور میرے ساتھ فقرائے مومنین ہوں گےاوریہ ناز کی راہ سے نہیں کہتا۔اور میں سب اگلے پچھلوں سے الله تعالی کے حضور زیادہ عزت والا ہوںاوریہ بڑائی کے طور پر نہیں فرماتا۔
ارشاد دہم۱۰:دارمی اور ترمذی عــــــہ بافادہ تحسین اوربویعلی وبیہقی وابونعیم انس رضی الله
عــــــہ:ھو عند الترمذی مختصرا ۱۲منہ۔ وہ ترمذی کے نزدیك مختصر ہے۔۱۲منہ(ت)
حوالہ / References سنن الترمذی ابواب المناقب باب ماجاء فی فضل النبی صلی الله علیہ وسلم حدیث ۳۶۳۶دارالکتب العلمیۃ بیروت ۵ /۳۵۴ ۳۵۵، سنن الدارمی باب مااعطی النبی صلی الله علیہ وسلم من الفضل دارالمحاسن للطباعۃ القاھرۃ ۱ /۳۰
#18170 · رسالہ تجلی الیقین بانّ نبیّنا سید المرسلین ۱۳۰۵ھ (یقین کا اظہار اس بات کے ساتھ کہ ہمارے نبی صلی الله علیہ وسلم تمام رسولوں کے سردار ہیں)
تعالی عنہ سے راویحضور سید المرسلین صلی الله تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
انا اول الناس خروجا اذا بعثواوانا قائد ھم اذا و فدواوانا خطیبھم اذا نصتواوانا مستشفعھم اذا حبسواوانا مبشرھم اذا یئسوا الکرامۃوالمفاتیح یومئذبیدیولواء الحمد یومئذ بیدیانا اکرم ولدادم علی ربی یطوف علی الف خادم کانھم بیض مکنون ولؤلؤمنثور ۔ میں سب سے پہلے باہر تشریف لاؤں گاجب لوگ قبروں سے اٹھیں گے۔اور میں سب کا پیشوا ہوں گا جب الله تعالی کے حضور چلیں گے۔اور میں ان کا خطیب ہوگان جب وہ دم بخود رہ جائیں گے۔اور میںان کا شفیع ہونگا جب عرصہ محشر میں روکے جائیں گے۔اور میں انہیں بشارت دوں گا جب وہ نا امید ہوجائیں گے۔عزت اورخزائن رحمت کی کنجیاں اس دن میرے ہاتھ ہوں گی۔اور لواء الحمد اس دن میرے ہاتھ میں ہوگا۔میں تمام آدمیوں سے زیادہ اپنے رب کے نزدیك اعزاز رکھتاہوں۔میرے گرد وپیش ہزارخادم عــــــہ دوڑتے ہوں گےگویا وہ انڈے ہیں حفاظت سے رکھے ہوئے یا موتی ہیں بکھرے ہوئے۔

عــــــہ:ظاہر حدیث یہ ہے کہ یہ خدام حضور صلی الله تعالی علیہ وسلم کے گردوپیش عرصات محشر میں ہوں گےاوروہاں دوسروں کےلئے خدام ہونا معلوم نہیں۔
فلاحاجۃ الی ماقال الزرقانی ان ھذہ الف من جملۃ ما اعد چنانچہ اس کی کوئی ضرورت نہیںجو زرقانی نے کہا کہ یہ ہزار ان میں سے ہوں گے جو آپ کیلئے (باقی برصفحہ آئندہ)
حوالہ / References دلائل النبوۃ للبیہقی باب ماجاء فی تحدث رسول الله صلی الله علیہ وسلم الخ دارالکتب العلمیہ بیروت ۵ /۴۸۴ودلائل النبوۃ لابی نعیم الفصل الرابع عالم الکتب بیروت الجزء الاول ۱ /۱۳وسنن الدارمی باب ما اعطی النبی صلی الله علیہ وسلم من الفضل دارالمحاسن للطباعۃ القاھرۃ ۱ /۳۰وسنن الترمذی ابواب المناقب حدیث ۳۶۳۰ دارالفکر بیروت ۵ /۳۵۲
#18171 · رسالہ تجلی الیقین بانّ نبیّنا سید المرسلین ۱۳۰۵ھ (یقین کا اظہار اس بات کے ساتھ کہ ہمارے نبی صلی الله علیہ وسلم تمام رسولوں کے سردار ہیں)
ارشادیازدہم ۱۱:بخاری تاریخ میںاوردارمی بسند ثقاتاورطبرانی اوسط میںاور بیہقی وابع نعیم جابر بن عبدالله رضی الله تعالی عنہما سے راویحضور سید المرسلین صلی الله تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
انا قائد المرسلین ولافخروانا خاتم النبیین ولا فخر ۔ میں پیشوائے مرسلین ہوںاور کچھ تفاخر نہیں اور میں خاتم النبیین ہوں اورکچھ افتخار نہیں۔

(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
لہ فقد روی ابن ابی الدنیا عن انس رفعہ ان اسفل اھل الجنۃ اجمعین درجۃ من یقوم علی رأسہ عشرۃ الاف خادم وعندہ ایضا عن ابی ھریرۃ ایضاقال ان ادنی اھل الجنۃ منزلۃ ولیس فیھم دنی من یغدو ویروح علیہ خمسۃ عشر الف خادمالیس منھم خادم الامعہ طرفۃ لیست مع صاحبہ اھ فان ھذا فی الجنۃ والذی لہ صلی الله تعالی علیہ وسلم فیھا لایعلم الا ربہ تبارك وتعالی والله تعالی اعلم ۱۲منہ۔ تیار کیے گئے۔ابن ابی الدنیا نے حضرت انس رضی الله تعالی عنہ سے مرفوعا روایت کیا کہ تمام اہل جنت سے نیچے درجے والے کے لیے دس ہزار خادم ہوں گے اوران کے نزدیك ابو ہریرہ رضی الله تعالی عنہ سے مروی ہے کہ تمام اہل جنت سے ادنی منزل والے کے لیے کہ ان میں کوئی گھٹیا نہیںصبح و شام پندرہ ہزار خادم ہوں گے ان میں سے ہر خادم میں کوئی نئی خوبی ہوگی جو دوسرے میں نہیں ہوگی اھ کیونکہ یہ خدام جنت میں ہوں گے اورجنت میں سرکار دو عالم صلی الله تعالی علیہ وسلم کے لیے کتنے خادم ہوں گے سوائے آپ کے کوئی نہیں جانتا۔والله تعالی اعلم ۱۲منہ(ت)
حوالہ / References سنن الدارمی مااعطی النبی صلی الله علیہ وسلم من الفضل دارالمحاسن للطباعۃ القاھرۃ ۱ /۳۱،دلائل النبوۃ للبیہقی باب ماجاء فی تحدث رسول الله صلی الله علیہ وسلم الخ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۵ /۴۸۰،التاریخ الکبیر حدیث ۲۸۳۷ دارالباز للنشروالتوزیع مکۃ المکرمۃ ۴ /۳۸۶
شرح الزرقانی علی المواھب اللدنیۃ المقصد العاشردارالمعرفۃ بیروت ۸ /۴۰۰
#18172 · رسالہ تجلی الیقین بانّ نبیّنا سید المرسلین ۱۳۰۵ھ (یقین کا اظہار اس بات کے ساتھ کہ ہمارے نبی صلی الله علیہ وسلم تمام رسولوں کے سردار ہیں)
ارشاد دوازدہم۱۲:ترمذی بافادئہ تحسین حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی الله تعالی عنہ سے راویحضور سید المرسلین صلی الله تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ان الله تعالی خلق الخلق فجعلنی فی خیرھمثم جعلھم فرقتین فجعلنی فی خیرھم فرقۃثم جعلھم قبائل فجعلنی فی خیرھم قبیلۃثم جعلہم بیوتا فجعلنی فی خیرھم بیوتافانا خیرھم نفسا وخیرھم بیتا ۔ الله تعالی نے مخلوق پید اکی تو مجھے بہترین مخلوقات میں رکھا۔ پھر ان کے دو گروہ کئے تو مجھے بہتر گروہ میں رکھا۔پھران کے خاندان بنائے تو مجھے بہتر خاندان میں رکھا۔پس میں تمام مخلوق الہی سے خود بھی بہتر اور میرا خاندان بھی سب خاندانوں سے افضل۔
ارشادسیزدہم۱۳:طبرانی معجم اوربیہقی دلائل اورامام علامہ قاضی عیاض بسند خودشفاء شریف میں حضرت عبدالله بن عباس رضی الله تعالی عنہما سے راویحضور سید المرسلین صلی الله تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ان الله قسم الخلق قسمین فجعلنی من خیرھم قسما فذلك قولہ تعالی اصحاب الیمین واصحاب الشمال فانا من اصحاب الیمین وانا خیر اصحاب الیمینثم جعل القسمین اثلاثا فجعلنی فی خیرھا ثلثا وذلك قولہ تعالی اصحابہ المیمنۃ واصحاب المشئمۃ والسابقون فانا من السابقین وانا خیر السابقینثم جعل الاثلاث قبائل فجعلنی من خیرھا قبیلۃ وذلك قولہ تعالی وجعلنکم شعوبا و قبائل فانا اتقی ولد ادم واکرمھم الله تعالی نے خلق کی دو قسمیں کیں تو مجھے بہتر قسم میں رکھا۔اوریہ وہ بات ہے جو خدا تعالی نے فرمائی۔دہنے ہاتھ والے اوربائیں ہاتھ والےتو میں دہنے ہاتھ والوں سے ہوں اور میں سب دہنے ہاتھ والوں سے بہتر ہوں۔اوریہ خدائے تعالی کا وہ ارشاد ہے کہ دہنے ہاتھ والے اوربائیں ہاتھ والے۔ اورسابقینتو میں سابقین میں سے ہوںاور میں سب سابقین سے بہترہوں۔پھر ان حصوں کے قبیلے بنائے تو مجھے بہتر قبیلے میں رکھا۔اوریہ خدائے تعالی کا وہ فرمان ہے کہ ہم نے کیا تمہیں شاخیں اورقبیلے۔(یعنی الی قولہ تعالی ان اکرمکم
حوالہ / References سنن الترمذی کتاب الدعوات حدیث ۳۵۴۳ دارالفکر بیروت۵ /۳۱۴
#18173 · رسالہ تجلی الیقین بانّ نبیّنا سید المرسلین ۱۳۰۵ھ (یقین کا اظہار اس بات کے ساتھ کہ ہمارے نبی صلی الله علیہ وسلم تمام رسولوں کے سردار ہیں)
علی الله ولا فخرثم جعل القبائل بیوتا فجعلنی من خیرھا بیتا وذلك قولہ تعالی" انما یرید اللہ لیـذہب عنکم الرجس اہل البیت و یطہرکم تطہیرا ﴿۳۳﴾" ۔ عندالله اتقکم بیشك تم سب میں زیادہ عزت والا خدا کے یہاں وہ ہے جو تم سب میں زیادہ پرہیزگار ہے)تو میں سب آدمیوں سے زیادہ پرہیز گار ہوںاورسب سے زیادہ الله کے یہاں عزت والااورکچھ فخر مراد نہیں۔پھر ان قبیلوں کے خاندان کئے تو مجھے بہتر خاندان میں رکھا۔اوریہ الله تعالی کا وہ کلام ہے کہ خدائے تعالی یہی چاہتاہے کہ تم سے ناپاکی دورکرے اے نبی کے گھروالو!اورتمہیں خوب پاك کردے ستھرا کر کے۔
ارشادچہاردہم۱۴:ابن عساکر وبزاربسند صحیح ابوہریرہ رضی الله تعالی عنہ سے راویحضور سید المرسلین صلی الله تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
خیار ولد ادم خمسۃ نوح و ابراھیم وموسی وعیسی ومحمد وخیرھم محمد صلی الله تعالی علیہ وسلم ۔ بہترین اولاد آدم پانچ ہیں:نوح وابراہیم وموسی وعیسی ومحمد صلی الله تعالی علیہ وسلماوران سب بہتروں میں بہتر محمد ہیں صلی الله تعالی علیہ وسلم۔
تنبیہ:ان کے سوااورنصوص واضحہ ان شاء الله تعالی جلوہ سوم وتابش چہارم میں آئیں گے وبالله التوفیق۔
جلوہ دوم جلائل متعلقہ بآخرت
تابش اول میں بہت حدیثیں اس مطلب کی گزریں ان سے غفلت نہ چاہیے
حوالہ / References دلائل النبوۃ للبیہقی باب ذکر شرف اصل رسول الله صلی الله علیہ وسلم دارالکتب العلمیۃ بیروت ۱ /۱۷۰ ۱۷۱،المعجم الکبیر حدیث۱۲۶۰۴ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۱۲ /۱۰۴،الشفاء بتعریف حقوق المصطفٰی الباب الثالث الفصل الاول المکتبۃ الشرکۃ الصحافیۃ ۱ /۱۳۰ ۱۳۱
کنزالعمال بحوالہ ابن عساکر عن ابی ھریرۃ حدیث ۳۱۹۰۵و۳۲۲۸۲مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۱ /۴۸۳ و ۴۰۷
#18174 · رسالہ تجلی الیقین بانّ نبیّنا سید المرسلین ۱۳۰۵ھ (یقین کا اظہار اس بات کے ساتھ کہ ہمارے نبی صلی الله علیہ وسلم تمام رسولوں کے سردار ہیں)
والله الھادی
ارشاد پانزدہم۱۵:صحیح بخاری وصحیح مسلم شریف میں ابو ہریرہ رضی الله تعالی عنہ سے مرویحضور سید المرسلین صلی الله تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
نحن الاخرون السابقون یوم القیامۃ (زادمسلم) ونحن اول من یدخل الجنۃ ۔ ہم(زمانے میں)پچھلےاور قیامت کے دن(ہر فضل میں عــــــہ آگے ہیں۔(مسلم میں یہ زیادہ ہے)اور ہم سب سے پہلے داخل جنت ہوں گے۔
ارشاد شانزدہم۱۶:اسی میں حذیفہ رضی الله تعالی عنہ سے مرویحضور سید المرسلین صلی الله تعالی علیہ وسلم امم سابقہ کی نسبت فرماتے ہیں:
ھم تبع لنا یوم القیامۃ نحن الاخرون من اھل الدنیا و الاولون یوم القیامۃ المقضی لھم قبل الخلائق ۔ وہ قیامت میں ہمارے توابع ہوں گےہم دنیا میں پیچھے آئے اور قیامت میں پیشی رکھیں گے تمام جہان سے پہلے ہمارے ہی لئے الله تعالی حکم فرمائے گا۔
ارشاد ہفدہم۱۷:دارمی عمرو بن قیس ابن مکتوم رضی الله تعالی عنہ سے راویحضور سید المرسلین صلی الله تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ان الله تعالی ادرك بی الاجل المرحوم واختصر لی اختصارا فنحن الاخرون ونحن السابقون یوم القیامۃ وانی قائل قولا غیر فخر ابراھیم خلیل الله و موسی صفی الله یعنی جب رحمت خاص کا زمانہ آیا الله تعالی نے مجھے پیدا فرمایا اور میرے لئے کمال اختصار کیا۔ہم ظہور میں پچھلے اورروز قیامت رتبے میں اگلے ہیں اور میں ایك بات فرماتا ہوں جس میں فخر وناز کو دخل نہیں۔ابراہیم الله کے خلیل اور موسی الله کے

عــــــہ:قال الزرقانی فی کل شی ۱۲ منہ۔ زرقانی نے کہا کہ ہر شے میں۔(ت)
حوالہ / References صحیح البخاری کتاب الجمعہ باب ھل علی من لا یشھد الجمعۃ غسل الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۲۳
صحیح مسلم کتاب الجمعۃ قدیمی کتب خانہ ۱ /۲۸۲
صحیح مسلم کتاب الجمعۃ قدیمی کتب خانہ ۱ /۲۸۲
#18175 · رسالہ تجلی الیقین بانّ نبیّنا سید المرسلین ۱۳۰۵ھ (یقین کا اظہار اس بات کے ساتھ کہ ہمارے نبی صلی الله علیہ وسلم تمام رسولوں کے سردار ہیں)
وانا حبیب الله ومعی لواء الحمد یوم القیامۃ الحدیث۔ صفی اور میں الله کا حبیب ہوںاور میرے ساتھ روز قیامت لواء الحمد ہو گا۔
قولہ صلی الله تعالی علیہ وسلم اختصر لی اختصارا(نبی صلی الله تعالی علیہ وسلم کے ارشاد مذکور اختصر لی اختصارا کے بارے میں علماء فرماتے ہیں۔ت):یعنی۱مجھے اختصار کلام بخشا کہ تھوڑے لفظ ہوں اور معنی کثیر ____یا۲میرے لئے زمانہ مختصر کیا کہ میری امت کو قبروں میں کم دن رہنا پڑے۔
اقول:وبالله توفیق(میں الله تعالی کی توفیق سے کہتا ہوں۔ت) ____یا۳یہ کہ میرے لئے امت کی عمر یں کہ کہیں کہ مکارہ دنیا سے جلد خلاص پائیںگناہ کم ہوں۔نعمت باقی تك جلد پہنچیں ____یا۴یہ کہ میری امت کے لیے طول حساب کو اتنا مختصر فرمادیا کہ اے امت مھمد! میں نے تمھیں اپنے حقوق معاف کیے۔آپس میں ایك دوسرے کے حق معاف کرو اور جنت کو چلے جاؤ ____یا۵یہ کہ میرے غلاموں کے لئے پل صراط کی راہ کہ پندرہ ہزار برس کی ہے اتنی مختصر کردے گا کہ چشم زدن میں گزر جائیں گے یا جیسے بجلی کوندگئی۔کما فی الصحیحین عن ابی سعید الخدری رضی الله تعالی عنہ(جیسا کہ صحیحن میں ابو سعید خدری رضی الله تعالی عنہ سے مروی ہے۔ت) ____یا۶یہ کہ قیامت کا دن کہ پچاس ہزار برس کا ہے میرے غلاموں کے لیے اس سے کم دیر میں گزر جائے گا جتنی دیر میں دو رکعت فرض پڑھتے ہیں کما فی حدیث احمد وابی یعلی و ابن جریر وابن حبان وابن عدی و البغوی والبیھقی عنہ رضی الله تعالی عنھم(جیسا کہ احمدابو یعلیابن جریرابن حبانابن عدیبغوی اوربیہقی کی حدیث میں ہے۔ت)____یا ۷یہ کہ علوم ومعارف جو ہزار سال کی محنت وریاضت میں نہ حاصل ہو سکیں میری چند روزہ خدمت گاری میں میرے اصحاب پر منکشف فرما دے ____یا۸یہ کہ زمین سے عرش تك لاکھوں برس کی راہ میرے لئے ایسی مختصر کر دی کہ آنا اور جانا اور تمام مقامات کو تفصیلا ملاحظہ فرمانا سب تین ساعت میں ہو لیا ____یا۹یہ کہ مجھ پر کتاب اتاری جس کے معدود ورقوں میں تمام اشیاء گزشتہ وآنئدہ کا روشن مفصل بیان جس کی ہر آیت کے
حوالہ / References سنن الدارمی باب ما اعطی النبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم من الفضل دار المحاسن للطباعۃ القاھرۃ ۱/۳۲
المواھب الدنیہ المقصد العاشر الفصل الثالث المکتب الاسلامی بیروت ۴ /۶۶۶ ۶۶۷
الدر المنثور بحوالہ احمد وابی یعلی وابن جریر وابن حبان والبیہقی تحت الایۃ ۷۰/۴ بیروت ۸ /۲۶۰
#18176 · رسالہ تجلی الیقین بانّ نبیّنا سید المرسلین ۱۳۰۵ھ (یقین کا اظہار اس بات کے ساتھ کہ ہمارے نبی صلی الله علیہ وسلم تمام رسولوں کے سردار ہیں)
نیچے ساٹھ ساٹھ ہزار علم جس کی ایك آیت کی تفسیر سے ستر ستر اونٹ بھر جائیں۔اس زیادہ اور کیا اختصار متصور ____یا۱۰یہ کہ شرق تاغرب اتنی وسیع دنیا کو میرے سامنے ایسا مختصر فرما دیا کہ میں اسے او ر جو کچھ اس میں قیامت تك ہونے ولاہے سب کو ایسے دیکھ رہا ہوں کانما انظر الی کفی ھذہ جیسا کہ میں اپنی ہتھیلی کو دیکھ رہا ہوںکما فی حدیث ابن عمر رضی الله تعالی عنھما عند الطبرانی وغیرہ(جیسا کہ طبرانی وغیرہ کے نزدیك ابن عمر رضی الله تعالی عنھما کی حدیث میں ہے۔ت) ____یا۱۱یہ کہ میری امت کے تھوڑے عمل پر اجر زیادہ دیاکما فی حدیث الاجراء فی الصحیحن قال ذلك اوتیہ من اشاء (جیساکہ صحیحن میں اجیرون کی حدیث میں ہے کہ الله تعالی نے فرمایا یہ میرا فضل ہے جسے چاہے عطا کرتا ہوں ت) ____یا۱۲اگلی امتوں پر جو اعمال شاقہ طویلہ تھے ان سے اٹھا لئےپچاس عــــــہ نمازوں کی پانچ رہیں اور حساب کرم
عــــــہ:ھذہ یدور علی الالسن ووقع فی التفسیر فمنہم من ینسبہ لبنی اسرائیل کالبیضاوی ومنہم من یعینہ الیھود کاخرین لکن رد علیھم الامام العلامۃ الجلال السیوطی قائلا انہ لم یفرض علی بنی اسرائیل خمسون صلوۃ قط ولا خمس صلوات ولم تجتمع الخمس الا لھذہ الامۃ وانما فرض علی بنی اسرائیل صلاتان فقط کما فی الحدیث اھ وقام شیخ الاسلام یہ لوگوں کی زبانوں ہر دائر ہےاور تفسیر میں واقع ہےبعض نے اس کو بنی اسرائیل کی طرف منسوب کیا ہے جیسے بیضاوی۔اور بعض نے یہود کو معین کیا ہے جیسے متاخرین۔ لیکن ان سب کا رد امام سیوطی نے یہ کہہ کر کیا کہ بنی اسرائیل پر کبھی پچاس نمازیں فرض نہیں ہوئیں اور نہ ہی اس امت کے علاوہ کسی پر پانچ نمازیں مجتمع ہوئیں۔بنی اسرائیل پر فقط دو نمازیں فرض ہوئیں تھیں جیسا کہ حدیث میں ہے شیخ السلام ان پر غالب آنے کیلئے اٹھ کھڑے
(باقی برصفحہ آئندہ)
حوالہ / References کنز العمال حدیث ۳۱۸۱۰ ۳۱۹۸۱ مؤسسۃ الرسالۃ بیروت ۱۱ /۳۷۸ ۴۲۰
صحیح البخاری کتاب الاجارہ باب الاجارہ الی نصف النہار قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۳۲۰،صحیح البخاری کتاب الاجارہ باب الاجارہ الی صلوۃ العصر قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۳۲۰
#18177 · رسالہ تجلی الیقین بانّ نبیّنا سید المرسلین ۱۳۰۵ھ (یقین کا اظہار اس بات کے ساتھ کہ ہمارے نبی صلی الله علیہ وسلم تمام رسولوں کے سردار ہیں)
میں پوری پچاس۔زکوۃ میں چہارم مال کا چالیسواں حصہ رہا اور کتاب فضل میں وہی ربع کا ربعوعلی ھذا لقیاسوالحمد لله رب العلمین۔یہ بھی حضور کے اختصار کلام سے ہے کہ ایك لفظ کے اتنے کثیر معنیصلی الله تعالی علیہ وسلم۔
ارشاد ہیجدہم۱۸:امام احمد وابن ماجہ عــــــہ وابوداؤد وطیالسی وابویعلی عبد الله بن عباس رضی الله تعالی عنہما سے راویحضور سید المرسلین صلی الله تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
انہ لم یکن نبی الالہ دعوۃ قد تخیر ھا فی الدنیاوانی قد اختبات دعوتی شفاعۃ لامتی وانا سید ولد ادم یوم القیامۃ ولا فخروان اول من تنشق عنہ الارض ولا فخر وبیدی لواء الحمد ولا فخرادم فمن دونہ تحت لوائی ولافخر یعنی ہر نبی کے واسطے ایك دیا تھی کہ وہ دنیا میں کر چکا اور میں نے اپنی دعا روز قیامت کےلئے چھپا رکھی ہےوہ شفاعت ہے میری امت کے لئے۔اور میں قیامت میں اولاد آدم کا سردار ہوںاور کچھ فخر مقصود نہیں۔اور اول میں مرقد اطہر سے اٹھوں گااور کچھ فخر منظور نہیں اور میرے ہی ہاتھ میں لواء الحمد ہوگااور کچھ افتخار نہیں۔آدم اور ان کے بعد جتنے ہیں سب

ینتصر لھم بما ردہ علیہ الشمس الزرقانی وقد اخرج النسائی عن یزید ابن مالك عن انس عن النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم فی حدیث المعراج قول موسی علیہ الصلوۃ والسلام انہ تعالی فرض علی بنی اسرائیل صلاتین فما قاموبھما والله تعالی اعلم
عــــــہ:ھو عند ابن ماجۃ مختصرا ۱۲ منہ ہوئے اس کے سبب جو ان پر شمس الزرقانی نے رد کیا ہےاور تحقیق نسائی نے یزید بن ابی مالك سے انھوں نے انس رضی الله تعالی عنہ سے انھوں نے نبی کریم صلی الله تعالی علیہ وسلم سے حدیث معراج میں موسی علیہ السلام کا یہ قول روایت کیا کہ الله تعالی نے بنی اسرائیل پر دو نمازیں فرض کی تھیں تو وہ ان دو پر قائم نہ رہےاور الله تعالی خوب جانتا ہے)
وہ ابن ماجہ کے نزدیك مختصر ہے ۱۲ (ت)
حوالہ / References سنن النسائی کتاب الصلوۃ فرض الصلوۃ نور محمد کارخانہ کتب کراچی ۱/ ۷۸
#18178 · رسالہ تجلی الیقین بانّ نبیّنا سید المرسلین ۱۳۰۵ھ (یقین کا اظہار اس بات کے ساتھ کہ ہمارے نبی صلی الله علیہ وسلم تمام رسولوں کے سردار ہیں)
(ثم ساق حدیث الشفاعۃ الی ان قال)فاذا اراد الله ان یصدع بین خلقہ نادی مناد این احمد وامتہ فنحن الاخرون الاولون نحن اخر الامم واول من یحاسب فتفرج لنا الامم عن طریقنا فنمضی غرا محجلین من اثر الطہور فیقول الامم کادت ھذہ الامۃ ان تکون انبیاء کلہا الحدیث۔ میرے زیر نشان ہوں گےاور کچھ تفاخر نہیں۔جب الله تعالی خلق میں فیصلہ کرنا چاہے گا ایك منادی پکارے گا:کہاں ہیں احمد اور ان کی امت تو ہمیں آخر ہیں اورہمیں اول ہیںہم سب امتوں سے زمانے میں پیچھے اور حساب میں پہلے۔تما م امتیں ہمارے لئے راستہ دیں گی۔ہم چلیں گے اثر وضو سے رخشندہ رخ وتابندہ اعضاءسب امتیں کہیں گی:قریب تھا کہ یہ امت تو ساری کی ساری انبیاء ہوجائے الحدیث
جمال پر تو ش در من اثر کرد وگرنہ من ہماں خاکم کہ ہستم
(اس کے پر تو نے مجھ میں اثر کیا ہے ورنہ میں خاك ہوں جو کہ ہوں۔ت)
ارشاد نوزدہم۱۹:مالکبخاریمسلمترمذینسائی جبیربن مطعم رضی الله تعالی عنہ سے راویحضور سید المرسلین صلی الله تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ان الحاشر الذی یحشر الناس علی قدمی ۔ میں ہی حاشر ہوں کہ تمام لوگ میرے قدموں پر اٹھائیں جائیں گے۔
یعنی روز محشر حضور اقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم آگے ہوں گے اورتمام اولین وآخرین حضور صلی الله تعالی علیہ وسلم کے پیچھے۔
حوالہ / References مسند احمد بن حنبل عن عبد الله بن عباس رضی الله عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۱/۲۸۱ ۲۸۲،مسند ابی یعلی عن عبدالله ابن عباس رضی الله تعالٰی عنہ حدیث ۲۳۲۴ مؤسسۃ علوم القران بیروت ۳ /۵تا۷
گلستان سعدی دیباچہ کتاب مکتبہ اویسیہ بہاول پور ص۳
صحیح البخاری کتاب التفسیر سورۃ الصف قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۷۲۷،صحیح مسلم کتاب الفضائل باب فی اسمائہ صلیا لله علیہ وسلم قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۲۶۱،سنن الترمذی ابواب الادب باب جاء فی اسماء النبی صلی الله علیہ وسلم حدیث ۲۸۴۹ دارالفکر بیروت ۴ /۳۸۲ ۳۸۳
#18179 · رسالہ تجلی الیقین بانّ نبیّنا سید المرسلین ۱۳۰۵ھ (یقین کا اظہار اس بات کے ساتھ کہ ہمارے نبی صلی الله علیہ وسلم تمام رسولوں کے سردار ہیں)
ارشاد بستم(۲۰):ابن زنجویہ فضائل الاعمال میں کثیر بن مرہ حضرمی رضی الله تعالی عنہ سے راویقال قال رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم:
تبعث ناقۃ شود لصالح فیرکبھا من عند قبرہ حتی توافی بہ المحشر قال معاذ اذن ترکب العضباء یا رسول الله ! قال لا ترکبھا ابنتی وانا علی البراق اختصصت بہ من دون الانبیاء یومئذ ویبعث بلال علی ناقۃ من نوق الجنۃ ینادی علی ظھرھا بالاذان فاذا سمعت الانبیاء واممھا اشھد ان لاالہ الا الله و اشھد ان محمدا رسول الله قالوا ونحن نشھد علی ذلک ۔ یعنی حضور سید المرسلین صلی الله تعالی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:صالح علیہ الصلوۃ والسلام کیلئے ناقہ ثمود اٹھایا جائے گا وہ اپنی قبر سے اس پر سوار ہوکر میدان محشر میں آئیں گے(فقیر کہتاہے غفرالله تعالی لہ عشاق کی عادت ہے کہ جب کسی جمیل باعزت کی کوئی خوبی سنتے ہیں فورا ان کی نظر اپنے محبوب کی طرف جاتی ہےکہ اس کے مقابل اس کے لیے کیا ہے۔)اسی بناء پر معاذ بن جبل رضی الله تعالی نے عرض کی: اور یارسول الله !حضور اپنے ناقہ مقدسہ عضباء پر سوارہوں گے۔فرمایا:نہاس پرتو میری صاحبزادی سوار ہوگی اور میں براق پر تشریف رکھوں گا کہ اس روز سب انبیاء سے الگ خاص مجھی کو عطاہوگااورایك جنتی اونٹنی پر بلال(رضی الله تعالی عنہ)کا حشر ہوگا کہ عرصات محشر میں اس کی پشت پر اذان دے گا۔جب انبیاء اوران کی امتیں اشھد ان لاالہ الا الله واشھدان محمد ارسول الله سنیں گے سب بول اٹھیں گے کہ ہم بھی اس پر گواہی دیتے ہیں۔
سبحان الله !جب تمام مخلوق الہی اولین وآخرین یك جاہوں گے اس وقت بھی ہمارے آقائے نامدار والا سرکار کے نام پاك کی دہائی پھرے گی۔الحمدلله ! اس دن کھل جائے گا کہ ہمارے حضور نبی الانبیاء ہیں۔المنۃ لله تعالیاس دن موافق ومخالف پر روشن ہوجائے گا کہ مالك یوم الدین ایك الله ہے اوراس کی نیابت سے محمد رسول الله صلی الله علیہ وسلم۔
ارشاد بست ویکم۲۱:ترمذی بافادئہ تحسین وتصحیح ابوہریرہ رضی الله تعالی عنہ سے راویحضور سید المرسلین صلی الله تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
حوالہ / References تہذیب تاریخ دمشق الکبیر بحوالہ ابن زنجویہ ترجمہ بلال بن رباح داراحیاء التراث العربی بیروت۲ /۳۱۲
#18180 · رسالہ تجلی الیقین بانّ نبیّنا سید المرسلین ۱۳۰۵ھ (یقین کا اظہار اس بات کے ساتھ کہ ہمارے نبی صلی الله علیہ وسلم تمام رسولوں کے سردار ہیں)
انا اول من تنشق عنہ الارض فاکسی حلۃ من حلل الجنۃ اقوم عن یمین العرش لیس احدمن الخلائق یقوم ذلك المقام غیر ی ۔ میں سب سے پہلے زمین سے باہر تشریف لے جاؤں گاپھر مجھے جنت کے جوڑوں سے ایك جوڑا پہنایا جائے گامیں عرش کی داہنی طرف ایسی جگہ کھڑاہوں گا جہاں تمام مخلوق الہی میں کسی کو بار نہ ہوگا۔
ارشادبست ودوم۲۲:احمددارمیابو نعیم واللفظ لہعبدالله بن مسعود رضی الله تعالی عنہ سے راویحضور سیدالمرسلین صلی الله تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اول من یکسی ابراہیم ثم یقعد مستقبل العرش ثم اوتی بکسوتی فالبسھا فاقوم عن یمینہ مقاما لا یقوم احد غیر ی یغبطنی فیہ الاولون والاخرون ۔ سب سے پہلے ابراہیم(علیہ الصلوۃ والسلام)کو جوڑا پہنایا جائے گاوہ عرش کے نیچے بیٹھ جائیں گے۔پھر میری پوشاك حاضر کی جائے گی میں پہن کر عرش کی دائیں طرف ایسی جگہ کھڑا ہوں گا جہاں میرے سوا دوسرے کو بار نہ ہوگااگلے پچھلے مجھ پر رشك لے جائیں گے۔
ارشاد بست وسوم۲۳:بیہقی کتا ب الاسماء والصفات میں عبدالله بن عباس رضی الله تعالی عنہما سے راویحضور سید المرسلین صلی الله تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اکسی حلۃ من الجنۃ لایقوم لھا البشر ۔ مجھے وہ بہشتی لباس پہنایا جائے گا کہ تمام بشر جس کی قدر و عظمت کے لائق نہ ہوں گے۔
ارشاد بست وچہارم۲۴:طبری تفسیر میں عبدالله بن عمر رضی الله تعالی عنہما سے موقوفا واللفظ لہاورمثل احمد کعب بن مالك رضی الله تعالی عنہ سے مرفوعا راوی:
یرقی ھو صلی الله تعالی علیہ حضور پرنورصلی الله تعالی علیہ وسلم اورحضور
حوالہ / References سنن الترمذی ابواب المناقب باب ماجاء فی فضل النبی صلی الله علیہ وسلم حدیث۳۶۳۱دارالفکر بیروت۵ /۳۵۲
مسند احمد بن حنبل عن ابن مسعود المکتب الاسلامی بیروت ۱ /۳۹۸و۳۹۹،الخصائص الکبری بحوالہ ابی نعیم باب اختصاصہ صلی الله علیہ وسلم الخ مرکز اہلسنت برکات رضا گجرات ہند ۲ /۲۱۷
الاسماء والصفات للبیہقی باب ماجاء فی العرش والکرسی المکتبۃ الاثریۃ سانگلہ ۲ /۱۳۸
#18181 · رسالہ تجلی الیقین بانّ نبیّنا سید المرسلین ۱۳۰۵ھ (یقین کا اظہار اس بات کے ساتھ کہ ہمارے نبی صلی الله علیہ وسلم تمام رسولوں کے سردار ہیں)
وسلم وامتہعلی کوم فوق الناس ۔ کی امت روز قیامت بلندی پر تشریف رکھیں گے سب سے اونچے۔
ارشاد بست وپنجم۲۵:ابن جریروابن مردویہ جابر عــــــہ بن عبدالله رضی الله تعالی عنہما سے راوی:
عــــــہ:تنبیہ:اصل الحدیث عند مسلم فی باب اثبات الشفاعۃ من کتاب الایمان موقوفا علی جابر لکنہ وقع فیہ من الناسخین خبط وغلط فی جمیع الاصول حتی خرج اللفظ عن حدالمعقول ولفظہ ھکذا قال نحن نجیئ یوم القیمۃ عن کذاکذا انظر ای ذلك فوق الناس الحدیث وانما صوابہ کما افاد الامام القاضی عیاض واتبعتہ جماعۃ من العلماء واقرالنوی فی المنھاج نجیئ یوم القیمۃ علی کوم والراوی اظلم علیہ ھذا الحرف فعبر عنہ بکذا وکذا وفسرہ بقولہ ای فوق الناس وکتب علیہ انظر تنبیھا فجمیع النقلۃ تنبیہ:اصل حدیث امام مسلم علیہ الرحمہ کے نزدیك سیدنا حضرت جابر رضی الله تعالی عنہ پر موقوف ہے جیسا کہ صحیح مسلمکتاب الایمانباب اثبات الشفاعۃ میں ہے۔لیکن اس میں کاتبوں سے بے احتیاطی واقع ہوئییہاں تك کہ لفظ حدیث حد معقول سے خارج ہوگئےاس کے لفظ یوں ہیں کہ ہم قیامت کے دن ایسے ایسے آئیں گے یعنی تمام لوگوں سے بلندی پرہوں گے الحدیث۔درست حدیث یوں ہے جیسا کہ قاضی عیاض علیہ الرحمہ نے افادہ فرمایا اورعلماء کی ایك جماعت نے ان کی پیری کی اورمنہاج میں امام نووی نے اس کو برقرار رکھا کہ ''ہم قیامت کے دن بلندیوں پر تشریف فرماہوں گے۔''راوی پر یہ حرف ''کوم''مخفی ہوگیا تو اس نے اس کو کذا کذا کے ساتھ تعبیر کردیا پھر اپنے قول ''فوق الناس''کے ساتھ اس کی تفسیر کردی اور
حوالہ / References جامع البیان(تفسیر الطبری)تحت الآیۃ ۱۷/ ۷۹ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱۵/ ۱۶۹
صحیح مسلم کتاب الایمان باب اثبات الشفاعۃ الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۰۶
شرح صحیح مسلم کتاب الایمان باب اثبات الشفاعۃ الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/۱۰۶
#18182 · رسالہ تجلی الیقین بانّ نبیّنا سید المرسلین ۱۳۰۵ھ (یقین کا اظہار اس بات کے ساتھ کہ ہمارے نبی صلی الله علیہ وسلم تمام رسولوں کے سردار ہیں)
حضور سید المرسلین صلی الله تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
انا وامتی یوم القیامۃ علی کوم مشرفین علی الخلائق ما من الناس احد الا ودانہ منا ۔ میں اورمیری امت روز قیامت بلندیوں پر ہونگے سب سے اونچےکوئی ایسا نہ ہوگا جو تمنا نہ کرے کہ کاش وہ ہم میں سے ہوتا۔
ارشاد بست وششم۲۶:صحیح مسلم شریف میں ابن بن کعب رضی الله تعالی عنہ سے مرویحضور سید المرسلین صلی الله تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:الله تعالی نے مجھے تین سوال دئےمیں نے دوبارعرض کی:اللھم اغفر لامتیاللھم اغفر لامتی۔الہی !میری امت بخش دےالہی !میری امت بخش دے۔واخرت الثالث لیوم یرغب الی فیہ الخلق کلھم حتی ابراھیم اور تیسرا اس دن کے لیے اٹھا رکھا ہے جس میں تمام خلق میری طرف نیاز مند ہوگی یہاں تك کہ ابراہیم خلیل الله علیہ الصلوۃ و السلام۔
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
اتفقوا ونسقوہ علی انہ من متن الحدیث ثم استوضح ذلك القاضی لحدیث ابن عمر وحدیث کعب المذکورین قلت والعجب انہ ذھل عن حدیث جابر نفسہ وقد کان ایضا عندالطبری کما رأیت ۱۲منہ۔ بطور تنبیہ اس پر ''انظر ''لکھ دیا پھر تمام ناقلین اس پر مجتمع ہوگئے اورانہوں نے اس کو اس طورپر بیان کیا کہ گویا یہ متن حدیث سے ہے۔پھر قاضی رحمۃ الله تعالی علیہ نے ابن عمر اور ابن کعب کی حدیث سے اس میں کمی کرنا چاہی۔میں کہتا ہوں حیرت ہے قاضی علیہ الرحمۃ خود حضر ت جابر رضی الله تعالی عنہ کی اپنی حدیث کو بھول گئے حالانکہ طبری کے نزدیك وہ بھی ہے جیسا کہ میں نے دیکھا۱۲منہ(ت)
حوالہ / References جامع البیان(تفسیر الطبری)تحت الآیۃ ۲ /۱۴۳ داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۱۳،الدالمنثور بحوالہ ابن جریر وابن ابی حاتم و ابن مردویہ تحت الآیۃ ۲ /۱۴۳ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ /۳۱۸
صحیح مسلم کتاب الفضائل القرآن باب بیان ان القرآن انزل علی سبعۃ احرف قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۲۷۳
#18183 · رسالہ تجلی الیقین بانّ نبیّنا سید المرسلین ۱۳۰۵ھ (یقین کا اظہار اس بات کے ساتھ کہ ہمارے نبی صلی الله علیہ وسلم تمام رسولوں کے سردار ہیں)
فائدہ:حدیث ان لکل نبی دعوۃ الحدیث کہ مسند احمد وصحیحین میں انس رضی الله تعالی عنہ سے مرویامام حکیم ترمذی نے بھی روایت کیاوراس کے اخیر میں یہ زیادت فرمائی:
وان ابراھیم لیرغب فی دعائی ذلك الیوم ۔ یعنی حضو رسید المرسلین صلی الله تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ قیامت کے دن حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام بھی میری دعا کے خواہش مند ہوں گے۔
احادیث الشفاعۃ
شفاعت کی حدیثیں خود متواتر ہیں اوریہ بھی ہر مسلمان صحیح الایمان کو معلوم کہ یہ قبائے کرامت اس مبارك اقامت شیان امامت سزاوار زعامت کے سوا کسی قدوبالا پر راست نہ آئینہ کسی نے بارگاہ الہی میں ان کے سوا یہ وجاہت عظمی ومحبوبیت کبری و اذن سفارش واختیار گزارش کی دولت پائی۔تو وہ سب حدیثیں تفضیل جمیل محبوب جلیل صلوات الله وسلامہ علیہ پردلیل۔مگر میں صرف وہ چند احادیث نقل کرتاہوں جن میں تصریحا سب انبیاء علیہم الصلوۃ واالسلام عــــــہ کا عجز اور حضور صلی الله تعالی علیہ وسلم کی قدرت بیان فرمائی:
عــــــہ:شیخ محقق مولنا عبدالحق محدث دہلوی رحمہ الله تعالی شرح مشکوۃ میں زیر حدیث اولین شفاعت فرماتے ہیں:
صواب است کہ ہمہ انبیاء ومرسلین صلوات الله علیہم اجمعین از در آمدن دریں مقام و درست بات یہ ہے تمام نبی اوررسول صلوات الله علیہم اجمعین اس مقام پر (باقی برصفحہ آئندہ)
حوالہ / References صحیح البخاری کتاب الدعوات باب لکل نبی دعوۃ مستجابۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۹۳۲،صحیح مسلم کتاب الایمان باب اثبات الشفاعۃ الخ ۱ /۱۱۳،مسند احمد بن حنبل عن انس رضی الله عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۳ /۲۹۲
نوادرالاصول الاصل الثالث والسبعون ص۱۱۰والاصل الثانی عشر والمائۃ ص۱۴۸
#18185 · رسالہ تجلی الیقین بانّ نبیّنا سید المرسلین ۱۳۰۵ھ (یقین کا اظہار اس بات کے ساتھ کہ ہمارے نبی صلی الله علیہ وسلم تمام رسولوں کے سردار ہیں)
ارشاد بست وہفتم۲۷:حدیث موقف مفصل مطول احمد وبخاری ومسلم وترمذی نے ابوہریرہ رضی الله تعالی عنہ اوربخاری ومسلم وابن ماجہ نے انس اورترمذی وابن خزیمہ نے ابو سعید خدری اوراحمد وبزاروابن حبان وابویعلی نے صدیق اکبر (رضی الله تعالی عنہ)اوراحمد و
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
اقدام بریں کا رعاجز وقاصر اندیجزسید المرسلین وامام النبیین کہ بنہایت قرب وعزت ومکانت مخصوص است ومحمود و محبوب حضرت اوست ۔ جلوہ افروز ہوکر اقدام شفاعت سے عاجز وقاصر ہیں سوائے رسولوں کے سردار اورنبیوں کے امام کے جو کہ انتہائی قرب عزت اور رفعت مکانی کے ساتھ مختص ہیں اوربارگاہ الہی میں محبوب ومحمود ہیں ۱۲منہ(ت)
حوالہ / References صحیح البخاری عن ابی ہریرۃ کتاب التفسیر سورہ بنی اسرائیل باب قولہ تعالٰی ذریۃ من حملنا ۲ /۶۸۴و۶۸۵،صحیح مسلم کتاب الایمان باب اثبات الشفاعۃ الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۱۱،مسند احمد بن حنبل عن ابی ھریرۃ المکتب الاسلامی بیروت ۲ /۴۳۵و ۴۳۶،سنن الترمذی کتاب صفۃ القیامۃ باب ماجاء فی الشفاعۃ حدیث۲۴۴۲ دارالفکر بیروت ۴ /۱۹۶و۱۹۷،المواھب اللدنیۃ المقصد العاشر الفصل الثالث المکتب الاسلامی بیروت ۴ /۴۴۶تا۴۴۸
صحیح البخاری کتاب التوحید باب قول الله تعالٰی لما خلقت بیدی قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۱۱۰۲۱۱۰۱،صحیح مسلم کتاب الایمان باب اثبات الشفاعۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۰۸تا۱۱۰،سنن ابن ماجہ ابواب الزھد باب ذکر الشفاعۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۳۲۹
سنن الترمذی ابواب التفسیر سورۃ بنی اسرائیل حدیث ۳۱۵۹ دارالفکر بیروت ۵/۹۹ ۱۰۰،سنن الترمذی ابواب المناقب باب ماجاء فضل النبی صلی الله علیہ وسلم حدیث ۳۶۳۵دارالفکر بیروت ۵ /۱۵۴،الخصائص الکبری باب اختصاصہٖ صلی الله علیہ وسلم بالقمام المحمود مرکز اہلسنت گجرات ہند ۲ /۲۱۸تا۲۲۴
مسند احمد بن حنبل عن ابی بکر الصدیق رضیا لله عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۱ /۵،مواردالظمآن باب ماجاء فی البعث والشفاعۃ حدیث ۲۵۸۹ المطبعۃ السلفیۃ ص۶۴۲و۶۴۳،مسند ابی یعلٰی عن ابی بکرالصدیق رضی الله عنہ مؤسسۃ علوم القرآن بیروت ۱ /۵۹، کنزالعمال بحوالہ البزار حدیث ۳۹۷۵۰ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۴ /۶۲۸و۶۲۹
اشعۃ اللمعات کتاب الفتن باب الحوض والشفاعۃ الفصل الاول مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۴ /۳۸۶
#18187 · رسالہ تجلی الیقین بانّ نبیّنا سید المرسلین ۱۳۰۵ھ (یقین کا اظہار اس بات کے ساتھ کہ ہمارے نبی صلی الله علیہ وسلم تمام رسولوں کے سردار ہیں)
ابو یعلی نے ابن عباس رضی الله تعالی عنہم سے مرفوعا الی سید المرسلین صلی الله تعالی علیہ وسلم اور عبدالله بن مبارك وابن ابی شیبہ وابن ابی عاصم وطبرانی نے بسند صحیح سلمان فارسی رضی الله تعالی عنہ سے موقوفا روایت کی۔ان سب عــــــہ۱ کے الفاظ جدا جدا نقل کرنے میں طول کثیر ہے۔لہذا میں ان کے متفرق لفظوں کو ایك منتظم سلسلہ میں یکجا کرکے اس جانفزا قصہ کی تلخیص کرتا ہوںوبالله التوفیقارشاد ہوتا ہے روز قیامت عــــــہ۲ ا الله تعالی اولین وآخرین کو ایك میدان وسیع وہموار میں جمع کرے گا کہ سب دیکھنے والے کے پیش نظر ہوں اور پکارنے والے کی آواز سنیں۔ہ دن طویل ہوگا۔و اور آفتاب کو اس روز دس۱۰ برس کی گرمی دیں گے۔پھر لوگوں کے سروں سے نزدیك کرینگے یہاں تك کہ بقدر دو کمانوں کے فرق رہ جائے گاپسینے آنے شروع ہوں گے۔قد آدم پسینہ تو زمین جذب ہوجائے گا پھر اوپر چڑھنا شروع ہوگا یہاں تك کہ آدمی غوطے کھانے لگیں گے اور
عــــــہ۱:ہر چند یہ صحابہ سے چھ حدیثیں ہیں مگر صرف دو ہی شمار میں آئیں کہ حدیث ابو ہریرہ اسی کا تتمہ ہے جو ارشاد اول میں گزری اورحدیث ابو سعید اگرچہ ترمذی نے اسی قدر مختصرا روایت کی جتنی ارشاد سوم میں گزریمگر تفسیر میں بعین سند مطولا لائے جس کی وجہ سے یہ حدیث اس کا تتمہ ہےاور حدیث صدیق اکبر بعینہ حدیث ارشاد ھفتم ہےاور حدیث ابن عباس حدیث ارشاد ھیجدہم۔ لہذاان چار کا مکرر شمار نہ ہوا۔اور صرف حدیث انس وحدیث سلمان تعداد میں آئیںرضی الله تعالی عنہم۔
عــــــہ۲:یہ حروف بحساب ابجد الف سے واو تك انھیں چھ حدیثوں کی طرف اشارہ ہیں کہ میں نے احدیث اول کو کہ میرے مطلب میں زیادہ مفصل ہےاصل کیااور باقی پانچ میں جو زیادتیاں ہیں باشارہ حروف انھیں متمیز کردیا ۱۲منہ۔
حوالہ / References مسند احمد بن حنبل عن عبدالله بن عباس رضی الله عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۱ /۲۸۱و۲۸۲،مسند ابی یعلٰی عن عبدالله بن عباس رضی الله عنہ حدیث ۲۳۲۴مؤسسۃ علوم القرآن بیروت ۳/۵تا۷
المعجم الکبیر عن سلمان رضی الله عنہ حدیث ۶۱۱۷ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۶ /۲۴۸،السنۃ لابن ابی عاصم حدیث ۸۳۴ دارابن حزم بیروت ص۱۹۰تا۱۹۲،المصنف لابن ابی شیبۃ حدیث ۳۱۶۶۶ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۶ /۳۱۲
#18189 · رسالہ تجلی الیقین بانّ نبیّنا سید المرسلین ۱۳۰۵ھ (یقین کا اظہار اس بات کے ساتھ کہ ہمارے نبی صلی الله علیہ وسلم تمام رسولوں کے سردار ہیں)
غڑپ غڑپ کرینگے جیسے کوئی ڈبکیاں لیتا ہے۔ا قرب آفتاب سے غم وکرب اس درجہ کو پہنچے گا کہ طاقت طاق کوگی تاب تحمل نہ رہے گی۔ج رہ رہ کرتین گھبراٹیں لوگوں کو اٹھیں گی۔ا آپس میں کہیں گے دیکھتے نہیں تم کس آفت میں ہوکس حال کو پہنچے کوئی ایسا کیوں نہیں ڈھونڈتے جو رب کے پاس شفاعت کرے۔ب کہ ہمیں اس مکان سے نجات دے۔ا پھر خود ہی تجویز کریں گے کہ آدم علیہ الصلواۃ والسلام ہمارے باپ ہیںان کے پاس چلا جائےپس آدم علیہ الصلواۃ والسلام کے پاس جا ئینگے۔د اور پسینے کی وہی حالت ہے کہ منہ میں لگام کی طرح ہوا چاہتا ہے۔ا عرض کریں گے و اے باپ ہمارے ا اے آدم !آپ ابو البشر ہیں الله تعالی نے آپ کو دست قدرت سے بنایا اور اپنی روح آپ میں ڈالی اور اپنے ملائکہ سے سجدہ کرایا اور اپنی جنت میں آپ کو رکھا ب اور سب چیزوں کے نام سکھائے د اور آپ کو اپنا صفی کیا۔ا آپ اپنے رب کے پاس ہماری شفاعت کیوں نہیں کرتے ب کہ ہمیں اس مکان سے نجات دے ا آپ دیکھتے نہیں کہ ہم کس آفت میں ہیں او ر کس حال کو پہنچے۔آدم علیہ الصلواۃ والسلام فرمائیں گے ب لست ھنا کم ہ انہ لم یھمنی الیوم الا ا ان ربی قد غضب الیوم غضبا لم یغضب قبلہ مثلہ ولن یغضب بعدہ مثلہ نفسی نفسی نفسی اذھبو ا الی غیری میں اس قابل نہیں مجھے آج اپنی جان کے سوا کسی کی فکر نہیںآج میرے رب نے وہ غضب فرمایا ہے کہ نہ ایسا پہلے کبھی کیا نہ آئندہ کبھی کرےمجھے اپنی جان کی فکر ہےمجھے اپنی جان کا غم ہےمجھے اپنی جان کا خوف ہےتم اور کسی کے پاس جاؤ۔ وعرض کریں گے پھر آپ ہمیں کس کے پاس بھیجتے ہیں۔فرمائیں گے۔د ا پنے پدر ثانی انوح کے پاس جاؤ ب کہ وہ پہلے نبی ہیں جنہیں الله تعالی نے زمین پر بھیجا و وہ خدا کے شاکر بندے ہیں۔ا لوگ نوح علیہ الصلوۃ والسلام کے پاس حاضر ہوں گے اورعرض کریں گے اے نوح و اے نبی الله ا آپ اہل زمین کی طرف پہلے رسول ہیں الله نے عبدشکور آپ کا نام رکھاد اور آپ کو برگزیدہ کیا اورآپ کی دعا قبوقل فرمائی کہ زمین پر کسی کا فرکا نشان نہ رکھا۔ا آپ دیکھتے ہیں کہ ہم کس حال کو پہنچےآپ اپنے رب کے حضور ہماری شفاعت کیوں نہیں کرتے ہ کہ ہمارافیصلہ کردے۔ا نوح علیہ الصلوۃ والسلام فرمائیں گے ب لست ھناکم د لیس ذاکم عندی ہ انہ لایھمنی الیوم الا نفسی ا ان ربی غضب الیوم غضبالم یغضب قبلہ مثلہ ولن یغضب بعدہ مثلہ نفسی نفسی نفسی اذھبو الی غیری میں اس قابل نہیں یہ کام مجھے سے نہ نکلے گا آج مجھے اپنی جان کے سوا کسی کی فکر نہیں۔میرے رب نے آج وہ غضب
#18191 · رسالہ تجلی الیقین بانّ نبیّنا سید المرسلین ۱۳۰۵ھ (یقین کا اظہار اس بات کے ساتھ کہ ہمارے نبی صلی الله علیہ وسلم تمام رسولوں کے سردار ہیں)
فرمایا جو نہ اس سے پہلے کیا اور نہ اس کے بعد کرےمجھے اپنی جان کی فکر ہے مجھے اپنی جان کا کھٹکاہےمجھے اپنی جان کا ڈر ہےتم کسی اور کے پاس جاؤ۔و عرض کرینگے پھر پھرآپ ہمیں کس کے پاس بھیجتے ہیں۔فرمائیں گے ب خلیل الرحمن ا ابراہیم کے پاس جاؤ د کہ الله نے انہیں اپنا دوست کیا ہے۔ا لوگ ابراہیم علیہ اصلوۃ والسلام کے پاس حاضر ہوں گے عرض کرینگے و اے خلیل الرحمناے ابراہیم ! آپ الله کے نبی اور اہل زمین میں اس کے خلیل ہیں آپ اپنے رب کے حضور ہماری شفاعت کیجئے ہ کہ ہماراکردے۔ا آپ دیکھتے نہیں کہ ہم کس مصیبت میں گرفتا ر ہیں۔آ پ دیکھتے نہیں ہم کس حال کو پہنچے۔ابراہیم علیہ الصلوۃ و السلام فرمائیں گے ب لست ھناکم د لیس ذاکم عندی ہ لایھمنی الیوم الا نفسی ا ان ربی قد غضب الیوم غضبا لم یغضب قبلہ مثلہ ولن یغضب بعدہ مثلہ نفسی نفسی نفسی اذھبو ا الی غیری میں اس قابل نہیںیہ کام میرے کرنے کا نہیںآج مجھے اپنی جان کا تردد ہے تم کسی اور کے پاس جاء و۔و عرض کرینگے پھر آپ ہمیں کس کے پاس بھیجتے ہیں۔فرمائینگے ا تم موسی کے پاس جاؤ ب وہ بندہ جسے خدا نے توریت دی اوراس سے کلام فرمایااوراپنا راز دار بنا کر قرب بخشا ہ اوراپنی رسالت دے کر برگزیدہ کیا۔ا لو گ موسی علیہ الصلوۃ والسلام کے پاس حاضر ہوکر عرض کرینگے اے موسی !آ پ الله کے رسول ہیں الله تعالی نے آپ کو اپنی رسالتوں اوراپنے کلام سے لوگوں پر فضیلت بخشیاپنے رب کے پاس ہماری شفاعت کیجئےآپ دیکھتے نہیں ہم کس حال کو پہنچے آپ دیکھتے ہیں کہ ہم کس صدمہ میں ہیں۔موسی علیہ الصلوۃ والسلام فرمائیں گے ب لست ھانکم د لیس ذاکم عندی ہ انہ لایھمنی الیوم الا نفسی ا ان ربی قد غضب الیوم غضبا لم یغضب قبلہ مثلہ۔ولن یغضب بعدہ مثلہ نفسی نفسی نفسی اذھبواالی غیری میں اس لائق نہیں یہ کام مجھ سے نہی ہوگامجھے آج اپنے سوا دوسرے کی فکر نہیںمیرے رب نے آج وہ غضب فرمایا ہے کہ ایسا نہ کبھی کیا تھا اورنہ کبھی کرےمجھے اپنی جان کی فکر ہےمجھے اپنی جان کا خیال ہےمجھے اپنا جان کا خطرہ ہےتم کسی اور کے پاس جاؤ۔و عرض کریں گے پھر آپ ہمیں کس کے پاس بھیجتے ہیں۔فرمائیں گے ا تم عیسی کے پاس جاؤ وہ الله کے بندے ہیں اور اس کے رسول اور اس کے کلمہ اوراس کی روح د کہ مادر زاد اندھے اور کوڑھی کو اچھا کرتے اورمردے جلاتے تھے۔ا لوگ مسیح علیہ الصلوۃ کے پاس حاضر ہوکر عرض کرینگے اے عیسی !آپ الله کے رسول
#18192 · رسالہ تجلی الیقین بانّ نبیّنا سید المرسلین ۱۳۰۵ھ (یقین کا اظہار اس بات کے ساتھ کہ ہمارے نبی صلی الله علیہ وسلم تمام رسولوں کے سردار ہیں)
اوراس کے وہ کلمہ ہیں کہ اس نے مریم کی طرف القاء فرمایااوراس کی طرف کی روح ہیںآپ نے گہوارے میں کلام کیااپنے رب کے حضور ہماری شفاعت کیجئے کہ وہ ہمارا فیصلہ فرمادے۔آپ دیکھتے نہیں کہ ہم کس اندوہ میں ہیںآپ دیکھتے ہیں کہ ہم کس حال کو پہنچے۔مسیح علیہ الصلوۃ والسلام فرمائینگے ب لست ھانکم د لیس ذاکم عندی ہ انہ لایھمنی الیوم الا نفسی ا ان ربی قد غضب الیوم غضبا لم یغضب قبلہ مثلہ۔ولن یغضب بعدہ مثلہ نفسی نفسی نفسی اذھبواالی غیری میں اس لائق نہیں یہ کام مجھ سے نہ نکلے گامجھے آج اپنی جان کے سوا کسی کا غم نہیںمیرے رب نے آج وہ غضب فرمایا ہے نہ کبھی ایسا کیا نہ کرےمجھے اپنی جان کا ڈر ہےمجھے اپنی جان کا غم ہےمجھے اپنی جان کا سوچ ہےتم اور کسی کے پاس جاؤ۔وعرض کریں گے پھر آپ ہمیں کس کے پاس بھیجتے ہیں۔فرمائیں گے ایتوا عبدا فتح الله علی یدیہ ویجیئ فی ھذا الیوم امنا د انطلقواالی سید ولد آدم فانہ اول من تنشق عنہ الارض یوم القیامۃ ب ایتوا محمدا ہ ان کل متاع فی وعاء مختوم علیہ ا کان یقدر علی مافی جوفہ حتی یفض الخاتم تم اس بندے کے پاس جاؤ جس کے ہاتھ پر الله نے فتح رکھی ہےاور آج کے دن بے خوف ومطمئن ہےاس کی طرف چلو جو تمام بنی آدم کا سردار اورسب سے پہلے زمین سے باہر تشریف لانے والا ہےتم محمد صلی الله تعالی علیہ وسلم کے پاس جاؤ۔بھلا کسی سربمہر ظرف میں کوئی متاع ہواس کے اندر کی چیز بے مہر اٹھائے مل سکتی ہےلوگ عرض کرینگےنہ۔فرمائیں گے:ان محمدا صلی الله تعالی علیہ وسلم خاتم النبیین وقد حضر الیوم ا اذھبوا الی محمد د فلیشفع لکم الی ربك یعنی اسی طرح محمد صلی الله تعالی علیہ وسلم انبیاء کے خاتم ہیں(تو جب تك وہ باب فتح نہ فرمائیں کوئی نبی کچھ نہیں کرسکتا۔)اورآج وہ یہاں تشریف فرماہیں تم انہیں کے پاس جاؤچاہئےکہ وہ تمہارے ر ب کے حضور تمہاری شفاعت کریں صلی الله تعالی علیہ وسلم(اب وہ وقت آیا کہ لوگ تھکے ہارےمصیبت کے مارےہاتھ پاؤں چھوڑےچار طرف سے امیدیں توڑےبارگاہ عرش جاہبیکس پانہخاتم دورہ رسالتفاتح باب شفاعتمحبوب عـــــہ باوجاہتمطلوب بلند عزت
عــــــہ:یہ لفظ اس سفیہ کے رد میں ہیں جو شفاعت بالوجاہت وشفاعت بالمحبۃ کو (باقی برصفحہ آئندہ)
#18195 · رسالہ تجلی الیقین بانّ نبیّنا سید المرسلین ۱۳۰۵ھ (یقین کا اظہار اس بات کے ساتھ کہ ہمارے نبی صلی الله علیہ وسلم تمام رسولوں کے سردار ہیں)
ملجاء عاجزانماوی بیکساںمولائے دوجہانحضور پرنورمحمد رسول الله شفیع یوم النشور افضل صلوات الله واکمل تسلیمات الله واز کی تحیات والله وانمی برکات الله علیہ وعلی آلہ وصحبہ وعیالہ میں حاضر آئاوربہزاراں ہزار نالہائے زار ودل بیقرار وچشم اشکبار یوں عرض کرتے ہیں ایا محمد ویانبی الله انت الذی فتح الله بك وجئت فی ھذا الیوم امنا ا انت رسول الله وخاتم الانبیاء اشفع لنا الی ربك ہ فلیقض بیننا ا الا تری الی مانحن فیہ الا تری ما قد بلغنا اے محمداے الله کے نبی ! آپ وہ ہیں کہ الله تعالی نے آپ سے فتح باب کیااورآج آپ آمن ومطمئن تشریف لائے۔حضور الله کے رسول اورانبیاء کے خاتم ہیںاپنے ر ب کی بارگاہ میں ہماری شفاعت کیجئے کہ ہمارا فیصلہ فرمادےحضور نگاہ تو کریں ہم کس درد میں ہیںحضو رملاحظہ تو فرمائیں ہم کس حال کو پہنچے ہیں۔ب حضور پر نور صلی الله تعالی علیہ وسلم ارشادفرمائیں گے انا لھا وان اصاحبکم میں شفاعت کے لے ہوںمیں تمہارا وہ مطلوب ہوں جسے تمام موقف میں ڈھونڈ پھرےصلی الله تعالی علیہ وسلم وبارك و شرف ومجد وکرم(الله تعالی آپ پر درود وسلامبرکت وکرم وشرف اوربزرگی نازل فرمائے۔ت)اس کے بعد حضور نے اپنی شفاعت کی کیفیت
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
نہیں مانتاحالانکہ حقیقۃ اسباب شفاعت یہی ہیںاوران کے جو معنی اس نے تراشے وہ اس کی نری زبان درازیاں ہیںپھر شفاعت بالاذن کا جو مطلب گھڑا محض باطل۔اورالله تعالی کی جانب میں بے ادبی پر مشتمل۔جیسا کہ حضر ت والد قدس سرہ الماجد نے تزکیۃ الایقان اور دیگر علمائے اہل سنت نے اپنی تصانیف میں تحقیق فرمایا۔پھر احادیث کثیرہ گواہ ہیں کہ اس کے گھڑے ہوئے معنی ہرگز واقع نہ ہوں گے تو اس نے اس پر دے میں اصل شفاعت سے انکار کیا کہ جو مانتاہے وہ ہوگی نہیںاورجو ہوگی اسے مانتا نہیں۔جیسے کوئی کہے کہ میں وجود انسان کا منکر نہیںمگر لوگ جسے انسان کہتے ہیں وہ معدوم ہے۔موجود یہ ہے کہ اس کے پانچ ہاتھ ہوں اور بائیس کان ہوںاورستائیس ناکیںاورپینتالیس منہاورپہاڑ پر چڑھ کر پیڑ پر بسیرالیتاہو۔ہر عاقل جانے گا کہ یہ احمق سرے سے انسان ہی کا منکر ہے اگرچہ براہ عیاری لفظ انسان کا مقرہے ۱۲منہ)
#18196 · رسالہ تجلی الیقین بانّ نبیّنا سید المرسلین ۱۳۰۵ھ (یقین کا اظہار اس بات کے ساتھ کہ ہمارے نبی صلی الله علیہ وسلم تمام رسولوں کے سردار ہیں)
ارشاد فرمائی۔یہ نصف حدیث کا خلاصہ ہے۔مسلمان اسی قدر کوبنگاہ ایمان دیکھے۔اور اولا حق جل وعلاکی یہ حکمت جلیلہ خیال کرے کہ کیونکراہل محشر کے دلوں میں ترتیب وار انبیائے عظام علیہم الصلوۃ والسلام کی خدمت میں جانا الہام فرمائے گا۔اور دفعۃ بارگاہ اقدس سید عالم صلی الله تعالی علیہ وسلم میں حاضر نہ لائے گا کہ حضور تو یقینا شفیع مشفع ہیں۔ابتداء یہیں آتے تو شفاعت پاتے۔مگر اولین وآخرین وموافقین ومخالفین خلق الله اجمعین پرکیونکر کھلتا کہ یہ منصب افخم اسی سید اکرم مولائے اعظم صلی الله تعالی علیہ وسلم کا حصہ خاصہ ہے جس کا دامن رفیع جلیل ومنیع تمام انبیاء ومرسلین کے دست ہمت سے بلند وبالا ہے۔پھر خیال کیجئے کہ دنیا میں لاکھوں کروڑوں کان اس حدیث سے آشنا اوربے شمار بندے اس حال کے شناسا عرصات محشر میں صحابہ و تابعین وائمہئ محدثین واولیائے کامین وعلمائے عاملین سبھی موجود ہوں گے۔پھر کیونکر یہ جانی پہچانی بات دلوں سے ایسی بھلا دی جائے گی کہ اتنی کثیر جماعتوں میں ان طویل مدتوں تك کسی کو اصلا یاد نہ آئے گی۔پھر نوبت بنوبت حضرات انبیاء سے جواب سنتے جائیں گے۔جب مطلق دھیان نہ آئے گا کہ یہ وہی واقعہ ہے جو سچے مخبر نے پہلے ہی بتایا ہے۔پھر حضرات انبیاء علیہم الصلوۃ و الثناء کو دیکھئے۔وہ بھی یکے بعد دیگرے انبیائے مابعد کے پاس بھیجتے جائیں گے۔یہ کوئی نہ فرمائے گا کہ کیوں بیکار ہلاك ہوتے ہو۔تمہارا مطلوب اس پیارے محبوب صلی الله تعالی علیہ وسلم کے پاس ہے۔یہ سارے سامان اسی اظہار عظمت واشتہار وجاہت محبوب باشوکت کی خاطر ہیں۔لیقضی الله امرا کان مفعولاصلی الله تعالی علیہ وسلم(تاکہ الله پورا کرے جو کام ہونا ہےاور درودوسلام نازل فرمائے اپنے محبوب پر۔ت)۔
ثانیا:سوال شفاعت پر حضرات انبیاء کے جواب اورہمارے حضور کا مبارك ارشاد ملادیکھئے یہیں مقام محمود کا مزہ آتا۔اور ابھی کالشمس کھلا جاتاہے کہ سب نجوم رسالت ومصابیح نبوت میں افضل واعلی واجلی واعظم واولی وبلند وبلا اہوی عرب کا سورج حرم کا چاند ہے جس کے نور کے حضور ہر روشنی ماند ہے صلی الله تعالی علیہ وسلم وبارك وشرف ومجد وکرم(الله تعالی آپ پر درود وسلام وبرکت وکرم وشروف وبزرگی نازل فرمائے۔ت)اور انبیائے خمسہ کی وجہ تخصیص ظاہر کہ حضرت آدم اول انبیاء وپدر انبیاء ہیںاورمرسلین اربعہ اولوالعزم مرسل اور وسب انبیائے سابقین سے اعلی وافضلتو ان پر تفضیل والحمدلله الملك الجلیل۔
#18197 · رسالہ تجلی الیقین بانّ نبیّنا سید المرسلین ۱۳۰۵ھ (یقین کا اظہار اس بات کے ساتھ کہ ہمارے نبی صلی الله علیہ وسلم تمام رسولوں کے سردار ہیں)
ارشادبست وہشتم۲۸:احمد وترمذی بافادہ تحسین وتصحیح اورابن ماجہ واحاکم وابن ابی شیبہ بسند صحیح ابی بن کعب رضی الله تعالی عنہ سے راوی حضور سید المرسلین صلی الله تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اذا کان یوم القیمۃ کنت امام البنیین وخطیبھم و صاحب شفاعتھم غیر فخر ۔ جب قیام کا دن ہوگا تمام انبیاء کا امام اوران کا خطیب اوران کا شفاعت والا ہوں گااور کچھ فخر نہیں(صلی الله تعالی علیہ وآلہ وسلم)
ارشادبست ونہم۲۹:امام احمد بسند صحیح انس رضی الله تعالی عنہ سے راویحضور سید المرسلین صلی الله تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
انی لقائم انتظر امتی تعبر الصراط اذا جاء عیسی علیہ الصلوۃ والسلام فقال ھذہ الانبیاء قدجاء تك یا محمد یسألون اوقال یجتمعون الیك یدعوا الله ان یفرق بین جمیع الامم الی حیث یشاء الله لعظم ما ھم فیہ فالخلق ملجمون فی العرق فاما المؤمن فھو علیہ کالز کمۃ واما الکافر فیتغشاہ الموت قال قال یا عیسی انتظر حتی میں کھڑا ہوا اپنی امت کا انتظا ر کرتاہوں گا کہ صراط پر گزر جائےاتنے میں عیسی علیہ الصلوۃ والسلام آکر عرض کرینگے کہ اے محمد ! یہ انبیاء الله حضور کے پاس التماس لے کر آئے ہیں کہ حضور الله تعالی سے عرض کردیں وہ امتوں کی اس جماعت کو جہاں چاہے تفریق کردے کہ لوگ بڑی سختی میں ہیں پسینہ لگا کی مانند ہوگیا ہے(حدیث میں فرمایا)مسلمان پر تو مثل زکام کے ہوگااورکافروں کو اس سے موت گھیر لے گی حضور اقدس صلی الله تعالی
حوالہ / References مسند احمد بن حنبل عن ابی بن کعب المکتب الاسلامی بیروت ۵ /۱۳۷،سنن الترمذی ابواب المناقب باب ماجاء فی فضل النبی صلی الله علیہ وسلم حدیث ۳۶۳۳ ۵ /۳۵۳،سنن ابن ماجہ ابواب الزھد باب ذکر الشفاعۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۳۳۰،المستدرك للحاکم کتاب الایمان دارالفکر بیروت ۱/ ۷۱،المصنف لابن ابی شیبۃ کتاب الفضائل حدیث ۳۱۶۳۱ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۶ /۳۰۷
#18199 · رسالہ تجلی الیقین بانّ نبیّنا سید المرسلین ۱۳۰۵ھ (یقین کا اظہار اس بات کے ساتھ کہ ہمارے نبی صلی الله علیہ وسلم تمام رسولوں کے سردار ہیں)
ارجع الیك قال فذھب نبی الله صلی الله تعالی علیہ وسلم فقام تحت العرش فلقی مالم یلق ملك مصطفی ولا نبی مرسل الحدیث۔ علیہ وسلم فرمائیں گے:اے عیسی !آپ انتظار کریں یہاں تك کہ میں واپس آؤں۔پھر حضور زیر عرش جا کر کھڑے ہوں گے وہاں وہ پائیں گے جو نہ کسی مقرب فرشتہ کو ملا نہ کسی نبی مرسل نے پایا۔الحدیث۔
ارشاد سیم۳۰:مسند احمد وصحیح مسلم میں انہیں سے مروی حضور سید المرسلین صلی الله تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اتی باب الجنۃ یوم القیامۃ فاستفتح فیقول الخازن من انت فاقول محمدفیقول بك امرت ان لا افتح لاحد من قبلک ۔ میں روز قیامت درجنت پر تشریف لاکر کھلواؤں گاداروغہ عرض کرے گا:کون ہے میں فرماؤں گا:محمد صلی الله تعالی علیہ وسلم۔عرض کرے گا:مجھے حضور ہی کے واسطے حکم تھا کہ حضور سے پہلے کسی کے لیے نہ کھولوں۔
طبرانی کی روایت میں ہے داروغہ قیام کر کے عرض کرے گا:
لاافتح لاحد قبلك ولا اقوم لاحدبعدک ۔ نہ میں حضور سے پہلے کسی کے لیے کھولوںنہ حضور کے بعد کسی کے لیے قیام کروں۔
اور یہ دوسری خصوصیت ہے حضور اقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم کے لیے۔
ارشاد سی ویکم۳۱:ابو نعیم ابو ہریرہ رضی الله تعالی عنہ سے راویحضور سید المرسلین صلی الله تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
انا اول من ید خل الجنۃ میں سب سے پہلے جنت میں رونق افروز
حوالہ / References مسند احمد بن حنبل عن انس رضی الله عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۳ /۱۷۸،الترغیب والترہیب بحوالہ احمد فصل فی الشفاعۃ وغیرھا مصطفی البابی مصر ۴ /۴۳۶
صحیح مسلم کتاب الایمان باب اثبات الشفاعۃ الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۱۲،مسند احمد بن حنبل عن انس رضی الله عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۳ /۱۳۶
انسان العیون المعروف بالسیرۃ حلبیۃ باب حین المبعث الخ المکتبہ الاسلامیۃ بیروت ۱ /۲۳۱
#18201 · رسالہ تجلی الیقین بانّ نبیّنا سید المرسلین ۱۳۰۵ھ (یقین کا اظہار اس بات کے ساتھ کہ ہمارے نبی صلی الله علیہ وسلم تمام رسولوں کے سردار ہیں)
ولا فخر ۔ ہوں گا۔اور کچھ فخر نہیں۔
ارشاد سی ودوم۳۲:صحیح مسلم میں انس رضی الله تعالی عنہ سے مرویحضور سید المرسلین صلی الله تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
انا اکثر الانبیاء تبعا وانا اول من یقرع باب الجنۃ ۔ روز قیامت میں سب انبیاء سے کثرت امت میں زائد ہوں گا سب سے پہلے میں ہی جنت کا دروازہ کھٹکھٹاؤں گا۔
مسلم کی دوسری روایت یوں ہے:
انا اول الناس یشفع فی الجنۃوانا اکثر الانبیاء تبعا ۔ میں جنت میں سب سے پہلا شفیع ہوںاور میرے پیرو سب انبیاء کی امتوں سے افزوں۔
ابن النجار نے ان لفظوں سے روایت کی:
انا اول من یدق باب الجنۃ فلم تسمع الا فان احسن من طنین الحلق علی تلك المصاریع ۔ میں سب سے پہلے جنت کا دروازہ کوٹوں گا زنجیروں کی جھنکار جو ان کواڑوں پر ہو گی اس سے بہتر آواز کسی کان نے نہ سنی۔
ارشاد سی وسوم۳۳:صحیح ابن حبان میں انھیں سے مرویحضور سید المرسلین صلی الله تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ان لکل نبی یوم القیامۃ منبر من نور وانی لعلی اطولہا وانورھا فیجیئ منا ینادی این النبی الامی قال فیقول الانبیاء کلنا قیامت میں ہر نبی کے لئے ایك منبر نور کا ہوگااور میں سب سے زیادہ بلند ونور انی منبر پر ہوں گامنادی آکر ندا کرے گا کہاں ہیں نہ نبی امی صلی الله تعالی علیہ وسلم۔انبیاء کہیں گے ہم
حوالہ / References دلائل النبوۃ لابی نعیم الفصل الرابع عالم الکتب بیروت الجز الاول ص ۱۳
صحیح مسلم کتاب الایمان باب اثبات الشفاعۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۱۲
صحیح مسلم کتاب الایمان باب اثبات الشفاعۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۱۲
کنز العمال بحوالہ ابن النجار عن انس حدیث ۳۱۸۸۶مؤسسۃ الرسالۃ بیروت ۱۱ /۴۰۴
#18202 · رسالہ تجلی الیقین بانّ نبیّنا سید المرسلین ۱۳۰۵ھ (یقین کا اظہار اس بات کے ساتھ کہ ہمارے نبی صلی الله علیہ وسلم تمام رسولوں کے سردار ہیں)
نبی امی فالی اینا ارسل فیرجع الثانیۃ فیقول این النبی الامی العربی قال فینزل محمد صلی الله تعالی علیہ وسلم حتی یاتی باب الجنۃ فیقرعہ(و ساق الحدیث الی ان قال)فیفتح لہ فیدخل فیتجلی لہ الرب تبارك وتعالی ولا یتجلی لشیئ قبلہ فیخرلہ ساجد ا الحدیث سب نبی امی ہیں کسے یاد فرمایا ہےمنادی واپس جائے گادوبارہ آکر یوں ندا کرے گا:کہاں ہیں نبی امی عربی صلی الله تعالی علیہ وسلم اب حضور اقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم اپنے منبر اطہر سے اتر کر جنت کو تشریف لے جائیں گےدروازہ کھلو اکر اندر جائیں گےرب عز جلالہ ان کے لئے تجلی فرمائے گا اوران سے پہلے کسی پر تجلی نہ کرے گا۔حضور اپنے رب کے لئے سجدہ میں گریں گے۔صلی الله تعالی علیہ وسلم۔
ارشاد سی وچہارم۳۴:صحیحین میں ابو ہریرہ رضی الله تعالی عنہ سے ہے حضور سید المرسلین صلی الله تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
یضرب الصراط بین ظھر انی جھنم فاکون اول من یجوز من الرسل بامتہ ۔ جب پشت جہنم پر صراط رکھیں گے میں سب رسولوں سے پہلے اپنی امت کو لے کر گزر فرماؤں گا۔
ارشاد سی وپنجم۳۵:صحیح مسلم میں حضرت حذیفہ وحضرت ابوہریرہ رضی الله تعالی عنہ اورتصانیف طبرانی وابن ابی ھاتم وابن مردویہ میں عقبہ بن عامر رضی الله تعالی عنہ سے مرویحضور سیدالمرسلین صلی الله تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
یقوم المؤمنون حتی تزلف لھم الجنۃ فیأتون ادم فیقولون یا ابانا استفتح لنا یعنی جب مسلمانوں کا حساب کتاب اوران کا فیصلہ ہوچکے گا جنت ان سے نزدیك کی جائیگی۔مسلمان آدم علیہ الصلوۃ و السلام کے پاس
حوالہ / References موارد الظمان باب جامع فی البعث والشفاعۃ حدیث ۲۵۹۱ المطبعۃ السلفیہ ص ۶۴۳و۶۴۴،الرغیب والترھیب بحوالہ صحیح ابن حبان فصل فی الشفاعۃ وغیرھا مصطفی البابی مصر ۴ /۴۴۰
صحیح البخاری کتاب الاذان باب فضل السجود قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۱۱،صحیح مسلم کتاب الایمان باب اثبات رؤیۃ المومنین الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۰۰
#18204 · رسالہ تجلی الیقین بانّ نبیّنا سید المرسلین ۱۳۰۵ھ (یقین کا اظہار اس بات کے ساتھ کہ ہمارے نبی صلی الله علیہ وسلم تمام رسولوں کے سردار ہیں)
الجنۃ فیقول وھل اخرجکم من الجنۃ الا خطیئۃ ابیکم لست بصاحب ذلك ولکن اذھبوا الی بنی ابراھیم خلیل الله قال فیقول ابراھیم لست بصاحب ذلك انام کنت خلیلا من وراء وراء اعمدوا الی موسی الذی کلمہ الله تکلیما قال فیأتون موسی فیقول لست بصاحب ذلك اذھبوا الی عیسی کلمۃ الله و روحہ فیقول عیسی لست بصاحب ذلك فیأتون محمدا فیقوم فیؤذن لہ الحدیثھذا حدیث مسلم و عند الباقین اذا جمع الله الاولین والاخرین و قضی بینھم وفرغ من القضاء یقول المؤمنون قد قضی بیننا ربنا وفرغ من القضاء یقول المومنون فمن یشفع لنا الی ربنا فیقولون قد قجی ربنا وفرغ من القضاء قم انت فاشفع لنا الی ربنا ائتوانوحا(وساق الحدیث الی ان قال)فیاعیسی فیقول ادلکم علی العربی الامی فیأتونی فیأذن الله لی ان اقوم الیہ فیثور حاضر ہوں گے کہ ہمارا حساب ہوچکا آپ حق سبحانہسے عرض کر کے ہمارے لئے جنت کا دروازہ کھلوا دیجئے۔آدم علیہ السلام عذر کرینگے اورفرمائیں گے میں اس کام کا نہیں تم نوح کے پاس جاؤ۔وہ بھی انکار کر کے ابراہیم علیہ الصلوۃ والتسلیم کے پاس بھیجیں گے۔وہ فرمائیں گے میں اس کام کا نہیں تم موسی کلیم الله کے پاس جاؤ۔وہ فرمائیں گے میں اس کا م کا نہیں مگر تم عیسی روح الله وکلمۃ الله کے پاس جاؤ وہ فرمائیں گے میں اس کا م کا نہیں مگر تمہیں عرب والے نبی امی کی طرف راہ بتاتاہوں۔لوگ میری خدمت میں حاضر آئیں گےالله تعالی مجھے اذن دے گامیرے کھڑے ہوتے ہی وہ خوشبو مہکے گی جو آج تك کسی دماغ نے نہ سونگھی ہوگی یہاں تك کہ میں اپنے رب کے پاس حاضر ہوں گاوہ میری شفاعت قبول فرمائے گااور میرے سر کے بالوں سے پاؤں کے ناخن تك نور کردے گا۔
حوالہ / References صحیح مسلم کتاب الایمان باب اثبات الشفاعۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۱۲
#18206 · رسالہ تجلی الیقین بانّ نبیّنا سید المرسلین ۱۳۰۵ھ (یقین کا اظہار اس بات کے ساتھ کہ ہمارے نبی صلی الله علیہ وسلم تمام رسولوں کے سردار ہیں)
مجلسی من اطیب ریح شمھا احد قط حتی اتی ربی فیشفنی ویجعل لی نور امن شعرر أسی الی ظفر قدمی ۔
ارشاد سی وششم(۳۶):طبرانی معجم اوسط میں بسند حسن اوردار قطنی وابن النجار امیر المومنین عمر فاروق اعظم رضی الله تعالی عنہ سے راویحضور سید المرسلین صلی الله تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
الجنۃ حرمت علی الانبیاء حتی ادخلھا وحرمت علی الامم حتی تدخلہا امتی ۔ جنت پیغمبروں پر حرام ہے جب تك میں اس میں داخل نہ ہوںاورامتوں پر حرام ہے جب تك میری امت نہ داخل ہو۔
اسی طرح طبرانی نے عبدالله بن عباس رضی الله تعالی عنہما سے روایت کی۔
ارشادسی وہفتم۳۷:اسحق بن راہو یہ اپنی مسند اورابن ابی شیبۃ مصنف میں امام مکحول تابعی سے راویامیر المومنین عمر کا ایك یہودی پر کچھ آتا تھا اس سے فرمایا:قسم اس کی جس نے محمد صلی الله تعالی علیہ وسلم کو تمام بشر پر فضیلت بخشیمیں تجھے نہ چھوڑوں گا۔یہودی نے قسم کھا کر حضور کی ا فضلیت مطلقہ کا انکار کیا۔امیر المومنین نے اس کے طپانچہ مارا۔یہودی نے بارگاہ رسالت میں نالشی آیا۔حضور اقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم نے امیر المومنین کو تو حکم دیا تم نے اس کو تھپڑ مارا ہے راضی کرلواوریہودی کی طرف مخاطب ہوکر فرمایا:
حوالہ / References الخصائص الکبری باب اختصاصہ صلی الله علیہ وسلم بالمقام المحمود مرکز اہلسنت گجرات الہند ۲ /۲۲۲،الدرالمنثور بحوالہ الطبرانی و ابن ابی حاتم وابن مردویہ تحت الآیۃ ۱۴/۲۲داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/۱۷،کنزالعمال بحوالہ الطبرانی وابن ابی حاتم وابن مردویہ حدیث ۲۹۹۹ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۲ /۲۶و۲۷
المعجم الاوسط حدیث ۹۴۶ مکتبۃ المعارف ریاض ۱ /۵۱۳ و ۵۱۲
#18208 · رسالہ تجلی الیقین بانّ نبیّنا سید المرسلین ۱۳۰۵ھ (یقین کا اظہار اس بات کے ساتھ کہ ہمارے نبی صلی الله علیہ وسلم تمام رسولوں کے سردار ہیں)
بل یا یھودی ادم مصفی الله ابراھیم خلیل الله وموسی نجی الله وعیسی روح الله وانا حبیب الله بل یا یھودی تسمی الله باسمین سمی بھا امتی ھو السلام وسمی بھا امتی المسلمین وھو المؤمن وسمی بھا امتی المؤمنین بل یا یھودی ان الجنۃ محرمۃ علی الانبیاء حتی ادخلھا وھی محرمۃ علی الامم حتی تدخلہا امتی ۔ بلکہ او یہودی !آدم صفی الله اورابراہیم خلیل الله اورموسی نجی الله اورعیسی روح الله ہیںاور میں حبیب الله ہوں۔بلکہ او یہودی! الله تعالی نے اپنے دو ناموں پر میری امت کے نام رکھے۔الله تعالی سلام ہے اورمیری امت کا نام مسلمین رکھا الله تعالی مومن ہے اورمیری امت کا نام مومنین رکھا۔ بلکہ اویہودی !بہشت سب نبیوں پر حرام ہے یہاں تك کہ میں سب نبیوں پر حرام ہے یہاں تك کہ میں تشریف لے جاؤں۔ اورسب امتوں پرحرام ہے یہاں تك کہ میری امت داخل ہو۔
ارشاد سی وہشتم۳۸:احمدمسلمابو داودترمذینسائی عبدالله بن عمرو بن عاص رضی ا لله تعالی عنہما سے راویحضور سید المرسلین صلی الله تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
سلو ا الله تعالی لی الوسیلۃ فانھا منزلۃ فی الجنۃ لاتبع الا لعبدمن عبادالله وارجو ا ان اکون انا ھوفمن سأل لی الوسیلۃ حلت علیہ الشفاعۃ ۔ الله تعالی سے میرے لئے وسیلہ مانگووہ جنت کی ایك منزل ہے کہ ایك بندے کے سوا کسی کے شایان شان نہیںمیں امید کرتاہوں کہ وہ بندہ میں ہی ہوںتو جو میرے لئے وسیلہ مانگے گا اس پر میری شفاعت اترے گی۔
ابوہریرہ رضی الله تعالی عنہ کی حدیث مختصر میں ہے۔صحابہ نے عرض کی:یا رسول الله ! وسیلہ
حوالہ / References المصنف لابن ابی شیبۃ کتاب الفضائل حدیث ۳۱۷۹۳ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۶ /۳۳۱و۳۳۲
صحیح مسلم کتاب الصلٰوۃ باب استحباب القول مثل قول المؤذن الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۶۶،سنن الترمذی ابواب المناقب حدیث ۳۶۳۴ دارالفکر بیروت ۵ /۳۵۳و۳۵۴،سنن ابی داود کتاب الصلٰوۃ باب ما یقول اذا سمع المؤذن آفتاب عالم پریس لاہور ۱ /۷۷،سنن النسائی کتاب الاذان باب الصلٰوۃ علی النبی صلی الله علیہ وسلم نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ۱ /۱۱۰،مسند احمد بن حنبل عن عبدالله بن عمرو بن عاص المکتب الاسلامی بیروت ۲ /۱۶۸
#18210 · رسالہ تجلی الیقین بانّ نبیّنا سید المرسلین ۱۳۰۵ھ (یقین کا اظہار اس بات کے ساتھ کہ ہمارے نبی صلی الله علیہ وسلم تمام رسولوں کے سردار ہیں)
کیاہے فرمایا:
اعلی درجۃ فی الجنۃ لاینالھا الا واحد ارجوا ان اکون ھو ۔ بلند ترین درجات جنت ہے جسے نہ پائے گا مگر ایك مرد۔امید کرتاہوں کہ وہ مرد میں ہوں۔
علماء فرماتے ہیں خداورسول جس بات کو بکلمہ امید وترجی بیان فرمائیں وہ یقینی الوقع ہے۔بلکہ بعض علماء نے فرمایا:کلام اولیاء میں بھی رجاء تحقیق ہی کے لیے ہے۔
ذکرہ الزرقانی عن صاحب النور بعض شیوخہ فی اقسام شفاعۃ صلی الله تعالی علیہ وسلم۔ زرقانی نے صاحب نور سے انہوں نے اپنے بعض شیوخ سے نبی اکرم صلی الله تعالی علیہ وسلم کی شفاعت کی اقسام کے بارے میں ذکر کیا۔(ت)
ارشاد سی ونہم۳۹:عثمان بن سعید دارمی کتاب الرد علی الجہمیۃ میں عبادہ بن صامت رضی الله تعالی عنہ سے راویحضور سید المرسلین صلی الله تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ان الله رفعنی یوم القیامۃ فی اعلی غرفۃ من جنات النعیم لیس فوقی الاحملۃ العرش ۔ الله تعالی نے مجھے روز قیامت جنۃ النعیم کے سب غرفوں سے اعلی غرفوں میں بلند فرمائے گا کہ مجھ سے اوپر بس خدا کا عرش ہوگا۔والحمدلله رب العالمین۔
جلوہ سوم ارشادات انبیائے عظام وملائکہ کرام علی سید ہم وعلیہم الصلوۃ والسلام
ارشاد چہلم۴۰:ابن جریرابن مردویہابن ابی حاتمبزارابویعلیبیہقی بطریق ابوالعالیہ حضرت ابو ہریرہ رضی الله تعالی عنہ سے معراج کی حدیث طویل میں راویانبیاء علیہم الصلوۃ والسلام نے اپنے رب کی حمد وثناء کی اوراپنے فضائل جلیلہ کے خطبے پڑھے۔ سب کے بعد حضور پر نور خاتم النبیین صلی الله تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:
حوالہ / References سنن الترمذی ابواب المناقب حدیث ۳۶۳۲ دارالفکر بیروت ۵ /۳۵۳
شرح الزرقانی علی المواھب اللدنیۃ تفضیلہ صلی الله علیہ وسلم بالشفاعۃ الخ دارالمعرفہ بیروت ۸ /۳۸۰
الخصائص الکبرٰی بحوالہ کتاب الرد علی الجہمیۃ باب اختصاصہ صلی الله علیہ وسلم بالکوثر الخ مرکز اہلسنت ۲ /۲۲۶
#18212 · رسالہ تجلی الیقین بانّ نبیّنا سید المرسلین ۱۳۰۵ھ (یقین کا اظہار اس بات کے ساتھ کہ ہمارے نبی صلی الله علیہ وسلم تمام رسولوں کے سردار ہیں)
کلھم اثنی علی ربہ وانی مثن علی ربی الحمد لله الذی ارسلنی رحمۃ للعالمین وکافۃ للناس بشیرا و نذیرا وانزل علی الفرقان فیہ تبیان لکل شیئ وجعل امتی خیر امۃ اخرجت للناس وجعل امتی امۃ وسطا وجعل امتی ھم الاولون والاخرون وشرح لی صدری ووضع عنی وزری ورفع لی ذکری وجعلنی فاتحاوخاتما۔ تم سب نے اپنے رب کی ثناء کی اوراب میں اپنے رب کی ثنا کرتا ہوں۔حمد اس خدا کو جس نے مجھے تمام جہان کےلئے رحمت بھیجا اور کافہ ناس کا رسول بنایا خوشخبری دیتا اور ڈر سناتا اورمجھ پر قرآن اتارا اور اس میں ہر چیز کا روشن بیان ہے اور میر ی امت سب امتوں سے بہتر اور امت عادلاور زمانہ میں مؤخر اورمرتبہ میں مقدم کی۔اورمیرے لئے میرا سینہ کھول دیا۔اورمجھ سے میرا بوجھ اتارلیا۔او رمیرے لئے میرا ذکر بلند فرمایا۔اورمجھے فاتح باب رسالت وخاتم دور نبوت کیا۔
جب حضور اقد س خطبہ جلیلہ سے فارغ ہوئے ابراہیم علیہ الصلوۃ والتسلیم نے حضرات انبیاء سے فرمایا:بھذا افضلکم محمدا اسی لئے محمد صلی الله تعالی علیہ وسلم تم سے افضل ہوئے(پھر جب حضور اپنے رب سے ملے رب تبارك وتعالی نے فرمایا:سل مانگ کیا مانگتا ہے )حضور نے انبیاء کے فضائل عرض کئے کہ تو نے انہیں یہ کرامتیں دیںحق جل وعلانے حضور کے فضائل اعلی واشرف ارشاد فرمائے کہ تمہیں یہ کچھ بخشا۔حضور نے یہ واقعہ بیان فرماکر ارشاد فرمایا:فضلنی ربی مجھے میرے رب نے افضل کیا۔اوراپنے فضائل وخصائص عظیمہ بیان فرمائے۔یہ حدیث دو ورق طویل میں ہے۔
ارشاد چہل ویکم۴۱:حاکم کتاب الکنی اورطبرانی اوسط اوربیہقی وابو نعیم دلائل النبوۃ میںاور ابن عساکر ودیلمی وابن بلال ام المومنین صدیقہ رضی الله تعالی عنہاسے راویحضور سید المرسلین صلی الله تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
حوالہ / References جامع البیان(تفسیر ابن جریر)تحت الآیۃ ۱۷/۱ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱۵/ ۱۳تا۱۵،دلائل النبوۃ للبیہقی باب الدلیل علی ان النبی صلی الله علیہ وسلم عرج بہ الی السماء الخ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۲/ ۴۰۰تا۴۰۳،الدرالمنثور بحوالہ ابن مردویہ وابن ابی حاتم وغیرہما تحت الآیۃ ۱۷ /۱ داراحیاء التراث العربی بیروت۵/ ۱۷۶تا۱۷۹،الخصائص الکبرٰی بحوالہ ابن جریروابن ابی حاتم وابن مردویہ وابویعلٰی والبیہقی باب خصوصیتہ باسراء الخ ۱ /۱۷۳تا۱۷۵
#18214 · رسالہ تجلی الیقین بانّ نبیّنا سید المرسلین ۱۳۰۵ھ (یقین کا اظہار اس بات کے ساتھ کہ ہمارے نبی صلی الله علیہ وسلم تمام رسولوں کے سردار ہیں)
قال لی جبریل قلبت الارض مشارقھا ومغاربھا فلم اجد رجلا افضل من محمد ولم اجدبنی اب افضل من بنی ھاشم ۔ جبریل نے مجھ سے عرض کی:میں نے پورب پچھم ساری زمین الٹ پلٹ کر دیکھی کوئی شخص محمد صلی الله تعالی علیہ وسلم سے افضل نہ پایانہ کوئی خاندان بنی ہاشم سے بہتر نظر آیا۔
امام ابن حجر عسقلانی فرماتے ہیں:صحت کے انوار اس متن کے گوشوں پر جھلك رہے ہیںنقلہ فی المواھب ۔(اس کو مواہب میں نقل کیا ہے۔ت)
ارشاد چہل ودوم۴۲:ابو نعیم کتاب المعرفہ میںاورابن عساکر عبدالله بن غنم سے راویہم خدمت اقدس حضور سید المرسلین صلی الله تعالی علیہ وسلم میں حاضر تھےناگاہ ایك ابر آیاحضور پرنورصلی الله تعالی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
سلم علی ملك ثم قال لیلم ازل استأذن ربی فی لقائك حتی کان ھذا او ان اذن لی وانی ابشرك انہ لیس احد اکرم علی الله منک ۔ مجھ سے ایك فرشتہ نے سلام کے بعد عرض کی:مدت سے میں اپنے رب سے قدمبوسی حضور کی اجازت مانگتاتھا یہاں تك کہ اب اس نے اذن دیامیں حضور کو مژدہ دیتاہوں کہ الله تعالی کو حضور سے زیادہ کوئی عزیز نہیں۔
ارشاد چہل وسوم۴۳:امام ابوزکریا یحیی بن عائذ حضرت عبدالله بن عباس رضی الله تعالی عنہما سے راویحضرت آمنہ رضی الله تعالی عنہا قصہ ولادت اقدس میں فرماتی ہیں:مجھے تین شخص نظر آئے
حوالہ / References المعجم الاوسط حدیث ۶۲۷۱مکتبۃ المعارف ریاض ۷ /۱۵۵،المواھب اللدنیۃ بحوالہ ابی نعیم طہارۃ نسبہ من السفاح المکتب الاسلامی بیروت ۱ /۸۷و۸۸،دلائل النبوۃ باب ذکر شرف رسول الله صلی الله علیہ وسلم ونسبہ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۱ /۱۷۶،الخصائص الکبری بحوالہ البیہقی والطبرانی وابن عساکر باب اختصاصہ صلی الله علیہ وسلم بطہارۃ نسبہ الخ مرکز اہلسنت ۲ /۳۸،الفردوس بمأثور الخطاب حدیث ۴۵۱۶ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۳ /۱۸۷،فیض القدیر شرح الجامع الصغیر تحت حدیث ۶۰۷۴ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۴ /۶۵۴و۶۵۵
المواھب اللدنیۃ طہارۃ نسبہ من السفاح المکتب الاسلامی بیروت ۱ /۸۸
الجامع الصغیر بحوالہ ابن عساکر حدیث ۴۶۹۸ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۲ /۲۸۹
#18216 · رسالہ تجلی الیقین بانّ نبیّنا سید المرسلین ۱۳۰۵ھ (یقین کا اظہار اس بات کے ساتھ کہ ہمارے نبی صلی الله علیہ وسلم تمام رسولوں کے سردار ہیں)
گویا آفتاب ان کے چہروں سے طلوع کرتاہےان میں ایك نے حضور کو اٹھاکر ایك ساعت تك اپنے پروں میں چھپایا اورگوش اقدس میں کچھ کہا کہ میری سمجھ میں نہ آیا اتنی بات میں نے بھی سنی کہ عرض کرتاہے:
ابشر یا محمد ! فما بقی لنبی علم الا وقد اعطیتہ فانت اکثرھم علما واشجعھم قلبا معك مفاتیح النصرۃ قد البست الخوف والرعب لایسمع احد بذکرك الا وجل فؤادہ وخاف قلبہ وان لم یرك یا خلیفۃ الله۔ اے محمد ! مژدہ ہوکہ کسی نبی کا کوئی علم باقی نہ رہا جو حضور کو نہ ملا ہوتو حضور ان سب سے علم میں زائد اور شجاعت میں فائق ہیں جو نصرت کی کنجیاں حضور کے ساتھ ہیںحضور کو رعب دبدبہ کا جامہ پہنایا ہےجو حضور کا نام پاك سنے گا اس کا جی ڈر جائے گا اوردل سہم جائے گا اگرچہ حضور کو دیکھا نہ ہوا ے الله کے نائب !۔
ابن عباس فرماتے ہیں:
کان ذلك رضوان خا زن الجنان ۔ یہ رضوان داروغہ جنت تھےعلیہ الصلوۃ والسلام۔
ارشاد چہل وچہارم۴۴:احمدترمذیعبد بن حمیدابن مردویہبیہقیابو نعیم حضرت انس رضی الله تعالی عنہ اور بزار حضرت امیر المومنین علی کرم الله تعالی وجہہ سے بصورت موقوف اورابن سعد عبدالله بن عباس وام المومنین صدیقہ وام المومنین ام سلمہ وام ہانی بنت ابی طالب رضی ا لله عنہن سے نبی صلی الله تعالی علیہ وسلم کی طرف مرفوعا راوی شب اسری جب حضو اقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم نے براق پر سوار ہوناچاہا وہ چمکاجبریل امین علیہ الصلوۃ والتسلیم نے فرمایا:أبمحمد تفعل ھذ ا (وفی المرفوع)
حوالہ / References الخصائص الکبری بحوالہ ابی زکریا یحیی بن عائذ باب ما ظہر فی لیلۃ مولدہ صلی الله تعالٰی علیہ وسلم من المعجزات والخصائص مرکز اہلسنت برکات رضا گجرات الہند ۱ /۴۹
سنن الترمذی ابواب التفسیر باب سورۃ بنی اسرائیل حدیث ۳۱۴۲دارالفکر بیروت ۵ /۹۰،الدرالمنثور بحوالہ احمد وعبدبن حمید والترمذی وابن مردویہ وابی نعیم والبیہقی تحت الآیۃ ۱۷ /۱ دار احیاء التراث العربی بیروت ۵ /۱۸۴،الخصائص الکبری باب خصوصیتہ صلی الله علیہ وسلم بالاسراء مرکز اہلسنت برکات رضا گجرات ہند ۱ /۱۵۶
#18218 · رسالہ تجلی الیقین بانّ نبیّنا سید المرسلین ۱۳۰۵ھ (یقین کا اظہار اس بات کے ساتھ کہ ہمارے نبی صلی الله علیہ وسلم تمام رسولوں کے سردار ہیں)
الا تستحیین یا براق (وعند البزار)اسکنی (ثم اتفقوا فی المعنی واللفظ لانس)فوالله مارکبك خلق قط اکرم علی الله منہ۔ کیا محمد صلی الله تعالی علیہ وسلم کے ساتھ یہ گستاخیاے براق ! تجھے شرم نہیں آتی۔ٹھہر کہ خدا کی قسم تجھ پر کبھی کوئی ایسا شخص نہ سوار ہوا جو الله کے نزدیك ان سے زیادہ عزت والاہو۔فارفض عرقا اس کہنے سے براق کو پسینہ چھوٹ پڑا۔یہ روایت بطریق قتادہ عن انس تھی۔اوربیہقی وابن جریر وابن مردویہ نے بطریق عبدالرحمن بن ہاشم بن عتبہ عن یونس یوں روایت کی کہ روح القدس علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا:مہ یا براق فوالله مارکب مثلہ ہیں اے براق !الله کی قسم!تجھ پر کوئی ان کا ہمر تبہ سوار نہ ہوا۔ اوریہی تینوں محدث ابن ابی حاتم وابن عساکر ابو سعید خدری رضی الله تعالی عنہ سے راویحضو ر سید المرسلین صلی الله تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:کانت الانبیاء ترکبہا قبلی مجھ سے پہلے انبیاء اس پر سوارہواکرتے تھے۔
ارشاد چہل وپنجم۴۵:آدم علیہ الصلوۃ والسلام کا قول وحی اول میں گزرا کہ محمد صلی الله تعالی علیہ وسلم تمام مخلوقات سے زیادہ الله کو پیارے اوراس کی درگاہ میں سب سے قدرت وعزت میں بلند ہیں ۔
ارشاد چہل وششم۴۶:مسیح علیہ الصلوۃ والسلام کا قول ارشاد ہفتم میں گزرا کہ
حوالہ / References الدرالمنثور بحوالہ ابن سعد وام سلمہ وام ھانی وعائشہ وابن عباس تحت الآیۃ ۱۷ /۱ بیروت ۵ /۱۸۳،الخصائص الکبری باب خصوصیتہ صلی الله علیہ وسلم بالاسراء مرکز اہلسنت برکات رضا گجرات الہند ۱ /۱۷۹
الدرالمنثور بحوالہ البزار عن علی تحت الآیۃ ۱۷/۱داراحیاء التراث العربی بیروت۵ /۱۹۲،البحر الزخار(البزار)حدیث ۵۰۸مکتبۃ العلوم والحکم المدینۃ المنورہ ۲ /۱۴۶
الخصائص الکبرٰی بحوالہ ابن جریروابن مردویہ والبیہقی باب خصوصیتہ صلی الله علیہ وسلم بالاسراء ۱ /۱۵۵،الدرالمنثور بحوالہ ابن جریروابن مردویہ والبیہقی تحت الآیۃ ۱۷/ ۱داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ /۱۶۴
الدرالمنثور عن ابی سعید الخدری تحت الآیۃ ۱۷/ ۱ داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ /۱۷۰،الخصائص الکبرٰی بحوالہ عن ابی سعید الخدری باب خصوصیتہ صلی الله علیہ وسلم بالاسراء مرکز اہلسنت ۱ /۱۶۷
دلائل النبوۃ للبیہقی باب ماجاء فی تحت رسول الله الخ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۵ /۴۸۹،الشفاء بتعریف حقوق المصطفٰی الباب الثالث المطبعۃ الشرکۃ الصحافیۃ ۱ /۱۳۸
#18220 · رسالہ تجلی الیقین بانّ نبیّنا سید المرسلین ۱۳۰۵ھ (یقین کا اظہار اس بات کے ساتھ کہ ہمارے نبی صلی الله علیہ وسلم تمام رسولوں کے سردار ہیں)
محمد صلی الله تعالی علیہ وسلم سردار جملہ بنی آدم ہیں ۔
احادیث امامۃ الانبیاء
ان حدیثوں کو میں نے یہاں تك تاخیر کردی کہ حضور پرنور صلی الله تعالی علیہ وسلم نے شب معراج اپنا امام الانبیاء ہونا خود بیان فرمایااورجبریل امین علیہ الصلوۃ والسلام نے حضور کو امام کیااور جمیع انبیاء ومرسلین علیہم الصلوۃ والتسلیم نے اسے پسند رکھاتو ان حدیثوں کو ارشاد حضور والاا وارشادملائکہ وارشاد انبیاء سب سے نسبت ہے۔لہذا سب جلووں کے بعد ان کی تجلی مناسب ہوئی۔
ارشاد چہل وہفتم۴۷:شب اسری حضو رسید المرسلین صلی الله تعالی علیہ وسلم کا انبیائے کرام علیہ الصلوۃ والسلام کی امامت فرمانا حدیث ابو ہریرہ وحدیث انس وحدیث ابن عباس وحدیث ابن مسعودوحدیث ابی لیلی وحدیث ابو سعید وحدیث امم ہانی وحدیث ام المومنین صدیقہ وحدیث ام المومنین ام سلمہ رضی ا لله تعالی عنہم واثر کعب احبار رحمۃ الله تعالی علیہ سے مروی ہوا۔ (ابو ہریرہ)رضی الله تعالی عنہ سے صحیح مسلم میں ہے حضور سید المرسلین صلی الله تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:میں نے اپنے آپ کو جماعت انبیاء میں دیکھاموسی وعیسی وابراہیم علیہم الصلوۃ والتسلیم کو نماز پڑھتے پایا فحانت عــــــہ الصلوۃ فاممتھم پھر نماز کا وقت آیا میں نے امامت فرمائی۔(انس)رضی الله تعالی عنہ سے نسائی کی روایت میں ہے:
عــــــہ:عز ھذا المتن فی المواھب تصحیح مسلم من روایۃ عبدالله بن مسعود رضی الله تعالی عنہ ولم ارہ فیہ عنہ انما ھو عندہ من ابی ھریرۃ وعجب ان الرزقانی ایضا اقرہ فالله تعالی اعلم ۱۲منہ۔ اس متن کو مواہب میں بروایت عبدالله بن مسعود رضی الله تعالی عنہ صحیح مسلم کی طرف منسوب کیا ہے حالانکہ میں نے اس کو مسلم بروایت ابن مسعود نہیں دیکھا مسلم کے نزدیك تویہ بروایت ابو ہریرہ رضی الله عنہ ہے حیرت ہے کہ زرقانی نے بھی اس کو مقرر رکھاہے۔الله تعالی بہتر جانتاہے۱۲منہ(ت)۔
حوالہ / References مسند احمد بن حنبل عن ابی بکر الصدیق ۱/ ۵ و مسند ابی یعلٰی عن ابی بکر الصدیق رضی الله عنہ ۱/ ۵۹،موارد الظمآن حدیث ۲۵۸۹ ص۶۴۲و۶۴۳ و کنزالعمال حدیث ۳۹۷۵۰ ۱۴ /۶۲۸و۶۲۹
صحیح مسلم کتاب الایمان باب الاسراء برسول الله الخ قدیمی کتب خانہ کراچی۱ /۹۶
#18222 · رسالہ تجلی الیقین بانّ نبیّنا سید المرسلین ۱۳۰۵ھ (یقین کا اظہار اس بات کے ساتھ کہ ہمارے نبی صلی الله علیہ وسلم تمام رسولوں کے سردار ہیں)
جمع لی الانبیاء فقدمنی جبریل حین اممتھم ۔ میرے لئے انبیاء جمع کئے گئےجبریل نے مجھے آگے کیامیں نے امامت فرمائی۔
ابن ابی حاتم کی روایت میں ہے:
فلم البث الا یسیرا حتی اجتمع ناس کثیرثم اذن مؤذن واقیمت الصلوۃ فقمناصفوفا ننتظر من یؤمنا فاخذ بیدی جبریل فقدمنی فصلیت بھم فلما انصرفت قال جبریل یا محمد ! اتدری من صلی خلفك قلت لاقال صلی خلفك کل نبی بعثہ الله ۔ مجھے کچھ ہی دیر ہوئی تھی کہ بہت لوگ جمع ہوگئےموذن نے اذان کہی اورنماز برپا ہوئیہم سب صف باندھے منتظر تھے کہ کون امام ہوتا ہے۔جبریل نے میر اہاتھ پکڑ کرآگے کیا میں نے نماز پڑھائیسلام پھیراتو جبریل نے عرض کی: حضور نے جانا یہ کس کس نے آپ کے پیچھے نماز پڑھی فرمایا: نہ۔عرض کی:ہر نبی کہ خدانے بھیجا حضور کے پیچھے نماز میں تھا۔
طبرانی وبیہقی وابن جریر وابن مردویہ کی روایت موقوفہ میں ہے:
ثم بعث لہ ادم فمن دونہ من الانبیاء فامھم رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم ۔ حضور کے لیے آدم اوران کے بعد جتنے نبی ہوئے سب اٹھائے گئےحضور نے ان کی امامت فرمائیصلی الله تعالی علیہ وآلہ وسلم۔
(ابن عباس)رضی الله تعالی عنہما سے احمد وابو نعیم وابن مردویہ بسند صحیح راویجب حضور مسجد اقصی میں تشریف لائے نماز کو کھڑے ہوئے فاذا النبیون اجمعون یصلون معہ کیا دیکھتے ہیں کہ سارے انبیاء حضور کے ساتھ نماز میں ہیں۔
حوالہ / References سنن النسائی کتاب الصلٰوۃ فرض الصلوۃ الخ نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ۱ /۷۸
الدرالمنثور بحوالہ ابن ابی حاتم تحت الآیۃ ۱۷ /۱ داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ /۱۶۳،الخصائص الکبری باب خصوصیتہ صلی الله علیہ وسلم بالاسراء الخ مرکز اہلسنت برکات رضا گجرات الہند ۱ /۱۵۴
الخصائص الکبری باب خصوصیتہ صلی الله علیہ وسلم بالاسراء الخ مرکز اہلسنت برکات رضا گجرات الہند ۱ /۱۵۶،الدرالمنثور بحوالہ ابن جریر وابن مردویہ والبیہقی تحت الآیۃ ۱۷ /۱ داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ /۱۶۵
الدرالمنثور بحوالہ احمد وابی نعیم وابن مردویہ تحت الآیۃ ۱۷ /۱ داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ /۱۸۸،الخصائص الکبرٰی احمد و ابی نعیم وابن مردویہ با ب خصوصیتہ صلی الله علیہ وسلم بالاسراء مرکز اہلسنت ۱ /۱۵۹
#18224 · رسالہ تجلی الیقین بانّ نبیّنا سید المرسلین ۱۳۰۵ھ (یقین کا اظہار اس بات کے ساتھ کہ ہمارے نبی صلی الله علیہ وسلم تمام رسولوں کے سردار ہیں)
(ابن مسعود)رضی الله تعالی عنہ سے حسن بن عرفہ ابو نعیم وابن عساکر نے روایت کی:میں مسجد میں تشریف لے گیاانبیاء کو پہچاناکوئی قیام میں ہے کوئی رکوع میںکوئی سجود میںثم اقیمت الصلوۃ فاممتھم پھر نماز برپا ہوئی میں ان سب کا امام ہوا۔
(ابولیلی)رضی الله تعالی عنہ سے طبرانی وابن مردویہ راویحضور پر نور وجبریل امین صلی الله تعالی علیہما وسلم بیت المقدس پہنچے وہاں کچھ لوگ بیٹھے دیکھےانہوں نے کہا:مرحبا بالنبی الامی(نبی امی کو خوش آمدید۔ت)
اوران میں ایك پیر تشریف فرماتھےحضور نے پوچھا:جبریل ! یہ کون ہیں عرض کی:یہ حضو ر کے باپ ابراہیم اوریہ موسی و عیسی ہیںثم اقیمت الصلوۃ فتدافعوا حتی قدموا محمدا صلی الله تعالی علیہ وسلم پھر نماز قائم ہوئیامامت ایك نے دوسرے پر ڈالییہاں تك کہ سب نے مل کر محمد صلی الله تعالی علیہ وسلم کو امام کیا۔
(ابو سعید)رضی الله تعالی عنہ سے ابن اسحاق راویملاقات انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام ذکر کر کے کہتے ہیں:فصلی بھم ثم اتی باناء فیہ لبن حضو ر نے انہیں نماز پڑھائیپھر ایك برتن میں دودھ حاضر کیاگیاالحدیث ۔
(ام ہانی)رضی الله تعالی عنہا سے ابو یعلی وابن عساکر راوینشرلی رھط من الانبیاء فیھم ابراہیم وموسی وعیسی فصلیت بھم ۔ایك جماعت انبیاء جس میں ابراہیم وموسی وعیسی تھے میرے لئے اٹھائی گئیمیں نے انہیں نماز پڑھائی۔
حوالہ / References الدرالمنثور بحوالہ عرفہ وابی نعیم وابن مردویہ وابن عساکرتحت الآیۃ ۱۷ /۱ بیروت ۵ /۱۸۰،الخصائص الکبری بحوالہ ابن عرفہ وابی نعیم باب خصوصیتہ صلی الله علیہ وسلم بالاسراء الخ مرکز اہلسنت برکات رضا گجرات الہند ۱ /۱۶۲
الخصائص الکبری بحوالہ الطبرانی وابن مردویہ باب خصوصیتہ صلی الله علیہ وسلم بالاسراء الخ مرکز اہلسنت برکات رضاگجرات الہند ۱ /۱۷۱،الدر المنثور الطبرانی وابن مردویہ تحت الآیۃ ۱۷ /۱ داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ /۱۷۹
السیرۃ النبویۃ لابن ھشام ذکر الاسراء والمعراج دارالکتب العلمیۃ بیروت ۲۸۷
الدرالمنثور بحوالہ ابی یعلٰی وابن عساکر تحت الآیۃ ۱۷ /۱ داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ /۱۸۲،الخصائص الکبری بحوالہ ابی یعلٰی و ابن عساکر باب خصوصیتہ صلی الله علیہ وسلم بالاسراء الخ مرکز اہلسنت برکات رضاگجرات الہند ۱/ ۱۷۸
#18227 · رسالہ تجلی الیقین بانّ نبیّنا سید المرسلین ۱۳۰۵ھ (یقین کا اظہار اس بات کے ساتھ کہ ہمارے نبی صلی الله علیہ وسلم تمام رسولوں کے سردار ہیں)
امہات المومنین عــــــہ۱ وام اہانی وابن عباس رضی الله تعالی عنہم سے ابن سعد نے عــــــہ۲ نے
عــــــہ۱:یہ حدیث وہی ہے کہ زیر ارشاد چہل وچہارم گزری۔
عــــــہ۲: وقع فی الدرالمنثور للامام الجلیل الجلال السیوطی مانصہ اخرج ابن سعد وابن عساکر عن عبد الله بن عمر وام سلمۃ وعائشہ وام ھانی وابن عباس رضی الله تعالی عنہم الخ
اقول:نقل ابن عمر من خطاء النساخ وصوابہ ابن عمرو فان الامام قال فی الخصائص الکبری قال ابن سعد انا الواقدی حدثنی اسامۃ بن زید اللیثی عن عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ عن ام سلمۃ الخ وقال فی اخرہ اخرجہ ابن عساکر اھ۔ظھرت معہ فائدۃ اخر ی وھو ان ابن عمرو رضی الله تعالی عنہما انما یرویہ عن ام المؤمنین ام سلمۃ رضی الله تعالی عنہا فلایعد مفرزا عنہا و فائدۃ اخری عن ابن عساکر امام جلال الدین سیوطی کی درمنثور میں واقع ہے جس کی نص یہ ہے کہ اس کو روایت کیاہے ابن سعداورابن عساکر نے عبدالله بن عمرام سلمہعائشہام ہانی اورابن عباس سے رضی الله تعالی عنہم الخ۔
میں کہتاہوں کہ ابن عمر کو نقل کرنا کاتبوں کی غلطی ہے درست یہ ہے کہ وہ ابن عمرو ہیں کیونکہ امام نے خصائص کبری میں فرمایا ابن سعد نے کہا ہمیں واقدی نے خبر دی ہے مجھے حدیث بیان کی اسامہ بن زید لیثی نے عمرو بن شعیب سے انہوں نے ا پنے باپ سے انہوں نے اپنے داداسے انہوں نے ام سلمہ سے الخ اس کے آخر میں کہا کہ ابن عساکر نے اس کی تخریج کی اھ۔اس سے ایك اورفائدہ ظاہر ہواوہ یہ کہ ابن عمرو رضی الله تعالی عنہما نے اس کو ام المومنین سیدہ ام سلمہ رضی الله تعالی عنہاسے روایت کرتے ہیں لہذا اس کو ام سلمہ سے الگ حدیث شمار نہیں کیا جائے گا۔ایك اور فائدہ یہ کہ ابن عساکر (باقی برصفحہ آئندہ)
حوالہ / References الدر المنثور تحت الآیۃ ۱۷ /۱ داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ /۱۸۳
الخصائص الکبری باب خصوصیتہ صلی الله علیہ وسلم بالاسراء الخ مرکز اہلسنت برکات رضا گجرات الہند ۱ /۱۷۹
#18229 · رسالہ تجلی الیقین بانّ نبیّنا سید المرسلین ۱۳۰۵ھ (یقین کا اظہار اس بات کے ساتھ کہ ہمارے نبی صلی الله علیہ وسلم تمام رسولوں کے سردار ہیں)
روایت کی:
رأیت الانبیاء جمعوا لی فرأیت ابراہیم وموسی و عیسی فظننت انہ لابدلھم ان یکون لھم امام فقدمنی جبریل حتی صلیت بین ایدیھم ۔ میں نے ملاحظہ فرمایا کہ انبیاء میرے لئے جمع کئے گئےمیں نے ان میں خلیل وکلیم ومسیح کوبھی دیکھامیں سمجھا اس جماعت کا کوئی امام ضرور چاہیےجبریل نے مجھے آگے کیامیں نے ان کی امامت فرمائی۔
(کعب احبار)رحمۃ الله علیہ سے امام واسطی راوی:
فاذن جبریل ونزلت الملئکۃ من السماء وحشرالله لہ المرسلین فصلی النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم بالملئکۃ والمرسلین ۔ جبریل نے اذان کہیاورآسمان سے فرشتے اترے اور الله تعالی نے حضور کے لیے مرسلین جمع فرماکر بھیجے۔حضور نے ملائکہ ومرسلین کی امامت فرمائی۔
فائدہ:امامت ملائکہ کی دوسری حدیث ان شاء الله تعالی تابش چہارم میں آئے گی۔اورحدیث طویل ابی ہریرہ مذکورہ ارشاد چہلم میں ہے:
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
انما اخرجہ بسندہ عن ابن سعد فلا ظھر ان یقال اخرج ابن سعد من طریقہ ابن عساکر۔والله تعالی اعلم ۱۲ منہ۔ نے اپنی سند کے ساتھ ابن سعد سے اس کی تخریج کی۔چنانچہ زیادہ ظاہر یوں کہنا ہےکہ اس کی تخریج کی ابن سعد نےان کے طریق سے ابن عساکر نےاورالله تعالی خوب جانتاہے۔(ت)
حوالہ / References الدرالمنثوربحوالہ ابن سعد تحت الآیۃ ۱۷ /۱ داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ /۱۸۳،الخصائص الکبری بحوالہ ابن سعد باب خصوصیتہ صلی الله علیہ وسلم بالاسراء الخ مرکز اہلسنت برکات رضا گجرات الہند ۱ /۱۷۹
الدرالمنثور بحوالہ الواسطی تحت الآیۃ ۱۷ /۱ داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ /۱۹۹
#18231 · رسالہ تجلی الیقین بانّ نبیّنا سید المرسلین ۱۳۰۵ھ (یقین کا اظہار اس بات کے ساتھ کہ ہمارے نبی صلی الله علیہ وسلم تمام رسولوں کے سردار ہیں)
دخل فصلی مع الملئکۃ ۔
اور ابن مردویہ راوی عن ھشام بن عروۃ عن ابیہ عن عائشۃ قالت قال رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم لما اسری بی الی السماء اذن جبریل فظننت الملئکۃ انہ یصلی بھم فقدمنی فصلیت بالملئکۃ ۔ داخل ہوئے اورفرشتوں کے ساتھ نماز پڑھی۔(ت)
ابن مردویہ نے ہشام بن عروہ سے انہوں نے اپنے باپ سے انہوں نے ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی الله تعالی عنہ سے روایت کی کہ رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:شب معراج جب میں آسمان پر تشریف لے گیاجبریل نے اذان دیملائکہ سمجھے ہمیں جبریل نماز پڑھائیں گے۔ جبریل نے مجھے آگے کیامیں نے ملائکہ کی امامت فرمائی۔
تذییل
ارشاد چہل وہشم۴۸:اسی میں منقول شفا شریف میں حدیث نقل فرمائی:
اطمع ان اکون اعظم الانبیاء اجرا یوم القیامۃ ۔ میں طمع کرتاہوں کہ قیامت میں میرا ثواب سب انبیاء سے زیادہ ہو۔
ارشاد چہل ونہم ۴۹:اسی میں منقول:
اما ترضون ان یکون ابراھیم وعیسی کلمۃ الله فیکم یوم القیامۃ ثم قال انھما فی امتی یوم القیمۃ ۔ کیا تم راضی نہیں کہ ابراہیم خلیل الله وعیسی کلمۃ الله روز قیامت تم میں شمار کئے جائیں۔پھر فرمایا:وہ دونوں روز قیامت میری امت ہوں گے۔
حوالہ / References الدرالمنثوربحوالہ عن ابی ھریرۃ تحت الآیۃ ۱۷ /۱ داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ /۱۷۵،الخصائص الکبری باب خصوصیتہ صلی الله علیہ وسلم بالاسراء الخ مرکز اہلسنت برکات رضا گجرات الہند ۱ /۱۷۲
الخصائص الکبری بحوالہ ابن مردویہ باب خصوصیتہ صلی الله علیہ وسلم بالاسراء الخ مرکز اہلسنت برکات رضاگجرات الہند ۱/ ۱۷۶، الدرالمنثوربحوالہ ابن مردویہ تحت الآیۃ ۱۷ /۱ داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ /۱۹۳
الشفاء بتعریف حقوق المصطفٰی فصل فی تفضیلہ صلی الله علیہ وسلم فی القٰیمۃ المطبعۃ الشرکۃ الصحافیۃ ۱ /۱۶۹
الشفاء بتعریف حقوق المصطفٰی فصل فی تفضیلہ صلی الله علیہ وسلم فی القٰیمۃ المطبعۃ الشرکۃ الصحافیۃ ۱ /۱۶۹
#18233 · رسالہ تجلی الیقین بانّ نبیّنا سید المرسلین ۱۳۰۵ھ (یقین کا اظہار اس بات کے ساتھ کہ ہمارے نبی صلی الله علیہ وسلم تمام رسولوں کے سردار ہیں)
ارشاد پنجاہم۵۰:افضل القری میں فتاوی امام شیخ الاسلام سراج بلقینی سے ہے جبریل علیہ الصلوۃ والسلام نے حضور سے عرض کی:
ابشر فانك خیر خلقہ وصفوتہ من البشر حباك الله بما لم یحب بہ احد من خلقہ لاملکا مقربا ولانبیا مرسلا الحدیث ۔ مژدہ ہوکہ حضور بہترین خلق خدا ہیںاس نے تما م آدمیوں میں سے حضور کو چن لیااور وہ دیا کہ سارے جہان میں سے کسی کو نہ دیانہ کسی مقرب فرشتہ کونہ کسی مرسل نبی کو۔
ارشاد پنجاہ ویکم۵۱:علامہ شمس الدین ابن الجوزی اپنے رسالہ میلا د میں ناقلحضور سید المرسلین صلی ا لله تعالی علیہ وسلم نے حضرت جناب مولی المسلمین علی مرتضی کرم الله تعالی وجہہ الکریم سے فرمایا:
یا ابا الحسن ان محمدا رسول رب العلمین وخاتم النبیین وقائد الغرالمحجلین سید جمیع الانبیاء والمرسلین الذی تنبأ وادم بین الماء والطین رؤف بالمؤمنین شفیع المذنبین ارسلہ الله الی کافۃ الخلق اجمعین ۔ اے ابوالحسن !بیشك محمد صلی الله تعالی علیہ وسلم رب العالمین کے رسول ہیںاورپیغمبروں کے خاتماورروشن رواورروشن دست وپاوالوں کے پیشواتمام انبیاء ومرسلین کے سردار نبی ہوئے جبکہ آدم(علیہ الصلوۃ والسلام)آب وگل میں تھے۔ مسلمانوں پر نہایت مہربانگنہگاروں کے شفیعالله تعالی نے انہیں تمام عالم کی طرف بھیجا۔
ارشاد پنجاہ ودوم۵۲:بعض احادیث میں مذکور ہے:
لی مع الله وقت لایسعنی فیہ ملك ولا نبی مرسل۔ ذکرہ الشیخ فی مدارج النبوۃ ۔ میر ے لئے خدا کے ساتھ ایك ایسا وقت ہے جس میں کسی مقرب فرشتے یا مرسل نبی کی گنجائش نہیں(اس کو شیخ نے مدارج النبوۃ میں ذکر فرمایا ہے۔ت)
حوالہ / References افضل القری لقراء ام القرٰی تحت الشعر ۱ المجمع الثقافی ابو ظہبی ۱ /۱۲۱
بیان المیلاد النبوی(اردو)ادارہ معارف نعمانیہ لاہور ص ۱۰ و ۱۱
الاسرار الموضوعۃ حدیث ۷۶۴دارالکتب العلمیۃ بیروت ص۱۹۷،کشف الخفاء حدیث ۲۱۵۷دارالکتب العلمیۃ بیروت ۲ /۱۵۶
#18245 · رسالہ تجلی الیقین بانّ نبیّنا سید المرسلین ۱۳۰۵ھ (یقین کا اظہار اس بات کے ساتھ کہ ہمارے نبی صلی الله علیہ وسلم تمام رسولوں کے سردار ہیں)
ارشاد پنجاہ وسوم۵۳:مولانا فاضل علی قاری شرح شفامیں علامہ تلمسانی سے ناقلابن عباس رضی الله تعالی عنہما نے روایت کی حضور سید المرسلین صلی الله تعالی علیہ وسلم نے فرمایا جبریل نے آکر مجھے یوں سلام کیا:
السلام علیك یا اولالسلام علیك یااخرالسلام علیك یا ظاھرالسلام علیك یا باطن۔ اے اول آپ پر سلاماے آخر آپ پر سلاماے ظاہر آپ پر سلاماے باطن آپ پر سلام۔(ت)
میں نے کہا:اے جبریل !یہ تو خالق کی صفتیں ہیں مخلوق کو کیونکر مل سکتی ہیں عرض کی:میں نے خداکے حکم سے حضو رکو کیوں سلام کیا ہے اس نے حضور کو ان صفتوں سے فضیلت اورتمام انبیاء ومرسلین پر خصوصیت بخشی ہےاپنے نام وصفت سے حضور کے لئے نام وصفت مشتق فرمائے ہیں۔حضور اول نام رکھاہے کہ حضور سب انبیاء سے آفرینش میں مقدم ہیں۔اور آخر اس لئے کہ ظہورمیں سب سے مؤخر۔اورآخر امم کی طرف خاتم الانبیاء ہیں اورباطن اس لئے کہ الله تعالی نے حضور کے باپ آدم(علیہ الصلوۃ والسلام)کی پیدائش سے دو ہزار برس پہلے ساق عرش پر سرخ نور سے اپنے نام کے ساتھ حضور کا نام لکھا اور مجھے حضور پر درود بھیجنے کا حکم دیا۔میں نے ہزار سال حضور پر درودبھیجا یہاں تك کہ حق جل وعلانے حضور کو مبعوث کیا۔ خوشخبری دیتے اور ڈر سناتے۔اورالله تعالی کی طرف سے اس کے حکم سے بلاتے اورچراغ تاباں۔اورظاہر اس لئے حضور کانام رکھا کہ اس نے اس زمانہ میں حضور کو تمام ادیان پر غلبہ دیااور حضور کا شرف وفضل سب آسمان وزمین پر آشکار اکیاتو ان میں کوئی ایسا نہیں جس نے حضور پر درود نہ بھیجاالله تعالی حضور پر درود بھیجےحضور کا رب محمود ہے اور حضور محمد۔اورحضو رکا رب اول وآخر وظاہر وباطن ہے اورحضور اول وآخر وظاہر وباطن ہیں۔یہ عظیم بشارت سن کر حضور سید المرسلین صلی الله تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:
الحمدلله الذی فضلنی علی جمیع النبیین حتی فی اسمی وصفتی ھکذانقل وقال روی التلمسانی عن ابن عباس وظاہرہ انہ حمد اس خد ا کو جس نے مجھے تمام انبیاء پر فضیلت دی یہاں تك کہ میرے نام اور صفت ہیں۔یوں ہی نقل کیا ہے اورکہا کہ تلمسانی نے ابن عباس رضی الله تعالی عنہما سے روایت کی ہے اور اس کا
حوالہ / References شرح الشفاء للملاعلی القاری فصل فی تشریف الله تعالٰی بما سماہ الخ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۱ /۵۱۵
#18246 · رسالہ تجلی الیقین بانّ نبیّنا سید المرسلین ۱۳۰۵ھ (یقین کا اظہار اس بات کے ساتھ کہ ہمارے نبی صلی الله علیہ وسلم تمام رسولوں کے سردار ہیں)
خرجہ بسندہ الی ابن عباس فان ذلك ھو الذی یدل علیہ روی کما فی الزرقانیوالله سبحانہ تعالی اعلم۔ ظاہر یہ ہے کہ تلمسانی نے ابن عباس تك اپنی سند کے ساتھ اس کی تخریج کی کیونکہ اس پر لفظ ''روی ''دلالت کرتاہے جیسا کہ زرقانی میں ہےاورالله سبحانہ تعالی خوب جانتاہے۔ (ت)
تابش سوم طرق وروایات وحدیث خصائص
حدیث خصائص وہ حدیث ہے جس میں حضو ر سید عالم صلی الله تعالی علیہ وسلم نے اپنے خصائص جمیلہ ارشاد فرمائے جو کسی نبی و رسول نے نہ پائے۔اورانکی وجہ سے اپنا تمام انبیاء الله پرتفضیل فرمانا ذکر فرمایا۔یہ روایت متواتر المعنی ہے۔امام قاضی عیاض نے شفا شریف میں اسے پانچ صحابہ کی روایت سے آنا بیان فرمایا:ابوذرابن عمرابن عباسابوہریرہجابر رضی الله تعالی عنہم۔ پھر حدیث کے چار پانچ متفرق جملے نقل کئے۔علامہ قسطلانی نے مواہب لدنیہ میں فتح الباری شرح صحیح بخاری امام علامہ ابن حجر عسقلانی سے اخذ کر کے اس پر کلام لکھا جس میں احادیث حذیفہ وعلی مرتضی رضی الله تعالی عنہما کی طرف بھی اشارہ واقع ہوامگر سواحدیث جابر وابوہریرہ کے کہ صحیحین میں وارد ہے کوئی روایت پوری نقل نہ کی۔فقیر غفرالله تعالی لہ نے کتب کثیرہ کے مواضع متفرقہ قریبہ وبعیدہ سے اس کے طرق وروایات وشواہد ومتابعات کو جمع کیا۔تو اس وقت کی نظر میں اسے چودہ۱۴ صحابی کی روایت سے پایا:ابوہریرہحذیفہابو درداءابوامامہسائب بن یزیدجابر بن عبداللهعبدالله بن عمروابوذرابن عباسابو موسی اشعریابو سعید خدریمولاعلیعوف بن مالکعبادہ بن صامت رضی الله تعالی عنہم اجمعین۔ان میں ہر ایك کی حدیث اس وقت کا ملا میرے پیش نظر ہے۔امام خاتم الحفاظ علامہ ابن حجر عسقلانی پھر امام علامہ احمد قسطلانی نے چھ طرق مختلفہ کی تطبیق سے ان خصائص ونفائس کا عدد جو ان حدیثوں میں متفرقا وارد ہوئے سولہ عــــــہ سترہ تك
عــــــہ:وجہ التردد ان الامام نص علی انہ ینتظم بھا ای بھذہ الاحادیث سبع عشرۃ تردد کی وجہ یہ ہے کہ امام قسطلانی نے نص فرمائی ہے کہ ان احادیث سے سترہ خصلتیں حاصل ہوتی ہیں۔الخ لیکن ان کی حدیث بزار (باقی برصفحہ آئندہ)
#18251 · رسالہ تجلی الیقین بانّ نبیّنا سید المرسلین ۱۳۰۵ھ (یقین کا اظہار اس بات کے ساتھ کہ ہمارے نبی صلی الله علیہ وسلم تمام رسولوں کے سردار ہیں)
پہنچایا۔فقیر غفرالله لہ نے ان کے کلام پر اطلاع سے پہلے مبلغ شمار تیس۳۰ تك پایا والحمدلله رب
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
خصلۃ اھ لکن فیھا حدیث البزار عن ابن عباس فضلت علی الانبیاء بخصلتین کان شیطانی کافرا فعاننی الله علیہ فاسلم وقال ونسیت الاخری وقد کان العدد قبل ذلك خمسۃ عشر فالحافظ ضم الخصلتین وجعلھا سبع عشرۃ وعندی فی عد المنسیۃ خصلۃ بحیالھا تامل ظاھر لجواز ان تکون بعض ماعدت وقول الزرقانی ھی مبنیۃ فی روایۃ البیھقی فی الدلائل عن ابن عمر ومرفوعا فضلت علی ادم بخصلتین کان شیطانی کافرافاعاننی الله علیہ حتی اسلم وکان ازواجی عونا لی کان شیطان بروایت ابن عباس رضی الله تعالی عنہمامیں ہے کہ مجھے انبیاء پر دو خصلتوں سے فضیلت دی گئی۔میرا شیطان کافر تھا الله تعالی نے اس پر میری مدد فرمائی تو وہ مسلمان ہوگیااورکہا کہ دوسری کو میں بھول گیاہوں۔اس سے پہلے تعداد پندرہ تھی پھر حافظ نے دو خصلتیں انکے ساتھ ملا کر انہیں سترہ بنا دیا۔ میرے نزدیك بھولی ہوئی خصلت کو الگ خصلت شمارکرنے میں تامل ظاہرہےاس لئے کہ ممکن ہے وہ انہی خصلتوں میں سے ایك ہوجن کا پہلے شمار کیا جاچکا ہے۔اورزرقانی کا قول کہ وہ خصلتیں دلائل النبوۃ میں بیہقی کی اس روایت میں بیان ہوئی ہیں جو ابن عمر رضی الله تعالی عنہما سے مرفوعا مروی ہے کہ مجھے آدم پر دو خصلتوں سے فضیلت دی گئی۔میرا شیطان کافر تھا تو الله تعالی نے میری اس پر مدد فرمائی یہاں تك کہ وہ مسلمان ہوگیا اور میری بیویاں (باقی برصفحہ آئندہ)
حوالہ / References المواھب اللدنیۃ المقصد الرابع الفصل الثانی المکتب الاسلامی بیروت ۲ /۵۹۶
المواھب اللدنیۃ المقصد الرابع الفصل الثانی المکتب الاسلامی بیروت۲ /۵۹۶
#18252 · رسالہ تجلی الیقین بانّ نبیّنا سید المرسلین ۱۳۰۵ھ (یقین کا اظہار اس بات کے ساتھ کہ ہمارے نبی صلی الله علیہ وسلم تمام رسولوں کے سردار ہیں)
العلمین۔یہ بھی انہی دو اماموں کے اس فرمانے کی تصدیق ہے کہ بغور کامل تتبع احادیث کرے۔ممکن ہے کہ اس سے زائد پائے۔حالانکہ فقیر کو نہ اس وقت کمال تفحص کی فرصتنہ مجھ جیسے کوتاہ دست قاصر النظر کی ناقص تلاش میں داخل۔اگر کوئی عالم وسیع الاطلاع استقرار پر آئے تو عجب نہیں کہ عدد طرق وشمار خصائص اس سے بھی بڑھ جائے۔قصد کرتاہوں کہ ان شاء الله العزیز اس رسالہ اوراس کے بعد ان مسائل کثیرہ عــــــہ۱ کے جواب سے جو حیدرآباد عــــــہ۲ وبنگلور عــــــہ۳ و
(بقیہ صفحہ حاشیہ گزشتہ)
ادم کافرا وکانت زوجتہ عونا علیہ ۔
اقول:لایعری عن بحث لان الکلام ھھنا فی التفضیل علی ادم وثم فی التفضیل علی الانبیاء طرا واختصاصہ صلی الله تعالی علیہ وسلم باعانۃ الازواج من بین الانبیاء قاطبۃ یحتاج الی ثبوتوبالجملۃ لایلزم من ھذا ان نکون المنسیۃ ھو ھذہ واذا لم یتبین الامرجاز ان تکون احدی ما مرت فلا یحسن عدھا مفرزۃ۔والله تعالی اعلم۔

عــــــہ۱:یعنی بست وہفتم مسئلہ چاردہ از حیدرآباد وچاراز خیر آباد وپنج ازیں شہر ویك از بدایوں وباقی از باقی ۱۲منہ۔ میری معاون ہیں جبکہ آدم علیہ السلام کا شیطان کافر تھا اوران کی بیوی ان کے مخالف تھی۔
میں کہتا ہوں یہ بحث سے خالی نہیں کہ یہاں کلام آدم علیہ السلام پر افضلیت کے بارے میں ہے جبکہ وہاں تمام انبیاء پر افضلیت کے بارے میں۔اورنبی اقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم کا اعانت ازواج کے ساتھ تمام انبیاء کے درمیان اختصاص محتاج ثبوت ہے۔خلاصہ یہ کہ اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ بھول جانے والی خصلت یہی ہے۔ اورجب معاملہ ظاہر نہ ہوا تو ممکن ہے کہ وہ خصلت گزشتہ خصلتوں میں سے ہی ایك ہوچنانچہ اس کوالگ خصلت شمار کرنا مستحسن نہیں ہے۔ اورالله تعالی خوب جانتا ہے۔۱۲منہ(ت)
یعنی ستائیس مسئلے چودہ حیدرآبادچار خیر آبادپانچ اسی شہر اورایك بدایوں سے جبکہ باقی باقی شہروں سے ۱۲منہ(ت)
عــــــہ۲:مرسلہ مولوی عبدالعزیز صاحب قادری از پربھلے ضلع حیدرآباد۔
عــــــہ۳:مرسلہ مولوی سید فخر الدین صاحب واعظ صوفی از ڈاکمنڈنیلگری ۱۲ منہ۔
حوالہ / References شرح الزرقانی علی المواھب اللدنیۃ المقصد الرابع الفصل الثانی دارالمعرفۃ بیروت ۵ /۲۰۶
#18259 · رسالہ تجلی الیقین بانّ نبیّنا سید المرسلین ۱۳۰۵ھ (یقین کا اظہار اس بات کے ساتھ کہ ہمارے نبی صلی الله علیہ وسلم تمام رسولوں کے سردار ہیں)
پنجاب وسلطان پوروخیر آبادوغیرہا بلاد اورخاص شہر کے آئے ہوئے ہیںاوراس مسئلہ مونگیری کیو جہ سے برعایت الاقدام فالاقدام ان کے جواب تعویق میں پڑے ہیں بحول الله تعالی فراغ پاکر اس حدیث کے جمع طرق میں ایك رسالہ بنام البحث الفاحص عن طرق حدیث الخصائص لکھوںاوراس میں ہر طریق وروایت کو مفصل جداگانہ نقل کر کے خصائص حاصلہ پر قدرے کلام کروںوبالله التوفیق لارب غیرہ(اورالله کی توفیق ہے اس کے سواکوئی پروردگار نہیں۔ت)۔
یہاں بخوف تطویل صرف صدر احادیث کی طرف اشارہ کرتاہوں جن میں ارشاد ہوا کہ مجھے سب انبیاء پر ان وجوہ پر تفضیل ملیمجھے وہ خوبیاں عطاہوئیں جو کسی نے نہ پائیں۔کہ اس رسالہ کا مقصود اتنے ہی پارہ سے حاصل۔ولله الحمد۔ابوہریرہ رضی الله تعالی عنہ سے مسلم اور اس کے قریب بزار نے بسند جیداورابن جریر وابن ابی حاتم وابن مردویہ وبزار وابویعلی وبیہقی نے حدیث معراج میں روایت کیطریق اول میں ہے:فضلت علی الانبیاء بست ۔میں چھ وجہ سے سب انبیاء پر تفضیل دیا گیا۔
دوم میں اس قدر اورزائد:لم یعطھا کان قبلی ۔مجھ سے پہلے وہ فضائل کسی کو نہ ملے۔
سوم میں ہے:فضلنی ربی بست ۔مجھے میرے رب نے چھ۶ باتوں سے تفضیل دی۔
حذیفہ رضی الله تعالی عنہ سے احمدمسلمنسائیابن ابی شیبہابن خزیمہبیہقیابو نعیم راوی:فضلنا علی الناس بثلث ۔ہمیں تین۳ وجہ سے تمام لوگوں پر فضیلت ہوئی۔
حوالہ / References صحیح مسلم کتاب المساجد ومواضع الصلٰوۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۹۹،الخصائص الکبرٰی بحوالہ البزار عن ابی ھریرۃ باب اختصاصہ صلی الله علیہ وسلم بشرح الصدر مرکز اہلسنت ۲ /۱۹۶
الخصائص الکبرٰی بحوالہ البزار عن ابی ھریرۃ باب اختصاصہ صلی الله علیہ وسلم بشرح الصدر مرکز اہلسنت ۲ /۱۹۶
الخصائص الکبرٰی بحوالہ البزار عن ابی ھریرۃ باب اختصاصہ صلی الله علیہ وسلم بشرح الصدر مرکز اہلسنت ۲ /۱۹۶
صحیح مسلم کتاب المساجد ومواضع الصلٰوۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۹۹،کنزا لعمال بحوالہ ط وحم ون وابن خزیمۃ حدیث ۳۱۹۱۲ و ۳۲۰۷۵ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۱/ ۴۰۹و۴۴۱،المصنف لابن ابی شیبۃ کتاب الفضائل حدیث ۳۱۶۴۰ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۶ /۳۰۸، صحیح ابن خزیمۃ جماع ابواب التیمم حدیث ۲۶۴المکتب الاسلامی بیروت ۱ /۱۳۳،دلائل النبوۃ للبیہقی باب ماجاء فی تحدث رسول الله صلی الله علیہ وسلم بنعمۃ ربہ دارالکتب العلمیہ بیروت ۵ /۴۷۵
#18261 · رسالہ تجلی الیقین بانّ نبیّنا سید المرسلین ۱۳۰۵ھ (یقین کا اظہار اس بات کے ساتھ کہ ہمارے نبی صلی الله علیہ وسلم تمام رسولوں کے سردار ہیں)
ابو درداء سے طبرانی کبیر میں راوی:فضلت باربع میں نے چار وجہ سے فضیلت پائی۔ابو امامہ کی حدیث بھی انہیں لفظوں سے شروع ہے:اخرجہ احمد والبیہقی احمد وبیہقی نے اس کی تخریج کی ہے۔ت)سائب بن یزید:
فضلت علی الانبیاء بخمس۔رواہ الطبرانی ۔ میں پانچ وجہ سے انبیاء پر فضیلت دیاگیا۔(اس کو طبرانی نے روایت کیا ہے۔ت)
جابر بن عبدالله:
اعطیت خمسا لم یعطھن احدقبلی۔رواہ البخاری و مسلم والنسائی ۔ میں پانچ چیزیں دیا گیا کہ مجھ سے پہلے کسی کو نہ ملیں(اس کو بخاریمسلم اورنسائی نے روایت کیا ہے۔ت)
عبدالله بن عمرو بن العاص:
عند احمد والبزار والبیہقی باسناد صحیح۔ احمدبزار اوربیہقی کے نزدیك صحیح اسناد کے ساتھ۔(ت)
ابو ذراحمددارمیابن ابی شیبہابو یعلیابو نعیمبیہقیبزار باسناد جیدابن عباس احمد والبخاری فی التاریخ والطبرانی والثلثۃ الاخری فی حدیث بسند حسن(احمد اور بخاری نے تاریخ میں اورطبرانی اورتین دوسرے ایك حدیث میں سند حسن کے ساتھ۔ت)
حوالہ / References کنزالعمال بحوالہ طب عن ابی الدرداء حدیث ۳۱۹۴۶ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۱ /۴۱۴
مسند احمد بن حنبل عن ابی امامۃ الباھلی المکتب الاسلامی بیروت ۵ /۶۵۶،کنزالعمال بحوالہ ھق عن ابی امامۃ الباھلی حدیث ۳۱۹۳مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۱ /۴۱۳
المعجم الکبیر عن سائب بن یزید عن ابی امامۃ الباھلی حدیث ۶۶۷۳ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۷ /۱۵۵
صحیح البخاری کتاب التیمم وقولہ تعالٰی فلم تجد واما ء الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۴۸،صحیح مسلم کتاب المساجد ومواضع الصلٰوۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۹۹،سنن النسائی کتاب الغسل والتیمم باب التیمم بالصعید نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ۱ /۷۳
#18263 · رسالہ تجلی الیقین بانّ نبیّنا سید المرسلین ۱۳۰۵ھ (یقین کا اظہار اس بات کے ساتھ کہ ہمارے نبی صلی الله علیہ وسلم تمام رسولوں کے سردار ہیں)
ابو موسی احمد وابن ابی شیبۃ والطبرانی باسناد حسن(احمدابن ابی شیبہ اور طبرانی سند حسن کے ساتھ۔ت)
ابو سعید الطبرانی فی الاوسط بسند حسن(طبرانی اوسط میں سند حسن کے ساتھ۔ت)
مولی علی عند البزار وابی نعیم(بزار اورابو نعیم کے نزدیك۔ت)ان چھ۶ روایات میں بھی پانچ ہی چیزیں ذکر فرمائیں کہ حضور صلی الله علیہ وسلم سے پہلے کسی نے نہ پائیں۔اول وثانی میں احد قبلی ہے۔ثالث میں الانبیاء۔اور زائد باقیوں میں نبی قبلی ہے۔اور حاصل سب عبارتوں کا واحد۔اور مولی علی کرم الله تعالی وجہہ سے طریق دوم میں بے تعین عدد ہے:
اعطیت مالم یعط احد من الانبیاء مجھے وہ ملا جو کسی نبی نے نہ پایا۔
حوالہ / References مسند احمد بن حنبل عن عبد الله بن عمرو بن العاص المکتب الاسلامی بیروت ۲/ ۲۲۲
مسند احمد بن حنبل عن ابی ذر رضی الله تعالی عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۵ /۱۶۱،الترغیب والترھیب فصل فی الشفاعۃ وغیرہا مصطفی البابی مصر ۴ /۴۳۳،کنز العمال بحوالہ الدارمی وغیرہ حدیث ۳۲۰۶۱ مؤسسۃ الرسالۃ بیروت ۱۱ /۴۳۸،اتحاف السادۃ المتقین بحوالہ ابی یعلی وغیرہ صفۃ الشفاعۃ دار الفکر بیروت ۱۰ /۴۸۸،المصنف لابن ابی شیبہ کتاب الفضائل حدیث ۳۱۶۴۱ دار الکتب العلمیۃ بیروت ۶ /۳۰۸
التاریخ الکبیر ترجمہ ۲۱۵۲ سالم ابو حماد دار البازمکہ المکرمہ ۴ /۱۱۴،الخصائص الکبری عن ابی ذر باب اختصاصہ صلی الله تعالی علیہ وسلم بالمقام المحمود مرکز اہلسنت ہند ۲ /۲۲۳
#18266 · رسالہ تجلی الیقین بانّ نبیّنا سید المرسلین ۱۳۰۵ھ (یقین کا اظہار اس بات کے ساتھ کہ ہمارے نبی صلی الله علیہ وسلم تمام رسولوں کے سردار ہیں)
اخرجہ ابن ابی شیبۃ ۔ (ابن ابی شیبہ نے اس کی تخریج کی۔ت)۔
طریق سوم میں ہے:
اعطیت اربعا لم یعطھن احد من انبیاء الله تعالی قبلی اخرجہ احمد والبیھقی بسند حسن۔ مجھے چار چیزیں عطا ہوئیں کہ مجھ سے پہلے کسی نبی الله کو نہ ملیں۔(احمد و بیہقی نےسند حسن کےساتھ اس کی تخریج کی ہے۔ ت)
ابن عباس رضی الله عنہما سے طریق دوم میں ہے:
فضلت علی الانبیاء بخصلتین۔اخرجہ البزار ۔ میں دو باتوں سے تمام انبیاء پر فضیلت دیا گیا۔(بزار نے اس کی تخریج کی ہے۔ت)
عوف بن مالك کی حدیث میں بھی پانچ ہیں۔مگر یوں کہ:
اعطینا اربعالم یعطھن احدکان قبلنا وسألت ربی الخامسۃ فاعطانیھا (وھی ماھی)۔ ہمیں چار فضیلتیں ملیں کہ ہم سے پہلے کسی کو نہ دی گئیں۔ اور میں نے اپنے رب سے پانچویں مانگی اس نے وہ بھی مجھے عطافرمائیاوروہ تو وہی ہےیعنی اس پانچویں خوبی کا کہنا ہی کیا ہے۔
پھر چار بیان فرما کر وہ نفیس پانچویں یوں ارشاد فرمائی:
سألت ربی ان لایلقاہ عبدمن امتی یوحدہ الا ادخلہ الجنۃ۔اخرجہ ابویعلی ۔ میں نے اپنے رب سے مانگا میری امت کا کوئی بندہ اس کی توحید کرتا ہوا اس سے نہ ملے مگر یہ کہ اس کو داخل بہشت فرمائے ابویعلی نے اس کی تخریج کی ہے۔ت)
حوالہ / References المصنف لابن ابی شیبۃ کتاب الفضائل حدیث ۳۱۶۳۷ دار الکتب العلمیۃ بیروت ۶ /۳۰۸
مسند احمد حنبل عن علی رضی الله عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۱ /۱۵۸
المواہب اللدنیۃ بحوالہ البزار عن ابن عباس المقصد الرابع الفصل الثانی المکتب الاسلامی بیروت ۲ /۲۹۶
الاحسان بترتیب صحیح ابن حبان عن عوف بن مالك حدیث ۶۳۶۵ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۹ /۱۰۴
الاحسان بترتیب صحیح ابن حبان عن عوف بن مالك بحوالہ ابی یعلی حدیث ۶۳۶۵مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۹ /۱۰۴
#18267 · رسالہ تجلی الیقین بانّ نبیّنا سید المرسلین ۱۳۰۵ھ (یقین کا اظہار اس بات کے ساتھ کہ ہمارے نبی صلی الله علیہ وسلم تمام رسولوں کے سردار ہیں)
عبادہ بن صامت کی روایت میں ہے:
ان النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم خرج فقال ان جبریل اتانی فقال اخرج فحدث بنعمۃ الله التی انعم بھا علیك فبشرنی بعشرلم یؤتھا نبی قبلی۔ اخرجہ ابن ابی حاتم وعثمان بن سعید الدارمی فی کتاب الرد علی الجھمیۃ وابو نعیم۔ جبریل نے میرے پاس حاضر ہوکر عرض کی:باہر جلوہ فرما کر الله تعالی کے وہ احسان جو حضور پر کئے ہیں بیان فرمائیے۔پھر مجھے دس فضیلتوں کا مژدہ دیا کہ مجھ سے پہلے کسی نے نہ پائیں۔(ابن ابی حاتم اورعثمان بن سعید دارمی نے کتاب الرد علی الجہمیہ میں اورابو نعیم نے اس کی تخریج کی ہے۔ت)
ان روایات ہی سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ اعداد مذکورہ میں حصر مراد نہیںکہیں دو فرماتے ہیںکہیں تینکہیں چارکہیں پانچکہیں چھکہیں دس عــــــہ۱اورحقیقۃ سو اوردو سو پر بھی انتہا نہیں۔امام علامہ جلال الدین سیوطی قدس سرہ عــــــہ۲ نے خصائص کبری میں اڑھائی سو کے قریب حضور صلی الله تعالی علیہ وسلم کے خصائص جمع کئے۔اوریہ صرف ان کا علم تھاان سے زیادہ علم والے زیادہ جانتے تھے۔اورعلمائے ظاہر سے علمائے باطن کو زیادہ معلوم ہے۔پھر تمام علوم عالم اعظم حضور سید عالم صلی الله تعالی علیہ وسلم سے ہزاروں منزل ادھر منقطع ہیں۔ جس قدر حضور اپنے فضائل وخصائص جانتے ہیں دوسرا کیا جانے گااور حضور صلی الله تعالی علیہ وسلم سے زیادہ علم والا ان کا مالك ومولی جل وعلا" و ان الی ربک المنتہی ﴿۴۲﴾" (بیشك تمہارے رب ہی کی طر ف منتہی ہے۔ت)
عــــــہ۱:عجائب لطائف سے ہے کہ فقیر کے پاس ان احادیث سے تیس۳۰ خاصے جمع ہوئے کما مر(جیسا کہ گزرا۔ت)اوردو سے دس تك جو اعداد حدیثوں میں آئے انہیں جمع کئے تو تیس۳۰ ہی آتے ہیں ۱۲منہ۔
عــــــہ۲:حضرت والا قدس سرہ الماجد نے بھی النقاوۃ النقویۃ فی الخصائص النبویۃ میں ایك جملہ صالحہ ذکر فرمایا۔جزا الله علماء الامۃ خیر جزاء امین ۱۲ منہ(الله تعالی علمائے امت کو بہترین جزاء عطافرمائے۔آمین۔ت)
حوالہ / References الخصائص الکبرٰی باب اختصاصہ صلی الله تعالٰی علیہ وسلم الخ مرکز اہلسنت گجرات الہند ۲ /۱۸۸
القرآن الکریم ۵۳ /۴۲
#18269 · رسالہ تجلی الیقین بانّ نبیّنا سید المرسلین ۱۳۰۵ھ (یقین کا اظہار اس بات کے ساتھ کہ ہمارے نبی صلی الله علیہ وسلم تمام رسولوں کے سردار ہیں)
جس نے انہیں ہزاروں فضائل عالیہ وجلائل غالیہ دئیےاوربے حد وبے شمار ابدالآباد کے لیے رکھے" و للاخرۃ خیر لک من الاولی ﴿۴﴾" (اوربیشك پچھلی گھڑی آپ کے لیے پہلی سے بہتر ہے۔ت)۔اسی لئے حدیث میں ہے حضور سید المرسلین صلی الله تعالی علیہ وسلم جناب صدیق اکبر رضی الله تعالی عنہ فرماتے ہیں:
یا ابابکر لم یعلمنی حقیقۃ غیر ربی۔ذکرہ العلامۃ الفاسی فی مطالع المسرات ۔ ابے ابوبکر! مجھے ٹھیك ٹھاك جیسا میں ہوں میرے رب کے سوا کسی نے نہ پہچانا(اس کو علامہ فاسی نے مطالع المسرات میں ذکر فرمایا ہے۔ت)
ترا چناں کہ توئی دیدہ کجا بیند بقدر بینش خود ہر کسے کند ادراک
(تجھے جیسا کہ تو ہے کوئی آنکھ کیسے دیکھ سکتی ہےہر کوئی اپنی بینائی کے مطابق ادراك کرتاہے۔ت)
صلی الله تعالی علیك وعلی الك واصحابك اجمعین۔
تابش چہارم آثار صحابہ وبقیہ موعودات خطبہ
روایت اولی۱:بیہقی عبدالله بن مسعود رضی الله تعالی عنہ سے راوی:
ان محمداصلی الله تعالی علیہ وسلم اکرم الخلق علی الله یو م القیامۃ ۔ بیشك محمد صلی الله تعالی علیہ وسلم قیامت میں الله تعالی کے حضور تمام مخلوق الہی سے عزت وکرامت میں زائد ہیں۔
روایت دوم۲:احمدبزارطبرانی بسند ثقات اسی جناب سے راوی:
ان الله تعالی نظر الی قلوب العباد فاختار منھا قلب محمد صلی الله الله تعالی نے اپنے بندوں کے دلوں پر نظر فرمائیتو ان میں سے محمد صلی الله تعالی
حوالہ / References القرآن الکریم ۹۳ /۴
مطالع المسرات مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آبادص۱۲۹
الخصائص الکبرٰی بحوالہ البیہقی باب اختصاصہ صلی الله علیہ وسلم بشرح الصدر مرکز اہلسنت ۲ /۱۹۸
#18271 · رسالہ تجلی الیقین بانّ نبیّنا سید المرسلین ۱۳۰۵ھ (یقین کا اظہار اس بات کے ساتھ کہ ہمارے نبی صلی الله علیہ وسلم تمام رسولوں کے سردار ہیں)
تعالی علیہ وسلم فاصطفاہ لنفسہ ۔ علیہ وسلم کے دل کو پسند فرمایااسے اپنی ذات کریم کے لیے چن لیا۔
روایت سوم۳:دارمی وبیہقی عبدالله بن سلام عــــــہ رضی الله تعالی عنہ سے راوی:
ان اکرم خلیقۃ الله علی الله ابوالقاسم صلی الله تعالی علیہ وسلم ۔ بیشك الله تعالی کے نزدیك تمام مخلوق سے زیادہ مرتبہ و و جاہت والے ابوالقاسم صلی الله تعالی علیہ وسلم ہیں۔
روایت چہارم۴:ابن سعد بطریق مجالد شعبی عن عبدالرحمن بن زید بن الخطاب سے راویزید بن عمرو بن نفیل کہتے تھے:میں شام میں تھاایك راہب کے پاس گیا اور اس سے کہا مجھے بت پرستی ویہودیت ونصرانیت سب سے نفرت ہے۔کہا:تو تم دین ابراہیم چاہتے ہواے اہل مکہ کے بھائی ! تم وہ دین مانگتے ہو جو آج کہیں نہیں ملے گااپنے شہر کو چلے جاؤ
فان نبیا یبعث من قومك فی بلدك یأتی بدین ابراھیم بالحنیفۃ وھو اکرم الخلق علی الله ۔ کہ تمہاری قوم سے تمہارے شہر میں ایك نبی مبعوث ہوگا وہ ابراہیم علیہ الصلوۃ والتسلیم کا دین حنیف لائے گاوہ تمام جہان سے زیادہ الله تعالی کو عزیز ہے۔
یہ زید بن عمرو موحدان جاہلیت سے ہیںاوران کے صاحبزادے سعید بن زید اجلہ صحابہ وعشرہ مبشرہ سے۔رضی الله تعالی عنہم اجمعین۔
روایت پنجم۵:ابن ابی شیبہ وترمذی بافادہ تحسین اورحاکم بہ تصریح تصحیح اورابو نعیم
عــــــہ:حجۃ ابن حجر فی شرح الہمزیۃ ۔
حوالہ / References مسند احمد بن حنبل عن عبدالله بن مسعود المکتب الاسلامی بیروت ۱ /۳۷۹،البحرالزخار(مسند البزار)مسند عبدالله بن مسعود حدیث ۱۷۰۲ مکتبۃ العلوم والحکم مدینۃ المنورہ ۵ /۱۱۹،المعجم الکبیر حدیث ۸۵۹۳المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۹ /۱۲۱
الخصائص الکبرٰی بحوالہ البیہقی باب اختصاصہ صلی الله علیہ وسلم بشرح الصدر مرکز اہلسنت گجرات ہند ۲ /۱۹۸
الطبقات الکبرٰی ذکر علامات النبوۃ فی رسول الله صلی الله علیہ وسلم دار صادر بیروت ۱ /۱۶۲
#18272 · رسالہ تجلی الیقین بانّ نبیّنا سید المرسلین ۱۳۰۵ھ (یقین کا اظہار اس بات کے ساتھ کہ ہمارے نبی صلی الله علیہ وسلم تمام رسولوں کے سردار ہیں)
وخرائطی ابو موسی اشعری رضی الله تعالی عنہ سے راویابوطالب چند سرداران قریش کے ساتھ ملك شام کو گئےحضور پر نور سید المرسلین صلی الله تعالی علیہ وسلم ہمراہ تشریف فرما تھےجب صومعہ راہب یعنی بحیرا کے پاس اترےراہب صومعہ سے نکل کران کے پاس آیااور اس سے پہلے جو قافلہ جاتا تھا راہب نہ آتانہ اصلا ملتفت ہوتااب کی بار خود آیا اورلوگوں کے بیچ گزرتا ہوا حضور صلی الله تعالی علیہ وآلہ وسلم تك پہنچا۔حضور اقدس کا دست مبارك تھام کربولا:ھذا سید العلمین ھذا رسول رب العلمین یبعثہ الله رحمۃ للعلمین یہ تمام جہان کے سردار ہیںیہ رب العالمین کے رسول ہیںالله تعالی انہیں تمام عالم کے لئے رحمت بھیجے گا۔سرداران قریش نے کہا:تجھے کیا معلوم ہے کہا:جب تم اس گھاٹی سے بڑھے کوئی درخت و سنگ نہ تھا جو سجدے میں نہ گرےاوروہ نبی کے سوا دوسروں کو سجدہ نہیں کرتےاورمیں انہیں مہر نبوت سے پہچانتا ہوںان کے استخوان شانہ کے نیچے سیب کے مانند ہے۔پھر راہب واپس گیا اورقافلہ کے لیے کھانا لایاحضور تشریف نہ رکھتے تھےآدمی طلب کو گیاتشریف لائےابر سر پر سایہ گستر تھا۔راہب بولا:انظروا الیہ غمامۃ تظلہوہ دیکھو ابران پر سایہ کئے ہے۔قوم نے پہلے سے درخت کا سایہ گھیر لیا تھاحضور صلی الله تعالی علیہ وسلم نے جگہ نہ پائی دھوپ میں تشریف فرماہوئےفورا پیڑ کا سایہ حضور پر جھك آیا۔راہب نے کہا:انظروا الی فیئ الشجرۃ مال الیہ ۔وہ دیکھو پیڑ کا سایہ انکی طرف جھکتاہے۔
شیخ محقق نے لمعات میں فرمایا:امام ابن حجر عسقلانی اصابہ میں فرماتے ہیں:رجال ثقات اس حدیث کے راوی سب ثقہ ہیں۔
روایت ششم۶: ابونعیم حضرت تمیم داری رضی الله تعالی عنہ سے راوییہ ایك شب
حوالہ / References الخصائص الکبرٰی باب سفرالنبی صلی الله علیہ وسلم مرکز اہلسنت برکات رضا ہند ۱ /۸۳،سنن جامع الترمذی کتاب المناقب حدیث ۳۶۴۰ دارالفکر بیروت ۳ /۳۵۶و۳۵۷،المصنف لابن ابی شیبۃ کتاب المغازی حدیث ۳۶۵۳۰دارالکتب العلمیۃ بیروت ۷ /۳۲۸، المستدرك علی الصحیحین کتاب التاریخ استغناء آدم علیہ السلام دارالفکر بیروت ۲ /۶۱۵،دلائل النبوۃ(لابی نعیم)ذکر خروج رسول الله صلی الله علیہ و سلم الی الشام عالم الکتب بیروت ۱/ ۵۳
الخصائص الکبرٰی باب سفرالنبی صلی الله علیہ وسلم مع ابی طالب الی الشام مرکز اہلسنت ہند ۱ /۸۴
#18274 · رسالہ تجلی الیقین بانّ نبیّنا سید المرسلین ۱۳۰۵ھ (یقین کا اظہار اس بات کے ساتھ کہ ہمارے نبی صلی الله علیہ وسلم تمام رسولوں کے سردار ہیں)
صحرائے شام میں تھےہاتف جن نے انہیں بعثت حضور سید المرسلین صلی الله تعالی علیہ وسلم کی خبر دی۔صبح راہب کے پاس جاکر قصہ بیان کیاکہا:
قد صدقوك یخرج من الحرم ومھاجرہ الحرم وھو خیر الانبیاء ۔ جنوں نے تجھ سے سچ کہاحر م سے ظاہر ہونگے اورحرم کو ہجرت فرمائیں گےاوروہ تمام انبیاء سے بہتر ہیں۔
روایت ہفتم:ابن عساکر ابو نعیم خرائطی بعض صحابہ خثعمیین سے راوی:ہم ایك شب اپنے بت کے پاس تھے اوراسے ایك مقدمہ میں پنچ کیا تھا ناگاہ ہاتف نے پکارا:
یا ایھا الناس ذووا الاجسام ما انتم وطائش الاحکام
ومسند الحکم الی الاصنام ھذا نبی سید الانام
اعدل ذی حکم من الاحکام یصدع بالنور وبالاسلام
ویزجر الناس عن الآثام مستعلن فی البلد الحرام
(اے بت پرست لوگو! تم احکام کو بیان کرنے والے نہیں ہواپنا مقدمہ بتوں کے پاس لے جانے والے ہو۔یہ نبی ہے جو کائنات کا سردار ہےاحکام کے فیصلے کرنے میں سب سے بڑا عادل ہےنور اسلام کو کھول کر بیان کرتاہےلوگوں کو گناہوں سے روکتا ہےبلدحرام(مکہ مکرمہ)میں ظاہر ہونے والا ہے۔ت)
ہم سب ڈرکر بت کو چھوڑگئے اوراس شعر کے چرچے رہے یہاں تك کہ ہمیں خبر ملی۔حضور اقدس صلی الله تعالی علیہ وآلہ وسلم مکہ میں ظہور فرماکر مدینہ تشریف لائےمیں حاضر ہوکر مشرف باسلام ہوا۔
روایت ہشتم۸:خرائطی وابن عساکر مرداس بن قیس دوسی رضی الله تعالی عنہ سے راویمیں خدمت اقدس حضور سید المرسلین صلی الله تعالی علیہ وآلہ وسلم میں حاضر ہوا حضور
حوالہ / References الخصائص الکبرٰی بحوالہ ابو نعیم باب ماسمع من الکہان الخ مرکز اہلسنت گجرات ہند ۱ /۱۰۷
تاریخ دمشق الکبیر اخبار الاحبار بنبوتہ الخ داراحیاء التراث العربی بیروت ۳ /۲۵۷،دلائل النبوۃ لابی نعیم ذکر ما سمع من الجن الخ عالم الکتب بیروت ۱ /۳۳و۳۴،الخصائص الکبرٰی باب ماسمع من الکہان والاصوات الخ مرکز اہلسنت گجرات ہند ۱ /۱۰۷
#18276 · رسالہ تجلی الیقین بانّ نبیّنا سید المرسلین ۱۳۰۵ھ (یقین کا اظہار اس بات کے ساتھ کہ ہمارے نبی صلی الله علیہ وسلم تمام رسولوں کے سردار ہیں)
کے پاس کہانت کا ذکر تھا کہ بعثت اقدس سے کیونکر متغیرہوگئی۔میں نے عرض کی:یارسول الله !ہمارے یہاں اس کا ایك واقعہ گزرا ہے میں حضور میں عرض کروں۔ہماری ایك کنیز تھی خاصہ نامکہ ہمارے علم میں ہرطرح نیك تھیایك دن آکر بولی:ایك گروہ دوس ! تم مجھ میں کوئی بدی جانتے ہو ہم نے کہا:بات کیاہے کہا:میں بکریاں چراتی تھیدفعۃایك اندھیرے نے مجھے گھیرا اوروہ حالت پائی جو عورت مرد سے پاتی ہے مجھے حمل کا گمان ہےجب ولادت کے دن قریب آئے ایك عجیب الخلق لڑکا جنی جس کے کتے کے سے کان تھے وہ ہمیں غیب کی خبریں دیتا اور جو کچھ کہتا اس میں فرق نہ آتاایك دن لڑکوں میں کھیلتے کھیلتے کودنے لگا اورتہبند پھینك دیا اور بلند آواز سے چلایا ! اے خرابی !خدا کی قسم اس پہاڑ کے پیچھے گھوڑے ہیں ان میں خوبصورت خوبصورت نو عمر۔یہ سن کر ہم سوار ہوئےویسا ہی پایا۔سواروں کو بھگایاغنیمت لوٹی۔جب حضور کی بعثت ہوئی اس دن سے جو خبریں دیتاجھوٹ ہوتیں۔ہم نے کہا تیرا برا ہو یہ کیا حال ہے بولا مجھے خبر نہیں کہ جو مجھ سے سچ کہتاتھا اب کیوں جھوٹ بولتا ہےمجھے اس گھر میں تین دن بند کردو۔ہم نے ایسا ہی کیاتین دن پیچھے کھولادیکھیں تو وہ ایك آگ کی چنگاری ہو رہا ہے۔بولا:اے قوم دوس!حرست السماء وخرج خیرا لانبیاء آسمان پر پہرہ مقرر ہوا اور بہترین انبیاء نے ظہور فرمایا۔ ہم نے کہا:کہاں کہا:مکہ میںاورمیں مرنے کو ہوںمجھے پہاڑ کی چوٹی پر دفن کردینامجھ میں آگ بھڑك اٹھے گیجب ایسا دیکھو باسمك اللھم (تیرے نام سے اے الله !)کہہ کر مجھے تین پتھر مارنا میں بجھ جاؤں گا۔ہم نے ایسا ہی کیا۔ چند روز بعد حاجی لوگ آئے اور ظہور حضور(صلی الله تعالی علیہ وسلم)کی خبر لائے۔
اگرچہ یہ قول اس جنی اورحقیقۃ اس جن کا تھا جس نے اسے خبر دیمگر ممکن تھا کہ اسے احادیث مصطفی صلی الله تعالی علیہ وسلم میں گنا جاتاکہ حضور نے سنا اور انکار نہ فرمایا۔صلی الله تعالی علیہ وآلہ وسلم۔
روایت نہم۹:ابو نعیم حضرت عبدالله بن عباس رضی الله تعالی عنہما سے حدیث طویل میلاد جمیل میں راوی حضرت آمنہ رضی الله تعالی عنہا فرماتی ہیں:جب حمل اقدس میں چھ مہینے گزرے ایك
حوالہ / References تاریخ دمشق الکبیر اخبار الاخبار بنبوتہ الخ داراحیاء التراث العربی بیروت ۳ /۱۵۶،الخصائص الکبری بحوالہ الخرائطی وابن عساکر باب حراسۃ السماء الخ مرکز اہلسنت گجرات ہند ۱ /۱۱۱ و ۱۱۲
#18278 · رسالہ تجلی الیقین بانّ نبیّنا سید المرسلین ۱۳۰۵ھ (یقین کا اظہار اس بات کے ساتھ کہ ہمارے نبی صلی الله علیہ وسلم تمام رسولوں کے سردار ہیں)
شخص نے سوتے میں مجھے ٹھوکر ماری اور کہا:
یا امنۃ انك قد حملت بخیرالعالمین طرا فاذا ولدتہ فسمیہ محمدا ۔ اے آمنہ ! تمھارے حمل میں وہ ہے جو تمام جہان سے بہتر ہے۔جب وہ پیدا ہوں ان کا نام محمد رکھنا صلی الله تعالی علیہ والہ واصحابہ وسلم۔
روایت دہم۱۰:ابو نعیم حضرت بریدہ وابن عباس رضی الله تعالی عنہم سے راویحضرت آمنہ رضی الله تعالی عنہا نے ایام حمل مقدس میں خواب دیکھا کوئی کہنے والا کہتا ہے:
انك قد حملت بخیر البریۃ و سید العالمین فاذا ولدتہ فسمیہ احمداومحمدا تمھارے حمل میں بہترین عالم وسردار عالمیاں ہیںجب پیدا ہوں ان کا نام احمد ومحمد رکھنا صلی الله تعالی علیہ والہ واصحابہ وسلم۔
روایت یازدہم۱۱:ابن سعد وحسن بن جراح زید بن اسلم سے راویحضرت آمنہ رضی الله تعالی عنہا نے جناب حلیمہ رضوان الله تعالی علیہاسے فرمایا:مجھ سے خواب میں کہا گیا:
انك ستلدین غلاما فسمیہ احمدا وھو سید العالمین ۔ عنقریب تمھارے لڑکا ہوگا ان کا نام احمد رکھناوہ تمام عالم کے سردار ہیں صلی الله تعالی علیہ والہ وسلم۔
روایت دوازدہم۱۲: بزار عــــــہ حضرت امیرالمومنین مولی المسلمین علی مرتضی کرم الله تعالی وجہہ الکریم سے راوی:
لما اراد الله ان یعلم رسولہ جب حق جل وعلا نے اپنے رسول کو اذان

عــــــہ:یہ حدیث اس حدیث مرتضوی کا تتمہ جو زیر ارشاد چہل وچہارم گزری لہذا جداشمارنہ ہوئی ۱۲منہ۔
حوالہ / References الخصائص الکبری بحوالہ ابی نعیم باب ما ظہر فی لیلۃ مولدہ الخ مرکز اہلسنت گجرات ہند ۱ /۴۸
دلائل النبوۃ لابی نعیم الفصل الحادی عشر عالم الکتب بیروت ۱ /۴۰
الطبقات الکبری ذکر علامات النبوۃ الخ دار صادر بیروت ۱ /۱۵۱
#18280 · رسالہ تجلی الیقین بانّ نبیّنا سید المرسلین ۱۳۰۵ھ (یقین کا اظہار اس بات کے ساتھ کہ ہمارے نبی صلی الله علیہ وسلم تمام رسولوں کے سردار ہیں)
الاذان اتاہ جبریل بدابۃ یقال لہ البراق(او ذکر جماحہا وتسکین جبریل ایاھا)قال فرکبہا حتی انتھی الی الحجاب الذی یلی الرحمان وساق الحدیث فیہ ذکر تاذین الملك وتصدیق الله تعالی علیہ وسلم فقدمہ قام اھل السموات فیھم ادم ونوح عــــــہ۱ فیومئذ اکمل الله لمحمد صلی الله تعالی علیہ وسلم الشرف علی اھل السموات والارض ۔ سکھانی چاہی۔جبریل براق لے کر حاضر ہوئے حضور سوار ہو کر اس حجاب عــــــہ۲ عظمت تك پہنچے جورحمن عــــــہ۳ جل مجدہ کے نزدیك ہے پردے سے ایك فرشتہ نکلا اور اذان کہیحق الله عزوجلا لہ نے ہر کلمہ پر موذن کی تصدیق فرمائیپھرفرشتے نے حضور پر نو ر صلی الله تعالی علیہ وسلم کا دست اقدس تھام کر حضور کو آگے کیا۔حضورنے تمام اہل سموات کی امامت فرمائی جن میں آدم ونوح علیہما الصلوۃ والسلام بھی شامل تھے۔ اس روز حق تبارك وتعالی نے محمد صلی الله تعالی علیہ وسلم کا شرف عام اہل آسمان وزمین پر کامل کردیا۔

عــــــہ ۱:انت تعلم ان ھذامن تمام حدیث علی رضی الله تعالی عنہ کما تری وھو کذلك عند ابی نعیم فی طریق اتی فلا ادری کیف جعلہ الامام القاضی فی الشفاء من قول راوی الحدیث سیدنا جعفر الصادق رضی الله تعالی عنہ و اقرہ علیہ الشہاب فی النسیم۔ تو جانتا ہے کہ یہ حدیث علی رضی الله تعالی عنہ کا تتمہ جیساکہ دیکھ رہا ہے اور وہ ابو نعیم کے نزدیك بھی ایسے ہی ہے اس طریق میں جس کو وہ لائے میں نہیں جانتا کہ امام قاضی عیاض علیہ الرحمہ نے اس کو راوی حدیث سیدنا امام جعفر صادق رضی الله تعالی عنہ کا قول کیسے قرار دیا اور شہاب نے بھی نسیم میں اس کو برقرار کھا۔۱۲منہ)
عــــــہ۲:حجاب مخلوق پر ہےخالق جل وعلا حجاب سے پاك ہے وہ اپنی غایت ظہور سے غایت بطون میں ہے تبارك وتعالی ۱۲منہ
عــــــہ۳:شاید یہ معنی ہیں کہ عرش رحمن سے قریب ہے۔والله تعالی اعلم ۱۲منہ۔
حوالہ / References البحرالزخار(مسند البزار)حدیث ۵۰۸ مکتبۃ العلوم والحکم مدینۃ المنورۃ ۲ /۱۴۶۱۴۷،کشف الاستار عن زوائدالطزار بدء الاذان حدیث ۵۲مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱/ ۱۷۸و۱۷۹،الخصائص الکبری باب ذکرہ فی الاذان فی عہد آدم مرکز اہلسنت گجرات الہند ۱ /۱۶۴
#18283 · رسالہ تجلی الیقین بانّ نبیّنا سید المرسلین ۱۳۰۵ھ (یقین کا اظہار اس بات کے ساتھ کہ ہمارے نبی صلی الله علیہ وسلم تمام رسولوں کے سردار ہیں)
اسی کی مثل ابونعیم نے بطریق امام محمد ابن حنفیہ ابن علی المرتضی رضی الله تعالی عنہما روایت کی۔اس کے اخیر میں ہے:
ثم قیل لرسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم تقدم قام اھل السماء فتم لہ الشرف علی سائر الخلق پھر حضور اقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم سے کہا گیا آگے بڑھئے حضور نے تمام اہل آسمان کی امامت فرمائی اور جمیع مخلوقات الہی پر حضور کا شرف کامل ہوا۔
والحمد لله رب العالمین(اورسب تعریفیں الله کے لئے ہیں جو پروردگار ہے کل جہانوں کا۔ت)
نور الختام
رزقنا الله تعالی حسنہ(الله تعالی ہمیں حسن خاتمہ عطافرمائے۔ت)
الحمدلله کہ کلام اپنے منتہی کو پہنچااوردس آیتوں سو حدیثوں کا وعدہ بہ نہایت آسانی بہت زیادہ ہوکر پورا ہوا۔اس رسالہ میں قصدا استیعاب نہ ہونے پر خود یہی رسالہ گواہی دے گا کہ تیس سے زائد حدیثیں مفید مقصد ایسی ملیں گی جن کا شمار ان سو میں نہ کیا۔ زتعلیقات تو اصلا تعدا د میں نہ آئیں۔اورہیکل اول میں بھی زیر آیات بہت حدیثیں مثبت مرادگزریںانہیں بھی حساب سے زیادہ رکھاخصوصا حدیث۱ نبی صلی الله تعالی علیہ وسلم کہ یہ امت الله تعالی کے نزدیك سب امتوں سے بہتر اور افضل ہے (زیر آیت خامسہ)حدیث۲ ابن عباس رضی الله تعالی عنہما کہ حضور کی امت سب امتوں سے بہتر اور حضورکا زمانہ سب زمانوں سے بہتراور حضورکے صحابہ سب اصحاب سے بہتراورحضور کا شہر سب شہروں سے بہتروانما شرف المکان بالمکین(مکان کا شرف تو مکین کی وجہ سے ہوتاہے۔ت)(زیر آیت اولی)حدیث۳ علی مرتضیحدیث۴ حبرالامۃ رضی الله تعالی عنہما کہ صفی سے مسیح تك تمام انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام سے حضور کے بارے میں عہد لیا گیا(ہر دو زیر آیت نخستین)حدیث۵سلطان المفسرین رضی الله تعالی
حوالہ / References الخصائص الکبری بحوالہ ابی نعیم عن محمد بن الحنفیۃ باب خصوصیتہ صلی الله علیہ وسلم بالاسراء مرکز اہلسنت ۱ /۱۶۴، الدرالمنثور تحت الآیۃ ۱۷/۱ دار احیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۱۹۳
#18287 · رسالہ تجلی الیقین بانّ نبیّنا سید المرسلین ۱۳۰۵ھ (یقین کا اظہار اس بات کے ساتھ کہ ہمارے نبی صلی الله علیہ وسلم تمام رسولوں کے سردار ہیں)
عنہ نے محمد صلی الله تعالی علیہ وسلم سے زیادہ قدر وعزت والا کسی کو نہ بنایا۔(زیر آیت سابعہ)حدیث۶عالم القرآن رضی الله تعالی عنہ الله تعالی نے محمد صلی الله تعالی علیہ وسلم کو تمام انبیاء وملائکہ سے افضل کیا۔(زیر آیت ثالثہ)کہ چھ حدیثیں تو نصوص جلیلہ اورقابل ادخال جلوہ اول تابش دوم تھیں۔ان چھ کے یاد دلانے میں میری ایك غرض یہ بھی ہے کہ تابش چہارم میں روایت ہفتم سے روایت یازدہم تك جو چھ حدیثیں قول ہاتف وکاہن ومنامات صادقہ کی گزریں۔اگر بعض حضرات ان پرراضی نہ ہوں تو ان چھ تصریحات جلیلہ کو ان چھ کا نعم البدل سمجھیں۔اورسو احادیث مسندہ معتمدہ کا عدد ہر طرح کامل جانیں۔ولله الحمد۔
تنبیہ: فقیر غفرالله تعالی لہ نے اس عجالہ میں کہ نہایت جاوزت پر مبنی تھا۔اکثر حدیثوں کی نقل میں اختصار بلکہ بہت جگہ صرف محل استدلال پر اقتصار کیا۔مواقع کثیرہ میں موضع احتجاج کے سوا باقی حدیث کا فقط ترجمہ لایا۔طر ق ومتابعات بلکہ کبھی شواہد مقاربۃ المعنی میں بھی ایك کا متن لکھابقیہ کا محض حوالہ دیااگرچہ وہ سب متون جدا جدا بالاستیعاب بحمدالله میرے پیش نظر ہوئے جہاں اتفاق سے کلمات علماء کی حاجت دیکھی وہاں تو غالبا مجرد اشارہ یا نقل بالمعنی یا التقاط ہی پر قناعت کیہاں تخریج احادیث میں اکثر استکثار پر نظر رکھی۔ناظر متفحص بہت حدیثوں میں دیکھے گا کہ کتب علماء میں انہیں صرف ایك یا دو مخرجین کی طرف نسبت فرمایا۔اورفقیر نے چھ چھ سات سات نام جمع کئے۔متون اسانید کی تصحیح وتحسین کی طر ف جو تلویح ہے اس کا ماخذ بھی ائمہ شان کی تنصیص وتصریح ہے۔لہذا مناسب کہ طالب سند وجویائے تفصیل کےلئے ان بحار اسفارمواج زخار کے اسماء شمار ہوں جو ہنگام تحریری رسالہ میرے پیش نظر موجزن رہےاوراپنے صدف خیز قعروں گہر ریز لہروں سے ان فرائد آبدار ولا لی شاہوار کے ماخذ ہوئے۔الصحاح الستۃ لاسیما الصحیحین وجامع الترمذی وموطا مالك وسنن الدارمی ومشکوۃ المصابیحالترغیب والترھیب للامام الحافظ عبدالعظیم زکی الدین المنذریالخصائص الکبری لخاتم الحفاظ ابی الفضل السیوطی وھو کتاب لم یصنف فی بابہ مثلہ واکثر التقطت سنہ مع زیادات فی التخاریج وغیرھا من تلقاء نظری اوکتب اخری فالله یجزیہ الجزاء الاوفیکتاب الشفاء فی تعریف حقوق المصطفی صلی الله تعالی علیہ وسلم للامام الفہام شیخ الاسلام عیاض الیحصبینسیم الریاض للعلامۃ الشہاب الخفاجیالجامع الصغیر للامام السیوطیالتیسیر جامع الصغیر للعلامۃ الرؤ ف المناویالمواھب اللدنیہ والمنح المحمدیہ للامام العلامۃ احمد بن محمد المصری القسطلانیشرح المواہب للعلامۃ الشمس محمد بن الباقی الزرقانیافضل القری لقراء ام القرے
#18288 · رسالہ تجلی الیقین بانّ نبیّنا سید المرسلین ۱۳۰۵ھ (یقین کا اظہار اس بات کے ساتھ کہ ہمارے نبی صلی الله علیہ وسلم تمام رسولوں کے سردار ہیں)
المعروف بشرح الہمزیۃ للامام ابن حجر المکیمفاتیح الغیب للامام الفخر محمدالرازی تکملتہا لتلمیذہ الفاضل عــــــہ۱ العلامۃ الخوبیمعالم التنزیل للامام محی السنۃ البغویمدارك التنزیل للامام العلامۃ النسفی و ربما اخذت شیئا اواشیاء عن المنہاج للامام العلام ابی زکریا النووی وارشاد الساری للامام احمد القسطلانی والبیضاوی والجلالین والاحیاء والمدخل لمحمد العبدری والمدارج واشعۃ اللمعات للمولی الدہلوی ومطالع المسرات للعلامۃ الفاسی وشفاء السقام للامام المحقق الاجل السبکی والعلل المتناھیۃ للعلامۃ الشمس ابی الفرج ابن الجوزی ولم آخذ عنہا الا تخریجا واحدا لحدیث ورسالۃ المولدلہ والحلیۃ شرح المنیۃ للامام محمد بن محمد بن محمد ابن امیر الحاج الحلبی وشرح الشفاء للفاضل علی القاری رحمۃ الله تعالی علیہم اجمعین الی غیر ذالك ممامنح المولی سبحنہ وتعالی۔
پھر ان کتابوں سے بھی بعض باتیں ان کے غیر مظنہ سے اخذکیں کہ اگر ناظر مجرد واستقرائے مظان پر قناعت کرے ہرگز نہ پائےلہذا متجسس کو تثبت وامعان درکار والله العزیز الغفار۔
یہ رسالہ ششم شوال کو آغاز اورنوزدہم کو ختم۔اورآج پنجم ذی القعدہ روزجان افروز دوشنبہ کو وقت چاشت مسودہ سے مبیضہ ہوا۔ والحمدلله رب العالمین۔ان اوراق میں پہلی حدیث حضرت امیر المومنین مولی المسلمین مولی علی مرتضی کرم الله تعالی وجہہ الاسنی سے ماثوراورسب میں پچھلی حدیث بھی اسی جناب ولایت مآب سے مذکور۔امید ہے کہ اس خاتم خلافت نبوت فاتح سلاسل ولایت رضی الله تعالی عنہ کے صدقہ میں حضور پر نورعفوغفور عــــــہ۲ جواد
عــــــہ۱:علی ما فی النسیم والکشف ولی فیہ تامل ۱۲منہ۔ اس بنیاد پر جو نسیم وکشف میں ہے اورمجھے اس میں تامل ہے۔ ۱۲منہ۔(ت)
عــــــہ۲:عفووغفورحضور کے اسماء طیبہ سے ہیںکما فی المواھب واستشھد لہ الزرقانی مافی التوراۃ ولکن یعفوویغفررواہ البخاری ۱۲منہ غفرلہ عفی عنہ(جیسا کہ مواہب میں ہے اس کے لیے زرقانی نے تورت کی اس عبارت سے استشہاد کیا''لیکن وہ معاف فرماتا اوردرگزر فرماتاہے۔''اس کو بخاری نے روایت کیا۔ت)
حوالہ / References المواھب اللدنیہ المقصد الثانی الفصل الاول المکتب الاسلامی بیروت ۲ /۱۹
المواھب اللدنیہ المقصد الثانی الفصل الاول المکتب دارالمعرفۃ بیروت ۳ /۱۳۹
#18289 · رسالہ تجلی الیقین بانّ نبیّنا سید المرسلین ۱۳۰۵ھ (یقین کا اظہار اس بات کے ساتھ کہ ہمارے نبی صلی الله علیہ وسلم تمام رسولوں کے سردار ہیں)
کریمرؤفرحیمصفوح زلاتمقیل عثراتمصحح حسناتعظیم الہباتسید المرسلینخاتم النبیینشفیع المذنبین محمد رسول رب العالمین صلوات الله وسلامہ علیہ وعلی آلہ وصحبہ اجمعین کی بارگاہ بیکس پناہ میں شرف قبول پائے۔اورحق تبارك وتعالی کا تب و سائل وواسطہ سوال وعامہ مومنین کو دارین میں اس سے اورفقیر کی تصانیف سے نفع پہنچائے۔
انہ ولی ذلك والقدیر علیہ والخیر کلہ لہ وبیدیہ و اخر دعونا ان الحمد لله رب العلمینوالصلوۃ و السلام علی سید المرسلین محمد والہ واصحابہ اجمعین سبحنك اللھم وبحمدك اشھد ان لاالہ الا انت استغفرك واتوب الیك والحمدلله رب العلمین۔ بےشك وہ اس کا مالك اوراس پرقادربھلائی سب اس کےلئے ہے اوراس کے دست قدرت میں ہےاورہماری دعاکا اختتام اس پر ہے کہ سب تعریفیں الله تعالی کےلئے ہیں جو پروردگار ہے سب جہانوں کا۔درودوسلام نازل ہورسولوں کے سردار محمد مصطفی پرآپ کی آل پر اورآپ کے تمام اصحاب پر۔تجھے پاکی ہے اے الله ! میں تجھ سے مغفرت طلب کرتاہوں اور تیری طرف رجوع کرتاہوں اورسب تعریفیں الله تعالی کے لیے ہیں جو پروردگار ہے تمام جہانوں کا۔(ت)
___________________
رسالہ
تجلی الیقین بان نبینا سید المرسلین
ختم ہوا
#18290 · الحمد لله بشارت جلیلہ
الحمد لله
بشارت جلیلہ
رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لم یبق من النبوۃ الا مبشرات الرؤیاالصالحۃ۔رواہ البخاری عن ابی ھریرۃ و زاد مالك یراھا الرجل الصالح او تری لہ والاحمد وابن ماجۃ وابن خزیمۃ و ابن حبان وصححاہ عن ام کرز ذھبت النبوۃ و بقیت المبشرات وللطبرانی فی الکبیر عن حذیفۃ بسند صحیح ذھبت النبوۃ فلانبوۃ بعدی الا المبشرات الرؤیا الصالحۃ یراھا الرجل اوتری لہ ۔ یعنی "نبوت گئی اب میرے بعد نبوت نہیںہاں بشارتیں باقی ہیںاچھے خواب"۔اسے بخاری نے ابو ہریرہ رضی الله تعالی عنہ سے روایت کیا۔اورمالك نے زیادہ کیا کہ نیك آدمی دیکھے یا اس کےلئے دیکھا جائے۔احمدابن ماجہابن خزیمہ اورابن حبان نے روایت کیا اوراس کی تصحیح کی ام کرز سے کہ نبوت چلی گئی اورمبشرات باقی رہ گئے۔اورطبرانی نے کبیر میں حذیفہ سے صحیح سند کے ساتھ روایت کیا کہ میرے بعد نبوت نہیں مگر بشارتیں باقی ہیں اچھا خواب کہ نیك آدمی دیکھے یا اس کیلئے دیکھا جائے۔(ت)
الحمدلله اس رسالہ کے زمانہ تصنیف میں مصنف نے خواب دیکھا کہ میں اپنی مسجد میں ہوںچند وہابی آئے اور رسول الله صلی الله تعالی علیہ سلم کی فضیلت مطلقہ میں بحث
حوالہ / References صحیح البخاری کتاب التعبیر باب مبشرات قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۱۰۳۵
مؤطا لامام مالك ماجاء فی الرؤیا میرمحمد کتب خانہ کراچی ص۷۲۴
سنن ابن ماجہ ابواب التعبیر الرؤیا باب الرؤیا الصالحۃ یراہا المسلم الخ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۲۸۶،مسند احمد بن حنبل حدیث ام کرز رضی الله عنہا المکتب الاسلامی بیروت ۶ /۳۸۱
معجم الکبیر حدیث ۳۰۵۱ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۳/ ۱۷۹
#18291 · الحمد لله بشارت جلیلہ
کرنے لگے۔مصنف نے دلائل صریحہ سے انہیں ساکت کردیا کہ خائب وخاسر چلے گئے۔پھر مصنف نے اپنے مکان کا قصد کیا (یہ مسجد شارع عام پر واقع ہےدروازہ سے نکل کر چند سیڑھیاں ہیں کہ ان سے اترکر سڑك ملتی ہےاس کے جنوب کی طرف ہندؤوں کے مندراوران کا کنواں ہے)مصنف ابھی اس زینہ سے نہ اترا تھا کہ بائیں ہاتھ کی طرف سے ایك مادہ خوك (خنزیر) اوراس کے ساتھ اس کا بچہ سڑك پر آتے دیکھاجب زینہ مذکورہ کے قریب آئے اس بچہ نے مصنف پر حملہ کرنا چاہااس کی ماں نے اسے دوڑ کر روکااورغالبا اس کے منہ پر تپانچہ مارا۔بہرحال اسے سختی کے ساتھ جھڑکا۔اوران وہابیہ کی طرف اشارہ کر کے بولی:دیکھتا نہیں کہ یہ تیرے بڑے تو اس شخص سے جیتے نہیں تو اس پر کیا حملہ کرے گا۔یہ کہہ کر وہ سوئر یا اس کا بچہ دونوں اس ہندوکنویں کی طرف بھاگتے چلے گئے والحمدلله رب العلمین۔اس خواب سے مصنف نے بعونہ تعالی قبول رسالہ پر استدلال کیاوالحمد لله۔
الحمد لله
بشارت عظمی
اس سے کچھ پہلے مصنف نے خواب دیکھا کہ اپنے مکان کے پھاٹك کے آگے شارع عام پر کھڑاہوںاوربہت دبیر بلور کا ایك فانوس ہاتھ میں ہےمیں اسے روشن کرنا چاہتاہوںدو شخص داہنے بائیں کھڑے ہیں وہ پھونك مارکر بجھا دیتے ہیںاتنے میں مسجد کی طرف سے حضور پرنور سیدالمرسلین صلی الله تعالی علیہ وسلم تشریف فرما ہوئےوالله العظیم۔حضور اقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم کو دیکھتے ہی وہ دونوں مخالف ایسے غائب ہوگئے کہ معلوم نہیں آسمان کھاگیا یا زمین میں سماگئے۔حضور پرنور ملجائے بیکساں مولائے دل وجاں صلی الله تعالی علیہ وآلہ وسلم اس سگ بارگاہ کے پاس تشریف لائےاوراتنے قریب رونق افروز ہوئے کہ شاید ایك بالشت یا کم کا فاصلہ ہواوربکمال رحمت ارشاد فرمایا:پھونك مارالله روشن کردے گا۔مصنف نے پھونکاوہ نورعظیم پیدا ہوا کہ سارا فانوس اس سے بھرگیا۔والحمدلله رب العالمین۔
________________
#18292 · رسالہ شمول الاسلام لاصول الرسول الکرام ۱۳۱۵ھ (رسول کریم صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے آباؤ اجداد کرام کا مسلما ن ہونا)
رسالہ
شمول الاسلام لاصول الرسول الکرام ۱۳۱۵ھ
(رسول کریم صلی الله تعالی علیہ وسلم کے آباؤ اجداد کرام کا مسلما ن ہونا)

بسم الله الرحمن الرحیم ط
مسئلہ ۳۴:از معسکر بنگلورمسجد جامع مدرسہ جامع العلوم مرسلہ حضرت مولانا مولوی شاہ محمد عبدالغفار صاحب قادری نسبا و طریقۃاعلی مدرس مدرسہ مذکور ۲۱شوال ۱۳۱۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلے میں کہ سرورکائنات فخر موجودات رسول خدا محمدمصطفی صلی الله تعالی علیہ وآلہ وسلم کے ماں باپ آدم علی نبینا وعلیہ السلام تك مومن تھے یا نہیںبینوا توجروا۔ عــــــہ (بیان کرو اجر پاؤگے۔ت)
الجواب :
بسم الله الرحمن الرحیم ط
اللھم لك الحمد الدائم الباطن الظاھر اے الله ! تیرے لئے ظاہری وباطنی طور پر دائمی

عــــــہ:اس سوال کے جواب میں "ھدایۃ الغوی فی اسلام آباء النبی"مصنفہ مولوی صاحب موصوف تھایہ اسی کی تصدیق میں لکھاگیا۔
#18293 · رسالہ شمول الاسلام لاصول الرسول الکرام ۱۳۱۵ھ (رسول کریم صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے آباؤ اجداد کرام کا مسلما ن ہونا)
صل وسلم علی المصطفی الکریم نورك الطیب الطاھر الزاھر الذی نزھتہ من کل رجس اودعتہ فی کل مستودع طاھر ونقلتہ من طیب الی طیب فلہ الطیب الاول و الاخر و علی الہ و صحبہ الا طائب الا طاھر امین۔ حمد ہے۔درود وسلام نازل فرما مصطفی کریم پر جو تیرا طیب و طاہر اورروشن نور ہیں جن کو تو نے ہر نجاست سے منزہ کیا ہے اورپاك محل میں ودیعت فرمایا ہے۔اورستھرے سے ستھرے کی طرف منتقل فرمایا ہے۔اول وآخر اس کےلئے پاکیزگی ہےاوران کی طیبطاہر آل اور اصحاب پر۔آمین! (ت)
اولا(پہلی دلیل): الله عزوجل فرماتاہے:
" ولعبد مؤمن خیر من مشرک " ۔ بیشك مسلمان غلام بہتر ہے مشرك سے۔
اور رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
بعثت من خیر قرون بنی ادم قرنا فقرنا حتی کنت من القرن الذی کنت منہ۔رواہ البخاری فی صحیحہ عن ابی ھریرۃ رضی الله تعالی عنہ۔ ہر قرن وطبقہ میں تمام قرون بنی آدم کے بہتر سے بھیجاگیا یہاں تك کہ اس قرن میں ہواجس میں پیداہوا۔(اس کو امام بخاری نے اپنی صحیح میں حضرت ابوہریرہ رضی الله تعالی عنہ سے روایت کیا۔ت)
حضرت امیر المومنین مولی المسلین سیدنا علی مرتضی کرم الله تعالی وجہہ الکریم کی حدیث صحیح میں ہے۔
لم یزل علی وجہ الدھر(الارض)سبعۃ مسلمون فصاعدا فلولاذلك ھلکت الارض ومن علیہا۔اخرجہ عبد الرزاق وابن المنذر بسند صحیح علی شرط الشیخین۔ روئے زمین پر ہر زمانے میں کم سے کم سات مسلمان ضرور رہے ہیںایسا نہ ہوتا تو زمین واہل زمین سب ہلاك ہو جاتے۔(اس کو عبدالرزاق اورابن المنذر نے شیخین کی شرط پر صحیح سند کے ساتھ روایت کیاہے۔ت)
حضرت عالم القرآن حبر الامۃ سیدنا عبدالله بن عباس رضی الله تعالی عنہما کی
حوالہ / References القرآن الکریم ۹ /۲۸
صحیح البخاری کتاب المناقب باب صفۃ النبی صلی الله علیہ وسلم قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۵۰۳
شرح الزرقانی علی المواھب اللدنیۃ بحوالہ عبدالرزاق وابن المنذر المقصد الاول دارالمعرفۃ بیروت ۱ /۱۷۴
#18294 · رسالہ شمول الاسلام لاصول الرسول الکرام ۱۳۱۵ھ (رسول کریم صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے آباؤ اجداد کرام کا مسلما ن ہونا)
حدیث میں ہے:
ماخلت الارض من بعد نوح من سبعۃ یرفع الله بھم عن اھل الارض ۔ نوح علیہ الصلوۃ والسلام کے بعد زمین کبھی سات بندگان خدا سے خالی نہ ہوئی جن کی وجہ سے الله تعالی اہل زمین سے عذاب دفع فرماتاہے۔
جب صحیح حدیثوں سے ثابت کہ ہر قرن و طبقے میں روئے زمین پر لااقل سات مسلمان بندگان مقبول ضرور رہے ہیںاورخود صحیح بخاری شریف کی حدیث سے ثابت ہے کہ حضور اقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم جن سے پیداہوئے وہ لوگ ہر زمانے میںہر قرن میں خیارقرن سےاورآیت قرآنیہ ناطق کہ کوئی کافر اگرچہ کیسا ہی شریف القوم بالانسب ہوکسی غلام مسلمان سے بھی خیر وبہتر نہیں ہوسکتا تو واجب ہوا کہ مصطفی صلی الله تعالی علیہ وسلم کے آباء وامہات ہر قرن اورطبقہ میں انہیں بندگان صالح ومقبول سے ہوں ورنہ معاذالله صحیح بخاری میں ارشاد مصطفی صلی الله تعالی علیہ وسلم وقرآن عظیم میں ارشاد حق جل وعلاکے مخالف ہوگا۔
اقول:والمعنی ان الکافر لا یستاھل شرعا ان یطلق علیہ انہ من خیار القرن لاسیما وھناك مسلمون صالحون وان لم یرد الخیریۃ الا بحسب النسب فافھم۔ اقول:(میں کہتاہوں۔ت)کہ مراد یہ ہے کہ کافر شرعا اس بات کا مستحق نہیں کہ اس کو خیر القرن کہا جاسکے بالخصوص جبکہ مسلمان صالح موجود ہوں اگرچہ خیریت نسب ہی کے لحاظ سے کیوں نہ ہو۔چنانچہ تو سمجھ ۱۲۔(ت)
یہ دلیل امام جلیل خاتم الحفاظ جلال الملۃ والدین سیوطی قدس سرہ نے افادہ فرمائی فالله یجزیہ الجزاء الجمیل(الله تعالی ان کو اجر جمیل عطافرمائے۔ت)
ثانیا :قال الله عزوجل " انما المشرکون نجس" ۔ دوسری دلیل:الله تعالی نے فرمایاکافر تو ناپاك ہی ہیں۔(ت)
اورحدیث میں ہے حضور سید المرسلین صلی الله تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
حوالہ / References شرح الزرقانی علی المواھب اللدنیۃ بحوالہ احمد فی الزھد الخ المقصد الاول دارالمعرفۃ بیروت ۱ /۱۷۴،الحاوی للفتاوٰی بحوالہ احمد فی الزھد والخلال فی کرامات الاولیاء الخ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۲ /۲۱۲
القرآن الکریم ۹ /۲۷
#18295 · رسالہ شمول الاسلام لاصول الرسول الکرام ۱۳۱۵ھ (رسول کریم صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے آباؤ اجداد کرام کا مسلما ن ہونا)
لم یزل الله عزوجل ینقلنی من اصلاب الطیبۃ الی الارحام الطاھرۃ مصفی مھذبا لاتنشعب شعبتان الا کنت فی خیرھما۔رواہ ابو نعیم فی دلائل النبوۃ عن ابن عباس رضی الله تعالی عنہما۔ ہمیشہ الله تعالی مجھے پاك ستھری پشتوں میں نقل فرماتارہا صاف ستھرا آراستہ جب دو شاخیں پیداہوئیںمیں ان میں بہتر شاخ میں تھا۔(اس کو نعیم نے دلائل النبوۃ میں ابن عباس رضی الله تعالی عنہما سے روایت کیا۔ت)
اورایك حدیث میں ہےفرماتے ہیں صلی ا لله تعالی علیہ وسلم:
لم ازل انقل من اصلاب الطاھرین الی ارحام الطاھرات ۔ میں ہمیشہ پاك مردوں کی پشتوں سے پاك بیبیوں کے پیٹوں میں منتقل ہوتارہا۔
دوسری حدیث میں ہےفرماتے ہیں صلی الله تعالی علیہ وسلم:
لم یزل الله ینقلنی من الاصلاب الکریمۃ والارحام الطاھرۃ حتی اخرجنی من بین ابوی۔رواہ ابن ابی عمرو العدنی فی مسندہ رضی الله تعالی عنہ۔ ہمیشہ الله عزوجل مجھے کرم والی پشتوں اورطہارت والے شکموں میں نقل فرماتا رہا۔یہاں تك کہ مجھے میرے ماں باپ سے پیداکیا۔اس کو ابن ابی عمرو العدنی رضی الله تعالی عنہ نے اپنی مسند میں روایت کیا۔ت)
توضرورہے کہ حضور صلی الله تعالی علیہ وسلم کے آبائے کرام طاہرین وامہات کرام طاہرات سب اہل ایمان و توحید ہوں کہ بنص قرآن عظیم کسی کا فروکافرہ کے لیے کرم وطہارت سے حصہ نہیں۔
یہ دلیل امام اجل فخر المتکلمین علامۃ الوری فخر الدین رازی رحمۃ الله علیہ نے افادہ فرمائی اور امام جلال الدین سیوطی اورعلامہ محقق سنوسی اورعلامہ تلمسانی شارح شفاء وامام ابن حجر مکی وعلامہ محمد زرقانی
حوالہ / References الحاوی للفتاوی بحوالہ ابی نعیم مسالك الحنفاء فی والدی المصطفٰی دارالکتب العلمیۃ بیروت ۲ /۲۱۱،دلائل النبوۃ لابی نعیم الفصل الثانی عالم الکتب بیروت الجزء الاو ل ص۱۱و۱۲
شرح الزرقانی علی المواھب اللدنیۃ بحوالہ ابی نعیم عن ابن عباس المقصد الاول دارالمعرفۃ بیروت ۱ /۱۷۴،الحاوی للفتاوی مسالك الحنفاء فی والدی المصطفٰی دارالکتب العلمیۃ بیروت ۲ /۲۱۰
الشفاء بتعریف حقو ق المصطفٰی فصل واما شرف نسبہ المطبعۃ الشرکۃ الصحافیۃفی البلاد العثمانیہ ۱ /۶۳،نسیم الریاض فی شرح شفاء القاضی عیاض بحوالہ ابن ابی عمرو العدنی مرکز اہلسنت برکات رضا گجرات ہند ۱ /۴۳۵
#18296 · رسالہ شمول الاسلام لاصول الرسول الکرام ۱۳۱۵ھ (رسول کریم صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے آباؤ اجداد کرام کا مسلما ن ہونا)
شارح مواہب وغیرہم اکابر نے اس کی تائید وتصویب کی۔
ثالثا:قال الله تبارك وتعالی:" و توکل علی العزیز الرحیم ﴿۲۱۷﴾ الذی یرىک حین تقوم ﴿۲۱۸﴾ و تقلبک فی السجدین ﴿۲۱۹﴾ " ۔ تیسری دلیل:الله تبارك وتعالی نے فرمایا:بھروساکر زبردست مہربان پر جو تجھے دیکھتا ہے جب تو کھڑا ہو اور تیرا کروٹیں بدلنا سجدہ کرنیوالوں میں۔
امام رازی فرماتے ہیں:معنی آیت یہ ہیں کہ حضو راقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم کا نور پاك ساجدوں سے ساجدوں کی طرف منتقل ہوتارہا تو آیت اس پر دلیل ہے کہ سب آبائے کرام مسلمین تھے۔امام سیوطی وامام ابن حجر وعلامہ زرقانی وغیرہم اکابر نے اس کی تقریر وتائید وتاکید وتشیید فرمائی۔اور حضرت ابن عباس رضی الله تعالی عنھما سے اس کے موید روایت ابو نعیم کے یہاں آئی:
وقد صرحوا ان القرآن محتج بہ علی جمیع وجوھہ و لا ینفی تاویل تاویلا ویشھد لہ عمل العلماء فی الاحتجاج بالایات علی احد التاویلاتقدیما وحدیثا۔
رابعا:قال المولی سبحنہ وتعالی " و لسوف یعطیک ربک فترضی ﴿۵﴾ علماء نے تصریح کی ہے کہ قرآن پاك کی ہر وجہ سے استدلال کیا جائے گا اور کوئی ایك تاویل دوسری تاویل کی نفی نہیں کرتیاس کے لیے علماء کاعمل گواہ ہے کہ وہ پرانے اور نئے زمانے میں آیات مبارکہ کی کئی تاویلات میں سے ایك سے استدلال کرتےرہے ہیں۔(ت)
چوتھی دلیل:الله تعالی نے فرمایا:البتہ عنقریب تجھے تیرا رب اتنا دے گاکہ تو راضی ہو جائے گا۔
الله اکبر ! بارگاہ عزت میں مصطفی صلی الله تعالی علیہ وسلم کی عزت ووجاہت ومحبوبیت کہ امت کے حق میں تو رب العزت جل وعلا نے فرمایا ہی تھا :
حوالہ / References القرآن الکریم ۲۶ /۲۱۷ تا ۲۱۹
مفاتیح الغیب تحت آیۃ ۲۶ / ۲۱۹۔۔ ۲۴/ ۱۴۹
شرح الزرقانی علی المواھب اللدنیۃ المقصد الاول باب وفات امہ صلی الله علیہ وسلم دارالمعرفہ بیروت ۱ /۱۷۴
شرح الزرقانی بحوالہ ابی نعیم المقصد الاول باب وفات امہ صلی الله علیہ وسلم دارالمعرفہ بیروت ۱ /۱۷۴،دلائل النبوۃ لابی نعیم الفصل الثانی عالم الکتب بیروت الجزء الاو ل ص۱۱و۱۲
القرآن الکریم ۹۳ /۵
#18297 · رسالہ شمول الاسلام لاصول الرسول الکرام ۱۳۱۵ھ (رسول کریم صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے آباؤ اجداد کرام کا مسلما ن ہونا)
سنرضیك فی امتك ولا نسؤك رواہ مسلم فی صحیحہ۔ قریب ہے کہ ہم تجھے تیری امت کے باب میں راضی کردینگے اور تیرا دل برا نہ کریں گے۔(اسے مسلم نے اپنی صحیح میں روایت کیا ہے۔ت)
مگر اس عطاورضا کا مرتبہ یہاں تك پہنچا کہ صحیح حدیث میں حضور سید عالم صلی الله تعالی علیہ وسلم نے ابو طالب کی نسبت فرمایا:
وجدتہ فی غمرات من النار فاخرجتہ الی ضحضاح رواہ البخاری ومسلم عن العباس بن عبد المطلب رضی الله تعالی عنہما ۔ میں نے اسے سراپا آگ میں ڈوبا ہوا پایا تو کھینچ کر ٹخنوں تك کی آگ میں کر دیا(اس کو امام بخاری وامام مسلم نے ابن عباس بن عبد المطلب رضی الله تعالی عنہما سے روایت کیا۔ت)
دوسری روایت صحیح میں فرمایا:
ولو لا انا لکان فی الدرك الاسفل من النار۔رواہ ایضا رضی الله تعالی عنہ اگر میں نہ ہوتا تو ابو طالب جہنم کے سب سے نیچے طبقے میں ہوتا(اس کو بخاری نے انہی سے روایت کیا ہے)
دوسری حدیث صحیح میں فرماتے ہیں صلی الله تعالی علیہ وسلم:
حوالہ / References صحیح مسلم کتاب الایمان باب دعا النبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم لامتہ الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۱۳
صحیح البخاری کتاب المناقب قصہ ابی طالب قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۵۴۸،صحیح البخاری کتاب الادب کنیۃ المشرك قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۹۱۷،صحیح مسلم باب شفاعۃ النبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم لابی طالب الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۱۵،مسند احمد بن حنبل عن العباس بن عبد المطلب رضی الله تعالٰی عنہما المکتب الاسلامی بیروت ۱ /۲۰۶
صحیح مسلم کتاب الایمان باب شفاعۃ النبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم لابی طالب قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۱۵،صحیح البخاری کتاب المناقب باب قصۃ ابی طالب قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۵۴۸،صحیح البخاری کتاب الادب باب کنیۃ المشرك قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۹۱۷
#18298 · رسالہ شمول الاسلام لاصول الرسول الکرام ۱۳۱۵ھ (رسول کریم صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے آباؤ اجداد کرام کا مسلما ن ہونا)
اھون اھل النار عذابا۔رویاہ عن ابن عباس رضی الله تعالی عنھما۔ دوزخیوں میں سب سے ہلکا عذاب ابو طالب پر ہے(امام بخاری ومسلم نے یہ حدیث ابن عباس رضی الله تعالی عنہما سے روایت کی۔ت)
اور یہ ظاہر ہے کہ حضور اقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم سے جو قرب والدین کریمین کو ہےابو طالب کو اس سے کیا نسبت پھر ان کا عذر بھی واضح کہ نہ انھیں دعوت پہنچی نہ انھوں نے زمانہ اسلام پایاتو اگر معاذ الله وہ اہل جنت نہ ہوتے تو ضرور تھا کہ ان پر ابو طالب سے بھی کم عذاب ہوتا اور وہی سب سے ہلکے عذاب میں ہوتے۔یہ حدیث صحیح کے خلاف ہے تو واجب ہوا کہ والدین کریمین اہل جنت ہیںولله الحمداس دلیل کی طرف بھی امام خاتم الحفاظ(جلال الدین سیوطی رحمۃالله تعالی)نے اشارہ فرمایا:
اقول:وبالله التوفیق(میں کہتا ہوں اور توفیق الله تبارك تعالی کی طرف سے ہے۔ت)تقریر دلیل یہ ہے کہ صادق و مصدوق صلی الله تعالی علیہ وسلم نے خبر دی کہ اہل نار میں سب سے ہلکا عذاب ابو طالب پر ہے۔اب ہم پوچھتے ہیں کہ ابو طالب پر یہ تخفیف کس وجہ سے ہے آیا حضور اقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم کی یاری وغمخواری وپاسداری وخدمت گزاری کے باعث یا اس لئے کہ سید المحبوبین صلی الله تعالی علیہ وسلم کو ان سے محبت طبعی تھیحضور کو ان کی رعایت منظور تھی۔حضور اقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
عم الرجل صنو ابیہ رواہ الترمذی بسند حسن عن ابی ھریرۃ رضی الله تعالی عنہ وعن علی والطبرانی الکبیر عن ابن عباس رضی الله تعالی عنھم) آدمی کا چچا اس کے باپ کے بجائے ہوتا ہے اس کو امام ترمذی نے سند حسن کے ساتھ حضرت ابوہریرہ اور حضرت علی رضی الله تعالی عنہما سے جبکہ طبرانی کبیر نے ابن عباس رضی الله تعالی عنہما سے روایت کیا ہے۔(ت)
شق اول باطل ہےقال الله عزوجل(الله عزوجل نے ارشاد فرمایا):
حوالہ / References صحیح مسلم کتاب الایمان باب اھون اھل النار عذابا قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/۱۱۵
جامع الترمذی ابواب المناقب مناقب ابی الفضل عم النبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم امین کمپنی دہلی ۲ /۲۱۷،المعجم الکبیر حدیث ۱۰۶۹۸ المکتبہ الفیصلیۃ بیروت ۱۰ /۳۵۳
#18299 · رسالہ شمول الاسلام لاصول الرسول الکرام ۱۳۱۵ھ (رسول کریم صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے آباؤ اجداد کرام کا مسلما ن ہونا)
" و قدمنا الی ما عملوا من عمل فجعلنہ ہباء منثورا ﴿۲۳﴾"
۔ اور جو کچھ انھو ں نے کام کئے تھے ہم نے قصد فرما کر انھیں باریك باریك غبار کے بکھرے ہوئے ذرے کردیا کہ روزن کی دھوپ میں نظر آتے ہیں۔(ت)
صاف ارشاد ہوتا ہے کہ کافر کے سب عمل برباد محض ہیںلا جرم شق ثانی ہی صحیح ہے اور یہی ان احادیث صحیحہ مذکورہ سے مستفادابو طالب کے عمل کی حقیقت تو یہاں تك تھی کہ حضور اقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم نے سراپا آگ میں غرق پایاعمل نے نفع دیا ہوتا تو پہلے ہی کام آتاپھر حضور کا ارشاد کہ میں نے اسے ٹخنوں تك کی آگ میں کھینچ لیامیں نہ ہوتا تو جہنم کے طبقہ زیریں میں ہوتا " ۔
لاجرم یہ تخفیف صرف محبوب صلی الله تعالی علیہ وسلم کا پاس خاطر اور حضور کا اکرام ظاہر وباہر ہے اور بالبداہت واضح کہ محبوب صلی الله تعالی علیہ وسلم کی خاطر اقدس پر ابو طالب کا عذاب ہر گز اتنا گراں نہیں ہو سکتا جس قدر معاذ الله والدین کریمین کا کاملہنہ ان سے تخفیف میں حضور کی آنکھوں کی وہ ٹھنڈك جو حضرات والدین کے بارے میںنہ ان کی رعایت میں حضور کا وہ اعزاز واکرام جو حضرت والدین کے چھٹکارے میںتو اگر عیاذ ابالله وہ اہل جنت نہ ہوتے تو ہر طرح سے وہی اس رعایت وعنایت کے زیادہ مستحق تھےوبوجہ آخر فرض کیجئے کہ یہ ابوطالب کے حق پرورش وخدمت ہی کا معاوضہ ہے تو پھر کون سی پرورش جزئیت کے برابر ہوسکتی ہےکون سی خدمت حمل و وضع کا مقابلہ کرسکتی ہے کیا کبھی کسی پرورش کنندہ یا خدمت گزار کا حقحق والدین کے برابر ہو سکتا ہے جسے رب العزت نے اپنے حق عظیم کے ساتھ شمار فرمایا:
" ان اشکر لی و لولدیک " ۔ حق مان میرا اور اپنے والدین کا۔
پھر ابو طالب نے جہاں برسوں خدمت کیچلتے وقت رنج بھی وہ دیا جس کا جواب نہیںہر چند حضور اقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم نے کلمہ پڑھنے کو فرمایانہ پڑھنا تھا نہ پڑھاجرم وہ کیا جس کی مغفرت نہیں۔عمر بھر معجزات دیکھنااحوال پر علم تام رکھنا اور زیادہ حجۃ الله قائم ہونے کا موجب ہوا بخلاف ابوین کریمین کہ نہ انھیں دعوت دی گئی نہ انکار کیاتو ہر وجہہر لحاظہر حیثیت سے یقینا انھیں کا پلہ بڑھا ہوا ہےتو ابو طالب کا عذاب سب سے ہلکا ہونا یونہی متصور کہ ابوین کریمین اہل نار ہی سے نہ ہوں۔وھو المقصود والحمد لله العلی الودود اور وہی مقصود ہے(اور تمام تعریفیں بلندی ومحبت
حوالہ / References القرآن الکریم ۲۵ /۲۳
صحیح البخاری کتاب مناقب انصار قصہ ابی طالب ۱ /۵۴۸ و صحیح مسلم کتاب الایمان ۱ /۱۱۵،مسند احمد بن حنبل عن العباس المکتب الاسلامی بیروت ۱ /۲۰۷و۲۱۰
القرآن الکریم ۳۱ /۱۴
#18300 · رسالہ شمول الاسلام لاصول الرسول الکرام ۱۳۱۵ھ (رسول کریم صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے آباؤ اجداد کرام کا مسلما ن ہونا)
والے الله کے لئے ہیں۔ت)
خامسا: اقول:قال المولی عزوعلا:" لا یستوی اصحب النار و اصحب الجنۃ اصحب الجنۃ ہم الفائزون ﴿۲۰﴾ " ۔ پانچویں دلیل:اقول:(میں کہتاہوں کہ)مولی عزوجل نے فرمایا:برابر نہیں دوزخ والے اورجنت والےاورجنت والے ہی مراد کو پہنچے۔
حدیث میں ہے حضور پر نور سید المرسلین صلی الله تعالی علیہ وسلم نے اولاد امجاد حضرت عبدالمطلب سے ایك پاك طیبہ خاتون رضی الله تعالی عنہا کو آتے دیکھاجب پاس آئیںفرمایا:
مااخرجك من بیتك اپنے گھر سے کہاں گئی تھیں
عرض کی:
آتیت اھل ھذا المیت فترحمت الیہم وعزیتھم بمیتھم۔ یہ جو ایك میت ہوگئی تھی میں ان کے یہاں دعائے رحمت اور تعزیت کرنے گئی تھی۔
فرمایا:
لعلك بلغت معھم الکدی۔ شاید تو ان کے ساتھ قبرستان تك گئی۔
عرض کی:
معاذالله ان اکون بلغتھاوقد سمعتك تذکر فی ذلك ماتذکر۔ خدا کی پناہ میں وہاں جاتی حالانکہ حضور سے سن چکی تھی جو کچھ اس بات میں ارشاد کیا۔
سید عالم صلی الله تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:
لوبلغتہا معھم مارایت الجنۃ حتی یراھا جد ابیك۔
رواہ ابوداؤد والنسائی۔واللفظ لہ عن عبدالله بن عمر وبن العاص رضی الله تعالی عنہمااما ابو داؤد اگر توان کے ساتھ وہاں جاتی تو جنت نہ دیکھتی جب تك عبدالمطلب نہ دیکھیں۔اس کو ابو داؤد اورنسائی نے روایت کیا ہےاورلفظ نسائی کے ہیں سیدنا عبدالله بن عمرو بن العاص رضی الله تعالی عنہما سے امام ابو داؤد

فتادب وکنی وقال فذکر تشدیدافی ذلك واما ابو عبدالرحمن فادی لتبلیغ العلم واداء الحدیث علی وجھہ لکل وجھۃ ھو مولیہا۔ نے ازراہ ادب بطور کنایہ اس میں تشدید کا ذکر کیا لیکن امام ابو عبدالرحمن نے کھل کر علم کو پہنچایا اورحدیث کا حق ادا کیا۔ ہر ایك کے لئے تو جہ کی ایك سمت ہے جس کی طرف وہ منہ کرتاہے۔(ت)
یہ تو حدیث کا ارشاد ہےاب ذرا عقائد اہلسنت پیش نظر رکھتے ہوئے نگاہ انصاف درکارعورتوں کا قبرستان جانا غایت درجہ اگر ہے تو معصیت ہےاورہرگز کوئی معصیت مسلمان کوجنت سے محروم اور کافر کے برابر نہیں کرسکتیاہلسنت کے نزدیك مسلمان کا جنت میں جانا واجب شرعی ہے
حوالہ / References القرآن الکریم ۵۹ /۲۰
سنن النسائی کتاب الجنائز باب النعی نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ۱ /۲۶۵و۲۶۶ وسنن ابی داؤد کتاب الجنائز باب التعزیۃ آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۸۹
#18301 · رسالہ شمول الاسلام لاصول الرسول الکرام ۱۳۱۵ھ (رسول کریم صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے آباؤ اجداد کرام کا مسلما ن ہونا)
اگرچہ معاذالله مواخذے کے بعداورکافر کا جنت میں جانا محال شرعی کہ ابدالآباد تك کبھی ممکن ہی نہیںاورنصوص کو حتی الامکان ظاہر پر محمول کرنا واجباور بے ضرورت تاویل ناجائزاور عصمت نوع بشر میں خاصہ حضرات انبیاء علیہم الصلوۃ والثناء ہےان کے غیر سے اگرچہ کیسا ہی عظیم الدرجات ہووقوع گناہ ممکن ومتصور۔یہ چاروں باتیں عقائد اہل سنت میں ثابت ومقرراب اگر بحکم مقدمہ رابعہ مقابر تك بلوغ فرض کیجئے تو بحکم مقدمہ ثالثہ جزاء کا ترتب واجباوراس تقدیر پر کہ حضرت عبدالمطلب کو معاذ الله غیر مسلم کہئے بحکم مقدمتین اولین ونیزبحکم آیت کریمہ محال وباطلتو واجب ہوا کہ حضرت عبدالمطلب مسلمان واہل جنت ہوں اگرچہ مثل صدیق وفاروق وعثمان وعلی وزہراو صدیقہ وغیرہم رضی الله تعالی عنہم سابقین اولین میں نہ ہوں۔اب معنی حدیث بلا تکلف اور بے حاجت تاویل و تصرف عقائد اہلسنت سے مطابق ہے یعنی اگر یہ امر تم سے واقع ہوتا تو سابقین اولین کے ساتھ جنت میں جانا نہ ملتا بلکہ اس وقت جبکہ عبدالمطلب داخل بہشت ہوں گے ھکذا ینبغی التحقیق والله تعالی ولی التوفیق(یونہی تحقیق چاہئے اورالله تعالی ہی توفیق کا مالك ہے۔ت)
سادسااقول:قال ربنا الاعزالاعلی عزوعلا: " و للہ العزۃ و لرسولہ و للمؤمنین و لکن المنفقین لا یعلمون ﴿۸﴾ " ۔
وقال تعالی:" یایہا الناس انا چھٹی دلیل:اقول:(میں کہتاہوں کہ)ہمارے پروردگار اعز و اعلی عزوعلانے فرمایاعزت تو الله ورسول اورمسلمان ہی کے لیے ہے مگر منافقوں کو علم نہیں۔
اورالله تعالی نے فرمایا:اے لوگو!
حوالہ / References القرآن الکریم ۶۳ /۸
#18302 · رسالہ شمول الاسلام لاصول الرسول الکرام ۱۳۱۵ھ (رسول کریم صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے آباؤ اجداد کرام کا مسلما ن ہونا)
خلقنکم من ذکر و انثی و جعلنکم شعوبا و قبائل لتعارفوا ان اکرمکم عند اللہ اتقىکم ان اللہ علیم خبیر ﴿۱۳﴾ " ۔ ہم نے بنایا تمہیں ایك نرومادہ سے اورکیا تمہیں قومیں اور قبیلے کہ آپس میں ایك دوسرے کو پہچانو بے شك الله کے نزدیك تمہارا زیاد عزت والا وہ ہے جو تم میں زیادہ پرہیز گار ہے۔
ان آیات کریمہ میں رب العزت جل وعلانے عزت وکرم کو مسلمانوں میں منحصرفرمادیا اورکافر کو کتنا ہی قوم دار ہولئیم وذلیل ٹھہرایا اورکسی لئیم وذلیل کی اولاد سے ہونا کسی عزیز وکریم کے لیے باعث مدح نہیں ولہذا کافر باپ دادوں کے انتساب سے فخر کرنا حرام ہوا۔صحیح حدیث میں ہے رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من انتسب الی تسعۃ اباء کفار یرید بھم عزا وکرما کان عاشرھم فی النار۔رواہ احمد عن ابی ریحانہ رضی الله تعالی عنہ بسند صحیح۔ جو شخص عزت وکرامت چاہنے کو اپنی نوپشت کافر کا ذکر کرے کہ میں فلاں ابن فلاں ابن فلاں کا بیٹا ہوں ان کادسواں جہنم میں یہ شخص ہو۔(اس کو امام احمد نے ابو ریحانہ رضی الله تعالی عنہ سے صحیح سند کے ساتھ روایت فرمایا۔ت)
اوراحادیث کثیرہ مشہورہ سے ثابت کہ حضو راقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم نے اپنے فضائل کریمہ کے بیان اورمقام رجز ومدح میں بارہا اپنے آبائے کرام وامہات کرائم کا ذکر فرمایا۔
روز حنین جب ارادہ الہیہ سے تھوڑی دیر کےلئے کفار نے غلبہ پایا معدود بندے رکاب رسالت میں باقی رہےالله غالب کے رسول غالب پر شان جلال طاری تھی:
انا النبی لاکذب انا ابن عبدالمطلب۔رواہ احمد والبخاری ومسلم والنسائی عن البراء بن عازب رضی الله تعالی عنہ۔ میں نبی ہوں کچھ جھوٹ نہیںمیں ہوں بیٹا عبدالمطلب کا۔ (اس کو احمدبخاریمسلم اورنسائی نے سیدنا براء بن عازب رضی الله تعالی عنہ سے روایت کیا ہے۔ت)
حوالہ / References القرآن الکریم ۴۹ /۱۳
مسند احمد بن حنبل حدیث ابی ریحانہ رضی الله عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۴ /۱۳۴
صحیح البخاری کتاب الجہاد باب من قاد دابۃ غیرہ فی الحرب قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۴۰۱،صحیح مسلم کتاب الجہادباب غزوۃ حنین قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۱۰۰
#18303 · رسالہ شمول الاسلام لاصول الرسول الکرام ۱۳۱۵ھ (رسول کریم صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے آباؤ اجداد کرام کا مسلما ن ہونا)
حضور قصد فرما رہے ہیں کہ تنہا ان ہزاروں کے مجمع پر حملہ فرمائیں۔حضرت عباس بن عبدالمطلب وحضرت ابو سفیان بن حارث بن عبدالمطلب رضی الله تعالی عنہما بغلہ شریف کی لگام مضبوط کھینچے ہوئے ہیں کہ بڑھ نہ جائے اورحضور فرمارہے ہیں:
انا النبی لاکذب
انا ابن عبد المطلب
رواہ ابوبکربن ابی شیبۃ (وابونعیم عنہ رضی الله تعالی عنہ) میں سچا نبی ہوںالله کا پیاراعبدالمطلب کی آنکھ کا تاراصلی الله تعالی علیہ وسلم۔
(اس کو ابو بکر بن ابی شیبہ اورابو نعیم نے براء بن عازب رضی الله تعالی عنہ سے روایت کیا ہے۔ت)
امیر المومنین عمر لگام روکے ہیں اورحضرت عباس دمچی تھامےاورحضور فرمارہے ہیں
قدما ھاانا النبی لاکذبانا ابن عبدالمطلبرواہ ابن عساکر عن مصعب بن شیبۃ عن ابیہ رضی الله تعالی عنہ۔ اسے بڑھنے دومیں ہوں نبی صریح حق پرمیں ہوں عبد المطلب کا پسرصلی الله تعالی علیہ وسلم۔(اس کو ابن عساکر نے مصعب بن شیبہ سے ان کے باپ کے واسطہ سے روایت کیاہے ۔ت)
جب کافر نہایت قریب آگئےبغلہ طیبہ نے نزول اجلال فرمایااس وقت بھی یہی فرماتے تھے
انا النبی لاکذبانا ابن عبدالمطلباللھم انزل نصرك۔رواہ ابن ابی شیبۃ وابن ابی جریر عن البراء رضی الله تعالی عنہ۔ میں ہوں نبی برحق سچامیں ہوں عبدالمطلب کا بیٹاالہی! اپنی مدد نازل فرما۔(اس کو ابن ابی شیبہ اورابن جریر نے سیدنا حضرت براء بن عازب رضی الله تعالی عنہ سے روایت کیا ہے۔ت)
حوالہ / References المصنف لابن ابی شیبہ کتاب السیر حدیث ۳۳۵۷۳دارالعلمیۃ بیروت ۶ /۵۳۵،کنزالعمال بحوالہ ش وابی نعیم حدیث ۳۰۲۰۷ مؤسسۃ الرسالۃ بیروت ۱۰ /۵۴۰
تاریخ دمشق الکبیر ترجمہ ۲۸۵۸شیبۃ بن عثمان داراحیاء التراث العربی بیروت ۲۵ /۱۷۲
کنزالعمال بحوالہ ش وابن جریر حدیث ۳۰۲۰۶مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۰ /۵۴۱
#18304 · رسالہ شمول الاسلام لاصول الرسول الکرام ۱۳۱۵ھ (رسول کریم صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے آباؤ اجداد کرام کا مسلما ن ہونا)
پھر ایك مشت خاك دست پاك میں لےکر کافروں کی طرف پھینکی اورفرمایا:
شاھت الوجوہ ۔ چہرے بگڑگئے۔
وہ خاك ان ہزاروں کافروں پر ایك ایك کی آنکھ میں پہنچی اورسب کے منہ پھر گئےان میں جو مشرف باسلام ہوئے وہ بیان فرماتے ہیں جس وقت حضور اقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم نے وہ کنکریاں ہماری طرف پھینکیں ہمیں یہ نظر آیا کہ زمین سے آسمان تك تانبے کی دیوار قائم کردی گئی اور اس پر سے پہاڑ ہم پر لڑھکائے گئےسوائے بھاگنے کے کچھ بن نہ آئی
وصلی الله تعالی علی الحق المبین سید المنصورین والہ وبارك وسلم۔ الله تعالی درودوسلام اوربرکت نازل فرمائے حق مبین پر جو مددکئے ہوؤں کے سردار ہیں اورآپ کی آل پر۔(ت)
اسی غزوہ کے رجز میں ارشاد فرمایا:
انا ابن العواتك من بنی سلیم۔رواہ سعید بن منصور فی سننہ والطبرانی فی الکبیر عن سبابۃ بن عاصم رضی الله تعالی عنہ۔ میں بنی سلیم سے ان چند خاتونوں کا بیٹا ہوں جن کا نا م عاتکہ تھا۔(اس کو سعیدبن منصور نے اپنی سنن میں اورطبرانی معجم کبیر میں سبابہ بن عاصم رضی الله تعالی عنہ سے روایت کیا ہے۔(ت)
ایك حدیث میں ہےبعض غزوات میں فرمایا:
انا النبی لاکذبانا ابن عبدالمطلبانا بن العواتك۔ رواہ ابن عساکر عن قتادہ۔ میں نبی ہوں کچھ جھوٹ نہیںمیں ہوں عبدالمطلب کا بیٹا میں ہوں ان بیبیوں کا بیٹا جن کا نام عاتکہ تھا(اس کو ابن عساکر نے حضرت قتادہ رضی الله تعالی عنہ سے روایت کیا ہے۔(ت)
حوالہ / References کنزالعمال حدیث ۳ ۳۰۲۱ مؤسسۃ الرسالۃ بیروت ۱۰ /۵۴۱،جامع البیان(تفسیر ابن جریر)تحت الآیۃ لقد نصرکم الله الخ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱۰ /۱۱۸
کنزالعمال بحوالہ ص وطب حدیث ۳۱۸۷۴ مؤسسۃ الرسالۃ بیروت ۱۱ /۴۰۲،المعجم الکبیر بحوالہ ص و طب حدیث ۶۷۲۴ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۷ /۱۶۹
تاریخ دمشق الکبیر باب معرفۃ امہ وجداتہٖ الخ داراحیاء التراث العربی بیروت ۳ /۶۰
#18305 · رسالہ شمول الاسلام لاصول الرسول الکرام ۱۳۱۵ھ (رسول کریم صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے آباؤ اجداد کرام کا مسلما ن ہونا)
علامہ مناوی صاحب تیسیر وامام مجدالدین فیروز آبادی صاحب قاموس وجوہری صاحب صحاح وصنعانی وغیرہم نے کہا:نبی صلی الله تعالی علیہ وسلم کی جدات میں نو بیبیوں کا نام عاتکہ تھا ۔ابن بری نے کہا:وہ بارہ بیبیاں عاتکہ نام کی تھیںتین۳ سلمیات یعنی قبیلہ بنی سلیم سےاوردو۲ قرشیاتدو عدوانیات اورایك ایك کنانیہاسدیہہذلیہقضاعیہازدیہذکرہ فی تاج العروس (اسے تاج العروس میں ذکر کیا گیا۔ت)
ابو عبدالله عدوسی نے کہا:وہ بیبیاں چودہ۱۴ تھیںتین قرشیاتچار سلمیاتدو عدوانیات اورایك ایك ہذلیہقحطانیہقضاعیہ ثقفیہاسدیہ بنی اسد خزیمہ سے۔رواہ الامام الجلال السیوطی فی الجامع الکبیر(اس کو امام جلال الدین سیوطی رحمہ الله نے جامع کبیر میں روایت کیا ہے۔ت)اور ظاہر ہے کہ قلیل نافی کثیر نہیں۔
حدیث میں آتا ہے کہ حضور اقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم نے اپنے مقام مدح وبیان فضائل کریمہ میں اکیس۲۱ پشت تك اپنا نسب نامہ ارشاد کر کے فرمایا:میں سب سے نسب میں افضلباپ میں افضلصلی الله تعالی علیہ وسلم۔تو بحکم نصوص مذکورہ ضرور ہے کہ حضور کے آباء وامہات مسلمین ومسلمات ہوں۔ولله الحمد(اورالله تعالی ہی کے لئے حمد ہے۔ت)
سابعا:قال الله سبحنہ وتعالی:" انہ لیس من اہلک انہ عمل غیر صلح ۫٭" ۔ ساتویں دلیل: الله سبحنہ وتعالی نے فرمایا:اے نوح ! یہ کنعان تیرے اہل سے نہیں یہ تو ناراستی کے کام والا ہے۔(ت)
آیہ کریمہ نے مسلم وکافر کا نسب قطع فرمادیا ولہذا ایك کا ترکہ دوسرے کو نہیں پہنچتا۔اور حدیث میں ہے رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم نے فرمایا ہے:
نحن بنوالنضربن کنانۃ لاننتفی من ابینا۔رواہ ہم نضربن کنانہ کے بیٹے ہیںہم اپنے باپ سے اپنا نسب جدا نہیں کرتے(اسکو
حوالہ / References التیسیر شرح الجامع الصغیر تحت الحدیث انا ابن العواتك مکتبۃ الامام الشافعی ریاض ۱ /۲۷۵،الصحاح باب الکاف فصل العین تحت لفظ عاتکہ دار احیاء التراث العربی بیروت ۴ /۱۳۱۱
تاج العروس باب الکاف فصل العین داراحیاء التراث العربی بیروت ۷ /۱۵۹
القرآن الکریم ۱۱ /۴۶
#18306 · رسالہ شمول الاسلام لاصول الرسول الکرام ۱۳۱۵ھ (رسول کریم صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے آباؤ اجداد کرام کا مسلما ن ہونا)
ابوداؤد الطیالسی وابن سعد والامام احمد وابن ماجۃ والحارث والماوردی سمویہ وابن قانع والطبرانی فی الکبیر وابو نعیم والضیاء المقدسی فی صحیح المختارۃ عن الاشعث بن قیس الکندی رضی الله تعالی عنہ۔ ابو داؤد طیالسیابن سعدامام احمدابن ماجہحارث ماوردی سمویہابن قانعطبرانی کبیرابو نعیم اورضیاء مقدسی نے صحیح مختارہ میں اشعث بن قیس الکندی رضی الله تعالی عنہ سے روایت کیا ہے۔ت)
کفار سے نسب بحکم احکم الحاکمین منقطع ہےپھر معاذالله جدا نہ کرنے کا کیا محل ہوتا۔
ثامنا وتاسعااقول:قال العلی الاعلی تبارك وتعالی
" ان الذین کفروا من اہل الکتب و المشرکین فی نار جہنم خلدین فیہا اولئک ہم شر البریۃ ﴿۶﴾ ان الذین امنوا و عملوا الصلحت اولئک ہم خیر البریۃ ﴿۷﴾" ۔ آٹھویں اورنویں دلیل:میں کہتاہوں علی اعلی تبارك وتعالی نے فرمایا:بیشك سب کافر کتابی اورمشرك جہنم کی آگ میں ہیںہمیشہ اس میں رہیں گےوہ سارے جہان سے بدتر ہیں بے شك وہ جو ایمان لائے اوراچھے کام کئے وہ سارے جہان سے بہتر ہیں۔
اورحدیث میں ہے رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
غفرالله عزوجل لزید بن عمرو و رحمہ فانہ مات علی دین ابراھیم۔ الله عزوجل نے زید بن عمرو کو بخش دیا اوران پر رحم فرمایا کہ وہ دین ابراہیم علیہ الصلوۃ و
حوالہ / References کنزالعمال بحوالہ الحارث والباوردی وسمویہ وغیرہ حدیث ۳۵۵۱۳مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۲ /۴۴۲،سنن ابن ماجۃ ابواب الحدود باب من نفی رجلا من قبیلۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۹۱،مسند احمد بن حنبل حدیث الاشعث بن قیس الکندی المکتب الاسلامی بیروت ۵ /۲۱۱۲۱۲،المجعم الکبیر حدیث ۲۱۹۰ و ۲۱۹۱ المکتب الفیصلیۃ بیروت ۲ /۲۸۶،مسند ابی داؤد الطیالسی احادیث الاشعث بن قیس حدیث ۱۰۴۹دارالمعرفۃ بیروت الجز الرابع ص۱۴۱،الطبقات الکبرٰی لابن سعد ذکر من انتمٰی الیہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم دارصادر بیروت ۱۰ /۲۳، دلائل النبوۃ للبیہقی باب ذکر شرف اصل رسول الله صلی الله علیہ وسلم دارالکتب العلمیہ بیروت ۱ /۱۷۳
القرآن الکریم ۹۸ /۶، ۷
#18307 · رسالہ شمول الاسلام لاصول الرسول الکرام ۱۳۱۵ھ (رسول کریم صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے آباؤ اجداد کرام کا مسلما ن ہونا)
رواہ البزار والطبرانی عن سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی الله تعالی عنہما۔ السلام پر تھے۔(اس کو بزار اورطبرانی نے سیدنا سعید بن عمرو بن نفیل رضی الله تعالی عنہ سے روایت کیاہے۔ت)
اورایك اورحدیث میں ہےرسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم نے انکی نسبت فرمایا:
رأیتہ فی الجنۃ یسحب ذیولا۔رواہ ابن سعد و الفاکھی عن عامر بن ربیعۃ رضی الله تعالی عنہما۔ میں نے اسے جنت میں نازکے ساتھ دامن کشاں دیکھا(اس کو ابن سعد اورفاکہی نے حضرت عامر بن ربیع رضی الله تعالی عنہ سے روایت کیا۔ت)
اوربیہقی وابن عساکر کی حدیث میں بطریق مالك عن الزہری عن انس رضی الله تعالی عنہ ہےرسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں وھذہ روایۃ البیھقی(اور یہ بیہقی کی روایت ہے۔):
انا محمد بن عبدالله بن عبدالمطلب بن ھاشم بن عبدمناف بن قصی بن کلاب بن مرۃ بن کعب بن لؤی بن غالب بن فھر بن مالك بن النضربن کنانۃ بن خزیمۃ بن مدرکۃ بن الیاس بن مضربن نزار بن معدبن عدنان۔ماافترق الناس فرقتین الا جعلنی الله فی خیر ھما فاخرجت من بین ابوین فلم یصبنی شیئ من عہد الجاھلیۃ وخرجت من نکاح و لم اخرج من سفاح من لدن ادم حتی انتہیت الی ابی وامی فانا خیرکم نفسا وخیرکم ابا وفی لفظ فانا خیرکم میں ہوں محمد بن عبدالله بن عبدالمطلب بن ہاشم بن عبد مناف بن قصی بن کلاب بن مرہ بن کعب بن لؤی بن غالب بن فہربن مالك بن نضربن کنانہ بن خزیمہ بن مدرکہ بن الیاس بن مضربن نزاربن معدبن عدنان۔کبھی لوگ دوگروہ نہ ہوئے مگر مجھے الله تعالی نے بہتر گروہ میں کیا تو میں اپنے ماں باپ سے ایسا پیداہوا کہ زمانہ جاہلیت کی کوئی بات مجھ تك نہ پہنچی اورمیں خالص نکاح صحیح سے پیداہوا آدم سے لے کر اپنے والدین تكتو میرانفس کریم تم سب سے افضل اورمیرے باپ تم سب کے آباء سے بہتر۔
حوالہ / References الطبقات الکبرٰی لابن سعد ترجمہ سعید بن زید دارصادر بیروت ۳ /۳۸۱
فتح الباری بحوالہ ابن سعد والفاکہی کتاب المناقب حدیث زید بن عمرو بن نفیل مصطفٰی البابی مصر ۸ /۱۴۷
دلائل النبوۃ باب ذکر اصل رسول الله صلی الله علیہ وسلم دارالکتب العلمیہ بیروت ۱ /۱۷۴ تا ۱۷۹،تاریخ دمشق الکبیر باب ذکر معرفۃ نسبہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۳ /۲۹و۳۸
#18308 · رسالہ شمول الاسلام لاصول الرسول الکرام ۱۳۱۵ھ (رسول کریم صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے آباؤ اجداد کرام کا مسلما ن ہونا)
نسبا وخیرکم ابا ۔
اس حدیث میں اول تو نفی عام فرمائی کہ عہد جاہلیت کی کسی بات نے نسب اقدس میں کبھی کوئی راہ نہ پائییہ خود دلیل کافی ہے اورامرجاہلیت کو خصوص زنا پر حمل کرنا ایك تو تخصیص بلا مخصصدوسرے لغو کہ نفی زنا صراحۃاس کے متصل مذکور۔
ثانیا ارشادہوتا ہے کہ میرے باپ تم سب کے آباء سے بہتر۔ان سب میں حضرت سعید بن زید بن عمرورضی الله تعالی عنہما بھی قطعا داخل تو لازم کہ حضرت والد ماجد حضرت زید سے افضل ہوں اوریہ بحکم آیت بے اسلام ناممکن۔
عاشرااقول:قال الله عزوجل:" اللہ اعلم حیث یجعل رسالتہ " ۔ دسویں دلیل:میں کہتاہوںالله عزوجل نے فرمایا:خدا خوب جانتاہے جہاں رکھے اپنی پیغمبری۔
آیہ کریمہ شاہد کہ رب العزۃ عزوعلاسب سے زیادہ معزز ومحترم موضعوضع رسالت کے لیے انتخاب فرماتا ہے ولہذا کبھی کم قوموں رذیلوں میں رسالت نہ رکھیپھر کفر وشرك سے زیادہ رذیل کیا شے ہوگی وہ کیونکر اس قابل کہ الله عزوجل نور رسالت اس میں ودیعت رکھے۔کفار محل غضب ولعنت ہیں اورنو ررسالت کے وضع کو محل رضا ورحمت درکار۔
حضر ت ام المومنین صدیقہ رضی الله تعالی عنہا پر ایك بار خوف وخشیت کا غلبہ تھاگریہ وزاری فرمارہی تھیںحضرت عبدالله بن عباس رضی الله تعالی عنہما نے عرض کی:یا ام المومنین !کیا آپ یہ گمان رکھتی ہیں کہ رب العزت جل وعلانے جہنم کی ایك چنگاری کومصطفی صلی الله تعالی علیہ وسلم کا جوڑا بنایا ام المومنین نے فرمایا:
فرجت عنی فرج الله عنك ۔ تم نے میر اغم دور کیا الله تعالی تمہارا غم دور کرے۔
خود حدیث میں ہےحضور سید یوم النشور صلی الله تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
حوالہ / References تاریخ دمشق الکبیر باب ذکر معرفۃ نسبہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۳ /۳۰
القرآن الکریم ۶ /۱۲۴
#18309 · رسالہ شمول الاسلام لاصول الرسول الکرام ۱۳۱۵ھ (رسول کریم صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے آباؤ اجداد کرام کا مسلما ن ہونا)
ان الله ابی لی ان اتزوج أوازوج الا اھل الجنۃ۔رواہ ابن عساکر عن ھند بن ابی ھالۃ رضی الله تعالی عنہ۔ بے شك الله عزوجل نے میرے لئے نہ مانا کہ میں نکاح میں لانے یا نکاح میں دینے کا معاملہ کروں مگر اہل جنت سے۔(اس کو ابن عساکر نے ہند بن ابی ہالہ رضی الله تعالی عنہ سے روایت کیا ہے۔ت)
جب الله عزوجل نے اپنے حبیب اکرم صلی الله تعالی علیہ وسلم کے لے پسند نہ فرمایا(کہ غیر مسلم عورت آپ کے نکاح میں آئے)خود حبیب صلی الله تعالی علیہ وسلم کا نور پاك معاذالله محل کفر میں رکھنے یا حبیب صلی الله تعالی علیہ وسلم کا جسم پاك عیاذا بالله خون کفار سے بنانے کو پسند فرمانا کیونکر متوقع ہو۔
یہ بحمدالله دس۱۰ دلیل جلیل ہیںپہلی چار ارشاد ائمہ کبار اورچھ اخیر فیض قدیر حصہ فقیرتلك عشرۃ کاملۃوالحمدلله فی الاولی والاخرۃ(یہ دس کامل ہوئیںاور پہلی اور پچھلی میں سب تعریفیں الله تعالی کے لئے ہیں۔ت)
تنبیہات باہرہ:حدیث ان ابی واباك ۔(بے شك میرا اورتیرا باپ۔ت)میں باپ سے ابو طالب مراد لینا طریق واضح ہے۔
قال تعالی:
" قالوا نعبد الہک و الـہ ابائک ابرہم و اسمعیل و اسحق" ۔ بولے ہم پوجیں گے اسے جو خدا ہے آپ کا اور آپ کے آباء ابرایم واسمعیل واسحق کا۔(ت)
علماء نے اسی پر لابیہ ازر کو حمل فرمایا۔اہل تواریخ واہل کتابین(یہودونصاری)کا اجماع ہے کہ آزر باپ نہ تھا سید خلیل علیہ السلام الجلیل کا چچا تھا۔استغفار سے نہی معاذ الله عدم توحید پر دال نہیںصدر اسلام میں سید عالم صلی الله تعالی علیہ وسلم مدیون (مقروض)کے جنازے پر نماز نہ پڑھتے جس کا حاصل اس کے لیے استغفار ہی ہے۔
اقول:حدیث میں ہے:جب حضور سیدالشافعین صلی الله تعالی علیہ وسلم باربار
حوالہ / References تاریخ دمشق الکبیر رملۃ بنت ابی سفیان صخربن حرب الخ داراحیاء التراث العربی بیروت ۷۳ /۱۱۰
صحیح مسلم کتاب الایمان باب بیان ان من مات علی الکفر الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۱۴
القرآن الکریم ۲ /۱۳۳
#18310 · رسالہ شمول الاسلام لاصول الرسول الکرام ۱۳۱۵ھ (رسول کریم صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے آباؤ اجداد کرام کا مسلما ن ہونا)
شفاعت فرمائیں گے اوراہل ایمان کو اپنے کرم سے داخل جناں فرماتے جائیں گےاخیر میں صرف وہ لوگ رہ جائیں گے جن کے پاس سوائے توحید کے کوئی حسنہ نہیں۔شفیع مشفع صلی الله تعالی علیہ وسلم پھر سجدے میں گریں گےحکم ہوگا:
یا محمد ارفع راسك وقل یسمع لك وسل تعط واشفع تشفع۔ اے حبیب !اپنا سر اٹھاؤ اورعرض کروکہ تمہاری عرض سنی جائے گی اورمانگو کہ تمہیں عطاہوگا اورشفاعت کرو کہ تمہاری شفاعت قبول ہوگی۔(ت)
سید الشافعین صلی الله تعالی علیہ وسلم عرض کریں گے:
یا رب ائدن لی فیمن قال لا الہ الا الله۔ اے میرے رب ! مجھے ان کی بھی پروانگی دے دے جنہوں نے صرف لاالہ الا الله کہا ہے۔
رب العزت عزجلالہ ارشادفرمائے گا:
لیس ذاك الیك لکن وعزتی وکبریائی وعظمتی و جبریائی لاخرجن منھا من قال لاالہ الا الله۔رواہ الشیخان عن انس بن مالك رضی الله تعالی عنہ۔

لاالہ الا الله محمد رسول الله والحمدلله وصلی الله تعالی علی الشفیع الرفیع والہ وبارك وسلم۔ یہ تمہارے لئے نہیں مگر مجھے اپنی عزت وجلال وکبریائی کی قسم میں ضرور ان سب کو نارسے نکال لوں گا جنہوں نے لا الہ الا الله کہا ہے(اس کو بخاری ومسلم نے حضرت انس بن مالك رضی الله تعالی عنہ سے روایت کیا ہے۔ت)
الله تعالی کے بغیر کوئی معبود نہیں اورمحمد صلی الله تعالی علیہ وسلم الله تعالی کے سچے رسول ہیں۔تمام تعریفیں الله تعالی کےلئے ہیں۔الله تعالی دروود وسلام اوربرکت نازل فرمائے بلند شان والے شفیع پر اور ان کی آل پر۔(ت)
حضرات ابوین کریمین رضی الله تعالی عنہما کا انتقال عہد اسلام سے پہلے تھا تو اس وقت تك صرف اہل توحید واہل لا الہ الا الله تھے تو نہی از قبیل لیس ذلك لك ہے۔بعدہ رب العزت
حوالہ / References صحیح البخاری کتاب التوحید باب کلام الرب یوم القیٰمۃ مع الانبیاء وغیرھم قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۱۱۱۸و۱۱۱۹،صحیح مسلم کتاب الایمان باب اثبات الشفاعۃ واخراج الموحدین من النار قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۱۰
#18311 · رسالہ شمول الاسلام لاصول الرسول الکرام ۱۳۱۵ھ (رسول کریم صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے آباؤ اجداد کرام کا مسلما ن ہونا)
جل جلالہ نے اپنے نبی کریم صلی الله تعالی علیہ وسلم کے صدقے میں ان پر تمام نعمت کےلئے اصحاب کہف رضی الله تعالی عنہم کی طرح انہیں زندہ کیا کہ حضور اقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم پر ایمان لاکرشرف صحابیت پاکر آرام فرمایا لہذا حکمت الہیہ کہ یہ زندہ کرنا حجۃ الوداع میں واقع ہوا جبکہ قرآن کریم پورا اترلیا اور " الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی" (آج میں نے تمہارے لئے تمہارا دین کامل کردیا اورتم پراپنی نعمت پوری کردی۔ت)نے نزول فرما کر دین الہی کو تام وکامل کردیا تاکہ ان کا ایمان پورے دین کا مل شرائع پر واقع ہو۔
حدیث احیاء کی غایت ضعف ہے کما حققہ خاتم الحفاظ الجلا ل السیوطی ولاعطر بعد العروس(جیسا کہ خاتم الحفاظ امام جلال الدین سیوطی علیہ الرحمہ نے اس کی تحقیق فرما دی ہے اور عروس کے بعد کرئی عطر نہیں۔ت)اور حدیث ضعیف دربارہ فضائل مقبول کما حققناہ بما لا مزید علیہ فی رسالتنا الھا دا لکاف فی حکم الضعاف(جیسا کہ ہم نے اس کی تحقیق اپنے رسالہ الھا د الکاف فی حکم الضعاف میں کردی ہے۔ت بلکہ امام ابن حجر مکی نے فرمایا متعدد حفاظ نے اس کی تصحیح کی۔افضل القری لقراء ام القری میں فرماتے ہیں:
ان اباء النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم غیر الانبیاء وامھاتہ الی ادم وحواء لیس فیھم کافرلان الکافر لا یقال فی حقہ انہ مختار ولاکریمولا طاھربل نجسوقد صرحت الاحادیث بانھم مختارون وان الاباء کراموالامھات طاھراتوایضا قال تعالی وتقلبك فی السجدین علی احد التفاسیر فیہ یعنی نبی کریم صلی الله تعالی علیہ وسلم کے سلسلہ نسب میں جتنے انبیاء کرام علیہم الصلواۃ والسلام ہیں وہ تو انبیاء ہی ہیںان کے سوا حضور کے جس قدر اباء وامھات آدم وحوا ء علیہما الصلوۃ و السلام تك ہیں ان میں کوئی کافر نہ تھا کہ کافر کو پسند یدہ یا کریم یا پاك نہیں کہا جا سکتا اور حضور اقدس صلی الله علیہ وسلم کے آباء وامھات کی نسبت حدیثوں میں تصریح فرمائی گئی کہ وہ سب پسندیدہ بارگاہ الہی ہیںآباء سب کراممائیں سب پا کیزہ ہیں اور آیہ کریمہ تقلبك فی السجدین(اور نمازیوں میں تمھارے دورے کو)کی بھی ایك تفسیر یہی ہے کہ
حوالہ / References القرآن الکریم ۵ /۳
#18312 · رسالہ شمول الاسلام لاصول الرسول الکرام ۱۳۱۵ھ (رسول کریم صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے آباؤ اجداد کرام کا مسلما ن ہونا)
ان المراد تنقل نورہ من ساجد الی ساجد وحینئذ فھذہ صریح فی ان ابوی النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم امنۃ وعبد الله من اھل الجنۃ لانھما اقرب المختارین لہ صلی الله تعالی علیہ وسلم وھذاھو الحق بل فی حدیث صححہ غیر واحد من الحفاظ ولم یلتفتوا لمن طعن فیہ۔ان الله تعالی احیاھما فامنابہ الخ مختصرا وفیہ طول۔




اقول:وبماء قرأت امر الاحیاء اندفع مازعم الحافظ ابن دحیہ من مخالفۃ الایات عدم انتفاع الکافر بعد موتہ کیف وانا لانقول ان الاحیاء لاحداث ایمان بعد کفرہ بل لاعطاء الایمان بمحمد صلی الله تعالی علیہ وسلم وتفاصیل دینہ الاکرام بعد المضی علی محض التوحید نبی صلی الله تعالی علیہ وسلم کا نور ایك ساجد سے دوسرے ساجد کی طرف منتقل ہوتا آیا تو اب اس سے صاف ثابت ہے کہ حضور کے والدین حضرت آمنہ وحضرت عبد الله رضی الله تعالی عنہما اہل جنت ہیں کہ وہ تو ان بندوں میں جنھیں الله عزوجل نے حضور اقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم کے لئے چنا تھا سب سے قریب تر ہیںیہی قول حق ہے بلکہ ایك حدیث میں جسے متعدد حافظان حدیث نے صحیح کہا اور اس میں طعن کرنے والے کی بات کو قابل التفات نہ جاناتصریح ہے کہ الله عزوجل نے والدین کریمین رضی الله تعالی عنہما کو حضور اقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم کے لئے زندہ فرمایا یہاں تك کہ وہ حضور پر ایمان لائےمختصر حالانکہ اس حدیث میں طول ہے ھکذا قال والله تعالی اعلم
اقول:(میں کہتا ہوں)یہ زندہ کرنے کا معاملہ جو تو نے پڑھا ہے اس سے حافظ ابن دحیہ کا وہ قول مندفع ہوگیا کہ والدین کریمین کا ایمان ماننے سے ان آیات کریمہ کی مخالفت لازم آتی ہے جن میں کافر کے مرنے کے بعد عدم انتفاع کا ذکر ہے یہ مخالفت کیسے لازم آسکتی ہے حالانکہ ہم یہ نہیں کہتے کہ والدین کریمین رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم کو کفر کے بعد ایمان دینے کیلئے زندہ کیا گیا بلکہ ہم یہ کہتے ہیں کہ توحید پر انتقال فرمانے کے بعد محمد صلی الله تعالی علیہ وسلم پر اور آپ کے
حوالہ / References افضل القری لقراء ام القری شعر ۶ المجمع الثقافی ابو ظہبی ۱ /۱۵۱
#18313 · رسالہ شمول الاسلام لاصول الرسول الکرام ۱۳۱۵ھ (رسول کریم صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے آباؤ اجداد کرام کا مسلما ن ہونا)
وحینئذ لاحاجۃ بناالی ادعاء التخصیص فی الایات کما فعل العلماء المجیبون۔ دین کریم کی تفاصیل پر ایمان کی دولت سے مشرف فرمانے کے لئے زندہ کیا گیااس صورت میں ہمیں آیات کریمہ تخصیص کا دعوی کرنے کی ضرورت نہیں جیسا کہ جواب دینے والے علماء نے کیا ہے۔(ت)
اپنا مسلك اس باب میں یہ ہے:
ومن مذھبی حب الدیار لاھلہا وللناس فیما یعشقون مذاھب
(میر امذہب تو شہر والوں کی وجہ سے شہر سے محبت کرنا ہے اور لوگوں کے لئے ان کی پسندیدہ چیزوں میں مختلف طریقے ہیں۔ت)
جسے یہ پسند ہو فبہاونعمت ورنہ آخر اس سے تو کم نہ ہو کہ زبان روکےدل صاف رکھے" ان ذلکم کان یؤذی النبی" (بیشك یہ بات نبی صلی الله تعالی علیہ وسلم کو اذیت پہنچاتی ہے۔ت)سے ڈرے۔امام ابن حجر مکی شرح میں فرماتے ہیں:
مااحسن قول بعض المتوقفین فی ھذہ المسئلۃ الحذر الحذر من ذکر ھما بنقص فان ذلك قد یؤذیہ صلی الله تعالی علیہ وسلم لخبر الطبرانی لاتؤذوا الاحیاء بسبب الاموات ۔ یعنی کیا خوب فرمایا بعض علماء نے جنہیں اس مسئلے میں توقف تھا کہ دیکھ بچ والدین کریمین کو کسی نقص کے ساتھ ذکر کرنے سے کہ اس سے حضور سید عالم صلی الله تعالی علیہ و سلم کو ایذاء ہونے کا اندیشہ ہے کہ طبرانی کی حدیث میں ہے رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:مردوں کو برا کہہ کر زندوں کو ایذاء نہ دو۔(ت)
یعنی حضور تو زندہ ابدی ہیں ہمارے تمام افعال واقوال پر مطلع ہیں اورالله عزوجل نے فرمایاہے:
" والذین یؤذون رسول اللہ لہم عذاب الیم ﴿۶۱﴾" ۔ جو لوگ رسول الله کو ایذاء دیتے ہیں ان کے لئے دردناك عذاب ہے۔
حوالہ / References القرآن الکریم ۳۳ /۵۳
افضل القرٰی لقراء ام القرٰی شعر۶ المجمع الثقافی ابوظہبی ۱ /۱۵۴
القرآن الکریم ۹ /۶۱
#18314 · رسالہ شمول الاسلام لاصول الرسول الکرام ۱۳۱۵ھ (رسول کریم صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے آباؤ اجداد کرام کا مسلما ن ہونا)
عاقل کو چاہئے ایسی جگہ سخت احتیاط سے کام لے ع
ہشدارکہ رہ برمردم تیغ است قدم را
(ہوش کر کہ لوگوں پر چڑھائی کرنا قدم کے لیے تلوار ہے۔ت)
یہ ماناکہ مسئلہ قطعی نہیںاجماعی نہیںپھر ادھر کون ساقاطع کون سااجماع ہے آدمی اگر جانب ادب میں خطا کر ے تو لاکھ جگہ بہترہے اس سے کہ معاذالله اس کی خطاجانب گستاخی جائےجس طرح حدیث میں ہے رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
فان الامام ان یخطیئ فی العفوخیرلہ من ان یخطیئ فی العقوبۃرواہ ابن ابی شیبۃ والترمذی والحاکم وصححہ والبیہقی عن ام المؤمنین رضی الله تعالی عنہا۔ جہاں تك بن پڑے حدود کو ٹالو کہ بیشك امام کا معافی میں خطا کرنا عقوبت میں خطا کرنے سے بہتر ہے۔(اس کو ام المومنین رضی الله تعالی عنہا سے ابن ابی شیبہترمذیحاکم اور بیہقی نے روایت کیااورحاکم نے اس کی تصحیح فرمائی۔ت)
حجۃ الاسلام غزالی قد س سرہ العالی احیاء العلوم شریف میں فرماتے ہیں:''کسی مسلمان کی طرف گناہ کبیرہ کی نسبت جائز نہیں جب تك تواتر سے ثابت نہ ہو'' ۔مصطفی صلی الله تعالی علیہ وسلم کی طرف معاذالله اولاد چنین وچناں سے ہونا کیونکر بے تواتر وقطع نسبت کردیا جائےیقین برہانی کا انتفاحکم وجدانی کا نافی نہیں ہوتاکیا تمہارا وجدان ایمان گواراکرتاہے کہ مصطفی صلی الله تعالی علیہ وسلم کے سرکار نوربار کے ادنی ادنی غلاموں کے سگان بارگاہ جنات النعیم میں " سرر مرفوعۃ ﴿۱۳﴾" (بلند تختوں)پر تکیے لگائے چین کریں اورجن کی نعلین پاك کے تصدق میں جنت بنی ان کے ماں باپ دوسری جگہ معاذ الله غضب وعذاب کی مصیبتیں بھریںہاں یہ سچ ہے کہ ہم غنی حمید
حوالہ / References المستدرك للحاکم کتاب الحدود دارالفکر بیروت ۴ /۳۸۴،جامع الترمذی ابواب الحدود باب ماجاء فی درء الحدود امین کمپنی دہلی ۱/۱۷۱،السنن الکبرٰی کتاب الحدودباب ماجاء فی درء الحدود بالشبہات دارصادر بیروت ۸ /۲۳۸،المصنف لابن ابی شیبۃ کتاب الحدود باب ماجاء فی درء الحدود بالشبہات حدیث ۲۸۴۹۳ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۵ /۵۰۸
احیاء العلوم کتاب آفات اللسان الآفۃ مطبعۃ المشہد الحسین القاھرۃ ۳ /۱۲۵
القرآن الکریم ۸۸ /۱۳
#18315 · رسالہ شمول الاسلام لاصول الرسول الکرام ۱۳۱۵ھ (رسول کریم صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے آباؤ اجداد کرام کا مسلما ن ہونا)
عزجلالہ پر حکم نہیں کرسکتے پھر دوسرے حکم کی کس نے گنجائش دی ادھر کونسی دلیل قاطع پائی حاش الله !ایك حدیث بھی صحیح وصریح نہیںجو صریح ہے ہرگز صحیح نہیں اورجو صحیح ہے ہرگز صریح نہیں جس کی طرف ہم نے اجمالی اشارات کردئے تواقل درجہ وہی سکوت وحفظ ادب رہاآئندہ اختیارات بدست مختار۔
نکتہ الہیہ اقول:ظاہر عنوان باطن ہے اوراسم آئینہ مسمی الاسماء تنزل من السماء(اسماء آسمان سے نازل ہوتے ہیں۔ت)سید عالم صلی الله تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اذا بعثتم الی رجلا فابعثوہ حسن الوجہ حسن الاسم۔رواہ البزارفی مسندہ والطبرانی فی الاوسط عن ابی ھریرۃ رضی الله تعالی عنہ بسند حسن علی الاصح۔ جب میری بارگاہ میں کوئی قاصد بھیجو تو اچھی صورت اچھے نام کا بھیجو(اس کو بزار نے اپنی مسند میں اورطبرانی نے اوسط میں سیدنا حضرت ابوہریرہ رضی الله تعالی عنہ سے قول اصح کے مطابق سند حسن کے ساتھ روایت کیاہے۔ت)
اورفرماتے ہیں صلی الله تعالی علیہ وسلم:
اعتبروا الارض باسمائھا۔رواہ ابن عدی عن عبد الله بن مسعود رضی الله تعالی عنہ وھو حسن لشواھد۔ زمین کو اس کے نام پر قیاس کرو۔(اس کو ابن عدی نے سیدنا حضرت عبدالله بن مسعود رضی الله تعالی عنہ سے روایت کیا ہے او روہ شواہد کے لیے حسن ہے۔ت)
عبدالله بن عباس رضی الله تعالی عنہما فرماتے ہیں:
کان رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم یتفاء ل ولا یتطیر وکان یعجبہ الاسم الحسن۔رواہ الامام احمد و رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم نیك فال لیتےبدشگونی نہ مانتے اوراچھے نام کو دوست رکھتے۔(اس کو امام احمدطبرانی اوربغوی نے شرح السنۃ
حوالہ / References المعجم الاوسط حدیث ۷۷۴۳مکتبہ المعارف ریاض ۸ /۳۶۵،کنزالعمال بحوالہ البزار وطس عن ابی ھریرۃ حدیث ۱۴۷۷۵ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۶ /۴۵
الجامع الصغیر بحوالہ عدی عن ابن مسعود حدیث ۱۱۳۶ دارالکتب العلمیہ بیروت ۱ /۷۴
مسند احمد بن حنبل عن ابن عباس المکتب الاسلامی بیروت ۱ /۲۵۷ و ۳۰۴۳۱۹،شرح السنۃ للبغوی حدیث۳۲۵۴المکتب الاسلامی بیروت ۱۲ /۱۷۵، مجمع الزوائد بحوالہ احمد وطبرانی کتاب الادب باب ماجاء فی الاسماء الحسنۃ دارالکتاب بیروت ۸ /۴۷
#18316 · رسالہ شمول الاسلام لاصول الرسول الکرام ۱۳۱۵ھ (رسول کریم صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے آباؤ اجداد کرام کا مسلما ن ہونا)
الطبرانی والبغوی فی شرح السنۃ۔ میں روایت کیا ہے۔ت)
ام المومنین صدیقہ رضی الله تعالی عنہا فرماتی ہیں:
ان النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم کان یغیرالاسم القبیح۔رواہ الترمذی ۔ مصطفی صلی الله تعالی علیہ وسلم برے نام کو بدل دیتے تھے (اس کو ترمذی نے روایت کیا ہے۔ت)
وفی اخری عنھا(اورام المومنین سے ہی دوسری روایت میں ہے۔ت):
کان رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم اذا سمع بالاسم القبیح حولہ الی ماھو احسن منہ۔رواہ الطبرانی بسندہ وھو عند ابن سعد عن عروۃ مرسلا۔ رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم جب کسی کا برا نام سنتے تو اس سے بہتر بدل دیتے(اس کو طبرانی نے اپنی سند کے ساتھ متصلا روایت کیا ہے اوروہ ابن سعد کے نزدیك عروہ سے مرسلا مروی ہے۔ت)
بریدہ اسلمی رضی الله تعالی عنہ فرماتے ہیں:
ان النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم کان لایتطیر من شیئ وکان اذا بعث عاملاسأل عن اسمہ فاذا اعجبہ اسمہ فرح بہ وروئی بشر ذلك فی وجہہ وان کرہ اسمہ روئی کراھیۃ ذلك فی وجھہ واذا دخل قریۃ سأل عن اسمھا فاذا اعجبہ اسمہا فرح بھا وروئی بشر ذلك فی وجھہ وان کرہ اسمھا روئی کراھۃ ذلك فی وجہہ۔رواہ ابو داؤد ۔ مصطفی صلی الله تعالی علیہ وسلم کسی چیز سے بدشگونی نہ لیتے جب کسی عہدے پر کسی کو مقرر فرماتے اس کا نام پوچھتے اگر پسندآتا خوش ہوتے اوراس کی خوشی چہرہ انور میں نظر آتی اوراگر ناپسند آتا ناگواری کا اثر چہرہ اقدس پر ظاہر ہوتااورجب کسی شہر میں تشریف لے جاتے اس کا نام دریافت فرماتے اگر خوش آتا مسرورہو جاتے اوراس کا سرور روئے پرنور میں دکھائی دیتااوراگر ناخوش آتا ناخوشی کا اثر روئے اطہر میں نظر آتا۔(رواہ ابو داؤد)
حوالہ / References جامع الترمذی ابواب الادب باب ماجاء فی تغیرالاسماء امین کمپنی دہلی ۲ /۱۰۷
کنزالعمال بحوالہ ابن سعد عن عروۃ مرسلًا حدیث ۱۸۵۰۶مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۷ /۱۵۷
سنن ابو داؤد کتاب الکہانۃ والتطیرباب فی الطیرۃ والخط آفتاب عالم پریس لاہور۲ /۱۹۱
#18317 · رسالہ شمول الاسلام لاصول الرسول الکرام ۱۳۱۵ھ (رسول کریم صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے آباؤ اجداد کرام کا مسلما ن ہونا)
اب ذراچشم حق بین سے حبیب صلی الله تعالی کے ساتھ مراعات الہیہ کے الطاف خفیہ دیکھئےحضور اقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم کے والد ماجد رضی الله تعالی عنہ کا نام پاك عبدالله کہ افضل اسمائے امت ہے۔رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
احب اسمائك الی الله عبد الله و عبد الرحمن۔رواہ مسلم وابو داؤد والترمذی وابن ماجۃ عن عبدالله بن عمر رضی الله تعالی عنہما۔ تمہارے ناموں میں سب سے زیادہ پیارے نام الله تعالی کو عبدالله وعبدالرحمن ہیں(اس کو امام مسلمابو داودترمذی اورابن ماجہ نے سیدنا حضرت عبدالله بن عمر رضی الله تعالی عنہما سے روایت کیا ہے۔ت)
والدہ ماجدہ رضی الله تعالی عنہا کا نام آمنہ کہ امن وامان سے مشتق اورایمان سے ہم اشتقاق ہے۔جد امجد حضرت عبدالمطلب شیبۃ الحمد کہ اس پاك ستودہ مصدر سے اطیب واطہر مشتق محمد واحمد وحامد ومحمود صلی الله تعالی علیہ وسلم کے پیدا ہونے کا اشارہ تھا۔جدہ ماجدہ فاطمہ بنت عمرو بن عائذاس نام پاك کی خوبی اظہر من الشمس ہے۔حدیث میں حضرت بتول زہرا رضی الله تعالی عنھا کی وجہ تسمیہ یوں آئی ہے کہ حضو راقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:
انما سمیت فاطمۃ لان الله تعالی فطمھا ومحبیہا من الناررواہ الخطیب عن ابن عباس رضی الله تعالی عنہما۔ الله عزوجل نے اس کا نام فاطمہ اس لئے رکھا کہ اسے اوراس سے عقیدت رکھنے والوں کو ناز دوزخ سے آزادفرمایا۔(اس کو خطیب نے سیدنا حضرت ابن عباس رضی الله تعالی عنہما سے روایت کیاہے۔ت)
حضور کے جد مادری یعنی نانا وہب جس کے معنی عطا وبخششان کا قبیلہ بنی زہراء جس کا
حوالہ / References سنن ابی داؤد کتاب الادب باب فی تغیر الاسماء آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۳۲۰،جامع الترمذی ابواب الادب باب ماجاء ما یستحب من الاسماء امین کمپنی دہلی ۲ /۱۰۶،سنن ابن ماجہ ابواب الادب باب ماجاء ما یستحب من الاسماء ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص ۲۷۳
تاریخ بغداد بحوالہ خط عن ابن عباس ترجمہ ۶۷۷۲عالم بن حمید الشمیری دارالکتاب العربی بیروت ۱۲ /۳۳۱،کنز العمال حدیث۳۴۲۲۶و۳۴۲۲۷مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۲ /۱۰۹
#18318 · رسالہ شمول الاسلام لاصول الرسول الکرام ۱۳۱۵ھ (رسول کریم صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے آباؤ اجداد کرام کا مسلما ن ہونا)
حاصل چمك وتابش۔جدہ مادری یعنی نانی صاحبہ برہ یعنی نیکوکارکما ذکرہ ابن ھشام فی سیرتہ (جیسا کہ ابن ہشام نے اس کو اپنی سیرت میں ذکر کیاہے۔ت)
بھلا یہ توخاص اصول ہیںدودھ پلانے والیوں کو دیکھئےپہلی مرضعہ ثویبہ کہ ثواب سے ہم اشتقاقاوراس فضل الہی سے پوری طرح بہرور حضرت حلیمہ بنت عبدالله بن حارث۔رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم نے اشج عبدالقیس رضی الله تعالی عنہ سے فرمایا:
ان فیك خصلتین یحبھما الله الحلم والاناۃ ۔ تجھ میں دوخصلتیں ہیں خدا اوررسول کو پیاری درنگ اور بردباری۔
ان کا قبیلہ بنی سعد کہ سعادت ونیك طالعی ہےشرف اسلام وصحابیت سے مشرف ہوئیں
کما بینہ الامام مغلطائی فی جزء حافل سماہ التحفۃ الجسمیۃ فی اثبات اسلام حلیمۃ۔ جیسا کہ امام مغلطائی نے اسکو ایك بڑی جزء میں بیان فرمایا ہے جس کا نام انہوں نے ''التحفۃ الجسمیۃ فی اثبات اسلام حلیمۃ ''رکھا ہے۔(ت)
جب روز حنین حاضر بارگاہ ہوئیںحضور اقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم نے ان کے لیے قیام فرمایا اوراپنی چادر انور بچھا کر بٹھایا کما فی الاستیعاب عن عطاء بن یسار(جیسا کہ استیعاب میں عطا بن یسار سے مروی ہے۔ت)ان کے شوہر جن کا شیر حضو ر اقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم نے نوش فرمایا حارث سعدییہ بھی شرف اسلام وصحبت سے مشرف ہوئےحضور اقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم کی قدم بوسی کو حاضر ہوئے تھےراہ میں قریش نے کہا:اے حارث ! تم اپنے بیٹے کی سنووہ کہتے ہیں مردے جئیں گےاورالله نے دو گھر جنت ونار بنارکھے ہیں۔انہوں نے حاضرہوکر عرض کی کہ:اے میرے بیٹے ! حضور کی قوم حضو ر کی شاکی ہے۔فرمایا:ہاں میں ایسا فرماتا ہوںاوراے میرے باپ !جب وہ دن آئے گا تو میں تمہارا ہاتھ پکڑ کر بتا دوں گا کہ دیکھو یہ وہ دن ہے یا نہیں جس کی میں خبر دیتاتھا یعنی روز قیامت۔
حوالہ / References السیرۃ النبویۃ لابن ہشام زواج عبدالله من آمنہ بنت وھب دارابن کثیر بیروت ۱ /۱۵۶
صحیح مسلم کتاب الایمان باب الامر بالایمان بالله ولرسولہ صلی الله علیہ وسلم الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۳۵
شرح الزرقانی علی المواھب اللدنیۃ المقصد الثانی الفصل الرابع دارالمعرفہ بیروت ۳ /۲۹۴
الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب ترجمہ ۳۳۳۶حلیمۃ السعدیۃ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۴ /۳۷۴
#18319 · رسالہ شمول الاسلام لاصول الرسول الکرام ۱۳۱۵ھ (رسول کریم صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے آباؤ اجداد کرام کا مسلما ن ہونا)
حارث رضی الله تعالی عنہ بعد اسلام اس ارشاد کو یاد کر کے کہا کرتے:اگر میرے بیٹے میرا ہاتھ پکڑیں گے تو ان شاء الله نہ چھوڑیں گے جب تك مجھے جنت میں داخل نہ فرمالیں۔رواہ یونس بن بکیر ۔(اس کو یونس بن بکیر نے روایت کیاہے۔ ت)حدیث میں ہے رسو ل الله صلی الله تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اصدقھا حارث وھمام۔رواہ البخاری فی الادب المفرد وابوداؤد والنسائی عن ابی الھیثمی رضی الله تعالی عنہ سب ناموں میں زیادہ سچے نام حارث وہمام ہیں۔(اس کو امام بخاری نے ادب مفرد میں اور ابوداؤد ونسائی نے ابو الہیثمی رضی الله تعالی عنہ سے روایت کیا ہے۔ت)
حضور کے رضاعی بھائی جوپستان شریك تھےجن کے لیےحضور سید العالمین صلی الله تعالی علیہ وسلم پستان چپ چھوڑ دیتے تھے عبدالله سعدییہ بھی مشرف بہ اسلام وصحبت ہوئے کما عند ابن سعد فی مرسل صحیح الاسناد(جیساکہ ابن سعد کے نزدیك صحیح الاسناد مرسل میں ہے۔ت)
حضور کی رضاعی بڑی بہن کہ حضور کو گود میں کھلاتیںسینے پر لٹاکر دعائیہ اشعار عرض کرتیںسلاتیںاس لئے وہ بھی حضور کی ماں کہلاتیں سیما سعدیہ یعنی نشان والیعلامت والیجودور سے چمکےیہ بھی مشرف بہ اسلام ہوئیں رضی الله تعالی عنہا ۔
حوالہ / References الروض الانف بحوالہ یونس بن بکیر ابوہ من الرضاعۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۱۰۰،شرح الزرقانی علی المواہب اللدنیۃ یونس بن بکیر المقصد الاول ذکر رضاعہ الله صلی الله علیہ وسلم دارالمعرفۃ بیروت ۱/۱۴۳،شرح الزرقانی علی المواہب اللدنیۃ یونس بن بکیر المقصد الثانی الفصل الرابع ذکر رضاعہ الله صلی الله علیہ وسلم دارالمعرفۃ بیروت ۳ /۲۹۴
سنن ابی داؤد کتا ب الادب باب فی تغیر الاسماء آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۳۲۰،الادب المفرد باب ۳۵۶حدیث ۸۱۴ المکتبۃ الاثریۃ سانگلہ ہل ص۲۱۱
الطبقات الکبرٰی لابن سعد ذکر من ارضع رسول الله صلی الله علیہ وسلم الخ دارصار بیروت ۱ /۱۱۳،شرح الزرقانی علی المواہب اللدنیۃ المقصد الاول ذکر رضاعہ صلی الله علیہ وسلم دارالمعرفۃ بیروت ۱ /۱۴۲و۱۴۳
شرح الزرقانی علی المواھب اللدنیۃ المقصد الثانی الفصل الرابع ذکر رضاعہ الله صلی الله علیہ وسلم دارالمعرفۃ بیروت ۳/۲۹۵،شرح الزرقانی علی المواھب اللدنیۃ المقصد الاول ذکر رضاعہ الله صلی الله علیہ وسلم دارالمعرفۃ بیروت ۱ /۱۴۶
#18320 · رسالہ شمول الاسلام لاصول الرسول الکرام ۱۳۱۵ھ (رسول کریم صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے آباؤ اجداد کرام کا مسلما ن ہونا)
حضرت حلیمہ حضور پرنورصلی الله تعالی علیہ وسلم کو گود میں لئے راہ میں جاتی تھیں تین نوجوان کنواری لڑکیوں نے وہ خدا بھائی صورت دیکھی جو ش محبت سے اپنی پستانیں دہن اقد س میں رکھیںتینوں کے دودھ اترآیاتینوں پاکیزہ بیبیوں کا نام عاتکہ تھا۔عاتکہ کے معنی زن شریفہرئیسہکریمہسراپا عطرآلودتینوں قبیلہ بنی سلیم سے تھیں کہ سلامت سے مشتق اور اسلام سے ہم اشتقاق ہےذکرہ ابن عبدالبر (اس کو ابن عبدالبر نے استیعاب میں ذکر کیاہے۔ت)
بعض علماء نے حدیث ''انا ابن العواتك من سلیم ''(میں بنی سلیم کی عاتکہ عورتوں کابیٹا ہوں۔ت)کو اسی معنی پر محمول کیا۔نقلہ السھیلی (اس کو سہیلی نے نقل کیا ہے۔ت)
اقول:الحق کسی نبی نے کوئی آیت وکرامت ایسی نہ پائی کہ ہمارے نبی اکرم الانبیاء صلی الله تعالی علیہ وعلیہم وسلم کو اس کی مثل اوراس سے امثل عطانہ ہوئییہ اس مرتبے کی تکمیل تھی کہ مسیح کلمۃ الله صلوات الله وسلامہ علیہ کوبے باپ کے کنواری بتول کے پیٹ سے پیدا کیا حبیب اشرف بریۃ الله صلی الله تعالی علیہ وسلم کے لیے تین عفیفہ لڑکیوں کے پستان میں دودھ پیدا فرمادیا ع
آنچہ خوباں ہمہ دار ند تو تنہاداری
(جو کمالات سب رکھتے ہیں تو تنہارکھتا ہے۔ت)
وصلی الله تعالی علیك وعلیہم وبارك وسلم۔ الله تعالی آپ پر اور ان(انبیاء سابقہ)پردرود وسلام اوربرکت نازل فرمائے۔(ت)
امام ابوبکر ابن العربی فرماتے ہیں:
لم ترضعہ مرضعۃ الا اسلمت۔ذکرہ فی کتابہ سراج المریدین ۔ سید عالم صلی الله تعالی علیہ وسلم کو جتنی بیبیوں نے دودھ پلایا سب اسلام لائیں۔(اس کوامام ابو بکر ابن العربی نے اپنی کتاب سراج المریدین میں ذکرکیاہے۔ت)
حوالہ / References شرح الزرقانی علی المواھب اللدنیۃ بحوالہ الاستیعاب المقصدالاول دارالمعرفۃ بیروت ۱ /۱۳۷
شرح الزرقانی علی المواھب اللدنیۃ بحوالہ الاستیعاب المقصدالاول دارالمعرفۃ بیروت ۱ /۱۳۷
#18321 · رسالہ شمول الاسلام لاصول الرسول الکرام ۱۳۱۵ھ (رسول کریم صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے آباؤ اجداد کرام کا مسلما ن ہونا)
بھلایہ تو دودھ پلانا تھا کہ اس میں جزئیت ہےمرضعہ حضو راقد س صلی الله تعالی علیہ وسلم کا نام برکت اورام ایمن کنیت کہ یہ بھی یمن وبرکت و راستی وقوتیہ اجلہ صحابیات سے ہوئیں رضی الله تعالی عنہنسید عالم صلی الله تعالی علیہ وسلم انہیں فرماتے: انت امی بعد امی ۔تم میری ماں کے بعد میری ماں ہو۔
راہ ہجرت میں انہیں پیاس لگیآسمان سے نورانی رسی میں ایك ڈول اتراپی کر سیراب ہوئیںپھر کبھی پیاس نہ معلوم ہوئی سخت گرمی میں روزے رکھتیں اورپیاس نہ ہوتی۔رواہ ابن سعد عن عثمان بن ابی القاسم(اس کو ابن سعد نے عثمان بن ابو القاسم سے روایت کیا ہے۔ت)
پیداہوتے وقت جنہوں نے حضور اقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم کو اپنے ہاتھوں پر لیا ان کا نام تو دیکھئے شفاءرواہ ابو نعیم عنہا۔ (اس کو ابو نعیم نے سیدہ شفاء رضی الله تعالی عنہا سے روایت کیا۔ت)یہ حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی الله تعالی عنہ کی والدہ ماجدہ وصحابیہ جلیلہ ہیں۔اورایك بی بی کہ وقت ولادت اقدس حاضر تھیں فاطمہ بنت عبدالله ثقفیہیہ بھی صحابیہ ہیں رضی الله تعالی عنہا۔
اے چشم انصاف ! کیا ہر تعلق ہر علاقہ میں ان پاك مبارك ناموں کا اجتماع محض اتفاقی بطور جزاف تھاکلاو الله بلکہ عنایت ازلی نے جان جان کر یہ نام رکھےدیکھ دیکھ کر یہ لوگ چنے۔پھر محل غور ہے جو اس نور پاك کو برے نام والوں سے بچائے وہ اسے برے کام والوں میں رکھے گااور برا کام بھی کون سامعاذالله شرك وکفرحاشا ثم حاشاالله اللہ! دائیاں مسلمانکھلائیاں مسلمانمگر خاص جن مبارك پیٹوں میں محمدصلی الله تعالی علیہ وسلم نے پاؤں پھیلائےجن طیب مطیب خونوں سے اس نورانی جسم میں ٹکڑے آئے وہ معاذالله چنین وچناں حاش لله کیونکر گوارا ہو ع
خدا دیکھا نہیں قدرت سے جانا
حوالہ / References المواہب اللدنیۃ المقصد الاول حیاتہ صلی الله علیہ وسلم قبل البعثۃ المکتب الاسلامی بیروت ۱ /۱۷۴،المواھب اللدنیۃ المقصد الثانی الفصل الرابع المکتب الاسلامی بیروت ۲ /۱۱۷
الطبقات الکبرٰی لابن سعد ام ایمن واسمہابرکۃ دارصادر بیروت ۸ /۲۲۴،شرح الزرقانی علی المواھب اللدنیۃ المصدالثانی الفصل الرابع دارالمعرفۃ بیروت ۳ /۲۹۵
دلائل النبوۃ لابی نعیم الفصل الحادی عشر عالم الکتب بیروت الجزء الاول ص۴۰
#18322 · رسالہ شمول الاسلام لاصول الرسول الکرام ۱۳۱۵ھ (رسول کریم صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے آباؤ اجداد کرام کا مسلما ن ہونا)
ع مابندہ عشقیم ودگر ہیچ ندانیم
(ہم عشق کے بندے ہیں اس کے علاوہ کچھ نہیں جانتے۔ت)
فائدہ ظاہرہ:دربارہ ابوین کریمین رضی الله تعالی عنہما یہی طریقہ انیقہ اعنی نجات نجات نجات کہ ہم نے بتوفیقہ تعالی اختیار کیا تنوع مسالك پر مختار اجلہ ائمہ کبار اعاظم علمائے نامدار ہےازاں جملہ:
(۱)امام ابو حفص عمر بن احمد بن شاہین جن کی علوم دینیہ میں تین سو تیس تصانیف ہیںاز انجملہ تفسیرایك ہزار جزء میں اور مسند حدیث ایك ہزار تین جزء میں۔
(۲)شیخ المحدثین احمد خطیب علی البغدادی۔
(۳)حافظ الشان محدث ماہر امام ابوالقاسم علی بن حسن ابن عساکر۔
(۴)امام اجل ابوالقاسم عبدالرحمن بن عبدالله سہیلی صاحب الروض۔
(۵)حافظ الحدیث امام محب الدین طبری کہ علماء فرماتے ہیںبعد امام نووی کے ان کا مثل علم حدیث میں کوئی نہ ہوا۔
(۶)امام علامہ ناصر الدین ابن المنیر صاحب شرف المصطفی صلی الله تعالی علیہ وسلم۔
(۷)امام حافظ الحدیث ابوالفتح محمد بن محمد ابن سیدالناس صاحب عیون الاثر۔
(۸)علامہ صلاح الدین صفدی۔
(۹)حافظ الشان شمس الدین محمد ابن ناصر الدین دمشقی۔
(۱۰)شیخ الاسلام حافظ الشان امام شہاب الدین احمد ابن حجر عسقلانی۔
(۱۱)امام حافظ الحدیث ابوبکر محمد بن عبدالله اشبیلی ابن العربی مالکی۔
(۱۲)امام ابو الحسن علی بن محمد ماوردی بصری صاحب الحاوی الکبیر۔
(۱۳)امام ابو عبدالله محمد بن خلف شارح صحیح مسلم۔
(۱۴)امام عبدالله محمد بن احمد بن ابوبکر قرطبی صاحب تذکرہ۔
(۱۵)امام المتکلمین فخر المدققین فخرالدین محمد بن عمر الرازی۔
(۱۶)امام علامہ زین الدین مناوی۔
(۱۷)خاتم الحفاظ مجدد القران امام العاشر امام جلال الملۃ والدین عبدالرحمن ابن ابی بکر۔
(۱۸)امام حافظ شہاب الدین احمد بن حجر ہیتمی مکی صاحب افضل القری وغیرہ۔
#18323 · رسالہ شمول الاسلام لاصول الرسول الکرام ۱۳۱۵ھ (رسول کریم صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے آباؤ اجداد کرام کا مسلما ن ہونا)
(۱۹)شیخ نورالدین علی الجزار مصری صاحب رسالہ تحقیق آمال الراجین فی ان والدی المصطفی صلی الله تعالی علیہ وسلم بفضل الله تعالی فی الدارین من الناجین۔
(۲۰)علامہ ابو عبدالله محمد ابن ابی شریف حسنی تلمسانی شارح شفاء شریف۔
(۲۱)علامہ محقق سنوسی۔
(۲۲)امام اجل عارف بالله سیدی عبدالوہاب شعرانی صاحب الیواقیت والجواہر۔
(۲۳)علامہ احمد بن محمد بن علی بن یوسف فاسی صاحب مطالع المسرات شرح دلائل الخیرات۔
(۲۴)خاتمۃ المحققین علامہ محمد بن عبدالباقی زرقانی شارح المواہب۔
(۲۵)امام اجل فقیہ اکمل محمد بن محمد کردری بزازی صاحب المناقب۔
(۲۶)زین الفقہ علامہ محقق زین الدین ابن نجیم مصری صاحب الاشباہ والنظائر۔
(۲۷)علامہ سید احمد حموی صاحب غمزالعیون والبصائر۔
(۲۸)علامہ حسین بن محمد بن حسن دیاربکری صاحب الخمیس فی انفس نفیس صلی الله تعالی علیہ وسلم۔
(۲۹)علامہ محقق شہاب الدین احمد خفاجی مصری صاحب نسیم الریاض۔
(۳۰)علامہ طاہر فتنی صاحب مجمع بحار الانوار۔
(۳۱)شیخ شیوخ علماء الہند مولانا عبدالحق محدث دہلوی۔
(۳۲)علامہ۔۔۔۔۔۔صاحب کنزالفوائد۔
(۳۳)مولانا بحرالعلوم ملك العلماء عبدالعلی صاحب فواتح الرحموت۔
(۳۴)علامہ سید احمد مصری طحطاوی محشی درمختار۔
(۳۵)علامہ سید ابن عابدین امین الدین محمد آفندی شامی صاحب ردالمحتار وغیرہم من العلماء الکبار والمحققین الاخیار علیہم رحمۃ الملك العزیز الغفار(ان کے علاوہ دیگر علماء کبار اور پسندیدہ محققین ان پر عزت والےبخشنے والے بادشاہ کی رحمت ہو۔ت)
ان سب حضرات کے اقوال طیبہ اس وقت فقیر کے پیش نظر ہیں مگر فقیر نے یہ سطور نہ مجرد نقل اقوال کے لئے لکھیں نہ مباحث طے کردہ علماء عظام خصوصااما م جلیل جلال سیوطی کے ایراد بلکہ مقصود اس مسئلہ جلیلہ پر چند دلائل جمیلہ کا سنانا اوربہ تصدق کفش برداری علماء جو فیض تازہ قلب فقیر پر فائض ہوئےانتفاع برادران دینی کے لئے ان کا ضبط تحریر میں لانا کہ شائد مصطفی صلی الله تعالی علیہ وسلم کہ تمام جہاں سے اکرم وارحم وابرواوفی ہیںمحض اپنے کرم سے نظر قبو ل فرمائیں اورنہ کسی
#18324 · رسالہ شمول الاسلام لاصول الرسول الکرام ۱۳۱۵ھ (رسول کریم صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے آباؤ اجداد کرام کا مسلما ن ہونا)
صلے میں بلکہ اپنے خاص فضل کے صدقے میں اس عاجز بے چارہبیکسبے یار کا ایمان حفظ فرماکر دارین میں عذاب وعقاب سے بچائیں۔ ع
برکریماں کارہادشوار نیست
(کریموں پربڑے بڑے کام دشوار نہیں ہوتے۔ت)
پھر یہ بھی ان اکابر کا ذکر ہے جن کی تصریحاتخاص اس مسئلہ جزئیہ میں موجودورنہ بنظر کلیت نگاہ کیجئے تو امام حجۃ الاسلام محمد محمد محمد غزالی وامام الحرمین وامام ابن السمعانی وامام کیا ہر اسی وامام اجل قاضی ابوبکر باقلانی حتی کہ خود امام مجتہد سیدنا امام شافعی کی نصوص قاہرہ موجود ہیں جن سے تمام آباء وامہات اقدس کا ناجی ہونا کالشمس والامس روشن وثابت ہے بلکہ بالاجماع تمام ائمہ اشاعرہ اورائمہ ماتریدیہ سے مشائخ بخارا تك سب کا یہی مقتضائے مذہب ہے کمالایخفی علی من لہ اجالۃ نظر فی علمی الاصولین۔(جیسا کہ اس شخص پر پوشیدہ نہیں جس کی اصولی علموں پر نظر ہے۔ت)امام سیوطی سبل النجاۃ میں فرماتے ہیں:
مال الی ان الله تعالی احیاھما حتی امنا بہ طائفۃ من الائمۃ وحفاظ الحدیث ۔ ائمہ اورحفاظ حدیث کی ایك جماعت اس طرف مائل ہے کہ بیشك الله تعالی نے نبی کریم صلی الله تعالی علیہ وسلم کے ابو ین کریمین کو زندہ فرمایا یہاں تك کہ وہ آپ پر ایمان لائے۔(ت)
کتاب الخمیس میں کتاب مستطاب الدرج المنیفہ فی الآباء الشریفہ سے نقل کرتے ہیں:
ذھب جمع کثیر من الائمۃ الاعلام الی ان ابوی النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم ناجیان محکوم لھما بالنجاۃ فی الاخرۃ وھم اعلم الناس باقوال من خالفھم وقال بغیر ذلك و (خلاصہ یہ کہ)یہ جمع کثیر اکابر ائمہ واجلہ حفاظ حدیث جامعان انواع علوم وناقدان روایات ومفہوم کا مذہب یہی ہے کہ ابوین کریمین ناجی ہیں اورآخرت میں ان کی نجات کا فیصلہ ہو چکا ہے ان اعاظم ائمہ کی نسبت یہ گمان بھی نہیں ہوسکتا کہ ان احادیث سے غافل تھے جن سے اس
حوالہ / References شرح الزرقانی علی المواھب اللدنیہ بحوالہ سبل النجاۃ المقصد الاول دارالمعرفۃ بیروت ۱ /۱۶۸
#18325 · رسالہ شمول الاسلام لاصول الرسول الکرام ۱۳۱۵ھ (رسول کریم صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے آباؤ اجداد کرام کا مسلما ن ہونا)
لایقصرون عنہم فی الدرجۃ ومن احفظ الناس للاحادیث والاثار وانقد الناس بالادلہ التی استدل بہا اولئك فانھم جامعون لانواع العلوم ومتضلوعون من الفنون خصوصان الاربعۃ التی استمدمنھا فی ھذہ المسألۃ فلایظن بھم انھم لم یقفواعلی الاحادیث التی استدل بھا اولئك معاذ الله بل وقفوا علیہا وخاضوا غمرتھا واجابوا عنہا بالاجوبۃ المرضیۃ التی لایردھا منصف واقاموا لما ذھبوا الیہ ادلۃ قاطعۃ کالجبال الرواسی اھ مختصرا۔ مسئلے میں خلاف پر استدلال کیا جاتاہےمعاذالله ایسا نہیں بلکہ وہ ضرور اس پر واقف ہوئے اورتہہ تك پہنچے اور ان سے وہ پسندیدہ جواب دئے جنہیں کوئی انصاف والا رد نہ کرے گا اور نجات والدین شریفین پر دلائل قاطعہ قائم کئے جیسے مضبوط جمے ہوئے پہاڑ کہ کسی کے ہلائے نہیں ہل سکتے۔
بلکہ علامہ زرقانی شرح مواہب میں ائمہ قائلین نجات کے اقوال وکلمات ذکر کر کے فرماتے ہیں:
ھذا ماوقفنا علیہ من نصوص علمائنا ولم نرلغیرھم مایخالفہ الا مایشم من نفس ابن دحیۃ وقد تکفل بردہ القرطبی ۔ یہ ہمارے علماء کے وہ نصوص ہیں جن پر میں واقف ہوا اوران کے غیر سے کہیں اس کا خلاف نظر نہ آیا سوائے ایك بوئے خلاف کے جو ابن دحیہ کے کلام سے پائی گئی اورامام قرطبی نے بروجہ کافی اس کا رد کردیا۔
تاہم بات وہی ہے جو امام سیوطی نے فرمائی:
ثم انی لم ادع ان المسألۃ اجماعیۃ بل ھی مسألۃ ذات خلاف پھر میں نے یہ دعوی نہیں کیا کہ یہ مسئلہ اجماعی ہے بلکہ یہ اختلافی مسئلہ ہے(اوراس کا حکم
حوالہ / References کتاب الخمیس القسم الثانی النوع الرابع مؤسسۃ شعبان بیروت ۱ /۲۳۰
شرح الزرقانی علی المواھب اللدنیۃ باب وفاۃ امہٖ صلی الله تعالٰی علیہ وسلم دارالمعرفۃ بیروت ۱ /۱۸۶
#18326 · رسالہ شمول الاسلام لاصول الرسول الکرام ۱۳۱۵ھ (رسول کریم صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے آباؤ اجداد کرام کا مسلما ن ہونا)
فحکمہا کحکم سائر المسائل المختلف فیھا غیر انی اخترت لہ اقوال القائلین بالنجاۃ لانہ انسب بھذا المقام اھ وقال فی الدرج بعد مادرج فی الدرج الفریقان ائمۃ اکابر اجلاء ۔ بھی اختلافی مسائل جیسا ہوگا)مگر میں نے نجات کے قائلین کے اقوال کو اختیار کیا ہے کیونکہ یہی اس مقام کے زیادہ لائق ہے۔اھ اوردرج المنیفہ میں اس بحث کو درج کرنے کے بعد کہا دونوں فریق جلیل القدر اکابر ائمہ ہیں۔(ت)
اقول:تحقیق یہ کہ طالب تحقیقی مرہون دست دلیل ہےابتداء ظواہر بعض آثار سے جو ظاہر بعض انظار ہوا ظاہر تھا کہ ان جوابات شافیہ اوراس پر دلائل وافیہ قائم ومستقیم چارہ کا ر قبول وتسلیم بالا قل سکوت وتعظیمالله الہادی الی صراط مستقیم۔
عائدہ زاہرہ: امام ابو نعیم دلائل النبوۃ میں بطریق محمد بن شہاب الزہری ام سماعہ اسماء بنت ابی رھموہ اپنی والدہ سے راوی ہیںحضر ت آمنہ رضی الله تعالی عنہا کے انتقال کے وقت حاضر تھیمحمد صلی الله تعالی کم سن بچے کوئی پانچ برس کی عمر شریفان کے سرہانے تشریف فرما تھے۔حضرت خاتون نے اپنے ابن کریم صلی الله تعالی علیہ وسلم کی طرف نظر کیپھر کہا:
بارك فیك الله من غلام یاابن الذی من حومۃ الحمام
نجابعون الملك المنعام فودی غداۃ الضرب بالسھام
بمائۃ من ابل سوام ان صح ما ابصرت فی المنام
فانت مبعوث الی الانام من عندذی الجلال والاکرام
تبعث فی الحل وفی الحرام تبعث فی التحقیق والاسلام
دین ابیك البر ابراھام فالله انھا ك عن الاصنام
ان لاتوالیہا مع الاقوام
''اے ستھرے لڑکے !الله تجھ میں برکت رکھے۔اے بیٹے ان کے جنہوں نے مرگ کے گھیرے سے نجات پائی بڑے انعام والے بادشاہ الله عزوجل کی مدد سےجس صبح کو قرعہ ڈالا گیاسو بلند اونٹ ان کے فدیہ میں قربان کئے گئےاگر وہ ٹھیك
حوالہ / References الدرج المنیفۃ فی الاباء الشریفۃ
کتاب الخمیس بحوالہ الدرجۃ المنیفۃ القسم الثانی النوع الرابع مؤسسۃ شعبان ۱ /۲۳۰
المواہب اللدنیۃ بحوالہ دلائل النبوۃ المقصد الاول المکتب الاسلامی بیروت ۱ /۱۶۹
#18327 · رسالہ شمول الاسلام لاصول الرسول الکرام ۱۳۱۵ھ (رسول کریم صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے آباؤ اجداد کرام کا مسلما ن ہونا)
اترا جو میں نے خواب دیکھا ہے تو تو سارے جہان کی طر ف پیغمبر بنایاجائے گا جو تیرے نکو کار باپ ابراہیم کا دین ہےمیں الله کی قسم دے کر تجھے بتوں سے منع کرتی ہوں کہ قوموں کے ساتھ ان کی دوستی نہ کرنا۔''
حضرت خاتون آمنہ رضی الله تعالی عنہا کی اس پاك وصیت میں جو فراق دنیا کے وقت اپنے ابن کریم علیہ افضل الصلوۃ والتسلیم کو کی بحمدالله توحید وردشرك توآفتاب کی طرح روشن ہے اور اس کے ساتھ دین اسلام ملت پاك ابراہیم علیہ الصلوۃ والتسلیم کا بھی پورا اقراراورایمان کامل کسے کہتے ہیںپھر اس سے بالاتر حضور پرنور سید المرسلین صلی الله تعالی علیہ وسلم کی رسالت کا بھی اعتراف موجود اور وہ بھی بیان بعث عامہ کے ساتھولله الحمد۔
اقول:وکلمۃ ان ان کانت للشك فھو غایۃ المنتھی اذ ذاك ولا تکلیف فوقہ والا فقد علم مجیئہا ایضا للتحقیق لیکون کالدلیل علی ثبوت الجزاء وتحققہ کقولہ صلی ا لله تعالی علیہ وسلم لام المؤمنین رضی الله تعالی عنہا رأیتك فی المنام ثلث لیال یجیء بك الملك فی سرقۃ من حریری فقال لی ھذہ امرأتك فکشفت عن وجھك الثوب فاذا ھی انت فقلت ان یکن ھذا من عندالله یمضہ۔رواہ الشیخان عنہا رضی الله تعالی عنہما۔ اقول:(میں کہتاہوں)کلمہ ان اگر شك کےلئے ہے تو وہ غایت منتہی ہے اوراس سے اوپر کوئی تکلیف نہیںورنہ اس کا تحقیق کیلئے آنا بھی معلوم ہے تاکہ یہ جزاء کے ثبوت وتحقیق پردلیل کی طرح ہوجائےجیسا کہ رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم کا ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی الله تعالی عنہا سے فرمانا کہ میں نے تجھے تین راتیں دیکھا فرشتہ(جبرائیل علیہ السلام)تجھے ایك ریشمی کپڑے میں لپیٹ کر لایا اور مجھے کہا یہ آپ کی بیوی ہے۔میں نے تیرے چہرے سے کپڑا ہٹایا تو وہ تو تھی۔میں نے کہا اگر یہ الله تعالی کی طرف سے ہے تو وہ ضروراس کو جاری فرمائے گا۔اس کو شیخین نے ام المومنین سے روایت کیاہے۔(ت)
اس کے بعدفرمایا:
حوالہ / References صحیح البخاری کتاب النکاح باب النظر الی المرأۃ قبل التزویج قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۷۶۸،صحیح مسلم کتاب فضائل الصحابۃ باب فضائل عائشہ رضی الله عنہا قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۲۸۵
#18328 · رسالہ شمول الاسلام لاصول الرسول الکرام ۱۳۱۵ھ (رسول کریم صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے آباؤ اجداد کرام کا مسلما ن ہونا)
کل حی میت وکل جدید بال وکل کبیر یفنی و انا میتۃ و ذکری باق وقد ترکت خیرا وولدت طھرا ۔ ہر زندے کو مرنا ہے اورہرنئے کو پرانا ہونااور کوئی کیسا ہی بڑا ہو ایك دن فنا ہونا ہے۔میں مرتی ہوں اورمیرا ذکر ہمیشہ خیر سے رہے گامیں کیسی خیر عظیم چھوڑ چلی ہوں اورکیسا ستھراپاکیزہ مجھ سے پیدا ہواصلی الله تعالی علیہ وسلم۔
یہ کہا اورانتقال فرمایارضی الله تعالی عنہا وصلی الله تعالی علی ابنہا الکریم وذویہ وبارك وسلم(الله تعالی ان سے راضی ہوا اوردرود وسلام اوربرکت نازل فرمائے ان کے کریم بیٹے اوراس کے پیروکاروں پر۔ت)
اوران کی یہ فراست ایمان اورپیشن گوئی نورانی قابل غور ہے کہ میں انتقال کرتی ہوں اورمیرا ذکر خیر ہمیشہ باقی رہے گا۔عرب وعجم کی ہزاروں شاہزادیاںبڑی بڑی تاج والیاں خا ك کا پیوند ہوئیں جن کا نام تك کوئی نہیں جانتامگر اس طیبہ خاتون کے ذکر خیر سے مشارق مغارب ارض میں محافل مجالس انس وقدس میں زمین وآسمان گونج رہے ہیں اورابدالآباد تك گونجیں گے ولله الحمد۔
عبرت قاہرہ: سید احمد مصری حواشی در میں ناقل کہ ایك عالم رات بھر مسئلہ ابوین کریمین رضی الله تعالی عنہما میں متفکر رہے کہ کیونکر تطبیق اقوال ہو۔اسی فکر میں چراغ پر جھك گئے کہ بدن جل گیا۔صبح ایك لشکری آیا کہ میرے یہاں آپ کی دعوت ہے۔راہ میں ایك ترہ فروش ملے کہ اپنی دکان کے آگے باٹ ترازولئے بیٹھے ہیںانہوں نے اٹھ کر ان عالم کے گھوڑے کی باگ پکڑی اور یہ اشعار پڑھے:
امنت ان ابا النبی وامہ احیاھماالحی القدیر الباری
حتی لقد شہدالہ برسالۃ صدق فتلك کرامۃ المختار
وبہ الحدیث ومن یقول بضعفہ فھو الضعیف عن الحقیقۃ عاری
''یعنی میں ایمان لایا کہ رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم کے ماں باپ کو اس زندہ ابدی قادر مطلق خالق عالم جل جلالہ نے زندہ کیا یہاں تك کہ ان دونوں نے
حوالہ / References المواھب اللدنیۃ المقصد الاول ذکر وفاۃ آمنۃ رضی الله عنہا المکتب الاسلامی بیروت ۱ /۷۰۔۱۶۹
حاشیۃ الطحطاوی علی الدر المختار کتاب النکاح باب نکاح الکافر المکتبۃ العربیہ کوئٹہ ۲ /۸۱
#18329 · رسالہ شمول الاسلام لاصول الرسول الکرام ۱۳۱۵ھ (رسول کریم صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے آباؤ اجداد کرام کا مسلما ن ہونا)
حضور اقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم کی پیغمبری کی گواہی دیاے شخص اس کی تصدیق کر کہ یہ مصطفی صلی الله تعالی علیہ وسلم کے اعزاز کے واسطے ہے اوراس باب میں حدیث وارد ہوئی جو اسے ضعیف بتائے وہ آپ ہی ضعیف اورعلم حقیقت سے خالی ہے۔''
یہ اشعار سنا کر ان عالم سے فرمایا:اے شیخ !انہیں لے اورنہ رات کو جاگ نہ اپنی جان کو فکر میں ڈال کہ تجھے چراغ جلادےہاں جہاں جارہا ہے وہاں نہ جا کہ لقمہ حرام کھانے میں نہ آئے۔
ان کے اس فرمانے سے وہ عالم بیخودہوکر رہ گئےپھر انہیں تلاش کیا پتا نہ پایا اوردکانداروں سے پوچھاکسی نے نہ پہچاناسب بازار والے بولے:یہاں تو کوئی شخص بیٹھتا ہی نہیں۔وہ عالم اس ربانی ہادیغیب کی ہدایت سن کر مکان کو واپس آئےلشکری کے یہاں تشریف نہ لے گئے۔ انتہی۔
اے شخص! یہ عالم بہ برکت علمنظر عنایت سے ملحوظ تھے کہ غیب سے کسی ولی کو بھیج کر ہدایت فرمادی خوف کر کہ تو اس ورطہ میں پڑ کر معاذالله کہیں مصطفی صلی الله تعالی علیہ وسلم کا باعث ایذاء نہ ہو جس کا نتیجہ معاذالله بڑی آگ دیکھنا ہو۔الله عزوجل ظاہر و باطن میں مصطفی صلی الله تعالی علیہ وسلم کی سچی محبت سچا ادب روزی فرمائے اوراسباب مقت(ناراضگی)وحجاب وبیزاری وعتاب سے بچائے آمین آمین آمین!
یا ارحم الراحمین ارحم فاقتنا یا ارحم الراحمین ارحم ضعفنا تبرانا من حولنا الباطل وقوتنا العاطلۃ والتجانا الی حولك العظیم وطولك القدیم وشھدنا بان لاحول ولاقوۃ الا بالله العلی العظیم واخردعونا ان الحمدلله رب العلمین وصلی الله تعالی علی سیدنا ومولنا محمد اے بہترین رحم فرمانے والے ! ہمارے فاقہ اورضعف پر رحم فرماہم اپنی باطل طاقت اوربیکاری قوت سے براء ت کرتے ہیں اورتیری عظیم طاقت اورقدیم قوت کی پناہ چاہتے ہیں اوراس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ عزت وعظمت والے خدا کے سوا نہ تو گناہ سے بچنے کی طاقت ہے اورنہ ہی نیکی کرنے کیاورہماری گفتگو کا خاتمہ اس پر ہے کہ تمام تعریفیں الله تعالی کے لیے ہیں جو سب جہانوں کا پروردگار ہے۔اورالله تعالی درود نازل فرمائے ہمارے آقا
حوالہ / References حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب النکاح باب نکاح الکافر المکتبۃ العربیہ کوئٹہ ۲ /۸۱
#18330 · رسالہ شمول الاسلام لاصول الرسول الکرام ۱۳۱۵ھ (رسول کریم صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے آباؤ اجداد کرام کا مسلما ن ہونا)
والہ وصحبہ وذریتہ اجمعین امین۔ ومولی محمد مصطفی پرآپ کی تمام آل پرآپ کے تمام صحابہ پر اورآپ کی تمام اولاد پر۔آمین۔(ت)
الحمدلله یہ موجزرسالہ اواخر شوال المکرم ۱۳۱۵ھ کے چند جلسوں میں تمام اوربلحاظ تاریخ "شمول الاسلام لاصول الرسول الکرام" عــــــہ نام ہوا۔والله سبحنہ وتعالی اعلم۔
__________________
رسالہ
شمول الاسلام لاصول الرسول الکرام
ختم ہوا۔
__________________
حوالہ / References €&عــــــہ€∞:€&وبضم الکاف بمعنی الریم صفۃ الرسول اوبکسرھا جمع الکرام نعت الاصول€∞۱۲
#18331 · رسالہ تمھیدِ ایمان بآیاتِ قرآن ۱۲۲۶ھ
رسالہ
تمھید ایمان بآیات قرآن ۱۲۲۶ھ

بسم اﷲ الرحمن الرحیم ط
الحمد ﷲ رب العلمین والصلوۃ والسلام علی سید المرسلین خاتم النبیین محمد والہ واصحبہ اجمعین الی یوم الدین بالتبجیل وحسبنا اﷲ ونعم الوکیل۔ تمام تعریفیں الله رب العالمین کے لیے ہیں اور عظمت کے ساتھ تاقیامت درود وسلام ہو سید المرسلین وخاتم النبیین پر اورآپ کی آل اورتمام اصحاب پر۔ہمارے لئے الله تعالی کافی ہے۔کیا ہی اچھا کارساز ہے۔(ت)
مسلمان بھائیوں سے عاجزانہ دست بستہ عرض
پیارے بھائیو! السلام علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ۔اﷲتعالی آپ سب حضرات کو اور آپ کے صدقے میں اس ناچیزکثیر السیئآت کو دین حق پر قائم رکھے اور اپنے حبیب محمدرسول صلی الله تعالی علیہ وسلم کی سچی محبتدل میں عظمت دے اور اسی پر ہم سب کا خاتمہ کرے۔ا مین یا ارحم الر ا حمین۔
#18332 · رسالہ تمھیدِ ایمان بآیاتِ قرآن ۱۲۲۶ھ
تمہارا رب عزوجل فرماتا ہے:
" انا ارسلنک شہدا و مبشرا و نذیرا ﴿۸﴾ لتؤمنوا باللہ و رسولہ و تعزروہ و توقروہ و تسبحوہ بکرۃ و اصیلا ﴿۹﴾" ۔ اے نبی بے شك ہم نے تمہیں بھیجا گواہ او رخوشخبری دیتا اور ڈر سناتاتاکہ اے لوگو ! تم اﷲ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور رسول کی تعظیم وتوقیر کرو اور صبح وشام اﷲکی پاکی بولو۔
مسلمانو ! دیکھو دین اسلام بھیجنےقرآن مجید اتارنےکامقصود ہی تمہارا مولی تبارك و تعالی تین باتیں بتاتاہے:
اول یہ کہ اﷲ و رسول پر ایمان لائیں۔
دوئم یہ کہ رسول اﷲ کی تعظیم کریں۔
سوئم یہ کہ اﷲتبارك و تعالی کی عبادت میں رہیں۔
مسلمانو! ان تینوں جلیل باتوں کی جمیل ترتیب تو دیکھوسب میں پہلے ایمان کوذکرفرمایا اور سب میں پیچھے اپنی عبادت کو اور بیچ میں اپنے پیارے حبیب صلی الله تعالی علیہ وسلم کی تعظیم کواس لئے کہ بغیر ایمانتعظیم بکارآمد نہیں۔بہتیر ے نصاری ہیں کہ نبی صلی الله تعالی علیہ وسلم کی تعظیم و تکریم اور حضور پر سے دفع اعتراضات کا فران لئیم میں تصنیفیں کرچکےلکچر دے چکے مگر جبکہ ایمان نہ لائےکچھ مفیدنہیں کہ ظاہری تعظیم ہوئیدل میں حضور اقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم کی سچی عظمت ہوتی تو ضرو ر ایمان لاتے۔پھر جب تك نبی صلی الله تعالی علیہ وسلم کی سچی تعظیم نہ ہوعمر بھرعبادت الہی میں گزرےسب بے کارو مردودہے۔بہتیر ے جوگی اور ر اہب ترك دنیا کرکےاپنے طور پر ذکر عبادت الہی میں عمرکاٹ دیتے ہیں بلکہ ان میں بہت وہ ہیں زکہ لاالہ الا اﷲ کا ذکر سیکھتے اورضربیں لگاتے ہیں مگر ازآنجاکہ محمد رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم کی تعظیم نہیںکیا فائدہ اصلا قابل قبول بارگاہ الہی نہیںاﷲ عزوجل ایسوں ہی کو فرماتا ہے:
" و قدمنا الی ما عملوا من عمل فجعلنہ ہباء منثورا ﴿۲۳﴾" ۔ جوکچھ اعمال انہوں نے کئے تھےہم نے سب برباد کر دئیے۔
#18333 · رسالہ تمھیدِ ایمان بآیاتِ قرآن ۱۲۲۶ھ
ایسوں ہی کو فرماتا ہے:
" عاملۃ ناصبۃ ﴿۳﴾ تصلی نارا حامیۃ ﴿۴﴾" ۔ عمل کریںمشقتیں بھریں اوربدلہ کیاہوگایہ کہ بھڑکتی آگ میں پیٹھیں گے۔والعیاذ باﷲ تعالی۔
مسلمانو!کہو محمد رسول اﷲ صلی الله تعالی علیہ وسلم کی تعظیممدار ایمان و مدارنجات ومدارقبول اعمال ہوئی یا نہیں ۔کہو ہوئے اور ضرورہوئے!تمہارارب عزوجل فرماتا ہے:
" قل ان کان اباؤکم وابناؤکم و اخونکم وازوجکم وعشیرتکم و امولۨ اقترفتموہا وتجرۃ تخشون کسادہا ومسکن ترضونہا احب الیکم من اللہ ورسولہ وجہاد فی سبیلہ فتربصوا حتی یاتی اللہ بامرہ واللہ لایہدی القوم الفسقین ﴿۲۴﴾ " اے نبی تم فرمادوکہ اے لوگو! اگرتمہارے باپتمہارے بیٹےتمھارے بھائیتمہاری بیبیاںتمہارا کنبہ اور تمہاری کمائی کے مال او ر وہ سوداگری جس کے نقصان کا تمہیں اندیشہ ہے اور تمھارے پسند کے مکانان میں کوئی چیزبھی اگر تم کو اﷲ اور اﷲ کے رسول اور اسکی راہ میں کوشش کرنے سے زیادہ محبوب ہےتو انتظار رکھویہاں تك کہ اﷲ اپناعذاب اتارے اور اﷲ بے حکموں کو راہ نہیں دیتا۔
اس آیت سے معلوم ہوا کہ جسے دنیا جہان میں کوئی معززکوئی عزیزکوئی مالکوئی چیزاﷲ و رسول سے زیادہ محبوب ہووہ بارگاہ الہی سے مردود ہےاﷲ اسے اپنی طرف راہ نہ دے گااسے عذاب الہی کے انتظار میں رہنا چاہیے والعیاذ باﷲ تعالی۔
تمہارے پیارے نبی صلی الله تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
"لایؤمن احدکم حتی اکون احب الیہ من والدہ و ولدہ والناس اجمعین" ۔ تم میں کوئی مسلمان نہ ہوگا جب تك میں اسے اس کے ماں باپاولاد اور سب آدمیوں سے زیادہ پیارانہ ہوجاؤں''۔ صلی الله تعالی علیہ وسلم
حوالہ / References القرآن الکریم ۸۸ /۳ و۴
القرآن الکریم ۹ /۲۴
صحیح البخاری کتاب الایمان باب حب الرسول صلی الله علیہ وسلم من الایمان قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۷،صحیح مسلم کتاب الایمان باب وجوب محبۃ الرسول الله صلی الله علیہ وسلم من الایمان قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/۴۹
#18334 · رسالہ تمھیدِ ایمان بآیاتِ قرآن ۱۲۲۶ھ
یہ حدیث بخاری وصحیح مسلم میں انس بن مالك انصاری رضی الله تعالی عنہ سے ہے۔اس نے تو یہ بات صاف فرمادی کہ جو حضوراقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم سے زیادہ کسی کوعزیز رکھےہرگزمسلمان نہیں۔
مسلمانوکہو! محمدرسول اﷲ صلی الله تعالی علیہ وسلم کو تمام جہانوں سے زیادہ محبوب رکھنا مدارایمان و مدارنجات ہوایانہیں کہو ہوا اور ضرورہوا۔یہاں تك توسارے کلمہ گو خوشی خوشی قبول کرلیں گے کہ ہاں ہمارے دل میں محمد رسول اﷲ صلی الله تعالی علیہ وسلم کی عظیم عظمت ہے۔ہاں ہاں ماں باپ اولاد سارے جہان سے زیادہ ہمیں حضو ر کی محبت ہے۔بھائیو!خدا ایسا ہی کرےمگرذرا کان لگا کر اپنے رب کا ارشادسنو۔تمہارا رب عزوجل فرماتا ہے:
" الـم ﴿۱﴾ احسب الناس ان یترکوا ان یقولوا امنا وہم لا یفتنون ﴿۲﴾ " ۔ کیا لوگ اس گھمنڈ میں ہیںکہ اتناکہہ لینے پر چھوڑدیئے جائیں گے کہ ہم ایمان لائے اور ان کی آزمائش نہ ہوگی۔
یہ آیت مسلمانوں کو ہوشیار کررہی ہے کہ دیکھوکلمہ گوئی اور زبانی ادعائے مسلمانی پرتمہارا چھٹکارا نہ ہوگا۔ہاں ہاں سنتے ہو!آزمائے جاؤگےآزمائش میں پورے نکلے تو مسلمان ٹھہروگے۔ہر شے کی آزمائش میں یہی دیکھاجاتاہے کہ جو باتیں اس کے حقیقی و واقعی ہونے کو درکار ہیںوہ ا س میں ہیں یانہیں ا بھی قرآن و حدیث ارشاد فرماچکے کہ ایمان کے حقیقی و واقعی ہونے کودوباتیں ضرورہیں۔
(۱)محمدرسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم کی تعظیم
(۲)اور محمد رسول اﷲ کی محبت کو تمام جہان پر تقدیم
تو اس کی آزمائش کا یہ صریح طریقہ ہے کہ تم کو جن لوگوں سے کیسی ہی تعظیمکتنی ہی عقیدتکتنی ہی دوستیکیسی ہی محبت کا علاقہ ہو۔جیسے تمہارے باپتمہارے استادتمہارے پیرتمہارے بھائیتمہارے احبابتمہارے اصحابتمہارے مولوی تمہارے حافظتمہارے مفتیتمہارے واعظ وغیر ہ وغیرہ کسے باشدجب وہ محمدرسول اﷲ صلی الله تعالی علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کریں اصلا تمہارے قلب میں ان کی عظمت ان کی محبت کا نام ونشان نہ ر ہے فورا ان سے
حوالہ / References القرآن الکریم ۲۹ /۱ و۲
#18335 · رسالہ تمھیدِ ایمان بآیاتِ قرآن ۱۲۲۶ھ
الگ ہوجاؤدودھ سے مکھی کی طرح نکال کر پھینك دوان کی صورتان کے نام سے نفرت کھاؤ پھرنہ تم اپنے رشتے علاقے دوستیالفت کا پاس کرو نہ اس کی مولویتمشیخیتبزرگیفضیلتکو خطرے میں لاؤ آخر یہ جو کچھ تھامحمد رسول اﷲ صلی الله تعالی علیہ وسلم کی غلامی کی بنا ء پر تھا جب یہ شخص ان ہی کی شان میں گستاخ ہوا پھرہمیں اس سے کیا علاقہ رہا اس کے جبے عمامے پر کیا جائیںکیا بہتیرے یہودی جبےنہیں پہنتےکیا عمامے نہیں باندھتے اس کے نام و علم و ظاہری فضل کولے کر کیا کریں کیا بہتیر ے پادریبکثرت فلسفی بڑے بڑے علوم وفنون نہیں جانتے اوراگر یہ نہیں بلکہ محمد رسول اﷲ صلی الله علیہ وسلم کے مقابل تم نے اس کی بات بنانی چاہی اس نے حضور سے گستاخی کی اور تم نے اس سے دوستی نباہی یا اسے ہربرے سے بدتر برانہ جانا یااسے براکہنے پر برامانایا اسی قد ر کہ تم نے اس امر میں بے پروائی منائی یا تمہارے دل میں اس کی طرف سے سخت نفرت نہ آئیتو ﷲ اب تم ہی انصاف کرلو کہ تم ایمان کے امتحان میں کہاں پاس ہوئےقرآن و حدیث نے جس پر حصول ایمان کا مدار رکھا تھا اس سے کتنے دورنکل گئے۔مسلمانو!کیا جس کے دل میں محمد رسول اﷲ صلی الله تعالی علیہ وسلم کی تعظیم ہوگی وہ ان کے بدگو وقعت کرسکے گا اگر چہ اس کا پیر یا استادیا پدرہی کیوں نہ ہوکیا جسے محمد رسول اﷲصلی الله تعالی علیہ وسلم تمام جہان سے زیادہ پیارے ہوں وہ ان کے گستاخ سے فوراسخت شدید نفرت نہ کرے گااگر چہ اسکا دوست یابرادر یا پسر ہی کیوں نہ ہوﷲ اپنے حال پر رحم کرو اپنے رب کی بات سنودیکھو وہ کیوں کر تمہیں اپنی رحمت کی طرف بلاتا ہےدیکھو رب عزوجل فرماتاہے:
" لا تجد قوما یؤمنون باللہ و الیوم الاخر یوادون من حاد اللہ و رسولہ و لو کانوا اباءہم او ابناءہم او اخونہم او عشیرتہم اولئک کتب فی قلوبہم الایمن و ایدہم بروح منہ و یدخلہم جنت تجری من تحتہا الانہر خلدین فیہا رضی اللہ عنہم و رضوا عنہ اولئک حزب اللہ الا تو نہ پائے گا انہیں جو ایمان لاتے ہیں اﷲ اورقیامت پر کہ ان کے دل میں ان کی محبت آنے پائے جنہوں نے خدااو ر رسول سے مخالفت کیچاہے وہ ان کے باپ یا بیٹے یا بھائی یاعزیزہی کیوں نہ ہوں۔یہ ہیں وہ لوگ جن کے دلوں میں اﷲ نے ایمان نقش کردیا اور اپنی طرف کی روح سے ان کی مددفرمائی اور انہیں باغوں میں لے جائے گاجن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں ہمیشہ رہیں گے ان میں اﷲ ان سے راضی اور وہ اﷲ سے راضییہی لوگ اﷲ والے ہیں۔سنتا ہے
#18336 · رسالہ تمھیدِ ایمان بآیاتِ قرآن ۱۲۲۶ھ
ان حزب اللہ ہم المفلحون ﴿۲۲﴾" ۔ اﷲ والے ہی مراد کو پہنچے۔
اس آیت کریمہ میں صاف فرمادیا کہ جو اﷲ یا رسول اﷲکی جناب میں گستاخی کرےمسلمان اس سے دوستی نہ کرے گاجس کا صریح مفاد ہوا کہ جو اس سے دوستی کرے وہ مسلمان نہ ہوگا۔پھر اس حکم کا قطعا عام ہونا بالتصریح ارشاد فرمایا کہ باپبیٹے بھائیعزیز سب کوگنا یایعنی کوئی کیسا ہی تمہارے زعم میں معظم یا کیسا ہی تمہیں بالطبع محبوب ہوایمان ہے تو گستاخی کے بعد اس سے محبت نہیں رکھ سکتےاس کی وقعت نہیں مان سکتے ورنہ مسلمان نہ رہوگے۔مولی سبحانہ و تعالی کا اتنا فرمانا ہی مسلمان کے لئے بس تھا مگردیکھو وہ تمہیں اپنی رحمت کی طرف بلاتااپنی عظیم نعمتوں کا لالچ دلاتا ہے کہ اگر اﷲ ورسول کی عظمت کے آگے تم نے کسی کا پاس نہ کیا کسی سے علاقہ نہ رکھا تو تمہیں کیا کیا فائدے حاصل ہوں گے۔
(۱)اﷲتعالی تمہارے دلوں میں ایمان نقش کردے گا جس میں ان شاء ا ﷲ تعالی حسن خاتمہ کی بشارت جلیلہ ہے کہ اﷲ کا لکھا نہیں مٹتا۔
(۲)اﷲتعالی روح القدس سے تمہاری مددفرمائے گا۔
(۳)تمہیں ہمیشگی کی جنتوں میں لے جائے گاجن کے نیچے نہریں رواں ہیں۔
(۴)تم خدا کے گروہ کہلاؤگےخدا والے ہوجاؤگے۔
(۵)منہ مانگی مرادیں پاؤگے بلکہ امید و خیال و گمان سے کروڑوں درجے افزوں۔
(۶)سب سے زیادہ یہ کہ اﷲتم سے راضی ہوگا۔
(۷)یہ کہ فرماتاہے ''میں تم سے راضی تم مجھ سے راضی ''بندے کیلئے اس سے زائد او رکیا نعمت ہوتی کہ اس کا رب اس سے راضی ہومگر انتہائے بندہ نوازی یہ کہ فرمایا اﷲ ان سے راضی وہ اﷲ سے راضی۔
مسلمانو! خدا لگتی کہنا اگر آدمی کروڑجانیں رکھتا ہو اور سب کی سب ان عظیم دولتوں پر نثار کردے توواﷲ مفت پائیںپھرزیدو عمرو سے علاقہ تعظیم و محبتیك لخت قطع کردینا کتنی بڑی بات ہے جس پر اﷲ تعالی ان بے بہانعمتوں کا وعدہ فرمارہاہے اور اس کا وعدہ یقینا سچا ہے۔قرآن کریم کی عادت کریمہ ہے کہ جوحکم فرماتاہے جیساکہ اس کے ماننے والوں کو اپنی نعمتوں کی بشارت دیتا ہےنہ ماننے والوں پر اپنے عذابوں کا تازیانہ بھی رکھتاہے کہ جو پست ہمت نعمتوں کی لالچ میں نہ آئیں
حوالہ / References القرآن الکریم ۵۹ /۲۲
#18337 · رسالہ تمھیدِ ایمان بآیاتِ قرآن ۱۲۲۶ھ
سزاؤں کے ڈرسےراہ پائیں۔وہ عذاب بھی سن لیجئے:
تمہارا رب عزوجل فرماتاہے:
" یایہا الذین امنوا لاتتخذوا اباءکم و اخونکم اولیاء ان استحبوا الکفر علی الایمن ومن یتولہم منکم فاولئک ہم الظلمون ﴿۲۳﴾ " ۔ اے ایمان والو! اپنے باپاپنے بھائیوں کودوست نہ بناؤ اگر وہ ایمان پر کفر پسند کریں اور تم میں جوکوئی ان سے رفاقت پسند کرے وہی لوگ ستمگار ہیں۔
اور فرماتاہے کہ:
" یایہا الذین امنوا لا تتخذوا عدوی و عدوکم
تسرون الیہم بالمودۃ ٭ و انا اعلم بما اخفیتم وما اعلنتم و من یفعلہ منکم فقد ضل سواء السبیل ﴿۱﴾ لن تنفعکم ارحامکم ولا اولدکم یوم القیمۃ یفصل بینکم و اللہ بما تعملون بصیر ﴿۳﴾" ۔ اے ایمان والو! میرے اور اپنے دشمنوں کو دوست نہ بناؤ۔تم چھپ کران سے دوستی کرتے ہواور میں خوب جانتا ہوں جوتم چھپاتے اور جو ظاہر کرتے ہو اور تم میں جو ایسا کرے گا وہ ضرور سیدھی راہ سے بہکا۔تمہارے رشتے اورتمہارے بچے تمہیں کچھ نفع نہ دیں گے۔قیامت کے دن۔الله تم میں اور تمہارے پیاروں میں جدائی ڈال دیگا کہ تم میں ایک دوسرے کے کچھ کام نہ آسکے گا اور اﷲ تمہارے اعمال کو دیکھ رہاہے۔
اور فرماتاہے:
" ومن یتولہم منکم فانہ منہم ان اللہ لا یہدی القوم الظلمین ﴿۵۱﴾" ۔ تم میں جو ا ن سے دوستی کریگا توبےشك وہ انہیں میں سے ہے۔بے شك اﷲہدایت نہیں کرتا ظالموں کو۔
پہلی د و آیتوں میں تو ان سے دوستی کرنے والوں کوظالم و گمراہ ہی فرمایا تھااس آیت کریمہ نے
#18338 · رسالہ تمھیدِ ایمان بآیاتِ قرآن ۱۲۲۶ھ
بالکل تصفیہ فرمادیا کہ جوان سے دوستی رکھے وہ بھی ان میں سے ہےان ہی کی طرح کافر ہےان کے ساتھ ایك رسی میں باندھا جائے گا اور وہ کوڑا بھی یادرکھیے کہ'' تم چھپ چھپ کر ان سے میل رکھتے ہو اور میں تمہارے چھپے اور ظاہر سب کوجانتا ہوں ''۔اب وہ رسی بھی سن لیجئے جس میں رسول اﷲ کی شان اقدس میں گستاخی کرنے والے باندھے جائیں گے۔
تمہارا رب عزوجل فرماتاہے:
" والذین یؤذون رسول اللہ لہم عذاب الیم ﴿۶۱﴾" ۔ جو رسول اﷲکو ایذاء دیتے ہیں ان کیلئے دردناك عذاب ہے۔
اور فرماتا ہے:
" ان الذین یؤذون اللہ و رسولہ لعنہم اللہ فی الدنیا و الاخرۃ و اعد لہم عذابا مہینا ﴿۵۷﴾" ۔ بے شك جواﷲ و رسول کو ایذاء دیتے ہیں ان پر اﷲ کی لعنت ہے دنیا و آخرت میںاور اﷲ نے ان کیلئے ذلت کا عذاب تیارکر رکھا ہے۔
اﷲ عزوجل ایذاء سے پاك ہے اسے کون ایذاء دے سکتاہے۔مگر حبیب صلی الله تعالی علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کو اپنی ایذاء فرمایا۔ان آیتوں سے اس شخص پر جو رسول اﷲ کے بدگویوں سے محبت کا برتاؤ کرےسات کوڑے ثابت ہوئے۔:
(۱)وہ ظالم ہے۔
(۲)گمراہ ہے۔
(۳)کافر ہے۔
(۴)اس کے لئے دردناك عذاب ہے۔
(۵)وہ آخرت میں ذلیل و خوارہوگا۔
(۶)اس نے اﷲ واحد قہار کوایذاء دی۔
(۷)اس پر دونوں جہان میں خدا کی لعنت ہے۔والعیاذباﷲتعالی۔
#18339 · رسالہ تمھیدِ ایمان بآیاتِ قرآن ۱۲۲۶ھ
اے مسلمان ! اے مسلمان! اے امتی سیدالانس والجان صلی الله تعالی علیہ وسلم ! خداراذرا انصاف کروہ سات بہتر ہیں جو ان لوگوں سے یك لخت علاقہ ترك کردینے پر ملتے ہیں کہ دل میں ایمان جم جائے اﷲ مددگار ہوجنت مقام ہواﷲ والوں میں شمار ہو مرادیں ملیںخدا تجھ سے راضی ہوتوخدا سے راضی ہو یایہ سات بھلے ہیں جو ان لوگوں سے تعلق لگارہنے پر پڑیں گے کہ ظالم گمراہکافرجہنمی ہوآخرت میں خوارہوخدا کوایذا دےخدا دونوں جہان میں لعنت کرے۔ہیھاتہیھات کو ن کہہ سکتا ہے۔کہ یہ سات اچھے ہیںکون کہہ سکتا ہے کہ وہ سات چھوڑنے کے ہیںمگرجان برادر ! خالی یہ کہہ دینا تو کام نہیں دیتاوہاں تو امتحان کی ٹھہری ہے ابھی آیت سن چکے الم احسب الناسکیا اس بھلاوے میں ہوکہ بس زبان سے کہہ کر چھوٹ جاؤگے امتحان نہ ہوگا۔ہاں یہی امتحان کا وقت ہے!دیکھویہ اﷲ واحد قہار کی طرف سے تمہاری جانچ ہے۔دیکھو! وہ فر ما رہا ہے کہ تمہارے رشتےعلاقے قیامت میں کام نہ آئیں گےمجھ سے توڑ کر کس سے جوڑتے ہو۔دیکھو ! وہ فرمارہاہے کہ میں غافل نہیںمیں بے خبر نہیںتمہارے اعمال دیکھ رہا ہوںتمہارے اقوال سن رہا ہوں تمہارے دلوں کی حالت سے خبردار ہوں دیکھو !بے پروائی نہ کروپرائے پیچھےاپنی عاقبت نہ بگاڑواﷲ ورسول کے مقابل ضد سے کام نہ لودیکھو وہ تمہیں اپنے سخت عذاب سے ڈراتا ہے۔اس کے عذاب سے کہیں پناہ نہیںدیکھو ! وہ تمہیں اپنی رحمت کی طرف بلاتا ہےبے اس کی رحمت کے کہیں نباہ نہیں دیکھو اور گناہتو نرے گناہ ہوتے ہیں جن پر عذاب کا استحقاق ہومگر ایمان نہیں جاتاعذاب ہوکر خواہ رب کی رحمتحبیب کی شفاعت سےبے عذاب ہی چھٹکاراہوجائے گا یا ہوسکتاہے۔مگر یہ محمد رسول اﷲ صلی الله تعالی علیہ وسلم کی تعظیم کامقام ہے انکی عظمتان کی محبتمدارایمان ہےقرآن مجید کی آیتیں سن چکے کہ جو اس معاملہ میں کمی کرے اس پر دونوں جہان میں خدا کی لعنت ہے۔دیکھو جب ایمان گیاپھر اصلاابدالآ باد تك کبھیکسی طرح ہر گزاصلاعذاب شدید سے رہائی نہ ہوگی۔گستاخی کرنے والےجن کا تم یہاں کچھ پاس لحاظ کرووہاں اپنی بھگت رہے ہونگے تمہیں بچانے نہ آئیں گے اور آئیں تو کیا کرسکتے ہیں پھر ایسوں کا لحاظ کرکےاپنی جان کو ہمیشہ ہمیشہ غضب جبارو عذاب نار میں پھنسادیناکیا عقل کی بات ہے ۔للہ للہ ذرا دیر کو اﷲ ورسول کے سوا سب ایں وآں سے نظر اٹھاکرآنکھیں بند کرو اور گردن جھکا کر اپنے آپ کو اﷲ واحد قہار کے سامنے حاضر سمجھواور نرے خالص سچے اسلامی دل کے ساتھ محمد رسول اﷲ صلی الله علیہ وسلم کی عظیم عظمتببلند عزترفیع وجاھتجو ان کے رب نے انہیں بخشی اور ان کی تعظیمان کی توقیر پر ایمان و اسلام کی بناء ر کھی اسے دل میں جماکر
#18340 · رسالہ تمھیدِ ایمان بآیاتِ قرآن ۱۲۲۶ھ
انصاف و ایمان سے کہوکیا جس نے کہاکہ شیطان کویہ وسعتنص سے ثابت ہوئیفخرعالم کی وسعت علم کی کونسی نص قطعی ہے ۔اس نے محمد رسول اﷲ کی شان میں گستاخی نہ کی کیا اس نے ابلیس لعین کے علم کو رسول اﷲ صلی الله علیہ وسلم کے علم اقدس پر نہ بڑھایا کیاوہ رسول اﷲصلی الله علیہ وسلم کی وسعت علم سے کافر ہو کر شیطان کی وسعت علم پر ایمان نہ لایا
مسلمانو! خود اس بد گو سے اتنا ہی کہہ دیکھو کہ او علم میں شیطان کے ہمسردیکھو! تو وہ برا مانتا ہے یا نہیں حالانکہ اسے تو علم میں شیطان سے کم بھی نہ کہا بلکہ شیطان کے برابر ہی بتایاپھر کم کہنا کیا توہین نہ ہوگی اور اگر وہ اپنی بات پالنے کو اس پر ناگواری ظاہر نہ کرے اگر چہ دل میں قطعا ناگوار مانے گاتو اسے چھوڑیئے اور کسی معظم سے کہہ دیجئے اور پورا ہی امتحان مقصود ہوتوکیا کچہری میں جاکر آپ کسی حاکم کو ان ہی لفظوں سے تعبیر کر سکتے ہیںدیکھئے ! ابھی ابھی کھلا جاتا ہے کہ توہین ہوئی اور بے شك ہوئی پھرکیا رسول اﷲ صلی الله تعالی علیہ وسلم کی توہین کرنا کفر نہیں ضرور ہے اور بالیقین ہے۔کیا جس نے شیطان کی وسعت علم کو نص سے ثابت مان کرحضور اقدس کے لئے وسعت علم ماننے والے کوکہا'' تمام نصوص کو رد کرکے ایك شرك ثابت کرتا ہے'' ۔او ر کہا'' شرك نہیں تو کونسا ایمان کا حصہ ہے'' ۔اس نے ابلیس لعین کو خدا کا شریك مانا یانہیں ضرور ماناکہ جوبا ت مخلوق میں ایك کے لئے ثابت کرنا شرك ہوگیوہ جس کسی کے لئے ثابت کی جائےقطعا شرك ہی رہے گی کہ خدا کا شریك کوئی نہیں ہوسکتاجب رسول اﷲ صلی الله علیہ وسلم کے لئے یہ وسعت علم ماننی شرك ٹھہرائیجس میں کوئی حصہ ایمان کا نہیں توضرور اتنی وسعت خدا کی وہ خاص صفت ہوئی جس کو خدائی لازم ہے جب تو نبی کے لئے اس کا ماننے والا کا فر مشرك ہوا اور اس نے وہی وسعتوہی صفت خود اپنے منہابلیس کے لئے ثابت مانی تو صاف صاف شیطان کو خدا کا شریك ٹھہرایا۔
مسلمانو !کیا یہ اﷲاور اس کے رسول صلی الله تعالی علیہ وسلم دونوں کی توہین نہ ہوئی ضرور ہوئیاﷲ کی توہین توظاہر ہے کہ اس کا شریك بنایا اور وہ بھی کسے ابلیس لعین کو اور رسول اﷲ صلی الله علیہ وسلم کی توہین یوںکہ ابلیس کا مرتبہ اتنا بڑھا دیا کہ وہ تو خدا کی خاص صفت
حوالہ / References البراھین القاطعۃ بحث علم غیب مطبع لے بلا ساڈھور ص۵۱
البراھین القاطعۃ بحث علم غیب مطبع لے بلا ساڈھور ص۵۱
البراھین القاطعۃ بحث علم غیب مطبع لے بلا ساڈھور ص۵۱
#18341 · رسالہ تمھیدِ ایمان بآیاتِ قرآن ۱۲۲۶ھ
میں حصہ دار ہےاور یہ اس سے ایسے محرومکہ ان کے لئے ثابت مانوتو مشرك ہوجاؤ۔مسلمانو ! کیا خدا اور رسول اﷲ کی توہین کرنے والا کافر نہیں ضرور ہے۔کیا جس نے کہا کہ''بعض علوم غیبیہ مرا د ہیں تو اس میں حضور(یعنی نبی صلی الله تعالی علیہ وسلم)کی کیا تخصیص ہے ایسا علم غیب تو زید وعمرو بلکہ ہر صبی و مجنون بلکہ جمیع حیوانات و بہائم کے لئے بھی حاصل ہے'' ۔
کیا اس نے محمد رسول اﷲ صلی الله تعالی علیہ وسلم کو صریح گالی نہ دی کیانبی صلی الله علیہ وسلم کو اتنا ہی علم غیب دیا گیا تھاجتنا ہر پاگل اور ہرچوپائے کو حاصل ہے
مسلمان! مسلمان ! اے محمدرسول اﷲصلی الله علیہ وسلم کے امتی ! تجھے اپنے دین و ایمان کا واسطہکیا اس ناپاك و ملعون گالی کے صریح ہونے میں تجھے کچھ شبہ گزرسکتا ہے معاذاﷲ! کہ محمد رسول اﷲ صلی الله تعالی علیہ وسلم کی عظمت تیرے دل سے ایسی نکل گئی ہو کہ اس شدید گالی میں بھی ان کی توہین نہ جانے اور اگر اب بھی تجھے اعتبار نہ آئےتوخود ان ہی بدگویوں سے پوچھ دیکھکہ آیا تمہیں اور تمہارے استادوںپیرجیون کو کہہ سکتے ہیں کہ اے فلاں ! تجھے اتنا ہی علم ہے جتنا سور کو ہے تیرے استاد کو ایسا ہی علم تھا جیسا کتے کو ہے تیرے پیر کو اسی قدرعلم تھاجیسا گدھے کو ہےیامختصر طور پراتنا ہی ہوکہ ا و علم میں الو گدھےکتےسورکے ہمسرو ! دیکھو تو وہ اس میں اپنی اور اپنے استادپیر کی توہین سمجھتے ہیں یا نہیں قطعاسمجھیں گے اور قابو پائیں تو سرہوجائیںپھرکیا سبب کہ جو کلمہ ان کے حق میں توہین وکسرشان ہو محمد رسول اﷲ صلی الله تعالی علیہ وسلم کی توہین نہ ہوکیا معاذ اﷲ ان کی عظمت ان سے بھی گئی گزری ہےکیا اسی کانام ایمان ہے حاش للہ حاشﷲ! کیا جس نے کہا کیونکہ ہر شخص کو کسی نہ کسی ایسی بات کا علم ہوتا ہے جو دوسرے شخص سے مخفی ہے توچاہیے کہ سب کوعالم الغیب کہاجاوےپھر اگرزید اسکا التزام کرلے کہ ہاں میں سب کوعالم الغیب کہوں گا توپھر علم غیب کو منجملہ کمالات نبویہ شمارکیوں کیا جاتا ہے جس امر میں مومن بلکہ انسان کی بھی خصوصیت نہ ہو وہ کمالات نبوت سے کب ہوسکتاہے اور اگر التزام نہ کیا جاوے تو نبی وغیرنبی میں وجہ فرق بیان کرناضرورہے انتہی۔کیارسول اﷲصلی الله تعالی علیہ وسلم اور جانوروںپاگلوں میں فرق
حوالہ / References حفظ الایمان جواب سوال سوم کتب خانہ اعزازیہ دیوبند سہارنپور بھارت ص۸،حفظ الایمان مع تغییر العنوان جواب سوال سوم محمد عثمان تاجر الکتب فی دریبہ کلاں دہلی ص۷و۱۷
حفظ الایمان جواب سوال سوم کتب خانہ اعزازیہ دیوبند سہارنپور بھارت ص۸،حفظ الایمان مع تغییر العنوان جواب سوال سوم محمد عثمان تاجر الکتب فی دریبہ کلاں دہلی ص۷و۱۷
#18342 · رسالہ تمھیدِ ایمان بآیاتِ قرآن ۱۲۲۶ھ
نہ جاننے والاحضور کوگالی نہیں دیتا کیا اس نے اﷲ کے کلام کا صراحۃ ردوابطال نہ کردیا۔دیکھو تمہارا رب عزوجل فرماتاہے:
" وعلمک ما لم تکن تعلم وکان فضل اللہ علیک عظیما﴿۱۱۳﴾" ۔ اے نبی !اﷲ نے تم کو سکھایا جوتم نہ جانتے تھے اور اﷲکا فضل تم پر بڑاہے۔
یہاں نامعلوم باتوں کاعلم عطافرمانے کواﷲ عزوجل نے اپنے حبیب صلی الله تعالی علیہ وسلم کے کمالات ومدائح میں شمار فرمایا۔اور فرماتاہے:
" و انہ لذو علم لما علمنہ" ۔ اور بے شك یعقوب ہمار ے سکھائے سےعلم والاہے۔
اور فرماتا ہے:
" و بشروہ بغلم علیم ﴿۲۸﴾" ۔ ملائکہ نے ابراھیم علیہ الصلوۃ والتسلیم کو ایك علم والے لڑکے اسحق علیہ الصلوۃ والسلام کی بشارت دی۔
اور فرماتاہے:
" وعلمنہ من لدنا علما ﴿۶۵﴾" ۔ اورہم نے خضر کو اپنے پاس سے ایك علم سکھایا۔
وغیرہا آیاتجن میں اﷲتعالی نے علم کو کمالات انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام وا لثناء میں گنا۔اب زید کی جگہ اﷲ عزوجل کا نام پاك لیجئے اور علم غیب کی جگہ مطلق علم جس کاہرچوپائے کو ملنا اور بھی ظاہر ہے اور دیکھئے کہ اس بدگوئے مصطفی صلی الله تعالی علیہ وسلم کی تقریر کس طرح کلام اﷲ عزوجل کا رد کررہی ہے یعنی یہ بدگوخدا کے مقابل کھڑا ہوکر کہہ رہا ہے کہ آ پ(یعنی نبی صلی الله تعالی علیہ وسلم اور دیگر انبیاء علیہم الصلوۃ السلام)کی ذات مقدسہ پر علم کا اطلاق کیا جانا اگر بقول زید صحیح ہوتو دریافت طلب یہ
#18343 · رسالہ تمھیدِ ایمان بآیاتِ قرآن ۱۲۲۶ھ
امر ہے کہ اس علم سے مراد بعض علم ہے یا کل علوماگر بعض علوم مراد ہیں تو اس میں حضور اور دیگر انبیاء علیہم اسلام کی کیا تخصیص ہےایسا علم تو زید و عمرو بلکہ ہرصبی و مجنون بلکہ جمیع حیوانات وبہائم کے لئے بھی حاصل ہے کیونکہ ہرشخص کوکسی نہ کسی بات کا علم ہوتا ہے توچاہیے کہ سب کو عالم کہاجائےپھر اگر زید اس کا التزام کرلے کہ ہاں میں سب کو عالم کہوں گا توپھر علم کو منجملہ کمالات نبویہ شمار کیوں کیا جاتا ہے جس امر میں مومن بلکہ انسان کی بھی خصوصیت نہ ہو وہ کمالات نبوت سے کب ہوسکتا ہے اور اگر التزام نہ کیا جائے تونبی اور غیر نبی میں وجہ فرق بیان کرناضرور ہےاور اگر تمام علوم غیب مراد ہیںاس طرح کہ اس کا ایك فردبھی خارج نہ رہے تو اس کا بطلان دلیل نقلی وعقلی سے ثابت ہے ۔انتہی۔پس ثابت ہوا کہ خدا کے وہ سب اقوال اسکی دلیل سے باطل ہیں۔
مسلمانو دیکھو ! کہ اس بدگو نے فقط محمد رسول اﷲ صلی الله تعالی علیہ وسلم ہی کوگالی نہ دی بلکہ ان کے رب(جل وعلا)کے کلاموں کو بھی باطل ومردودکردیا۔
مسلمانو ! جس کی جرات یہاں تك پہنچی کہ رسول اﷲصلی الله تعالی علیہ وسلم کے علم غیب کو پاگلوں اور جانوروں کے علم سے ملا دے اور ایمان و اسلام و انسانیت سے آنکھیں بندکرکے صاف کہہ دے کہ نبی اور جانور میں کیا فرق ہےاس سے کیا تعجب کہ خدا کے کلاموں کو رد کرے باطل بتائے پس پشت ڈالے زیرپاملے بلکہ جو یہ سب کچھ کلام اﷲکے ساتھ کرچکا وہی رسول اﷲ صلی الله تعالی علیہ وسلم کے ساتھ اس گالی پر جرأت کرسکے گا مگر ہاں اس سے دریافت کرو کہ آپ کی یہ تقریر خو د آپ اور آپ کے اساتذہ میں جاری ہے یا نہیں اگر نہیں توکیوں اور اگر ہے توکیا جواب ہے ہاں ان بدگویوں سے کہو! کیا آپ حضرات اپنی تقریرکے طور پر جو آپ نے محمد رسول اﷲ صلی الله تعالی علیہ وسلم کی شان میں جاری کیخود اپنے آپ سے اسے دریافت کی اجازت دے سکتے ہیں کہ آپ صاحبوں کو عالمفاضلمولویملاچنیںچناں فلاں فلاں کیوں کہاجاتا ہے اور حیوانات وبہائم مثلاکتے سورکوکوئی ان الفاظ سے تعبیر نہیں کرتا۔ان مناصب کے باعث آپ کے اتباع و اذناب آپ کی تعظیمتکریمتوقیر کیوں کرتےدست و پا پر بوسہ دیتے ہیں اور جانوروں مثلاالوگدھے کے ساتھ کوئی یہ برتاؤنہیں برتتا اس کی وجہ کیا ہے کل علم تو قطعا آپ صاحبوں کوبھی نہیں اور بعض میں آپ کی کیا تخصیص ایسا علم تو الوگدھےکتےسور سب کوحاصل ہے توچاہیے کہ ان سب کو عالم و فاضل و چنیں و چناں کہا جائے پھر اگر آپ اس کا التزام کریں کہ ہاں ہم سب کو
حوالہ / References حفظ الایمان جواب سوال سوم کتب خانہ اعزازیہ دیوبند سہارنپور بھارت ص۸،فظ الایمان مع تغییر العنوان محمد عثمان تاجر الکتب فی دریبہ کلاں دہلی ص۷و۱۷
#18344 · رسالہ تمھیدِ ایمان بآیاتِ قرآن ۱۲۲۶ھ
علماء کہیں گے تو۔۔۔۔۔۔پھر علم کو آپ کے کمالات میں کیوں شمار کیا جاتاہے جس امر میں مومن بلکہ انسان کی بھی خصوصیت نہ ہوگدھےکتےسور سب کوحاصل ہو وہ آپ کے کمالات سے کیوں ہوا اور اگر التزام نہ کیا جا ئے تو آپ ہی کے بیان سے آپ میں اور گدھےکتےسور میں وجہ فرق بیان کرنا ضرور ہے۔فقط۔
مسلمانو ! یوں دریافت کرتے ہی بعونہ تعالی صاف کھل جائے گا کہ ان بدگویوں نے محمد رسول اﷲصلی الله تعالی علیہ وسلم کو کیسی صریح شدیدگالی دی اوران کے رب عزوجل کے قرآن مجید کو جابجا کیسا ردوباطل کردیا۔مسلمانو ! خاص اس بدگو اور اس کے ساتھیوں سے پوچھوان پر خود ان کے اقرار سے قرآن عظیم کی یہ آیات چسپاں ہو ئیں یانہیں۔تمہارا رب عزوجل فرماتا ہے:
" ولقد ذرانا لجہنم کثیرا من الجن والانس۫ لہم قلوب لایفقہون بہا ۫ ولہم اعین لایبصرون بہا ۫ ولہم اذان لایسمعون بہا اولئک کالانعم بل ہم اضل اولئک ہم الغفلون ﴿۱۷۹﴾" ۔ اور بے شك ضرور ہم نے جہنم کیلئے پھیلارکھے ہیں بہت سے جن اور آدمی ان کے وہ دل ہیں جن سے حق کو نہیں سمجھتے اور وہ آنکھیں جن سے حق کا راستہ نہیں سوجھتے اور وہ کان جن سے حق بات نہیں سنتے۔وہ چوپایوں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی بڑھ کربہکے ہوئے۔وہی گمر اہ وہی لوگ غفلت میں پڑے ہیں۔
اور فرماتاہے:
" ارءیت من اتخذ الـہہ ہوىہ افانت تکون علیہ وکیلا ﴿۴۳﴾ام تحسب ان اکثرہم یسمعون او یعقلون ان ہم الا کالانعم بل ہم اضل سبیلا ﴿۴۴﴾" ۔ بھلادیکھ توجس نے اپنی خواہش کو اپناخدا بنالیا توکیا تواس کا ذمہ لے گایاتجھے گمان ہے ان میں بہت کچھ سنتے یاعقل رکھتے ہیں سووہ نہیں مگرجیسے چوپائے بلکہ وہ تو ان سے بھی بڑھ کرگمراہ ہیں۔
#18345 · رسالہ تمھیدِ ایمان بآیاتِ قرآن ۱۲۲۶ھ
ان بدگویوں نے چوپایوں کا علم تو انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کے علم کے برابرمانا۔اب ان سے پوچھئے کیا تمہارا علم انبیاء یا خود حضور سید الانبیاء علیہ و علیہم الصلوۃ والثنا ء کے برابر ہےظاہر ا اسکا دعوی نہ کریں گے اور اگر کہہ بھی دیں کہ جب چوپایوں سے برابر ی کردیآپ تو دوپائے ہیں برابر ی مانتے کیامشکل ہے تو یوں پوچھئے تمہارے استادوںپیروںملاؤں میں کوئی بھی ایسا گزرا جو تم سے علم میں زیادہ ہو یا سب ایك برابر ہو۔آخر کہیں تو فرق نکالیں گے توان کے وہ استاد وغیرہ تو ان کے اقرار سے علم میں چوپایوں کے برابر ہوئے اور یہ ان سے علم میں کم ہیںجب تو انکی شاگردی کیاور جو ایك مساوی سے کم ہو دوسرے سے بھی ضرور کم ہوگا تو یہ حضرات خود اپنی تقریر کی رو سے چوپایوں سے بڑ ھ کر گمراہ ہوئے اور ان آیتوں کے مصداق ٹھہرے۔
" کذلک العذاب و لعذاب الاخرۃ اکبر لو کانوا یعلمون ﴿۳۳﴾ " ۔ مار ایسی ہوتی ہے او ر بے شك آخرت کی مار سب سے بڑیکیا اچھاتھا ا گر وہ جانتے۔
مسلمانو ! یہ حالتیں تو ان کلمات کی تھیں جن میں انبیائے کرام و حضور پر نورسید الانام علیہ الصلوۃ والسلام پر ہاتھ صاف کئے گئے پھر ان عبارات کا کیا پوچھنا جن میں اصالۃ بالقصد رب العزت عز جلالہ کی عزت پر حملہ کیا گیا ہو۔خدارا انصاف ! کیا جس نے کہا ''میں نے کب کہا ہے کہ میں و قوع کذب باری کا قائل نہیں ہوں یعنی وہ شخص اس کا قائل ہے کہ خدا بالفعل جھو ٹا ہے جھوٹ بولاجھوٹ بولتاہے۔اس کی نسبت یہ فتوی دینے والا کہ'' اگر چہ اس نے تاویل آیات میں خطاکی مگر تاہم اس کو کافر یا بدعتی خیال کہنانہیں چاہئےجس نے کہا کہ'' اس کو کوئی سخت کلمہ نہ کہنا چاہیے '' جس نے کہا کہ'' اس میں تکفیر علمائے سلف کی لازم آتی ہے۔حنفیشافعی پر طعن و تضلیل نہیں کرسکتا '' ۔یعنی خدا کو معاذاﷲ جھوٹا کہنا بہت سے علمائے سلف کا بھی مذہب تھا۔یہ اختلاف حنفی شافعی کاسا ہے۔کسی نے ہاتھ ناف سے اوپر باندھےکسی نے نیچےایساہی اسے بھی سمجھو کہ کسی نے خدا کو سچا کہاکسی نے جھوٹالہذا ''ایسے کو تضلیل و تفسیق سے مامون کرنا چاہیے '' ۔یعنی جو خدا کو جھوٹا کہے اسے گمراہ کیا معنی گنہگار نہ کہو۔
حوالہ / References القرآن الکریم ۶۸ /۳۳
#18346 · رسالہ تمھیدِ ایمان بآیاتِ قرآن ۱۲۲۶ھ
کیا جس نے یہ سب تو اس مکذب خدا کی نسبت بتایا اور یہیں خود اپنی طرف سے باوصف اس بے معنی اقرار کہ''قدرۃ علی الکذب مع امتناع الوقوع مسئلہ اتفاقیہ ہے'' ۔صاف صریح کہہ دیاکہ وقوع کذب کے معنی درست ہوگئے ۔یعنی یہ بات ٹھیك ہوگئی کہ خدا سے کذب واقع ہواکیا یہ شخص مسلمان رہ سکتاہے کیا جوایسے کو مسلمان سمجھے خودمسلمان ہوسکتاہے
مسلمانو ! خدا را انصافایمان نام کاہے کا تھا تصدیق الہی کاتصدیق کا صریح مخالف کیا ہےتکذیبتکذیب کے کیا معنی ہیں کسی کی طرف کذب منسوب کرنا۔جب صراحۃ خداکو کاذب کہہ کر بھی ایمان باقی رہے تو خدا جانے ایمان کس جانور کا نام ہے خدا جانے مجوس وہنود و نصاری و یہود کیوں کافر ہوئے ان میں توکوئی صاف اپنے معبود کو جھوٹا بھی نہیں بتاتا۔ہاں معبود بر حق کی باتوں کویوں نہیں مانتے کہ انہیں اسکی با تیں ہی نہیں جانتے یا تسلیم نہیں کرتے۔ایسا تو دنیا کے پر دے پرکوئی کافر سا کافر بھی شاید نہ نکلے کہ خدا کو خدا مانتااسکے کلام کواسکا کلام جانتا اورپھر بے دھڑك کہتا ہو کہ اس نے جھوٹ کہااس سے وقوع کذب کی معنی درست ہوگئے۔غرض کوئی ذی انصاف شك نہیں کرسکتا کہ ان تمام بدگویوں نے منہ بھرکراﷲ ورسول کو گالیاں دی ہیںاب یہی وقت امتحان الہی ہےواحد قہار جبار عزجلالہ سے ڈرو اور وہ آیتیں کہ اوپر گزریںپیش نظر رکھ کر عمل کرو۔ آپ تمہارا ایمان تمہارے دلوں میں تمام بدگویوں سے نفرت بھر د ے گا۔ہرگز اﷲ و رسول اﷲ جل و علا کے مقابل تمہیں انکی حمایت نہ کرنے دے گا۔تم کو ان سے گھن آئے گی نہ کہ ان کی پچ کرواﷲ ورسول کے مقابل انکی گالیوں میں مہمل و بیہودہ تاویل گھڑو۔
ﷲانصاف ! اگر کوئی شخص تمہارے ماںباپاستادپیر کوگالیاں دے اور نہ صرف زبانی بلکہ لکھ لکھ کر چھاپےشائع کرے۔ کیا تم اس کا ساتھ دوگے یااس کی بات بنانے کو تاویلیں گھڑوگے یا اس کے بکنے سے بے پرواہی کرکے اس سے بدستور صاف رہوگے نہیں نہیں ! اگر تم میں انسانی غیرتانسانی حمیتماں باپ کی عزت حرمت عظمت محبت کانام نشان بھی لگارہ گیا ہے تو اس بدگو دشنامی کی صورت سے نفرت کروگےاسکے سائے سے دور بھاگوگےاس کا نام سن کرغیظ لاؤگے جو اس کے لئے بناوٹیں گڑھےاسکے بھی دشمن ہوجاؤگےپھرخدا کے لئے ماں باپ کو ایك پلہ میں رکھو
حوالہ / References امطار الحق رشید احمد گنگوہی کا عقیدہ وقوع کذب باری تعالٰی مطبع دت پرشاد بمبئی انڈیا ص ۳۱
#18347 · رسالہ تمھیدِ ایمان بآیاتِ قرآن ۱۲۲۶ھ
اﷲ واحدقہار و محمد رسول اﷲصلی الله تعالی علیہ وسلم کی عزت و عظمت پر ایمان کودوسرے پلے میںاگر مسلمان ہو تو ماں باپ کی عزت کو اﷲ و رسو ل صلی الله تعالی علیہ وسلم کی عزت سے کچھ نسبت نہ مانوگےماں باپ کی محبت و حمایت کو اﷲ و رسول کی محبت و خدمت کے آگے ناچیز جانو گے۔تو واجب واجب واجبلاکھ لاکھ واجب سے بڑھ کر واجب کہ ان بدگو سے وہ نفرت و دوری و غیظ وجدائی ہو کہ ماں باپ کے دشنام دہندہ کے ساتھ اس کا ہزار واں حصہ نہ ہو۔یہ ہیں وہ لوگ جن کیلئے ان سات نعمتوں کی بشارت ہے۔مسلمانو! تمہارا یہ ذلیل خیر خواہ امید کرتا ہے۔کہ اﷲ واحدقہار کی ان آیات اور اس بیان شافی واضح البینا ت کے بعد اس بارے میں آپ سے زیادہ عرض کی حاجت نہ ہوتمہارے ایمان خود ہی ان بدگویوں سے وہی پاك مبارك الفاظ بول اٹھیں گے جو تمہارے رب نے قرآن عظیم میں تمہارے سکھانے کو قوم ابراہیم علیہ الصلوۃ والتسلیم سے نقل فرمائے۔ تمہارا رب عزوجل فرماتا ہے:
" قد کانت لکم اسوۃ حسنۃ فی ابرہیم و الذین معہ اذ قالوا لقومہم انا برء ؤا منکم و مما تعبدون من دون اللہ ۫ کفرنا بکم و بدا بیننا و بینکم العدوۃ و البغضاء ابدا حتی تؤمنوا باللہ وحدہ (الی قولہ تعالی) لقد کان لکم فیہم اسوۃ حسنۃ لمن کان یرجوا اللہ و الیوم الاخر و من یتول فان اللہ ہو الغنی الحمید ﴿۶﴾" ۔
بے شك تمہارے لئے ابراہیم اور اس کے ساتھ والے مسلمانوں میں اچھی ریس ہے جب وہ اپنی قوم سے بولے بے شك ہم تم سے بیزار ہیں اور ان سب سے جن کو اﷲکے سوا پوجتے ہو۔ہم تمہارے منکر ہو ئے اورہم میں اور تم میں دشمنی اور عداوت ہمیشہ کو ظاہر ہوگئی جب تك تم ایك اﷲ پر ایمان نہ لاؤ۔بے شك ضروران میں تمہارے لیے عمدہ ریس تھی۔ اس کیلئے جو اﷲ او ر قیامت کے دن کی امید رکھتا ہو اور جو منہ پھیرے تو بے شك اﷲ ہی بے پرواہ سراہا گیا ہے۔
یعنی وہ جوتم سے یہ فرمارہاہے کہ جس طرح میرے خلیل اور ان کے ساتھ والوں نے کیا کہ میرے لئے اپنی قوم کے صاف دشمن ہوگئے او ر تنکا توڑ کر ان سے جدائی کرلی اور کہہ دیا کہ ہم سے تمہارا کچھ علاقہ نہیںہم تم سے قطعی بیزار ہیںتمہیں بھی ایسا ہی کرنا چاہیے یہ تمہارے بھلے کو تم سے فرمار ہاہے۔
حوالہ / References القرآن الکریم ۶۰ /۴تا ۶
#18348 · رسالہ تمھیدِ ایمان بآیاتِ قرآن ۱۲۲۶ھ
مانوتو تمہاری خیر ہے نہ مانو تو اﷲکو تمہاری کچھ پرواہ نہیں جہاں وہ میرے دشمن ہوئے انکے ساتھ تم بھی سہیمیں تمام جہان سے غنی ہوں اور تمام خوبیوں سے موصوفجل و علاو تبارك وتعالی۔یہ قرآن حکیم کے احکام تھے اﷲ تعالی جس سے بھلائی چاہے گا ان پر عمل کی توفیق دے گا مگر یہاں دو فرقے ہیں جن کو ان احکام میں عذر پیش آتے ہیں:
فرقہ اول:بے علم نادانان کے عذر دو قسم کے ہیں۔
عذراول:فلاں تو ہمارا استاد یا بزرگ یا دوست ہےاس کا جواب تو قرآن عظیم کی متعدد آیات سے سن چکے کہ رب عزوجل نے بار بار بتاکرصراحۃ فرمادیا کہ غضب الہی سے بچناچاہتے ہو تو اس باب میں اپنے باپ کی بھی رعایت نہ کرو۔
عذر دوم:صاحب یہ بدگو لوگ بھی تو مولوی ہیںبھلا مولویوں کو کیوں کرکافریا برا مانیںاس کا جواب تمہارا رب عزوجل فرماتاہے:
" افرءیت من اتخذ الـہہ ہوىہ و اضلہ اللہ علی علم و ختم علی سمعہ و قلبہ و جعل علی بصرہ غشوۃ فمن یہدیہ من بعد اللہ افلا تذکرون ﴿۲۳﴾" ۔ بھلا دیکھو تو جس نے اپنی خواہش کو اپنا خدابنا لیا اور اﷲ نے علم ہوتے ساتے ا سے گمراہ کیا اور اس کے کان اور دل پر مہر لگادی اور اس کی آنکھوں پر پٹی چڑھادی تو کون اسے راہ پر لائے اﷲ کے بعد توکیا تم دھیان نہیں کرتے۔
اور فرماتا ہے:
"مثل الذین حملوا التورىۃ ثم لم یحملوہا کمثل الحمار یحمل اسفارا بئس مثل القوم الذین کذبوا بایت اللہ و اللہ لا یہدی القوم الظلمین ﴿۵﴾ " ۔ وہ جن پر تو ریت کا بوجھ ر کھا گیا پھر انہوں نے اسے نہ اٹھایا ان کا حال اس گدھے کاساہے جس پر کتابیں لدی ہوںکیا بری مثال ہے ان کی جنہوں نے خدا کی آیتیں جھٹلائیں اور اﷲ ظالموں کو ہدایت نہیں کرتا''۔
اور فرماتاہے:
حوالہ / References القرآن ۱لکریم ۴۵ /۲۳
القرآن الکریم ۶۲ /۵
#18349 · رسالہ تمھیدِ ایمان بآیاتِ قرآن ۱۲۲۶ھ
واتل علیہم نبا الذی اتینہ ایتنا فانسلخ منہا فاتبعہ الشیطن فکان من الغاوین ﴿۱۷۵﴾ ولو شئنا لرفعنہ بہا ولکنہ اخلد الی الارض واتبع ہوىہ فمثلہ کمثل الکلب ان تحمل علیہ یلہث او تترکہ یلہث ذلک مثل القوم الذین کذبوا بایتنا فاقصص القصص لعلہم یتفکرون ﴿۱۷۶﴾ ساء مثلاۨ القوم الذین کذبوا بایتنا وانفسہم کانوا یظلمون ﴿۱۷۷﴾ من یہد اللہ فہو المہتدی ومن یضلل فاولئک ہم الخسرون ﴿۱۷۸﴾" ۔ انہیں پڑھ کر سنا اس کی خبر جسے ہم نے اپنی آیتوں کا علم دیا تھا وہ ان سے صاف نکل گیا تو شیطان اس کے پیچھے لگاکہ گمراہ ہو گیا اور ہم چاہتے تو اس علم کے باعث اسے گرے سے اٹھالیتے مگر وہ تو زمین پکڑ گیا اور اپنی خواہش کا پیرو ہو گیا تواس کا حال کتے کی طرح ہے تو اس پر بوجھ لادے تو زبان نکال کر ہانپے اور چھوڑ دے تو ہانپے یہ انکا حال ہے جنہوں نے ہماری آیتیں جھٹلائیں۔تو ہمارا یہ ارشاد بیان کرو شاید یہ لوگ سوچیں۔کیا برا حال ہے ان کا جنہوں نے ہماری آیتیں جھٹلائیں وہ اپنی ہی جانوں پر ستم ڈھاتے تھے۔جسے خدا ہدایت کرے وہی راہ پر ہے اور جسے گمراہ کرے تو وہی سراسر نقصان میں ہیں۔
یعنی ہدایت کچھ علم پر نہیںخدا کے اختیار میں ہے۔یہ آیتیں ہیں اور حدیثیں جو گمراہ عالموں کی مذمت میں ہیں انکا شمار ہی نہیں یہاں تك کہ ایك حدیث میں ہے۔دوزخ کے فرشتے بت پرستوں سے پہلے انہیں پکڑیں گےیہ کہیں گے کیا ہمیں بت پوجنے والوں سے بھی پہلے لیتے ہو جواب ملے گا لیس من یعلم کمن لا یعلم ۔جاننے عــــــہ والے اور انجان برابر نہیں۔
بھائیو! عالم کی عزت تو اس بنا پر تھی کہ وہ نبی کا وارث ہےنبی کا وارث وہ جو ہدایت پرہو
عــــــہ:یہ حدیث طبرانی نے معجم کبیر اورابو نعیم نے حلیہ میں انس رضی الله تعالیی عنہ سے روایت کی نبی صلی الله تعالی علیہ وسلم نے فرمایا ۱۲منہ
حوالہ / References القرآن الکریم ۷ /۱۷۵ تا ۱۷۸
شعب الایمان حدیث ۱۹۰۰ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۲ /۳۰۹
#18350 · رسالہ تمھیدِ ایمان بآیاتِ قرآن ۱۲۲۶ھ
او ر جب گمراہی پر ہے تو نبی کا وارث ہوا یا شیطان کا اس وقت اس کی تعظیم نبی کی تعظیم ہوتی۔اب اس کی تعظیم شیطا ن کی تعظیم ہوگی۔یہ اس صورت میں ہے کہ عالمکفر سے نیچے کسی گمراہی میں ہو جیسے بدمذہبوں کے علماء پھر اس کوکیا پوچھنا جو خود کفر شدید میں ہو اسے عالم دین جاننا ہی کفر ہے نہ کہ عالم دین جان کر اس کی تعظیم۔
بھائیو! علم اس وقت نفع دیتا ہے کہ د ین کے ساتھ ہو ورنہ پنڈت یا پادری کیا اپنے یہاں کے عالم نہیں۔ابلیس کتنا بڑا عالم تھا پھرکیا کوئی مسلمان اس کی تعظیم کرے گا اسے تو معلم الملکوت کہتے ہیں یعنی فرشتوں کو علم سکھاتا۔جب سے اس نے محمد رسول اﷲ صلی الله تعالی علیہ وسلم کی تعظیم سے منہ موڑا۔حضور عــــــہ کا نورکہ پیشانی آدم علیہ الصلوۃ والسلام میں رکھاگیااسے سجدہ نہ کیااس وقت سے لعنت ابدی کاطوق اس کے گلے میں پڑادیکھو جب سے اس کے شاگردان رشید اس کے ساتھ کیا بر تاؤ کرتے ہیںہمیشہ اس پر لعنت بھیجتے ہیں۔ہر رمضان میں مہینہ بھر اسے زنجیروں میں جکڑتے ہیںقیامت کے دن کھینچ کر جہنم میں دھکیلیں گے۔یہاں سے علم کا جواب بھی واضح ہوگیا اور استاذی کا بھی۔
بھائیو! کروڑ افسوس ہے اس اد عائے مسلمانی پرکہ اﷲ واحدقہار اور محمد رسول اﷲ سید الابر ارصلی الله تعالی علیہ وسلم سے زیادہ استاد کی وقعت ہواﷲ و رسول سے بڑ ھ کر بھائی یا دوستیا دنیا میں کسی کی محبت ہو۔اے رب! ہمیں سچا ایما ن دے صدقہ اپنے حبیب صلی الله تعالی علیہ وسلم کی سچی رحمت کاآمین۔
فرقہ دوم:معاندین و دشمنان دین کہ خودانکار ضروریات دین رکھتے ہیں اور صریح کفر کر کے اپنے او پر سے نام کفر کومٹانے کو اسلام و قرآن و خد ا اور رسول و ایمان کے ساتھ تمسخر کرتے ہیں اور برا ہ اغواء و تلبیس و
عــــــہ:تفسیر کبیر امام فخر الدین رازی ج۲ص۴۵۵ پر زیر قولہ تعالی تلك الرسل فضلنا:ان الملئکۃ امروا بالسجود لادم لاجل ان نور محمد صلی الله تعالی علیہ وسلم فی جبھۃ ادم ۔
تفسیر نیشاپوری ج۲ ص۷:سجود الملئکۃ لادم انما کان لاجل نور محمد صلی الله تعالی علیہ وسلم الذی کان فی جبھتہ ۔
دونوں عبارتوں کا حاصل یہ ہے کہ فرشتوں کا آدم علیہ الصلوۃ والسلام کو سجدہ کرنا اس لئے تھا کہ ان کی پیشانی میں نور محمد رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم تھا۔۱۲منہ
حوالہ / References مفاتیح الغیب(التفسیر الکبیر)تحت الآیۃ ۲/۲۵۳دارالکتب العلمیۃ بیروت ۶/ ۱۶۹
غرائب القرآن ورغائب الفرقان تحت الایۃ ۲/۲۵۳مصطفی البابی مصر ۳ /۷
#18351 · رسالہ تمھیدِ ایمان بآیاتِ قرآن ۱۲۲۶ھ
شیوہ ابلیس وہ باتیں بناتے ہیں کہ کسی طرح ضروریات دین ماننے کی قید اٹھ جائے اسلام فقط طوطے کی طرح زبان سے کلمہ رٹ لینے کانام رہ جائےبس کلمہ کا نام لیتا ہوپھر چاہے خدا کو جھوٹا کذاب کہےچاہے رسو ل کو سڑی سڑی گالیاں دےاسلام کسی طرح نہ جائے۔
" بل لعنہم اللہ بکفرہم فقلیلا ما یؤمنون﴿۸۸﴾" ۔ بلکہ اﷲ نے ان پر لعنت فرمادی انکے کفر کے سبب تو ان میں تھوڑے ایمان لاتے ہیں۔(ت)
یہ مسلمانوں کے دشمناسلام کے عدوعوام کو چھلنے او ر خدا ئے واحد قہا ر کا دین بدلنے کے لئے چند شیطانی مکرپیش کرتے ہیں۔
مکر اول:اسلام نام کلمہ گوئی کا ہے۔حدیث میں فرمایا:
من قال لاالہ الااﷲ دخل الجنۃ ۔ جس نے لاالہ الا اﷲ کہہ لیا جنت میں جائے گا۔
پھرکسی قول یا فعل کی وجہ سے کافر کیسے ہوسکتا ہے۔مسلمانو ! ذرا ہوشیار خبرداراس مکر ملعون کا حاصل یہ ہے کہ زبان سے لاالہ الا اﷲ کہہ لینا گویا خدا کا بیٹا بن جانا ہےآدمی کا بیٹا اگر اسے گالیاں دےجوتیاں مارےکچھ کرے اس کے بیٹے ہونے سے نہیں نکل سکتایونہی جس نے لاالہ الا اﷲ کہہ لیا اب وہ چاہے خدا کو جھوٹا کذاب کہےچاہے رسول کوسڑی سڑی گالیاں دےاس کا اسلام نہیں بدل سکتا۔اس مکر کا جواب اسی آیت کریمہ " الـم ﴿۱﴾ احسب الناس" میں گزراکیا لوگ اس گھمنڈ میں ہیں کہ نرے ادعائے اسلام پر چھوڑدیئے جائیں گے اور امتحان نہ ہوگا۔اسلام عــــــہ اگر فقط
عــــــہ:حضرت شیخ مجدد الف ثانی مکتوبات میں فرماتے ہیں:
مجرد تفوہ بکلمہ شہادت دراسلام کافی نیست تصدیق جمیع ماعلم بالضرورۃ مجیئہ من الدین باید وتبری از کفرو کافر نیز باید تا اسلام صورت بندد ۱۲ محض زبانی کلمہ شہادت کہنا اسلام میں کافی نہیں بلکہ ان تمام امور کی تصدیق ضروری ہے جن کا ضروریات دین سے ہونا بداہتا معلوم ہے۔کفر اورکافر سے براء ت بھی لازمی ہے تاکہ اسلام کی صحیح صورت تشکیل پائے(ت)
حوالہ / References القرآن الکریم ۲ /۸۸
المعجم الکبیر حدیث ۶۳۴۸المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت۷/ ۴۸والمستدرك للحاکم کتاب التوبۃ والانابۃ دارالفکر بیروت ۴ /۲۵۱
القرآن الکریم ۲۹ /۱و۲
مکتوبات مجدد الف ثانی مکتوب دو صدوشصت وششم نولکشور لکھنؤ۱ /۳۲۳
#18352 · رسالہ تمھیدِ ایمان بآیاتِ قرآن ۱۲۲۶ھ
کلمہ گوئی کانام تھاتو وہ بے شك حاصل تھی پھر لوگوں کا گھمنڈ کیوں غلط تھا جسے قرآن عظیم رد فرمارہاہےنیزتمہارا رب عزوجل فرماتاہے:
"قالت الاعراب امنا قل لم تؤمنوا و لکن قولوا اسلمنا ولما یدخل الایمن فی قلوبکم " ۔ یہ گنوار کہتے ہیں ہم ایمان لائے۔تم فرمادو ایمان توتم نہ لائے ہاں یوں کہو کہ ہم مطیع الاسلام ہوئے اورایمان ابھی تمہارے دلوں میں کہاں داخل ہوا۔
اور فرماتاہے:
" اذا جاءک المنفقون قالوا نشہد انک لرسول اللہ و اللہ یعلم انک لرسولہ و اللہ یشہد ان المنفقین لکذبون ﴿۱﴾"
۔ منافقین جب تمہارے حضور ہوتے ہیںکہتے ہیں ہم گواہی دیتے ہیں کہ بے شك حضور یقینا خدا کے رسول ہیں اور اﷲ خوب جانتاہے کہ بے شك تم ضروراس کے رسول ہو اور اﷲ گواہی دیتا ہے کہ بے شك یہ منافق ضرور جھوٹے ہیں۔
دیکھو کیسی لمبی چوڑی کلمہ گوئیکیسی کیسی تاکیدوں سے مؤکدکیسی کیسی قسموں سے مؤیدہرگز موجب اسلام نہ ہوئی اور اﷲ واحدقہار نے ان کے جھوٹے کذاب ہونے کی گواہی دی تو من قال لا الہ الا اﷲ دخل الجنۃ کا یہ مطلب گڑھنا صراحۃ قرآن عظیم کا رد کرنا ہے۔ہاں جوکلمہ پڑھتااپنے آپ کومسلمان کہتا ہو اسے مسلمان جانیں گے جب تك اس سے کوئی کلمہکوئی حرکتکوئی فعل منافی اسلا م صادرنہ ہوبعد صدورمنافی ہرگز کلمہ گوئی کام نہ دے گی۔تمہارا رب عزوجل فرماتاہے:
"یحلفون باللہ ما قالوا ولقد قالواکلمۃ الکفر وکفروا بعد اسلمہم" ۔ خدا کی قسم کھاتے ہیں کہ انہوں نے نبی کی شان میں گستاخی نہ کی اور البتہبے شك وہ یہ کفر کا بولبولے اور مسلمان ہوکر کافر ہوگئے۔
ابن جریر و طبرانی و ابوالشیخ وابن مر دویہ عبداﷲبن عباس رضی اﷲتعالی عہنما سے روایت
#18353 · رسالہ تمھیدِ ایمان بآیاتِ قرآن ۱۲۲۶ھ
کرتے ہیں۔رسول اﷲصلی الله تعالی علیہ وسلم ایك پیڑ کے سایہ میں تشریف فرما تھے ارشاد فرمایا عنقریب ایك شخص آئے گا تمہیں شیطان کی آنکھوں سے دیکھے گا وہ آئے تو اس سے بات نہ کرنا۔کچھ دیر نہ ہوئی تھی کہ ایك کرنجی آنکھوں والا سامنے سے گزرارسول اﷲ صلی الله تعالی علیہ وسلم نے اسے بلاکر فرمایا '' تو اور تیرے رفیق کس بات پرمیری شان میں گستاخی کے لفظ بولتے ہیں'' وہ گیا اور اپنے رفیقوں کو بلالایا۔سب نے آکر قسمیں کھائیں کہ ہم نے کوئی کلمہ حضورکی شان میں بے ادبی کانہ کہااس پر اﷲ وعزجل نے یہ آیت اتاری کہ خدا کی قسم کھاتے ہیں کہ انہوں نے گستاخی نہ کی اور بے شك ضروریہ کفر کا کلمہ بولے اور تیری شان میں بے ادبی کر کے اسلام کے بعد کافر ہوگئے ۔دیکھو اﷲ گواہی دیتا ہے کہ نبی کی شان میں بے ادبی کا لفظ کلمہ کفر ہے اور اس کا کہنے والا اگر چہ لاکھ مسلمانی کا مدعی کروڑبار کا کلمہ گو ہوکافر ہوجاتا ہے۔اور فرماتاہے۔
"ولئن سالتہم لیقولن انماکنا نخوض ونلعب قل اباللہ وایتہ ورسولہ کنتم تستہزءون ﴿۶۵﴾ لاتعتذروا قدکفرتم بعد ایمنکم " ۔ اوراگر تم ان سے پوچھو تو بے شك ضرور کہیں گے کہ ہم تو یونہی ہنسی کھیل میں تھے تم فرمادوکیااﷲاور اسکی آیتوں اور اسکے رسول سے ٹھٹھا کرتے تھے بہانے نہ بناؤتم کافر ہو چکے اپنے ایمان کے بعد۔
ابن ابی شیبہ وابن ابی جریرو ابن المنذروابن حاتم الشیخ امام مجاہد تلمیذ خاص سید نا عبداﷲبن عباس رضی الله تعالی عنہم سے روایت فرماتے ہیں:
انہ قال فی قولہ تعالی" ولئن سالتہم لیقولن انماکنا نخوض ونلعب " قال رجل من المنافقین یحد ثنا محمد ان ناقۃ فلان بوادی کذا وکذا وما یدریہ یعنی کسی کی اونٹنی گم ہوگئیاس کی تلاش تھیرسول اﷲ صلی الله تعالی علیہ وسلم نے فرمایا او نٹنی فلاں جنگل میں فلاں جگہ ہے اس پر ایك منافق بولا ''محمد(صلی الله تعالی علیہ وسلم) بتاتے ہیں کہ اونٹنی فلاں جگہ ہےمحمد غیب کیا
حوالہ / References الدرالمنثور بحوالہ ابن جریر والطبرانی وابن مردویہ تحت آیۃ ۹/۷۴ داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ /۲۱۹
القرآن الکریم ۹ /۶۵و۶۶
#18354 · رسالہ تمھیدِ ایمان بآیاتِ قرآن ۱۲۲۶ھ
بالغیب۔ جانیں
اس پر اﷲ عزوجل نے یہ آیت کریمہ اتاری کہ کیا اﷲ ورسول سے ٹھٹھاکرتے ہوبہانے نہ بناؤتم مسلمان کہلاکر اس لفظ کے کہنے سے کافرہوگئے۔
(دیکھو تفسیر امام ابن جریر مطبع مصر جلد دہم صفحہ ۱۰۵ و تفسیر در منثور اما م جلال الدین سیوطی جلد سوم صفحہ ۲۵۴)
مسلمانو! دیکھو محمد رسول اﷲ صلی الله تعالی علیہ وسلم کی شان میں اتنی گستاخی کرنے سے کہ وہ غیب کیا جانیںکلمہ گوئی کام نہ آئی اور اﷲتعالی(عزوجل)نے صاف فرمادیا کہ بہانے نہ بناؤتم اسلام کے بعد کا فر ہوگئے۔یہاں سے وہ حضرات بھی سبق لیں جورسول اﷲصلی الله تعالی علیہ وسلم کے علوم غیب سے مطلقا منکر ہیں۔
دیکھو یہ قول منافق کا ہے اور اس کے قائل کو اﷲ تعالی نے الله و قرآن و رسول سے ٹھٹھاکرنے والا بتایا اور صاف صاف کافر مرتد ٹھہرایا اور کیوں نہ ہوغیب کی بات جاننی شان نبوت ہے جیسا کہ امام حجۃ الاسلام محمد غزالی واحمد قسطلانی ومولانا علی قاری و علا مہ محمد زرقانی وغیرہم اکابرنے تصریح فرمائی جس کی تفصیل رسائل علم غیب میں بفضلہ تعالی بروجہ اعلی مذکور ہوئی پھر اس کی سخت شامت کمال ضلالت کا کیا پوچھنا جو غیب کی ایك بات بھیخدا کے بتائے سے بھینبی کو معلوم عــــــہ۱ ہونا محا ل و نا ممکن بتاتا ہےاس کے نزدیك اﷲ سے سب چیزیں غائب ہیں اور اﷲکو اتنی قدرت نہیں کہ کسی کو ایك غیب کا علم دے سکے اﷲتعالی شیطان کے دھوکوں سے پناہ دے۔آمین۔ہاں بے خدا کے بتائےکسی کو ذرہ بھر کاعلم مانناضرورکفر ہے اور جمیع معلوما ت الہیہ کو علم مخلوق کا محیط ہونا بھی باطل اور اکثر علماء عــــــہ۲ کے خلاف ہےلیکن روز اول سے روز آخر تك کا ماکان وما یکوناﷲتعالی کے معلومات سے وہ نسبت بھی نہیں رکھتا جوایك ذرے کے لاکھویںکروڑویں حصے برابرتری کو کروڑہاکروڑسمندروں سے ہو بلکہ یہ خود علوم محمد یہ صلی الله تعالی علیہ وسلم کاایك چھوٹا سا ٹکڑا ہےان تمام امور کی تفصیل'' الدولۃ المکیہ'' وغیرہا میں ہے۔خیر تو یہ جملہ معتر ضہ تھا او ر ان شاء اﷲ العظیم بہت مفید تھااب بحث سابق
عــــــہ۱:اس نئے شاخسانے کے رد میں بفضلہ تعالی چاررسالے ہیں:اراحۃ جوانح الغیبالجلاء الکاملابرار المجنونمیل الہداۃجن میں پہلا ان شاء الله مع ترجمہ عنقریب شائع ہوگا اورباقی تین بھی بعونہ تعالی اس کے بعدوبالله التوفیق ۱۲کاتب عفی عنہ۔
عــــــہ۲:اکثر کی قید کا فائدہ رسالہ ''الفیوض المکیۃ لمحب الدولۃ المکیۃ ''میں ملاحظہ ہوگا ان شاء الله تعالی ۱۲کاتب عفی عنہ۔
حوالہ / References الدرالمنثور بحوالہ ابن ابی شیبہ وابن منذر وابن ابی حاتم وابی الشیخ عن مجاید تحت آیۃ ۹/ ۶۵ داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ /۲۱۰،جامع البیان(تفسیر ابن جریر تحت آیۃ ۹/ ۶۵ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱۰/ ۱۹۶
#18355 · رسالہ تمھیدِ ایمان بآیاتِ قرآن ۱۲۲۶ھ
کی طرف عودکیجئے۔
اس فرقہ باطلہ کا مکر دوم یہ ہے کہ اما م اعظم رضی الله تعالی عنہ کامذہب ہے کہ لا نکفراحدا من اھل القبلۃ ۔ہم اہل قبلہ میں سے کسی کو کافر نہیں کہتے۔
اور حدیث میں ہے:'' جو ہماری سی نماز پڑھے اور ہمارے قبلہ کو منہ کرے او ر ہماراذبیحہ کھائےوہ مسلمان ہے۔''
مسلمانو ! اس مکر خبیث میں ان لوگوں نے نری کلمہ گوئی سے عدول کرکے صرف قبلہ روئی کانام ایمان رکھ دیا یعنی جوقبلہ رو ہوکر نماز پڑھ لےمسلمان ہے اگر چہ اﷲ عزوجل کو جھوٹا کہےمحمدرسول اﷲ صلی الله تعالی علیہ وسلم کو گالیاں دےکسی صورت کسی طرح ایمان نہیں ٹلتا ع
چوں وضوئے محکم بی بی تمیز
(بی بی تمیز کے مضبوط وضو کی طرح۔ت)
اولا:ا س مکر کا جو ا ب:
تمہارا رب عزوجل فرماتاہے:
" لیس البر ان تولوا وجوہکم قبل المشرق والمغرب ولکن البر من امن باللہ والیوم الاخر و الملئکۃ و الکتب و النبین " ۔ اصل نیکی یہ نہیں کہ اپنا منہ نماز میں پورب یا پچھاں کو کروبلکہ اصل نیکی یہ ہے کہ آدمی ایمان لائے اﷲاور قیامت اور فرشتوں اورقرآن اور تمام انبیاء پر۔
دیکھوصاف فرمادیا کہ ضروریات دین پر ایمان لانا ہی اصل کارہے بغیر اس کے نماز میں قبلہ کو منہ کرنا کوئی چیز نہیں
اور فرماتا ہے:
" وما منعہم ان تقبل منہم نفقتہم اور وہ جو خرچ کرتے ہیں اس کا قبول ہونا بندنہ ہوا
حوالہ / References منح الروض الازھر شرح الفقہ الاکبرعدم جواز تکفیر اھل القبلۃ دارالبشائر الاسلامیۃ بیروت ص۴۲۹
صحیح البخاری کتاب الصلٰوۃ باب فضل استقبال القبلۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۵۶،کنزالعمال حدیث ۳۹۹ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱ /۹۲
القرآن الکریم ۲ /۱۷۷
#18356 · رسالہ تمھیدِ ایمان بآیاتِ قرآن ۱۲۲۶ھ
" الا انہم کفروا باللہ وبرسولہ ولایاتون الصلوۃ الا وہم کسالی ولاینفقون الا وہم کرہون ﴿۵۴﴾" ۔ مگر اس لئے کہ انہوں نے اﷲ ورسول کے ساتھ کفر کیا اور نماز کونہیں آتے مگر جی ہارے اور خرچ نہیں کرتے مگر برے دل سے۔
دیکھو ان کا نماز پڑھنا بیان کیا او ر پھر انہیں کافر فرمایاکیا وہ قبلہ کونماز نہیں پڑھتے تھے فقط قبلہ کیساقبلہ دل وجاںکعبہ دین وایمانسرور عالمیان صلی الله تعالی علیہ وسلم کے پیچھے جانب قبلہ نماز پڑھتے تھے۔اور فرماتاہے:
" فان تابوا واقاموا الصلوۃ واتوا الزکوۃ فاخونکم فی الدین ونفصل الایت لقوم یعلمون ﴿۱۱﴾ و ان نکثوا ایمنہم من بعد عہدہم وطعنوا فی دینکم فقتلوا ائمۃ الکفر انہم لا ایمن لہم لعلہم ینتہون ﴿۱۲﴾" ۔ پھر اگر وہ توبہ کریں او ر نماز برپا رکھیں او ر زکوۃ دیں تو وہ تمہارے دینی بھائی ہیں اور ہم پتے کی باتیں صاف بیان کرتے ہیں علم والوں کیلئے اور اگرقول و قرار کرکے پھر اپنی قسمیں توڑیں اور تمہارے دین پر طعن کریں تو کفر کے پیشواؤں سے لڑوبے شك ان کی قسمیں کچھ نہیں شاید وہ باز آئیں۔
دیکھو نماززکوۃ والے اگر د ین پر طعنہ کریں تو انہیں کفر کا پیشواکافروں کا سر غنہ فرمایا۔کیا خدا اور رسول کی شان میں وہ گستاخیاں دین پر طعنہ نہیںاس کا بیان بھی سنئے:تمہارا رب عزوجل فرماتاہے:
" من الذین ہادوا یحرفون الکلم عن مواضعہ ویقولون سمعنا وعصینا واسمع غیر مسمع ورعنا لـیا بالسنتہم وطعنا فی الدین ولو انہم قالوا سمعنا واطعنا واسمع وانظرنا لکان خیرا لہم واقوم ولکن لعنہم اللہ کچھ یہودی بات کو اس کی جگہ سے بدلتے ہیں اور کہتے ہیں ہم نے سنا او ر نہ مانا اور سنئے آپ سنائے نہ جائیں اور راعنا کہتے ہیں زبا ن پھیرکر اوردین میں طعنہ کرنے کو اور اگر وہ کہتے ہم نے سنا اور مانااورسنئے اور مہلت دیجئے تو انکے لئے بہتراور بہت ٹھیك ہوتا لیکن ان کے کفر کے سبب
#18357 · رسالہ تمھیدِ ایمان بآیاتِ قرآن ۱۲۲۶ھ
بکفرہم فلا یؤمنون الا قلیلا ﴿۴۶﴾" ۔ اﷲ نے ان پر لعنت کی ہے تو ایمان نہیں لاتے مگر کم۔
کچھ یہودی جب دربار نبوت میں حاضر آتے اور حضوراقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم سے کچھ عرض کرنا چاہتے تویوں کہتے سنئے آپ سنائے نہ جائیںجس سے ظاہر تو دعا ہوتی یعنی حضورکوکوئی ناگوار بات نہ سنائے اور دل میں بددعا کا ارادہ کرتے کہ سنائی نہ دے اور جب حضوراقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم کچھ ارشاد فرماتے اور یہ بات سمجھ لینے کے لئے مہلت چاہتے تو راعنا کہتے جس کا ایك پہلو ئے ظاہر یہ کہ ہماری رعایت فرمائیں اور مراد خفی رکھتےیعنی رعونت والااور بعض زبان دبا کر راعینا کہتے یعنی ہمارا چرواہا۔جب پہلودار با ت دین میں طعنہ ہوئیتو صریح و صاف کتنا سخت طعنہ ہوگی بلکہ انصاف کیجئے تو ان باتوں کا صریح بھی ان کلمات کی شناعت کو نہ پہنچتا۔بہرا ہونے کی دعا یا رعونت یا بکریاں چرانے کی طرف نسبت کو ان الفاظ سے کیا نسبت کہ شیطان سے علم میں کمتر یا پاگلوں چوپایوں سے علم میں ہمسراورخداکی نسبت وہ کہ جھوٹا ہےجھوٹ بولتا ہے جو اسے جھوٹا بتائے مسلمان سنی صالح ہےوالعیا ذ باﷲ رب العالمین۔
ثانیا:اس وہم شنیع کو مذہب سید نا امام رضی الله تعالی عنہ بتانا حضرت اما م پر سخت افترا واتہام جبکہ امام رضی الله تعالی عنہ اپنے عقائد کریمہ کی کتاب مطہر فقہ اکبر میں فرماتے ہیں:
صفاتہ تعالی فی الازل غیرمحدثۃ ولامخلوقۃفمن قال انھامخلوقۃ اومحدثۃ او وقف فیہا اوشك فیہا فھوکافر باﷲ تعالی ۔ اﷲ تعالی کی صفتیں قدیم ہیں نہ نوپیدا ہیں نہ کسی کی بنائی ہوئی تو جو انہیں مخلوق یا حادث کہے یا اس با ب میں توقف کرے یا شك لائے وہ کافر ہے اور خدا کا منکر۔
نیز امام ہمام رضی ا لله تعالی عنہ کتاب الوصیۃ میں فرماتے ہیں:
من قال بان کلام اﷲ تعالی مخلوق فھو کافرباﷲ العظیم ۔ جو شخص کلام اﷲ کو مخلوق کہے اس نے عظمت والے خدا کے ساتھ کفر کیا۔
حوالہ / References القرآن الکریم ۴ /۴۶
الفقہ الاکبر ملك سراج الدین اینڈ سنز کشمیری بازار لاہور ص۵
کتاب الوصیۃ(وصیت نامہ)فصل تقربان الله تعالٰی علی العرش استوی الخ کشمیری بازار لاہور ص۲۸
#18358 · رسالہ تمھیدِ ایمان بآیاتِ قرآن ۱۲۲۶ھ
شرح فقہ اکبر میں ہے:
قال فخر الاسلام قدصح عن ابی یوسف انہ قال ناظرت ابا حنیفۃ فی مسئلۃ خلق القران فا تفق رأیی ورأیہ علی ان من قال بخلق القران فھو کافروصح ھذا القول ایضاعن محمدرحمہ اﷲتعالی ۔ امام فخر الاسلام رحمۃ اﷲ تعالی علیہ فرماتے ہیں امام یوسف رحمۃ اﷲتعالی علیہ سے صحت کے ساتھ ثابت ہے کہ انھوں نے فرمایا میں نے امام اعظم ابو حنیفہ رضی الله تعالی عنہ سے مسئلہ خلق قرآن میں مناظرہ کیامیری اور ان کی رائے اس پر متفق ہوئی کہ جو قرآن مجید کومخلوق کہے وہ کافر ہے او ریہ قول امام محمد رحمہ اﷲتعالی سے بھی بصحت ثبوت کو پہنچا۔
یعنی ہمارے ائمہ ثلاثہ رضی الله تعالی عنہم کا اجماع و اتفاق ہے کہ قرآن عظیم کو مخلوق کہنے والاکافرہے۔کیا معتزلہ و کرامیہ و روافض کہ قرآن کو مخلوق کہتے ہیں اس قبلہ کی طرف نماز نہیں پڑھتےنفس مسئلہ کا جزئیہ لیجئے۔امام مذہب حنفی سید نا امام ابو یوسف رضی الله تعالی عنہ ''کتاب الخراج'' میں فرماتے ہیں:
ایمارجل مسلم سب رسول اﷲ اوکذ بہ اوعابہ او تنقصہ فقدکفر باﷲ تعالی و بانت منہ زوجتہ ۔ جو شخص مسلمان ہوکر رسول اﷲ صلی الله تعالی علیہ وسلم کو دشنام دے یا حضو ر کی طرف جھوٹ کی نسبت کرے یا حضور کوکسی طرح کا عیب لگائے یا کسی وجہ سے حضور کی شان گھٹائے وہ یقینا کافر اور خدا کا منکر ہوگیا اور اس کی جورو اس کے نکاح سے نکل گئی۔
دیکھو کیسی صاف تصریح ہے کہ حضور اقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم کی تنقیص شان کرنے سے مسلمان کافر ہوجا تا ہےاسکی جورو نکاح سے نکل جاتی ہے۔کیا مسلمان اہل قبلہ نہیں ہوتا یا اہل کلمہ نہیں ہوتا مگر محمد رسول اﷲ صلی الله تعالی علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کے ساتھ نہ قبلہ قبول نہ کلمہ مقبولوالعیاذباﷲ رب العالمین۔
ثالثا:ا صل با ت یہ ہے کہ اصطلاح ائمہ میں اہل قبلہ وہ ہے کہ تمام ضروریات دین پر ایما ن رکھتا ہو
حوالہ / References منح الروض الازہر شرح الفقہ الاکبر القرآن کلام الله غیر مخلوق دارالبشائر الاسلامیہ بیروت ص۹۵
کتاب الخراج للامام ابی یوسف فصل فی الحکم فی المرتد عن الاسلام دارالمعرفۃ بیروت ص۱۸۲
#18359 · رسالہ تمھیدِ ایمان بآیاتِ قرآن ۱۲۲۶ھ
ان میں سے ایك بات کا بھی منکر ہوتوقطعا یقینا اجماعا کافر مرتد ہے ایسا کہ جو اسے کا فر نہ کہے خودکافر ہے۔ شفاء شریف وبزازیہ ودرروغرروفتا وی خیریہ وغیر ہامیں ہے:
اجمع المسلمون ان شاتمہ صلی الله تعالی علیہ وسلم کافر ومن شك فی عذابہ وکفرہ کفر ۔ تمام مسلمانوں کا اجماع ہے کہ جو حضور اقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم کی شان پاك میں گستاخی کر ے وہ کافر ہے اور جو اس کے معذب یا کافر ہونے میں شك کرے وہ بھی کافر ہے۔
مجمع ا لانھرودرمختار میں ہے:
واللفظ لہ الکافر بسب نبی من الانبیاء لاتقبل توبتہ مطلقا و من شك فی عذابہ و کفرہ کفر ۔ جوکسی نبی کی شان میں گستاخی کے سبب کافر ہوااس کی توبہ کسی طرح قبول نہیں اور جو اسکے عذاب یا کفر میں شك کرے خود کافر ہے۔
الحمد ﷲ ! یہ نفیس مسئلہ کاو ہ گراں بہاجزئیہ ہے جس میں ان بدگویوں کے کفرپر اجماع تمام امت کی تصریح ہے اور یہ بھی کہ جو انہیں کافر نہ جانے خود کافر ہے۔شرح فقہ اکبر میں ہے:
فی المواقف لا یکفر اھل القبلۃ الا فیما فیہ انکار ما علم مجیئہ بالضرورۃ اوالمجمع علیہ کاستحلال المحرمات اھ ولا یخفی ان المراد بقول علمائنالا یجوزتکفیر اھل القبلۃ بذنب لیس مجرد التوجہ الی القبلۃ فان الغلاۃ من الروافض الذین یدعون ان جبریل علیہ الصلوۃ والسلام غلط فی یعنی مواقف میں ہے کہ اہل قبلہ کو کافر نہ کہاجاو ے گا مگر جب ضروریات دین یا اجماعی باتوں سے کسی بات کا انکار کریں جیسے حرام کو حلال جاننا اور مخفی نہیں کہ ہمارے علماء جو فرما تے ہیں کہ کسی گناہ کے باعث اہل قبلہ کی تکفیر روا نہیں اس سے نرا قبلہ کومنہ کرنا مراد نہیں کہ غالی رافضی جوبکتے ہیں کہ جبریل علیہ السلام کووحی میں دھوکا ہوا۔اﷲتعالی نے انہیں مولی علی کرم اﷲ وجہہ کی طرف بھیجا تھا
حوالہ / References الشفاء بتعریف حقوق المصطفٰی القسم الرابع الباب الاول المطبعۃ الشرکۃ الصحافیۃ ۲ /۲۰۸،الفتاوی الخیریۃ باب المرتدین دارالمعرفۃ بیروت ۱/ ۱۰۳
الدرالمختارکتاب الجہاد باب المرتد مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۳۵۶،مجمع الانھرکتاب فصل فی احکام الجزیۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ /۶۷۷
#18360 · رسالہ تمھیدِ ایمان بآیاتِ قرآن ۱۲۲۶ھ
الوحی فان اﷲ تعالی ارسلہ الی علی رضی اﷲ تعالی عنہ و بعضھم قالوا انہ الہ وان صلوا الی القبلۃ لیسوا بمؤمنین وھذاھوالمراد بقولہ من صلی صلوتنا واستقبل قبلتنا واکل ذبیحتنا فذلك مسلم اھ مختصرا۔ اور بعض تو مولی علی کو خدا کہتے ہیں یہ لوگ اگرچہ قبلہ کی طرف نماز پڑھیںمسلمان نہیں اور اس حدیث کی بھی یہی مراد ہے جس میں فرمایا کہ جو ہماری سی نماز پڑھے اور ہمارے قبلہ کو منہ کرے اور ہمارا ذبیحہ کھائے وہ مسلمان ہے۔
یعنی جب کہ تمام ضروریات دین پر ایمان رکھتا ہو اور کوئی با ت منافی ایمان نہ کرے۔اسی میں ہے:
اعلم ان المراد باھل القبلۃ الذین اتفقوا علی ماھو من ضروریات الدین کحدوث العالم وحشر ا لا جساد وعلم اﷲ تعالی بالکلیات والجزئیات وما اشبہ ذلك من المسائل المھمات فمن واظب طول عمرہ علی الطاعات والعبادات مع اعتقاد قدم العالم اونفی الحشر اونفی علمہ سبحنہ بالجزئیات لایکون من اھل القبلۃ وان المراد بعدم تکفیر احدمن اھل القبلۃ عند اھل السنۃ انہ لایکفر مالم یوجد شیئ من امارات الکفر وعلاماتہ ولم یصد رعنہ شیئ من موجباتہ ۔ یعنی جان لوکہ اہل قبلہ سے مراد وہ لوگ ہیں جوتمام ضروریات دین میں موافق ہیں جیسے عالم کا حادث ہونااجسام کاحشر ہونااﷲتعالی کاعلم تمام کلیات و جزئیات کو محیط ہونا اور جومہم مسئلے ان کی مانندہیںتوجوتمام عمرطاعتوں اورعبادتوں میں رہے اسکے ساتھ یہ اعتقاد رکھتا ہوکہ عالم قدیم ہے یا حشر نہ ہوگا یا اﷲتعالی جزئیات کونہیں جانتا وہ اہل قبلہ سے نہیں اور اہل سنت کے نزدیك اہل قبلہ سے کسی کو کافر نہ کہنے سے یہ مراد ہے کہ اسے کافر نہ کہیں گے جب تك اس میں کفر کی کوئی علامت و نشانی نہ پائی جائے اور کوئی بات موجب کفر اس سے صادر نہ ہو۔
امام اجل سید ی عبد العزیز بن احمد بن محمد بخاری حنفی رحمۃ اﷲتعالی علیہ تحقیق شرح
حوالہ / References منح الروض الازہر شرح الفقہ الاکبر مطلب فی ایراد الالفاظ المکفرۃ الخ دارالبشائر اسلامیہ بیروت ص۴۴۶۔۴۴۷
منح الروض الازہر شرح الفقہ الاکبر عدم جواز تکفیر اہل القبلۃ دارالبشائر اسلامیہ بیروت ص۴۲۹
#18361 · رسالہ تمھیدِ ایمان بآیاتِ قرآن ۱۲۲۶ھ
اصول حسامی میں فرماتے ہیں:
ان غلافیہ(ای فی ھواہ)حتی وجب اکفارہ بہ لا یعتبر خلافہ ووفاقہ ایضالعدم دخولہ فی مسمی الامۃ المشھودلھا بالعصمۃ وان صلی الی القبلۃ واعتقد نفسہ مسلمالان الامۃ لیست عبارۃ من المصلین الی القبلۃ بل عن المؤمنین وھو کافر وان کان لا یدری انہ کافر ۔ یعنی بدمذہب اگر اپنی بدمذہبی میں غالی ہو جس کے سبب اسے کافر کہنا واجب ہوتو اجماع میں اس کی مخالفتموافقت کا کچھ اعتبار نہ ہوگاکہ خطا سے معصوم ہونے کی شہادت تو امت کے لئے آئی ہے اور وہ امت ہی سے نہیں اگر چہ قبلہ کی طرف نماز پڑھتا اور اپنے آپ کو مسلمان اعتقاد کرتا ہواس لئے کہ امت قبلہ کیطرف نماز پڑھنے والوں کانام نہیں بلکہ مسلمان کانام ہے اور یہ شخص کافر ہے اگر چہ اپنی جان کو کافرنہ جانے۔
ردالمحتار میں ہے:
لاخلاف فی کفر المخالف فی ضروریات الاسلام وان کان من اھل القبلۃ المواظب طول عمرہ علی الطاعات کمافی شرح التحریر ۔ یعنی ضروریات اسلام سے کسی چیز میں خلاف کرنے والا بالاجماع کافر ہے اگر چہ اہل قبلہ سے ہو اور عمر بھر طاعات میں بسر کرے جیسا کہ شرح تحریر میں امام بن الہمام نے فرمایا۔
کتب عقائد وفقہ واصول ان تصریحات سے مالامال ہیں۔
رابعا: خود مسئلہ بدیہی ہے کیا جو شخص پانچ وقت قبلہ کی طرف نماز پڑ ھتا او ر ایك وقت مہادیو کو سجدہ کرلیتا ہوکسی عاقل کے نزدیك مسلمان ہوسکتا ہے حالانکہ اﷲ کوجھوٹا کہنا یا محمد رسول اﷲ کی شان اقدس میں گستاخی کرنامہادیو کے سجدے سے کہیں بدترہے اگرچہ کفرہونے میں برابرہے وذلك ان الکفر بعضہ اخبث من بعض(اوریہ اس لئے کہ بعض کفر بعض سے خبیث تر ہے)وجہ یہ کہ بت کو سجدہ علامت تکذیب خدا ہے اور علامت تکذیب میں تکذیب کے برابر نہیں ہو سکتی اور سجدہ میں یہ احتمال بھی نکل سکتا ہے کہ محض تحیت و مجرا مقصود ہو نہ عبادت۔
حوالہ / References التحقیق شرح السامی باب الاجماع نولکشور لکھنؤ ص۲۰۸
ردالمحتارکتاب الصلٰوۃ باب الامامۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ /۳۷۷
#18362 · رسالہ تمھیدِ ایمان بآیاتِ قرآن ۱۲۲۶ھ
اورمحض(عہ)تحیت فی نفسہ کفر نہیں و لہذا اگر مثلا کسی عالم یا عارف کوتحیۃ سجد ہ کرےگنہگار ہوگاکافر نہ ہوگا امثال بت میں شرع نے مطلقا حکم کفر بربنائے شعار خاص کفر رکھاہے بخلاف بدگوئی حضورپرنورسیدعالمکہ فی نفسہ کفر ہے جس میں کوئی احتمال اسلام نہیں۔
او ر میں یہاں اس فرق پر بناء نہیں رکھتاکہ ساجد صنم کی توبہ باجماع امت مقبول ہے مگر سید عالم صلی الله تعالی علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرنے والے کی توبہ ہزارہاائمہ دین کے نزدیك اصلا قبول نہیں اور اسی کو ہمارے علماء حنفیہ سے اما م بزازی و امام محقق علی الاطلاق ابن الہما م و علامہ مولی خسرو صاحب دررو غرر و علامہ زین بن نجیم صاحب بحر الرائق و اشبا ہ و النظائر و علامہ عمربن نجیم صاحب نہر الفائق و علامہ ابو عبد اﷲ محمد بن عبداﷲ غزی صاحب تنویر الابصار و علا مہ خیر الدین رملی صاحب فتاوی خیریہ و علا مہ شیخی زادہ صاحب مجمع الانھروعلامہ مدقق محمد بن علی حصکفی صاحب
عــــــہ:شرح مواقف میں ہے:
سجودہ لھا یدل بظاھرہ انہ لیس بمصدق ونحن نحکم بالظاھر فلذا حکمنا بعدم ایمانہ لالان عدم السجود لغیر الله دخل فی حقیقۃ الایمان حتی لو علم انہ لم یسجد لہا علی سبیل التعظیم واعتقاد الالھیۃ بل سجد لہا وقلبہ مطمئن بالتصدیق لم یحکم بکفرہ فیمابینہ وبین الله وان اجری علیہ حکم الکفر فی الظاھر ۱۲منہ۔ اس کا سورج کو سجدہ کرنا بظاہر اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ وہ نبی کریم صلی الله تعالی علیہ وسلم کی لائی ہوئی شریعت کی تصدیق نہیں کرتا ہے اورہم ظاہر پر حکم لگاتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ہم نے اس کے عدم ایمان کا حکم لگایاہے۔یہ حکم اس وجہ سے نہیں لگایا کہ غیر الله کو سجدہ نہ کرنا ایمان کی حقیقت میں داخل ہے یہاں تك کہ اگر معلوم ہوجائے کہ اس نے سورج کو سجدہ بطور تعظیم اوراس کو معبود سمجھ کر نہیں کیا بلکہ اس کو سجدہ کیا درآنحالیکہ اس کا دل تصدیق وایمان کے ساتھ مطمئن تھا تو عندالله اس کے کفر کا حکم نہیں لگایا جائے گا اگرچہ بظاہر اس پر کفر کاحکم جاری کیا جائیگا۔(ت)
حوالہ / References شرح المواقف المرصد الثالث المقصد الاول منشورات الشریف الرضی قم ایران ۸ /۳۲۹
#18363 · رسالہ تمھیدِ ایمان بآیاتِ قرآن ۱۲۲۶ھ
در مختار وغیرھم عمائد کبار علیہم رحمۃ اﷲ العزیز الغفار نے اختیار فرمایا:بید ان تحقیق المسئلۃ فی الفتاوی الرضویہ(علاوہ ازیں مسئلہ کی تحقیق فتاوی رضویہ میں ہے۔ت)اس لئے کہ عدم قبول تو بہ صرف حاکم اسلام کے یہاں ہے کہ وہ اس معاملہ میں بعد توبہ بھی سزائے موت دے ورنہ اگر توبہ صدق دل سے ہے تو عنداﷲ مقبول ہےکہیں یہ بدگواس مسئلہ کو دستاویز نہ بنالیں کہ آخر توبہ قبول نہیں پھر کیوں تائب ہوںنہیں نہیں توبہ سے کفر مٹ جائے گامسلمان ہوجاؤگےجہنم ابدی سے نجات پاؤگےاس قدر پر اجماع ہے۔کمافی رد المحتار وغیرہ (جیسا کہ ردالمحتار وغیرہ میں ہے۔ت)واﷲ تعالی اعلم۔
اس فرقہ بے دین کا مکر سوم یہ ہے کہ فقہ میں لکھا ہے جس میں ننانوے باتیں کفر کی ہوں اور ایك با ت اسلام کی تو اس کو کافرنہ کہنا چاہیے۔
اولا:یہ مکر خبیث سب مکروں سے بدتر و ضعیف جس کا حاصل یہ کہ جوشخص دن میں ایك بار اذان دے یا دورکعت نماز پڑھ لے اور ننانوے۹۹ بار بت پوجےسنکھ پھونکےگھنٹی بجائے وہ مسلمان ہے کہ اس میں ننانوے باتیں کفرکی ہیں تو ایك اسلام کی بھی ہے۔یہی کافی ہے حالانکہ مومن تو مومن کوئی عاقل اسے مسلمان نہیں کہہ سکتا۔
ثانیا:اس کی رو سے سوا دہریے کے کہ سرے سے خدا کے وجود ہی کا منکر ہوتمام کافرمشرك مجوسہنود و نصاری یہود وغیرہم دنیا بھر کے کفار سب کے سب مسلمان ٹھہر جاتے ہیں کہ اور باتوں کے منکر سہی آخر وجود خدا کے تو قائل ہیں۔ایك یہی با ت سب سے بڑھ کراسلام کی بات بلکہ تمام اسلامی باتوں کی اصل الاصول ہے خصوصا کفار فلاسفہ و آر یہ و غیرہم کہ بزعم خود توحید کے بھی قائل ہیں اور یہود و نصاری تو بڑے بھاری مسلمان ٹھہریں گے کہ توحید کے ساتھ اﷲ تعالی کے بہت سے کلاموں اور ہزاروں نبیوں اور قیامت و حشروحساب و ثواب و عذاب و جنت ونار وغیرہ بکثرت اسلامی باتوں کے قائل ہیں۔
ثالثا: اس کے رد میں قرآن عظیم کی وہ آیتیں کہ اوپر گزریں کافی وافی ہیں جن میں باوصف کلمہ گوئی ونماز خوانی صرف ایك ایك بات پر حکم تکفیر فرمادیا کہیں ارشاد ہوا:
" کفروا بعد اسلمہم" ۔ وہ مسلمان ہوکر اس کلمے کے سبب کافر ہوگئے۔
حوالہ / References القرآن الکریم ۹ /۷۴
#18364 · رسالہ تمھیدِ ایمان بآیاتِ قرآن ۱۲۲۶ھ
کہیں فرمایا:
" لاتعتذروا قدکفرتم بعد ایمنکم " ۔ بہانے نہ بناؤ تم کافر ہوچکے ایمان کے بعد۔
حالانکہ اس مکر خبیث کی بنا ء پر جب تك ۹۹ سے زیادہ کفر کی باتیں جمع نہ ہو جاتیںصرف ایك کلمہ پر حکم کفر صحیح نہ تھا۔ہاں شاید اس کا یہ جواب دیں کہ خدا کی غلطی یا جلد بازی تھی کہ اس نے دائرہ اسلام کو تنگ کردیاکلمہ گویوںاہل قبلہ کودھکے دے دے کرصرف ایك ایك لفظ پراسلام سے نکالا اور پھر زبردستی یہ کہ لاتعتذروا عذر بھی نہ کرنے دیا نہ عذر سننے کا قصد کیا۔ افسوس کہ خدا نے پیر نیچر یاندویہ لکچر یا ان کے ہم خیال کسی وسیع الا سلام ر یفار مر سے مشور ہ نہ لیا "الا لعنۃ اللہ علی الظلمین ﴿۱۸﴾" ۔ (ارے ظالموں پر خدا کی لعنت۔ت)
رابعا: اس مکر کاجو اب:تمہارا رب عزوجل فرماتاہے:
" افتؤمنون ببعض الکتب وتکفرون ببعض فما جزاء من یفعل ذلک منکم الا خزی فی الحیوۃ الدنیا ویوم القیمۃ یردون الی اشد العذاب وما اللہ بغفل عما تعملون﴿۸۵﴾ اولئک الذین اشتروا الحیوۃ الدنیا بالاخرۃ ۫ فلا یخفف عنہم العذاب ولا ہم ینصرون﴿۸۶﴾ " ۔ توکیا اﷲکے کلام کا کچھ حصہ مانتے ہو اور کچھ حصے سے منکر ہو توجوکوئی تم میں سے ایسا کرے اسکا بدلہ نہیں مگر دنیا کی زندگی میں رسوائی اور قیامت کے دن سب سے زیادہ سخت عذاب کی طرف پلٹے جائیں گے اور اﷲ تمہارے کوتکوں سے غافل نہیں یہی لوگ ہیں جنہوں نے عقبی بیچ کردنیا خریدی تو ان پر سے کبھی عذاب ہلکا ہو نہ انکو مدد پہنچے۔
کلام الہی میں فرض کیجئے اگر ہزار باتیں ہوں تو ان میں سے ہر ایك با ت کا ماننا ایك اسلامی عقیدہ ہے۔اب اگر کوئی شخص ۹۹۹مانے اور صرف ایك نہ مانے تو قرآن عظیم فرمارہا ہے کہ وہ ان ۹۹۹ کے ماننے سے مسلمان نہیں بلکہ صرف اس ایك کے نہ ماننے سے کافر ہےدنیا میں اس کی رسوائی ہوگی اور آخرت میں اس پر سخت تر عذاب جو ابدالآ باد تك کبھی موقوف ہونا کیا معنی ایك آن
#18365 · رسالہ تمھیدِ ایمان بآیاتِ قرآن ۱۲۲۶ھ
کو ہلکا بھی نہ کیا جائے گا نہ کہ ۹۹۹کا انکار کرے اور ایك کو مان لے تو مسلمان ٹھہرےیہ مسلمانوں کا عقیدہ نہیں بلکہ بشہادت قرآن عظیم خود صریح کفرہے۔
خامسا: اصل بات یہ ہے کہ فقہائے کرام پر ان لوگوں نے جتنا افتراء اٹھایاانہوں نے ہرگزکہیں ایسا نہیں فرمایا بلکہ انہوں نے بہ خصلت یہود " یحرفون الکلم عن مواضعہ" یہودی بات کو اس کے ٹھکانوں سے پھیرتے ہیں۔تحریف تبدیل کرکے کچھ کا کچھ بنالیافقہا ء نے یہ نہیں فرمایا کہ جس شخص میں ننانوے باتیں کفر کی اور ایك اسلام کی ہو وہ مسلمان ہے۔حاشاللہ ! بلکہ امت کا اجماع ہے کہ جس میں ننانوے ہزار باتیں اسلام کی اور ایك کفر کی ہو وہ یقیناقطعاکافرہے۔۹۹ قطرے گلاب میں ایك بوند پیشاب کا پڑ جائےسب پیشاب ہوجائے گامگر یہ جاہل کہتے ہیں ننانوے قطرے پیشاب میں ایك بوند گلاب کا ڈال دوسب طیب و طاہر ہوجائے گا۔حاشا کہ فقہا ء توفقہاء کوئی ادنی تمیز والا بھی ایسی جہالت بکے۔بلکہ فقہاء کرام نے یہ فرمایا ہے کہ'' جس مسلمان سے کوئی لفظ ایسا صادر ہو جس میں سو پہلو نکل سکیںان میں ۹۹ پہلو کفر کی طرف جاتے ہوں اور ایك اسلام کی طرف توجب تك ثابت نہ ہوجائے کہ اس نے خاص کوئی پہلوکفر کا مراد رکھا ہے ہم اسے کافر نہ کہیں گے کہ آخر ایك پہلو اسلام بھی تو ہےکیا معلوم شایداس نے یہی پہلومراد رکھا ہو'' اور ساتھ ہی فرماتے ہیں کہ'' اگر واقع میں اس کی مراد کوئی پہلوئے کفر ہے توہماری تاویل سے اسے فائدہ نہ ہوگا۔وہ عنداﷲکافرہی ہوگا۔''اس کی مثال یہ ہے کہ مثلا زید کہے'' عمر وکو علم قطعی یقینی غیب کا ہے''۔اس کلام میں اتنے پہلوہیں:
(۱)عمر و اپنی ذات سے غیب دان ہے یہ صریح کفر وشرك ہے۔
" قل لا یعلم من فی السموت و الارض الغیب الا اللہ " ۔ تم فرماؤ غیب نہیں جانتے جو کوئی آسمانوں اورزمین میں ہیں مگر اللہ۔(ت)
(۲)عمر و آپ توغیب دان نہیں مگر جو علم غیب رکھتے ہیں۔ان کے بتائے سے اسے غیب کا علم یقینی ہوجاتا ہےیہ بھی کفر ہے۔
" تبینت الجن ان لو کانوا یعلمون الغیب ما لبثوا فی العذاب المہین ﴿۱۴﴾" ۔ جنوں کی حقیقت کھل گئیاگر غیب جانتے ہوتے تو اس خواری کے عذاب میں نہ ہوتے۔(ت)
#18366 · رسالہ تمھیدِ ایمان بآیاتِ قرآن ۱۲۲۶ھ
(۳)عمر و نجومی ہے۔
(۴)رمال ہے۔
(۵)سامندرك جانتاہاتھ دیکھتا ہے۔
(۶)کوے وغیرہ کی آواز۔
(۷)حشرات الارض کے بدن پر گرنے۔
(۸)کسی پرندے یا وحشی چرندے کے داہنے یا بائیں نکل کرجانے
(۹)آنکھ یا دیگر اعضاء کے پھڑ کنے سے شگون لیتا ہے۔
(۱۰)پانسہ پھینکتا ہے۔
(۱۱)فال دیکھتا ہے۔
(۱۲)حاضرات سے کسی کو معمول بنا کر اس سے احوال پوچھتا ہے۔
(۱۳)مسمر یزم جانتا ہے۔
(۱۴)جادو کی میز
(۱۵)روحوں کی تختی سے حال دریافت کرتا ہے۔
(۱۶)قیافہ دان ہے۔
(۱۷)علم زایرجہ سے واقف ہے ان ذرائع سے اسے غیب کا علم یقینی قطعی ملتا ہےیہ سب بھی کفر ہیں عــــــہ ۔
رسول اﷲ صلی الله تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من اتی عرافا اوکاھنافصدقہ بمایقول فقدکفربما انزل علی محمد صلی الله علیہ وسلم رواہ احمد و الحاکم بسندصحیح عن ابی ھریرۃ رضی ا ﷲ تعالی عنہ جو شخص نجومی اور کاہن کے پاس جائے اوراس کے بیان کو سچا جانے تو اس نے اس کا انکار کیا جو محمدصلی الله تعالی علیہ وسلم پر نازل ہوا۔ امام حمد وحاکم نے بسند صحیح حضرت ابوہریرہ رضی الله تعالی عنہ سے روایت کیا۔

عــــــہ:یعنی جبکہ ان کی وجہ سے غیب کے علم قطعی یقینی کا ادعا کیا جائے جیسا کہ نفس کلام میں مذکور ہے ۱۲منہ۔
حوالہ / References المستدرك علی الصحیحین کتاب الایمان التشدید فی اتیان الکاھن مکتب المطبوعات الاسلامیہ ۱ /۸،مسند احمد بن حنبل مسند ابی ہریرہ المکتب الاسلامی بیروت۲ /۴۲۹
#18367 · رسالہ تمھیدِ ایمان بآیاتِ قرآن ۱۲۲۶ھ
ولا حمدوابی داؤد عنہ رضی اﷲ تعالی عنہ فقدبرئ مما نزل علی محمد صلی الله علیہ وسلم ۔ امام احمدوابوداؤد نے حضرت ابوہریرہ رضی الله تعالی عنہ سے روایت کیا:تو وہ قرآن اور دین اسلا م سےالگ ہوگیا۔(ت)
(۱۸)عمرو پر وحی رسالت آتی ہے اس کے سبب غیب کاعلم یقینی پاتاہے جس طرح رسولوں کو ملتا تھایہ اشد کفر ہے۔
" ولکن رسول اللہ و خاتم النبین و کان اللہ بکل شیء علیما ﴿۴۰﴾ " ۔ ہاں(محمد)الله کے رسول ہیں اورسب نبیوں میں پچھلےاور الله سب کچھ جانتاہے۔(ت)
(۱۹)وحی تو نہیں آتی مگر بذریعہ الہام جمیع غیوب ا س پر منکشف ہوگئے ہیںاس کا علم تمام معلومات الہی کو محیط ہوگیا۔یہ یوں کفر ہے اس نے عمرو کو علم میں حضور پر نورسید عالم صلی الله تعالی علیہ وسلم پر ترجیح دے دی کہ حضور کا علم بھی جمیع معلومات الہی کو محیط نہیں۔
" قل ہل یستوی الذین یعلمون و الذین لا یعلمون " ۔
من قال فلان اعلم منہ فقد عابہ فحکمہ حکم الساب نسیم الریاض ۔ تم فرماؤ کیا برابر ہیں جاننے والے اورانجان۔(ت)
جس نے کہا کہ فلاں شخص نبی کریم صلی الله تعالی علیہ وسلم سے زیادہ علم والا ہےاس نے آپ پر عیب لگایالہذا اس کا حکم شاتم جیسا ہے۔نسیم الریاض(ت)
(۲۰)جمیع کا احاطہ نہ سہی مگر جو علوم غیب اسے الہام سے ملے ان میں ظاہرا باطناکسی طرح کسی رسول انس و ملك کی وساطت وتبعیت نہیں اﷲتعالی نے بلاواسطہ رسول اصا لۃ اسے غیوب پر مطلع کیایہ بھی کفر ہے:
" وما کان اللہ لیطلعکم علی الغیب ولکن اور اﷲکی شان یہ نہیں کہ اے عام لوگو تمہیں غیب کا
حوالہ / References سنن ابی داود کتاب الکہانت والتطیر باب النھی عن اتیان الکہان آفتاب عالم پریس لاہور۲/ ۱۸۹
القرآن الکریم ۳۳ /۴۰
القرآن الکریم ۳۹ /۹
نسیم الریاض فی شرح الشفاء الباب الاول مرکز اہلسنت گجرات الہند۴ /۳۳۵
#18368 · رسالہ تمھیدِ ایمان بآیاتِ قرآن ۱۲۲۶ھ
اللہ یجتبی من رسلہ من یشاء ۪" ۔
" علم الغیب فلا یظہر علی غیبہ احدا ﴿۲۶﴾ الا من ارتضی من رسول" ۔ علم دیدے ہاں اﷲ چن لیتا ہے اپنے رسولوں سے جسے چاہے۔(ت)
غیب کا جاننے والا تو اپنے غیب پر کسی کو مسلط نہیں کرتا سوائے اپنے پسندیدہ رسولوں کے۔
(۲۱)عمروکو رسول اﷲ صلی الله تعالی علیہ وسلم کے واسطہ سے سمعایاعینا یا الہاما بعض غیوب کاعلم قطعی اﷲ عزوجل نے دیا یا دیتا ہےیہ احتمال خالص اسلام ہے تو محققین فقہاء اس قائل کو کافر نہ کہیں گے اگر چہ اس کی با ت کے اکیس پہلوؤں میں بیس کفر ہیں مگر ایك اسلام کا بھی ہے احتیاط و تحسین ظن کے سبب اس کا کلام اسی پہلو پر حمل کر یں گے جب تك ثابت نہ ہو کہ اس نے کوئی پہلوئے کفر ہی مراد لیانہ کہ ایك ملعون کلامتکذیب خدا یا تنقیص شان سید انبیاء علیہ و علیہم الصلوۃ والثناء میں صاف صریحناقابل تاویل و توجیہ ہواورپھر بھی حکم کفر نہ ہواب تو اسے کفر نہ کہناکفر کو اسلام ماننا ہوگااور جو کفر کو اسلام مانے خود کافر ہے۔اسی شفاء و بزازیہ درر وبحر ونہر و فتاوی خیر یہ ومجمع الانھر ودر مختار ودر مختار وغیرہ کتب معتمدہ سے سن چکے کہ جو شخص حضور اقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم کی تنقیص شان کرےکافرہے اور جو اس کے کفر میں شك کرے وہ بھی کافر ہے مگر یہود منش لوگ فقہائے کرام پر افترائے سخیف اور ان کے کلام میں تبدیل و تحریف کرتے ہیں۔
" و سیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون ﴿۲۲۷﴾" ۔ اب جانا چاہتے ہیں ظالم کہ کس کروٹ پر پلٹا کھائیں گے۔ (ت)
شرح فقہ اکبر میں ہے:
قد ذکرو ا ان المسالۃ المتعلقۃ بالکفر اذاکان لھا تسع و تسعو ن احتمالا للکفرو احتمال واحد فی نفیہ فالاولی للمفتی والقاضی تحقیق مشائخ نے مسئلہ تکفیر کے بارے میں ذکر کیا ہے کہ اگر اس میں ننانوے احتمال کفر کے ہوں اورایك احتمال نفی کفر کا ہوتو اولی یہ ہے مفتی اورقاضی اس کو نفی کفر کے احتمال
#18369 · رسالہ تمھیدِ ایمان بآیاتِ قرآن ۱۲۲۶ھ
ان یعمل بالاحتمال النافی ۔ پر محمول کرے۔(ت)
فتاوی خلاصہ وجامع الفصولین و محیط و فتاوی عالمگیر وغیر ہا میں ہے:
اذا کانت فی المسالۃ وجوہ تو جب التکفیر و وجہ واحد یمنع التکفیر فعلی المفتی و القاضی ان یمیل الی ذلك الوجہ ولا یفتی بکفرہ تحسینا للظن بالمسلم ثم ان کانت نیۃ القائل الوجہ الذی یمنع التکفیر فھو مسلم وان لم یکن لاینفعہ حمل المفتی کلامہ علی وجہ لایوجب التکفیر ۔ اگر مسئلہ میں متعدد وجوہ موجب کفر ہوں اورفقط ایك تکفیر سے مانع ہو تو مفتی وقاضی پر لازم ہے کہ اسی وجہ کی طرف میلان کرے اورمسلمان کے بارے میں حسن ظن رکھتے ہوئے اس کے کفر کا فتوی نہ دے۔پھر اگر درحقیقت قائل کی نیت میں وہی وجہ ہے جو تکفیر سے مانع ہے تو وہ مسلمان ہے ورنہ مفتی وقاضی کا کلام کو اس وجہ پر محمول کرنا جو موجب تکفیر نہیں ہےقائل کو کچھ نفع نہ دے گا۔(ت)
اسی طرح فتاوی بزازیہ وبحر الرائق و مجمع الانہر و حدیقہ ندیہ وغیر ہامیں ہے:
تاتارخانیہ وبحروسل الحسام و تنبیہ الولاۃ وغیر ہا میں ہے:
حوالہ / References منح الروض الازھر فی شرح فقہ الاکبر مطلب یجب معرفۃ المکفرات الخ دارالبشائر الاسلامیہ ص۴۴۵
خلاصۃ الفتاوی کتاب الالفاظ الکفر الفصل الثانی مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۴ /۳۸۲،جامع الفصولین الفصل الثامن والثلاثون فی مسائل کلمات الکفر اسلامی کتب خانہ کراچی ۲ /۲۹۸،المحیط البرھانی فصل فی مسائل المرتدین واحکامہم داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ /۵۵۰، الفتاوی الھندیۃ کتاب السیر الباب التاسع دارالکتب العلمیۃ بیروت ۲ /۳۰۱،ردالمحتار کتاب الجہاد باب المرتد داراحیاء التراث العربی بیروت ۳/۲۸۵،الفتاوی البزازیۃ علی ھامش الفتاوی الہندیۃ کتاب الفاظ تکون اسلامًا اوکفرًا نورانی کتب خانہ پشاور۶ /۳۲۱، بحرالرائق کتاب السیر باب احکام المرتدین ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۵ /۱۲۵،مجمع الانھر شرح ملتقی الابحر کتاب السیر باب المرتد داراحیاء التراث العربی بیروت۱ /۶۸۸،الحدیقۃ الندیۃ شرح الطریقۃ المحمدیۃ والاستخفاف بالشریعۃ کفر الخ مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۱/۳۰۲،الفتاوی التاتارخانیہ کتاب احکام المرتدین ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ۵ /۴۵۸
#18370 · رسالہ تمھیدِ ایمان بآیاتِ قرآن ۱۲۲۶ھ
لایکفر بالمحتمل لان الکفر نھایۃ فی العقوبۃ فیستد عی نہایۃ فی الجنایۃ ومع الاحتمال لانھایۃ ۔ احتمال کے ہوتے ہوئے تکفیر نہیں کی جائے گی کیونکہ کفر انتہائی سزا ہے جو انتہائی جرم کا مقتضی ہے اوراحتمال کی موجودگی میں انتہائی جرم نہ ہوا۔(ت)
بحر االرائق و تنویر الابصار و حدیقہ ندیہ وتنبیہ الولاۃ وسل الحسام وغیرہامیں ہے:
والذی تحررانہ لایفتی بکفرمسلم امکن حمل کلامہ علی محمل حسن الخ۔ جس نے ایسے مسلمان کی تکفیر کا فتوی دینے سے اجتناب کیا جس کے کلام کی تاویل ممکن ہےاس نے اچھا کہا۔(ت)
دیکھو ایك لفظ کے چند احتمال میں کلام ہے نہ کہ ایك شخص کے چند اقوال میںمگر یہودی بات کو تحریف کردیتے ہیں۔
فائدہ جلیلہ:اس تحقیق سے یہ بھی روشن ہوگیا کہ بعض فتاوے مثل فتاوی قاضی خان وغیرہ میں جو اس شخص پر کہ اﷲ ورسول کی گواہی سے نکا ح کرے یا کہے ارواح مشائخ حاضر وواقف ہیں یاکہے ملائکہ غیب جانتے ہیں بلکہ کہے مجھے غیب معلوم ہےحکم کفردیااس سے مراد وہی صورت کفریہ مثل ادعائے علم ذاتی وغیرہ ہے۔ورنہ ان اقوال میں تو ایك چھوڑمتعدد احتمال اسلام کے ہیں کہ یہاں علم غیب قطعییقینی کی تصریح نہیں اور علم کا اطلاق ظن پر شائع وذائع ہے تو علم ظنی کی شق بھی پیدا ہوکر اکیس۲۱ کی جگہ بیالیس احتمال نکلیں گے
حوالہ / References الفتاوی التاتارخانیہ کتاب احکام المرتدین ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ۵ /۴۵۹،سل الحسام الہندی لنصرۃ مولانا خالد النقشبندی رسالہ من رسائل ابن عابدین سہیل اکیڈمی لاہور ۲ /۳۱۶،تنبیہ الولاۃ والحکام علی احکام شاتم خیر الانام رسالہ من رسائل ابن عابدین سہیل اکیڈمی لاہور ۱ /۳۴۲،بحر الرائق کتاب السیر باب احکام المرتدین ایچ ایم سعید کراچی ۵ /۱۲۵
الدرالمختار تنویرالابصار کتاب الجہاد باب المرتد مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۳۵۶،بحر الرائق کتاب السیر باب احکام المرتدین ایچ ایم سعید کراچی ۵ /۱۲۵،تنبیہ الولاۃ والحکام علی احکام شاتم خیر الانام رسالہ من رسائل ابن عابدین سہیل اکیڈمی لاہور ۱ /۳۴۲،سل الحسام الہندی لنصرۃ مولانا خالدالنقشبندی رسالہ من رسائل ابن عابدین سہیل اکیڈمی لاہور ۲ /۳۱۶،الحدیقۃ الندیۃ شرح الطریقۃ المحمدیۃ والاستخفاف بالشریعۃ کفر الخ مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۱ /۳۰۲
#18371 · رسالہ تمھیدِ ایمان بآیاتِ قرآن ۱۲۲۶ھ
اور ان میں بہت سے کفر سے جدا ہوں گے کہ غیب کے علم ظنی کا ادعاء کفر نہیں۔بحر الرائق و ردالمحتار میں ہے:
علم من مسائلھم ھنا ان من استحل ما حرمہ الله تعالی علی وجہ الظن لا یکفر و انما یکفر اذا اعتقد الحرام حلالا و نظیرہ ما ذکرہ القرطبی فی شرح مسلم ان ظن الغیب جائز کظن المنجم و الرمال بوقوع شیء فی المستقبل بتجربۃ امر عادی فھو ظن صادق والممنوع ادعاء علم الغیب والظاھر ان ادعاء ظن الغیب حرام لا کفر بخلاف ادعاء العلم اھ ۔ زاد فی البحر الا تری انھم قالوا فی نکاح المحرم لو ظن الحل لا یحد بالاجماع و یعزر کما فی الظھیریۃ و غیرھا و لم یقل احد انہ یکفر و کذا فی نظائرہ اھ ان مسائل سے معلوم ہوگیا کہ جس نے الله تعالی کے حرام کردہ کو حلال گمان کیا وہ کافر نہ ہو گا کافر توحرام کو حلال اعتقاد کرنے سے ہوگا۔اس کی نظیر وہ ہے جو قرطبی نے شرح مسلم میں ذکر کیا کہ ظن غیب جائز ہے جیسا نجومی اور رملی کا کسی امر عادی کے تجربہ کی بنیاد پر مستقبل میں کسی امر کے واقع ہونے کا ظن۔یہ ظن صادق ہے۔اورجو ممنوع ہے وہ علم غیب کا ادعاء ہےاورظاہر ہے کہ ظن غیب کا ادعاء حرام ہے کفر نہیں بخلاف علم غیب کے ادعاء کے اھ۔بحر میں زائد ہے کہ کیا تم نہیں دیکھتے کہ نکاح محرم کے بارے میں مشائخ نے کہا ہے کہ اگر اس کو حلال کا ظن تھا تو بالاجماع حد نہیں لگائی جائیگی بلکہ تعزیر لگائی جائے گیجیسا کہ ظہیریہ وغیرہ میں ہے۔ا س کی تکفیر کا قول کسی نے نہیں کیایونہی اس کی نظائر میں ہے۔(ت)
توکیونکر ممکن ہے کہ علماء باوصف ان تصریحات کے کہ ایك احتمال اسلام بھی نافی کفر ہے جہاں بکثرت احتمالات اسلام موجودہیں۔حکم کفر لگائیں لاجرم اس سے مرادہی خاص احتمال کفر ہے مثل ادعائے علم ذاتی وغیرہ ورنہ یہ اقوال آپ ہی باطل اور ائمہ کرام کی اپنی ہی تحقیقات عالیہ کے مخالف ہوکر خود ذاہب و زائل ہوں گےاس کی تحقیق جامع الفصولین ورد المحتار و حاشیہ علامہ نوح و ملتقط وفتاوی حجۃ وتاتار خانیہ مجمع الانھرو حدیقہ ندیہ وسل الحسام وغیر ہا کتب میں ہے۔نصوص عبارات رسائل علم غیب مثل اللولؤ المکنون
حوالہ / References ردالمحتار کتاب الحدود باب الوط ء الذی یوجب الحدود الخ داراحیاء التراث العربی بیروت ۳ /۱۵۴
البحر الرائق کتاب الحدود باب الوطء الذی یوجب الحدودالخ داراحیاء التراث العربی بیروت۵/۱۶
#18372 · رسالہ تمھیدِ ایمان بآیاتِ قرآن ۱۲۲۶ھ
وغیرہا میں ملاحظہ ہوںوباﷲالتوفیقیہاں صرف حدیقہ ندیہ شریف کے یہ کلمات شریفہ بس ہیں:
جمیع ما وقع فی کتب الفتاوی من کلمات الکفر التی صرح المصنفون فیھا بالجزم بالکفریکون الکفر فیھا محمولاعلی ارادۃ قائلھامعنی عللوا بہ الکفر و اذا لم تکن ارادۃ قائلھا ذلك فلا کفر اھ مختصرا۔ یعنی کتب فتاوی میں جتنے الفاظ پر حکم کفر کاجزم کیا ہے ان سے مراد وہ صورت ہے کہ قائل نے ان سے پہلوئے کفر مراد لیا ہوورنہ ہرگز کفر نہیں۔
ضروری تنبیہ:احتمال وہ معتبر ہے جس کی گنجائش ہو صریح بات میں تاویل نہیں سنی جاتی ور نہ کوئی بات بھی کفر نہ رہے۔مثلا زید نے کہا خدا دو۲ہیںاس میں یہ تأویل ہوجائے کہ لفظ خدا سے بحذف مضاف حکم خدا مراد ہے یعنی قضاء دو ہیںمبرم و معلق۔جیسے قرآن عظیم میں فرمایا:
" الا ان یاتیہم اللہ" ای امر اللہ۔ مگر یہ کہ انکے پاس آئے الله تعالی یعنی الله تعالی کا امر۔(ت)
عمرو کہے میں رسول اﷲ ہوںاس میں یہ تاویل گڑھ لی جائے کہ لغوی معنی مراد ہیں یعنی خدا ہی نے اس کی روح بدن میں بھیجیایسی تاویلیں زنہار مسموع نہیں۔شفاء شریف میں ہے:
ادعاؤہ التاویل فی لفظ صراح لا یقبل ۔ صریح لفظ میں تاویل کا دعوی نہیں سنا جاتا۔
شرح شفاء قاری میں ہے:
ھو مردود عند القواعد الشرعیۃ ۔ ایسا دعوی شریعت میں مردو د ہے۔
نسیم الریاض میں ہے:
لایلتفت لمثلہ و یعد ھذیانا ۔ ایسی تاویل کی طرف التفات نہ ہوگااور ہذیان سمجھی جائے گی۔
فتاوی خلاصہ و فصول عمادیہ جامع الفصولین و فتاوی ہندیہ وغیر ہا میں ہے:
حوالہ / References الحدیقۃ الندیۃ شرح الطریقۃ المحمدیۃ والاستخفاف بالشریعۃ کفر الخ مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۱ /۳۰۴
القرآن الکریم ۲ /۲۱۰
الشفاء بتعریف حقو ق المصطفی القسم الرابع الباب الاول المکتبۃ الشرکۃ الصحافیۃ ۲ /۲۰۹و۲۱۰
شرح الشفاء لمنلا علی القاری القسم الرابع الباب الاول دارالکتب العلمیۃ بیروت ۲ /۳۹۶
نسیم الریاض القسم الرابع الباب الاول مرکز اہلسنت برکات رضا گجرات الہند ۴ /۳۴۳
#18373 · رسالہ تمھیدِ ایمان بآیاتِ قرآن ۱۲۲۶ھ
واللفظ للعمادی قال انا رسول الله او قال بالفارسیۃ من پیغمبرم یرید بہ من پیغام می برم یکفر ۔ عمادی کے الفاظ ہیں کوئی شخص کہے ''میں الله کا رسول ہوں ''یافارسی میں کہے ''میں پیغمبرہوں''اورمراد یہ لے کہ میں پیغام لے جاتا ہوں قاصد ہوں تو وہ کافر ہوجائے گا۔(ت)
یہ تاویل نہ سنی جائے گی فاحفظ(تواسے حفظ کرلیجئے۔)
مکرچہارم:انکاریعنی جس نے ان بدگویوں کی کتابیں نہ دیکھیں اس کے سامنے صاف مکر جاتے ہیں کہ ان لوگوں نے یہ کلمات کہیں نہ کہے اور جو ان کی چھپی ہوئی کتابیںتحریریں دکھادیتا ہے۔اگر ذی علم ہوا توناك چڑھاکر منہ بناکر چل دئے یا آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بکمال بے حیائی صاف کہہ دیا کہ آپ معقول بھی کر دیجئے تومیں وہی کہے جاؤں گااور بیچارہ بے علم ہوا تو اس سے کہہ دیا ان عبارتوں کا یہ مطلب نہیں اورآخر میں ہے کیا یہ در بطن قائل اس کے جواب کو وہی آیت کریمہ کافی ہےکہ:
" یحلفون باللہ ما قالوا ولقد قالواکلمۃ الکفر وکفروا بعد اسلمہم" ۔ خدا کی قسم کھاتے ہیں کہ انہوں نے نہ کہا حالانکہ بے شك ضرور وہ یہ کفر کے بول بو لے اور مسلمان ہوئے پیچھےکافر ہوگئے۔
ع ہوتی آئی ہے کہ انکار کیا کرتے ہیں
ان لوگوں کی وہ کتابیں عــــــہ۱ جن میں کلمات کفریہ ہیں مدتوں سے انہوں نے خود اپنی زندگی میں چھا پ کر شائع کیں اور ان میں بعض دو دوبار عــــــہ۲ چھپیں مدتہامدت سے علمائے اہلسنت نے ان کے ردچھاپےمواخذے کئے وہ فتوے عــــــہ۳ جس میں اﷲ تعالی کو صاف صاف کا ذب جھوٹا مانا ہے اور جس کی اصل مہری و دستخطی اس وقت تك محفوظ ہے اور اس کے فوٹو بھی لئے گئے جن میں سے ایك فوٹو کہ علمائے
عــــــہ۱:یعنی براہین قاطعہ وحفظ الایمان وتحذیرالناس وکتب قادیانی وغیرہ ۱۲کاتب عفی عنہ
عــــــہ۲:جیسے براہین قاطعہ وحفظ الایمان ۱۲کاتب عفی عنہ
عــــــہ۳:یعنی فتوائے گنگوہی صاحب ۱۲کاتب عفی عنہ
حوالہ / References الفتاوی الھندیۃ بحوالۃ الفصول العمادیۃ کتاب السیر الباب التاسع نورانی کتب خانہ پشاور ۲ /۲۶۳
القرآن الکریم ۹ /۷۴
#18374 · رسالہ تمھیدِ ایمان بآیاتِ قرآن ۱۲۲۶ھ
حرمین شریفین کو دکھانے کے لئے مع دیگرکتب دشنامیاں گیا تھا سرکار مدینہ طیبہ میں بھی موجودہے۔یہ تکذیب خدا کا ناپاك فتوی اٹھارہ برس ہوئے ربیع الاخر ۱۳۰۸ھ میں رسالہ صیان الناس کے ساتھ مطبع حدیقۃ العلوم میرٹھ میں مع رد کے شائع ہوچکا پھر۱۳۱۸ ھ مطبع گلزار حسنی بمبئی میں اس کا اور مفصل رد چھپاپھر ۱۳۲۰ ھ میں پٹنہ عظیم آباد مطبع تحفہ حنفیہ میں اس کا اور قاہر رد چھپا اور فتوے دینے والاجمادی الآخر ہ ۱۳۲۳ھ میں مرااورمرتے دم تك ساکت ر ہا نہ یہ کہا کہ وہ فتوی میرا نہیں حالانکہ خود چھاپی ہوئی کتابو ں سے فتوی کا انکار کردینا سہل تھانہ یہی بتایا کہ مطلب وہ نہیں جو علمائے اہل سنت بتارہے ہیں بلکہ میرا مطلب یہ ہےنہ کفر صریح کی نسبتکوئی سہل بات تھی جس پر التفات نہ کیا۔زید سے اس کا ایك مہری فتوی اس کی زندگی و تندرستی میں علانیہ نقل کیا جائے اور وہ قطعا یقینا صریح کفر ہو اور سالہاسال اس کی اشاعت ہوتی رہےلوگ اس کا ردچھاپا کریںزید کو اس کی بنا ء پر کافربتایا کریںزید اس کے بعد پندرہ برس جئے اور یہ سب کچھ دیکھے سنے اور اس فتوی کی اپنی طرف نسبت سے انکار اصلا شائع نہ کرے بلکہ دم سادھے رہے یہاں تك کہ دم نکل جائےکیا کوئی عاقل گما ن کرسکتا ہے کہ اس نسبت سے اسے انکار تھا یا اس کا مطلب کچھ اور تھا اور ان میں کے جو زندہ ہیں آج کے دم تك ساکت ہیںنہ اپنی چھاپی کتابوں سے منکرہوسکتے ہیں نہ اپنی دشناموں کااورمطلب گھڑ سکتے ہیں۔۱۳۲۰ھ میں ان کے تمام کفریات کا مجموع یکجائی رد شائع ہوا۔پھر ان دشنامیوں کے متعلقکچھ عمائد مسلمین علمی سوالات ان میں عــــــہ کے سرغنہ کے پاس لے گئےسوالوں پر جو حالت سراسیمگی بے حد پیدا ہوئیدیکھنے والوں سے اس کی کیفیت پوچھیئے مگر اس وقت بھی نہ ان تحریرات سے انکار ہوسکا نہ کوئی مطلب گڑھنے پر قدرت پائی بلکہ کہاتو یہ کہ'' میں مباحثہ کے واسطے نہیں آیانہ مباحثہ چاہتا ہوںمیں اس فن میں جاہل ہو ں اور میرے اساتذہ بھی جاہل ہیں معقول بھی کردیجئے میں تو وہی کہے جاؤں گا۔''وہ سوالات اور اس واقعہ کا مفصل ذکر بھی جبھی ۱۵جمادی الآخرۃ ۱۳۲۳ھ کوچھاپ کر سرغنہ و اتباع سب کے ہاتھ میں دے دیاگیااسے بھی چوتھا سال ہے صدائے برنخاست۔ان تمام حالات کے بعد وہ انکاری مکر ایسا ہی ہے کہ سرے سے یہی کہہ دیجئے کہ اﷲ ورسول کو یہ دشنام دہندہ لوگ دنیا میں پیدا ہی نہ ہوئےیہ سب بناوٹ ہے۔اس کا علاج کیا ہوسکتاہےاﷲتعالی حیادے۔
مکر پنجم:جب حضرات کو کچھ بن نہیں پڑتیکسی طرف مفر نظر نہیں آتی اور یہ توفیق اﷲ واحدقہار
عــــــہ:یعنی تھانوی صاحب ۱۲کاتب عفی عنہ۔
#18375 · رسالہ تمھیدِ ایمان بآیاتِ قرآن ۱۲۲۶ھ
نہیں دیتا کہ توبہ کریں اﷲ تعالی اور محمد رسول اﷲ صلی الله تعالی علیہ وسلم کی شان میں جو گستاخیاں بکیںجو گالیاں دیںان سے باز آئیں جیسے گالیاں چھاپیں ان سے رجوع کا بھی اعلان دیں کہ رسول اﷲ صلی الله تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اذا عملت سیئۃ فاحدث عندھا توبۃ السر بالسر و العلانیۃ بالعلانیۃ۔رواہ الامام احمد فی الزھد و الطبرانی فی الکبیر والبیہقی فی الشعب عن معاذ بن جبل رضی الله تعالی عنہ بسند حسن جید۔ جب توبدی کرے تو فورا توبہ کرخفیہ کی خفیہ اور علانیہ کی علانیہ (اس کو امام احمد نے زہد میںطبرانی نے کبیر میں اوربیہقی نے شعب میں معاذ بن جبل رضی الله تعالی عنہ سے بسند حسن جید روایت کیا۔ت)
اور بفحوائے کر یمہ " یصدون عن سبیل اللہ ویبغونہا عوجا " (الله کی راہ سے روکتے ہیں اور اس سے کجی چاہتے ہیں۔ت) راہ خدا سے روکنا ضرور۔نا چار عوام مسلمین کو بھڑ کانے اور د ن دہاڑے ان پر اندھیر ی ڈالنے کو یہ چال چلتے ہیں کہ علمائے اہل سنت کے فتوائے تکفیر کا کیا اعتبار یہ لوگ ذرہ ذرہ سی با ت پر کافر کہہ دیتے ہیںان کی مشین میں ہمیشہ کفر ہی کے فتوے چھپا کرتے ہیں۔اسمعیل دہلوی کو کافر کہہ دیامولوی اسحق صاحب کو کہہ دیامولوی عبدالحی صاحب کو کہہ دیاپھرجن کی حیا اور بڑھی ہوئی ہے وہ اتنا اور ملاتے ہیں کہ معاذ اﷲ حضرت شاہ عبدالعزیزصاحب کو کہہ دیاشاہ ولی اﷲ صاحب کو کہہ دیاحاجی امداد اﷲصاحب کو کہہ دیامولانا شاہ فضل الرحمن صاحب کو کہہ دیاپھر جو پورے ہی حد حیا سے اونچا گزرگئے وہ یہاں تك بڑھتے ہیں کہ عیاذاﷲ عیاذاباﷲ حضرت شیخ مجدد الف ثانی رحمۃ اﷲ علیہ کو کہہ دیا۔غرض جسے جس کا ز یادہ معتقد پایا اس کے سامنے اسی کا نام لے دیا کہ انہوں نے اسے کافر کہہ دیا یہاں تك کہ ان میں کے بعض بزرگواروں نے مولانا مولوی شاہ محمد حسین صاحب الہ آبادی مرحوم و مغفور سے جاکر جڑدی کہ معاذ اﷲ معاذ اﷲ معاذ اﷲ حضر ت سید ناشیخ اکبر محی الدین ابن عربی قدس سرہ کو کافر کہہ دیا۔مولانا کو اﷲتعالی جنت عالیہ عطافر مائے۔انہوں نے آیت کریمہ
حوالہ / References الزھد لاحمد بن حنبل حدیث ۱۴۱ دارالکتب العربی بیروت ص۴۹،لمعجم الکبیر حدیث ۳۳۱ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۲۰ /۱۵۹
القرآن الکریم ۷ /۴۵
#18376 · رسالہ تمھیدِ ایمان بآیاتِ قرآن ۱۲۲۶ھ
" ان جاءکم فاسق بنبا فتبینوا" ۔(اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبرلائے تو تحقیق کرلو۔ت)پر عمل فرمایا۔خط لکھ کر دریافت کیا جس پر یہاں سے رسالہ انجاء البری عن وسواس المفتری لکھ کر ارسال ہو ا اور مولانا نے مفتری کذاب پر لاحو ل شریف کا تحفہ بھیجا غرض ہمیشہ ایسے ہی افتراء اٹھایاکرتے ہیں جس کا جواب وہ ہے جو تمہارا رب عزوجل فرماتاہے:
" انما یفتری الکذب الذین لا یؤمنون" ۔ جھوٹے افتراء وہی باندھتے ہیں جو ایمان نہیں رکھتے۔
اور فر ماتا ہے:
" فنجعل لعنت اللہ علی الکذبین﴿۶۱﴾" ۔ ہم اﷲکی لعنت ڈالیں جھوٹوں پر۔
مسلمانو! اس مکر سخیف وکید ضعیف کا فیصلہ کچھ دشوار نہیںان صاحبو ں سے ثبو ت مانگوکہ کہہ دیا کہہ دیافرماتے ہوکچھ ثبوت بھی رکھتے ہوکہاں کہہ دیا کس کتابکس رسالےکس فتوےکس پرچے میں کہہ دیاہاں ہاں ثبوت رکھتے ہو تو کس دن کے لئے اٹھا رکھاہے دکھاؤ اور نہیں دکھاسکتے اور اﷲجانتا ہے کہ نہیں دکھاسکتے تو دیکھو قرآن عظیم تمہارے کذاب ہونے کی گواہی دیتا ہے۔مسلمانو! تمہارا رب عزوجل فرماتاہے:
" فاذ لم یاتوا بالشہداء فاولئک عند اللہ ہم الکذبون ﴿۱۳﴾ " ۔ جب ثبوت نہ لاسکیں تو اﷲکے نزدیك وہی جھوٹے ہیں۔
مسلمانو! آزمائے کو کیا آزمانابارہاہوچکا ان حضرا ت نے بڑے زورو شور سے یہ دعوے کئے اور جب کسی مسلمان نے ثبوت مانگافورا پیٹھ پھیر گئے اور پھرمنہ نہ دکھاسکے مگر حیااتنی ہے کہ وہ رٹجو منہ کو لگ گئی ہےنہیں چھوڑتےاور چھوڑیں کیونکر کہ مرتا کیانہ کرتااب خدا اور رسول کو گالیاں دینے والوں کے کفرپر پر دہ ڈالنے کا آخری حیلہ یہی رہ گیا ہے کہ کسی طرح عوام بھائیوں کے ذہن میں جم جائے کہ علمائے اہل سنت یونہی بلاوجہ لوگوں کو کافر کہہ دیا کر تے ہیں ایسا ہی ان دشنامیوں کو بھی کہہ دیا ہوگا۔مسلمانو !ان مفتریوں کے پاس ثبوت کہاں سے آیا کہ من گھڑت کا ثبوت ہی کیا۔"و ان اللہ
#18377 · رسالہ تمھیدِ ایمان بآیاتِ قرآن ۱۲۲۶ھ
لا یہدی کید الخائنین ﴿۵۲﴾" اور الله دغابازوں کا مکر نہیں چلنے دیتا۔(ت) ان کا ادعائے باطل تو اسی قد ر سے باطل ہوگیا۔ تمہارا رب عزوجل فرماتاہے:
" قل ہاتوا برہنکم ان کنتم صدقین﴿۱۱۱﴾" ۔ (فرماؤ)لاؤ اپنی برھان اگر سچے ہو۔
اس سے زیادہ کی ہمیں حاجت نہ تھی مگر بفضلہ تعالی ہم ان کی کذابی کا وہ روشن ثبوت دیں کہ ہر مسلمان پران کا مفتری ہونا آفتاب سے زیادہ ظاہر ہوجائے۔ثبوت بھی بحمدہ تعالی تحریریوہ بھی چھپا ہواوہ بھی نہ آج کابلکہ سالہاسال کاجن جن کی تکفیر کا اتہام علمائے اہل سنت پر رکھا ان میں سب سے زیادہ گنجائش اگر ان صاحبوں کو ملتی تو اسمعیل دہلوی میں کہ بیشك علمائے اہلسنت نے اس کے کلام میں بکثرت کلمات کفریہ ثابت کئے اور شائع فرمائے بایں ہمہ اولا سبحان السبوح عن عیب کذب مقبوح(۱۳۰۷ھ)دیکھئے کہ بار اول(۱۳۰۹ھ)میں لکھنؤ مطبع انوار محمدی میں چھپا جس میں بد لا ئل قاہر ہ دہلوی مذکوراور اس کے اتباع پر پچھتر ۷۵ وجہ سے لزوم کفرثابت کرکے صفحہ ۹۰ پر حکم اخیر یہی لکھا کہ علمائے محتاطین انہیں کافر نہ کہیں یہی صواب ہے و ھو الجواب و بہ یفتی و علیہ الفتوی و ھو المذھب و علیہ الاعتماد و فیہ السلامۃ و فیہ السداد ۔یعنی یہی جواب ہے اور اسی پر فتوی ہو اور اسی پر فتوی ہے اور یہی ہمار ا مذہب اور اسی پر اعتماد اور اسی میں سلامتی اور اسی میں استقامت۔
ثانیا:"الکوکبۃ الشہابیۃ فی کفریات ابی الوھابیۃ(۱۳۱۲ھ)" دیکھئے جو خاص اسمعیل دہلوی اور اس کے متبعین ہی کے رد میں تصنیف ہوا اوربار اول شعبان ۱۳۱۶ھ میں عظیم آباد مطبع تحفہ حنفیہ میں چھپا۔جس میں نصوص جلیلہ قرآن مجید واحادیث صحیحہ وتصریحات ائمہ سے بحوالہ صفحات کتب معتمدہ اس پر ستر۷۰ وجہ بلکہ زائد سے لزوم کفرثابت کیا اور بالآخر یہی لکھا(ص ۶۲)ہمارے نزدیك مقام احتیاط میں اکفار سے کف لسان ماخوذ و مختار ومناسب والله سبحانہ و تعالی اعلم ۔
حوالہ / References القرآن الکریم ۱۲ /۵۲
القرآن الکریم ۲ /۱۱۱
سبحٰن السبوح عن عیب کذب مقبوح دارالاشاعت جامعہ گنج بخش داتا دربار لاہور ص۱۰۳
الکوکبۃ الشہابیۃ فی کفریات ابی الوھابیۃ رضا اکیڈمی بمبئی انڈیاص۶۲
#18378 · رسالہ تمھیدِ ایمان بآیاتِ قرآن ۱۲۲۶ھ
ثالثا"سل السیوف الھندیۃ علی کفریات بابا النجدیۃ(۱۳۱۱ھ)"دیکھئے کہ صفر ۱۳۱۶ھ کو عظیم آباد میں چھپااس میں اسمعیل دہلوی او ر اس کے متبعین پر بوجوہ قاہرہ لزوم کفر کا ثبوت دے کر صفحہ ۲۱۲۲ پر لکھا یہ حکم فقہی متعلق بہ کلمات سفہی تھا مگر اﷲ تعالی کی بے شمار رحمتیںبے حد بر کتیںہمارے علمائے کرام پر کہ یہ کچھ دیکھتے۔اس طائفہ کے پیر سے ناروا بات پر سچے مسلمانوں کی نسبت حکم کفرو شرك سنتے ہیںبایں ہمہ نہ شدت غضب دامن احتیاط ان کے ہاتھ سے چھڑاتی ہےنہ قوت انتقام حرکت میں آتیوہ اب تك یہی تحقیق فرمارہے ہیں کہ لزوم و التزام میں فرق ہے اقوال کاکلمہ کفر ہونا اور باتاور قائل کو کافر مان لینا اور باتہم احتیاط برتیں گےسکوت کریں گےجب تك ضعیف ساضعیف احتمال ملے گا حکم کفر جاری کرتے ڈریں گے اھ مختصرا۔
رابعا:ازالۃ العاربحجر الکرائم عن کلاب النار۱۳۱۶ھ دیکھئے کہ بار اول ۱۳۱۷ھ کو عظیم آباد میں چھپااس میں صفحہ ۱۰ پر لکھا ہم اس با ب میں قول متکلمین اختیار کرتے ہیں ان میں جو کسی ضروری دین کا منکر نہیں نہ ضروری دین کے کسی منکر کو مسلمان کہتاہے اسے کافر نہیں کہتے ۔
خامسا: اسمعیل دہلوی کو بھی جانے دیجئےیہی دشنامی لوگ جن کے کفر پر اب فتوی دیا ہے جب تك ان کی صریح دشنامیوں پر اطلاع نہ تھیمسئلہ امکان کذب کے باعث ان پراٹھتر۷۸ وجہ سے لزوم کفر ثابت کرکے'' سبحان السبوح'' میں بالآخر صفحہ ۸۰ طبع اول پر یہی لکھا کہ حاشاﷲ حاشاﷲ ہزار ہز ار بار حاش ﷲ میں ہرگز ان کی تکفیر پسند نہیں کرتاان مقتدیوں یعنی مد عیان جدید عــــــہ کو تو ابھی تك مسلمان ہی جانتا ہوں اگر چہ ان کی بدعت و ضلالت میں شك نہیں اور امام الطائفہ(اسمعیل دہلوی)کے کفر پر بھی حکم نہیں کرتا کہ ہمیں ہمارے نبی نے اہل لا الہ الا اﷲ کی تکفیر سے منع فرمایا ہے جب تك وجہ کفرآفتاب سے زیادہ روشن نہ ہوجائے اور حکم اسلام کے لئے اصلا کوئی ضعیف سا ضعیف محمل بھی باقی نہ رہے۔فان الاسلام یعلو ولا یعلی علیہ ۔ (اس لئے کہ اسلام غالب ہے مغلوب نہیں ہے۔ت)
عــــــہ:گنگوہی وانبھٹی اور انکے اذباب دیوبندی ۱۲کاتب عفی عنہ
حوالہ / References سل السیوف الہندیۃ علی کفریات بابا النجدیۃ رضا اکیڈمی انڈیا ص۲۱و۲۲
ازالۃ العار بحجر الکرائم من کلاب النار رضا اکیڈمی بمبئی انڈیاص۱۸
سبحٰن السبوح عن عیب کذب مقبوح دارالاشاعت جامعہ گنج بخش لاہور ص۹۰ و ۹۱
#18379 · رسالہ تمھیدِ ایمان بآیاتِ قرآن ۱۲۲۶ھ
مسلمانو ! مسلمانو! تمہیں اپنا دین وایمان اور روز قیامت و حضو ر بارگا ہ رحمن یاددلاکر استفسارہے کہ جس بندہ خدا کی دربارہ تکفیر یہ شدید احتیاط یہ جلیل تصریحات اس پر تکفیر تکفیرکا افتراء کتنی بے حیائیکیسا ظلمکتنی گھنونیناپاك با تمگرمحمد رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں اور وہ جو کچھ فر ماتے ہیں قطعا حق فرماتے ہیں اذا لم تستحی فاصنع ما شئت ۔جب تجھے حیا نہ رہے تو جو چاہے کر:
ع بے حیا باش و آنچہ خواہی کن
(بیحیا ہو جا پھر جو چاہے کر۔ت)
مسلمانو یہ روشن ظاہر واضح قاہر عبارات تمہارے پیش نظرہیں جنہیں چھپے ہوئے دس۱۰ دس ۱۰ اور بعض کو سترہ۱۷ او ر تصنیف کو انیس ۱۹ سال ہوئے(اور ان دشنامیوں کی تکفیرتو ا ب چھ سال یعنی ۱۳۲۰ھ سے ہوئی ہے(جب سے المعتمدالمستند چھپی)ان عبارات کو بغورنظر فرماؤ اور اﷲ و رسول کے خوف کو سامنے رکھ کر انصاف کرو یہ عبارتیں فقط ان مفتریوں کا افتراء ہی رد نہیں کرتیں بلکہ صراحۃ صاف صاف شہادت دے رہی ہیں کہ ایسی عظیم احتیاط والے نےہرگز ان دشنامیوں کوکا فر نہ کہا جب تك یقینیقطعیواضحروشنجلی طور سے ان کا صریح کفرآفتاب سے زیادہ ظاہر نہ ہولیا جس میں اصلااصلاہر گزہرگزکوئی گنجائشکوئی تأویل نہ نکل سکی کہ آخر یہ بندہ خدا وہی توہے جو انکے اکابر پر ستر۷۰ستر۷۰ وجہ سے لزوم کفر کاثبوت دے کر یہی کہتا ہے کہ ہمیں ہمارے نبی نے اہل لاالہ الااﷲکی تکفیر سے منع فر مایا ہے جب تك کہ وجہ کفر آفتاب سے زیادہ روشن نہ ہوجائے اور حکم اسلام کے لئے اصلا کوئی ضعیف ساضعیف محمل باقی نہ رہے ۔یہ بندہ خدا وہی تو ہے جوخود ان دشنامیوں کی نسبت(جب تك ان کی دشنامیوں پر اطلاع یقینی نہ ہوئی تھی)اٹھتر۷۸ وجہ سے بحکم فقہائے کرام لزوم کفر کا ثبوت دے کریہی لکھ چکاتھا کہ ہزار ہزاربار حاشﷲ میں ہر گزانکی تکفیر پسند نہیں کرتا جب کیاان سے کوئی ملاپ تھا اب رنجش ہوگئی جب ان سے جائدادکی کوئی شرکت نہ تھی اب پیدا ہوئی حاشاﷲ مسلمانوں کا علاقہ محبت و عداوت
حوالہ / References المجعم الکبیر حدیث۶۵۸المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۱۷ /۲۳۷
سبحٰن السبوح عن عیب کذب مقبوح دارالاشاعت جامعہ گنج بخش لاہور ص۹۱
سبحٰن السبوح عن عیب کذب مقبوح دارالاشاعت جامعہ گنج بخش لاہور ص۹۰ و ۹۱
#18380 · رسالہ تمھیدِ ایمان بآیاتِ قرآن ۱۲۲۶ھ
صرف محبت و عداوت خدا ورسول ہےجب تك ان دشنام دہوں سے دشنام صادر عــــــہ۱ نہ ہوئی یا اﷲ ورسول کی جنا ب میں ان کی دشنام عــــــہ۲ نہ دیکھی سنی تھیاس وقت تك کلمہ گوئی کا پاس لازم تھاغایت احتیاط سے کام لیا حتی کہ فقہائے کرام کے حکم سے طرح طرح ان پر کفر لازم تھا مگر احتیاطا ان کا ساتھ نہ دیا اورمتکلمین عظام کا مسلك اختیار کیا۔جب صاف صریح انکار ضروریات دین ودشنام دہی رب العلمین وسید المرسلین صلی الله تعالی علیہ وعلیہم اجمعین آنکھ سے دیکھی تو اب بے تکفیر چارہ نہ تھا کہ اکابر ائمہ دین کی تصریحیں سن چکے کہ من شك فی عذابہ وکفرہ فقدکفر ۔جوایسے کے
عــــــہ۱:جیسے تھانوی صاحب کہ محمد رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم کی جناب میں ان کی سخت گالی ۱۳۱۹ھ میں چھپی اس سے پہلے اپنے آپ کو سنی ظاہر کرتے بلکہ ایك وقت وہ تھا کہ مجلس میلاد مبارك وقیام میں شریك اہل اسلام ہوتے ۱۲کاتب عفی عنہ۔
عــــــہ۲:جیسے گنگوہی صاحب وانبیٹھی صاحب کہ ان کے اتنے قول کی نسبت میرٹھ سے سوال آیا تھا کہ خدا جھوٹا ہوسکتا ہے اس کے بعد معلوم ہوا کہ شیطان کا علم رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم کے علم سے زیادہ بتاتے ہیں۔پھرگنگوہی صاحب کا وہ فتوی کہ خدا جھوٹا ہے جو اسے جھوٹا کہے مسلما ن سنی صالح ہے۔جب چھپا ہوا نظر سے گزرا کمال احتیاط یہ کہ دوسروں کا چھپوایا ہوا تھا اس پروہ تیقن نہ کیا جس کی بناپرتکفیر ہوجب وہ اصلی فتوی گنگوہی صاحب کا مہری دستخطی خود آنکھ سے دیکھا اوربار بار چھپنے پر بھی گنگوہی صاحب نے سکوت کیا تو اس کے صدق پر اعتبار کافی ہوا۔یونہی قادیانی دجال کی کتابیں جب تك آپ نہ دیکھیں اس کی تکفیر پر جزم نہ کیا جب تك صرف مہدی یا مثیل مسیح بننے کی خبر سنی تھی جس نے دریافت کیا اتنا ہی کہا کہ کوئی مجنون معلوم ہوتاہےپھر جب امرتسر سے ایك فتو ی اس کی تکفیر کا آیا جس میں اس کی کفریہ عبارتیں بحوالہ صفحات منقول تھیں اس پر بھی اتنا لکھا کہ ''اگر یہ اقوال مرزا کی تحریروں میں اسی طرح ہیں تو وہ یقینا کافر۔ "دیکھو رسالہ السوء والعقاب علی المسیح الکذاب" صفحہ ۱۸ہاں اب جب اس کی کتابیں بچشم خود دیکھیں اس کے کافر مرتد ہونے کا قطعی حکم دیا۱۲کاتب عفی عنہ
حوالہ / References درمختارکتاب الجہاد باب المرتد مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۳۵۶
#18381 · رسالہ تمھیدِ ایمان بآیاتِ قرآن ۱۲۲۶ھ
معذب و کافر ہونے میں شك کرے خود کافر ہے۔اپنا اور اپنے دینی بھائیوں عوام اہل اسلام کا ایمان بچانا ضروری تھا لاجرم حکم کفر دیا اور شائع کیاوذلك جزاء الظلمین۔تمہارا رب عزوجل فرماتاہے:
" و قل جاء الحق و زہق البطل ان البطل کان زہوقا ﴿۸۱﴾" ۔ کہدو کہ آ یا حق اورمٹا باطلبے شك باطل کوضرور مٹنا ہی تھا۔
اور فر ماتاہے:
" لا اکراہ فی الدین قد تبین الرشد من الغی " ۔ دین میں کچھ جبرنہیںحق راہ صاف جدا ہوگئی ہے گمراہی سے۔
یہاں چار۴ مرحلے تھے:
(۱)جو کچھ ان دشنامیوں نے لکھاچھاپا ضرور وہ اﷲ ورسول جل وعلا وصلی الله تعالی علیہ وسلم کی توہین و دشنام تھا۔
(۲)اﷲ ورسول جل وعلا وصلی الله تعالی علیہ وسلم کی توہین کرنےوالا کافرہے۔
(۳)جو انہیں کافر نہ کہےجو ان کا پاس لحاظ رکھے جو ان کی استادی یا رشتے یا دوستی کا خیال کرے وہ بھی ان میں سے ہےان ہی کی طرح کافر ہےقیامت میں ان کے ساتھ ایك رسی میں باندھا جائے گا۔
(۴)جو عذرومکرجہال وضلال یہا ں بیان کرتے ہیں سب باطل و ناروا ا ورپا در ہوا ہیں۔
یہ چاروں بحمد اﷲتعالی بروجہ اعلی واضح روشن ہوگئے جن کے ثبوت قرآن عظیم ہی کی آیات کریمہ نے دیئے۔اب ایك پہلوپر جنت و سعادت سرمدیدوسری طرف شقاوت و جہنم ابدی ہےجسے جو پسند آئے اختیار کرے مگر اتنا سمجھ لوکہ محمد رسول اﷲ کا دامن چھوڑ کر زید و عمر وکا ساتھ دینے والا کبھی فلاح نہ پائے گاباقی ہدایت رب العزت کے اختیار میں ہے۔
بات بحمد اﷲتعالی ہر ذی علم مسلمان کے نزدیك اعلی بد یہیات سے تھی مگرہمارے عوام
#18382 · رسالہ تمھیدِ ایمان بآیاتِ قرآن ۱۲۲۶ھ
بھائیوں کو مہریں دیکھنے کی ضرورت ہوتی ہےمہریں علمائے کرام حرمین طیبین سے زائد کہاں کی ہوں گی جہاں سے دین کا آغاز ہوا اور بحکم احادیث صحیحہ کبھی وہاں شیطان کا دور دورہ نہ ہوگا لہذا اپنے عام بھائیوں کی زیادت اطمینان کو مکہ معظمہ و مدینہ طیبہ کے علمائے کرام و مفتیان عظام کے حضور فتوی پیش ہوا جس خوبی و خوش اسلوبی و جوش دینی سے ان عمائداسلام نے تصدیقیں فرمائیں بحمداﷲتعالی کتاب مستطاب "حسام الحرمین علی منحر الکفر و المین۱۳۲۴ھ"میں گرامی بھائیوں کے پیش نظر اور ہر صفحہ کے مقابل سیلس اردو میں اس کا تر جمہ "مبین احکام و تصدیقات اعلام(۱۳۲۵ھ)" جلوہ گر۔
الہی ! اسلامی بھائیوں کو قبول حق کی توفیق عطافرمااور ضدو نفسانیت یا تیرے اور تیر ے حبیب کے مقابلزید وعمر و کی حمایت سے بچاصدقہ محمد رسول اﷲ صلی الله تعالی علیہ وسلم کی وجاہت کاآمینآمینآمین۔
والحمد ﷲرب العلمین وافضل الصلاۃ واکمل السلام علی سید نا محمد و الہ وصحبہ و حزبہ اجمعین امین
__________________
رسالہ
تمہید ایمان بآیات قرآن
ختم ہوا
____________________
#18383 · رسالہ الامن و العلٰی لناعتی المصطفٰی بدافع البلاء مسمّٰی بہ نام تاریخی اکمال الطامۃ علی شرك سُوی بالامُور العامۃ ۱۳۱۱ھ پوری قیامت ڈھانا (وہابیوں کے اس )شرك پر جو امور عامہ کی طرح (موجود کی ہر قسم پر صادق )ہے
رسالہ
الامن و العلی لناعتی المصطفی بدافع البلاء
کلمہ دافع البلا کے ساتھ مصطفی علیہ الصلوۃ والسلام کی نعت بیان کرنے والوں کے لئے
بلاؤں سے امن اور انکے مرتبے کی بلندی ہے

مسمی بہ نام تاریخی
اکمال الطامۃ علی شرك سوی بالامور العامۃ ۱۳۱۱ھ
پوری قیامت ڈھانا (وہابیوں کے اس )شرك پر جو امور عامہ کی طرح
(موجود کی ہر قسم پر صادق )ہے

بسم الله الرحمن الرحیم ط
مسئلہ ۳۵: از دہلی باڑہ ہند ورائے مرسلہ مولوی محمد کرامت الله خان صاحب عــــــہ ۲۱ جمادی الآخرۃ ۱۳۱۱ ھ
علمائے دین اس مسئلہ میں کیا فرماتے ہیں زید کہتا ہے کہ پڑھنا درود تاج اور دلائل الخیرات کا
عــــــہ:مولانا کرامت الله خاں صاحب خلیفہ حضرت حاجی امداد الله مہاجر مکی رحمۃ الله علیہما
#18384 · رسالہ الامن و العلٰی لناعتی المصطفٰی بدافع البلاء مسمّٰی بہ نام تاریخی اکمال الطامۃ علی شرك سُوی بالامُور العامۃ ۱۳۱۱ھ پوری قیامت ڈھانا (وہابیوں کے اس )شرك پر جو امور عامہ کی طرح (موجود کی ہر قسم پر صادق )ہے
شرك محض اور بدعت سیئہ ہے اور تعلیم اس کی سم قاتل شرك اس لئے کہ درود تاج میں دافع البلاء والوبا ء والقحط والمرض والالم رسول اکرم صلی الله تعالی علیہ وسلم کی شان میں مذکور ہےاور بدعت سیئہ اس لئے کہ یہ درودبعد صدہا سال کے تصنیف ہوئے ہیں۔عمر وجواب میں کہتا کہ ورد اس درود مقبول کا موجب خیر وبرکت اور باعث ازدیاد محبت ہے۔زید عربیت سے جاہل ہے وہ نہیں سمجھتا کہ حضرت صلی الله تعالی علیہ وسلم سبب ہیں دفع بلا کےاگرچہ دافع البلاء حقیقتا خدائے تعالی ہے۔ مختصر المعانی میں انبت الربیع البقل ۔(بہار نے سبزہ اگایا۔ت)کہ بقول مومن مجاز اور بقول کافر حقیقت فرمایا ہے۔علاوہ ازیں " وما کان اللہ لیعذبہم وانت فیہم " (الله تعالی ان کافروں پر عذاب نہ فرمائے گا جب تك اے محبوب تو ان میں تشریف فرما ہے۔ت)اور" وما ارسلنک الا رحمۃ للعلمین ﴿۱۰۷﴾ " (ہم نے نہ بھیجا تمھیں مگر رحمت سارے جہان کے لئے۔ ت)ہمارے دعوئے پر دو بزرگ گواہ ہیںاور کیا سال ولادت حضرت رحمت عالم صلی الله تعالی علیہ وسلم میں قحط عام کی وبا دفع نہیں ہوئیاس کے سوا جبرائیل خلیل کامقولہ قرآن کریم میں اس طرح درج ہے:" لاہب لک غلما زکیا ﴿۱۹﴾" (میں عطا کروں تجھے ستھرا بیٹا۔ت) یہاں بقول زید حضرت جبرائیل بھی معاذ الله مشرك ہوگئے کیونکہ وہ اپنے آپ کو وہاب فرما رہے ہیں۔پس جو جواب زید کی طرف سے ہوگا وہی ہماری طرف سے۔پھر چونکہ یہ درود معمول بہ اکثر علماء ومشائخ عظام ہے پس وہ سب بھی زید کے نزدیك مشرك ہوئے اور طرہ یہ کہ خود زید بھی اس خواہ مخواہ کے شرك سے بچ نہیں سکتا کیونکہ وہ بھی سم عــــــہ کو قاتل اور ادویہ کو دافع درد رافع عشیاں کہتا ہے۔اور حضرت شاہ ولی الله محدث دہلوی قصیدہ اطیب النغم میں آنحضرت صلی الله تعالی علیہ وسلم کو دافع فرما رہے ہیں۔سندیں تو اور بھی ہیں مگر اس مختصر میں گنجائش نہیں۔رہا صد ہا سال کے بعد تصنیف ہونے سے بدعت سیئہ ہونایہ بھی زید کی حماقت پر دال ہے۔خود زید جو
عــــــہ: سم یعنی زہر
حوالہ / References مختصر المعانی،احوال اسناد الخبر،المکتبہ الفاروقیہ ملتان،ص ۸۵
القران الکریم ۸ /۳۳
القرآن الکریم ۲۱ /۱۰۷
القرآن الکریم ۱۹ /۱۹
#18385 · رسالہ الامن و العلٰی لناعتی المصطفٰی بدافع البلاء مسمّٰی بہ نام تاریخی اکمال الطامۃ علی شرك سُوی بالامُور العامۃ ۱۳۱۱ھ پوری قیامت ڈھانا (وہابیوں کے اس )شرك پر جو امور عامہ کی طرح (موجود کی ہر قسم پر صادق )ہے
مولوی اسمعیل صاحب کے خطبے جمعہ میں بر سر منبر پڑھتا ہے اس کے لئے اس کے پاس کوئی حدیث ہے یا وہ زمانہ رسول الله صلی الله تعالی علیہ سلم کی تصنیف ہیں۔سبحان الله ان خطبوں کا پڑھنا(جو صد ہا سال بعد کی تصنیف ہیں)تو زید کے لئے سنت ہو او ر خاصان حق کی تصنیف درود کا پڑھنا بدعت سیئہ ٹھہرےہاں جو صیغے درود کے حضور سرور عالم صلی الله تعالی علیہ وسلم سے منقول ہیں ان کا پڑھنا ہمارے نزدیك بھی افضل وبہتر ہے مگرعلمائے راسخین وفقرائے کاملین نے حالت ذوق وشوق میں جو درود شریف بالفاظ بدیعہ تصنیف فرمائے ہیں جن میں جناب غوث الثقلین محبوب سبحانی بھی شامل ہیں اور حضرت شیخ عبد الحق محدث دہلوی نے جذب القلوب میں درج فرمائے ہیںاور خودحضرت شیخ نے ایك مستقل رسالہ اس بارہ میں تالیف فرمایا ہےاور جتنے درود مشائخ عظام نے تصنیف فرمائے ہیں سب اس میں درج ہیںاور شرح سفر السعادۃ میں ۳۶صیغے رسول خدا سے منقول ہیں باقی صحابہ وتابعین نے زیادہ کئے ہیں۔زید جاہل نے ان سب حضرات کو معاذ الله مشرك بنایا ہے۔اب علمائے اعلام سے استفسار ہے کہ قول زید کا صحیح اور موافق عقائد سلف صالح کے ہے یا عمرو کا یہ تشریح وتفصیل ارشاد ہوالله آپ کو جزائے خیر عنایت فرمائے۔
الجواب:
بسم الله الرحمن الرحیم ط
الحمد لله علی ما علم وھدانا للذی اقوم وسلك بنا السبیل الاسلم وصلی ربنا وبارك وسلم علی دافع البلاء والقحط والمرض والالم سیدنا ومولنا ومالکنا وماونا محمد مالك الارض ورقاب الامم و علی الہ و صحبہ اولی الفضل والفیض والعطاء والجود والکرم امین قال الفقیر المستدفع البلاء من سلامتی والے راستے پر چلایا۔ہمارا پروردگار درود وسلام اور برکت نازل فرمائے بلاوباقحطبیماری اور دکھوں کو دور کرنیوالے ہمارے آقا ومولی ومالك وماوی محمد پرجو زمین اور امتوں کی گردنوں کے مالك ہیںاور آپ کی آل اور آپ کے اصحاب پر جو فضلفیضعطا اور جود وکرم والے ہیںآمین۔ کہتا ہے فقیر عبد المصطفی احمد رضا سنی حنفی قادری
#18386 · رسالہ الامن و العلٰی لناعتی المصطفٰی بدافع البلاء مسمّٰی بہ نام تاریخی اکمال الطامۃ علی شرك سُوی بالامُور العامۃ ۱۳۱۱ھ پوری قیامت ڈھانا (وہابیوں کے اس )شرك پر جو امور عامہ کی طرح (موجود کی ہر قسم پر صادق )ہے
فضل نبیہ العلی الاعلی صلی علیہ الله تعالی عبد المصطفی احمد رضا المحمدی السنی الحنفی القادری البرکاتی البریلوی دفع نبیہ عنہ البلاء ومنح قلبہ النور والجلاء۔ تمام تعریفیں الله تعالی کے لئے ہیں کہ اس نے ہمیں علم عطا فرمایا اور سب سے سیدھی راہ کی ہدایت فرمائی اور ہمیں برکاتی بریلوی جو نبی اعلی کے بلند فضل کے بطفیل مصیبت سے بچنے کا طلب گار ہے۔نبی کریم صلی الله تعالی علیہ والہ وسلم اس مصیبت کو دور فرمائیں اور اس کے دل کو روشنی اور چمك عطا فرمائیں(ت)
یہ مختصرجواب موضع صواب متضمن مقدمہ ودو باب وخاتمہ۔
مقدمہ اتمام الزام وتمہید مرام میں عائدہ قاہرہ وفائدہ زاہرہ پر مشتمل۔
عائدہ قاہرہ
ایھا المسلمون دفع نبیکم عنکم بلاء المجنون وفتنۃ المفتون۔اے مسلمانو تمھارے نبی نے تم سے مجنون کی بلاء اور فتنہ انگیز کا فتنہ دور کردیا ہے۔ت)زید بیقید کے ایسے کلمات کچھ محل تعجب نہیں مذہب وہابیہ کی بنا ہی حتی الامکان حضور سید الانس والجان علیہ وعلی الہ افضل الصلوۃ والسلام کے ذکر شریف مٹانے اور محبوبان خدا جل وعلا وعلیہم الصلوۃ والثناء کی تعظیم قلوب مسلمین سے گھٹانے پر ہے " و سیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون ﴿۲۲۷﴾" (اور اب جانا چاہتے ہیں ظالم کہ کس کروٹ پر پلٹا کھائیں گے۔ت)مگر تعجب ان مسلمانان اہلسنت سے کہ ایسے ناپاك اقوال پر کان دھریںبہت کان کھانے والے دنیا میں ہوئے اور ہوتے رہیں گےمسلمان صحیح العقیدہ ان کی طرف التفات ہی کیوں کریںایسوں کا علاج حضور میں خاموشی اور غیبت میں فراموشیاور اٹھتے بیٹھتے ہر وقت ہر حال اپنے محبوب بے مثال صلی الله تعالی علیہ وسلم کے ذکر پاك کی زیادہ گرمجوشی کہ مخالف خود ہی اپنی آگ میں جل بجھیں گے" قل موتوا بغیظکم ان اللہ علیم بذات الصدور﴿۱۱۹﴾" (تم فرما دو کہ مر جاؤ اپنی گھٹن میںالله خوب جانتا ہے دلوں کی بات۔ت)اس تالفہ کے رد میں اقوال ائمہ وعلماء پیش کرنے کا کوئی محل ہی نہیں کہ یہ تم اپنے اعتقاد سے ائمہ وعلماء کہتے ہو ان کے
حوالہ / References القران الکریم ۲۶ /۲۲۷
القران الکریم ۳ /۱۱۹
#18387 · رسالہ الامن و العلٰی لناعتی المصطفٰی بدافع البلاء مسمّٰی بہ نام تاریخی اکمال الطامۃ علی شرك سُوی بالامُور العامۃ ۱۳۱۱ھ پوری قیامت ڈھانا (وہابیوں کے اس )شرك پر جو امور عامہ کی طرح (موجود کی ہر قسم پر صادق )ہے
نزدیك وہ بھی تمھاری طرح معاذ الله مشرك بدعتی تھےدرود محمود میں کتب وصیغ کثیرہ کی تصنیف واشاعت انھیں نے کی تمھارے پیارے نبی محمد مصطفی دافع البلاء صلی الله تعالی علیہ وسلم کو الله عزوجل کا خلیفہ اکبر ومدد بخش ہر خشك وتر وواسطہ ایصال ہر خیر وبرکت ووسیلہ فیضان ہر جود ورحمت وشافی وکافی وقاسم نعمت وکاشف کرب ودافع زحمت وہی لکھ گئے جس کی تصریحات قاہرہ سے ان کی تصنیفات باہر ہ کے آسمان گونج رہے ہیں۔فقیر غفر الله لہ نے کتاب مستطاب سلطنۃ المصطفی فی ملکوت کل الوری ۱۲۹۷ھ میں بکثرت ارشادات جلیلہ ونصوص جزیلہ جمع کئے جن کے دیکھنے سے بحمد الله ایمان تازہ ہو اور روئے ایقان پر احسان کا غازہ تو ان کے نزدیك حقیقۃ یہ شرك وبدعت تمھیں وہی سکھاگئے آخر ان کا بانی مذہب شیخ نجدی علیہ ما علیہ ڈنکےکی چوٹ کہتا تھا کہ ۶۰۰برس سےجتنے علماء گزرے سب کافر تھے کما ذکرہ المحدث العلامۃ الفقیہ الفھامہ شیخ الاسلام زینت المسجد الحرام سیدی احمد بن زین ابن دحلان المکی قدس سرہ الملکی فی الدرر السنیۃ ۔(جیسا کہ حضرت محدث العلامہ الفقیہ الفہامہ شیخ الاسلام زینت المسجد الحرام سیدی احمد بن زین ابن دحلان المکی قدس سرہ الملکی نے اس کو الدرر السنیۃ میں ذکر کیا۔ت)احادیث دکھانے کا کیا موقع کہ آخر سب کتب حدیث صحاح وسنن ومسانید ومعاجیم وغیرہ حضور والا صلوات الله تعالی وسلامہ علیہ کے بعد تصنیف ہوئیں تو ان کے طور پر معاذالله وہ سب بدعت اور مصنف بدعتی۔رہی آیت کہ رب العزۃ جل وعلا نے بلا تخصیص لفظ وصیغہ ووقت وعدد مطلقا اپنے حبیب صلی الله تعالی علیہ وسلم پر درود وسلام کی طرف بلاتا ہے
" یایہا الذین امنوا صلوا علیہ و سلموا تسلیما ﴿۵۶﴾ " ۔اللھم صل وسلم وبارك علیہ وعلی الہ وصحبہ اجمعین کلما ولع بذکرہ الفائزون ومنع من اکثارہ الھالکون۔ اے ایمان والو ! ان پر درود اور خوب سلام بھیجو۔
اے الله !درود وسلام اوربرکت نازل فرما آپ پر اور آپ کی آل اورآپ کے تمام صحابہ پرجب بھی آپ کے ذکر پرشیفتہ ہوں کامیاب ہونیوالے اوراس کی کثرت سے انکار کریں ہلاك ہونیوالے(ت)
حوالہ / References الدررالسنیۃ فی الرد علی الوہابیہ مکتبہ حقیقۃ دار الشفعۃ استانبول ترکی۔ص۵۲
القران الکریم ۳۳ /۵۶
#18388 · رسالہ الامن و العلٰی لناعتی المصطفٰی بدافع البلاء مسمّٰی بہ نام تاریخی اکمال الطامۃ علی شرك سُوی بالامُور العامۃ ۱۳۱۱ھ پوری قیامت ڈھانا (وہابیوں کے اس )شرك پر جو امور عامہ کی طرح (موجود کی ہر قسم پر صادق )ہے
تو دلائل الخیرات ودرود تاج وغیرہما سب اس حکم جانفزا کے دائرہ میں داخلیہ بھی انہیں مقبول ہوتی نظر نہیں آتی کہ ان کتب وصیغ میں حضور والا دافع البلاء صلی الله تعالی علیہ وسلم کے اوصاف عظیمہ جلیلہ ونعوت کثیرہ جزیلہ ہیں۔
اورانکے امام الطائفہ کا حکم ہے کہ ''جو بشر کی سی تعریف ہو اس میں بھی اختصار کرو" ۔
علاوہ ازیں وظیفہ درود میں صدہا بار نام اقدس لینا ہوگا اوران کا امام لکھ چکا کہ نام جپنا شرك ہے۔اب وہ اپنے امام کی تصریح مانیں یا تمہارے خدا کا اطلاق۔ہاں اگر انہیں کے امام الطائفہ اور اس کے آباؤ اجداد واکابر کی تصانیف دکھاؤ تو شاید کچھ کام چلے کہ امام الطائفہ کو کچھ کہیں تو ایمان کی گت بری بنے اوراس کے اکابر سے مکابر رہیں تو اس سے کیونکر گاڑھی چھنےایسی ہی جگہ پر بدلگامی کا قافیہ تنگ ہوتاہے ہے کہ نہ پائے رفتن نہ جائے ماندن(نہ رہنے کا یارانہ چلنے کی تاب۔ت)مثلا:
اولا:یوں پوچھئے کہ حیادارو!صرف اس جرم پر کہ حضرات علمائے دین مصنفین کتب رحمہم الله تعالی زمانہ اقدس حضور دافع البلاء صلی الله تعالی علیہ وسلم میں نہ تھے انہیں کی کتابیں بدعت اوروہ معاذالله اہل بدعت قرار پائیں گے یایہ حکم امام الطائفہ اور اس کے عم نسب وپدر شریعت جد طریقت جناب مولانا شاہ عبدالعزیز صاحب اوراس کے جد نسب وجد شریعت وفرجد طریقت شاہ ولی الله صاحب اورفرجد نسب وتلمذ وجد الجد بیعت شاہ عبدالرحیم صاحب وغیرہم اکابر وعمائد خاندان دہلی کو بھی شامل ہوگا۔ کیا یہ حضرات زمانہ اقدس میں تھےکیا ان کی کتابیں جبھی تصنیف ہوئی تھیںکیا انہوں نے اپنی تصانیف کے خطبوں میں بیسیوں مختلف صیغوں سے جو درود لکھے ہیں سب بعینہ حضور دافع البلاء صلی الله تعالی علیہ وسلم سے ثابت ہیںاگر ہیں تو بتاد و اورنہیں تو کیا ہٹ دھرمی سینہ زوری ہے کہ انکی تصانیف بدعت اوریہ بدعتی نہ ٹھہریںکیا وحی باطنی اسمعیلی ہمیں یہ حکم تشریعی بھی آچکا ہے کہ یجوز لابائك مالا یجوز لغیرھم(تیرے آباء کے لیے جائز ہے جو ان کے علاوہ کسی کے لیے جائز نہیں۔ت) ان کا امام صاف صاف لکھ چکا کہ بعض غیر انبیاء پر بھی(جن میں اس نے اپنے پیر اورپر دادا کو بھی داخل کیاہے۔)بے وساطت انبیاء وحی باطنی آتی ہے جس میں احکام تشریعی اترتے ہیں وہ ایك جہت سے انبیاء کے پیرو اورایك جہت سے خو د محقق
حوالہ / References تقویۃ الایمان الفصل الخامس فی ردالاشراك الخ مطبع علیمی اندرون لوہاری دروازہ لاہور ص۴۴
#18389 · رسالہ الامن و العلٰی لناعتی المصطفٰی بدافع البلاء مسمّٰی بہ نام تاریخی اکمال الطامۃ علی شرك سُوی بالامُور العامۃ ۱۳۱۱ھ پوری قیامت ڈھانا (وہابیوں کے اس )شرك پر جو امور عامہ کی طرح (موجود کی ہر قسم پر صادق )ہے
ہوتے وہ شاگرد انبیاء بھی ہیں اورہم استاد انبیاء بھیوہ مثل انبیاء معصوم ہیں ۔(دیکھو صراط المستقیم مطبع ضیاء میرٹھ ص۳۸ دو سطر اخیرتا ص۳۹سطر ۱۰۱۱دوسطر اخیر ص ۴۱سطر ۵۶تاص۴۲ سطر ۲و۳۴)گمراہی بد دینی کا منہ کالاپھر نبوت کیا کسی پیڑ کا نام ہےالله کی شان یہ کھلم کھلا اپنے استادوں پیروں کو نبی بنانے والے تو امام اورائمہ شریعتاورعلمائے سنت اس جرم پر کہ صیغہائے درود مصطفی صلی الله تعالی علیہ وسلم کی کیوں کثرت کی معاذالله بدعتی بدنام۔
ثانیا:یہ قہرمانی حکم صرف حضور دافع البلاء صلی الله تعالی علیہ وسلم پر درود میں ہے یا خاندان امام الطائفہ کے ایجادات میں بھی کہ شاہ صاحب کی قول الجمیل جن کے لیے ضامن وکفیل۔اسی قول الجمیل میں اپنے اور اپنے پیران ومشائخ کے آداب طریقت واشغال ریاضت کی نسبت صاف لکھا کہ ہماری صحبت وسلوك آمیزی تو نبی صلی الله تعالی علیہ وسلم تك متصل ہے۔وان لم یثبت تعین الاداب ولا تلك الاشغال اگرچہ نہ ان خاص آداب کا نبی صلی الله تعالی علیہ وسلم سے ثبوت ہے نہ ان اشغال کا۔شاہ عبدالعزیز صاحب حاشیہ میں فرماتے ہیں:
''اسی طرح پیشوا یان طریقت نے جلسات اور ہیأت واسطے اذکار مخصوصہ کے ایجا کئے '' ۔
مولوی خرمعلی مصنف نصحیۃ المسلمین نے اسکے ترجمہ شفاء العلیل میں شاہ صاحب کا یہ قول نقل کر کے لکھا ہے:''یعنی ایسے امور کو مخالف شرع یا داخل بدعات سیئہ نہ سمجھنا چاہیے جیسا کہ بعض کم فہم سمجھتے ہیں'' ۔
اورسنئے اسی قول الجمیل میں اشغال مشائخ نقشبندیہ قدست اسرارہم تصور شیخ کی ترکیب لکھی ہے کہ:
حوالہ / References صراط مستقیم حب ایمانی کا دوسرا ثمرہ کلام کمپنی تیرتھ داس روڈ کراچی ص۶۵،صراط مستقیم(فارسی)حب ایمان کا دوسرا ثمرہ المکتبۃ السلفیہ شیش محل روڈ لاہور ص۳۴
القول الجمیل گیارہویں فصل ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۷۳
شفاء العلیل مع القول الجمیل چوتھی فصل ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۵۱
شفاء العلیل مع القول الجمیل چوتھی فصل ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۵۲
#18390 · رسالہ الامن و العلٰی لناعتی المصطفٰی بدافع البلاء مسمّٰی بہ نام تاریخی اکمال الطامۃ علی شرك سُوی بالامُور العامۃ ۱۳۱۱ھ پوری قیامت ڈھانا (وہابیوں کے اس )شرك پر جو امور عامہ کی طرح (موجود کی ہر قسم پر صادق )ہے
اذا غاب الشیخ عنہ یخیل صورتہ بین عینیہ بوصف المحبۃ والتعظیم فتفید صورتہ ما تفید صحبتہ ۔ شیخ غائب ہوتو اس کی صورت اپنے پیش نظر محبت وتعظیم کے ساتھ تصور کرے جو فائدے اس کی صحبت دیتی تھی اب یہ صورت دے گی۔
شفاء العلیل میں مولانا شاہ عبدالعزیز صاحب نے نقل کیا:''حق یہ ہے کہ سب راہوں سے یہ راہ زیادہ تر قریب ہے" ۔
مکتوبات مرز ا صاحب جانجاناں میں ہے(جنہیں شاہ ولی الله صاحب اپنے مکتوبات میں نفس ذکیہ قیم طریقہ احمدیہ داعی سنت نبویہ لکھتے ہیں):
دعائے حز ب البحر وظیفہ صبح وشام وختم حضرات خواجگان قدس الله اسرارہم ہر روز بجہت حل مشکلا ت باید خواند ۔ دعائے حزب البحر صبح وشام کا وظیفہ اورحضرات خواجگان قدس الله اسرارہم کا ختم شریف مشکلات کے حل کے لیے ہر روز پڑھنا چاہیے۔(ت)
ذرا اس صبح وشام وہر روز کے الفاظ پر بھی نظر رہے کہ وہی التزام ومداومت ہے جسے ارباب طائفہ وجہ ممانعت قرار دیتے ہیں یہ ان داعی سنت نے بدعت اوربدعت کا حکم دیا بلکہ اس ختم اور ختم مجددی کی نسبت انہیں مکتوبات میں ہے:
بعد حلقہ صبح لازم گیرد ۔ اس کے بعد صبح کے حلقے کو لازم قرار دے لیں۔(ت)
انہیں میں ہے:
بعد از حلقہ صبح براں مواظبت نمایند ۔ اس کے بعد صبح کے حلقے کی پابندی کرنی چاہیے۔(ت)
سب جانے دو خود امام الطائفہ صراط مستقیم میں لکھتاہے:
اشغال مناسبہ ہر وقت و ریاضات ملائمہ ہر قرن جدا جدا می باشد ولہذا محققان ہر وقت کے مناسب اعمال اورہرزمانے کے مطابق ریاضتیں مختلف ہوتی ہیں یہی وجہ ہے کہ
حوالہ / References القول الجمیل چھٹی فصل ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۸۲ و۸۱
شفاء العلیل مع قول الجمیل چھٹی فصل ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۸۰
کلمات طیبات ملفوظات مظہر جان جاناں مطبع مجتبائی دہلی ص۷۴
کلمات طیبات ملفوظات مظہر جانان جاناں مطبع مجتبائی دہلی ص۴۲
کلمات طیبات ملفوظات مظہر جانان جاناں مطبع مجتبائی دہلی ص۴۲
#18391 · رسالہ الامن و العلٰی لناعتی المصطفٰی بدافع البلاء مسمّٰی بہ نام تاریخی اکمال الطامۃ علی شرك سُوی بالامُور العامۃ ۱۳۱۱ھ پوری قیامت ڈھانا (وہابیوں کے اس )شرك پر جو امور عامہ کی طرح (موجود کی ہر قسم پر صادق )ہے
ہر وقت ازاکابر ہر طریق در تجدید اشغال کو ششہاکہ دہ اندبناء علیہ مصلحت دید وقت چناں اقتضاء کرد کہ یك باب ازیں کتاب برائے بیان اشغال جدیدہ کہ مناسب ایں وقت ست تعیین کرد شود الخ۔ اکابر میں سے ہر طریقے کے محققین نے اشغال واعمال میں تبدیلی کرنے کی کوشش کی بایں وجہ جو مصلحت دیکھی یا حالات کا تقاضا ہوا اسی لئے اس کتاب کا ایك باب ایسے جدید اشغال کے لیے جو اپنے اپنے وقت کی مناسبت سے شروع کئے گئے متعین کیا گیا ہے۔(ت)
لله انصاف! یہ لوگ کیوں نہ بدعتی ہوئے۔اورذرا تصور شیخ کی توخبریں کہئے جسے جناب شاہ صاحب مرحوم سب راہوں سے قریب تر راہ بتارہے ہیںیہ ایمان تقویۃ الایمان پر ٹھیٹ بت پرستی تو نہیں یا یہ حضرات شریعت باطنہ اسمعیلی سے مستثنی ہیں۔
ثالثا:بھلاحضور اقدس دافع البلاء مانح العطا صلی الله تعالی علیہ وسلم کو دافع البلاء کہنا تو معاذالله شرك ہوا اب جناب شاہ ولی الله صاحب کی خبر لیجئے وہ اپنے قصیدہ نعتیہ اطیب النغم اور اس کے ترجمہ میں کیا بول بو ل رہے ہیں:
بنظر نمی آید مرامگر آنحضرت صلی الله تعالی علیہ وسلم کہ جائے دست اندوہگین است در ہر شد تے ۔ ہمیں نظر نہیں آتا مگر آں حضرت صلی الله تعالی علیہ وسلم ہر مصیبت کے وقت غمخواری فرماتے ہیں۔(ت)
پھر کہا:
جائے پناہ گرفتن بندگان وگریزگاہ ایشاں دروقت خوف روزقیامت ۔ حضور قیامت کے دن خوفزدوں اورخوف سے بھاگنے والوں کی جائے پناہ ہیں۔(ت)
پھر کہا:
نافع تیرن ایشانست مردماں را زنز دیك ہجوم حوادث زماں ۔ زمانہ کے ہجوم کے وقت لوگوں کے لئے سب سے زیادہ نفع بخش ہیں۔(ت)
حوالہ / References صراط مستقیم مقدمۃ الکتاب المکتبۃ السلفیہ لاہور ص۷،۸
اطیب النغم فی مدح سید العرب والعجم فصل اول تحت شعر معتصم المکروب فی کل غمرۃ مطبع مجتبائی دہلی ص۴
اطیب النغم فی مدح سید العرب والعجم فصل دوم تحت شعر ملاذعبادالله ملجاء خوفہم مطبع مجتبائی دہلی ص۴
اطیب النغم فی مدح سید العرب والعجم فصل چہارم تحت شعر واحسن خلق الله خلقًاوخلقہ مطبع مجتبائی دہلی ص۶
#18392 · رسالہ الامن و العلٰی لناعتی المصطفٰی بدافع البلاء مسمّٰی بہ نام تاریخی اکمال الطامۃ علی شرك سُوی بالامُور العامۃ ۱۳۱۱ھ پوری قیامت ڈھانا (وہابیوں کے اس )شرك پر جو امور عامہ کی طرح (موجود کی ہر قسم پر صادق )ہے
پھر کہا:
اے بہترین خلق خدا واے بہترین عطا کنندہ واے بہترین کسیکہ امیداودا شتہ شود برائے ازالہ مصیبتے ۔ اے خلق خد امیں بہترین ! اے بہترین عطاوالے اوراے بہترین شخصیتاورمصیبت کے وقت امیدوار کی مصیبت کو ٹالنے والے۔(ت)
پھر کہا:
تو پناہ دہند ہ از ہجوم کردن مصیبتے ۔ آپ مصیبتوں کے ہجوم سے پناہ دینے والے ہیں۔(ت)
اپنے دوسرے قصیدہ نعتیہ ہمزیہ کے ترجمہ میں لکھتے ہیں:
آخر حالت مادح آنحضرت صلی الله تعالی علیہ وسلم راوقتیکہ احساس کند نارسائی خود را از حقیقت ثنا آنست کہ ندا کند خوار وزار شدہ باخلاص درمناجات وبہ پناہ گرفتن بایں طریق اے رسول خدا عطائے ترامیخواہم روز حشر(الی قولہ)توئی پناہ از ہربلا بسوئے تست رو آوردن من وبہ تست پناہ گرفتن من ودرتست امید داشتن من اھ ملخصا۔ حضور کی تعریف کرنے والا جب اپنی نارسائی کا احساس کرے تو حضور کو نہایت عاجزی اور اخلاص سے پکارے اورفریاد کرے اورحضور کی پناہ اس طرح چاہے کہ اے خدا کے رسول قیامت کے دن تیری عطا چاہتاہوں تو ہی میری ہر بلا کی پناہ ہے۔جبھی تو میں تیری طرف رجوع کرتاہوں اورتجھ سے پناہ کا طلب گار ہوں اورمیری امیدیں تجھ سے ہی وابستہ ہیں اھ ملخصا۔(ت)
یہی شاہ صاحب ہمعات میں زیر بیان نسبت اویسیہ لکھتے ہیں:
ازثمرات ایں نسبت رویت آں جماعت ست درمنام وفائدہا ایشاں یافتن ودرمہالك ومضائق سورت آں جماعت پددید آمدن و اس نسبت کے ثمرات یہ ہیں کہ اس جماعت(اویسیہ)کی زیارت خواب میں ہوجاتی ہے اورہلاکت وتنگی کے اوقات میں وہ جماعت
حوالہ / References اطیب النغم فی مدح سید العرب والعجم فصل یازدہم تحت شعر وصلی علیك الله یا خیر خلقہ مطبع مجتبائی دہلی ص۲۲
اطیب النغم فی مدح سید العرب والعجم فصل یازدہم تحت شعر وانت مجیری من ھجوم ملمۃ الخ مطبع مجتبائی دہلی ص۲۲
اطیب النغم فی مدح سید العرب والعجم فصل ششم تحت اشعار وآخر ما لما دحہ الخ مطبع مجتبائی دہلی ص۳۳ و۳۴
#18393 · رسالہ الامن و العلٰی لناعتی المصطفٰی بدافع البلاء مسمّٰی بہ نام تاریخی اکمال الطامۃ علی شرك سُوی بالامُور العامۃ ۱۳۱۱ھ پوری قیامت ڈھانا (وہابیوں کے اس )شرك پر جو امور عامہ کی طرح (موجود کی ہر قسم پر صادق )ہے
حل مشکلات وے بآں صورت منسوب شدن ۔ ظاہر ہوکر مشکلیں حل فرماتی ہے۔(ت)
قاضی ثناء الله پانی پتی ان کے شاگرد رشید اورمرزا صاحب موصوف کے مرید تذکرۃ الموتی میں ارواح اولیائے کرام قدس اسرارہم کی نسبت لکھتے ہیں:
ارواح ایشاں از زمین وآسمان وبہشت ہرجا کہ خواہند ومیروند و دوستاں ومعتقداں را دردنیا وآخرت مددگاری میفرما یند و دشمناں راہلاك می سازند ۔ ان کی ارواح زمین وآسمان اوربہشت سے ہر جگہ جہاں چاہتی ہیں جاتی ہیں اپنے دوستوں اورمعتقدوں کی دنیا اورآخرت میں مدد فرماتی ہیں اوردشمنوں کو ہلاك کرتی ہیں۔(ت)
اوردافع البلاء کس چیز کا نام ہے۔مرزاصاحب کے ملفوظات میں ہے:
نسبت مابجناب امیر المومنین علی مرتضی کرم الله وجہہ میر سند وفقیر رانیاز خاص بآنجناب ثابت ست دروقت عروض عارضہ جسمانی توجہ بآنحضرت واقع می شود وسبب حصول شفا میگردد ۔ امیر المومنین حضرت علی کرم الله وجہہ سے میری نسبت خاص وجہ سے ہے کہ فقیر کو آنجناب سے خاص نیاز حاصل ہے اورجس وقت کوئی عارضہ بیماری جسمانی پیش ہوتی ہے میں آنجناب کی طرف توجہ دیتا ہوں جو باعث شفا ہوجاتی ہے۔(ت)
ذرا اس ''نیاز خاص''پر بھی نظر رہے۔یہی داعی سنت نبویہ فرماتے ہیں:
التفات غوث الثقلین بحال متوسلان طریقہ علیہ ایشاں بسیار معلوم شد باہیچکس از اہل ایں طریقہ ملاقات نشدہ کہ توجہ مبارك بآنحضرت بحالش مبذول نیست ۔ حضور غوث الثقلین اپنے تمام متوسلین کے حالات کی طرف توجہ رکھتے ہیں کوئی ان کا مرید ایسا نہیں کہ اس کی طرف آنجناب کی توجہ نہ ہو۔(ت)
ذرا اس عبارت کے تیور دیکھئے اورلفظ مبارك ''غوث الثقلین ''بھی ملحوظ خاطر رہے
حوالہ / References ہمعات ہمعہ ۱۱ اکادیمیۃ الشاہ ولی الله الدہلوی حیدرآباد باکستان ص۵۹
تذکرۃ الموتٰی مطبع مجتبائی دہلی ص ۴۱
کلمات طیبات ملفوظات مرز امظہر جان جاناں مطبع مجتبائی دہلی ص۷۸
کلمات طیبات ملفوظات مرز امظہر جان جاناں مطبع مجتبائی دہلی ص۸۳
#18730 · رسالہ الامن و العلٰی لناعتی المصطفٰی بدافع البلاء مسمّٰی بہ نام تاریخی اکمال الطامۃ علی شرك سُوی بالامُور العامۃ ۱۳۱۱ھ پوری قیامت ڈھانا (وہابیوں کے اس )شرك پر جو امور عامہ کی طرح (موجود کی ہر قسم پر صادق )ہے
اس کے یہی معنی ہے نا کہ انس وجن سب کی فریاد کو پہنچنے والے۔
اورسنئے یہی نفس ذکیہ فرماتے ہیں:
ہمچنیں عنایت حضرت خواجہ نقشبند بحال معتقدان خود مصروف است مغلاں درصحرا یاوقت خواب اسباب واسپان خودبحمایت حضرت خواجہ می سپارند وتائیدات از غیب ہمراہ ایشاں می شود ۔ ایسا ہی حضرت خواجہ نقشبند اپنے معتقدین کے حالات میں ہمیشہ مصروف رہتے ہیں چرواہے اورمسافر جنگل میں یا نیند کے وقت اپنے اسباب اورچوپائے گھوڑے وغیرہ حضور خواجہ نقشبند کے سپردکر دیتے غیبی تائید ان کے ساتھ ہوتی ہے۔ (ت)
اب تو شرك کا پانی سر سے اوپر ہوگیاایمان سے کہیوتمہارے ایمان پر کتنا بڑا بھاری شرك ہے جس پر مدد غیبی نازل ہوتی اوریہ بات حضرت خواجہ قدس سرہ العزیز کے مدائح میں گنی جاتی ہےخدا کرے اس وقت کہیں تمہیں حدیث اعوذبعظیم ھذا الوادی ۔(میں اس وادی کے حکمران کی پناہ چاہتاہوں۔ت)یا آیہ کریمہ " کان رجال من الانس یعوذون برجال من الجن" ۔ (آدمیوں میں کچھ مرد جنوں کے کچھ مردوں کے پناہ لیتے تھے۔ت)یا د آجائے پھر جناب مرزا صاحب اور ان کے مداح جناب شاہ صاحب کا مزہ دیکھئےآخر تمہارا امام بھوت پریت جن پری اوراولیاء شہداء سب کو ایك ہی درجہ میں مان رہا ہےمولانا شاہ عبد العزیز صاحب تفسیر عزیزی میں اکابر اولیاء کا حال بعد انتقال لکھتے ہیں:
دریں حالت ہم تصرف دردنیا دادہ واستغراق آنہا بجہت کمال وسعت مدارك آنہا مانع توجہ بایں سمت نمی گرددواویسیاں تحصیل مطلب کمالات باطنی از انہامی نمایند وارباب اولیاء الله بعد انتقال دنیا میں تصرف فرماتے ہیں اوران کے استغراق کا کمال اورمدارج کے رفعت ان کو اس سمت توجہ دینے کی مانع نہیں ہے اویسی اپنے کمالات باطنی کا اظہار فرماتے
حوالہ / References کلمات طیبات ملفوظات مرز امظہر جان جاناں مطبع مجتبائی دہلی ص۸۳
المعجم الکبیر حدیث ۴۱۶۶ المکتبۃ الفیصلیہ بیروت ۴ /۲۲۱،المستدرك للحاکم کتاب معرفۃ الصحابۃ ذکر تحریم بن فائك دار الفکر بیروت ۳ /۶۲۱
القرآن الکریم ۷۲ /۶
#18731 · رسالہ الامن و العلٰی لناعتی المصطفٰی بدافع البلاء مسمّٰی بہ نام تاریخی اکمال الطامۃ علی شرك سُوی بالامُور العامۃ ۱۳۱۱ھ پوری قیامت ڈھانا (وہابیوں کے اس )شرك پر جو امور عامہ کی طرح (موجود کی ہر قسم پر صادق )ہے
حاجات ومطالب حل مشکلات خود ازانہامی طلبند ومی یابند ۔ ہیں اورحاجت مند لوگ اپنی مشکلات کا حل اورحاجت روائی انہیں سے طلب کرتے ہیں اوراپنے مقاصد میں کامیاب ہوتے ہیں۔(ت)
ذرا یہ ''دنیا میں اولیاء کا تصرف بعد انتقال ''ملحوظ رہے اورحل مشکل ودفع بلا میں کتنا فرق ہے۔(یا علی مشکل کشا مشکلکشا)
اورتحفہ اثناعشریہ میں تو ا س سے بھی بڑھ کر جان نجدیت پر قیامت توڑگئےفرماتے ہیں:
حضرت امیر وذریۃ طاہرہ او درتمام امت برمثال پیران ومرشد ان می پرستند وامور تکوینیہ را بایشاں وابستہ میدانندوفاتحہ و درود وصدقات ونذر بنام ایشاں رائج ومعمول گردیدہ چنانچہ جمیع اولیاء الله ہمیں معاملہ است ۔
(تحفہ مطبوعہ کلکتہ ۱۲۴۳ھ آخر ص۳۹۶واول ۳۹۷) حضرت امیر یعنی حضرت علی کرم الله وجہہ الکریم اوران کی اولاد طاہرہ کو تمام افراد امت پیروں مرشدوں کی طرح مانتے ہیں اورتکوینی امور کو ان حضرات کے ساتھ وابستہ جانتے ہیں اورفاتحہ اوردرود وصدقات اورنذورنیاز انکے نام ہمیشہ کرتے ہیںچنانچہ تمام اولیاء الله کا یہی حال ہے۔(ت)
کیوں صاحبو! یہ کتنے برے شرکہا ئے اکبر واعظم ہیں کہ شاہ صاحب جن پر اجماع امت بتارہے ہیںاب تو عجب نہیں کہ روافض کی طرح امت مرحومہ کو معاذالله امت ملعونہ لقب دیجئے بھلا دفع بلا بھی امور تکوینیہ میں ہے یا نہیں جو دامن پاك حضرت مولی علی واہلبیت کرام سے وابستہ ہے صلی الله تعالی علیہ سید ھم ومولاھم وعلیہم وبارك وسلم۔
طرفہ تر سنئےشاہ ولی الله صاحب کے انتباہ فی سلاسل اولیاء الله سے روشن کہ شاہ صاحب والا مناقب اورانکے بارہ۱۲ اساتذہ علم حدیث ومشائخ طریقت جن میں مولانا ابو طاہر مدنی اوان کے والد واستاذ پیر مولانا ابراہیم کردی اوران کے استاد مولانا احمد قشاشی اوران کے استاد مولانا احمد شناوی اورشاہ صاحب کے استاذالاستاذ مولانا احمد نخلی وغیرہم اکابر داخل ہیں کہ شاہ صاحب کے اکثر سلاسل حدیث انہیں علماء سے ہیں جو اہر خمسہ حضرت شاہ محمد غوث
حوالہ / References تفسیر فتح العزیزتحت آیۃ ۸۴ /۱۸ مطبع مسلم بکڈپو لال کنواں دہلی پارہ عم ص۲۰۶
تحفہ اثناء عشریہ باب ہفتم درامامت سہیل اکیڈیمی لاہور ص۲۱۴
#18732 · رسالہ الامن و العلٰی لناعتی المصطفٰی بدافع البلاء مسمّٰی بہ نام تاریخی اکمال الطامۃ علی شرك سُوی بالامُور العامۃ ۱۳۱۱ھ پوری قیامت ڈھانا (وہابیوں کے اس )شرك پر جو امور عامہ کی طرح (موجود کی ہر قسم پر صادق )ہے
گوالیاری علیہ الرحمۃ الباری وخاص دعائے سیفی کی اجازتیں لیتے اور اپنے مریدین ومعتقدین کو اجازت دیتے۔اعمال جواہر خمسہ ودعائے سیفی کا زمانہ اقدس حضور دافع البلاء صلی الله علیہ وسلم کے بعد تصنیف ہونے سے بدعتاور اس وجہ سے ان صاحبو ں کا بدعتی ومروج بدعت قرار پانا درکناراسی جواہر خمسہ کی سیفی میں وہ جوہر دار سیف خونخوارجسے دیکھ کر وہابیت بیچاری اپنا جوہرکرنے کو تیاروہ کیا کہ نادعلی کہ ایمان طائفہ پر شرك جلی۔جواہرخمسہ میں ترکیب دعائے سیفی میں فرمایا:
نادعلی ہفت بار یاسہ بار یا یك بار بخواندو آن ایں ست ناد علیامظھر العجائبتجدہ عونا لك فی النوائبکل ھم وغم سینجلی بولایتك یا علی یا علی یا علی ۔ ناد علی سات بار یا تین بار یا ایك بار پڑھنا چاہئےاوروہ یہ ہے:علی(رضی ا لله عنہ)کو پکار جن کی ذات پاك مظہر عجائب ہے جب تو انہیں پکارے گا انہیں مصائب وافکار میں اپنا مددگارپائے گا ہر پریشانی وغم فورا دور ہوجاتاہے آپ کی مدد سے یا علی یا علی یا علی۔(ت)
یعنی پکار علی مرتضی(کرم الله وجہہ)کو کہ مظہر عجائب ہیں تو انہیں اپنا مددگار پائے گا۔مصیبتوں میںسب پریشانی وغم اب دورہوتے جاتے ہیں حضور کی ولایت سے یا علی یا علی یا علی۔
ذرا اب شرك طائفہ کا مول تول کہئےاس نفیس سند کی قدرے تفصیل درکار ہوتو فقیر کے رسائل"انھار الانوار من یم صلوۃ الاسرار" فـــــــ ۱ و"حیاۃ الموات فی بیان سماع الاموات" فـــــــ۲ و "انوار الانتباہ فی حل ندا ء یارسول الله" فـــــــ۳ملاحظہ ہوں۔ہے یہ کہ ان خاندانی اماموں نے طائفہ کی مٹی اوربھی خراب کی ہے ولله الحمد۔
فـــــــ۱:رسالہ انہار الانوار من یم صلوۃ الاسرار فتاوی رضویہ مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن جامعہ نظامیہ رضویہلاہور جلد ہفتم میں ص ۵۶۹پر موجود ہے۔
فـــــــ۲:رسالہ حیاۃ الموات فی بیان سماع الاموات فتاو ی رضویہ مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن جامعہ نظامیہ رضویہلاہورجلد نہم میں ص ۶۷۵پر موجود ہے۔
فـــــــ۳:رسالہ انوار الانتباہ فی حل ندا ء یا رسول الله فتاوی رضویہ مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور جلد۲۹میں ص ۵۴۹ پر موجود ہے۔
حوالہ / References جواہر خمسہ مترجم اردو مرزا محمد بیگ نقشبندی دارالاشاعت کراچی ص ۲۸۲ و۴۵۳
#18733 · رسالہ الامن و العلٰی لناعتی المصطفٰی بدافع البلاء مسمّٰی بہ نام تاریخی اکمال الطامۃ علی شرك سُوی بالامُور العامۃ ۱۳۱۱ھ پوری قیامت ڈھانا (وہابیوں کے اس )شرك پر جو امور عامہ کی طرح (موجود کی ہر قسم پر صادق )ہے
کیوں صاحبو!یہ سب حضرات بھی ایمان طائفہ پر مشرکبے ایمانواجب العذابمستحیل الغفران تھے یا تقویۃ الایمان کی آیتیں حدیثیں امام الطائفہ کا کنبہ چھوڑ کر باقی علمائے اہلسنت ہی کو مشرك بدعت بنانے کے لئے اتری ہیں۔الله ایمان وحیابخشے۔آمین۔
غرض ان حضرات کے مقابل شاید ایسے ہی گرم دودھوں سے کچھ کام چلے جنہیں نہ نگلتے بنے نہ اگلتے۔ولله الحجۃ الساطعۃ۔
فائدہ زاہرہ
خیریہ تو اجمالا ان حضرات کی خدمت گزاری تھیاوربدعت کی بحث تو علمائے سنت بہت کتب میں غایت قصوی تك پہنچا چکے و من احسن من فصلہ وحققہ خاتم المحققین سیدنا الوالد رضی الله عنہ المولی الماجد فی کتابہ الجلیل المفاد "اصول الرشاد لقمع مبانی الفساد"(خاتم المحققین سیدنا والد ماجد رضی الله عنہ نے اپنی جلیل ومفید کتاب "اصول الرشاد لقمع مبانی الفساد"میں اس کی تحسین وتفصیل وتحقیق کی ہے۔ت)
فقیر غفرالله تعالی نے بھی اپنے رسالہ ''اقامۃ القیامہ علی طاعن القیام لنبی تھامہ''وغیرہا رسائل میں بقدر کافی نکات چیدہ گزارش کئے اوراپنے رسالہ ''منیر العین فی حکم تقبیل الابھا مین '' فـــــــ وغیرہا میں خاندان مذکور کے بکثرت ایجادو احداث لکھے کہ اس نو تصنیفی کی صفرا شکنی کو بس ہیں اورحضور دافع البلاء صلی الله تعالی علیہ وسلم کے وبا وبلاوقحط ومرض والم کو دفع فرمانے کے جزئیات ووقائع جو احادیث میں مروی ان کے جمع کرنے کی ضرورت نہ حصر کی قدرتان میں سے بہت سے بحمدالله تعالی کتب وخطب علماء میں مسلمانوں کے کانوں تك پہنچ چکے اوراب جو چاہے کتب سیر وخصائص ومعجزات مطالعہ کرے۔
نکتہ جلیلہ کلیہ
مگرفقیر غفرالله تعالی لہ ایك نکتہ جلیلہ کلیہ بغایت مفید القاکرے کہ ان شاء الله تعالی تمام شرکیات وہابیہ کی بیخ کنی میں کافی و وافی کام دےمسلمانو!کچھ خبر بھی ہے ان حضرات کا لفظ دافع البلاء اوراس کے مثال کو شرك
فـــــــ:رسالہ "منیر العین فی حکم تقبیل الابھا مین"فتاوی رضویہ مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور جلد پنجم صفحہ ۴۲۹ پر موجود ہے۔رسالہ "اقامۃ القیامۃ "جلد ۲۶ص۴۹۵ پر موجود ہے۔
#18734 · رسالہ الامن و العلٰی لناعتی المصطفٰی بدافع البلاء مسمّٰی بہ نام تاریخی اکمال الطامۃ علی شرك سُوی بالامُور العامۃ ۱۳۱۱ھ پوری قیامت ڈھانا (وہابیوں کے اس )شرك پر جو امور عامہ کی طرح (موجود کی ہر قسم پر صادق )ہے
بتا نے بلکہ یہ بات بات پرشرك پھیلانے سے اصل مدعا کیا ہے وہ ایك دائے باطنی ومرض خفی ہے کہ اکثر عوام بیچاروں کی نگاہ سے مخفی ہے ان نئے فلسفوں پرانے فیلسوفوں کے نزدیك شرك امور عامہ سے ہے کہ عالم میں کوئی موجود اس سے خالی نہیں یہاں تك کہ معاذالله حضرات علیہ انبیائے کرام وملئکہ عظام علیہم الصلوۃ والسلام تاآنکہ عیاذابالله خود حضرت رب العزۃ وحضور پر نور سلطان رسالت علیہ افضل الصلوۃ والتحیۃولہذا امام الطائفہ نے جابجا وبیجا مسائل جی سے گھڑے کہ یہ ناپاك چھینٹا وہاں تك بڑھےجس کی بعض مثالیں مجموعہ فتاوی فقیر ''العطایا النبویہ فی الفتاوی الرضویہ ''کی جلد ششم ''البارقۃ الشارقہ علی مارقۃ المشارقہ''میں ملیں گیان کی تفصیل سے تطویل کی حاجت نہیںیہ حضرات کہ اس امام کے مقلد ہیں
" انا علی اثرہم مقتدون ﴿۲۳﴾" (ہم ان کی لکیر کے پیچھے ہیں۔ت)پڑھتے ہوئے اسی ڈگر ہوئےیہ حکم شرك بھی اسی دبی آگ کا دھواں دے رہا ہے اجمال سے نہ سمجھو تو مجھ سے مفصل سنو۔
اقول:وبالله التوفیقنسبت واسناد دوقسم ہے:حقیقی کہ مسند الیہ حقیقت سے متصف ہو۔
اورمجازی کہ کسی علاقہ سے غیر متصف کی طرف نسبت کردیں جیسے نہر کو جاری یا حابس سفینہ کو متحرك کہتے ہیںحالانکہ حقیقۃ آب وکشتی جاری متحرك ہیں۔
پھر حقیقی بھی دو۲ قسم ہے:ذاتی کہ خود اپنی ذات سے بے عطائے غیر ہواورعطائی کہ دوسرے نے اسے حقیقۃ متصف کردیا ہو خواہ وہ دوسرا خود بھی اس وصف سے متصف ہو جیسے واسطہ فی الثبوت میںیانہیں جیسے واسطہ فی الاثبات میں۔ان سب صورتوں کی اسنادیں تمام محاورات عقلائے جہاں واہل ہر مذہب وملت وخود قرآن وحدیث میں شائع وذائعمثلا انسان عالم کو عالم کہتے ہیںقرآن مجید میں جابجا اولوالعلم وعلمؤابنی اسرائیل اورانبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کی نسبت لفظ علیم واردیہ حقیقت عطائیہ ہے یعنی بعطائے الہی وہ حقیقۃ متصف بعلم ہیںاورمولی عزوجل نے اپنے نفس کریم کو علیم فرمایا یہ حقیقت ذاتیہ ہے کہ وہ بے کسی کی عطا کے اپنی ذات سے عالم ہے۔سخت احمق وہ کہ ان اطلاقات میں فرق نہ کرے۔وہابیہ کے مسائل شرکیہ استعانت وامداد و علم غیب و
حوالہ / References القرآن الکریم ۴۳ /۲۳
#18735 · رسالہ الامن و العلٰی لناعتی المصطفٰی بدافع البلاء مسمّٰی بہ نام تاریخی اکمال الطامۃ علی شرك سُوی بالامُور العامۃ ۱۳۱۱ھ پوری قیامت ڈھانا (وہابیوں کے اس )شرك پر جو امور عامہ کی طرح (موجود کی ہر قسم پر صادق )ہے
تصرفات ونداوسماع فریاد وغیرہا ایسے فرق نہ کرنے پر مبنی ہیں۔فقیر غفرالله تعالی لہ نے اس بحث شریف میں ایك نفیس رسالہ کی طرح ڈالی ہے اس میں متعلق نزاعات وہابیہ صدہا اطلاقات کو آیات واحادیث سے ثابت اوراحکام اسنادات کو مفصل بیان کرنے کا قصد ہے ان شاء الله تبارك وتعالی حضور پر نورمعطی البہار والسروردافع البلاء والشرورشافع یوم النشور صلی الله تعالی علیہ وسلم کو دافع البلاء کہنا بھی بمعنی حقیقی عطائی ہے مخالف متعسف کو یوں توفیق تصدیق نہ ہو تو فقیر کا رسالہ ''سلطنۃ المصطفی فی ملکوت کل الوری''مطالعہ کرے کہ بعونہ تعالی تحقیق وتوثیق کے باغ لہکتے نظر آئیں اورایمان وایقان کے پھول مہکتےخیر یہاں اس بحث کی تکمیل کا وقت نہیں تنزیلا یہی سہی کہ احد الامرین سے خالی نہیں نسبت حقیقی عطائی ہے یا ازانجاکہ حضور سبب ووسیلہ وواسطہ دفع البلاء ہیں لہذا نسبت مجازیرہی حقیقی ذاتی حاشا کہ کسی مسلمان کے قلب میں کسی غیر خدا کی نسبت اس کا خطرہ گزرے۔
امام علامہ سیدی تقی الملۃ والدین علی بن عبدالکافی سبکی قدس سرہ الملکی(جن کی امامت وجلالت محل خلاف وشبہت نہیںیہاں تك کہ میاں نذیر حسین دہلوی اپنے ایك مہری مصدق فتوی میں انہیں بالاتفاق امام مجتہد مانتے ہیں)کتاب مستطاب شفاء السقام شریف میں ارشاد فرماتے ہیں:
لیس المراد نسبۃ النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم الی الخلق والاستقلال بالافعال ھذا لایقصدہ مسلم فصرف الکلام الیہ ومنعہ من باب التلبیس فی الدین والتشویش علی عوام المؤحدین ۔ یعنی نبی صلی الله تعالی علیہ وسلم سے مدد مانگنے کا یہ مطلب نہیں کہ حضور خالق وفاعل مستقل ہیں یہ تو کوئی مسلمان ارادہ نہیں کرتاتو اس معنی پرکلام کو ڈھالنا اورحضور سے مدد مانگنے کو منع کرنا دین میں مغالطہ دینا اورعوام مسلمانوں کو پریشانی میں ڈالنا ہے۔
صدقت یا سید ی جزاك الله عن الاسلام والمسلمین خیراامین(اے میرے آقا!آپ نے سچ فرمایاالله تعالی آپ کو اسلام اورمسلمانوں کی طرف سے جزاء خیر عطافرمائے۔ت)
فقیر کہتاہے ایك دفع بلاء وامداد وعطاہی پر کیا موقوف مخلوق کی طرف اصل وجود ہی کی اسناد
حوالہ / References شفاء السقام الباب الثامن فی التوسل والاستغاثہ الخ مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ص۱۷۵
#18736 · رسالہ الامن و العلٰی لناعتی المصطفٰی بدافع البلاء مسمّٰی بہ نام تاریخی اکمال الطامۃ علی شرك سُوی بالامُور العامۃ ۱۳۱۱ھ پوری قیامت ڈھانا (وہابیوں کے اس )شرك پر جو امور عامہ کی طرح (موجود کی ہر قسم پر صادق )ہے
بمعنی حقیقی ذاتی نہیں پھر عالم کو موجود کہنے میں وہابیہ بھی ہمارے شریك ہیں کیا ان کے نزدیك عالم بذاتہ موجود ہے یا جو فسطائیہ کی طرح عقیدہ حقائق الاشیاء ثابتۃ(اشیاء کی حقیقت ثابت ہے۔ت)سے منکر ہیں اورجب کچھ نہیں توکیا ظلم ہے کہ جو محاورے صبح وشام خود بولتے رہیں مسلمانوں کے مشرك بنانے کو ان کی طرف سے آنکھیں بندکرلیںکیا مسلمان پر بدگمانی حرام قطعی نہیںکیا اس کی مذمت پر آیات قرآنیہ واحادیث صحیحہ ناطق نہیں بلکہ انصاف کی آنکھ کھلی ہوتو اس ادعائے خبیث کا درجہ تو بدگمان سے بھی گزرا ہوا ہےسوئے ظن کے لئے اس گمان کی گنجائش تو چاہیےمسلمان کے بارہ میں ایسے خیال کا احتمال ہی کیا ہے اس کا موحد ہونا ہی اس کی مراد پر گواہ کافی ہے کما لایخفی عند کل من لہ عقل ودین(جیسا کہ کسی صاحب عقل ودین پر پوشیدہ نہیں۔ت)فتاوی خیریہ کتاب الایمان میں ہے:
سئل فی رجل حلف انہ لایدخل ھذہ الدار الا ان یحکم علیہ الدھر فدخل ھل یحنث اجاب لاوھذا مجاز لصدورہ من الموحد واذا دخل فقد حکم ای قضی علیہ رب الدھر بدخولہا وھو مستثنی فلا حنث اھ بتلخیص۔ ایك شخص کے بارے میں سوال کیا گیا کہ اس نے قسم کھائی ہے کہ جب تك مجھے دہر حکم نہیں دے گا میں اس گھر میں داخل نہیں ہوں گااوروہ داخل ہوگیاکیا وہ قسم توڑنے والا ہے یا نہیںاس کا جواب یہ تحریر ہے کہ حانث نہیں ہوایہ کلمہ مجازی ہےموحد جو خدا کو ایك مانتا ہے اس سے شرك کا صدور ناممکن ہے۔جب داخل ہوا تو رب الدہر یعنی خدا کے حکم سے داخل ہوااس لئے وہ حانث نہیں ہوا اھ ملخصا(ت)
توایسا ناپاك ادعابدگمانی نہیں صریح افترا ہےوہ بھی مسلمان پر وہ بھی کفر کامگر قیامت تو نہ آئیگیحساب تو نہ ہوگاان خبائث کے دعووں سے سوال تو نہ کیا جائے گامسلمان کی طرف سے لاالہ الا الله جھگڑتا ہوا نہ آئے گا۔ستمگر !جواب تیار رکھ اس سختی کے دن کا" و سیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون ﴿۲۲۷﴾" ۔(اور اب جاناچاہتے ہیں ظالم کہ کس کروٹ پر پلٹا کھائیں گے۔ت)
حوالہ / References الفتاوی الخیریۃ کتاب الایمان دارالمعرفۃ بیروت ۱ /۸۱
القرآن الکریم ۲۶ /۲۲۷
#18737 · رسالہ الامن و العلٰی لناعتی المصطفٰی بدافع البلاء مسمّٰی بہ نام تاریخی اکمال الطامۃ علی شرك سُوی بالامُور العامۃ ۱۳۱۱ھ پوری قیامت ڈھانا (وہابیوں کے اس )شرك پر جو امور عامہ کی طرح (موجود کی ہر قسم پر صادق )ہے
بالجملہ اس احتمال کو یہاں راہ ہی نہیں بلکہ انہیں دو سے ایك مراد بالیقین یعنی اسناد غیر ذاتی کسی قسم کی ہو اب جو اسے شرك کہا جاتاہے تو اس کی دو ہی صورتیں متصور بنظر مصداق عــــــہ نسبت یا بنفس حکایت۔
اول یہ کہ غیر خدا کے لیے ایسا اتصاف ماننا ہی مطلقا شرك اگرچہ مجازی ہوجس کا حاصل اس مسئلہ میں یہ کہ حضور دافع البلاء صلی الله تعالی علیہ وسلم دفع بلا کے سبب ووسیلہ وواسطہ بھی نہیں کہ مصداق نسبت کسی طرح متحقق جو غیر خدا کو ایسے امور میں سبب ہی مانے وہ بھی مشرک۔
دوم یہ کہ ایسی نسبت وحکایت خاص بذاتہ حدیت جل وعلا ہے غیر کے لئے مطلقا شرك اگرچہ اسناد غیر ذاتی مانےآدمی اگر عقل وہوش سے کچھ بہرا رکھتا ہو تو غیر ذاتی کا لفظ آتے ہی شرك کا خاتمہ ہوگیا کہ جب بعطائے الہی مانا تو شرك کے کیا معنی برخلاف اس طاغی سرکش کےجو عقل کی آنکھ پر مکابرہ کی پٹی باندھ کر صاف کہتا ہے پھر خواہ یوں سمجھے کہ یہ بات ان کو اپنی ذات سے ہے خواہ الله کے دینے سے غرض اس عقیدے سے ہر طرح شرك ثابت ہوتا ہے ۔کسی سفیہ مجنوں سے
عــــــہ:فرق یہ کہ اول میں حکم منع حکایت بنظر بطلان وعدم مطابقت ہوگا یعنی واقعہ میں موضوع ایسے صفت سے متصف ہی نہیں جو اس حکایت کا مصحح ہواوردوم میں حکایت خود ہی محذور ہوگی اگر صادق ہوکہ صدق وصحت اطلاق الزام نہیں
الاتری انانؤمن بان محمدا صلی الله تعالی علیہ وسلم اعز عزیز واجل جلیل من خلق الله عزوجل ولکن لایقال محمد عزوجل بل صلی الله تعالی علیہ وسلم۔ کیا تم نہیں دیکھتے کہ ہمارااعتقاد ہے کہ محمد صلی ا لله تعالی علیہ وسلم مخلوق الہی میں ہر عزیز سے بڑھ کر عزیز اورہر جلالت والے سے بڑھ کر جلیل ہیں مگر محمد عزوجل نہیں کہا جاتابلکہ محمد صلی الله تعالی علیہ وسلم کہا جاتاہے۔(ت)
تو درجہ اول میں ہمیں یہ بیان کرنا ہے کہ اسناد غیر ذاتی کا مطلقا متحققاوردوم میں یہ کہ یہ اطلاق یقینا جائز۔پر ظاہر کہ دلائل وجہ دوم سب دلائل وجہ اول بھی ہیں کہ حکایات الہیہ ونبویہ قطعاصادق۔لہذا ہم انہیں جانب کثرت بقلت توجہ کریں گے نصوص وجہ ثانی بکثرت لائیں گے وبالله التوفیق ۱۲منہ دامت فیوضہ۔
حوالہ / References تقویۃ الایمان،پہلا باب،مطبع علیمی اندرون لوہاری دروازہ لاہور ص۷
#18738 · رسالہ الامن و العلٰی لناعتی المصطفٰی بدافع البلاء مسمّٰی بہ نام تاریخی اکمال الطامۃ علی شرك سُوی بالامُور العامۃ ۱۳۱۱ھ پوری قیامت ڈھانا (وہابیوں کے اس )شرك پر جو امور عامہ کی طرح (موجود کی ہر قسم پر صادق )ہے
کیا کہا جائے گا کہ صفت الہی بعطائے الہی نہیں تو جو بعطائے الہی ہے صفت الہی نہیںتو اس کا اثبات اصلا کسی صفت الہی کا اثبات بھی نہ ہوا نہ کہ خاص صفت ملزومہ الوہیت کا کہ شرك ثابت ہو بلکہ یہ تو بالبداہۃ صفت ملزومہ عبدیت ہوئی کہ بعطائے غیر کسی صفت کا حصول تو بندہ ہی کے لئے معقول تو اس کا اثبات صراحتا عبدیت کا اثبات ہوا نہ کہ معاذ الله الوہیت کاایك یہی حرف تمام شرکیات وہابیہ کو کیفر چشانی کے لئے بس ہےمگر مجھے تو یہاں وہ بات ثابت کرنی ہے جس پر میں نے یہ تمہید اٹھائی ہے یعنی ان صاحبوں کا حکم شرك الله ورسول تك متعدی ہوناہاں اس کا ثبوت لیجئے ابھی بیان کرچکا ہوں کہ اس حکم ناپاك کے لئے دو ہی وجہیں متصوران میں سے جو وجہ لیجئے ہر طرح یہ حکم معاذ الله ورسول تك منجر جل جلالہ وصلی الله تعالی علیہ وسلم۔
__________________
#18739 · رسالہ الامن و العلٰی لناعتی المصطفٰی بدافع البلاء مسمّٰی بہ نام تاریخی اکمال الطامۃ علی شرك سُوی بالامُور العامۃ ۱۳۱۱ھ پوری قیامت ڈھانا (وہابیوں کے اس )شرك پر جو امور عامہ کی طرح (موجود کی ہر قسم پر صادق )ہے
با ب اول:
وجہ اول پر نصوص سنئے اس میں چھ۶ آیتیں اور ساٹھ حدیثیںجملہ چھیاسٹھ نص ہیں۔
فصل اول آیات کریمہ میں
آیت ۱:قال الله عزوجل
" وما کان اللہ لیعذبہم وانت فیہم " ۔ الله ان کافروں پر عذاب نہ فرمائے گا جب تك اے محبوب ! تو ان میں تشریف فرما ہے۔
سبحان الله !ہمارے حضور دافع البلاء صلی الله تعالی علیہ وسلم کفار پر سے بھی سبب دفع بلا ءہیں کہ مسلمانوں پر تو خاص رؤف ورحیم ہیں صلی الله تعالی علیہ وسلم۔
آیت ۲:
" وما ارسلنک الا رحمۃ للعلمین ﴿۱۰۷﴾" ۔ ہم نے نہ بھیجا تمھیں مگر رحمت سارے جہان کیلئے۔
پر ظاہر کہ رحمت سبب دفع بلا وزحمت(جو خوب ظاہر ہے کہ رحمت سبب ہے مصیبت وزحمت کی دوری کا۔ت)
آیت ۳:
" ولو انہم اذ ظلموا انفسہم جاءوک فاستغفروا اللہ واستغفر لہم الرسول لوجدوا اللہ توابا رحیما ﴿۶۴﴾ " ۔ اور اگر جب وہ اپنی جانوں پر ظلم کریں تیرے حضور حاضر ہوں پھر الله سے بخشش چاہیں اور معافی مانگیں ان کے لئے رسول تو بیشك الله کو توبہ قبول کرنے والا مہربان پائیں۔
آیۃ کریمہ صاف ارشا د فرماتی ہے کہ حضور پر نور عفو غفور صلی الله تعالی علیہ وسلم کی
حوالہ / References القران الکریم ۸ /۳۳
القران الکریم ۲۱ /۱۰۷
القران الکریم ۴ /۶۴
#18740 · رسالہ الامن و العلٰی لناعتی المصطفٰی بدافع البلاء مسمّٰی بہ نام تاریخی اکمال الطامۃ علی شرك سُوی بالامُور العامۃ ۱۳۱۱ھ پوری قیامت ڈھانا (وہابیوں کے اس )شرك پر جو امور عامہ کی طرح (موجود کی ہر قسم پر صادق )ہے
بارگاہ میں حاضری سبب قبول توبہ ودفع بلائے عذاب ہےبلکہ آیت بیمار دلوں پر اور بھی بلا وعذاب کہ رب العزت قادر تھا یونہی گناہ بخش دے مگر ارشاد ہوتا ہے کہ قبول ہونا چاہو تو ہمارے پیارے کی سرکا ر میں حاضر ہو صلی الله تعالی علیہ وسلم والحمد لله رب العالمین۔
آیت ۴:
" ولولا دفع اللہ الناس بعضہم ببعض لہدمت صومع" اگرالله تعالی آدمیوں کو آدمیوں سے دفع نہ فرمائے تو ہر ملت ومذہب کی عبادت گاہ ڈھادی جائے۔
معلوم ہوا کہ مجاہدین آلہ و واسطہ دفع بلا ہیں۔
آیت۵:
" ولولا دفع اللہ الناس بعضہم ببعض لفسدت الارض ولکن اللہ ذو فضل علی العلمین﴿۲۵۱﴾" ۔ اگر نہ ہوتا دفع کرنا الله عزوجل کا لوگوں کو ایك دوسرے سے تو بیشك تباہ ہو جاتی زمین مگر الله فضل والا ہے سارے جہان پر۔
ائمہ مفسرین فرماتے ہیں:الله تعالی مسلمان کے سبب کافروں اورنیکوں کے باعث بدوں سے بلادفع کرتا ہے۔
آیت ۶:
" و لولا رجال مؤمنون و نساء مؤمنت لم تعلموہم ان تطـوہم فتصیبکم منہم معرۃ بغیر علم لیدخل اللہ فی رحمتہ من یشاء لو تزیلوا لعذبنا الذین کفروا منہم عذابا الیما ﴿۲۵﴾" ۔ اوراگر نہ ہوتے ایمان والے مرد اور ایمان والی عورتیں جن کی تمہیں خبر نہیں کہیں تم انہیں روندڈالو تو ان سے تمہیں انجانی میں مشقت پہنچے تاکہ الله جسے چاہے اپنی رحمت میں لے لے وہ اگر الگ ہوجاتے تو ہم ان میں سے کافروں کو دردناك عذاب دیتے۔
حوالہ / References القران الکریم ۲۲ /۴۰
القرآن الکریم ۲ /۲۵۱
القرآن الکریم ۴۸ /۲۵
#18741 · رسالہ الامن و العلٰی لناعتی المصطفٰی بدافع البلاء مسمّٰی بہ نام تاریخی اکمال الطامۃ علی شرك سُوی بالامُور العامۃ ۱۳۱۱ھ پوری قیامت ڈھانا (وہابیوں کے اس )شرك پر جو امور عامہ کی طرح (موجود کی ہر قسم پر صادق )ہے
یہ فتح مکہ سے پہلے کا ذکر ہے جب حضور اقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم عمرے کے لئے مکہ معظمہ تشریف لائے ہیں اورکافروں نے مقام حدیبیہ میں روکا شہر میں نہ جانے دیاصلح پر فیصلہ ہوا ظاہر کی نظر میں اسلام کے لیے ایك دبتی ہوئی بات تھی اورحقیقت میں ایك بڑی فتح نمایاں تھی جسے الله عزوجل نے " انا فتحنا لک فتحا مبینا ﴿۱﴾" ۔(بےشك ہم نے تمہارے لئے روشن فتح فرما دی۔ ت)فرمایا الله تعالی نے مسلمانوں کی تسکین کو یہ آیت نازل فرمائی کہ اس سال تمہیں داخل مکہ نہ ہونے دینے میں کئی حکمتیں تھیں مکمہ معظمہ میں بہت مردوعورت مغلوبی کے سبب خفیہ مسلمان ہیں جن کی تمہیں خبر نہیں تم قہرا جاتے تو وہ بھی تیغ وبند کے روندنے میں آجاتے اوران کے سوا بھی وہ لوگ ہیں جو ہنوزکافر ہیں اورعنقریب الله تعالی انہیں اپنی رحمت میں لے گا اسلام دے گا ان کا قتل منظور نہیں ان وجوہ سے کفار مکہ پر سے عذاب قتل وقہر موقوف رکھاگیا یہ سب لوگ الگ ہوجاتے تو ہم ان کافروں پر عذاب فرماتے۔کیسا صریح روشن نص ہے کہ اہل اسلام کے سبب کافروں پر سے بھی بلادفع ہوتی ہے ولله الحمد۔
فصل دوم احادیث عظیمہ میں
حدیث ۱:کہ رب العزت جل وعلافرماتاہے:
انی لاھم باھل الارض عذابا فاذا نظرت الی عماربیوتی والمتحابین فی والمستغفرین بالاسحارصرفت عنھم۔البھیقی فی الشعب عن انس بن مالك رضی الله تعالی عنہ عن النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم قال ان الله تعالی یقول الحدیث ۔ میں زمین والوں پر عذاب اتارنا چاہتاہوں جب میرے گھر آباد کرنے والے اورمیرے لئے باہم محبت رکھنے والے اورپچھلی رات کو استغفار کرنے والے دیکھتاہوں اپنا غضب ان سے پھیر دیتاہوں۔(بیہقی نے شعب الایمان میں انس بن مالك رضی الله تعالی عنہ سے انہوں نے حضور اکرم صلی الله تعالی علیہ وسلم سے کہ فرمایا الله تعالی یہ حدیث بیان فرماتاہے۔ ت)
حوالہ / References القرآن الکریم ۴۸ /۱
شعب الایمان حدیث ۹۰۵۱ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۶ /۵۰۰،کنزالعمال حدیث ۲۰۳۴۳ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۷/ ۵۷۹
#18742 · رسالہ الامن و العلٰی لناعتی المصطفٰی بدافع البلاء مسمّٰی بہ نام تاریخی اکمال الطامۃ علی شرك سُوی بالامُور العامۃ ۱۳۱۱ھ پوری قیامت ڈھانا (وہابیوں کے اس )شرك پر جو امور عامہ کی طرح (موجود کی ہر قسم پر صادق )ہے
حدیث ۲:کہ حضور دافع البلاء صلی الله تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لولاعباد لله رکع وصبیۃ رضع وبھائم رتع تصب علیکم العذاب صبا ثم رض رضا۔الطبرانی فی الکبیر والبیہقی فی السنن عن مسافع ن الدیلمی رضی الله تعالی عنہ۔ اگر نہ ہوتے الله تعالی کے نماز ی بندے اور دود ھ پیتے بچے اورگھاس چرتے چوپائے تو بیشك عذاب تم پر بسختی ڈالا جاتا پھر مضبوط ومحکم کردیا جاتا(طبرانی نے کبیر میں اوربیہقی نے سنن میں مسافع الدیلمی رضی الله تعالی عنہ سے روایت کیا۔ت)
حدیث ۳:کہ فرماتے ہیں صلی الله تعالی علیہ وسلم:
ان الله تعالی لیدفع بالمسلم الصالح عن مائۃ اھل بیت من جیرانہ البلاء۔ بیشك الله عزوجل نیك مسلمان کے سبب اس کے ہمسائے میں سو گھروں سے بلادفع فرماتاہے۔
ابن عمر رضی الله تعالی عنہمانے یہ حدیث روایت فرما کر آیہ کریمہ ولو لا دفع الله الناس بعضہم ببعض لفسدت الارض تلاوت کی۔
رواہ عنہ الطبرانی فی الکبیر وعبدالله بن احمد ثم البغوی فی المعالم۔ طبرانی نے کبیر میں ابن عمر سے اورعبدالله بن احمد پھر بغوی نے معالم میں اس کو روایت کیا۔ت)
حدیث ۴:فرماتے ہیں صلی الله تعالی علیہ وسلم:
من استغفرللمؤمنین والمؤمنات کل یوم سبعا و عشرین مرۃ کان من الذین یستجاب جو ہر روز ستائیس بار سب مسلمان مردوں اورسب مسلمان عورتوں کے لئے استغفار کرے وہ ان لوگوں میں ہوجن کی دعا قبول ہوتی ہے
حوالہ / References السنن الکبری للبیہقی کتاب صلٰوۃ الاستسقاء باب استحباب الخروج الخ مجلس دائرۃ المعارف العثمانیہ دکن ۳/ ۳۴۵،المعجم الکبیر حدیث۷۸۵المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۲۲ /۳۰۹
معالم التنزیل(تفسیر البغوی)تحت الآیۃ ۲ /۲۵۱ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۱ /۱۷۷،الترغیب والترہیب بحوالہ الطبرانی الترہیب من اذی الجار حدیث ۳۹مصطفی البابی المصر ۳ /۳۶۳،الدرالمنثور تحت الآیۃ ۲ /۲۵۱ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ /۷۲۶
#18743 · رسالہ الامن و العلٰی لناعتی المصطفٰی بدافع البلاء مسمّٰی بہ نام تاریخی اکمال الطامۃ علی شرك سُوی بالامُور العامۃ ۱۳۱۱ھ پوری قیامت ڈھانا (وہابیوں کے اس )شرك پر جو امور عامہ کی طرح (موجود کی ہر قسم پر صادق )ہے
لھم ویرزق بھم اھل الارض۔الطبرانی فی الکبیر عن ابی الدرداء رضی الله تعالی عنہ بسند جید۔ اور ان کی برکت سے تمام اہل زمین کو رزق ملتا ہے(طبرانی نے کبیر میں ابو درداء رضی الله تعالی عنہ سے سند جید کے ساتھ روایت کیا۔ت)
حدیث۵:فرماتے ہیں صلی الله تعالی علیہ وسلم:
ھل تنصرون وترزقون الا بضعفائکم۔البخاری عن سعد بن ابی وقاص رضی الله تعالی عنہ۔ کیا تمہیں مدد ورزق کسی اورکے سبب بھی ملتاہے سوائے اپنے ضعیفوں کے۔(بخاری نے سعد بن ابی وقاص رضی الله تعالی عنہ سے روایت کیا۔ت)
حدیث ۶:کہ فرماتے ہیں صلی الله تعالی علیہ وسلم:
ان الله ینصرالقوم باضعفھم۔الحارث فی مسندہ عن ابن عباس رضی الله تعالی عنہما۔ بیشك الله تعالی قوم کی مدد فرماتاہے ان کے ضعیف ترکے سبب۔حارث نے اپنی مسند میں ابن عباس رضی الله تعالی عنہما سے روایت کیا۔ت)
حدیث ۷:زمانہ اقدس میں دوبھائی تھے ایك کسب کرتےدوسرے خدمت والا ئے حضور دافع البلاء صلی الله تعالی علیہ وسلم میں حاضر ہوتے۔کما نے والے ان کے شاکی ہوئےفرمایا:
لعلك ترزق بہ۔الترمذی وصححہ والحاکم عن انس رضی الله تعالی عنہ۔ کیا عجب کہ تجھے اس کی برکت سے رزق ملے۔(اسے ترمذی نے روایت کیا اوراس کی تصحیح کیاورحاکم نے انس رضی الله تعالی عنہ سے روایت کیا۔ت)
حوالہ / References کنزالعمال حدیث۲۰۶۸ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱ /۴۷۶
صحیح البخاری کتاب الجہاد باب من استعان بالضعفاء الخ قدیمی کتب خانہ ۱ /۴۰۵
کنزالعمال حدیث ۱۰۸۸۲ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۴ /۳۵۷،الجامع الصغیر حدیث ۵۱۰دارالکتب العلمیۃ بیروت ۱ /۳۷
سنن الترمذی کتاب الزھد حدیث ۲۳۵۲دارالفکر بیروت ۴ /۱۵۴،المستدرك للحاکم کتاب العلم خطبۃ صلی الله تعالٰی علیہ وسلم فی حجۃ الوداع دارالفکر بیروت ۱ /۹۴
#18744 · رسالہ الامن و العلٰی لناعتی المصطفٰی بدافع البلاء مسمّٰی بہ نام تاریخی اکمال الطامۃ علی شرك سُوی بالامُور العامۃ ۱۳۱۱ھ پوری قیامت ڈھانا (وہابیوں کے اس )شرك پر جو امور عامہ کی طرح (موجود کی ہر قسم پر صادق )ہے
حدیث۸:فرماتے ہیں صلی الله تعالی علیہ وسلم:
الابدال فی امتی ثلثون بھم تقوم الارض وبھم تمطرون وبہم تنصرون۔الطبرانی فی الکبیر عن عبادۃ رضی الله تعالی عنہ بسند صحیح۔ ابدال میری امت میں تیس ہیں انہیں سے زمین قائم ہے انہیں کے سبب تم پر مینہ اترتا ہے۔انہیں کے باعث تمہیں مدد ملتی ہے۔(طبرانی نے کبیر میں عبادہ رضی الله تعالی عنہ سے بسند صحیح روایت کیا۔ت)
حدیث ۹:فرماتے ہیں صلی الله تعالی علیہ وسلم:ابدال شام میں ہیں اور وہ چالیس ہیں جب ایك مرتا ہے الله تعالی اس کے بدلے دوسرا قائم کرتاہے۔
یسقی بھم الغیث وینتصر بھم علی الاعداء و یصرف عن اھل الشام بھم العذاب۔احمد عن علی کرم الله تعالی وجھہ بسند حسن۔ انہی کے سبب مینہ دیا جاتاہےانہیں سے دشمنوں پر مدد ملتی ہےانہیں کے باعث شام والوں سے عذاب پھیرا جاتاہے۔ (امام احمد نے حضرت علی کرم الله تعالی وجہہ سے بسند حسن روایت کیا۔ت)
دوسری روایت یوں ہے:
یصرف عن اھل الارض البلاء والغرق۔ابن عساکر رضی الله تعالی عنہ۔ انہیں کے سبب اہل زمین سے بلاء اورغرق دفع ہوتا ہے۔ (ابن عساکر رضی الله تعالی عنہ نے روایت کیا۔ت)
حدیث ۱۰:فرماتے ہیں صلی الله تعالی علیہ وسلم:
حوالہ / References کنزالعمال بحوالہ عبادۃ ابن الصامت حدیث ۳۴۵۹۳ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۲ /۱۸۶،مجمع الزوائد،باب ماجاء فی الابدال الخ دارالکتب بیروت ۱۰ /۶۳،الجامع الصغیر بحوالہ الطبرانی عن عبادۃ بن الصامت حدیث ۳۰۳۳ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۱ /۱۸۲
مسند احمد بن حنبل عن علی رضی الله عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۱ /۱۱۲
تاریخ دمشق الکبیر باب ماجاء ان بالشام یکون الابدال داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ /۲۱۳
#18745 · رسالہ الامن و العلٰی لناعتی المصطفٰی بدافع البلاء مسمّٰی بہ نام تاریخی اکمال الطامۃ علی شرك سُوی بالامُور العامۃ ۱۳۱۱ھ پوری قیامت ڈھانا (وہابیوں کے اس )شرك پر جو امور عامہ کی طرح (موجود کی ہر قسم پر صادق )ہے
ابدال شام میں ہیں
بھم ینصرون وبھم یرزقون۔الطبرانی فی الکبیر عن عوف بن مالك وفی الاوسط عن علی المرتضی رضی الله تعالی عنہما کلاھما بسند حسن۔ وہ انہیں کی برکت سے مدد پاتے ہیں اورانہیں کی وسیلہ سے رزق۔(طبرانی نے کبیر میں عوف بن مالك سے اوراوسط میں علی المرتضی رضی الله تعالی عنہما سے دونوں میں بسند حسن روایت کیا۔ت)
حدیث ۱۱:فرماتے ہیں صلی الله تعالی علیہ وسلم:
لن تخلو الارض من اربعین رجلا مثل ابراھیم خلیل الرحمن فیھم تسقون وبھم تنصرون۔ الطبرانی فی الاوسط عن انس رضی الله تعالی عنہ بسند حسن۔ زمین ہرگز خالی نہ ہوگی چالیس اولیاء سے کہ ابراہیم خلیل الله علیہ الصلو ۃ والسلام کے پرتو پر ہوں گےانہیں کے سبب تمہیں مینہ ملے گا اورانہیں کے سبب مدد پاؤ گے(طبرانی نے اوسط میں حضرت انس رضی الله تعالی عنہ سے سند حسن کے ساتھ روایت کیا۔ت)
حدیث ۱۲:کہ فرماتے ہیں صلی الله تعالی علیہ وسلم:
لن یخلو الارض من ثلثین مثل ابراھیم بھم تغاثون وبھم ترزقون وبھم تمطرون۔ابن حبان فی تاریخہ عن ابی ھریرہ رضی الله تعالی عنہ۔ ابراہیم خلیل الله علیہ الصلوۃ والثناء سے خوبو میں مشابہت رکھنے والے تیس شخص زمین پر ضرور رہیں گےانہیں کی بدولت تمہاری فریاد سنی جائے گی اورانہیں کے سبب رزق پاؤ گے اورانہیں کی برکت سے مینہ دئے جاؤ گے(ابن حبان نے اپنی تاریخ میں حضرت ابوہریرۃ رضی الله تعالی عنہ سے روایت کیا۔ت)
حوالہ / References المعجم الکبیر عن عوف بن مالك حدیث ۱۲۰ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۸ /۶۵
المعجم الاوسط حدیث ۴۱۱۳ مکتبۃ المعارف ریاض ۵ /۶۵،کنزالعمال حدیث ۳۴۶۰۳مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۲ /۱۸۸
کنزالعمال بحوالہ حب فی تاریخہ عن ابی ھریرۃ حدیث ۳۴۶۰۲ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۲ /۱۸۷
#18746 · رسالہ الامن و العلٰی لناعتی المصطفٰی بدافع البلاء مسمّٰی بہ نام تاریخی اکمال الطامۃ علی شرك سُوی بالامُور العامۃ ۱۳۱۱ھ پوری قیامت ڈھانا (وہابیوں کے اس )شرك پر جو امور عامہ کی طرح (موجود کی ہر قسم پر صادق )ہے
حدیث ۱۳:کہ فرماتے ہیں صلی الله تعالی علیہ وسلم:
لایزال اربعون رجلا من امتی قلوبھم علی قلب ابراھیم یدفع الله بھم عن اھل الارض یقال لھم الابدال۔ابو نعیم فی الحلیۃ عن عبدالله بن مسعود رضی الله تعالی عنہ۔ میری امت میں چالیس مرد ہمشیہ رہیں گے کہ ان کے دل ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کے دل پر ہوں گے الله تعالی ان کے سبب زمین والوں سے بلا دفع کرے گا ان کا لقب ابدال ہوگا۔ (ابو نعیم نے حلیہ میں عبدالله بن مسعود رضی الله تعالی عنہ سے روایت کیا۔ت)
حدیث ۱۴:کہ فرماتے ہیں صلی الله تعالی علیہ وسلم:
لایزال اربعون رجلا یحفظ الله بھم الارض کلما مات رجل ابدل الله مکانہ اخر وھم فی الارض کلھا۔ الخلال عن ابن عمر رضی الله تعالی عنہما۔ چالیس مرد قیامت تك ہوا کریں گے جن سے الله تعالی زمین کی حفاظت لے گا جب ان میں کا ایك انتقال کرے گا الله تعالی اسکے بدلے دوسرا قائم فرمائیگااوروہ ساری زمین میں ہیں۔ (خلال نے ابن عمر رضی الله تعالی عنہما سے روایت کیا۔ت)
حدیث ۱۵:کہ فرماتے ہیں صلی الله تعالی علیہ وسلم:بیشك الله تعالی کے لیے خلق میں تین سو اولیاء ہیں کہ ان کے دل قلب آدم پر ہیںاور چالیس کے دل قلب موسی اور سات کے قلب ابراہیماورپانچ کے قلب جبریلاورتین کے قلب میکائیل اور ایك کا دل قلب اسرافیل پر ہے علیہم الصلوۃ والتسلیم۔جب وہ ایك مرتا ہے تین میں سے کوئی ایك اس کا قائم مقام ہوتا ہے اور جب ان میں سے کوئی انتقال کرتاہے تو پانچ میں سے اس کا بدل کیا جاتاہے اورپانچ والے کا عوض سات اور سات کا چالیس اور چالیس کا تین سو اور تین سو کا عام مسلمین سے
حوالہ / References حلیۃ الاولیاء ترجمہ زید بن وھب ۲۶۳دارالکتاب العربی بیروت ۴ /۱۷۳،کنزالعمال بحوالہ طب عن ابن مسعود حدیث ۳۴۶۱۲ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۲ /۱۹۰
کنز العمال بحوالہ الخلال عن ابن عمر حدیث ۳۴۶۱۴مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۲ /۱۹۱
#18747 · رسالہ الامن و العلٰی لناعتی المصطفٰی بدافع البلاء مسمّٰی بہ نام تاریخی اکمال الطامۃ علی شرك سُوی بالامُور العامۃ ۱۳۱۱ھ پوری قیامت ڈھانا (وہابیوں کے اس )شرك پر جو امور عامہ کی طرح (موجود کی ہر قسم پر صادق )ہے
فیھم یحیی ویمیت ویمطر وینبت ویدفع البلاء۔ ابو نعیم فی الحلیۃ وابن عساکر عن ابن مسعود رضی الله تعالی عنہ۔ انہیں تین سو چھپن اولیاء کے ذریعہ سے خلق کی حیات موت مینہ کا برسنانباتات کا اگنابلاؤں کا دفع ہونا ہواکرتاہے۔(ابو نعیم نے حلیہ میں اورابن عساکر نے ابن مسعود رضی الله تعالی عنہ سے روایت کیا۔ت)
حدیث ۱۶:کہ فرماتے ہیں صلی الله تعالی علیہ وسلم:
قرء القران ثلثۃ(فذکر الحدیث الی ان قال)ورجل قرأ القران فوضع دواء القران علی داء قلبہ فاسھر بہ لیلہ واظمأبہ نھارہ وقاموا فی مساجدھم واحبوابہ تحت برانسھم فھؤلاء یدفع الله بھم البلاء و یزیل من الاعداء وینزل غیث السماء فوالله ھؤلاء من قراء القران اعز من الکبریت الاحمر۔ابن حبان فی الضعفاء وابو نصر السجزی فی الابانۃ و الدیلمی عن بریدہ رضی الله تین قسم کے آدمیوں نے قرآن پڑھا(دو قسمیں دنیا طلب و قاری بے عمل بیان کر کے فرمایا)ایك وہ شخص جس نے قرآن عظیم پڑھا اور دواکو اپنے دل کی بیماری کا علاج بنایا تو ا س نے اپنی رات جاگ کر اوراپنا دن پیاس یعنی روزے میں کاٹا اور اپنی مسجدوں میں قرآن کے ساتھ نماز میں قیام کیا اور اپنی زاہدانہ ٹوپیاں پہنے نرم آواز سے اس کے پڑھنے میں روئے تو یہ لوگ وہ ہیں جن کے طفیل میں الله تعالی بلا کو دفع فرماتا اور دشمنوں سے مال ودولت وغنیمت دلاتا اورآسمان سے مینہ برساتا ہے خدا کی قسم قاریان قرآن میں ایسے لوگ گوگرد سرخ سے بھی کمیاب تر ہیں۔(ابن حبان نے الضعفاء میں اور ابو نصر سجزی نے ابانۃ میں اوردیلمی نے حضرت بریدہ رضی الله
حوالہ / References حلیۃ الاولیاء مقدمۃ الکتاب دارالکتاب العربی بیروت ۱ /۹،تاریخ دمشق الکبیر باب ماجاء ان بالشام یکون الخ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ /۲۲۳
شعب الایمان حدیث ۲۶۲۱ دارالکتب العلمیہ بیروت ۲/ ۵۳۱و ۵۳۲،کنز العمال بحوالہ حب فی الضعفاء وابی نصر السجزی الخ حدیث ۲۸۸۲مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱ /۶۲۳
#18748 · رسالہ الامن و العلٰی لناعتی المصطفٰی بدافع البلاء مسمّٰی بہ نام تاریخی اکمال الطامۃ علی شرك سُوی بالامُور العامۃ ۱۳۱۱ھ پوری قیامت ڈھانا (وہابیوں کے اس )شرك پر جو امور عامہ کی طرح (موجود کی ہر قسم پر صادق )ہے
تعالی عنہ و رواہ البیھقی فی الشعب عن الحسن البصری رضی الله تعالی عنہ۔ تعالی عنہ سے اوربیہقی نے شعب میں حضرت حسن بصری رضی الله تعالی عنہ سے روایت کیا۔ت)
حدیث ۱۷:فرماتے ہیں صلی الله تعالی علیہ وسلم:
النجوم امنۃ للسماء فاذا ذھبت النجوم اتی السماء ما توعدوانا امنۃ لاصحابی فاذا ذھبت اتی اصحابی ما یوعدونواصحابی امنۃ لامتی فاذا ذھب اصحابی اتی امتی مایوعدون۔



صدق رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم۔
احمد ومسلم عن ابی موسی الاشعری رضی الله تعالی عنہ۔ ستارے امان ہیں آسمان کے لئےجب ستارے جاتے رہیں گے آسمان پر وہ آئے گا جس کا اس سے وعدہ ہے یعنی شق ہونا فنا ہوجانا۔اور میں امان ہوں اپنے اصحاب کےلئے جب میں تشریف لے جاؤں گا میرے اصحاب پر وہ آئے گا جس کا ان سے وعدہ ہے یعنی مشاجرات۔اورمیرے صحابہ امان ہیں میر ی امت کے لیےجب میرے صحابہ نہ رہیں گے میری امت پر وہ آئے گا جس کا ان سے وعدہ ہے یعنی ظہور کذب ومذاہب فاسدہ وتسلط کفار۔
سچ فرمایا رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم نے۔(ت)
امام احمد ومسلم نے حضرت ابو موسی اشعری رضی الله تعالی عنہ سے روایت کیا۔(ت)
حدیث ۱۸۱۹:فرماتے ہیں صلی الله تعالی علیہ وسلم:
النجوم امان لاھل السماء واھل بیتی امان لامتی ۔ ستارے آسمان والوں کے لیے امان ہیں اورمیرے اہل بیت میری امت کے لیے پناہ۔
حوالہ / References صحیح مسلم کتاب الفضائل باب بیان ان بقاء النبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم امان لاصحابہ قدیمی کتب خانہ کراچی۲/۳۸۸،مسند احمد بن حنبل عن ابی موسٰی الاشعری المکتب الاسلامی بیروت ۴ /۳۹۹
الصواعق المحرقۃ باب الامان ببقائہم دارالکتب العلمیۃ بیروت ص ۳۵۱
#18749 · رسالہ الامن و العلٰی لناعتی المصطفٰی بدافع البلاء مسمّٰی بہ نام تاریخی اکمال الطامۃ علی شرك سُوی بالامُور العامۃ ۱۳۱۱ھ پوری قیامت ڈھانا (وہابیوں کے اس )شرك پر جو امور عامہ کی طرح (موجود کی ہر قسم پر صادق )ہے
اقول:اگر اہلبیت میں تعمیم ہوجیسا کہ ظاہر حدیث ہے تو غالبا یہاں ہلاك مطلق وارتفاع قرآن عظیم وہدم کعبہ معظمہ وویرانی مدینہ طیبہ سے پناہ مراد ہوکہ جب تك اہل بیت اطہار رہیں گے یہ جانگزا بلائیں پیش نہ آئیں گی۔والله ورسولہ اعلم صلی الله تعالی علیہ وسلم۔اور برتقدیر خصوص ظہور طوائف ضالہ مراد ہو
کما فی روایۃ ابی یعلی فی مسندہ عن سلمۃ بن الاکوع رضی الله تعالی عنہ بسند حسن والحاکم فی المستدرك وصحح وتعقب عن ابن عباس رضی الله تعالی عنہما ولفظہ النجوم امان لاھل الارض من الغرق واھل بیتی امان لامتی من الاختلاف الحدیث۔ جیسا کہ مسند ابو یعلی کی روایت میں سلمہ بن اکوع رضی الله تعالی عنہ سے بسند حسن ہے۔اور حاکم نے مستدرك میں اسے روایت کیا ا وراس کی تصحیح کی اورابن عباس رضی الله تعالی عنہما سے اس کی پیروی کیان کے الفاظ یہ ہیں:ستارے زمین والوں کے لئے غرق ہونے سے امان ہیں اور میرے اہل بیت میری امت کے لیے اختلاف سے امان ہیںالحدیث۔(ت)
حدیث۲۰:کہ فرماتے ہیں صلی الله تعالی علیہ وسلم:
اھل بیتی امان لامتی فاذ اذھب اھل ابیتی اتاھم ما یوعدون۔الحاکم وتعقب عن جابر بن عبدالله رضی الله تعالی عنہما۔ میرے اہلبیت میری امت کے لے امان ہیں جب اہل بیت نہ رہیں گے امت پروہ آئیگا جو ان سے وعدہ ہے(حاکم نے روایت کی اورجابر بن عبدالله رضی الله تعالی عنہما کی پیروی کی۔ت)
حدیث ۲۱:عبدالله بن عباس رضی الله تعالی عنہما سے کہ انہوں نے فرمایا:
کان من دلالات حمل رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم ان کل دابۃ کانت لقریش نطقت تلك نبی صلی الله تعالی علیہ وسلم کے حمل مبارك کی نشانیوں سے تھا کہ قریش کے جتنے چوپائے تھے سب نے اس رات کلام کیا اورکہا رب کعبہ کی
حوالہ / References المستدرك للحاکم کتاب معرفۃ الصحابۃ اھل بیتی امان لامتی دارالفکر بیروت ۳ /۱۴۹
المستدرك للحاکم کتاب معرفۃ الصحابۃ اھل بیتی امان لامتی دارالفکر بیروت ۳ /۱۴۹
#18750 · رسالہ الامن و العلٰی لناعتی المصطفٰی بدافع البلاء مسمّٰی بہ نام تاریخی اکمال الطامۃ علی شرك سُوی بالامُور العامۃ ۱۳۱۱ھ پوری قیامت ڈھانا (وہابیوں کے اس )شرك پر جو امور عامہ کی طرح (موجود کی ہر قسم پر صادق )ہے
اللیلۃ وقالت حمل رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم ورب الکعبۃ وھو امان الدنیا وسراج اھلھا ۔ قسم !رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم حمل میں تشریف فرما ہوئے وہ تمام دنیا کی پناہ اوراہل عالم کے سورج ہیں صلی الله تعالی علیہ وسلم۔
حدیث ۲۲و۲۳:کہ فرماتے ہیں صلی الله تعالی علیہ وسلم:
اطلبوا الحوائج الی ذوی الرحمۃ من امتی ترزقوا وفی لفظ اطلبوا الفضل عند الرحماء من امتی تعیشوا فی اکنافھم فان فیھم رحمتی وفی لفظ اطلبوا الفضل من الرحماء وفی روایۃ اخری اطلبوا المعروف من رحماء امتی تعیشوا فی اکنافھم۔العقیلی والطبرانی فی الاوسط باللفظ الاول وابن حبان والخرائطی و القضاعی وابوالحسن الموصلی والحاکم فی التاریخ بالثانی والعقیلی بالثالث کلھم عن سعیدن الخدری و الاخری للحاکم فی المستدرك عن علین المرتضی رضی الله میرے رحم دل امتیوں سے حاجتیں مانگو رزق پاؤگے اورایك روایت میں ہے ان سے فضل طلب کرو ان کے دامن میں آرام سے رہوگے کہ ان میں میری رحمت ہے۔اورایك اور روایت میں ہے میری رحمدل امتیوں سے بھلائی چاہو ان کی پناہ میں چین سے رہوگے۔عقیلی اورطبرانی نے اوسط میں بلفظ اول اورابن حبانخرائطیقضاعیابوالحسن موصلی اورحاکم نے تاریخ میں بلفظ دوم جبکہ عقیلی نے بلفظ سوم روایت کیا ہے۔ان سب نے ابو سعید خدری رضی الله تعالی عنہ سے روایت کیا ہے اورمستدرك حاکم میں دوسری روایت میں بروایت علی رضی الله تعالی
حوالہ / References الخصائص الکبرٰی بحوالہ ا بو نعیم عن ابن عباس باب مظہر فی لیلۃ مولدہ الخ مرکز اہلسنت گجرات ہند ۱ /۴۷
کنزالعمال بحوالہ عق،طس عن ابی سعید حدیث ۱۶۸۰۱مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۶ /۵۱۸،الجامع الصغیر بحوالہ عق،طس عن ابی سعید حدیث ۱۱۰۶دارالکتب العلمیہ بیروت ۱ /۷۲
الجامع الصغیر بحوالہ الخرائطی فی مکام الاخلاق حدیث ۱۱۱۴ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۱ /۷۲،کنزالعمال بحوالہ الخرائطی فی مکارم الاخلاق حدیث ۱۶۸۰۹مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۶ /۵۱۹
المستدرك للحاکم کتاب الرقاق اھل المعروف فی الدنیا الخ دارالفکر بیروت ۴ /۳۲۱،کنزالعمال حدیث ۱۶۸۰۷مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۶/ ۵۱۹
#18751 · رسالہ الامن و العلٰی لناعتی المصطفٰی بدافع البلاء مسمّٰی بہ نام تاریخی اکمال الطامۃ علی شرك سُوی بالامُور العامۃ ۱۳۱۱ھ پوری قیامت ڈھانا (وہابیوں کے اس )شرك پر جو امور عامہ کی طرح (موجود کی ہر قسم پر صادق )ہے
تعالی عنہ۔ عنہ ہے۔(ت)
حدیث ۲۴تا۳۷:کہ فرماتے ہیں صلی الله تعالی علیہ وسلم:
اطلبوا الخیر والحوائج من حسان الوجوہ ۔ بھلائی اوراپنی حاجتیں خوشرویوں سے مانگو۔
ع کہ معنی بود وصورت خوب را
کہ یہ خوش رو حضرات اولیائے کرام ہیں کہ حسن ازلی جن سے محبت فرماتاہے۔
من کثرت صلوتہ باللیل حسن وجھہ بالنھار ۔ (جو رات کو کثرت سے نماز پڑھتا ہے الله تعالی اس کے چہرے کو دن کی روشنی جیسا حسن عطاکردیتاہے۔ت)
اورجودکامل وسخائے شامل بھی انہیں کا حصہ کہ وقت عطاشگفتہ روئی جس کا ادنی ثمرہ۔
الطبرانی فی الکبیر عن ابن عباس بھذا اللفظ و العقیلی والخطیب وتمام الرازی فی فوائد ہ والطبرانی فی الکبیر والبیہقی فی شعب الایمان عنہ وابن ابی الدنیا فی قضاء الحوائج والعقیلی والدارقطنی فی الافراد والطبرانی فی الاوسط وتمام والخطیب فی رواۃ مالك عن ابی ھریرۃوابن عساکر والخطیب فی تاریخھما عن انس بن مالکوالطبرانی فی الاوسط و العقیلی والخرائطی فی اعتلال القلوب و تمام وابو سھل وعبدالصمدبن طبرانی نے کبیر میں ابن عباس رضی الله تعالی عنہما سے ان ہی لفظوں کے ساتھ روایت کیا ہے۔عقیلیخطیبتمام رازی اپنی فوائد میںطبرانی کبیر میں اور بیہقی شعب الایمان میں ان ہی سے راوی ہیں۔ابن ابی الدنیا نے قضاء الحوائج میں عقیلی ودارقطنی نے افراد میںطبرانی نے اوسط میں تمام اور خطیب نے بواسطہ مالك حضرت ابو ہریرہ رضی الله تعالی عنہ سے روایت کیا۔ابن عساکر اور خطیب نے اپنی تاریخ میں حضرت انس بن مالك رضی الله تعالی عنہ سے روایت کیا۔ طبرانی نے اوسط میںعقیلی وخرائطی نے اعتلال القلوب میں تمام وابو سہل اورعبدالصمد بن
حوالہ / References المعجم الکبیر عن ابن عباس حدیث ۱۱۱۱۰ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۱۱ /۸۱
کنزالعمال حدیث ۲۱۳۹۴مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۷ /۷۸۳
#18752 · رسالہ الامن و العلٰی لناعتی المصطفٰی بدافع البلاء مسمّٰی بہ نام تاریخی اکمال الطامۃ علی شرك سُوی بالامُور العامۃ ۱۳۱۱ھ پوری قیامت ڈھانا (وہابیوں کے اس )شرك پر جو امور عامہ کی طرح (موجود کی ہر قسم پر صادق )ہے
عبد الرحمن البزار فی جزئہ وصاحب المھر انیات فیھا عن جابر بن عبدالله وعبدبن حمید فی مسندہ وابن حبان فی الضعفاء وابن عدی فی الکامل والسلفی فی الطیوریات عن ابن عمروابن النجار فی تاریخہ عن امیرالمومنین علیوالطبرانی فی الکبیر عن ابی خصیفۃ وتمام عن ابی بکرۃوالبخاری فی التاریخ وابن ابی الدنیا فی قضاء الحوائجوابویعلی فی مسندہوالطبرانی فی الکبیر والعقیلی والبیہقی فی شعب الایمان وابن عساکر عن ام المؤمنین الصدیقۃ کلھم بلفظ اطلبوا الخیر عند حسان الوجوہ کما عبدالرحمن بزار نے اس کو اپنی جزء میں اورصاحب مہرانیات نے مہرانیات میں حضرت جابر بن عبدالله رضی الله تعالی عنہما سے روایت کیا۔جبکہ عبد بن حمید نے اپنی مسند میںابن حبان نے ضعفاء میںابن عدی نے کامل میں اورسلفی نے طیوریات میں ابن عمر رضی الله تعالی عنہما سے روایت کیا۔ ابن نجار نے اپنی تاریخ میں امیر المومنین علی مرتضی رضی الله عنہ سے روایت کیا۔طبرانی نے کبیر میں ابو خصیفہ سے اور تمام نے ابو بکرہ سے روایت کیا۔بخاری نے تاریخ میںابن ابی الدنیا نے قضاء الحوائج میںابو یعلی نے اپنے مسند میں طبرانی نے کبیر میںعقیلی وبیہقی نے شعب الایمان میں اور ابن عساکر نے ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی الله تعالی عنہا سے روایت کیا ہے۔ان سب نے بایں الفاظ ذکر کیا ہے کہ ''خوشرویوں سے بھلائی طلب کرو''جیسا کہ
حوالہ / References اتحاف السادۃ المتقین کتاب الصبر والشکربیان حقیقۃ النعمۃ واقسامہا دارالفکر بیروت ۹ /۹۱،کشف الخفاء تحت الحدیث ۳۹۴ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۱ /۱۲۲و۱۲۳،تاریخ بغداد ذکر مثانی الاسماء دارالکتاب بیروت ۴ /۱۸۵،تاریخ بغداد ترجمہ ایوب بن الولید ۳۴۸۳ دارالکتاب بیروت ۷ /۱۱،تاریخ بغداد ترجمہ عبدالصمد بن احمد ۵۷۲۲ دارلکتاب بیروت ۱۱ /۴۳،تاریخ بغداد عصمۃ بن محمد الانصاری ۷۱۴۱ دار الکتاب بیروت ۱۳ /۱۵۸،الضعفاء الکبیر حدیث ۱۳۶۶دارالکتب العلمیۃ بیروت ۳ /۳۴۰،شعب الایمان تحت الحدیث ۳۵۴۳دارالکتب العلمیۃ بیروت ۳/۲۷۹، (باقی برصفحہ آئندہ)
#18753 · رسالہ الامن و العلٰی لناعتی المصطفٰی بدافع البلاء مسمّٰی بہ نام تاریخی اکمال الطامۃ علی شرك سُوی بالامُور العامۃ ۱۳۱۱ھ پوری قیامت ڈھانا (وہابیوں کے اس )شرك پر جو امور عامہ کی طرح (موجود کی ہر قسم پر صادق )ہے
عند الاکثر اوالتمسوا کما التما م عن ابن عباس و الخطیب عن انس۔والطبرانی عن ابی خصیفۃ۔او ابتغو ا کما للدارقطنی عن ابی ھریرۃ ولفظہ عندابن عدی عن ام المؤمنین اطلبوا الحاجات وھو فی کاملہ والبیہقی فی شعب اکثر کے نزدیك ہے۔یا اطلبوا کی جگہ التمسواہے جیسا کہ تمام نے ابن عباسخطیب نے حضرت انس اورطبرانی نے ابو خصیفہ سے روایت کیا رضی الله تعالی عنہم۔یا لفظ ابتغوا ہے جیسا کہ دارقطنی نے ابوہریرہ سے روایت کیا ہے۔ابن عدی کی کامل میں بروایت ام المومنین حدیث کے الفاظ یوں ہیں کہ ''اپنی
حوالہ / References (بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
موسوعۃ رسائل ابن ابی الدنیا قضاء الحوائج حدیث ۵۳مؤسسۃ الکتب الثقافیہ بیروت ۲ /۵۱،کنزالعمال بحوالہ قط فی الافراد حدیث ۱۶۷۹۲مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۶ /۵۱۶،الجامع الصغیر بحوالہ قط فی الافراد حدیث ۴۴دارالکتب العلمیۃ بیروت ۱ /۹،الجامع الصغیر بحوالہ تخ حدیث ۱۱۰۷دارالکتب العلمیۃ بیروت ۱ /۷۲،المعجم الاوسط عن ابی ھریرۃ حدیث ۳۷۹۹مکتبۃ المعارف ریاض ۴ /۴۷۲،کنز العمال حدیث ۱۶۷۹۵مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۶ /۵۱۶،المعجم الاوسط عن جابر رضی الله تعالٰی عنہ حدیث ۶۱۱۳مکتبۃ المعارف ریاض ۷/۷۱،مجمع الزوائد باب مایفعل طالب الحاجۃ وممن یطلبھا دارالکتاب بیروت ۸ /۱۹۴و۱۹۵،الکامل لابن عدی ترجمہ سلیم بن مسلم،دارالفکر بیروت ۳ /۱۱۶۷،المنتخب من مسند عبد بن حمید حدیث ۷۵۱عالم الکتب بیروت ص۲۴۳،اعتلال القلوب للخرائطی حدیث ۳۴۲و۳۴۳مکتبہ نزار مصطفی البازمکۃالمکرمۃ ۱ /۱۶۶و۱۶۷،موسوعۃ رسائل ابن ابی الدنیا قضاء الحوائج حدیث ۵۲و۵۱ مؤسسۃ الکتب الثقافیۃ بیروت ص۵۰ و۵۱،الضعفاء الکبیر ترجمہ سلیمان بن راقم ۵۹۹ ۲ /۱۲۱ وترجمہ سلیمان بن کراز ۶۲۸ ۲ /۱۳۹،شعب الایمان حدیث ۳۵۴۱و۳۵۴۲ دارالکتب العلمیۃ بیروت۳ /۲۷۸
المعجم الکبیر عن ابی خصیفۃ حدیث ۹۸۳المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۲۲ /۳۹۶،تاریخ بغداد ترجمہ محمد بن محمد ۱۲۸۷ دارالکتاب العربی بیروت ۳ /۲۲۶
کنز العمال بحوالہ قط فی الافراد عن ابی ھریرۃ حدیث ۱۶۷۹۲مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۶ /۵۱۶
الکامل لابن عدی ترجمہ الحکم بن عبدالله دارالفکر بیروت ۲ /۶۲۲
#18754 · رسالہ الامن و العلٰی لناعتی المصطفٰی بدافع البلاء مسمّٰی بہ نام تاریخی اکمال الطامۃ علی شرك سُوی بالامُور العامۃ ۱۳۱۱ھ پوری قیامت ڈھانا (وہابیوں کے اس )شرك پر جو امور عامہ کی طرح (موجود کی ہر قسم پر صادق )ہے
عن عبدالله بن جراد بلفظ اذا ابتغیتم المعروف فاطلبوہ عند حسان الوجوہ واحمد بن منیع فی مسندہ عن یزیدالقسملی بلفط اذا طلبتم الحاجات فاطلبوھا وابن ابی شیبۃ فی مصنفہ عن ابن مصعب ن الانصاری وعن عطاء وعن ابن شہاب الثلثۃ مراسیل رضی الله تعالی عنہم اجمعین۔ حاجات طلب کرو''۔ بیہقی نے شعب الایمان میں عبدالله بن جراد سے بایں الفاظ روایت کیاہے کہ ''جب بھلائی طلب کرو تو خوشرویوں کے پاس طلب کرو۔''احمد بن منیع نے اپنی مسند میں یزید القسملی سے ان لفظوں کے ساتھ روایت کیا ہے کہ ''جب حاجات طلب کرو توخوشرویوں کے ہاں طلب کرو۔ ''ابن ابی شیبہ نے اپنی مصنف میں ابن مصعب انصاریعطاء اورابن شہاب سے روایت کیایہ تینوں حدیثیں مرسل ہیں رضی الله تعالی عنہم اجمعین۔(ت)
حدیث ۳۸:کہ فرماتے ہیں صلی الله تعالی علیہ وسلم:
اطلبوا الابادی عند فقراء المسلمین فان لھم دولۃ یوم القیمۃ ۔ابو نعیم فی الحلیۃ عن ابی الربیع السائح معضل۔ نعمتیں مسلمان فقیروں کے پاس طلب کرو کہ روز قیامت ان کی دولت ہے۔(ابو نعیم نے حلیہ میں ابو الربیع السائح سے معضل(سخت مشکل)روایت کی۔ت)
حدیث ۳۹:کہ فرماتے ہیں صلی الله تعالی علیہ وسلم:
ان الله تعالی عبادااختصھم لحوائج الناس یفزع الناس الیھم فی حوائجھم اولئك الامنون من عذاب الله ۔الطبرانی الله تعالی کے کچھ بندے ہیں کہ الله تعالی نے انہیں حاجت روائی خلق کے لیے خاص فرمایاہے لوگ گھبرائے ہوئے اپنی حاجتیں اپنے پاس لاتے ہیںیہ بندے عذاب الہی سے امان
حوالہ / References شعب الایمان حدیث ۱۰۸۷۶ دارالکتب العلمیۃ بیروت۷/۴۳۵
اتحاف السادۃ المتقین کتاب الصبر والشکر بیان حقیقۃ النعمۃ واقسامہا دارالفکر بیروت ۹ /۹۱،کشف الخفاء تحت الحدیث ۳۹۴ دار الکتب العلمیۃ بیروت ۱ /۱۲۳،المصنف لابن ابی شیبۃ حدیث ۲۶۲۶۷،۲۶۲۶۸،۲۶۲۶۹دارالکتب العلمیۃ بیروت ۵ /۴۳۵
حلیۃ الاولیاء ترجمہ ابی الربیع السائح ۴۱۸ دارالکتاب العربی بیروت ۸ /۲۹۷
#18755 · رسالہ الامن و العلٰی لناعتی المصطفٰی بدافع البلاء مسمّٰی بہ نام تاریخی اکمال الطامۃ علی شرك سُوی بالامُور العامۃ ۱۳۱۱ھ پوری قیامت ڈھانا (وہابیوں کے اس )شرك پر جو امور عامہ کی طرح (موجود کی ہر قسم پر صادق )ہے
فی الکبیر عن ابن عمر رضی الله تعالی عنہما بسند حسن۔ میں ہیں۔(طبرانی نے کبیر میں ابن عمر رضی الله تعالی عنہما سے سند حسن کے ساتھ روایت کیا۔ت)
حدیث ۴۰:کہ فرماتے ہیں صلی الله تعالی علیہ وسلم:
اذا اراد الله بعبد خیرا استعملہ علی قضاء حوائج الناس۔البیھقی فی الشعب عن ابن عمر رضی الله تعالی عنہما۔ جب الله تعالی کسی بندے سے بھلائی کا ارادہ فرماتاہے اس سے مخلوق کی حاجت روائی کا کام لیتا ہے(بیہقی نے شعب میں ابن عمر رضی الله تعالی عنہما سے روایت کیا۔ت)
حدیث ۴۱:کہ فرماتے ہیں صلی الله تعالی علیہ وسلم:
اذا اراد الله بعبد خیرا صیر حوائج الناس الیہ۔ مسند الفردوس عن انس رضی الله تعالی عنہ۔ الله تعالی جب کسی بندے سے بھلائی کا ارادہ فرماتاہے تو اسے لوگوں کا مرجع حاجات بناتاہے(مسند فردوس میں حضرت انس رضی الله تعالی عنہ سے روایت کیا گیا۔ت)
حدیث ۴۲و۴۳:فرماتے ہیں صلی الله تعالی علیہ وسلم:میری تمہاری کہاوت ایسی ہے جیسے کسی نے آگ روشن کیپنکھیاں اورجھینگراس میں گرنا شروع ہوئے وہ انہیں آگ سے ہٹا رہا ہے
وانا اخذ بحجزکم عن النار وانتم تفلتون من یدی۔احمد ومسلم عن جابر واحمد اورمیں تمہاری کمریں پکڑے تمہیں آگ سے بچارہا ہوں اور تم میرے ہاتھ سے نکلنا چاہتے ہو۔(احمد اورمسلم نے حضرت جابر سے اوراحمد نے
حوالہ / References کنزالعمال بحوالہ طب عن ابن عمر حدیث ۱۶۰۰۷مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۶ /۳۵۰
شعب الایمان حدیث ۷۶۵۹دارالکتب العلمیۃ بیروت ۶ /۱۱۷
الفردو س بماثور الخطاب حدیث ۹۳۸ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۱ /۲۴۳
صحیح مسلم کتاب الفضائل باب شفقتہ صلی الله تعالٰی علیہ وسلم علی اٰمتہ الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۲۴۸،مسند احمد بن حنبل عن جابر رضی الله تعالٰی عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۳ /۳۹۲،مسند احمد بن حنبل عن ابی ھریرۃ رضی الله تعالٰی عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۲ /۵۴۰
#18756 · رسالہ الامن و العلٰی لناعتی المصطفٰی بدافع البلاء مسمّٰی بہ نام تاریخی اکمال الطامۃ علی شرك سُوی بالامُور العامۃ ۱۳۱۱ھ پوری قیامت ڈھانا (وہابیوں کے اس )شرك پر جو امور عامہ کی طرح (موجود کی ہر قسم پر صادق )ہے
عن ابی ھریرۃ رضی الله تعالی عنہما۔ حضرت ابو ہریرۃ سے روایت کیا رضی الله تعالی عنہما۔ت)
حدیث ۴۴:کہ فرماتے ہیں رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم:
لیس منکم رجل الا انا ممسك بحجزتہ ان یقع فی النار۔الطبرانی فی الکبیر عن سمرۃ رضی الله تعالی عنہ۔ تم میں ایسا کوئی نہیں کہ میں اس کا کمر بند پکڑے روك نہ رہا ہوں کہ کہیں آگ میں نہ گرپڑے۔(طبرانی نے کبیر میں سمرہ رضی الله تعالی عنہ سے روایت کیا۔ت)
حدیث ۴۵:کہ فرماتے ہیں صلی الله تعالی علیہ وسلم:الله عزوجل نے جو حرمت حرام کی اس کے ساتھ یہ بھی جاناکہ تم میں کوئی جھانکنے والا اسے ضرورجھانکے گا۔
الاو انی ممسك بحجز کم ان تھافتوا فی النار کما تھافت الفراش والذباب۔احمد والطبرانی فی الکبیر عن ابن مسعود رضی الله تعالی عنہ۔ سن لو اور میں تمہارے کمر بند پکڑے ہوں کہ کہیں پے درپے آگ میں پھاند نہ پڑو جیسے پروانے اورمکھیاں۔(احمد اور طبرانی نے کبیر میں ابن مسعود رضی الله تعالی عنہ سے روایت کیا۔ت)
الله اکبر! اس سے زیادہ اورکیا دفع بلا ہوگاولکن الوھابیۃ لایعلمون(لیکن وہابی نہیں جانتے۔ت)
تنبیہ:بائیس۲۲ سے چوالیس۴۴ تك چوبیس حدیثیں قابل اندراج وجہ دو تھیں کہ قطعا للشغف یہیں درج ہوئیں۔
حدیث ۴۶تا۵۲:سید عالم صلی الله تعالی علیہ وسلم نے اپنے رب عزوجل سے دعا کی:
حوالہ / References المعجم الکبیر عن سمرۃ رضی الله عنہ حدیث ۷۱۰۰المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۷ /۲۶۹
مسند احمد بن حنبل عن ابن مسعود المکتب الاسلامی بیروت ۱ /۴۲۴،المعجم الکبیر عن ابن مسعود حدیث ۱۰۵۱۱ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۱۰ /۲۶۵
#18757 · رسالہ الامن و العلٰی لناعتی المصطفٰی بدافع البلاء مسمّٰی بہ نام تاریخی اکمال الطامۃ علی شرك سُوی بالامُور العامۃ ۱۳۱۱ھ پوری قیامت ڈھانا (وہابیوں کے اس )شرك پر جو امور عامہ کی طرح (موجود کی ہر قسم پر صادق )ہے
اللھم اعز الاسلام باحب ھذین الرجلین الیك بعمر بن الخطاب او بابی جھل بن ھشام ۔احمد و عبد بن حمید والترمذی وحسنہ وصححہ وابن سعد وابو یعلی والحسن الہی ! اسلام کو عزت دے ان دونوں مردوں میں جو تجھے زیادہ پیارا ہو اس کے ذریعہ سے یا تو عمر بن الخطاب یا ابو جہل بن ہشام۔(روایت کیا اس کو احمد وعبدبن حمید وترمذی نے اور اسے حسن
حوالہ / References مسند احمد بن حنبل عن ابن عمر رضی الله عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۲ /۹۵،المنتخب من مسند عبد بن حمید حدیث۷۵۹ عالم الکتب بیروت ص۲۴۵،سنن الترمذی کتاب المناقب باب فی مناقب عمر بن خطاب حدیث ۳۷۰۱دارالفکر بیروت ۵ /۳۸۳،سنن الترمذی کتاب المناقب باب فی مناقب عمر بن خطاب حدیث ۳۷۰۳ دارالفکر بیروت ۵ /۳۸۴،کنزالعمال بحوالہ البغوی عن ربیع السعدی حدیث ۳۲۷۷۵مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱ /۵۸۳،کنزالعمال حدیث ۷۴،۷۳،۷۲۔۳۲۷۷۱مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱/۵۸۲، کنز العمال بحوالہ خیثمۃ فی فضائل الصحابۃ حدیث ۳۵۸۸۱مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۲ /۶۰۲،کنزالعمال بحوالہ یعقوب بن سفیان حدیث ۳۵۸۴۰مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۲ /۵۹۲،تاریخ دمشق الکبیر ترجمہ عمر بن الخطاب ۵۳۰۲داراحیاء التراث العربی بیروت ۴۷ /۵۰تا۶۸،کشف الخفاء تحت حدیث ۵۴۶ دار الکتب العلمیۃ بیروت ۱ /۱۶۶،دلائل النبوۃ للبیہقی باب ذکر اسلام عمر بن الخطاب دار الکتب العلمیۃ بیروت ۲/ ۲۱۶و۲۲۰،الطبقات الکبرٰی لابن سعد ترجمہ ارقم بن ابی الارقم دارصادر بیروت ۳/ ۲۴۲ و ۲۶۷ و ۲۶۹، المستدرك للحاکم کتاب معرفۃ الصحابۃ دارصادر بیروت ۳/ ۸۳و۵۰۲،السنن الکبرٰی کتاب قسم الفئی والغنیمۃ دارصادر بیروت ۶ /۳۷۰،المعجم الکبیر عن ثوبان رضی الله عنہ حدیث ۱۴۲۸ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۲ /۹۷،المعجم الکبیر عن ابن مسعود رضی الله عنہ حدیث ۱۰۳۱۴ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۱۰ /۱۹۷،تاریخ بغداد ترجمہ احمد بن بشر ۱۶۶۱دارالکتاب العربی بیروت ۴ /۵۴،المعجم الاوسط حدیث ۴۷۴۹مکتبۃ المعارف ریاض ۵ /۳۷۸،المعجم الاوسط حدیث ۱۸۸۱مکتبۃ المعارف ریاض ۲ /۵۱۲
#18758 · رسالہ الامن و العلٰی لناعتی المصطفٰی بدافع البلاء مسمّٰی بہ نام تاریخی اکمال الطامۃ علی شرك سُوی بالامُور العامۃ ۱۳۱۱ھ پوری قیامت ڈھانا (وہابیوں کے اس )شرك پر جو امور عامہ کی طرح (موجود کی ہر قسم پر صادق )ہے
بن سفین فی فوائدہ والبزار وابن مردویۃ وخیثمۃ بن سلیمان فی فضائل الصحابۃ وابو نعیم والبیہقی فی دلائلھما وابن عساکر کلھم عن امیر المومنین عمر۔والترمذی عن انس والنسائی عن ابن عمر واحمد وابن حمید وابن عساکر عن خباب بن الارت والطبرانی فی الکبیر والحاکم عن عبدالله ابن مسعود والترمذی والطبرانی وابن عساکر عن ابن عباس والبغوی فی الجعد یات عن ربیعۃ السعدی رضی الله تعالی عنہم اجمعینورواہ ابن عساکر عن ابن عمر بلفظ اللھم اشدد وکابن النجار عنہ بلفظ الحدیث الثانی وابو داؤد الطیالسی والشاشی فی فوائدہ والخطیب عن ابن مسعود بلفظ الصدیق الآتی۔ اورصحیح کہا۔اورابن سعد وابویعلی وحسن بن سفیان نے اپنی فوائد میں۔اور بزارابن مردویہخیثمہ بن سلیمان فضائل صحابہ میںابو نعیم وبیہقی دلائل النبوۃ میں اورابن عساکریہ تمام امیر المومنین عمر رضی الله تعالی عنہ سے راوی ہیں۔ ترمذی نے اس سےنسائی نے ابن عمر سےاحمد بن حمید وابن عساکر نے خباب بن الارت سےطبرانی نے کبیر میں اورحاکم نے عبدالله بن مسعود سے۔ترمذیطبرانی اور ابن عساکر نے ابن عباس سے اوربغوی نے جعدیات میں ربیعہ بن سعدی سے روایت کیا رضی الله تعالی عنہم اجمعین۔ اور ابن عساکر نے اس کو ابن عمر رضی الله تعالی عنہما سے "اللھم اشدد"کے لفظ سے روایت کیا اورابن نجار کی طرح اس کو بلفظ حدیث دوم روایت کیا۔ابو داود طیالسی اورشاشی نے اپنی فوائد میں اورخطیب نے ابن مسعود رضی الله تعالی عنہ سے بلفظ صدیق روایت کیا جو آگے آرہاہےرضی الله تعالی عنہم۔ (ت)
حدیث ۵۳تا۸۷:کہ سید عالم صلی الله تعالی علیہ وسلم نے دعافرمائی:
اللھم اعز الاسلام بعمر بن الخطاب الہی ! خاص عمر بن الخطاب کے ذریعے سے
حوالہ / References تاریخ دمشق الکبیر ترجمہ عمر بن الخطاب ۵۳۰۲ داراحیاء التراث العربی بیروت ۴۷ /۵۱
#18759 · رسالہ الامن و العلٰی لناعتی المصطفٰی بدافع البلاء مسمّٰی بہ نام تاریخی اکمال الطامۃ علی شرك سُوی بالامُور العامۃ ۱۳۱۱ھ پوری قیامت ڈھانا (وہابیوں کے اس )شرك پر جو امور عامہ کی طرح (موجود کی ہر قسم پر صادق )ہے
خاصۃ ۔ابن ماجۃ وابن عدی والحاکم والبیہقی عن ام المومنین الصدیقۃ وبلالفظ خاصۃ ابو القاسم الطبرانی عن ثوبان والحاکم عن الزبیر و ابن سعد من طریق الحسن المجتبی وخیثمۃ بن سلیمان فی الصحابۃ واللالکائی فی السنۃ وابو طالب ن العشاری فی فضائل الصدیق وابن عساکر جمیعا من طریق النزال بن سبرۃ عن امیر المومنین علی و ابن عساکر عنہما اعنی الزبیر والامیر معا کالطبرانی فی الاوسط عن ابی بکر ن الصدیق بلفظ ایدالاسلام رضی الله تعالی عنہم اجمعین۔ اسلام کو عزت دے۔(ابن ماجہابن عدیحاکم اوربیہقی نے اس کو ام المومنین صدیقہ سے روایت کیا اورلفظ خاصۃ کے بغیر اس کو ابوالقاسم طبرانی نے ثوبان سےحاکم نے زیبر سے ابن سعد نے بطریق حسن مجتبی وخیثمہ بن سلیمان نے صحابہ میں اورلالکائی نے سنہ میں اورابو طالب عشاری نے فضائل صدیق میں اور ابن عساکر نےان سب نے بطریق نزال بن سبرہ امیر المومنین سیدنا حضرت علی سے اورابن عساکر نے حضرت زبیر اورحضرت علی دونوں سےجیسا کہ طبرانی نے اوسط میں حضرت ابو بکر صدیق سے"اید الاسلام"کے لفظوں کے ساتھ روایت کیا ہے۔رضی الله تعالی عنہم اجمعین۔ ت)
اس دعائے کریم کے باعث عمرفاروق اعظم کے ذریعہ سے جو عزتیں اسلام کو ملیں جو بلائیں اسلام ومسلمین پر سے دفع ہوئیں مخالف وموافق سب پر روشن ومبین۔ولہذا عبد الله
حوالہ / References سنن ابن ماجۃ فضل عمر رضی الله عنہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۷۱،الکامل لابن عدی ترجمہ مسلم بن خالد دارالفکر بیروت ۶/۲۳۱۰، المستدرك للحاکم کتاب معرفۃ الصحابۃ دارالفکر بیروت ۳/۸۳،السنن الکبرٰی کتاب قسم الفئی والغنیمۃ دارصادر بیروت ۶/۳۷۰،المعجم الکبیر عن ثوبان حدیث ۱۴۲۸ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۲/۹۷،تاریخ دمشق الکبیر ترجمہ عمر بن الخطاب ۵۳۰۲ داراحیاء التراث العربی بیروت ۴۷/۵۲،کنزالعمال بحوالہ خیثمہ واللالکائی والعشاری حدیث ۳۶۶۹۸ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۳ /۲۳۲، المعجم الاوسط حدیث ۸۲۴۹مکتبۃ المعارف ریاض ۹ /۱۱۹و۱۲۰
#18760 · رسالہ الامن و العلٰی لناعتی المصطفٰی بدافع البلاء مسمّٰی بہ نام تاریخی اکمال الطامۃ علی شرك سُوی بالامُور العامۃ ۱۳۱۱ھ پوری قیامت ڈھانا (وہابیوں کے اس )شرك پر جو امور عامہ کی طرح (موجود کی ہر قسم پر صادق )ہے
بن مسعود رضی الله تعالی عنہ فرماتے ہیں:
مازلنا اعزۃ منذ اسلم عمر ۔البخاری فی صحیحہ و ابو حاتم الرازی فی مسندہ وابن حبان عنہ رضی الله تعالی عنہ۔ ہم ہمیشہ معزز رہے جب سے عمر اسلام لائے۔(امام بخاری علیہ الرحمہ نے اپنی بخاری میں اورابو حاتم رازی نے اپنی مسند میں اور ابن حبان نے عبدالله بن مسعود رضی الله تعالی عنہ سے روایت کیا۔ت)
نیز فرماتے ہیں رضی الله تعالی عنہ:
کان اسلام عمر فتحا وھجرتہ نصرا وامارتہ رحمۃ لقد رأیتنا وما نستطیع ان نصلی بالبیت حتی اسلم عمر ۔رواہ ابو ظاھر السلفی واخرہ لابن اسحق فی سیرتہ بمعناہ۔ عمر(رضی الله تعالی عنہ)کا اسلام فتح تھا اوران کی ہجرت نصرت اور ان کی خلافت رحمتبیشك میں نے اپنے گروہ صحابہ کو دیکھا کہ جب تك عمر مسلمان نہ ہوئے ہمیں کعبہ معظمہ میں نماز پر قدرت نہ ملی۔(اس کو روایت کیا ابو ظاہر سلفی نے اور اس کے بعد سیرۃ ابن اسحق میں انہیں معنوں میں۔ت)
نیز فرماتے ہیں رضی الله تعالی عنہ:
ما صلینا ظاھرین حتی اسلم عمر جب تك عمر مسلمان نہ ہو ئے ہم نے آشکارنماز
حوالہ / References صحیح البخاری کتاب المناقب مناقب عمر بن الخطاب رضی الله عنہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۵۲۰،المستدرك للحاکم کتاب معرفۃ الصحابۃ دارالفکر بیروت ۳ /۸۴،الطبقات الکبری لابن سعد اسلام عمر رضی الله عنہ دارصادر بیروت ۳ /۲۷۰،صفۃ الصفوۃ ذکر اسلام عمر رضی الله عنہ دارالمعرفۃ بیروت ۱ /۲۷۴
السیرۃ النبویۃ لابن ھشام اسلام ابن عمر رضی الله عنہ دارابن کثیر بیروت الجزئین الاولین ص۳۴۲،اسدالغابۃ ترجمہ ۳۸۲۴عمر بن الخطاب دارالفکر بیروت ۳ /۶۴۸،لریاض النضرۃ الباب الثانی فی مناقب عمر بن الخطاب حدیث ۵۸۶ دارالمعرفۃ بیروت الجزء الثانی ص۲۴۴
#18761 · رسالہ الامن و العلٰی لناعتی المصطفٰی بدافع البلاء مسمّٰی بہ نام تاریخی اکمال الطامۃ علی شرك سُوی بالامُور العامۃ ۱۳۱۱ھ پوری قیامت ڈھانا (وہابیوں کے اس )شرك پر جو امور عامہ کی طرح (موجود کی ہر قسم پر صادق )ہے
ظھر الاسلام ودعاالی الله علانیۃ۔اخرجہ الدولابی فی الفضائل ۔ نہ پڑھی جس دن سے وہ اسلام لائے دین نے غلبہ پایا اور انہوں نے علانیہ الله عزوجل کی طرف بلایا(دولابی نے فضائل میں اسے بیان کیا۔ت)
صہیب رضی الله تعالی عنہ فرماتے ہیں:
لما اسلم عمر جلسنا حول البیت حلقا وطفنابہ و انتصفنا ممن غلظ علینا۔خرجہ ابوالفرج فی صفۃ الصفوۃ ۔ جب عمر مسلمان ہوئے ہم گردخانہ کعبہ حلقہ باندھ کر بیٹھ گئے اورطواف کیا اورہم پر جو سختی کرتے تھے ان سے اپنا انصاف لیا۔(ابوالفرج نے اسے صفۃ الصفوۃ میں بیان کیا۔ت)
حدیث ۵۸:عبدالله بن سلام رضی الله تعالی عنہ نے اسلام لاتے ہی حضو ر اقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم سے عرض کی:
انی لاجد صفتك فی کتاب الله یا یھاالنبی انا ارسلنك شاھد ا ومبشرا ونذیرا الی قولہ لن یقبضہ الله حتی یقیم بہ الملۃ العوجاء حتی یقولوا لا الہ الا الله و یفتح بہ اعینا عمیا واذا ناصما وقلوبا غلفا ۔ زید بن اسلم عن عبدالله بن سلاموالدارمی والبیہقی من طریق عطاء بن یسارعنہ نحوہ ولہ طریق ثانی فی الباب الاتی ان شاء الله تعالی۔بیشك میں حضور(صلی الله تعالی علیہ وسلم) کی صفت تورات میں پاتاہوںاے نبی !یقینا ہم نے تجھے بھیجا گواہ اوراپنی امت کے تمام احوال و افعال پر مطلع اورخوشخبری دیتا اورڈرسناتا۔الله عزوجل اس نبی کو نہ اٹھائے گا یہاں تك کہ لوگ لا الہ ا لا الله کہہ دیں اوراس نبی کے ذریعے
حوالہ / References الریاض النضرۃ الباب الثانی فی مناقب عمر بن خطاب رضی الله عنہ حدیث ۵۸۶دارالمعرفۃ بیروت،الجزء الثانی ص۲۴۴
صفۃ الصفوۃ ذکر اسلام عمر رضی الله عنہ دارالمعرفۃ بیروت ۱ /۲۷۴
دلائل النبوۃ للبیہقی باب صفۃ رسول الله فی التوراۃ والانجیل دارالکتب العلمیۃ بیروت ۱ /۳۸۶،سنن الدارمی باب صفۃ النبی صلی الله علیہ وسلم فی الکتب قبل مبعثہ دارالمحاسن للطباعۃ لقاھرۃ ۱ /۱۴،الخصائص الکبری بحوالہ ابن عساکر والدارمی والبیہقی باب ذکرہ فی التوراۃ الخ مرکز اہلسنت گجرات ہند ۱ /۱۰،الطبقات الکبرٰی ذکر صفۃ رسول الله صلی الله علیہ وسلم فی التوراۃ والانجیل دارصادر بیروت ۱/ ۳۶۰،تاریخ دمشق الکبیر باب ماجاء فی الکتب من نعتہ وصفاتہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۳ /۲۱۸و۲۱۹
#18762 · رسالہ الامن و العلٰی لناعتی المصطفٰی بدافع البلاء مسمّٰی بہ نام تاریخی اکمال الطامۃ علی شرك سُوی بالامُور العامۃ ۱۳۱۱ھ پوری قیامت ڈھانا (وہابیوں کے اس )شرك پر جو امور عامہ کی طرح (موجود کی ہر قسم پر صادق )ہے
الطبرانی و ابو نعیم فی الدلائل وابن عساکر عن محمد بن حمزۃ بن یوسف بن عبدالله بن سلام عن ابیہ عن جدہ وابن عساکر ایضا من طریق زید بن اسلم عن عبد الله بن سلاموالدارمی و البیھقی من طریق عطاء بن یسار عنہ نحوہ ولہ طریق شانی فی الباب الاتی ان شاء الله تعالی۔ سے اندھی آنکھیں اوربہرے کان اورغلاف چڑھے دل کھل جائیں گے۔(روایت کیا طبرانی اورابو نعیم نے دلائل میں اورابن عساکر محمد بن حمزہ بن یوسف بن عبدالله بن سلام سے انہوں نے اپنے باپ سے انہوں نے اپنے دادا سےنیز ابن عساکر نے بطریق زید بن اسلم عبدالله بن سلام سے اور دارمی اوربیہقی نے بطریق عطاء بن یسار انہیں سے ایسے ہی اورطریق دیگر آئندہ باب میں آئیگا ان شاء الله تعالی۔ت)
حدیث ۵۹:کہ الله عزوجل نے شعیا علیہ الصلو ۃ والسلام کو وحی بھیجی:
انی باعث نبیا امیا افتح بہ اذانا صما وقلوبا غلفا واعینا عمیا الی ان قال اھدی بہ من بعد الضلالۃ و اعلم بہ بعد الجھالۃ وارفع بہ بعد الخمالۃ واسمی بہ بعد النکرۃ واکثر بہ بعدالقلۃ واغنی بہ بعد العیلۃ واجمع بہ بعد الفرقۃ واؤلف بہ بین قلوب و اھواء متشتتۃ وامم مختلفۃابن ابی حاتم عن وھب بن منبہ ۔ بیشك میں ایك نبی امی کو بھیجنے والا ہوں جس کے ذریعے سے بہرے کان اورغلاف چڑھے دل اوراندھی آنکھیں کھول دوں گا اوراس کے سبب گمراہی کے بعد ہدایت دوں گااس کے ذریعے سے جہل کے بعد علم دوں گااس کے وسیلے سے گمنامی کے بعد بلند نامی دوں گااس کے ذریعے سے ناشناسی کے بعد شناخت دوں گااس کے واسطے سے کمی کے بعد کثرت دوں گا اس کے سبب سے محتاجی کے بعد غنی کردوں گااس کے وسیلے سے پھوٹ کے بعد یکدلی دوں گااس کے وسیلے سے پریشان دلوںمختلف خواہشوںمتفرق امتوں میں میل کردوں گا۔ (ابن حاتم نے وہب بن منبہ سے روایت کیا۔ت)
حوالہ / References الخصائص الکبرٰی بحوالہ ابن ابی حاتم عن وھب بن منبہ مرکز اہل سنت گجرات الہند ۱ /۱۳
#18763 · رسالہ الامن و العلٰی لناعتی المصطفٰی بدافع البلاء مسمّٰی بہ نام تاریخی اکمال الطامۃ علی شرك سُوی بالامُور العامۃ ۱۳۱۱ھ پوری قیامت ڈھانا (وہابیوں کے اس )شرك پر جو امور عامہ کی طرح (موجود کی ہر قسم پر صادق )ہے
لله انصاف ! یہ کس قدر بلاؤں کا حضور(صلی الله تعالی علیہ وسلم)کے وسیلے سے دفع ہونا ہے ولله الحمد۔
حدیث ۶۰:کہ فرماتے ہیں صلی الله تعالی علیہ وسلم:
لما خلق الله العرش کتب علیہ بقلم من نورطول القلم مابین المشرق والمغرب لاالہ الا الله محمد رسول الله بہ اخذوبہ اعطی وامتہ افضل الامم و افضلھا ابوبکرن الصدیق۔الرافعی عن سلمان رضی الله تعالی عنہ۔ جب الله تعالی نے عرش بنایا اس پر نور کے قلم سے جس کا طول مشرق سے مغرب تك تھا لکھا الله کے سوا کوئی سچا معبود نہیں محمد الله کے رسول ہیںمیں انہیں کے واسطے سے لوں گا اور انہیں کے وسیلے سے دوں گاان کی امت سب امتوں سے افضل ہے اوران کی امت میں سب سے افضل ابو بکر صدیق (رضی الله تعالی عنہ)(رافعی نے حضرت سلما ن رضی الله تعالی عنہ سے روایت کیا۔ت)
بحمد الله تعالی اسی حدیث جلیل جامع پرختم کیجئے کہ الله عزوجل کی بارگاہ کا تمام لینا دینا اخذ وعطاسب محمد رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم کے ہاتھوں ان کے واسطے سے ان کے وسیلے سے ہےاسی کو خلافت عظمی کہتے ہیں۔ولله الحمد حمدا کثیرا۔
دیکھو ! بشہادت خدا ورسول جل وعلا وصلی الله تعالی علیہ وسلم رزق پانامدد ملنامینہ برسنابلادور ہونادشمنوں کی مغلوبی عذاب کی موقوفییہاں تك کہ زمین کا قیامزمین کی نگہبانیخلق کی موتخلق کی زندگیدین کی عزتامت کی پناہبندوں کی حاجت روائیراحت رسانی سب اولیاء کے وسیلے اولیا ء کی برکت اولیاء کے ہاتھوں اولیاء کی وساطت سے ہے مگر مصطفی صلی الله تعالی علیہ وسلم کو دفع بلا کا واسطہ مانا اور شرك پسندوں نے مشرك جاناانالله وانا الیہ راجعوناوربحمدالله تعالی تین حدیث اخیر نے روشن ومستنیر کردیا کہ جو نعمت ملی جو بلا ٹلی سب مصطفی صلی الله تعالی علیہ وسلم کے باعث حاصل وزائل ہوئی بارگاہ الہی کا لینا دینا ساراکارخانہ محمد رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم کے ہاتھوں پر ہے ہاں ہاں لا و الله
حوالہ / References کنزالعمال بحوالہ الرافعی عن سلمان حدیث ۳۲۵۸۱ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۱/۵۴۹ و ۵۵۰
#18764 · رسالہ الامن و العلٰی لناعتی المصطفٰی بدافع البلاء مسمّٰی بہ نام تاریخی اکمال الطامۃ علی شرك سُوی بالامُور العامۃ ۱۳۱۱ھ پوری قیامت ڈھانا (وہابیوں کے اس )شرك پر جو امور عامہ کی طرح (موجود کی ہر قسم پر صادق )ہے
ثم بالله ایك دفع بلاوحصول عطا کیا تمام جہان اوراس کا قیام سب انہیں کے دم قدم سے ہے عالم جس طرح ابتدائے آفرینش میں ان کا محتاج تھا کہ لولاك لما خلقت الدنیا (اگر آپ نہ ہوتے میں دنیا کو پیدا ہی نہ کرتا۔ت)
یونہی بقا میں بھی ان کا محتاج ہےآج اگر ان کا قدم درمیان سے نکال لیں ابھی ابھی فنائے مطلق ہوجائے
وہ جو نہ تھے توکچھ نہ تھاوہ جو نہ ہوں تو کچھ نہ ہو
جان ہیں وہ جہان کیجان ہے تو جہاں ہے
صلی الله تعالی علیہ وسلم وعلی الہ وصحبہ وبارك وکرم۔
_____________________
حوالہ / References تاریخ دمشق الکبیر باب ذکر عروجہ الی السماء الخ داراحیاء التراث العربی بیروت ۳ /۲۹۷
حدائق بخشش مکتبہ رضویہ آرام باغ کراچی ۱ /۷۹
#18765 · رسالہ الامن و العلٰی لناعتی المصطفٰی بدافع البلاء مسمّٰی بہ نام تاریخی اکمال الطامۃ علی شرك سُوی بالامُور العامۃ ۱۳۱۱ھ پوری قیامت ڈھانا (وہابیوں کے اس )شرك پر جو امور عامہ کی طرح (موجود کی ہر قسم پر صادق )ہے
باب دوم:
وجہ دوم پر نصوص لیجئے اوربحمدالله تعالی کیسے نصوص نجدیت شکنجان وہابیت پر برق افگناس میں چوالیس۴۴ آیتیں اوردوسو چالیس۲۴۰ حدیثیں ہیں۔
فصل اول آیات شریفہ میں
آیت ۷:قال ربنا تبارك وتعالی:
" وما نقموا الا ان اغنہم اللہ ورسولہ من فضلہ " ۔ اورانہیں کیا برا لگا یہی نا کہ انہیں دولتمند کردیا الله اور الله کے رسول نے اپنے فضل سے۔
ہاں یہ جگہ ہے کہ غیظ میں کٹ جائیں بیمار دل۔الله تعالی فرماتاہے کہ الله اورالله کے رسول نے دولتمند کردیا اپنے فضل سے۔
اے الله کے رسول !مجھے اورسب اہلسنت کو دین ودنیا کا دولتمند فرما اور اپنے فضل سے۔صلی الله تعالی علیك وسلم
میں گدا تو بادشاہ بھر دے پیالہ نور کا
نور دن دونا ترادے ڈال صدقہ نور کا
آیت ۸:
" ولو انہم رضوا ما اتىہم اللہ ورسولہ وقالوا حسبنا اللہ سیؤتینا اللہ من فضلہ ورسولہ انا الی اللہ رغبون ﴿۵۹﴾ " ۔ اورکیا خوب تھا اگر وہ راضی ہوتے خدا اوررسول کے دئے پر اورکہتے ہمیں الله کافی ہے اب دے گا الله ہمیں اپنے فضل سے اوراس کا رسولبیشك ہم الله کی طرف راغبت والے ہیں۔
حوالہ / References القرآن الکریم ۹ /۷۴
حدائق بخشش مکتبہ رضویہ آرام باغ کراچی ۲ /۳
القرآن الکریم ۹ /۵۹
#18766 · رسالہ الامن و العلٰی لناعتی المصطفٰی بدافع البلاء مسمّٰی بہ نام تاریخی اکمال الطامۃ علی شرك سُوی بالامُور العامۃ ۱۳۱۱ھ پوری قیامت ڈھانا (وہابیوں کے اس )شرك پر جو امور عامہ کی طرح (موجود کی ہر قسم پر صادق )ہے
یہاں رب العزت جل وعلانے اپنے ساتھ اپنے رسول صلی الله تعالی علیہ وسلم کو بھی دینے والا فرمایا اورساتھ ہی یہ بھی ہدایت کی کہ الله ورسول سے امید لگی رکھو کہ اب ہمیں اپنے فضل سے دیتے ہیں جل جلالہ وصلی الله تعالی علیہ وسلم۔
آیت ۹:
" انعم اللہ علیہ و انعمت علیہ" ۔ الله نے اسے نعمت بخشیاوراے نبی !تو نے اسے نعمت دی۔
آیت ۱۰:
" لہ معقبت من بین یدیہ ومن خلفہ یحفظونہ من امر اللہ " ۔ آدمی کے لیے بدلی والے ہیں اس کے آگے اور اس کے پیچھے کہ اس کی حفاظت کرتے یں الله کے حکم سے۔
بدلی والے یہ کہ صبح کے محافظ عصر کو بدل جاتے ہیں اورعصر کے صبح کوولله الحمد۔
آیت ۱۱:
" و یرسل علیکم حفظۃ " ۔ الله بھیجتاہے تم پر نگہبانوں کو۔
ان آیات میں مولی سبحنہ وتعالی فرشتوں کو ہمارا حافظ ونگہبان فرماتاہے۔
آیت ۱۲:
" یایہا النبی حسبک اللہ ومن اتبعک من المؤمنین ﴿۶۴﴾" ۔ اے نبی!کافی ہے تجھے الله اورجو مسلمان تیرے پیرو ہوئے۔
یہاں رب تبارك وتعالی نے اپنے نام پاك کے ساتھ صحابہ کرام کو ملاکر فرماتاہے:اے نبی ! اب کہ عمر اسلام لے آیا تجھے الله اوریہ چالیس مسلمان کفایت کرتے ہیں۔
فی الجلالین حسبك الله وحسبك جلالین میں ہے کافی ہے تجھے الله اور
#18767 · رسالہ الامن و العلٰی لناعتی المصطفٰی بدافع البلاء مسمّٰی بہ نام تاریخی اکمال الطامۃ علی شرك سُوی بالامُور العامۃ ۱۳۱۱ھ پوری قیامت ڈھانا (وہابیوں کے اس )شرك پر جو امور عامہ کی طرح (موجود کی ہر قسم پر صادق )ہے
من اتبعك ۔ کافی ہے تجھے وہ جس نے تیری پیروی کی۔(ت)
ترجمہ شاہ ولی الله میں ہے:
اے پیغامبر کفایت ست ترا خدا وآناکہ پیروی توکردہ انداز مسلمانان ۔ اے پیغمبر !کافی ہے تجھے خدا اوروہ مسلمان جنہوں نے تیری پیروی کی۔(ت)
آیت ۱۳:یوسف علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا:
" انہ ربی احسن مثوای " ۔
فی الجلالین انہ ای الذی اشترانی ربی سیدی ۔ بیشك عزیز مصر میرارب ہے اس نے مجھے اچھی طرح رکھا۔
تفسیر جلالین میں ہے بیشك وہ جس نے مجھے خریدا وہ میرا رب یعنی میرا آقا ہے۔(ت)
آیت ۱۴:
" اما احدکما فیسقی ربہ خمرا " ۔ اے زندان کے ساتھیو! تم میں ایك تواپنے رب کو شراب پلائے گا۔
آیت ۱۵:
" وقال للذی ظن انہ ناج منہما اذکرنی عند ربک ۫" ۔ اوریوسف نے کہا اس سے جسے ان دونوں میں چھٹکارا پاتا سمجھا کہ اپنے رب کے پاس میرا چرچا کیجیو۔یعنی بادشاہ مصر کے سامنے۔
آیت ۱۶:اس پر مولی تبارك وتعالی فرماتاہے:
حوالہ / References جلالین کلاں تحت الآیۃ ۸ /۶۴ اصح المطابع دہلی ص۱۵۳
فتح الرحمن فی ترجمۃ القرآن(ترجمہ شاہ ولی الله )مطبع ہاشمی دہلی ص۱۸۷
القرآن الکریم ۱۲ /۲۳
جلالین کلاں تحت الآیۃ ۱۲/۲۳ اصح المطابع دہلی ص۱۹۱
القرآن الکریم ۱۲ /۴۱
القرآن الکریم ۱۲ /۴۲
#18768 · رسالہ الامن و العلٰی لناعتی المصطفٰی بدافع البلاء مسمّٰی بہ نام تاریخی اکمال الطامۃ علی شرك سُوی بالامُور العامۃ ۱۳۱۱ھ پوری قیامت ڈھانا (وہابیوں کے اس )شرك پر جو امور عامہ کی طرح (موجود کی ہر قسم پر صادق )ہے
" فانسىہ الشیطن ذکر ربہ"

فی الجلالین ای الساقی الشیطن ذکر یوسف عند ربہ ۔ تو اسے بھلادیا شیطان نے اپنے رب بادشاہ مصر کے آگے یوسف کا ذکر کرنا۔
جلالین میں ہے یعنی ساقی کو شیطان نے یوسف علیہ السلام کا ذکر اس کے رب کے آگے کرنا بھلادیا۔(ت)
آیت ۱۷:
" قال ارجع الی ربک فسـلہ ما بال النسوۃ التی قطعن ایدیہن " ۔ یوسف نے کہا پلٹ جا اپنے رب کے پاس سواس سے پوچھ کیا حال ہے ان عورتوں کا جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹے تھے۔
سبحان الله ! بادشاہ وغیرہ کو تو مجازی پرورش کے باعث اس کا ربتیرا ربمیرا رب کہنا صحیح ہوالله فرمائے الله کا رسول فرمائے اورمصطفی صلی الله تعالی علیہ وسلم کو دافع البلاء کہنا شرک۔
آیت ۱۸:رب جل وعلا اپنے مبارك بندے عیسی ابن مریم علیہما الصلوۃ والسلام سے فرماتاہے:
" و اذ تخلق من الطین کہیــۃ الطیر باذنی فتنفخ فیہا فتکون طیرا باذنی وتبری الاکمہ والابرص باذنی و اذ تخرج الموتی باذنی " ۔ اورجب تو بناتا مٹی سے پرند کی شکل میری پروانگی سےپھر پھونك مارتا اس میں تو وہ ہوجاتی پرند میری پروانگی سےاور تو اچھا کرتا مادر زاد اندھے اورسفید داغ والے کو میری پروانگی سےاورجب توقبروں سے مردے نکالتا میری پروانگی سے۔
دفع بلائے مرض وابرائے اکمہ وابرص میں کتنا فرق ہے۔
حوالہ / References القرآن الکریم ۱۲ /۴۲
جلالین کلاں تحت الآیۃ ۱۲ /۴۲ اصح المطابع دہلی ص۱۹۳
القرآن الکریم ۱۲ /۵۰
القرآن الکریم ۵ /۱۱۰
#18769 · رسالہ الامن و العلٰی لناعتی المصطفٰی بدافع البلاء مسمّٰی بہ نام تاریخی اکمال الطامۃ علی شرك سُوی بالامُور العامۃ ۱۳۱۱ھ پوری قیامت ڈھانا (وہابیوں کے اس )شرك پر جو امور عامہ کی طرح (موجود کی ہر قسم پر صادق )ہے
آیت ۱۹:حضرت مسیح علیہ الصلوۃ والتسلیم فرماتے ہیں:
" انی اخلق لکم من الطین کہیئۃ الطیر فانفخ فیہ فیکون طیرا باذن اللہ وابری الاکمہ والابرص واحی الموتی باذن اللہ وانبئکم بما تاکلون وما تدخرون فی بیوتکم (الی قولہ) ولاحل لکم بعض الذی حرم علیکم" ۔ میں بناتاہوں تمہارے لئے مٹی سے پرند کی سی مورت پھر پھونکتاہوں ا سمیں تو وہ ہوجاتی ہے پرند الله کی پروانگی سےاور میں شفاء دیتاہوں مادر زا داندھے اوربدن بگڑے کواورمیں زندہ کرتاہوں مردے الله کی پروانگی سےاورمیں تمہیں خبر دیتاہوں جو تم کھاتے اور جو گھروں میں بھر رکھتے ہو تاکہ میں حلال کردوں تمہارے لئے بعض چیزیں جو تم پر حرام تھیں۔
سبحان الله ! عیسی علیہ الصلوۃ والسلام جو فرمارہے ہیں میں خلق کرتاہوںشفا دیتاہوںمردے جلاتاہوںبعض حراموں کو حلال کئے دیتاہوں۔ان اسنادوں کی نسبت کیا حکم ہوگا!
آیت ۲۰:
" و انکحوا الایمی منکم و الصلحین من عبادکم و امائکم " ۔ نکاح کردو اپنی بے شوہر عورتوں اوراپنے نیك بندوں اور کنیزوں کا۔
یہاں مولا عزوجل ہمارے غلاموں کو ''ہمارابندہ''فرمارہا ہے۔الله کی شان زید کابندہعمروکا بندہاس کا بندہاس کا بندہ الله فرمائے رسول فرمائے صحابہ فرمائیں ائمہ فرمائیں مگر محمد رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم کا بندہ کہا اورشرك فروشوں نے حکم شرك جڑاشائد ان کے نزدیك زید وعمرو خدا کے شریك ہوسکتے ہوں گے۔ولا حول ولا قوۃ الا بالله العلی العظیم۔
آیت ۲۱:
" الذین یتبعون الرسول النبی الامی الذی یجدونہ مکتوبا عندہم فی التورىۃ والانجیل ۫ یامرہم وہ لوگ کہ پیروی کریں گے اس بھیجے ہوئے غیب کی باتیں بتانے والے بے پڑھے کی جسے لکھا پائیں گے اپنے پاس توریت وانجیل میںوہ انہیں حکم
#18770 · رسالہ الامن و العلٰی لناعتی المصطفٰی بدافع البلاء مسمّٰی بہ نام تاریخی اکمال الطامۃ علی شرك سُوی بالامُور العامۃ ۱۳۱۱ھ پوری قیامت ڈھانا (وہابیوں کے اس )شرك پر جو امور عامہ کی طرح (موجود کی ہر قسم پر صادق )ہے
بالمعروف وینہىہم عن المنکر ویحل لہم الطیبت ویحرم علیہم الخبئث ویضع عنہم اصرہم والاغلل التی کانت علیہم " ۔ دے گا بھلائی کااور روکے گا برائی سےاو رحلال کرے گا ان کے لیے ستھری چیزیں اورحرام کرے گا ان پر گندی چیزیںاور اتارے گا ان پر سے ان کا بھاری بوجھ اورسخت تکلیفوں کے طوق جو ان پر تھے۔(صلی الله تعالی علیہ وسلم)
جان جہان وجہان جان اس جان جان وجان ایمان صلی الله تعالی علیہ وسلم کے پاك مبارك ہاتھوں پر قربان جس نے ہماری پیٹھوں سے بھاری بوجھ اتارلئے ہماری گردنوں سے تکلیفوں کے طوق کا ٹ دئے۔لله انصاف ! اوردافع بلاکسے کہتے ہیںصلی الله تعالی علیہ وسلم۔
آیت ۲۲:سیدنا ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے رب عزوجل سے عرض کی:
" ربنا وابعث فیہم رسولا منہم یتلوا علیہم ایتک ویعلمہم الکتب والحکمۃ ویزکیہم انک انت العزیز الحکیم﴿۱۲۹﴾" ۔ اے رب ہمارے ! اوران میں انہیں میں سے ایك پیغمبر بھیج کہ ان پر تیری آیتیں پڑھے اور انہیں کتاب وحکمت سکھائے اوروہ پیمبر انہیں گناہوں سے پاك کردےبیشك تو ہی ہے غالب حکمت والا۔
یہ ہمارے نبی صلی الله تعالی علیہ وسلم ہوئے کہ:
انا دعوۃ ابی ابراھیم ۔ میں اپنے باپ ابراہیم کی دعا ہوں(صلی الله تعالی علیہما وسلم)
آیت ۲۳:خود رب العزۃ جل وعلاء فرماتاہے:
کما ارسلنا فیکم رسولا منکم یتلوا علیکم ایتنا ویزکیکم ویعلمکم الکتب والحکمۃ ویعلمکم جس طرح بھیجا ہم نے تم میں ایك رسول تمہیں سے کہ تم پر ہماری آیتیں تلاوت کرتا اورتمہیں پاکیزہ بناتا اورتمہیں قرآن وعلم سکھاتا اوران باتوں کا
حوالہ / References القرآن الکریم ۷ /۱۵۷
القرآن الکریم ۲ /۱۲۹
دلائل النبوۃ باب ذکر مولادالمصطفٰی الخ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۱ /۸۱،الدرالمنثور تحت الآیۃ ۲ /۱۲۹ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/۳۰۳و۳۰۴
#18771 · رسالہ الامن و العلٰی لناعتی المصطفٰی بدافع البلاء مسمّٰی بہ نام تاریخی اکمال الطامۃ علی شرك سُوی بالامُور العامۃ ۱۳۱۱ھ پوری قیامت ڈھانا (وہابیوں کے اس )شرك پر جو امور عامہ کی طرح (موجود کی ہر قسم پر صادق )ہے
ما لم تکونوا تعلمون﴿۱۵۱﴾" ۔ تم کو علم دیتا ہے جو تم نہ جانتے تھے۔
آیت ۲۴:
" لقد من اللہ علی المؤمنین اذ بعث فیہم رسولا من انفسہم یتلوا علیہم ایتہ ویزکیہم ویعلمہم الکتب والحکمۃ و ان کانوا من قبل لفی ضلل مبین ﴿۱۶۴﴾ " ۔ بیشك الله کا بڑا احسان ہوا ایمان والوں پر جبکہ بھیجا ان میں ایك رسول انہیں میں سے کہ پڑھتاہے ان پر آیتیں الله کی اورپاك کرتاہے انہیں گناہوں سے اورعلم دیتا ہے انہیں قرآن و حکمت کا اگرچہ تھے اس سے پہلے بیشك کھلی گمراہی میں۔
آیت ۲۵:
" ہو الذی بعث فی الامین رسولا منہم یتلوا علیہم ایتہ و یزکیہم و یعلمہم الکتب و الحکمۃ ٭ و ان کانوا من قبل لفی ضلل مبین ﴿۲﴾ و اخرین منہم لما یلحقوا بہم و ہو العزیز الحکیم ﴿۳﴾ ذلک فضل اللہ یؤتیہ من یشاء و اللہ ذو الفضل العظیم ﴿۴﴾" ۔ الله ہے جس نے بھیجا ان پڑھوں میں ایك رسول انہیں میں سے یہ ان پر آیات الہیہ پڑھتا اورانہیں ستھراکرتا اورانہیں کتاب وحقائق کا علم بخشتا ہے اگرچہ وہ اس سے پہلے کھلی گمراہی میں تھے نیز پاك کرے گا اورعلم عطافرمائے گا ان کی جنس کے لوگوں کو جواب تك ان سے نہیں ملے اوروہی غالب حکمت والا ہےیہ خد اکا فضل ہے جسے چاہے عطافرمائے اورالله بڑے فضل والا ہے۔
الحمدلله ! اس آیہ کریمہ نے بیان فرمایا کہ نبی صلی الله تعالی علیہ وسلم کا عطافرماناگناہوں سے پاك کرناستھرا بناناصرف صحابہ کرام رضی الله تعالی عنہم سے خاص نہیں بلکہ قیام قیامت تك تمام امت مرحومہ حضورکی ان نعمتوں سے محظوظ اورحضور کی نظر رحمت سے ملحوظ رہے۔والحمد
#18772 · رسالہ الامن و العلٰی لناعتی المصطفٰی بدافع البلاء مسمّٰی بہ نام تاریخی اکمال الطامۃ علی شرك سُوی بالامُور العامۃ ۱۳۱۱ھ پوری قیامت ڈھانا (وہابیوں کے اس )شرك پر جو امور عامہ کی طرح (موجود کی ہر قسم پر صادق )ہے
لله رب العلمین۔
بیضاوی شریف میں ہے:
ھم الذین جاءوابعد الصحابۃ الی یوم الدین ۔ یعنی یہ دوسرے جنہیں مصطفی صلی الله تعالی علیہ وسلم علم دیتے اورخرابیوں سے پاك کرتے ہیں تمام مسلمان ہیں کہ صحابہ کرام کے بعد قیامت تك ہوں گے۔
معالم شریف میں ہے:
قال ابن زید ھم جمیع من دخل فی الاسلام بعد النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم(الی یوم القیمۃ)وھی روایۃ ابن ابی نجیح عن مجاھد ۔ ابن زید نے فرمایا:یہ دوسرے لوگ تمام اہل اسلام ہیں کہ مصطفی صلی الله تعالی علیہ وسلم کے بعد قیامت تك اسلام میں داخل ہوں گے۔اوریہی معنی امام مجاہد شاگرد حضرت عبدالله بن عباس رضی الله تعالی عنہما سے ابن ابی نجیح نے روایت کئے۔
الحمد لله ! قرآن عظیم میں حضور پرنور سید عالم صلی الله تعالی علیہ وسلم کی ان تعریفوں کا اس قدر اہتمام ہے کہ چارجگہ یہ اوصاف بیان فرمائے دو جگہ سورہ بقرہتیسرے آل عمرانچوتھے سورہ جمعہاور ا سکے آخر میں تو وہ جانفزا کلمے ارشادہوئے جنہوں نے ہم خفتہ بختوں کی تقدیر جگا دی بیماردلوں پر بجلی گرادی۔والحمدلله رب العلمین۔
آیت ۲۶:جب ابولبابہ وغیرہ بعض صحابہ رضی الله تعالی عنہم نے غزوہ تبوك میں ہمراہ رکاب سعادت حاضر نہ ہوئے تھے اپنے آپ کو مسجد اقدس کے ستونوں سے باندھ دیا کہ جب تك حضور والا صلوات الله تعالی وسلامہ علیہ نہ کھولیں گے نہ کھلیں گے آیت اتری:
" خذ من امولہم صدقۃ تطہرہم وتزکیہم بہا اے نبی!لے لو ان توبہ کرنے والوں کے مالوں سے صدقہ کہ تم پاك کرو انہیں اور تم ستھرا کردو
حوالہ / References انوار التنزیل(تفسیر البیضاوی)تحت الآیۃ ۶۲ /۳ دارالفکر بیروت ۵ /۳۳۷
معالم التنزیل(تفسیر البغوی)تحت الآیۃ ۶۲ /۳ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۴ /۳۱۱
#18773 · رسالہ الامن و العلٰی لناعتی المصطفٰی بدافع البلاء مسمّٰی بہ نام تاریخی اکمال الطامۃ علی شرك سُوی بالامُور العامۃ ۱۳۱۱ھ پوری قیامت ڈھانا (وہابیوں کے اس )شرك پر جو امور عامہ کی طرح (موجود کی ہر قسم پر صادق )ہے
وصل علیہم ان صلوتک سکن لہم " ۔ انہیں گناہوں سے اس صدقے کے سبباوردعائے رحمت کرو ان کے حق میں کہ تمہاری دعاان کے دلوں کا چین ہے۔
دیکھو حضور دافع البلاصلی الله تعالی علیہ وسلم نے انہیں گناہوں سے پاك کیااور حضور نے بلائے گناہ ان کے سروں سے ٹالی اورجب حضور کی دعا ان کے دلوں کا چین ہواا تویہی دفع الم ہے صلی الله تعالی علی دافع البلاء والالم وعلی الہ وصحبہ وبارك وسلم۔
آیت ۲۷:
" لا یملکون الشفعۃ الا من اتخذ عند الرحمن عہدا ﴿۸۷﴾ " ۔ الله عزوجل کے یہاں شفاعت کے مالك وہی ہیں جنہوں نے رحمن کےساتھ عہدو پیمان کر رکھاہے۔
آیت ۲۸:
" ولا یملک الذین یدعون من دونہ الشفعۃ الا من شہد بالحق و ہم یعلمون ﴿۸۶﴾ " ۔ جنہیں مشرکین الله کے سوا پوجتے ہیں ان میں شفاعت کے مالك صرف وہی ہیں جنہوں نے حق کی گواہی دی اوروہ علم رکھتے ہیں(یعنی عیسی وعزیز وملائکہ علیہم الصلوۃ والسلام)
ان آیات میں مولی تعالی اپنے محبوبوں کو شفاعت کا مالك بتاتاہے اورعہد وپیمان مقرر ہوجانے سے تقویۃ الایمان کی اس بدلگامی کا منہ بھی سی دیا کہ شفاعت میں کسی کی خصوصیت نہیں جسے چاہے گا کھڑاکردے گا۔
آیت ۲۹:
" ولا تؤتوا السفہاء امولکم التی جعل اللہ لکم قیما وارزقوہم فیہا و نادانوں کو اپنے مال کہ خدانے تمہاری ٹیك بنائے ہیں نہ دو اورانہیں ان میں سے رزق
حوالہ / References القران الکریم ۹/۱۰۳
القران الکریم ۱۹ /۸۷
القران الکریم۴۳ /۸۶
#18774 · رسالہ الامن و العلٰی لناعتی المصطفٰی بدافع البلاء مسمّٰی بہ نام تاریخی اکمال الطامۃ علی شرك سُوی بالامُور العامۃ ۱۳۱۱ھ پوری قیامت ڈھانا (وہابیوں کے اس )شرك پر جو امور عامہ کی طرح (موجود کی ہر قسم پر صادق )ہے
اکسوہم وقولوا لہم قولا معروفا ﴿۵﴾ " ۔ دواور کپڑے پہناؤ اوران سے اچھی بات کہو۔
آیت ۳۰:
" اذا حضر القسمۃ اولوا القربی و الیتمی والمسکین فارزقوہم منہ وقولوا لہم قولا معروفا ﴿۸﴾ " ۔ جب ترکہ بانٹتے وقت قرابت والے اوریتیم اورمسکین آئیں تو انہیں ان میں سے رزق دو اوران سے اچھی بات کہو۔
ان آیات میں بندوں کو حکم فرماتاہے کہ تم رزق دو۔
آیت ۳۱:
" اذ یوحی ربک الی الملئکۃ انی معکم فثبتوا الذین امنوا " ۔ جب وحی بھیجی تیرے رب نے فرشتوں کو کہ میں تمھارے ساتھ ہوں تم ثابت قدمی دو ایمان والوں کو۔
آیت ۳۲:
" فالمدبرت امرا ﴿۵﴾ " قسم ہے ان فرشتوں کی کہ تمام کاروبار دنیا ان کی تدبیر سے ہے۔
یہ صفت بھی بالذات ذات الہی جل وعلاکی ہے۔ قال الله تعالی:" یدبر الامر" کام کی تدبیر فرماتاہے۔(ت)
خازن ومعالم التنزیل میں ہے:
قال ابن عباس ھم الملئکۃ وکلوا بامورعرفھم الله تعالی العمل بھا قال عبدالرحمن یعنی عبدالله ابن عباس رضی الله تعالی عنہما نے فرمایا:یہ مدبرات الامر ملائکہ ہیں کہ ان کاموں پر مقرر کئے گئے جن کی کارروائی الله عزوجل
حوالہ / References القران الکریم ۴/ ۵
القران الکریم ۴/ ۸
القران الکریم ۸/ ۱۲
القران الکریم ۷۹ /۵
القران الکریم ۳۲ /۵
#18775 · رسالہ الامن و العلٰی لناعتی المصطفٰی بدافع البلاء مسمّٰی بہ نام تاریخی اکمال الطامۃ علی شرك سُوی بالامُور العامۃ ۱۳۱۱ھ پوری قیامت ڈھانا (وہابیوں کے اس )شرك پر جو امور عامہ کی طرح (موجود کی ہر قسم پر صادق )ہے
بن سابط یدبر الامر فی الدنیا اربعۃ جبریل و میکائیل وملك الموت واسرافیل علیھم السلام اما جبریل فمؤکل بالریاح والجنود واما میکائیل فمؤکل بالقطر والنبات واما ملك الموت فمؤکل بقبض الانفس واما اسرافیل فھو ینزل علیہم بالامر ۔ نے انہیں تعلیم فرمائیعبدالرحمن بن سابط نے فرمایا:دنیا میں چار فرشتے کاموں کی تدبیر کرتے ہیں جبریلمیکائیل عزرائیلاسرافیل علیہم السلام۔جبریل توہواؤں اورلشکروں پر مؤکل ہیں(کہ ہوائیں چلانالشکروں کو فتح وشکست دینا ان کا تعلق ہے)اورمیکائیل باراں وروئیدگی پر مقررہیں۔(کہ مینہ برساتے اوردرخت اور گھاس اورکھیتی اگاتے ہیں)اورعزرائیل قبض ارواح پر مسلط ہیں۔اسرافیل ان سب پر حکم لے کر اترتے ہیں علیہم السلام اجمعین۔
الله اکبر!قرآن عظیم وہابیہ پر ایك سے ایك سخت تر آفت ڈالتاہے۔حدیث میں فرمایا:
القرآن ذووجوہ۔رواہ ابو نعیم عن ابن عباس رضی الله تعالی عنہما عن النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم۔ قرآن متعدد معانی رکھتاہے۔(اس کو ابونعیم نے حضرت ابن عباس رضی الله تعالی عنہما سے انہوں نے نبی اکرم صلی الله تعالی علیہ وسلم سے روایت کیا۔ت)
علماء فرماتے ہیں قرآن عظیم اپنے ہر معنی پر حجت ہے۔
ولم یزل الائمۃ یحتجون بہ علی وجوھہ وذلك من اعظم وجوہ اعجازہ وقد فصلنا ھذا المرام فی رسالتنا ائمہ کرام ہمیشہ قرآن کے تمام معنی سے استدلال کرتے رہے ہیں۔اوریہ بات قرآن مجید کے وجوہ اعجاز میں سے عظیم ترین وجہ ہے۔اس کی تفصیل ہم نے اپنے رسالہ ''الزلال الانقی
حوالہ / References لباب التأویل(تفسیر الخازن)تحت الآیۃ ۷۹ /۵ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۴ /۳۹۱،معالم التنزیل(تفسیرالبغوی)تحت الآیۃ ۷۹ /۵ دار الکتب العلمیۃ بیروت ۴ /۴۱۱
کنزالعمال بحوالہ ابی نعیم عن ابن عباس حدیث ۲۴۶۹مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱ /۵۵۱
#18776 · رسالہ الامن و العلٰی لناعتی المصطفٰی بدافع البلاء مسمّٰی بہ نام تاریخی اکمال الطامۃ علی شرك سُوی بالامُور العامۃ ۱۳۱۱ھ پوری قیامت ڈھانا (وہابیوں کے اس )شرك پر جو امور عامہ کی طرح (موجود کی ہر قسم پر صادق )ہے
الزلال الانقی من بحر سبقۃ الاتقی۔ من بحر سبقۃ الاتقی ''میں بیان کردی ہے۔(ت)
اب آیہ کریمہ کے دوسرے معنی لیجئےتفسیر بیضاوی شریف میں ہے:
اوصفات النفوس الفاضلۃ حال المفارقۃ فانھا تنزع عن الابدان غرقا ای نزعاشدیدامن اغراق النازع فی القوس وتنشط الی عالم الملکوت وتسبح فیہ فتسبق الی حظائر القدس فتصیر لشرفھا وقوتھا من المدبرات ۔ یعنی یا ان آیات کریمہ میں الله عزوجل ارواح اولیاء کرام کا ذکر فرماتاہے جب وہ اپنے پاك مبارك بدنوں سے انتقال فرماتی ہیں کہ جسم سے بقوت تمام جدا ہوکر عالم بالا کی طرف سبك خرامی اور دریائے ملکوت میں شناوری کرتی حظیر ہائے حضرت قدس تك جلد رسائی پاتی ہیں پس اپنی بزرگی وطاقت کے باعث کاروبارعالم کے تدبیر کرنے والوں سے ہوجاتی ہیں۔
اب توبحمدالله تعالی اولیائے کرام بعد وصال عالم میں تصرف کرتے اور اس کے کاموں کی تدبیر فرماتے ہیں فللہ الحجۃ البالغۃ۔
علامہ احمد بن محمد شہاب خفاجی عنایۃ القاضی وکفایۃ الراضی میں امام حجۃ الاسلام محمد غزالی قدس سرہ العالی وامام فخررازی رحمۃ الله علیہ سے اس معنی کی تائید میں نقل فرماتے ہیں:
ولذا قیل اذا تحیرتم فی الامور فاستعینوا من اصحاب القبور الا انہ لیس بحدیث کما توھم ولذا اتفق الناس علی زیارۃ مشاھد السلف والتوسل بھم الی الله وان انکرہ بعض الملاحدۃ فی عصرنا و المشتکی الیہ ھو الله ۔
لاحول ولا قوۃ الابالله العلی العظیم۔ یعنی اس لئے کہا گیا کہ جب تم کاموں میں متحیر ہوتومزارات اولیاء سے مددمانگو۔مگر یہ حدیث نہیں ہے جیسا کہ بعض کو وہم ہوا۔اوراسی لئے مزارات سلف صالحین کی زیارت اور انہیں الله عزوجل کی طرف وسیلہ بنانے پر مسلمانوں کا اتفاق ہے اگرچہ ہمارے زمانے میں بعض ملحد بے دین لوگ اس کے منکر ہوئے اورخدا ہی کی طرف ان کے فساد کی فریاد ہے۔
حوالہ / References انوار التنزیل(تفسیر البیضاوی)تحت الآیۃ ۷۹ /۵ دارالفکر بیروت ۵ /۴۴۵
عنایۃ القاضی وکفایۃ الراضی(حاشیۃ الشہاب علی البیضاوی)تحت الآیۃ ۷۹ /۵ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۹ /۳۹۹
#18777 · رسالہ الامن و العلٰی لناعتی المصطفٰی بدافع البلاء مسمّٰی بہ نام تاریخی اکمال الطامۃ علی شرك سُوی بالامُور العامۃ ۱۳۱۱ھ پوری قیامت ڈھانا (وہابیوں کے اس )شرك پر جو امور عامہ کی طرح (موجود کی ہر قسم پر صادق )ہے
ہاں میں نے کہا تھا کہ یہ صفت حضرت عزت کی ہےنہیں نہیں یہ خاص صفت اسی کی ہے۔رب عزوجل فرماتاہے:
" قل من یرزقکم من السماء والارض امن یملک السمع و الابصر و من یخرج الحی من المیت و یخرج المیت من الحی ومن یدبر الامر فسیقولون اللہ فقل افلا تتقون ﴿۳۱﴾" ۔ اے نبی! ان کافروں سے فرما وہ کون ہے جو تمہیں آسمان و زمین سے رزق دیتاہے یا کون مالك ہے کان اورآنکھوں کا اورکون نکالتا ہے زندہ کو مردے اورنکالتاہے مردے کو زندہ سےاورکون تدبیر کرتاہے کام کیاب کہہ دیں گے کہ الله تو فرما پھر ڈرتے کیوں نہیں۔
قرآن عظیم خود ہی فرماتاہے کہ یہ صفت الله عزوجل کے لئے ایسی خاص ہے کہ کافر مشرك تك اس کا اختصاص جانتے ہیں ان سے بھی پوچھو کہ کام کی تدبیر کرنے والا کون ہےتوالله ہی کو بتائیں گے دوسرے کا نام نہ لیں گے اورخود ہی اس صفت کو اپنے مقبول بندوں کیلئے ثابت فرماتاہے کہ:قسم ان محبوبان خدا کی جو عالم میں تدبیر وتصرف کرتے ہیں۔''ایمان سے کہنا وہابیت کے دھرم پر قرآن عظیم شرك سے کیونکر بچا۔اے ناپاك طائفے کی سنگت والو!جب تك ذاتی وعطائی کے فرق پر ایمان نہ لاؤ گے کبھی قرآن وحدیث کے قہروں سے پناہ نہ پاؤ گےاوراس پرایمان لاتے ہی یہ تمہاری شرکیات کے راگ متعلقہ تدیبر وتصرف و استمداد واستعانت ودافع البلاء وحاجت روا ومشکلکشا وعلم غیب وندا وغیرہا سب کافور ہوجائیں گے اور الله تعالی کے مبارك منصور(نصرت دئے گئےمدد دئے گئے)بندے آنکھوں دیکھے منصور نظر آئیں گے۔
" فان حزب اللہ ہم الغلبون ﴿۵۶﴾ " ۔ تو بیشك الله ہی کا گروہ غالب ہے۔(ت)
آیت ۳۳:
" قل یتوفىکم ملک الموت الذی وکل بکم" ۔ تو فرما تمہیں موت دیتاہے وہ مرگ کا فرشتہ جو تم پر مقرر ہے۔
#18778 · رسالہ الامن و العلٰی لناعتی المصطفٰی بدافع البلاء مسمّٰی بہ نام تاریخی اکمال الطامۃ علی شرك سُوی بالامُور العامۃ ۱۳۱۱ھ پوری قیامت ڈھانا (وہابیوں کے اس )شرك پر جو امور عامہ کی طرح (موجود کی ہر قسم پر صادق )ہے
آیت ۳۴:
" توفتہ رسلنا" ۔ موت دی اسے ہمارے رسولوں نے۔
حالانکہ خود فرماتاہے:
" اللہ یتوفی الانفس" ۔ الله ہے کہ موت دیتاہے جانوں کو۔
آیت ۳۵:
" لاہب لک غلما زکیا ﴿۱۹﴾" ۔ (جبریل نے مریم سے کہا)کہ میں عطاکروں تجھے ستھرا بیٹا صلی الله تعالی علیہم وسلم۔
الله الله ! اب تو جبریل بیٹا دے رہے ہیں۔بھلانجدیہ کے یہاں اس سے بڑھ کر اورکیا شرك ہوگا۔ولا حول ولاقوۃ الا بالله العلی العظیم۔وہابیہ تو اسی کو روتے تھے کہ محمد بخشاحمد بخش نام رکھنا شرك ہے یہاں قرآن عظیم سیدنا عیسی علیہ الصلوۃ والتسلیم کو جبریل بخش بتارہا ہے۔ولله الحجۃ السامیۃ۔ آیت ۳۶:
" فان اللہ ہو مولىہ و جبریل و صلح المؤمنین و الملئکۃ بعد ذلک ظہیر ﴿۴﴾" ۔ بیشك الله اپنے نبی کا مدد گار ہے اور جبرائیل اور نیك مسلمان اور اس کے بعد سب فرشتے مدد پر ہیں۔
حدیث میں ہے رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا:
صالح المومنین ابوبکر وعمر رواہ الطبرانی فی الکبیر و ابن مردویہ والخطیب عن ابن مسعود رضی الله تعالی عنہ۔ یہ نیك مسلمان ابو بکر صدیق وعمر فاروق ہیں رضی الله تعالی عنہما۔(طبرانی نے کبیر میں اور ابن مردویۃ اور خطیب نے ا بن مسعود رضی الله تعالی عنہ سے اس کو روایت کیا۔ت)
حوالہ / References القرآن الکریم ۶ /۶۱
القرآن الکریم ۳۹ /۴۲
القرآن الکریم ۱۹ /۱۹
القران الکریم ۶۶ /۴
المعجم الکبیر حدیث ۱۰۴۷۷ المکتب الفیصلیۃ بیروت ۱۰ /۲۵۳،الدر المنثور بحوالہ ابن مردویہ وابی نعیم تحت الایۃ ۶۶ / ۴ داراحیاء التراث العربی بیروت ۸/ ۲۰۸
#18779 · رسالہ الامن و العلٰی لناعتی المصطفٰی بدافع البلاء مسمّٰی بہ نام تاریخی اکمال الطامۃ علی شرك سُوی بالامُور العامۃ ۱۳۱۱ھ پوری قیامت ڈھانا (وہابیوں کے اس )شرك پر جو امور عامہ کی طرح (موجود کی ہر قسم پر صادق )ہے
بلکہ سیدنا ابی بن کعب رضی الله تعالی عنہ کی قرا ء ت میں یوں ہی تھا:
وصالح المومنین ابوبکر وعمر والملائکۃ بعد ذلك ظہیر ۔ نیك مسلمان ابوبکروعمر اور اس کے بعد فرشتے مدد پر ہیں۔ (ت)
یہاں الله عزوجل اپنے نام مبارك کے ساتھ اپنے محبوبوں کو فرماتاہے الله اورجبرائیل اور ابوبکروعمر مدگارہیں
آیت ۳۷:
" انی وجدت امراۃ تملکہم و اوتیت من کل شیء و لہا عرش عظیم ﴿۲۳﴾" ۔ ہدہد نے ملك سبا سے آکر سیدنا سلیمن علیہ الصلوۃ والسلام سے عرض کی میں نے ایك عورت پائی کہ وہ ان کی مالك ہے اور اسے سب کچھ دیا گیا ہے اور اس کا بڑا تخت ہے۔
یہاں بادشاہ کو رعایا کا مالك فرمایا تو رعایا کہ آزاد وغلام سب اس کے مملوك ہوئے مگر کوئی اگر محبوبان خدا کو اپنا مالك اور اپنے آپ کو ان کا بندہ مملوك کہے وہابیہ کے دین میں شرك ٹھہرے۔
آیت ۳۸:
" ومن احیاہا فکانما احیا الناس جمیعا " ۔ جس نے ایك جان کو زندہ کیا اس نے گویا سب آدمیوں کو جلا لیا۔
یہ آیت اس کے بارے میں ہے جس نے کسی کے قتل ناحق سے احتراز کیا یا قاتل سے قصاص نہ لیا چھوڑدیا اسے فرماتا ہے کہ اس نے اس شخص کو زندہ کیا اور ایك اسی کو کیا گویا تمام آدمیوں کو جلا لیا۔معالم شریف میں ہے:
ومن احیاھا وتورع عن قتلھا ۔ اور جس نے ایك جان کو زندہ کیا اور اس کے قتل سے اجتناب کیا۔(ت)
حوالہ / References القران الکریم ۲۷ /۲۳
القران االکریم ۵ /۳۲
معالم التنزیل(تفسیر بغوی)تحت الایۃ ۵/۳۲ دارالکتب العلمیہ بیروت ۲ /۲۵
#18780 · رسالہ الامن و العلٰی لناعتی المصطفٰی بدافع البلاء مسمّٰی بہ نام تاریخی اکمال الطامۃ علی شرك سُوی بالامُور العامۃ ۱۳۱۱ھ پوری قیامت ڈھانا (وہابیوں کے اس )شرك پر جو امور عامہ کی طرح (موجود کی ہر قسم پر صادق )ہے
اس میں ہے:
ومن احیاھا ای عفا عمن وجب علیہ القصاص لہ فلم یقتلہ ۔ اور جس نے اسے زندہ کیا یعنی جوقصاص اس پر واجب ہو چکا تھاوہ معاف کردیا اور قصاص میں اس نے قتل نہیں کیا۔ت)
وہابی صاحب بتائیں کہ دفع بلا زیادہ ہے یازندہ کرناجلا لیناحیات دینا۔
آیت ۳۹:
" الا ترون انی اوفی الکیل و انا خیر المنزلین ﴿۵۹﴾ " ۔ یوسف علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے بھائیو ں سے فرمایا کیا تم دیکھتے نہیں کہ میں پورا پیمانہ عطا فرماتا ہوں اور میں سب سے بہتر اتارنے والا ہوں کہ جو میرے سایہ رحمت میں اترتاہے اسے وہ راحت بخشتا ہوں کہ کہیں نہیں ملتی۔
یوسف علیہ الصلوۃ والسلام نے تو یہ فرمایااور رب عزوجل نوح علیہ الصلاۃ والسلام سے فرماتا ہے:
" و قل رب انزلنی منزلا مبارکا و انت خیر المنزلین ﴿۲۹﴾"
۔ اے نوح جب تو اور تیرے ساتھ والے کشتی پر ٹھیك بیٹھ لیں تو میری حمد بجا لانا اور یوں عرض کرنا کہ اے رب میرے مجھے برکت والا اتارنا اتار اور تو سب سے بہتر اتارنے والاہے۔
یہ الله عزوجل کی خاص صفت نبی صدیق علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے لئے کیسی ثابت فرمائی اور جب نبی صدیق صلی الله تعالی علیہ وسلم سب سے بہتر اتارنے والے راحت ونعمت بخشنے والے ہوئے تو دافع البلاء سے بھی بڑھ کر ہوئے کما لا یخفی(جیسا کہ پوشیدہ نہیں۔ت)
آیت ۴۰:
" انما ولیکم اللہ و رسولہ والذین یعنی اے مسلمانو! تمہارا مددگار نہیں مگر الله اور
حوالہ / References معالم التنزیل(تفسیر البغوی)تحت الایۃ دارالکتب العلمیہ بیروت ۲ /۲۵
القران الکریم ۱۲ /۵۹
القران الکریم ۲۳ /۲۹
#18781 · رسالہ الامن و العلٰی لناعتی المصطفٰی بدافع البلاء مسمّٰی بہ نام تاریخی اکمال الطامۃ علی شرك سُوی بالامُور العامۃ ۱۳۱۱ھ پوری قیامت ڈھانا (وہابیوں کے اس )شرك پر جو امور عامہ کی طرح (موجود کی ہر قسم پر صادق )ہے
امنوا الذین یقیمون الصلوۃ ویؤتون الزکوۃ وہم رکعون ﴿۵۵﴾" اس کا رسول اوروہ ایمان والے جو نماز قائم رکھتے اورزکوۃ دیتے اور وہ رکوع کرنے والے ہیں۔
اقول:(میں کہتاہوں۔ت)یہاں الله ورسول اورنیك بندوں میں مدد کو منحصر فرمادیا کہ بس یہی مددگار ہیں تو ضرور یہ مدد خاص ہے جس پر نیك بندوں کے سوا اورلوگ قادر نہیں عام مددگاری کا علاقہ تو ہرمسلمان کے ساتھ ہے۔قال تعالی:
" والمؤمنون والمؤمنت بعضہم اولیاء بعض " ۔ مسلمان مرد اورمسلمان عورتیں آپس میں ایك دوسرے کے مددگار ہیں۔
حالانکہ خود ہی دوسری جگہ فرماتاہے:
" ما لہم من دونہ من ولی ۫ " ۔ الله کے سوا کسی کا کوئی مددگار نہیں۔
معالم میں ہے:
(مالھم)ای ما لاھل السموت والارض(من دونہ)ای من دون الله (من ولی)ناصر ۔ نہیں ہے ان کے لیے یعنی آسمان اورزمین والوں کیلئے اس کےیعنی سوا الله تعالی کے کوئی ولی یعنی مددگار۔(ت)
وہابی صاحبو! تمہارے طور پر معاذالله کیسا کھلا شرك ہوا کہ قرآن نے خدا کی خاص صفت امداد کو رسول وصلحاء کے لیے ثابت کیا جسے قرآن ہی جابجا فرماچکا تھا کہ یہ الله کے سوا دوسرے کی صفت نہیںمگر بحمدالله اہل سنت دونوں آیتوں پر ایمان لاتے اور ذاتی اور عطائی کا فرق سمجھتے ہیںالله تعالی بالذات مددگار ہےیہ صفت دوسرے کی نہیںاوررسول واولیاء الله کے قدرت دینے سے مددگار ہیںولله الحمداب اتنا اورسمجھ لیجئے مددکاہے کے لیے ہوتی ہے دفع بلاء کے واسطے۔تو جب رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم اورالله کے مقبول بندے بنص قرآن مسلمانوں کے مددگار ہیں تو قطعادافع البلاء بھی ہیںاورفرق وہی ہے کہ الله
حوالہ / References القرآن الکریم ۵ /۵۵
القرآن الکریم ۹ /۷۱
القرآن الکریم ۱۸ /۲۶
معالم التنزیل(تفسیر البغوی)تحت الآیۃ ۱۸ /۲۶ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۳ /۱۳۲
#18782 · رسالہ الامن و العلٰی لناعتی المصطفٰی بدافع البلاء مسمّٰی بہ نام تاریخی اکمال الطامۃ علی شرك سُوی بالامُور العامۃ ۱۳۱۱ھ پوری قیامت ڈھانا (وہابیوں کے اس )شرك پر جو امور عامہ کی طرح (موجود کی ہر قسم پر صادق )ہے
سبحانہ بالذات دافع البلاء ہے اورانبیاء واولیاء علیہم الصلوۃ والثناء بعطائے خدا۔والحمدلله العلی الاعلی۔
پنج آیت از تورات وانجیل وزبور مقدسہ
آیت ۴۱تورات شریف:امام بخاری حضرت عبدالله بن عمر رضی الله تعالی عنہما اوردارمی وطبرانی ویعقوب بن سفین حضرت عبدالله بن سلام رضی الله تعالی عنہ سے راوی کہ تورات مقدس میں حضور پرنور دافع البلاء صلی الله تعالی علیہ وسلم کی صفت یوں ہے:
یایھاالنبی انا ارسلنك شاھداومبشرا ونذیرا حرزا للامیین(الی قولہ تعالی)یعفوویغفر۔ اے نبی ! ہم نے تجھے بھیجا گواہ اورخوشخبری دینے والا اور ڈر سنانے والا اوربے پڑھوں کے لیے پناہ(الی قولہ تعالی)معاف کرتاہے اورمغفرت فرماتاہے۔
حرز بھی رب العزت جل وعلاکی صفات سے ہے۔حدیث میں ہے:
یا حرز الضعفاء یاکنزالفقراء ۔ اے ضعیفوں کی پناہ ! اے غریبوں کے خزانے !
علامہ زرقانی شرح مواہب شریف میں فرماتے ہیں:
جعلہ نفسہ حرزا مبالغۃ لحفظہ لھم فی الدارین ۔ یعنی نبی صلی الله تعالی علیہ وسلم پناہ دینے والے ہیں مگر رب تبارك وتعالی نے حضور کو بطور مبالغہ
حوالہ / References سنن الدارمی باب صفۃ النبی صلی الله علیہ وسلم فی الکتب قبل مبعثہ دارالمحاسن للطباعۃ قاھرۃ ۱ /۱۴،دلائل النبوۃ للبیہقی باب صفۃ رسول الله صلی الله علیہ وسلم فی التورات والانجیل دارالکتب العلمیہ بیروت ۱ /۲۷۶،صحیح البخاری کتاب البیوع ۱ /۲۸۵ و کتاب التفسیر سورۃ الفتح ۲ /۷۱۷ قدیمی کتب خانہ کراچی،الخصائص الکبرٰی باب ذکرہ فی التوراۃ والانجیل الخ مرکز اہلسنت گجرات الہند ۱ /۱۰، الطبقات الکبرٰی لابن سعد ذکر صفۃ رسول الله صلی الله علیہ وسلم فی التوراۃ والانجیل دارصادر بیروت ۱ /۳۶۰و۳۶۲

شرح الزرقانی علی المواھب اللدنیۃ
#18783 · رسالہ الامن و العلٰی لناعتی المصطفٰی بدافع البلاء مسمّٰی بہ نام تاریخی اکمال الطامۃ علی شرك سُوی بالامُور العامۃ ۱۳۱۱ھ پوری قیامت ڈھانا (وہابیوں کے اس )شرك پر جو امور عامہ کی طرح (موجود کی ہر قسم پر صادق )ہے
خودپناہ کہا(جیسے عادل کو عدل یا علم کو علم کہتے اوراس وصف کی وجہ یہ ہے کہ)حضور اقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم دنیا وآخرت میں اپنی امت کے محافظ ونگہبان ہیں۔والحمدلله رب العلمین۔
آیت ۴۲از تورات:ہاں ہاں خبردار وہوشیاراے نجدیان نابکارذراکم سن نو پیدا عیارہ خام پارہ وہابیت نکارہ کے ننھے سے کلیجے پر ہاتھ دھر لینا تورات وزبور کی دو آیتیں تلاوت کی جائیں گے نو خیز وہابیت کی نادان جان پر قہر الہی کی بجلیاں گرائیں گے افسوس تمہیں تورات وزبور کی تکذیب کرتے کیا لگتا تھا جب تم قرآن کی نہ سنو الله کا کذب تم ممکن گنو مگر جان کی آفت گلے کی غل تویہ ہے کہ آیات جناب شاہ عبدالعزیزصاحب نے نقل فرمائیں کلام الہی بتائیںیہ امام الطائفہ کے نسب کے چچاشریعت کے باپ طریق کے دادا۔اب انہیں نہ مشرك کہے بنتی ہے نہ کلام الہی پر ایمان لانے کو روٹھی وہابیت ملتی ہےنہ پائے رفتن نہ جائے ماندن(نہ رہنے کا یارانہ چلنے کی تاب۔ت)
دوگونہ رنج وعذاب است جان لیلی را بلائے صحبت مجنوں وفرقت مجنوں
(لیلی کی جان کو دوقسم کا دکھ اورعذاب ہےمجنوں کی صحبت اوراس کی جدائی کی مصیبت۔ت)
ہاں اب ذراگھبرا ئے دلوںشرمائی چتونوں سے لجائی انکھڑیاں اوپر اٹھائیے اوربحمد الله وہ سنئے کہ ایمان نصیب ہوتوسنی ہوجائیے جناب شاہ صاحب تحفہ اثنا عشریہ میں لکھتے یں تورات کے سفر چہارم میں ہے:
قال الله تعالی لابراھیم ان ھاجرۃ تلد ویکون من ولدھا من یدہ فوق الجمیع وید الجمیع مبسوطۃ الیہ بالخشوع ۔ الله تعالی نے ابراہیم علیہ الصلوۃ والتسلیم سے فرمایا بیشك ہاجرہ کے اولاد ہوگی اوراس کے بچوں میں وہ ہوگا جس کا ہاتھ سب پر بالا ہے اورسب کے ہاتھ اس کی طرف پھیلے ہیں عاجزی اور گڑ گڑانے میں۔
وہ کون محمد رسول الله سید الکون معطی العون صلی الله تعالی علیہ وسلم۔قربان تیرے اے بلند ہاتھ والےاے دوجہان کے اجالے۔حمد اس کے وجہ کریم کو جس نے ہماری عاجزی و
حوالہ / References تحفہ اثنا عشریہ باب ششم دربحث نبوت وایمان انبیاء علیہم الصلٰوت والسلام سہیل اکیڈمی لاہور ص۱۶۹
#18784 · رسالہ الامن و العلٰی لناعتی المصطفٰی بدافع البلاء مسمّٰی بہ نام تاریخی اکمال الطامۃ علی شرك سُوی بالامُور العامۃ ۱۳۱۱ھ پوری قیامت ڈھانا (وہابیوں کے اس )شرك پر جو امور عامہ کی طرح (موجود کی ہر قسم پر صادق )ہے
محتاجی کے ہاتھ ہرلئیم بے قدرت سے بچائے اورتجھ جیسے کریم رؤف ورحیم کے سامنے پھیلائےوالحمدلله ر ب العلمین
اسے حمد جس نے تجھ کو ہمہ تن کرم بنایا
ہمیں بھیك مانگنے کو ترا آستاں بتایا
آیت ۴۳از زبور مقدس:نیزتحفہ میں زبور شریف سے منقول:
یا احمد فاضت الرحمۃ علی شفتیك من اجل ذلك ابارك علیك فتقلد السیف فان بھائك وحمدك الغالب (الی قولہ)والامم یخرون تحتك کتاب حق جاء الله بہ من الیمن والتقدیس من جبل فاران وامتلاء ت الارض من تحمید احمد وتقدیسہ وملك الارض و رقاب الامم ۔ اے احمد ! رحمت نے جوش مارا تیرے لبوں پرمیں اس لئے تجھے برکت دیتاہوںتو اپنی تلوار حمائل کر کہ تیری چمك اور تیری تعریف غالب ہےسب امتیں تیرے قدموں میں گریں گیسچی کتاب لایا الله برکت وپاکی کے ساتھ مکہ کے پہاڑ سے بھرگئی زمین احمد کی حمد اوراس کی پاکی بولنے سےاحمد مالك ہوا ساری زمین اورتمام امتوں کی گردنوں کا۔صلی الله تعالی علیہ وسلم۔
اے احمد پیارے صلی الله تعالی علیہ وسلم کے مملوکو خوشی وشادمانی ہےتمہارے لئے تمہارا مالك پیارا سراپاکرم سراپارحمت ہے والحمدلله رب العالمین
عہد مابالب شیریں دہناں بست خدائے ماہمہ بندہ وایں قوم خداوندا نند
(ہمارا عہد وپیمان الله تعالی نے میٹھے منہ والوں کے لبوں کے ساتھ باندھ دیا ہے۔ہم سب غلام ہیں اوریہ قوم مالکوں کی ہے۔ت)
میں تو مالك ہی کہوں گا کہ ہو مالك کے حبیب یعنی محبوب ومحب میں نہیں میرا تیرا ۔
ولہذا حضرت امام اجل عارف بالله سید ی سہل بن عبدالله تستری رضی الله تعالی عنہ
حوالہ / References حدائق بخشش مکتبہ رضویہ کراچی حصہ دوم ص۵۳
تحفہ اثنا عشریہ باب ششم دربحث نبوت وایمان انبیاء علیہم الصلٰوۃ والسلام سہیل اکیڈمی لاہور ص۱۶۹

حدائق بخشش مکتبہ رضویہ آرام باغ کراچی ص۲
#18785 · رسالہ الامن و العلٰی لناعتی المصطفٰی بدافع البلاء مسمّٰی بہ نام تاریخی اکمال الطامۃ علی شرك سُوی بالامُور العامۃ ۱۳۱۱ھ پوری قیامت ڈھانا (وہابیوں کے اس )شرك پر جو امور عامہ کی طرح (موجود کی ہر قسم پر صادق )ہے
پھر امام اجل قاضی عیاض شفاء شریفپھر امام احمد قسطلانی مواہب لدنیہ شریف میں نقلا وتذکیراپھر علامہ شہاب الدین خفاجی مصری نسیم الریاضپھر علامہ محمد عبدالباقی زرقانی شرح مواہب میں شرحا وتفسیرا فرماتے ہیں:
من لم یرولایۃ الرسول علیہ فی جمیع احوالہ ویر نفسہ فی ملکہ لایذوق حلاوۃ سنتہ ۔
والعیاذبالله رب العلمین۔ جوہر حال میں نبی صلی الله تعالی علیہ وسلم کو اپنا ولی اور اپنے آپ کو حضو رکی ملك نہ جانے وہ سنت نبی صلی الله تعالی علیہ وسلم کی حلاوت سے اصلا خبردار نہ ہوگا۔
فائدہ عظیمہ:الحمدلله سنیوں کی اقبالی ڈگری۔ان آیات تورات وزبور پر فقیر غفرالله تعالی لہ کو دو۲ آیت تورات وانجیل مبارك مع چند احادیث کے یا دآئیں مگران کے ذکر سے پہلے امام الطائفہ کے ایك انجان پنے کا اقرار سن لیجئے۔تقویۃ الایمان فصل ثانی اشراك فی العلم کے شروع میں لکھا ہے:
''جس کے ہاتھ میں کنجی ہوتی ہے قفل اسی کے اختیار میں ہوتا ہے جب چاہے تو کھولے جب چاہے نہ کھولے۔"انتہی ۔
بھولا نادان لکھتے تو لکھ گیا مگر
کیا خبر تھی انقلاب آسماں ہوجائیگا دین نجدی پائمال سنیاں ہوجائیگا
غریب مسکین کیا جانتا تھا کہ وہ تو چند ورق بعدیہ کہنے کو ہے کہ ''جس کا نام محمد یا علی ہے وہ کسی چیز کا مختار نہیں'' ۔
یہاں اس کے قول سے تمام عالم پر محمد رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم کا اختیار تام ثابت ہوجائیگا بیچارے مسکین عزیز کے دھیان میں اس وقت یہی لوہے پیتل کی کنجیاں تھیں
حوالہ / References الشفاء بتعریف حقوق المصطفیٰ الباب الثانی لزوم مجتہ صلی الله علیہ وسلم المطبعۃ الشرکۃ الصحافیۃ ۲ /۱۶،نسیم الریاض فی شرح القاضی عیاض الباب الثانی لزوم مجتہ صلی الله علیہ وسلم مرکز اہلسنت گجرات ہند ۳/۳۴۶و۳۴۷،المواھب اللدنیۃ المقصد السابع المکتب الاسلامی بیروت ۳ /۲۹۹و۳۰۰،شرح الزرقانی علی المواھب اللدنیۃ الفصل الاول دارالمعرفۃ بیروت ۶ /۳۱۳
تقویۃ الایمان الفصل الثانی مطبع علیمی اندرون لوہاری دروازہ لاہور ص۱۴
تقویۃ الایمان الفصل الرابع مطبع علیمی اندرون لوہاری دروازہ لاہور ص۲۸
#18786 · رسالہ الامن و العلٰی لناعتی المصطفٰی بدافع البلاء مسمّٰی بہ نام تاریخی اکمال الطامۃ علی شرك سُوی بالامُور العامۃ ۱۳۱۱ھ پوری قیامت ڈھانا (وہابیوں کے اس )شرك پر جو امور عامہ کی طرح (موجود کی ہر قسم پر صادق )ہے
جو جامع مسجد کی سیڑھیوں پر بساطیف پیسے پیسے بیچتے اس کی خواب میں بھی خیال نہ تھا کہ محمد رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم کے رب جل وعلا نے اس بادشاہ جبار جلیل الاقتدار عظیم الاختیار صلی الله تعالی علیہ وسلم کو کیا کیا کنجیاں عطافرمائی ہیں ہاں ہم سے سن اوروہ سن کہ سن ہوجا۔
آیات واحادیث عطائے مفاتیح عالم بحضور پر نور مولائے اعظم صلی الله علیہ وسلم
آیت ۴۴از تورات شریف:بیہقی وابو نعیم دلائل النبوۃ میں حضرت ام الدرداء سے راوی میں نے کعب احبار سے پوچھا:تم تورات میں حضور اقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم کی نعت کیا پاتے ہوکہا:حضو رکا وصف تورات مقدس میں یوں ہے:
محمدرسول الله اسمہ المتوکل لیس بفظ ولا غلیظ و لا سخاب فی الاسواق واعطی المفاتیح لیبصرالله بہ اعینا عورا ویسمع بہ اذانا صما ویقیم بہ السنۃ معوجۃ حتی یشھدوا ان لا الہ الا الله وحدہ لاشریك لہ یعین المظلوم ویمنعہ من ان یستضعف ۔ محمد الله کے رسول ہیں ان کا نام متوکل ہےنہ درشت خوہیں نہ سخت گونہ بازاروں میں چلانے والےوہ کنجیاں دئے گئے ہیں تاکہ الله تعالی ان کے ذریعہ سے پھوٹی آنکھیں بینا اور بہرے کان شنو ااورٹیڑھی زبانیں سیدھی کردے یہاں تك کہ لوگ گواہی دیں کہ ایك الله کے سوا کوئی سچا معبود نہیں اس کا ساجھی نہیں وہ نبی کریم ہر مظلوم کی مدد فرمائیں گے اوراسے کمزور سمجھے جانے سے بچائیں گے۔
آیت ۴۵از انجیل جلیل:حاکم بافادہ تصحیح اورابن سعد وبیہقی وابو نعیم روایت کرتے ہیں ام المومنین ومحبوبہ محبوب رب العالمین حضرت عائشہ صدیقہ صلی الله تعالی علیہ بعلہا وابیہا وعلیہا وسلم فرماتی ہیں:رسول الله صلی الله تعالی علہ وسلم کی صفت وثنا انجیل پاك میں مکتوب ہے:
حوالہ / References الخصائص الکبرٰی باب ذکرہ فی التوراۃ والانجیل مرکز اہلسنت گجرات الہند ۱ /۱۱،دلائل النبوۃ للبیہقی باب صفۃ رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم فی التوراۃ والانجیل دارالکتب العلمیہ بیروت ۱ /۳۷۷
ف:بساطی:خردہ فروش۔ضرورت کی چھوٹی موٹی چیزیں بیچنے والا۔
#18787 · رسالہ الامن و العلٰی لناعتی المصطفٰی بدافع البلاء مسمّٰی بہ نام تاریخی اکمال الطامۃ علی شرك سُوی بالامُور العامۃ ۱۳۱۱ھ پوری قیامت ڈھانا (وہابیوں کے اس )شرك پر جو امور عامہ کی طرح (موجود کی ہر قسم پر صادق )ہے
لافظ ولا غلیظ ولا سخاب فی الاسواق واعطی المفاتیح الخ مثل ما مرسواء بسواء۔ نہ سخت دل ہیں نہ درشت خونہ بازاروں میں شور کرتے انہیں کنجیاں عطاہوئی ہیں۔باقی عبارت مثل تورات مبارك ہے۔
حدیث ۶۱:بخاری ومسلم حضرت ابوہریرہ رضی الله تعالی عنہ سے راویحضور مالك المفاتیح صلی الله تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
بینا انا نائم اتیت بمفاتیح خزائن الارض فوضعت فی یدی ۔ میں سور رہا تھا کہ تمام خزائن زمین کی کنجیاں لائی گئیں اور میرے دونوں ہاتھوں میں رکھ دی گئیں۔
حدیث ۶۲:امام احمد وابوبکر بن ابی شیبہ سیدنا علی کرم الله وجہہ الکریم سے راوی حضور مالك ومختارصلی الله تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اعطیت مالم یعط احدمن الانبیاء قبلی نصرت بالرعب واعطیت مفاتیح الارض الحدیث ۔ مجھے وہ عطاہوا جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہ ملارعب سے میری مدد فرمائی گئی(کہ مہینہ بھر کی راہ پر دشمن میرا نام پاك سن کر کانپے)اورمجھے ساری زمین کی کنجیاں عطاہوئیں
الحدیث۔
امام جلال الدین سیوطی نے اس حدیث کی تصحیح کی۔
حدیث ۶۳:امام احمد اپنی مسند اور ابن حبان اپنی صحیح اورضیاء مقدسی صحیح مختارہابو نعیم دلائل النبوۃ
حوالہ / References الخصائص الکبرٰی باب ذکرہ فی ا لتوراۃ والانجیل الخ مرکز اہلسنت گجرات الہند ۱ /۱۱،المستدرك للحاکم کتاب التاریخ کان اجود الناس بالخیر دارالفکر بیروت ۲ /۶۱۴،الطبقات الکبرٰی لابن سعد ذکر صفۃ رسول الله صلی الله علیہ وسلم فی التوراۃ والانجیل دارصادر بیروت ۱ /۳۶۳
صحیح البخاری کتاب الاعتصام باب قول النبی صلی الله علیہ وسلم بعثت بجوامع الکلم قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۱۰۸۰،صحیح مسلم کتاب المساجد وموضع الصلٰوۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۹۹
مسند احمد بن حنبل عن علی رضی الله عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۱ /۹۸،المصنف لابن ابی شیبۃ کتاب المناقب حدیث ۳۱۶۳۸ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۶ /۳۰۸،الخصائص الکبری باب اختصاصہ صلی الله علیہ وسلم بالنصر بالرعب مرکز اہل سنت گجرات الہند ۲ /۱۹۳
#18788 · رسالہ الامن و العلٰی لناعتی المصطفٰی بدافع البلاء مسمّٰی بہ نام تاریخی اکمال الطامۃ علی شرك سُوی بالامُور العامۃ ۱۳۱۱ھ پوری قیامت ڈھانا (وہابیوں کے اس )شرك پر جو امور عامہ کی طرح (موجود کی ہر قسم پر صادق )ہے
میں بسند صحیح حضرت جابر بن عبدالله رضی الله تعالی عنہما سے راویحضور مالك تمام دنیا صلی الله تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اتیت بمقالید الدنیا علی فرس ابلق جاء نی بہ جبریل علیہ قطیفۃ من سندس ۔ دنیا کی کنجیاں ابلق گھوڑے پر رکھ کر میری خدمت میں حاضر کی گئیں جبریل لے کر آئے اس پر نازك ریشم کازین پوش بانقش ونگار پڑا تھا۔
حدیث ۶۴:امام احمد مسند اورطبرانی معجم کبیر میں حضرت عبدالله بن عمر رضی الله تعالی عنہما سے راویحضور پرنور ابوالقاسم صلی الله تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اوتیت مفاتیح کل شیئ الا الخمس ۔ مجھے ہر چیز کی کنجیاں عطاہوئیں سوا ان پانچ کے۔یعنی غیوب خمسہ۔
علامہ حفنی حاشیہ جامع صغیر میں فرماتے ہیں:
ثم اعلم بھا بعد ذلك ۔ پھر یہ پانچ بھی عطاہوئیں ان کا علم بھی دے دیاگیا۔
اسی طرح علامہ سیوطی نے بھی خصائص کبری میں نقل فرمایا:علامہ مدابغی شرح فتح المبین امام ابن حجر مکی میں فرماتے ہیں یہی حق ہے۔ولله الحمد۔
حدیث ۶۵:بعینہ یہی مضمون احمدوابو یعلی نے حضرت عبدالله بن مسعود رضی الله تعالی عنہ سے روایت کیا۔
حدیث آخر ابو نعیم حضرت عبدالله بن عباس رضی الله تعالی عنہما سے راویحضور مالك غیور صلی الله تعالی علیہ وسلم کی والدہ ماجدہ حضرت آمنہ رضی الله تعالی عنہا فرماتی تھیں:
حوالہ / References مسند احمد بن حنبل،عن جابر رضی الله عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۳ /۳۲۸،الخصائص الکبرٰی بحوالہ احمد وابن حبان وابی نعیم باب اختصاصہ بالنصر مرکز اہلسنت گجرات الہند ۲ /۱۹۵
مسند احمد بن حنبل عن ابن عمر رضی الله عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۲ /۸۵،المعجم الکبیر عن ابن عمر رضی الله عنہ المکتب الاسلامی بیرو ت ۱۲ /۳۶۱
حواشی الحفنی علی الجامع الصغیر علی ہامش السراج المنیر الحدیث اوتیت مفاتیح الخ المطبعۃ الازھریۃ المصریہ مصر۲ /۷۳
الخصائص الکبرٰی باب اختصاصہ صلی الله تعالٰی علیہ وسلم بالنصر بالرعب مرکز اہل سنت گجرات الہند ۲ /۱۹۵
مسند احمد بن حنبل عن ابن مسعود رضی الله عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۱ /۳۸۶
#18789 · رسالہ الامن و العلٰی لناعتی المصطفٰی بدافع البلاء مسمّٰی بہ نام تاریخی اکمال الطامۃ علی شرك سُوی بالامُور العامۃ ۱۳۱۱ھ پوری قیامت ڈھانا (وہابیوں کے اس )شرك پر جو امور عامہ کی طرح (موجود کی ہر قسم پر صادق )ہے
لما خرج من بطنی فنظرت الیہ فاذا انابہ ساجد ثم رایت سحابۃ بیضاء قد اقبلت من السماء حتی غشیتہ فغیب عن وجھیثم تجلت فاذا انابہ مدرج فی ثوب صوف ابیض وتحتہ حریرۃ خضراء و قد قبض علی ثلثۃ مفاتیح من اللؤلوء الرطب واذا قائل یقول قبض محمد علی مفاتیح النصرۃ و مفاتیح الربح ومفاتیح النبوۃ ثم اقبلت سحابۃ اخری حتی غشیتہ فغیب عن عینی ثم تجلت فاذا انابہ قد قبض علی حریرۃ خضراء مطویۃ واذقائل یقول بخ بخ قبض محمد علی الدنیا کلھا لم یبق خلق من اھلھا الادخل فی قبضتہ ۔ھذا مختصر۔ والحمدلله رب العالمین جب حضور میرے شکم سے پیداہوئے میں نے دیکھا سجدے میں پڑے ہیںپھر ایك سفید ابر نے آسمان سے آکر حضور کو ڈھانپ لیا کہ میرے سامنے سے غائب ہوگئےپھر وہ پردہ ہٹا تو میں کیا دیکھتی ہوں کہ حضورایك اونی سفید کپڑے میں لپٹے ہیں اورسبز ریشمیں بچھونا بچھا ہے اورگوہر شاداب کی تین کنجیاں حضور کی مٹھی میں ہیں اورایك کہنے والا کہہ رہا ہے کہ نصرت کی کنجیاںنفع کی کنجیاںنبوت کی کنجیاںسب پر محمد صلی الله تعالی علیہ وسلم نے قبضہ فرمایا۔پھر اور ابر نے آکر حضور کو ڈھانپا کہ میری نظر سے چھپ گئے۔پھر روشن ہوا تو کیا دیکھتی ہوں کہ ایك سبز ریشم کا لپٹا ہوا کپڑا حضور کی مٹھی میں ہے اورکوئی منادی پکار رہا ہے واہ واہ ساری دنیا محمد صلی الله تعالی علیہ وسلم کی مٹھی میں آئی زمین وآسمان میں کوئی مخلوق ایسی نہ رہی جو ان کے قبضہ میں نہ آئی۔صلی الله تعالی علیہ وسلم۔
حدیث ۶۶:حافظ ابو زکریا یحیی بن عائذ اپنی مولد میں بروایت حضرت عبدالله بن عباس رضی الله تعالی عنہما حضرت آمنہ زہریہ رضی الله تعالی عنہا سے راویرضوان خازن جنت علیہ الصلوۃ والسلام نے بعد ولادت حضور سید الکونین صلی الله تعالی علیہ و سلم کو اپنے پروں کے اندر لے کر گوش اقدس میں عرض کی:
حوالہ / References الخصائص الکبرٰی بحوالہ ابو نعیم عن ابن عباس باب ماظہر فی لیلۃ مولدہ مرکز اہلسنت گجرات الہند ۱ /۴۸
#18790 · رسالہ الامن و العلٰی لناعتی المصطفٰی بدافع البلاء مسمّٰی بہ نام تاریخی اکمال الطامۃ علی شرك سُوی بالامُور العامۃ ۱۳۱۱ھ پوری قیامت ڈھانا (وہابیوں کے اس )شرك پر جو امور عامہ کی طرح (موجود کی ہر قسم پر صادق )ہے
معك مفاتیح النصرۃ قد البست الخوف والرعب لایسمع احد بذکرك الا وجل فؤادہ وخاف قلبہ وان لم یرك یا خلیفۃالله ۔ حضور کے ساتھ نصرت کی کنیاں ہیں رعب ودبدبہ کا جامہ حضو ر کو پہنایا گیا ہے جو حضور کا چرچا سنے گا اس کا دل ڈر جائے گا اورجگر کانپ اٹھے گا اگرچہ حضو ر کو نہ دیکھا ہو اے الله کے نائب !صلی الله تعالی علیہ وسلم۔
ایمان کی آنکھ میں نور ہوتو ایك الله کا نائب ہی کہنے میں سب کچھ آگیاالله کا نائب ایسا ہی تو چاہئے کہ جس کا نام محمد ہے وہ کسی چیز کا مختار نہیں۔ایك دنیا کے کتے کا نائب کہیں کا صوبہ اسکی طرف سے وہاں کے سیاہ وسپید کا مختار ہوتاہے مگر الله کا نائب کسی پتھر کا نائب ہے " وما قدروا اللہ حق قدرہ" ۔(الله کی قدر نہ جانی جیسی چاہئے تھی۔ت) بے دولتوں نے الله ہی کی قدرت نہ جانی لا والله الله کا نائب الله کی طرف سے الله کے ملك میں تصرف تام کا اختیار رکھتاہے جب تو الله کا نائب کہلایا صلی ا لله تعالی علیہ وسلم۔
حدیث ۶۷:امام دارمی اپنی سنن میں انس رضی الله تعالی عنہ سے راویحضور مالك جنت صلی الله تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
انا اول الناس خروجا اذا بعثوا وانا قائدھم اذا وفدوا وانا خطیبھم اذا انصتواو انا شفیعھم اذا حبسوا وانا مبشرھم اذا یئسوا الکرامۃ والمفاتیح یومئذ بیدی و لو اء الحمد یومئذ بیدی ۔ میں سب سے پہلے قبر سے باہر آؤں گا جب لوگ اٹھائے جائیں گےاورمیں ان کا پیشوا ہوں جب وہ حاضر بارگاہ ہوں گے اورمیں ان کا خطیب ہوں جب وہ دم بخود ہوں گے اورمیں ان کا شفیع ہوں جب وہ محبوس ہوں گےاورمیں خوشخبری دینے والاہوں جب وہ ناامید
حوالہ / References الخصائص الکبرٰی باب ما ظہر فی لیلۃ مولدہ صلی الله تعالٰی علیہ وسلم مرکز اہلسنت گجرات الہند ۱ /۴۹
القرآن الکریم ۶ /۹۱ و ۳۹/ ۶۷
مشکوٰۃ المصابیح بحوالہ الترمذی والدارمی باب فضائل سیدالمرسلین قدیمی کتب خانہ کراچی ص۵۱۴،سنن الدارمی باب ما اعطی النبی صلی الله علیہ وسلم من الفضل حدیث ۴۹دارالمحاسن للطباعۃ القاھرۃ ص ۳۰،الخصائص الکبرٰی باب اختصاصہ صلی الله علیہ وسلم بانہ اول من تنشق الارض منہ مرکز اہلسنت گجرات الہند ۲ /۲۱۸
#18791 · رسالہ الامن و العلٰی لناعتی المصطفٰی بدافع البلاء مسمّٰی بہ نام تاریخی اکمال الطامۃ علی شرك سُوی بالامُور العامۃ ۱۳۱۱ھ پوری قیامت ڈھانا (وہابیوں کے اس )شرك پر جو امور عامہ کی طرح (موجود کی ہر قسم پر صادق )ہے
الحدیث۔ ہوں گےعزت اورکنجیاں اس دن میرے ہاتھ ہوں گی اور لواء الحمد اس دن میرے ہاتھ ہوگا۔
والحمدلله رب العالمینشکر اس کریم کا جس نے عزت دینا اس دن کے کاموں کا اختیار پیارے رؤف ورحیم کے ہاتھ میں رکھا صلی الله تعالی علیہ وسلم۔اس لئے شیخ محقق مولانا عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ الله تعالی علیہ مدارج شریف میں فرماتے ہیں:
دراں روز ظاہر گرددکہ وے صلی الله تعالی علیہ وسلم نائب ملك یوم الدین ست روز روز اوست وحکم حکم اوبحکم رب العالمین ۔ اس دن ظاہر ہوجائے گا کہ آپ صلی الله تعالی علیہ وسلم مالك یوم دین کے نائب ہیں۔وہ دن آپ کا ہوگا اوراس میں رب العالمین کے حکم سے آپ کا حکم چلے گا۔(ت)
حدیث ۶۸:ابن عبد ربہ کتاب بہجۃ المجالس میں راوی کہ حضور پر نور افضل صلوات الله تسلیماتہ علیہ فرماتے ہیں:
ینصب الی یوم القیمۃ منبر علی الصراط وذکر الحدیث (الی ان قال)ثم یأتی ملك فیقف علی اول مرقاۃمن منبری فینادی معاشرالمسلمین من عرفنی فقد عرفنی ومن لم یعرفنی فانا ملك خازن النار ان الله امرنی ان ادفع مفاتیح جہنم الی محمد وان محمدا امرنی ان ادفع الی ابی بکرھاہ۔اشھدواھاہ اشھدوا ثم یقف ملك اخر علی ثانی مرقاۃ من منبری فینادی معاشرالمسلمین من عرفنی روز قیامت صراط کے پاس ایك منبر بچھایا جائیگا پھر ایك فرشتہ آکر اس کے پہلے زینہ پر کھڑا ہوگا اورنداکرے گا اے گروہ مسلمانان !جس نے مجھے پہچانا اس نے پہچانا اورجس نے نہ پہچانا میں مالك داروغہ دوزخ ہوں الله تعالی نے مجھے حکم دیا ہے کہ جہنم کی کنجیاں محمد صلی الله تعالی علیہ وسلم کو دے دوں اورمحمد صلی الله تعالی علیہ وسلم کا حکم ہے کہ ابو بکر صدیق (رضی الله عنہ)کے سپرد کردوںہاں ہاں گواہ ہوجاؤ ہاں ہاں گواہ ہوجاؤ۔پھر ایك اورفرشتہ دوسرے زینہ پرکھڑا ہوکر پکارے گا:اے گروہ مسلمین ! جس نے مجھے جانا
حوالہ / References مدارج النبوۃ
#18792 · رسالہ الامن و العلٰی لناعتی المصطفٰی بدافع البلاء مسمّٰی بہ نام تاریخی اکمال الطامۃ علی شرك سُوی بالامُور العامۃ ۱۳۱۱ھ پوری قیامت ڈھانا (وہابیوں کے اس )شرك پر جو امور عامہ کی طرح (موجود کی ہر قسم پر صادق )ہے
فقد عرفنی ومن لم یعرفنی فانا رضوان خازن الجنان ان الله امرنی ان ادفع مفاتیح الجنۃ الی محمد وان محمدا امرنی ان ادفعہا الی ابی بکرھا ہ اشھدوا ھاہ اشھدوا الحدیث۔(اوردہ العلامۃ ابراہیم بن عبد الله المدنی الشافعی فی الباب السابع من کتاب التحقیق فی فضل الصدیق من کتابہ الاکتفاء فی فضل الاربعۃ الخلفاء ۔ اس نے جانا اورجس نے نہ جانا تو میں رضوان داروغہ جنت ہوں مجھے الله تعالی نے حکم فرمایا ہے کہ جنت کی کنجیاں محمد صلی الله تعالی علیہ وسلم کو دے دوں اورمحمد صلی الله تعالی علیہ وسلم کا حکم ہے کہ ابوبکر(رضی الله عنہ)کے سپرد کر دوں۔ہاں ہاں گواہ ہوجاؤ ہاں ہاں گواہ ہوجاؤ۔(علامہ ابراہیم بن عبدالله المدنی الشافعی نے اپنی تحقیقی کتاب الاکتفاء فی فضل الاربعۃ الخلفاء کے ساتویں باب میں فضائل صدیق میں بیان کیاہے۔ت)
حدیث ۶۹:حافظ ابو سعید عبدالملك بن عثمان کتاب شرف النبوۃ میں حضرت عبدالله بن عباس رضی الله تعالی عنہما سے راوی حضور پرنور سید عالم صلی الله تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اذا کان یوم القیمۃ وجمع الله الاولین والاخرین یؤتی بمنبرین من نور فینصب احدھما عن یمین العرش والاخر عن یسارہ ویعلوھما شخصان فینادی الذی عن یمین العرش معاشر الخلائق من عرفنی فقد عرفنی ومن لم یعرفنی فانا رضوان خازن الجنۃ ان الله امرنی ان اسلم مفاتیح الجنۃ الی محمد وان محمدا امرنی ان اسلمھا الی ابی بکر وعمر لیدخلا محبیھما الجنۃ الا فاشھدوا روز قیامت الله تعالی سب اگلوں پچھلوں کو جمع فرمائے گا دو منبر نور کے لاکر عرش کے داہنے بائیں بچھائے جائیں گے ان پر دو شخص چڑھیں گےداہنے والا پکارے گا:اے جماعات مخلوق! جس نے مجھے پہچانا اس نے پہچانا اورجس نے نہ پہچانا تو میں رضوان داروغہ بہشت ہوں مجھے الله عزوجل نے حکم دیا کہ جنت کی کنجیاں محمدصلی الله تعالی علیہ وسلم کے سپرد کروں اورمحمد صلی الله تعالی علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ابوبکر وعمر (رضی الله تعالی عنہما)کو دوں کہ وہ اپنے دوستوں کو جنت میں داخل کریں۔سنتے ہوگواہ ہوجاؤ۔
#18793 · رسالہ الامن و العلٰی لناعتی المصطفٰی بدافع البلاء مسمّٰی بہ نام تاریخی اکمال الطامۃ علی شرك سُوی بالامُور العامۃ ۱۳۱۱ھ پوری قیامت ڈھانا (وہابیوں کے اس )شرك پر جو امور عامہ کی طرح (موجود کی ہر قسم پر صادق )ہے
ثم ینادی الذی عن یسار العرش معشر الخلائق من عرفنی فقد عرفنی ومن لم یعرفنی فانا مالك خازن النار ان الله امرنی ان اسلم مفاتیح النار الی محمد ومحمد امرنی ان اسلمھا الی ابی بکر وعمر لیدخلا مبغضیھما النار الا فاشھدوا ۔او ردہ ایضا فی الباب السابع من کتاب الاحادیث الغررفی فضل الشیخین ابی بکروعمر من کتاب الاکتفاء۔ پھر بائیں والا پکارے گا:اے جماعات مخلوق! جس نے مجھے پہچانااس نے پہچانا اورجس نے نہ پہچانا تو میں مالك داروغہ دوزخ ہوں مجھے الله عزوجل نے حکم دیا کہ دوزخ کی کنجیاں محمد صلی الله تعالی علیہ وسلم کے سپرد کروں اور محمد صلی الله تعالی علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ابوبکر وعمر(رضی الله تعالی عنہما)کو دوں کہ وہ اپنے دشمنوں کو جہنم میں داخل کریںسنتے ہو گواہ ہوجاؤ۔(اس کو بھی کتاب الاکتفاء میں کتاب الاحادیث الغررفی فضل الشیخین ابی بکر وعمر میں باب ہفتم میں بیان کیا۔ت)
یہی معنی ہیں اس حدیث کے کہ ابو بکر شافعی نے غیلانیات میں روایت کی:
ینادی یوم القیمۃ این اصحاب محمد صلی الله تعالی علیہ وسلمفیؤتی بالخلفاء رضی الله تعالی عنہم فیقول الله لھم ادخلوا من شئتم الجنۃ ودعوا من شئتم اوماھو بمعناہ ذکرہ العلامۃ الشھاب الخفاجی فی نسیم الریاض شرح شفاء الامام القاضی عیاض فی فصل ما اطلع علیہ النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم من الغیوبوقال اوماھو بمعناہ۔ روز قیامت ندا کی جائے گی کہاں ہیں اصحاب محمدصلی الله تعالی علیہ وسلم۔پس خلفاء رضی الله تعالی عنہم لائے جائیں گے الله عزوجل ان سے فرمائے گا تم جسے چاہو جنت میں داخل کرو اورجسے چاہو چھوڑدو۔(علامہ شہاب خفاجی نے نسیم الریاض شرح شفاء امام قاضی عیاض میں فصل ''نبی اکرم صلی الله تعالی علیہ وسلم کو کن کن غیوب پر مطلع کیا گیا''میں اس کا ذکر کیا اورفرمایا یا جو اس کے ہم معنی ہے۔(ت)
حوالہ / References مناحل الشفاء ومناھل الصفاء بتحقیق شرف المصطفی حدیث ۲۳۸۸دارالبشائر الاسلامیہ بیروت ۵ /۴۱۹و۴۲۰
نسیم الریاض شرح شفاء القاضی عیاض بحوالہ الغیلانیات فصل ومن ذٰلك ما اطلع علیہ من الغیوب مرکز اہلسنت گجرات الہند ۳ /۱۶۴
#18794 · رسالہ الامن و العلٰی لناعتی المصطفٰی بدافع البلاء مسمّٰی بہ نام تاریخی اکمال الطامۃ علی شرك سُوی بالامُور العامۃ ۱۳۱۱ھ پوری قیامت ڈھانا (وہابیوں کے اس )شرك پر جو امور عامہ کی طرح (موجود کی ہر قسم پر صادق )ہے
حدیث ۷۰:ولہذا سیدنا مولاعلی کرم الله تعالی وجہہ الکریم نے فرمایا:انا قسیم النار میں قسیم دوزخ ہوں۔
یعنی وہ اپنے دوستوں کو جنت اور اعداء کو دوزخ میں داخل فرمائیں گے۔
رواہ شاذان الفضیلی عنہ رضی الله تعالی عنہ فی جزء ردالشمس جعلنا الله ممن والاہ کما یحبہ ویرضاہ بجاہ جمال محباہ امین۔ اس کو شاذان نے جزء ردالشمس میں روایت کیا ہے۔الله تعالی ہمیں اس کے محبوں میں رکھے جیسا کہ وہ خود اس سے محبت فرماتاہے اوراس پر راضی ہے اس کے محبوں کے جمال کے صدقے۔آمین۔(ت)
بلکہ قاضی عیاض رحمہ الله تعالی نے اسے احادیث حضور والا صلوات الله تعالی وسلامہ علیہ میں داخل کیا کہ حضور اقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم نے حضرت مولی علی(کرم الله وجہہ الکریم)کو قسیم النار فرمایا۔شفاء شریف میں فرماتے ہیں:
قدخرج اھل الصحیح ولاائمۃ ما اعلم بہ اصحابہ صلی الله تعالی علیہ وسلم مما وعدھم بہ من الظھور علی اعدائہ(الی قولہ)وقتل علی وان اشقاھا الذی یخضب ھذہ من ھذہ ای لحیتہ من راسہ وانہ قسیم النار یدخل اولیاء ہ الجنۃ واعداء ہ النار ۔رضی الله تعالی عنہ وعنابہ امین ! بیشك اصحاب صحاح وائمہ حدیث نے وہ حدیثیں روایت کیں جن میں حضور صلی الله تعالی علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کو غیب کی خبریں دیں مثلا یہ وعدہ کہ وہ دشمنوں پر غالب آئیں گے اور مولی علی(کرم الله وجہہ الکریم)کی شہادت اوریہ کہ بد بخت ترین امت ان کے سر مبارك کے خون سے ریش مطہر کو رنگے گااوریہ کہ مولا علی(رضی الله تعالی عنہ)قسیم دوزخ ہیں اپنے دوستوں کو بہشت میں اوراپنے دشمنوں کو دوزخ میں داخل فرمائیں گے۔الله تعالی اس سے راضی ہو اوراس کے صدقے ہم سے راضی ہو۔آمین۔(ت)
حوالہ / References کنزالعمال بحوالہ شاذان الفضیلی فی ردالشمس حدیث ۳۶۴۷۵ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۳ /۱۵۲
الشفاء بتعریف حقوق المصطفیٰ فصل ومن ذالك مااطلع علیہ من الغیوب المکتبۃ الشرکۃ الصحافیۃ ۱ /۲۸۳و۲۸۴
#18795 · رسالہ الامن و العلٰی لناعتی المصطفٰی بدافع البلاء مسمّٰی بہ نام تاریخی اکمال الطامۃ علی شرك سُوی بالامُور العامۃ ۱۳۱۱ھ پوری قیامت ڈھانا (وہابیوں کے اس )شرك پر جو امور عامہ کی طرح (موجود کی ہر قسم پر صادق )ہے
نسیم میں عبارت نہایہ:
ان علیارضی الله تعالی عنہ قال انا قسیم النار۔ حضرت علی رضی الله تعالی عنہ نے فرمایا:میں قسیم دوزخ ہوں۔(ت)
ذکر کر کے فرمایا:
ابن الاثیر ثقۃ وما ذکرہ علی لایقال من قبل الرای فھو فی حکم المرفوع اذ لا مجال فیہ للاجتھاد اھ اقول:کلام النسیم انہ لم یرہ مرویا عن علی فاحال علی وثاقۃ ابن الاثیر وقد ذکرنا تخریجہ ولله الحمد۔ ابن اثیر ثقہ ہے اورجو کچھ حضرت علی مرتضی رضی الله تعالی عنہ نے ذکر فرمایا وہ اپنے رائے سے نہیں کہا جاسکتا ہےلہذا وہ مرفوع کے حکم میں ہوگا کیونکہ اس میں اجتہاد کی مجال نہیں اھ۔میں کہتا ہوں نسیم کے کلام سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس کو حضرت علی سے مروی نہیں جانتے چنانچہ انہوں نے اسے ابن اثیر کے ثقہ ہونے کی طرف پھیر دیا ہے اورہم نے اس کی تخریج کردی ہے۔ولله الحمد۔(ت)
مدارج شریف میں ہے:
آمدہ است کہ ایستادہ میکنداو را پروردگار وے یمین عرش ودر روایتے برعرش ودرروایتے برکرسی ومے سپاردبوے کلید جنت ۔ مروی ہے کہ الله تعالی آپ کو عرش کی دائیں جانب کھڑا کرے گا۔ایك روایت میں ہے کہ عرش کے اوپراورایك روایت میں ہے کہ کرسی پر کھڑا کریگا اورجنت کی چابی آپ کے سپرد فرمائے گا۔(ت)
ملاجی !ذرا انصاف کی کنجی سے دیدہ عقل کے کواڑ کھول کر یہ کنجیاں دیکھئے جو مالك الملك شہنشاہ قدیر جل جلالہ نے اپنے نائب اکبر خلیفہ اعظم صلی الله تعالی علیہ وسلم کو عطافرمائی ہیں خزانوں کی کنجیاںزمین کی کنجیاںدنیا کی کنجیاںجنت کی کنجیاںنار کی کنجیاں۔اور اب اپنا وہ بلائے جان اقرار یاد کیجئے ''جس کے ہاتھ کنجی ہوتی ہے قفل اسی کے اختیار میں ہوتا ہے جب چاہے کھولے جب چاہے نہ کھولے '' ۔دیکھ حجت الہی یوں قائم ہوتی ہے۔والحمدلله رب العالمین۔
حوالہ / References نسیم الریاض فصل ومن ذالك ما اطلع علیہ من الغیوب مرکز اہلسنت گجرات الہند ۳ /۱۶۳
مدارج النبوۃ باب ہشتم مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ /۲۷۴
تقویۃ الایمان الفصل الثانی مطبع علیمی اندرون لوہاری دروازہ لاہور ص۱۴
#18796 · رسالہ الامن و العلٰی لناعتی المصطفٰی بدافع البلاء مسمّٰی بہ نام تاریخی اکمال الطامۃ علی شرك سُوی بالامُور العامۃ ۱۳۱۱ھ پوری قیامت ڈھانا (وہابیوں کے اس )شرك پر جو امور عامہ کی طرح (موجود کی ہر قسم پر صادق )ہے
فصل دوم احادیث منیفہ میں
تین وصل پر مشتمل:
وصل اول:اعظم واجل محمد رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم کی طرف جانفزا اسناد میں جن سے ایمان کی جان میں جان آئے ایمان کی آنکھ نور و ایقان پائےوبالله التوفیق۔
حدیث ۷۱:بخاری شریف میں سیدنا ابوہریرہ رضی الله تعالی عنہ سے مروی ہے جب ابن جمیل نے زکوۃ دینے میں کمی کی سید عالم مغنی اکرم صلی الله تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:
ماینقم ابن جمیل الا انہ کان فقیرا فاغناہ الله ورسولہ ۔ ابن جمیل کو کیا برا لگا یہی نا کہ وہ محتاج تھا الله ورسول نے اسے غنی کردیاجل جلالہ و صلی الله تعالی علیہ وسلم۔
حدیث ۷۲:فرماتے ہیں صلی الله تعالی علیہ وسلم:
الله ورسولہ مولی من لا مولی لہ۔الترمذی وحسنہ و ابن ماجۃ عن امیر المومنین عمر رضی الله تعالی عنہ ۔ جس کا کوئی نگہبان نہ ہو الله ورسو ل اس کے نگہبان ہیں(اسے ترمذی نے روایت کیا اوراسے حسن کہااورابن ماجہ نے امیر المومنین عمر رضی الله تعالی عنہ سے روایت کیا۔ت)
علامہ مناوی تیسیر میں اس کی شرح میں فرماتے ہیں:
ای حافظ من لاحافظ لہ ۔ یعنی ارشاد حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جس کا کوئی حافظ نہیں الله ورسول اس کے حافظ ہیں۔
حدیث ۷۳:کہ جب سیدنا حضرت جعفر طیار رضی الله تعالی عنہ کی شہادت ہوئی حضور انور صلی الله تعالی علیہ وسلم انکے یہاں تشریف لے گئے اوران کے یتیم بچوں کو خدمت اقدس میں
حوالہ / References صحیح البخاری کتاب الزکوٰۃ باب قول الله تعالٰی وفی الرقاب والغارمین قدیمی کتب خانہ پشاور ۱ /۱۹۸
سنن الترمذی باب ماجاء فی میراث الخال حدیث ۲۱۱۰دارالفکر بیروت ۴ /۳۳،سنن ابن ماجۃ ابواب الزکوٰۃ باب ذوی الارحام ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۲۰۱
التیسیر شرح الجامع الصغیر تحت الحدیث الله ورسولہ مولٰی من لا مولی لہ مکتبۃ الامام الشافعی ریاض ۱ /۲۰۶
#18797 · رسالہ الامن و العلٰی لناعتی المصطفٰی بدافع البلاء مسمّٰی بہ نام تاریخی اکمال الطامۃ علی شرك سُوی بالامُور العامۃ ۱۳۱۱ھ پوری قیامت ڈھانا (وہابیوں کے اس )شرك پر جو امور عامہ کی طرح (موجود کی ہر قسم پر صادق )ہے
یاد فرمایا وہ حاضر ہوئے حضرت عبدالله بن جعفر طیار رضی الله تعالی عنہما اسے بیان کر کے فرماتے ہیں:
فجاء ت امنا فذکر ت یتیمنا فقال رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم العیلۃ تخافین علیھم وانا ولیھم فی الدنیا والاخرۃ۔احمد والطبرانی وابن عساکر رضی الله تعالی عنہ۔ میری ماں نے حاضر ہوکر حضور پناہ بیکساں صلی الله تعالی علیہ وسلم سے ہماری یتیمی کی شکایت عرض کیحضوراقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم نے فرمایا کیا ان پر محتاجی کا اندیشہ کرتی ہے حالانکہ میں ان کاولی وکارساز ہوں دنیا وآخرت میں۔(امام احمد اورطبرانی اورابن عساکر رضی الله تعالی عنہ نے روایت کیا۔ت)
غم نخورد آنکہ حفیظش توئی والی ومولی و ولیش توئی
(وہ غم نہیں کھاتا جس کا محافظوالیآقا اور ولی تو ہے۔ت)
حدیث ۷۴:کہ فرماتے ہیں صلی الله تعالی علیہ وسلم:
حب ابی بکروعمرمن الایمان وبغضہما کفر وحب الانصار من الایمان وبغضھم کفر وحب العرب من الایمان وبغضھم کفرومن سب اصحابی فعلیہ لعنۃ الله ومن حفظنی فیھم فانا احفظہ یوم القیمۃ۔ابن عساکر عن جابر رضی الله تعالی عنہ۔
ولله الحمد محبت ابوبکر وعمر کی ایمان سے ہے اوران کا بغض کفراورمحبت انصار کی ایمان سے ہے اوران کا بغض کفراورمحبت عرب کی ایمان سے ہے اوران کا بغض کفراورمیرے اصحاب کو جو براکہے اس پر الله کی لعنتاورجو ان کے معاملہ میں میرا لحاظ رکھے میں روز قیامت اس کا حافظ ونگہبان ہوں گا(ابن عساکر نے حضرت جابر رضی الله تعالی عنہ سے روایت کیا۔ت)
حدیث ۷۵و۷۶:دنیا کی ظاہر ی زینت وحلاوت اورمال حلال کما کر اچھی جگہ خرچ کرنے
حوالہ / References مسند احمد بن حنبل عن عبدالله بن جعفرالمکتب الاسلامی بیروت ۱ /۲۰۴و۲۰۵،تاریخ دمشق الکبیر ترجمہ ۳۳۰۳عبدالله بن جعفر داراحیاء التراث العربی بیروت ۲۹ /۱۷۳و۱۷۴
تاریخ دمشق الکبیر ترجمہ ۵۳۰۲ عمر بن الخطاب داراحیاء التراث العربی بیروت ۴۷ /۱۸۱
#18798 · رسالہ الامن و العلٰی لناعتی المصطفٰی بدافع البلاء مسمّٰی بہ نام تاریخی اکمال الطامۃ علی شرك سُوی بالامُور العامۃ ۱۳۱۱ھ پوری قیامت ڈھانا (وہابیوں کے اس )شرك پر جو امور عامہ کی طرح (موجود کی ہر قسم پر صادق )ہے
کی خوبی اورحرام کما کر بری جگہ اٹھانے کی برائی بیان فرما کر ارشاد فرماتے ہیں صلی الله تعالی علیہ وسلم:
ورب متخوض فیما شا ءت نفسہ من مال الله ورسولہ لیس لہ یوم القیمۃ الا النار۔احمد والترمذی وقال حسن صحیح عن خولۃ بنت قیس والبیھقی فی الشعب عن ابن عمر رضی الله تعالی عنہم۔ اوربہت الله اوررسول کے مال سے اپنے نفس کی خواہشوں میں ڈوبنے والے ہیں جن کے لیے قیامت میں نہیں مگر آگ۔(احمد اورترمذی نے خولہ بنت قیس سے روایت کیا اور اس کو حسن صحیح کہا اوربیہقی نے شعب میں ابن عمر رضی الله تعالی عنہم سے روایت کیا۔ت)
حدیث ۷۷:جب حضور اقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:مانفعنی مال قط مانفعنی مال ابی بکر مجھے کسی مال نے وہ نفع نہ دیا جو ابو بکر کے مال نے دیا۔صدیق اکبر روئے اورعرض کی:ھل انا ومالی الالك یا رسول الله میری جان ومال کا مالك حضور کے سواکون ہے یارسول الله ۔
احمد فی مسندہ بسند صحیح عن ابی ھریرۃ رضی الله تعالی عنہ۔ احمد نے اپنی مسند میں بسند صحیح ابو ہریرہ رضی الله تعالی عنہ سے روایت کیا۔(ت)
حدیث ۷۸:آیہ کریمہ:
" قل لا اسـلکم علیہ اجرا الا المودۃ فی القربی" ۔ تم فرماؤ میں اس پر تم سے کچھ اجرت نہیں مانگتا مگر قرابت کی محبت۔(ت)
کے اسباب نزول میں مروی انصار کرام رضی الله تعالی عنہم سید عالم صلی الله تعالی علیہ وسلم کے حضور عاجزی کرتے ہوئے گھٹنوں کے بل کھڑے ہوئے اورعرض کی:
اموالنا وما فی ایدینا لله و ہمارے مال اورہمارے ہاتھوں میں جو کچھ
حوالہ / References مسند احمد بن حنبل عن خولہ بنت قیس رضی الله عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۶ /۳۷۸،سنن الترمذی کتاب الزھد باب ماجاء فی اخذ المال حدیث ۲۳۸۱دارالفکر بیروت۴ /۱۶۶،شعب الایمان حدیث ۵۵۲۷دارالکتب العلمیۃ بیروت ۵ /۳۹۶و۳۹۷
مسند احمد بن حنبل عن ابی ھریرۃ رضی الله عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۲ /۲۵۳
القرآن الکریم ۴۲ /۲۳
#18799 · رسالہ الامن و العلٰی لناعتی المصطفٰی بدافع البلاء مسمّٰی بہ نام تاریخی اکمال الطامۃ علی شرك سُوی بالامُور العامۃ ۱۳۱۱ھ پوری قیامت ڈھانا (وہابیوں کے اس )شرك پر جو امور عامہ کی طرح (موجود کی ہر قسم پر صادق )ہے
رسولہ۔ابناء جریر و ابی حاتم ومردویۃ عن مقسم عن ابن عباس رضی الله تعالی عنہما۔ ہے سب الله ورسول کا ہے۔(جریر کے بیٹوں اور ابی حاتم اور مردویہ نے مقسم سے انہوں نے ابن عباس رضی الله تعالی عنہما سے روایت کیا۔ت)
حدیث ۷۹:کہ جب حضور اقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم نے روز حنین زنان وصبیان بنی ہوازن کو اسیر فرمایا اوراموال وغلام وکنیز مجاہدین پر تقسیم فرمادئے اب سرداران قبیلہ اپنے اہل وعیال واموال حضور(صلی الله تعالی علیہ وسلم)سے مانگنے کو حاضر ہوئے زہیر بن صرد جشمی رضی الله تعالی عنہ نے عرض کی:
(۱)امنن علینا رسول الله فی کرم فانك المرء نرجوہ ونذخر
(۲)امنن علی بیضۃ قد عاقھا قدر فشتت شملھا فی دھرھا غیر
(۳)ابقت لنا الدھرھنا فاعلی حزن علی قلوبھم الغماء والغمر
(۴)ان لم تدارکھم نعماء تنشرھا یا ارجح الناس حلما حین یختبر
(۱)یارسول الله ! ہم پر احسان فرمائیے اپنے کرم سےحضور ہی وہ مرد کامل وجامع فواضل ومحاسن وشمائل ہیں جس سے ہم امید کریں اورجسے وقت مصیبت کےلئے ذخیرہ بنائیں۔
(۲)احسان فرمائیے اس خاندان پر کہ تقدیر جس کے آڑے آئی اس کی جماعت تتربترہوگئی اس کے وقت کی حالتیں بدل گئیں۔
(۳)یہ بدحالیاں ہمیشہ کےلئے ہم میں غم کے وہ مرثیہ خواں باقی رکھیں گی جن کے دلوں پر رنج وغیظ مستولی ہوگا۔
(۴)اورحضور کی نعمتیں جنہیں حضور نے عام فرمادیا ہے ان کی مدد کو نہ پہنچیں تو ان کا کہیں ٹھکانہ نہیں اے تمام جہان سے زیادہ عقل والے !(صلی الله تعالی علیہ والہ واصحابہ وسلم)
حوالہ / References جامع البیان(تفسیر طبری)تحت الآیۃ ۴۲ /۲۳ داراحیاء التراث العربی بیروت ۲۵ /۳۲،تفسیر ابن ابی حاتم تحت الآیۃ ۴۲/ ۲۳ مکتبہ نزار مصطفی البازمکۃ المکرمۃ ۱۰ /۳۲۷۶،الدرالمنثور بحوالہ ابن جریروابن ابی حاتم وابن مردویہ ۴۲ /۲۳ داراحیاء التراث العربی بیروت ۷ /۲۹۹
#18800 · رسالہ الامن و العلٰی لناعتی المصطفٰی بدافع البلاء مسمّٰی بہ نام تاریخی اکمال الطامۃ علی شرك سُوی بالامُور العامۃ ۱۳۱۱ھ پوری قیامت ڈھانا (وہابیوں کے اس )شرك پر جو امور عامہ کی طرح (موجود کی ہر قسم پر صادق )ہے
قال فلما سمع النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم ھذا الشعر قال ماکان لی ولبنی عبدالمطلب فھو لکم و قالت قریش ماکان لنا فھولله ولرسولہ وقالت الانصار ماکان لنا فھو لله ورسولہ۔الطبرانی فی ثلاثیات معجمہ الصغیر حدثنا عبید الله ابن رما حس القیسی برمادۃ الرمالۃ سنۃ اربع وسبعین ومائتین ثنا ابو عمرو زیاد بن طارق وکان قد اتت علیہ عشرون ومائۃ سنۃ قال سمعت ابا جرول زھیر بن صردن الجشمی یقول فذکرہ۔ یہ اشعار سن کر سید ارحم صلی الله تعالی علیہ وسلم نے فرمایا جو کچھ میرے اوربنی عبدالمطلب کے حصے میں آیاوہ میں نے تمہیں بخش دیا۔قریش نے عرض کی جو کچھ ہمارا ہے وہ سب الله کا ہے اوراس کے رسول کا ہے۔انصار نے عرض کی جو کچھ ہمارا ہے وہ سب الله کا ہے اوراس کے رسول کا ہے جل جلالہ و صلی الله تعالی علیہ وسلم۔طبرانی نے معجم صغیر کی ثلاثیات میں کہا کہ ہمیں ۲۷۴ھ میں رمادہ رملہ پر عبید الله بن رماحس قیسی نے حدیث بیان کیوہ کہتے ہیں کہ ہمیں حدیث بیان کی ابو عمرو زیاد بن طارق نے جن کی عمر ۱۲۰سال ہوئی انہوں نے کہا کہ میں نے ابو جرول زہیر بن صرد جشمی کو کہتے ہوئے سناپھر انہوں نے اس کو ذکر کیا۔(ت)
حدیث ۸۰:کہ اسود بن مسعود ثقفی رضی الله تعالی عنہ نے حضور پرنور صلی الله تعالی علیہ وسلم سے عرض کی:
انت الرسول الذی ترجی فواضلہ عندالقحوط اذا ما اخطاء المطر
حضور وہ رسول ہیں کہ حضور کے فضل کی امید کی جاتی ہے قحط کے وقت جب مینہ خطاکرے
عمر بن شیبۃ من طریق عامرن الشعبی ذکرہ الحافظ فی الاصابۃ وقال ذکرہ ابن فتحون فی الذیل ۔ (عمر بن شیبہ نے بطریق عامر الشعبی سے روایت کیاحافظ نے الاصابہ میں اس کا ذکر کیا اورفرمایا اس کا ذکر ابن فتحون نے ذیل میں کیا۔ت)
حوالہ / References المعجم الکبیر عن زہیر بن صردالجشمی حدیث ۵۳۰۳ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۵/ ۷۰ و ۲۶۹،المعجم الصغیر من اسمہ عبید الله دار الکتب العلمیۃ بیروت ۱/ ۳۷۔۲۳۶،المعجم الاوسط حدیث ۴۶۶۷ مکتبۃ المعارف ریاض ۵ /۱۹۔۳۱۸
الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ ترجمہ ۱۶۸ اسود بن مسعود ثقفی دارالفکر بیروت ۱ /۷۵
#18801 · رسالہ الامن و العلٰی لناعتی المصطفٰی بدافع البلاء مسمّٰی بہ نام تاریخی اکمال الطامۃ علی شرك سُوی بالامُور العامۃ ۱۳۱۱ھ پوری قیامت ڈھانا (وہابیوں کے اس )شرك پر جو امور عامہ کی طرح (موجود کی ہر قسم پر صادق )ہے
حدیث ۸۱:ایك اعرابی نے خدمت اقدس میں حاضرہوکرعرض کی:
(۱)اتیناك والعذراء یدمی لبابھا وقد شغلت امم الصبی عن الطفل
(۲)والقت بکفیہا الفتی لاستکانۃ من الجوع ضعفالایمر ولا یحلی
(۳)ولیس لنا الا الیك فرارنا واین قرار الخلق الا الی الرسل
(۱)ہم در دولت پر شدت قحط کی ایسی حالت میں حاضر ہوئے کہ جو کنواری لڑکیاں ہیں(جنہیں ان کے والدین بہت عزیز رکھتے ہیں ناداری کے باعث خادمہ رکھنے کی طاقت نہیں رکھتے کام کاج کرتے کرتے ان کے سینے شق ہوگئے)ان کی چھاتیوں سے خون بہہ رہا ہے مائیں بچوں کو بھول گئی ہیں۔
(۲)جوان قوی کو اگرکوئی لڑکی دونوں ہاتھوں سے دھکا دے تو ضعف گرسنگی سے عاجزانہ زمین پر ایسا گرپڑتا ہے کہ منہ سے کڑوی میٹھی بات نہیں نکلتی۔
(۳)اورہمارا حضور کے سوا کون ہے جس کے پاس مصیبت میں بھاگ کر جائیںاورخود مخلو ق کو جائے پناہ ہے ہی کہاں مگر رسولوں کی بارگاہ میں۔صلی الله تعالی علیھم وبارك وسلم۔
یہ فریاد سن کر حضور رحمت عالم صلی الله تعالی علیہ وسلم بنہایت عجلت منبراطہر پر جلوہ فرما ہوئے اوردونوں دست مبارك بلند فرما کر اپنے رب عزوجل سے پانی مانگاابھی وہ پاك مبارك ہاتھ جھك کر گلوئے پرنور تك نہ آئے تھے کہ آسمان اپنی بجلیوں کے ساتھ امڈا اوربیرون شہر کے لوگ فریاد کرتے آئے کہ یارسول الله ! ہم ڈوبے جاتے ہیں۔حضور صلی الله تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:حوالینا لاعلینا ہمارے گردبرس ہم پرنہ برس۔فورا ابر مدینے پر سے کھل گیاآس پا س گھرا تھا اورمدینہ طیبہ سے کھلا ہوا۔یہ ملاحظہ فرما کر حضوراقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم نے خندہ دنداں نما کیا اورفرمایا:الله کے لیے ہے خوبی ابو طالب کی اس وقت وہ زندہ ہوتا تو اس کی آنکھیں ٹھنڈی ہوتیںکون ہے جو ہمیں اس کے اشعار سنائے۔
مولی علی کرم الله تعالی وجہہ نے عرض کی:یا رسول الله ! شاید حضور یہ اشعار سننا چاہتے ہیں جو ابو طالب نے نعت اقدس میں عرض کئے تھے:
(۱)وابیض یستسقی الغمام بوجھہ ثمال الیتامی عصمۃ للارامل
(۲)تلوذبہ الھلاك من ال ھاشم فھم عندہ فی نعمۃ وفواضل
#18802 · رسالہ الامن و العلٰی لناعتی المصطفٰی بدافع البلاء مسمّٰی بہ نام تاریخی اکمال الطامۃ علی شرك سُوی بالامُور العامۃ ۱۳۱۱ھ پوری قیامت ڈھانا (وہابیوں کے اس )شرك پر جو امور عامہ کی طرح (موجود کی ہر قسم پر صادق )ہے
(۱)وہ گورے رنگ والے کہ ان کے منہ کے صدقے میں ابر کا پانی مانگا جاتا ہے۔یتیموں کے جائے پناہبیواؤ ں کے نگہبان۔
(۲)بنی ہاشم(جیسے غیور لوگ)تباہی کے وقت ان کی پناہ میں آتے ہیں انکے پاس ان کی نعمت وفضل میں بسر کرتے ہیں۔
حضور اقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:اجل ذلك اردت۔ہاں یہی نظم ہمیں مقصود تھی۔
صلی الله تعالی علیہ وسلم وسقانا بجاھہ عندہ الغیث النافع الاتم الاعم امین !
البیھقی فی الدلائل بسند صالح کما افادہ حافظ الشان العسقلانی والدیلمی فی مسند الفردوس کلامھما عن انس رضی الله تعالی عنہ۔ الله تعالی آپ پر درود وسلام نازل فرمائے اور ہمیں آپ کے طفیل باران رحمت عطا فرمائے جو نافع کامل ترین اور سب کو شامل ہو آمین(ت)
بیہقی نے دلائل میں بسند صالح روایت کیا جیسا کہ حافظ الشان عسقلانی نے اور دیلمی نے مسند الفردوس میں اس کا افادہ فرمایا ان دونوں نے حضرت انس رضی الله تعالی عنہ سے روایت کیا۔(ت)
یہ حدیث نفیس بحمد الله تعالی اول تاآخر شفائے مومنین وشقائے منافقین ہے اور حضور اقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم کے پسندیدہ فرمودہ اشعار میں یہ الفاظ خاص ہمارے مقصود رسالہ ہیں کہ حضور کے سواہمارا کوئی نہیں جس کے پاس مصیبت میں بھاگ کرجائیں۔خلق کیلئے جائے پناہ نہیں سو ا بارگاہ انبیاء علیہم الصلوۃ والثنا ء کےوہ گورے رنگ والا پیارا جس کے چاند سے منہ کے صدقے میں مینہ اترتا ہےوہ یتیموں کا حافظوہ بیواؤں کا نگہبانوہ ملجاوماوا کہ بڑے بڑے تباہی کے وقت اسکی پناہ میں آکر اس کی نعمت اس کے فضل سے چین کرتے ہیں صلی الله تعالی علیہ والہ وبارك وسلم۔
حدیث ۸۲:کہ جب جعرانہ کے اموال غنیمت حضور پر نور صلی الله تعالی علیہ وسم نے قریش و
حوالہ / References دلائل النبوۃ للبیھقی باب استسقاء النبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم الخ دارالکتب العلمیہ بیروت۶ /۱۴۱،فتح الباری شرح صحیح البخاری باب سوال الناس الامام الاستسقاء ۳/۴۲۹
#18803 · رسالہ الامن و العلٰی لناعتی المصطفٰی بدافع البلاء مسمّٰی بہ نام تاریخی اکمال الطامۃ علی شرك سُوی بالامُور العامۃ ۱۳۱۱ھ پوری قیامت ڈھانا (وہابیوں کے اس )شرك پر جو امور عامہ کی طرح (موجود کی ہر قسم پر صادق )ہے
دیگر اقوام عرب کوعطا فرمائے اور انصار کرام نے اس میں سے کوئی شے نہ پائی انھی(اس خیال سے کہ شاید حضور اقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم کو ہم پر اب وہ نظر توجہ وکرم نہ رہی شاید اب اپنی قوم قریش کی طرف زیادہ التفات فرمائیں بمقتضائے سنت عشاق کہ دوسروں پر لطف محبوب زائد دیکھ کر رنجیدہ وکبیدہ ہوتے ہیں)ملال گزرا یہاں تك بعض کی زبان پر بعض کلمات شکایت آمیز آئے حضور اقدس نے سناخاطر انور پر ناگوار گزراانھیں جمع کرکے ارشاد فرمایا:
الم اجدکم ضلالا فھداکم الله الم اجدکم عالۃ فاغناکم الله ۔ کیا میں نے تمھیں نہ پایا گمراہ پس الله عزوجل نے تمھیں راہ دکھائیکیا میں نے تمھیں نہ پایا محتاج پس الله عزوجل نے تمھیں تو نگری دی۔
اور صحیح بخاری وصحیح مسلم ومسند امام احمد میں یوں ہے:
یا معشر الانصار الم اجد کم ضلا لا فھداکم الله بیوکنتم متفرقین فالفکم الله بیوکنتم عالۃ فاغناکم الله تعالی بی۔رواہ عن عبد الله بن زید بن عاصم و نحوہ لاحمد عن انس ولہ ولعبد بن حمید والضیاء عن ابی سعید رضی الله تعالی ۔ اے گروہ انصار !کیا میں نے نہ پایاتمہیں گمراہ پس الله عزوجل نے تمہیں میرے ذریعے سے ہدایت کیاور تمہارے آپس میں پھوٹ تھی الله تعالی نے میرے وسیلے سے تم میں موافقت کردیاورتم محتاج تھے الله عزوجل نے میرے واسطے سے تمہیں تونگری بخشی(عبدالله بن زید بن عاصم سے اسے روایت کیا گیا اوراسی طرح احمد نے حضرت انس سے نیز احمدعبدبن حمید اورضیاء نے ابو سعید خدری سے روایت کیا
حوالہ / References المصنف لابن ابی شیبہ کتاب المغازی غزوہ حنین الخ حدیث ۳۶۹۸۶دارالکتب العلمیہ بیروت ۷ /۴۱۹
صحیح البخاری کتاب المغازی باب غزوۃ الطائف قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۲۶۰،صحیح مسلم کتاب الزکوٰۃ باب اعطاء الموئفۃ الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۳۳۹،مسند احمد بن حنبل عن عبدالله بن زید رضی الله عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۴ /۴۲
مسند احمد بن حنبل عن انس رضی الله عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۳ /۱۰۴و۲۵۳
کنزالعمال بحوالہ حم وعبدبن حمید عن ابی سعید الخدری حدیث ۳۳۷۶۴مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۲ /۱۷
#18804 · رسالہ الامن و العلٰی لناعتی المصطفٰی بدافع البلاء مسمّٰی بہ نام تاریخی اکمال الطامۃ علی شرك سُوی بالامُور العامۃ ۱۳۱۱ھ پوری قیامت ڈھانا (وہابیوں کے اس )شرك پر جو امور عامہ کی طرح (موجود کی ہر قسم پر صادق )ہے
عنہم۔ رضی الله تعالی عنہم۔(ت)
انصار کرام ہر کلمے پر عرض کرتے جاتے تھے:
نعوذ بالله من غضب الله ومن غضب رسولہ۔ ہم الله کی پناہ مانگتے ہیں الله کے غضب اور رسول الله کے غضب سے جل جلالہ وصلی الله تعالی علیہ وسلم۔
حضور صلی الله تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:الاتجیبون جواب کیوں نہیں دیتے انصار نے عرض کی:
الله ورسولہ امن وافضل۔ الله ورسول کا احسان زائد ہے اور الله ورسول کا فضل بڑا ہے۔
حضور نے فرمایا:تم چاہو تو جواب دے سکتے ہو۔انصار کرام روئے اور باربار عرض کرنے لگے:
الله ورسولہ امن وافضل۔
ابوبکر بن ابی شیبہ فی مصنفہ عن ابی سعید ن الخدری رضی الله تعالی عنہ۔ الله ورسول کا احسان زائد ہے اورالله ورسول کا فضل بڑاہے۔
ابو بکر بن ابی شیبہ نے اپنی مصنف میں ابو سعید خدری رضی الله تعالی عنہ سے روایت کیا۔(ت)
حدیث ۸۳:کہ فرماتے ہیں صلی الله تعالی علیہ وسلم:
موتان الارض لله ورسولہ البیھقی فی الشعب عن ا بن عباس رضی الله تعالی عنھما موصولا۔ جو زمین کسی کی ملك نہیں وہ الله اور الله کے رسول کی ہے بیہقی نے شعب میں ابن عباس رضی الله تعالی عنہما سے مو صولا روایت کیا۔(ت)
حوالہ / References المصنف لابن ابی شیبۃ کتاب المغازی حدیث ۳۶۹۸۶ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۷ /۴۱۹
السنن الکبری للبیہقی کتاب احیاء الموات باب لایترك ذمی یحییہ الخ دارصادر بیروت ۶ /۱۴۳
#18805 · رسالہ الامن و العلٰی لناعتی المصطفٰی بدافع البلاء مسمّٰی بہ نام تاریخی اکمال الطامۃ علی شرك سُوی بالامُور العامۃ ۱۳۱۱ھ پوری قیامت ڈھانا (وہابیوں کے اس )شرك پر جو امور عامہ کی طرح (موجود کی ہر قسم پر صادق )ہے
حدیث ۸۴:کہ فرماتے ہیں صلی الله تعالی علیہ وسلم:
عادی الارض من الله ورسولہ ھو فیھا عن طاؤس مرسلا۔ قدیم زمینیں الله ورسول کی ملك ہیں۔اسی میں طاؤس سے مرسلا مروی ہے۔(ت)
اقول:بنجنگلپہاڑوں اور شہرو ں کی ملك افتادہ زمینوں کی تخصیص اس لئے فرمائی کہ ان پر ظاہری ملك بھی کسی کی نہیں یہ ہر طرح خالص ملك خدا ورسول ہیں جل جلالہ وصلی الله تعالی علیہ وسلم۔ورنہ محلوںاحاطوںگھروںمکانوں کی زمینیں بھی سب الله ورسول کی ملك ہیں اگرچہ ظاہری نام من وتو کا لگا ہوا ہے۔زبور شریف سے رب العزت کا نام سن ہی چکے کہ احمد مالك ہوا ساری زمین اور تمام امتوں کی گردنوں کا صلی الله تعالی علیہ وسلم۔تو یہ تخصیص مکانی ایسی ہے جیسے آیہ کریمہ " و الامر یومئذ للہ ﴿۱۹﴾" میں تخصیص زمانی کہ حکم اس دن الله کے لئے ہےحالانکہ ہمیشہ الله ہی کا ہے۔مگر وہ دن روز ظہور حقیقت وانقطاع ادعا ہے۔لا جرم صحیح بخاری شریف کی حدیث نے ساری زمین بلا تخصیص الله ورسول کی ملك بتائی وہ کہاں وہ اس حدیث آئندہ میں:
حدیث ۸۵:فرماتے ہیں صلی الله تعالی علیہ وسلم:
اعلمو ا ان الارض لله ولرسولہ البخاری فی الجہاد من الجامع الصحیح باب اخراج الیہود من جزیرۃ العرب عن ابی ھریرۃ رضی الله تعالی عنہ۔ یقین جان لو کہ زمین کے مالك الله ورسول ہیں جل وعلا وصلی الله تعالی علیہ وسلم۔امام بخاری نے الجامع الصحیح میں کتاب الجہاد باب یہود کا جزیر ۃ العرب سے اخراج میں حضرت ابو ہریرہ رضی الله تعالی عنہ سے روایت کیا۔(ت)
حدیث ۸۶:اعشی مازنی رضی الله تعالی عنہ خدمت اقدس مں اپنے بعض اقارب کی ایك
حوالہ / References السنن الکبری للبیہقی کتاب احیاء الموات باب لا یترك ذمی یحییہ الخ دار صادر بیروت ۶ /۱۴۳
تحفہ اثنا عشریہ باب ششم در بحث نبوت وایمان انبیاء سہیل اکیڈمی لاہور ص۱۶۹
القران الکریم ۸۲ /۱۹
صحیح البخاری کتاب الجہاد باب اخراج الیہود من جزیرۃ العرب قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۴۴۹،صحیح مسلم باب اجلاء الیہود من جزیرۃ العرب قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۹۴
#18806 · رسالہ الامن و العلٰی لناعتی المصطفٰی بدافع البلاء مسمّٰی بہ نام تاریخی اکمال الطامۃ علی شرك سُوی بالامُور العامۃ ۱۳۱۱ھ پوری قیامت ڈھانا (وہابیوں کے اس )شرك پر جو امور عامہ کی طرح (موجود کی ہر قسم پر صادق )ہے
فریاد لے کر حاضر ہوئے اور اپنی منظوم عرضی مسامع قدسیہ پر عرض کی جس کی ابتدا اس مصرع سے تھی ع
یامالك الناس ودیان العرب
(اے تمام آدمیوں کے مالك اور اے عرب کے جزا وسزا دینے والے)
حضور اقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم نے ان کی فریاد سن کر شکایت رفع فرما دی۔
الامام احمد حدثنا محمد بن ابی بکر ن المقدمی ثنا ابو معشرن البراء ثنی صدقۃ بن طیسلۃ ثنی معن بن ثعلبۃ المازنی والحی بعد ثنی الاعشی المازنی رضی الله تعالی عنہ قال اتیت النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم فانشدتہ یا مالك الناس ودیان العرب الحدیث ورواہ الامام الاجل ابو جعفرن الطحاوی فی معانی الآثار حدثنا ابن ابی داود ثنا المقدمی ثنا ابو معشرالی اخرہ نحوہ سندا و متنا ورواہ ابن عبدالله ابن الامام فی زوائد مسندہ من طریق عوف بن کھمس بن الحسن عن صدقۃ بن طیسلۃ حدثنی معن بن ثعلبۃ المازنی والحی بعدہ قالو ا ثنا الاعشی رضی الله تعالی عنہ فذکرہ قلت والیہ اعنی عبدالله عزاہ حافظ الشان فی الاصابۃ ۔انہ رواہ فی الزوائد والعبدالضعیف غفرالله تعالی لہ قدرواہ فی المسند نفسہ ایضاکما سمعت ولله الحمد ورواہ البغوی وابن السکن وابن ابی عاصم کلھم من طریق الجنبد بن امین بن عروۃ بن نضلۃ بن طریق بن بھصل الحرمازی عن ابیہ عن جدہ نضلۃ ولفط البغوی عنہ حدثنی ابی امین حدثنی ابی ذروۃ عن ابی نضلۃ عن رجل منھم یقال لہ الاعشی واسمہ عبدالله بن الاعوررضی الله تعالی عنہ فذکر القصۃ وفیہ فخرج حتی اتی النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم فعادبہ وانشأیقول یا مالك الناس ودیان العرب الحدیث ۔
حوالہ / References مسند احمد بن حنبل المکتب الاسلامی بیروت ۲ /۲۰۱،مجمع الزوائد کتاب النکاح باب النشوز دارالکتاب بیروت ۴ /۲۳۱
شرح معانی الآثار کتاب الکراھیۃ باب روایۃ الشعر الخ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ /۴۱۰
زوائد عبدالله بن احمد کتاب الادب باب ماجاء فی الشعر حدیث۱۲۸ دارالبشائر الاسلامیۃ بیروت ص۳۲۳
الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ ترجمہ ۴۵۳۳ عبدالله بن الاعور دارالفکر بیروت ۳ /۱۵۲
الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ بحوالہ البغوی ترجمہ ۸۷۱۴ نضلۃ بن طریف دارالفکر بیروت ۵ /۳۳۷
#18807 · رسالہ الامن و العلٰی لناعتی المصطفٰی بدافع البلاء مسمّٰی بہ نام تاریخی اکمال الطامۃ علی شرك سُوی بالامُور العامۃ ۱۳۱۱ھ پوری قیامت ڈھانا (وہابیوں کے اس )شرك پر جو امور عامہ کی طرح (موجود کی ہر قسم پر صادق )ہے
یہ حدیث جلیل اتنے ائمہ کبار نے باسانید متعددہ روایت کی اورطریق اخیر میں یہ لفظ ہیں کہ:
اعشی رضی الله تعالی عنہ نے نبی صلی الله تعالی علیہ وسلم کی پناہ لی اورعرض کی کہ:اے مالك آدمیاںواے جز اوسزا دہ عرب صلی الله تعالی علیہ وسلم وبارك وسلم۔
حدیث ۸۷:حارث بن عوف مزنی رضی الله تعالی عنہ نے حاضر خدمت ہوکر عرض کی:
ابعث معی من یدعو الی دینك فانالہ جار۔ میرے ساتھ کسی شخص کو حضور ارسال فرمائیں جو میری قوم کو حضور کے دین کی طرف دعوت کرے اوروہ میری پناہ میں ہوگا۔
حضو راقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم نے ایك انصاری رضی الله تعالی عنہ کو ساتھ کر دیا حارث رضی ا لله تعالی عنہ کے کنبے والوں نے عہد شکنی کر کے انہیں شہید کردیا۔حسان بن ثابت رضی ا لله تعالی عنہ نے اس بارے میں اشعار کہے ازانجملہ یہ شعر
یاحارث من یغدر بذمۃ جارہ منکم فان محمدا لایغدر
اے حارث ! جو کوئی تم میں اپنے پناہ دئے ہوئے کے عہد سے بے وفائی کرے تو نبی صلی الله تعالی علیہ وسلم جسے پناہ دیتے ہیں وہ سچی پناہ ہوتی ہے۔
فجاء الحارث فاعتذر و ودی الانصاری وقال یا محمد انی عائذبك من لسان حسان۔الزبیر بن بکار حدثنی عمی مصعب ان الحارث بن عوف اتی النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم فذکرہ۔ حارث رضی الله تعالی عنہ نے حاضر ہوکر عذر کیا اور انصاری شہید کی دیت دی اورحضور سے عرض کی یارسول الله ! میں حضور کی پناہ مانگتاہوں حسان کی زبان سے۔زبیر بن بکار نے کہا مجھے میرے چچا مصعب نے حدیث بیان کی کہ حارث بن عوف رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوکر پھر پوری حدیث بیان کی۔(ت)
حدیث ۸۸:صحیح مسلم شریف میں حضرت ابو مسعود بدری رضی الله تعالی عنہ سے ہے:
انہ کان یضرب غلامہ فجعل یقول اعوذبالله قال یعنی وہ اپنے غلام کو مار رہے تھےغلام نے کہنا شروع کیاالله کی دہائیالله کی دہائی۔
حوالہ / References الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ بحوالہ الزبیر ترجمہ ۱۴۵۷ الحارث بن عوف دارالفکر بیروت ۱ /۴۳۰
#18808 · رسالہ الامن و العلٰی لناعتی المصطفٰی بدافع البلاء مسمّٰی بہ نام تاریخی اکمال الطامۃ علی شرك سُوی بالامُور العامۃ ۱۳۱۱ھ پوری قیامت ڈھانا (وہابیوں کے اس )شرك پر جو امور عامہ کی طرح (موجود کی ہر قسم پر صادق )ہے
فجعل یضربہ فقال اعوذبرسول الله فترکہ فقال رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم والله اقدرعلیك منك علیہ قال فاعتقہ ۔ انہوں نے ہاتھ نہ روکا۔غلام نے کہا:رسول الله کی دہائی۔فورا چھوڑدیا۔حضور سید عالم صلی الله تعالی علیہ وسلم نے فرمایا: خدا کی قسم ! بے شك الله تجھ پر اس سے زیادہ قادرہے جتنا تو اس غلام پر۔انہوں نے غلام کو آزاد کردیا۔
الحمدلله ! اس حدیث صحیح کے تیور دیکھئےحیا ہو تو وہابیت کو ڈوب مرنے کی بھی جگہ نہیںیہ حدیث تو خدا جانے بیماردلوں پر کیا کیا قیامتیں توڑے گی۔رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم کی دہائی دینا ہی ان کے دہائی مچانے کو بہت تھی نہ کہ وہ بھی یوں کہ سیدنا ابو مسعود بدری رضی الله تعالی عنہ خود فرماتے ہیں وہ الله عزوجل کی دہائی دیتارہا میں نے نہ چھوڑا جب نبی صلی الله تعالی علیہ وسلم کی دہائی دی فورا چھوڑ دیا۔
علماء فرماتے ہیں نبی صلی الله تعالی علیہ وسلم کی دہائی سن کرحضور کی عظمت دل پرچھائی ہاتھ روك لیا۔
اقول:(میں کہتاہوں۔ت)یعنی پہلی بات ایك معمول ہوجانے سے ایسی موثر نہ ہوئیانسان کا قاعدہ ہے کہ جس بات کا محاورہ کم ہوتاہے اس کا اثر زیادہ پڑتا ہے ورنہ نبی صلی الله علیہ وسلم کی عظمت الله عزوجل کی عظمت سے ناشی ہے۔بحمدالله حدیث کے یہ معنی ہیں اگرچہ وہابیہ کے طور پر تو اس کا درجہ شرك سے بھی کچھ آگے بڑھا ہواہے۔
حدیث ۸۹:یہی مضمون عبدالرزاق نے اپنی مصنف میں امام حسن بصری رضی الله تعالی عنہ سے روایت کیا:
قال بینا رجل یضرب غلامالہوھو یقول اعوذبالله اذ بصر برسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم فقال اعوذ برسول الله فالقی یعنی ایك صاحب اپنے غلام کو مار رہے تھے اوروہ کہہ رہا تھاکہ الله کی دہائی۔اتنے میں غلام نے حضور سید عالم صلی الله تعالی علیہ وسلم کو تشریف لاتے دیکھا اب کہا رسول الله کی دہائی۔ فورا اس
حوالہ / References صحیح مسلم کتاب الایمان باب صحۃ الممالیك قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۵۲
#18809 · رسالہ الامن و العلٰی لناعتی المصطفٰی بدافع البلاء مسمّٰی بہ نام تاریخی اکمال الطامۃ علی شرك سُوی بالامُور العامۃ ۱۳۱۱ھ پوری قیامت ڈھانا (وہابیوں کے اس )شرك پر جو امور عامہ کی طرح (موجود کی ہر قسم پر صادق )ہے
ماکان فی یدہ وخلی عن العبد فقال النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم اما والله انہ احق ان یعاذ من استعاذ بہ منی فقال الرجل یارسول الله فھو حر لوجہ الله ۔ صاحب نے کوڑا ہاتھ سے ڈال دیا اورغلام کو چھوڑدیا۔حضور اقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:سنتا ہے خدا کی قسم بیشك الله عزوجل مجھ سے زیادہ اس کا مستحق ہے کہ اس کی دہائی دینے والے کو پناہ دی جائے۔ان صاحب نے عرض کی:یا رسول الہ !تو وہ الله کے لیے آزاد ہے۔
اقول:الحمد لله اس حدیث نے تو اوربھی پانی سر سے تیرکردیاصاف تصریح فرمادی کہ حضو ر اقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم نے غلام کی دونوں دہائیاں بھی سنیں اورپہلی دہائی پر ان کا نہ رکنا اوردوسری پرفورا باز رہنا بھی ملاحظہ فرمایا مگر افسوس کہ وہابیت کی ذلت ومردودیت کو نہ تو حضور اقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم اس غلام سے فرماتے یہں کہ تو مشرك ہوگیا الله کے سو امیری دہائی دیتاہے اوروہ بھی کس طرح کہ الله عزوجل کی دہائی چھوڑ کر نہ آقا سے ارشاد کرتے ہیں کہ یہ کیسا شرك اکبرخدا کی دہائی کی وہ بے پرواہی اورمیری دہائی پر یہ نظرایك تو میری دہائی ماننی اور وہ بھی یوں کہ خدا کی دہائی نہ مان کر افسوس آقا وغلام کو مشرك بنانا درکنار خود جو اس پرنصیحت فرماتے ہیں وہ کس مزے کی بات ہے کہ الله مجھ سے زیادہ اس کا مستحق ہےدہائی تو اپنی بھی قائم رکھی اوراپنی دہائی دینے پرنہ دینی بھی ثابت رکھیصرف اتنا ارشاد ہوا کہ خدا کی دہائی زیادہ ماننے کے قابل تھی۔الحمدلله کہ الله کے سچے رسول صلی ا لله تعالی علیہ وسلم نے دینوہابیہ کے جھوٹے قرآن تقویۃ الایمان کی کچھ قدر نہ فرمائی اسے سخت ذلت پہنچائی جس میں اس کا امام لکھتاہے:
"اول معنی شرك وتوحید کے سمجھنا چاہیے اکثر لوگ پیروں پیغمبروں کو مشکل کے وقت پکارتے ہیںان سےمادیں مانگتے ہیں کوئی اپنے بیٹے کا نام عبدالنبی رکھتاہے کوئی علی بخش کوئی غلا م محی الدینکوئی مشکل کے وقت کسی کی دہائی دیتاہےغرض کہ جو کچھ ہندو اپنے بتوں سے کرتے ہیں وہ سب کچھ یہ جھوٹے مسلمان اولیاء و انبیاء سے کر گزرتے ہیں اوردعوی مسلمانی کا کئے جاتے ہیں۔سچ فرمایا الله صاحب نے
حوالہ / References الدرالمنثور بحوالہ عبدالرزاق عن الحسن تحت الآیۃ ۴ /۳۶ داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۵۰۲،کنز العمال بحوالہ عب عن الحسن حدیث ۲۵۶۷۳ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۹ /۲۰۳
#18810 · رسالہ الامن و العلٰی لناعتی المصطفٰی بدافع البلاء مسمّٰی بہ نام تاریخی اکمال الطامۃ علی شرك سُوی بالامُور العامۃ ۱۳۱۱ھ پوری قیامت ڈھانا (وہابیوں کے اس )شرك پر جو امور عامہ کی طرح (موجود کی ہر قسم پر صادق )ہے
کہ نہیں مسلمان ہیں اکثر لوگ مگر کہ شرك کرتے ہیں ۔"اھ مختصرا
ان دافع البلاء کے منکروں سے بھی اتنا پوچھ لیجئے کہ کسی کی پناہ یعنی اس کی دہائی دینی دفع بلا ہی کے لیے ہوتی ہے یا کچھ اور۔و لکن الوھابیۃ قوم یعتدون۔(اورقوم وہابیہ حدسے بڑھنے والی ہے۔ت)
حدیث ۹۰:ابن ماجہ حضرت تمیم داری رضی الله تعالی عنہ سے راوی:
قال کنا جلو سا عند رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم اذ اقبل بعیر تعدوا حتی وقف علی ھامۃ رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم ایھا البیعر اسکن فان تك صادقا فلك صدقك وان تك کاذبافعلیك کذبك مع ان الله تعالی قد امن عائذنا ولیس بخائب لائذنا فقلنا یارسول الله مایقول ھذا البعیرفقال ھذا بعیر ھم اھلہ بنحرہ واکل لحمہ فھرب منھم و استغاث بنیکم بینا نحن کذلك اذ ا قبل صاحبہ او قال اصحابہ یتعادون فلما نظر الیھم البعیرعاد الی ھامۃ رسول الله صلی الله یعنی ہم خدمت اقدس حضور سید عالم صلی الله تعالی علیہ وسلم میں حاضر ہوئے ناگاہ ایك اونٹ دوڑتا آیا یہاں تك کہ حضور کے سر مبارك کے قریب آکر کھڑا ہواحضور اقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:اے اونٹ !ٹھہراگر تو سچا ہے تو تیرے سچ کا پھل تیرے لیے ہے اورجھوٹا ہے تو تیرے جھوٹ کا وبال تجھ پر ہےاس کے ساتھ یہ بات بیشك کہ جو ہماری پناہ میں آئے الله تعالی نے اس کے لیے امان رکھی ہے اور جو ہمارے حضور التجا لائے وہ نامرادی سے بری ہے۔صحابہ نے عرض کی:یارسول الله !یہ اونٹ کیا عرض کرتاہے فرمایا:اس کے مالکوں نے اسے حلا ل کر کے کھالینا چاہا تھا یہ ان کے پاس سے بھاگ آیا اور تمہارے نبی کے حضور فریاد لایا۔ہم یوں ہی بیٹھے تھے کہ اتنے میں اس کا مالك یاکہا اس کے مالك دوڑتے آئےاونٹ نے جب انہیں دیکھا پھر حضور اقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم کے
حوالہ / References تقویۃ الایمان پہلا باب توحید وشرك کے بیان میں مطبع علیمی اندرون لوہاری دروازہ لاہور ص ۴
#18811 · رسالہ الامن و العلٰی لناعتی المصطفٰی بدافع البلاء مسمّٰی بہ نام تاریخی اکمال الطامۃ علی شرك سُوی بالامُور العامۃ ۱۳۱۱ھ پوری قیامت ڈھانا (وہابیوں کے اس )شرك پر جو امور عامہ کی طرح (موجود کی ہر قسم پر صادق )ہے
علیہ وسلم فلاذبھا فقالوا یا رسول الله ھذا بعیرنا ھرب منذ ثلاثۃ ایام فلم نلقہ الا بین یدیکفقال صلی الله تعالی علیہ وسلم اما انہ یشکوا لی فبئست الشکایۃ۔فقالو یارسول الله ما یقول قال یقول انہ ربی فی امنکم احوالا وکنتم تحملون علیہ فی الصیف الی مواجع الکلاء فاذا کان الشتاء رحلتم الی موضع الدفاء فلما کبر استفخلتم فرزقکم الله ابلاسائما فلما ادرکتہ ھذہ السنۃ الخصبۃ ھممتم بذبحہ واکل لحمہ۔فقالو ا والله کان ذلك یارسول الله ۔فقال صلی ا لله تعالی علیہ وسلم ماھذا جزاء المملوك الصالح من موالیہ۔فقالوا یارسول الله فانا لانبیعہ ولا ننحرہ۔ فقال صلی ا لله تعالی علیہ وسلم کذبتم قد استغاث بکم فلم تغیثوہ وانا اولی بالرحمۃ منکم فان الله نزع الرحمۃ من قلوب المنافقین واسکنھا فی قلوب المؤمنین۔فاشتراہ صلی الله تعالی علیہ وسلم منھم بمائۃ درھم وقال یایھا البعیر! سرانور کے پاس آگیا اور حضور کی پناہ پکڑیاس کے مالکوں نے عرض کی:یا رسول الله !ہمارا اونٹ تین دن سے بھاگا ہوا ہے آج حضور کے پاس ملا ہے۔حضور اقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:سنتے ہو اس نے میرے حضور نالش کی ہے اور زبہت ہی بری نالش ہے۔وہ بولے:یا رسول الله !یہ کیا کہتاہے فرمایا:یہ کہتا ہے کہ وہ برسوں تمہاری امان میں پلا گرمی میں اس پر اسباب لادکر سبزہ ملنے کی جگہ تك جاتے اور جاڑے میں گرم مقام تك کوچ کرتےجب وہ بڑا ہوا تو تم نے اسے سانڈبنالیا الله تعالی نے اس کے نطفے سے تمہارے بہت اونٹ کردیے جو چرتے پھرتے ہیںاب جو اسے یہ شاداب برس آیا تم نے اسے ذبح کرکے کھا لینا چاہا۔وہ بولے: یا رسول الله !خداکی قسم !یونہی ہوا۔حضور اقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم نے فرمایا نیك مملوك کا بدلہ اس کے مالکوں کی طرف سے یہ نہیں ہے۔وہ بولے:یا رسول الله !تو ہم اسے نہ بیچیں گے نہ ذبح کریں گے۔فرمایا:غلط کہتے ہو اس نے تم سے فریاد کی تو تم اس کی فریاد کو نہ پہنچے اور میں تم سے زیادہ اس کا مستحق ولائق ہوں کہ فریادی پر رحم فرماؤں الله عزوجل نے منافقوں کے دلوں سے رحمت نکال لی اور ایمان والوں کے دلوں میں رکھی ہےپس حضور اقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم نے وہ اونٹ ان سے سو روپے کو خرید لیا اور اس سے ارشاد فرمایا:اے اونٹ !
#18812 · رسالہ الامن و العلٰی لناعتی المصطفٰی بدافع البلاء مسمّٰی بہ نام تاریخی اکمال الطامۃ علی شرك سُوی بالامُور العامۃ ۱۳۱۱ھ پوری قیامت ڈھانا (وہابیوں کے اس )شرك پر جو امور عامہ کی طرح (موجود کی ہر قسم پر صادق )ہے
انطلق فانت حر لوجہ الله تعالی۔فرغی علی ھامۃ رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم فقال صلی الله تعالی علیہ وسلم امین۔ثم رغی فقال امین۔ثم رغی الرابعۃ فبکی النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم۔فقلنا یارسول الله ما یقول ھذا البعیرقال قال جزاك الله ایھا النبی عن الاسلام والقران خیرا۔فقلت امین۔ ثم قال سکن الله رعب امتك یوم القیمۃ کما سکنت رعبی فقلت امین۔ثم قال حقن الله دماء امتك من اعدائھا کما حقنت دمی فقلت امین۔ثم قال لاجعل الله باس امتك بینھا فبکیت فان ھذہ الخصال سألت ربی فاعطانیھا ومنعنی ھذہ واخبرنی جبریل علیہ السلام عن الله عزوجل ان فناء امتی بالسیف جری القلم بما ھو کائن۔کذا اوردہ عازیا چلا جا کہ تو الله عزوجل کے لئے آزاد ہے۔یہ سن کر اس نے سر اقدس پر اپنی بولی میں کچھ آواز کی۔حضور صلی الله تعالی علیہ وسلم نے آمین کہی۔اس نے دوبارہ آواز کی حضور نے پھر آمین کہی۔اس نے سہ بارہ عرض کی حضور نے پھر آمین کہی اس نے چوتھی بار کچھ آواز کی اس پر حضور صلی الله تعالی علیہ وسلم نے گریہ فرمایا۔صحابہ نے عرض کی:یا رسول الله !یہ کیا کہتا ہے فرمایا:اس نے کہا اے نبی الله !الله عزوجل حضور کو اسلام و قران کی طرف سے بہتر جزا عطا فرمائے میں نے کہا آمینپھر اس نے کہا الله تعالی قیامت کے دن حضور کی امت سے خوف دور کرے جس طرح حضور نے میر خوف دور کیا میں نے کہا آمین۔پھر اس نے کہا الله جل وعلا حضور کی امت کے خون ان کے دشمنوں کے ہاتھوں سے محفوظ رکھے(کہ کفار کبھی انہیں استیصال نہ کر سکیں)جیسا حضور نے میرا خون بچایامیں نے کہا آمین پھر اس نے کہا الله سبحانہ امت والا کی سختی انکے آپس میں نہ رکھے(باہمی خونریزی سے دور رہیں) اس پر میں نے گریہ فرمایا کہ یہ سب مرادیں میں اپنے رب عزوجل سے مانگ چکا اور اس نے مجھے عطا فرما دیں مگر یہ پچھلی منع فرمائی اور مجھے جبرائیل امین علیہ الصلوۃ والتسلیم نے الله عزوجل کی طرف سے خبر کر دی کہ میری امت کی فنا تلوار سے ہے۔قلم چل چکا شدنی پر۔
#18813 · رسالہ الامن و العلٰی لناعتی المصطفٰی بدافع البلاء مسمّٰی بہ نام تاریخی اکمال الطامۃ علی شرك سُوی بالامُور العامۃ ۱۳۱۱ھ پوری قیامت ڈھانا (وہابیوں کے اس )شرك پر جو امور عامہ کی طرح (موجود کی ہر قسم پر صادق )ہے
لہ الامام الحافظ ذکی الدین عبدالعظیم المنذر ی رحمۃ الله تعالی علیہ فی کتاب الترغیب والترھیب ۔ یوں ہی کتاب الترغیب والترھیب میں امام حافظ ذکی الدین عبد العظیم مندزی رحمۃ الله تعالی علیہ سے وارد ہے۔(ت)
فقیر نے اس رسالہ میں بنظر اختصار اکثر احادیث کا خلا صہ لکھا یا صرف محل استدلال پر اقتصار کیا۔یہ حدیث نفیس کہ ایك اعلی اعلام نبوت ومعجزات جلیل حضرت رسالت علیہ وعلی الہ افضل الصلوۃ والتحیہ سے تھی بتمامہ ذکر کرنی مناسب سمجھییہاں موضع استناد وہ پیاری پیاری اسناد ہے کہ جوہماری پناہ لے الله عزوجل اسے پناہ دیتاہے اور جوہم سے التجا کرے نامراد نہیں رہتا۔ الحمد لله رب العالمین اور خدا جانے دافع البلا کس شے کا نام ہے۔
حدیث ۹۱:عبدالله بن سلامہ بن عمیر اسلمی صحابی ابن صحابی رضی الله تعالی عنہما فرماتے ہیں:
تزوجت ابنۃ سراقۃ ابن حارثۃ النجاری وقتل ببدر فلم اصب شیاء من الدنیا کان احب الی من نکاحھا و اصدقتھا مائتی درھم فلم اجد شیئ اسوقہ الیھا فقلت علی الله ورسولہ المعول فجئت رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم فاخبرتہ الحدیث۔ میں نے سراقہ بن حارثہ نجاری شہید غزوہ بدر رضی الله تعالی عنہ کی صاحبزادی سے نکاح کیا دنیا کی کوئی چیز میں نے ایسی نہ پائی جو انکے ساتھ شادی ہونے سے مجھے زیادہ پیاری ہو میں نے دو سو روپے ان کا مہر کیا تھا اور پاس کچھ نہ تھا جو انہیں بھیجوںمیں نے کہا الله اورالله کے رسول ہی پر بھروسہ ہے پس میں خدمت انور حضور پر نورصلی الله تعالی علیہ وسلم میں حاضر ہوا اورحال عرض کیا۔
حضور نے ایك جہاد پر انہیں بھیجا اور فرمایا:
ارجوا ان یغنیك الله مھرز وجتك ۔ میں امید کرتاہوں کہ الله عزوجل تمہیں اتنی غنیمت دلادے گا کہ اپنی بیوی کا مہر اداکردو۔
ایسا ہی ہواولله الحمد۔
الامام الثقۃ محمد بن عمرواقد امام ثقہ محمد بن عمر واقدنے ابی حدرد
حوالہ / References الترغیب والترھیب الترغیب فی الشفقۃ علی خلق الله تعالٰی مصطفی البابی مصر ۳ /۸۔۲۰۷
کتاب المغازی سریۃ خضرۃ امیرھا ابو قتادۃ مؤسسۃ الاعلمی للمطبوعات بیروت ۲ /۷۸۔۷۷۷
#18814 · رسالہ الامن و العلٰی لناعتی المصطفٰی بدافع البلاء مسمّٰی بہ نام تاریخی اکمال الطامۃ علی شرك سُوی بالامُور العامۃ ۱۳۱۱ھ پوری قیامت ڈھانا (وہابیوں کے اس )شرك پر جو امور عامہ کی طرح (موجود کی ہر قسم پر صادق )ہے
عن ابی حدردوھوابن سلامۃ المذکور رضی الله تعالی عنہما بسندہ الیہ وقد علی توثیقہ الامام المحقق علی الاطلاق فی الفتح وذکرنا فی منیر العین۔ جوسلامہ مذکوررضی الله تعالی عنہما سے اس پر انکی سند سے روایت کیااورامام محقق علی الاطلاق نے فتح میں اس کی توثیق فرمائی اورہم نے اسے(اپنے رسالے)منیر العین میں بیان کیا۔(ت)
حدیث ۹۲و۹۳:غزوہ خیبر شریف میں خیبر کو جاتے وقت حضرت عامر بن اکوع رضی الله تعالی عنہ حضور اقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم کے حضور میں رجزپڑھتے چلے
(۱)اللھم لولاانت مااھتدینا ولا تصدقنا ولا صلینا
(۲)فاغفرفداء لك ماابقینا والقین سکینۃ علینا
(۳)وثبت الاقدام ان لاقینا ونحن عن فضلك ما استغنینا
(۱)خداگواہ ہے یا رسول الله !اگر حضور نہ ہوتے تو ہم ہدایت نہ پاتےنہ زکوۃ دیتے نہ نماز پڑھتے۔
(۲)تو بخش دیجئے ہم حضور پر قربان جو گناہ ہمارے رہ گئے ہیں اورہم پرحضور سکینہ اتاریں۔
(۳)اورجب ہم دشمنوں سے مقابل ہوں تو حضور ہمیں ثابت قدم رکھیں ہم حضور کے فضل سے بے نیاز نہیںصلی الله تعالی علیہ وسلم۔
یہ حدیث صحیح بخار ی وصحیح مسلم وسنن ابی داودوسنن نسائی ومسند احمدوغیرہا میں سلمہ بن اکوع رضی الله تعالی عنہ سے بطرق عدیدہ ہے اورپچھلامصرعہ زیادات صحیح مسلم وامام احمد سے ہے۔
رواہ من طریق ایاس بن سلمۃ عن ابیہ سلمۃ بن الاکوع رضی الله تعالی عنہ۔ ایاس بن سلمہ کے طریق پر ان کے والد سلمہ بن اکوع رضی الله تعالی عنہ سے روایت کیا۔
حوالہ / References صحیح البخاری کتاب المغازی باب غزوۃ خیبر قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۶۰۳،صحیح مسلم،کتاب الجہاد والسیر باب غزوہ خیبر قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۱۱۱،سنن النسائی کتاب الجہاد والسیر باب من قاتل فی سبیل الله نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ۲ /۶۰،مسند احمد بن حنبل عن سلمۃ بن الاکوع المکتب الاسلامی بیروت ۴ /۵۰
#18815 · رسالہ الامن و العلٰی لناعتی المصطفٰی بدافع البلاء مسمّٰی بہ نام تاریخی اکمال الطامۃ علی شرك سُوی بالامُور العامۃ ۱۳۱۱ھ پوری قیامت ڈھانا (وہابیوں کے اس )شرك پر جو امور عامہ کی طرح (موجود کی ہر قسم پر صادق )ہے
ہم حدیث صحیح بخاری مع شرح امام احمد قسطلانی مسمی بہ ارشاد الساری کے الفاظ کریمہ مختصر ذکر کریں:
(عن یزید بن ابی عبید عن سلمۃ بن الاکوع رضی الله تعالی عنہ قال خرجنا مع النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم الی خیبر فسرنا لیلا فقال رجل من القوم)ھو اسید بن حضیر رضی ا لله تعالی عنہ(لعامر یاعامر الاتسمعنا من ھنیہاتک)وعند ابن اسحق من حدیث نصربن دھر ن الاسلمی رضی الله تعالی عنہ انہ سمع رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم یقول فی مسیرہ الی خیبر لعامر بن الاکوع رضی الله تعالی عنہ انزل یاابن الاکوع فاحد لنا من ھنیھا تك ففیہ انہ صلی الله تعالی علیہ وسلم ھو الذی امرہ بذلك وکان عامر رضی الله تعالی عنہ رجلا شاعرا فنزل یحدوبالقوم یقول
اللھم لو لا انت ماأھتدینا
ولاتصدقنا ولاصلینا
فاغفر فداء لكالمخاطب بذلك النبی صلی الله تعالی یعنی یزید بن ابو عبید اپنے مولی سیدنا سلمہ بن اکوع رضی الله تعالی عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ہم حضور سید عالم صلی الله تعالی علیہ وسلم کے ہمراہ رکاب اقدس خیبر کوچلےرات کا سفر تھاحاضرین سے ایك صاحب حضرت اسید بن حضیر رضی الله تعالی عنہ نے سلمہ بن اکوع رضی الله تعالی عنہ کے چچاحضرت عامر بن اکوع رضی الله تعالی عنہ سے کہا:اے عامر !ہمیں کچھ اشعار اپنے نہیں سناتےاورابن اسحق نے نصر بن دہر اسلمی رضی الله تعالی عنہ سے یوں روایت کیاکہ میں نے سفر خیبر میں رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم کو عامر بن اکوع رضی الله تعالی عنہ سے فرماتے سنا ''اے ابن اکوع !''اترکر کچھ اپنے اشعار ہمارے لئے شروع کرو۔اس روایت سے معلوم ہوا کہ خود حضور اقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم نے انہیں اس امر کا امر فرمایا۔عامر رضی الله تعالی عنہ شاعر تھے اترے اورقوم کے سامنے یوں حد ی خوانی کرتے چلے کہ: یارب !اگر حضور نہ ہوتے ہم راہ نہ پاتے نہ زکوۃ ونماز بجالاتے۔
ہم حضور پر بلاگرداں ف ہوں ہمارے جو گناہ باقی رہے ہیں بخش دیجئے۔ان اشعار میں مخاطب

ف:قربان ہونے والادوسرے کی بلااپنے اوپر لینے والا۔
#18816 · رسالہ الامن و العلٰی لناعتی المصطفٰی بدافع البلاء مسمّٰی بہ نام تاریخی اکمال الطامۃ علی شرك سُوی بالامُور العامۃ ۱۳۱۱ھ پوری قیامت ڈھانا (وہابیوں کے اس )شرك پر جو امور عامہ کی طرح (موجود کی ہر قسم پر صادق )ہے
علیہ وسلم ای اغفرلنا تقصیرنا فی حقك ونصرك اذ لایتصور ان یقال مثل ھذا الکلام للباری تعالی و قولہ اللھم لم یقصد بھا الدعاء وانما افتتح بھا الکلام(ماابقینا)ای ماخلفنا وراءنا من الاثام (و القین)ای او سل ربك ان یلقین(سکینۃ علینا٭ و ثبت الاقدام)ای وان یثبت الاقدام(ان لاقینا) العدو(فقال رسول الله صلی الله علیہ وسلم من ھذا السائق قالوا عامر بن الاکوع قال یرحمہ الله )وعند احمد من روایۃ ایاس بن سلمۃ فقال غفرلك ربك قال وما استغفررسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم لانسان یخصہ الا استشھد قال رجل من القوم ھو عمر بن الخطاب رضی الله تعالی عنہ کما فی مسلم (وجبت)لہ الشھادۃ بدعائك لہ حضور صلی الله تعالی علیہ وسلم ہیں یعنی حضو ر کے حقوق حضور کی مدد میں جو قصور ہم سے ہوئے حضورمعاف فرمادیں۔ حضور کےلئے خطاب ہونے کی دلیل یہ ہے کہ الله عزوجل سے ایسا خطاب کرنا معقول نہیں(ائمہ فرماتے ہیں کہ کسی پر فداہونے کے معنی یہ ہیں کہ اس پر اگرکوئی بلاء یا تکلیف آتی تو وہ اپنے اوپر لے لی جائے اس کی محافظت میں اپنی جان دے دی جائے تو الله عزوجل کو اس کلام کا مخاطب کیونکر بناسکتے ہیں)رہا یہ کہ ابتداء میں اللھم ہے اس سے مقصود حضرت عزت جل جلالہ کو پکارنا نہیں(کہ یہ الله عزوجل سے عرض قرارپائے)بلکہ اس کے نام سے ابتدائے کلام ہے اور حضور ہم پرسکینہ اتاریں مقابلہ دشمن کے وقت اورہمیں ثابت قدم رکھیں یعنی اپنے رب جل وعلاسے ان مراعات کی دعا فرمادیں۔یہ اشعار سن کر حضو راقدس صلی الله تعالی علیہ و سلم نے دریافت فرمایا:یہ کون اونٹوں کو رواں کرتاہے صحابہ نے عرض کی:عامر بن اکوع۔حضور نے فرمایا:الله اس پر رحمت کرے۔اورمسنداحمد(وصحیح مسلم)میں بروایت ایاس بن سلمہ(اپنے والد ماجد سلمہ بن اکوع رضی الله تعالی عنہ سے)ہے رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم نے(عامررضی الله تعالی عنہ سے)فرمایا:تیرا ر ب تیری مغفرت فرمائے اور حضور(ایسی جگہ)جب کسی خاص شخص کا
#18817 · رسالہ الامن و العلٰی لناعتی المصطفٰی بدافع البلاء مسمّٰی بہ نام تاریخی اکمال الطامۃ علی شرك سُوی بالامُور العامۃ ۱۳۱۱ھ پوری قیامت ڈھانا (وہابیوں کے اس )شرك پر جو امور عامہ کی طرح (موجود کی ہر قسم پر صادق )ہے
(یانبی الله لو لا امتعتنابہ)ابقیتہ لنا لنتمتع بہ ۔ نام لے کر دعائے مغفرت فرماتے تھے وہ شہید ہوجاتاتھا (لہذا) حاضرین میں سے ایك صاحب یعنی امیرالمومنین عمر رضی الله تعالی عنہ جیساکہ صحیح مسلم میں تصریح ہے عرض کی:یارسول ! حضور کی دعاسے عامر کےلئے شہادت واجب ہو گئی حضور نے ہمیں ان سے نفع کیوں نہ لینے دیا یعنی حضور انہیں ابھی زندہ رکھتے کہ ہم ان سے بہر ہ مند ہوتے۔انتہی۔
یہ پچھلے لفظ بھی یاد رکھنے کے قابل ہیں کہ ''حضور انہیں زندہ رکھتے''۔صلی الله تعالی علیہ وسلم۔یہ حدیث ابن اسحق نے اس سند سے روایت کی:
حدثنی محمد بن ابراھیم بن الحارث عن ابی الھیشم بن نصر بن دھرن الاسلمی ان اباہ حدثہ انہ سمع رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم یقول فی مسیرہ الی خیبر لعامر بن الاکوع فذکرہ ۔ بیان کیا مجھ سے محمد بن ابراہیم بن الحارث نے انہوں نے ابی الہیشم بن نصر بن دہراسلمی سے کہ انکے والد نے سفر خیبر میں رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم کو عامر بن اکوع کو یہ فرماتے ہوئے سناتو اس کا ذکر کردیا۔(ت)
اسی میں ہے:
فقال عمر بن الخطاب رضی الله تعالی عنہ وجبت والله یارسول الله لوامتعتنا بہفقتل یوم خیبر شہیدا ۔ امیر المومنین عمر بن خطاب رضی الله تعالی عنہ نے عرض کی خدا کی قسم شہادت واجب ہوگئییا رسول الله !کاش حضور ہمیں ان کی زندگی سے بہرہ یاب رکھتے۔وہ روز خیبر شہید ہوئے رضی الله تعالی عنہ۔
نیز امام ا حمد نے مسند میں بطریق ابن اسحق روایت فرمائی:
حدثنا یعقوب ثنا ابی عن ابن اسحق ثنا محمد بن ابراھیم بن الحارث التیمی الحدیث سندا و متنا بید انہ اقتصر ہمیں حدیث بیان کی یعقوب نے کہ ہمیں میرے باپ نے بحوالہ ابن اسحاق حدیث بیان کی کہ ہمیں محمد بن ابراہیم بن حارث تیمی نے سند ومتن مذکور کے ساتھ
حوالہ / References ارشاد الساری شرح صحیح البخاری کتاب المغازی حدیث ۴۱۹۶دارالکتب العلمیۃ بیروت ۹/ ۲۱۴تا۲۱۶
السیرۃ النبویۃ لابن ہشام ذکر المسیرالٰی خیبر دارابن کثیر بیروت الجزئین الثالث والرابع ص ۳۲۸و۳۲۹
السیرۃ النبویۃ لابن ہشام ذکر المسیرالٰی خیبر دارابن کثیر بیروت الجزئین الثالث والرابع ص۳۲۹
مسند احمد بن حنبل حدیث نصر بن دھر رضی الله تعالٰی عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۳ /۴۳۱
#18818 · رسالہ الامن و العلٰی لناعتی المصطفٰی بدافع البلاء مسمّٰی بہ نام تاریخی اکمال الطامۃ علی شرك سُوی بالامُور العامۃ ۱۳۱۱ھ پوری قیامت ڈھانا (وہابیوں کے اس )شرك پر جو امور عامہ کی طرح (موجود کی ہر قسم پر صادق )ہے
علی الاشعار ولم یذکر دعاء النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم ولا قول عمررضی الله تعالی عنہ وفیہ فاحد لنا مکان قولہ فخذلنا ولعل ھذا ھو الاصوب والله تعالی اعلم۔ حدیث بیان کی سوائے اس کے کہ انہوں نے صرف اشعار پرا کتفاء کیا۔نبی کریم صلی الله تعالی علیہ وسلم کی دعا مبارك اور حضرت عمر رضی الله تعالی عنہ کا قول مبارك ذکر نہیں کیا۔ اوراس روایت میں"فخذلنا"کی جگہ لفظ"فاحدلنا" ہے۔ شاید یہی زیادہ درست ہے والله تعالی اعلم۔(ت)
حدیث ۹۴:صحیحین میں ام المومنین صدیقہ رضی الله تعالی عنہا سے ہے کہ انہوں نے ایك تصویر دار قالین خریداحضور سید عالم صلی الله تعالی علیہ وسلم باہر سے تشریف لائے دروازے پر رونق افروز رہے اندر قدم کرم نہ رکھاام المومنین رضی الله تعالی عنہا نے چہرہ انور میں اثر ناراضی پایا(الله انہیں ناراض نہ کرے دونوں جہان میں)عرض کرنے لگیں:
یا رسول الله اتوب الی الله والی رسولہ ماذا اذنبت ۔ یارسول اللہ!میں الله اورالله کے رسول کی طرف توبہ کرتی ہوں مجھ سے کیا خطا ہوئی۔
حدیث ۹۵:چالیس۴۰ صحابہ کرام رضی ا للہ تعالی عنہم باہم بیٹھے مسئلہ قدر وجبر میں بحث کرنے لگے ان میں صدیق وفاروق رضی الله تعالی عنہمابھی تھے روح امین جبریل علیہ السلام نے خدمت اقدس حضور سید المرسلین صلی الله تعالی علیہ وسلم میں حاضر ہوکر عرض کی:یارسول اللہ!حضور اپنی امت کے پاس تشریف لے جائیں کہ انہوں نے نئی راہ نکالی۔حضور پرنور صلی الله تعالی علیہ وسلم ایسے وقت باہرتشریف لائے کہ وہ وقت حضور کی تشریف آوری کا نہ تھا صحابہ سمجھے کوئی نئی بات ہے۔آگے حدیث کے پیارے پیارے الفاظ دلکش ودلنواز یوں ہیں:
وخرج علیھم ملتمعا لونہ متوردۃ وجنتاہ کانما تفقأ یعنی حضور پرنورصلوات الله تعالی وسلامہ علیہ ان پر اس حالت میں برآمد ہوئے کہ رنگ
حوالہ / References صحیح البخاری کتاب اللباس باب من کرہ القعود علی الصور قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/۸۸۱،صحیح مسلم کتاب اللباس والزینۃ باب تحریم تصویر صورۃ الحیوان قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/۲۰۱،مسند امام احمد عن عائشہ صدیقۃ رضی الله تعالٰی عنہا المکتب الاسلامی بیروت ۶/۲۴۶،مصنف عبدالرزاق باب التماثیل وماجاء فیہ حدیث ۱۹۴۸۴ المجلس العلمی بیروت ۱۰/۳۹۸
#18819 · رسالہ الامن و العلٰی لناعتی المصطفٰی بدافع البلاء مسمّٰی بہ نام تاریخی اکمال الطامۃ علی شرك سُوی بالامُور العامۃ ۱۳۱۱ھ پوری قیامت ڈھانا (وہابیوں کے اس )شرك پر جو امور عامہ کی طرح (موجود کی ہر قسم پر صادق )ہے
بحب الرمان الخامض فنھضوا الی رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم حاسرین اذرعھم ترعد اکفہم و اذرعہم فقالوا تبنا الی الله ورسولہ الحدیث۔ الطبرانی فی الکبیر عن ثوبان رضی ا لله تعالی عنہ مولی رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم۔ چہرہ اقدس کا(شدت جلال سے)دہك رہا ہےدونوں رخسارہ مبارك گلاب کی طرح سرخ ہیں گویا انار ترش کے دانے پھوٹ نکلے ہیںصحابہ کرام یہ دیکھتے ہی حضور کی طرف (عاجزی کے ساتھ)کلائیاں کھولے ہاتھ تھرتھراتے کانپتے کھڑے ہوئے اورعرض کی کہ ہم الله ورسول کی طرف توبہ کرتے ہیں۔(طبرانی نے کبیر میں رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم کے غلام حضرت ثوبان رضی الله تعالی عنہ سے روایت کیا۔ت)
ان احادیث سے ثابت کہ صدیقہ وصدیق وفاروق وغیرہم اکتالیس صحابہ کرام رضی الله تعالی عنہم نے توبہ کرنے میں الله قابل التوب جل جلالہ کے نام پاك کے ساتھ اس کے نائب اکبر نبی التوبہ صلی الله تعالی علیہ وسلم کا نام پاك بھی ملایا اورحضور پر نور خلیفۃ الله الاعظم صلی الله تعالی علیہ وسلم نے قبول فرمایا حالانکہ توبہ بھی اصل حق حضرت عزت عزجلالہ کا ہے۔ولہذا حدیث میں ہے ایك قیدی گرفتار کر کے خدمت اقد س حضور سید عالم صلی الله تعالی علیہ وسلم میں لایاگیا وہ بولا:
اللھم انی اتوب الیك ولا اتوب الی محمد۔ الہی!میری توبہ تیری طرف ہےنہ محمد صلی الله تعالی علیہ و سلم کی طرف۔
حضور اقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:
عرف الحق لاھلہ۔احمد و الحاکم و صححہ و روی عن الاسود بن سریع رضی الله تعالی عنہ۔ حق کو حق والے کےلئے پہچان لیا۔احمد وحاکم نے اسے روایت کیا اوراس کی تصحیح کی اوراس کو اسود بن سریع سے روایت کیا۔(ت)
حوالہ / References المعجم الکبیر عن ثوبان رضی الله عنہ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۲/۹۵و۹۶
مسند احمد بن حنبل حدیث اسود بن سریع رضی الله عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۳/۴۳۵،کنزالعمال حدیث ۸۷۲۵ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۳/۷۷۶ کنزالعمال حدیث ۱۱۶۱۲ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۴/۵۴۶،کشف الخفاء حدیث ۱۷۲۵ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۲/۵۵
#18820 · رسالہ الامن و العلٰی لناعتی المصطفٰی بدافع البلاء مسمّٰی بہ نام تاریخی اکمال الطامۃ علی شرك سُوی بالامُور العامۃ ۱۳۱۱ھ پوری قیامت ڈھانا (وہابیوں کے اس )شرك پر جو امور عامہ کی طرح (موجود کی ہر قسم پر صادق )ہے
حدیث ۹۶:صحیح بخاری وصحیح مسلم میں حضرت کعب بن مالك انصاری رضی الله تعالی عنہ سے ہے جب ان کی توبہ قبول ہوئی انہوں نے مولا ئے دو جہاں صلی الله تعالی علیہ وسلم سے عرض کی:
یارسول الله ان من توبتی ان انخلع من مالی صدقۃ الی الله والی رسولہ صلی الله تعالی علیہ وسلم۔ یارسول الله میری توبہ کی تمامی یہ ہے کہ میں اپنے سارے مال سے نکل جاؤں الله اورالله کے رسول کے لیے صدقہ کر کے۔جل جلالہ و صلی الله تعالی علیہ وسلم۔
ارشادالساری شرح صحیح بخاری میں ہے:
ای صدقۃ خالصۃ لله ولرسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم فالی بمعنی اللام ۔ یعنی اس حدیث میں الله ورسول کی طرف صدقہ کرنے کے معنی الله ورسول کے لیے تصدق ہیںتو حاصل یہ کہ اپنا سارا مال خاص خدا اوررسول کے نام پر تصدق کردوں تبارك و تعالی وصلی الله تعالی علیہ وسلم۔چنانچہ اس میں الی بمعنی لام ہے۔(ت)
حدیث ۹۷:یمن کی ایك بی بی اوران کی بیٹی بارگاہ بیکس پناہ محبوب الہ صلی الله تعالی علیہ وسلم میں حاضرہوئیںدختر کے ہاتھ میں بھاری بھاری کنگن سونے کے تھےمولی صلی الله تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:تعطین زکوۃ ھذا اس کی زکوۃ دے گی۔عرض کی:نہ فرمایا: ایسرك
حوالہ / References صحیح البخاری کتاب الزکوٰۃ ۱/۱۹۲ وکتاب الوصایا۱/۳۸۶ وکتاب المغازی ۲/۶۳۶،صحیح مسلم کتاب التوبۃ باب حدیث توبہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/۳۶۰،سنن ابی داود کتاب الایمان والنذرباب من نذران یتصدق بما لہ آفتاب عالم پریس لاہور ۲/۱۱۴،سنن النسائی کتاب الایمان باب اذا ھدی مالہ علی وجہ النذر نور محمد کارخانہ کراچی ۲/۱۴۷،السنن الکبرٰی للبیہقی کتاب الزکوٰۃ ۴/۱۸۱ وکتاب السیر ۹/۳۵ و کتاب الایمان ۱۰/۶۸ دارصادر بیروت،مسند امام احمد حدیث کعب بن مالك رضی الله عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۳/۴۵۴ ،۴۵۶،۴۵۹، المصنف لابن ابی شیبۃ کتاب المغازی حدیث ۳۶۹۹۶دارالکتب العلمیۃ بیروت ۷/۴۲۵
ارشادالساری شرح صحیح البخاری کتاب المغازی دارالکتب العلمیۃ بیروت ۹/۳۹۲
#18821 · رسالہ الامن و العلٰی لناعتی المصطفٰی بدافع البلاء مسمّٰی بہ نام تاریخی اکمال الطامۃ علی شرك سُوی بالامُور العامۃ ۱۳۱۱ھ پوری قیامت ڈھانا (وہابیوں کے اس )شرك پر جو امور عامہ کی طرح (موجود کی ہر قسم پر صادق )ہے
ان یسورك الله بھما یوم القیمۃ سوار ین من نار ۔کیا تجھے یہ بھاتا ہے کہ الله تعالی قیامت کے دن انکے بدلے تجھے آگ کے دو کنگن پہنائے ان بی بی نے فورا وہ کنگن اتار کر ڈال دئے اور عرض کی:
ھما لله ورسولہ صلی الله تعالی علیہ وسلم۔احمد و ابو داؤد والنسائی عن عبدالله بن عمرو رضی الله تعالی عنہما بسند لامقالہ فیہ۔ یا رسول اللہ!یہ دونوں الله اورالله کے رسول کے لیے ہیں جل جلالہ و صلی الله تعالی علیہ وسلم۔(احمد وابوداود ونسائی نے عبدالله بن عمرو رضی الله تعالی عنہما سے بسند''اس میں کلام نہیں ''روایت کیا۔ت)
حدیث ۹۸:کہ جب حضرت ابولبابہ رضی الله تعالی عنہ کی توبہ قبول ہوئی انہوں نے خدمت اقدس حضورسید عالم صلی الله تعالی علیہ وسلم میں حاضر ہوکر عرض کی:
یارسول الله انی اھجردارقومی التی اصبت بھا الذنب وانخلع من مالی صدقۃ الی الله والی رسولہ صلی الله تعالی علیہ وسلم۔ یارسول اللہ!میں اپنی قوم کا محلہ جس میں مجھ سے خطا سرزد ہوئی چھوڑتاہوں اوراپنے مال سے الله ورسول کے نام پر تصدق کر کے باہر آتاہوں جل جلالہ و صلی الله تعالی علیہ وسلم۔
حضور پرنور صلی الله تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:اے ابولبابہ!تہائی مال کافی ہے۔انہوں نے ثلث مال الله ورسول کے لئے صدقہ کردیا عزجلالہ و صلی الله تعالی علیہ وسلم۔
الطبرانی فی الکبیر وابو نعیم عن ابن شہاب ن الزھری عن الحسین بن السائب بن ابی لبابۃ عن ابیہ رضی الله تعالی عنہ قال لما تاب الله علی جئت رسول الله صلی الله تعالی طبرانی نے کبیر میں اورابو نعیم نےابن شہاب زہری سے انہوں نے حسین بن سائب بن ابولبابہ سے بحوالہ اپنے باپ کے روایت کیاوہ فرماتے ہیں جب الله تعالی نے میری توبہ قبول فرمائی تو میں نے رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا:
حوالہ / References سنن ابی داود کتاب الزکوٰۃ باب الکنز ما ھو وزکوٰۃ الحلی آفتاب عالم پریس لاہور ۱/۲۱۸،سنن النسائی کتاب الزکوٰۃ باب زکوٰۃ الحلی نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ۱/۳۴۳،مسند امام احمد عن عبدالله بن عمرو المکتب الاسلامی بیروت ۲/۱۷۸و ۲۰۴ و ۲۰۸،مسند امام احمد عن اسماء بنت یزید المکتب الاسلامی بیروت ۶/۴۶۱
#18822 · رسالہ الامن و العلٰی لناعتی المصطفٰی بدافع البلاء مسمّٰی بہ نام تاریخی اکمال الطامۃ علی شرك سُوی بالامُور العامۃ ۱۳۱۱ھ پوری قیامت ڈھانا (وہابیوں کے اس )شرك پر جو امور عامہ کی طرح (موجود کی ہر قسم پر صادق )ہے
علیہ وسلم فقلت فذکرہ ۔ پھر پوری حدیث ذکر کی۔(ت)
یہ حدیثیں جان وہابیت پر صریح آفت ہیں کہ تصدق کر نے میں الله عزوجل کے ساتھ الله کے محبو ب اکرم صلی الله تعالی علیہ وسلم کا نام پاك ملایا جاتا اورحضور پرنور صلی الله تعالی علیہ وسلم مقبو ل رکھتے ہیںولله الحجۃ البالغۃ۔
اسی قبیل سے ہے افضل الاولیاء المحمدیین سیدنا صدیق اکبرامام المشاہدین رضی الله تعالی عنہ کی عرض کہ حضرت مولانا العارف بالله القویمولوی قدس سرہ المعنوی نے مثنوی شریف میں نقل کی کہ جب حضرت صدیق عتیق سیدنا بلال رضی الله تعالی عنہ کو آزاد کر کے حاضر بارگاہ عالم پناہ ہوئے
گفت مادو بندگان کوئے تو کردمش آزاد ہم برروئے تو
(صدیق اکبر رضی الله تعالی عنہ نے کہا ہم دونوں آپ کی بارگاہ کے غلام ہیں میں نے آپ کی خاطر اسکوآزاد کردیا ہے۔)
اورپہلے مصرع میں جو کچھ حضرت صدیق اکبر اپنے مالك ومولی صلی الله تعالی علیہ وسلم سے عرض کر رہے ہیں اس پر تو دیکھا چاہئےوہابیت کا جن کتنا مچلےنجدیت کی آگ کہاں تك اچھلےمگر ہاں امیر المومنین غیظ المنافقین عمر فاروق رضی الله تعالی عنہ کا درہ سیاست دکھایا چاہئے کہ بھوت بھاگےاورشاہ ولی الله صاحب کے پانی کا چھینٹا دیجئے کہ آگ دبےوہ کہاں وہ اس حدیث آئندہ میںوبالله التوفیق۔
حدیث ۹۹:شاہ صاحب ازالۃ الخفاء میں بحوالہ روایت ابو حذیفہ اسحق بن بشر وکتاب مستطاب الریاض النضرہ فی مناقب العشرہ ناقل کہ امیر المومنین عمر فاروق رضی الله تعالی عنہ نے اپنے ایك خطبے میں برسر منبر فرمایا:
کنت مع رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم فکنت عبدہ میں حضور پر نور آقا ومولائے عالم صلی الله تعالی علیہ وسلم کی بارگاہ میں تھاپس میں حضور کا بندہ
حوالہ / References المعجم الکبیر عن ابی لبابۃ حدیث ۴۵۰۹ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۵/۳۳،کنزالعمال بحوالہ طب وابی نعیم عن الزھری حدیث ۱۷۰۳۳ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۶/۵۹۱،کنزالعمال بحوالہ طب وابی نعیم عن الزھری حدیث۴۶۱۰۶ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۶/۶۲۴
مثنوی معنوی معاتبہ کردن حضرت رسول باصدیق الخ دفتر ششم نورانی کتب خانہ پشاور ص۲۹
#18823 · رسالہ الامن و العلٰی لناعتی المصطفٰی بدافع البلاء مسمّٰی بہ نام تاریخی اکمال الطامۃ علی شرك سُوی بالامُور العامۃ ۱۳۱۱ھ پوری قیامت ڈھانا (وہابیوں کے اس )شرك پر جو امور عامہ کی طرح (موجود کی ہر قسم پر صادق )ہے
وخادمہ ۔ اورحضور کا خدمتی تھا۔
اقول:یہ حدیث ابوحذیفہ مذکور نے فتوح الشام اورحسن بن بشر ان نے اپنی فوائد میں ابن شہاب زہری وغیرہ ائمہ تابعین سے نیز ابن بشران نے امالیابو احمد دہقان نے حرز حدیثیابن عساکر نے تاریخلالکائی نے کتاب السنۃ میں افضل التابعین سیدنا سعید بن المسیب بن حزن رضی الله عنہم سے روایت کی جب امیرالمومنین عمر رضی الله تعالی عنہ خلیفہ ہوئے لوگوں پر ان کے شدت جلال سے عجب ہیبت چھائی یہاں تك کہ لوگوں نے باہر بیٹھنا چھوڑدیا کہ جب تك امیر المومنین کا برتاؤ نہ معلوم ہو متفرق رہولوگ بولے صدیق اکبر کی نرمی اس درجہ تھی کہ مسلمانوں کے بچے جب انہیں دیکھتے دوڑتے ہوئے باپ باپ کہتے انکے پاس جاتے وہ ان کے سروں پر ہاتھ پھیرتےاوران کی ہیبت کی یہ حالت ہے کہ مردوں نے اپنی مجالس چھوڑدیں۔جب امیر المومنین کو یہ خبر پہنچی حکم دیا کہ جماعت نماز کے لئے پکار دیں۔لوگ حاضر ہوئے امیر المومنین منبر پر وہاں بیٹھے جہاں صدیق اکبر اپنے قدم رکھتے تھے اور فرمایا کہ مجھے کافی ہے صدیق کے قدموں کی جگہ بیٹھوںجب سب جمع ہولئے امیر المومنین نے منبر اطہر سید ازہر صلی الله تعالی علیہ پر کھڑے ہو کر خطبہ فرمایا حمد وثنا الہی ودرودرسالت پناہی صلی الله تعالی علیہ وسلم کے بعدکہا:
یا یھا الناس انی قد علمت انکم کنتم تؤنسون منی شدۃ وغلظۃ وذلك انی کنت مع رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم وکنت عبدہ وخادمہ۔ لوگو!میں جانتا ہوں کہ تم مجھ میں سختی ودرشتی پاتے تھے اور اس کا سبب یہ ہے کہ میں حضور اقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم کے ساتھ تھا اور میں حضور کا بندہ اور خدمتگار تھا۔
حضور کی نرمی ورحمت وہ ہے جس کی نظیر نہیںالله عزوجل نے خود اپنے اسمائے کریمہ سے دونام حضور کو عطا فرمائے رؤف رحیم صلی الله تعالی علیہ وسلمتو میں حضور کے سامنے شمشیر برہنہ تھا وہ چاہتے مجھے نیام میں فرماتے چاہتے چلنے دیتےمیں اسی حال پر رہا یہاں تك کہ حضور اقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم مجھ سے راضی تشریف لے گئےاور خدا کا شکر ہے اور میر ی سعادتپھر صدیق مسلمانوں کے کام کے والی ہوئےان کی نرمی ورحمت وکرم کی حالت تم سب پر روشن ہے
حوالہ / References کنزالعمال حدیث ۱۴۱۸۴ مؤسسۃ الرسالۃ بیروت ۵/۶۸۱،الریاض النضرہ فی مناقب العشرہ الفصل التاسع دارالمعرفۃ بیروت ۲/۲۷۱
#18824 · رسالہ الامن و العلٰی لناعتی المصطفٰی بدافع البلاء مسمّٰی بہ نام تاریخی اکمال الطامۃ علی شرك سُوی بالامُور العامۃ ۱۳۱۱ھ پوری قیامت ڈھانا (وہابیوں کے اس )شرك پر جو امور عامہ کی طرح (موجود کی ہر قسم پر صادق )ہے
فکنت خادمہ وعونہ میں ان کا خادم اور ان کا سپاہی تھا۔اپنی شدت ان کی نرمی کے ساتھ لاتاان کے سامنے تیغ عریاں تھا وہ چاہتے نیام میں کرتے خواہ رواں فرماتےمیں اسی حال پر رہا یہاں تك کہ وہ مجھ سے راضی ہوگئےاور خدا کا شکر ہے اور میری سعادتاب کہ میں تمھارا والی ہواجان لو کہ وہ شدت دونی ہو گئی درجوں بڑھ گئیمگر کس پر ہو گی۔ان پر جو مسلمانوں پر ظلم وتعدی کریںاور دینداروں کے لئے تو میں خود ان کے آپس سے بھی زیادہ نرم ومہربان ہوںجسے ظلم وزیادتی کرتے پاؤں گا اسے نہ چھوڑوں گا اس کا ایك گال زمین پر رکھ کر دوسرے گال پر اپنا پاؤں رکھوں گا یہاں تك کہ حق کو قبول کرلے۔سعید بن مسیب وابو سلمہ بن عبد الرحمن نے فرمایا:
فوفی عمر والله بما قال وکان ابا العیا ل ۔ خدا کی قسم عمر نے جو فرمایا پورا کر دکھایاوہ رعیت کے لئے مہربان باپ تھے رضی الله تعالی عنہ۔یہ مختصر ہے۔اور بعض کی حدیث بعض میں داخل ہوگئی ہے۔(ت)
دیکھو امیر المومنین فاروق اعظم کا سا اشد الناس فی امر الله برملا بر سر منبر اپنے آپ کو رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم کا بندہ بتا رہا ہے اور مجمع عام صحابہ کرام سنتا اور برقرار کھتا ہے۔ولله الحمد ولہ الحجۃ السامیۃ(تعریف الله تعالی کے لئے ہے اور اسی کی حجت بلند ہے۔ت)امیر المومنین عمر فاروق رضی الله تعالی عنہ کو بجرم ترویج تراویح جسے اس جناب فاروقیت مآب نے بدعت مان کر اچھا بتا یا اور فرمایا:
نعم البدعۃ ھذہ ۔ یہ بدعت بہت خوب وحسن ہے۔
وہابی بیڑے کے بعض احیوٹ بہادر مثل نواب بھوپالی قنوجی وغیرہ صراحۃ معاذ الله گمراہ بدعتی لکھ ہی چکے اب اپنے آپ کو نبی صلی الله تعالی علیہ وسلم کا بندہ ماننے پر شرك کا اطلاق کرتے انھیں کیا
حوالہ / References تاریخ دمشق الکبیر ترجمہ ۵۳۰۲ عمر بن الخطاب دار احیا التراث العربی بیروت ۴۷/۲۱۰،۲۱۱،کنز العمال بحوالہ ابن بشیر ان وابی احمد دھقان واللالکائی حدیث ۱۴۱۸۴مؤسسۃ الرسالۃ بیروت ۵/۶۸۱تا ۶۸۳
صحیح البخاری کتاب الصوم باب فضل من قام رمضان قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/۶۶۹
#18825 · رسالہ الامن و العلٰی لناعتی المصطفٰی بدافع البلاء مسمّٰی بہ نام تاریخی اکمال الطامۃ علی شرك سُوی بالامُور العامۃ ۱۳۱۱ھ پوری قیامت ڈھانا (وہابیوں کے اس )شرك پر جو امور عامہ کی طرح (موجود کی ہر قسم پر صادق )ہے
لگتا ہےرسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اذا لم تستحی فاصنع ما شئت ۔ جب تو بیحا ہو جائے تو پھر جو چاہے کر۔(ت)
ع بیحیا باش ہر چہ خواہی کن
بیحیا ہو جاپھر جو چاہے کر۔(ت)
مگر صاحبو!ذرا سوچ کر کہ شاہ ولی الله صاحب کا دامن زیر سنگ خارادبا ہے
یوں نظر دوڑے نہ ترچھی تان کر
اپنا بیگانہ ذرا پہچان کر
اے عبید الہوااے عبید الدراہم وعبید الدنیا!ا ب بھی عبد النبیعبد الرسول۔عبد المصطفی کو شرك کہنا۔ولا حول ولا قوۃ الا بالله العلی العظیم۔
حدیث۱۰۰:بحمد الله ایك سے ایك زائد سنتے جائیے:ایك دن امیر المومنین عمر فاروق رضی الله تعالی عنہ حضرت شہزادہ گلگوں قبا اما م حسین شہید کربلا رضی الله تعالی عنہ کو بر سر منبر گود میں لے کر فرمایا:
ھل انبت الشعر علی رؤسنا الا ابوك۔ ہمارے سروں پر بال کس نے اگائے ہوئے ہیں۔تمھارے ہی باپ صلی الله تعالی علیہ وسلم کے اگائے ہوئے ہیں۔
یعنی جو کچھ عزتنعمت ودولت ہے سب حضور ہی کی عطا ہے صلی الله تعالی علیہ وسلم۔
ابن سعد فی الطبقات عن السید الحسین صلی الله تعالی علی جدہ وابیہ وامہ واخیہ وعلیہ وبنیہ وبارك وسلم۔ ابن سعد نے طبقات میں سید امام حسینالله تعالی ان کے جد کریمان کے والد ماجدان کی والدہ ماجدہان کے بھائی اوران کے بیٹوں پربرکات و سلامتی نازل فرمائےسے روایت کیا۔(ت)
حدیث ۱۰۱:کہ ایك بارامیر المومنین حسن مجتبی صلی الله تعالی علی جدہ الکریم وعلیہ وسلم نے کا شانہ
حوالہ / References المعجم الکبیر حدیث ۶۵۳،۶۵۸،المکتبۃ الفیصلیہ بیروت ۱۷/۲۳۶،۲۳۷
الطبقات الکبری لابن سعد
#18826 · رسالہ الامن و العلٰی لناعتی المصطفٰی بدافع البلاء مسمّٰی بہ نام تاریخی اکمال الطامۃ علی شرك سُوی بالامُور العامۃ ۱۳۱۱ھ پوری قیامت ڈھانا (وہابیوں کے اس )شرك پر جو امور عامہ کی طرح (موجود کی ہر قسم پر صادق )ہے
خلافت فاروقی پر اذن طلب کیا ابھی اجازت نہ آئی تھی کہ امیر المومنین فاروق اعظم رضی الله تعالی عنہ کے صاحبزادے حضرت عبد الله رضی الله تعالی عنہ نے دروازے پر حاضر ہو کر اذن مانگاامیر المومنین رضی الله تعالی عنہ نے اجازت نہ دییہ حال دیکھ کر سیدنا امام مجتبی رضی الله تعالی عنہ بھی واپس آگئےامیر المومنین رضی الله تعالی عنہ نے انھیں بلا بھیجاانھوں نے آکر کہا:یا امیر المومنین!میں نےخیا ل کیا کہ اپنے صاحبزادے کو تو اذن دیا نہیں مجھے کیوں دیں گےفرمایا:
انت احق بالاذن منہ وھل انبت الشعر فی الراس بعد الله الا انتم۔رواہ الدار قطنی ۔ آپ ان سے زیادہ مستحق اذن ہیں اور یہ بال سر پر الله عزوجل کے بعد کس نے اگائے ہیں سوا تمھارے(اس کو دار قطنی نے روایت کیا۔ت)
حدیث۱۰۲:سیدنا امام حسین رضی الله تعالی عنہ فرماتے ہیں امیر المومنین فاروق اعظم رضی الله تعالی عنہ نے مجھ سے کہا:
ای بنی لوجعلت تاتینا تغشانا۔ اے میرے بیٹے!میری تمنا ہے کہ آپ ہمارے پاس آیا کریں۔
ایك دن میں گیا تو معلوم ہوا کہ تنہائی میں معاویہ رضی الله تعالی عنہ سے باتیں کر رہے ہیں اورعبدالله بن عمر رضی ا لله تعالی عنہما دروازے پر رکے ہیں عبدالله پلٹے ان کے ساتھ میں بھی واپس آیااس کے بعد امیر المومنین مجھے ملےفرمایا:لم اراك جب سے پھر میں نے آپ کو نہ دیکھا یعنی تشریف نہ لائے میں نے کہا:یا امیر المومنین!میں آیا تھا آپ معاویہ کے ساتھ خلوت میں تھے آپ کے صاحبزادے کے ساتھ واپس چلا گیا۔امیر المومنین نے فرمایا:
انت احق من ابن عمر فانما انبت ماتری فی رء وسنا الله ثم انتم ۔ آپ ابن عمر سے مستحق ترہیں یہ جوآپ ہمارے سروں پردیکھتے ہیں یہ الله ہی نے تواگائے ہیں۔
حوالہ / References الدار قطنی
کنز العمال بحوالہ ابن سعد وابن راویہ حدیث ۳۷۶۶۲مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۳/۶۵۵،الریاض النضرۃ فی مناقب العشرۃ الباب الثانی دارالکتب العلمیۃ بیروت ۲/۳۴۱
#18827 · رسالہ الامن و العلٰی لناعتی المصطفٰی بدافع البلاء مسمّٰی بہ نام تاریخی اکمال الطامۃ علی شرك سُوی بالامُور العامۃ ۱۳۱۱ھ پوری قیامت ڈھانا (وہابیوں کے اس )شرك پر جو امور عامہ کی طرح (موجود کی ہر قسم پر صادق )ہے
پھرآپ سے ایك اورروایت میں ہے:
ھل انبت الشعر غیرکم۔الخطیب من طریق یحیی بن سعید ن الانصاری عن عبید بن حنین ثنی الحسین ابن علی رضی الله تعالی عنہما وکذا ابنا سعد وراھو یہ والاخری رواھا الحافظ محب الدین الطبری فی الریاض النضرۃ من طریق عبید بن حنین لاحد الریحانتین رضی الله تعالی عنہما۔ کیا سرپر بال کسی اورنے اگائے ہیں سوائے تمہارے(خطیب نے یحیی بن سعید انصاری کے طریق سے عبید بن حنین سے روایت کی کہ مجھے حسین بن علی نے حدیث بیان کی۔یونہی سعد اور راہویہ کے بیٹوں نے روایت کی۔اورایك اورحدیث جس کو محب الدین طبری نے ریاض النضرہ میں بطریق عبید بن حنین دونوں شہزادوں یعنی حسنین کریمین میں سے ایك کے بارے میں روایت کیا رضی الله تعالی عنہم۔(ت)
حافظ الشان امام عسقلانی الاصابۃ فی تمییز الصحابہ میں اسے بروایت خطیب ذکر کر کے فرماتے ہیں:سندہ صحیح ۔اس حدیث کی سند صحیح ہے۔میں ڈرتا ہوں کہ امیر المومنین عمرفاروق رضی الله تعالی عنہ کی ان حدیثوں کا سنانا کہیں وہابی صاحبوں کورافضی بھی نہ کردے۔
" قل موتوا بغیظکم ان اللہ علیم بذات الصدور﴿۱۱۹﴾" ۔ تم فرمادو کہ مرجاؤ اپنی گھٹن میںالله خوب جانتاہے دلوں کی بات۔(ت)
شاہزادوں سے امیر المومنین کے اس فرمانے کا مطلب بھی وہی ہے جو لفظ اول میں تھا کہ یہ بال تمھارے مہربان باپ ہی نے اگائے ہیں صلی الله تعالی علیہ وسلم۔جس طرح اراکین سلطنت اپنے آقازادوں سے کہتے ہیں کہ جو نعمت ہے تمہاری ہی دی ہوئی ہے یعنی تمہارے ہی گھرسے ملی ہے۔
حدیث۱۰۳:کہ حضرت بتول زہراصلی الله تعالی علیہ وسلم علی ابیہا وعلیہا وعلی بعلہا وابنیہا وبارك وسلم اپنے دونوں شاہزادوں کو لےکر خدمت انور سیداطہرصلی الله تعالی علیہ وسلم میں حاضر ہوئیں اورعرض کی:یارسول الله انحلھما یا رسول اللہ!ان دونوں کو کچھ عطافرمائیے۔قال نعم
حوالہ / References الاصابہ فی تمییز الصحابۃ ترجمہ ۱۷۲۰ حسین بن علی رضی الله تعالٰی عنھما دارالفکر بیروت ۱/۴۹۸
القرآن الکریم ۳ /۱۱۹
#18828 · رسالہ الامن و العلٰی لناعتی المصطفٰی بدافع البلاء مسمّٰی بہ نام تاریخی اکمال الطامۃ علی شرك سُوی بالامُور العامۃ ۱۳۱۱ھ پوری قیامت ڈھانا (وہابیوں کے اس )شرك پر جو امور عامہ کی طرح (موجود کی ہر قسم پر صادق )ہے
قاسم خزائن الہی صلی الله تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:ہاں منظور۔اما الحسن فقد نحلتہ حلمی وھیبتی واما الحسین فقد نحلتہ نجدتی وجودی حسن کو تو میں نے اپنا حلم اورہیبت عطاکی اورحسین کو اپنی شجاعت اوراپنا کرم بخشا۔
ابن عساکر عن محمد بن عبید الله بن ابی رافع عن ابیہ وعمہ عن جدہ رضی الله تعالی عنہ۔ ابن عساکر نے محمد بن عبید الله بن ابو رافع سے انہوں نے اپنے باپ سے انہوں نے اپنے دادا رضی ا لله عنہ سے روایت کیا۔(ت)
حدیث ۱۰۴:کہ جب حضرت خاتون فردوس رضی الله تعالی عنہا نے عرض کی:یانبی الله انحلھما یانبی اللہ!ان دونوں کو کچھ عطا ہو۔فرمایا:
نحلت ھذا الکبیر المھابۃ والحلم ونحلت ھذا الصغیر المحبۃ والرضا۔العسکری فی الامثال عن جابر بن سمرۃ عن ام ایمن برکۃ رضی الله عنہم۔ میں نے اس بڑے کو ہیبت وبردباری عطا کی اوراس چھوٹے کو محبت ورضا کی نعمت دی۔(عسکری نے امثال میں جابر بن سمرہ سے انہوں نے ام ایمن برکۃ رضی الله تعالی عنہم سے روایت کیا۔ت)
حدیث ۱۰۵:کہ حضور اقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم کا جس مرض میں وصال مبارك ہوا ہے اس میں دو جہان کی شاہزادی اپنے دونوں شہزادوں کولئے اپنے پدرکریم علیہ وعلیہم الصلوۃ والتسلیم کے پاس حاضرہوئیں اورعرض کی:
یارسول الله ھذان ابنای فورثھما شئیا۔ یارسول اللہ!یہ میرے دونوں بیٹے ہیں انہیں اپنی میراث کریم سے کچھ عطافرمائیے۔
ارشاد ہوا:
اما حسن فلہ ھیبتی وسؤددی واما حسین حسن کے لیے تو میری ہیبت اورسرداری ہے
حوالہ / References تاریخ دمشق الکبیر ترجمہ ۱۵۵۹حسین بن علی رضی الله عنہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱۴/۱۴۱
کنز العمال بحوالہ العسکری فی الامثال حدیث ۳۷۷۱۰مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۳/۶۷۰
#18829 · رسالہ الامن و العلٰی لناعتی المصطفٰی بدافع البلاء مسمّٰی بہ نام تاریخی اکمال الطامۃ علی شرك سُوی بالامُور العامۃ ۱۳۱۱ھ پوری قیامت ڈھانا (وہابیوں کے اس )شرك پر جو امور عامہ کی طرح (موجود کی ہر قسم پر صادق )ہے
فلہ جرأتی وجودی۔الطبرانی فی الکیبر وابن مندہ و ابن عساکر عن البتول الزھراء رضی الله عنہا۔ اورحسین کے لیے میری جرأت اورمیراکرم(طبرانی نے کبیر میں اورابن مندہ اورابن عساکر نے بتول الزہرا رضی الله تعالی عنہا سے روایت کیا۔ت)
اقول:وبالله التوفیق حلم ومحبت وجود وشجاعت ورضا ومحبت کچھ اشیائے محسوسہ واجسام ظاہرہ تو نہیں کہ ہاتھ میں اٹھا کر دے دیے جائیں اوربتول زہر ا کاسوال بصیغہ عرض ودرخواست تھا کہ حضور انھیں کچھ عطافرمائیں جسے عرف نحاۃ میں صیغہ امر کہتے ہیں اور وہ زمان استقبال کے لیے خاص کہ جب تك یہ صیغہ زبان سے اداہوگا زمانہ حال منقضی ہوجائے گا اس کے بعد قبول و وقوع جو کچھ ہوگا زمانہ تکلم سے زمانہ مستقبل میں آئے گا اگرچہ بحالت فورواتصال اسے عرفا زمانہ حال کہیں بہرحال درخواست وقبول کوزمانہ ماضی سے اصلا تعلق نہیںاب حضور اقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم نے کیا فرمایا نعم ہاں دوں گا۔ لاجرم یہ قبول زمانہ استقبال کا وعدہ ہوا فان السؤال معاد فی الجواب ای نعم انحلھما اس کے متصل ہی حضور فرماتے ہیں صلی الله تعالی علیہ وسلم کہ میں نے اپنے اس شاہزادے کو یہ نعمتیں دیں اوراس شہزادے کو یہ دولتیں بخشیں۔یہ صیغے بظاہر ماضی کے ہیں اوراس سے زمان وعدہ تھا اور زمان وعدہ عطا نہیں کہ وعدہ عطا پر مقدم ہوتاہے۔لاجرم یہ صیغے اخبار کے نہیں بلکہ انشا ہیں جس طرح بائع ومشتری کہتے ہیں بعت اشتریت میں نے بیچی میں نے خریدی۔یہ صیغے کسی گزشتہ خریدوفروخت کی خبر دینے کے نہیں ہوتے بلکہ انہیں سے بیع وشر ا پیداہوتی ہے انشاکی جاتی ہے یعنی حضور اقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم کے اس فرمانے ہی میں کہ میں نے اسے یہ دیا اسے یہ دیا حلم وہیبت وجود وشجاعت ورضا ومحبت کی دولتیں شاہزادوں کو بخش دیں یہ نعمتیں خاص خزائن ملك السموات والارض جل جلالہ کی ہیں۔
حوالہ / References تاریخ دمشق الکبیر ترجمہ ۱۵۵۹حسین بن علی رضی الله عنہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱۴/۱۴۰،المعجم الکبیر حدیث ۱۰۴۱ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۲۲/۴۲۳،کنزالعمال بحوالہ ابن مندہ کر حدیث ۱۸۸۳۰ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۷/۲۶۸،کنزالعمال بحوالہ طب وابن مندہ کر حدیث ۳۴۲۷۲ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۲/۱۱۷،کنز العمال بحوالہ ابن مندہ طب،ابی نعیم،کر حدیث ۳۷۷۰۹مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۳/۶۷۰
#18830 · رسالہ الامن و العلٰی لناعتی المصطفٰی بدافع البلاء مسمّٰی بہ نام تاریخی اکمال الطامۃ علی شرك سُوی بالامُور العامۃ ۱۳۱۱ھ پوری قیامت ڈھانا (وہابیوں کے اس )شرك پر جو امور عامہ کی طرح (موجود کی ہر قسم پر صادق )ہے
ایں سعادت بزور بازو نیست تانہ بخشدخدائے بخشندہ
(یہ سعادت اپنی طاقت سے حاصل نہیں ہوتی جب تك عطا فرمانے والا الله تعالی عطانہ فرمائے۔ت)
تو وہ جو زبان سے فرمادے کہ میں نے دیں اوراس فرمانے ہی سے وہ نعمتیں حاصل ہوجائیں قطعا یقینا وہی کرسکتاہے جس کا ہاتھ الله وہاب رب الارباب جل جلالہ کے خزانوں پر پہنچتاہے جسے اس کے رب جل وعلا نے عطا ومنع کا اختیار دیا ہےہاں وہ کونہاں والله وہ محمد رسول الله ماذون ومختار حضرۃ الله قاسم ومتصر ف خزائن الله جل جلالہ وصلی الله تعالی علیہ وسلموالحمد لله رب العالمینلاجرم امام اجل احمد بن حجر مکی رحمہ الله تعالی کتاب مستطاب جو ہر منظم میں فرماتے ہیں:
ھو صلی الله تعالی علیہ وسلم خلیفۃ الله الاعظم الذی جعل خزائن کرمہ وموائد نعمہ طوع یدیہ و تحت ارادتہ یعطی من یشاء ۔ وہ صلی الله تعالی علیہ وسلم الله عزوجل کے وہ خلیفہ اعظم ہیں کہ حق جل وعلانے اپنے کرم کے خزانےاپنی نعمتوں کے خوان سب ان کے ہاتھوں کے مطیع انکے ارادے کے زیر فرمان کردئیے جسے چاہتے ہیں عطافرماتے ہیں صلی الله تعالی علیہ وسلم۔
ان مباحث قدسیہ کے جانفزا بیان فقیر کے رسالہ سلطنت المصطفی فی ملکوت کل الوری میں بکثرت ہیں ولله الحمد۔
حدیث ۱۰۶:صحیحین میں ہے رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ان لی اسماء انا محمد وانا احمد وانا الماحی الذی یمحوا الله لی الکفر وانا الحاشر الذی یحشر علی قدمی (صلی الله تعالی علیہ وسلم) بیشك میرے متعدد نام ہیںمیں محمد ہوںمیں احمد ہوں میں ماحی یعنی کفروشرك کا مٹانے والا ہوں کہ الله تعالی میرے ذریعے سے کفر مٹاتاہےمیں حاشر یعنی مخلوق کو حشر دینے والا ہوں کہ میرے قدموں پر تمام لوگوں کا حشرہوگا صلی الله تعالی علیہ وسلم۔
حوالہ / References الجوہر المنظم الفصل السادس المکتبۃ القادریۃ جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور ص۴۲
#18831 · رسالہ الامن و العلٰی لناعتی المصطفٰی بدافع البلاء مسمّٰی بہ نام تاریخی اکمال الطامۃ علی شرك سُوی بالامُور العامۃ ۱۳۱۱ھ پوری قیامت ڈھانا (وہابیوں کے اس )شرك پر جو امور عامہ کی طرح (موجود کی ہر قسم پر صادق )ہے
مالك واحمد وابو داود الطیالسی وابن سعد و البخاری و مسلم والترمذی والنسائی والطبرانی و الحاکم والبیہقی وابونعیم واخرون عن جبیر بن مطعم رضی الله تعالی عنہ۔ اس کو مالكاحمدابو داود طیالسیابن سعدبخاری مسلم ترمذینسائیطبرانیحاکمبیہقیابونعیم اوردیگر محدثین نے جبیر بن مطعم رضی الله عنہ سے روایت فرمایا۔(ت)
حدیث ۱۰۷تا۱۱۱:صحیح مسلم شریف میں ہے رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
انا محمد واحمد والمقفی والحاشر ونبی التوبۃ ونبی الرحمۃ(صلی الله تعالی علیہ وسلم)۔
احمد ومسلم و الطبرانی فی الکبیر میں محمد ہوں اوراحمد اورسب انبیاء کے بعد آنے والا اورخلائق کو حشر دینے والااورتوبہ کا نبی اور رحمت کا نبی صلی الله تعالی علیہ وسلم۔
اس کوروایت کیا احمدمسلم اورطبرانی نے کبیر میں
حوالہ / References صحیح البخاری کتاب التفسیر سورۃ الصف قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/۷۲۷،صحیح مسلم کتاب الفضائل باب فی اسمائہ صلی الله تعالٰی علیہ وسلم قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/۲۶۱،الشمائل مع سنن الترمذی باب ماجاء فی اسماء رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم حدیث ۳۶۵ دار الفکر بیروت ۵/۵۷۲،مسند احمد بن حنبل عن جبیربن مطعم المکتب الاسلامی بیروت ۴/۸۴،مؤطا لامام مالك ماجاء فی اسماء النبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم میر محمد کتب خانہ کراچی ص۷۳۷،الطبقات الکبری ذکر اسماء النبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم دارصادر بیروت ۱/۱۰۵،المستدرك للحاکم کتاب التاریخ ذکر اسماء النبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم دارالفکربیروت ۲/۶۰۴،دلائل النبوۃ للبیہقی باب ذکر اسماء رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم دارالکتب العلمیۃ بیروت ۱/۱۵۲تا۱۵۵،مسند ابی داود طیالسی احادیث جبیر بن مطعم رضی الله عنہ الجزء الرابع ص۱۲۷،دلائل النبوۃ لابی نعیم الفصل الثالث ذکر فضیلتہ صلی الله تعالٰی علیہ وسلم باسمائہ عالم الکتب بیروت ۱/۱۲
صحیح مسلم کتاب الفضائل باب فی اسمائہٖ صلی الله تعالٰی علیہ وسلم قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/۲۶۱،مسند احمد بن حنبل عن ابی موسٰی الاشعری المکتب الاسلامی بیروت ۴/۳۹۵ (باقی برصفحہ آئندہ)
#18832 · رسالہ الامن و العلٰی لناعتی المصطفٰی بدافع البلاء مسمّٰی بہ نام تاریخی اکمال الطامۃ علی شرك سُوی بالامُور العامۃ ۱۳۱۱ھ پوری قیامت ڈھانا (وہابیوں کے اس )شرك پر جو امور عامہ کی طرح (موجود کی ہر قسم پر صادق )ہے
عن ابی موسی الاشعری ونحوہ احمد وابناسعد وابی شیبۃ والبخاری فی التاریخ والترمذی فی الشمائل عن حذیفہ وابن مردویہ فی التفسیر وابو نعیم فی الدلائل وابن عدی فی الکامل وابن عساکر فی تاریخ دمشق والدیلمی فی مسند الفردوس عن ابی الطفیل وابن عدی عن ابی ھریرۃ رضی الله تعالی عنہم وابن سعد عن مجاھد مرسلا یزیدون و ینقصون وکلھم علی الحاشر متفقون۔ ابو موسی اشعری رضی الله تعالی عنہم سے۔اوراس کی مثل احمدا بن مسعودابن ابی شیبہ اوربخاری نے تاریخ میں اور ترمذی نے شمائل میں حضرت حذیفہ رضی الله تعالی عنہ سے۔اور ابن مردویہ نے تفسیر میںابو نعیم نے دلائل میں ابن عدی نے کامل میںابن عساکر نے تاریخ دمشق میں اوردیلمی نے مسند الفردوس میں حضر ت ابو الطفیل رضی الله تعالی عنہ سے۔اور ابن عدی نے ابوہریرہ رضی الله تعالی عنہم سے۔اورابن سعد نے مجاہد سے مرسلا روایت کیا۔اس میں راوی کمی بیشی کرتے رہے مگر حاشر پر سب متفق ہیں۔(ت)
حدیث ۱۱۲:حضور اقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم نے ایك کنیسہ یہود میں تشریف لے جاکر دعوت اسلام فرمائیکسی نے جواب نہ دیادوبارہ فرمائیکوئی نہ بولا۔حضور صلی الله تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:
ابیتم فوالله انا الحاشر وانا تم نے نہ مانا توسن لوخدا کی قسم میں ہی حشردینے
حوالہ / References (بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
€&شمائل الترمذی مع سنن الترمذی باب ماجاء فی اسماء رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم دارالفکر بیروت €∞۵/۵۷۲،€&الطبقات الکبرٰی لابن سعد ذکر اسماء الرسول صلی الله تعالٰی علیہ وسلم داراصادر بیروت €∞۱/۱۰۴،€&المصنف لابن ابی شیبہ کتاب الفضائل €∞حدیث ۳۱۶۸۳ €&دارالکتب العلمیہ بیروت €∞۶/۳۵۱،€&دلائل النبوۃ لابی نعیم الفصل الثالث ذکر فضیلتہ صلی الله تعالٰی علیہ وسلم عالم الکتب العلمیہ بیروت €∞۱/۱۲،€&کنز العمال بحوالہ عد،وابن عساکر عن ابی الطفیل €∞حدیث ۳۳۱۶۹€&مؤسسۃ الرسالہ بیروت €∞۱۱/۴۶۲و۴۶۳،€&الفردوس بماثور الخطاب €∞حدیث ۹۷€& دارالکتب العلمیۃ بیروت €∞۱/۴۲،€&الطبقات الکبرٰی ذکر اسماء رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم دارصادر بیروت €∞۱/۱۰۵
#18833 · رسالہ الامن و العلٰی لناعتی المصطفٰی بدافع البلاء مسمّٰی بہ نام تاریخی اکمال الطامۃ علی شرك سُوی بالامُور العامۃ ۱۳۱۱ھ پوری قیامت ڈھانا (وہابیوں کے اس )شرك پر جو امور عامہ کی طرح (موجود کی ہر قسم پر صادق )ہے
العاقب وانا النبی المصطفی امنتم اوکذبتم۔ الحاکم وصححہ عن عوف بن مالك رضی الله تعالی عنہ۔ والا ہوںمیں ہی خاتم الانبیاء ہوںمیں ہی نبی مصطفی ہوںچاہے تم مانو یا نہ مانو(حاکم نے عوف بن مالك رضی الله تعالی عنہ سے بیان کیااور اس کی تصحیح کی۔ت)
حدیث ۱۱۳:کہ فرماتے ہیں صلی الله تعالی علیہ وسلم:
انا احمد وانا محمد وانا الحاشر الذی احشر الناس علی قدمی وانا الماحی الذی یمحوا الله لی الکفر ۔ میں احمد ہوںمیں محمد ہوںمیں حاشر ہوں کہ لوگوں کو اپنے قدموں پر حشردوں گامیں ماحی ہوں کہ الله تعالی میرے ذریعے سے کفر کی بلا محو فرماتاہےصلی الله تعالی علیہ وسلم۔
یہ اسم ماحی بھی ہمارے مقصود رسالہ سے ہے نیز بجہت اسناد اورنیز یوں کہ معاذالله کفر سے بدتر اورکیا بلا ہےتوجو پیارا ماحی کفر ہے اس سے بڑھ کرکون دافع البلاء ہے صلی الله تعالی علیہ وسلم۔مگر اس نام پاك حاشر کی اسناد کو وہابی صاحب بتائیں سید عالم صلی الله تعالی علیہ وسلم یہ کیا فرمارہے ہیں کہ میں حشر دینے والا ہوں میں اپنے قدموں پر خلائق کو حشر دوں گا۔تم نے تو قرآن مجید سےیہ سنا ہوگا کہ نشر کرنا حشر دینا خدا کی شان ہےیہاں بھی تمہارا امام الطائفہ یہی کہے گاکہ نبی نے اپنے آپ کو خدا کی شان میں ملادیاخدا کی شان تم مدعیان علم وایمان ابھی خدا کی شان ہی کے معنی نہ سمجھےنبی کی سب شانیں خدا کی شان ہیںتو خدا کی بعض شانیں ضرور نبی کی شان ہیں کہ موجبہ کلیہ کو اس کا عکس موجبہ جزئیہ لازم ہےہاں وہ شان جس سے خدائی لازم آئے نبی کے لیے نہیں ہوسکتیدفع بلا یا سماع ندا یا فریاد کو پہنچنا یا مراد کا دینا وغیرہ امور نزاعیہ کہ بعطائے رحمانی ووساطت فیض ربانی سےمانے جاتے ہیں لزوم الوہیت سے کیا تعلق رکھتے ہیں ولکن من لم یجعل الله لہ نورا فمالہ من نور(لیکن جسے الله تعالی نور عطانہ فرمائے اس کے لیے کوئی نور نہیں۔ت)
حدیث ۱۱۴:کہ فرماتے ہیں صلی الله تعالی علیہ وسلم:میرا نام قرآن میں محمد اورانجیل میں
حوالہ / References المستدرك للحاکم کتاب معرفۃ الصحابۃ قصہ ذکر رؤیا عبدالله بن سلام دارالفکر بیروت ۳/۴۱۵
المعجم الکبیر عن جابر رضی الله عنہ حدیث ۱۷۵ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۲/۱۸۴،الکامل لابن عدی وھب بن وہب الخ دارالفکر بیروت ۷/۲۵۲۷
#18834 · رسالہ الامن و العلٰی لناعتی المصطفٰی بدافع البلاء مسمّٰی بہ نام تاریخی اکمال الطامۃ علی شرك سُوی بالامُور العامۃ ۱۳۱۱ھ پوری قیامت ڈھانا (وہابیوں کے اس )شرك پر جو امور عامہ کی طرح (موجود کی ہر قسم پر صادق )ہے
احمد اورتورات میں احید ہے وانما سمیت احید لانی احید عن امتی نارجھنم اورمیرا نام احید اس لئے ہواکہ میں اپنی امت سے آتش دوزخ کودفع فرماتاہوں۔
فلوجہ ربك الحمد وعلیك الصلوۃ والسلام یا احید یا نبی الحمد۔ابنا عدی وعساکر عن ابن عباس رضی الله تعالی عنہما۔ آپ کے رب کے لیے حمد اورآپ پر درود وسلام ہواے احید اے نبی حمد۔اس کو ابن عدی اور ابن عساکر نے سید نا ابن عباس رضی الله تعالی عنہما سے روایت کیاہے۔(ت)
وہابی صاحبو!تمہارے نزدیك احید پیارا صلی الله تعالی علیہ وسلم دافع البلاء تو ہے ہی نہیںکہہ دو کہ وہ تم سےنارجہنم بھی دفع نہ فرمائیں اوربظاہر امید تو ایسی ہی ہے کہ جو جس نعمت الہی کا منکر ہوتاہے اس نعمت سے محروم رہتاہے۔الله عزوجل فرماتاہے:
انا عند ظن عبدی بی ۔ میں اپنے بندے سے اس کے گمان کے موافق معاملہ فرماتا ہوں۔
جب تمہارا گمان یہ ہے کہ محمدمصطفی صلی الله تعالی علیہ وسلم دافع بلا نہیں تو تم اسی کے مستحق ہو کہ وہ تمہارے لئے دافع البلاء نہ ہوں۔ایك بار فقیر کے یہاں اس مسئلہ کا ذکر تھا کہ رافضی دیدار الہی کے منکر ہیں اوروہابی شفاعت نبوی کے۔فقیر نے کہا ایك یہی مسئلہ نزاعیہ ہےجس میں ہم اوروہ دونوں راست گو ہیں ہم کہتے ہیں دیدار الہی ہوگا اورہم حق کہتے ہیں ان شاء الله الغفار ہمیں ہوگارافضی کہتے ہیں نہ ہوگا وہ سچ کہتے ہیں ان شاء الله القہار انہیں نہ ہوگاہم کہتے ہیں شفاعت مصطفی صلی الله تعالی علیہ وسلم حق ہے اورہم قطعاحق پرہیں ان کے کرم سے ہمارے لئے ہوگیوہابی کہتے ہیں کہ شفاعت محال مطلق ہےاوروہ ٹھیك کہتے ہیں امید ہے کہ انکے لئے نہ ہوگی۔ ع
گر بر تو حرام ست حرامت بادا
(اگر تجھ پر حرام ہے تو حرام رہے۔ت)
حوالہ / References تاریخ دمشق الکبیر باب معرفۃ اسمائہٖ الخ داراحیاء التراث العربی ۳/۲۱،الکامل لابن عدی ترجمہ اسحٰق بن بشر دارالفکر بیروت ۱/۳۳۱
مسند احمد بن حنبل المکتب الاسلامی بیروت ۲/۳۱۵،الترغیب والترہیب الترغیب فی الاکثار من ذکرالله حدیث ۱ مصطفی البابی مصر ۲/۳۹۳
#18835 · رسالہ الامن و العلٰی لناعتی المصطفٰی بدافع البلاء مسمّٰی بہ نام تاریخی اکمال الطامۃ علی شرك سُوی بالامُور العامۃ ۱۳۱۱ھ پوری قیامت ڈھانا (وہابیوں کے اس )شرك پر جو امور عامہ کی طرح (موجود کی ہر قسم پر صادق )ہے
حاضران گفتند کاے صدر الوری راست گو گفتی دو ضد گوراجرا
گفت من آئینہ ام مصقول دوست ترك وہندودرمن آں بیند کہ اوست
(حاضرین نے عرض کی کہ اے سرورکائنات صلی الله تعالی علیہ وسلم!آپ نے دو متضاد بات کرنے والوں کو کیسے درست قرار دیا۔آپ نے ارشادفرمایا کہ میں دوست کا قلعی کیا ہوا آئینہ ہوںترك اورہندو مجھ میں وہی دیکھتاہے جیسا وہ خود ہے۔ت)
حضور پرنورشافع یوم النشور صلی الله تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
شفاعتی یوم القیمۃ حق فمن لم یؤمن بھا لم یکن من اھلھا۔ابن منیع فی معجمہ عن زید بن ارقم وبضعۃ عشر من الصحابۃ رضی الله تعالی عنہم۔ روز قیامت میری شفاعت حق ہے تو جو اس پر یقین نہ لائے وہ اس کے لائق نہیں(ابن منیع نے اپنی معجم میں زید بن ارقم اور دس سے چند زائد صحابہ رضی الله تعالی عنہم سے روایت کیا۔ ت)
علامہ مناوی تیسیر میں لکھتے ہیں:اطلق علیہ التواتر ۔اس حدیث کو متواترکہاگیا۔
بالجملہ وہ تمہارے لئے دافع البلاء نہ سہی مگر لا والله ہماراٹھکانا تو ان کی بارگاہ بیکس پناہ کے سوا نہیں
منکر اپنا اورحامی ڈھونڈلیں آپ ہی ہم پر تورحمت کیجئے
بلکہ لا والله اگر بفرض غلط بفرض باطل عالم میں ان سے جدا کوئی دوسر احامی بن کر آئے بھی توہمیں اس کا احسان لینا منظور نہیں وہ اپنی حمایت اٹھا کر رکھے ہمیں ہمارے مولائے کریم جل جلالہ نے بے ہمارے استحقاق بے ہماری لیاقت کے اپنے محبوب کا کر لیا اور اسی کی وجہ کریم کو حمد قدیم ہے اب ہم دوسرے کابننا نہیں چاہتے جس کا کھائیے اسی کا گائیے۔
حوالہ / References کنز العمال بحوالہ ابن منیع حدیث ۳۹۰۵۹ مؤ سسۃ الرسالہ بیروت ۱۴/۳۹۹
التیسیر شرح الجامع الصغیر تحت حدیث شفاعتی یوم القیٰمۃ حق مکتبۃ الامام الشافعی ریاض ۲/۷۸
#18836 · رسالہ الامن و العلٰی لناعتی المصطفٰی بدافع البلاء مسمّٰی بہ نام تاریخی اکمال الطامۃ علی شرك سُوی بالامُور العامۃ ۱۳۱۱ھ پوری قیامت ڈھانا (وہابیوں کے اس )شرك پر جو امور عامہ کی طرح (موجود کی ہر قسم پر صادق )ہے
چودل بادلبر ے آرام گیرد زوصل دیگر ے کے کام گیرد
(جب ایك محبوب سے دل آرام پاتا ہے تو دوسرے کے وصل سے اسے کیا کام۔ت)
یا تو یوں ہی تڑپ کے جائیں یا وہی دام سے چھڑائیں منت غیر کوئی اٹھائی کوئی ترس جتائے کیوں
رباعی:اے واہ دہ حبیب راکلید ہمہ کار باران درود بررخ پاکش بار
دستے کہ بدامان کریمش زدہ ایم زنہار بدست دیگر انش مسپار
(اے اللہ!اس حبیب کو ہرمعاملے کی چابی عطافرما اس کے رخ زیبا پر درود کی بارش برساجس ہاتھ سے ہم نے اس کا دامن کرم تھا ما ہے ہرگز ہم کو دوسروں کا دست نگر نہ بنا۔ت)
تیرے ٹکڑوں پہ پلے غیر کی ٹھوکر پہ نہ ڈال
جھڑکیاں کھائیں کہاں چھوڑکے صدقہ تیرا
صلی الله تعالی علیك وسلم وعلی الك وصحبك وبارك وکرم۔والحمدلله رب العالمین۔
خیران اہل شر کے منہ کیا لگئےمسلمان نظر فرمالیں کہ عیاذا بالله نارجہنم سے سخت ترکون سی بلا ہوگی مگر اس کادافع دافع البلا نہیں ہے یہ کہ وہابیہ کے پا س نہ عقل ہے نہ دینولا حول ولا قوۃ الابالله العلی العظیم۔
حدیث ۱۱۵:صحیح بخاری وصحیح مسلم ومسند امام احمد میں سیدنا عباس رضی الله تعالی عنہ سے ہے انہوں نے حضور اقدس رحمت عالم صلی الله تعالی علیہ وسلم سے عرض کی کہ حضور نے اپنے چچا ابو طالب کو کیا نفع دیا خدا کی قسم وہ حضور کی حمایت کرتا حضور کیلئے لوگوں سے لڑتا جھگڑتا تھافرمایا:
وجدتہ فی غمرات من النار فاخرجتہ الی ضحضاح ۔ میں نے اسے سراپا آگ میں ڈوبا پایا تواسے میں نے کھینچ کر پاؤں تك کی آگ میں کردیا۔صلی الله تعالی علیك وسلم۔
حوالہ / References صحیح البخاری باب بنیان الکعبہ قصہ ابی طالب ۱/۵۴۸ وکتاب الادب المشرك ۲/۹۱۷،صحیح مسلم کتاب الایمان باب شفاعۃ النبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم لابی طالب قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/۱۱۵،مسنداحمد بن حنبل عن عباس رضی الله عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۱/۲۰۶و۲۰۷
#18837 · رسالہ الامن و العلٰی لناعتی المصطفٰی بدافع البلاء مسمّٰی بہ نام تاریخی اکمال الطامۃ علی شرك سُوی بالامُور العامۃ ۱۳۱۱ھ پوری قیامت ڈھانا (وہابیوں کے اس )شرك پر جو امور عامہ کی طرح (موجود کی ہر قسم پر صادق )ہے
حدیث ۱۱۶:کہ حضور رحمۃ للعالمین صلی الله تعالی علیہ وسلم سے عرض کی گئی:ھل نفعت اباطالب۔حضور نے ابوطالب کو کچھ نفع دیا فرمایا:
اخرجتہ من غمرۃ جھنم الی ضحضاح منھا۔البزار وابویعلی وابن عدی وتمام عن جابر بن عبدالله رضی الله تعالی عنہما۔ میں اسے دوزخ کے غرق سے پاؤں تك کی آگ میں نکال لایا۔(اس کو بزارابویعلیابن عدی اورتمام نے حضرت جابر بن عبدالله رضی الله تعالی عنہما سے روایت کیا۔ت)
وہابی صاحبو!مصطفی صلی الله تعالی علیہ وسلم تو ایك کافر کے باب میں فرما رہے ہیں کہ اسے میں نے غرق آتش سے کھینچ لیا اسے میں نکال لایا۔اورتم حضور کو مسلمانوں کے لیے بھی دافع البلاء نہیں مانتےیہ تمہارا ایمان ہے۔مسلمان اپنے محبوب صلی الله تعالی علیہ وسلم کے تصرفقدرتیںاختیار دیکھیںدنیا کیا بلاہے آخرت کے کارخانوں کی باگیں انکے ہاتھ میں سپرد ہوئی ہیں اورنہ بغیر الله عزوجل کے ماذون ومختار کئے کس کی مجال ہے کہ الله کے قیدی کی سزا بدل دے جس عذاب میں اسے رکھاہو وہاں سے اسے نکال لے یہ وہی پیارا ہے جس کی عزت وجاہت جس کی محبوبیت نےدوجہاں کے اختیارات اسے دلا دئے۔آخر حدیث سن چکے:
الکرامۃ والمفاتیح یومئذ بیدی ۔ عزت دینا اورتما م کاروبار کی کنجیاں اس دن میرے ہاتھ ہوں گی۔
تورات شریف کا ارشاد سن چکے:
یدہ فوق الجمیع وید الجمیع مبسوطۃ الیہ اس کا ہاتھ سب ہاتھوں پر بلند ہے سب کے ہاتھ اس کی طرف پھیلے ہیں عاجزی
حوالہ / References مسند ابی یعلی عن جابر رضی الله عنہ حدیث ۲۰۴۳ مؤسسۃعلوم القرآن بیروت ۲/۳۹۹،الکامل لابن عدی ترجمہ اسمٰعیل بن مجاہد دارالفکر بیروت ۱/۳۱۳،مجمع الزوائدکتاب صفۃ النار تفاوت اھل فی العذاب دارالکتاب العربی بیروت ۱۰/۳۹۵
سنن الدارمی باب ما اعطی النبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم من الفضل حدیث ۴۹ دارالمحاسن للطباعۃ القاھرہ ۱/۳۰،مشکوٰۃ المصابیح باب فضائل سید المرسلین قدیمی کتب خانہ کراچی ص۵۱۴،الخصائص الکبرٰی باب اختصاصہ صلی الله تعالٰی علیہ وسلم بانہ اول من تنشق عنہ الارض مرکز اہلسنت گجرات الہند ۲/۲۱۸
#18838 · رسالہ الامن و العلٰی لناعتی المصطفٰی بدافع البلاء مسمّٰی بہ نام تاریخی اکمال الطامۃ علی شرك سُوی بالامُور العامۃ ۱۳۱۱ھ پوری قیامت ڈھانا (وہابیوں کے اس )شرك پر جو امور عامہ کی طرح (موجود کی ہر قسم پر صادق )ہے
بالخشوع ۔ اورگڑگڑانے میںصلی الله تعالی علیہ وسلم۔
حدیث ۱۱۷:صحیح مسلم شریف میں ہے رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ان ھذہ القبور مملوۃ علی اھلھا ظلمۃ وانی انورھا بصلاتی علیھم۔
صلی ا لله تعالی وبارك وسلم قدرنورہ وجمالہ وجودہ ونوالہ علیہ وعلی الہ امین۔ھو وابن حبان عن ابی ھریرۃ رضی الله تعالی عنہ۔ بیشك یہ قبریں ان کے ساکنوں پر اندھیرے سے بھری ہیں اور بے شك میں اپنی نماز سے انہیں روشن کردیتاہوں۔
الله تعالی آپ پر اور آپ کی آل پر آپ کے نور وجمال اورجود وعطاء کے مطابق درود وسلام اوربرکت نازل فرمائے۔اس نے اورابن حبان نے بحوالہ ابوہریرۃ رضی الله تعالی عنہ اس کو روایت کیاہے۔(ت)
حدیث ۱۱۸:ام المومنین سلمہ رضی الله تعالی عنہا کہ پہلے حضرت ابو سلمہ رضی الله تعالی عنہ کے نکاح میں تھیں جب انکی وفات ہوئی اورانکی عدت گزری سید عالم صلی الله تعالی علیہ وسلم نے انہیں پیام نکاح دیاانہوں نے عرض کی:یا رسول اللہ!مجھ میں تین باتیں ہیں:انا امرأۃ کبیرۃ۔میری عمر زائدہے۔سید عالم صلی الله تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:انا اکبر منك میں تم سے بڑا ہوں۔عرض کی:وانا امرأۃ غیور میں رشکناك عورت ہوں۔(یعنی ازواج مطہرات کے ساتھ شکر رنجی کا اندیشہ ہے۔) فرمایا:ادعوا الله عزوجل فیذھب عنك غیرتك میں الله عزوجل سے دعا کروں گا وہ تمہارا رشك دور فرمائے گا۔عرض کی: یارسول الله!وانا امرۃ مصیبۃ یارسول الله اورمیرے بچے ہیں(یعنی ان کی پرورش کا خیال ہے۔)فرمایا:ھم الی الله والی رسولہ۔بچے الله اوراس کے رسول کے سپردہیں۔
احمد فی المسند حدثنا وکیع ثنا اسمعیل احمد نے مسند میں کہا ہمیں حدیث بیان کی وکیع نے
حوالہ / References تحفہ اثناعشریہ باب شش دربحث نبوت وایمان سہیل اکیڈیمی لاہور ص۱۶۹
صحیح مسلم کتاب الجنائز فصل فی الصلٰوۃ علی القبر قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/۳۱۰،السنن الکبرٰی کتاب الجنائز باب الصلٰوۃ علی القبر الخ دار صادر بیروت ۴/۴۷
مسند احمد بن حنبل عن ام سلمہ رضی الله عنہا المکتب الاسلامی بیروت ۶/۳۲۱،المعجم الکبیر عن ام سلمہ حدیث ۴۹۹و۵۸۵و۹۷۴ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۲۳/۲۴۸و۲۷۳و۴۰۶
#18839 · رسالہ الامن و العلٰی لناعتی المصطفٰی بدافع البلاء مسمّٰی بہ نام تاریخی اکمال الطامۃ علی شرك سُوی بالامُور العامۃ ۱۳۱۱ھ پوری قیامت ڈھانا (وہابیوں کے اس )شرك پر جو امور عامہ کی طرح (موجود کی ہر قسم پر صادق )ہے
بن عبدالملك بن ابی الصغیراء ثنی عبدالعزیز ابن بنت ام سلمۃ عن ام سلمۃ رضی الله تعالی عنہما والحدیث فی السنن النسائی وغیرہ۔ ہمیں حدیث بیان کی اسمعیل بن عبدالملك بن ابوالصغیراء نےمجھے حدیث بیان کی عبدالعزیز بن بنت ام سلمہ نے سیدہ ام سلمہ رضی الله تعالی عنہما سے۔اور یہ حدیث سنن نسائی وغیرہ میں مذکور ہے۔(ت)
حدیث ۱۱۹:کہ سید المرسلین صلی الله تعالی علیہ وسلم نے ذکر مسیح کذاب میں فرمایا:
ابشروافان یخرج وانا بین اظھرکم فالله کافیکم و رسولہ۔
الطبرانی فی الکبیر عن اسماء بنت یزید رضی الله تعالی عنہما۔ خوش ہوکہ اگر وہ نکلا اورمیں تم میں تشریف فرما ہوا تو الله تمہیں کافی ہے اورالله کا رسولجل جلالہ و صلی الله تعالی علیہ وسلم۔
طبرانی نے کبیر میں اسماء بنت یزید رضی الله تعالی عنہما سے روایت کیا۔(ت)
یہاں سخت ترین اعداء کے مقابلے میں الله ورسول کو کفایت فرمانے والا بتایا کہ خوش ہو بے خوف رہو الله ورسول کے ہوتے تمہیں کچھ اندیشہ نہیں۔الله الله ایسی جلیل حاجت روائیوں مشکلشائیوں میں الله عزوجل کے نام اقدس کے ساتھ حبیب صلی الله تعالی علیہ وسلم کا نام پاك ملنا وہابیہ کے زخمی کلیجوں پر خدا جانے کہاں تك نمك چھڑکے گا۔ولله الحمد۔
حدیث۱۲۰:امیر المومنین عمر فاروق اعظم رضی الله تعالی عنہ فرماتے ہیں ایك دن حضور اکرم صلی الله تعالی علیہ وسلم نے ہمیں صدقہ دینے کا حکم فرمایااتفاق سے ان دنوں میں کافی مالدار تھا میں نے اپنے جی میں کہا اگر کبھی میں ابوبکر سے سبقت لے جاؤں گا تو وہ دن آج ہی ہےمیں اپنا آدھا مال حاضر لایارسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:ما ابقیت لاھلك تم نے اپنے گھروالوں کےلئے کیا باقی رکھا میں نے عرض کیا:ابقیت لھم ان کےلئے بھی باقی چھوڑآیاہوں۔ فرمایا: ما ابقیت لھم آخر ان کے لیے کتنا چھوڑآئے ہوعرض کی:مثلہ اتنایہی۔اورصدیق اکبر اپنا سارامال تمام وکمال لےکر حاضر ہوئے۔سید عالم صلی الله تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:یا ابا بکر
حوالہ / References الاصابۃ بحوالہ النسائی ترجمہ ۱۲۰۵ ام سلمہ بنت ابی امیہ دارالفکر بیروت ۷/۳۲۶،۳۲۷
المعجم الکبیر حدیث ۴۳۰ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۲۴/۱۷۰
#18840 · رسالہ الامن و العلٰی لناعتی المصطفٰی بدافع البلاء مسمّٰی بہ نام تاریخی اکمال الطامۃ علی شرك سُوی بالامُور العامۃ ۱۳۱۱ھ پوری قیامت ڈھانا (وہابیوں کے اس )شرك پر جو امور عامہ کی طرح (موجود کی ہر قسم پر صادق )ہے
ما ابقیت لاھلك۔اے ابو بکر!گھر والوں کے لئے کیا باقی رکھا عرض کی:ابقیت لھم الله ورسولہ۔میں نے گھروالوں کےلئے الله ورسول کو باقی رکھا ہے جل جلالہ و صلی الله تعالی علیہ وسلم۔میں نے کہا:میں ابو بکرسے کبھی سبقت نہ لے جاؤں گا۔
الدارمی وابوداود والترمذی وقال حسن صحیح و الشاشی وابن ابی عاصم وابن شاھین فی السنۃ و الحاکم فی المستدرك وابو نعیم فی الحلیۃ والبیھقی فی السنن والضیاء فی المختارۃ کلھم عن امیر المؤمنین رضی الله تعالی عنہ۔ دارمیابوداودترمذیشاشیابن ابی عاصم اورابن شاہین نے سنۃ میں اورحاکم نے مستدرك میں اورابو نعیم نے حلیۃ میں اوربیہقی نے سنن میں اورضیاء نے مختار ہ میں سب نے امیر المومنین(عمر فاروق)رضی الله تعالی عنہ سے روایت کیا۔ دارمیابو داوداورترمذی نے اسے حسن صحیح کہا۔(ت)
حدیث ۱۲۱:کہ حضور پرنور صلی الله تعالی علیہ وسلم نے سیدنا وابن سیدنا اسامہ بن زید رضی الله تعالی عنہما کے حق میں فرمایا:
احب اھلی من قد انعم الله علیہ وانعمت علیہ۔ الترمذی عنہ رضی الله تعالی عنہ۔ مجھے اپنے گھروالوں میں سب سے پیاراوہ ہے جسے الله عزوجل نے نعمت دی اورمیں نے نعمت دی۔(ترمذی نے حضرت عمر فاروق رضی الله تعالی عنہ سے روایت کیا۔ت)
مولانا علی قاری علیہ رحمۃ الباری مرقاۃ میں فرماتے ہیں:
لم یکن احد من الصحابۃ الا وقد انعم الله علیہ رسولہ صلی الله تعالی یعنی سب صحابہ ایسے ہی تھے جنہیں الله نے نعمت بخشی اورالله کے رسول صلی الله تعالی علیہ وسلم
حوالہ / References سنن الترمذی کتاب المناقب باب فی مناقب ابی بکر وعمر رضی الله عنہما دارالفکر بیروت ۵/۳۸۰،سنن ابی داود کتاب الزکوٰۃ باب الرخصۃ فی ذالك آفتاب عالم پریس لاہور ۱/۲۳۶،سنن الدارمی باب الرجل یتصدق بجمیع ما عندہ حدیث ۱۶۶۷ دارالمحاسن للطباعۃ القاھرۃ ۱/۳۲۹،کنز العمال حدیث ۳۵۶۱۱ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۲/۴۹۱
سنن الترمذی کتاب المناقب باب مناقب اسامہ بن زید حدیث ۳۸۴۵دارالفکر بیروت ۵/۴۴۷
#18841 · رسالہ الامن و العلٰی لناعتی المصطفٰی بدافع البلاء مسمّٰی بہ نام تاریخی اکمال الطامۃ علی شرك سُوی بالامُور العامۃ ۱۳۱۱ھ پوری قیامت ڈھانا (وہابیوں کے اس )شرك پر جو امور عامہ کی طرح (موجود کی ہر قسم پر صادق )ہے
علیہ وسلم الا ان المراد المنصوص علیہ فی الکتاب و ھو قولہ تعالی واذتقول للذی انعم الله علیہ وانعمت علیہ وھو زید لاخلاف فی ذلك ولا شك الخ۔ نے نعمت بخشیمگر یہاں مراد وہ ہے کہ جس کی تصریح قرآن عظیم میں ارشاد ہوئی ہے کہ جب فرماتاتھا تو اس سے جسے الله تعالی نے نع مت دی اور اے نبی!تو نے اسے نعمت دیاور وہ زید بن حارثہ رضی الله تعالی عنہ ہیںاس میں کسی کا خلاف نہ اصلا شكاورآیت اگرچہ زید رضی الله تعالی عنہ کے حق میں اتری مگر سید عالم صلی الله تعالی علیہ وسلم نے اس کا مصداق اسامہ بن زید رضی الله تعالی عنہما کو ٹھہرایا کہ پسر تابع پدرہےافادہ فی المرقاۃ۔
اقول:نہ صرف صحابہ بلکہ تمام اہل اسلام اولین وآخرین سب ایسے ہی ہیں جنہیں الله عزوجل نے نعمت دی اوررسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم نے نعمت دی۔پاك کردینے سے بڑھ کر اورکیا نعمت ہوگی جس کا ذکر آیات کریمہ میں سن چکے کہ " ویزکیہم" ۔یہ نبی پاك اور ستھراکردیتا ہے بلکہ لاوالله تمام جہان میں کوئی شے ایسی نہیں جس پرالله کا احسان نہ ہو الله کے رسول کا احسان نہ ہو۔فرماتاہے:
" وما ارسلنک الا رحمۃ للعلمین ﴿۱۰۷﴾" ۔ ہم نے نہ بھیجا تمہیں مگر رحمت سارے جہان کیلئے۔
جب وہ تمام عالم کے لئے رحمت ہیں تو قطعا سارے جہان پر ان کی نعمت ہے صلی الله تعالی علیہ وسلم۔اہل کفر واہل کفران اگر نہ مانیں تو کیا نقصان
راست خواہی ہزار چشم چناں کوربہر کہ آفتاب سیاہ
(اگر سچ چاہے تو ایسی ہزار آنکھوں کا اندھا ہونا بہترہے نہ کہ آفتاب کا سیاہ ہونا۔ت)
حوالہ / References مرقاۃ المفاتیح کتاب المناقب والفضائل باب اھل بیت النبی تحت الحدیث ۶۱۷۷ المکتبۃ الحبیبیہ کوئٹہ ۱۰/۵۴۶
القرآن الکریم ۲ /۱۲۹
القرآن الکریم ۲۱ /۱۰۷
#18842 · رسالہ الامن و العلٰی لناعتی المصطفٰی بدافع البلاء مسمّٰی بہ نام تاریخی اکمال الطامۃ علی شرك سُوی بالامُور العامۃ ۱۳۱۱ھ پوری قیامت ڈھانا (وہابیوں کے اس )شرك پر جو امور عامہ کی طرح (موجود کی ہر قسم پر صادق )ہے
حدیث ۱۲۲:فرماتے ہیں صلی الله تعالی علیہ وسلم:
من استعملناہ علی عمل فرزقناہ رزقا الحدیث۔ابو داود والحاکم بسند صحیح عن بریدۃ رضی الله تعالی عنہ۔ جسے ہم نے کسی کام پر مقرر کیا پس ہم نے اسے رزق دیا۔(ابوداوداورحاکم نے بسند صحیح بریدہ رضی الله تعالی عنہ سے روایت کیا۔ت)
پہلی حدیث میں حضور نے فرمایا تھا:''ہم نے غنی کردیا۔''احادیث عطیہ حسنین رضی الله تعالی عنہما میں تھا کہ فرمایا:''حسن کو مہابت ہم نے دیعلم ہم نے دیا۔حسین کو شجاعت ہم نے دیکرم ہم نے دیامحبت کا مرتبہرضا کا مقام ہم نے عطا کیا۔''حدیث اسامہ میں تھا:''اسے نعمت ہم نے بخشی۔''یہاں ارشادہوتا ہے:''رزق ہم نے دیا۔''صلی الله تعالی علیك وعلی الك قدرجودك ونوالك وبارك وسلم۔
حدیث ۱۲۳:فرماتےہیں صلی الله تعالی علیہ وسلم:
لقد جاء کم رسول الیکم لیس بوھن ولاکسل لیحی قلوبا غلفا ویفتح اعینا عمیا ویسمع اذانا صما ویقیم السنۃ عوجا حتی یقال لاالہ الا الله وحدہ۔الدارمی فی سننہ عن جبیر بن نفیر رضی الله تعالی عنہما۔ بیشك تشریف لایا تمہارے پا س وہ رسول تمہاری طرف بھیجا ہوا جو ضعف وکاہلی سے پاك ہے تاکہ وہ رسول زندہ فرما دے غلاف چڑھے دلاور وہ رسول کھول دے اندھی آنکھیں اوروہ رسول شنواکردے بہرے کانوں کواوروہ رسول سیدھی کردے ٹیڑھی زبانوں کویہاں تك کہ لوگ کہہ دیں کہ ایك الله کے سواکسی کی پرستش نہیں۔(دارمی نے اپنی سنن میں جبیر بن نفیر رضی الله تعالی عنہما سے روایت کیا۔ت)
اقول:صحیح اذ قال اخبرنا حیوۃ بن شریح ثقۃ شیخ البخاری
حوالہ / References سنن ابی داود کتاب الخراج والفئی باب فی ارزاق العمال آفتاب عالم پریس لاہور ۲/۵۲،المستدرك للحاکم کتاب الزکوٰۃ دارالفکر بیروت ۱/۴۰۶،کنزالعمال حدیث ۱۱۰۸۴ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۴/۳۹۴
سنن الدارمی باب ماکان علیہ الناس قبل مبعث النبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم حدیث ۹ دارالمحاسن للطباعۃ القاھرۃ ۱/۱۵
#18843 · رسالہ الامن و العلٰی لناعتی المصطفٰی بدافع البلاء مسمّٰی بہ نام تاریخی اکمال الطامۃ علی شرك سُوی بالامُور العامۃ ۱۳۱۱ھ پوری قیامت ڈھانا (وہابیوں کے اس )شرك پر جو امور عامہ کی طرح (موجود کی ہر قسم پر صادق )ہے
فی صحیحہ وابو داود والترمذی بل واحمد وابن معین وھما من اقرانہ ثنابقیۃ بن الولید ثقۃ من الاعلام من رجال مسلم وقد زال مایخشی من لیسہ بقولہ ثنا بحیربن سعد ثقۃ ثبت عن خالد بن معدان ثقۃ عابد من رجال الستۃ عن جبیر بن نفیر ن الحضرمی رضی الله تعالی عنہما ثقۃ جلیل مخضرم من الثانیۃ وقدروی ابن السکن والباوردی وابن شاھین مطولا عن عبدالرحمن عن جبیر بن نفیر عن ابیہ قال ادرکت الجاھلیۃ واتانا رسول رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم بالیمن فاسلمنا فمرسلہ کمراسیل سعید بن المسیب اوفوق علا ان المرسل حجۃ عندنا وعند الجمھور والحدیث مسلسل بالحمصیین حیوۃ الی جبیر کلھم اھل حمص۔
حدیث ۱۲۴:کہ دو اونٹ مست ہوکر بگڑ گئے تھےکسی کوپاس نہ آنے دیتےمالکوں نے باغ میں بند کردئے تھےباغ اجاڑتے تھےسید عالم صلی الله تعالی علیہ وسلم کے حضور شکایت آئی حضور صلی الله تعالی علیہ وسلم تشریف فرماہوئےدروازہ کھولنے کاحکم دیامامورنے اندیشہ کیا مبادا حضور کو ایذادیں۔فرمایاخوف نہ کرکھول دے۔کھول دیا۔ایك دروازے ہی کے پاس کھڑا تھا حضور صلی الله تعالی علیہ وسلم کو دیکھتے ہی سجدے میں گرپڑا۔حضور نے مہارڈال کر حوالے کیا۔دوسرا منتہائے باغ پر تھاجب وہاں تشریف لے گئے اس نے بھی حضور کو دیکھتے ہی سجدہ کیاحضور نے اسے بھی باندھ کر سپرد فرمایا۔صحابہ کرام رضی الله تعالی عنہم نے یہ حال دیکھ کر عرض کی:
یا نبی الله تسجد لك البھائم فما لله عندنا بك احسن من ھذا اجرتنا من الضلالۃ واستنقذتنا من الھلکۃ افلا تأذن لنا بالسجود۔ابن قانع وابو نعیم عن غیلان بن اسامۃ الثقفی رضی الله یارسول اللہ!چوپائے تك حضور کو سجدہ کرتے ہیں توالله کے لیے حضور کے ذریعے سے ہمارے پا س جو کچھ ہے تو تو اس سے بہت بہتر ہےحضور نے ہمیں گمراہی سے پناہ دیحضور نے ہمیں ہلاکت سے نجات بخشی تو کیا حضور ہمیں اجازت نہیں دیتے کہ ہم حضور کوسجدہ کریں۔(ابن قانع وابو نعیم نے غیلان بن اسامۃ الثقفی رضی الله تعالی عنہ سے
حوالہ / References دلائل النبوۃ لابی نعیم الفصل الثانی والعشرون ذکر سجود البہائم عالم الکتب بیروت الجزء الثانی ص۳۷۔۱۳۶
#18844 · رسالہ الامن و العلٰی لناعتی المصطفٰی بدافع البلاء مسمّٰی بہ نام تاریخی اکمال الطامۃ علی شرك سُوی بالامُور العامۃ ۱۳۱۱ھ پوری قیامت ڈھانا (وہابیوں کے اس )شرك پر جو امور عامہ کی طرح (موجود کی ہر قسم پر صادق )ہے
تعالی عنہ ولہ طرق وقد دخل بعضھا فی بعض۔ روایت کیا۔اس کے متعدد طرق ہیں جوکہ بعض بعض میں داخل ہیں۔ت)
وہابیہ کہ گمراہی پسند وہلاکت دوست ہیںان سخت ترین بلیات کو بلا کیوں سمجھیں گے کہ ان سے پناہ دینے والے نجات بخشنے والے نبی صلی الله تعالی علیہ وسلم کو دافع البلاء جانیں۔
حدیث۱۲۵:جب وفد ہوازن خدمت اقد س حضور سید عالم صلی الله تعالی علیہ وسلم میں حاضر ہوا اوراپنے اموال واہل وعیال کہ مسلمان غنیمت میں لائے تھے حضور سے مانگے اورطالب احسان والا ہوئےحضور اقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:
اذا صلیتم الظھر فقولوا انا نستعین برسول الله علی المؤمنین اوالمسلمین فی نسائنا وابنائنا۔النسائی عن عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ عبدالله بن عمرو رضی الله تعالی عنہما۔ جب ظہر کی نماز پڑھ چکو تو کھڑ ے ہونا اوریوں کہنا ہم رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم سے استعانت کرتے ہیں مومنین پراپنی عورتوں اوربچوں کے باب میں(نسائی نے عمرو بن شعیب سے انہوں نے اپنے باپ سے انہوں نے اپنے دادا عبدالله بن عمر ورضی الله تعالی عنہما سے روایت کیا۔ت)
حدیث فرماتی ہے سید عالم صلی الله تعالی علیہ وسلم نے بنفس نفیس تعلیم فرمائی کہ ہم سے مدد چاہنا نماز کے بعد یوں کہنا کہ ہم رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم سے استعانت کرتے ہیں۔
وہابی صاحبو!" ایاک نعبد و ایاک نستعین﴿۴﴾" ۔کے معنی کہئے استعانت توخدا ہی کے ساتھ خاص تھییہ ارشاد کیسا ہے کہ ہم سے استعانت کرنا۔اور زمان حیات دنیاوی اوراس کے بعد کا تفرقہ وہابیہ کی جہالت ہی نہیں بلکہ سراسر ضلالت ہے قطع نظر اس بات سے کہ انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام سب بحیات حقیقی دنیاوی جسمانی زندہ ہیںجو بات خدا کے لیے
حوالہ / References سنن النسائی کتاب الھبۃ ھبۃ المشاع نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ۲/۱۳۶
القرآن الکریم ۱ /۴
#18845 · رسالہ الامن و العلٰی لناعتی المصطفٰی بدافع البلاء مسمّٰی بہ نام تاریخی اکمال الطامۃ علی شرك سُوی بالامُور العامۃ ۱۳۱۱ھ پوری قیامت ڈھانا (وہابیوں کے اس )شرك پر جو امور عامہ کی طرح (موجود کی ہر قسم پر صادق )ہے
خاص ہوچکی غیر خدا کے ساتھ شرك ٹھہر چکیاس میں حیات وموتقرب وبعدملکیت وبشریت خواہ کسی وجہ کاتفرقہ کیسا کیا بعد موت ہی شرکت خد اکی صلاحیت نہیں رہتی بحال حیات شریك ہوسکتے ہیں یہ جنو ن وہابیہ کو ہر جگہ جاگاہے جس نے انہیں حمایت توحید کے زعم میں الٹا مشرك بنا دیا ہے ایك بات کو کہیں گے شرك ہے پھر کبھی موت حیات کا فرق کرینگے کبھی قرب و بعد کا کبھی کسی اوروجہ کاجس کا صاف حاصل یہ نکلے گا کہ یہ انوکھے موحد بعض قسم مخلوق خدا کا شریك جانتے ہیں جب تو و ہ بات کہ غیر کے لیے اس کا اثبات شرك تھا ان کےلئے ثابت مانتے ہیں۔اب کھلا کہ انکے امام نے تقویۃ الایمان میں ان وہابی صاحبوں ہی کی نسبت کہا تھا کہ:
''اکثر لوگ شرك میں گرفتار ہیں اوردعو ی مسلمانی کا کئے جاتے ہیںسبحان الله یہ منہ اوریہ دعویسچ فرمایا الله صاحب نے کہ نہیں مسلمان ہیں اکثر لوگمگر شرك کرتے ہیں'' ۔
یہ نکتہ یادرکھنے کا ہے کہ انکی بہت فاحشہ جہالتوں کی پردہ دری کرتاہے وبالله التوفیق۔
حدیث ۱۲۶:طبرانی معجم اوسط میں بسند حسن سیدنا جابر بن عبدالله انصاری رضی الله تعالی عنہما سے راوی:
ان النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم امر الشمس فتاخرت ساعۃ من نھار ۔ سید عالم صلی الله تعالی علیہ وسلم نے آفتاب کو حکم دیا کہ کچھ دیر چلنے سے باز رہ۔وہ فورا ٹھہر گیا۔
اقول:اس حدیث حسن کا واقعہ اس حدیث صحیح کے واقعہ عظیمہ سے جدا ہے جس میں ڈوبا ہوا سورج حضور(صلی الله تعالی علیہ وسلم)کے لیے پلٹاہے یہاں تك کہ مولی علی کرم الله تعالی وجہہ الکریم نے نماز عصر کی خدمت گزاری محبوب باری صلی الله تعالی علیہ وسلم میں قضا ہوئی تھی ادا فرمائی۔امام اجل طحاوی وغیرہ اکابر نے اس حدیث کی تصحیح کی۔الحمد لله اسے خلافت رب العزت کہتے ہیں کہ ملکوت السموت والارض میں ان کا حکم جاری ہے تمام مخلوق الہی کو
حوالہ / References تقویۃ الایمان پہلا باب توحید وشرك کے بیان میں مطبع علیمی اندرون لوہاری دروازہ لاہور ص۴
المعجم الاوسط حدیث ۴۰۵۱ مکتبۃ المعارف ریاض ۵/۳۳،مجمع الزوائد کتاب علامات نبوت باب حبس الشمس صلی الله تعالٰی علیہ وسلم دارالکتاب بیروت ۸/۲۹۶
#18846 · رسالہ الامن و العلٰی لناعتی المصطفٰی بدافع البلاء مسمّٰی بہ نام تاریخی اکمال الطامۃ علی شرك سُوی بالامُور العامۃ ۱۳۱۱ھ پوری قیامت ڈھانا (وہابیوں کے اس )شرك پر جو امور عامہ کی طرح (موجود کی ہر قسم پر صادق )ہے
ان کےلئے حکم اطاعت وفرمانبرداری ہے۔وہ خدا کے ہیں اورجو کچھ خدا کا ہے سب ان کا ہےوہ محبوب اجل واکرم وخلیفۃ الله الاعظم صلی الله تعالی علیہ وسلم جب دودھ پیتے تھے گہوارہ میں چاند ان کی غلامی بجالاتاجدھر اشارہ فرماتے اسی طرف جھك جاتا۔حدیث میں ہے سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی الله تعالی عنہما عم مکرم سید اکرم صلی الله تعالی علیہ وسلم نے حضور سے عرض کی:مجھے اسلام پر باعث حضور کےایك معجزے کا دیکھنا ہوا
رایتك فی المھد تناغی القمر والیہ باصبعك فحیث اشرت الیہ مال۔ میں نے حضو ر کو دیکھا کہ حضور گہوارے میں چاند سے باتیں فرماتے جس طرح انگشت مبارك سے اشارہ کرتے چاند اسی طرف جھك جاتا۔
سید عالم صلی الله تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:
انی کنت احدثہ ویحدثنی ویلھینی عن البکاء واسمع وجبتہ حین یسجد تحت العرش۔
البیھقی فی الدلائل والامام شیخ الاسلام ابوعثمن اسمعیل بن عبدالرحمن الصابونی فی المائتین و الخطیب وابن عساکر فی تاریخ بغداد ودمشق رضی الله تعالی عنہ۔ ہاں میں اس سے باتیں کرتا تھا وہ مجھ سے باتیں کرتا اور مجھے رونے سے بہلاتامیں اس کے گرنے کا دھماکہ سنتاتھا جب وہ زیر عرش سجدے میں گرتا۔
بیہقی نے دلائل میں اورامام شیخ الاسلام ابوعثمن اسمعیل بن عبد الرحمن صابونی نے مائتین میں اورخطیب وابن عساکر نے تاریخ بغداد ودمشق میں بیان کیا رضی الله تعالی عنہ۔(ت)
امام شیخ الاسلام صابونی فرماتے ہیں:فی المعجزات حسن یہ حدیث معجزات میں حسن ہے۔
جب دودھ پیتوں کی یہ حکومت قاہرہ ہے تو اب کہ خلافۃ الکبری کا ظہور عین شباب پرہے آفتاب کی کیا جان کہ ان کے حکم سے سرتابی کرے آفتاب وماہتا ب درکناروالله العظیمملئکہ
حوالہ / References الخصائص الکبرٰی بحوالۃ البیہقی والصابونی وغیرہ باب مناغاۃ للقمر الخ مرکز اہلسنت گجرات الہند ۱/۵۳،کنز العمال بحوالہ ھق فی الدلائل وغیرہ حدیث ۳۱۸۲۸ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۱/۸۳
#18847 · رسالہ الامن و العلٰی لناعتی المصطفٰی بدافع البلاء مسمّٰی بہ نام تاریخی اکمال الطامۃ علی شرك سُوی بالامُور العامۃ ۱۳۱۱ھ پوری قیامت ڈھانا (وہابیوں کے اس )شرك پر جو امور عامہ کی طرح (موجود کی ہر قسم پر صادق )ہے
مدبرات الامر کہ تمام نظم ونسق عالم جن کے ہاتھوں پر ہے محمد رسول الله خلیفۃ الله الاعظم صلی الله تعالی علیہ وسلم کے دائرہ حکم سے باہر نہیں نکل سکتے۔رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ارسلت الی الخلق کافۃ۔رواہ مسلم عن ابی ھریرۃ رضی الله تعالی عنہ۔ میں تمام مخلوق الہی کی طرف رسول بھیجا گیا۔(اس کو مسلم نے حضرت ابوہریرہ رضی الله تعالی عنہ سے روایت کیا۔ت)
قرآن فرماتاہے:
" تبارک الذی نزل الفرقان علی عبدہ لیکون للعلمین نذیرۨا﴿۱﴾" ۔ برکت والا ہے وہ جس نے اتارا قرآن اپنے بندے پر کہ تمام اہل عالم کو ڈر سنانے والا ہو۔
اہل عالم میں جمیع ملائکہ بھی داخل ہیں علیہم الصلوۃ والسلام۔
سیدنا سلیمان علیہ الصلوۃ والسلام کی نماز عصر گھوڑوں کے ملاحظہ میں قضا ہوئی " حتی توارت بالحجاب ﴿۳۲﴾ " ۔یہاں تك کہ سورج پردے میں جا چھپا۔فرمایا:" ردوہا علی " ۔پلٹا لاؤ میری طرف۔امیر المومنین مولی علی کرم الله تعالی وجہہ الکریم سے اس آیت کریمہ کی تفسیر میں مروی کہ سلیمان علیہ الصلوۃ والسلام کے اس قول میں ضمیر آفتاب کی طرف ہے اور خطاب ان ملائکہ سے ہے جو آفتاب پر متعین ہیں یعنی نبی الله سلمان نے ان فرشتوں کو حکم دیا کہ ڈوبے ہوئے آفتاب کو واپس لے آؤوہ حسب الحکم واپس لائے یہاں تك کہ مغرب ہوکر پھر عصر کا وقت ہوگیا اورسیدنا سلیمن علیہ الصلوۃ والسلام نے نماز ادافرمائی۔ معالم التنزیل شریف میں ہے:حکی عن علی رضی الله تعالی عنہ انہ قال معنی قولہ ردوھا علی یقول سلیمن علیہ الصلوۃ و السلام بامر الله عزوجل للملئکۃ المؤکلین بالشمس ردوھا علی یعنی الشمس فردوھا علیہ حتی صلی العصر فی وقتھا ۔
حوالہ / References صحیح مسلم کتاب المساجد وموضع الصلٰوۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/۱۹۹
القرآن الکریم ۲۵ /۱
القرآن الکریم ۳۸ /۳۲
القرآن الکریم ۳۸ /۳۳
معالم التنزیل(تفسیر البغوی)تحت الآیۃ ۳۸/۳۳دارالکتب العلمیۃ بیروت ۴/۵۲
#18848 · رسالہ الامن و العلٰی لناعتی المصطفٰی بدافع البلاء مسمّٰی بہ نام تاریخی اکمال الطامۃ علی شرك سُوی بالامُور العامۃ ۱۳۱۱ھ پوری قیامت ڈھانا (وہابیوں کے اس )شرك پر جو امور عامہ کی طرح (موجود کی ہر قسم پر صادق )ہے
سیدنا لقمن علیہ الصلوۃ والسلام نوابان بارگاہ رسالت علیہ افضل الصلوۃ والتحیۃ سے ایك جلیل القدر نائب ہیں پھر حضور کا حکم تو حضور کا حکم ہے صلی الله تعالی علیہ وسلم۔الله سبحنہ وتعالی کی بے شمار رحمتیں امام ربانی احمد بن محمد خطیب قسطلانی پر کہ مواہب لدنیہ ومنح محمدیہ میں فرماتے ہیں:
ھو صلی الله تعالی علیہ وسلم خزانۃ السر وموضع نفوذ الامر فلاینفذ امر الامنہ ولا ینقل خیر الا عنہ صلی الله تعالی علیہ وسلم
الابابی من کان ملکا وسیدا
وادم بین الماء والطین واقف
اذا رام امرا لایکون خلافہ
ولیس لذاك الامر فی الکون صارف یعنی نبی صلی الله تعالی علیہ وسلم خزانہ راز الہی و جائے نفاذ امر ہیںکوئی حکم نافذ نہیں ہوتا مگر حضور کے دربار سے اور کوئی نعمت کسی کو نہیں ملتی مگر حضور کی سرکارسے صلی الله تعالی علیہ وسلم۔
یعنی خبردار ہو میرے ماں باپ قربان ان پر جو بادشاہ وسردار ہیں اس وقت سے کہ آدم علیہ الصلوۃ والسلام ابھی آب وگل کے اندر ٹھہرے ہوئے تھے وہ جس بات کا ارادہ فرمائیں اس کا خلاف نہیں ہوتاتمام جہان میں کوئی ان کا حکم پھیرنے والا نہیں۔
اقول:اور ہاں کیونکر کوئی ان کا حکم پھیر سکے کہ حکم الہی کسی کے پھیرے نہیں پھرتا۔
لاراد لقضائہ ولا معقب لحکمہ۔ اس کی قضاء کو رد کرنے والا اور اس کے حکم کو پھیرنے والا کوئی نہیں۔(ت)
یہ جو کچھ چاہتے ہیں خد اوہی چاہتاہے کہ یہ وہی چاہتے ہیں جوخدا چاہتاہے۔صحیحین بخاری ومسلم ونسائی وغیرہا میں حدیث صحیح جلیل ہے کہ ام المومنین صدیقہ اپنے پیارے محبو ب صلی الله تعالی علیہ وسلم سے عرض کرتی ہیں:
ما اری ربك الا یسارع ھواك ۔ یارسول اللہ!میں حضور کے رب کو نہیں دیکھتی مگر حضور کی خواہش میں جلدی وشتابی کرتاہوا۔
مسلمانو!ذرادیکھنا کوئی وہابی ناپاك ادھر ادھر ہوتو اسے باہر کردو اورکوئی جھوٹا متصوف
حوالہ / References المواہب اللدنیۃ المقصد الاول توطئۃ المکتب الاسلامی بیروت ۱/۵۶
صحیح البخاری کتاب التفسیر باب قولہ ترجی من تشاء الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/۷۰۲
(باقی برصفحہ آئندہ)
#18849 · رسالہ الامن و العلٰی لناعتی المصطفٰی بدافع البلاء مسمّٰی بہ نام تاریخی اکمال الطامۃ علی شرك سُوی بالامُور العامۃ ۱۳۱۱ھ پوری قیامت ڈھانا (وہابیوں کے اس )شرك پر جو امور عامہ کی طرح (موجود کی ہر قسم پر صادق )ہے
نصاری کی طرح غلو وافراط والا دبا چھپا ہوتو اسے بھی دورکردو اورتم عبدہ ورسولہ کی سچی معیار پرکانٹے کی تول مستقیم ہوکر یہ حدیث سنو کہ انس رضی الله تعالی عنہ فرماتے ہیں:
مرض ابوطالب فعادہ النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم فقال یا ابن اخی ادع ربك والذی بعثك یعافینی فقال اللھم اشف عمی فقام کانما نشط من عقال فقال یا بن اخی ان ربك الذی تعبدہ لیطیعك فقال وانت یا عماہ لو اطعتہلیطیعنك۔ابن عدی من طریق الھیثم البکاء عن ثابت ن البنانی عن انس ابن مالك رضی الله تعالی عنہ۔ یعنی ابو طالب بیمار پڑے سید عالم صلی الله تعالی علیہ وسلم عیادت کو تشریف لے گئے ابو طالب نے عرض کی:اے بھتیجے میرے!اپنے رب سے جس نے حضور کو بھیجا ہے میری تندرستی کی دعاکیجئے۔حضور سید عالم صلی الله تعالی علیہ وسلم نے دعا کی:الہی!میرے چچا کوشفا دے۔یہ دعا فرماتے ہی ابو طالب اٹھ کھڑے ہوئے جیسے کسی نے بند ش کھول دیحضور سے عرض کی:اے میرے بھتیجے!بیشك حضور کا رب جس کی تم عبادت کرتے ہو حضور کی اطاعت عــــــہ کرتا ہے۔سید عالم صلی الله تعالی علیہ وسلم نے(اس کلمہ پر انکار نہ فرمایابلکہ اورتاکیدا وتائیدا)ارشاد کیا کہ اے چچا!اگر تو اس کی اطاعت کرے تو وہ تیرے ساتھ بھی یونہی معاملہ فرمائے گا۔ (ابن عدی

عــــــہ: یہاں اطاعت کے معنی ہر مراد محبوب حسب مراد محبوب فورا موجود فرمادے ۱۲منہ۔
حوالہ / References (بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
صحیح البخاری کتاب النکاح باب الشغار قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/۷۶۶،صحیح مسلم کتاب الرضاع باب جواز ھبتہا نوبتھا لضرتہا قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/۴۷۳،سنن النسائی ذکر امر رسول الله فی النکاح نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ۲/۶۷،مسند احمد بن حنبل عن عائشہ رضی الله عنہا المکتب الاسلامی بیروت ۶/۱۳۴
الکامل لابن عدی ترجمہ الہیثم بن جماز دارالفکر بیروت ۷/۲۵۶۱
#18850 · رسالہ الامن و العلٰی لناعتی المصطفٰی بدافع البلاء مسمّٰی بہ نام تاریخی اکمال الطامۃ علی شرك سُوی بالامُور العامۃ ۱۳۱۱ھ پوری قیامت ڈھانا (وہابیوں کے اس )شرك پر جو امور عامہ کی طرح (موجود کی ہر قسم پر صادق )ہے
نے بطریق ہیثم البکاء انہوں نے ثابت بنانی سے انہوں نے انس ابن مالك رضی الله تعالی عنہ سے روایت کیا۔ت)
اورحدیث سنئے کہ سید عالم صلی الله تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں بیشك بالیقین میں روز قیامت تمام جہان کا سید ہوںمیرے ہاتھ میں لواء الحمد ہوگاکوئی شخص ایسا نہ ہوگا جو میرے نشان کے نیچے نہ ہوکشائش کا انتظارکرتا ہوا۔میں چلوں گا اورلوگ میرے ساتھ ہوں گے یہاں تك کہ دروازہ جنت پر تشریف فرماہوکر دروازہ کھلواؤں گا سوال ہوگا کون ہیں میں فرماؤں گا محمد (صلی الله تعالی علیہ وسلم)۔کہا جائے گا مرحبا محمد صلی الله تعالی علیہ وسلم کو۔پھر جب میں اپنے رب عزوجل کو دیکھوں گا اس کے لئے سجدہ شکر میں گروں گا اس پر کہا جائے گا:
ارفع راسك وقل تطاع واشفع تشفع۔ اپنا سراٹھاؤ اورجو کہنا ہو کہو تمہاری اطاعت کی جائے گی اور شفاعت کرو کہ تمہاری شفاعت قبول ہوگی۔
پس جو لوگ جل چکے تھے وہ الله کی رحمت اورمیری شفاعت سے دوزخ سے نکال لئے جائیں گے۔
الحاکم فی المستدرك وابن عساکر عن عبادۃ بن الصامت رضی الله تعالی عنہ۔ حاکم نے مستدرك میں اورابن عساکر نے عبادہ بن صامت رضی الله تعالی عنہ سے اس کو روایت کیا۔(ت)
اسی باب سے ہے حدیث کہ فرماتے ہیں صلی الله تعالی علیہ وسلم:ان ربی استشارنی فی امتی ماذا افعل بھم بیشك میرے رب نے میری امت کے باب میں مجھ سے مشورہ طلب فرمایا کہ میں ان کے ساتھ کیا کروں۔فقلت ماشئت یارب ھم خلقك وعبادك میں نے عرض کیا کہ اے رب میرے!جو تو چاہے کہ وہ تیری مخلوق اورتیرے بندے ہیں۔فاستشارنی الثانیۃ اس نے دوبارہ مجھ سے مشورہ پوچھا۔فقلت لہ کذلك میں نے اب بھی وہی عرض کی۔فاستشار نی الثالثۃ اس نے سہ بارہ مجھ سے مشورہ لیا۔فقلت لہ کذلك میں نے پھر وہی عرض کی۔فقال تعالی انی لن اخزیك فی امتك
حوالہ / References اتحاف السادۃ المتقین بحوالہ الحاکم وابن عساکر صفۃ الشفاعۃ دارالفکر بیروت ۱/۳۰،کنز العمال بحوالہ ك وابن عساکر حدیث ۳۲۰۳۸مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱/۴۳۴
#18851 · رسالہ الامن و العلٰی لناعتی المصطفٰی بدافع البلاء مسمّٰی بہ نام تاریخی اکمال الطامۃ علی شرك سُوی بالامُور العامۃ ۱۳۱۱ھ پوری قیامت ڈھانا (وہابیوں کے اس )شرك پر جو امور عامہ کی طرح (موجود کی ہر قسم پر صادق )ہے
یا احمد تو رب عزوجل نے فرمایا:اے احمد!بیشك میں ہرگز تجھے تیری امت کے معاملہ میں رسوا نہ کروں گا۔وبشرنی ان اول من یدخل الجنۃ معی من امتی سبعون الفا مع کل الف سبعون الفالیس علیھم حساب اورمجھے بشارت دی کہ میرے ستر ہزار امتی سب سے پہلے میرے ساتھ داخل بہشت ہونگے ان میں ہر ہزار کے ساتھ ستر ہزار ہونگے جن سے حساب تك نہ لیا جائیگا۔
آگے حدیث اورطویل وجلیل ہے جس میں اپنے اوراپنی امت مرحومہ کے فضائل جلیل ارشاد فرمائے ہیں صلی الله تعالی علیہ وعلیہم وبارك وسلم آمین!
الامام احمد وابن عساکر عن حذیفۃ رضی الله تعالی عنہ۔ امام احمد اورابن عساکر نے حضرت حذیفہ رضی الله تعالی عنہ سے روایت کیا۔(ت)
بحمدالله یہی معنی ہیں اس حدیث کے کہ رب العزۃ روز قیامت حضرت رسالت علیہ افضل الصلوۃ والتحیۃ سے مجمع اولین وآخرین میں فرمائے گا:
کلھم یطلبون رضا ئی وانا اطلب رضاك یا محمد ۔ یہ سب میری رضا چاہتے ہیں اورمیری تیری رضا چاہتاہوں اے محمد!۔
میں نے اپنا ملك عرش سے فرش تك تجھ پر قربان کردیا صلی الله علیك وعلی الك وبارك وسلم۔
اے مسلمانواسے سنی بھائیاے مصطفی صلی الله تعالی علیہ وسلم کی شان ارفع کے فدائی!آفتاب وماہتاب پر ان کا حکم جاری ہونا کیا بات ہے آفتاب طلوع نہیں کرتا جب تك ان کے نائب ان کے وارثان کے فرزندانکے دلبندغوث الثقلینغوث الکونینحضور پرنور سید نا ومولانا امام ابو محمد شیخ عبدالقادر جیلانی رضی الله تعالی عنہ پر سلام عرض نہ کرلے۔امام اجل سید ی نور الدین ابوالحسن علی شطنوفی قد س سرہ الروفی(جنہیں امام جلیل
حوالہ / References مسنداحمد بن حنبل عن حذیفہ رضی الله عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۵/۳۹۳،کنزالعمال بحوالہ حم وابن عساکر حدیث ۳۲۱۰۹ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۱/۴۴۸،الخصائص الکبرٰی باب اختصاصہ صلی الله تعالٰی علیہ وسلم بان امتہ وضع عنہم الامر مرکز اہلسنت گجرات ہند ۲/۲۱۰
مفاتیح الغیب(التفسیر الکبیر)تحت الآیۃ ۲/۱۴۲دارالکتب العلمیۃ بیروت ۴/۸۷
#18852 · رسالہ الامن و العلٰی لناعتی المصطفٰی بدافع البلاء مسمّٰی بہ نام تاریخی اکمال الطامۃ علی شرك سُوی بالامُور العامۃ ۱۳۱۱ھ پوری قیامت ڈھانا (وہابیوں کے اس )شرك پر جو امور عامہ کی طرح (موجود کی ہر قسم پر صادق )ہے
عارف بالله سیدی عبدالله بن اسعد مکی یافعی شافعی رحمہ الله تعالی نے مرآۃ الجنان میں الشیخ الامام الفقیہ المقرادی ) سے وصف کیا۔ کتاب مستطاب بہجۃ الاسرار شریف میں خود روایت فرماتے ہیں:
اخبرنا ابو محمد عبدالسلام بن ابی عبدالله محمد بن عبد السلام بن ابراھیم بن عبدالسلام البصری الاصل البغدادی المؤلد والداربالقاھرۃ سنۃ احدی وسبعین وستمائۃ قال اخبرنا الشیخ ابو الحسن علی بن سلیمان البغدادی الخباز ببغداد سنۃ ثلث و ثلثین وستمائۃ قال اخبرنا الشیخان الشیخ ابو حفص عمر الکمیماتی ببغداد وسنۃ احدی وتسعین و خمسمائۃ قالا کان شیخنا الشیخ عبدالقادر رضی الله تعالی عنہ یمشی فی الھواء علی رؤوس الاشھاد فی مجلسہ ویقول ماتطلع الشمس حتی تسلم علی و تجئی السنۃ الی وتسلم علی وتخبرنی ما یجری فیھا و یجیء الشھر ویسلم علی ویخبرنی بما یجری فیہ و یجیئ الاسبوع ویسلم علی ویخبرنی بما یجری فیہ و یجیئ الیوم ویسلم علی یعنی امام اجل حضرت ابوالقاسم عمر بن مسعود وبزاراورحضرت ابو حفص عمرکمیماتی رحمہم الله تعالی فرماتے ہیں ہمارے شیخ حضور سیدنا عبدالقادر رضی الله تعالی عنہ اپنی مجلس میں برملا زمین سےبلند کرہ ہوا پر مشی فرماتے اور ارشاد کرتے آفتاب طلوع نہیں کرتا یہاں تك کہ مجھ پر سلام کرلے نیا سال جب آتا ہے مجھ پرسلام کرتا اورمجھے خبر دیتاہے جو کچھ اس میں ہونے والا ہے نیا ہفتہ جب آتاہے مجھ پرسلام کرتا اورمجھے خبر دیتا ہے جو کچھ اس میں ہونے والا ہےنیا دن جوآتا ہے مجھ پر سلام کرتا ہے اورمجھے خبر دیتاہے جو کچھ اس میں ہونے والا ہےمجھے اپنے رب کی عزت کی قسم!کہ تمام سعید وشقی مجھ پر پیش کئے جاتے ہیں میری آنکھ لوح محفوظ پرلگی ہے یعنی لوح محفوظ میرے پیش نظر ہےمیں الله عزوجل کے علم ومشاہدہ کے دریاؤں میں غوطہ زن ہوںمیں تم سب پرحجت الہی ہوں میں رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم کا نائب اور زمین میں حضور(صلی الله تعالی علیہ وسلم)
حوالہ / References مرآۃ الجنان
#18853 · رسالہ الامن و العلٰی لناعتی المصطفٰی بدافع البلاء مسمّٰی بہ نام تاریخی اکمال الطامۃ علی شرك سُوی بالامُور العامۃ ۱۳۱۱ھ پوری قیامت ڈھانا (وہابیوں کے اس )شرك پر جو امور عامہ کی طرح (موجود کی ہر قسم پر صادق )ہے
ویخبرنی بما یجری فیہ وعزۃ ربی ان السعداء و الاشقیاء لیعرضون علی عینی فی اللوح المحفوظ انا غائص فی بحار علم الله ومشاھد تہ انا حجۃ الله علیکم جمیعکم انا نائب رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم ووارثہ فی الارض ۔صدقت یا سید ی والله فانما انت کلمت عن یقین لاشك فیہ ولاوھم یعتریہ انما تنطق فتنطق وتعطی فتفرق وتؤمر فتفعل والحمدلله رب العالمین۔ کا وارث ہوں۔سچ فرمایا ہے آپ نے اے میرے آقابخدا آپ یقین پر مبنی کلام فرماتے ہیں جس میں کوئی شك اوروہم راہ نہیں پاتا۔بے شك آپ سے کوئی با ت کہی جاتی ہے تو آپ کہتے ہیں اورآپ کو عطا ہوتاہے توآپ تقسیم فرماتے ہیں۔ زآپ کوامر کیا جاتاہے تو آ پ عمل کرتے ہیں۔اورسب تعریفیں الله رب العالمین کے لیے۔(ت)
اس حدیث کے متعلق کلام نے قدرے طو ل پایا مگر الحمدلله کہ مقصود رسالہ سے باہر نہ آیا وبالله التوفیق۔
حدیث ۱۲۷:صحیح مسلم شریف وسنن ابی داود وسنن ابن ماجہ ومعجم کبیر طبرانی میں سیدنا ربیعہ بن کعب اسلمی رضی الله تعالی عنہ سے ہے:
قال کنت ابیت مع رسول الله صلی الله تعالی علیہ و سلم فاتیتہ بوضوئہ وحاجتہ فقال لی سل(ولفظ الطبرانی فقال یوما یا ربیعۃ سلنی فاعطیك رجعنا الی لفظ مسلم)قال فقلت اسألك مرافقتك فی الجنۃ میں حضور پرنور سیدالمرسلین صلی الله تعالی علیہ وسلم کے پاس رات کو حاضر رہتا ایك شب حضور کے لیے آب وضو وغیرہ ضروریات لایا(رحمت عالم صلی الله تعالی علیہ وسلم کا بحر رحمت جو ش میں آیا)ارشاد فرمایا:مانگ کیا مانگتا ہے کہ ہم تجھے عطا فرمائیں۔میں نے عرض کی:میں حضور سے سوال کرتاہوں کہ جنت میں
حوالہ / References بہجہ الاسرار ذکر کلما اخبربہا عن نفسہ الخ دارالکتب العلمیۃ بیروت ص۵۰
#18854 · رسالہ الامن و العلٰی لناعتی المصطفٰی بدافع البلاء مسمّٰی بہ نام تاریخی اکمال الطامۃ علی شرك سُوی بالامُور العامۃ ۱۳۱۱ھ پوری قیامت ڈھانا (وہابیوں کے اس )شرك پر جو امور عامہ کی طرح (موجود کی ہر قسم پر صادق )ہے
فقال اوغیر ذلك قلت ھو ذاك قال فاعنی علی نفسك بکثرۃ السجود ۔ اپنی رفاقت عطافرمائیں۔فرمایا:کچھ اورمیں نے عرض کی: میری مراد تو صرف یہی ہے۔فرمایا:تو میری اعانت کر اپنے نفس پر کثرت سجودسے۔
ع کہ حیف باشداز وغیر اوتمنائے
(حیف ہے اس سے اس کے غیر کی تمنا کرنا۔ت)
سائل ہوں تر امانگتاہوں تجھ سے تجھی کو
معلوم ہے اقرار کی عادت تری مجھ کو
سید عالم صلی الله تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:"تو میری اعانت کر اپنے نفس پرکثرت سجود سے۔"
الحمدلله یہ جلیل ونفیس حدیث صحیح اپنے ہر ہرجملے سےوہابیت کش ہے۔حضور اقدس خلیفۃ الله الاعظم صلی الله تعالی علیہ و سلم کا مطلقا بلا قید وبلا تخصیص ارشاد فرمانا سل مانگ کیا مانگتا ہےجان وہابیت پرکیسا پہاڑ ہے جس سے صاف ظاہر ہے کہ حضور ہر قسم کی حاجت روا فرماسکتے ہیں دنیا وآخرت کی سب مرادیں حضور کے اختیار میں ہیں جب تو بلا تقیید ارشادہوا:مانگ کیا مانگتاہے یعنی جو جی میں آئے مانگو کہ ہماری سرکار میں سب کچھ ہے
گر خیریت دنیا وعقبی آرزو داری بدرگاہش بیاوہرچہ میخواہی تمنا کن
(اگر تو دنیا وآخر ت کی بھلائی چاہتاہے تو اس کی بارگاہ میں آاور جو چاہتاہے مانگ لے۔ت)
شیخ شیوخ علماء الہند عارف بالله عاشق رسول الله برکۃ المصطفی فی ھذہ الدیار سیدی شیخ محقق مولانا عبدالحق محدث دہلوی قدس سرہ القوی شرح مشکوۃ شریف میں اس حدیث کے نیچے فرماتے ہیں:
از اطلاق سوال کہ فرمودش بخواہ تخصیص مطلق سوال سے کہ آپ نے فرمایا(اے ربیعہ)
حوالہ / References صحیح مسلم کتاب الصلٰوۃ باب فضل السجود والحث علیہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/۱۹۳،سنن ابی داود کتاب الصلٰوۃ باب وقت قیام النبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم من اللیل آفتاب عالم پریس لاہور ۱/۱۸۷،کنز العمال حدیث ۱۹۰۰۶ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۷/۳۰۶،المعجم الکبیر عن ربیعہ حدیث ۴۵۷۶ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۵/۵۷و۵۸
#18855 · رسالہ الامن و العلٰی لناعتی المصطفٰی بدافع البلاء مسمّٰی بہ نام تاریخی اکمال الطامۃ علی شرك سُوی بالامُور العامۃ ۱۳۱۱ھ پوری قیامت ڈھانا (وہابیوں کے اس )شرك پر جو امور عامہ کی طرح (موجود کی ہر قسم پر صادق )ہے
نکرد بمطلوبے خاص معلوم میشود کہ کار ہمہ بدست ہمت و کرامت اوست صلی الله تعالی علیہ وسلم ہر چہ خواہد وکراخواہد باذن پروردگار خود دہد ۔ مانگ۔اورکسی خاص شے کو مانگنے کی تخصیص نہیں فرمائی۔ معلوم ہوتاہے کہ تمام معاملہ آپ کے دست اقدس میں ہے جوچاہیں جسے چاہیں الله تعالی کے اذن سے عطافرما دیں۔ (ت)
فان من جودك الدنیا وضرتھا ومن علومك علم اللوح والقلم
یہ شعر قصیدہ بردہ شریف کا ہے جس میں سیدی امام اجل محمد بوصیری قدس سرہ حضور سید عالم صلی الله تعالی علیہ وسلم سے عرض کرتے ہیں:''یا رسول اللہ!دنیا وآخرت دونوں حضور کے خوان جودوکرم سے ایك حصہ ہیں اورلوح وقلم کے تمام علوم جن میں ماکان ومایکون جو کچھ ہوا اورجو کچھ قیام قیامت تك ہونے والا ہے ذرہ ذرہ بالتفصیل مندرج ہے حضور کے علوم سے ایك پارہ ہیں۔''
اورپہلا شعر کہ ''اگرخیریت دنیا وعقبی الخ '' حضرت شیخ محقق رحمہ الله تعالی کا ہے کہ قصیدہ نعتیہ حضور پرنور سید عالم صلی الله تعالی علیہ وسلم میں عرض کیا ہے:الحمدلله یہ عقیدے ہیں ائمہ دین کے محمدرسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم کی جناب عالم تاب میںبرخلاف اس سرکش طاغی شیطان لعین کے بندہ داغی جو کہ ایمان کی آنکھ پر کفران کی ٹھیکری رکھ کر کہتاہے: "جس کا نام محمد ہے وہ کسی چیز کا مختار نہیں" ۔
الا صلی رب محمد علی محمدوالہ وسلم واخری منتقصیہ واعاذنا من حالھم وشرھم وسلم امین۔ درود وسلام نازل فرمائے رب محمد محمد مصطفی پر اورآپ کی آل پراوردوسرا گروہ آپ کی شان میں تنقیص کرنے والاہےالله تعالی ہمیں انکے حال اوران کے شر سے بچائے اورسلامت رکھےآمین(ت)
علامہ علی قاری علیہ رحمۃ الباری مرقاہ شرح مشکوۃ میں فرماتے ہیں:
یؤخذ من اطلاقہ صلی الله تعالی علیہ وسلم الامر بسؤال ان یعنی حضور اقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم نے مانگنے کا حکم مطلق دیا اس سے مستفاد ہوتاہے
حوالہ / References اشعۃ اللمعات کتاب الصلٰوۃ باب السجود وفضلہ الفصل الاول مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱/۳۹۶
الکواکب الدریۃ فی مدح خیر البریۃ(قصیدہ بردہ)الفصل العاشر مرکز اہلسنت گجرا ت الہند ص۵۹
تقویۃ الایمان الفصل الرابع فی ذکر ردالاشراك فی العبادۃ مطبع علیمی اندرون لوہاری دروازہ لاہورص۲۸
#18856 · رسالہ الامن و العلٰی لناعتی المصطفٰی بدافع البلاء مسمّٰی بہ نام تاریخی اکمال الطامۃ علی شرك سُوی بالامُور العامۃ ۱۳۱۱ھ پوری قیامت ڈھانا (وہابیوں کے اس )شرك پر جو امور عامہ کی طرح (موجود کی ہر قسم پر صادق )ہے
الله تعالی مکنہ من اعطاء کل ما ارادمن خزائن الحق ۔ کہ الله عزوجل نے حضور کو عام قدرت بخشی ہے کہ خدا کے خزانوں سے جو چاہیں عطافرمادیں۔
والحمدلله رب العالمین
مالك کونین ہیں گوپاس کچھ رکھتے نہیں
دوجہاں کی نعمتیں ہیں ان کے خالی ہاتھ میں
پھراس حدیث جلیل میں سب سے بڑھ کر جان وہابیت پر یہ کیسی آفت کہ حضور اقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم کے اس ارشاد پر حضرت ربیعہ رضی الله تعالی عنہ خود حضورسے جنت مانگتے ہیں کہ اسئلك مرافقتك فی الجنۃ یارسول اللہ!میں حضور سے سوال کرتاہوں کہ جنت میں رفاقت والا عطاہو۔
وہابی صاحبو!یہ کیسا کھلا شرك وہابیت ہے جسے حضور مالك جنت علیہ افضل الصلوۃ والتحیۃ قبول فرما رہے ہیںولله الحجۃ السامیۃ۔
حدیث ۱۲۸:حدیث صحیح وجلیل وعظیم سخت وہابیت کش جسے نسائی وترمذی وابن ماجہ وابن خزیمہ وطبرانی وحاکم وبیہقی نے سیدنا عثمان بن حنیف رضی الله تعالی عنہ سے روایت کیا اورامام ترمذی نے حسن غریب صحیح اورطبرانی وبیہقی نے صحیح اورحاکم نے برشرط بخاری ومسلم صحیح کہا اوراما م حافظ الحدیث زکی الدین عبدالعظیم منذری وغیرہ ائمہ نقد وتنقیح نے اس کی تصحیح کو مسلم وبرقرار رکھا جس میں حضور اقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم نے نابینا کو دعاتعلیم فرمائی کہ بعد نماز کہئے:
اللھم انی اسئلك واتوجہ الیك بنبیك محمد نبی الرحمۃ یا محمد انی اتوجہ بك الی ربی فی حاجتی ھذہ لیقضی لی اللھم الہی!میں تجھ سے مدد مانگتا اور تیری طرف توجہ کرتاہوں تیرے نبی محمد صلی الله تعالی علیہ وسلم کے وسیلے سے جو مہربانی کے نبی ہیںیارسول اللہ!میں حضور کے وسیلے سے اپنے رب کی طرف اپنی اس حاجت میں توجہ کرتاہوں تاکہ میری حاجت روائی
حوالہ / References مرقاۃ المفاتیح کتب الصلٰوۃ باب السجود وفضلہ الفصل الاول تحت حدیث ۸۹۶ المکتبۃ الحبیبیہ کوئٹہ ۲/۶۱۵
#18857 · رسالہ الامن و العلٰی لناعتی المصطفٰی بدافع البلاء مسمّٰی بہ نام تاریخی اکمال الطامۃ علی شرك سُوی بالامُور العامۃ ۱۳۱۱ھ پوری قیامت ڈھانا (وہابیوں کے اس )شرك پر جو امور عامہ کی طرح (موجود کی ہر قسم پر صادق )ہے
فشفعہ فی ۔ ہوالہی !انہیں میرا شفیع کر ان کی شفاعت میرے حق میں قبول فرما۔
یہ حدیث خود ہی بیماردلوں پر زخم کاری تھی جس میں رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم کو حاجت کے وقت ندا بھی ہے اورحضور اقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم سے استعانت والتجا بھیمگر حصن حصین شریف کی بعض روایات نے سر سے پانی تیری دیا۔اس میں لتقضی لی بصیغہ معروف ہے یعنی یارسول اللہ!حضور میری حاجت روافرمادیں۔ مولانا فاضل علی قاری علیہ رحمۃ الباری حرز ثمین شرح حصن حصین میں فرماتے ہیں:
وفی نسخۃ بصیغۃ الفاعل ای لتقضی الحاجۃ لی المعنی تکون سببا لحصول حاجتی ووصول مرادی فالاسناد مجازی ۔ اورایك نسخہ میں بصیغہ فاعل(فعل معروف)ہےیعنی آپ میری حاجت روائی فرمائیں۔مطلب یہ ہے کہ آپ میری حاجت روائی ومقصد برآری میں سبب ووسیلہ بن جائیں۔ چنانچہ اسناد مجازی ہوگا۔(ت)
اب دافع البلاء کو شرك ماننے کا مول تول کہئے۔
حوالہ / References سنن الترمذی کتاب الدعوات حدیث ۳۵۸۹دارالفکر بیروت ۵/۳۳۶،سنن ابن ماجۃ ابواب اقامۃ الصلوۃ باب ماجاء فی صلوٰۃ الحاجۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۰۰،صحیح ابن خزیمۃ باب صلوٰۃ الترغیب والترھیب حدیث ۱۲۱۹ المکتب الاسلامی بیروت ۲/۲۶،المعجم الکبیر عثمان بن حنیف حدیث ۸۳۱۱ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۹/۱۸،المستدرك للحاکم کتاب صلوٰۃ التطوع دعاء ردالبصر دارالفکر بیروت ۱/۳۱۳،دلائل النبوۃ للبیہقی باب فی تعلیمہ الضریر ماکان فیہ شفاء الخ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۶/۱۶۶تا۱۶۸،عمل الیوم واللیلۃ للنسائی حدیث ۶۵۷ دارابن حزم بیروت ص۱۵۹و۱۶۰،الترغیب والترھیب الترغیب فی صلوٰۃ الحاجۃ مصطفی البابی مصر ۱/۴۷۳تا۴۷۵
الحصن الحصین منزل یوم الاثنین صلوٰۃ الحاجۃ افضل المطابع ص۱۲۵
حرزثمین شرح الحصن الحصین مع الحصن الحصین منزل یوم الاثنین صلوٰۃ الحاجۃ افضل المطابع ص۱۲۵
#18858 · رسالہ الامن و العلٰی لناعتی المصطفٰی بدافع البلاء مسمّٰی بہ نام تاریخی اکمال الطامۃ علی شرك سُوی بالامُور العامۃ ۱۳۱۱ھ پوری قیامت ڈھانا (وہابیوں کے اس )شرك پر جو امور عامہ کی طرح (موجود کی ہر قسم پر صادق )ہے
ثم اقول:(پھر میں کہتاہوں۔ت)سید عالم صلی الله تعالی علیہ وسلم نے اپنے زمانہ اقدس میں نابینا کو دعاتعلیم فرمائی کہ بعد نماز یوں عرض کرو ہمارا نام پاك لے کر ندا کرو ہم سے استمداد والتجا کروشرك وہابیت کو قعرجہنم میں پہنچانے کو بس یہی تھا کہ:
اولا: جو شرك ہے اس میں تفرقہ زمانہ حیات وبعد وفات یاتفرقہ قرب وبعد یا غیبت وحضور سب مردود ومقہورجس کا بیان اوپر مذکور۔
ثانیا: حاصل تعلیم یہ نہ تھا کہ دو رکعت نماز پڑھ کر دعا کا بالائی ٹکڑا تو الله عزوجل سے عرض کرنا پھر ہمارے پاس حاضر ہوکر یا محمد سے اخیر تك عرض کرنااور دعا میں سنت اخفاہے اورآہستہ کہنے میں وہابیت کی عقل ناقص پر غیبت وحضور یکساں ہے عادی طورپر دونوں ندا بالغیب ہوں گیمگر قیامت تو سیدنا عثمان بن حنیف رضی الله تعالی عنہ نے پوری کردی کہ زمانہ خلافت امیر المومنین عثمان غنی رضی الله تعالی عنہ میں یہی دعا ایك صاحب حاجتمند کو تعلیم فرمائی اورندا بعدالوصال سے جان وہابیت پر آفت عظمی ڈھائی۔معجم کبیر امام طبرانی میں یہ حدیث یوں ہے کہ ایك شخص امیر المومنین عثمان غنی رضی الله تعالی عنہ کی بارگاہ میں اپنی کسی حاجت کے لیے حاضر ہوا کرتے امیر المومنین ان کی طرف التفات نہ فرماتے نہ ان کی حاجت پر غور کرتےایك دن عثمان بن حنیف رضی الله تعالی عنہ ان سے ملے ان سے شکایت کیعثمان بن حنیف رضی الله تعالی عنہ نے فرمایا:
ائت المیضاۃ فتوضا ثم ات المسجد فصل فیہ رکعتین ثم قل اللھم انی اسئلك واتوجہ الیك بنینا محمد صلی الله تعالی علیہ وسلم نبی الرحمۃ یا محمد انی اتوجہ بك الی ربی فیقضی حاجتی وتذکر حاجتك و رح الی حتی اروح معك۔ وضو کی جگہ جاکر وضو کروپھر مسجد میں جاکر دورکعت نماز پڑھو پھر یوں دعاکرو کہ الہی!میں تجھ سے سوال کرتا اور تیری طرف ہمارے نبی محمدصلی الله تعالی علیہ وسلم نبی رحمت کے ذریعے سے متوجہ ہوتا ہوںیارسول اللہ!میں حضور کے وسیلے سے اپنے رب کی طرف توجہ کرتاہوں کہ میری حاجت روا فرما ئیے۔اوراپنی حاجت کا ذکر کروشام کو پھر میرے پاس آنا کہ میں بھی تمہارے ساتھ چلوں۔
صاحب حاجت نے جاکر ایسا ہی کیاپھر امیر المومنین رضی الله تعالی عنہ کے دروازے پر حاضر ہوئےدربان آیا ہاتھ پکڑ کر امیر المومنین کے حضور لے گیاامیر المومنین(عثمان غنی)نے
#18859 · رسالہ الامن و العلٰی لناعتی المصطفٰی بدافع البلاء مسمّٰی بہ نام تاریخی اکمال الطامۃ علی شرك سُوی بالامُور العامۃ ۱۳۱۱ھ پوری قیامت ڈھانا (وہابیوں کے اس )شرك پر جو امور عامہ کی طرح (موجود کی ہر قسم پر صادق )ہے
اپنے ساتھ مسند پر بٹھایا اورفرمایا کیسے آئے ہو انہوں نے اپنی حاجت عرض کیامیر المومنین نے فورا روافرمائیپھر ارشادکیا اتنے دنوں میں تم نے اس وقت اپنی حاجت کہی۔اورفرمایا:جب کبھی تمہیں کوئی حاجت پیش آئے ہمارے پاس آنا۔اب یہ صاحب امیر المومنین کے پاس سے نکل کر حضرت عثمان بن حنیف رضی الله تعالی عنہ سے ملے ان سے کہا:الله تعالی آپ کو جزائے خیر دے امیر المومنین نہ میری حاجت میں غور فرماتے تھے نہ میری طرف التفات لاتےیہاں تك کہ آپ نے میری سفارش ان سے کی۔عثمان بن حنیف نے فرمایا:
والله ماکلمتہ ولکن شہدت رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم واتاہ رجل ضریر تشکی الیہ ذھاب بصرہ فقال لہ النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم وسلم ایت المیضاۃ فتوضا ثم صل رکعتین ثم ادع بھذہ الدعوات فقال عثمان بن حنیف فوالله ماتفرقنا وطال بنا الحدیث حتی دخل علینا الرجل کانہ لم یکن بہ ضر قط۔ خدا کی قسم!میں نے تو تمہارے بارے میں امیر المومنین سے کچھ بھی نہ کہا مگر ہے یہ کہ میں نے سید عالم صلی الله تعالی علیہ وسلم کو دیکھا حضور کی خدمت اقدس میں ایك نابینا حاضر ہوا اوراپنی نابینائی کی شکایت حضور سے عرض کیحضور اقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:موضع وضو پر جاکر وضو کر کے دورکعت نماز پڑھ پھر یہ دعائیں پڑھ۔عثمان بن حنیف رضی الله تعالی عنہ فرماتے ہیں خدا کی قسم!ہم اٹھنے بھی نہ پائے تھے باتیں ہی کر رہے تھے کہ وہ نابینا ہمارے پاس انکھیارے ہوکر آئے گویا کبھی انکی آنکھوں میں کچھ نقصان نہ تھا۔
امام طبرانی اس حدیث کی متعدد اسنادیں ذکر کر کے فرماتے ہیں:والحدیث صحیح ۔یہ حدیث صحیح ہے۔والحمدلله رب العالمین۔
حدیث ۱۲۹:کہ سید عالم صلی الله تعالی علیہ وسلم نے اہل مدینہ طیبہ سے ارشاد فرمایا:
اصبروا و ابشروا فانی قد بارکت صبرکرو اور شاد ہوکہ بیشك میں نے تمہارے
حوالہ / References المعجم الکبیرعن عثمان بن حنیف حدیث ۸۳۸ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۹/۱۸
الترغیب والترھیب بحوالۃ الطبرانی الترغیب فی صلوٰۃ الحاجۃ مصطفی البابی مصر۱/۴۷۶
#18860 · (رسالہ ضمنی)منیۃ اللبیب ان التشریح بید الحبیب ۱۳۱۱ھ (عقلمند کا مقصد کہ بے شك احکام شرع حبیب الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے اختیار میں ہیں)
علی صاعکم ومدکم۔البزار فی مسندہ عن امیر المومنین عمر رضی الله تعالی عنہ۔ رزق کی پیمانوں پر برکت کردی ہے۔(بزار نے اپنی مسند میں امیر المومنین عمر رضی الله تعالی عنہ سے روایت کیا۔ت)
اس حدیث نے بتایا کہ اہل مدینہ کے رزق میں برکت رکھنے کو حضور صلی الله تعالی علیہ وسلم نے اپنی طرف نسبت فرمایا۔

(رسالہ ضمنی)منیۃ اللبیب ان التشریح بید الحبیب ۱۳۱۱ھ
(عقلمند کا مقصد کہ بے شك احکام شرع حبیب الله صلی الله تعالی علیہ وسلم کے اختیار میں ہیں)

احادیث تحریم حرم مدینہ بحکم احکم حضور سید عالم صلی الله تعالی علیہ وسلم:
حدیث ۱۳۰:صحیحین میں ہے رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم نے عرض کی:
اللھم ان ابراھیم حرم مکۃ وانی احرم مابین لابتیہا۔ھما واحمد والطحاوی فی شرح معانی الاثار عن انس رضی الله عنہ۔ الہی !بیشك ابراہیم علیہ الصلوۃ والتسلیم نے مکہ معظمہ کو حرم کردیا اورمیں دونوں سنگستان مدینہ طیبہ کے درمیان جو کچھ ہے اسے حرم بناتاہوں۔(بخاریمسلم اوراحمد اور طحاوی نے شرح معانی الآثار میں حضرت انس رضی الله تعالی عنہ سے روایت کیا۔ت)
حدیث ۱۳۱:نیز صحیحین میں ہے رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ان ابرھیم حرم مکۃ ودعا لاھلھا وانی حرمت المدینۃ کما حرم ابراھیم مکۃ وانی بیشك ابراہیم علیہ الصلوۃ والتسلیم نے مکہ معظمہ کو حرم بنادیا اور اس کے ساکنوں کے لیے دعافرمائیاوربیشك میں نے مدینہ طیبہ کو حرم
حوالہ / References کنزالعمال بحوالۃ البزار حدیث ۳۸۱۲۳ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۴/۱۲۵
صحیح البخاری کتاب الانبیاء باب یزفون النسلان قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/۴۷۷،صحیح البخاری،کتاب المغازی غزوہ احد قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/۵۸۵مصحیح البخاری،کتاب الاعتصام باب ماذکر النبی صلی الله علیہ وسلم قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/۱۰۹۰،صحیح مسلم کتاب الحج باب فضل المدینۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/۴۴۱،مسند احمد بن حنبل عن انس رضی الله عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۳/۱۴۹،شرح المعانی الآثار کتاب الصید باب صید المدینۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲/۳۴۲
#18861 · (رسالہ ضمنی)منیۃ اللبیب ان التشریح بید الحبیب ۱۳۱۱ھ (عقلمند کا مقصد کہ بے شك احکام شرع حبیب الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے اختیار میں ہیں)
دعوت فی صاعھا ومدھا بمثلی ما دعا ابراھیم لاھل مکۃ۔ھم جمیعا عن عبدالله بن زید بن عاصم رضی الله تعالی عنہ۔ کردیا جس طرح انہوں نے مکے کو حرم کیا اورمیں نے اس کے پیمانوں میں اس سے دونی برکت کی دعا کی جو دعا انہوں نے اہل مکہ کے لیے کی تھی(ان سب نے عبدالله ابن زید بن عاصم رضی الله تعالی عنہ سے روایت کیا۔ت)
حدیث ۱۳۲:نیز صحیحین میں ابو ہریرہ رضی الله تعالی عنہ سے ہے حضور اقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم نے عرض کی: الہی! بیشك ابراہیم تیرے خلیل اورتیرے نبی ہیں اور تو نے ان کی زبان پر مکہ معظمہ کو حرام کیا اللھم وانا عبدك ونبیك وانی احرم مابین لابتیھا ۔الہی!اور میں تیرا بندہ اورتیرا نبی ہوں میں مدینہ طیبہ کی دونوں حدوں کے اندر ساری زمین کو حرم بناتا ہوں۔امام طحاوی نے اس کے قریب روایت کی اوریہ زائد کیا:
ونھی النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم ان یعضد شجرھا اویخبط اویؤخذ طیرھا ۔ رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم نے منع فرمایا کہ اس کا پیڑ کاٹیں یا پتے جھاڑیں یا اس کے پرندوں کو پکڑیں۔
حدیث ۱۳۳:صحیح مسلم میں ہے رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
انی احرم مابین لابتی المدینۃ ان یقطع عضاھھا او یقتل بیشك میں حرم بناتاہوں دوسنگلاخ مدینہ کے درمیان کو کہ اس کی ببولیں نہ کاٹی جائیں
حوالہ / References صحیح البخاری کتاب البیوع باب برکۃ صاع النبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/۲۸۶،صحیح مسلم کتاب الحج باب فضل المدینۃ ودعا النبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/۴۴۰،مسندا حمد بن حنبل عن عبدالله بن زید رضی الله عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۴/۴۰،شرح المعانی الآثار کتاب الصید باب صید المدینۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲/۳۴۲
صحیح مسلم کتاب الحج باب فضل المدینۃ ودعا النبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/۴۴۲،سنن ابن ماجۃ ابواب المناسك باب فضل المدینۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۲۳۲،کنز العمال حدیث ۳۴۸۸۲مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۲/۲۴۵
شرح معانی الآثار کتاب الصید صید المدینۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲/۳۴۳
#18862 · (رسالہ ضمنی)منیۃ اللبیب ان التشریح بید الحبیب ۱۳۱۱ھ (عقلمند کا مقصد کہ بے شك احکام شرع حبیب الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے اختیار میں ہیں)
صیدھا۔ھو و احمد والطحاوی عن سعدبن ابی وقاص رضی الله تعالی عنہ۔ اور اس کا شکار نہ ماراجائے(مسلم اوراحمد اورطحاوی نے سعد بن ا بی وقاص رضی الله تعالی عنہ سے روایت کیا۔ت)
حدیث ۱۳۴:نیز صحیح مسلم میں ہے رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ان ابراھیم حرم مکۃ وانی احرم مابین لابتیھا۔ھو و الطحاوی عن رافع بن خدیج رضی الله تعالی عنہ۔ بیشك ابراہیم نے مکہ معظمہ کو حرم کردیا اورمیں مدینہ کے دونوں سنگلاخ کے درمیان کو حرم کرتاہوں(مسلم اورطحاوی نے رافع بن خدیج رضی الله تعالی عنہ سے روایت کیا۔ت)
حدیث ۱۳۵:نیز صحیح مسلم میں ابو سعید خدری رضی الله تعالی عنہ سے ہے رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم عرض کرتے ہیں:
اللھم ان ابراھیم حرم مکۃ فجعلھا حرما وانی حرمت المدینۃ حراما مابین مازمیھا ان لایھر اق فیھا دم و لا یحمل سلاح لقتال ولا یخبط فیھا شجرۃ الا بعلف ۔ الہی !بیشك ابراہیم نے مکہ معظمہ کو حرام کر کے حرم بنادیا اور بیشك میں نے مدینہ کے دونوں کناروں میں جو کچھ ہے اسے حرم بناکرحرام کر دیا کہ اس میں کوئی خون نہ گرایا جائے نہ لڑائی کے لیے اسلحہ اٹھایا جائے نہ کسی پیڑ کے پتے جھاڑیں مگر جانور کو چارہ دینے کیلئے۔
حدیث ۱۳۶:نیز صحیح مسلم میں ہے رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم عرض کرتے ہیں:
اللھم انی قد حرمت مابین لابتیھا الہی!بیشك میں نے تمام مدنیہ کو حرم کردیا
حوالہ / References صحیح مسلم کتاب الحج باب فضائل المدینۃ الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/۴۴۰،مسندا حمد بن حنبل عن سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۱/۱۸۱،شرح معانی الآثار کتاب الصید صید المدینۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲/۳۴۱
صحیح مسلم کتاب الحج باب فضائل المدینۃ الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/۴۴۰،شرح معانی الآثار کتاب الصید صید المدینۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲/۳۴۲
صحیح مسلم کتاب الحج باب فضل المدینۃ الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/۴۴۳
#18863 · (رسالہ ضمنی)منیۃ اللبیب ان التشریح بید الحبیب ۱۳۱۱ھ (عقلمند کا مقصد کہ بے شك احکام شرع حبیب الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے اختیار میں ہیں)
کما حرمت علی لسان ابراھیم الحرم ھو واحمد و الرویانی عن ابی قتادۃ رضی الله تعالی عنہ۔ جس طرح تو نے زبان ابراہیم پر حرم محترم کر حرم بنایا(مسلم احمد اور رویانی نےابی قتادہ رضی الله تعالی عنہ سے روایت کیا۔ ت)
حدیث ۱۳۷:نیز صحیح مسلم میں ہے رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ان ابراھیم حرم بیت الله وامنہ وانی حرمت المدینۃ مابین لابتیہا لایقطع عضا ھھا ولا یصاد صیدھا۔ھو والطحاوی عن جابر بن عبدالله رضی ا لله تعالی عنہما۔ بیشك ابراہیم نے بیت الله کو حرم بنادیا اورامن والا کردیا اورمیں نے مدینہ طیبہ کوحرم کیا کہ اس کے خار دار درخت بھی نہ کاٹے جائیں اور اس کے جانور شکار نہ کئے جائیں(مسلم اورطحاوی نے حضرت جابر بن عبدالله رضی الله تعالی عنہما سے روایت کیا۔ت)
حدیث ۱۳۸:صحیحین میں ہے ابوہریرہ رضی الله تعالی عنہ نے فرمایا:
حرم رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم مابین لابتی المدینۃ وجعل اثنا عشر میلاحول المدینۃ حمی۔ھما واحمد وعبدالرزاق فی مصنفہ۔ تمام مدینہ طیبہ کو رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم نے حرم کر دیا اور اس کے آس پاس بارہ بارہ میل تك سبزہ و درخت کو لوگوں کے تصرف سے اپنی حمایت میں لے لیا۔ بخاری اورمسلم اور عبد الرزاق نے اپنی مصنف میں روایت کیا۔ت)
حوالہ / References صحیح مسلم کتاب الحج باب فضل المدینۃ الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/۴۴۰تا۴۴۳،مسند احمد بن حنبل عن ابی قتادہ رضی الله عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۵/۳۰۹،کنز العمال بحوالہ حم والرویانی عن ابی قتادہ رضی الله عنہ حدیث ۳۴۶۸۷۵مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۲/۲۴۴
شرح معانی الآثار کتاب الصید صید المدینۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲/۳۴۲،کنز العمال بحوالہ مسلم حدیث ۳۴۸۱۰ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۲/۲۳۲
صحیح البخاری فضائل المدینۃ باب حرم المدینۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/۲۵۱،صحیح مسلم کتاب الحج باب فضل المدینۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/۴۴۲،مسند احمد بن حنبل عن ابی ہریرۃ رضی الله عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۲/۴۸۷،المصنف لعبد الرزاق کتاب حرمۃ المدینۃ حدیث ۱۷۱۴۵ المجلس العلمی بیروت ۹/۲۶۰و۲۶۱
#18864 · (رسالہ ضمنی)منیۃ اللبیب ان التشریح بید الحبیب ۱۳۱۱ھ (عقلمند کا مقصد کہ بے شك احکام شرع حبیب الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے اختیار میں ہیں)
ابن جریرکی روایت یوں ہے:
حرم رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم شجرھا ان یعضد اویخبط۔رواہ عن خبیبن الھذلی رضی الله تعالی عنہ۔ رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم نے مدینہ طیبہ کے پیڑکاٹنا یا ان کے پتے جھاڑنا حرام فرمایا۔(اس کو خبیب ہذلی رضی الله تعالی عنہ سے روایت کیاہے۔ت)
حدیث ۱۳۹:صحیح مسلم شریف میں ہے رافع بن خدیج رضی الله تعالی عنہ نے فرمایا:
ان رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم حرم مابین لابتی المدینۃ۔ھو والطحاوی فی معانی الاثار۔ بیشك رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم نے تمام مدینہ طیبہ کو حرم بنادیا۔(مسلم اورطحاوی نے معانی الآثار میں روایت کیا۔ت)
حدیث ۱۴۰:نیز صحیح مسلم ومعانی الآثار میں عاصم احول سے ہے:
قلت لانس من مالك أحرم رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم المدینۃ قال نعم الحدیث ۔زاد ابو جعفر فی روایۃ لایعضد شجرھا ولمسلم فی اخری نعم ھی حرام لایختلی خلاھا فمن فعل ذلك فعلیہ لعنۃ الله و الملئکۃ والناس اجمعین ۔ یعنی میں نے انس رضی الله تعالی عنہ سے پوچھاکیا مدینہ کو رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم نے حرم بنادیا فرمایا: ہاں اس کا پیڑ نہ کاٹا جائے اس کی گھاس نہ چھیلی جائےجو ایسا کرے اس پرلعنت ہے الله اورفرشتوں اورآدمیوں سب کی۔و العیاذ بالله تعالی۔
حدیث ۱۴۱:سنن ابی داود میں ہے سعد بن ابی وقاص رضی الله تعالی عنہ نے فرمایا:
حوالہ / References صحیح مسلم کتاب الحج باب فضل المدینۃ الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/۴۴۰،شرح معانی الآثار کتاب الصید باب صید المدینۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲/۳۴۲
صحیح مسلم کتاب الحج فضل المدینۃ الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/۴۴۱
شرح معانی الآثار کتاب الصید باب صید المدینۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲/۳۴۳
صحیح مسلم کتاب الحج باب فضل المدینۃ الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/۴۴۱
#18865 · (رسالہ ضمنی)منیۃ اللبیب ان التشریح بید الحبیب ۱۳۱۱ھ (عقلمند کا مقصد کہ بے شك احکام شرع حبیب الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے اختیار میں ہیں)
ان رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم حرم ھذا الحرم ۔ بیشك رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم نے اس حرم محترم کو حرم بنادیا۔
حدیث ۱۴۲:شرحبیل کہتے ہیں ہم مدینہ طیبہ میں کچھ جال لگا رہے تھے زید بن ثابت انصاری رضی الله تعالی عنہ تشریف لائے جا ل پھینك دیے اورفرمایا:
تعلموا ان رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم حرم صیدھا۔الامام ابو جعفر فی شرح الطحاوی۔ تمہیں خبر نہیں کہ رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم نے مدینہ طیبہ کا شکار حرام قراردیاہے۔(امام ابو جعفر نے شرح طحاوی میں اس کو بیان کیا ہے۔ت)
ابوبکر بن ابی شیبہ نے زید رضی الله تعالی عنہ سے یوں روایت کی:
ان النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم حرم مابین لابتیھا ۔ بیشك نبی صلی الله تعالی علیہ وسلم نے مدینے کے دونوں سنگلاخ کے مابین کو حرم کردیا۔
حدیث ۱۴۳:ابوسعید خدری رضی الله تعالی عنہ فرماتے ہیں:
ان رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم حرم مابین لابتی المدینۃ ان یعضد شجرھا اویخبط ۔ بیشك رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم نے تمام مدینے کو حرم بنادیا ہے کہ اس کے پیڑ نہ کاٹے جائیں نہ پتے جھاڑیں۔
حدیث ۱۴۴:ابراہیم بن عبدالرحن بن عوف فرماتے ہیں میں نے ایك چڑیا پکڑی تھی اسے لئے ہوئے باہر گیا میرے والد ماجد حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی الله تعالی عنہ ملے شدت سے میر اکان مل کر چڑیا کو چھوڑدیا اورفرمایا:
حرم رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم صید ما بین لابتیھا ۔ رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم نے مدینے کا شکار حرام فرمادیاہے۔
حوالہ / References سنن ابی داؤد کتاب المناسك باب فی تحریم المدینۃ آفتاب عالم پریس لاہور ۱/۲۷۸
شرح معانی الآثار کتاب الصید صید المدینۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲/۳۴۲

شرح معانی الآثار کتاب الصید صید المدینۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲/۳۴۲
شرح معانی الآثار کتاب الصید صید المدینۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲/۳۴۲
#18866 · (رسالہ ضمنی)منیۃ اللبیب ان التشریح بید الحبیب ۱۳۱۱ھ (عقلمند کا مقصد کہ بے شك احکام شرع حبیب الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے اختیار میں ہیں)
حدیث۱۴۵:صعب بن جثامہ رضی الله تعالی عنہ فرماتے ہیں:
ان رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم حرم البقیع وقال لاحمی الالله ورسولہ ۔ بیشك رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم نے بقیع کو حرم بنادیا اورفرمایا:چراگاہ کو کوئی اپنی حمایت میں نہیں لے سکتاسوا الله ورسول کے جل جلالہ و صلی الله تعالی علیہ وسلم۔
روی الثلثۃ الا مام الطحاوی(تینوں احادیث امام طحاوی نے روایت کیں۔ت)
یہ سولہ۱۶ حدیثیں ہیںپہلی آٹھ میں خود حضور اقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہم نے مدینہ طیبہ کو حرم کردیا اورپچھلی آٹھ میں صحابہ کرام رضی الله تعالی عنہم نے کہا کہ حضور کے حرم کردینے سے مدینہ طیبہ حرم ہوگیاحالانکہ یہ صفت خاص الله عزوجل کی ہے۔پہلی آٹھ سے پانچ میں اپنے پدرکریم سیدنا ابراہیم علیہ الصلوۃ والتسلیم کی طرف بھی یہی نسبت ارشاد ہوئی کہ مکہ معظمہ کی حرم محترم انہوں نے حرم کردی انہوں نے امن والی بنادیحالانکہ خود ارشاد فرماتے ہیں صلی الله تعالی علیہ وسلم:
ان مکۃ حرمھا الله تعالی ولم یحرمھا الناس۔ البخاری والترمذی عن ابی شریح ن البغدادی رضی الله تعالی عنہ۔ بیشك مکہ معظمہ کو الله تعالی نے حرم کیا ہے کسی آدمی نے نہ نہیں کیا۔(بخاری اورترمذی نے ابی شریح بغدادی رضی الله تعالی عنہ سے روایت کیا۔ت)
یہ اسناد یں خاص ہمارے رسالے کی مقصود ہیں مگر یہاں جان وہابیت پر ایك آفت اورسخت وشدید تر ہےمدینہ طیبہ کے جنگل کا حرم ہونا نہ فقط انہیں سولہ بلکہ انکے سوا اوربہت احادیث کثیرہ وارد ہیں۔
حدیث۱۷ صحیحین:انس رضی الله تعالی عنہ سےرسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
المدینۃ حرم من کذا الی کذا مدینہ یہاں سے یہاں تك حرم ہے اس کا
حوالہ / References شرح معانی الآثار باب احیاء الارض المیتۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲/۱۷۵
صحیح البخاری ابواب العمرۃ باب لایعضد شجر الحرم قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/۲۴۷،سنن الترمذی کتاب الحج حدیث ۸۰۹ دارالفکر بیروت ۲/۲۱۷
#18867 · (رسالہ ضمنی)منیۃ اللبیب ان التشریح بید الحبیب ۱۳۱۱ھ (عقلمند کا مقصد کہ بے شك احکام شرع حبیب الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے اختیار میں ہیں)
لایقطع شجرھا۔ھما واحمد والطحاوی واللفظ للجامع الصحیح۔ پیڑ نہ کاٹا جائے۔امام بخاری اورمسلم اوراحمد اورطحاوی نے روایت کیااور لفظ جامع الصحیح کے ہیں۔ت)
حدیث۱۸صحیحین:ابوہریرہ رضی الله تعالی عنہ سےرسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
المدینۃ حرم الحدیث ھما والطحاوی وابن جریر واللفظ للمسلم۔ مدینہ حرم ہے(بخاری ومسلم اورطحاوی اورابن جریر نے روایت کیااورلفظ مسلم کے ہیں۔ت)
حدیث ۱۹صحیحین:مولی علی کرم الله تعالی وجہہ الکریم سےرسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
المدینۃ حرم مابین عیر الی کذا ولمسلم والطحاوی مابین عیر الی ثور الحدیث زاد احمد وابو داود فی روایۃ لایختلی خلاھا ولاینفر صیدھا ۔ مدینہ کوہ عیر سے جبل ثور تك حرم ہے۔احمداور ابو داود نے ایك روایت میں یہ اضافہ کیا کہ اس کی گھاس نہ کاٹی جائے اور اس کا شکار نہ بھڑکایاجائے۔
حوالہ / References صحیح البخاری فضائل مدینہ باب حرمۃ المدینۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/۲۵۱،صحیح مسلم کتاب الحج باب فضل المدینۃ الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/۴۴۱،کنز العمال بحوالہ حم وغیرہ حدیث ۳۴۸۰۴مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۲/۲۳۱،مسند احمد بن حنبل عن انس رضی الله تعالٰی عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۳/۲۴۲
صحیح مسلم کتاب الحج باب فضل المدینۃ الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/۴۴۲
صحیح البخاری فضائل مدینہ باب حرمۃ المدینۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/۲۵۱،صحیح مسلم کتاب الحج باب فضائل مدینہ الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/۴۴۲،سنن ابی داؤد کتاب المناسك باب فی تحریم المدینۃ آفتاب عالم پریس لاہور ۱/۲۷۸،مسند احمد بن حنبل عن علی رضی الله عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۱/۸۱،شرح معانی الآثار کتاب الصید باب صید المدینۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲/۳۴۱
مسند احمد بن حنبل عن علی رضی الله عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۱/۱۱۹،سنن ابی داود،کتاب المناسك باب فی تحریم المدینۃ آفتاب عالم پریس لاہور۱/۲۷۸
#18868 · (رسالہ ضمنی)منیۃ اللبیب ان التشریح بید الحبیب ۱۳۱۱ھ (عقلمند کا مقصد کہ بے شك احکام شرع حبیب الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے اختیار میں ہیں)
حدیث۲۰صحیح مسلم:سہل بن حنیف رضی الله تعالی عنہ سےرسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم نے دست مبارك سے مدینہ طیبہ کی طرف اشارہ کر کے فرمایا:
انھاحرم امنھو واحمد والطحاوی وابو عوانۃ۔ بیشك یہ امن والی حرم ہے۔(مسلماحمدطحاوی اورابوعوانہ نے روایت کیا۔ت)
حدیث۲۱:امام احمدحضرت عبدالله بن عباس رضی الله تعالی عنہما سےرسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لکل نبی حرم وحرمی المدینۃ ۔ ہر نبی کے لیے ایك حرم ہوتی ہے اورمیر ی حرم مدینہ ہے۔
حدیث ۲۲:عبدالرزاق حضرت جابر بن عبدالله رضی الله تعالی عنہما سے:
ان النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم حرم کل دافۃ اقبلت علی المدینۃ من العضۃ الحدیث ۔ بیشك نبی صلی الله تعالی علیہ وسلم نے ہر گروہ مردم کو کہ حاضر مدینہ ہو اس کے خاردار درختوں کو ممنوع فرمادیا۔
حدیث ۲۳:امام طحاوی بطریق مالك عن یونس بن یوسف عن عطا بن یسار کہ لڑکوں نے ایك روباہ کو گھیر کر ایك گوشے میں کردیا تھاابو ایوب انصاری رضی الله تعالی عنہ نے لڑکوں کو دورکردیاامام مالك فرماتے ہیں اور مجھے اپنے یقین سے یہ یا دہے کہ فرمایا:
انی حرم رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم یصنع ھذا ۔ کیارسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم کی حرم میں ایسا کیا جاتاہے
حوالہ / References صحیح مسلم کتاب الحج باب فضل المدینۃ الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/۴۴۳ومسند احمد بن حنبل عن سہل بن حنیف المکتب الاسلامی بیروت ۳/۴۸۶وکنز العمال بحوالہ ابی عوانہ حدیث ۳۴۸۰۰مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۲/۲۳۰وشرح معانی الآثار کتاب الصید باب صید المدینۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲/۳۴۲
مسند احمد بن حنبل عن ابن عباس رضی الله عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۱/۳۱۸
المصنف لعبدالرزاق باب حرمۃ المدینۃ حدیث ۱۷۱۴۷ المجلس العلمی بیروت ۹/۲۶۱
شرح معانی الآثار کتاب الصید صید المدینۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲/۳۴۲
#18869 · (رسالہ ضمنی)منیۃ اللبیب ان التشریح بید الحبیب ۱۳۱۱ھ (عقلمند کا مقصد کہ بے شك احکام شرع حبیب الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے اختیار میں ہیں)
حدیث ۲۴:مسند الفردوس میں عبدالله بن مسعود رضی الله تعالی عنہ سے کہ رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:
یبعث الله عزوجل من ھذہ البقعۃ ومن ھذا الحرم سبعین الفا یدخلون الجنۃ بغیر حساب یشفع کل واحد منھم فی سبعین الفاوجوھھم کالقمر لیلۃ البدر ۔ الله تعالی روز قیامت اس بقیع اوراس حرم سے ستر ہزار شخص ایسے اٹھائے گا کہ بیحساب جنت میں جائیں گے اوران میں ہر ایك ستر ہزار کی شفاعت کرے گا ان کے چہرے چودھویں رات کے چاند کی طرح ہوں گے۔
اوراگر وہ حدیثیں گنی جائیں جن میں مکہ معظمہ ومدینہ طیبہ کو حرمین فرمایا تو عدد کثیر ہیںبالجملہ حدیثیں اس باب میں حدتواتر پر ہیںتو بالیقین ثابت کہ مصطفی صلی الله تعالی علیہ وسلم نے مدینہ طیبہ کے جنگل کا بتاکید تام واہتمام تمام وہی ادب مقرر فرمادیا جو مکہ معظمہ کے جنگل کا ہے
بایں ہمہ طائفہ تالفہ وہابیہ کا امام بد فرجام بکمال دریدہ دہنی صاف صاف لکھ گیا:''گردوپیش کے جنگل کا ادب کرنا یعنی وہاں شکار نہ کرنادرخت نہ کاٹنایہ کام الله نے اپنی عبادت کے لیے بتائے ہیں پھر جوکوئی کسی پیرپیغمبر یا بھوت وپری کے مکانوں کےگردوپیش کے جنگل کا ادب کرے تو اس پرشرك ثابت ہے''
کیوںہم نہ کہتے تھے کہ یہ ناپاك مذہب ملعون مشرب اسی لئے نکلا ہے کہ الله ورسول تك شرك کا حکم پہنچائے پھر اورکسی کی کیا گنتی۔تف ہزار تف بر روئے بددینی۔اب دیکھنا ہے کہ اس امام بے لگام کے مقلد کہ بڑے موحد بنے پھرتے ہیں اپنے امام کا ساتھ دیتے ہیں یا محمد رسول الله پڑھنے کی کچھ لاج رکھتے ہیں۔الله کے بے شمار درودیں محمدرسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم اوران کے ادب داں غلاموں پر۔
تنبیہ نبیہ:مسلمانو!صرف یہی نہ سمجھنا کہ اس گمراہ امام الطائفہ کے نزدیك حرم محترم حضور پرنورمالك الامم صلی الله تعالی علیہ وسلم کا ادب ہی شرك ہےنہیں نہیں بلکہ اس کے مذہب
حوالہ / References الفردوس بما ثور الخطاب حدیث ۸۱۲۳دارالکتب العلمیۃ بیروت ۵/۲۶۰وکنز العمال حدیث ۳۴۹۶مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۲/۲۶۲
تقویۃ الایمان مقدمۃ الکتاب مطبع علیمی اندرون لوہاری دروازہ لاہورص۸
#18870 · (رسالہ ضمنی)منیۃ اللبیب ان التشریح بید الحبیب ۱۳۱۱ھ (عقلمند کا مقصد کہ بے شك احکام شرع حبیب الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے اختیار میں ہیں)
میں جوشخص حضور اکرم صلی الله تعالی علیہ وسلم کی زیارت سراپا طہارت کے لیے مدینہ طیبہ کو چلے اگرچہ چار پانچ ہی کو س کے فاصلے سے(کہ کہیں وہابیت کے شرك شدالرحال کا ماتھا نہ ٹھنکے)اس پر راستے میں بے ادبیاں بیہود گیاں کرتے چلنافرض عین وجز ایمان ہے یہاں تك کہ اگراپنے مالك وآقا صلی الله تعالی علیہ وسلم کے عظمت وجلال کے خیال سے باادب مہذب بن کر چلے گا اس کے نزدیك مشرك ہوجائے گا۔اسی کتاب ضلالت مآب کے اسی مقام میں "رستے میں نامعقول باتیں کرنے سے " ۔ بچنا بھی انہیں امورمیں گنادیا جنہیں خدا پر افترا کہتاہے ''یہ سب کام الله نے اپنی عبادت کے لیے اپنے بندوں کوبتائے ہیں جو کوئی کسی پیر وپیغمبر کے لیے کرے اس پرشرك ثابت ہے ''
سبحان الله!نامعقول باتیں کرنا بھی جزو ایمان نجدیہ ہے بلکہ سچ پوچھو تو ان کا تمام ایمان اسی قدر ہے وہ تو خیریہ ہو گئی کہ مجتہد الطائفہ کو یہ عبارت لکھتے وقت آیہ کریمہ " فلا رفث ولا فسوق ولا جدال فی الحج" (تو نہ عورتوں کے سامنے صحبت کا تذکرہ ہو نہ کوئی گناہ نہ کسی سے جھگڑا حج کے وقت۔ت)پوری یاد نہ آئی ورنہ راہ مدینہ طیبہ میں فسق وفجور کرتے چلنا بھی فرض کہہ دیتا وہ بھی ایسا کہ جو وہاں فسق سے بازآئے مشرك ہوجائےولاحول ولا قوۃ الابالله العلی العظیم۔
لطیفہ حقہ:حضرات نجدیہ!خداراانصافکیا افعال عبادت سے بچنا انبیاء واولیاء ہی کے معاملے سے خاص ہے آپس میں ایك دوسرے کے ساتھ شرك کے کام جائزنہیں نہیں جو شرك ہے ہر غیر خدا کے ساتھ شرك ہےتو آپ حضرات جب اپنے کسی نذیر بشیر یا پیر فقیر یا مرید رشید یا دوست عزیز کے یہاں جایا کیجئے تو راستے میں لڑتے جھگڑتے ایك دوسرے کا سر پھوڑتے ماتھا رگڑتے چلا کیجئے ورنہ دیکھو کھلم کھلا مشرك ہوجاؤ گے ہرگز مغفرت کی بو نہ پاؤگے کہ تم نے غیر حج کی راہ میں ان باتوں سے بچ کر وہ کام کیا جو الله نے اپنی عبادت کے لیے اپنے بندوں کوبتایا تھا اوراس جوتی پیزار میں یہ نفع کیسا ہے کہ ایك کام میں تین مزے جدال ہونا تو خود ظاہر اورجب بلاوجہ ہے تو فسوق بھی حاضر اور رفث کے معنی ہر معقول بات کے ٹھہرے تو وہ بھی حاصل۔ایك ہی بات میں ایمان نجدیت کے تینوں رکن کامل۔ولا حول ولا قوۃ الا بالله العلی
حوالہ / References تقویۃ الایمان مقدمۃ الکتاب مطبع علیمی اندرون لوہاری دروازہ لاہورص۷ و ۸
تقویۃ الایمان مقدمۃ الکتاب مطبع علیمی اندرون لوہاری دروازہ لاہورص۷ و ۸
القرآن الکریم ۲ /۱۹۷
#18871 · (رسالہ ضمنی)منیۃ اللبیب ان التشریح بید الحبیب ۱۳۱۱ھ (عقلمند کا مقصد کہ بے شك احکام شرع حبیب الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے اختیار میں ہیں)
العظیم۔الحمدلله خامہ برق بار رضاخرم سوزی نجدیت میں سب سے نرالا رنگ رکھتاہےوالحمدلله رب العالمین۔
تذییل وتکمیل
اقول:وبالله التوفیق(میں کہتاہوں اورتوفیق الله تعالی سے ہے۔ت)
احکام الہی کی دو قسمیں ہیں:تکوینیہ مثل احیاء واماتت وقضائے حاجت ودفع مصیبت وعطائے دولت ورزق ونعمت وفتح وشکست وغیرہا عالم کے بندوبست۔
دوسرے تشریعیہ کہ کسی فعل کو فرض یا حرام یا واجب یا مکروہ یا مستحب یامباح کردینا مسلمانوں کے سچے دین میں ا ن دونوں حکموں کی ایك ہی حالت ہے کہ غیر خدا کی طرف بروجہ ذاتی احکام تشریعی کی اسناد بھی شرك۔
قال الله تعالی" ام لہم شرکـؤا شرعوا لہم من الدین ما لم یاذن بہ اللہ " ۔ الله تعالی نے فرمایا:کیا ان کے لیے خدا کی الوہیت میں کچھ شریك ہیں جنہوں نے ان کے واسطے دین میں اورراہیں نکال دی ہیں جن کا خدا نے انہیں حکم نہ دیا۔
اوربروجہ عطائی امور تکوین کی اسناد بھی شرك نہیں۔
قال الله تعالی:" فالمدبرت امرا ﴿۵﴾" ۔ قسم ان مقبول بندوں کی جو کاروبارعالم کی تدبیر کرتے ہیں۔
مقدمہ رسالہ میں شاہ عبدالعزیز کی شہادت سن چکے کہ:
حضرت امیر وذریۃ طاہرہ اوراتمام امت برمثال پیران و مرشدان می پرستند وامور تکوینیہ رابایشاں وابستہ میدانند ۔ حضرت امیر(مولاعلی کرم الله تعالی وجہہ الکریم)اور ان کی اولاد کو تمام امت اپنے مرشد جیسا سمجھتی ہے اورامورتکوینیہ کو ان سے وابستہ جانتی ہے۔(ت)
حوالہ / References القرآن الکریم ۴۲ /۲۱
القرآن الکریم ۸۰ /۵
تحفہ اثنا عشریہ باب ہفتم درامامت سہیل اکیڈمی لاہور ص۲۱۴
#18872 · (رسالہ ضمنی)منیۃ اللبیب ان التشریح بید الحبیب ۱۳۱۱ھ (عقلمند کا مقصد کہ بے شك احکام شرع حبیب الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے اختیار میں ہیں)
مگر کچے وہابی ان دوقسموں میں فرق کرتے ہیںاگر کہئے رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم نے یہ بات فرض کی یافلاں کام حرام کردیا توشرك کاسودانہیں اچھلتااوراگرکہئے رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم نے نعمت دی یا غنی کردیا تو شرك سوجھتا ہے۔یہ انکا نرا تحکم ہی نہیں خود اپنے مذہب نامہذب میں کچا پن ہے۔جب ذاتی اورعطائی کا تفرقہ اٹھا دیا پھر احکام میں فرق کیساسب کا یکساں شرك ہونا لازمآخر ان کا امام مطلق وعام کہہ گیا کہ:
''کسی کا م میں نہ بالفعل ان کو دخل ہے اورنہ اس کی طاقت رکھتے ہیں '' ۔نیز کہا:''کسی کام کو روایا ناروا کر دینا الله ہی کی شان ہے '' ۔
صاف ترکہا:''کسی کی راہ ورسم کو ماننا اوراسی کے حکم کو اپنی سند سمجھنا یہ بھی انہیں باتوں میں سے ہے کہ خاص الله نے اپنی تعظیم کے واسطے ٹھہرائی ہیں تو جو کوئی یہ معاملہ کسی مخلوق سے کرے تو اس پر بھی شرك ثابت ہے '' ۔اورآگے اس کا قول: ''سو الله کے حکم پہنچنے کی راہ بندوں تك رسول ہی کا خبر دینا ہے '' ۔
اس میں وہ رسول کو حاکم نہیں مانتاصرف مخبر وپیغام رساں مانتا ہے اوراس سے پہلے حصہ کے ساتھ تصریح کرچکا ہے کہ: ''پیغمبر کا اتنا ہی کام ہے کہ برے کام پر ڈرا دیوے اوربھلے کام پر خوشخبری سنا دیوے ''
نیز کہا کہ:
حوالہ / References تقویۃ الایمان الفصل الثالث مطبع علیمی اندرون لوہاری دروازہ لاہور ص۲۰
تقویۃ الایمان الفصل الثالث مطبع علیمی اندرون لوہاری دروازہ لاہور ص۲۰
تقویۃ الایمان الفصل الرابع مطبع علیمی اندرون لوہاری دروازہ لاہور ص۲۸
تقویۃ الایمان الفصل الرابع مطبع علیمی اندرون لوہاری دروازہ لاہور ص۲۸
تقویۃ الایمان الفصل الثانی مطبع علیمی اندرون لوہاری دروازہ لاہور ص۲۸
#18873 · (رسالہ ضمنی)منیۃ اللبیب ان التشریح بید الحبیب ۱۳۱۱ھ (عقلمند کا مقصد کہ بے شك احکام شرع حبیب الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے اختیار میں ہیں)
''انبیاء اولیاء کو جو الله نے سب لوگوں سے بڑا بنایا سو ان میں بڑائی یہی ہوتی ہے کہ الله کی راہ بتاتے ہیں اوربرے بھلے کاموں سے واقف ہیں سولوگوں کو سکھلاتے ہیں "۔صرف بتانے جاننے پہچاننے پر یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ حکم ان کے ہیں فرائض کو انہوں نے فرض کیا محرمات کو انہوں نے حرام کردیا۔
آخر ہمیں جو احکام معلوم ہوئے اپنے بزرگوں سے آئے انہیں ان کے اگلوں نے بتائےیونہی طبقہ بطبقہ تبع کو تابعینتابعین کو صحابہصحابہ کو سید عالم صلی الله تعالی علیہ وسلم سےتو کیا کوئی یوں کہے گا کہ نماز میرے باپ نے فرض کی ہے یا زنا کو میرے استاد نے حرام کردیا۔نبی کی نسبت اگر یوں کہئے گا تو وہی ذاتی عطائی کا فرق مان کراورکسی کی راہ ماننے اور اس کا حکم سند جاننے کو ان افعال سے گن چکا جو الله تعالی نے اپنی تعظیم کے لیے خاص کئے ہیں اورانہیں غیر کے لیے کرنے کا نام اشراك فی العبادۃ رکھااوراس قسم میں بھی مثل دیگر اقسام تصریح کی کہ:
''پھر خواہ یوں سمجھے کہ یہ آپ ہی اس تعظیم کے لائق ہیں یا یوں سمجھے کہ انکی اس طرح کی تعظیم سے الله خوش ہوتاہے ہر طرح شرك ثابت ہوتاہے '' ۔ توذاتی وعطائی کا تفرقہ دین نجدی میں قیامت کا تفرقہ ڈال دے گا۔وہ صاف کہہ چکا:''نہیں حکم کسی کا سوائے الله کے اس نے تو یہی حکم کیا ہے کہ کسی کو اس کے سوا مت مانو'' ۔
جب رسول کو ماننے ہی کی نہ ٹھہری تو رسول کو حاکم ماننا اورفرائض ومحرمات کو رسول کے فرض وحرام کردینے سے جاننا کیونکر شرك نہ ہوگاغرض وہ اپنی دھن کا پکا ہےولہذا محمدر سول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم نے کس قدرتاکید شدید سے مدینہ طیبہ کے گردو پیش کے جنگل کا ادب فرض کیا اوراس میں شکار وغیرہ منع فرمایامگر یہ جو ارشادہوا کہ ''مدینے کو حرم میں کرتا ہوں۔ "اس چوٹی کے موحدنے کہ جا بجا کہتاہے کہ "خدا کے سواکسی کو نہ مانو''صاف صاف حکم شرك جڑدیا اورالله واحد قہار کے غضب کا کچھ خیال نہ کیا" و سیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون ﴿۲۲۷﴾
" (اور اب جان جائیں گے ظالم کہ کس کروٹ پلٹا کھائیں گے۔ت) تو مناسب ہواکہ بعض احادیث وہ بھی ذکر کرجائیں جن میں احکام تشریعیہ کی اسناد صریح ہےاوراب اس قسم کی خاص دو آیتوں کا ذکر بھی محموداگرچہ آیات گزشتہ سے بھی دوآیتوں میں یہ مطلب موجوداوران کے ذکر سے جب عدد آیات انصاف عقود سے متجاوز ہوگا توتکمیل عقد کے لیے تین آیتوں کا اوربھی اضافہ ہوکہ پچاس کا عدد پورا ہوجس طرح احادیث میں بعونہ تعالی پانچ خمسین یعنی ڈھائی سو کا عدد کامل ہوگاورنہ استیعاب آیات عــــــہ میں منظورنہ احادیث میں مقدوروالله الھادی الی منائر النور
عــــــہ:مثلا یہی احکام تشریعیہ کی آیات بکثرت ہیں جن سے دو ہی یہاں مذکوریونہی اس مضمون میں کہ خلائق کو موت فرشتے دیتے ہیںصرف دوآیتیں اوپر گزریںقرآن پاك میں پانچ آیتیں اس مضمون کی اورہیںہم ان پانچ کو یہاں ذکر کردیں کہ اول پانچ آیتیں کتب سابقہ سے مذکور ہوئی ہیں ان کے سبب پچاس پوری صرف قرآن عظیم سے ہوجائیں۔
حوالہ / References تقویۃ الایمان الفصل الثانی فی ردالاشراك فی العلم مطبع علیمی اندرون لاہاری دروازہ لاہور ص۱۷
تقویۃ الایمان مقدمۃ الکتاب مطبع علیمی اندرون لاہاری دروازہ لاہور ص۸
تقویۃ الایمان الفصل الرابع مطبع علیمی اندرون لاہاری دروازہ لاہور ص۲۸
القرآن الکریم ۲۶ /۲۲۷
#18874 · (رسالہ ضمنی)منیۃ اللبیب ان التشریح بید الحبیب ۱۳۱۱ھ (عقلمند کا مقصد کہ بے شك احکام شرع حبیب الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے اختیار میں ہیں)
آیت ۱:" ان الذین توفىہم الملئکۃ" ۔
آیت ۲:" جاءتہم رسلنا یتوفونہم " ۔
آیت ۳:" ولو تری اذ یتوفی الذین کفروا الملئکۃ" ۔
آیت ۴:" ان الخزی الیوم والسوء علی الکفرین ﴿۲۷﴾ الذین تتوفىہم الملئکۃ ظالمی انفسہم ۪ " ۔
آیت ۵:" کذلک یجزی اللہ المتقین ﴿۳۱﴾ الذین تتوفىہم الملئکۃ طیبین " بیشك وہ لوگ جنہیں موت دی فرشتوں نے۔
ہمارے رسول ان کے پاس آئے انہیں موت دینے کو۔
کاش تم دیکھو جب کافروں کو موت دیتے ہیں فرشتے۔
بیشك آج کے دن رسوائی اورمصیبت کا فروں پر ہے جنہیں موت فرشتے دیتے ہیں اس حال میں کہ وہ اپنی جانوں پر ستم ڈھائے ہوئے ہیں۔
ایسا ہی بدلہ دیتاہے الله پرہیزگاروں کو جنہیں موت فرشتے دیتے ہیں پاکیزہ حالت میں۔
جعلنا منھم بفضل رحمتہ امین(الله تعالی ہمیں اپنے فضل ورحمت سے انہیں میں سے کردے۔آمین۔ت)
#18875 · (رسالہ ضمنی)منیۃ اللبیب ان التشریح بید الحبیب ۱۳۱۱ھ (عقلمند کا مقصد کہ بے شك احکام شرع حبیب الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے اختیار میں ہیں)
ہم پہلے وہ تین آیتیں تلاوت کریں کہ پھر احکام تشریعیہ کا بیان آیات واحادیث سے مسلسل رہے وبالله التوفیق۔
آیت ۴۶:" ان کل نفس لما علیہا حافظ ﴿۴﴾" ۔
آیت ۴۷:" الر کتب انزلنہ الیک لتخرج الناس من الظلمت الی النور ۬ باذن ربہم الی صرط العزیز الحمید ﴿۱﴾" ۔

آیت ۴۸:" ولقد ارسلنا موسی بایتنا ان اخرج قومک من الظلمت الی النور ۬ " ۔ کوئی جان نہیں جس پر ایك نگہبان متعین نہ ہو۔
یہ کتاب ہم نے تمہاری طرف اتاری تاکہ تم اے نبی!لوگوں کو اندھیروں سے نکال لوروشنی کی طرف انکے رب کی پروانگی سے غالب سراہے گئے کی راہ کی طرف۔
اوربیشك بالیقین ہم نے موسی کو اپنی نشانیوں کے ساتھ بھیجا کہ اے موسی!تونکال لے اپنی قوم کواندھیروں سے روشنی کی طرف۔
اقول:اندھیریاں کفروضلالت ہیں اور روشنی ایمان وہدایت جسے غالب سراہے گئے کی راہ فرمایا۔اورایمان وکفر میں واسطہ نہیں ایك سے نکالنا قطعا دوسرے میں داخل کرنا ہے۔توآیات کریمہ صاف ارشاد فرمارہی ہیں کہ بنی اسرائیل کو موسی علیہ الصلوۃ والسلام نے کفر سے نکالا اورایمان کی روشنی دے دی اس امت کو مصطفی صلی الله تعالی علیہ وسلم کفر سے چھڑاتے ایمان عطافرماتے ہیںاگر انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کا یہ کام نہ ہوتا انہیں اس کی طاقت نہ ہوتی تو رب عزوجل کا انہیں یہ حکم فرمانا کہ کفر سے نکال لو معاذ الله تکلیف مالا یطاق تھا۔
الحمد لله!قرآن عظیم نے کیسی تکذیب فرمائی امام وہابیہ کے اس حصر کی کہ:
"پیغمبر خدا نے بیان کردیا کہ مجھ کو نہ قدرت ہے نہ کچھ غیب دانیمیری قدرت کا حال تو یہ ہے کہ اپنی جان تك کے نفع و نقصان کا مالك نہیں تو دوسرے کا تو کیا کرسکوں۔غرض کہ کچھ قدرت مجھ میں نہیںفقط پیغمبری کا مجھ کو دعوی ہے اورپیغمبرکا اتنا ہی کام ہے
#18876 · (رسالہ ضمنی)منیۃ اللبیب ان التشریح بید الحبیب ۱۳۱۱ھ (عقلمند کا مقصد کہ بے شك احکام شرع حبیب الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے اختیار میں ہیں)
کہ برے کام پر ڈرا دیوے اوربھلے کام پر خوشخبری سنا دیوے دل میں یقین ڈال دینا میرا کام نہیں انبیاء میں اس بات کی کچھ بڑائی نہیں کہ الله نے عالم میں تصرف کی کچھ قدرت دی ہو کہ مرادیں پوری کردیویں یا فتح وشکست دے دیویں یا غنی کردیویں یا کسی کے دل میں ایمان ڈال دیویں ان باتوں میں سب بندے بڑے اورچھوٹے برابر ہیں عاجز اوربے اختیار اھ ''ملخصا۔
مسلمانو!اس گمراہ کے ان الفاظ کو دیکھو اوران آیتوں اورحدیثوں سے کہ اب تك گزریں ملاؤ دیکھو یہ کس قدر شدت سے خدا و رسول کو جھٹلارہا ہےخیر اسے اس کی عاقبت کے حوالے کیجئےشکر اس اکرم الاکرمین کا بجالائیے جس نے ہمیں ایسے کریم اکرم دائم الکرم صلی الله تعالی علیہ وسلم کے ہاتھ سے ایمان دلوایا ان کے کرم سے امید واثق ہے کہ بعونہ تعالی محفوظ بھی رہے
تو نے اسلام دیا تو نے جماعت میں لیا
تو کریم اب کوئی پھرتا ہے عطیہ تیرا
ہاں یہ ضرور ہے کہ عطائے ذاتی خاصہ خدا ہے " انک لا تہدی من احببت " (بیشك یہ نہیں کہ تم جسے اپنی طرف سے چاہو ہدایت کردو۔ت)وغیرہا میں اسی کا تذکرہ ہے کچھ ایمان کے ساتھ خاص نہیں پیسہ کوڑی بھی بے عطائے خدا کوئی بھی اپنی ذات سے نہیں دے سکتا۔ع
تاخداندہد سلیماں کے دہد
(جب تك خدا نہ دے سلیمان کیسے دے سکتاہے۔ت)
یہی فرق ہے جسے گم کر کے تم ہرجگہ بہکے اور" افتؤمنون ببعض الکتب وتکفرون ببعض " ۔ (اورخدا کے کچھ حکموں پر ایمان لاتے ہو اورکچھ سے انکار کرتے ہو۔ت)میں داخل ہوئے۔
نسأل الله العافیۃ وتمام العافیۃ ودوام العافیہ و الحمدلله رب العلمین۔ ہم الله تعالی سے کامل دائمی عافیت کا سوال کرتے ہیںاور تمام تعریفیں الله رب العالمین کے لیے ہیں۔(ت)
حوالہ / References تقویۃ الایمان الفصل الثانی فی ردالاشراك فی العلم مطبع علیمی اندرون لوہاری دروازہ لاہور ص۱۵
حدائق بخشش وصل اول مکتبہ رضویہ کراچی ص۳
القرآن الکریم ۲۸ /۵۶
القرآن الکریم ۲ /۸۵
#18877 · (رسالہ ضمنی)منیۃ اللبیب ان التشریح بید الحبیب ۱۳۱۱ھ (عقلمند کا مقصد کہ بے شك احکام شرع حبیب الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے اختیار میں ہیں)
آیت ۴۹:" قتلوا الذین لایؤمنون باللہ ولابالیوم الاخر و لایحرمون ما حرم اللہ ورسولہ" ۔
آیت ۵۰:" وما کان لمؤمن و لا مؤمنۃ اذا قضی اللہ و رسولہ امرا ان یکون لہم الخیرۃ من امرہم ومن یعص اللہ و رسولہ فقد ضل ضللا مبینا ﴿۳۶﴾" ۔ لڑو ان سے جو ایمان نہیں لاتے اورنہ پچھلے دن پراورحرام نہیں مانتے اس چیز کو جسے حرام کردیا ہے الله اوراس کے رسول محمدصلی الله تعالی علیہ وسلم نے۔
نہیں پہنچتا کسی مسلمان مرد نہ کسی مسلمان عورت کو کہ جب حکم کریں الله ورسول کسی بات کا کہ انہیں کچھ اختیار ہے اپنی جانوں کا اورجو حکم نہ مانے الله ورسول کا وہ صریح گمراہی میں بہکا۔
یہاں سے ائمہ مفسرین فرماتے ہیں حضور سید المرسلین صلی الله تعالی علیہ وسلم نے قبل طلوع آفتاب اسلام زید بن حارثہ رضی الله تعالی عنہ کو مول لے کر آزاد فرمایا اور متبنی بنایا تھاحضرت زینب بنت جحش رضی الله تعالی عنہا کہ حضور سید عالم صلی الله تعالی علیہ وسلم کی پھوپھی امیہ بنت عبدالمطلب کی بیٹی تھیں سید عالم صلی الله تعالی علیہ وسلم نے انہیں حضرت زید رضی الله تعالی عنہ سے نکاح کا پیغام دیااول تو راضی ہوئیں اس گمان سے کہ حضور اپنے لئے خواستگاری فرماتے ہیںجب معلوم ہا کہ زید رضی الله تعالی عنہ کے لئے طلب ہے انکار کیا اور عرض کر بھیجا کہ یا رسول اللہ!میں حضور کی پھوپھی کی بیٹی ہوں ایسے شخص کے ساتھ اپنا نکاح پسند نہیں کرتیاوران کے بھائی عبدالله بن جحش رضی الله تعالی عنہ نے بھی اسی بنا پر انکار کیااس پر یہ آیہ کریمہ اتریاسے سن کر دونوں بہن بھائی رضی الله تعالی عنہما تائب ہوئے اورنکاح ہوگیا "۔
ظاہر ہے کہ کسی عورت پر الله عزوجل کی طرف سے فرض نہیں کہ فلاں سے نکاح پرخواہی نخواہی راضی ہوجائے خصوصا جبکہ وہ اس کا کفونہ ہوخصوصا جبکہ عورت کی شرافت خاندان کواکب ثریا سے بھی بلند وبالاتر ہوبایں ہمہ اپنے حبیب صلی الله تعالی علیہ وسلم کا دیا ہوا پیام نہ ماننے پر رب العزۃ جل جلالہ نے بعینہ وہی الفاظ ارشادفرمائے جو کسی فرض الہ کے ترك پر فرمائے جاتے
حوالہ / References القرآن الکریم ۹ /۲۹
القرآن الکریم ۳۳ /۳۶
الجامع لاحکام القرآن(امام قرطبی)تحت الآیۃ ۳۳/۳۶ دارالکتاب العربی بیروت ۱۴/۱۶۵والدر المنثور تحت الآیۃ ۳۳/۳۶ داراحیاء التراث العربی بیروت ۶/۵۳۷ و ۵۳۸
#18878 · (رسالہ ضمنی)منیۃ اللبیب ان التشریح بید الحبیب ۱۳۱۱ھ (عقلمند کا مقصد کہ بے شك احکام شرع حبیب الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے اختیار میں ہیں)
اوررسول کے نام پاك کے ساتھ اپنا نام اقدس بھی شامل فرمایا یعنی رسول جو بات تمہیں فرمائیں وہ اگرہمارا فرض نہ تھی تو اب ان کے فرمانے سے فرض قطعی ہوگئی مسلمانوں کو اس کے نہ ماننے کا اصلا اختیار نہ رہا جو نہ مانے گا صریح گمراہ ہوجائے گا دیکھو رسول کے حکم دینے سے کام فرض ہوجاتاہے اگرچہ فی نفسہ خدا کا فرض نہ تھا ایك مباح وجائز امر تھاولہذا ائمہ دین خدا ورسول کے فرض میں فرق فرماتے ہیں کہ خدا کا کیا ہوا فرض اس فرض سے اقوی ہے جسے رسول نے فرض کیا ہے۔اورائمہ محققین تصریح فرماتے ہیں کہ احکام شریعت حضور سید عالم صلی الله تعالی علیہ وسلم کو سپرد ہیں جو بات چاہیں واجب کردیں جو چاہیں ناجائز فرمادیںجس چیز یا جس شخص کو جس حکم سے چاہیں مستثنی فرمادیں۔امام عارف بالله سید عبدالوہاب شعرانی قدس سرہ الربانی میزان الشریعۃ الکبری باب الوضومیں حضرت سیدی علی خواص رضی الله تعالی عنہ سے نقل فرماتے ہیں:
کان الامام ابو حنیفۃ رضی الله تعالی عنہ من اکثر الائمۃ ادبا مع الله تعالی ولذلك لم یجعل النیۃ فرضا وسمی الوتر واجبا لکونھما ثبتا بالسنۃ لابالکتاب فقصد بذلك تمییز مافرضہ الله تعالی وتمییز ما اوجبہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم فان مافرضہ الله تعالی اشد مما فرضہ رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم من ذات نفسہ حین خیرہ الله تعالی ان یوجب ماشاء اولایوجب ۔ یعنی امام ابوحنیفہ رضی الله تعالی عنہ ان اکابر ائمہ میں ہیں جن کا ادب الله عزوجل کے ساتھ بہ نسبت اورائمہ کے زائد ہے اسی واسطے انہوں نے وضو میں نیت کوفرض نہ کیا اور وتر کا نام واجب رکھایہ دونوں سنت سے ثابت ہیں نہ کہ قرآن عظیم سےتو امام نے ان احکام سے یہ ارادہ کیا کہ الله تعالی کے فرض اوررسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم کے فرض میں فرق وتمیز کردیں اس لئے کہ خدا کا فرض کیا ہوا اس سے زیادہ مؤکد ہے جسے رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم نے خود اپنی طرف سے فرض کردیا جبکہ الله عزوجل نے حضور کو اختیار دے دیا تھا کہ جس بات کو چاہیں واجب کردیں جسے نہ چاہیں نہ کریں۔
اس میں بارگاہ وحی وتضرع احکام کی تصویر دکھا کر فرمایا:
حوالہ / References میزان الشریعۃ الکبرٰی باب الوضو دارالکتب العلمیۃ بیروت ۱/۱۴۷
#18879 · (رسالہ ضمنی)منیۃ اللبیب ان التشریح بید الحبیب ۱۳۱۱ھ (عقلمند کا مقصد کہ بے شك احکام شرع حبیب الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے اختیار میں ہیں)
کان الحق تعالی جعل لہ صلی الله تعالی علیہ وسلم ان یشرع من قبل نفسہ ماشاء کما فی حدیث تحریم شجر مکۃ فان عمہ العباس رضی الله تعالی عنہ لما قال لہ یارسول الله الا الاذخر فقال صلی الله تعالی علیہ وسلم الا الاذخر ولو ان الله تعالی لم یجعل لہ ان یشرع من قبل نفسہ لم یتجرأ صلی الله تعالی علیہ وسلم ان یستثنی شیئامما حرمہ الله تعالی ۔ یعنی حضرت عزت جل جلالہ نے نبی صلی الله تعالی علیہ وسلم کو یہ منصب دیا تھا کہ شریعت میں جو حکم چاہیں اپنی طرف سے مقررفرمادیں جس طرح حرم مکہ کے نباتات کو حرام فرمانے کی حدیث میں ہے کہ جب حضور نے وہاں کی گھاس وغیرہ کاٹنے سے ممانعت فرمائی حضور کے چچا حضرت عباس رضی الله تعالی عنہ نے عرض کی:یارسول اللہ!گیاہ اذخر کو اس حکم سے نکال دیجئے۔فرمایا:اچھا نکال دیاس کا کاٹنا جائز کردیا۔اگر الله سبحانہ نے حضور کو یہ رتبہ نہ دیاہو تاکہ اپنی طرف سے جو شریعت چاہیں مقررفرمائیں تو حضور ہرگز جرأت نہ فرماتے کہ جو چیز خدا نے حرام کی اس میں سے کچھ مستثنی فرمادیں۔
اقول:یہ مضمون متعدد احادیث صحیحہ میں ہے:
حدیث۱:ابن عباس رضی الله تعالی عنہما صحیحین میں:
فقال العباس رضی الله تعالی عنہ الا الا ذخر لساغتنا وقبورنافقال الا الا ذخر ۔ یعنی عباس رضی الله تعالی عنہ نے عرض کی یارسول اللہ!مگر اذخر کہ وہ ہمارے سناروں اورقبروں کے کام آتی ہے۔فرمایا: مگر اذخر۔
حدیث۲:ابی ہریرہ رضی الله عنہ نیز صحیحین میں:
قال رجل من قریش الا الاذخر ایك مرد قریش نے عرض کی:مگر اذخر
حوالہ / References میزان الشریعۃ الکبرٰی فصل فی بیان جملۃ من الامثلۃ المحسوسۃ الخ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۱/۶۰
صحیح بخاری،کتاب العمرۃ،باب باب لاینفر صیدالحرم قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/۲۴۷،صحیح مسلم کتاب الحج باب تحریم مکۃ الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/۴۳۸و۴۳۹
#18880 · (رسالہ ضمنی)منیۃ اللبیب ان التشریح بید الحبیب ۱۳۱۱ھ (عقلمند کا مقصد کہ بے شك احکام شرع حبیب الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے اختیار میں ہیں)
یارسول الله فانا نجعلہ فی بیوتنا وقبورنا۔فقال النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم الا الاذخر الا الا ذخر ۔ یارسول الله کہ ہم اسے اپنے گھروں اورقبروں میں صرف کرتے ہیں۔نبی صلی الله تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:مگر اذخر مگر اذخر۔
حدیث ۳:صفیہ بنت شیبہ رضی الله تعالی عنہما سنن ابن ماجہ میں:
فقال العباس رضی الله تعالی عنہ الا الا ذخر فانہ للبیوت والقبور فقال رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم الا الا ذخر ۔ عباس رضی الله تعالی عنہ نے عرض کی:مگر اذخر کہ وہ گھروں اور قبروں کے لیے ہے۔رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم نے فرمایا مگر اذخر۔
نیز میزان مبارك میں شریعت کی کئی قسمیں کیںایك وہ جس پر وحی وارد ہوئی
الثانی ما اباح الحق تعالی لنبیہ صلی الله تعالی علیہ وسلم ان یسنہ علی رایہ ھو کتحریم لبس الحریر علی الرجال وقولہ فی حدیث تحریم مکۃ الا الا ذخر ولو لا ان الله تعالی کان یحرم جمیع نبات الحرم لم یستثن صلی الله تعالی علیہ وسلم الاذخر ونحوحدیث لو لا ان اشق علی امتی لاخرت العشاء الی ثلث الیل و نحو حدیث لو قلت نعم لوجبت ولم تستطیعوا فی جواب من یعنی شریعت کی دوسری قسم وہ ہے جو مصطفی صلی الله تعالی علیہ وسلم کو ان کے رب عزوجل نے ماذون فرمادیا کہ خود اپنی رائے سے جو راہ چاہیں قائم فرمادیںمردوں پر ریشم کا پہننا حضور نے اسی طور پر حرام فرمایا اوراسی حرمت مکہ سے گیاہ اذخر کو استثناء فرمادیا۔اگرالله عزوجل نے مکہ معظمہ کی ہر جڑی بوٹی کو حرام نہ کیا ہوتا تو حضور کو اذخر کے مستثنی فرمانے کی کیا حاجت ہوتی۔اوراسی قبیل سے ہے حضور کا ارشاد کہ اگر امت پر مشقت کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں عشاء کو تہائی رات تك ہٹا دیتا۔اوراسی باب سے ہے کہ جب حضور نے فرض حج بیان فرمایا کسی نے عرض کی:یارسول اللہ!
حوالہ / References صحیح البخاری کتاب العلم باب کتابۃ العلم قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/۲۲،صحیح مسلم کتاب الحج باب تحریم مکۃ الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/۴۳۹
سنن ابن ماجہ ابواب المناسك فضل المدینۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۲۳۱
#18881 · (رسالہ ضمنی)منیۃ اللبیب ان التشریح بید الحبیب ۱۳۱۱ھ (عقلمند کا مقصد کہ بے شك احکام شرع حبیب الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے اختیار میں ہیں)
قال لہ فی فریضۃ الحج اکل عام یارسو ل الله قال لا و لو قلت نعم لو جبت وقد کان صلی الله تعالی علیہ و سلم یخفف علی امتہ وینھاھم عن کثرۃ السؤال و یقول اترکونی ماترکتم اھ باختصار۔ کیا حج ہر سال فرض ہے فرمایا:نہاوراگر میں ہاں کہہ دوں تو ہرسال فرض ہوجائے اورپھر تم سے نہ ہوسکے اوریہی وجہ ہے کہ حضور اپنی امت پر تخفیف وآسانی فرماتے اورمسائل زیادہ پوچھنے سے منع کرتے اورفرماتے ہیں مجھے چھوڑے رہو جب تك میں تمہیں چھوڑوں۔
اقول:یہ مضمون بھی کہ ''میں نماز عشاکو مؤخر فرمادیتا''متعدد احادیث صحیحہ میں ہے۔
حدیث ۴:ابن عباس رضی الله تعالی عنہما معجم کبیر طبرانی میں سید عالم صلی الله تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:
لولا ضعف الضعیف وسقم السقیم لاخرت صلوۃ العتمۃ ۔ اگرضعیف کے ضعف اورمریض کے مرض کا پاس نہ ہوتا تو میں نماز عشاکو پیچھے ہٹادیتا۔
حدیث ۵:ابی سعید خدری رضی الله تعالی عنہ مسند احمد وسنن ابی داؤد وابن ماجہ وغیرہا میں یوں ہے کہ رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:
لولا ضعف الضعیف وسقم السقیم وحاجۃ ذی الحاجۃ لاخرت ھذہ الصلوۃ الی شطر اللیل ۔
و رواہ ابن ابی حاتم بلفظ لولا ان یثقل علی امتی لاخرت صلوۃ العشاء الی ثلث اللیل ۔ اگر کمزور کی ناتوانی اوربیمار کے مرض اورکامی کے کام کا خیال نہ ہوتا تو میں اس نماز کو آدھی رات تك موخر فرما دیتا۔
ابن ابی حاتم نے ان الفاظ کے ساتھ روایت کیا:اگر میں اپنی امت پر بوجھ محسوس نہ کرتا تو میں عشاء کو تہائی رات تك ہٹا دیتا۔(ت)
حوالہ / References میزان الشریعۃ الکبرٰی فصل شریف فی بیان الذم من الائمۃ الخ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۱/۶۷
المعجم الکبیر عن عباس حدیث ۱۲۱۶۱ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۱۱/۴۰۹
سنن ابی داودکتاب الصلوٰۃ باب وقت العشاء آفتاب عالم پریس لاہور ۱/۶۱،سنن ابن ماجۃ کتاب الصلوٰۃ باب وقت العشاء ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۵۰،مسند احمد بن حنبل عن ابی سعید الخدری المکتب الاسلامی بیروت ۳/۵
#18882 · (رسالہ ضمنی)منیۃ اللبیب ان التشریح بید الحبیب ۱۳۱۱ھ (عقلمند کا مقصد کہ بے شك احکام شرع حبیب الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے اختیار میں ہیں)
حدیث ۶:ابی ہریرہ رضی الله تعالی عنہ احمد وابن ماجہ ومحمد بن نصر کی روایت میں یوں ہے کہ رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:
لولا ان اشق علی امتی لاخرت العشاء الی ثلث اللیل او نصف اللیل ۔ اگر اپنی امت کو مشقت میں ڈالنے کا لحاظ نہ ہوتا تو میں عشاء کو تہائی یا آدھی رات تك ہٹا دیتا۔
واخرجہ ابن جریر فقال الی نصف اللیل ۔(ابن جریرنے روایت کیافرمایا:آدھی رات تك۔ت)
اور ان کے سوا احادیث صحیحہ عنقریب اسی معنی میں آتی ہیں ان شاء الله تعالی۔نیز یہ مضمون کہ ''میں ہاں فرمادوں تو حج ہر سال فرض ہوجائے ''متعدد احادیث صحاح میں ہے۔
حدیث ۷:ابی ہریرہ رضی الله تعالی عنہ عند احمد ومسلم والنسائی(امام احمدمسلم اور نسائی کے نزدیك۔ت)
حدیث ۸:امیر المومنین علی کرم الله تعالی وجہہ کہ رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:
لاولو قلت نعم لوجبت۔رواہ احمد والترمذی وابن ماجۃ ۔ ہر سال فرض نہیں اورمیں ہاں کہہ دوں تو فرض ہوجائے۔ (اس کو احمدترمذی اور ابن ماجہ نے روایت کیا۔ت)
حوالہ / References سنن ابن ماجۃ،کتاب الصلوٰۃ وقت العشاء آفتاب عالم پریس لاہور ص۵۰،کنزالعمال بحوالہ حم ومحمد بن نصر حدیث ۱۹۴۸۴ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۷/۳۹۹

صحیح مسلم کتاب الحج باب فرض الحج مرۃ فی العمر قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/۴۳۲،سنن النسائی کتاب مناسك الحج باب وجوب الحج نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ۲/۱،مسند احمد بن حنبل عن ابی ہریرۃ رضی الله عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۲/۵۰۸
سنن الترمذی کتاب الحج باب ماجاء کم فرض الحج حدیث ۸۱۴دارالفکر بیروت ۲/۲۲۰،سنن الترمذی کتاب التفسیر باب ومن سورۃ المائدۃ حدیث ۳۰۶۶ دارالفکر بیروت ۵/۴۰،سنن ابن ماجۃ ابواب المناسك باب فرض الحج ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۲۱۳،مسند احمد بن حنبل عن علی رضی الله عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۱/۱۱۳
#18883 · (رسالہ ضمنی)منیۃ اللبیب ان التشریح بید الحبیب ۱۳۱۱ھ (عقلمند کا مقصد کہ بے شك احکام شرع حبیب الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے اختیار میں ہیں)
حدیث ۹:ابن عباس رضی الله تعالی عنہما کہ فرمایا رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم نے:
لوقلت نعم لو جبت ثم اذا لاتسمعون ولا تطیعون۔ رواہ احمد والدارمی والنسائی۔ میں ہاں فرمادوں تو فرض ہوجائے پھر تم نہ سنو نہ بجا لاؤ۔ (اس کو احمددارمی اورنسائی نے روایت کیا۔ت)
حدیث ۱۰:انس بن مالك رضی الله تعالی عنہ کو فرمایا صلی الله تعالی علیہ وسلم نے:
لو قلت نعم لوجبت ولو وجبت لم تقوموا بھاولولم تقوموابھا عذبتم۔رواہ ابن ماجۃ ۔ اگر میں ہاں فرمادوں توواجب ہوجائے اوراگر واجب ہوجائے تو بجا نہ لاؤ اوراگر بجا نہ لاؤ تو عذاب کئے جاؤ(اس کو ابن ماجہ نے روایت کیا۔ت)
اورمضمون اخیر کہ ''مجھے چھوڑے رہو''یہ بھی صحیح مسلم وسنن نسائی میں اسی حدیث ابی ہریرہ کے ساتھ ہے کہ فرمایا:
لو قلت نعم لوجبت ولما استطعتم۔ اگر میں فرماتا ہاںتو ہرسال واجب ہوجاتااوربیشك تم نہ کرسکتے۔
پھر فرمایا:
ذرونی ماترکتم فانما ھلك من کان قبلکم بکثرۃ سؤالھم واختلافھم علی انبیآئھم فاذا امرتکم بشیئ فاتوا منہ مااستطعتم واذا نھیتکم مجھے چھوڑے رہو جب تك میں تمہیں چھوڑوں کہ اگلی امتیں اسی کثرت سوال اور اپنے انبیاء کے خلاف مراد چلنے سے ہلاك ہوئیں تو جب میں تمہیں کسی بات کا حکم فرماؤ ں تو جتنی ہوسکے
حوالہ / References سنن النسائی کتاب مناسك الحج باب وجوب الحج نور محمد کارخانہ کراچی ۱/۶۱،سنن الدارمی کتاب مناسك الحج باب کیف وجوب الحج دارالمحاسن للطباعۃ القاھرۃ ۲/۳۶۱،مسند احمد بن حنبل عن ابن عباس المکتب الاسلامی بیروت ۱/۲۵۵
سنن ابن ماجۃ ابواب المناسك باب فرض الحج ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۲۱۳
#18884 · (رسالہ ضمنی)منیۃ اللبیب ان التشریح بید الحبیب ۱۳۱۱ھ (عقلمند کا مقصد کہ بے شك احکام شرع حبیب الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے اختیار میں ہیں)
عن شیئ فدعوہ۔رواہ ابن ماجہ مفردا۔ بجالاؤ اورجب بات سے منع فرماؤں تو اسے چھوڑدو۔(اس کو تنہا ابن ماجہ نے ہی روایت کیا۔ت)
یعنی جس بات میں میں تم پر وجوب یا حرمت کا حکم نہ کروں اسے کھود کھود کر نہ پوچھو کہ پھر واجب حرام کا حکم فرمادوں تو تم پر تنگی ہوجائے۔
یہاں سے بھی ثابت ہوا کہ رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم نے جس بات کا نہ حکم دیا نہ منع فرمایا وہ مباح وبلاحرج ہے۔وہابی اسی اصل اصیل سے جاہل ہوکر ہرجگہ پوچھتے ہیں خداورسول نے اس کا کہاں حکم دیا ہے۔ان احمقوں کو اتنا ہی جواب کافی ہے کہ خدا ورسول نے کہاں منع کیا ہےجب حکم نہ دیا نہ منع کیا تو جواز رہاتم جو ایسے کاموں کو منع کرتے ہو الله ورسول پر افتراکرتے بلکہ خود شارع بنتے ہوکہ شارع صلی الله تعالی علیہ وسلم نے منع کیانہیں اورتم منع کر رہے ہو۔مجلس میلا دمبارك وقیام وفاتحہ و سوم وغیرہا مسائل بدعت وہابیہ سب اسی اصل سے طے ہوجاتے ہیں۔اعلی حضرت حجۃ الخلف بقیۃ السلف خاتمۃ المحققین سیدنا الوالدقدس سرہ الماجد نے کتاب مستطاب اصول الرشاد لقمع مبانی الفساد میں اس کا بیان اعلی درجہ کا روشن فرمایا ہے۔فنور الله منزلہ واکرم عندہ نزلہ امین۔امام احمد قسطلانی مواہب لدنیۃ شریف میں فرماتے ہیں:
من خصائصہ صلی الله تعالی علیہ وسلم انہ کان یخص من شاء بما شاء من الاحکام ۔ سید عالم صلی الله تعالی علیہ وسلم کے خصائص کریمہ سے ہے کہ حضور شریعت کے عام احکام سے جسے چاہتے مستثنی فرما دیتے۔
علامہ زرقانی نے شرح میں بڑھایا: علامہ زرقانی نے شرح میں بڑھایا:من الاحکام وغیرھا۔کچھ احکام ہی کی خصوصیت نہیں حضور جس چیز سے چاہیں جسے چاہیں خاص فرمادیں صلی الله تعالی علیہ وسلم۔
حوالہ / References صحیح مسلم کتاب الحج باب فرض الحج مرۃ فی العمر قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/۴۳۲،سنن النسائی کتاب مناسك الحج باب وجوب الحج نور محمد کارخانہ کراچی ۲/۱،سنن ابن ماجۃ باب اتباع سنۃ رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۲
المواہب اللدنیۃ المقصد الرابع الفصل الثانی المکتب الاسلامی بیروت ۲/۶۸۹
شرح الزرقانی علی المواھب اللدنیہ المقصد الرابع دارالمعرفۃ بیروت ۵/۳۲۲
#18885 · (رسالہ ضمنی)منیۃ اللبیب ان التشریح بید الحبیب ۱۳۱۱ھ (عقلمند کا مقصد کہ بے شك احکام شرع حبیب الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے اختیار میں ہیں)
امام جلیل جلال الدین سیوطی علیہ الرحمۃ نے خصائص الکبری شریف میں ایك باب وضع فرمایا:
باب اختصاصہ صلی الله تعالی علیہ وسلم بانہ یخص من شاء بما شاء من الاحکام ۔ باب اس بیان کا کہ خاص نبی صلی الله تعالی علیہ وسلم کو یہ منصب حاصل ہے کہ جسے چاہیں جس حکم سے چاہیں خاص فرمادیں۔
امام قسطلانی نے اس کی نظیر میں پانچ واقعے ذکر کئے اورامام سیوطی نے دسپانچ وہ اورپانچ اور۔فقیر نے ان زیادات سے تین واقعے ترك کردئے اورپندرہ اوربڑھائےاوران کی احادیث بتوفیق الله تعالی جمع کیں کہ جملہ بائیس۲۲ واقعےہوئے ولله الحمد ان کی تفصیل اور ہر واقعے پر حدیث سے دلیل سنئے:
حدیث صحیحین۱میں براء بن عازب رضی الله تعالی عنہ سے ہے ان کے ماموں ابو بردہ بن نیاز رضی الله تعالی عنہ نے نماز عید سے پہلے قربانی کرلی تھی جب معلوم ہوا یہ کافی نہیں عرض کی:یارسول الله وہ تو میں کرچکا اب میرے پاس چھ۶ مہینے کا بکری کا بچہ ہے مگر سال بھر والے سے اچھاہے۔فرمایا:
اجعلھا مکانھا ولن تجزی عن احد بعدك ۔ اس کی جگہ اسے کردو اورہرگز اتنی عمر کی بکری تمھارے بعد دوسروں کی قربانی میں کافی نہ ہوگی۔
ارشاد الساری شرح صحیح بخاری میں اس حدیث کے نیچے ہے:
خصوصیۃ لہ لاتکون لغیرہ اذکان لہ صلی الله تعالی علیہ وسلم ان یخص من شاء بما شاء من الاحکام ۔ یعنی نبی صلی الله تعالی علیہ وسلم نے ایك خصوصیت ابو بردہ کو بخشی جس میں دوسرے کا حصہ نہیں اس لئے کہ نبی صلی الله تعالی علیہ وسلم کو اختیار تھا کہ جسے چاہیں جس حکم سے چاہیں خاص فرمادیں۔
حوالہ / References الخصائص الکبرٰی باب اختصاصہٖ صلی الله تعالٰی علیہ وسلم بانہ یخص من شاء الخ مرکز اہلسنت گجرات الہند ۲/۲۶۲
صحیح البخاری کتاب العیدین باب الخطبۃ بعد العید قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/۱۳۲،صحیح مسلم کتاب الاضاحی باب وقتہا قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/۱۵۴
ارشاد الساری شرح صحیح البخاری کتاب العیدین حدیث ۹۶۵دارالکتب العلمیۃ بیروت ۲/۶۵۷
#18886 · (رسالہ ضمنی)منیۃ اللبیب ان التشریح بید الحبیب ۱۳۱۱ھ (عقلمند کا مقصد کہ بے شك احکام شرع حبیب الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے اختیار میں ہیں)
نیز حدیث۱۰ صحیحین میں عقبہ بن عامر رضی الله تعالی عنہ سے ہے حضور سید عالم صلی الله تعالی علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کرام رضی الله تعالی عنہم کو قربانی کے لئے جانور عطافرمائے ان کے حصے میں ششماہہ بکری آئی حضور سے حال عرض کیا۔فرمایا: ضح بھا ۔تم اسی کی قربانی کردو۔ سنن بیہقی میں بسند صحیح اتنا اور زائد ہے:
ولارخصۃ فیھا لاحد بعدك ۔ تمہارے بعد اورکسی کے لیے اس میں رخصت نہیں۔
شیخ محقق اشعۃ اللمعات شرح مشکوۃ میں اس حدیث کے نیچے فرماتے ہیں:
احکام مفوض بود بوے صلی الله تعالی علیہ وسلم برقول صحیح ۔ قول صحیح کے مطابق احکام حضور پرنور صلی الله تعالی علیہ وسلم کے سپرد تھے۔(ت)
حدیث۱۱ صحیح مسلم میں ام عطیہ رضی الله تعالی عنہا سے ہے جب بیعت زنان کی آیت اتری اوراس میں ہر گناہ سے بچنے کی شرط تھی کہ لایعصینك فی معروفاورمردے پر بین کر کے رونا چیخنا بھی گناہ تھا میں نے عرض کی
یارسول الله الا ال فلان فانھم کانوا اسعد ونی فی الجاھلیۃ فلابدلی من ان اسعدھم۔
فقال رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم الا ال فلان ۔ یارسول اللہ!فلاں گھر والوں کو استثناء فرمادیجئے کہ انہوں نے زمانہ جاہلیت میں میرے ساتھ ہوکر میری ایك میت پر نوحہ کیاتھا تو مجھے ان کی میت پر نوحے میں ان کا ساتھ دینا ضروری ہے۔
سید عالم صلی الله تعالی علیہ وسلم نے فرمایا اچھا وہ مستثنی کردئے۔
حوالہ / References صحیح البخاری کتاب الاضاحی باب قسمۃ الاضاحی بین الناس قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/۸۳۲،صحیح مسلم کتاب الاضاحی باب سن الاضحیۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/۱۵۵
السنن الکبرٰی للبیہقی کتاب الضحایا باب لایجزی الجذع الخ دارصادر بیروت ۹/۲۷۰،کنزالعمال حدیث ۱۲۲۵۲ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۵/۱۰۵
اشعہ اللمعات شرح المشکوٰۃ باب الاضحیۃ الفصل الاول مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱/۶۰۹
صحیح مسلم کتاب الجنائز فصل فی نہی النساء عن النیاحۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/۳۰۴
#18887 · (رسالہ ضمنی)منیۃ اللبیب ان التشریح بید الحبیب ۱۳۱۱ھ (عقلمند کا مقصد کہ بے شك احکام شرع حبیب الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے اختیار میں ہیں)
اورسنن نسائی میں ارشاد فرمایا:اذھبی فاسعدیھا۔جاان کا ساتھ دے آ۔
یہ گئیں اور وہاں نوحہ کر کے پھر واپس آکر بیعت کی ۔
ترمذی کی روایت میں ہے:فاذن لھا ۔سید عالم صلی الله تعالی علیہ وسلم نے انہیں نوحہ کی اجازت دے دی۔
مسند احمد میں ہےفرمایا:اذھبی فکافیھم ۔جاؤ ان کا بدلہ اتارآؤ۔
امام نووی اس حدیث کے نیچے فرماتے ہیں یہ حضور نے خاص رخصت ام عطیہ کو دے دی تھی خاص آل فلاں کے بارے میں وللشارع ان یخص من العموم ماشاء ۔نبی صلی الله تعالی علیہ وسلم کو اختیار ہے کہ عام حکموں سے جو چاہے خاص فرما دیں۔
یہی مضمون حدیث۱۲ ابن مردویہ میں عبدالله ابن عباس سے خولہ بنت حکیم رضی الله عنہما سے ہے:
انھا قالت یارسول الله کان ابی واخی ماتافی الجاھلیۃ و ان فلانۃ اسعدتنی وقدمات اخوھا الحدیث ۔ اس نے عرض کی یارسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلمزمانہ جاہلیت میں میرا باپ اوربھائی فوت ہوئے تو فلاں عورت نے میرا ساتھ دیاتھا اوراب اس کا بھائی فوت ہوا ہے۔(ت)
حدیث ۱۳:ترمذی میں اسماء بنت یزید انصاری رضی الله عنہا سے ہے انہوں نے بھی ایك نوحے کا بدلہ اتارنے کی اجازت مانگی حضور نے انکار فرمایا
قالت فراجعتہ مرارا فاذن لی ثم لم انح بعد ذلك ۔ میں نے کئی بار حضور سے عرض کیآخر حضور نے اجازت دے دی۔پھر میں نے کہیں نوحہ نہ کیا۔
حوالہ / References سنن النسائی کتاب البیعۃ باب بیعۃ النساء نور محمد کارخانہ کراچی ۲/۱۸۳
سنن الترمذی کتاب التفسیر تحت الآیۃ ۶۰/۱۲ حدیث ۳۳۱۸ دارالفکر بیروت ۵/۲۰۲
مسند احمد بن حنبل ۶/۴۰۷ و ۴۰۸ والدرالمنثور تحت الآیۃ ۶۰/۱۲ بیروت ۸/۱۳۳
شرح صحیح مسلم مع صحیح مسلم کتاب الجنائز فصل فی نہی النساء عن النیاحۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/۳۰۴

سنن الترمذی کتاب التفسیر سورۃ الممتحنۃ حدیث ۳۳۱۸دارالفکر بیروت ۵/۲۰۲
#18888 · (رسالہ ضمنی)منیۃ اللبیب ان التشریح بید الحبیب ۱۳۱۱ھ (عقلمند کا مقصد کہ بے شك احکام شرع حبیب الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے اختیار میں ہیں)
حدیث۱۴:احمد طبرانی میں مصعب بن نوح سے ہے ایك بڑی بی عــــــہ نے وقت بیعت نوحے کا بدلہ اتارے کا اذن چاہافرمایا: اذھبی فکافیھم ۔جاؤ عوض کرآؤ۔
اقول:فظاھر ان کلا رخصۃ تختص بصاحبتھا لاشرکۃ فیھا لغیرھا فلاینکر بما ذکرنا علی قول النووی ان ھذا محمول علی الترخیص لام عطیۃ فی ال فلان خاصۃ وبمثلہ یندفع ما استشکلوا من التعارض فی حدیثی التضحیۃ لابی بردۃ وعقبۃ لاسیما مع زیادۃ البیھقی المذکورۃ فانہ حکم لاخبر ولاشك ان الشارع اذا خص ابابردۃ کان کل من سواہ داخلا فی عموم عدم الاجزاء وکذا حین خص عقبۃ فصدق فی کل مرۃ لن تجزی احد ا بعد فافھم فقد خفی علی کثیر من الاعلام۔ میں کہتاہوں ظاہر ہے کہ ہر رخصت صاحت رخصت کے ساتھ مختص ہوتی ہے۔اس میں کسی غیر کی شرکت نہیں ہوتی۔چنانچہ جو ہم نے ذکر کیا اس کی وجہ سے امام نووی کے قول کا انکار نہیں ہوتاکہ بیشك یہ بطور خاص آل فلاں کے بارے میں ام عطیہ کو رخصت دینے پر محمول ہے۔اوراسکی مثل سے قربانی کے بارے میں ابو بردہ اورعقبہ کی حدیثوں میں واقع تعارض کا اشکال بھی مندفع ہوجاتاہے خصوصا اس زیادتی کے ساتھ جو بیہقی میں مذکور ہے کہ بیشك یہ حکم ہے خبر نہیں ہے اور اس میں شك نہیں کہ شارع علیہ السلام نے جب ابو بردہ کو مختص فرمایا تو ان کے ماسوا ہر ایك عدم اجزا ء کے عموم میں داخل ہوگیا۔اسی طرح جب عقبہ کو خاص فرما دیا تو ہر مرتبہ یہ بات صادق آئی کہ تیرے بعد ہرگز یہ کسی کے لیے کفایت نہیں کرے گاتو سمجھ لےتحقیق بہت سے علماء پر یہ بات مخفی رہی۔(ت)
حدیث ۱۵:طبقات ابن سعد میں اسماء بنت عمیس رضی الله تعالی عنہا سے ہے جب ان کے
عــــــہ:محتمل ہے کہ یہ بی بی ام عطیہ ہوں لہذا واقعہ جدا گانہ نہ شمار ہوا ۱۲منہ
حوالہ / References الدرالمنثور بحوالہ احمد وغیرہ الآیۃ ۶۰/۱۲داراحیاء التراث العربی بیروت ۸/۱۳۳
#18889 · (رسالہ ضمنی)منیۃ اللبیب ان التشریح بید الحبیب ۱۳۱۱ھ (عقلمند کا مقصد کہ بے شك احکام شرع حبیب الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے اختیار میں ہیں)
شوہر اول جعفر طیار رضی الله تعالی عنہ شہید ہوئے سید عالم صلی الله تعالی علیہ وسلم نے ان سے فرمایا:
تسلبنی ثلثا ثم اصنعی ماشئت ۔ تین دن سنگار سے الگ رہو پھر جو چاہو کرو۔
یہاں حضور اقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم نے ان کو اس حکم عام سے استثناء فرمادیا کہ عورت کو شوہر پر چار مہینے دس دن سوگ واجب ہے۔
حدیث ۱۶:ابن السکن میں ابو نعمان ازدی رضی الله تعالی عنہ سے ہےایك شخص نے ایك عورت کو پیام نکاح دیا سید عالم صلی الله تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:مہردو۔عرض کی:میرے پاس کچھ نہیں۔فرمایا:
اما تحسن سورۃ من القران فاصدقہا السورۃ ولا یکون لاحد بعدك مھرا ۔رواہ سعید بن منصور مختصرا۔ کیا تجھے قرآن عظیم کی کوئی سورت نہیں آتیوہ سورۃ سکھانا ہی اس کا مہر کراورتیرے بعد یہ مہر کسی اورکو کافی نہیں۔(اس کو سعید بن منصور نے مختصرا روایت کیا۔ت)
حدیث ۱۷:ابی داؤد ونسائی وطحاوی وابن ماجہ وخزیمہ میں عم عمارہ بن خزیمہ بن ثابت انصاری اور حدیث ۱۸ مصنف ابن ابی شیبہ وتاریخ بخاری ومسند ابی یعلی وصحیح ابن خزیمہ ومعجم کبیر طبرانی میں حضر ت خزیمہ اور حدیث ۱۹ حارث بن اسامہ بن نعمان بن بشیر رضی الله تعالی عنہما سے ہے سید عالم صلی الله تعالی علیہ وسلم نے ایك اعرابی سے گھوڑا خریداوہ بیچ کر مکر گیا اور گواہ مانگا جو مسلمان آتا اعرابی کو جھڑکتا کہ خرابی ہو تیرے لئےرسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم حق کے سوا کیا فرمائیں گے(مگر گواہی نہیں دیتا کہ کسی کے سامنے کا واقعہ نہ تھا)اتنے میں خزیمہ رضی الله تعالی عنہ حاضر بارگاہ ہوئے گفتگو سن کر بولے:انا اشھد انك قد بایعتہ میں گواہی دیتاہوں کہ تو نے حضور صلی الله تعالی علیہ وسلم کے ہاتھ بیچا ہے۔
حوالہ / References الطبقات الکبرٰی لابن سعد ذکر جعفر بن ابی طالب دارصادر بیروت ۴/۴۱،کنزالعمال حدیث ۲۷۸۲۰مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۹/۶۵۰
الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ ترجمہ ۱۰۶۳۹ ابو النعمان الازدی دارالفکر بیروت ۶/۲۶۷
#18890 · (رسالہ ضمنی)منیۃ اللبیب ان التشریح بید الحبیب ۱۳۱۱ھ (عقلمند کا مقصد کہ بے شك احکام شرع حبیب الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے اختیار میں ہیں)
رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:تم موجود تو تھے ہی نہیں تم نے گواہی کیسے دیعرض کی:
بتصد یقك یارسول الله (وفی الثانی)صدقتك بما جئت بہ وعلمت انك لاتقو ل الا حقا (وفی الثالث) انا اصدقك علی خبر السماء والارض الا اصدقك علی الاعرابی ۔ یارسول اللہ!میں حضور کی تصدیق سے گواہی دے رہاہوں میں حضور کے لائے ہوئے دین پر ایمان لایا ہوں اور یقین جانا کہ حضور حق ہی فرمائیں گے میں آسمان وزمین کی خبروں پر حضور کی تصدیق کرتاہوں کیا اس اعرابی کے مقابلے میں تصدیق نہ کروں۔
اس کے انعام میں حضور اقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم نے ہمیشہ ان کی گواہی دو مردکی شہادت کے برابر فرمادی اورارشاد فرمایا:
من شھد لہ خزیمۃ او شھد علیہ فحسبہ ۔ خزیمہ جس کسی کے نفع خواہ ضرر کی گواہی دیں ایك انہیں کی شہادت بس ہے۔
ان احادیث سے ثابت کہ حضور نے قرآن عظیم کے حکم عام" و اشہدوا ذوی عدل منکم" ۔(اوراپنے میں دو ثقہ کو گواہ کرلو۔ ت)سے خزیمہ رضی الله تعالی عنہ عنہ کو مستثنی فرمادیا۔
حدیث۲۰:صحاح ستہ میں ابوہریرہ رضی الله تعالی عنہ سے کہ ایك شخص نے بارگاہ اقدس میں
حوالہ / References سنن ابی داؤد کتاب القضاء باب اذا علم الحاکم صدق الخ آفتاب عالم پریس لاہور ۲/۱۵۲وشرح معانی الآثار کتاب القضاء والشہادات حدیث کفایۃ شہادۃ خزیمہ الخ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲/۳۱۰
کنزالعمال بحوالہ ع حدیث ۳۷۰۳۸مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۳/۳۷۹والمعجم الکبیر حدیث ۳۷۳۰المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۴/۸۷ واسدالغابۃ ترجمہ ۱۴۴۶خزیمۃ بن ثابت دارالفکر بیروت ۱/۶۹۷
کنزالعمال حدیث ۳۷۰۳۹مؤسسۃ الرسالۃ بیروت ۱۳/۳۸۰
المعجم الکبیر عن خزیمہ حدیث ۳۷۳۰ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۴/۸۷وکنزالعمال بحوالہ مسند ابی یعلٰی وغیرہ حدیث ۳۷۰۳۸ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۳/۳۸۰، التاریخ الکبیر حدیث ۲۳۸دارالباز للنشر والتوزیع مکۃ المکرمۃ ۱/۸۷
القرآن الکریم ۶۵ /۲
#18891 · (رسالہ ضمنی)منیۃ اللبیب ان التشریح بید الحبیب ۱۳۱۱ھ (عقلمند کا مقصد کہ بے شك احکام شرع حبیب الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے اختیار میں ہیں)
حاضر ہوکر عرض کی:یارسول اللہ!میں ہلاك ہوگیا۔فرمایا:کیا ہے عر ض کی:میں نے رمضان میں اپنی عورت سے نزدیکی کی۔فرمایا:غلام آزاد کرسکتاہے عرض کی:نہ فرمایا:لگاتار دومہینے کے روزے رکھ سکتا ہے عرض کی:نہ۔فرمایا:ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلاسکتا ہے عرض کی:نہ۔اتنے میں خرمے خدمت اقدس میں لائے گئے حضور نے فرمایا:انہیں خیرات کر دے۔عرض کی:اپنے سے زیادہ کسی محتاج پر مدینے بھر میں کوئی گھر ہمارے برابر محتاج نہیں۔
فضحك النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم حتی بدت نواجذہ وقال اذھب فاطعمہ اھلک ۔ رحمت عالم صلی الله تعالی علیہ وسلم یہ سن کر ہنسے یہاں تك کہ دندان مبارك ظاہر ہوئےاورفرمایا:جا اپنے گھروالوں کو کھلا دے۔
مسلمانو!گناہ کا ایسا کفارہ کسی نے بھی نہ سنا ہوگا سوا دو من خرمے سرکار سے عطا ہوتے ہیں کہ آپ کھالوکفارہ ہوگیا۔و الله!یہ محمد رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم کی بارگاہ رحمت ہے کہ سزا کو انعام سے بدل دےہاں ہاں یہ بارگاہ بیکس پناہ" فاولئک یبدل اللہ سیاتہم حسنت" (توایسوں کی برائیوں کو الله بھلائیوں سے بدل دے گا۔ت) کی
حوالہ / References صحیح البخاری کتاب الصوم باب اذا جامع فی رمضان الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/۲۵۹،صحیح البخاری کتاب الہبۃ باب اذا وھب ھبۃ الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/۳۵۴،صحیح مسلم کتاب الصیام باب تغلیظ تحریم الجماع فی نہار الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/۳۵۴،سنن الترمذی کتاب الصوم باب ماجاء فی کفارۃ الفطر الخ حدیث ۷۲۴قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/۱۷۵،سنن ابی داؤد کتاب الصیام باب کفارۃ من اتی اھلہ فی رمضان آفتاب عالم پریس لاہور ۱/۳۲۵،سنن ابن ماجۃ ابواب ماجاء فی الصیام باب ماجاء فی کفارۃ من افطر الخ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۲۱،مسند احمد بن حنبل عن ابی ھریرۃ رضی الله تعالٰی عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۲/۲۴۱ و ۲۸۱،مسند الدارمی کتاب الصیام باب الذی یقع علی امرأتہ فی شہر رمضان دارالمحاسن للطباعۃ قاہرۃ ۱/۳۴۳و۳۴۴،سنن الدارقطنی کتاب الصیام باب القبلۃ للصائم حدیث ۲۲۷۱/۴۹ دارالمعرفۃ بیروت ۲/۴۱۰ و ۴۰۹،سنن الدارقطنی کتاب الصیام باب القبلۃ للصائم حدیث ۲۳۶۳/۲۲ تا ۲۳۶۸/۲۷ دار المعرفۃ بیروت ۲/۴۳۶تا ۴۴۱،السنن الکبری کتاب الصیام باب کفارۃ من اتٰی اھلہ فی نہار رمضان دارصادر بیروت ۴/۲۲۱و۲۲۲
القرآن الکریم ۲۵ /۷۰
#18892 · (رسالہ ضمنی)منیۃ اللبیب ان التشریح بید الحبیب ۱۳۱۱ھ (عقلمند کا مقصد کہ بے شك احکام شرع حبیب الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے اختیار میں ہیں)
خلافت کبری ہےان کی ایك نگاہ کرم کبائر کو حسنات کردیتی ہے جب توارحم الراحمین جل جلالہ نے گناہگاروںخطاواروںتباہ کاروں کو ان کا دروازہ بتایا کہ:
" ولو انہم اذ ظلموا انفسہم جاءوک"الایۃ ۔ گناہگار تیرے دربار میں حاضر ہوکرمعافی چاہیں اورتوشفاعت فرمائے تو خداکو توبہ قبول کرنے والا مہربان پائیں۔
والحمدلله رب العلمین۔
یہی مضمون حدیث ۲۱مسلم میں ام المومنین صدیقہ رضی الله تعالی عنہا اور حدیث۲۲مسند بزار ومعجم اوسط طبرانی میں عبدالله بن عمر رضی الله تعالی عنہما سے ہے۔
حدیث ۲۳:دارقطنی میں مولی علی کرم الله تعالی وجہہ سے ہےارشادفرمایا:
کل انت وعیالك فقد کفر الله عنک ۔ تواور تیرے اہل وعیال یہ خرمے کھالیں کہ الله تعالی نے تیری طرف سے کفارہ اداکردیا۔
ہدایہ میں ہےفرمایا:
کل انت ویالك تجزئك ولا تجزئی احد ابعدك ۔ تو اورتیرے بچے کھالیں تجھے کفارے سے کفایت کرے گا اور تیرے بعد اورکسی کو کافی نہ ہوگا۔
سنن ابی داؤد میں امام شہاب زہری تابعی سے ہے:
انما کان ھذہ رخصۃ لہ خاصۃ ولو ان رجلا فعل ذلك الیوم لم یکن لہ بدمن التکفیر ۔ یہ خاص اسی شخص کےلئے رحمت تھی آج کوئی ایسا کرے تو کفارہ سے چارہ نہیں۔
حوالہ / References القرآن الکریم ۴ /۶۴
صحیح مسلم کتاب الصیام باب تغلیظ تحریم الجماع فی نہار رمضان قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/۳۵۵
مجمع الزوائد بحوالہ ابو یعلٰی کتاب الصیام باب فی من افطر الخ دارالکتاب بیروت ۳/۱۶۷و۱۶۸
سنن الدار قطنی کتاب الصیام باب السواك للصائم حدیث ۲۳۶۱/۲۱ دارالمعرفۃ بیروت ۲/۴۳۸
الہدایۃ کتاب الصوم باب مایوجب القضاء والکفارۃ المکتبۃ العربیۃ کراچی ۱/۲۰۰
سنن ابی داؤد کتاب الصیام باب من اتی اھلہ فی رمضان آفتاب عالم پریس لاہور ۱/۳۲۵
#18893 · (رسالہ ضمنی)منیۃ اللبیب ان التشریح بید الحبیب ۱۳۱۱ھ (عقلمند کا مقصد کہ بے شك احکام شرع حبیب الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے اختیار میں ہیں)
امام جلال الدین سیوطی وغیرہ علماء نے بھی اسے خصائص مذکورہ سے گنا وفی الحدیث وجوہ اخر۔
حدیث ۲۴:صحیح مسلم وسنن نسائی وابن ماجہ ومسند امام احمد میں زینت بنت ام سلمہ رضی الله تعالی عنہا سے ہے ام المومنین صدیقہ رضی الله تعالی عنہا نے فرمایا ابوحذیفہ کی بی بی رضی الله تعالی عنہما نے عرض کی:یارسول اللہ!سالم(غلام آزاد کردہ ابو حذیفہ رضی الله تعالی عنہما)میرے سامنے آتا جاتاہے اووہ جوان ہے ابوحذیفہ کو یہ ناگوار ہےسید عالم صلی الله تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:ارضعیہ حتی یدخل علیك تم اسے دودھ پلادو کہ بے پردہ تمہارے پاس آنا جائز ہوجائے۔ام المومنین ام سلمہ وغیرہا باقی ازواج مطہرات رضی الله تعالی عنہن نے فرمایا:
مانری ھذہ الا رخصۃ ارخصھا رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم لسالم خاصۃ ۔ ہمارا یہی اعتقاد ہے کہ یہ رخصت حضور سید عالم صلی الله تعالی علیہ وسلم نے خاص سالم کے لیے فرمادی تھی۔
حدیث ۲۵:ابن سعد وحاکم میں بطریق عمرہ بنت عبدالرحمن خودسہلہ زوجہ ابی حذیفہ رضی الله تعالی عنہما سے مضمون مذکور مروی کہ انہوں نے جب حال سالم عرض کیا فامرھا ان ترضعیہ حضور نے دودھ پلادینے کا حکم فرمایاانہوں نے دودھ پلا دیا اور سالم اس وقت مردجوان تھے جنگ بدر میں شریك ہوچکے تھے۔جو ان آدمی کو اول تو عورت کا دودھ پینا ہی کب حلا ل ہے پئے تو اس سے پسر رضاعی نہیں ہوسکتا مگر حضور نے ان حکموں سے سالم رضی الله تعالی عنہ کو مستثنی فرمادیا۔
حوالہ / References صحیح مسلم کتاب الرضاع فصل رضاعۃ الکبیر قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/۴۶۹،سنن النسائی کتاب النکاح باب رضاع الکبیر نور محمد کارخانہ کراچی ۲/۸۳،سنن ابن ماجہ ابواب النکاح باب رضاع الکبیر ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۴۱،مسند احمد بن حنبل عن عائشہ رضی الله عنہا المکتب الاسلامی بیروت ۶/۳۹و۱۷۴و۲۴۹،مسند احمد بن حنبل حدیث سہلۃ امرأۃ حذیفہ رضی الله عنہا المکتب الاسلامی بیروت ۶/۳۵۶
الطبقات الکبرٰی لابن سعد ذکر سالم مولٰی ابی حذیفہ دارصادر بیروت ۳/۸۶و۸۷،المستدرك للحاکم کتاب معرفۃ الصحابۃ الرضاع فی الکبیر الخ دارالفکر بیروت ۴/۶۱
#18894 · (رسالہ ضمنی)منیۃ اللبیب ان التشریح بید الحبیب ۱۳۱۱ھ (عقلمند کا مقصد کہ بے شك احکام شرع حبیب الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے اختیار میں ہیں)
حدیث ۲۶:صحاح ستہ انس رضی الله تعالی عنہ سے:
ان النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم رخس لعبد الرحمن بن عوف والزبیر فی لبس الحریر لحکمۃ کانت بھما ۔ یعنی عبدالرحمن بن عوف اورزبیر بن العوام رضی الله تعالی عنہما کے بدن میں خشك خارش تھی حضور سید عالم صلی الله تعالی علیہ وسلم نے انہیں ریشمی کپڑے پہننے کی اجازت دے دی۔
حدیث ۲۷:ترمذی وابو یعلی وبیہقی میں ابو سعید رضی الله تعالی عنہ سے ہے کہ حضورسید عالم صلی الله تعالی علیہ وسلم نے امیر المومنین علی کرم الله تعالی وجہہ سے فرمایا:
یا علی لایحل لاحد ان یجنب فی ھذا المسجد غیری وغیرك ۔ اے علی!میرے اورتمہارے سواکسی کو حلال نہیں کہ اس مسجد میں بحال جنابت داخل ہو۔
امام ترمذی فرماتے ہیں:یہ حدیث حسن ہے ۔
حدیث۲۸:مستدرك حاکم میں ابو ہریرہ رضی الله تعالی عنہ سے ہے امیر المومنین عمر فاروق اعظم رضی الله تعالی عنہ نے فرمایا: علی کو تین باتیں وہ دی گئیں کہ ان میں سے میرے لئے ایك ہوتی تو مجھے سرخ اونٹوں سے زیادہ پیاری تھی۔(سرخ اونٹ عزیز ترین اموال عرب ہیں)کسی نے کہا:امیر الومنین!وہ کیا ہیںفرمایا:دختر رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم سے
حوالہ / References صحیح البخاری کتاب اللباس باب مایرخص للرجال الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/۸۶۸،صحیح مسلم کتاب اللباس باب اباحۃ لبس الحریر للرجال الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/۱۹۳،سنن ابی داؤد کتاب اللباس باب لبس الحریر لعدذر آفتاب عالم پریس لاہور ۲/۲۰۵،سنن ابن ماجۃ کتاب اللباس باب من رخس لہ فی لبس الحریرایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۲۶۵،سنن النسائی کتاب الزینۃ باب الرخصۃ فی لبس الحریر نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ۲/۲۹۷،مسند احمد بن حنبل عن انس المکتب الاسلامی بیروت ۱۲۲،۱۲۷ ،۱۹۲،۲۱۵، ۲۵۲،۲۵۵
سنن الترمذی کتاب المناقب باب مناقب علی ابن ابی طالب دارالفکر بیروت ۵/۴۰۸،مسند ابن یعلٰی عن ابی سعید الخدری حدیث ۱۰۳۸ مؤسسۃ علوم القرآن بیروت ۲/۱۳،السنن الکبرٰی للبیہقی کتاب النکاح باب دخولہ المسجد جنبا دارصادر بیروت ۷/۶۶
سنن الترمذی کتاب المناقب حدیث ۳۷۴۸ دارالفکر بیروت ۵/۴۰۹
#18895 · (رسالہ ضمنی)منیۃ اللبیب ان التشریح بید الحبیب ۱۳۱۱ھ (عقلمند کا مقصد کہ بے شك احکام شرع حبیب الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے اختیار میں ہیں)
شادی وسکناہ المسجد مع رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم یحل لہ ما یحل لہ اوران کا مسجد میں رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم کے ساتھ رہنا کہ انہیں مسجد میں روا تھا جو حضور صلی الله تعالی علیہ وسلم کو روا تھا(یعنی بحالت جنابت رہنا) اور روز خیبر کا نشان ۔
حدیث ۲۹:معجم کبیر طبرانی وسنن بیہقی وتاریخ ابن عساکر میں ام المومنین ام سلمہ رضی الله تعالی عنہا سے ہے رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
الا ان ھذا المسجد لایحل لجنب ولالحائض الا للنبی صلی الله تعالی علیہ وسلم وازواجہ وفاطمۃ بنت محمد وعلی الا بینت لکم ان تضلوا۔ھذا روایۃ الطبرانی ۔ سن لو یہ مسجد کسی جنب کو حلال نہیں ہے نہ کسی حائض کو مگر سید عالم صلی الله تعالی علیہ وسلم اورحضور کی ازواج مطہرات وحضرت بتول زہرا اورمولا علی کوصلی الله تعالی علی الحبیب و علیہم وسلم۔سن لو میں نے تم سے صاف بیان فرماد دیاکہ کہیں بہك نہ جاؤ(یہ طبرانی کی روایت ہے۔ت)
حدیث۳۰:صحیحین میں براء بن عازب رضی الله تعالی عنہ سے ہے:
نھانا رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم عن خاتم الذھب ۔ ہمیں رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم نے سونے کی انگوٹھی پہننے سے منع فرمایا۔
بایں ہمہ خود براء رضی الله تعالی عنہ انگشتری طلائی پہنتے۔ابن ابی شیبہ نے بسند صحیح ابواسحق اسفرائنی سے روایت کی:
حوالہ / References المستدرك للحاکم کتاب معرفۃ الصحابۃ سدوا ھذہ الابواب الاباب علی دارالفکر بیروت ۳/۱۲۵
المعجم الکبیر عن ام سلمۃ رضی الله عنہا حدیث ۸۸۳ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۲۳/۳۷۴،السنن الکبیر کتاب النکاح باب دخولہ المسجد جنبا دارصادر بیروت ۷/۶۵،تاریخ دمشق الکبیر ترجمہ ۵۰۲۹علی ابن ابی طالب داراحیاء التراث العربی بیروت ۴۵/۱۰۸
صحیح مسلم کتاب اللباس با ب تحریم استعمال انا ء الذھب الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/۱۸۸،صحیح البخاری کتاب اللباس باب خواتیم الذھب الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/۸۷۱
#18896 · (رسالہ ضمنی)منیۃ اللبیب ان التشریح بید الحبیب ۱۳۱۱ھ (عقلمند کا مقصد کہ بے شك احکام شرع حبیب الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے اختیار میں ہیں)
قال رأیت علی البراء خاتما من ذھب ۔وروی نحوہ البغوی فی الجعد یات عن شعبۃ عن ابی اسحق۔ فرما یا:میں نے براء رضی الله تعالی عنہ کو سونے کی انگوٹھی پہنے دیکھا۔(ایسے ہی بغوی نے جعدیات میں شعبہ سے انہوں نے ابی اسحق سے روایت کیا۔ت)
امام احمد مسند میں فرماتے ہیں:
حدثنا ابو عبد الرحمن ثنا ابورجاء ثنا محمد بن مالك قال رأیت علی البراء خاتما من ذھب وکان الناس یقولون لہ لم تختم بالذھب وقد نھی عنہ النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم وبین یدیہ غنیمۃ یقسمھا سبی وخرثی قال فقسمھا حتی بقی ھذا الخاتم فرفع طرفہ فنظر الی اصحابہ ثم خفض ثم رفع طرفہثم خفض ثم طرفہفنظر الیھم قال ای براء فجئتہ حتی قعدت بین یدیہ فاخذ الخاتم فقبض علی کرسوعی ثم قال خذ البس ماکساك الله ورسولہ ۔
یعنی محمد بن مالك نے کہا میں نے براء رضی الله تعالی عنہ کو سونے کی انگوٹھی پہنے دیکھا لوگ ان سے کہتے تھے آپ سونے کی انگوٹھی کیوں پہنتے ہیں حالانکہ نبی صلی الله تعالی علیہ وسلم نے اس سے ممانعت فرمائی ہے۔براء رضی الله تعالی عنہ نے فرمایا ہم حضور سید عالم صلی الله تعالی علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر تھے حضور کے سامنے اموال غنیمت غلام ومتاع حاضر تھے حضور تقسیم فرما رہے تھے سب اونٹ بانٹ چکے یہ انگوٹھی باقی رہ گئی حضور نے نظر مبارك اٹھا کر اپنے اصحاب کرام کو دیکھا پھر نگاہ نیچی کرلی پھرانظر اٹھا کر ملاحظہ فرمایا پھر نگاہ نیچی کرلی پھر نظر اٹھا کر دیکھا اور مجھے بلایا اے براء!میں حاضر ہوکر حضور کے سامنے بیٹھ گیا سید اکرم صلی الله تعالی علیہ وسلم نے انگوٹھی لے کر میری کلائی تھامیپھر فرمایا پہن لے جو کچھ تجھے الله ورسول پہناتے ہیں صلی الله تعالی علیہ وسلم۔
براء رضی الله تعالی عنہ فرماتے:تم لوگ کیونکر مجھے کہتے ہو کہ میں وہ چیز اتارڈالوں جسے مصطفی صلی الله
حوالہ / References المصنف لابن ابی شیبۃ کتاب اللباس الخ نمبر ۶۲حدیث ۲۵۱۴۲ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۵/۱۹۵
مسند احمد بن حنبل حدیث البراء بن عازب رضی الله تعالٰی عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۴/۲۹۴
#18897 · (رسالہ ضمنی)منیۃ اللبیب ان التشریح بید الحبیب ۱۳۱۱ھ (عقلمند کا مقصد کہ بے شك احکام شرع حبیب الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے اختیار میں ہیں)
تعالی علیہ وسلم نے فرمایا کہ لے پہن لے جو کچھ الله ورسول نے پہنایاجل جلالہو صلی الله تعالی علیہ وآلہ وسلم۔
حدیث ۳۱:دلائل النبوۃ بیہقی میں بطریق الحسن مرویسید عالم صلی الله تعالی علیہ وسلم نے سراقہ بن مالك رضی الله تعالی عنہ سے فرمایا:
کیف بك اذا لبست سواری کسری۔ وہ وقت تیرا کیسا وقت ہوگا جب تجھے کسری بادشاہ ایران کے کنگن پہنائے جائیں گے۔
جب ایران زمانہ امیر المومنین فاروق اعظم رضی الله تعالی عنہ میں فتح ہوا اورکسری کے کنگنکمربندتاج خدمت وفاروقی میں حاضر کئے گئے امیر المومنین نے انہیں پہنائے اوراپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر کہا:
الله اکبر الحمدلله الذی سلبھما کسری بن ھرمز و البسھما سراقۃ الاعرابی ۔
قال العلامۃ الزرقانی لیس فی ھذا استعمال الذھب و ھو حرام لانہانما فعلہ تحقیقا لمعجزۃ الرسول صلی الله تعالی علیہ وسلم من غیر ان یقرھما فانہ روی انہ امرہ فنزعھما وجعلھما فی الغنیمۃ ومثل ھذا لایعد استعمالا ۔
اقول:رحمك الله من فاضل کبیر الشان انما المعجزۃ الله بہت بڑا ہے سب خوبیاں الله کو جس نے یہ کنگن کسری بن ہرمز سے چھینے اورسراقہ دہقانی کو پہنائے۔
علامہ زرقانی نے فرمایا اس سے سونے کو استعمال کرنا لازم نہیں آیا حالانکہ وہ حرام ہےکیونکہ امیر المومنین کا یہ فعل رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم کے معجزہ کی تحقیق کے لئے تھااس فعل کو برقرار نہیں رکھا۔مروی ہے کہ آپ نے سراقہ کو حکم دیا انہوں نے وہ کنگن اتار دیئے اور آپ نے انہیں مال غنیمت میں شامل فرمادیا اوراس کو استعمال شمار نہیں کیا جاتا۔
میں کہتاہوں اے فاضل کبیر الشانالله تعالی آپ پر رحم فرمائےمعجزہ تورسول الله صلی الله
حوالہ / References دلائل النبوۃ للبیہقی باب قول الله عزوجل وعدالله الذین اٰمنو ا الخ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۶/۳۲۵و۳۲۶
شرح الزرقانی علی المواھب المقصد الثامن الفصل الثالث دارالمعرفۃ بیروت ۷/۲۰۸
#18898 · (رسالہ ضمنی)منیۃ اللبیب ان التشریح بید الحبیب ۱۳۱۱ھ (عقلمند کا مقصد کہ بے شك احکام شرع حبیب الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے اختیار میں ہیں)
اخبارہ صلی الله تعالی علیہ وسلم بانہ سواری کسری فانما تحقیقا بلبسہ وانما حرام اللبس ومن شرط الحرمۃ اللبث فالو اضح ماجنحت الیہ من ان ھذا ترخیص وتخصیص من النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم لسراقۃ ولم یکن فی الحدیث مایدل علی التملیك ففعل امیر المومنین ما ارشد الیہ الحدیث ثم ردھما مردھما۔ تعالی علیہ وسلم کا اس بات کی خبر دینا ہے کہ سراقہ کسری کے کنگن پہنے گا۔چنانچہ اس کا تحقق تو ان کے کنگن پہننے سے ہوگیا اوربے شك حرام پہننا ہے اورحرمت کی شرط لبث ہے۔پس واضح ہے کہ یہ سراقہ کے لئے نبی کریم صلی الله تعالی علیہ وسلم کی طرف رخصت وتخصیص ہے۔اورحدیث میں تملیك پر دلالت نہیں چنانچہ امیرالمومنین نے وہ کام کای جس کی طرف حدیث نے راہنمائی فرمائیپھر ان کنگنوں کو ان کی جگہ کی طرف لوٹا دیا۔(ت)
حدیث ۳۲:طبقات ابن سعد میں منذر ثوری سے ہے امیر المومنین علی وحضرت طلحہ رضی الله تعالی عنہما میں کچھ گفتگو ہوئی طلحہ رضی الله تعالی عنہ نے کہا آپ نے(اپنے بیٹے محمد بن حنفیہ ابوالقاسم)کا نام بھی نبی صلی الله تعالی علیہ وسلم کا نام پر رکھا اور کنیت عــــــہ بھی حضور کیحالانکہ سید عالم صلی الله
عــــــہ:شیخ محقق اشعۃ للمعات میں فرماتے ہیں:
علماء رادریں مسئلہ اقوال ست وقول صواب ازیں مقالات آنست کہ تسمیہ بنام شریف وے صلی الله تعالی علیہ وسلم جائز بلکہ مستحب ست وتکنی بکنیت وے اگرچہ بعد از زمان قوی تروسخت تربود و ہمچنیں جمع کردن میان نام وکنیت آنحضرت صلی الله تعالی علیہ و سلم ممنوع بطریق اولی وآنکہ علی مرتضی کردمخصوص بودبوے رضی الله تعالی عنہ وغیر او را جائز نبود اھ لکن فی اس مسئلہ میں علماء کے مختلف اقوال ہیںدرست قول اس سلسلہ میں یہ ہے کہ آپ صلی الله تعالی علیہ وسلم کے نام پر نام رکھنا جائز بلکہ مستحب ہے۔اورآپ کی کنیت کے ساتھ کنیت رکھنا اگرچہ آپ کے وصال کے بعد ہوسخت منع ہے اوراسی طرح آپ کے نام اور کنیت کو جمع کرنا بطریق اولی ممنوع ہے۔اوروہ جو حضرت علی مرتضی رضی الله تعالی عنہ نے کیا ہے وہ انکی خصوصیت ہےانکے غیر کو ایسا کرنا جائز نہیں اھ۔ (باقی برصفحہ آیندہ)
حوالہ / References اشعۃ اللمعات کتاب الادب باب الاسامی الفصل الاو ل مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۴/۴۴،۴۵
#18899 · (رسالہ ضمنی)منیۃ اللبیب ان التشریح بید الحبیب ۱۳۱۱ھ (عقلمند کا مقصد کہ بے شك احکام شرع حبیب الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے اختیار میں ہیں)
تعالی علیہ وسلم نے ان کے جمع کرنے سے منع فرمایا ہے امیر المومنین کرم الله تعالی وجہہ نے ایك جماعت قریش کو بلا کر گواہی دلوائی کہ حضور اقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم نے امیر المومنین سے ارشاد فرمایا تھا:
سیولدلك بعدی غلام فقد نحلتہ اسمی وکنیتی ولا نحل لاحد من امتی بعدہ۔ عنقریب میرے بعد تمہاے ہاں ایك لڑکا ہوگا میں نے اسے اپنے نام وکنیت دونوں عطافرمادئے اوراس کے بعد میرے کسی اور امتی کوحلال نہیں۔
مولاعلی کرم الله تعالی وجہہ فرماتے ہیں:
قلت یارسول الله ان ولد لی میں نے عرض کی:یارسول اللہ!حضور کے

(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
التنویر من کان اسمہ محمد لاباس بان یکنی اباالقاسم اھ ۔وعلله فی الدر ۔بنسخ النھی محتجا بفعل علی رضی الله تعالی عنہ۔
اقول:وکیف یفید النسخ مع نص الحدیث نفسہ ان ذلك کان رخصۃ من النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم لعلی کرم الله تعالی وجہہ کما سیأتی والمرام یحتاج الی زیادۃ تحری لایرخص فیہ غرابۃ المقام والله تعالی اعلم ۱۲منہ۔ لیکن تنویر میں ہے کہ جس کا نام محمد ہو اس کے لیے ابوالقاسم کنیت رکھنے میں کوئی حرج نہیں اھ اوردرمیں نسخ نہی کے ساتھ اسکی علت بیان کی گئی حضرت علی رضی الله تعالی عنہ کے فعل سے استدلال کرتے ہوئے۔
میں کہتاہوں کہ کیسے مفید ہے نسخ خود نص حدیث کے ہوتے ہوئے کہ بیشك یہ نبی کریم صلی الله تعالی علیہ وسلم کی طرف سے حضرت علی مرتضی رضی الله تعالی عنہ کے لیے رخصت ہے جیسا کہ عنقریب آئیگا۔اگرچہ مقصود زیادہ تفصیل کا مقتضی ہے مگر غرابت اس مقام کی اجازت نہیں دیتی۔اورالله تعالی خوب جانتا ہے۔(ت)
حوالہ / References الدرالمختار شرح تنویر الابصار کتاب الحظر والاباحۃ فصل فی البیع مطبع مجتبائی دہلی ۲/۲۵۲
الدرالمختار شرح تنویر الابصار کتاب الحظر والاباحۃ فصل فی البیع مطبع مجتبائی دہلی ۲/۲۵۲
#18900 · (رسالہ ضمنی)منیۃ اللبیب ان التشریح بید الحبیب ۱۳۱۱ھ (عقلمند کا مقصد کہ بے شك احکام شرع حبیب الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے اختیار میں ہیں)
ولد بعد اسمیہ باسم واکنیہ بکنتك فقل نعم۔ فکانت رخصۃ من رسول الله صلی الله تعالی علیہ و سلم لعلی ۔احمد وابوداود والترمذی وصحح و ابو یعلی والحاکم فی الکنی والطحاوی والحاکم فی المستدرك والبیھقی فی السنن والضیاء فی المختارۃ عنہ رضی الله تعالی عنہ۔ بعد اگر میرے کوئی لڑکا پیدا ہوا تو میں حضور کا نام پاك اس کا نام رکھوں اور حضور کی کنیت اس کی کنیت۔فرمایا:ہاں۔یہ مولی علی کے لیے رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم کی رخصت تھی۔(امام احمد وابوداؤد وترمذی نے اسے روایت کیا اوراس کی تصحیح کی۔اور ابو یعلی وحاکم نے کنی میں اورطحاوی اورحاکم نے مستدرك میں اوربیہقی نے سنن میں اور ضیاء نے مختارہ میں مولا علی رضی الله تعالی عنہ سے روایت کیا۔ت)
حدیث۳۳:صحیح بخاری وترمذی ومسند احمد بن عبدالله بن عمر رضی الله تعالی عنہما سے ہے غزوہ بدر میں حضرت رقیہ بنت رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم زوجہ امیرالمومنین عثمان غنی رضی الله تعالی عنہما بیمار تھیں سید عالم صلی الله تعالی علیہ وسلم نے انہیں مدینہ طیبہ میں شاہزادی کی تیمارداری کے لیے ٹھہرنے کا حکم دیا اورفرمایا:
ان لك اجر رجل من شھد بیشك تمہارے لئے حاضر ان بدر کے برابر ثواب
حوالہ / References الطبقات الکبری لابن سعد ومن ھذہ الطبقۃ ممن روی عن عثمان وعلی الخ دارصادر بیروت ۵/۹۱و۹۲
مسند احمد بن حنبل عن علی رضی الله عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۱/۹۵،سنن ابی داؤد کتاب الادب باب فی الرخصۃ فی الجمع بینہما آفتاب عالم پریس ۲/۳۲۳،سنن الترمذی کتاب الادب باب ماجاء فی کراھیۃ الجمع بین الاسم النبی وکنیہ حدیث ۲۸۵۲ دارالفکربیروت ۴/۳۸۴،المستدرك للحاکم کتاب الادب قول النبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم تسموا باسمی ولاتکنوا بکنیتی دارالفکر بیروت ۴/۲۷۸، السنن الکبرٰی کتاب الضحایاباب ماجاء من الرخصۃ الخ داراصادر بیروت ۹/۳۰۹،شرح معانی الآثار کتاب الکراھیۃ باب التکنی بابی القاسم الخ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲/۴۳۲،مسند ابو یعلٰی عن علی رضی الله عنہ حدیث ۲۹۸ مؤسسۃ علوم القرآن بیروت ۱/۱۸۴،الضیاء المختارۃ ۲/۳۴۳
#18901 · (رسالہ ضمنی)منیۃ اللبیب ان التشریح بید الحبیب ۱۳۱۱ھ (عقلمند کا مقصد کہ بے شك احکام شرع حبیب الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے اختیار میں ہیں)
بدرا او سھمہ اورحاضر ی کے مثل غنیمت کا حصہ ہے۔
یہ خصوصیت حضرت عثمان کو عطافرمادی حالانکہ جو حاضر جہاد نہ ہوغنیمت میں اس کا حصہ نہیں۔سنن ابو داؤد میں انہیں سے ہے:
فضرب لہرسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم بسھم ولم یضرب لاحد غاب غیرہ ۔ رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم نے ان کے لیے حصہ مقرر فرمایا اور ان کے سواکسی غیر حاضر کو حصہ نہ دیا۔
حدیث آئندہ کتاب الفتوح میں ہے کہ نبی صلی الله تعالی علیہ وسلم نے جب معاذ بن جبل رضی الله تعالی عنہ کو یمن پر صوبہ دار کر کے بھیجا ان سے ارشادفرمایا:میں نے تمہارے لئے رعایا کے ہدایا طیب کر دئے اگرکوئی چیز تمہیں ہدیہ دی جائے قبول کر لو۔عبید بن صخر کہتے ہیں جب معاذ رضی الله تعالی عنہ واپس آئے تیس غلام لائے کہ انہیں ہدیہ دیے گئےحالانکہ عاملوں کو رعایا سے ہدیہ لینا حرام ہے ۔
مسند ابویعلی میں حذیفہ بن الیمان رضی الله تعالی عنہ سے ہے رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ھدایا العمال حرام کلھا ۔ عاملوں کے سب ہدئے حرام ہیں۔
مسند احمد وسنن بیہقی میں اب وحمدی ساعدی رضی الله تعالی عنہ سے ہے رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
حوالہ / References صحیح البخاری کتاب فضائل اصحاب النبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم مناقب عثمان قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/۵۲۳،سنن الترمذی کتاب المناقب باب عثمان بن عفان حدیث ۳۷۲۶ دارالفکربیروت ۵/۳۹۵،مسند احمد بن حنبل عن عبدالله بن عمر رضی الله عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۲/۱۰۱
سنن ابی داؤد کتاب الجہاد باب فی من جاء بعد الغنیمۃ الخ آفتاب عالم پریس لاہور ۲/۱۸
الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ بحوالہ سیف فی الفتوح،ترجمہ ۸۰۳۷ معاذ بن جبل دارالفکر بیروت ۵/۱۵۴
کنز العمال بحوالہ عن عن حذیفہ حدیث ۱۵۰۶۸مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۶/۱۱۲
#18902 · (رسالہ ضمنی)منیۃ اللبیب ان التشریح بید الحبیب ۱۳۱۱ھ (عقلمند کا مقصد کہ بے شك احکام شرع حبیب الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے اختیار میں ہیں)
ھدایا لعمال غلول ۔ عاملوں کے ہدیے خیانت ہیں۔
حدیث ۳۴:صحیحین میں عبدالله بن عمر رضی الله تعالی عنہما سے ہے کہ ایك شخص(یعنی حبان بن منقذ بن عمرو انصاری یا ان کے والد منقذ رضی الله تعالی عنہما نے)سید عالم صلی الله تعالی علیہ وسلم سے عرض کی کہ میں فریب کھا جاتاہوں(یعنی لوگ مجھ سے زیادہ قیمت لے لیتے ہیں)فرمایا:
من بایعت فقل لاخلابۃ ۔زاد الحمیدی فی مسندہ ثم انت بالخیار ثلثا ۔ جس سے خریداری کرو کہہ دیا کرو فریب کی نہیں سہی۔ حمیدی نے اپنی مسند میں اتنا اضافہ کیا:پھر تمہیں تین دن تك اختیار ہے(اگر ناموافق پاؤ بیع رد کردو)
یہی مضمون حدیث۳۵سنن اربعہ میں انس بن مالك رضی الله تعالی عنہ سے ہے وذکر قصۃ ولم یذکر الزیادۃ(قصے کا ذکر کیا گیا اورزیادتی کا ذکر نہ کیا گیا۔ت)
امام نووی شرح مسلم شریف میں فرماتے ہیں:امام ابو حنیفہ وامام شافعی اورروایت اصح میں امام مالك وغیرہم ائمہ رضی الله تعالی عنہم کے نزدیك غبن باعث خیار نہیں کتنا ہی غبن کھائے بیع کو رد نہیں کرسکتاحضوراقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم نے اس حکم سے خاص انہیں کو نوازا تھا اوروں کے لیے نہیںیہی قول صحیح ہے ۔
حوالہ / References مسند احمد بن حنبل حدیث ابی حمید الساعدی المکتب الاسلامی بیروت ۵/۴۲۴،السنن الکبرٰی للبیہقی کتاب آداب القاضی باب لایقبل منہ ھدیۃ دارصادر بیروت ۱۰/۱۳۸،کنز العمال حدیث ۱۵۰۶۷مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۶/۱۱۱
صحیح البخاری کتاب البیوع باب مایکرہ الخداع فی البیع قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/۲۸۴،صحیح البخاری کتاب فی الاستقراض باب ماینہی عن اضاعۃ المال قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/۳۲۴،صحیح البخاری فی الخصومات باب من رد امر السفیہ والضعیف العقل قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/۳۲۵،صحیح مسلم کتاب البیوع باب من یخدع فی البیع قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/۷،کنز العمال عن عبدالله بن عمر حدیث ۹۹۶۲ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۴/۱۵۵
المصنف لابن ابی شیبہ کتاب الرد علی ابی حنیفہ حدیث ۳۷۳۱۷دارالکتب العلمیہ بیروت ۷/۳۰۵،مسندی حمیدی ۲/۷۴
شرح صحیح مسلم مع صحیح مسلم کتاب البیوع باب من یخدع فی البیع قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/۷
#18903 · (رسالہ ضمنی)منیۃ اللبیب ان التشریح بید الحبیب ۱۳۱۱ھ (عقلمند کا مقصد کہ بے شك احکام شرع حبیب الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے اختیار میں ہیں)
حدیث ۳۶:مشہور میں ہے کہ سید عالم صلی الله تعالی علیہ وسلم نے نماز عصر کے بعد نماز سے ممانعت فرمائی۔
فیہ عن عمر وعن ابی ھریرۃ وعن ابی سعید ن الخدری کلہا فی الصحیحین وعن معاویۃ فی صحیح البخاری وعن عمروبن عنبسۃ فی صحیح مسلم رضی الله تعالی عنہم۔ اس بارے میں حضرت عمرحضرت ابوہریرہ اور حضرت ابو سعید خدری سے صحیحین میں مروی ہے اورحضرت معاویہ سے صحیح بخاری میں اورحضرت عمرو بن عنبسہ سے صحیح مسلم میں مروی ہے رضی الله تعالی عنہم(ت)۔
خود ام المومنین صدیقہ رضی الله تعالی عنہا بھی اس ممانعت کو حضور اقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم سے روایت کرتی ہیں رواہ ابو داؤد فی سننہ (ابوداؤد نے اپنی سنن میں اس کو روایت کیا۔ت) باینہمہ ام المومنین عصر کے بعد دو رکعتیں پڑھا کرتیں:
رواہ الشیخان عن کریب عن ابن عباس وعبد الرحمن بن ازھر والمسوربن مخرمۃ رضی الله تعالی عنہم انھم ارسلوہ الی عائشۃ زوج النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم فقالو ا اقرء علیھا السلام منا جمیعا وسلھا عن الرکعتین بعد العصر وقل لھابلغنا انك تصلینھما وان رسول الله صلی الله اس کو بخاری ومسلم نے بحوالہ کریب حضرت ابن عباس بن عبدالرحمن بن ازھر اورمسوربن مخرمہ رضی الله تعالی عنہم سے روایت کیاان تینوں نے کریب کو ام المومنین زوجہ رسول سیدہ عائشہ صدیقہ کے پاس بھیجا کہ انہیں ہمارا سلام کہیں اوران سے نماز عصر کے بعد والی دورکعتوں کے بارے میں پوچھو اوران سے عرض کرو کہ ہمیں یہ اطلاع ملی ہے کہ آپ وہ پڑھتی ہیں حالانکہ رسول الله
حوالہ / References صحیح البخاری کتاب مواقیت الصلٰوۃ باب الصلٰوۃ بعد الفجر قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/۸۲،صحیح البخاری کتاب مواقیت الصلٰوۃ باب لا تتحری الصلٰوۃ قبل غروب الشمس قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/۸۲،صحیح البخاری،کتاب مواقیت الصلٰوۃ باب من یکرہ الصلٰوۃ الا بعد العصر والفجر قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/۸۳،صحیح مسلم کتاب صلٰوۃ المسافرین باب الاوقات التی نہی عن الصلٰوۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/۲۷۵
صحیح البخاری کتاب مواقیت الصلٰوۃ باب لاتتحری الصلٰوۃ بعد غروب الشمس قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/۸۳
صحیح مسلم کتاب المسافرین باب الاوقات التی نہی عن الصلٰوۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/۲۷۶
سنن ابی داؤد کتاب الصلٰوۃ باب الصلٰوۃ بعد العصر آفتاب عالم پریس لاہور ۱/۱۸۱
#18904 · (رسالہ ضمنی)منیۃ اللبیب ان التشریح بید الحبیب ۱۳۱۱ھ (عقلمند کا مقصد کہ بے شك احکام شرع حبیب الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے اختیار میں ہیں)
تعالی علیہ وسلم نھی عنہما ۔ صلی الله تعالی علیہ وسلم نے ان سے منع فرمایا ہے۔(ت)
علماء فرماتے ہیں یہ ام المومنین کی خصوصیت تھی سید عالم صلی الله تعالی علیہ وسلم نے ان کےلئے جائز کردیا تھا۔
قالہ الامام الجلیل خاتم الحفاظ السیوطی فی انموزج البیب ثم الزرقانی فی شرح المواھب ۔ امام جلیل خاتم الحفاظ سیوطی علیہ الرحمۃ نے انموذج اللبیب میں پھر زرقانی نے شرح المواھب میں بیان کیا۔(ت)
حدیث ۳۷:صحیحین ومسند احمد وسنن نسائی وصحیح ابن حبان میں ام المومنین صدیقہ اور حدیث۳۸ احمد ومسلم وابو داؤد و ترمذی ونسائی وابن ماجہ وابن حبان میں حضرت عبدالله بن عباس اور حدیث۳۹
حوالہ / References صحیح البخاری کتاب التہجد باب اذا کلم وھو یصلی الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/۱۶۴و۱۶۵،صحیح مسلم کتاب صلٰوۃ المسافرین باب الاوقات ان نہی عن الصلٰوۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/۲۷۷،مشکوٰۃ المسابیح بحوالہ متفق علیہ کتاب الصلٰوۃ باب اوقات النہی قدیمی کتب خانہ کراچی ص۹۴
شرح الزرقانی علی المواھب اللدنیۃ
صحیح البخاری کتاب النکاح باب الاکفاء فی الدین قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/۷۶۲،صحیح مسلم کتاب الحج باب اشتراط المحرم التحلل قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/۳۸۵،مسند احمد بن حنبل عن عائشہ رضی الله عنہا المکتب الاسلامی بیروت ۶/۲۰۲،سنن النسائی کتاب مناسك الحج الاشتراط فی الحج نور محمد کارخانہ کراچی ۲/۱۹،موارد الظمآن کتاب الحج باب الاشتراط فی الاحرام حدیث ۹۷۳المطبعۃ السلفیہ ص۲۴۲
مسند احمد بن حنبل عن ابن عباس رضی الله عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۱/۳۳۷،صحیح سملم کتاب الحج باب اشتراط المحرم التحلل قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/۳۸۵،سنن الترمذی کتاب الحج حدیث ۹۴۹ دارالفکر بیروت ۲/۲۷۸،سنن ابی داؤد کتاب المناسك باب الاشتراط فی الحج آفتاب عالم پریس لاہور ۱/۲۴۷،سنن النسائی کتاب مناسك الحج الاشتراط فی الحج نور محمد کارخانہ کراچی ۲/۱۹،سنن ابن ماجۃ ابواب المناسك باب الشرط فی الحج ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۲۱۷
#18905 · (رسالہ ضمنی)منیۃ اللبیب ان التشریح بید الحبیب ۱۳۱۱ھ (عقلمند کا مقصد کہ بے شك احکام شرع حبیب الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے اختیار میں ہیں)
احمد وابن ماجہ وابن خزیمہ وابونعیم وبیہقی میں ضباعہ بنت زبیر اور حدیث۴۰ بیہقی وابن مندہ میں بطریق ھشام عن ابی الزبیر حضرت جابر بن عبدالله اورحدیث ۴۱ احمد وابن ماجہ وطبرانی میں جدہ ابی بکر بن عبدالله بن زبیر یعنی اسماء بنت صدیق یا سعدی بنت عوف اورحدیث طبرانی میں حضرت عبدالله بن عمر رضی الله تعالی عنہم سے ہے حضور سید عالم صلی الله تعالی علیہ وسلم اپنی چچا زاد بہن ضباعہ بنت زبیر بن عبدالمطلب کے پاس تشریف لے گئے اورفرمایا:حج کا ارادہ ہے عرض کی:یارسول اللہ!والله میں تو اپنے آپ کو بیمار پاتی ہوں(یعنی گمان ہے کہ مرض کے باعث ارکان ادا نہ کرسکوں پھر احرام سے کیونکر باہر آؤں گی)۔فرمایا:
اھلی واشترطی ان محلی حیث جستنی۔ احرام باندھ اورنیت میں یہ شرط لگالے کہ جہاں تومجھے روکے گا وہیں میں احرام سے باہر ہوں۔
نسائی نے زائد کیا:
فان لك علی ربك ماستثنیت ۔ تمہارا یہ استثناء تمہارے رب کے یہاں مقبول رہے گا۔
حوالہ / References مسند احمد بن حنبل حدیث ضباعۃ بنت الزبیر المکتب الاسلامی بیروت ۶/۳۶۰و۴۲۰،سنن ابن ماجہ ابواب المناسك باب الشرط فی الحج ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۲۱۷،صحیح ابن خزیمہ کتاب المناسك باب اشتراط من بہ علۃ الخ المکتب الاسلامی بیروت ۴/۱۶۴، السنن الکبرٰی کتاب الحج باب استثناء فی الحج دارصادر بیروت ۵/۲۲۱و۲۲،کنزالعمال بحوالہ م،د،ت،ن ھ ھب حدیث ۱۲۳۲۸ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۵/۱۲۲
السنن الکبرٰی کتاب الحج باب الاستثناء فی الحج دارصادر بیروت ۵/۲۲۲
مسند احمد بن حنبل عن اسماء بنت ابی بکر رضی الله عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۶/۳۴۹،سنن ابن ماجۃ ابواب المناسك باب الشرط فی الحج ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۲۱۷،المعجم الکبیر عن اسماء بنت ابی بکر حدیث ۲۳۳ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۲۴/۸۷
المعجم الکبیر عن صباعۃ بنت الزبیر المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۲۴/۳۳۲تا۳۳۷،مجمع الزوائد بحوالہ ابن عمر کتاب الحج باب الاشتراط فی الحج دارالکتاب بیروت ۳/۲۱۸
سنن النسائی کتاب مناسك الحج باب الاشتراط فی الحج نور محمد کارخانہ کراچی ۲/۱۹
#18906 · (رسالہ ضمنی)منیۃ اللبیب ان التشریح بید الحبیب ۱۳۱۱ھ (عقلمند کا مقصد کہ بے شك احکام شرع حبیب الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے اختیار میں ہیں)
ضباعہ نے زائد کیا کہ فرمایا:
فان حبست او مرضت فقد حللت من ذلك بشرطك علی ربك عزوجل ۔ اب اگر تم حج سے روکی گئیں یا بیمار پڑیں تو ا س شرط کے سبب جو تم نے اپنے رب عزوجل پر لگائی ہے احرام سے باہر ہوجاؤ گی۔
ہمارے آئمہ کرام رضی الله تعالی عنہم فرماتے ہیں:یہ ایك اجازت تھی کہ حضور اقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم نے انہیں عطا فرمادی ورنہ نیت میں ایسی شرط اصلا مقبول ومعتبر نہیں۔
بل وافقنا علی اختصاصہ بھا بعض الشافعیۃ کالخطابی ثم الرویانی کما فی عمدۃ القاری للامام العینی من باب الاحصار۔ بلکہ اس حکم کے اس صحابہ کے ساتھ مختص ہونے پر بعض شوافع بھی ہمارے ساتھ متفق ہیںمثلا خطابی پھر رویانی جیسا کہ عمدۃ القاری نے باب الاحصار میں امام عینی نے ذکر فرمایا۔(ت)
حتی کہ حدیث۴۳ مسند امام احمد میں بسند ثقات رجال صحیح مسلم ہے:
حدثنا محمد بن جعفر ثنا شعبۃ عن قتادۃ عن نصر بن عاصم عن رجل منھم رضی الله تعالی عنہ انہ اتی النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم فاسلم علی انہ لایصلی الا صلوتین فقبل ذلك منہ ۔ یعنی ایك صاحب خدمت اقدس حضو رسید عالم صلی الله تعالی علیہ وسلم میں حاضر ہوکر اس شرط پر اسلام لائے کہ صرف دو ہی نمازیں پڑھاکروںگانبی صلی الله تعالی علیہ وسلم نے قبول فرمالیا۔
ان کے سوا امام جلیل جلال سیوطی رحمہ الله تعالی نے کتاب مستطاب انموذج اللبیب فی خصائص الحبیب صلی الله تعالی علیہ وسلممیں ایك مجمل فہرست میں نوواقعوں کے اورپتے دئے ہیں کہ فقیر نے ان تین کی طر ح یہ بھی ترك کردئے لوجوہ یطول ایرادھا ولله الحمد علی تواتر الآئہ۔(بعض ایسی وجوہ کی بنا پرکہ انکا ذکر طوالت کا باعث ہے اورالله ہی کیلئے تمام تعریفیں اسکی متواتر نعمتوں پر)۴۳حدیثیں یہ اور ۸حدیثیں دربارہ تحریم مدینہ طیبہ جملہ اکاون۵۱ احادیث ہیں جن میں بہت ازروئے
حوالہ / References مسند احمد بن حنبل حدیث ضباعۃ بنت الزبیر رضی الله تعالٰی عنہا المکتب الاسلامی بیروت ۶/۴۲۰
عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری باب الاحصار فی الحج تحت الحدیث ۳۸۶/۱۸۰ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۱۰/۲۰۸
مسند احمد بن حنبل حدیث رجال من اصحاب النبی صلی الله علیہ وسلم المکتب الاسلامی بیروت ۵/۲۵و۳۶۳
انموذج للبیب فی خصائص الحبیب صلی الله تعالٰی علیہ وسلم
#18907 · (رسالہ ضمنی)منیۃ اللبیب ان التشریح بید الحبیب ۱۳۱۱ھ (عقلمند کا مقصد کہ بے شك احکام شرع حبیب الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے اختیار میں ہیں)
اسنا د بھی خاص مقصود رسالہ کے مناسب تھیں اوربحیثیت تذلیل وہابیہ وتضلیل وتجہیل امام الوہابیہ تو سب ہی مقصود عالم رسالہ کے ملائم ہیں انہیں بھی گنے توشمار احادیث یہاں تك ایك سوچھیانوے ہو۔مگر ہمارے نبی کریم رؤف ورحیم علیہ وعلی آلہ افضل الصلوۃ والتسلیم نے ارشاد فرمایا ہے:
ان الله کتب الاحسان علی کل شیئ فاذا قتلتم فاحسنوا القتلۃ و اذا ذبحتم فاحسنوا الذبحۃ۔احمد والستۃ الا البخاری عن شداد بن اوس رضی الله تعالی عنہ۔ بیشك الله تعالی نے ہر چیز پر احسان کر نا مقرر فرمادیا ہے تو جب تم کسی کو قتل کرو تو قتل میں بھی احسان برتو اور ذبح کرو تو ذبح میں بھی احسان برتو۔(احمد اورصحاح ستہ نے(علاوہ بخاری کے)شداد بن اوس رضی الله تعالی عنہ سے روایت کیا۔ت)
ولہذا میرا خامہ تیغبار نجدی شکار اپنے مقتولین مخذولین مذبوحین مقبوحین حضرات وہابیہ پر احسان کے لیے یہ پچاسا شمارسے الگ رکھتا اوربتوفیق الله تعالی آگے صرف وہ بعض احادیث کہ حضور اقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم کی طرف جلائل احکام تشریعیہ کی صریح اسنادوں پر مشتمل اوروہ کہ ان دلائل تفویض احکام بحضور سید الانام علیہ افضل الصلوۃ والسلام کی مؤید ومکمل ہیں لکھتا ہے ان میں مؤید ات تفویض کی تقویم کیجئے کہ اس مبحث کا سلسلہ مسلسل رہے وبالله التوفیق۔
حدیث ۱۴۶:حدیث صحیح جلیل سنن ابی داؤد وسنن ابن ماجہ ومسند امام طحاوی ومعجم طبرانی ومعرفت بیہقی کلھم بطریق منصوربن المعمر عن ابراھیم التیمی عن عمرو بن میمون عن ابی عبدالله الجدلی عن خزیمۃ بن ثابت الا بن ماجۃ فعن سفیان عن ابیہ عن ابراھیم التیمی عن عمروبن میموف عن خزیمۃ کہ حضرت ذوالشہادتین خزیمہ بن ثابت انصاری رضی الله تعالی عنہ فرماتے ہیں:
حوالہ / References صحیح مسلم کتاب الصید باب الامر باحسان الذبح قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/۱۵۲،سنن النسائی کتاب الضحایا باب حسن الذبح نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ۲/۲۰۹،سنن الترمذی کتاب الدیات حدیث ۱۴۱۴ دارالفکر بیروت ۳/۱۰۵،سنن ابن ماجۃ ابواب الذبائح باب اذا ذبحتم فاحسنوا الذبح ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۲۳۶،سنن ابی داؤد کتاب الضحایا باب فی الدفق بالذبیحۃ آفتاب عالم پریس لاہور ۲/۳۳،مسند احمد بن حنبل حدیث شداد بن اوس رضی الله عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۴/۱۲۳تا۱۲۵
#18908 · (رسالہ ضمنی)منیۃ اللبیب ان التشریح بید الحبیب ۱۳۱۱ھ (عقلمند کا مقصد کہ بے شك احکام شرع حبیب الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے اختیار میں ہیں)
جعل رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم للمسافر ثلثا ولو مضی السائل علی مسألتہ لجعلھا خمسا ۔ نبی صلی الله تعالی علیہ وسلم نے مسافر کے لئے مسح موزہ کی مدت تین رات مقرر فرمائیا ور اگر مانگنے والا مانگتا رہتا تو ضرورحضور پانچ راتیں کردیتے۔یہ ابن ماجہ کی روایت ہے۔
اورروایت ابی داؤد اورایك روایت معانی الآثار ابی جعفر اورایك روایت بیہقی میں ہے:فرمایا:
ولو استزد ناہ لزادنا ۔ اوراگرہم حضور سے زیادہ مانگتے تو حضور مدت اوربڑھا دیتے۔
دوسری روایت طحاوی میں ہے:
عن النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم انہ جعل المسح علی الخفین للمسافرثلثۃ ایام ولیا لیھن وللمقیم یوماولیلۃ ولو اطنب لہ السائل فی مسألتہ لزادہ ۔ بیشك نبی صلی الله تعالی علیہ وسلم نے مسح موزہ کی مدت مسافر کے لیے تین رات دن اورمقیم کے لیے ایك رات دن کردیاوراگر مانگنے والا مانگے جاتا تو حضور افور زیادہ مدت عطا فرماتے۔
بیہقی کی روایت اخری یوں ہے:
وایم الله لو مضی السائل فی مسألتہ لجعلہا خمسا ۔ اگرسائل عرض کئے جاتا تو حضور مدت کے پانچ دن کردیتے۔
یہ حدیث بلاشبہہ صحیح السند ہے اس کے سب رواۃ اجلہ ثقات ہیں۔لاجرم امام ترمذی نے اسے روایت کر کے فرمایا:
حوالہ / References سنن ابن ماجہ ابواب الطہارۃ باب ماجاء فی التوفقیت فی المسح للمقیم والمسافر ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۴۲
سنن ابی داؤد کتاب الطہارۃ باب التوقیت فی المسح آفتاب عالم پریس لاہور ص۲۱،شرح معانی الآثار کتاب الطہار باب المسح علی الخفین الخ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱/۶۱،السنن الکبرٰی للبیہقی کتاب الطہارۃ باب ماوردفی ترك التوقیت دارصادر بیروت ۱/۲۷۷
شرح معانی الآثار کتاب الطہار باب المسح علی الخفین الخ ایچ یم سعید کمپنی کراچی ۱/۶۱
السنن الکبرٰی للبیہقی کتاب الطہارۃ باب ماوردفی ترك التوقیت دار صادر بیروت ۱/۲۷۷
#18909 · (رسالہ ضمنی)منیۃ اللبیب ان التشریح بید الحبیب ۱۳۱۱ھ (عقلمند کا مقصد کہ بے شك احکام شرع حبیب الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے اختیار میں ہیں)
ھذاحدیث حسن صحیح ۔یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
نیز امام الشان یحیی بن معین سے نقل کیاکہ حدیث صحیح ہے۔
وھو ان لم یذکر الزیادۃ فانما المخرج المخرج و الطریق الطریق حیث قال حدثنا قتیبۃ نابوعوانۃ عن سعید بن مسروق عن ابراھیم التیمی عن عمرو بن میمون عن ابی عبدالله الجدلی عن خزیمۃ بن ثابت رضی الله تعالی عنہ عن النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم ۔وقد اطال الامام ابن دقیق العید الکالم فی تقویۃ ھذا الحدیث والذات عــــــہ عنہ فی کتابہ الامام امام ترمذی نے اگرچہ زیادت کو ذکر نہیں کیا مگر مخرج بھی وہی ہے اورطریق بھی وہی ہےاس لئے کہ فرمایا ہمیں حدیث بیان کی قتیبہ نے انہوں نے ہمیں حدیث بیان کی ابو عوانہ سے انہوں نے سعید بن مسروق سے انہوں نے ابراہیم تیمی سے انہوں نے عمرو بن میمون سے انہوں نے ابو عبدالله جدلی سے انہوں نے خزیمہ بن ثابت انصاری رضی الله تعالی عنہ سے انہوں نے نبی کریم صلی الله تعالی علیہ وسلم سے۔ امام ابن دقیق العید نے اس حدیث کی تقویت میں اپنی کتاب الامام میں خوب

عــــــہ:اعظم ما یرتاب بہ فیہ روایۃ البیھقی عن الترمذی عن البخاری لایصح عندی لانہ لایعرف لابی عبد الله الجدلی سماع من خزیمۃ ع
وتلك شکاۃ ظاھرعنك عارھا
فان مبناہ علی ماذھب الیہ ھو رحمۃ الله من اشتراط ثبوت اس میں سب سے بڑا شبہ اس رواتی سے کیا جاتاہے جو بیہقی نے امام ترمذی سے اورانہوں نے امام بخاری سے کی ہے کہ میرے نزدیك یہ حدیث نہیں کیونکر ابوعبدالله جدلی کا خزیمہ سے سماع ثابت نہیں۔یہ وہ شکوی ہے جس کا عارتجھ سے دور ہےکیونکہ امام بخاری علیہ الرحمہ کے مؤقف کے مطابق اس بات پر ہے کہ
(باقی برصفحہ آیندہ)
حوالہ / References سنن الترمذی ابواب الطہارۃ با ب ماجاء فی المسح علی الخفین حدیث ۹۵دارالفکر بیروت ۱/۱۵۲
سنن الترمذی ابواب الطہارۃ باب ماجاء فی المسح علی الخفین حدیث ۹۵ دارالفکر بیروت ۱/۱۵۲
الجوھر النقی حوشی علی السنن الکبرٰی للبیہقی کتاب الطہار باب ماوردفی ترك التوقیت دارصادر بیروت ۱/۲۷۸و۲۷۹
#18910 · (رسالہ ضمنی)منیۃ اللبیب ان التشریح بید الحبیب ۱۳۱۱ھ (عقلمند کا مقصد کہ بے شك احکام شرع حبیب الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے اختیار میں ہیں)
واثرہ الامام الزیلعی فی نصب الرایۃ ۔ لمبی گفتگو فرمائی ہےاورامام زیلعی نے نصب الرایہ میں

(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
السماع ولو مرۃ للاتصال والصحیح الاجتزاء بالمعاصرۃ ھو المنصور علیہ الجمہور کما افادہ المحقق علی الاطلاق فی فتح القدیر وقد اطال مسلم فی مقدمۃ صحیحہ فی الرد علی ھذا المذھب لاجرم ان لم یکثر بہ تلمیذہ الترمذی وحکم بانہ حسن صحیح وکذا حکم بصحتہ شیخ البخاری بامام الناقدین یحیی بن معین۔

اقول:علاانہ لو سلم فقصواہ الا نقطاع ولیس بقادح عندنا وعند سائر قابلی المراسیل وھم الجہور ثم علك من دندنۃ ابن حزم ان الجدلی لایعتمد علی روایتہ فان الرجل فی الجرح والوقعیۃ کالا عمیین السیل الھوجم و البیعر الصؤل حتی عند الترمذی من المجاھیل والجد لی فقد وثقہ الا مامان المرجوع الھما احمد بن راوی کا مروی عنہ سے سماع شرط ہے اگرچہ ایك مرتبہ وہا تصال کے لیے۔صحیح یہ ہے کہ معاصرت ہی کافی ہے۔جمہور کا موقف یہی ہے جیسا کہ محقق علی الاطلاق نے فتح القدیر میں اس کا افادہ فرمایا ہے۔ امام مسلم نے صحیح مسلم کے مقدمہ میں اس مذہب کے رد پر طویل بحث کی ہے۔امام بخاری کے شاگرد امام ترمذی نے بھی امام بخاری کی تائید نہیں کی اوراس حدیث کے صحیح ہونے کا حکم لگایا ہے۔یونہی امام بخاری کے استاذامام الناقدین یحیی بن معین نے اس کی صحت کا حکم لگایا ہے۔
میں کہتاہوں اگرامام بخاری کی بات تسلیم بھی کرلی جائے تو اس سے زیادہ سے زیادہ انقطاع لازم آتاہے اوروہ ہمارے نزدیك اور مساسیل کو قبول کرنیوالے دیگر حضرات جو کہ جمہور ہیں کے نزدیك قادح نہیں ہے پھر تم پر ابن حزم کی گنگناہٹ کا سننالازم ہے کہ جدلی کی روایت پر اعتماد نہیں کیا جاتاکیونکہ آدمی جرح و تصادم میں دو اندھوں کی مثل ہوتاہے یعنی بڑھتا ہوا سیلا ب اور حملہ کرنیوالا مست اونٹ۔یہاں تك کہ ترمذی کے ہاں مجاہیل میں سے ہےاورجدلی کی توثیق ان دو۲ اماموں نے کی ہے
(باقی برصفحہ آئندہ)
حوالہ / References نصب الرأیۃ کتاب الطہارۃ باب المسح علی الخفین المکتبۃ النوریۃ رضویہ پبلشنگ لاہور ۱/۲۳۲تا۲۳۵
#18911 · (رسالہ ضمنی)منیۃ اللبیب ان التشریح بید الحبیب ۱۳۱۱ھ (عقلمند کا مقصد کہ بے شك احکام شرع حبیب الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے اختیار میں ہیں)
فراجعہ ان شئت۔ ان کی پیروی کی ہے۔(ت)
اقول:یہ حدیث صحیح حضور سید عالم صلی الله تعالی علیہ وسلم کی تفویض واختیار میں نص صریح ہے ورنہ یہ کہنا اورکہنا بھی کیسا مؤکد بقسم کہ والله سائل مانگے جاتاتو حضور پانچ دن کردیتے اصلا گنجائش نہ رکھتا تھا کما لایخفی(جیسا کہ پوشید ہ نہیں۔ت) اوریہاں جزم خصوص بے جزم عموم نہ ہوگا کہ اس خاص کی نسبت کوئی خبر خاص تخییر ارشاد نہ ہوئی تھی تو جزم کا منشاء وہی کہ حضرت خزیمہ رضی الله تعالی عنہ کو معلوم تھا کہ احکام سپرد اختیار حضورسید الانام ہیں علیہ وعلی آلہ افضل الصلوۃ والسلام۔
حدیث ۱۴۷:مالك واحمد وبخاری ومسلم ونسائی وابن ماجہ حضرت ابوہریرہ رضی الله تعالی عنہ سے راویرسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لولا ان اشق علی امتی لامر تھم بالسواك عند کل اگرمشقت امت کا خیال نہ ہوتا تو میں ان پر فرض فرمادیتاکہ ہرنماز کے وقت

(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
حنبل وابن معین فما ھو ابن حزم وائش ابن ھزم بعد ھذین وھو متفردفیہ لم یسبقہ احد بھذا القول الا تری ان البخاری انما اعلہ اذا علله بانہ لم یعرف سماع الجدلی لابانھا روایہ الجدلی وقدصحح لہ الترمذی وقال فی التقریب ثقہ۔والله تعالی اعلم ۱۲منہ۔ جن کی طرف رجوع کیا جاتاہےاوروہ امام احمد بن حنبل اوریحیی بن معین ہیں۔ان دو اماموں کے مقابلہ میں ابن حزن وابن ھزم کیا شے ہے درانحالیکہ وہ اس میں تنہا ہے۔اس سے پہلے کسی نے یہ قول نہیں کیا۔کیا تو دیکھتا نہیں کہ امام بخاری نے اس کو اس وجہ سے معلل قرار دیا کہ جدلی کا سماع معروف نہیںنہ اس وجہ سے کہ یہ جدلی کی روایت ہے۔امام ترمذی نے اس کو صحیح قراردیا اور تقریب میں کہا کہ وہ ثقہ ہے۔اورالله تعالی خوب جانتاہے۔(ت)
حوالہ / References تقریب التہذیب ترجمہ ابی عبدالله الجدلی ۸۲۴۳ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۲/۴۲۸
#18912 · (رسالہ ضمنی)منیۃ اللبیب ان التشریح بید الحبیب ۱۳۱۱ھ (عقلمند کا مقصد کہ بے شك احکام شرع حبیب الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے اختیار میں ہیں)
صلوۃ ۔ مسواك کریں۔
علماء فرماتے ہیں یہ حدیث متواتر ہے قالہ فی التیسیر وغیرہ(تیسیر وغیرہ میں اےس بیان کیا گیا۔ت) احمد ونسائی نے انہیں سے بسند صحیح یوں روایت کی سید عالم صلی الله تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:
لولاان اشق علی امتی لامرتھم عند کل صلوۃ بوضو ء او مع کل وضوء بسواک ۔ امت پر دشواری کا لحاظ نہ ہو تو میں ان پر فرض کردوں کہ ہر نماز کے وقت وضو کریں اور ہر وضو کے ساتھ مسواك کریں۔
اقول:امردوم دوقسم ہے حتمی جس کا حاصل ایجاب اوراس کی مخالفت معصیت
وذلك قولہ تعالی " فلیحذر الذین یخالفون عن امرہ "
۔ اوروہ الله تعالی کا ارشاد کہ الله تعالی کے امر کی مخالفت کرنے والوں کو ڈرنا چاہیے۔(ت)
دوسرا ندبی جس کا حاصل ترغیب اوراس کے ترك میں وسعت
وذلك قولہ صلی الله تعالی علیہ وسلم امرت بالسواك حتی خشیت ان یکتب علی احمد بن واثلۃ بن اوروہ رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم کا ارشاد کہ مجھے مسواك کا حکم دیا گیا ہے یہاں تك کہ مجھے ڈر ہواکہ کہیں مجھ پر فرض نہ ہوجائے۔اس کو امام احمد
حوالہ / References صحیح البخاری،کتاب الجمعۃ باب السواك یوم الجمعۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/۱۲۲و۲۵۹،صحیح مسلم کتاب الطہارۃ باب السواك قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/۱۲۸،سنن النسائی کتاب الطہارۃ الرخصۃ فی السواك نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ۱/۶،سنن ابن ماجہ ابواب الطہارۃ باب السواك ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۲۵،مسند احمد بن حنبل عن ابی ھریرۃ المکتب الاسلامی بیروت ۲/۲۴۵،۲۵۰،۲۵۹،۲۸۷،۳۹۹ ، ۴۰۰،مؤطاامام مالك کتاب الطہارۃ ماجاء فی السواك میر محمد کتب خانہ کراچی ص۵۰
التیسیرشرح الجامع الصغیر تحت الحدیث لولا ان اشق علی امتی الخ مکتبۃ الامام الشافعی ریاض ۲/۳۱۴
سنن النسائی کتاب الطہارۃ الرخصۃ فی السواك نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی۱/۶،مسند احمد بن حنبل عن ابی ھریرہ رضی الله عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۲/۲۵۹
القرآن الکریم ۲۴ /۶۳
مسند احمد بن حنبل حدیث واثلہ بن الاسقع المکتب الاسلامی بیروت ۳/۴۹۰
#18913 · (رسالہ ضمنی)منیۃ اللبیب ان التشریح بید الحبیب ۱۳۱۱ھ (عقلمند کا مقصد کہ بے شك احکام شرع حبیب الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے اختیار میں ہیں)
الا سقع رضی الله تعالی عنہ بسند حسن۔ نے واثلہ بن اسقع رضی الله تعالی عنہ سے صحیح سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔(ت)
امرندبی تو یہاں قطعاحاصل ہے توضروری نفی حتمی کی ہےامر حتمی بھی دوقسم ہے ظنی جس کا مفاد وجوب اورقطعی جس کا مقتضی فرضیتظنیت خواہ من جہۃ الرؤیۃ یا من جہۃ الدلالۃ ہمارے حق میں ہوتی ہے حضور سید عالم صلی الله تعالی علیہ وسلم کے علوم سب قطعی یقینی ہیں جن کے سراپردہ عزت کے گرد ظنوں کو اصلا بار نہیں تو قسم واجب اصطلاحی حضور کے حق میں متحقق نہیں وہاں یا فرض ہے یا مندوبنص علیہ الامام المھقق حیث اطلق فی الفتح(اس پر محقق امام علیہ الرحمہ نے فتح میں نص فرمائی ہے۔ت)
اب واضح ہوگیا کہ ان ارشاد ات کریمہ کے قطعا یہی معنی ہے کہ میں چاہتا تو اپنی امت پر ہرنمازکے لیے تازہ وضو اور ہر وضو کے وقت مسواك کرنا فرض فرمادیتامگر ان کی مشقت کے لحاظ سے میں نے فرض نہ کئے اوراختیاراحکام کے کیا معنی ہیں۔ولله الحمد۔
حدیث ۱۴۸:مالك وشافعی وبیہقی ان سے اورطبرانی اوسط میں امیرالمومنین مولی علی کرم الله وجہہ الکریم سے بسند حسن راوی رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لولا ان اشق علی امتی لامرتھم بالسواك مع کل وضوء ۔ مشقت امت کا پاس ہے ونہ میں ہر وضو کے ساتھ مسواك ان پر فرض کردوں۔
حدیث ۱۴۹:کہ فرماتے ہیں صلی الله تعالی علیہ وسلم کہ مسواك کرو مسواك منہ کو پاکیزہ اوررب عزوجل کو راضی کرتی ہے جبریل جب میرے پاس حاضر ہوئے مجھے مسواك کی وصیت کی۔
حتی لقد خشیت ان یفرضہعلی وعلی امتی ولولا انی اخاف ان اشق علی امتی لفرضتہ علیہم یہاں تك کہ مجھے اندیشہ ہوا کہ جبریل مجھ پر اور میری امت پر فرض کردیں گے اوراگر مشقت امت کا خوف نہ ہوتا تو ان پر فرض کردیں گے۔
حوالہ / References مؤطا لامام مالك کتاب الطہارۃ ماجاء فی السواك میر محمد کتب خانہ کراچی ص۵۰،السنن الکبرٰی کتاب الطہارۃ باب الدلیل علی ان السواك سنۃ دارصادر بیروت ۱/۳۵،کنزالعمال بحوالہ والشافعی حدیث ۲۶۱۹۱ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۹/۳۱۵،المعجم الاوسط،حدیث ۱۲۶۰ مکتبۃ المعارف ریاض ۲/۱۳۸
#18914 · (رسالہ ضمنی)منیۃ اللبیب ان التشریح بید الحبیب ۱۳۱۱ھ (عقلمند کا مقصد کہ بے شك احکام شرع حبیب الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے اختیار میں ہیں)
ابن ماجہ عن ابی امامۃ رضی الله تعالی عنہ۔ (ابن ماجہ نے ابی امامہ رضی الله تعالی عنہ سے روایت کیا۔ت)
یہاں جبریل امین علیہ الصلوۃ والتسلیم کی طرف بھی فرض کردینے کی اسناد ہے۔
حدیث۴۸ ۱۵۰:طبرانی وبزارودارقطنی وحاکم حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی الله تعالی عنہما سے راویرسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لولا ان اشق علی امتی لفرضت علیہم السواك عند کل صلوۃ (زاد غیر الدار قطنی)کما فرضت علیہم الوضوء ۔ مشقت امت کا لحاظ نہ ہوتو میں ہر نماز کے وقت مسواك ان پر فرض کردوں جس طرح میں نے وضو ان پر فرض کردیا ہے۔
یہاں وضو کو بھی فرمایا گیا کہ حضور اقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم نے اپنی امت پرفرض کردیا۔
حدیث۴۹۵۰ ۱۵۱۱۵۲:فرماتے ہیں صلی الله تعالی علیہ وسلم:
لولاان اشق علی امتی لامرتھم بالسواك واطیب عند کل صلوۃ۔ابو نعیم فی کتاب السواك عن عبدالله بن عمر رضی الله تعالی عنہما بسند حسن وسعید بن منصور فی سننہ عن مکحول مرسلا۔ مشقت امت کا خیال نہ ہوتا تو اپنی امت پر ہر نماز کے وقت مسواك کرنا اور خوشبولگانا فرض کردوں۔(ابو نعیم نے کتاب السواك میں عبدالله بن عمرو رضی الله تعالی عنہما سے بسند حسن اورسعید بن منصور نے اپنی سنن میں مکحول سے مرسلا روایت کیا۔ت)
یہاں خوشبو کی فرصت بھی زائد فرما دی۔
حوالہ / References سنن ابن ماجۃ ابواب الطہارۃ باب السواك ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۲۵
کنزالعمال بحوالہ قط عن ابن عباس حدیث ۲۶۱۷۰مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۹/۳۱۲
المستدرك للحاکم کتاب الطہارۃ لولاان اشق علی امتی دارالفکر بیروت ۱/۱۴۶،البحر الزخار عن ابن عباس حدیث ۱۳۰۲مکتبۃ العلوم والحکم مدینۃ المنورۃ ۴/۱۳۰،مجمع الزوائد بحوالہ العباس کتاب الطہارۃ باب فی السواك دارالکتاب بیروت ۱/۲۲۱،مجمع الزوائد کتاب الصلٰوۃ باب ماجاء فی السواك دارالکتاب بیروت ۲/۹۷
کنزالعمال بحوالہ صعن مکحول مرسلًا حدیث ۲۶۱۹۵مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۹/۳۱۶
#18915 · (رسالہ ضمنی)منیۃ اللبیب ان التشریح بید الحبیب ۱۳۱۱ھ (عقلمند کا مقصد کہ بے شك احکام شرع حبیب الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے اختیار میں ہیں)
حدیث۵۱ ۱۵۳:کہ فرماتے ہیں صلی الله تعالی علیہ وسلم:
لولاان اشق علی امتی لامرتھم ان یستاکوا بالاسحار۔ ابو نعیم فی السواك عن عبدالله بن عمر رضی الله تعالی عنہما۔ مشقت امت کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں ان پر فرض فرمادیتا کہ ہر سحر پہلے پہر اٹھ کر مسواك کریں(ابو نعیم نے کتاب السواك میں عبدالله ابن عمر رضی الله تعالی عنہما سے روایت کیا۔ت)
حدیث۵۲۵۳ ۱۵۴ و ۱۵۵:فرماتے ہیں صلی الله تعالی علیہ وسلم:
لولا ان اشق علی امتی لامر تھم بالسواك عن دکل صلوۃ ولاخرت العشاء الی ثلث اللیل۔ مشقت امت کا خیال نہ ہوتو میں ہر نماز کے وقت ان پر مسواك فرض کردوں اورنماز عشاء کو تہائی رات تك ہٹادوں۔
احمد والترمذی والضیاء عن زید بن خالدن الجھنی رضی الله تعالی عنہ بسند صحیح والبزار عن امیر المومنین علی کرم الله تعالی وجھہوروی عن زید احمد وابو داؤد والنسائی کحدیث ابی ھریرۃ الاول بالاقتصار علی السطر الاول و الحاکم والبیھقی بسند صحیح عن ابی ھریرۃ رضی الله تعالی عنہ کحدیث زید ھذا وفیہ لفرضت علیھم السواك مع الوضوء ولاخرت صلوۃ العشاء الاخرۃ الی نصف اللیل ۔یعنی میں وضو میں مسواك کرنا فرض کردیتا اورنماز عشاء آدھی رات تك ہٹا دیتا۔
حوالہ / References کنزالعمال بحوالہ ابی نعیم فی کتاب السواك حدیث ۲۶۱۹۶مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۹/۳۱۶،الدرالمنثور بحوالہ ابی نعیم تحت الآیۃ ۲/۱۲۴ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/۲۵۲
مسند احمد بن حنبل عن زید بن خالد رضی الله عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۴/۱۱۴،سنن الترمذی ابواب الطہارۃ باب ماجاء فی السواك حدیث ۲۳دارالفکر بیروت ۱/۱۰۰،کنزالعمال بحوالہ حم،ت والضیاء حدیث ۲۶۱۹۰مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۹/۳۱۵،البحرالزخار عن علی رضی الله عنہ حدیث ۴۷۸مکتبۃ العلوم والحکم مدینۃ المنورۃ ۲/۱۲۱،مسند احمد بن حنبل عن زید بن خالد المکتب الاسلامی بیروت ۴/۱۱۶،سنن ابی داؤد کتاب الطہارۃ باب السواك آفتاب عالم پریس لاہور ۱/۷
المستدرك للحاکم کتاب الطہارۃ فضیلۃ السواك دارالفکر بیروت ۱/۱۴۶،السنن الکبری کتاب الطہارۃ باب الدلیل علی ان السواك السنۃ الخ دارصادر بیروت ۱/۳۶،کنزالعمال بحوالہ ك وھق عن ابی ھریرۃ حدیث ۲۶۱۹۴مؤسسۃ الرسالہ بیروت۹/۳۱۶
#18916 · (رسالہ ضمنی)منیۃ اللبیب ان التشریح بید الحبیب ۱۳۱۱ھ (عقلمند کا مقصد کہ بے شك احکام شرع حبیب الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے اختیار میں ہیں)
وللنسائی عن ابی ھریرۃ بلفط الامر تھم تاخیر العشاء بالسواك عند کل صلوۃ ۔ نسائی نے ابو ہریر ہ سے ان الفاظ کے ساتھ روایت کیا:میں ان پر فرض کردیتا کہ عشاء دیر کر کے پڑھیں اورنماز کے وقت مسواك کریں۔
حدیث۵۴ ۱۵۶:فرماتے ہیں صلی الله تعالی علیہ وسلم:
لولاان اشق علی امتی لامر تھم ان یصلوھا ھکذا یعنی العشاء نصف اللیل۔احمد والبخاری ومسلم والنسائی عن ابن عباس رضی الله تعالی عنہما۔ امت پر مشقت نہ ہوتی تو میں ان پر فرض کردیتا کہ عشاء آدھی رات کو پڑھیں۔(احمدبخاریمسلم اورنسائی نے ابن عباس رضی الله تعالی عنہما سے روایت کیا۔ت)
حدیث۵۵ ۱۵۷:کہ فرماتے ہیں صلی الله تعالی علیہ وسلم:
لولا ضعف الضعیف وسقم السقیم لامرت بھذہ الصلوۃ ان توخر الی شطراللیل۔النسائی عن ابی سعدن الخدری رضی الله تعالی ومرت روایۃ احمد و ابی داؤد وابن ماجۃ وابی حاتم بلالفظ الامر۔ اگرناتواں اوربیماروں کا لحاظ نہ ہوتا تو میں فرض کردیتاکہ یہ نماز آدھی رات تك مؤخر کریں(اس کو نسائی نے ابو سعید خدری رضی الله تعالی عنہ سے روایت کیا۔احمدابو داودابن ماجہ اور ابو حاتم کی روایت گزر چکی ہے جو لفظ امر کے بغیر ہے۔(ت)
حدیث۵۶ ۱۵۸:فرماتے ہیں صلی الله تعالی علیہ وسلم:
لولاان اشق علی امتی مشقت امت کا اندیشہ نہ ہوتو میں ان پر
حوالہ / References سنن النسائی کتاب المواقیت باب مایستحب من تاخیر العشاء نور محمد کتب خانہ کراچی ۱/۹۲و۹۳
مسند احمد بن حنبل عن ابن عباس رضی الله عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۱/۳۶۶،صحیح البخاری کتاب مواقیت الصلٰوۃ باب النوم قبل العشاء قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/۸۱،صحیح مسلم کتاب المساجد باب وقت العشاء وتاخیرھا قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/۲۲۹،سنن النسائی کتاب المواقیت باب یستحب من تاخیر العشاء نور محمد کارخانہ کراچی ۱/۹۲
سنن النسائی کتاب المواقیت باب یستحب من تاخیر العشاء نور محمد کارخانہ کراچی ۱/۹۳
#18917 · (رسالہ ضمنی)منیۃ اللبیب ان التشریح بید الحبیب ۱۳۱۱ھ (عقلمند کا مقصد کہ بے شك احکام شرع حبیب الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے اختیار میں ہیں)
لامرتھم ان یؤخروا عــــــہ العشاء الی فرض کردوں کہ عشاء میں تہائی

عــــــہ:سبب ھذا انہ صلی الله تعالی علیہ وسلم اخرذات لیلۃ صلوۃ العشاء حتی ابھا راللیل او ذھب عامۃ اللیل ونام النساء والصبیان فجاء فصلی وذکرہ کما ورد مبینا فی احادیث ابن عباس وابی سعید وابن عمرو انس وغیرھم رضی الله تعالی عنہموسبب حدیث السواك ایتان ناس عندہ صلی الله تعالی علیہ وسلم قلحا فقال استاکوا استاکوا لاتاتونی قلحا لولا ان اشق علی امتی لفرضت علیھم السواك عند کل صلوۃ کما بینہ الدارقطنی من حدیث العباس رضی الله تعالی عنہ فھما حدیثان ربما افرزھما ابو ھریرۃ وربما جمع وکذلك غیرہ رضی الله تعالی عنہم وان اتفق ان النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم ھو الذی قال مرۃ ھکذا اواخری ھکذا و اس کا سبب یہ ہے کہ ایك رات نبی کریم صلی الله تعالی علیہ وسلم نے عشاء کی نماز مؤخر فرمادی یہاں تك کہ آدھی رات یا زیدہ گزر گئی۔عورتیں اوربچے سوگئے تو آپ تشریف لائے اورنماز پڑھائی جیسا کہ ابن عباسابو سعیدابن عمر اورانس وغیرہ کی احادیث میں واضح طور پر وارد ہوا ہے رضی الله تعالی عنہم۔حدیث سواك کا سبب یہ ہے کہ لوگ میلے کچیلے دانتوں کے ساتھ رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم کے پاس آئے توآپ نے فرمایا مسواك کیا کرو اورمیرے پاس میلے کچیلے دانتوں کے ساتھ مت آیاکرواگر مجھے امت کی مشقت کا لحاظ نہ ہوتا تو میں ان پر ہر ناز کے وقت فرض کردیتا۔جیساکہ اس کو دارقطنی نے بحوالہ حدیث ابن عباس رضی الله تعالی عنہ بیان کیا ہے۔ان دونوں حدیثوں کو حضرت ابوہریرہ رضی الله تعالی عنہ نے کبھی الگ الگ بیان فرمایا ہے اورکبھی دونوں کوجمع کیا ہےیونہی ابوہریرہ رضی الله تعالی عنہ کے غیر نے کیا ہے اگرچہ اس پر سب کا اتفاق ہے کہ رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم نے کبھی اس طرح بیان فرمایا ہے اورکبھی اس طرح اور کبھی
(باقی برصفحہ آئندہ)
حوالہ / References کنز العمال بحوالہ قط عن ابن عباس حدیث ۲۶۱۷۰مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۹/۳۱۲
#18918 · (رسالہ ضمنی)منیۃ اللبیب ان التشریح بید الحبیب ۱۳۱۱ھ (عقلمند کا مقصد کہ بے شك احکام شرع حبیب الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے اختیار میں ہیں)
ثلث اللیل اونصفہ۔احمد والترمذی وصححہ و ابن ماجۃ عن ابی ھریرۃ رضی الله تعالی عنہ ومرت اخری لابن ماجۃ کاحمد وابی داؤد ومحمد بن نصر خالیۃ عن الامر۔ یا آدھی رات تك تاخیر کریں(اس کو امام احمد وترمذی نے اسکو صحیح قرار دیا۔اورابن ماجہ نے اس کو حضرت ابوہریرہ رضی الله تعالی عنہ سے روایت کیا۔اوردوسری روایت ابن ماجہ کی احمد وابو داؤد ومحمد بن نسر کی طرح گزرچکی ہے جو امر سے خالی ہے۔(ت)
حدیث۵۷ ۱۵۹:صحیح بخاری میں زید بن ثابت انصاری رضی الله تعالی عنہ سے ایك آیت سورہ احزاب کی نسبت ہے:
وجدتھا مع خزیمۃ الذی جعل رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم شہادتہ بشہادتین ۔ وہ میں نے لکھی ہوئی خزیمہ رضی الله تعالی عنہ کے پاس پائی جن کی گواہی رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم نے دوگواہوں کے برابر فرمائی۔
حدیث۵۸ ۱۶۰:کہ حضور اقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم نے معاذ بن جبل رضی الله تعالی عنہ کو یمن پر صوبیدا ربنا کر بھیجتے وقت ان سے ارشاد فرمایا:
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
تارۃ جمع فالتعدداظھر واکثروالله تعالی اعلم۱۲منہ دامت فیوضہ۔ دونوں کو جمع فرمایا۔چنانچہ تعدد اظہر واکثر ہے۔اورالله تعالی خوب جانتا ہے۔۱۲منہ(ت)
حوالہ / References مسند احمد بن حنبل عن ابی ہریرۃ رضی الله عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۲/۴۳۳و۵۰۹،سنن الترمذی ابواب الصلٰوۃ باب ماجاء فی تاخیر صلٰوۃ العشاء الخ حدیث ۱۶۷دارالفکر بیروت ۱/۲۱۴،سنن ابن ماجۃ کتاب الصلٰوۃ باب وقت صلٰوۃ العشاء ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۵،کنزالعمال عن ابی ھریرۃ حدیث ۱۹۴۶۴ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۷/۳۹۵
صحیح البخاری کتاب الجہاد باب قول الله تعالٰی من المومنین رجال الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/۳۹۴،صحیح کتاب التفسیر سورۃ احزاب قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/۷۰۵
#18920 · (رسالہ ضمنی)منیۃ اللبیب ان التشریح بید الحبیب ۱۳۱۱ھ (عقلمند کا مقصد کہ بے شك احکام شرع حبیب الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے اختیار میں ہیں)
قد عرفت بلاء ك فی الدین والذی قدر کبك من الدین وقد طیبت لك الھدیۃ فان اھدی لك شئی فاقبل۔سیف فی کتاب الفتوح عن عبید بن صخر رضی الله تعالی عنہ۔ مجھے معلوم ہے جو تمہاری آزمائشیں دین متین میں ہوچکیں اورجو کچھ دیون تم پر ہوگئے ہیں رعیت کے تحفے میں نے تمہارے لئے حلال طیب کردئے جو تمہیں کچھ تحفہ دے لے لو۔(سیف نے کتاب الفتوح نے عبید بن صخر رضی الله تعالی عنہ سے روایت کیا۔ت)
حدیث۱۶۱ عــــــہ:فرماتے ہیں صلی الله تعالی علیہ وسلم:
قد عفوت عن الخیل والرقیق فھا توا صدقت الرقۃ من کل اربعین درھما درھم۔احمد وابوداؤد و الترمذی عن امیر المؤمنین المرتضی رضی الله تعالی عنہ بسند صحیح۔ گھوڑوں اورغلاموں کی زکوۃ تو میں نے معاف کردی روپوں کی زکوۃ دو ہرچالیس درہم میں سے ایك درہم۔(احمد اورابوداؤد اورترمذی نے امیر المومنین علی المرتضی رضی الله تعالی عنہ سے بسند صحیح روایت کیا۔ت)
سواری کے گھوڑوںخدمت کے غلاموں میں زکوۃ جو واجب نہ ہوئی سید عالم صلی الله تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:''یہ میں نے معاف فرمادی ہے۔''ہاں کیوں نہ ہوکہ حکم ایك روف ورحیم کے ہاتھ میں ہے بحکم رب العالمین جل جلالہ و صلی الله تعالی علیہ وسلم۔
حدیث۱۶۲:حضوراقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی الله تعالی عنہم سے فرمایا:
ماتقولون فی الزناقالو احرام حرمہ الله ورسولہ فھو حرام الی یوم القیمۃ۔ زنا کو کیسا سمجھتے ہوعرض کی:حرام ہے اسے الله ورسول نے حرام کردیا تو وہ قیامت تك

عــــــہ:یہاں تك اٹھاون حدیثیں تفویض امر کی مفیدات ومؤیدات مذکور ہوئیں آگے صرف اسناد ات جلیلہ ہیں ۱۲۔
حوالہ / References کنزالعمال بحوالہ طب عن عبید بن صخر المکتب الاسلامی بیروت ۶/۱۱۵
سنن ابی داؤد کتاب الزکوٰۃ باب زکوٰۃ السائمۃ آفتاب عالم پریس لاہور ۱/۲۲۱،سنن الترمذی کتاب الزکوٰۃ باب ماجاء فی زکوٰۃ الذھب الخ حدیث ۶۲۰دارالفکر بیروت ۲/۱۲۳،مسند احمد بن حنبل عن علی رضی الله عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۱/۹۲
#18922 · (رسالہ ضمنی)منیۃ اللبیب ان التشریح بید الحبیب ۱۳۱۱ھ (عقلمند کا مقصد کہ بے شك احکام شرع حبیب الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے اختیار میں ہیں)
احمد بسند صحیح والطبرانی فی الاوسط والکبیر عن المقداد بن الاسود رضی الله تعالی عنہ۔ حرام ہے۔(احمد نے بسند صحیح اورطبرانی نے اوسط اورکبیر میں مقداد بن اسود رضی الله تعالی عنہ سے روایت کیا۔ت)
حدیث ۱۶۳:فرماتے ہیں صلی الله تعالی علیہ وسلم:
انی احرم علیکم حق الضعیفین الیتیم والمرأۃ۔ الحاکم علی شرط مسلم والبیہقی فی الشعب و اللفظ لہ عن ابی ھریرۃ رضی الله تعالی عنہ۔ میں تم پر حرام کرتاہوں دو کمزوروں کی حق تلفییتیم اور عورت۔(حاکم شرط مسلم پر اوربیہقی نے بحوالہ ابو ہریرہ رضی الله عنہ شعب الایمان میں اس کو روایت کیا ہےاورلفظ بیہقی کے ہیں۔(ت)
حدیث۱۶۴:صحیحین میں جابر بن عبدالله تعالی عنہما سے ہے انہوں نے سال فتح میں رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم کو فرماتے سنا:
ان الله ورسولہحرم بیع الخمر والمیتتۃ والخنزیر والاصنام ۔ بیشك الله اوراس کے رسول نے حرام کردیا شراب اورمردار اورسوئر اوربتوں کا بیچنا۔
حدیث ۱۶۵:فرماتے ہیں صلی الله تعالی علیہ وسلم:
لاتشرب مسکرا فانی حرمت کل مسکر۔النسائی بسند حسن نشہ کی کوئی چیز نہ پی کہ بیشك نشہ کی ہر شیئ میں حرام عــــــہ نسائی نے بسند حسن

عــــــہ:فائدہ:ابوالشیخ ابن حبان نے کتاب الثواب میں روایت کی حدثنا ابن ابی عاصم ثنا عمر بن حفص ن الوصائی ثنا سعید بن موسی ثنارباح بن زید عن معمر (باقی برصفحہ آئندہ
حوالہ / References مسند احمد بن حنبل بقیہ حدیث مقداد بن اسود المکتب الاسلامی بیروت ۶/۸،المعجم الکبیر عن مقداد بن اسود حدیث ۶۰۵المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۲۰/۲۵۶
المستدرك للحاکم کتاب الایمان انی احرج علیکم حق الضعیفین دارالفکر بیروت ۱/۶۳،کنزالعمال بحوالہ کہ،ھب عن ابی ھریرۃ حدیث ۶۰۰۱مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۳/۱۷۱
صحیح البخاری کتاب البیوع باب بیع المیتۃوالاصنام قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/۲۹۸،صحیح مسلم کتاب البیوع باب تحریم الخمر و المیۃالخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/۲۳
سنن النسائی کتاب الاشربۃ تفسیر نور محمد کارخانہ کراچی ۲/۳۲۵
#18924 · (رسالہ ضمنی)منیۃ اللبیب ان التشریح بید الحبیب ۱۳۱۱ھ (عقلمند کا مقصد کہ بے شك احکام شرع حبیب الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے اختیار میں ہیں)
عن ابی موسی الاشعری رضی الله تعالی عنہ۔ ابی موسی اشعری رضی الله تعالی عنہ سے روایت کیا۔(ت)

عن ازھری عن انس رضی الله تعالی عنہ قال قال رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم انی فرضت علی امتی قرأۃ یس کل لیلۃ فمن داوم علی قرأتھا کل لیلۃ ثم مات شہیدا یعنی اس سند سے آیا کہ حضور سید عالم صلی الله تعالی علیہ وسلم نے فرمایا میں نے اپنی امت پر یس شریف کی ہر رات تلاوت فرض کی جو ہمیشہ ہر شب اسے پڑھے پھر مرے شہید مرے۔
اقول:وسعید وان اتھم فالمحقق عند المحققین ان الوضع لایثبت بمجرد تفردکذاب فضلا عن متھم مالم ینضم الیہ شئی من القرائن الحاکمۃ بہ کمخالفۃ نص اواجماع قطعیین اوالحس اواقرار المواضع بوضعہ الی غیر ذلك کما نص علیہ السخاوی فی فتح المغیث واٹبتنا علیہ عرش التحقیق فی ''منیر العین فی حکم تقبیل الابھامین فـــــــ۱ "واجمع العلماء ان اضعیف غیر الموضوع یعمل بہ فی الفضائل وقد بیناہ فی''الہاد" فـــــــ۲ فی حکم الضعاف " میں کہتاہوں سعید اگرچہ متہم ہے مگر محققین کے نزدیك یہ بات ثابت ہے کہ بیشك وضع حدیث محض ایك کذاب کے تفرد سے ثابت نہیں ہوتا چہ جائیکہ متہم سے ثابت ہوجب تك اس کے ساتھ قرائن وضع منضم نہ ہوںجیسے نص قطعی کی مخالفت اور اجماع قطعی کی مخالفت اورحس کی مخالفت اورخود واضع کا اقرار وغیرہجیسا کہ امام سخاوی نے فتح المغیث میں اس پر نص فرمائی ہےاورہم نے ''منیر العین فی حکم تقبیل الابہامین'' میں اس کی تحقیق کو حد کمال تك پہنچایا ہے۔اس بات پر علماء کا اجماع ہے کہ جو حدیث ضعیف موضوع نہ ہو وہ فضائل میں قابل عمل ہے اورہم اس کو ''الہاد الکاف فی حکم الضعاف ''میں بیان کیا ہے۔(ت) (باقی برصفحہ آئندہ)
ف ۱:رسالہ "منیز العین فی حکم تقبیل الابھا مین "فتاوی رضویہ جلد پنجم مطبوعہ رضا فاؤنڈیش لاہور کے صفحہ ۴۲۹ پر مرقوم ہے۔
ف ۲:اعلی حضرت رحمۃ الله علیہ نے اپنے رسالہ "منیر العین فی حکم تقبیل الابہامین"میں افادہ شانزدہم۱۶سے افادہ بست وسوم ۲۳تك آٹھ افادات کا نام "الہاد الکاف فی حکم الضعاف ۱۳۱۳ھ"رکھا ہے۔ملاحظہ ہوفتاوی رضویہ مطبوعہ رضا فاؤنڈیش لاہور جلد پنجم صفحہ ۴۷۷ تا۵۳۷"الکاف فی حکم الضعاف"۔
حوالہ / References تنزیہ الشریعۃ المرفوعۃ بحوالہ ابی الشیخ فی الثواب حدیث ۳۲دارالکتب العلمیۃ بیروت ۱/۲۹۷
#18926 · (رسالہ ضمنی)منیۃ اللبیب ان التشریح بید الحبیب ۱۳۱۱ھ (عقلمند کا مقصد کہ بے شك احکام شرع حبیب الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے اختیار میں ہیں)
حدیث ۱۶۶:فرماتے ہیں صلی الله تعالی علیہ وسلم:
سن لو مجھے قرآن کے ساتھ اس کا مثل ملایعنی حدیث دیکھو کوئی پیٹ بھرا اپنے تخت پر بیٹھا یہ نہ کہے کہ یہی قرآن لئے رہو جو اس میں حلال ہے اسے حلال جا نو جو اس میں حرام ہے اسے حرام مانو
وان ماحرم رسول الله مثل ما حرم الله ۔احمد و الدارمی وابو داؤد والترمذی وابن ماجۃ عن المقدام بن معدیکرب رضی الله تعالی عنہ بسند حسن۔ جو کچھ الله کے رسول نے حرام کیا وہ بھی اسی کی مثل ہے جسے الله عزوجل نے حرام کیاجل جلالہو صلی الله تعالی علیہ وسلم۔(احمد اوردارمی اورابو داؤد اورترمذی اورابن ماجہ نے مقدام بن معدیکرب رضی الله تعالی عنہ نے بسند حسن روایت کیا۔ت)
یہاں صراحۃ حرام کی دو۲ قسمیں فرمائیں:ایك وہ جسے الله عزوجل نے حرام فرمایا اور دوسرا وہ جسے رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم نے حرام کیا۔اورفرمادیا کہ وہ دونوں برابر ویکساں ہیں۔
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
اس حدیث اوراس کی فرضیت کے متعلق فقیر کے پاس سوال آیاتھا جس کا جواب فتاوی فقیر العطایا النبویہ فی الفتاوی الرضویہ کے مجلد پنجم کتاب مسائل شتی میں مذکور والله الھادی الی معالی الامور ۱۲منہ۔
حوالہ / References سنن ابی داؤد کتاب السنۃ باب فی لزوم السنۃ آفتاب عالم پریس لاہور ۲/۲۷۶
#18929 · (رسالہ ضمنی)منیۃ اللبیب ان التشریح بید الحبیب ۱۳۱۱ھ (عقلمند کا مقصد کہ بے شك احکام شرع حبیب الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے اختیار میں ہیں)
اقول:مراد والله اعلم نفس رحمت میں برابری ہے تو اس ارشاد کے منافی نہیں کہ خدا کا فرض رسول کے فرض سے اشد واقوی ہے۔
حدیث ۱۶۷:جہیش بن اویس نخعی رضی الله تعالی عنہ مع اپنے چند اہل قبیلہ کے باریاب خدمت اقدس حضورسیدعالم صلی الله تعالی علیہ وسلم ہوئے قصیدہ عرض کیا ازاں جمہ یہ اشعار ہیں
الا یارسول الله انت مصدق فبورکت مھدیا وبورکت ھادیا
شرعت لنا دین الحنیفۃ بعد ما عبدنا کامثال الحمیر طواغیا
یارسول اللہ!حضور تصدیق لئے گئے ہیں حضور الله عزوجل سے ہدایت پانے میں بھی مبارك اورخلق کو ہدایت عطافرمانے میں بھی مبارك حضور ہمارے لئے دین اسلام کے شارع ہوئے بعد اس کے کہ ہم گدھوں کی طرح بتوں کو پوج رہے تھے۔
مندۃ من طریق عما ربن عبدالجبار عن عبدالله بن المبارك عن الازواعی عن یحیی بن ابی سلمۃ عن ابی ھریرۃ رضی الله تعالی عنہ حدیث طویل۔ مندہ نے عماربن عبدالجبار کے طریقے سے عبدالله بن مبارك سے انہوں نے اوزاعی سے انہوں نے یحیی بن ابی سلمہ سے انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی الله تعالی عنہ سے روایت کیاحدیث لمبی ہے۔(ت)
یہاں صراحۃ تشریع کی نسبت حضور سید عالم صلی الله تعالی علیہ وسلم کی طرف ہے کہ شریعت اسلامی حضور کی مقرر کی ہوئی ہے ولہذا قدیم سے عرف علمائے کرام میں حضور اقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم کو شارع کہتے ہیں۔علامہ زرقانی شرح مواہب میں فرماتے ہیں:
قداشتھر اطلاقہ علیہ صلی الله تعالی علیہ وسلم لانہ شرع الدین والاحکام ۔ سید عالم صلی الله تعالی علیہ وسلم کو شارع کہنا مشہور ومعروف ہے اس لئے کہ حضور نے دین متین واحکام دین کی شریعت نکالی۔
اسی قدر پربس کیجئے کہ اس میں سب کچھ آگیا ایك لفظ شارع تمام احکام تشریعیہ کو جامع ہوامیں نے یہاں وہ احادیث نقل نہ کیں جن میں حضور کی طرف امر ونہی وقضا و
حوالہ / References الاصابہ فی تمییز الصحابۃ بحوالہ ابن مندۃ ترجمہ ۱۲۵۱ جہیش بن اویس دارالفکر بیروت ۱/۳۵۸
شرح الزرقانی علی المواھب اللدنیہ المقصد الثانی الفصل الاول دارالمعرفۃ بیروت ۳/۱۳۴
#18931 · (رسالہ ضمنی)منیۃ اللبیب ان التشریح بید الحبیب ۱۳۱۱ھ (عقلمند کا مقصد کہ بے شك احکام شرع حبیب الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے اختیار میں ہیں)
امثالہا کی اسناد ہے کہ:
امر رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم قضی رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم۔ رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم نے امر فرمایا۔رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا۔(ت)
اتنی حدیثوں میں وارد جن کے جمع کو ایك مجلد کبیر بھی کافی نہواورخود قرآن عظیم ہی نے جو ارشاد فرمایا:
" وما اتىکم الرسول فخذوہ وما نہىکم عنہ فانتہوا " ۔ جو کچھ رسول تمہیں دے وہ لو اورجس سے منع فرمائے اس سے باز رہو
کہ امر ونہی وقضا اوروں کی طرف بھی اسناد کرتے ہیں۔قال الله تعالی:
" اطیعوا اللہ واطیعوا الرسول و اولی الامر منکم " ۔ حکم مانو الله کا اورحکم مانو رسول کا اوران کا جو تم میں حکومت والے ہیں۔(ت)
مجھے تو یہ ثابت کرنا تھا کہ حضور اقدس کو احکام شرعیہ سے فقط آگاہی وواقفیت کی نسبت نہیں جس طرح وہ سرکشی طاغی آخر تقویۃ الایمان میں سید المرسلین صلی الله تعالی علیہ وسلم پر صریح افتراء کرکے کہتا:"انہوں نے فرمایا کہ سب لوگوں سے امتیاز مجھ کو یہی ہے کہ الله کے احکام سے میں واقف ہوں اور لوگ غافل " ۔
مسلمانو!لله انصافیہ اس کس وناکس نے محمد رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم کے فضائل جلیلہ وخصائص جمیلہ وکمالات رفیعہ ودرجات منیعہ جن میں زید وعمر کی کیا گنتی انبیاء ومرسلین وملائکہ مقربین علیہم الصلوۃ والتسلیم کا بھی حصہ نہیں سب یك لخت اڑادئے سب لوگوں سے حضور سید عالم صلی الله تعالی علیہ وسلم کا امتیاز صرف دربارہ احکام رکھا اوروہ بھی اتنا کہ حضور
حوالہ / References القرآن الکریم ۵۹ /۷
القرآن الکریم ۴ /۵۹
تقویۃ الایمان الفصل الخامس مطبع علیمی اندرون لوہاری دروازہ لاہور ص۴۶
#18934 · (رسالہ ضمنی)منیۃ اللبیب ان التشریح بید الحبیب ۱۳۱۱ھ (عقلمند کا مقصد کہ بے شك احکام شرع حبیب الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے اختیار میں ہیں)
واقف ہیں اورلوگ غافلتو انبیاء سے تو کچھ امتیاز رہاہی نہیں کہ وہ بھی واقف ہیں غافل نہیں اورامتیوں سے بھی امتیاز اتنی ہی دیر تك ہے کہ وہ غافل رہیں واقف ہوجائیں تو کچھ امتیاز نہیں کہ اب وقوف وغفلت کا تفاوت نہ رہا اور امتیاز اس میں منحصر تھا انا لله وانا الیہ راجعون۔
مسلمانو!دیکھا یہ حاصل ہے اس شخص کے دین کایہ پچھلا کلمہ ہے محمد رسول الله پر اس کے ایمان کا جس پر اس نے خاتمہ کیاحالانکہ والله دربارہ احکام بی صرف اتنا ہی امتیاز نہیں بلکہ حضور حاکم ہیںصاحب فرمان ہیںمالك افتراض ہیںوالی تحریم ہیں۔سن اوسرکش!احکام سے اپنے نزدیك واقف تو تو بھی ہے پھر تجھے کوئی مسلمان کہے گا کہ شریعت کے فرائض تیرے فرض کئے ہوئے ہیں شرع کے محرمات تو نے حرام کردئے ہیں جن پر زکوۃ نہیں انہیں تو نے معاف کردیا ہے شریعت کا راستہ تیرا مقرر کیا ہے شرائع میں تیرے احکام بھی ہیں اور وہ احکام احکام خد ا کے مثل ماوی ہیں مگر محمدرسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم کے بارے میں یہ سب باتیں کہی جاتی ہیں خود محمد رسول الله نے ارشاد فرمائی ہیں لہذا فقیر نے صرف اسی قسم احادیث پر اقتصار کیا اوربفضلہ تعالی اپنا نیزہ خار اگزار وآہن گزار ان گستاخان چشم بند و دہن باز کے دل وجگر کے پار کردیا ولله الحمد۔الله تعالی کی بے شمار رحمتیں علامہ شہاب خفاجی پر کہ نسیم الریاض شرح شفائے امام قاضی عیاض میں قصیدہ بردہ شریف کے اس شعر:
نبینا الامر الناھی فلااحد ابرفی قول لامنہ ولا نعم
ہمارے نبی صلی الله تعالی علیہ وسلم صاحب امرونہیتو ان سے زیادہ ہاں اور نہ کے فرمانے میں کوئی سچا نہیں
کی شرح میں فرماتے ہیں:
معنی نبینا الامر الخ انہ لاحاکم سواہ صلی الله تعالی علیہ وسلم فھو حاکم غیر محکوم الخ نبی صلی الله تعالی علیہ وسلم کے صاحب امر ونہی ہونے کے یہ معنی ہیں کہ حضور حاکم ہیں حضور کے سوا عالم میں کوئی حاکم نہیںنہ وہ کسی کے محکومصلی الله تعالی علیہ وسلم۔
ذکرہ فی فصل جودہ صلی الله تعالی علیہ وسلم(اس کو صاحب نسیم نے فصل فی وجودہ صلی الله تعالی علیہ وسلم میں ذکر فرمایا ہے۔ت)
حوالہ / References الکواکب الدریۃ فی مدح خیر البریۃ الفصل الثالث مرکز اہلسنت برکات رضا گجرات الہند ص۲۱
نسیم الریاض شرح شفاء القاضی عیاض فصل واما الجود والکرم مرکز اہلسنت برکات رضا گجرات ہند۲/۳۵
#18936 · (رسالہ ضمنی)منیۃ اللبیب ان التشریح بید الحبیب ۱۳۱۱ھ (عقلمند کا مقصد کہ بے شك احکام شرع حبیب الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے اختیار میں ہیں)
الحمدلله یہ تذییل جلیل اپنے باب میں فرد کامل ہوئی احادیث تحریم مدینہ طیبہ بھی اسی باب سے تھیں کہ امام الوہابیہ کے اس خاص حکم شرك کے سبب جد اشمار میں رہیں اگر کوئی چاہے انہیں اور اس بیان تذلیل کو ملاکر احکام تشریعیہ کے بارے میں سید عالم صلی الله تعالی علیہ وسلم کے اقتدار واختیار کا ظاہر کرنے والا یك مستقل رسالہ بنائے اوربنام "منیۃ اللبیب ان التشریع بید الحیبب ۱۳۱۱ھ"موسوم ٹھہرائے۔واخر دعونا ان الحمدلله رب العلمین والصلوۃ والسلام علی سید المرسلین محمد والہ وصحبہ اجمعینامین۔
مسك الختام:اب فقیر غفرلہ المولی القدیر سات حدیثیں اس وصل مبارك میں اورذکر کرے جن سے امام الوہابیہ کا سخت کور وکرہونا شمس وامس کی طرح ظاہر ہوکہ جن احادیث سے جن باتوں کو شرك بتانا چاہا تھا خود وہی اوران کے نظائر صاف گواہی ہیں کہ وہ ہرگز شرك نہیں مگر بیچاے معذور کی داد نہ فریاد" ومن یضلل اللہ فما لہ من ہاد ﴿۳۳﴾" ۔(اور جسے الله گمراہ کرے اس کا کوئی راہ دکھانے والا نہیں۔ت)
حدیث ۱۶۸:صحیح بخاری ومسند احمد وسنن ابی داؤد وترمذی وابن ماجہ ربیع بنت معوذ بن عفراء رضی الله تعالی عنہما سے ہے رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم میری شادی میں تشریف لائے چھو کر یاں دف بجا کر میرے باپ چچا جو بدر میں شہید ہوئے تھے ان کے اوصاف گاتی تھیں اس میں کوئی بولی ع
وفینا نبی یعلم ما فی غد
ہم میں وہ نبی ہیں جنہیں آئندہ کا حال معلوم ہے
صلی الله تعالی علیہ وسلم
اس پر سید عالم صلی الله تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:
دعی ھذا وقولی بالذی کنت تقولین ۔ اسے رہنے دے اورجو کچھ پہلے کہہ رہی تھی وہی کہے جا۔
حوالہ / References القرآن الکریم ۴۰ /۳۳
صحیح البخاری کتاب النکاح باب ضرب الدف فی النکاح والولیمۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/۷۷۳،سنن ابی داؤد کتاب الادب باب فی الغناء آفتاب عالم پریس لاہور ۲/۳۱۸ (باقی برصفحہ آئندہ)
#18938 · (رسالہ ضمنی)منیۃ اللبیب ان التشریح بید الحبیب ۱۳۱۱ھ (عقلمند کا مقصد کہ بے شك احکام شرع حبیب الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے اختیار میں ہیں)
اقول:وبالله التوفیق امام الوہابیہ اس حدیث کو شرك فی العلم کی فصل میں لایاجسے کہا:''اس فصل میں ان آیتوں حدیثوں کا ذکر ہے جس سے اشراك فی العلم کی برائی ثابت ہوتی ہے ۔''
تو وہ اس حدیث سے ثابت کرنا چاہتا ہے کہ نبی صلی الله تعالی علیہ وسلم کی طرف آئندہ بات جاننے کی اسناد مطلقا شرك ہے اگرچہ بعطائے الہی جانے کہ اس نے صاف کہہ دیا:''پھر خواہ یوں سمجھے کہ یہ بات ان کو اپنی ذات سے ہے خواہ الله کے دینے سے ہرطرح شرك ہے ۔''
اور خود مصرع مذکور کا مطلب ہی یوں بتایا کہ:''چھوکریاں گانے لگیں اوراس میں پیغمبر خدا کی تعریف یہ کہی ان کو الله نے ایسا مرتبہ دیا ہے کہ آئندہ کی باتیں جانتے ہیں ۔''
بایں ہمہ حدیث کو شرك فی العلم کی فصل میں لایا مگر جب حدیث میں حکم شرك کی بواصلا نہ پائی تو خود ہی اپنے دعوے سے تنزل پر آیا اورصرف اتنا لکھنے پر بس کی:''اس حدیث سے معلوم ہو ا کہ انبیاء کی جناب میں یہ عقیدہ نہ رکھے کہ وہ غیب کی باتیں جانتے ہیںپیغمبر خدا نے اس قسم کا شعر اپنی تعریف کا انصار کی چھوکریوں کو گانے بھی نہ دیا چہ جائیکہ عاقل مرد اس کو کہے یا سن کر پسند کرے ۔''
الله الله الله دئے سے بھی ایسا مرتبہ ماننا اس کے نزدیك شرك ہوتو شکایت نہیں کہ اس کے
حوالہ / References (بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
سنن الترمذی کتاب النکاح حدیث ۱۰۹۲ دارالفکر بیروت ۲/۲۴۷وسنن ابن ماجۃ ابواب النکاح باب الغناء والدف ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۳۸ومسند احمد بن حنبل حدیث الربیع بنت معوذ المکتب الاسلامی بیروت ۶/۳۵۹
تقویۃ الایمان الفصل الثانی مطبع علیمی اندرون لوہاری دروازہ لاہور ص۱۸
تقویۃ الایمان پہلا باب مطبع علیمی اندرون لوہاری دروازہ لاہور ص۷
تقویۃ الایمان الفصل الثانی مطبع علیمی اندرون لوہاری دروازہ لاہور ص۱۸
تقویۃ الایمان الفصل الثانی مطبع علیمی اندرون لوہاری دروازہ لاہور ص۱۸
#18940 · (رسالہ ضمنی)منیۃ اللبیب ان التشریح بید الحبیب ۱۳۱۱ھ (عقلمند کا مقصد کہ بے شك احکام شرع حبیب الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے اختیار میں ہیں)
دھرم میں اس کا معبود خود ہی کسی کو آئندہ باتیں جاننے کا مرتبہ دینے پر قادر نہیں کیا اپنا شریك کسی کو بناسکے گایونہی یہ امر بھی اسے مضر نہیں کہ انبیاء علیہم الصلوۃ والتسلیم کو بعطائے الہی بھی اطلاع علی الغیب کا مرتبہ ملتا صریح مخالف قرآن ہے۔قال الله تعالی:
" وما کان اللہ لیطلعکم علی الغیب ولکن اللہ یجتبی من رسلہ من یشاء ۪" ۔ الله اس لئے نہیں کہ تمہیں غیب پر اطلاع کا منصب دے ہاں اپنے رسولوں سے چن لیتاہے جسے چاہے۔
وقال تعالی:
" علم الغیب فلا یظہر علی غیبہ احدا ﴿۲۶﴾ الا من ارتضی من رسول" ۔ غیب کا جاننے والا تو کسی کو اپنے غیب پر غالب ومسلط نہیں کرتا مگر اپنے پسندیدہ رسولوں کو۔
یہاں لایظھر غیبہ علی احد نہ فرمایا کہ الله تعالی اپنا غیب کسی پر ظاہر نہیں فرماتا کہ اظہار غیب تو اولیائے کرام قدست اسرارھم پر بھی ہوتاہے اوربذریعہ انبیاء واولیاء علیہم الصلوۃ والسلام ہم پر بھیبلکہ فرمایا:لایظھر علی غیبہ احدا اپنے غیب خاص پر کسی کو ظاہر وغالب ومسلط نہیں فرمایا مگر رسولوں کو۔ان دونوں مرتبوں میں کیسا فرق عظیم ہے اوریہ اعلی مرتبہ انبیاء علیہم الصلوۃ والثناء کو عطاہونا قرآن عظیم سے کیسا ظاہرہے مگر اسے کیا مضر کہ جب اس کے نزدیك الله عزوجل کا کذب ممکن جیسا کہ اس کے رسالہ "یکروزی"سے ظاہراور فقیر کے رسالہ "سبحان السبوع عن عیب کذب مقبوح" فـــــــ میں اس کا رد ظاہر وباہرتو قرآن کی مخالفت اس پر کیا موثروالله المستعان علی کل غوی فاجر(ہرگمراہ فاجر کے خلاف الله تعالی ہی سے مدد مانگی جاتی ہے)اس سب سے گزر کر ہوشیار عیار سے اتنا پوچھئے کہ بالفرض اگر حدیث سے ثابت ہے بھی تو صرف ممانعت کہ انبیاء کی جناب میں ایسا عقیدہ نہ رکھے وہ شرك کاجبروتی حکم جس کے لیے اس فصل اورساری
ف:رسالہ "سبحان السبوع عن عیب کذب مفتوح"فتاو ی رضویہ جلد ۱۵مطبوعہ رضا فاؤنڈیش جامعہ نظامیہ رضویہ اندرون لوہاری دروازہ لاہور کے صفحہ ۳۱۱پر مرقوم ہے۔
#18943 · (رسالہ ضمنی)منیۃ اللبیب ان التشریح بید الحبیب ۱۳۱۱ھ (عقلمند کا مقصد کہ بے شك احکام شرع حبیب الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے اختیار میں ہیں)
کتاب کی وضع ہے کہاں سے نکلا کیا اسی کو اتمام تقریب کہتے ہیں اوریہ اس کا قدیم داب ہے کہ دعوی کرتے وقت آسمان سے بھی اونچا اڑے گا اوردلیل لاتے وقت تحت الثری میں جاچھپے گا اورپیچھا کیجئے تو وہاں سے بھی بھاگ جائے گاایسے ہی ناتمام اٹکل بازیوں سے عوام کو چھلا اور کاغذ کا چہر ہ اپنے دل کی طرح سیاہ کیا۔
ثم اقول:اورانصاف کی نگاہ سے دیکھئے تو بحمدلله تعالی حدیث نے شرك کا تسمہ بھی لگا نہ رکھااورشرك پسنداوشرك کی حقیقت و شناخت سے غافل!کیا شرك کوئی ایسی ہلکی چیز ہے کہ الله کا رسول اوررسولوں کا سردار صلی الله تعالی علیہ وسلم اپنی مجلس میں اپنےحضور اپنی امت کو شرك بکتے کفر بولتے سنے اوریونہی سہل دوحرفوں میں گزاردے کہ اسے رہنے دو وہی پہلی بات کہے جاؤ۔اب یاد کر وحدیث ابی داؤد ویحك انہ لایستشفع بالله علی احد ۔(تجھ پر افسوس ہے مخلوق میں سے کسی کے پاس الله تعالی سے سفارش نہیں کرائی جاتی)کے متعلق اپنی بدلگامی کی۔
تقریر کہ:''عرب میں قحط پڑا تھا ایك گنوارنے آکر پیغمبر کے روبرو اس کی سخت بیان کی اوردعا طلب کی اورکہا تمہاری سفارش ہم الله کے پاس چاہتے ہیں اورالله کی تمہارے پاسیہ بات سن کر پیغمبر خدا بہت خوف اور دہشت میں آگئے اورالله کی بڑائی ان کے منہ سے نکلنے لگی اوساری مجلس کے چہرے الله کی عظمت سے متغیر ہوگئے پھراس کو سمجھایا کہ الله کی شان بہت بڑی ہے سب انبیاء واولیاء اس کے روبروذرہ ناچیز سے کمتر ہیں وہ کس کے رو برو سفارش کرے ۔"
سبحان الله!اشرف المخلوقات محمدرسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم کی اس کے دربار میں یہ حالت ہے کہ ایك گنوار کے منہ سے اتنی بات سنتے ہی مارے دہشت کے بے حواس ہوگئے اورعرش سے فرش تك جو الله کی عظمت بھری ہوی ہے بیان کرنے لگے۔
اقول:انبیاء واولیاء کو ذرہ ناچیز سے کمتر کہنے کی نبی صلی الله تعالی علیہ وسلم کی طرف نسبت کرنا کہ حضور نے اسے یوں سمجھایا یا تیرا افتراہے حدیث میں اس کا وجود نہیںاورمحمد رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم کو بے حواس کہنا یہ تیری بے دینی کا ادنی کرشمہ اور افترا پر افترا ہے حدیث میں اس کا
حوالہ / References سنن ابی داؤد کتاب السنۃ باب فی الجہمیۃ آفتاب عالم پریس لاہور ۲/۲۹۴
تقویۃ الایمان الفصل الخامس مطبع علیمی اندرون لوہاری دروازہ لاہور ص۳۸
#18945 · (رسالہ ضمنی)منیۃ اللبیب ان التشریح بید الحبیب ۱۳۱۱ھ (عقلمند کا مقصد کہ بے شك احکام شرع حبیب الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے اختیار میں ہیں)
بھی نشان نہیں اورالله عزوجل کی عظمت اس کی صفت پاك اس کی ذات اقدس سے قائم ہے مکان ومحل سے منزہ ہےکیا جانئے تو کس چیز کو خدا سمجھاہے جس کی عظمت مکانوں میں بھری ہوئی ہےخیر یہ تو تیرے بائیں ہاتھ کے کھیل ہیں
تیر برجاہ انبیاء اندازہ طعن درحضرت الہی کن
بے ادب با ش وانچہ دانی گو بیحیا باش وہرچہ خواہی کن
(انبیاء کرما علیہم الصلوۃ والسلام کے مقام ومرتبہ پر تیر اندازی کراوربارگاہ الہی میں طعن کربے ادب بن جا اورجو کچھ چاہتاہے کتہا جابے حیان بن جا اور جو چاہتاہے کرتا جا۔ت)
مگرآنکھوں کی پٹی اترواکر ذرا یہ سوچ کہ جو بات عظمت شان الہی کے خلاف ہو اسے سن کر رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم کا یہ برتاؤ ہوتاہے حالانکہ سفارشی ٹھہرانے کو یہ بات کہ اس کا مرتبہ اس سے کم ہے جس کے پاس اس کی سفارش لائی گئی ایسی سریح لازم نہیں جسے عام لوگ سمجھ لیں ولہذا وہ صحابی اعرابی رضی الله تعالی عنہ بآنکہ اہل زبان تھے اس نکتے سے غافل رہے تو کیا ممکن ہے کہ صریح شرك وکفر کےکلمے حضو رسنیں اور اصلاکوئی اثر غضب وجلا ل چہرہ اقدس پر نمایاں نہ ہوہ حضور دیر تك سبحان الله سبحان الله کہیںنہ اہل مجلس کی حالت بدلےنہ ان کے کہنے والیوں پر کوئی مواخذہ ہوایك آسان سی بات پرقناعت فرمائیں کہ اسے رہنے دوکویں نہیں فرماتے کہ اری!تم کفر بك رہی ہواری!تقویۃ الایمان کے حکم سے تم مشرکہ ہوگئیں تمہارا دین جاتا رہا تم مرتد ہوئیں از سرانو ایمان لاؤ کلمہ پڑھو نکاح ہوگیا ہے تو تجدید نکاح کرو۔گرض ایك حرف بھی ایسا نہ فرمایا جس سے شرك ہونا ثابت ہوکہنے والیوں کو اپنا حال اوراہل مجلس کو اس لفظ کا حکم معلوم ہوحالانکہ وقت حاجت بیان حکم فرض ہے اورتاخیر اصلا روا نہیںتو خود اس حدیث سے صاف ظاہر ہوا کہ نبی صلی الله تعالی علیہ وسلم کی طرف اطلاع علی الغیب کی نسبت ہرگز شرك نہیں۔رہا ممانعت فرماناوہ بھی یہ بتائےکہ انبیائے کرام وخود سید الانام علیہ وعلیہم افضل الصلوۃ والسلام کی جانب میں اس کا اعتقاد فی نفسہ باطل ہےیہ منہ دھو رکھئے منع لفظ بطلان معنی ہی میں منحصر نہیں بلکہ اس کے لیے وجوہ ہیں اورعقل ونقل کا قاعدہ مسلمہ ہے کہ اذا جاء الاحتمال بطل الاستدلال(جب احتمال آجائے تو استدلال باطل
#18946 · (رسالہ ضمنی)منیۃ اللبیب ان التشریح بید الحبیب ۱۳۱۱ھ (عقلمند کا مقصد کہ بے شك احکام شرع حبیب الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے اختیار میں ہیں)
ہوجاتاہے۔ت)اولا: ممکن ہے کہ لہو ولعب کے وقت اپنی نعت اوروہ بھی زنانے گانے اوروہ بھی دف بجانے میں پسند نہ فرمائیلہذا ارشادہوا:اسے رہنے دور اور وہی پہلے گیت گاؤ۔ارشاد الساریلمعات ومرقات وغیرہ میں اس احتمال کی تصریح ہے۔
ثانیا اقول:ممکن کہ مجلس عورتوںکنیزوںکم فہم لوگوں کی تھی ان میں منع فرمایا کہ توہم ذاتیت کا سدباب ہوشرح حکیم ہے اورامام الوہابیہ کی مت اوندھی جو متحمل ذو وجوہ بات جس میں برے پہلو کی طرف لے جانے کا احتمال ہوچھوکریوں کو منع کی جائے دانشمند مردوں کے لیے اس کی ممانعت بدرجہ اولی جانتاہے حالانکہ معاملہ صاف الٹا ہے ایسی بات سے کم علموں کم فہموں کو روکتے ہیں کہ غلط نہ سمجھ بیٹھیںعاقلوں دانشمندوں کو منع کیا ضرور کہ ان سے اندیشہ نہیں۔صحیح مسلم ومسند احمد وسنن ابی داؤد وسنن نسائی میں عدی بن حاتم رضی الله تعالی عنہ سے ہے ایك شخص نے حضور اقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم کے سامنے خطبہ پڑھا اور اس میں یہ لفظ کہے:
ومن یطع الله ورسولہفقد رشد ومن یعصہما فقد غوی۔ جس نے الله ورسول کی اطاعت کی اس نے راہ پائی اورجس نے ان دونوں کی نافرمانی کی وہ گمراہ ہوا۔
سید عالم صلی الله تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:
بئس الخطیب انتقل ومن یعص الله ورسولہفقد غوی ۔ کیا براہ خطیب ہے تویوں کہہ کہ جس نے الله ورسول کی نا فرمانی کی وہ گمراہ ہوا۔
ابوداؤد کی روایت میں ہے:
قال قم اوقال اذھب فبئس الخطیب انت ۔ سید عالم صلی الله تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:اٹھیا فرمایا:چلا جا کہ تو برا خطیب ہے۔
امام قاضی عیاض وغیرہ ایك جماعت علماء کا ارشاد ہے:
حوالہ / References صحیح مسلم کتاب الجمعۃ فصل فی ایجاز الخطبۃ واطالۃ الصلٰوۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/۲۸۶،سنن الکبرٰی للبیہقی کتاب الطہارۃ ۱/۸۶ وکتاب الجمعۃ ۳/۲۱۶ دارصادر بیروت،مسند احمد بن حنبل حدیث عدی بن حاتم المکتب الاسلامی بیروت ۴/۲۵۶
سنن ابی داؤد کتاب الصلٰوۃ باب الرجل یخطب علی قوس آفتاب عالم پریس لاہور ۱/۱۵۶
#18948 · (رسالہ ضمنی)منیۃ اللبیب ان التشریح بید الحبیب ۱۳۱۱ھ (عقلمند کا مقصد کہ بے شك احکام شرع حبیب الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے اختیار میں ہیں)
انما انکر علیہ تشریکہ فی الضمیر المقتضی للتسویۃ وامرہ بالعطف تعظیمالله یعنی سید عالم صلی الله تعالی علیہ وسلم نے اس خطیب کا الله و رسول کو ایك ضمیر تثنیہ عــــــہ میں جمع کرنا

عــــــہ:اقول: ھذا ھو الصحیح علۃ ومنافاتہ حدیث ابی داؤد الاتی مند فعۃ بما ذکر العبد الضعیف غفر الله تعالی لہ اما ما استصوب الامام الاجل النووی رحمہ الله تعالی فی المنھاج ان سبب النھی ان الخطب شانھا البسط والایضاح واجتناب الاشار ات والرموز ومثل ھذا الضمیر قد تکر رفی الاحادیث الصحیحۃ من کام رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم کقولہ صلی الله تعالی علیہ وسلم ان یکون الله ورسولہ احب الیہ مما سواھما وانام ثنی الضمیر ھھنا الانہ لیس خطبۃ وعظ وانما ھو تعلیم حکم فکلما قل لفظ کان اقرب الی حفظہ بخلاف خطبۃ الوعظ فانہ لیس المراد حفظھما وانما یراد الا تعاظ بھا اھ


فاقول:انما حداہ رحمہ الله اقول:(میں کہتاہوں)یہی علت درست ہےاورا سکی منافات حدیث ابو داؤد کے ساتھ جو کہ عنقریب آرہی ہےعبد ضعیف (الله تعالی اس کی مغفرت فرمائے)کے بیان مذکور کے ساتھ مندفع ہے۔امام اجل نوری علیہ الرحمہ نے منہاج میں جو خیال ظاہر فرمایا ہے کہ انہی کا سبب یہ ہے کہ خطبات کی شان یہ ہے کہ ان میں تفصیل وتوضیح سے کام لیاجائے اورارشادات ورموز سے اجتناب کیا جائے حالانکہ اس قسم کی ضمیر کا استعمال کلام رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم میں متعدد احادیث صحیحہ میں وارد ہے۔ جیسے رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم کا ارشاد ہے:''الله ورسول کی محبت اس کے دل میں ان دونوں کے ماسوا سے زیادہ ہو۔ ''یہاں ضمیر تثنیہ اس لئے آپ نے استعمال فرمائی کہ یہ خطبہ و وعظ نہیں بلکہ حکم شرعی کیت علیم ہےچنانچہ لفظوں کی قلت انہیں حفظ کرنے کے زیادہ قریب ہے بخلاف خطبہ کے کہ اس میں حفظ الفاظ مقصد نہیں ہوتا بلکہ ان سے نصیحت حاصل کرنا مقصود ہوتاہے۔اھ
فاقول:(تو میں کہتاہوں)امام نووی علیہ الرحمہ کو
(باقی برصفحہ آئندہ)
حوالہ / References شرح صحیح مسلم مع صحیح مسلم کتاب الجمعۃ فصل فی ایجاز الخطبۃ الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/۲۸۶
#18950 · (رسالہ ضمنی)منیۃ اللبیب ان التشریح بید الحبیب ۱۳۱۱ھ (عقلمند کا مقصد کہ بے شك احکام شرع حبیب الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے اختیار میں ہیں)
تعالی بتقدیمہ اسمہ ۔ کہ جس نے ان دونوں کی نافرمانی کی کو پسند نہ فرمایا اس میں برابری کا دہم نہ ہوجائے اورحکم دیا کہ یوں کہے کہ جس نے الله ورسول کی نافرمانی کی جس میں الله عزوجل کا نام اقدس نام پاك رسول سے تعظیما مقدم رہے۔
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
تعالی علی ھذا التکلف السعید ما رأی من التنافی بین نھیہ الخطیب وثبوتہ عن نفسہ صلی الله تعالی علیہ وسلم وقد علمت ان لاتنا فی ولیس من واجبات الخطبۃ ترك الاضمار لامن شریطۃ الا یضاح وضع المظھر موضع المضمر وانما کان الاضمار یخل بالاظھار حیث یخشی الا لتباس وھھنا لا لیس فکیف یکون ھذا مقتضیا لان یواجھہ النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم بالذم ویقول لہ اذھب اوقم وقد کان صلی الله تعالی علیہ وسلم یحب الایجاز فی الکلام بحیث لایخل بالافھام وکان یقول صلی الله تعالی علیہ وسلم:ان طول اس تکلف سعید پر اس بات نے برانگیختہ کیا ہے کہ آپ نے رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم کے خطیب کو ضمیر تثنیہ کے استعمال سے منع کرنے اور خود اس کو استعمال فرمانے میں منافات سمجھی حالانکہ توجان چکا ہے کہ کوئی منافات نہیں۔اورضمائر کو ترك کرنا خطبہ کے واجبات میں سے نہیں اور نہ ہی ضمیر کی جگہ اسم ظاہر کو رکھنا شرط توضیح ہے۔ضمیر کو استعمال کرنا وہاں مخل اظہار ہوتا ہے جہاں التباس کا ڈر ہوجبکہ یہاں ایسا نہیں ہے۔پھر یہ بات اس امر کی مقتضی یسے ہوئی کہ نبی کریم صلی الله تعالی علیہ وسلم اس خطیب کو مذمت فرمائیں اورحکم دیں کہ یہاں سے چلا جایا اٹھ جا حالانکہ آپ صلی الله تعالی علیہ وسلم کلام میں ایسے اختصار کو پسند فرماتے تھے جو مخل فہم نہ ہو۔اورآپ صلی الله تعالی علیہ وسلم فرماتے تھے کہ مرد کا نماز کو لمبا کرنا(باقی برصفحہ آئندہ)
حوالہ / References شرح صحیح مسلم للقاضی عیاض کتاب الجمعۃ حدیث ۸۷۰دارالوفاء ۳/۲۷۵،شرح صحیح مسلم مع صحیح مسلم للنووی کتاب الجمعۃ فصل فی ایجاز الخطبۃ الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/۲۸۶
#18952 · (رسالہ ضمنی)منیۃ اللبیب ان التشریح بید الحبیب ۱۳۱۱ھ (عقلمند کا مقصد کہ بے شك احکام شرع حبیب الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے اختیار میں ہیں)
حالانکہ حدیث شریف میں ہے خود حضوراقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم خطبے میں یوں فرمایا کرتے:
من یطع الله ورسولہ فقد رشد ومن یعصمھا فانہ لایضر الا نفسہ۔ابو داؤد عن عبدالله بن مسعود رضی الله تعالی عنہ بسند صحیح۔ جس نے الله ورسول کی اطاعت کی وہ راہ یاب ہوا اور جس نے ان دونوں کی نافرمانی کی وہ اپنا ہی نقصان کرے گا۔(ابو داؤد نے عبدالله بن مسعود رضی الله تعالی عنہ سے سند حسن کے ساتھ روایت کیا۔ت)
نیزابن شہاب زہری نے حضور اقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم کاخطبہ جمعہ روایت کیا اس میں بعینہ وہی الفاظ ہیں کہ:
ومن یعصمھا فقد غوی۔رواہ ایضا عنہ مرسلا۔ جس نے ان دونوں کی نافرمانی کی گمراہ ہوا۔(نیز اس کو عبد الله بن مسعود رضی الله تعالی عنہ سے مرسلا روایت کیا گیا۔ت)

(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
صلوۃ الرجل وقصر خطبتہ مئنۃ من فقھہ فاطیلو االصلوۃ واقصروالخطبۃ وان من البیان لسحرا ثم ثبوت مثلہ عنہ صلی الله تعالی علیہ وسلم فی الخطبۃ کما ستسمع من حدیثی ابی داؤدلایذرلہذا الوجہ وجہ قبول اصلا فانما المحیص الی ماذکر العبد الضعیف والحمدلله علی التوقیف ۱۲منہ۔ اورخطبہ کو مختصر کرنا اس کی فقاہت کی دلیل ہے لہذا نماز لمبی اور خطبہ مختصر کیا کرو۔اوربعض بیان جادو ہوتے ہیں۔پھر خود رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم سے اس جیسے کلام کا خطبہ میں ثبوت جیسا کہ ابو داؤد کی دو حدیثوں سے تو سنے گا اس وجہ کو قابل قبول نہیں رہنے دیتالہذا مخلص اسی وجہ میں ہے جس کو عبدضعیف (مصنف علیہ الرحمہ)نے ذکر کیا ہے۔اس سوجھ بوجھ کی عطا پر تمام تعریف الله تعالی کیلئے ہے۔(ت)
حوالہ / References سنن ابی داؤد کتاب الصلٰوۃ(ابواب الجمعۃ)باب الرجل یخطب علٰی قوس آفتاب عالم پریس لاہور ۱/۱۵۷
سنن ابی داؤد کتاب الصلٰوۃ(ابواب الجمعۃ)باب الرجل یخطب علٰی قوس آفتاب عالم پریس لاہور ۱/۱۵۷
#18955 · (رسالہ ضمنی)منیۃ اللبیب ان التشریح بید الحبیب ۱۳۱۱ھ (عقلمند کا مقصد کہ بے شك احکام شرع حبیب الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے اختیار میں ہیں)
حدیث آئندہ سے بتوفیق الله تعالی اس فقیر کی عمدہ تائید وتقریر ہوتی ہے فانتظر۔
ثالثا: وجہ ممانعت علم غیب کی اسناد مطلق بے ذکر تعلیم الہی عزوجل ہے۔شیخ محقق رحمہ الله تعالی نے لمعات میں اس طرف ایمافرمایا۔
اقول:اوروہ بے شك وجیہ ہے جس طرح بغیر الله عزوجل کی مشیت کو ملائے یوں کہنا کہ میں یوں کروں گامکروہ ہے۔قال الله تعالی:
" ولا تقولن لشایء انی فاعل ذلک غدا ﴿۲۳﴾" ۔ ہرگز نہ کہان کسی چیز کو کہ میں کل بایسا کرنے والا ہوں مگر یہ کہ خدا چاہے۔
علم غیب بالذت الله عزوجل کے لئے خاص ہے کفاراپنے معبود ان باطل وغیرہم کےلئے مانتے تھے لہذا مخلوق کو"عالم الغیب" کہنا مکروہاوریوں کوئی حرج نہیں کہ الله تعالی کے بتائے سے امور غیب پر انہیں اطلاع ہےیہ دوسرا احتمال ہے کہ علماء نے اس حدیث میں ذکر فرمایا اس تقدیر پر بھی ممانعت ادب کالم کی طرف ناظر ہے نہ یہ کہ انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کو بتعلیم الہی غیب پر اطلاع کا عقیدہ ممنوع ہی ہوشرك تو درکنا جو اس طاغی کا مقصود ہے ھکذا ینبغی التحقیق والله تعالی ولی التوفیق(تحقیق یونہی مناسب ہے اورالله تعالی توفیق دینے والا ہے۔ت)
حدیث ۱۶۹:محمد بن اسحق تابعی ثقہ امام السیروالمغازی نے ابو وجزہ یزید بن عبید سعدی سے روایت کیجب(غزوئہ حنین میں) مشرکین بھاگ گئے مالك بن عوف(کہ اس لڑائی میں سردارکفار ہوازن تھے)بھاگ کر طائف میں پناہ گزیں ہوئے رحمت عالم صلی الله تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:اگر وہ ایمان لاکر حاضرہو تو ہم اس کے اہل ومال اسے واپس دیں۔یہ خبر مالك بن عوف کو پہنچیخدمت اقدس میں حاضر ہوئے جبکہ کہ حضور مقام جعرانہ سے نہضت فرماچکے گھےسید اکرم صلی الله تعالی علیہ وسلم نے ان کےاہل ومال واپس دئے اورسو اونٹ اپنے خزانہ کرم سےعطاکئےفقال مالك بن عوف رضی الله تعالی عنہ یخاطب رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم من قصیدۃ(تو مالك بن عوف رضی الله تعالی عنہ رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم سے اپنے قصیدہ سے مخاطب ہوئےت):
حوالہ / References القرآن الکریم ۱۸ /۲۳
#18956 · (رسالہ ضمنی)منیۃ اللبیب ان التشریح بید الحبیب ۱۳۱۱ھ (عقلمند کا مقصد کہ بے شك احکام شرع حبیب الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے اختیار میں ہیں)
ماان رایت ولا سمعت بواحد فی الناس کلھم کمثل محمد
اوفی واعطی للجزیل لمجتد ومتی تشاء یخبرك عما فی غد
میں نے تمام جہان کے لوگوں میں محمد صلی الله تعالی علیہ وسلم کے مثل نہ کوئی دیکھا نہ سناسب سے زیادہ وفا فرمانے والے اورسب سے فزوں تر سائل نفع کو کثیر عطابخشنے والے اورجب تو چاہے تجھے کل کی خبر بتادیں۔صلی الله تعالی علیہ وسلم۔
سید عالم صلی الله تعالی علیہ وسلم نے انہیں ان کی قوم ہوا زن اورقبائل ثمالہ وسلمہ وفہم پر سردارفرمایا ۔
حدیث ۱۷۰:معافی نے کتاب الجلیس والانیس میں بطریق حرمازی ابوعبیدہ رضی الله تعالی عنہ سے روایت کیمالك بن عوف رضی الله تعالی عنہ رئیس ہواز اسلام لاکر خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اورحضور پرنور صلی الله تعالی علیہ وسلم کو اپنا وہ قصیدہ نعتیہ سنایا(جس میں اسی مضمون کے شعر ذکر کئے)فقال لہ خیرا وکساہ حلۃ حضور اقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم نے ان کے حق میں کلمہ خیر فرمایا اور انہیں خلعت پہنایا۔ذکرھما الحافظ فی الاصابۃ (ان دونوں روایتوں کو حافظ نے اصابہ میں بیان کیا۔ت)
اقول:رضوان الہی کے بے شمار اباران یاران مصطفی صلی الله تعالی علیہ وسلم پر برسیں یوں نہ کہا کہ متی یشاء جب وہ چاہیں تجھے غیب کی خبر دے دیں۔اس میں اس صورت پر بھی صادق آسکنے کا احتمال رہتاجب بتانے والے کو کوئی اختیار نہ دیا جائے بلکہ سال دو سال میں ایك آدھ بات پر اطلاع عطا ہوا یسا جاننے والا بھی تو ریہ وایہام کے طور پر کہہ سکتاہے کہ جب چاہوں گا تمہین غیب کی خبر دے دوں کہ وہ اس وقت چاہے گا جب اسے اتفاق سے کوئی خبر ملے گی تو شرطیہ سچا ہے بلکہ یوں فرمایا کہ جب تو چاہے وہ تجھے غیب کی کبر دے دیں گےیہاں سائل مطلق مخاطب ہے کسے باشد نہ وہ معین نہ ا سکے پوچھنے کا وقت محدود نہ غد معرفہ بلکہ نکرہ غیر مخصوصتو حاصل یہ ٹھہرے گا کہ جو شخص چاہے جس وقت چاہے جس آئندہ بات کو چاہے
حوالہ / References الاصابۃ فی تمییزالصحابۃ بحوالہ ابن اسحٰق ترجمہ ۷۶۷۲ مالك بن عوف دارالفکر بیروت ۵/۴۴و۴۵
الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ الجلیس والانیس للمعانی ترجمہ ۷۶۷۲ مالك بن عوف دارالفکر بیروت ۵/۴۵
#18957 · (رسالہ ضمنی)منیۃ اللبیب ان التشریح بید الحبیب ۱۳۱۱ھ (عقلمند کا مقصد کہ بے شك احکام شرع حبیب الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے اختیار میں ہیں)
حضور بتادیں گےیہ اسی کی شان ہوسکتی ہے جو بالفعل تما م آئندہ باتوں کو جانتاہو یا اطلاع غیب اس کے ارادہ وخواہش پر کردی گئی ہو کہ جب چاہے معلوم کرلے ورنہ یہ اطلاق ہرگز صادق نہیں آسکتااسے ایك نظیر محسوس میں دیکھئے۔زید فقیر ہے نہ پاس کچھ رکھتا ہے نہ بادشاہی خوانوں پر اس کا ہاتھ پہنچتا ہے مگر بادشاہ کبھی کبھی اسے دوچار توڑے بخش دیتاہے وہ شخص پہلو رکھ کر یہ کہے تو کہہ لے کہ میں جب چاہوں ایك توڑا خیرات کردوں کہ وہ آپ ہی اسی وقت چاہے گا جب پائے گا مگر عام فقیروں کو اشتہار دے کر تم جس وقت چاہو میں توڑا عطاکردوںتوضرور غلط کہااوردم بھر میں اس کا دروغ کھل سکتاہےفقیر مانگیں اور نہ مال ہے نہ خزانے پر اختیارتو کہاں سے دے گاہاں اگر بادشاہ نے بالفعل ایسے خزانے دے دئے کہ جب کوئی کچھ مانگے یہ دے اورکمی نہ ہویا بالفعل نہ سہی تو خزانوں پر اختیار ہی دیا ہوکہ جس وقت جو چاہے لے لے تو وہ بیشك ایسی بات کہہ سکتاہے۔ اب یہ حدیثیں فرمارہی ہیں کہ صحابی یہ سفت کریم حضو ر کی نعت اقدس میں عرض کرتے ہیں اورحضور انکار نہیں فرماتے بلکہ خلعت وانعام بخشتے ہیںتوصراحۃ یہ ثابت ہوا کہ الله تعالی نے اطلاع غیب حضور کے ارادہ واختیار پر رکھ دی ہےاورواقعی انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کی شان ایسی ہی ہے امام حجۃ الاسلام محمد محمد محمد غزالی قدس سرہ العالی فرماتے ہیں:
النبوۃ عبارۃ عما یختص بہ النبی ویفارق بہ غیرہ وھو یختص بانواع من الخواصاحدھا انہ یعرف حقائق الامور المتعلقۃ بالله تعالی وصفاتہ وملئکتہ والدارالاخرۃ علما مخالفا لعلم غیرہ بکثرۃ المعلومات وزیادۃ الکشف والتحقیقثانیھا ان لہ فی نفسہ صفۃ بھا تتم الافعال الکارقۃ للعادۃ کما ان لنا صفۃ تتم بھا الحرکات المقرونۃ بارادتنا یعنی نبوت وہ چیز ہے جو نبی کے ساتھ خاص ہے اورنبی اس کے سبب اوروں سے ممتاز ہے اوروہ کئی قسم کے خاصے ہیں جنسے نبی مختص ہوتاہےایك یہ کہ جو امور الله عزوجل کے ذات وصفات اورملائکہ وآخرت سے متعلق ہیں نبی انکے حقائق کا ایساعلم رکھتا ہے کہ اوروں کے علم زیادت معلومات وفزونی تحقیق وانکشاف میں ان سے نسبت نہیں رکھتے۔دوم یہ کہ نبی کے لیے اس کی زات میں ایك وصف ہوتاہے جس سے افعال خلاف عادت(جنہیں معجزہ کہتے ہیں)انصرام پاتے ہیں جس طرح ہمارے لئے ایك صفت ہے کہ اس سے ہماری حرکات ارادیہ
#18959 · (رسالہ ضمنی)منیۃ اللبیب ان التشریح بید الحبیب ۱۳۱۱ھ (عقلمند کا مقصد کہ بے شك احکام شرع حبیب الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے اختیار میں ہیں)
وھی القدرۃثالثھا ان لہصفۃ بھا یبصر الملئکۃ ویشاھدھم کما ان للبصیر صفۃ بھا یفارق الاعمی رابعھا ان لہصفۃ بھا یدرك ماسیکون فی الغیب۔ نقلہ عنہ العلامۃ الزرقانی فی صدرشرح المواھب ۔ پوری ہوتی ہیں جسے قدرت کہتے ہیں۔سوم یہ کہ نبی کے لیے ایك صفت ہوتی ہے جس سے وہ ملائکہ کو دیکھتاہے جس طرح انکھیارے کے پاس ایك صفت ہوتی ہے جس کے باعث وہ اندھے سے ممتاز ہے۔چہارم یہ کہ نبی کے لیے ایك صفت ہوتی ہے جس سے وہ آئندہ غیب کی باتیں جان لیتاہے۔ (علامہ زرقانی علیہ الرحمۃ نے شرح المواھب کے آغاز میں اسے امام غزالی علیہ الرحمۃ نے نقل کیا۔ت)
اقول:مسلمانو!اس حدیث شریف اوران امام باعظمت ان حکیم امت قدس سرہ المنیف کے ارشاد لطیف کوامام الوہابیہ کے قول کثیف سے ملا کر دیکھو کہ حضرات انبیائے کرام علیہم الصلوۃ والسلام کے بارے میں اہل حق واہل باطل کے عقائد کا فرق ظاہر ہویہ فرماتے ہیں انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کی زت میں رب عزوجل نے ایك صفت ایسی رکھی ہے جس سے وہ خرق عادت کرتے ہیں جس طرح ہم اپنے ارادے سے چلتے پھرتےحرکت کرتے ہیںایك صفت رکھی ہے جس سے وہ ملائکہ کو دیکھتے ہیںایك صفت دی ہے جس سے وہ غیب کی آئندہ باتیں جانتے ہیں۔یہ کہتا ہے:''ان کو کسی نوع کی قدرت نہیںکسی کام میں نہ بالفعل ان کو دخل ہے نہ اس کی طاقت رکھتے ہیں۔ایضا کچھ اس بات میں بھی ان کو بڑائی نہیں کہ الله صاحب نے غیب دانی ان کے اختیار میں دی ہوکہ جس آئندہ بات کو جب ارادہ کریں تو دریافت کرلیں کہ فلانے کی اولاد ہوگی یا نہ ہوگییا اس سوداگری میں اس کو فائدہ ہوگا یا نہ ہوگایا اس لڑائی میں فتح پاوے گا یا شکست کہ ان باتوں میں بھی سب بندے بڑے ہوں یا چھوٹے یکساں بے خبر ہیں اورنادان۔ایضا جو کچھ الله اپنے بندوں سے معاملہ کرے گا دنیا خواہ قبرخواہ آخرت میں اس کی حقیقت کسی کو معلوم نہیں نہ نبی کو نہ ولی کونہ اپنا حال نہ دوسرے کااوراگر کچھ بات الله نے کسی مقبول بندے کو وحی یا الہام سے بتائی کہ فلانے کا م کا انجام بخیر ہے یا براسو وہ مجمل ہے اوراس سے زیادہ معلوم کرلینا اوراس کی تفصیل دریافت کرنی ان کے اختیار سے باہر ہے ۔''
حوالہ / References شرح الزرقانی علی المواھب اللدنیۃ بحوالۃ الغزالی مقدمۃ الکتاب دارالمعرفۃ بیروت ۱/۱۹،۲۰
تقویۃ الایمان الفصل الثانی فی ردالاشراك فی العلم مطبع علیمی اندرون لوہاری دروازہ لاہور ص۱۷
#18962 · (رسالہ ضمنی)منیۃ اللبیب ان التشریح بید الحبیب ۱۳۱۱ھ (عقلمند کا مقصد کہ بے شك احکام شرع حبیب الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے اختیار میں ہیں)
اقول:اتنا لفظ سچ ہے کہ الله عزوجل کے بتانے سے زیادہ کوئی معلوم نہیں کرسکتا۔ہمارے اختیاری افعل کب عطائے الہی وارادئہ الہیہ سے بڑھ کر ہوسکتے ہیں مگر کلمۃ حق ارید بھا باطل(کلمہ حق ہے جس سے باطل کا ارادہ کیا گیا ہے۔ت)خوارج کی طرح یہ سچا لفظ اس نے باطل ارادے سے کہا ہے وہ اس سے ان کے اختیار عطائی کا بھی سلب چاہتاہے یعنی ابنیاء علیہم الصلوۃ والتسلیم کو خدا کا دیا ہوا اختیار بھی نہیں بلکہ عاجز ومجبو رمحض ہیں۔اس نے صاف تصریح کی ہے کہ:''ظاہر کی چیزوں کو دریافت کرنا لوگوں کے اختیار میں ہے جب چاہیں کریں جب چاہیں نہ کریںسواس طرح غیب کا دریافت کرنا اپنے اختیار میں ہو کہ جب چاہے دریافت کرلیجئے یہ الله صاحب ہی کی شان ہےکسی نبی و ولی کو بھوت وپری کو الله صاحب نے یہ طاقت نہیں بخشیالله صاحب اپنے ارادے سے کبھی کسی کو جتنی بات چاہتا ہے خبردیتاہےسویہ اپنے ارادے کے موافق نہ ان کی خواہش پر ۔''
اسی کے اس اعتقاد باطل کا حدیث مذکوروقول مسطور امام مشہور میں ردصریح ہے۔
بالجملہ فرق یہ ہے کہ حدیث کے ارشاد اوران کے مطابق اہل حق کے اعتقاد میں انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام اظہار خوارق وادراك غیب میں انسان مختار بعطائے قادر جلیل الاقتدار ہیں کہ جس طرح عام آدمیوں کو ظاہری حرکات وظاہری ادراکات کے اختیارات حضرت واہب العطیات نے بخشے ہیں کہ جب چاہیں دست وپاك وجنبش دیں چاہیں نہ دیںجب چاہیں آنکھ کھول کر چیز دیکھ لیں چاہیں نہ دیکھیںاگرچہ بے خدا کے چاہے وہ کچھ نہیں چاہ سکتےاوروہ چاہیں خدا نہ چاہے تو ان کا چاہا کچھ نہیں ہوسکتا اوروہ عطائی اختیارات اس کے حقیقی ذاتی اختیارکے حضورکچھ نہیں چل سکتے بعینہ یہی حالت حضرات انبیائے کرام علیہم الصلوۃ والسلام کی درباہ معجزات وادراك معیبات ہے کہ رب عزوجل نے انہیں ظاہری جوارح ومسع وبصر کی طرح باطنی سفات وہ عطافرمائی ہیں کہ جب چاہیں خرق عادات فرمادیں مغیبات کو معلوم فرمالیں چاہیں نہ فرمائیں اگرچہ بے خدا کے چاہے نہ وہ چاہ سکتے ہیں نہ بے ارادہ الہیہ ان کا ارادہ کام دے سکتا ہےاورامام الوہابیہ کے نزدیك ایسانہیں بلکہ انبیاے کرام علیہم الصلوۃ والسلام پتھر کی طرح عاجز محض ومجبور مطلق ہیں کہ ہلانے والا محض اپنے قسری ارادے سے بے ان کے توسط اختیار عطائی کے اپنے ارادے کے موافق نہ ان کی خواہش پرہلادے تو ہل
حوالہ / References تقویۃ الایمان الفصل الثانی مطبع علیمی اندرون لوہاری دروازہ لاہور ص۱۴
#18965 · (رسالہ ضمنی)منیۃ اللبیب ان التشریح بید الحبیب ۱۳۱۱ھ (عقلمند کا مقصد کہ بے شك احکام شرع حبیب الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے اختیار میں ہیں)
جائیں ورنہ مجبور پڑے رہیں یہ کس ناکس اپنے اس خیال پر دلیل لایا کہ:''چنانچہ پیغمبر کو بارہا ایسا اتفاق ہوا کہ بعض بات دریافت کرنے کی خواہش ہوئی اور وہ بات نہ معلوم ہوئی پھر جب الله صاحب کا ارادہ ہوا تو ایك آن میں بتا دی چنانچہ منافقوں نے حضرت عائشہ پرتہمت کی اورحضرت کو بڑا رنج ہوا اورکئی دن تك بہت تحقیق کیا کچھ حقیقت معلوم نہ ہوئیجب الله صاحب کا ارادہ ہوا تو بتادیا کہ منافق جھوٹے ہیں اورعائشہ پاك ۔''
اقول:اگراختیار ذاتی وعطائی میں فرق کی تمیز ہوتی تو جان لیتا کہ ایسے اتفاقات اختیار عطائی کے اصلا منافی نہیںمراد کا اکتیار سے متخلف نہ ہوسکتان قدرت ذاتیہ الہیہ کا خاصہ ہےقدرت عطائیہ انسانیہ میں لاکھ بار ایسا ہوتاہے کہ آدمی ایك کام کیا چاہتاہے اورالله نہیں چاہتانہیں بن پڑتااس سے نہ انسان پتھر ہوگیا نہ اس کا اختیار عطائی مسلوبعطائی کی شان ہی یہ ہے کہ جب تك ارادہ ذاتیہ حقیقیہ الہیہ مساعدت نہ فرمائے کام نہیں دیتا۔طرفہ قہر بر قہریہ ہے کہ ادھر تو تو نے انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کو عیاذا بالله پتھر بنایا تھا ادھر اپنے معبود کو ایك آدمی کے برابر کر چھوڑا کہ:''غیب کی بات دریافت کرنا اپنے اختیار میں ہوکہ جب چاہے کرلیجئے یہ الله صاحب کی شان ہے ۔''
او الله عزوجل کو سخت عیب لاگانے والے بے ادب گستاخ!یہ ہرگز ہرگز الله تعالی کی شان نہیںوہ اس بیہودہ مہمل شان سے پاك ومنزہ ہے اس کا علم اس کی صفت ذاتیہ ہے اس کے اختیار سے نہیں اس کا علم مخلوق نہیں ازلی ابدی ہے حادث نہیں۔اوبد عقل بدزبان!غیب کا دریافت کرنا اختیار میں ہونے کے یہی معنی یا کچھ اورکہ بافعل تو معلوم نہیں مگر چاہے تو معلوم کرسکتا ہےتف برروئے بے دینییہ تیرا موہوم خدا جاہل بالفعل محل حوادث ہوگا سچا خدا تیری یہ صریح گالی ہے بے نہایت متعالی ہے تعالی الله عما یقول الظلمون علواکبیرا(الله تعالی بہت بلند وبرتر ہے۔ان باتوں سے جو ظالم کہتے ہیں۔ت)
مسلمانو!دیکھاتم نےیہ ایمان ہے اس گمراہ کا انبیاء اورخود حضرت عزت کی جناب میں
حوالہ / References تقویۃ الایمان الفصل الثانی مطبع علیمی اندرون لوہاری دروازہ لاہور ص۱۴
تقویۃ الایمان الفصل الثانی مطبع علیمی اندرون لوہاری دروازہ لاہور ص۱۴
#18968 · (رسالہ ضمنی)منیۃ اللبیب ان التشریح بید الحبیب ۱۳۱۱ھ (عقلمند کا مقصد کہ بے شك احکام شرع حبیب الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے اختیار میں ہیں)
انالله وانا الیہ راجعونولا حول ولا قوۃ الابالله العلی العظیم۔خیر اس کی ضلالتیں کہاں تك لکھئے ماعلی مثلہ یعد الخطاء(اس جیسے کی خطاؤں کا شمار نہیں کیاجاتا۔ت)حدیث دکھا کر اتنا پوچھئے کہ کیوں صاحب!وہاں تو حضور اقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم نے غضب فرمایا نہ حکم شرك لگایا مگرانسار کی چھوکریوں کو اتنا ارشادہوا کہ اسے رہنے دو۔یہاں جو یہ مرد عاقل یہ صحابی فاضل نعت حضور میں اس سے بھی زیادہ عظیم بات کررہے ہیں اورحدیث فرماتی ہے کہ حضور منع نہیں کرتے بلکہ اورانعام واکرام بخشتے ہیں۔یہ شرك وہابیت پر کیسی آفت ہےاب یاد کر وہ اپنی اوندھی مت الٹی کھوپڑی ''چہ جائکہ عاقل مرد کہے یا سن کر پسند کرے ''۔کچھ یہ بھی سوجھا کہ کہنے والے کون تھے اورسن کر پسند کرنیوالے کون ۔
" بل نقذف بالحق علی البطل فیدمغہ فاذا ہو زاہق ولکم الویل مما تصفون ﴿۱۸﴾" ۔ بلکہ ہم حق کو باطل پر پھینك مارتے ہیں تو وہ اس کا بھیجہ نکال دیتاہے تو جبھی وہ مٹ کر رہ جاتاہےاورتمہاری خرابی ہے ان باتوں سے جو بناتے ہو۔(ت)
حدیث ۱۷۱:او ربڑھ کر سنئےشرك فی العادۃ کے بیان میں لکھا:''الله صاحب نے اپنے بندوں کو سکھایا ہے کہ دنیا کے کاموں میں الله کو یاد رکھیں اوراس کو کچھ تعظیم کرتے رہیں جیسے اولاد کا نام عبداللہخدا بخش رکھنا جس چیز کو فرمایا اس کو برتنا جو منع کیا اس سے دور رہنا اوریوں کہنا کہ الله چاہے تو ہم فلانا کام کرینگے اوراس کے نام کی قسم کھانی اس قسم کی چیزیں الله نے اپنی تعظیم کے واسطے بتائی ہیں پھر کوئی کسی انبیاء اولیاء بھوت پری کی اس قسم کی تعظیم کرے جیسے اولاد کا نام عبدالنبی امام بخش رکھنے کھانے پینے پہننے میں رسموں کی سند پکڑے یا یوں کہے کہ الله ورسول چاہے گا تو میں آؤں گا یا پیغمبر کی قسم کھاوے سو ان سب باتوں سے شرك ثابت ہوتاہے اس کو اشراك فی العادۃ کہتے ہیں ۔''
پھر اس شرك کی فصل میں اس مدعا کے ثبوت کو مشکوۃ کے باب الاسامی سے شرح السنہ کی
حوالہ / References تقویۃ الایمان الفصل الثانی مطبع علیمی اندرون لوہاری دروازہ لاہور ص۱۸
القرآن الکریم ۲۱ /۱۸
تقویۃ الایمان مقدمۃ الکتاب مطبع علیمی اندرون لوہاری دروازہ لاہور ص۸،۹
#18969 · (رسالہ ضمنی)منیۃ اللبیب ان التشریح بید الحبیب ۱۳۱۱ھ (عقلمند کا مقصد کہ بے شك احکام شرع حبیب الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے اختیار میں ہیں)
حدیث بروایت حذیفہ رضی الله تعالی عنہ لایا کہ سید عالم صلی الله تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:
لاتقولوا ماشاء الله وشاء محمد وقولوا ما شاء الله وحدہ ۔ نہ کہو جو چاہے الله اورمحمد صلی الله تعالی علیہ وسلم یوں کہو کہ جو چاہے ایك اللہ۔
اوراس پر یہ فائدہ چڑھایا:''یعنی جو کہ الله کی شان ہے اوراس میں کسی مخلو ق کو دخل نہیں سو اس میں الله کے ساتھ کسی مخلوق کو نہ ملادے گوکیساہی بڑا ہو مثلا یوں نہ بولو کہ الله ورسول چاہے گا تو فلاں کام ہوجائے گا کہ ساراکاروبار جہاں کا الله ہی کے چاہے سے ہوتاہے رسول کے چاہنے سے کچھ نہیں ہوتا ۔''
اقول:وبالله التوفیق اولا: وہی قدیملت وہی پرانی علت کو دعوے کے وقت آسمان نشین اور دلیل لانے میں ا سفل السافلین۔ حدیث میں تواتنا ہے کہ ''یوں نہ کہو ''وہ شرك کا حکم کدھر گیا۔
ثانیا:سخت عیاری ومکاری کی چال چلامشکوۃ شریف کے باب مذکور میں حدیث حذیفہ رضی الله تعالی عنہ یوں مذکور تھی کہ نبی صلی الله تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:
لاتقولوا ماشاء الله وشاء فلان ولکن قولوا ماشاء الله ثم شاء فلان ۔ نہ کہو جو چاہے الله اورچاہے فلاں بلکہ یوں کہو جو چاہے الله پھر چاہے فلاں۔
مشکوۃ میں اسے مسند امام احمد وسنن ابی داؤد کی طرف نسبت کر کے فرمایا:وفی روایۃ منقطعا او رایك روایت منقطع یعنی جس کی سند نبی صلی الله تعالی علیہ وسلم تك متصل نہیں یوں آئی ہے یہاں وہ روایت شرح السنہ ذکر کی ہوشیار عیار نے دیکھا کہ اصل حدیث تو اس کے دعوی شرك کو داخل جہنم کئے دیتی ہے اسے صاف الگ اڑا گیا اورفقط یہ منقطع روایت
حوالہ / References تقویۃ الایمان الفصل الخامس مطبع علیمی اندرون لوہاری دروازہ لاہور ص۴۰
تقویۃ الایمان الفصل الخامس مطبع علیمی اندرون لوہاری دروازہ لاہور ص۴۰
مشکوٰۃ المصابیح کتاب الادب باب الاسلامی قدیمی کتب خانہ کراچی ص۴۰۸
مشکوٰۃ المصابیح کتاب الادب باب الاسلامی قدیمی کتب خانہ کراچی ص۴۰۸،۴۰۹
#18972 · (رسالہ ضمنی)منیۃ اللبیب ان التشریح بید الحبیب ۱۳۱۱ھ (عقلمند کا مقصد کہ بے شك احکام شرع حبیب الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے اختیار میں ہیں)
نقل کرلیا۔کیا یہ سمجھتا تھا کہ مشکوۃ اہل علم کی نظر سے نہاں ہےنہیں نہیںخوب جانتاتھا کہ مبتدی طالب علم حدیث میں پہلے اسی کو پڑھتا ہے مگر اسے تو ان بیچارے عوام کو چھلنا مقصود تھا جنہیں علم کی ہوا نہ لگی سمجھ لیا کہ ان پراندھیری ڈال ہی لوں گااہل علم نے اورکون سی مانی ہے کہ اسی پر معترض ہونگے۔
ع اس آنکھ سے ڈریے جو خدا سے نہ ڈرے آنکھ
ثالثا:امام الوہابیہ کا تو مبلغ علم یہی مشکوۃ ہےہم اس مطلب کی احادیث اول ذکر کریں پھر بتوفیقہ تعالی ثابت کردکھائیں کہ یہی حدیثیں اس کے شرك کا کیسا سرتوڑتی ہیں۔اول تو یہی حدیث حذیفہ رضی الله تعالی عنہ کی(حدیث ۱۷۱)احمد وابی داؤد نے یوں مختصر ا اورابن ماجہ نے بسند حسن اس طرح مطولا روایت کی:
حدثنا ھشام بن عمار ثنا سفین بن عیینہ عن عبد الملك بن عمیر عن ربعی بن حراش عن حذیفۃ بن الیمان رضی الله تعالی عنہما ان رجلامن المسلمین رای فی النوم انہ لقی رجلا من اھل الکتاب فقال نعم القوم انتم لولا انکم تشرکون تقولون ما شاء الله وشاء محمد صلی الله تعالی علیہ وسلم وذکر ذلك للنبی صلی الله تعالی علیہ وسلم فقال اما والله ان کنت لاعرفھا لکم قولواما شاء الله ثم ماشاء محمد صلی الله تعالی علیہ وسلم ۔ یعنی اہل اسلام سے کسی صاحب کو خواب میں ایك کتابی ملا وہ بولا:تم بہت خوب لوگ ہو اگر شرك نہ کرتے تم کہتے ہوجو چاہے الله اورچاہیں محمد صلی الله تعالی علیہ وسلم۔ان مسلم نے یہ خواب حضور سید عالم صلی الله تعالی علیہ وسلم سے عرض کیفرمایا:سنتے ہو خدا کی قسم تمہاری اس بات پر مجھے بھی خیال گزرتا تھا یوں کہا کرو جو چاہے الله پھر جو چاہیں محمد صلی الله تعالی علیہ وسلم۔
حوالہ / References مسند احمد بن حنبل حدیث حذیفۃ بن الیمان المکتب الاسلامی بیروت ۵/۳۹۳،سنن ابی داود،کتاب الادب باب منہ آفتاب عالم پریس لاہور ۲/۳۲۴،سنن ابن ماجۃ ابواب الکفارات باب النہی ان یقال ماشاء الله الخ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۵۴
#18976 · (رسالہ ضمنی)منیۃ اللبیب ان التشریح بید الحبیب ۱۳۱۱ھ (عقلمند کا مقصد کہ بے شك احکام شرع حبیب الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے اختیار میں ہیں)
یہ حدیث ابن ابی شیبہ وطبرانی وبیہقی وغیرہم نے بھی روایت کی۔
حدیث ۱۷۲:ابن ماجہ حضرت عبدالله بن عباس رضی الله تعالی عنہما سے راویرسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:
اذا حلف احدکم فلا یقل ماشاء الله وشئت ولکن لیقل ماشاء الله ثم شئت ۔ جب تم میں سے کوئی شخص قسم کھائے تو یوں نہ کہے کہ جو چاہے الله اورمیں چاہوںہاں یوں کہے کہ جو چاہے الله پھر میں چاہوں۔
حدیث ۱۷۳:نیز ابن ماجہ واحمد وبغوی وابن قانع وغیرہم نے یہی مضمون طفیل بن سخبرۃ برادر مادری ام المومنین صدیقہ رضی الله تعالی عنہما سے روایت کیا:
بیدانہ اعنی ابن ماجہ احالہ علی حدیث حذیفۃ فقال نحوہ ولم یسق لفظہ۔ سوائے اس کے کہ ابن ماجہ نے اسکو حدیث حذیفہ کی طرف پھیرتے ہوئے نحوہکہا ہے اس کے الفاظ ذکر نہیں کئے۔(ت)
اورمسند امام احمد بسند حسن صحیح کہ حدثنا بھز وعفان ثنا حماد بن سلمۃ عن عبدالملك بن عمیر عن ربعی بن ھراش عن طفیل بن سخبرۃ اخی عائشۃ لامھا رضی الله تعالی عنہما یوں ہے کہ انہیں خواب میں کچھ یہودی ملے انہوں نے ابنیت عزیرعلیہ الصلوۃ والسلام ماننے کا ان پر اعتراض کیا انہوں نے کہا تم خاص کا مل لوگ ہوا گر ویں نہ کہو کہ جو چاہے الله اورچاہیں محمد صلی الله تعالی علیہ وسلمپھر کچھ نصاری ملے ان سے بھی ابنیت مسیح کے جواب میں یہی سنا حضور اقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم سے خواب عرض کیاحضور نے خطبے میں بعد حمدوثناء الہی فرمایا:
انکم کنتم تقولون کلمۃ کان یمنعنی تم لوگ ایك بات کہا کرتے تھے مجھے تمہارا
حوالہ / References اتحاف السادۃ بحوالہ ابن ابی شیبۃ الآفۃ التاسعۃ عشر دارالفکر بیروت ۷/۵۷۴،اتحاف السادۃ بحوالہ المعجم الکبیر الآفۃ التاسعۃ عشر دارالفکر بیروت ۷/۵۷۴،الاسماء والصفات باب قول الله عزوجل وما تشاؤن الخ المکتبۃ الاثریہ سانگلہ ہل ۱/۲۳۷و۲۳۸
سنن ابن ماجۃ ابواب الکفارات باب النہی ان یقال ما شاء الله الخ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۵۴
سنن ابن ماجۃ ابواب الکفارات باب النہی ان یقال ما شاء الله الخ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۵۴
#18978 · (رسالہ ضمنی)منیۃ اللبیب ان التشریح بید الحبیب ۱۳۱۱ھ (عقلمند کا مقصد کہ بے شك احکام شرع حبیب الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے اختیار میں ہیں)
الحیاء منکن ان انھکم عنہا لاتقولوا ماشاء الله وما شاء محمد ۔ لحاظ روکتاتھا کہ تمہیں اس سے منع کرودوں یوں نہ کہو جو چاہے الله اورجو چاہیں محمد صلی الله تعالی علیہ وآلہ واصحابہ وسلم۔
حدیث ۱۷۴:سنن نسائی میں بسند صحیح بطریق مسعرعن معبدبن خالد عن عبدالله بن یسار قتیلہ بنت صیفی جہنیہ رضی الله تعالی عنہ سے ہے:
ان یہودیا اتی النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم فقال انکم تنددون وانکم تشرکون تقولون ماشاء الله وشئت وتقولون والکعبۃ فامرھم النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم اذا اراد وان یحلفواان یقولوا ورب الکعبۃ ویقول احد ماشاء الله ثم شئت ۔ یعنی ایك یہودی نے خدمت اقدس حضورسید عالم صلی الله تعالی علیہ وسلم حاضر ہوکر عرض کی:بیشك تم لوگ الله کا برابروالا ٹھہراتے ہو بیشك تم لوگ شرك کرتے ہو یوں کہتے ہوجو چاہے الله چاہو توماورکعبے کی قسم کھاتے ہو۔اس پر سید عالم صلی الله تعالی علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی الله تعالی عنہم کو فرمایا کہ قسم کھانا چاہیں تو یوں کہیں''رب کعبہ کی قسم ''اورکہنے والا یوں کہے ''جو چاہے الله اورپھر جو چاہو تم۔''
یہ حدیث سنن بیہقی میں بھی ہے نیز ابن سعد نے طبقات اور طبرانی معجم کبیر میں میں بطریق مذکور مسعر اور ابن مندہ نے بطریق المسعودی عن معبدن الجدلی عن ابن یسارن الجھنی عن قتیلۃ الجھنیۃ رضی الله تعالی عنہا روایت کی اورامام احمد نے مسند میں اس طریق مسعودی سے بسند صحیح یوں روایت فرمائی:حدثنا یحیی بن سعید ثنا یحیی المسعودی ثنی معبد بن خالد عن عبدالله بن یسار
حوالہ / References مسند احمد بن حنبل حدیث طفیل بن سخبرۃ المکتب الاسلامی بیروت ۵/۷۲
سنن النسائی کتاب الایمان والنذور الحلف بالکعبۃ نورمحمد کارخانہ کرچی ۲/۱۴۳
السنن الکبرٰی کتاب الجمعۃ باب مایکرہ من الکلام فی الخطبۃ دارصادر بیروت ۳/۲۱۲،الطبقات الکبرٰی لابن سعد تسمیۃ غرائب نساء العرب دارصادر بیروت ۸/۳۰۹،المعجم الکبیر عن قتیلۃ بنت صیفی الجہنیہ حدیث ۵ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۲۵/۱۴و۱۵
#18981 · (رسالہ ضمنی)منیۃ اللبیب ان التشریح بید الحبیب ۱۳۱۱ھ (عقلمند کا مقصد کہ بے شك احکام شرع حبیب الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے اختیار میں ہیں)
عن قتیلۃ بنت صیفی ن الجھنیۃ
قالت اتی خبر من الاخبار رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم فقال یا محمد نعم القوم انتم لولا انکم تشرکون قال سبحان الله وما ذاك قال تقولون اذا حلفتم ولکعبۃ قالت فامھل رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم شیأا ثم قال انہ قد قال فمن حلف فلیحلف برب الکعبۃ قال یا محمد نعم القوم انتم لولا انکم تجعلون لله ندا قال سبحان الله وما ذاك قال تقولون ما شاء الله وشئت قالت فامھل رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم شیئا قال انہ قد قال ماشاء الله فلیفصل بینھما ثم شئت ۔ یعنی یہود کے ایك عالم نے خدمت اقدس حضورسید عالم صلی الله تعالی علیہ وسلم میں حاضرہوکر عرض کیاے محمد!آپ بہت عمدہ لوگ ہیں اگر شرك نہ کیجئے۔فرمایا:سبحان اللہ!یہ کیا۔کہا:آپ کعبہ کی قسم کھاتے ہیں۔اس پر سید عالم صلی الله تعالی علیہ وسلم نے کچھ مہلت دی یعنی ایك مدت تك کچھ ممانعت نہ فرمائیپھر فرمایا:یہودی نے ایسا کہا ہے تو اب جو قسم کھائے وہ رب کعبہ کی قسم کھائے۔یہودی نے عرض کی: اے محمد!آپ بہت عمدہ لوگ ہیں اگر الله کا برابر نہ ٹھہرائیے۔ فرمایا:سبحان الله!یہ کیا۔کہا:آپ کہتے ہیں جو چاہے الله اورچاہو تم۔اس پر بھی سید عالم صلی الله تعالی علیہ وسلم نے ایك مہلت تك کچھ نہ فرمایابعدہفرمادیا:اس یہودی نے ایسا کہا ہے تو اب جو کہے کہ جو چاہے لله تعالی تو دوسرے کے چاہنے کو جدا کر کے کہے کپ پھر چاہو تم۔
بحمد الله یہ احادیث کثیرہ صحیحہ جلیلہ متصلہ کتب صحاح سے ہیںامام الوہابیہ نے ان سب کو بالائے طاق رکھ کر شرح السنہ کی ایك روایت منقطع دکھائی اوربحمدالله اس میں بھی کہیں اپنے حکم شرك کی بو نہ پائی۔
اقول:وبالله التوفیق اب بفضلہ تعالی ملاحظہ کیجئے کہ یہی حدیثیں اسکے دعوی شرك کو کس کس طرح جہنم رسید فرماتی ہیں:
اولا:ان احادیث سے ثابت کہ صحابہ کرام میں قول کہ الله ورسول چاہیں تو یہ کام ہوجائیگا
حوالہ / References مسند احمد بن حنبل عن قتیلہ بنت صیفی حدیث قتیلہ المکتب الاسلامی بیروت ۶/۳۷۱و۳۷۲
#18984 · (رسالہ ضمنی)منیۃ اللبیب ان التشریح بید الحبیب ۱۳۱۱ھ (عقلمند کا مقصد کہ بے شك احکام شرع حبیب الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے اختیار میں ہیں)
یا الله اورتم چاہو تو یوں ہوگا شائع وذائع تھا اورحضور سید عالم صلی الله تعالی علیہ وسلم اس پر مطلع تھے اور انکار نہ فرماتے تھے بلکہ اس عالم یہود کے ظاہر الفاظ تو یہ ہیں کہ حضور اقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم خود بھی ایسا فرمایا کرتے تھےامام الوہابیہ اسے شرك کہتاہےتو ثابت ہوا کہ اس کے نزدیك صحابہ کرام رضی الله تعالی عنہم شرك کرتے تھے اورسید عالم صلی الله تعالی علیہ وسلم منع نہ فرماتے تھے۔
ثانیا:حدیث طفیل رضی الله تعالی عنہ کے لفظ دیکھو کہ سید عالم صلی الله تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:''اس لفظ کا خیال مجھے بھی گزرتا تھا مگر تمہارے لحاظ سے منع نہ کرتا تھا۔''جب یہ لفظ امام الوہابیہ کے نزدیك شرك ٹھہرا تو معاذالله نبی نے دانستہ شرك کو گواراکیا اوراس سے ممانعت پر اپنے یاروں کے لحاظ پاس کو غلبہ دیا اور امام الوہابیہ کے یہاں یہ نبوت کی شان ہےوالعیاذ بالله بالله رب العالمین۔
ثالثا:ایك یہودی نے آکر اعتراض کیا اس کے بعد حکم ممانعت ہواتو امام الوہابیہ کے نزدیك صحابہ کرام بلکہ سید انام علیہ الصلوۃ و السلام کو سچی توحید اوراس پر استقامت کی تاکید ایك یہودی نے سکھائی ولا حول ولا قوۃ الابالله العلی العظیم۔
رابعا:قتیلہ رضی الله تعالی عنہا کہ حدیث صحیح دیکھواس یہودی کی عرض پر بھی فورا حضور نے ممانعت نہ فرمائی بلکہ ایك زمانہ کے بعد خیال آیا اوفرمایا:وہ یہودی اعتراض کر گیا ہے اچھا یوں نہ کہا کرو۔تو امام الوہابیہ کے نزدیك الله کے رسول نے آپ تو شرك سے نہ روکا یا شرك کو شرك نہ جانا جب ایك کافر نے بتایا اس پر بھی ایك مدت تك شرك کو روا رکھا پھر ممانعت بھی کی تو یوں نہیں کی شرك کی برائی سےبلکہ یوں کہ ایك مخالف اعتراض کرتا ہے لہذا چھوڑدو۔انالله وانا الیہ راجعون۔
خامسا:ان سب دقتوں کے بعد جو تعلیم فرمائی وہ بھی ہماں آس درکاسہ لائی ارشادہوا کہ یوں کہا کرو ''جو چاہے الله پھر چاہیں محمد'' صلی الله تعالی علیہ وسلم۔تو یہ کام ہوگاامام الوہابیہ کے لفظ یا دکیجئے:
"یہ خاص الله کی شان ہے اس میں کسی مخلو ق کو دخل نہیں رسول کے چاہنے سے کچھ نہیں ہوتا ۔"
حوالہ / References تقویۃ الایمان الفصل الخامس مطبع علیمی اندرون لوہاری دروازہ لاہور ص۴۰
#18987 · (رسالہ ضمنی)منیۃ اللبیب ان التشریح بید الحبیب ۱۳۱۱ھ (عقلمند کا مقصد کہ بے شك احکام شرع حبیب الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے اختیار میں ہیں)
مسلمانو!لله انصافجو بات خاص شان الہی عزوجل ہے جس میں کسی مخلوق کو کچھ دخل نہیں اس میں دوسرے کو خد اکے ساتھ ''اور ''کہہ کر ملایات تو کیاشرك سے کیونکر نجات ہوجائے گی۔مثلا آسمان وزمین کا خالق ہونااپنی ذاتی قدرت سے تمام اولین وآخرین کا رازق ہونا خاص خدا کی شانیں ہیں۔کیا اگر کوئی یوں کہے کہ الله ورسول خالق السموت والارض ہیںالله ورسول اپنی ذاتی قدرت سے رازق عالم ہیں جبھی شرك ہوگا۔اور اگرکہے کہ الله پھر رسول خالق السموت والارض ہیںالله پھر رسول اپنی ذاتی قدرت سے رازق جہاں ہیں تو شرك نہ ہوگا۔
مسلمانو!گمراہوں کے امتحان کے لیے ان کے سامنے یونہی کہہ دیکھو کہ الله پھر رسول عالم الغیب ہیںالله پھر رسول ہماری مشکلیں کھول دیںدیکھ وتو یہ حکم شرك جڑتے ہیں یا نہیں۔اسی لئے تویہ عیارمشکوۃ کی اس حدیث متصل صحیح ابو داؤدکی میر بحری بجا گیا تھا جس میں لفظ ''پھر ''کے ساتھ اجازت ارشاد ہوئی تو ثابت ہوا کہ اس مرد ك کے نزدیك رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم نے یہودی کا اعتراض پاکر بھی جو تبدیلی کی وہ خود شرك کی شرك ہی رہی۔
مسلمانو!یہ حاصل ہے رسولوں کی جناب میں اس گستاخ کے اعتقادکا۔" و سیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون ﴿۲۲۷﴾" ۔ (اب جانا چاہتے ہیں ظالم کہ کس کروٹ پلٹا کھائیں گے۔ت)یہ تو انکے طور پر نتیجہ احادیث تھا ہم اہل حق کے طور پر پوچھو تو اقول:وبالله التوفیق(تومیں الله تعالی کی توفیق سے کہتا ہوں۔ت)بحمدالله تعالی نے صحابہ نہ شرك کیا نہ معاذالله نبی صلی الله تعالی علیہ وسلم نے شرك سن کر گوارفرمایاکسی کے لحاظ وپاس کو کام میں لانا ممکن نہ تھانہ یہودی مردك تعلیم توحید کر سکتا تھابلکہ حقیقت امری یہ ہے کہ مشیت حقیقیہ ذاتیہ مستقلہ الله عزوجل کے لیے خاص ہے اورمشیت عطائیہ تابعہ لمشیۃ الله تعالی الله تعالی نے اپنے عباد کو عطا کی ہےمشیت محمدرسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم کو کائنات میں جیسا کچھ دخل عظیم بعطائے رب کریم جل جلالہہے وہ ان تقریرات جلیلہ سے کہ ہم نے زیر حدیث ذکر کیں واضح وآشکار ہےمحمد رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم محمدرسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم کے ایك نائب وخادم سید نا علی مرتضی مشکل کشا کرم الله تعالی وجہہ الاسنی کی نسبت امت مرحومہ کا جو اعتقاد ہے وہ شاہ عبدالعزیز صاحب کی عبارت مذکورہ مقدمہ سے اظہار ہے کہ:
حوالہ / References القرآن الکریم ۲۶ /۲۲۷
#18989 · (رسالہ ضمنی)منیۃ اللبیب ان التشریح بید الحبیب ۱۳۱۱ھ (عقلمند کا مقصد کہ بے شك احکام شرع حبیب الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے اختیار میں ہیں)
حضرت امیر وذریۃطاہرہ اوراتمام امت برمثال پیران می پر ستند وامور تکوینیہ رابایشاں وابستہ میدانند ۔ حضرت امیر یعنی حضر ت علی کرم الله تعالی وجہہ اوران کی اولاد کو تمام امت اپنے مرشد جیسا سمجھتی ہے اورتکوینی امور کو ان حضرات کے ساتھ وابستہ جانتی ہے۔(ت)
اورخود امام الوہابیہ اس تقویۃ الایمان کے کفری ایمان سے پہلے جو ایمان صراط مستقیم میں رکھتا تھا وہ بھی یہی تھا جہاں کہتاتھا:
مقامت ولایت بل سائر خدمات مثل قطبیت وغوثیت و ابدالیت وغیرہا ہمہ از عہد کرامت مہد حضرت مرتضی تا انقراض دنیا ہمہ بواسطہ ایشان ست ودرسلطنت سلاطین و امارت امرا ہمت ایشاں رادخلے ست کہ برسیاحین عالم ملکوت مخفی نیست ۔ مقامات ولایت بلکہ تمام خدمات مثل قطبیتغوثیت و ابدالیت وغیرہ سب رہیتی دنیا تك حضرت علی کرم الله تعالی وجہہ کے واسطے سے ملتے ہیں اوربادشاہوں کی سلطنت اور امیروں کی امارت میں بھی آنجناب کی ہمت کا دخل ہےیہ سیاحان عالم ملکوت پر پوشیدہ نہیں۔(ت)
اب کہ تقویۃ الایمان نے بحکم:
" قل بئسما یامرکم بہ ایمنکم ان کنتم مؤمنین﴿۹۳﴾" ۔ تم فرمادو کیا براحکم دیتا ہے تم کو تمہارا ایمان اگر ایمان رکھتے ہو۔
اسے تمام امت مرحومہ کے خلاف ایك نیا ایمان سخت برا ایمان نام کا ایمان اورحقیقت میں پرلے سرے کا کفران سکھایا یا اسفل السافلین پہنچااب وہ بات کہ سیاحان عالم پر ظاہر تھی اسے کیونکر سجھائی دے
" و من لم یجعل اللہ لہ نورا فما لہ من نور ﴿۴۰﴾ " ۔ اورجسے الله نور نہ دے اس کے لئے کہیں نور نہیں۔(ت)
حوالہ / References تحفہ اثنا عشریہ باب ہفتم درامامت سہیل اکیڈمی لاہور ص۲۱۴
صراط مستقیم باب دوم فصل اول المکتبۃ السلفیہ لاہور ص۵۸
القرآن الکریم ۲ /۹۳
القرآن الکریم ۲۴ /۴۰
#18991 · (رسالہ ضمنی)منیۃ اللبیب ان التشریح بید الحبیب ۱۳۱۱ھ (عقلمند کا مقصد کہ بے شك احکام شرع حبیب الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے اختیار میں ہیں)
اس مشیت مبارکہ عطائیہ کے باعث صحابہ کرام نام الہی عزوجل کے ساتھ حضو اقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم کا نام پاك ملا کر کہا کرتے تھے کہ الله ورسول چاہیں تو یہ کام ہوجائے گا مگر از انجاکہ طریق ادب سے اقرب وانسب یہ ہے کہ مشیت ذاتیہ ومشیت عطائیہ میں فرق مراتب نفس کلام سے واضح ہوکہ کسی احمق کو توہم مساوات نہ گزرے سید عالم صلی الله تعالی علیہ وسلم کو اس کلمے پر خیال گزرتاتھا پھر ملاحظہ فرماتے کہ یہ اہل توحید ہیں معنی حق وصدق انہیں ملحوظ ہیں محبت خدا اوررسول اورنام پاك خلیفۃ الله الاعظم جل جلالہ و صلی الله تعالی علیہ وسلم سے تبرك وتوسل انہیں اس قول پر باعث ہے اوربات فی نفسہ شرعا ممنوع نہیں کہ واؤمطلق جمع کے لیے ہے نہ مساوات عــــــہ نہ معیت کے واسطےلہذا
عــــــہ:اقول: وھذا نکتۃ غفل عنہا بعض الجلۃ فجوز ماشاء الله ثم شاء محمد صلی الله تعالی علیہ وسلم وزعم ان لواتی بالواو لکان شرکا جلیا فانما یتم ان کانت الواو المستویۃ وھو باطل قطعا قال تعالی" ان اللہ وملئکتہ یصلون علی النبی " قال تعالی" اغنہم اللہ ورسولہ" الی غیر ذلك مما لایحصی ومع ذلك بحمدلالہ لیس ملحظہ ملحظ ھؤلاء الا بخاس الجاعلۃ اثبات المشیئۃ للنبی صلی الله تعالی علیہ وسلم اقول:(میں کہتاہوں)اس نکتہ کی طرف بعض بزرگوں کی توجہ نہ ہوئیچنانچہ انہوں نے یوں کہنے کو تو جائز قرار دیا کہ ''جو چاہے الله پھر چاہیں محمد صلی الله تعالی علیہ وسلم ''مگر گمان کیا کہ اگر ثم کی جگہ واو ہو توشرك جلی ہوگا۔لیکن یہ استدلال توتب تام ہوتا اگر واو مقتضی مساوات ہوتیحالانکہ یہ قطعا باطل ہے۔الله تعالی نے فرمایا:بے شك الله تعالی اوراس کے فرشتے نبی کریم پر درود بھیجتے ہیں۔اورفرمایا:الله اوراس کے رسول نے غنی کردیا۔اس کے علاوہ بھی متعدد مقامات پر ایسا ہی ہے مگر باوجود اس عدم توجہ کے ان بزرگوں کا مطمع نظر بحمدلله وہ نہیں جو ان کمینے وہابیوں کا ہے جو نبی کریم صلی الله (باقی اگلے صفحہ پر)
#18992 · (رسالہ ضمنی)منیۃ اللبیب ان التشریح بید الحبیب ۱۳۱۱ھ (عقلمند کا مقصد کہ بے شك احکام شرع حبیب الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے اختیار میں ہیں)
منع نہ فرماتے تھے۔
حکمت:جب اس یہودی خبیث نے جس کے خیالات امام الوہابیہ کے مثل تھےاعتراض کیا او رمعاذالله شرك کا الزام دیاحضور اقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم کی رائے کریم کا زیادہ رجحان اسی طرف ہو اکہ ایسے لفظ کو جس میں احمق بدعقل مخالف جائے طعن جانے دوسرے سہل لفظ سے بدل دیا جائے کہ صحابہ کرام کا مطلب تبرك وتوسل برقرار رہے اورمخالف کج فہم کو گنجائش نہ ملے مگر یہ بات طرز عبارت کے ایك گونہ آداب سے تھی معناتو قطعا صحیح تھی لہذا اس کافر کے بکنے کے بعد بھی چنداں لحاظ نہ فرمایا گیا یہاں تك کہ طفیل بن سنجرہ رضی الله تعالی عنہ نے وہ خواب دیکھا اور رؤیائے صادقہ القائے ملك ہوتاہے اب اس خیال کی زیادہ تقویت ہوئی اورظاہر ہوا کہ بارگاہ عزت میں یہی ٹھہرا ہے کہ یہ لفظ محالفوں کا جائے پناہ ٹھہرا ہے بدل دیا جائے جس طرح رب العزۃ
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
شرکا بنفسہ کما سمعت من امامھم السحیق ان ذاشان یختص بالله عزوجل وان لامدخل فی لمخلوق ومشیتہ النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم لا یأتی بشیئ فلوکان یذھب مذھب ھؤلاء والعیاذبالله لجعل ذکر مشیتہ صلی الله تعالی علیہ وسلم شرکا مطلقا سواء فیہ الواو وثم کما علمت وھو قد سرح بجواز ماشاء الله ثم شاء محمد صلی الله تعالی علیہ و سلم فتثبت ولا تزل ۱۲منہ۔ تعالی علیہ وسلم کےلئے مشیت کے محض اثبات کو ہی شرك قرار دیتے ہیں جیسا تو ان کے ذلیل امام کی بات سن چکا ہے کہ یہ خاص الله تعالی کی شان ہے اس میں کسی مخلو ق کا کوئی دخل نہیں اور نبی کریم صلی الله تعالی علیہ وسلم کے چاہنے سے کچھ نہیں ہوتا۔اگر ان بزرگوں کا نظریہ وہی ہوتا جو ان وہابیوں کا ہے تو العیاذبالله نبی کریم صلی الله تعالی علیہ وسلم کی مشیت کے ذکر کو مطلقا شرك قرار دیتے چاہے اس میں واؤمذکور ہویا ثمجیس اکہ تو جان چکا ہےحالانکہ انہوں نے تصریح فرمائی ہے کہ یوں کہنا جائز ہے ''جو چاہے الله پھر چاہیں محمد صلی الله تعالی علیہ وسلم ''ثابت قدم رہ مت ڈگمگا۔ ۱۲مہ(ت)
#18993 · (رسالہ ضمنی)منیۃ اللبیب ان التشریح بید الحبیب ۱۳۱۱ھ (عقلمند کا مقصد کہ بے شك احکام شرع حبیب الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے اختیار میں ہیں)
جل جلالہنے راعنا کہنے سے منع فرمایا تھا کہ یہود وعنود اسے اپنے مقصد مردود کا ذریعہ کرتے ہیں اور اس کی جگہ انظرنا کہنے کا ارشاد ہوا تھا ولہذا خواب میں کسی بندہ صالح کو اعتراض کرتے نہ دیکھا کہ یوں تو بات فی نفسہ محل اعتراض نہ ٹھہرتی بلکہ خواب بھی دیکھا تو انہیں یہود ونصاری اس امام الوہابیہ کے خیالوں کو معترض دیکھاتاکہ ظاہر وکہ صر فدہن دوزی مخالفان کی مصلحت داعی تبدیل لفظ ہے۔اب حضور اقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم نے خطبہ فرمایا اورارشاد فرمایاکہ یوں نہ کہو کہ الله ورسول چاہیں تو کام ہوگا بلکہ یوں کہو کہ الله پھر الله کا رسول چاہے تو کام ہوگا۔''پھر ''کا لفظ کہنے سے وہ توہم مساوات کہ ان وہابی خیال کے یہود ونصاری یایوں کہئے کہ ان یہودی خیال کے وہابیوں کو گزرتا ہے باقی نہ رہے گا الحمدلله علی تواتر الائہ والصلوۃ والسلام علی انبیائہ(تمام تعریفیں الله تعالی کیلئے ہیں اسکی مسلسل نعمتوں پراور دروودوسلام ہواسکے نبیوں پر۔)
اہل انصاف ودین ملاحظہ فرمائیں کہ یہ تقریر منیر کہ فیض قدیر سے قلب فقیر پر القاء ہوئی کیسی واضح ومستنیر ہے ان احادیث کو ایك مسلسل سلك گوہریں میں منظوم کیا اورتمام مدارج مراتب مرتبہ حمدلله تعالی نورانی نقشہ کھینچ دیا۔الحمدلله کہ یہ حدیث فہمی ہم اہلسنت ہی کا حصہ ہےوہابیہ وغیرہم بدمذہبوں کو ا س کیا علاقہ ہےذلك فضل الله یؤتیہ من یشاء والله ذوالفضل العظیموالحمدلله رب العلمین(یہ الله تعالی کا فضل ہے جسے چاہتاہے عطا کرتاہےاورالله بڑے فضل والا ہےاورسب تعریفیں الله رب العالمین کے لیے ہیں۔ت)غرض احادیث صحیحہ ثابتہ تو اس دروغ گوکو تابخانہ پہنچا رہی ہیں۔رہی وہ روایت مقطعہ کہ اس نے ذکر کی اوریونہی روایت عــــــہ اعتبار ام المومنین صدیقہ سے کہ یہود کے اعتراض پر فرمایا یوں کہ کہو بلکہ کہو ما شاء الله وحدہ۔اقول اگر صحیح بھی ہوتو نہ ہمن مضر نہ اسے مفید کہ واوسے احتراز کی دو صورتیں ہیں:تبدیل حرف جس کی طرف وہ احادیث صحیحہ ارشاد فرمارہی ہیںاوررأساترك عطف جس کا اس روایت میں ذکر آیا۔ایك صورت دوسری کی نافی و منافی نہیںنہ ذاتی میں حصر عطائی کی نفی کرےقال الله تعالی:
" فلم تقتلوہم ولکن اللہ قتلہم ۪ وما رمیت اذ رمیت ولکن اللہ رمی " ۔ تو تم نے انہیں قتل نہ کیا بلکہ الله نے انہیں قتل کیا اوراے محبوب!وہ خا تم نے نہ پھینکی تھی بلکہ الله نے پھینکی۔(ت)

عــــــہ: ای کتاب الاعتبار للحاوی ۱۲
حوالہ / References القرآن الکریم ۸ /۱۷
#18994 · (رسالہ ضمنی)منیۃ اللبیب ان التشریح بید الحبیب ۱۳۱۱ھ (عقلمند کا مقصد کہ بے شك احکام شرع حبیب الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے اختیار میں ہیں)
اورجب بحمدہ تعالی ہم خود حدیث سے ماشاء الله ثم شاء فلان کی طرح ماشاء الله ثم شاء محمد صلی الله تعالی علیہ وسلم کی بھی اجازت دکھاچکے تو اب اصلا ہمیں ان نکات وتوجیہات کی حاجت نہ رہی جو شراح نے اس روایت منقطعہ اوراس حدیث مستقل میں بظاہر ایك نوع تغایر کے لحاظ سے ذکر کئے ہیں۔شیخ محقق قدس سرہنے یہاں یہ نکتہ ذکر فرمایا:
دریں جا غایت بندگی وتواضع وتوحید ست زیرا کہ آنحضرت صلی الله تعالی علیہ وسلم اسناد مشیت اگرچہ بطریق تاخر و تبعیت باشد تجویز کردامادرحق خود بآں نیز راضی نہ شد بلکہ امر کر دباسناد مشیت بہ پروردگار تعالی تنہا بے توہم شرکت ۔ یہاں انتہائی بندگیانکساری اورتوحید ہےکیونکہ رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم نے اپنے غیر کی طرف اسناد مشیت کو جائز قرار دیا اگرچہ بطور تاخر وتبعیتلیکن اپنے لئے اس کی بھی اجازت دینے پر راضی نہ ہوئے بلکہ فقط پروردگار عالم کی طرف بے توہم شرکت مشیت کا اسناد کرنے کا حکم دیا۔(ت)
اقول:یہ توجیہہ بھی شرك امام الوہابیہ کی کیفر چشانی کو بس ہے۔سید عالم صلی الله تعالی علیہ وسلم نے تواضعا اپنی مشیت کا ذکر کرنے کو نہ فرمایا اوروں کے ذکر مشیت کی اجازت دیاگر شرك ہو تو معاذالله یہ ٹھہرے گی کہ حضور انے اپنی ذات کریم کو شریك خدا کرنے سے منع فرمایا اورزید عمرکو شریك کردینا جائز رکھا۔علامہ طیبی نے ایك اورتوجیہ لطیف ودقیق کی طرف اشارہ کیاکہ:
انہ صلی الله تعالی علیہ وسلم رأس الموحدین ومشیئتہ معمورۃ فی مشیئۃ الله تعالی ومضمحلۃ فیھا ۔ نبی صلی الله تعالی علیہ وسلم سردار موحدین ہیں اورحضور کی مشیئت الله عزوجل کی مشیئت میں مستغرق وگم ہے۔
اقول:تقریر اس اشارہ لطیفہ کی یہ ہے کہ عطف واؤسے ہو خواہ ثم خواہ کسی حرف سےمعطوف ومعطوف علیہ میں مغایرت چاہتا ہے بلکہ ثم بوجہ افادئہ فصل وتراخی زیادہ مفید مغایرت ہے اورسید الموحدین صلی الله تعالی علیہ وسلم نے اپنے لئے کوئی مشیئت جداگانہ اپنے رب عزوجل کی مشیئت سے رکھی ہی نہیں انکی مشیئت بعینہ خدا کی مشیئت ہے اورمشیئت خدا بعینہ ان کی مشیئت
حوالہ / References اشعۃ اللمعات کتاب الادب باب الاسامی الفصل الثانی مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۴/۵۳
الکاشف عن حقائق السنن شرح الطیبی علی المشکوٰۃ کتاب الادب حدیث ۴۷۷۹ اداراۃ القرآن کراچی ۹/۷۹
#18995 · (رسالہ ضمنی)منیۃ اللبیب ان التشریح بید الحبیب ۱۳۱۱ھ (عقلمند کا مقصد کہ بے شك احکام شرع حبیب الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے اختیار میں ہیں)
اورعطف کر کے کہئے تو دوئی سمجھی جائے گی کہ الله کی مشیئت اورہے اور رسول کی مشیئت اورلہذا یہاں عطف کے لیے ارشاد نہ فرمایا فقط مشیت الله وحدہ کا ذکر بتایا کہ اس میں خود ہی مشیۃ الرسول صلی الله تعالی علیہ وسلم کا ذکر آجائے گا جل جلالہو صلی الله تعالی علیہ وسلم۔
ھکذا ینبغی ان یفھم ھذا المقام وبہ یندفع ما اوردعلیہ القاری من النقض بان مشیئۃ غیرہ صلی الله تعالی علیہ وسلم ایضا مضمحلۃ فی مشیئۃ الله تعالی سبحانہ اھ
اقول:فلم یفرق بین الاضمحلال الاضطر اری الحاصل لکل الخلق والاختیاری المختص بخلص عبادالله الممتاز فیہ وفی کل صفۃ الھیہ من بینھم سید ھم نبیھم صلی الله تعالی علیہ وسلم واعترض علیہ ایضا بانہلایفید جواز الاتیان بالواؤ اھ


اقول:ماکان مساق کلام الطیبہ لاثبات جواز الاتیان بالواوحتی یکون عدم افادتہ نقصا فی مرامہ انما اراد بداء نکتۃ الفرق اس مقام پر اسی طرح سمجھنا چاہیے اور اس سے ملا علی قاری علیہ الرحمہ کا وارد کردہ اعتراض بھی مندفع ہوگیا کہ نبی کریم صلی الله تعالی علیہ وسلم کے غیر کی مشیت بھی تو الله تعالی سبحانہ کی مشیت میں گم ہے اھ۔
اقول:(میں کہتاہوں)کہ اضمحلال(مستغرق اورگم ہونا)دو قسم ہے(۱)اضطرارییہ تمام مخلوق کے لئے ثابت ہے۔(۲) اختیارییہ الله تعالی کے لیے مخصوص بندوں کے ساتھ ہے جو صفت مشیت اوالله تعالی کی ہر صفت میں امتیاز رکھتے ہیںان کے سردار ان کے نبی ہیں صلی الله تعالی علیہ وسلمملا علی قاری نے علامہ طیبی کی تقریرپر یہ بھی اعتراض کیا ہے کہ ان کے جواب سے ''واو''کے استعمال کا جواب ثابت نہیں ہوتا اھ۔
اقول:علامہ طیبہ نے اپنا کلام ''واؤ''کے استعمال کو جائز ثابت کرنے کے لیے نہیں چلایا تھایہاں تك کہ اگر ان کاکلام اس مقصد کا فائدہ نہ دے سکے توانکے مقصد میں نقص لازم آئے بلکہ ان کا
حوالہ / References مرقاۃ المفاتیح کتاب الادب باب الاسامی الفصل الثانی تحت الحدیث ۴۷۷۹ المکتبۃ الحبیبیہ کوئٹہ ۸/۵۳۳
مرقاۃ المفاتیح کتاب الادب باب الاسامی الفصل الثانی تحت الحدیث ۴۷۷۹ المکتبۃ الحبیبیہ کوئٹہ ۸/۵۳۳
#18996 · (رسالہ ضمنی)منیۃ اللبیب ان التشریح بید الحبیب ۱۳۱۱ھ (عقلمند کا مقصد کہ بے شك احکام شرع حبیب الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے اختیار میں ہیں)
بین مشیئتہ ومشیئۃ غیرہ صلی الله تعالی علیہ وسلم حیث ذکر الاولی بثم وطوی ذکر ھذہ رأسا وھذا مستفاد من کلامہ مابین وجہ کما سمعت منا تقریرہفلا ادری مالمراد بذالایراد ثم افادہ وجہ اکر للفرق فقال ماسبق م قولہ صلی الله تعالی علیہ وسلم ولکن قولوا ماشاء الله ثم شاء فلان لمجرد الرخصۃ ولوقال ھنا قولوا ماشاء الله ثم شاء محمد صلی الله تعالی علیہ وسلم لکان امر وجوب اوندب ولیس الامر کذلك اھ۔



اقول:کانہ یستنبط من ترك لفظۃ لکن ھھنا فانہ یکون حینئذ امرا مقصودا واقلہ الندب بخلاف الاول فانہ استدراك علی النھی فیفید مجرد الرخسۃ ھذا ما ظھرلی فی تقریر مرامہ وانت تعلم انہ یرجع الفرق علی ھذا الی جھۃ العبارۃ فلو ذکر ھھنا لکن لساغ ان یذکر العطف بثم مقصد تویہ تھا کہ وہی نبی کریم صلی الله تعالی علیہ وسلم اور دوسروں کی مشیت میں فرق ظاہر کریںکیونکہ نبی کریم صلی الله تعالی علیہ وسلم نے فلاں کی مشیت کا ذکر لفظ"ثم" کے ساتھ کردیا لیکن اپنی مشیت کا ذکر نہیں فرمایا۔یہ فرق ان کے ایك وجہ کے بیان سے مستفاد ہے جیسا کہ آپ ہم سے اس کی تقریر سن چکےہیںمجھے معلوم نہیں ہوسکا کہ اس اعتراض سے انکا مقصد کیا ہے۔پھر فرق کی ایك اوروجہ بیان کرتے ہوئے ملا علی قاری فرماتے ہیں کہ اس سے پہلے نبی کریم صلی الله تعالی علیہ وسلم کا جوفرمان گزرچکا ہے ''لیکن کہو جو چاہے الله تعالی پھر چاہے فلاں ''یہ محض رخصت کیلئے ہے اوراگر اس جگہ یوں فرماتے ''کہو جو چاہے الله پھر چاہیں محمد صلی الله تعالی علیہ وسلم''تو یہ امر وجوب یا استحباب کے لئے ہوتا حالانکہ ایسا نہیں ہے۔اھ۔
اقول:دوسرے ارشاد میں لفظ "لکن"مذکور نہیں ہے۔گویا کہ ملا علی قاری اس سے اس بات کا استنباط کرتے ہیں کہ اس صورت میں امر مقصودی ہوگا جو کم از کم استحباب کے لیے ہوتاہے برخلاف پہلے ارشاد کے کہ وہاں نہی کے بعد لفظ "لکن"استدراك کیلئے ہے اس لئے محض رخصت کا فائدہ دے گا۔یہ وہ بات ہے جو انکے مقصد کی وضاھت کیلئے مجھے ظاہر ہوئی ہے۔قارئین کرام!آپ جانتے ہیں کہ اس تقریر کے مطابق فرق عبارت
حوالہ / References مرقاۃ المفاتیح کتاب الادب باب الاسامی الفصل الثانی تحت الحدیث ۴۷۷۹ المکتبۃ الحبیبیہ کوئٹہ ۸/۵۳۳
#18997 · (رسالہ ضمنی)منیۃ اللبیب ان التشریح بید الحبیب ۱۳۱۱ھ (عقلمند کا مقصد کہ بے شك احکام شرع حبیب الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے اختیار میں ہیں)
ولو ترکہا ثمہ لقال قولوا ماشاء الله وحدہثم قال مع المشیئۃ المسندۃ الی فلان انما ھی مشیئۃ جزئیۃ لا یجوز حملھا علی المشیئۃ الکلیۃ کما رمزنا الیہ فیما سبق من الکلام اھ۔

اقول:ھذا شیئ متحاز عن البحث ومشیئۃ النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم ایضا لاتحیط بجمیع مرادات الله تعالی سبحنہ ھذا قد کان افادۃ العلامۃ الطیبی وجھا رابعا وھو انہ صلی الله تعالی علیہ وسلم قال ھذا ای قولوا ما شاء الله وحدہ دفعا لمظنۃ التھمۃ قولھم ما شاء الله وشاء محمد صلی الله تعالی علیہ وسلم تعظما لہ وریاء لسمعتہ اھ۔

اقول:ای والمظنۃ بحالھا فی ذکر اسمہ صلی الله تعالی علیہ وسلم ولو بثم فعدل الی ذکر الله تعالی وحدہ ولیس یرید ان المظنۃ نشأت ذکر کیا جاتا تو "ثم"کے ساتھ عطف جائز ہوتااوراگر اس جگہ لفظ"لکن"ترك کردیا جاتا تو فرماتے کہ کہو "ماشاء الله وحدہ"پھر علامہ قاری نے فرمایاکہ فلاں کی طرف جس مشیت کی نسبت کی گئی ہے وہ مشیت جزئیہ ہے اسے مشیت کلیہ پر محمول کرنا جائز نہیں ہےجیسا کہ ہم کلام سابق اسکی طرف اشارہ کرچکے ہیں۔اھ
اقول:(میں کہتاہوں)یہ بحث سے علیحدہ چیز ہےنبی کریم صلی الله تعالی علیہ وسلم کی مشیت بھی الله تعالی کی تمام مرادوں کا احاطہ نہیں کرتی۔اسکو یادکرلو۔علامہ طیبی نے ایك چوتھی وجہ بھی بیان کی تھی اوروہ یہ کہ نبی کریم صلی الله تعالی علیہ وسلم نے فرمایا کہ ''کہو ماشاء الله وحدہ''اس لئے کہ اگر صحابہ کرام یوں کہتے ''ما شاء الله وشاء محمد ''تو اس میں آپ کی عظمت کے بطور ریاء وسمعہ اظہار کے وہم کا گمان ہوتااس وہم کو دور کرنے کے لیے فرمایا کہ کہو''ماشاء الله وحدہ۔''
اقول:نبی کریم صلی الله تعالی علیہ وسلم کا نام پاك لفظ"ثم " کے ساتھ بھی ذکر کیاجاتاہے تب بھی وہ وہم برقرار رہتااس لئے وہاں بھی صرف الله تعالی کاذکر ہونا چاہیے تھاان کا مقصد یہ نہیں ہے کہ وہم لفظ ''واؤ''کی وجہ سے
حوالہ / References مرقاۃ المفاتیح کتاب الادب باب الاسامی الفصل الثانی تحت الحدیث ۴۷۷۹ المکتبۃ الحبیبیہ کوئٹہ ۸/۵۳۳
الکاشف عن حقائق السنن(شرح الطیبی علی المشکوٰۃ)الفصل الثانی تحت الحدیث ۴۷۷۹ ادارۃ القرآن کراچی ۹/۷۹
#18998 · (رسالہ ضمنی)منیۃ اللبیب ان التشریح بید الحبیب ۱۳۱۱ھ (عقلمند کا مقصد کہ بے شك احکام شرع حبیب الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے اختیار میں ہیں)
من عــــــہ الواو اذ لو ارادہ لہ یصلح ماذکرہ وجھا للفرق بذکر مشیئۃ غیرہ صلی الله تعالی علیہ وسلم بثم لامشیئۃ ھو فان المحذور علی ھذا ان کان ففی الواؤلا فی ثم وفیھا الکلام فارادۃ ھذا خروج عن اصل المرام ھذا تقریرکلامہ علی ماظھر لی۔
اقول:وھو ارؤوا الوجوہ عندی وکیف یظن ان یظن النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم بصحابتہ فی ذکر نفسہ السمعۃ والریاء وحاشاہ وحاشاھم عن ذلك واحسن الوجوہ ما ذکر نا سابقا عن الطبیبی وما قد منا عن الشیخ المحقق مع ان کل ذلك مستغنی عنہ کما علمت وقد اشارالیہ القاری ایضا اذ قال اصل السؤال مدفوع لانہ صلی الله تعالی علیہ وسلم پیدا ہوا ہےاگریہ ان کا مقصد ہوتا تو جو کچھ انہوں نے بیان کیا ہے وہ وجہ فرق نہیں بن سکتایعنی "ثم"کے بعد غیر مشیت کا ذکر کیا جاسکتاہےنبی کریم صلی الله تعالی علیہ وسلم کی مشیت کا ذکر نہیں کیا جاسکتا کیونکہ اس تقریر کے مطابق اگر خرابی لازم آتی ہے تو ''واؤ''میں ہے نہ کہ "ثم"میںحالانکہ گفتگو "ثم"ہی میں ہے۔لہذا یہ مطلب مراد لینے سے اصل مقصد سے خارج ہونا لازم آئے گایہ انکے کلام کی تقریر ہے جو میری سمجھ میں آئی ہے۔
اقول:(میں کہتاہوں)میرے نزدیك یہ سب سے کمزور وجہ ہے۔اس گمان کا کیا جواز ہے کہ اگرنبی اکرم صلی الله تعالی علیہ وسلم اپنا ذکر فرمادیں تو آپ کو اپنے صحابہ کے بارے میں یہ گمان ہوکہ انہیں ریاء اورسمعہ کا وہم ہوگا۔یہ گمان نہ تو نبی اکرم صلی الله تعالی علیہ وسلم کے لائق ہے اورنہ ہی صحابہ کرام کے۔ سب سے بہتر وجہ وہ ہے جو ہم علامہ طیبہ اورشیخ محقق کے حوالے سے بیان کرچکے ہیںاگرچہ ان توجیہات کی ضرورت نہیں ہےجیسا کہ آپ جان چکے ہیںاورملا علی قاری نے بھی اس طرف اشارہ کیا ہےانہوں نے فرمایا کہ اصل سوال

عــــــہ:کما توھم الفاضل الراد ففاہ بما قد علمت بطلانہ بدلائل قاھرۃ لاقبل لاحدبھا زعما منہ ان الواؤنص فی التسویۃ لامجرد مظنۃ تھمۃ وبالله العصمۃ ۱۲منہ۔ جیسا کہ رد کرنیوالے فاضل(ملا علی قاری)نے وہم کیا ہے کہ واؤ میں محض تہمت کا گمان نہیں ہے بلکہ وہ برابری میں نص ہے۔ اورآ پ ان کے وہم کا ناقابل تردید وجوہ سے باطل ہونا جان چکے ہیںاور عصمت الله تعالی ہی کی طرف سے ہے۔ت)
#18999 · (رسالہ ضمنی)منیۃ اللبیب ان التشریح بید الحبیب ۱۳۱۱ھ (عقلمند کا مقصد کہ بے شك احکام شرع حبیب الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے اختیار میں ہیں)
داخل فی عموم فلان فیجوز ان یقال ماشاء الله ثم ماشاء محمد صلی الله تعالی علیہ وسلم ولا یجوز ان یقال ما شاء الله وشاء محمد صلی الله تعالی علیہ وسلم اھ
اقول:ولو استحضر حدیث ابن ماجۃ لم یحتاج الی عموم فلان کما ان السائل لو استظھر لما سائل کما ان المحبیبین لو تذکروہ لما ذھبوا الی ھنا وھنا فسبحان من لایعزب عنہ شیئ۔ مندفع ہےکیونکہ بنی کریم صلی الله تعالی علیہ وسلم فلان کے عموم میں داخل ہیںاس لئے ماشاء الله ثم ماشاء محمد صلی الله تعالی علیہ وسلم کہنا جائز ہے اور ماشاء الله وشاء محمد صلی الله تعالی علیہ وسلم کہنا جائز نہیں ہے۔
اقول:(میں کہتاہوں)اگر ملا علی قاری کو ابن ماجہ کی حدیث مستحضر ہوتی تو انہیں فلان کے عموم کی حاجت نہ ہوتی اوریہ حدیث سائل کے پیش نظر ہوتی تو وہ سوال ہی نہ کرتا اور جواب دینے والے حضرات کو یاد ہوتی تو انہیں طرح طرح کی توجیہوں کی ضرورت نہ پڑتی۔پاك ہے وہ ذات جس سے کوئی چیز مخفی نہیں رہتی۔(ت)
الحمدللہ!یہ وصل مبارك کہ اعظم مقصد کتاب تھا بروجہ احسن واجمل اختتام کو پہنچا اورہنوز اس کی ابحاث میں ردوہابیت کا بہت کلام باقی جس کا بعض ان شاء الله العزیز خاتمہ کتاب میں مذکور ہوگایہاں تك اس باب میں وجہ دوم پر بعد اسم پاك جامع ایك سو چودہ حدیثیں متعلق بذات اقدس حضوراکرم صلی الله تعالی علیہ وسلم مذکورہوئیں اوربعض آئندہ آتی ہیں اورپچاس حدیثیں کہ ہم نے شمار کر کے شمار نہ کیں علاوہ ہم ابنائے زماں میں کسل وتقاعد ہےلہذا بخوف ملالت زیادہ اطالت نہ کیجئے اوربتوفیقہ تعالی بقیہ وصلوں کے وصل سے راحت وبرکت لیجئے وبالله التوفیق۔
وصل دوم
احادیث متعلقہ بحضرات انبیاء و اولیاء علیھم الصلوۃ والثناء
حدیث ۱۷۵:طبرانی معجم اوسط اورخرائطی مکارم الاخلاق میں امیر المومنین مولاعلی کرم الله تعالی وجہہ الکریم سے راویرسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم سے جب کوئی شخص سوال کرتا اگر حضور کو منطور ہوتا نعم فرماتے یعنی اچھااورنہ منظور ہوتا تو خاموش رہتےکسی چیز کو لایعنی نہ فرماتے۔
حوالہ / References مرقاۃ المفاتیح کتاب الادب باب الاسامی الفصل الثانی تحت الحدیث ۴۷۷۹المکتبۃ الحبیبیہ کوئٹہ ۸/۵۳۳
#19000 · (رسالہ ضمنی)منیۃ اللبیب ان التشریح بید الحبیب ۱۳۱۱ھ (عقلمند کا مقصد کہ بے شك احکام شرع حبیب الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے اختیار میں ہیں)
ایك روز ایك اعرابی نے حاضر ہوکر سوال کیاحضور خاموش رہےپھر سوال کیاسکوت فرمایاپھر سوال کیا اس پر حضور اقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم نے جھڑکنے کے انداز سے فرمایا:سل ما شئت یا اعرابی!اے اعرابی!جو تیرا جی چاہے ہم سے مانگ۔
مولی علی کرم الله تعالی وجہہفرماتے ہیں:فغبطناہ فقلنا الان یسأل الجنۃ یہ حال دیکھ کر(کہ حضور خلیفۃ الله الاعظم صلی الله تعالی علیہ وسلم نے فرمادیا ہے جو دل میں آئے مانگ لے)ہمیں اس اعرابی پر رشك آیا ہم نے اپنے جی میں کہا اب یہ حضور سے جنت مانگے گااعرابی نے کہا تو کیا کہا کہ میں حضور سے سواری کا اونٹ مانگتاہوں۔فرمایا:عطا ہوا۔عرض کی:حضو سے زادراہ مانگتاہوں۔فرمایا:عطاہوا۔ہمیں اس کے ان سوالوں پر تعجب آیا۔سید عالم صلی الله تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:کتنا فرق ہے اس اعربی کی مانگ اوربنی اسرائیل کی ایك پیرزن کے سوال میں۔پھرحضو رنے اس کا ذکر ارشاد فرمایا کہ جب موسی علیہ الصلوۃ والسلام کو دریا میں اترنے کا حکم ہوا کناردریا تك پہنچے سواری کے جانوروں کے منہ الله عزوجل نے پھیر دیے کہ خود واپس پلٹ آئے موسی علیہ الصلوۃ والسلام نے عرض کی:الہی!یہ کیا حال ہے ارشاد ہوا:تم قبر یوسف(علیہ الصلوۃ والسلام)کے پاس ہو ان کا جسم مبارك اپنے ساتھ لے لو۔حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام کو قبر کا پتہ معلوم نہ تھا فرمایا:اگر تم میں کوئی جانتا ہوتو شاید بنی اسرائیل کی پیرزن کو معلوم ہواس کے پاس آدمی بھیجا کہ تجھے یوسف علیہ الصلوۃ والسلام کی قبر معلوم ہے کہا:ہاں۔ فرمایا:تو مجھے بتادے۔عرض کی:لاوالله حتی تعطینی ما اسئلك خدا کی قسم میں نہ بتاؤں گی یہاں تك کہ میں جو کچھ آپ سے مانگوں آپ مجھے عطافرمادیں۔فرمایا:ذلك لك تیری عرض قبول ہے۔قالت فانی اسئلك ان اکون معك فی الدرجۃ التی تکون فیہا فی الجنۃ پیرزن نے عرض کی:تو میں حضور سے یہ مانگتی ہوں کہ جنت میں آپ کے ساتھ ہوں اس درجے میں جس درجے میں آپ ہوں گے۔قال سلی الجنۃ موسی علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا:جنت مانگ لےیعنی تجھے یہی کافی ہے اتنا بڑا سوال نہ کر۔قالت لا والله الا ان اکون معك پیرزن نے کہا:خدا کی قسم میں نہ مانوں گی مگر یہی کہ آپ کے ساتھ ہوں۔فجعل موسی یرد دھا فاوحی الله ان اعطھا ذلك فانہلن ینقصك شیئا فاعطاھا موسی علیہ الصلوۃ والسلام اس سے یہی رد وبدل کرتے رہے۔الله عزوجل نے وحی بھیجی موسی!وہ جو مانگ رہی ہے تم اسے وہی عطاکردو کہ اس میں تمھاراکچھ نقصان نہیںموسی علیہ الصلوۃ والسلام نے جنت میں اسے اپنی رفاقت عطا فرمادیاس نے یوسف علیہ الصلوۃ والسلام کی قبر بتادی
#19001 · (رسالہ ضمنی)منیۃ اللبیب ان التشریح بید الحبیب ۱۳۱۱ھ (عقلمند کا مقصد کہ بے شك احکام شرع حبیب الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے اختیار میں ہیں)
موسی علیہ الصلوۃ والسلام نعش مبارك کو ساتھ لے کر دریا سے عبور فرماگئے ۔
اقول:وبالله التوفیقبحمدہ تعالی اس حدیث نفیس کا ایك ایك حرف جان وہابیت پر کوکب شہابی ہے۔
اولا:حضوراقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم کا اعرابی سے ارشاد کہ ''جو جی میں آئے مانگ لے۔''حدیث ربیعہ رضی الله تعالی عنہ میں تو اطلاق ہی تھا جس سے علمائے کرام نے عموم مستفاد کیا یہاں صراحۃ خود ارشاد اقدس میں عموم موجود کہ جو دل میں آئے مانگ لے ہم سب کچھ عطافرمانے کا اختیار رکھتے ہیں صلی الله تعالی علیہ وسلم وبارك علیہ وعلی الہ قدرجودہ ونوالہ ونعمد وافضالہ(الله تعالی درود وسلام اوربرکت نازل فرمائے آپ پر اور آپ کی آل پر آپ کے جو دوسخا اورانعام واکرام کے مطابق۔ت)
ثانیا:یہ ارشاد سن کر مولی علی وغیرہ صحابہ حاضرین رضی الله تعالی عنہم کا غبطہ کہ کاش یہ عام انعام کا ارشاد اکرام ہمین نصیب ہوتا حضور تو اسے اختیار عطافرماہی چکے اب یہ حضور سے جنت مانگے گا۔معلوم ہواکہ بحمدالله تعالی صحابہ کرام کا یہی اعتقاد تھا کہ حضور اقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم کا ہاتھ الله عزوجل کے تما م خزائن رحمت دنیا وآخرت کی ہر نعمت پر پہنچتا ہے یہاں تك کہ سب سے اعلی نعمت یعنی جنت جسے چاہیں بخش دیں صلی الله تعالی علیہ وسلم۔
ثالثا:خود حضور اقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم کا اس وقت اس اعرابی کے قصور ہمت پر تعجب کہ ہم نے اختیار عام دیا اورہم سے حطام دنیا مانگنے بیٹھا پیر زن اسرائیلیہ کی طرح جنت نہ صرف جنت بلکہ جنت میں اعلی سے اعلی درجہ مانگتا تو ہم زبان دے ہی چکے تھے اورسب کچھ ہمارے ہاتھ میں ہے وہی اسے عطافرمادیتے صلی الله تعالی علیہ وسلم۔
رابعا:ان بڑی بی پر الله عزوجل کے بےشمار رحمتیں بھلا انہوں نے موسی علیہ الصلوۃ والسلام کو خدائی کا رخانہ کا مختار جان کر جنت اورجنت میں بھی ایسے اعلی درجے عطا کردینے پر قادر مان کر شرك کیا تو موسی کلیم علیہ الصلوۃ والتسلیم کو کیا ہو اکہ یہ با آں شان غضب وجلا اس شرك پر انکار نہیں فرماتے اس کے سوال پر کیوں نہیں کہتے کہ میں نے جو اقرار کیا تھا تو ان چیزوں کا جو
حوالہ / References کنز العمال بحوالہ طس والخرائطی الخ حدیث ۴۸۹۵ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۲/۱۷۔۶۱۶،المعجم الاوسط عن علی رضی الله تعالٰی عنہ ۷۷۶۳ مکتبۃ المعارف ریاض ۸/۳۷۶و۳۷۷
#19003 · (رسالہ ضمنی)منیۃ اللبیب ان التشریح بید الحبیب ۱۳۱۱ھ (عقلمند کا مقصد کہ بے شك احکام شرع حبیب الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے اختیار میں ہیں)
اپنے اختیار کی ہوں بھلا جنت اورجنت کا بھی ایسادرجہ یہ خد اکے گھر کے معاملے میں ان میں میرا کیا اختیار تو نے نہیں سنا کہ وہابیہ کے امام شہید اپنے قرآن جدید نام کے تقویۃ الایمان اورحقیقت کے کلمات کفر وکفران میں فرمائیں گے کہ:
''انبیاء میں اس بات کی کچھ بڑائی نہیں کہ الله نے انہیں عالم میں تصرف کی کچھ قدرت دی ہو۔ ''
میں تو میں مجھ سے اورتمام جہان سے افضل محمدرسول الله خاتم المرسلمین صلی الله تعالی علیہ وسلم کی نسبت ان کی وحی باطنی میں اترے گا کہ:''جس کا نام محمد ہے وہ کسی چیز کا مختار نہیں ۔''
خود انہیں کے نام سے بیان کیا جائے گا کہ:''میری قدرت کا حال تو یہ ہے کہ اپنی جان تك کے بھی نفع ونقصان کا مالك نہیں تو دوسرے کا کیا کرسکوں ۔''
نیز کہا جائے گا:''پیغمبر نے سب کو اپنی بیٹی تك کو کھول کر سنادیا کہ قرابت کا حق ادا کرنا اسی چیز میں ہوسکتاہے کہ اپنے اختیار میں ہو سو یہ میرا مال موجد ہے اس میں مجھ کو کچھ بخل نہیں اورالله کے یہاں کا معاملہ میرے اختیار سے باہر ہے وہاں میں کسی کی حمایت نہیں کرسکتا اورکسی کا وکیل نہیں بن سکتا سو وہاں کا معاملہ ہر کوئی اپنا اپنا درست کرلے اوردوزخ سے بچنے کی ہر کوئی تدبیرکرے ۔''
بڑی بی!کیا تم سٹھ گئی ہودیکھو تقویۃ الایمان کیا کہہ رہی ہے کہ رسول بھی کونمحمد صلی الله تعالی علیہ وسلم۔او رمعاملہ بی کس کاخود ان کے جگر پارے کا۔اور وہ بھی کتنا کہ دوزخ سے بچالینا اس کا تو انہیں خود اپنی صاحبزادی کے لئے کچھ اختیار نہیں وہ الله کے یہاں کچھ کام نہیں آسکتے تو کہاں وہ
حوالہ / References تقویۃ الایمان الفصل الثانی مطبع علیمی اندرون لوہاری دروازہ لاہورص۱۷
تقویۃ الایمان الفصل الرابع مطبع علیمی اندرون لوہاری دروازہ لاہور ص۲۸
تقویۃ الایمان الفصل الثانی مطبع علیمی اندرون لوہاری دروازہ لاہورص۱۷
تقویۃ الایمان الفصل الثالث مطبع علیمی اندرون لوہاری دروازہ لاہورص۲۵
#19005 · (رسالہ ضمنی)منیۃ اللبیب ان التشریح بید الحبیب ۱۳۱۱ھ (عقلمند کا مقصد کہ بے شك احکام شرع حبیب الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے اختیار میں ہیں)
اور کہاں میںکہاں ان کی صاحبزادی اورکہاں تمکہاں صرف دوزخ سے نجات اورکہاں جنتاور جنت کا بھی ایسا اعلی درجہ بخش دینا۔بھلا بڑی بی!تم مجھے خدا بنا رہی ہوپہلے تمہارے لئے کچھ امید ہو بھی سکتی تو اب تو شرك کر کے تم نے جنت اپنے اوپر حرام کرلی۔افسوس کہ موسی کلیم علیہ الصلوہ والتسلیم نے کچھ نہ فرمایااس بھاری شرك پر اصلا انکار نہ کیا۔
خامسا:درکنار اوررجسٹری کہ سلی الجنۃ اپنی لیاقت سے بڑھ کر تمنا نہ کر و ہم سے جنت مانگ لو ہم وعدہ فرماچکے ہیں عطا کردیں گے تمہیں یہی بہت ہے۔افسوس موسی علیہ الصلوۃ والسلام سے کیا شکایت کہ امام الوہابیہ اگرچہ یہودی خیالات کا آدمی ہے جیسا کہ ابھی آخر وصل اول میں ثابت ہوچکا ہے مگراپنے آپ کو کہتا تو محمدی ہےخود محمد صلی الله تعالی علیہ وسلم نے اس کے جدید قرآن تقویۃ الایمن کو جنہم پہنچایا۔ربیعہ رضی الله تعالی عنہ نے حضور سے جنت کا سب سے اعلی درجہ مانگااس عظیم سوال کے صریح شرك پر انکار نہ فرمایا بلکہ صراحۃ عطافرمادینے کو متوقع کردیا اب اگر وہ جل جل کر ان کی توہین نہ کرے ان کا نام سوسو گستاخیوں سے نہ لے تو اورکیا کرے بیچاہر کلیم کا مردود حبیب کا مارا اپنے جلے دل کے پھپھولے بھی نہ پھوڑےمثل مشہور ہے کسی کا ہاتھ چلے کسی کی زبان۔
" و للہ العزۃ و لرسولہ و للمؤمنین و لکن المنفقین لا یعلمون ﴿۸﴾ " ۔ اورعزت الله کے لیے اور اس کے رسول کے لیے اورمومنین کے لیےلیکن منافقین نہیں جانتے۔(ت)
سادسا:سب فیصلوں کی انتہا خدا پر ہوتی ہےکلیم علیہ الصلوۃ والتسلیم نے امام الوہابیہ سے یہ رکھائی برتی تو اسے جائے عزر تھی کہ موسی بدین خود مابدین خود حبیب صلی الله تعالی علیہ وسلم نے تقویۃ الایمان کی یہ صریح تذلیل وتضلیل فرمائی تو اسے آنسو پوچھنے کو جگہ تھی کہ وہ نبی امی ہیں پڑھے لکھے نہیں کہ تقویۃ الایمان پڑھ لیتے ان احکام جدیدہ سے آگاہوتے مگر پورا قہر تو خدا نے توڑا کہ بڑی بی کے شرك اورموسی کے اقرار کوخوب مسجل ومکمل فرمادیا۔وحی آئی تو کیا آئی کہ اعطھا ذلك موسی!یہ جو مانگ رہی ہے تم اسے عطا کر بھی دو اس بخشش فرمانے میں تمہارا کیا نقصان ہے۔واہ ری قسمت یہ اوپر کا حکم تو سب سے تیز رہایہ نہیں فرمایا جاتاکہ موسی!تم ہوکون بڑھ بڑھ کر باتیں مارنے والےہمارے یہاں کے معاملے کا ہمارے حبیب کو تو ذرہ بھراختیار ہے ہی نہیں یہاں تك کہ خود اپنی صاحبزادی کو دوزخ
حوالہ / References القرآن الکریم ۶۳ /۸
#19008 · (رسالہ ضمنی)منیۃ اللبیب ان التشریح بید الحبیب ۱۳۱۱ھ (عقلمند کا مقصد کہ بے شك احکام شرع حبیب الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے اختیار میں ہیں)
سے نہیں بچاسکتے تم ایك بڑھیا کو جنت پھنٹائے دیتے ہواپنی گرمجوشی اٹھا رکھوتقویۃ الایمان میں آچکا ہے کہ "ہمارے یہاں کا معاملہ ہرشخص اپنا درست کرلے "بلکہ علی الرغم الٹا یہ حکم آتاہے کہ موسی!تم اسے جنت کا یہ عالی درجہ عطاکردو۔اب کہئے یہ بیچارہ کس کا ہوکر رہے جس کے لئے توحید بڑھانے کو تمام انبیاء سے بگاڑیدین وایمان پر دولتی جھاڑیصاف کہہ دیا کہ:''خدا کے سوا کسی کو نہ مان اوروں کو ماننا محض خبط ہے ۔''
اسی خدا نے یہ سلوك کیا اب وہ بیچارہ ازیں سوماندہ وزآں سو راندہ(نہ ادھر کا رہا نہ ادھر کا۔دھوبی کا کتا نہ گھر کا نہ گھاٹ کا۔ت)سوا اس کے کیا کرے کہ اپنی اکلوتی چمر توحید کا ہاتھ پکڑ کر جنگل کو نکل جائے اور سر پر ہاتھ رکھ کر چلائے
مازیاراں چشم یاری داشتیم خود غلط بودانچہ ماپنداشتیم
(ہم نے دوستوں سے مدد کی امید رکھیجو ہمارا گمان تھا وہ خود غلط تھا۔ت)
مجھے امام الوہابیہ کے حال پر ایك حکایت یاد آئی اگرچہ میں ذکر احادیث میں ہوں مگر بمناسبت محل ایك آدھ لیطف بات کا ذکر خالی از لطف نہیں ہوتا جسے تمحیض کہتے ہیں اوریہ بھی سنت سے ثابت ہے کما فی حدیث خرافۃ و ام زرع(جیسا کہ خرافہ اورام زرع کی حدیث میں ہے۔ت)میں نے ایك عالم سنت رحمۃ الله تعالی علیہ کو فرماتے سنا کہ رافضیوں کے کسی محلے میں چند غریب سنی رہتے تھےروافض کا زور تھا ان کا مجہتد پچھلے پہر سے اذان دیتا اور اس میں کلمات ملعونہ بکتاان غریبوں کے قلب پر آرے چلتےآخر مرتاکیا نہ کرتاچارشخص مستعد ہوکر پہلے سے مسجد میں جا چھپےوہ اپنے وقت پر آیا جبھی تبرا شروع کیاان میں سے ایك صاحب برآمد ہوئے اوراس بڈھے کو گرا کر دست ولکد ونعل سے خوب خدمت کی کہ ہیں میں ابو بکر ہوں تومجھے برا کہتاہے۔آخر اس نے گھبرا کر کہا حضرت!میں آپ کو نہیں کہتا تھا میں نے تو عمر کو کہا تھا۔دوسرے صاحب تشریف لائے اور مارتے مارتے بیدم کردیا کہ ہیں مجھے کہتا تھایا حضرت!توبہ ہے میں تو عثما ن کو کہتا تھا۔تیسرے صاحب آئے اورایسی ہی تواضع فرمائی کہ ہیں مجھے کہے گا۔اب سخت گھبرایا بیتاب ہوکر چلایا کہ مولی دوڑیئے دشمن مجھے مارے ڈالتے ہیں۔اس پر چوتھے حضرت ہاتھ
حوالہ / References تقویۃ الایمان الفصل الاول مطبع علیمی اندرون لوہاری دروازہ لاہور ص۱۲
تقویۃ الایمان پہلا باب مطبع علیمی اندرون لوہاری دروازہ لاہور ص۵
#19009 · (رسالہ ضمنی)منیۃ اللبیب ان التشریح بید الحبیب ۱۳۱۱ھ (عقلمند کا مقصد کہ بے شك احکام شرع حبیب الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے اختیار میں ہیں)
میں استرا لئے نمودارہوئے اوناك جڑسے اڑالی کہ مردك تو خدا کے محبوبوں اورہمارے دین کے پیشواؤں کو بر اکہے گا اورہم سے مدد چاہے گااب مؤذن صاحب درد کے مارے شرم وذلت سے گورکنارے کسی کو نے میں سرك رہے۔مومنین آئے نمازیں پڑھتے اورکہتے جاتے ہیں آج قبلہ وکعبہ تشریف نہ لائے۔جناب قبلہ بولیں تو کیا بولیںجب اجالا ہوا ارے حضرت قبلہ تویہ پڑے ہیںقبلہ!خیر ہے (روکر)خیر کیا ہے آج وہ تینوں دشمن آپڑے تھے مارتے مارتے کچومر نکال گئے تمہارا دیکھنا مقدر میں تھا کہ سانس باقی ہے۔قبلہ!پھر آپ نے حضرت مولی کو کیوں نہ یاد فرمایا جب کئی بار یہی کہے گئے توآخر جھنجھلا کر ناك پر سے رومال پھینك دیا کہ یہ کوتك تو انہیں کے ہیں دشمن تو مارہی کرچھوڑگئے تھے انہوں نے تو جڑسے پونچھ لی
مازیاراں چشم یاری داشتیم خود غلط بودانچہ ماپنداشتیم
(ہم نے دوستوں سے مدد کی امید رکھیجو ہم نے گمان کیا وہ خود غلط تھا۔ت)
واستغفروا الله العظیم ولا حول ولا قوۃ الا بالله العزیز الحکیم۔
سابعا:پچھلافقرہ تو قیامت کا پہلا صور ہے فاعطاھا موسی علیہ الصلوۃ والسلام نے پیرزن کو وہ جنت عالیہ عطافرمادی۔والحمدلله رب العالمین۔
مسلمانو!دیکھا تم نے کہ الله اوراس کے مرسلین کرام علیہم الصلوۃ والسلام وہابیت کے شرك کا کیا کی برا دن لگاتے ہیں کہ بیچارے کو اسفل السافلین میں بھی پناہ نہیں ملتی " کذلک العذاب و لعذاب الاخرۃ اکبر لو کانوا یعلمون ﴿۳۳﴾ " ۔(مار ایسی ہوتی ہے اوربیشك آخرت کی مار سب سے بڑیکیا اچھا تھا اگر وہ جانتے۔ت)
حدیث ۱۷۶:کہ حضو رسید عالم صلی الله تعالی علیہ وسلم ہوازن کی غنیمتیں حنین میں تقسیم فرما رہے تھے ایك شخص نے کھڑے ہوکر عرض کی:یارسول اللہ!حضور نے مجھ سے کچھ وعدہ فرمایا تھا۔ارشاد ہوا:صدقت فاحتکم ما شئت تو نے سچ کہا اچھا جو جی میں آئے گا حکم لگا دے۔عرض کی:اسی دنبے اوران کا چرانے والا غلام عطاہو۔سید عالم صلی الله تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:یہ تجھے عطا ہوا اور تو نے بہت تھوڑی چیز مانگی ولصاحبۃ موسی التی دلتہ علی
حوالہ / References القرآن الکریم ۶۸ /۳۳
#19012 · (رسالہ ضمنی)منیۃ اللبیب ان التشریح بید الحبیب ۱۳۱۱ھ (عقلمند کا مقصد کہ بے شك احکام شرع حبیب الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے اختیار میں ہیں)
عظام یوسف کانت افھم منك حین حکمہا موسی فقالت حکمی ان تردنی شابۃ وادخل معك الجنۃ اوربیشك موسی جس نے انہیں یوسف علیہم الصلوۃ والسلام کا تابوت بتایا تھا تجھ سے زیادہ دانشمند تھی جبکہ اسے موسی علیہ الصلوۃ والسلام نے اختیار دیا تھا کہ جو چاہے مانگ لےاس نے کہا:میں قطعی طور پر یہی مانگتی ہوں کہ آپ میری جو انی واپس کر دیں اور میں آپ کے ساتھ جنت میں جاؤں۔یونہی ہوا کہ وہ ضعیفہ فورا نوجوان ہوگئی اس کا حسن وجمال واپس آیا اور جنت میں بھی معیت کا وعدہ کلیم کریم نے عطا فرمایا۔ابن حبان والحاکم فی المستدرك مع اختلاف عن ابی موسی الاشعری رضی الله تعالی عنہ۔حاکم نے کہا:یہ حدیث صحیح الاسناد ہے۔یہاں جوانی بھی موسی علیہ الصلوۃ والسلام نے پھیر دی۔
حدیث ۱۷۷:کہ موسی علیہ الصلوۃ والسلام کو رب عزوجل نے وحی بھیجی:
یا موسی کن للفقراء کنزا وللضعیف حصنا و للمستجیر غیثا۔ابن النجار عن انس رضی الله تعالی عنہ عن النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم قال اوحی الله تعالی الی موسی علیہ الصلوۃ والسلام فذکرہ فی حدیث طویل ۔ اے موسی!فقیروں کے لئے خزانہ ہوجا اورکمزور کے لیے قلعہ اورپناہ مانگنے والے کے لیے فریاد رس۔(ابن النجار نے حضرت انس رضی الله تعالی عنہ سے انہوں نے نبی صلی الله تعالی علیہ وسلم سے فرمایا:الله تعالی نے موسی علیہ الصلوۃ و السلام کو وحی فرمائی پھر طویل حدیث میں اس کا ذکر کیا۔ت)
وہابیہ کے طور پر اس حدیث کا حاصل یہ ہوگا کہ اے موسی!تو خدا ہوجا کہ جب یہ خاص شان الوہیت ہیں اور ان باتوں میں بڑے چھوٹے سب برابر ہیں اوریکساں عاجز تو موسی علیہ الصلوۃ والسلام کو ان باتوں کا حکم ضرور خدا بن جانے کا حکم ہے۔ولا حول ولا قوۃ الا بالله العلی العظیم۔
حوالہ / References المستدرك للحاکم کتاب التفسیر سورۃ الشعراء دارالفکر بیروت ۲/۴۰۴،اتحاف السادۃ المتقین بحوالہ ابن حبان والحاکم کتاب آفات اللسان الخ دارالفکر بیروت ۷/۵۰۹
کنزالعمال بحوالہ ابن النجار عن انس حدیث ۱۶۶۶۴ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۶/۴۸۷
#19014 · (رسالہ ضمنی)منیۃ اللبیب ان التشریح بید الحبیب ۱۳۱۱ھ (عقلمند کا مقصد کہ بے شك احکام شرع حبیب الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے اختیار میں ہیں)
حدیث ۱۷۸و۱۷۹:ترمذی وحاکم حضرت ابوہریرہ اور امام احمد وابو داود طیالسی وابن سعد وطبرانی وبیہقی حضرت عبدالله بن عباس رضی الله تعالی عنہم سے راویرسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:جب حضرت عزت جل وعلانے آدم علیہ الصلوۃ والسلام کو پیداکیا ان کی پیٹھ کو مسح فرمایا جس قدر لوگ ان کی نسل سے قیامت تك پیداہونے والے تھے سب ظاہر ہوگئے۔رب عزوجل نے ہرایك کی دونوں آنکھوں کے بیچ میں ایك نور چمکایا پھرانہیں آدم علیہ الصلوۃ والسلام پر پیش فرمایا۔عرض کی:الہی ! یہ کون ہیں فرمایا:تیری اولاد ہیں۔آدم علیہ الصلوۃ والسلام نے ان میں ایك مرد کو دیکھا ان کی پیشانی کا نور انہین بہت بھایاعر کی:الہی !یہ کون ہے فرمایا:یہ تیری اولاد سے پچھلی امتوں میں ایك شخص داود نام ہے۔عرض کی:الہی ! اس کی عمر کتنی ہے فرمایا:ساٹھ برس۔عرض کی:الہی !اس کی عرم زیادہ فرما۔رب جل وعلا نے فرمایا:لا الا ان تزید انت من عمرك میں زیادہ نہ فرماؤں گا مگر یہ کہ تو اپنی عمر سے اس کی عمر میں زیادت کردے۔(آدم علیہ الصلوۃ والسلام کی عمر کے ہزار برس تھے۔)عرض کی:تو میری عمر سے چالیس سال اس کی عمر میں بڑھا دے۔فرمایا:ایسا ہے تو لکھ لیا جائے گا اورمہر کرلیجائیگی اورپرھ بدلے گا نہیں(نوشتہ لکھ کر ملائکہ کی گواہیاں کرای گئیں)فلما انقضی عمر ادم الا اربعین جاء ہ ملك الموت فقال ادم اولم یبق من عمری اربعون سنۃ قال اولم تعطھا ابنك۔داؤدجب آدم علیہ الصلوۃ والسلام کی عرم سے صرف چالیس برس باقی رہے یعنی نو سو ساٹھ برس گزر گئے ملك الموت علیہ الصلوۃ والسلام ان کے پاس آئے۔فرمایا:کیا میری عمر سے ابھی چالیس سال باقی نہیں کہا:کیا آپ اپنے بیٹے داود علیہ الصلوۃ والسلام کو نہ دے چکے(پھر الله عزوجل نے آدم علیہ الصلوۃ والسلام کے لیے ہزار اورداود علیہ الصلوۃ والسلام کے لئے سو برس پورے کردیے)ھذا حدیث ابی ھریرۃ الا ما بین الخطین
حوالہ / References سنن الترمذی کتاب التفسیر سورۃ الاعراف حدیث ۳۰۸۷دارالفکر بیروت ۵ /۵۳،المستدرك للحاکم کتاب الایمان قصہ خلق آدم علیہ السلام دارالفکر بیروت ۱/۶۴،السنن الکبرٰی للبیہقی کتاب الشہادات باب الاختیار فی الاشہاد دار صادر بیروت ۱۰/۱۶۴،مسند احمد بن حنبل عن ابن عباس رضی الله تعالٰی عنہ المکتب الاسلامی بیروت۱/۲۵۱و۲۵۲ (باقی برصفحہ آئندہ)
#19016 · (رسالہ ضمنی)منیۃ اللبیب ان التشریح بید الحبیب ۱۳۱۱ھ (عقلمند کا مقصد کہ بے شك احکام شرع حبیب الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے اختیار میں ہیں)
فمن حدیث ابن عباس رضی الله تعالی عنہم(یہ حدیث ابوہریرۃ ہے مگر قوسین کے درمیان حدیث ابن عباس ہے رضی الله تعالی عنہم۔ت)
ان حدیثوں کا ارشاد ہے کہ داود علہ الصلوۃ والسلام کو آدم علیہ الصلوۃ والسلام نے عمر عطافرمائی۔
حدیث ۱۸۰:کہ فرماتے ہیں صلی الله تعالی علیہ وسلم:
اذا ضل احکم شیاا واراددعونا وھو بارض لیس بھا انیس فلیقل یا عبدالله اعینونی یا عبادلله اعینونی یا عبادالله اعینونیفان لله عبادا لایراھم۔


الطبرانی عن عتبۃ بن غزوان رضی الله تعالی عنہ۔ جب تم میں کسی کی کوئی چیز گم جائے اورمدد مانگنی چاہے اور ایسی جگہ ہوجہاں کوئی ہمدم نہیں تو اسے چاہئے یوں پکارے: اے الله کے بندو!میری مدد کرواے الله کے بندو!میری مدد کرواے الله کے بندو!میری مدد کرو۔الله تعالی کے کچھ بندے ہیں جنہیں یہ نہیں دیکھتا۔وہ اس کی مدد کرینگے۔ والحمدلله رب العالمین۔
(طبرانی نے عتبہ بن غزوان رضی الله تعالی عنہ سے روایت کیا۔ت)
حدیث ۱۸۱:کہ فرماتے ہیں صلی الله تعالی علیہ وسلم:جب جنگل میں جانور چھوٹ جائے فلیناد یا عبدالله احبسوا تو یوں ندا کرے: اے الله کے بندو!روك دو۔عباد الله اسے روك دیں گے۔ابن السنی عن ابن مسعود رضی الله تعالی عنہ (ابن السنی نے
حوالہ / References (بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
المعجم الکبیر عن ابن عباس حدیث ۱۲۹۲۸ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۱۲ /۲۱۴،مسند ابی داود الطیالسی حدیث ۲۶۹۲دارالمعرفۃ بیروت الجزء الحادی عشر ص۳۵۰،کنزالعمال عن ابن عباس حدیث ۱۵۱۵۱مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۶/۱۳۴و۱۳۵،الدرالمنثور بحوالہ الطیالسی الخ تحت الآیۃ ۲/۲۸۲داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۱۱۶،الطبقات الکبرٰی لابن سعد ذکر من ولد رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم الخ دارصادر بیروت ۱/۲۸و ۲۹
المعجم الاکبیر عن عتبہ بن غزوان حدیث ۲۹۰المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۱۷/۱۱۷و۱۱۸
عمل الیوم واللیلۃ حدیث ۲۰۸دائرۃ المعارف العثمانیہ حیدرآباد دکن ص۱۳۶
#19018 · (رسالہ ضمنی)منیۃ اللبیب ان التشریح بید الحبیب ۱۳۱۱ھ (عقلمند کا مقصد کہ بے شك احکام شرع حبیب الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے اختیار میں ہیں)
ابن مسعود رضی الله تعالی عنہ سے روایت کیا۔ت)
حدیث ۱۸۲:کہ فرماتے ہیں صلی الله تعالی علیہ وسلم: یون ندا کرے:
اعینونی یا عباد الله ۔ابن ابی شیبۃ والبزار عن ابن عباس رضی الله تعالی عنہما۔ میری مدد کرو اے الله کے بندو!(ابن ابی شیبہ اوربزار نے ابن عباس رضی الله تعالی عنہما سے روایت کیا۔ت)
یہ تین حدیثیں وہابیت کش کہ تین صحابہ رضی الله تعالی عنہم کی روایت سے آئیںقدیم سے اکابر علماء دین رحمہم الله تعالی کی مقبول ومجرب رہیںاس مطلب جلیل کی قدر ے تفصیل فقیر کا رسالہ انھار الانوار من یم صلوۃ الاسرارفـــــ کہ نماز غوثیہ شریف کے فضل رفیع اوربغداد شریف کی طرف گیارہ قدم چلنے وغیرہ ایك ایك فعل کے سر بدیع مین تصنیف کیاملاحظہ ہو۔ ان حدیثوں اورحدیث اجل واعظم یا محدم انی توہت بك الی ربی کی شوکت قاہرہ کے حضور وہابیہ کی حرکت مذبوحی کا حال تخاتمہ رسالہ میں عنقریب آتاہے۔ان شاء الله تعالی۔
حدیث ۱۸۳:فرماتے ہیں صلی الله تعالی علیہ وسلم:
من کنت ولیہ فعلی ولیہ۔احمد والنسائی و الحاکم عن بریدۃ رضی الله تعالی عنہ بسند صحیح۔ جس کا میں مددگار وکارساز ہوں علی اس کا مددگار وکارساز ہے کرم الله تعالی وجہہ الکریم۔(احمد ونسائی وحاکم نے بریدہ رضی الله تعالی عنہ سے بسند صحیح روایت کیا۔ت)
حوالہ / References المصنف لابن ابی شبۃ کتاب الدعاء حدیث ۲۹۷۱۱دارالکتب العلمیۃ بیروت ۶/۹۲،البحرالزخار(مسند البزار)حدیث ۴۹۲۲ ۱۱/۱۸۱ والمعجم الکبیر حدیث۲۹۰ ۱۷/۱۱۸،کشف الاستار عن زوائد البزار کتاب الاذکار حدیث ۳۱۲۸ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۴/۳۴
مسند احمد بن حنبل عن بریدۃ رضی الله عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۵/۳۵۸و۳۶۱،المستدرك للحاکم کتاب قسم الفَئی من کنت ولیہ فان علیًا ولیہ دارالفکر بیروت ۲/۱۳۰،الجامع الصغیر عن بریدۃ حدیث ۹۰۰۱دارالکتب العلمیۃ بیروت ۲/۵۴۲
ف:رسالہ ''انھار الانوار من یم صلٰوۃ الاسرار(۱۳۰۵ھ)''فتاوی رضویہ جلد ہفتم مطبوعہ رضا فاؤنڈیش جامعہ نظامیہ رضویہ،اندرون لوہاری دروازہ،لاہورکے صفحہ ۵۶۹ پر مرقوم ہے۔
#19021 · (رسالہ ضمنی)منیۃ اللبیب ان التشریح بید الحبیب ۱۳۱۱ھ (عقلمند کا مقصد کہ بے شك احکام شرع حبیب الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے اختیار میں ہیں)
علامہ مناوی نے شرح میں فرمایا:یدفع عنہ ما یکرہ علی۔اس کے مددگار ہیں اس سے مکروہات وبلیات دفع فرماتے ہیں۔
او رشك نہیں کہ حضور اقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم ہر مسلمان کے ولی ووالی ہیںالله عزوجل فرماتاہے:
" النبی اولی بالمؤمنین من انفسہم" ۔ نبی مسلمانوں کا زیادہ والی ہے ان کی جانوں سے۔
رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
" النبی اولی بالمؤمنین من انفسہم "۔احمد و البخاری ومسلم والنسائی وابن ماجۃ عن ابی ھریرۃ رضی الله تعالی عنہ۔ میں مسلمانوں کا ان کی جانوں سے زیادہ والی ہوں۔(احمد و بخاری ومسلم ونسائی وابن ماجہ نے حضرت ابو ہریرہ رضی الله تعالی عنہ سے روایت کیا۔ت)
علامہ مناوی شرح میں فرماتے ہیں:
لانی الخلیفۃ الاکبر الممد لکل موجود ۔ اس لئے کہ میں الله عزوجل کا نائب اعظم اور تمام مخلوق الہی کا مددرساں ہوں صلی الله تعالی علیہ وسلم۔
رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
حوالہ / References التیسیر شرح الجامع الصغیر تحت الحدیث من کنت ولیہ الخ مکتبۃ الامام الشافعی ریاض ۲/۴۴۲
القرآن الکریم ۳۳ /۶
صحیح البخاری کتاب الکفالۃ باب جوار ابی بکر الصدیق فی عہد النبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/۳۰۸،صحیح البخاری کتاب النفقات ۲/۸۰۹ وکتاب الفرائض ۲/۹۹۷ وباب ابنی عم احدھما الخ ۲/۹۹۸،صحیح مسلم کتاب الفرائض فصل فی اداء الدین قبل الوصیۃ الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/۳۵،سنن النسائی کتاب لاجنائز الصلوۃ علی من علیہ دین نور محمد کارخانہ کراچی ۱/۲۷۹،سنن ابن ماجۃ ابواب الصدقات التشدید فی الدین ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۷۶،مسند احمد بن حنبل عن ابی ھریرہ رضی الله تعالٰی عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۲/۲۹۰و۴۵۳
التیسیر شرح الجامع الصغیر تحت الحدیث انا اولٰی بالمومنین الخ مکتبۃ الاما الشافعی ریاض ۱/۳۷۷
#19025 · (رسالہ ضمنی)منیۃ اللبیب ان التشریح بید الحبیب ۱۳۱۱ھ (عقلمند کا مقصد کہ بے شك احکام شرع حبیب الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے اختیار میں ہیں)
مامن مؤمن الا وانا اولی بہ فی الدنیا والاخرۃ اقرء و ا ان شئتم النبی اولی بالمؤمنین من انفسھم فایما مؤمن مات وترك مالا فلیرثہ عصبتہ من کانو ومن ترك دینا اوضیاعا فلیاتنی فانا مولاہ۔البخاری و مسلم والترمذی عن ابی ھریرۃ وابو داود والترمذی عن جابر بن عبدالله رضی الله تعالی عنہم۔ کوئی مسلمان ایسا نہیں کہ میں دنیا اور آخرت میں سب سے زیادہ اس کا والی نہ ہوںتمہارے جی میں آئے تو یہ آیہ کریمہ پڑھو کہ ''نبی زیادہ والی ہے مسلمانوں کا ان کی جانوں سے ''تو جو مسلمان مرے اورترکہ چھوڑے اس کے وارث اس کے عصبہ ہوں اورجو اپنے اوپر کوئی دین بیکس بے زر بچے چھوڑے وہ میری پناہ میں آئے کہ اس کا مولی میں ہوں صلی الله تعالی علیك وعلی آلك وبارك وسلم۔(بخاری ومسلم وترمذی نے ابوہریرہ رضی الله تعالی عنہ سے اورابوداود وترمذی نے جابر بن عبدالله رضی الله تعالی عنہم سے روایت کیا۔ت)
امام عینی عمدۃ القاری میں زیر حدیث مذکور فرماتے ہیں:المولی الناصر ۔یہاں مولی بمعنی مدد گار ہے۔
تو لاجرم بحکم حدیث مولی علی کرم الله تعالی وجہہ بھی ہر مسلمان کے ولی ومددگار ودافع بلا ومکروہات ہینوالحمدلله رب العلمین اسی لئے شاہ ساحب نے فرمایا:حضرت
حوالہ / References صحیح البخاری کتاب فی الاستقراض واداء الدین باب الصلوٰہ علی من ترك دَینا قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/۳۲۳،صحیح البخاری کتاب التفسیر سورۃ الاحزاب قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/۷۰۵،صحیح مسلم کتاب الفرائض فصل فی اداء الدین قبل الوصیۃ الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/۳۶،سنن الترمی،سنن ابی داود کتاب الامارۃ باب فی ارزاق الذریۃ آفتاب عالم پریس لاہور ۲/۵۴،مسند احمد بن حنبل عن ابی ھریرۃ المکتب الاسلامی بیروت ۲/۳۳۴و۳۳۵،شرح السنۃ کتاب الفرائض حدیث ۲۲۴۱المتکب الاسلامی بیروت ۸/۳۲۴،سنن الکبرٰی للبیہقی باب العصبۃ ۶/۲۳۸ و کتاب النکاح ۷/۵۸ دارصادر بیروت
عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری کتاب التفسیر سورۃ الاحزاب تحت حدیث ۳۰۲/۴۷۸۱ بیروت ۱۹/۱۶۴
#19026 · (رسالہ ضمنی)منیۃ اللبیب ان التشریح بید الحبیب ۱۳۱۱ھ (عقلمند کا مقصد کہ بے شك احکام شرع حبیب الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے اختیار میں ہیں)
امیر وذرئیہ طاہرہ اورا الخ۔
اقول:عموم حدیث میں حضرات خلفائے ثلثۃ رضی الله تعالی عنہم بھی داخل اورتخصیص کی اصلا حاجت نہیں کہ ناصر کا منصور سے افضل ہونا کچھ ضرور نہیںقال الله تعالی:
" ینصرون اللہ و رسولہ " ۔ مہاجرین الله ورسول کی مدد کرتے ہیں۔
وقال الله تعالی:
" فان اللہ ہو مولىہ و جبریل " ۔(الایۃ) نبی صلی الله تعالی علیہ وسلم کا مددگار الله ہے اورجبریل وابوبکر وعمر وملائکہ علیہم الصلوۃ والسلام۔
حدیث ۱۸۴:کہ فرماتے ہیں صلی الله تعالی علیہ وسلم:
ابنتی فاطمۃ حوراء ادمیۃ لم تحض ولم تطمث وانام سما ھا فاطمۃ لان الله تعالی فطمھا ومحبیہا من النار۔ الخطیب عن ابن عباس رضی الله تعالی عنہما۔ میری صاحبزادی فاطمہ آدمیوں میں حور ہے کہ نجاستوں کے عارضے جو عورت کو ہوتے ہیں ان سے پاك ومنزہ ہے۔الله عزوجل اس نے کا فاطمہ اس لئے نام رکھا کہ اسے اوراس سے محبت رکھنے والوں کو آتش دوزخ سے آزاد فرمادیا۔(خطیب نے ابن عباس رضی الله تعالی عنہما سے روایت کیا۔ت)
غلامان زہرا کو نار سے چھڑایا تو الله عزوجل نے مگر نام حضرت زہرا کا ہے فاطمہ چھڑانے والی آتش جہنم سےنجات دینے والی۔
صلی الله تعالی علی ابیہا وعلیہا وبعلہا وابنیہا وبارك وسلم۔
حوالہ / References تحفہ اثنا ء عشریۃ باب ہفتم درامامت سہیل اکیڈمی لاہور ص۲۱۴
القرآن الکریم ۵۹ /۸
القرآن الکریم ۶۶ /۴
تاریخ بغداد ترجمہ غانم بن حمید ۶۷۷۲دارالکتب العربی بیروت ۱۲/۳۳۱،کنز العمال عن ابن عباس حدیث ۳۴۲۲۶مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۲/۱۰۹
#19027 · (رسالہ ضمنی)منیۃ اللبیب ان التشریح بید الحبیب ۱۳۱۱ھ (عقلمند کا مقصد کہ بے شك احکام شرع حبیب الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے اختیار میں ہیں)
حدیث ۱۸۵:
ان عمر بن الخطاب رضی الله تعالی عنہ دعا ام کلثوم بنت علی ابن ابی طالب رضی الله تعالی عنہما وکانت تحتہفوجد ھا تبکی فقال مایبکیکفقال یا امیر المومنین ھذا الیھودی یعنی کعب الاحبار یقول انك علی باب من ابواب جھنم فقال عمر ماشاء الله والله انی لارجو ان یکون ربی خلقنی سعیدا ثم ارسل الی کعب فدعاہ فلما جاء ہ کعب قال یا امیر المومنین لاتعجل علی والذی نفسی بیدہ لاینشلخ ذوالحجۃ حتی تدخل الجنۃ فقال عمر ای شیئ ھذا مرۃ فی الجنۃ مرۃ فی النار فقال یا امیر المومنین والذی نفسی بیدہ انا لنجدك فی کتاب الله عزوجل علی باب من ابواب جھنم تمنع الناس ان یقعوا فیھا فاذا مت یعنی امیر المومنین عمر رضی الله تعالی عنہ نے اپنی زوجہ مقدسہ حضرت ام کلثوم دختر امیر المومنین مولی علی وبتول زہرا رضی الله تعالی عنہم کو بلایا انہیں روتے پایا سبب پوچھاکہا یا امیر المومنین یہ یہودی کعب احبار(رضی الله تعالی عنہ کو اجلہ ائمہ تابعین وعلمائے کتابین واعلم علمائے توراۃ سے ہیں پہلے یہودی تھے خلافت فاروقی میں مشرف باسلام ہوئےشاہزادی کا اس وقت حالت غضب میں انہیں اس لفظ سے تعبیر فرمانا بربنائے نازك مزاجی تھا کہ لازمہ شاہزادگی ہے رضی الله تعالی عنہم اجمعین)یہ کہتا ہے کہ آپ جہنم کے دروازوں سے ایك دروازے پر ہیںامیر الومنین نے فرمایا جو خدا چاہے خدا کی قسم بیشك مجھے امید ہے کہ میرے رب نے مجھے سعید پیدا کی ہوپھر حضرت کعب کو بلا بھیجاانہوں نے حاضرہوکر عرض کی:امیرالمومنین ! مجھ پر جلدی نہ فرمائیں قسم اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ذی الحجۃ کا مہینہ ختم نہ ہونے پائے گا کہ آپ جنت میں تشریف لے جائیں گے۔فرمایا:یہ کیا بات ہے کبھی جنت میں کبھی نار میں عرض کی:یا امیر المومنین !قسم اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے آپ کو کتاب الله میں جہنم کے دروازوں سے ایك دروازے پر پاتے ہیں
#19028 · (رسالہ ضمنی)منیۃ اللبیب ان التشریح بید الحبیب ۱۳۱۱ھ (عقلمند کا مقصد کہ بے شك احکام شرع حبیب الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے اختیار میں ہیں)
لم یزالوایقتحمون فیہا الی یوم القیمۃ۔ابن اسعد فی طبقاتہ وابوالقاسم بن بشر ان فی مالیہ عن البخاری مولی عمر رضی الله تعالی عنہ۔ کہ آپ لوگوں کو جہنم میں گرنے سے روکے ہوئے ہیں جب آپ انتقال فرمائیں گے قیامت تك لوگ نار میں گراکریں گے (وحسبناالله ونعم الوکیل ولا حول ولا قوۃ الا بالله رب عمر الجلیل)(ابن سعد نے اپنی طبقات میں اورابوالقاسم بن بشران نے اپنی امالی میں حضرت عمررضی الله تعالی عنہ کے آزاد کردہ غلام سے روایت کیا ہے۔ت)
بھلا دوزخ میں گرنے سے بچانا دفع بلا کا ہے کو ہوا۔
حدیث ۱۸۶:معانی الآثار امام طحاوی میں ہے:حدثنا ابن مرزوق ثنا ازھر السمان عن ابن عون محمد قال قال عمررضی الله تعالی عنہ:لنا رقاب الارض ۔یعنی امیر المومنین عمر رضی الله تعالی عنہ نے فرمایا:زمین کے مالك ہم ہیں۔
حدیث ۱۸۷:
بعث النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم الی عثمان یستعینہ فی جیش العسرۃ فبعث الیہ عثمن بعشرۃ الاف دینار۔یعنی جب حضور اقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم نے غزوہ تبوك کے لئے لشکر اسلام کو تیاری کا حکم دیا مسلمانوں پر بہت حالت تنگی و عسرت تھی اس باب میں حضور اقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم نے امیر المومنین عثمان رضی الله تعالی عنہ سے استعانت فرمائی ان سے مددچاہیذوالنورین رضی الله تعالی عنہ نے دس ہزار اشرفیاں حاضر کیں حضور پر نور صلی الله تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:اے عثمن ! الله تیری چھپی اورظاہر خطائیں اورآج سے قیامت تك جو کچھ تجھ سے واقع ہو سب کی مغفرت فرمائےاس کے بعد عثمن کو کچھ پرواہ نہیں کوئی عمل کرے۔ابن عدی والدارقطنی و
حوالہ / References الطبقات الکبرٰی لابن سعد زکر استخلاف عمر رضی الله عنہ دارصادر بیروت ۳/۳۳۲،کنز العمال بحوالہ ابن سعد وابی القاسم بن بشران حدیث ۳۵۷۸۷مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۲/۵۷۰و۵۷۱
شرح معانی الآثار کتاب السیر باب احیاء الارض المیتۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲/۱۷۶
کنزالعمال بحوالہ عد،قط حدیث ۳۶۱۸۹مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱/۳۸
#19029 · (رسالہ ضمنی)منیۃ اللبیب ان التشریح بید الحبیب ۱۳۱۱ھ (عقلمند کا مقصد کہ بے شك احکام شرع حبیب الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے اختیار میں ہیں)
ابو نعیم فی فضائل الصحابۃ رضی الله تعالی عنہم عن حذیفۃ بن الیمان رضی الله تعالی عنہما(ابن عدی ودارقطنی وابو نعیم نے فضائل صحابہ رضی الله تعالی عنہم میں حذیفہ بن الیمان رضی ا لله تعالی عنہما سے روایت کیا۔ت)
کیوں وہابی صاحبو! غیر خداسے استعانت شرك تو نہیںایاك نستعین کے کیا معنی کہتے ہو۔
حدیث ۱۸۸:ایك مصری نے امیر المومنین فاروق اعظم رضی الله تعالی عنہ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوکر عرض کی:
یا امیر المومنین عائذبك من الظلم۔ امیر المومنین !میں حضور کی پناہ لیتا ہوں ظلم سے۔
امیر المومنین نے فرمایا:عذت معاذاتو نے سچی جائے پناہ کی پناہ لی۔ہمارا مطلب توحدیث کے اتنے ہی لفظوں سے ہوگیاپناہ لینے والوں نے امیر المومنین کی دہائی دی اورامیر المومنین نے اپنی بارگاہ کو سچی جائے پناہ فرمایامگرتتمہ حدیث بھی ذکر کریں کہ اس میں امیر المومنین کے کمال عدل کا ذکر ہے۔عمرو بن عاص رضی الله تعالی عنہ مصر پر امیر المومنین کے صوبیدار تھےیہ فریادی مصری عرض کرتاہے کہ میں نے ان کے صاحبزادے کے ساتھ دوڑ لگائی میں آگے نکل گیا صاحبزادے نے مجھے کوڑے مارے اورکہا:میں دو معزز وکریم والدین کا بیٹاہوں۔اس کی فریاد پر امیر المومنین نے فرمان نافذ فرمایا کہ عمرو بن عاص مع اپنے بیٹے کے حاضر ہوںحاضر ہوئے۔امیر المومنین نے مصری کو حکم دیا:کوڑالے اور مار۔اس نے بدلہ لینا شروع کیا۔اورامیر المومنین فرماتےجاتے ہیں:مارد ولئیموں کے بیٹے کو۔انس رضی الله تعالی عنہ فرماتے ہیں:خدا کی قسم !جب اس فریاد نے مارنا شروع کیا ہمارا جی یہ چاہتا تھا کہ یہ مارے اوراپنا عوض لے۔اس نے یہاں تك مارا کہ ہم تمنا کرنے لگے کاش !اپنا ہاتھ اٹھا لے۔ جب مصری فارغ ہوا امیر المومنین نے فرمایا:اب یہ کوڑا عمرو بن عاص کی چند یا پر رکھ(یعنی وہاں کے حاکم تھے انہوں نے کیوں نہ داد رسی کیبیٹے کا کیوں لحاظ پاس کیا)مصری نے عرض کی:یا امیر المومنین !ان کے بیٹے ہی نے مجھے مارا تھا اس سے میں عوض لے چکا۔امیر المومنین رضی الله تعالی عنہ نے عمر وبن عاص رضی الله تعالی عنہ سے فرمایا:
#19030 · (رسالہ ضمنی)منیۃ اللبیب ان التشریح بید الحبیب ۱۳۱۱ھ (عقلمند کا مقصد کہ بے شك احکام شرع حبیب الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے اختیار میں ہیں)
مذکم تعبدتم الناس وولدتھم اماتہم احرارا۔ تم لوگوں نے بندگان خدا کو کب سے اپنا غلام بنالیاحالانکہ وہ ماں کے پیٹ سے آزاد پیدا ہوئے تھے۔
عمرو رضی الله تعالی عنہ نے عرض کی:یا امیر المومنین ! نہ مجھے کوئی خبر ہوئی نہ یہ شخص میرے پاس فریادی آیا۔ابن عبد الحکم عن انس رضی الله تعالی عنہ(ابن عبدالحکم نے حضر ت انس رضی الله تعالی عنہ سے روایت کیا۔ت)
حدیث ۱۸۹:خلافت فاروق رضی الله تعالی عنہ میں ایك سال مدینہ میں قحط عظیم پڑا اس سال کا "عالم الرمادہ "نام رکھا گیا یعنی ہلاك وتباہی جان ومال کا سا۔امیر المومین نے عمرو بن العاص کو مصر میں فرمان بھیجا:
یہ شقہ ہے بندئہ خدا عمر امیر المومنین کی طرف سے ابن عاص کے نام
سلم اما بعد فلعمر ی یاعمر وما تبالی اذا شبعت انت ومن معك ان اھلك انا ومن معی فیاغوثاہ ثم یا غوثاہ یرددقولہ۔ سلام کے بعد واضح ہومجھے اپنی جان کی قسم ! اے عمرو !جب تم اورتمہارے ملك والے سیر ہوں تو تمہیں کچھ پرواہ نہیں کہ میں اورمیرے ملك والے ہلاك ہوجائیں ارے فریاد کو پہنچ ارے فریاد کو پہنچ۔اوراس کلمے کو باربارتحریر فرمایا۔
عمرو بن عاص رضی الله تعالی عنہ نے جواب حاضر کیا:
یہ عرضی بندہ خدا امیر المومنین عمر کو عمرو بن عاص کی طرف سے
اما بعد فیالبیك ثم یالبیك وقد بعثت الیك بعیرا اولہا عندك واخر ھا عندی والسلام علیك ورحمۃ الله وبرکاتہ۔ بعد سلام معروض حضو رمیں بار بار خدمت کو حاضر ہوں پھر بار بار خدمت کو حاضر ہوں میں نے حضور میں وہ کارواں روانہ کیا ہے جس کا اول حضور کے پاس ہو گا اورآخرمیرے پاس اورحضور پرسلام اورالله عزوجل کی رحمت اوربرکتیں۔
عمرو بن العاص رضی الله تعالی عنہ نے ایسا ہی کارواں حاضر کیا کہ مدینہ طیبہ سے مصر تك یہ
حوالہ / References کنز العمال بحوالہ ابن عبدالحکم حدیث ۳۶۰۱۰مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۲/۶۶۰و۶۶۱
#19031 · (رسالہ ضمنی)منیۃ اللبیب ان التشریح بید الحبیب ۱۳۱۱ھ (عقلمند کا مقصد کہ بے شك احکام شرع حبیب الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے اختیار میں ہیں)
تمام منزلہا ئے دو۱ر دراز اونٹوں سے بھری ہوئی تھیں یہاں سے وہاں تك ایك قطار تھی جس کا پہلا اونٹ مدینہ طیبہ میں تھا اور پچھلا مصر میںسب پر اناج تھاامیر المومنین نے وہ تمام اونٹ تقسیم فرمادیے ہر گھر کو ایك ایك اونٹ مع اپنے بار کے عطاہوا کہ اناج کھاؤ اوراونٹ ذبح کر کے اس کا گوشت کھاؤچربی کھاؤکھال کے جوتے بناؤجس کپڑے میں اناج بھرا تھا اسکا لحاف وغیرہ بناؤ۔یوں الله عزوجل نے لوگوں کی مشکل دفع کیامیر المومنین حمد بجالائے۔
ابن خزیمۃ فی صحیحہ والحاکم فی المستدرك و البیھقی فی السنن عن اسلم مولی عمر رضی الله تعالی عنہ وابن عبد الحکم واللفظ لہعن اللیث بن سعد۔ ابن خزیمہ نے اپنی صحیح میں اورحاکم نے مستدرك میں اور بیہقی نے سنن میں عمر فاروق رضی الله تعالی عنہ کے اذاد کردہ غلام اسلم سےاور ابن عبدالحکم نے لیث بن سعد سے روایت کیا ہےلفظ ابن عبدالحکم کے ہیں۔(ت)
حدیث ۱۹۰:حضور سید عالم تو سید عالم صلی الله تعالی علیہ وسلم حضور کے نائب کریم علی مرتضی امیر المومین کرم الله الله تعالی وجہہ الکریم فرماتے ہیں:
انی لاستحی من الله ان یکون ذنب اعظم من غفری او جھل اعظم من حلمی اوعورۃ لایواریھا ستری اوخلۃ لایسدھا جودی۔ابن عساکر عن جبیر عن الشعبی عن علی کرم الله تعالی بے شك الله عزوجل سے شرم آتی ہے کہ کسی کا گناہ میری صفت مغفرت سے بڑھ جائے وہ گناہ کرے اورمیری مغفرت اس کی بخشش میں تنگی کرے کہ میں نہ بخش سکوں یا کسی کی جہالت میرے علم سے زائد ہوجائے کہ وہ جہل سے پیش آئے اورمیں حلم سے کام نہ لے سکوں یا کسی عیب کسی شرم کی بات کو میرا پردہ نہ چھپائے یا
حوالہ / References المستدرك للحاکم کتاب الزکٰوۃ دارالفکر بیروت ۱/۴۰۵ السنن الکبرٰی للبیہقی کتاب قسم الفیئ والغنیمۃ باب یکون للولی الخ دار صادر بیروت ۶/۳۵۵،صحیح ابن خزیمہ باب ذکر الدلیل علی ان العامل الخ حدیث ۲۳۶۸ المکتب الاسلامی بیروت ۴/۶۸،کنز العمال بحوالہ ابن خزیمہ حدیث ۳۵۸۸۹ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۲/۶۰۹ و ۶۱۰،کنز العمال بحوالہ ابن عبدالحکم حدیث ۳۵۹۰۶ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۲/۶۱۴ و۶۱۷
#19032 · (رسالہ ضمنی)منیۃ اللبیب ان التشریح بید الحبیب ۱۳۱۱ھ (عقلمند کا مقصد کہ بے شك احکام شرع حبیب الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے اختیار میں ہیں)
وجہہ۔ کسی حاجتمندی کو میرا کرم بندہ نہ فرمائے۔(ابن عساکر نے جبیر سے انہوں نے شعبی سے انہوں نے حضرت علی کرم الله تعالی وجہہ سے روایت کیا۔ت)
وہابیو! دیکھا تم نے محبوبان خدا کا احسانان کی غفرانان کی حاجت برآریان کی شان ستاری۔
اللھم انفعنا بفضلھم وعفوھم وحلمھم وجودھم و کرمھم فی الدنیا والاخرۃ امین۔ یا الله! ہمیں ان کے فضلان کے عفوان کے حلمان کے جود اور ان کے کرم سے دنیا و آخرت میں نفع عطافرما آمین۔ (ت)
حدیث ۱۹۱:فرماتے ہیں کرم الله تعالی وجہہ:
لاادری ای النعمتین اعظم علی منۃ من رجل بذل مصاص وجہہ الی فرانی موضعا لحاجتہ واجری الله قضا ء ھا اویسرہعلی یدی ولان اقضی لامرئ مسلم حاجۃ احب الی من ملا الارض ذھبا وفضۃ۔ابو الغنائم النرسی فی کتاب قضاء الحوائج عنہ رضی الله تعالی عنہ ۔ بے شك میں نہیں جانتا کہ ان دو نعمتوں میں کون سے مجھ پر زیادہ احسان ہے کہ ایك شخص میری سرکار کو اپنی حاجت روائی کا محل جان کر اپنا معززمنہ میرے سامنے لائے اورالله تعالی ا سکی حاجت کا روا ہونا اسکی آسانی میرے ہاتھ پر واں فرمائےیہ تمام روئے زمین بھر کر سونا چاندی ملنے سے مجھے زیادہ محبوب ہے کہ میں کسی مسلمان کی حاجت روافرماؤں۔(ابو الغنائم الزسی نے کتاب قضا ء الحوائج میں مولا علی رضی الله تعالی عنہ سے روایت کیا۔ت)
حدیث ۱۹۲:رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:ھجاھم حسان فشفی واشتفی۔حسان نے کافروں کی ہجو کہی تو
حوالہ / References تاریخ دمشق الکبیر ترجمہ علی بن ابی طالب ۵۰۲۹ داراحیاء التراث العربی بیروت ۴۵/۳۹۹،کنزالعمال بحوالہ کر عن علی رضی الله عنہ حدیث ۳۶۳۶۴مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۳/۱۱۱
#19033 · (رسالہ ضمنی)منیۃ اللبیب ان التشریح بید الحبیب ۱۳۱۱ھ (عقلمند کا مقصد کہ بے شك احکام شرع حبیب الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے اختیار میں ہیں)
شفادی شفالی۔مسلم عن ام المومنین رضی الله تعالی عنہا۔(مسلم نے ام المومنین رضی الله تعالی عنہا سے روایت کی۔ت)
حدیث ۱۹۳:جب کفار قریش نے شان اقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم میں اشعار گستاخی بکےعبدالله بن رواحہ رضی ا لله تعالی عنہ کو حکم جواب ہواانہوں نے جواب دیاحضور نے ناکافی پایاپھر حضرت کعب بن مالك رضی الله تعالی عنہ کو ارشاد ہواان کا جواب بھی پسند خاطر اقدس نہ آیا۔پھر حسان رضی الله تعالی عنہ کو ارشادہوا۔انہوں نے کفار کی ہجو کہی۔حضور اقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:
لقد شفیت یا حسان واشتفیت۔ابن عساکر عن ابی سلمۃ بن عبدالرحمن رضی الله تعالی عنہما۔ حسان !تم نے شفادی اورشفالی۔(ابن عساکر نے ابی سلمہ بن عبدالرحمن رضی الله تعالی عنہما سے روایت کیا۔ت)
حدیث ۱۹۴:حسان رضی الله تعالی عنہ ام المومنین صدیقہ رضی الله تعالی عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے ام المومنین نے ان کے لئے مسند بچھوائیعبدالرحمن بن ابی بکر صدیق رضی الله تعالی عنہما نے گزارش کی:آپ انہیں مسند پر بٹھاتی ہیں۔وقد قال ما قال ام المومنین نے فرمایا:
انہ کان یجیب عن رسول الله صلی الله تعالی علیہ و سلم ویشفی صدرہمن اعدآئہ۔ابن عساکر عن عطاء ابن ابی رباح۔ یہ رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم کی طرف سے جواب دیا کرتے اور رنج اعداء سے سینہ اقدس کو شفاء دیتے(ابن عساکر نے عطاء ابن ابی رباح سے روایت کیا۔ت)
حوالہ / References صحیح مسلم کتاب الفضائل باب فضائل حسان بن ثابت قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/۳۰۱،تاریخ دمشق الکبیر ترجمہ ۱۵۴۶حسان بن ثابت داراحیاء التراث العربی بیروت ۱۳/۲۸۵
تاریخ دمشق الکبیر ترجمہ ۱۵۴۶حسان بن ثابت داراحیاء التراث العربی بیروت ۱۳/۲۷۸،کنزالعمال بحوالہ کر حدیث ۳۶۹۵۸ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۳/۳۴۱و۳۴۲
کنز العمال بحوالہ کر حدیث ۳۶۸۵۵مؤسسۃ الرسالۃ بیروت ۱۳/۳۳۹،تاریخ دمشق الکبیر ترجمہ ۱۵۴۶ حسان بن ثابت داراحیاء التراث العربی بیروت ۱۳/۲۷۷
#19034 · (رسالہ ضمنی)منیۃ اللبیب ان التشریح بید الحبیب ۱۳۱۱ھ (عقلمند کا مقصد کہ بے شك احکام شرع حبیب الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے اختیار میں ہیں)
حدیث ۱۹۵:کہ فرماتے ہیں صلی الله تعالی علیہ وسلم:
اکرموا الانصار فانھم ربوا الاسلام کما یربی الفرخ فی وکرہ۔الدارقطنی فی الافراد والدیلمی عن انس رضی الله تعالی عنہ۔ انصار کی عزت کرو کہ انہوں نے اسلام کو پالا ہے جس طرح پرند کا پٹھا آشیانے میں پالا جاتاہے۔(دارقطنی نے افراد میں اوردیلمی نے حضرت انس رضی الله تعالی عنہ سے روایت کیا۔ت)
وصل سوم
احادیث متعلقہ بملائکہ کرام علیہم الصلوۃ والسلام
حدیث ۱۹۶:کہ فرماتے ہیں صلی الله تعالی علیہ وسلم:
ان العبد المؤمن لیدعوا الله تعالی فیقول الله تعالی لجبریل لاتجبہ فانی احب ان اسمع صوتہواذا دعاہ الفاجر قال یا جبیریل اقض حجتہ فانی لاحب ان اسمع صوتہ۔ابن النجار عن انس بن مالك رضی الله تعالی عنہ۔ بیشك بندہ مومن الله عزوجل سے دعا کرتاہے تو رب جل وعلا جبریل علیہ الصلوۃوالسلام سےفرماتاہے:اس کی دعا قبول نہ کر کہ میں اس کی آواز سننے کو دوست رکھتاہوں۔اور جب فاجر دعاکرتاہے رب جل جلالہفرماتاہے:اے جبریل !اس کی حاجت روا کر دے کہ میں اس کی آواز سننا نہیں چاہتا(ابن النجار نے انس بن مالك رضی الله تعالی عنہ سے روایت کیا۔ت)
اس حدیث سے واضح کہ جبریل علیہ الصلوۃ والسلام دعائیں قبول کرتے حاجتیں روا فرماتے ہیں۔دین وہابیت میں اس سے بڑھ کر اورکیا شرك ہوگا۔
حدیث ۱۹۷:کہ فرماتے ہیں صلی الله تعالی علیہ وسلم:
حوالہ / References کنز العمال بحوالہ قط فی الافراد والدیلمی حدیث ۳۳۷۲۴مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۲/۹،الفردوس بما ثور الخطاب حدیث ۲۲۳دار الکتب العلمیہ بیروت ۱/۷۵
کنزالعمال بحوالہ ابن النجار حدیث ۳۲۶۱ و ۴۹۰۵ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۲/۸۵ و ۶۲۰
#19035 · (رسالہ ضمنی)منیۃ اللبیب ان التشریح بید الحبیب ۱۳۱۱ھ (عقلمند کا مقصد کہ بے شك احکام شرع حبیب الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے اختیار میں ہیں)
ان الله ملئکۃ مؤکلین بارزاق بنی ادم قال لھم ایما عبد وجد تموہ جعل الھم ھماواحد فضمنوا رزقہ السموت والارض وبنی ادم ایسما عبد وجد تموہ طلب فان تحری الصدق فطیبوا لہویسروا ومن تعدی ذلك فخلوا بینہوبیان مایرید ثم لاینا ل فوق الدرجۃ التی کتبتہا لہ۔الترمذی الاکبر الامام فی النوادر۔ الله تعالی کے کچھ فرشتے بنی آدم کے رزقوں پر مؤکل ہیں انہیں الله عزوجل کا حکم ہے کہ جس بندے کو ایسا پاؤ کہ سب فکریں چھوڑ کر آخرت کا ہورہا ہے آسمان وزمین وانسان سب کو اس کے رزق کا ضامن کردو یعنی بے طلب ہر طرف سے اسے رزق پہنچا ؤ اورجسے روزی کی تلاش میں دیکھو وہ اگر راستی کا قصد کرے تو اس کے لیے اس کا رزق پاك وآسان کردو اورجو حد سے بڑھے اسے اس کی خواہش پر چھوڑ دو پھر ملے گا تو اتنا ہی جو میں نے اس کے لئے لکھ دیا ہے(اس کو حکیم ترمذی نے نوادرمیں روایت کیا۔ت)
حدیث ۱۹۸:کہ فرماتے ہیں صلی الله تعالی علیہ وسلم:
ملك قابض علی ناصیتك فاذا تواضعت لله رفعك واذا لجبرت علی الله قصمك وملك قائم علی فیك لایدع الحیۃ آن تدخل فی فیک۔ابن جریر عن کنانۃ العدوی رضی الله تعالی عنہ۔ھذا مختصر ۔ ایك فرشتہ تیری پیشانی کے بال تھامے ہوئے ہے جب تو الله عزوجل جل شانہکے لئے تواضع کرے تجھے بلندی بخشتاہے اورجب تو اس پر معاذالله تکبر کرے تجھے توڑڈالتا ہلاك کر دیتاہےاورایك فرشتہ تیرے منہ پرکھڑا ہے کہ سانپ کو تیری منہ میں نہیں جانے دیتا۔(ابن جریر نے کنانہ عدوی رضی الله تعالی عنہ سے روایت کیا۔یہ مختصرہے۔ت)
دیکھو متواضعوں کو فرشتہ بلند قدری دیتاہےمتکبروں کو فرشتہ ہلاك کرتاہےاور
حوالہ / References نوادرالاصول للترمذی الاصل الحادی والسبعون والمائتان فی جمع الھموم دارصادر بیروت ص۳۹۵
#19036 · (رسالہ ضمنی)منیۃ اللبیب ان التشریح بید الحبیب ۱۳۱۱ھ (عقلمند کا مقصد کہ بے شك احکام شرع حبیب الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے اختیار میں ہیں)
کیوں صاحبو! یہ فرشتہ جو منہ کی حفاظت کررہا ہے دافع البلا تو نہ ہوا شاید دفع بلال اس کا نام ہوگا کہ وہ چھوڑدے کہ سانپ تمہارے منہ میں گھس جائے۔
حدیث۱۹۹:کہ فرماتے ہیں صلی الله تعالی علیہ وسلم:
ان ابن ادم لفی غفلۃ عما خلق لہ ویبعثالله ملکا فیحفظہ حتی یدرک۔ابنا ابوی حاتم والدنیا وابو نعیم عن جابر رضی الله تعالی عنہم ھذا مختصر۔ آدم زاد اس کام سے غافل ہے جس کے لیے پیدا کیا گیا اورالله تعالی فرشتہ بھیجتاہے کہ وقت پہنچنے تك اس کا نگہبان رہتا ہے۔(اسکو ابو حاتم وابوالدنیا کے بیٹوں اورابو نعیم نے حضرت جابر رضی الله تعالی عنہ سے روایت کیایہ مختصر ہے۔ت)
حدیث ۲۰۰:صحیح مسلم شریف میں حذیفہ بن اسید رضی الله تعالی عنہ سے ہے۔رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اذا مر بالنطفۃ اثنتان واربعون لیلۃ بعث الله الیھا ملکا فصور ھا وخلق سمعہا وبصرھا وجلدھا ولحمہا و عظامہا ۔الحدیث جب نطفے پر بیالیس راتیں گزرتی ہیں الله تعالی اس کی طرف فرشتہ بھیجتاہے وہ آکر اس کی صورت بناتاہےکانآنکھ کھالگوشتہڈیاں خلق کرتاہے۔
انہیں کی دوسری روایت میں ہے:
یتسورعلیہا الملک۔قال زھیر حسبتہ قال الذی یخلقہا ۔ فرشتہ آکر اس پر گرتا ہےزہیر نے کہا میرے خیال میں حدیث کے لفظ یہ ہیں کہ وہ فرشتہ جو اسے خلق کرتاہے۔
حوالہ / References حلیۃ الاولیاء ترجمہ ۲۳۵محمد بن علی الباقر دارالکتاب العربی بیروت ۳/۱۹۰،الدرالمنثور بحوالہ ابن ابی الدنیا وابن ابی ھاتم الخ تحت الآیۃ ۵۰/۲۱ داراحیاء لتراث بیروت۷/۵۲۴
صحیح مسلم،کتاب القدر باب کیفیت خلق الآدمی فی بطن امہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/۳۳۳
صحیح مسلم،کتاب القدر باب کیفیت خلق الآدمی فی بطن امہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/۳۳۳
#19037 · (رسالہ ضمنی)منیۃ اللبیب ان التشریح بید الحبیب ۱۳۱۱ھ (عقلمند کا مقصد کہ بے شك احکام شرع حبیب الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے اختیار میں ہیں)
انہیں کی تیسری روایت میں ہے:
ان ملکا مؤکلا بالرحم اذا اراد الله ان یخلق شیئا باذن الله الحدیث ۔ بیشك عورتوں کے رحم پر ایك فرشتہ متعین ہے جب الله تعالی چاہتاہے کہ وہ فرشتہ باذن الہی کچھ خلق کرے۔
طبرانی کی روایت میں ہے:
ان النطفۃ اذا استقرت فی الرحم فمضی لہا اربعون یوما جاء ملك الرحم فصور عظمہ ولحمہ ودمہ وبشرہ ۔ نطفے کو جب رحم میں ٹھہرے چلہ گزر جاتاہے فرشتہ کہ رحم پر مؤکل ہے آکر اس کی ہڈیوںگوشتخون اور بال کھال کی تصویر کرتاہے۔
حدیث ۲۰۱:صحیحین بخاری ومسلم وغیرہما میں حضرت عبدالله بن مسعود رضی الله تعالی عنہ سے ہے رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
بچے کا مادہ آفرنیش چالیس دن تك ماں کے پیٹ میں جمع ہوتا ہے پھر اتنے ہی دن جما ہوا خون رہتا ہے پھر اتنے ہی دن خون کی بوتیثم یرسل الله الیہ الملك فینفخ فیہ الروح جب تین چلے گزر لیتے ہیں الله تعالی اس کی طرف ایك فرشتہ بھیجتاہے کہ وہ اس میں جان ڈالتاہےھذا لفظ مسلم ۔(یہ مسلم کے الفاظ ہیں۔ت)الله عزوجل فرماتاہے:
" ہو الذی یصورکم فی الارحام کیف یشاء " ۔ الله ہے کہ تمہاری تصویر فرماتاہے ماؤں کے پیٹوں میں جیسے چاہے۔
حوالہ / References صحیح مسلم کتاب القدرباب کیفیۃ خلق الآدمی فی بطن امہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/۳۳۳
المعجم الکبیر عن حذیفہ بن اسید رضی الله عنہ حدیث ۳۰۴۱المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۳/۱۷۷،کنز العمال حدیث ۵۷۵مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱/۱۲۱
صحیح البخاری کتاب بدء الخلق ۱/۴۵۶ وکتا ب الانبیاء ۲/۴۶۹ قدیمی کتب خانہ کراچی،صحیح مسلم کتاب القدر باب کیفیۃ خلق الآدمی فی بطن امہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/۳۳۲
القرآن الکریم ۳ /۶
#19038 · (رسالہ ضمنی)منیۃ اللبیب ان التشریح بید الحبیب ۱۳۱۱ھ (عقلمند کا مقصد کہ بے شك احکام شرع حبیب الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے اختیار میں ہیں)
اورفرماتاہے جل وعلا:
" ہل من خلق غیر اللہ " ۔ کیا کوئی اور بھی خلق کرنے والا ہے الله کے سوا۔
یہاں مصطفی صلی الله تعالی علیہ وسلم جن کا نام پاك ماحی ہے یعنی کفر وشرك کے مٹانے والےصلی الله تعالی علیہ وسلموہ خود صحیح حدیثوں میں فرما رہے ہیں کہ فرشتہ تصویر کرتہاےفرشتہ صورت بناتاہے۔فرشتہ آنکھکانگوشتاستخواںبال کھالخون خلق کرتاہے۔اورصرف یہی نہیں بلکہ یہ سب کچھ فرشتے کے ہاتھ سے ہوکر جان بھی فرشتہ ڈالتا ہے۔شرك پسند گمراہوں کے نزدیك اس سے بڑھ کر اورکیا شرك ہوگا والعیاذبالله رب العلمین۔جبریل امین علیہ الصلوۃ والتسلیم تو اتنا ہی فرما کر چپ ہو رہے تھے:
" لاہب لک غلما زکیا ﴿۱۹﴾ " ۔ میں تجھے ستھرا بیٹا دوں۔
یہاں تو ان سے کم درجہ شخص کے ہاتھوں پر دنیا بھر کے بیٹی بیٹوں کی خلق وتصویر ہو رہی ہے۔احمق جاہلو! اپنے سسکتے ایمان کی جان پر رحم کرویہ فرق نسبت اٹھانااقسام اسنا د مٹانا خدا جانے تمہیں کن برے حالوں پرپہنچائے گا۔مسلمانوں کو مشرك بنانا ہنسی کھیل سمجھاہے۔
حدیث ۲۰۲:کہ فرماتے ہیں صلی الله تعالی علیہ وسلم:
لو لم ابعث فیکم لبعث عمر اید الله عمر بملکین یوفقانہ ویسدد انہ فاذا اخطأصرفاہ حتی یکون صوابا۔الدیلمی عن ابی بکرن الصدیق وابی ھریرۃ رضی الله تعالی عنہما۔ اگر نبی میں تم میں مبعوث نہ ہوتا توبیشك عمر نبی کر کے بھیجا جاتا۔الله عزوجل نے دو فرشتوں سے عمر کی تائید فرمائی ہے کہ وہ دونوں عمر کو توفیق دیتے اورہر امر مین اسے ٹھیك راہ پر رکھتے ہین اگر عمر کی رائے لغزش کرتی ہے تو فرشتے عمر کو ادھر سے پھیر دیتے ہیں تاکہ عمر سے حق ہی صادر ہو(دیلمی نے ابو بکرصدیق اورابوہریرہ رضی الله تعالی عنہما سے روایت کیا۔ت)
حوالہ / References القرآن الکریم ۳۵ /۳
القرآن الکریم ۱۹ /۱۹
الفردوس بمأثور الخطاب حدیث ۵۱۲۷دارالکتب العلمیہ بیروت ۳/۳۷۲،کنزالعمال حدیث ۳۲۷۶۱مؤسسۃ بیروت ۱۱/۵۸۱
#19039 · (رسالہ ضمنی)منیۃ اللبیب ان التشریح بید الحبیب ۱۳۱۱ھ (عقلمند کا مقصد کہ بے شك احکام شرع حبیب الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے اختیار میں ہیں)
حدیث ۲۰۳:سیدنا عبدالله بن مسعود رضی الله تعالی عنہ فرماتے ہیں:بیشك عمر(رضی الله تعالی عنہ)کا اسلام عزت تھا اور ان کی ہجرت فتح ونصرت اوران کی خلافت میں رحمت۔خدا کی قسم گردکعبہ علانیہ نماز نہ پڑھنے پائے جب تك عمر اسلام نہ لائے۔جب وہ مسلمان ہوئے کافروں سے قتال کیا یہاں تکہ کہ ہم نے علانیہ گردکعبہ نماز ادا کی۔وانی لاحسب بین عینی عمر ملکا یسددہ اور بیشك میں سمجھتا ہوں کہ عمر کی دونوں آنکھوں کے درمیان ایك فرشتہ ہےکہ انہیں راستی ودرستی دیتاہے اورمیں سمجھتاہوں کہ عمر سے شیطان ڈرتاہے اورجب نیك بندوں کا ذکر ہوتو عمر کا ذکر لاؤ۔
ابن عساکر رضی الله تعالی عنہ وقدمر بعضہ اواخر الباب الاول بتخریج اخر غیر محدود۔ (اس کو ابن عساکر رضی الله تعالی عنہ نے روایت کیااوراس کا بعض حصہ دوسری تخریج کے ساتھ باب اول کے آخر میں گزرگیا ہے۔ت)
حدیث۲۰۴:کہ فرماتے ہیں صلی الله تعالی علیہ وسلم:
اذا جلس القاضی فی مجلسہ ھبط علیہ ملکان یسدد انہ ویوفقانہ ویرشد انہ مالم یجرفاذا جار عرجا و ترکاہ۔البیہقی عن ابن عباس رضی الله تعالی عنہما۔ جب قاضی مجلس حکم میں بیٹھتا ہے اس پر دو فرشتے اترتے ہیں کہ وہ اسے راستی دیتے توفیق بخشتے سیدھی راہ چلاتے ہیں جب تك حق سے میل نہ کرلے جہاں اس نے میل کیا فرشتوں نے اسے چھوڑا اوراڑگئے۔(بیہقی نے ابن عباس رضی الله تعالی عنہما سے روایت کیا۔ت)
حدیث ۲۰۵:کہ فرماتے ہیں صلی الله تعالی علیہ وسلم:جو مسلمان کسی مسلمان کا دل خوش کرتاہے الله عزوجل اس خوشی سے ایك فرشتہ پیدا
حوالہ / References تاریخ دمشق الکبیر ترجمہ ۵۳۰۲عمر بن خطاب رضی الله تعالٰی عنہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۴۷/۶۷،کنزالعمال حدیث ۳۵۸۶۹ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۲/۵۹۹
کنز العمال عن ابن عباس حدیث ۱۵۰۱۵ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۶/۹۹،السنن الکبرٰی للبیہقی آداب القاضی باب فضل من ابتلی بشئی الخ دارصادر بیروت ۱۰/۸۸
#19040 · (رسالہ ضمنی)منیۃ اللبیب ان التشریح بید الحبیب ۱۳۱۱ھ (عقلمند کا مقصد کہ بے شك احکام شرع حبیب الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے اختیار میں ہیں)
کرتاہے کہ الله تعالی کی تمجید وتوحید کرتاہے جب وہ مسلمان اپنی قبر میں جاتاہے اس کے پاس آکر کہتاہے کیا مجھے نہیں پہچانتا وہ مسلمان پوچھتا ہے تو کون ہے کہتا ہے میں وہ خوشی ہوں جو تو نے فلاں مسلمان کے دل میں داخل کی تھی انا الیوم اونس وحشتك والقنك حجتك واثبتك بالقول الثالث واشھد ك مشاھدك یوم القیمۃ واریك منزلك من الجنۃ۔آج میں تیرا جی بہلاکر تیری وحشت دورکروں گامیں تجھے تیری حجت سکھاؤں گامیں تجھے نکیرین کے جواب میں حق بات پر ثبات دوں گا میں تجھے محشر کی بارگاہ میں لے جاؤں گامیں تیرے رب کے حضور تیری شفاعت کروں گامیں تجھے جنت میں تیرا مکان دکھاؤں گا۔
ابن ابی الدنیا فی قضاء الحوائج وابو الشیخ فی الثواب عن الامام جعفر ن الصادق عن ابیہ عن جدہ رضی الله تعالی عنہم وکرم وجوھھم۔ اس کو ابن ابی الدنیا نے قضاء الحوائج میں اورابوالشیخ نے ثواب میں امام جعفر سادق سےانہوں نے اپنے باپ سےانہوں نے اپنے دادا سے روایت کیا ہےالله تعالی ان سے راضی ہوا اوران کے چہروں کو مکرم بنایا۔(ت)
حدیث۲۰۶:کہ فرماتے ہیں صلی الله تعالی علیہ وسلم:بیشك میں کتاب الله میں ایك سورت تیس آیتوں کی پاتاہوں جو اسے سوتے وقت پڑھے الله عزوجل اس کے لئے تیس نیکیاں لکھے اوراس کے تیس گناہ محو فرمائے اوراس کے تیس درجے بلند کرے
وبعث الله الیہ ملکا من الملئکۃ لیبسط علیہ جناحہ و یحفظہ من کل سوء حتی یستیقظ وھی المجادلۃ تجادل عن صاحبھا فی القبر وھی تبارك الذی سورۃ الملك الله عزوجل اس کی طرف ایك فرشتہ بھیجے کہ اپنا بازو اس پر کشاہ رکھے جب تك سوکر اٹھے وہ فرشتہ اسے ہر برائی سے محفوظ رکھے وہ سورت مجادلہ ہے اپنے قاری کی طرف سے اس کی قبر میں جھگڑے گی وہ تبارك الذہ سورہ ملك ہے۔
حوالہ / References موسوعۃ رسائل ابن ابی الدنیا قضاء الحوائج حدیث ۱۱۵ مؤسسۃ الکتب الثقافیہ بیروت ۲/۸۶،کنزالعمال بحوالہ ابن ابی الدنیا حدیث ۱۶۴۰۹ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۶/۴۳۱
#19041 · (رسالہ ضمنی)منیۃ اللبیب ان التشریح بید الحبیب ۱۳۱۱ھ (عقلمند کا مقصد کہ بے شك احکام شرع حبیب الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے اختیار میں ہیں)
الدیلمی عن ابن عباس رضی الله تعالی عنہما۔ (دیلمی نے ابن عباس رضی الله تعالی عنہما سے روایت کیا۔ت)
حدیث ۲۰۷:کہ فرماتے ہیں صلی الله تعالی علیہ وسلم:
من حمی مؤمنا منافق یغتابہ بعث الله لہ ملکایحمی لحمہمن نا ر جھنم۔احمد وابوداود عن معاذ بن انس رضی الله تعالی عنہ۔ جب کوئی منافق کسی مسلمان کو پیٹھ پیچھے برا کہہ رہا ہو تو جو شخص اس منافق سے اس مسلمان کی حمایت کرے الله عزوجل اس کے لئے ایك فرشتہ بھیجےکہ آتش دوزخ سے اس کے گوشت کو بچائے(احمد وابو داود نے معاذ بن انس رضی الله تعالی عنہ سے روایت کیا۔ت)
حدیث ۲۰۸:کہ فرماتے ہیں صلی الله تعالی علیہ وسلم:
رأیت جعفرا یطیر ملکا فی الجنۃ تدمی تادمتاہ ورأیت زیدا دون ذلك فقلت ماکنت اظن ان زیادا دون جعفر فقال جبریل(علیہ الصلوۃ والتسلیم)ان زیدا بدون جعفر ولکنا فضلنا جعفر بقرابتہ منك میں نے جعفر طیار رضی الله تعالی عنہ کو ملاحظہ فرمایا کہ فرشتہ بن کر جنت میں اڑرہے ہیں اوران کے بازؤوں کے اگلے دونوں شہپروں سے خون رواں ہے اورزید بن حارثہ رضی الله تعالی عنہ کو میں نے ان سے کم مرتبہ پایا۔میں نے فرمایا مجھے گمان نہ تھا کہ زید کا مرتبہ جعفر سے کم ہوگا۔جبریل امین علیہ الصلوۃ والتسلیم نے عرض کی:زید جعفر سے کم نہیں مگر ہم نے جعفر کا مرتبہ زید سے بڑھا دیا ہے اس لئے کہ وہ حضور سے قرابت رکھتے ہیں۔
حوالہ / References الفردوس بمأثور الخطاب حدیث۱۷۹ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۱/۶۲و۶۳،کنزالعمال حدیث ۲۷۰۸ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱/۵۹۴
مسند احمد بن حنبل حدیث معاذ بن انس الجہنی المکتب الاسلامی بیروت ۳/۴۴۱،سنن ابی داود کتاب الادب باب الرجل یذب عن عرض اخیہ آفتاب عالم پریس لاہور ۲/۳۱۳
#19042 · (رسالہ ضمنی)منیۃ اللبیب ان التشریح بید الحبیب ۱۳۱۱ھ (عقلمند کا مقصد کہ بے شك احکام شرع حبیب الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے اختیار میں ہیں)
ابن سعد عن محمد بن عمروبن علی مرسلا۔ (ابن سعد نے محمد بن عمرو بن علی سے مرسلا روایت کیا۔ت)
حدیث ۲۰۹:طلحہ بن عبیدالله احد العشرۃ المبشرۃ رضی الله تعالی عنہم فرماتے ہیں:روز احدمیں نے رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم کو کندھیاں لے کر ایك چٹان پر بٹھادیا کہ مشرکین سے آڑہوگئیسید عالم صلی الله تعالی علیہ وسلم نے اپنے پس پشت دس مبارك سے ارشاد فرمایا:
ھذا جبریل یخبرنی انہ لایراك یوم القیمۃ فی ھول الا انقذك منہ۔ابن عساکر رضی الله تعالی عنہ۔ یہ جبریل مجھے خبر دے رہے ہیں کہ اے طلحہ!وہ روز قیامت تمہیں جس کسی دہشت میں دیکھیں گے اس سے تمہیں چھڑا دیں گے۔(ابن عساکر رضی الله تعالی عنہ نے روایت کیا۔ت)
حدیث ۲۱۰:جب امیر المومنین فاروق اعظم رضی الله تعالی عنہ کو ابو لولومجوسی خبیث نے خنجر مارا اورامیر المؤمنین نے مشورے کا حکم دیا(کہ میرے بعد عثمان غنی وعلی مرتضی وطلحہ وزبیر وعبدالرحمن بن عوف وسعد بن ابی وقاص رضی الله تعالی عنہم چھ صاحبوں سے مسلمان جسے مناسب تر جانیں خلیفہ بنائیں)حضرت ام المومنین حفصہ رضی الله تعالی عنہا خدمت امیر المومنین میں آئیں اورکہا:اے باپ میرے !بعض لوگ کہتے ہیں یہ چھ شخص پسندیدہ نہیں۔امیر المومنین نے فرمایا:مجھے تکیہ لگا کر بٹھا دو۔بٹھائے گئےارشاد فرمایا:''علی اپنا ہاتھ میرے ہاتھ میں لا تو روز قیامت میرے ساتھ میرے درجےمیں ہوگا۔ بھلا عثمان کی شان میں کیا کہہ سکتے ہیںمیں نے رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم کو فرماتے سنا جس دن عثمان انتقال کرے گا آسمان کے فرشتے اس پر نماز پڑھیں گے۔میں نے عرض کی:یارسول الله !یہ فضیلت خاص عثمان کے لئے ہے یا ہر مسلمان
حوالہ / References الطبقات الکبرٰی لابن سعد ذکر جعفر بن ابی طالب دار صادر بیروت ۴/۳۸،کنز العمال حدیث ۳۳۲۱۳مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۱/۶۶۵
کنز العمال حدیث ۳۶۶۰۶مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۳/۲۰۲،تاریخ دمشق الکبیر ترجمہ ۳۰۶۴طلحہ بن عبیدالله داراحیاء التراث العربی بیروت ۲۷/۵۰
#19043 · (رسالہ ضمنی)منیۃ اللبیب ان التشریح بید الحبیب ۱۳۱۱ھ (عقلمند کا مقصد کہ بے شك احکام شرع حبیب الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے اختیار میں ہیں)
کے لئے۔فرمایا:خاص عثمان کے لئے۔طلحہ بن عبید الله کو کیا کہیں گےایك رات رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم کا کجاوا پشت مرکب سے گرگیا تھا میں نے حضور اقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم کو فرماتے سنا کون ہے کہ میرا کجاوا ٹھیك کردے اور جنت لے لے۔یہ سنتے ہی طلحہ دوڑے اورکجاوا درست کردیاحضور پر نورصلی الله تعالی علیہ وسلم سوار ہوئے اوران سے ارشاد فرمایا:یا طلحۃ ھذا جبریل یقرئك السلام ویقول انا معك فی اھوال یوم القیمۃ حتی انجیك منھا۔اے طلحہ! یہ جبریل ہیں تجھے سلام کہتے اور بیان کرتے ہیں کہ میں قیامت کے ہولوں میں تمہارے ساتھ رہوں گا یہاں تك کہ ان سے تمہیں نجات دوں گا۔زبیر بن عوام کو کیا کہیں گےمیں نے رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم کو دیکھا کہ حضور آرام فرماتے تھے زبیر بیٹھے پنکھا جھلتے رہے یہاں تك کہ محبوب رب العالمین صلی الله تعالی علیہ وسلم بیدار ہوئےفرمایا:اے ابو عبدالله !(زبیر رضی الله تعالی عنہ کی کنیت ہے)کیا جب سے توجھل رہا ہےعرض کی:میرے ماں باپ حضور پر نثار جب سے برابر جھل رہاہوں۔سید عالم صلی الله تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:ھذا جبریل یقرئك السلام ویقول انا معك یوم القیمۃ حتی ادب عن وجھك شرر جھنم۔یہ جبریل ہیں تجھے سلام کہتے ہیں اوربیان کرتے ہیں کہ میں روز قیامت تمہارے ساتھ رہوں گا یہاں تك کہ تمہارے چہرے سے جہنم کی اڑتی ہوئی چنگاریاں دور کروں گا۔سعد بن ابی وقاص کو کیا کہیں گےمیں نے روز بدردیکھا سید عالم صلی الله تعالی علیہ وسلم نے چودہ بار ان کی کمان چلہ باندھ کر انہین عطا کی اورفرمایا تیر مارتیرے قربان میرے ماں باپ۔عبدالرحمن بن عوف کو کیا کہیں گےمیں نے رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم کو دیکھا حضور حضرت خاتون جنت رضی الله تعالی عنہا کے یہاں تشریف فرماتھے دونوں صاحبزادے رضی الله تعالی عنہما بھوکے روتے بلکتے تھےسید المرسلمین صلی الله تعالی علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ کون ہےکہ کچھ ہماری خدمت میں حاضر کرےاس پر عبدالرحمن بن عوف حیس(کہ خرمائے خستہ برآوردہ اور پنیر کو باریك کوٹ کر گھی میں گوندھتے ہیں)اور دو روٹیاں کہ ان کے بیچ میں روغن رکھا تھا لے کر حاضرہوئےرحمت دوعالم صلی الله تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:کفاك الله امردنیاك واما امراخرتك فانا لھا ضامن۔الله تعالی تیرے دنیا کے کام درست کردے اور تیری آخرت کے معاملہ کا تو میں ذمہ دار ہوں۔"معاذ بن المثنی فی زیادات مسند مسدد والطبرانی فی
حوالہ / References کنزالعمال بحوالہ معاذ بن المثنٰی حدیث ۳۶۷۳۶مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۳/۴۷۔۲۴۶
#19044 · (رسالہ ضمنی)منیۃ اللبیب ان التشریح بید الحبیب ۱۳۱۱ھ (عقلمند کا مقصد کہ بے شك احکام شرع حبیب الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے اختیار میں ہیں)
الاوسط وابو نعیم فی فضائل الصحابۃ وابوبکر ان الشافعی فی الغیلانیات وابوالحسن بن بشر ان فی فوائد ہ والخطیب فی التلخیص المتشابہ وابن عساکر فی تاریخ دمشق والدیلمی فی مسند الفردوس عن عبدالله بن عمر رضی الله تعالی عنہما۔امام جلیل جلال الدین سیوطی جمع الجوامع میں فرماتے ہیں:سندہ صحیح ۔اس حدیث کی سند صحیح ہے۔
تکملہ کاملہ:وصل اول کی طرف پھر عود کرنا والعود احمد
اعدذکر والینا لنا ان ذکرہ ھوالمسك ماکررتہ یتضوع
(ہمارے والی کا ذکر ہمارے لئے پھر لوٹا ؤ کہ بیشك ان کا ذکر ایسی کستوری ہے جسے جتنا رگڑ ووہ خوشبو دیتی ہے۔ت)
باز ہوائے چمنم آرزو ست جلوہ سرودسمنم آرزوست
(پھر مجھے چمن کی ہوا کی خواہش ہے جنبیلی کے نغمے کے جلوے کی خواہش ہے۔ت)
پھر اٹھا ولولئہ یادبیابان حر م پھر کھنچا دامن دل سوائے مغیلان حرم
الله اس حدیث صحیح کے پچھلے جملے نے پھر وصل اول احادیث متعلقہ محبوب اجمل صلی الله تعالی علیہ وسلم کی آتش شوق سینے میں بھڑکا دیکتا اپنے پیارے آقا مہربان مولی کا دروازہ چھوڑ کر کہاں جائےہر پھر کروہیں کا وہیں رہا چاہے بلکہ والله یہ کتا اپنے پیارے کریم کا دراطہر سے ہٹا ہی نہیںانبیاء کے دروازے پر جائے تو انہیں کا گھرہےاولیاء کے یہاں آئے تو انہین کا درہےملائکہ کی منزلوں پر گزرے تو انہیں کا نگر ہے ع
کوئی اوران کے سوا کہاں وہ اگر نہیں تو جہاں نہیں
یك چراغ ست دریں خانہ کہ از پرتوآں ہرکجا در نگری انجمنے ساختہ اند
(اس گھرے میں ایك چراغ ہے جس کی روشنی سے جہاں دیکھو ایك انجمن بنائے ہوئے ہیں۔ت)
آسمان کواں زمیں خوان زمانہ مہمان صاحب خانہ لقب کس کا ہے تیر اتیرا
بندہ ات غیر ت بردکے بردرغیرت رود دررودچوں بنگر دہم شاہ آں ایواں توئی
(تیرا غیرتمند غلام درغیر پر کیسے جاسکتاہےاوراگر جائے تو دیکھے گا کہ اس ایوان کا بادشاہ بھی تو ہی ہے۔ت)
حدیث۲۱۱:نزال بن سبرہ فرماتے ہیں ایك دن ہم نے امیر المومین مولی علی کرم الله تعالی وجہہ الکریم
حوالہ / References کنزالعمال تحت حدیث ۳۶۷۳۶مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۳/۲۴۶و ۲۴۷
#19045 · (رسالہ ضمنی)منیۃ اللبیب ان التشریح بید الحبیب ۱۳۱۱ھ (عقلمند کا مقصد کہ بے شك احکام شرع حبیب الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے اختیار میں ہیں)
کو خو ش دل پایاعرض کی:یا امیر المومنین !اپنے یاروں کا حال ہم سے بیان کیجئے۔فرمایارسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم کے سب صحابہ میرے یار ہیں۔ہم نے عرض کی:اپنے خاص یاروں کاتذکرہ کیجئے۔فرمایا:رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم کا کوئی صحابی نہیں کہ میرا یار نہ ہو۔ہم نے عرض کی:ابو بکر صدیق کا حال بیان کیجئے۔فرمایا:یہ وہ صاحب ہیں کہ الله عزوجل نے جبریل امین ومحمدرسول الله صلی الله تعالی علیہما وسلم کی زبان پر ان کا نام صدیق رکھاوہ رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم کے خلیفہ تھےرسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم نے انہیں ہمارے دین کی امامت کو پسند فرمایا تو ہم نے اپنی دنیا میں بھی انہیں کو پسند کیا۔ہم نے عرض کی:عمر بن خطاب کا حال بیان فرمائیے۔فرمایا:یہ وہ صاحب ہیں جن کا نام الله عزوجل کے فاروق رکھاانہوں نے حق کو باطل سے جدا کردیامیں نے رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم کو عرض کرتے سنا کہ الہی !عمر بن خطاب کے سبب اسلام کی عزت دے۔ہم نے عرض کی:عثمان کا حال کہئے۔فرمایاذلك امرء تدعی فی الملاء الا علی ذالنورین کان ختن رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم ابنتیہ ضمن لہ فی الجنۃ یہ وہ صاحب ہیں کہ ملاء اعلی وبزم بالا میں ذی النورین پکارے جاتے ہیںسید عالم صلی الله تعالی علیہ وسلم کی دوشاہزادیوں کے شوہر ہوئےسروراکرم صلی الله تعالی علیہ وسلم نے ان کےلئے جنت میں ایك مکان کی ضمانت فرمائی ہے۔
خیثمۃ واللالکائی والعشاری فی فضائل الصدیق وابن عساکر عنہ عن علی کرم الله تعالی وجھہ وراہ عنہ ابو نعیم قال سألنا علیا عن عثمن رضی الله تعالی عنہما قال ذاك امروفذکرہ ۔ خیثمہلالکائی اورعشاری نے فضائل صدیق میں اورابن عساکر نے انہی سے بحوالہ حضرت علی مرتضی کرم الله تعالی وجہہ الکریم سے اسکوروایت کی اکہ ہم نے حضر ت علی سے حضرت عثمان کے بارے میں پوچھا رضی الله تعالی عنہما۔ حضرت علی رضی الله تعالی عنہ نے فرمایا کہ وہ ایسے عظیم شخص ہیںپھر پوری حدیث ذکر کی۔(ت)
حدیث ۲۱۲:کہ سید عالم صلی الله تعالی علیہ وسلم نے مکہ معظمہ میں کسی سے فرمایا کہ اپنا گھرے میرے ہاتھ بیچ ڈال کہ مسجد حرام میں زیادت فرماؤں اورتیرے لئے جنت میں مکان کا ضامن ہوں۔اس نے
حوالہ / References کنزالعمال بحوالہ خیثمہ واللالکائی والعشاری حدیث ۳۶۶۹۸ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۳/۲۳۱۔۲۳۲
معرفۃ الصحابہ لابی نعیم حدیث ۲۳۹مکتبۃ الحرمین ریاض ۱/۲۴۶
#19046 · (رسالہ ضمنی)منیۃ اللبیب ان التشریح بید الحبیب ۱۳۱۱ھ (عقلمند کا مقصد کہ بے شك احکام شرع حبیب الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے اختیار میں ہیں)
عذر کیا۔پھر فرمایا۔انکار کیا۔عثمان غنی رضی الله تعالی عنہ کو خبر ہوئییہ شخص زمانہ جاہلیت میں ان کا دوست تھا اس سے باصرار تمام دس ہزار اشرفی دے کر خریدلیاپھر حضور اقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم سے عرض کی کہ حضور !اب وہ گھر میرا ہے فھل انت اخذھا ببیت تضمن لی فی الجنۃ کیا حضور مجھ سے ایك مکان بہشت کے عوض لیتے ہیں جس کے حضورمیرے لئے ضامن ہوجائیں۔قال نعم فرمایا:ہاں۔فاخذھا منہ وضمن لہ بیتا فی الجنۃ واشھد لہ علی ذلك المومنین حضور نے ان سے وہ مکان لے کر جنت میں ان کے لئے ایك مکان کی ضمانت فرمائی اور مسلمانوں کو اس معاملہ پر گواہ کرلیا۔
احمد الحاکمی فی فضائل عثمان عن سالم بن عبد الله بن عمر رضی الله تعالی عنہم۔ احمد حاکمی نے حضرت عثمان رضی الله تعالی عنہ کے فضائل میں سالم بن عبدالله بن عمر رضی الله تعالی عنہم سے روایت کیا۔(ت)
حدیث ۲۱۳:کہ جب مہاجرین مکہ معظمہ سے ہجرت فرما کر مدینہ طیبہ میں آئے یہاں کا پانی پسند نہ آیا شور تھابنی غفار سے ایك شخص کی ملك میں ایك شیریں چشمہ مسمی بہ رومہ تھا وہ اس کی ایك مشك نیم صاع کو بیچتےسید عالم صلی الله تعالی علیہ وسلم نے ان سے فرمایا:بعنیہا بعین فی الجنۃ یہ چشمہ میرے ہاتھ ایك چشمہ بہشت کے عوض بیچ ڈال۔عرض کی:یارسول الله! میری اورمیرے بچوں کی معاش اسی میں ہے مجھ میں طاقت نہیں۔یہ خبر عثمان غنی رضی الله تعالی عنہ کو پہنچی وہ چشمہ مالك سے پینتیس۳۵ ہزار روپے کو خریدلیاپھر خدمت اقدس حضور سید عالم صلی الله تعالی علیہ وسلم میں حاضر ہوکر عرض کی: یارسول الله اتجعل لی مثل الذی جعلت لہ عینا فی الجنۃ اشتریتھا یارسول الله !کیا جس طرح حضور اس شخص کو چشمہ بہشتی عطا فرماتے تھے اگر میں یہ چشمہ اس سے خرید لوں تو حضو رمجھے عطافرمائیں گے قال نعم فرمایا:ہاں۔عرض کی: میں نے بئر رومہ خرید لیا اورمسلمانوں پر وقف کردیا۔الطبرانی فی الکبیر وابن عساکر عن بشیر رضی الله تعالی
حوالہ / References الریاض النضرۃ بحوالہ الحاکمی الباب الثالث دارالمعرفۃ بیروت ۳/۲۰و۲۱
المعجم الکبیر عن بشیر اسلمی حدیث ۱۲۲۶المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۲/۴۱و۴۲،تاریخ دمشق الکبیر ترجمہ ۴۷۱۵عثمان بن عفان رضی الله عنہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۴۱/۴۹،کنز العمال بحوالہ طب کر حدیث ۳۶۱۸۳مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۳/۳۵و۳۶
#19047 · (رسالہ ضمنی)منیۃ اللبیب ان التشریح بید الحبیب ۱۳۱۱ھ (عقلمند کا مقصد کہ بے شك احکام شرع حبیب الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے اختیار میں ہیں)
عنہ(طبرانی نے کبیر میں اورابن عساکر نے بشیر رضی الله تعالی عنہ سے روایت کیا۔ت)
حدیث ۲۱۴:ابوہریرہ رضی الله تعالی عنہ فرماتے ہیں:
اشتری عثمان بن عفان من رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم الجنۃ مرتین یوم رومۃ ویوم جیش العسرۃ۔الحاکم وابن عدی وعساکر عنہ رضی الله تعالی عنہ۔ عثمان رضی الله تعالی عنہ نے دوبار نبی صلی الله تعالی علیہ وسلم سے جنت خرید لی بئر رومہ کے دن اورلشکر کی تنگدستی کے روز۔(حاکم اورابن عدی اورابن عساکر نے ابو ہریرہ رضی الله تعالی عنہ سے روایت کیا۔ت)
حدیث ۲۱۵:کہ حضور مالك جنت صلی الله تعالی علیہ وسلم نے حضرت طلحہ رضی الله تعالی عنہ سے فرمایا:
لك الجنۃ علی یا طلحۃ غدا۔ابو نعیم فی فضائل الصحابۃ عن امیر المومنین رضی الله تعالی عنہ۔ کل تمہارے لئے جنت میرے ذمہ ہے(ابو نعیم نے فضائل صحابہ میں امیر المومنین رضی الله تعالی عنہ سے روایت کیا۔ت)
حدیث ۲۱۶:صحیح بخاری شریف میں سہل بن سعد ساعدی رضی الله تعالی عنہ سے ہے رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من یضمن لی مابین لحییہ وما بین رجلیہ اضمن لہ الجنۃ ۔ جو میرے لئے اپنی زبان اورشرمگاہ کا ضامن ہوجائے(کہ ان سے میری نافرمانی نہ کرے)میں اس کے لئے جنت کا ضامن ہوں۔
حوالہ / References المستدرك للحاکم کتاب معرفۃ الصحابۃ اشترٰی عثمان الجنۃ مرتین دارالفکر بیروت ۳/۱۰۷،تاریخ دمشق الکبیر ترجمہ ۴۷۱۵ عثمان بن عفان داراحیاء التراث العربی بیروت ۴۱/۴۹،الکامل لابن عدی ترجمہ بکر بن بکار دارالفکر بیروت ۲/۴۶۴
کنزالعمال بھوالہ ابی نعیم حدیث ۳۳۳۶۵مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۱/۶۵۹
صحیح البخاری کتاب الرقا ق باب حفظ اللسان قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/۹۵۸و۹۵۹،السنن الکبرٰی للبیہقی کتاب قتال اھل البغی باب ماعلی الرجل من حفظ اللسان الخ دارصادر بیروت ۸/۱۶۶
#19048 · (رسالہ ضمنی)منیۃ اللبیب ان التشریح بید الحبیب ۱۳۱۱ھ (عقلمند کا مقصد کہ بے شك احکام شرع حبیب الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے اختیار میں ہیں)
امام الوہابیہ علیہ ماعلیہ اپنے مقر کو پہنچااب یہ حدیثیں کسے دکھائیں کہ اوبے بصر بدزبان! تیرے نزدیك تو ''وہ کسی چیز کے مختار نہیںان کو کسی نوع کی قدرت نہیںکسی کام میں نہ بالفعل ان کو دخل ہے نہ اس کی طاقت رکھتے ہیں اپنی جان تك کے نفع ونقصان کے مالك نہیں دوسرے کا تو کیا کرسکیںالله کے یہاں کا معاملہ انکے اختیار سے باہر ہےوہاں کسی کی حمایت نہیں کرسکتے کسی کے وکیل نہیں بن سکتے ۔''
ان حدیثوں کو سوجھ کو وہ بتملیك الہی عزوجل جنت کے مالککارکانہ الہی کے مختار ہیںضمانتیں فرماتے ہیںاپنے ذمے لیتے ہیںعطا فرماتے ہیںبیع کردیتے ہیںہر عاقل جانتاہے کہ بیع وہی کرے گا جو خود مالك ہویا مالك کی طرف سے ماذون ومختار ورنہ فضولی ہے جس کا قصد فضول اورعقد بیکار۔
الحمدلله اہل حق کے نزدیك نبی صلی الله تعالی علیہ وسلم کو نفاذ تصرف کی دونوں وجہیں حاصلحقیقت عطائیہ لیجئے تو وہ ضرور مالك جنانبلکہ مالك جہان ہیں۔اورذاتیہ لیجئے تو مالك حقیقی کے ماذون مطلق ونائب کامل ہاں گمراہ بددین وہ جو دونوں شقیں باطل جانے اورالله کے حبیب صلی الله تعالی علیہ وسلم کو معاذ الله فضولی محض مانے"و سیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون ﴿۲۲۷﴾
" ۔(اب جانا چاہتے ہیں ظالم کہ کس کروٹ پر پلٹا کھائیں گے۔ت)
حدیث ۲۱۷:کہ فرماتے ہیں صلی الله تعالی علیہ وسلم:
من بکر یوم السبت فی طلب حاجۃ فانا ضامن بقضائھا۔ابو نعیم عن جابر بن عبدالله رضی الله تعالی عنہ۔ جو شنبے کے دن تڑکے کسی حاجت کی تلاش کو جائے میں ا سکی حاجت روائی کا ذمہ دار ہوں۔(ابو نعیم نے جابر بن عبدالله رضی الله تعالی عنہما سے روایت کیا۔ت)
حضرت سید نظام الحق والدین محبو ب الہی سلطان الاولیاء قدست اسرارہم کی نسبت لوگ کہتے ہیں:
"بعد جمعہ جو کیجئے کام اس کے ضامن شیخ نظام"۔
حوالہ / References تقویۃ الایمان الفصل الثالث مطبع علیمی اندرون لوہاری دروازہ لاہور ص ۱۹تا۲۵
القرآن الکریم ۲۶ /۲۲۷
کنزالعمال بحوالہ ابو نعیم عن جابر حدیث ۱۶۸۱۲مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۶/۵۲۰
#19049 · (رسالہ ضمنی)منیۃ اللبیب ان التشریح بید الحبیب ۱۳۱۱ھ (عقلمند کا مقصد کہ بے شك احکام شرع حبیب الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے اختیار میں ہیں)
وہابی اسے شرك کہتے ہیںوہی حکم اس حدیث پر لازم۔
حدیث ۲۱۸:حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی الله تعالی عنہ قبل بعثت حضور پرنور سید عالم صلی الله تعالی علیہ وسلم یمن کو تاجرانہ جاتے تھے ایك پیر مرد عسکلان بن عواکر کے یہاں قیام فرماتےوہ ان سے مکہ معظمہ کا حال پوچھتے تم میں کوئی مشہو ربلند چرچے والا پیداہواکسی نے تم پر تمہارے دین میں خلاف کیا یہ انکار کرتےجب بعد بعثت اقدس گئے پیر مرد نے کہا:میں تمہیں وہ بشارت دیتاہوں کہ کہ تمارے لئے تجارت سے بہتر ہےالله تعالی نے تمہاری قوم سے نبی برگزیدہ مبعوث فرمایاان پراپنی کتاب اتاریوہ اصنام سے روکتے اوراسلام کی طرف بلاتے ہیںحق کا حکم دیتے اور اس کے فاعل ہیںباطل سے منع کرتے اوراس کے مبطل ہیںوہ ہاشمی ہیں۔اور تم اے عبدالرحمن ان کے ماموں !جلد پلٹو اوران کی خدمت وتصدیق کرواوریہ اشعار میری طرف سے انکی بارگاہ والا میں پہنچاؤچند اشعار دربارہ تصدیق رسالت واظہار شوق وعذر پیرانہ سالی واستعانت سرکار عالی صلوات الله وسلامہ علیہ کہے ازاں جملہ یہ دو۲شعر
اذا نای بالدیار بعد فانت حرزی ومستراجی
فکن شفیعی الی ملیك یدعوا البرایا الی الفلاحی
جبہ کہ شہروں کو دوری فاصلہ نے بعید کردیاتو حضور میری پناہ اورمیری راحت ملنے کی جگہ ہیں۔توحضور میری شفیع ہوں اس بادشاہ کے یہاں جو مخلوق کو نجات کی طرف بلاتاہے۔
عبدالرحمن رضی الله تعالی عنہ نے واپس آکر یہ حال صدیق اکبر رضی الله تعالی عنہ سے گزارش کیاانہوں نے فرمایا یہ محمد بن عبدالله ہیں جنہیں الله عزوجل نے اپنی تمام مخلوق کی طرف رسول کیا صلی الله تعالی علیہ وسلمتم ان کے حضور حاضرہویہ حاضر ہوئےحضور اقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم نے انہیں دیکھ کر تبسم فرمایا اور ارشاد ہوا:مین ایك سزا وار چہرہ دیکھتاہوں جس کے لئے خیر کی امدی ہے کہو کیا خبر ہے انہوں نے عرض کی:کیسی فرمایا:پیام بھیجنے والے نے جو پیام ہمارے حضور بھیجا ہے وہ امانت ادا کروسنتے ہو اولاد حمیر خواص مومنین سے ہیں۔عبدالرحمن رضی الله تعالی عنہ سنتے ہی مسلما ن ہوئےپھروہ اشعار حضور میں عرض کئے۔سید عالم صلی الله تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:
رب مومن بی ولم یرنی ومصدق یعنی مجھ پر بعض ایمان لانے والے(ایسے ہیں)
#19050 · (رسالہ ضمنی)منیۃ اللبیب ان التشریح بید الحبیب ۱۳۱۱ھ (عقلمند کا مقصد کہ بے شك احکام شرع حبیب الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے اختیار میں ہیں)
بی وماشھدنی اولئك اخوانی ۔ جنہوں نے مجھ کو دیکھانہیں اوربعض لوگ میری تصدیق کرنے والے(ایسے ہیں)جن کو میرے پا س حضور ی حاصل نہ ہوسکییہ لوگ میرے بھائی ہیں۔(کلمہ اخوت کو ان کے اعزاز کے لئے تواضعا فرمایا)
و صلی الله تعالی علی خیر خلقہ محمد والہ وصحبہ اجمعینامین !
عبدہ المذنب احمد رضا البریلوی
کتبـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ
عفی عنہ بمحمدن المصطفی النبی الامی صلی الله تعالی علیہ وسلم
رسالہ
الامن والعلی لنا عتی المصطفی بدافع البلاء
ختم ہوا
__________________
حوالہ / References کنزالعمال بحوالہ کر حدیث ۳۶۶۹۰ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۳/۲۲۷ تا ۲۲۹
#19051 · رسالہ منبہ المنیۃ بوصول الحبیب الی العرش و الرّؤیۃ ۱۳۲۰ھ (محبوب خدا صلی الله علیہ وسلم کی عرش تك رسائی اوردیدار الٰہی کےبارےمیں مطلوب سےخبردار کرنیوالا)
رسالہ
منبہ المنیۃ بوصول الحبیب الی العرش و الرؤیۃ ۱۳۲۰ھ
(محبوب خدا صلی الله علیہ وسلم کی عرش تك رسائی اوردیدار الہی کےبارےمیں مطلوب سےخبردار کرنیوالا)

بسم الله الرحمن الرحیم ط
مسئلہ ۳۶:کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ شب معراج نبی صلی الله تعالی علیہ وسلم کا اپنے رب کو دیکھنا کس حدیث سے ثابت ہے بینواتوجروا(بیان فرمائےے اوراجر دیے جاؤ گے۔ت)
الجواب:
الاحادیث المرفوعہ(مرفوع حدیثیں)
امام احمد اپنی مسند میں حضرت عبدالله بن عباس رضی الله تعالی عنہما سے راوی:
قال قال رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم رأیت ربی عزوجل ۔ یعنی رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں میں نے اپنے رب عزوجل کو دیکھا۔
حوالہ / References مسند احمد بن حنبل عن عبدالله بن عباس رضی الله عنہما المکتب الاسلامی بیروت ۱/۲۸۵
#19052 · رسالہ منبہ المنیۃ بوصول الحبیب الی العرش و الرّؤیۃ ۱۳۲۰ھ (محبوب خدا صلی الله علیہ وسلم کی عرش تك رسائی اوردیدار الٰہی کےبارےمیں مطلوب سےخبردار کرنیوالا)
امام جلال الدین سیوطی خصائص کبری اورعلامہ عبدالرؤ ماوی تیسیرشرح جامع صغیر میں فرماتے ہیں:یہ حدیث بسند صحیح ہے ۔
ابن عساکر حضرت جابربن عبدالله رضی الله تعالی عنہما سے راویحضور سیدالمرسلین صلی الله تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لان الله اعطی موسی الکلام واعطانی الرؤیۃ لوجہہ و فضلنی بالمقام المحمود والحوض المورود ۔ بیشك الله تعالی نے موسی کو دولت کلام بخشی اورمجھے اپنا دیدار عطافرمایا مجھ کو شفاعت کبری وحوض کوثر سے فضیلت بخشی۔
وہی محدث حضرت عبدالله بن مسعود رضی الله تعالی عنہ سے راوی:
قال قال رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم قال لی ربی نخلت ابرھیم خلتی وکلمت موسی تکلیما واعطیتك یا محمد کفاحا ۔
فی مجمع البحار کفاحا ای مواجھۃ لیس بینھما حجاب ولارسول ۔ یعنی رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں مجھے میرے رب عزوجل نے فرمایا میں نے ابراہیم کو اپنی دوستی دی اورموسی سے کلام فرمایا اورتمہیں اے محمد!مواجہ بخشا کہ بے پردہ وحجاب تم نے میرا جمال پاك دیکھا۔
مجمع البحار میں ہے کہ کفاح کا معنی بالمشافہ دیدار ہے جبکہ درمیان میں کوئی پردہ اورقاصد نہ ہو۔(ت)
ابن مردویہ حضرت اسماء بنت ابی بکر صدیق رضی الله تعالی عنہما سے راوی:
سمعت رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم وھو یصف سدرۃ المنتہی(وذکر الحدیث الی ان قالت) قلت یارسول الله یعنی میں نے سنا رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم سدر المنتہی کا وصف بیان فرماتے تھے میں نے عرض کی یارسول الله !حضو ر نے اس کے
حوالہ / References التیسیر شرح الجامع الصغیر تحت حدیث رأیت ربی مکتبۃ الامام الشافعی ریاض ۲/۲۵،الخصائص الکبرٰی حدیث ابن عباس رضی الله عنہما مرکز اہلسنت برکات رضا گجرات ہند ۱/۱۶۱
کنزالعمال بحوالہ ابن عساکر عن جابر حدیث ۳۹۲۰۶مؤسسۃ الرسالۃ بیروت ۱۴/۴۴۷
تاریخ دمشق الکبیر باب ذکر عروجہ الی السماء واجتماعہ بجماعۃ من الانبیاء داراحیاء التراث العربی بیروت ۳/۲۹۶
مجمع بحار الانوار باب کف ع تحت اللفظ کفح مکتبہ دارالایمان مدینہ منورہ ۴/۴۲۴
#19053 · رسالہ منبہ المنیۃ بوصول الحبیب الی العرش و الرّؤیۃ ۱۳۲۰ھ (محبوب خدا صلی الله علیہ وسلم کی عرش تك رسائی اوردیدار الٰہی کےبارےمیں مطلوب سےخبردار کرنیوالا)
مارأیت عندھا قال رأیتہ عندھا یعنی ربہ ۔ پاس کیا دیکھا فرمایا:مجھے اس کے پاس دیدار ہوایعنی رب کا۔
اثار الصحابہ
ترمذی شریف میں حضرت عبدالله بن عباس رضی الله تعالی عنہما سے مروی:
اما نحن بنوھا شام فنقول ان محمدا رای ربہ مرتین ۔ ہم بنی ہاشم اہلبیت رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم تو فرماتے ہیں کہ بیشك محمد صلی الله تعالی علیہ وسلم نے اپنے رب کو دوبار دیکھا۔
ابن اسحق عبدالله بن ابی سلمہ سے راوی:
ان ابن عمر ارسل الی ابن عباس یسألہ ھل رای محمد صلی الله تعالی علیہ وسلم ربہفقال نعم ۔ یعنی حضرت عبدالله بن عمر رضی الله تعالی عنہما نے حضرت عبدالله بن عباس رضی الله تعالی عنہما سے دریافت کرابھیجا: کیا محمد صلی الله تعالی علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا ا نہوں نے جواب دیا:ہاں۔
جامع ترمذی ومعجم طبرانی میں عکرمہ سے مروی:
واللفظ للطبرانی عن ابن عباس قال نظر محمد الی ربہ قال عکرمۃ فقلت لابن عباس نظر محمد الی ربہ قال نعم جعل الکلام لموسی والخلۃ لابرھیم والنظر لمحمد صلی الله یعنی طبرانی کے الفاظ ہیں کہ حضرت عبدالله بن عباس رضی الله تعالی عنہما نے فرمایا:محمد صلی الله تعالی علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا۔عکرمہ ان کے شاگردکہتے ہیں:میں نے عرض کی:کیا محمد صلی الله تعالی علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا فرمایا:ہاں الله تعالی نے موسی کے لئے
حوالہ / References الدرالمنثور فی التفسیر بالماثور بحوالہ ابن مردویہ تحت آیۃ ۱۷/۱ داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/۱۹۴
جامع الترمذی ابو اب التفسیر سورہ نجم امین کمپنی اردو بازا ر دہلی ۲/۱۶۱،الشفاء بتعریف حقوق المصطفٰی فصل وامارؤیۃ لربہ المطبعۃ الشرکۃ الصحافیۃ فی البلاد العثمانیہ ۱/۱۵۹
الدرالمنثور بحوالہ ابن اسحٰق تحت آیۃ ۵۳/۱۸ داراحیاء التراث العربی بیروت ۷/۵۷۰
#19054 · رسالہ منبہ المنیۃ بوصول الحبیب الی العرش و الرّؤیۃ ۱۳۲۰ھ (محبوب خدا صلی الله علیہ وسلم کی عرش تك رسائی اوردیدار الٰہی کےبارےمیں مطلوب سےخبردار کرنیوالا)
تعالی علیہ وسلم (زاد الترمذی)فقد رای ربہ مرتین ۔ کلام رکھا اورابراہیم کے لئے دوستی اورمحمد صلی الله تعالی علیہ وسلم کے لئے دیدار۔(اورامام ترمذی نے یہ زیادہ کیا کہ) بیشك محمد صلی الله تعالی علیہ وسلم نے الله تعالی کو دوبار دیکھا۔
امام ترمذی فرماتے ہیں:یہ حدیث حسن ہے۔امام نسائی اورامام خزینہ وحاکم وبیہقی کی روایت میں ہے:
واللفظ للبیہقی أتعجبون ان تکون الخلۃ لابراھیم و الکلام لموسی والرؤیۃ لمحمد صلی الله تعالی علیہ و سلم۔ کیاابراہیم کے لئے دوستی اورموسی کے لئے کلام اورمحمد صلی الله تعالی علیہ وسلم کے لئے دیدار ہونے میں تمہیں کچھ اچنبا ہے۔یہ الفاظ بیہقی کے ہیں۔
حاکم نے کہا:یہ حدیث صحیح ہے۔امام قسطلانی وزرقانی نے فرمایا:اس کی سند جید ہے ۔طبرانی معجم اوسط میں راوی:
عن عبدالله بن عباس انہ کان یقول ان محمدا صلی الله تعالی علیہ وسلم رای ربہ مرتین مرۃ ببصرہ ومرۃ بفوادہ ۔ یعنی حضرت ابن عباس رضی الله تعالی عنہما فرمایا کرتے بیشك محمد صلی الله تعالی علیہ وسلم نے دوبار اپنے رب کو دیکھا ایك بار اس آنکھ سے اورایك بار دل کی آنکھ سے۔
حوالہ / References المعجم الاوسط حدیث ۹۳۹۲مکتبۃ المعارف ریاض ۱۰/۱۸۱
جامع الترمذی ابواب التفسیر سورۃ نجم امین کمپنی اردوبازار دہلی ۲/۱۶۰
المواھب اللدنیۃ بحوالہ النسائی والحاکم المقصد الخامس المکتب الاسلامی بیروت ۳/۱۰۴،الدرالمنثور بحوالہ النسائی والحاکم تحت الآیۃ ۵۳/۱۸ داراحیاء التراث العربی بیروت ۷/۵۶۹،المستدرك علی الصحیحین کتاب الایمان راٰی محمد صلی الله تعالٰی علیہ وسلم ربہ دارالفکر بیروت ۱/۶۵،السنن الکبری للنسائی حدیث ۱۱۵۳۹دارالکتب العلمیۃ بیروت ۶/۴۷۲
شرح الزرقانی علی المواھب اللدنیہ المقصد الخامس دارالمعرفۃ بیروت ۶/۱۱۷
المواھب اللدنیۃ بحوالہ الطبرانی فی الاوسط المقصد الخامس المکتب الاسلامی بیروت ۳/۱۰۵،المعجم الاوسط حدیث ۵۷۵۷مکتبۃ المعارف ریاض ۶/۳۵۶
#19055 · رسالہ منبہ المنیۃ بوصول الحبیب الی العرش و الرّؤیۃ ۱۳۲۰ھ (محبوب خدا صلی الله علیہ وسلم کی عرش تك رسائی اوردیدار الٰہی کےبارےمیں مطلوب سےخبردار کرنیوالا)
امام سیوطی وامام قسطلانی وعلامہ شامی علامہ زرقانی فرماتے ہیں:اس حدیث کی سند صحیح ہے ۔
امام الائمہ ابن خزیمہ وامام بزار حضرت انس بن مالك رضی الله تعالی عنہ سے راوی:
ان محمدا صلی الله تعالی علیہ وسلم رای ربہ عزوجل ۔ بیشك محمد صلی الله تعالی علیہ وسلم نے اپنے رب عزوجل کو دیکھا۔
امام احمد قسطلانی وعبدالباقی زرقانی فرماتے ہیں:اس کی سند قوی ہے ۔محمد بن اسحق کی حدیث میں ہے:
ان مروان سأل ابا ھریرۃ رضی الله تعالی عنہ ھل رای محمد صلی الله تعالی علیہ وسلم ربہ فقال نعم ۔ یعنی مروان نے حضرت ابو ہریرہ رضی الله تعالی عنہ سے پوچھا: کیا محمد صلی الله تعالی علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھافرمایا: ہاں
اخبار التابعین
مصنف عبدالرزاق میں ہے:
عن معمر عن الحسن البصری انہ کان یحلف بالله لقد را ی محمد صلی الله تعالی علیہ وسلم ۔ یعنی امام حسن بصری رحمۃ الله تعالی علیہ قسم کھاکر فرمایا کرتے بیشك محمد صلی الله تعالی علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا۔
اسی طرح امام ابن خزیمہ حضرت عروہ بن زیبر سے کہ حضور اقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم کے پھوپھی زاد
حوالہ / References المواھب اللدنیۃ المقصد الخامس المکتب الاسلامی بیروت ۳/۱۰۵،شرح الزرقانی علی المواھب اللدنیہ المقصد الخامس دارالمعرفہ بیروت ۶/۱۱۷
المواھب اللدنیۃ بحوالہ ابن خزیمہ المقصد الخامس المکتب الاسلامی بیروت ۳/۱۰۵
المواھب اللدنیۃ بحوالہ ابن خزیمہ المقصد الخامس المکتب الاسلامی بیروت ۳/۱۰۵،شرح الزرقانی علی المواھب اللدنیہ المقصد الخامس دارالمعرفہ بیروت ۶/۱۱۸
شرح الزرقانی علی المواھب اللدنیۃ بحوالہ ابن اسحٰق دارالمعرفہ بیروت ۶/۱۱۶،الشفاء بتعریف حقوق المصطفٰی بحوالہ ابن اسحٰق فصل وما رؤیۃ لربہ المطبعۃ الشرکۃ الصحافیۃ فی البلاد العثمانیہ ۱/۱۵۹
الشفاء بتعریف حقوق المصطفٰی بحوالہ عبدالرزاق عن معمر عن الحسن البصری فصل واما رویۃ لربہ المطبعۃ الشرکۃ الصحافیۃ فی البلاد العثمانیہ ۱/۱۵۹
#19056 · رسالہ منبہ المنیۃ بوصول الحبیب الی العرش و الرّؤیۃ ۱۳۲۰ھ (محبوب خدا صلی الله علیہ وسلم کی عرش تك رسائی اوردیدار الٰہی کےبارےمیں مطلوب سےخبردار کرنیوالا)
بھائی کے بیٹے اورصدیق اکبر رضی الله تعالی عنہ کے نواسے ہیں راوی کہ وہ نبی صلی الله تعالی علیہ وسلم کو شب معراج دیدار الہی ہونا مانتے:وانہ یشتد علیہ انکارھا اھ ملتقطا۔اوران پر اس کا انکار سخت گراں گزرتا۔
یوں ہی کعب احبار عالم کتب سابقہ وامام ابن شہاب زہری قرشی وامام مجاہد مخزومی مکی وامام عکرمہ بن عبدالله مدنہ ہاشمی وامام عطا بن رباح قرشی مکی۔استاد امام ابو حنیفہ وامام مسلم بن صبیح ابوالضحی کو فی وغیرہم جمیع تلامذہ عالم قرآن حبر الامہ عبدالله بن عباس رضی الله تعالی عنہم کا بھی یہی مذہب ہے۔امام قسطلانی مواہب لدنیہ میں فرماتے ہیں:
اخرج ابن خزیمۃ عن عروہ بن الزبیر اثباتھا وبہ قال سائر اصحاب ابن عباس وجزم بہ کعب الاحبار والزھری الخ۔ ابن خزیمہ نے عروہ بن زبیر رضی الله تعالی عنہاسے اس کا اثبات روایت کیاہے۔ابن عباس رضی الله تعالی عنہما کے تمام شاگردوں کا یہی قول ہے۔کعب احبار اورزہری نے اس پر جزم فرمایا ہے۔الخ۔(ت)
اقوال من بعدھم من ائمۃ الدین
امام خلال کتاب السن میں اسحق بن مروزی سے راویحضرت امام احمد بن حنبل رحمہ الله تعالی رؤیت کو ثابت مانتے اوراس کی دلیل فرماتے:
قول النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم رأیت ربی اھ مختصرا۔ نبی صلی الله تعالی علیہ وسلم کا ارشاد ہے میں نے اپنے رب کو دیکھا۔
نقاش اپنی تفسیر میں اس امام سند الانام رحمہ الله تعالی سے راوی:
انہ قال اقول بحدیث ابن عباس بعینہ رای ربہ راہ راہ راہ حتی انقطع نفسہ ۔ یعنی انہوں نے فرمایا میں حدیث ابن عباس رضی الله تعالی عنہما کا معتقد ہوں نبی صلی الله تعالی علیہ وسلم نے اپنے رب کو اسی آنکھ سے دیکھا دیکھا دکھایہاں تك فرماتے رہے کہ سانس ٹوٹ گئی۔
حوالہ / References شرح الزرقانی علی المواھب اللدنیۃ بحوالہ ابن خزیمہ المقصد الخامس دارالمعرفۃ بیروت ۱/۱۱۶
المواھب اللدنیۃ المقصد الخامس المکتب الاسلامی بیروت ۳/۱۰۴
المواھب اللدنیۃ بحوالہ الخلال فی کتاب السن المقصد الخامس المتکب الاسلامی بیروت ۳/۱۰۷
الشفاء بتعریف حقوق المصطفٰی بحوالہ النقاش عن احمد وامام رؤیۃ لربہ المکتبۃ الشرکۃ الصحافیۃ ۱/۱۵۹
#19058 · رسالہ منبہ المنیۃ بوصول الحبیب الی العرش و الرّؤیۃ ۱۳۲۰ھ (محبوب خدا صلی الله علیہ وسلم کی عرش تك رسائی اوردیدار الٰہی کےبارےمیں مطلوب سےخبردار کرنیوالا)
امام ابن الخطیب مصری مواہب شریف میں فرماتے ہیں:
جزم بہ معمر واخرون وھوقول الاشعری وغالب اتباعہ ۔ یعنی امام معمر بن راشد بصری اوران کے سوا اورعلماء نے اس پر جزم کیااوریہی مذہب ہے امام اہلسنت امام ابوالحسن اشعری اوران کے غالب پیروؤں کا۔
علامہ شہاب خفاجی نسیم الریاض شرح شفائے امام قاضی عیاض میں فرماتے ہیں:
الاصح الراجح انہ صلی الله تعالی علیہ وسلم رای ربہ بعین راسہ حین اسری بہ کما ذھب الیہ اکثر الصحابۃ ۔ مذہب اصح وراجح یہی ہے کہ نبی صلی الله تعالی علیہ وسلم نے شب اسرا اپنے رب کو بچشم سردیکھا جیسا کہ جمہور صحابہئ کرام کا یہی مذہب ہے۔
امام نووی شرح صحیح مسلم میں پھر علامہ محمدبن عبدالباقی شرح مواہب میں فرماتے ہیں:
الراجح عند اکثر العلماء انہ طرای ربہ بعین راسہ لیلۃ المعراج ۔ جمہور علماء کے نزدیك راجح یہی ہے کہ نبی صلی الله تعالی علیہ وسلم نے شب معراج اپنے رب کو اپنے سر کی آنکھوں سے دیکھا۔
ائمہ متاخرین کے جدا جدااقوال کی حاجت نہیں کہ وہ حد شمار سے خارج ہیں اورلفظ اکثر العلماء کہ منہاج میں فرمایا کافی ومعنی۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ۳۷: از کانپور محلہ بنگالی محل مرسلہ حدم علی خاں وکاطم حسین ۱۱محرم الحرام ۱۳۲۰ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہمارے نبی صلی الله تعالی علیہ وسلم کا شب معراج مبارك عرش عظیم تك تشریف لے جانا علمائے کرام وائمہ اعلام نے تحریر فرمایا ہے یا نہیں زید کہتاہے یہ محض جھوٹ ہےاس کا یہ کہنا کیسا ہے بینوا توجروا (بیان فرماؤ اجردئے جاؤ گے۔ت)
الجواب:
بیشك علمائے کرام ائمہ دین عدول ثقات معتمدین نے اپنی تصانیف جلیلہ میں اس کی اور اس سے
حوالہ / References المواھب اللدنیہ المقصد الخامس المکتب الاسلامی بیروت ۳/۱۰۴
نسیم الریاض شرح شفاء القاضی عیاض فصل واما رؤیۃ لربہ مرکز اہلسنت برکات رضا گجرات ہند ۲/۳۰۳
شرح الزرقانی علی المواھب اللدنیۃ المقصد الخامس دارالمعرفۃ بیروت ۶/۱۱۶
#19060 · رسالہ منبہ المنیۃ بوصول الحبیب الی العرش و الرّؤیۃ ۱۳۲۰ھ (محبوب خدا صلی الله علیہ وسلم کی عرش تك رسائی اوردیدار الٰہی کےبارےمیں مطلوب سےخبردار کرنیوالا)
زائد کی تصریحات جلیلہ فرمائی ہیںاوریہ سب احادیث ہیںاگرچہ احادیث مرسل یا ایك اصطلاح پر معضل ہیںاورحدیث مرسل ومعضل باب فضائل میں بالاجماع مقبول ہے خصوصا جبکہ ناقلین ثقات عدول ہیں اوریہ امر ایسا نہیں جس میں رائے کو دخل ہوتو ضرور ثبوت سند پر محمولاورمثبت نافی پر مقدماورعدم اطلاع اطلاع عدم نہیں تو جھوٹ کہنے والا محض جھوٹا مجازف فی الدین ہے۔
امام اجل سید ی محمد بوصیری قدس سرہقصیدہ بردہ شریف میں فرماتے ہیں:ع
سریت من حرم لیلا الی حرم کما سری البدر فی داج من الظلم
وبت ترقی الی ان نلت منزلۃ من قاب قوسین لم تدرك ولم ترم
خفضت کل مقام بالاضافۃ اذ نودیت بالرفع مثل المفرد العلم
فخرت کل فخار غیر مشترك وجزت کل مقام غیر مزدحم
یعنی یارسول الله !حضور رات کے ایك تھوڑے سے حصے میں حرم مکہ معظمہ سے بیت الاقصی کی طرف تشریف فرماہوئے جیسے اندھیری رات میں چودھویں کا چاند چلےاورحضور اس شب میں ترقی فرماتے رہے یہاں تك کہ قاب قوسین کی منزل پہنچے جو نہ کسی نے پائی نہ کسی کو اس کی ہمت ہوئی۔حضور نے اپنی نسبت سے تمام مقامات کو پست فرمادیاجب حضور رفع کے لئے مفرد علم کی طرح ندافرمائے گئے حضور نے ہر ایسا فخر جمع فرمالیا جو قابل شرکت نہ تھا اور حضور ہر اس مقام سے گزرگئے جس میں اوروں کا ہجوم نہ تھا یا یہ کہ حضور نے سب فخر بلا شرکت جمع فرمالئے اورحضور تمام مقامات سے بے مزاحم گزرگئے۔یعنی عالم امکان میں جتنے مقام ہیں حضور سب سے تنہا گزر گئے کہ دوسرے کو یہ امر نصیب نہ ہوا۔
علامہ علی قاری اس کی شرح میں فرماتے ہیں:
ای انت دخلت الباب وقطعت الحجاب الی ان لم تترك غایۃ للساع الی السبق من کمال القرب المطلق الی جناب الحق ولا ترکت موضع رقی وصعود وقیام وقعود لطالب رفعۃ فی عالم الوجود یعنی حجور دروازہ میں داخل ہوئے اورآپنے یہاں تك حجاب طے فرمائے کہ حضر ت عزت کی جناب میں قرب مطلق کامل کے سبب کسی ایسے کے لئے جو سبقت کی طرف دوڑے کوئی نہایت نہ چھوڑی اورتما م عالم وجود میں کسی طالب بندلی کے لئے کوئی جگہ عروج وترقی یا اٹھنے بیٹھنے
حوالہ / References الکواکب الدریۃ فی مدح خیر البریۃ(قصیدہ بردہ)الفصل السابع مرکز اہلسنت گجرات ہند ص۴۴تا۴۶
#19063 · رسالہ منبہ المنیۃ بوصول الحبیب الی العرش و الرّؤیۃ ۱۳۲۰ھ (محبوب خدا صلی الله علیہ وسلم کی عرش تك رسائی اوردیدار الٰہی کےبارےمیں مطلوب سےخبردار کرنیوالا)
بل تجاوزت ذلك الی مقام قاب قوسین اوادنی فاوحی الیك ربك ما اوحی ۔ کی باقی نہ رکھی بلکہ حضور عالم مکان سے تجاوز فرما کر مقام قاب وقوسین اوادنی تك پہنچے تو حضور کے رب نے حضور کو وحی فرمائی جو وحی فرمائی۔
نیز امام ہمام ابو عبدالله شرف الدین محمد قدس سرہام القری میں فرماتے ہیں:
وترقی بہ الی قاب قوسین وتلك السیادۃ القعسا
رتب تسقط الاما فی حسری دونھا ماوراھن وراء
حضور کو قاب قوسین تك ترقی ہوئی اوریہ سرداری لازوال ہے یہ وہ مقامات ہیں کہ آرزوئیں ان سے تھك کرگرجاتی ہیں ان کے اس طرف کوئی مقام ہی نہیں۔
امام ابن حجر مکی قدس سرہ الملکی اس کی شرح افضل القری میں فرماتے ہیں:
قال بعض الائمۃ والماریج لیلۃ الاسراء عشرۃسبعۃ فی السموت والثامن الی سدرۃ المنتھی والتاسع الی المستوی والعاشر الی العرش الخ۔ بعض ائمہ نے فرمایا شب اسراء دس معراجیں تھیںسات ساتوں آسمانوں میںاورآٹھویں سدرۃ المنتہینویں مستوی دسویں عرش تک۔
سید علامہ عارف بالله عبدالغنی نابلسی قدس سرہ القدسی نے حدیقہ ندیہ شرح طریقہ محمدیہ میں اسے نقل فرما کر مقرر رکھا:
قال الشھاب المکی فی شرح ھمزیۃ لامام بوصیری عن بعض الائمۃ ان المعاریج عشرۃ الی قولہ والعاشر الی العرش والرؤیۃ ۔ فرمایاامام شہاب مکی نے شرح ہمزیہ امام بوصیرہ میں کہا بعض آئمہ سے منقول ہے کہ معراجین دس ہیں دسویں عرش ودیدار تک۔
نیز شرح ہمزیہ امام مکی میں ہے:
لما اعطی سلیمن علیہ الصلوۃ والسلام جب سلیمان علیہ الصلوۃ والسلام کو ہوادی گئی
حوالہ / References الزبدۃ العمدۃ فی شرح القصیدۃ البردۃ الفصل السابع جمعیت علماء سکندریہ خیر پور سندھ ص۹۶
ام القرٰی فی مدح خیر الورٰی الفصل الرابع حز ب القادریۃ لاہور ص۱۳
افضل القرٰی لقراء ام القری تحت شعر۷۳ المجعم الثقافی ابو ظبی ۱/۴۰۴
الحدیقۃ الندیہ شرح الطریقۃ المحمدیہ بحوالہ شرح قصیدہ ہمزیہ المکتبۃ النوریۃ الرضویہ لائلپور ۱/۲۷۲
#19065 · رسالہ منبہ المنیۃ بوصول الحبیب الی العرش و الرّؤیۃ ۱۳۲۰ھ (محبوب خدا صلی الله علیہ وسلم کی عرش تك رسائی اوردیدار الٰہی کےبارےمیں مطلوب سےخبردار کرنیوالا)
الریح التی غدوھا شھر ورواحھا شھر اعطی نبینا صلی الله تعالی علیہ وسلم البراق فحملہ من الفرش الی العرش فی لحظۃ واحدۃ واقل مسافۃ فی ذلك سبعۃ الاف سنۃ۔وما فوق العرش الی المستوی والرفرف لایعلمہ الا الله تعالی ۔ کہ صبح شام ایك ایك مہینے کی راہ پر لے جاتی۔ہمارے نبی صلی الله تعالی علیہ وسلم کو براق عطا ہوا کہ حضور کو فرش سے عرش تك ایك لمحہ میں لے گیا اوراس مین ادنی مسافت(یعنی آسمان ہفتم سے زمین تک)سات ہزار برس کی راہ ہے۔اوروہ جو فوق العرش سے مستوی اورفرف تك رہی اسے توخدا ہی جانے۔
اسی میں ہے:
لما اعطی موسی علیہ الصلوۃ والسلام الکلام اعطی نبینا صلی الله تعالی علیہ وسلم مثلہ لیلۃ الاسراء و زیادۃ الدنو و الرویۃ بعین البصر وشتان مابین جبل الطور الذی نوجی بہ موسی علیہ الصلوۃ و السلام موما فوق العرش الذی نوجی بہ نبینا صلی الله تعالی علیہ وسلم ۔ جب موسی علیہ الصلوۃ والسلام کو دولت کلام عطاہوئی ہمارے نبی صلی الله تعالی علیہ وسلم کو ویسی ہی شب اسراملی اورزیادت قرب اورچشم سر سے دیدارالہی اس کے علاوہ۔اوربھلاکہاں کو ہ طور جس پر موسی علیہ الصلوۃ والسلام سے مناجات ہوئی اور کہاں مافوق العرش جہاںہمارے نبی صلی الله تعالی علیہ وسلم سے کلام ہوا۔
اسی میں ہے:
رقیہ صلی الله تعالی علیہ وسلم ببدنہ یقظۃ بمکۃ لیلۃ ولاسراء الی السماء ثم الی سدرۃ المنتھی ثم الی المستوی الی العرش والرفرف والرویۃ ۔ نبی صلی الله تعالی علیہ وسلم نے اپنے جسم پاك کے ساتھ بیداری میں شب اسراآسمانوں تك ترقی فرمائیپھر سدرۃ المنتہیپھر مقام مستویپھر عرش ورفرف ودیدار تک۔
علامہ احمد بن محمد صاوی مالکی خلویت رحمۃ الله تعالی تعلیقات افضل القری میں فرماتے ہیں:
الاسراء بہ صلی الله تعالی علیہ وسلم نبی صلی الله تعالی علیہ وسلم کو معراج بیداری
حوالہ / References افضل القرٰی لقرء ام القرٰی
افضل القرٰی لقرء ام القرٰی
افضل القرٰی لقراء ام القرٰی تحت شعرا ۱المجمع الثقافی ابوظبی ۱/۱۱۶و۱۱۷
#19067 · رسالہ منبہ المنیۃ بوصول الحبیب الی العرش و الرّؤیۃ ۱۳۲۰ھ (محبوب خدا صلی الله علیہ وسلم کی عرش تك رسائی اوردیدار الٰہی کےبارےمیں مطلوب سےخبردار کرنیوالا)
علی یقظۃ بالجسد والروح من المسجد الحرام الی المسجد الاقصی ثم عرج بہ الی السموت العلی ثم الی سدرۃ المنتہی ثم الی المستوی ثم الی العرش والرفرف ۔ میں بدن وروح کے ساتھ مسجد حرام سے مسجد اقصی تك ہوئی پھر آسمانوںپھر سدرہپھر مستویپھرعرش ورفرف تک۔
فتوحات احمدیہ شرح الہمزیہ للشیخ سلیمان الجمل میں ہے:
رقیہ صلی الله تعالی علیہ وسلم لیلۃ الاسراء من بیت المقدس الی السموت السبع الی حیث شاء الله تعالی لکنہ لم یجاوز العرش علی الراجح ۔ حضور سید عالم صلی الله تعالی علیہ وسلم کی ترقی شب اسراء بیت المقدس سے ساتوں آسمانوں اوروہاں سے اس مقام تك ہے جہاں تك الله عزوجل نے چاہا مگر راجح یہ ہے کہ عرش سے آگے تجاوز نہ فرمایا۔
اسی میں ہے:
المعاریج لیلۃ الاسراء عشرۃ سبعۃ فی السموت و الثامن الی سدرۃ المنتھی والتاسع الی المستوی و العاشر الی العرش لکن لم یجاوز العرش کما ھو التحقیق عند اھل المعاریج ۔ معراجیں شب اسراء دس ہوئیںسات آسمانوں میںاور آٹھویں سدرہنویں مستویدسویں عرش تک۔مگر راویان معراج کے نزدیك تحقیق یہ ہے کہ عرش سے اوپر تجاو ز نہ فرمایا۔
اسی میں ہے:
بعد ان جاوز السماء السابعۃ رفعت لہ سدرۃ المنتھی ثم جاو زھا الی مستوی ثم زج بہ فی النور فخرق سبعین الف حجاب من نور مسیرۃ جب حضور صلی الله تعالی علیہ وسلم آسمان ہفتم سے گزرے سدرہ حضور کے سامنے بلند کی گئی اس سے گزر کر مقام مستوی پر پہنچےپھر حضور عالم نور میں ڈالے گئے وہاں ستر ہزار پردے نور کے
حوالہ / References تعلیقات علی ام القرٰی للعلامۃ احمد بن محمد الصاوی علی ھامش الفتوحات الاحمدیۃ المکتبۃ التجاریۃ الکبری مصرص۳
الفتوحات الاحمدیۃ بالمنح المحمدیۃ شرح الھمزیۃ المکتبۃ التجاریۃ الکبرٰی قاہرہ مصر ص۳
الفتوحات الاحمدیۃ بالمنح المحدیۃ شرح الھمزیۃ المکتبۃ التجاریۃ الکبرٰی قاہرہ مصرص۳۰
#19069 · رسالہ منبہ المنیۃ بوصول الحبیب الی العرش و الرّؤیۃ ۱۳۲۰ھ (محبوب خدا صلی الله علیہ وسلم کی عرش تك رسائی اوردیدار الٰہی کےبارےمیں مطلوب سےخبردار کرنیوالا)
کل حجاب خمسائۃ عام ثم دلی لہ رفرف اخضر فارتقی بہ حتی وصل الی العرش ولم یجاوزہ فکان من ربہ قاب قوسین او ادنی ۔ طے فرمائےہر پردے کی مسافت پانسو برس کی راہ۔پھر ایك سبز بچھونا حضور کے لئے لٹکایا گیاحضور اقدس اس پر ترقی فرماکر عرش تك پہنچےاورعرش سے ادھر گزر نہ فرمایا وہاں اپنے رب سے قاب قوسین اوادنی پایا۔
اقول:(میں کہتاہوں۔ت)شیخ سلیمن نے عرش سے اوپر تجاوز نہ فرمانے کوترجیح دیاورامام ابن حجر مکی وغیرہ کی عبارت ماضیہ وآتیہ وغیرہا میں فوق العرش ولامکان کی تصریح ہےلامکان یقینا فوق العرش ہے اورحقیقۃ دونوں قولوں میں کچھ اختلاف نہیںعرش تك منتہائے مکان ہےاس سے آگے لامکان ہےاورجسم نہ ہوگا مگر مکان میںتو حضور اقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم جسم مبارك سے منتہائے عرش تك تشریف لے گئے اورروح اقدس نے وراء الوراء تك ترقی فرمائی جسے ان کا رب جانے جو لے گیاپھر وہ جانیں جو تشریف لے گئےاسی طرف کلام امام شیخ اکبر رضی الله تعالی عنہ میں اشارہ عنقریب آتاہے کہ ان پاؤں سے سیر کا منتہی عرش ہےتو سیر قدم عرش پر ختم ہوئینہ اس لئے کہ سیر اقدس میں معاذالله کوئی کمی رہیبلکہ اس لئے کہ تمام اماکن کا احاطہ فرمالیااوپرکوئی مکان ہی نہیں جسے کہئے کہ قدم پاك وہاں نہ پہنچا اوسیر قلب انور کی انتہاء قاب قوسیناگر وسوسہ گزرے کہ عرش سے وراء کیا ہوگا کہ حضور نے اس سے تجاوز فرمایاتو امام اجل سید علی وفا رضی الله تعالی عنہ کا ارشاد سنئے جسے امام عبدالوہاب شعرانی نے کتاب الیواقیت والجواہر فی عقائد الاکابر میں نقل فرمایا کہ فرماتے ہیں:
لیس الرجل من یقیدہ العرش وما حواہ من الافلاك والجنۃ والنار وانما الرجل من نفذ بصرہ الی خارج ھذا الوجود کلہ وھناك یعرف قدرعظمۃ موجدہ سبحنہ وتعالی ۔ مرد وہ نہیں جسے عرش اورجو کچھ اس کے احاطہ میں ہے افلاك وجنت ونار یہی چیزیں محدود ومقید کرلیںمرد وہ ہے جس کی نگاہ اس تمام عالم کے پار گزر جائے وہاں اسے موجد عالم جل جلالہ کی عظمت کی قدر کھلے گی۔
امام علامہ احمد قسطلانی مواہب لدنیہ ومنح محمدیہ میں اور علامہ محمد زرقانی اس کی شرح میں
حوالہ / References الفتوحات الاحمدیۃ بالمنح المحدیۃ شرح الھمزیۃ المکتبۃ التجاریۃ الکبرٰی قاہرہ مصرص۳۱
الیواقیت والجواہر المبحث الرابع والثلاثوں داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/۳۷۰
#19071 · رسالہ منبہ المنیۃ بوصول الحبیب الی العرش و الرّؤیۃ ۱۳۲۰ھ (محبوب خدا صلی الله علیہ وسلم کی عرش تك رسائی اوردیدار الٰہی کےبارےمیں مطلوب سےخبردار کرنیوالا)
فرماتے ہیں:
(ومنہا انہ رای الله تعالی بعینیہ)یقظۃ علی الراجح (وکلمہ الله تعالی فی الرفیع الا علی)علی سائر الامکنۃ و قدروی ابن عساکر عن انس رضی الله تعالی عنہ مرفوعا لما اسری لی قربنی ربی حتی کان بینی وبینہ قاب قوسین اوادنی ۔ نبی صلی الله تعالی علیہ وسلم کے خصائص سے ہے کہ حضور نے الله عزوجل کو اپنی آنکھوں سے بیداری میں دیکھایہی مذہب راجح ہےاورالله عزوجل نے حضور سے اس بلند وبالا تر مقام میں کلام فرمایا جو تمام امکنہ سے اعلی تھا اوربیشك ابن عساکر نے انس رضی الله تعالی عنہ سے روایت کی کہ رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:شب اسراء مجھے میرے رب نے اتنا نزدیك کیا کہ مجھ میں اوراس میں دوکمانوں بلکہ اس سے کم کا فاصلہ رہ گیا۔
اسی میں ہے:
قد اختلف العلماء فی الاسراء ھل ھوا اسراء واحد او اثنین مرۃ بروحہ وبدنہ یقظۃ ومرۃ مناما او یقظۃ بروحہ وجسدہ من المسجدالحرام الی المسجد الاقصی ثم منا ما من المسجدالاقصی الی العرش ۔ فالحق انہ اسراء واحد بروحہ وجسدہ یقظۃ فی القصۃ کلھا والی ھذا ذھب الجمہور من علماء المحدثین و الفقہاء والمتکلمین ۔ علماء کو اختلاف ہوا کہ معراج ایك ہے یا دوایك بار روح و بدن اقدس کے ساتھ بیداری میں اورایك بارخواب میں یا بیداری میں روح وبدن مبارك کے ساتھ مسجد الحرام سے مسجد اقصی تکپھر خواب میں وہاں سے عرش تک۔ اورحق یہ ہے کہ وہ ایك اسراء ہے اورسارے قصے میں یعنی مسجد الحرام سے عرش اعلی تك بیداری میں روح وبدن اطہر ہی کے ساتھ ہے۔جمہور علماء ومحدثین وفقہاء ومتکلمین سب کا یہی مذہب ہے۔
حوالہ / References المواھب اللدنیۃ المقصد الرابع الفصل الثانی المکتب الاسلامی بیروت ۲/۶۳۴،شرح الزرقانی علی المواھب اللدنیہ المقصد الرابع الفصل الثانی دارالمعرفۃ بیروت ۵/۲۵۱و۲۵۲
المواھب اللدنیۃ المقصد الخامس المکتب الاسلامی بیروت ۳/۷
المواھب اللدنیۃ المقصد الخامس المکتب الاسلامی بیروت ۳/۷،المواھب اللدنیۃ المقصد الخامس المکتب الاسلامی بیروت ۳/۱۲
#19074 · رسالہ منبہ المنیۃ بوصول الحبیب الی العرش و الرّؤیۃ ۱۳۲۰ھ (محبوب خدا صلی الله علیہ وسلم کی عرش تك رسائی اوردیدار الٰہی کےبارےمیں مطلوب سےخبردار کرنیوالا)
اسی میں ہے:
المعاریج عشرۃ(الی قولہ)العاشر الی العرش ۔ معراجیں دس ہوئیںدسویں عرش تک۔
اسی میں ہے:
قدروردفی الصحیح عن انس رضی الله تعالی عنہ قال لما عرج بی جبریل الی سدرۃ المنتہی ودنا الجبار رب العزۃ فتدلی فکان قاب قوسین او ادنی وتدلیہ علی ما فی حدیث شریك کان فوق العرش ۔ صحیح بخاری شریف میں انس رضی الله تعالی عنہ سے ہے رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:میرے ساتھ جبریل نے سدرۃ المنتہی تك عروج کیا اور جبار رب العزۃ جل وعلانے دنو وتدلی فرمائی تو فاصلہ دو کمانوں بلکہ ان سے کم کا رہا یہ تدلی بالائے عرش تھیجیسا کہ حدیث شریك ہے۔
علامہ شہاب خفاجی نسیم الریاض شرح شفائے قاضی عیاض میں فرماتے ہیں:
وردفی المعراج انہ صلی الله تعالی علیہ وسلم لما بلغ سدرۃ المنتہی جاء ہ بالرفرف جبریل علیہ الصلوۃ والسلام فتناولہ فطاربہ الی العرش ۔ حدیث معراج میں وارد ہوا کہ جب حضو راقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم سدرۃ المنتہی پہنچے جبریل امین علیہ الصلوۃ والتسلیم رفرف حاضر لائے وہ حضو کر لے کر عرش تك اڑگیا۔
اسی میں ہے:
علیہ یدل صحیح الاحادیث الاحاد الدالۃ علی دخولہ صلی الله تعالی علیہ وسلم الجنۃ ووصولہ الی العرش او طرف صحیح احادیثیں دلالت کرتی ہیں کہ حضور اقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم شب اسراء جنت میں تشریف لے گئے اورعرش تك پہنچے یا علم کے
حوالہ / References المواھب اللدنیۃ المقصد الخامس مراحل المعراج المکتب الاسلامی بیروت ۳/۱۷
المواھب اللدنیۃ المقصد الخاس ثم دنٰی فتدلٰی المتکب الاسلامی بیروت ۳/۸۸
المواھب اللدنیۃ المقصد الخاس ثم دنٰی فتدلٰی المتکب الاسلامی بیروت ۳/۹۰
نسیم الریاض شرح شفاء القاضی عیاض فصل واماما ورد فی حدیث الاسراء مرکز اہلسنت گجرات ہند ۲/۳۱۰
#19076 · رسالہ منبہ المنیۃ بوصول الحبیب الی العرش و الرّؤیۃ ۱۳۲۰ھ (محبوب خدا صلی الله علیہ وسلم کی عرش تك رسائی اوردیدار الٰہی کےبارےمیں مطلوب سےخبردار کرنیوالا)
العالم کما سیأتی کل ذلك بجسدہ یقظہ ۔ اس کنارے تك کہ آگے لامکان ہے اوریہ سب بیداری میں مع جسم مبارك تھا۔
حضرت سید شیخ اکبرامام محی الدین ابن عربی رضی الله تعالی عنہ فتوحات مکیہ شریف باب ۳۱۶میں فرماتے ہیں:
اعلم ان رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم لما کان خلقہ القران وتخلق بالاسماء وکان الله سبحنہ وتعالی ذکر فی کتاب العزیز انہ تعلای استوی علی العرش علی طریق التمدح والثناء علی نفسہ اذ کان العرش اعظم الاجسام فجعل لنبیہ علیہ الصلوۃ والسلام من ھذا الاستواء نسبۃ علی طریق التمدح والثناء علیہ بہ حیث کان اعلی مقام ینتہی الیہ من اسری بہ من الرسل علیھم الصلوۃ و السلام وذلك یدل علی انہ اسری بہ صلی الله تعالی علیہ و سلم بجسمہ ولو کان الاسراء بہ رؤیا لما کان الاسراء ولا الوصلو الی ھذا المقام تمدحا ولا وقع من الاعرافی حقہ انکار علی ذلك ۔ تو جان لے کہ جب رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم کا خلق عظیم قرآن تھا اورحضور اسماء الہیہ کی خووخصلت رکھتے تھے اور الله سبحنہ وتعالی قرآن کریم میں اپنی صفات مدح سے عرش پر استواء بیان فرمایا تو اس نے اپنے حبیب صلی الله تعالی علیہ و سلم کو بھی اس سفت استواعلی العرش کے پر تو سے مدح و منقبت بخشی کہ عرش وہ اعلی مقام ہے جس تك رسولوں کا اسراء منتہی ہواوراس سے ثابت ہے کہ رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم کا اسراء مع جسم مبارك تھا کہ اگر خواب ہوتا تو اسرا اوراس مقام استواء علی العرش تك پہنچنا مدح نہ ہوتا نہ گنواراس پر انکار کرتے۔
امام علامہ عارف بالله سید ی عبدالوہاب شعرانی قدس سرہ الربانی کتاب الیواقیت والجواہر میں حضرت موصوف سے ناقل:
حوالہ / References نسیم الریاض فی شرح شفاء القاضی عیاض فصل ثم اختلف السلف والعلماء مرکز اہلسنت گجرات ہند ۲/۲۶۹،۲۷۰
الفتوحات المکیۃ الباب السادس داراحیاء التراث العربی بیروت ۳/۶۱
#19077 · رسالہ منبہ المنیۃ بوصول الحبیب الی العرش و الرّؤیۃ ۱۳۲۰ھ (محبوب خدا صلی الله علیہ وسلم کی عرش تك رسائی اوردیدار الٰہی کےبارےمیں مطلوب سےخبردار کرنیوالا)
انما قال صلی الله تعالی علیہ وسلم علی سبیل التمدح حتی ظھرت لمستوی اشارۃ لما قلنا من ان متھی السیر بالقدم المحسوس للعرش ۔ نبی صلی الله تعالی علیہ وسلم کا بطور مدح ارشاد فرمانا کہ یہاں تک کہ میں مستوی پر بلند ہوا اسی امر کی طرف اشارہ ہے کہ قدم جسم سے سیر کا منتہی عرش ہے۔
مدارج النبوۃ شریف میں ہے:
فرمود صلی الله تعالی علیہ وسلم پس گسترانیدہ شد برائے من رفرف سبز کہ غالب بود نور او پر نور نورآفتاب پس درخشید بآن نور بصر من ونہادہ شدم من برآں رفرف وبرداشتہ شدم تابرسید بعرش ۔ نبی کریم صلی الله تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:پھر میرے لئے سبز بچھونا بچھایا گیا جس کا نور آفتاب کے نور پر غالب تھا چنانچہ اس نور کے سبب میری آنکھوں کا نور چمك اٹھاپھر مجھے رفرف پر سوار کر کے بلندی کی طرف اٹھایا گیا یہاں تك کہ میں عرش پر پہنچا۔(ت)
اسی میں ہے:
آوردہ اند کہ چوں رسید آں حضرت صلی الله تعالی علیہ وسلم بعرش دست زد بدامان اجلال وے ۔ منقول ہے کہ جب آنحضرت صلی الله تعالی علیہ وسلم عرش پر پہنچے تو عرش آپ کا دامن اجلال تھام لیا۔(ت)
اشعۃ اللمعات شرح مشکوۃ شریف میں ہے:
جز حضرت پیغمبرما صلی الله تعالی علیہ وسلم بالاترازاں ہیچ کس نہ رفتہ وآنحضرت بجائے رفت کہ آنجاجانیست
برداشت از طبیعت امکاں قدم کہ آں
اسری بعبدہ است من المسجد الحرام ہمارے نبی اقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم کے علاوہ عرش سے اوپر کوئی نہیں گیاآپ اس جگہ پہنچے جہاں جگہ نہیں۔
طبیعت امکان سے قدم مبارك اٹھالئے کہ الله تعالی نے اپنے خاص بندے کو سیرکرائی مسجد حرام سے
حوالہ / References الیواقیت والجواھر المبحث الرابع والثلاثون داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/۳۷۰
مدارج النبوۃ باب پنجم وصل دررؤیت الٰہی مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر۱/۱۶۹
مدارج النبوۃ باب پنجم وصل دررؤیت الٰہی مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر۱/۱۷۰
#19078 · رسالہ منبہ المنیۃ بوصول الحبیب الی العرش و الرّؤیۃ ۱۳۲۰ھ (محبوب خدا صلی الله علیہ وسلم کی عرش تك رسائی اوردیدار الٰہی کےبارےمیں مطلوب سےخبردار کرنیوالا)
تاعرصہ وجوب کہ اقتضائے عالم ست
کابخانہ جاست ونے جہت ونے نشاں نہ نام صحرائے وجوب تك جو عالم کا آخری کنارہ ہے کہ وہاں نہ مکان ہے نہ جہتنہ نشان اورنہ نام۔(ت)
نیز اسی کے باب رؤیۃ الله تعالی فصل سوم زیر حدیث قد رای ربہ مرتین(تحقیق آپ نے اپنے رب کو دوبارہ یکھا۔ت)ارشاد فرمایا:
بتحقیق دیدآنحضرت صلی الله تعالی علیہ وسلم پروردگارخود را جل وعلا دوباریکے چوں نزدیك سدرۃ المنتہی بوددوم چوں بالائے عرش برآمد ۔ تحقیق آنحضرت صلی الله تعالی علیہ وسلم نے اپنے پروردگار جل وعلاکو دوباردیکھاایك بار جب آپ سدرہ کے قریب تھے اوردوسری بار جب آپ عرش پرجلوہ گرہوئے۔(ت)
مکتوبات حضرت شیخ مجدد الف ثانی جلد اولمکتوب ۲۸۳میں ہے:
آں سرورعلیہ الصلوۃ والسلام دراں شب چوں از دائرہ مکان و زمان بریون جست وازتنگی امکان برآمد ازل وابدراں آں واحد یافت وبدایت ونہایت رادریك نطقہ متحد دید ۔ اس رات سرکار دوعالم صلی الله تعالی علیہ وسلم مکان وزمان کے دائرہ سے باہر ہوگئےاور تنگی امکان سے نکل کر آپ نے ازل وابد کو ایك پایا اورابتداء کو انتہا کو ایك نقطہ میں متحد دیکھا۔(ت)
نیز مکتوب ۲۷۲میں ہے:
محمدرسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم کہ محبوب رب العالمین ست وبہترین موجودات اولین وآخرین باوجودآنکہ بدولت معراج بدنی مشرف شد واز عرش وکرسی درگزشت وازامکان و زمان بالارفت ۔ محمدرسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم جو کہ رب العالمین کے محبوب ہیں اور تمام موجودات اولین وآخرین سے افضل ہیں جسمانی معراج سے مشرف ہوئے اورعرش وکرسی سے آگے گزر گئے اورمکان وزمان سے اوپر چلے گئے۔(ت)
حوالہ / References اشعۃ اللمعات باب المعراج مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر۴/۵۳۸
اشعۃ اللمعات کتاب الفتن باب رؤیۃ الله تعالٰی الفصل الثالث مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر۴/۴۴۲تا۴۲۹
مکتوبات امام ربانی مکتوب ۲۸۳نولکشورلکھنؤ ۱/۳۶۶
مکتوبات امام ربانی مکتوب ۲۷۲نولکشورلکھنؤ ۱/۳۴۸
#19079 · رسالہ منبہ المنیۃ بوصول الحبیب الی العرش و الرّؤیۃ ۱۳۲۰ھ (محبوب خدا صلی الله علیہ وسلم کی عرش تك رسائی اوردیدار الٰہی کےبارےمیں مطلوب سےخبردار کرنیوالا)
امام ابن الصلاح کتاب معرفۃ انواع علم الحدیث میں فرماتے ہیں:
قول المصنفین من الفقہاء وغیرھم "قال رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم کذا وکذا"ونحو ذلك کلہ من قبیل المعضل وسماہ الخطیب ابوبکر الحافظ فی بعض وکلامہ مرسلا وذلك علی مذھب من یسمی کل مالایتصل مرسلا ۔ فقہاء وغیرہ ومصنفین کا قول کہ رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم نے ایسا ایسا فرمایا ہے یا اس کی مثل کوئی کلمہ یہ سب معضل کے قبیل سے ہے۔خطیب ابو بکر حافظ نے اس کا نام مرسل رکھا ہے اوریہ اس کے مذہب کے مطابق ہے جو ہر غیر متصل کا نام مرسل رکھتاہے۔(ت)
تلویح وغیرہ میں ہے:
ان لم یذکر الواسطۃ اصلا فمرسل ۔ اگر واسطہ بالکل مذکور نہ ہوتو وہ مرسل ہے۔(ت)
مسلم الثبوت میں ہے:
المرسل قول العدل قال علیہ الصلوۃ والسلام کذا ۔ مرسل یہ ہے عادل کہے کہ رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم نے یوں فرمایا۔(ت)
فواتح الرحموت میں ہے:
الکل داخل فی المرسل عند اھل الاصول ۔ اصولیوں کے نزدیك سب مرسل میں داخل ہیں۔(ت)
انہیں میں ہے:
المرسل ان کان من صحابی یقبل مطلقا اتفاقا وان کان من غیرہ فالاکثر ومنھم الامام ابوحنیفۃ و الامام مالك و الامام احمد رضی الله تعالی عنہم قالوا یقبل مطلقا اذا کان الراوی ثقۃ الخ۔ مرسل اگر صحابی سے ہو مطلقا مقبول ہے اوراگر غیر صحابی سے ہو تو اکثرائمہ بشمول امام اعظمامام مالك اورامام احمد رضی الله عنہم فرماتے ہیں کہ مطلقامقبول ہے بشرطیکہ راوی ثقہ ہو الخ۔(ت)
حوالہ / References معرفۃ انواع علم الحدیث النوع الحادی عشر دارالکتب العلمیۃ بیروت ص۱۳۸
التوضیح والتلویح الرکن الثانی فی السنۃ فصل فی الانقطاع نورانی کتب خانہ پشاور ص۴۷۴
مسلم الثبوت مسئلہ تعریف المرسل مطبع انصاری دہلی ص۲۰۱
فواتح الرحموت شرح مسلم الثبوت بذیل المستصفی مسئلہ فی الکلام علی المرسل منشورات الشریف الرضی قم ۲/۱۷۴
فواتح الرحموت شرح مسلم الثبوت بذیل المستصفی مسئلہ فی الکلام علی المرسل منشورات الشریف الرضی قم ۲/۱۷۴
#19080 · رسالہ منبہ المنیۃ بوصول الحبیب الی العرش و الرّؤیۃ ۱۳۲۰ھ (محبوب خدا صلی الله علیہ وسلم کی عرش تك رسائی اوردیدار الٰہی کےبارےمیں مطلوب سےخبردار کرنیوالا)
مرقاۃ شرح مشکوۃ میں ہے:
لایضرذلك فی الاستدلال بہ ھھنا لان المقطع یعمل بہ فی الفضائل اجماعا ۔ اس سے استدلال کرنا یہاں مضر نہیں کیونکہ فضائل میں منقطع بالاجماع قابل عمل ہے۔(ت)
شفائے امام قاضی عیاض میں ہے:
اخبر صلی الله تعالی علیہ وسلم لقتل علی وانہ قسیم النار ۔ رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم نے حضرت علی رضی الله تعالی عنہ کے قتل کے بارے میں خبر دیتے ہوئے فرمایا کہ بیشك وہ قسیم النار ہیں۔(ت)
نسیم الریاض میں فرمایا:
ظاھر ھذان ھذا مما اخبربہ النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم الا انھم قالوا لم یروہ احدمن المحدثین الا ان ابن الاثیر قال فی النہایۃ الا ان علیا رضی الله تعالی عنہ قال انا قسیم النار قلت ابن الاثیر ثقۃ وما ذکرہ علی لایقال من قبل الرائ فھو فی حکم المرفوع اھ ملخصا۔ ظاہر اس کا یہ ہےکہ بیشك یہ ان امور میں سے ہے جن کے بارے میں نبی کریم صلی الله تعالی علیہ وسلم نے خبر دی مگر انہوں نےکہاکہ اس کو محدثین میں سے کسی نے روایت نہیں کیا مگر ابن اثیر نے نہایہ میں کہا:بیشك حضرت علی مرتضی رضی الله تعالی عنہ نے فرمایا کہ میں قسیم نار ہوں۔ میں کہتاہوں کہ ابن اثیر ثقہ ہے اورجو کچھ سیدنا علی المرتضی رضی الله تعالی عنہ نے ذکر فرمایا وہ قیاس سے نہیں کہا جاسکتا لہذ ا وہ مرفوع کے حکم میں ہے اھ تلخیص(ت)
امام ابن الہمام فتح القدیر میں فرماتے ہیں:
عدم النقل لاینفی الوجود ۔ عدم نقل وجود کی نفی نہیں کرتا۔(ت)
والله تعالی اعلم
_________________
رسالہ
منبہ المنیۃ بوصول الحبیب الی العرش والرؤیۃ
ختم ہوا۔
___________________
حوالہ / References مرقاۃ المفاتیح باب الرکوع الفصل الثانی تحت الحدیث ۸۸۰المکتبۃ الحبیبیہ کوئٹہ ۲/۶۰۲
الشفاء بتعریف حقوق المصطفٰی فصل ومن ذلك مااطلع علیہ من الغیوب المطبعۃ الشرکۃ الصحافیۃ ۱/۲۸۴
نسیم الریاض فی شرح شفاء القاضی عیاض ومن ذلك ما اطلع علیہ من الغیوب مرکز اہلسنت گجرات الہند ۳/۱۶۳
#19081 · رسالہ صلات الصفاء فی نورالمصطفٰی ۱۳۲۹ھ (نور مصطفی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے بیان میں صفائی باطن کے انعامات)
رسالہ
صلات الصفاء فی نورالمصطفی ۱۳۲۹ھ
(نور مصطفی صلی الله تعالی علیہ وسلم کے بیان میں صفائی باطن کے انعامات)

بسم الله الرحمن الرحیم ط
مسئلہ ۳۸: از لشکر گوالیار محکمہ ڈاك دربار مرسلہ مولوی نور الدین احمد صاحب ۲۸ذیقعدہ ۱۳۱۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ یہ مضمون کہ حضور سید عالم صلی الله تعالی علیہ وسلم الله کے نور سے پیدا ہوئے اوران کے نور سے باقی مخلوقاتکس حدیث سے ثابت ہے اوروہ حدیث کس قسم کی ہے بینوا توجروا(بیان کرواجر پاؤگے۔ت)
الجواب :
بسم الله الرحمن الرحیم ط
اللھم لك الحمد یانور یانور النور یانور اقبل کل نور و نورا بعد کل نور یامن لہ النور وبہ النور ومنہ النور اے الله !تمام تعریفیں تیرے لئے ہیںا ے نور کے نوراے نور ہر نور سے پہلے اوراے نور ہر نور کے بعد۔اے وہ ذات جس کے لئے نور ہےجس کے سبب سے نور ہےجس سے نور
#19082 · رسالہ صلات الصفاء فی نورالمصطفٰی ۱۳۲۹ھ (نور مصطفی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے بیان میں صفائی باطن کے انعامات)
والیہ النور وھو النورصل وسلم وبارك عی نورك المنیر الذی خلقتہ من نورك و خلقت من نورہ الخلق جمیعا وعلی اشعۃ انوارہ والہ واصحابہ نجومہ واقمارہ اجمعین(امین) جس کی طرف نور ہے اوروہی نور ہے۔درود وسلام اوربرکت نازل فرما اپنے نور پرجوروشن کرنے والاہے۔جس کو تو نے اپنے نور سے پیدا فرمایا۔اورتمام مخلو ق کو اس کے نور سے پیدا فرمایا۔اوراس کے انورا کی شعاعوں پر اور اس کے آل واصحاب پر جو اس کے ستارے اورچاند ہیں۔سب پر۔اے الله !ہماری دعا کو قبول فرما۔(ت)
امام اجل سیدنا امام مالك رضی الله تعالی عنہ کے شاگرد اورامام ابجل سیدنا امام احمد بن حنبل رضی الله تعالی عنہ کے استاذ اورامام بخاری وامام مسلم کے استاذ الاستاذ حافظ الحدیث احد الاعلام عبدالرزاق ابو بکر بن ہمام نے اپنی مصنف میں حضرت سیدنا وابن سیدنا جابر بن عبدالله انصاری رضی الله تعالی عنہما سے روایت کی:
قال قلت یارسول الله بابی انت وامی اخبرنی عن اول شیئ خلقہ الله تعالی قبل الاشیاء قال یا جابر ان الله تعالی قد خلق قبل الاشیاء نورنبیك من نورہ فجعل ذلك النور یدور بالقدرۃ حیث شاء الله تعالی ولم یکن فی ذلك الوقت لوح ولا قلم ولاجنۃ ولا نار ولا ملك ولاسماء ولاارض ولا شمس ولا قمر ولا جنی ولا انسیفلما ارادالله تعالی ان یخلق الخلق قسم ذلك النور اربعۃ اجزاء فخلق من الجزء الاول القلم و من الثانی اللوحومن الثالث العرشثم قسم الجزء الرابع اربعۃ اجزاء فخلق من الجزء الاول حملۃ العرش ومن الثانی الکرسی یعنی وہ فرماتے ہیں میں نے عرض کی:یارسول الله !میرے ماں باپ حضور پر قربانمجھے بتا دیجئے کہ سب سے پہلے الله عزوجل نے کیا چیز بنائیفرمایا:اے جابر!بیشك بالیقین الله تعالی نے تمام مخلوقات سے پہلے تیرے نبی کا نور اپنے نور سے پیدا فرمایاوہ نور قدرت الہی سے جہاں خدا نے چاہا دورہ کرتارہا۔اس وقت لوحقلمجنتدوزخفرشتے آسمان زمینسورجچاندجنآدمی کچھ نہ تھا۔پھر جب الله تعالی نے مخلوق کو پیدا کرناچاہا اس نور کے چار حصے فرمائےپہلے سے قلمدوسرے سے لوحتیسرے سے عرش بنایا۔پھر چوتھے کے چار حصے کئےپہلے سے فرشتگان حامل عرش دوسرے سے کرسیتیسرے سے باقی ملائکہ پیدا کئے۔پھر
#19083 · رسالہ صلات الصفاء فی نورالمصطفٰی ۱۳۲۹ھ (نور مصطفی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے بیان میں صفائی باطن کے انعامات)
ومن الثالث باقی الملائکۃثم قسم الرابع اربعۃ اجزاءفخلق من الاول السمواتومن الثانی الارضین ومن الثالث الجنۃ والنارثم قسم الرابع اربعۃ اجزاء الحدیث بطولہ۔ چوتھے کے چار حصے فرمائےپہلے سے آسماندوسرے سے زمینیںتیسرے سے بہشت دوزخ بنائےپھر چوتھے کے چار حصے کئےالی آخر الحدیث۔
یہ حدیث امام بیہقی نے بھی دلائل النبوۃ مین بنحوہ روایت کیاجلہ ائمہ دین مثل امام قسطلانی مواہب لدنیہ اور امام ابن حجر مکی افضل القری اورعلامہ فاسی مطالع المسرات اورعلامہ زرقانی شرح مواہب اورعلامہ دیاربکری خمیس اورشیخ محقق دہلوی مدارج وغیرہا میں اس حدیث سے استناد اور اس پر تعویل واعتماد فرماتے ہیںبالجملہ وہ تلقی امت بالقو کا منصب جلیل پائے ہوئے ہے تو بلاشبہ حدیث حسن صالح مقبول معتمد ہے۔تلقی علماء بالقبول وہ شے عظیم ہے جس کے بعد ملاحظہ سند کی حاجت نہیں رہتی بلکہ سند ضعیف بھی ہوتو حرج نہیں کرتیکما بیناہ فی "منیر العین فی حکم تقبیل الابھا مین"(جیسا کہ ہم نے اپنے رسالہ "منیر العین فی حکم تقبیل الابھامین"میں اس کو بیان کیاہے۔ت)
لاجرم علامہ محقق عارف بالله سید عبدالغنی نابلسی قدس سرہ القدسی حدیقہ ندیہ شرح طریقہ محمدیہ میں فرماتے ہیں:
قد خلق کل شیئی من نورہ صلی الله تعالی علیہ وسلم کما وردبہ الحدیث الصحیح ۔ بے شك ہر چیز نبی صلی الله تعالی علیہ وسلم کے نور سے بنیجیسا کہ حدیث صحیح اس معنی میں وارد ہوئی۔
حوالہ / References المواھب اللدنیۃ المقصد الاول المکتب الاسلامی بیروت ۱/۷۱و۷۲،شرح الزرقانی علی المواھب اللدنیہ المقصد الاول دارالمعرفۃ بیروت ۱/۴۶و۴۷،تاریخ الخمیس مطلب اللوح والقلم مؤسسۃ شعبان ۱/۱۹و۲۰،مطالع المسرات الحزب الثانی مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ص۲۲۱، مدارج النبوۃ قسم دوم باب اول مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲/۲
الحدیقۃ الندیۃ المبحث الثانی مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲/۳۷۵
#19084 · رسالہ صلات الصفاء فی نورالمصطفٰی ۱۳۲۹ھ (نور مصطفی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے بیان میں صفائی باطن کے انعامات)
ذکرہ فی المبحث الثانی بعد النوع الستین من افات اللسان فی مسئلہ ذم الطعام۔ اس کو علامہ نابلسی نے نوع نمبر ساٹھ جو کہ زبان کی آفتوں کے بیان میں ہے کہ بعدکھانے کی برائی بیان کرنے کے مسئلہ کے ضمن میں ذکر فرمایا ہے۔(ت)
مطالع المسرات شرح دلائل الخیرات میں ہے:
قد قال الاشعری انہ تعالی نور لیس کالا نواروالروح النبویۃ القدسیۃ لمعۃ من نورہ والملائکۃ شرر تلك الانوار وقال صلی الله تعالی علیہ وسلم اول ماخلق الله نوری ومن نوری خلق کل شیئ وغیرہ مما فی معناہ ۔ یعنی امام اجل امام اہلسنت سید نا ابوالحسن اشعری قدس سرہ (جن کی طرف نسبت کر کے اہل سنت کو اشاعرہ کہا جاتاہے) ارشاد فرماتے ہیں کہ الله عزوجل نور ہے نہ اورنوروں کی مانند اورنبی صلی الله تعالی علیہ وسلم کی روح پاك اسی نور کی تابش ہے اورملائکہ ان نوروں کے ایك پھول ہیںاوررسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں سب سے پہلے الله تعالی نے میرا نور بنایا اورمیری ہی نور سے ہر چیز پیدا فرمائی۔اوراس کے سوا اورحدیثیں ہیں جو اسی مضمون میں وارد ہیں۔والله سبحنہ وتعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۹: از ٹانڈہ ضلع مرادآباد مرسلہ مولوی الطاف الرحمن صاحب پیپسانوی ۱۴شعبان ۱۳۱۳ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ بعض مولود شریف میں جو نور محمدی کو نور خدا سے پیداہوا لکھا ہے اس میں زید کہتاہے بشرط سحت یہ متشابہ کے حکم میں ہے اورعمرو کہتاہے یہ انفکاك ذات سے ہوا ہے۔
بکر کہتاہے کہ یہ مثل شمع سے شمع روشن کرلینے کے ہوا ہے۔
اورخالد کہتاہے متشابہات میں مذہب اسلم رکھتا ہوں اورسالم کو برا نہیں جانتااس میں چون وچرا بیجا ہے۔بینوا توجروا(بیان کرو اوراجر پاؤ گے۔ت)
حوالہ / References مطالع المسرات الحزب الثانی مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ص۲۶۵
#19085 · رسالہ صلات الصفاء فی نورالمصطفٰی ۱۳۲۹ھ (نور مصطفی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے بیان میں صفائی باطن کے انعامات)
الجواب:
عبدالرزاق نے اپنی مصنف میں حضرت سیدنا جابر بن عبدالله رضی الله تعالی عنہما سے روایت کیا حضور پرنور صلی الله تعالی علیہ وسلم نے ان سے فرمایا:
یاجابر ان الله خلق قبل الاشیاء نور نبیك من نورہ۔ ذکرہ الامام القسطلانی فی المواھب وغیرہ من العلماء الکرام۔ اے جابر!بیشك الله تعالی نے تمام عالم سے پہلے تیرے نبی کا نور اپنے نور سے پیدا فرمایا۔(امام قسطلانی نے اس کو مواہب لدنیہ میں اور دیگر علماء کرام نے ذکر کیا ہے۔ت)
عمرو کا قول سخت باطل وشنیع وگمراہی فظیع بلکہ سخت ترامر کی طرف منجر ہےالله عزوجل اس سے پاك ہے کہ کوئی چیز اس کی ذات سے جدا ہوکر مخلوق بنےاورقول زید میں لفظ ''بشرط صحت''بوئے انکار دیتاہےیہ جہالت ہےباجماع علماء دربارئہ فضائل صحت مصطلحہ محدثین کی حاجت نہیںمع ہذا علامہ عارف بلالہ سید عبدالغنی نابلسی قدس سرہ القدسی نے اس حدیث کی تصحیح فرمائی۔علاوہ بریں یہ معنی قدیما وحدیثا تصانیف وکلمات ائمہ وعلماء واولیاء وعرفاء میں مذکور ومشہور وملقی بالقبول رہنے پر خود صحت حدیث کی دلیل کافی ہے
فان الحدیث یتقوی بتلقی الائمۃ بالقبول کما اشار الیہ الامام الترمذی فی جامعہ وصرح بہ علماؤنا فی الاصول۔ اس لئے کہ حدیث علماء کی طرف سے تلقی بالقبول پاکر قوی ہوجاتی ہے جیسا کہ امام ترمذی نے اپنی جامع میں اس کی طرف اشارہ کیا ہےاورہمارے علماء نے اصول میں اس کی تصریح فرمائی ہے۔(ت)
ہاں اسے باعتبار کنہ کیفیت متشابہات سے کہنا وجہ صحت رکھتاہےواقعہ نہ رب العزت جل وعلی نہ اسکے رسول اکرم صلی الله تعالی علیہ وسلم نے ہمیں بتایا کہ الله تعالی نے اپنے نور سے نورمطہر سید انور صلی الله تعالی علیہ وسلم کیونکر بنایانہ بے بتائے اس کی پوری حقیقت ہمیں خود معلوم ہوسکتی ہےاوریہی معنی متشابہات ہیں۔
بکر نے جوکہا وہ دفع خیال ضلال عمر و کے لئے کافی ہےشمع سے شمع روشن ہوجاتی ہے بے اس کے کہ اس شمع سے کوئی حصہ جدا ہوکر یہ شمع بنے اس سے بہتر آفتاب اوردھوپ کی مثال ہے کہ نور شمس نے
حوالہ / References المواھب اللدنیۃ المقصد الاول المکتب الاسلامی بیروت ۱/۷۱
#19086 · رسالہ صلات الصفاء فی نورالمصطفٰی ۱۳۲۹ھ (نور مصطفی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے بیان میں صفائی باطن کے انعامات)
جس پر تجلی کہ وہ روشن ہوگیا اورذات شمس سے کچھ جد ا نہ ہوا مگر ٹھیك مثال کی وہاں مجال نہیںجو کہا جائے گا ہزاراں ہزار وجوہ پر ناقص وناتمام ہوگابلاشبہ طریق اسلم قول خالد ہے اور وہی مذہب ائمہ سلف رضی الله تعالی عنہم اجمعین۔والله سبحنہ و تعالی اعلم
مسئلہ ۴۰:پیش نظر رہے یہ بات کہ میں کوئی عالم وفاضل نہیں ہوں کہ بحث ومباحثہ کا خیال درمیان میں آئےفقط دریافت کرنے کی غرض سے فدویا نہ لکھتاہوں تاکہ میری عقیدے میں جو کچھ غلطی ہو وہ صحیح ہوجائےمجھ کو ایسا معلوم ہے کہ تمام مخلوقات انسان کا یہ حال ہے کہ غلاظت آلودہ پیداہوتے ہیں مگر خدانے محمد صلی الله تعالی علیہ وسلم کو ان سب باتوں سے محفوظ رکھا اورتمام مخلوقات پر ان کو بزرگی عنایت فرمائی ہے۔اگر یہ بات سچی ہے تو حدیث شریف کے معنی مجھ کو یوں معلوم ہیں ملاحظہ فرمائے گا:
قال رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم یا جابر ان الله خلق نورنبیك من نورہ ۔ فرمایا رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم نے اے جابر!تحقیق الله تعالی نے پیدا کیا ذات نبی تیرے کو اپنے نور سے۔
مثال چراغ کی جو جناب نے فرمائی ہے اس میں مجھ کو شك ہےچاہتاہوں کہ شك دور ہوجائےمثلا ایك چراغ سے دوسرا چراغ روشن کیا اوردوسرے چراغ سے اور بہت سے چراغ روشن کئے گئےپہلے اور دوسرے میں کچھ کمی نہیں آئییہ آپ کا فرمانا صحیح اور بجا ہے لیکن یہ سب چراغ نام اورذات اورروشنی میں ہم جنس ہیں یا نہیں اوریہ سب مرتبہ برابر ہونے کارکھتے ہیں یا نہیں بینوا توجروا(بیان کرو اجر پاؤ۔ت)
الجواب:
نجاست سے آلودہ پیداہونے میں سب مخلوق شریك نہیںتمام انبیاء علیہم السلام پاك ومنزہ پیداہوئے بلکہ حدیث سے ثابت ہے کہ حضرات حسنین رضی الله تعالی عنہما بھی صاف ستھرے پیدا ہوئے۔نور کے معنی فضل کے نہیں۔مثال سمجھانے کو ہوتی ہے نہ کہ ہر طرح برابری بتانے کو۔قرآن عظیم میں نورالہی کی مثال دی " کمشکوۃ فیہا مصباح " (جیسے ایك طاق کہ اس میں چراغ ہے۔ت)کہاں چراغ اورقندیل اورکہاں نوررب جلیل یہ مثال وہابیہ کے اس اعتراض کے دفع کو تھی کہ نورالہی سے نور نبوی پیدا ہواتو نور الہی کا ٹکڑا جداہونا لازم آیااسے بتایا گیا کہ چراغ سے چراغ روشن ہونے
حوالہ / References المواھب اللدنیۃ المقصد الاول اول المخلوقات المکتب الاسلامی بیروت ۱/۷۱و۷۲
القرآن الکریم ۲۴ /۳۵
#19087 · رسالہ صلات الصفاء فی نورالمصطفٰی ۱۳۲۹ھ (نور مصطفی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے بیان میں صفائی باطن کے انعامات)
میں اس کا ٹکڑا کٹ کر اس میں نہیں آجاتا۔جب یہ فانی مجازی نور اپنے نور سے دوسرا نور روشن کردیتاہے تو اس نورالہی کا کیا کہنا نور سے نور پیدا ہونے کا نام وروشنی میں مساوات بھی ضرور نہیںچاند کا نورآفتاب کی ضیاء سے ہےپھر کہاں وہ اورکہاں یہعلم ہیئت میں بتایاگیا ہے کہ اگر چودھویں رات کے کامل چاند کے برابر نوے ہزار چاندہوں تو روشنی آفتاب تك پہنچیں گے۔والله تعالی اعلم
مسئلہ ۴۱: از کلکتہ ۹گووند چند دھرسن لیں مرسلہ حکیم محمد ابراہیم صاحب بنارسی ۱۹ ذیقعدہ ۱۳۲۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ رسول مقبول صلی الله تعالی علیہ وسلم الله کے نور سے پیداہیں یا نہیں اگر الله کے نور سے پیدا ہوئے نور ذاتی سے یا نورصفاتی سے یا دونوں سے او ر نورکیا چیز ہے بینوا توجروا(بیان کرو اجر پاؤگے۔ت)
الجواب:
جواب مسئلہ سے پہلے ایك اورمسئلہ گزارش کرلوں
لقولہ صلی الله تعالی علیہ وسلم من رأی منکم منکرا فلیغیرہ بیدہ فان لم یستطع فبلسانہ ۔الحدیث۔ نبی کریم صلی الله تعالی علیہ وسلم کے مطابق:''تم میں سے کوئی آدمی برائی دیکھے تو اسے چاہئے کہ اپنے ہاتھ سے بد ل دے اگرایسا نہ کرسکے تو اپنی زبان سے بدل دے۔الحدیث (ت)
حضور پرنورسید عالم صلی الله تعالی علیہ وسلم کے ذکر کریم کے ساتھ جس طرح زبان سے درود شریف پڑھنے کا حکم ہے اللھم صل وسلم وبارك علیہ وعلی الہ وصحبہ ابدا(اے الله !آپ پر اورآپ کی آل اورآپ کے صحابہ پر ہمیشہ ہمیشہ درودوسلام اوربرکت نازل فرما۔ت)درودشریف کی جگہ فقط صاد یا عم یا صلع یا صللم کہنا ہرگز کافی نہں بلکہ وہ الفاظ بے معنی ہیں اور "فبدل الذین ظلموا قولا غیر الذی قیل لہم" میں داخلکہ ظالموں نے وہ بات جس کا انہیں حکم تھا ایك اورلفظ سے بدل ڈالی " فانزلنا علی الذین ظلموا رجزا من السماء بما کانوا یفسقون﴿۵۹﴾ " تو ہم نے آسمان سے ان پر عذاب اتارا بدلہ ان کی بے حکم کا۔یونہی تحریر میں القلم احداللسانین(قلم دو زبانوں مین سے ایك ہے۔ت)
حوالہ / References صحیح مسلم کتاب الایمان باب بیان کون النہی عن المنکر من الایمان الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/۵۱
القرآن الکریم ۲ /۵۹
القرآن الکریم ۲ /۵۹
#19088 · رسالہ صلات الصفاء فی نورالمصطفٰی ۱۳۲۹ھ (نور مصطفی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے بیان میں صفائی باطن کے انعامات)
بلکہ فتاوی تاتارخانیہ سے منقول کہ اس میں اس پر نہایت سخت حکم فرمایا اور اسے معاذالله تخفیف شان نبوت بتایا۔ طحطاوی علی الدرالمختار میں ہے:
یحافظ علی کتب الصلوۃ والسلام علی رسول الله ولا یسأم من تکرارہ وان لم یکن فی الاصل ویصلی بلسانہ ایضاویکرہ الرمز بالصلاۃ والترضی بالکتابۃ بل یکتب ذلك کلہ بکمالہوفی بعض المواضع عن التتارخانیۃ من کتب علیہ السلام بالھمزۃ والمیم یکفر لانہ تخفیف و تخفیف الانبیاء علیم الصلوۃ والسلام کفر بلاشك و لعلہ ان صح النقل فھو مقید بقصدہ والا فالظاھر انہ لیس بکفرنعم الاحتیاط فی الاحتراز عن الایھام و الشبھۃ اھ مختصرا۔ حضور صلی الله تعالی علیہ وسلم پر درود وسلام لکھنے کی محافظت کی جائے اور اس کی تکرار سے تنگ دل نہ ہواگرچہ اصل میں نہ ہو اوراپنی زبان سے بھی درود پڑھے۔درود یا رضی الله عنہ کی طرف لکھنے میں اشارہ کرنا مکروہ ہے بلکہ پورا لکھناچاہیے۔ تاتارخانیہ کے بعض مقامات پر ہے کہ جس نے علیہ السلام ہمزہ اورمیم سے لکھاکافر ہوگیا کیونکہ یہ تخفیف ہے اورانبیاء کی تخفیف بغیر کسی شك کے کفر ہےاور یہ نقل صحیح ہے تو اس میں قصدکی قید ضرورہوگی ورنہ بظاہر یہ کفر نہیں ہےہاں احتیاط ایہام اورشبہ سے بچنے میں ہے۔(ت)
اس کے بعد اصل مسئلہ کا جواب بعون الملك الوھاب لیجئے۔نور عرف عامہ میں ایك کیفیت ہے ہے کہ نگاہ پہلے اسے ادراك کرتی ہے اوراس کے واسطے سے دوسری اشیائے دیدنی کو۔
قال السید فی تعریفاتہ النور کیفیۃ تدرکہا الباصرۃ اولا وبواسطتہا سائر المبصرات ۔ علامہ سید شریف جرجانی نے فرمایا:نور ایك ایسی کیفیت ہے جس کا ادراك قوت باصرہ پہلے کرتی ہے پھر اس کے واسطے سے تمام مبصرات کا ادراك کرتی ہے۔(ت)
اورحق یہ کہ نور اس سے اجلی ہے کہ اس کی تعریف کی جائے۔
یہ جو بیان ہوا تعریف الجلی بالخفی ہے کمانبہ علیہ فی المواقف وشرحھا(جیسا کہ مواقف اور
حوالہ / References حاشیہ الطحطاوی علی الدرالمختارخطبۃ الکتاب المکتبۃ العربیہ کوئٹہ ۱/۶
التعریفات للجرجانی تحت اللفظ "النور"۱۵۷۷ دارالکتاب العربی بیروت ص۱۹۵
#19089 · رسالہ صلات الصفاء فی نورالمصطفٰی ۱۳۲۹ھ (نور مصطفی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے بیان میں صفائی باطن کے انعامات)
اس کی شرح میں اس پر تنبیہ کی گئی ہے۔ت)نور بایں معنی ایك عرض وحادث ہے اوررب عزوجل اس سے منزہ۔محققین کے نزدیك نوروہ کہ خود ظاہر ہو اوردوسروں کا مظہرکما ذکرہ الامام حجۃ الاسلام الغزالی الی ثم العلامۃ الزرقانی فی شرح المواھب الشریفۃ(جیسا کہ حجۃ الاسلام امام غزالی نے پھر شرح مواہب شریف میں علامہ زرقانی نے ذکر فرمایا ہے۔ت)بایں معنی الله عزوجل نور حقیقی ہے بلکہ حقیقۃ وہی نور ہے اورآیہ کریمہ "اللہ نور السموت و الارض" (الله تعالی نور ہے آسمانوں اورزمین کا۔ت)بلاتکلف وبلادلیل اپنے معنی حقیقی پر ہے۔
فان الله عزوجل ھو الظاھر بنفسہ المظھر لغیرہ من السموت والارض ومن فیھن وسائر المخلوقات۔ کیونکہ الله عزوجل بلاشبہ خود ظاہر ہے او راپنے غیر یعنی آسمانوںزمینوںان کے اندر پائی جانے والی تمام اشیاء اور دیگر مخلوقات کو ظاہر کرنے والا ہے۔(ت)
حضور پرنورسید عالم صلی الله تعالی علیہ وسلم بلاشبہ الله عزوجل کے نور ذاتی سے پیداہیں۔حدیث شریف میں وارد ہے:
ان الله تعالی قد خلق قبل الاشیاء نور نبیك من نورہ۔رواہ عبدالرزاق ونحوہ عندالبیہقی۔ اے جابر!بیشك الله تعالی نے تمام اشیاء سے پہلے تیرے نبی کا نور اپنے نور سے پیدا فرمایا۔(اس کو عبدالرزاق نے روایت کیا اوربیہقی کے نزدیك اس کے ہم معنی ہے۔ت)
حدیث میں "نورہ"فرمایا جس کی ضمیر الله کی طرف ہے کہ اسم ذات ہے من نور جمالہ یا نور علمہ یا نور رحمتہ(اپنے جمال کے نور سے یا اپنے علم کے نور سے یا اپنی رحمت کے نور سے۔ت)وغیرہ نہ فرمایا کہ نور صفات سے تخلیق ہو۔علامہ زرقانی رحمہ الله تعالی اسی حدیث کے تحت میں فرماتے ہیں:(من نورہ)ای من نورھوذاتہ یعنی الله عزوجل نے نبی صلی الله تعالی علیہ وسلم جو اس نور سے پیدا کیا جو عین ذات الہی ہےیعنی اپنی ذات سے بلاواسطہ پیدا فرمایاکما سیأتی تقریرہ(جیسا کہ اس کی
حوالہ / References القرآن الکریم ۲۴ /۳۵
المواھب اللدنیۃ بحوالہ عبدالرزاق المقصد الاول المکتب الاسلامی بیروت ۱/۷۱
شرح الزرقانی علی المواھب اللدنیۃ المقصد الاول دارالمعرفہ بیروت ۱/۴۶
#19090 · رسالہ صلات الصفاء فی نورالمصطفٰی ۱۳۲۹ھ (نور مصطفی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے بیان میں صفائی باطن کے انعامات)
تقریر عنقریب آرہی ہے۔ت)امام احمد قسطلانی مواہب شریف میں فرماتے ہیں:
لما تعلقت ارادۃ الحق تعالی بایجاد خلقہ ابرز الحقیقۃ المحمدیۃ من الانوار الصمدیۃ فی الحضرۃ الاحدیۃ ثم سلخ منہا العوالم کلہا علوھا وسفلھا ۔ یعنی جب الله عزوجل نے مخلوقات کو پیدا کرنا چاہا صمدی نوروں سے مرتبہ ذات صرف میں حقیقت محمدیہ صلی الله تعالی علیہ وسلم کو ظاہر فرمایاپھر اس سے تما م علوی وسفلی نکالے۔
شرح علامہ میں ہے:
والحضرۃ الاحدیۃ ھی اول تعینات الذات واول رتبہا الذی لااعتبارفیہ لغیر الذات کما ھو المشار الیہ بقولہ صلی الله تعالی علیہ وسلم کان الله ولا شیئ معہ ذکرہ الکاشی ۔ یعنی مرتبہ احدیت ذات کا پہلا تعین اورپہلا مرتبہ ہے جس میں غیر ذات کا اصلا لحاظ نہیں جس کی طرف نبی صلی الله تعالی علیہ وسلم کے اس ارشاد میں اشارہ ہے کہ الله تعالی تھا اوراس کے ساتھ کچھ نہ تھااسے سیدی کاشی قدس سرہ نے ذکر فرمایا۔
شیخ محقق مولانا عبدالحق محدث دہلویمدارج النبوۃ میں فرماتے ہیں:
انبیاء مخلوق انداز اسمائے ذاتیہ حق واولیاء از اسمائے صفاتیہ وبقیہ کائنات از صفات فعلیہ وسید رسل مخلو ق است از ذات حق و ظہور حق دروے بالذات است ۔ انبیاء الله کے اسماء ذاتیہ سے پیداہوائے اوراولیاء اسمائے صفاتیہ سےبقیہ کائنات صفات فعلیہ سےاورسید رسل ذات حق سےاور حق کا ظہور آپ میں بالذات ہے۔(ت)
ہاں عین ذات الہی سے پیدا ہونے کے یہ معنی نہیں کہ معاذالله ذات الہی ذات رسالت کیلئے مادہ ہے جیسے مٹی سے انسان پیداہویا عیاذا بالله ذات الہی کا کوئی حصہ یا کلذات نبی ہوگیا۔الله عزوجل حصے اورٹکڑے اورکسی کے ساتھ متحد ہوجانے یا کسی شئے میں حلول فرماتے سے پاك ومنزہ ہے۔حضو رسید عالم صلی الله تعالی علیہ وسلم خواہ کسی شے جزء ذات الہی خواہ کسی مخلوق کو عین ونفس ذات الہی ماننا کفر ہے۔
حوالہ / References المواھب اللدنیۃ المقصد الاول المکتب الاسلامی بیروت ۱/۵۵
شرح الزرقانی علی المواھب اللدنیۃ المقصد الاول دارالمعرفۃ بیروت ۱/۲۷
مدارج النبوۃ تکملہ درصفات کاملہ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۲/۶۰۹
#19091 · رسالہ صلات الصفاء فی نورالمصطفٰی ۱۳۲۹ھ (نور مصطفی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے بیان میں صفائی باطن کے انعامات)
اس تخلیق کے اصل معنی تو الله ورسول جانیںجل وعلا و صلی الله تعالی علیہ وسلم عالم میں ذات رسول کو تو کوئی پہچانتا نہیں۔ حدیث میں ہے:
یا ابابکر لم یعرفنی حقیقۃ غیر ربی ۔ اے ابوبکر!مجھ جیسا میں حقیقت میں ہوں میرے رب کے سوا کسی نے نہ جانا۔
ذات الہی سے اس کے پیداہونے کے حقیقت کسے مفہوم ہومگر اس میں فہم ظاہر بیں کا جنتا حصہ ہے وہ یہ ہے کہ حضر ت حق عزجلالہنے تمام جہان کو حضور پرنورمحبوب اکرم صلی الله تعالی علیہ وسلم کے واسطے پیدا فرمایاحضور نہ ہوتے تو کچھ نہ ہوتا۔
لولاك لما خلقت الدنیا ۔ اگر آپ نہ ہوتے تو میں دنیا کو نہ بناتا۔(ت)
آدم علیہ الصلوۃ والسلام سے ارشادہوا:
لولا محمد ماخلقتك ولا ارضا ولا سماء ۔ اگر محمد نہ ہوتے تو میں نہ تمہیں بناتا نہ زمین وآسمان کو۔(ت)
توساراجہان ذات الہی سے بواسطہ حضور صاحب لولاك صلی الله تعالی علیہ وسلم پیدا ہوا یعنی حضور کے واسطے حضور کے صدقے حضور کے طفیل میں۔
لا انہ صلی الله تعالی علیہ وسلم استفاض الوجود من حضرۃ العزۃ ثم ھو افاض الوجود علی سائر البریۃ کما تزعم کفرۃ الفلاسفۃ من توسیط العقولتعالی الله عما یقول الظالمون علواکبیر اھل من خلاق غیر الله ۔ یہ بات نہیں کہ حضور صلی الله تعالی علیہ وسلم نے الله سے جود حاصل کیا پھر باقی مخلوق کو آپ نے وجود دیا جیسے فلاسفہ کافر گمان کرتے ہیں کہ عقول کے واسطے دوسری چیزیں پیدا ہوتی ہیںالله تعالی ان ظالموں کے اس قول سے بلند وبالا ہے کیا الله تعالی کے علاوہ بھی کوئی خالق ہوسکتاہے۔(ت)
حوالہ / References مطالع المسرات مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آبادص۱۲۹
تاریخ دمشق الکبیر باب ذکر عروجہ الی السماء الخ داراحیاء التراث العربی بیروت ۳/۲۹۷
المواھب اللدنیۃ المقصد الاول المکتب الاسلامی بیروت ۱/۷۰،مطالع المسرات الحزب الثانی مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ص۲۶۴
#19092 · رسالہ صلات الصفاء فی نورالمصطفٰی ۱۳۲۹ھ (نور مصطفی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے بیان میں صفائی باطن کے انعامات)
بخلاف ہمارے حضور عین النور صلی الله تعالی علیہ وسلم کے کہ وہ کسی کے طفیل میں نہیںاپنے رب کے سوا کسی کے واسطے نہیں تو وہ ذات الہی سے بلاواسطہ پیدا ہیں۔زرقانی شریف میں ہے:
ای من نورھو ذاتہ لابمعنی انھا مادۃ خلق نورہ منہا بل بمعنی تعلق الارادۃ بہ بلاواسطۃ شیئ فی وجودہ ۔ یعنی اس نور سے جو الله کی ذات ہےیہ مقصد نہیں کہ وہ کوئی مادہ ہے جس سے آپ کا نور پیدا ہوا بلکہ مقصد یہ ہے کہ الله تعالی کا ارادہ آپ کے نورسے بلا کسی واسطہ فی الوجود کے متعلق ہوا۔(ت)
یا زیادہ سے زیادہ بغرض توضیح ایك کمال ناقص مثال یوں خیال کیجئے کہ آفتاب نے ایك عظیم وجمیل وجلیل آئینہ پر تجلی کی آئینہ چمك اٹھا اور اس کے نور سے اورآئینے اورپانیوں کے چشمے اورہوائیں اورسائے روشن ہوئے آئینوں اورچشموں میں صرف ظہور نہیں بلکہ اپنی اپنی استعداد کے لائق شعاع بھی پیداہوئی کہ اورچیز کو روشن کر سکے کچھ دیواروں پر دھوپ پڑییہ کیفیتی نور سے متکیف ہیں اگرچہ اورکوروشن نہ کریں جن تك دھوپ بھی نہ پہنچیوہ ہوائے متوسط نے ظاہرکیں جیسے دن میں مسقف دالان کی اندرونی دیواریں ان کا حصہ صرف اسی قدر ہوا کہکیفیت نور سے بہر نہ پایاپہلا آئینہ خود ذات آفتاب سے بلاواسطہ روشن ہے اورباقی آئینے چشمے اس کے واسطے سے اوردیواریں وغیرہا واسطہ درواسطہ پھر جس طرح وہ نور کہ آئینہ اول پر پڑا بعینہ آفتاب کا نور ہے بغیر اس کے آفتاب خود یا اس کا کوئی حصہ آئینہ ہوگیا ہویونہی باقی آئینے اور چشمے کہ اس آئینے سے روشن ہوئے اوردیوار وغیرہ اشیاء پر ان کی دھوپ پڑی یا صرف ظاہر ہوئیںان سب پر بھی یقیناآفتاب ہی کا نور اور اسی سے ظہور ہےآئینے اورچشمے فقط واسطہ وصول ہیںان کی حد زات میں دیکھو تو یہ خود نور تو نورظہور سے بھی حصہ نہیں رکھتے
یك چراغ ست دریں خانہ کہ از پر توآں ہرکجا می نگری انجمنے ساختہ اند
(اس گھرمیں ایك چراغ سے جس کی تابش سے تو جہاں دیکھتا ہے انجمن بنائے ہوئے ہیں)
یہ نظر محض ایك طرح کی تقریب فہم کے لئے ہے جس طرح ارشاد ہوا:" مثل نورہ کمشکوۃ فیہا مصباح " ۔(اس کے نور کے مثال ایسے ہے جیسے ایك طاق کہ اس میں چراغ ہے۔ت) ورنہ کجا چراغ اورکجاوہ نور حقیقی" و للہ المثل الاعلی " (اور الله کی شان سب سے بلند ہے۔ت)
حوالہ / References شرح الزرقانی علی المواھب اللدنیہ المقصد الاول دارالمعرفت بیروت ۱/۴۶
القرآن الکریم ۲۴ /۳۵
القرآن الکریم ۱۶ /۶۰
#19093 · رسالہ صلات الصفاء فی نورالمصطفٰی ۱۳۲۹ھ (نور مصطفی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے بیان میں صفائی باطن کے انعامات)
توضیح صرف ان دوباتوں کی منظور ہے ایك یہ کہ دیکھو آفتاب سے تمام اشیاء منورہوئیں بے اسکے آفتاب خود آئینہ ہوگیا یا اس میں سے کچھ جدا ہوکر آئینہ بنادوسرے یہ کہ ایك آئینہ نفس ذات آفتاب سے بلاواسطہ روشن ہے باقی بوسائطورنہ حاشاکہاں مثال اورکہاں وہ بارگاہ جلال۔باقی اشیاء سے کہ مثال میں بالواسطہ منور مانیں آفتاب حجاب میں ہے اورالله عزوجل ظاہر فوق کل ظاہر ہےآفتاب ان اشیاء تك اپنے وصول نور میں وسائط کا محتاج ہے اورالله عزوجل احتیاج سے پاکغرض کسی بات میں نہ تطبیق مراد نہ ہرگز ممکنحتی کہ نفس وساطت بھی یکساں نہیںکما لایخفی وقد اشرنا الیہ(جیسا کہ پوشیدہ نہیں اورہم نے اس کی طرف اشارہ کردیاہے۔ت)
سید ی ابو سالم عبدالله عیاشیہم استاذ علامہ محمد زرقانی تلمیذ علامہ ابوالحسن شبراملسی اپنی کتاب"الرحلہ"پھر سید ی علامہ عشماوی رحمہم الله تعالی جمیعا ''شرح صلاۃ''حضرت سیدی احمد بدوی کبیر رضی الله تعالی عنہ میں فرماتے ہیں:
انما یدرکہ علی حقیقتہ من عرف معنی قول تعالی: الله نور السموت والارض وتحقیق ذلك علی ماینبغی لیس مما یدرك ببضاعۃ العقول ولا مما تسلط علیہ الاوھام وانما یدرك بکشف الھی واشراق حقہ من اشعۃ ذلك النور فی قلب العبد فیدرك نورالله بنورہ و اقرب تقریر یعطی القرب من فھم۔معنی الحدیث انہ لما کان النور المحمدی اول الانوار الحادثۃ التی تجلی بھا النور القدیم الازلی وھو اول التعینات للوجود المطلق الحقانی وھو مدد کل نور کائن اویکون وکما اشرق النور الاول فی حقیقتہ فتنورت بحیث صارت ھو نورا اشرق نورہ المحمدی علی حقائق الموجودات شیئا اس کا ادراك حقیقۃ وہی شخص کرسکتاہے جو الله تعالی کے ارشاد الله نورالسموت والارض کا معنی جانتاہے کیونکہ وہم او رعقل کے ذرائع اس کا حقیقی ادراك نہیں کرسکتےاس کو توصرف بندے کے دل میں اس نور کو الله تعالی کی عطاکردہ شعاؤں سے ہی سمجھا جاسکتاہےپس ''نورالله ''کو اس نور ہی کے ذریعے سے سمجھا جاسکتاہے۔حدیث کے معنی کو سمجھنے کے لئے قریب ترین یہ ہے کہ نو رمحمدی جب قدیم اورازلی نور کی پہلی تجلی ہے تو کائنات میں بھی الله تعالی کے وجود کا وہی سب سے پہلا مظہر ہے اوروجود میں آنے والے تمام نوروں کی اصل قوت ہے۔جب یہ نو راول چمکا اورمنور ہوا تو اس نور محمدی نے تمام موجودات پر درجہ بدرجہ اپنی چمك ڈالی تو بلا واسطہ یا واسطوں کی کمی بیشی کے اعتبار سے ہر چیز اپنی استعداد کے
#19094 · رسالہ صلات الصفاء فی نورالمصطفٰی ۱۳۲۹ھ (نور مصطفی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے بیان میں صفائی باطن کے انعامات)
فشیئا فہی تستمد منہ علی قدر تنورھا بحسب کثرۃ الوسائط وقلتہا وعدمہا وکلما اشرق نورہ علی نوع من انواع الحقائق ظہر النور فی مظہر الاقسام فقد کان النور الحادث اولا شیئا واحد اثم اشرق فی حقیقۃ اخری فاستنارت بنورہ تنورا کاملا یحسب ما تققتضیہ حقیقتہا فحصل فی الوجود الحادث نوران مفیض ومفاض وفی نفس الامر لیس ھناك الا نورا و احدا اشرق فی قابل الاستنارۃ یتنوربتعددات المظاھر والظاھر واحدثم کذلك کلما اشرق فی محل ظھر بصورۃ الانقسام وقد یشرق نور المفاض علیہ ایضا بحسب قوتہ علی قوابل اخر فتنوربنورہ فیحصل انقسام اخر بحسب المظاھر وکلہا راجعۃ الی النور الا ول الھادث اما بواسطۃ او بدونھا۔
قال وھذا غایۃ ما اتصل الیہ العبارۃ فی ھذا التقریر ومثل فی قصر باعہ وعدم تضلعہ من العلوم الا لھیۃ ان زاد فی التقریر خشی علی واقرب مثال یضرب لذلك نور المصباح تصبح منہ مصابیح کثیرۃ وھو فی نفسہ باق علی ما ھوا علیہ لم ینقص منہ شیئ واقرب من ھذا المثال الی التحقیق و ابعد عن الافھام نور الشمس المشرق فی الاھلۃ والکواکب علی مطابق چمك اٹھی اورتما م حقائق واقسام اس نور کی چمك سے اس کے مظہر بن گئےیوں وجود میں آنے والا پہلا نور ایك تھا لیکن اسکی چمك سے دوسرے حقائق بھی اپنی حقیقت کے مطابق اس نور سے منور ہوتے چلے گئے اورکائنات میں نور در نور بن گئے جبکہ وجود میں نور کی سرف دو ہی قسمیںایك فیض دینے والا اور دوسرا فیض پانے والاحالانکہ نفس الامری حقیقت میں یہ دونوں نور ایك ہی ہیںیہ ایك حقیقی نور ہی قابل اشیاء مین چمك پیدا کرکے متعدد مظاہر میںہوتاہے اورتمام اقسام میں ہر قسم کی صورت میں چمکتاہے اسی طرح فیض یافتہ نور بھی اپنی استعداد کے مطابق دوسری قابل اشیاء میں چمك پیدا کر کے ان کو منور کرتاہے جس سے مزید مظاہرات کی اقسام حاصل ہوتی ہیں جبکہ یہ تمام انوار بالواسطہ یا بلاواسطہ سب سے پہلے نور سے ہی مستفیض ہیں۔

اس تقریر کے لئے یہ انتہائی محتاط عبارت ہے جو علوم الہیہ کے موافق ہےاس سے زائد عبارت خطرناك ہوسکتی ہے۔اس تقریر کی مناسب مثال وہ چراغ ہے جس سے بے شمار چراغ روشن ہوئےاس کے باوجود وہ اپنی اصل حالت پر باقی ہے اور اس کے نور میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئیمزید واضح مثال سورج ہے جس سے تمام سیارے روشن ہیں جن کا اپناکوئی نور نہیں ہے۔بظاہر یوں معلوم ہوتاہے کہ سورج کا نوران سیاروں میں منقسم ہوگیا ہے
#19095 · رسالہ صلات الصفاء فی نورالمصطفٰی ۱۳۲۹ھ (نور مصطفی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے بیان میں صفائی باطن کے انعامات)
القول بان الکل مستنیر بنورہ ولیس لہا نور من ذاتھا فقد یقال بحسب النظر الاول ان نور الشمس منقسم فی ھذہ الاجرام العولیۃ وفی الحقیقۃ لیس ھذا الا نور ھا وھو قائم بھا لم ینقص منہ شیئ ولم یزایلہا منہ شیئ ولکنہ اشرق فی اجرام قابلۃ الاستنارۃ فاستنارت۔
واقرب من ھذا الالفھم مایحصل فی الاجرام السفلیۃ من اشراق اشعۃ الشمس علی الماء اوقوار الزجاج فیستنیر مایقابلھا من الجدران بحیث یلمح فیہا نور کنور الشمس مشرق باشراقہ ولم ینفصل شیئ من نور المشس عن محلہ الی ذلك المحل ومن کشف الله حجاب الغفلۃ عن قلبہ و اشرقت الانوار المحمدیۃ علی قلبہ یصدق اتباعہ لہ ادرك الامر ادراکا اخر لا یحتمل شکا ولا وھما۔

نسأل الله تعالی ان ینوربنورالعلم الالھی بصائر نا و یحجب عن ظلمات الجل سرائرنا ویغفرلنا ما اجترأنا علیہ من الخوض فیما لسنالہ باھل ونسألہ ان لایؤاخذنا بما تقتضیہ جبکہ فی الواقع ان سیاروں میں سورج ہی کا نور ہے جو سورج سے نہ تو جدا ہوا اورنہ ہی کم ہواسیارے تو صرف اپنی قابلیت کی بناپر چمکتے ہیں اورسورج کی روشنی سے منور ہوئے۔




مزید سمجھ کے لئے پانی اورشیشے پر پڑنے والی سورج کی شعاعوں کو دیکھا جائے جن کا عکس پانی یا شیشے کے بالمقابل دیوار پر پڑتاہے جس سے دیوار روشن ہوجاتی ہےدیوار پر یہ روشنی سورج ہی کا نور ہے جو بالواسطہ دیوار پر پڑاکیونکہ براہ راست دیوار پر سورج کا نہیں پڑا اورنہ ہی یہ نور سورج سے جدا ہوا اس کے باوجود یہ نور سورج کا ہی ہےجب الله تعالی کسی کے قلب کو حجاب غفلت سے پاك کرتاہے اوروہ دل انوار محمدیہ سے منور ہوتاہے تو پھر اس کا ادراك ایسا کامل ہوتاہے کہ اس میں شك اوروہم کا احتمال نہیں ہوتا۔

الله تعالی سے دعا ہے کہ وہ ہماری بصیر ت کو اپنے علم کے نور سے منور فرمائے اورہمارے باطن کو جہالت کے اندھیروں سے محفوظ فرمائےاورجن امورمیں ہم غور کرنے کے اہل نہیں ان پر ہماری جسارت کو معاف فرمائے اوراس جناب
#19096 · رسالہ صلات الصفاء فی نورالمصطفٰی ۱۳۲۹ھ (نور مصطفی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے بیان میں صفائی باطن کے انعامات)
العبارۃ من تقصیر فی حق ذلك الجناب اھ مختصرا۔ میں ہماری کی کوتاہیوں پر مواخذہ نہ فرمائے آمین !اھ مختصرا(ت)۔
اس تقریر منیر سے مقاصد مذکورہ کے سوا چند فائدے اورحاصل ہوئے:
اولا:یہ بھی روشن ہوگیا کہ تمام عالم نور محمدی صلی الله تعالی علیہ وسلم سے کیونکر بنا۔بے اس کے کہ نور حضور تقسیم ہوا یا اس کا کوئی حصہ این وآں بنا ہو۔اوریہ کہ وہ جو حدیث میں ارشاد ہوا کہ پھر اس نور کے چار حصے کئےتین سے قلم ولوح وعرش بنائےچوتھے کے پھر چار حصے کئے الی آخرہیہ اس کی شعاوں کا انقسام جیسے ہزار آئینوں میں آفتاب کا نور چمکے تو وہ ہزار حصوں پر منقسم نظرآئے گاحالانکہ آفتاب منقسم نہ ہوا نہ اس کا کوئی حصہ آئینوں میں آیا۔
واندفع مااستشکلہ العلامۃ الشبراملسی ان الحقیقۃ الواحدۃ لاتنقسم ولیست الحقیقۃ المحمدیہ الا واحدۃ من تلك الاقسام والباقی ان کان منہا ایضا فقد اقسمت وان کان غیرھا فما معنی الا قسام وحاول الجواب وتبعہ فیہ تلمیذہ العلامۃ الزرقانی بان المعنی انہ زادفیہ ''لا انہ قسم ذلك النور الذی ھو نور المصطفی صلی الله تعالی علیہ وسلم اذا الظاھر انہ حیث صورہ بصورۃ مما ثلۃ لصورۃ التی سیصیر علیھما لایقسمہ الیہ والی غیرہ اھ ۔

وحاصل جوابہ کما قررۃ تلمیذہ اس(مذکورہ بالا تقریرسے)علامہ شبر املسی کا اعتراض ختم ہوا (اعتراض)حقیقۃ واحدہ تقسیم نہیں ہوتی کیونکہ حقیقت محمدیہ ان اقسام میں ایك قسم ہےاوراگر باقی اقسام اسی (حقیقت) سے ہیں تو یہ حقیقت تقسیم ہوگئی اوراگر باقی چیزیں اس حقیقت کی غیر ہیں تو انقسام کا کیا مطلبپھر انہوں نے (علامہ شبر املسی)نے خود ہی جواب دیا اورعلامہ زرقانی شاگرد رشید علامہ شبراملسی نے ان کی اتباع کی۔(جواب) حقیقت یہ ہے کہ الہ نے اس میں اضافہ کیا نہ کہ حضور صلی الله تعالی علیہ وسلم کے نور کو تقسیم کیا کیونکہ یہ یقینی بات ہے کہ الله نے ان کو ایك ایسی صورت مثالی عطا کی جس پر حضور صلی الله تعالی علیہ وسلم کی تخلیق ہونی تھی تو اسے تقسیم نہیں کیا جائے گا۔
ان کے جواب کا خلاصہ جسے ان کے شاگرد
حوالہ / References الرحلۃ لعلی بن علی الشبر املسی
شرح الزرقانی علی المواھب اللدنیۃ المقصد الاو ل دارالمعرفۃ بیروت ۱/۴۶
#19097 · رسالہ صلات الصفاء فی نورالمصطفٰی ۱۳۲۹ھ (نور مصطفی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے بیان میں صفائی باطن کے انعامات)
العیاشی وان معنی الانقسام زیادۃ نور علی ذلك النور المحمدی فیؤخذ ذلك الزائد ثم یزادعلیہ نوراخر ثم کذلك الی اخر الاقسامقال العیاشی وھذا جواب مقنع بحسب الظاھر والمتحقیق والله تعالی اعلم وراء ذلك اھ ثم ذکر مانقلنا عنہ انفاوراأیتنی کتبت علی ھامش الزرقانی مانصہ۔
اقول:تبع فیہ شیخہ الشبرملسی الحق انہ لا معنی لہ فانہ اذن لایکون التخلیق من نورہ صلی الله تعالی علیہ وسلم وھو خلاف المنصوص والمراد اھ۔


اقول:ویمکن الجواب بان المراد انہ تعالی کساہ شعاعا اکثرمما کان ثم فصل من شعاعہ شیئا فقسمہ کما تأخذہ الملئکۃ شیئا من الا شعۃ المحیطۃ بالکواکب فترمی بہ مسترقی السمع ویقال بذلك ان النجوم لھا رجوم ولکن منح المولی تعالی من ذلك علامہ عیاشی نے بیان کیا ہے کہ انقسام کا معنی نور محمدی اپر اضافے کے ہیںپھر اس زائد کو لے لیا اس پر ایك دوسرے نور کا اضافہ کیا۔اسی طرح آخری تقسیم تك سلسلہ جاری رہا۔ عیاشی نے کہا کہ ظاہر کے لحاظ سے یہ جواب کافی ہے اورتحقیق اس کے علاوہ الله جانتاہے اھ۔پھر اس نے وہی ذکر کیا جو ابھی ہم نے اس سے نقل کیاہے۔مجھے یاد ہے کہ میں نے زرقانی پر حاشیہ لکھا جس کی نص یہ ہے۔
اقول:(میں(احمد رضا خاں)کہتاہوں)کہ اس(عیاشی)نے اس مسئلہ میں اپنے شیخ شبراملسی کی پیروی کی لیکن حق یہ ہے کہ یہ ایك بے معنی بات ہے کیونکہ اس صورت میں حضور صلی الله تعالی علیہ وسلم کے نور سے تخلیق نہ ہوگییہ نص اور مراد کے خلاف ہے۔
اقول:(میں کہتاہوں)اس کا جواب یہ بھی ممکن ہے کہ الله نے آپ کے نور کو پہلی شعاع سے زائد شعاع عطا کی پھر اس سے کچھ جدا کیاپھر اس کی تقسیم کی جیسے فرشتے ان شعاعوں میں سے جو ستاروں کو محیط ہیںلے کر چھپ کر سننے والے شیطانوں کو مارتے ہیں اس لئے کہا جاتاہے کہ نجوم کے لئے رجوم ہے۔اس روشن تقریر سے مولی تعالی
حوالہ / References حاشیۃ امام احمد رضا علی شرح الزرقانی
#19098 · رسالہ صلات الصفاء فی نورالمصطفٰی ۱۳۲۹ھ (نور مصطفی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے بیان میں صفائی باطن کے انعامات)
التقریر المنیر ما اغنی عن کل تکلف ولله الحمد وقد کان منح للعبد الضعیف ثم رأیت فی شرح العشماوی جزاہ الله تعالی عنی وعن المسلمین خیرا کثیرا امین! نے ہر تکلیف سے بے نیازی عطافرمائی۔اورتمام تعریفیں الله ہی کے لئے ہیں۔الله تعالی نے یہ تقریر اس عبدضعیف کو القاء فرمائی پھر میں نے اس کو عشماوی کی شرح میں دیکھا۔الله تعالی میری طرف سے اورتمام مسلمانوں کی طرف سے انکو بہت زیادہ جزاء خیر عطافرمائے۔آمین۔(ت)
ثانیا اقول:یہ شبہ بھی دفع ہوگیا کہ خلق میں کفار ومشرکین بھی ہیںوہ محض ظلمت ہیں تو نور مصطفی صلی الله تعالی علیہ وسلم سے کیونکر بنے اورنرے نجس ہیں تو اس نور پاك سے کیونکر مخلوق مانے گئے۔وجہ اند فاع ہماری تقیر سے روشنظلمت ہو یا نورجس نے خلعت وجود پایاہے اس کے لئے تجلی آفتاب وجود سے ضرور حصہ ہے اگرچہ نورنہ ہو صرف ظہور ہوکما تقدم (جیساکہ آگے آئے گا۔ت)اورشعاع شمس ہر پاك وناپاك جگہ پڑتی ہے وہ جگہ فی نفسہ پاك ہے اس سے دھوپ ناپاك نہیں ہوسکتی۔
ثالثا اقول:یہ بھی ظاہر ہوگیا کہ جس طرح مرتبہ وجود میں سرف ایك ذات حق ہے باقی سب اسی کے پر تو وجود سے موجود یونہی مرتبہ ایجاد میں صرف ایك ذات مصطفی ہے باقی سب پراسی کے عکس کا فیضان وجودمرتبہ کون میں نور احدی آفتاب ہے اورتمام عالم اس کے آئینے اور مرتبہ تکوین میں نور احمدی آفتاب ہے اورساراجہان اس کے آبگینےوفی ھذا اقول(اوراسی سلسلہ میں میں کہتاہوں):
خالق کل الوری ربك لاغیرہ نورك کل الوری غیرك لم لیس لن
ای لم یوجد ولیس موجود اولن یوجدابدا ۔
(کل مخلوق کا پیدا کرنے والا آپ کا رب ہی ہےآپ ہی کا نور کل مخلوق ہے اورآپ کا غیر کچھ بھی نہ تھانہ ہےنہ ہوگا۔ت)
رابعا اقول:نور احدی تو نوراحدینور احمدی پر بھی یہ مثال منیر مثال چراغ سے احسن و اکمل ہےایك چراغ سے بھی اگرچہ ہزاروں چراغ روشن ہوسکتے ہیں بے اس کے کہ ان چراغوں میں اس کا کوئی حصہ آئے مگر دوسرے چراغ صرف حصول نو ر میں اسی چراغ کے محتاج ہوئےبقاء میں
حوالہ / References بستان الغفران مجمع بحوث الامام احمد رضا کراچی ص۲۲۳
#19099 · رسالہ صلات الصفاء فی نورالمصطفٰی ۱۳۲۹ھ (نور مصطفی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے بیان میں صفائی باطن کے انعامات)
اس سے مستغنی ہیںاگر انہیں روشن کر کے پہلے چراغ کو ٹھنڈا کر دیجئے ان کی روشنی میں فرق نہ آئے گا نہ روشن ہونے کے بعد ان کو اس سے کوئی مدد پہنچ رہی ہے مع ہذا کسب نور کے بعد ان میں اوراس چراغ اول میں کچھ فرق نہیں رہتاسب یکساں معلوم ہوتے ہیں بخلاف نور محمدی صلی الله تعالی علیہ وسلم کہ عالم جس طرح اپنی ابتدائے وجود میں اس کا محتاج تھا کہ وہ نہ ہوتا تو کچھ نہ بنتا یونہی ہر شے اپنی بقا میں اس کی دست نگر ہےآج اس کا قدم درمیان سے نکال لیں تو عالم دفعۃ فنائے محض ہوجائے
وہ جو نہ تھے کچھ نہ تھا وہ جو نہ ہوں تو کچھ نہ ہو
جان ہیں وہ جہان کی جان ہے تو جہان ہے
نیزجس طرح ابتدائے وجود میں تمام جہان اس سے مستفیض ہوا بعد وجود بھی ہر آن اسی کی مدد سے بہرہ یاب ہےپھر تمام جہان میں کوئی اس کے مساوی نہیں ہوسکتا۔یہ تینوں باتیں مثال آفتاب سے روشن ہیںآئینے اس سے روشن ہوئے اورجب تك روشن ہیں اسی کی مددپہنچ رہی ہے اورآفتاب سے علاقہ چھوٹتے ہیں فورا اندھیرے ہیں پھر کتنے ہی چمکین سورج کی برابری نہیں پاتے۔یہی حال ایك ذرہ عالم عرش وفرش اورجو کچھ ان میں ہے اوردنیاوآخرت اوران کے اہل اورانس وجن وملك وشمس وقمر وجملہ انوار ظاہر وباطن حتی کہ شموس رسالت علیہم الصلوۃ والتحیۃ کا ہمارے آفتاب جہاں تاك بعالم مآب علیہ الصلوۃ والسلام من الملك الوہاب کے ساتھ ہے کہ ہر ایك ایجاد امداد وابتداء وبقاء میں ہر حالہر آن ان کا دست نگران کا محتاج ہے ولله الحمد (اورسب تعریفیں الله تعالی کے لئے ہیں۔ت)
امام اجل محمد بوصیری قدس سرہام القری میں عرض کرتے ہیں:
کیف ترقی رقیك الانبیاء یاسماء ماطاولتہا سماء
لم یساووك فی علاك وقدحا ل سنا منك دونھم وسناء
انما مثلوا صفاتك للنا س کما مثل النجوم الماء
(یعنی انبیاء حضور کی سی ترقی کیونکر کریںاے وہ آسمان رفعت جس سے کسی آسمان نے بلندی میں مقابلہ نہ کیاانبیاء حضور کے کمالات عالیہ میں حضور کے ہمسر نہ ہوئےحضور کی جھلك اوربلندی نے ان کو حضور تك پہنچنے سے روك دیاوہ توحضور کے صفتوں کی
حوالہ / References حدائق بخشش مکتبہ رضویہ کراچی حصہ دوم ص۷۹
ام القرٰی فی مدح خیرالورٰی الفصل الاول حزب القادریۃ لاہور ص۶
#19100 · رسالہ صلات الصفاء فی نورالمصطفٰی ۱۳۲۹ھ (نور مصطفی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے بیان میں صفائی باطن کے انعامات)
ایك شبیہ لوگوں کو دکھاتے ہیں جیسے ستاروں کا عکس پانی دکھاتاہے۔)
یہ وہی تشبیہ وتقریر ہے جو ہم نے ذکر کیوہاں ذات کریم وافاضہ انوار کا ذکر تھا لہذا آفتاب سے تمثیل دییہاں صفات کریمہ کا بیان ہے لہذا ستاروں سے تشبیہ مناسب ہوئی۔مطالع المسرات میں ہے:
اسمہ صلی الله تعالی علیہ وسلم محی حیوۃ جمیع الکون بہ صلی الله تعالی علیہ وسلم فھو روحہ وحیوتہ وسبب و جودہ وبقائہ ۔ حضور اقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم کا نام پاك محی ہےزندہ فرماتے والےاس لئے کہ سارے جہان کی زندگی حضورسے ہے تو حضور تمام عالم کی جان وزندگی اوراس کے وجود وبقاء کے سبب ہیں۔
اسی میں ہے:
ھو صلی الله تعالی علیہ وسلم روح الاکوان وحیاتہا و سروجودھا ولولاہ لذھبت وتلاشت کما قال سید عبد السلام رضی الله تعالی عنہ ونفعنا بہ ولا شیئ الا ھو بہ منوط اذلولا الواسطۃ لذھب کما قیل الموسوط ۔ رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم تمام عالم کی جان وحیات و سبب وجود ہیں حضور نہ ہوں تو عالم نیست ونابود ہوجائے کہ حضرت سیدی عبدالسلام رضی الله تعالی عنہ نے فرمایا کہ عالم میں کوئی ایسا نہیں جو نبی صلی الله تعالی علیہ وسلم کے دامن سے وابستہ نہ ہواس لئے کہ واسطہ نہ رہے تو جو اس کے واسطہ سے تھا آپ ہی فنا ہوجائے۔
ہمزیہ شریف میں ارشاد فرمایا:
کل فضل فی العلمین فمن فضل النبی استعارۃ الفضلاء
(جہان والوں میں جو خوبی جس کسی میں ہے وہ اس نے نبی صلی الله تعالی علیہ وسلم کے فضل سے مانگے کرلی ہے۔)
حوالہ / References مطالع المسرات مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آبادص۹۹
مطالع المسرات مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ص۲۶۳
ام القرٰی فی مدح خیر الورٰی الفصل السادس حز ب القادریۃ لاہور ص۱۹
#19101 · رسالہ صلات الصفاء فی نورالمصطفٰی ۱۳۲۹ھ (نور مصطفی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے بیان میں صفائی باطن کے انعامات)
امام ابن حجر مکی افضل القری میں فرماتے ہیں:
لانہ الممدلھم اذھو الوارث للحضرۃ الا لہیۃ و المستمد منہا بلا واسطۃ دون غیرہ فانہ لایستمد منہا الا بواسطتہ فلا یصل لکامل منہا شیئ الا وھو من بعض مددہ وعلی یدیہ ۔ تمام جہان کی امداد کرنے والے نبی صلی الله تعالی علیہ وسلم ہیں اس لئے کہ حضور ہی بارگاہ الہی کے وارث ہیں بلاواسطہ خدا سے حضور ہی مدد لیتے ہیں اورتمام عالم مدد الہی حضور کی وساطت سے لیتاہے تو جس کامل کو خوبی ملی وہ حضور ہی کی مدد اورحضور ہی کے ہاتھ سے ملی۔
شرح سیدی عشماوی میں ہے:
نعمتان ماخلا موجود عنہما نعمۃ الا یجاد ونعمۃ الامداد وھو صلی الله تعالی علیہ وسلم الواسطۃ فیھما اذلو لاسبقۃ وجودہ ماوجد موجود ولو لا وجود نورہ فی ضمائر الکون لتھد مت دعائم الوجود فھو الذی وجد اولا ولہ تبع الوجود وصار مرتبطابہ لااستغناء لہ عنہ ۔ کوئی موجوددو نعمتوں سے خالی نہیںنعمت ایجاد ونعمت امداد۔اور ان دونوں میں نبی صلی الله تعالی علیہ وسلم ہی واسطہ ہیں کہ حضور پہلے موجود نہ ہولیتے تو کوئی چیز وجود نہ پاتی اور عالم کے اندر حضور کا نور موجود نہ ہوتو وجود کے ستون ڈھے جائیں تو حضور ہی پہلے موجود ہوئے اورتمام جہان حضور کا طفیلی اورحضور سے وابستہ ہوا جسے کسی طرح حضور سے بے نیازی نہیں۔
ان مضامین جمیلہ پر بکثرت ائمہ وعلماء کے نصوص جلیلہ فقیر کے رسالہ"سلطنۃ المصطفی فی ملکوت کل الوری"میں ہیںولله الحمد۔
خامسا:ہماری تقریرسے یہ بھی واضح ہوگیا کہ حضور خود نو رہیں تو حدیث مذکور میں نور بنیك کی اضافت بھی من نورہ کی طرح بیانیہ ہے۔سید عالم صلی الله تعالی علیہ وسلم نے اظہار نعمت الہیہ کے لئے عرض کی واجعلنی نورا (اوراے الله !مجھے نور بنا دے۔ت)اور خود رب العزۃ
حوالہ / References افضل القرٰی لقراء ام القری(شرح ام القرٰی)
شرح مقدمۃ العشماوی
الخصائص الکبرٰی باب الآیۃ فی انہ صلی الله تعالٰی علیہ وسلم لم یکن یرٰی لہ ظل مرکز اہلسنت برکات رضا گجرات ہند ۱/۶۸
#19102 · رسالہ صلات الصفاء فی نورالمصطفٰی ۱۳۲۹ھ (نور مصطفی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے بیان میں صفائی باطن کے انعامات)
عزجلالہ نے قرآن عظیم میں ان کو نور فرمایا:
"قد جاءکم من اللہ نور وکتب مبین ﴿۱۵﴾" ۔ بے شك تمہارے پاس الله کی طرف سے ایك نورآیا اور روشن کتاب۔(ت)
پھر حضور کے نور ہونے میں کیا شبہ رہا۔
اقول:اگر نور نبیك میں اضافت بیانیہ نہ لوبلکہ نور سے وہی معنی مشہور یعنی روشنی کہ عرض وکیفیت ہے مراد لو تو سید عالم صلی الله تعالی علیہ وسلم اول مخلوق نہ ہوئے بلکہ ایك عرض وصفتپھر وجود موصوف سے پہلے صفت کا وجود کیونکر ممکن
لاجرم حضور ہی خود وہ نور ہیں کہ سب سے پہلے مخلوق ہوا۔
فلاحاجۃ الی ماقال العلامۃ الزرقانی رحمہ الله من انہ لایشکل بان النور عرض لایقوم بذاتہ لان ھذا من خرق العوائد اھ ورأیتنی کتبت یلیہ لم لایقال فیہ کما ستقولون فی قرینہ من نورہ ان الاضافۃ بیانیۃ اھ۔
اقول:خرق العوائد لاکلام فیہ والقدرۃ متسعۃ و لکن وجود الصفۃ بدون الموصوف مما لا یعقل لانہا ان قامت بغیرہ لم تکن صفۃ لہ بل لغیرہ او بنفسھا لم تکن صفۃ اصلا اذا لا صفۃ الا المعنی القائم بغیرہ فاذا تو اب علامہ زرقانی کے اس قول کی حاجت نہ رہی اوریہ اعتراض نہ کیا جائے کہ نور عرض ہےقائم بذاتہ نہیں ہے کیونکہ یہ خرق عادت ہے۔میں نے اس پر لکھا کہ یہ اعتراض کیوں نہ کیاجائے کہ آپ من نورہ میں اضافت بیانیہ نہیں مانتے۔
اقول:(میں(احمد رضا خاں)کہتاہوں)کہ خرق عادت میں تو کوئی کلام نہیں اورخدا کی قدرت بہت وسیع ہے لیکن صفت کا وجود بغیر موصوف کے سمجھ میں نہیں آسکتا(کیونکہ ایسی صفت کی دو ہی صورتیں ہیں)موصوف کے غیر کے ساتھ قائم ہوت وموصوف کی صفت نہ ہوگی بلکہ غیر کی ہوگی اوراگر قائم بنفسہا ہوتو صفت ہی نہ ہوئی
حوالہ / References القرآن الکریم ۵ /۱۵
شرح الزرقانی علی المواھب اللدنیۃ المقصد الاول دارالمعرفۃ بیروت ۱/۴۶
#19103 · رسالہ صلات الصفاء فی نورالمصطفٰی ۱۳۲۹ھ (نور مصطفی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے بیان میں صفائی باطن کے انعامات)
قام بنفسہ لم یکن صفۃ وعرضابل جوھرا وکونہ عرضا مع قیامہ بنفسہ جمع للضدین والقدرۃ تعالیۃ عن التعلق بالمحالات العقلیۃ و وزن الاعمال بمعنی وزن الصحف والبطاقات کما فی حدیث احمد و الترمذی وابن ماجۃ وابن حبان والحاکم وصححہ وابن مردویۃ واللا لکلائی والبیہقی فی البعث عن عبدالله بن عمرو بان عاص رضی الله تعالی عنہما قال قال رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم:"ان الله سیخلص رجلا من امتی علی رأس الخلائق یوم القیمۃ فینشر علیہ تسعۃ وتسعین سجلا کل سجل مثل مدالبصر ثم یقول اتنکر من ھذا شیئا اظلمك کتبتی الحافظون فیقول لا یاربفیقول افلك عذر قال لا یا رب۔فیقول بلی ان لك عندنا حسنۃ وانہ لا ظلم علیك الیوم فتخرج بطاقۃ فیہا اشہد ان لاالہ الا الله وان محمدا عبدہ ورسولہ فیقول احضر وزنك ۔ فیقول یارب ماھذہ البطاقۃ مع ھذہ السجلات فیقول انك لاتظلم۔قال فتوضع السجلات فی کیونکہ صفت کہتے اسے ہیں جو غیر کے ساتھ قائم ہوجب وہ قائم بنفسہا ہوتو وہ نہ صفت ہوئی اورنہ ہی عرض بلکہ جو ہر ہوئی اوریہ(کہنا)کہ عرض اور قائم بنفسہ بھی ہے تو یہ اجتماع ضدین لازم آتاہے(اوراجتماع ضدین باطل ہے)اور قدرت الہیہ محالات عقلیہ سے متعلق نہیں ہوتی وزن اعمال(جو کہاجاتا ہے)بایں معنی ہے کہ کاغذ اورصحیفے تو لے جائینگے جیسے کہ حدیث میں آیا ہے جسے احمدترمذیابن حبانحاکم نے صحیح قراردیاہے۔ابن مردویہامام لالکائی اوربیہقی نے قیامت کی بحث میں عبدالله بن عمرو العاص رضی الله تعالی عنہم سے روایت کیا ہے کہ قیامت کے دن الله تعالی میری امت میں سے ایك شخص کو چن لے گاپھر اس کے سامنے ننانوے رجسٹر کھولے جائیں گے اور ہر رجسٹر حد نگاہ تك ہوگاپھر اسے کہا جائے گا تو اس سے انکار کرتا ہے یا میرے فرشتوں(کراما کاتبین) نے تم پر ظلم کیاہے وہ کہے گا:اے میرے رب ! نہیں۔الله فرمائے گا:کیا تیرے پاس کوئی عذر ہے بندہ کہے گا:نہیں۔ الله فرمائے گا:ہمارے پاس تیری ایك نیکی ہےآج تم پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔پھر ایك کاغذ نکالاجائے گا جس پرکلمہ شہادت لکھاہوگا۔الله فرمائے گا:جا اس کا وزن کرا۔بندہ عرض کرے گا کہ ان رجسٹروں کے سامنے اس کاغذ کی کیا حیثیت ہے۔الله فرمائے گا تم پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔حضورصلی الله تعالی علیہ وسلم
#19104 · رسالہ صلات الصفاء فی نورالمصطفٰی ۱۳۲۹ھ (نور مصطفی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے بیان میں صفائی باطن کے انعامات)
کفۃ والبطاقۃ فی کفۃ فطاشت السجلات وثقلت البطاقۃ فلا یثقل مع اسم الله شیئ ۔ فرماتے ہیں کہ پھر ایك پلڑے میں ننانوے رجسٹر رکھے جائیں گے اوردوسرے میں وہ کاغذ(جس پرکلمہ شریف لکھا ہوگا)چنانچہ رجسٹروں کا پلڑا ہلکا ہوگا اور کاغذ کا بھاریاورالله کے نام کے مقابلے میں کوئی چیز وزنی نہ ہوگی۔(ت)
بالجملہ حاصل حدیث شریف یہ ٹھہرا کہ الله تعالی نے محمدصلی الله تعالی علیہ وسلم کی ذات پاك کو اپنی ذات کریم سے پیدا کیا یعنی عین ذات کی تجلی بلاواسطہ ہمارے حضور ہیں باقی سب ہمارے حضور کے نور وظہور ہیںصلی الله تعالی علیہ وسلم وعلی الہ وصحبہ وبارك وکرم۔والله سبحانہوتعالی اعلم۔
مسئلہ ۴۲: از کلکتہمچھوابازاراسٹریٹ نمبر ۲۱متصل چولیا مسجدمرسلہ حکیم اظہر علی صاحب ۲۰ ذیقعدہ ۱۳۱۹ھ
بحضور اقدس جناب مولانا مدظلہ العالی !یہ اشہتار ترسیل خدمت ہےاگر صحیح ہوتو اس پر صادر کردیا جائے۔والا جواب مفصل ترقیم فرمائیں والادب۔اظہر علی عفی عنہ
نقل اشتہار
رب زدنی علما(اے میرے رب !میرے علم میں اضافہ فرما۔ت)نور رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم کا الله تعالی کا ذاتی نور جزء ذات یا عین ذات کا ٹکڑا نہیں بلکہ پیدا کیا ہوانور مخلوق ہے جیسا کہ نبی صلی الله تعالی علیہ وسلم نے فرمایا ہے:
حوالہ / References جامع الترمذی ابواب الایمان باب ماجاء فی من یموت وھو یشہد الخ امین کمپنی دہلی ۲/۸۸،المستدرك للحاکم کتاب الایمان فضیلۃ الشہادۃ لاالہ الا الله دارالفکر بیروت ۱/۶،مواردالظماٰن الی زوائد ابن حبان حدیث ۲۵۲۳المطبعۃ السلفیۃ ص۶۲۵،کنزالعمال حدیث ۱۰۹و۱۴۲۱ مؤسسۃ الرسالۃ بیروت ۱/۴۴و۲۹۶،سنن ابن ماجۃ ابواب الزھد باب مایرجٰی من رحمۃ الله یوم القیٰمۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۳۲۸،مسند احمد بن حنبل عن عبدالله بن عمرو المکتب الاسلامی بیروت ۲/۲۱۳
#19105 · رسالہ صلات الصفاء فی نورالمصطفٰی ۱۳۲۹ھ (نور مصطفی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے بیان میں صفائی باطن کے انعامات)
اول ما خلق الله نوریاول ماخلق الله القلماول ما خلق الله العقل۔کذا فی تاریخ الخمیس وسر الاسرار۔ سب سے پہلے الله تعالی نے میرے نور کو پیدافرمایاسب سے پہلے الله تعالی نے قلم کو پیدا فرمایاسب سے پہلے الله تعالی نے عقل کو پیدا فرمایاتاریخ خمیس اورسرالاسرار میں یونہی ہے۔(ت)
اورذاتی نور کہنے سے نور رسول کریم علیہ التحیۃ والتسلیم کو جزء ذات یا عین ذات یا ٹکڑا ذات خدائے تعالی کا کہنا لازم آتاہےیہ کلام کفر ہے اورنبی صلی الله تعالی علیہ وسلم کا قدیم ہونا لازم آتاہے کیونکہ ذاتی کے معنی اگر اصطلاحی لئے جائیں تو جز خدایا عین خدا یا ٹکڑا ذات خدا کا ہونا لازم آتاہےیہی کلام کفر ہے اورعقائد بعض جہال کے یہی ہیںاس سبب سے نور رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم کو نور ذاتی یا ذاتی نور یا الله تعالی کی ذات کا ٹکڑا نہ کہنا چاہیےاگر نور رسول خدا صلی الله تعالی علیہ وسلم کو نور خدا یا نور مخلوق خدا یا نور ذات خدایا نور جمال خدا کہے تو کہنا جائز ہے جیسا کہ حضرت غوث الاعظم رحمۃ الله علیہ نے پنی کتاب سرالاسرار میں فرمایا ہے:
لما خلق الله تعالی روح محمد صلی الله تعالی علیہ وسلم اولا من نور جمالہ ۔ سب سے پہلے الله تعالی نے روح محمد صلی الله تعالی علیہ وسلم کو اپنے نور جمال سے پیدا فرمایا۔(ت)
اورحدیث قدسی میں آیا ہے:
خلقت روح محمد صلی الله تعالی علیہ وسلم من نور وجھی کما قال النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم اول ماخلق الله روحی اول ماخلق الله نوری ۔ میں نے روح محمد صلی الله تعالی علیہ وسلم کو اپنی ذات کے نور سے پیدا فرمایا جیسا کہ نبی کریم صلی الله تعالی علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ سب سے پہلے الله تعالی نے میری روح کو پیدافرمایا سب سے پہلے الله تعالی نے میرے نور کو پیدا فرمایا۔(ت)
کیونکہ ایك چیز کو دوسرے کی طرف اضافت کرنے سے جزء اس کا یا عین اس کا لازم نہیں آتا ہے کیونکہ
حوالہ / References تاریخ الخمیس مطلب اول المخلوقات مؤسسۃ شعبان بیروت ۱/۱۹،مرقاۃ المفاتیح کتاب الایمان تحت الحدیث ۹۴المکتبۃ الحبیبیہ کوئٹہ ۱/۲۹۱


تاریخ الخمیس مطلب اول المخلوقات مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱/۱۹
#19106 · رسالہ صلات الصفاء فی نورالمصطفٰی ۱۳۲۹ھ (نور مصطفی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے بیان میں صفائی باطن کے انعامات)
مضاف ومضاف الیہ کے درمیان مغائرت شرط ہے۔چنانچہ بیت الله وناقۃ الله ونورالله وروح الله پس ثابت ہوا کہ نور رسول خدا صلی الله تعالی علیہ وسلم نورمخلوق خدا یا نور ذات خدا یا نور جمال خدا ہےنور ذاتی یعنی الله تعالی کی ذات کا ٹکڑا وجزو عین نہیں ہےوالله تعالی اعلم بالصواب۔
المشتہر:عبدالمہیمن قاضی علاقہ تھانہ بہوبازار وغیرہ کلکتہ
الجواب :
رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم کا نور بلا شبہ الله عزوجل کے نورذاتی یعنی عین ذات الہی سے پیدا ہے جیسا کہ ہم نے پہلے فتوے میں تصریحات علمائے کرام سے محقق کیا اوراس کے معنی بھی وہیں مشرح کردیے۔حاش لله ! یہ کسی مسلمان کا عقیدہ کیا گمان بھی نہیں ہوسکتا کہ نور رسالت یا کوئی چیز معاذالله ذات الہی کا جز یا اس کا عین ونفس ہےایسا اعتقاد ضرور کفر وارتداد۔
ای ادعاء الجزئیۃ مطلقا والعینیۃ بمعنی الا تحاد ای ھو ھو فی مرتبۃ الفرق اما ان الوجود واحد والموجود واحد فی مرتبۃ الجمع والکل ظلالہ وکعوسہ فی مرتبۃ الفرق فلاموجود الا ھو فی مرتبۃ الحقیقۃ الذاتیۃ اذلاحظ لغیرہ فی حد ذاتہ من الجود اصلاجملۃ واحدۃ من دونہ ثنیا فحق واضح لاشك فیہ۔ یعنی جزئیت کا دعوی کرنا مطلقا اورعینیت بمعنی اتحاد کا دعوی کرنا یعنی مربہ فرق میں نور محمد صلی الله تعالی علیہ وسلم عین ذات خدا ہے(کفر ہے)لیکن یہ اعتقادکہ بے شك وجود ایك ہے اورموجود ایك ہے مرتبہ جمع میں اورتمام موجودات مربہ فرق میں اسی کے ظل اورعکس ہیں۔چنانچہ مرتبہ حقیقت ذاتیہ میں اس کے سوا کوئی موجود نہیں کیونکہ حد ذات میں اس کے ماسوا کسی کے لئے بغیر کسی استثناء کے بالکل وجود سے کوئی حصہ نہیں(یہ اعتقاد)خالص حق ہے اس میں کوئی شك نہیں۔(ت)
مگر نور رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم کو الله عزوجل کا نور ذاتی کہنے سے نہ عین ذات یا جزء ذات ہونا لازمنہ مسلمانوں پربد گمانی جائزنہ عرف عام علماء وعوام میں اس سے یہ معنی مفہومنہ نورذات کہنے کو نورذاتی کہنے پر کچھ ترجیح جس سے وہ جائز اور یہ ناجائزہو۔
اولا:ذاتی کی یہ اصطلاح کہ عین ذات یا جز ء ماہیت ہوخاص ایسا غوجی کی اصطلاح ہےعلامء عامہ کے عرف عام میں نہ یہ معنے مراد ہوتے ہیں نہ ہرگز مفہومعام محاورہ میں کہتے ہیں یہ میں اپنے
#19107 · رسالہ صلات الصفاء فی نورالمصطفٰی ۱۳۲۹ھ (نور مصطفی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے بیان میں صفائی باطن کے انعامات)
ذاتی علم سے کہتاہوں یعنی کسی کی سنی سنائی نہیں۔یہ مسجد میں نے اپنے ذاتی روپیہ سے بنائی ہے یعنی چندہ وغیرہ مال غیر سے نہیں۔ائمہ اہل سنت جن کا عقیدہ ہے کہ صفات الہیہ عین ذات نہیںالله عزوجل کے علم وقدرت وسمع وبصر وارادہ وکلام وح یات کو اس کی صفت ذاتی کہتے ہیں۔حدیقہ ندیہ میں ہے:
اعلم بان الصفات التی ھی لاعین الذات ولا غیرھا انما ھی الصفات الذاتیۃ الخ۔ بیشك وہ صفات جو الله تعالی کے نہ عین اورنہ غیر ہیںصرف وہ ذاتی صفات ہیں۔(ت)
علامہ سید شریف قدس سرہ الشریف رسالہ ''تعریفات''میں فرماتے ہیں:
الصفات الذاتیۃ ھی مایوصف الله تعالی بھا ولا یوصف بضدھا نحو القدرۃ والعزۃ والعظمۃ وغیرھا ۔ ذاتی صفات وہ ہیں جن سے الله تعالی موصوف ہے اوران کی ضد سے موصوف نہیں جیسے قدرتعزتعظمت وغیرہا۔ (ت)
وجوب ذاتی وامتانع ذاتی وامکان ذاتی کا نام حکمت وکلام وفلسفہ وغیرہا میں سنا ہوگا یعنی ان الذات تقتجی لذاتھا الوجود او العدم (یعنی بلاشبہ ذات اپنی ذات کے اعتبارسے وجود یا عدم کا تقاضا کرتی ہے۔ت)اولا ان میں کوئی بھی اپنے موصوف کا نہ عین ذات ہے نہ جزء بلکہ مفہومات اعتبار یہ ہیں جن کےلئے خارج میں وجود نہیں کما حقق فی محلہ(جیسا کہ اس کے محل میں اس کی تحقیق کردی گئی ہے۔ت)یونہی اصلین اعنی علم کلام وعلم اصول فقہ میں افعل کے حسن ذاتی وقبح ذاتی کا مسئلہ اورا سمیں ہمارے آئمہ ماتریدیہ کا مذہب سنا ہوگا حالانکہ بداہۃ حسن وقبح نہ عین فعل ہیں نہ جزء فعل۔محقق علی الاطلاق تحریر الاصول میں فرماتے ہیں:
مما اتقفقت فیہ العراض والعادات واستحق بہ المدح والذم فی نظر العقول جمیعا لتعلق مصالح الکل بہ لا یفید بل ھو المراد بالذاتی للقطع بان مجرد حرکۃ الید قتلا ظلما لاتزید حقیقتہا علی حقیقتہا جس میں اغراض وعادات متفق ہوں اوراس کے سبب سے مدح وذم کا استحقاق ہوکیونکہ سب کے مصالح اس سے متعلق ہیں یہ قول غیر مفید ہے بلکہ ذاتی سے مراد وہی ہےاس لئے کہ یہ بات قطعی ہے کہ قتل کے لئے بطور ظلم محض حرکت یدکی حقیقت بطور عدل اس کی حرکت
حوالہ / References الحدیقۃ الندیۃ الباب الثانی مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۱/۲۵۴
التعریفات للجرجانی ۸۷۰(الصفات الذاتیہ)دارالکتاب العربی بیروت ص۱۱۱
#19108 · رسالہ صلات الصفاء فی نورالمصطفٰی ۱۳۲۹ھ (نور مصطفی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے بیان میں صفائی باطن کے انعامات)
عدلافلو کان الذاتی مقتضی الذات اتحد لازمھما حسنا وقبحافانما یراد(ای بالذاتی)ما یجزم بہ العقل لفعل من الصفۃ بمجرد تعقلہ کائناعن صفۃ نفس من قام بہ فباعتبارھا یوصف بانہ عدل حسن اوضدہ اھ کی حقیقت سے زائد نہیں۔اگر ذاتی مقتضائے ذات ہوتا تو ان دونوں کا لازم حسن وقبح کے اعتبار سے متحدہوجاتا کیونکہ ذاتی سے مراد وہ ہے کہ عقل اس کے ساتھ جزم کرے کسی فعل کے لئے صفت سےمحض اس کے متعقل ہونے کی وجہ سے اس ذات کی صفت سے جس کے ساتھ وہ قائم ہے اسی کے اعتبار سے اس کو عدل وحسن یا اس کی ضد کے ساتھ متصف کیا جاتاہے اھ(ت)
ثانیا: ذاتی میں یائے نسبت ہےذاتی منسوب بہ ذات اورمتغائرین میں ہراضافت مصح نسبت جو چیز دوسرے کی طرف مضاف ہوگی وہ ضرور اس کی طرف منسوب ہوگی کہ اضافت بھی ایك نسبت ہی ہےتو جب نور ذات کہنا صحیح ہے تو نور ذاتی کہنا بھی قطعا صحیح ہوگا ورنہ نسبت ممتنع ہوگی تو نورذات کہنا بھی باطل ہوجائے گا ھذا خلف۔
ثالثا:نورذات کہنا جس کا جواز مانع کو بھی تسلیم ہے اس میں اضافت بیانیہ ہویعنی وہ نور کہ عین ذات الہی ہے تو معاذالله نور رسالت کا عین ذات الوہیت ہونا لازم آتاہے پھر یہ کیوں نہ منع ہوااگرکہئے کہ یہ معنے مراد نہیں بلکہ اضافت لامیہ ہے اوراس کی وجہ تشریف جیسے بیت الله وناقۃ الله وروح الله تو اسی معنی پر نور ذاتی میں کیا حرج ہے یعنی وہ نور کہ ذات الہی سے نسبت خاصہ ممتازہ رکھتاہے۔ شرح المواھب للعلامۃ الزرقانی میں ہے:
اضافۃ تشریف واشعاربانہ خلق عجیب وان لہ شانا لہ مناسبۃ ما الی الحضرۃ الربوبیۃ علی حد قولہ تعالی ونفخ فیہ من روحہ ۔ اضافت تشریفیہ ہے اوریہ بتانا ہے کہ آپ صلی الله تعالی علیہ وسلم عجیب مخلوق ہیں اوربارگاہ ربوبیت میں آپ کو خاص نسبت ہے جیسے"و نفخت فیہ من روحی" (اور میں اس میں اپنی طرف کی خاص معزز روح پھونك دوں۔(ت)
حوالہ / References تحریر الاصول المقالۃ الثانیہ الباب الاول الفصل الثانی مصطفی البابی مصر ص ۲۲۵و۲۲۶
شرح الزرقانی علی المواھب اللدنیۃ المقصد الاول دارالمعرفۃ بیروت ۱/۴۶
القرآن الکریم ۱۵ /۲۹ و ۳۸/۷۲
#19109 · رسالہ صلات الصفاء فی نورالمصطفٰی ۱۳۲۹ھ (نور مصطفی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے بیان میں صفائی باطن کے انعامات)
رابعا:نورذاتی میں اگر ایك معنی معاذالله کفرہیں کہ ذاتی کو اصطلاح فن ایسا غوجی پر حمل کریں جو ہرگز قائلوں کی مراد نہیں بلکہ غالبا ان کو معلوم بھی نہ ہوگی تو نور ذات یا نور الله کہنے میں جن کا جواز از خود مانع کو مسلم ہے عیاذابالله متعدد وجہ پر معانی کفر ہیں۔
ہم نے فتوی دیگر میں بیان کیا کہ نور کے دو۲ معنی ہیں:ایك ظاہر بنفسہ مظہر لغیرہبایں معنی اگر اضافت بیانیہ لو تو نور رسالت عین ذات الہی ٹھہرے اوریہ کفر ہے۔اور اگر لامیہ لو تو یہ معنی ہوں گے کہ وہ نور کہ آپ بذاب خود ظاہر اورذات الہی کا ظاہر کرنے والا ہےیہ بھی کفر ہے۔دوسرے معنی یہ کیفیت وعرض جسے چمکجھلکاجالاروشنی کہتے ہیں اس معنی پر اضافت بیانیہ لو تو کفر عینیت کے علاوہ ایك اورکفر عرضیت عارض ہوگا کہ ذات الہی معاذالله ایك عرض وکیفیت قرار پائیاوراگرالامیہ لو تو کسی کی روشنی کہنے سے غالبا یہ مفہوم کہ یہ کیفیت اس کو عارض ہے جیسے نو رشمس ونور قمر ونور چراغیوں معاذالله الله عزوجل محل حوادث ٹھہرے گایہ بھی صریح ضلالت وگمراہی ومنجربہ کفرلزومی ہےایسے خیالات سے اگر نو رذاتی کہنا ایك درجہ ناجائز ہوگا تو نورذات ونور الله کہنا چاردرجےحالانکہ ان کا جواز مانع کو مسلم ہونے کے علاوہ نور الله تو خود قرآن عظیم میں وارد ہے:
"یریدون لیطفـوا نور اللہ بافوہہم و اللہ متم نورہ ولو کرہ الکفرون ﴿۸﴾" ۔
" یریدون ان یطفـوا نور اللہ بافوہہم ویابی اللہ الا ان یتم نورہ ولو کرہ الکفرون ﴿۳۲﴾ " ۔ الله تعالی کے نور کو اپنی پھونکوں سے بچھانا چاہتے ہیں اورالله تعالی اپنے نور کو تام فرمانے والا ہے اگرچہ کافر ناپسند کریں۔ چاہتے ہیں کہ الله کا نور اپنے مونہوں سے بجھا دیں اور الله نہ مانے گا مگر اپنے نورکا پورا کرناپڑے برامانیں کافر۔(ت)
حدیث میں ہے:
اتقوافراسۃ المؤمن فانہ ینظر بنور الله ۔ مومن کی فراست سے ڈرو کیونکہ وہ نور الله سے دیکھتاہے۔ (ت)
خامسا:مضاف ومضاف الیہ میں اگر معائرت شرط ہے تو منسوب ومنسوب الیہ میں
حوالہ / References القرآن الکریم ۶۱ /۸
القرآن الکریم ۹ /۳۲
سنن الترمذی کتاب التفسیر حدیث ۳۱۳۸دارالفکر بیروت ۵/۸۸،کنزالعمال حدیث ۳۰۷۳۰مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۱/۸۸
#19110 · رسالہ صلات الصفاء فی نورالمصطفٰی ۱۳۲۹ھ (نور مصطفی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے بیان میں صفائی باطن کے انعامات)
کیا شرط نہیں۔
سادسا بلکہ اس طور پر جو مانع نے اختیار کیارسول الله صلی الله تعالی علیہ و سلم سب سے پہلے مخلوق الہی نہ رہیں گےدو چیزیں حضور سے پہلے مخلوق قرار پائیں گی اوریہ خلافت حدیث وخلافت نصوص ائمہ قدیم وحدیث۔حدیث میں ارشاد ہوا:
یاجابر ان الله خلق قبل الاشیاء نورنبیك من نورہ ۔ اے جابر!الله تعالی نے تمام اشیاء سے پہلے تیرے نبی کے نور کو اپنے نور سے پیدا کیا۔
یہاں دو اضافتیں ہیں:نور نبی ونور خدا۔اورمشتہر کے نزدیك اضافت میں مغائرت شرط ہے تو نور نبی غیر ہو اورنور خدا یر خدا اورغیر خدا جو کچھ ہے مخلوق ہے تو نور خدا مخلوق ہوا اور اس نور سے نور نبی بناتو ضرر نورخدا نور نبی سے پہلے مخلوق تھا اورنو نبی باقی سب اشیاء سے پہلے بنااوراشیاء میں خود نبی صلی الله تعالی علیہ و سلم بھی ہیںتو نور نبی نبی صلی الله تعالی علیہ و سلم سے پہلے بنا اور اس سے پہلے نور خدا بناتو نبی صلی الله تعالی علیہ و سلم سے دو مخلوق پہلے ہوئےیہ محض باطل ہے۔
سابعا: حل یہ ہے کہ ایسا غوجی میں ذاتی مقابل عرضی ہے بایں معنی الله عزوجل نور ذاتی ونور عرضیدونوں سے پاك ومنزہ ہے مگر وہ یہاں نہ مراد نہ مفہوم اورعام محاورہ میں ذاتی مقابل صفاتی واسمائی ہے اوریہاں یہی مقصودبایں معنی الله عزوجل کے لئے نور ذاتی ونور صفاتی ونوراسمائی سب ہیں کہ اس کی ذات وصفات وامساء کی تجلیاں ہیںنبی صلی الله تعالی علیہ و سلم تجلی ذات اور انبیاء واولیاء وسائر خلق الله تجلی اسماء وصفات ہیں جیسا کہ ہم نے فتوائے دیگر میں شیخ محقق سے نقل کیارحمہ الله تعالی۔والله تعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم وصلی الله تعالی علی خیر خلقہ سیدنا محمدوالہ وسلم۔
_____________
حوالہ / References المواھب اللدنیۃ المقصد الاول المکتب الاسلامی بیروت ۱/۷۱
#19111 · تقریظ عــــــہ
تقریظ عــــــہ

بسم الله الرحمن الرحیم ط
اللھم لك الحمد فقیر غفرلہ المولی القدیر نے فاضل فاضلعالم عاملحامی السنۃماحی الفتنہمولنا مولوی حبیب علی صاحب علوی ایدہ الله تعالی بالنور العلوی کی یہ تحریر منیر مطالعہ کی فجزاہ الله عنہ نبیہ المصطفی الجزاء الاوفی۔
مسئلہ بحمدالله تعالی واضح ومکشوف اورمسلمانوں میں مشہور ومعروف ہےفقیر کے اس میں تین رسائل ہیں۔
(۱)قمر التمام فی نفی الظل عن سید الانام علیہ وعلی الہ الصلوۃ والسلام۔
عــــــہ:یہ تقریظ امام احمد رضا بریلوی قدس سرہ العزیز نے مولانا حبیب علی علوی کے رسالہ پر لکھی تھیبریلی کے ذخیرہ مسودات سے مولانا محمد ابراہیم شاہدی پونپوری نے ۸ رجب المرجب ۱۳۶۳ھ کو نقل کی۔یہ نقل محدث اعظم پاکستان مولانا سرداراحمد رحمہ الله تعالی کے ذخیرہ کتب سے راقم کو ۲۲ربیع الاول ۱۴۰۴ھ کو دستیاب ہوئی جو پیش نظر مجموعہ رسائل میں شامل کی جارہی ہے۔
اس مجموعہ میں حضور انور صلی الله تعالی علیہ و سلم کی نورانیت کے موضوع پر ایك اورسایہ نہ ہونے کے موضوع پر تین رسائل شامل ہیں۔
محمد عبدالقیوم قادری۔
#19112 · تقریظ عــــــہ
(۲)نفی الفیئ عمن اسننا ربنورہ کل شیء صلی الله علیہ وسلم۔
(۳)ھدی الحیران فی نفی الفیئی عن سید الاکوان علیہ الصلوۃ والسلام الاتمان الاکملان۔
یہاں جناب مجیب مصیب سلمہ القریب کی تائید میں بعض کلام ائمہ کرام علمائے اعلام کااضافہ کروں۔امام جلیل جلال الملۃ والدین سیوطی رحمہ الله تعالی خصائص الکبری شریف میں فرماتے ہیں:
باب الایۃ فی انہ لم یکن یری لہ ظلاخرج الحکیم الترمذی عن ذکوان ان رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم لم یکن یری لہ ظل فی شمس ولا قمرقال ابن سبع من خصائصہ صلی الله تعالی علیہ وسلم ان ظلہ کان لایقع علی الارض وانہ کان نورافکان اذ مشی فی الشمس اوالقمر لاینظر لہ ظل قال بعضھم و یشہد لہ حدیثقولہ صلی الله تعالی علیہ وسلم فی دعائہ واجعلنی نورا ۔ اس نشانی کا بیان کہ حضور انور صلی الله تعالی علیہ وسلم کا سایہ نہیں دیکھاگیا۔حکیم ترمذی نے حضرت ذکوان سے روایت کی کہ سورج اورچاند کی روشنی میں رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم کا سایہ نظر نہیں آتاتھا۔ابن سبع نے کہا:آپ صلی الله تعالی علیہ وسلم کے خصائص میں سے یہ ہے کہ آپ کا سایہ زمین پر نہ پڑتا تھا کیونکہ آپ نور ہیںآپ جب سورج اور چاندنی کی روشنی میں چلتے تو سایہ دکھانی نہیں دیتاتھا۔بعض نے کہا کہ اس کی شاہد وہ حدیث ہے جس میں آپ نے دعا فرماتے ہوئے ہوئے کہا:اے الله !مجھے نور بنادے۔(ت)
موذج اللبیب فی خصائص الحبیب صلی الله تعالی علیہ وسلم میں فرماتے ہیں:
لم یقع ظلہ صلی الله تعالی علیہ وسلم ولارئی لہ ظل فی شمس ولا قمر قال ابن سبع لانہ کان نوراوقال رزین لغلبۃ انوارہ ۔ حضورانور صلی الله تعالی علیہ وسلم کا سایہ زمین پر نہیں پڑتاتھا۔ نہ ہی سورج اورچاند کی روشنی میں آپ کا سایہ دکھائی دیتاتھا۔ ابن سبع نے کہا آپ کے نور ہونے کی وجہ سے اوررزین نے کہا آپ کے انوارکے غلبہ کی وجہ سے۔(ت)
امام ابن حجر مکی رحمہ الله تعالی افضل القری لقراء ام القری زیر قول ماتن رضی الله تعالی عنہ
#19113 · تقریظ عــــــہ
لم یساووك فی علاك وقدحا ل سنا منك دونھم سنا
(انبیاء علیہم الصلوات والسلام فضیلت میں آپ کے برابر نہ ہوئے آپ کی چمك اوررفعت آپ تك ان کے پہنچے سے مانع ہوئی۔ت)
فرماتے ہیں:
ھذا مقتبس من تسمیتہ تعالی لنبیہ نورا فی نحو قولہ تعالی "قدجاء کم من الله نور وکتاب مبین"وکان صلی الله تعالی علیہ وسلم یکثر الدعاء بان الله یجعل کلا من حواسہ واعضائہ وبدنہ نورا اظہار الوقوع ذلکوتفضل الله تعالی علیہ بہ لیزدادشکرہ وشکر امتہ علی ذلککما امرنا بالدعاء الذی فی اکرسورۃ البقرۃ مع وقوعہوتفضل الله تعالی بہ لذلك ومما یؤید انہ صلی الله تعالی علیہ وسلم صار نورا انہ کان اذا مشی فی الشمس والقمر لم یظھر لہ ظل لانہ لایظھر الا لکثیف وھو صلی الله تعالی علیہ وسلم قد خلصہ یہ ماخوذ ہے ان آیات کریمہ سے جن میں الله تعالی نے اپنے نبی کا نام نور رکھاہےجیسے آیت کریمہ قد جا ء کم من الله نور وکتاب مبین(تحقیق آیا تمھارے پاس الله تعالی کی طرف سے نور اور روشن کتاب)نبی کریم صلی الله تعالی علیہ وسلم کثرت سے یہ دعا مانگا کرتے تھے کہ الله تعالی آپ کے تمام حواس اعضا اور بدن کو نور بنا دے۔آپ صلی الله تعالی علیہ وسلم یہ دعا اس بات کو ظاہر کرنے کے لئے فرماتے کہ اس کا وقوع ہو چکا ہے اور الله تعالی نے اپنے فضل سے آپ کو مجسم نور بنا دیا ہے تاکہ آپ اور آپ کی امت اس پر الله تعالی کا بکثرت شکریہ ادا کرے۔جیسا کہ الله تعالی نے ہمیں سورہ بقرہ کی آخری آیات میں واقع دعا مانگنے کا حکم دیا ہے باوجودیکہ الله تعالی کے فضل سے اس کا وقوع ہو چکا ہے۔آپ کی نورانیت کی تائید اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ جب آپ سورج اور چاند کی روشنی میں چلتے تو آپ کا سایہ ظاہر نہ ہوتا کیونکہ سایہ تو کثیف چیز کا ظاہر نہ ہوتا کیونکہ سایہ تو کثیف چیز کا ظاہر ہوتا ہے جبکہ آپ کو الله نے تمام
حوالہ / References ام القرٰی فی مدح خیر الورٰی الفصل الاول حزب القادریۃ لاہور ص۶
#19114 · تقریظ عــــــہ
الله سائر الکثائف الجسامنیۃ وصیرہ نورا صرفالا یظھر لہ ظل اصلا ۔ جسمانی کثافتوں سے پاك فرما دیا ہے اور آپ کو خالص نور بنا دیا ہےچنانچہ آپ کا سایہ بالکل ظاہر نہیں ہوتا تھا۔
علامہ سلیما ن جمل ہمزیہ میں فرماتے ہیں:
لم یکن لہ صلی الله تعالی علیہ وسلم ظل یظہر فی الشمس ولاقمر ۔ سورج اور چاند کی روشنی میں حضور انور صلی الله تعالی علیہ وسلم کا سایہ ظاہر نہیں ہوتا تھا۔(ت)
علامہ حسین بن محمد دیار بکری کتاب الخمیس فی احوال انفس نفیس میں لکھتے ہیں:
لم یقع ظلہ صلی الله تعالی علیہ وسلم علی الارض و لارئی لہ ظل فی شمس ولاقمر ۔ حضور انور صلی الله تعالی علیہ وسلم کا سایہ زمین پر نہیں پڑتا تھا اور نہ ہی سورج وچاند کی روشنی میں نظر آتا تھا(ت)
بعینہ اسی طرح نور الابصار فی مناقب آل بیت النبی الاطھار میں ہے۔علامہ سیدی محمد زرقانی شرح مواہب شریف میں فرماتے ہیں:
لم یکن لہ صلی الله تعالی علیہ وسلم ظل فی شمس ولاقمر لانہ کان نورا کما قال ابن سبع وقال رزین لغلبۃ انوارہ وقیل حکمۃ ذلك صیانتہ عن یطاء کافر علی ظلہ رواہ الترمذی الحکیم عن ذکوان ابی صالح السمان الزیات المدنی او ابی عمر والمدنی مولی عائشۃ رضی الله تعالی عنہا وکل منھا ثقۃ من التابعین حضور پر نور صلی الله تعالی علیہ وسلم کا سایہ شمس وقمر کی روشنی میں نمودار نہ ہوتا تھا بقول ابن سبع آپ کی نورانیت کی وجہ سے۔اور کہا گیا ہے کہ عدم سایہ کی حکمت یہ ہے کہ کوئی کافر آپ کے سایہ پر پاؤں نہ رکھے۔اس کو ترمذی نے روایت کیا ہے ذکوان ابو صالح السمان زیات مدنی سے یا ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی الله تعالی عنہا کے کے آزاد کرادہ غلام ابو عمرومدنی سےاوروہ دونوں ثقہ تابعین
حوالہ / References افضل القرٰی لقراء ام القرٰی(شرح ام القرٰی)شرح شعر ۲ المجمع الثقافی ابوظبی ۱/۱۲۸و۱۲۹
الفتوحات الاحمدیہ علی متن الہمزیۃ لسلیمان جمل،المکتبہ التجاریہ الکبری مصر،ص۵
تاریخ الخمیس،القسم الثانی النوع الرابع۔مؤسسۃ شعبان۔بیروت،ص ۱/۲۱۹
#19115 · تقریظ عــــــہ
فھو مرسل لکن روی ابن المبارك وابن الجوزی عن ابن عباس رضی الله تعالی عنھما لم یکن للنبی صلی الله تعالی علیہ وسلم ظل ولم یقم مع الشمس قط الا غلب ضوء ضو ء السراج ۔ میں سے ہیںلہذا یہ حدیث مرسل ہے۔لیکن ابن مبارك اورابن جوزی نے ابن عباس رضی الله تعالی عنہما سے روایت کیا کہ آپ کا سایہ نہ تھا آپ جب سورج کی روشنی یا چراغ کی روشنی میں قیام فرماتے تو آپ کی چمك سورج اورچراغ کی روشنی پر غالب آجاتی تھی۔(ت)
فاضل محمد بن صبان اسعاف الراغبین میں ذکر خصائص نبی صلی الله تعالی علیہ وسلم میں لکھتے ہیں:
وانہ لافیئ لہ ۔(بے شك آپ کا سایہ نہ تھا۔ت)
حضرت مولوی معنوی قدس سرہ الشریف فرماتے ہیں:
چوں فنانش از فقر پیرایہ شود اومحمد دار بے سایہ شود
(جب اس کی فنا فقر سے آراستہ ہوجاتی ہے تو وہ محمدصلی الله تعالی علیہ وسلم کی طرح بغیر سایہ کے ہوجاتاہے۔ت)
ملك العلماء بحرالعلوم مولانا عبدالعلی قدس سرہاس کی شرح میں فرماتے ہیں:
در مصرع ثانی اشارہ بہ معجزہ آن سرورصلی الله تعالی علیہ وسلم است کہ آں سرور راسایہ نمی افتاد ۔ دوسرے مصرع میں سرورعالم صلی الله تعالی علیہ وسلم کے اس معجزہ کی طرف اشارہ ہے کہ آپ کا سایہ زمین پر واقع نہیں ہوتا تھا۔
یہاں اس مسئلہ مسلمہ کے منکر وہابیہ ہیں اور اسمعیل دہلوی کے غلام اوراسمعیل کو غلامی حضرت مجدد کا ادعاء اورحضرت شیخ مجدد جلد ثالث مکتوباتمکتوب صدم میں فرماتے ہیں:
اور را صلے الله تعالی علیہ وسلم سایہ نبود ودرعالم رسول انورصلی الله تعالی علیہ وسلم کا سایہ نہ تھا۔
حوالہ / References شرح الزرقانی علی المواھب اللدنیہ،المقصد الثالث،الفصل الاول،دارالمعرفۃ بیروت ۴/۲۲۰
اسعاف الراغبین فی سیرۃ المصطفٰی واھل بیتہ الطاھرین الباب الاول مصطفی البابی مصر ص۷۹
مثنوی معنوی درصفت آں بیخود کہ دربقائی حق فانی شدہ است الخ نورانی کتب خانہ پشاور ص۱۹
#19116 · تقریظ عــــــہ
شہادت سایہ ہر شخص لطیف ترست وچوں لطیف ترازوے صلی الله تعالی علیہ وسلم نباشد اوراسایہ چہ صورت داردعلیہ وعلی آلہ الصلوات والتسلیمات ۔ عالم شہادت میں ہرشخص کا سایہ اس سے زیادہ لطیف ہوتا ہے۔چونکہ آپ سے بڑھ کر کوئی شئے لطیف نہیں ہے لہذا آپ کے سایہ کی کوئی صورت نہیں بنتی۔آپ پر اور آپ کی آل پر درودوسلام ہو۔(ت)
اسی کے مکتوب ۱۲۲میں فرمایا:
واجب راتعالی چر اظل بودکہ ظل موہم تولید بہ مثل ست و منبی از شائبہ عدم کمال لطافت اصلہرگاہ محمدرسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم را از لطافت ظل نبود خدائے محمدرا چگونہ ظل باشد اھ۔جل وعلا وصلی الله تعالی علیہ وسلم۔ واجب تعالی کا سایہ کیسے ہوسکتاہے کہ سایہ تو مثل کے پیدا ہونے کا وہم پیدا کرتاہے اورعدم کمال لطافت کے شائبہ کی خبر دیتاہے۔جب محمدرسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم کا سایہ بوجہ آپ کی لطافت کے نہ تھا آپ صلی الله تعالی علیہ وسلم کے خدا جل وعلاکا سایہ کیونکر ہوسکتاہے۔(ت)
اقول:(میں کہتاہوں۔ت)مطالع المسرات شریف میں امام اہلسنت سیدنا ابوالحسن اشعری رحمہ الہ تعالی سے:
انہ تعالی نورلیس کالانوار والروح النبویۃ القدسیۃ لمعۃ من نورہ والملئکۃ شررتلك الانوار ۔ الله تعالی نور ہے مگر انوار کی مثل نہیں اورنبی کریم صلی الله تعالی علیہ وسلم کی روح اقدس الله تعالی کے نور کا جلوہ ہے اور ملائکہ ان انوار کی جھلك ہیں۔(ت)
پھر اس کی تائید میں حدیث کہ رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:
اول ماخلق الله نوری ومن نوری خلق کل شیئ ۔ الله تعالی نے سب سے پہلے میرا نور بنایا اورمیرے نور سے تمام اشیاء کو پیدا فرمایا(ت)
حوالہ / References مکتوبات امام ربانی مکتوب صدم نولکشور لکھنؤ جلد سوم ص۱۸۷
مکتوبات امام ربانی مکتوب ۱۲۲نولکشور لکھنؤ جلدسوم ص۲۳۷
مطالع المسرات مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آبادص۲۶۵
مطالع المسرات مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آبادص۲۶۵
#19117 · تقریظ عــــــہ
جب ملائکہ کہ حضور اقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم کے نور سے بنےسایہ نہیں رکھتے توحضور کہ اصل نور ہیں جن کی ایك جھلك سے سب ملك بنے کیونکر سایہ سے منزہ نہ ہوں گے۔جب کہ ملائکہ مصطفی صلی الله تعالی علیہ وسلم کے نور سے بنےبے سایہ ہوں زاورمصطفی صلی الله تعالی علیہ وسلم کہ نورالہی سے بنےسایہ رکھیں۔
حدیث میں ہے کہ آسمانوں میں چا انگل جگہ نہیں جہاں کوئی فرشتہ اپنی پیشانی رکھے سجدہ میں نہ ہوملائکہ کے سایہ ہوتا تو آفتاب کی روشنی ہم تك کیونکر پہنچتی یا شاید پہنچتی تو ایسی جیسے گھنے پیڑ میں سے چھن کر خال خال بندکیاں نور کے سائے کے اندر نظر آتی ہیںملائکہ تو لطیف تر ہیںنار کے لئے سایہ نہین بلکہ ہوا کے لئے سایہ نہیں بلکہ عالم نسیم کی ہوا کہ ہوائے بالا سے کثیف تر ہے اس کا بھی سایہ نہیں ورنہ روشنی کبھی نہ ہوتی بلکہ ہوا میں ہزاروں لاکھوں ذرے اور قسم قسم کے جانور بھرے پڑے ہیں کہ خوردبین سے نظر آتے ہیں اوربعض بے خوردبین بھیجبکہ دھوپ کسی بند مکان میں روزن سے داخل ہو ان میں کسی کے سایہ نہیں۔یہ سب تو قبول کرلیں گے مگر محمدرسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم کے تن اقدس کی ایسی لطافت کس دل سے گوارا ہوکہ حضور کے لئے سایہ نہ تھا۔جانے دویہاں ان ذروں کی باریکی جسم کا حیلہ لوگےآسمان میں کیا کہوگے اتنا بڑا جسم عظیم کہ تمام زمین کو محیط اوراس کا ایك ذرا سا ٹکڑا جس میں آفتاب ہے سارے کرہ زمین سے تین سو چھبیس حصے بڑا ہےاسی کا سایہ دکھا دیجئےاس کا سایہ پڑتا تو قیامت تك تمہیں دن کا منہ دیکھنا نصیب نہ ہوتاہاں ہاں یہی جو نیلگوں چھت ہمیں نظر آتی ہےیہی پہلا آسمان ہےقرآن عظیم یہی بتاتاہے:
قال تعالی "افلم ینظروا الی السماء فوقہم کیف بنینہا و زینہا و ما لہا من فروج ﴿۶﴾ " ۔ (الله تعالی نے فرمایا:)کیا نہیں دیکھتے اپنے اوپر آسمان کوہم نے اسے کیسے بنایا اور آراستہ کیا اوراس میں کہیں شگاف نہیں۔
اورفرماتاہے:"و زینہا للنظرین ﴿۱۶﴾" ۔ہم نے آسمان کو دیکھنے والوں کے لئے آراستہ کیا۔
اوراگر فلاسفہ یونانی کی فضلہ خوری سے یہی مانئے کہ جو نظر آتاہے فلك نہیںکرہ بخار ہے۔
#19118 · تقریظ عــــــہ
جب ہمارا مطلب حاصل کہ اتنا بڑا جسم عظیم عنصری سایہ نہیں رکھتااسے آسمان کہو یا کرہ بخارہیئات جدیدہ کا کفراوڑھو کہ آسمان کچھ ہے ہی نہیںیہ جو نظر آتاہے محض موہوم وبے حقیقت حد نگاہ ہےتوایك بات ہے مگر آسمانی کتاب پر ایمان لاکر آسمان سے انکار کرنا ناممکن۔
غرض جب دلیل قاہر سے ثابت کہ جسم عنصری کے لئے سایہ ضروری نہیںتو نیچریوں کی طرح خلاف نیچر ہونے کا جو ہمیانہ استبعاد تھا وہ اوڑھ لیاپھر کیا وجہ کہ ائمہ کرام طبقۃ فطبقۃ جو فضیلت ہمارے حبیب اکرم صلی الله تعالی علیہ وسلم کے لئے نقل فرماتے ہیں اور مقبول ومقرر رکھتے آئے اورعقل ونقل سے کوئی اس کا واقع نہیںتسلیم نہ کیا جائے یا اس میں چون وچرابرتی جائے اسے سوائے مرض قلب کے کیا کہئےمحمدرسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم کے فضائل کو بیمار دل گوارا نہیں کرتا "یشرح صدرہ للاسلم " ۔(الله تعالی اس کا سینہ اسلام کے لیے کھول دیتا ہے)کی دولت نہ ملی کہ الله تعالی اس کا سینہ قبول و تسلیم کے لیے کھول دیتاناچار"یجعل صدرہ ضیقا حرجا کانما یصعد فی السماء " (اس کا سینہ تنگ خوب رکا ہوا کر دیتاہے گویا کسی کی زبردستی سے آسمان پر چڑھ رہا ہے۔ت)کے آڑے آتی۔دل تنگ ہوکر گورکافر کے مثل ہوجاتااور فضیلت کا منکر کلیجہ چار چار اچھلتا گویا آسمان کو چڑھا جاتاہے "کذلک یجعل اللہ الرجس علی الذین لا یؤمنون ﴿۱۲۵﴾" والعیاذبالله رب العلمین۔ والله سبحنہ تعالی اعلم(الله یوں ہی عذاب میں ڈالتا ہے ایمان نہ لانے والوں کو۔اورالله رب العالمین کی پناہ۔اورالله سبحنہ تعالی خوب جانتاہے۔ت)
__________________
رسالہ
صلات الصفاء فی نور المصطفی
ختم ہوا
__________________
#19119 · رسالہ نفی الفیئ عمن استنا ربنورہ کل شیئ ۱۲۹۶ھ (ا س ذات اقدس کے سائے کی نفی جس کے نور سے ہر مخلوق منور ہوئی)
رسالہ
نفی الفیئ عمن استنا ربنورہ کل شیئ ۱۲۹۶ھ
(ا س ذات اقدس کے سائے کی نفی جس کے نور سے ہر مخلوق منور ہوئی)

مسئلہ۴۳:کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ رسولالله صلی الله تعالی علیہ والہ وسلم کے لئے سایہ تھایانہیں بینوا توجروا(بیان فرمائیے اجردئے جاؤ۔ت)
الجواب :
نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم ط الحمدلله الذی خلق قبل الاشیاء نور نبینا من نورہ وفلق الانوار جمیعا من لمعات ظھورہ فھو صلی الله تعالی علیہ وسلم نورالانواروممد جمیع الشموس والاقمارسماہ ربہ فی کتابہ الکریم ہم الله کی حمدبیان کرتے ہیں اوراس کے رسول کریم پر درود بھیجتے ہیں۔تمام تعریفیں الله تعالی کیلئے ہیں جس نے تمام اشیاء سے قبل ہمارے نبی کے نور کو اپنے نور سے بنایااورتمام نوروں کے آپ کے ظہور کے جلووں سے بنایا۔چنانچہ نبی کریم صلی الله تعالی علیہ وسلم تمام نوروں کے نور اورہر شمس وقمر کے ممدہیں۔آپ کے رب نے اپنی کتاب کریم میں آپ کا
#19120 · رسالہ نفی الفیئ عمن استنا ربنورہ کل شیئ ۱۲۹۶ھ (ا س ذات اقدس کے سائے کی نفی جس کے نور سے ہر مخلوق منور ہوئی)
نورا وسراجا منیرا فلولا انارتہ لما استنارت شمس و لا تبین یوم من امس ولا تعین وقت للخمیس صلی الله تعالی علیہ وعلی المستنیرین بنورہ المحفوظین عن الطمس جعلنا الله تعالی منھم فی الدنیا ویوم لا یسمع الا ھمس۔ نام نور اورسراج منیر رکھا ہے۔اگر آپ جلوہ فگن نہ ہوتے تو سورج روشن نہ ہوتانہ آج کل سے ممتاز ہوتااورنہ ہی خمس کے لئے وقت کا تعین ہوتا۔الله تعالی آپ پر درودنازل فرمائے اور آپ کے نور سے مستنیر ہونے والوں پر جو مٹ جانے سے محفوظ ہیں۔الله تعالی ہمیں ان سے بنائے دنیا میں اوراس دن جس میں نہیں سنائی دے گی مگر بہت آہستہ آواز۔ (ت)
بیشك اس مہر سپہر اصطفاء ماہ منیر اجتباء صلی الله تعالی علیہ وسلم کے لئے سایہ نہ تھااور یہ امر احادیث واقوال علماء کرام سے ثابت اوراکابر ائمہ وجہابذفضلاء مثل حافظ رزین محدث وعلامہ ابن سبع صاحب شفاء الصدور وامام علامہ قاضی عیاض صاحب کتاب الشفاء فی تعریف حقوق المصطفی وامام عارف بالله سیدی جلال الملۃ والدین محمد بلخی رومی قدس سرہوعلامہ حسین بن دیار بکری واصحاب سیرت شامی وسیرت حلبی وامام علامہ جلال الملۃ والدین سیوطی وامام شمس الدین ابوالفرج ابن جوزی محدث صاحب کتاب الوفاء وعلامہ شہاب الحق والدین خفاجی صاحب نسیم الریاض وامام احمد بن محمد خطیب قسطلانی صاحب مواہب لدنیہ ومنہج محمدیہ وفاضل اجل محمد زرقانی مالکی شارح مواہب وشیخ محقق مولانا عبدالحق محدث دہلوی وجناب شیخ مجدد الف ثانی فاروقی سرہندی وبحرالعلوم مولانا عبدالعلی لکھنوی وشیخ الحدیث مولانا شاہ عبدالعزیز صاحب دہلوی وغیرہم اجلہ فاضلین ومقتدایان کہ آج کل کے مدعیان خام کا رکوان کی شاگردی بلکہ کلام سمجھنے کی بھی لیاقت نہیںخلفا عن سلف دائما اپنی تصنیف میں اس کی تصریح کرتے آئے اورمفتی عقل وقاضی نقل نے باہم اتفاق کر کے اس کی تاسیس وتشیید کی۔
فقد اخرج الحکیم الترمذی عن ذکوان ان رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم لم یکن یری لہ ظل فی شمس ولا قمر ۔ حکیم ترمذی نے ذکوان سے روایت کی کہ سرورعالم صلی الله تعالی علیہ وسلم کا سایہ نظر نہ آتا تھا دھوپ میں نہ چاندنی میں۔
سیدنا عبدالله بن مبارك اورحافظ علامہ ابن جوزی محدث رحمہماالله تعالی حضرت سیدنا و
حوالہ / References الخصائص الکبرٰی بحوالہ الحکیم الترمذی باب الآیۃ فی انہ صلی الله تعالٰی علیہ وسلم لم یکن یرٰی لہ ظل مرکز اہلسنت گجرات ہند ۱/۶۸
#19121 · رسالہ نفی الفیئ عمن استنا ربنورہ کل شیئ ۱۲۹۶ھ (ا س ذات اقدس کے سائے کی نفی جس کے نور سے ہر مخلوق منور ہوئی)
ابن سید نا عبدالله بن عباس رضی الله تعالی عنہماسے روایت کرتے ہیں:
قال لم یکن لرسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم ظل ولم یقم مع شمس قط الاغلب ضؤوہ ضوء الشمس ولم یقم مع سراج قط الاغلب ضوؤہ علی ضوء السراج ۔ یعنی رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم کے لئے سایہ نہ تھااور نہ کھڑے ہوئے آفتاب کے سامنے مگر یہ ان کا نور عالم افروز خورشید کی روشنی پر غالب آگیااورنہ قیام فرمایا چراغ کی ضیاء میں مگر یہ کہ حضورکے تابش نور نے اس کی چمك کو دبالیا۔
امام علام حافظ جلال الملۃ والدین سیوطی رحمہ الله تعالی نے کتاب خصائص کبری میں اس معنی کے لئے ایك باب وضع فرمایا اوراس میں حدیث ذکوان ذکر کے نقل کیا:
قال ابن سبع من خصائصہ صلی الله تعالی علیہ وسلم ان ظلہ کان لایقع علی الارض وانہ کان نورا فکان اذا مشی فی الشمس اوالقمر لاینظر لہ ظل قال بعضھم ویشھد لہ حدیث قول صلی الله تعالی علیہ وسلم فی دعائہ واجعلنی نورا ۔ یعنی ابن سبع نے کہا حضور کے خصائص کریمہ سے ہے کہ آپ کا سایہ زمین پر نہ پڑتا اورآپ نو رمحض تھےتو جب دھوپ یا چاندنی میں چلتے آپ کا سایہ نظر نہ آتا۔بعض علماء نے فرمایا اس کی شاہد ہے وہ حدیث کہ حضور نے اپنی دعا میں عرض کیا کہ مجھے نور کردے۔
نیز انموذج اللبیب فی خصائص الحبیب صلی الله تعالی علیہ وسلم باب ثانی فصل رابع میں فرماتے ہیں:
لم یقع ظلہ علی الارض ولارئی لہ ظل فی شمس ولا قمر قال ابن سبع لانہ کان نوراقال رزین لغلبۃ انوارہ ۔ نبی صلی الله تعالی علیہ وسلم کا سایہ زمین پر نہ پڑاحضور کا سایہ نظر نہ آیا نہ دھوپ میں نہ چاندنی میں۔ابن سبع نے فرمایا اس لئے کہ حضور نور ہیں۔امام رزین نے فرمایا اس لئے کہ حضور کے انوار سب پر غالب ہیں۔
حوالہ / References الوفاء باحوال المصطفٰی الباب التاسع والعشرون مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲/۴۰۷
الخصائص الکبرٰی باب الآیۃ انہ صلی الله تعالٰی علیہ وسلم لم یکن یرٰی لہ ظل مرکز اہلسنت برکات رضا گجرات ہند ۱/۶۸
انموذج اللبیب
#19122 · رسالہ نفی الفیئ عمن استنا ربنورہ کل شیئ ۱۲۹۶ھ (ا س ذات اقدس کے سائے کی نفی جس کے نور سے ہر مخلوق منور ہوئی)
امام علامہ قاضی عیاض رحمہ الله تعالی شفاء شریف میں فرماتے ہیں:
وما ذکر من انہ کان لاظل لشخصہ فی شمس ولا قمر لانہ کان نورا ۔ یعنی حضور کے دلائل نبوت وآیات رسالت سے ہے وہ بات جو مذکور ہوئی کہ آپ کے جسم انور کا سایہ نہ دھوپ میں ہوتا نہ چاندنی میں اس لئے کہ حضور نور ہیں۔
علامہ شہاب الدین خفاجی رحمہ الله تعالی اس کی شرح نسیم الریاض میں فرماتے ہیں:دھوپ اورچاندنی اورجو روشنیاں کہ ان میں بسبب اس کے کہ اجسامانوار کے حاجب ہوتے ہیں لہذا ان کا سایہ نہیں پڑتا جیساکہ انوار حقیقت میں مشاہدہ کیا جاتاہے۔پھر حدیث کتاب الوفاء ذکر کر کے اپنی ایك رباعی انشاد کی جس کا خلاصہ یہ ہے کہ سایہ احمد صلی الله تعالی علیہ وسلم کا دامن بسبب حضور کی کرامت وفضیلت کے زمین پر نہ کھینچا گیا اورتعجب ہے کہ باوجود اس کے تمام آدمی ان کے سایہ میں آرام کرتے ہیں۔پھر فرماتے ہیں:بہ تحقیق قرآن عظیم ناطق ہے کہ آپ نور روشن ہیں اورآپ کا بشر ہونا اس کے منافی نہیں جیسا کہ وہم کیا گیااگر تو سمجھے تو وہ نور علی نور ہیں۔
وھذا ما نصہ الخفاجی(خفاجی کی عبارت یہ ہے):
(و)ومن دلائل نبوتہ صلی الله تعالی علیہ وسلم(ما ذکر)بالبناء للمجہول والذی ذکرہ ابن سبع(من انہ)بیان لما الموصولۃ(لاظل لشخصہ)ای لجسدہ الشریف اللطیف اذا کان(فی شمس ولاقمر)مما تری فیہ الظلال لحجب الاجسام ضوء النیراین ونحوھما وعلل ذلك ابن سبع بقولہ(لانہ)صلی الله تعالی علیہ وسلم(کان نورا)والانوار شفافۃ لطیفۃ لاتحجب غیر ھا من الانوار فلاظل لھا حضور پر نور صلی الله تعالی علیہ وسلم کے دلائل نبوت سے ہے وہ جو کہ مذکورہوااوروہ جو ابن سبع نے ذکر فرمایا کہ آپ کے تشخص یعنی جسم اطہر ولطیف کا سایہ نہ ہوتا جب آپ دھوپ اورچاندنی میں تشریف فرماہوتے یعنی وہ روشنیاں جن میں سائے دکھائی دیتے ہیں کیونکہ اجسامشمس وقمر وغیرہ کی روشنی کے لئے حاجب ہوتے ہیں۔ابن سبع نے اس کی علت یہ بیان کی کہ آپ صلی الله تعالی علیہ وسلم نور ہیں اورانوار شفاف ولطیف ہوتے ہیں وہ غیر کے لئے حاجت نہیں ہوتے اوران کا سایہ
حوالہ / References الشفاء بتعریف حقوق المصطفٰی فصل ومن ذٰلك ماظہر من الآیات دارالکتب العلمیۃ بیروت ۱/۲۲۵
#19123 · رسالہ نفی الفیئ عمن استنا ربنورہ کل شیئ ۱۲۹۶ھ (ا س ذات اقدس کے سائے کی نفی جس کے نور سے ہر مخلوق منور ہوئی)
کما ھو مشاھد فی الانوار الحقیقۃ وھذا رواہ صاحب الوفاء عن ابن عباس رضی الله تعالی عنہ قال لم یکن لرسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم ظل ولم یقم مع شمس الا غلب ضوؤہ ضوئھا ولا مع سراج الا غلب ضوؤہ ضوؤہ وقد تقدم ھذا والکلام علیہ و رباعیتھافیہ وھی:
ماجر لظل احمد اذیال فی الارض کرامۃ کما قد قالوا ھذا عجب وکم بہ من عجب والناس بظلہ جمیعا قالوا''وقالواھذا من القیلولۃ وقد نظق القران بانہ النورالبمین وکونہ بشرا لا ینافیہ کما توھم فان فھمت فھو نور علی نور فان النور ھو الظاھر بنفسہ المظھر لغیرہ وتفصیلہ فی مشکوۃ الانوار انتھی۔
نہیں ہوتا جیسا کہ انوار حقیقت میں دیکھاجاتاہے۔اس کو صاحب وفاء نے ابن عباس رضی الله تعالی عنہما سے روایت کیا۔آپ نے فرمایا کہ رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم کا سایہ نہ تھانہ کھڑے ہوئے آپ کبھی سورج کے سامنے مگر آپ کا نور سورج پر غالب آگیااورنہ قیام فرمایا آپ نے چراغ کے سامنے مگر آپ کا نور چراغ کی روشنی پر غالب آگیا۔یہ اوراس پر کلام پہلے گزر چکا ہے اوراس سلسلہ میں رباعی جو کہ یہ ہے: حضرت امام الانبیاء احمد مجتبی صلی الله تعالی علیہ وسلم کے سایہ اقدس نے آپ کی کرامت وفضیلت کی وجہ سے دامن زمین پر نہیں کھینچاجیسا کہ لوگوں نے کہا۔یہ کتنی عجیب بات ہے کہ عدم سایہ کے باوجود سب لوگ آپ کے سایہ رحمت میں آرام کرتے ہیں۔''
یہاں قالواقیلولہ سے مشتق ہے(نہ کہ قول سے)تحقیق قرآن عظیم ناطق ہے کہ آپ نور روشن ہیں اورآپ کا بشرہونا اس کے منافی نہیں جیسا کہ وہم کیا گیا۔اگر تو سمجھے توآپ نور علی نور ہیںکیونکہ نور وہ ہے جو خود ظاہر ہوں اوردوسروں کو ظاہر کرنے والا ہو۔اس کی تفصیل مشکوۃ الانوار میں ہے۔(ت)
حضرت مولوی معنوی قدس سرہ القوی دفتر پنجم مثنوی شریف میں فرماتے ہیں:
حوالہ / References نسیم الریاض فی شرح شفاء القاضی عیاض مرکز اہلسنت برکات رضا گجرات ہند ۳/۲۸۲
#19124 · رسالہ نفی الفیئ عمن استنا ربنورہ کل شیئ ۱۲۹۶ھ (ا س ذات اقدس کے سائے کی نفی جس کے نور سے ہر مخلوق منور ہوئی)
چوں فنانش از فقر پیرایہ شود اومحمد داربے سایہ شود
(جب اس کی فنا فقر سے آراستہ ہوجاتی ہے تو وہ محمدمصطفی صلی الله تعالی علیہ وسلم کی طرح بغیر سایہ کے ہوجاتاہے۔ت)
مولانا بحرالعلوم نے شرح میں فرمایا:
درمصرع ثانی اشارہ بمعجزئہ آن سرور صلی الله تعالی علیہ وسلم کہ آن سرور صلی الله تعالی علیہ وسلم راسایہ نمی افتاد ۔ دوسرے مصرعے میں سرورعالم صلی الله تعالی علیہ وسلم کے معجزے کی طرف اشارہ ہے کہ آپ کا سایہ زمین پر نہیں پڑتاتھا۔(ت)
امام علامہ احمد بن محمد خطیب قسطلانی رحمہ الله تعالی مواہب لدنیہ ومنہج محمدیہ میں فرماتے ہیں:رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم کے لئے سایہ نہ تھا دھوپ میں نہ چاندی میں۔اسے حکیم ترمذی نے ذکوان سے پھر ابن سبع کا حضور کے نور سے استدلال اورحدیث اجعلنی نورا(مجھے نور بنادے۔ت)سے استشہادذکر کیا۔حیث قال(امام قسطلانی نے فرمایا۔ت):
لم یکن لہ صلی الله تعالی علیہ وسلم فی شمس ولا قمر رواہ الترمذی عن ذکوانوقال ابن سبع کان صلی الله تعالی علیہ وسلم نورا فکان اذا مشی فی الشمس اوالقمر لایظھر لہ ظل قال غیرہ ویشھد لہ قولہ صلی الله تعالی علیہ وسلم فی دعائہ واجعلنی نورا ۔ دھوپ اورچاندنی میں آپ صلی الله تعالی علیہ وسلم کاسایہ نہ ہوتا۔اس کو ترمذی نے ذکوان سے روایت کیا۔ابن سبع نے کہا کہ آپ صلی الله تعالی علیہ وسلم نور تھےجب آپ دھوپ اورچاندنی میں چلتے تو سایہ ظاہر نہ ہوتا۔اس کے گیر نے کہا اس کا شاہد نبی کریم صلی الله تعالی علیہ وسلم کا وہ قول ہے جو آپ دعا میں کہتے کہ اے الله ! مجھے نور بنادے۔(ت)
اسی طرح سیرت شامی میں ہے:
وزاد عن الامام الحکیم قال معناہ لئلایطأعلیہ کافر فیکون یعنی امام ترمذی نے یہ اضافیہ کیا:اس میں حکمت یہ تھی کہ کوئی کافر سایہ اقدس پر پاؤں نہ رکھے
حوالہ / References مثنوی معنوی درصفت آں بیخود کہ دربقای حق فانی شدہ است دفترپنجم نورانی کتب خانہ پشاور ص۱۹

المواھب اللدنیۃ المقصد الثالث الفصل الاول المکتب الاسلامی بیروت ۲/۳۰۷
#19125 · رسالہ نفی الفیئ عمن استنا ربنورہ کل شیئ ۱۲۹۶ھ (ا س ذات اقدس کے سائے کی نفی جس کے نور سے ہر مخلوق منور ہوئی)
مذلۃ لہ ۔ کیونکہ اس میں آپ کی توہین ہے۔
اقول:سیدنا عبدالله بن عمررضی الله تعالی عنہما تشریف لئے جاتے تھےایك یہودی حضرت کے گرد عجب حرکات اپنے پاؤں سے کرتاجاتاتھااس سے دریافت فرمایابولا:بات یہ ہے کہ اورتوکچھ قابو ہم تم پر نہیں پاتے جہاں جہاں تمہاراسایہ پڑتاہے اسے اپنے پاؤں سے روندتا چلتاہوں۔ایسے خبیثوں کی شرارتوں سے حضرت حق عزجلالہنے اپنے حبیب اکرم صلی الله تعالی علیہ وسلم کو محفوظ فرمایا۔نیز اسی طرح سیرت حلبیہ میں قدرمافی شفاء الصدور۔
محمد زرقانی رحمہ الله تعالی شرح میں فرماتے ہیں:حضور کے لئے سایہ نہ تھا اور وجہ اس کی یہ ہے کہ حضور نور ہیںجیسا کہ ابن سبع نے کہا اورحافظ رزین محدث فرماتے ہیں:سبب اس کا یہ تھا کہ حضور کا نور ساطع تمام انوار عالم پر غالب تھااور بعض علماء نے کہا کہ حکمت اس کی رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم کو بچانا ہے اس سے کہ کسی کافر کا پاؤں ان کے سایہ پر نہ پڑے۔وھذا کلامہ برمہ(زرقانی کی اصل عبارت):
(ولم یکن لہ صلی الله تعالی علیہ وسلم ظل فی شمس ولاقمر لانہ کان نورا کما قال ابن سبع وقال رزین لغلبۃ انوارہ قیل وحکمۃ ذالك صیانتہ عن ان یطأ کافر علی ظلہ(رواہ الترمذی الحکم عن ذکوان) ابی صالح السمان الزیات المدنی اوابی عمرو المدنی مولی عائشہ رضی الله تعالی عنہا وکل منھما ثقۃ من التابعین فھو مرسل لکن روی ابن المبارك و حضورانور صلی الله تعالی علیہ وسلم کا سایہ نہ تھا نہ دھوپ میں اورنہ ہی چاندنی میںکیونکہ آپ نور ہیں جیسا کہ ابن سبع نے فرمایا۔رزین نے فرمایا عدم سایہ کا سبب آپ کے انوار کا غلبہ ہے۔ کہا گیا ہے کہ اس کی حکمت آپ کو بچانا ہے اس بات سے کہ کوئی کافر آپ کے سایہ پر اپنا پاؤں رکھے۔اس کو حکیم ترمذی نے روایت کیا ہے زکوان ابوصالح السمان زیات المدنی سے یاسیدہ عائشہ صدیقہ رضی الله تعالی عنہا کے آزاد کردہ غلام ابو عمروالمدنی سے اوروہ دونوں ثقہ تابعین میں سے ہیںچنانچہ یہ حدیث مرسل ہوئیمگر ابن مبارك اورابن جوزی نے
حوالہ / References سبل الہدٰی والرشادالباب العشرون فی مشیہ صلی الله تعالٰی علیہ وسلم دارالکتب العلمیۃ بیروت ۲/۹۰
#19126 · رسالہ نفی الفیئ عمن استنا ربنورہ کل شیئ ۱۲۹۶ھ (ا س ذات اقدس کے سائے کی نفی جس کے نور سے ہر مخلوق منور ہوئی)
ابن الجوزی عن ابن عباس رضی الله تعالی عنہما لم یکن للنبی صلی الله تعالی علیہ وسلم ظل ولم یقم مع الشمس قط الاغلب ضوؤہ ضوء الشمس ولم یقم مع سراج قط الا غلب ضوؤہ ضوء السراج(وقال ابن سبع کان صلی الله تعالی علیہ وسلم نور افکان اذا مشی فی الشمس والقمر لایظھر لہ ظل)لان النور لا ظل لہ (قال غیرہ ویشھدلہ قولہ صلی الله تعالی علیہ و سلم فی دعائہ)لما سئل الله تعالی ان یجعل فی جمیع اعضائہ وجہاتہ نورا ختم بقولہ(واجعلنی نورا) و النور لاظل لہ وبہ یتم الا ستشہاد انتہی۔) سیدنا ابن عباس رضی الله تعالی عنہما سے روایت کیا کہ نبی کریم صلی الله تعالی علیہ وسلم کا سایہ نہ تھاآپ کبھی بھی سورج کے سامنے جلوہ افروز نہ ہوئے مگر آپ کا نور سوج کے نور پر غالب آگیا اور نہ ہی کبھی آپ چراغ کے سامنے کھڑے ہوئے مگر آپ کی روشنی چراغ کی روشنی پرغالب آگئی۔ابن سبع نے کہا کہ آپ صلی الله تعالی علیہ وسلم نور تھے۔آپ جب دھوپ اورچاندنی میں چلتے تو آپ کا سایہ نمودار نہ ہوتا کیونکہ نور کا سایہ نہیں ہوتااس کے غیر نے کہا حضور اقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم کے دعائیہ کلمات اس کے شاہد ہیں جب آپ نے الله تعالی سے سوال کیا کہ وہ آپ کے تمام اعضاء اورجہات کو نور بنادےاورآخر میں یوں کہا اے الله ! مجھے نور بنادے اور نور کا سایہ نہیں ہوتا۔اسی کے ساتھ استدلال تام ہوا۔(ت)
علامہ حسین بن محمد دیار بکری کتاب الخمیس فی احوال انفس نفیس(صلی الله تعالی علیہ وسلم)النوع الرابع ما اختص صلی الله تعالی علیہ وسلم بہ من الکرامات میں فرماتے ہیں:
لم یقع ظلہ علی الارض ولارئی لہ ظل فی شمس ولا قمر ۔ حضور کا سایہ زمین پر نہ پڑتانہ دھوپ میں نہ چاندنی میں نظر آتا۔
بعینہ اسی طرح کتاب "نورالابصار فی مناقب آل بیت النبی الاطہار "میں ہے۔
اما م نسفی تفسیر مدارك شریف میں زیر قولہ تعالی:" لو لا اذ سمعتموہ ظن المؤمنون و المؤمنت بانفسہم خیرا " ۔(کیوں نہ ہوا جب تم نے اسے سنا تھا کہ مسلمان مردوں اورمسلمان عورتوں نے اپنوں پر
حوالہ / References شرح الزرقانی المواھب اللدنیۃ المقصد الثالث الفصل الاول دارالمعرفۃ بیروت ۴/۲۲۰
تاریخ الخمیس القسم الثانی النوع الرابع مؤسسۃ الشعبان بیروت ۱/۲۱۹
القرآن الکریم ۲۴ /۱۲
#19127 · رسالہ نفی الفیئ عمن استنا ربنورہ کل شیئ ۱۲۹۶ھ (ا س ذات اقدس کے سائے کی نفی جس کے نور سے ہر مخلوق منور ہوئی)
نیك گمان کیاہوتا۔ت)فرماتے ہیں:
قال عثمان رضی الله تعالی عنہ ان الله مااوقع ظلك علی الارض لئلایضع انسان قدمہ علی ذلك الظل ۔ امیر المومنین عثمان غنی رضی الله تعالی عنہ نے حضور اقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم سے عرض کی بے شك الله تعالی نے حضور کا سایہ زمین پر نہ ڈالا کہ کوئی شخص اس پر پاؤں نہ رکھ دے۔''
امام ابن حجرمکی افضل القری میں زیر قول ماتن قدس سرہ:
لم یساووك فی علاك وقدحا ل سنا منك دونھم وسناء
انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام فضائل میں حضور کے برابر نہ ہوئے حضور کی چمك اوررفعت حضور تك ان کے پہنچنے سے مانع ہوئی۔
فرماتے ہیں:
ھذا مقتبس من تسمیتہ تعالی لنبیہ نورا فی نحو"قد جاء کم من الله نور وکتب مبین "وکان صلی الله تعالی علیہ وسلم یکثر الدعا بان الله تعالی یجعل کلا من حواسہ واعضائہ وبدنہ نورا اظہار الوقوع ذلك وتفضل الله تعالی علیہ بہ لیز داد شکرہ وشکر امتہ علی ذلك کما امرنا بالدعاء الذی فی اخر سورۃ البقرۃ مع وقوعہ وتفضل الله تعالی بہ لذلك ومما یؤیدانہ صلی الله تعالی یعنی یہ معنی اس سے لئے گئے ہیں کہ الله عزوجل نے اپنے حبیب صلی الله تعالی علیہ وسلم کا نام نور رکھا مثلا اس آیت میں کہ بیشك تمہارے پاس الله کی طرف سے نور تشریف لائے اورروشن کتاب۔اورحضور اقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم بکثرت یہ دعا فرماتے کہ الہی !میرے تمام حواس واعضاء سارے بدن کو نور کردے۔اوراس دعاسے یہ مقصود نہ تھا کہ نور ہونا ابھی حاصل نہ تھا اس کا حصول مانگتے تھے بلکہ یہ دعا اس امر کے ظاہر فرمانے کے لئے تھی کہ واقع میں حضور کا تمام جسم پاك نور ہے اوریہ فضل الله عزوجل نے حضور پر کردیا تاکہ آپ اورآپ کی امت اس پر الله تعالی کا زیادہ شکر ادا کریں۔
حوالہ / References مدارك التنزیل(تفسیر النسفی)تحت الآیۃ ۲۴/۱۲ دارالکتاب العربی بیروت ۳/۱۳۵
ام القرٰی فی مدح خیر الورٰی الفصل الاول حزب القادریۃ لاہور ص۶
#19128 · رسالہ نفی الفیئ عمن استنا ربنورہ کل شیئ ۱۲۹۶ھ (ا س ذات اقدس کے سائے کی نفی جس کے نور سے ہر مخلوق منور ہوئی)
علیہ وسلم صارنورا انہ کان اذا مشی فی الشمس اوالقمر لم یظھر لہ ظل لانہ لایظھر الالکثیف وھو صلی الله تعالی علیہ وسلم قد خلصہ الله من سائر الکثائف الجسمانیۃ وصیرہ نورا صرفا لایظھر لہ ظل اصلا ۔ جیسے ہمیں حکم ہوا کہ سورہ بقرشریف کے آخر کی دعا عرض کریں وہ بھی اسی اظہار وقوع وحصول فضل الہی کے لئے اور حضور اقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم کے نور محض ہو جانے کی تائید اس سے ہے کہ دھوپ یا چاندنی میں حضور کا سایہ نہ پیدا ہوتا اس لئے کہ سایہ تو کثیف کا ہوتاہے اورحضو رالله تعالی نے تمام جسمانی کثافتوں سے خالص کر کے نرانور کردیا لہذا حضور کے لئے سایہ اصلا نہ تھا۔
علامہ سلیمان جمل فتوحات احمدیہ شرح ہمزیہ میں فرماتے ہیں:
لم یکن لہ صلی الله تعالی علیہ وسلم ظل یظھر فی شمس ولا قمر ۔ نبی صلی الله تعالی علیہ وسلم کا سایہ نہ دھوپ میں ظاہر ہوتا نہ چاندنی میں۔
فاضل محمد بن فہمیہ کی "اسعاف الراغبین فی سیرۃ المصطفی واھل بیتہ الطاھرین"میں ذکر خصائص نبی صلی الله تعالی علیہ وسلم میں ہے:
وانہ لافیئ لہ ۔ حضور کا ایك خاصہ یہ ہے کہ حضور کے لئے سایہ نہ تھا۔
مجمع البحار میں برمزش یعنی زبدہ شرح شفاء شریف میں ہے:
من اسمائہ صلی الله تعالی علیہ وسلم قیل من خصائصہ صلی الله تعالی علیہ وسلم انہ اذا مشی فی الشمس والقمر لایظھر لہ ظل ۔ حضور کا ایك نام مبارك"نور"ہےحضور کے خصائص سے شمار کیا گیا کہ دھوپ اورچاندنی میں چلتے تو سایہ نہ پیداہوتا۔
حوالہ / References افضل القرٰی لقراء ام القرٰی(شرح ام القرٰی)شرح شعر ۲ المجمع الثقانی ابوظبی ۱/۱۲۸و۱۲۹
الفتوحات الاحمدیۃ علی متن الہمزیۃ سلیمان جم المکتبۃ التجاریۃ الکبرٰی مصر ص۵
اسعاف الراغبین فی سیرۃ المصطفٰی والہ بیتہ الطاھرین علی ھامش الابصار دارالفکر بیروت ص۷۹
مجمع بحار الانوار باب نون تحت لفظ ''النور''مکتبہ دارالایمان مدینۃ المنورۃ ۴/۸۲۰
#19129 · رسالہ نفی الفیئ عمن استنا ربنورہ کل شیئ ۱۲۹۶ھ (ا س ذات اقدس کے سائے کی نفی جس کے نور سے ہر مخلوق منور ہوئی)
شیخ محقق مولانا عبدالحق محدث دہلوی قدس سرہ العزیز مدارج النبوۃ میں فرماتے ہیں:
ونبودمرآنحضرت را صلی الله تعالی علیہ وسلم سایہ نہ در آفتاب ونہ در قمر رواہ الحکیم الترمذی عن ذکوان فی نوادر الاصول وعجب است ایں بزرگان کہ کہ ذکر نکر دند چراغ راونور یکے از اسمائے آنحضرت است صلی الله تعالی علیہ وسلم ونور راسایہ نمی باشد انتہی ۔ سرکاردوعالم صلی الله تعالی علیہ وسلم کا سایہ سورج اورچاند کی روشنی میں نہ تھا۔بروایت حکیم ترمذی از ذکواناورتعجب یہ ہے ان بزرگوں نے اس ضمن میں چراغ کا ذکر نہیں کیا اور ''نور''حضور کے اسماء مبارکہ میں سے ہے اور نور کا سایہ نہیں ہوتا۔(ت)
جناب شیخ مجدد جلد سوم مکتوباتمکتوبات صدم میں فرماتے ہیں:
اورا صلی الله تعالی علیہ وسلم سایہ نبود درعالم شہادت سایہ ہر شخص از شخص لطیف تر است وچوں لطیف ترے ازوے صلی الله تعالی علیہ وسلم درعالم نباشد اورا سایہ چہ صورت دارد ۔ آں حضرت صلی الله تعالی علیہ وسلم کا سایہ نہ تھاعالم شہادت میں ہر شخص کا سایہ اس سے بہت لطیف ہوتاہےاورچونکہ جہان بھر میں آنحضرت صلی الله تعالی علیہ وسلم سے کوئی چیز لطیف نہیں ہے لہذا آپ کا سایہ کیونکر ہوسکتاہے!(ت)
نیز اسی کے آخر مکتوب ۱۲۲میں فرماتے ہیں:
واجب راتعالی چراظل بود کہ ظل موہم تولید بہ مثل است ومنبی از شائبہ عدم کمال لطافت اصلہرگاہ محمدرسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم را از لطافت ظل نبود خدائے محمدراچگونہ ظل باشد ۔ الله تعالی کا سایہ کیونکر ہوسایہ تو وہم پیدا کرتاہے کہ اس کی کوئی مثل ہے اور یہ کہ الله تعالی میں کمال لطافت نہیں ہے دیکھئے محمدرسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم کا لطافت کی وجہ سے سایہ نہ تھا تو محمد صلی الله تعالی علیہ وسلم کا سایہ کیونکر ممکن ہے۔(ت)
حوالہ / References مدارج النبوۃ باب اول بیان سایہ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر۱/۲۱
مکتوبات امام ربانی مکتوب صدم نولکشور لکھنؤ ۳/۱۸۷
مکتوبات امام ربانی مکتوب ۱۲۲ نولکشورلکھنؤ ۳/۲۳۷
#19130 · رسالہ نفی الفیئ عمن استنا ربنورہ کل شیئ ۱۲۹۶ھ (ا س ذات اقدس کے سائے کی نفی جس کے نور سے ہر مخلوق منور ہوئی)
مولانا شاہ عبدالعزیز صاحب تفسیر عزیزی سورہ والضحی میں لکھتے ہیں:سایہ ایشاں برزمیں نمی افتاد ۔آپ کا سایہ زمین پر نہ پڑا۔
فقیر کہتاہے غفرالله لہاستدلال ابن سبع کا حضور کے سراپا نور ہونے سے جس پر بعض علماء نے حدیث واجعلنی نورا(مجھے نور بنادے۔ت)سے استشہاد اورعلمائے لاحقین نے اسے اپنے کلمات میں بنظر احتجاج یاد کیا۔
ہمارے مدعا پر دلالت واضحہ یہ ہےدلیل شکل اول بدیہی الانتاج دو مقدموں سے مرکبصغری یہ کہ رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم نور ہیںاورکبری یہ کہ نور کے لئے سایہ نہیںجوان دونوں مقدموں کو تسلیم کرے گا نتیجہ یعنی رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم کے لئے سایہ نہ تھاآپ ہی پائے گا:مگر دونوں مقدموں میں کوئی مقدمہ ایسا نہیں جس میں مسلمان ذی عقل کو گنجائش گفتگو ہوکبری توہرعاقل کے نزدیك بدیہی اورمشاہد ہ بصروشہادت بصیرت سے ثابتسایہ اس جس کا پڑے گا جو کثیف ہو اور انوار کو اپنے ماوراء سے حاجبنور کا سایہ پرے تو تنویر کون کرے۔اس لئے دیکھو آفتاب کے لئے سایہ نہیںاور صغری یعنی حضور والا کا نورہونا مسلمان کا تو ایمان ہےحاجت بیان حجت نہیں مگر تبکیت معاندین کے لئے اس قدر اشارہ ضرور کہ حضرت حق سبحانہوتعالی فرماتاہے:
"یایہا النبی انا ارسلنک شہدا و مبشرا و نذیرا ﴿۴۵﴾ و داعیا الی اللہ باذنہ و سراجا منیرا ﴿۴۶﴾ " ۔ اے نبی ! ہم نے تمہیں بھیجاگواہ اور خوشخبری دینے والا اور ڈر سنانے والا اور خدا کی طرف بلانے والا اور چراغ چمکتا۔
یہاں سراج سے مراد چراغ ہے یا ماہ یا مہرسب صورتیں ممکن ہیںاور خود قرآن عظیم میں آفتاب کو سراج فرمایا:
"و جعل القمر فیہن نورا و جعل الشمس سراجا ﴿۱۶﴾ " ۔ اوربنایا پروردگار نےچاند کو نور آسمانوں میں اوربنایا سورج کو چراغ۔(ت)
اورفرماتاہے:
حوالہ / References فتح القدیر(تفسیر عزیزی)پ عم سورۃ الضحٰی مسلم بك ڈپو،لا ل کنواں،دہلی ص۳۱۲
القرآن الکریم ۳۳ /۴۵
القرآن الکریم ۷۱ /۱۶
#19131 · رسالہ نفی الفیئ عمن استنا ربنورہ کل شیئ ۱۲۹۶ھ (ا س ذات اقدس کے سائے کی نفی جس کے نور سے ہر مخلوق منور ہوئی)
" قد جاءکم من اللہ نور وکتب مبین ﴿۱۵﴾ " ۔ بتحقیق آیا تمہارے پاس خدا کی طرف سے ایك نور اورکتاب روشن۔
علماء فرماتے ہیں:نور سے مراد محمدمصطفی صلی الله تعالی علیہ وسلم ہیں۔اسی طرح آیہ کریمہ" والنجم اذا ہوی ﴿۱﴾" ۔(اس پیارے چمکتے تارے محمد کی قسم جب یہ معراج سے اترے۔ت)میں امام جعفر صادق اورآیہ کریمہ"و ما ادرىک ما الطارق ﴿۲﴾ النجم الثاقب ﴿۳﴾" ۔ (اورکچھ تم نے جانا وہ رات کو آنے والا کیاہےچمکتا تارا۔ت) میں بعض مفسرین نجم اور النجم الثاقب ﴿۳﴾سے ذات پاك سید لولاك مراد لیتے ہیں صلی الله تعالی علیہ وسلم۔بخاری ومسلم وغیرہما کی احادیث میں بروایت ابن عباس رضی الله تعالی عنہما حضور سرورعالم صلی الله تعالی علیہ وسلم سے ایك دعا منقول جس کا خلاصہ یہ ہے:
اللھم اجعل فی قلبی نور اوفی بصری نورا وفی سمعی نورا وفی عصبی نور اوفی لحمی نورا وفی دمی نورا وفی شعری نورا وفی بشری نورا وعن یمینی نور ا وعن شمالی نورا واما می نورا وخلفی نور ا وفوقی نورا وتحتی نورا واجعلنی نورا ۔ الہی !میرے دل اور میری جان اورمیر ی آنکھ اورمیرے کان اورمیرے گوشت وپوست وخون واستخوان اورمیرے زیر وبالا وپس وپیش وچپ وراست اورہرعضو میں نور اورخود مجھے نور کردے۔
جب وہ یہ دعا فرماتے اوران کے سننے والے نے انہیں ضیائے تابندہ ومہر درخشندہ ونور الہی کہا پھر اس جناب کے نور ہونے میں مسلمان کو کیا شبہ رہاحدیث ابن عباس میں ہے کہ ان کا نور چراغ وخوشید پر غالب آتا۔اب خدا جانے غالب آنے سے یہ مراد کہ
حوالہ / References القرآن الکریم ۵ /۱۵
القرآن الکریم ۵۳ /۱
القرآن الکریم ۸۶ /۲و۳
الشفاء بتعریف حقوق المصطفٰی الفصل الرابع دارالکتب العلمیۃ بیروت ۱/۳۰
صحیح البخاری کتاب الدعوات باب الدعاء قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/۹۳۵،صحیح مسلم کتاب صلٰوۃ المسافرین باب صلٰوۃ النبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/۲۶۱،جامع الترمذی ابواب الدعوات باب منہ امین کمپنی دہلی ۲/۱۷۸
#19132 · رسالہ نفی الفیئ عمن استنا ربنورہ کل شیئ ۱۲۹۶ھ (ا س ذات اقدس کے سائے کی نفی جس کے نور سے ہر مخلوق منور ہوئی)
ان کی روشنیاں اس کے حضور پھیکی پڑ جائیں جیسے چراغ پیش مہتاب یا یکسر ناپدید وکالعدم ہوجاتیں جیسے ستارے حضور آفتاب۔
ابن عباس کی حدیث میں ہے:
و اذا تکلم رئی کالنور یخرج من بین ثنایاہ ۔ جب کلام فرماتے دانتوں سے نور چھنتا نظر آتا۔
وصاف کی حدیث میں وارد ہے:
یتلأ لؤ وجھہ تلألؤالقمر لیلا البدراقنی العرنین لہ نوریعلوہ یحسبہ من لم یتأملہ اشم انور المتجرد ۔ یعنی حضور کا چہر ہ چودھویں رات کے چاند کی طرح چمکتابلند بینی تھی اوراس پر ایك نور کا بکامتجلی رہتاکہ آدمی خیال نہ کرے تو ناك ماس روشن نور کے سبب بہت اونچی معلوم ہوکپڑوں سے باہر جو بدن تھا یعنی چہر ہ اورہتھیلیاں وغیرہنہایت روشن وتابندہ تھا۔صلی ا لله تعالی علی کل عضو من جسمہ الانوار الاعطر وبارك وسلم (الله تعالی آپ صلی الله تعالی علیہ وسلم کے جسم انور معطر کے ہر عضو پر درود وسلام اوربرکت نازل فرمائے۔ت)
سیدنا ابو ہریرہ رضی الله تعالی عنہ فرماتے ہیں:
کان الشمس تجری فی وجھہ ۔ گویاآفتاب ان کے چہرے میں رواں تھا۔
اورفرماتے ہیں:
واذاضحك یتلألؤفی الجدر ۔ جب حضور ہنستے دیواریں روشن ہوجاتیں۔
حوالہ / References تاریخ دمشق الکبیر باب ماروی فی فصاحۃ لسانہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۴/۸،۹،الشفاء بتعریف حقوق المصطفٰی الباب الثانی فصل وان قلت اکرمك الله دارالکتب العلمیۃ بیروت ۱/۴۶،شمائل الترمذی باب ماجاء فی خلق رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم امین کمپنی دہلی ص۳
شمائل الترمذی باب ماجاء فی خلق رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم امین کمپنی دہلی ص۲
الشفاء بتعریف حقوق المصطفٰی الباب الثانی فصل ان قلت اکرمك الله دارالکتب العلمیۃ بیروت ۱/۴۶
الشفاء بتعریف حقوق المصطفٰی الباب الثانی فصل ان قلت اکرمك الله دارالکتب العلمیۃ بیروت ۱/۴۶
#19133 · رسالہ نفی الفیئ عمن استنا ربنورہ کل شیئ ۱۲۹۶ھ (ا س ذات اقدس کے سائے کی نفی جس کے نور سے ہر مخلوق منور ہوئی)
ربیع بنت معوذ فرماتی ہیں:
لورأیت لقلت الشمس طالعۃ ۔ اگر تو انہیں دیکھتاکہتا آفتاب طلوع کر رہا ہے۔
ابو قرصافہ کی ماں اور خالہ فرماتی ہیں:
رأینا کان النور یخرج من فیہ ۔ ہم نے نور سانکلے دیکھا ان کےدہان پاك سے۔
احادیث کثیرہ مشہورہ میں واردجب حضور پیداہوئے ان کی روشنی سے بصرہ اورروم وشام کے محل روشن ہوگئے۔چند روایتوں میں ہے:
اضاء لہ ما بین المشرق والمغرب ۔ آپ کے لئے شرق سے غرب تك منور ہوگیا۔
اوربعض میں ہے:
امتلأت الدنیاکلھانورا ۔ تمام دنیا نور سے بھر گئی۔
آمنہ حضور کی والدہ فرماتی ہیں:
رأیت نور اساطعا من رأسہ قد بلغ السماء ۔ میں نے ان کے سر سے ایك نور بلند ہوتا دیکھا کہ آسمان تك پہنچا۔
ابن عساکر نے ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی الله تعالی عنہا سے روایت کی:"میں سیتی تھیسوئی گر پڑیتلاش کینہ ملی اتنے میں رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم تشریف لائےحضور کے نور رخ کی شعاع سے سوئی ظاہر ہوگئی ۔"
حوالہ / References المواھب اللدنیۃ عن ربیع بنت معوذ المقصد الثالث الفصل الاول المکتب الاسلامی بیروت ۲/۲۲۳
مجمع الزوائد بحوالہ الطبرانی کتاب علامات النبوۃ باب صفۃ صلی الله علیہ وسلم دارالکتاب بیروت ۸/۲۸۰
المواھب اللدنیۃ المقصد الاول احادیث اخری فی المولد المکتب الاسلامی بیروت ۱/۱۳۰
الخصائص الکبرٰی باب ماظہر فی لیلۃ مولدہ صلی الله علیہ وسلم من المعجزات الخ مرکز اہلسنت گجرات ہند ۱/۴۷
الخصائص الکبرٰی باب ماظہر فی لیلۃ مولدہ صلی الله علیہ وسلم من المعجزات الخ مرکز اہلسنت گجرات ہند ۱/۴۹
الخصائص الکبرٰی بحوالہ ابن عساکر باب الآیۃ فی وجہہ الشریف صلی الله تعالٰی علیہ وسلم مرکز اہلسنت گجرات ہند۱/۶۲و۶۳
#19134 · رسالہ نفی الفیئ عمن استنا ربنورہ کل شیئ ۱۲۹۶ھ (ا س ذات اقدس کے سائے کی نفی جس کے نور سے ہر مخلوق منور ہوئی)
علامہ فاسی مطالع المسرات میں ابن سبع سے نقل کرتے ہیں:
کان النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم یضیئ البیت المظلم من نورہ ۔ نبی صلی الله تعالی علیہ وسلم کے نور سے خانہئ تاریك روشن ہوجاتا۔
اب نہیں معلوم کہ حجور کے لئے سایہ ثابت نہ ہونے میں کلام کرنے والا آپ کے نور ہونے سے انکار کرے گا یا انوار کے لئے بھی سایہ مانے گا یا مختصر طور پر یوں کہئے کہ یہ تو بالیقین معلوم کہ سایہ جسم کثیف کا پڑتا ہے نہ جسم لطیف کااب مخالف سے پوچھنا چاہئے تیرا ایمان گواہی دیتاہے کہ رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم کا جسم اقدس لطیف نہ تھا عیاذا بالله کثیف تھا اور جو اس سے تحاشی کرے تو پھر عدم سایہ کا کیوں انکار کرتاہے
بالجملہ جبکہ حدیثیں اوراتنے اکابر ائمہ کی تصریحیں موجود کہ اگر مخالف اپنے کسی دعوے میں ان میں سے ایك کا قول پائے کس خوشی سے معرض استدعلال میں لائےجاہلانہ انکارمکاربرہ وکج بحثی ہےزبان ہر ایك کی اس کے اختیار میں ہے چاہے دن کو رات کہہ دے یا شمس کو ظلماتآخر کار مخالف جو سایہ ثابت کرتاہے اس کے پاس بھی کوئی دلیل ہے یا فقط اپنے منہ سے کہہ دیا جیسے ہم حدیثیں پیش کرتے ہیں اس کے پاس ہوں وہ بھی دکھائےہم ارشادات علماء سند میں لاتے ہیں وہ بھی ایسے ہی ائمہ کے اقوال سنائےیا نہ کوئی دلیل ہے نہ کوئی سندگھر بیٹھے اسے الہام ہوا کہ حضور کا سایہ تھا۔
مجرد ماوشما پر قیاس تو ایمان کے خلاف ہے ع
چہ نسبت خاك را بہ عالم پاک
(مٹی کو عالم پاك سے کیا نسبت۔ت)
وہ بشر ہیں مگر عالم علوی سے لاکھ درجہ اشرف اورجسم انسانی رکھتے ہیں مگر ارواح وملائکہ سے ہزارجگہ الطف۔وہ خود فرماتے ہیں:
لست کمثلکم میں تم جیسا نہیں۔ویروی لست کھیئتکم میں تمہاری ہیئت پر نہیں۔
حوالہ / References مطالع المسرات شرح دلائل الخیرات مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ص۳۹۳
المصنف لعبدالرزاق کتاب الصیام باب الوصال حدیث ۷۷۵۲المکتب الاسلامی بیروت ۴/۲۶۷،صحیح البخاری کتاب الصوم باب الوصال قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/۲۶۳،صحیح مسلم کتاب الصیام باب النہی عن الوصال قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/۳۵۱و۳۵۲
صحیح مسلم کتاب الصیام باب النہی عن الوصال قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/۳۵۱و۳۵۲،صحیح بخاری کتاب الصوم باب الوصال قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/۲۶۳و۲۶۴
#19135 · رسالہ نفی الفیئ عمن استنا ربنورہ کل شیئ ۱۲۹۶ھ (ا س ذات اقدس کے سائے کی نفی جس کے نور سے ہر مخلوق منور ہوئی)
ویروی ایکم مثلی تم میں کون ہے مجھ جیسا۔
آخر علامہ خفاجی کا ارشاد نہ سنا کہ:''حضور کا بشر ہونا نور رخشندہ ہونے کے منافی نہیں کہ اگر تو سمجھے تو وہ نور علی نور ہیں ۔
پھر صرف اس قیاس فاسد پرکہ ہم سب کا سایہ ہوتاہے ان کے بھی ہوگاثبوت سایہ ماننا یااس کی نفی میں کلام کرنا عقل وادب سے کس قدر دور پڑتا ہے
الا ان محمد ابشرلاکالبشر بل ھو یاقوت بین الحجر
(خبردار !محمد صلی الله تعالی علیہ وسلم بشرہیں مگر کسی بشر کی مثل نہیںبلکہ وہ ایسے ہیں جیسے پتھروں کے درمیان یاقوت۔ت)
(صلی الله تعالی علیہ وعلی الہ واصحابہ اجمعین وبارك وسلم)
فقیر کو حیرت ہے ان بزرگواروں نے رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم کے معجزات ثابتہ وخصائص صحیحہ کے انکار میں اپنا کیا فائدہ دینی ودنیاوی تصور کیا ہےایمان بے محبت رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم کے حاصل نہیں ہوتا۔وہ خود فرماتے ہیں:
لایؤمن احد کم حتی اکون احب الیہ من والدہ و ولد والناس اجمعین ۔ تم میں سے کوئی مسلمان نہیں ہوگاجب تك میں اسے اس کے ماں باپاولاد اورسب آدمیوں سے زیادہ پیارا نہ ہوں۔
اورآفتاب نیم روز کی طرح روشن کہ آدمی ہمہ تن اپنے محبوب کے نشر فضائل وتکثیر مدائح میں مشغول رہتاہےسچی فضیلتوں کا مٹانا اورشام وسحر نفی محاسن کی فکر میں ہونا کام دشمن کا ہے نہ کہ دوست کا۔
جان برادر!تو نے کبھی سنا ہے کہ تیرامحب تیرے مٹانے کی فکر میں رہےاورپھر محبوب بھی کیسا
حوالہ / References صحیح مسلم کتاب الصیام باب النہی عن الوصال قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/۳۵۱،صحیح البخاری کتاب الصوم باب الوصال قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/۲۶۳
نسیم الریاض فی شرح شفاء القاضی عیاض فصل ومن ذالك ماظہر من الآیات الخ مرکز اہلسنت برکات رضا گجرات ہند ۳/۲۸۲
افضل الصلٰوۃ علی سید السادات فضائل درود مکتبہ نبویہ،لاہور ص۱۵۰
صحیح البخاری کتاب الایمان باب حب الرسول صلی الله تعالٰی علیہ وسلم قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/۷،صحیح مسلم کتاب الایمان باب وجوب محبۃ رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/۴۹
#19136 · رسالہ نفی الفیئ عمن استنا ربنورہ کل شیئ ۱۲۹۶ھ (ا س ذات اقدس کے سائے کی نفی جس کے نور سے ہر مخلوق منور ہوئی)
جان ایمان وکان احسانجسے اس کے مالك نے تمام جہان کے لئے رحمت بھیجا اوراس نے تمام عالم کا بارتن نازك پر اٹھالیا۔
تمہارے غم میں دن کاکھانارات کا سونا ترك کردیا۔تم رات دن لہو ولعب اور ان کی نافرمانیوں میں مشغولاوروہ شب وروز تمہاری بخشش کے لئے گریاں وملول۔
جب وہ جان رحمت وکان رأفت پیداہوا بارگاہ الہی میں سجدہ کیا اور رب ھب لی امتی ۔(یا الله !میری امت کو بخش دے۔ت)
جب قبر شریف میں اتار الب جاں بخش کو جنبش تھیبعض صحابہ نے کان لگا کر سناآہستہ آہستہ امتی ۔(میری امت۔ت) فرماتے تھےقیامت میں بھی انہیں کے دامن میں پناہ ملے گیتمام انبیاء علیہم السلام سے نفسی نفسی اذھبوا الی غیری (آج مجھے اپنی فکر ہے کسی اور کے پا س چلے جاؤ۔ت)سنو گے اوراس غمخوار امت کے لب پر یارب امتی (اے رب !میری امت کو بخش دے۔ت)کا شورہوگا۔
بعض روایات میں ہے کہ حضور ارشاد فرماتے ہیں:جب انتقال کروں گا صور پھونکنے تك قبر میں امتی امتی پکاروں گا۔کان بجنے کا یہی سبب ہے کہ وہ آواز جانگداز اس معصوم عاصی نواز کی جو ہروقت بلند ہےگاہے ہم سے کسی غافل ومدہوش کے گوش تك پہنچتی ہےروح اسے ادراك کرتی ہےاسی باعث اس وقت درود پڑھنا مستحب ہوا کہ جو محبوب ہرآن ہماری یا دمیں ہےکچھ دیر ہم ہجراں نصیب بھی اس کی یاد میں صرف کریں۔
وائے بے انصافی !ایسے غمخوار پیارے کے نام پر جاں نثارکرنا اوراس کی مدح وستائش ونشر فضائل سے آنکھوں کی روشنیدل کو ٹھنڈك دینا واجب یا یہ کہ حتی الوسع چاند پر خاك ڈالے اوربے سبب ان کی روشن خوبیوں میں انکار نکالے۔
اے عزیز!چشم خرد بین میں سرمہ انصاف لگااورگوش قبول سے پنبہ اعتساف نکالپھر یہ تمام اہل اسلام بلکہ ہر مذہب وملت کے عقلاء سے پوچھناپھر اگر ایك منصف ذی عقل بھی تجھ سے کہہ دے کہ نشر محاسن وتکثیر مدائح نہ دوستی کا مقتضی نہ رد فضائل ونفی کمالات غلامی کے خلافتو تجھے اختیار ہے ورنہ
حوالہ / References صحیح مسلم کتاب الایمان باب اثبات الشفاعۃ الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/۱۱۱
صحیح مسلم کتاب الایمان باب اثبات الشفاعۃ الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/۱۱۱
#19137 · رسالہ نفی الفیئ عمن استنا ربنورہ کل شیئ ۱۲۹۶ھ (ا س ذات اقدس کے سائے کی نفی جس کے نور سے ہر مخلوق منور ہوئی)
خدا ورسول سے شرمااوراس حرکت بے جا سے باز آیقین جان لے کہ رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم کی خوبیاں تیرے مٹائے نہ مٹیں گی۔
جان برادر! اپنے ایمان پر رحم کرسمجھدیکھ کر خداسے کسی کا کیا بس چلے گااورجس کی شان وہ بڑھائے اسے کوئی گھٹا سکتاہے آئندہ تجھے اختیار ہےہدایت کا فضل الہی پر مدار ہے۔
ہم پر بلا غ مبین تھااس سے بحمدالله فراغت پائیا ور جواب بھی تیرے دل میں کوئی شك وشبہ یاہمارے کسی دعوے پردلیل یا کسی اجمال کی تفصیل درکاہوتو فقیر کا رسالہ مسمی بہ"قمر التمام فی نفی الظل عن سید الانام"علیہ وعلی الہ الصلوۃ والسلام جسے فقیر نے بعد وروداس سوال کے تالیف کیامطالعہ کرےان شاء الله تعالی بیان شافی پائے گا اورمرشد کافیہم نے اس رسالہ میں اس مسئلہ کی غایت تحقیق ذکر کی ہے اورنہایت نفیس دلائل سے ثابت کردیا ہے کہ حضورسراپا نور تابندہ درخشندہ ذی شعاع واضاء ت بلکہ معدن انواروافضل مضیئات بلکہ درحقیقت بعد جناب الہی نام''نور''انہیں کو زیبااوران کے ماوراء کو اگر نور کہہ سکتے ہیں توانہیں کی جناب سے ایك علاقہ وانتساب کے سبباوریہ بھی ثابت کیا ہے کہ ثبوت معجزات صرف اسی پر موقوف نہیں کہ حدیث یا قرآن میں بالتصریح ان کا ذکر ہوبلکہ ان کے لئے تین طریقے ہیںاوریہ بھی بیان کردیا ہے پیشوایان دین کا داب ان معاملات میں ہمیشہ قبول وتسلیم رہاہے۔اگرکہیں قرآن وحدیث سے ثبوت نہ ملا تو اپنی نظر کا قصور سمجھانہ یہ کہ باوجود ایسے ثبوت کافی کے کہ حدیثیں اورائمہ کی تصریحیں اورکافی دلیلیںسب کچھ موجودپھر بھی اپنی ہی کہے جاؤانکار کے سواکچھ زبان پر نہ لاؤاور اس کے سوا اور فوائد شریفہ وابحاث لطیفہ ہیںجو دیکھے گا ان شاء الله تعالی لطف جانفزا پائے گاولا حول ولا قوۃ الابالله العلی العظیم وصلی الله تعالی علی سیدنا ومولنا محمد والہ واصحابہ واصھارہ وانصارہ واتباعہ اجمعین الی یوم الدین امین والحمدلله رب العلمین۔
__________________
رسالہ
نفی الفیئ عمن استنار بنورہ کل شیئ
ختم ہوا۔
__________________
#19138 · رسالہ قمر التمام فی نفی الظل عن سید الانام صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ۱۲۹۶ھ (سرورعالم صلی الله تعالٰی علیہ وسلم سے سایہ کی نفی میں کامل چاند)
رسالہ
قمر التمام فی نفی الظل عن سید الانام صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ۱۲۹۶ھ
(سرورعالم صلی الله تعالی علیہ وسلم سے سایہ کی نفی میں کامل چاند)

بسم الله الرحمن الرحیم ط
مسئلہ۴۴:کیافرماتے ہیں علماء دین اس مسئلہ میں کہ سید المرسلین صلی الله تعالی علیہ وسلم کے جسم اقدس کا سایہ تھا یا نہیں بینوا توجروا(بیان کرو اجرپاؤگے۔ت)
الجواب:
ومن الله توفیق الصدق والصواب ولا حول قوۃ الا بالله العزیز الوھاباللھم صل وسلم وبارك علی السراج المنیر الشارق والقمر الزاھر البارق وعلی الہ واصحابہ اجمعین۔ الله تعالی کی طرف سے ہی سچائی اوردرستگی کی توفیق ہے۔نہ گناہ سے بچنے کی طاقت ہے اورنہ ہی نیکی کرنے کی قوت مگر عزت والے بہت عطافرمانے والے الله کی توفیق سے۔اے الله !درود وسلام اور برکت نازل فرما روشن چمکدار چراغ اور خوشنما تابناك چاند پر اور آپ کی آل پر اور تمام صحابہ پر۔(ت)
#19141 · رسالہ قمر التمام فی نفی الظل عن سید الانام صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ۱۲۹۶ھ (سرورعالم صلی الله تعالٰی علیہ وسلم سے سایہ کی نفی میں کامل چاند)
بیشك اس مہر سپہر اصطفاءماہ منیر اجتباء صلی الله تعالی علیہ وسلم کے لئے سایہ نہ تھا اوریہ امر احادیث واقوال ائمہ کرام سے ثابتاکابر ائمہ وعلماء فضلاء کہ آج کل کے مدعیان خام کا رکو ان کی شاگردی بلکہ انکے کلام کے سمجھنے کی لیاقت نہیںخلفاسلفا دائما اپنی تصانیف میں اس معنی کی تصریح فرماتے آئے اوراس پر دلائل باہرہ وحجج قاہرہ قائمجن پرمفتی عقل وقاضی نقل نے باہم اتفاق کر کے ان کی تاسیس وتشیید کی۔آج تك کسی عالم دین اسے اس کا انکار منقول نہ ہوا یہاں تك کہ وہ لوگ پیدا ہوئے جنہوں نے دین میں ابتداع اورنیا مذہب اختراع اورہوائے نفس کا اتباع کیا اوربہ سبب اس سوء رنجش کے جوانکے دلوں میں اس رؤف ورحیم نبی صلی الله تعالی علیہ وسلم کی طرف سے تھیانکے محو فضائل ورد معجزات کی فکر میں پڑے حتی کہ معجزئہ شق القمر جو بخاری ومسلم کی احادیث صحیحہ بلکہ خود قرآن عظیم ووحی حکیم کی شہادت حقہ اور اہل سنت وجماعت کے اجماع سے ثابتان صاحبوں میں سے بعض جری بہادروں نے اسے بھی غلط ٹھہرایا اوراسلام کی پیشانی پر کلف کا دھبہ لگایا۔فقیر کو حیرت ہے کہ ان بزرگواروں نے اس میں اپنا کیا فائدہ دینی یا دنیاوی سمجھاہے۔
اے عزیز!ایمانرسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم کی محبت سے مربوط ہے اورآتش جاں سوز جہنم سے نجات انکی الفت پر منوط(منحصرہے۔ت)جو ان سے محبت نہیں رکھتاوالله کہ ایمان کی بو اس کے مشام(ناک)تك نہ آئی وہ خود فرماتے ہیں:
لایؤمن احدکم حتی اکون احب الیہ من والدہ و ولدہ والناس اجمعین ۔ تم میں سے کسی کو ایمان حاصل نہیں ہوتا جب تك میں اس کے ماں باپ اوراولادسب آدمیوں سے زیادہ پیارا نہ ہوں۔
اورآفتاب نیم روز کی طرح روشن کہ آدمی ہمہ تن اپنے محبوب کے نشر فضائل وتکثیر مدائح میں مشغول رہتاہے اورجو بات اس کی خوبی اورتعرفی یف کی سنتاہے کیسی خوشی اورطیب خاطر سے اظہار کرتاہےسچی فضیلتوں کا مٹانا اورشام وسحر نفی اوصاف کی فکر میں رہنا کام دشمن کا ہے نہ کہ دوست کا۔
جان برادر!تو نے کبھی سنا ہے کہ جس کو تجھ سے الفت سادقہ ہے وہ تیری اچھی بات سن کر چیں بہ جبیں ہو اوراس کی محو کی فکر میں رہے اورپھر محبوب بھی کیساجان ایمان وکان احسانجس کے جمال
حوالہ / References صحیح البخاری کتاب الایمان باب حب الرسول صلی الله تعالٰی علیہ وسلم قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/۷،صحیح مسلم کتاب الایمان باب وجوب محبۃ الرسول صلی الله تعالٰی علیہ وسلم قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/۴۹
#19144 · رسالہ قمر التمام فی نفی الظل عن سید الانام صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ۱۲۹۶ھ (سرورعالم صلی الله تعالٰی علیہ وسلم سے سایہ کی نفی میں کامل چاند)
جہاں آراء کا نظیر کہیں نہ ملے گااورخامہ قدرت نے اس کی تصویر بناکر ہاتھ کھینچ لیا کہ پھر کبھی ایسا نہ لکھے گاکیسا محبوبجسے اس کے مالك نے تمام جہان کے لئے رحمت بھیجا۔کیسا محبوبجس نے اپنے تن پر ایك عالم کا بار اٹھالیا۔کیسا محبوبجس نے تمہارے غم میں دن کاکھانارات کا سونا ترك کردیاتم رات دن اس کی نافرمانیوں میں منہمك اورلہو ولعب میں مشغول ہو اور زوہ تمہاری بخشش کے لئے شب وروز گریاں وملول۔
شبکہ الله جل جلالہنے آسائش کے لئے بنائیاپنے تسکین بخش پر دے چھوڑے ہوئے موقوف ہےصبح قریب ہےٹھنڈی نسیموں کا پنکھا ہو رہا ہےہر ایك کاجی اس وقت آرام کی طرف جھکتاہےبادشاہ اپنے گرم بستروںنرم تکیوں میں مست خواب ناز ہے اورجو محتاج بے نوا ہے اس کے بھی پاؤں دوگز کی کملی میں درازایسے سہانے وقتٹھنڈے زمانہ میںوہ معصومبے گناہپاك داماںعصمت پناہ اپنی راحت وآسائش کو چھوڑخواب وآرام سے منہ موڑجبین نیاز آستانہ عزت پر رکھے ہے کہ الہی !میری امت سیاہ کارہےدرگزرفرمااورانکے تمام جسموں کو آتش دوزخ سے بچا۔
جب وہ جان راحت کان رافت پیداہوابارگاہ الہی میں سجدہ کیا اور رب ھب لی امتی فرمایاجب قبر شریف میں اتارا لب جاں بخش کو جنبش تھیبعض صحابہ نے کان لگا کر سنا آہستہ آہستہ امتی امتی فرماتے تھے۔قیامت کے روز کہ عجب سختی کا دن ہے تانبے کی زمینننگے پاؤںزبانیں پیاس سےباہرآفتاب سروں پرسائے کا پتہ نہیںحساب کا دغدغہملك قہار کا سامناعالم اپنی فکر میں گرفتارہوگامجرمان بے یار دام آفت کے گرفتارجدھر جائیں گے سوا نفسی نفسی اذھبوا الی غیری کچھ جواب نہ پائیں گےاس وقت یہی محبوب غمگسار کام آئے گاقفل شفاعت اس کے زور بازو سے کھل جائے گاعمامہ سراقدس سے اتاریں گے اورسربسجود ہوکر "یارب امتی "۔فرمائینگے۔
وائے بے انصافی !ایسے غم خوار پیارے کے نام پر جان نثار کرنا اورمدح وستائش ونشر فضائل سے اپنی آنکھوں کو روشنی اوردل کو ٹھنڈك دینا واجب یا یہ کی حتی الوسع چاند پر خاك ڈالے اوران روشن خوبیوں میں انکار کی شاخیں نکالے۔
حوالہ / References صحیح مسلم کتاب الایمان باب اثبات الشفاعۃ الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/۱۱۱
صحیح مسلم کتاب الایمان باب اثبات الشفاعۃ الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/۱۱۱
#19147 · رسالہ قمر التمام فی نفی الظل عن سید الانام صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ۱۲۹۶ھ (سرورعالم صلی الله تعالٰی علیہ وسلم سے سایہ کی نفی میں کامل چاند)
مانا کہ ہمیں احسان شناسی سے حصہ نہ ملانہ قلب عشق آشنا ہے کہ حسن پسند یا احسان دوستمگر یہ تو وہاں چل سکے جس کا احسان اگرنہ مانئےاس کی مخالفت کیجئے تو کوئی مضرت نہ پہنچے اوریہ محبوب تو ایسا ہے کہ بے اس کی کفش بوسی کے جہنم سے نجات میسرنہ دنیا وعقبی میں کہیں ٹھکانا متصورپھر اگر اس کے حسن واحسان پر والہ وشیدانہ ہوتو اپنے نفع وضرر کے لحاظ سے عقیدت رکھو۔
اے عزیز!چشم خرد میں سرمہئ انصاف لگا اورگوش قبول سے پنبہ انکار نکالپھرتمام اہل اسلام بلکہ ہر مذہب وملت کے عقلاء سے پوچھتا پھر عشاق کا اپنے محبوب کے ساتھ کیا طریقہ ہوتا ہے اورغلاموں کو مولی کے ساتھ کیا کرناچاہیےآیا نشر فضائل وتکثیر مدائح اوران کی خوبی حسن سن کر باغ باغ ہوجاناجامے میں پھولا نہ سمانا یا ردمحاسننفی کمالات اوران کے اوصاف حمیدہ سے بہ انکار وتکذیب پیش آنااگر ایك عاقل منصف بھی تجھ سے کہہ دے کہ نہ وہ دوستی کا مقتضی نہ یہ غلامی کے خلاف ہے تو تجھے اختیار ہے ورنہ خدا ورسول سے شرما اوراس حرکت بے جا سے باز آیقین جان لے کہ محمدصلی الله تعالی علیہ وسلم کی خوبیاں تیرے مٹائے سے نہ مٹیں گی۔
جان برادر! اپنے ایمان پر رحم کرخدائے قہار وجبار جل جلالہسے لڑائی نہ باندھوہ تیرے اورتمام جہان کی پیدائش سے پہلے ازل میں لکھ چکا تھا " و رفعنا لک ذکرک ﴿۴﴾" یعنی ارشاد ہوتا ہے اے محبوب ہمارے !ہم نے تمہارے لئے تمہارا ذکر بلند کیا کہ جہاں ہماری یا دہوگی تمہارا بھی چرچاہوگا اور ایمان بے تمہاری یاد کے ہرگز پورا نہ ہوگاآسمانوں کے طبقے اورزمینوں کے پردے تمہارے نام نامی سے گونجیں گےمؤذن اذانوں اورخطیب خطبوں اورذاکرین اپنی مجالس اور واعظین اپنے منابر پر ہمارے ذکر کے ساتھ تمہاری یا د کریں گے۔اشجار واحجارآہو وسوسمارودیگر جاندار واطفال شیرخوار ومعبودان کفار جس طرح ہماری توحید بتائیں گے ویسا ہی بہ زبان فصیح وبیان صحیح تمہارامنشور رسالت پڑھ کر سنائیں گےچار اکناف عالم میں لا الہ الا الله محمد رسول الله کاغلغلہ ہوگاجز اشقیائے ازل ہر ذرہ کلمہ شہادت پڑھتا ہوگامسبحان ملاء اعلی کو ادھر اپنی تسبیح وتقدیس میں مصروف کروں گا ادھر تمھارے محمود درود مسعود کا حکم دوں گا۔عرش وکرسیہفت اوراق سردہقصور جناںجہاں پر الله لکھوں گا۔ محمد رسول الله بھی تحریر فرماؤں گااپنے پیغمبروں اوراولوالعزم رسولوں کو ارشاد کروں گا کہ ہر وقت تمہار ادم بھریں اور تمہاری یاد سے اپنی آنکھوں کو روشنی اورجگر کو ٹھنڈك اورقلب کو تسکین اوربزم کو تزئین دیں۔جو کتاب نازل کروں گا اس میں
حوالہ / References القرآن الکریم ۹۴ /۴
#19150 · رسالہ قمر التمام فی نفی الظل عن سید الانام صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ۱۲۹۶ھ (سرورعالم صلی الله تعالٰی علیہ وسلم سے سایہ کی نفی میں کامل چاند)
تمہاری مدح وستائش اورجمال صورت وکمال سیرت ایسی تشریح وتوضیح سے بیان کروں گا کہ سننے والوں کے دل بے اختیار تمہاری طرف جھك جائیں اورنادیدہ تمہارے عشق کی شمع ان کے کانوںسینوں میں بھڑك اٹھے گی۔ایك عالم اگر تمہارادشمن ہوکر تمہاری تنقیص شان اورمحو فضال میں مشغول ہوتو میں قادر مطلق ہوںمیرے ساتھ کسی کا بس چلے گا۔آخر اسی وعدے کا اثر تھا کہ یہود صدہا برس سے اپنی کتابوں سے ان کا ذکر نکالتے اورچاند پر خاك ڈالتے ہیں تو اہل ایمان اس بلند آواز سے ان کی نعت سناتے ہیں کہ سامع اگر انصاف کرے بے ساختہ پکار اٹھے۔لاکھوں بے دینوں نے ان کے محو فضائل پر کمر باندھیمگر مٹانے والے خود مٹ گئے اور ان کی خوبی روز بروز مترقی رہیپھر اپنے مقصود سے تو یاس ونا امیدی کرلینا مناسب ہے ورنہ برب کعبہ ان کا کچھ نقصان نہیںبالآخر ایك دن تو نہیںتیرا ایمان نہیں۔
اے عزز !سلف صالح کی روش اختیار کر اوران کے قدم پر قدم رکھائمہ دین کا وطیرہ ایسے معاملات میں دائما تسلیم وقبول رہا ہےجب کسی ثقہ معتمد علیہ نے کوئی معجزہ یا خاصہ ذکر کردیا اسے مرحبا کہہ لیا اور حبیب جان میں بہ طیب خاطر جگہ دییہاں تك کہ اگر اپنے آپ احادیث میں اس کی اصل نہ پائیقصور اپنی نظر کا جانایہ نہ کہا کہ غلط ہےباطل ہےکسی حدیث میں وارد نہیںنہ یہی ہوا کہ جب حدیث سے ثبوت نہ ملا تھا اس کے ذکر سے باز رہتے بلکہ اسی طرح اپنی تصانیف میں اس کے ذکر سے باز رہتے بلکہ اسی طرح اپنی تصانیف میں اس ثقہ کے اعتماد پر اسے لکھتے آئےاورکیوں نہ ہومقتضی عقل سلیم کا یہی ہے کہ:
فائدہ جلیلہ:جب ہم اسے ثقہ معتمد عیہ مان چکے اور وقوع ایسے معجزے کا یا اختصاص ایسے خاصہ کا ذات پاك سرور عالم صلی الله تعالی علیہ وسلم سے بعید نہیں کہ اس سے عجیب تر معجزات بہ تواتر حضور حضور سے ثابتاوران کا رب اس سے زیادہ پر قادر اوران کے لئے اس سے بہتر خصائص بالقطع مہیا اوران کی شان اس سے بھی ارفع واعلیپھر انکار کی وجہ کیا ہےتکذیب میں تو اس راوی سے ثقہ معتمد علیہ ہونا ثابت ہوچکا اور وثوق واعتماد اس کا بتاتا ہے کہ اگر من عند نفسہ کہہ دیتاخداوررسول پر مفتری ہوتا
" و من اظلم ممن افتری علی اللہ کذبا " ۔ اوراس سے بڑھ کر ظالم کو ن جو الله پر جھوٹ باندھے۔(ت)
ان وجوہ پر نظر کرکے سمجھ لیجئے کہ بالضرور اس نے حدیث پائیگوہماری نظر میں نہ آئی۔ہر چند کہ فقیر کا یہ دعوی اس شخص کے نزدیك بالکل بدیہی ہے جو خدمت حدیث وسیرمیں رہا اور اس راہ میں روش علماء
حوالہ / References القرآن الکریم ۱۱ /۱۸
#19152 · رسالہ قمر التمام فی نفی الظل عن سید الانام صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ۱۲۹۶ھ (سرورعالم صلی الله تعالٰی علیہ وسلم سے سایہ کی نفی میں کامل چاند)
کو مشاہدہ کیا مگر ناواقفوں کے افہام اورمنکروں پرالزام کے لئے چند مثالیں بیان کرتاہوں:
اولا:جسم اقدس ولباس انفس پر مکھی نہ بیٹھنا۔علامہ ابن سبع نے خصائص میں ذکر فرمایا علماء نے تصریح کی اس کا راوی معلوم نہ ہوااورباوجود اس کے بلا نکیر اپنی کتابوں میں اسے ذکر فرماتے آئے۔شفاء قاضی عیاض رحمۃ الله علیہ میں ہے:
وان الذباب کان لایقع علی جسدہ ولاثیابہ ۔ مکھی آپ کے جسم اقدس اورلباس اطہر پر نہ بیٹھی تھی۔
امام جلال الدین سیوطی خصائص کبری میں فرماتے ہیں:
باب ذکر القاضی عیاض فی الشفاء والعراقی فی مولدہ ان من خصائصہ صلی الله تعالی علیہ وسلم انہ کان لا ینزل علیہ الزبابوذکرہ ابن سبع فی الخصائص بلفظ انہ لم یقع علی ثیابہ ذباب قط و زاد ان من خصائصہ ان القمل لم تکن یؤذیہ ۔ قاضی عیاض نے شفاء میں اورعراقی نے اپنی مولد میں ذکر کیا کہ حضور کی خصوصیات میں سے یہ بھی ہے کہ مکھی آپ پر نہ بیٹھتی تھی۔ابن سبع میں ان لفظوں سے ذکر کیا کہ مکھی آپ کے کپڑوں پر کبھی نہ بیٹھی۔اوریہ بھی زیادہ کیا کہ جوئیں آپ کو نہیں ستاتی تھیں۔
شیخ ملا علی قاری شرح شمائل ترمذی میں فرماتے ہیں:
ونقل الفخر الرازی ان الذباب کان لایقع علی ثیابہ وان البعوض لایمتص دمہ ۔ رازی نے نقل کیا کہ مکھیاں آ پ کے کپڑوں پر نہیں بیٹھتی تھیں اورمچھر آپ کاخون نہیں چوستے تھے۔
علامہ خفاجی نے ''نسیم الریاض ''میں علماء کا وہ قول کہ اس کا راوی نہ معلوم ہوانقل کیااوراس خاصہ کی نسبت لکھا کہ ایك کرامت ہے کہ حق سبحانہ وتعالی نے اپنے حبیب کو عطا کی اوراپنے نتائج افکار سے ایك رباعی لکھی کہ اس اس میں بھی اس خاصہ کی تصریح ہے اوربعض علماء عجم نے اسی بناء پر کلمہ محمد رسول الله کے سب حروف بے نقطہ ہوتے ہیںایك لطیفہ لکھا کہ آپ کے جسم پر مکھی نہ بیٹھتی تھیلہذا یہ کلمہ پاك کلی نقطوں سے محفوظ رہا کہ وہ شبیہ مکھیوں کے ہیں۔ پھر اسی مضمون پردوسری
حوالہ / References الشفاء بتعریف حقوق المصطفٰی فصل ومن ذالك ماظہر من الآیات عند مولدہ دارالکتب العلمیہ بیروت ۱/۲۲۵
الخصائص الکبرٰی باب ذکر القاضی عیاض فی الشفاء والعراقی فی مولدہ مرکز اہلسنت برکات رضا گجرات ہند ۱/۶۸
شمائل ترمذی
#19154 · رسالہ قمر التمام فی نفی الظل عن سید الانام صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ۱۲۹۶ھ (سرورعالم صلی الله تعالٰی علیہ وسلم سے سایہ کی نفی میں کامل چاند)
عبارت:
عبارتہ برمتہ:ومن دلائل نبوتہ صلی الله تعالی علیہ وسلم ان الذباب کان لایقع علی ثیابہ ھذا مما قالہ ابن سبع الا انھم قالوا لایعلم من روی ھذہ و الذباب واحدہ ذبابۃ قیل انہ سمی بہ لانہ کلما اذب آب ای کلما طرد رجع وھذا مما اکرمہ الله بہ لانہ طھرہ الله من جمیع الاقذار وھو مع استقذارہ قدی یجیئ من مستقذر قیل وقد نقل مثلھا عن ولی الله العارف بہ الشیخ عبدالقادر الکیلانی ولابعد فیہ لان معجزات الانبیاء قد تکون کرامۃ لاولیاء امتہ وفی رباعیۃ لی
من اکرم مرسل عظیم حلا
لم تدن ذبابۃ اذ ماحلا
ھذ اعجب ولم یذق ذونظر
فی الموجودات من حلاہ احلا
وتظرف بعض علماء العجم فقال محمدرسول الله لیس فیہ حرف منقوط لان الموجود ان النقط تشبہ الذباب فصین اسمہ ونعمتہ کما قلت فی مدحہ صلی الله تعالی علیہ وسلم
لقد ذب الذباب فلیس یعلو
رسول الله محمودا محمد ان کی مکمل عبارت یہ ہے:آپ کے دلائل نبوت سے یہ بھی ہے کہ مکھی آپ کے نہ تو ظاہری جسم پر بیٹھتی تھی اورنہ لبا س پریہ ابن سبع نے کہا۔محدثین نے کہا کہ اس کا راوی معلوم نہیں۔ذباب کا واحد ذبابۃ ہے۔کہتے ہیں اس کا یہ نام اس لئے ہے کہ اس کو جب بھی بھگا یا جاتاہے واپس آجاتی ہے۔یہ کرامت آپکو اس لئے عطاہوئی کہ الله نے آپ کو پاك رکھا تھا۔شیخ عبدالقادر جیلانی رضی الله تعالی عنہ کے بارے میں یہی کہا جاتاہے اوراس میں کوئی تعجب کی بات نہیں کیونکہ کبھی ایسا ہوتاہے کہ جو چیز نبی کا معجزہ ہوتی ہے وہ بطور کرامت ولی کے ہاتھ سے سرز ہوجاتی ہے اور میں(خفاجی)نے ایك رباعی کہی ہے:
''آپ بزرگ ترینعظیممٹھاس والے رسول ہیںیہ عجیب بات ہے کہ آپ کی مٹھاس کے باوجود مکھی آپ کے قریب نہ جاتی تھی اورکسی بھی صاحب نظر نے موجودات میں آپ کی مٹھاس سے زیادہ مٹھاس نہ چکھی۔''
اوربعض علماء عجم نے کہا کہ محمدرسول الله میں کوئی نقطہ نہیں ہے اس لئے کہ نقطہ مکھی کے مشابہ ہوتاہےعیب سے بچانے کے لئے اورآپ کی تعریف کے لئے میں نے آپ کی مدح میں کہا ہے:

"بلاشبہ الله نے مکھیوں کو آپ سے دور کردیا تو
#19156 · رسالہ قمر التمام فی نفی الظل عن سید الانام صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ۱۲۹۶ھ (سرورعالم صلی الله تعالٰی علیہ وسلم سے سایہ کی نفی میں کامل چاند)
ونقط الحرف یحکیہ بشکل
لذاك الخط عنہ قد تجرد ۔ آپ پرمکھی نہیں بیٹھتی ہےالله کے رسول محمود ومحمد ہیں اور حروف کے نقطے جو شکل میں مکھی کی طرح ہیں ان سے بھی الله نے اس لئے آپ کو محفوظ رکھا۔"
ثانیا:ابن سبع نے حضور کے خصائص میں کہا جو ں آپ کو ایذا نہ دیتی۔علامہ سیوطی نے خصائص کبری میں اس طرح ابن سبع سے نقل کیا اوربرقرار رکھا کما مر(جیسا کہ گزرچکا ہے۔ت)اورملاعلی قاری شرح شمائل میں فرماتے ہیں:
ومن خواصہ ان ثوبہ لم یقمل ۔ آپ کے مبارك کپڑوں میں جوئیں نہیں ہوتی تھیں۔(ت)
ثالثا:ابن سبع نے فرمایا جس جانو رپر حضور صلی الله تعالی علیہ وسلم سوار ہوتے عمر بھر ویسا ہی رہتا اور حضور کی برکت سے بوڑھا نہ ہوتا۔علامہ سیوطی خصائص میں فرماتے ہیں:
باب:قال ابن سبع من خصائصہ صلی الله تعالی علیہ وسلم ان کال دابۃ رکبہا بقیت علی القدر الزی کانت علیہ ولم تھرم ببرکتہ صلی الله تعالی علیہ وسلم۔ ابن سبع نے کہا کہ آپ کے خصائص میں سے یہ تھا کہ آپ جس جانور پرسوار ہوتے تو وہ عمر بھر ویسا ہی رہتا اورآپ کی برکت کے باعث بوڑھا نہ ہوتاصلی الله تعالی علیہ وسلم۔
رابعا:ابو عبدالرحمن بقی بن مخلد قرطبی رحمۃ الله علیہ نےجو اکابر اعیان مائۃ ثالثہ سے ہیں حضرت ام المومنین رضی الله تعالی عنہا سے حکایت کیا کہ رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم جیسا روشنی میں دیکھتے تھے ویسا ہی تاریکی میں۔اس حدیث کو بیہقی نے موصولا مسندا روایت کیا اورعلامہ خفاجی نے اکابر علماء مثل ابن بشکوال وعقیلی وابن جوزی وسہیلی سے اس کی تضعیف نقل کی یہاں تك کہ ذہبی نے تو میرزان الاعتدال میں موضوع ہی کہہ دیا۔بہ ایں ہمہ خود علامہ خفاجی فرماتے ہیں جیسا بقی بن مخلہ وغیرہ ثقات نے اسے ذکر کیا اورحضور والا کی شان سے بعید نہیں تو اس کا انکار کس وجہ سے کیا جائے۔
وھذا نصہ ملتقطا وحکی بقی ابن مخلد ابوعبد الرحمن مولدہ فی رمضان اس کی عبارت بالاختصار یہ ہے:بقی بن مخلد ابوعبدالرحمن قرطبی جن کی ولادت رمضان المبارک
حوالہ / References نسیم الریاض فی شرح شفاء القاضی عیاض فصل ومن ذٰلك ماظہر من الآیات الخ مرکز اہلسنت گجرات ہند ۳/۲۸۲

الخصائص الکبرٰی قال ابن سبع من خصائصہ صلی الله تعالٰی علیہ وسلم مرکز اہلسنت برکات رضا گجرات ہند۲/۲۴
#19158 · رسالہ قمر التمام فی نفی الظل عن سید الانام صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ۱۲۹۶ھ (سرورعالم صلی الله تعالٰی علیہ وسلم سے سایہ کی نفی میں کامل چاند)
سنۃ احدی ومائتین وتوفی سنۃ ست وسبعین مائتین عن عائشۃ رضی الله تعالی عنہا انھا قالت کان النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم یری فی الظلمۃ کما یری فی الضوع وفی روایۃ کما یری فی النور ولا شك انہ صلی الله تعالی علیہ وسلم کان کامل الخلقۃ قوی الحواس فوقوع مثل ھذا منہ غیر بعید وقد رواہ الثقات کابن مخلد ھذا فلاوجہ لانکارہ ۔ ۲۰۱ ھ اور وصال ۲۷۶ ھ میں ہےنے کہا کہ عائشہ رضی الله تعالی عنہا سے مروی ہے انہوں نے فرمایا رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم تاریکی میں دیکھا کرتے تھے۔او رایك روایت میں جس طرح کہ روشنی مین دیکھتے تھے۔اس میں کچھ شك نہیں کہ رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلمکامل الخلقۃ قوی الحواس تھے توآپ سے اس کیفیت کا وقوع بعید نہیںپھر اس کو ابن مخلد جیسے ثقات نے روایت کیا ہے لہذا اس کے انکار کی کوئی وجہ نہیں۔
خامسا:بسم الله الرحمن الرحیماس سب سے زیادہ یہ ہے کہ باوجود حدیث کے شدید الضعف وغیرمتمسك ہونے کے احیاء والدینوسعت قدرت وعظمت شان رسالت پناہی پر نظر کر کے گردن تسلیم جھکائی اورسوا سلمنا وصدقنا کچھ بن نہ آئی۔
ام المومنین صدیقہ رضی الله تعالی عنہاسے مروی ہواحجۃ الوداع میں ہم رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم کے ساتھ تھے جب عقبہ جحون پر گزر ہوا حجور اشکبار ورنجیدہ ومغموم ہوئےپھرتشریف لے گئےجب لوٹ کر آئے چہر بشاش تھ اورلب تبسم ریزمیں نے سبب پوچھافرمایامیں اپنی ماں کی قبر پر گیا اورخدا سے عرض کیا کہ انہیں زندہ کردےوہ قبول ہوئیاوروہ زندہ ہوکر ایمان لائیں اورپھر قبر میں آرام کیا۔
اخرج الخطیب عن عائشۃ رضی الله تعالی عنہا قالت حج بنارسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم فمربی علی عقبۃ الجحون وھو باك حزین مغتم ثم ذھب وعاد و ھو فرح متبسم فسألتہ فقال ذھبت الی قبرامی حضرت عائشہ صدیقہ رضی الله تعالی عنہا سے مروی ہے کہ رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم نے ہمارے ہمراہ حج کیا جب عقبہ جحون پر پہنچے تو رو رہے تھے اورغمگین تھےپھرآپ کہیں تشریف لے گئےجب واپس آئے تو مسرور تھے اورتبسم فرما رہے تھے۔فرماتی ہیں میں نے سبب دریافت
حوالہ / References نسیم الریاض فی شرح شفاء القاضی عیاض فصل اما وفورعقلہ الخ مرکز اہلسنت برکات رضا گجرات ہند ۱/۳۷۲و۳۷۳
#19161 · رسالہ قمر التمام فی نفی الظل عن سید الانام صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ۱۲۹۶ھ (سرورعالم صلی الله تعالٰی علیہ وسلم سے سایہ کی نفی میں کامل چاند)
فسألت الله ان یحییہا فامنت بی وردھا الله ۔ کیا توآپ نے فرمایا:میں اپنی ماں کی قبر پرگیا تھامیں نے اپنے الله سے سوال کیااس نے ان کوزندہ کیاوہ ایمان لائیں اورپھر انتقال فرماگئیں۔
امام جلال الدین سیوطی خصائص میں فرماتے ہیں:اس کی سند میں مجاہیل ہیںاورسہیلی نے ام المومنین سے احیائے والدین ذکر کر کے کہا:اس کے اسناد میں مجہولین ہیں اورحدیث سخت منکر اورصحیح کے معارض۔
ففی مجمع بحار الانوار روح احیاء ابوی النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم حتی امنا بہقال فی اسنادہ مجاھیل وانہ ح منکر جدا یعارضہ ماثبت فی الصحیح ۔ مجمع بحار الانوار میں ہے کہ الله تعالی نے نبی کریم صلی الله تعالی علیہ وسلم کے والدین کو زندہ فرمایا وہ آپ پر ایمان لائے۔اس کے اسناد میں مجاہیل ہیں اوریہ حدیث سخت منکر اورصحیح کے معارض ہے۔
بایں ہمہ اسی مجمع بحارالانوار میں لکھتے ہیں:
فی المقاصد الحسنۃ واما احسن ماقال
حبا الله النبی مزید فضل
علی فضل وکان بہ رؤوفا
فاحیی امہ وکذا اباہ
لایمان بہ فضلالطیفا
نسلم فالقدیم بذاقدیر
وان کان الحدیث بہ ضعیفا حاصل یہ مقاصد میں ہے اورکیا خوب کہاخدا نے نبی کو فضل پر فضل زیادہ عطافرمائے اوران پر نہایت مہربان تھاپس ان کے والدین کو ان پرایمان لانے کے لئے زندہ کیا او راپنے فضل لطیف سےہم تسلیم کرتے ہیں کہ قدیم تو اس پر قدرت رکھتا ہے اگرچہ جو حدیث اس معنی میں وارد ہوئیضعیف ہے۔
اے عزیز ! سنا تو نےیہ ہے طریقہ اراکین دین متین واساطین شرح متینرسول الله
حوالہ / References الخصائص الکبرٰی بحوالہ الخطیب باب ماوقع فی حجۃ الوداع الخ مرکز اہلسنت برکات رضا گجرات ہند ۲/۴۰
مجمع بحار الانوار فصل فی تعیین بعض الاحادیث المشتہرۃ الخ دارالایمان مدینۃ المنورۃ ۵/۲۳۶
مجمع بحار الانوار فصل فی تعیین بعض الاحادیث المشتہرۃ الخ دارالایمان مدینۃ المنورۃ ۵/۲۳۶
#19163 · رسالہ قمر التمام فی نفی الظل عن سید الانام صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ۱۲۹۶ھ (سرورعالم صلی الله تعالٰی علیہ وسلم سے سایہ کی نفی میں کامل چاند)
صلی الله تعالی علیہ وسلم کی تعظیم ومحبت میںنہ یہ کہ جو معجزہ وخاصہ حضور کا احادیث صحیحہ سے ثابت اور اکابر علماء برابراپنی تصانیف معتبرہ مستندہ میںجن کا اعتبار واستناد آفتاب نیمروز سے روش تر ہےبلانکیر ومنکر اس کی تصریح کرتے آئے ہوں اور اس کے ساتھ عقل سلیم نے ان پر وہ دلائل ساطعہ قائم کئے ہوں جن پرکوئی حرف نہ رکھ سکےبایں ہمہ اس سے انکار کیجئے اور حق ثابت کے ردپر اصرارحالانکہ نہ ان حدیثوں میں کوئی سقم مقبول وجرح معقول مے دارونہ ان ائمہ کے مستند بادلائل معتمد ہونے میں کلام کرسکوپھر اس مکابارہ کج بحثی اورتحکم وزبردستی کا کیا علاجزبان ہر ایك کی اس کے اختیار میں ہے چاہے دن کو رات کہہ دے یا شمس کو ظلمات۔
آخر تم جو انکار کرتے ہو تو تمہارے پا س بھی کوئی دلیل ہے یا فقط اپنے منہ سے کہہ دینااگربفرض محال جو حدیثیں اس باب میں وارد ہوئیں نامعتبرہوں اور جن جن علماء نے اس کی تصریح فرمائی انہیں بھی قابل اعتماد نہ مانو اورجو دلائل قاطعہ اس پر قائم ہوئے وہ بھی صالح التفات نہ کہے جائیںتاہم انکار کا کیا ثبوت اوروجود سایہ کا کس بناء پراگر کوئی حدیث ا س بارے میں آئی ہو تو دکھاؤ یا گھر بیٹھے تمہیں الہام ہوا ہو تو بتاؤمجرد ماومن پر قیاس تو ایمان کے خلاف ہے ع
چہ نسبت خاك را عالم پاک
(مٹی کو عالم پاك سے کیا نسبت۔ت)
وہ بشر ہیں مگر عالم علوی سے لاکھ درجہ اشرف واحسنوہ انسان ہیں مگر ارواح وملائکہ سے ہزار درجہ الطفوہ خود فرماتے ہیں:لست کمثلکم"میں تم جیسا نہیں"رواہ الشیخان (اسے امام بخاری اورامام مسلم نے روایت کیا۔ت)ویروی لست کھیئتکم ۔"میں تمہاری ہیئت پر نہیں۔"ویروی ایكم مثلی "تم میں کون مجھ جیسا ہے۔"
حوالہ / References صحیح البخاری کتاب الصوم باب الوصال قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/۲۶۳،صحیح مسلم کتاب الصیام باب النہی عن الوصال قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/۳۵۱و۳۵۲،
صحیح البخاری کتاب الصوم باب الوصال قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/۲۶۳و۲۶۴،صحیح مسلم کتاب الصیام باب النہی عن الوصال قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/۳۵۱و۳۵۲
صحیح البخاری کتاب الصوم باب الوصال قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/۲۶۳،صحیح مسلم کتاب الصیام باب النہی عن الوصال قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/۳۵۱
#19166 · رسالہ قمر التمام فی نفی الظل عن سید الانام صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ۱۲۹۶ھ (سرورعالم صلی الله تعالٰی علیہ وسلم سے سایہ کی نفی میں کامل چاند)
آخر علامہ خفاجی کو فرماتے سنا:آپ کا بشر ہونا اورنور ودرخشندہ ہونا منافی نہیں کہ اگرمجھے تو وہ نورعلی نورہیںپھر اس خیال فاسد پ رکہ ہم سب کا سایہ ہوتاہے ان کا بھی ہوگا توثبوت سایہ کا قائل ہونا عقل وایمان سے کس درجہ دورپڑتاہے
محمد بشر لاکالبشر بل ھو یاقوب بین الحجر
(محمد صلی الله تعالی علیہ وسلم ایسے بشر ہیں جن جیسا کوئی بشر نہیںبلکہ وہ پتھروں کے درمیان یاقوت ہیں۔ت)
صلی الله تعالی علیہ وعلی الہ وصحبہ اجمعین۔
القائے جواب:ایقاظ دفع بعض اوہام وامراض میںاس مقام پر باوجودیکہ قلب بحمدلله غایت اطمینان وتسلیم پر تھا مگر مرتبہ کا وش وتنقیح میں بوسوسہ ایك خدشہ زہن ناقص میں گزرا تھا یہاں تك کہ حق جل وعلانے اپنے کرم عمیم سے فقیر کو اس کا جواب القاء فرمای اجس سے تصور کو نور اوردل منتظر کو سرور حاصل ہوا۔
الحمدلله علی مااولی والصلوۃ والسلام علی ھذالمولی۔ سب تعریفیں الله کے لئے جو تعریفوں کے لائق ہے اوردرود و سلام آقائے دوجہاں پر۔
فاقول:وبالله التوفیق(چنانچہ میںکہتاہوں اورتوفیق الله ہی کی طرف سے ہے۔ت)
مقدمہ اولی:حادیث صحیحہ سے ثبت کہ صحابہ کرام رجوان الله تعالی علیہم اجمعین حضور رسالت میں نہایت ادب ووقار سے سرجھکائےآنکھیں نیچی کئے بیٹھےرعب جلال سلطانی ان کے قلوب صافیہ پر ایسا مستولی ہوتاکہ اوپر نگاہ اٹھانا ممکن نہ تھا۔
خ عن مستور بن مخرمۃ ومروان ابن الحکم فی حدیث طویل فی قصۃ الحدیبیۃ ثم ان عروۃ جعل یرمق اصحاب النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم بعینیہ قال فوالله ما تنخم رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم نخامۃ الاوقعت فی کف رجل منہم فدلك بہا وجہہ وجلدہ واذا امرھم مسور بن مخرمہ اورمروان بن الحکم حدیبیہ کے طویل قصے میں ذکر کرتے ہیں کہ عروہ اصحاب نبی کو گھور رہا تھااس نے کہا کہ بخدا رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم نے جب بھی ناك سنکی تو کسی نہ کسی صحابی کے ہاتھ میں پڑی اور اس نے اپنے چہرے پر ملی اوراپنے جسم پر لگائیجب آپ نے حکم دیا تو انہوں نے ماننے میں جلدی کیجب آپ وضو
حوالہ / References افضل الصلاۃ علی سید السادات فضائل درود مکتبہ نبویہ لاہور ۱۵۰
#19171 · رسالہ قمر التمام فی نفی الظل عن سید الانام صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ۱۲۹۶ھ (سرورعالم صلی الله تعالٰی علیہ وسلم سے سایہ کی نفی میں کامل چاند)
ابتدروا اامرہ واذا توضأ کادو ایقتتلون علی وجوئہ و اذا تکلم خفضوا اصواتھم عندہ وما یحدون النظر الیہ تعظیما لہ فرجع عمروۃ الی اصحاب فقال ای قوم والله لقد وفدت علی الملولك قیصر و کسری و النجاشی والله ان مارأیت ملکا قط یعظمہ اصحابہ ما یعطم اصحاب محمدصلی الله تعالی علیہ وسلم ۔ فرماتے تو وہ وضو کا پانی لینے پر لڑنے کے قریب ہوجاتے اور جب گفتگوفرماتے تو صحابہ اپنی آوازیں پست کرلیتے اورآپ کی تعظیم کی وجہ سے آپ کی طرف نگاہ نہ کر پاتے تھےتو وہ اپنے ساتھیوں کی طر ف لوٹ آیا اور کاہ میں قیصروکسری و نجاشی کے درباروں میں آیا مگر ایسا کوئی بادشاہ نہ دیکھا جس کی تعظیم اس کے ساتھی ایسے کرتے ہوں جیسی محمد کی ان کے صحابی کرتے ہیں۔
اسی وجہ سے حلیہ شریف میں اکثر اکابر صحابہ سے حدیثیں وارد ہیں کہ وہ نگاہ بھر کر نہ دیکھ سکتے بلکہ نظر اوپر نہ اٹھاتے کما سیأتی (جیسا کہ آگے آرہا ہے۔ت)بلکہ اس معنی میں کسی حدیث کے ورود کی بھی حاجت کیاتھیعقل سلیم خود گواہی دیتی ہے کہ ادنی ادنی نوابوں اور والیوں کے حاضرین دربار ان کے ساتھ کس ادب سے پیش آتے ہیںاگرکھڑے ہیں تو نگاہ قدموں سے تجاوز نہیں کرتیبیٹھے ہیں تو زانو سے آگے قدم نہیں رکھتےخود اس حاکم سے نگاہ چار نہیں کرتےپس وپیش یادائیں بائیں دیکھنا تو بڑی بات ہے حالانکہ اس ادب کو صحابہ کرام کے ادب سے کیا نسبتایمان ان کے دلوں میں پہاڑ سے زیادہ گراں تھا اور دربار اقدس کی حاضری ان کے نزدیك ملك السموت والارض کا سامنااورکیوں نہ ہوتا کہ خود قرآن عزیز نے انہیں صدہا جگہ کان کھول کھول کر سنا دیا کہ ہمارا اورہمارے محبوب کا معاملہ واحدہےاس کا مطیع ہمارا فرمانبردار اوراس کا عاصی ہمارا گنہگاران سے الفت ہمارے ساتھ محبت اوران سے رنجش ہم سے عداوتان کی تکریم ہماری تعظیم اوران کے ساتھ گستاخی ہماری بے ادبی لہذا جب ملازمت والا حاصل ہوئی قلب ان کے خوف خدا سے ممتلی اورگردنیں خم اورآنکھیں نیچی اور آوازیں پست اور اعضاء ساکن ہوجاتے۔ایسی حالت میں نظراین وآں کی طرف کب ہوسکتی ہے جو سیاہ کے عدم یا وجود کی طرف خیال جائے اور بالضرور ایسے سراپا ادبہمہ تن تعظیم لوگوں کی نگاہ اپنے عرش پائے گا ہ کی طرف بے غرض مہم نہ ہوگیاس حالت میں نفس کو اس مقصود کی طرف توجہ ہوگیمثلا نظارہ جمال
حوالہ / References صحیح البخاری باب الشروط فی الجہاد والمصالحۃ مع اہل الحرب الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/۳۷۹،الخصائص الکبرٰی باب ماوقع عام الحدیبیۃ من الآیات مرکز اہلسنت برکات رضا گجرات ہند ۱/۲۴۰ و ۲۴۱
#19174 · رسالہ قمر التمام فی نفی الظل عن سید الانام صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ۱۲۹۶ھ (سرورعالم صلی الله تعالٰی علیہ وسلم سے سایہ کی نفی میں کامل چاند)
باکمال یا حضور کا مطالعہ افعال واعمالتاکہ خود ان کا اتباع کریں اور غائبین تك روایت پہنچائیں کہ وہ حاملان شریعت تھے اور راویان ملت اورحاضری دربار اقدس سے ان کی غرض اعطم یہی تھیجب نگاہ اس رعب وہیبت اوراس ضرورت وحاجت کے ساتھ اٹھے تو عقل گواہ ہے کہ ایسی حالت میں ادھرادھردھیان نہیں جائے گا کہ قامت اقدس کاسایہ ہمیں نظر نہ آیاآخر نہ سنا کہ ایك ان کا نماز میں مصروف ہوتاتکبیر کے ساتھ دونوں جہاں سے ہاتھ اٹھاتاکوئی چیز سامنے گزرے اطلاع نہ ہوتی اور کیسا ہی شوروغوغاہو کان تک آواز نہ جاتی یہاں تک کہ مسلم بن یسار کہ تابعین میں ہیں نماز پڑھتے تھےمسجد کا ستون گر پڑا لوگ جمع ہوئےشور و غوغا ہواانہیں مطلق خبر نہ ہوئییہی حالت صحابہ کی حضور رسالت میں تھی اور دربار نبوت میں بارگاہ عزت باری۔
اے عزیز ! زیادہ خوض بیکار ہےتو اپنے ہی نفس کی طرف رجوع کراگر کسی مقام پر عالم رعب وہیبت میں تیرا گزرہوا ہو وہاں جو کچھ پیش نظر آتا ہے اسے بھی اچے طور پر ادراك کا مل نہیں کرسکتانہ امر معدوم کی طرف خیال کیاجائے کہ مثلا اگر تجھے کسی والی ملك سے ایسی ضرورت پیش آئے جس کی فکر تجھے دنیا ومافیہا پر مقد ہوا اوراس کے دربارتك رسائی کر کے اپنا عرض حال کرے تو تجھے اول تو رعب سلطانیدوسرے اپنی اس ضرورت کی طرف قلب کو نگرانی ہر چیز کی طرف توجہ سے مانع ہوں گے۔پھر اگر تو واپس آئے اورتجھ سے سوال ہو وہاں دیواروں میں سنگ موسی تھا یا سنگ مرمر اورتخت کے پائے سیمیں تھے یا زریں اورمسند کارنگ سبز تھا یا سرخہرگز ایك بات کا جواب نہ دے سکے گا بلکہ خود اسی بات کو پوچھا جائے کہ بادشا ہ کا سایہ تھا یا نہ تھاتو اگرچہ اس قیاس پر کہ سب آدمیوں کے لئے ظل ہےہاں کہہ دے مگر اپنے معائنے سے جواب نہ دے سکے گا۔
صحابہ رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم پر تو اول روز ملامت سے تاآخر حیات جو کیفیت رعب وہیبت کی طاری رہیہماری عقول ناقصہ اس کی مقدار کے ادراك سے بھی عاجز ہیںپھر ان کی نظر اوپر اٹھ سکتی اورچپ وراست دیکھ سکتی کہ سائے کے عدم یا جود پر اطلاع ہوتی۔
ثم اقول:(پھر میں کہتاہوں۔ت)اپنے نفس پر قیاس کر کے گمان نہ کرنا چاہیے کہ بعد مرورزمان وتکررحضور کےان کی اس حالت میں کمی ہوجاتی بلکہ بالیقین روز بہ روز زیادہ ہوتی کہ باعث اس پر دو۲ امر ہیں:ایك خوف کہ اس عظمت کے تصور سے پیدا ہوا جو اس سلطان دوعالم کو بارگاہ ملك
#19177 · رسالہ قمر التمام فی نفی الظل عن سید الانام صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ۱۲۹۶ھ (سرورعالم صلی الله تعالٰی علیہ وسلم سے سایہ کی نفی میں کامل چاند)
السموت والارض جل جلالہ میں حاصل ہے۔دوسری محبت ایمانی کہ مستلزم خشوع کو اورمنافی جرأت وبیباکیاوریہ ظاہر کہ جس قدر دربار والا میں حضوری زائد ہوتی۔
یہ دونوں امر جو اس پر باعث ہیں بڑھتے جاتےحضو رکے اخلاق وعادات اوررحمت والطاف معائنے میں آتےحسن واحسان کے جلوے ہر دم لطف تازہ دکھاتےقرآن آنکھوں کے سامنے نازل ہوتا اور طرح طرح سے اس بارگاہ کے آداب سکھاتا اور ظاہر فرماتا کہ:
آداب بارگاہ:ہمارا ان کا معاملہ واحد ہےجو ان کا گلام ہے ہمارا قائد ہےانکے حضورآواز بلند کرنے سے عمل حبط ہوجاتے ہیں انہیں نام لے کر پکارنے والے سخت سزائیں پاتے ہیںاپنے جان ودل کا انہیں مالك جانوان کے حضو رزندہ بدست مردہ ہو جاؤہمارا ذکر انکی یاد کے ساتھ ہےان کا ہاتھ بعینہ ہمارا ہاتھ ہےان کی رحمت ہماری مہران کا غضب ہمار اقہرجس قدر ملازمت زیادہ ہوتی حضور کی عظمت ومحبت ترقی پاتی اور وہ حال مذکور یعنی خشوع وخضوع ورعب ہیبت روزافزوں کرتی قال تعالی " فزادتہم ایمنا" ۔(الله تعالی نے فرمایا کہ آیات ان کے ایمان کو زیادہ کرتی ہیں۔ت)اور ایمان حضور کی تعظیم ومحبت کا نام ہے کمالا یخفی(جیسا کہ پوشیدہ نہیں۔ت)
مقدمہ ثانیہ:بسم الله الرحمن الرحیم ط پر ظاہر کہ آدمی بلا وجہ کسی بات کے درپے تفتیش نہیں ہوتااور جوبات عام وشامل ہوتی ہے او ر تمام آدمی اس میں یکساں کسی شخص خاص میں بالقصد اس کی طرف غور نہیں کرتامثلا ہر ہاتھ کی پانچ انگلیاں ہونا ایك امر عام ہے لہذا بلا سبب کسی آدمی کی انگلیوں کوکوئی شخص اس مقصد خاص سے نہیں دیکھتا کہ اس کی انگلیاں پانچ ہیں یا کم ہاں اگر پہلے سے سن رکھا ہو کہ زید کی انگلیاں چار ہیں یا چھ تو اس صورت میں البتہ بقصد مذکور نظر کی جائے گی۔اسی طر ح سایہ ایك امر عام شامل ہےاگر بعض آدمیوں کا سایہ پڑتا اور بعض کا نہیں تو البتہ بے شك خیال جانے کی بات تھی کہ دیکھیں حضور کے بھی سایہ ہے یانہیںنہ اس سے کوئی امر دینی مثل اتباع واقتداء کے متعلق تھا کہ اس کے خیال سے بالقصد اس طر ف لحاظ کیا جاتاہاں ایسی صورت میں ادراك کا طریقہ یہ ہے کہ بے قصد وتوجہ خاص نظر پڑجائے اور وہ صورت بعد تکرر مشاہدہ ذہن میں منقش اور مثل مربیات قصد یہ کے خزانہ خیال میں مخزون ہوجائےمثلا زید کہ ہمارا دوست ہےہم اپنے مشاہدے کی رو سے بتا سکتے ہیں کہ اس کے ہر ہا تھ کی انگلیاں پانچ ہیں اگر چہ ہم نے کبھی اس قصد سے اس کے ہاتھوں کو نہیں دیکھا ہے مگر ہم نے اس کے
حوالہ / References القرآن الکریم ۹ /۱۲۴
#19181 · رسالہ قمر التمام فی نفی الظل عن سید الانام صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ۱۲۹۶ھ (سرورعالم صلی الله تعالٰی علیہ وسلم سے سایہ کی نفی میں کامل چاند)
ہاتھوں کو بارہا دیکھاہےوہ صورت خزانہ میں محفوظ ہےنفس اسے اپنے حضور حاضر کر کے بتاسکتاہے لیکن ہم مقدمہ اولی میں ثابت کرآئے ہیں کہ یہ طریقہ اداراك وہاں معدوم تھا کہ رعب وہیبت اورامور مہمہ کی طرف توجہ اورحضور کے استماع اقوال و مطالعہ افعال ہمہ تن صرف ہمت اورنگاہ کابسبب غایت ادب وخوف الہی کے اپنے زانو وپشت پاسے تجاو نہ کرنا اس ادراك بلا قصہ سے مانع قوی تھا علی الخصوص کسی شے کا عدم کہ وہ تو کوئی امر محسوس نہیں جس پر بے ارادہ بھی نگاہ پڑجائے اورنفس اسے یاد رکھےیہاں تو جب تك خیال نہ کیا جائے علم عدم حاصل نہ ہوگاآدمی جب ایسے مقام رعب وہیبت اورقلب کی مشغولی و مشغوفی میں ہوتا ہے توکسی چیز کا عدم رؤیت سے اس کے عدم پر استدلال نہیں کرتا اور جب اذہان میں بنا ء برعادت اس کا عموم وشمول متمکن ہوتا ہے تو برخلاف عادت اس کے معدوم ہونے کی طرف خیال نہیں جاتا بلکہ اس سے اگر تفتیش کی جائے اور اس امر کی طرف خیال دلایا جائے تو خواہ مخواہ اس کا گمان اس طرف مسارعت کرتاہے کہ جب یہ امر عام ہے تو ظاہر ایہاں بھی ہوگا۔ میرا نہ دیکھان کچھ نہ ہونے پر دلیل نہیںمیری نظر میں نہ آنا اس وجہ سے تھا کہ اول میری نگاہ ادھر ادھر نہ اٹھتی تھی اورجو اٹھی بھی تو ہزار رعبہیبت اورنفس کے امور دیگر کی طرف صرف ہمت کے ساتھ ایسی حالت میں کیسے کہہ سکوں گا کہ تھا یا نہ تھا۔
ثم اقول:یہ کیفیت تو اس وقت کی تھی جب صحابہ کرام حضور سے ملاقی ہوتے اورجو ہرماہ رکاب سعادت انتساب ہوتے تو وہاں باوجود ان وجوہ کے ایك وجہ اوربھی تھی کہ غالب اوقات صحابہ کرام کو آگے چلنے کا حکم ہوتا اورحضور ان کے پیچھے چلتے۔
ترمذی نے شمائل کی حدیث طویل میں حضرت ہند بن ابی ہالہ رضی الله تعالی عنہ سے روایت کیا:یسوق اصحابہ
یعنی حضور والا صحابہ کرام کو اپنے آگے چلاتے۔ امام احمد نے حضرت عبدالله بن عمرورضی الله تعالی عنہما سے رایت کیا:
مارأیت رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم یطأعقبہ رجلان ۔ حاصل یہ کہ میں نے رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم کو نہ دیکھا کہ دو آدمی بھی حضور کے پیچھے چلے ہوں۔
حوالہ / References شمائل ترمذی باب ماجاء فی خلق رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم امین کمپنی دہلی ص۲
مسند احمد بن حنبل عن عبدالله بن عمرو بن العاص المکتب الاسلامی بیروت ۲/۱۶۵،سنن ابن ماجہ باب من کرہ ان یوطأ عقباہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۲۲
#19183 · رسالہ قمر التمام فی نفی الظل عن سید الانام صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ۱۲۹۶ھ (سرورعالم صلی الله تعالٰی علیہ وسلم سے سایہ کی نفی میں کامل چاند)
جابر رضی الله تعالی عنہ سے روایت کیا:
کان اصحابہ رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم یمشون امامہ ویکون ظھرہ للملئکۃ ۔ اصحابنبی صلی الله تعالی علیہ وسلم کے آگے چلتے اورپشت اقدس فرشتوں کے لئے چھوڑتے۔
دارمی نے بہ اسناد صحیح مرفوعا روایت کیاکہ رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم نےفرمایا:خلوا ظھری للملئکۃ ۔میری پیٹھ فرشتوں کےلئے چھوڑدو۔
بالجملہ ہمای راس تقیرر سے جو بالکل وجدانیات پر مشتمل ہےکوئی شخص اگر مکا برہ نہ کرےبالیقین اس کا دل ان سب کیفیات کے صدق پر گواہی دےبخوبی ظاہر ہوگیا کہ ظاہرا اکثر صحابہ کرام کا خیال اس طرف نہ گیا اوراس معجزے کی انہیں اطلاع نہ ہوئی اوراگر یہ برسبیل تنزل ثابت ومبرہن ہوجانا نہ مانئے توان تقریروں کی بناء پر یہ توکہہ سکتے ہیں کہ عدم اطلاع کا احتمال قوی ہے قوت بھی جانے دو اتنا ہی سہی کہ شك واقع ہوگیاپھر یہی استدلال سن کر کہ اگر ایساہوتا تو مثل حدیث ستون حنانہ مشہور و مستفیض ہوتاکب باقی رہاخصم کہہ سکتاہے کہ ممکن ہے عدم شہرت بسبب عدم اطلاع کے ہوکما ذکرنا وبالله التوفیق(جیسا کہ ہم نے الله تعالی کی توفیق سے کہا۔ت)
مقدمہ ثالثہ:ہماری تنقیح سابق سے یہ لازم نہیں آتا کہ بالکل کسی کو اس معجزے پر اطلاع نہ ہو اورکوئی اسے روایت نہ کرے صغیر السن بچوں کو بعض اوقات اس قسم کی جرأتیں حاصل ہوتی ہیں اوروہ اسی طریقہ سے جو ہم نے مقدمہ ثانیہ میں ذکر کیا ادراك کر سکتے ہیںاسی سبب سے اکثر احادیث حلیہ شریفہ ہند ابن ابی ہالہ رضی الله تعالی عنہ سے مشتہر ہوئیں نہ کہ اکابر صحابہ سے۔ترجمہ ابن ابی ہالہ میں علامہ خفاجی فرماتے ہیں:
و کان ربیب رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم اخا لفا طمۃ(رضی الله تعالی عنہا)وخال ہند ابن ابی ہالہ رضی الله تعالی عنہ رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم کے زیر سایہ پرورش پانے والے تھے۔آپ سیدہ فاطمۃ الزہرا رضی الله تعالی عنہا
حوالہ / References سنن ابن ماجہ باب من کرہ ان یوطا عقباہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۲۲،مسند احمد بن حنبل عن جابر رضی الله تعالٰی عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۳/۳۰۲،موارد الظلمان کتاب علاماۃ نبوۃ نبیناصلی الله تعالٰی علیہ حدیث ۲۰۹۹ المطبعۃ السلفیۃ ص۵۱۵
سنن الدارمی تحت الحدیث ۴۶ دارالمحاسن للطباعۃ قاہرہ ۱/۲۹
#19185 · رسالہ قمر التمام فی نفی الظل عن سید الانام صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ۱۲۹۶ھ (سرورعالم صلی الله تعالٰی علیہ وسلم سے سایہ کی نفی میں کامل چاند)
الحسنین رضی الله تعالی عنہم فکان لصغرۃ یتشبع من النظر لرسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم و یدیم النظر لو جھہ الکریم لکونہ عندہ داخل بیتہ فلذا اشتھر وصف النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم عنہ دون غیرہ من کبارالصحابۃ رضی الله تعالی عنہم فانھم لکبرھم کانوا یھابون اطالۃ النظر الیہ صلی الله تعالی علیہ وسلم فاحاط بہ نظرہ احاطۃ الھالۃ بالبدر و الاکمام بالثمر ھنیئا لہ مع ان ماقالہ قطرۃ من بحر ۔ کے بھائی(اخیافی)اورحسنین کریمین رضی الله تعالی تعالی عنہما کے ماموں تھے۔آپ صغر سنی میں نبی کریم صلی الله تعالی علیہ وسلم کو سیر ہو کر دیکھتے اور چہرہ اقدس پر ہمیشہ نگاہ ٹکائے رکھتے کیونکہ آپ حضور صلی الله تعالی علیہ وسلم کے پاس آپ کے گھر میں رہتے تھے۔یہی وجہ ہے کہ حلیہ رسول صلی الله تعالی علیہ وسلم کا وصف ہند بن ابی ہالہ سے مشتہر ہوا نہ کہ اکابر صحابہ سےرضی الله تعالی عنہم اجمعین۔کیونکہ صحابہ کبار شان وعظمت رسول صلی الله تعالی علیہ وسلم کی ہیبت کے با عث آپ پر نظریں نہیں ٹکاسکتے تھے۔ہند بن ابی ہالہ رضی الله تعالی عنہ کی نظر رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم کا یوں احاطہ کرتی تھی جیسا کہ ہالہ چودھویں کے چاند کا اور کلیاں کھجوروں کا احاطہ کرتی ہیں۔آپ کو یہ سعادت مبارك ہو۔مگر اس کے با وجود جو کچھ ابن ابی ہالہ رضی الله تعالی عنہ نے بیان فرمایا وہ ایسے ہی ہے جیسے سمند ر سے ایك قطرہ۔(ت)
اور ہم ذی علم جانتا ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی الله تعالی عنہما زمانہ نبوت میں صغیر السن تھے اور ان کا شمار بہ اعتبار عمر اصاغر صحابہ میں ہے اگر چہ بہ بر کت سید المرسلین صلی الله تعالی علیہ وسلم علم وفقاہت میں اکثر شیوخ پر مقدم تھے
وعلی تفنن عاشقیہ بوصفہ یفنی الزمان وفیہ مالم یوصف
قسم قسم کی تعریفیں کرتے ہوئے اس کے عاشقوں کو زمانے ختم ہوگئے مگر اس میں وہ خوبیاں ہیں جن کو بیان نہیں کیا جا سکا۔ ت)
صلی الله تعالی علیہ وسلم۔
حوالہ / References نسیم الریاض فی شرح شفاء القاضی عیاض فصل ثالث مرکز اہلسنت برکات رضا گجرات ہند۱/۳۲۷
نسیم الریاض فی شرح شفاء القاضی عیاض فصل ثالث مرکز اہلسنت برکات رضا گجرات ہند۱/۳۲۷
#19187 · رسالہ قمر التمام فی نفی الظل عن سید الانام صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ۱۲۹۶ھ (سرورعالم صلی الله تعالٰی علیہ وسلم سے سایہ کی نفی میں کامل چاند)
مقدمہ رابعہ:صحابہ کرام میں ہزاروں ایسے ہیں جنہیں طول صحبت نصیب نہ ہوا او ربہت ایسے ہیں جنہوں نے سوئے مجامع عظیم کے شرف زیارت نہ پایا۔غیر مدینہ کے گر وہ کے گرو ہ حاضر ہوتے اور عرصہ قلیلہ میں واپس جاتےایسی صورت اور مجمع کی کثرت میں موقع سایہ پر نظر اور اس کے ساتھ عدم سایہ کی طرف خیال جانا کیا ضرور۔ظاہر ہے کہ مجمع میں سایہ ایك کا دوسرے سے ممتا ز نہیں ہوتا اور کسی شخص خاص کی طرف نسبت امتیاز کرنا کہ اس کے لئے ظل ہے یا نہیںدشوار ہوتا ہے۔ علاوہ بریں یہ کس نے واجب کیا کہ ان اوقات پر حضور والا دھوپ یا چاند نی میں جلوہ فرماہوںکیا مدینہ طیبہ میں سایہ دار مکان نہ تھے یا مسجد شریف کہ اکثر وہیں تشریف رکھتے بے سقف تھی۔
احادیث سے ثابت کہ سفر میں صحابہ کرام حضور کے لئے سایہ دار پیڑ چھوڑ دیتے اور جو کہیں سایہ نہ ملا تو کپڑے وغیرہ کا سایہ کرلیا جیسا کہ روز قدوم مدینہ طیبہ سیدنا بی بکر صدیق اور حجۃ الوداع میں واقع ہوا اور قبل از بعثت تو ابر سایہ کے لئے متعین تھا ہی جب چلتے ساتھ چلتا او رجب ٹہرتے ٹھہرجاتااور ام المومنین خدیجہ رضی الله تعالی عنہا اور ان کے غلام میسرہ نے فرشتوں کو سر اقدس پر سایہ کرتے دیکھا اور سفر شام میں آپ کسی حاجت کو تشریف لے گئے تھےلوگو ں نے پیڑ کا سایہ گھیر لیا تھاحضور دھوپ میں بیٹھ گئے سایہ حضور پر جھك گیا۔بحیر اعالم نصاری نے کہا دیکھو سایہ ان کی طرف جھکتا ہے۔اور بعض اسفار میں ایك درخت خشك وبے برگ کے نیچے جلوس فرمایافورا زمین حضور کے گرد کی سبزہ زار ہوگئی اور پیڑ ہرا ہوگیاشاخیں اسی ساعت بڑھ گئیں اور اپنی کمال بلندی کو پہنچ کر سائے کہ کئے حضور پر لٹك آئیں۔چنانچہ یہ سب حدیثیں کتب سیر میں تفصیلا مذکور ہیں۔
اب نہ رہے مگر وہ لوگ جنہیں طول صحبت روزی ہوا اور حضور کو آفتاب یا ماہتا ب یا چراغ کی روشنی میں ایسی حالت میں دیکھا کہ مجمع بھی کم تھا اور موقع سایہ پر بالقصد نظر بھی کی اور ادراك کیا کہ جسم انور ہمسائیگی سایہ سے دور ہےاور ظاہر ہے کہ ان سب کا احساس وانکشاف جن لوگو ں کے لئے ہوا ہے وہ بہت کم ہیںجن کے واسطے نہ ہوا پھر اس طائفہ قلیلہ سے یہ کیا ضرورہے کہ ہر شخص یا اکثر اس معجزے کو رو ایت کرےہم نہیں تسلیم کرتے کہ مجر د خرق عادت با عث تو فرد داعی ونقل جمیع اکثر حاضرین ہے۔خادم حدیث پر کاتشمس فی نصف النہار رو شن کو صدہا معجزات قاہر ہ حضور سے غزوت واسفار ومجامع عامہ میں واقع ہوئے کہ سیکڑوں ہزاروں آدمیوں نے ان پر اطلاع پائی مگر ان کی ہم تك نقل صرف احاد سے پہنچی۔
واقعہ حدیبیہ میں انگشتا ن اقدس سے پانی کا دریا کی طر ف جو ش مارنا او رچودہ پندر ہ سو آدمی کا
#19190 · رسالہ قمر التمام فی نفی الظل عن سید الانام صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ۱۲۹۶ھ (سرورعالم صلی الله تعالٰی علیہ وسلم سے سایہ کی نفی میں کامل چاند)
علی اختلاف الروایات اسے پینا اور وضو کرنا اور بقیہ تو شہ کو جمع کر کے دعا فرمانا اور اس سے لشکر کے سب بر تن بھر دینا اور اسی قدر باقی بچ رہناایسے معجزات میں ہیں اور بالضرور چودہ پندر ہ سو آدمی سب کے سامنے اس کا وقوع ہو او رسب نے اس پر اطلاع پائی مگر ان میں سے چودہ نے بھی اسے روایت نہ فرمایا۔
فقیر نے کتب حاضرہ احادیث خصوصا وہ کتا بیں سیر وفضائل کی جن کا موضوع ہی اس قسم کی باتوں کا تذکر ہ ہے مانند شفائے قاضی عیاض وشرح خفا جی ومواہب لدنیہ وشرح زرقانی ومدارج النبوۃ وخصائص کبری علامہ جلال الدین سیوطی وغیرہا مطالعہ کیںپانچ سے زیادہ راوی اس واقعے کے نہ پائے۔اسی طر ح رد شمس یعنی غرو ب ہو کر سورج کا لوٹ آنا او رمغرب سے عصر کا وقت ہوجانا جو غزوہ خیبر میں مولی علی کرم الله تعالی وجہہ کے لئے واقع ہو ا۔کیسی عجیب بات ہے کہ عدم ظل کو اس سے اصلا نسبت نہیں اور اس کا وقوع بھی ایك غزوہ میں ہوا کما ذکرنا(جیسا کہ ہم نے ذکر کیا۔ت)اور تعداد لشکر خیبر کی سولہ سو۱۶۰۰ بالضرور یہ سب حضرات اس پر گواہ ہونگے کہ ہرنمازی مسلمان خصوصا صحابہ کرام کو بغر ض نماز آفتا ب کے طلوع وغروب زوال کی طرف لاجرم نظر ہوتی ہے۔
تو ریت میں وصف اس امت مرحوم کا رعاۃ الشمس کے ساتھ وادد ہوا کما رواہ ابو نعیم عن کعب الاحبار عن سیدنا موسی علیہ الصلوۃ والسلام(جیسا کہ اس کو ابونعیم نے بحوالہ کعب الاحبار عن سیدنا موسی علیہ الصلوۃ والسلام سے روایت کیا ہے۔ ت)یعنی آفتا ب کے نگہبان کہ اس کے تبدل احوال اور شروق وافول زوال کے جویاں وخبر گیران رہتے تھےجب آفتاب نے غروب کیا ہوگا بالضرور تمام لشکر نے نماز کا تہیہ کیا ہوگادفعۃ شام سے دن ہوگیا ور خورشید الٹے پاؤں آیاکیا ایسے عجیب واقعہ کو دریافت نہ کیا اور نہ معلوم ہوا ہوگا کہ اس کے حکم سے لوٹا ہے جسے قادر مطلق کی نیابت مطلقہ اور عالم علوی میں دست بالا حاصل ہے(صلی الله تعالی علیہ وآلہ وسلم)لیکن اس کے سوا اگر کسی صاحب کو معلوم ہو کہ اتنی بڑی جماعت سے دو چار آدمیوں نے اور بھی اس معجزے کو روایت کیا تو نشان دیں۔
بالجملہ یہ حدیث واہبہ ہے جس کی بناء پر ہم عقل ونقل واتباع حدیث وعلماء کو تر ك نہیں کرسکتےکیا یہ اکابر اس قدر نہ سمجھتے تھے یا انہیں نے دیدہ ودانستہ خدا اور رسول پر افتراء گواراکیالاحول ولا قوۃ الا بالله العلی العظیمبلکہ جب ایك راوی اس حدیث عدن ظل کے ذکوان ہیں اور وہ خود ابو صالح سمان زیات ہوں یا ابو عمر و مدنی مولائے صدیقہ رضی الله تعالی عنہما تردد فیہ الزرقانی(اس میں زرقانی نے تردد کیا۔ت)بہر تقدیر تا بعی ثقہ معتمد علیہ ہیں کما ذکر ایضا و ۰۰۰۰۰۰ اور تا بعین وعلماء ثقات
#19192 · رسالہ قمر التمام فی نفی الظل عن سید الانام صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ۱۲۹۶ھ (سرورعالم صلی الله تعالٰی علیہ وسلم سے سایہ کی نفی میں کامل چاند)
اہل ورع واحتیاط سے مظنون یہی ہے کہ غالب حدیث کو مرسلا اسی وقت ذکر کریں گے جب انہیں شیوخ و صحابہ کثرین سے اسے سن کر مرتبہ قرب ویقین حاصل کرلیا ہو۔ابراہیم نخعی فرماتے ہیں اور وجہ اس کی ظاہر ہے کہ در صورت اسناد صدق و کذب سے اپنے آپ کو غرض نہ رہی۔جب ہم نے کلام کو اس کی طر ف نسبت کردیا جس سے سنا ہے تو ہم بری الذمہ ہوگئے بخلاف اس کے کہ اس کا ذکر ترك کریں اور خود لکھیں رسول الله صلی الله تعالی علیہ وآلہ وسلم نے ایسا کیاایسا فرمایااس صورت میں بار اپنے سر پر رہا تو عالم ثقہمتورعمحتا طبے کثرت سماع واطمینان کلی قلب کے ایسی بات سے دوررہے گا۔اس طور پر ظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ سایہ نہ ہونا بہت صحابہ نے دیکھا اور ان سب سے ذکوان کو سماع حاصل ہوا گر چہ ان کی روایات ہم تك نہ پہنچیں۔
ھکذ ا ینبغی ان یفہم المقام وینقح المراموالله ولی الفضل والتوفیق والانعامھذاوقد بقی بعد خبایا فی زوایا الکلام لعلہا یفوز بہا فکر و ھذا کلہ وقد و جد مما الھمنی ربی بفضل منہ ونعمۃ لایجد من قلبی ان ربی لذو فضل عظیم انہ ھو الروف الرحیم ولا حول و لا قوۃ الا بالله العزیز الحکیم وظنی افی بحمد ربی الجلیل قد اثبت فی المسئلۃ مایشفی العلیل بالکثیر ولا بالقلیلوالله یقول الحق وھو یہدی السبیل انہ حسبی ونعم الوکیل اسالہ ان یجنبنی بہا و اسی طر ح طر ح چاہے مقام کی تفہیم اور مقصد کی تنقیح الله تعالی ہی فضل وتو فیق اور انعام کاملك ہے۔تحقیق ابھی کچھ پوشیدگیاں کلام کے گو شوں میں باقی ہیں۔امید ہےکہ فکر صائب ان تك رسائی حاصل کرلے گی۔یہ جو کچھ مذکور ہو امیرے رب نے اپنے فضل ونعمت سے میرے دل میں ڈالا ہے یہ میرے دل کی تخلیق نہیں ہے۔بے شك میرا رب بڑے فضل والا ہے اور وہ روف ورحیم ہے۔عزت و حکمت والے الله کی توفیق کے بغیر نہ گناہ سے بچنے کی طا قت ہے نہ نیکی کرنے کی قوت۔میرا گمان ہے کہ میں نے اپنے رب جلیل کی حمد سے مسئلہ مذکورہ میں وہ کچھ ثابت کردیا ہے جو بیمار کو شفا دے گا اور پیاسے کو سیراب کرے گا اور قلت و کثر ت کے ساتھ مخل نہ ہوگا۔الله تعالی حق فرماتا ہے اور راہ راست کی ہدایت فرماتا ہے بے شك وہ میرے لئے کافی ہے اور کیا ہی اچھا کا ر ساز ہےمیں الله تعالی سے سوال کرتا ہوں کہ مجھے اور
#19194 · رسالہ قمر التمام فی نفی الظل عن سید الانام صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ۱۲۹۶ھ (سرورعالم صلی الله تعالٰی علیہ وسلم سے سایہ کی نفی میں کامل چاند)
کل من زل زلۃ ویجعلہا ظلا ظلیلا علی روسنا یوم لا ظل الا ظلہ وان یصلی علی ابہی اقما ر الرسالۃ وابہر ھا و اسنی شموش الکرامۃ وانوارھا الذی لم یکن لہ ظل فی شمس و لا قمر وفدیات وصلہ ولی صحبہ والہ متظلین باذیالہ الداعین الی نعم اظلالہ وعلینا معہم اجمعین برحمۃ انہ رؤف رحیم واخر دعونا ان الحمد لله رب العلمین۔ ہر لغزش کرنے والے کو اس کی برکت سے لغزش سے بچائے اور اسے ہمارے سروں پر گہرا سایہ بنائے جس روز اس کے سایہ کے سواکوئی سایہ نہ ہوگا۔الله تعالی درو د نازل فرمائے روشن ترین ماہتاب رسالت پر اور سب سے زیادہ چمکدار آفتاب کرامت اور اس کے انوار پر جس کا سایہ نہ تھا دھوپ میں نہ چاندنی میںاور آپ کے صحابہ وآل پر جو آپ کے دامن رحمت کے سایہ میں ہیں اور آپ کے سایہ رحمت کے سایہ میں ہیں اور ز آپ کے سایہ رحمت کی نعمتوں کی طر ف دعوت دینے والے ہیںاور ان کے ساتھ ہم سب پر رو ف وحیم کی رحمت سے۔(ت)
________________
رسالہ
قمرالتمام فی نفی الظل عن سید الانام صلی الله تعالی علیہ وآلہ وسلم
ختم ہوا
___________________
#19196 · رسالہ ھدی الحیران فی نفی الفیئ عن سید الاکوان ۱۲۹۹ھ (سرورکائنات صلی الله تعالٰی علیہ وآلہ وسلم سے سایہ کی نفی کے بارے میں حیرت زدہ کے لئے راہنمائی)
رسالہ
ھدی الحیران فی نفی الفیئ عن سید الاکوان ۱۲۹۹ھ
(سرورکائنات صلی الله تعالی علیہ وآلہ وسلم سے سایہ کی نفی کے بارے میں حیرت زدہ کے لئے راہنمائی)
بسم الله الرحمن الرحیم ط
الحمد لله حمدا تنجلی بہا ظلمات الا لام والصلوہ و السلام علی سیدنا محمد قمر التمام وعلی الہ و اصحابہ مصایبح الظلام وعلی المھتدین بانوار ھم الی یوم القیام وبعد فقال العبد الملتجی الی ربہ القوی عن شر کل غوی وغبی عبدہ المذنب احمد رضا المحمدی ملۃ والسنی عقیدۃ والحنفی عملا و القادری البر کاتی الاحمدی طریقۃ وانتسابا و تمام تعریفیں الله تعالی کے لئے ہیں جن سے دکھوں کی تاریکیاں دور ہوتی ہیں۔درود و سلام ہو ہمارے آقا محمد مصطفی صلی الله تعالی علیہ وآلہ وسلم پر جو ماہ کامل ہیں اور آپ کی آل پر اور آپ کے صحابہ پر جواندھیروں میں چراغ ہیں اور پر جو قیامت آل واصحاب کے انوار سے سے ہدایت حاصل کرتے ہیں گے۔بعد از یں ہرگمراہ اور کند ذہن کے سر سے رب قوی کی پناہ کا طلبگار اس کا خطا کا ر بندہ احمد رضا کہتا ہے جو ملت کے اعتبار سے محمدیعقیدہ کے اعتبار سے سنیعمل کے اعتبار سے حنفیطریقت وانتساب کے اعتبار سے قادری بر کاتی احمدی مولد و وطن
#19197 · رسالہ ھدی الحیران فی نفی الفیئ عن سید الاکوان ۱۲۹۹ھ (سرورکائنات صلی الله تعالٰی علیہ وآلہ وسلم سے سایہ کی نفی کے بارے میں حیرت زدہ کے لئے راہنمائی)
البریلوی مولدا وموطنا والمدنی والبقیعی ان شاء الله مدفنا ومحشرا فالعدنی الفردوسی رحمۃ الله منزلا و مدخلا مستنیرا بانوار الھدایۃ والیقین حاسما الخدشات الظن و التخمین بك یا ربنا فی کل باب نستعین ولا حول ولا قوۃ الا بالله العلی العظیم۔ کے اعتبار سے بریلوی اور الله نے چاہا تو مدفن ومحشر کے اعتبار سے مدنی وبقیعیپھر الله تعالی کی رحمت سے منزل ومدخل کے اعتبار سے عدنی وفردوسی ہے درا نحالیکہ وہ ہدایت ویقین کے انوار سے مستنیر ہونے والا اور ظن وتخمین کے خدشات کو مٹا نے والا ہےتیری تو فیق سے اے ہمارے رب ! ہم ہر بات میں تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں۔اور الله بلندی و عظمت والے کی توفیق کے بغیر نہ تو کسی کے لئے گناہ سے بچنے کی طاقت ہے اور نہ ہی نیکی کرنے کو قوت۔(ت)
فصل اول
ہم حول وقوت ربانی پر اتکاء واتکال کی عروہ وثقی دست التجاء میں مضبوط تھام کر پیش از جواب مفصل چند مقدمات ایسے تمہید کرتے ہیں جن سے بعون الله تعالی ارتفاع نزاع بہ آسانی بن پڑے۔
عزیز ان حق طلب ! اگر عقل سلیم کا دامن ہاتھ سے نہ جانے دینگے تو ان شاء الله انہی شمعوں کی روشنی میں ٹھیك ٹھیك شاہراہ صواب پر ہولیں گے اور کلفت خار زار اور آفت یمین ویسار سے بچتے ہوئے تجلائے ہدایت میں نور کے تڑ کے ٹھنڈے ٹھنڈے منزل تحقیق پر خیمہ زن ہوں گے اور جو تعصب اور سخن پروری کاساتھ دے تو ہم پرکیا الزام ہے کہ جلتے ریت پر چلانابلا کے کانٹون میں پھنسانااندھے کو دن میں گراناان دو آفت جا ندشمن دین وایمان کا قدیمی کام ہے وبالله التوفیق وبہ الوصول الی ذروۃ التحقیق(الله ہی سے توفیق ہے اور اسی کی بدولت تحقیق کی بلندی تك پہنچا جاسکتا ہے۔ت)
مقدمہ اولی:جب دو چیز وں میں عقل یا نقل ملازمت ثابت کرے تو بحکم قضیہ لزومبعد ثبوت ملزومتحقیق لازم خود محقق و معلوماور تجشم دلیل کی حاجت معدوماسی طر ح بعد انتفائے لازم انعدام ملزوم آپ ہی مفہومکما ہو غیر خاف ولا مکتو ماور اسی ملازمت واقعہ کے با عث مرتبہ ادراك میں بھی بعد علم باللزوموجود لازم وانتفائے ملزومتحقیق ملزوم وعدم لازم کا شك و وہم وظن و یقین وتکذیب میں تا بع رہتا ہےمثلا جسے وجود ملزوم پر تیقن کا مل ہوگا اس کے نزدیك ثبوت لازم
#19198 · رسالہ ھدی الحیران فی نفی الفیئ عن سید الاکوان ۱۲۹۹ھ (سرورکائنات صلی الله تعالٰی علیہ وآلہ وسلم سے سایہ کی نفی کے بارے میں حیرت زدہ کے لئے راہنمائی)
بھی قطعی یقینی ہوگا اور ظان و شاك و واہم کے نزدیك مظنون ومشکوك وموہوم ہوگا اور یہ معنی بد یہیات باہر ہ سے ہیں۔
مقدمہ ثانیہ:دعاوی ومقاصد خواہش ثبوت میں متساویۃ الاقدام نہیں بعض ایسے درجہ اہتمام ورفعت مقام یں ہیں کہ جب تك نص صحیحصریحمتواتر قطعی الدلالۃ ہر طر ح کے شکوك و اوہام سے منزہ ومبر نہ پایا جائے ہر گز پایہ ثبوت کو نہیں پہنچ سکتے احادیث احاد اگر چہ بخاری ومسلم کی ہوں ان کے لئے کافی نہ ہوں گی۔
اسی قبیل سے ہے اطلاق الفاظ متشابہات کہ حضرت عزت میں اصح الکتب سے ثابت مگر عدم تواتر مانع قبول اور حلال وحرام کی جب بحث آئے تو احادیث ضعیفہ سے کام لیں گے اور فضائل اعمال و مناقب رجال میں دائر ہ کو خوب تو سیع دیں گے اور وجہ اس کی یہ ہے کہ ثابت الاصل کے مؤیدات و ملائمات میں چنداں اہتمام منظور نہیںمثلا ہمیں یقینیات سے معلوم ہوچکا کہ ذکر الہی وتکبیر وتہلیل ونماز و درود وغیرہا اعمال صالحہ محمود ہ ہیںاب خاص صلوۃ التسبیح کی حدیث درجہ صحت تك پہنچنا ضرور نہیںیا نصوص قرآنیہ واحادیث متواتر ۃ المعنی ہمیں ارشاد فرمایا چکیں کہ صحابہ سید المرسلین صلی الله تعالی علیہ و علیہم اجمعین سب ارباب فضائل وعلوشان ورفعت مکان اور الله تبارك وتعالی کے بندگان مقبول و بہترین امتیاں ہیں۔
اب خاص حضرت امیر معاویہ رضی الله تعالی عنہ کے مناقب بخاری و مسلم ہے پر مقصور نہیںاسی قبیل سے ہے باب معجزات وخوارق عادات کو حضور اقدس خلیفہ اعظم بارگاہ قدرت سے صدور آیات ومعجزات اور ملکوت السموۃ والارض میں حضور کے ظاہر وباہر تصرفاتقاطعات یقینیہ سے ثابتتواب شہادت ظبی یا عدم ظل کا ثبوت صحاح ستہ پر محصور نہیں علماء نے تو با ب خوارق میں غرابت متین پر بھی خیال نہ کیا اور حدیث کو با وجود ایسے خدشہ کے حسن ومقبول رکھا۔
اما م اجل ابو عثمن اسمعیل بن عبدالرحمن صابانی کتاب المائتین میں حدیث حضرت عباس رضی الله تعالی عنہ کہ حضور پر نور سے مہد اقدس میں چاند باتیں کرتا اور جد ھر اشارہ فرماتے ہیں جھك دیتاذکر کر کے فرماتے ہیں:
ھذا حدیث غریب الاسناد والمتن و ھو فی المعجزات حسن اھ اثرہ الامام العلامۃ یہ حدیث اسناد ومتن کے اعتبار سے غریب ہے اور وہ معجزات میں حسن ہے اھ اس کو امام قسطلانی
حوالہ / References المواھب اللدنیۃ بحوالہ الصابو ن فی المائتین المقصد الاول المکتب الاسلامی بیروت ۱/۱۵۴
#19199 · رسالہ ھدی الحیران فی نفی الفیئ عن سید الاکوان ۱۲۹۹ھ (سرورکائنات صلی الله تعالٰی علیہ وآلہ وسلم سے سایہ کی نفی کے بارے میں حیرت زدہ کے لئے راہنمائی)
القسطلانی فی المواھب۔ نے مواہب میں ترجیح دی۔(ت)
علامہ رزقانی شرح لکھتے ہیں:
لان عادۃ المحدثین التساھل فی غیر الاحکام و العقائد مالم یکن موضوعا ۔ کیونکہ محدثین کی عادت ہے کہ وہ احکام وعقائد کے غیر میں چشم پوشی سے کام لیتے ہیں جب تك حدیث موضوع نہ ہو۔(ت)
مقدمہ ثالثہ:علماء کی تلقی بالقبول کو ایراث قوت میں اثر عجیب ہے کہ وہ ہر طر ح ہم سے اعرف و اعلم تھےہماری ان کی کوزہ و محیط کی بھی نسبت ٹھیك نہیںوہ سمائے علوم کے بد ر منیر اور ہم عامی انہیں کی روشنیوں سے مستنیرجب وہی ایك امر کو سلفا و خلفا مقبول رکھیں اوراپنی تصانیف اس کے ذکر سے موشح کریں توہمیں کیا جائے انکار ہے
وفی مثل ذالك یقول الامام العلامۃ العارف ربانی سیدی عبد الوھاب الشعرانی فی المیزان '' ان ھولاء الائمۃ الذین توقفت عن العمل بکلامہم کانوا اعلم منك واورع بیقین فی جمیع ما دونہ فی کتبھم لاتباعھموان ادعیت انك اعلم منہم نسیك الناس الی الجنون اوالکذب جحدا و عنادا وقد افتی علماء سلفك بتلك الاقوال التی ترا ھا انت ضعیفۃ و دانوا لله تعالی بھا حتی ماتوا فلا یقدح فی علمہم و و رعہم جہل مثلك بمناز عہم وخفا ء مدارکہم و معلوم بل مشاھد ان کل عالم لایضع فی اور اسی کی مثل میں امام علامہ عارف ربانی سیدی عبدالوہاب شعرانی میزان میں فرماتے ہیں اور یہ تمام امام جن کے کلام پر عمل کرنے میں تو تو قف کرتا ہے تجھ سے علم ہمیں زیادہ ہیں اور دینی ذخیرہ انہوں نے اپنے مقلدین کے لئے جمع کیا ہے اس میں یقینا تجھ سے زیادہ متقی اور محتاط ہیں اور اگر تو اپنی علمیت کا دعوی کرتا ہے تو لوگ قصدا تجھے مجنون اور دروغ گو کہیں گے اور یہ اقوال جن کو تو ضعیف جانتا ہے وہی ہیں جن کے ساتھ علماء متقدمین نے فتوی دیا ہے اور اسی کی وجہ سے وہ الله کے قریب ہوئے حتی کہ اس دنیا ئے فانی سے رخصت ہوئے اور اگر تجھے جیسا ان کے مراتب ومدارك سے ناواقف ہوتو ان کے مراتب وتقوی میں کچھ نقصان نہیں آسکتا اور یہ بات معلوم بلکہ مشاہد ہے کہ ہر عالم
حوالہ / References شرح الزرقانی علی المواھب اللدنیۃ المقصد الاول دار المعرفۃ بیروت ۱/۱۴۷
#19200 · رسالہ ھدی الحیران فی نفی الفیئ عن سید الاکوان ۱۲۹۹ھ (سرورکائنات صلی الله تعالٰی علیہ وآلہ وسلم سے سایہ کی نفی کے بارے میں حیرت زدہ کے لئے راہنمائی)
مؤلفہ عادۃ ا لاما تعب فی تحریر ہ و زنہ بمیزان الادلۃ والقواعد الشرعیۃ وحررہ تحریر الذھب والجوھر فایاك ان تنقبض نفسك من العمل بقول من اقوالہم اذا لم تعرف منزعہ فانك عامی بالنسبۃ الیہم والعامی لیس من مرتبۃ الانکار علی ا لعلماء لانہ جاھل اھ۔ اپنی اپنی کتب میں وہ امورلائے جن کے لکھنے میں مشقت بر داشت کرنی پڑی اور جن کو ادلہ اور قواعد شرعیہ کے تر ازو پر تول لیا ہے اور ان کو سونے او ر چاندی کی طر ف مزین کیا ہے پس تو اپنے آپ کو اس سے بچاکہ ان کے اقوال میں سے کسی ایسے قول پر عمل کنے سے تمہارا دل تنگ ہو جس کا ماخذ تمہاری سمجھ میں نہ آیا ہو کیونکہ تو بہ نسبت ان کے عامی ہے اور عامی کا یہ مذہب نہیں کہ وہ علماء کا انکار کرے کیونکہ وہ عامی جاہل ہوتا ہے۔(ت)
فقیر غفر الله تعالی لہ کا فتوی سابق کہ اسی بارے میں لکھ چکاہوں پیش نگاہ رکھ کر ان مقدمات میں امعان نظر کیجئے تو بحمد الله تمام شکوك واوہام ہباء منثور ہوجاتے ہیںہاں میں بھولاایك شرط اور بھی درکار ہےوہ کیاعقل کا اتباع اور تعصب سے امتناع مگر یہ دولت کسے ملے جسے خدادے۔
یہاں تو اجمال کی غنچہ بندیاں تھیں اور تفصیل کی بہار گلفشانی پسند آئے تو لیجئے بگو ش ہوش وقلب شہید و انصاف کوشاستماع کیجئے۔رب ارحم من انصف واھد عنیدا خالفا(اے میرے پروردگار انصاف کرنے والے !رحم فرمااور مخالف کرنے والے ہٹ دھرم کو ہدایت عطا فرما۔ت)
قولہ صرف حکیم ترمذی نے کہ غیر صاحب صحیح اور شخص ہیںاپنی کتاب نوادر الاصول میں روایۃ کہا ہے:
ولم یکن لہ ظل لا فی الشمس ولا فی القمر۔ آپ کا سایہ نہ تھانہ دھوپ میں نہ چاندی میں(ت)
اقول:صلی لله تعالی علیہ وسلم(الله تعالی نبی کریم پر درود وسلام نازل فرمائے۔ت)
مجیب کے اس سارے جواب کا مبنے صرف اسی زعم فاسد پر ہے جوقصور نظر سے ناشی۔حکیم ترمذی نے تو اس حدیث کو ذکو ان تابعی سے مرسلاروایت کیا اور اسے موصولا مع زیادت مفید ہ حضرت عبدالله بن عباس رضی الله تعالی عنہما سے روایت کرنے کرنے والے امام جلیلحبر نبیلحجۃ الله فی الارضینمعجزۃ من معجزات سید المر سلین صلی الله تعالی علیہ وسلمحضرت امام ہمام عبدالله بن مبارك قدس سرہ المتبر ك جن کی جلالت شان و
حوالہ / References میزان الشریعۃ الکبری فصل فی بیان ذکر بعض من اطنب فی الثنا ء الخ دار الکتب العلمیۃ بیروت ۱/۹۰
#19201 · رسالہ ھدی الحیران فی نفی الفیئ عن سید الاکوان ۱۲۹۹ھ (سرورکائنات صلی الله تعالٰی علیہ وآلہ وسلم سے سایہ کی نفی کے بارے میں حیرت زدہ کے لئے راہنمائی)
غزار ت علوم آفتاب نیم روز سے اظہر وازہرامام اجل احمد بن حنبل وامام سفین ثوری وامام یحیی ابن معین وابو بکر بن ابی شیبہ و حسن بن عرفہ وغیرہم اکابر محدثینفن حدیث میں اس جناب رفعت قباب کے شاگرد ان مستفیض ہیں اور کتا بو ں پر اگر نظر نہ ہو تو شاہ صاحب کی بستان ہی دیکھئےکیا کچھ مدائح اس جانب سے لکھ کر مستوجب رحمت الہی ہوئے ہیں۔
ان کے بعد اس حدیث کے راوی امام علامہ شمس الدین ابو الفرج ابن الجوزی ہیںرحمۃ الله تعالی علیہکہ کتاب الوفاء میں اسے روایت فرمایا ۔ فن حدیث میں ان کی دستگاہ کامل کسے معلوم نہیں خصوصا بر عکس امام ابو عبدالله حاکم جرح ونضعیف پر حرص شدید رکھتے ہیںپھر جس حدیث حدیث پر یہ اعتماد کریں ظاہر ہے کہ کس درجہ قوت میں ہوگیپس با وجود تعدد طر ق و کثرت مخرجینحدیث کو صرف روایت حکیم کہنا محض باطلاور باطل پر جو کچھ مبنیسب حلیہ صواب سے عاطلاور معلوم نہیں لفظ "روایۃ" کس غرض سے بڑھایاظاہرا اعضال یا تعلیق کی طرف اشارہ فرمایا کقول القائل روی کذ ا وذکر عن زید عن عمر و کذا(جیسے قول قائل کہ یوں روایت کیا گیا ہے اور زید سے بحوالہ عمر و یوں ذکر کیا گیا ہے۔ت) کہ مقصود مجیب حدیث کو بے اعتبار ٹھہرا نا ہے تو بہ شہادت سوق وہی الفاظ لائے جائیں گے جو مقصود کے ملائم وموید ہوں نہ وہ کہ ایك قسم کی بے اعتباری کو دفع کریں اور اعتبار سے اصلا منافات نہ رکھیںحالانکہ محدثین کے نزدیك تخریج وروایت کا ایك ہی مفاد اور ذکر اسناد دونوں جگہ مراد کما تفصح عن کلمات العلماء الامجاد(جیسا کہ بزرگ علماء کی عبارات نے اس کو خوب واضح کردیا ہے۔ت)پس اگر اس اصطلاح محدثین پر اطلاع تھی تو مقصود سے بیگانہ لفظ کی زیادت کیوں ہوئی اور ایسے مواخذ ے تو ہم ضروری بھی نہیں سمجھتے کہ روایت حکیم کی نقل میں کمی بیشی واقعان کے پاس لفظ حدیث یوں ہیں:
ان رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم لم یکن یری لہ ظل فی شمس ولا قمر ۔ سورج اور چند کی روشنی میں رسول الله صلی الله تعالی علیہ و سلم کا سایہ نظر نہ آتا تھا۔(ت)
قولہ مگر محدثان اعلام نے اس حدیث کو معتبر نہیں مانا ہے۔
اقول:جب اس کتاب کے سوا اور ائمہ اعلام نے بھی حدیث کو روایت فرمایا تو اس کتاب کا
حوالہ / References الوفا ء با حوال المصطفٰی الباب التا سع والعشرو ں مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲/۴۰۷
الخصائص الکبری بحوالہ الحکیم الترمذی باب الایۃ فی انہ صلی الله تعالٰی علیہ وسلم لم یکن یری الخ مرکز اہلسنت برکات رضا گجرات ۱/۶۸
#19202 · رسالہ ھدی الحیران فی نفی الفیئ عن سید الاکوان ۱۲۹۹ھ (سرورکائنات صلی الله تعالٰی علیہ وآلہ وسلم سے سایہ کی نفی کے بارے میں حیرت زدہ کے لئے راہنمائی)
غیر معتبر ہونا کیا مضر ت رکھتا ہےمعہذا غیر معتبر ماننے کے یہ معنی کہ اس کی ہر روایت کو باطل سمجھاجب تو محض غلطنہ کوئی محدث اس کا قالخود اکابر محدثین اسی نوادر الاصول بلکہ فر دوس دیلمی سے جس کا حال نہایت ہی ردی ہےتو وہ روایتیں اپنی کتب میں لاتے اور ان سے احتجاج واستناد فرماتے ہیں کما لا یخفی علی من طالع کتب القوم(جیسا کہ کتب قوم کامطالعہ کرنے والے پر پو شیدہ نہیں ہے۔ت)اور جو یہ مقصود کہ اس میں روایات منکرہ وباطلہ بھی موجود ہیں تو بے شك مسلممگر اس قدر سے یہ لازم نہیں آتا کہ ساری کتاب مطروح ومجروح ٹھہرے اور اس کی کسی حدیث سے استناد جائز نہ رہے آخر علمائے سلف احادیث نوادر و روایات فردوس سے کیوں تمسك کرتے ہیں اور جب وہ اس سے باز نہ رہے تو ہم کیوں ممنوع رہیں گےخود یہی شاہ عبدالعزیز صاحب اور ان کے والد واساتذہ ومشائخ شریعت وطریقت اپنی تصانیف میں احادیث کتب مذکور ہ ذکر اور ان سے استدلال کرتے ہیں۔
قولہ اب یہ کہئے گا کہ جب تکاب مخدوش ومخلوط ہوچکی تو ہر حدیث پر احتمال ضعف قائمتو اس سے احتجاج اسی کو روا ہوگا جو بصیر وعارف اور نشیب وفراز فن سے واقف ہے۔
اقول:اب ہمارے مطلب پر آگئےحدیث عدم ظل سے بھی ہم عامیوں نے استدلال نہ کیا بلکہ یہی ائمہ شاناور ارباب تمیز وعرفان اسے بلا نکیر منکر مقبول رکھتے آئے اور ہم نے ان کی تقلید سے قبول کیا۔اگر ان بصیرت والوں کے نزدیك متنازع فیہ قابل قبول نہ ہوتی تو حسب عادت اس رپ رد و انکار کیوں نہ فرماتے اور تلقی بالقبول سے باز آتے۔
قولہ اور مصنف نے بھی بھی الترازم تصحیح مافیہ نہیں کیا ہے صرح بذلك خاتم المحدثین مولانا شاہ عبدالعزیز محدث الدھلوی رحمۃ الله تعالی علیہ فی بستان المحدثین(خاتم المحدثین مولانا شاہ عبد العزیز محدث دہلوی علیہ الرحمۃ نے بستان المحدثین میں اس کی تصریح فرمائی ہے۔ت)
اقول:نہ التزام تصیح صحت کو مستلزمنہ عدم التزام اس کا مزاحم۔اہل التزام کی تصانیف میں بہت روایات باطلہ ہوتی ہیں اور التزام نہ کرنے والوں کی تصنیفو ں میں اکثر احادیث صحیحہآخر مستدرك حاکم کاحال نہ سنا جنہوں نےصحت کیامعنیالتزام شرط شیخین کا ادعا ء کیا ار بقدر چہارم احادیث ضعفیہ ومنکرہ وباطلہ وموضوعہ بھر دیں۔
اسی طرح ابن حبان کا یہ دعوی کتاب التقاسیم و الانواع میں ٹھیك نہ اتر اور سنن ابی داؤد جس میں التزام صحاح ہر گز نہیںصحاح ستہ میں معدود اور ان کا مسکوت عنہ مقبول ومحمودیہ سب امور خادم حدیث پر جلی وروشن ہیں۔
عزیز ا! مدار کا را سناد پر ہےالتزام وعدم التزام کوئی چیز نہیںیہ دولت تو روز اول
#19203 · رسالہ ھدی الحیران فی نفی الفیئ عن سید الاکوان ۱۲۹۹ھ (سرورکائنات صلی الله تعالٰی علیہ وآلہ وسلم سے سایہ کی نفی کے بارے میں حیرت زدہ کے لئے راہنمائی)
بخاری کے حصہ میں تھی کہ احادیث مسندہ میں حق سبحانہنے ان کا قصد پورا کیاپھر ایسی فضول بات کے ذکر سے کیا حاصل ! کیا جس کتاب میں التزام صحاح نہیں اس سے احتجاج مطلقا مباح نہیں ایسا ہو تو بخاری و مسلم وچند کتب دیگر کے سوا سنن ابی داود وابن ماجہ ودارمی وتصانیف ابی بکر بن ابی شیبہ وعبدالرزاق ودارقطنی وطبرانی وبیہقی وبزار وابی لیلی وغیرہا معظم کتب حدیث جن پر گویا مدار شرع و سنت ہے محض بیکار ہوجائیں۔لاحوال ولا قوۃ الابالله العلی العظیم(نہ گناہ سے بچنے کی طاقت ہے اور نہ ہی نیکی کرنے کی قوت مگر بلندی وعظمت والے خدا کی طر ف سے۔ت)
قولہ اور کسی حدیث کی معتبر کتاب یں اس مسئلہ سے وجودا وعدما بحث نہیں۔
اقول:کاش ہمیں بھی معلوم ہوتا حدیث کی کتابیں جناب مجیب عفاالله تعالی عناد عنہ کے کتب خانہ میں ہیں یا کتنی حضرت کی نظر سے گزری ہیں کہ بے دھڑك ایسا عام دعوی کرتے ہو ئے آنکھ نہ جھپکیہم نے تا اکابر ائمہ کویوں سنا کہ جس حدیث پر اطلاع نہ پائی لم اجد(میں نے یہ پایا۔ت)یا لم ار(میں نے نہیں دیکھا۔ت)یا لم اقف علیہ(میں اس پر آگاہ نہ ہوا۔ت)پر اقتصار فرمایایہ لیس(نہیں ہے۔ت)اور لم یکن(نہیں ہوا۔ت)کی جراتیںحق تو یہ ہے کہ بڑے شخص کا کام ہے۔
علامہ سیوطی سامحدث ان جیسی نظر واسع جنہوں نے دامن ہمتکمر عزیمت پر چست باند کر جمع الجوامع میں تمام احادیث واردہ کے جمع واستیعاب کا قصد فرمایادیکھو حدیث اختلاف امتی رحمۃ(میری امت کا اختلاف رحمت ہے۔ت)کی تخریج پر واقف نہ ہوئے اور جامع صغیر میں اسی قدر فرمایا کر خا موش رہے کہ شاید یہ حدیث کسی ایسی کتاب میں مروی ہوئی کہ ہم تك نہ پہنچی ۔پھر علامہ مناوی تییر میں اس کی تخریضمدخل بیہقی وفردوس دیلمی سے تلاش ہی کر لا ئے ۔ پھر ہم کو بایں بضاعت مزجاۃچھوٹا منہ بڑی باتیہ دعوی کب زیب دیتا ہے مگر ۱ تصنیف امام عبدالله بن مبارك و۲تالیفات حافظ رزین محدث و ۳کتاب الوفا ء علامہ جوزی وشفاء ۴الصدور علامہ ابن سبع و ۵ کتاب الشفاء فی تعریف حقوق المصطفی صلی الله تعالی علیہ وسلم تصنیف علامہ قاضی عیاض و۶نسیم الریاض علامہ خفاجی و۷خصائص کبری علامہ جلال الدین سیوطی ومواہب لدنیہ ۸منح محمدیہ امام علامہ قسطلانی و
حوالہ / References الجامع الصغیر تحت حدیث ۲۸۸ دار الکتب العلمیہ بیروت ۱/۲۴
التیسیر شرح الجامع الصغیر تحت حدیث اختلاف امتی رحمۃ مکتبۃامام الشافعی ریاض۱/۴۹
#19204 · رسالہ ھدی الحیران فی نفی الفیئ عن سید الاکوان ۱۲۹۹ھ (سرورکائنات صلی الله تعالٰی علیہ وآلہ وسلم سے سایہ کی نفی کے بارے میں حیرت زدہ کے لئے راہنمائی)
۹شرح مواہب علامہ زرقانی و۱۰مدارج النبوت شیخ محقق وغیرہا اسفار ائمہ دین وعلماء محققینآپ کے نزدیك معتبر نہیں یا جب تك بخاری مسلم میں ذکر مسئلہ نہ ہو قابل اعتبار متصور نہیں۔
فقیر حیران ہے جب حدیث کئی طریق سے مروی ہوئی اور چند ائمہ نے اسے تخریج کیا اور وہ مقتدایان ملت نے اس سے احتجاج فرمایا اور سلفا خلفا بے اعتراض معترض مقبول رکھاپھر نہ تسلیم کرنے کی وجہ کیا ہے اگر بالفر ض حدیث میں ضعف ہی مانا جائےتا ہم مرتبہ مقام چاہے کہ یہاں تضییق مطلوب ہے یا تو سیع محبوبصحت نہ سہیکیا حسن سے احتجاج نہیں ہوتا حسن بھی نہ مانوکیا ضعف متماسك ایسی جگہ کام نہیں دیتا آخر اقسام حدیث میں ایك قسم کا نام صالح بھی سنا ہوگااگر ماورائے صحاح سب بیکار ہیں تو حسن میں حسن اور صالح میں صلاحیت کس بات کی ہے انا لله وانا الیہ راجعون(بیشك ہم الله تعالی کے لئے ہیں اور اسی کی طرف ہم کو لوٹنا ہے۔ت)
قولہ مسلمان کو ایك جانب پر اصرار نہ چاہے۔
اقول: اگر چہ حق واضح ہے یہ کلمہ عجیب وضح کیامسلمان کی شان وہ ہے جس سے رب تبارك وتعالی قرآن مجید میں خبر دیتا ہے:
"یستمعون القول فیتبعون احسنہ " ۔ جو کان لگا کر بات سنیں پھر اس کے بہتر پر چلیں۔(ت)
دامن ائمہ ہاتھ سے دے کر شاہراہ یقین سے دور پڑیئے او رشکوك وتر د دا ت کے کانٹوں میں الجھے۔
اے عزیز ! جب مسلمان نقی الایمان ادھر تو یہ سنے لگا کہ اس بات میں احادیث وارد اور اراکین دین متین واساطین شرع مبین کی تصانیف اس سے مملوو مشحون اور ادھر اس کے قلب کی حالت ایمانی جو تکثیر فضائل سید المحبوبین صلی الله تعالی علیہ وسلم جان سے پیاری ہےبہ شوق تمام سر و قد استادہ ہوکر مرحبا گویاں اسے مسند آمنا وصدقنا پر جگہ دے گی اور ادھر داعیہ عقل سلیم انبعاث تازہ پاکر حکم قطعی لگائے گا کہ میرا محبوب سر اپا نور ہے اور نور ك ا سایہ خرد سے دورتو ان انوار پے در پے کی متواتر ریز شوں کے حضور شکوك واوہام کی ظلمت کیونکہ ٹھہرسکے گی اور تیقن کامل کی رو شنی چار چانب سے سر اپا کو محیط ہوکر کس طر ح اصرار واذعان کے رنگ میں نہ رنگ دے گی۔
ہم چھوٹی سی دو۲ باتیں پوچھتے ہیںشك کرنے والے کو حضور سرور عالم صلی الله تعالی علیہ وآلہ وسلم کے
حوالہ / References القرآن الکریم ۳۹ /۱۸
#19205 · رسالہ ھدی الحیران فی نفی الفیئ عن سید الاکوان ۱۲۹۹ھ (سرورکائنات صلی الله تعالٰی علیہ وآلہ وسلم سے سایہ کی نفی کے بارے میں حیرت زدہ کے لئے راہنمائی)
نور بحت ہونے میں امل ہے یا سا یہ کوکثافت لازم ہونے میں تر دد۔اگر امر اول میں شك رکھتا ہے تو مین اپنی زبان سے کیا کہوںصرف اپنے ایمان صرف غیر مشوب بالاوہام اور قضیہ اشہد ان محمدا عبدہ و رسولہ(میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی الله تعالی علیہ وآلہ وسلم الله تعالی کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ت)کے لازمی احکام سے حکم اپنادریافت کرلےاور امر دوم میں تردد ہے تو مفتی عقل کی بارگاہ سے جنون ودیوانگی کا فتوی مبارکاسی لئے ہم دعوی حتمی کرتے ہیں کہ اگر اس بات میں کوئی حدیث نہ آئی ہوتینہ کسی عالم نے اس کی تصریح فرمائی ہوتیتاہم بملاحظہ ان آیات واحادیث متکاثرہ متوافرہ متظافرہ کے جن سے بالقطع والیقین سر اپائے سید المرسلین صلی الله تعالی علیہ وآلہ وسلم کا نور صرف کان لطافت وجان اضاءت ہونا ثابت ہم حکم کرسکتے کہ حضور کے لئے سایہ نہ تھانہ کہ با وجود تو افق عقل ونقل تسلیم میں لیت ولعل ہو(والہفاہ)۔
شك کرنے والا ہمیں نہیں بتا تا کہ اسے رد احادیث وطر ح اقوال علماء پر کون سی بات حامل ہوئیکیا ایسے ہی اکابر کے اقوالان ارشادات کے صاف پرخلافکہیں دیکھ پائے یا عقل نے نور محض کے سایہ ہونے کی بھی کوئی راہ نکالیجواس نے دلائل میں تعارض جان کر شك وتر دد کی بناء ڈالی اور جب ایسا نہیں تو شاید عظمت قدرت الہی میں تامل یا وہی بد مذہبوں کا قیاس مقلوع الاسنا س کہ" ما انتم الا بشر مثلنا " (نہیں ہو تم مگر ہماری طر ح بشر۔ت)اس پر باعث ہو اجب تو آفت بہت ہی سخت ہے الله تعالی رحم فرمائے۔
" ربنا لا تز غ قلوبنا بعد اذ ہدیتنا وہب لنا من لدنک رحمۃ انک انت الوہاب﴿۸﴾ " ۔ اے ربہمارے دل ٹیڑھے نہ کر بعد اس کے کو تو نے ہمیں ہدایت دی اور ہمیں اپنے پاس سے رحمت عطا کربے شك تو ہے بڑا دینے والا ت(ت)
قولہ ادعائے وجود ظل میں ایہام سوء ادب ہے۔
اقول:" الـن حصحص الحق۫" (اب حق واضح ہوگیا۔ت) الله تعالی نے حق بات کو علو وغلبہ میں کچھ ایسی شان عجیب عطا فرمائی ہے کہ تشکیك وحیرت بلکہ تکذیب معاندت کی تاریکیوں
#19206 · رسالہ ھدی الحیران فی نفی الفیئ عن سید الاکوان ۱۲۹۹ھ (سرورکائنات صلی الله تعالٰی علیہ وآلہ وسلم سے سایہ کی نفی کے بارے میں حیرت زدہ کے لئے راہنمائی)
میں بھی من حیث لایدری اپنا جلوی دکھاجاتی ہےمجیب کو منع اصرار پر اصرار تھااب اقرار کرتے ہیں کہ وجود ظل ماننے میں ایہام سوء ادب ہےاور پر ظاہر کہ ایہام گستاخی تو وہیں ہوگا جہاں عیب ومنقصت کا پہلو نکلتا ہواب شرع مطہر سے پوچھ دیکھئے کہ ایسی بات کا جز ماوقطعا رد وانکار وانکار واجب یا سکوت وحیرت کی کشمکش میں مہمل چھوڑدینا مناسب نہیں۔اب تو آپ کے اقرار سے فرض قطعی ٹھہرا کہ سایہ ہونے کا اقرار بلیغ کیا جائے ار اس پر حددر جہ کا اصرار تام رکھا جائے کہ ہرا س خس وخاشاك سے جو ایہاما واحتمالا بھی ہوئے تنقیص دیتا ہوساحت نبوت کی تبر یت اصول ایمان سے ہے اور بات بھی یہی ہے کہ جب سایہ کو کثافت لازم اور لطا فت کاملہ عدم ظل کو مستلزمتو بحکم مقدمہ اولی جسے عدم سایہ میں شك ہوگا وہ درخقیقت سراپائے اقدس حضرت رسالت علیہ الصلوۃ والتحیۃ کی لطافت متردد ہے اور سایہ ماننے والا کثافت اور نہ ماننے ولاا کمال لطافت کا معتقد ہے پھر مسلمانوں کی نفی سایہ اصرار سے منع کر نا بعینہ یہ کہنا ہے کہ لطافت جرچ ولا کو یقینی نہ جانو اور عیاذا بالله کثافت بھی محتمل مانو۔اب اس شك وابدائے احتمال کا حکم بغایت شدید ہونا چاہے تھا مگر خیر گزری کہ لازم مذہبمذہب نہیں قرار پاتا۔
قولہ اور اصرار بر عدم میں احتمال دعوی غیرواقع ہے۔
اقول:احادیث صحاح بخاری ومسلم یکسراڑ گئیں کہیں نہیں کہہ سکتے کہ رسول الله صلی الله تعالی علیہ وآلہ وسلم نے یہ فرمایا یا ایسا کیا یا وہاں یہ واقعہ ہوا کہ جب تك تو اتر نہ ہوا احتمال دعوی غیر واقعہ سب جگہ قائم کچھ دنوں خدمت شر ح نصیب رہے تو خوب واضح ہوجائے کہ احتمالات مجر د جو مناشی صحیحہ سے ناشی نہ ہوں تك لخت پائے اعتبار سے ساقط ہیں او ران پر کسی طر ح بنائے کار نہیں ہو سکتی ورنہ واجبات سے تو یکسر ہاتھ دھوبیٹھے کہ قطع ویقین منافی وجوب اور بے تیقن اصرار معیوبتمیم کے طریقے بالکل مسدود کہ ہر خاك وسنگ میں احتمال نجاست موجود نص قرآنی یا احادیث متو اتر میں تو ان مٹیوں کی پاکی مذکور نہیںنہ یہ زمینیں ابتدائے خلقت سے ہر وقت ہمارے پیش نظر رہیں کہ عد م تنجس پر یقین حاصل ہوہر نماز کے وقت ہر بار کپڑے پاك کرنا ضرور ہو کہ ممکن ہے کوئی ناپاکی پہنچی ہواور ہمیں اطلاع نہ ہوئی ہووضو وغسل و غسل ثیاب آپ غیر جاری سے روانہ ہو کہ یہاں بھی وہی آتش کا سہ میں ہےاکثر عورتوں خصوصا زنان ہمسایہ وقرابت دار میں احتمال ہے کہ انہوں نے یا ان کی ماں یا باپ نے ناکح کی ماں کا دودھ پیاہو یانا کح نے جس عورت کا دودھ پیا ہو اس نے انہیں دودھ پلایا ہو یا وہ عورتیں ناکح کے باپ یا دادا یا ناناکی ممسوسہ یا منظورہ بصور معہودہ ہوںپھر نکاح کیونکہ ہوکسےاو رجنہوں نے اس قاعدہ جدیدہ سے ناواقفی میں کرلیا ہے ان پر متا رکہ لام زہوقاضی شہادت شہود پر حکم نہیں کرسکتاممکن کہ گواہ جھوٹ
#19207 · رسالہ ھدی الحیران فی نفی الفیئ عن سید الاکوان ۱۲۹۹ھ (سرورکائنات صلی الله تعالٰی علیہ وآلہ وسلم سے سایہ کی نفی کے بارے میں حیرت زدہ کے لئے راہنمائی)
بولتے ہوں یا انہیں ورت واقعہ یا د نہ رہی ہو الی غیر ذلك من المفاسد التی لاتحصی(اس کے علاوہ بے شمار فساد لازم آئیں گے۔ت)غرض اس دو حرفی قاعدہ نے ایك عالم تہ وبالا کر ڈالادین ودنیا کا عیش تلغ کردیا۔
عزیز ا! یہ کہنا تو اس وقت روا تھا جب کوئی حدیث اس بارہ میں وارد نہ ہوتینہ کلمات علماء میں اس کا پتا چلتانہ وجود سایہ لطا فت ثابتہ کسی طر ف ترجیح نہ دیتی تو کہہ سکتے تھے کہ دلیل سے کچھ ثابت نہیں ہو تا اور ایك بات پر حکم حتمی میں احتمال نسبت غیر واقعی ہے اور مسئلہ اصول دین سے نہیںنہ ہمارا کوئی عمل یا عقیدہ اس پر موقوفپھر خواہ مخواہ خوض بیکار سے فائدہ من حسن اسلام المر ء ترکہ مالا یعنیہ (کسی شخص کے اسلام کا حسن یہ ہے کہ وہ بے مقصد باتوں کو چھوڑدے۔ت)
ایسے ہی مقامات پر علماء محتاط سکوت وتو قف کرتے اور تعارج دلائل ذکر کر کے اسی قسم کے کلمات لکھ دیتے ہیںامثال مسائل تفاضل نساء واثابت جنہ وحال اطفال اصحاب ضلال سے مجیب نے وہ لفظ سیکھ کر دیئے اورفر ق مبحثین پر نطر نہ کیہم زیادہ نہیں مانگتے ایك ہی جگہ دکھادیں کہ کوئی مسئلہ احادیث سے ثابت اور اقوال علماء سے نقل خلاف اس پر متظافر اور ایك حکم یقینی ایمانی مثل لطافت جسم نوارنی صلی الله تعالی علیہ وآلہ وسلم اسے مستلزم اور اس کے سبب عقل نورانی وحب ایمانی حقیقت مسئلہ پر حاکم ہوپھر کسی عالم معتبر نے وہاں تو قف اختیار کیا ہو اور اصول دین سے نہ ہونے یا مخالفت واقع کے احتمال کو مانع تسلیم قرار دیا ہو ورنہ یہ نو تراشید ہ مضمون قابل تو بہ واستغفار ہے ربنا اغفرلنا وللمومنین جمیعا(اے ہمارے پروردگار ! ہمیں اورتمام مومنوں کو بخش دے۔ت)
قولہ مسئلہ اصولہ عقائد سے نہیں جس کے بات میں ہر شخص کو اہتما ضرور ہو
اقول:مجیب صاحب(سامحنا الله وایاہ بالعفو والمغفرۃالله تعالی عفو ومغفر ت کے ساتھ ہم سے اور اس سےدرگز فرمائے۔ ت)نے اس چار سطر کے جواب میں عجب تماشاکیا ہے کہ اکثر دلیلیں جو قائم کیں ان کے صغری کہ ظاہرا تسلیم تھے لکھتے گئے اور کبری کہ بدیہی البطلان تھےمطوی فرماددیئےمثلا لکھا:
"محدثین اعلام نے اس کتاب کو معتبر نہیں مانا ہے ۔"
حوالہ / References جامع الترمذی ابواب الزھدباب منہ امین کمپنی دہلی ۲/۵۵
#19208 · رسالہ ھدی الحیران فی نفی الفیئ عن سید الاکوان ۱۲۹۹ھ (سرورکائنات صلی الله تعالٰی علیہ وآلہ وسلم سے سایہ کی نفی کے بارے میں حیرت زدہ کے لئے راہنمائی)
اور کبرے کہ جس کتاب کو محدثان اعلام نے معتبر نہ مانا ہوا س کی کوئی حدیث قابل احتجاج نہیںترك کردیاپھر لکھا:'' مصنف نے التزام تصیح مافیہ نہیں کیا "
اور کبری کہ جس مصنف نے یہ التزام نہ کیا اس کی حدیثیں مستند نہیںذکر نہ فرمایاپھر لکھا:
" کسی حدیث کی معتبر کتا ب میں الخ۔"
اور کبرے کہ جو مسئلہ کتب معتبر ہ حدیث میں نہ ہوقابل تسلیم نہیںچھوڑدیا۔پھر لکھا:
"اصرار بر عدم میں احتمال الخ"
اور کبری کہ جہاں یہ احتمال ہوا س میں تو قف ضرور اور تسلیم بے جاتحریر نہ کیا۔اب اخیر درجہ یہ لکھا کہ:
"مسئلہ اصول عقائد سے نہیں۔"
اکبری کی طر ف ان لفظوں سے اشارہ کیا: "جس کے باب میں ہر شخص کو اہتمام ضرور ہو۔"
صاف کہا ہوتا کہ جو مسئلہ اصول عقائد سے نہیںاس میں اہتمام کی کچھ حاجت نہیں۔سبحان الله ! ایك ذرا سے فقرہ میں تمام سائلہ فقہیہ کی بیخ کنی کردی کہ وہ بداہۃ فروح ہیں نہ اصولپھر ان کا اتباع محل اہتمام سے معزول اور واجبات وسنن کا تو پتا نہ رہا کہ انہیں عقد قلب سے کب بہر ہ ملااب شاید بعد ورود اعتراض یہ تخصیص یاد آئے کہہ ہما رے کلام مسائل غیر متعلقہ بجوارح میں ہے
اقول:اب بھی غلطمتکلمین تصریح کرتے ہیںمسائل خلافت اصول دینیہ سے نہیں مواقف و شرح مواقف میں ہے:
(ولما تو فاہ)اشارہ الی مباحث الامامۃ فانہا وان کانت من فرو ع الدین الاانہا الحقت باصولہ دفعا للخرافات اھل البدع والاھواء وصونا للائمۃ المھتدین عن مطاعنہم(وفق اصحابہ لنصب اکرمہم و اتقہم) یعنی ابا بکر رضی الله تعالی عنہ اھ ملخصا۔ وفیہ من المصدر (شارح فرماتے ہیں) لما توفاہ امامت کی بحث کی طر ف اشارہ ہےاگر چہ مسئلہ فروع دین سے ہے مگر اہل ہو اور بدعتیوں کے خرافات کو دفع کرنے کے لئے اورائمہ دین کو ان کے طعن سے بچانے کے لئے اصول دین سے ملحق کردیا(کہ تمام صحابہ کرام اپنے سے اتقی واکرم یعنی ابو بکر صدیق رضی الله تعالی عنہ کی امامت پر متفق ہوگئے۔)موقف خامس میں سے
حوالہ / References شرح المواقف خطبۃ الکتاب منشورات الشرف الرضی قم ایران ۱/۲۱و۲۲
#19209 · رسالہ ھدی الحیران فی نفی الفیئ عن سید الاکوان ۱۲۹۹ھ (سرورکائنات صلی الله تعالٰی علیہ وآلہ وسلم سے سایہ کی نفی کے بارے میں حیرت زدہ کے لئے راہنمائی)
الرابع مو الموقف الخامس فی الامامۃ و مباحثہا لیست من اصول الدیانات و العقائد خلافا للشیعۃ اھ مصدر رابع امامت میں ہے امامت کی بحث اصول عقائد دین میں سے نہیں ہے بخلاف شیعوں کے(کہ ان کے نزدیك اصول دین سے ہے)اھ ت)
کیا یہ قاعدہ مخترعہ یہاں بھی اہتمام ضروی نہ رکھے گا اور اقرار وانکار امات ائمہ کو یکساں کردے گاایران ومسقط کو مژدہ تہنیتاب چین سے اپناکام کیجئےخلافت راشدہ خلفاء اربعہ رضی الله تعالی عنہم میں شوق سے کلام کیجئےتیرہ صدی کی برکت سنیوں کی ہمتاب انہیں ان مباحث سے کام ہی نہ رہا۔حقیقت خلافت کا اہتمام ہی نہ رہا۔انا لله وانا الیہ راجعون(بے شك ہم الله تعالی کے مال ہیں اور ہم کو اسی کی طر ف پھرنا ہے۔ت)
فقیر کو حیرت ہے باوجود وتو افق عقول ونقل ودرود احادیث وشہادت ائمہ عدل وقتضائے خرد یمانی بحکم لطافت جرم نورانی وتاکید محبت سید اکرم صلی الله تعالی علیہ وسلم قبول سے کیا چارہ اور ترك اصرار واہتمام کس کا یارااور یہ یہ بھی نہیں کھلتا کہ لفظ "ہر شخص"فرماکر عموم سلب سے سلب عموم کی طر ف کیوں ہوا کیا بعض کو اہتمام ضروی بھی ہے اور ایسا ہو تو وہ بعض معین ہیں یا غیر معین بر تقدیر ثانی کلاممقصود پر منعکس و منقلب ہوجائے گا اور تحرزا عن الوقوع فی المحذور ہر شخص کو اہتمام قرار پائے گا اور پہلی شق پرحکم احکم " لتبیننہ للناس" (کہ تم ضرور اسے لوگو ں سے بیان کردینا۔ت) کاانقیاد ہواس تعین کی تبیینپھر اس پر دلیل مبین ارشاد ہو۔
وصلی الله تعالی علیہ سیدنا محمد البدر والہ و اصحابہ النجوم والعلم بالحق عند الله ربنا تبارك و تعالی واھب العلوم استراح القلم من ھذا التنمیق الانیق فی العشرۃ الوسطی من ذی الحجۃ المحرم سنۃ ۱۲۹۷(سبع وتسعین بعد الالف و الله تعالی درود نازل فرمائے ہمارے آقا محمد صلی الله تعالی علیہ وآلہ وسلم پر جو چودھویں کے چاند ہیں او رآپ کے آل و اصحاب پر جو روشن ستارے ہیں۔حق کا علم الله تعالی کے پاس ہے جو ہمارا پروردگار ہے اور علوم عطافرمانے والا ہے۔اس عمدہ تحریر کی تزیین سے قلم نے حرمت والے مہینے ذوالحجہ کے دمیان عشرے کے اندر ۱۲۹۷ ھ کو ایك ہی
حوالہ / References شرح المواقف المرصد الرابع منشورات الشریف الرضی قم ایران ۸/۳۴۴
القرآن الکریم ۳ /۱۸۷
#19210 · رسالہ ھدی الحیران فی نفی الفیئ عن سید الاکوان ۱۲۹۹ھ (سرورکائنات صلی الله تعالٰی علیہ وآلہ وسلم سے سایہ کی نفی کے بارے میں حیرت زدہ کے لئے راہنمائی)
المائتین)فی جلسۃ واحدۃ فی البلاۃ المطہرۃ مارھرۃ المنور ۃ بجنب مزار ات الکرام البررۃ ساداتنا و مشائخنا العرفا الخیرہ افاض الله علینا من نفحات فیوضہم العطرۃ امین بر حمتك یا ارحم الراحمین۔ نشست میں راحت حاصل کی۔شہر پاك مارہرہ منورہ میں آرام فرمانے والے ان اولیائے کرام کے مزارات مقدس کے پہلو میں یہ تحریرلکھی گئی جو ہمارے سردار ومشائخ عارفین گرامی قدر ہیں۔الله تعالی ان کے فیوض معطر ہ کی خوشبوئیں ہمیں عطا فرمائے۔آمین ! تیری رحمت کے ساتھ اے بہترین رحم فرمانے والے۔(ت)
فصل دوم
بسم الله الرحمن الرحیم ط
نقل تحریرکہ الحال از ریاست محمدآبادعمرالله بالرشد والسداد وصانھا عن الشر والفساد سلسلہ سخن راجنبش تازہ داد۔ نقل تحریر از ریاست محمد آباد جس نے سلسلہ سخن کوتازہ جنبش دیالله تعالی اس ریاست کو ہدایت ودرستگی کے ساتھ آباد رکھے اور اس کو شروفساد سے بچائے۔
بسم الله الرحمن الرحیم ط
الحمدلله رب العالمین والصلوۃ والسلام علی رسولہ محمد والہ واصحابہ اجمعیناما بعد
مردم میگویندکہ برائے شخص مبارك عالی حضرت رسالت پناہینبوت دستگاہی صلی الله تعالی علیہ وسلم سایہ ظل چنانچہ جملہ اجسام واجرام کثیفہ ولطیفہ رامی باشد نبود وگاہے از ابتدائے خلقت حضرت رسالت پناہی صلی الله تعالی علیہ وسلم تاآخر لقائے رب العلمین تعالی شانہہمچناں بودبے سایہ وبے ظل گزرانیدہ اند۔ تما م تعریفیں الله تعالی کے لئے جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔درود وسلام نازل ہواس کے رسول محمدمصطفی پرآپ کی آل پر اورآپ کے تمام صحابہ پر۔بعدازاں لوگ کہتے ہیں کہ جس طرح تمام اجسام کثیفہ ولطیفہ کے لئے سایہ ہوتاہےایسا سایہ حضرت عالی مرتبہرسالت پناہنبوت دوستاہ نبی کریم صلی الله تعالی علیہ وسلم کے جسم مبارك کے لئے نہیں تھااور یوں بھی کہتے ہیں کہ پیدائش سے آخر عمر تك ہمیشہ سایہ نہ تھا۔
#19211 · رسالہ ھدی الحیران فی نفی الفیئ عن سید الاکوان ۱۲۹۹ھ (سرورکائنات صلی الله تعالٰی علیہ وآلہ وسلم سے سایہ کی نفی کے بارے میں حیرت زدہ کے لئے راہنمائی)
فقیر میگوید کہ ایں معجزہ درکتابیکہ لائق اعتماد باشد واہل سند واسناد آنرابسند صحیح بیان کردہ باشندندیدہ ام درکتاب صحاح وسنن کہ مروج انداز کسے نشنیدہ ام کہ ثبوت کردہ اند و آنچہ اہل سیر ومغازی بیان میکنند اعتماد آں چنانچہ اہل حدیث راہستمعلوم پس ہر کرا از اہل علم ثبوت آں از روئے سند صحیح از کتاب وسننبیان فرماینداجرآں از فقیر از خدا وند تعالی مامول دارند فقط۔ فقیر کہتاہے کہ یہ معجزہ کسی ایسی کتاب میں جو لائق اعتماد ہو اوراہل سند واسناد نے اسے بسند صحیح بیان کیاہومیں نے نہیں دیکھاکتب صحاح وسنن میں کسی سے نہیں سنا کہ ثابت کیا ہو۔اہل سیر ومغازی جو بیان کرتے ہیں اس پرجیسے کہ محدث کو اعتماد ہےمعلوم ہےلہذا تمام اہل علم کو چاہیے کہ اس کا ثبوت ازروئے سند صحیح کتاب وسنت سے بیان فرمائیںاس کا اجر فقیر سے خداوند تعالی سے امید رکھیں۔فقط۔
کتبہ ابو عبدالله محمد عفی عنہ
بازاہتزاز نسیم ایمانی بپامال فصل خزانی فصل خزانی کی پامالی کیلئے نسیم ایمان کی پھر روانی
بسم الله الرحمن الرحیم ط
الحمدلله خالق الظل والحرورجاعل الظلمت والنور ثم الذین کفروا بربھم یعدلون والصلوۃ والسلام علی السراج المنیر فی نادی القلوبالقمر المنزہ عن کل کلف وخسوف ومحاق وغروبثم الذین فجروا عن نورہ یعمہون وعلی الہ النجوم واصحابہ مصابیح العلوم مالم یکن للارمد عند ضوء العین سکون سایہ پروردہ دامن ناسزائیروئے نادیدہ نیردانائیفقیر ناسزا رونق بازار معاصی فزاسربگر یبان فکر جزا
بسم الله الرحمن الرحیم ط
تمام تعریفیں الله تعالی کے لئے ہیں جو سائے اوردھوپ کا خالق اورظلمت ونور کو پیدافرمانے والا ہے۔پھر کافر لوگ اپنے رب کے برابر ٹھہر اتے ہیں۔اور درودوسلام نازل ہو دلوں کی مجلس کو چمکانے والے آفتاب پر اور اس ماہتاب پر جو چھاؤںگرہنمٹ جانے اورغروب ہونے سے پاك ہے۔ پھر نافرمان لوگ اس کے نور سے بے بہرہ ہیںاور ان کی آل پر جو ستارے ہیں اوراصحاب پر جو علوم کے چراغ ہیں۔ آشوب چشم والے کو سورج کی روشنی کے وقت سکون نہیں ہوتا۔ دامن نالائق کے سایہ میں پرورش پانے والا خورشید دانائی کا چہرہ نہ دیکھنے والاگناہ افزا بازار کی رونقفکر جزاء میں
#19213 · رسالہ ھدی الحیران فی نفی الفیئ عن سید الاکوان ۱۲۹۹ھ (سرورکائنات صلی الله تعالٰی علیہ وآلہ وسلم سے سایہ کی نفی کے بارے میں حیرت زدہ کے لئے راہنمائی)
عبدالمصطفی معروف بہ احمد رضا غفرالله لہ ما یجری منہ وما مضیخدائے خود رابہ یکتائی ومصطفائے وے رابہ بے ہتمائی ستودہ مہر بہشتی چہر تحقیق وآفتاب جہاں تاب تدقیق راچنانۃ بریزش امطار انواروبارش اضواء نصف النہار مے آرد کہ پیشترك از ورود ایں جواب سوال نما ز وعرض اعراض فزا ووفاق شقاق آمودولطف عتاب آلودفقیر حقیر درہمیں مسئلہ پیش آیندہ دوستارہ تابندہاز آفاق سخن سرائےباشراق جلوہ نمائےآوردہ ام یکے کالشمس وضحہا ودگرکالقمر اذا تلہا ہرکہ چشمے دارد از رمد پاکوولی پذپرائے نور ادراكبصر وبصیرتش را از تجلیہائے ظلمت روالش نیکوترین بہرہ وریہا مہیا ومہنا بادعزیزان نوکہ طرحی تازہ افگندہ اند وراہے جدید پیش گرفتہاگر باینہا نیز برسم چالشگیر دے چند آویزشی کنیمیا رب بر خاطر خردہ بینان خرد پرور ودقت گزینان بالغ نظربے گوارش مردادامینوبالله ثم برسولہ نستعین ولا وحول ولاقوۃ الابالله العلی العظیم۔




قولہ مردم میگویند الخ۔
اقول:ائمہ دین یا عوام مقلدین علی الاول پریشانعبدالمصطفی معروف بہ احمد رضا(الله تعالی اسکی آئندہ وگزشتہ کوتاہیوں کو معاف فرمائے)اپنے خدا کو یکتا ولاشریك ہونے اوراس کے مصطفی کو بمثل ہونے کی توصیف کے بعد بہشتی چہرہ والے آفتاب تحقیق اورجہان کو روش کردینے والے خورشید کو اس طرح انوار واضواء کی برسات کے ساتھ لاتا ہے کہ تمہارے سوال کے جواب اور روگردانی بڑھانے والی عرض اورخلاف پر موافقت اورعتاب آلود نرمی سے کچھ پہلے فقیر حقیر نے ا س زیر نظر مسئلہ کے متعلق سرائے سخن کے کناروں سے دوچمکتے ہوئے ستارے لائے ہیںایك کالشمس وضحہا اوردوسرا کالقمراذا تلہاجو شخص صحت مند آنکھ اور قابل نور علم دل رکھتاہے اس کی بصارت و بصیرت کو ان ستاروں کی کاشف ظلمات تجلیات سے اچھی طرح کامیابیاں مہیا ومبارك ہوں۔نئے پیاروں نے جو تازہ طرح ڈالی اورنیا راستہ اختیارکیااگرہم بھی ان کے ساتھ بطور جیسے کو تیسا(ترکی بہ ترکی)مقابلہ کریں تو اے خدا!نکتہ داں عقلمندوں اورباریك بیں بالغ نظروں کے دل پر احساس تلخی انصاف !آمین ! الله تعالی سے پھر اس کے رسول صلی الله تعالی علیہ وسلم سے ہم مدد چاہتے ہیںببلندی وعظمت والے خدا کی توفیق کے بغیر نہ گناہ سے بچنے کی طاقت ہے اورنہ ہی نیکی کرنے کی قوت۔
قولہ لوگ کہتے ہیں الخ
اقول:لوگوں سے مراد ائمہ دین ہیں یا عوام
#19216 · رسالہ ھدی الحیران فی نفی الفیئ عن سید الاکوان ۱۲۹۹ھ (سرورکائنات صلی الله تعالٰی علیہ وآلہ وسلم سے سایہ کی نفی کے بارے میں حیرت زدہ کے لئے راہنمائی)
بخانہ مقصود از درنقیض آمدن ستواستیناس نقدبہ لباس اسدخواستنمگر ارشاد ائمہ بسند نیستکہ دلیلے دیگر جوائییا ایں رابمنزل حضرت سلمی نمیر ودکہ بہ شعبے جدا گانہ پوئی۔من فقیر گمان برم وناراست نمی برم کہ ان شاء الله تعالی روئے توجہ بسوئے مقدمہ ثالثہ تحریر ثانی تافتن ہماں باشدوایں وسوسہ را جواب شافی وعلاج کافی یافتنہماںآخر نہ خدائکہ حضرات عالیہ ایشاں را برسررامامت وارائك زعامت جائے داد وبحکم الخراج بالضمان ثقل تحمل اعبائے گرانبار " فاعتبروا یاولی الابصر ﴿۲﴾" برذمت ہمت ایشاں نہاد و ضعف وناتوانی ماعامیان نادیدہ رودبدست کم دانشی گرودید و بفھوائے " ان مع العسر یسرا ﴿۶﴾ " و " وما جعل علیکم فی الدین من حرج " خوان نعمت" فسـلوا اہل الذکر ان کنتم لا تعلمون ﴿۴۳﴾"
مقلدیناگر ائمہ دین مراد ہیں تو پھر یہ خلاف مقصود کی طرف آنا اورلباس شیر میں انس نقد طلب کرنا ہےکیا ائمہ کرام کا ارشاد ناکافی ہے کہ دوسری دلیل طلب کرتے ہویا ائمہ دین کایہ راستہ مطلوب تك نہیں پہنچتااس لئے علیحدہ پگڈنڈیوں پر بھٹکتے پھرتے ہومیں گمان کرتاہوں اوردرست گمان کرتاہوں کہ ان شاء الله تعالی توجہ کا رخ تحریر ثانی کے مقدمہ ثالثہ کی طرف ہی پھیرنا ہوگا اور تمہارے اس وسوسہ کا وہی جواب شافی وعلاج کافی ہوگا۔آخر خدا وند تعالی نے حضرات عالی شان کو امامت کے تختوں اورسرداری کی سندوں پر مقام عطا نہ فرمایا اور الخراج بالضمان (خراج ضمان کی وجہ سے ہوتاہے۔ت)کے فیصلہ کے مطابق" فاعتبروا یاولی الابصر ﴿۲﴾ "(توعبرت لو اے نگاہ والو۔ت)کے چراغوں کا بوجھ برداشت کرنا اور ان کے ذمہ ہمت پر نہ رکھا اورہم نادیدہ رو کی کمزور کو اورکم علمی کے ہاتھ گروی شدگان کو نہ دیکھا اور بہ مقتضائے " ان مع العسر یسرا ﴿۶﴾ " (بے شك دشواری کے ساتھ آسانی ہے۔ت)اور " وما جعل علیکم فی الدین من حرج "(اور تم پر دین میں کچھ تنگی نہ رکھی۔ت)
حوالہ / References جامع الترمذی ابواب البیوع باب ماجاء من یشتری العبدویغسلہ الخ امین کمپنی دہلی ۱/ ۱۴۵
القرآن الکریم ۵۹ /۲
القرآن الکریم ۹۴ /۶
القرآن الکریم ۲۲ /۷۸
القرآن الکریم ۱۶ /۴۳و ۲۱/ ۷
#19217 · رسالہ ھدی الحیران فی نفی الفیئ عن سید الاکوان ۱۲۹۹ھ (سرورکائنات صلی الله تعالٰی علیہ وآلہ وسلم سے سایہ کی نفی کے بارے میں حیرت زدہ کے لئے راہنمائی)
چید۔

اے خوشاکسیکہ بحکم ان الله تصدق علیکم فاقبلوا صدقتہ فرمان ایں صلائے جانفزا پذیر فتوازکشاکش لم وکیف پاك رست وبداکسیکہ بہ ناکامیاما ھذا فقد اعرض فاعرض الله عنہ ۔کاربرخود دشوار کردو پائے از اندازہ گلیم بیروں کشیدن جست ع
آفتاب اندرمیان آنگہ کہ میجو ید سہا نعمت " فسـلوا اہل الذکر ان کنتم لا تعلمون ﴿۴۳﴾"(تو اے لوگو!علم والوں سے پوچھو اگر تمہیں علم نہ ہو۔ت)کا خانچہ نہ چنا
دوستو! بہت ہی خوش نصیب ہے وہ جس نے بہ تقاضائے "ان الله تصدق علیکم فاقبلوا صدقتہ"(بے شك الله نے تم پر صدقہ کیا تو الله تعالی کے صدقہ کو قبول کرو۔ت)اس روح فزا فرمان کو قبول کیا ور چون وچراکے چکر سے خلاص ہوا اور بہت بدبخت ہے ہو جس نے "اما ھذا فقد اعرض فاعرض الله عنہ"(لیکن اس نے اعراض کیا تو الله تعالی نے اس سے اعراض فرمایا۔ت)کی ناکامی کے سبب اپنے اوپر کا م مشکل کرلیا اور اوراندازہ گودڑی سے پاؤں باہر کھینچ لئے ع
آفتاب اندر میاں آنگہ کہ میجو ید سہا
(آفتاب موجود ہوتو سہاکو کون تلاش کرتاہے)
فائدہ:بنات النعش میں ایك باریك ستارہ ہے جس کو سہا کہتے ہیں۔
وعلی الثانی یارب مگر سیدنا وابن سیدنا حبر الامہ حضرت عبدالله بن عباس رضی الله تعالی عنہما وحضرت ذکوان تابعی و امام ہمام حجۃ الله فی الانام اوردوسری شق پر(بصورت عوام مقلدین)پناہ بخدا !کیا سیدنا عبدالله بن عباسحضرت ذکوان تابعیعبدالله بن مبارك امام ابن الجوزیابن سبع
حوالہ / References صحیح مسلم کتاب صلٰوۃ المسافرین وقصر ھا قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۲۴۱،سنن ابی داود،باب صلوٰہ المسافر آفتاب عالم پریس لاہور ۱ /۱۷۰،جامع الترمذی ابواب التفسیر تحت آیۃ ۴ /۱۰۱ امین کمپنی دہلی ۲ /۱۲۸،سنن ابن ماجۃ باب تقصیر الصلٰوۃ فی السفر ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۷۶
صحیح البخاری کتاب العلم باب من قعد حیث ینتہی بہ المجلس قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۶،صحیح مسلم کتاب السلام باب من اتی مجلسا فوجد فرجۃ الیخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۲۱۷
#19220 · رسالہ ھدی الحیران فی نفی الفیئ عن سید الاکوان ۱۲۹۹ھ (سرورکائنات صلی الله تعالٰی علیہ وآلہ وسلم سے سایہ کی نفی کے بارے میں حیرت زدہ کے لئے راہنمائی)
عبدالله بن مبارك وامام حافظ شمس الملۃ والدین ابوالفرج ابن الجوزی وامام علامہ ابن سبع وحافظ رزین محدث وامام الامہ حافظ الشرق والغرب مولانا جلال الملۃ والحق والدین ابو بکر سیوطی وامام علامہ عاشق المصطفی سید الحفاظ جبل الشرع والدین حبل الالله المتین قاضی عیاض یحصبی وامام ربانی احمد بن محمد خطیب قسطلانی وفاضل اجل محمد بن عبدالباقی زرقانی و علامہ فہامہ شہاب الملۃ والدین خفاجی وشیخ محقق سیدنا عبدالحق محدث دہلوی وغیرہم ائمہ دین وجہابذقادہ ناقدین رحمۃ الله تعالی علیہم اجمعین ونفعنا ببرکاتہم فی الدنیا والدین رامعاذ الله درسلك عوما منخرط شمارندیافصوص نصوص ایناں راز زنگ غلط منزہ نہ پندارند ان ھذا لشئی عجاب ۔
قولہ چنانچہ جملہ اجسام واجرام کثیفہ ولطیفہ رامے باشد۔
اقول:نازم ایں کلیت مطلقہ واحاطت مستغرقہ را کہ ہجوم عموم واغراق اطلاقش برسنگلاخ کثافت بس نکردہ خیمہ تابسرحد لطافت کشیدماناہ عزیز اں از حقیقت ظل آگاہی ندا رند۔اے مخاطب !سایہ پروردگار مگر دانی کہ سایہ چیست نیرے تافتن آغا ز کرد وبہ ہرجابساط نور گسترواجسامے ازمیان خاستہ ونفوذ اشعہ رامانع آمدہ اینہا پردہ فروہشتوپردگی از نور مہجور گشت ہوائے متوسط کہ حکم مقابلت وشدت قابلیتاز تنور و استضاءت بہرہ حافظ رزین محدثعلامہ جلال الدین سیوطیقاضی عیاض امام احمد قسطلانیعلامہ زرقانیعلامہ خفاجی اورشیخ عبدالحق محدث دہلوی وغیرھم کو معاذ الله عوام میں شمار کرتے ہیں یان ان کے نگینہ ہائے نصوص کو زنگ اغلاط سے مصفے ومبرا گمان نہیں کرتے ان ھذا لشئی عجاب(بے شك یہ عجیب بات ہے۔)

قولہ جیسا کہ تمام اجسام کثیفہ ولطیفہ کے لئے ہوتاہے۔
کافی ربودآں محروم رانیز پارہ از انجلاء ارزانی نمود۔
اقول:اس کلیت مطلقہ اوراحاطہ مستغرقہ پر ناز کہ اس اطلاق کو سنگ کثات پر ہی بند نہ رکھاحد لطافت تك کھینچ ڈالاشاید وہ دوست سایہ کی حقیقت سے آگاہ نہیں ہیں۔اے نازو نعمت میں پلے ہوئے مخاطب !شائد تمہیں معلوم ہے سایہ کیا شے ہے سورج چمکنے لگاہرجگہ نور کی چادر بچھا دیدرمیانی اجسام رکاوٹ بنے اورروشنی کے آگے پردہ لٹکا دیاپردگی نور سے مہجور ہوگئیہوائے متوسط نے بسبب مقابلہ و شدت قابلیت روشنی سے کافی حصہ لیا اوراس
#19223 · رسالہ ھدی الحیران فی نفی الفیئ عن سید الاکوان ۱۲۹۹ھ (سرورکائنات صلی الله تعالٰی علیہ وآلہ وسلم سے سایہ کی نفی کے بارے میں حیرت زدہ کے لئے راہنمائی)
کافی ربودآں محروم رانیز پارہ از انجلاء ارزانی نمود۔
ایں ضوء ثانی راظل نامند ونیکو روشن کہ ایں معنی بے حجب وحجب بے منع نفوذومنع نفوذ بے کثافت صورت نہ بندد واوفراہ اگرایں اطلاق راست باشد اشراق ارض محال گرددکہ میان فاعل وقابل جرم آسمان حائلبلکہ ہم از مدعا نقیض مدعا لازم آید کہ چوں جسمے ہمچو فلك درمیان سنت استنارہ ہوا کہ مضیئ ثانی ست خود چہ امکان ستپس ازروئے زمین تاسطح آسمان ہیچ جسمے راسایہ نباشدوالسالبۃ الجزئیۃ تناقض الموجوبۃ الکلۃ وتقییدمرئی بودن کہ حاجب نباشد مگر از مبصرات با آنکہ تخصیص بعدالاعتراض ست درامثال ہو اورنارجاری۔





اما نامرئی بودن آسمان مسلم نداریمواز شہادت بصر و ظواہر نصوص چراروئے برتابیممااسلامیاں راباخرافات فلاسفہ ناہنجار وافسانہ عالم نسیم وکرہ بخار چکاروہمچو ادعاہائے نامنتظمہ راپیش ظواہر قرآن وحدیث چہ قیمت وکدام وقعت

قال الله تبارك وتعالی" و لقد زینا السماء الدنیا بمصبیح" و محروم کو بھی روشنی کا کچھ حصہ عطاکیا۔
اس دوسری روشنی کو ظل کہتے ہیں اورخوب ظاہر کہ یہ معنی بے پردہ اورپردہ بلامنع نفوذ اورمنع نفوذ کثافت کے سوا ناممکن ہے۔ہائے زیادتی !اگر یہ اطلاق درست ہوتو زمین کاروشن ہونا محال ہوجائےاس لئے کہ سورج اورزمین کے درمیان جسم آسمان حائل ہے بلکہ تمہارے دعوی سےہی تمہارے مدعی کی نقیض لازم آتی ہے کہ جب آسمان جیسا جسم درمیان ہے تو ہوا جو ثانوی درجہ میں روشن ہےکیسے ممکن کہ روشن ہولہذا روئے زمین سے آسمان جیسا جسم درمیان ہے تو ہوا جو ثانوی درجہ میں روشن ہےکیسے ممکن کہ روشن ہولہذا روئے زمین سے آسمان تك کسی جسم کا سایہ نہ ہو والسالبۃ الجزئیۃ تناقض الموجبۃ الکلیۃ(اورسالبہ جزئیہ موجبہ کلیہ کی نقیض ہے۔ت)اور چونکہ جو چیزیں نظر آتی ہیں وہی پردہ بنتی ہیں اس لئے مرئی ہونے کی قید لگاناباوجودیکہ بعد از اعتراض ہے صرف ہو ا اور آگ جیسی اشیاء میں جاری ہے۔
بہر حال آسمان کا غیر مرئی ہونا ہم نہیں مانتےہم کیونکر عینی شہادت اورظاہر نصوص سے روگردانی کریںہم اہل اسلام کو بے راہ فسلفہ کی خرافات اورکرئہ ہوا وبخار سے کیا کاماورایسے بے سرپا دعاوی کی قرآن وحدیث کے ظاہر مفہومات کے سامنے کیا قیمت اورکیسی وقعت
الله تعالی نے فرمایا:اوربیشك ہم نے نیچے کے آسمان کو چراغوں سے آراستہ کیا۔اور
حوالہ / References القرآن الکریم ۶۷ /۵
#19225 · رسالہ ھدی الحیران فی نفی الفیئ عن سید الاکوان ۱۲۹۹ھ (سرورکائنات صلی الله تعالٰی علیہ وآلہ وسلم سے سایہ کی نفی کے بارے میں حیرت زدہ کے لئے راہنمائی)
معلوم است کہ ازیں قسم زین وشین جز درمبصرات راست نیایدبادرانہ از پوشاك مہوشاں زریں کمر زینتےنہ از خرقہ گدایاں دلق دربروصمتےبلکہ اگر نیکو بنگری دراجسام کثیفہ نیز عموم بجائے خود نیستکہ میان حجب وکثافت عموم وخصوص مطلق ستجسم مثلث اگرچند کثیف باشد سایہ نداردنہ درآفتابنہ در ماہتابکہ بہ ہمیں معنے ایمائے لطیف فرمودہ اندر درکریمہ" انطلقوا الی ظل ذی ثلث شعب ﴿۳۰﴾ لا ظلیل و لا یغنی من اللہب ﴿۳۱﴾" کما استنبطہ الامام العلامۃ السیوطی فی تفسیر الاکلیل فی استنباط التنزیل





اللھم !مگر شبہا دیدہ باشند کہ از شعلہ شمع باآنکہ نارجرمے لطیف ست سایہ سربرمے زند وبحکم عدم فارق دست بدامن اطلاق زدند وپے باصل کا رنبردہ کہ آنچہ مے بینند معلوم ہے کہ اس قسم کی زینت وعیب مبصرات کے سواکسی چیز پر صادق نہیںمثلاکوئی کیسا ہی مہ رو ز رق برق لباس پہن کر سنہری کمر بند باندھے ہوا میں کھڑا ہوجائے تو ہوا کے لئے وہ زینت نہیں کہلات اوراگرکوئی منگتا پھٹے پرانے کپڑے پہنے ہوئے ہوتو وہ ہواکیلئے عیب نہیں کہلاتا(کیونکہ ہوا مبصرنہیں)بلکہ اگر بغور دیکھیں تو اجسام کثیفہ میں بھی عموم نہیں کیونکہ حاجب بننے اورکثیف ہونے میں عموم وخصوص مطلق ہےچنانچہ جسم مثلث کا سایہ نہیں ہوتا خواہ کتانا ہی کثیف ہو نہ دھوپ میں نہ چاندنی میںآیہ کریمہ " انطلقوا الی ظل ذی ثلث شعب ﴿۳۰﴾ لا ظلیل و لا یغنی من اللہب ﴿۳۱﴾"(چلواس دھوئیں کے سائے کی طرف جس کی تین شاخیں ہیں نہ سایہ دے نہ لپٹ سے بچائے)میں مفسرین کرام نے اسی معنی کی طرف لطیف اشارہ بیان فرمایا ہے کما استنبطہ الامام العلامۃ السیوطی فی تفسیر الاکلیل فی استنباط التنزیل (جیسا کہ امام علامہ سیوطی علیہ الرحمۃ نے تفسیر الاکلیل فی استنباط التنزیل میں اس کو مستنبط فرمایا ہے۔
یا الله !شاید انہوں نے رات کو دیکھا ہوگا کہ شعلہئ شمع سے سایہ پیداہوتاہے باوجودیکہ آگ جسم لطیف ہے اور اس سایہ کو آگ کا سایہ سمجھ کر بحکم عدم فارق(بین الاجسام اللطیفہ) دامن اطلاق پر ہاتھ مارا اور حکم کلی لگا دیا اور
حوالہ / References القرآن الکریم ۷۷ /۳۰و۳۱
الاکلیل فی استنباط التنزیل تحت الآیۃ ۷۷ /۳۰و۳۱ مکتبہ اسلامیہ کوئٹہ ص۲۱۹
#19227 · رسالہ ھدی الحیران فی نفی الفیئ عن سید الاکوان ۱۲۹۹ھ (سرورکائنات صلی الله تعالٰی علیہ وآلہ وسلم سے سایہ کی نفی کے بارے میں حیرت زدہ کے لئے راہنمائی)
ظل دخان ستنہ سایہ نیراں۔

قولہ وگاہے ازابتدائے خلقت الخ۔
اقول:ہمچنیں ست واطلاق دلائل مارا بسندہر کہ ابدائے تخصیص کند مدعی اوست وبارثبوت برگردن اوشاید برعکس نفس الامر از دستیاری قوت واہمہ در آئنہ تخیل عزیز اں مرتسم شدہ باشد کہ بایں تنصیص عویص نافیان ظل رادر اثبات نفی گونہ صعوبتے روئے خواہد نمود کہ تبیین دائمہ از تفریر مطلقہ عامہ مشکل تراستاما ندانستہ کہ ذہن سامع در ہمچو مقام از سلب ناموقت جز بادامت سلب تبادرکند وخلافش کہ خلاف ظاہر ست محتاج بہ دلیل باشدواظلا ل سحب راکہ علماء غیر دائم گفتہ اندازیں ہت ست کہ احادیث صحیحہ بہ سایہ کردن صحابہ کرام باردیہ خود شان ومیل اشجار بہ غصون آنہا برسر حضور سید الانس والجان صلی الله تعالی علیہ وسلم ناطق شدہاینجا نیزاگر حدیثے معتمد بر ثبوت سایہ گواہی دہد آنگاہ از دوام سلب بہ سلب دوام نقل وعدولمتصور ومعقولورنہ از معرض قبول بمر احل معزولمعہذا نورانیت جسم انور اکرم صلی الله تعالی علیہ وسلم بحمدالله قاطع وساوس وقامع ہوا جس آمدہ ست اصل حقیقت نہ سمجھ سکے کہ یہ نظر آنے والا سایہ سایہ دخان ہےآگ کا سایہ نہیں۔
قولہ کبھی ابتدائے آفرنیش سے الخ
اقول:یہی صحیح ہے اورہمارے لئے اطلاق دلائل دلیل کافی ہےجو شخص تخصیص کرتاہے وہ مدعی ہے اوربارثبوت اس کی گردن پرشاید نفس الامر کےخلاف قوت وبہمیہ کی مدد سے ان کے آئینہ تخیل میں یہ بات آئی ہوگی کہ اس مطالبہ تنصیص سے نافیان ظل کے لئے اثبات نفی میں بہت مشکلات پیش آئیں گی کیونکہ دائمہ کا اثبات مطلقہ عامہ کے اثبات سے بہت زیادہ مشکل ہے مگر وہ یہ نہ سمجھ سکے کہ سامع کا ذہن ایسے مقامات میں سلب غیر موقت سے سلب دوامی چھوڑ کر کسی بھی اورشے کی طرف متوجہ نیں ہوا اوراس کا خلاف جو خلاف ظاہر ہے وہی محتاج دلیل ہے۔اور(آپ پر) بادلوں کے سایہ کو علماء نے اس لئے غیر دائمی فرمایا کہ صحابہ کرام کا چادر وں سے اوردرختوں کا اپنی شاخین جھکا کر سایہ کرنا سرکار دوعالم صلی الله تعالی علیہ وسلم کے سر انور پراحادیث صحیحہ سے ثابت ہوچکا ہےاگراس مسئلہ میں بھی کوئی معتمد حدیث گواہی دے تو اس وقت دوام سلب سے سلب دوام کی طرف عدول متصو ومعقول ہوگا ورنہ معرض قبول سے کوسوں دوراور اس کے ساتھ ہی نبی اکرم صلی الله تعالی علیہ وسلم کے جسم انو رکی نورانیت بحمدالله قاطع وساوس وقامع ہوا جس آئی ہے
#19229 · رسالہ ھدی الحیران فی نفی الفیئ عن سید الاکوان ۱۲۹۹ھ (سرورکائنات صلی الله تعالٰی علیہ وآلہ وسلم سے سایہ کی نفی کے بارے میں حیرت زدہ کے لئے راہنمائی)
وبالله التوفیق۔
قولہ ایں معجزہ درکابیکہ لائق اعتماد باشد الخ۔
اقول:اے کاش آنکہ آفتاب نہ بیند بارے از انکار خامشی گزیندنہ آنکہ بربینندگان خرد شدیادربزم آناں نکتہ فروشد کہ سلامت درسکوت ستومجازف درانجام مبہوتمگر تصانیف ائمہ ممدوحین اعتماد رانشایدیا درجلوہ گاہ مہر وماہ شمع وچراغے دگر باید۔

قولہ اہل سند واسناد آنرا بسند صحیح۔
اقول:ساعتے باش کہ از حال مطالبہ صحت سخن گفتن داریم وایں کہ ہم برصحت سند پائے خامہ شکستہ استمگر برشذوذ و علت راہ جرح وقدح بستہ استورنہ قید اسنادعلی خلاف المرادازچہ روگوارا افتاد۔
قولہ درکتب صحاح وسنن کہ مروج است۔
اقول:کاش روزے چند خدمت علماء ومطالعہ کلمات طیبات ایشاں روزی شدےکہ درمجارئی کلام بہ مدارج مرام تمیز مقام بدست آمدےمقدمہ ثانیہ تحریر ثانی ازدیاد دادہ وبرباد رفتہ مباداوازا ں ہم صریح تربشنو جلالت شانورفعت مکان حضرت امام خاتم الحفاظ سیدنا وبالله التوفیق۔
قولہ یہ معجزہ کسی ایسی کتاب میں جو لائق اعتماد ہو الخ۔
اقول:افسوس !جس کو سورج نظر نہیں آتا وہ انکار سے صبر وخاموشی اختیار کرتانہ یہ کہ الٹا دیکھنے والوں پر شوروغل مچاتا یا ان کی بزم میں آکر نکتہ فروشی کرتا کیونکہ خاموشی میں سلامتی ہے اورجھوٹا آخر پریشان وناکام ہوتاہےکیا ائمہ کرام کی تصانیف قابل اعتماد نہیں یا پھر چاند سورج کی جلوہ گاہ میں کوئی اوردیے جلانا چاہتے ہو
قولہ اہل سند واسناد نے اس کو بسند صحیح الخ۔
اقول:کچھ دیر ٹھہریں کہ مطالبہئ صحت کے بارے اور صحت سند پر جو قلم کی ٹانگ توڑدیکے متعلق ہم بات کریں۔شاید شذوذ وعلت پر جرح وقدح کا راستہ بند ہوچکا ہے ورنہ برخلاف مراد قید اسناد کیسے گوارا ہوئی
قولہ کتب صحاح وسنن میں جو مروجہ ہیں الخ
اقول:کاش تمہیں چند روز خدمت علماء کا موقع اوران کے کلمات کا مطالعہ نصیب ہوتا اور ان کے کلام ومقاصد کے مواردودرجات میں تمیز مقام حاصل ہوتی۔تحریر ثانی کا دوسرا مقدمہ بڑھا دیابرباد نہ ہوبلکہ اس اسے بھی بہت زیادہ صریح سنئے۔حضرت امام خاتم الحفاظ جلال الملۃ و
#19230 · رسالہ ھدی الحیران فی نفی الفیئ عن سید الاکوان ۱۲۹۹ھ (سرورکائنات صلی الله تعالٰی علیہ وآلہ وسلم سے سایہ کی نفی کے بارے میں حیرت زدہ کے لئے راہنمائی)
جلال الملۃ والدین سیوطی قدس سرہ العزیز علی الخصوص درفن شریف حدیث تابہ حدے واضح وجلی ست کہ معلوم ہر صبی و مفہوم ہر غبی ست۔
امام علامہ قاضی عیاض رحمۃ الله تعالی علیہ در شفاء شریف حد یثے نقل فرمودکہ سیدنا امیر المومنین فاروق اعظم رضی الله تعالی عنہ برحضور پر نور سید المرسلین صلی الله تعالی علیہ وسلم چناں وچناں مے گریستواز فضائل پاکش کذا وکذا یاد مے کرد ۔
امام ممدوح المقاماعلی الله درجاتہ فی دارالسلامدرتخریج احادیثش فرمایددرکتب حدیث ازیں اثر ہیچ اثر ے نیستاما اوراصاحب اقتباس الانوار وامام ابن الحاج درمدخل مفصل و مطول آوردہ اند ودرہمچو مقام ایں قدربہ سند ست کہ اینجا سخن از حلال وحرام نمیر ود۔
علامہ خفاجی ایں معنی را از جناب رفعت قبایش نقل کردہ بمسند قبول وتقریر جائے مے دہدحیث قالقال السیوطی فی تخریجہ:
لم اجدہ فی شیئ من کتب الاثر لکن صاحب الاقتباس الانوار وابن الحاج الدین قد س سرہ العزیز کی جلالت شان اوررفعت مقام خصوصا فن حدیث میں ایسی واضح ہے کہ ہر صبی وغبی کی بھی جانی پہچانی ہے۔
امام قاضی عیاض رحمہ الله تعالی نے شفاء شریف میں ایك حدیث نقل کی کہ سیدنا امیر المومنین فاروق اعظم رضی الله تعالی عنہ حضور سید المرسلین صلی الله تعالی علیہ وسلم پر اس طرح روتے اورفضائل وخصائص بیان کرتے۔
امام ممدوح المقام(جلال الدین سیوطی)اعلی الله درجاتہ فی دار السلام)اس حدیث کے متعلق فرماتے ہیں:کتب حدیث میں اس حدیث کے بارے میں کوئی نشان نہیں ہےالبتہ صاحب اقتباس نے اورمدخل میں امام ابن الحاج نے اس کو مفصل ذکر فرمایا ہے اوراس قسم کے مقامات میں اس قدر سند کے ساتھ حدیث کافی ہےکہ یہاں حلال وحرام کا مسئلہ نہیں۔
خفاجی اس کو حضرت امام سیوطی سے نقل کر کے مسند قبول و تقریر پر جگہ دیتے ہیںحیث قالقال السیوطی فی تخریجہ (جہاں کہ امام سیوطی نے اپنی تخریج میں فرمایا۔ ت):میں نے اس کو کتب حدیث میں سے کسی میں نہ پایا لیکن صاحب اقتباس انوار اورمدخل میں ابن الحاج
حوالہ / References الشفاء بتعریف حقوق المصطفٰی القسم الاول الباب الاول الفصل الرابع دارالکتب العلمیۃ بیروت ۱ /۳۶
#19231 · رسالہ ھدی الحیران فی نفی الفیئ عن سید الاکوان ۱۲۹۹ھ (سرورکائنات صلی الله تعالٰی علیہ وآلہ وسلم سے سایہ کی نفی کے بارے میں حیرت زدہ کے لئے راہنمائی)
فی مدخلہ ذکراہ فی ضمن حدیث طویل وکفی بذلك سند المثلہ فانہ لیس مما یتعلق بالاحکام ۔

عزیزا !چشم انصاف از رمد تعصب صاف بکشاوشیوہ ائمہ دین پس از تصحیح عقیدت بین کہ دریں چنیں مسالك چگونہ راہ رفتہ اندوکدامیں سیر پیش گرفتہسپید میگویند کہ ازیں خبر درکتب الاثر لاخبر ولا اثرباز بر مجرد ذکر بعض اعتماد واستناد روامے دارندوحدیث راز پایہ تکمیل ساقط نمی پندارندمگر پایہ نکتہ دانیوترك توانیودروغ فلانیبرتدقیق وتحقیقواحتیاط انیقایں سادہ کراموقادئہ عظامنیز چربیدہ استکہ سخن از کتب فن دامن پرچیدہبردائرہ تنگ صحاح وسنن مروجہ محصور ومقصور گرویدہ است فالی الله المشتکی ممن یسمع فلا یسمع ویری فلایری۔

قولہ وآنچہ اہل سیر ومغازی بیان میکنند۔
اقول:ہماناگوش عزیزاں گاہے بہ امثال ایں سخناں ازکلمات ائمہ والا شان آشناشدہ است وازمحال محاورہ ومجال مناظرہ نے ایك طویل حدیث کے ضمن میں اس کاتذکرہ کیا ہے اور ایسے مسائل کے لئے اتنی ہی سند کافی ہے کیونکہ اس کا تعلق احکام سے ہے۔
عزیزا! مرض تعصب سے تندرست چشم انصاف کھول اور عقیدہ درست کر کے ائمہ دین کا پاکیزہ شیوہ دیکھ کر ایسے مسالك میں کس طرح چلتے ہیں اورکیا طریقہ اختیار کرتے ہیںواضح طور پر کہتے کہ اس حدیث کے متعلق کتب حدیث میں نہ کوئی خبر ہے نہ نشانپھرصرف بعض کے ذکر کرنے پر اعتماد و استناد جائز رکھتے ہیں اور حدیث کو پایہ تکمیل سے ساقط گمان نہیں کرتےشاید اپنی نکتہ دانیہوشیاری وپرہیزگاری کا مقام ان سادات کرامقائدین عظام کی تدقیق وتحقیق اوربہترین احتیاط پر بڑھا دیاکہ گفتگو نے اپنا دامن تمام کتب فن سے لپیٹ کر صحاح وسنن مروجہ کے دائرہ تنگ میں بند کردیا فالی الله المشتکی(توالله تعالی ہی کی بارگاہ میں فریادہے۔ت)
قولہ اورجو اہل سیر ومغازی بیان کرتے ہیں الخ
اقول:غالبا عزیزوں کے کان ایسی باتوں سے تو آشنا ہوئے مگر ائمہ عالیشان کے مکالمات اورجوابی کلمات سے کچھ نہ سنا اور بے راہ گھوڑا دوڑایا
حوالہ / References نسیم الریاض فی شرح شفاء القاضی عیاض الباب الاول،الفصل السابع،مرکز اہلسنت برکات رضا گجرات ہند ۱ /۲۴۸
#19232 · رسالہ ھدی الحیران فی نفی الفیئ عن سید الاکوان ۱۲۹۹ھ (سرورکائنات صلی الله تعالٰی علیہ وآلہ وسلم سے سایہ کی نفی کے بارے میں حیرت زدہ کے لئے راہنمائی)
آناں بوئے نشنیدہ بے راہہ اسپ دوانیدن گرفتاز خیبر بصیرپرسمحل ایں کلام آنست کہ قصاص واعظین و جہال مورخینتودہ تو دہ حکایات بے سروپاوافسانہائے فتنہ را تکثیرا للسوادیاترویجاللفسادورکتب خودشان مے آرندواز مناقضہ اصولومعارضہ نقولباکے ندارندگاہے افسانہ اور یاوداستان زلیخاوصہ زہرہ وتذکرہ شجرہبہ نہمے تقریرکنندو ساحت عصمت حضرات رسالتوجنودصمدیتعیاذابالله آلودہ عیبے کندوگاہے حادثہ جمل وواقعہ صفینومشاجرات صحابہومحاورات امہات المومنین بہ نوعے وانمایندکہ معاذالله بہ تنقیص مقام واجب الاعظام یکے ازاناں پہلوزندآنجاائمہ دین کہ خدائے ایشاں رابہرحمایت سنن ونکایت فتن برپا ساختہ است در مقام تفصیل زبان بہ تضعیف وتزییف آں اقوال سخیف میکشایندودرمحل اجمالی باعتماداصول وصحاح نقولپیوستن وازخوض خائفاں وکشاکش ایں وآں پاك برجستن مے فرمایندکہ دع مایریبك الی مالایریبك
واینہاکہ میگویم ہمبرسبیل مدارت کسی دانابینا سے پوچھدراصل بات یہ ہے کہ قصہ گوواعظوں اورجاہل مورخوں نے مجمع بڑھانے اورفساد پھیلانے کے لئے اپنی کتابوں میں بے سروپا حکایات اورفتنہ انگیز افسانے درج کردئےاصول شکنی اورمنقولات کی خلاف ورزی سے کچھ خوف نہ کیاکبھی اوریاکا افسانہزلیخا کی داستانزہرہ کا قصہ اورشجرہ کا تذکرہ اس انداز سے بیان کرتے ہیں کہ معاذالله عصمت انبیاء کرام ودیگر معصومین کو عیب آلود کرتے ہیں اورکبھی جنگ جمل کا حادثہصفین کا واقعہصحابہ کرام کا اختلاف اورامہات المومنین کا باہمی مکالمہ ایسے طریقہ سے نمایاں کرتے ہیں کہ معاذالله ان نفوس قدسیہ کے مقام واجب الاحترام کی تنقیص کا پہلو نمایاں ہوتاہےاسی وجہ سے ائمہ دینجن کو الله تعالی نے سنن کی حمایت ونگرانی اورفساد وفتن کے محودسرکوبی کا عظیم منصب عطافرمایا ہےمقام تفصیل میں ان ناشائستہ اقوال کا ضعف وعیب ثابت کرتے ہیں اورمحل اجمال میں اصول اورمنقولات صحیحہ کو مضبوط پکڑنے اورغیر ذمہ دار نکتہ چینوں کی من گھڑت حکایات حکایات سے اجتناب کا حکم فرماتے ہیں کہ دع ما یریبك الی ما یریبك(جوتیرے کھٹکے اس کو چھوڑ دے اورجو نہ کھٹکے اس کو اختیار کرلے۔)
اوریہ جوہم کہتے ہیں بطورنرم روی وارخائے
حوالہ / References صحیح البخاری کتاب البیوع باب تفسیرالمشبہات قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۲۷۵
#19233 · رسالہ ھدی الحیران فی نفی الفیئ عن سید الاکوان ۱۲۹۹ھ (سرورکائنات صلی الله تعالٰی علیہ وآلہ وسلم سے سایہ کی نفی کے بارے میں حیرت زدہ کے لئے راہنمائی)
عزیزاں وارخائے عنان کل میکندورنہ خودچہ میگوئی ازمسئلہ کہ تن تنہاہمیں قسم مردماں بہ ذکرش انفرادوارندبہ طرق عدیدہ مروی آمدہوچندائمہ آنراہ تخریج کردہناقدان فن سلفاوخلفانہ کنارسلمناوآغوش صدقناگرفتہودلیلے باہزارنصوص متکاثرہ براں قیام پذیرفتہ۔
مع ہذاحاشاکہ امثال مواہبوکتاب الشفاءودلائل النبوہ وتحقیق النضرہوخصائص خیفریوروض سہیلیوخلاصۃ الوفاءوخصائص کبریوسیرت شامیوسیرت حلبی وغیرہا کتب ائمہ دین رحمۃالله تعالے علیہم اجمعین کہ درخصائص وفضائل وسیروشمائل حضورپرنورصلوات الله تعالی وسلامہ علیہ تصنیف کردہ انددرسلك ایں چنیں کتب منخرطونزد محدثین ازپایہ اعتبارساقط باشد۔
ایناں کہ خداسعی اینہامشکور وجزاء آناں موفورگرداندچہ عمرہاکہ درتنقیح وتنقیدوتصحیح وتسویدبرسربردہ اندوچہ شبہاکہ درتنظیف وترصیفتا لیف ونصنیفدودچراغ وخون جگرنخوردہوہم ایشانندکہ بہ قضیہ لاعبرۃبماقال المؤرخون لب کشادہ اند۔


اگرمقصوداطلاق استچنانکہ خاطر عنانخاموش کرانے کے لئے کافی ہے۔ورنہ تم اس مسئلہ کے متعلق کیاکہوگے جس کونہ صرف ایسے لوگ ہی اکیلے بیان کررہے ہیں بلکہ بہت سے طرق واسانید سے مروی ہےکئی اماموں نے تخریج فرمایاہے اورسلفاوخلفاناقدین فن نے تسلیم کیاہے اورتصدیق فرمائی ہے اوراس پرنصوص کچیرہ سے واضح اورمضبوط دلیل قائم ہوئی۔
پھرمع ہذاخداکی پناہ!کہ کتاب مواہبشفاءدلائل النبوہ تحقیق النضرہخصائص خیفریروض سہیلیخلاصۃ الوفاء خصائص کبریسیرت شامیسیرت حلبی ایسی کتابیں و دیگر تصانیف ائمہ دین رحمہم الله تعالےاس قسم کی غیر معتبر کتابوں میں شمارہوں اورمحدثین کے نزدیك بے اعتمادوبے اعتبارہوں۔
ان حضرات(الله ان کی کوشش کوسعی مشکوراورجزاء کو جزائے کامل بنائے)نے کیسی عمریں تنقیح وتنقیداورتصحیح وتسویدمیں گزار دیں اورکتنی بے شمارراتیں کتب سیرت طیبہ کی تنظیف وترصیف اورتالیف وتصنیف میں دودچراغ اورخون جگرنہ پیایہی حضرات گرامی شان ہیں جنہوں نے لاعبرۃبماقال المؤرخون(مؤرخون کے قول کاکوئی اعتبار نہیں)کاحکم صادرفرمایاہے۔
اگرمقصوداطلاق ہے جیساکہ عزیزوں کا
#19234 · رسالہ ھدی الحیران فی نفی الفیئ عن سید الاکوان ۱۲۹۹ھ (سرورکائنات صلی الله تعالٰی علیہ وآلہ وسلم سے سایہ کی نفی کے بارے میں حیرت زدہ کے لئے راہنمائی)
عزیزاں بدان مشتاق ستیاربمگرمحنت ایناں یکدست بربادرفتہ باشدوایں ہمہ کاوکاوجانکاہ رنگے ندادہ آبے نہ گرفتہعلی ہذاایشاں راچہ روئے نمودکہ باوجودنابہبودوانعدام سودایں ہمہ وقت رائیگاں کردندوآں حاصل بیحاصل وطائل لاطائل راثمرہ اوقاتونخبہ حسنات شمردند۔
مگر سخن آنست کوچوں روئے سلمے ندیدہوبوئے سلمے نشنیدہ آخر درحسن سلمی چانہ بے جا مزن والله الھادی لقمع الفساد و قلع الفتن۔


قولہ پس ہرکرا از اہل علم ثبوت آں ازروئے سند صحیح الخ۔

اقول:پیش از جواب سوال شما چند بجناب شماد ارم ہر کہ داند خود بگوید" لتبیننہ للناس ولا تکتمونہ ۫" ورنہ از دانندگان پر سد کہ" فسـلوا اہل الذکر ان کنتم لا تعلمون ﴿۴۳﴾" ۔


(۱)زید ہندہ رابشہادت دو مرد فا سق دل اسی کامشتاق ہےیارب!پھرتوشائدان کی ساری محبت بر باد وضائع ہوگئی اور یہ تمام جانگداز کو ششیں کوئی رنگ لائیں نہ کوئی عزت پاسکیں۔پھر ان ائمہ کرام کو کیا نظر آیا کہ یہ سارا وقت بے سود ضائع کردیا اور اس بے فائدہ چیز کو اپنے اوقات کا ثمر ہ اور حسنات کا نتیجہ شمار کر بیٹھے۔
در اصل با ت یہ ہے کہ جب تو نے رخ محبوب دیکھا ہی نہیں خوشبوئے حبیب پائی ہی نہیں تو تو حسن محبوب کے متعلق بیہودہ گوئی مت کرو والله الھادی لقمع الفساد وقلع الفتن (اور الله تعالی ہی ہدایت دینے والا ہے فتنوں اور فساد کے خاتمہ کی)
قولہ پس اہل علم کے لئے چاہے کہ اس کا ثبوت از روئے سند صحیح الخ۔
اقول:تمہارے سوال کے جواب سے پہلے ہم چند سوال پیش کرتے ہیںصاحب علم خود جواب دیں۔" لتبیننہ للناس ولا تکتمونہ ۫"(کہ تم ضرور اسے لوگو ں سے بیان کردینا اور نہ چھپانا)اور بے علم اہل علم سے استفادہ کریں" فسـلوا اہل الذکر ان کنتم لا تعلمون ﴿۴۳﴾"(تو علم والوں سے پوچھو اگر تمہیں علم نہ ہو)
سوال(۱)دو گواہوں کے سامنے زید نے ہندہ
#19235 · رسالہ ھدی الحیران فی نفی الفیئ عن سید الاکوان ۱۲۹۹ھ (سرورکائنات صلی الله تعالٰی علیہ وآلہ وسلم سے سایہ کی نفی کے بارے میں حیرت زدہ کے لئے راہنمائی)
بزنی گرفتصباح نکاح خلوت ناکردہترك زن میگویدونیمہ مہر دادن نمے خواہدکہ نکاح مرا شہود عدول مے بایست۔

(۲)یوم غیم مردے بہ رویت ہلال صوم گواہی دادصبحدم زید قلیان بد ست و پان در ودہان بر آمدکہ مرا لا اقل شہادت دو مرد باید۔

(۳)عمر و زید دعوے مالے کردوبشہادت دوعدل اثبات نمودزید گوید نپذیرم تا چار گواہ نباشند۔

(۴)گواہاں در امثال ونکاح شہادت بر تسامع دادندزید گفت مرا شہود معائنہ درکار ست۔
(۵)بکر برادر زید مردزنش نازنین ازو دخترے دارد شیریں زید مے خواہد کہ شیریں را عروس خانہ خود نمایدنازنیں گفت ستمگار اآخر از خدا شرمے کہ بر ادر زادہ تستزید مے گوید مرا چہ داناند کہ قالب شیریں ہم از نطفہ بکر تخمیر یافتہ ستآخر ہر دعوی را بینہ لازماینجاگواہ کہ بینہ کدام نازنین گفت بر بستر بر ادرت زائید کے ساتھ نکاح کیا اور صبح خلوت سے پہلے ہی اسکو چھوڑدیا اور نصف مہر بھی نہیں دینا چاہتاکہتا ہے کہ میرے نکاح کے لئے گواہ عادل چاہئے۔
(۲)مطلع ابر آلود تھا ایك مرد نے روزہ کے چاند دیکھنے کی گواہی دیصبح کے وقت زید ہاتھ میں حقہمنہ میں پان ڈال کر باہر آیا کہ مجھے ایك مرد کی گواہی کافی نہیں دو مردو ں کی شہادت چاہے۔
(۳)عمر و نے زید پر کچھ مال کا دعوی کردیا اور دوعادل گواہوں کی شہادت سے ثابت بھی کردیا مگر زید کہتا ہے جب تك چار گواہ نہ ہوں میں قبول نہیں کرتا۔
(۴)گواہوں نے وقف اور نکاح ایسے امور کے متعلق شنید پر گواہی دیزید کہتا ہے مجھے عینی گواہ چاہے۔
(۵)زید کا بھائی بکر فوت ہوگیااس کی زوجہ مسماۃ نازنین کے بطن سے اس کی ایك لڑکی مسماۃ شیریں تھیزید شیریں کے ساتھ نکاح کرنا چاہتا ہے۔نازنین نےکہا ظالم ! خدا سے شرم کر یہ تیری بھتیجی ہے۔زید کہتا ہے مجھے کیا علم کہ شیریں کا بد ن میرے بھائی بکر کے نطفہ سے پیدا ہوا ہےآخر دعوی کے لئے گواہ لازم ہیں اور یہاں کوئی گواہ نہیںنازنین نے کہا تیرے بھائی کے بستر پر پیدا ہوئی
#19236 · رسالہ ھدی الحیران فی نفی الفیئ عن سید الاکوان ۱۲۹۹ھ (سرورکائنات صلی الله تعالٰی علیہ وآلہ وسلم سے سایہ کی نفی کے بارے میں حیرت زدہ کے لئے راہنمائی)
الولد للفراش گفت آحادم نمے شایدحدیثے متواتر باید۔

(۶)سعید بامردماں نماز میکر دزید اقتداء ناکردہ برمے گر دد کہ اوہمیں تنہا وضو کردہ استومن امامے خواہم کہ از ہر حدیث غسل آرد۔
(۷)بر زیدا ز خواص آیات معینہ وفضائل صور مخصوصہ احادیث صحاح خواندند کہ ببیں چناں چمنے ست شاداب وگلشنے با آب وتاب گفت بخارے نیر زد تا بخاری نیار د یامسلم ندانم تادر مسلم نخوانم۔

(۸)زید را گفتند مالك عن نافع عن ابن عمر گفت بہ ہیچ نخرم کہ معنعن ست نہ متصل بسماع۔

(۹)زید گوید مفتی اطراف ریاست فلانی را اجازت مداخلت درمعارك شریعت کہ دادگفتہ شد علمے دارند و خیلے بزرگو ارندگفت مردماں چنیں وچناں گوینداما فقیر ایں سخن را در کتا بے کہ لائق اعتماد باشد واہل اسناد ہے الولد للفراش(بچہ فراش کے لئے ہے)اس نے کہا یہ خبر واحد ہے مجھے خبر متواتر چاہے۔
(۶)سعید نے باجماعت نماز ادا کی مگر زید نے اقتداء نہ کی اور یہ کہتا ہوا باہر نکل گیا کہ اس امام نے صرف وضو کیا ہےمجھے وہ امام چاہے جو ہر حدث سے غسل کرے۔
(۷)مخصوص آیات کے خواص اور خاص سورتوں کے فضائل زید کو احادیث صحیحہ سے سنائے گئے کہ دیکھ یہ کیسا تر و تا زہ چمنستان اور خوبصورت گلستان ہے۔اس نے کہا ایك کانٹے برابر نہیں جب تك بخاری نہ لائے یا میں نہیں مانتا جب تك میں مسلم میں نہ پڑھ لوں۔
(۸)بطور حوالہ زید کو سند مالك عن نافع عن ابن عمر سنائی گئیاس نے کہا میں سند معنعن پر اعتمادنہیں کرتا سند متصل بہ سماع ہونی چاہیے۔
(۹)زید کہتا ہے کہ فلاں ریاست کے مفتی کو مسائل شرعیہ میں فتوی دینے کی کس نے اجازت دی ہے کہاگیا کہ بہت بڑے عالم میں۔اس نے کہا لوگ ایسی ویسی باتیں کرتے ہیں مگر فقیر نے اس بات کو کسی کتاب میں جو لائق اعتماد ہوا ور اہل اسناد نے
حوالہ / References صحیح البخاری کتاب الخصومات باب دعوی الوصی للمیت قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۳۲۶،صحیح مسلم کتاب الرضاع باب الولد للفراش قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۴۷۰،جامع الترمذی ابواب الرضاع باب الولد للفراش امین کمپنی دہلی ۱ /۱۳۸،سنن ابی داؤد،کتاب الطلاق باب الولد للفراش آفتاب عالم یرس لاہور ۱ /۳۱۰
#19237 · رسالہ ھدی الحیران فی نفی الفیئ عن سید الاکوان ۱۲۹۹ھ (سرورکائنات صلی الله تعالٰی علیہ وآلہ وسلم سے سایہ کی نفی کے بارے میں حیرت زدہ کے لئے راہنمائی)
آں رابہ بہ سند صحیح بیان کردہ باشندندیدہ و نہ در صحاح وسنن مروجہ از کسے شنیدہوآنچہ اہل صدی سیزدہم بمجرد دعوے بر زبان آرند اعتماد آں چنانچہ اہل حدیث راست معلوم۔

(۱۰)ازمناقب رجال وفضائل اعمال ہزاردرہزاراحادیث حسان وصوالح برزیدخواندندشوخ چشم گوید بے صحت اسناد خرط القتاد۔
دریں صوردہ گانہ ازحضرات علماء ایدھم الله تعالی بالفوز المبیناستفتاء میروکہ دریں ہرہمہ صورزیدنزدشرع مطہر برخطاوایں چنیں مطالبہ ومواخذہ اش محض فضول وبیجاست یانہبینوا توجروا۔

حالیا اگر ازخدمت علماء فرمان رسدکہ زیدفضولی میکندوبر شرع مے افزایدنہ جوازنکاح راعدالت شہوددرکارنہ دریوم غیم تعددنظارنہ درمعاملہ مال بیش ازدوگواہنہ دروقف و نکاح شہادت نگاہفراش مثبت نسب فرزندودرحلال حرام آحادبسندو ازہرحدث غسل چہ ضروروقبول درصحیحین غیر محصورمالك ونافع ازتدلیس بریپس عنعنہ ایشاں چوں سماع جلیحدیث درعلم اس کو بہ سند صحیح بیان کیا ہونہیں دیکھا اور نہ صحاح وسنن مروجہ میں کسی سے سنا اور جو کچھ تیرھویں صدی کے لوگ صرف زبانی دعوی کرتے ہیںاس کا اعتماد جس طر ح اہل حدیث کو ہے معلوم ہی ہے۔
(۱۰)مناقب وفضائل کے متعلق ہزاروں حدیثیں حسن وصالح زید کو سنائی گئیںوہ شوخ چشم کہتا ہے کہ صحت اسناد کے سوا خرط القتاد ہے(یعنی بے سود اور نقصان دہ ہے)
ان دس۱۰صورتوں کے بارے میں علمائے کرام(الله تعالی ان کی روشن کامیابی سے مددفرمائے)سے فتوی مطلوب کہ ان تمام صورتوں میں زیدشرع مطہرکے نزدیك غلطی پرہے یانہیں اوراس کے مطالبات ومواخذات بے جاوفضول ہیں یانہیںبیان فرماؤاجرپاؤگے۔
فی الحال اگرعلمائے کرام کی طرف سے حکم ملے کہ زیدزیادتی کرتاہےشریعت پرتجاوزکرتاہےجوازنکاح کے لئے عدالت شہودضروری نہیں۔بادل ہوںتوایك سے زیادہ گواہ لازم نہیں۔مالی معاملہ میں دو۲سے زیادہ گواہوں کامطالبہ درست نہیں۔وقف ونکاح میں شہادت عینی کالزوم بھی نہیں۔ فراش ثبوت نسب کے لئے کافی ہیںاورحلال وحرام کے لئے آحادکافی ہیں۔ہرحدث سے غسل کیوں ضروری ہےصرف صحیحین کی احادیث میں قبول بندنہیں۔مالك ونافع تدلیس سے بری ہیں لہذا
#19238 · رسالہ ھدی الحیران فی نفی الفیئ عن سید الاکوان ۱۲۹۹ھ (سرورکائنات صلی الله تعالٰی علیہ وآلہ وسلم سے سایہ کی نفی کے بارے میں حیرت زدہ کے لئے راہنمائی)
فلانی نیایدومناقب وفضائل راصحت نیایدیازیداہ ایں چہ ہرچہ زہ چانگی وجوش دیوانگی ست کہ ہرجاخواستنی مے خواہی وبرقدرمطلوب افزائی ایں مطالبہ ہائے ازپیش خود تراشیدہاتزنہارناپذیرفتنیوبے چارہ مطالبان ازتجشم اتباع ہوایت غنی۔
تم الجواب والله تعالے اعلم بالصواب



عزیزا ! آنگاہ ازیںجوابجواب سوال خودت دریابکہ ایں طلب عزیزاں نیزبہ ہمیں طلبہاماندہ وایں ناگفتنی گفتن وناجستنی جستنروزے بروز زیدت نشاند۔

سخنے پرسمت راست گووبہانہ مگیرتو وخدائے تودرکتب دیدہ یا از علماء شنیدہ کہ درہمچومحال وسیع المجال حسن وصلاح بکار نیاید وغیرازصحت چیزے نشایدونقول علماء پائے نداردوقبول ائمہ بارے نیاردورنہ الزام غیرلازموردیقین جازمچہ قیامت ذوق یافتہ کہ سرازہمہ تافتہ ع

فان کنت لاتدری فتلك مصیبۃ
وان کنت تدری فالمصیبۃاعظم ان کااسنادمعنعن سماع جلی کاحکم رکھتاہے۔فلاں کے علم ثابت کرنے کے لئے حدیث نہیں آتی۔مناقب وفضائل کے لئے حدیث صحیح کاموجودہوناضروری نہیںپس اومردہ دل زید! یہ کیامفت کابکواس اورجوش جنونی کہ توہرجگہ بے ضرورت دلیل مانگتاہے یاقدرمطلوب سے زیادہ طلب کرتاہے۔ تیرے یہ تمام مطالبات اپنے ہی من گھڑت اورنامقبول ہیں اورمجیب مطالب تیری خواہشات کے مطابق جواب کی مشقت برداشت کرنے سے بے نیازہے۔تم الجواب والله تعالی اعلم بالصواب
اے عزیز! اب اس جواب سے اپنے سوالوں کاجواب دریافت کرکہ ہی مطالبات انہی مطالبات کی مثل ہیں اورہی ناگفتنی باتیں اورنالائق طلب مطالبہ ایك دن تجھے زیدکی جگہ بٹھائے گا۔
میں تم سے ایك بات پوچھتاہوںسچ کہنااوربہانہ نہ بناناکیا تم نے کتابوں میں دیکھایا علماء سے سنا کہ ایسے وسیع تر مقامات میں حسن وصالح حدیث بیکارہے اورصحت کے سوا کوئی چیزدرکارنہیں اورعلمائے کرام کے منقولات کاکوئی درجہ و مقام نہیںاورقبول ائمہ کچھ وزن نہیں رکھتاورنہ غیرلازم کا الزام اوریقین جازم کاردکیامظلبعجیب ذوق ہے کہ سب کوٹھکرادیا۔
(ترجمہ شعر)"اگرتونہیں جانتاتویہ ایك مصیبت ہے
اوراگرتوجانتاہے تومصیبت بہت بھاری ہے۔"
حوالہ / References نسیم الریاض فی شرح شفاء القاضی عیاض فصل فی تفضیلہ بالمحبۃوالخلۃ مرکزاہلسنت گجرات ہند۲ /۳۲۸
#19239 · رسالہ ھدی الحیران فی نفی الفیئ عن سید الاکوان ۱۲۹۹ھ (سرورکائنات صلی الله تعالٰی علیہ وآلہ وسلم سے سایہ کی نفی کے بارے میں حیرت زدہ کے لئے راہنمائی)
وزنہاررندانی کہ ایں بال وپرے کہ مے فشانم از انت کہ حدیث راضعیف میدانم بلکہ برتصانیف امام حجت سیدنا عبدالله بن مبارك وقوف نیافتہ ام ورنہ گمان نہ آنچناں ست کہ مخالف راجائے شادی باشد۔

سیدی عبدالله از اعاظم ائمہ وتبع تابعین استغالب مشائخ ورجالش ہمیں تا بعین وصحابہ باشندیا تبع کہ باایشاں در خور و آزمودن احوال شاں کردودراں زماں چنانکہ دانی غالب عدالت بو دولہذا استا ذش سیدنا امام اعظم رضی الله تعالی عنہ بہ اصالت عدالت قائل شدہ استوخود ایں ناقدین کہ تلقی بالقبول کر دہ اند مگر بدمی بری کہ نا دیدہ راہ رفتہ اند۔



جان برادر ! تو وایمان تو ایں ہمہ ائمہ اولی الا ید ی والابصار کہ یك زبان بر نفی ظل گواہی دہندپناہم بخدائے اگر سخن یکے ازیناں یا امثال ایناں بر طبق مزعوم خود ت یا بی چہ غلغلہا کہ نکنی وکلہ بر آسماں افگنی وبر خویشتن بالی وپیش ہر کسے نالی کہ ہے انچہ ستم ستامامے چناں از نفی ظل بر کراں وفلانے تن نمی دہدوگوش نمی نہدحالیاکہ ستم از تست خدارا دمے نصاف دہ وکلاہ غروررا از سرہنہ اوریہ ہرگزنہ سمجھیں کہ میں نے اتنی تفصیلی گفتگواس لئے کی ہے کہ حدیث کوضعیف جانتاہوں بلکہ امام حجت سیدنا عبدالله بن مبارك کی تصانیف سے واقف نہیں ہوں ورنہ اس طرح گمان نہیں کہ مخالف خوش ہو۔

سید ی حضرت عبدالله بن مبارك عظیم ترین اماموں اور تبع تابعین سے ہیںان کے اکثر مشائخ یہی تابعین وصحابہ ہیں یا تبع اور ان کے کوائف وحالات کی اچھی طرح جانچ پڑتا ل کی اور جس طر ح کہ تم خود جانتے ہو اس زمانہ میں عدالت غالب تھیاسی وجہ سے ان کے استا د سیدنا امام اعظم رضی الله تعالی عنہ اصل عدالت کے قائل ہیں اور خود ناقدین نے تلقی بالقبول کی ہے اور ان کا یہ تلقی بالقبول کا اقدام پوری دیا نتداری اور کامل انشراح صدر کے ساتھ ہےاندھی تقلید نہیں ہے۔
جان برادر ! یہ جو تمام ائمہ کرام بیك زبان نفی ظل کی گواہی دیتے ہیںاگر ان میں یا ان کے ہمسر ائمہ سے کوئی بات تو اپنے مزعومہ کے مطابق پاتا تو وہ کون سا شور جو بر پا نہ کرتاکلہ آسمان پرچڑھاتا اور پھولانہ سماتاہر ایك کے آگے آہ وزاری کرتا کہ ہائے یہ کیا ظلم ہےایسا امام نفی ظل کا قائل نہیںنہ اس کو قبول کرتا ہے نہ اس کی طر ف کان لگاتا ہے لہذا اس وقت ظلم تیری طر ف سے ہےخدا را انصاف کر اور تکبر
#19240 · رسالہ ھدی الحیران فی نفی الفیئ عن سید الاکوان ۱۲۹۹ھ (سرورکائنات صلی الله تعالٰی علیہ وآلہ وسلم سے سایہ کی نفی کے بارے میں حیرت زدہ کے لئے راہنمائی)
کہ چرا راہ ایشاں نمی سپریواز اتفاق دامن کشاں میگذری حدیث خواہی حدیث حاضرنقول جوئی نقول ظاہردلیل طلبیدلیل موجودنقیض جوئی نقیض مفقودباز کدامیں سنگ در رہوکبك در موزہ است کہ جائے تسلیم سبزمے بینم وروئے خلاف سرخوچہرہ انصاف زردوجبین قر طا س زنا گفتنیہا سیاہعیاذم بخدائے مگر آنکہ مصطفے را صلی الله تعالی علیہ وسلم از نور خود ش آفریدومہر نیم روز و ماہ نیم ماہ را کینہ گدائے سرکار ش گر د انیدنتواند کہ سر و جانفزائے مارا بے سایہ پروردو شاخ گلے کہ ہزار چمنستان جاں فدائے ہر رگ و بر گ او باداز گل ز مین لطا فتبر جو ئبارنظافتپاك از ہمہ کثافت سر براورد۔



وصلی الله تعالی علیہ وعلی آلہ قد رحسنہ وجمالہ وجاھہ وجلالہ وجودہ ونوالہ وعزہ و کمالہ ونعمہ و افضالہ ورشدہ فی افعالہ وجہد ہ فی اعمالہ وصدقہ فی اقوالہ وحسن جمیع خصالہ ومحمودیۃ فعالہ وعلینا معشرالملتثمین لنعالہ والمتعلقین باذیالہ کی ٹو پی سر سے اتا رکیوں ان ائمہ کرام کی راہ پر نہیں چلتا اور اتفاق سے دور کیوں بھاگتا ہے حدیث مطلوب ہے تو حاضر اگر نقول چاہئیں تو نقول واضح ہیںدلیل کی طلب ہے تو دلیل موجودلیکن اگر نقیض کی خواہش ہے تو وہ معدوم ہے۔ تو اب کون سا پتھر راستہ میں پڑا ہےکیوں تسلیم کا مقام خالی دیکھتا ہوںخلاف کا چہرہ خوشانصاف کا چہرہ شرم وحیاء سے زرداور کا غذ کی پیشانی شرمناك باتوں سے سیاہخدا کی پناہ! لیکن قادر مطلق جل وعلا جس نے مصطفی صلی الله تعالی علیہ وسلم کو اپنے نور خاص سے پیدا فرمایا اور خور شید در خشانندہ وبد ر درخشندہ کو ان کی سرکار کا ادنی گداگر بنایاکیا وہ یہ نہیں کر سکتا کہ ہمارے سر و جانفزا کو بغیر سایہ کے پرورش فرمائے اور وہ شاخ گل جس کے ہر رگ وبرگ پر ہزاروں چمنستان قربان ہوںپاکیزگی کہ نہر پر گل زمین لطافت سےہر قسم کی کثافت سے پاك پیدا ہو۔
اور دورد نازل فرمائے الله تعالی آپ پر اور آپ کی آل پر جس قدر آپ کا حسنجمالمرتبہبزرگیفیاضیعطاعزت کمالنعمتیں نوازشافعال میں رشداعمال میں محنت اقوال میں سچائیتمام خصلتوں میں حسن اور عادات میں پسندیدگی ہےاور ہم پر بھی جو آپ کے نعلین مبارك کو بوسہ دینے والے اور آپ کے دامن کو تھامنے والے ہیں۔اے معبود برحق
#19241 · رسالہ ھدی الحیران فی نفی الفیئ عن سید الاکوان ۱۲۹۹ھ (سرورکائنات صلی الله تعالٰی علیہ وآلہ وسلم سے سایہ کی نفی کے بارے میں حیرت زدہ کے لئے راہنمائی)
امین الہ الحق امین !
این ست سطر ے چند کہ با عموم غموموہجوم ہموموتراکم امراض وتلاطم اعراضبر نہجے کہ خدائے خواستدرد و جلسہ گیسوآراستمن فقیرمی خواستم کہ زلف سخن راشانہ د گر کشماما چہ کنم کہ دریں کوردہ از وطن دورواز کتب مہجور افتا دہ امایں جاجز ء شفاء ونسیم الریاضمطالع المسر ت وبعض کتب فقہ ہیچك بد ستم نیستورنہ اولی الانظار دیدندے آنچہ دیدندے۔
ولکن من یرد الله خیرہ یشرح بھذالقدر صدرہ وما ذلك علی الله بعزیز ان ذلك علی الله یسیران الله علی کل شی قدیروکان ذلك لمنتصف جمادی الاخری عام تسع وتسعین بعد الالف والمائتین۔ ہماری دعا کو قبول فرما۔
یہ چند سطر یح جس طر ح خدانے چاہاغم واندوہ کے اجتماع اور امراض وعوارض کے ازدحام کے با وجود دو جلسوں میں تحریرکی گئیںدل چاہتا ہے کہ زلف سخن دوسری کنگھی سے سنواروںمگر کیا کروں اس اندھی بستی میں وطن سے دور ہوںکتابیں پاس نہیںیہاں سوائے شفاء نسیم الریاض مطالع المسرات اور بعض کتب فقہ کے کوئی کتاب موجود نہیںورنہ آنکھ والے دیکھتے جو دیکھتے۔
لیکن الله تعالی جس کی بھلائی کا ارادہ فرمائے اسی قدر سے اس کا سینہ کھول دےاور الله تعالی پر یہ کوئی مشکل نہیںبے شك الله تعالی کے لئے یہ آسان ہےبے شك الله تعالی ہر شے پر قادر ہے۔یہ نصف جمادی الاخری ۱۲۹۹ ھ کو مکمل ہوا۔(ت)
______________
رسالہ
ھدی الحیران فی نفی الفی عن سید الاکوان
ختم ہوا
_________________
Scroll to Top